کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیرِ نظر کتابچے کا متن ایک نہایت ہی فکر انگیز اور بصیرت افروز تحریر پر مبنی ہے جس میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے توحید، رسالت اور آخرت جیسے بنیادی عقائد کو محض مذہبی روایات کے بجائے خالص عقلی اور منطقی استدلال کے ذریعے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس تحریر کا مرکزی خیال ایک ایسی تمثیل کے گرد گھومتا ہے جو انسانی مشاہدات اور کائنات کے نظام کے درمیان گہرا ربط قائم کرتی ہے۔ فاضل مصنف نے اپنی بات سمجھانے کے لیے دورِ جدید کے صنعتی اور مشینی ماحول سے ایک نہایت سادہ مگر پراثر مثال کا انتخاب کیا ہے تاکہ ایک عام فہم قاری بھی فلسفیانہ گہرائیوں کو آسانی سے سمجھ سکے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ تحریر کا آغاز ایک مشاہداتی کیفیت سے کرتے ہیں جس میں بڑے شہروں کا نظام زندگی دکھایا گیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کارخانے چل رہے ہیں، ٹرام گاڑیاں رواں دواں ہیں، شام ہوتے ہی قمقمے روشن ہو جاتے ہیں اور گرمی میں پنکھے ہوا دینے لگتے ہیں۔ یہ تمام واقعات ہمارے لیے معمولی ہیں اور ہم کبھی اس پر حیرت زدہ نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کے چلنے کے اسباب پر آپس میں جھگڑتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان تمام مظاہر کے پیچھے کارفرما اسباب یعنی بجلی گھر، وہاں کام کرنے والا عملہ اور سب سے بڑھ کر وہ انجینئر جو اس پورے نظام کو کنٹرول کر رہا ہے، ہمارے علم اور مشاہدے میں ہیں۔ چونکہ سبب اور مسبب دونوں ہمارے سامنے ہیں، اس لیے انسانی عقل مطمئن رہتی ہے اور کسی قسم کا اختلاف رائے جنم نہیں لیتا۔ اس تمہید کے بعد سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ ایک مفروضہ قائم کرتے ہیں کہ اگر صورتِ حال اس کے برعکس ہوتی تو کیا ہوتا؟ فرض کیجیے کہ یہ تمام روشنیاں، یہ حرکت کرتی مشینیں اور چلتی ہوئی گاڑیاں تو موجود ہوتیں، لیکن وہ تاریں ہماری نظروں سے اوجھل کر دی جاتیں جو ان میں توانائی پہنچا رہی ہیں۔ اسی طرح بجلی گھر اور اس کا عملہ بھی ہمارے حواس اور مشاہدے کی گرفت سے باہر ہوتا۔ ایسی صورت میں انسانی رویہ کیا ہوتا؟ ظاہر ہے کہ جب اسباب پوشیدہ ہوں اور صرف نتائج سامنے ہوں تو انسانی ذہن تجسس کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس غیب کی کیفیت میں انسانوں کے درمیان اختلافات کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ لوگ ان چلتی ہوئی مشینوں اور روشن قمقموں کی وجہ تلاش کرنے کے لیے اپنے اپنے قیاس کے گھوڑے دوڑاتے۔ یہاں مولانا انسانی افکار کی گمراہی اور مختلف نظریات کے جنم لینے کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ اس لاعلمی کی فضا میں کچھ لوگ یہ نظریہ قائم کر لیتے کہ یہ چیزیں خود بخود چل رہی ہیں، یعنی مادہ پرست طبقہ جو اس کائنات کو ایک خود کار نظام سمجھتا ہے۔ کچھ لوگ یہ کہتے کہ ان چیزوں کے اندر موجود مادے کی ترکیب ہی ایسی ہے جو ان میں حرکت پیدا کر رہی ہے، یہ دہر یہ یا نیچریت کا نظریہ ہے۔ ایک گروہ یہ دعویٰ کرتا کہ ان مشینوں کو چلانے والے مختلف دیوتا ہیں، کوئی روشنی کا دیوتا ہے تو کوئی حرکت کا، یہ شرک کی نمائندگی ہے۔ اور کچھ لوگ تھک ہار کر یہ کہہ دیتے کہ ہماری عقل اس راز کو سمجھنے سے قاصر ہے، ہم صرف اسی کو مانیں گے جو دکھائی دے گا، یہ تشکیک پرستوں یا لاادریت کا گروہ ہے۔ غرض حقیقت سے لا علمی انسانوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیتی ہے اور ہر گروہ اپنے گمان کو یقین کا درجہ دے کر دوسرے سے دست و گریبان ہو جاتا ہے۔ اس انتشار اور فکری کشمکش کے دوران سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ ایک ایسی ہستی کا تعارف کراتے ہیں جو اس لاحاصل بحث کا رخ موڑ دیتی ہے۔ یہ وہ شخص ہے (جو درحقیقت نبی کی تمثیل ہے) جو دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے پاس علم کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو عام لوگوں کے پاس نہیں۔ وہ لوگوں کو بتاتا ہے کہ یہ تمام روشنیاں اور حرکتیں خود بخود نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق چند مخفی تاروں سے ہے جو ایک بہت بڑے پاور ہاؤس سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہاں ایک عظیم انجینئر ہے جس نے اپنی حکمت اور قدرت سے یہ نظام قائم کیا ہے۔ یہ شخص پورے یقین اور قوت کے ساتھ اپنی بات پیش کرتا ہے، لیکن لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں، اسے دیوانہ کہتے ہیں اور اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے ہیں۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ شخص ہر طرح کی جسمانی اور روحانی اذیت سہنے کے باوجود اپنے دعوے سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹتا۔ اس کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے اپنے اس دعوے سے کوئی ذاتی مفاد حاصل ہوتا ہے۔ بات صرف ایک شخص تک محدود نہیں رہتی۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ تاریخی تسلسل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یکے بعد دیگرے مختلف زمانوں اور علاقوں میں ایسے ہی لوگ آتے ہیں اور سب کا دعویٰ بالکل ایک جیسا ہوتا ہے۔ ان کے درمیان زمانے اور حالات کا فرق ہونے کے باوجود ان کے پیغام میں ذرہ برابر اختلاف نہیں پایا جاتا۔ یہ سب لوگ اپنی اپنی قوموں کے ہاتھوں ستائے جاتے ہیں لیکن استقامت کے پہاڑ بن کر کھڑے رہتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی ذاتی زندگیوں میں انتہائی پاکیزہ اخلاق کے مالک ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی جھوٹا، دھوکے باز یا بدکردار نہیں ہوتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو انسانیت کو ایسے اعلیٰ اخلاقی قوانین اور ضابطہ حیات دیتے ہیں جن کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے بڑے بڑے فلاسفروں کی عمریں بیت جاتی ہیں۔ اس لیے ان پر جنون یا دیوانگی کا الزام بھی عقل تسلیم نہیں کرتی۔ اس مقام پر سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ انسانی عقل کو ایک جج کی کرسی پر بٹھاتے ہیں۔ عقل کے سامنے دو فریق ہیں۔ ایک طرف انکار کرنے والے (مکذبین) ہیں جو مختلف ٹولیوں میں بٹے ہوئے ہیں، اور دوسری طرف دعویٰ کرنے والے (انبیاء) ہیں جو سب متفق ہیں۔ عقل خود حقیقتِ حال سے ناواقف ہے اور اسے صرف فریقین کے بیانات اور قرائن دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔ جب عقل انکار کرنے والوں کا جائزہ لیتی ہے تو دیکھتی ہے کہ ان کے پاس اپنے نظریات کے حق میں کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے سوائے ظن و تخمین کے۔ ان کے اپنے بیانات میں بھی تضاد ہے؛ آج جو بات وہ پورے یقین سے کہتے ہیں، کل اسی کی تردید کر دیتے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ چونکہ ہم نے ان مخفی تاروں یا اس چھپے ہوئے انجینئر کو نہیں دیکھا، اس لیے ہم اسے نہیں مان سکتے۔ دوسری جانب، جب عقل دعویٰ کرنے والوں (انبیاء) کے کیس کا جائزہ لیتی ہے تو صورت حال بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ مولانا کے استدلال کے مطابق، یہ لوگ تعداد میں ہزاروں ہونے کے باوجود ایک ہی بات کہتے ہیں۔ ان کا کردار بے داغ ہے اور وہ اس دعوے کی پاداش میں سخت ترین مصائب جھیلتے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہے، کیونکہ کوئی بھی سمجھدار انسان جھوٹ بول کر اپنے لیے مصیبت نہیں خریدتا۔ مزید براں، ان کا یہ کہنا کہ ہمارے پاس علم کا ایک خاص ذریعہ (وحی) ہے، عقلی طور پر ناممکن بات نہیں ہے۔ عقل یہ تسلیم کرتی ہے کہ کائنات کا اتنا منظم نظام خود بخود نہیں چل سکتا اور نہ ہی بے جان مادہ اپنے اندر خود شعور پیدا کر سکتا ہے۔ لہٰذا، قرائن و شواہد کی بنیاد پر عقل کا فیصلہ یہی ہے کہ صادقین کا گروہ ہی سچا ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس نکتے پر بہت زور دیتے ہیں کہ اگرچہ عقل حتمی طور پر حقیقت کو نہیں دیکھ سکتی لیکن وہ ’’اغلبیت‘‘ یعنی زیادہ امکان اسی بات کا پاتی ہے کہ انبیاء کا نظریہ درست ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہزاروں عقل مند، پاک باز اور سچے انسان صدیوں کے فاصلے پر ہونے کے باوجود ایک ہی جھوٹ پر متفق ہو جائیں؟ اور پھر ان کی تعلیمات سے دنیا میں جو اخلاقی اور تمدنی اصلاحات ہوئیں، وہ کسی مجنون کا کام نہیں ہو سکتیں۔ اس کے برعکس انکار کرنے والوں کے پاس سوائے اس ہٹ دھرمی کے کوئی دلیل نہیں کہ ’’ہماری سمجھ میں نہیں آتا‘‘۔ مصنف اس رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کسی حقیقت کا وجود اس بات کا پابند نہیں کہ وہ کم فہم لوگوں کی سمجھ میں بھی آ جائے۔ جس طرح اگر کوئی معتبر لوگ آ کر ہمیں بتائیں کہ فلاں ملک میں لوہے کی گاڑیاں ہوا میں اڑتی ہیں (ہوائی جہاز) تو ہم ان کی سچائی اور دماغی توازن دیکھ کر ان کی بات مان لیں گے، بھلے ہم نے خود وہ منظر نہ دیکھا ہو۔ تاہم، مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ ایک انتہائی اہم نکتہ اٹھاتے ہیں کہ عقل کا فیصلہ صرف ایک ’’ترجیحی فیصلہ‘‘ ہوتا ہے، یہ انسان کو یقین کے اس درجے تک نہیں پہنچاتا جسے ’’ایمان‘‘ کہتے ہیں۔ عقل صرف راستہ دکھاتی ہے اور بتاتی ہے کہ فلاں بات کے سچے ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ ایمان دراصل وجدان کی کیفیت کا نام ہے، جب دل اندر سے گواہی دے اور انسان شک اور تذبذب کی کیفیت سے نکل کر یقین کی منزل پا لے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں منطق ختم ہوتی ہے اور تسلیم و رضا کا سفر شروع ہوتا ہے۔ عقل خارجی دلائل فراہم کرتی ہے، لیکن دل کا اطمینان اس وقت نصیب ہوتا ہے جب انسان اپنی باطنی آواز پر لبیک کہتا ہے۔ اپنے استدلال کو مزید مستحکم کرنے کے لیے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ قاری کو تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ چودہ سو سال پیچھے کا منظر دکھاتے ہیں جب دنیا جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ انسانی علم محدود تھا، مواصلات کے ذرائع ناپید تھے اور توہم پرستی کا دور دورہ تھا۔ انسان ہر عجیب و غریب چیز کو خدا مان لیتا تھا اور خود اپنی انسانیت کی تذلیل کرتا تھا۔ اس دور میں کسی انسان کا یہ دعویٰ کرنا کہ وہ خدا کا نمائندہ ہے اور کائنات کے حقائق کو بے نقاب کرنا، کوئی معمولی بات نہ تھی۔ اس زمانے کے حالات، لوگوں کی ذہنی سطح اور دستیاب وسائل کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم اس پیغام (اسلام) کی عظمت اور جامعیت کو دیکھتے ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ مولانا کا یہ تجزیہ قاری کو اس نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ توحید، رسالت اور آخرت کے عقائد کوئی فرسودہ خیالات یا اندھے عقیدے نہیں ہیں، بلکہ یہ کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہیں جن کی تائید میں پوری کائنات کا نظام گواہی دے رہا ہے۔ جس طرح ایک منظم فیکٹری کو دیکھ کر اس کے بنانے والے اور چلانے والے کا یقین پیدا ہوتا ہے، اسی طرح اس وسیع و عریض کائنات کا نظم و ضبط ایک واحد اور قادرِ مطلق ہستی کا پتہ دیتا ہے۔ اور جس طرح فیکٹری کے اصول و ضوابط سمجھانے کے لیے انجینئر کے مقرر کردہ نمائندوں کی بات مانی جاتی ہے، اسی طرح کائنات کے خالق کی منشا جاننے کے لیے اس کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کی بات ماننا ہی عین دانشمندی ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ تحریر انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنی آنکھیں کھول کر کائنات کا مشاہدہ کرے اور تعصب کی عینک اتار کر انبیاء کرام کی سیرت اور پیغام کا مطالعہ کرے۔ اگر انسان ہٹ دھرمی چھوڑ دے تو اس کی اپنی عقل ہی اسے پکار پکار کر کہے گی کہ مادہ پرستوں اور مشرکوں کے قیاسات بے بنیاد ہیں اور سچ وہی ہے جو خدا کے سچے پیغمبروں نے پیش کیا۔ یہ تحریر شک کے بادلوں کو چھانٹ کر یقین کی روشنی دکھاتی ہے اور انسان کو اس کے اصل مقام اور مقصدِ تخلیق سے روشناس کراتی ہے۔
