کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیرِ مطالعہ تحریر ’’سرورِ عالم‘‘ میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت استدلالی اور خوبصورت انداز میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عالمگیر قیادت اور ان کے پیش کردہ نظامِ حیات کی جامعیت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ مسلمانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ’’سرورِ عالم‘‘ کا لقب عام استعمال ہوتا ہے، جس کا سیدھا اور سادہ مفہوم دنیا کا سردار یا کائنات کا عظیم ترین رہنما ہے۔ بظاہر یہ بہت بڑا اور بلند پایہ خطاب معلوم ہوتا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پیغام کا عمیق جائزہ لینے کے بعد یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ انھیں سرورِ عالم کہنا قطعی طور پر کوئی مبالغہ نہیں بلکہ ایک خالص اور روزِ روشن کی طرح واضح حقیقت ہے۔ اس عظیم خطاب کو جانچنے کے لیے مولانا نے کسی بھی شخصیت کو دنیا کا حقیقی اور سچا لیڈر تسلیم کرنے کی چار کڑی شرائط پیش کی ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ ایک عالمی رہنما کی جدوجہد، محبت اور خیر خواہی کسی ایک مخصوص خطے، قوم، نسل یا طبقے تک محدود نہ ہو، بلکہ وہ بلا تفریق تمام نوعِ انسانی کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں ہو۔ صرف اپنی ہی قوم کا مفاد دیکھنے والا دنیا کا مشترکہ رہنما ہرگز نہیں بن سکتا۔ دوسری اہم ترین شرط جس کی طرف سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ توجہ دلاتے ہیں، وہ یہ ہے کہ اس رہنما نے نوعِ انسانی کی فلاح کے لیے ایسے ہمہ گیر اور مکمل اصول پیش کیے ہوں جن میں انسانی زندگی کے تمام پیچیدہ مسائل کا حتمی حل موجود ہو۔ تیسری لازمی شرط یہ ہے کہ رہنما کے پیش کردہ اصول کسی مخصوص دور یا خاص حالات کے قیدی نہ ہوں، بلکہ وہ ہر زمانے اور ہر قسم کے حالات میں یکساں مفید اور قابلِ عمل ہوں۔ جس لیڈر کی تعلیمات وقت گزرنے کے ساتھ فرسودہ ہو جائیں، وہ تاقیامت انسانوں کا رہنما نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ چوتھی اور سب سے اہم عملی شرط بیان کرتے ہیں کہ اس رہنما نے محض فلسفیانہ اور خیالی اصول پیش کرنے پر اکتفا نہ کیا ہو، بلکہ انھیں اپنی اور معاشرے کی زندگی میں عملاً نافذ کر کے دکھایا ہو۔ محض نظریات پیش کرنے والا ایک مفکر تو ہو سکتا ہے، لیکن حقیقی لیڈر وہی ہے جو ان نظریات کی بنیاد پر ایک عملی اور زندہ معاشرتی سوسائٹی قائم کر کے دنیا کے سامنے بہترین نمونہ پیش کرے۔ سیرتِ طیبہ کے گہرے مطالعے سے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ واضح کرتے ہیں کہ یہ چاروں شرائط اپنی کامل ترین اور خوبصورت ترین شکل میں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ہستی میں پائی جاتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایک مخصوص قوم کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے سچے لیڈر اور ہمدرد تھے۔ ان کی نظر میں عربی و عجمی، کالے اور گورے، امیر اور غریب سب ایک ہی آدم کی اولاد اور برابر تھے۔ ان کی اسی بے لوث اور عالمگیر محبت کا یہ کرشمہ تھا کہ ان کی حیاتِ مبارکہ میں ہی حبشی، ایرانی، اور رومی ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے اور انھیں اپنا سچا رہبر تسلیم کیا۔ مولانا مزید بتاتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قیمتی وقت مقامی یا وقتی مسائل میں ضائع نہیں کیا، بلکہ انسانیت کے اس سب سے بنیادی مسئلے کو حل کیا جس کے درست ہونے سے باقی تمام چھوٹے مسائل خود بخود حل ہو جاتے ہیں۔ وہ بنیادی مسئلہ انسان کا اپنے خالق کے ساتھ درست تعلق قائم کرنا ہے۔ انسان جب خدا کی بندگی سے بغاوت کرتا ہے، تو وہ غیر ذمہ دار ہو کر ظلم پر اتر آتا ہے یا پھر خدا کے سوا دیگر جھوٹے معبودوں کے سامنے جھک کر ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ واضح کرتے ہیں کہ یہ دونوں رویے کائنات کی اصل حقیقت کے خلاف ہیں کیونکہ یہ کائنات خالصتاً ایک خدا کی ملکیت ہے اور اسی کے بنائے ہوئے قانون کے تحت چل رہی ہے۔ نظامِ کائنات سے انسان کے انحراف کا لازمی نتیجہ زمین پر صرف تباہی اور بربادی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خرابی کی جڑ کو کاٹتے ہوئے یہ عظیم اصول دیا کہ انسان اپنی خود مختاری کو ترک کر کے صرف ایک سچے خدا کے سامنے سرِ تسلیم خم کریں اور اپنی زندگی کے تمام قوانین اسی ذاتِ برحق سے حاصل کریں۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی تاریخی تحقیق کے مطابق یہ محض ایک خیالی نظریہ نہ تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیئس سال کے انتہائی مختصر اور کٹھن عرصے میں اسے ایک عظیم عملی حقیقت بنا کر دکھا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل عرب، ایران اور روم اخلاقی پستی، ظلم، جہالت اور عدم مساوات کا شکار ہو کر تباہی کے دہانے پر کھڑے تھے۔ ایسے اندھیرے میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی بے مثال اور مثالی سوسائٹی کی بنیاد رکھی جس نے نہایت کم عرصے میں دنیا کے ایک بہت بڑے حصے کو تمدن، معیشت، سیاست اور اخلاقیات کا بالکل نیا اور پاکیزہ نظام عطا کیا۔ اس عظیم الشان انقلاب کی بنیاد اس سنہری تصور پر رکھی گئی کہ انسان زمین پر خود مختار نہیں بلکہ خدا کا نائب اور خلیفہ ہے۔ مولانا کے مطابق، جب انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اسے حاصل تمام اختیارات دراصل خدا کی دی ہوئی امانت ہیں اور اسے ان کا حساب دینا ہے، تو اس کے اندر ایک زبردست احساسِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے۔ اسی خالص عقیدۂ توحید نے نوعِ انسانی کے درمیان نسل، زبان اور رنگ کے تمام کھوکھلے امتیازات مٹا دیے۔ اس کے ساتھ ہی، سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا اخلاقی نظام صرف جنگلوں میں بیٹھنے والے درویشوں کے لیے نہیں تھا بلکہ عملی دنیا کے ہر فرد کے لیے تھا۔ کسان، تاجر، مزدور، منصف اور حکمران سمیت ہر طبقے کو اخلاقیات کی ایسی مضبوط زنجیروں میں باندھا گیا جو ان کی نجی اور عوامی زندگی دونوں کا مکمل احاطہ کرتی ہیں۔ اس نظام میں سیاست اور معیشت کو اخلاق سے الگ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔ اس انقلاب کو برپا کرنے کا طریقہ کار بھی اپنی مثال آپ تھا۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ واضح کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وسیع معاشرتی اصلاح کا آغاز براہ راست بڑے دعووں کے بجائے افراد کی انفرادی کردار سازی سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بخوبی جانتے تھے کہ کمزور کردار اور بددیانت افراد دنیا کے بہترین نظام کو بھی مکمل طور پر ناکام کر دیتے ہیں۔ اسی لیے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل پندرہ سال تک سخت ترین حالات میں ایسے حق پرست، باکردار اور خدا ترس افراد کی ایک مضبوط جماعت تیار کی۔ یہ وہ لوگ تھے جو تنہائی اور محفل میں یکساں ایماندار تھے اور جنھیں اگر خزانوں کا امین بھی بنا دیا جاتا تو وہ خیانت نہیں کرتے تھے۔ انھی باکردار افراد کی بدولت مدینہ میں صرف آٹھ سال کے قلیل عرصے میں ایک ایسا ہمہ گیر انقلاب برپا ہوا جس نے پوری مہذب دنیا کو ہمیشہ کے لیے منور کر دیا۔ آج کی جدید دنیا اور اس کے بحرانوں پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا بتاتے ہیں کہ دورِ حاضر کے جدید مفکرین جن نئے عالمی نظاموں کی توقع لگائے بیٹھے ہیں، وہ دراصل انھی پرانی بیماریوں کا ہی ایک نیا نام ہیں۔ جب تک انسان کی خدا سے بغاوت، نسلی تعصب اور مادی خود غرضی موجود ہے، تب تک کوئی بھی نیا نظام دنیا کو حقیقی امن نہیں دے سکتا۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک، آج بھی انسانیت کی بقا اور حقیقی فلاح کا واحد راستہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش کردہ انھی ابدی اصولوں کی طرف لوٹنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کسی مخصوص گروہ کی نہیں بلکہ تمام نوعِ انسانی کی مشترکہ اور عظیم میراث ہے۔ جو قوم یا معاشرہ بھی اس چشمۂ صافی سے سیراب ہونے کا فیصلہ کرے گا، وہ یقیناً امن و انصاف کی معراج پا لے گا، اور اسی لیے پوری دنیا کے انسان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے دل سے تمام کائنات کا ’’سرورِ عالم‘‘ تسلیم کرتے ہیں۔
