کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
انسانی زندگی کے معمول کے حالات میں جب معاشرے کا دریا بظاہر پرسکون انداز میں بہہ رہا ہوتا ہے، تو انسان ایک طرح کا جھوٹا اطمینان محسوس کرتا ہے۔ اس سطحی سکون کے پردے کے نیچے معاشرے کی تمام تر اخلاقی گندگیاں، غلاظتیں اور برائیاں چھپی رہتی ہیں۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ بظاہر نظر آنے والی صفائی انسان کو اس تجسس سے روکے رکھتی ہے کہ وہ اس دریا کی تہہ میں موجود خرابیوں کا کھوج لگائے۔ تاہم، جب حالات میں طغیانی آتی ہے اور زندگی کے اس دریا میں کوئی طوفان برپا ہوتا ہے، تو تہہ میں چھپی ہوئی یہ تمام غلاظتیں ابل کر سطح پر آ جاتی ہیں اور پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو جاتی ہیں۔ ایسے وقت میں صرف وہی شخص حقیقت کو نہیں دیکھ پاتا جو بصیرت سے مکمل طور پر محروم ہو۔ یہ طوفانی حالات دراصل اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ انسان اس منبع اور سرچشمے کو تلاش کرے جہاں سے یہ اخلاقی گندگیاں معاشرے میں شامل ہو رہی ہیں، تاکہ اس دریا کو پاک کرنے کی کوئی موثر تدبیر کی جا سکے۔ مولانا واضح کرتے ہیں کہ اگر ان کھلے حقائق اور طوفانی حالات کے باوجود بھی نوعِ انسانی غفلت کے نشے میں مدہوش رہے اور اس خرابی کو دور کرنے کی فکر نہ کرے، تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انسان اپنے نفع و نقصان کے احساس سے بالکل بے گانہ ہو چکا ہے اور اس کی اخلاقی حس مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ موجودہ دور جس سے نوعِ انسانی گزر رہی ہے، یہ کوئی معمولی دور نہیں بلکہ انتہائی غیر معمولی اور طوفانی حالات کا دور ہے۔ اس وقت زندگی کے دریا میں شدید طغیانی آ چکی ہے اور دنیا کے مختلف ممالک اور قوموں کے درمیان ایک ہولناک کشمکش جاری ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق یہ کشمکش محض بین الاقوامی یا قومی سطح تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے گہرائی میں اتر کر معاشرے کے ہر فرد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس عالمی بحران نے انسانیت کے اس بڑے حصے کے ان تمام پوشیدہ اخلاقی عیوب کو بے نقاب کر دیا ہے جنہیں وہ طویل عرصے سے اپنے اندر پال رہے تھے۔ آج ہم ان تمام اخلاقی برائیوں کو کھلم کھلا معاشرے کی سطح پر دیکھ رہے ہیں، جنہیں پہلے تلاش کرنے کے لیے گہری نظر کی ضرورت ہوتی تھی۔ آج کے دور میں پوری پوری قومیں ان بدترین اخلاقی صفات کا نہایت بے شرمی سے مظاہرہ کر رہی ہیں جنہیں انسانی ضمیر نے ہمیشہ قابلِ نفرت سمجھا ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ بے انصافی، ظلم، بے رحمی، جھوٹ، فریب، دغا بازی، خیانت اور دوسروں کا استحصال اب محض انفرادی جرائم نہیں رہے، بلکہ یہ پوری پوری قوموں کے اجتماعی اخلاق کا حصہ بن چکے ہیں۔ بڑی اور طاقتور قومیں اجتماعی سطح پر ان تمام جرائم کا ارتکاب کر رہی ہیں جن کی وجہ سے عام افراد کو جیلوں میں ڈالا جاتا ہے۔ ہر قوم نے اپنے بدترین اور شاطر ترین مجرموں کو اپنا لیڈر منتخب کر لیا ہے، اور ان کی قیادت میں ایسی کوئی برائی نہیں جو وسیع پیمانے پر اور پوری ڈھٹائی کے ساتھ نہ کی جا رہی ہو۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس منافقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ کس طرح ہر قوم دوسری قوم کے خلاف جھوٹ گھڑتی ہے اور اسے ذرائع ابلاغ کے ذریعے پوری دنیا میں پھیلاتی ہے۔ دنیا کی بڑی آبادیاں اب لٹیروں کے گروہوں میں تبدیل ہو چکی ہیں، جہاں ایک ڈاکو خود ڈاکہ ڈالتے ہوئے نہایت بے شرمی سے دوسرے ڈاکو کی برائیوں کا رونا روتا ہے۔ انصاف کا تصور صرف اپنی قوم کے مفادات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، جبکہ دوسروں کے حقوق غصب کرنا ان کے نزدیک جائز اور کارِ ثواب بن چکا ہے۔ مولانا بتاتے ہیں کہ قوموں کے ہاں لینے اور دینے کے پیمانے الگ الگ ہو چکے ہیں۔ جو اخلاقی معیار وہ اپنے لیے پسند کرتی ہیں، دوسروں کے لیے ان کا اطلاق بدل جاتا ہے۔ بدعہدی اور منافقت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کرتے وقت بھی ان نام نہاد مہذب قوموں کے دلوں میں یہ بددیانتی چھپی ہوتی ہے کہ موقع ملتے ہی ان معاہدوں کو قومی مفاد کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیا جائے گا۔ اور جب کوئی حکمران یہ ظلم کرتا ہے تو پوری قوم اس جرم میں اس کی حامی بن جاتی ہے۔ اس اخلاقی زوال کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ظالم قومیں بڑے بڑے پاکیزہ اصولوں کی بات صرف اس لیے کرتی ہیں تاکہ دنیا کو بے وقوف بنا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکیں۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ قومیں انسانوں کو یہ باور کراتی ہیں کہ وہ یہ تمام جنگیں اور تباہیاں محض انسانیت کی بھلائی کے لیے کر رہی ہیں، جبکہ حقیقت میں ان کے مقاصد خالصتاً خود غرضانہ ہوتے ہیں۔ ان کی سنگ دلی اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ وہ کمزور قوموں کو کچلتے ہوئے اس پر فخر محسوس کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ فاتح قومیں مفتوح قوموں کو صرف لوٹتی ہی نہیں بلکہ ایک منظم سازش کے تحت ان کے اندر سے تمام شریفانہ انسانی صفات کو ختم کر کے انہیں انہی کمینہ صفات کا عادی بناتی ہیں جنہیں وہ خود بھی برا سمجھتی ہیں۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ ان تمام خرابیوں کو بیان کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ پوری انسانیت کا جسم اخلاقی طور پر سڑ چکا ہے۔ ماضی میں جن جگہوں کو اخلاقی خرابی کا مرکز سمجھا جاتا تھا، آج ان کی جگہ معاشرے کے سب سے معزز اداروں نے لے لی ہے۔ اسمبلیاں، عدالتیں، تعلیمی ادارے، نشریاتی ادارے اور تجارتی مراکز سب کے سب اس اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہاں تک کہ علم اور ٹیکنالوجی جیسی عظیم نعمتیں بھی انسانیت کی فلاح کے بجائے اس کی تباہی کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ شجاعت، ایثار اور قربانی جیسی اعلیٰ صفات کو بھی برائی کی خدمت پر مامور کر دیا گیا ہے۔ یہ اجتماعی اور قومی سطح کی خرابیاں اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ معاشرے کے افراد انفرادی طور پر اخلاقی پستی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ استدلال کرتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے کہ کسی سوسائٹی کے افراد تو نیک اور ایماندار ہوں لیکن وہ اجتماعی طور پر بدکرداری کا مظاہرہ کرے۔ جب دنیا کی قومیں اس قدر وسیع پیمانے پر اخلاقی رذالت کا مظاہرہ کر رہی ہیں، تو اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی تمام تر مادی اور سائنسی ترقی کے باوجود شدید ترین اخلاقی تنزلی کا شکار ہے۔ اگر اس صورتحال کو نہ روکا گیا تو انسانیت ایک ہولناک تباہی اور طویل تاریکی کے دور میں غرق ہو جائے گی۔ اس تباہی سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس خرابی کے اصل سرچشمے کو تلاش کیا جائے۔ مولانا اس بات پر زور دیتے ہیں کہ چونکہ یہ بیماری اخلاقی ہے، اس لیے اس کا علاج اور اس کی وجوہات بھی ان اخلاقی تصورات میں ہی ملیں گی جو اس وقت دنیا پر حاکم ہیں۔ جب ہم دنیا کے مروجہ اخلاقی تصورات کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں، تو وہ بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم نظر آتے ہیں: ایک وہ جو خدا اور موت کے بعد کی زندگی پر یقین رکھتے ہیں، اور دوسرے وہ جو ان عقائد کو مسترد کر کے دنیاوی اور مادی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ مذہبی اخلاقیات کا انحصار اس بات پر ہے کہ لوگ خدا اور آخرت کا کیا تصور رکھتے ہیں۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں خدا کو ماننے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد شرک جیسے سنگین مرض میں مبتلا ہے۔ انہوں نے خدا کے اختیارات کو مختلف خیالی ہستیوں میں بانٹ دیا ہے اور ان ہستیوں کا تصور اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق گھڑ لیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہستیاں ان کے گناہوں کی پردہ پوشی کریں گی اور انہیں خدا کی پکڑ سے بچا لیں گی۔ اس مشرکانہ سوچ نے آخرت کے عقیدے اور احتساب کے خوف کو مکمل طور پر بے معنی کر دیا ہے۔ لوگ نذر و نیاز کے ذریعے اپنے جرائم کی معافی کی ضمانت حاصل کر لیتے ہیں اور یوں وہ اخلاقی بندشوں سے آزاد ہو کر دنیا میں ہر طرح کے ظلم اور بے ایمانی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ مذہبی اخلاقیات صرف کتابوں اور زبانی دعووں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں، جبکہ عملی زندگی میں شرک نے انہیں گناہوں سے بچنے کے بجائے گناہوں کے جواز کے راستے فراہم کر دیے ہیں۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ اس طرح کے عقائد نے مذہب کی ان تمام بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے جو ایک پاکیزہ معاشرے کی تعمیر کے لیے ضروری تھیں۔ دوسری جانب، جہاں شرک نہیں ہے اور لوگ خدا اور آخرت کو بہتر انداز میں مانتے ہیں، وہاں بھی ایک بڑی خرابی موجود ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ واضح کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں نے خدا کے مطالبات کو زندگی کے ایک بہت ہی چھوٹے اور محدود دائرے تک سمیٹ دیا ہے۔ انہوں نے چند مخصوص رسومات، عبادات اور پابندیوں کو ہی کل دین سمجھ لیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر وہ یہ چند مطالبات پورے کر دیں تو انہوں نے جنت کا پروانہ حاصل کر لیا ہے۔ اس محدود تصور نے دین کو عملی اور اجتماعی زندگی کے معاملات سے بالکل بے دخل کر دیا ہے۔ زندگی کے بڑے بڑے شعبے، جیسے سیاست، معیشت اور معاشرت، مذہب کی اخلاقی رہنمائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ اور اگر ان چند عبادات میں بھی کوئی کمی رہ جائے تو وہ اللہ کی رحمت کے جھوٹے سہارے پر مطمئن رہتے ہیں۔ مولانا اس طبقے کا بھی تذکرہ کرتے ہیں جو شرک سے پاک ہے اور اخلاقی لحاظ سے پاکیزہ کردار کا حامل ہے، لیکن ان کا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے روحانیت اور مذہب کا ایک انتہائی محدود اور غیر فطری تصور اپنا لیا ہے۔ یہ لوگ دنیا اور اس کے پیچیدہ مسائل سے کٹ کر گوشہ نشینی اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کا سارا زور صرف اپنے نفس کے تزکیے اور چند مخصوص مذہبی مشاغل تک محدود رہتا ہے، جس کی وجہ سے دنیا کی قیادت اور رہنمائی ان کے ہاتھوں سے نکل کر بدکردار اور مادی سوچ رکھنے والے لوگوں کے پاس چلی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جو لوگ بہترین اخلاقی صفات کے حامل تھے، وہ میدانِ عمل سے باہر ہو گئے اور معاشرے کی باگ ڈور ان لوگوں کے ہاتھ میں آ گئی جو اخلاقیات سے عاری تھے۔ انسانیت کی قیادت اس وقت جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، ان کے اخلاقی تصورات خدا اور آخرت کے عقیدے سے بالکل خالی ہیں۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں نے دانستہ طور پر اپنے اخلاقی نظام کو مذہب سے الگ کر لیا ہے۔ وہ اگر ذاتی حیثیت میں کسی مذہب کو مانتے بھی ہیں، تو ان کے نزدیک مذہب محض ایک انفرادی معاملہ ہے جس کا اجتماعی، قومی یا بین الاقوامی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ انیسویں صدی کے آخر میں امریکہ اور پھر یورپ میں ابھرنے والی اخلاقی تحریکوں نے باقاعدہ یہ اصول وضع کیا کہ انسانی تعلقات اور اخلاقیات کو کسی بھی مذہبی عقیدے یا ما بعد الطبیعیاتی تصور سے الگ رکھا جائے۔ ان کے نزدیک انسانی بھلائی اور حق کی محبت کے لیے کسی خدا یا آخرت کے عقیدے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مولانا وضاحت کرتے ہیں کہ آج کی دنیا کا پورا نظام، اس کی تہذیب، تمدن اور معاملات انہی غیر مذہبی اور سیکولر نظریات پر چل رہے ہیں۔ ان لوگوں نے خود کو خدا کی رہنمائی سے آزاد کر کے اپنے خود ساختہ اخلاقی فلسفے تراش لیے ہیں۔ لیکن جب ہم ان غیر مذہبی اور سیکولر اخلاقی فلسفوں کا جائزہ لیتے ہیں، تو ان کے کھوکھلے پن کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس بات کا کوئی متفقہ اور حتمی جواب نہیں دے پاتے کہ وہ کون سی حتمی اور اصلی بھلائی ہے جسے حاصل کرنا انسان کا مقصد ہونا چاہیے۔ کسی کے نزدیک یہ بھلائی جسمانی خوشی ہے، تو کسی کے نزدیک ذہنی تسکین۔ کسی کے نزدیک یہ فرد کی خوشی ہے، تو کسی کے نزدیک معاشرے کی۔ اسی طرح کمال اور فرض برائے فرض کے تصورات بھی بے شمار سوالات اور ابہام کا شکار ہیں۔ جب انسان اپنے اخلاق کی بنیاد خدا کی عطا کردہ مستقل رہنمائی پر رکھنے کے بجائے ان بدلتے ہوئے اور متضاد انسانی فلسفوں پر رکھتا ہے، تو اس کا نتیجہ وہی تباہی، خود غرضی اور اخلاقی انتشار ہوتا ہے جس کا سامنا آج پوری دنیا کر رہی ہے۔
