کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیرِ مطالعہ تحریر میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے امت مسلمہ کی موجودہ زبوں حالی اور دعوت دین کے عظیم فریضے سے ان کی مجرمانہ غفلت پر نہایت گہری اور دردمندانہ بحث کی ہے۔ ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ آج کے مسلمان اس حقیقی ذوقِ تبلیغ سے مکمل طور پر ناآشنا ہو چکے ہیں جو کسی زمانے میں اسلام کی فاتحانہ قوتوں اور اس کی عالمگیر اشاعت کا سب سے مؤثر اور کارگر ہتھیار ہوا کرتا تھا۔ مصنف کا ماننا ہے کہ اگر آج بھی ہمارے اندر وہی پرانا دعوتی جذبہ اور تڑپ بیدار ہو جائے تو ہمیں اسلام کی بقا کے لیے جدید طرز کی کانفرنسیں منعقد کرنے اور مجلسیں بنانے کی حاجت پیش نہ آئے۔ اغیار کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں پر ماتم کرنے کے بجائے، دین اسلام کی یہ بڑھتی ہوئی قوت خود باطل کے ایوانوں اور اغیار کے مجمع میں کھلبلی مچا دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ طیبہ کا ہر لمحہ اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچانے میں صرف کیا، اور ان کے مقدس پیروکاروں نے محض ایک صدی کے مختصر عرصے میں بحر الکاہل کے کناروں سے لے کر بحر اوقیانوس کے ساحلوں تک کلمہ حق کی اشاعت کر دی۔ اس زوال کے اسباب کا تجزیہ کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں نے اس عظیم کام کے لیے عیسائی مشنریوں کی تقلید کرتے ہوئے سوسائٹیاں اور انجمنیں بنا کر اسلام پھیلانے کی ناکام کوشش شروع کر دی ہے۔ اسلامی تاریخ میں یہ ایک نیا اور غیر فطری رجحان ہے۔ اگر دین کی اشاعت اور کامیابی کا حقیقی راز صرف انجمن سازیوں اور شور و غل میں پوشیدہ ہوتا تو آج ہماری ترقی کی رفتار اسلاف سے کہیں زیادہ تیز ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تمام تر جدید وسائل کے باوجود ہمارا ہر قدم پیچھے ہٹ رہا ہے، جبکہ ہمارے اسلاف نے بے سروسامانی کے عالم میں بھی دنیا کے گوشے گوشے میں اسلام کا پرچم بلند کیا۔ اسلام کے دعوتی مزاج کو مزید واضح کرتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ پروفیسر میکس ملر کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ اسلام بنیادی طور پر ایک تبلیغی مذہب ہے جس کی زندگی کا انحصار ہی دعوت و اشاعت پر ہے۔ قرآنی تعلیمات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ امت مسلمہ کے وجود کا واحد مقصد دنیا کو نیکی کی طرف بلانا اور برائیوں سے روکنا ہے۔ جب تک مسلمانوں میں قرآن حکیم اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اثر باقی رہا، ہر مسلمان اپنی ذات میں ایک چلتا پھرتا داعی تھا۔ انہوں نے تجارت، زراعت اور حکومت سمیت دنیا کے تمام امور انجام دیے، مگر ان کے دلوں میں ہر وقت یہ لگن موجزن رہی کہ اس دینِ حق سے تمام انسانوں کو بہرہ مند کریں۔ تاجروں نے اسفار میں، مزارعوں نے کھیتوں میں اور قیدیوں نے قید خانوں میں دین کی اشاعت کا فریضہ انجام دیا۔ اسلام پر لگائے جانے والے سب سے بڑے الزام کا جواب دیتے ہوئے مولانا اس دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ تاریخ غیر جانبدار شاہد ہے کہ اسلام کی بقا اور پھیلاؤ صرف پرامن تبلیغ کا نتیجہ ہے۔ اگر اسلام کی زندگی کا انحصار تلوار پر ہوتا تو تلوار کے وار سے ہی وہ فنا ہو چکا ہوتا۔ تاریخی حقائق گواہ ہیں کہ جب مسلمانوں کو عسکری اور سیاسی محاذ پر شکست ہو رہی تھی، تب بھی اسلام دعوتی ہتھیار کے ذریعے فاتح بن رہا تھا۔ جب بغداد میں مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا تھا، عین اسی وقت جاوا اور سماٹرا میں اسلام تیزی سے پھیل رہا تھا۔ ایک طرف قرطبہ اور صقلیہ سے اسے ختم کیا جا رہا تھا تو دوسری طرف دور دراز کے جزائر میں اس کا علم بلند ہو رہا تھا۔ ترکی اور تاتاری مسلمانوں کو غلامی کا طوق پہنا رہے تھے مگر خود ان کے دل اس دین کی روحانی قوت سے متاثر ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ جو فتوحات تلوار سے حاصل ہوئیں وہ مٹ گئیں، لیکن جو فتوحات دلوں پر کی گئیں وہ افریقہ اور انڈونیشیا کی صورت میں آج بھی زندہ ہیں۔ اشاعتِ اسلام کے بنیادی اسباب کا تجزیہ کرتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ تین اہم عناصر کا ذکر کرتے ہیں: اسلام کے سادہ عقائد، مسلمانوں کی عملی زندگی کے حیرت انگیز نتائج، اور ان کا بے پناہ ذوقِ تبلیغ۔ ماضی کے مسلمان اس دعوتی مقصد کو اپنی پیدائش کی اصل وجہ سمجھتے تھے۔ وہ قریش کے مظالم سہہ کر حبشہ گئے یا روم و ایران جیسی طاقتوں سے ٹکرائے، ان کا حتمی مقصد اللہ کے دین کی سربلندی تھا۔ ان کا یہ ذوقِ تبلیغ سزائے موت اور قید میں بھی ماند نہیں پڑتا تھا۔ کانگو کے ایک مسلمان قیدی کی مثال تاریخ کا حصہ ہے جس نے تختہ دار پر چڑھنے سے پہلے اس پادری کو مسلمان کر لیا جو اسے عیسائیت کی تبلیغ کرنے آیا تھا۔ اسی طرح مشرقی یورپ کے علاقے میں محض ایک تنہا مسلمان عالم کی انفرادی کوششوں سے، جو جنگ میں قیدی بن گیا تھا، ڈان اور ڈینیوب کے درمیانی علاقے میں بارہ ہزار سے زائد افراد دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے سارا علاقہ اسلام کی برکات سے معمور ہو گیا۔ تاریخ اسلام میں خواتین کے شاندار کردار کو اجاگر کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ اس عالمگیر دعوتی مہم میں مسلمان عورتیں بھی پیش پیش تھیں۔ تاتاری فتنے کے دوران جن نازک اندام مسلمان خواتین کو قیدی اور لونڈیاں بنا کر لے جایا گیا تھا، انہوں نے اپنے کافر شوہروں کا مذہب اپنانے کے بجائے اپنے اخلاق اور حکمت سے تاتاری حکمرانوں کو اسلام کا مطیع کر دیا۔ غازان شاہ کے بھائی اور چغتائی خاندان کے متعدد افراد کو مسلمان کرنے کا سہرا انہی مسلمان عورتوں کے سر ہے۔ اسی طرح وسطی افریقہ میں خواتین نے باقاعدہ تعلیمی اداروں اور مکاتب کے ذریعے اسلام کی روشنی پھیلائی۔ اس تاریخی جائزے کے بعد سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس عظیم الشان طبقے کا تذکرہ کرتے ہیں جس نے اشاعتِ اسلام میں سب سے نمایاں کردار ادا کیا، یعنی صوفیائے کرام اور اولیائے عظام۔ برصغیر پاک و ہند میں اسلام کا پھیلاؤ براہ راست انہی نفوسِ قدسیہ کی بے لوث محنتوں کا ثمر ہے۔ حضرت خواجہ معین الدین اجمیری، خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، فرید الدین گنج شکر، اور نظام الدین اولیاء رحمہم اللہ کے ساتھ ساتھ پنجاب میں حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی، سید جلال بخاری اور مخدوم جہانیاں رحمہم اللہ نے اپنے اعلیٰ اخلاق سے بیسیوں قبائل اور لاکھوں انسانوں کو حلقہ بگوشِ اسلام کیا۔ بنگال میں شیخ جلال الدین تبریزی اور کشمیر میں سید علی ہمدانی اور بلبل شاہ کی مساعی سے حق کا بول بالا ہوا۔ ان بزرگوں کی دعوتی محنتوں کا اثر اس قدر گہرا تھا کہ آج بھی ہندوستان میں کروڑوں غیر مسلم ان سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں۔ تاہم، موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے مصنف نہایت دردمندی سے بیان کرتے ہیں کہ آج صوفیائے کرام کا یہ طبقہ اپنے اس شاندار دعوتی ورثے کو یکسر فراموش کر چکا ہے۔ جو روحانی قوت کبھی تاتاریوں جیسے وحشیوں کو زیر کر لیتی تھی، آج وہ خود غیر اسلامی رسوم اور مفاسد کا شکار ہو کر اپنی تاثیر کھو چکی ہے۔ اپنے کلام کو سمیٹتے ہوئے مولانا اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ماضی کی ان درخشاں روایات کو بیان کرنے کا مقصد محض افسانے سنانا نہیں ہے، بلکہ امت کو یہ احساس دلانا ہے کہ اسلام کی دینی اور دنیاوی قوت کا واحد سرچشمہ وہی دعوت و تبلیغ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس امت کو برپا کیا تھا۔ جب تک مسلمانوں نے اس فریضے کو نبھایا، وہ بنا کسی مادی لالچ یا جبر کے محض اپنے اخلاق اور سچائی کے زور پر چین، افریقہ، اور جزائر ملایا کے کروڑوں انسانوں کے دلوں پر حکومت کرتے رہے۔ آج کے دور کی بقا اور اسلام کی نشاۃ الثانیہ کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ ہم کاغذی کارروائیوں اور مردہ رسوم سے نکل کر اسلاف کے اسی بے لوث، سچے اور عالمگیر دعوتی جذبے کو ایک بار پھر اپنے اندر زندہ کریں۔
