کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیر نظر تحریر، جو کہ معروف کتاب "قرآن اور پیغمبر" سے ماخوذ ہے، انسانی تاریخ کے ایک انتہائی اہم اور فکر انگیز پہلو پر روشنی ڈالتی ہے۔ اس بصیرت افروز تحریر میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت تفصیل اور دلائل سے واضح کیا ہے کہ انسان کی ہدایت، رہنمائی اور فلاح و بہبود کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ایسے پاک باز اور مقدس نفوس کو مبعوث فرمایا جنہوں نے اپنے قول اور عمل سے بنی نوع انسان کو حق اور سچائی کا سیدھا راستہ دکھایا۔ تاہم، انسانی تاریخ کا یہ ایک انتہائی الم ناک اور افسوس ناک پہلو رہا ہے کہ انسان نے اکثر ان عظیم ہستیوں کے احسانات کا بدلہ ان پر طرح طرح کے ظلم ڈھا کر دیا۔ اس ضمن میں مصنف نے ظلم کی دو بنیادی اقسام بیان کی ہیں۔ ایک ظلم تو ان پاکیزہ ہستیوں کے کھلے دشمنوں اور مخالفین نے کیا جنہوں نے ان کی حق پر مبنی دعوت کو حقارت سے مسترد کر دیا، ان کی سچائی کا انکار کیا، اور انہیں راہِ حق سے ہٹانے کے لیے جسمانی اور روحانی اذیتیں دیں۔ لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک اور دیرپا ظلم وہ تھا جو ان ہستیوں کے اپنے ہی عقیدت مندوں اور پیروکاروں نے کیا۔ یہ دوسرا ظلم اس طرح کیا گیا کہ ان بزرگ ہستیوں کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد ان کی خالص تعلیمات کو مکمل طور پر مسخ کر دیا گیا، ان کی آسمانی اور الہامی کتابوں میں اپنی مرضی کی تحریفات کر دی گئیں، اور عقیدت کے غلو میں مبتلا ہو کر ان عظیم انسانوں کو ان کی بشری حیثیت سے نکال کر الوہیت اور خدائی کے درجے پر فائز کر دیا گیا۔ اس نفسیاتی اور تاریخی المیے کی جڑوں کو تلاش کرتے ہوئے مولانا نہایت گہرائی میں جا کر یہ حقیقت عیاں کرتے ہیں کہ دراصل انسان اپنے آپ سے اور اپنی بشری حیثیت سے اس قدر بدگمان رہا ہے کہ اسے اس بات کا یقین ہی نہیں آتا کہ ایک عام گوشت پوست کے انسان کے اندر ملکوتی اور قدسی صفات بھی موجود ہو سکتی ہیں۔ انسان عام طور پر اپنے آپ کو محض کمزوریوں، خامیوں اور پستیوں کا مجموعہ ہی تصور کرتا ہے اور اس عظیم الشان حقیقت کو تسلیم کرنے سے قاصر رہتا ہے کہ اللہ رب العزت نے اس مادی اور خاکی جسم کے اندر ایسی حیرت انگیز اور غیر معمولی قوتیں بھی ودیعت کر رکھی ہیں جو اسے فرشتوں سے بھی بلند تر مقام تک پہنچا سکتی ہیں۔ یہی بنیادی وجہ ہے کہ جب بھی تاریخ میں کسی انسان نے اللہ کے سچے نمائندے اور پیغمبر کی حیثیت سے خود کو پیش کیا، تو اس کے ہم جنسوں نے سب سے پہلے تو یہ اعتراض کیا کہ یہ ہستی تو بالکل ہماری طرح کھاتی پیتی، چلتی پھرتی اور سوتی جاگتی ہے، لہٰذا یہ خدا کا نمائندہ کیسے ہو سکتی ہے؟ اور جب ان کی غیر معمولی روحانی قوتوں اور اعلیٰ اخلاقی صفات کو دیکھ کر ان کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا، تو پھر عقیدت کی انتہا میں یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ اتنی خوبیوں کا مالک کوئی انسان ہو سکتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ واضح کرتے ہیں کہ لوگوں نے اپنے پیشواؤں کو دیوتا بنا لیا، کسی نے حلول کا عقیدہ گھڑ لیا کہ خدا نے ان کے جسم میں ظہور کیا ہے، کسی نے ان کے اندر خدائی اختیارات مان لیے، اور کسی نے انہیں براہ راست خدا کا بیٹا قرار دے دیا۔ اس بات کو مزید مدلل بنانے کے لیے مصنف نے دنیا کے مختلف مذاہب اور ان کے بانیوں کی تاریخ سے ٹھوس اور واضح مثالیں پیش کی ہیں۔ گوتم بدھ کی مثال دیتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ بدھ دراصل ایک عظیم مصلح تھے جنہوں نے اپنے دور کی برہمنیت کی خامیوں اور بے شمار جھوٹے خداؤں کی خدائی کو باطل قرار دیا تھا۔ لیکن ان کی وفات کے بعد ایک صدی بھی نہ گزرنے پائی تھی کہ ان کے پیروکاروں نے ان کی تمام بنیادی تعلیمات کو یکسر تبدیل کر دیا۔ انہوں نے ایک طرف تو اپنے مذہب سے خدا کے تصور کو ہی نکال دیا اور دوسری طرف خود گوتم بدھ کو ہی عقلِ کل اور کائنات کا مرکز مان کر ایک ایسی ہستی قرار دے دیا جو ہر دور میں دنیا کی اصلاح کے لیے جنم لیتی ہے۔ یہاں تک کہ کشمیری کونسل میں انہیں خدا کا مادی ظہور قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح ہندو مت کی ایک اور نمایاں شخصیت رام چندر جی کے حوالے سے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ رامائن کے گہرے اور غیر جانبدارانہ مطالعے سے یہ بات بالکل عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ ایک انتہائی نیک، بہادر، اور انصاف پسند انسان تھے، لیکن ان میں الوہیت کا کوئی شائبہ تک نہ تھا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کے ماننے والوں کی عقل اس بات کو تسلیم نہ کر سکی کہ کوئی انسان اس قدر اعلیٰ صفات کا حامل ہو سکتا ہے، چنانچہ انہیں وشنو کا اوتار اور حلول تسلیم کر لیا گیا۔ تاریخ کے اس تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا نے سری کرشن جی کا ذکر نہایت تفصیل سے کیا ہے، جو مصنف کے نزدیک ان تمام ہستیوں میں سب سے زیادہ مظلوم ثابت ہوئے ہیں۔ بھگوت گیتا اور دیگر ہندو کتب جیسے مہابھارت اور وشنو پران کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ سری کرشن دراصل ایک سچے موحد اور ایک قادرِ مطلق خدا کی بندگی کا پرچار کرنے والے انسان تھے، لیکن ان کی تعلیمات کو اس حد تک مسخ کر دیا گیا کہ ایک جانب تو انہیں وشنو کا جسمانی مظہر، کائنات کا خالق اور مالک قرار دے کر ان کے منہ سے خدائی کے دعوے کہلوائے گئے، اور دوسری جانب ان کی طرف ایسی اخلاقی کمزوریاں اور غیر مناسب حرکات منسوب کر دی گئیں جنہیں کسی عام شریف انسان کے لیے بھی تسلیم کرنا ناممکن ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال پیش کی گئی ہے جن پر تاریخ کا سب سے بڑا ظلم کیا گیا۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی دیگر تمام انبیاء کی طرح بشریت کی تمام خصوصیات کے حامل ایک کامل انسان تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے معجزات اور حکمت سے نواز کر ایک بھٹکی ہوئی قوم کی اصلاح کے لیے بھیجا تھا۔ مگر ان کی قوم نے پہلے تو انہیں جھٹلایا، ان کے قتل کے درپے ہوئے، اور جب ان کے دنیا سے جانے کے بعد ان کی عظمت کے قائل ہوئے تو عقیدت کے اس قدر غلو کا شکار ہوئے کہ انہیں خدا کا بیٹا اور خود عین خدا قرار دے دیا۔ مسیحی پیروکاروں نے اناجیل اربعہ میں تحریف کر کے یسوع مسیح کی طرف ایسے بے بنیاد اقوال منسوب کر دیے کہ وہ اور باپ (خدا) ایک ہیں، اور یہ کہ خدا مسیح کی شکل میں زمین پر اس لیے اترا تاکہ مصلوب ہو کر انسانوں کے پیدائشی گناہوں کا کفارہ ادا کر سکے۔ مصنف کے مطابق اس گمراہی کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ ان ہستیوں کی تعلیمات کو ان کی زندگی میں تحریری شکل میں محفوظ نہیں کیا گیا تھا جس کے باعث بعد میں آنے والی نسلوں نے اصل اور نقل میں تمیز کھو دی اور حقیقت کی جگہ اوہام و خرافات نے لے لی۔ اس طویل تاریخی اور فکری پس منظر کو بیان کرنے کے بعد مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ دنیا کے تمام ہادیوں میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی انفرادیت اور خصوصیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ آپ کی ذاتِ گرامی وہ واحد ہستی ہے جن کی شخصیت اور تعلیمات تیرہ صدیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود اپنے بالکل اصل، خالص اور حقیقی رنگ میں محفوظ ہیں۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس امر کو اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فضل اور انتظام قرار دیتے ہیں کہ اس نے اپنے آخری نبی کی تعلیمات کو ہر قسم کی تحریف سے محفوظ کر دیا۔ انسانی نفسیات کے پیش نظر یہ قطعی طور پر ممکن تھا کہ لوگ اس برگزیدہ اور کامل ترین ہستی کو بھی دیوتا بنا کر ان کی الوہیت کے افسانے تراش لیتے، لیکن چونکہ اللہ کو محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو قیامت تک کے لیے تمام انسانوں کے واسطے ایک دائمی نمونہ عمل اور عالمگیر سرچشمہ ہدایت بنانا تھا، اس لیے آپ کی بشری حیثیت کو نہایت واضح انداز میں محفوظ کر دیا گیا۔ صحابہ کرام، تابعین اور محدثین نے آپ کی سیرت اور احادیث کو اس قدر غیر معمولی اہتمام کے ساتھ قلم بند کیا کہ آج ساڑھے تیرہ سو سال بعد بھی ہم آپ کی زندگی کے ہر پہلو کو اتنے ہی قریب سے دیکھ سکتے ہیں جتنا آپ کے دور کے لوگ دیکھتے تھے۔ اور اگر بالفرض یہ سارا ذخیرہ احادیث و سیرت مٹ بھی جائے، تب بھی قرآن مجید کی صورت میں وہ ابدی کتاب موجود ہے جو اپنے لانے والے کی حیثیت کو روزِ روشن کی طرح واضح کرتی ہے۔ مولانا کے نزدیک قرآن نے رسالت کے باب میں سب سے زیادہ زور رسول کی بشریت پر دیا ہے، تاکہ ان پرانے جاہلانہ عقائد کی جڑ کاٹی جا سکے جو یہ مانتے تھے کہ انسان کبھی خدا کا نمائندہ نہیں بن سکتا اور رہنما کو فوق البشر ہونا چاہیے۔ قرآن بار بار پچھلی قوموں کے اعتراضات کا ذکر کر کے ثابت کرتا ہے کہ انبیاء کی بشریت ہی ان کا اصل کمال ہے، اور عقیدت کے نام پر انہیں الوہیت کا درجہ دینا دراصل ان کی پاکیزہ تعلیمات سے انحراف اور ان پر ایک عظیم ترین ظلم ہے۔ اسلام نے اپنے پیغمبر کی بشریت کو روزِ روشن کی طرح نمایاں کر کے عقیدت کی اس گمراہی کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے، جس نے پچھلی امتوں کو شرک اور توہم پرستی کے اندھیروں میں دھکیل دیا تھا۔
