کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
قرآن مجید نوعِ انسانی کو جس بنیادی اور مرکزی مسلک کی جانب مدعو کرتا ہے، اس کا واضح ترین اعلان اس آیت میں موجود ہے کہ اللہ کے نزدیک سچا دین صرف اسلام ہے۔ اس نہایت اہم موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس آیت کا سیدھا سادہ مفہوم یہی لیا جاتا ہے کہ سچا مذہب صرف اسلام ہے۔ تاہم، اس مفہوم کے ساتھ ایک بہت بڑی اور عام غلط فہمی جڑی ہوئی ہے، اور وہ یہ ہے کہ لوگ بالعموم اسلام کو محض ایک ایسا مذہب تصور کرتے ہیں جس کا آغاز آج سے چودہ سو سال قبل سرزمینِ عرب میں ہوا تھا اور جس کی بنیاد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی۔ یہ طرزِ فکر اس قدر عام ہو چکا ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ ساتھ بہت سے پڑھے لکھے مسلمان بھی رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام کا بانی قرار دیتے ہیں۔ اس سطحی تصور کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب کوئی غیر مسلم قرآن کی اس آیت کو پڑھتا ہے، تو وہ اسے محض ایک روایتی دعویٰ سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے، کیونکہ دنیا کا ہر مذہب صرف اپنے ہی برحق ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ دوسری جانب، ایک عام مسلمان اس آیت کو پڑھ کر کسی گہرے غور و فکر کی ضرورت محسوس نہیں کرتا کیونکہ وہ پہلے ہی سے اسے برحق مانتا ہے، یا زیادہ سے زیادہ عیسائیت، یہودیت اور دیگر مذاہب کا تقابلی جائزہ لے کر اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرآن کا یہ مقام اس سے کہیں زیادہ گہرے اور سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے۔ اس دعوے کی اصل روح کو سمجھنے کے لیے مولانا قرآن کی دو بنیادی اصطلاحات یعنی "الدین" اور "الاسلام" کے مفہوم کو نہایت علمی استدلال کے ساتھ واضح کرتے ہیں۔ عربی زبان میں لفظ 'دین' غلبہ، اطاعت، اور جزا جیسے مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے، لیکن قرآن میں یہ لفظ طریقِ زندگی یا طرزِ فکر و عمل کے معنوں میں آیا ہے۔ یہاں یہ بات انتہائی قابلِ غور ہے کہ قرآن نے محض "دین" نہیں، بلکہ "الدین" کہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ اسلام زندگی گزارنے کے بہت سے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے، بلکہ اس کا دو ٹوک دعویٰ یہ ہے کہ اسلام ہی زندگی گزارنے کا واحد صحیح، حقیقی اور مستند طریقہ ہے۔ قرآن اس لفظ کو کسی تنگ دائرے میں قید نہیں کرتا۔ دین سے قرآن کی مراد زندگی کے کسی ایک پہلو، چند مخصوص عبادات، یا محض موت کے بعد کی زندگی کے تصورات کا مجموعہ نہیں ہے۔ یہ کسی ایک فرد کی ذاتی زندگی، کسی خاص قوم، یا کسی ایک خاص تاریخی دور کا نظام بھی نہیں ہے۔ اس کے برعکس، دین تمام زمانوں میں پوری نوعِ انسانی کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا ایک ہمہ گیر نظام ہے۔ مغرب کی جدید اصطلاح میں جسے مذہب کہا جاتا ہے، قرآن کا پیش کردہ دین اس محدود تصور سے یکسر مختلف اور بلند ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو انسانی تمدن، معاشرت، سیاست اور ریاست کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ دین کا تعلق صرف بندے اور خدا کے انفرادی رشتے تک محدود ہے، تو یہ قرآن کی سراسر غلط تشریح ہوگی، جس کا قرآنی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ دین کے اس جامع تصور کو واضح کرنے کے بعد سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ لفظ "الاسلام" کی تشریح کی جانب قدم بڑھاتے ہیں۔ لغوی اعتبار سے اس کے معنی جھک جانے اور خود کو حوالے کر دینے کے ہیں۔ لیکن قرآن کی مخصوص اصطلاح میں اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان مکمل شعور اور ارادے کے ساتھ خدائے بزرگ و برتر کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے، اس کی غیر مشروط اطاعت قبول کرے، اور اپنی مادر پدر آزادی و آوارگیِ فکر سے دستبردار ہو کر خود کو مکمل طور پر خدا کی مرضی کے سپرد کر دے۔ اس سپردگی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان محض قانونِ فطرت کے سامنے جھک جائے، اور نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان اپنے ناقص تخیل کی بنیاد پر خدا کی مرضی کا کوئی خود ساختہ خاکہ تیار کر لے۔ بلکہ، اسلام کا خالص مفہوم یہ ہے کہ خدا نے انسان کی رہنمائی کے لیے اپنے رسولوں کے ذریعے سے فکر و عمل کا جو سیدھا راستہ متعین کیا ہے، انسان اسے بلا چون و چرا قبول کر لے۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام کوئی نیا مذہب نہیں جو جزیرہ نما عرب میں وجود میں آیا ہو۔ درحقیقت، جس دن اس روئے زمین پر پہلے انسان نے قدم رکھا تھا، اسی دن خالقِ کائنات نے اسے بتا دیا تھا کہ اس کے لیے زندگی گزارنے کا واحد صحیح طریقہ یہی "الاسلام" ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں خدا نے جتنے بھی پیغمبر بھیجے، ان سب کی دعوت بلا استثنا اسی ایک اسلام کی طرف تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی اپنی قوموں کو اسی خالص دین کی تعلیم دی تھی۔ یہ الگ المیہ ہے کہ ان انبیاء کے گزر جانے کے بعد ان کے پیروکاروں نے ان کی خالص تعلیمات میں اپنی طرف سے خرافات اور رسم و رواج کی آمیزش کر کے یہودیت اور مسیحیت جیسے مختلف ناموں سے نئے اور مخلوط نظام بنا لیے۔ قرآن کے اس آفاقی دعوے کی حقانیت پر بات کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ ایک نہایت شاندار اور منطقی تقابل پیش کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ انسان اس کائنات میں موجود دیگر اشیاء کی طرح نہیں ہے۔ ایک دریا اپنا راستہ زمین کی ساخت کے تحت خود بخود بنا لیتا ہے اور ایک جانور کی زندگی کا دارومدار صرف اس کی جبلت پر ہوتا ہے جو اس کی رہنمائی کے لیے کافی ہوتی ہے۔ لیکن انسان کی حیثیت ان سب سے یکسر مختلف اور بلند تر ہے۔ اگرچہ انسان اپنی جسمانی زندگی کے ایک حصے میں طبعی قوانین کا پابند ہے، لیکن اس کی زندگی کے بے شمار پہلو ایسے ہیں جہاں فطرت اسے کوئی بنا بنایا راستہ فراہم نہیں کرتی کہ وہ حیوانات کی طرح بے ارادہ اس پر چلتا رہے۔ انسان کو عقل اور شعور عطا کیا گیا ہے۔ وہ کائنات اور اپنی ذات کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے، اور فطرت ان سوالات کے جوابات کسی واضح زبان میں نہیں دیتی۔ اس لیے انسان کو علم اور فکر کا ایک ایسا منظم راستہ درکار ہے جو اس کی ذہنی الجھنوں کو سلجھا سکے۔ اسے اپنے ذاتی برتاؤ، خاندانی معاملات، معاشرتی تعلقات، معاشی لین دین، ملکی انتظام، اور بین الاقوامی تعلقات کو سنوارنے کے لیے ایک ہمہ گیر اور جامع رہنمائی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ انسان محض ایک فرد نہیں، بلکہ نوعِ انسانی کا حصہ ہے۔ فطرت نے اس کے اندر مقاصد کے حصول کی تڑپ تو رکھی ہے، لیکن ان تک پہنچنے کا حتمی طریقہ متعین نہیں کیا، لہٰذا اسے اپنے ارادے سے ایک ایسا راستہ چننا پڑتا ہے جو اسے منزل تک لے جائے۔ انسانی زندگی کی اس پیچیدگی کے تناظر میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس تصور کی شدید تردید کرتے ہیں کہ زندگی کو مختلف اور آزاد خانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبے، جیسے مذہب، سیاست، معیشت، اور معاشرت، کوئی الگ محکمے نہیں ہیں جو ایک دوسرے سے بے نیاز ہو کر چل سکیں۔ یہ ہرگز ممکن نہیں کہ انسان اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے لیے الگ الگ راستے، متضاد اصول، اور مختلف منزلیں اختیار کر لے۔ انسانی زندگی ایک مکمل اکائی ہے جس کا ہر جزو دوسرے جزو کے ساتھ گہرے ربط میں بندھا ہوا ہے۔ ایک پہلو لازماً دوسرے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایک ہی روح اس پورے نظام میں سرایت کیے ہوئے ہے۔ انسان کو درحقیقت بے شمار متضاد مقاصد نہیں، بلکہ ایک ایسا واحد اور جامع مقصدِ حیات درکار ہے جس کے تحت زندگی کے باقی تمام مقاصد ہم آہنگی کے ساتھ اپنی جگہ لے سکیں۔ اسے علم، اخلاق، مذہب، معیشت، اور سیاست کے لیے بکھرے ہوئے نظریات کی نہیں، بلکہ ایک ایسے واحد غالب نظام کی ضرورت ہے جو ان سب کو یکساں اصولوں کے تحت منظم کر سکے۔ وہ نظریہ انتہائی جاہلانہ ہے جو زندگی کو مذہب اور دنیا کے خانوں میں بانٹتا ہے۔ جب کوئی غالب دین کسی معاشرے میں نافذ ہوتا ہے، تو وہ نمک کی کان کی طرح ہر اس چیز کو اپنے رنگ اور مزاج میں ڈھال لیتا ہے جو اس کے دائرہِ اثر میں آتی ہے۔ اس تفصیلی بحث کے بعد، مولانا ان جدید گمراہ کن نظریات کا محاسبہ کرتے ہیں جو نظامِ زندگی کو نسل، جغرافیے، یا زمانے کے حساب سے تقسیم کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ چونکہ دنیا میں مختلف نسلیں اور جغرافیائی خطے پائے جاتے ہیں، اس لیے ہر خطے کی قوم کا نظامِ زندگی الگ ہونا چاہیے۔ یہ ایک انتہائی سطحی سوچ ہے جو صرف ظاہری اختلافات پر رکی ہوئی ہے۔ اگر قومیت یا جغرافیے کی بنیاد پر نظام تبدیل ہونا ضروری ہے، تو پھر تو عورت اور مرد، اور حتیٰ کہ ایک ہی ماں باپ کے دو بچوں میں پائے جانے والے شدید اختلافات کی بنیاد پر ہر فرد کا نظامِ زندگی الگ ہونا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام تر نسلی اور جغرافیائی اختلافات کے باوجود، بنیادی طور پر تمام انسان بالکل یکساں ہیں۔ جن طبعی قوانین کے تحت ایک ایشیائی سانس لیتا ہے، انہی کے تحت ایک یورپی بھی زندہ ہے۔ انسان کا جسمانی نظام، اس کی نوعی خصوصیات، اور اس کے فطری مطالبات پوری دنیا میں ایک جیسے ہیں۔ جب انسان کی بنیادی ساخت اور تقاضے عالمگیر سطح پر یکساں ہیں، تو انسان کی فلاح کے لیے جو نظامِ زندگی مرتب کیا جائے گا، اسے بھی لازماً عالمگیر ہونا چاہیے۔ انسان کو بحیثیت انسان جس صحیح دین کی ضرورت ہے، وہ پوری نوعِ انسانی کے لیے ایک ہی ہو سکتا ہے۔ آخر میں، سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس جدید مغالطے کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکتے ہیں جو انسانی زندگی کی زمانی و تاریخی تقسیم پر مبنی ہے۔ ارتقاء کے نام پر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جو نظامِ زندگی ایک دور میں حق تھا، وہ حالات بدلنے کی وجہ سے دوسرے دور میں باطل ہو جاتا ہے۔ یہ دلیل اسی انسان کے حوالے سے دی جاتی ہے جس کی تاریخ کے تسلسل اور فطرت کی یکسانیت کو جدید مفکرین بھی تسلیم کرتے ہیں۔ انسان کی تاریخ کوئی ایسی چیز نہیں جسے کسی خاص تاریخ پر لکیر کھینچ کر اچانک دو متضاد حصوں میں تقسیم کیا جا سکے۔ زمان و مکان کی یہ مصنوعی حد بندیاں انسانی فطرت کے بنیادی مسائل کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔ حالات کی سطحی تبدیلیوں کی آڑ میں کسی بھی ایسے عالمگیر نظامِ حق کی نفی نہیں کی جا سکتی جو خالقِ کائنات نے انسان کی دائمی فطرت کے عین مطابق انسان کی مکمل رہنمائی کے لیے عطا کیا ہو۔ انسان کی حقیقی کامیابی صرف اسی سچے دین کی مکمل پیروی میں پوشیدہ ہے۔
