کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کی تخلیق اور اس کائنات کا نظام کسی حادثے کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے ایک عظیم و برتر ہستی کی حکمت اور منصوبہ بندی کارفرما ہے۔ ’بناؤ اور بگاڑ‘ کے عنوان سے تحریر کردہ اس شاہکار مضمون میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے تاریخِ انسانی اور اقوام کے عروج و زوال کے اُس اٹل خدائی قانون کی وضاحت کی ہے جو کائنات کے نظام کو چلا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور کی نعمت سے نوازا اور پھر اس کی ہدایت کے لیے انبیاء کرام کا سلسلہ جاری کیا تاکہ انسان کو جینے کا ڈھنگ سکھایا جا سکے۔ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے جہاں کوئی چوپٹ راجا حکمرانی کر رہا ہو، بلکہ یہ ایک منظم سلطنت ہے جو ایک حکیم اور دانا بادشاہ کے زیرِ انتظام ہے۔ جس طرح کائنات کے طبعی قوانین یعنی سورج، چاند، ستارے، ہوا اور پانی ایک مقررہ ضابطے کے پابند ہیں، اور جس طرح انسانی جسم کا نظامِ تنفس اور دورانِ خون ایک طے شدہ قانون کے تحت کام کرتا ہے، بالکل اسی طرح انسانی تاریخ، قوموں کی ترقی و تنزلی اور ان کی تقدیروں کے فیصلے بھی ایک مستقل اور غیر متزلزل قانون کے تحت ہوتے ہیں۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس نکتے کو واضح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قانون میں کسی کی بھی جانب داری یا رعایت نہیں برتی جاتی۔ جس طرح آگ کا کام جلانا ہے اور وہ کسی کے لیے ٹھنڈی نہیں ہو سکتی، اسی طرح برے اعمال کا نتیجہ زوال اور اچھے اعمال کا نتیجہ عروج ہے۔ اس کائناتی نظام کا سب سے بنیادی اور اہم اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ’بناؤ‘ پسند ہے اور ’بگاڑ‘ ناپسند ہے۔ کائنات کا مالک ہونے کی حیثیت سے خالقِ حقیقی کی یہ منشا ہے کہ اس کی زمین کو سنوارا جائے، اس کے وسائل کو بہترین طریقے سے استعمال کیا جائے اور دنیا کے نظام کو عدل و انصاف اور خوبصورتی کے ساتھ چلایا جائے۔ وہ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ اس کی زمین پر فساد پھیلایا جائے، ظلم و ستم کا بازار گرم ہو یا انسانی صلاحیتوں کو تخریبی کاموں میں ضائع کیا جائے۔ لہٰذا، دنیا میں حکمرانی اور انتظام کا اختیار صرف ان لوگوں کو سونپا جاتا ہے جن کے اندر ’بنانے‘ کی صلاحیت دوسروں سے زیادہ ہوتی ہے۔ جب تک کوئی قوم دنیا کو سنوارنے اور بہتر بنانے کا فریضہ انجام دیتی رہتی ہے، اور اس کا بناؤ اس کے بگاڑ سے زیادہ ہوتا ہے، تب تک اقتدار اس کے پاس رہتا ہے۔ لیکن جب وہ قوم تعمیر کے بجائے تخریب کی راہ اختیار کرتی ہے تو اسے ہٹا کر کسی دوسری قوم کو موقع دیا جاتا ہے۔ اس فلسفے کو ایک انتہائی سادہ اور عام فہم مثال سے سمجھاتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک باغ اور مالی کا خاکہ پیش کیا ہے۔ اگر آپ کا ایک باغ ہو اور آپ اس کے لیے ایک مالی مقرر کریں، تو آپ کی اولین خواہش یہی ہوگی کہ وہ مالی باغ کی دیکھ بھال کرے، پودوں کو پانی دے، جڑی بوٹیوں کی صفائی کرے اور باغ کے حسن اور پیداوار میں اضافہ کرے۔ اگر مالی محنتی اور فرض شناس ہے تو مالک اس سے خوش ہو گا اور اسے کبھی نہیں نکالے گا۔ لیکن اگر مالی نالائق اور کام چور ہو، باغ کو ویران کر دے، پھل دار درختوں کو کاٹے اور خاردار جھاڑیاں اگائے، تو کوئی بھی عقل مند مالک ایسے مالی کو برداشت نہیں کرے گا۔ چاہے وہ مالی کتنی ہی منت سماجت کرے یا یہ دعویٰ کرے کہ میرے باپ دادا بھی اسی باغ کے مالی تھے، مالک اسے کان پکڑ کر نکال باہر کرے گا۔ یہ ایک فطری ردعمل ہے جو ہر انسان کے اندر موجود ہے۔ مولانا نے اسی مثال کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے قانونِ حکمرانی پر کیا ہے۔ دنیا کی مختلف قومیں اکثر یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ فلاں زمین یا ملک پر ان کا آبائی اور پیدائشی حق ہے کیونکہ وہ پشت ہا پشت سے وہاں آباد ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک قوموں کا یہ استدلال بے معنی ہے۔ زمین اللہ کی ہے اور وہ یہ دیکھتا ہے کہ کون سی قوم اس زمین کے انتظام کو بہتر انداز میں چلا رہی ہے۔ مالک اور مالی کے نقطہ نظر میں یہی بنیادی فرق ہے۔ مالی سمجھتا ہے کہ اس کی خدمت اور باغ پر قبضہ اس کا حق ہے، جبکہ مالک صرف ’حسنِ انتظام‘ دیکھتا ہے۔ اگر کوئی قوم اپنی سرزمین پر خیر پھیلا رہی ہے، تعمیر و ترقی کر رہی ہے اور انسانیت کی فلاح کے کاموں میں مشغول ہے، تو قدرت اسے حکمرانی کا حق دیتی ہے۔ لیکن جب وہ قوم نااہل ہو جائے، زمین میں فساد پھیلائے اور اللہ کے وسائل کو برباد کرنے لگے، تو اللہ اسے تنبیہ کرتا ہے۔ اگر وہ پھر بھی باز نہ آئے تو اسے معزول کر کے کسی اور گروہ کو اقتدار سونپ دیا جاتا ہے جو نسبتاً بہتر انتظام کی صلاحیت رکھتا ہو۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس اصول کی تائید میں ہندوستان کی تاریخ سے ٹھوس شواہد پیش کیے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ہندوستان کے قدیم باشندے اپنی تخلیقی اور تعمیری صلاحیتیں کھو بیٹھے، تو اللہ تعالیٰ نے آریہ قوم کو اس ملک کا انتظام سونپ دیا۔ آریہ جب یہاں آئے تو وہ اپنے دور کی دیگر قوموں کے مقابلے میں بہتر صلاحیتوں کے مالک تھے۔ انہوں نے علوم و فنون کو فروغ دیا، زراعت اور صنعت میں ترقی کی اور ایک شاندار تہذیب کی بنیاد رکھی۔ جب تک ان کا تعمیری پہلو غالب رہا، وہ حکمران رہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں بھی بگاڑ پیدا ہو گیا۔ انہوں نے انسانوں کو ذات پات کے ظالمانہ نظام میں تقسیم کر دیا، علم کو مخصوص طبقے تک محدود کر دیا اور عوام پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔ اس اخلاقی اور سماجی بگاڑ کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ نے ان سے حکمرانی چھین لی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے وسطی ایشیا کی ان قوموں کو موقع دیا جو اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہو کر نئی صلاحیتوں اور ایک بہتر نظامِ زندگی کی علمبردار بن چکی تھیں۔ یہ مسلمان حکمران ہندوستان میں آئے اور انہوں نے یہاں کی تہذیب و تمدن کو نئی بلندیوں سے روشناس کرایا۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول، مسلمانوں نے اگرچہ کچھ بگاڑ بھی پیدا کیا، لیکن ان کا ’بناؤ‘ ان کے ’بگاڑ‘ سے کہیں زیادہ تھا۔ انہوں نے عدل و انصاف کا نظام قائم کیا، علم کی روشنی پھیلائی، اور مقامی آبادی کے بڑے حصے کو اپنے حسنِ اخلاق اور مساوات کے نظام سے متاثر کیا۔ صدیوں تک ہندوستان میں امن اور خوشحالی کا دور دورہ رہا کیونکہ حکمران طبقہ تعمیر کی صلاحیت رکھتا تھا۔ تاہم، قدرت کا قانون کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرتا۔ ایک طویل عرصہ حکمرانی کرنے کے بعد مسلمان بھی اسی زوال کا شکار ہو گئے جس کا شکار ان سے پہلے کی قومیں ہوئی تھیں۔ ان کے اندر سے بھی تعمیری صلاحیتیں ختم ہو گئیں اور بگاڑ کے رجحانات بڑھ گئے۔ عیش پرستی، تن آسانی اور اخلاقی پستی نے انہیں گھیر لیا۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں مسلمانوں کے آخری دورِ زوال کی ایک دردناک تصویر کشی کی ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ قوم کے اندر حب الوطنی اور دینی غیرت ختم ہو گئی اور وہ محض ذاتی مفادات کے غلام بن گئے۔ لوگ چند سکوں کی خاطر اپنی خدمات کسی بھی خریدار کو بیچنے کے لیے تیار ہو گئے۔ مصنف نے مرزا غالب کے اس شعر کا حوالہ دیا ہے کہ "سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری"، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں سپاہی بننا محض ایک ذریعہ معاش رہ گیا تھا، چاہے وہ تلوار اپنی ہی قوم یا ملک کے خلاف کیوں نہ استعمال ہو رہی ہو۔ جب اخلاقی گراوٹ اس سطح پر پہنچ گئی کہ حکمران اپنی ذمہ داریوں سے غافل اور عوام اپنی غیرت سے عاری ہو گئے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی معزولی کا فیصلہ بھی صادر کر دیا۔ اس موقع پر ہندوستان کے اقتدار کے لیے چار امیدوار میدان میں تھے: مرہٹے، سکھ، انگریز اور کچھ مسلمان رئیس۔ مولانا نے غیر جانبدارانہ تاریخی تجزیہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس وقت انگریزوں کے علاوہ باقی تمام امیدواروں میں بگاڑ کی قوتیں زیادہ اور بناؤ کی صلاحیتیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ مرہٹے اور سکھ اس وقت صرف لوٹ مار اور تباہی پھیلانے کے ماہر تھے، ان کے پاس کوئی منظم نظامِ حکومت یا تعمیری پروگرام نہیں تھا۔ دوسری طرف انگریزوں میں اگرچہ ہزار برائیاں تھیں، لیکن اپنے ہم عصر حریفوں کے مقابلے میں ان کے اندر نظم و ضبط، جدید علوم، اور انتظام چلانے کی صلاحیت بدرجہا بہتر تھی۔ ان کا ’بناؤ‘ باقی سب کے ’بگاڑ‘ پر بھاری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے قانونِ انتخاب نے انگریزوں کے حق میں فیصلہ دیا اور ہندوستان کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں دے دی۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ تجزیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ قوموں کی زندگی اور موت کا انحصار محض دعووں یا ماضی کے کارناموں پر نہیں ہوتا، بلکہ حال کی کارکردگی پر ہوتا ہے۔ اللہ کا قانون بالکل واضح ہے: جو قوم دنیا میں امن، ترقی، اور تعمیر کا باعث بنے گی، اسے رہنے کا حق دیا جائے گا، اور جو قوم دھرتی کا بوجھ بن جائے گی اور جس کے وجود سے خیر کے بجائے شر پھیلے گا، اسے مٹا دیا جائے گا۔ یہ ایک ایسا تاریخی سبق ہے جو آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا صدیوں پہلے تھا۔ یہ تحریر ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں اور دیکھیں کہ بحیثیت قوم ہم دنیا میں ’بناؤ‘ کا سبب بن رہے ہیں یا ’بگاڑ‘ کا۔ کیونکہ قدرت کا فیصلہ ہمارے اعمال اور ہماری صلاحیتوں پر منحصر ہے، نہ کہ ہمارے ناموں یا ہمارے آباؤ اجداد کی نسبتوں پر۔
