کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
کتابچہ ”سیرت کا پیغام“ دراصل سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک نہایت فکر انگیز تقریر پر مبنی ہے جو انہوں نے بائیس اکتوبر انیس سو پچہتر کو پنجاب یونیورسٹی میں جدید تعلیم یافتہ طبقے اور طلباء کے سامنے پیش کی تھی۔ اس مقالے میں مولانا نے انتہائی سائنسی اور عقلی استدلال کے ذریعے اس بات کو واضح کیا ہے کہ موجودہ سائنسی، مشینی اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی بھٹکی ہوئی انسانیت کو ہادیِ اعظم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کی کتنی شدید ضرورت ہے۔ علم کے سرچشمے پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ یہ ناقابلِ تردید حقیقت بیان کرتے ہیں کہ اس وسیع و عریض کائنات اور خود انسان کا حقیقی اور مکمل علم صرف اور صرف خالقِ کائنات اللہ تعالیٰ کی ذاتِ بابرکات کے پاس ہے۔ انسان کے پاس بذاتِ خود اپنا کوئی ایسا ذریعہ موجود نہیں ہے جس کی مدد سے وہ کائنات کی حتمی حقیقتوں کو جان سکے۔ اس ضمن میں مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے علم کو دو واضح اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ علم کی پہلی قسم کا تعلق ہمارے حواسِ خمسہ سے ہے۔ یہ وہ مادی علم ہے جسے انسان اپنے مشاہدات، تجربات، فکر اور استدلال کی مدد سے حاصل کر کے نئے نئے نتائج تک پہنچتا ہے۔ اس علم کے حصول کے لیے عالمِ بالا سے کسی براہ راست رہنمائی یا وحی کی حاجت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے اس مادی دنیا کے رازوں کو کھوجنے کی صلاحیت انسان کی فطرت میں رکھ دی ہے اور انسان اپنی جستجو سے نت نئی ایجادات اور قوانین دریافت کرتا رہتا ہے۔ البتہ اس مادی جستجو اور سائنسی ترقی کی راہ میں بھی اللہ تعالیٰ انسان کو بالکل تنہا نہیں چھوڑتا بلکہ تاریخ کے مختلف ادوار میں بالکل غیر محسوس طریقوں سے اس کی رہنمائی فرماتا رہتا ہے اور وقتاً فوقتاً انسان کے ذہن میں ایسے خیالات ڈالتا ہے جو نئی ایجادات کا سبب بنتے ہیں۔ علم کی دوسری قسم کے بارے میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ بڑی صراحت سے فرماتے ہیں کہ یہ وہ حتمی اور آخری حقیقتیں ہیں جو انسانی حواس کی پہنچ سے مکمل طور پر بالاتر ہیں۔ ان حقیقتوں کو نہ تو ماپا جا سکتا ہے، نہ تولا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کا ادراک مادی ذرائع سے ممکن ہے۔ ان ماورائے حواس حقیقتوں کے بارے میں بڑے بڑے فلسفی یا سائنس دان جو بھی رائے قائم کرتے ہیں، وہ محض ان کے قیاس اور گمان پر مبنی ہوتی ہے جسے کسی صورت حتمی علم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مولانا کے نزدیک اس دائرے میں حقیقی علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ رہنمائی سے حاصل ہوتا ہے اور اس کا واحد ذریعہ وہ وحی ہے جو خالصتاً انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ کار ہرگز نہیں ہے کہ وہ محض ایک کتاب آسمان سے نازل کر کے ہر انسان کے ہاتھ میں تھما دے اور کہے کہ اسے پڑھ کر خود حقیقت جان لو اور اپنا طرزِ عمل طے کر لو۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس الہامی پیغام کو انسانوں تک پہنچانے، اس کی درست تشریح کرنے اور اس پر مکمل عمل کر کے دکھانے کے لیے ہمیشہ انبیاء ہی کا انتخاب کیا ہے۔ انبیاء کرام نہ صرف اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی عملی تشکیل بھی کرتے ہیں جس کی زندگی کا ہر ایک شعبہ اس الہامی علم کا زندہ نمونہ ہوتا ہے۔ اسی لیے انسانیت کی مکمل رہنمائی کے لیے صرف ایک نبی کی سیرت ہی درکار ہوتی ہے، کیونکہ کسی بھی غیر نبی کے پاس حتمی حقیقت کا وہ علم موجود نہیں ہوتا جو انسانیت کو ایک برحق اور مکمل نظامِ حیات فراہم کر سکے۔ اس مقام پر مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ ایک انتہائی اہم سوال اٹھاتے ہیں کہ دنیا کی تاریخ میں بے شمار انبیاء اور مذہبی پیشوا گزرے ہیں، تو پھر ہم مکمل رہنمائی کے لیے صرف اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہی کی طرف کیوں رجوع کرتے ہیں؟ کیا یہ کسی قسم کے تعصب کی وجہ سے ہے؟ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے تاریخی حقائق پر مبنی جواب دیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہم قرآن مجید میں بیان کردہ تمام انبیاء، جیسے حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کی نبوت پر پختہ ایمان رکھتے ہیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی نبی کی تعلیمات اور سیرت آج مستند اور محفوظ شکل میں موجود نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص ان انبیاء کی زندگی پر کچھ لکھنا بھی چاہے تو وہ قرآن کی مدد کے بغیر چند صفحات سے زیادہ مواد اکٹھا نہیں کر سکتا۔ عہد نامہ قدیم یا بائبل کا تاریخی جائزہ لیتے ہوئے مولانا بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی اصل تورات چھٹی صدی قبل مسیح میں بیت المقدس کی تباہی کے وقت ہی ضائع ہو گئی تھی۔ بعد ازاں جب بنی اسرائیل بابل کی قید سے واپس آئے تو حضرت عزیر اور دیگر بزرگوں نے اسے یادداشت کے سہارے دوبارہ مرتب کیا، جس میں انسانی کلام کی آمیزش ہو گئی۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ مزید بتاتے ہیں کہ چوتھی سے دوسری صدی قبل مسیح کے دوران بائبل میں ایسی کئی کتابیں شامل کی گئیں جو ان انبیاء کی وفات کے صدیوں بعد لکھی گئی تھیں جن کی طرف وہ منسوب ہیں۔ مثلاً زبور حضرت داؤد علیہ السلام کی وفات کے پانچ سو سال بعد مرتب کی گئی، اور امثالِ سلیمان بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے صدیوں بعد لکھی گئیں۔ علاوہ ازیں، عبرانی بائبل کے مسودات ستر عیسوی میں بیت المقدس کی دوسری تباہی کے وقت ضائع ہو گئے تھے اور آج ان کا جو قدیم ترین نسخہ دستیاب ہے وہ نویں یا دسویں صدی عیسوی کا ہے۔ یہودیوں کی زبانی روایات پر مبنی کتاب تلمود کی بھی کوئی مستند اور متصل سند موجود نہیں ہے۔ اس طرح مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ ثابت کرتے ہیں کہ یہودیت کے پاس اپنے انبیاء کی تعلیمات کا کوئی مستند اور خالص ماخذ باقی نہیں رہا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مسیحیت کے حوالے سے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ واضح کرتے ہیں کہ ان پر جو اصل انجیل نازل ہوئی تھی، اسے نہ تو انہوں نے خود لکھوایا اور نہ ہی ان کے دور میں ان کے شاگردوں نے اسے قلمبند کیا۔ انجیل کو زبانی طور پر آگے پہنچایا گیا جس سے الہامی آیات اور ان کے ذاتی حالات خلط ملط ہو گئے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سریانی یا آرامی تھی، لیکن اناجیل ان لوگوں نے لکھیں جن کی زبان یونانی تھی۔ مولانا کے مطابق، ان یونانی مصنفین میں سے کسی نے بھی کوئی ایسی سند پیش نہیں کی جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ انہوں نے کون سی بات کس سے سنی تھی۔ بائبل کے نئے عہد نامے کے نسخوں میں سے کوئی بھی چوتھی صدی عیسوی سے پرانا نہیں ہے۔ مسیحی پیشواؤں نے ستر کے قریب لکھی گئی اناجیل میں سے بغیر کسی واضح معیار کے صرف چار کو قبول کر لیا اور باقی کو مسترد کر دیا۔ ان تمام حقائق کی بنیاد پر سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سیرت اور تعلیمات بھی کسی درجے میں مستند نہیں مانی جا سکتیں۔ دنیا کے دیگر مذاہب جیسے زرتشت اور بدھ مت کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ زرتشت کی کتاب اوستا کی اصل زبان مردہ ہو چکی ہے اور ان کی زندگی کے حالات محض افسانوں کا مجموعہ بن چکے ہیں۔ اسی طرح، مہاتما بدھ نے سرے سے کوئی کتاب پیش ہی نہیں کی تھی اور ان کے اقوال ان کی وفات کے سو سال بعد بغیر کسی مستند حوالے کے جمع کیے گئے۔ ان تمام تاریخی اور منطقی تجزیوں کے بعد مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ انسانیت کے سامنے یہ ناقابلِ تردید حقیقت پیش کرتے ہیں کہ دنیا کی پوری تاریخ میں صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی واحد ذاتِ گرامی ہے جن کی سیرت، اقوال اور لائی ہوئی کتاب مکمل طور پر تحریف سے پاک اور سو فیصد مستند حالت میں موجود ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ قرآن مجید کی انفرادیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ خالص کلامِ الٰہی ہے۔ اس میں کسی دوسرے انسان، حتیٰ کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک لفظ بھی شامل نہیں ہے۔ بائبل کے برعکس، قرآن مجید میں الہامی کلام کو عربوں کی تاریخ یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے واقعات کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا گیا۔ جس وقت سے قرآن نازل ہونا شروع ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باقاعدہ لکھوانا شروع کر دیا تھا۔ مولانا بتاتے ہیں کہ جب بھی کوئی وحی نازل ہوتی، آپ کاتبینِ وحی کو بلا کر اسے لکھواتے، اسے سن کر اس کی صحت کا اطمینان کرتے اور یہ رہنمائی بھی فرماتے کہ اسے کس سورت میں کس آیت سے پہلے اور کس کے بعد درج کیا جائے۔ قرآن مجید کی حفاظت کے اس بے مثال اور فول پروف انتظام پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں ہی قرآن چار مختلف اور مستند طریقوں سے محفوظ ہو چکا تھا۔ اول یہ کہ آپ نے خود کاتبینِ وحی سے اسے از اول تا آخر لکھوایا، دوم یہ کہ بے شمار صحابہ کرام نے پورا کا پورا قرآن لفظ بہ لفظ یاد کر لیا، سوم یہ کہ ہر صحابی نے نماز میں پڑھنے کے لیے اس کا کوئی نہ کوئی حصہ ضرور یاد کر رکھا تھا، اور چہارم یہ کہ پڑھے لکھے صحابہ نے اپنے طور پر بھی اس کے نسخے لکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی صحت کا اطمینان کر لیا تھا۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کو تاریخ کا ایک عظیم معجزہ قرار دیتے ہیں کہ حضور کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تمام حفاظ اور تحریری نوشتوں کو جمع کر کے اس کا ایک سرکاری نسخہ کتابی صورت میں مرتب کیا، اور بعد ازاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں اسی کی نقلیں پوری اسلامی دنیا کے مرکزی مقامات کو بھجوائی گئیں۔ آج تک ہر پشت اور نسل میں لاکھوں کروڑوں حفاظ موجود رہے ہیں، جس کی وجہ سے اس میں ایک لفظ کی تبدیلی بھی ناممکن ہے۔ اپنے اس دعوے کی سائنسی تصدیق کے لیے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ جرمنی کی میونخ یونیورسٹی کی اس مشہور تحقیق کا حوالہ دیتے ہیں جس میں پوری دنیا سے قرآن مجید کے بیالیس ہزار قلمی اور مطبوعہ نسخے جمع کیے گئے تھے۔ پچاس سال کی طویل تحقیق کے بعد جو حتمی رپورٹ پیش کی گئی وہ یہ تھی کہ کتابت کی معمولی غلطیوں کے سوا ان تمام قدیم و جدید نسخوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اختتام کی جانب بڑھتے ہوئے مولانا یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ جس زبان میں قرآن نازل ہوا وہ آج بھی ایک زندہ زبان ہے۔ لہٰذا عقل و دانش کا صریح تقاضا یہی ہے کہ جب پچھلے تمام انبیاء کی کتابیں اور تاریخیں مسخ ہو چکی ہیں، تو بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لیے واحد محفوظ اور مستند راستہ صرف اور صرف نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ پاک اور ان پر نازل ہونے والی آخری کتاب قرآن مجید ہی ہے۔
