کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیرِ مطالعہ تحریر، کتاب "اسلام بیسویں صدی میں" کے مندرجات پر مبنی ہے، جو دراصل ان علمی، تحقیقی، اور اجتہادی سوالات کے جوابات کا ایک نہایت وقیع اور شاندار مجموعہ ہے جو آج سے کئی دہائیوں قبل پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کے ایک مجلے کی جانب سے برصغیر کے ممتاز اور بالغ نظر علماء کے سامنے پیش کیے گئے تھے۔ ان پیچیدہ اور دورِ حاضر کے سلگتے ہوئے مسائل کے حوالے سے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے جو مفصل، شافی، اور بصیرت افروز جوابات تحریر فرمائے، وہ بعد ازاں کتابی شکل میں مرتب کیے گئے تاکہ ملتِ اسلامیہ کے باشعور افراد بالخصوص نوجوان نسل ان سے خاطر خواہ استفادہ کر سکے۔ اس کتاب کا بنیادی اور مرکزی خیال یہ ہے کہ بیسویں صدی کے اس انتہائی ترقی یافتہ، مادی، اور الحاد زدہ معاشرے میں اگر کوئی نظام انسانیت کو حقیقی روحانی سکون، فکری طمانیت اور روزمرہ کے نت نئے ابھرنے والے عملی مسائل کا قابلِ عمل حل فراہم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، تو وہ صرف اور صرف دینِ اسلام ہے۔ اسلام کائنات کے خالق کا عطا کردہ وہ ابدی اور آخری نظامِ حیات ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کامل ترین شکل میں پیش کیا، اور اب قیامت تک کسی اور نبی یا نئے دین کی قطعی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ آج کے جدید سائنسی اور عقلی دور میں جہاں مغربی علوم اور مغربی افکار نے پوری دنیا پر اپنا غلبہ قائم کر رکھا ہے، وہاں اسلام کو ایک فرسودہ یا محض عبادات تک محدود مذہب سمجھنے کی سنگین غلط فہمی عام ہو چکی تھی۔ ان حالات میں مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس چیلنج کو قبول کیا اور مغربی مفکرین کی فکری یلغار کے سامنے اسلام کو ایک زندہ، متحرک، اور تابندہ نظامِ زندگی کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے روایتی علماء کے فکری جمود کو توڑا اور جدید تعلیم یافتہ ذہنوں میں پیدا ہونے والے ان گنت پیچیدہ سوالات کے ایسے مدلل اور منطقی جوابات فراہم کیے جو محض اندھی عقیدت پر مبنی نہیں تھے، بلکہ ان کی بنیاد مضبوط استدلال، گہری تحقیق، اور دور اندیشی پر استوار تھی۔ ان کے دلائل نے ثابت کیا کہ اسلام ماضی کا کوئی گرد آلود ورثہ نہیں ہے، بلکہ یہ آج کے تمام جدید تقاضوں کو پورا کرنے، انسانیت کی علمی الجھنوں کو سلجھانے اور زندگی کے ہر میدان میں رہنمائی فراہم کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتا ہے۔ اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے قدرت نے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کو بے پناہ اور غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ قدیم اسلامی علوم اور جدید مغربی افکار، دونوں پر یکساں اور مجتہدانہ دسترس رکھتے تھے۔ ان کی شخصیت میں علم کی گہرائی، استدلال کی غیر معمولی قوت، دعوت کا بے پناہ درد، اور اپنے مقصد کے ساتھ والہانہ عشق کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ان کے رفقاء اور ہم عصر علماء اس بات کے معترف ہیں کہ وہ کسی بھی الجھے ہوئے سوال کی تہہ تک پہنچنے اور چند جامع الفاظ میں اس کا تسلی بخش جواب دینے کا بے مثال ملکہ رکھتے تھے۔ ان کی گفتگو اور تحریروں میں تکلفات اور روایتی علمی رعب جھاڑنے کے بجائے دریا کی سی روانی اور سیلاب کی سی طاقت موجود ہوتی تھی، جو باطل نظریات، غلط افکار اور دورِ جدید کی ذہنی الجھنوں کے خس و خاشاک کو بہا لے جاتی تھی۔ اس راہِ حق میں مولانا کو بے پناہ مصائب، مشکلات، اور شدید مخالفتوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اپنوں کی زیادتیوں کے ساتھ ساتھ، دین کی اجارہ داری قائم کرنے والوں نے ان پر فتووں کی بوچھاڑ کی، اقتدار کے نشے میں بدمست حکمرانوں نے ان پر بے بنیاد اور ناقابلِ فہم الزامات لگائے، انہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، اور یہاں تک کہ ان کی زندگی کے چراغ کو گل کرنے کی سازشیں بھی کی گئیں۔ مگر ان کے پائے استقلال میں ذرہ برابر بھی لغزش نہ آئی۔ ان کی ثابت قدمی اور عزیمت کے سامنے مخالفتوں کی تمام تیز و تند لہریں پاش پاش ہو گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی عزت و تکریم میں بے پناہ اضافہ فرمایا اور ان کے جنازے میں امڈ آنے والا عشاق کا بے مثال ہجوم، عالمِ اسلام کا ماتم، اور نوجوانوں کا گہرا رنج و غم اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ اللہ نے اپنے اس نیک بندے کی محبت لوگوں کے دلوں میں راسخ کر دی تھی۔ کتاب میں شامل ایک انتہائی اہم واقعے سے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی فکری گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے جب ان کے ایک ساتھی نے اشتراکیت کے اس فلسفے پر بات کی کہ انسان پیدائشی طور پر مجرم اور ظالم ہے اور اگر وسائل اس کے ہاتھ میں آ جائیں تو وہ استحصال کرے گا۔ اس کے جواب میں انہوں نے نہایت باریک بینی سے واضح کیا کہ اشتراکیت تو دراصل انسان کے اندر موجود فطرتِ سلیمہ کا سرے سے انکار کرتی ہے۔ اسی طرح انہوں نے موجودہ دور کے تعلیمی اداروں، خواہ وہ قدیم طرز کے دینی مدارس ہوں یا جدید مغربی طرز کے کالج اور یونیورسٹیاں، دونوں میں تیزی سے گرتے ہوئے معیارِ تعلیم پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس زوال کی بنیادی وجہ جدید مغربی تہذیب کے مادی اور حسی غلبے کو قرار دیا، جو ظاہری چمک دمک اور فیشن کو تو فروغ دیتی ہے، مگر حقیقت اور روحانیت کے اعتبار سے بالکل کھوکھلی ہے۔ زیرِ بحث کتاب میں خاص طور پر بیسویں صدی میں مذہب کی رہنمائی کے حوالے سے عیسائیت اور اسلام کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا عیسائیت یا سیکولرزم اور کمیونزم انسان کو مادی اور روحانی ترقی کی معراج تک پہنچا سکتے ہیں، مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت دو ٹوک اور تاریخی حقائق پر مبنی جواب دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں تک عیسائیت کا تعلق ہے، وہ انسانیت کی رہنمائی کے منصب سے بہت پہلے ہی دستبردار ہو چکی ہے۔ بائبل کے موجودہ عہد نامہ جدید میں چند اخلاقی اور روحانی نصیحتوں کے سوا معاشرت، معیشت، سیاست، عدالت، اور قانون کے حوالے سے کوئی جامع اور قابلِ عمل نظام سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ نے اپنی موجودہ مادی ترقی عیسائیت کی رہنمائی میں نہیں، بلکہ پادریوں کے بنائے ہوئے غیر فطری نظامِ زندگی سے بغاوت اور آزادی حاصل کر کے کی ہے۔ عیسائی دنیا آج بھی اسلام کے خلاف تعصب تو رکھتی ہے، مگر ان کے پاس اپنے مذہب میں ریاست اور معاشرے کو چلانے کا کوئی دستور نہیں ہے۔ اس کے برعکس، سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نہایت مدلل انداز میں یہ حقیقت واضح کرتے ہیں کہ صرف اور صرف اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو اپنے روزِ اول سے ہی تہذیب و تمدن کے ہر پہلو میں انسان کی کامل رہنمائی کرتا آ رہا ہے۔ اسلام نے انسانیت کو اپنا ایک مستقل، جامع اور منفرد تمدن عطا کیا ہے۔ انسانی زندگی کا کوئی ایک گوشہ یا شعبہ ایسا نہیں ہے، چاہے اس کا تعلق انفرادی اخلاقیات سے ہو، خاندانی نظام سے ہو، ملکی سیاست سے ہو، یا بین الاقوامی تعلقات سے ہو، جس کے متعلق قرآنِ مجید اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نے واضح اور روشن ہدایات فراہم نہ کی ہوں۔ سیکولرزم اور کمیونزم جیسے مادی نظریات جو انسان کو صرف ایک معاشی حیوان سمجھتے ہیں اور اسے روحانی سکون فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، ان کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے کی واحد طاقت اسلام کے ہمہ گیر نظام میں پوشیدہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا نے اپنی سڑسٹھ سالہ زندگی میں دینِ اسلام کی وہ عظیم اور بے مثال خدمت انجام دی ہے جو شاید سینکڑوں زندگیاں مل کر بھی نہ کر سکیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو صرف عقائد اور عبادات کے مجموعے کا نام اسلام نہیں بتایا، بلکہ اقامتِ دین کا ایک ایسا واضح، ہمہ گیر اور دلکش نصب العین پیش کیا جس نے لاکھوں مایوس اور بھٹکے ہوئے نوجوانوں کو ایک نئی امید اور زندگی کا حقیقی مقصد عطا کیا۔ ان کا تحریر کردہ بے مثال لٹریچر شکوہِ الفاظ کے بجائے دلائل کی طاقت اور فکری تسلسل سے مزین ہے، جسے پڑھ کر ایک عام قاری بھی محسوس کرتا ہے کہ اس کے ذہن میں الجھے تمام سوالات کے تشفی بخش جوابات اسے مل گئے ہیں۔ یہ کتاب اس بات کی بھی گواہی دیتی ہے کہ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ جس موضوع پر قلم اٹھاتے یا جس محفل میں گفتگو فرماتے، ایسا محسوس ہوتا کہ اس فن کے وہی سب سے بڑے ماہر ہیں اور ان کے سامنے ہر قد آور شخص خود کو طفلِ مکتب محسوس کرتا۔ چاہے سوال حلال و حرام کی فقہی بحث کا ہو، قرآن و سنت کے کسی باریک علمی نکتے کا ہو، جدید سماجی و معاشرتی مسائل کا ہو، یا پھر بین الاقوامی سیاست کے نشیب و فراز کا ہو، انہوں نے ہر میدان میں حیرت انگیز نبض شناسی اور مجتہدانہ بصیرت کا ثبوت دیا۔ انہوں نے علم اور تحقیق کے جو نئے دروازے کھولے ہیں، اور تحریکِ اسلامی کے لیے جو وسیع شاہراہیں متعین کی ہیں، ان پر چل کر آنے والی کئی نسلیں اور صدیاں تک امتِ مسلمہ حق و باطل کی کشمکش میں رہنمائی حاصل کرتی رہے گی۔ یہ علمی و فکری میراث رہتی دنیا تک ملتِ اسلامیہ کے بیدار مغز نوجوانوں اور حق کے متلاشی ذہنوں کے لیے ایک روشن مینار کا کام دے گی، اور انہیں الحاد، مادیت پرستی، اور دین بیزاری کے اندھیروں میں بھٹکنے سے بچائے گی۔ یہ کتاب ان کی غیر معمولی ذہانت، اخلاص، اور دینِ حق سے ان کی غیر متزلزل وابستگی کا ایک شاندار اور زندہ جاوید ثبوت ہے۔
