کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیر نظر تحریر میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اسلام کے ایک انتہائی اہم اور بنیادی ستون، یعنی جہاد کے حقیقی تصور، اس کے مقاصد اور اس حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیوں کا انتہائی گہرا اور واقعاتی تجزیہ پیش کیا ہے۔ دور حاضر میں لفظ ’’جہاد‘‘ کا ترجمہ عموماً انگریزی زبان میں مقدس جنگ (Holy War) کیا جاتا ہے، اور مغربی مفکرین اور مستشرقین نے دانستہ طور پر اس کی تشریح اس قدر بھیانک انداز میں کی ہے کہ یہ لفظ سنتے ہی ذہنوں میں خونی اور مذہبی جنونیت کا تصور ابھرنے لگتا ہے۔ مغربی پروپیگنڈے نے مسلمانوں کی ایسی تصویر کشی کی ہے کہ گویا وہ ننگی تلواریں لیے، خونخوار آنکھوں کے ساتھ محض کفر کے خاتمے اور زبردستی کلمہ پڑھوانے کے درپے ہیں۔ مولانا واضح کرتے ہیں کہ یہ تصویر کشی دراصل ان مغربی طاقتوں کی ایک سوچی سمجھی سازش اور سیاسی چال ہے جو خود صدیوں سے دنیا بھر میں ایک انتہائی غیر مقدس جنگ کے تسلسل میں مصروف ہیں۔ ان مغربی اقوام کا اصل چہرہ یہ ہے کہ وہ اقتدار، دولت اور وسائل کی ہوس میں اندھے ہو کر پوری دنیا پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں۔ ان کی جنگ کا مقصد خدا کی رضا یا انسانیت کی فلاح نہیں بلکہ تجارتی منڈیوں پر قبضہ، خام مال کا حصول، نوآبادیاں قائم کرنا اور کمزور اقوام کے وسائل کو لوٹنا ہے۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم پر حملہ کرنے کا جواز صرف یہ ہوتا ہے کہ وہاں معدنیات، تیل یا ان کے مفاد کی کوئی اور شے موجود ہے۔ ان سامراجی طاقتوں نے ایشیا، افریقہ اور دنیا کے دیگر خطوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا، لیکن کمال مکاری سے مسلمانوں کی تصویر اتنی خوفناک بنا کر پیش کی کہ ان کے اپنے سیاہ کارنامے اس کے پیچھے چھپ گئے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی سادہ لوحی کا عالم یہ رہا کہ وہ غیروں کی بنائی ہوئی اس من گھڑت تصویر سے مرعوب اور دہشت زدہ ہو گئے اور معذرت خواہانہ رویہ اختیار کر لیا۔ مسلمانوں نے یہ صفائیاں دینا شروع کر دیں کہ اسلام کا تلوار سے کوئی واسطہ نہیں، وہ تو محض امن کے داعی ہیں اور جہاد صرف اور صرف اپنے دفاع کا نام ہے، یا پھر اب جہاد محض زبان اور قلم تک محدود ہو چکا ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ خالص علمی بنیادوں پر اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جہاد کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی دو بڑی اور بنیادی غلط فہمیاں ہیں۔ پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ اسلام کو مروجہ معنوں میں محض ایک ’’مذہب‘‘ سمجھ لیا گیا ہے، اور دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ مسلمانوں کو موجودہ دور کی اصطلاح کے مطابق محض ایک روایتی ’’قوم‘‘ تصور کر لیا گیا ہے۔ ان دو بنیادی غلط فہمیوں نے اسلام کے پورے نقشے اور مسلمانوں کی اصل حیثیت کو مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ عام اصطلاح میں ’’مذہب‘‘ محض چند انفرادی عقائد، عبادات اور رسوم و رواج کے مجموعے کا نام ہے، جس کا تعلق انسان کے نجی اور انفرادی معاملات سے ہوتا ہے۔ اگر اسلام محض ایک ایسا ہی مذہب ہے، تو پھر واقعی تلوار اٹھانے یا جہاد کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا، کیونکہ عقائد کی ترویج تو محض تبلیغ اور مناظرے سے بھی کی جا سکتی ہے اور کسی کو زبردستی ہم عقیدہ بنانا کوئی منطق نہیں رکھتا۔ اسی طرح، اگر مسلمانوں کو محض ایک متجانس قوم مان لیا جائے جو چند مشترکات کی بنا پر اکٹھی ہوئی ہو، تو ایک قوم کے جنگ کرنے کے صرف دو ہی مقاصد ہو سکتے ہیں: یا تو وہ اپنے حقوق کے دفاع کے لیے لڑے گی، یا پھر دوسروں کے حقوق غصب کرنے کے لیے حملہ آور ہوگی۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر اسلام محض ایک مذہب اور مسلمان محض ایک قوم ہیں، تو جہاد کی وہ تمام تر معنویت اور فضیلت جو اسے اسلام میں افضل العبادات بناتی ہے، سرے سے ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسلام کسی روایتی مذہب کا اور مسلمان کسی روایتی قوم کا نام نہیں ہے۔ درحقیقت، اسلام ایک ہمہ گیر اور انقلابی نظریہ و مسلک ہے، جس کا مقصد پوری دنیا کے فرسودہ اجتماعی اور سماجی نظام کو بدل کر اسے اپنے عادلانہ نظریے کے مطابق ازسرنو تعمیر کرنا ہے۔ اور مسلمان اس بین الاقوامی انقلابی جماعت کا نام ہے جسے اسلام اس عظیم انقلابی پروگرام کو نافذ کرنے کے لیے منظم کرتا ہے۔ اس انقلابی اور بین الاقوامی جماعت کی اس جدوجہد اور اپنی تمام تر جسمانی، ذہنی اور مالی طاقتوں کو اس مقصد کے حصول کے لیے صرف کر دینے کا نام ’’جہاد‘‘ ہے۔ مولانا اس نکتے کی وضاحت کرتے ہیں کہ دنیا کے دیگر انقلابی مسالک کی طرح اسلام کی بھی اپنی ایک مخصوص اصطلاحی زبان ہے جو اس کے تصورات کو عام نظریات سے ممتاز کرتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے جنگ و جدل کے لیے مستعمل عام عربی الفاظ جیسے کہ ’حرب‘ کو قصداً ترک کر دیا اور ان کی جگہ ’’جہاد‘‘ کا لفظ استعمال کیا، جس کا مطلب کسی اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دینا اور انتہائی کوشش کرنا ہے۔ پرانے الفاظ کو اس لیے ترک کیا گیا کیونکہ جنگ کا تصور ہمیشہ ان لڑائیوں سے وابستہ رہا ہے جو قوموں، سلطنتوں یا افراد کی ذاتی، نفسانی اور قومی مفادات کے لیے لڑی جاتی ہیں۔ اسلام کی جنگ کسی قومی مفاد کے حصول، کسی دوسری قوم کے نقصان، یا زمین پر محض قبضہ جمانے کے لیے نہیں ہوتی۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اسلام کی دلچسپی کا واحد مرکز انسانیت کی فلاح و بہبود ہے۔ اسلام اپنے اس نظریے اور مسلک کے خلاف قائم ہر اس نظام اور حکومت کو مٹانا چاہتا ہے جو انسانیت کی فلاح کی راہ میں رکاوٹ ہو، قطع نظر اس کے کہ وہ حکومت کس قوم یا ملک کی ہے۔ اسلام زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ پوری زمین کا نظام اس لیے مانگتا ہے تاکہ نوع انسانی کو وہ فلاحی پروگرام فراہم کیا جا سکے جس کا نام اسلام ہے۔ اس مقصد کے لیے زبان و قلم سے ذہنی انقلاب برپا کرنا، مال خرچ کرنا، اور پرانے ظالمانہ نظام کو بدلنے کے لیے عملی اور جسمانی جدوجہد کرنا، یہ سب جہاد کے دائرے میں آتے ہیں۔ تاہم، اسلام کا جہاد محض طاقت کا استعمال نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ ’’فی سبیل اللہ‘‘ یعنی اللہ کی راہ میں ہونے کی شرط ایک انتہائی لازمی اور بنیادی جزو کے طور پر شامل ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہیں کہ فی سبیل اللہ کا مطلب لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانا ہے۔ اسلام کی مخصوص اصطلاح میں اس کا مفہوم انتہائی وسیع اور پاکیزہ ہے۔ ہر وہ کام جو اجتماعی فلاح کے لیے کیا جائے اور جس کا مقصد کوئی دنیاوی مفاد، شہرت یا مال و دولت کا حصول نہ ہو بلکہ محض اللہ کی خوشنودی ہو، وہ فی سبیل اللہ کہلاتا ہے۔ جہاد کے ساتھ اس قید کا مقصد یہ ہے کہ جب کوئی شخص یا گروہ نظام زندگی میں انقلاب لانے کے لیے اٹھے، تو اس کی قربانیوں میں کسی ذاتی منفعت کی ملاوٹ نہ ہو۔ اس کا مقصد یہ نہ ہو کہ وہ ایک ظالم حکمران یا قیصر کو ہٹا کر خود اس کی جگہ مسندِ اقتدار پر بیٹھ جائے۔ اس کی تمام تر تگ و دو اور قربانیوں کا واحد اور خالص مقصد بندگانِ خدا کے درمیان عدل و انصاف پر مبنی نظام کا قیام ہو اور اس کے بدلے میں اسے سوائے خدا کی رضا کے کچھ اور مطلوب نہ ہو۔ قرآن مجید کی روشنی میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ واضح کرتے ہیں کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، جبکہ کافروں کی جنگ ’’طاغوت‘‘ کے لیے ہوتی ہے۔ طاغوت کا مطلب اپنی حد سے بڑھ جانا اور سرکشی اختیار کرنا ہے۔ جب کوئی انسان اپنی طاقت کے نشے میں دوسروں کا خدا بننے کی کوشش کرے اور ناجائز فوائد سمیٹے، تو یہ طاغوت کی راہ کی جنگ ہے۔ اس کے برعکس، راہِ خدا کی جنگ وہ ہے جس کا واحد مقصد دنیا میں اللہ کا قانونِ عدل قائم کرنا ہو، جہاں لڑنے والا خود بھی قانونِ الٰہی کا پابند ہو اور دوسروں کو بھی عدل کے سائے میں لے کر آئے۔ احادیث نبویؐ کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا اس بات کو مزید مبرہن کرتے ہیں کہ مال، شہرت، عداوت یا قومی حمیت کے لیے لڑی جانے والی کوئی بھی جنگ فی سبیل اللہ نہیں کہلا سکتی۔ اللہ کے ہاں صرف وہی عمل اور جدوجہد قابل قبول ہے جو خالصتاً اس کی رضا کے لیے ہو اور جس میں ذاتی یا جماعتی مفاد کا شائبہ تک نہ ہو۔ مسلمانوں کے انقلابی نظریات کی بنیاد ہی یہ ہے کہ وہ اپنی جان اور مال دنیا کی سرکش طاقتوں سے ٹکرانے میں صرف کر دیں، اس لیے نہیں کہ وہ خود حکمران بن جائیں، بلکہ اس لیے کہ زمین سے سرکشی، ظلم اور طغیان کا خاتمہ ہو اور خدا کا قانونِ عدل نافذ ہو۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اسلام کی اس عظیم دعوتِ انقلاب کا خلاصہ پیش کرتے ہیں جس کے لیے جہاد ناگزیر ہے۔ اسلام مزدوروں، زمینداروں یا کسی خاص طبقے کو نہیں، بلکہ بلاتفریق تمام انسانوں کو پکارتا ہے کہ وہ صرف اس ایک رب کی بندگی کریں جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اسلام کا مطالبہ ہے کہ انسانوں کی بندگی اور اطاعت کا طوق گردن سے اتار پھینکا جائے، اور اگر کسی کے اپنے اندر خدائی یا بالادستی کا زعم ہے تو اسے بھی مٹا دیا جائے، کیونکہ کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسروں کو اپنا غلام بنائے یا ان کا سر اپنے آگے جھکوائے۔ یہ ایک عالمگیر اور ہمہ گیر انقلاب کی دعوت ہے جو اعلان کرتی ہے کہ حاکمیت اور حکم کا اختیار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ انسانوں کو اپنا محکوم بنانا اور امر و نہی کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا دراصل خدا کے اقتدار میں شریک ہونے کا دعویٰ ہے، اور یہی دنیا میں ظلم، فساد اور استحصال کی اصل جڑ ہے۔ انسان کے گمراہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ خدا کو فراموش کرنا ہے، جس کے نتیجے میں وہ خود اپنی حقیقت بھی بھول جاتا ہے۔ اسی خدا فراموشی کے سبب کچھ افراد، خاندان یا طبقات حاکمیت کا دعویٰ لے کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، اور عوام کی اکثریت اپنی خود فراموشی کی بنا پر ان کی طاقتور خداوندی کو تسلیم کر کے ان کے احکامات کے آگے سر تسلیم خم کر دیتی ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ تحریر کے اختتام پر واضح کرتے ہیں کہ اسلام سب سے پہلی اور کاری ضرب اسی غیر عادلانہ نظام پر لگاتا ہے۔ وہ لوگوں کو خبردار کرتا ہے کہ حد سے بڑھنے والے ظالموں اور خواہشاتِ نفس کے غلاموں کی اطاعت ہرگز نہ کی جائے، کیونکہ وہ زمین میں اصلاح کے بجائے فساد پھیلاتے ہیں اور اللہ کے سیدھے راستے سے روکتے ہیں۔ اسلام انسانوں کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ متفرق اور جھوٹے خداؤں کی بندگی سے نکل کر ایک قہار اور جبار خدا کی بندگی میں آ جائیں، بصورت دیگر یہ جھوٹے اور چھوٹے خدا انہیں کبھی نجات نہیں دیں گے اور ان پر اپنا تسلط برقرار رکھ کر دنیا کو ظلم و جبر سے بھرتے رہیں گے۔ اسی عظیم ترین اور پاکیزہ ترین نصب العین کے حصول کے لیے اور اسی ظلم کے خاتمے کے لیے جو عالمگیر اور بے لوث جدوجہد کی جاتی ہے، اسلام کی پاکیزہ زبان میں اسی کو ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
