کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس بہترین ساخت اور احسنِ تقویم پر پیدا کیا ہے، اس کی ایک بنیادی اور خوب صورت خصوصیت یہ ہے کہ انسانی فطرت کبھی بھی کھلم کھلا برائی، ننگے فساد اور بے نقاب فتنے کی طرف راغب نہیں ہوتی۔ انسان کی اس فطری نیکی کی وجہ سے شیطان ہمیشہ اس بات پر مجبور ہوتا ہے کہ وہ جب بھی انسان کو گمراہ کرنا چاہے، تو اپنے فتنہ و فساد کو کسی نہ کسی طرح بھلائی، خیر اور اصلاح کے دلفریب لباس میں چھپا کر پیش کرے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس انسانی نفسیات کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جنت میں جب شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو دھوکا دینا چاہا تو اس نے یہ نہیں کہا کہ میں تم سے اللہ کی نافرمانی کروانا چاہتا ہوں تاکہ تم جنت سے نکال دیے جاؤ، بلکہ اس نے خدا کی نافرمانی کو بقائے دوام اور لازوال بادشاہت کے دلفریب نعرے کے پیچھے چھپا کر پیش کیا۔ انسانی تاریخ میں شیطان کا یہ حربہ آج تک پوری کامیابی سے جاری ہے۔ آج بھی وہ جتنی تباہیوں اور حماقتوں میں نوعِ انسانی کو مبتلا کر رہا ہے، وہ سب کسی نہ کسی انتہائی پرفریب، خوش نما نعرے اور جھوٹے نظریاتی لباس کے سہارے ہی مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔ جدید دور میں انسانیت کو دیا جانے والا ایک ایسا ہی بہت بڑا اور خطرناک دھوکا وہ ہے جو آج کل "اجتماعی عدل" یا سوشل جسٹس کے نام پر پوری دنیا میں پھیلایا جا رہا ہے۔ مولانا اس تاریخی پس منظر کو بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس موجودہ فریب سے قبل، ایک طویل عرصے تک شیطان دنیا کو حریتِ فرد (انفرادی آزادی) اور فراخ دلی (لبرلزم) کے انتہائی دلکش نعروں سے دھوکا دیتا رہا۔ انھی نعروں کی بنیاد پر اٹھارہویں صدی میں سرمایہ داری اور لادینی جمہوریت کا ایک ایسا نظام قائم کیا گیا جسے ایک وقت تک دنیا میں انسانی ترقی کی آخری منزل اور حرفِ آخر سمجھا جاتا تھا۔ اس دور میں جو شخص بھی خود کو ترقی پسند کہلوانا چاہتا تھا، اس کے لیے لازمی تھا کہ وہ مغربی لبرلزم اور انفرادی آزادی کے گن گائے۔ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انسانیت کی بقا اور فلاح کا واحد راستہ یہی سرمایہ دارانہ نظام ہے، لیکن پھر دنیا نے اپنی آنکھوں سے وہ وقت بھی دیکھا جب یہ حقیقت پوری طرح آشکار ہو گئی کہ اس شیطانی نظام نے انفرادی آزادی کے نام پر پوری زمین کو ظلم، استحصال اور جبر سے بھر دیا ہے۔ جب اس نظام کا کھوکھلا پن اور ظلم واضح ہو گیا تو شیطان کے لیے ممکن نہ رہا کہ وہ مزید اس پرانے نعرے کے ذریعے انسانوں کو بیوقوف بنا سکے۔ چنانچہ، جب سرمایہ داری کا فریب ٹوٹنے لگا تو ابلیس نے ایک نیا جال بُنا اور اجتماعی عدل اور اشتراکیت (کمیونزم) کے نام سے ایک نیا فریب تراش کر دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ اس نئے اور جھوٹے نظریے کے تحت دنیا میں ایک ایسا نیا ظالمانہ نظام قائم کیا جا رہا ہے جس نے اب تک دنیا کے متعدد ممالک کو ایک ایسے ہولناک اور عظیم ظلم سے بھر دیا ہے جس کی کوئی مثال انسانی تاریخ کے کسی تاریک ترین دور میں بھی نہیں ملتی۔ لیکن سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ اس نئے شیطانی فریب کا زور اور جادو اتنا طاقتور ہے کہ بے شمار دوسرے ممالک آج بھی اس کی اصل حقیقت سے ناواقف ہیں اور اسے انسانی ترقی کا حرفِ آخر سمجھ کر گلے لگانے کے لیے بے تاب ہیں۔ اس عالمی نظریاتی کشمکش کے تناظر میں جب ہم مسلمانوں کی حالت کا جائزہ لیتے ہیں تو صورتحال انتہائی افسوس ناک نظر آتی ہے۔ مسلمانوں کے پاس اللہ کی عطا کردہ کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی صورت میں ایک ایسی مکمل، ابدی اور دائمی ہدایت موجود ہے جو زندگی کے ہر معاملے میں ان کی رہنمائی کر سکتی ہے اور انھیں ہر طرح کے شیطانی وسوسوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ مگر مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق، مسلمانوں کی اکثریت اپنے اس عظیم دین سے جاہل ہو چکی ہے اور وہ مغربی استعمار کی تہذیبی اور فکری یلغار سے اس قدر بری طرح مغلوب اور مرعوب ہو چکے ہیں کہ دنیا کی غالب قوموں کی طرف سے جو بھی نعرہ بلند ہوتا ہے، مسلمان آنکھیں بند کر کے اس کی اندھی تقلید شروع کر دیتے ہیں۔ جب دنیا میں انقلابِ فرانس کے افکار کا غلبہ تھا، تو ہمارے جدید تعلیم یافتہ طبقے نے حریتِ فرد اور لادینی جمہوریت کو عین اسلام ثابت کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ دنیا کی نظروں میں رجعت پسند یا پسماندہ نہ سمجھے جائیں۔ اور جب دنیا کا قبلہ تبدیل ہوا اور اشتراکیت کا دور دورہ شروع ہوا، تو انھی مرعوب ذہنیت والوں نے کمیونزم اور اشتراکیت کے نظریات کو اسلام میں تلاش کرنا شروع کر دیا۔ یہ لوگ اس احساسِ کمتری کا شکار ہیں کہ شاید اسلام ان جدید نظریات کے بغیر نامکمل ہے، اس لیے وہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام میں بھی اشتراکی تصور کا اجتماعی عدل موجود ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ طرزِ عمل ہماری ذہنی غلامی اور علمی جاہلیت کی بدترین اور ذلت آمیز انتہا ہے۔ در حقیقت یہ کہنا کہ "اسلام میں بھی عدالتِ اجتماعیہ موجود ہے" ایک انتہائی غلط اور گمراہ کن جملہ ہے۔ اصل اور حتمی سچائی یہ ہے کہ صرف اسلام ہی میں عدالتِ اجتماعیہ ہے۔ کائنات کے خالق و مالک نے انسان کی رہنمائی کے لیے جو دین نازل فرمایا ہے، وہی حق ہے۔ انسانوں کے درمیان عدل قائم کرنا، اور یہ طے کرنا کہ حقیقتاً عدل کیا ہے اور ظلم کیا ہے، یہ صرف اور صرف انسانوں کے خالق اور رب کا کام ہے۔ مولانا اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کوئی بھی انسان یا انسانی گروہ، چاہے وہ کتنا ہی دانا اور بلند مرتبہ کیوں نہ ہو، اس بات کا مجاز نہیں کہ وہ خود سے عدل و ظلم کے معیار مقرر کرے۔ انسان کی عقل محدود ہے اور وہ ہمیشہ اپنی نفسانی خواہشات، ذاتی مفادات اور تعصبات کے زیرِ اثر رہتا ہے۔ اسی محدودیت کی وجہ سے انسان آج تک کوئی ایسا نظام نہیں بنا سکا جو سو فیصد عدل پر مبنی ہو۔ انسان کے بنائے ہوئے تمام نظام کچھ عرصہ چلنے کے بعد ناکام اور ناقص ثابت ہو جاتے ہیں، اور پھر انسانیت ان سے بیزار ہو کر کسی نئی حماقت کی طرف چل پڑتی ہے۔ حقیقی، بے عیب اور مکمل عدل صرف اسی نظام میں پنہاں ہے جو اس ہستی نے بنایا ہے جو عالم الغیب ہے اور ہر قسم کے نقائص سے پاک ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ قرآن مجید کی سورۃ الحدید کی روشنی میں یہ عظیم حقیقت بیان کرتے ہیں کہ اللہ نے اپنے رسولوں، کتابوں اور میزان کو نازل ہی اس لیے کیا ہے تاکہ دنیا میں انصاف قائم ہو سکے۔ لہٰذا، عدل اسلام سے باہر کی کوئی چیز نہیں ہے؛ مکمل اور بلا کم و کاست اسلام کا نفاذ ہی دراصل مکمل عدل کا قیام ہے۔ جب ایک انسان اس حقیقت کو پا لیتا ہے تو وہ عدل کی تلاش میں در در بھٹکنے کے بجائے صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتا ہے۔ انسانی معاشرہ محض بے جان مشینی پرزوں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ کروڑوں ذی روح، باشعور اور ذی عقل افراد پر مشتمل ایک زندہ حقیقت ہے۔ معاشرے کا ہر فرد اپنی ایک الگ اور مستقل شخصیت رکھتا ہے، جس کی نشوونما کے لیے اسے آزادانہ مواقع درکار ہوتے ہیں۔ افراد معاشرے کے لیے نہیں بنائے گئے، بلکہ معاشرہ اور اس کے تمام ادارے افراد کی فلاح اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وجود میں آتے ہیں۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انفرادی آزادی اس لیے بھی ناگزیر ہے کیونکہ آخرت میں ہر فرد کو انفرادی طور پر اللہ کے سامنے جواب دہ ہونا ہے۔ وہاں قومیں، قبیلے یا تنظیمیں حساب دینے نہیں آئیں گی، بلکہ ہر انسان کو اکیلے اپنے اعمال، اپنی صلاحیتوں کے استعمال اور اپنی بنائی ہوئی شخصیت کا حساب دینا ہوگا۔ اس لیے اگر کوئی جابرانہ نظام انسانوں کی انفرادی آزادی چھین کر انھیں اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھلنے پر مجبور کرتا ہے، تو اس نظام کے بنانے والے قیامت کے دن ان تمام انسانوں کی برباد شدہ شخصیتوں کا بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ ایک خدا ترس انسان کبھی ایسا جابرانہ نظام چلانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ دوسری طرف معاشرے، خاندان، قبیلے اور ریاست کا وجود بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ کوئی فرد اپنی آزادی کا غلط استعمال کر کے دوسروں پر ظلم نہ کر سکے۔ ریاست کے پاس اتنا اختیار ضرور ہونا چاہیے کہ وہ معاشرے کی مجموعی فلاح و بہبود کے لیے افراد سے خدمت لے سکے اور ظالم کا ہاتھ روک سکے۔ انفرادیت اور اجتماعیت کے اسی توازن کا نام حقیقی "اجتماعی عدل" ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے فرد کو حد سے زیادہ مادر پدر آزادی دے کر معاشرے کے مجموعی مفاد کو نقصان پہنچایا، جس سے ظلم نے جنم لیا۔ لیکن اشتراکیت اور کمیونزم کا نظام اس سے بھی ہزار درجے بدتر ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اشتراکی نظام کی قلعی کھولتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ نظام ریاست کو اس قدر لامحدود اور بے پناہ طاقت دے دیتا ہے کہ فرد، خاندان اور معاشرے کی تمام آزادیاں مکمل طور پر سلب ہو کر رہ جاتی ہیں۔ انسان زندہ روحوں کے بجائے ایک بے رحم ریاستی مشین کے بے جان پرزے بن جاتے ہیں۔ اسے کسی بھی طور پر اجتماعی عدل قرار نہیں دیا جا سکتا کہ چند افراد مل کر ایک فلسفہ گھڑیں اور پھر حکومت، فوج، پولیس اور خفیہ اداروں کی غیر محدود طاقت کے زور پر اسے کروڑوں انسانوں پر مسلط کر دیں۔ اس ظالمانہ نظام میں لوگوں کے اموال اور زمینیں ضبط کر لی جاتی ہیں اور پورے ملک کو ایک ایسے وسیع و عریض جیل خانے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جہاں آزادیِ رائے، تنقید اور عدالتی انصاف کا ہر دروازہ بند ہوتا ہے۔ مولانا واضح کرتے ہیں کہ ایسے نظام میں ہر شخص دوسرے سے خوفزدہ رہتا ہے اور جاسوسی کا جال اس قدر بچھا دیا جاتا ہے کہ لوگ اپنے گھروں میں بھی بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ یہاں تک کہ نام نہاد انتخابات بھی صرف ایک فریب ہوتے ہیں جن میں حکمرانوں کے مخالفین کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ بالفرض محال اگر یہ جابرانہ اشتراکی نظام معاشی دولت کی مساوی تقسیم میں کامیاب ہو بھی جائے، تب بھی کیا محض معاشی مساوات کا نام عدل ہے؟ کیا یہ عدل ہے کہ ایک ڈکٹیٹر اپنی مرضی کا فلسفہ پوری قوم پر جبر سے نافذ کرنے میں مکمل آزاد ہو، لیکن قوم کا کوئی فرد اس کی کسی جزوی غلطی پر اپنی زبان سے ایک لفظ نکالنے کی بھی آزادی نہ رکھتا ہو؟ درحقیقت، اشتراکیت کے پردے میں چھپا یہ نظام اجتماعی ظلم کی وہ بدترین، بھیانک اور تاریک ترین شکل ہے جس کی مثال نمرود، فرعون اور چنگیز خان کے ادوار میں بھی نہیں ملتی۔ سچا اور حقیقی عدل صرف اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب انسان اللہ کی مکمل بندگی اختیار کرتے ہوئے، انفرادی اور اجتماعی زندگی کو خالصتاً اسلامی اصولوں کے تابع کر دے۔
