کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
کتاب ’’ہدایات‘‘ کے اس وقیع اور فکر انگیز اقتباس میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ ایک چار روزہ تربیتی اور تنظیمی اجتماع کے اختتام پر اپنے رفقاء، ارکان اور متفقین کو رخصت کرتے ہوئے وہ بنیادی اور کلیدی نصیحتیں فرما رہے ہیں جو کسی بھی اسلامی تحریک اور اقامت دین کے کام کو صحیح نہج پر چلانے کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ اس بات کی صراحت کرتے ہیں کہ جس طرح تاریخِ انسانی میں انبیائے کرام، خلفائے راشدین اور صلحائے امت نے ہمیشہ اپنے ساتھیوں کو سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے، اس کی محبت کو دلوں میں راسخ کرنے اور اس ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط تر کرنے کی تلقین کی ہے، بالکل اسی سنت کی پیروی میں آپ بھی اپنی جماعت کے وابستگان کو اولین فرصت میں اسی بات کی ہدایت کرتے ہیں۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ تعلق باللہ کوئی ثانوی یا عام سی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ وہ واحد اور قطعی بنیاد ہے جس پر ایک مسلمان کی پوری زندگی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے اور اسے زندگی کے ہر معاملے اور ہر گوشے پر مقدم ہونا چاہیے۔ عقیدے کے باب میں اللہ تعالیٰ پر کامل اور غیر متزلزل ایمان، عبادات کے اندر قلب کا حقیقی لگاؤ، اخلاق کے میدان میں خوفِ خدا اور خشیتِ الٰہی، اور روزمرہ کے معاملات میں صرف اور صرف اللہ کی رضا کی طلب کو اولیت حاصل ہونی چاہیے۔ آپ یہ واضح کرتے ہیں کہ ہم جس عظیم مقصد کی خاطر ایک جماعت کی صورت میں منظم ہو کر اٹھے ہیں، اس کی ساری کامیابی اور پیش رفت کا مکمل انحصار اسی تعلق باللہ پر ہے؛ یہ تعلق جتنا گہرا، مستحکم اور مضبوط ہوگا، ہماری تحریک اتنی ہی طاقتور ہوگی، اور خدانخواستہ اگر اس میں کوئی کمزوری پیدا ہو گئی تو اس کام کی بنیادیں بھی کمزور پڑ جائیں گی۔ اس نکتے کی مزید تشریح کرتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ انسانی نفسیات اور دنیاوی کاموں کی مثالیں پیش کرتے ہیں تاکہ بات پوری طرح ذہن نشین ہو جائے۔ آپ فرماتے ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی انسان جب کسی کام کا بیڑا اٹھاتا ہے، تو اس کے پسِ پشت کوئی نہ کوئی محرک یا غرض ضرور کارفرما ہوتی ہے، اور اسی غرض کی شدت اس کے اندر کام کی لگن اور سرگرمی پیدا کرتی ہے۔ جو شخص اپنے نفس، اپنی اولاد یا قوم و وطن کی خاطر کام کرتا ہے، وہ ان کی محبت میں ہر حد پار کر لیتا ہے اور اپنا عیش و آرام، وقت، مال اور بسا اوقات اپنی جان تک قربان کر دیتا ہے۔ لیکن، جیسا کہ مولانا نہایت خوبصورتی سے استدلال کرتے ہیں، ہماری اس جدوجہد کا محرک نہ تو کوئی ذاتی یا نفسانی مفاد ہے، نہ اس میں خاندانی اغراض شامل ہیں، اور نہ ہی یہ محض کسی قومی یا ملکی مفاد کے حصول کی کوئی تحریک ہے۔ ہمارا واحد اور حتمی مقصد صرف اور صرف ایک اللہ کو راضی کرنا اور اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر سعی و جہد کرنا ہے۔ اس لیے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب تک ہمارا تعلق براہِ راست اس ذاتِ پاک سے انتہائی گہرا اور سچا نہیں ہوگا، ہم اس کٹھن راستے پر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ اس راہ کے مسافروں کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ ان کے دیگر تعلقات کے ساتھ ایک تعلق اللہ سے بھی ہو، بلکہ حقیقت یہ ہونی چاہیے کہ ان کا ایک ہی اصلی، حقیقی اور غالب تعلق صرف اللہ سے ہو، اور انہیں ہر لمحے یہ فکر دامن گیر رہے کہ اس مقدس رشتے میں کہیں کوئی کمی نہ آنے پائے۔ جماعت کے افراد کے ذہنوں میں ابھرنے والے اس فطری سوال کے جواب میں کہ اس تعلق باللہ سے ٹھیک ٹھیک کیا مراد ہے، سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ قرآن و سنت کی روشنی میں نہایت جامع اور واضح تشریح پیش کرتے ہیں۔ آپ قرآن مجید کی سورہ انعام اور سورہ البینہ کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ تعلق باللہ کا اصل مفہوم یہ ہے کہ انسان کی پوری زندگی، اس کی نماز، اس کی تمام عبادات، اس کا جینا، اس کا مرنا اور اس کی ہر قربانی خالصتاً اللہ رب العالمین کے لیے ہو جائے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے اس مفہوم کو مزید نکھارتے ہیں کہ انسان کے کھلے اور چھپے، ظاہر اور باطن ہر عمل میں اللہ کا خوف طاری رہے، اسے اپنے ظاہری اسباب اور مادی وسائل سے کہیں بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ پر بھروسہ ہو، اور وہ اللہ کو راضی کرنے کی خاطر ساری دنیا کی ناراضگی مول لینے سے بھی دریغ نہ کرے۔ یہاں تک کہ جب یہ تعلق اپنے کمال کو پہنچتا ہے، تو انسان کی محبت اور نفرت، اس کا کسی کو کچھ دینا یا کسی سے کچھ روک لینا، سب کچھ محض اللہ کی خاطر ہو جاتا ہے، اور اس میں نفسانی خواہشات کی کوئی ملاوٹ باقی نہیں رہتی۔ دعائے قنوت اور تہجد کی دعاؤں کا حوالہ دیتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ یاد دلاتے ہیں کہ ہم ہر رات اپنے پروردگار کے حضور کس طرح یہ اقرار کرتے ہیں کہ ہماری تمام تر مدد، رہنمائی، بخشش کی طلب، توکل اور بندگی صرف اسی کے لیے مخصوص ہے، اور ہم اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے خائف ہیں۔ یہ دعائیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہیں بلکہ اس عہد کی تجدید ہیں جو ایک سچے مومن کا اپنے رب کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اس الٰہی تعلق کو پیدا کرنے اور پروان چڑھانے کے طریقوں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے مولانا دو بنیادی راستوں کی نشاندہی کرتے ہیں: ایک فکر و فہم کا طریقہ اور دوسرا عمل کا طریقہ۔ فکری اعتبار سے آپ تلقین کرتے ہیں کہ انسان صدقِ دل سے اللہ کو اپنا اور پوری کائنات کا واحد خالق، مالک اور حاکم تسلیم کرے، اور اپنے دل کو شرک کے ہر چھوٹے بڑے شائبے سے مکمل طور پر پاک کر لے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ ان نسبتوں کی مثالیں دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ بندے کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ محض ایک غلام ہے اور اللہ اس کا آقا ہے؛ وہ اس زمین پر اللہ کا خلیفہ ہے؛ اس نے ایمان لا کر اپنی جان اور مال کا سودا جنت کے بدلے اللہ سے کر لیا ہے؛ اور وہ اپنے ہر ظاہر و باطن، اور حتیٰ کہ اپنی نیتوں تک کے لیے خدا کے حضور جوابدہ ہے۔ ان نسبتوں کا جتنا زیادہ استحضار ہوگا، اللہ سے تعلق اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ تاہم، مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ محض فکری ادراک اس وقت تک دیرپا اور نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتا جب تک اسے عملی اطاعت کی قوت نہ فراہم کی جائے۔ عملی طریقے کا تقاضا یہ ہے کہ احکامِ الٰہی کی بجا آوری شوق اور رغبت کے ساتھ ہو، اور جن کاموں سے اللہ نے منع فرمایا ہے، ان سے بچنا محض اللہ کی ناراضگی کے ڈر سے ہو۔ یہ مخلصانہ طرزِ عمل انسان کو تقویٰ اور احسان کے اس اعلیٰ مقام تک لے جاتا ہے جہاں وہ ہر بھلائی کو پھیلانے اور ہر برائی کو مٹانے کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنے پر تیار ہو جاتا ہے، اور اتنی بڑی قربانیوں کے باوجود اس کے دل میں کبھی کوئی فخر یا تکبر پیدا نہیں ہوتا۔ اس کٹھن اور دشوار گزار گھاٹی کو عبور کرنے کے لیے جن عملی تدابیر کی ضرورت ہے، سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ ان کی تفصیل بیان کرتے ہوئے چار اہم ستونوں کا ذکر کرتے ہیں۔ پہلا ستون نماز ہے، جس میں فرائض اور سنتوں کے ساتھ استطاعت کے مطابق نوافل اور خصوصاً تہجد کا اہتمام شامل ہے، مگر شرط یہ ہے کہ یہ نوافل انتہائی اخفا کے ساتھ پڑھے جائیں تاکہ انسان ریاکاری اور تکبر جیسے مہلک امراض سے محفوظ رہ سکے۔ دوسرا ذریعہ ذکرِ الٰہی ہے، جس کے لیے مولانا نے صوفیاء کے وضع کردہ مخصوص طریقوں کے بجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سکھائے ہوئے مسنون اذکار اور دعاؤں کو اپنانے کی تاکید کی ہے، اور یہ شرط عائد کی ہے کہ ان کو معانی پر غور کر کے پڑھا جائے تاکہ دل کی توجہ ہر وقت اللہ کی طرف مرکوز رہے۔ تیسرا ذریعہ روزے ہیں، جس میں فرض روزوں کے علاوہ ہر ماہ تین نفل روزوں کے التزام کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ انسان کے اندر وہ حقیقی تقویٰ بیدار ہو جو روزے کی اصل روح ہے۔ چوتھا اور نہایت اہم ذریعہ انفاق فی سبیل اللہ ہے، جس کے متعلق سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ نہایت بصیرت افروز موقف ہے کہ اللہ کے ہاں مال کی مقدار کی اتنی اہمیت نہیں ہے جتنی اس قربانی کے جذبے کی اہمیت ہے؛ ایک غریب کا اپنا پیٹ کاٹ کر دیا ہوا ایک پیسہ کسی امیر کے ہزاروں روپوں سے زیادہ قدر رکھتا ہے۔ مزید برآں، آپ یہ قیمتی مشورہ بھی دیتے ہیں کہ لغزش سرزد ہونے پر محض زبانی توبہ کے بجائے صدقہ بھی اللہ کی راہ میں دینا چاہیے، کیونکہ توبہ کے ساتھ کیا جانے والا صدقہ انسان کے نفس کو زیادہ مؤثر انداز میں پاک کرتا ہے۔ آخر میں اس انتہائی اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ ہمیں اپنے اللہ کے ساتھ تعلق کی گہرائی کا اندازہ کیسے ہو، مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ تصوف کے ان روایتی تصورات کی نفی کرتے ہیں جن میں کشف و کرامات یا اندھیری کوٹھڑیوں میں تجلیات کے مشاہدے کو معیار سمجھا جاتا ہے۔ آپ نہایت حقیقت پسندانہ رویہ اپناتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس تعلق کو ناپنے کا پیمانہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اپنے دل اور ضمیر میں رکھ دیا ہے۔ انسان اپنا محاسبہ خود کر سکتا ہے کہ اس کی صلاحیتوں اور اوقات کا کتنا حصہ اقامتِ دین کی جدوجہد میں صرف ہو رہا ہے اور کتنا دنیاوی مصروفیات میں؟ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ انسان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ جب اللہ کے احکام کی نافرمانی اور بغاوت ہو رہی ہوتی ہے تو کیا اس کے دل میں تڑپ، بے چینی اور غضب پیدا ہوتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ سے اس کا تعلق زندہ اور مضبوط ہے۔ درحقیقت، مولانا کے نزدیک اس مادی دنیا میں توحید کی سچی حقیقت کو پا لینا ہی سب سے بڑا کشف ہے، شیطانی لالچوں کے مقابلے میں راہِ راست پر ثابت قدم رہنا ہی سب سے بڑی کرامت ہے، اور ضلالت کی تاریکیوں میں حق کی پیروی کرنا ہی سب سے بڑا مشاہدۂ انوار ہے۔ قرآنِ مجید کی سورہ حم السجدہ کی آیت کے مطابق، جو لوگ اللہ کو رب مان کر اس پر ڈٹ جاتے ہیں، ان کے لیے فرشتوں کے نزول، غم سے نجات اور جنت کی عظیم بشارت کا وعدہ ہے۔ اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے آپ نہایت دردمندی کے ساتھ یہ حتمی نصیحت فرماتے ہیں کہ انسان کو اپنی زندگی کے ہر فیصلے اور ہر قدم پر اس فانی دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینی چاہیے، اور اس کی تمام تر سعی کا اصل محور محض آخرت کی فوز و فلاح کا حصول ہونا چاہیے۔
.jpeg&w=3840&q=75)