کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیر نظر مضمون میں اسلامی حکومت کے قیام، اس کے فطری طریقہ کار اور اس کے لیے درکار بنیادی لوازمات پر انتہائی بصیرت افروز بحث کی گئی ہے۔ یہ مضمون دراصل ایک تاریخی خطاب ہے جس میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس عام غلط فہمی کا ازالہ کیا ہے کہ اسلامی حکومت محض ایک سیاسی تبدیلی یا اقتدار کی منتقلی کا نام ہے، یا یہ کہ اسے کسی مصنوعی طریقے سے اچانک قائم کیا جا سکتا ہے۔ آپ نے اس حقیقت کو واشگاف الفاظ میں بیان کیا ہے کہ جس طرح قدرت کے کارخانے میں ہر نتیجے کے لیے مخصوص اسباب کا ہونا ضروری ہے، بالکل اسی طرح ایک اسلامی ریاست بھی معاشرے کے اخلاقی، ذہنی اور تمدنی ارتقا کا ایک طبعی نتیجہ ہوتی ہے۔ اس فکر انگیز تحریر کے آغاز میں مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اسلامی حکومت کے قیام کو ایک سائنسی اور منطقی عمل قرار دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ آج کل مسلمانوں میں اسلامی حکومت کا نام تو بہت لیا جا رہا ہے اور اس کی خواہش بھی شدت سے پائی جاتی ہے، لیکن اس منزل تک پہنچنے کے لیے جو راستے تجویز کیے جا رہے ہیں وہ نہ صرف غیر سائنسی ہیں بلکہ ناممکن العمل ہیں۔ آپ نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی حکومت خلا میں وجود نہیں لیتی اور نہ ہی یہ بازار سے خریدی جانے والی کوئی مصنوعی چیز ہے جسے لا کر کہیں بھی نصب کر دیا جائے۔ حکومت دراصل کسی بھی سوسائٹی کے اجتماعی حالات، اخلاقیات اور ذہنی رجحانات کا عکس ہوتی ہے۔ اس نکتے کو سمجھانے کے لیے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے علمِ کیمیا اور نباتات کی بہت عمدہ مثالیں دی ہیں۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ جس طرح یہ ناممکن ہے کہ آپ بیج تو لیموں کا بوئیں لیکن اس سے درخت آم کا اگ آئے، اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ معاشرے کی تربیت، تعلیمی نظام اور اخلاقی حالت تو غیر اسلامی ہو، لیکن اس کے نتیجے میں جو حکومت قائم ہو وہ اسلامی کہلائے۔ ریاست ہمیشہ انہی بیجوں کا پھل ہوتی ہے جو معاشرے کی زمین میں بوئے گئے ہوں۔ اگر اسباب اور عوامل سیکولر یا لادینی ہوں گے تو نتیجہ بھی ویسا ہی نکلے گا، چاہے اس پر لیبل اسلام کا لگا دیا جائے۔ اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا نے مسلمانوں کی موجودہ سیاسی جدوجہد اور ان کے طرزِ فکر پر شدید تنقید کی ہے۔ آپ کے نزدیک مسلمانوں کی اکثریت "اسلامی حکومت" اور "قومی حکومت" کے درمیان فرق کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہ مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوئے ہیں اور ایک الگ قوم ہیں، لہٰذا ان کا اقتدار میں آ جانا ہی اسلامی حکومت ہے۔ حالانکہ یہ سوچ سراسر مغرب کے نیشنلزم (قوم پرستی) سے مستعار لی گئی ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ وضاحت کرتے ہیں کہ اسلام قوم پرستی کی جڑ کاٹتا ہے۔ قوم پرستانہ سوچ یہ ہے کہ "ہماری قوم" کی حکومت ہو، ہمارے لوگوں کو ملازمتیں ملیں اور ہمارا معاشی مفاد محفوظ ہو، جبکہ اسلام ایک اصولی اور نظریاتی دعوت ہے۔ ایک ایسی تحریک جو قوم پرستی کی بنیاد پر اٹھے، جس کا مقصد صرف ایک خاص گروہ کے دنیاوی مفادات کا تحفظ ہو، وہ کبھی بھی ایک آفاقی اسلامی نظام کو جنم نہیں دے سکتی۔ آپ فرماتے ہیں کہ مقدمہ بازی کو ختم کرنے کی تحریک کا آغاز خود عدالت میں مقدمہ دائر کرنے سے نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح نیشنلزم کی بنیاد پر چلنے والی تحریک انسانیت کو ایک غیر قومی اور اصولی ریاست کا تحفہ نہیں دے سکتی۔ اسلامی ریاست کی ماہیت اور حقیقت کو بیان کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ یہ ریاست تمام دنیاوی حکومتوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد "خدا کی حاکمیت" (Sovereignty of God) پر ہے۔ یہاں انسان حاکمِ مطلق نہیں بلکہ خدا کا خلیفہ یا نائب ہوتا ہے۔ اس ریاست میں قانون بنانے کا حق انسانوں کو نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے، اور انسان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ خدا کے نازل کردہ قانون کو نافذ کرے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اس خلافت کو چلانے کی ذمہ داری صرف ان لوگوں کو سونپی جا سکتی ہے جو خدا کے قانون پر ایمان لاتے ہوں اور جو اپنی ہر حرکت کے لیے آخرت میں خدا کے سامنے جوابدہی کا احساس رکھتے ہوں۔ یہ وہ لوگ نہیں ہوتے جو اقتدار کو اپنی عیاشی، تکبر یا ذاتی مفاد کے لیے استعمال کریں، بلکہ یہ وہ امانت دار لوگ ہوتے ہیں جو خدا کے بندوں پر خدا کا عدل قائم کرتے ہیں۔ اس تناظر میں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی حکومت کو چلانے کے لیے افراد کہاں سے آئیں گے؟ یہاں مولانا نے ایک بہت ہی اہم نکتہ اٹھایا ہے کہ موجودہ تعلیمی نظام اور سماجی تربیت گاہیں جو افراد تیار کر رہی ہیں، وہ سیکولر یا قومی ریاستوں کو چلانے کے لیے تو موزوں ہو سکتے ہیں، لیکن اسلامی ریاست کے لیے وہ بالکل ناکارہ ہیں۔ آپ نے مثال دیتے ہوئے سمجھایا کہ جس طرح ریل گاڑی کے پرزے ہوائی جہاز میں نہیں لگائے جا سکتے، اسی طرح وہ جج، وہ پولیس افسر، وہ جرنیل اور وہ منتظمین جو انگریزی یا لادینی نظامِ تعلیم کے پروردہ ہوں، وہ اسلامی نظامِ عدل و انصاف کو قائم نہیں کر سکتے۔ ایک اسلامی ریاست کو ایسے ججوں کی ضرورت ہوتی ہے جو خدا کے خوف سے لرزتے ہوں، ایسی پولیس کی ضرورت ہوتی ہے جو رشوت اور ظلم سے پاک ہو، اور ایسے حکمرانوں کی ضرورت ہوتی ہے جو بیت المال کو اپنی جاگیر نہ سمجھیں۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا استدلال ہے کہ جو لوگ اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوں، جن کی نگاہ میں دنیاوی نفع و نقصان ہی سب کچھ ہو، اور جو ہر جائز و ناجائز طریقے سے صرف کامیابی کے خواہشمند ہوں، ان کے ہاتھوں میں اسلامی حکومت کا قیام ایسے ہی ہے جیسے کسی عمارت کی بنیادوں میں دیمک چھوڑ دی جائے۔ لہٰذا، اسلامی حکومت کے قیام کا واحد اور فطری راستہ یہ ہے کہ ایک ایسی زبردست تحریک برپا کی جائے جو نہ صرف سیاسی میدان میں کام کرے بلکہ اس سے پہلے وہ انسانی سیرت و کردار کی تعمیر کرے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں سب سے پہلے تعلیمی نظام کو تبدیل کرنا ہوگا تاکہ ایسے سائنسدان، فلسفی، ماہرینِ معاشیات اور سیاست دان پیدا ہوں جو ذہنی اور فکری طور پر مسلمان ہوں۔ جب تک ہم ایسے افراد تیار نہیں کریں گے جو اپنی سوچ، کردار اور عمل میں اسلام کے سانچے میں ڈھلے ہوئے نہ ہوں، تب تک اسلامی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ یہ عمل محض تقریروں یا نعروں سے مکمل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس عمل کی مزید تشریح کرتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ تحریک اپنے کارکنوں کو آزمائش کی بھٹیوں سے گزار کر کندن بنائے گی۔ اس تحریک کے علمبرداروں کو اپنے قول و فعل سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعی دیانت دار، امانت دار اور خدا ترس ہیں۔ جب سوسائٹی کے سامنے ایسے پاکیزہ کردار والے لوگ آئیں گے جو اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں مانگتے بلکہ انسانیت کی فلاح کے لیے کام کر رہے ہیں، تو عوام خود بخود ان کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔ مولانا کا کہنا ہے کہ لیڈرشپ کی یہ تبدیلی کوئی حادثاتی عمل نہیں ہوگی بلکہ یہ معاشرے میں اخلاقی برتری ثابت کرنے کے بعد وقوع پذیر ہوگی۔ جب یہ صالح عناصر معاشرے میں پھیل جائیں گے اور اجتماعی طاقت حاصل کر لیں گے، تو پھر خود بخود جو نظامِ حکومت وجود میں آئے گا وہ اسلامی ہوگا۔ یہ وہ مرحلہ ہوگا جہاں درخت اپنی جڑوں سے لے کر شاخوں تک کی نشوونما مکمل کرنے کے بعد وہ پھل دے گا جس کی اس کی فطرت متقاضی تھی۔ اپنے دلائل کو سمیٹتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات کو دو ٹوک انداز میں پیش کیا ہے کہ اسلام کا نظامِ حکومت "شارٹ کٹس" یا جوڑ توڑ کی سیاست سے قائم نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ بگڑے ہوئے معاشرے اور سیکولر ذہنیت کے حامل افراد کے ذریعے ہی اسلامی انقلاب آ جائے گا، وہ خام خیالی کا شکار ہیں۔ اسلامی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ویسی ہی ذہنیت، ویسا ہی اخلاق اور ویسی ہی سیرت و کردار معاشرے میں پیدا کیا جائے۔ یہ ایک تدریجی عمل (Evolutionary Process) ہے جو افراد کی اصلاح سے شروع ہو کر اجتماعی نظام کی تبدیلی پر منتج ہوتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں اسلامی ریاست کا قیام ایک مقدس اور سنجیدہ ذمہ داری ہے جس کے لیے محض سیاسی نعرے بازی کافی نہیں۔ اس کے لیے ایک ہمہ گیر فکری اور عملی انقلاب کی ضرورت ہے جو انسان کے اندر سے شروع ہو اور باہر کے نظام کو بدل ڈالے۔ وہ متنبہ کرتے ہیں کہ جب تک ہم ایسے "مسلم ماہرین" تیار نہیں کرتے جو جدید علوم پر دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ اسلامی نظریہ حیات پر مکمل یقین رکھتے ہوں، اور جب تک ہماری اجتماعی اخلاقی حالت خدا خوفی کے معیار پر پوری نہیں اترتی، تب تک اسلامی حکومت کا قیام ناممکن ہے۔ اگر ہم واقعی اسلامی حکومت چاہتے ہیں تو ہمیں قومی تعصبات سے نکل کر، خالص انسانی اور اصولی بنیادوں پر جدوجہد کرنی ہوگی اور اپنی زندگیوں کو خدا کی اطاعت کا نمونہ بنانا ہوگا۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جو اس منزلِ مقصود تک لے جا سکتا ہے، باقی تمام راستے سراب ہیں جو انسان کو بھٹکا تو سکتے ہیں مگر منزل تک نہیں پہنچا سکتے۔
