کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیر نظر تحریر، جو کہ ترکوں اور ان کی سلطنت عثمانیہ کے حوالے سے لکھی گئی ایک نہایت اہم تاریخی دستاویز کا خلاصہ ہے، اس کا بنیادی مقصد ان غلط فہمیوں اور بے بنیاد الزامات کا ازالہ کرنا ہے جو یورپی اقوام نے ترکوں کے خلاف ایک طویل عرصے سے پھیلا رکھے ہیں۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کی صراحت کے ساتھ وضاحت کرتے ہیں کہ یہ رسالہ دراصل خاص طور پر یورپ کے ان لوگوں کے لیے تحریر کیا گیا تھا جنہیں آرمینیوں، یونانیوں اور خود یورپ کے مفاد پرست سیاست دانوں نے جھوٹے قصوں، من گھڑت ناولوں، رسالوں، اخباروں اور جذباتی تقریروں کے ذریعے ترکوں کے خلاف گمراہ کر رکھا تھا۔ یورپی پروپیگنڈے کا واحد مقصد ترکوں کو ایک ظالم، جابر اور متعصب قوم کے طور پر پیش کرنا تھا، حالانکہ زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ اس کتاب کے ذریعے دنیا کو دلائل کے ساتھ یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ترکی اپنی غیر مسلم اور محکوم اقوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک میں خود انسانیت کے دعویدار یورپ سے بدرجہا زیادہ روادار، منصف مزاج اور کرم کرنے والا ملک رہا ہے۔ اس رسالے کے اردو ترجمے کی ضرورت اور اس کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے مولانا فرماتے ہیں کہ ہندوستان میں بھی بعض حلقے دانستہ یا نادانستہ طور پر ترکوں کے خلاف اسی قسم کا زہریلا پروپیگنڈا کر رہے تھے اور انہیں ایک ظالم اور سخت گیر قوم کے طور پر مشہور کرنے میں مصروف تھے۔ اس جھوٹے پروپیگنڈے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو رہا تھا کہ کمزور قوت ارادی کے حامل افراد ان بے بنیاد اور من گھڑت خبروں کو سچ مان کر ترکوں کے شدید مخالف ہو رہے تھے، جبکہ مضبوط ذہن رکھنے والے افراد، جنہیں چونکہ خود اصل حقیقت کا علم نہیں تھا، وہ شکوک و شبہات کا شکار ہو کر یا تو مکمل خاموشی اختیار کر لیتے تھے یا پھر تذبذب میں مبتلا رہتے تھے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس صورتحال کا تقابلی جائزہ اس دور کے ہندوستان کے سیاسی حالات سے کرتے ہوئے ایک نہایت اہم اور فکر انگیز نکتہ بیان کرتے ہیں کہ ہندوستان ایک طویل عرصے سے برطانوی حکومت سے اپنے لیے محض داخلی خود مختاری کا مطالبہ کر رہا تھا، لیکن دنیا کی سب سے زیادہ مہذب اور روشن خیال کہلانے والی حکومت اس بیسویں صدی میں بھی ہندوستانیوں کو یہ بنیادی حق دینے سے قطعی طور پر انکاری تھی۔ اس کے برعکس، ترکوں کی وہ حکومت جسے یورپ غیر متمدن اور تاریک خیال قرار دے کر بدنام کرتا تھا، اس نے صدیوں سے اپنے ملک میں بسنے والی ہر غیر مسلم قوم کو مکمل مذہبی، سماجی اور قانونی خود مختاری عطا کر رکھی تھی۔ برطانوی حکومت کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان بار بار یہ کوشش کر چکے تھے کہ انہیں کم از کم اپنا شیخ الاسلام منتخب کرنے اور اپنے نجی و عائلی معاملات شرعی عدالتوں میں طے کرنے کا محدود سا اختیار دے دیا جائے، مگر حق و انصاف کی نام نہاد علمبردار برطانوی حکومت ماضی کے تحریری وعدوں کے باوجود یہ حق دینے سے ہمیشہ گریزاں رہی۔ دوسری جانب، ترکی میں غیر مسلم اقلیتوں کو یہ تمام حقوق صدیوں سے بلا کسی ادنیٰ رکاوٹ کے حاصل تھے۔ ہندوستانی عوام کے لیے تعلیمی پنچایتیں قائم کرنا اور قومی مدارس کھولنا ایک ایسا خواب تھا جسے برطانوی حکومت سے بغاوت کا حصہ اور تعلق توڑنے کا جزو سمجھا جاتا تھا، جبکہ ترکوں کی نام نہاد بدترین ایشیائی حکومت میں غیر مسلموں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے کا یہ حق ایک طویل عرصے سے میسر تھا اور اس پر کبھی کوئی قدغن نہیں لگائی گئی۔ ترکی کے دارالحکومت قسطنطنیہ اور سلطنت کے دیگر وسیع حصوں کے حیرت انگیز سماجی منظر نامے کی تصویر کشی کرتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ ترکی میں مختلف نسلوں، قدیم مذاہب اور مختلف العقیدہ اقوام جس امن و آشتی کے ساتھ سلطان کے زیر سایہ زندگی گزار رہی تھیں، اس کی مثال دنیا کی کسی اور سلطنت میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ ایک طرف بت پرست حبشی اور سورج کی پوجا کرنے والے کلدانی آباد تھے، تو دوسری طرف زرتشتی عقائد سے متاثر یزیدی اور درزی بستے تھے جو نہ مکمل مسلمان تھے اور نہ مکمل عیسائی۔ اسی طرح آرمینی، یونانی، یہودی، عرب، کرد، بلغاری اور قبطی سب ایک دوسرے کے پڑوسی بن کر نہایت پرسکون زندگی بسر کر رہے تھے۔ ان میں سے ہر فرد کو اپنے مذہب، تعلیم، لباس اور رسم و رواج میں مکمل آزادی حاصل تھی اور حکومت کی طرف سے ان کے انفرادی اور سماجی معاملات میں رتی برابر بھی مداخلت نہیں کی جاتی تھی۔ شہروں میں مختلف قوموں اور مذہبوں کے جداگانہ لباسوں کا تنوع ایک عجیب اور دلچسپ نظارہ پیش کرتا تھا۔ یورپی مورخین اور غیر جانبدار مبصرین کے مستند حوالے دیتے ہوئے مولانا یہ ثابت کرتے ہیں کہ دنیا میں جس قوم یا مذہب کے ماننے والوں کے لیے دوسرے ممالک میں سانس لینا محال ہو گیا اور ان پر زمین تنگ کر دی گئی، انہوں نے صرف ترکی میں پناہ لی اور وہیں امن و سلامتی پائی۔ جب یورپ میں مذہبی عدم برداشت اپنے عروج پر تھی، تو پندرہویں صدی میں وہاں سے جان بچا کر بھاگنے والے ہزاروں یہودیوں اور کیتھولک عیسائیوں نے ترکی کا رخ کیا اور سلطنت عثمانیہ نے انہیں خوش آمدید کہا۔ اسی طرح جب روس اور پولینڈ میں مذہبی جبر شروع ہوا تو وہاں سے بھی ہزاروں افراد نے ترکی میں پناہ لی۔ سر ایچ بلز جیسے غیر جانبدار اور منصف مزاج یورپی مفکرین اس بات کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں کہ ترکی میں ضمیر اور مذہب کی جو بے مثال آزادی میسر تھی، وہ کسی بھی ہم عصر عیسائی سلطنت میں قطعی طور پر ناپید تھی۔ ترکوں کا کمال محض یہ نہیں تھا کہ انہوں نے غیر مسلموں کو آزادی دی، بلکہ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے جامع الفاظ میں انہوں نے ہر اقلیت کو اپنا الگ قومی اور سماجی نظام قائم کرنے کی مکمل اجازت دی، جو کہ کسی بھی خود مختار سلطنت کے مروجہ ریاستی اصولوں کے یکسر خلاف اور ایک غیر معمولی بات تصور کی جاتی ہے۔ ترکی میں اقلیتوں کو حاصل ان غیر معمولی اور تاریخی مراعات کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ترکی میں بسنے والے عیسائی باشندے مادی اور قانونی اعتبار سے اس قدر خوشحال اور آزاد تھے کہ حیرت انگیز طور پر اتنی آزادی تو خود عام ترک مسلمانوں کو بھی اپنے ملک میں حاصل نہیں تھی۔ فرانسیسی سفیر ایڈمنڈ انگلہارٹ کے تحریری بیان کے مطابق، غیر مسلموں کو جو خالص مذہبی، ملکی اور عائلی حقوق حاصل تھے، وہ مذہبی آزادی کی ایک ایسی حیرت انگیز مثال پیش کرتے ہیں جس کی نظیر کوئی اور حکومت پیش نہیں کر سکتی۔ ہر غیر مسلم مذہبی پیشوا یا بطریق اپنی قوم کے لیے ایک طرح سے متوازی حکومت چلاتا تھا۔ ان اقلیتوں کی عزت، مال، انفرادی آزادی اور ضمیر کی آزادی حکومتی مداخلت سے مکمل طور پر پاک تھی۔ ان کا مذہبی پیشوا کلیسائی اختیارات کے تحت اپنے پیروکاروں پر ٹیکس لگا سکتا تھا، انہیں جلاوطن یا قید کر سکتا تھا، پادریوں کا تقرر و برطرفی کر سکتا تھا اور اپنے تعلیمی اداروں کے لیے نصاب ترتیب دے سکتا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ترکی حکومت ان معاملات میں مداخلت کرنے کے بجائے ان مذہبی پیشواؤں کے فیصلوں پر عمل درآمد کروانے میں ان کی مکمل سرپرستی اور مدد کرتی تھی۔ ان تمام ناقابل تردید تاریخی اور زمینی حقائق کے باوجود، سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ یورپ میں یہ جھوٹا اور من گھڑت بیانیہ رائج کیا گیا کہ ترکی میں عیسائیوں کو قدیم دور کی طرح غلاموں کی حالت میں رکھا جاتا ہے اور وہ تمام بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ اس بے بنیاد پروپیگنڈے کا اصل اور پوشیدہ مقصد یورپی طاقتوں کے لیے ترکی کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا راستہ ہموار کرنا اور عیسائیوں کو مسلمانوں کے خلاف بغاوت پر اکسا کر جذبات کو بھڑکانا تھا۔ عیسائی اقوام کی غیر معقول اور ناجائز حمایت کا سیدھا مطلب یہ تھا کہ ترکی کی مسلم اکثریت کے حقوق کو غصب کیا جائے اور انہیں دبایا جائے۔ اس مقام پر مولانا انسانیت کے ٹھیکیداروں سے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ حقوق اقوام کا ڈھنڈورا پیٹنے والے یورپی ممالک نے کبھی مقدونیہ اور کریٹ کے ان ترک مسلمانوں کی حالت زار پر توجہ کیوں نہیں دی جنہیں انتہائی ظالمانہ طریقے سے کچلا جا رہا تھا؟ کیا وہ مسلمان انسانوں کی فہرست میں شامل نہیں تھے؟ یہ یورپ کی صریح منافقت تھی کہ وہ ترکی میں عیسائی اقلیت کی ناجائز پشت پناہی کر کے عظیم الشان اسلامی اکثریت کو ان کا ماتحت بنانے کی سازش کر رہا تھا۔ اس کے بعد سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ ترکی کی اس بے مثال رواداری کی تاریخی جڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور عثمانی دستور اور سلطنت کے بانیوں کے شاندار طرز عمل کا حوالہ دیتے ہیں۔ عثمانی دستور کی گیارہویں دفعہ میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ سلطنت عثمانیہ میں ہر مذہب و ملت کے لوگوں کو اپنے مذہبی اعمال کی ادائیگی میں کامل آزادی حاصل ہوگی بشرطیکہ وہ امن عامہ میں خلل نہ ڈالیں۔ قسطنطنیہ کی تاریخی فتح کے فوراً بعد سلطان محمد فاتح نے یونانیوں کے لیے جس بے مثال رواداری اور حسن سلوک کا مظاہرہ کیا، وہ انسانی تاریخ کا ایک سنہرا اور ناقابل فراموش باب ہے۔ سلطان نے نہ صرف یونانیوں کو مکمل مذہبی آزادی کا تحریری پروانہ دیا بلکہ جارج اسکولیریوس کو ان کا بطریق مقرر کیا اور دربار میں اس کا اس قدر شاندار استقبال کیا کہ سلطان خود اپنے تخت سے اتر کر دس قدم آگے بڑھا اور اسے روحانی سرداری کی علامت کے طور پر اپنا عصا پیش کر کے اپنے برابر بٹھایا۔ یہ غیر معمولی مراعات صرف یونانیوں تک محدود نہیں رہیں، بلکہ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ تفصیل بیان کرتے ہیں کہ بعد ازاں لاطینیوں، یہودیوں، کیتھولک اور پروٹسٹنٹ آرمینیوں اور بلغاریوں کو بھی یکے بعد دیگرے اسی قسم کے وسیع حقوق اور مراعات عطا کی گئیں۔ جب بلغاری قوم نے باب عالی میں حاضر ہو کر یونانی بطریقیت کے تسلط سے الگ ہونے کی درخواست کی تو عثمانی حکومت نے ان کی یہ جائز اور جمہوری خواہش بھی فوراً پوری کر دی۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں تنظیمات کے فرمان کے بعد ان حقوق کو باقاعدہ قانونی اور سیاسی شکل دے دی گئی، جس کے تحت ہر اقلیت کو اپنی سول کونسل بنانے اور اپنے اندرونی اور دنیاوی معاملات کو خود حل کرنے کا وسیع اختیار مل گیا۔ اس طرح ترکی کے وسیع و عریض رقبے کے اندر ہر غیر مسلم قوم ایک آزاد اور خود مختار اکائی کے طور پر پروان چڑھی۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس طویل اور مفصل تحریر کے ذریعے ان تاریخی حقائق کو انتہائی مدلل، منطقی اور واضح انداز میں پیش کیا ہے جو روز روشن کی طرح ثابت کرتے ہیں کہ ترک مسلمانوں نے صدیوں تک غیر مسلموں کے ساتھ ایسا منصفانہ، مشفقانہ اور روادارانہ سلوک کیا جس کی نظیر جدید تہذیب و تمدن کے دعویدار یورپی ممالک میں بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ جہاں یورپ کے نام نہاد ترقی یافتہ ممالک میں کیتھولک، پروٹسٹنٹ اور یہودیوں کو محض ان کے عقیدے کی بنیاد پر زندہ جلایا جا رہا تھا یا جلاوطن کیا جا رہا تھا، وہیں ترکوں نے انہیں اپنے ملک میں پناہ دی اور عزت و احترام سے نوازا۔ مولانا کے نزدیک یہ امر پوری انسانیت کے لیے انتہائی افسوسناک اور باعث شرم ہے کہ محض مذہبی تعصب اور سیاسی مفادات کی بنا پر ترکوں کے خلاف صدیوں تک جھوٹ بولا گیا اور ان کے انتہائی منصفانہ طرز حکمرانی کو دنیا کے سامنے داغدار کرنے کی گھناؤنی کوشش کی گئی۔ اس کتاب کا حتمی پیغام یہی ہے کہ تاریخ کو مسخ کرنے اور جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لینے کے بجائے حقائق کو انصاف کی غیر جانبدارانہ نظر سے دیکھا جائے، کیونکہ ترکی نے تمام تر طاقت کے باوجود ہمیشہ اپنی اقلیتوں کے حقوق کی وہ شاندار پاسداری کی ہے جس کا تصور آج کے اس جدید دور میں بھی بہت سی ترقی یافتہ اقوام کے لیے محض ایک ناممکن خواب ہے۔
