کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیرِ مطالعہ تحریر معروف کتاب ’’خواتین اور دینی مسائل‘‘ سے ماخوذ ہے، جس میں نہایت اہم اعتقادی، فقہی اور معاشرتی سوالات کے جوابات نہایت بصیرت افروز اور مدلل انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ اس تحریر کا بنیادی مقصد عوام الناس کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے مختلف دینی و تاریخی شکوک و شبہات کا ازالہ کرنا اور اسلام کی خالص تعلیمات کو قران و سنت کی روشنی میں واضح کرنا ہے۔ اس اقتباس میں مختلف موضوعات مثلاً فرقہ وہابیہ کی حقیقت، حضرت حوا کی پیدائش کا پس منظر، ایصالِ ثواب کے شرعی اصول، قبور پر جا کر دعائیں کروانے کی ممانعت، اور دعا میں وسیلے کے استعمال جیسے حساس مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ان تمام مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے انتہائی متوازن، منطقی اور علمی رویہ اختیار کیا ہے اور ہر معاملے میں قران مجید کی آیات، احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور عقلِ سلیم کو بنیاد بنایا ہے۔ سب سے پہلے فرقہ وہابیہ کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کا نہایت شائستہ اور تاریخی حقائق پر مبنی جواب دیا گیا ہے۔ اس الجھن کو دور کیا گیا ہے کہ وہابی دراصل کسی باقاعدہ فرقے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک طنزیہ اور تحقیر آمیز اصطلاح ہے جو عموماً دو مختلف گروہوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ ایک گروہ وہ ہے جو اہلِ حدیث کہلاتا ہے، جن کا مسلک ائمہ اربعہ کے دور سے چلا آ رہا ہے اور وہ تقلید کے بجائے براہِ راست قرآن و حدیث سے رہنمائی حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ دوسرا گروہ محمد بن عبدالوہاب کے پیروکاروں کا ہے جو کہ درحقیقت فقہ حنبلی کے ماننے والے ہیں اور ان کے عقائد بالکل وہی ہیں جو امام احمد بن حنبل کے تھے۔ مولانا اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ برصغیر پاک و ہند میں موخر الذکر گروہ یعنی خالص حنبلی پیروکار نہ ہونے کے برابر ہیں، اور یہاں جن لوگوں کو طنزاً وہابی کہا جاتا ہے وہ بنیادی طور پر اہلِ حدیث مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک انتہائی اہم معاشرتی اور نفسیاتی پہلو کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ اس گروہ نے ابتدا میں دین کی تجدید اور اشاعت کے حوالے سے قابلِ قدر خدمات انجام دیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ جس طرح دیگر مسالک میں جہالت در آئی، ویسے ہی اس گروہ میں بھی کچھ کم علم اور جھگڑالو افراد شامل ہو گئے جنہوں نے فروعی اور معمولی نوعیت کے مسائل پر مناظرہ بازی کو اپنا شعار بنا لیا۔ اسی طرح کی جہالت خود کو حنفی کہلانے والے طبقے میں بھی بکثرت موجود ہے، اور آج کل مسلم معاشرے میں فرقہ واریت اور بحث و مباحثے کی جو گرم بازاری نظر آتی ہے، وہ دراصل انہی دونوں فریقوں کے جاہل اور انتہا پسند عناصر کی کارستانی ہے۔ مزید برآں، نجد سے فتنہ اٹھنے والی مشہور حدیث کو محمد بن عبدالوہاب پر چسپاں کرنے کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس رویے کو گروہ بندی کے اندھے جوش اور تعصب کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، اور متنبہ کرتے ہیں کہ جب دو فریقین میں علمی یا مسلکی دشمنی پیدا ہو جاتی ہے تو وہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے خدا اور رسول کے ارشادات تک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے، جو کہ ایک انتہائی خطرناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ اس کے بعد حضرت حوا کی پیدائش کے حوالے سے معاشرے میں رائج اس مشہور مگر بے بنیاد تصور کا تفصیلی تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے کہ ان کی تخلیق حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے ہوئی تھی۔ اس مقام پر سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ قرآنِ مجید کی آیات کا گہرا اور منطقی حوالہ دیتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ قرآن میں کسی بھی مقام پر یہ صراحت موجود نہیں ہے کہ حضرت حوا کو پسلی سے پیدا کیا گیا تھا۔ جو لوگ اس نظریے کی تائید میں سورۃ النساء یا سورۃ الزمر کی آیات پیش کرتے ہیں، جس میں ایک جان (نفسِ واحدہ) سے اس کا جوڑا بنانے کا ذکر ہے، ان کی تفسیر میں صریح غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ ان آیات کا مفہوم یہ ہرگز نہیں کہ عورت مرد کے جسم کے کسی حصے سے نکالی گئی ہے، بلکہ قرآنِ پاک کے دیگر مقامات، جیسے سورۃ الروم اور سورۃ الشوریٰ کی آیات سے یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں مراد ’’ایک ہی جنس‘‘ سے ہونا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے انہی کی جنس میں سے ان کے جوڑے تخلیق کیے تاکہ وہ سکون حاصل کر سکیں۔ جہاں تک صحیح بخاری اور مسلم میں مروی ان احادیث کا تعلق ہے جن میں پسلی کا ذکر آیا ہے، سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ ان احادیث کے متن کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ پہلی روایت میں عورت کو پسلی سے محض تشبیہ دی گئی ہے تاکہ اس کی نفسیاتی اور فطری ساخت کو سمجھایا جا سکے، جس طرح قرآن میں انسان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ جلد بازی سے پیدا کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ نہیں کہ جلد بازی کوئی مادی چیز ہے، بلکہ یہ اس کی سرشت کا حصہ ہے۔ دوسری حدیث جس میں پسلی سے پیدائش کا ذکر ہے، وہ کسی ایک خاص عورت یعنی حضرت حوا کے لیے نہیں بلکہ دنیا کی تمام عورتوں کے لیے عام ہے، اور ظاہر ہے کہ دنیا کی ہر عورت عملی طور پر پسلی سے پیدا نہیں ہوتی۔ لہٰذا ان احادیث کا اصل مقصود مردوں کو عورتوں کی فطری نزاکت اور ان کے مزاج کی کجی کو برداشت کرنے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنے کی تلقین کرنا ہے۔ مولانا انتہائی مدلل انداز میں اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے بنی اسرائیل کی روایات (اسرائیلیات) کو اپنا لیا اور بعض بڑے لوگوں کی اندھی تقلید میں ایک ایسی بات کو اسلامی عقیدہ بنا لیا جس کی قرآن و سنت میں کوئی ٹھوس اور قطعی بنیاد موجود نہیں ہے۔ ایصالِ ثواب کے حساس اور کثرت سے پوچھے جانے والے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے شریعت کے بنیادی اصولوں کو انتہائی آسان فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس نظریے کی وضاحت کی گئی ہے کہ قرآن و حدیث کا عمومی قاعدہ یہی ہے کہ ہر انسان کو صرف اسی کے عمل کا بدلہ ملے گا، تاہم احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں کچھ استثنائی صورتیں بھی موجود ہیں جن کے تحت میت کو ثواب پہنچایا جا سکتا ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ فقہی اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایسی تمام احادیث جن میں ایصالِ ثواب کا ذکر ہے، ان کا تعلق خالص مالی عبادات (جیسے صدقہ و خیرات) یا مالی اور بدنی عبادات کے مجموعے (جیسے حج) سے ہے۔ اسی بنیاد پر بعض فقہا بدنی عبادات کے ثواب کو بھی میت تک پہنچانے کے قائل ہیں، لیکن مصنف کی ترجیح اس مسلک کی جانب ہے جو استثنا کو صرف اسی حد تک محدود رکھتا ہے جس حد تک وہ احادیث سے ثابت ہے۔ تاہم، وہ دوسرے مسلک پر عمل کرنے والوں پر ملامت کرنے سے گریز کرتے ہیں، جو ان کی وسعتِ قلبی اور اعتدال پسندی کا ثبوت ہے۔ ایصالِ ثواب کے طریقہ کار اور اس کی قبولیت کے فلسفے کو سمجھاتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ واضح کرتے ہیں کہ ایصالِ ثواب دراصل ایک دعا کی حیثیت رکھتا ہے، اور ہر دعا کی طرح اس کی قبولیت بھی خالصتاً اللہ تعالیٰ کی مرضی اور منشا پر موقوف ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی انسان کسی ایسے مرنے والے کے لیے ثواب بھیجے جو اللہ کی نگاہ میں سرے سے مومن ہی نہ ہو یا اس ثواب کا مستحق نہ ہو۔ لیکن اللہ کی رحمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نیک عمل کرنے والے کا اجر بہرحال ضائع نہیں ہوتا۔ اس بات کو سمجھانے کے لیے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ ایک نہایت خوبصورت اور عام فہم مثال دیتے ہیں کہ جس طرح کسی کو منی آرڈر بھیجا جائے اور وصول کنندہ تک نہ پہنچ سکے، تو وہ رقم بھیجنے والے کو واپس مل جاتی ہے، اسی طرح اگر میت کو ثواب نہ بھی پہنچے، تو اللہ تعالیٰ عمل کرنے والے کے اپنے اعمال نامے میں وہ نیکی ضرور درج فرما دیتا ہے۔ ایصالِ ثواب کے لیے کسی قسم کی قرابت داری یا رشتے داری کی کوئی قید نہیں، یہ ہر اس انسان کے لیے کیا جا سکتا ہے جس کے لیے دل میں ہمدردی اور دعا کا جذبہ موجود ہو۔ مسلمانوں کے معاشرے میں پھیلی ہوئی قبر پرستی اور مزارات پر جا کر وفات یافتہ بزرگوں سے دعائیں کروانے کی رسومات کا نہایت سخت، منطقی اور توحید کے خالص تصور کی روشنی میں محاکمہ کیا گیا ہے۔ زندہ نیک انسانوں سے اپنے حق میں دعا کروانا شریعت میں بالکل جائز اور پسندیدہ عمل ہے، لیکن مولانا واضح کرتے ہیں کہ وفات یافتہ بزرگوں کی قبروں پر جا کر ان سے التجائیں کرنا معاملے کی نوعیت کو یکسر تبدیل کر دیتا ہے۔ اس طرزِ عمل کی منطقی خامیاں بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ قبر پر کھڑے ہو کر مانگنے کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ اگر انسان دل ہی دل میں یا آہستہ آواز میں بزرگ سے مخاطب ہوتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس بزرگ میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ سمیع و بصیر (یعنی ہر پوشیدہ بات کو جاننے اور سننے کی صفت) تسلیم کر رہا ہے، جو کہ صریحاً شرک کے دائرے میں آتا ہے۔ دوسری جانب اگر انسان زور زور سے پکارتا ہے تو یہ اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے کیونکہ سماعِ موتیٰ (مردوں کے سننے) کا مسئلہ خود علما کے درمیان ایک اختلافی موضوع ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ عقل کو جھنجھوڑتے ہوئے سوال کرتے ہیں کہ یہ کیونکر معقول ہو سکتا ہے کہ انسان ایک بند دروازے کے باہر کھڑا ہو کر اندھا دھند چیخنا شروع کر دے، جبکہ اسے یہ معلوم ہی نہیں کہ اندر موجود روح اس وقت کہاں ہے، کیا وہ سننے کی حالت میں ہے، یا اپنے رب کی تجلیات میں مشغول ہے۔ یہ طریقہ نہ تو قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور نہ ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں اس کا کوئی نام و نشان ملتا ہے۔ اسی تسلسل میں دعاؤں کے اندر بزرگوں یا انبیا کا واسطہ اور وسیلہ استعمال کرنے (یعنی بحقِ فلاں یا بجاہِ فلاں کہنے) کی شرعی حیثیت کا بھی عمیق جائزہ لیا گیا ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ دو ٹوک الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگنے کا جو خالص اور سیدھا طریقہ قرآن مجید اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے، اس میں کسی جاہ و حرمت کے واسطے کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ یہ طریقہ صحابہ کرام کے عمل سے بھی ثابت نہیں ہے۔ اس طرزِ دعا میں پنہاں خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مصنف بتاتے ہیں کہ یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحیم و کریم کے بارے میں ایک گہری بدگمانی پر مبنی ہے۔ جب انسان کسی مخلوق کا واسطہ دے کر اللہ سے کچھ مانگتا ہے، تو وہ لاشعوری طور پر یہ تصور کر رہا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نعوذ باللہ دنیاوی بادشاہوں کی طرح صرف اپنے منظورِ نظر اور چہیتے لوگوں کی سفارش پر ہی کام کرتا ہے اور اس کی اپنی رحمت کسی بے وسیلہ انسان کی دستگیری کے لیے کافی نہیں ہے۔ یہ تصور اللہ کی صفاتِ کاملہ کی توہین کے مترادف ہے۔ اسی وجہ سے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ فقہ حنفی کی مشہور و مستند کتاب ’’ہدایہ‘‘ کا حوالہ پیش کرتے ہیں جس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ انبیا یا مخلوق کا حق دے کر دعا مانگنا مکروہ ہے، کیونکہ خالق پر کسی مخلوق کا کوئی حق نہیں ہو سکتا۔ آخر میں حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے پیدا ہونے والے حالیہ فرقہ وارانہ تنازعات اور تکفیر بازی کے افسوسناک رجحان کا سرسری لیکن فکر انگیز ذکر کیا گیا ہے، جس میں یہ پیغام مضمر ہے کہ مسلمانوں کو دین کے بنیادی اور متفقہ عقائد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، اور ان مسائل میں جہاں شریعت نے سکوت اختیار کیا ہے یا جن کی نوعیت قطعی الثبوت نہیں ہے، وہاں فروعی اختلافات کو بنیاد بنا کر امت کو تقسیم کرنے، ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانے اور پگڑیاں اچھالنے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ یہی وہ متوازن، معتدل اور خالص قرآنی فکر ہے جو اس پوری تحریر کا لبِ لباب ہے۔
