کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیر نظر تحریر، جو برصغیر کے مخصوص حالات اور اسلامی زوال کے تاریک تناظر میں لکھی گئی ہے، میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اسلام کے ایک مکمل نظامِ حیات ہونے کا نہایت جامع، بصیرت افروز اور فکر انگیز خاکہ پیش کیا ہے۔ آپ واضح کرتے ہیں کہ اسلام محض چند روایتی عقائد، فرسودہ رسومات یا انفرادی عبادات کے مجموعے کا نام ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ انسانی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرنے والی ایک مفصل اور ناقابلِ تقسیم اسکیم ہے۔ اس عظیم نظام کی تفہیم کے لیے ایک زندہ انسانی جسم کی نہایت خوبصورت اور پُر اثر مثال دی گئی ہے۔ جس طرح انسانی جسم مختلف اعضا کا ایک مربوط مجموعہ ہے اور ان سب کا باہمی ربط ہی اسے زندہ اور کارآمد بناتا ہے، بالکل اسی طرح اسلام کا نظام بھی ایک زندہ وجود کی طرح کام کرتا ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عقائد دراصل اسلام کے اس جسم کا دھڑکتا ہوا دل ہیں جو پورے وجود کو حرارت بخشتا ہے۔ وہ نظریہ حیات اور زاویہ نگاہ جو ان عقائد سے جنم لیتا ہے، وہ اس جسم کا دماغ ہے، عبادات اس کے ہاتھ پاؤں اور ستون ہیں جن پر یہ نظام کھڑا ہوتا ہے اور حرکت کرتا ہے، جبکہ معیشت، معاشرت، سیاست اور نظمِ اجتماعی کے تمام اصول ان بنیادی اعضائے رئیسہ کا درجہ رکھتے ہیں جن کے بغیر جسم کا صحت مند رہنا محال ہے۔ اگر کسی انسان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں، اس کی آنکھیں، معدہ، جگر اور پھیپھڑے نکال دیے جائیں اور محض ایک دل چھوڑ دیا جائے تو وہ کٹا پھٹا جسم نہ تو زندہ رہ سکتا ہے اور نہ ہی دنیا میں اپنا کوئی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسلام کی موجودہ حالت بھی بعینہٖ اسی کٹے پھٹے جسم جیسی ہو گئی ہے جہاں ایک طرف عقیدے کی حد تک تو دل موجود ہے لیکن عملی، معاشی اور معاشرتی زندگی سے اسلام کے قوانین کو مکمل طور پر منہا کر دیا گیا ہے۔ اپنے دور کے ہندوستانی مسلمانوں کی حالتِ زار کا گہرا تجزیہ کرتے ہوئے مولانا نہایت دردمندی سے یہ حقیقت بیان کرتے ہیں کہ زندگی کے وسیع تر معاملات میں اسلامی قوانین تقریباً معطل ہو چکے ہیں اور ان کا نفاذ صرف چند فیصد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ایک غیر اسلامی ماحول، غیر اسلامی تعلیم اور ناقص تربیت نے مسلمانوں کے زاویہ نگاہ، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور حق و باطل کو پرکھنے کے معیار کو بری طرح بگاڑ دیا ہے۔ یہ صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ عبادات، جو کہ اس جسم کے اعضا کی مانند ہیں، اپنا اثر کھو کر مفلوج ہو چکی ہیں کیونکہ ان کا زندگی کے دیگر اہم معاملات، سیاست اور معیشت سے کوئی عملی تعلق اور ربط باقی نہیں رہا۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب اسلام کو اس قدر مسخ شدہ حالت میں دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو خود مسلمانوں کی نئی نسل اور عوام کے اندر بغاوت، بے چینی اور انحراف کے جراثیم پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ لوگ اس کٹے پھٹے اور بے عمل اسلام کو دیکھ کر یہ خام خیالی پالنے لگتے ہیں کہ شاید یہی وہ دین ہے جو اب جدید دور کے مسائل حل کرنے سے قاصر ہے۔ اسی غلط فہمی اور مایوسی کی بنیاد پر بعض لوگ کھلم کھلا اسلام سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں، جب کہ بہت سے لوگ محض روایتی طور پر مسلمان کہلاتے ہیں مگر منافقت کا لبادہ اوڑھے ہوئے نئی قومیت اور مغربی تہذیب کے الحادی رنگ میں ضم ہونے کے لیے پوری طرح تیار بیٹھے ہیں۔ اس خطرناک رجحان پر ضرب لگاتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس گمراہ کن نظریے کا پردہ چاک کرتے ہیں جس کے تحت دین اور دنیا کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کرنے کی پرزور وکالت کی جاتی ہے۔ بعض جدید ذہن رکھنے والے افراد یہ مشورہ دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو صرف مساجد، عبادات اور انفرادی مذہبی اعمال کی حد تک مسلمان رہنا چاہیے، جبکہ معیشت، سیاست اور تمدن کے معاملات میں لادین اقوام کے وضع کردہ اصولوں کو بلا جھجک اپنا لینا چاہیے۔ اس کھوکھلی سوچ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ استدلال کرتے ہیں کہ جب زندگی کے تمام عملی معاملات غیر اسلامی اور لادینی بنیادوں پر استوار ہو جائیں گے، تو بالآخر مذہبی عقائد اور عبادات بھی اپنا اثر کھو دیں گی۔ آنے والی نسلیں اور باشعور نوجوان بجا طور پر یہ سوال اٹھائیں گے کہ جب قرآن کے احکامات اور رسول کی تعلیمات ہماری عملی زندگی کے کسی الجھے ہوئے مسئلے کا حل پیش نہیں کرتیں، تو ہم محض چند بے روح رسومات کو اپنے گلے کا طوق کیوں بنائے رکھیں؟ یہ دین اور دنیا کی علیحدگی کا وہ منطقی اور حتمی نتیجہ ہے جو انسان کو کھلے الحاد کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ جب عقائد کا عملی زندگی سے رشتہ کٹ جاتا ہے تو ان کی حیثیت ایسے ہی بے جوڑ اور مضحکہ خیز پیوند کی سی ہو جاتی ہے جیسے کسی جانور کے جسم پر انسانی دماغ لگا دیا جائے۔ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی معاشی زبوں حالی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید نظریاتی بحران پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا ایک نہایت سنگین سماجی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ اسلامی نظامِ زندگی کے درہم برہم ہونے کا یہ نقصان صرف پڑھے لکھے ایلیٹ طبقے تک محدود نہیں رہا بلکہ کروڑوں ان پڑھ، غریب اور فاقہ کش عوام بھی براہ راست اس کی زد میں آ چکے ہیں۔ یہ غریب عوام اسلام اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے گہرا جذباتی لگاؤ تو ضرور رکھتے ہیں لیکن جہالت اور معاشی بدحالی کے باعث انہیں باآسانی کسی بھی باطل نظریے کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔ اسی ابتر صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھا کر اشتراکیت اور کمیونزم کے مبلغین غریب مسلمانوں کے ایمان پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ چونکہ مسلمانوں کے پاس جدید دور کے معاشی مسائل کا کوئی منظم اسلامی اور عادلانہ حل عملی شکل میں موجود نہیں اور نہ ہی کوئی ایسی طاقتور جماعت ہے جو اسلام کے معاشی اصولوں کو نافذ کر کے دکھائے، اس لیے مفلوج اور مایوس عوام محض روٹی کی امید پر اشتراکیوں کے بچھائے ہوئے دلفریب جال میں پھنس رہے ہیں۔ کمیونسٹ عناصر بھوکے انسان کے کمزور ترین پہلو یعنی اس کے پیٹ کو نشانہ بناتے ہوئے اسے یہ زہر پلاتے ہیں کہ غریب کا کوئی مذہب اور تمدن نہیں ہوتا، اس کا سب سے بڑا مذہب اور ایمان محض روٹی کا ایک ٹکڑا اور غربت سے نجات پانا ہے۔ یہ افلاس اور بھوک کی آگ مسلمانوں کے متاعِ ایمان کو تیزی سے خاکستر کر رہی ہے اور اگر اس نظریاتی سیلاب کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ مسلمانوں کے وجود کو مکمل طور پر بہا لے جائے گا۔ اس ہمہ گیر زوال اور سنگین ترین صورتحال سے نکلنے کے لیے محض زبانی جمع خرچ اور روایتی طریقوں پر انحصار کرنے کو سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ قطعی ناکافی اور بے سود قرار دیتے ہیں۔ آپ کا دو ٹوک ماننا ہے کہ محض عیسائی مشنریوں کی طرز پر زبانی تبلیغ کرنے، خطبات میں اسلام کی خوبیاں بیان کرنے اور ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں رسالے یا کتابیں چھاپ دینے سے معاشرے میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ یہ دنیا کشمکش، عملی جدوجہد اور تصادم کی دنیا ہے، یہاں نری باتوں اور کھوکھلے دعوؤں سے انقلاب برپا نہیں ہوا کرتے۔ اگر باطل نظریات مثلاً فاشزم اور اشتراکیت محض اپنی کٹھن عملی جدوجہد کی بدولت دنیا کے بڑے حصے پر اپنا غلبہ اور اقتدار قائم کر سکتے ہیں، تو مسلمانوں کے پاس تو حق، عدل اور انسانیت کی فلاح کے لازوال الہٰی اصول موجود ہیں۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات پر انتہائی زور دیتے ہیں کہ اسلام میں بالقوہ جو عظیم طاقت اور مسائل کا حل موجود ہے اسے بالفعل دنیا کے سامنے لانے کا وقت آ گیا ہے۔ باطل کا راستہ روکنے کے لیے صرف مساجد کے گوشوں میں بیٹھ کر وعظ و نصیحت کرنا کافی نہیں بلکہ میدانِ عمل میں اتر کر ایک انقلاب انگیز، منظم اور بھرپور جدوجہد کرنا ناگزیر ہے، اور یہ جدوجہد قطعی طور پر اسی فطری اور الہٰی طریقے کے مطابق ہونی چاہیے جو سنتِ الہٰی کے عین مطابق ہو۔ اس عظیم انقلاب انگیز جدوجہد کا خاکہ اور حتمی طریقہ کار پیش کرتے ہوئے مولانا فرماتے ہیں کہ ہمیں اندھیرے میں تیر چلانے یا کسی نئے اور انوکھے طریقے کو تلاش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا، جامع اور کامیاب انقلاب ساڑھے تیرہ سو برس قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے پہلے ہی برپا ہو چکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرتِ طیبہ جہاں ایک طرف انسانی تاریخ کا ایک عظیم الشان معجزہ ہے، وہیں دوسری طرف وہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے ایک بے مثال، عملی اور قابلِ تقلید نمونہ یعنی اسوۂ حسنہ بھی ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ تاریخِ اسلام کے اس ولولہ انگیز ابتدائی دور کا حوالہ دیتے ہیں جب مکہ مکرمہ میں مسلسل تیرہ سال تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی نامساعد حالات، ظلم و ستم اور کفر کے غلبے میں جدوجہد کی اور مٹھی بھر لیکن فولادی ایمان رکھنے والے سرفروشوں کی ایک جماعت تیار کی۔ تاہم، جب تک یہ مخلص جماعت کفار کے تسلط اور غیر اسلامی ماحول میں بکھری ہوئی تھی اور کفر کے نظام تلے دبی ہوئی تھی، وہ اسلام کے مکمل نظام حیات کو نافذ کرنے سے قاصر تھی۔ اسی مرحلے پر اللہ تعالیٰ کی رہنمائی سے ہجرت کا عظیم اور تاریخ ساز واقعہ پیش آیا۔ ہجرت کا بنیادی مقصد محض جان بچا کر بھاگنا نہیں تھا، بلکہ اس کا اصل ہدف ایک ایسا آزاد مرکز اور خالص دارالاسلام قائم کرنا تھا جہاں تمام منتشر مسلمان یکجا ہو سکیں، جہاں کفر کی آمیزش سے پاک ایک اسلامی ماحول میسر ہو، اور جہاں اسلام کی معیشت، معاشرت اور سیاست کو ایک آزاد ریاست کی صورت میں نافذ کر کے دنیا کو دکھایا جا سکے۔ مدینہ منورہ کو درحقیقت ایک ایسے روحانی اور عملی ’پاور ہاؤس‘ کی شکل دی گئی جہاں تمام تر توانائی ایک جگہ مرتکز ہوئی اور پھر وہاں سے حق اور نور کی ایسی لہریں منظم انداز میں نکلیں جنہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کے تاریک گوشوں کو روشن کر دیا۔ آج کے اس پرفتن اور پیچیدہ دور میں بھی باطل کے آگے بند باندھنے اور اسلام کو دوبارہ ایک غالب، توانا اور رہبر قوت کے طور پر ابھارنے کا واحد اور قطعی راستہ یہی ہے کہ سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی الہٰی طریق کار کی کامل پیروی کی جائے، حق کے علمبرداروں کو منظم کیا جائے اور ایک ایسا پاکیزہ مرکز قائم کیا جائے جو اسلام کے پورے نظامِ حیات کا عملی ثبوت پیش کر کے بھٹکی ہوئی انسانیت کو دوبارہ صراطِ مستقیم کی طرف کھینچ لائے۔
.jpg&w=3840&q=75)