کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیرِ نظر کتاب ’’بغاوت کا ظہور‘‘ ایک نہایت فکر انگیز تحریر ہے جس میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے مسلمانوں کے قومی زوال، ان کے خواص کے کردار اور مغربی تہذیب کے اثرات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فکری و عملی بغاوت کا گہرا تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس کتاب کا مرکزی خیال اس حقیقت کے گرد گھومتا ہے کہ کسی بھی قوم کا عروج و زوال دراصل اس کے خواص، یعنی ایلیٹ کلاس (Elite Class) کے کردار پر منحصر ہوتا ہے، اور مسلمانوں میں جو بگاڑ پیدا ہوا ہے، وہ اسی طبقے کی بدولت ہے جس نے اسلام کی اطاعت سے نکل کر مغرب کی اندھی تقلید اور ذہنی غلامی کا راستہ اختیار کیا۔ مصنف نے ابتدا میں عمرانیات کا ایک بنیادی اصول بیان کیا ہے کہ ہر قوم دو طبقوں پر مشتمل ہوتی ہے: ایک عوام اور دوسرے خواص۔ اگرچہ عوام کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، مگر قوم کی اصل قوت اور سمت کا تعین خواص کرتے ہیں۔ عوام محض پیروکار ہوتے ہیں، جن کے پاس نہ تو سوچنے سمجھنے کی وہ صلاحیت ہوتی ہے اور نہ ہی وسائل، جو قوم کا رخ موڑ سکیں۔ اس کے برعکس خواص وہ لوگ ہوتے ہیں جو ذہانت، دولت، عزت اور اقتدار کے مالک ہوتے ہیں۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق، جب کسی قوم کے خواص راہِ راست پر ہوتے ہیں تو پوری قوم ہدایت پاتی ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں انبیاء اور صالحین کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ وہ اللہ کے حکم سے رہنمائی کرتے ہیں۔ لیکن جب کسی قوم کی تباہی کا وقت آتا ہے تو اس کی ابتدا بھی خواص کے بگاڑ سے ہوتی ہے۔ قرآن نے ایسے بگڑے ہوئے خواص کے لیے ’’مترفین‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے، یعنی وہ خوش حال لوگ جو اللہ کی نعمتیں پا کر فسق و فجور میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور پوری بستی کی تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ فاضل مصنف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمانوں کے زوال کی داستان بھی انہی ’’مترفین‘‘ کی بد اعمالیوں سے عبارت ہے۔ ان لوگوں نے انبیاء کے طریقے کو چھوڑ کر شیطانی راستہ اپنایا۔ انہوں نے شریعت کی پابندیوں کو ڈھیلا کیا، خدا کی بندگی کے بجائے اپنی اور بادشاہوں کی بندگی عوام پر مسلط کی، اور حرام و حلال کی تمیز مٹا کر قوم کو بدعملی کا خوگر بنا دیا۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ان خواص نے اپنی ذہانت کو مکر و فریب، دولت کو ایمان خریدنے اور طاقت کو ظلم و تکبر کے لیے استعمال کیا۔ تاہم، مصنف ایک اہم تاریخی فرق کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو اس کتاب کا ایک بنیادی نکتہ ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ صدیوں تک مسلمانوں میں اخلاقی بگاڑ موجود رہا، حکمران اور امراء فسق و فجور میں مبتلا رہے، لیکن اس دور میں ایک چیز باقی تھی اور وہ تھا ’’احساسِ جرم‘‘ اور ’’ایمان کی رمق‘‘۔ اس زمانے میں اگرچہ لوگ گناہ کرتے تھے، قانونِ الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے، مگر ان کے دلوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی عظمت موجود تھی۔ وہ گناہ کو گناہ سمجھتے تھے اور اپنی بدعملیوں پر شرمندہ ہوتے تھے۔ کسی میں یہ جرات نہ تھی کہ وہ اسلام کے حق کو باطل اور اپنے باطل کو حق کہے، یا شریعت کے احکام کا مذاق اڑائے۔ یہ وہ دور تھا جب تہذیب کی بنیادیں اسلام پر قائم تھیں اور ذہنی سانچے مکمل طور پر مسخ نہیں ہوئے تھے۔ لیکن حالات میں اصل تبدیلی اور انقلاب انیسویں صدی میں اس وقت آیا جب مسلمانوں سے سیاسی اقتدار چھین لیا گیا اور وہ غلامی کے دور میں داخل ہوئے۔ مولانا کے تجزیے کے مطابق، جب قوم کے خواص اور مترفین نے دیکھا کہ اقتدار کے ساتھ ساتھ ان کی عزت، جاہ و منزلت اور دولت بھی ہاتھ سے جا رہی ہے، تو انہوں نے اپنی پوزیشن بچانے کے لیے مغربی تہذیب (فرنگیت) کی طرف رجوع کیا۔ یہ محض ایک تغیر نہیں تھا، بلکہ ایک مکمل انقلاب تھا جس نے ان کے قبلہ و کعبہ کو تبدیل کر دیا۔ ان کا رخ اسلام سے ہٹ کر اس تہذیب کی طرف ہو گیا جو اسلام کی ضد تھی۔ اس موڑ پر آ کر مسلمانوں کے خواص میں وہ ’’شرمساری‘‘ اور ’’ندامت‘‘ بھی ختم ہو گئی جو پہلے گناہ کرتے وقت محسوس ہوتی تھی۔ اب صورتحال یہ ہو گئی کہ گناہ اور قانون شکنی پر فخر کیا جانے لگا۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس ذہنی تبدیلی کی نہایت دردناک تصویر کشی کی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ جو شخص اسلامی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے، وہ شرمندہ ہونے کے بجائے الٹا اس شخص کو شرمندہ کرنے کی کوشش کرتا ہے جو دین پر عمل پیرا ہے۔ نماز، روزے اور دینی شعائر کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور ان پر عمل کرنے والوں کو طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جو لوگ دین کے احکام پر عمل کرتے ہیں، انہیں ’’مُلّا‘‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے اور اس لفظ کو جہالت، تنگ نظری اور دقیانوسیت کی علامت بنا دیا گیا ہے۔ گویا جدید تعلیم یافتہ طبقے کے نزدیک دین پر عمل کرنا ایک عیب بن گیا ہے جس پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ اس کے برعکس، مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کو روشن خیالی اور ترقی کا نام دے دیا گیا ہے۔ اس فکری غلامی کا عالم یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی دلیل اب ان ’’روشن خیال‘‘ مسلمانوں کے نزدیک کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ اگر کوئی بات اللہ اور رسول ﷺ کے حوالے سے پیش کی جائے تو ان کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہو جاتے ہیں، لیکن وہی بات اگر کسی مغربی مفکر کے حوالے سے یا عقلی استدلال کے ساتھ کہی جائے تو اسے فوراً تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ طبقہ اسلام کے نام سے ہی بدکتا ہے اور اسے ہر اسلامی بات میں کوئی نہ کوئی کمزوری نظر آتی ہے، جبکہ مغرب کی ہر خرافات ان کے لیے سند کا درجہ رکھتی ہے۔ کتاب کا ایک نہایت حساس اور دل دہلا دینے والا حصہ وہ ہے جہاں مصنف نے عورتوں اور خاندانی نظام پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کیا ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے تک یہ بگاڑ صرف مردوں تک محدود تھا اور ’’حرم‘‘ (گھر کی چار دیواری) وہ آخری قلعہ تھا جہاں اسلامی تہذیب محفوظ تھی۔ عورت کو حجابِ شرعی میں رکھنے کی ایک بڑی حکمت یہ بھی تھی کہ کم از کم وہ گود تو کفر اور بدعملی کے اثرات سے پاک رہے جس میں مسلمان بچے کی پرورش ہوتی ہے۔ لیکن اب فرنگیت کی یہ وبا گھروں کے اندر بھی داخل ہو چکی ہے۔ نام نہاد ترقی پسند مرد اپنی عورتوں کو بھی زبردستی باہر کھینچ لائے ہیں تاکہ وہ بھی مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگ جائیں۔ اب مسلمان خواتین بھی بے پردگی، مخلوط محفلوں اور غیر اسلامی طرزِ زندگی کو اپنانے میں فخر محسوس کرتی ہیں اور ان خواتین کو حقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں جو شرعی حدود کی پابندی کرتی ہیں۔ مصنف نے بڑے درد کے ساتھ سوال اٹھایا ہے کہ جب ماؤں کی گودیں بھی اسلام سے خالی ہو جائیں گی، تو آئندہ نسلوں کا کیا بنے گا؟ وہ بچے جو آنکھ کھولتے ہی اپنے اردگرد فرنگیت کا ماحول دیکھیں گے، جن کے کانوں میں اللہ اور رسول ﷺ کا نام ہی نہیں پڑے گا، اور جن کی تربیت اسلامی اقدار کے بجائے مغربی اصولوں پر ہوگی، ان سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ مسلمان رہیں گے؟ مولانا کے نزدیک یہ اس انقلاب کی تکمیل ہے جو مسلمانوں کو اسلام سے مکمل طور پر کاٹ کر رکھ دے گا۔ خلاصہ کلام میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے جرم اور بغاوت کے تین مدارج بیان کیے ہیں جو ان کے استدلال کی جان ہیں۔ پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان جرم کرے مگر اسے جرم سمجھے اور شرمندہ ہو؛ یہ کمزوری ہے جو معافی کے قابل ہے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ انسان جرم کرے اور اسے عیب کے بجائے خوبی سمجھے اور اس پر فخر کرے؛ یہ قانون کا احترام ختم ہونے کی دلیل ہے۔ تیسرا اور آخری درجہ یہ ہے کہ انسان نہ صرف جرم کرے بلکہ اسے جائز اور ثواب سمجھے، اور جو قانون اسے جرم قرار دیتا ہے، اس کا مذاق اڑائے۔ یہ رویہ ’’بغاوت‘‘ ہے۔ مصنف کے مطابق ہمارے دور کا جدید طبقہ اسی تیسرے درجے پر پہنچ چکا ہے۔ آخر میں مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ ایک منطقی اور فیصلہ کن بات کرتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں کہ انسان ایک طرف اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کا مذاق اڑائے، ان کی نافرمانی کو فخر کا باعث سمجھے، اور دوسری طرف ایمان کا دعویدار بھی ہو۔ اطاعت اور بغاوت ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔ جو شخص قانونِ الٰہی کی تحقیر کرتا ہے، وہ دراصل خدا اور رسول ﷺ کے خلاف بغاوت کا مرتکب ہوتا ہے، اور ایسے شخص کا اسلام سے کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔ یہ کتاب درحقیقت اسی خوفناک صورتحال کا نوحہ ہے اور مسلمانوں کو اس غفلت سے بیدار کرنے کی ایک پرزور کوشش ہے کہ وہ دیکھیں کہ وہ کس طرح تدریجی طور پر اسلام کے دائرے سے نکل کر کفر اور ارتداد کی وادیوں میں گم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ تحریر اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ محض نام کا مسلمان ہونا کافی نہیں، بلکہ اسلام کے قانون کا احترام اور اس کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا ہی اصل ایمان ہے۔
