کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیرِ نظر مضمون دراصل سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک فکر انگیز تقریر کا تحریری خلاصہ ہے جس میں انہوں نے اسلام میں انسانی حقوق کے تصور کو نہایت مدلل اور تقابلی انداز میں پیش کیا ہے۔ اس تحریر کا بنیادی مقصد اس غلط فہمی کا ازالہ کرنا ہے کہ انسانی حقوق کا تصور مغرب کی دین ہے یا یہ جدید دور کی پیداوار ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی گفتگو کا آغاز اس بنیادی نکتے سے کیا ہے کہ مسلمانوں کے لیے انسانی حقوق کا تصور کوئی نئی چیز نہیں ہے جس کے لیے وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر یا میگنا کارٹا کی طرف دیکھنے کے محتاج ہوں۔ اگرچہ مغرب اور دیگر اقوام کی نظر میں ان حقوق کی تاریخ مغرب کے سیاسی ارتقاء سے جڑی ہو سکتی ہے، لیکن اسلام نے یہ تصور صدیوں پہلے اس وقت پیش کر دیا تھا جب دنیا جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ انسان اور کائنات کے دیگر جانداروں کا موازنہ کرتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ ایک نہایت لطیف اور اہم نکتہ اٹھاتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ اس کائنات میں صرف انسان ہی وہ مخلوق ہے جس کے حقوق کا سوال بار بار پیدا ہوتا ہے اور اسے طے کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ انسان کے علاوہ دیگر تمام مخلوقات، چاہے وہ چرند ہوں یا پرند، اپنے حقوق فطرت سے حاصل کرتے ہیں اور فطری قوانین کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔ جانوروں میں یہ نہیں دیکھا گیا کہ وہ اپنی ہی جنس کے خلاف منظم جنگیں کریں، یا کسی کتے نے دوسرے کتوں کو غلام بنایا ہو، یا شیروں نے کوئی فوج تیار کی ہو۔ درندے بھی اگر شکار کرتے ہیں تو صرف اپنی غذائی ضرورت پوری کرنے کے لیے، نہ کہ محض لذت یا حکمرانی کے شوق میں۔ اس کے برعکس، انسان جسے اللہ تعالیٰ نے ذہانت اور قوتِ ایجاد عطا کی ہے، وہ اپنی ہی جنس پر ظلم ڈھانے میں سب سے آگے ہے۔ مولانا اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جب انسان اللہ کی ہدایت سے منہ موڑ کر اپنی طاقت کا استعمال کرتا ہے تو وہ درندوں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں انسانوں نے جتنی جانیں ضائع کیں، اتنی تو شاید پوری تاریخ میں جانوروں نے مل کر بھی نہیں لی ہوں گی۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان خود اپنے حقوق کا تعین کرنے کا اہل نہیں ہے بلکہ اس کے حقوق کا صحیح تعین صرف اس کا خالق ہی کر سکتا ہے جس نے انبیاء کرام کے ذریعے اس کی رہنمائی فرمائی۔ مغرب میں انسانی حقوق کی تاریخ اور ارتقاء پر تنقیدی نگاہ ڈالتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے واضح کیا کہ مغربی دنیا میں انسانی حقوق کا تصور بمشکل دو تین صدیوں پرانا ہے۔ انہوں نے تاریخی دستاویزات کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ ۱۲۱۵ء کا ’’میگنا کارٹا‘‘ درحقیقت بادشاہ اور امراء کے درمیان طاقت کی رسہ کشی کا نتیجہ تھا اور اس کا عام آدمی کے حقوق سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اسی طرح اٹھارویں صدی میں ٹام پین اور انقلابِ فرانس کے ذریعے جو حقوق کے تصورات سامنے آئے، وہ زیادہ تر الہامی مذہب سے بیزاری اور بغاوت کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے، جس کی وجہ سے مغرب میں یہ تاثر قائم ہوا کہ شاید مذہب انسانی حقوق کا مخالف ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اقوام متحدہ کے منشور برائے انسانی حقوق اور انسدادِ نسل کشی کی قراردادوں کا بھی ذکر کیا اور ان کی بے بسی کو اجاگر کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگرچہ ان قراردادوں میں بہت خوبصورت باتیں درج ہیں اور انسانی جان و مال کے تحفظ کے وعدے کیے گئے ہیں، لیکن ان کے پیچھے کوئی اخلاقی یا قانونی قوتِ نافذہ موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان چارٹرز پر دستخط کرنے والے بڑے بڑے ممالک خود ان حقوق کی دھجیاں اڑاتے نظر آتے ہیں اور دنیا میں ظلم و ستم کا بازار گرم ہے۔ اس کے مقابلے میں اسلام کا دیا ہوا منشور محض سفارشات نہیں بلکہ ایک واجب الاتباع قانون اور دین کا حصہ ہے۔ اسلامی حقوق کے تفصیلی بیان میں سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ سب سے پہلے انسانی جان کے احترام کا ذکر کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ انسانی تاریخ کا پہلا قتل ہی وہ نقطہ تھا جہاں اللہ تعالیٰ نے انسانی جان کی حرمت کا قانون وضع کیا۔ قرآن نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل اور ایک جان کے بچانے کو پوری انسانیت کا احیاء قرار دیا۔ مولانا وضاحت کرتے ہیں کہ اسلام میں انسانی جان کی حرمت ایک اٹل اصول ہے، جس سے صرف دو صورتیں مستثنیٰ ہیں: ایک قصاص میں قتل اور دوسرا زمین میں فساد پھیلانے کی سزا۔ اس کے علاوہ کسی بھی انسان کی جان لینا پوری انسانیت پر حملہ کرنے کے مترادف ہے۔ یہ تصور اس بات کی نفی کرتا ہے کہ انسان تاریکی میں بھٹکتے ہوئے خود حقوق تک پہنچا ہے، بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ابتدائی ہدایت تھی۔ جنگ اور امن، دونوں حالتوں میں کمزوروں کے حقوق کے حوالے سے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اسلام کے سنہری اصولوں پر روشنی ڈالی۔ آپ نے بتایا کہ اسلام میں عورتوں، بچوں، بوڑھوں، زخمیوں اور بیماروں پر ہاتھ اٹھانا سخت منع ہے، چاہے وہ دشمن قوم ہی سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہوں۔ یہ وہ تعلیمات ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین نے اپنی افواج کو دی تھیں۔ مغرب کی مہذب کہلانے والی قومیں آج بھی جنگوں میں شہری آبادیوں کو نشانہ بناتی ہیں، جبکہ اسلام نے چودہ سو سال پہلے اسے ممنوع قرار دے دیا تھا۔ اسی طرح عورت کی عصمت کا تحفظ اسلام کا ایک بنیادی پتھر ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ اسلام میں زنا اور بدکاری ہر حال میں حرام ہے، خواہ عورت کا تعلق اپنی قوم سے ہو یا دشمن قوم سے، وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ ایک مسلمان سپاہی کے لیے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ جنگ کے دوران کسی دشمن عورت کی عزت پر حملہ کرے۔ یہ اخلاقی بلندیاں ہیں جو صرف الہامی ہدایت ہی انسان کو عطا کر سکتی ہے۔ انسانی ہمدردی اور بنیادی ضروریات کے حوالے سے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں بتایا کہ بھوکے کو کھانا کھلانا، ننگے کو کپڑا دینا اور بیمار کا علاج کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ دوست ہے یا دشمن۔ اگر دشمن کا کوئی فرد بھی پناہ مانگ کر یا زخمی حالت میں مسلمانوں کے پاس آجائے تو اس کی بنیادی ضروریات پوری کرنا اسلامی فریضہ ہے۔ اسلام دشمنی کو اس حد تک لے جانے کی اجازت نہیں دیتا کہ انسانیت کا رشتہ ہی ٹوٹ جائے۔ عدل و انصاف کے باب میں مولانا نے قرآن کی اس آیت کا حوالہ دیا جس میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم انصاف کا دامن چھوڑ دو۔ عدل کرنا تقویٰ کے قریب تر ہے۔ یہ اسلام کا وہ طرہ امتیاز ہے جو اسے دنیا کے دیگر تمام نظاموں سے ممتاز کرتا ہے کہ یہاں دشمن کے ساتھ بھی انصاف کرنا فرض ہے۔ مساواتِ انسانی اور نسلی امتیاز کے خاتمے پر گفتگو کرتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے خطبہ حجۃ الوداع اور سورہ حجرات کی روشنی میں اسلامی نظریہ پیش کیا۔ آپ نے واضح کیا کہ تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں اور قوموں یا قبیلوں کی تقسیم محض تعارف کے لیے ہے، تفاخر کے لیے نہیں۔ اللہ کے نزدیک عزت کا معیار رنگ، نسل یا زبان نہیں بلکہ صرف اور صرف ’تقویٰ‘ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اسلام معاشرے میں اونچ نیچ، برہمن اور شودر، یا حکمران اور محکوم جیسی طبقاتی تقسیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ فرعونیت اسی چیز کا نام تھی کہ انسانوں کو گروہوں میں بانٹ کر ان پر ظلم کیا جائے، جبکہ اسلام تمام انسانوں کو ایک سطح پر کھڑا کرتا ہے جہاں فضیلت صرف اخلاق اور کردار کی بنیاد پر حاصل ہوتی ہے۔ آخر میں مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک انتہائی اہم اصول بیان کیا جو حکمرانی اور اطاعت کی حدود متعین کرتا ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ "خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں"۔ اسلام میں کسی بھی شخص، چاہے وہ کتنا ہی بڑا افسر یا حکمران ہو، یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے ماتحت کو گناہ یا ظلم کرنے کا حکم دے۔ اور اگر وہ ایسا حکم دیتا ہے تو ماتحت پر اس کی اطاعت حرام ہو جاتی ہے۔ یہ وہ بنیادی حق ہے جو انسان کو ضمیر کی آزادی عطا کرتا ہے اور اسے اندھی اطاعت سے بچاتا ہے۔ اس پوری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ مغرب کے پیش کردہ حقوق محض کاغذی کارروائی اور سیاسی مصلحتوں کا شکار ہیں، جبکہ اسلام کے عطا کردہ حقوق اللہ کا حکم ہیں جن کی پاسداری ہر مسلمان پر ایمان کا تقاضا سمجھ کر لازم ہے اور دنیا و آخرت میں جوابدہی کا احساس ہی ان حقوق کا اصل ضامن ہے۔
