کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
کتاب "طاقت کا راز" میں مسلمانوں کے عروج و زوال اور ان کی حقیقی طاقت کے سرچشمے پر نہایت گہری اور فکر انگیز بحث کی گئی ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس تحریر کا آغاز دوسری صدی ہجری کے ایک انتہائی سبق آموز اور تاریخی واقعے سے کیا ہے جو سجستان اور موجودہ افغانستان کے فرماں روا رتبیل کے حوالے سے ہے۔ جب اموی دورِ حکومت میں رتبیل نے خراج دینے سے انکار کر دیا اور اسلامی سلطنت کے سفیر اس کے دربار میں پہنچے، تو اس نے مسلمانوں کے ان نئے نمائندوں کے شاندار لباس اور ان کے بھرے ہوئے جسموں کو دیکھ کر ایک تاریخی سوال اٹھایا۔ اس نے پوچھا کہ وہ پرانے مسلمان کہاں گئے جو کھجور کے پتوں کی چپلیں پہنتے تھے، اور جن کے پیٹ فاقوں کی وجہ سے پیٹھ سے لگے ہوتے تھے؟ جب اسے بتایا گیا کہ وہ صحابہ کرام کا دور تھا جو اب گزر چکا ہے، تو رتبیل نے ایک ایسی حقیقت بیان کی جو آج تک امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اس نے کہا کہ اگرچہ تمھاری صورتیں ان سے کہیں زیادہ شاندار ہیں، لیکن وہ تم سے زیادہ اپنے عہد کے پابند اور تم سے کئی گنا زیادہ طاقتور تھے۔ یہ کہہ کر اس نے خراج دینے سے انکار کر دیا اور تقریباً نصف صدی تک اسلامی ریاست سے آزاد رہا۔ اس تاریخی واقعے کی روشنی میں مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ یہ واضح کرتے ہیں کہ یہ وہ دور تھا جب مسلمانوں کے پاس دنیا کی ہر مادی نعمت موجود تھی۔ وہ قیصر و کسریٰ کے وارث بن چکے تھے، ان کے پاس ساز و سامان اور دولت کی کوئی کمی نہ تھی، لیکن اس کے باوجود وہ رعب اور دبدبہ جو بے سروسامان صحابہ کرام کے دور میں تھا، وہ اب باقی نہیں رہا تھا۔ اس فرق کی بنیاد کو واضح کرتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دنیاوی تاریخ دان اور فلسفی شاید اس تنزلی کو محض دیہاتی اور شہری زندگی کے فرق سے تعبیر کریں گے اور کہیں گے کہ پرتعیش زندگی انسان کو کمزور بنا دیتی ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ فرق ایمان کی گہرائی، نیت کے خلوص، اعلیٰ اخلاقیات اور اللہ اور اس کے رسول کی غیر مشروط اطاعت کا تھا۔ مسلمانوں کی حقیقی طاقت کبھی بھی ان کی کثرتِ تعداد، جدید ہتھیاروں، مال و دولت یا دنیاوی علوم پر مبنی نہیں تھی۔ ان کی اصل قوت ان کا ایمان اور عمل صالح تھا۔ اسی روحانی اور اخلاقی قوت کے بل بوتے پر انھوں نے دنیا کی سپر پاورز کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا تھا۔ جب تک مسلمانوں کے پاس یہ ایمانی سرمایہ موجود رہا، وہ قلیل تعداد اور بے سروسامانی کے باوجود طاقتور ترین لوگ تھے، لیکن جب یہ اخلاقی طاقت کمزور پڑی تو مادی وسائل کی فراوانی کے باوجود وہ بے وقعت ہوتے گئے۔ اس تناظر میں مولانا اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کی جدید فوج یا ہتھیار نہیں ہوتے، بلکہ اس کے پاکیزہ اخلاق اور دیانت دارانہ معاملات ہوتے ہیں۔ یہ وہ روحانی طاقت ہے جو مادی وسائل کی عدم موجودگی میں بھی اپنا لوہا منواتی ہے۔ مادی طاقت صرف گردنوں کو جھکا سکتی ہے، لیکن اخلاقی طاقت دلوں پر حکومت کرتی ہے۔ اگر اخلاقی طاقت موجود ہو تو مادی وسائل کی کمی پوری ہو جاتی ہے، لیکن دنیا بھر کے خزانے مل کر بھی اخلاقی زوال کی کمی کو پورا نہیں کر سکتے۔ اس تصور کو مزید واضح کرنے کے لیے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عمارت کی نہایت خوبصورت اور جامع مثال پیش کی ہے۔ کسی بھی عمارت کی مضبوطی اور پائیداری اس کے بیرونی رنگ و روغن، اس کی خوبصورت نقاشی یا اس میں موجود قیمتی ساز و سامان سے نہیں ہوتی۔ اگر ایک عمارت کی بنیادیں ہی کمزور ہوں، اس کی دیواریں اندر سے کھوکھلی ہوں اور اس کے ستونوں کو دیمک لگ چکا ہو، تو اس کی کوئی بھی ظاہری خوبصورتی اسے گرنے سے نہیں بچا سکتی۔ انسان کی نظر صرف ظاہری سجاوٹ پر پڑتی ہے، لیکن زمانے کے حوادث عمارت کی ظاہری خوبصورتی کو نہیں دیکھتے، بلکہ وہ اس کی بنیادوں کی پختگی کا امتحان لیتے ہیں۔ اگر بنیادیں مضبوط ہوں تو عمارت حوادث کا مقابلہ کر لیتی ہے، بصورت دیگر وہ ملبے کا ڈھیر بن جاتی ہے۔ بالکل یہی حال اقوام کی زندگی کا ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کسی قوم کو زندہ، طاقتور اور سربلند بنانے والی چیز اس کے شاندار محلات، فیشن ایبل لباس یا جدید کارخانے نہیں ہوتے، بلکہ وہ بنیادی اصول ہوتے ہیں جن پر اس قوم کی تہذیب کھڑی ہوتی ہے۔ جب یہ اصول قوم کے دلوں میں راسخ ہو جاتے ہیں اور ان کی عملی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں، تب جا کر ایک ناقابلِ شکست قوت جنم لیتی ہے۔ اصولوں کی سچائی، ان پر غیر متزلزل ایمان اور عملی زندگی میں ان کی مکمل فرماں روائی کسی بھی قوم کی حیات میں بنیادوں کا کردار ادا کرتی ہے۔ اگر یہ چیزیں کسی قوم میں موجود ہوں، تو وہ قوم خواہ جھونپڑیوں میں رہتی ہو، پھر بھی وہ دنیا پر غالب آ کر رہے گی۔ قرآن مجید کے دلائل کی روشنی میں سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ اسلام کا دین ایک ایسی اٹل فطرت پر مبنی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ یہ دینِ قیم ہے جو انسان کی دنیاوی اور اخروی زندگیوں کو درست سمت میں لے جاتا ہے۔ قرآن پاک بار بار اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ اگر مسلمان سچے مومن بن جائیں اور نیک اعمال پر کاربند رہیں، تو زمین کی خلافت اور حکمرانی انہی کو عطا کی جائے گی۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو بظاہر تو اسلام کے دعویدار ہیں، لیکن ایمان ان کے دلوں میں نہیں اترا، ان کی حیثیت لکڑی کے ان سوکھے ٹکڑوں جیسی ہے جو اندر سے بے جان ہوں۔ ایسے منافقین دیکھنے میں تو بہت شاندار لگتے ہیں اور ان کی باتیں بھی بڑی دلکش معلوم ہوتی ہیں، لیکن وہ کھوکھلے ہوتے ہیں۔ وہ اللہ سے ڈرنے کے بجائے مادی طاقتوں سے ڈرتے ہیں۔ ان کے اعمال سراب کی طرح ہوتے ہیں، جو دور سے تو پانی معلوم ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ریت ہوتے ہیں۔ مولانا فرماتے ہیں کہ ایسی کھوکھلی قوم کو کبھی بھی وہ اجتماعی قوت اور وحدت نصیب نہیں ہو سکتی جو سچے مومنوں کا خاصہ ہے۔ ان کے دل آپس میں پھٹے ہوتے ہیں اور وہ کبھی خلوصِ نیت کے ساتھ مل کر کوئی کام نہیں کر سکتے۔ قرآن نے واضح کر دیا ہے کہ مسلمانوں کی ترقی اور ان کا دنیا پر غلبہ صرف اور صرف ایمان اور عمل صالح سے مشروط ہے۔ اس بات کی گہرائی کو سمجھاتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ ایک نہایت اہم نکتہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان کا اصل وجود اور اس کی پہچان صرف اسلام کی بدولت ہے۔ اگر ایک شخص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر مکمل ایمان رکھتا ہے تو وہ سچا مسلمان ہے۔ لیکن اگر وہ دنیا بھر کی ڈگریاں حاصل کر لے، اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جائے، مگر اس کے دل میں حقیقی ایمان نہ ہو اور اس کے اعمال اسلامی تعلیمات سے خالی ہوں، تو وہ ایک کامیاب دنیا دار تو بن سکتا ہے، لیکن طاقتور مسلمان نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسلام دنیاوی تعلیم یا مادی ترقی کا مخالف ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ صراحت سے بیان کرتے ہیں کہ اسلام میں مادی ترقی، جدید علوم اور ٹیکنالوجی کی اپنی اہمیت ہے، لیکن ایک مسلمان کے لیے یہ چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ بنیادی اور اولین چیز ایمان کی مضبوطی ہے۔ جب ایمان کی بنیاد مستحکم ہو، تو اس پر کھڑی کی جانے والی مادی ترقی یقیناً فائدہ مند ثابت ہوگی۔ لیکن اگر بنیاد کمزور ہو، قوم کا اخلاق تباہ ہو چکا ہو اور دیانت داری ختم ہو گئی ہو، تو جدید تعلیم اور مادی وسائل کی فراوانی قوم کو زوال سے نہیں بچا سکتی۔ ایسی صورتحال میں قوم بین الاقوامی سطح پر اپنا وقار کھو دیتی ہے اور دوسری طاقتیں اس پر غالب آ جاتی ہیں۔ آخر میں اس پوری بحث کو سمیٹتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ قرآن حکیم کے اس دعوے کی حکمت بیان کرتے ہیں کہ مسلمان صرف ایمان کی بنیاد پر کیسے بڑی بڑی مادی طاقتوں کو شکست دے سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مادی اور جھوٹے سہاروں کی مثال مکڑی کے جالے سے دی ہے۔ جو لوگ صرف دنیاوی اسباب اور ظاہری طاقتوں پر بھروسا کرتے ہیں، ان کا سہارا مکڑی کے جالے کی طرح نہایت کمزور ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جو انسان طاغوتی طاقتوں سے بے نیاز ہو کر صرف ایک اللہ کی ذات پر بھروسا کرتا ہے، وہ اس مضبوط رسی کو تھام لیتا ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں۔ مولانا اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ جب ایک سچا مومن میدانِ عمل میں اترتا ہے اور حق کے لیے کھڑا ہوتا ہے، تو اللہ کی لامتناہی طاقت اس کے شامل حال ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مومن نکلتے ہیں تو کافروں کے دلوں میں ان کا ایسا رعب اور ہیبت بیٹھ جاتی ہے جس کی کوئی مادی توجیہہ پیش نہیں کی جا سکتی۔ مومن کی طاقت کا اصل راز یہ ہے کہ وہ اللہ کے لیے کام کرتا ہے، اور اس کا نگہبان خود رب ذوالجلال ہوتا ہے، اور یہی امتِ مسلمہ کی حقیقی طاقت کا دائمی اور سب سے بڑا راز ہے۔
