کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیر نظر متن ایک فکر انگیز مکالمے کا احاطہ کرتا ہے جس میں بی بی سی کے نمائندے اور بیسویں صدی کے عظیم اسلامی مفکر سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان جدید ریاست، اسلامی قوانین، اور مغربی تہذیب کے مابین ٹکراؤ کے موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ اس گفتگو کا آغاز پاکستان کے ۱۹۷۳ء کے آئین اور اس میں شامل اسلامی دفعات کے حوالے سے ہوتا ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کی وضاحت فرماتے ہیں کہ وہ اور ان کی جماعت ان آئینی دفعات پر نہ صرف مطمئن ہیں بلکہ یہ شقیں درحقیقت ان کی مسلسل اور اجتماعی جدوجہد کا ثمر ہیں۔ تاہم، وہ اس اطمینان کے ساتھ ایک گہری تشویش کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ محض آئین میں اچھی باتوں کا لکھا جانا کافی نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ ان کے نفاذ کا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ عملاً ان دفعات کو سرد خانے کی نذر کر دیا گیا ہے اور ریاستی مشینری کا عملدرآمد اس کے بالکل برعکس سمت میں ہو رہا ہے۔ گفتگو کا رخ جب پاکستان کے موجودہ قانونی ڈھانچے کی طرف مڑتا ہے، جو کہ برطانوی اینگلو سیکسن قانون پر مبنی ہے، تو سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ ایک بہت ہی بنیادی اور جامع فلسفہ پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام کا نفاذ محض چند قوانین کو تبدیل کر دینے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ پورے معاشرتی نظام کی تبدیلی کا متقاضی ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قانونی نظام کا گہرا تعلق تعلیمی اور معاشی نظام سے ہوتا ہے۔ اگر تعلیمی ادارے ایسے افراد تیار کر رہے ہوں جن کی ذہنی ساخت اسلامی نہ ہو، اور معاشی نظام غیر اسلامی اصولوں پر چل رہا ہو، تو محض شرعی قوانین کا نفاذ وہ نتائج نہیں دے سکتا جو مطلوب ہیں۔ لہٰذا، مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا استدلال ہے کہ بیوروکریسی، فوج اور سول سروسز کی تربیت کا پورا ڈھانچہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے ذہنوں میں اسلام کا صحیح شعور بیدار ہو سکے، ورنہ پرانے نوآبادیاتی طرزِ تربیت کے ساتھ اسلامی مقاصد کا حصول ناممکن ہے۔ جدید ریاست کی معیشت اور انتظام کو اسلامی اصولوں پر چلانے کے حوالے سے مولانا نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اسلام کے اصول نہ صرف جدید دور میں قابلِ عمل ہیں بلکہ وہ موجودہ سیکولر نظاموں سے کہیں زیادہ کامیاب ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا مشن صرف پاکستان میں اسلام کا نفاذ نہیں ہے بلکہ وہ اسے ایک ماڈل کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ دنیا دیکھ سکے کہ اسلامی ریاست دیگر تمام جدید ریاستوں سے بہتر اور فائق ہے۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ ماضی کی طرف پلٹنا (Go Back) چاہتے ہیں، تو سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس اصطلاح کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے ایک نہایت لطیف اور فلسفیانہ نکتہ بیان کیا کہ خدا کی ہدایت زمانے کی قید سے آزاد ہے۔ سچائی ہمیشہ سچائی رہتی ہے، وہ نہ پرانی ہوتی ہے اور نہ نئی۔ لہٰذا، اسلام کی طرف آنا ماضی میں جانا نہیں، بلکہ ایک ازلی اور ابدی حقیقت کی طرف آنا ہے جو ہر دور کے لیے رہنما ہے۔ مکالمے کا سب سے گرما گرم حصہ اسلامی سزاؤں، خاص طور پر تعزیرات (Criminal Laws) کے بارے میں ہے۔ مغربی ذہن میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کا جواب دیتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے دفاعی انداز اپنانے کے بجائے جارحانہ اور منطقی استدلال پیش کیا۔ انہوں نے مغرب کے بڑھتے ہوئے کرائم ریٹ (شرح جرائم) کو ان کے قانونی نظام کی ناکامی کی دلیل کے طور پر پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور یورپ میں نرم قوانین اور مجرم کے ساتھ ہمدردی کے رویے نے جرائم کو ختم کرنے کے بجائے ان کی پرورش کی ہے۔ اس کے برعکس، سعودی عرب کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جہاں اسلامی سزاؤں کا نفاذ ہوا، وہاں چوری اور دیگر جرائم کا تقریباً خاتمہ ہو گیا۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا تھا کہ چند مجرموں کو سخت سزا دے کر پورے معاشرے کو امن کا گہوارہ بنا دینا اس سے کہیں بہتر ہے کہ نرمی کے نام پر مجرموں کو بار بار جیل بھیجا جائے اور معاشرے کو غیر محفوظ چھوڑ دیا جائے۔ جب بڑے شہروں جیسے نیویارک اور شکاگو کے حوالے سے یہ کہا گیا کہ وہاں جرائم کا ہونا فطری ہے اور پرانے قوانین وہاں نہیں چل سکتے، تو مولانا نے اس "فطری" ہونے کے تصور کو چیلنج کیا۔ ان کے نزدیک بڑے شہروں میں بھی اگر اسلامی سزائیں، جیسے چوری پر ہاتھ کاٹنا، نافذ کر دی جائیں تو جرائم کی شرح ڈرامائی طور پر نیچے آ سکتی ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اسلام کا مقصد معاشرے سے جرائم کا مکمل انسداد ہے اور یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب مجرم کو ایسی عبرتناک سزا ملے کہ دوسرے اس کے ارتکاب کی جرات نہ کریں۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے مغربی تہذیب کے اس تضاد کو بھی بے نقاب کیا کہ وہ مجرم کے حقوق کے لیے تو بہت حساس ہے لیکن اس مظلوم کے لیے بے حس ہے جس پر ظلم ہوا ہے۔ انہوں نے اغوا برائے تاوان کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ مغرب کے نزدیک بچے کو اغوا کرنے والے کو سخت سزا دینا "وحشیانہ" عمل ہے، لیکن ایک خاندان کو کرب میں مبتلا کرنا شاید اتنا سنگین نہیں سمجھا جاتا۔ ان کے مطابق، مغرب کی ہمدردی کا رخ غلط سمت میں ہے؛ اصل ہمدردی کا مستحق وہ پرامن شہری ہے جس کی زندگی اجیرن کر دی گئی ہے۔ اس بحث کو سمیٹتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے مغرب کے "مہذب" ہونے کے دعوے پر کاری ضرب لگائی۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر تہذیب کا مطلب یہ ہے کہ انسان خوف کے سائے میں جیے، رات کو دروازہ کھولتے ہوئے ڈرے، اور جرائم کے ساتھ سمجھوتہ (Compromise) کر لے، تو یہ تہذیب نہیں بلکہ معاشرتی شکست ہے۔ اسلام جس نظام کی بات کرتا ہے وہ معاشرے کو جرائم سے پاک کر کے حقیقی امن فراہم کرتا ہے، اور یہی اصل تہذیب ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ ہم اسلامی قوانین کو اس لیے نافذ نہیں کرنا چاہتے کہ یہ ہماری قدیم روایات ہیں، بلکہ اس لیے کہ یہ انصاف پر مبنی ہیں اور نتائج کے اعتبار سے بہترین ہیں۔ غیر مسلم ریاستوں میں بسنے والے مسلمانوں کے طرزِ عمل کے بارے میں مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے جمہوری اور پرامن راستہ اختیار کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان وہاں بغاوت یا غیر قانونی ذرائع استعمال نہیں کریں گے بلکہ دلیل اور تبلیغ کے ذریعے لوگوں کے ذہن تبدیل کریں گے اور جمہوری طریقے سے نظام میں تبدیلی لانے کی کوشش کریں گے۔ جمہوریت کے حوالے سے مولانا نے واضح کیا کہ اسلام میں جمہوریت کی گنجائش موجود ہے لیکن وہ مغربی جمہوریت سے مختلف ہے۔ مغرب میں اقتدارِ اعلیٰ (Sovereignty) عوام کے پاس ہوتا ہے، جبکہ اسلام میں اقتدارِ اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ تاہم، حکومت سازی اور سربراہ کے انتخاب میں عوام کی رائے شامل ہوتی ہے، جسے وہ "تھیو ڈیموکریسی" (الٰہی جمہوری حکومت) کے تصور سے تعبیر کرتے ہیں جہاں حکمران اللہ کے قانون کا پابند ہوتا ہے لیکن عوام کے ووٹ سے منتخب ہوتا ہے۔ آخر میں، جب بات عورت کے مقام اور مغربی اقدار کی آئی تو سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے مغرب کے اس زعم کو توڑ دیا کہ ان کا کلچر ہی ترقی کا معیار ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم مغربی تہذیب کو معیار (Standard) تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک مغرب کا جدید کلچر، جس نے خاندانی نظام کو تباہ کر دیا ہے، دراصل ایک پسماندہ (Backward) اور تباہ کن نظام ہے۔ وہ متنبہ کرتے ہیں کہ اس نام نہاد جدیدیت کی تقلید مسلم معاشروں کو بھی اسی تباہی کی طرف لے جائے گی جس کا شکار مغرب ہو چکا ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ پورا استدلال اس یقین پر مبنی ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو جدید دور کے مسائل کا حل مغرب کی اندھی تقلید میں نہیں بلکہ اللہ کے نازل کردہ ابدی اصولوں میں پیش کرتا ہے۔ ان کی گفتگو سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ وہ اسلام کو صرف ایک مذہب کے طور پر نہیں بلکہ ایک سیاسی، سماجی اور معاشی قوت کے طور پر دیکھتے ہیں جو دنیا کو امن اور انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
