کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیر نظر تحریر دہلی سے موصول ہونے والے ایک نہایت اہم اور پیچیدہ استفتاء اور اس پر سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے تفصیلی، بصیرت افروز اور شرعی اصولوں پر مبنی جواب کا احاطہ کرتی ہے۔ اس استفتاء میں ایک بنیادی اور سلگتا ہوا سوال اٹھایا گیا تھا کہ اگر کوئی غیر مسلم حاکم، غیر مسلم ثالث یا پنچ کسی مسلمان مرد اور عورت کے نکاح کو اسلامی احکام کے مطابق فسخ کر دے، یا شوہر کا ظلم ثابت ہو جانے کی صورت میں غیر مسلم حاکم عورت کو طلاق دلوا دے، تو کیا شرعی لحاظ سے یہ نکاح فسخ تصور ہوگا اور عورت پر طلاق واقع ہو جائے گی؟ سائل نے مزید یہ بھی پوچھا تھا کہ اگر غیر مسلم عدالت کا یہ فیصلہ شرعاً باطل اور بے وقعت ہے، تو کیا اس عورت کا بعد از عدت کسی دوسرے مسلمان مرد سے نکاح کرنا، اس صورت میں کہ اس دوسرے مرد کو اس سابقہ طلاق کے طریقے کا علم بھی ہو، باطل تصور ہوگا؟ کیا ان کا باہمی تعلق زنا کے زمرے میں آئے گا اور کیا اس رشتے سے پیدا ہونے والی اولاد حرامی اور اپنے باپ کے ترکے سے محروم تصور کی جائے گی؟ اس طویل اور الجھے ہوئے سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے سب سے پہلے سائل کی اس بنیادی فکری خامی اور غلط فہمی کی نشاندہی کی ہے جس پر یہ پورا سوال کھڑا ہے۔ ان کے نزدیک اس سوال کا دائرہ محض کسی غیر مسلم حاکم یا غیر مسلم پنچ تک محدود کرنا درست نہیں ہے، بلکہ اصولی طور پر سوال یہ ہونا چاہیے تھا کہ جو ریاستی یا عدالتی نظام اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور اس کے نظام سے بے نیاز ہو کر انسانوں نے خود قائم کر لیا ہو، اور جس کے فیصلے انسانی ساخت کے قوانین پر مبنی ہوں، کیا ان فیصلوں کو خدا کا قانون جائز تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔ اس ضمن میں سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ انتہائی صراحت کے ساتھ یہ واضح کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف نکاح اور طلاق کی حد تک محدود نہیں ہے، بلکہ انسانی زندگی کے جملہ معاملات میں کسی بھی غیر اسلامی عدالت کا فیصلہ شریعتِ اسلامی کی رو سے قطعی طور پر باطل، بے بنیاد اور کالعدم ہے۔ اسلام کسی ایسی حکومت یا نظام کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا جو کائنات کے اصل مالک الملک، یعنی اللہ رب العزت کی ذات سے بے تعلق ہو کر اپنا آزادانہ اور مختارانہ وجود قائم کر لے۔ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر مبنی عدالتیں، جو اللہ کی صریح اجازت کے بغیر قائم کی گئی ہوں، اسلامی نقطہ نظر سے بالکل اسی طرح باغیانہ حیثیت رکھتی ہیں جیسے دنیاوی قوانین کی رو سے بغاوت کو جرم سمجھا جاتا ہے۔ مولانا نے اس کی ایک بہترین مثال پیش کی ہے کہ جس طرح انگریزی قانون کی رو سے برطانوی سلطنت کے حدود میں تاجِ برطانیہ کی اجازت کے بغیر قائم ہونے والی متوازی عدالتیں بغاوت شمار ہوتی ہیں، اور ان کے جج، کارندے اور وہاں مقدمات لے جانے والے تمام افراد قانون کی نگاہ میں باغی اور مجرم قرار پاتے ہیں، بالکل اسی طرح اسلامی قانون کی نگاہ میں بھی وہ پورا عدالتی نظام مجرمانہ اور باغیانہ ہے جو زمین و آسمان کے حقیقی بادشاہ کی مملکت میں اس کے منشور یا فرمان کے بغیر قائم کیا گیا ہو۔ ایسا عدالتی نظام اور اس کے تمام کارندے، بشمول وہ فریقین جو اس کے سامنے اپنے معاملات فیصلے کے لیے لے جاتے ہیں، خدائی قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب اور مجرم ہیں۔ یہاں یہ نکتہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جسے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے بڑی باریک بینی سے بیان کیا ہے کہ اگر کوئی غیر اسلامی عدالت اپنے کسی فیصلے میں اتفاقاً اسلامی شریعت کے مطابق بھی فیصلہ کر دے، تب بھی وہ فیصلہ اصولی طور پر باطل اور غلط ہی تصور ہوگا، کیونکہ اس ادارے کی بنیاد ہی اللہ کی بغاوت پر رکھی گئی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایسی عدالت کسی چور کا ہاتھ کاٹنے، زانی کو سنگسار کرنے یا شرابی کو کوڑے مارنے کی سزا سنائے، تو اس سزا کے نفاذ سے مجرم شرعی لحاظ سے اپنے جرم سے پاک نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عدالت نے خدا کی مخلوق پر وہ اختیار استعمال کیا ہے جو اسے خدا کے قانون کی رو سے ہرگز حاصل نہیں تھا۔ اس طاغوتی اور غیر اسلامی نظام کی شرعی حیثیت اس وقت بھی جوں کی توں برقرار رہتی ہے جب اس غیر اسلامی عدالت کی کرسی پر کسی غیر مسلم کی بجائے کوئی نام نہاد مسلمان جج بیٹھا ہو۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی باغی حکومت سے اختیارات حاصل کر کے مسندِ عدالت پر بیٹھتا ہے اور انسانوں کے وضع کردہ قوانین کے تحت احکامات جاری کرتا ہے، وہ اپنے اس عدالتی منصب کی حد تک ہرگز مسلمان نہیں رہتا بلکہ خود ایک باغی کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ لہٰذا، اس کے صادر کردہ احکام اور فیصلے کسی بھی صورت میں شرعی جواز نہیں پا سکتے۔ اس کے ساتھ ہی سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ دورِ حاضر کے جمہوری نظام کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک بہت بڑی غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ غیر آئینی اور غیر شرعی قانونی پوزیشن اس صورت میں بھی قائم رہتی ہے جب کوئی حکومت جمہوری اصولوں پر قائم ہو اور اس میں مسلمان شامل ہوں۔ خواہ کسی جمہوری ملک میں مسلمان قلیل تعداد میں ہوں یا کثیر تعداد میں، یا تمام کی تمام آبادی مسلمانوں پر ہی کیوں نہ مشتمل ہو، لیکن اگر اس حکومت کی بنیاد اس مغربی نظریے پر رکھی گئی ہے کہ عوام خود مختار اور مالک الملک ہیں اور انہیں اپنے لیے خود قانون بنانے کا کلی اختیار حاصل ہے، تو اسلام کی نظر میں ایسی حکومت بھی سراسر بغاوت پر مبنی ہے۔ ایسی حکومتی اور جمہوری بنیادوں کے تحت بننے والی عدالتوں کے فیصلے بھی اسی طرح کالعدم اور باطل ہیں جس طرح کسی واضح کافرانہ نظام کے فیصلے باطل ہوتے ہیں۔ مولانا نے اس بنیادی اصول کو ثابت کرنے کے لیے قرآن مجید کی متعدد آیات کا تفصیلی حوالہ دیا ہے، جو اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ کائنات کی تخلیق چونکہ اللہ کی ہے، لہٰذا اس پر حکم چلانے، قانون بنانے اور امر صادر کرنے کا حق بھی صرف اور صرف اللہ ہی کو پہنچتا ہے۔ انسان محض ایک مخلوق اور محکوم ہے، اور اس کا کام اس قانون کی پیروی کرنا ہے جو کائنات کے رب نے نازل فرمایا ہے۔ جو ادارہ، فرد یا حکومت اللہ کے قانون کو پسِ پشت ڈال کر خود قانون سازی کرتا ہے، قرآن اسے طاغوت کہتا ہے اور طاغوت کے پاس اپنے فیصلے لے کر جانا صریحاً کفر اور بغاوت ہے۔ خداوندِ عالم کی زمین پر جائز حکومت اور عدالت کا تصور پیش کرتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ واضح کرتے ہیں کہ صحیح نظام صرف وہی ہے جس کی بنیاد انبیاء کرام علیہم السلام کے لائے ہوئے قوانین پر استوار ہو، اور اسی خدائی نظام کا نام خلافت ہے۔ اس کے برعکس ہر وہ حکومت جو اس خدائی بنیاد سے ہٹ کر قائم ہو، اس کے تمام احکامات، خواہ ان کی ظاہری شکل کتنی ہی پرفریب کیوں نہ ہو، بے وزن اور بے بنیاد ہیں۔ اللہ کے وفادار بندے یعنی اہل ایمان دنیاوی مجبوری کے تحت ایسے نظام کے خارجی وجود کو ایک تلخ حقیقت کے طور پر تو دیکھ سکتے ہیں، لیکن اسے قانونی، اخلاقی اور شرعی طور پر تسلیم نہیں کر سکتے۔ جب اسلام کی پوری عمارت اس ناقابلِ تردید اصول پر کھڑی ہے کہ جو نظام اللہ کی سند سے محروم ہے وہ سراسر باطل ہے، تو مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول یہ دریافت کرنا انتہائی غیر منطقی ہو جاتا ہے کہ آیا کسی مخصوص معاملے، مثلاً نکاح یا طلاق میں اس غیر الٰہی نظام کی عدالت کا فیصلہ شرعاً نافذ العمل ہوگا یا نہیں۔ اس حقیقت کو مزید واضح کرنے کے لیے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے انتہائی پر اثر اور ناقابلِ تردید مثالیں پیش کی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب ایک بچے کا نطفہ ہی حرام قرار پا چکا ہو، تو یہ بحث کرنا کہ اس کے بال یا ناخن بھی حرامی ہیں یا نہیں، ایک احمقانہ فعل ہے۔ اسی طرح جب خنزیر مکمل طور پر حرام ہے، تو اس کے جسم کی کسی ایک مخصوص بوٹی کے متعلق حلال و حرام کا سوال اٹھانا صریح جہالت ہے۔ پس غیر الٰہی عدالتوں کے فیصلوں کے بارے میں سوال کرنا دراصل اسلام کے مزاج اور اس کے نظام حیات سے مکمل ناواقفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مولانا اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ سائل نے محض غیر مسلم ججوں کی شرط عائد کی ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر خنزیر کی بوٹی کا نام بکرے کی بوٹی رکھ دیا جائے تو شاید سائل کے نزدیک وہ حلال ہو جائے گی۔ حالانکہ نام کے مسلمان جج اگر طاغوتی نظام کا حصہ بن کر فیصلے کریں گے تو وہ بھی اسی طرح باطل ہوں گے جیسے غیر مسلموں کے فیصلے باطل ہوتے ہیں۔ تحریر کے اختتام پر، مصنف اس تلخ حقیقت کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں کہ اسلام کے اس اٹل اصول کو تسلیم کر لینے کے بعد، کسی بھی غیر اسلامی اور طاغوتی حکومت کے تحت مسلمانوں کی زندگی گزارنا بے پناہ مشکل اور کٹھن ہو جاتا ہے، لیکن ایک سچے مسلمان کے لیے حق بہرحال حق ہے اور باطل نظام کو دل سے تسلیم کرنا کسی صورت ممکن نہیں ہے۔
