کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
یہ ایک جامع خلاصہ ہے جو کتاب "دعوت اسلامی اور اس کا طریق کار" کے فراہم کردہ متن پر مبنی ہے، جس میں مولانا سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے پیش کردہ خیالات، دلائل اور تجزیے کو تسلسل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ دعوت اسلامی اور اس کا طریق کار: ایک جامع خلاصہ یہ بصیرت افروز خطاب جو ۱۹ اپریل ۱۹۴۵ء کو دارالاسلام، پٹھان کوٹ میں منعقدہ سالانہ اجتماع کے موقع پر کیا گیا، دراصل اس تحریک کے بنیادی مقاصد، طریقہ کار اور اس کے پیچھے کارفرما روح کی ایک واضح تصویر پیش کرتا ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی گفتگو کا آغاز اللہ رب العزت کی حمد و ثنا اور اس بات پر گہرے تشکر کے ساتھ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس دعوت کو عوام میں غیر معمولی مقبولیت عطا فرمائی، باوجود اس کے کہ بظاہر یہ دعوت انتہائی خشک اور روایتی کشش سے عاری تھی۔ آپ نے اس حقیقت کو واضح کیا کہ جس وقت یہ دعوت لے کر وہ اٹھے تھے، دنیا کے بازار میں اس سے زیادہ کوئی بے وقعت چیز نظر نہیں آتی تھی اور جس طریق کار کو انہوں نے اختیار کیا، وہ ان تمام لوازمات سے خالی تھا جو عموماً دنیاوی تحریکوں کو کامیاب بنانے اور خلقِ خدا کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ نہ تو اس میں جلسے جلوسوں کا کوئی اہتمام تھا، نہ نعرے بازی اور جھنڈوں کی بہاریں تھیں، اور نہ ہی کوئی اشتعال انگیز مظاہرے یا جذباتی تقریریں شامل تھیں جو عوام کے جذبات کو بھڑکانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اس کے باوجود، مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ دیکھ کر دل جذبہ شکر سے لبریز ہو جاتا ہے کہ اللہ کے بندے جوق در جوق اس دعوت کی طرف کھنچے چلے آ رہے ہیں اور دور دراز علاقوں سے بغیر کسی دنیوی لالچ یا تفریح کے سامان کے، ان بے لطف اجتماعات میں شرکت کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ اس اجتماع کی سادگی اور پروقار نوعیت کا ذکر کرتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے بتایا کہ اس اجتماع کا اعلان صرف ایک مرتبہ اخبار "کوثر" میں شائع ہوا تھا اور روایتی معنوں میں جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے کسی قسم کی اشتہار بازی یا پروپیگنڈا نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود ہندوستان کے مختلف گوشوں سے ایک ہزار کے قریب افراد کا جمع ہو جانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کشش کسی مصنوعی ذرائع کی مرہونِ منت نہیں بلکہ یہ خالصتاً حق کی کشش ہے، کیونکہ اس تحریک کے پاس سوائے حق کے اور کوئی ایسی چیز سرے سے موجود ہی نہیں جو لوگوں کو اپنی طرف مائل کر سکے۔ ان اجتماعات کا مقصد کسی بھی طرح کا سیاسی مظاہرہ کرنا یا ہنگامہ برپا کر کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا نہیں ہے، بلکہ مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ان کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ تحریک کے ارکان ایک دوسرے سے متعارف ہوں، ان کے درمیان اجنبیت کی دیواریں گر جائیں، اور وہ باہمی مشاورت سے تعاون کی نئی راہیں تلاش کریں۔ یہ اجتماعات اس لیے منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ کام کا جائزہ لیا جا سکے، اپنی کمزوریوں کو سمجھ کر انہیں دور کرنے کی تدبیریں کی جائیں اور پیش آنے والے مسائل کا حل سوچا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ موقع ان لوگوں کے لیے بھی غنیمت ہے جو اس دعوت کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں، تاکہ وہ بالمشافہ اس کام کو دیکھیں اور اگر ان کا دل گواہی دے کہ یہ لوگ حق پر ہیں، تو وہ اس قافلے میں شامل ہو جائیں۔ اپنی دعوت کے بنیادی خدوخال واضح کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس غلط فہمی کا پرزور ازالہ کیا جو عام طور پر "حکومتِ الٰہیہ" کے تصور کے حوالے سے پائی جاتی ہے۔ لوگ اکثر یہ سمجھتے ہیں یا انہیں سمجھایا جاتا ہے کہ حکومتِ الٰہیہ سے مراد محض ایک سیاسی نظام کا قیام ہے اور اس تحریک کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا ہے۔ اس تصور سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ لوگ دین کی آڑ میں دنیا طلب کر رہے ہیں، حالانکہ ایک مسلمان کا اصل مقصد دین اور آخرت ہونا چاہیے نہ کہ حکومت۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کھلے دل سے ان کے لٹریچر کا مطالعہ کرے تو اس پر یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ ان کے پیش نظر محض ایک سیاسی ڈھانچے کی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ وہ پوری انسانی زندگی میں، خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، اس ہمہ گیر انقلاب کے خواہاں ہیں جو اسلام چاہتا ہے اور جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کی رہنمائی میں امت مسلمہ کو برپا کیا تھا۔ اپنی اس دعوت کو انہوں نے تین بنیادی نکات میں سمیٹ کر پیش کیا جو ایک دوسرے کے ساتھ منطقی ربط رکھتے ہیں۔ پہلا اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ تحریک تمام بندگانِ خدا کو بالعموم اور مسلمانوں کو بالخصوص اللہ کی مکمل بندگی کی دعوت دیتی ہے۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے "اللہ کی بندگی" کے مفہوم کی تشریح کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بندگی کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ خدا کو خالق اور رازق مان لیا جائے مگر عملی زندگی میں انسان اپنی مرضی کا مالک بنا رہے۔ یہ تصور بھی غلط ہے کہ زندگی کو مذہبی اور دنیوی خانوں میں تقسیم کر دیا جائے، جہاں مذہب کا تعلق چند عبادات تک محدود ہو اور باقی زندگی—سیاست، معیشت، تمدن اور قانون—میں انسان خدا کی ہدایت سے آزاد ہو کر خود ساختہ نظاموں کی پیروی کرے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک قرآن اور تمام آسمانی کتابوں کی دعوت یہ رہی ہے کہ انسان اللہ کو صرف پوجا پاٹ کی حد تک نہیں بلکہ حاکم، آقا، قانون ساز اور جزا و سزا کا مالک تسلیم کرے۔ بندگی کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی، چاہے وہ نجی ہو یا عوامی، اخلاقی ہو یا سیاسی، مکمل طور پر اللہ کے سپرد کر دے اور قرآن کے حکم "ادخلوا فی السلم کافۃ" (اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ) کی عملی تصویر بن جائے۔ مولانا کے نزدیک تحریک کی اصل لڑائی اسی دوغلے پن اور زندگی کی تقسیم کے خلاف ہے جس نے دین کے تصور کو مسخ کر دیا ہے۔ دعوت کا دوسرا نکتہ، جو پہلے نکتے کا لازمی نتیجہ ہے، یہ ہے کہ جو لوگ اسلام کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ اپنی زندگیوں سے منافقت اور تضاد (تناقض) کو خارج کریں۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے منافقانہ رویے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کہاں کا ایمان ہے کہ انسان جس دین کا کلمہ پڑھے، اس کے برعکس نظامِ زندگی پر راضی اور مطمئن رہے۔ اگر ایک شخص خدا کی بندگی کا اقرار کرتا ہے لیکن عملی طور پر کسی فاسقانہ اور غیر اسلامی نظام کے تحت زندگی گزارنے پر خوش ہے اور اسے بدلنے کی کوئی کوشش نہیں کرتا، تو یہ رویہ منافقت کے زمرے میں آتا ہے۔ مخلصانہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مومن جس دین پر یقین رکھتا ہو، اسی کو اپنی زندگی کا قانون بنانا چاہیے اور اس راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے بے چین رہنا چاہیے۔ مولانا نے مسلمانوں کی زندگی میں پائے جانے والے تضادات پر شدید تنقید کی کہ ایک طرف تو وہ خدا، رسول اور آخرت پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف ان کی عملی زندگی کا رخ بالکل مخالف سمت میں ہوتا ہے۔ وہ مسجد میں تو خدا کی عبادت کرتے ہیں لیکن عدالتوں، بازاروں اور سماجی معاملات میں غیر اسلامی قوانین اور رسم و رواج کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ "دو رنگی" زندگی ایمان کے دعوے کے ساتھ کسی طور میل نہیں کھاتی۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق یہ تضاد اور دوغلا پن امت مسلمہ کی اخلاقی اور روحانی قوت کو گھن کی طرح کھا رہا ہے اور جب تک مسلمان اپنی زندگیوں کو یک رنگ نہیں کریں گے، ان کا محض نام کا مسلمان ہونا کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔ تیسرا نکتہ، جو پہلے دو نکات سے منطقی طور پر برآمد ہوتا ہے، وہ "امامت میں تغیر" یا قیادت کی تبدیلی ہے۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا کہ جب ہم اللہ کی مکمل بندگی کا اقرار کرتے ہیں اور اپنی زندگی سے منافقت کو نکال پھینکنے کا عزم کرتے ہیں، تو یہ بات ناگزیر ہو جاتی ہے کہ ہم اس نظامِ زندگی کو بدلنے کی جدوجہد کریں جو کفر، شرک اور فسق و فجور کی بنیادوں پر چل رہا ہے۔ جب تک دنیا کے معاملات کی باگ ڈور، یعنی معیشت، سیاست، تعلیم اور قانون سازی کا اختیار خدا سے باغی اور اخلاقیات سے عاری لوگوں کے ہاتھ میں رہے گا، اس وقت تک ایک مومن کے لیے اپنی زندگی کو مکمل طور پر اسلام کے مطابق ڈھالنا ناممکن ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا استدلال یہ ہے کہ ایک سچے مسلمان پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ زمین کے انتظام کو فساد سے پاک کرے اور اسے صلاح و تقویٰ کی بنیادوں پر استوار کرے۔ اور یہ مقصد اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ قیادت اور حکمرانی کا منصب "صالحین" (نیک لوگوں) کے ہاتھ میں نہ ہو۔ یہ بات عقل اور فطرت کے خلاف ہے کہ دنیا کے ڈرائیور تو وہ لوگ ہوں جو خدا کو نہیں مانتے یا اس کے احکام کی پروا نہیں کرتے، اور پھر ہم یہ امید رکھیں کہ گاڑی سیدھے راستے پر چلے گی۔ لہٰذا، دین کا مطالبہ صرف یہ نہیں ہے کہ فرد اپنی ذاتی زندگی میں نیک بن جائے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ باطل نظام کو ہٹا کر حق کے نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔ مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی یہ دعوت محض اقتدار کی ہوس نہیں ہے بلکہ یہ ایمان کا وہ لازمی تقاضا ہے جس کے بغیر اسلام کا تصور ادھورا رہ جاتا ہے۔ اگر دنیا کی امامت و پیشوائی غلط لوگوں کے ہاتھ میں رہے گی تو ظلم، بدامنی اور گمراہی کا پھیلنا یقینی ہے، اور تجربہ و مشاہدہ اس بات کی گواہی دے رہے ہیں۔ چنانچہ اس دعوت کا مقصود یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کی حاکمیت قائم ہو اور انسان، منافقت اور تضاد کی زندگی چھوڑ کر، ایک یکسو اور مخلص بندے کی حیثیت سے اپنے رب کے احکام کی بجا آوری کرے۔ یہ وہ جامع اور ہمہ گیر دعوت ہے جو نہ صرف انسان کے عقائد کی اصلاح کرتی ہے بلکہ اس کے اخلاق، معاشرت اور ریاست کے نظام کو بھی خیر اور فلاح کی بنیادوں پر استوار کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ مولانا سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی پیش کردہ یہ فکر مسلمانوں کو ایک ایسی زندگی کی طرف بلاتی ہے جہاں قول و فعل کا تضاد ختم ہو جائے اور دین محض چند رسومات کا نام نہ رہے بلکہ ایک زندہ اور غالب قوت بن کر پوری انسانی زندگی پر محیط ہو جائے۔
