کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیرِ مطالعہ متن میں مسلمانوں کے ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے ایک نہایت فکر انگیز، جامع اور بصیرت افروز تجزیہ پیش کیا گیا ہے جس میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے امتِ مسلمہ کی زبوں حالی، ان کے تاریخی زوال کے اسباب اور ان کے تدارک کے لیے ایک ہمہ گیر اصلاحی پروگرام کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ اس گفتگو کا آغاز اس بنیادی اور کلیدی نقطے سے ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے معاشرے میں موجود خرابیوں کی محض نشاندہی کر دینا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ ان کے مستقل خاتمے کے لیے ایک ٹھوس اور منظم لائحہ عمل ناگزیر ہے۔ اس لائحہ عمل کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا نے اس عام غلط فہمی کا مکمل طور پر ازالہ کیا ہے کہ ان کی اور ان کی جماعت کی جدوجہد کا مقصد محض وقتی اور ہنگامی مسائل کو حل کرنا یا کسی بوسیدہ، خستہ حال اور بگڑے ہوئے نظامِ زندگی کی سطحی قسم کی مرمت کرنا ہے۔ اس کے برعکس، ان کا اور ان کی تحریک کا اصل نصب العین ایک ایسا ہمہ گیر، عالمگیر اور مستقل انقلاب برپا کرنا ہے جو پوری انسانیت کی فلاح اور بقا کا ضامن ہو۔ اس عظیم مقصد کی مزید تشریح کرتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ بڑی صراحت کے ساتھ یہ بیان کرتے ہیں کہ دنیا کا ہر وہ نظامِ زندگی جس کی بنیاد خدا سے بغاوت، آخرت کی جوابدہی سے بے پروائی، اور انبیائے کرام علیہم السلام کی لائی ہوئی روشن ہدایت سے بے نیازی پر استوار ہو، وہ انسانیت کے لیے زہرِ قاتل اور انتہائی تباہ کن ہے۔ لہٰذا، ان کا اصل ہدف اس باطل اور کھوکھلے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور اس کی جگہ ایک ایسا صالح، پاکیزہ اور متوازن نظامِ زندگی عملاً قائم کرنا ہے جس کی مکمل بنیاد اللہ تعالیٰ کی غیر مشروط اطاعت، روزِ جزا پر پختہ اور غیر متزلزل یقین، اور رسولوں کی کامل پیروی پر رکھی گئی ہو۔ اس عالمگیر اور عظیم الشان مشن کے آغاز کے لیے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک پاکستان کی سرزمین کو ایک ابتدائی تجربہ گاہ اور نقطۂ آغاز کے طور پر منتخب کیا گیا ہے تاکہ سب سے پہلے اس مملکت میں یہ پاکیزہ اور الہامی انقلاب برپا کیا جائے اور پھر یہی ملک پوری دنیا کی اصلاح، رہنمائی اور فلاح کا ایک طاقتور ذریعہ اور روشن مینار بن سکے۔ موجودہ خرابیوں اور معاشرتی بگاڑ پر ان کی کڑی تنقید کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ یہ برائیاں اس عظیم اور ابدی مقصد کے حصول کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ اگر بالفرض یہ وقتی اور مقامی خرابیاں اس معاشرے میں موجود نہ بھی ہوتیں، تب بھی سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول ان کی جدوجہد کا مرکز و محور یہی عالمگیر مقصد ہی رہتا، کیونکہ یہ ایک ایسا دائمی اور ابدی نصب العین ہے جس کے لیے ہر دور، ہر حال اور دنیا کے ہر خطے میں کام کرنا ناگزیر ہے۔ اس اصولی اور نظریاتی بحث کو سمیٹنے کے بعد، حقیقتِ حال کو مزید گہرائی سے سمجھنے اور بیماری کی اصل جڑ تک پہنچنے کے لیے مولانا نے مسلمانوں کو اپنی پچھلی تاریخ کا بے لاگ، شفاف اور ناقدانہ جائزہ لینے کی بھرپور دعوت دی ہے۔ ان کا پختہ ماننا ہے کہ جب تک کوئی قوم اپنے زوال کے تاریخی اسباب کو درستی کے ساتھ نہیں سمجھتی، وہ کبھی بھی اپنی اصلاح کے لیے درست سمت کا تعین نہیں کر سکتی۔ اس تسلسل میں سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے انیسویں صدی میں برصغیر پر ہزاروں میل دور سے آنے والی ایک غیر مسلم قوم، یعنی انگریزوں کے غلبے اور مسلمانوں کی بدترین غلامی کے المیے کو ایک مرکزی اور سبق آموز نکتے کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے تاریخی تجزیے کے مطابق یہ طویل غلامی کوئی اچانک پیش آنے والا حادثہ یا آسمان سے نازل ہونے والی کوئی ناگہانی آفت ہرگز نہیں تھی، اور نہ ہی یہ قدرت کا کوئی ظالمانہ فیصلہ تھا جو بے قصور مسلمانوں پر مسلط کر دیا گیا ہو، بلکہ یہ مسلمانوں کی صدیوں پر محیط مذہبی، اخلاقی اور ذہنی انحطاط پذیری کا ایک انتہائی فطری، قدرتی اور منطقی نتیجہ تھا۔ اس تاریخی زوال کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے سوچ بچار کے لیے تین بنیادی اور اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں میں واقعی عرصے سے ایسی سنگین کمزوریاں اور خرابیاں پرورش پا رہی تھیں جنہوں نے آخر کار انہیں ایک بیرونی طاقت کے تسلط کے سامنے بے بس کر دیا؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ غیر ملکی استعمار جو ہم پر مسلط ہوا، کیا وہ صرف سیاسی غلامی کی بلا تھا، یا وہ اپنے جلو میں افکار، تہذیب، مذہب، تمدن اور معیشت کی بے شمار دوسری تباہ کاریاں بھی لے کر آیا اور ان کے ہماری قومی زندگی پر کیا دیرپا اثرات مرتب ہوئے؟ اور تیسرا سوال یہ ہے کہ ان تمام بیرونی یلغاروں کے جواب میں مسلمانوں کے مختلف گروہوں کا اپنا ردعمل کیا رہا اور اس ردعمل نے قوم کی موجودہ نفسیات کو کس حد تک بگاڑا یا سنوارا؟ ان انتہائی اہم سوالات کا تفصیلی اور تسلی بخش جواب دیتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ سب سے پہلے قوم کی مجموعی مذہبی اور دینی حالت کا بے رحمانہ پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک دین ہی مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا اصل قوام اور ان کے اتحاد کی واحد بنیاد ہے، اور جب دین کی بنیادیں ہی کمزور پڑ جائیں تو پوری قومی عمارت کا زمین بوس ہو جانا طے ہے۔ برصغیر کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا بتاتے ہیں کہ یہاں ابتدائی دور کو چھوڑ کر اسلام کسی منظم ریاستی کوشش یا کسی باقاعدہ تحریک کے نتیجے میں نہیں پھیلا، بلکہ یہ غیر منظم طریقے سے انفرادی کاوشوں، تاجروں کے روابط اور خدا رسیدہ بزرگوں کے حسنِ اخلاق کا ثمر تھا۔ اگرچہ لاکھوں لوگ اور پورے کے پورے قبیلے انفرادی کوششوں سے دائرۂ اسلام میں داخل تو ہوئے، لیکن وقت کی حکومتوں اور دین کے متولیوں نے ان نو مسلموں کی باقاعدہ تعلیم و تربیت، ذہنی تطہیر اور اسلامی خطوط پر ان کی ذہن سازی کا کوئی منظم انتظام نہیں کیا۔ اس مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نشاندہی کرتے ہیں کہ عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت نسل در نسل جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکتی رہی اور اسلام کی حقیقی روح، اس کی برکات اور توحید کی خالص نعمتوں سے بڑی حد تک محروم ہی رہی۔ یہ قبائل مسلمان تو ہو گئے، مگر ان کے افکار میں وہی پرانی جاہلیت اور مشرکانہ اوہام موجود رہے۔ انہوں نے محض اپنے پرانے معبودوں کے نام بدل کر اسلامی تاریخ سے نئے معبود تراش لیے، اور پرانی مشرکانہ رسومات کو اسلامی اصطلاحات کا غلاف پہنا دیا۔ مثال کے طور پر جہاں پہلے بدھ مت کے آثار اور ہڈیوں کی پوجا ہوتی تھی، وہاں اسی ذہنیت کے ساتھ بزرگانِ دین کے آثارِ متبرکہ کو پوجا جانے لگا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا عملی کردار جوں کا توں رہا، صرف ظاہری روپ بدل گیا۔ اس مذہبی زوال میں اس دور کے مذہبی رہنماؤں اور علما کے کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ چند گنے چنے مقدس، مخلص اور حق پرست بزرگوں کو چھوڑ کر، باقی ماندہ مذہبی طبقے نے اپنی توانائیاں فروعی اور چھوٹے چھوٹے مسائل پر مناظرہ بازیوں، اختلافات کو فرقہ واریت کا اکھاڑہ بنانے اور لاحاصل علمی موشگافیوں میں ضائع کر دیں۔ انہوں نے قرآن و حدیث کے حقیقی فہم اور دین میں تفقہ پیدا کرنے کے بجائے اپنی عمریں غیر متعلقہ بحثوں میں گزار دیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی نگاہیں خوردبین تو بن گئیں جو چھوٹی باتوں کو بڑا کر کے دکھاتی تھیں، مگر وہ دوربین اور جہاں بین نہ بن سکیں۔ آج امتِ مسلمہ کو فرقہ بندیوں اور فتنوں کی جو لہلہاتی ہوئی فصل وراثت میں ملی ہے، وہ انہی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح صوفیا کے حوالے سے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ یہ تلخ حقیقت بیان کرتے ہیں کہ چند پاکیزہ نفوس کے سوا، بیشتر نام نہاد صوفیا نے اسلام کے خالص عقائد اور حقیقی تصوف میں غیر ملکی اور مشرکانہ فلسفوں، جیسے ویدانتی، مانوی، زردشتی اور جوگیوں کے طریقوں کی آمیزش کر دی۔ جب ان بزرگوں کے بعد ان کے جانشین گدی نشین بنے تو انہوں نے عوام کی روحانی تربیت کے بجائے انہیں اپنا مرید بنا کر صرف نذرانے وصول کرنے کو اپنا نصب العین بنا لیا۔ مولانا کے بقول، ان نام نہاد روحانی پیشواؤں اور پیروں کی ہمیشہ سے یہ دانستہ کوشش رہی ہے کہ عوام تک دین کا صحیح اور خالص علم ہرگز نہ پہنچنے پائے، کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کی چودھراہٹ اور تقدس کا جھوٹا طلسم اسی وقت تک قائم رہ سکتا ہے جب تک عوام اپنے دین سے جاہل اور غافل رہیں۔ مذہبی انحطاط کے بعد اخلاقی اور معاشرتی پستی کا تذکرہ کرتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ معاشرے کے درمیانے طبقے کی زبوں حالی کا نہایت عبرت ناک نقشہ کھینچتے ہیں۔ درمیانہ طبقہ، جو کسی بھی قوم کی حقیقی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، وہ اپنے مسلسل اخلاقی زوال کی بدولت مکمل طور پر کرائے کا ٹٹو بن چکا تھا۔ ان لوگوں میں حق و باطل، اور اپنے پرائے کا امتیاز قطعی طور پر ختم ہو چکا تھا، اور ان کا واحد اصول یہ رہ گیا تھا کہ جو بھی انہیں اجرت دے دے، خواہ وہ فرانسیسی ہوں، ولندیزی ہوں، مرہٹے ہوں یا انگریز، وہ اس کی نوکری کرنے اور اپنے ہی ملک و قوم کے خلاف تلوار اٹھانے کے لیے تیار رہتے تھے۔ پیشہ ورانہ سپاہ گری کو باعثِ فخر اور خاندانی وقار سمجھا جانے لگا، حالانکہ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ بدترین اخلاقی گراوٹ تھی کہ انسان روٹی کپڑے کی خاطر اپنا ضمیر، اپنا ایمان اور اپنی وفاداریاں بیچ دے۔ اسی موقع پرستی، رشوت خوری اور ابن الوقتی نے قوم کے اجتماعی ضمیر کو اس حد تک مردہ کر دیا کہ وہ غبن اور رشوت جیسی لعنتوں کو 'دستِ غیب' اور 'خدا کا فضل' قرار دینے لگے۔ آج بھی ہمارے ملازمت پیشہ طبقے میں جو موقع پرستی نظر آتی ہے، وہ کوئی اتفاقی کمزوری نہیں بلکہ ہماری انہی گہری تاریخی روایات کا تسلسل ہے۔ علاوہ ازیں، معاشرے کے امرا، حکمرانوں اور دربار سے وابستہ علما کی حالت زار پر روشنی ڈالتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ امرا کے نزدیک دنیا میں صرف دو ہی چیزیں، یعنی پیٹ اور شرمگاہ کی تسکین، ان کی تمام تر توجہ کا مرکز بن گئی تھیں۔ ملکی دولت اور وسائل کو صرف ان ہی دو مقاصد کی خدمت کرنے والی صنعتوں پر لٹایا جا رہا تھا۔ اگر کبھی کوئی دردِ دل رکھنے والا امیر اپنی طاقت کو کسی بڑے اور قومی مقصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتا، تو باقی تمام امرا اپنے ذاتی مفادات کی خاطر دشمنوں سے ساز باز کر کے اسے گرانے میں لگ جاتے۔ دربار سے وابستہ علما کا حال بھی اس سے مختلف نہ تھا؛ مولانا کے مطابق، یہ وظیفہ خوار علما غریبوں، بے اثر اور کمزور لوگوں کے لیے تو چھوٹے چھوٹے مستحبات اور مکروہات پر بھی جھگڑے کھڑے کر دیتے تھے، مگر طاقتوروں اور اربابِ اقتدار کے معاملے میں وہ ہمہ تن مصالحت کا مجسمہ بنے رہتے اور ان کی ہر ناجائز خواہش کے لیے مذہب کے نام پر رخصتیں اور حیلے تراشتے تھے۔ اس تمام جامع اور تفصیلی گفتگو کے آخر میں مسلمانوں کے ذہنی اور فکری جمود کا ذکر کرتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ واضح کرتے ہیں کہ صدیوں سے مسلمانوں کے ہاں علمی تحقیق، غور و فکر، اور نئی دریافتوں کا دروازہ مکمل طور پر بند ہو چکا تھا۔ ہمارے نظامِ تعلیم میں یہ جمود اور بانجھ پن طاری ہو چکا تھا کہ اسلاف جو کچھ لکھ گئے ہیں، بس وہی علم کا حرفِ آخر ہے، اور اس پر مزید کوئی سوچ و بچار نہیں ہو سکتی۔ ساری علمی خدمات صرف اس حد تک محدود ہو کر رہ گئی تھیں کہ پرانی کتابوں پر حاشیے اور شرحیں لکھی جائیں۔ علم کے اس جمود اور فکری موت کی وجہ سے قوم کا ذہن مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا اور وہ کسی بھی نئے چیلنج کا سامنا کرنے کی صلاحیت سے یکسر محروم ہو چکی تھی۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا اس پورے تجزیے سے اخذ کردہ حتمی اور دو ٹوک نتیجہ یہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنے دین کی حقیقی روح کو بھلا دے، اخلاقی طور پر اندر سے کھوکھلی ہو جائے، اور فکری طور پر بانجھ پن کا شکار ہو جائے، تو قدرت کے اٹل قانون کے تحت اس کا کسی غیر ملکی طاقت کے سامنے گھٹنے ٹیک دینا اور غلام بن جانا ایک لازمی امر ہے۔ لہٰذا، جب تک تاریخ کے ان گہرے اور تباہ کن اثرات کو ایک منظم، انتھک جدوجہد اور ہمہ گیر اسلامی انقلاب کے ذریعے جڑ سے نہیں مٹایا جاتا، تب تک مسلمانوں کی حقیقی آزادی اور ان کا شاندار مستقبل کبھی محفوظ نہیں ہو سکتا، اور یہی وہ روشن اور جامع نظریہ ہے جو ان کی تمام تر مساعی اور اصلاحی پروگرام کی اصل بنیاد ہے۔
