کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیر نظر متن میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے تہذیبی کشمکش میں علم و تحقیق کے کردار پر نہایت جامع روشنی ڈالی ہے۔ اس گفتگو کا بنیادی مقصد پڑھے لکھے طبقے کو ادارے کے کام سے متعارف کرانا اور ان کی فکری تائید حاصل کرنا ہے۔ اس موضوع کی اہمیت واضح کرتے ہوئے مولانا نے علم کی نوعیت، تہذیبوں کے عروج و زوال، مسلمانوں کے ماضی اور موجودہ فکری انحطاط کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک دنیا کے تمام علوم بنیادی طور پر دو حصوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ پہلا حصہ ان خالص معلومات اور حقائق پر مبنی ہوتا ہے جو کائنات کے بارے میں انسان کو حاصل ہوتے ہیں۔ یہ معلومات تمام انسانوں کے لیے یکساں ہوتی ہیں۔ دوسرا حصہ وہ ہے جہاں کوئی قوم ان مشترک معلومات کو اپنے مخصوص ذہن، عقیدے اور نقطہ نظر کے مطابق مرتب کرتی ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس تصور کو ایک مثال سے واضح کرتے ہیں کہ زمین پر موجود خوراک کا مواد ہر جگہ یکساں ہے، لیکن ہر قوم اپنے مزاج کے مطابق ان ہی اجزا سے مختلف پکوان تیار کرتی ہے۔ بالکل اسی طرح، کائنات کے حقائق سب کے لیے یکساں ہیں، لیکن ان حقائق کو جمع کرکے مخصوص فلسفہ حیات ترتیب دینا ہر تہذیب کا اپنا کارنامہ ہوتا ہے۔ یہی نظام فکر کسی بھی تہذیب کو دیگر تہذیبوں سے ممتاز کرتا ہے۔ اس بنیادی اصول کو بیان کرنے کے بعد، مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ قوموں کے عروج و زوال کا اٹل قانون بیان کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جب کوئی قوم تحقیق اور نئی معلومات کی جستجو ترک کر دیتی ہے، تو وہ فکری جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہ جمود بالآخر انحطاط کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کا نتیجہ کسی دوسری زندہ قوم کے غلبے کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ غلبہ صرف سیاسی نہیں ہوتا، بلکہ اس کا سب سے خطرناک پہلو فکری اور تہذیبی غلبہ ہوتا ہے جس میں فاتح قوم کی تہذیب مغلوب قوم کے ذہنوں پر مسلط ہو جاتی ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ خبردار کرتے ہیں کہ اس مغلوبیت کے بعد محکوم قوم اندھی تقلید کے راستے پر چل پڑتی ہے۔ وہ دوسروں کی تحقیقات اور ان کے مرتب کردہ فلسفہ حیات کو بلا سوچے سمجھے قبول کرنے لگتی ہے۔ یہ تقلید جب حد سے بڑھتی ہے تو مغلوب قوم کی اپنی شناخت ختم ہو جاتی ہے، اور ایسی قومیں بالآخر صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔ تاریخی تناظر میں مسلمانوں کے شاندار ماضی کا ذکر کرتے ہوئے مولانا فخر کے ساتھ حقیقت بیان کرتے ہیں کہ جب اسلامی تحریک ابھری، تو مسلمانوں نے دنیا پر صرف سیاسی تسلط قائم نہیں کیا تھا، بلکہ وہ علم و تحقیق کے میدان میں بھی امام تھے۔ انہوں نے محض معلومات جمع کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان حقائق کو عقیدہ توحید کی روشنی میں مرتب کیا۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ علم طب کی مثال دے کر سمجھاتے ہیں کہ مسلمانوں نے طب جیسے سائنسی فن کو بھی عقیدے کے سانچے میں ڈھالا۔ مسلم اطباء علاج کا آغاز اللہ کی حمد سے کرتے، حلال و حرام کی تمیز رکھتے، اور شفا کو اللہ کی قدرت کا کرشمہ قرار دیتے۔ یہ حقائق کو اسلامی ذہنیت کے مطابق ترتیب دینے کا عملی نمونہ تھا، جس سے ایک غالب اسلامی تہذیب وجود میں آئی جس نے دنیا کو متاثر کیا۔ اس شاندار غلبے کا نتیجہ یہ تھا کہ صدیوں تک تہذیب کا مطلب ہی اسلامی تہذیب سمجھا جاتا تھا۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ وہ مشرکین جو توحید کو عجیب بات سمجھتے تھے، مسلمانوں کے علمی غلبے کے بعد خود اپنے شرکیہ عقائد کی تاویلیں تلاش کرنے لگے۔ یورپ کی نشاۃ ثانیہ بھی مسلمانوں کی قائم کردہ درس گاہوں اور مرتب کردہ علوم کی مرہون منت تھی۔ ایک وقت تھا جب اہل مغرب کے پڑھے لکھے لوگ عربی بولنے اور لکھنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ یہ ثبوت ہے کہ جو قوم تحقیق کی قیادت کرتی ہے، دنیا اسی کی تہذیب کی تقلید کرتی ہے۔ اس روشن دور کے بعد مسلمانوں کی تاریخ میں ایک تاریک موڑ آیا جس کی نشاندہی سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نہایت دردمندی سے کرتے ہیں۔ ایک وقت آیا جب مسلمانوں نے نئی تحقیقات ترک کر دیں اور محض پرانے علوم کو پڑھنے اور حاشیے لکھنے تک محدود ہو گئے۔ دوسری طرف اہل مغرب نے اس علمی ورثے کو اپنایا، نئی تحقیقات کا آغاز کیا اور نئے نظام ہائے حیات تشکیل دیے۔ مولانا کے مطابق، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان مسلسل جمود کا شکار ہوتے چلے گئے جبکہ مغرب اپنی علمی بیداری سے طاقتور ہوتا گیا۔ اٹھارویں صدی تک مسلمان پوری طرح مغلوب اور مغربی قومیں غالب آ گئیں۔ مسلمانوں نے تحقیق چھوڑنے کی جو سزا پائی، وہ آج تک تہذیبی غلامی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ آج مسلمانوں کے دلوں میں احساسِ کمتری اتر چکا ہے کہ اگر کوئی علم ہے تو وہ صرف مغرب کا ہے، اور ہمارا کام صرف نقالی ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کے حل کے لیے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ محض روایتی یا بے مقصد تحقیق کو کافی نہیں سمجھتے۔ وہ ان مغربی طریقوں کو مسترد کرتے ہیں جو محض پرانی کتابوں کی تدوین تک محدود ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، وہ اس معذرت خواہانہ ذہنیت کی بھی مخالفت کرتے ہیں جس کے تحت اسلام کو مغربی اقدار کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حیات نو کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم خالص اسلامی نقطہ نظر سے علمی تحقیقات کا آغاز کریں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم کام یہ ہے کہ مغربی فکر کے اس طلسم کو توڑا جائے جس نے مسلمانوں کو ذہنی طور پر مفلوج کر رکھا ہے۔ ایک مدلل تنقید کے ذریعے ثابت کیا جائے کہ اگرچہ سائنسی حقائق انسانیت کا مشترک سرمایہ ہیں، لیکن ان حقائق کی بنیاد پر مغرب نے جو کائناتی اور معاشرتی فلسفہ ترتیب دیا ہے، وہ باطل اور تباہ کن ہے۔ جب تک اس مغربی سحر کو ختم نہیں کیا جائے گا، مسلمان کبھی مقلد کی ذلت آمیز زندگی چھوڑ کر رہنما کا کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔ دوسرا بڑا ہدف یہ ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے تمام علوم و فنون کو نئے اسلوب پر مرتب کیا جائے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حقیقت کی تلاش کی صحیح تسکین صرف انبیاء کے بتائے راستے پر ممکن ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اسلام کے کائناتی تصور کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع فلسفہ حیات مرتب کریں۔ مولانا روس کی مثال دے کر فرماتے ہیں کہ جس طرح کمیونسٹوں نے اپنے نظریے کے غلبے کے لیے بورژوا فلسفے کو نصاب سے نکال کر اپنا اشتراکی فلسفہ رائج کیا، بالکل اسی طرح مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ معاشیات، قانون، نفسیات اور عمرانیات جیسے جدید علوم کو اسلامی بنیادوں پر استوار کریں۔ جب تک تعلیمی اداروں میں ان اسلامی اصولوں پر مبنی علوم کی تعلیم نہیں دی جائے گی، کسی بھی اسلامی تہذیب کا احیاء ناممکن ہے۔ گھروں میں مذہبی تعلیم دینا کافی نہیں ہوگا اگر اداروں میں ایسا فلسفہ پڑھایا جا رہا ہو جو فکری بنیادوں کو کھوکھلا کر دے۔ غرض، علمی تحقیق اور نئے علوم کی تدوین ہی تہذیبی کشمکش میں مسلمانوں کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
