کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
پیشِ نظر کتاب ’’اسلام کا نظامِ حیات‘‘ دراصل اُن بصیرت افروز تقاریر کا مجموعہ ہے جو ریڈیو پاکستان لاہور سے نشر کی گئیں، جن میں اسلام کے اخلاقی اور سیاسی نظام کے بنیادی خدوخال کو نہایت واضح اور عقلی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس اہم دستاویز میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے انسانی فطرت، اخلاقیات کی آفاقیت اور اسلام کے تصورِ کائنات کو بنیاد بنا کر ایک جامع نظامِ زندگی پیش کیا ہے۔ کتاب کے مندرجات کا آغاز اس بنیادی حقیقت کے بیان سے ہوتا ہے کہ انسان کے اندر اخلاقی حس ایک فطری جوہر کے طور پر موجود ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ اگرچہ انفرادی طور پر لوگوں میں یہ حس کم یا زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن اجتماعی طور پر انسانیت کا ضمیر ہمیشہ بعض صفات کو اچھا اور بعض کو بُرا سمجھتا آیا ہے۔ تاریخ کے کسی دور میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ جھوٹ، ظلم، بدعہدی اور خیانت کو پسندیدہ قرار دیا گیا ہو، یا سچائی، انصاف، اور امانت داری کو بُرائی سمجھا گیا ہو۔ انسانی معاشرے نے ہمیشہ ہمدردی، رحم، فیاضی اور فراخ دلی کی قدر کی ہے، جبکہ خود غرضی، سنگ دلی اور تنگ نظری کو ہمیشہ حقارت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ اسی طرح صبر، تحمل اور شجاعت ہمیشہ قابلِ تعریف رہے ہیں، جب کہ بزدلی اور چھچھورے پن کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔ فاضل مصنف سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے انفرادی کردار کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی کے اصولوں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ انسانیت نے ہمیشہ اُس معاشرے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے جس میں نظم و ضبط، باہمی تعاون اور محبت کارفرما ہو، اور جہاں انصاف اور مساوات کا دور دورہ ہو۔ اس کے برعکس انتشار، نااتفاقی اور ظلم و زیادتی کو کبھی بھی اجتماعی زندگی کی خوبیوں میں شمار نہیں کیا گیا۔ جرائم جیسے کہ چوری، زنا، قتل اور ڈاکہ زنی ہمیشہ سے بُرے افعال مانے گئے ہیں، اور اخلاقی رذائل جیسے کہ غیبت، حسد اور تکبر کو کبھی نیکی کا مقام نہیں ملا۔ اس کے مقابلے میں والدین کی خدمت، پڑوسیوں سے حسنِ سلوک اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کو ہمیشہ نیکی سمجھا گیا ہے۔ مولانا اس نکتے کو اُجاگر کرتے ہیں کہ نیکی اور بدی کوئی چھپی ہوئی پہیلیاں نہیں ہیں جنہیں ڈھونڈنا پڑے، بلکہ یہ انسان کی جانی پہچانی حقیقتیں ہیں، جنہیں قرآن کی اصطلاح میں ’معروف‘ (یعنی جانی پہچانی بھلائی) اور ’منکر‘ (یعنی اجنبی اور ناپسندیدہ برائی) کہا جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے الہامی طور پر انسانی نفس کو ان کی پہچان ودیعت کر دی ہے۔ یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے جسے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی بحث کا محور بنایا ہے کہ جب اخلاقیات کی اچھائی اور برائی مسلمہ حقائق ہیں، تو پھر دنیا میں مختلف اخلاقی نظام کیوں پائے جاتے ہیں؟ ان میں اختلاف کی بنیاد کیا ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے وہ فرماتے ہیں کہ اصل اختلاف اخلاقی صفات کی فہرست میں نہیں، بلکہ ان صفات کو زندگی کے نظام میں سمونے کے طریقے، ان کے مقام کے تعین اور خیر و شر کے معیارات میں ہے۔ اور اس سے بھی گہری بات یہ ہے کہ یہ اختلاف دراصل کائنات کے تصور، انسان کی حیثیت اور زندگی کے مقصد کے بارے میں مختلف نظریات کا نتیجہ ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق، جب تک یہ طے نہ ہو کہ اس کائنات کا کوئی خدا ہے یا نہیں، اور اگر ہے تو انسان کا اس سے کیا تعلق ہے اور کیا انسان اپنی زندگی کے اعمال کے لیے اس کے سامنے جوابدہ ہے یا نہیں، تب تک کوئی بھی اخلاقی نظام اپنی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکتا۔ ان سوالات کا جواب ہی دراصل نظامِ زندگی اور اخلاقیات کی روح متعین کرتا ہے۔ اسلام ان بنیادی سوالات کا جو جواب دیتا ہے، اُسے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیا ہے۔ اسلام کا تصور یہ ہے کہ یہ کائنات ایک خدا کی تخلیق ہے جو اکیلا اس کا مالک اور حاکم ہے۔ وہ تمام عیبوں سے پاک اور ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ انسان کی حیثیت یہ ہے کہ وہ اس خدا کا بندہ ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے خالق کی اطاعت کرے۔ خدا نے انسان کی رہنمائی کے لیے انبیاء اور کتابیں بھیجی ہیں، اور انسان اپنی زندگی کے تمام اعمال کے لیے خدا کے سامنے جوابدہ ہے، جس کا حساب دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں ہونا ہے۔ دنیا کی زندگی دراصل ایک امتحان گاہ ہے جہاں انسان کی تمام صلاحیتوں اور معاملات کی جانچ ہو رہی ہے۔ یہ تصورِ کائنات و انسان ہی وہ بنیاد ہے جس پر اسلام کا اخلاقی نظام استوار ہوتا ہے۔ مولانا فرماتے ہیں کہ اس تصور کی روشنی میں اسلام نے انسانی زندگی کا جو مقصد متعین کیا ہے وہ ’’رضائے الٰہی‘‘ ہے۔ یہی وہ معیار ہے جس پر ہر عمل کو پرکھا جاتا ہے کہ وہ خیر ہے یا شر۔ اس مقصد کے تعین سے اخلاقی زندگی کو ایک محور مل جاتا ہے جس کے گرد پورا نظام گردش کرتا ہے اور انسان بے سمت بھٹکنے سے بچ جاتا ہے۔ اس اسلامی نظامِ اخلاق کی قوتِ نافذہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ اسلام صرف پولیس اور عدالت کے ڈنڈے پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ وہ انسان کے دل میں خدا کا خوف اور آخرت کی جوابدہی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ جب انسان کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ وہ دنیا کی نظروں سے چھپ سکتا ہے لیکن خدا کی نگاہ سے نہیں، اور اسے ایک دن ایسی عدالت میں پیش ہونا ہے جہاں کوئی سفارش یا رشوت نہیں چلے گی، تو یہ عقیدہ اس کے اندر ایک ’’پولیس کی چوکی‘‘ بٹھا دیتا ہے۔ یہ اندرونی دباؤ انسان کو تنہائی میں بھی جرم سے روکتا ہے اور نیکی پر اکساتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام وہ محرکات بھی فراہم کرتا ہے جو انسان کو نیکی پر آمادہ رکھیں۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ جب انسان خدا کی رضا کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے تو اسے یقین ہوتا ہے کہ نیکی کے نتیجے میں اسے ابدی کامیابی ملے گی، چاہے دنیا میں اسے کتنی ہی تکلیف کیوں نہ اٹھانی پڑے۔ یہ امید اور خوف انسان کے لیے ایک زبردست قوتِ محرکہ کا کام دیتے ہیں۔ اسلامی اخلاقی نظام کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے تین اہم نکات کا ذکر کیا ہے۔ اول یہ کہ رضائے الٰہی کو مقصد بنا کر اخلاقیات کو ایک بلند ترین معیار عطا کیا گیا ہے جس سے اخلاقی ترقی کے امکانات لامتناہی ہو جاتے ہیں۔ دوم یہ کہ اسلام کوئی نئے اور انوکھے اخلاقیات پیش نہیں کرتا بلکہ انسانیت کے معروف اخلاقیات ہی کو لے کر زندگی کے تمام شعبوں میں متوازن انداز میں جاری کرتا ہے۔ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی، معیشت ہو یا سیاست، جنگ ہو یا صلح، زندگی کا کوئی گوشہ اخلاق کی گرفت سے باہر نہیں رہتا۔ سوم یہ کہ اسلام ایک ایسا نظام قائم کرنا چاہتا ہے جو معروف (نیکی) کو فروغ دے اور منکر (بُرائی) کو مٹائے۔ مولانا کے بقول، اسی مقصد کے لیے ’’امتِ مسلمہ‘‘ کی تشکیل کی گئی ہے، اور اگر یہ امت خود برائی پھیلانے لگے تو یہ اس کے وجود کی نفی ہوگی۔ کتاب کے دوسرے حصے میں اسلام کے سیاسی نظام پر گفتگو کی گئی ہے، جس کی بنیاد سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے تین اصولوں: توحید، رسالت اور خلافت پر رکھی ہے۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اصل حاکمیت اور اقتدارِ اعلیٰ صرف اللہ کے پاس ہے۔ کوئی انسان، خاندان یا گروہ حاکمیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ حکم صرف اللہ کا چلے گا۔ اس کے بعد دوسرا اصول رسالت ہے، جو وہ ذریعہ ہے جس سے خدا کا قانون (کتاب اور سنت) انسانوں تک پہنچتا ہے۔ یہی اسلامی ریاست کا اساسی دستور ہے۔ تیسرا اہم اصول خلافت ہے، جس کی تشریح کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انسان زمین پر خدا کا ’’نائب‘‘ ہے۔ خلافت یا نیابت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی مرضی کا مالک نہیں بلکہ اصل مالک (اللہ) کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق اس کے ملک کا انتظام چلانے کا پابند ہے۔ جس طرح کسی جائیداد کا منیجر اصل مالک کی مرضی کے خلاف کام کرے تو وہ خیانت کا مرتکب ہوتا ہے، اسی طرح انسان بھی اگر خدا کی دی ہوئی حدود سے تجاوز کرے تو وہ خلافت کے منصب سے گر جاتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مختصر لیکن جامع تحریر میں یہ واضح کر دیا ہے کہ اسلام محض چند رسومات کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو اخلاق سے لے کر سیاست تک انسانی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے۔ اس نظام کی خوبی یہ ہے کہ یہ انسان کو داخلی طور پر پاکیزہ بناتا ہے اور خارجی طور پر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتا ہے جہاں نیکی کی آبیاری ہو اور بدی کی بیخ کنی کی جائے، اور یہ سب کچھ خدا کی حاکمیت اور آخرت کی جوابدہی کے احساس کے تحت انجام پاتا ہے۔
