کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیرِ نظر متن معروف کتاب "اسلامی دستور کی تدوین" سے ماخوذ ہے، جس میں ایک انتہائی اہم اور فکر انگیز تقریر کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ تقریر چوبیس نومبر انیس سو باون کو بار ایسوسی ایشن کراچی کے پڑھے لکھے اور باشعور وکلاء کے ایک موقر اجتماع میں کی گئی تھی۔ اس تاریخی موقع پر سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اسلامی دستور کی بنیادوں، اس کے مآخذ اور اس کی راہ میں حائل مشکلات پر نہایت جامع اور مفصل روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پڑھے لکھے اور باشعور طبقے کو، جو قوم کے بہترین افراد پر مشتمل ہوتا ہے، کسی ایک نقطہ نظر پر متفق کر لینا عام لوگوں کے ایک بڑے ہجوم کو قائل کرنے سے کہیں زیادہ اہمیت اور وزن رکھتا ہے۔ اس گفتگو کا بنیادی مقصد محض ایک روایتی تقریر کرنا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک علمی مذاکرہ تھا جس کی غرض و غایت اسلامی دستور کے خدوخال پر سنجیدہ اور گہرا تبادلہ خیال کرنا تھا۔ تاہم، موضوع کی نزاکت اور وسعت کے پیش نظر، یہ ضروری سمجھا گیا کہ بحث کے آغاز سے قبل چند بنیادی اور اصولی باتوں کو نہایت صراحت کے ساتھ واضح کر دیا جائے تاکہ بعد میں پیدا ہونے والے سوالات کا تسلی بخش جواب دیا جا سکے اور کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔ اس ضمن میں سب سے پہلا اور بنیادی مسئلہ جس کی طرف مولانا نے توجہ مبذول کرائی ہے، وہ یہ ہے کہ جب ہم ملک میں اسلامی دستور کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں، تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کوئی لکھا لکھایا، مکمل اور حتمی شکل میں مدون دستور کہیں رکھا ہوا ہے اور ہمیں محض اسے اٹھا کر نافذ کر دینا ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اصل اور حقیقی کام یہ ہے کہ ہمیں اسلام کے غیر تحریری دستور کو، جو مختلف مآخذ میں بکھرا ہوا ہے، موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ایک باقاعدہ، منظم اور جدید تحریری دستور میں تبدیل کرنا ہے۔ اس تصور کو واضح کرنے کے لیے انہوں نے سلطنتِ برطانیہ کی مثال دی، جو صدیوں سے بغیر کسی ایک تحریری دستاویز کے، محض اپنے غیر تحریری دستوری روایات، عدالتی فیصلوں اور رواجوں کی بنیاد پر کامیابی سے چل رہی ہے۔ اگر کبھی برطانیہ کو بھی اپنا دستور تحریری شکل میں لانا پڑے، تو اسے بھی انہی بکھرے ہوئے مآخذ سے مواد اکٹھا کر کے اسے باقاعدہ دفعات کی شکل دینی پڑے گی۔ بالکل یہی صورتحال اور ضرورت آج مسلمانوں کو درپیش ہے کہ وہ اپنے غیر تحریری اسلامی دستور کو ایک قانونی اور دستاویزی شکل میں مرتب کریں۔ اسلامی دستور کے اس عظیم الشان غیر تحریری ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے چار بنیادی اور ناگزیر مآخذ بیان کیے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا اور اہم ترین مآخذ قرآن مجید ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کے وہ واضح احکام اور فرامین موجود ہیں جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو پر حاوی ہیں۔ قرآن محض عبادات تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ معاشرے کی تنظیم، ریاست کے قیام کے مقاصد اور حکمرانی کے بنیادی اصولوں کے حوالے سے بھی نہایت روشن ہدایات فراہم کرتا ہے۔ دوسرا بڑا مآخذ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ قرآن مجید جن اصولوں کو نظریاتی طور پر پیش کرتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہدایات کو عرب کی سرزمین پر عملی طور پر نافذ کر کے ایک مثالی ریاست تشکیل دی، جس سے ہمیں اسلامی دستور کے لیے انمول دستوری روایات حاصل ہوتی ہیں۔ تیسرا اہم مآخذ خلافتِ راشدہ کا دور اور ان کا تعامل ہے۔ خلفائے راشدین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلامی ریاست کے نظام کو جس حسن و خوبی سے چلایا، وہ ہمارے لیے ایک روشن نمونہ ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا کسی دینی یا دستوری تشریح پر متفق ہو جانا، جسے اجماع کہا جاتا ہے، قانونی حجت کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے براہِ راست تربیت یافتہ شاگرد متفقہ طور پر دین کے معاملے میں غلطی کر جائیں۔ چوتھا اور آخری مآخذ امت کے مجتہدین کے وہ گراں قدر فیصلے ہیں جو انہوں نے مختلف ادوار میں پیدا ہونے والے نئے قانونی مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنی علمی بصیرت سے کیے۔ اگرچہ یہ فیصلے حتمی حجت نہیں ہیں، مگر یہ اسلامی دستور کی روح کو سمجھنے اور مسائل کے حل کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ان تمام مآخذ کی موجودگی کے باوجود، اس غیر تحریری دستور کو جدید تحریری شکل دینے کی راہ میں کئی پیچیدہ مشکلات حائل ہیں، جن کا تذکرہ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت دردمندی اور فکری گہرائی کے ساتھ کیا ہے۔ سب سے پہلی اور بڑی مشکل زبان اور اصطلاحات کی تفہیم کا فقدان ہے۔ قرآن مجید، احادیث مبارکہ اور قدیم فقہی کتب میں احکامِ الٰہی کو بیان کرنے کے لیے جو مخصوص دستوری اور قانونی اصطلاحات مثلاً سلطان، ملک، اور ولایت استعمال کی گئی ہیں، وہ آج کل عام لوگوں کے لیے ناقابلِ فہم ہو چکی ہیں۔ چونکہ اسلامی سیاسی نظام ایک طویل عرصے سے معطل ہے، اس لیے پڑھے لکھے افراد بھی ان الفاظ کے حقیقی دستوری مفہوم سے ناواقف ہیں۔ دوسری بڑی مشکل ہمارے فقہی لٹریچر کی وہ مخصوص ترتیب ہے جس میں دستوری قوانین کو الگ سے کسی ایک باب میں یکجا نہیں کیا گیا، بلکہ یہ قوانین فوجداری، عائلی اور دیگر قوانین کے ساتھ خلط ملط ہیں۔ قدیم فقہائے اسلام کی ان بکھری ہوئی گرانقدر بحثوں کو موجودہ دور کے جدید قانونی شعبوں کے مطابق الگ الگ کر کے مدون کرنا ایک انتہائی دیدہ ریزی کا کام ہے، جس کے لیے ہماری موجودہ نسل مشکل ہی سے آمادہ ہوتی ہے۔ تیسری پیچیدگی، جس نے اس مسئلے کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے، وہ ہمارے تعلیمی نظام کی خلیج ہے۔ اس حوالے سے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہمارے دینی مدارس سے فارغ التحصیل علماء قرآن و حدیث پر تو گہری دستگاہ رکھتے ہیں، لیکن وہ جدید علم السیاست اور دورِ حاضر کے پیچیدہ دستوری قوانین سے بڑی حد تک بے گانہ ہیں۔ اس کے برعکس، جدید تعلیم یافتہ طبقہ جو ملک کے انتظامی اور عدالتی نظام کو سنبھالے ہوئے ہے، جدید مسائل سے تو واقف ہے مگر وہ اسلام کے دستوری اصولوں سے کماحقہ آگاہ نہیں ہے۔ چوتھی اور سب سے خطرناک مشکل وہ گمراہ کن طرزِ فکر ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ چونکہ اسلام میں پاپائیت نہیں ہے، اس لیے قرآن و سنت کی تشریح پر کسی کا اجارہ نہیں اور ہر شخص دين ميں اپنی من مانی تشریحات کرنے کا حق رکھتا ہے۔ مصنف اس غیر منطقی سوچ کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ علم کے بغیر دین میں مداخلت اسی طرح تباہ کن ہے جیسے کوئی شخص طب پڑھے بغیر علاج شروع کر دے یا انجینئرنگ سیکھے بغیر عمارتیں بنائے۔ اسلام میں پاپائیت نہ ہونے کا معقول مطلب محض یہ ہے کہ دین کسی خاص قبیلے کی میراث نہیں ہے، بلکہ جو بھی شخص پوری محنت سے اس کا علم حاصل کرے گا، وہ اس میں کلام کرنے کا مجاز ہوگا، لیکن جہالت کی بنیاد پر دین کا حلیہ بگاڑنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ ان تمام مشکلات کو سلجھانے اور اسلامی ریاست کے خدوخال کو واضح کرنے کے لیے مولانا نے دستور کے نو بنیادی اور ناگزیر سوالات پیش کیے ہیں جو کسی بھی ریاست کے نظام کو چلانے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان اہم سوالات میں یہ امور شامل ہیں کہ ریاست میں حاکمیتِ اعلیٰ کس کی ہوگی؟ ریاست کی اطاعت کے حدودِ عمل کیا ہوں گے؟ انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم کیسے کی جائے گی؟ ریاست کے قیام کا اصل مقصد کیا ہوگا؟ حکومت کی تشکیل کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ حکمرانوں اور عہدیداروں کی اہلیت کی شرائط کیا ہوں گی؟ شہریت کے حصول کے بنیادی اصول کیا ہوں گے؟ اور بالآخر، شہریوں اور ریاست کے ایک دوسرے پر کیا حقوق اور فرائض عائد ہوں گے؟ ان سوالات میں سب سے پہلا اور اہم ترین مسئلہ حاکمیت کا ہے، جس کے بارے میں سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت تفصیل اور صراحت کے ساتھ کلام کیا ہے۔ علمِ سیاست میں حاکمیت سے مراد وہ اقتدارِ اعلیٰ اور مطلق اختیار ہے جس کے احکام کو بلا مشروط تسلیم کیا جائے اور جس پر کوئی خارجی پابندی نہ ہو۔ اسلام اس بنیادی سوال کا نہایت قطعی اور حتمی جواب قرآن مجید کی روشنی میں یہ دیتا ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ اور اقتدارِ مطلق کا اصل اور واحد حقدار صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وہی کائنات کا حقیقی حاکم ہے اور انسانوں پر حکم چلانے، ان کے لیے قانون وضع کرنے کا حق صرف اسی کو حاصل ہے۔ اللہ کا حکم ہی اصل قانون ہے۔ کوئی بھی انسان، طبقہ، یا پارلیمنٹ اپنی ذات میں قادرِ مطلق یا خود مختار قانون ساز نہیں ہو سکتی۔ حقوق کا عطا کیا جانا یا سلب کیا جانا دنیاوی حکمران کی مرضی کے بجائے اللہ کے مقرر کردہ قوانین کے تابع ہے۔ اسلام میں حکمرانی کوئی ذاتی اور مطلق حق نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ایک امانت ہے، جسے صرف اللہ کے مقرر کردہ حدود کے دائرے میں رہ کر ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ عظیم اور انقلابی نظریہ ہے جو اسلامی دستور کو دنیا کے دیگر تمام دستوروں سے بلند مقام عطا کرتا ہے اور ایک ایسے عادلانہ معاشرے کی ضمانت دیتا ہے جہاں انسانوں کی غیر مشروط اطاعت کے بجائے صرف خدائے واحد کی بندگی کی جاتی ہے۔
