کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیر نظر مضمون میں ہندوستان کے صنعتی زوال اور برطانوی سامراج کی استحصالی پالیسیوں کا ایک نہایت مفصل اور بصیرت افروز تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ تحریر دراصل سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا وہ شاہکار مقالہ ہے جو انہوں نے ۱۹۲۲ء میں محض اکیس سال کی عمر میں سپردِ قلم کیا تھا۔ اس تحریر میں مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے تاریخی شواہد اور اعداد و شمار کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ ہندوستان کی صنعتی تباہی کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک منظم منصوبے اور برطانوی حکمرانوں کی جانب سے اختیار کی گئی دانستہ حکمت عملی کا نتیجہ تھی، جس کا مقصد ہندوستان کو محض خام مال کی منڈی اور برطانوی مصنوعات کے خریدار میں تبدیل کرنا تھا۔ مضمون کے آغاز میں ہی سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ہندوستان کی موجودہ اقتصادی زبوں حالی کا موازنہ انگلستان کی صنعتی ترقی سے کیا ہے تاکہ تصویر کا اصل رخ سامنے آسکے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہندوستان کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ یعنی تقریباً اکہتر فیصد براہ راست زراعت پر انحصار کرتا ہے، جبکہ کاریگروں اور اہل صنعت کا تناسب انتہائی کم ہے۔ اس کے برعکس انگلستان میں صورتحال بالکل مختلف ہے جہاں آبادی کی اکثریت صنعت و حرفت سے وابستہ ہے اور زراعت پر بہت کم لوگ انحصار کرتے ہیں۔ مولانا نے اس نکتے کو مزید واضح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہندوستان میں جو تھوڑے بہت صناع موجود بھی ہیں، ان کی اکثریت ادنیٰ درجے کے دستکاروں پر مشتمل ہے جو صرف مقامی اور معمولی ضروریات پوری کرتے ہیں، جبکہ اعلیٰ درجے کی صنعتی پیداوار کے حوالے سے ملک بانجھ ہوتا جا رہا ہے۔ اس اقتصادی بدحالی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ہندوستان کی درامدات اور برامدات کے اعداد و شمار کا ایک لرزہ خیز نقشہ کھینچا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ قدرت نے ہندوستان کو بے پناہ وسائل، زرخیز زمین اور بہترین معدنیات سے نوازا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم ان وسائل کو خود استعمال کرنے کے بجائے انہیں کوڑیوں کے دام غیر ملکیوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ملک سے روئی، اون، چمڑا اور دیگر خام مال سستے داموں باہر بھیجا جاتا ہے اور پھر وہی مال جب غیر ملکی کارخانوں سے تیار ہو کر واپس آتا ہے تو ہم اسے کئی گنا مہنگی قیمت پر خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس امر پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ہم صرف جوتنے اور بونے کے لیے رہ گئے ہیں تاکہ دوسرے اقوام ہماری محنت سے فائدہ اٹھا سکیں اور اپنی صنعتوں کو فروغ دے سکیں۔ تاریخ کے دریچوں میں جھانکتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہندوستان ہمیشہ سے ایسا پسماندہ ملک نہیں تھا بلکہ ایک زمانے میں یہ دنیا کا سب سے بڑا صنعتی مرکز تسلیم کیا جاتا تھا۔ انہوں نے متعدد تاریخی حوالہ جات اور غیر ملکی مورخین کی شہادتیں پیش کی ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ماضی میں ہندوستان کی مصنوعات، خاص طور پر پارچہ بافی کی صنعت، پوری دنیا میں اپنی مثال آپ تھی۔ مولانا نے لکھا ہے کہ قبل مسیح کے ادوار میں بھی ہندوستان کی ململ اور نفیس کپڑے مصر اور بابل کے بازاروں کی زینت بنتے تھے۔ روم کی دولت کا رخ ہندوستان کی طرف تھا اور یہاں کے کاریگروں کی مہارت کا لوہا پوری دنیا مانتی تھی۔ انہوں نے مختلف انگریز افسران اور مورخین کے اقوال نقل کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اٹھارویں صدی تک بھی، جب یورپ صنعتی انقلاب کی تیاری کر رہا تھا، ہندوستانی مصنوعات معیار میں یورپی مال سے بدرجہا بہتر تھیں۔ اس تاریخی عظمت کا ذکر کرنے کے بعد سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ سوال اٹھاتے ہیں کہ پھر یہ زوال کیسے واقع ہوا؟ اس کا جواب دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ مغل سلطنت کے زوال کے بعد ملک میں سیاسی انتشار پھیلا اور طوائف الملوکی کا دور دورہ ہوا، مگر یہ اندرونی خلفشار ہندوستان کی صنعت کی تباہی کا اصل سبب نہیں تھا۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق اس وقت بھی مختلف مقامی ریاستیں اور نوابین اپنے اپنے علاقوں میں دستکاری اور صنعت کی سرپرستی کرتے تھے، جس کی وجہ سے ملکی دولت ملک کے اندر ہی گردش کرتی رہی۔ اصل تباہی کا آغاز اس وقت ہوا جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے پنجے گاڑنے شروع کیے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد اور اس کے مقاصد کا بہت گہری نظر سے جائزہ لیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ انگریز قوم یہاں محض حکومت کرنے نہیں آئی تھی بلکہ ان کا بنیادی مقصد تجارت اور معاشی لوٹ مار تھا۔ یورپ میں اس وقت جو تجارتی جنون سوار تھا، اس کا تقاضا یہ تھا کہ اپنی مصنوعات کے لیے منڈیاں تلاش کی جائیں اور حریفوں کو راستے سے ہٹایا جائے۔ اسی پالیسی کے تحت انگریزوں نے ہندوستان میں قدم جمائے۔ مولانا نے لارڈ میکالے اور دیگر انگریز مفکرین کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے نزدیک ہندوستان پر حکومت کرنے کا اصل مقصد یہ تھا کہ کروڑوں ہندوستانیوں کو برطانوی مال کا گاہک بنا دیا جائے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر ہندوستانی صنعت زندہ رہی تو مانچسٹر اور لنکاشائر کے کارخانے کبھی ترقی نہیں کر سکیں گے۔ اس استحصالی عمل کی تفصیل بیان کرتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ کمپنی کے حکمرانوں نے جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کیے جس سے مقامی صنعت دم توڑ دے۔ انہوں نے سیاسی طاقت کو تجارتی مقاصد کے لیے بے دریغ استعمال کیا۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا انحصار اس کے نظام حکومت پر ہوتا ہے، اور چونکہ ہندوستان پر مسلط ہونے والی حکومت کا مقصد ہی ملکی صنعت کو تباہ کر کے اپنی صنعت کو فروغ دینا تھا، لہٰذا یہاں کے کاریگروں اور صنعت کاروں کا برباد ہونا لازمی تھا۔ انگریزی مصنوعات کی راہ ہموار کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے، یہاں تک کہ خود انگلستان میں ہندوستانی کپڑے کی درآمد پر پابندیاں لگائی گئیں تاکہ وہاں کے جولاہے بیروزگار نہ ہوں۔ مزید برآں، سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے کمپنی کی زر طلبی اور مالی استحصال کا بھی ذکر کیا ہے۔ بنگال کی دیوانی حاصل کرنے کے بعد جس بے رحمی سے دولت سمیٹی گئی اور انگلستان منتقل کی گئی، اس نے ملک کی اقتصادی کمر توڑ دی۔ مولانا لکھتے ہیں کہ کمپنی کے ڈائریکٹرز ہمیشہ زیادہ سے زیادہ منافع کے خواہاں رہتے تھے اور مقامی حکام اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے رعایا کا خون نچوڑتے تھے۔ یہاں تک کہ قحط کے دنوں میں بھی مالیہ کی وصولی میں سختی کی جاتی رہی۔ یہ وہ حالات تھے جن میں ہندوستان کا وہ کاریگر، جس کی انگلیوں کے ہنر کی دنیا معترف تھی، آہستہ آہستہ مٹتا چلا گیا اور ایک عظیم صنعتی ملک محض خام مال پیدا کرنے والی زرعی بستی بن کر رہ گیا۔ مجموعی طور پر سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مضمون اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ہندوستان کا صنعتی زوال کوئی قدرتی عمل نہیں تھا، بلکہ یہ ایک غیر ملکی سامراج کی مسلط کردہ معاشی جنگ کا نتیجہ تھا جس نے سونے کی چڑیا کہلانے والے ملک کو غربت اور افلاس کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ تحریر نہ صرف تاریخی حقائق کا احاطہ کرتی ہے بلکہ اس وقت کے سیاسی و معاشی نظام کی ان بنیادی خرابیوں کی بھی نشاندہی کرتی ہے جو غلام قوموں کے زوال کا سبب بنتی ہیں۔
