کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں، جنہیں اصطلاح میں ذِمّی کہا جاتا ہے، کے حقوق کا تعین کرنے سے قبل ریاست کی نوعیت اور اس کے بنیادی خدوخال کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ ایک اسلامی ریاست دراصل ایک اصولی اور نظریاتی ریاست ہوتی ہے، جس کی بنیاد محض جغرافیائی حدود، نسل یا زبان پر نہیں بلکہ ایک مخصوص نظریے پر قائم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جدید دور کی قومی جمہوری ریاستیں قومیت کی بنیاد پر استوار ہوتی ہیں۔ ان دونوں ریاستوں کے اس بنیادی اور نوعی فرق کا براہ راست اثر ان کے شہریوں کے حقوق اور ان کی درجہ بندی پر پڑتا ہے۔ اسلامی ریاست اپنے حدود میں بسنے والے تمام افراد کو اس بنیاد پر تقسیم کرتی ہے کہ کون اس ریاست کے بنیادی اصولوں اور نظریے پر ایمان لاتا ہے اور کون ان اصولوں کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کے نتیجے میں معاشرہ مسلم اور غیر مسلم میں منقسم ہوتا ہے۔ دوسری جانب قومی جمہوری ریاستیں اپنے شہریوں کو اکثریت اور اقلیت کے خانوں میں بانٹتی ہیں، جہاں ریاست کی اصل مالکانہ حیثیت اس قوم کو حاصل ہوتی ہے جس کی اکثریت ہو، جبکہ دیگر گروہوں کو اقلیت قرار دے کر حاشیے پر دھکیل دیا جاتا ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں کہ اسلامی حکومت کا نظام چلانا فطرتاً انھی لوگوں کی ذمہ داری ہے جو اس کے نظریے پر کامل یقین رکھتے ہوں۔ اگرچہ ایک اسلامی ریاست اپنے انتظامی معاملات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں غیر مسلموں کی خدمات بخوشی حاصل کر سکتی ہے، لیکن پالیسی سازی اور کلیدی مناصب کی رہنمائی ان کے سپرد نہیں کی جا سکتی کیونکہ وہ اس نظام کے بنیادی فلسفے پر یقین نہیں رکھتے۔ اس کے مدمقابل ایک قومی حکومت کا رویہ انتہائی منافقانہ ہوتا ہے۔ وہ بظاہر کاغذات اور آئین میں ملک کے تمام باشندوں کو برابر کے حقوق دینے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن عملی طور پر اقلیتوں کو ریاستی امور اور کلیدی فیصلوں سے مکمل طور پر بے دخل رکھا جاتا ہے۔ اقلیت کے کسی فرد کو کوئی بڑا عہدہ دے بھی دیا جائے تو وہ محض دنیا کو دکھانے کے لیے ایک نمائشی اقدام ہوتا ہے، جب کہ حقیقی طاقت اور پالیسی سازی پر اکثریت ہی کا غلبہ رہتا ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسلامی ریاست منافقت سے پاک ہے اور وہ اپنے غیر مسلم شہریوں کے سامنے واضح کر دیتی ہے کہ انہیں کیا حقوق ملیں گے اور کیا نہیں۔ اسلام اقلیتوں کو اپنے اندر ضم کرنے، انہیں قتل و غارت کے ذریعے ختم کرنے، یا انہیں اچھوت بنا کر معاشرے سے کاٹ دینے کی بجائے، انہیں ان کے مکمل حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ جبکہ جدید قومی ریاستیں اقلیتوں کی انفرادیت کو مٹانے اور ان پر ظلم ڈھانے کے ظالمانہ طریقے اختیار کرتی ہیں، جس کی ایک واضح مثال ہندوستان میں مسلمانوں کی حالتِ زار ہے۔ اسلام نے غیر مسلموں کے لیے جو حقوق مقرر کر دیے ہیں، وہ شریعت کی طرف سے عطا کردہ ہیں اور کسی بھی حکومت یا فرد کو ان حقوق میں کمی کرنے یا انہیں سلب کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ اسلامی قانون کی رو سے ریاست کے غیر مسلم رعایا کی تین مختلف اقسام بیان کی گئی ہیں۔ مولانا وضاحت کرتے ہیں کہ ان میں وہ لوگ شامل ہیں جو کسی باقاعدہ صلح نامے یا معاہدے کے ذریعے اسلامی حکومت کے زیرِ سایہ آئے ہوں، دوسرے وہ جو جنگ میں شکست کھا کر مغلوب ہوئے ہوں، اور تیسرے وہ جو ان دونوں صورتوں کے علاوہ کسی اور طریقے سے ریاست کا حصہ بنے ہوں۔ اگرچہ تمام ذمیوں کے عمومی حقوق یکساں ہیں، لیکن ابتدا میں معاہدے کے تحت آنے والے اور مفتوح ہونے والے افراد کے لیے کچھ مخصوص احکام بھی ہیں۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ جو قومیں بغیر کسی جنگ کے یا جنگ کے دوران صلح پر آمادہ ہو جائیں اور اسلامی حکومت کے ساتھ شرائط طے کر لیں، ان کے ساتھ شریعت کا رویہ بالکل انھی طے شدہ شرائط کے تابع ہوتا ہے۔ اسلام میں یہ قطعی طور پر حرام اور گناہِ عظیم ہے کہ دشمن کے ساتھ کمزوری کی حالت میں نرم شرائط طے کی جائیں اور جب وہ پوری طرح قابو میں آ جائے تو ان شرائط کی خلاف ورزی کی جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے ارشادات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہے کہ معاہد ذمیوں سے طے شدہ خراج میں ایک پیسے کا بھی اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی زمینیں، عمارتیں، عزت و آبرو اور ان کے مذہبی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کی جا سکتی۔ ان پر کوئی ایسا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا جو ان کی برداشت سے باہر ہو، اور ان کی مرضی کے خلاف ان سے کچھ بھی وصول کرنا شرعاً ناجائز ہے۔ جہاں تک ان غیر مسلموں کا تعلق ہے جو آخری وقت تک مسلمانوں سے برسرِ پیکار رہے اور بالآخر شکست کھا کر مغلوب ہوئے، ان کے حوالے سے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ جب اسلامی حکومت ان سے جزیہ قبول کر لیتی ہے، تو ان کے ساتھ ذمے کا ایک ابدی معاہدہ قائم ہو جاتا ہے۔ اس معاہدے کے بعد ان کی جان، مال اور عزت کی حفاظت مسلمانوں پر اسی طرح فرض ہو جاتی ہے جس طرح خود مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت فرض ہے۔ جزیہ قبول کرنے کے بعد اسلامی حکومت کو یہ حق ہرگز نہیں رہتا کہ وہ ان کی زمینوں پر قبضہ کرے یا انہیں غلام بنائے۔ وہ اپنی زمینوں کے خود مالک رہتے ہیں، ان کی جائیداد ان کے ورثاء میں تقسیم ہوتی ہے، اور انہیں اپنی املاک کی خرید و فروخت کا مکمل حق حاصل ہوتا ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ جزیے کے نظام کی منصفانہ نوعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جزیہ کوئی ظالمانہ ٹیکس نہیں بلکہ یہ لوگوں کی مالی حیثیت کو مدنظر رکھ کر لگایا جاتا ہے۔ مالداروں پر زیادہ، درمیانے درجے کے لوگوں پر کم، اور غریبوں پر اس سے بھی کم رقم مقرر کی جاتی ہے۔ وہ لوگ جن کا کمائی کا کوئی ذریعہ نہیں، یا جو دوسروں کے رحم و کرم پر زندہ ہیں، ان پر جزیہ بالکل معاف ہوتا ہے۔ مزید برآں، جزیہ صرف ان مردوں پر لاگو ہوتا ہے جو جنگ کے قابل ہوں۔ عورتیں، بچے، بوڑھے، معذور، نابینا، مذہبی پیشوا، راہب، عبادت گاہوں کے خادم اور طویل عرصے تک بیمار رہنے والے افراد جزیے کی ادائیگی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہیں۔ اسی طرح فاتحین کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ مفتوحہ علاقوں کی عبادت گاہوں کا احترام کریں اور انہیں مسمار نہ کریں۔ ان مخصوص احکام کے علاوہ، اسلامی ریاست میں تمام ذمیوں کو کچھ عمومی اور بنیادی حقوق بھی حاصل ہیں جن میں وہ اور مسلمان بالکل برابر کے شریک ہیں۔ مولانا اس امر کی تشریح کرتے ہیں کہ ایک ذمی کے خون کی قیمت اور تقدس بالکل ایک مسلمان کے خون کے برابر ہے۔ اگر کوئی مسلمان کسی غیر مسلم ذمی کو قتل کر دے، تو اس مسلمان سے اسی طرح قصاص لیا جائے گا اور اسے موت کی سزا دی جائے گی جس طرح کسی مسلمان کو قتل کرنے کی صورت میں دی جاتی ہے۔ تاریخِ اسلام، خاص طور پر دورِ رسالت اور خلفائے راشدین کے ادوار اس بات کے گواہ ہیں کہ ذمیوں کے قاتل مسلمانوں کو سزائے موت دی گئی اور ان کے خون بہا کی مقدار مسلمانوں کے برابر رکھی گئی۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ مزید بتاتے ہیں کہ اسلامی ریاست میں تعزیرات کا قانون بھی سب کے لیے یکساں ہے۔ جو سزا چوری، تہمت تراشی یا زنا کی صورت میں ایک مسلمان کو دی جاتی ہے، وہی سزا ذمی کے لیے بھی مقرر ہے۔ دیوانی قوانین میں بھی مکمل مساوات قائم رکھی گئی ہے۔ ذمیوں کے مال کی حفاظت مسلمانوں کے مال کی طرح کی جاتی ہے اور تجارت کے جو اصول مسلمانوں پر لاگو ہیں، وہ ان پر بھی لاگو ہوتے ہیں، سوائے ان چیزوں کے جن کی ان کے مذہب میں اجازت ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس کی ایک خوبصورت مثال دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ذمیوں کو شراب بنانے، پینے اور خنزیر پالنے اور فروخت کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کی شراب یا خنزیر کو تلف کر دے تو اسلامی قانون کے تحت اس مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس ذمی کو اس کے نقصان کا تاوان ادا کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ ذمیوں کو کسی بھی قسم کی جسمانی یا ذہنی اذیت دینا، انہیں گالیاں دینا یا ان کی پیٹھ پیچھے برائی کرنا مسلمانوں کے لیے اسی طرح حرام ہے جس طرح ایک مسلمان کی غیبت کرنا حرام ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کو بھی واضح کرتے ہیں کہ ذمے کا یہ معاہدہ مسلمانوں کی طرف سے ہمیشہ کے لیے لازم ہوتا ہے اور وہ اسے توڑنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ البتہ ذمیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جب تک چاہیں اس معاہدے پر قائم رہیں یا اسے ختم کر دیں۔ اگر کوئی ذمی کوئی سنگین جرم بھی کر لے، تب بھی اس کا معاہدہِ ذمّہ ختم نہیں ہوتا، اسے محض ایک مجرم کے طور پر سزا دی جاتی ہے۔ صرف کھلی بغاوت یا دشمن ملک کے ساتھ مل کر اسلامی ریاست کے خلاف سازش کرنے کی صورت میں ہی انہیں اس معاہدے سے خارج سمجھا جاتا ہے۔ آخر میں مولانا وضاحت کرتے ہیں کہ ذمیوں کو اپنے خاندانی اور نجی معاملات میں مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے۔ ان کے نکاح، طلاق اور دیگر شخصی معاملات ان کے اپنے مذہبی قوانین کے مطابق طے کیے جاتے ہیں، اور اسلامی قانون ان پر زبردستی مسلط نہیں کیا جاتا، جب تک کہ وہ خود رضاکارانہ طور پر اسلامی عدالت سے فیصلہ کروانے کی درخواست نہ کریں۔
