کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیر نظر کتاب "تحریک اسلامی: کامیابی کی شرائط" میں اسلامی نظامِ زندگی کے قیام کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لیے ضروری اوصاف اور شرائط کا نہایت جامع اور بصیرت افروز خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اس اہم تحریر میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے انفرادی اور اجتماعی سطح پر ان خصوصیات کو بیان کیا ہے جو کسی بھی اسلامی تحریک کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں۔ مصنف کے نزدیک اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے سب سے پہلی اور بنیادی شرط "اسلام کا صحیح فہم" ہے۔ جو شخص یا گروہ دنیا میں اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتا ہو، اُس کے لیے لازم ہے کہ وہ پہلے خود اس نظام کو گہرائی کے ساتھ سمجھے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ محض سرسری یا اجمالی علم کافی نہیں ہے، بلکہ دین کا تفصیلی علم درکار ہے جو انسان کی ذہنی استعداد کے مطابق ہو۔ اگرچہ ہر کارکن کا مفتی یا مجتہد ہونا ضروری نہیں، لیکن اتنا شعور ہر ایک کے پاس ہونا چاہیے کہ وہ اسلام اور جاہلیت کے فرق کو واضح طور پر پہچان سکے اور یہ جان سکے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اسلام کیا رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس علم کے بغیر نہ انسان خود سیدھے راستے پر چل سکتا ہے اور نہ ہی دوسروں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق عام کارکنان کے پاس کم از کم اتنی سمجھ بوجھ ہونی چاہیے کہ وہ عام لوگوں کو دین سمجھا سکیں، جبکہ اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کے حامل افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید دور کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں، مخالفین کے اعتراضات کا جواب دیں اور اسلام کی بنیاد پر ایک نئی تہذیب و تمدن کی تعمیر کا نقشہ پیش کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ علم و فہم کے بعد دوسرا اہم ترین وصف جس کی نشاندہی مولانا نے کی ہے، وہ "پختہ ایمان اور یقین" ہے۔ اسلامی تحریک کے کارکنان کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ جس دین کے نظام کو قائم کرنے اٹھے ہیں، اس کی صداقت پر اُن کا دل مکمل طور پر مطمئن ہو۔ اُن کے ذہن میں کسی قسم کا شک، تذبذب یا الجھن نہیں ہونی چاہیے۔ ایک ایسا شخص جس کا دل ڈانواں ڈول ہو اور جو فکری یکسوئی سے محروم ہو، وہ کبھی بھی اس کٹھن راستے کا مسافر نہیں بن سکتا۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کارکنان کو اس بات پر غیر متزلزل یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام اختیارات کا مالک ہے اور ہدایت کا واحد راستہ وہی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا ہے۔ اس کے علاوہ ہر وہ چیز باطل ہے جو قرآن و سنت کے معیار پر پورا نہ اترے۔ اس کام کے لیے دماغ کی کامل یکسوئی اور دل کا اطمینان بے حد ضروری ہے، اور جو لوگ ابھی تک تذبذب کا شکار ہیں یا جن کی دلچسپیاں دوسری راہوں میں بھٹک رہی ہیں، انہیں اس عمارت کا معمار بننے سے پہلے اپنی اس کمزوری کا علاج کرنا چاہیے۔ تیسری بنیادی شرط جو مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کی ہے، وہ یہ ہے کہ کارکن کا "عمل اس کے قول کے مطابق ہو"۔ محض زبان سے دعویٰ کر دینا کافی نہیں، بلکہ جس چیز کو حق مانا جائے اس کی پیروی بھی کی جائے اور جس چیز کو باطل سمجھا جائے اس سے مکمل اجتناب برتا جائے۔ ایک داعیِ حق کی سیرت اور کردار اس کی دعوت کا عملی نمونہ ہونا چاہیے۔ اسے اللہ کے احکامات پر عمل کرنے اور ممنوعات سے رکنے کے لیے کسی بیرونی دباؤ کا محتاج نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اللہ کی خوشنودی کی طلب اور اس کی ناراضگی کا خوف ہی اس کے لیے سب سے بڑا محرک ہونا چاہیے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ کارکن کا کردار اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ وہ بگڑے ہوئے معاشرتی ماحول میں بھی ہر طرح کے خوف اور لالچ کا مقابلہ کر سکے اور راہِ راست پر ثابت قدم رہ سکے۔ اگرچہ اسلام سے ہمدردی رکھنے والے بہت سے لوگ ہو سکتے ہیں، لیکن نظام کو بدلنے کے لیے ایسے کردار کے غازیوں کی ضرورت ہے جن کے ضمیر زندہ ہوں اور جو اپنی اندرونی تحریک سے دین کے تقاضے پورے کریں۔ ان اوصاف کے ساتھ ساتھ مولانا نے ایک چوتھی صفت کا ذکر بھی کیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ اقامتِ دین صرف ایک خواہش نہ ہو بلکہ اسے "زندگی کا مقصد" بنا لیا جائے۔ نیک اور صالح لوگ تو بہت ہوتے ہیں جو اپنی نجی زندگی میں دین پر عمل پیرا ہوتے ہیں، لیکن جہاں باطل کا غلبہ ہو وہاں صرف ذاتی نیکی کافی نہیں ہوتی۔ وہاں ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جن کا جینا مرنا صرف اس مقصد کے لیے ہو۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی صلاحیتیں، اپنا وقت، مال اور جان اس مقصد کے لیے کھپانے کو تیار رہتے ہیں اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ انفرادی سطح پر یہ چار اوصاف (دین کا صحیح فہم، پختہ یقین، باعمل سیرت، اور اقامتِ دین کو مقصدِ زندگی بنانا) وہ بنیادیں ہیں جن کے بغیر اسلامی تحریک کا تصور بھی محال ہے۔ انفرادی اوصاف کے بعد مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اجتماعی تنظیم کی اہمیت اور اس کے اوصاف کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی بڑا تغیر محض بکھری ہوئی انفرادی کوششوں سے نہیں لایا جا سکتا، اس کے لیے ایک منظم جماعت کا ہونا ضروری ہے۔ ایسی جماعت کا اولین وصف یہ ہونا چاہیے کہ اس کے ارکان کے درمیان باہمی محبت، اخلاص اور ایثار کا رشتہ ہو۔ جس طرح سیمنٹ اینٹوں کو جوڑ کر ایک مضبوط عمارت بناتا ہے، اسی طرح محبت اور خیر خواہی دلوں کو جوڑ کر جماعت کو "سیسہ پلائی ہوئی دیوار" بنا دیتی ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نفرت، نفاق یا محض کاروباری تعلقات کسی مضبوط تنظیم کی بنیاد نہیں بن سکتے۔ حقیقی اتحاد تبھی پیدا ہوتا ہے جب لوگ ایک نظریے اور مقصد کی خاطر خلوصِ دل سے اکٹھے ہوں۔ جماعت کا دوسرا اہم وصف "مشاورت" ہے۔ مولانا اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ آمریت یا خود سری کسی جماعت کو تباہ کر دیتی ہے۔ صحیح کام وہی ہے جو باہمی مشورے سے انجام پائے۔ مشاورت سے نہ صرف بہتر فیصلے سامنے آتے ہیں بلکہ کارکنان میں ذمہ داری کا احساس اور اطمینان بھی پیدا ہوتا ہے۔ تاہم، مشاورت کے کچھ آداب ہیں جن کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ ہر شخص کو ایمانداری سے اپنی رائے دینی چاہیے، ہٹ دھرمی سے بچنا چاہیے، اور جب کوئی فیصلہ اجتماعی طور پر ہو جائے تو اختلاف رکھنے والوں کو بھی اسے خوش دلی سے قبول کرنا چاہیے۔ اگر یہ روح موجود نہ ہو تو مشاورت جماعت میں پھوٹ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اسی طرح سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے "نظم و ضبط" (Discipline) کو بھی جماعت کے لیے زندگی کی حیثیت دی ہے۔ ایک بہترین ٹیم کی طرح کام کرنا، اطاعتِ امیر، وقت کی پابندی اور باہمی تعاون وہ خصوصیات ہیں جو کسی جماعت کو متحرک اور مؤثر بناتی ہیں۔ اگر نظم و ضبط نہ ہو تو بہترین منصوبے بھی ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جماعت کی اصلاح اور ارتقاء کے لیے "تنقید کا سلیقہ" ہونا بھی ضروری ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق، اندھی تقلید جماعت کو بگاڑ کی طرف لے جاتی ہے۔ کمزوریوں کی نشاندہی اور اصلاح کی کوشش (تنقید) جماعت کی صحت کے لیے ناگزیر ہے، لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ تنقید خلوصِ نیت سے اصلاح کی خاطر ہو، نہ کہ عیب چینی یا تذلیل کے لیے۔ ساتھ ہی تنقید کرنے والوں کو اس کا مہذب طریقہ بھی معلوم ہونا چاہیے تاکہ اصلاح کا عمل فساد کا باعث نہ بنے۔ ان تمام ظاہری اور تنظیمی اوصاف کی روح "تعلق باللہ اور اخلاص" ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ یاد دلاتے ہیں کہ دنیاوی کام تو دیگر مقاصد کے لیے بھی کیے جا سکتے ہیں، لیکن اسلامی نظام کا قیام صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب کارکن کا تعلق اللہ سے مضبوط اور گہرا ہو۔ اس جدوجہد میں صرف اللہ کی رضا مطلوب ہونی چاہیے، اسی کی مدد پر بھروسہ ہونا چاہیے اور اسی کے اجر کی امید رکھنی چاہیے۔ اگر نیت میں کھوٹ آ جائے یا دنیاوی غرض شامل ہو جائے تو یہ راستہ کھوٹا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح "فکرِ آخرت" بھی ایک لازمی وصف ہے۔ مومن کا اصل ہدف دنیاوی کامیابی نہیں بلکہ آخرت کی فلاح ہے۔ مولانا فرماتے ہیں کہ کارکن کو دنیا کی کامیابی یا ناکامی، تعریف یا مذمت سے بے پروا ہو کر صرف اس یقین کے ساتھ کام کرنا چاہیے کہ اس کی محنت اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوگی۔ دنیا طلبی کی ادنیٰ سی آمیزش بھی قدموں میں لغزش کا سبب بن سکتی ہے۔ آخر میں، ان تمام اوصاف کو جو چیز ایک تسخیر کرنے والی قوت میں بدل دیتی ہے، وہ "حسنِ سیرت" ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کارکنان کو تلقین کرتے ہیں کہ انہیں عالی ظرف، شریف النفس، متواضع اور شیریں کلام ہونا چاہیے۔ انہیں ایسا ہونا چاہیے کہ لوگ ان سے خیر کی امید رکھیں اور شر سے محفوظ رہیں۔ وہ اپنے حق سے کم پر راضی ہوں اور دوسروں کو زیادہ دینے پر تیار ہوں۔ وہ برائی کا جواب بھلائی سے دیں، اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور دوسروں کی زیادتیوں کو معاف کرنے کا حوصلہ رکھیں۔ یہ وہ اخلاقی ہتھیار ہیں جن کی کاٹ تلوار سے زیادہ ہے اور جن کی قیمت سونے چاندی سے بڑھ کر ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات پر بحث سمیٹتے ہیں کہ اگر کارکنان ان اوصاف سے مزین ہو جائیں تو وہ اپنے کردار کی کشش سے لوگوں کے دلوں کو مسخر کر سکتے ہیں اور یہی وہ راستہ ہے جس سے ایک صالح انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔
