توحید اورسالت و زندگی بعد موت کا عقلی ثبوت

ریڈ مودودی ؒ   کی اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

توحید ورسالت اور زِندگی بعد موت کا عقلی ثبوت ۱۔عقل کا فیصلہ ۲۔ نبوتِ محمدیؐ کا عقلی ثبوت ۳۔زِندگی بعد موت (۱) عقل کا فیصلہ

بڑے بڑے شہروں میں ہم دیکھتے ہیں کہ سیکڑوں کارخانے بجلی کی قوت سے چل رہے ہیں۔ ریلیں اور ٹرام گاڑیاں رواں دواں ہیں۔ شام کے وقت دفعۃًہزاروں قمقمے روشن ہو جاتے ہیں۔ گرمی کے زمانہ میں گھر گھر پنکھے چلتے ہیں۔ مگر ان واقعات سے نہ تو ہمارے اندر حیرت واستعجاب کی کوئی کیفیت پیداہوتی ہے اور نہ ان چیزوں کے روشن یا متحرک ہونے کی عِلّت میں کسی قسم کا اختلاف ہمارے درمیان واقع ہوتا ہے۔ یہ کیوں؟ اس لیے کہ ان قمقموں کا تعلق جس بجلی گھر سے ہے اُس کا حال بھی ہمیں معلوم ہے۔ اس بجلی گھر میں جو لوگ کام کرتے ہیں اُن کے وُجود کا ہمیں علم ہے۔ ان کام کرنے والوں پر جو انجینئر نگرانی کر رہا ہے، اُسے بھی ہم جانتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ انجینئر بجلی بنانے کے کام سے واقف ہے،اس کے پاس بہت سی کلیں ہیں اور ان کلوں کو حرکت دے کر وہ اُس قوت کو پیدا کر رہا ہے جس کے جلوے ہمیں قمقموں کی روشنی، پنکھوں کی گردش، ریلوں اور ٹرام گاڑیوں کی سیر، چکیوں اور کارخانوں کی حرکت میں نظر آتے ہیں۔ پس بجلی کے آثار کو دیکھ کر اس کے اسباب کے متعلق ہمارے درمیان اختلافِ رائے واقع نہ ہونے کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان اسباب کا پورا سلسلہ ہمارے محسوسات میں داخل ہے، اور ہم اس کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔
فرض کیجیے کہ یہی قمقمے روشن ہوتے، اسی طرح پنکھے گردش کرتے، یوں ہی ریلیں اور ٹرام گاڑیاں چلتیں، چکیاں اور مشینیں حرکت کرتیں، مگر وہ تارجن سے بجلی ان میں پہنچتی ہے ہماری نظروں سے پوشیدہ ہوتے، بجلی گھر بھی ہمارے محسوسات کے دائرے سے خارج ہوتا بجلی گھر میں کام کرنے والوں کا بھی ہمیں کچھ علم نہ ہوتا اور یہ بھی معلوم نہ ہوتا کہ اس کارخانہ کا کوئی انجینئر ہے جو اپنے علم اور اپنی قدرت سے اسے چلا رہا ہے۔ کیا اُس وقت بھی بجلی کے ان آثار کو دیکھ کر ہمارے دل ایسے ہی مطمئن ہوتے؟ کیا اس وقت بھی ہم اسی طرح ان مظاہر کی علتوں میں اختلاف نہ کرتے؟ ظاہر ہے کہ آپ اس کا جواب نفی میں دیں گے۔ کیوں؟ اس لیے کہ جب آثار کے اسباب پوشیدہ ہوں اور مظاہر کی علتیں غیر معلوم ہوں تو دلوں میں حیرت کے ساتھ بے اطمینانی کا پیدا ہونا، دماغوں کا اس رازِ سربستہ کی جستجو میں لگ جانا، اور اس راز کے متعلق قیاسات وآراکا مختلف ہونا ایک فطری بات ہے۔
اب اس مفروضے پر سلسلۂ کلام کو آگے بڑھائیے ۔ مان لیجیے کہ یہ جو کچھ فرض کیا گیا ہے درحقیقت عالمِ واقعہ میں موجود ہے۔ ہزاروں، لاکھوں قمقمے روشن ہیں، لاکھوں پنکھے چل رہے ہیں، گاڑیاں دوڑ رہی ہیں، کارخانے حرکت کر رہے ہیں اور ہمارے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ ان میں کون سی قوت کام کر رہی ہے اور وہ کہاں سے آتی ہے۔ لوگ ان مظاہر وآثار کو دیکھ کرحیران وششدر ہیں۔ ہر شخص ان کے اسباب کی جستجو میں عقل کے گھوڑے دوڑا رہا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ سب چیزیں آپ سے آپ روشن یا متحرک ہیں‘ ان کے اپنے وجود سے خارج کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو انھیں روشنی یا حرکت بخشنے والی ہو، کوئی کہتا ہے کہ یہ چیزیں جن مادوں سے بنی ہوئی ہیں‘ انھی کی ترکیب نے ان کے اندر روشنی اور حرکت کی کیفیتیں پیدا کر دی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اس عالم مادہ سے ماوراچند دیوتا ہیں جن میں سے کوئی قمقمے روشن کرتا ہے۔ کوئی ٹرام اور ریلیں چلاتا ہے ، کوئی پنکھوں کو گردش دیتا ہے اور کوئی کارخانوں اور چکیوں کا محرک ہے۔ بعض لوگ ایسے ہیں جو سوچتے سوچتے تھک گئے ہیں اور آخر میں عاجز ہو کر کہنے لگے ہیں کہ ہماری عقل اس طلسم کی کُنہ تک نہیں پہنچ سکتی۔ ہم صرف اتنا ہی جانتے ہیں جتنا دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں۔ اس سے زیادہ کچھ ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور جو کچھ ہماری سمجھ میں نہ آئے اس کی نہ ہم تصدیق کر سکتے ہیں اور نہ تکذیب۔
یہ سب گروہ ایک دُوسرے سے لڑ رہے ہیں مگر اپنے خیال کی تائید اور دُوسرے خیالات کی تکذیب کے لیے ان میں سے کسی کے پاس بھی قیاس اور ظن وتخمین کے سوا کوئی ذریعہ علم نہیں ہے۔
اس دوران میں کہ یہ اختلافات برپا ہیں‘ ایک شخص آتا ہے اورکہتا ہے کہ بھائیو! میرے پاس علم کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو تمھارے پاس نہیں ہے اس ذریعہ سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ ان سب قمقموں، پنکھوں، گاڑیوں، کارخانوں اور چکیوں کا تعلق چند مخفی تاروں سے ہے جنھیں تم محسوس نہیں کرتے۔ ان تاروں میں ایک بہت بڑے بجلی گھر سے وہ قوت آتی ہے جس کا ظہور روشنی اور حرکت کی شکل میں ہوتا ہے۔ اس بجلی گھر میں بڑی بڑی عظیم الشان کلیں ہیں جنھیں بے شمار اشخاص چلا رہے ہیں۔ یہ سب اشخاص ایک بڑے انجینئر کے تابع ہیں، اور وہی انجینئر ہے جس کے علم اور قدرت نے اس پورے نظام کو قائم کیا ہے۔ اسی کی ہدایت اور نگرانی میں یہ سب کام ہو رہے ہیں۔
یہ شخص پوری قوت سے اپنے اس دعوٰے کو پیش کرتا ہے۔ لوگ اسے جھٹلاتے ہیں، سب گروہ مل کر اس کی مخالفت کرتے ہیں، اسے دیوانہ قرار دیتے ہیں، اسے مارتے ہیں، تکلیفیں دیتے ہیں، گھر سے نکال دیتے ہیں۔ مگر وہ ان سب روحانی اور جسمانی مصیبتوں کے باوجود اپنے دعوے پر قائم رہتا ہے۔ کسی خوف یا لالچ سے اپنے قول میں ذرہ برابر ترمیم نہیں کرتا۔ کسی مصیبت سے اس کے دعوٰے میں کم زوری نہیں آتی۔ اس کی ہر ہر بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے اپنے قول کی صداقت پر کامل یقین ہے۔
اس کے بعد ایک دُوسرا شخص آتا ہے اور وہ بھی بجنسہٖ یہی قول اسی دعوے کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ پھر تیسرا، پھر چوتھا، پانچواں آتا ہے اور وہی بات کہتا ہے جو اس کے پیش روئوں نے کہی تھی۔ اس کے بعد آنے والوں کا ایک تانتا بندھ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کی تعداد سیکڑوں اور ہزاروں سے متجاوز ہو جاتی ہے، اور یہ سب اسی ایک قول کو اسی ایک دعوے کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ زمان ومکان اور حالات کے اختلافات کے باوجود ان کے قول میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ سب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس علم کا ایسا ذریعہ ہے جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ سب کو دیوانہ قرار دیا جاتا ہے۔ ہر طرح کے ظلم وستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ ہر طریقہ سے انھیں مجبور کیا جاتا ہے کہ اپنے قول سے باز آ جائیں مگر سب کے سب اپنی بات پر قائم رہتے ہیں اور دُنیا کی کوئی قوت انھیں اپنے مقام سے ایک انچ نہیں ہٹا سکتی۔ اس عزم واستقامت کے ساتھ ان لوگوں کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں کہ ان میں سے کوئی جھوٹا، چور، خائن، بدکار، ظالم اور حرام خور نہیں ہے ان کے دشمنوں اور مخالفوں کو بھی اس کا اعتراف ہے۔ ان سب کے اَخلاق پاکیزہ ہیں۔ سیرتیں انتہا درجہ کی نیک ہیں اور حسنِ خلق میں یہ اپنے دوسرے ابنائے نوع سے ممتاز ہیں۔ پھر ان کے اندر جنون کا بھی کوئی اثر نہیں پایا جاتا بلکہ اس کے برعکس وہ تہذیب اَخلاق، تزکیہ نفس اور دنیوی معاملات کی اصلاح کے لیے ایسی ایسی تعلیمات پیش کرتے اور ایسے ایسے قوانین بناتے ہیں جن کے مثل بنانا تو درکنار بڑے بڑے علما وعقلا کو ان کی باریکیاں سمجھنے میں پوری پوری عمریں صَرف کر دینا پڑتی ہیں۔
ایک طرف وہ مختلف الخیال مکذبین ہیں اور دوسری طرف یہ متحد الخیال مدعی۔دونوں کا معاملہ عقلِ سلیم کی عدالت میں پیش ہوتا ہے۔ جج کی حیثیت سے عقل کا فرض ہے کہ پہلے اپنی پوزیشن کو خوب سمجھ لے پھر فریقین کی پوزیشن کو سمجھے، اور دونوں کا موازنہ کرنے کے بعد فیصلہ کرے کہ کس کی بات قابلِ ترجیح ہے۔
جج کی اپنی پوزیشن یہ ہے کہ خود اس کے پاس امر واقعی کو معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ وہ خود حقیقت کا علم نہیں رکھتا۔ اس کے سامنے صرف فریقین کے بیانات، ان کے دلائل، اُن کے ذاتی حالات اور خارجی آثار وقرائن ہیں۔ انھی پر تحقیق کی نظر ڈال کر اُسے فیصلہ کرنا ہے کہ کس کا برحق ہونا اغلب ہے۔ مگر اغلبیّت سے بڑھ کر بھی وہ کوئی حکم نہیں لگا سکتا، کیوں کہ مِسل پر جو کچھ مواد ہے اس کی بِنا پر یہ کہنا اس کے لیے مشکل ہے کہ امر واقعی کیا ہے۔ وہ فریقین میں سے ایک کو ترجیح دے سکتا ہے لیکن قطعیّت اور یقین کے ساتھ کسی کی تصدیق یا تکذیب نہیں کر سکتا۔
مکذّبین کی پوزیشن یہ ہے:
۱۔ حقیقت کے متعلق ان کے نظریے مختلف ہیں اور کسی ایک نکتہ میں بھی ان کے درمیان اتفاق نہیں ہے، حتّٰی کہ ایک ہی گروہ کے افراد میں بسا اوقات اختلاف پایا گیا ہے۔
۲۔ وہ خود اقرار کرتے ہیں کہ ان کے پاس علم کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جو دوسروں کے پاس نہ ہو۔ ان میں سے کوئی گروہ اس سے زیادہ کسی چیز کا مدعی نہیں ہے کہ ہمارے قیاسات دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ وزنی ہیں۔ مگر اپنے قیاسات کا قیاسات ہونا سب کو تسلیم ہے۔
۳۔ اپنے قیاسات پر ان کا اعتقاد، ایمان ویقین اور غیر متزلزل وثوق کی حد تک پہنچا ہے۔ ان میں سے ایک شخص کل تک جس نظریہ کو پورے زور کے ساتھ پیش کر رہا تھا، آج خود اسی نے اپنے پچھلے نظریّہ کی تردید کر دی اور ایک دوسرا نظریہ پیش کر دیا۔ عمر، عقل، علم اور تجربے کی ترقی کے ساتھ ساتھ اکثر ان کے نظریات بدلتے رہتے ہیں۔
۴۔ مدعیوں کی تکذیب کے لیے ان کے پاس بجز اس کے اور کوئی دلیل نہیں ہے کہ انھوں نے اپنی صداقت کا کوئی یقینی ثبوت نہیں پیش کیا۔ انھوں نے وُہ مخفی تار ہمیں نہیں دکھائے جن کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ قمقموں اور پنکھوں وغیرہ کا تعلق انھی سے ہے، نہ انھوں نے بجلی کا وجود تجربہ اور مشاہدہ سے ثابت کیا، نہ بجلی گھر کی ہمیں سیر کرائی، نہ اس کی کلوں اور مشینوں کا معاینہ کرایا، نہ اس کے کارندوں میں سے کسی سے ہماری ملاقات کرائی، نہ کبھی انجینئر سے ہمیں ملایا،پھر ہم یہ کیسے مان لیں کہ یہ سب کچھ حقائق ہیں؟
مدعیوں کی پوزیشن یہ ہے :
۱۔ وہ سب آپس میں متفق القول ہیں، دعوے کے جتنے بنیادی نکات ہیں ان سب میں ان کے درمیان کامل اتفاق ہے۔
۲۔ ان سب کا متفقہ دعوٰے یہ ہے کہ ہمارے پاس علم کا ایک ایسا ذریعہ ہے جوعام لوگوں کے پاس نہیں ہے۔
۳۔ ان میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ ہم اپنے قیاس یا گمان کی بَنا پر ایسا کہتے ہیں بلکہ سب نے بالاتفاق کہا ہے کہ انجینئر سے ہمارے خاص تعلقات ہیں اس کے کارندے ہمارے پاس آتے ہیں، اس نے اپنے کارخانے کی سیر بھی ہمیں کرائی ہے، اور ہم جو کچھ کہتے ہیں علم ویقین کی بنا پر کہتے ہیں۔ ظن وتخمین کی بنا پر نہیں کہتے۔
۴۔ ان میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کسی نے اپنے بیان میں ذرّہ برابر بھی تغیر وتبدّل کیا ہو۔ ایک ہی بات ہے جو ان میں سے ہر شخص دعوے کے آغاز سے زندگی کے آخری سانس تک کہتا رہا ہے۔
۵۔ ان کی سیرتیں انتہا درجہ کی پاکیزہ ہیں، جھوٹ، فریب، مکاری، دغا بازی کا کہیں شائبہ تک نہیں ہے اورکوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ جو لوگ زندگی کے تمام معاملات میں سچے اور کھرے ہیں، وہ خاص اسی معاملہ میں بالاتفاق کیوں جھوٹ بولیں۔
۶۔ اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ دعوٰی پیش کرنے سے ان کے پیشِ نظر کوئی ذاتی فائدہ تھا۔ برعکس اس کے یہ ثابت ہے کہ ان میں سے اکثروبیش ترنے اس دعوے کی خاطر سخت مصائب برداشت کیے ہیں۔ جسمانی تکلیفیں سہیں، قید کیے گئے، مارے اور پیٹے گئے، جلا وطن کیے گئے، بعض قتل کر دیے گئے، حتّٰی کہ بعض کو آرے سے چیر ڈالا گیا، اور چند کے سوا کسی کو بھی خوش حالی اور فارغ البالی کی زندگی میسر نہ ہوئی، لہٰذا کسی ذاتی غرض کا الزام ان پرنہیں لگایا جا سکتا بلکہ ان کا ایسے حالات میں اپنے دعوے پر قائم رہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ انھیں اپنی صداقت پر انتہا درجہ کا یقین تھا۔ ایسا یقین کہ اپنی جان بچانے کے لیے بھی ان میں سے کوئی اپنے دعوے سے باز نہ آیا۔
۷۔ ان کے متعلق مجنوں یا فاتر العقل ہونے کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے زندگی کے تمام معاملات میں وہ سب کے سب غایت درجہ کے دانش مند اور سلیم العقل پائے گئے ہیں۔ ان کے مخالفین نے بھی اکثر ان کی دانش مندی کا لوہا مانا ہے۔ پھر یہ کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ ان سب کو اسی خاص معاملہ میں جنون لاحق ہو گیا ہو؟ اور وہ معاملہ بھی کیسا؟ جو ان کے لیے زندگی اور موت کا سوال بن گیا ہو۔ جس کے لیے انھوں نے دُنیا بھر کا مقابلہ کیا ہو، جس کی خاطر وہ سال ہا سال دُنیا سے لڑتے رہے ہوں، جو ان کی ساری عاقلانہ تعلیمات کا (جن کے عاقلانہ ہونے کا بہت سے مکذبین کو بھی اعتراف ہے) اصل الاصول ہو۔
۸۔ انھوں نے خود بھی یہ نہیں کہا کہ ہم انجینئر یا اس کے کارندوں سے تمھاری ملاقات کرا سکتے ہیں، یا اس کا مخفی کارخانہ تمھیں دکھا سکتے ہیں، یا تجربہ اور مشاہدہ سے اپنے دعوے کو ثابت کر سکتے ہیں۔ وہ خود ان تمام امور کو ’’غیب‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ہم پر اعتماد کرو اور جو کچھ ہم بتاتے ہیں اُسے مان لو۔
فریقین کی پوزیشن اور ان کے بیانات پر غور کرنے کے بعد اب عقل کی عدالت اپنا فیصلہ صادر کرتی ہے۔
وہ کہتی ہے کہ چند مظاہر وآثار کو دیکھ کر ان کے باطنی اسباب وعلل کی جستجو دونوں فریقوں نے کی ہے اور ہر ایک نے اپنے اپنے نظریات پیش کیے ہیں۔ بادی النظرمیں سب کے نظریات اس لحاظ سے یکساں ہیں کہ اوّلًا ان میں سے کسی میں استحا لۂ عقلی نہیں ہے، یعنی قوانینِ عقلی کے لحاظ سے کسی نظریہ کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا صحیح ہونا غیر ممکن ہے۔ ثانیاً ان میں سے کسی کی صحت، تجربے یا مشاہدے سے ثابت نہیں کی جا سکتی۔ نہ فریق اوّل میں سے کوئی گروہ اپنے نظریات کا ایسا سائنٹفک ثبوت دے سکتا ہے جو ہر شخص کو یقین کرنے پر مجبور کرے اور نہ فریق ثانی اس پر قادر یا اس کا مدعی ہے۔ لیکن مزید غور وتحقیق کے بعد چند امور ایسے نظر آتے ہیں جن کی بنا پر تمام نظریات میں سے فریق ثانی کا نظریہ قابل ترجیح قرار پاتا ہے۔
اوّلاً، کسی دُوسرے نظریے کی تائید اتنے کثیر التعداد عاقل، پاک سیرت صادِق القول آدمیوں نے متفق ہو کر اتنی قوت اور اتنے یقین وایمان کے ساتھ نہیں کی ہے۔
ثانیاً، ایسے پاکیزہ کریکٹر اور اتنے کثیر التعداد لوگوں کا مختلف زمانوں اور مختلف مقامات میں اس دعوے پر متفق ہو جانا کہ ان سب کے پاس ایک غیر معمولی ذریعہ علم ہے، اور ان سب نے اس ذریعہ سے خارجی مظاہر کے باطنی اسباب کو معلوم کیا ہے، ہمیں اس دعوے کی تصدیق پر مائل کر دیتا ہے۔ خصوصاً اس وجہ سے کہ اپنی معلومات کے متعلق ان کے بیانات میں کوئی اختلاف نہیں ہے، جو معلومات انھوں نے بیان کی ہیں ان میں کوئی استحالۂ عقلی بھی نہیں ہے اور نہ یہ بات قوانینِ عقلی کی بِنا پر محال قرار دی جا سکتی ہے کہ بعض انسانوں میں کچھ ایسی غیر معمولی قوتیں ہوں جو عام طور پر دوسرے انسانوں میں نہ پائی جاتی ہوں۔
ثالثاً، خارجی مظاہر کی حالت پر غور کرنے سے اغلب یہی معلوم ہوتا ہے کہ فریقِ ثانی کا نظریہ صحیح ہو۔ اس لیے کہ قمقمے، پنکھے، گاڑیاں، کارخانے وغیرہ نہ تو آپ سے آپ روشن اورمتحرک ہیں، کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو ان کا روشن اور متحرک ہونا ان کے اپنے اختیار میں ہوتا، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ نہ اُن کی روشنی وحرکت ان کے مادّۂ جسمی کی ترکیب کا نتیجہ ہے۔ کیوں کہ جب وہ متحرک اور روشن نہیں ہوتے، اس وقت بھی یہی ترکیب جسمی موجود رہتی ہے۔ نہ ان کا الگ الگ قوتوں کے زیر اثر ہونا صحیح معلوم ہوتا ہے۔ کیوں کہ بسا اوقات جب قمقموں میں روشنی نہیں ہوتی تو پنکھے بھی بند ہوتے ہیں، ٹرام کاریں بھی موقوف ہو جاتی ہیں اور کارخانے بھی نہیں چلتے۔ لہٰذا خارجی مظاہر کی توجیہ میں فریق اوّل کی طرف سے جتنے نظریات پیش کیے گئے ہیں وہ سب بعید از عقل وقیاس ہیں۔ زیادہ صحیح یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ ان تمام مظاہر میں کوئی ایک قوت کارفرما ہو اور اس کا سررشتہ کسی ایسے حکیم توانا کے ہاتھ میں ہو جو ایک مقررہ نظام کے تحت اس قوت کو مختلف مظاہر میں صرف کر رہا ہو۔
باقی رہا مُشکّکین کا یہ قول کہ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی، اور جو بات ہماری سمجھ میں نہ آئے اس کی تصدیق یا تکذیب ہم نہیں کر سکتے، تو حاکمِ عقل اسے بھی دُرست نہیں سمجھتا کیوں کہ کسی بات کا واقع ہونا اس کا محتاج نہیں ہے کہ وہ سننے والوں کی سمجھ میں بھی آ جائے۔ اس کے وقوع کو تسلیم کرنے کے لیے معتبر اور متواتر شہادت کافی ہے۔ اگر ہم سے چند معتبر آدمی آ کر کہیں کہ ہم نے زمینِ مغرب میں آدمیوں کو لوہے کی گاڑیوں میں بیٹھ کر ہوا پر اُڑتے دیکھا ہے، اور ہم اپنے کانوں سے لندن میں بیٹھ کر امریکا کا گانا سن آئے ہیں، تو ہم صرف یہ دیکھیں گے کہ یہ لوگ جھوٹے اور مسخرے تو نہیں ہیں؟ ایسا بیان کرنے میں ان کی ذاتی غرض تو نہیں ہے؟ ان کے دماغ میں کوئی فتور تو نہیں ہے؟ اگر ثابت ہو گیا کہ وہ نہ جھوٹے ہیں، نہ مسخرے، نہ دیوانے نہ ان کا کوئی مفاد اس روایت سے وابستہ ہے، اور اگر ہم نے دیکھا کہ اسے بلا اختلاف بہت سے سچے اور عقل مند لوگ پوری سنجیدگی کے ساتھ بیان کر رہے ہیں تو ہم یقینا اسے تسلیم کر لیں گے، خواہ لوہے کی گاڑیوں کا ہوا پر اُڑنا اور کسی محسوس واسطہ کے بغیر ایک جگہ کا گانا کئی ہزار میل کے فاصلہ پر سنائی دینا کسی طرح ہماری سمجھ میں نہ آتا ہو۔
یہ اس معاملہ میں عقل کا فیصلہ ہے مگر تصدیق ویقین کی کیفیت جس کا نام ’’ایمان‘‘ ہے، اس سے پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے لیے وجدان کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے دل کے ٹھک جانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ اندر سے ایک آواز آئے جو تکذیب، شک اور تذبذب کی تمام کیفیتوں کا خاتمہ کر دے اور صاف کَہ دے کہ لوگوں کی قیاس آرائیاں باطل ہیں، سچ وہی ہے جو سچے لوگوں نے قیاس سے نہیں بلکہ علم وبصیرت سے بیان کیا ہے۔

(۲) نبوتِ محمدیؐ کا عقلی ثبوت

تھوڑی دیر کے لیے جسمانی آنکھیں بند کرکے تصوّر کی آنکھیں کھول لیجیے اور ایک ہزار چار سو برس پیچھے پلٹ کر دُنیا کی حالت پر نظر ڈالیے۔ یہ کیسی دُنیا تھی؟ انسان اور انسان کے درمیان تبادلۂ خیالات کے وسائل کس قدر کم تھے۔ قوموں اور ملکوں کے درمیان تعلق کے ذرائع کتنے محدود تھے انسان کی معلومات کس قدر کم تھیں۔ اس کے خیالات کس قدر تنگ تھے۔ اس پر وہم اور توحش کا کس قدر غلبہ تھا۔ جہالت کے اندھیرے میں علم کی روشنی کتنی دھندلی تھی اور اس اندھیرے کو دھکیل دھکیل کر کتنی دقتوں کے ساتھ پھیل رہی تھی۔ دُنیا میں نہ تار تھا، نہ ٹیلیفون تھا، نہ ریڈیو تھا، نہ ریل اور ہوائی جہاز تھے، نہ مطابع اور اشاعت خانے تھے، نہ مدرسوں اور کالجوں کی کثرت تھی، نہ اخبارات اور رسالے شائع ہوتے تھے، نہ کتابیں کثرت سے لکھی جاتی تھیں، نہ کثرت سے ان کی اشاعت ہوتی تھی۔ اس زمانے کے ایک عالم کی معلومات بھی بعض حیثیات سے موجودہ زمانے کے ایک عامی کی بہ نسبت کم تھیں۔ اس زمانے کی اونچی سوسائٹی کا آدمی بھی موجودہ زمانے کے ایک مزدور کی بہ نسبت کم شائستہ تھا۔ اس زمانہ کا ایک نہایت روشن خیال آدمی بھی آج کل کے تاریک خیال آدمی سے زیادہ تاریک خیال تھا۔ جو باتیں آج ہر کس وناکس کو معلوم ہیں وہ اس زمانہ میں برسوں کی محنت اور تلاش وتحقیق کے بعد بھی بمشکل معلوم ہو سکتی تھیں۔ جو معلومات آج روشنی کی طرح فضا میں پھیلی ہوئی ہیں اور ہر بچے کو ہوش سنبھالتے ہی حاصل ہو جاتی ہیں ان کے لیے اس زمانہ میں سیکڑوں میل کے سفر کیے جاتے تھے اور عمریں ان کی جستجو میں بیت جاتی تھیں جن باتوں کو آج اوہام وخرافات سمجھا جاتا ہے وہ اس زمانے کے ’’حقائق‘‘ تھے جن افعال کو آج ناشائستہ اور وحشیانہ کہا جاتا ہے وہ اس زمانہ کے عام معلومات تھے جن طریقوں سے آج انسان کا ضمیر نفرت کرتا ہے وہ اس زمانے کے اَخلاقیات میں نہ صرف جائز تھے، بلکہ کوئی شخص یہ خیال بھی نہ کر سکتا تھا کہ ان کے خلاف بھی کوئی طریقہ ہو سکتا ہے۔ انسان کی عجائب پرستی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ وہ کس چیز میں اس وقت تک کوئی صداقت، کوئی بزرگی، کوئی پاکیزگی تسلیم ہی نہ کر سکتا تھا جب تک وہ فوق الفطرت نہ ہو، خلافِ عادت نہ ہو، غیر معمولی نہ ہو۔ حتّٰی کہ انسان خود اپنے آپ کو اس قدر ذلیل سمجھتا تھا کہ کسی انسان کا خدا رسیدہ ہونا اور کسی خدا رسیدہ ہستی کا انسان ہونا اس کے تصوّر کی رسائی سے بہت دور تھا۔
اس تاریک دَور میں زمین کا ایک گوشہ ایسا تھا جہاں تاریکی کا تسلُّط اور بھی زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ جو ممالک اس زمانے کے معیارِ تمدُّن کے لحاظ سے متمدن تھے۔ ان کے درمیان عرب کا ملک سب سے الگ تھلگ پڑا ہوا تھا۔ اس کے اردگرد ایران، رُوم اور مصر کے ملکوں میں علوم وفنون اور تہذیب وشائستگی کی کچھ روشنی پائی جاتی تھی۔ مگر ریت کے بڑے بڑے سمندروں نے عرب کو ان سے جدا کر رکھا تھا۔ عرب سوداگر اونٹوں پر مہینوں کی راہ طے کرکے ان ملکوں میں تجارت کے لیے جاتے تھے اور صرف اَموال کا مبادلہ کرکے واپس آتے تھے۔ علم وتہذیب کی کوئی روشنی ان کے ساتھ نہ آتی تھی۔ ان کے ملک میں نہ کوئی مدرسہ تھا، نہ کتب خانہ تھا، نہ لوگوں میں تعلیم کا چرچا تھا، نہ علوم وفنون سے کوئی دل چسپی تھی۔ تمام ملک میں گنتی کے چند آدمی تھے جنھیں کچھ لکھنا پڑھنا آتا تھا، مگر وہ بھی اتنا نہیں کہ اس زمانے کے علوم و فنون سے آشنا ہوتے۔ ان کے پاس ایک اعلیٰ درجہ کی باقاعدہ زبان ضرور تھی جس میں بلند خیالات کو ادا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔ ان میں بہترین ادبی مذاق بھی موجود تھا۔ مگر اُن کے لٹریچر کے جو کچھ باقیات ہم تک پہنچے ہیں انھیں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی معلومات کس قدر محدود تھیں، تہذیب وتمدن میں ان کا درجہ کس قدر پست تھا، ان پر اوہام کا کس قدر غلبہ تھا، ان کے خیالات اور ان کی عادات میں کتنی جہالت اور وحشت تھی، ان کے اَخلاقی تصوّرات کتنے بھدّے تھے۔
وہاں کوئی باقاعدہ حُکُومت نہ تھی۔ کوئی ضابطہ اور قانون نہ تھا۔ ہر قبیلہ اپنی جگہ خود مختار تھا اور صرف ’’جنگل کے قانون‘‘ کی پیروی کی جاتی تھی۔ جس کا جس پر بس چلتا اسے مار ڈالتا اور اس کے مال پر قابض ہو جاتا، یہ بات ایک عرب بدوی کے فہم سے بالاتر تھی کہ جو شخص اس کے قبیلہ کا نہیں ہے اسے وہ کیوں نہ مار ڈالے اور اس کے مال پر کیوں نہ متصرف ہو جائے۔
اَخلاق اور تہذیب وشائستگی کے جو کچھ بھی تصوّرات ان لوگوں میں تھے وہ نہایت ادنیٰ اور سخت تراشیدہ تھے پاک اور ناپاک، جائز اور ناجائز، شائستہ اور ناشائستہ کی تمیز سے وہ تقریباً ناآشنا تھے۔ ان کی زندگی نہایت گندی تھی۔ ان کے طریقے وحشیانہ تھے۔ زِنا، جُوّا، شراب، چوری، راہ زنی اور قتل وخوں ریزی ان کی زندگی کے معمولات تھے۔ وہ ایک دوسرے کے سامنے بے تکلف برہنہ ہوجاتے تھے۔ ان کی عورتیں تک ننگی ہو کر کعبہ کا طواف کرتی تھیں۔ وہ اپنی لڑکیوں کو اپنے ہاتھ سے زندہ دفن کر دیتے تھے، محض اس جاہلانہ خیال کی بنا پر کہ کوئی ان کا داماد بنے۔ وہ اپنے باپوں کے مرنے کے بعد اپنی سوتیلی مائوں سے نکاح کر لیتے تھے۔ انھیں کھانے اور لباس اور طہارت کے معمولی آداب تک معلوم نہ تھے۔
مذہب کے باب میں وہ ان تمام جہالتوں اور ضلالتوں کے حصہ دار تھے جس میں اس زمانہ کی دُنیا مبتلا تھی۔ بت پرستی، ارواح پرستی، کواکب پرستی، غرض ایک خدا کی پرستش کے سوا اس وقت دُنیا میں جتنی ’’پرستیاں‘‘ پائی جاتی تھی وہ سب ان میں رائج تھیں۔ انبیائے قدیم اور ان کی تعلیمات کے متعلق کوئی صحیح علم ان کے پاس نہ تھا۔ وہ اتنا ضرور جانتے تھے کہ ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑ ان کے باپ ہیں مگر یہ نہ جانتے تھے کہ ان دونوں باپ بیٹوں کا دین کیا تھا اور وہ کس کی عبادت کرتے تھے۔ عاد او ر ثمود کے قصے بھی ان میں مشہور تھے، مگر ان کی جو روایتیں عرب کے مؤرخین نے نقل کی ہیں، انھیں پڑھ جائیے، کہیں آپ کو صالحؑ اور ہودؑ کی تعلیمات کا نشان نہ ملے گا۔ انھیں یہودیوں اور عیسائیوں کے واسطے سے انبیائے بنی اسرائیل کی کہانیاں بھی پہنچی تھیں‘ مگر وہ جیسی کچھ تھیں ان کااندازہ کرنے کے لیے صرف ایک نظران اسرائیلی روایات پر ڈال لینا کافی ہے جو مفسرینِ اِسلام نے نقل کی ہیں۔ آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اہل عرب اور خود بنی اسرائیل جن انبیا سے واقف تھے وہ کیسے انسان تھے اور نبوت کے متعلق ان لوگوں کا تصوّر کس قدر گھٹیا درجہ کا تھا۔
ایسے زمانہ میں ایسے ملک میں ایک شخص پیدا ہوتا ہے۔ بچپن ہی میں ماں باپ اور دادا کا سایہ اُس کے سر سے اُٹھ جاتا ہے اس لیے اس گئی گزری حالت میں ایک عرب بچے کو جو تھوڑی بہت تربیت مل سکتی تھی وہ بھی اُسے نہیں ملتی۔ ہوش سنبھالتا ہے تو بدوی لڑکوں کے ساتھ بکریاں چرانے لگتا ہے۔ جوان ہوتا ہے تو سوداگری میں لگ جاتا ہے اُٹھنا بیٹھنا، ملنا جلنا سب کچھ انھی عربوں کے ساتھ ہے جن کا حال اوپر آپ نے دیکھ لیا۔ تعلیم کا نام تک نہیں، حتّٰی کہ پڑھنا لکھنا تک نہیں آیا کسی عالم کی صحبت میسر نہ ہوئی کہ ’’عالم‘‘ کا وجود اس وقت تمام عرب میں کہیں نہ تھا۔ چند مرتبہ اُسے عرب سے باہر قدم نکالنے کا اتفاق ضرور ہوا مگر یہ سفر صرف شام کے علاقے تک تھے اور ویسے ہی تجارتی سفر تھے جیسے اس زمانہ میں عرب کے تجارتی قافلے کیا کرتے تھے۔ بالفرض اگر ان اسفار کے دوران میں اس نے کچھ آثارِ علم وتہذیب کا مشاہدہ کیا اور کچھ اہلِ علم سے ملاقات کا اتفاق بھی ہوا تو ظاہر ہے کہ ایسے منتشر مشاہدات اور ایسی ہنگامی ملاقاتوں سے کسی انسان کی سیرت نہیں بن جاتی ان کااثر کسی شخص پر اتنا زبردست نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے ماحول سے بالکل آزاد، بالکل مختلف اور اتنا بلند ہو جائے کہ اس میں اور اس کے ماحول میں کچھ نسبت ہی نہ رہے۔ ان سے ایسا علم حاصل ہونا ممکن نہیں ہے جو ایک اَن پڑھ بدوی کو ایک ملک کا نہیں، تمام دُنیا کا، اور ایک زمانہ کا نہیں، تمام زمانوں کا لیڈر بنا دے۔ اگر کسی درجہ میں اس نے باہر کے لوگوں سے علمی استفادہ کیا بھی ہو تو جو معلومات اس وقت دُنیا میں کسی کو حاصل ہی نہ تھیں، مذہب، اَخلاق تہذیب وتمدن کے جو تصوّرات اور اُصول اس وقت دُنیا میں کہیں موجود ہی نہ تھے، انسانی سیرت کے جو نمونے اس وقت کہیں پائے ہی نہیں جاتے تھے، ان کے حصول کا کوئی ذریعہ نہیں ہو سکتا تھا۔
صرف عرب ہی کا نہیں تمام دُنیا کا ماحول پیشِ نظررکھیے اور دیکھیے۔ یہ شخص جن لوگوں میں پیدا ہوا، جن میں بچپن گزرا، جن کے ساتھ پل کر جوان ہوا، جن سے اس کا میل جول رہا، جن سے اس کے معاملات رہے، ابتدا ہی سے عادات میں، اَخلاق میں، وہ ان سب سے مختلف نظر آتا ہے۔ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ اس کی صداقت پر اس کی ساری قوم گواہی دیتی ہے۔ اس کے کسی بدترین دشمن نے بھی کبھی اس پر الزام نہیں لگایا کہ اُس نے فلاں موقع پر جھوٹ بولا تھا۔ وہ کسی سے بدکلامی نہیں کرتا۔ کسی نے اس کی زبان سے کبھی گالی یا کوئی فحش بات نہیں سنی۔ وہ لوگوں سے ہر قسم کے معاملات کرتا ہے، مگر کبھی کسی سے تلخ کلامی اور تُوتُو مَیں مَیں کی نوبت ہی نہیں آتی۔ اس کی زبان میں سختی کی بجائے شیرینی ہے اور وہ بھی ایسی کہ جو اس سے ملتا ہے گرویدہ ہو جاتا ہے۔ وہ کسی سے بدمعاملگی نہیں کرتا۔ کسی کی حق تلفی نہیں کرتا۔ برسوں سوداگری کا پیشہ کرنے کے باوجود کسی کا ایک پیسا بھی ناجائز طریقہ سے نہیں لیتا۔ جن لوگوں سے اس کے معاملات پیش آتے ہیں وہ سب اس کی ایمان داری پر کامل بھروسا رکھتے ہیں۔ ساری قوم اُسے ’’امین‘‘ کہتی ہے۔ دُشمن تک اس کے پاس اپنے قیمتی مال رکھواتے ہیں اور وہ ان کی بھی حفاظت کرتا ہے بے حیا لوگوں کے درمیان وہ ایسا حیادار ہے کہ ہوش سنبھالنے کے بعد کسی نے اسے برہنہ نہیں دیکھا۔ بداَخلاقوں کے درمیان وہ ایسا پاکیزہ اَخلاق ہے کہ کبھی کسی بدکاری میں مبتلا نہیں ہوتا، شراب اور جوئے کو ہاتھ تک نہیں لگاتا۔ ناشائستہ لوگوں کے درمیان وہ ایسا شائستہ ہے کہ ہر بدتمیزی اور گندگی سے نفرت کرتا ہے اور اس کے ہر کام میں ستھرائی اور پاکیزگی پائی جاتی ہے سنگ دلوں کے درمیان وہ ایسا نرم دل ہے کہ ہر ایک کے دکھ درد میں شریک ہوتا ہے۔ یتیموں اور بیوائوں کی مدد کرتا ہے، مسافروں کی میزبانی کرتا ہے، کسی کو اس سے دکھ نہیں پہنچتا اور وہ دوسروں کی خاطر دکھ اٹھاتا ہے۔ وحشیوں کے درمیان وہ ایسا صلح پسند ہے کہ اپنی قوم میں فساد اور خوں ریزی کی گرم بازاری دیکھ کر اسے اذیت ہوتی ہے، اپنے قبیلہ کی لڑائیوں سے دامن بچاتا ہے اور مصالحت کی کوششوں میں پیش پیش رہتا ہے۔ بت پرستوں کے درمیان وہ ایسا سلیم الفطرت اور صحیح العقل ہے کہ زمین وآسمان میں کوئی چیز اسے پوجنے کے لائق نظر نہیں آتی، کسی مخلوق کے آگے اس کا سر نہیں جھکتا، بتوں کے چڑھاوے کا کھانا بھی وہ قبول نہیں کرتا، اس کا دل خود بخود شرک اور مخلوق پرستی سے نفرت کرتا ہے۔
اس ماحول میں یہ شخص ایسا ممتاز نظر آتا ہے جیسے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ایک شمع روشن ہے، یا پتھروں کے ڈھیر میں ایک ہیرا چمک رہا ہے۔
تقریباً چالیس برس تک ایسی پاک، صاف، شریفانہ زندگی بسر کرنے کے بعد اس کی زندگی میں ایک انقلاب شروع ہوتا ہے۔ وہ تاریکی سے گھبرا اُٹھتا ہے جو اسے ہر طرف سے محیط نظر آ رہی ہے۔ وہ جہالت، بداَخلاقی، بدکرداری، بدنظمی، شرک اور بت پر ستی کے اس ہول ناک سمندر سے نکل جانا چاہتا ہے جو اسے گھیرے ہوئے تھا۔ اس ماحول میں کوئی چیز بھی اسے اپنی طبیعت کے مناسب نظر نہیں آتی، وہ سب سے الگ ہو کر آبادی سے دُور پہاڑوں کی صحبت میں جا جا کر بیٹھنے لگتا ہے۔ تنہائی اور سکون کے عالَم میں کئی کئی دن گزارتا ہے۔ روزے رکھ رکھ کر اپنی رُوح اور اپنے دل ودماغ کو اور زیادہ پاک صاف کرتا ہے۔ سوچتا ہے، غور وفکر کرتا ہے، کوئی ایسی روشنی ڈھونڈھتا ہے جس سے وہ اس چاروں طرف چھائی ہوئی تاریکی کو دُور کر دے۔ ایسی طاقت حاصل کرنا چاہتا ہے جس سے اس بگڑی ہوئی دُنیا کو توڑ پھوڑ کر پھر سے سنوار دے۔
یکایک اس کی حالت میں ایک عظیم الشان تغیر رُونما ہوتا ہے۔ ایک دم سے اس کے دل میں وہ روشنی آ جاتی ہے جو پہلے اس میں نہ تھی۔ اچانک اس کے اندر وہ طاقت بھر جاتی ہے جس سے وہ اس وقت تک خالی تھا۔ وہ غار کی تنہائی سے نکل آتا ہے۔ اپنی قوم کے پاس آتا ہے۔ اس سے کہتا ہے کہ یہ بت جن کے آگے تم جھکتے ہو، یہ سب بے حقیقت چیزیں ہیں، انھیں چھوڑ دو۔ کوئی انسان، کوئی درخت، کوئی پتھر، کوئی روح، کوئی سیارہ اس قابل نہیں کہ تم اس کے آگے سرجھکائو۔ اس کی بندگی وعبادت کرو اور اس کی فرماں برداری واطاعت کرو۔ یہ زمین، یہ چاند، یہ سورج، یہ ستارے، یہ زمین اور آسمان کی ساری چیزیں ایک خدا کی مخلوق ہیں۔ وہی تمھارا اور ان سب کا پیدا کرنے والا ہے۔ اُسی کی بندگی کرو، اُسی کا حکم مانو اور اُسی کے آگے سرجھکائو۔ یہ چوری، یہ لوٹ مار، یہ قتل وغارت، یہ ظلم وستم، یہ بدکاریاں جو تم کرتے ہو، سب گناہ ہیں، انھیں چھوڑ دو۔ خدا انھیں پسند نہیں کرتا۔ سچ بولو، انصاف کرو، نہ کسی کی جان لو، نہ کسی کا مال چھینو، جو کچھ لو حق کے ساتھ لو، جو کچھ دو حق کے ساتھ دو۔ تم سب انسان ہو۔ انسان اور انسان سب برابر ہیں۔ نہ کوئی ذلت کا داغ لے کر پیدا ہوا اور نہ کوئی عزت کا تمغہ لے کر دُنیا میں آیا۔ بزرگی اور شرف نسل اور نسب میں نہیں، صرف خدا پرستی اور نیکی اور پاکیزگی میں ہے۔ جو خدا سے ڈرتا ہے اور نیک اور پاک ہے، وہی اعلیٰ درجہ کا انسان ہے اور جو ایسا نہیں وہ کچھ نہیں۔ مرنے کے بعد تم سب کو اپنے خدا کے پاس حاضر ہونا ہے۔ تم میں سے ہر ہر شخص اپنے اعمال کے لیے خدا کے سامنے جواب دہ ہے، اس خدا کے سامنے جو سب کچھ دیکھتا جانتا ہے، تم کوئی چیز اس سے نہیں چھپا سکتے۔ تمھاری زندگی کا کارنامہ اس کے سامنے بے کم وکاست پیش ہو گا اوراِسی کارنامے کے لحاظ سے وہ تمھارے انجام کا فیصلہ کرے گا۔ اُس عادلِ حقیقی کے ہاں نہ کوئی سفارش کام آئے گی، نہ رشوت چلے گی، نہ کسی کا نسب پوچھا جائے گا۔ وہاں صرف ایمان اور نیک عمل کی پوچھ ہو گی۔ جس کے پاس یہ سامان ہو گا۔ وہ جنت میں جائے گا اور جس کے پاس ان میں سے کچھ بھی نہ ہو گا وہ نامراد دوزخ میں ڈالا جائے گا۔
یہ تھا وہ پیغام جسے لے کر وہ غار سے نکلا۔
جاہل قوم اس کی دشمن ہو جاتی ہے۔ گالیاں دیتی ہے۔ پتھر مارتی ہے۔ ایک دن دو دن نہیں اکٹھے تیرہ برس تک اس پر سخت سے سخت ظلم توڑتی ہے۔ یہاں تک کہ اسے وطن سے نکال باہر کرتی ہے اور پھر نکالنے پر بھی دم نہیں لیتی، جہاں وہ جا کر پناہ لیتا ہے۔ وہاں بھی اُسے ہر طرح ستاتی ہے۔ تمام عرب کو اس کے خلاف ابھار دیتی ہے اورکامل آٹھ برس اس کے خلاف برسرِ پیکار رہتی ہے۔ وہ ان سب تکلیفوں کو سہتا ہے مگر اپنی بات سے نہیں ٹلتا۔
یہ قوم اس کی دشمن کیوں ہوئی؟ کیا زر اور زمین کا کوئی جھگڑا تھا؟ کیا خون کا کوئی دعوٰی تھا؟ کیا وہ ان سے دُنیا کی کوئی چیز مانگ رہا تھا؟ نہیں ساری دشمنی صرف اسی بات پر تھی کہ وہ ایک خدا کی بندگی اور پرہیز گاری اور نیکوکاری کی تعلیم کیوں دیتا ہے، بت پرستی، شرک اور بدعملی کے خلاف تبلیغ کیوں کرتا ہے، پجاریوں اور پروہتوں کی پیشوائی پر کیوں ضرب لگاتا ہے، سرداروں کی سرداری کا طلسم کیوں توڑتا ہے، انسان اورانسان کے درمیان سے اونچ نیچ کا فرق کیوں مٹانا چاہتا ہے، قبائلی اور نسلی تعصبات کو جاہلیت کیوں قرار دیتا ہے، زمانۂ قدیم سے سوسائٹی کا جو نظام بندھا چلا آ رہا ہے اُسے کیوں توڑنا چاہتا ہے۔ قوم کہتی تھی کہ یہ باتیں جو تُو کَہ رہا ہے، یہ سب خاندانی روایات اور قومی طریقہ کے خلاف ہیں۔ تو انھیں چھوڑ دے ورنہ ہم تیرا جینا مشکل کر دیں گے۔
اچھا تو اس شخص نے یہ تکلیفیں کیوں اُٹھائیں؟ قوم اُسے بادشاہی دینے پر آمادہ تھی، دولت کے ڈھیر اس کے قدموں میں ڈالنے کو تیار تھی بشرطیکہ وُہ اپنی اس تعلیم سے باز آ جائے۔ مگر اس نے ان سب کو ٹھکرادیا اور اپنی تعلیم کی خاطر پتھر کھانا اور ظلم سہنا قبول کیا۔ یہ آخر کیوں ؟ کیا ان کے خدا پرست اور نیکو کار بن جانے میں اس کا کوئی ذاتی فائدہ تھا؟ کیا کوئی ایسا فائدہ تھا جس میں ریاست، امارت، دولت اور عیش کے سارے لالچ بھی ناقابلِ التفات تھے؟ کیا کوئی ایسا فائدہ تھا جس کی خاطر ایک شخص سخت سے سخت جسمانی اور روحانی اذیتوں میں مبتلا ہونا اور کامل ۲۱ سال مبتلا رہنا بھی گوارا کر سکتا ہو؟ غور کرو! کیا نیک نفسی، ایثار اور ہم دردیٔ بنی نوع کا اس سے بھی بلند تر کوئی مرتبہ تمھارے تصوّر میں آ سکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی فائدہ کی خاطر نہیں، دوسروں کے بھلے کی خاطر تکلیفیں اُٹھائے؟ جن کی بھلائی اور بہتری کے لیے وہ کوشش کرتا ہے وہی اسے پتھر ماریں، گالیاں دیں ، گھر سے بے گھر کر دیں، غریب الوطنی میں بھی اس کا پیچھا نہ چھوڑیں، اور ان سب باتوں پر بھی وہ ان کا بھلا چاہنے سے باز نہ آئے۔
پھر دیکھو! کیا کوئی جھوٹا شخص کسی بے اصل بات کے پیچھے ایسی مصیبتیں برداشت کر سکتا ہے؟ کیا کوئی تیر تکے لڑانے والا انسان محض گمان اور قیاس سے کوئی بات کَہ کر اس پر اتنا جم سکتا ہے؟ کہ مصیبتوں کے پہاڑ اُس پر ٹوٹ جائیں، زمین اس پر تنگ کر دی جائے، تمام ملک اس کے خلاف اُٹھ کھڑا ہو، بڑی بڑی فوجیں اُس پر اُمنڈ اُمنڈ کر آئیں، مگر وہ اپنی بات سے یک سرِ مو ہٹنے پر آمادہ نہ ہو؟ یہ استقامت، یہ عزم اور یہ ثبات خود گواہی دے رہا ہے کہ اُسے اپنی صداقت پر یقین اورکامل یقین تھا۔ اگر اس کے دل میں شک اور شبہ کا ادنیٰ شائبہ بھی ہوتا تو وہ مسلسل ۲۱ سال تک مصائب کے ان پے دَرپے طوفانوں کے مقابلہ میں کبھی نہ ٹھہر سکتا۔
یہ تو اس شخص کے انقلابِ حال کا ایک پہلو تھا، دُوسرا پہلو اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے:
چالیس برس کی عمر تک وہ ایک عرب تھا، عام عربوں کی طرح ۔ اس دوران میں کسی نے اس سوداگر کو ایک خطیب، ایک جادوبیان مقرر کی حیثیت سے نہ جانا۔ کسی نے اسے حکمت اور دانائی کی باتیں کرتے نہ سنا، کسی نے اسے الہٰیات، فلسفۂ اَخلاق، قانون، سیاسیات، معاشیات اورعمرانیات کے مسائل پر بحث کرتے نہ دیکھا۔ کسی نے اس سے خدا، ملائکہ، آسمانی کتابوں، پچھلے انبیا، امم انبیا، قیامت، حیات بعد الموت اور دوزخ جنت کے متعلق ایک لفظ بھی نہ سنا۔ وہ پاکیزہ اَخلاق، شائستہ اطوار اور بہترین سیرت تو ضرور رکھتا تھا۔ مگر چالیس برس کی عمر کو پہنچنے تک اس کی ذات میں کوئی بھی غیرمعمولی بات نہ پائی گئی، جس سے لوگ متوقع ہوتے کہ یہ شخص اب کچھ بننے والا ہے۔ اس وقت تک جاننے والے اسے محض ایک خاموش، امن پسند اور نہایت شریف انسان کی حیثیت سے جانتے تھے۔ مگر چالیس برس کے بعد جب وہ اپنے غار سے ایک نیا پیغام لے کر نکلا تو یک لخت اس کی کایا ہی پلٹی ہوئی تھی۔
اب وہ ایک حیرت انگیز کلام سنا رہا تھا جسے سن کر سارا عرب مبہُوت ہوگیا۔ اس کلام کی شدتِ تاثیر کا یہ حال تھا کہ اس کے کٹر دشمن بھی اسے سنتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں یہ دل میں اُتر نہ جائے۔ اس کی فصاحت وبلاغت اور زورِ بیان کا یہ عالم تھا کہ تمام قومِ عرب کو ’’جس میں بڑے بڑے شاعر، خطیب اور زبان آوری کے مدعی موجود تھے‘‘ اس نے چیلنج دیا اور بار بار چیلنج دیا کہ تم سب مل کر ایک ہی سورۃ اس کے مانند بنا لائو مگر کوئی اس کے مقابلہ کی جرأت نہ کر سکا۔ ایسا بے مثل کلام کبھی عرب کے کانوں نے سنا ہی نہ تھا۔
اب یکایک وہ ایک بے مثل حکیم، ایک لاجواب مصلحِ اَخلاق وتمدن ایک حیرت انگیز ماہر سیاست، ایک زبردست مقنن، ایک اعلیٰ درجہ کا جج، ایک بے نظیر سپہ سالار بن کر ظاہر ہوا۔ اُس اَن پڑھ صحرا نشین نے حکمت اور دانائی کی وہ باتیں کہنا شروع کر دیں جو نہ اس سے پہلے کسی نے کہی تھیں، نہ اس کے بعد کوئی کَہ سکا۔ وہ امی الہٰیات کے عظیم الشان مسائل پر فیصلہ کُن تقریریں کرنے لگا۔ تاریخِ اقوام سے عروج وزوالِ اُمم کے فلسفہ پر لیکچر دینے لگا۔ پرانے مصلحین کے کارناموں پر تبصرے اور مذاہبِ عالَم پر تنقید اور اختلافاتِ اقوام کے فیصلے کرنے لگا۔ اَخلاق اور تہذیب اور شائستگی کا درس دینے لگا۔
اس نے معاشرت، معیشت، اجتماعی معاملات اور بین الاقوامی تعلقات کے متعلق قوانین بنانا شروع کر دیے اور ایسے قوانین بنائے کہ بڑے بڑے علما اور عقلا غور وخوض اور عمر بھر کے تجربات کے بعد بمشکل ان کی حکمتوں کو سمجھ سکتے ہیں اور دُنیا کے تجربات جتنے بڑھتے جاتے ہیں، ان کی حکمتیں اور زیادہ کھلتی جاتی ہیں۔
وہ خاموش پُر امن سوداگر، جس نے تمام عمر کبھی تلوار نہ چلائی تھی، کبھی کوئی فوجی تربیت نہ پائی تھی، حتّٰی کہ جو عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ ایک لڑائی میں محض ایک تماشائی کی حیثیت سے شریک ہوا تھا، دیکھتے دیکھتے وہ ایک ایسا بہادُر سپاہی بن گیا جس کا قدم سخت سے سخت معرکوں میں بھی اپنے مقام سے ایک اِنچ نہ ہٹا۔ ایسا زبردست جنرل بن گیا جس نے ۹ سال کے اندر تمام ملک عرب کو فتح کر لیا۔ ایسا حیرت انگیز ملٹری لیڈر بن گیا کہ اس کی پیدا کی ہوئی فوجی تنظیم اور جنگی رُوح کے اثر سے بے سروسامان عربوں نے چند سال میں دُنیا کی دو عظیم الشان فوجی طاقتوں کو اُلٹ کر رکھ دیا۔
وہ الگ تھلگ رہنے والا سکون پسند انسان، جس کے اندر کسی نے چالیس برس تک سیاسی دل چسپی کی بُو بھی نہ پائی تھی، یکایک اتنا زبردست ریفارمر اورمدبّربن کر ظاہر ہوا کہ ۲۳ سال کے اندر اس نے ۱۲ لاکھ مربع میل میں پھیلے ہوئے ریگستان کے منتشر، جنگ جُو، جاہل، سرکش، غیر متمدن اور ہمیشہ آپس میں لڑنے والے قبائل کو، ریل، تار اور ریڈیواور پریس کی مدد کے بغیر ایک مذہب، ایک تہذیب، ایک قانون اور ایک نظامِ حُکُومت کا تابع بنا دیا۔ اس نے ان کے خیالات بدل دیے، ان کے خصائل بدل دیے، ان کے اَخلاق بدل دیے، ان کی ناشائستگی کو اعلیٰ درجہ کی شائستگی میں، ان کی وحشت کو بہترین مدنیت میں، ان کی بدکرداری اور بداَخلاقی کو صلاح وتقوٰی اور مکارم اَخلاق میں، ان کی سرکشی اور انارکی کو انتہا درجہ کی پابندیٔ قانون اور اطاعتِ امر میں تبدیل کر دیا۔ اس بانجھ قوم کو، جس کی گود میں صدیوں سے کوئی ایک بھی قابلِ ذکر انسان پیدا نہ ہوا تھا، اس نے ایسا مردم خیز بنایا کہ اس میں ہزار در ہزار اعاظمِ رجال اُٹھ کھڑے ہوئے اور دُنیا کو دین،اَخلاق اور تہذیب کا درس دینے کے لیے چار دانگ عالَم میں پھیل گئے۔
اور یہ کام اس نے ظلم اور جبر، دغا اور فریب سے انجام نہیں دیا بلکہ دل موہ لینے والے اَخلاق اور روحوں کو مسخر کر لینے والی شرافت اور دماغوں پر قبضہ کر لینے والی تعلیم سے انجام دیا۔ اس نے اپنے اَخلاق سے دشمنوں کو دوست بنایا۔ رحم اورشفقت سے دلوں کو موم کیا۔ عدل اور انصاف سے حُکُومت کی۔ حق اور صداقت سے کبھی یک سرِ مو انحراف نہ کیا۔ جنگ میں بھی کسی سے بد عہدی اور دغا نہ کی۔ اپنے بدترین دُشمنوں پر بھی ظلم نہ کیا جو اس کے خون کے پیاسے تھے، جنھوں نے اسے پتھر مارے تھے، اُسے وطن سے نکالا تھا، اس کے خلاف تمام عرب کو کھڑا کر دیا تھا، حتّٰی کہ جنھوں نے جوشِ عداوت میں اس کے چچا کا کلیجا تک نکال کر چبا ڈالا تھا، انھیں بھی اس نے فتح پا کر بخش دیا۔ اپنی ذات کے لیے کبھی اس نے کسی سے بدلہ نہ لیا۔
ان سب باتوں کے ساتھ اس کے ضبط نفس بلکہ بے نفسی کا یہ عالَم تھا کہ جب وہ تمام ملک کا بادشاہ ہو گیا اُس وقت بھی وہ جیسا فقیر پہلے تھا ویسا ہی فقیر رہا۔ پھونس کے چھپر میں رہتا تھا۔ بوریے پر سوتا تھا۔ موٹا جھوٹا پہنتا تھا۔ غریبوں کی سی غذا کھاتا تھا۔ فاقے تک کر گزرتا تھا۔ رات رات بھر اپنے خدا کی عبادت میں کھڑا رہتا تھا۔ غریبوں اور مصیبت زدوں کی خدمت کرتا تھا۔ ایک مزدور کی طرح کام کرنے میں بھی اسے تامل نہ تھا۔ آخر وقت تک اُس کے اندرشاہانہ تمکنت اور امیرانہ ترفُّع اور بڑے آدمیوں کے سے تکبر کی ذرا سی بُو بھی پیدا نہ ہوئی۔ وہ ایک عام آدمی کی طرح لوگوں سے ملتا تھا۔ ان کے دکھ درد میں شریک ہوتا تھا۔ عوام کے درمیان اس طرح بیٹھتا تھا کہ اجنبی آدمی کو یہ معلوم کرنا مشکل ہوتا تھا کہ اس محفل میں قوم کا سردار اور ملک کا بادشاہ کون ہے۔ اتنا بڑا آدمی ہونے کے باوجود چھوٹے سے چھوٹے آدمی کے ساتھ بھی ایسا برتائو کرتا تھا کہ گویا وہ اسی جیسا ایک انسان ہے، تمام عمر کی جدوجہد میں اس نے اپنی ذات کے لیے کچھ بھی نہ چھوڑا۔ اپنا پورا ترکہ اپنی قوم پر وقف کر دیا۔ اپنے پیروئوں پر اُس نے اپنے یا اپنی اولاد کے کچھ بھی حقوق قائم نہ کیے۔ حتّٰی کہ اپنی اولاد کو زکوٰۃ لینے کے حق سے بھی محروم کر دیا محض اس خوف سے کہ کہیں آگے چل کر اس کے پیرو اس کی اولاد ہی کو ساری زکوٰۃ نہ دینے لگ جائیں۔
ابھی اس عظیم الشان آدمی کے کمالات کی فہرست ختم نہیں ہوئی۔ اس کے مرتبہ کا صحیح اندازہ کرنے کے لیے آپ کو تاریخِ عالَم میں بحیثیتِ مجموعی ایک نظر ڈالنی چاہیے۔ آپ دیکھیں گے کہ صحرائے عرب کا یہ اَن پڑھ بادیہ نشین، جو چودہ سو برس پہلے اس تاریک دَور میں پیدا ہوا تھا، دراصل دورِ جدید کا بانی اور تمام دُنیا کا لیڈر ہے، وہ نہ صرف ان کا لیڈر ہے جو اسے لیڈر مانتے ہیں، بلکہ ان کا بھی لیڈر ہے جو اسے نہیں مانتے۔ انھیں اس امر کا احساس تک نہیں کہ جس کے خلاف وہ زبان کھولتے ہیں اس کی راہ نمائی کس طرح ان کے خیالات میں، ان کے اُصولِ حیات اور قوانینِ عمل میں، اور ان کے عصرِ جدید کی رُوح میں پیوست ہو گئی ہے۔
یہی شخص ہے جس نے دُنیا کے تصوّرات کا رُخ، وہمیت ، عجائب پرستی اور رہبانیت کی طرف سے ہٹا کر عقلیت ، حقیقت پسندی اور متقیانہ دُنیاداری کی طرف پھیر دیا۔ اسی نے محسوس معجزے مانگنے والی دُنیا میں عقلی معجزوں کو سمجھنے اورانھی کو معیارِ صداقت ماننے کا مذاق پیدا کیا۔ اسی نے خرقِ عادات میں خدا کی خدائی کے آثار ڈھونڈنے والوں کی آنکھیں کھولیں اور انھیں آثارِ فطرت (Natural Phenomena) میں خدا کی نشانیاں دیکھنے کا خوگر بنایا۔ اسی نے خیالی گھوڑے دوڑانے والوں کو قیاس آرائی (Speculation) سے ہٹا کر تعقل، تفکّر، مشاہدہ اورتحقیق کے راستے پر لگایا۔ اسی نے عقل ، حس اور وجدان کے امتیازی حدود انسان کو بتائے۔ مادیت اور روحانیت میں مناسبت پیدا کی، دین سے علم وعمل کا ربط قائم کیا، مذہب کی طاقت سے دُنیا میں سائنٹفک اسپرٹ سے صحیح مذہبیت پیدا کی۔ اسی نے شرک اورمخلوق پرستی کی بنیادوں کو اکھاڑا اور علم کی طاقت سے توحید کا اعتقاد ایسی مضبوطی کے ساتھ قائم کیا کہ مشرکوں اور بت پرستوں کے مذہب بھی وحدانیت کا رنگ اختیارکرنے پر مجبور ہو گئے، اسی نے اَخلاق اور روحانیت کے بنیادی تصوّرات کو بدلا۔ جو لوگ ترکِ دُنیا اور نفس کشی کو عین اَخلاق سمجھتے تھے، جن کے نزدیک نفس وجسم کے حقوق ادا کرنے اور دُنیوی زندگی کے معاملات میں حصہ لینے کے ساتھ روحانی ترقی اور نجات ممکن ہی نہ تھی، انھیں اسی نے تمدن، سماج اور دنیوی عمل کے اندر فضیلتِ اَخلاق، ارتقائے روحانی اور حصولِ نجات کا راستہ دکھایا۔ پھر وہی ہے جس نے انسان کو اس کی حقیقی قدر وقیمت سے آگاہ کیا۔ جو لوگ بھگوان ، اوتار اور ابنُ اللّٰہ کے سوا کسی کو ہادی وراہ نما تسلیم کرنے پر تیار نہ تھے، انھیں اسی نے بتایا کہ انسان اور تمھارے جیسا انسان آسمانی بادشاہت کا نمایندہ اور خداوندِ عالم کا خلیفہ ہو سکتا ہے۔ جو لوگ ہر طاقت وَر انسان کو اپنا خدا بناتے تھے انھیں اسی نے سمجھایا کہ انسان بجز انسان کے اور کچھ نہیں، نہ کوئی شخص تقدس، حکم رانی اور آقائی کا پیدائشی حق لے کر آیا ہے اور نہ کسی پر ناپاکی، محکومیت اور غلامی کا پیدائشی داغ لگا ہوا ہے۔ اسی تعلیم نے دُنیا میں وحدتِ انسانی ، مساوات ، جمہوریت اور آزادی کے تخیلات پیدا کیے ہیں۔
تصوّرات سے آگے بڑھیے۔ آپ کو اس اُمی کی لیڈر شپ کے عملی نتائج دُنیا کے قوانین اور طریقوں اور معاملات میں اس کثرت سے نظر آئیں گے کہ اِن کا شمار مشکل ہو جائے گا۔ اَخلاق اور تہذیب، شائستگی اور طہارت ونظافت کے کتنے ہی اُصول ہیں جو اس کی تعلیم سے نکل کر تمام دُنیا میں پھیل گئے ہیں۔ معاشرت کے جو قوانین اس نے بنائے تھے۔ دُنیا نے کس قدر ان کی خوشہ چینی کی اور اب تک کیے جا رہی ہے۔ معاشیات کے جو اُصول اس نے سکھائے تھے ان سے دُنیا میں کتنی تحریکیں پیدا ہوئیں اور اب تک پیدا ہوئے جا رہی ہیں۔ حُکُومت کے جو طریقے اس نے اختیار کیے تھے ان سے دُنیا کے سیاسی نظریات میں کتنے انقلاب برپا ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ عدل اور قانون کے جو اصول اس نے وضع کیے تھے انھوں نے دُنیا کے عدالتی نظامات اور قانونی افکار کو کس قدر متاثر کیااور اب تک ان کی تاثیر خاموشی کے ساتھ جاری ہے۔ جنگ اور صلح اور بین الاقوامی تعلقات کی تہذیب جس شخص نے عملاً دُنیا میں قائم کی وہ دراصل یہی عرب کا اُمّی ہے ورنہ پہلے دُنیا اس سے ناواقف تھی کہ جنگ کی بھی کوئی تہذیب ہو سکتی ہے اور مختلف قوموں میں مشترک انسانیت کی بنیاد پر بھی معاملات ہونا ممکن ہیں۔
انسانی تاریخ کے منظر میں اس حیرت انگیز انسان کی بلند وبالا شخصیت اتنی اُبھری ہوئی نظر آتی ہے کہ ابتدا سے لے کر اب تک کے بڑے سے بڑے تاریخی انسان جنھیں دُنیا اکابر (Heroes) میں شمار کرتی ہے، جب اس کے مقابلہ میں لائے جاتے ہیں تو اس کے آگے بَونے نظر آتے ہیں۔ دُنیا کے اکابر میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کے کمال کی چمک دمک انسانی زندگی کے ایک دو شعبوں سے آگے بڑھ سکی ہو۔ کوئی نظریات کا بادشاہ ہے مگر عملی قوت نہیں رکھتا۔ کوئی عمل کا پتلا ہے مگر فکر میں کم زور ہے۔ کسی کے کمالات سیاسی تدبیر تک محدود ہیں۔ کوئی محض فوجی ذہانت کا مظہر ہے۔ کسی کی نظر اجتماعی زندگی کے ایک پہلو پر اتنی زیادہ گہری ہے کہ دوسرے پہلو اوجھل ہو گئے ہیں۔ کسی نے اَخلاق اور روحانیت کو لیا تو معیشت وسیاست کو بھلا دیا۔ کسی نے معیشت وسیاست کو لیا تو اَخلاق وروحانیت کو نظر انداز کر دیا۔ غرض تاریخ میں ہر طرف یک رُخے ہیرو ہی نظر آتے ہیں مگر تنہا یہی ایک شخصیت ایسی ہے جس میں تمام کمالات جمع ہیں وہ خود ہی فلسفی اور حکیم بھی ہے اور خود ہی اپنے فلسفہ کو عملی زندگی میں نافذ کرنے والا بھی۔ وہ سیاسی مدبّر بھی ہے، واضع قانون بھی ہے، مُعلّمِ اَخلاق بھی ہے، مذہبی اور روحانی پیشوا بھی ہے۔ اس کی نظر انسان کی پوری زندگی پر پھیلتی ہے اور چھوٹی سے چھوٹی تفصیلات تک جاتی ہے کھانے، پینے کے آداب اور جسم کی صفائی کے طریقوں سے لے کر بین الاقوامی تعلقات تک ایک ایک چیز کے متعلق وہ احکام اور ہدایات دیتا ہے، اپنے نظریات کے مطابق ایک مستقل تہذیب (Civilisation) وُجود میں لا کر دکھا دیتا ہے، اور زندگی کے تمام مختلف پہلوئوں میں ایسا صحیح توازُن قائم کرتا ہے کہ افراط وتفریط کا کہیں نشان تک نظر نہیں آتا، کیا کوئی دوسرا شخص اس جامعیت کا تمھاری نظر میں ہے؟
(Equilibrium) دُنیا کی بڑی بڑی تاریخی شخصیتوں میں سے کوئی ایک بھی ایسی جو کم وبیش اپنے ماحول کی پیدا کردہ نہ ہو، مگر اس شخص کی شان سب سے نرالی ہے۔ اس کے بنانے میں اس کے ماحول کا کوئی حصہ نظر نہیں آتا اور نہ کسی دلیل سے یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ عرب کا ماحول اُس وقت تاریخی طور پر ایسے ایک انسان کی پیدائش کا مقتضی تھا۔ بہت کھینچ تان کر تم جو کچھ کَہ سکتے ہو وہ اس سے زیادہ کچھ نہ ہو گا کہ تاریخی اسباب عرب میں ایک ایسے لیڈر کے ظہور کا تقاضا کرتے تھے جو قبائلی انتشار کو مٹا کر ایک قوم بناتا، اور ممالک کو فتح کرکے عربوں کی معاشی فلاح وبہبود کا سامان کرتا… یعنی ایک نیشنلسٹ لیڈر جو اس وقت کی تمام عربی خصوصیات کا حامل ہوتا۔ ظلم، بے رحمی، خوں ریزی اور مکرودغا، غرض ہر ممکن تدبیر سے اپنی قوم کو خوش حال بناتا اور ایک سلطنت پیدا کرکے اپنے پس ماندوں کے لیے چھوڑ جاتا۔ اِس کے سوا اُس وقت کی عربی تاریخ کا کوئی تقاضا تم ثابت نہیں کر سکتے۔ ہیگل کے فلسفۂ تاریخ یا مارکس کی مادی تعبیرِ تاریخ کے نقطۂ نظر سے تم حد سے حد یہی حکم لگا سکتے ہو کہ اُس وقت اُس ماحول میں ایک قوم اور ایک سلطنت بنانے والا ظاہر ہونا چاہیے تھا، یا ظاہر ہو سکتا تھا۔ مگر ہیگلی یا مارکسی فلسفہ اس واقعہ کی توجیہ کیوں کر کرے گا کہ اُس وقت اس ماحول میں ایسا شخص پیدا ہوا جو بہترین اَخلاق سکھانے والا، انسانیت کو سنوارنے اور نفوس کا تزکیہ کرنے والا اور جاہلیت کے اوہام وتعصبات کو مٹانے والا تھا جس کی نظر قوم اور نسل اور ملک کی حدیں توڑ کر پوری انسانیت پر پھیل گئی۔ جس نے اپنی قوم کے لیے نہیں بلکہ عالَمِ انسانی کے لیے ایک اَخلاقی وروحانی اور تمدّنی وسیاسی نظام کی بنا ڈالی۔ جس نے معاشی معاملات اور سیاستِ مُدن اور بین الاقوامی تعلقات کو عالمِ خیال میں نہیں بلکہ عالمِ واقعہ میں اَخلاقی بنیادوں پر قائم کرکے دکھایا اور روحانیت ومادیت کی ایسی معتدل اورمتوازن آمیزش کی جو آج بھی حکمت ودانائی کا ویسا ہی شاہ کار ہے جیسا اُس وقت تھا۔ کیا ایسے شخص کو تم عرب جاہلیت کے ماحول کی پیداوار کَہ سکتے ہو؟
یہی نہیں کہ وہ شخص اپنے ماحول کی پیداوار نظر نہیں آتا۔ بلکہ جب ہم اس کے کارنامے پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمان ومکان کی قیود سے آزاد ہے۔ اس کی نظر وقت اور حالات کی بندشوں کو توڑتی ہوئی صدیوں اور ہزاروں (Millennium) کے پردوں کو چاک کرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے۔ وہ انسان کو ہر زمانے اور ہر ماحول میں دیکھتا ہے اور اس کی زندگی کے لیے ایسی اَخلاقی اور عملی ہدایات دیتا ہے جو ہر حال میں یکساں مناسبت کے ساتھ ٹھیک بیٹھتی ہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہے جنھیں تاریخ نے پرانا کر دیا ہے، جن کی تعریف ہم صرف اس حیثیت سے کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے زمانے کے اچھے راہ نما تھے۔ سب سے الگ اور سب سے ممتاز وہ انسانیت کا ایسا راہ نما ہے جو تاریخ کے ساتھ حرکت (March) کرتا ہے اور ہر دور میں ویسا ہی جدید (Modern) نظر آتا ہے جیسا اس سے پہلے دَور کے لیے تھا۔ تم جن لوگوں کو فیاضی کے ساتھ ’’تاریخ بنانے والے‘‘ (Makers of History) کا لقب دیتے ہو وہ حقیقت میں تاریخ کے بنائے ہوئے (Creatures of History) ہیں۔ دراصل تاریخ بنانے والا پوری انسانی تاریخ میں یہی ایک شخص ہے۔ دُنیا کے جتنے لیڈروں نے تاریخ میں انقلاب برپا کیے ہیں ان کے حالات پر تحقیقی نگاہ ڈالو۔ تم دیکھو گے کہ ہر ایسے موقع پر پہلے سے انقلاب کے اسباب پیدا ہو رہے تھے، وہ اسباب خود ہی اس انقلاب کا رُخ اور راستہ بھی معین کر رہے تھے جس کے برپا ہونے کے وہ مقتضی تھے۔ انقلابی لیڈر نے صرف اتنا کیا کہ حالات کے اقتضا کو قوت سے فعل میں لانے کے لیے اس ایکٹر کا پارٹ ادا کر دیا جس کے لیے اسٹیج اور کام دونوں پہلے سے معین ہوں۔ مگر تاریخ بنانے والوں یا انقلاب برپا کرنے والوں کی پوری جماعت میں یہ اکیلا شخص ہے کہ جہاں انقلاب کے اسباب موجود نہ تھے وہاں اس نے خود اسباب کو پیدا کیا، جہاں انقلاب کا مواد موجود نہ تھا وہاں اس نے خود مواد تیار کیا۔ جہاں اس انقلاب کی اسپرٹ اور عملی استعداد لوگوں میں نہ پائی جاتی تھی وہاں اس نے خود اپنے مطلب کے آدمی تیار کیے، اپنی زبردست شخصیت کو پگھلا کر ہزارہا انسانوں کے قالب میں اتار دیا اور انھیں ویسا بنایا جیسا وہ بنانا چاہتا تھا۔ اس کی طاقت اور قوتِ ارادی نے خود ہی انقلاب کاسامان کیا۔ خود ہی اس کی صورت اور نوعیت معیّن کی اور خود ہی اپنے ارادے کے زور سے حالات کی رفتار کو موڑ کر اس راستے پر چلایا جس پر وہ اسے چلانا چاہتا تھا۔ اس شان کا تاریخ ساز اور اس مرتبے کا انقلاب انگیز تمھیں اور کہاں نظر آتا ہے؟
آئیے اب اس سوال پر غور کیجیے کہ ۱۴ سو برس پہلے کی تاریک دُنیا میں، عرب جیسے تاریک تر ملک کے ایک گوشہ میں، ایک گلہ بانی اور سوداگری کرنے والے اَن پڑھ بادیہ نشین کے اندر یکایک اتنا علم، اتنی روشنی، اتنی طاقت، اتنے کمالات اور اتنی زبردست تربیت یافتہ قوتیں پیدا ہو جانے کا کون سا ذریعہ تھا؟ آپ کہتے ہیں کہ سب اس کے اپنے دل ودماغ کی پیداوار تھی۔ میں کہتا ہوں کہ اگر یہ اسی کے دل ودماغ کی پیداوار تھی تو اسے خدائی کا دعوٰی کرنا چاہیے تھا اور اگر وہ ایسا دعوٰی کرتا تو وہ دُنیا جس نے رام کو خدا بنا ڈالا۔ جس نے کرشن کو بھگوان قرار دینے میں تامل نہ کیا، جس نے بودھ کو خود بخود معبود بنا لیا، جس نے مسیحؑ کو آپ اپنی مرضی سے ابنُ اللّٰہ مان لیا، جس نے آگ، پانی اور ہوا تک کو پُوج ڈالا، وہ ایسے زبردست باکمال شخص کو خدا مان لینے سے کبھی انکار نہ کرتی۔ مگر دیکھو، وہ خود کیا کَہ رہا ہے۔ وہ اپنے کمالات میں سے ایک کا کریڈٹ بھی خود نہیں لیتا۔ کہتا ہے کہ مَیں ایک انسان ہوں تمھی جیسا انسان۔ میرے پاس کچھ بھی اپنا نہیں۔ سب کچھ خدا کا ہے اور خدا ہی کی طرف سے ہے۔ یہ کلام جس کی نظیر لانے سے تمام نوع انسانی عاجز ہے میرا کلام نہیں ہے۔ میرے دماغ کی قابلیت کا نتیجہ نہیں ہے، لفظ بلفظ خدا کی طرف سے میرے پاس آیا ہے اور اُس کی تعریف خدا ہی کے لیے ہے۔ یہ کارنامے جو مَیں نے دکھائے یہ قوانین جو میں نے وضع کیے، یہ اُصول جو مَیں نے تمھیں سکھائے، ان میں سے کوئی چیز بھی میں نے خود نہیں گھڑی ہے۔ میں کچھ بھی اپنی ذاتی قابلیت سے پیش کرنے پر قادر نہیں ہوں۔ ہر ہر چیز میں خدا کی راہ نمائی کا محتاج ہوں، اُدھر سے جو اشارہ ہوتا ہے، وہی کرتا ہوں اور وہی کہتا ہوں۔
دیکھو یہ کیسی حیرت انگیز صداقت ہے۔ کیسی امانت اور راست بازی ہے۔ جھوٹا انسان تو بڑا بننے کے لیے دوسروں کے ایسے کمالات کا کریڈٹ بھی لے لینے میں تامل نہیں کرتا جن کے اصل مأخذ کا پتا بآسانی چل جاتا ہے لیکن یہ شخص ان کمالات کو بھی اپنی طرف منسوب نہیں کرتا، جنھیں اگر وہ اپنے کمالات کہتا تو کوئی اسے جھٹلا نہ سکتا تھا، کیوں کہ کسی کے پاس ان کے اصلی مأخذ تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ ہی نہیں۔ سچائی کی اس سے زیادہ کھلی ہوئی دلیل اورکیا ہو سکتی ہے؟اس شخص سے زیادہ سچا اور کون ہو گا جسے ایک نہایت مخفی ذریعہ سے ایسے بے نظیر کمالات حاصل ہوں، اور وہ بلا تکلّف اپنے اصلی ماخذ کاحوالہ دے دے؟ بتائو کیا وجہ ہے کہ ہم اس کی تصدیق نہ کریں؟

(۳) زِندگی بعد مَوت

موت کے بعد کوئی دُوسری زندگی ہے یا نہیں؟ اور ہے تو کیسی ہے؟ یہ سوال حقیقت میں ہمارے علم کی رسائی سے دُور ہے۔ ہمارے پاس وہ آنکھیں نہیں جن سے ہم موت کی سرحد کے اُس پار جھانک کر دیکھ سکیں کہ وہاں کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ ہمارے پاس وہ کان نہیں جن سے ہم اُدھر کی کوئی آواز سن سکیں۔ ہم کوئی ایسا آلہ بھی نہیں رکھتے جس کے ذریعے سے تحقیق کے ساتھ معلوم کیا جا سکے کہ اُدھر کچھ ہے یا کچھ نہیں ہے۔ لہٰذا جہاں تک سائنس کا تعلق ہے، یہ سوال اس کے دائرے سے قطعی خارج ہے۔ جو شخص سائنس کا نام لے کر کہتا ہے کہ موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے وہ بالکل ایک غیر سائنٹیفک بات کہتا ہے۔ سائنس کی رُو سے نہ تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ کوئی زندگی ہے اور نہ یہ کہ کوئی زندگی نہیں ہے۔ جب تک کہ ہم کوئی یقینی ذریعہ علم نہیں پاتے کم از کم اس وقت تک تو صحیح سائنٹیفک رویّہ یہی ہو سکتا ہے کہ ہم زندگی بعد موت کا انکار کریں نہ اقرار۔
مگر کیا عملی زندگی میں ہم اس سائنٹیفک رویّے کو نباہ سکتے ہیں؟ شاید نہیں، بلکہ یقینا نہیں۔ عقلی حیثیت سے تو یہ ممکن ہے کہ جب ایک چیز کو جاننے کے ذرائع ہمارے پاس نہ ہوں تو اس کے متعلق ہم نفی اوراثبات دونوں سے پرہیز کریں، لیکن جب اسی چیز کا تعلق ہماری عملی زندگی سے ہو تو ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ یا تو انکار پر اپنا طرزِ عمل قائم کریں یا اقرار پر۔ مثلاً ایک شخص ہے جس سے آپ واقف نہیں ہیں۔ اگر اس کے ساتھ آپ کا کوئی معاملہ درپیش نہ ہو تو آپ کے لیے یہ ممکن ہے کہ اس کے ایمان دار ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حکم نہ لگائیں۔ لیکن جب آپ کو اس سے معاملہ کرنا ہو تو آپ مجبور ہیں کہ یا توا سے ایمان دار سمجھ کر معاملہ کریں یا بے ایمان سمجھ کر۔ اپنے ذہن میں آپ ضرور یہ خیال کر سکتے ہیں کہ جب تک اس کا ایمان دار ہونا یا نہ ہونا ثابت نہ ہو جائے، اس وقت تک ہم شک کے ساتھ معاملہ کریں گے۔ مگر اس کی ایمان داری کو مشکوک سمجھتے ہوئے جو معاملہ آپ کریں گے۔ عملاً اس کی صورت وہی ہو گی جو اس کی ایمان داری کا انکار کرنے کی صورت میں ہو سکتی تھی۔ لہٰذا فی الحقیقت انکار اور اقرار کے درمیان شک کی حالت صرف ذہن ہی میں ہو سکتی ہے۔ عملی رویّہ کبھی شک پر قائم نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے تو اقرار یا انکار بہرحال ناگزیر ہے۔
یہ بات تھوڑے ہی غور وفکر سے آپ کی سمجھ میں آ سکتی ہے کہ زندگی بعد موت کا سوال محض ایک فلسفیانہ سوال نہیں ہے بلکہ ہماری عملی زندگی سے اس کا بہت گہرا تعلق ہے۔ دراصل ہمارے اَخلاقی رویے کا سارا انحصار ہی اس سوال پر ہے۔ اگر میرا خیال یہ ہو کہ زندگی جو کچھ ہے بس یہی دُنیوی زندگی ہے، اور اس کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے، تو میرا اَخلاقی رویّہ ایک طرح کا ہو گا اور اگر میں یہ خیال رکھتا ہوں کہ اس کے بعد ایک دُوسری زندگی بھی ہے۔ جس میں مجھے اپنی موجودہ زندگی کا حساب دینا ہو گا، اور وہاں میرا اچھا یا بُرا انجام میرے یہاں کے اعمال پر منحصر ہو گا، تو یقینا میرا اَخلاقی طرزِ عمل بالکل ایک دوسری ہی طرح کا ہو گا۔ اس کی مثال یوں سمجھیے جیسے ایک شخص یہ سمجھتے ہوئے سفر کر رہا ہے کہ اسے بس یہاں سے کراچی تک جانا ہے، اور کراچی پہنچ کر نہ صرف یہ کہ اس کا سفر ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا، بلکہ وہاں پولیس، عدالت اور ہر اُس طاقت کی دست رس سے باہر ہو گا جو اس سے کسی قسم کی باز پرس کر سکتی ہو اور اس کے برعکس ایک دُوسرا شخص یہ سمجھتا ہے کہ یہاں سے کراچی تک تو اُس کے سفر کی صرف ایک ہی منزل ہے۔ اس کے بعد اُسے سمندر پار ایک ایسے ملک میں جانا ہو گا۔ جہاں کا فرماں روا وہی ہے جو پاکستان کا فرماں روا ہے اور اس کے دفتر میں میرے اس پورے کارنامے کا خفیہ ریکارڈ موجود ہے جو میںنے پاکستان کے اُس حصے میں انجام دیا ہے، اوروہاں میرے ریکارڈ کو جانچ کر فیصلہ کیا جائے گا کہ میں اپنے کام کے لحاظ سے کس درجے کا مستحق ہوں۔ آپ بآسانی اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان دونوں شخصوں کا طرزِ عمل کس قدر ایک دوسرے سے مختلف ہو گا۔ پہلا شخص یہاں سے کراچی تک کے سفر کی تیاری کرے گا، اور دوسرے کی تیاری بعد کی طویل منزلوں کے لیے بھی ہو گی۔ پہلا شخص یہ سمجھے گا کہ نفع یا نقصان جوکچھ بھی ہے کراچی پہنچنے تک ہے، آگے کچھ نہیں اور دوسرا یہ خیال کرے گا کہ اصل نفع ونقصان سفر کے پہلے مرحلے میں نہیں ہے، بلکہ آخری مرحلے میں ہے۔ پہلا شخص اپنے افعال کے صرف انھی نتائج پرنظر رکھے گا جوکراچی تک کے سفر میں نکل سکتے ہیں لیکن دوسرے شخص کی نگاہ ان نتائج پر ہو گی جو سمندر پار دوسرے ملک میں پہنچ کر نکلیں گے۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں شخصوں کے طرزِ عمل کا یہ فرق براہِ راست نتیجہ ہے ان کی اس رائے کا جووہ اپنے سفرکی نوعیت کے متعلق رکھتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح ہماری اَخلاقی زندگی میں بھی وہ عقیدہ فیصلہ کن اثر رکھتا ہے جو ہم زندگی کے بعد موت کے بارے میں رکھتے ہیں۔ عمل کے میدان میں جو قدم بھی ہم اٹھائیں گے، اس کی سمت کا تعین اس بات پر منحصر ہو گا کہ آیا ہم اسی زندگی کو پہلی اور آخری زندگی سمجھ کر کام کر رہے ہیں، یا کسی بعد کی زندگی اور اس کے نتائج کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ پہلی صورت میں ہمارا قدم ایک سمت اٹھے گا اور دوسری صورت میں اس کی سمت بالکل مختلف ہو گی۔
اس سے معلوم ہوا کہ زندگی بعد موت کا سوال محض ایک عقلی اور فلسفیانہ سوال نہیں ہے، بلکہ عملی زندگی کا سوال ہے اور جب بات یہ ہے تو ہمارے لیے اس معاملے میں شک اور تردّد کے مقام پر ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں۔ شک کے ساتھ جو رویّہ ہم زندگی میں اختیار کریں گے وہ بھی لامحالہ انکار ہی کے رویے جیسا ہو گا۔ لہٰذا ہم بہرحال اس امر کا تعین کرنے پر مجبور ہیں کہ آیا موت کے بعد کوئی اور زندگی ہے یا نہیں۔ اگر سائنس اس کے تعین میں ہماری مدد نہیں کرتی تو ہمیں عقلی استدلال سے مدد لینی چاہیے۔
اچھا تو عقلی استدلال کے لیے ہمارے پاس کیا مواد ہے؟
ہمارے سامنے ایک تو خود انسان ہے اور دوسرے یہ نظام کائنات۔ ہم انسان کو اس نظامِ کائنات کے اندر رکھ کر دیکھیں گے کہ جو کچھ انسان میں ہے آیا اس کے سارے مقتضیات اس نظام میں پورے ہو جاتے ہیں، یا کوئی چیز بچی رہ جاتی ہے، جس کے لیے کسی دُوسری نوعیت کے نظام کی ضرورت ہو۔
دیکھیے، انسان ایک تو جسم رکھتا ہے، جو بہت سے معدنیات، نمکیات، پانی اور گیسوں کا مجموعہ ہے۔ اس کے جواب میں کائنات کے اندر بھی مٹی، پتھر، دھاتیں، نمک، گیسیں، دریا اور اسی جنس کی دوسری چیزیں موجود ہیں۔ ان چیزوں کو کام کرنے کے لیے جتنے قوانین کی ضرورت ہے وہ سب کائنات کے اندر کار فرما ہیں اور جس طرح وہ باہر کی فضا میں پہاڑوں، دریائوں اور ہوائوں کو اپنے حصے کا کام پورا کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔ اسی طرح انسانی جسم کو بھی ان قوانین کے تحت کام کرنے کا موقع حاصل ہے۔
پھر انسان ایک ایسا وجود ہے جو گردوپیش کی چیزوں سے غذا لے کر بڑھتا اور نشوونما حاصل کرتا ہے۔ اسی جنس کے درخت، پودے اور گھاس پھونس کائنات میں بھی موجود ہیں، اور وہ قوانین بھی یہاں پائے جاتے ہیں جو نشوونما پانے والے اجسام کے لیے درکار ہیں۔
پھر انسان ایک زندہ وجود ہے جو اپنے ارادے سے حرکت کرتا ہے اپنی غذا خود اپنی کوشش سے فراہم کرتا ہے، اپنے نفس کی آپ حفاظت کرتا ہے اور اپنی نوع کو باقی رکھنے کا انتظام کرتا ہے۔ کائنات میں اس جنس کی بھی دوسری بہت سی قسمیں موجود ہیں، خشکی، تری اور ہوا میں بے شمار حیوانات پائے جاتے ہیں اور وہ قوانین بھی تمام وکمال یہاں کارفرما ہیں جو ان زندہ ہستیوں کے پورے دائرہ عمل پر حاوی ہونے کے لیے کافی ہیں۔
ان سب سے اُوپر انسان ایک اور نوعیت کا وجود بھی رکھتا ہے جسے ہم اَخلاقی وُجود کہتے ہیں اس کے اندر نیکی اور بدی کرنے کا شعور ہے، نیک اور بد کی تمیز ہے، نیکی اور بدی کرنے کی قوت ہے اور اس کی فطرت یہ مطالبہ کرتی ہے کہ نیکی کا اچھا اور بدی کا بُرا نتیجہ ظاہر ہو۔ وہ ظلم اور انصاف، سچائی اور جھوٹ، حق اور ناحق، رحم اور بے رحمی، احسان اور احسان فراموشی، فیاضی اور بخل، امانت اور خیانت اور ایسی ہی مختلف اَخلاقی صفات کے درمیان فرق کرتا ہے۔ یہ صفات عملاً اس کی زندگی میں پائی جاتی ہیں اور یہ محض خیالی چیزیں نہیں ہیں بلکہ بالفعل ان کے اثرات انسانی تمدن پر مرتّب ہوتے ہیں۔ لہٰذا انسان جس فطرت پر پیدا ہوا ہے اُس کا شدت کے ساتھ تقاضا یہ ہے کہ جس طرح اس کے افعال کے طبعی نتائج رونما ہوتے ہیں، اِسی طرح اَخلاقی نتائج بھی رونما ہوں۔
مگر نظامِ کائنات پر گہری نگاہ ڈال کر دیکھیے، کیا اس نظام میں انسانی افعال کے اَخلاقی نتائج پوری طرح رُونما ہو سکتے ہیں؟ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہاں اس کا امکان نہیں ہے، اس لیے کہ یہاں کم از کم ہمارے علم کی حد تک کوئی دُوسری ایسی مخلوق نہیں پائی جاتی جو اَخلاقی وجود رکھتی ہو۔ سارا نظامِ کائنات طبعی قوانین کے ماتحت چل رہا ہے۔ اَخلاقی قوانین اس میں کسی طرف کارفرما نظر نہیں آتے۔ یہاں روپے میں وزن اور قیمت ہے، مگر سچائی میں نہ وزن ہے نہ قیمت۔ یہاں آم کی گٹھلی سے ہمیشہ آم پیدا ہوتا ہے، مگر حق پرستی کا بیج بونے والے پر کبھی پھولوں کی بارش ہوتی ہے، اورکبھی بلکہ اکثر جوتیوں کی۔ یہاں مادی عناصر کے لیے مقرر قوانین ہیں جن کے مطابق ہمیشہ مقرر نتائج نکلتے ہیں۔ مگر اَخلاقی عناصر کے لیے کوئی مقرر قانون نہیں ہے کہ ان کی فعلیت سے ہمیشہ مقرر نتیجہ نکل سکے۔ طبعی قوانین کی فرماں روائی کے سبب سے اَخلاقی نتائج کبھی تو نکل ہی نہیں سکتے، کبھی نکلتے ہیں تو صرف اس حد تک جس کی اجازت طبعی قوانین دے دیں، اور بارہا ایسا بھی ہوتا ہے کہ اَخلاق ایک فعل سے ایک نتیجہ نکلنے کا تقاضا کرتا ہے، مگر طبعی قوانین کی مداخلت سے نتیجہ بالکل برعکس نکل آتا ہے۔ انسان نے خود اپنے تمدنی وسیاسی نظام کے ذریعے سے تھوڑی سی کوشش اس امر کی کی ہے کہ انسانی اعمال کے اَخلاقی نتائج ایک مقرر ضابطے کے مطابق برآمد ہو سکیں، مگر یہ کوشش بہت محدود پیمانے پر ہے، اور بے حد ناقص ہے۔ ایک طرف طبعی قوانین اسے محدود اور ناقص بناتے ہیں اور دوسری طرف انسان کی اپنی بہت سی کم زوریاں اس انتظام کے نقائص میں اور زیادہ اضافہ کر دیتی ہیں۔
مَیں اپنے مدعا کی توضیح چند مثالوں سے کروں گا۔ دیکھیے، ایک شخص اگر کسی دوسرے شخص کا دشمن ہواور اس کے گھر میں آگ لگا دے تو اس کا گھر جل جائے گا۔ یہ اس کے فعل کا طبعی نتیجہ ہے۔ اس کا اَخلاقی نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ اس شخص کو اتنی ہی سزا ملے جتنا اُس نے ایک خاندان کو نقصان پہنچایا ہے مگر اس نتیجے کا ظاہر ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ آگ لگانے والے کا سراغ ملے، وہ پولیس کے ہاتھ آ سکے۔ اس پر جرم ثابت ہو، عدالت پوری طرح اندازہ کر سکے۔ کہ آگ لگنے سے اس خاندان کو اور اس کی آیندہ نسلوں کو ٹھیک ٹھیک کتنا نقصان پہنچا ہے اور پھر انصاف کے ساتھ اس مجرم کو اتنی ہی سزا دے۔ اگر ان شرطوں میں سے کوئی شرط بھی پوری نہ ہو تو اَخلاقی نتیجہ یا تو بالکل ہی ظاہر نہ ہو گا یا اس کا صرف ایک تھوڑا سا حصہ ظاہر ہوکر رہ جائے گا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اپنے حریف کو برباد کرکے وہ شخص دُنیا میں مزے سے پھولتا پھلتا رہے۔
اس سے بڑے پیمانے پر ایک اور مثال لیجیے۔ چند اشخاص اپنی قوم میں اثر پیدا کر لیتے ہیں اور ساری قوم ان کے کہے پر چلنے لگتی ہے۔ اس پوزیشن سے فائدہ اُٹھا کر وہ لوگوں میں قوم پرستی کا اشتعال اور ملک گیری کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ گرد وپیش کی قوموں سے جنگ چھیڑ دیتے ہیں لکھوکھا آدمیوں کو ہلاک کرتے ہیں۔ ملک کے ملک تباہ کر ڈالتے ہیں اور کروڑوں انسانوں کو ذلیل اور پست زندگی بسر کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ انسانی تاریخ پر ان کی ان کارروائیوں کا ایسا زبردست اثر پڑتا ہے جس کا سلسلہ آیندہ سیکڑوں برس تک پشت درپشت اور نسل در نسل پھیلتا جائے گا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ چند اشخاص جس جرمِ عظیم کے مرتکب ہوئے ہیں اس کی مناسب اور منصفانہ سزا انھیں کبھی اس دُنیوی زندگی میں مل سکتی ہے؟ ظاہر ہے کہ اگر ان کی بوٹیاں بھی نوچ لی جائیں، اگر انھیں زندہ جلا ڈالا جائے یا کوئی اور ایسی سزا دی جائے جو انسان کے بس میں ہے۔ تب بھی کسی طرح وہ اس نقصان کے برابر سزا نہیں پا سکتے جو انھوں نے کروڑہا انسانوں کو اور ان کی آیندہ بے شمار نسلوں کو پہنچایا ہے۔ موجودہ نظامِ کائنات جن طبعی قوانین پر چل رہا ہے، اُن کے تحت کسی طرح یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے جرم کے برابر سزا پا سکیں۔
اسی طرح اُن نیک انسانوں کو لیجیے جنھوں نے نوعِ انسانی کو حق اور راستی کی تعلیم دی اور ہدایت کی روشنی دکھائی، جن کے فیض سے بے شمار انسانی نسلیں صدیوں سے فائدہ اُٹھا رہی ہیں اور نہ معلوم آیندہ کتنی صدیوں تک اٹھاتی چلی جائیں گی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کی خدمات کا پورا صلہ انھیں اس دُنیا میں مل سکے؟ کیا آپ تصوّر کر سکتے ہیں کہ موجودہ طبعی قوانین کی حدود کے اندر ایک شخص اپنے اس عمل کا پورا صلہ حاصل کر سکتا ہے جس کا ردّ عمل اس کے مرنے کے بعد ہزاروں برس تک اور بے شمار انسانوں تک پھیل گیا ہو؟
جیسا کہ مَیں ابھی بیان کر چکا ہوں، اوّل تو موجودہ نظامِ کائنات جن قوانین پر چل رہا ہے۔ اُن کے اندر اتنی گنجائش ہی نہیں ہے کہ انسانی افعال کے اَخلاقی نتائج پوری طرح مرتّب ہو سکیں۔ دوسرے یہاں چند سال کی زندگی میں انسان جو عمل بھی کرتا ہے اس کے ردّ عمل کا سلسلہ اتنا وسیع ہوتا ہے اور اتنی مدت تک جاری رہتا ہے کہ صرف اِسی کے پورے نتائج وصول کرنے کے لیے ہزاروں بلکہ لاکھوں برس کی زندگی درکار ہے اور موجودہ قوانینِ قدرت کے ماتحت انسان کو اتنی زندگی ملنا ناممکن ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسانی ہستی کے خاکی، عضوی اور حیوانی عناصر کے لیے تو موجودہ طبعی دُنیا (Physical World) اور اس کے طبعی قوانین ہیں، مگر اس کے اَخلاقی عنصر کے لیے یہ دُنیا بالکل ناکافی ہے۔ اس کے لیے ایک دُوسرا نظامِ عالم درکار ہے۔ جس میں حکم راں قانون (Governing Law)اَخلاق کا قانون ہو اور طبعی قوانین اس کے ماتحت محض مددگار کی حیثیت سے کام کریں۔ جس میں زندگی محدود نہ ہو، بلکہ غیر محدور ہو۔ جس میں وہ تمام اَخلاقی نتائج جو یہاں مرتب ہونے سے رہ گئے ہیں یا اُلٹے مرتب ہوئے ہیں‘‘ اپنی صحیح صورت میں پوری طرح مرتب ہو سکیں۔ جہاں سونے اور چاندی کی بجائے نیکی اور صداقت میں وزن اور قیمت ہو جہاں آگ صرف اس چیز کو جلائے جو اَخلاقاً جلنے کی مستحق ہو۔ جہاں عیش اسے ملے جو نیک ہو اور مصیبت صرف اس کے حصے میں آئے جو بد ہو۔ عقل چاہتی ہے، فطرت مطالبہ کرتی ہے کہ ایک ایسا نظامِ عالَم ضرور ہونا چاہیے۔
جہاں تک عقلی استدلال کا تعلق ہے وہ ہمیں صرف ’’ہونا چاہیے‘‘ کی حد تک لے جا کر چھوڑ دیتا ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ آیا واقعی کوئی ایسا عالَم ہے بھی تو ہماری عقل اور ہمارا علم، دونوں اس کا حکم لگانے سے عاجز ہیں۔ یہاں قرآن ہماری مدد کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تمھاری عقل اور تمھاری فطرت جس چیز کا مطالبہ کرتی ہے فی الحقیقت وہ ہونے والی ہے۔ موجودہ نظامِ عالم جو طبعی قوانین پر بنا ہے۔ایک وقت میں توڑ ڈالا جائے گا۔ اس کے بعد ایک دوسرا نظام بنے گا۔ جس میں زمین وآسمان اور ساری چیزیں ایک دوسرے ڈھنگ پر ہوں گی۔ پھر اللّٰہ تعالیٰ تمام انسانوں کو جو ابتدائے آفرینش سے قیامت تک پیدا ہوئے تھے دوبارہ پیدا کر دے گا اور بیک وقت ان سب کو اپنے سامنے جمع کر دے گا۔ وہاں ایک ایک شخص کا، ایک ایک قوم کا اور پوری انسانیت کا ریکارڈ ہر غلطی اور ہر فروگزاشت کے بغیر محفوظ ہو گا۔ ہر شخص کے ایک ایک عمل کا جتنا ردّ عمل دُنیا میں ہوا ہے۔ اُس کی پوری روداد موجود ہو گی۔ وہ تمام نسلیں گواہوں کے کٹہرے میں حاضر ہوں گی جو اس رد عمل سے متاثر ہوئیں۔ ایک ایک ذرّہ جس پر انسان کے اقوال اور افعال کے نقوش ثبت ہوئے تھے اپنی داستان سنائے گا۔ خود انسان کے ہاتھ اور پائوں اور آنکھ اور زبان اور تمام اعضا شہادت دیں گے کہ ان سے اس نے کس طرح کام لیا۔ پھر اس رُوداد پر وہ سب سے بڑا حاکم پورے انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا کہ کون کتنے انعام کا مستحق ہے اور کون کتنی سزا کا؟ یہ انعام اور یہ سزا دونوں چیزیں اتنے بڑے پیمانے پر ہوں گی جس کا کوئی اندازہ موجودہ نظامِ عالم کی محدود مقداروں کے لحاظ سے نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں وقت اور جگہ کے معیار کچھ اور ہوں گے۔ وہاں کی مقداریںکچھ اورہوں گی۔ وہاں کے قوانین قدرت کسی اور قسم کے ہوں گے۔ انسان کی جن نیکیوں کے اثرات دُنیا میں ہزاروں برس چلتے رہے ہیں، وہاں وہ اُن کا بھرپور صلہ وُصول کر سکے گا، بغیر اس کے کہ موت، بیماری اور بڑھاپا اس کے عیش کا سلسلہ توڑ سکیں اور اسی طرح انسان کی جن برائیوں کے اثرات دُنیا میں ہزارہا برس تک اور بے شمار انسانوں تک پھیلتے رہے ہیں۔ وہ اُن کی پوری سزا بھگتے گا، بغیر اس کے کہ موت اور بے ہوشی آ کر اسے تکلیف سے بچا سکے۔
ایسی ایک زندگی اور ایسے ایک عالَم کو جو لوگ ناممکن سمجھتے ہیں، مجھے اُن کے ذہن کی تنگی پر ترس آتا ہے۔ اگر ہمارے موجودہ نظامِ عالَم کا موجودہ قوانینِ قدرت کے ساتھ موجود ہونا ممکن ہے تو آخر ایک دُوسرے نظامِ عالَم کا دُوسرے قوانین کے ساتھ وجود میں آنا کیوں ناممکن ہو؟ البتہ یہ بات کہ واقع میں ایسا ضرور ہو گا، توا س کا یقین نہ دلیل سے ہو سکتا ہے اور نہ علمی ثبوت سے، اس کے لیے ایمان بالغیب کی ضرورت ہے۔
٭…٭…٭