کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیر نظر تحریر کتاب "مسلم خواتین سے اسلام کے مطالبات" کا ایک جامع اور فکر انگیز خلاصہ ہے۔ اس کا باقاعدہ آغاز کائنات کے خالق و مالک اللہ رب العزت کی حمد و ثنا اور نوع انسانی کو جینے کا سیدھا راستہ دکھانے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام سے ہوتا ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ دور حاضر کے مسلمانوں کی حالت زار کا نہایت گہرا اور حقیقت پسندانہ تجزیہ کرتے ہوئے موجودہ مسلم دنیا کو ایک چڑیا گھر سے تشبیہ دیتے ہیں جہاں مختلف قسم کے جانوروں میں محض ایک ہی جگہ رہنے کے سوا کوئی دوسری قدر مشترک نہیں ہوتی۔ دور حاضر کے مسلمانوں کے معاشرے میں بھی بے شمار افراد ایسے ہیں جنہیں خدا کے وجود پر، وحی و رسالت پر اور آخرت کی جواب دہی پر صریح شک ہے۔ ان میں ایسے لوگ بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں جو اسلام کے سکھائے ہوئے اعلیٰ اخلاقی اصولوں کا انکار کرتے ہیں اور جانوروں جیسی غافل اور مادر پدر آزاد زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ یہ افراد اپنی زندگیوں میں دیگر غیر اسلامی طریقوں کو پسند کرتے ہیں مگر اپنے تمام تر مفادات اور حقوق حاصل کرنے کے لیے خود کو مسلمان کہلانے پر شدت سے اصرار کرتے ہیں۔ اس بے ہنگم ہجوم میں ایسے افراد انتہائی کم ہیں جو حقیقتاً ان شرائط پر پورے اترتے ہوں جن کا تقاضا اسلام ایک سچے مسلمان سے کرتا ہے۔ اس تشویش ناک اور افسوسناک صورتحال کی اصل وجہ بیان کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ واضح کرتے ہیں کہ ہماری مسلم آبادی کی اکثریت دراصل محض "نسلی مسلمانوں" پر مشتمل ہے جو صرف وراثت اور خاندان کے سبب مسلمان کہلاتے ہیں۔ انسان کوئی خاص قومیت یا وطن تو پیدائشی طور پر حاصل کر سکتا ہے، لیکن دینِ اسلام کسی انسان کو محض پیدائش، ماں کے پیٹ یا نسب سے ہرگز منتقل نہیں ہوتا۔ دین تو دراصل ایک باشعور انتخاب کا نام ہے جسے انسان اپنی عقل سے پرکھ کر اور پورے ارادے سے اختیار کرتا ہے۔ چونکہ بیشتر نسلی مسلمانوں نے کبھی اسلام کو شعوری طور پر سمجھنے اور اپنانے کی کوشش نہیں کی، اس لیے ان کی زندگیوں میں وہ پاکیزہ طرز زندگی قطعی طور پر غائب ہے جو اسلام کی اصل پہچان ہے۔ اسی حوالے سے ایک حدیث نبوی بیان کی گئی ہے جس کے مطابق ایمان کا اصل مزا اور ذائقہ صرف اسی شخص نے چکھا جو سچے دل سے اس بات پر راضی ہو گیا کہ اللہ ہی اس کا واحد رب ہے، اسلام ہی اس کا مکمل ضابطہ حیات ہے، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کے واحد سچے رہنما ہیں۔ جس انسان نے اس درجے کے شعور کے ساتھ دین قبول نہیں کیا، وہ ایمان کی حقیقی حلاوت سے یکسر محروم ہے۔ ایک حقیقی مسلمان ہونے کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ انسان دنیا میں موجود آقائی اور خدائی کے تمام جھوٹے دعویداروں کو مکمل طور پر مسترد کر کے صرف اور صرف ایک رب العالمین کی بندگی کرنے کا حتمی فیصلہ کرے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات پر بھرپور زور دیتے ہیں کہ ایک سچے مسلمان کو دنیا میں رائج زندگی گزارنے کے لاتعداد طریقوں میں سے صرف اور صرف اسی طریقے کو چننا ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے۔ اس کے دل میں کسی بھی دوسرے غیر اسلامی نظام کی رغبت یا کشش کا پیدا ہونا بھی اس کے ایمان کے سراسر منافی ہے۔ مزید یہ کہ دنیا کے تمام نام نہاد رہبروں اور فلسفیوں کو چھوڑ کر اپنی رہنمائی کے لیے صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر غیر متزلزل یقین رکھنا ہی اسلام کی اصل روح ہے۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد انسان کا اولین فرض ہے کہ وہ اپنی تمام تر نفسانی خواہشات اور ذاتی ترجیحات کو اللہ کی مرضی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے مکمل طور پر تابع کر دے۔ حدیث نبوی کی روشنی میں، کوئی بھی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی تمام تر نفسانی خواہشات اس ہدایت کی مکمل طور پر پیروکار نہ بن جائیں جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں۔ اسلامی طرزِ زندگی کی ایک اور سب سے بڑی اور نمایاں خصوصیت انسان کا احساسِ ذمہ داری ہے۔ مولانا کے مطابق، ایک سچے مومن کی زندگی کبھی بھی لاپرواہ اور غیر ذمہ دارانہ نہیں ہو سکتی۔ جس شخص کے دل میں ایمان کی شمع روشن ہو، وہ اس احساس سے کبھی غافل نہیں ہو سکتا کہ اسے اپنی زندگی کے ایک ایک عمل، وقت کے ایک ایک لمحے اور کمائی کے تمام ذرائع کا حساب روزِ قیامت اللہ کے حضور کھڑے ہو کر پیش کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح فرمان کے مطابق تم میں سے ہر شخص ایک راعی یعنی نگہبان ہے اور قیامت کے دن ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سخت باز پرس ہوگی۔ انسان اس دنیا میں کوئی بے مہار اور چھوٹا ہوا جانور نہیں ہے جو جدھر چاہے منہ مارتا پھرے، بلکہ ایک مسلمان کی مثال اس گھوڑے کی سی ہے جو اپنے کھونٹے سے مضبوطی سے بندھا ہوتا ہے۔ وہ گھوڑا کتنی ہی دوڑ دھوپ کیوں نہ کر لے، اس کے گلے کی رسی اسے ایک خاص دائرے سے باہر ہرگز نہیں جانے دیتی۔ بالکل اسی طرح ایک سچے مسلمان کی تمام تر آزادیاں، دلچسپیاں اور سرگرمیاں اللہ اور اس کے رسول کی مقرر کردہ حدود کے اندر ہی پابند رہنی چاہئیں۔ ان واضح اور روشن دلائل کی بنیاد پر دینِ حق کا معاشرے کے افراد سے ایک دو ٹوک مطالبہ ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ پوری ایمانداری سے یہ فیصلہ کرے کہ کیا وہ اسلام کو اپنے ضابطہ حیات کے طور پر دل سے قبول کرتا ہے یا نہیں؟ اگر کوئی شخص اس دین کی عائد کردہ پابندیوں کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہے، تو اسے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھلے عام اسے چھوڑ دینا چاہیے، اور مسلم معاشرے سے اپنے جھوٹے حقوق مانگنا بند کر دینا چاہیے۔ یہ منافقانہ فریب اب مزید نہیں چل سکتا کہ انسان دل اور عمل سے تو اسلام کا باغی ہو مگر دنیاوی فوائد کے لیے مسلمان بنے رہنے پر اصرار کرے۔ یہ روش بھی انتہائی خطرناک ہے کہ انسان اسلام کی صرف ان باتوں کو تسلیم کرے جو اس کے ذاتی مفادات کے موافق ہوں، اور جو احکامات نفس پر گراں گزریں ان کا صاف انکار کر دے۔ جو بھی اسلام کو ماننے کا دعویٰ کرے، وہ جزوی طور پر نہیں بلکہ مکمل اور غیر مشروط اطاعت کے ساتھ اس دین کو قبول کرے۔ یہ تمام سخت تقاضے محض مردوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ خواتین سے بھی بالکل یہی مطالبات کیے گئے ہیں۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ مسلم خواتین کو براہ راست مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ عورتوں کو اپنی انفرادی شخصیت اپنے مردوں کے سائے میں ہرگز گم نہیں کرنی چاہیے۔ عورتیں مردوں کا کوئی ضمیمہ یا پرچھائیں نہیں ہیں، بلکہ اسلام نے انہیں ایک مستقل، مکمل اور آزاد شخصیت عطا کی ہے۔ روزِ قیامت ہر عورت کو خدا کے روبرو اپنے اعمال کا حساب خود اکیلے دینا ہوگا اور وہ اپنی ہی قبر سے اکیلی اٹھے گی۔ وہاں وہ یہ عذر پیش کر کے نہیں بچ سکے گی کہ اس کا دین اور اعمال اس کے باپ، بھائی یا شوہر کے فیصلوں کے تابع تھے۔ لہٰذا، خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کی راہ کا فیصلہ خود کریں اور مردوں کی اندھی تقلید کے بجائے خود طے کریں کہ کیا انہیں اسلام اپنی تمام تر پابندیوں کے ساتھ قبول ہے یا نہیں؟ اسی تناظر میں مردوں کو بھی یہ سخت ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خواتین تک دین کا پیغام ضرور پہنچائیں لیکن اپنی حاکمیت کے زور پر انہیں مجبور نہ کریں بلکہ انہیں آزادانہ اور شعوری فیصلہ کرنے کا پورا حق دیں۔ آخر میں، جو خواتین پوری سمجھ بوجھ اور دلی رضامندی کے ساتھ اسلام کو اپنا حتمی دین تسلیم کر لیں، ان کے لیے خاص طور پر تین انتہائی اہم عملی کام تجویز کیے گئے ہیں۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ واضح کرتے ہیں کہ ان کا پہلا اور بنیادی کام یہ ہے کہ وہ اپنی انفرادی زندگیوں کا بے لاگ محاسبہ کریں اور دورِ جاہلیت کے تمام زہریلے اثرات کو اپنی شخصیت اور طرز عمل سے مکمل طور پر نکال باہر کریں۔ دوسرا اہم ترین کام ان کے اپنے گھر کی فضا اور ماحول کی اصلاح ہے۔ خواتین پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے گھروں سے پرانی مشرکانہ رسومات اور توہمات کا خاتمہ کریں، اور ساتھ ہی جدید مغربی تہذیب کی اس نام نہاد روشن خیالی کو بھی گھر سے نکالیں جس نے آج کے مسلم گھرانوں کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ تیسرا اور سب سے نازک کام آنے والی نئی نسلوں کی خالص اسلامی طرز پر تربیت کرنا ہے۔ آج کا سب سے بڑا اور تلخ المیہ یہ ہے کہ ہمارے گھروں کے ماحول سے قرآن مجید کی تلاوت کی آوازیں اور نماز کے روح پرور مناظر غائب ہو چکے ہیں۔ اگر ہماری مائیں آج بیدار نہ ہوئیں اور انہوں نے اپنے بچوں کو شعوری طور پر اسلامی سانچے میں نہ ڈھالا، تو خدانخواستہ ایک وقت ایسا ضرور آئے گا کہ آنے والی نسلوں میں اسلام کا نام و نشان تک باقی نہ رہے گا۔ لہٰذا خواتین پر لازم ہے کہ وہ اپنے گھروں سے اس عظیم اصلاحی مشن کا عملی آغاز کریں۔
