کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
موجودہ دور میں انسانیت کے معاشی مسائل کو جس قدر غیر معمولی اور نمایاں اہمیت دی جا رہی ہے، وہ تاریخِ انسانی میں اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی، اور سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اپنے اس فکر انگیز مقالے میں اس رویے کی نہایت گہری اور حقیقت پسندانہ عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان کی بقا اور اس کی روزمرہ زندگی کے لیے معاش کی اہمیت ہر دور میں مسلّم رہی ہے اور افراد سے لے کر قوموں تک سب ہی نے اس پر توجہ دی ہے، لیکن آج کے دور میں اس مسئلے کو غیر ضروری طور پر ایک انتہائی پیچیدہ اور ہولناک شکل دے دی گئی ہے۔ مولانا واضح کرتے ہیں کہ علم المعیشت کو ایک باقاعدہ اور مستقل علم بنا کر اس میں بھاری بھرکم اصطلاحات، مشکل الفاظ اور پرشوکت اداروں کا ایسا رعب اور دبدبہ قائم کر دیا گیا ہے جس نے عام آدمی کو شدید خوف اور دہشت میں مبتلا کر دیا ہے۔ غریب اور عام انسان جب ماہرینِ معاشیات کی ان اعلیٰ درجے کی فنی اور پیچیدہ بحثوں کو سنتا ہے، تو وہ اپنے معاشی مسائل کی ہولناکی سے بالکل اسی طرح مرعوب اور اس کے حل سے مکمل طور پر مایوس ہو جاتا ہے جیسے کوئی عام مریض کسی ڈاکٹر کی زبان سے اپنی معمولی سی بیماری کا کوئی نہایت مشکل اور لاطینی نام سن کر خوفزدہ ہو جاتا ہے اور یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ اب اس کی جان بچنا ناممکن ہے۔ تاہم، سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نہایت بصیرت افروز انداز میں اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر ان تمام مشکل اصطلاحوں، فنی بحثوں اور الجھنوں کا غلاف اتار کر اس مسئلے کو سیدھے سادھے اور فطری طریقے سے دیکھا جائے، تو انسان کا معاشی مسئلہ بڑی آسانی کے ساتھ سمجھ میں آ سکتا ہے۔ اس مسئلے کو سمجھنے اور دنیا بھر میں اس کے حل کی جو مختلف صورتیں اختیار کی گئی ہیں، ان کے مفید اور مضر پہلوؤں کا جائزہ لینے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی، اور فطری بنیادوں پر اس کا درست حل تلاش کرنا نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اصطلاحات کے اس چکر نے مسئلے کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھا دیا ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس مسئلے کی سب سے بڑی اور بنیادی الجھن اس وقت پیدا ہوئی جب انسان کے معاشی مسئلے کو، جو دراصل انسانی زندگی کے ایک وسیع تر اور عظیم نظام کا محض ایک چھوٹا سا جزو تھا، اس پورے مجموعے سے کاٹ کر بالکل الگ کر دیا گیا اور اسے بذاتِ خود ایک مستقل اور مکمل مسئلے کی حیثیت دے دی گئی۔ رفتہ رفتہ اس غلو نے اتنی شدت اختیار کر لی کہ معاشی مسئلے ہی کو انسان کی پوری زندگی کا واحد اور کُل مسئلہ سمجھ لیا گیا۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس کو پہلی غلطی سے بھی کہیں زیادہ سنگین اور بڑی غلطی قرار دیتے ہیں، جس کی وجہ سے اس گتھی کا سلجھنا محال ہو کر رہ گیا ہے۔ اس سنگین غلطی کو سمجھانے کے لیے مولانا ایک نہایت دلائل سے بھرپور اور شاندار مثال پیش کرتے ہیں کہ اس کی نوعیت بالکل ایسی ہی ہے جیسے امراضِ جگر کا کوئی ماہر طبیب انسانی جسم کے پورے نظام اور اس کے باہمی ربط کو مکمل طور پر نظر انداز کر دے، اور جگر کو جسم کے مجموعی نظام سے الگ کر کے محض جگر ہونے کی حیثیت سے دیکھنا شروع کر دے۔ پھر وہ اس مطالعے میں اس قدر غرق ہو جائے کہ اسے پورا انسانی وجود صرف ایک جگر ہی محسوس ہونے لگے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ خبردار کرتے ہیں کہ جس طرح انسانی صحت کے تمام پیچیدہ مسائل کو صرف جگر کے علم سے حل کرنے کی کوشش کرنا مریض کی جان کو شدید خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، بالکل اسی طرح جب معاشیات کو انسانیت کے مجموعی نظام سے نکال کر اسے عین انسانیت قرار دے دیا جائے اور زندگی کے سارے مسائل صرف معاشی عینک سے حل کیے جانے لگیں، تو اس کے نتیجے میں معاشرے میں حیرانی، سرگشتگی اور تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اسی تسلسل میں مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ دورِ جدید کے ماہرینِ خصوصی (سپیشلسٹس) کے رویے کو ایک بہت بڑا فتنہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ ان کے نقطۂ نظر کی وجہ سے زندگی اور اس کے گوناگوں مسائل پر مجموعی اور جامع نگاہ ڈالنے کا رجحان ختم ہوتا جا رہا ہے اور انسان ان یک چشم ماہرین کے ہاتھوں میں محض ایک کھلونا بن کر رہ گیا ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ تفصیل سے بیان کرتے ہیں کہ کس طرح ہر علم کا ماہر پوری کائنات کو صرف اپنے محدود علم کے دائرے میں قید کرنا چاہتا ہے؛ طبیعیات کا ماہر کائنات کا راز صرف طبیعیات میں تلاش کرتا ہے، نفسیات کا ماہر اپنے تجربات پر پورا فلسفۂ حیات مرتب کرنا چاہتا ہے، اور صنفیات کا ماہر پوری انسانی زندگی حتیٰ کہ خدا کے تصور کو بھی صرف شہوانیت کے محور پر گھماتا ہے۔ اسی طرح معاشیات کے ماہرین یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ معیشت ہی زندگی کی اصل جڑ ہے اور باقی سب کچھ اسی کی شاخیں ہیں۔ حالانکہ مولانا اس نظریے کی پرزور تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ تمام علوم اور پہلو دراصل ایک کُل کے مختلف اجزا ہیں۔ انسان کی حقیقت انتہائی جامع ہے؛ وہ ایک مادی جسم رکھتا ہے جس پر طبیعیات اور حیاتیات کے قوانین لاگو ہوتے ہیں، مگر وہ محض ایک جانور نہیں ہے۔ اسے زندہ رہنے کے لیے خوراک، لباس اور مکان کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے معاشیات کا تعلق بنتا ہے، لیکن سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ متنبہ کرتے ہیں کہ انسان صرف کھانے کمانے اور گھر بنانے والا حیوان نہیں ہے کہ تنہا معاشیات پر ہی اس کے پورے فلسفۂ حیات کی بنیاد رکھ دی جائے۔ انسان کے اندر نسل بڑھانے کا صنفی میلان، شعور اور جذبات پر مبنی نفسیات، اور دوسرے انسانوں کے ساتھ مل کر رہنے کی عمرانی اور تمدنی مجبوری بھی موجود ہے۔ مزید برآں، مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انسان ایک ذی عقل، اخلاقی اور روحانی ہستی بھی ہے جو محسوسات سے ماورا حقیقتوں کو جاننا اور بھلے برے کا امتیاز کرنا جانتی ہے۔ ان تمام حیثیتوں سے بڑھ کر، انسان اس عظیم الشان کائناتی نظام کا ایک اہم جزو ہے، اور اس کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ اس کائنات میں اپنا صحیح مقام اور اپنی زندگی کا اصل مقصد متعین کرے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ واضح کرتے ہیں کہ انسان کا صحیح لائحہ عمل اسی وقت بن سکتا ہے جب ان تمام علوم اور پہلوؤں کو ایک جامع فلسفۂ حیات کے تحت ان کے درست اور متوازن مقام پر رکھا جائے۔ اگر معاشیات کو زندگی کی واحد اساس مان لیا جائے، تو مولانا کے الفاظ میں، انسان اور ایک ایسے بیل کے مقصدِ حیات میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا جس کی زندگی کا واحد مقصد ہری گھاس کھا کر موٹا تازہ ہونا اور دنیا کی چراگاہ میں بے فکری سے چرنا ہے۔ اس معاشی غلبے کی وجہ سے اخلاقیات، روحانیات اور عمرانیات جیسے اعلیٰ انسانی شعبے تباہ ہو جاتے ہیں اور انسان محض ایک معاشی حیوان بن کر رہ جاتا ہے، جو انسانیت پر ایک بہت بڑا ظلم ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ پیچیدہ اصطلاحات سے ہٹ کر انسان کے اصل معاشی مسئلے کو نہایت سادہ الفاظ میں یوں بیان کرتے ہیں کہ تمدن کی ترقی کو برقرار رکھتے ہوئے معاشرے کے تمام افراد کو ان کی ضروریاتِ زندگی کس طرح فراہم کی جائیں، اور ہر شخص کو اس کی قابلیت اور استعداد کے مطابق آگے بڑھنے کے مساوی مواقع کیسے مہیا کیے جائیں۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ابتدائی دور میں انسان کے لیے معاش کا مسئلہ بالکل جانوروں کی طرح سادہ تھا۔ قدرت نے بے شمار رزق مہیا کر رکھا تھا، انسان جاتا اور قدرتی پیداوار، پھلوں یا شکار کے ذریعے اپنا پیٹ بھر لیتا، پتوں سے جسم ڈھانپتا اور غاروں میں رہائش اختیار کر لیتا۔ لیکن سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہمیشہ اس حیوانی حالت میں رہنے کے لیے پیدا نہیں کیا تھا۔ اس کی فطرت میں خاندان بنانے، زراعت کرنے، لباس اور مکان تعمیر کرنے، اور نئے آلات ایجاد کرنے کے داعیات رکھے گئے تھے تاکہ وہ ایک متمدن اور سماجی زندگی گزار سکے۔ لہٰذا انسان کا متمدن ہونا کوئی جرم نہیں بلکہ عین منشائے الٰہی تھا۔ مولانا بتاتے ہیں کہ تمدن کے ارتقا کے ساتھ ہی انسان کی ضروریات بڑھیں، اشیا کے تبادلے کے لیے روپے پیسے کا رواج ہوا، نقل و حمل کے ذرائع ایجاد ہوئے، اور ذاتی ملکیت کا تصور ابھرا تاکہ انسان کو اپنی محنت کے ثمر پر اطمینان حاصل ہو سکے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ دلائل کے ساتھ یہ ثابت کرتے ہیں کہ تجارت، مختلف پیشوں کا وجود، اور حتیٰ کہ انسانوں کے درمیان صلاحیتوں کے فرق کی بنیاد پر معاشی عدم مساوات کا پیدا ہونا عین تقاضائے فطرت تھا۔ کچھ لوگ اپنی ذہانت سے زیادہ کماتے ہیں، کچھ کم، اور کچھ بچے، بوڑھے یا بیمار ہونے کی وجہ سے کمانے کے قابل نہیں ہوتے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ روپے پیسے، مشین، ذاتی ملکیت یا تمدن کو کوسنا دراصل غلط تشخیص اور غلط علاج ہے۔ اصل مسئلہ تمدن کی ترقی کو روکنا یا انسانوں کو زبردستی برابر کرنا نہیں ہے، بلکہ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اصل ہدف یہ ہے کہ تمدن کی اس فطری ترقی کو قائم رکھتے ہوئے اجتماعی ظلم، استحصال اور بے انصافی کا خاتمہ کیا جائے تاکہ معاشرے کا ہر فرد اپنی صلاحیتوں کو بخوبی استعمال کر سکے۔ نظامِ معیشت میں خرابی کی اصل جڑ کو بے نقاب کرتے ہوئے، مولانا فرماتے ہیں کہ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کی خود غرضی اور حرص حدِ اعتدال سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ ذاتی ملکیت اور قدرتی عدم مساوات بذاتِ خود کوئی بری چیزیں نہیں تھیں، لیکن سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ جب ایک فاسد سیاسی نظام اور رذائلِ اخلاق نے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیا، تو وہ لوگ جنہیں قدرت نے بہتر معاشی وسائل عطا کیے تھے، وہ بخل، بددیانتی، اور نفس پرستی کا شکار ہو گئے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس شیطانی وسوسے کی وضاحت کرتے ہیں جس نے مالداروں کو یہ پٹی پڑھائی کہ ان کی ضرورت سے زائد دولت صرف ان کی ذاتی عیاشی، تفریح اور غریبوں کو غلام بنانے کے لیے ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ اس شیطانی تعلیم کے زیرِ اثر دولت مندوں نے معاشرے کے ان محروم اور کمزور افراد کا حق ماننے سے یکسر انکار کر دیا جو دولت کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے تھے۔ مولانا کے نزدیک، مالداروں کی اس سنگدلی اور تنگ نظری نے معاشرے کو تباہی کے کنارے لا کھڑا کیا، کیونکہ جب غریب کو اس کا حق نہیں ملتا تو وہ فاقہ کشی، بیماری اور خستہ حالی کا شکار ہوتا ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بحث کو سمیٹتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اس ظلم کی وجہ سے انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد جرائم پیشہ بن جاتی ہے، ان کی اخلاقی اور جسمانی قوتیں تباہ ہو جاتی ہیں، اور وہ انسانی تہذیب کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس حقیقت پر متنبہ کرتے ہیں کہ دولت مندوں کے اس خود غرضانہ اور ظالمانہ رویے کی وجہ سے درحقیقت وہ پوری سوسائٹی اور مجموعی نظامِ حیات زوال اور نقصان کا شکار ہو جاتا ہے جس کا وہ مالدار طبقہ خود بھی ایک لازمی اور ناقابلِ علیحدگی حصہ ہوتا ہے۔ لہٰذا، معاشی مسئلے کا حقیقی حل صرف معاشی اعداد و شمار میں نہیں، بلکہ انسانی ہمدردی، اخلاقی اعتدال، حقوق کی منصفانہ ادائیگی اور زندگی کے تمام شعبوں کے درمیان ایک متوازن اور جامع ربط قائم کرنے میں ہی مضمر ہے۔
