کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
اسلام کے سیاسی نظام کے حوالے سے دور حاضر میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ واضح کرتے ہیں کہ آج کل بہت سے لوگ بغیر کسی گہرے مطالعے اور تحقیق کے اسلام کو محض ایک جمہوری نظام قرار دے دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ رویہ دراصل اس شدید احساس کمتری اور مرعوبیت کی پیداوار ہے جس کے تحت مسلمان دنیا میں رائج اور مقبول عام سیاسی نظریات کو کسی نہ کسی طرح اسلام میں ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب دنیا میں اشتراکیت کا غلبہ ہوتا ہے تو مسلمانوں کا ایک طبقہ اسلام کو اشتراکیت کا پیش خیمہ اور جدید ایڈیشن قرار دینے لگتا ہے، اور جب آمریت کا دور دورہ ہوتا ہے تو اطاعت امیر کے نام پر اسلام کے اندر سے ڈکٹیٹر شپ کے جواز تلاش کیے جانے لگتے ہیں۔ اس خطرناک رجحان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مولانا فرماتے ہیں کہ اسلام کو کسی یتیم بچے کی طرح نہ سمجھا جائے جسے زندہ رہنے کے لیے کسی طاقتور اور رائج الوقت نظریے کی سرپرستی درکار ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا اپنا ایک مکمل، جامع اور منفرد سیاسی نظریہ ہے، جسے سمجھنے کے لیے اس کے بنیادی اصولوں کی طرف رجوع کرنا ناگزیر ہے۔ یہ دین چند منتشر خیالات یا ادھر ادھر سے اکٹھے کیے گئے افکار کا مجموعہ ہرگز نہیں ہے بلکہ ایک ایسا باضابطہ نظام ہے جس کی مثال ایک تناور درخت کی سی ہے۔ جس طرح ایک درخت کی شاخیں اور پتے اپنی جڑوں سے جڑے ہوتے ہیں اور اسی سے خوراک حاصل کرتے ہیں، اسی طرح اسلامی زندگی کا ہر شعبہ، خواہ وہ سیاست ہو، معیشت ہو یا تمدن، اس کے بنیادی عقائد سے مضبوطی کے ساتھ منسلک ہے۔ اس منطقی ربط کو سمجھے بغیر اسلام کی روح اور اس کے مزاج تک رسائی قطعی طور پر ناممکن ہے۔ اس ضمن میں سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دنیا کے سامنے اسلام کے حقیقی سیاسی نظریے کو اس کے اصل خدوخال کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے تاکہ تاریکیوں میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کو وہ روشنی مل سکے جس کی وہ شدید حاجت مند ہے، گو کہ اسے اپنی اس حاجت کا شعور تک نہیں ہے۔ اسلامی نظام کے اس بنیادی جوہر کو واضح کرنے کے لیے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ انسانی تاریخ کے اس قدیم ترین اور مشترکہ پیغام کا ذکر کرتے ہیں جو تمام انبیاء کرام علیہم السلام دنیا میں لے کر آئے۔ عام طور پر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ انبیاء کی آمد کا مقصد صرف اللہ کی ہستی کو منوانا اور چند عبادات کا طریقہ سکھانا تھا، اور یہ کہ انسان مسجد میں صرف خدا کو سجدہ کرے اور باہر نکل کر وقت کی کسی بھی طاقتور حکومت یا فرماں روا کی مکمل وفاداری اور اطاعت کرے۔ لیکن اگر بات واقعی صرف اتنی ہی ہوتی تو دنیا کی طاغوتی طاقتیں اور حکمران کبھی بھی انبیاء کے جانی دشمن نہ بنتے۔ اس تاریخی حقیقت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ قرآن مجید کی متعدد آیات کا حوالہ دیتے ہیں جن سے یہ ناقابل تردید حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ کفار اور مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے منکر ہرگز نہیں تھے۔ وہ اس بات کو پوری طرح مانتے تھے کہ زمین و آسمان کا خالق، سورج اور چاند کو گردش دینے والا، زندگی اور موت دینے والا اور بارش برسانے والا صرف اور صرف اللہ ہے۔ جب ان سے پوچھا جاتا کہ کائنات کا عظیم الشان نظام کس کے ہاتھ میں ہے اور کون سب کو پناہ دیتا ہے، تو ان کا متفقہ جواب یہی ہوتا تھا کہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے۔ پس ثابت ہوا کہ انبیاء کرام کی آمد کا مقصد محض خدا کا وجود منوانا نہیں تھا کیونکہ دنیا اسے پہلے ہی تسلیم کرتی تھی۔ اصل تنازعہ اور جھگڑے کی بنیاد وہ عظیم دعویٰ تھا جس کی طرف مولانا نے نہایت باریک بینی اور بصیرت کے ساتھ اشارہ کیا ہے۔ انبیاء کا یہ غیر متزلزل مطالبہ تھا کہ جو اللہ اس کائنات کا خالق اور مالک ہے، وہی انسانوں کا واحد 'الہ' اور 'رب' بھی ہے، اور اس کے سوا کسی بھی انسان، شے یا طاقت کو اس مقام پر فائز نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا اس بات کو ماننے کے لیے اس لیے تیار نہ تھی کیونکہ اس پیغام کے اندر ان کے خود ساختہ سیاسی، سماجی اور معاشی نظاموں کی موت پوشیدہ تھی۔ اس تاریخی اور نظریاتی جھگڑے کی اصل نوعیت کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے 'الہ' اور 'رب' کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ لفظ 'الہ' کی جامع تشریح کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس کا مطلب معبود ہے، اور معبود کا مادہ 'عبد' ہے جس کے لغوی معنی بندے اور غلام کے ہیں۔ لہٰذا عبادت کا تصور محض چند مخصوص مذہبی رسومات یا پوجا پاٹ تک ہرگز محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکمل طرز زندگی اور بندگی کا نام ہے۔ ایک غلام کی اپنے آقا کے لیے ہر خدمت، احترام میں سر جھکانا، وفاداری کے جذبے سے سرشار ہونا، اور اس کے ہر حکم پر لبیک کہنا دراصل عبادت ہی ہے۔ جس کا حکم مانا جائے، جس کے بنائے ہوئے قانون کی پابندی کی جائے، جس کے غضب سے ڈرا جائے، اور جس کی رضا کے لیے اپنی جان و مال تک قربان کرنے سے دریغ نہ کیا جائے، وہی درحقیقت انسان کا معبود ہوتا ہے۔ اسی طرح 'رب' کے وسیع معنی بیان کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب پرورش کرنے والا، مالک، رازق اور آقا ہے۔ انسان جسے اپنا مربی سمجھے، جس سے عزت، ترقی اور امن کی امید رکھے، جس کی ناراضگی سے اپنی زندگی برباد ہونے کا خوف کھائے، اور جس کے احکامات کے آگے سر تسلیم خم کرے، وہی اس کا رب کہلاتا ہے۔ جب ان دونوں بنیادی اصطلاحات کے وسیع تر مفہوم کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ کائنات کی کوئی بھی بے جان شے، درخت، جانور، دریا، سورج یا چاند انسان کے سامنے ربوبیت یا الوہیت کا دعویٰ لے کر کھڑے ہونے کی مجال نہیں رکھتے۔ یہ صرف اور صرف انسان ہی ہے جس کے سر میں خدائی کا خناس سماتا ہے۔ اس گہرے نفسیاتی اور سماجی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ انسان کے اندر چھپی ہوئی اقتدار کی ہوس اور دوسروں سے فائدہ اٹھانے کی بے جا خواہش اسے اس مقام تک لے جاتی ہے کہ وہ دوسرے کمزور انسانوں پر اپنی خدائی کا سکہ جمانا چاہتا ہے۔ وہ شدت سے یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کے آگے جھکیں، اس کے بنائے ہوئے قوانین کی غیر مشروط اطاعت کریں، اور اسے ہی اپنا سب کچھ مان لیں۔ انسانی خدائی کے اس باطل دعوے کی عملی صورتوں کا تاریخی جائزہ لیتے ہوئے مولانا انسانوں کو دو مختلف اور واضح اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔ پہلی قسم ان لوگوں پر مشتمل ہے جو بے پناہ مادی طاقت، دولت اور حکومتی ذرائع کے بل بوتے پر جرات کے ساتھ براہ راست اپنی خدائی اور ربوبیت کا اعلان کر دیتے ہیں۔ اس کی سب سے نمایاں اور عبرت ناک مثالیں تاریخ میں فرعون اور نمرود کی ہیں۔ فرعون نے اپنے لشکروں اور حکومت کے زبردست غرور میں مبتلا ہو کر اپنی قوم سے ببانگ دہل کہا تھا کہ وہ ان کا سب سے بڑا رب ہے، اور اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کھلی دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے اسے الہ تسلیم نہ کیا تو وہ انہیں قید خانے میں ڈال دے گا۔ اسی طرح ایک اور بادشاہ نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بحث کرتے ہوئے زندگی اور موت پر اپنے مکمل اختیار کا دعویٰ کیا تھا۔ اس قرآنی واقعے کا عمیق تجزیہ کرتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ ایک نہایت اہم اور فکر انگیز نکتہ بیان کرتے ہیں کہ نمرود دراصل کائنات کے خدا ہونے کا دعویدار ہرگز نہیں تھا، اور نہ ہی وہ بارش برسانے کا دعویٰ کرتا تھا، بلکہ وہ صرف سلطنت عراق کے باشندوں پر اپنا حکم چلانے اور ان کی جان و مال کا بلا شرکت غیرے مالک ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سورج کے طلوع اور غروب ہونے کی لاجواب دلیل پیش کی تو وہ ہکا بکا رہ گیا کیونکہ وہ بخوبی جانتا تھا کہ کائنات کا وسیع نظام اس کے ہاتھ میں نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی رعایا پر اپنا بنایا ہوا قانون زبردستی نافذ کرنا چاہتا تھا۔ یہ فرعونیت اور نمرودیت کی ذہنیت صرف انھی دو افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ انسانی تاریخ کے ہر دور میں، خواہ وہ قدیم ایران کے بادشاہ ہوں جنہیں خدا اور خداوند کہا جاتا تھا، یا ہندوستان کے راجے مہاراجے ہوں جو خود کو ان داتا کہلواتے تھے، فرماں رائوں نے انسانوں پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے مختلف شکلوں میں الوہیت اور ربوبیت کے اسی تصور کو نافذ کیا ہے۔ آج کے جدید دور میں بھی جو لوگ خدا کے قانون کو پس پشت ڈال کر اپنا قانون انسانوں پر مسلط کرتے ہیں اور انہیں اپنا مطیع بناتے ہیں، وہ درحقیقت الفاظ کے بغیر اسی ربوبیت اور الوہیت کا دعویٰ کر رہے ہوتے ہیں۔ خدائی کے دعویداروں کی دوسری قسم کا ذکر کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ ان لوگوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن کے پاس ظاہری مادی طاقت، حکومت یا لشکر تو نہیں ہوتے، لیکن وہ مکر و فریب، چالاکی اور مذہبی استحصال کے ذریعے عام اور سیدھے سادے انسانوں کے دل و دماغ پر جادو کر لیتے ہیں۔ یہ لوگ مختلف ارواح، درختوں، قبروں، ستاروں یا دیوتائوں کو الہ بنا کر خود ان کے واحد نمائندے اور ترجمان بن بیٹھتے ہیں۔ وہ لوگوں کے دلوں میں یہ خوف بٹھاتے ہیں کہ اگر انہیں اور ان کے دیوتائوں کو خوش نہ کیا گیا تو وہ قحط، بیماریوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہو جائیں گے، اور ان روحانی طاقتوں تک پہنچنے اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کا واحد راستہ یہی مذہبی پیشوا ہیں۔ اس طرح یہ پروہت، مجاور اور پجاری جھوٹے خدائوں کی آڑ لے کر معاشرے میں اپنی خدائی، بالادستی اور معاشی اجارہ داری قائم کر لیتے ہیں۔ کچھ لوگ نجوم، فال گیری، اور تعویذ گنڈوں کا سہارا لے کر عوام کو بے وقوف بناتے ہیں، جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو بظاہر اللہ کی بندگی کا اقرار تو کرتے ہیں مگر عملی طور پر خود کو خدا اور بندے کے درمیان لازمی واسطہ اور پل قرار دے دیتے ہیں۔ وہ مذہبی کتابوں کے علم پر اپنی اجارہ داری قائم کر لیتے ہیں، عام انسانوں کو اس فہم سے محروم کر دیتے ہیں، اور پھر خدا کی زبان بن کر اپنی مرضی سے حلال و حرام کے فیصلے صادر کرنے لگتے ہیں۔ اس گمبھیر صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ پاپائیت اور برہمنیت کی یہ وہ تاریک شکلیں ہیں جنہوں نے نسل در نسل انسانوں پر اپنا روحانی اور ذہنی تسلط برقرار رکھا ہوا ہے۔ جب کوئی شخص، خاندان یا طبقہ خدا کے واضح احکامات کو نظر انداز کر کے اپنی مرضی کے قوانین وضع کرتا ہے اور لوگوں کو ان کی اندھی پابندی پر مجبور کرتا ہے، تو وہ دراصل انسانوں کو اپنا بندہ اور غلام بنا لیتا ہے۔ اس تمام تر علمی اور تاریخی بحث کا نچوڑ بیان کرتے ہوئے مولانا اس حتمی اور اٹل نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ دنیا میں موجود تمام فتنوں، فسادات، ظلم اور خرابیوں کی اصل جڑ درحقیقت انسان پر انسان کی خدائی اور حاکمیت ہے۔ جب تک انسان، انسان کی اس بالواسطہ یا بلا واسطہ غلامی اور بندگی سے مکمل طور پر آزاد ہو کر خالصتاً ایک اللہ کی بندگی اختیار نہیں کرتا، اس کے قانون کی غیر مشروط اطاعت نہیں کرتا اور صرف اسی کی ربوبیت و الوہیت کو تسلیم نہیں کر لیتا، تب تک انسانی معاشرے میں حقیقی امن، مساوات، آزادی اور عدل و انصاف کا قیام قطعی طور پر ناممکن ہے۔ یہی اسلام کا وہ خالص، فطری اور حقیقی نظریۂ سیاسی ہے جو انسان کو انسان کی ذلت آمیز بندگی سے نکال کر خدائے واحد کی باعزت بندگی میں لاتا ہے۔
