کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیر نظر تحریر ”اسلام کا اصلی معیار“ میں دینِ اسلام کے بنیادی اور حقیقی تقاضوں کو نہایت جامع اور موثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ اسلام محض چند عقائد کو زبانی طور پر مان لینے یا چند مخصوص عبادات کو ادا کر لینے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کر دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ الانعام کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایک سچے مسلمان کی نماز، اس کی تمام عبادات، اس کا جینا اور اس کا مرنا صرف اور صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہونا چاہیے۔ یہی وہ بنیادی حکم ہے جس کی پیروی ہر اس شخص پر لازم ہے جو اسلام کے دائرے میں داخل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس تصور کو مزید نکھارتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مشہور حدیث کا حوالہ دیا ہے، جس کے مطابق انسان کے ایمان کی تکمیل اسی وقت ممکن ہے جب اس کی دوستیاں، اس کی دشمنیاں، اس کا کسی کو کچھ دینا اور کسی کو کچھ دینے سے روکنا خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو۔ جب تک انسان کی محبت اور نفرت کا محور اللہ کی ذات نہ بن جائے، تب تک اس کا ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔ یہیں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دینِ اسلام انسان سے اس کی مکمل وفاداری کا متقاضی ہے، جس میں کسی اور کی شراکت کی کوئی ادنیٰ سی بھی گنجائش نہیں ہے۔ انسانی معاشرے میں عام طور پر لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اس قدر اعلیٰ درجے کا ایمان شاید صرف بلند پایہ بزرگوں اور خاص بندوں کے لیے ضروری ہے اور عام انسان اس کے بغیر بھی ایک اچھا مسلمان بن سکتا ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس سنگین غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فقہی اور قانونی اسلام، اور اس حقیقی اسلام کے درمیان ایک واضح فرق بیان کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معتبر ہے۔ قانونی اسلام دراصل وہ اسلام ہے جس کی بنیاد انسان کے زبانی اقرار اور چند ظاہری اعمال پر ہوتی ہے۔ دنیا کے معاملات چلانے اور مسلم معاشرے کی تشکیل کے لیے یہ زبانی اقرار کافی سمجھا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص زبان سے اللہ، اس کے رسول، قرآن اور آخرت پر ایمان لانے کا اعلان کر دیتا ہے، تو اسلامی معاشرہ اسے اپنے اندر قبول کر لیتا ہے۔ اس قانونی اسلام کے تحت اس شخص کے ساتھ مسلمانوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے، اسے تمام تر معاشرتی اور قانونی حقوق حاصل ہو جاتے ہیں، شادی بیاہ کے معاملات طے پاتے ہیں، وراثت تقسیم ہوتی ہے اور کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس کے دل کا حال جاننے کی کوشش کرے یا اس پر کفر کا فتویٰ لگائے۔ لیکن مولانا اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ محض ایک دنیاوی اور تمدنی حیثیت ہے۔ آخرت کی کامیابی اور اللہ کے ہاں سرخروئی اس محض ظاہری اور قانونی اقرار سے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی۔ دنیا کے قاضی اور عدالتیں تو صرف ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کرتی ہیں، مگر اللہ تعالیٰ انسان کے دل، اس کی نیتوں اور اس کے باطن کا حال خوب جانتا ہے۔ اللہ کی عدالت میں انسان کے ایمان کو اس ترازو میں تولا جائے گا کہ کیا اس بندے نے واقعی اپنی زندگی، اپنی وفاداریاں، اپنی محنتیں اور اپنی محبتیں اللہ کے لیے وقف کر دی تھیں یا اس کے دل میں دنیا کی محبت اور نفس کی غلامی غالب تھی۔ اگر کسی شخص نے اپنی زندگی کا کوئی بھی حصہ اللہ کی بندگی سے آزاد رکھا اور اسے اپنے نفس یا دنیاوی مفادات کے تابع کر دیا، تو اس کا زبانی اقرار اللہ کی بارگاہ میں ایک جھوٹا دعویٰ قرار پائے گا۔ دنیا تو اس کے اس فریب میں آ کر اسے مسلمان تسلیم کر سکتی ہے، مگر وہ پروردگار جو دلوں کے بھید جانتا ہے، اسے اپنے وفادار بندوں کی فہرست میں ہرگز شامل نہیں کرے گا۔ اس فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے، سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے دنیا میں پائے جانے والے مسلمانوں کو دو واضح اور نمایاں اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ مسلمانوں کی ایک قسم تو وہ ہے جو اسلام کو مانتی تو ہے، مگر انہوں نے اس دین کو اپنی کل زندگی کے ایک چھوٹے سے حصے یا محض ایک شعبے تک محدود کر رکھا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگی کا ایک مخصوص خول تو مذہبی ہوتا ہے، جس میں وہ نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، تسبیح و اذکار کرتے ہیں اور حلال و حرام کے چند معاشرتی اصولوں کی پابندی بھی کرتے ہیں، لیکن جوں ہی وہ اس خول سے باہر نکلتے ہیں، ان کی عملی زندگی پر اسلام کا کوئی اثر باقی نہیں رہتا۔ ان کی دوستیاں، ان کی دشمنیاں، ان کے کاروبار، ان کی سیاست، ان کی معیشت اور ان کے خاندانی معاملات دین کی گرفت سے مکمل طور پر آزاد ہوتے ہیں۔ جب وہ کسی سے محبت کرتے ہیں تو اپنے ذاتی مفاد یا قوم پرستی کی بنیاد پر کرتے ہیں، اور جب دشمنی کرتے ہیں تو اس کی بنیاد بھی نفسانی خواہشات پر ہوتی ہے۔ یہ لوگ بطور تاجر، بطور سیاستدان، بطور حکمران یا ملازم اپنی ایک ایسی الگ حیثیت بنا لیتے ہیں جس کا ان کے مسلمان ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ انتہائی افسوس کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ تاریخِ اسلام میں اس قسم کے مسلمانوں کا کوئی ایسا شاندار کارنامہ موجود نہیں ہے جس پر فخر کیا جا سکے۔ درحقیقت، دنیا میں اسلام کو جتنا بھی زوال اور تنزلی کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہ ایسے ہی نامکمل اور کمزور ایمان والے مسلمانوں کی کثرت کا نتیجہ ہے۔ ان کے اس طرزِ عمل کی وجہ سے دنیا کی قیادت کفر کے ہاتھوں میں چلی گئی اور یہ مسلمان کفر کے نظام کے تحت صرف چند مذہبی رسومات کی آزادی مل جانے پر ہی خوش اور مطمئن ہو کر بیٹھ گئے۔ اللہ تعالیٰ کو ایسے کمزور اور دنیا پرست مسلمان ہرگز مطلوب نہیں تھے۔ انبیاء کرام کی بعثت اور آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد یہ ہرگز نہیں تھا کہ دنیا میں ایسے لوگوں کی ایک ایسی بھیڑ جمع کر دی جائے جن کا جینا مرنا تو اپنے نفس کے لیے ہو، مگر وہ نام مسلمانوں کا استعمال کریں۔ اس کے برعکس، دوسری قسم ان سچے مسلمانوں کی ہے جنہوں نے اپنے پورے وجود اور اپنی پوری شخصیت کو اسلام کے سانچے میں مکمل طور پر ڈھال لیا ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک، یہ وہ مسلمان ہیں جن کی ہر حیثیت ان کے مسلمان ہونے کی حیثیت کے سامنے مٹ جاتی ہے۔ وہ اگر باپ ہیں تو ایک مسلمان باپ، اگر بیٹے ہیں تو مسلمان بیٹے، تاجر ہیں تو مسلمان تاجر اور حکمران ہیں تو ایک مسلمان حکمران کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی پسند اور ناپسند، ان کے نظریات اور خیالات، ان کے جذبات اور خواہشات غرضیکہ ان کے دل و دماغ اور جسم و جان کے ہر حصے پر اسلام کی مکمل حکمرانی ہوتی ہے۔ وہ جس سے ملتے ہیں تو محض اللہ کی رضا کے لیے ملتے ہیں، اور اگر کسی سے برسرِ پیکار ہوتے ہیں تو وہ بھی صرف اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے ہوتا ہے۔ ان کی انفرادی زندگیاں ہی نہیں، بلکہ ان کی اجتماعی اور تمدنی زندگیاں بھی خالص اسلام کی بنیاد پر استوار ہوتی ہیں۔ مولانا یہ حقیقت واضح کرتے ہیں کہ صرف یہی وہ حقیقی مسلمان ہیں جو اللہ کو مطلوب ہیں اور تاریخِ عالم میں اگر کسی نے اسلام کا نام روشن کیا ہے یا دنیا میں کوئی قابلِ قدر اور عظیم انقلاب برپا کیا ہے، تو وہ اسی دوسری قسم کے مسلمان ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی نظریہ یا مسلک ایسے پیروکاروں کے ذریعے کبھی غلبہ حاصل نہیں کر سکتا جو اس نظریے کو اپنی زندگی کا محض ایک ضمیمہ سمجھ کر اپنائیں اور اپنی اصل توانائیاں کسی اور مقصد پر صرف کریں۔ آج کے دور میں باطل نظریات کے پیروکار بھی اپنے باطل مسلک کے لیے جان، مال اور اولاد کی بے دریغ قربانیاں دے رہے ہیں اور اس میں فنا ہو جانے کا ثبوت دے رہے ہیں۔ یہ کتنی حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ باطل کے ماننے والے تو اپنے جھوٹے معبودوں کے لیے اس قدر فدائیت کا مظاہرہ کریں، لیکن حق کو ماننے والے اپنے سچے رب کے لیے اس قربانی کا ہزارواں حصہ بھی پیش نہ کر سکیں۔ اس مقام پر سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ ایک انتہائی باریک اور اہم نکتہ بیان کرتے ہیں کہ باطل نظریات جب اپنے ماننے والوں سے قربانی کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ دراصل انسان سے ایک بے جا اور غیر منصفانہ مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں، کیونکہ انسان کی جان اور مال پر ان نظریات کا کوئی حق نہیں ہے۔ لیکن جب اسلام انسان سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی اور اپنی تمام تر توانائیاں اللہ کی راہ میں قربان کر دے، تو یہ عین انصاف اور عین حق ہے۔ آسمان اور زمین کی ہر چیز اللہ کی ہے، خود انسان اور اس کی تمام تر صلاحیتیں اللہ ہی کی عطا کردہ ہیں۔ اس لیے یہ عقل اور عدل کا قطعی تقاضا ہے کہ جو چیز جس کی ملکیت ہے، وہ اسی کے لیے استعمال ہو۔ اگر انسان اللہ کی دی ہوئی زندگی اور صلاحیتوں کو کسی اور کی راہ میں یا اپنے نفس کی تسکین کے لیے استعمال کرتا ہے تو یہ ایک کھلی خیانت ہے، اور اگر وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو یہ محض ادائے حق ہے۔ اسی بنیاد پر مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اپنی اس گفتگو کے اختتام پر ہر دعویدارِ اسلام کو ایک کڑے خود احتسابی کے عمل سے گزرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ قرآن اور حدیث میں بیان کردہ ایمان کا یہ معیار دوسروں پر فتوے لگانے یا انہیں کافر اور منافق قرار دینے کے لیے نہیں دیا گیا، بلکہ یہ دراصل ایک کسوٹی ہے جس پر ہر انسان کو اپنے آپ کو پرکھنا چاہیے۔ ہر مسلمان کو تنہائی میں یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا واقعی اس کا جینا اور مرنا خدا کے لیے ہے؟ کیا اس کی تمام تر جسمانی اور ذہنی قوتیں اس بات پر صرف ہو رہی ہیں کہ دنیا میں اللہ کی مرضی پوری ہو؟ کیا اس کی محبت، اس کی نفرت، اس کا دینا اور اس کا روکنا خالصتاً اللہ کے احکامات کے تابع ہو چکا ہے؟ اگر کوئی شخص اپنے اندر یہ صفات پاتا ہے تو اسے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے اسے کامل ایمان جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمایا۔ لیکن اگر وہ اپنے اندر خلوص اور اطاعت کی کمی محسوس کرتا ہے تو اسے دنیا کی تمام تر فکروں کو پسِ پشت ڈال کر سب سے پہلے اس کمی کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات پر سختی سے متنبہ کرتے ہیں کہ دنیا میں انسان چاہے کتنی ہی دولت، شہرت اور کامیابیاں سمیٹ لے، لیکن اگر اس کے ایمان میں کھوٹ رہ گیا تو وہ ابدی خسارے میں رہے گا۔ آخرت کی عدالت میں پیش ہونے سے پہلے انسان کو یہ فکر ہونی چاہیے کہ اللہ کی کتابوں میں اس کا نام منافقوں میں لکھا ہے یا سچے مومنوں میں۔ دنیاوی عدالتوں اور معاشرے سے ایمان کی سند حاصل کر لینا کوئی معنی نہیں رکھتا، اصل اور حقیقی کامیابی تو یہ ہے کہ انسان احکم الحاکمین کی نگاہ میں ایک سچا، فرمانبردار اور وفادار بندہ قرار پائے، کیونکہ اسی کامیابی پر اس کی اخروی نجات کا دارومدار ہے۔
