تحریک آزادی ہند اور مسلمان (حصہ دوم)

ریڈ مودودی ؒ   کی اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

دیباچہ

میری اس کتاب کا حصّہ اوّل اس سے پہلے شائع ہوچکا ہے‘ جو دراصل تین اجزاء پر مشتمل تھا۔
۱- میرے وہ مضامین جو ۱۹۳۷ء میں ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصّہ اول‘‘ کے نام سے ابتداء ً شائع ہوئے تھے‘ اور پھر ایک مدّت تک اسی نام سے کتابی صورت میں شائع ہوتے رہے۔
۲- وہ مضامین جو میں نے ۱۹۳۸ء میں’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش حصّہ دوم‘‘ کے نام سے شائع کئے تھے‘ اور وہ بھی ایک مدّت تک اسی نام سے شائع ہوتے رہے۔
۳- میری کتاب ’’مسئلہ قومیّت‘‘ کے بعض حصے جو ۱۹۳۹ء میں لکھے گئے تھے۔ ان سب کا موضوع ہندستان کے مسلمانوں کو ان خطرات سے آگاہ کرنا تھا‘ جو ملک کے تمام باشندوں کو ایک قوم فرض کر کے ایک لادینی جمہوری قومی ریاست میں ضم کر دینے سے ان کے دین‘ ان کی تہذیب اور ان کی انفرادیت کو لاحق ہوسکتے تھے۔ اگرچہ اب وہ زمانہ گزر چکا ہے‘ اور حالات بدل گئے ہیں‘ لیکن بہرحال ان مضامین کی ایک تاریخی اہمیت تھی‘ اس لیے ان کو ’’تحریک آزادیِ ہند اور مسلمان‘‘‘ حصّہ اوّل کے نام سے از سرِ نو شائع کیا گیا۔
اب اسی کتاب کا یہ دوسرا حصّہ شائع کیا جا رہا ہے‘ جو دو اجزاء پر مشتمل ہے:
۱- میرے وہ مضامین جو مئی ۳۹ء سے اپریل ۴۱ء تک لکھے گئے تھے‘ اور مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش حصّہ سوم کے نام سے اسی زمانے میں شائع ہوچکے تھے۔ ان میں سے ہر مضمون کی تاریخِ اشاعت درج کر دی گئی ہے‘ جس سے معلوم ہوسکتا ہے‘ کہ کیا بات کن حالات میں کہی گئی تھی۔
۲- وہ مضامین جو سیاسی کش مکش حصّہ سوم کی اشاعت کے بعد اسی موضوع سے تعلق رکھنے والے مسائل پر ۱۹۴۴ء سے ۱۹۴۸ء تک لکھے گئے۔ یہ سب مضامین اگرچہ رسالہ ترجمان القرآن میں اپنے اپنے وقت پر شائع ہوتے رہے تھے‘ لیکن ان کو کہیں یک جامرتّب نہیں کیا گیا تھا۔ اب پہلی مرتّبہ ان کو مرتّب کر کے اس کتاب میں ان کا اضافہ کر دیا گیا ہے‘ اور ان میں سے بھی ہر مضمون کی تاریخ اشاعت درج کر دی گئی ہے‘ تاکہ ہر بات کو اس کے تاریخی پس منظر میں دیکھا اور سمجھا جا سکے۔
چونکہ یہ مضامین…… خصوصاً اس کتاب کے جزو ِاوّل کے مضامین……
برسوں سے میرے خلاف معاندانہ پروپیگنڈے کے لئے خوب خوب استعمال ہوئے ہیں‘ اور ان کی عبارتوں کو سیاق وسباق سے الگ کر کے عجیب عجیب معنی پہنائے جاتے رہے ہیں۔ اس لیے میں نے ترتیب ونظر ثانی کے وقت ان کی عبارات میں کوئی تغیّر نہیں کیا ہے۔اگر کسی چیز کی تشریح کرنے یا کسی چیز کا اضافہ کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے‘ تو اسے حاشیہ کی صورت میں درج کیا ہے‘ اور قدیم وجدید حواشی کے درمیان فرق کرنے کے لیے قوسین میں قدیم‘ یا جدید کے الفاظ لکھ دئیے ہیں‘ تاکہ کوئی غلط فہمی بھی پیدا نہ ہو‘ اور کوئی یہ بھی نہ کہہ سکے کہ معترضین کے اعتراضات سے بچنے کے لیے عبارتوں میں ردّو بدل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی ایک تاریخی دستاویز ہے‘ جس سے معلوم ہوسکتا ہے‘ کہ میں ۱۹۳۹ء سے تقسیمِ ہند کے وقت تک ہندستان کے مسلمانوں سے کیا کہتا رہا ہوں ‘اور تقسیم کے بعد پاکستان کے مسلمانوں کو میں نے اسلام کے اصل نصب العین کی طرف توجہ دلانے کے لیے ۱۹۴۸ء میں کس طرح اپنی کوششوں کا آغاز کیا۔ تقسیم کے بعد گزشتہ ۲۵ سال کے دوران میں پیش آنے والے حالات کو نگاہ میں رکھ کر ہر شخص دیکھ سکتا ہے‘ کہ جو کچھ میں نے اس وقت لکھا تھا وہ حق تھا یانہیں۔معترضین کے پیش کردہ اقتباسات‘ جو زیادہ تر سیاق وسباق سے الگ نکال کر اور تاریخی سیاق کو بھی نظر انداز کر کے پیش کیے گئے ہیں‘ کسی شخص کو صحیح اور منصفانہ رائے قائم کرنے میں مدد نہیں دے سکتے۔ میری اصل عبارتیں پوری تاریخی ترتیب کے ساتھ بے کم وکاست اس کتاب میں ناظرین کے سامنے موجود ہیں۔ انہیں پڑھیں اور جو رائے قائم کرنا چاہیں کریں۔
لاہور
یکم نومبر ۱۹۷۲ء ابوالاعلیٰ

مقدمہ طبع اوّل

’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش‘‘ کے عنوان سے میرے مضامین کے دو مجموعے اس سے پہلے شائع ہوچکے ہیں{ FR 2472 }۔اب اُسی سلسلہ کا یہ تیسرا مجموعہ شائع کیا جارہا ہے۔ بظاہر پہلے دونوں مجموعوں سے اس تیسرے مجموعہ کا فاصلہ اتنا زیادہ ہے‘ کہ ایک شخص بادی النظر میں یوں محسوس کرے گا کہ میں نے حصّہ دوم کے بعد سے یکایک اپنی پوزیشن بدل دی ہے‘ اور خود اپنی بہت سی کہی ہوئی باتوں کی تردید کرنے لگا ہوں۔ لیکن دراصل ان تینوں مجموعوں میں ایک نصب العین کی طرف تدریجی ارتقاء ہے‘ جس کی توضیح یہاں کر دینا چاہتا ہوں‘ تاکہ ناظرین کو کسی قسم کا خلجان پیش نہ آئے۔
یہ بات تھوڑے غور وتامل سے ہر شخص کی سمجھ میں آسکتی ہے‘ کہ ایک پرانی تحریک کو زوال وانحطاط کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا کام کسی نئی تحریک کی ابتداء کرنے کی بہ نسبت زیادہ دشوار اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ نئی تحریک پیش کرنے والے کا راستہ تو بالکل صاف ہوتا ہے۔ اسے صرف ان لوگوں سے سابقہ پیش آتا ہے‘ جو اس تحریک سے بیگانہ ہوتے ہیں۔ اس کو محض اپنے اصول ومقاصد کی تبلیغ کرنی ہوتی ہے۔ پھر یا تو لوگ ا سکی دعوت کو ردّ کر دیتے ہیں‘ یا قبول کر لیتے ہیں۔ لیکن جو کسی پرانی تحریک کو زوال وانحطاط کے بعد دوبارہ زندہ کرنا چاہے اس کے لیے صرف یہی ایک کام نہیں ہوتاکہ بیگانوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کرے بلکہ اسے یگانوں پر بھی نظر رکھنی پڑتی ہے۔ وہ ان لوگوں کو کسی طرح نظر انداز نہیں کر سکتا جو پہلے سے اس تحریک کے ساتھ وابستہ ہیں‘ اور بہرحال بیگانوں کی بہ نسبت اس سے قریب تر ہیں۔ اس کو سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوتا ہے‘ کہ انحطاط کا عمل ان کے اندر کہاں تک ہوچکا ہے‘ اور اصل تحریک کا اثر کس حد تک ان میں باقی ہے۔ پھر اسے یہ فکر بھی کرنی پڑتی ہے‘ کہ جس حد تک بھی وہ دور نکل گئے ہیں اس سے آگے نہ جانے پائیں اور جو کچھ اثر ان کے اندر باقی ہے وہ محفوظ رہے۔ ان کی حیثیت اس تحریک کے حق میں بالکل اس سرمایہ کی سی ہوتی ہے‘ جو کسی شخص کے پاس بچا کُھچا باقی رہ گیا ہو‘ اور ظاہر ہے‘ کہ ایک عقل مند آدمی کسی طرح یہ گوارا نہیں کر سکتاکہ جو کچھ اس کا ہے وہ بھی ہاتھ سے جاتا رہے۔ لہٰذا اس کے لیے ناگزیر ہوتا ہے‘ کہ اس تحریک کے ساتھ لوگوں کی وابستگی جیسی کچھ بھی سرِدست ہے اس کو کم از کم اسی حد پر بر قرار رکھنے کی کوشش کرے‘ اور اس کو مزید اضمحلال سے روکے۔ تحفظ کی اس تدبیر میں کسی حد تک کامیاب ہوجانے کے بعد اس کے لیے لازم ہوتا ہے‘ کہ وہ انہیں موجودہ حالت پر نہ ٹھیر نے دے بلکہ اصل تحریک کی طرف ان کو کھینچنے کی کوشش کرے‘ اور کسی دوسری چیز کو ان کا نصب العین اور ان کی کوششوں کا مرکز ومحورنہ بننے دے۔ اتنے مرحلوں سے گزر کر پھر کہیں اس کے لیے دعوتِ عام کا موقع آتا ہے‘ اور وہ اس مقام پر پہنچتا ہے‘ جہاں سے ایک نئی تحریک پیش کرنے والے کا کام شروع ہوتا ہے۔
چونکہ میرے پیشِ نظر تحریک اسلامی کا احیاء ہے‘ اس لیے مجھے بھی اُسی تدریج کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف پیش قدمی کرنی پڑی ہے‘ جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔’’ترجمان القرآن‘‘ کی زندگی کے ابتدائی چار سال اس کو شش میں صرف ہوئے کہ مسلمانوں کے مختلف طبقوں میں گمراہی کی جو جو شکلیں پیدا ہوگئی ہیں ان پر گرفت کی جائے‘ اور اسلام سے جو روزافزوں بعد ان میں پیدا ہورہا ہے اسے روکا جائے۔{ FR 2473 } ابھی یہ کوشش جاری تھی کہ ۳۷ء میں یکایک یہ خطرہ سامنے آگیا کہ ہندستان کے مسلمان کہیں اس وطنی قومیّت کی تحریک کے شکار نہ ہوجائیں‘ جو آندھی اور طوفان کی طرح ملک پر چھائی چلی جا رہی تھی۔ یہ ظاہر بات ہے‘ کہ ہم موجودہ ظالمانہ نظامِ حکومت{ FR 2474 } کے خواہ کتنے ہی مخالف ہوں‘ اور ہمارے دل میں اس کے پنجے سے نکلنے کی خواہش چاہے کانگریسی حضرات سے بھی بڑھی ہوئی کیوں نہ ہو‘ مگر ہم کسی طرح بھی یہ گوارا نہیں کر سکتے کہ جو لوگ اس وقت تک تھوڑے یا بہت اسلام کے حلقہ اثر میں ہیں ان کو ہندستانی قوم پرستی کی تحریک اپنی ربط عوام (mass contact) کی تدبیروں سے اور اپنی واردھا اسکیم اور وِدّیا مندر اسکیم کے ذریعہ سے‘ اور اپنے سیاسی ومعاشی تفوّق کے زور سے اپنے اندر جذب کر لے‘ اور ان کے نظریات اور ان کی زندگی کو اتنا متغیّر کر دے کہ ایک دو پشتوں کے بعد ہندستان کی آبادی میں اسلام اتنا ہی اجنبی ہوکر رہ جائے جتنا جاپان یا امریکہ میں ہے۔{ FR 2475 } اس خطرہ کو جس چیز نے اور زیادہ پریشان کن بنا دیا وہ یہ تھی کہ محض انگریزی اقتدار سے آزاد ہونے کے لالچ میں مسلمانوں کے مذہبی رہنمائوں کا ایک سب سے زیادہ بااثر طبقہ وطنی قوم پرستی کی تحریک کا معاون بن گیا‘ اور اس نے انگریز دشمنی کے اندھے جوش میں اس چیز کی طرف سے بالکل آنکھیں بند کرلیں کہ اس تحریک کا فروغ ہندستان میں اسلام کے مستقبل پر کس طرح اثر انداز ہوگا۔{ FR 2476 } لہٰذا اس خطرے کا سد باب کرنے کے لیے میں نے ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش‘‘ کے عنوان سے مضامین کا ایک سلسلہ ۳۷ء کے آخر میں اور پھر دوسرا سلسلہ ۳۸ء کے آغاز میں شائع کیا۔ ان مجموعوں میں میرے پیشِ نظر صرف یہ چیز تھی کہ مسلمان کم از کم اپنی مسلمانیت کے موجودہ مرتّبے سے نیچے نہ جانے پائیں اور اپنے تشخص کو گم نہ کردیں۔ اس لیے میں نے ان کے اندر اسلامی قومیّت کا احساس بیدار کرنے کی کوشش کی‘ ان کو اُس جمہوری لادینی نظامِ حکومت کے نقصانات سے آگاہ کیا جو واحد قومیّت کے مفروضہ پر ہندستان میں قائم کیا جا رہا تھا‘ ان آئینی تحفظات اور ’’بنیادی حقوق‘‘ کی حقیقت واضح کی جن پر اعتماد کر کے مسلمان اس مہلک جمہوری دستور کے جال میں پھنسنے کے لیے آمادہ ہورہے تھے‘ اور ان کے سامنے ’’شبہ دارالاسلام{ FR 2477 } ‘‘ کا نصب العین پیش کیا‘ تاکہ کسی نصب العین کے موجود نہ ہونے سے خیالات اور اعمال کی جو پراگندگی ان کے اندر پیدا ہوگئی ہے وہ بھی دور ہو‘ اور ان کو نظر جمانے کے لیے ایک ایسا مطمح نظر بھی مل جائے‘ جو نہ تو اصل اسلامی سمت سے ہٹا ہوا اور نہ اتنا زیادہ بلند ہوکہ اس کی بلندی کو دیکھ کر ان کی ہمتیں پست ہوجائیں۔
اس وقت چونکہ تحفظ کا کام مقدم تھا اس لیے میں نے آزادی‘ قومیّت‘ قومی تہذیب‘ حکومت ِخود اختیاری‘ اقلیت واکثریت وغیرہ کے متعلق رائج الوقت تصوّرات کے خلاف کچھ کہنے سے قصدًا احتراز کیا‘ اور ان الفاظ کے جومفہومات ذہنوں میں راسخ تھے ان کو جوں کا توں قبول کر کے اسی زبان میں گفتگو کی جس کو لوگ سمجھ سکتے تھے۔ اسی طرح میں نے مطلوب اصلی سے بحث کرنے کے بجائے حالت واقعی تک اپنی بحث کو محدود رکھنا زیادہ مناسب سمجھا‘ تاکہ دونوں چیزوں کو بیک وقت پیش کرنے سے دماغ پراگندہ نہ ہوجائیں‘ اور ایک ہی چھلانگ میں مقصد ِبعید تک پہنچنے کی کوشش کہیں مقصد قریب کے بھی ہاتھ سے جانے کی موجب نہ بن جائے۔
یہ کام جس غرض کے لیے کیا گیا تھا اﷲ کے فضل وکرم سے وہ پچھلے دو تین سال میں حاصل ہوچکی ہے‘ اور اب اس امر کا کوئی خطرہ باقی نہیں ہے‘ کہ ہند ستان کے مسلمان کسی وطنی قومیّت میں اپنے آپ کو گُم کر دیں گے یا اپنے آپ کو کسی ایسے جمہوری نظام میں نتھی کر الیں گے‘ جو واحد قومیّت کے مفروضہ پر تعمیر کیا گیا ہو۔ یہ جو کچھ ہوا کسی انسانی کوشش سے نہیں‘ بلکہ محض اﷲ کے فضل سے ہوا۔ اسی کی مہربانی سے متعدد اسباب ایسے پیدا ہوئے‘ جن کی بدولت مسلمان اس خطرے سے بچنے کے لیے تیار ہوگئے۔ اس سلسلہ میں جن لوگوں کو اس نے تھوڑی یا بہت خدمت کی توفیق بخشی ان کے لیے فخر کا مقام نہیں‘ بلکہ شکر کا مقام ہے۔
اس مرحلہ کے طے ہوجانے کے بعد اب میرے سامنے دوسرا سوال یہ تھا‘ کہ آیا مسلمانوں کو اس نتیجہ پر مطمئن ہونے دیا جائے‘ جو حاصل ہوچکا ہے‘ یا ان میں مزید بے چینی پیدا کر کے انہیں اسلام کے اصلی نصب العین کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جائے؟ آیا مسلمانوں کو سیاست واجتماع کے انہی غلط تصوّرات میں مبتلا رہنے دیا جائے‘ جو مغربی جاہلیت سے انہوں نے سیکھے ہیں‘ یا ان کے سامنے اسلام کے اجتماعی وسیاسی تصوّرات کو صرف علمی حیثیت ہی سے نہیں‘ بلکہ ایک عملی مطمحِ نظر کی حیثیت سے بھی پیش کر دیا جائے؟ آیا مسلمانوں کو محض اپنی انفرادیت کے سنبھالنے ہی میں لگا رہنے دیا جائے‘ یا انہیں یہ بتایا جائے کہ تمہاری انفرادیت مقصود بالذّات نہیں‘ بلکہ ایک عظیم تر مقصد کے لیے مطلوب ہے؟ یہ سوال سامنے آتے ہی میرے ضمیر نے قطعی فیصلہ صادر کیا کہ پہلی شق غلط ہے‘ اور صرف دوسری شق ہی صحیح ہے۔چنانچہ اگر کوئی دوسرا سبب پیش نہ آتا تب بھی مجھے وہ کام کرنا ہی تھا‘ جو میں نے کیا۔ لیکن بدقسمتی سے اس کے ساتھ دو مزید وجوہ ایسے پیدا ہوگئے‘ جنہوں نے مجبور مجھے کر دیا کہ پچھلے مجموعہ کی اشاعت کے فوراً بعد ہی ان مضامین کا سلسلہ شروع کر دوں جن کا مجموعہ اس وقت ہدیہ ناظرین کیا جا رہا ہے۔
پہلی وجہ یہ تھی کہ اس نئی تحریک کے دور میں عامۃ مسلمین کی قیادت ورہنمائی ایک ایسے گروہ کے ہاتھ میں چلی گئی جو دین کے علم سے بے بہرہ ہے‘ اور محض قوم پرستانہ جذبہ کے تحت اپنی قوم کے دنیوی مفاد کے لیے کام کر رہا ہے۔ دین کا علم رکھنے والا عنصر اس گروہ میں اتنا بھی نہیں جتنا آٹے میں نمک ہوتا ہے‘ اور اس قدر قلیل کو بھی کوئی دخل رہنمائی میں نہیں ہے۔ یہ براہِ راست نتیجہ ہے علما کرام کی اس غلط سیاسی روش کا جس پر وہ ابھی تک اصرار کیے چلے جا رہے ہیں۔ اور میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ ہندستان میں اس سے پہلے کبھی عام مسلمانوں کا اعتماد علمائے دین سے ہٹ کر اس شدت کے ساتھ غیر دیندار اور ناواقف دین رہنمائوں پر نہیں جما تھا۔ میرے نزدیک یہ صورت حال اسلام کے لیے وطنی قومیّت کی تحریک سے کچھ کم خطر ناک نہیں ہے۔ اگر ہندستان کے مسلمانوں نے دین سے بے بہرہ لوگوں کی قیادت میں ایک بے دین قوم کی حیثیت سے اپنا علیحدہ وجود برقرار رکھا بھی(جیسا کہ ٹرکی اور ایران میں بر قرار رکھے ہوئے ہیں{ FR 2478 } تو ان کے اس طرح زندہ رہنے میں اور کسی غیر مسلم قومیّت کے اندر فنا ہوجانے میں آخر فرق ہی کیا ہے؟ ہیرے نے اگر اپنی جو ہریت ہی کھو دی تو پھر جوہری کو اس سے کیا دلچسپی کہ وہ کم بخت پتھر کی صورت میں باقی رہے یا منتشر ہوکر خاک میں رَل مِل جائے۔{ FR 2479 }
دوسری وجہ یہ تھی کہ میں نے اس تحریک کے اندر داعیہ دینی کے بجائے داعیہ قومی کو بہت زیادہ کار فرما دیکھا۔ اگرچہ ہندستان کے مسلمانوں میں اسلام اور مسلم قوم پرستی ایک مدّت سے خَلْطْ مَلْط ہیں‘ لیکن قریبی دور میں اس معجون کا اسلامی جُزو اتنا کم اور قوم پرستانہ جُزو اتنا زیادہ بڑھ گیا ہے‘ کہ مجھے اندیشہ ہے‘ کہ کہیں اس میں نِری قوم پرستی ہی قوم پرستی نہ رہ جائے۔ حدیہ ہے‘ کہ ایک بڑے ممتاز لیڈر کو ایک مرتّبہ اس امر کی شکایت کرتے ہوئے سنا گیا کہ ممبئی اور کلکتہ کے دولتمند مسلمان اینگلو انڈین فاحشات کے ہاں جاتے ہیں‘ حالانکہ مسلمان طوائفیں ان کی سر پرستی کی زیادہ مستحق ہیں! اس حد کمال کو پہنچ جانے کے بعد اس مسلم قوم پرستی کے ساتھ مزید رواداری برتنا میرے نزدیک گناہ عظیم ہے۔ یہ ظاہر بات ہے‘ کہ مستحکم جماعتی زندگی پیدا کرنے کے لیے افراد میں بہرحال کوئی ایک مشترک وفاداری پیدا کرنا کافی ہے: خواہ وہ خدا کی وفاداری ہویا قوم کی یا وطن کی۔ اس لحاظ سے جن لوگوں کو محض جماعتی استحکام مطلوب ہے ان کے لیے تو یہ امر کسی تشویش کا باعث نہیں ہوسکتاکہ مسلمانوں میں خدا کے بجائے قوم کی مشترک وفاداری سے یہ مقصد حاصل ہو۔ لیکن ہم خدا پر ایمان رکھنے والوں کو آخر کس زمین میں پناہ اور کس آسمان کے نیچے سر چھپانے کی جگہ ملے گی اگر ہم بھی خدا کے ان بندوں کو خدا کے بجائے کسی اور کی مشترک وفاداری پر مجتمع ہوتے دیکھتے رہیں اور کچھ نہ بولیں۔
یہ ہیں وہ محرکات جن کے تحت اس مجموعہ کے مضامین لکھے گئے ہیں۔ میں نے ان مضامین میں مسلمانوں کی مختلف جماعتوں پر اور کہیں کہیں ان کے لیڈروں پر بھی صاف صاف تنقید کی ہے‘ مگر خدا شاہد ہے‘ کہ کسی شخصیت یا کسی پارٹی سے مجھ کو کوئی ذاتی عداوت نہیں ہے۔ میں صرف حق کا دوست اور باطل کا دشمن ہوں۔ جس چیز کو میں نے حق سمجھا ہے اس کے حق ہونے کی دلیل بیان کر دی ہے‘ اور جسے باطل سمجھا ہے اس کے بطلان پر بھی دلائل بیان کر دئیے ہیں۔ اگر کوئی شخص مجھ سے اختلاف رکھتا ہو‘ اور وہ دلیل سے میری رائے کی غلطی واضح کر دے تو میں اپنی رائے واپس لے سکتا ہوں۔ رہے وہ حضرات جو صرف یہ دیکھ کر کہ کچھ ان کی پارٹی یاان کی محبوب شخصیتوں کے خلاف کہا گیا ہے غضب ناک ہوجاتے ہیں‘ اور پھر اس سے بحث نہیں کرتے کہ جو کچھ کہا گیا ہے وہ حق ہے‘ یا باطل‘ تو ایسے لوگوں کے غیظ وغضب کی مجھے کوئی پر وا نہیں۔ میں نہ ان کی گالیوں کا جواب دوں گا ‘اور نہ اپنے طریقہ ہی سے ہٹوں گا۔

لاہور
محرّم ۱۳۶۰ ھ(فروری۱۹۴۱ء) ابوالاعلیٰ

تعارف مقصد

قوانینِ فطرت سب کے سب بلا استثناء دائمی‘ عالم گیر اور بے لاگ ہیں۔جو آج سے لاکھوں برس پہلے جس قانون کی تابع تھی‘ اسی کی تابع آج بھی ہے‘ اور اسی کی تابع قیامت تک رہے گی‘ زمانہ کے تغیّرات کا اس پر کوئی اثر نہیں۔ روشنی اور حرارت کے لیے جو قانون دنیا کے ایک حصّہ میں ہے وہی دوسرے حصّہ میں بھی ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا‘ اور نہیں ہوسکتاکہ مشرق میں حرارت کی ماہیت وکیفیت کچھ اور ہو‘ اور مغرب میں کچھ اور‘ شمال میں روشنی ایک رفتار سے چلے اور جنوب میں دوسری رفتارسے۔ اشیاء کے بننے اور بگڑنے‘ بڑھنے اور گھٹنے‘ پیدا ہونے اور فنا ہوجانے کے لیے جو قوانین مقرر ہیں ان کا اطلاق سب پر یکساں ہوتا ہے۔ ان میں کوئی رورعایت‘ کوئی لاگ لپیٹ‘ کوئی جانب داری نہیں پائی جاتی۔ فطرت کا کسی کے ساتھ کوئی ایسا رشتہ نہیں‘ جو دوسرے کے ساتھ نہ ہو۔ وہ کسی کی دوست اور کسی کی دشمن نہیں۔ کسی پر مہربان اور کسی پر نامہربان نہیں۔ جو آگ میں ہاتھ ڈالے گا جل جائے گا۔ جو زہر کھائے گا‘ مر جائے گا۔ جو غذا کھائے گا قوّت اور نشو ونما پائے گا۔ فطرت کے حدودِ فرمانروائی میں یہ ممکن نہیں کہ دیا سلائی کی رگڑ سے ایک کے لیے تو آگ کا شعلہ پیدا ہو‘ اور دوسرے کے لیے پانی کی دھار۔
انسان جس فطرت پر پیدا کیا گیا ہے وہ بھی اسی فطرت کا ایک رخ ہے‘ جو ساری کائنات پر حاوی ہے لہٰذا انسانی فطرت کے قوانین بھی فطرت کائنات کی طرح دائمی‘ عالم گیر اور بے لاگ ہیں۔ زمانہ کے تغیّرات سے مظاہر میں خواہ کتنا ہی تغیّر ہوجائے‘ حقائق میں کوئی تغیّر واقع نہیں ہوتا۔ علم اور وہم میں جو فرق آج سے دس ہزار برس پہلے تھا وہی آج بھی ہے‘ اور قیامت تک رہے گا۔ ظلم اور عدل کی جو حقیقت دو ہزار برس قبل مسیح تھی وہی دو ہزار برس بعد مسیح بھی ہے۔ جو چیز حق ہے وہ چین میں بھی ویسی ہی حق ہے جیسی امریکہ میں ہے‘ اور جو چیز باطل ہے وہ کالے کے لیے بھی اسی طرح باطل ہے جس طرح گورے کے لیے ہے۔ انسان کی سعادت وشقاوت اور فلاح و خُسران کے لیے فطرت کا قانون قطعًا بے لاگ ہے اس میں کسی شخص‘ کسی قوم‘ کسی نسل کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ نہیں‘ جو دوسرے کے ساتھ نہ ہو۔ اسبابِ سعادت اور اسباب شقاوت سب کے لیے یکساں ہیں۔ جو شقاوت کے اسباب فراہم کرے گا وہ محض اس بنا پر سعادت سے ہم کنار نہیں ہوسکتاکہ اس کا تعلق کسی خاص ملک یا نسل یا قوم سے ہے‘ اور اسی طرح جو سعادت کے اسباب فراہم کرے گا وہ بھی محض اس بنا پر اپنے کسب کے ثمرات سے محروم نہ رکھا جائے گا‘ کہ وہ فلاں نسل سے تعلق رکھتا ہے‘ یا فلاح نام سے موسوم ہے۔
فطرتِ انسانی کے اس دائمی‘ عالم گیر اور بے لاگ قانون ہی کا دوسرا نام ’’اسلام‘‘ ہے۔ اس کو انسان پر منکشف کرنے والا وہی فاطر کائنات ہے‘ جس نے انسان کی اور سارے جہان کی فطرت بنائی ہے۔ یہ کسی قوم پرست کا تخیل نہیں ہے‘ جو ساری دنیا کو اپنی قوم کے مفاد ومصالح کی نظر سے دیکھتا ہو۔ یہ کسی طبقاتی لیڈر کی فکر بھی نہیں ہے‘ جو سارے معاملات پر ایک طبقہ کے نقطۂ نظر سے نگاہ ڈالتا ہو۔ فی الجملہ یہ کسی انسان کے اجتہاد کا نتیجہ نہیں ہے‘ کہ کسی خاص عہد کا‘ کسی خاص ماحول کا اور کسی خاص شخص یا گروہ کی دل چسپیوں کا مُقیَّد ہو۔ یہ تو درحقیقت رب العالمین کی ہدایت سے ماخوذ ہے‘ اور رب العالمین وہ ہے‘ جس کی نگاہ میں سب انسان یکساں ہیں۔وہ انسان کو انسان کی حیثیت سے دیکھتا ہے نہ کہ ہندی اور جرمن اور اٹالین کی حیثیت سے‘ یا مزدور اور کسان اور سرمایہ دار کی حیثیت سے۔ اس کو اشخاص اور اقوام سے دلچسپی نہیں‘ بلکہ محض انسان سے ہے‘ اس لیے وہ دیانت‘ اخلاق اور مدنیّتِ فاضلہ کے جتنے اصول بتاتا ہے وہ سب کے سب ہر قسم کی محدودیتوں سے پاک ہیں۔ ان میں بحیثیت مجموعی تمام انسانوں کی فلاح وبہبود اور زندگی کے ہر مرحلے میں ان کی کامیابی مدّنظر رکھی گئی ہے۔ وہ فطرت کے تمام دوسرے قوانین کی طرح عالم گیر ہیں۔ ان کا کسی شخص یا قوم کے ساتھ کوئی مخصوص رشتہ نہیں ہے‘ جو کسی دوسرے شخص یا قوم کے ساتھ نہ ہوسکتا ہو۔ جو کوئی بھی ان اصولوں کو قبول کر کے ان کے مطابق عمل کرے گا فلاح پائے گا‘ خواہ رومی ہویا حبشی‘ آریہ نسل سے تعلق رکھتا ہویا سامی نسل سے‘ امریکہ میں رہتا ہویا ایشیا میں۔اور جو ان اصولوں سے انحراف کرے گا‘ نقصان اُٹھائے گا‘ خواہ وہ کسی پیغمبر کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔
اسلام کے انہی عالم گیر اصولوں پر انسانی حیات کی تعمیر نو کرنا ہر اس شخص کا فرض ہے‘ جو اسلام کی صداقت پر ایمان لائے۔ اور چونکہ ہم اس پر ایمان لائے ہیں اس لیے یہی ہماری تمام کوششوں کا مقصد ِاصلی ہے۔
مگر جب ہم کہتے ہیں‘ کہ ہمارا مقصد سب سے پہلے اپنے وطن کو اور بالآخر تمام دنیا کو ’’دارالاسلام‘‘ بنانا ہے‘ تو اس سے ایک ناواقف آدمی اس غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے‘ کہ جس طرح ہر جو شیلا قوم پرست زمین میں اپنی قوم کا غلبہ اور تمکّن چاہتا ہے‘ اسی طرح یہ لوگ بھی اپنی قوم کو غالب اور حکمران دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کو ’’قوم‘‘ میں پیدا ہوئے ہیں اس لیے ’’مسلمانوں کی حکومت‘‘ ان کا نصب العین بن گیا ہے۔ یہی ہندوئوں میں پیدا ہوئے ہوتے‘ تو مونجے اور ساور کر بنتے۔{ FR 2480 } جرمنی میں پیدا ہوئے ہوتے‘ تو ہٹلر اور گوئرنگ کے روپ میں نمودار ہوتے۔ کسی اطالوی کی آغوشِ محبت میں جنم لیتے تو مسولینی کی صورت اختیار کرتے۔
یہ غلط فہمی صرف اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے‘ کہ ’’دارالاسلام‘‘ کو’’دارالمسلمین‘‘ کا ہم معنی سمجھا جانے لگا ہے‘ حالانکہ دونوں میں حقیقتہً بڑا فرق ہے۔ جو لوگ کلمہ گو ہونے کی وجہ سے ’’دائرہ اسلام‘‘ میں داخل ہیں‘ اور معاشرت کے اعتبار سے مسلمانوں میں شمار کیے جاتے ہیں‘ وہ اگر غیراسلامی طریقوں پر حکومت کریں‘ تو ان کی حکومت مسلمانوں کی حکومت تو ضرور کہلائے گی کہ اتفاق سے اس کے حکمران کلمہ گو ہیں‘ مگر ایسی حکومت اسلامی حکومت ہر گز نہ ہوگی‘ اور نہ اس پر صحیح معنوں میں ’’دارالاسلام‘‘ کا اطلاق ہوسکے گا۔ حاشا وکلا‘ ہمارا نصب العین ایسی’’مسلمان حکومت‘‘ کا قیام ہر گز نہیں ہے۔ اگر اس حیثیت سے ہم اپنی قوم کی بڑائی چاہیں‘ اور اگر ہمارا مقصد یہ ہوکہ محض فوجی طاقت سے مسند حکومت پر قبضہ کر کے زمین کی دولت اور فرماں روائی کے تکبر کو اپنی قوم کے لیے مخصوص کر لیں تو خود اسلام ہی سب سے پہلے آگے بڑھ کر ہم کو ظالم اور مفسد ٹھیرائے گا‘ کیونکہ وہ صاف کہتا ہے‘ کہ:
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا۝۰ۭ القصص 83:28
آخرت میں عزت کا مقام ہم نے صرف انہی لوگوں کے لیے رکھا ہے‘ جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کا ارادہ رکھتے ہیں۔
دراصل جو چیز ہمارے پیشِ نظر ہے وہ مسلمانوں کی حکومت نہیں‘ بلکہ ’’اسلام کی حکومت‘‘ ہے۔ اُسی اسلام کی حکومت جو مجموعہ ہے دیانت‘اخلاق اور مدنیّت‘فاضلہ کے عالم گیر اصولوں کا۔ یہ اسلام ہماری یا کسی کے باپ دادا کی میراث نہیں ہے۔اس کا کسی سے کوئی خاص رشتہ نہیں۔ جو ان اصولوں پر ایمان لائے اور ان پر عمل کرے‘ وہی اسلام کا علم بردار ہے۔ وہ اگر نسل کے اعتبار سے چما ر یا بھنگی بھی ہو‘ تو محمدرسول اﷲ a کی مسند ِخلافت پر بیٹھ سکتا ہے‘ وہ اگر نکٹا حبشی غلام بھی ہو‘ تو عرب وعجم کے شرفاء اور سادات کا امام بن سکتا ہے۔ ساڑھے تیرہ سو برس سے جن کے خاندان میں اسلام چلا آرہا ہے‘ وہ اگر آج ان اصولوں سے منحرف ہوجائیں‘ تو اسلام میں ان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ اور کل تک جو شخص ہندو یا عیسائی یا پارسی تھا‘ شرک اور بت پرستی‘ شراب نوشی اور سود اور قمار بازی میں مبتلا تھا‘ وہی اگر آج اسلام کی فطری صداقتوں کو مان کر عملاً ان کا پابند ہوجائے‘ تو اس کے لیے اسلام میں عزت اور بزرگی کے اونچے سے اونچے مراتب تک پہنچنے کا راستہ کھلا ہوا ہے۔
اس مختصر توضیح سے یہ ظاہر ہوجاتا ہے‘ کہ ہمارا مقصد ایک قوم پر دوسری قوم کی بر تری نہیں ہے‘ بلکہ نظامِ تمدّن کو ان اصولوں پر مرتّب کرنا ہے‘ جو ہمارے ضمیر وایمان کے مطابق صحیح ہیں۔ اس پر اگر کوئی ناک بھوں چڑھائے‘ تو ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں‘ کہ اس کے پاس آخر وجوہِ اعتراض کیا ہیں۔
ظاہر ہے‘ کہ جب کوئی شخص یا گروہ کسی مسلک کا تنقیدی یا تحقیقی مطالعہ کر کے اس امر کا اطمینان حاصل کر لیتا ہے‘ کہ اس میں انسانیت کی فلاح اور انسانی معاملات وتعلقات کی بہتری کمال درجہ پر موجود ہے‘ تو اس کے اندر فطری طور پر یہ خواہش پیدا ہوتی ہے‘ کہ جس اجتماعی زندگی سے خود اس کا تعلق ہے جس سوسائٹی کے ساتھ اس کی زندگی وموت وابستہ ہے جس حصّہ انسانیت کے ساتھ وہ تمدّنی‘ سیاسی اور معاشی تعلقات میں جکڑا ہوا ہے‘ سب سے پہلے اسی کے نظامِ حیات کو اس مسلک کے مطابق بنانے کی کوشش کرے۔ اسے اپنے اس پسندیدہ مسلک کے صحیح ومفید ہونے کا جتنا زیادہ یقین ہوگا‘ اور اس کے دل میں حُبِّ انسانیت یا حُبِّ وطن کا جذبہ جتنا زیادہ قوی ہوگا‘ اتنا ہی زیادہ اپنے ابنائے نوع یا ابنائے وطن کو اس مسلک ِحق کے فوائد سے بہرہ مند کرنے کے لیے بے چین ہوگا‘ جس میں وہ ان کی فلاح وبہبود اور کامرانی وخوش حالی مُضمر دیکھتا ہے‘ اور اتنی ہی زیادہ شدت کے ساتھ وہ ان مسلکوں کی حکمرانی کا مخالف ہوگا جن کو وہ پورے یقین کے ساتھ غلط اور نقصان دہ سمجھتا ہے۔ یہ عین انسانی فطرت کا مقتضا ہے‘ اور اس میں کوئی بات خلافِ حب ِوطن (unpatriotic)نہیں ہے‘ بلکہ خلافِ حبِّ وطن تو یہ بات ہے‘ کہ آدمی جس مسلک کو ایمانداری کے ساتھ موجبِ فلاح سمجھتا ہواس کو خاموشی کے ساتھ اپنے دل میں یا اپنے گھر میں لیے بیٹھا رہے‘ اور جن طریقوں کو وہ ایمانداری کے ساتھ نقصان رساں سمجھتا ہوا نہیں اپنے ابنائے وطن کی زندگی پر مسلّط نہ ہونے دے۔
جن لوگوں نے مغرب کے جمہوری نظام کا مطالعہ کیا اور اسے اپنے نزدیک بر حق پایا وہ آج کوشش کر رہے ہیں‘ کہ ہندستان کے نظامِ تمدّن کو مغربی ڈیمو کریسی کے نمونہ پر ڈھالیں۔ جن لوگوں نے سوشلزم کا مطالعہ کیا اور اسے برحق پایا وہ آج کوشش کر رہے ہیں‘ کہ ہندوستان کی اجتماعی تعمیر نو (social reconstruction)مارکسی اشتراکیت کے طریقہ پر ہو۔ یہ آخر کیوں ہے؟ کیا اس کے لیے کوئی حجّت اس کے سوا پیش کی جا سکتی ہے‘ کہ ان کے ایمان واعتقاد کا مقتضا یہی ہے؟ کیا ان کے اس اقدام کو کوئی شخص خلافِ حبِّ وطن یا خلافِ حبِّ انسانیت کہہ سکتا ہے؟ کیا ان کے حق میں یہ راست بازی ہوگی کہ وہ جس مسلک کو اپنے ابنائے جنس کے لیے سعادت وفلاح کا ذریعہ سمجھتے ہیں اس کو رائج کرنے کی جدوجہد نہ کریں‘ اور کسی ایسے نظامِ زندگی کی حکمرانی کو گوارا کر لیں جو ان کے نزدیک باشندگانِ ملک کو پستی اور بدحالی کی طرف لے جانے والا ہو؟ بالفرض ملک کی آزادی اور اقوام عالم کے درمیان اہلِ وطن کی عزت بڑھنے کا امکان کسی شخصی استبدادی حکومت کے قیام یا سرمایہ دارانہ نظام کے بقا میں ہو‘ تو کیا کسی سچے جمہوریت پسند یا کسی راست باز اشتراکی سے آزادی اور وطن کی عزت کے نام پر یہ اپیل کی جا سکتی ہے‘ کہ وہ اپنے اپنے مسلکوں کو چھوڑ کر اس طریقہ کو قبول کر لیں؟ اور کیا ان دونوں کو اس قسم کی اپیل سن کر واقعی ہتھیار ڈال دینا چاہئے؟
بالکل یہی پوزیشن ہماری بھی ہے۔ ہم کو جو چیز ’’دارالاسلام‘‘ کی صدا بلند کرنے پرمجبور کرتی ہے وہ بعینہٖ دہی ہے‘ جو دوسرے لوگوں کو ’’جمہوریت‘‘ اور ’’اشتراکیت‘‘ کے نعرے بلند کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ ہم نے برسوں اسلام کا تنقیدی اور تحقیقی مطالعہ کیا۔ ہم نے اس کی اعتقادی اساس‘ اس کے نظریۂ حیات‘ اس کے اصولِ اخلاق‘ اس کے نظامِ تمدّن‘ اس کے قوانین معاشرت ومعیشت‘ اس کے آئین سیاست وطرز حکومت‘ غرض اس کی ایک ایک چیز کو جانچا اور پرکھا۔ ہم نے دنیا کے دوسرے اجتماعی نظریات اور تمدّنی مسلکوں کو کھنگال کر دیکھا اور اسلام سے ان کا تقابل کیا۔ اس تمام مطالعے اور تحقیق وتنقید نے ہمیں اس امر پر پوری طرح مطمئن کر دیا کہ انسان کے لیے حقیقی فلاح وسعادت اگر کسی مسلک میں ہے‘ تو وہ صرف اسلام ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہر مسلک ناقص ہے۔ کسی دوسرے مسلک کی اخلاقی بنیاد صالح اور مستحکم نہیں۔ کسی دوسرے مسلک میں انسان کی شخصیت کے ارتقا(development of personality)کا پورا موقع نہیں۔ کسی دوسرے مسلک میں اجتماعی عدل (social justice)اور بین الانسانی تعلقات کا صحیح توازن(balance) نہیں۔ کسی دوسرے مسلک میں فطرت انسانی کے تمام پہلوئوں کی متناسب رعایت نہیں۔ اسلام کے سوا کوئی مسلک دنیا میں ایسا موجود نہیں‘ جو انسان کو حقیقی آزادی سے ہم کنار کرتا ہو‘ اسے عزت کے بلند ترین مدارج کی طرف لے جاتا ہو‘ اور ایک ایسا اجتماعی ماحول پیدا کرتا ہو‘ جس میں ہر شخص اپنی قوّت واستعداد (capacity) کے مطابق اخلاقی‘ روحانی اور مادی ترقی کے انتہائی مدارج تک پہنچ سکے اور ساتھ ہی اپنے دوسرے ابنائے جنس کے لیے بھی ایسی ہی ترقی میں مددگار ہو۔
یہ اطمینان اور یقین حاصل ہوجانے کے بعد ہمارے لیے راست بازی کا تقاضا کیا ہے؟ کیا بالکل وہی نہیں‘ جو ہمارے جمہوریت پسند یا اشتراکیت پسند ابنائے جنس کے لیے ہے؟ جس مسلک اجتماعی کو ہم پوری دیانت کے ساتھ انسانیت کے لیے رحمت سمجھتے ہیں کیا ہم پر یہ فرض عائد نہیں ہوجاتاکہ اپنے ملک اور اپنے ابنائے نوع کی اجتماعی زندگی کو اسی مسلک کے مطابق منظم کرنے کی جدوجہد کریں؟ جو چیز جمہوریت پسندوں اور اشتراکیت پسندوں کے لیے حق ہے وہ ہمارے لیے کیوں غیر حق ہے؟
اسلام کے متعلق ہماری یہ رائے کچھ اس وجہ سے نہیں ہے‘ کہ ہم مسلمان گھر میں پیدا ہوئے ہیں‘ اور اسلام کے حق میں ایک طرح کا پیدائشی میلان رکھتے ہیں‘ اپنے دوسرے رفقاء کے متعلق تو میں نہیں کہہ سکتاکہ ان کا کیا حال ہے‘ مگر اپنی ذات کی حد تک میں کہہ سکتا ہوں کہ اسلام کو جس صورت میں میں نے اپنے گردو پیش کی مسلم سوسائٹی میں پایا‘ میرے لیے اس میں کوئی کشش نہ تھی۔ تنقید وتحقیق کی صلاحیت پیدا ہونے کے بعد پہلا کام جو میں نے کیا وہ یہی تھا‘ کہ اس بے روح مذہبیت کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکا جو مجھے میراث میں ملی تھی۔ اگر اسلام صرف اسی مذہب کا نام ہوتا جو اس وقت مسلمانوں میں پایا جاتا ہے‘ تو شاید میں بھی آج ملحدوں اور لامذہبوں میں جا ملا ہوتا‘ کیونکہ میرے اندر نازی فلسفہ کی طرف کوئی میلان نہیں ہے‘ کہ محض حیاتِ قومی کی خاطر اجداد پرستی کے چکر میں پڑا رہوں۔ لیکن جس چیز نے مجھے الحاد کی راہ پر جانے یا کسی دوسرے اجتماعی مسلک کو قبول کرنے سے روکا اور از سرِنو مسلمان بنایا وہ قرآن اور سیرت محمدیa کا مطالعہ تھا۔ اس نے مجھے انسانیت کی اصل قدرو قیمت سے آگاہ کیا۔ اس نے آزادی کے اس تصوّر سے مجھے روشناس کیا‘ جس کی بلندی تک دنیا کے کسی بڑے سے بڑے لبرل اور انقلابی کا تصوّر بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اس نے انفرادی حسنِ سیرت اور اجتماعی عدل کا ایک ایسا نقشہ میرے سامنے پیش کیا‘ جس سے بہتر کوئی نقشہ میں نے نہیں دیکھا۔ اس کے تجویز کردہ لائحہ زندگی (scheme of life)میں مجھے ویسا ہی کمال درجہ کا توازن (balance)نظر آیا جیسا کہ ایک سالمہ (atom)کی بندش سے لے کر اجرامِ فلکی کے قانونِ جذب وکشش تک ساری کائنات کے نظم میں پایا جاتا ہے۔ اور اسی چیز نے مجھے قائل کر دیا کہ یہ نظامِ اسلامی بھی اسی حکیم کا بنایا ہوا ہے‘ جس نے اس جہانِ ارض وسما کو عدل اور حق کے ساتھ بنایا ہے۔
پس درحقیقت میں ایک نو مسلم ہوں۔ خوب جانچ کر اور پرکھ کر کس مسلک پر ایمان لایا ہوں‘ جس کے متعلق میرے دل ودماغ نے گواہی دی ہے‘ کہ انسان کے لیے فلاح وصلاح کا کوئی راستہ اس کے سوا نہیں ہے۔ میں صرف غیر مسلموں ہی کو نہیں‘ بلکہ خود مسلمانوں کو بھی اسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں ‘اور اس دعوت سے میرا مقصد اس نام نہاد مسلم سوسائٹی کو باقی رکھنا اور بڑھانا نہیں ہے‘ جو خود ہی اسلام کی راہ سے بہت دور ہٹ گئی ہے‘ بلکہ یہ دعوت اس بات کی طرف ہے‘ کہ آئو اس ظلم وطغیان کو ختم کر دیں جو دنیا میں پھیلا ہوا ہے‘ انسان پر سے انسان کی خدائی کو مٹا دیں اور قرآن کے نقشہ پر ایک نئی دنیا بنائیں‘ جس میں انسان کے لیے بحیثیت انسان کے شرف وعزت ہو‘ حریت اور مساوات ہو‘ عدل اور احسان ہو۔
بد قسمتی سے اس وقت ہندستان میں حالات نے کچھ ایسی صورت اختیار کر لی ہے‘ جس کی وجہ سے اسلام کی تبلیغ کا نام سنتے ہی ایک شخص کا ذہن فوراً ووٹ بڑھانے کی کوشش اور سیاسی غلبہ (domination)کی خواہش اور اسی قبیل کی بہت سی دوسری چیزوں کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ ایک طرف جمہوری طرز حکومت کے قیام نے سیاسی طاقت اور اس کے تمام ضمنی فوائد کو ووٹوں کی کثرت پر منحصر کر دیا ہے دوسری طرف مسلمانوں کی پوزیشن یہاں کچھ ایسی ہے‘ کہ ان کی جانب سے اپنے مسلک کو پھیلانے کی کوئی کوشش اس شبہ سے بچ نہیں سکتی کہ یہ حوصلہ مند (ambitious)قوم اس راستہ سے سیاسی اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ان شبہات کو قوّت پہنچانے میں خود مسلمانوں کا اپنا بھی کافی حصّہ ہے۔ ان کے بہت سے غلط نمائندوں نے تبلیغ تبلیغ کا شور کچھ اس طرح بلند کیا کہ گویا یہ محض ایک سیاسی حربہ ہے‘ جسے اس جمہوری دور میں صرف اس غرض کے لیے استعمال کرنا چاہئے کہ اپنی قلّت تعداد کے پیچیدہ مسئلے کو حل کیا جائے۔ اس چیز نے اسلام کے راستے میں ایک شدید قسم کا سیاسی تعصّب حائل کر دیا ہے۔ سوشل ازم‘ کمیونزم‘ فاشزم یا اور کسی ازم کی تبلیغ کی جائے‘ تو لوگ اس کو محض اس کے ذاتی اوصاف (merits)کے لحاظ سے دیکھتے ہیں‘ اور اگر ان کے دماغ کو وہ اپیل کرتا ہے‘ تو اسے قبول کر لیتے ہیں۔ مگر ’’اسلام ازم‘‘ کا نام آتے ہی لوگوں کا ذہن اس طرف منتقل ہوجاتا ہے‘ کہ یہ ہمارے ملک کی ایک ایسی قوم کا مسلک ہے‘ جو پہلے یہاں حکومت کر چکی ہے‘ اور اس جمہوری دور میں قلیل التّعداد ہونے کی وجہ سے اپنے ووٹ بڑھانا چاہتی ہے۔تاکہ نمائندہ مجالس کی نشستوں اور دفتری ملازمت کی کرسیوں پر قبضہ کرے۔ یہ خیال آتے ہی دل ودماغ پر قومی تعصّب کے قفل چڑھ جاتے ہیں‘ اور ذاتی اوصاف کے لحاظ سے جانچنے پرکھنے کا سوال ہی خارج از بحث ہوجاتا ہے۔
ہمیں ان حالات کا بڑے صبر کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑے گا۔ نیکی اور صداقت کی راہ میں ہمیشہ مشکلات حائل ہوتی رہی ہیں۔ شیطانی راہیں آسان ہوتی ہیں‘ اور حق کی راہ بہرحال موانع سے لبریز رہتی ہے۔ محض صبر‘ لگاتا ر سعی اور خالصتہً لوجہ اﷲ کام کرنے سے ہم مسلمانوں کے دل بھی بدل سکتے ہیں‘ اور غیر مسلموں کے دل بھی۔ جب ہماری سعی وجہد میں خدا کی خوش نودی اور بنی نوعِ انسان کی خیر خواہی کے سوا کسی دنیوی غرض کا شائبہ تک نہ ہوگا‘ تو لوگوں کے دل خود بخود اس حقیقت کا ادراک کرنے کے لیے تیار ہوجائیں گے کہ اسلام کسی نسل اور قوم کی میراث نہیں ہے‘ بلکہ ایک انسانی مسلک ہے‘ جس کا تعلق تمام انسانوں سے ویسا ہی عام ہے‘ جیسا ہوا اور پانی کا تعلق سب سے ہے۔ اس میں ہر انسان دوسرے انسان کے ساتھ برابر کا شریک ہوسکتا ہے۔ یہ جس طرح مسلمانوں کی چیز ہے اسی طرح تمہاری بھی ہوسکتی ہے۔ بلکہ اگر نیکی اور تقویٰ اور قانون الٰہی کی اطاعت میں تم نسلی مسلمانوں سے بڑھ جائو تو امامت تم کو ملے گی‘ تقدّم اور شرف تم کو حاصل ہوگا‘ خلافت کے امین تم ہوگے‘ اور نسلی مسلمان پیچھے رہ جائیں گے۔ یہاں برہمنیت اور نسل پرستی نہیں ہے‘ کہ عزت وشرف اور قوّت واقتدار پر کسی خاص گروہ کا دوامی اجارہ ہو۔ یہاں ایک قوم پر دوسری قوم کے غلبہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تبلیغِ اسلام کی نوعیت اچھوت ادھار{ FR 2481 }کی سی نہیں ہے‘ کہ ایک قوم محض دوسری قوم کے ووٹ بڑھانے کے لیے اس کی جُزو بنائی جائے‘ مگر زندگی کی متاع میں اسے برابر کا حصّہ نہ دیا جائے۔{ FR 2482 } اسلام میں تو برابر ہی نہیں‘ بلکہ اوصاف ذاتی کے لحاظ سے ایک شخص زیادہ کا حصّہ دار بھی ہوسکتا ہے۔
یہاں پیدائش کی وجہ سے آدمی اور آدمی میں کوئی امتیاز نہیں۔ کسی شخص کی راہ میں اس کے پیشے یا اس کی قومیّت کی وجہ سے کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ تم اپنے کیرکٹر اور اپنے کردار کے زور سے جہاں تک اڑنے کی طاقت رکھتے ہواُڑ سکتے ہو۔ فرش سے عرش تک تمہاری ترقی کی راہ میں کوئی روک نہیں۔
بعض لوگوں کے ذہن میں یہ خیال بھی کھٹکتا ہے‘ کہ اسلام تیرہ چودہ صدی پہلے کا ایک مذہب ہے‘ اس کو آج ایک فکری واخلاقی اور تمدّنی وسیاسی تحریک کی حیثیت سے زندہ کرنے کا کون سا موقع ہے؟
جو لوگ دور سے کسی چیز کو محض سر سری نظر ہی سے دیکھ کر رائے قائم کر لیتے ہیں ان کی رائے عموماً غلط ہوا کرتی ہے۔ ایسی ہی غلطی یہ لوگ بھی کر رہے ہیں انہوں نے قرآن کا غائر نظر سے مطالعہ نہیں کیا۔ محمدa کی زندگی پر تحقیقی نظر نہیں ڈالی۔ اس لیے محض قیاسی مفروضات کی بناء پر یہ فیصلہ کر لیتے ہیں‘ کہ اسلام اب سے تیرہ سو برس پہلے کی ایک مذہبی تحریک تھی جو اس زمانہ کے مخصوص تمدّنی حالات میں تو بلاشبہ مفید ثابت ہوئی‘ مگر اب حالات بہت بدل چکے ہیں اس زمانہ کے حالات میں وہ پرانا مسلک کچھ فائدہ مند ثابت نہ ہوگا۔ اس غلط فہمی کے پیدا ہونے اور جڑ پکڑنے میں خود مسلمانوں کے اپنے طرزِعمل کا بھی بہت کچھ دخل ہے‘ انہوں نے خود بھی اسلام کے ساتھ انصاف نہیں کیا اور اسے ایک تحریک (movement)کے بجائے محض زمانۂ سلف کی ایک مقدس میراث بنا کر رکھ دیا۔ حالانکہ ایک سلیم الفطرت آدمی اگر اپنے ذہن سے تاریخی اور سیاسی تعصّبات اور پیشگی مفروضات کو نکال کر اسلام کا سائنٹی فک مطالعہ کرے تو اس پر یہ حقیقت بآسانی منکشف ہوسکتی ہے‘ کہ اسلام کسی خاص زمانہ کی مذہبی تحریک نہیں ہے‘ جس کی بنیاد وقتی اور مکانی حالات پر ہو‘ بلکہ یہ ایسے اصولوں کا مجموعہ ہے‘ جو انسانی فطرت کے حقائق پر مبنی ہیں‘ اور عام قوانینِ فطری کے ساتھ کامل موافقت(harmony) رکھتے ہیں۔ انسان کے حالات اور خیالات خواہ کتنے ہی بدل جائیں‘ مگر اس کی فطرت ہر حال میں جوں کی توں رہتی ہے۔زمانہ خواہ کتنے ہی پلٹے کھائے‘ بہرحال کائناتِ فطرت کے حقائق اور قوانین میں کوئی تغیّر واقع نہیں ہوتا۔ لہٰذا جو فطری اصول طوفان نوح علیہ السلام کے وقت انسانی زندگی کے لیے مفید تھے وہی اس بیسویں صدی عیسوی میں بھی مفید ہیں‘ اور وہی ۵۰۰۰ عیسوی میں بھی منزلِ سعادت کی طرف انسان کی رہنمائی کے لیے کافی ہوں گے۔ تغیّرّ جو کچھ بھی ہوگا ان فطری اصولوں میں نہیں‘ بلکہ بدلنے والے حالات پر ان کے انطباق(application)میں ہوگا۔ اسلام کی اصطلاح میں اِس کا نام اجتہاد ہے‘ یعنی اصول کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر قانون کی اسپرٹ کے مطابق نئے حالات پر منطبق کرنا۔ اور یہ اجتہاد ہی وہ چیز ہے‘ جو نظامِ اسلامی کو ایک محرک ومتحرک (dynamic)نظام بناتا ہے‘ اور اس کے قوانین کو حالات وضروریات کے مطابق مرتّب (adjust) کرتا رہتا ہے۔
(ترجمان القرآن۔ جولائی ۱۹۳۹ء)

خ خ خ

تحریک اِسلامی کا تنزل

دنیا میں جب کوئی تحریک کسی اخلاقی یا اجتماعی یا سیاسی مقصد کو لے کر اُٹھتی ہے‘ تو اس کی طرف وہی لوگ رجوع کرتے ہیں‘ جن کے ذہن کو اس تحریک کے مقاصد اور اس کے اصول اپیل کرتے ہیں‘ جن کی طبیعتیں اس کے مزاج سے مناسبت رکھتی ہیں‘ جن کے دل گواہی دیتے ہیں‘ کہ یہی تحریک صحیح اور معقول ہے‘ اور جو اپنے نفس کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کو چلانے اور دنیا میں قائم کرنے کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ ان کے سوا باقی تمام لوگ جن کی طبیعت کی اُفتاد اس تحریک کے مقاصد اور اصولوں سے مختلف ہوتی ہے‘ پہلے ہی اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اس کے دائرے میں آنے والے لائے نہیں جاتے بلکہ خود آتے ہیں۔ انہیں کوئی چیز مجبور کر کے خواہ مخواہ اس میں داخل نہیں کر دیتی‘ نہ کوئی طاقت انہیں لاکر اس میں چھوڑ جاتی ہے‘ جیسے کوئی کسی اندھے کو جنگل میں لے جا کر چھوڑ دے اور اسے کچھ پتہ نہ ہوکہ میں کہاں ہوں ‘اور کس لیے لایا گیا ہوں۔ بلکہ وہ اسے جانچ کر‘ پرکھ کر‘ سمجھ کر‘ پورے شعور اور کامل قصد کے ساتھ آتے ہیں‘ اور جب آجاتے ہیں‘ تو اس کے مقصد کر اپنا مقصد بنا کر کام کرتے ہیں‘ کیونکہ وہی مقصد ان کے دل ودماغ کو اپیل کرتا ہے۔ اس کے اصولوں کو وہ اپنے اصول بنا کر چلتے ہیں‘ کیونکہ ان اصولوں کو صحیح وبرحق سمجھ کر ہی وہ اس تحریک میں شامل ہوتے ہیں۔ ان کے لیے اس تحریک کو چلانا زندگی کا مشن بن جاتا ہے‘ کیونکہ جو چیز ان سے ان کا پچھلا مسلک ومشرب چھڑاتی ہے‘ اور ان کو اس نئے مسلک کی طرف کھینچ کر لاتی ہے وہ دراصل ان کے قلب وروح کا یہ فیصلہ ہوتا ہے‘ کہ یہی مسلک حق اورراست ہے۔ دراصل اس تحریک میں ان پر حق منکشف ہوتا ہے۔ اس کا انکشاف ہی ان کو اس تحریک کی طرف کھینچتا ہے۔ اور انکشاف حق کی خاصیت یہ ہے‘ کہ وہ آدمی کو کبھی اس مقام پر نہیں ٹھیرنے دیتا جہاں وہ انکشاف سے پہلے تھا‘ بلکہ وہ اسے کشاں کشاں اس مقام کی طرف کھینچ لے جاتا ہے جدھر حق کی روشنی اسے نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے‘ کہ جو لوگ کسی تحریک کی صداقت کے معترف ہوکر اسے قبول کرتے ہیں ان کی زندگیوں کا رنگ بدل جاتا ہے وہ پہلے سے بالکل مختلف ہوجاتے ہیں۔ ان سے ایسی باتوں کا ظہور ہوتا ہے‘ جن کی توقع عام حالات میں انسان سے نہیں کی جاتی۔ وہ اپنے اصول کی خاطر دوستیوں اور خونی وقلبی رشتوں تک کو قربان کر دیتے ہیں۔ وہ اپنے کاروبار‘ اپنی پوزیشن‘ اپنے منافع اور اپنی ہر چیز کا نقصان گوارا کرتے ہیں حتیٰ کہ قید وبند کی تکالیف اور موت کے خطرا ت تک سہنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ یہ انقلاب ایسا ہمہ گیر ہوتا ہے‘ کہ ان کی عادات بدل جاتی ہیں ان کے خصائل میں تغیّر آجاتا ہے‘ یہاں تک کہ ان کی شکل‘ صورت‘ لباس‘ خوراک اور عام طرز زندگی پر بھی اس کے اثرات ایسے نمایاں ہوتے ہیں‘ کہ گردو پیش کے لوگوں میں وہ اپنی ہر ادا سے الگ پہچان لیے جاتے ہیں۔ ہر شخص ان کو دیکھ کر کہہ دیتا ہے‘ کہ وہ جارہے ہیں فلاں تحریک کے حامی۔
ہر تحریک کی ابتدایوں ہی ہوتی ہے۔ ایسے ہی لوگوں سے وہ جماعت بنتی ہے‘ جو اسے چلانے کے لیے اُٹھتی ہے۔ اس کے مقاصد اور اس کے اصول خود ہی آدمیوں کی اس بھیڑ میں سے‘ جو دنیا میں چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے‘ اپنے مطلب کے آدمی چھانٹتے ہیں‘ اور صرف انہی لوگوں کو اس تحریک کے دائرے میں لاتے ہیں‘ جنہیں اس سے مناسبت ہوتی ہے۔
اس کے بعد ایک دوسرا دور آتا ہے۔ جو لوگ اس تحریک میں شامل ہوتے ہیں ان کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے‘ کہ ان کی اولاد بھی اسی مسلک پر اُٹھے جس کو خود انہوں نے حق پا کر قبول کیا ہے۔ اس غرض کے لیے وہ اپنی نئی نسلوں پر تعلیم‘تربیت‘ گھر کی زندگی اور باہر کے ماحول سے اس قسم کے اثرات ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں‘ کہ ان کے خیالات‘ اخلاق‘ عادات اور خصائل سب کے سب اس مسلک کی روح اور اس کے اصولوں کے مطابق ڈھل جائیں۔ اس میں انہیں ایک حد تک کامیابی ہوتی ہیں‘ مگر بس ایک حد تک ہی ہوتی ہے۔ پوری کامیابی ہونا ممکن نہیں ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تعلیم وتربیت اور سوسائٹی کے ماحول اور خاندانی روایات کو طبائع کے ڈھالنے میں بہت کچھ دخل حاصل ہے‘ مگر فطرت‘ دماغ کی ساخت‘ مزاج کی پیدائشی افتاد بھی ایک اہم چیز ہے‘ اور حقیقت میں دیکھا جائے‘ تو بنیادی چیز یہی ہے۔ فطری طور پر دنیا میں ہر قسم کے آدمی‘ ہر مزاج‘ ہر رُجحان‘ ہر ساخت کے آدمی ہمیشہ سے پیدا ہوتے رہے ہیں۔ جس طرح اُس تحریک کے ظہور کے وقت ہر طرح کے آدمی دنیا میں موجود تھے‘ اور اُن سب نے اُس کو قبول نہیں کر لیا تھا‘ بلکہ صرف وہی اس کی طرف کھنچے تھے‘ جو اس سے ذہنی مناسبت رکھتے تھے۔ اسی طرح بعد میں بھی یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ سب لوگ جو اس تحریک کے حامیوں کی نسل سے پیدا ہوں گے‘ انہیں لامحالہ اس تحریک سے مناسبت ہی ہوگی۔ ان میں ابوجہل اور ابولہب بھی ہوں گے۔ عمر ؓ اور خالدؓ بھی ہوں گے۔ اور ابوبکر ؓ بھی ہوں گے۔ جس طرح آزر کے گھر میں ابراہیمعلیہ السلام حنیف پیدا ہوسکتا ہے‘ اسی طرح نوح علیہ السلام کے گھر میں ’’عمل غیر صالح‘‘{ FR 2484 } بھی پیدا ہوسکتا ہے‘ اور ہوا ہے۔ قانونِ فطرت کے مطابق یہ امر لازمی ہے‘ کہ اس سوسائٹی سے باہر بہت سے آدمی ایسے پیدا ہوں‘ جو اپنے مزاج کی افتاد اور اپنی طبیعت کے رُجحان کے لحاظ سے اس کے ساتھ مناسبت رکھتے ہوں ‘اور خود اس کے اندر بہت سے آدمی ایسے پیدا ہوں‘ جو اس کے ساتھ کوئی مناسبت نہ رکھتے ہوں۔ پس یہ ضروری نہیں کہ تعلیم وتربیت کا وہ نظام جو تحریک کے ابتدائی حامی آئندہ نسلوں کے لیے قائم کرتے ہیں وہ ان کی پوری نئی پود کو ان کے مسلک کا حقیقی متبع بنا دے۔
اس خطرے کے سدّ باب اور تحریک کو اس کے بنیادی اصولوں پر بر قرار رکھنے کے لیے دو صورتیں اختیار کی جاتی ہیں:۔
ایک یہ کہ جو لوگ تعلیم وتربیت اور اجتماعی ماحول کی تاثیرات کے باوجود ناکارہ نکلیں‘ تکفیر{ FR 2486 }کے ذریعہ سے ان کو جماعت سے خارج کر دیا جائے‘ اور اس طرح جماعت کو غیر مناسب عناصر سے پاک کیا جاتا رہے۔
دوسرے یہ کہ تبلیغ کے ذریعہ سے جماعت میں ان نئے لوگوں کو بھرتی کا سلسلہ جاری رہے‘ جو کہ رُجحان وذہنیت کے اعتبار سے اس تحریک کے ساتھ مناسبت رکھتے ہوں‘ اور جن کو اس کے اصول ومقاصد اسی طرح اپیل کریں جس طرح ابتدائی پیروئوں کو انہوں نے اپیل کیاتھا۔
یہ اور صرف یہی دو صورتیں ایسی ہیںجو کسی تحریک کو زوال سے اور کسی جماعت یا پارٹی کو انحطاط سے بچا سکتی ہیں۔ لیکن ہوتا یہ ہے‘ کہ رفتہ رفتہ لوگ ان دونوں تدبیروں کی اہمیت سے غافل ہوتے جاتے ہیں۔ جماعت کے باہر سے نئے لوگوں کو اندر لانے کی کوشش کم ہونے لگتی ہے۔ جماعت کی افزائش کے لیے تمام تر نسلی افزائش ہی پر اعتماد کر لیا جاتا ہے۔ اور جو لوگ اس طرح جماعت کے اندر پیدا ہوتے ہیں ان میں سے ناکارہ لوگوں کو خارج کرنے میں بھی خونی رشتوں اور معاشرتی تعلقات اور دنیوی مصلحتوں کی خاطر تساہل برتا جاتا ہے۔طرح طرح کے بہانوں سے جماعتی مسلک میں ایسی گنجائشیں نکالی جاتی ہیں‘ کہ ہر قسم کے رطب ویا بس اس میں سما سکیں۔ اور اس مسلک کو اتنا وسیع کر دیا جاتا ہے‘ کہ سرے سے اس کے سرحدی نشانات اور امتیازی حدود باقی ہی نہیں رہتے‘ یہاں تک کہ بھانت بھانت کے آدمی جماعت کے دائرے میں جمع ہوجاتے ہیں‘ جن کو کسی قسم کی مناسبت اس کے مسلک سے‘ اس کے اصولوں سے اور اس کے مقاصد سے نہیں ہوتی۔
پھر جب جماعت میں اس کے اصولوں سے حقیقی مناسبت رکھنے والے کم اور مناسبت نہ رکھنے والے زیادہ ہوجاتے ہیں‘ تو اجتماعی ماحول اور تعلیم وتربیت کا نظام بھی بگڑنے لگتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے‘ کہ ہر نئی نسل پہلے کی نسل سے بدتر اُٹھتی ہے۔ جماعت کا قدم روز بروز تنزل وانحطاط کی طرف بڑھنے لگتا ہے‘ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آتا ہے‘ کہ اس مسلک کا اور ان اصول ومقاصد کا تصوّر بالکل ہی ناپید ہوجاتا ہے‘ جن پر ابتدا میں وہ جماعت بنی تھی۔ اس مقام پر پہنچ کر حقیقت میں جماعت ختم ہوجاتی ہے‘ اور محض ایک نسلی اور معاشرتی قومیّت اس کی جگہ لے لیتی ہے۔ وہ نام جو ابتدا میں ایک تحریک کے علم برداروں کے لیے بولا جاتا تھا‘ اس کو وہ لوگ استعمال کر نے لگتے ہیں‘ جو اس تحریک کو مٹانے والے اور اس کے جھنڈے کو سرنگوں کرنے والے ہوتے ہیں۔ وہ نام جو ایک مقصد اور ایک اصول کے ساتھ وابستہ تھا‘ وہ باپ سے بیٹے کو ورثہ میں ملنے لگتا ہے بلالحاظ اس کے کہ صاحبزادے کی زندگی کے اصول اور مقاصد اس نام سے کوئی مناسبت بھی رکھتے ہیں‘ یا نہیں۔ درحقیقت ان لوگوں کے ہاتھ میں پہنچ کر وہ نام اپنی معنویت (significance) کھو دیتا ہے۔ وہ خود بھول جاتے ہیںاور دنیا بھی بھول جاتی ہے‘ کہ یہ نام کسی مقصد‘ کسی مسلک‘ کسی اصول کے ساتھ وابستہ ہے‘ بے معنی ومفہوم نہیں ہے۔
اسلام اس وقت اسی آخری مرحلے پر پہنچ چکا ہے۔ مسلمان کے نام سے جو قوم اس وقت موجود ہے وہ خود بھی اس حقیقت کو بھول گئی ہے‘ اور اس کے طرزِعمل نے دنیا کو بھی یہ بات بھلا دی ہے‘ کہ اسلام اصل میں ایک تحریک کا نام ہے‘ جو دنیا میں ایک مقصد اور کچھ اصول لے کر اُٹھی تھی‘ اور مسلمان کا لفظ اس جماعت کے لیے وضع کیا گیا تھا‘ جو اس تحریک کی پیروی اور اس کی علم برداری کے لیے بنائی گئی تھی۔ تحریک گم ہوگئی۔ اس کا مقصد فراموش کر دیا گیا۔ اس کے اصولوں کو ایک ایک کر کے توڑا گیا۔ اور اس کا نام اپنی تمام معنویت کھو دینے کے بعد اب محض ایک نسلی ومعاشرتی قومیّت کے نام کی حیثیت سے استعمال کیا جا رہا ہے‘ حدیہ ہے‘ کہ اسے ان مواقع پر بھی بے تکلف استعمال کیا جاتا ہے ‘جہاں اسلام کا مقصد پامال ہوتا ہے‘ جہاں اس کے اصول توڑے جاتے ہیں‘ جہاں اسلام کے بجائے غیر اسلام ہوتا ہے۔
بازاروں میں جائیے۔’’مسلمان رنڈیاں‘‘ آپ کو کوٹھوں پر بیٹھی نظر آئیں گی‘ اور ’’مسلمان زانی‘‘ گشت لگاتے ملیں گے۔ جیل خانوں کا معائنہ کیجئے۔’’مسلمان چوروں‘ ‘‘ مسلمان ڈاکوئوں‘‘ اور ’’مسلمان بدمعاشوں‘‘ سے آپ کا تعارف ہوگا۔ دفتروں اور عدالتوں کے چکر لگائیے۔ رشوت خوری‘ جھوٹی شہادت‘ جعل‘ فریب‘ ظلم اور ہر قسم کے اخلاقی جرائم کے ساتھ آپ لفظ’’مسلمان‘‘ کا جوڑ لگا ہوا پائیں گے۔ سوسائٹی میں پھریے۔ کہیں آپ کی ملاقات ’’مسلمان شرابیوں‘‘ سے ہوگی۔کہیں آپ کو ’’مسلمان قمارباز‘‘ ملیں گے کہیں ’’مسلمان سازندوں‘‘ اور ’’مسلمان گوّیوں‘‘ اور ’’مسلمان بھانڈوں‘‘ سے آپ دو چار ہوں گے۔ بھلا غور تو کیجیے‘ یہ لفظ ’’مسلمان‘‘ کتنا ذلیل کر دیا گیا ہے‘ اور کن کن صفات کے ساتھ جمع ہورہا ہے۔ مسلمان اور زانی!مسلمان اور شرابی! مسلمان اور قمار باز! مسلمان اور رشوت خور! اگر وہ سب کچھ جو ایک کافر کر سکتا ہے وہی ایک مسلمان بھی کرنے لگے تو پھر مسلمان کے وجود کی دنیا میں حاجت ہی کیا ہے؟ اسلام تو نام ہی اس تحریک کا تھا‘ جو دنیا سے ساری بداخلاقیوں کو مٹانے کے لیے اُٹھی تھی۔ اس نے تو مسلمان کے نام سے ان چیدہ آدمیوں کی جماعت بنائی تھی جو خود بلند ترین اخلاق کے حامل ہوں ‘اور اصلاح اخلاق کے علمبر دار بنیں۔ اس نے اپنی جماعت میں ہاتھ کاٹنے کی‘ پتھر مار مار کر ہلاک کر دینے کی‘ کوڑے برسا برسا کر کھال اڑا دینے کی‘ حتیٰ کہ سولی پر چڑھا دینے کی ہولناک سزائیں اس لیے تو مقرر کی تھیں کہ جو جماعت دنیا سے زنا کو مٹانے اُٹھی ہے خود اس میں کوئی زانی نہ پایاجائے‘ جس کا کام شراب کا استیصال ہے وہ خود شراب خوروں کے وجود سے خالی ہو‘ جسے چوری اور ڈاکہ کا خاتمہ کرنا ہے خود اس میں کوئی چور اور ڈاکو نہ ہو۔ اس کا تو مقصد ہی یہ تھا‘ کہ جنہیں دنیا کی اصلاح کرنی ہے وہ دنیا بھر سے زیادہ نیک سیرت‘ عالی مرتّبہ اور باوقار لوگ ہوں۔اسی لیے قمار بازی‘ جعل سازی‘ اور رشوت خوری تو درکنار‘ اس نے تو اتنا بھی گورارانہ کیا کہ کوئی مسلمان سازندہ اور گوّیا ہو‘ کیونکہ مصلحینِ اخلاق کے مرتّبہ سے یہ بھی گری ہوئی چیز ہے‘ جس اسلام نے ایسی سخت قیود اور اتنے شدید ڈسپلن کے ساتھ اپنی تحریک اُٹھائی تھی‘ اور جس نے اپنی جماعت میں چھانٹ چھانٹ کر بلند ترین کیرکٹر کے آدمیوں کو بھرتی کیا تھا اس کی رسوائی اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے‘ کہ رنڈی اور بھڑوے اور چور اور زانی تک کے ساتھ لفظ’’مسلمان‘‘ کا جوڑ لگ جائے۔ کیا اس قدر ذلیل اور رسوا ہوجانے کے بعد بھی ’’اسلام‘‘ اور ’’مسلمان‘‘ کی یہ وقعت باقی رہ سکتی ہے‘ کہ سر اس کے آگے عقیدت سے جھک جائیں‘ اور آنکھیں اس کے لیے فرشِ راہ بنیں؟ جو شخص بازار بازار اور گلی گلی خوار ہورہا ہوکیا کبھی اس کے لیے بھی آپ نے کسی کو ادب سے کھڑے ہوتے دیکھا ہے؟
یہ تو بہت ذلیل طبقہ کی مثال تھی۔ اس سے اونچے تعلیم یافتہ طبقہ کی حالت اور بھی زیادہ افسوس ناک ہے۔ یہاں یہ سمجھا جاتا ہے‘ کہ اسلام ایک نسلی قومیّت کا نام ہے‘ اور جو شخص مسلمان ماں باپ کے ہاں پیدا ہوا ہے وہ بہرحال مسلمان ہے خواہ عقیدہ مسلک اور طرزِزندگی کے اعتبار سے وہ اسلام کے ساتھ کوئی دور کی مناسبت بھی نہ رکھتا ہو۔ سوسائٹی میں آپ چلیں پھریں تو آپ کو ہر جگہ عجیب وغریب قسم کے ’’مسلمانوں‘‘ سے سابقہ پیش آئے گا۔ کہیں کوئی صاحب علانیہ خدا اور رسول a کا مذاق اڑا رہے ہیں‘ اور اسلام پر پھبتیاں کس رہے ہیں‘ مگر ہیں‘ پھر بھی ’’مسلمان‘‘ ہی۔ ایک دوسرے صاحب خدا اور رسالت اور آخرت کے قطعی منکر ہیں‘ اور کسی مادّہ پر ستانہ مسلک پر پورا ایمان رکھتے ہیں‘ مگر ان کے ’’مسلمان‘‘ ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا۔ ایک تیسرے صاحب سو دکھاتے ہیں‘ اور زکوٰۃ کا نام تک نہیں لیتے‘ مگر ہیں یہ بھی ’’مسلمان‘‘۔ ایک اور بزرگ بیوی اور بیٹی کو میم صاحبہ یا شریمتی جی بنائے ہوئے سینما لیے جا رہے ہیں‘ یا کسی رقص وسرود کی محفل میں صاحب زادی سے وایولین بجوا رہے ہیں‘ مگر آپ کے ساتھ بھی لفظ’’مسلمان‘‘ بدستور چپکا ہوا ہے۔ ایک دوسری ذاتِ شریف نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ تمام فرائض سے مستثنیٰ ہیں‘ شراب‘ زِنا‘ رشوت‘ جُوّا اور ایسی سب چیزیں ان کے لیے جائز ہوچکی ہیں۔ حلال اور حرام کی تمیز سے نہ صرف خالی الذہن ہیں‘ بلکہ اپنی زندگی کے کسی معاملہ میں بھی ان کو یہ معلوم کرنے کی پروا نہیں ہوتی کہ خدا کا قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ خیالات‘ اقوال اور اعمال میں ان کے اور ایک کا فر اور مشرک کے درمیان کوئی فرق نہیں پایا جاتا۔ مگر ان کا شمار بھی ’’مسلمانوں‘‘ ہی میں ہوتا ہے۔ غرض اس نام نہاد مسلم سوسائٹی کا جائزہ لیں گے تو اس میں آپ کو بھانت بھانت کا ’’مسلمان‘‘ نظر آئے گا۔ مسلمان کی اتنی قسمیں ملیں گی کہ آپ شمار نہ کر سکیں گے۔ یہ ایک چڑیا گھر ہے‘ جس میں چیل‘ کوّے‘ گدھ‘ بٹیر‘ تیتر اور ہزاروں قسم کے جانور جمع ہیں‘ اور ان میں سے ہر ایک ’’چڑیا‘‘ ہے‘ کیونکہ چڑیا گھر میں ہے۔
پھر لطف یہ ہے‘ کہ یہ لوگ اسلام سے انحراف کرنے ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ان کا نظریہ اب یہ ہوگیا ہے‘ کہ ’’مسلمان‘‘ جو کچھ بھی کرے‘ وہ ’’اسلامی‘‘ ہے‘ حتیٰ کہ اگر وہ اسلام سے بغاوت بھی کرے تو وہ اسلامی بغاوت ہے۔یہ بنک کھولیں تو اس کا نام ’’اسلامی بنک‘‘ ہوگا۔ یہ انشورنس کمپنی قائم کریں‘ تو وہ ’’اسلامی انشورنس کمپنی‘‘ ہوگی۔ یہ جاہلیت کی تعلیم کا ادارہ کھولیں تو وہ ’’مسلم یونی ورسٹی‘‘‘ ’’اسلامیہ کالج‘‘ یا ’’اسلامیہ اسکول‘‘ ہوگا۔ ان کی کافرانہ ریاست کو ’’اسلامی ریاست‘‘ کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔ ان کے فرعون اور نمرود’’اسلامی بادشاہ‘‘ کے نام سے یاد کئے جائیں گے۔ ان کی جاہلانہ زندگی ’’اسلامی تہذیب وتمدّن‘‘ قرار دی جائے گی۔ ان کی موسیقی‘ مصوری اور بت تراشی کو ’’اسلامی آرٹ‘‘ کے معزز لقب سے ملقب کیا جائے گا۔ ان کے زندقے اور اوہامِ لاطائل کو ’’اسلامی فلسفہ‘‘ کہا جائے گا۔ حتیٰ کہ یہ سوشلسٹ بھی ہوجائیں گے‘ تو ’’مسلم سوشلسٹ‘‘ کے نام سے پکارے جائیںگے۔ ان سارے ناموں سے آپ اشنا ہوچکے ہیں۔ اب صرف اتنی کسر باقی ہے‘ کہ ’’اسلامی شراب خانے‘‘‘ ’’اسلامی قحبہ خانے‘‘ اور ’’اسلامی قمار خانے‘‘جیسی اصطلاحوں سے بھی آپ کا تعارف شروع ہوجائے۔ مسلمانوں کے اس طرزِعمل نے اسلام کے لفظ کو اتنا بے معنی کر دیا ہے‘ کہ ایک کافرانہ چیز کو ’’اسلامی کفر‘‘ یا ’’اسلامی معصیت‘‘کے نام سے موسوم کرنے میں اب کسی کو تَنَاقض فی الاصطلاح (contradiction in terms)کا شبہ تک نہیں ہوتا۔ حالانکہ اگر کسی دکان پر آپ ’’سبزی خوروں کی دکان گوشت‘‘‘ یا ’’ولائتی سو دیشی بھنڈار‘‘ کا بورڈ لگا دیکھیں یا کسی عمارت کا نام ’’موحدین کا بت خانہ‘‘ سنیں تو شاید آپ سے ہنسی ضبط نہ ہوسکے گی۔
جب افراد کی ذہنیتوں کا یہ حال ہے‘ تو قومی مقاصد اور قومی پالیسی کا اس تناقض سے متاثر نہ ہونا امرِ محال ہے۔ آج مسلمانوں کے اخباروں اور رسالوں میں‘ مسلمانوں کے جلسوں اور انجمنوں میں‘ مسلمان پڑھے لکھے طبقہ میں آپ ہر طرف کس چیز کی پکار سنتے ہیں؟ بس یہی ناکہ سرکاری ملازمتوں میں ہمیں جگہیں ملیں۔ غیر الٰہی نظامِ حکومت کو چلانے کے لیے جس قدر پرزے درکار ہیں ان میں سے کم از کم اتنے پرزے ہم پر مشتمل ہوں۔ شریعت ساز مجلسوں (legislatures)کی نشستوں میں کم از کم اتنا تناسب ہمارا ہو۔وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ { FR 2487 }میں کم سے کم اتنے فی صد ہم بھی ہوں۔وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ الطَّاغُوْتِ { FR 2488 }میں غالب حصّہ ہمارا ہی رہے۔ اسی کی ساری چیخ پکار ہے۔ اسی کا نام اسلامی مفاد ہے۔اسی محور پر مسلمانوں کی قومی سیاست گھوم رہی ہے۔ یہی گروہ عملاً اس وقت مسلم قوم کی پالیسی کو کنٹرول کر رہا ہے۔ حالانکہ ان چیزوں کو نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں‘ بلکہ یہ اس کی عین ضد ہیں۔ غور کرنے کا مقام ہے‘ کہ اگر اسلام ایک تحریک کی حیثیت سے زندہ ہوتا‘ تو کیا اس کا نقطۂ نظر یہی ہوتا؟ کیا کوئی اجتماعی اصلاح کی تحریک اور کوئی ایسی جماعت جو خود اپنے اصول پر دنیا میں حکومت قائم کرنے کا داعیہ رکھتی ہوکسی دوسرے اصول کی حکومت میں اپنے پیروئوں کو کل پرزے بننے کی اجازت دیتی ہے؟کیا کبھی آپ نے سنا ہے‘ کہ اشتراکیوں نے بینک آف انگلینڈ کے نظام میں اشترا کی مفاد کا سوال اُٹھایا ہو؟ یا فاشسٹ گرانڈ کونسل میں اپنی نمائندگی کے مسئلہ پر اشترا کیت کی بقاء وفنا کا انحصار رکھا ہو؟ اگر آج روسی کمیونسٹ پارٹی کا کوئی ممبر نازی حکومت کا وفادار خادم بن جائے‘ تو کیا آپ توقع کرتے ہیں‘ کہ ایک لمحہ کے لیے بھی اسے پارٹی میں رہنے دیا جائے گا؟ اور اگر کہیں وہ نازی آرمی میں داخل ہوکر نازیت کو سر بلند کرنے کی کوشش کرے تو کیا آپ اس کی جان کی سلامتی کی بھی اُمید کر سکتے ہیں؟ مگر یہاں آپ کیا دیکھ رہے ہیں؟اسلام جس روٹی کو زبان پر رکھنے کی اجازت بھی شاید انتہائی اضطرار کی حالت میں دیتا‘ اور جس کو حلق سے اتارنے کے لیے غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ{ FR 2489 } کی شرط لگاتا‘ اور پھر تاکید کرتاکہ جس طرح سخت بھوک کی حالت میں جان بچانے کے لیے سور کھایا جا سکتا ہے اسی طرح بس یہ روٹی بھی بقدر سدِّر مق کھا لو‘ یہاں اس روٹی کو نہ صرف یہ کہہ ہَنِيْۗـــــًٔـا مَّرِيْۗــــــًٔـاo { FR 2490 } کر کے پوررے انبساط کے ساتھ کھایا جاتا ہے‘ بلکہ اسی پر کفر اور اسلام کے معرکے سر ہوتے ہیں‘ اور اسی کو اسلامی مفاد کا مرکزی نقطہ قرار دیا جاتا ہے! اس کے بعد تعجب نہ کیجئے اگر ایک اخلاقی واجتماعی مسلک کی حیثیت سے اسلام کے دعوائے حکمرانی کو سن کر دنیا مذاق اڑانے لگے‘ کیونکہ اسلام کی نمائندگی کرنے والوں نے خود اس کے وقار کو اور اس کے دعوے کو اپنے معبودِ شکم کے چرنوں میں بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
اور دیکھئے۔ آپ کے ہاں ایک صاحب بڑے طنطنہ کے ساتھ ایک فوجی تحریک لے کر اُٹھتے ہیں‘ اور دعوے کرتے ہیں‘ کہ تمہاری شوکتِ رفتہ کو پھر تازہ کردوں گا ‘اور تمہیں زمین میں غلبہ دلوا کر چھوڑوں گا۔ آپ کے ہزاروں نہیں‘ لاکھوں آدمی ان کی طرف دوڑتے ہیں۔ لاکھوں ان سے فلاح وکامرانی کی آس لگاتے ہیں۔ آپ کا پریس اِدھر سے اُدھر تک ان کی حمایت کرتا ہے‘ اور دیکھتے دیکھتے یہ صاحب اسلام کے سپہ سالار اور ملّت کے امیرِ مُطاع بن جاتے ہیں۔ مگر آپ میں سے بہت کم لوگوں کو یہ خیال آتا ہے‘ کہ ان کے عقائد‘ ان کے فہمِ قرآن‘ ان کے اخلاق‘ ان کی گفتار‘ ان کے اعمال‘ اور ان کے طریق کار کا بھی جائزہ لے کر دیکھیں۔ ایک شخص اسلامی اصطلاحات کے پردے میں میکیا ویلی‘ ڈارون‘ ارنسٹ ھیگل اور کارل پیرسن جیسے لوگوں کے نظریات پیش کرتا ہے‘ قانونِ طبعی اور قانونِ شرعی کو خلط ملط کر کے اسلام کی جڑ بنیاد تک اُکھاڑ پھینکتا ہے‘ ایمان‘ اسلام‘ تقویٰ‘ عبادت‘ توحید‘ رسالت‘ جہاد‘ ہجرت‘ اطاعتِ امر‘ جماعت‘ سب کے مفہوم بدل کر رکھ دیتا ہے‘ اور تم زہر کے یہ سارے گھونٹ محض اس لالچ میں حلق سے نیچے اُتار جاتے ہوکہ ’’یہ مسلم قوم‘‘ کی عسکری تنظیم تو کر ہی دے گا۔ ایک شخص علانیہ جھوٹ بولتا ہے‘ جھوٹ پر اپنی تحریک کی پوری عمارت کھڑی کرتا ہے‘ غیر مسلموں تک کے سامنے اپنے کذب ودروغ سے اسلام اور مسلمانوں کو رُسوا کرتا ہے‘ اپنی بدزبانی اور لاف زنی سے مسلمانوں کے قومی اخلاق کی خوب تذلیل وتضحیک کراتا ہے‘ غیر مسلموں کے مقابلہ پر آکر پہلی ضرب کھاتے ہی معافی مانگتا ہے‘ پھر اپنے وقار کو بچانے کے لیے علیٰ الاعلان جھوٹ بولتا ہے‘ کہ میں نے معافی نہیں مانگی‘ اور پھر لاف زنی کرتا ہوا وہیں لڑنے پہنچ جاتا ہے ‘جہاں اس نے واپس نہ جانے کا عہد کیا تھا۔ تم یہ سب کچھ دیکھتے ہو‘ اور اس کے باوجود اس کے پیچھے لگے رہتے ہو‘ محض اس اُمید پر کہ یہ ہمیں دنیوی کامرانیوں سے ہمکنار تو کر دے گا۔ ایک شخص کی تحریر وتقریر اور ایک ایک حرکت سے دنائت‘ سِفْلہ پن اور بازاریت ٹپکی پڑتی ہے‘ تقویٰ‘ صداقت‘ اور وقار کا نام ونشان تک نظر نہیں آتا‘ اور تم اس کی امارت تسلیم کرنے میں ذراتا مل نہیں کرتے۔ حدیہ ہے‘ کہ وہ پچاس ہزار مسلمانوں کی جانیں غیر الٰہی حکومت کے لیے بار بار پیش کرتا ہے‘ اور اس خدمت گزاری کا فائدہ تمہیں یہ بتاتا ہے‘ کہ اس بہانے تم کو عسکری ٹریننگ مل جائے گی‘ اور تمہاری فوجی پوزیشن مضبوط ہوجائے گی۔ تم اس ذلیل تدبیر کی خوراک بھی حلق سے اتار لیتے ہو‘ اور خوش ہوتے ہوکہ ہمیں ایک فوجی تنظیم کرنے والا میر تو مل گیا۔{ FR 2491 } یہ سب باتیں بتا رہی ہیں‘ کہ تمہارا معیار اخلاق وانسانیت کس قدر گر گیا ہے۔ تم جس اسلام کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہووہ دنیا میں یہ اصول قائم کرنے آیا تھا‘ کہ انسان کا مقصد ہی صرف پاک نہ ہونا چاہئے بلکہ اس کو حاصل کرنے کے ذرائع بھی پاک ہونے چاہئیں۔ مگر تمہارا حال یہ ہے‘ کہ جس ذریعہ سے بھی تم کو کامیابی کے حصول کی اُمید نظر آتی ہے‘ خواہ وہ کتنا ہی ناپاک اور ذلیل ذریعہ کیوں نہ ہو‘ تم دوڑ کر اسے دانتوں سے پکڑ لیتے ہو‘ اور جو تمہیں اس سے روکنا چاہئے اُلٹا اسی کو پھاڑ کھانے پر آمادہ ہوجاتے ہو۔ ذرائع کی پاک ونا پاکی سے قطع نظر کر کے محض کامیابی کو مقصود بالذّات بنانا تو دہریوں اور کافروں کا شیوہ ہے۔ اگر مسلمان نے بھی یہی کام کیا تو اس کی خصوصیت کیا باقی رہی؟ بلکہ یہ طریقہ اختیار کرنے کے بعد دوسری جاہل قوموں سے الگ ’’مسلمان‘‘ کے جدا گانہ وجود کے لیے کون سی وجہ جواز رہ جاتی ہے؟
اور اوپر چلیے‘ آپ کی سب سے بڑی قومی مجلس‘ مسلم لیگ‘ جس کو نوکروڑ مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ ہے‘ ذرا اس کو دیکھئے کہ اس وقت وہ کس روش پر چل رہی ہے‘ موجودہ{ FR 2492 }جنگ کے آغاز میں اس نے اپنی جس پالیسی کا اعلان کیا اور پھر وائسرائے کے اعلان پر جس رائے کا اظہار کیا‘ اس کو پڑھیئے اور بار بار پڑھیئے۔{ FR 2493 } اگر آپ ایک اصول پرست جماعت کے طرزِعمل اور ایک ایسی جماعت کے طرزِعمل میں جو محض اپنی قوم کی سیاسی اغراض کی خدمت کے لیے بنی ہو‘ فرق وامتیاز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ تو اوّل نظر میں آپ کو محسوس ہوجائے گا‘ کہ جنگ کے موقع پر جو پالیسی لیگ نے اختیار کی ہے وہ اصول پرستی کے ہر نشان سے خالی ہے۔ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ درحقیقت یہی پالیسی مسلمانوں کے ذہن کی ترجمانی کرتی ہے‘ تو اس کے آئینے میں صاحب ِنظر آدمی دیکھ سکتا ہے‘ کہ ان نام کے مسلمانوں پر پوری اخلاقی موت وارد ہوچکی ہے۔ مقامی طور پر ہندستان میں مسلمانوں کی جو سیاسی پوزیشن اس وقت ہے اس پوزیشن میں اگر دنیا کی کوئی اور قوم ہوتی تو اس کی لیگ بھی ایسی ہی پالیسی اختیار کرتی اور قریب قریب انہی الفاظ میں اپنا ریزولیوشن مرتّب کرتی۔ آپ مسلم کے بجائے سکھ‘ پارسی‘ جرمن‘ اٹالین‘ جو نام چاہیں رکھ سکتے ہیں۔ یہی سیاسی موقف اور یہی مقامی حالات اس کے ساتھ وابستہ کر دیجئے اور پھر بڑی آسانی کے ساتھ آپ اس ریزو لیوشن کو ان میں سے ہر قوم کی طرف منسوب کر سکتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ مسلمان اب اسی سطح تک گر گیا ہے جس سطح پر دنیا کی تمام قومیں ہیں۔ ایک موقع ومحل پر دنیا کی کوئی کا فرو مشرک قوم جو طرزِعمل اختیار کر سکتی ہے وہی مسلمان بھی اختیار کر رہا ہے۔ وہ بھول گیا ہے‘ کہ میں اوّلاً اور بالذّات ایک اخلاقی اصول کا نمائندہ اور وکیل ہوں‘ اسی حیثیت سے میرا نام مسلمان ہے‘ میرا کام سب سے پہلے ایک معاملہ کے اخلاقی پہلو کو دیکھنا ہے‘ اور میری مسلمان ہونے کی حیثیت کا تقاضا یہ ہے‘ کہ اسی پہلو پر اپنے فیصلہ کا مدار رکھوں۔ اگر میں نے بھی صرف یہی دیکھا کہ پیش آمدہ معاملہ خود مجھ پر اور میری قوم پر کیا اثر ڈالتا ہے‘ اور یہ کہ میں اس صورت حال میں اپنے لیے کس طرح فائدہ حاصل کر سکتا ہوں‘ تو پھر ’’مسلمان‘‘ کے نام سے میرے الگ وجود کی کوئی وجہ باقی ہی نہیں رہتی۔ ایسا طرزِعمل تو اگر میں نامسلمان ہوتا‘ اور کسی آسمانی کتاب کی ہوا بھی مجھے نہ لگی ہوتی تب بھی میں اختیار کر سکتا تھا۔
میں اس معاملہ کو ہندستانی وطن پرست کے نقطۂ نظر سے نہیں دیکھتا۔ مجھے اس سے بھی کوئی بحث نہیں کہ سیاسی حیثیت سے مسلم لیگ کی یہ پالیسی مسلمان نام کی اس قوم کے لیے‘ جو ہندستان میں بستی ہے مفید ہوگی یا مُضر۔ میرے لیے جو سوال اہمیت رکھتا ہے وہ صرف یہ ہے‘ کہ جو قوم اس وقت مسلمان کے نام سے پکارے جانے کے باعث دنیا میں اسلام کی نمائندہ سمجھی جاتی ہے‘ اس کی سب سے بڑی مجلس نے دنیا کے سامنے اسلام کو کس رنگ میں پیش کیا ہے؟ اس نقطۂ نظر سے جب میں مسلم لیگ کے ریزو لیوشن کو دیکھتا ہوں‘ تو میری روح بے اختیار ماتم کرنے لگتی ہے۔{ FR 2494 } ان لوگوں کو ایک موقع اور نادر موقع ملا تھا‘ کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے دنیا کی ساری قوموں پر اپنے اخلاقی مرتّبہ کی برتری کا سکّہ جما دیتے۔ ان کو ایک بیش قیمت موقع ملا تھا اس حقیقت کے اظہار کا کہ ہم ایک اخلاقی اصول کے پیرو کار ہیں‘ اور وہ اخلاقی اصولِ حق اور عدل کی پاک ترین روح کا حامل ہے‘ اور دنیا میں صرف ہماری جماعت ہی وہ ایک جماعت ہے‘ جو شخصی یا قومی نفع ونقصان کے تصوّرات سے بالاتر ہوکر مجرد اخلاق کی بنیاد پر کام کرتی ہے۔ اگر لیگ کے رہنمائوں میں اسلامی حِس کا شائبہ بھی موجود ہوتا‘ تو وہ اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔ اور اس کا جو گہرا اخلاقی اثر مرتّب ہوتا‘ اس کی قدرو قیمت کے مقابلہ میں کوئی نقصان جو ایسا طرزِعمل اختیار کرنے کی وجہ سے حاصل ہونے کی توقع ہے‘ قطعاً کوئی وقعت نہیں رکھتا۔ مگر افسوس کہ لیگ کے قائد اعظم سے لے کر چھوٹے مقتدیوں تک ایک بھی ایسا نہیں‘ جو اسلامی ذہنیت اور اسلامی طرز فکر رکھتا ہو‘ اور معاملات کو اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھتا ہو۔ یہ لوگ مسلمان کے معنی ومفہوم اور اس کی مخصوص حیثیت کو بالکل نہیں جانتے۔ ان کی نگاہ میں مسلمان بھی ویسی ہی ایک قوم ہیں جیسی دنیا میں دوسری اور قومیں ہیں‘ اور یہ سمجھتے ہیں‘ کہ ہر ممکن سیاسی چال اور ہر مفید مطلب سیاسی تدبیر سے اس قوم کے مفاد کی حفاظت کر دینا ہی بس ’’اسلامی سیاست‘‘ ہے…… حالانکہ ایسی ادنیٰ درجہ کی سیاست کو اسلامی سیاست کہنا اسلام کے لیے ازالہ حیثیت ِعرفی سے کم نہیں!
’’مسلمانوں‘‘ کی زندگی کے مختلف شعبوں اور مختلف پہلوئوں سے یہ چند مثالیں جو میں نے پیش کی ہیں‘ یہ سب ایک ہی نتیجہ کی طرف رہنمائی کر رہی ہیں‘ اور وہ یہ ہے‘ کہ اسلامی تحریک اس وقت تنزّل وانحطاط کے اس آخری مرحلے پر پہنچ گئی ہے ‘جہاں ایک تحریک کی روح ناپید ہوجاتی ہے‘ صرف اس کا نام باقی رہ جاتی ہے‘ اور اس نام کا اطلاق‘ برعکس نہند نامِ زنگی کا فور کے مصداق‘ ان چیزوں پر ہونے لگتا ہے‘ جو اس کے اصل معنی کی ضد ہوتی ہیں۔ نظریات غیراسلامی اور نام ان کا مسلمان۔ مقاصد غیراسلامی اور ان کا نام بھی مسلمان۔ سیرت غیراسلامی اور اس پر بھی لفظ مسلمان چسپاں۔ روّیہ غیراسلامی اور اس پر بھی لفظ مسلمان کا بے تکلّف اطلاق۔ افراد سے لے کر جماعتوں تک‘ سوسائٹی کے ادنیٰ ترین طبقوں سے لے کر بلند ترین طبقوں تک‘ چھوٹی انجمنوں سے لے کر بڑی سے بڑی مجلسوں تک‘ ہر طرف اسی ایک وبائے عام کے اثرات پھیلے ہوئے نظر آتے ہیں۔ میرے دل نے بار ہا یہ سوال کیا ہے‘ کہ اسلام جو کبھی آندھی اور طوفان کی طرح اُٹھا تھا‘ جس کے سامنے دنیا کی کوئی طاقت نہ ٹھیر سکتی تھی‘ آج اس کی کشور کشائی اور عالم گیری آخر کس چیز نے چھین لی؟ اس کا جواب ہر بار مجھے یہی ملاکہ اسلامی تحریک پر تنزل وانحطاط کے اسی قانون کا عمل جاری ہوا ہے‘ جسے میں ابتدا میں بیان کر آیا ہوں۔ اب اصلاح کی صورت اس کے سوا کچھ نہیں کہ اسلام کو از سرِنو ایک تحریک کی حیثیت سے اُٹھایا جائے‘ اور مسلم کے معنی کو پھر سے تازہ کیا جائے۔ مُردوں کی اس بستی میں جو تھوڑے بہت مسلمان دل ابھی حرکت کر رہے ہیں‘ اور جن کی گہرائیوں سے ابھی تک یہ شہادت بلند ہورہی ہے‘ کہ اسلام ہی حق اور صدق ہے‘ اور انسانیت کی فلاح صرف طریق اسلامی ہی میں ہے‘ ان کو جان لینا چاہئے کہ اب کرنے کا کام یہی ہے……… مگر اس کام کو کرنا کھیل نہیں ہے۔ یہ وہ کوہ کنی ہے‘ جس کے تصوّر ہی سے فرہاد کا زَہرہ آب ہوجاتا ہے۔ (ترجمان القرآن۔ نومبر ۱۹۳۹ء)

ضمیمہ

ذیل میں آل انڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کا وہ ریزو لیوشن درج کیا جا رہا ہے‘ جو اس نے ۱۸ء ستمبر۱۹۳۹ء کو پاس کیا تھا۔
ورکنگ کمیٹی کی یہ رائے ہے‘ کہ آل انڈیا مسلم لیگ کونسل نے ۲۷ اگست ۱۹۳۹ء کو جو قرار داد نمبر۸ منظور کی تھی‘ وہ مسلمانانِ ہند کے صحیح جذبات اور آراء کی عکاسی کرتی ہے۔ اس قرار داد کے الفاظ یہ ہیں‘ کہ ’’برطانوی حکومت کی اس پالیسی پر اظہار افسوس کیا جائے کہ اس نے مسلمانانِ ہند کی مرضی کے خلاف ان پر ایک کانسٹی ٹیوشن مسلّط کرنے کی کوشش کی ہے: بالخصوص وہ فیڈریشن جو گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ء کی رُو سے تجویز کیا گیا ہے‘ اور جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہندستان پر ایک ایسی مستقل اور معاندانہ فرقہ وارانہ اکثریت کی حکومت قائم ہوجائے گی ‘جو مسلمانوں کے مذہبی‘ معاشرتی اور اقتصادی حقوق کو پا مال کرنے میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھے گی۔ نیز وائسرائے اور کانگرسی صوبوں کے گورنروں کا فرض تھا‘ کہ اپنے اختیارات خاص استعمال کر کے اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کرتے اور ان سے انصاف کرتے۔ لیکن انہوں نے اس ضمن میں حددرجہ غفلت‘ بے اعتنائی اور بے تدبیری کا ثبوت دے کر کچھ بھی نہیں کیا۔ اس کے علاوہ فلسطین کے عربوں کے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا ہے۔ اندریں حالات اگر برطانوی حکومت آئندہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلمانانِ عالم اور بالخصوص مسلمانانِ ہند کی ہمدردی کے حصول کی خواہاں ہے‘ تو اس کا فرض ہے‘ کہ بلا تا مل ہندوستان کے مسلمانوں کے مطالبات کو تسلیم کرلے۔
روکنگ کمیٹی وائسرائے کے اس اعلان کو بہ نظر تحسین دیکھتی ہے‘ جس میں یہ کہا گیا ہے‘ کہ فیڈریشن کی وہ سکیم جو گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ میں درج ہے معطل کر دی گئی ہے۔ وائسرائے کا یہ اعلان ہندستان اور بالخصوص مسلمانوں کے مفاد کے مطابق ہے۔ ورکنگ کمیٹی چاہتی ہے‘ کہ معطل کرنے کے بجائے اس سکیم کو قطعی ترک کر دیا جائے‘ اور ملک ِمعظم کی حکومت تک اپنی آواز پہنچاتی ہے‘ کہ بلا توقف اس مطالبے پر عمل کیا جائے۔ کمیٹی یہ امر بھی واضح کرنا چاہتی ہے‘ کہ وائسرائے نے مرکزی مجلس قانون ساز کے ممبروں کے سامنے تقریر کرتے ہوئے ’’فیڈریشن مقصود‘‘ ہے کی جو ترکیب استعمال کی ہے‘ اور کہا ہے‘ کہ ملک ِمعظم کی حکومت کے پیشِ نظر یہ ’’فیڈریشن مقصود‘‘ ہے‘ کمیٹی ہر گز اس کی تائید نہیں کرتی اور برطانوی حکومت سے پر زور درخواست کرتی ہے‘ کہ ۱۹۳۵ء کے ایکٹ کے صوبائی حصے پر عمل درآمد کرنے کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں‘ اور جو حالات بدلے ہیں ان کی روشنی میں ہندستان کے مستقبل کے آئین کے مسئلے پر از سرِنو غور کیا جائے۔
’’اس ضمن میں کمیٹی یہ واضح کرنا چاہتی ہے‘ کہ ہندستان کی سیاست میں مسلمانوں کو ایک خاص اور نمایاں مقام حاصل ہے۔ اور عرصہ دراز سے مسلمان متوقع رہے ہیں‘ کہ وہ ہندستان کی قومی زندگی‘ یہاں کی حکومت اور ملک کے نظم ونسق میں باعزت مقام حاصل کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے ہندستان کی آزادی کی جدوجہد میں حصّہ لیا‘ تاکہ آزاد ہندستان میں آزاد اسلام رونما ہو‘ اور وہ اپنے مذہبی‘ سیاسی‘ معاشرتی‘ اقتصادی اور ثقافتی حقوق کی طرف سے مطمئن ہوکر اکثریت رکھنے والی قوم کے ساتھ اشتراک کر سکیں۔ لیکن حالات میں جو تغیّر پیدا ہوا ہے‘ بالخصوص اس صوبائی آئین کے نفاذ کے بعد جو ایک نام نہاد پارلیمنٹری جمہوریت کے طرز حکومت پر وضع کیا گیا ہے‘ حالات نے جس قسم کا پلٹا کھایا ہے اس کا گزشتہ دو سال سے کچھ اوپر مدّت میں یہ تلخ تجربہ ہوا ہے‘ کہ اس صوبائی آئین نے بلا شک وشبہ ہندستان کے مسلمانوں پر ہندو اکثریت کی ایک دائمی اور مستقل حکومت قائم کر دی ہے۔ اور مختلف کانگرسی صوبوں کی حکومتوں کے تحت مسلمانوں کی جان ومال اور عزت وآبرو خطرے میں پڑ گئی ہے‘ یہاں تک کہ ہر روز یہ کانگرسی حکومتیں مسلمانوں کے مذہبی حقوق اور کلچر کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ صحیح ہے‘ کہ مسلمان اس بات کے خلاف ہیں‘ کہ ہندستان کے باشندوں کو لوٹ کھسوٹ کا نشانہ بنایا جائے۔ اور یہ بھی صحیح ہے‘ کہ مسلمانوں نے بار بار ہندستان کی آزادی کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی مسلمان یہ بھی کہتے ہیں‘ کہ وہ ہر گز مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ہندو اکثریت کی حکومت قائم نہیں ہونے دیں گے۔ اور نہ مسلمانوں کو ہندوئوں کا غلام بننے دیں گے۔ یہی وجہ ہے‘ کہ وہ ایسے ’’فیڈریشن مقصود‘‘ کے قطعی خلاف ہیں‘ جس سے جمہوریت اور پارلی منٹری نظامِ حکومت کی آڑ میں ہندوستان پر اکثریت کی حکومت قائم ہو۔ اس ملک کے لیے جس میں مختلف قومیں آباد ہوں ‘اور جو ایک قومی مملکت نہیں بن سکتا اس قسم کا پارلی منٹری نظامِ حکومت ہر گز موزوں نہیں۔
مسلم لیگ ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کے نظرئیے کی مخالف ہے۔ وہ ایسے حملے کی مذمت کرتی ہے‘ جو بغیر کسی وجہ کے دوسرے پر کیا جائے۔ وہ انسانیت کی آزادی کی علم بردار ہے۔ اور طاقت ور کو محض طاقت کے بل پر دوسروں کے حقوق غصب کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دے سکتی۔ ورکنگ کمیٹی کو پولینڈ۔ انگلستان اور فرانس سے گہری ہمدردی ہے۔ بایں ہمہ وہ محسوس کرتی ہے‘ کہ کہ اس آزمائش کی گھڑی میں برطانیہ کو اس وقت تک مسلمانوں کو مدد اور تعاون بخوبی حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ ملک ِمعظم کی حکومت اور وائسرائے کانگرسی صوبوں میں جہاں آج مسلمانوں کا مال محفوظ ہے نہ جان‘ عزت محفوظ ہے نہ آبرو‘ اور جہاں ان کے ابتدائی حقوق کو نہایت بے رحمی سے کچلا جا رہا ہے ان کے ساتھ حق وانصاف کا سلوک نہیں کرتی۔ ورکنگ کمیٹی نہایت پر زور الفاظ میں ملک ِمعظم کی حکومت اور وائسرائے سے درخواست کرتی ہے‘ کہ وہ گورنروں کو ہدایت کریں کہ جہاں جہاں صوبائی وزارتیں مسلمانوں کے حقوق کو تلف کر رہی ہیں انہیں مظالم کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ اور ان کے مذہبی‘ سیاسی‘ معاشرتی اور اقتصادی حقوق پر ڈاکہ ڈال رہی ہیں وہاں یہ گورنر اپنے اختیاراتِ خاص کو جو ازروئے آئین انہیں حاصل ہیں استعمال کریں۔ ورکنگ کمیٹی نہایت افسوس سے یہ کہتی ہے‘ کہ گورنروں نے اب تک مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کرنے سے کوتاہی برتی ہے‘ اور اپنے ان اختیاراتِ خاص کو محض اس خوف سے استعمال نہیں کیا کہ کانگرس کا ہائی کمان مسلسل یہ دہمکیاں دے رہا ہے‘ کہ اگر گورنروں نے یہ اختیارات خاص استعمال کیے تو وہ ان صوبوں میں جہاں کانگرس کی اکثریت ہے’’ڈیڈ لاک‘‘ پیدا کر دے گا۔
مسلم لیگ اگرچہ ہندستان کی آزادی کی علم بردار ہے‘ لیکن ورکنگ کمیٹی ملک ِمعظم کی حکومت سے کہتی ہے‘ کہ مسلم لیگ کی منظوری اور رضا مندی کے بغیر اس قسم کا کوئی اعلان نہ کیا جائے جس کا مقصد ہندستان میں آئینی اور دستوری ترقی کے مدارج معین کرنا ہو۔ نیز ملک ِمعظم کی حکومت اور برطانوی پارلی منٹ کسی قسم کا دستور وضع نہیں کر سکتی اور نہ منظور کر سکتی ہے جب تک اس بارے میں مسلم لیگ کی منظوری اور رضا مندی حاصل نہ کر لی جائے۔
فلسطین کے عربوں کے بارے میں برطانوی حکومت نے جو پالیسی اختیار کی ہے اس نے مسلمانوں کے احساسات وجذبات کو مجروح کیا ہے‘ اور اس ضمن میں جس قدر احتجاج کیا گیا ہے اس کا کوئی معقول نتیجہ اب تک نہیں نکلا۔ ورکنگ کمیٹی پھر ایک بار ملکِ معظم کی حکومت پر زور ڈال کر کہتی ہے‘ کہ عربوں کے قومی مطالبات جلد تسلیم کیے جائیں۔
آج دنیا کو جو خطر ناک بحران درپیش ہے اگر اس سے کامیابی کے ساتھ عہدہ بر آہونے کے لیے حکومت برطانیہ کو مسلمانوں کا حقیقی اور آبرو مندانہ تعاون درکار ہے‘ تو اس کا فرض ہے‘ کہ مسلمانوں میں یہ احساس پیدا کرے کہ ان کے حقوق محفوظ ہیں۔ نیز اس کا یہ بھی فرض ہے‘ کہ اس سلسلہ میں مسلم لیگ کا جو مسلمانانِ ہند کی واحد نمائندہ جماعت ہے‘ اعتماد حاصل کرے۔
موجودہ نازک گھڑی میں ورکنگ کمیٹی ہر مسلمان سے یہ درخواست کرتی ہے‘ کہ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم کے نیچے اس عزم صمیم کے ساتھ کھڑا ہوجائے کہ وہ بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔ کیونکہ اسی پر ہندستان کے نوکروڑ مسلمانوں کی آئندہ تقدیر اور عزت وآبرو کا انحصار ہے۔‘‘{ FR 2495 }
(ماخوذ از ’’ہماری قومی جدوجہد جنوری ۱۹۳۹ء سے دسمبر۱۹۳۹ء تک‘‘ تالیف ڈاکٹرعاشق حسین بٹالوی۔ مطبوعہ پاکستان ٹائمز پریس‘ لاہور)

خ خ خ

نسلی مسلمانوں کے لیے دوراہیں عمل‘ خواہ انفرادی ہویااجتماعی‘ بہرحال اس کی صحت کے لیے دو چیزیں شرط لازم ہیں:

پہلی شرط خود شناسی ہے۔ آپ کو سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ آپ کیا ہیں‘ اور جو کچھ آپ ہیں اس کے ہونے کے مقتضیات کیا ہیں۔ پھر اگر اس تحقیق سے آپ پر کوئی ایسی حقیقت منکشف ہو‘ جس سے آپ راضی نہ ہوں‘ یعنی آپ کی یہ خواہش ہوکہ جو کچھ آپ ہیں وہ نہ رہیں‘ بلکہ کچھ اور ہوجائیں‘ تب بھی آپ کے لیے لازم ہے‘ کہ اس ’’کچھ اور‘‘ کا تعین کریں‘ اور جو کچھ بھی آپ ہونا چاہتے ہیں اس کے مقتضیات کو اچھی طرح سمجھ لیں۔
دوسری شرط قوّتِ فیصلہ اور قوّتِ ارادی ہے۔ آپ کو بہرحال یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ جو کچھ آپ ہیں وہی رہنا چاہتے ہیں‘ یا کچھ اور بننے کے خواہش مند ہیں۔ پھر اس فیصلہ کی رُو سے جو کچھ بھی آپ ہونا چاہیں‘ اس ہونے کے مقتضیات کا باراٹھانے کے لیے آپ کو تیار رہنا چاہئے۔ اس سے بڑھ کر خطر ناک بات کسی شخص یا گروہ کے لیے اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ وہ ایک حیثیت سے محبت اور دوسری حیثیت کا لالچ رکھتا ہو‘ کبھی اس حیثیت سے چمٹ جائے‘ اور کبھی اس حیثیت کی طرف لپکے۔ مگر دونوں میں سے کسی ایک کے مقتضیات بھی پورے کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ اس تَلَوّن اور تردّد کا لازمی نتیجہ خام کاری ہے۔ جو شخص یا گروہ اس حالت میں مبتلا ہووہ بے وزن ہوکر رہ جاتا ہے۔ اس کے لیے کوئی ثبات اور قرار نہیں ہوتا۔ اس کی حالت ایسی ہوجاتی ہے جیسے ایک پتہ جو زمین پر پڑا ہو‘ اور ہوائوں کے جھونکے اسے اڑائے اڑائے لیے پھریں۔
مسلمانوں کے افراد اور ان کی جماعتوں کے اعمال میں تلوُّن اور خام کاری کی جو کیفیات ایک مدّت سے نمایاں ہیں‘ اور اب نمایاں تر ہوگئی ہیں ان کے اسباب پر میں نے جتنا زیادہ غور کیا اتنا ہی زیادہ مجھے یقین ہوتا چلا گیا کہ تمام خرابیوں کی جڑ انہی دو چیزوں کا فقدان ہے‘ کہیں خود شناسی مفقود ہے‘ اور کہیں قوّتِ فیصلہ وقوّتِ ارادی۔
ایک معتد بہ جماعت ہم میں ایسی ہے‘ جو سرے سے اپنی خودی کا احساس ہی نہیں رکھتی۔ اسے یہ معلوم ہی نہیں کہ مسلمان ہونے کے معنی کیا ہیں‘ اور اس کے مقتضیات کیا ہیں۔ پھر بھلا اس سے یہ اُمید کیسے کی جا سکتی ہے‘ کہ اپنے انفرادی یا اجتماعی عمل کے لیے وہ کوئی ایسا راستہ منتخب کرے گی ‘جو مسلمان کو کرنا چاہیے؟
ایک دوسری جماعت‘ اور وہ بھی معتدبہ‘ ایسی ہے‘ جو شعورِ ذات تو رکھتی ہے‘ مگر قوّتِ فیصلہ اور قوّتِ ارادی نہیں رکھتی۔ یہ لوگ جانتے ہیں‘ کہ ہم کیا ہیں‘ اور انہیں یہ بھی معلوم ہے‘ کہ جو کچھ ہم ہیں اس کے ہونے کے مقتضیات کیا ہیں۔ لیکن اس علم نے ان میں محبت اور خوف کے دو گُونہ جذبات پیدا کر دئیے ہیں۔ جو کچھ یہ ہیں وہی رہنا چاہتے ہیں‘ کیونکہ انہیں اپنی حیثیت سے محبت ہے۔ لیکن جو کچھ یہ ہیں اس ہونے کے مقتضیات کی دہشت ان پر طاری ہوگئی ہے۔ جانتے ہیں‘ کہ مسلمان ہونا کھیل نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ذمّہ داریوں کا ایک بھاری بوجھ آتا ہے۔ اس کے ساتھ پابندیاں ہیں‘ ایثار اور قربانی ہے جہاد اور مشقت ہے‘ ایک ایسا سخت مشن ہے‘ جس میں دنیا بھر سے لڑائی ہے‘ اور اس لڑائی کے معاوضہ میں خدا کی خوشنودی کے سوا کسی چیز کی طلب بھی جائز نہیں۔ اس ہولناک چیز کا خوف ان کے دلوں پر ایسا بیٹھا ہوا ہے‘ کہ یہ مسلمان ہونے کے مقتضیات سے کترا کر بھاگتے ہیں‘ اور کوئی ایسی حیثیت اختیار کرنا چاہتے ہیں‘ جس میں آسانی ہو‘ مگر انہیں خود بھی معلوم ہے‘ کہ مسلمان ہونے کی حیثیت باقی رکھ کر یہ کوئی دوسری حیثیت اختیار نہیں کر سکتے۔ اس لیے ان کی قوّت فیصلہ جواب دے گئی ہے۔ یہ اسلام اور کفر کے درمیان مترّدد ہوکر رہ گئے ہیں۔
اسلام سے چمٹنا چاہتے ہیں‘ مگر اس کے مقتضیات کا خوف ناک چہرہ دیکھ کر دور بھاگتے ہیں۔ کفر کی آسائشوں اور لذّتوں اور فائدوں کو دیکھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں‘ مگر وہ کہتا ہے‘ کہ میری طرف آتے ہو‘ تو پورے کافر بن کر آئو اور میرے مقتضیات پورے کرو۔ یہ اس کے لیے بھی تیار نہیں۔لہٰذا اس سے بھی دوربھاگتے ہیں۔ اب ان کی حالت ایک ایسے شخص کی سی ہوکر رہی گئی ہے‘ جو ہر طرف آسائشیں اور فائدے ڈھونڈتا ہو‘ مگر کسی طرف کی بھی ذمّہ داریاں قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔
مسلمانوں کی جماعت زیادہ تر انہی دو گروہوں پر مشتمل ہے‘ اس لیے عموماً جو اجتماعی تحریکیں مسلمانوں میں پھیل رہی ہیں وہ اسلامی نقطۂ نظر سے غلط ہیں۔ ان کے مقاصد میں غلطی ہے۔ ان کے طریق کار میں غلطی ہے‘ ان کی قیادت میں غلطی ہے‘ اور ان کی روحی کیفیت میں غلطی ہے۔ بہت سے لوگوں کو بے شعوری کی وجہ سے اس غلطی کا احساس ہی نہیں ہوتا اس لیے وہ جوش وخروش کے ساتھ ان تحریکوں کو چلاتے ہیں۔ ان کے نزدیک کسی تحریک کے درست ہونے کے لیے بس یہی بات کافی ہے‘ کہ اس میں ’’مسلمانوں کا فائد ہ‘‘ ہے۔يَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًاo{ FR 2496 } اور بہت سے لوگ جن کو غلطی کا احساس ہے وہ اپنے نفس کی چھپی ہوئی کمزوری کے باعث ان تحریکوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ کیونکہ ان کے نفس نے انہیں یہ دھوکا دے رکھا ہے‘ کہ اسلام اور جاہلیت کے درمیان ایک بین بین راہ چلنے ہی میں سلامتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے‘ کہ اسلام اور جاہلیت کے درمیان کوئی بیچ کی راہ نہیں ہے‘ اور ایسی کسی راہ پر چل کر مسلمان کہیں کے بھی نہیں رہتے۔ لہٰذا مسلمانوں کی حقیقی خیر خواہی کا تقاضایہ ہے‘ کہ ان کے سامنے واضح طور پر اسلام اور جاہلیت کی راہوں کو ان کے مقتضیات اور ان کے نتائج کے ساتھ کھول کر پیش کر دیا جائے‘ اور انہیں مشورہ دیا جائے کہ ان میں سے کسی ایک کو اختیار کر لیں۔
میں نے ترجمان القرآن میں ’’قوم‘‘ اور ’’جماعت‘‘ کے اصولی فرق کی بحث اسی توضیع کے لیے چھیڑی تھی۔{ FR 2497 } اس بحث میں میں نے قرآن اور حدیث کی شہادت سے یہ ثابت کیا تھا‘ کہ ’’مسلمان‘‘ کی اصطلاح جس گروہ کے لیے وضع کی گئی ہے‘ وہ دراصل ایک ’’قوم‘‘ نہیں ہے‘ بلکہ ایک ’’جماعت‘‘ ہے۔ اب میں ذرا تفصیل کے ساتھ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ’’قوم‘‘ ہونے اور ’’جماعت‘‘ ہونے کے مقتضیات ونتائج میں کیا فرق ہے۔ مجھے اور کسی شخص کو بھی یہ حق نہیں ہے‘ کہ آپ کو قوم کے بجائے جماعت بننے پر مجبور کرے۔ آپ کو پورا اختیار ہے‘ کہ جو چاہیں بنیں۔ البتہ جو خدمت ہم انجام دے سکتے ہیں وہ یہ ہے‘ کہ آپ کے ذہن کی اُلجھن اور نظر کے دھند کو دور کر دیں‘ تاکہ آپ دونوں حیثیتوں کا صحیح موازنہ کر لیں‘ اور آپ پر یہ واضح ہوجائے کہ ان حیثیتوں کے جمع کرنے کی جو صورتیں آپ نکال رہے ہیں یہ اصولاً غلط اور نتائج کے اعتبار سے مہلک ہیں۔
ایک گروہ میں قومیّت کا احساس دراصل تاریخی اثرات اور تہذیبی وراثت کے تسلسل سے پیدا ہوتا ہے۔ یعنی جب کچھ لوگ ایک طویل مدّت تک ایک قسم کے اخلاقی تصوّرات اور ایک قسم کے معاشرتی طور طریقوں کے ساتھ باہم متفق اور دوسرے گروہوں سے ممتاز ہوکر زندگی بسر کرتے ہیں‘ اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل اس ورثہ کو لے کر اپنے اندر مستحکم کرتی چلی جاتی ہے‘ تو ان میں اپنے مستقل اجتماعی وجود کا وہ احساس پیدا ہوتا جاتا ہے‘ جسے ’’قومیّت‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چند عادتیں اور رسمیں ہوتی ہیں‘ جن سے وہ مانوس ہوتے ہیں۔ چند تخیلات ہوتے ہیں‘ جن سے انہیں محبت ہوتی ہے‘ اور جن کی ترجمانی ان کا لٹریچر کیا کرتا ہے۔ انہی چیزوں کے مجموعہ کو ان کی قومی تہذیب کہا جاتا ہے۔ ان میں طبعاً یہ خواہش ہوتی ہے‘ کہ اس تہذیب یعنی اسلاف کے اس ورثہ کو باقی رکھیں اور اپنے اخلاف کے لیے اسے چھوڑ جائیں‘ تاکہ ان کی قومی زندگی کا تسلسل قائم رہے۔
اس معنی میں جو گروہ ایک قوم بن گیا ہواس میں قومیّت کا شعور پیدا ہونے کے بعد طبعی طور پر یہ خواہش ابھر آتی ہے‘ کہ اپنی اجتماعی زندگی کا ضبط اس کے اپنے ہاتھ میں ہو‘ اور کسی دوسرے گروہ کی مرضی اس پر مسلّط نہ ہونے پائے۔ یہ ایک قوم کا سیاسی مفاد ہے۔
اسی طرح وہ یہ بھی چاہتا ہے‘ کہ معیشت کے جو وسائل اس کے پاس ہیں ان کی حفاظت کرے‘ اور جو مزید وسائل حاصل ہوسکتے ہوں انہیں حاصل کرے‘ تاکہ اس کے افراد زیادہ سے زیادہ خوش حال ہوں۔ یہی چیز ہے جس کو قوم کے معاشی مفاد سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اس میں کسی کلام کی گنجائش نہیں کہ قومیّت کا یہ مفہوم جو اوپر بیان ہوا ہے اس کے لحاظ سے مسلمان صدیوں کے توارث کی بدولت ایک قوم بن چکے ہیں‘ اور اب دوسرے تمام گروہوں سے ممتاز وہ اپنا ایک مستقل اجتماعی وجود رکھتے ہیں۔ اس میں بھی کسی شبہہ کی گنجائش نہیں کہ دوسرے گروہوں کی ایک کثیر تعداد کے درمیان گھرے ہوئے ہونے کی وجہ سے ان کے سیاسی اور معاشی مفاد اور ان کی قومی تہذیب کے تحفظ کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے‘ جس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مگر سوال یہ ہے‘ کہ کیا مسلمانوں کی اجتماعی حیثیت بس یہی ہے؟ کیا وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ دنیا کی بہت سی قوموں میں سے ایک قوم ہیں؟ کیا ان کی قومیّت کی حقیقت بس اتنی ہی ہے‘ کہ ایک گروہ نے نسلاً بعد نسل ایک طرح کی زندگی بسر کر کے اپنے اندر ’’قومیّت‘‘ پیدا کر لی ہے؟ کیا وہ تہذیب جسے یہ اسلامی تہذیب کہتے ہیں محض موروثی عادات ورسوم اور تاریخی تجارِب کا مجموعہ{ FR 2498 } ہے؟ کیا ان کے اصل قومی مسائل صرف یہی ہیں‘ کہ جس ورثہ کو انہوں نے اپنے باپ دادا سے پایا ہے اس کی حفاظت کریں‘ جن وسائلِ معیشت اور جن سیاسی اقتدارات پروہ ابھی تک قابض ہیں انہیں ہاتھ سے نہ جانے دیں‘ جن چیزوں کی انہیں اپنے گروہ کے افراد کی خوش حالی کے لیے ضرورت ہے ان کو حاصل کر لیں۔اور فی الجملہ ان کی اجتماعی زندگی کا ضبط ان کے اپنے ہی ہاتھ میں رہے؟
اگر یہی مسلمانوں کی قومیّت اور یہی ان کی تہذیب ہے‘ اور یہی ان کے قومی مسائل ہیں‘ تو بلا شبہ وہ سب قومی تحریکات درست ہیں‘ جو اس وقت ان میں چل رہی ہیں۔ اس صورت میں:
ان کے لیے یہ بالکل کافی ہے‘ کہ ان کی ایک لیگ ہو‘ جس میں وہ سب لوگ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں‘ جو مسلمان کہلاتے ہیں‘ اور مسلمانوں کے نظامِ معاشرت سے وابستہ ہیں۔ انہی کے گروہ کے کچھ لوگ ان کے قائد ہوں‘ جن کے اشاروں پر یہ حرکت کریں‘ اور ان کی تمام جدوجہد کا مقصود صرف یہ ہوکہ جو کچھ ان کے ہاتھ میں ہے وہ جانے نہ پائے‘ اور جو کچھ مزید ہاتھ آسکتا ہووہ آجائے‘ قطع نظر اس سے کہ اسلام جس کے نام پر یہ اپنی قوم کو مسلمان کہتے ہیں‘ ان کو جائز سمجھتا ہویا نہ سمجھتا ہو۔ ان کے لیے تمام تر اہمیت صرف اسی چیز کی ہونی چاہئے کہ ملک کا نظم ونسق خواہ کسی نوعیت کا ہوبہرحال اس کے ضبط میں خود ان کے اپنے افراد کو کافی حصّہ ملے‘ تاکہ اپنے آبائی ورثہ (یعنی اپنی قومی تہذیب) کو وہ خود جس صورت میں بھی باقی رکھنا چاہیں رکھ سکیں اور جس قسم کے بھی فوائد ومنافع ملک کی آبادی میں تقسیم ہورہے ہوں ان میں سے ایک معتدبہ حصّہ ان کے افراد کو بھی مل جائے۔
ان کے لیے یہ بھی درست ہے‘ کہ موقع اور محل کو دیکھ کر یہ ملک کی جس پارٹی{ FR 2499 } کے ساتھ جن شرائط پر چاہیں معاملہ کر لیں‘ بشرطیکہ اس معاملہ میں ان کے اپنے گروہ کا مفاد متصوّر ہو۔ ایسے کسی معاملہ میں قومی غداری کا سوال صرف اس وقت پیدا ہوگا جب معاملہ جان بوجھ کر نقصان کے ساتھ کیا جائے‘ یا اس میں اپنی قوم کے سیاسی ومعاشی مفاد کو نظر انداز کر دیا جائے۔
ان کے لیے یہ بھی جائز ہے‘ کہ جس طرح دوسری قوموں میں قوم پرستی (nationalism)پیدا ہوتی ہے اسی طرح ان میں بھی ہو۔ یہ بھی اٹلی اور جرمنی اور جاپان کی طرح غلبہ اور تمکّن فی الارض کا مطالبہ کریں۔ ان کی تنظیم بھی فاشستی اصولوں پر کی جائے۔ یہ بھی انتخابِ طبیعی(natural selection)اور بقائے اصلح (survival of the fittestt)کے قانون کے مطابق اپنے آپ کو بھیڑئیے کی طرح ’’صالح‘‘ ثابت کریں‘ اور غیر صالح بکریوں کو ہضم کرنا شروع کر دیں۔ یہ بھی استعماری قوموں کے زمرے میں شامل ہوجائیں‘ جس طرح ممکن ہوزمین میں غلبہ حاصل کریں‘ اور اسی دنیا کی زندگی میں اسی زمین پر اپنے لیے جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتَھَا الْاَنْھَرُ کا لطف پیدا کرلیں۔
قومیّت کا یہ نظریہ اختیار کر لینے کے بعد آپ کے لیے یہ سب کچھ درست ہوجاتا ہے۔ مگر خوب جان رکھیے کہ اسلام کو اس قومیّت سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اسلام کو نہ تو کسی نسلی گروہ سے دل چسپی ہے‘ نہ وہ کسی جماعت کی موروثی عادات اور رسوم سے لگائو رکھتا ہے‘ نہ وہ دنیا کے معاملات کو چند اشخاص یا مجموعہ اشخاص کی منفعت کے نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے‘ نہ وہ اس لیے آیا ہے‘ کہ انسانیت جن گروہوں میں بٹی ہوئی ہے ان کے اندر اپنے نام سے ایک اور گروہ کا اضافہ کر دے‘ نہ وہ انسانی جماعتوں کو جانور بنانا چاہتا ہے‘ کہ ایک دوسرے کے بالمقابل تنازع للبقاء(struggle for existence)کے میدان میں اتریں اور انتخاب طبیعی کے امتحان میں شریک ہوں۔ یہ سب کچھ غیراسلامی ہے۔ لہٰذا اگر یہ آپ کی قومیّت اور یہ آپ کی قومی تہذیب ہے‘ اور یہ آپ کے قومی مقاصد ہیں‘ تو آپ اپنی قوم کا جو نام چاہیں تجویز فرما لیں۔ اسلام کا نام استعمال کرنے کا آپ کو حق نہیں ہے۔ کیونکہ اسلام آپ کی اس قومیّت اور قومی تہذیب سے تبری کرتا ہے‘ اور میں نہیں سمجھتا اسلام ہی کا نام استعمال کرنے پر آپ کو اصرار کیوں ہو؟’’مسلمان‘‘ کے معنی ومفہوم سے تو آپ کو کوئی بحث ہے ہی نہیں۔ آپ کو تو اپنی قومیّت کے لیے بس ایک نام چاہئے۔ سو اس غرض کے لیے آپ جو نام بھی وضع کر لیں گے وہ آپ کی مستقل اجتماعی حیثیت پر اسی طرح دلالت کرنے لگے گا‘ جس طرح اب لفظ’’مسلمان‘‘ کر رہا ہے۔ آخر اس نوع کی قومیّت میں کون سی خصوصیت ہے‘ جس کے لیے لفظ’’مسلمان‘‘ ہی استعمال کرنا ضروری ہو؟
اس نام کو بدل دینے کی ضرورت صرف اسی لیے نہیں ہے‘ کہ آپ کے یہ نظریات جن پر آپ اپنی قومیّت کی بنا رکھ رہے ہیں‘ اولاً اسلام کے خلاف ہیں‘ بلکہ اس کی ضرورت اس لیے بھی ہے‘ کہ ان نظریات کے ساتھ آپ جو کچھ کریں گے وہ اسلام کے لیے رسوائی وبدنامی کا موجب ہوگا۔ دنیا آپ کی حرکات کو دیکھ کر سمجھے گی کہ اسلام یہی کچھ سکھاتا ہوگا‘ اور یہ چیز اس کو اسلام سے اور زیادہ دور پھینکے گی۔ آپ اپنے ’’قومی مفاد‘‘ کی حفاظت کے لیے غیراسلامی فوج میں اپنا تناسب قائم رکھنے کی کوشش کریں گے‘ اور دنیا یہ سمجھے گی کہ شاید یہ اسلام کی تعلیم ہے‘ کہ جو تمہیں پندرہ روپے تنخواہ دے اس کے حکم سے تم ہر ایک کا گلا کاٹنے کے لیے تیار ہوجائو۔ آپ اپنے قومی مفاد کی خاطر ہر اس منفعت کو دانتوں سے پکڑنے کی کوشش کریں گے‘ جو کسی مسلمان یا بہت سے مسلمانوں کو کسی طور سے حاصل ہویا ہوسکتی ہو‘ اور دنیا اس دنائت کو اسلام کی طرف منسوب کرے گی۔ آپ انتہائی بے اصولی کے ساتھ کہیں ایک چیز کی حمایت کریں گے اس لیے کہ وہ آپ کے مفاد کے مطابق ہے‘ اور کہیں اسی چیز کی مخالفت کریں گے اس لیے کہ وہ آپ کے مفاد کے خلاف ہے‘ کبھی ایک پارٹی سے ملیں گے‘ اور کبھی اسی پارٹی سے لڑیں گے نہ اس لیے کہ آپ کے اور اس کے درمیان اصولی اتفاق یا اتحاد ہے‘ بلکہ صرف اس لیے کہ آپ کے پیشِ نظر اصول نہیں’’قومی مفاد‘‘ ہے۔ یہ ابن الوقتی جو آپ کے کیرکٹر سے ظاہر ہوگی‘ دنیا سمجھے گی کہ ایسا ہی کیرکٹر اسلام پیدا کرتا ہے۔ آپ قومی مفاد کی تلاش میں ہر طرف لپکیں گے۔ فاشزم کے اصول یا کمیونزم کے نظریات بھی اختیار کریں گے ظالمانہ سرمایہ داری اور مستبدانہ شخصی ریاستوں کے دامن میں بھی پناہ لیں گے‘ انگریز اور ہندو اور ریاستہائے ہند‘ جس کے آستانہ پر بھی فائدہ کا بُت بیٹھا نظر آئے گا اسی کی طرف سجدہ ریز ہوں گے‘ اور یہ سارے داغ آپ کے توّسط سے اسلام کے دامن پر لگتے چلے چائیں گے۔ اسلام نے صدیوں آپ پر جو احسانات کئے ہیں ان کا کم از کم یہ بدلہ تو نہ ہونا چاہئے کہ آپ اس طرح اس کی رسوائی کا سامان کریں۔
لیکن اگر آپ کو اسلام سے واقعی محبت ہے‘ اور حقیقت میں آپ مسلمان ہی رہنا چاہتے تو آپ کو یہ جان لینا چاہئے کہ اسلام یہودیت اور ہندوازم کی طرح ایک نسلی مذہب نہیں ہے‘ جو ایک نسلی قومیّت بناتا ہو‘بلکہ وہ تمام نوعِ انسانی کے لیے ایک اخلاقی واجتماعی مسلک ہے۔ ایک جہانی نظریہ (world theory) اور ایک عالمی تصوّر (universal idea)ہے۔ وہ ایک ایسی جماعت پیدا کرنا چاہتا ہے‘ جو اس مسلک‘ اس نظریہ‘ اس تصوّر کو لے کر اُٹھے‘ اور دنیا کے سامنے عملاً اس کا نقشہ پیش کرے‘ اور جس جس قوم کے جو جو لوگ اس کو قبول کرتے جائیں انہیں اپنی جماعت میں شامل کرتی چلی جائے‘ یہاں تک کہ قوموں کے درمیان تفریق کی دیواریں مسمار ہوجائیں۔ اس کے نزدیک ’’اسلامی‘‘ صرف وہ چیز ہے‘ جو اس کے مسلک اور اس کے نظریہ کے مطابق ہو۔ اور جو چیز اس کے خلاف ہواس کو وہ اپنانے سے صاف انکار کرتا ہے خواہ تمام دنیا کے مسلمانوں کا ذاتی مفاد اس سے وابستہ ہو۔ لہٰذا اگر آپ اسلام کے مسلک کی خاطر جئیں اور اس کو دنیا میں حکمران بنانے کے لیے جدوجہد کریں تب تو یقیناً آپ اسلامی جماعت اور مسلمان گروہ ہوں گے‘ ورنہ اپنے لیے جینے اور اپنے مفاد کے لیے جدوجہد کرنے کی صورت میں اسلام سے آپ کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔ آپ کو ہر گزیہ حق نہیں پہنچتاکہ کام اپنے لیے کریں‘ اور نام اسلام کا لیں۔
مسلک ِاسلام کی اس جہانی وعالمی نوعیت کو ذہن نشین کر لینے کے بعد اب یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ ایک عالم گیر مسلک اور جہانی نظریہ کے مقتضیات کیا ہوتے ہیں۔
اولاً وہ مختلف پارٹیوں میں سے ایک پارٹی بن کر رہنے پر قانع نہیں ہوتا‘ بلکہ اس کی فطرت کا اقتضاء یہ ہوتا ہے‘ کہ بس وہی ایک ہو۔ وہ مقابل کی کسی طاقت کو اپنا شریک وفہیم بنانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔مُدارات اور مصالحت(compromise)کرنا اس کے لیے ناممکن ہوتا ہے۔وہ سودا نہیں کرتا‘ بلکہ غالب ہونا چاہتا ہے‘ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۝۰ۙ وَلَوْ كَرِہَ الْمُشْرِكُوْنَ o { FR 2500 }
ثانیاً وہ اشخاص یا طبقوں یا قوموں کے نقطۂ نظر سے مسائل کو نہیں دیکھتا بلکہ کُلّی اور جہانی نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے۔اسے اس امر سے قطعاً کوئی بحث نہیں ہوتی کہ اس شخص یا اس طبقہ یا اس گروہ کا فائدہ کس چیز میں ہے۔ اس کو انسان سے بحث ہوتی ہے‘ اور وہ ان مسائل کو حل کرنا چاہتا ہے‘ جو مجموعی حیثیت سے انسان کے لیے حل طلب ہوں‘ قطع نظر اس سے کہ کس کو کیا ملتا ہے‘ اور کس سے کیا چھنتا ہے‘ كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ { FR 2501 }
ثالثاً اس کے پیشِ نظر وقتی یا مقامی مقاصد نہیں ہوتے بلکہ ایک دائمی اور جہانی مقصد ہوتا ہے‘ اور وہ یہ ہے‘ کہ دنیا میں زندگی کا جو نظام اس کے اصول کے خلاف قائم ہے اس کو توڑ ڈالے اور اپنے اصول کے مطابق مستقل طور پر ایک نظام قائم کرے۔
رابعاً وہ ایسی قومیّت کے تنگ دائرے میں بند ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتا‘ جو نسلی اور تاریخی روایات پر قائم ہو۔ اس کی کامیابی کے لیے تو لازمی شرط یہی ہے‘ کہ اپنے عہد کے تمام انسانوں میں سے بہتر اور صالح تر افراد کو نکال کر اپنی تنظیم کی طرف کھینچ لائے اور ان کی قابلیتوں سے کام لے۔ اگر وہ کسی خاص قوم کی ذاتی اغراض کا حامی بن جائے‘ تو ظاہر ہے‘ کہ دوسری قوموں کے لیے اس کی اپیل قطعاً غیر موثر ہوجائے گی۔
خامساً وہ کسی خاص قوم کی موروثی تہذیب اور روایتی رسوم وعادات سے اپنا دامن نہیں باندھتا بلکہ ہر عہد میں تمام عالمِ انسانی نے اپنی علمی تلاش وجستجو سے جو حقائق … نظریات نہیں‘ بلکہ حقائق …… دریافت کیے ہوں‘ یا اپنی سعی وعمل سے جو صالح نتائج پیدا کیے ہوں‘ ان سب کو لے کروہ اپنے تجویز کردہ نظامِ اجتماعی میں اپنے اصول کے مطابق اِس طرح جذب کرتا ہے‘ کہ وہ اس نظام کے فطری اجزاء(نہ کہ درآمد شدہ اشیاء)بن جائیں۔
سادساً اس کی کامیابی کے لیے صرف یہ ثابت کر دینا کافی نہیں ہوتاکہ وہ بجائے خود برحق ہے‘ اور اس میں انسان کے لیے فلاح ہے۔ بلکہ اپنے مقصود کو پہنچنے کے لیے وہ اس امر کا تقاضا کرتا ہے‘ کہ اس کے اصولوں کو ایک انقلابی تحریک کی بنیاد بنا دیا جائے‘ اس پر ایمان رکھنے والے اس تحریک کے زور سے ایک مجاہد جماعت بن کر اُٹھیں‘ اور بالآخر اس کے نظریات ایک اسٹیٹ کے لیے بنیادی قانون بن جائیں۔
یہ اسلام کے مقتضیات ہیں‘ اور یہی مسلمان ہونے کے مقتضیات بھی ہیں۔ اب اگر آپ ’’اسلامی جماعت‘‘ بن کر کام کرنا چاہتے ہیں‘ تو آپ کو اپنی اس قومی پالیسی پر نظرثانی کرنی ہوگی‘ جس پر آپ اب تک چلتے رہے ہیں‘ اور اسے بالکلیہ بدل کر ان مقتضیات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
آپ کو اپنے دماغ سے قومی مفاد کا تصوّر نکال دینا پڑے گا ‘اور اس کی جگہ اسلام کے اصول اور اس کے نصب العین کو دینی ہوگی۔ آپ کو وقتی اور مقامی مقاصد سے صرفِ نظر کر لینا ہوگا ‘اور اپنی نظر اس ایک مقصد پر جماد ینی ہوگی کہ اسلام کے اصول دنیا میں حکمراں ہوں۔ اس غرض کے لیے آپ کو دنیا بھر سے لڑنے کے لیے تیار ہونا پڑے گا ‘اور کسی ایسی پارٹی سے جو آپ کے اصول نہ مانتی ہو‘ آپ کسی شرط پر بھی سودانہ کر سکیں گے۔ آپ کو سختی کے ساتھ ایک بااصول جماعت بننا پڑے گا‘ ان ناکارہ لوگوں کو اپنے سے الگ کرنا ہوگا‘ جو آپ کے اصول کو نہ مانتے ہوں‘ اور سب قوموں میں سے ان صالحین کو چُن چُن کر اپنے ساتھ ملانا ہوگا‘ جو ان اصولوں کو ماننے کے لیے تیار ہوں۔ آپ کو ابن الوقتی چھوڑ دینی ہوگی۔ اپنے اصولوں سے ہٹ کر آپ کچھ نہ کر سکیں گے‘ خواہ اس میں کتنا ہی بڑا شخصی یا قومی فائدہ ہو۔ آپ کو ایک ایسی مجاہد جماعت بننا پڑے گا۔ جو اپنے اصولوں کے لیے لڑنے والی ہو‘ جس کا مقصد اپنی ’’قومی حکومت‘‘(national state)قائم کرنا نہ ہو‘بلکہ اپنے ’’اصولوں کی حکومت‘‘ (ideological state)قائم کرنا ہو۔
ایسی جماعت جب آپ بنیں گے تو آپ کو اپنی قیادت میں تغیّر کرنا ہوگا۔ اس وقت آپ کے قائد صرف وہ لوگ ہوسکیں گے‘ جو اسلام کے اصول کو ٹھیک ٹھیک جانتے ہوں ‘اور سب سے زیادہ ان کا اتّباع کرنے والے ہوں۔
اور سب سے زیادہ ان کا اتباع کرنے والے ہوں۔ ایک قوم کا لیڈر ہر وہ شخص ہوسکتا ہے‘ جو قوم کا فرد ہو۔ مگر ایک جماعت کا لیڈر صرف وہی ہوسکتا ہے‘ جو جماعت کے مسلک کا سب سے بڑا علمبر دار ہو۔مسلمانوں کی قومی تنظیم میں تو اسلام کے مسلک سے ہٹے ہوئے لوگ صف ِاوّل میں بھی جگہ پا سکتے ہیں‘ مگر جماعتی تنظیم میں ان کا مقام سب سے پچھلی صفوں میں ہوگا‘ بلکہ شاید ان میں سے بہت سوں کو کسی صف میں بھی جگہ نہ ملے گی۔
قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ۝۰ۚ { FR 2502 }
آپ پر دونوں راستے واضح ہوچکے ہیں۔ اب ان کے فوائد اور نقصانات کا مواز نہ کر کے بھی دیکھ لیجیے‘ تاکہ ان میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنے میں آسانی ہو۔
اگر آپ محض ایک ایسی قوم ہوں‘ جو اپنے ذاتی مفاد کے لیے جدوجہد کرتی ہو‘ تو آپ کی حیثیت ایک جامد چٹان کی سی ہوگی‘ اور آپ کے مقابلہ میں دوسری بہت سی قومیں ایسی ہی چٹانوں کی صورت میں موجود ہوں گی۔ آپ کا اور ان کا مقابلہ اسی طرح ہوگا‘ جس طرح چٹانوں کا ایک دوسرے سے ہوتا ہے۔ ایک چٹان دوسری چٹان میں سے اجزا لے کر اپنا حجم نہیں بڑھا سکتی۔ نہ ایک چٹان کے اندر گُھس سکتی ہے۔ ان کے درمیان معاملہ کی بس دوہی صورتیں ہیں۔ یا تو ہر ایک چٹان اپنی اپنی جگہ رہنے پر قانع ہو۔ یا ایک چٹان دوسری چٹان پر چڑھ جائے‘ اور اس سے ٹکرا کر اسے توڑنے اور پیسنے کی کوشش کرے۔ پہلی صورت میں آپ محدود ہوکر رہ جاتے ہیں۔ اور دوسری صورت میں آپ کے لیے وسعت کا امکان تو ہے‘ مگر اسی طرح کی وسعت جیسی فاشسٹ اٹلی اور نازی جرمنی حاصل کر رہا ہے‘ اور اس سے پہلے امپیریلسٹ برطانیہ حاصل کر چکا ہے۔ اس طرح کی وسعت حاصل کر کے آپ دنیا میں بس ایک مُفسد قوم کا اضافہ کر دیں گے‘ جو زمین میں کچھ مدّت تک فساد پھیلائے گی‘ اور بالآخر اپنے کیے کی سزا پائے گی۔
بخلاف اس کے اگر آپ اسلامی مفہوم کے مطابق ایک ایسی اصولی جماعت ہوں‘ جو محض ایک عالمگیر مسلک اور ایک جہانی نظریہ کے لیے جدوجہد کرتی ہو‘ اور جس میں ہر انسان آپ کے اصول قبول کر کے مساوی حقوق اور مساویانہ حیثیت کے ساتھ شریک ہوسکتا ہو‘ تو آپ ایک جامد پتھر کی طرح نہ ہوں گے‘ بلکہ ایک نامی جسم (organic body)کی طرح ہوں گے۔ آپ کی مثال اس درخت کی سی ہوگی ‘جو ہر طرف اپنے گردوپیش سے اجزاء جذب کرتا ہے‘ اور پھیلتا چلا جاتا ہے۔ اس صورت میں آپ ایک عالمگیر طاقت (world force)ہوں گے۔ آپ دنیا کو اپنے لیے نہیں‘ بلکہ اصولِ حق کے لیے فتح کرنے کی کوشش کریں گے۔ اور اگر واقعی آپ کے اصول فطرت انسانی کو اپیل کرنے والے اور انسانیت کی مشکلات کو حل کرنے والے ہیں…… جیسے کہ وہ فی الواقع ہیں…… تو دنیا خود اپنے آپ کو مفتوحیت کے لیے آپ کے سامنے پیش کر دے گی۔ آپ کے شخصی یا قومی مفاد میں تو کوئی عالم گیر کشش نہیں ہے۔ اس کی طرف آپ دعوت دیں گے تو دنیا اس کی طرف خود کبھی نہ کھینچے گی‘ بلکہ آپ کو زبردستی اسے کھینچنا پڑے گا۔ لیکن اسلام کے اصول میں عالم گیری کی طاقت ہے۔ دنیا ان کی طرف خود کھنچے گی بشرطیکہ آپ اپنے لیے نہیں‘ بلکہ اپنے اصولوں کے لیے جئیں اور مریں۔ آپ کے سامنے اشتراکیت کی مثال موجود ہے۔ وہ ایک عالم گیر طاقت صرف اس لیے بنتی چلی گئی کہ اشتراکی لوگ اشتراکیوں کے مفاد کے لیے نہیں‘ بلکہ اشتراکیت کے اصول کے لیے جہاد کرتے رہے۔ آج اگر وہ اشتراکیت کے لیے جہاد کرنا چھوڑ دیں اور ہر قوم کے اشتراکیوں کو صرف اپنے قومی مفاد کی فکر لگ جائے‘ تو آپ دیکھیں گے کہ اشتراکیت کی عالم گیری ختم ہوجائے گی۔
(ترجمان القرآن۔مئی ۱۹۳۹ء)

خ خ خ

اقلیت واکثریت

مسلمانوں نے چونکہ اپنے دین کو ایک عالمگیر تحریک کے بجائے ایک جامد قومی تہذیب اور خود اپنے آپ کو ایک بین الاقوامی انقلابی جماعت کے بجائے محض ایک قوم بنا کر رکھ دیا ہے لہٰذا اس کا نتیجہ آج ہم یہ دیکھ رہے ہیں‘ کہ مسلمان کے لیے تاریخ میں پہلی مرتبہ اقلیت واکثریت کا سوال پیدا ہوا ہے‘ اور اس کے لیے یہ بات سخت پریشانی کی موجب بن گئی ہے‘ کہ سر شماری کے اعتبار سے جب میں چار کے مقابلہ میں ایک کی نسبت رکھتا ہوں‘ تو اب میں چوگنی تعداد کے غلبہ سے اپنے آپ کو کیسے بچائوں۔
یہ پریشانی اب رفتہ رفتہ شکست خوردہ ذہنیت میں تبدیل ہورہی ہے‘ اور کمزور فریق کی طرح اب مسلمان کو بچائو کی کوئی تدبیر اس کے سوا نہیں سُوجھتی کہ وہ پسپا ہوکر اپنے خول میں سمٹ آئے۔ اس صورت حال کی تنہا وجہ یہی ہے‘ کہ اس اﷲ کے بندے کو نہ تو اس طاقت کا علم ہے‘ جو اس کے دین کی صورت میں اس کے پاس ہے‘ اور نہ اسے یہی خبر ہے‘ کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے دنیا میں اس کا مقام کیا ہے۔ یہ اپنے دین کو ایک کند ہتھیار اور اپنے آپ کو ایک ’’قوم‘‘ سمجھ رہا ہے‘ اسی وجہ سے اس کو بچائو کی پڑ گئی ہے۔ اگر اس کو یاد ہوتاکہ میں ایک جماعت ہوں ‘اور وہ جماعت ہوں‘ جس کا مشن ہی دنیا کو اپنے نظریہ ومسلک اور اپنے فلسفۂ اجتماع(social philosophy)کی طاقت سے فتح کرنا ہے‘ تو ہر گز اسے کوئی پریشانی پیش نہ آتی۔ اس کے لیے اکثریت واقلیت کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ یہ اپنے خول میں سمٹ آنے کی فکر نہ کرتا‘ بلکہ آگے بڑھ کر میدان جیتنے کی تدبیریں سوچتا۔
کثرت وقلت کا سوال صرف قوموں ہی کے لیے پیدا ہوتا ہے۔’’جماعتوں‘‘ کے لیے نہیں۔ جو جماعتیں کسی طاقت ور نظریہ اور جان دار اجتماعی فلسفہ کو لے کر اُٹھتی ہیں وہ ہمیشہ قلیل التعدادہی ہوتی ہیں۔ اور قلت ِتعداد کے باوجود بڑی بڑی اکثریتوں پر حکومت کرتی ہیں۔ روسی کمیونسٹ پارٹی کے ارکان کی تعداد اس وقت{ FR 2503 } صرف ۳۲لاکھ ہے‘ اور انقلاب کے وقت اس سے بہت کم تھی‘ مگر اس نے ۷ا کروڑ انسانوں کو مسخر کر لیا۔ مسولینی کی فاشسٹ پارٹی صرف ۴ لاکھ ارکان پر مشتمل ہے‘ اور روم پر مارچ کرتے وقت ۳لاکھ تھی‘ مگر یہ قلیل تعداد ساڑھے چار کروڑ اطالویوں پر چھا گئی۔ یہی حال جرمنی کی نازی پارٹی کا ہے۔ اگر قدیم زمانہ کی مثالیں خود اسلامی تاریخ سے دی جائیں‘ تو ان کو یہ کہہ کرٹالا جا سکتا ہے‘ کہ وہ زمانہ گزر گیا‘ اور وہ حالات بدل گئے۔ لیکن یہ تازہ مثالیں آپ کے اسی زمانہ کی موجود ہیں‘ جن سے ثابت ہوتا ہے‘ کہ قلت آج بھی حکمران بن سکتی ہے بشرطیکہ وہ اس طرح مجاہدہ کرے جس طرح ایک اصول اور مسلک رکھنے والی جماعت کیا کرتی ہے‘ اور محدود اغراض کے لیے لڑنے کے بجائے ایسے اصولوں کے لیے لڑے جو لوگوں کی زندگی کے مسائل کو حل کرنے والے اور انسانی تو ّجہات کو اس جماعت کی طرف کھینچنے والے ہوں۔
اسلام کے اصول اس غرض کے لیے بہترین پروگرام دے سکتے ہیں‘ اور اس پروگرام کو لے کر اگر مسلمان عملی مجاہدے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں‘ تو چند سال میں حالات کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ لیکن یہاں مسلمانوں کی قیادت جن لوگوں کے ہاتھ میں ہے وہ نہ اسلام کو جانتے ہیں نہ اپنے آپ کو مسلمان کی حیثیت سے پہچانتے ہیں نہ ان کو اس منبع کی خبر ہے ‘جہاں اسلام کی قوّتِ تسخیر چھپی ہوتی ہے۔ ان کے دماغوں کی پہنچ زیادہ سے زیادہ جہاں تک ہوسکتی ہے وہ یہی ہے‘ کہ یا تو اپنے آپ کو قلیل التعداد دیکھ کر محفوظ قلعوں کی طرف بھاگنے کی فکر کریں‘ یا اس نتیجہ پر پہنچ جائیں کہ ہمارے لیے دوسروں کے پیچھے چلنے اور اپنے آپ کو غیر مسلموں کی قیادت کے حوالے کر دینے کے سوا کوئی زندگی نہیں ہے۔
دنیا میں اس وقت جتنی جماعتیں بر سر اقتدار ہیں ان میں کسی جماعت کی تعداد بھی لاکھوں سے متجاوز نہیں ہے۔ غالباً روسی کمیونسٹ پارٹی اس وقت سب سے بڑی جماعت ہے‘ اگر جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا اس کے ارکان بھی ۳۲لاکھ سے زیادہ نہیں ہیں۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے‘ تو کہنا پڑے گا کہ جس نظریہ ومسلک کے حامیوں کی تعداد صرف ایک ملک میں آٹھ کروڑ اور دنیا بھر میں چالیس کروڑ یا اس سے زیادہ ہواس کو تمام کرّہ زمین پر حکمران ہونا چاہئے۔ یہ نتیجہ یقینارونما ہوتا اگر ان لوگوں میں جماعتی احساس بے دار ہوتا‘ اور انہیں اپنی جماعت کے مشن کا شعور نصیب ہوتا‘ اور یہ اس مشن کے لیے سعی وجہد پر کمر بستہ ہوتے۔ لیکن جس چیز نے اس عظیم الشان تعداد کو بالکل بے اثر‘ قطعی ناکارہ بنا دیا ہے وہ اسی احساس وشعور اور اسی آمادگی عمل کا فقدان ہے۔ مختلف قسم کی شیطانی قوّتیں اس جماعت کو چمٹ گئی ہیں‘ اور پیہم اس کوشش میں لگی ہوئی ہیں‘ کہ کسی طرح یہ اپنے آپ سے واقف نہ ہونے پائے‘ اور اس کو کبھی اتنا ہوش ہی نہ آئے کہ یہ اپنی زندگی کے مشن کا خیال کر سکے۔ آپ مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک ہندستان کے مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لے لیجیے۔ ہر جگہ آپ کو یہی نظر آئے گا کہ ایک نہ ایک شیطان اس قوم کی جان کا لاگو بنا ہوا ہے‘ اور پوری مستعدی کے ساتھ اپنے کام میں منہمک ہے۔ جہاں مسلمانوں میں مذہب کے ساتھ ابھی دلچسپی باقی ہے وہاں یہ شیطاطین مذہبیت کا جامہ پہن کر آتے ہیں‘ اور دین کے نام سے ان مسائل پر بحثیں چھیڑتے اور نزاعیں برپا کراتے ہیں‘ بلکہ بسا اوقات سر پھٹول تک نوبت پہنچا دیتے ہیں‘ جن کی دین میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ اس طرح مسلمانوں کا سارا مذہبی جوش ان کی اپنی تخریب میں ضائع ہوجاتا ہے۔ اور جہاں مذہب کی طرف سے کچھ سرد مہری پیدا ہوگئی ہے۔ وہاں کچھ دوسری قسم کے شیاطین نمودار ہوتے ہیں‘ اور وہ دنیوی ترقی وخوش حالی کا سبز باغ دکھا کر مسلمانوں کو ایسی تحریکوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں‘ جو اپنے مقاصد وطریق کار کے لحاظ سے قطعاً غیراسلامی ہیں۔
جن لوگوں کو مسلم عوام کی حالت دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے وہ جانتے ہیں‘ کہ اس گئی گزری حالت میں بھی ان لوگوں کے اندر اچھی خاصی اخلاقی طاقت موجود ہے‘ جس سے بہت کچھ کام لیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ بہت سے روگ جو اس قوم کو لگے ہوئے ہیں انہوں نے آٹھ کروڑ مسلمانوں کی اس عظیم الشان تعداد کو صفر کے درجے تک نیچے گرا دیا ہے۔ اسلام جس مقصد کے لیے جہاد اور محنت وجاں فشانی چاہتا ہے یہ اس سے بہت دور ہٹا دئیے گئے ہیں۔ ان کے ذہن سے اسلام کا صحیح تصوّر اور مسلمان کا حقیقی مفہوم نکال دیا گیا ہے۔ یہ درحقیقت خود اپنے آپ سے بے گانہ کر دئیے گئے ہیں۔ یہ اس غلط فہمی میں ڈال دئیے گئے ہیں‘ کہ وہ نظریۂ حیات جو اسلام ان کو دیتا ہے اس کے لیے کوئی مستقبل نہیں‘ کامیابی کا کوئی موقع نہیں۔
ان وجوہ سے وہ عظیم الشان تعداد جو ہم کو مردم شماری کے رجسٹروں میں نظر آتی ہے اسلامی اغراض کے لیے قریب قریب بالکل بے کار ہوچکی ہے۔ اس تعداد کے بھروسا پر اگر کچھ کیا جائے گا‘ تو سخت مایوسی سے دو چار ہونا پڑے گا۔ ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ جو اُمید وابستہ کی جا سکتی ہے۔ وہ صرف یہ ہے‘ کہ اگر اسلام از سرِنو ایک زندہ تحریک کی حیثیت سے اُٹھے‘ اور شیطانی قوّتوں کے مقابلہ میں اپنے اصول کی حکمرانی وفرما نروائی قائم کرنے کے لیے نبرو آزما ہو‘ تو شاید غیر مسلموں کی بہ نسبت ان مسلمانوں میں سے اُس کو کچھ زیادہ والنیٹر نسبتہً زیادہ آسانی کے ساتھ مل سکیں گے۔
اب جو لوگ حقیقت میں اُس اسلام کو جانتے اور سمجھتے ہیں‘ جو محمدa پر نازل ہوا تھا‘ اور جن کا قلب اس امر پر پوری طرح مطمئن ہے‘ کہ انسانیت کی فلاح وسعادت اسی اسلام کی حکمرانی میں ہے‘ اور صرف اسلام ہی کے اصول پر انسانی تمدّن واجتماع کا ایک معتدل ومتوازن نظام تعمیر ہوسکتا ہے‘ ان کو چند غلط فہمیوں سے اپنے ذہن کو صاف کر لینا چاہئے‘ اور چند حقیقتیں اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئیں۔
اول یہ کہ ’’مسلمانوں کے مفاد‘‘ سے اسلام کا دامن باندھنا غلطی ہے۔ اسلام کی نگاہ میں یہ سوال ہر گز کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور نہ اسلام اپنے پیروئوں کے اس ’’مفاد کو تسلیم کرتا ہے‘ کہ ایک غیر الٰہی نظامِ حکومت کو چلانے کے لیے کتنے ’’مسلمانوں‘‘ کی خدمات فوج میں اور کتنوں کی پولیس میں اور کتنوں کی دفتروں میں حاصل کی جاتی ہیں‘ اور کتنی نشستیں ان کو مجالسِ قانون ساز میں ملتی ہیں‘ تاکہ خدا کے ملک میں وہ بھی غیر مسلموں کی طرح شریعت ساز بن کر بیٹھیں۔ اور کن ریاستوں کی مسندِ حکمرانی مسلمان فرمانروائوں کے لیے محفوظ رکھی جائے‘ تاکہ وہ غیر مسلم راجائوں کی طرح ملک خدا کے ناجائز مالک بنے بیٹھے رہیں۔ اس قسم کے سوالات کو اسلامی سوالات کہنا اسلام کی توہین ہے۔ ایک اسلامی تحریک کو اس قسم کے تمام سوالات سے قطعاًبے تعلق ہونا چاہئے۔
دوسرے یہ کہ اسلام کی کامیابی نہ تو ان مسلمانوں کی تعداد اور طاقت پر منحصر ہے‘ جو اس وقت مردم شماری میں مسلمان کی حیثیت سے لکھے ہوئے ہیں‘ اور نہ اس کی کامیابی کی راہ میں ہندوئوں اور دوسرے غیر مسلموں کی کثرت تعداد ہی کوئی مضبوط رکاوٹ ہے۔ مردم شماری کے رجسٹروں میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کی آبادی کا تناسب دیکھ کر یہ گمان کرنا کہ اسلام کی طاقت ہندستان میں صرف اتنی ہی ہے جتنا آبادی میں مسلمانوں کا تناسب ہے‘ اور یہ سمجھنا کہ آبادی میں غیر مسلموں کا تناسب جتنا زیادہ ہے اتنا ہی اسلام کی کامیابی کا امکان کم ہے یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے‘ جو اسلام کو محض ایک جامد مذہبی رسم کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ اگر اسلام ایک زندہ عملی تحریک کی حیثیت سے میدان میں آجائے‘ اور اس کے اصولوں کی بنیاد پر ہندوستانی زندگی کے حقیقی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک عملی پروگرام لے کر کوئی منظم جماعت اُٹھ کھڑی ہو‘ تو یقین رکھئے کہ اس کی اپیل پیدائشی مسلمانوں تک محدود نہ رہے گی‘ بلکہ شاید ان سے بڑھ کر غیر مسلموں کو اپنی طرف کھینچے گی‘ اور کوئی طاقت اس سیلِ رواں کو نہ روک سکے گی۔ آج جو لوگ اسلام کے تحفظ کی بس یہی ایک صورت دیکھتے ہیں‘ کہ مسلمانوں کو ہر طرف سے سمیٹ کر چند گوشہ ہائے عافیت میں پہنچا دیاجائے۔ افسوس ہے‘ کہ وہ اسلام کے ان امکانات سے ناواقف ہیں۔
تیسرے یہ کہ کسی تحریک کی کامیابی کا انحصار اس پر نہیں ہے‘ کہ اس کے حقیقی معتقدوں اور پیروئوں کی تعداد ملک میں ۶۰یا۷۰فی صدی ہوجائے۔ تاریخ کے واقعات اور خود موجودہ دنیا کے تجربات ہمیں بتاتے ہیں‘ کہ ایک مضبوط اور منظم پارٹی جس کے ارکان اپنی تحریک پر پورا ایمان رکھتے ہوں ‘اور اس کی راہ میں جان ومال قربان کرنے کے لیے تیار ہوں ‘اور پارٹی ڈسپلن کی کامل اطاعت کرتے ہوں‘ محض اپنے ایمان اور ڈسپلن کی طاقت سے بر سر اقتدار آسکتی ہے خواہ اس کے ارکان کی تعداد ملک کی آبادی میں ایک فی ہزار بھی نہ ہو۔ پارٹی کا پروگرام کروڑوں کو اپیل کرتا ہے‘ اور کروڑوں کی ہمدردی حاصل کرتا ہے‘ مگر خود پارٹی کے اندر صرف وہی لوگ ہوتے ہیں‘ جو ایمان اور اطاعت امیر کے اوصاف کمال درجے پر رکھتے ہوں۔ پس اسلام کو حکمران بنانے کے لیے حقیقی مسلمانوں کی کسی بڑی تعداد کی ضرورت نہیں۔ تھوڑے ہی کافی ہیں بشرطیکہ علم اور عمل کے اعتبار سے مسلمان ہوں ‘اور خدا کی راہ میں جان ومال سے جہاد کرنے پر مستعد ہوں۔ (ترجمان القرآن۔جون ۱۹۳۹ء)

خ خ خ

 

شکایات ناظرین’’ترجمان القرآن‘‘میں سے ایک صاحب لکھتے ہیں:

آپ کی نظر میں نہ موجودہ لیڈروں میں‘نہ عوام میں کوئی اس قابل ہے‘ کہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے یا کہلانے کا مستحق ہو‘ نہ موجودہ دور کی سیاسی کش مکش میں ان تمام نام نہاد مسلمانوں کی بہبودی کی جدوجہد مستحسن ہے۔ پھر برائے خدایہ بتائیے کہ یہ مسلمان کس نام سے پکارا جائے‘ اور اس پر جو ہر طرف سے حملے ہورہے ہیں ان سے بچنے کے لیے کسی تدبیر کی ضرورت بھی ہے‘ یا نہیں؟
یہ سچ ہے‘ کہ دورِحاضر کے مسلمان بُرے ہیں۔ مذہب کی پابندی نہیں کرتے‘ لیکن آخر کیا انہیں ڈوبتا ہی چھوڑ دیا جائے؟… کیا‘ جس وقت تک سب راہِ راست پر نہ آجائیں اس وقت تک نہ اپنے آپ کو کوئی مسلمان کہے‘ نہ ان کی بہتری کے واسطے انہی جیسے مسلمانوں کی طرف سے کوئی جدوجہد کی جائے؟…ڈوبتے ہوئے سے یہ کہنا کہ تو گہرے پانی میں گیا ہی کیوں تھا‘ اور تو کسی ہمدردی کا مستحق نہیں ہے سراسر خلافِ انسانیت ہے۔ ضرورت تو اس کی ہے‘ کہ اسے نکالنے کی کوشش کی جائے‘ اور ہر ممکن تدبیر اس کی جان بچانے کی عمل میں لائی جائے۔
ایک دوسرے صاحب فرماتے ہیں:
آپ کی روش میرے لیے اور مجھ جیسے خیالات رکھنے والے بہت سے دوسرے لوگوں کے لیے سخت وجہ پریشانی بن گئی ہے۔ جب تک آپ نیشنلسٹ مسلمانوں یا کانگریس سے تعاون کرنے والے مسلمانوں کے طرزِعمل پر تنقید کرتے رہے‘ ہم نے یہ سمجھا کہ آپ ہندوستان میں مسلمانوں کی انفرادیت بر قرار رکھنے کے حامی ہیں اس لیے ان لوگوں سے اختلاف رکھتے ہیں‘ جن کے روّیہ سے آپ کو خطرہ ہے‘ کہ مسلمانوں کی انفرادی ہستی گم ہوجائے گی۔ مگر اب آپ نے ان دو تحریکوں اور ان کے لیڈروں پر بھی نکتہ چینی شروع کر دی ہے‘ جو اس انفرادیت کے تحفظ ہی کے لیے کوشاں ہیں‘ یعنی مسلم لیگ اور خاک سار تحریک۔اب ہماری سمجھ میں نہیں آتاکہ آپ آخر چاہتے کیا ہیں؟ ہندوستان میں اگر مسلمانوں کو زندہ رہنا ہے‘ تو بہرحال یہ ضرورت ہے‘ کہ وہ کسی مرکز پر جمع ہوں‘ ایک منظم گروہ بنیں‘ کسی قیادت کے تحت حرکت کریں۔ اس مقصد کے لیے جو کوشش کی جاتی ہے اس سے آپ کا اختلاف کیا معنی رکھتا ہے؟ اگر آپ مذہبیت کا احیاء چاہتے ہیں‘ تو یہ بھی تب ہی ہوسکتا ہے‘ کہ مسلمانوں کا ایک اجتماعی نظام بن جائے۔ فی الحال بری یا بھلی‘ جیسی بھی ہے‘ جماعت تو بن رہی ہے۔ اس کا ساتھ دیجیے۔ پھر مذہبی احیاء کے لیے بھی کوشش کر لیجیے گا۔ لیکن آپ کی روش سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے‘ کہ مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے لیے جو کوششیں کی جا رہی ہیں ان میں سے کسی کا بھی ساتھ آپ دینا نہیں چاہتے۔
یہ دو خط منجملہ ان بہت سے شکایتی خطوط کے ہیں‘ جو پچھلے دنوں مجھے وصول ہوئے ہیں۔ ہمارے تعلیم یافتہ لوگوں میں ایک بہت بڑا گروہ اسی طرز پر سوچ رہا ہے‘ اور ان خطوط میں دراصل اسی طرز خیال کی نمائندگی کی گئی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے اوپر آپ تنقید کرنا اور اپنی کمزوریوں کا جائزہ لینا کوئی خوش آیند چیز نہیں ہے۔ میں بھی اس کام کو خوش آیند سمجھ کر نہیں کرتا۔ بڑا تلخ گھونٹ‘ زہر کا گھونٹ ہے‘ جسے حلق سے اتارتا ہوں‘ اور اچھی طرح اس تلخی کو محسوس کرتا ہوں‘ جو میرے دوسرے بھائی اس کے اندر پاتے ہوں گے۔ اس احساس کے باوجود میر ا ضمیر تقاضا کرتا ہے‘ کہ اس تلخی سے بچنے کے بجائے اسے گوارا کرنا چاہیے۔ تلخی تو واقعہ میں موجود ہے۔تغافل کا فائدہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اپنے احساس کو حقیقی اور واقعی تلخی کے ادراک سے معطل کر لیا جائے۔ دوسروں کی چیرہ دستیوں اور جارحانہ کارروائیوں پر شکوہ سنج ہونا اور اپنی کمزوریوں اور غلطیوں سے نہ صرف غفلت برتنا بلکہ ان کے لیے جوازواستحسان کے دلائل ڈھونڈنا بہت خوش گوار چیز ہے‘ جس سے دل خوب بہلتا ہے‘ مگر اس کی حیثیت مارفیا کے انجکشن کی سی ہے۔ یہ ایک پینک ہے‘ جس کے نشہ میں مریض سو جاتا ہے‘ مگر وہ اندرونی خرابیاں دور نہیں ہوتیں جن کے سبب سے بیرونی آفات کو اس پر تسلّط حاصل ہوا ہے۔ میرے بھائی چاہتے ہیں‘ کہ میں بھی انہیں اسی پینک کی خوراکیں دیا کروں۔ ان کی خواہش ہے‘ کہ جس خیالی جنّت میں وہ جی رہے ہیں‘ جن سرابوں سے وہ چشمہ آبِ حیواں پانے کی اُمیدیں باندھے بیٹھے ہیں‘ اور جن غلط فہمیوں کا دل فریب طلسم انہوں نے اپنے گرد بنا رکھا ہے‘ ان سب چیزوں کو جوں کا توں رہنے دوں بلکہ اگر ہوسکے‘ تو خود بھی ان لوگوں میں شامل ہوجائوں جن کے لیے ان چیزوں کا سرا ہنا دین اور اُمت کی سب سے بڑی خدمت بنا ہوا ہے۔ اس خدمت کے فوائد بھی مجھے معلوم ہیں‘ مگر میں مجبور ہوں کہ مجھے محبوب دشمن کے بجائے مبغوض دوست بننا زیادہ مرغوب ہے۔
جانتا ہوں ثوابِ طاعت وزُہد
پر طبیعت اِدھر نہیں آتی
مسلمانوں کا مفاد‘ مسلمانوں کی فلاح وبہبود‘ مسلمانوں کی تنظیم‘ مسلمانوں کی جمعیت ومرکزیت‘ مسلمانوں کی ترقی وخوشحالی‘ یہ وہ چیزیں ہیں‘ جن کا ذکر بار بار زبانوں پر آتا ہے۔ میں بھی یہ ذکر کرتا ہوں‘ زید بھی کرتا ہے‘ بکر بھی کرتا ہے‘ اور ہر ایک شخص جو اس گروہِ مسلمین میں شامل ہے‘ انہی الفاظ سے اپنے مدعا کے اظہار میں کام لیتا ہے۔ مگر اس کے باوجود ہمارے عمل کی راہوں میں اختلاف ہے۔ ایک کسی طرف جا رہا ہے‘ دوسرا کسی اور طرف‘ تیسرا کسی اور طرف‘ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا یہ محض اتفاقی امر ہے؟یا اس کی تہ میں کوئی بنیادی سبب ہے‘ جسے سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی؟
میرے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے‘ کہ ہمارے درمیان الفاظ مشترک ہیں‘ مگر معنی ومفہوم میں اختلاف ہے۔ ایک ہی لفظ ہے’’مسلمان‘‘ لیکن میں اس سے کچھ اور مراد لیتا ہوں ‘اور دوسرے اس کا مفہوم کچھ اور سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے مفاد‘ فلاح وبہبود‘ تنظیم‘ جمعیت ومرکزیت‘ ترقی وخوش حالی اور ہر ایک چیز جو لفظ’’مسلمان‘‘ کی نسبت سے بولی جاتی ہے‘ ہمارے درمیان مختلف المعنی ہوکر رہ گئی ہے۔ اسی اُلجھن کے سبب سے غلط فہمیاں واقع ہوجاتی ہیں‘ اور جب لوگ اسے سلجھانے سے عاجز رہ جاتے ہیں‘ تو شکایات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ کہتے ہیں‘ کہ تم کو مسلمانوں کے مفاد اور فلاح وبہبود اور ترقی وخوش حالی وغیرہ سے ہمدردی نہیں۔ جمعیت بن رہی ہے‘ مرکزیت پیدا ہورہی ہے‘ مگر تم اس کی مخالفت کرتے ہو‘ مسلمانوں کی بہتری کے لیے کام ہوتا ہے‘ اور تم اس میں روڑے اٹکاتے ہو۔ حالانکہ ایک شخص ان الفاظ کا اطلاق جن مخصوص ومتعین چیزوں پر کرتا ہے دوسرے کے نزدیک ان پر یہ الفاظ منطبق ہی نہیں ہوتے‘ ورنہ ظاہر ہے‘ کہ کون کافر ہوگا‘ جس کو فی نفسہٖ فلاحِ مسلمین وغیرہ سے دشمنی ہو۔
آئیے‘ ذرا تحقیق کر کے دیکھیں کہ اس اُلجھن کی نوعیت کیا ہے۔
مُطْلق اور مُقیّد کا فرق ایک ایسی واضح چیز ہے‘ جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے جب ہم کوئی ایسا لفظ بولتے ہیں‘ جس میں اطلاق اور عموم ہو‘ تو اس کے استعمال میں وسعت ہوتی ہے۔ اور جب اسے مُقیّد کر دیا جاتا ہے‘ تو اس قید کا لحاظ کیے بغیر اس لفظ کا استعمال صحیح نہیں ہوتا۔ مثلاً جب ہم ’’رنگ‘‘ بولتے ہیں‘ تو اس کا استعمال ہر رنگ پر ہوگا کوئی چیز خواہ سیاہی میں ترقی کرے‘ یا سفیدی میں‘ یا سرخی میں‘ بہرحال ہم کہیں گے کہ اس کا رنگ گہرا ہورہا ہے۔ مگر جب رنگ کے ساتھ ہم سفید کی قید لگا دیں تو سیاہ‘ سرخ‘ سبز اور دوسرے رنگ کی چیزوں پر ہم اس لفظ کا اطلاق نہ کر سکیں گے‘ اور سیاہی یا سرخی میں ترقی کرنے کو سفید رنگ کی ترقی کہنا صحیح نہ ہوگا۔ اسی طرح مثال کے طور پر لفظ ’’قافلہ‘‘ کو لیجیے۔ ہر قافلہ جو کسی طرف جا رہا ہو‘ اس لفظ سے موسوم ہوسکتا ہے۔ جس طرف بھی وہ بڑھے اس کی پیش قدمی کو قافلہ کی پیش قدمی کہا جا سکتا ہے۔ ہر شخص اس کا میر قافلہ بن سکتا ہے۔ ہر گاڑی پر وہ سفر کر سکتا ہے۔ ہر قسم کا زادِ سفر اس کا زادِ سفر ہوسکتا ہے۔ غرض اصل کے مطلق ہونے کی وجہ سے ہر وہ چیز جو اس سے تعلق رکھتی ہومطلق ہی ہوگی۔ لیکن جب مثلاً عزم پشاور کی قید سے مُقیّد کر کے ’’قافلہ پشاور‘‘ کہہ دیا جائے‘ تو پھر وہ عموم باقی نہیں رہ سکتا جو محض قافلہ ہونے کی صورت میں تھا۔’’قافلہ پشاور‘‘ کا اطلاق صرف اسی قافلہ پر ہوگا‘ جو عازمِ پشاور ہو۔ یہ نہیں ہوسکتاکہ وہ جاتو رہا ہومدراس یا بمبئی کی طرف اور کہلائے قافلہ پشاور۔ اسی طرح ہر وہ چیز جو اس سے تعلق رکھتی ہو‘ پشاور کی قید سے مُقیّد ہوجائے گی۔ مثلاً قافلہ پشاور کی پیش قدمی کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ پشاور کی سڑک پر چل رہا ہے۔ اگر وہ کسی دوسری سڑک پر بڑھ رہا ہو‘ تو اسے قافلہ پشاور کی پیش قدمی نہیں کہا جا سکتا۔ بلکہ اسے پیش قدمی کے بجائے رُجعت کہا جائے گا۔ کیونکہ دوسرے راستہ پر وہ جتنے قدم بھی چلے گا۔ پشاور کی نسبت سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ اس کا میر قافلہ بھی صرف وہی ہوسکتا ہے‘ جو پشاور کا راستہ جانتا ہو۔ دوسرے راستوں کے علم میں کوئی شخص خواہ کتنا ہی ماہر ہو‘ اگر وہ پشاور کی راہ سے ناواقف ہے‘ تو بہرحال وہ قافلہ پشاور کا سردار نہیں بن سکتا۔ اسی پر دوسرے امور کو بھی قیاس کر لیجیے۔
اب دیکھئے کہ اُلجھن کس طرح پیش آتی ہے۔ قافلہ ہی کی مثال کو لے لیجیے۔ ایک قافلہ کا نام تو ہے ’’قافلہ پشاور‘‘۔ مگر آپ یا تو پشاور کی قید کو بھول کر استے محض قافلہ سمجھ لیتے ہیں۔ یا آپ کو پشاور کا راستہ معلوم نہیں ہے۔ یا آپ کا خیال یہ ہے‘ کہ اس قافلہ کے لوگ جب ایک دفعہ ’’قافلہ پشاور‘‘ کے نام سے موسوم ہوچکے ہیں‘ تو اب یہ پشاور کے سوا جس رخ پر چاہیں سفر کریں بہرحال انہیں کہنا چاہئے’’قافلہ پشاور‘‘ ہی۔بخلاف اس کے میں قافلہ پشاور کو اس کے اصلی معنی میں لیتا ہوں ‘اور پشاور کی قید کو نظر انداز کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ اس اختلاف کا نتیجہ یہ ہوتا ہے‘ کہ اس قافلے کے بارے میں جتنی گفتگو ہوتی ہے میرے اور آپ کے درمیان بات بات پر تصادم واقع ہوتا ہے۔ جب تک بات مجمل رہتی ہے ہم متفق رہتے ہیں۔ قافلہ کے منتشر مسافروں کو جمع کیا جائے انہیں دوسرے قافلوں میں گم نہ ہونے دیا جائے‘ رہزنوں سے ان کی حفاظت کی جائے۔ ان کے لیے زادراہ درکار ہے‘ انہیں ایک میر قافلہ کی ضرورت ہے‘ ان کو منظم طور پر تیز رفتاری سے منزل کی طرف پیش قدمی کرنی چاہئے‘ یہ سب باتیں مبہم اور مجمل الفاظ میں جب تک کہی جاتی ہیں‘ میں اور آپ دونوں ان سے اتفاق کرتے ہیں۔ مگر جب انہی چیزوں کے تعین کا وقت آتا ہے‘ تو آپ کے اور میرے خیالات میں بُعد المشرِقین پایا جاتا ہے۔ ایک شخص آتا ہے‘ اور اس قافلہ کے لوگوں کو جمع کر کے بمبئی کی طرف چلانا شروع کر دیتا ہے‘ دوسرا آتا ہے‘ اور کلکتہ کی طرف چل پڑتا ہے‘ تیسرا آتا ہے‘ اور کسی اور طرف کا رخ کرتا ہے۔ آپ ہر میرِ قافلہ کے جھنڈے کو دیکھ کر زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں‘ اور پکارتے ہیں‘ کہ چل پڑا’’پشاوری قافلہ‘‘ میں اسی پر اعتراض کرتا ہوں کہ یہ جمعیت اور یہ پیش قدمی قافلہ پشاور کی جمعیت اور پیش قدمی تو نہیں ہے۔ آپ کہتے ہیں‘ کہ منتشر مسافر جمع تو ہورہے ہیں‘ اور صورت قافِلیّہ بن تو رہی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ سب کچھ بجا ودرست‘ مگر محض جمع ہونے اور صورت قافلِیّہ بن جانے کا نام تو قافلہ پشاور بننا نہیں ہے۔ آپ کہتے ہیں‘ کہ دیکھو‘ کتنی اچھی‘ تیز رفتار‘ شان دار گاڑی ہے‘ جس پر یہ قافلہ جا رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ آپ کی بیان کردہ صفات سے انکار نہیں‘ مگر یہ گاڑی جا کدہر رہی ہے؟ اگر اس کا رخ پشاور کی طرف نہیں ہے‘ تو قافلہ پشاور کے لیے موزوں نہیں۔ اس صورت میں اس کی تیز رفتاری اور زیادہ خطر ناک ہے‘ کیونکہ یہ روز بروز قافلہ کو اس کی منزل مقصود سے دُور ترلے جاتی رہے گی۔ آپ کہتے ہیں‘ کہ صاحب قافلہ بننے اور گاڑی چلنے تو دو‘ پھر پشاور کی سڑک بھی لے ہی لیں گے۔ میں عرض کرتا ہوں کہ جب تک عزم پشاور ملتوی ہے‘ اور دوسرے راستوں پر آپ گامزن ہیں اس وقت تک کے لیے نام تبدیل فرما لیجیے۔ مجھے آپ کی گاڑی چلنے پر اعتراض نہیں‘ بلکہ اس پر ہے‘ کہ آپ چلیں تو بمبئی یا مدراس یا کلکتہ کی طرف اور نام آپ کا قافلہ پشاور ہی رہے۔ آپ کہتے ہیں‘ کہ حضرت پشاور کی سڑک تو بڑی دشوار گزار ہے۔ اِس وقت اُدھر جانا تو محال ہے‘ لہٰذا سرِدست تو قافلہ پشاور کو دوسرے آسان راستوں ہی پر چلنے دو۔ میں گزارش کرتا ہوں کہ میں نے آپ کو دشوار گزار راستے کی طرف گھسیٹنے پر اصرار کب کیا تھا؟ میرا مقصد تو صرف یہ ہے‘ کہ قافلہ پشاور کا پشاور کے سوا دوسری سمت میں چلنا اور پھر قافلہ پشاور ہی رہنا مُتَنا قض بات ہے۔ آپ اس تناقُض کو دور فرما دیں۔
اس تمام بحث میںبنائے نزاع صرف یہ ہے‘ کہ آپ مُقیّد کو مطلق بناتے ہیں‘ اور اس کے تمام متعلقات کو قید سے آزاد کیے دیتے ہیں۔ اور میں مُقیّد کو مُقیّد ہی سمجھ کر بات کرتا ہوں۔ اگر آپ اپنے ذہن کو صاف کر لیں‘ اور یہ بات سمجھ لیں کہ مطلق قافلہ‘ اور قافلہ پشاور میں کیا فرق ہے‘ تو کوئی اُلجھن پیش نہیں آسکتی۔ لیکن آپ سیدھی سمجھ کی بات اختیار کرنے کے بجائے گفتگو کا رخ کچھ دوسری ہی باتوں کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ کبھی ارشاد ہوتا ہے‘ کہ تم قافلہ کے اجتماع اور اس کی تنظیم اور اس کی پیش قدمی کے مخالف ہو۔ حالانکہ نفسِ اجتماع وتنظیم اور پیش قدمی سے کس کافر نے انکار کیا تھا؟کبھی آپ سوال کرتے ہیں‘ کہ اگر یہ قافلہ پشاور نہیں‘ تو اسے اور کس نام سے یاد کیا جائے؟حالانکہ اس کا نام تجویز کرنے کی ذمّہ داری مجھ پر نہیں ہے۔ میری بات تو صاف ہے۔ اگر یہ پشاور کی سڑک پر ہے‘ تو قافلہ پشاور ہے۔ اور اگر اس پر نہیں ہے‘ تو اپنے لیے جو نام چاہے تجویز کر لے‘ بہرحال اس پر قافلہ پشاور کا نام راست نہیں آتا۔ آپ چاہیں‘ تو اس امر پر بحث کر لیجیے کہ جس سڑک پر یہ جا رہا ہے‘ وہ پشاور کی سڑک ہے‘ یا نہیں۔ مگر یہ اصول آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ جو اس سڑک پر نہ ہووہ قافلہ پشاور نہیں ہے۔ پھر آپ ہمدردی کا سوال چھیڑ دیتے ہیں۔ حالانکہ ہمدردی اور بے دردی کا یہاں کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ یہ تو واقعہ اور حقیقت کا سوال ہے۔ مدراس یا کلکتہ کی طرف جانے والوں کو آخر میں عازمِ پشاور کس طرح کہوں؟جانتے بوجھتے ایک خلافِ واقعہ بات باور کرنا آخر ہمدردی کی کون سی قسم ہے؟ میرے نزدیک تو ہمدردی کی صورت یہی ہے‘ کہ صاف صاف لوگوں کو بتا دیا جائے کہ یہ پشاور کی سڑک ہے‘ اور یہ دوسری سڑکیں فلاں فلاں سمت کو جاتی ہیں۔ جو لوگ فی الواقع پشاور جانا چاہتے ہیں‘ مگر راستہ سے ناواقف ہونے کے باعث دوسرے راستوں پر بھٹک رہے ہیں‘ یا بھٹکائے جا رہے ہیں وہ صحیح راستہ معلوم کر لیں گے۔ اور جو حقیقت میں جانا ہی دوسری طرف چاہتے ہیں میں نہ تو ان کا راستہ روکنا چاہتا ہوں‘ نہ ان سے مجھے کوئی دشمنی ہے‘ کہ انسانیت کے خلاف ان کے ساتھ کوئی بے دردی کروں۔ میرا مقصد تو صرف یہ ہے‘ کہ جدہر جانا چاہتے ہیں سمجھ بوجھ کر پورے شعور کے ساتھ جائیں‘ اور جب جائیں‘ تو غلط نام کے ساتھ سفر نہ کریں۔
مسلمانوں کے معاملہ میں جو اُلجھن پیش آرہی ہے اس کی نوعیت بعینہٖ وہی ہے‘ جو اوپر کی مثال میں بیان کی گئی ہے۔ مسلمان کا لفظ اسلام سے ماخوذ ہے‘ اور اسلام ایک طریقِ فکر‘ ایک مقصد ِزندگی‘ ایک سیرت وکردار اور ایک طرزِ عمل کا نام ہے۔ اس لحاظ سے مسلمان کے معنی محض آدمی کے نہیں ہیں‘ بلکہ اس آدمی کے ہیں‘ جو زندگی کے تمام معاملات میں وہ خاص طریقِ فکر‘ وہ خاص مقصد ِحیات‘ وہ خاص اخلاق واطوار اور وہ خاص طرزِ عمل رکھتا ہو‘ جس کا نام اسلام ہے۔ لفظ مسلمان کے ان تقیُّدات کو اگر صاف صاف سمجھ لیا جائے‘ تو مسلمانوں کی فلاح وبہبود‘ ان کا مفاد‘ ان کی تنظیم‘ ان کی قیادت وامارات‘ غرض ان سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کا مفہوم معین ہوجائے گا۔ لیکن اگر ان تقیُّدات سے قطع نظر کر کے’’مسلمان‘‘ کے لفظ کو مطلقاً ایک گروہ اشخاص کے معنی میں لے لیا جائے‘ تو پھر ہر شخص کو آزادی ہوگی کہ جس چیز کو چاہئے مسلمانوں کا مفاد کہہ دے‘ جس چیز کو چاہے ان کی فلاح وبہبود قرار دے لے‘ جس نوع کی تنظیم کو چاہے ان کی تنظیم سمجھ لے‘ اور جو شخص بھی انسانی گلّے کو ہانکنے کی قابلیت رکھنے والا دکھائی دے اسے مسلمانوں کا قائد ملّت اور امیرِ مُطاع ماننے پر آمادہ ہوجائے۔
بد قسمتی سے یہاں کچھ ایسی ہی صورت حال درپیش ہے۔ ’’اسلام‘‘ کی قید سے قطع نظر کر کے فی الواقع’’مسلمانوں‘‘کو محض ایک گروہ اشخاص سمجھ لیا گیا ہے‘ اور اسی کا نتیجہ ہے‘ کہ عجیب عجیب چیزوں پر مسلمانوں کے مفاد‘ ان کی فلاح وبہبود‘ ان کی تنظیم وجمعیت‘ ان کی قیادت وامارات وغیرہ کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ مثلاً کہنے والے کہتے ہیں‘ کہ مسلمانوں کا مفاد اس میں ہے‘ کہ یہ بنک اور انشورنس اور اسی قبیل کی دوسری چیزوں سے استفادہ کریں۔ حالانکہ مسلمان کا لفظ اگر کوئی معنی رکھتا ہے‘ تو اس کی رُو سے مسلمان مامور ہیں اس پر کہ اس پورے نظام مالیات کو توڑ ڈالیں‘ جو اس وقت دنیا میں قائم ہے‘ اور اپنے اصول پر ایک نیا نظام بنائیں‘ پھر یہ اُلجھے ہوئے دماغ کی بات نہیں‘ تو اور کیا ہے‘ کہ مسلمان کی حیثیت سے جس نظام کے ساتھ آپ کی اصولی عداوت ہے اسی میں آپ اپنامفاد سمجھیں‘ اور پھر اس کا نام’’مسلمانوں کا مفاد‘‘ رکھیں؟اسی طرح سرکاری ملازمتوں اور شریعت ساز مجالس کی نشستوں اور ایسی ہی دوسری چیزوںکو’’مسلمانوں کے مفاد‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حالانکہ مسلمان کے لفظ کو اگر اسلام کی قید سے مُقیّد کر کے لیا جائے‘ تو یہ سب چیزیں مسلمان کے مفاد کی ضد ہیں۔ مسلمان کے مفاد کی حیثیت سے تو آپ کا کام اس نظام حکمرانی کو بدل ڈالنا ہے‘ جسے چلانے کو آپ اپنا مفاد کہہ رہے ہیں۔ اسی طرح وہ نظامِ تعلیم جو انگریزوں نے یہاں قائم کیا ہے اس کے تحت اپنی نسلوں کا ذہن تیار کرنا آپ کے نزدیک مسلمان کی فلاح وبہبود اور ترقی کا ذریعہ ہے‘ اور اس نظام کے تحت آپ خود اپنے خرچ سے درس گاہیں بنا کر‘ ان کے نام اسلامیہ اسکول اور اسلامیہ کالج اور مسلم یونی ورسٹی رکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ پورا نظامِ تعلیم انسانیت کی تشکیل ایسے نقشے پر کرتا ہے‘ جو اسلامی نقشے کے عین برعکس ہے۔
ایسا ہی غلط تصوّر آپ کے ذہن میں مسلمانوں کی جمعیت‘ مسلمانوں کی تنظیم اور مسلمانوں کی قیادت کا بھی ہے۔ اگر آپ کو معلوم ہوکہ اسلام کس تحریک کا نام ہے‘ اس کا مقصد کیا ہے‘ اس کے اصول کیا ہیں‘ اور وہ کیا طرزِعمل چاہتا ہے‘ تو آپ بڑی آسانی کے ساتھ یہ فیصلہ کر سکتے ہیں‘ کہ ان سیاسی جمعیتوں اور تنظیموں اور ان قائدوں اور امیروں کی صحیح حیثیت کیا ہے‘ جو اسلام کے نام سے اس وقت کام کر رہے ہیں۔ اسلام کی رُو سے مسلمانوں کی جمعیت صرف وہ ہوسکتی ہے‘ جو غیر الٰہی حکومت کو مٹا کر الٰہی حکومت قائم کرنے اور قانون خدا وندی کو حکمراں کرنے کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔ جو جماعت ایسا نہیں کرتی بلکہ غیر الٰہی نظام کے اندر ’’مسلمان‘‘نامی ایک قوم کے دنیوی مفاد کے لیے جدوجہد کرتی ہے وہ نہ تو اسلامی جماعت ہے‘ اور نہ اسے مسلمانوں کی جماعت ہی کہنا درست ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی تنظیم صرف وہی ہوسکتی ہے‘ جو خالص اسلامی اصول اجتماع پر قائم ہو‘ اور جس کا مقصد اسلامی ہو۔ ورنہ جو تنظیم فاشستی اصولوں پر کی جائے‘ اور جس کا مقصد محض اپنی قوم کا غلبہ وتمکن ہو‘ اسے محض اس بنا پر مسلمانوں کی تنظیم نہیںکہا جا سکتاکہ وہ مردم شماری کے مسلمانوں کو منظم کرتی ہے‘ اور ان کے ’’استخلاف فی الارض‘‘ کے لیے کوشاں ہے۔ علی ہذا القیاس مسلمانوں کے رہنما بھی صرف وہی لوگ ہوسکتے ہیں‘ جو سب سے پہلے اسلامی تحریک کے مقصد‘ اصول اور طریق کار کو جانتے ہوں ‘اور اہلِ تقویٰ ودیانت ہوں۔ باقی رہے وہ لوگ جو سرے سے اسلام کا علم ہی نہ رکھتے ہوں‘ یا ناقص علم کی بناء پر اسلام اور جاہلیت کو خلط ملط کرتے ہوں ‘اور پھر تقویٰ ودیانت کی کم سے کم ضروری شرائط سے بھی عاری ہوں‘ تو ایسے لوگوں کو محض اس لیے مسلمانوں کی قیادت کا اہل قرار دینا کہ وہ مغربی سیاست کے ماہر یا مغربی طرز تنظیم کے استادِ فن ہیں‘ اور اپنی قوم کے عشق میں ڈوبے ہوئے ہیں‘ سراسر اسلام سے جہالت اور غیراسلامی ذہنیت ہے۔
یہ باتیں جب مسلمانوں سے صاف صاف کہی جاتی ہیں‘ تو وہ اس پرچیں بہ جبیں ہوتے ہیں‘ اور شکایات کے طومار باندھ دیتے ہیں۔ مگر فی الحقیقت اس معاملہ میں جذبات کی برانگیختگی کا کوئی موقع نہیں ہے۔ لوگوں کو ٹھنڈے دل سے سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ وہ اسلام کے لیے اسلام کے اصول پر کام کرنا چاہتے ہیں‘ یا اپنے لیے اپنے اصول پر۔ اگر پہلی بات ہے‘ تو انہیں سیدھی طرح ہر اس چیز کو ترک کرنا چاہئے‘ جو غیراسلامی ہے۔ اور اگر دوسری بات ہے‘ تو جو کچھ وہ کرنا چاہتے ہیں شوق سے کریں‘ ہم ان کا راستہ روکنے نہیں آتے‘ ہمارا مطالبہ ان سے صرف یہ ہے‘ کہ وہ اسلام اور مسلمان کے نام کو غلط طریقے پر استعمال کرنا چھوڑ دیں۔
(ترجمان القرآن۔دسمبر۱۹۳۹ء)

خ خ خ

راہ رَوپِشت بمنزل

دنیا میں ہمیشہ دو قسم کے آدمی کام کرتے ہیں۔ ایک وہ جو حالات کو جیسے کہ وہ فی الواقع ہیں‘ جوں کا توں قبول کر لیتے ہیں‘ اور ان کے مطابق کام کرتے ہیں۔ دوسرے وہ جو حالات کو اس نظر سے دیکھتے ہیں‘ کہ انہیں کیا ہونا چاہئے‘ اور اس نقطہ نگاہ سے وہ حاضر الوقت نظام پر تنقید کرتے ہیں۔ پہلا گروہ حال کی گاڑی کو چلاتا ہے‘ اور دوسرا مستقبل کی اصلاح وترقی کے لیے راستہ صاف کرتا ہے۔ ان دونوں گروہوں میں تعاون ضروری ہے‘ مگر ان کے تعاون کی فطری صورت یہی ہے‘ کہ ان میں تصادم ہو۔
’’کیا ہے‘‘پر نظر رکھنے والے ہمیشہ حال پر فریفتہ ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں‘ کہ جو کچھ ہورہا ہے خوب ہورہا ہے۔ اس میں کسی تنقید کی گنجائش نہیں۔ اور بالفرض اگر ہوبھی تو یہ وقت تنقید کا نہیں ہے‘ کیونکہ اس وقت تنقید کی جائے گی‘ تو یہ یہ خرابیاں پیدا ہونگی‘ اور فلاں فلاں مصلحتوں کو ٹھیس لگے گی۔ یہ سب باتیں وہ اس لیے کرتے ہیں‘ کہ ان کی نگاہ وقتی مصالح اور فوری فوائد میں اُلجھی رہتی ہے۔ عاجلہ کی محبت انہیں اتنی فرصت ہی نہیں دیتی کہ آجلہ کی فکر کریں۔ ان کے نقطۂ نظر کو دیکھا جائے‘ تو کوئی وقت بھی تنقید کے لیے موزوں نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ جس وقت جو کچھ بھی ہورہا ہوگا خوب ہی ہورہا ہوگا۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ وقتی مصلحتیں ٹھیس کھانے کے لیے موجود ہوں گی۔ ہر وقت ان مصلحتوں کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے وہ یہی کہیں گے کہ ابھی تنقید کا وقت نہیں ہے‘ اور سچ یہ ہے‘ کہ وہ خود کبھی نہ بتا سکیں گے کہ کون سا وقت تنقید کے لیے موزوں ہے۔
لیکن جن کی نظر ’’کیا ہونا چاہئے‘‘پر ہوتی ہے وہ چونکہ حالات کو ایک دوسری نگاہ سے دیکھتے ہیں اس لیے وہ اسی وقت کو تنقید کے لیے موزوں سمجھتے ہیں‘ جو ’’اہلِ حال‘‘ کے نزدیک سخت غیر موزوں ہوتا ہے۔ انہیں اپنا کام پر ستارانِ عاجلہ کی چیخوں اور فریادوں‘ بلکہ گالیوں کے درمیان کرنا پڑتا ہے‘ کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کریں‘ تو اصلاح وترقی ناممکن ہوجائے۔ ظاہر ہے‘ کہ ’’جو کچھ ہورہا ہے خوب ہورہا ہے‘‘ کی ذہنیت عام لوگوں پر مستولی ہوجانے کے بعد کسی اصلاح کی ضرورت محسوس نہیں ہوسکتی۔ خامیوں کا احساس یا تو پیدا ہی نہ ہوگا کہ انہیں دور کرنے کی طرف توجہ ہو‘ یا اگر تھوڑا سا احساس ابھرا بھی تو حال کے شیدائی اسے دبانے کے لیے بیسیوں قسم کی تاویلیں کریں گے‘ تاکہ ان خامیوں کو ناگزیر ثابت کریں‘ اور بس چلے تو خوبیوں میں تبدیل کر دکھائیں۔
’’کیا ہونا چاہئے‘‘کے نقطۂ نظر سے جو تنقید کی جاتی ہے اس کا نتیجہ کبھی یہ نہیں ہوتاکہ حال میں جو کچھ ہورہا ہے‘ وہ یکلخت بند ہوجائے‘ اور اس وقت تک جمودو تعطل کی حالت طاری رہے جب تک کہ وہ مثالی(ideal)حالت رونما نہ ہوجائے جسے مقصود قرار دے کر ناقد تنقید کرتا ہے۔ ایسا نہ کبھی ہوا ہے‘ اور نہ ہوسکتا ہے‘ فطری طور پر تنقید کا اثر ہمیشہ بتدریج ہوا کرتا ہے۔ اوّل اول تو اسے سخت تلخی اور ناگواری کے ساتھ دیکھا جاتا ہے‘ کیونکہ عام طبیعتیں نقد سے مانوس اور نِسیْہ سے نَفور ہوتی ہیں۔ پھر ایک دور شبہات کا گزرتا ہے‘ جس میں صداقت اور نیک نیتی کے سوا ہر ممکن چیز ناقد کی طرف منسوب کی جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر فی الواقع تنقید میں کوئی جان ہوتی ہے‘ اور درحقیقت حاضر الوقت نظام میں وہ خامیاں پائی جاتی ہیں‘ جن کی نشان دہی تنقید میں کی گئی ہے‘ اور سننے والوں کا ضمیر بھی راست بازی کے ساتھ اسی معیار کو حق تسلیم کرتا ہے‘ جسے مدّ نظر رکھ کرناقد نے تنقید کی ہے‘ تب کہیں آہستہ آہستہ لوگ اصلاح کی ضرورت محسوس کرنی شروع کرتے ہیں‘ اور جوں جوں اصلاح کے حق میں رائے عام تیار ہوتی جاتی ہے‘ وقت کی قیادت پر دبائو بڑھتا چلا جاتا ہے حتیٰ کہ یا تو پچھلے قائدوں کو اپنی پالیسی بدلنی پڑتی ہے‘ یا پھر تغیّر پذیر حالات کے اقتضاء سے ایک نئی قیادت (leadership)خود بخود نشوو نما پا کر سامنے آجاتی ہے۔ اس عمل کے دوران میں کبھی تاریخ کی رفتار میں خلا یا شگاف پیدا نہیں ہوتاکہ تعطل کی وہ حالت پیش آئے جس کی بھیانک تصویر کھینچ کھینچ کر ’’اہلِ حال‘‘ حضرات اصلاح وترقی کی ہر کوشش کو سم قاتل ثابت کیا کرتے ہیں۔
کسی حالت کو مثال یا آئیڈیل قرار دے کر اس کے لحاظ سے حال پر تنقید کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتاکہ ہم موجودہ حالت سے دفعتہ چھلانگ لگا کر اس مثالی حالت میں پہنچ جانا چاہتے ہیں۔ کوئی صاحبِ عقل آدمی ظاہر ہے‘ کہ ایسے اچانک تغیّر کا تصوّر بھی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ تغیّر بہرحال تدریجاً ہی ہوگا۔ مگر کسی صاحب ِعقل آدمی سے شاید یہ توقع بھی نہیں کی جا سکتی کہ وہ جس حاللت کو مثالی حالت قرار دیتا ہواس کے بالکل برعکس حالت کی طرف جانے پر کسی درجہ میں بھی راضی ہوجائے۔ وہ اگر ذوی العقول میں سے ہے‘ تو اس میں کم از کم اس بات کی طلب بلکہ تڑپ ہونی چاہیے کہ حالات کی رفتار اسی منزل کی سمت میں ہو‘ جسے وہ مقصود قرار دے رہا ہے خواہ وہ ابتدائً چند قدم ہی کیوں نہ ہو۔ مثلاً اگر میرا خیال یہ ہے‘ کہ مسلمانوں کے لیے خلافتِ راشدہ کے طرز کی قیادت‘ سیاست اور زندگی مثال کی حیثیت رکھتی ہے‘ تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے‘ کہ اب جو مسلمانوں کا لیڈر ہو‘ وہ فاروق اعظم ؓ سے کم نہ ہو‘ اور اس کے ساتھی سب کے سب علی مرتضیٰ ؓ اور ابوعبیدہ ؓ بن الجراح اور عبدالرحمانؓ ابن عوف کے مثیل ہوں۔ مگر اس کا مطلب یہ بھی نہ ہونا چاہئے کہ میری آخری منزل مقصود تو ہووہ مقام جس پر صحابہ کرامؓ تھے‘ اور اس منزل کی طرف جانے کے لیے میرے رہبر ورہنما ہوں وہ لوگ جو نہ اس راہ سے واقف ہیں‘ نہ اس کی طرف جانے کا ارادہ رکھتے ہیں‘ بلکہ اس کے عین مخالف سمت میں جا رہے ہیں۔
فرض کیجیے کہ میں سطح زمین سے دس ہزار فیٹ کی بلندی پر جانا چاہتا ہوں‘ تو بہرحال میں وہی ذریعہ تلاش کروں گا‘ جو مجھے اوپر کی طرف لے جا سکتا ہو‘ خواہ ابتداً وہ مجھے دس فیٹ سے زیادہ نہ اُٹھائے۔ ایسا ذریعہ مجھے نہ ملے گا‘ تو میں سطح زمین ہی پر قیام کرنا پسند کر لوں گا…… لیکن اگر آپ دیکھیں کہ میں اوپر جانے کے ارادہ سے ایک برقی جھولے میں بیٹھ کر کسی کوئلے کی کان میں اترنا شروع کر دیتا ہوں ‘اور اس راستے سے اس بلندی پر جانا چاہتا ہوں‘ تو کیا آپ کو میرے فاتر العقل ہونے میں ذرا سا شبہ بھی ہوگا؟بالکل اسی طرح آپ کو میرے فتور عقل میں اس وقت بھی شبہ نہ ہونا چاہیے جب آپ دیکھیں کہ میں اسلامی تہذیب کو زندہ کرنے اور فاروقی حکومت کے نصب العین تک پہنچنے کے لیے ان لوگوں کے پیچھے چلا جا رہا ہوں‘ جن کی عملی زندگی میں‘ اور جن کے خیالات‘ نظریات‘ طرز سیاست اور رنگ ِقیادت میں خورد بین لگا کر بھی اسلامیت کی کوئی چھینٹ نہیں دیکھی جا سکتی‘ جن کا حال یہ ہے‘ کہ چھوٹے سے چھوٹے مسائل سے لے کر بڑے سے بڑے مسائل تک کسی معاملہ میں بھی انہیں قرآن کا نقطۂ نظر نہ تو معلوم ہی ہے نہ وہ اسے تلاش کرنے کی ضرورت ہی محسوس کرتے ہیں۔{ FR 2504 } جن کو نور ہدایت صرف مغربی قوانین ودساتیر ہی میں ملتا ہے‘ اسی کی طرف وہ رجوع کرتے ہیں‘ اور اس کے بعد اگر کوئی چیز ان کی نگاہ میں قابلِ لحاظ ہوتی ہے‘ تو محض وقتی سیاست کی مصلحتیں جنہیں وہ خالص مادّہ پر ستانہ نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔
منزل مقصود وہ اور راستہ یہ !کون عقل مندیہ مان لے گا کہ اس چیز کو مقصود قرار دینے والا انسان اس راستہ پر قدم رکھنے کا خیال بھی کر سکتا ہے؟
پشت بمنزل چلنے والا تو خیر نادان بن کر چُھوٹ سکتا ہے‘ مگر اس شخص کا معاملہ بڑا ہی عجیب ہے‘ جو اپنے ہی آئیڈیل سے …… جس کو وہ خود آئیڈیل کہتا ہو…… گھبرائے‘ اس کا نام سن کر چیں بہ جبیں ہوجائے‘ اس کو پا مال ہوتے دیکھ کر آفرین ومرحبا کے نعرے بلند کرے‘ اس کی حمایت کرنے والے کا منہ نوچنے کے لیے دوڑے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا جائے کہ آئیڈیل تو میرا وہی ہے۔ یہ آئیڈیل کی ایک بالکل ہی نرالی قسم دریافت ہوئی ہے‘ جس سے ہم اب تک آشنانہ تھے۔ ہمیں تو یہی معلوم تھا‘ کہ آئیڈیل انسان کی محبوب ترین چیز ہوتی ہے۔ اس کا نام سن کر دلوں میں حرارت پیدا ہونے لگتی ہے۔ اگر آدمی اس تک پہنچنے سے عاجز ہوتا ہے‘ تو رنجیدہ اور غم گین ہوتا ہے۔ اگر کسی مجبوری سے اس کے خلاف چلتا ہے‘ تو شرمندہ ہوتا ہے۔ اور اگر کہیں اس غلط روی پر اسے ٹوک دیا جاتا ہے‘ تو اس کی نگاہ شرم کے مارے اُٹھ نہیں سکتی۔ مگر اب ہمارا تعارف اس نئی قسم کے آئیڈیل سے ہوا ہے‘ جو ہے‘ تو آئیڈیل ہی‘ لیکن اس کا نام لیجیے تو چہرے بگڑنے لگتے ہیں‘ اس کی طرف چلنے کے لیے کہیے تو شدّتِ غضب سے تیوریاں چڑھ جاتی ہیں‘ اس کے خلاف چلنے پر ٹوکئے‘ تو شرمندگی کے بجائے کمال دیدہ دلیری وجسارت کے ساتھ تا ویلیں کی جاتی ہیں‘ اس کی حمایت کرنے والے سے بڑھ کر نگاہ میں مبغوض کوئی نہیں ہوتا‘ اور اسے پا مال کرنے والوں سے بڑھ کر محبوب کوئی نہیں ہوتا‘ ……کیسا عجیب ہے یہ آئیڈیل اور کتنے عجیب ہیں اس کے پرستار!
طرفہ تماشایہ ہے‘ کہ کانگریس اور اس کے نیشنل ازم کی مخالفت میں تو اسلام اور اسلامی تہذیب کا نام لیا جاتا ہے‘ اور انہی نعروں کو نعرئہ جنگ بنا کر مسلمانوں کو اجتماع کی دعوت دی جاتی ہے۔ مگر جہاں یہ اسلام اور اس کی تہذیب کا تحفظ کرنے والے جمع ہوتے ہیں وہاں اسی اسلام کے قوانین علانیہ توڑے جاتے ہیں‘ اسی تہذیب کو ذبح کیا جاتا ہے‘ اور ایسا محسوس ہوتا ہے‘ کہ ان لوگوں کی ساری جنگ صرف اس لیے ہے‘ کہ دوسروں کے ہاتھوں اس تہذیب کا جھٹکا نہ ہونے پائے بلکہ یہ خود اپنے ہاتھوں سے اس کو حلال کریں۔
وہاں’’مسلمان‘‘ عورت اسی تبرّج جاہلیت کے ساتھ شمعِ انجمن بنی نظر آتی ہے جس طرح کوئی شریمتی جی یا کوئی میم صاحبہ ہوسکتی ہیں۔ وہاں عین نماز کے وقت جلسے ہوتے رہتے ہیں‘ اور اگر بادل نخواستہ ملتوی کیے بھی جاتے ہیں‘ تو پیشوائوں سے لے کر پیروئوں تک شاذونادر ہی کوئی نماز کے لیے اُٹھتا ہے۔ وہاں لباسوں میں‘ نشست وبرخاست میں‘ دعوتوں اور پارٹیوں میں اسلامی تہذیب کا کہیں نام ونشان تک نظر نہیں آتا اور ایک معمولی مسلمان ان حامیانِ اسلام اور محافظینِ تہذیب اسلامی کی صحبت میں پہنچ کر اپنے آپ کو اتنا ہی اجنبی محسوس کرتا ہے جتنا ہندوئوں اور پارسیوں کی کسی محفل میں کر سکتا ہے۔ وہاں کے مباحث آپ گھنٹوں سنتے رہیں‘ مگر بھولے سے بھی کہیں قرآن وحدیث کا ذکر نہیں آئے گا‘ کسی مسئلے کا حل دریافت کرنے کے لیے اﷲ اور اس کے رسول کی طرف رجوع نہ کیا جائے گا بلکہ قرآن وسنّت کا نقطۂ نظر صریح طور پر ان کے سامنے رکھ دیا جائے تب بھی بلا تکلف اس کے خلاف طرزِعمل اختیار کیا جائے گا۔ان کی کمیٹیوں اور ان کے جلسوں میں آپ مسلمان کا ذکر کبھی اس حیثیت سے نہ سنیں گے کہ اس کا کوئی جماعتی نصب العین بھی ہے‘ وہ دنیا میں کوئی اخلاقی منصب بھی رکھتا ہے‘ اور کوئی الٰہی مشن بھی اس کے سپرد کیا گیا ہے۔ ان باتوں کے بجائے وہاں ساری گفتگو صرف اس حیثیت سے ہوگی کہ مسلمان کے نام سے جو ایک مجموعہ افراد پایا جاتا ہے اس کو دنیوی نقصانات سے کس طرح بچایا جائے‘ اور دنیوی فوائد سے کس طرح متمتع کیا جائے۔ پھر وہ لوگ جو اس طائفہ کے سرخیل ہیں ان کا حال کیا ہے؟ان میں سے اکثر کے گھروں میں آپ جائیے تو آپ کو نماز کے وقت کوئی یہ بتانے والا نہ ملے گا کہ سمت ِقبلہ کدھر ہے‘ اور اسباب عیش وعشرت سے بھری ہوئی کوٹھیوں میں سے ایک جا نماز بھی فراہم نہ ہوسکے گی۔ سارے لیڈروں کو بٹھا کراسلام کے بنیادی اور ابتدائی مسائل کے متعلق امتحان لیجیے تو شاید کوئی صاحب دو فی صدی سے زیادہ نمبر نہ لے سکیں گے‘ الاماشاء اﷲ۔
کیا وہ کلچر جسے کانگریس اور اس کی تحریک ِو طنیت سے بچانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے یہی ہے؟اور یہی اس کے تحفظ اور احیا کے ڈھنگ ہیں؟اور انہی طریقوں سے‘ ایسے ہی رہنمائوں کی قیادت میں اس حکومت ِالٰہیہ تک پہنچا جائے گا‘ جسے منتہائے نظر اور نصب العین قرار دیا جاتا ہے؟……یہ سوال اتنا خطر ناک ہے‘ کہ اسے زبان پر لانا اپنی شامت کو خود دعوت دینا ہے۔ آپ کی زبان سے اسلام اور اس کی تہذیب کا ذکر سنتے ہی ہر طرف سے شور برپا ہوگا کہ یہ کیا صدائے بے ہنگام بلند کرنی شروع کر دی؟ آخر اس ذکر کا یہ کون سا موقع تھا؟دیکھتے نہیں کہ ابھی ہم تہذیب کی حفاظت کے لیے جمع ہورہے ہیں۔ بھلا جمع ہونے کے دوران میں بھی کہیں‘ اس کا تحفظ کیا جاتا ہوگا؟
یہی دورنگی اور گندم نمائی وجو فروشی ہے‘ جسے دیکھ کر غیروں کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے‘ کہ اصل سوال محض معاشی وسیاسی ہے‘ اور تہذیب ومذہب کو محض عام مسلمانوں کے جذبات برانگیختہ کرنے کے لیے بہانہ بنا لیا گیا ہے۔ ظاہر ہے‘ کہ ان حرکات کو دیکھ کر کون سمجھے گا کہ اپنے دین اور کلچر کی حمیّت میں واقعی آپ مخلص ہیں؟زبان سے کہیے کہ دل میں درد ہے‘ مگر ہاتھ سے بار بار پیٹ ہی کو بھینچے جائے‘ تو دیکھنے والا یہی خیال کرے گا کہ درد آپ کے پیٹ میں ہے نہ کہ دل میں۔ ایسی ہی باتوں سے ایک قوم کی ہوا اکھڑتی ہے‘ اور دوسری قوموں کے دل سے اس کا رُعب اُٹھ جاتا ہے۔
تفرقہ وانتشار اور بے نظمی کے تلخ نتائج دیکھ کر مسلمانوں میں اجتماع وتنظیم اور مرکزیت کی ضرورت کا احساس تو پیدا ہوا‘ مگر افسوس کہ عقل وخرد کی کمی نے اس مفید احساس کو بھی غلط راستہ پر لگا دیا۔ عام طور پر لوگ اب اس غللط فہمی میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں‘ کہ اجتماع اور تنظیم اور مرکزیت بجائے خود رحمت ہیں‘ لہٰذا جو مرکز سامنے آئے اس کے گرد جمع ہوجائو اور سب مل کر چلو‘ ان شاء اﷲ کہیں نہ کہیں پہنچ ہی جائو گے۔ گویا جس طرح کبھی یہ خبط پیدا ہوا تھا‘ کہ ’’آرٹ محض آرٹ کی خاطر‘‘اور ’’ادب محض ادب کے لیے‘‘ اسی طرح اب یہ ایک نیا خبط پیدا ہورہا ہے‘ کہ ’’اجتماع بس اجتماع کی خاطر‘‘ اور ’’تنظیم محض بغرض تنظیم‘‘ اور ’’مرکزیت صرف مرکزیت کے لیے‘‘۔حالانکہ ان چیزوں کے مفید ہونے کا تمام تر انحصار اجتماع کی روح اور تنظیم کے اصولوں اور مرکز کی نوعیت پر ہے۔ کسی غلط مرکز کے گرد بے مقصد جمع ہوجانا‘ یا غلط مقصد کے لیے جمع ہونا بجائے مفید ہونے کے اُلٹا مضر ہوجاتا ہے۔
مسلمانوں کو خوب اچھی طرح سوچ سمجھ کر سب سے پہلے یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ آخر ان کا مطمع نظر کیا ہے‘ اور وہ کس غرض کے لیے اجتماع اور تنظیم چاہتے ہیں۔
اگر آپ اصلی معنوں میں ایک ایسی مسلم جماعت کی تنظیم چاہتے ہیں‘ جو اسلام اور اس کی تہذیب کا تحفظ کر سکتی ہو‘ اور بالآخر اسلامی حکومت کی منزل تک پہنچ سکتی ہو‘ تو آپ کو جان لینا چاہئے کہ جوصورتِ تنظیم اس وقت بن رہی ہے وہ بالکل غلط ہے۔ اس تنظیم میں جو لوگ سب سے آگے کی صف میں نظر آتے ہیں‘ اسلامی جماعت میں ان کا صحیح مقام سب سے پیچھے کی صف ہے‘ بلکہ بعض تو وہاں بھی برعایت ہی جگہ پا سکتے ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کو پیشوا بنانا بالکل ایسا ہی ہے جیسے ریل کے سب سے پچھلے ڈبہ کو انجن کی جگہ لگا دینا۔ جس چڑھائی پر آپ جانا چاہتے ہیں‘ یہ نام نہاد انجن آپ کی گاڑی کو اس کی طرف ایک انچ بھی لے کر نہیں جا سکتا‘ البتہ گاڑی اپنے وزن سے آپ نشیب کی طرف لڑھکے گی‘ اور آپ لوگ کچھ مدّت تک اس غلط فہمی میں مبتلا رہیں گے کہ ماشاء اﷲ ہمارا ’’انجن‘‘ اسے خوب اڑائے لیے جا رہا ہے۔ اس حقیقت کو جتنے جلدی سمجھ لیا جائے اتنا ہی بہتر ہے‘ کیونکہ ہر لمحہ جو گزر رہا ہے‘ وہ آپ کو اوپر کے بجائے نیچے کی طرف لے جا رہا ہے۔ جو لوگ آپ کی تہذیب کو جانتے ہی نہیں وہ اس کا تحفظ کیا کریں گے؟جو اس سے علانیہ بر سر بغاوت ہیں کس طرح اُمید کی جا سکتی ہے‘ کہ ان کے ہاتھوں سے اس کا احیاء اور ارتقاء ہوسکے گا؟وہ اپنی زبان سے کلچر کلچر ضرور پکارتے ہیں‘ لیکن اگر حقیقت میں کلچر ہی کا دردان کے دل میں اُٹھا ہوتا‘ تو یقینا ان کی زندگیاں بدل گئی ہوتیں‘ ان کی ذہنیتیں بدل گئی ہوتیں‘ اور ان کا طرز فکر بدل گیا ہوتا۔ یہ علامت ان کی زندگیوں میں ناپید ہے‘ ادریہ اس بات کاصریح ثبوت ہے‘ کہ اس گروہ میں حقیقی اسلامی جذبہ ہر گز مشتعل نہیں ہوا ہے۔
اور اگر اسلامی نصب العین آپ کے سامنے نہیں ہے‘ بلکہ محض سادہ معنی میں ایک قوم کی حیثیت سے آپ اپنی انفرادیت کا تحفظ چاہتے ہیں‘ اور اپنے اندر نیشنل ازم کی روح پیدا کر کے دوسری قوموں کے ساتھ کامیاب مسابقت کرنا‘ آپ کا آخری مطمع نظر ہے‘ تو بلاشبہ آپ کو اپنے پیشوائوں میں اسلام کا رنگ دیکھنے کی ضرورت نہیں‘ اور مجھے آپ سے کسی بحث کی ضرورت بھی نہیں۔ آپ کا راستہ جدا ہے‘ اور میرا راستہ جدا۔ البتہ وہی بات پھر کہوں گا‘ جو اس سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اپنی اس قوم پرستانہ تحریک کے لیے آپ کو اسلام کا نام استعمال کرنے کا حق نہیں ہے‘ کیونکہ اسلام ہر قسم کی قوم پرستی کا دشمن ہے خواہ وہ ہندستانی قوم پرستی ہویا نام نہاد’’مسلم قوم پرستی‘‘۔
بعض حضرات اس قسم کے غیراسلامی اجتماع اور مرکزیت کے حق میں قرآن وحدیث سے اس طرح استد لال کرتے ہیں‘ کہ گویا یہی وہ ’’جماعت‘‘ ہے‘ جس کے التزام کا حکم دیا گیا ہے‘ اور جس سے الگ ہونے یا الگ رہنے پر جہنم کی وعید سنائی گئی ہے‘ لیکن میں حیران ہوں کہ اسے ناواقفیت کا کرشمہ سمجھا جائے‘ یا خدا اور رسول کے مقابلہ میں جسارت۔ قرآن تو اس مسجد تک میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دیتا‘ جس کی بنیاد تقویٰ پر نہ ہو۔ اور یہاں تقویٰ کا نام لینے والے خبطی سمجھے جاتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے‘ کہ ’’اﷲ کی رسی‘‘کو مضبوط تھامو۔ اور یہاں کہا جا رہا ہے‘ کہ بس لوگوں کا متفق ہوکر کسی رسی کو تھام لینا ہی ذریعہ نجات ہے‘ قطع نظر اس سے کہ وہ اﷲ کی رسی ہویا نہ ہو۔قرآن صاف کہتا ہے‘ کہ:
اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَہُمْ رٰكِعُوْنَo المائدہ 55:5
مسلمانو! تمہارے حقیقی دوست اور ساتھی صرف اﷲ اور رسول اﷲ اور وہ لوگ ہیں‘ جو ایمان لائے ہیں‘ جو نماز قائم کرتے ہیں‘ اور زکوٰۃ دیتے ہیں‘ اور خدا کے آگے جھکنے والے ہیں۔
بلکہ یہاں تک کہتا ہے‘ کہ:
فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۝۰ۭ التوبہ 11:9
پس اگر وہ توبہ کریں‘ اور نماز قائم کریں‘ اور زکوٰۃ دیں تب وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔
مگر یہاں نماز اور زکوٰۃ کی شرط کو محض بے معنی سمجھا جاتا ہے۔ برادری اور ولایت تو درکنار‘ امامت اور سرداری تک کے لیے یہ چیزیں شرط نہیں ہیں۔ بلکہ خدا کی مقرر کی ہوئی ان شرطوں کا نام لے لیجیے تو تیوریوں میں بل پڑ جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے‘ کہ احادیث میں التزامِ جماعت اور اطاعت ِامام کے متعلق جو احکام ہیں‘ اور مَنْ شَذَّ شَذَّ فِی النَّارِ { FR 2505 }اور اسی قسم کی جو وعیدیں جماعت اور امام سے الگ ہونے والوں کو سنائی گئی ہیں انہیں کوئی واسطہ ان جماعتوں اور امامتوں سے نہیں ہے‘ جو محض قوم پرستی کے اصولوں پر دنیوی اغراض کے لیے بنی ہوں۔ وہاں تو التزامِ جماعت سے مراد دراصل اس جماعت کا التزام ہے‘ جو دنیوی اغراض سے پاک ہوکر خالصتہً لوجہ اﷲ اسلام کے مشن کی خدمت کے لیے بنی ہو۔ ایسی جماعت سے الگ ہونے کا نتیجہ یقینا نارِجہنم ہے‘ اور ہونا چاہئے۔ مگر ان ہدایات کو دنیوی جتھہ بندی اور سیاسی پارٹیوں کی وفاداری کے لیے دلیل بنانا‘ خدا کے رسول پر بہتان گھڑنا ہے۔ کسی قوم کو کسی دوسری قوم کے مقابلہ میں‘ اگر معاشی یا سیاسی اغراض کے لیے جدوجہد کرنی ہو‘ تو وہ عام قوانین طبیعی کے مطابق اپنا جتھہ بنائے اورقوّت فراہم کرنے کی کوشش کرے۔ اُسے خدا کو بیچ میں لانے کا کیا حق ہے؟دو قوموں کی خالص نفسانی کش مکش میں آخر خدا کو جانبدار بننے کی کیا حاجت پیش آئی ہے‘ کہ ایک کی جتھہ بندی سے الگ ہونے والوں کو تو وہ جہنم کی سزا نہ دے اور دوسری کے جتھے کو تقویت پہنچانے کے لیے وہ ہر اس شخص کے سامنے جہنم پیش کر دے جو اس سے الگ ہویا الگ رہے؟
بعض لوگ اس دھوکے میں مبتلا ہیں‘ کہ مسلمانوں کی اکثریت کا نام ’’سوا داعظم‘‘ ہے‘ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے‘ کہ سوادِاعظم کا ساتھ دو‘ لہٰذا مسلمانوں کی اکثریت جس سیاسی پارٹی کی حامی اور جس قیادت کی متبع ہے اس کے ساتھ رہنا ضروری ہے‘ لیکن یہ ارشاد نبویa کی سراسر غلط تعبیر ہے۔ نبی a نے جس سوادِاعظم کے ساتھ رہنے کا حکم دیا ہے اس سے مراد دراصل ان مسلمانوں کی اکثریت ہے‘ جن کے اندر اسلامی شعور موجود ہو‘ جو حق اور باطل کی تمیز رکھتے ہوں ‘اور جن کو اسلام کی روح اور اس کے بنیادی اصولوں سے کم از کم اتنی واقفیت ضرور ہوکہ اسلام اور غیر اسلام میں فرق کر سکتے ہوں۔ ایسے مسلمانوں کی اکثریت کبھی باطل پر مجتمع نہیں ہوسکتی‘ اور اگر وہ کبھی کسی غلط فہمی میں مبتلا ہوبھی جائے‘ تو اس پر زیادہ دیر تک جمی نہیں رہ سکتی۔ اسی بنا ء پر حضورa نے سوادِاعظم کا ساتھ دینے کی تاکید فرمائی۔ مگر جو لوگ ان ضروری صفات سے عاری ہوں ‘اور جن میں کھرے اور کھوٹے کی بالکل ابتدائی پرکھ بھی نہ ہو‘ ان کے ہُلّڑ کا نام ہرگز ’’سوادِاعظم‘‘نہیں ہے۔ نہ ان کی جماعت‘ اسلامی مفہوم کے اعتبار سے ’’جماعت‘‘ہے‘ نہ ان کی امارت‘ اسلامی اصطلاح کی رُو سے ’’امارت‘‘ ہے‘ نہ ان کی اس امارت کو کسی حیثیت سے بھی سمع وطاعت کا حق پہنچتا ہے۔ محض لفظ’’مسلمان‘‘سے دھوکا کھا کر جو لوگ جاہلیت کی پیروی کرنے والوں کی تنظیم کو تنظیم سمجھتے ہیں‘ اور یہ سمجھتے ہیں‘ کہ اس نوعیت کی کوئی تنظیم خالص اسلامی نقطۂ نظر سے مفید ثابت ہوگی ان کی کُند ذہنی ماتم کی مستحق ہے۔
(ترجمان القرآن۔ جنوری۱۹۴۰ء)

خ خ خ

اسلام کی دعوت اور مسلمان کا نصب العین

جب کسی شخص پر بار بار تشنج‘ ہذیان اور بحران کے دورے پڑتے ہوں ‘اور درمیانی وقفوں میں بھی وہ ہر وقت کسی نہ کسی تکلیف سے بے تاب رہتا ہو‘ تو اس کی حالت کو دیکھ کر عقل مند لوگ کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟وہ اسے محض اوپر ی خلل کا اثر قرار دیتے ہیں‘ یا یہ سمجھتے ہیں‘ کہ خود اس کے اپنے نظام جسمانی کے اندر کوئی خرابی موجود ہے؟وہ تشنج کا علاج ہاتھ پائوں باندھنے سے‘ ہذیان کا علاج منہ بند کرنے سے اور بخار کا علاج برف میں دبانے سے کرتے ہیں‘ یا ان کی تمام تر کوشش یہ ہوتی ہے‘ کہ اس اصلی خرابی کو سمجھیں جو کارگاہِ بدن کی ترکیب میں پیدا ہوگئی ہے‘ اور ساری تدبیریں اسی کو دور کرنے میں صرف کر دیں؟
جہاں تک انفرادی حالات کا تعلق ہے‘ ہر صاحبِ عقل ایسے مواقع پر دوسری صورت ہی اختیار کیا کرتا ہے۔ مگر تعجب اور سخت تعجب ہے‘ کہ جو عقل ایک فرد کو اس حالت میں دیکھ کر صحیح نتیجہ اخذ کرتی ہے‘ وہ کہاں ماری جاتی ہے‘ جب پوری انسانیت اس کے سامنے اسی حال میں ہو۔ تمام عالمِ انسانی اس وقت ایک شدید بحران میں مبتلا ہے۔ اس پر تشنج کا ایک ایسا زبردست دورہ پڑا ہے‘ جس سے ساری زمین ہل گئی گئی ہے۔{ FR 2506 } اور یہ کوئی پہلا دورہ نہیں ہے۔ ایک مدّت سے پیہم اس پر ایسے ہی دورے پڑ رہے ہیں‘ اور دوروں کے درمیان جو وفقہ گزرتا ہے‘ اس میں بھی کبھی وہ چین سے نہیں رہتا۔ ہر وقت کسی نہ کسی درد سے بے چین ہی رہتا ہے۔ مگر باوجود یکہ مدّت ہائے دراز سے یہ صورت حال ساری دنیا میں مشاہدہ کی جا رہی ہے‘ کسی کا ذہن ادھر نہیں جاتاکہ انسانی تمدّن وعمران کی اساس میں ایک بنیادی خرابی موجود ہے۔ ساری دنیا کے بوجھ بجُھکڑ{ FR 2507 } اپنی اپنی نظریں صرف ان خارجی علامات ہی پر جمائے ہوئے ہیں‘ جو اندرونی خرابی کی وجہ سے سطح پر نمایاں ہوتی ہیں‘ اور ہر ایک کو سطح پر جو پھوڑا سب سے زیادہ نمایاں نظر آتا ہے‘ اسی پر انگلی رکھ کر کہہ دیتا ہے‘ کہ بس اس کا آپریشن کر دو‘ پھر سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ کوئی کہتا ہے‘ کہ بِس کی گانٹھ ڈکٹیٹرشپ ہے‘ اس کو کاٹ دو‘ کوئی کہتا ہے‘ کہ ساری خرابی امپیریل ازم کی وجہ سے ہے‘ اسے مٹا دو۔ کوئی کہتا ہے‘ کہ سرمایہ داری نے دنیا کو جہنم بنا رکھا ہے‘ اس کا خاتمہ کر دو‘ ان نادانوں کی عقل کہاں گم ہوگئی ہے؟یہ شاخوں کو جڑ سمجھ رہے ہیں۔ ان کو خبر نہیں کہ جڑ کہیں اور ہے‘ اور وہ جب تک زمین پکڑے رہے گی‘ شاخیں برابر نکلتی ہی رہیں گی خواہ قیامت تک ان کو کاٹنے میں وقت ضائع کیا جاتا رہے۔
دنیا میں جہاں جو خرابی بھی پائی جاتی ہے اس کی جڑ صرف ایک چیز ہے‘ اور وہ ہے اﷲ کے سوا کسی اور کی حاکمیت تسلیم کرنا‘ یہی اُمّ الخبائث ہے۔ یہی اصل بِس کی گانٹھ ہے۔ اسی سے وہ شجر خبیث پیدا ہوتا ہے‘ جس کی شاخیں پھیل پھیل کر انسانوں پر مصیبتوں کے زہریلے پھل ٹپکاتی ہیں۔ یہ جڑ جب تک باقی ہے آپ شاخوں کی جتنی چاہیں قطع وبرید کرلیں‘ بجز اس کے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا کہ ایک طرف سے مصائب کا نزول بند ہوجائے‘ اور دوسری طرف سے شروع ہوجائے۔
ڈکٹیٹر شپ یا مطلق العنان بادشاہی کو مٹایا جائے گا‘ تو حاصل کیا ہوگا؟یہی ناکہ ایک انسان یا ایک خاندان خدائی کے مقام سے ہٹ جائے گا ‘اور اس کی جگہ پارلیمنٹ خدا بن جائے گی۔ مگر کیافی الواقع اس طریقہ سے انسانیت کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے؟کیا ظلم اور بَغْی اور فسادفی الارض سے وہ جگہ خالی ہے‘ جہاں پارلیمنٹ کی خدائی ہے؟
امپیریل ازم کا خاتمہ کیا جائے گا‘ تو اس کا حاصل کیا ہوگا؟بس یہی کہ ایک قوم پر سے دوسری قوم کی خدائی اتر جائے گی۔ مگر کیا واقعی اس کے بعد زمین پر امن اور خوش حالی کا دور شروع ہوجاتا ہے؟کیا وہاں انسان کو چین نصیب ہے‘ جہاں قوم آپ اپنی خدا بنی ہوئی ہے؟
سرمایہ داری کا استیصال ہوجائے گا‘ تو اس سے کیا نتیجہ بر آمد ہوگا؟صرف یہ کہ محنت پیشہ عوام‘ مال دار طبقوں کی خدائی سے آزاد ہوکر‘ خود اپنے بنائے ہوئے‘ خدائوں کے بندے بن جائیں گے۔ مگر کیا اس سے حقیقت میں آزادی‘عدل‘اور امن کی نعمتیں انسان کو حاصل ہوجاتی ہیں؟کیا انسان کو وہاں یہ نعمتیں حاصل ہیں‘ جہاں مزدوروں کے اپنے بنائے ہوئے خدا حکومت کر رہے ہیں؟
اﷲ کی حاکمیت سے منہ موڑنے والے‘ زیادہ سے زیادہ بہتر نصب العین جو پیش کر سکتے ہیں‘ وہ بیش ازیں نیست کہ دنیا میں مکمل جمہوریت قائم ہوجائے‘ یعنی لوگ اپنی بھلائی کے لیے آپ اپنے حاکم ہوں۔ لیکن قطع نظر اس سے کہ یہ حالت واقعی دنیا میں رونما ہوبھی سکتی ہے‘ یا نہیں،{ FR 2508 } غور طلب سوال یہ ہے‘ کہ ایسی حالت اگر رونما ہوجائے‘ تو کیا اس فرضی جنت میں انسان خود اپنے نفس کے شیطان‘ یعنی اس جاہل اور نادان ’’خدا‘‘کی بندگی سے بھی آزاد ہوجائے گا‘ جس کے پاس خدائی کرنے کے لیے‘ علم‘ حکمت‘ عدل‘ راستی کچھ بھی نہیں‘ صرف خواہشات ہی خواہشات ہیں‘ اور وہ بھی اندھی اور جابرانہ خواہشات۔
غرض دنیا کے مختلف گوشوں میں انسانی مصائب اور پریشانیوں کے جتنے حل بھی سوچے جا رہے ہیں‘ ان سب کا خلاصہ بس اتناہی ہے‘ کہ خدائی یا حاکمیت بعض انسانوں سے سلب ہوکر بعض دوسرے انسانوں کی طرف منتقل ہوجائے۔ اور یہ مصیبت کا ازالہ نہیں ہے‘ بلکہ صرف اس کا اِمالہ ہے۔ اس کے معنی صرف یہ ہیں‘ کہ سیلابِ بلا اب تک جس راستہ سے آتا رہا ہے ادھر سے نہ آئے بلکہ دوسرے راستہ سے آئے۔ اس کو اگر حل کہا جا سکتا ہے‘ تو یہ ایسا ہی حل ہے جیسے دِق کی بیماری کو سرطان سے تبدیل کر لیا۔ اگر مقصود محض دِق کو دور کرنا تھا‘ تو بے شک آپ کامیاب ہوئے‘ لیکن اگر اصل مقصد جان بچانا تھا تو ایک پیامِ اجل کو دوسرے پیک ِاجل سے تبدیل کر کے آپ نے کوئی بھی کامیابی حاصل نہ کی۔
خواہ ایک انسان دوسرے کا خدا بنے‘ یا دوسرے کی خدائی تسلیم کرے یا آپ اپنا خدا بن جائے بہرحال ان تمام صورتوں میں تباہی اور خُسران کا اصل سبب جوں کا توں باقی رہتاہے۔ کیونکہ جو فی الواقع بادشاہ نہیں ہے وہ اگر بادشاہ بن بیٹھے‘ جو حقیقت میں بندہ اور غلام ہے‘ وہ اگر اپنے آپ کو خواجگی وخداوندی کے مقام پر متمکن سمجھ لے‘ جو دراصل ذمّہ دار اور مسئول رعیت ہے وہ اگر غیر ذمّہ دار اور خود مختار حاکم بن کر کام کرنے لگے‘ تو اس اِدّعا کو تسلیم کرنے کی حقیقت ایک غلط فہمی کے سوا کچھ نہ ہوگی۔ اصلیت جو کچھ ہے وہ تو بہرحال وہی کی وہی رہے گی۔ مگر جب بندہ اس عظم الشان بنیادی غلط فہمی پر اپنی زندگی کی ساری عمارت اُٹھائے گا کہ وہ خود حاکم اعلیٰ ہے‘ یا کوئی دوسرا بندہ اس کا حاکم اعلیٰ ہے‘ اور جب وہ یہ سمجھ کر کام کرے گا کہ اس سے بالا تر کوئی حاکم نہیں ہے‘ جس کے سامنے وہ جواب دہ ہو‘ اور اپنے امرونہی میں جس کی رضا لینے کا محتا ج ہو‘ تو یقینا اس کی زندگی کی عمارت از سر تا پا غلط ہوکر رہ جائے گی‘ اور اس میں راستی وصحت کو تلاش کرنا حماقت کے سوا کچھ نہ ہوگا۔
یہ بات آخر کس طرح انسان کی عقل قبول کر لیتی ہے‘ کہ خلق کسی کی ہو‘ اور امر کسی اور کا ہو؟پیدا کرنے اور پالنے والا کوئی ہو‘ اور حکم کسی اور کا چلے؟ ملک کسی کا ہو‘ اور بادشاہت کسی اور کی ہو؟
جس نے انسان کو بنایا‘ جس نے انسان کے لیے‘ زمین کی قیام گاہ بنائی‘ جواپنی ہوا‘ اپنے پانی‘ اپنی روشنی اور حرارت‘ اور اپنے پیدا کیے ہوئے سامانوں سے انسان کی پرورش کر رہا ہے‘ جس کی قدرت انسان کا‘ اور اس پوری زمین کا جس میں انسان رہتا ہے‘ احاطہ کیے ہوئے ہے‘ اور جس کے حیطہ قدرت سے انسان کسی حال میں نکل ہی نہیں سکتا ‘عقل اور فطرت کا تقاضا یہ ہے‘ کہ وہی انسان کا اور اس زمین کا مالک ہو‘ وہی خدا اور رب ہو‘ اور وہی بادشاہ اور حاکم بھی ہو۔ اس کی بنائی ہوئی دنیا میں خود اس کے سوا اور کس کو حکومت وفرماں روائی کا حق پہنچتا ہے؟کس طرح ایک مملوک یہ کہنے کا حق دار ہوسکتا ہے‘ کہ وہ اپنے جیسے دوسرے مملوکوں کا مالک ہے؟صانع اور پروردگار کے سوا اپنی مصنوعات اور اپنے پروردوں کی ملکیت اور کس کے لیے جائز ہوسکتی ہے؟کون اتنی قدرت رکھتا ہے کن کے پاس اتنا علم ہے‘ کس کا یہ ظرف ہے‘ کہ اس سلطنت میں فرمانروائی کر سکے؟اگر انسان اس سلطنت کے اصلی سلطان کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتا‘ اور اس کے سوا کسی دوسرے کی حاکمیت مانتا ہے‘ یا خود اپنی حاکمیت کا اِدّعا کرتا ہے‘ تو یہ صریح واقعہ کے خلاف ہے۔ بنیادی طور پر غلط ہے۔ ایک عظیم الشّان جھوٹ ہے۔ سب سے زیادہ سفید جھوٹ۔ ایسا جھوٹ جس کی تردید زمین وآسمان کی ہر شے ہر وقت کر رہی ہے۔ ایسے بے بنیاد دعوے اور ایسی غلط تسلیم واطاعت سے حقیقت نفس الامری میں ذرہ برابر بھی فرق واقع نہیں ہوتا۔ جو مالک ہے وہ مالک ہی رہے گا‘ جو بادشاہ اور حاکم ہے وہ بادشاہ اور حاکم ہی رہے گا۔البتہ خود اس انسان کی زندگی از سرتا پا غلط ہوکر رہ جائے گی ‘جو واقعہ کے خلاف دوسرے کی حاکمیت تسلیم کر کے‘ یا خود اپنی حاکمیت کا مدعی بن کر کام کرے گا۔ حقیقت اس کی محتاج نہیں ہے‘ کہ تم اس کا ادراک کرو‘ تب ہی وہ حقیقت ہو۔ نہیں!تم خود اس کے محتاج ہوکہ اس کی معرفت حاصل کر کے‘ اپنی سعی وعمل کو اس کے مطابق بنائو۔ اگر تم حقیقت کو محسوس نہیں کرتے‘ اور کسی غلط چیز کو حقیقت سمجھ بیٹھتے ہو‘ تو اس میں نقصان تمہارا اپنا ہے۔ تمہاری غلط فہمی سے حقیقت میں کوئی تغیّر رونما نہیں ہوسکتا۔
ظاہر ہے‘ کہ جس چیز کی بنیاد ہی سرے سے غلط ہو‘ اس کو جزوی تر میمات اور فروعی اصلاحات سے کبھی درست نہیں کیا جا سکتا۔ ایک جھوٹ کے ہٹ جانے اور اس کی جگہ دوسرے جھوٹ کے آجانے سے حقیقت میں کوئی فرق بھی واقع نہیں ہوتا۔ اس قسم کی تبدیلی سے طفل تسلّی تو ہوسکتی ہے‘ مگر غیر حق پر زندگی کی عمارت قائم کرنے کا جو نقصان ایک صورت میں تھا وہی دوسری صورت میں بھی علیٰ حالہٖ باقی رہتا ہے۔
اس نقصان کو دور کرنے اور انسانی زندگی کو حقیقی فلاح وسعادت سے ہمکنار کرنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں ہے‘ کہ غیر اﷲ کی حاکمیت سے کلیتہً انکار کیا جائے‘ اور اس کی حاکمیت تسلیم کی جائے‘ جو فی الواقع مالک الملک ہے۔ہر اس نظامِ حکومت کو ردّ کر دیا جائے‘ جو انسانی اقتدار اعلیٰ کے باطل نظریہ پر قائم ہو‘ اور صرف اس نظامِ حکومت کو قبول کیا جائے‘ جس میں اقتدارِ اعلیٰ اسی کا ہوجو فی الحقیقت مقتدر ِاعلیٰ ہے۔ ہر اس حکومت کے حق حکمرانی کو ماننے سے انکار کر دیا جائے‘ جس میں انسان بذاتِ خود حاکم اور صاحبِ امرو نہی ہونے کا مدعی ہو‘ اور صرف اس حکومت کو جائز قرار دیا جائے‘ جس میں انسان اصلی اور حقیقی حاکم کے ماتحت خلیفہ ہونے کی حیثیت قبول کرے۔ یہ بنیادی اصلاح جب تک نہ ہوگی‘ جب تک انسان کی حاکمیت‘ خواہ وہ کسی شکل اور کسی نوعیت کی ہو‘ جڑ پیڑ سے اُکھاڑ کر نہ پھینک دی جائے گی‘ اور جب تک انسانی حاکمیت کے غیر واقعی تصوّر کی جگہ خلافت الٰہی کا واقعی (realistic)تصوّر نہ لے لے گا‘ اس وقت تک انسانی تمدّن کی بگڑی ہوئی کل کبھی درست نہ ہوسکے گی‘ چاہے سرمایہ داری کی جگہ اشتراکیت قائم ہوجائے‘ یا ڈکٹیٹر شپ کی جگہ جمہوریت متمکن ہوجائے‘ یا امپیرل ازم کی جگہ قوموں کی حکومت خود اختیاری کا قاعدہ نافذ ہوجائے۔ صرف خلافت ہی کا نظریہ انسان کو امن دے سکتا ہے‘ اسی سے ظلم مٹ سکتا ہے‘ اور عدل قائم ہوسکتا ہے‘ اور اسی کو اختیار کر کے انسان اپنی قوّتوں کا صحیح مصرف اور اپنی سعی وجہد کا صحیح رخ پا سکتا ہے۔ رب العالمین اور عالم الغیب والشّہادۃ کے سوا اور کوئی انسانی تمدّن وعمران کے لیے ایسے اصول اور حدود تجویز کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا‘ جو بے لاگ ہوں‘ جن میں جانب داری‘ تعصّب اور خود غرضی کا شائبہ تک نہ ہو‘ جو ٹھیک ٹھیک عدل پر قائم ہوں‘ جن میں تمام انسانوں کے مفاد اور حقوق کا یکساں لحاظ کیا گیا ہو‘ جو گمان وقیاس پر نہیں‘ بلکہ حقائقِ فطرت کے یقینی علم پر مبنی ہوں۔ ایسے ضابطہ کی نعمتوں سے انسان صرف اِسی طرح بہرہ ور ہوسکتا ہے‘ کہ وہ خود صاحب ِامرا ور قانون ساز بننے کے زعم سے دست بردار ہوجائے‘ خدا پر اور اس کے بھیجے ہوئے قانونِ زندگی پر ایمان لائے اور آخرت کی جوابدہی کا احساس رکھتے ہوئے اس ضابطہ کو دنیا میں قائم کرے۔
اسلام انسانی زندگی میں یہی بنیادی اصلاح کرنے آیا ہے‘ اس کو کسی ایک قوم سے دلچسپی اور کسی دوسری قوم سے عداوت نہیں ہے‘ کہ ایک کوچڑھانا اور دوسری کو گرانا اس کا مقصود ہو۔ بلکہ اسے تمام نوعِ انسانی کی فلاح وسعادت مطلوب ہے‘ جس کے لیے وہ ایک عالمگیر کلیّہ وضابطہ پیش کرتا ہے وہ ایک تنگ زاویہ سے کسی خاص ملک یا کسی خاص گروہِ انسانی کو نہیں دیکھتا‘ بلکہ وسیع نظر سے‘ تمام روئے زمین کو‘ اس کے تمام باشندوں سمیت دیکھتاہے‘ اور چھوٹے چھوٹے وقتی حوادث ومسائل سے بالاتر ہوکر‘ ان اصولی وبنیادی مسائل کی طرف توجہ کرتا ہے‘ جن کے حل ہوجانے سے تمام زمانوں اور تمام حالات ومقامات میں سارے فروعی وضمنی مسائل آپ سے آپ حل ہوجاتے ہیں۔ اسے ظلم کی شاخوں اور فساد کی فروعی شکلوں سے بحث نہیں ہے‘ کہ آج ایک جگہ ایک شاخ کو کاٹنے پر زور صرف کرے‘ اور کل دوسری جگہ کسی دوسری شاخ سے طبع آزمائی کرنے لگے‘ بلکہ وہ ظلم کی جڑ اور فساد کے سر چشمے پر براہِ راست حملہ کرتا ہے‘ تاکہ ان شاخوں کی پیدائش ہی بند ہوجائے‘ اور جگہ جگہ آئے دن کی کاٹ چھانٹ کا جھگڑا ہی باقی نہ رہے۔
یہ چھوٹے چھوٹے ضمنی مسائل جن میں آج دنیا کی مختلف قومیں اور جماعتیں اُلجھ رہی ہیں‘ مثلاً یورپ میں ہٹلر کا طغیانِ ناز‘ یا حبش میں اٹلی کا فساد‘ یاچین میں جاپان کا ظلم‘یا ایشیاء وافریقہ میں برطانیہ وفرانس کی قیصریت‘اسلام کی نگاہ میں ان کی اور ایسے تمام مسائل کی کوئی اہمیت نہیں۔ اس کی نگاہ میں ایک ہی سوال اہمیت رکھتا ہے۔ وہ تمام دنیا سے پوچھتا ہے:
ءَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُo یوسف 39:12
متفرق چھوٹے چھوٹے خدائوں کی بندگی اچھی ہے‘ یا اس ایک اﷲ کی جو سب پر غلبہ وتسلّط رکھتا ہے؟
جو لوگ پہلی صورت کے پسند کرنے والے ہیں اسلام ان سب کو ایک سمجھتا ہے خواہ وہ آپس میں کتنے ہی مختلف شعبوں میں بٹے ہوئے ہوں۔ ان کی ایک دوسرے کے خلاف جدوجہد اسلام کی نظر میں ایک فسادکے خلاف دوسرے فساد کی جدوجہد ہے۔ ان میں سے کسی کی دشمنی بھی نفسِ فساد سے نہیں ہے‘ بلکہ فساد کی کسی خاص شاخ سے ہے‘ اور اس لیے ہے‘ کہ جس فساد کا جھنڈا ایک فریق نے بلند کر رکھا ہے وہ سرنگوں ہو‘ اور اس کی جگہ وہ فساد سر بلند ہو‘ جس کا جھنڈا دوسرا فریق اُٹھائے ہوئے ہے۔ ظاہر ہے‘ کہ ایسے فریقین میں سے کسی کے ساتھ بھی اس کا اشتراکِ عمل نہیں ہوسکتا جو اصل فساد کا دشمن ہو۔ اس کے لیے تو ایک جھوٹے رب کے پرستاروں اور دوسرے جھوٹے رب کے بندوں میں ترجیح کا سوال ہی نہیں۔ اس کی توبیک وقت سب سے لڑائی ہے۔ وہ تو اپنا سارا زور صرف ایک ہی مقصد پر صرف کرے گا‘ اور وہ یہ ہے‘ کہ انسان کو متفرق غیر حقیقی ربوں اور الٰہوں کی بندگی سے نکالا جائے‘ اور اس اﷲ واحد قہار کی حاکمیت تسلیم کرائی جائے‘ جو فی الحقیقت رَبُّ النَّاس‘ مَلِکِ النَّاس اور الٰہِ النَّاس{ FR 2578 } ہے۔
لفظ ’’مسلمان‘‘ اگر کوئی بے معنی لفظ ہے‘ اور محض علم کے طورپر انسانوں کے کسی گروہ کے لیے استعمال ہونے لگا ہے‘ تب تو مسلمانوں کوپوری آزادی حاصل ہونی چاہئے کہ اپنی زندگی کے لیے جو مقصد چاہیں قرار دے لیں‘ اور جن طریقوں پر چاہیں کام کریں۔ لیکن اگر یہ لفظ ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے‘ جنہوں نے اسلام کو بطور مسلک ومشرب قبول کیا ہے‘ تو یقینا مسلمانوں کے لیے کوئی نظریہ‘ کوئی مقصد اور کوئی طریق کار اسلام کے نظریہ‘ مقصد اور طریق کار کے سوا نہیں ہوسکتا۔ غیراسلامی نظریہ اور پالیسی اختیار کرنے کے لیے حالاتِ زمانہ اور مقتضیاتِ وقت کا بہانہ کوئی بہانہ نہیں ہے۔مسلمان جہاں جس ماحول میں بھی ہوں گے ان کو وقتی حوادث اور مقامی حالات ومعاملات سے بہرحال سابقہ پیش ہی آئے گا۔پھر وہ اسلام آخر کس کام کا اسلام ہے‘ جس کا اتّباع صرف مخصوص حالات ہی میں کیا جائے‘ اور جب حالات دگر گوں ہوں تو اسے چھوڑ کر حسب سہولت کوئی دوسرا نظریہ اختیار کر لیا جائے؟دراصل تمام مختلف حالات میں اسلام کے اساسی نظریہ اور بنیادی مقصد کے مطابق طرزِعمل اختیار کرنا ہی مسلمان ہونا ہے‘ ورنہ اگر مسلمان ہر حادثہ اور ہر حال کو ایک جدا گانہ نقطۂ نظر سے دیکھنے لگیں اور ہمیشہ موقع ومحل دیکھ کر ایک نئی پالیسی وضع کر لیا کریں‘ جس کو اسلام کے نظریہ ومقصد سے کوئی لگائو نہ ہو‘ تو ایسے مسلمان ہونے میں اور نامسلمان ہونے میں قطعاً کوئی فرق نہیں۔ ایک مسلک کی پیروی کے معنی ہی یہ ہیں‘ کہ آپ جس حال میں بھی ہوں‘ آپ کا نقطۂ نظر اور طریق کار اس مسلک کے مطابق ہو‘ جس کے آپ پیرو ہیں۔ ایک مسلمان‘ سچا مسلمان اسی وقت ہوسکتا ہے‘ جب کہ وہ زندگی کے تمام جزئی معاملات اور وقتی حوادث میں اسلامی نقطۂ نظر اور اسلامی طریقہ اختیار کرے۔ جو مسلمان کسی موقع ومحل میں اسلامی پہلو چھوڑ کر غیراسلامی پہلو اختیار کرتا ہے‘ اور یہ عذر پیش کرتا ہے‘ کہ اس موقع اور اس محل میں تو مجھے غیراسلامی طریقہ ہی پر کام کر لینے دو‘ بعد میں جب حالات ساز گار ہوجائیں گے‘ تو مسلمان بن کر کام کرنے لگوںگا۔ وہ دراصل یہ ظاہر کرتا ہے‘ کہ یا تو اسلام کو وہ بجائے خود کوئی ایسا ہمہ گیر نظامِ زندگی ہی نہیں سمجھتا‘ جو زندگی کے ہر معاملہ اور زمانہ کی ہر گردش پر یکساں حاوی ہوسکتا ہو‘ یا پھر اس کا ذہن اسلام کے سانچے میں پوری طرح نہیں ڈھلا ہے‘ جس کی وجہ سے اس میں یہ صلاحیت نہیں ہے‘ کہ اسلام کے کلیات کو جزئی حوادث پر منطبق کر سکے‘ اور یہ سمجھ سکے کہ مختلف احوال میں مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس کی پالیسی کیا ہونی چاہیے۔
ایک حقیقی مسلمان ہونے کی حیثیت سے جب میں دنیا پر نگاہ ڈالتا ہوں‘ تو مجھے اس امر پر اظہار مسرت کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ٹرکی پر ترک‘ ایران پر ایرانی اور افغانستان پر افغانی حکمران ہیں۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے میں حکم النَّاس علی النّاس للنّاس{ FR 2510 }کے نظریہ کا قائل نہیں ہوں کہ مجھے اس پر مسرت ہو۔ میں اس کے برعکس حکم اﷲ علی النّاس بالحق{ FR 2511 }کا نظریہ رکھتا ہوں ‘اور اس اعتبار سے میرے نزدیک انگلستان پر انگریزوں کی حاکمیت اور فرانس پر اہلِ فرانس کی حاکمیت جس قدر غلط ہے‘ اسی قدر ٹرکی اور دوسرے ملکوں پر ان کے اپنے باشندوں کی حاکمیت بھی غلط ہے۔ بلکہ اس سے زیادہ غلط اس لیے کہ جو قومیں اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہیں ان کا خدا کی حاکمیت کے بجائے انسانوں کی حاکمیت اختیار کرنا اور بھی زیادہ افسوس ناک ہے۔ غیر مسلم اگر ضالین کے حکم میں ہیں‘ تو یہ اس طرزِعمل کی بنا پر مَغْضُوْبٌ عَلَیْھِمْ کی تعریف میں آجاتے ہیں۔
مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرے لیے اس مسئلہ میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے‘ کہ ہندوستان میں جہاں مسلم کثیر التعداد ہیں‘ وہاں ان کی حکومت قائم ہوجائے‘ میرے نزدیک جو سوال سب سے اَقْدم ہے‘ وہ یہ ہے‘ کہ آپ کے اس ’’پاکستان‘‘میں نظامِ حکومت کی اساس خدا کی حاکمیت پر رکھی جائے گی یا مغربی نظریہ جمہوریت کے مطابق عوام کی حاکمیت پر؟اگر پہلی صورت ہے‘ تو یقینا یہ ’’پاکستان‘‘ہو گا ورنہ بصورت دیگر یہ ویسا ہی ’’نا پاکستان‘‘ ہوگا جیسا ملک کا وہ حصّہ ہوگا جہاں آپ کی اسکیم کے مطابق غیر مسلم حکومت کریں گے۔ بلکہ خدا کی نگاہ میں یہ اس سے زیادہ ناپاک‘ اس سے زیادہ مبغوض وملعون ہوگا کیونکہ یہاں اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے وہ کام کریں گے‘ جو غیر مسلم کرتے ہیں۔ اگر میں اس بات پر خوش ہوں کہ یہاں رام داس کے بجائے عبداﷲ خدائی کے منصب پر بیٹھے گا‘ تو یہ اسلام نہیں ہے‘ بلکہ نرانیشنل ازم ہے‘ اور یہ ’’مسلم نیشنل ازم‘‘بھی خدا کی شریعت میں اتنا ہی ملعون ہے‘ جتنا ’’ہندستانی نیشنل ازم‘‘۔
مسلمان ہونے کی حیثیت سے میری نگاہ میں اس سوال کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے‘ کہ ہندستان ایک ملک رہے یا دس ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے۔ تمام روئے زمین ایک ملک ہے۔ انسان نے اس کو ہزاروں حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ یہ اب تک کی تقسیم اگر جائز تھی تو آئندہ مزید تقسیم ہوجائے گی‘ تو کیا بگڑ جائے گا؟یہ کون سا ایسا بڑا مسئلہ ہے‘ جس پر مسلمان ایک لمحہ کے لیے بھی غور وفکر میں اپنا وقت ضائع کرے؟ مسلمان کو تو صرف اس چیز سے بحث ہے‘ کہ یہاں انسان کا سر حُکْمُ اﷲ کے آگے جھکتا ہے‘ یا حُکْمُ النّاس کے آگے‘ اگر حُکْمُ اﷲ کے آگے جھکتا ہے تب تو ہندستان کو اور زیادہ وسیع کیجیے۔ ہمالیہ کی دیوار کو بیچ میں سے ہٹا ئیے اور سمندر کو بھی نظر انداز کر دیجیے‘ تاکہ ایشیا‘ افریقہ‘ یورپ‘ امریکہ سب ہندستان میں شامل ہوسکیں۔ اور اگر یہ حُکْمُ النّاس کے آگے جھکتا ہے‘ تو جہنم میں جائے‘ ہندستان اور اس کی خاک کا پرستار‘ مجھے اس سے کیا دل چسپی کہ یہ ایک ملک رہے‘ یا دس ہزار ٹکڑوں میں بٹ جائے۔ اس بت کے ٹوٹنے پر تڑپے وہ جو اسے معبود سمجھتا ہو۔ مجھے تو اگر یہاں ایک مربع میل کا رقبہ بھی ایسا مل جائے‘ جس میں انسان پر خدا کے سوا کسی کی حاکمیت نہ ہو‘ تو میں اس کے ایک ذرّہ خاک کو تمام ہندستان سے زیادہ قیمتی سمجھوں گا۔
مسلمان ہونے کی حیثیت سے‘ میرے نزدیک یہ امر بھی کوئی قدر وقیمت نہیں رکھتاکہ ہندستان کو انگریزی امپیریل ازم سے آزاد کرایا جائے۔ انگریز کی حاکمیت سے نکلنا تو صرف لاالہ کا ہم معنی ہوگا۔فیصلہ کا انحصار محض اس نفی پر نہیں ہے‘ بلکہ اس پر ہے‘ کہ اس کے بعد اثبات کس چیز کا ہوگا؟اگر آزادی کی یہ ساری لڑائی صرف اس لیے ہے‘ اور مجاہدین حرّیت میں سے کون صاحب یہ جھوٹ بولنے کی ہمت رکھتے ہیں‘ کہ اس لیے نہیں ہے‘ کہ امپیریل ازم کے الٰہ کو ہٹا کر‘ ڈیمو کریسی کے الٰہ کو بت خانہ حکومت میں جلوہ افروز کیا جائے‘ تو مسلمان کے نزدیک درحقیقت اس سے کوئی فرق بھی واقع نہیں ہوتا۔ لات گیا مَنات آگیا۔ایک جھوٹے خدا نے دوسرے جھوٹے خدا کی جگہ لے لی۔ باطل کی بندگی جیسی تھی ویسی ہی رہی۔ کون مسلمان اس کو آزادی کے لفظ سے تعبیر کر سکتا ہے؟
اِنَّ اﷲَ لَا یَمْحُوا السَّیِّئَ بِالسَّیِّئَ وَلٰـکِنْ یَمْحُو السَّیِّئَ بِالْحَسِّنِ اِنَّ الْخَبِیْثَ لَا یَمْحُو الْخَبِیْثَ { FR 2512 }
اس وقت ہندستان میں مسلمانوں کی جو مختلف جماعتیں اسلام کے نام سے کام کر رہی ہیں۔ اگر فی الواقع اسلام کے معیار پر ان کے نظریات‘ مقاصد اور کارناموں کو پرکھا جائے‘ تو سب کی سب جنس کا سد نکلیں گی۔ خواہ مغربی تعلیم وتربیت پائے ہوئے سیاسی لیڈر ہوں‘ یا قدیم طرز کے مذہبی رہنما‘ دونوں ہی اپنے نظریہ اور اپنی پالیسی کے لحاظ سے یکساں گم کردہ راہ ہیں۔ دونوں راہِ حق سے ہٹ کرتا ریکیوں میں بھٹک رہے ہیں۔ دونوں اپنے اصلی ہدف کو چھوڑ کر ہوا میں چَوبائی تیر چلا رہے ہیں۔ ایک گروہ کے دماغ پر ہندو کا ہوّا سوار ہے‘ اور وہ سمجھتا ہے‘ کہ ہندوامپیریل ازم کے چنگل سے بچ جانے کا نام نجات ہے۔ دوسرے گروہ کے سر پر انگریز کا بُھوت مسلّط ہے‘ اور وہ انگریزی امپیریل ازم کے جال سے بچ نکلنے کو نجات سمجھ رہا ہے۔ ان میں سے کسی کی نظر بھی مسلمان کی نظر نہیں‘ ورنہ یہ دیکھتے کہ اصلی شیطان نہ یہ ہے نہ وہ‘ اصلی شیطان غیر اﷲ کی حاکمیت ہے۔ اس سے نجات نہ پائی تو کچھ نہ پایا۔ لڑنا ہے‘ تو اس کو مٹانے کے لیے لڑو۔ جو تیر چلانا ہے اس ہدف کی طرف شست باندھ کر چلائو۔ جس قدر قوّت صرف کرنی ہے اسے محو کرنے پر صرف کر دو‘ اس کے سوا جس کام میں بھی تم اپنی مساعی صرف کرو گے‘ وہ اسی طرح پر اگندہ اور رائگاں ہوکر رہیں گی‘ جس طرح ان لوگوں کی مساعی جن کے متعلق قرآن فیصلہ کرتا ہے‘ کہ:
قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِيْنَ اَعْمَالًاo اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُہُمْ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَہُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًاo اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّہِمْ وَلِقَاۗىِٕہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَہُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ وَزْنًاo الکہف 103-105:18
اے نبی ان سے کہو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد کون لوگ ہیں؟ وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جدو راہ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھے رہے کہ وہ اسے ٹھیک کر رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا۔ اس لیے ان کے سارے اعمال ضائع ہوگئے، قیامت کے روز ہم انھیں کوئی وزن نہ رہیں گے۔
مغربی طرز کے لیڈروں پر توچنداں حیرت نہیں کہ ان بے چاروں کو قرآن کی ہوا تک نہیں لگی ہے‘ مگر حیرت اور ہزار حیرت ہے ان علمائے کرام پر‘ جن کا رات دن کا مشغلہ ہی قال اﷲ وقال الرّسول ہے۔سمجھ میں نہیں آتاکہ آخر ان کو کیا ہوگیا ہے۔ یہ قرآن کو کس نظر سے پڑھتے ہیں‘ کہ ہزار بار پڑھنے کے بعد بھی انہیں اس قطعی اور دائمی پالیسی کی طرف ہدایت نہیں ملتی جو مسلمان کے لیے اصولی طور پر مقرر کر دی گئی ہے‘ جن مسائل کو انہوں نے اہم اور اَقْدم قرار دے رکھا ہے‘ قرآن میں ہم کو ان کی فروعی اور ضمنی اہمیت کا بھی نشان نہیں ملتا۔ جن معاملات پر بے چین ہوکر‘ انہوں نے دہلی میں آزاد مسلم کانفرنس منعقد فرمائی اور تڑپ تڑپ کر تقریریں کیں‘ اس نوعیت کے معاملات کہیں اشارۃ بھی قرآن میں زیر بحث نہیں آتے۔ برعکس اس کے قرآن میں ہم دیکھتے ہیں‘ کہ نبی پر نبی آتا ہے‘ اور ایک ہی بات کی طرف اپنی قوم کو دعوت دیتا ہے:یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اﷲَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ۔{ FR 2513 }خواہ بابل کی سرزمین ہویا ارضِ سَدُوم‘ یاملک ِمدین‘ یا حِجر کا علاقہ یا نیل کی وادی۔ خواہ وہ چالیسویں صدی قبل مسیح ہو‘ یا بیسویں یادسویں۔ خواہ وہ غلام قوم ہویا آزاد‘ خستہ ودرماندہ ہویا تمدّنی وسیاسی حیثیت سے بام عروج پر‘ ہر جگہ‘ ہر دور میں‘ ہر قوم میں اﷲ کی طرف سے آنے والے رہنمائوں نے انسان کے سامنے ایک ہی دعوت پیش کی اور وہ یہ تھی کہ ’’اﷲ کی بندگی کرو‘ اس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔‘‘ حضرت ابراہیمؑ نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا کہ میرے اور تمہارے درمیان کوئی تعاون‘ کوئی اشتراکِ عمل نہیں ہوسکتا‘ جب تک کہ تم اس اصل الاصول کو تسلیم نہیں کرتے۔كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَاۗءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَحْدَہٗٓ { FR 2579 } الممتحنہ60:4 حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے پاس جا کر فَاَرْسِلْ مَعِيَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَo{ FR 2581 } الاعراف 105:7کا مطالبہ کرنے سے پہلے اِنِّىْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنo { FR 2582 } الاعراف104:7کا اعلان کیا‘ اورفَقُلْ ہَلْ لَّكَ اِلٰٓى اَنْ تَـزَكّٰىo وَاَہْدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىo{ FR 2583 } النازعات 18-19:79کی دعوت دی‘ اور اسے آگاہ کیا کہ تو رب نہیں ہے‘ بلکہ رب وہ ہے‘ جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور جینے کا طریقہ بتایا رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ہَدٰىo { FR 2584 } طٰہٰ50:20 حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے‘ جن کی قوم رومیوں کی غلام ہوچکی تھی‘ بنی اسرائیل اور آس پاس کی قوموں کو رومن امپیریل ازم کے خلاف جنگ ِآزادی کے جھنڈے کی طرف دعوت نہ دی بلکہ اس چیز کی طرف دعوت دی کہ اِنَّ اللہَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْہُ۝۰ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌo { FR 2585 } آل عمران 51:3 ظاہر ہے‘ کہ یہ واقعات جو قرآن میں بیان کیے گئے ہیں‘ کسی اور دنیا کے نہیں‘ اسی دنیا کے ہیں‘ جس میں ہم رہتے ہیں‘ اور ایسے ہی انسانوں سے تعلق رکھتے ہیں جیسے ہم انسان ہیں۔ یہ نہیں کہا جا سکتاکہ جن ملکوں اور قوموں میں ابنیاء علیہم السّلام آئے‘ ان میں سرے سے کوئی سیاسی‘ معاشی‘ تمدّنی مسئلہ حل طلب تھا ہی نہیں‘ جس کی طرف توجہ کی ضرورت ہوتی۔ پس جب یہ واقعہ ہے‘ کہ اسلامی تحریک کے ہر رہنما نے ہر ملک اور ہر زمانے میں تمام وقتی اور مقامی مسائل کو نظر انداز کر کے اسی ایک مسئلہ کو آگے رکھا اور اسی پر اپنا سارا زور صرف کیا تو اس سے صرف یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے‘ کہ ان کے نزدیک یہ مسئلہ اُمّ المسائل تھا‘ اور وہ اسی کے حل پر زندگی کے تمام مسائل کا حل موقوف سمجھتے تھے۔
اب یا تو یہ کہہ دیجیے کہ اسلامی تحریک کے وہ رہنما جو خدا کی طرف سے آئے تھے سب کے سب عملی سیاسیات سے نابلد تھے‘ نہ جانتے تھے‘ کہ انسانی زندگی کے معاملات میں کون سی چیز مقدّم اور کون سی موخّر ہونی چاہئے‘ اور انہیں خبر نہ تھی کہ آزادی کے لیے جدوجہد کس طرح کی جاتی ہے‘ اور ملکی معاملات کو حل کرنے کی کیا تدبیر یں ہیں۔ یا پھر یہ تسلیم کیجیے کہ اس دور میں جو حضرات اسلام کے نمائندے اور مسلمانوں کے قائد ورہنما بنے ہوئے ہیں وہ جزئیات شرع پر کتنا ہی عبور رکھتے ہوں۔ بہرحال اسلامی تحریک کے مزاج کو وہ نہیں سمجھتے اور نہیں جانتے کہ اس تحریک کو چلانے اور آگے بڑھانے کا طریقہ کیا ہے۔
تمام مسلمانوں کو جان لینا چاہئے کہ بحیثیت ایک مسلم جماعت ہونے کے ہمارا تعلق اس تحریک سے ہے‘ جس کے رہبر ورہنما انبیا علیہم السّلام تھے۔ ہر تحریک کا ایک خاص نظامِ فکر اور ایک خاص طریق کار ہوتا ہے۔ اسلام کا نظامِ فکر اور طریق کار وہ ہے‘ جو ہم کو ابنیا علیہم السّلام کی سیرتوں میں ملتا ہے۔ ہم خواہ کسی ملک اور کسی زمانہ میں ہوں‘ اور ہمارے گردو پیش زندگی کے مسائل ومعاملات خواہ کسی نوعیت کے ہوں‘ ہمارے لیے مقصد ونصب العین وہی ہے‘ جو انبیا کا تھا‘ اور اس منزل تک پہنچنے کا راستہ وہی ہے‘ جس پر ابنیا ہر زمانے میں چلتے رہے۔ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ ہَدَى اللہُ فَبِہُدٰىہُمُ اقْتَدِہْ۝۰ۭ{ FR 2514 } الانعام 90:6 ہمیں زندگی کے سارے معاملات کو اسی نظر سے دیکھنا چاہئے جس سے انہوں نے دیکھا۔ ہمارا معیار قدر وہی ہونا چاہیے جو ان کا تھا۔ اور ہماری اجتماعی پالیسی انہی خطوط پر قائم ہونی چاہئے‘ جن پر انہوں نے قائم کی تھی۔ اس مسلک کو چھوڑ کر اگر ہم کسی دوسرے مسلک کا نظریہ اور طرزِعمل اختیار کریں گے تو گمراہ ہوجائیںگے۔ یہ بات ہمارے مرتّبہ سے فروتر ہے‘ کہ ہم اس تنگ زاویہ سے معاملات دنیا پر نگاہ ڈالیں‘ جس سے ایک قوم پرست‘ یا ایک جمہوریت پسند‘ یا ایک اشتراکی ان کو دیکھتا ہے۔ جو چیزیں ان کے لیے بلند ترین منتہائے نظر ہیں وہ ہمارے لیے اتنی پست ہیں‘ کہ ادنی التفات کی بھی مستحق نہیں۔ اگر ہم ان کے سے رنگ ڈھنگ اختیار کریں گے‘ انہی کی زبان میں باتیں کریں گے‘ اور انہی گھٹیا درجہ کے مقاصد پر زور دیں گے‘ جن پر وہ فریفتہ ہیں‘ تو اپنی وقعت کو ہم خود ہی خاک میں ملا دیں گے۔ شیر اگر بکری کی سی بولی بولنے لگے‘ اور بُزغالوں{ FR 2515 } کی طرح گھاس پر ٹوٹ پڑے تو اس کے معنی یہ ہیں‘ کہ جنگل کی بادشاہی سے وہ آپ ہی دست بردار ہوگیا۔ اب وہ اس کی توقع کیسے کر سکتا ہے‘ کہ جنگل کے لوگ اس کی وہ حیثیت تسلیم کریں گے‘ جو شیر کی ہونی چاہئے؟یہ تعداد کی بنا پر قومی حکومت کے مطالبے‘ یہ اکثریت واقلیت کے نوحے‘ یہ تحفظات اور حقوق کی چیخ پکار‘ یہ انگریزی سلطنت اور والیانِ ریاست کے ظل عاطفت میں قومی مفاد کے تحفظ کی تدبیریں‘ اور دوسری طرف یہ آزادی وطن کے نعرے اور پنڈت نہرو کے سُروں میں امپیریلزم کی مخالفت یہ سب ہمارے لیے بکری کی بولیاں ہیں۔ یہ بولیاں بول کر ہم خود ایک غلط حیثیت اختیار کرتے ہیں‘ اور اپنی حیثیت اس قدر غلط طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں‘ کہ دنیا ہمیں بکری ہی سمجھنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ خدا نے ہمیں اس سے بہت اونچا منصب دیا ہے۔ ہمارا منصب یہ ہے‘ کہ ہم کھڑے ہوکر تمام دنیا سے غیر اﷲ کی حاکمیت مٹا دیں اور خدا کے بندوں پر خدا کے سوا کسی کی حاکمیت باقی نہ رہنے دیں۔ یہ شیر کا منصب ہے‘ اور اس منصب کو ادا کرنے کے لیے کسی قسم کی خارجی شرائط درکار نہیں ہیں۔ بلکہ صرف شیر کا دل درکار ہے۔ وہ شیر‘ شیر نہیں ہے‘ جو اگر پنجرے میں بند ہو‘ تو بکری کی طرح ممیانے لگے‘ اور شیر وہ بھی نہیں‘ جو بکریوں کی کثرت تعداد کو دیکھ کر یا بھیڑیوںیا چیرہ دستی دیکھ کر اپنی شیریّت بھول جائے۔ (ترجمان القرآن۔ مئی وجون۱۹۴۰ء)

خ خ خ

اصلی مسلمانوں کے لیے ایک ہی راہِ عمل

پہلے عرض کر چکا ہوں کہ اسلام تمام عالم انسانی کے لیے بنیادی اصلاح کا ایک پیغام اور عملی اصلاح کا ایک انقلابی پروگرام لے کر آیا ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے‘ کہ تمام انسان اﷲ وحدہٗ لاشریک کی حاکمیت تسلیم کریں‘حتیٰ کہ اس کے حکم کے سوا ہر دوسرا حکم باطل ہوجائے‘ اور اس کا پروگرام یہ ہے‘ کہ انسانوں میں سے جو لوگ اس دعوت کو قبول کریں‘ وہ ایک جتھا بنا کر اپنا پورا زور اس بنیادی اصلاح کو عملاً نافذ کرنے میں صرف کر دیں‘ یہاں تک کہ اشخاص کی‘ خاندانوں اور طبقوں کی‘ قوموں اور نسلوں کی فرماں روائی اور جمہور کی حکومت خود اختیاری بالکلیہ مٹ جائے‘ اور خدا کی سلطنت میں اس کی رعیت پر صرف اسی کا قانون عملاً جاری ہو۔ یہی پیغام اور یہی پروگرام انبیاء علیہم السّلام ابتدا سے لے کر آتے رہے ہیں۔ اسی ایک مقصد پر انہوں نے اپنی تمام سعی وجہد کو مرکوز کیا ہے۔ اور مسلمان‘ جو انبیاء کے وارث اور ان کے پیرو ہیں‘ ان کے لیے بھی اس کے سوا نہ کوئی دوسرا مقصد ہے‘ اور نہ کوئی دوسری راہِ عمل۔ مسلمانوں کی مختلف سیاسی جماعتوں پر مجھے جو کچھ اعتراض ہے وہ یہی ہے‘ کہ اپنے آپ کو مسلم (یعنی متبعین انبیا) کہنے کے باوجود انہوں نے اس نصب العین اور اس راہِ عمل کو چھوڑ کر ایسے مقاصد اور طریقے اختیار کر لیے ہیں‘ جن کو اسلام سے کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔
ان لوگوں کو چھوڑ کر جو اسلام کے علم سے بالکل ہی بے بہرہ ہیں‘ آج تک مجھے کوئی مسلمان‘ خواہ وہ کسی جماعت سے تعلق رکھتا ہو‘ ایسا نہیں ملا جس نے اس اعتراض کو سن کر اصولی حیثیت سے تسلیم نہ کیا ہو۔ سب مانتے ہیں‘ کہ بلا شبہ مسلمان کا اصلی کام یہی ہے‘ اور اسی منزل کی طرف انبیاء علیہم السّلام نے ہماری رہنمائی کی ہے‘ لیکن جواب میں دو مختلف سمتوں سے دو مختلف آوازیں آتی ہیں۔
’’آزادی پسند‘‘ علماء اور ان کے ہم خیال مسلمان اس راستہ پر آنے کی مشکلات یوں بیان فرماتے ہیں‘ کہ ہندوستان میں اگر صرف مسلمان آباد ہوتے‘ یا مسلمانوں کی بھاری اکثریت ہوتی‘ جیسی مصر‘ ایران‘ عراق وغیرہ ممالک میں ہے۔تب تو ہمارے لیے آسان تھا‘ کہ حکومت ِالٰہیہ کے لیے جدوجہد کرتے اور اس صورت میں اس کے قائم ہونے کا امکان بھی تھا مگر مشکل یہ ہے‘ کہ یہاں ہم قلیل التعداد ہیں‘ اکثریت غیر مسلم ہے‘ حکومتِ الٰہیہ کے نام سے کانوں پر ہاتھ رکھتی ہے‘ اور صرف مشترک وطنی حکومت ہی کے نصب العین تک اس کی نظر جا سکتی ہے۔ اوپر انگریزی حکومت بیٹھی ہے‘ جو ہمیں اور غیر مسلم ہمسایوں کو ایک ساتھ دبائے ہوئے ہے۔ خود مسلمانوں کی آبادی کا کثیر حصّہ بھی اخلاقی واعتقادی حیثیت سے انتہائی تنزل کی حالت میں ہے۔ لہٰذا اس وقت جو کچھ ہوسکتا ہے وہ یہی ہے‘ کہ مشترک حکومت کے نصب العین کو قبول کر کے غیر مسلموں کے ساتھ مل کر‘ انگریزی اقتدار سے نجات حاصل کر لی جائے۔ یہ مرحلہ طے ہونے کے بعد آزاد ہندستان میں ہم اپنی قوّتوں کو پھر مجتمع کریں گے‘ اور اپنے نصب العین کے لیے جدوجہد شروع کر دیں گے۔ اس کے سوا اور کوئی راستہ اس وقت قابلِ عمل نہیں ہے۔
دوسری طرف مسلم لیگ اور اس کے ہم خیال لوگ اپنی مشکلات کو ایک دوسرے رنگ میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں‘ کہ ہم یہاں اوّل تو قلیل التعداد ہیں‘ پھر تعلیمی اور معاشی حیثیت سے ہماری قوّت بہت کم ہے‘ اور مزید برآں ایک ایسی تنگ نظر اکثریت نے سیاسی اور معاشی قوّتوں کے منابع پر تسلّط حاصل کر لیا ہے‘ جو عملاً تو ہم کو ایک الگ قوم سمجھ کر تعلیم حاصل کرنے اور پیٹ بھرنے کے ہر دروازے سے دور ہٹاتی ہے۔ مگر سیاسی اغراض کے لیے‘ اصولاً ہمارے مستقل قومی وجود سے انکار کر دیتی ہے‘ اور چاہتی ہے‘ کہ ہم ’’ہندستانی قوم‘‘ میں شامل ہوکر یہاں ایک ایسی جمہوری حکومت قائم ہوجانے دیں جس میں سیاسی طاقت کے حصول کا ذریعہ محض ووٹوں کی کثرت ہو۔ اس مقصد میں اس کے کامیاب ہوجانے کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم اپنی قومی شخصیت ہی کو سرے سے کھو دیں۔ پھر بھلا حکومتِ الٰہیہ کا خواب کہاں دیکھا جا سکے گا؟ لہٰذا سرِدست اس کے سوا کوئی قابلِ عمل صورت نہیں ہے‘ کہ جس طرح دنیا کی اور سب قومیں اپنی تنظیم کیا کرتی ہیں اسی طرح ہم بھی اپنی تنظیم کریں‘ اور دنیا میں جس طرح سیاسی لڑائی لڑی جاتی ہے اسی طرح ہم بھی لڑکر سب سے پہلے ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے‘ اسی جمہوری دستور کے مطابق جو انگریزی تصوّرِ جمہوریت کے تحت بنتا ہے‘ اپنی حکومت قائم کر لیں۔ بعد میں جب اختیارات ہمارے ہاتھ میں آجائیں گے‘ تو ہم مسلمانوں کی تعلیم اور ان کی اخلاقی وتمدّنی حالت کو درست کر کے‘ رفتہ رفتہ حکومت جمہوریہ کو حکومتِ الٰہیہ میں تبدیل کر لیں گے‘ اور اﷲ نے چاہا تو پھر باقی ہندوستان کی بازیافت کے لیے بھی جدوجہد کرتے رہیں گے۔
بظاہر دونوں فریقوں کے خیالات میں بڑا وزن محسوس ہوتا ہے‘ اور یہی وجہ ہے‘ کہ ہندوستان کے مسلمان زیادہ تر انہی دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے‘ کہ جن مشکلات کا یہ لوگ ذکر کرتے ہیں ان میں قطعاً کوئی وزن نہیں ہے‘ بلکہ خود یہی بات کہ حکومتِ الٰہیہ کے راستے میں انہیں اس نوعیت کی مشکلات نظر آتی ہیں‘ اس امر کا صریح ثبوت ہے‘ کہ انہوں نے اسلامی تحریک کے مزاج اور اس کے طریق کار (technique)کو سرے سے سمجھا ہی نہیں۔ زیادہ گہرائی میں جانے کی ضرورت نہیں‘ اگر اس تحریک کی تاریخ ہمارے سامنے ہو‘ تو بادی النظر ہی میں ان عذرات کی غلطی نمایاں ہوجاتی ہے۔
دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی رسول آیا ہے اکیلا ہی آیا ہے۔ اقلیت اور اکثریت کا کیا سوال‘ وہاں سرے سے کوئی ’’مسلمان قوم‘‘ موجود ہی نہ تھی۔ ایک فی قوم‘ بلکہ ایک فی دنیا کی حیرت انگیز اقلیت کے ساتھ رسول یہ دعویٰ لے کر اُٹھتا ہے‘ کہ میں زمین پر خدا کی بادشاہت قائم کرنے آیا ہوں۔ چند گِنے چُنے آدمی اس کے ساتھ ہوجاتے ہیں‘ اور یہ آٹے میں نمک سے بھی کم اقلیت‘ حکومتِ الٰہیہ کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔ اکثریت کا سمندر اس کے ساتھ جو کچھ سلوک کرتا ہے‘ اس کے مقابلہ میں ہندستان کی غیر مسلم اکثریت کے اس قہر وتسلط کی سرے سے کوئی حیثیت ہی نہیں ہے‘ جس کا نوحہ کرتے کرتے ہمارے ’’مسلم قوم پرست‘‘ بھائیوں کے آنسو خشک ہوئے جا رہے ہیں۔ دفتروں کی ملازمت‘ منڈیوں کے کاروبار‘ اور ڈسٹرکٹ بوڑدوں کے معاملات کا کیا ذکر‘ وہاں سانس لینے کا حق بھی اس اقلیت کو نہیں دیا جاتا تھا۔ پھر حکومت‘ خواہ وہ ملکی ہویا غیر ملکی‘ جس پنجۂ ظلم وشکنجۂ قہر میں ان کو کستی تھی اس کو کسی معنی میں بھی ہندستان کے ان انگریز فرماںروائوں کے برتائو سے تمثیل نہیں دی جا سکتی‘ جن کے ظلم وجور کارونا ہمارے’’آزادی پسند‘‘ بھائی رات دن رویا کرتے ہیں‘ پھر یہ بھی کچھ ضروری نہ تھا‘ کہ بہرحال رسول اور اصحابِ رسول حکومتِ الٰہیہ قائم کرنے میں کامیاب ہوہی گئے ہوں۔ بار ہا وہ اس مقصد میں ناکام ہوئے ہیں۔ان کو اور ان کے ساتھیوں کو قتل کر دیا گیا ہے‘ اور خدائی کے جھوٹے مدعیوں نے اپنی دانست میں اس تحریک کا قلمع قمع کر کے چھوڑا ہے۔ مگر اس کے باوجود جو لوگ اﷲ پر ایمان لائے تھے‘ اور جن کے نزدیک کرنے کا کام بس یہی تھا‘ انہوں نے آخری سانس تک اسی مقصد کے لیے کام کیا‘ اور کسی ایک نے بھی اکثریت کا یا حکومت کا رنگ دیکھ کر‘ یا وقتی ومقامی مشکلات کا خیال کر کے دوسرے راستوں کی طرف ادنیٰ التفات تک نہ کیا۔
پس یہ کہنا بالکل غلط ہے‘ کہ اس تحریک کو اُٹھانے اور چلانے کے لیے خارج میں کسی سامان اور ماحول میں کسی ساز گاری کی ضرورت ہے۔ جس سامان اور جس ساز گار ماحول کو یہ لوگ ڈھونڈتے ہیں‘ وہ نہ کبھی فراہم ہوا ہے‘ نہ فراہم ہوگا۔ دراصل خارج میں نہیں‘ بلکہ مسلمان کے اپنے باطن میں ایمان کی ضرورت ہے۔ اس قلبی شہادت کی ضرورت ہے‘ کہ یہی مقصد حق ہے‘ اور اس عزم کی ضرورت ہے‘ کہ میرا جینا اور مرنا اسی مقصد کے لیے ہے۔ یہ ایمان‘ یہ شہادت‘ یہ عزم موجود ہو‘ تو دنیا بھر میں ایک اکیلا انسان یہ اعلان کرنے کے لیے کافی ہے‘ کہ میں زمین پر خدا کی بادشاہت قائم کرنا چاہتا ہوں۔ اس کی پُشت پر کسی منظم اقلیت یا کسی حکومتِ خود اختیاری رکھنے والی اکثریت کی قطعاً کوئی حاجت نہیں۔ نہ اس امر ہی کی کوئی حاجت ہے‘ کہ اس کا ملک پہلے بیرونی قوم کے تسلّط سے آزاد ہوجائے۔ بیرونی قوم کیا‘ اور گھر کی قوم کیا‘ اﷲ کے سوا دو سروں کی حاکمیت تسلیم کرنے والے سب انسان اس کے لیے یکساں ہیں۔ سب کی اس سے اور اس کی سب سے یکساں لڑائی ہے۔ حضرت مسیح علیہ السّلام سے رومیوں نے جو کچھ برتائو کیا‘ اس سے زیادہ ہولناک برتائو وہ تھا‘ جو حضرت ابراہیم علیہ السّلام سے ان کی اپنی قوم نے کیا۔
یہ تو وہ بات ہے‘ جو بادی النظر میں ہر وہ شخص محسوس کر سکتا ہے‘ جس نے قرآن کو سمجھ کر پڑھا ہے۔ لیکن ذرا زیادہ گہری نظر سے دیکھا جائے‘ تو معلوم ہوتا ہے‘ کہ جس نوعیت کی مشکلات کو یہ لوگ اپنی راہ میں حائل پار ہے ہیں‘ وہ دراصل ایک قوم کی مشکلات ہیں نہ کہ ایک تحریک کی۔جہاں ایک قوم اپنی زندگی اور اپنی قومی اغراض کے لیے جدوجہد کر رہی ہووہاں تو بلا شبہ اسی قسم کے مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ اس کے لیے ان سوالات میں بڑی اہمیت ہوتی ہے‘ کہ جس ملک میں وہ آباد ہے وہاں اس کی تعداد کتنی ہے؟ اس میں تنظیم ہے‘ یا نہیں؟اس کی تعلیمی حالت کیسی ہے؟اس کی معاشی حالت کیسی ہے؟اس کے اوپر ایک پتھر کا بوجھ ہے‘ یا دو پتھروں کا؟انہی سوالات کے جوابات پر اس کا مستقبل منحصر ہوتا ہے‘ اور انہی سوالات کے لحاظ سے اس کو اپنی پالیسی متعین کرنی پڑتی ہے۔ مگر ایک اصولی تحریک‘ جو کسی خاص قوم کی اغراض سے وابستہ نہ ہو‘بلکہ انسانی زندگی کی صلاح وفلاح کے لیے وہ ایک دعوت لے کر اُٹھے‘ اس کے سامنے ان سوالات میں سے کوئی سوال بھی نہیں ہوتا۔ اس کے مسائل کی نوعیت بالکل دوسری ہوتی ہے۔ اس کی کامیابی ونا کامی کا انحصار اس پر ہوتا ہے‘ کہ اس کے اصول بجائے خود معقول ہیں‘ یا نہیں؟ وہ انسانی زندگی کے مسائل کو کہاں تک حل کرتے ہیں؟ وہ بالعموم فطرتِ انسانی کو کس حد تک اپیل کرتے ہیں؟ اور اس کی طرف دعوت دینے والے خود اس کی پیروی میں کتنے مخلص اور کتنے صادق العزم ہیں؟
مسلمانوں کو جو کچھ بھی پریشانی پیش آرہی ہے اس کی اصل وجہ یہی ہے‘ کہ ان کے سوچنے والے دماغوں نے اپنی حیثیت کو ان دو مختلف حیثیتوں کے درمیان خلط ملط کر دیا ہے۔ کبھی تو یہ ان عزائم اور مقاصد کا اظہار کرتے ہیں‘ جن کا تعلق اسلامی تحریک سے ہے‘ اور ان کی باتوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے‘ کہ دراصل یہ ایک اصولی تحریک کے پیرو اور داعی ہیں۔ اور کبھی یہ محض ایک قوم بن کر رہ جاتے ہیں‘ اس طرح سوچنے لگتے ہیں‘ جس طرح قومیں سوچا کرتی ہیں‘ ایسے مسائل میں اُلجھ جاتے ہیں‘ جو صرف قوموں ہی کو پیش آتے ہیں‘ اور اپنے اس طرز فکر کی وجہ سے ان مشکلات کو سدِّ راہ پاتے ہیں‘ جو محض قومی مقاصد ہی کے لیے سدِّراہ ہوا کرتی ہیں۔ ان لوگوں نے آج تک ان دونوں حیثیتوں کے فرق کو نہیں سمجھا‘ نہ واضح طور پر فیصلہ کیا کہ دراصل یہ ہیں کیا۔ اسی لیے یہ کوئی ایسی پالیسی ابھی تک اپنے لیے متعین نہ کر سکے‘ جو تناقض سے خالی اور اُلجھائو سے پاک ہو۔
یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے‘ کہ قومیّت اور قومی اغراض قابلِ تبلیغ چیزیں نہیں ہیں۔ مثلاً جرمنیّت‘ اطالویّت‘ انگریزیت یا ہندویّت کے متعلق کوئی شخص بھی یہ تصوّر نہیں کر سکتاکہ ان کی طرف دوسروں کو دعوت دی جا سکتی ہے۔ یہ کوئی اصول نہیں ہیں‘ کہ ہر انسان کے سامنے انہیں پیش کیا جا سکے۔ یہ تونسل‘ تاریخ اور تمدّن کے بنے ہوئے بے لچک دائرے ہیں۔ ان داروں کے مفاد اور مقاصد سے جو کچھ بھی دل چسپی ہوسکتی ہے‘ انہی لوگوں کو ہوسکتی ہے‘ جو ان دائروں کے اندر پیدا ہوئے ہوں۔ دوسرے دائروں کے لوگوں کو ان سے دل چسپی ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ایک جرمن اپنی جرمنیت کی بنیاد پر کوئی کام کرنا چاہے تو لامحالہ وہ جرمنوں ہی سے ہمدردی واعانت کی توقع کر سکتا ہے۔ انگریز کو کیا پڑی ہے‘ کہ جرمنیت کی زندگی یا اس کی برتری کے معاملہ میں اس کا ساتھ دے۔ جرمنوں کا بول بالا کرنے کی تڑپ تو صرف جرمنوں ہی میں پیدا ہوسکتی ہے۔ اور یہ بالکل فطری بات ہے‘ کہ ان کے مقابلہ میں انگریز بھی متحد ہوکر اپنا بول بالا کرنے یا رکھنے کے لیے سینہ سپر ہوجائیں۔ یہ ضرور ممکن ہے‘ کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے بعض افراد کو ناجائز ذرائع سے خرید کر اپنا آلہ کار بنا لیں‘ مگر یہ ممکن نہیں ہے‘ کہ انگریز جرمنیت پر ایمان لاکر جرمنوں کا ولیِ حَمِیم بن جائے‘ یا جرمن انگریزیت اختیار کر کے انگریزوں کا حامی وناصر بن جائے۔ یہی وجہ ہے‘ کہ جہاں دو قوموں کے درمیان موافقت ہوتی ہے۔ وہاں محض خود غرضی کی موافقت ہوا کرتی ہے‘ اور صرف اس وقت تک قائم رہتی ہے‘ جب تک خود غرضی اس کی مقتضی ہو۔ اور جہاں ان کے درمیان کشمکش ومزاحمت ہوتی ہے‘ وہاں دونوں کو صرف اپنی قومی طاقت‘ اپنی تنظیم‘ اپنے معاشی وسائل‘ اپنی تعداد‘ اور اپنے آلاتِ جنگ ہی پر بھروسا کرنا پڑتا ہے۔ اس اعتبار سے جو قوم کمزور ہووہ پِس جاتی ہے‘ اور جو طاقت ور ہووہ اُسے پیس ڈالتی ہے۔ جرمنی کے مقابلہ میں پولینڈ‘ ڈنمارک‘ ناروے‘ ہالینڈ‘ بلجیم اور فرانس کیوں مغلوب ہوگئے؟ فن لینڈ اور رومانیا کو روس اور جرمنی سے کیوں دبنا پڑا؟اسی لیے کہ مقابلہ ایک قوم اور دوسری قوم کا تھا۔ دونوں طرف قومیّتیں تھیں۔ لہٰذا جس کی قومیّت‘ تعداد اور آلات ووسائل اور تنظیم میں بڑھی ہوئی تھی اس نے کمزور کو دبا لیا۔ کوئی فریق بھی خالص انسانیت کی بنیاد پر ‘ایسے اصول لے کر نہ اُٹھا تھا‘ کہ مخالف فریق کے انسانوں کو اپیل کرتا‘ اور یہ ممکن ہوتاکہ خود دشمنوں میں سے اس کو دوست ملتے چلے جاتے۔
یہ ہوتی ہے ایک قوم کی حیثیت۔اب غور کیجیے کہ فی الحقیقت کیا مسلمانوں کی حیثیت اس دنیا میں یا اس ہندوستان میں یہی ہے؟کیا ہم محض نسل‘ تاریخ اور موروثی تمدّن کا بنایا ہوا‘ ایک ایسا گروہ (group)ہیں‘ جس کی قومیّت دنیا کی تمام قومیّتوں کی طرح ناقابلِ تبلیغ ہو؟کیا ہمارے مقاصد کی نوعیت بھی انہی قومی اغراض ومقاصد کی سی ہے‘ جن پر دوسری قوموں کا ایمان لانا فطرتاً غیر ممکن ہوتا ہے؟ کیا ہمارے مقاصد اسی قسم کے قومی مقاصد ہیں‘ جن کا حصول صرف ایک قوم کی تعداد‘ تنظیم اور وسائل ہی پر موقوف ہوتا ہے؟ کیا وہ اسلامی حکومت جس کا ہم نام لیا کرتے ہیں‘ محض ایک قومی ریاست (national state)ہے‘ جس کے قیام کی بنیاد ایک قوم کی کثرت تعداد ہوا کرتی ہے؟کیا قلیل التعداد ہونے کی صورت میں‘ ہماری حیثیت واقعی ایک قومی اقلیت (national minority)کی رہ جاتی ہے‘ جس کے لیے اکثریت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے یا پھر اپنی انفرادیت کے تحفظ کی تدبیریں اختیار کرنے کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہوتا؟کیا حقیقت میں دنیا کی دوسری قوموں کی طرح‘ ہمارے لیے بھی آزادی کا یہی مفہوم ہے‘ کہ ہمیں غیر قوم کی حکومت سے نجات حاصل ہوجائے؟ اور کیا اپنی قوم کی حکومت یا اپنے اہلِ وطن کی حکومت قائم ہوجانا ہمارے مقاصد کے لیے بھی ضروری ہے؟
اگر واقعی یہی ہماری حیثیت ہے‘ تو بلا شبہ وہ سب کچھ صحیح ہے‘ جو مسلمانوں کی مختلف جماعتیں اس وقت کر رہی ہیں۔ غیر مسلم ہمسایوں کے ساتھ مل کر آزادی کی جدوجہد بھی صحیح‘ برطانوی حکومت اور دیسی ریاستوں کا سہارا لے کر ہندو امپیریل ازم کا مقابلہ بھی صحیح فوج میں اور سرکاری ملازمتوں میں اور انتخابی مجالس میں اپنی نمائندگی کا جھگڑا بھی صحیح‘ مسلم ریاستوں کی حمایت بھی صحیح‘ تقسیمِ ملک کا مطالبہ بھی صحیح‘ خاک ساروں کی فوجی تنظیم بھی صحیح‘ اور وہ مسلم قومی پرستی بھی صحیح‘ جس کی بنا پر حق اور اصول سے قطع نظر کر کے‘ ہر اس فائدے کو دانتوں سے پکڑا جاتا ہے‘ جو مسلمان قوم یا مسلمان اشخاص کو حاصل ہوتا ہو۔ غرض یہ سب کچھ صحیح ہے‘ کیونکہ قومیّت کا آئین یہی ہے‘ قومیں یونہی کام کیا کرتی ہیں‘ اور ایک قوم جو کسی اصول کی علم بردار دار نہیں‘ بلکہ محض اپنی قومی بہتری کی خواہش مند ہو‘ ان تدابیر کے سوا آخر اور کیا تدبیریں اختیار کر سکتی ہے؟البتہ ان سب چیزوں کے ساتھ اگر کوئی بات غیر صحیح ہے‘ تو وہ ہماری یہ خوش فہمی ہے‘ کہ یہ حیثیت اختیار کرنے کے بعد بھی ہم اس زمین پر حکومتِ الٰہیہ قائم کر سکیں گے‘ حالانکہ اس حیثیت میں یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر ہوہی نہیں سکتا۔
دراصل ایک ملک پر نہیں‘ بلکہ ساری دنیا پر چھا جانے کی قوّت اگر ہے‘ تو وہ صرف ایک ایسی اصولی تحریک میں ہے‘ جو انسان کو بحیثیت ِانسان خطاب کرتی ہو‘ اور اس کے سامنے خود اس کی اپنی فلاح کے فطری اصول پیش کرتی ہو۔ قومیّت کے برعکس ایسی تحریک ایک تبلیغی طاقت ہوتی ہے۔ قومیّت کے حصار‘ نسلوں کے تعصّبات‘ قومی ریاستوں کے مضبوط بند‘ کوئی چیز بھی اس کا راستہ نہیں روک سکتی۔وہ ہر طرف‘ ہر جگہ نفوذ کرتی چلی جاتی ہے۔ اس کی طاقت کا انحصار اپنے پیروئوں کی تعداد یا ان کے وسائل پر نہیں ہوتا۔ ایک اکیلا آدمی اس کو اُٹھانے کے لیے کافی ہے۔ پھر وہ خود اپنے اصولوں کی طاقت سے آگے بڑھتی ہے۔ وہ اپنے دشمنوں سے دوست پیدا کرتی ہے۔ سب قوموں میں سے آدمی ٹوٹ ٹوٹ کر اس کے جھنڈے کے نیچے آنے لگتے ہیں‘ اور وسائل اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ جو فوجیں اس سے لڑنے آتی ہیں ان پر وہ صرف اپنی توپ وتفنگ سے ہی آتشباری نہیں کرتی بلکہ اپنی تعلیم اور اپنے اصولوں کے تیر بھی چلاتی ہے۔ خون کے پیاسے دشمنوں میں سے وہ اپنے سرگرم حامی ڈھونڈ نکالتی ہے۔ سپاہی‘ جنرل‘ ماہرینِ فنون‘ سرمایہ دار‘ صنّاع اور کاریگر سب انہی میں سے اس کو مل جاتے ہیں۔اور بے سرو سامانی میں سے ہر قسم کا سامان نکلتا چلا آتا ہے۔ قومیّتیں اس کے سیلاب کے مقابلہ میں کبھی نہیں ٹھہر سکتیں۔ بڑے بڑے پہاڑ اس کے سامنے آتے ہیں‘ اور نمک کی طرح پگھل پگھل کر اس آبِ رواں میں جذب ہوجاتے ہیں۔اس کے لیے اقلیت اور اکثریت کے سارے سوالات بے معنی ہیں۔ وہ اس کی ہر گز محتاج نہیں ہوتی‘ کہ کسی منظم اور باوسیلہ قوم کی طاقت اس کی پشت پر ہو۔ وہ قومی حکومت قائم کرنے نہیں اُٹھتی‘ کہ قومیں اس کی مزاحمت کر سکیں۔ اسے تو ایک ایسے اصول کی حکومت قائم کرنی ہوتی ہے‘ جو سب قوموں کے لوگوں کی فطرت کو اپیل کرتا ہے۔ جاہلی تعصّبات کچھ دیر تک اس سے لڑتے رہتے ہیں‘ مگر جب فطرت انسانی پر لگا ہوا زنگ چھوٹتا ہے‘ تو وہ کیفیت ہوتی ہے‘ کہ:
ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ برکف
بامید آنکہ روزے بہ شکار خواہی آمد
مسلمان قرآن اور سیرتِ رسولa کے آئینے میں اپنی صورت دیکھیں۔ جس چیز کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں‘ کہیں وہ اسی نوعیت کی تحریک تو نہیں ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے‘ کہ وہ قوموں کے درمیان رہتے رہتے اور انہی جیسی تعلیم وتربیت پا کر اپنی اصلی حیثیت بھول گئے ہوں ‘اور خواہ مخواہ اپنے آپ کو ’’قوم‘‘ کہتے کہتے انہوں نے وہ سب محدودیّتیں بھی اپنے خیال میں خود اپنے اوپر عائد کر لی ہوں‘ جو ایک قلیل الوسائل قوم کے لیے مخصوص ہوتی ہیں؟
اگر واقعہ یہی ہے‘ اور مسلمانوں کی اصل حیثیت ایک عالم گیر اصولی تحریک کے پیروئوں اور داعیوں کی ہے‘ تو وہ سارے مسائل یک قلم اُڑ جاتے ہیں‘ جن پر اب تک مسلمانوں کے سیاسی ومذہبی رہنما وقت ضائع کرتے رہے ہیں۔ پوری صورت حال بالکل بدل جاتی ہے۔مسلم لیگ‘احرار‘ خاک سار‘ جمعیتہ العلماء اور آزاد کانفرنس‘سب کی اس وقت تک کی تمام کارروائیاں حرف باطل کی طرح محو کر دینے کے لائق ٹھیرتی ہیں۔ نہ ہم قومی اقلیّت ہیں۔نہ آبادی کے فی صدی تناسب پر ہمارے وزن کا انحصار ہے‘ نہ ہندوئوں سے ہمارا کوئی قومی جھگڑا ہے‘ نہ انگریزوں سے وطنیت کی بنیاد پر ہماری لڑائی ہے‘ نہ ان ریاستوں سے ہمارا کوئی رشتہ ہے‘ جہاں نام نہاد مسلمان خدا بنے بیٹھے ہیں‘ نہ اقلیت کی حیثیت سے اپنے تحفظ کی ہمیں ضرورت ہے‘ نہ اکثریت کی بنیاد پر اپنی قومی حکومت ہمیں مطلوب ہے۔ ہمارے سامنے تو صرف ایک مقصد ہے‘ اور وہ یہ ہے‘ کہ اﷲ کے بندے اﷲ کے سوا کسی کے محکوم نہ ہوں‘ بندوں کی حاکمیت ختم ہوجائے‘ اور حکومت اس قانون عدل کی قائم ہو‘ جو اﷲ نے خود بھیجا ہے اس مقصد کو ہم انگریزو الیانِ ریاست‘ ہندو‘ سکھ‘ عیسا ئی‘ پارسی اور مردم شماری کے مسلمان‘ سب کے سامنے پیش کریں گے۔ جو اسے قبول کرے گا وہ ہمارا رفیق ہے‘ اور جو اس سے انکار کرے گا اس سے ہماری لڑائی ہے‘ بلا لحاظ اس کے کہ اس کی طاقت کتنی ہے‘ اور ہماری کتنی۔
یہ حیثیت اختیار کرنے اور اس تحریک کو لے کر اُٹھنے کے لیے یہ ضروری ہے‘ کہ ہم اپنے شخصی اور قومی مفاد واغراض کو بھول جائیں‘ تمام تعصّبات سے بالا تر ہوجائیں‘ اور چھوٹی چھوٹی چیزوں سے نظر ہٹا لیں‘ جن سے ہمارے حقیر دنیوی فوائد کا تعلق ہے۔ اگر ہم میں ہندستانیت کا تعصّب ہوگا‘ تو فطری بات ہے‘ کہ انگریز اور ہر غیر ہندستانی کے کان ہماری دعوت کے لیے بہرے ہوجائیں گے۔ اگر ہم نام نہاد مسلم قوم کے تعصّب میں مبتلا ہوں‘ تو کوئی وجہ نہیں کہ ہندو یا سکھ یا عیسائی کے دل کا دروازہ ہماری پکار کے لیے کھل جائے۔ اگر ہم حیدر آباد‘ بھوپال‘ بہاول پور اورر ام پور جیسی ریاستوں کی حمایت محض اس لیے کریں کہ ان کے رئیس مسلمان ہیں‘ اور ان سے مسلمانوں کو کچھ معاشی سہارا مل جاتا ہے‘ تو کوئی احمق ہی ہوگا‘ جو اس کے بعد بھی یہ باور کرے لے گا کہ ہم اسلام کے نظریہ سیاسی پر ایمان رکھتے ہیں‘ اور واقعی حکومت ِاللٰہی قائم کرنا ہمارا نصب العین ہے۔ اگر ہم غیر مسلم حکومت کی ملازمت اور غیراسلامی جمہوری ادارات میں مسلمانوں کی نمائندگی پر جھگڑا کریں‘ تو ہماری اس آواز میں کوئی وزن باقی نہ رہے گا کہ ہم اصولِ اسلام کی فرما نروائی قائم کرنے اُٹھے ہیں۔ اگر ہم تناسب آبادی کے لحاظ سے تقسیم ملک کا مطالبہ کریں‘ تو غیر مسلموں کو ہم میں اور خود اپنے آپ میں سرے سے کوئی فرق ہی محسوس نہ ہوگا کہ وہ اپنا مقام چھوڑ کر ہماری دعوت پر لبیک کہنے کی کوئی ضرورت سمجھیں۔ اگر ہم غیراسلامی اصول پر مشترک وطنی حکومت قائم کرنے میں حصّہ لیں تو ہمارے اس فعل میں اور ہماری اس دعوت میں ایسا صریح تنا قض ہوگا کہ ہماری صداقت کیا معنی‘ صحت ِعقل تک مشتبہ ہوکر رہ جائے گی۔ اس راستے پر چلنے کے لیے ہمیں یہ سب کچھ چھوڑنا ہوگا۔ بلا شبہ ہمیں اس سے بہت نقصانات پہنچیں گے‘ مگر ایسے نقصانات اُٹھائے بغیراسلامی تحریک نہ کبھی چلی ہے نہ چل سکتی ہے۔ جو کچھ جاتا ہے جانے دو۔ سید نامسیح علیہ السلام کے قول کے مطابق جُبّہ جاتا ہے‘ تو کُرتا بھی چھوڑنے کے لیے تیار ہوجائو۔ تب ہی خدا کی بادشاہت زمین پر قائم ہوسکے گی۔ (ترجمان القرآن۔ جولائی ۱۹۴۰ء)
خ خ خ

اسلام کی راہِ راست اور اس سے انحراف کی راہیں

مسلمانوں میں سے جو لوگ پاکستان کے نصب العین پر اپنی نظر جمائے ہوئے ہیں‘ اور جو انگریزی حکومت سے ہندستان کی آزادی پر اپنی تمام اُمیدوں کا انحصار رکھتے ہیں۔ اور جو ان دونوں کے درمیان مختلف راہیں تلاش کر رہے ہیں‘ ان سب کے اندر ایک چیز مجھے مشترک نظر آتی ہے‘ اور وہ یہ ہے‘ کہ اسلام کے اصلی نصب العین کی طرف براہِ راست پیش قدمی کرنے سے یہ سب لوگ جھجکتے ہیں‘ مشکلات کا ایک بہت بڑا پہاڑ ان کو اس راستہ میں حامل نظر آتا ہے‘ اور اس کو دور سے دیکھ کر یہ دائیں یا بائیں جانب مڑ جاتے ہیں‘ تاکہ پھیر کے راستوں سے نکل جائیں۔ حالانکہ میں علیٰ وجہ البصیرت یہ سمجھتا ہوں کہ اسلامی نصب العین تک کسی پھیر کے راستے سے پہنچنا غیر ممکن ہے۔ اس کی طرف اگر پیش قدمی کی جا سکتی ہے‘ تو براہِ راست ہی کی جا سکتی ہے‘ اور جو مشکلات اس راستہ میں نظر آتی ہیں وہ ناقابلِ عبور نہیں ہیں‘ بشرطیکہ ان کو صحیح طور سے سمجھنے اور دور کرنے کی کوشش کی جائے۔
اوپر کے فقرے میں جو مجمل دعویٰ میں نے کیا ہے اب میں اسی کا تجزّیہ کر کے ایک ایک جُزو پر الگ الگ بحث کروں گا۔
۱- اصل اسلامی نصب العین کیا ہے؟
۲- اس کی طرف پیش قدمی کا سیدھا راستہ کون سا ہے؟
۳- اس راستہ میں جو مشکلات نظر آتی ہیں وہ کیا ہیں؟
۴- ان مشکلات کو دیکھ کر پھیر کے راستے کون کون سے اختیار کیے جا رہے ہیں؟
۵- ان مختلف راستوں میں غلطی کیا ہے‘ اور یہ اصل مقصود تک کیوں نہیں پہنچا سکتے؟
۶- مشکلات کی حقیقی نوعیت کیا ہے‘ اور وہ کس طرح دور ہوسکتی ہیں؟
یہ سوالات ہیں‘ جن پر مجھے اس مضمون میں مختصراً بحث کرنی ہے۔

۱۔اسلامی نصب العین

پہلے سوال کا جواب قرآن مجید میں جو کچھ دیا گیا ہے وہ یہ ہے:
ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۝۰ۙ وَلَوْ كَرِہَ الْمُشْرِكُوْنَo التوبہ 33:9
وہی ہے (یعنی اﷲ)جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا‘ تاکہ اس کو پوری جنسِ دین پر غالب کر دے خواہ یہ کام مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔
اس آیت میں اَلْھُدٰی (ہدایت) سے مراد دنیا میں زندگی بسر کرنے کا صحیح طریقہ ہے۔انفرادی برتائو‘ خاندانی نظام‘ سوسائٹی کی ترکیب‘ معاشی معاملات‘ ملکی انتظام‘ سیاسی حکمت عملی‘ بین الاقوامی تعلقات‘ غرض زندگی کے تمام پہلوئوں میں انسانی زندگی کے لیے صحیح روّیہ کیا ہونا چاہئے‘ یہ چیز اﷲ نے اپنے رسول کو بتا کر بھیجا ہے۔
دوسری چیز جو اﷲ کا رسول لے کر آیا ہے وہ دینِ حق ہے۔ دین کے معنی اطاعت کے ہیں۔ کیش اور مذہب کے لیے جو دین کا لفظ استعمال ہوتا ہے‘ یہ اس کا اصل مفہوم نہیں ہے‘ بلکہ اس کو دین اس وجہ سے کہتے ہیں‘ کہ اس میں بھی انسان خیال وعمل کے ایک خاص سسٹم کی اطاعت کرتا ہے۔ دراصل ’’دین‘‘ کا لفظ قریب قریب وہی معنی رکھتا ہے‘ جو زمانۂ حال میں ’’اسٹیٹ‘‘ کے معنی ہیں۔ لوگوں کا کسی بالا تر اقتدار کو تسلیم کر کے اس کی اطاعت کرنا‘ یہ ’’اسٹیٹ‘‘ ہے۔ یہی ’’دین‘‘ کا مفہوم بھی ہے۔ اور ’’دینِ حق‘‘ یہ ہے‘ کہ انسان دوسرے انسانوں کی خود اپنے نفس کی اور تمام مخلوقات کی بندگی واطاعت چھوڑ کر‘ صرف اﷲ کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرے‘ اور اسی کی بندگی واطاعت اختیار کرے۔ پس درحقیقت اﷲ کا رسولa اپنے بھیجنے والے کی طرف سے ایک ایسے ’’اسٹیٹ‘‘ کا نظام لے کر آیا ہے‘ جس میں نہ تو انسان کی خود اختیاری کے لیے کوئی جگہ ہے‘ نہ انسان پر انسان کی حاکمیت کے لیے کوئی مقام‘ بلکہ حاکمیت اور اقتدارِ اعلیٰ جو کچھ بھی ہے صرف اﷲ کے لیے ہے۔{ FR 2516 }
پھررسول کے بھیجنے کا مقصد یہ بتایا گیا ہے‘ کہ وہ اس نظامِ اطاعت (دین)اور قانونِ حیات (الہدی)کو پوری جنسِ دین پر غالب کر دے۔ پوری جنسِ دین سے کیا مراد ہے؟دنیا میں انسان انفرادی یا اجتماعی طور پر جن جن صورتوں سے کسی کی اطاعت کر رہا ہے‘ وہ سب’’جنسِ دین‘‘کی مختلف انواع ہیں۔ بیٹے کا والدین کی اطاعت کرنا‘ بیوی کا شوہر کی اطاعت کرنا‘ نوکر کا آقا کی اطاعت کرنا‘ ماتحت کا افسر کی اطاعت کرنا‘ رعیت کا حکومت کی اطاعت کرنا‘ پیروئوں کا پیشوائوں اور لیڈروں کی اطاعت کرنا‘ یہ اور ایسی ہی بے شمار اطاعتیں بحیثیت مجموعی ایک نظامِ اطاعت بناتی ہیں‘ اور اﷲ کی طرف سے رسول کے آنے کا مقصد یہ ہے‘ کہ یہ پورا نظامِ اطاعت اپنے تمام اجزا سمیت ایک بڑی اطاعت اور ایک بڑے قانون کے ماتحت ہوجائے‘ تمام اطاعتیں اﷲ کی اطاعت کے تابع ہوں‘ ان سب کو مُنْضَبِطْ(regulate)کرنے والا ایک اﷲ ہی کا قانون ہو‘ اور اس بڑی اطاعت اور اس ضابطہ قانون کی حدود سے باہر کوئی اطاعت باقی نہ رہے۔
یہ رسول کا مشن ہے‘ اور رسول اس مشن کو پورا کرنے پر مامور ہے خواہ شرک کرنے والے اس پر کتنی ہی ناک بھوں چڑھائیں۔ شرک کرنے والے کون ہیں؟ وہ سب لوگ جو اپنی انفرادی واجتماعی زندگی میں اﷲ کی اطاعت کے ساتھ دوسری مستقل بالذّات (یعنی خدا کی اطاعت سے آزاد) اطاعتیں شریک کرتے ہیں۔ جہاں تک اﷲ کے قانون طبیعی(law of nature)کا تعلق ہے‘ ہر انسان طوعاً وکرہاً اس کی اطاعت کر رہا ہے‘ کیونکہ اس کے بغیر تو اس کے لیے کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔ مگر جہاں تک انسان کے دائرہ اختیار کا تعلق ہے اس دائرے میں بعض انسان تو بالکل ہی غیر اﷲ کے مطیع بن جاتے ہیں‘ اور بعض انسان اپنی زندگی کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے‘ کسی حصّہ میں خدا کے بھیجے ہوئے قانون اخلاقی (شریعت)کی اطاعت کرتے ہیں‘ اور کسی دوسرے حصے میں اپنے نفس یا دوسروں کی اطاعت بجا لاتے ہیں۔اسی چیز کا نام اﷲ کی اطاعت کے ساتھ دوسری اطاعتوں کو شریک کرنا ہے‘ اور جو لوگ شرک کی ان مختلف صورتوں میں مبتلا ہیں‘ ان کو یہ بات ناگوار ہوتی ہے‘ کہ اپنی فطری اطاعت کی طرح‘ اپنی اختیاری اطاعت وبندگی کو بھی بالکلیہ اﷲ کے لیے خالص کر دیں۔ خواہ نادانی کے سبب سے یا اخلاقی کمزوری کے سبب سے بہرحال وہ شرک پر اصرار کرتے ہیں۔ لیکن اﷲ کے رسول پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے‘ کہ ایسے لوگوں کی مزاحمت کے باوجود اپنے مشن کو پورا کرے۔

۲- اس نصب العین تک پہنچنے کا سیدھا راستہ

یہ ہے اسلامی نصب العین اور اس نصب العین کی طرف پیش قدمی کرنے کے لیے راہِ راست وہی ہے‘ جو اﷲ کے رسولa نے اختیار کی‘ یعنی یہ کہ لوگوں کو ’’الہدیٰ‘‘اور ’’دینِ حق‘‘کی طرف دعوت دی جائے۔ پھر جو لوگ اس دعوت کو قبول کر کے اپنی بندگی واطاعت کو اﷲ کے لیے خالص کر دیں‘ دوسری اطاعتوں کو اﷲ کی اطاعت کے ساتھ شریک کرنا چھوڑ دیں۔ اور خدا کے قانون کو اپنی زندگی کا قانون بنا لیں‘ ان کا ایک مضبوط جتھا بنایا جائے۔ پھر یہ جتھا تمام ان اخلاقی‘ علمی اور مادی ذرائع سے جو اس کے امکان میں ہوں‘ دینِ حق کو قائم کرنے کے لیے جہاد کبیر کرے‘ یہاں تک کہ اﷲ کے سوا دوسری اطاعتیں‘ جن جن طاقتوںکے بل پر قائم ہیں‘ ان سب کا زور ٹوٹ جائے‘ اور پورے نظامِ اطاعت پر وہی ’’الہدیٰ‘‘ اور ’’دینِ حق‘‘غالب آجائے۔
اس راہِ راست کا ہر جُزو قابلِ غور ہے۔
پہلا جُزو یہ ہے‘ کہ انسانوں کو بالعموم اﷲ کی حاکمیت واقتدار اعلیٰ تسلیم کرنے اور اس کے بھیجے ہوئے قانون کو اپنی زندگی کا قانون بنانے کی دعوت دی جائے۔ یہ دعوتِ عام ہونی چاہئے‘ ہر وقت جاری رہنی چاہئے‘ اور اس کے ساتھ دوسری غیر متعلق باتوں کی آمیزش نہ ہونی چاہئے۔ قوموں اور نسلوں اور ملکوں کے باہمی جھگڑے‘ خود اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کی بحثیں‘ غیر الٰہی نظامات میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دینا‘ یا کسی ایسے نظامِ فاسد کی خود غرضا نہ حمایت کرنا‘ یا کسی نظامِ فاسد میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرنا‘ یہ سب چیزیں نہ صرف یہ کہ ’’الہٰدی‘‘اور’’دینِ حق‘‘ کے ساتھ میل نہیں کھاتیں بلکہ صریح طور پر اس کے منافی اور اس کے لیے مضرت رساں ہیں۔ پس جب کسی شخص یا گروہ کو دعوتِ حق کی خدمت انجام دینی ہو‘ تو اسے ان تمام جھگڑوں اور بحثوں سے الگ ہوجانا چاہئے‘ اور اپنی دعوت کے ساتھ کسی دوسرے غیر متعلق اور بے جوڑ قضیے کو شامل نہ کرنا چاہئے۔
دوسرا جُزو یہ ہے‘ کہ جتّھا صرف ان لوگوں کا بنایا جائے‘ جو اس دعوت کو جان کر اور سمجھ کر قبول کریں‘ جو بندگی واطاعت کو فی الواقع اﷲ کے لیے خالص کر دیں‘ جو دوسری اطاعتوں کو اﷲ کی اطاعت کے ساتھ واقعی شریک کرنا چھوڑ دیں اور حقیقت میں اﷲ کے قانون کو اپنا قانونِ زندگی بنا لیں۔ رہے دوسرے لوگ جو اس طرز خیال یا اس طرز زندگی کے محض معترف ہوں‘ یا اس سے ہمدردی رکھتے ہوں‘ تو وہ مجاہدہ کرنے والے جتھے کے لیڈر کیا معنی‘ کارکن بھی نہیں بن سکتے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ جو جس درجہ میں بھی اس کا ہمدرد یا بیرونی معاون بن جائے بسا غنیمت ہے‘ مگر ارکان اور ہمدروں کے درمیان جو حقیقی فرق وامتیاز ہے اسے کسی حال میں بھی نظر انداز نہ کرنا چاہئے۔
تیسرا جُزویہ ہے‘ کہ براہِ راست غیر الٰہی نظامِ اطاعت پر حملہ کیا جائے‘ تمام کوششوں کا مقصود صرف اس ایک بات کو بنایا جائے کہ اﷲ کی حاکمیت قائم ہو‘ اور اس کے سوا کسی دوسری چیز کو مقصود بنا کر اس کے پیچھے قوّتیں ضائع نہ کی جائیں۔ { FR 2517 }

۳-مشکلات

اس وقت ہندستان میں مسلمانوں کی جتنی مستقل سیاسی جماعتیں ہیں قریب قریب ان سب کا دعویٰ یہی ہے‘ کہ ہمارا نصب العین اسلامی نصب العین ہی ہے‘ مگر ان سب نے اس راہِ راست کو چھوڑ دیا ہے‘ جس کی تشریح ابھی میں نے بیان کی ہے وہ نہ تو ’’الہدی‘‘ اور ’’دینِ حق‘‘کی خالص‘ بے آمیز دعوتِ عام دیتی ہیں‘ نہ اس پارٹی کی تشکیل کرتی ہیں‘ جس کی قیادت ورکنیت صرف ان لوگوں تک محدود ہوجو واقعی اپنی بندگی واطاعت کو اﷲ کے لیے خالص کرتے ہوں ‘اور نہ وہ غیر متعلق مقاصد کو چھوڑ کر صرف اس ایک مقصد کو اپنی کوششوں کا ہدف بناتی ہیں‘ جس کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے۔ راہِ راست کے ان تینوں اجزاء سے یہ سب جماعتیں منحرف ہیں۔
اس انحراف نے مختلف جماعتوں کے مسلک میں کیا کیا صورتیں اختیار کی ہیں؟اس کی تفصیل تو میں بعد میں بیان کروں گا۔پہلے میں اس احراف کا سبب بتا دینا چاہتا ہوں۔اس کا سبب یہ ہے‘ کہ ان لوگوں کو اصل اسلامی نصب العین کی طرف براہِ راست پیش قدمی کرنے میں تین تین بڑی مشکلات نظر آتی ہیں‘ جن کا کوئی حل ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔
(۱) سب سے پہلی مشکل جوان کے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے‘ کہ ’’الہدیٰ‘‘ اور’’دینِ حق‘‘ کی طرف دعوتِ عام کا نتیجہ خیز اور کامیاب ہونا موجودہ حالات میں ان کو محال نظر آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں‘ کہ دوسری تحریکیں تو محض سیاسی‘ تمدّنی اور معاشی مسائل کا حل پیش کرتی ہیں‘ اور جن لوگوں کو ان کا تجویز کردہ حل اپیل کرتا ہے‘ وہ اپنا مذہب اور اپنی قومیّت تبدیل کئے بغیر ان تحریکوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ مگر اسلام محض دنیوی مسائل کا حل پیش نہیں کرتا‘ بلکہ عقائد کا ایک نظام اور عبادات اور قوانینِ شرعیہ کا ایک ضابطہ بھی پیش کرتا ہے۔اور اس تحریک میں شامل ہونے کے لیے ناگزیر ہے‘ کہ لوگ اپنا مذہب اور اپنی قومیّت تبدیل کر دیں۔ پھریہ کیسے اُمید کی جا سکتی ہے‘ کہ اسلام کی دعوتِ عام اس طرح پھیل سکے گی‘ جس طرح دوسری تحریکیں پھیلتی ہیں؟
(۲) دوسری مشکل جو انہیں اس راستہ میں نظر آتی ہے وہ یہ ہے‘ کہ اسلام کے خلاف لوگوں میں شدید تعصّبات پھیلے ہوئے ہیں۔ان کا خیال یہ ہے‘ کہ دوسری تحریکوں کا پھیلنا آسان ہے‘ کیونکہ ان کے خلاف تعصّبات موجود نہیں ہیں‘ مگر اسلام کا پھیلنا مشکل ہے‘ کیونکہ اس کا نام سنتے ہی ماضی اور حال کے تعصّبات کا ایک طوفان اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔
(۳) تیسری مشکل ان کی نگاہ میں یہ ہے‘ کہ کروڑوں مسلمانوں کی ایک قوم یہاں موجود ہے‘ جو ’’قومیّت‘‘ کے اعتبار سے تو ’’مسلمان‘‘ہے‘ مگر اس کا اخلاقی مرتّبہ اتنا بلند نہیں ہے‘ کہ وہ اسلامی نصب العین کے لیے جدوجہد کر سکے۔ اس قوم کو لے کر اس راستہ پر چلنا چاہیں‘ تو چل نہیں سکتے۔ اس کو چھوڑ کر چلنے کو جی نہیں چاہتا۔ اور پھر یہ سوال بھی دماغ کو پریشان کرتا ہے‘ کہ اگر تمام مقاصد کو نظر انداز کر کے صرف ایک حکومت الٰہی کے مقصد پر توجہات مرکوز کر دی جائیں‘ تو آخر موجودہ سیاسی حالات اور آئندہ کے دستوری تغیّرات میں’’مسلمانوں‘‘ کے قومی مفاد کا کیا حشر ہوگا۔

۴-انحراف کی راہیں

یہی تین مشکلات ہیں‘ جن کو اس راہ میں حائل دیکھ کر لوگ دائیں اور بائیں رخ پر راستہ کَترا کر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جزئیات کے اعتبار سے مختلف لوگوں کے نظریات اور عملی طریقوں میں جو اختلافات ہیں ان کو نظر انداز کر کے بڑی اور اصولی تقسیم اگر کی جائے‘ تو یہ صرف تین گروہوں میں منقسم ہوجاتے ہیں:۔
ایک وہ گروہ جو کہتا ہے‘ کہ پہلے ہمیں ہندستان کی غیر مسلم آبادی کے ساتھ موافقت کر کے اس ملک کو انگریزی اقتدار سے آزاد کر ا لینا چاہئے‘ تاکہ یہاں ایک مشترک جمہوری اسٹیٹ قائم ہوجائے۔ یہ مرحلہ طے ہوجانے کے بعد ہم بتدریج اس اسٹیٹ کو اسلامی اسٹیٹ میں تبدیل کر نے کے لیے کوشش کریں گے۔
دوسرا وہ گروہ جس کا خیال ہے‘ کہ پہلے انگریزی اقتدار کی موجودگی سے فائدہ اُٹھا کر ہمیں مستقل ہندو اکثریت کے تسلّط کا سدّ باب کرنا چاہئے‘ اور ایسی تدبیر کرنی چاہئے کہ اس ملک میں ایک جمہوری اسٹیٹ کے بجائے دو اسٹیٹ قائم ہوں۔‘ ایک وہ اسٹیٹ جس میں مسلم اکثریت کی وجہ سے اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں آئے اور دوسرا وہ اسٹیٹ جس میں ہندو اکثریت کی وجہ سے اقتدار ہندوئوں کے ہاتھ میں جائے مگر زیادہ سے زیادہ جو آئینی تحفظات ممکن ہیں ان کے ذریعہ سے مسلمانوں کی پوزیشن محفوظ ہوجائے۔ یہ مرحلہ طے ہوجانے کے بعد ہم مسلم اکثریت والے اسٹیٹ کو بتدریج اسلامی اسٹیٹ میں تبدیل کر لیں گے‘ اور پھر ہندو اکثریت والے اسٹیٹ میں تغیّرو اصلاح کی کوشش کریں گے۔
تیسرا گروہ جو موجودہ حالات میں دعوتِ عام اور ایک انقلابی پارٹی کی تشکیل کو آسان بنانے کے لیے اسلام کو ایک دوسرے سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے‘ تاکہ وہ ان لوگوں کے لیے قابلِ قبول ہوجائے‘ جو اسلامی عقائد اور عبادات اور نظامِ شریعت کی بندشوں سے گھبراتے ہیں۔ اس گروہ نے اگرچہ کوئی مستقل جماعتی صورت اختیار نہیں کی ہے‘ مگر مجھے معلوم ہے‘ کہ اس طرز خیال کے لوگ ایک اچھی خاصی تعداد میں پیدا ہوگئے ہیں‘ اور ان کی تجویزیں اس وقت حالت جَنِینی سے گزر رہی ہیں۔

۵- منحرف راستوں کی غلطی

اب میں ان میں سے ایک ایک گروہ کے طریقہ پر الگ الگ تنقید کر کے بتائوں گا کہ ان طریقوں میں غلطی کیا ہے‘ ان میں سے ہر ایک نے اسلام کی راہِ راست سے انحراف کس طرح کیا ہے‘ اور ان پھیر کے راستوں سے اصلی اسلامی نصب العین تک پہنچنا ابداً غیر ممکن الوقوع کیوں ہے۔
’’آزادیِ ہند‘‘ کو مقدم رکھنے والے
پہلا گروہ زیادہ تر علما اور مذہبی خیالات کے لوگوں پر مشتمل ہے‘ اور بالعموم اس گروہ کے لوگ دوسرے گروہ کی نسبت زیادہ مذہبی ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے انحراف پر مجھ کو سب سے زیادہ افسوس ہے۔ ان حضرات نے مذکورہ بالا مشکلات سے خوف زدہ ہوکر یہ خیال قائم کر لیا کہ موجودہ حالات میں اصل اسلامی نصب العین کی طرف براہِ راست پیش قدمی نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے انہوں نے اپنی کوششوں کا مقصود یہ ٹھیرایا کہ ’’ہندستان انگریزی اقتدار سے آزاد ہوجائے۔‘‘مقصود بدل جانے سے لامحالہ راستہ بھی بدل گیا۔ اسلام کی راہِ راست کے تین اجزا جو میں نے بیان کیے ہیں‘ ان کا راستہ ہر جُزو میں اس سے مختلف ہے:۔
(۱)دعوت کے باب میں اسلام کا طریقہ یہ ہے‘ کہ لوگوں کو اﷲ کی حاکمیت واقتدار اعلیٰ تسلیم کرنے کی طرف بلایا جائے۔ مگر یہ ہندستان کے باشندوں کو اس طرف بلاتے ہیں‘ کہ تم خود مالک الملک بنو۔ یہ غیر الٰہی اقتدار اعلیٰ کی نفی نہیں کرتے بلکہ صرف انگریزی اقتدار اعلیٰ کی نفی کرتے ہیں۔ اور یہ الٰہی اقتدار اعلیٰ کا اثبات بھی نہیں کرتے بلکہ اس کی جگہ باشندگان ملک کی خود اختیاری اور جمہوری اقتدار اعلیٰ کا اثبات اعلیٰ کا اثبات کرتے ہیں۔ ظاہر ہے‘ کہ شرک ہونے کی حیثیت سے انگریزی اقتدار اعلیٰ اور جمہوری اقتدار اعلیٰ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کی دعوت سراسر غیراسلامی بلکہ مخالف اسلام دعوت ہے۔
ان کے نزدیک انگریز ی اقتدار کے مقابلہ میں جمہور اہلِ ہند کا اختیار‘ اور انگریزی شریعت کے مقابلہ میں ہندستانیوں کی قانون سازی قابلِ ترجیح ہے‘ حالانکہ اسلامی نقطۂ نظر سے دونوں یکساں بغاوت‘ یکساں کُفر اور یکساں طغیان ومعصیت ہیں۔
پھر یہ انگریز اور ہندستانی کے درمیان‘ قومی ووطنی عداوت وتعصّب کی آگ بھڑکانے میں حصّہ لیتے ہیں‘ حالانکہ اسلام کی دعوتِ عام کے راستہ میں یہ رکاوٹ ہے۔ اسلام کی نگاہ میں انگریز اور ہندستانی دونوں انسان ہیں۔ وہ دونوں کو یکساں اپنی دعوت کا مخاطب بناتا ہے۔اس کا جھگڑا انگریز سے اس بات پر نہیں ہے‘ کہ وہ ایک ملک کا باشندہ ہوکر دوسرے ملک پر حکومت کیوں کرتا ہے؟بلکہ اس بات پر ہے‘ کہ وہ خدا کی حاکمیت اور اس کے قانون کی اطاعت کیوں نہیں تسلیم کرتا؟بعینہٖ اسی بات پر اس کا جھگڑا ہندوستانی سے بھی ہے۔ وہ دونوں کو ایک ہی بات کی طرف بلاتا ہے۔ ایک کا حامی بن کر دوسرے سے لڑنا اس کی حیثیت کے منافی ہے۔{ FR 2518 } کیونکہ اگر وہ ہندستانی اور انگریز کے وطنی وقومی جھگڑے میں ایک کا طرفدار اور دوسرے کا مخالف بن جائے‘ تو انگریز کے دل کا دروازہ اس کی دعوت کے لیے بند ہوجائے گا۔ اب یہ ظاہر ہے‘ کہ جو لوگ ایک طرف اسلام کے داعی بنتے ہیں‘ اور دوسری طرف اس وطنی اور قومی جھگڑے میں فریق بھی بنتے ہیں وہ دراصل اسلام کے مفاد کو ہندوستانیت کے مفاد پر قربان کرتے ہیں۔
ان تمام بنیادی غلطیوں کے ساتھ یہ حضرات کبھی کبھی اسلام کی تبلیغ بھی فرمایا کرتے ہیں۔
مگر ایسی تبلیغ کبھی موثر نہیں ہوسکتی۔ ایک ساز سے دو بالکل مختلف آوازیں سن کر اور ایک زبان سے دو قطعی متضاد باتیں سماعت کر کے آخر کون متاثر ہوسکتا ہے؟
(۲)تشکیل جماعت کے باب میں‘ یہ حضرات اس سے بھی زیادہ مُخْتَلِطْ ہیں۔ اوّل تو دعوت کی نوعیت بدل جانے کی وجہ سے خود ہی جماعت کی ترکیب اور اجزائے ترکیبی کے متعلق ان کا نقطۂ نظر بدل گیا ہے۔ پھر ’’مسلمان قوم‘‘کے تحیل نے پریشان خیالی کے لیے ایک اور وجہ بھی پیدا کر دی ہے۔ ان اسباب سے یہ ہر قسم کے رطب ویا بس آدمی اکٹھے کر لیتے ہیں‘ اور ان آدمیوں کے اقوال وافعال میں بیک وقت بیسیوں قسم کی متضاد باتوں کا ظہور ہوتا ہے۔ایک متحد المزاج نظریہ کی حمایت کے لیے آپ اُٹھیں تو لامحالہ آپ اپنی پارٹی کے لیے انہی آدمیوں کا انتخاب کریں گے‘ جو یکسوئی کے ساتھ اس خاص نظریہ کے متبّع ہوں۔ بخلاف اس کے ایک مخلوط اور غیر معیّن مزاج رکھنے والے نظریہ کو لے کر جب آپ اُٹھیں گے تو آپ کا معیارِ انتخاب اکثر ان قیود سے آزاد ہوجائے گا‘ جو متحد المزاج نظریہ کے لیے ناگزیر ہیں۔ کچھ مدّت ہوئی مجھے ایک مجلس میں شریک ہونے کا موقع ملا تھا جہاں ہندوستان کی ایک بہت بڑی ذمّہ دار جمعیت کی مقامی شاخ کو منظم کرنے پر گفتگو ہورہی تھی۔ کچھ دیر کی بحث وتمیص کے بعد جوبات قرار پائی وہ یہ تھی کہ رکنیت کے فارم طبع کرا لیے جائیں‘ اور پندرہ دن کے اندر زیادہ سے زیادہ ممبر بھرتی کر کے ارکان کا ایک جلسہ عام کر لیا جائے‘ جس میں عہدہ داروں کا انتخاب ہوجائے۔ لیجیے‘ بس جمعیت کی شاخ منظم ہوگئی۔ اس طرح بھانت بھانت کے آدمی محض رکنیت کے فارموں پر دستخط کر کے اور چار آنہ سالانہ فیس ادا کر کے ان جماعتوں میں داخل ہوجاتے ہیں‘ پھر انہی آدمیوں کے ووٹوں سے منتخب ہوکر وہ لوگ بر سر کار آتے ہیں‘ جن کا کام رہنمائی وسربراہ کاری ہوتا ہے‘ اور ایسے ہی لوگوں کی متفقہ خواہشات سے پالیسیاں بنتی اور بگڑتی ہیں کیا کوئی شخص توقع کر سکتا ہے‘ کہ جماعتی تشکیل کے اس طریقہ سے کبھی اسلامی نصب العین کی طرف بھی کوئی پیش قدمی کی جا سکتی ہے؟
(۳)اسی طرح تیسرے جُزو میں بھی ان کا طریقہ اسلام کی راہِ راست سے ہٹا ہوا ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرص کیا اسلام براہِ راست غیراسلامی نظامِ اطاعت پر حملہ کرتا ہے‘ اور اس کا تقاضا یہ ہے‘ کہ تمام مساعی کو حاکمیت رب العالمین کے قیام واثبات پر مرکوز کر دیا جائے لیکن اس کے برعکس یہ لوگ اپنی سعی وجہد کا رخ برطانوی نظامِ اطاعت کی تخریب اور حاکمیت عوام کے قیام کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ یہ صریح انحراف ہے صراط مستقیم سے‘ اس احراف پر جب اعتراض کیا جاتا ہے‘ تو یہ لوگ کہتے ہیں‘ کہ برطانوی نظامِ اطاعت اسلامی نصب العین کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے ہم تنہا اس رکاوٹ کو دور نہیں کر سکتے‘ اس لیے پہلے دوسروں کی مدد سے اس کو دور کر لیں پھر اصل منزل مقصود کی طرف بڑھنے کے لیے راستہ آسان ہوجائے گا۔ مگر میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ راستہ آسان کیسے ہوجائے گا؟ظاہر بات ہے‘ کہ ایک نظامِ اطاعت یادین کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا نظامِ اطاعت یا دین کبھی قائم نہیں کیا جا سکتا‘ جب تک کہ نفوس انسانی میں پہلے نظام کی تخریب اور دوسرے نظام کی تعمیر کا خیال اور ارادہ کمال درجہ قوّت کے ساتھ مستحکم نہ کر دیا جائے۔اگر ہندوستان کے موجودہ انگریزی نظامِ اطاعت کی جگہ آپ جمہوری نظامِ اطاعت قائم کرنا چاہیں‘ تو یہ انقلاب صرف اسی طرح ممکن ہے‘ کہ آپ باشندگانِ ہند کے دلوں میں حاکمیت انگریز کے بجائے خود اپنی حاکمیت کے برحق ہونے کا تخیل اورعملاً مالک الملک بن جانے کا عزم پوری شدت کے ساتھ پیدا کر دیں۔ برعکس اس کے اگر آپ ہندوستان میں الٰہی نظامِ اطاعت قائم کرنا چاہیں‘ تو یہ انقلاب بغیر اس کے ممکن نہیں ہے‘ کہ عوام النّاس کو خود اپنی حاکمیت سے دست بردار ہونے اور غیر اﷲ کی حاکمیت کا انکار کرنے پر آمادہ کریں‘ اور اﷲ کے مالک الملک ہونے کا عقیدہ ان کے دلوں میں اتنی قوّت کے ساتھ بٹھائیں کہ وہ اس کی حاکمیت کے آگے برضا ورغبت سر جھکا دیں۔اب سوال یہ ہے‘ کہ جن لوگوں کا آخری مقصد الٰہی نظامِ اطاعت کا قیام ہے وہ کس طرح بحالتِ ہوش وحواس اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے ذریعہ کے طور پر یہ تدبیر اختیار کر سکتے ہیں‘ کہ عوام النّاس کے دل میں خود اپنی حاکمیت کا عقیدہ اور ارادہ اتنی قوّت کے ساتھ بٹھا دیں کہ اس کے زور سے‘ دین انگریز کی مضبوط جمی ہوئی جڑیں اکھڑ جائیں‘ اور دینِ جمہور کی جڑیں زمین میں جگہ پکڑ لیں؟ جہاں عامہ خلائق کے دلوں میں اپنی حاکمیت کا عقیدہ اور عزم اتنی قوّت کے ساتھ جم گیا ہوکیا وہاں لوگوں کو خدا وندِعالم کے آگے اپنی حاکمیت سے دست بردار ہوجانے پر آمادہ کرنا موجودہ انگریزی حاکمیت کی جڑیں اُکھاڑنے سے کچھ کم مشکل ہے؟کیا امریکہ‘ جاپان‘ جرمنی اور انگلستان جیسے اصطلاحاً ’’آزاد‘‘ممالک میں حکومت الٰہی کا قیام اس سے کچھ کم دشوار ہے جتنا ہندستان جیسے اصطلاحاً ’’غلام‘‘ ملک میں دشوار نظر آتا ہے؟اگر اس کا جواب نفی میں ہے‘ اور یقینا نفی ہی میں دیا جا سکتا ہے‘ تو میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ برطانوی اقتدار کی جگہ ہندستانی اقتدار کا قیام آخر کس معنی میں حکومت الٰہی کے قیام کی طرف ایک گونہ پیش قدمی ہے؟
تا ہم اگر تھوڑی دیر کے لیے یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ تدبیر عملاً کارگر ہوسکتی ہے تب بھی میں اس کے صحیح ہونے سے انکار کرتا ہوں لازم نہیں کہ ہر تدبیرجو کارگر ہووہ صحیح بھی ہو‘ دراصل یہ سخت ناپاک تدبیر ہے‘ جسے اختیار کرنے کا خیال بھی ایک مسلمان دل میں نہیں لاسکتا۔ جو شخص درحققت پوری سچائی کے ساتھ اﷲ کے مالک الملک ہونے پر ایمان رکھتا ہو‘ وہ آخر کس دل سے یہ گوارا کر سکتا ہے‘ کہ اپنے ایمان کے خلاف عوام النّاس میں اس عقیدے کی تبلیغ کرے کہ تم خود مالک الملک ہو؟جس شخص کا اعتقاد یہ ہوکہ انسان کی انفرادی واجتماعی زندگی صرف حدود اﷲ کی پابندی ہونی چاہئے‘ اور حکومت وہ ہونی چاہئے‘ جو اﷲ کے سامنے جوابدہ ہو‘ وہ کیونکر اپنی کوششوں کا مقصود یہ قرار دے سکتا ہے‘ کہ انفرادی واجتماعی زندگی پر جمہورکا تسلّط قائم ہو‘ اور حکومت جمہور کے سامنے جواب دہ ہو؟کس طرح ایک سچے آدمی کی زبان ایسے عقیدے کی اشاعت یا حمایت میں کُھل سکتی ہے جس کو وہ فی الواقع باطل سمجھتا ہے؟اور کس طرح وہ اس چیز کے قیام کی راہ میں جان ومال سے جہاد کر سکتا ہے‘ جو اس کے اعتقاد میں حق نہیں‘ بلکہ طاغوت ہے؟
یہ جو کچھ میں نے عرض کیا‘یہ تو محض اس امر کا ثبوت ہے‘ کہ ان لوگوں کا راستہ اسلام کی راہِ راست سے منحرف ہے۔ رہی یہ بات کہ اس پھیر کے راستے سے یہ لوگ کبھی اسلام کے نصب العین تک نہیں پہنچ سکتے‘ تو اس دعوے پر میرے پاس یہ دلیل ہے‘ کہ جن مشکلات سے خوفزدہ ہوکر انہوں نے یہ پھیر کی راہ اختیار کی ہے‘ وہ ہندستان کے انگریزی اقتدار سے آزاد ہونے کے بعد بھی جوں کی توں قائم رہیں گی۔ اوپر میں نے مشکلات کی جو تشریح کی ہے ان پر ایک مرتّبہ پھر نظر ڈال کر دیکھ لیجیے۔ کیا ان میں سے کوئی مشکل بھی آزاد ہندستان کے دور میں دُور ہوجائے گی؟اگر نہیں‘ تو جو لوگ آج ان مشکلات کا مقابلہ کرنے کی حکمت اور ہمت نہ رکھنے کی وجہ سے راستہ کَترا کر نکل رہے ہیں‘ وہ کل بھی اسی وجہ سے اصل مقصد اسلامی کی طرف براہِ راست پیش قدمی کرنے سے جی چرائیں گے۔ خوب جان لیجیے کہ اس مقصد کی طرف جب بھی آپ اقدام کرنا چاہیں گے بہرحال آپ کو ان مشکلات سے سابقہ پیش آئے گا۔ جو لوگ ان کا مقابلہ کرنے کی تدبیر اور عزم نہیں رکھتے‘ وہ موجودہ حالات ہی میں نہیں‘ بلکہ کسی حال میں بھی اس طرف اقدام نہیں کر سکتے۔ اور جن کے پاس تدبیر اور عزم دونوں موجود ہیں‘ ان کے لیے کسی پھیر کے راستے پر چلنا تضیع وقت اور حماقت ہے۔ وہ تو اس پہاڑ کو کاٹ کر براہِ راست ہی اپنے مقصد کی طرف قدم بڑھائیں گے۔

پاکستانی خیال کے لوگ

دوسرا گروہ زیادہ تر اس طبقہ پر مشتمل ہے‘ جس نے تمام تر مغربی طرز پر ذہنی تربیت پائی ہے۔{ FR 2519 }یہ لوگ سیاسی فکر تو مغربی مآخذ سے لیتے ہیں‘ مگر چونکہ موروثی طور پر اسلام کے حق میں ایک تعصّب ان کے اندر موجود ہے‘ اور ’’مسلمان قوم‘‘ہونے کا شعور ان کے اندر بیدار ہوگیا ہے‘ اس لیے جو کچھ یہ کرنا چاہتے ہیں ’’مسلمان قوم‘‘کے لیے اسلام کے نام ہی سے کرنا چاہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے‘ کہ ان کے اقوال اور اعمال میں اسلامی اصطلاحات اور مغربی طرز فکرو عمل عجیب طریقہ سے خلط ملط ہوکر رہ گئے ہیں۔ اس مضمون میں یہ موقع نہیں ہے‘ کہ میں اس خلط ِمبحث کا تجزّیہ کر کے تفصیل کے ساتھ اس مخلوطہ کے ایک ایک جُزو کی اصل نوعیت کی نشان دہی کر سکوں۔ اپنے موضوع کے لحاظ سے میں صرف یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ پہلے گروہ کی طرح اس گروہ کا راستہ بھی راہِ راست کے تینوں اجزا سے منحرف ہے۔
(۱)پہلے دعوت کو لیجیے‘ ان کے ذمّہ دار لیڈروں کی تقریریں‘ ان کی نمائندہ مجالس کی قرار دادیں‘ ان کے کارکنوں کی باتیں‘ ان کے اہلِ قلم کی تحریریں‘ سب کی سب اس امر کی شہادت دیتی ہیں‘ کہ ان کی دعوت اصل میں ایک قوم پر ستانہ دعوت ہے‘ یعنی ان کی پکار اسلام کے نصب العین کی طرف نہیں ہے‘ بلکہ اس طرف ہے‘ کہ ان کی قوم متفق ومتحد ہوکر ہندو قوم کے مقابلہ میں اپنے دنیوی مفاد کی حفاظت کرے۔ گویا جس طرح آزادی پسند لوگوں نے انگریزوں کو اپنا قومی حریف بنایا ہے‘ اسی طرح انہوں نے ہندوئوں کو اپنا قومی حریف بنا لیا ہے۔اس لحاظ سے یہ اور ’’آزادی پسند‘‘حضرات ایک سطح پر کھڑے ہیں‘ لیکن جس چیز نے ان کی بہ نسبت ان کی روش کو اسلام کے لیے اور زیادہ مُضر بنا دیا ہے وہ یہ ہے‘ کہ وہ تو وطن اور وطنی مفاد کے نام پر لڑتے ہیں‘ مگر یہ اپنی قومی اور دنیوی لڑائی میں بار بار اسلام اور مُسلم کا نام لیتے ہیں‘ جس کی وجہ سے اسلام خواہ مخواہ ایک فریقِ جنگ بن کر رہ گیا ہے‘ اور غیر مسلم قومیں اس کو اپنا سیاسی اور معاشی حریف سمجھنے لگی ہیں۔ اس طرح انہوں نے نہ صرف اپنے آپ کو اسلام کی طرف دعوت دینے کے قابل نہیں رکھا ہے‘ بلکہ اسلام کی اشاعت کے راستے میں اتنی بڑی رکاوٹ پیدا کر دی ہے‘ کہ اگر دوسرے مسلمان بھی یہ کام کرنا چاہیں‘ تو غیر مسلموں کے دلوں کو اسلام کے لیے مقفل پائیں گے۔
اس میں شک نہیں کہ اس قوم پر ستانہ دعوت کے ساتھ یہ لوگ کبھی کبھی اسلام کی خوبیاں اور اس کے اصولوں کی فضیلت بھی بیان کیا کرتے ہیں۔ مگر اوّل تو قوم پرستی کے پس منظر میں یہ چیز ایک اصولی دعوت کے بجائے محض ایک قومی تفاخر بن کر رہ جاتی ہے۔ اور مزید برآں دعوتِ اسلام کے ساتھ جن دوسری باتوں کی یہ آمیزش کرتے ہیں وہ بالکل اس دعوت کی ضد ہیں۔ ایک طرف اسلامی نظامِ حکومت کی تبلیغ اور دوسری طرف ان ’’مسلمان‘‘ ریاستوں اور حکومتوں کی حمایت جن کا نظام بالکل غیراسلامی ہے‘ ایک طرف اسلامی نظام معاشی کی تشریح اور دوسری طرف خود اپنی قوم کے قارونوں کی تائیدو مدافعت‘ ایک طرف انسانی قانون سازی کا اصولی ابطال اور دوسری طرف خود قانون ساز مجالس میں اپنے حصّہ کا مطالبہ‘ ایک طرف حاکمیتِ ربّ العالمین کا اقرار واثبات اور دوسری طرف حاکمیتِ جمہور کے اصول پر خود اپنی قومی حکومت کے قیام کی فکر‘ ایک طرف انسانیت کی نسلی‘ قومی اور وطنی تقسیم کا ابطال اور دوسری طرف ہر وقت قوم قوم کا شور اور خود قومیّت ہی کے اصولوں پر دوسری قوموں سے جدال وکشمکش‘ ایک طرف بے غرضا نہ حق پرستی کا دعویٰ اور دوسری طرف شب وروزاپنے دنیوی مفاد کا نوحہ وماتم‘ ایک طرف اسلامی تہذیب وتمدّن پر فخر وناز اور اس کی حفاظت کے لیے پر شور لام بندی اور دوسری طرف اسی تہذیب وتمدّن کے باغیوں اور قاتلوں کی سرداری وپیشوائی‘ یہ دونوں چیزیں آخر کس طرح ایک ساتھ نبھ سکتی ہیں؟’’منکرِمے بودن وہمرنگِ مستاں زیستن‘‘۔ایسی متضاد باتوں سے دنیا نے کب اثر قبول کیا ہے‘ کہ آج ان سے اسلام کا جھنڈا زمین میں گڑ جانے کی اُمید کی جاتی ہے؟
(۲)اب دیکھئے کہ یہ اپنی جماعتی تشکیل کس ڈھنگ پر کرتے ہیں۔ ان کا قاعدہ یہ ہے‘ کہ یہ ان سب لوگوں کو جوا زروئے پیدائش مسلمان قوم سے تعلق رکھتے ہیں‘ اپنی جماعت کی رکنیت کا بلا وا دیتے ہیں‘ اور جو اس کو قبول کر لے‘ اسے ابتدائی رکن بنا لیتے ہیں۔ پھر انہی ابتدائی ارکان کے ووٹوں سے‘ ذمّہ دار کارکن‘ اور عہدہ دار منتخب ہوتے ہیں‘ اور انہی کی کثرت رائے سے تمام معاملات انجام دئیے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے‘ کہ یہ طریقہ صرف قومی تنظیم ہی کے لیے موزوں ہوسکتا اور اس طریقہ سے جو نظام بنے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کر سکتاکہ ایک قوم کی خواہشات جیسی کچھ بھی ہوں‘ ان کے حصول کی کوشش کرے۔ رہی ایک اصولی تحریک‘ تو اس کو چلانے کے لیے یہ طریق جماعت سازی نہ صرف بے کار بلکہ مضر ہے‘ ایک قوم کے تمام افراد کو محض اس وجہ سے کہ وہ نسلاً مسلمان ہیں‘ حقیقی معنی میں مسلمان فرض کر لینا اور یہ اُمید رکھنا کہ ان کے اجتماع سے جو کام بھی ہوگا اسلامی اصول ہی پر ہوگا‘ پہلی اور بنیادی غلطی ہے‘ یہ انبوہِ عظیم جس کو مسلمان قوم کہا جاتا ہے اس کا حال یہ ہے‘ کہ اس کے ۹۹۹ فی ہزار افراد نہ اسلام کا علم رکھتے ہیں‘ نہ حق اور باطل کی تمیز سے آشنا ہیں‘ نہ ان کا اخلاقی نقطۂ نظر اور ذہنی رویّہ اسلام کے مطابق تبدیل ہوا ہے۔ باپ سے بیٹے اور بیٹے سے پوتے کو بس مسلمان کا نام ملتا چلا آرہا ہے‘ اس لیے یہ مسلمان ہیں۔ نہ انہوں نے حق کو حق جان کر اسے قبول کیا ہے‘ نہ باطل کو باطل جان کر اسے ترک کیا ہے۔ ان کی کثرت رائے کے ہاتھ میں باگیں دے کر اگر کوئی شخص یہ اُمید رکھتا ہے‘ کہ گاڑی اسلام کے راستے پر چلے گی‘ تو اس کی خوش فہمی قابلِ داد ہے۔
(۳)اس کے بعد اس طریقہ کا جائزہ لیجیے جس سے یہ بزعم خود اسلامی نصب العین تک پہنچنے کی اُمید رکھتے ہیں۔ ان کی تجویز یہ ہے‘ کہ پہل اسی جمہوری دستور کے مطابق جو انگریزی حکومت یہاں نافذ کرنا چاہتی ہے‘ مسلم اکثریت کے صوبوں میں مسلمانوں کی اپنی حکومت قائم ہوجائے‘ پھر کوشش کی جائے گی کہ یہ قومی حکومت اسلامی نظامِ حکومت میں بتدریج تبدیل ہوجائے۔{ FR 2520 } لیکن یہ ویسی ہی غلطی ہے جیسی’’آزادیِ ہند‘‘ کو مقدّم رکھنے والے حضرات کر رہے ہیں۔ ان کی تجویز پر مجھے جو اعتراضات ہیں بعینہٖ وہی اعتراضات ان کی تجویز پر بھی ہیں۔ ان کا یہ خیال بالکل غلط ہے‘ کہ مسلم اکثریت کے صوبوں میں حاکمیت ِجمہور کے اصول پر خود مختار حکومت کا قیام آخر کار حاکمیت رب العالمین کے قیام میں مدد گار ہوسکتا ہے۔ جیسی مسلم اکثریت اس مجوّزہ پاکستان میں ہے‘ ویسی ہی‘ بلکہ عددی حیثیت سے بہت زیادہ زبردست اکثریت افغانستان‘ ایران‘ عراق‘ ٹرکی اور مصر میں موجود ہے‘ اور وہاں اس کو ’’پاکستان‘‘حاصل ہے‘ جس کا یہاں مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پھر کیا وہاں مسلمانوں کی خود مختار حکومت کسی درجہ میں بھی حکومتِ الٰہیہ کے قیام میں مدد گار ہے‘ یا ہوتی نظر آتی ہے؟مدد گار ہونا تو درکنار‘ میں پوچھتا ہوں‘ کیا آپ وہاں حکومتِ الٰہی کی تبلیغ کر کے پھانسی یا جلا وطنی سے کم کوئی سزا پانے کی اُمید کر سکتے ہیں؟اگر آپ وہاں کے حالات سے کچھ بھی واقف ہیں‘ تو آپ اس سوال کا جواب اثبات میں دینے کی جرات نہ کر سکیں گے‘ اور جب صورت حال یہ ہے‘ تو آپ کو غور کرنا چاہئے کہ آخر اسلامی انقلاب کے راستہ میں مسلمان قوموں کی ان آزاد حکومتوں کے سد راہ ہونے کا سبب کیا ہے۔ اس معاملہ کی جتنی تحقیق آپ کریں گے‘ جواب اس کے سوا کچھ نہ پائیں گے کہ دراصل اصطلا حاً ونسلاً مسلمان ہونا اور چیز ہے‘ اور نظریۂ حیات ومقصد زندگی کا اسلامی ہونا بالکل ایک دوسری چیز۔جو لوگ روح واخلاق کے اعتبار سے مُسلم نہ ہوں‘ بلکہ محض اصطلاحی ونسلی حیثیت سے مسلمان ہوں‘ ان کو اگر بیرونی اثرو اقتدار سے کامل آزادی نصیب بھی ہوجائے‘ اور اگر ان کے جمہور کو خود اپنی پسند کے مطابق نظامِ حکومت قائم کرنے کا پورا اختیار بھی حاصل ہو‘ تب بھی حکومت الٰہی وجود میں نہیں آسکتی۔ وہ اپنے دنیوی مفاد کے پرستار ہوتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ان میں حق اور صداقت کے لیے اپنے مفاد کو قربان کرنے کی طاقت نہیں ہوتی بلکہ اس کے برعکس جب کبھی ان کی اغراضِ دنیوی سے حق اور صداقت کا تصادم ہوتا ہے‘ وہ حق کو چھوڑ کر ہمیشہ اس طرف جاتے ہیں‘ جس طرف ان کی اغراض پوری ہوتی ہیں۔ جہاں ایسے لوگوں کی اکثریت ہووہاں کبھی یہ اُمید نہیں کی جا سکتی کہ عام انتخاب میں ان کے ووٹوں سے وہ صالحین منتخب ہوں گے‘ جو منہاج نبوّت پر حکومت کرنے والے ہوں۔ جمہوری انتخاب کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے دودھ کو بِلو کر مکھّن نکالا جاتا ہے۔اگر دودھ زہر ملا ہو‘ تو اس سے جو مکھن نکلے گا قدرتی بات ہے‘ کہ وہ دودھ سے زیادہ زہریلا ہوگا۔اسی طرح سوسائٹی اگر بگڑی ہوئی ہو‘ تو اس کے ووٹوں سے وہی لوگ منتخب ہوکر برسر اقتدار آئیں گے‘ جو اس سوسائٹی کی خواہشاتِ نفس سے سند ِقبولیت حاصل کر سکیں گے‘ پس جو لوگ یہ گُمان کرتے ہیں‘ کہ اگر مسلم اکثریت کے علاقے ہندو اکثریت کے تسلّط سے آزاد ہوجائیں‘ اور یہاں جمہوی نظام قائم ہوجائے‘ تو اس طرح حکومت الٰہی قائم ہوجائے گی ان کا گُمان غلط ہے۔ دراصل اس کے نتیجہ میں جو کچھ حاصل ہوگا وہ صرف مسلمانوں کی کافرانہ حکومت ہوگی۔ اس کا نام حکومت الٰہی رکھنا اس پاک نام کو ذلیل کرنا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ عوام کی اخلاقی وذہنی تربیت کر کے‘ ان کے نقطۂ نظرکو تبدیل کر کے اور ان کے نفسیات میں انقلاب برپا کر کے‘ ایک جمہوری نظام کو الٰہی حکومت میں تبدیل کیا جا سکتاہے۔ لیکن سوال یہ ہے‘ کہ اس اخلاقی ونفسیاتی انقلاب کے برپا کرنے میں کیا مسلمانوں کی کفرانہ حکومت کچھ بھی مدد گار ہوگی؟کیا وہ لوگ جو موجودہ بگڑی ہوئی سوسا ئٹی کے مادی مفاد سے اپیل کر کے اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے ان سے آپ یہ اُمید کر سکتے ہیں‘ کہ وہ حکومت کا روپیہ‘ اس کے وسائل اور اس کے اختیارات کسی ایسی تحریک کی اعانت میں صرف کریں گے‘ جس کا مقصد عوام کی ذہنیت تبدیل کرنا اور انہیں حکومت الٰہی کے لیے تیار کرنا ہو؟اس کا جواب عقل اور تجربہ دونوں کی روشنی میں نفی کے سوا کچھ نہیں دیا جا سکتا۔ بلکہ سچ یہ ہے‘ کہ لوگ اس انقلاب میں مدد دینے کے بجائے اُلٹی اس کی مزاحمت کریں گے‘ کیونکہ وہ خوب جانتے ہیں‘ کہ اگر عوام کے نفسیات میں تغیّر واقع ہوگیا‘ تو اس بدلی ہوئی سوسائٹی میں ان کا چراغ نہ جل سکے گا۔ یہی نہیں اس سے زیادہ خوفناک حقیقت یہ ہے‘ کہ نام کے مسلمان ہونے کی وجہ سے یہ لوگ کفار کی بہ نسبت بہت زیادہ جسارت وبے باکی کے ساتھ ایسی ہر کوشش کو کچلیں گے‘ اور ان کے نام ان کے ظلم کی پردہ پوشی کے لیے کافی ہوں گے۔ جب صورت معاملہ یہ ہے‘ تو کیا وہ شخص نادان نہیں ہے‘ جو اسلامی انقلاب کا نصب العین سامنے رکھ کر ایسی جمہوری حکومت کے قیام کی کوشش کرے جو ہر کافرانہ حکومت سے بڑھ چڑھ کر اس کے مقصد کی راہ میں حائل ہوگی؟
تحریف دین کے مجوّزین
اب تیسرے گروہ کو لیجیے۔ یہ لوگ مختلف قسم کی تجویزیں سوچ رہے ہیں۔ کوئی فکرِاسلامی کے ساتھ غیراسلامی افکار کا جوڑ لگا کر ایک نئی ’’خوش گوار‘‘معجون بنانا چاہتا ہے۔ کوئی اس خیال میں ہے‘ کہ ’’ہندستانی اسلام‘‘کا ایک نیا اڈیشن نکالے۔ کوئی یہ چاہتا ہے‘ کہ اسلام کے مجموعی نظام میں سے محض اس کے سیاسی ومعاشی اصولوں کو لے لیا جائے‘ اور ان کی بنیاد پر ایک ایسی سیاسی جماعت بنائی جائے‘ جس میں شامل ہونے کے لیے عقائد عبادات اور احکام شرعیہ کی پابندی لازم نہ ہو۔ یہ سب لوگ اپنے نزدیک نیک نیتی کے ساتھ یہ سمجھ رہے ہیں‘ کہ ان طریقوں سے رفتہ رفتہ وہ تنفر دور ہوجائے گا‘ جو اسلام کے خلاف طبیعتوں میں پیدا ہوگیا‘ اور جب وہ بعضِ اسلام سے کسی حد تک مانوس ہوجائیں گے‘ تو پورے اسلام سے مانوس ہونے میں زیادہ دیر نہ لگے گی۔
لیکن یہ سب خیالاتِ خام ہیں۔ نہ اصولی حیثیت سے ان کو صحیح کہا جا سکتا ہے‘ اور نہ عملی حیثیت سے ہی‘ ان کی کوئی قدرو قیمت ہے۔ میرے نزدیک ایسی تمام تجویزیں ضعفِ دل اور ضعفِ دماغ کا نتیجہ ہیں۔
اصولی حیثیت سے درحقیقت ہم اسلام میں کسی ردّو بدل‘ کسی کمی وبیشی‘ اور کسی ترمیم وتشکیلِ جدید کے مجاز ہی نہیں ہیں۔ ہم اسلام کے مالک نہیں ہیں‘ اس کے صانع نہیں ہیں۔اس کے شارع نہیں ہیں۔ اسلام ہمارا مال نہیں ہے‘ کہ مارکیٹ میں جیسی طلب ہواس کے مطابق اپنے اس مال کو بنا کر بازار میں لائیں۔ ہماری حیثیت صرف پیرو اور مبلغ کی ہے مالک نے عقائد‘ عبادات اور احکام کا یہ پورا مجموعہ ہمیں دیا ہے‘ تاکہ ہم خود اس کی پیروی کریں‘ اور دوسروں تک اسے پہنچائیں۔ اس مجموعہ میں کوئی ترمیم کرنے کا‘ یا اس کی اصلی صورت کو بدل کر اس کی کوئی اور صورت بنانے کا‘ ہم کو ہر گز کوئی حق نہیں پہنچتا۔ جس کو لینا ہے اسے پورے مجموعہ کو لینا پڑے گا ‘اور اسی صورت میں لینا ہوگا‘ جس میں مالک نے اسے دیا ہے۔ اور جو اس کو اس ہیئت مجموعی اور اس مقررہ صورت کے ساتھ نہ لینا چاہے‘ اس کی خوشامد کرنے اور اسے کم وبیش پر راضی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اسلام میں ایک حکم ہے خالق کی طرف سے مخلوق کی طرف۔ خالق کاکام مخلوق کی خوشامد کرنا اور اس کو راضی کرنا نہیں ہے۔ مخلوق کو یا تو اس کا حکم‘ جیسا کہ وہ ہے جُوں کا تُوں ماننا پڑے گا۔ ورنہ وہ خود اپنا ہی کچھ بگاڑے گی‘ خالق کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گی۔ اسی لیے اﷲ کی طرف سے اس کے جو رسول دنیا میں آئے‘ انہوں نے پورے حکم کو لوگوں کے سامنے بعینہٖ پیش کر دیا‘ اور صاف کہہ دیا کہ چاہو اس کو لو اور چاہو ردّ کر دو‘ بہرحال تمہاری خواہشات کے مطابق اس میں کوئی تغیّر وتبدل نہیں کیا جا ئے گا۔ ٹھیک یہی پوزیشن رسول کے نائب ہونے کی حیثیت سے ہماری بھی ہے۔
پھر یہ کتنی غیر معقول تجویز ہے‘ کہ اسلام کے مجموعی نظام میں سے محض اس کے معاشی وسیاسی اصولوں کو لے لیا جائے‘ اور انہی کی بنیاد پر ایک پارٹی ایسی بنائی جائے‘ جس میں شامل ہونے کے لیے‘ توحید‘ آخرت‘ قرآن‘ رسالت‘ کسی چیز پر بھی ایمان لانے کی ضرورت نہ ہو‘ اور نہ عبادات کی بجا آوری اور احکام شرعیہ کی پابندی ضروری ہو۔ کیا کوئی صاحب ِنظر آدمی ایک لمحہ کے لیے بھی یہ خیال کر سکتا ہے‘ کہ کسی اجتماعی نظریہ اور لائحہ عمل کو اس کے بنیادی فلسفے‘ اس کے نظامِ اخلاق اور اس کے تعمیر سیرت کرنے والے ارکان سے الگ کر کے چلایاجا سکتا ہے؟اﷲ کی حاکمیت کا تصوّر نکال دینے کے بعد اسلام کا سیاسی نظام آخر ہے کس چیز کا نام؟اور اگر قرآن کو ماخذ قانون اور محمد رسول اﷲa کو رعیت (انسان)اور بادشاہ (اﷲ)کے درمیان نزولِ احکام کا واحد مستند ذریعہ نہ مانا جائے‘ تو کیا اسلامی طرز کے اسٹیٹ کی تعمیر ہواپر کی جائے گی؟نیز وہ کون سا نظامِ تمدّن وسیاست ہے‘ جو کسی نظامِ اخلاق کا سہارا لیے بغیر قائم ہوسکتا ہو؟اور کیا اﷲ کے سامنے انسان کی ذمّہ داری وجواب وہی کا تخیل نکال دینے کے بعد‘ اس نظامِ تمدّن وسیاست کے لیے کوئی اخلاقی سہارا باقی رہ جاتا ہے‘ جس کا نقشہ اسلام نے پیش کیا ہے؟کیا اس نظام کو آپ مادّہ پرستانہ اخلاقیات کے بل پر ایک دن کے لیے بھی قائم کر سکتے ہیں؟مزید برآں وہ خاص قسم کی انفرادی سیرت اور جماعتی زندگی ‘جو اس نظامِ تمدّن وسیاست کے لیے درکار ہے‘ نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ کے سوا اور کس ذریعہ سے پیدا ہوسکتی ہے؟اور وہ نہ ہو‘ تو یہ نظام چل کہاں سکتا ہے؟پس یہ غایت درجہ کا افلاسِ فکر ہے‘ کہ کوئی شخص محض شاخوں کا حُسن دیکھ کر کہنے لگے کہ آئو جڑ کے بغیر ان شاخوں ہی سے درخت قائم کریں۔
عملی حیثیت سے بھی اس قسم کی تمام تجویزیں سراسر غلط ہیں۔ ان سے اصل مقصد تک پہنچنے کے بجائے خطرہ یہ ہے‘ کہ کہیں ہم خود ہی راستہ میں گم نہ ہوجائیں۔ ترمیم شدہ صورت میں‘ جس نام نہاد اسلام کی تبلیغ کی جائے گی۔ اس روز وہی اصل معیار بن جائے گا ‘اور جو لوگ اس پر ایمان لاکر جماعت میں شریک ہوں گے۔ نہ صرف وہ خود اصل اسلام کی طرف رجوع کرنے سے انکار کریں گے‘ بلکہ وہ مصلحت پرست مسلمان بھی جنہوں نے ان سے کم وبیش پر سودا کیا تھا۔ ان کے ساتھ ان کی گمراہی میں شریک ہوجائیں گے۔ مُدارات (ompromises) پر جو کام مبنی ہوتے ہیں ان میں ہمیشہ یہی خرابی ہوتی ہے۔

۶-مشکلات کا جائزہ

اب ہمیں ایک نظر ان مشکلات پر ڈالنی چاہئے‘ جن سے خوف زدہ ہوکر یہ انحراف کی راہیں اختیار کی جا رہی ہیں۔کیا حقیقت میں وہ ایسی ہی مشکلات ہیں‘ کہ ان کو حل نہیں کیا جا سکتا؟
تکرار بیان سے بچنے کے لیے میں ناظرین کو پھر ایک مرتّبہ تکلیف دوں گا کہ پیچھے پلٹ کر مضمون کے اس حصّہ پر نگاہ ڈال لیں‘ جہاں میں نے ان مشکلات کی تشریح کی ہے۔
پہلی مشکل
پہلی مشکل کا خلاصہ یہ کہ اسلام صرف تمدّنی‘ سیاسی اور معاشی مسائل کا حل ہی پیش نہیں کرتا‘ بلکہ عقائد‘ عبادات اور ضوابط ِشرعیہ کا ایک مجموعہ بھی اس کے ساتھ دیتا ہے‘ اور اس کو قبول کرنے کے معنی انسان کی پوری زندگی تبدیل ہوجانے کے ہیں۔ کہا جاتا ہے‘ کہ یہ چیز اسلام کو اس طرح پھیلنے نہیں دیتی جس طرح دوسری تحریکیں پھیلتی ہیں۔ لیکن یہ مشکل بظاہر جتنی زبردست نظر آتی ہے باطن میں اتنی ہی کمزور اور بے حقیقت ہے۔
واقعہ یہ ہے‘ کہ دنیا میں کوئی اجتماعی نظریہ اور مسلک بھی ایسا نہیں ہے‘ جو انسانی زندگی کے عملی مسائل کا مجرّد حل پیش کرتا ہو‘ اور اس کے ساتھ اپنے کچھ اعتقادات اور اپنا ایک مخصوص فلسفہ نہ رکھتا ہو۔ چند امور ما بعد الطبیعت(metaphysical problems) ایسے ہیں‘ جن کے متعلق سُلبی یا ایجابی حیثیت سے ایک نہ ایک رائے قائم کرنا بہرحال ہر اس مسلک کے لیے ناگزیر ہے‘ جو انسان کے لیے ایک لائحہ زندگی بنانے کا عزم کرے۔یہ سوالات کہ کائنات کا یہ نظام کس نوعیت کا ہے؟اور اس نظام میں انسان کی کیا حیثیت ہے؟اور انسان کی زندگی کا مآل کیا ہے؟ اور یہ کہ دنیا میں سب کچھ تو انسان کے لیے ہے‘ مگر انسان خود کس کے لیے ہے؟یہ دراصل انسانی زندگی کے بنیادی سوالات ہیں‘ جن کا ایک قابلِ عمل حل (workable solution)پیش کیے بغیر کوئی ذہنی‘ اخلاقی‘ تعلیمی اور تمدّنی نظام بنایا ہی نہیں جا سکتا اور کسی نظام کے بھی محض عملی پہلوئوں کو لے کر آدمی کام نہیں کر سکتا‘ جب تک کہ ساتھ ساتھ اس کے بنیادی فلسفے‘ یا بالفاظ دیگر اس کے اعتقادات کو بھی قبول نہ کر لے۔ پس ایک اعتقادی نظام ہونا تنہا اسلام ہی کی کوئی انوکھی خصوصیت نہیں ہے۔ اس جہت سے اگر اسلام کی راہ میں کوئی مشکل حائل ہے‘ تو ایسی مشکل ہر اجتماعی مسلک کی راہ میں حائل ہے۔ ہر اجتماعی مسلک فی الواقع ایک مذہب ہی ہے‘ اور جو بھی اس کی پیروی اختیار کرتا ہے وہ حقیقت میں ایک مذہب کو چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کرتا ہے‘ خواہ اپنی سادہ لوحی کی بنا پر وہ یہ کہتا اور سمجھتا رہے‘ کہ میں بدستور اپنے پہلے مذہب پر ہوں۔
میں ایک سیدھی سی مثال سے اس نکتہ کی مزید توضیح کروں گا۔ یہ کمیونزم آپ کے سامنے ہے۔ اسی کو مثال میں لے لیجیے۔ اگر اسلام اس ما بعد الطبیعی نظریہ سے اپنے مسلک کی ابتدا ء کرتا ہے‘ کہ خدا ہے‘ تو کمیونزم اس نظریہ سے چلتا ہے‘ کہ خدا نہیں ہے‘ یا کم از کم اس کا وجود ہمارے لیے خارج از بحث ہے۔ اگر اسلام یہ نقطۂ نظر اختیار کرتا ہے‘ کہ یہ دنیا خدا کی سلطنت ہے‘ اور انسان یہاں اس کا تابع امر ہے‘ تو کمیونزم یہ نقطۂ نظر اختیار کرتا ہے‘ کہ یہ دنیا ایک اتفاقی بِساط ہے‘ اور انسان یہاں مطلقاً خود مختار (independent) ہے۔ اگر اسلام یہ پہلو لیتا ہے‘ کہ انسان کو یہاں کام کرنے کے لیے خدا کی ہدایت درکار ہے‘ اور وہ وحی کے ذریعہ سے آتی ہے‘ تو کمیونزم یہ پہلو لیتا ہے‘ کہ کوئی ہدایت درکار نہیں اور کوئی وحی نہیں آتی۔ اگر اسلام اس مقام سے سلوک کا آغاز کرتا ہے‘ کہ اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے‘ جس میں انسانوں کو موجودہ زندگی کے پورے کارنامے کا حساب دینا ہے‘ تو کمیونزم اس مقام سے چلتا ہے‘ کہ جو کچھ ہے یہی زندگی ہے‘ اور بعد میں نہ کوئی زندگی ہے نہ حساب نہ کتاب۔ دیکھئے یہ دونوں یکساں ما بعد الطبیعی نظر ئیے ہیں‘ اور دونوں میں سے کسی کو بھی تجربہ یا مشاہدہ سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اب اگر کسی سائنٹیفک ثبوت کے بغیر محض استدلال اورقلبی شہادت کی بنا پر بہت سے وہ لوگ جو کل تک کمیونسٹ نہ تھے‘ آج کمیونزم کے نقطۂ نظر کو قبول کر سکتے ہیں‘ تو سوال یہ ہے‘ کہ آخر انہی دو بنیادوں پر بہت سے وہ لوگ جو آج مسلم نہیں ہیں۔ کل اسلام کا نقطۂ نظر کیوں قبول نہیں کر سکتے؟
اسی طرح ایک ہادی پر ایمان لانے کا معاملہ بھی دونوں میں مشترک ہے۔ اگر مسلم ہونے کے لیے محمد رسول اﷲa پر ایمان لانا پڑتا ہے‘ تو کمیونسٹ بھی آخر مارکس پر ایمان لاتا ہی ہے۔ پھر اگر ایک شخص جو کل تک مار کسی نہ تھا‘ آج مارکس کی تعلیمات کو دیکھ کر اس کو اپنا رہنما تسلیم کر سکتا ہے‘ تو آخر کون سی چیز مانع ہے‘ کہ ایک وہ شخص جو کل تک مسلم نہ تھا‘ آج محمد رسول اﷲa کی زندگی‘ ان کی تعلیمات اور ان کے کارنامے کو دیکھ کر ان کو اپنا ہادی ورہبر تسلیم نہ کر لے؟
ایسا ہی معاملہ جماعتی ضوابط (party discipline)کا بھی ہے۔ اگر اسلام ان لوگوں کو جو اس کی جماعت میں شامل ہوں‘ اپنے کچھ ضوابط کا پابندبناتا ہے‘ تو کیا کمیونسٹ پارٹی ان لوگوں کو جو اس کی جماعت میں شامل ہیں‘ کسی ضابطہ اور کسی قاعدے میں نہیں جکڑتی؟پھر جب بہت سے انسان کمیونزم کے اصولوں پر ایمان لانے کے بعد کمیونسٹ پارٹی کے ضوابط کی پابندی قبول کر لیتے ہیں‘ تو آخر اسلام ہی کے جماعتی ضوابط میں کونسا ہَوّا چھپا ہوا ہے‘ کہ جو لوگ اسلام کے اصولوں کوجانچ کر ان پر ایمان لانے کے لیے تیار ہوں گے ان کو یہ ہَوّا اپنی صورت دکھا کر بھگا دے گا؟
اس مثال سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے‘ کہ اسلام میں خدا کی ہستی اور اس کی توحید کا اعتقاد‘ یا آخرت کا اعتقاد‘ یاپیغمبر کی ناقابلِ منازعت پیشوائی (indisputable leadership)‘ اور قرآن کے آخری منبع قانون ہونے کا اعتقاد شرط لازم ہونا اور نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ اور حج کے ضوابط کی پابندی فرض ہونا‘ ہر گز کوئی ایسا چیز نہیں ہے‘ جو اس کے پھیلنے اور غیر مسلموں کے اس کی طرف کھنچ کر آنے میں سدِّراہ ہو۔ ما بعد الطبیعی اعتقادات اور جماعتی ضوابط دوسرے مسلکوں میں بھی موجود ہیں۔ اور جو انسان ان مسلکوں میں اپنی زندگی کے مسائل کا حل اپنی سمجھ کے مطابق صحیح پاتے ہیں‘ وہ ان کے عقائد اور ضوابط دونوں کو قبول کرتے ہی ہیں۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ اگر اسلام ان کے سامنے تمام مسائل زندگی کا بہتر حل پیش کرے‘ اوران کی اپنی فلاح وسعادت کا راستہ کھول کر ان کے سامنے رکھ دے تو عقائد اور ضوابط کی شرط صرف اسلام ہی کے معاملہ میں ان کے لیے غیر معمولی رکاوٹ ثابت ہو۔ رکاوٹ اگر ہے‘ تو فی الواقع صرف اسی حد تک ہے‘ کہ لوگوں کے لیے بالعموم اپنے پرانے مسلک کو چھوڑ کر کوئی دوسرا مسلک اختیار کرنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن جو تحریک بھی دنیا میں پھیلتی ہے اسے بہرحال اس رکاوٹ سے سابقہ پیش آتا ہی ہے‘ اور جو لوگ کسی تحریک پر ایمان لاتے ہیں‘ وہ بہرحال اس رکاوٹ کو عبور کر کے ہی آگے قدم بڑھاتے ہیں۔ اس کو سامنے کھڑا دیکھ کر راستہ کترانے کی کوشش صرف وہی شخص کرے گا‘ جو یا تو اپنے ایمان ہی میں صادق نہیں ہے‘ یا پست ہمت اور ناکارواں ہے۔
البتہ اسلام کے حق میں اس رکاوٹ کو جس چیز نے شدید تر رکاوٹ بنا دیا ہے وہ ہماری یہ جامد اور بے روح مذہبیت ہے‘ جسے آج کل اسلام سمجھا جا رہا ہے۔
اس بے روح مذہبیت کا پہلا بنیادی نقص یہ ہے‘ کہ اس میں اسلام کے عقائد محض ایک دھرم(religion)کے مزعومات (dogmas)بنا کر رکھ دئیے گئے ہیں‘ حالانکہ وہ ایک مکمل فلسفہ اجتماع اور نظامِ تمدّن کی منطقی بنیاد ہیں۔ اور اسی طرح اس کی عبادات محض پوجا اور تپسیّا بنا کر رکھ دی گئی ہیں‘ حالانکہ وہ ان ذہنی اور اخلاقی بنیادوں کو مضبوط ومستحکم کرنے کے وسائل ہیں‘ جن پر اسلام نے اپنا نظامِ اجتماعی تعمیر کیا ہے۔ اس عمل تحریف کا نتیجہ یہ ہے‘ کہ لوگوں کی سمجھ میں کسی طرح یہ بات نہیں آتی کہ آخر ایک سیاسی‘ معاشی اور تمدّنی لائحہ عمل کو چلانے کے لیے‘ ان عقائد اور ان عبادات کی ضرورت ہی کیا ہے۔
دوسرا بنیادی نقص‘ اس مسخ شدہ مذہبیت میں یہ ہے‘ کہ اس میں اسلامی شریعت کو ایک منجمد شاستر بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ اس میں صدیوں سے اجتہاد کا دروازہ بند ہے‘ جس کی وجہ سے اسلام ایک زندہ تحریک کے بجائے محض عہد گزشتہ کی ایک تاریخی یادگار بن کر رہ گیا ہے‘ اور اسلام کی تعلیم دینے والی درس گاہیں آثار قدیمہ کے محافظ خانوں میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ ظاہر ہے‘ کہ اجنبی لوگ اس چیز کو دیکھ کر زیادہ سے زیادہ تاریخی ذوق کی بناء پر‘ اظہار قدر شناسی تو کر سکتے ہیں‘ مگر یہ توقع ان سے نہیں کی جا سکتی کہ وہ حال کی تدبیر اور مستقبل کی تعمیر کے لیے‘ اس سے ہدایت ورہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت محسوس کریں گے۔
تیسرا اہم نقص اس میں یہ ہے‘ کہ جزئیات کی ناپ تول‘ مقداروں کے غیر منصوص تعین اور روح سے بڑھ کر مظاہر پر مدار دین داری رکھنے کی بیماری اس میں حد سے بڑھ گئی ہے‘ اور وہ غیروں کی تالیف تو کیا کرے گی‘ اُلٹی اپنوں کی تنفیر کا باعث بن رہی ہے۔ اس غلط مذہبیت کے علم برداروں کی زندگی دیکھ کر اور ان کی باتیں سن کر آدمی اس سوچ میں پڑ جاتا ہے‘ کہ انسان کی ابدی فلاح وخسران کا مدار کیا انہی چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ہے‘ جن پر یہ لوگ اتنا زور دیتے ہیں؟
اسلام کے راستے میں یہ بہت بڑی رکاوٹ ہے‘ مگر یہ اسلام کا قصور نہیں ہمارا اپنا قصور ہے‘ اور ہمارا فرض ہے‘ کہ اپنے اس نظامِ تعلیم کو بدلیں جس نے دین کے تصوّر کو اتنا غلط اور شریعت کے علم کو اس قدر جامد بنادیا ہے۔ ظاہر ہے‘ کہ ایک زندہ تحریک تحکمی عقائد کے بل پر تو نہیں اُٹھ سکتی۔ ہمیں اس کے عقائد کو معقول دلائل کے ساتھ پیش کرنا ہوگا۔ پھر عقائد کے ساتھ عبادات کا اور عبادات کے ساتھ زندگی کے قوانین کا منطقی ربط واضح کرنا پڑے گا۔ پھر ان قوانین کو زندگی کے تمام عملی مسائل پر منطبق کر کے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ جتنی انسانی ضروریات ہیں‘ ان سب کا حل ان قوانین میں موجود ہے۔ تب کہیں لوگ اس نظام کو ایک معقول نظام کی حیثیت سے سمجھ سکیں گے‘ اور جب وہ اسے سمجھیں گے تو قبول بھی کرنے پر آمادہ ہوں گے‘ یہ تعمیر ی کام چونکہ سخت محنت طلب ہے‘ اس لیے اس محنت سے جی چرا کر لوگ بنے بنائے آسان طریقوں کی طرف دوڑ جاتے ہیں‘ مگر یہ نہیں سوچتے کہ اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے‘ راستہ بنانے کی زحمت بہرحال ہمیں اُٹھانی ہی پڑے گی۔جس نے بھی کوئی مقصد ِعظیم پیشِ نظر رکھا ہے‘ اسے یہ زحمت اُٹھانی پڑی ہے‘ اور اگر واقعی ہم اپنے مقصد میں صادق ہیں‘ تو ہمیں اس کام کے لیے تیار ہونا چاہیے۔
دوسری مشکل
اب دوسری مشکل کو لیجیے۔ جن تعصّبات کو اسلام کی راہ میں حائل بتایا جاتا ہے ان کا تجزّیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے‘ کہ:
ایک قسم کا تعصّب تو وہ ہے‘ جو طبعاً شخص کے اندر اس چیز کے خلاف ہوتا ہے جو اس کے لیے ہو‘ جس پر اس نے اپنے باپ دادا کو نہ پایا ہو‘ اور جس سے وہ مانوس نہ ہو‘ یہ تعصّب صرف آج ہی اسلام کی راہ میں حائل نہیں ہے پہلے بھی حائل تھا‘ اور جیسا کہ میں اوپر اشارہ کر چکا ہوں یہ صرف اسلام ہی کی راہ میں حائل نہیں ہے ہر تحریک کی راہ میں حائل ہوتا ہے‘ تا ہم یہ ایسی رکاوٹ نہیں ہے جس کو دُور نہ کیا جا سکتا ہو۔ پہلے بھی اس رکاوٹ کے باوجود اسلام پھیلا ہے‘ اور اب بھی پھیل سکتا ہے۔
دوسری قسم کا تعصّب وہ ہے‘ جو دراصل اسلام کے خلاف نہیں‘ بلکہ مسلمانوں کے خلاف پیدا ہوا ہے‘ اور مسلمانوں کے واسطہ سے اسلام کی راہ میں حائل ہوگیا ہے۔ مسلمانوں نے پچھلی کئی صدیوں میں جو غیراسلامی طریقے اپنی خواہشاتِ نفس کی پیروی میں اختیار کیے اور اب بھی اپنے انفرادی کردار اور اجتماعی رویے میں غیراسلامی سیرت کا وہ اظہار کر رہے ہیں یہ سارے تعصّبات فی الحقیقت اسی کے بھڑکائے ہوئے ہیں۔
اس واقعہ سے کون انکار کر سکتا ہے‘ کہ ہندستان کو اصلی اسلامی حکومت‘ خالص اسلامی اخلاق اور حقیقی اسلامی تمدّن سے لذت آشنا ہونے کا کبھی موقع ملا ہی نہیں۔ گزشتہ زمانہ میں‘ مسلمان بادشاہوں نے‘ مسلمان امراء نے‘ مسلمان حکام اور اہلِ کاروں اور سپاہیوں نے‘ مسلمان زمین داروں اور رئیسوں نے‘ اور مسلمان عوام نے‘ اپنے برتائو سے اسلام کا جو نمونہ پیش کیا‘ وہ ہر گز ایسا نہ تھا‘ کہ اس ملک کے عام باشندوں کو اسلام کا گرویدہ بنا سکتا۔ بلکہ اس کے برعکس نفسانی اغراض کے لیے جو کشمکش ان کے اور غیر مسلم عناصر کے درمیان مد تہائے دراز تک برپا ہوتی رہی‘ اس نے اسلام کے خلاف مستقل تاریخی تعصّبات پیدا کر دئیے۔
اس تاریخی پس منظر کے ساتھ اسلام کا جو نمونہ آج اس زمانہ میں مسلمان اپنی انفرادی زندگی اور اجتماعی طریق کار سے پیش کر رہے ہیں وہ بھی کچھ ایسا خوب صورت نہیں ہے‘ کہ اس قسم کے نمونے کو دیکھ کر لوگ اس تحریک کے عاشق ہوجائیں‘ جس کی نمائندگی اس شان سے کی جا رہی ہو‘ انفرادی زندگی میں ایک عام مسلمان ایک عام غیر مسلم سے‘ آخر کس چیز میں برتر نظر آتا ہے‘ کہ لوگ اس برتری کے منبع کی جستجو کریں؟اس کے برتائو میں‘ اس کے اخلاق میں‘ اس کے معاملات میں‘ کہاں کوئی خفیف سی چمک بھی ایسی نمو دار ہوتی ہے‘ جس سے یہ ظاہر ہوکہ یہ شخص فائق تر اور پاکیزہ تر اصولوں کی پیروی کرتا ہے؟کیا ایک مسلمان زمین دار یا ’’شریف‘‘ اصطلاحی ’’کمینوں‘‘کے مقابلہ میں اپنے طبقہ کے کسی غیر مسلم ’’شریف‘‘ یا رئیس سے کچھ کم نخوت برتتا ہے؟کیا ایک مسلمان تاجر یا پیشہ ور آدمی اپنے ہم پیشہ غیر مسلم سے کچھ زیادہ متدّین ہوتا ہے؟کیا ایک مسلمان حاکم یا عہدہ دار اپنے اختیارات کے استعمال میں کسی غیر مسلم ہمسر سے کچھ بہتر اخلاقی اصولوں کی پیروی کرتا ہے؟کیا دفتروں کے مسلمان ملازم رات دن انہی تمام ذلیل طریقوں کی پیروی نہیں کر رہے ہیں‘ جن کی پیروی ان کے غیر مسلم ساتھی کرتے ہیں؟کیا وہی جائز ونا جائز طریقوں سے اپنی قوم کا تعصّب‘ وہی کمینہ چالوں سے غیر قوم والوں کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کرنا اور انہی چھوٹی چھوٹی دنیوی اغراض کے پیچھے لڑے مرنا جس کی شکایت یہ غیر مسلموں سے کرتے ہیں‘ خود ان کا بھی رات دن کا مشغلہ نہیں ہے؟پھر جب ایک غیر مسلم اسلام کے ان نمائندوں کی زندگی میں کہیں بھی کوئی فوقیت کا نشان نہیں پاتا‘ جب وہ انہیں بھی وہی سب کچھ کرتے دیکھتا ہے‘ جو وہ خود کرتا ہے‘ اور جب وہ انہیں بھی انہی مقاصد کے لیے لڑتے جھگڑتے اور کش مکش کرتے دیکھتا ہے‘ جن کے لیے وہ خود لڑتا جھگڑتا اور کشمکش کرتا ہے‘ تو آخر کون سی چیز اس کو اس مسلک کی طرف مائل کرسکتی ہے‘ جس کی نمائندگی یہ لوگ کر رہے ہیں؟بلکہ جب ایک ہی نفسانیت اور دنیاپرستی کے میدان میں وہ اور یہ برابر کے حریف ہیں‘ تو اپنے حریفوں کے مسلک پر وہ کُھلے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہی کیوں محسوس کرنے لگا؟ایک طرف پچھلے تاریخی تعصّبات‘اور پھر آج کی نفسانی کش مکش‘ کیا دونوں چیزیں اس کے دل کے دروازوں پر قفل چڑھانے کے لیے کافی نہیں ہیں؟
انفرادی زندگی سے وسیع تر‘ قومی دائرے میں مسلمان اس وقت تک جس پالیسی پر مُصر ہیں‘ بلکہ جسے اپنی حیاتِ اجتماعی کا ضامن سمجھ رہے ہیں وہ کیا ہے؟ اصولِ اسلام اور مقاصدِ اسلام کا کہیں نام تک نہیں آتا۔ کسی خطبے‘ کسی تقریر‘ کسی ریزولیوشن میں آپ ایک فقرہ تک ایسا نہیں پا سکتے‘ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہوکہ یہ لوگ اپنی اغراض اور اپنے دنیوی مقاصد کے لیے نہیں‘ بلکہ انسانوں کی فلاح کے لیے عالم گیر کلّ اصول لے کر اُٹھے ہیں‘ اور ان کی لڑائی محض اصولِ حق کی خاطر ہے‘ اس کے برعکس آپ دیکھیں گے کہ ان کے اور دوسری قوموں کے درمیان بالکل برابر کی قوم پرستانہ جنگ برپا ہے‘ دونوں ایک سطح پر اتر آئے ہیں ایک ہی مرتّبے کی دنیوی اغراض کے لیے کشمکش کر رہے ہیں‘ ایک ہی قسم کی چالیں (tactics)زبان‘ اصطلاحات اور اصول نزاع اختیار کر رہے ہیں‘ اور سارا رونا دھونا اور لڑائی جھگڑا انہی چیزوں کے لیے ہے‘ جن کے لیے ان کے حریفوں کا رونا دھونا اور لڑائی جھگڑا ہے۔ پھر کس طرح یہ بات عقل میں آسکتی ہے‘ کہ جن لوگوں سے آپ دُنیوی اغراض کے لیے مساوی مرتّبے پر لڑ رہے ہوں‘ جن سے آپ رقابت اور حریفی کا پرانا اور تازہ رشتہ رکھتے ہوں‘ جن کے ساتھ آپ کی سیاسی اور معاشی مفاد کے لیے کشمکش برپا ہو‘ وہ آپ کی طرف سے کسی اصولی تحریک کی دعوت پر اسی طرح کھلے دل سے غور کرنے کے لیے تیار ہوں گے‘ جس طرح وہ اشتراکیت یا ڈیمو کریسی یا کسی اور مسلک کی دعوت کے لیے تیار ہوتے ہیں؟
یہ تعصّبات اسلام کے راستے میں دوسری عظیم الشان رکاوٹ ہیں‘ مگر ان کا علاج ہے‘ کہ ہم ان تعصّبات کی پیدائش کے سبب کو باقی رکھیں اور پھر ان کی موجودگی کو بہانہ بنا کر اپنے مقصد کی طرف براہِ راست پیش قدمی کرنے سے منہ موڑیں‘ بلکہ ان کا اصلی علاج یہ ہے‘ کہ ہم اپنے انفرادی اور اجتماعی طرزِعمل کو بدلیں‘ اور اس طرح تمام تعصّبات کی جڑ کاٹ کر اپنے مقصد کی طرف بڑھنے کے لیے سیدھا راستہ تیار کریں۔ جو لوگ محض سرسری نگاہ میں یہ دیکھ کر کہ اسلام کے خلاف ہندو‘ سکھ‘ عیسائی‘ پارسی‘ تمام قوموں میں سخت تعصّبات پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ فیصلہ صادر کر دیتے ہیں‘ کہ اس حالت میں اسلام ایک خالص اصولی تحریک کی حیثیت سے نہیں پھیل سکتا‘ وہ دراصل واقعات کو غلط رنگ میں دیکھتے اور غلط نتائج نکالتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے اوپر ثابت کیا ہے یہ تعصّبات اسلام اور اسلامی سیرت کے بھڑکائے ہوئے نہیں ہیں (جس سے ان قوموں کو ہندستان میں کم ہی سابقہ پیش آیا ہے) بلکہ اسلام کے ان غلط نمائندوں کی روش سے پیدا ہوئے ہیں‘ جو مسلمان ہونے کے باوجود غیراسلامی طریقوں پر چلتے رہے‘ اور خالصتہً ﷲ کام کرنے کے بجائے اپنی دنیوی اغراض اور نفسانی خواہشات کے لیے کام کرتے رہے۔ لہٰذا ان تعصّبات کے تدارک کی صحیح صورت یہ ہے‘ کہ اب اپنی سیرت‘ اپنے اعمال‘ اوراپنی اجتماعی جدوجہد سے اسلام کی صحیح نمائندگی کیجیے‘ نہ یہ کہ تعصّبات کی موجودگی کو اسی غلط روش پر چلنے کے لیے حُجتّ بنائیے‘ جس کی وجہ سے تعصّبات پیدا ہوئے ہیں بالفرض اگر یہ مان لیا جائے‘ تاکہ قومی تعصّبات کی موجودگی میں اسلام کا ایک خالص اصولی تحریک کی حیثیت سے چلنا محال ہے توسوال یہ ہے‘ کہ اسلامی مقاصد کے بجائے ‘مسلمانوں کے دنیوی مفاد کے لیے جو کشمکش آپ کے اور دوسری قوموں کے درمیان برپا ہے‘ اور ان کے قوم پرستانہ طریقوں کے جواب میں ویسے ہی قوم پرستانہ طریقے جس طرح آپ اختیار کررہے ہیں کیا اس سے یہ تعصّبات کبھی قیامت تک بھی دور ہوسکتے ہیں؟اگر نہیں‘ تو پھر یہ نہ کہیے کہ اس وقت کچھ خاص حالات ایسے ہیں‘ جن کی وجہ سے اسلام ایک خالص اصولی تحریک کی حیثیت سے نہیں چل سکتا۔ بلکہ یوں فرمائیے کہ آئندہ بھی ہمیشہ ایسے ہی حالات موجود رہیں گے‘ اور اگر اسلام آپ ہی کا ورثہ آبائی بنا رہا تو وہ ہمیشہ بنی اسرائیل کی طرح محض آپ کا قومی مذہب بن کر رہے گا‘ کبھی ایک عالمگیر دعوت نہ بن سکے گا۔
یہ انسانی فطرت کا اقتضا ہے‘ کہ خود غرضی کے جواب میں خود غرضی اور قوم پرستی کے جواب میں قوم پرستی پیدا ہوتی ہے۔ بخلاف اس کے بے غرضا نہ حق پرستی کے مقابلہ میں تمام تعصّبات اور تمام مخالفانہ جذبات آخر کار ہتھیار ڈال دیتے ہیں‘ اور ایک سچے بے لوث حق پرست کے آگے انسان عقیدت ومحبت کے سوا اور کوئی چیز پیش کرنے پر قادر ہی نہیں رہتا۔ اگر مسلمان اپنی وہی حیثیت قائم رکھتے جو دراصل ان کی تھی تو یہ ممکن نہ تھا‘ کہ ہندستان میں ان کے خلاف وہ تعصّبات پائے جاتے‘ جن کی آج شکایت کی جاتی ہے‘ لیکن انہوں نے خود اپنی وہ حیثیت کھو دی۔ دنیوی فائدوں کے لیے دوسری قوموں سے لڑنے جھگڑنے لگے‘ اور اصولِ حق کے بجائے اپنی اغراض ذاتی وقومی کو انہوں نے اپنی جدوجہد کا محور بنا لیا۔ اس کے جواب میں اگر دوسروں کے اندر تعصّب نہ پیدا ہوتا‘ تو تعجب کی بات تھی۔ جن اصولوں کا آپ نام لیتے ہیں‘ اُن کی آپ خود پیروی نہیں کرتے بلکہ رات دن اپنی شخصی اور اجتماعی زندگی میں ان کے خلاف عمل کرتے رہتے ہیں۔ جس مقصد عالی کا آپ اظہار کرتے ہیں‘ آپ کی عملی جدوجہد اس مقصد کے لیے نہیں ہے‘ بلکہ آپ کے افراد انفرادی طور پر اور آپ کی پوری جماعت بحیثیت مجموعی اس کو پسِ پشت ڈال کر دوسرے مقاصد کے پیچھے چلی جا رہی ہے۔ اس صورت میں اگر اپنے خیالی نصب العین اور اپنے محض زبانی اصولوں کے لیے آپ کی اپیل دوسروں پر کارگر نہ ہو‘ اگر وہ اس اپیل میں آپ کو جھوٹا سمجھیں‘ اور آپ کی تبلیغ کو محض خود غرضا نہ چال سمجھ کر‘ حقارت سے ردّ کر دیں‘ تو آخر اس میں حیرت کی بات ہی کون سی ہے؟
ظاہر ہے‘ کہ کوئی غیر مسلم مسٹر جناح کے ۱۴ یا ۱۲ { FR 2521 } نکات پر تو ایمان نہیں لاسکتا۔ نہ مسلم لیگ یا مجلس احرار یا جمعیت العلماء کے ریزو لیوشنوں میں کوئی ایسی چیز ہے‘ جس پر کوئی ایمان لائے۔ایمان اگر کوئی لاسکتا ہے‘ تو لاالہ الا اﷲ پر لاسکتا ہے‘ بشر طیکہ ایک جماعت اسی کلمہ کے لیے جینے اور اسی پر مرنے والی اس کے سامنے موجود ہو۔ مگر وہ ہے‘ کہاں؟کون سی جماعت آپ کے اندر ایسی موجود ہے‘ جس نے خالص اطاعت ِحق کو اپنا مسلک اور خالص دین کے قیام کو اپنی کوششوں کا مرکز محور بنا لیا ہو؟لوگ اسلام کی دعوت اور اس کے اصولِ حق کو کتابوں میں دیکھتے ہیں‘ اور ان کے معترف ہوجاتے ہیں۔مگر اس پر عمل کرنے والی‘ اور اس کے نصب العین کے لیے کام کرنے والی سوسائٹی میں شامل ہوں‘ جو رات دن دنیا ہی کے پیچھے مری جاتی ہے‘ اور انہی راستوں پر چلی جا رہی ہے‘ جن پر غیر مسلم چلتے ہیں؟آپ کی ایک جماعت لڑتی ہے‘ اس لیے کہ ارض ہند پر انگریز کے
بجائے ہندوستانی کا اقتدار قائم ہو۔ بعینہٖ یہی چیز ایک شخص کو غیر مسلم جماعتوں میں بھی مل جاتی ہے۔ پھر وہ آپ کے پاس کیوں آئے؟آپ کی دوسری جماعت لڑتی ہے‘ اس لیے کہ ہندو کے مقابلہ میں نسلی مسلمانوں کے دنیوی مفاد کا تحفظ کیا جائے۔ یہ چیز اس کو خود اپنی قوم پرستی کی مد مقابل نظر آتی ہے۔ پھر وہ اپنی قوم پرستی کو چھوڑ کر آپ کی قوم پرستی پر کیوں ایمان لائے؟انسان کو غیر اﷲ کے تسلّط سے آزاد کرانے والی جماعت‘ آپ میں ہے‘ کہاں‘ کہ کوئی اس کے اصول ومقاصد پر ایمان لائے اور اس میں شامل ہونے کے لیے آگے بڑھے؟
تیسری مشکل
سب سے بڑی گُتھی جو ہمارے سوچنے والے دماغوں کے لیے ناقابلِ حل بن گئی ہے وہ یہ ہے‘ کہ یہاں کروڑوں کی تعداد میں ایک ایسی قوم بستی ہے‘ جو نہ پوری مسلمان ہے نہ پوری غیر مسلم۔ اس قوم کے اس حال میں یہاں موجود ہونے سے متعدّد پیچیدہ مسائل پیدا ہوگئے ہیں‘ جن کا کوئی حل لوگوں کو نہیں ملتا اور اسی وجہ سے رہنما اور کارکن سب پراگندہ عمل ہورہے ہیں۔ مثال کے طور پر میں ان چند بڑی بڑی اُلجھنوں کی طرف اشارہ کروں گا‘ جو اس صورت حال نے پیدا کر دی ہیں:۔
بعض لوگ لفظ مسلمان سے دھوکا کھا کر اس غلط فہمی میں پڑ گئے ہیں‘ کہ اصل سوال اسلام کے احیاء (revival)کا نہیں‘ بلکہ مسلمانوں کے احیاء کا ہے۔ یعنی یہ قوم جو مسلمان کے نام سے پائی جاتی ہے‘ اس کو ایک زندہ اور طاقت ورقوم بنانا اور برسر عروج لانا اصل مقصود ہے‘ اور اسی کا نام اسلام کا احیاء ہے۔ یہ غلط فہمی ان کو ’’مسلم قوم پرستی‘‘ کی حد تک کھینچ لے گئی ہے جس طرح مونجے اور ساور کر{ FR 2522 }کے لیے سوال ہندو قوم کے عروج کا ہے جس طرح مسولینی کے لیے اطالوی قوم‘ اور ہٹلر کے لیے جرمن قوم کے عروج کا سوال ہے۔ اسی طرح ان ’’مسلم قوم پرستوں‘‘ کے لیے اصل سوال اس مسلمان قوم کے عروج کا ہے‘ جس میں یہ پیدا ہوئے ہیں‘ اور جس کے ساتھ ان کی قسمتیں وابستہ ہیں۔یہ اسلام کی خدمت اس کو سمجھتے ہیں‘ کہ مسلمانوں کی تعلیم (قطع نظر اس سے کہ وہ تعلیم کیسی ہی ہو)ان کی معاشی خوش حالی (خواہ وہ کسی قسم کے ذرائع سے حاصل ہو) اور ان کی سیاسی وعسکری تنظیم (مجرد قومی تنظیم) پر اپنا زور صرف کیا جائے‘ اور ان کو ایک زبردست قوم بنا دیا جائے۔ پھر جب یہ ان کا مقصد قرار پایا‘ تو انہوں نے معاملات کو اس نظر سے دیکھنا شروع کیا‘ کہ کون سی تدابیر اس مقصد تک پہنچنے میں مدد گار ہوسکتی ہیں۔ اور جو تدبیریں بھی ان کو دنیا میں قومی عروج کے لیے مفید وکارگر نظر آئیں‘ اس کو بے تکلّف انہوں نے استعمال کرنا شروع کر دیا‘ خواہ وہ اسلام سے ان کو کتنی ہی دور لے جانے والی ہوں۔یہ ذہنیت سر سید احمد خاں کے وقت سے آج تک مسلمانوں کے اکثر وبیشتر رہنمائوں‘ کارکنوں اور اداروں پر مسلّط ہے۔ اسلام کے نام سے جو کچھ سوچا جا رہا ہے‘ مسلمانوں کے لیے سوچا جا رہا ہے‘ اور اسلام کی قید سے آزاد ہوکر سوچا جا رہا ہے۔
کچھ دوسرے لوگ اسلام اور مسلمان کو اس حیثیت سے تو خَلْط مَلْط نہیں کرتے‘ لیکن ایک دوسری حیثیت سے وہ اسلام کے مستقبل کو موجودہ نسلی مسلمانوں کے دامن سے باندھ دیتے ہیں۔ وہ چاہتے تو اسلام ہی کا احیا ہیں‘ مگر ان کا خیال یہ ہے‘ کہ اسلام کا احیا موقوف ہے ان سب مسلمانوں کے مکمل مسلمان بن جانے پر‘ جو اس وقت قومی ونسلی حیثیت سے مسلمان ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں‘ کہ جب تک یہ سارے کے سارے مسلمان ذہنی‘ اخلاقی اور عملی حیثیت سے تبدیل نہ ہوجائیں قدم آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ اور یہ چیز چونکہ سخت دشوار بلکہ محال نظر آتی ہے‘ اس لیے یہ لوگ اصل مقصد کی طرف پیش قدمی کرنے کے بجائے‘ اِدھر اُدھر کے فضول کاموں میں مختلف ضمنی مقاصد کے پیچھے اپنی قوّتیں ضائع کر رہے ہیں۔
کچھ اور لوگ ہیں‘ جن کے سامنے اسلامی نصب العین قریب قریب بالکل واضح ہوچکا ہے‘ اور وہ اس کی طرف بڑھنا بھی چاہتے ہیں۔مگر یہ سوال ان کو بار بار پریشان کرتا ہے‘ کہ اگر ہمارے کار فرما دماغ اور کارکن ہاتھ‘ سب کے سب اسلامی نصب العین کے لیے جدوجہد کرنے میں لگ جائیں‘ تو آخر موجودہ کافرانہ نظامِ تمدّن وسیاست اور اس کے آئندہ تغیّرات میں‘ ہماری قوم کے سیاسی ومعاشی مفاد کا کیا حشر ہوگا۔ اس سوال کی اہمیت ان کی نگاہ میں اتنی زیادہ ہے‘ کہ وہ اپنے عزم سفر کو ملتوی کر کے کہتے ہیں‘ کہ پہلے اس سوال کو حل کیا جائے‘ اور اصل مقصد کی طرف قدم اس وقت بڑھایا جائے‘ جب اپنی قوم کا کوئی مسئلہ ہمارے لیے حل طلب باقی نہ رہے۔
لیکن یہ تمام اُلجھنیں غیراسلامی طرز فکر اور غیراسلامی ذہنیّت کی پیداوار ہیں۔ اگر خالص مسلمان ہونے کی حیثیت سے دیکھا جائے‘ تو ان میں سے کوئی اُلجھن بھی ہمارے لیے اُلجھن نہیں رہتی۔ ہمارے سامنے اصل سوال کسی قوم کے احیاء کا نہیں‘ بلکہ مسلک اسلام کے احیاء کا ہے۔ قوم کے احیاء کا خیال دماغ سے نکالتے ہی وہ تمام مسائل کا فور کی طرح اڑ جاتے‘ جو قومیّت کی اصطلاحوں میں سوچنے والے لوگوں کو پریشان کیا کرتے ہیں۔ جب ہم مسلک ِاسلام کے پیرو ہیں‘ اور اس کو فروغ دینا ہمارا مقصد ہے‘ تو ہمیں کسی ایسے مفاد سے کوئی دلچسپی یا ہمدردی نہیں ہوسکتی‘ جو کسی غیراسلامی نظام سے وابستہ ہویا اصولِ اسلام سے متصادم ہو۔ ہم اپنے دماغ کو اس کے لیے سوچنے کی کچھ بھی زحمت نہ دیں گے۔ قومی احیا کی ان تمام تدبیروں سے بھی ہمارا کوئی تعلق نہ ہوگا‘ جو غیراسلامی اصول پر مبنی ہوں۔ ایک قوم اور دوسری قوم کی باہمی کش مکش اور ایک قوم پر دوسری قوم کے تفوّق کی کوششوں سے بھی ہم پوری تبری کریں گے‘ ہم کو جو کچھ بھی دل چسپی ہوگی‘ اسلامی نظام فکرو عمل سے اس کی تبلیغ واشاعت سے‘ اور اس کو حکمراں بنانے کی سعی وجہد سے ہوگی۔ مسلمانوں سے ہمارا تعلق صرف اسی حد تک ہوگا‘ جس حد تک ان کا تعلق اسلام سے ہے۔ جو اپنی خواہشِ نفس اور ہر غیر اﷲ کی بندگی چھوڑ کر‘ صرف اﷲ کی بندگی میں آجائے‘ وہ ہمارا بھائی اور رفیق ہے خواہ وہ نسلی مسلمانوں میں سے آئے‘ یا غیر مسلموں میں سے ہم پیدائشی مسلمانوں کو بھی اسی مسلک کی طرف دعوت دیں گے‘ اور غیر مسلموں کو بھی ہمارے نزدیک اسلام کا دامن نسلی مسلمانوں کے دامن سے بندھا ہوا نہ ہوگا کہ یہ اُٹھیں تو وہ بھی اُٹھے‘ اور یہ نہ اُٹھیں تو وہ بھی نہ اُٹھے۔اسلام ان کے باپ دادا کی جائیداد نہیں ہے‘ یہ اس کے لیے جینے اور اسی کے لیے مرنے پر تیار ہوں‘ تو ہم خوش اور ہمارا خدا خوش۔ ورنہ جس جہنم میں ان کا جی چاہے جا کر گر جائیں۔ ہم اﷲ کا کلمہ دوسرے انسانوں کے پاس لے جائیں گے۔
یہ جو کچھ کہہ رہا ہوں بعینہٖ یہی طرزِعمل ابنیاء ورسلعلیھم السلام کا تھا‘ اور اسی کو نبی اکرمa نے اختیار کیا۔ قرآن میں جن کو اہلِ کتاب کہا گیا ہے وہ آخر ’’نسلی مسلمان‘‘ ہی تو تھے۔ خدا اور ملائکہ اور نبی اور کتاب اور آخرت سب کو مانتے تھے‘ اور عبادات اور احکام کی رسمی پیروی بھی کرتے تھے۔ البتہ اسلام کی اصلی روح‘ یعنی بندگی واطاعت کو اﷲ کے لیے خالص کر دینا اور دین میں شرک نہ کرنا‘ یہ چیز ان میں سے نکل گئی تھی۔ اب دیکھئے‘ کیا آنحضرتa نے اس ’’نسلی مسلمان قوم‘‘ کے احیا پر اپنی کوششوں کو مرکوز فرمایا تھا؟ نہیں کیا آپ نے یہ عہد کر لیا تھا‘ کہ جب تک یہ سارے کے سارے ’’نسلی مسلمان‘‘ اصلی مسلمان نہ بن جائیں گے قدم آگے نہ بڑھایا جائے گا؟یہ بھی نہیں۔ کیا آپ نے ان ’’نسلی مسلمانوں‘‘ کے دنیوی مسائل کو حل کرنے تک اقامت دین کی کوششوں کو ملتوی رکھا تھا؟ یہ بھی نہیں‘ پھر آپ نے کیا کیا؟سب جانتے ہیں‘ کہ آپ نے تمام معاملات اور تمام مسائل سے قطع نظر کر کے ’’نسلی مسلمانوں‘‘ اور غیر مسلموں سب کو خالص اﷲ کی بندگی کی طرف دعوت دی‘ جس نے اسے قبول کیا اور غیر اﷲ کی بندگی واطاعت ترک کر دی‘ اسے اپنے جتھے میں شامل کر لیا اور پھر ان لوگوں کو لے کر الٰہی نظامِ اطاعتِ یعنی دینِ حق کو قائم کرنے کے لیے براہِ راست جدوجہد شروع کر دی‘ یہاں تک کہ اس کو قائم کر کے چھوڑا۔
ٹھیک یہی طریقہ ہے‘ جس کی پیروی کو میں حق سمجھتا ہوں‘ اسی کی پیروی خود کرنا چاہتا ہوں‘ اور اسی کا مشورہ ان سب لوگوں کو دیتا ہوں‘ جن کا نصب العین اسلامی ہے۔
(ترجمان القرآن۔ جنوری ۱۹۴۱ء)
خ خ خ

اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے؟

اس مقالہ میں مجھے اُس عمل ( process)کی تشریح کرنی ہے‘ جس سے ایک طبعی نتیجہ کے طور پر اسلامی حکومت وجود میں آتی ہے۔ آج کل میں دیکھ رہا ہوں کہ اسلامی حکومت کا نام بازیچۂ اطفال بنا ہوا ہے۔ مختلف حلقوں سے اس تصوّر اور اس مقصد کا اظہار ہورہا ہے‘ مگر ایسے ایسے عجیب راستے اس منزل تک پہنچنے کے لیے تجویز کیے جا رہے ہیں‘ جن سے وہاں تک پہنچنا اتنا ہی محال ہے جتنا موٹر کار کے ذریعہ سے امریکہ تک پہنچنا۔ اس خام خیالی (loose thinking)کی تمام تر وجہ یہ ہے‘ کہ بعض سیاسی وتاریخی اسباب سے کسی ایسی چیز کی خواہش تو پیدا ہوگئی ہے‘ جس کا نام ’’اسلامی حکومت ہو‘ مگر خالص علمی (scientific)طریقہ پر نہ تو یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے‘ کہ اس حکومت کی نوعیت کیا ہے‘ اور نہ یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ وہ قائم کیونکر ہوا کرتی ہے۔ایسی حالت میں یہ ضرورت محسوس ہوتی ہے‘ کہ علمی طریقہ پر اس مسئلہ کی پوری تحقیق کی جائے۔
نظامِ حکومت کا طبعی ارتقا
جو لوگ اجتماعیات میں کچھ بھی نظر رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں‘ کہ حکومت خواہ کسی نوعیت کی ہو‘ مصنوعی طریقہ سے نہیں بنا کرتی۔ وہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے‘ کہ کہیں وہ بن کر تیار ہو‘ اور پھر اُدھر سے لاکر اس کو کسی جگہ جما دیا جائے۔ اس کی پیدائش تو ایک سوسائٹی کے اندر اخلاقی نفسیاتی‘ تمدّنی اور تاریخی اسباب کے تعامل سے طبعی طور پر ہوتی ہے۔ اس کے لیے کچھ ابتدائی لوازم (prerequisites)‘ کچھ اجتماعی محرّکات‘ کچھ فطری مقتضیات ہوتے ہیں‘ جن کے فراہم ہونے اور زور کرنے سے وہ وجود میں آتی ہے۔ جس طرح منطق میں آپ دیکھتے ہیں‘ کہ نتیجہ ہمیشہ مقدمات(premises)کی ترتیب ہی سے بر آمد ہوتا ہے۔ جس طرح علم الکیمیا میں آپ دیکھتے ہیں‘ کہ ایک کیمیاوی مرکب ہمیشہ کیمیاوی کشش رکھنے والے اجزا کے مخصوص طریقہ پر ملنے ہی سے بر آمد ہوتا ہے‘ اسی طرح اجتماعیات میں بھی یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے‘ کہ ایک حکومت صرف ان حالات کے اقتضاء کا نتیجہ ہوتی ہے‘ جو کسی سوسائٹی میں بہم ہوگئے ہوں۔ پھر حکومت کی نوعیت کا تعین بھی بالکُلیہ ان حالات کی کیفیت پر منحصر ہوتا ہے‘ جو اس کی پیدائش کے مقتضی ہوتے ہیں‘ جس طرح یہ ممکن نہیں کہ مقدمات کسی نوعیت کے ہوں ‘اور ان کی ترتیب سے نتیجہ کچھ اور نکل آئے‘ درخت لیموں کا لگایا جائے‘ اور نشوونما پا کر وہ پھل آم کے دینے لگے‘ اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے‘ کہ اسباب ایک خاص نوعیت کی حکومت کے فراہم ہوں‘ ان کے مل کر کام کرنے کا ڈھنگ بھی اسی نوعیت کی حکومت کے نشو ونما پانے کے لیے مناسب ہو‘ مگر ارتقائی مراحل سے گزر کر جب وہ تکمیل کے قریب پہنچے تو انہی اسباب اور اسی عمل کے نتیجہ میں بالکل ایک دوسری ہی نوعیت کی حکومت بن جائے۔
یہ گمان نہ کیجیے کہ میں یہاں جبریت(determinism)کو دخل دے رہا ہوں‘ اور انسانی ارادہ واختیار کی نفی کر رہا ہوں۔ بلا شبہ حکومت کی نوعیت متعین کرنے میں افراد اور جماعتوں کے ارادہ وعمل کا بہت بڑا حصّہ ہے‘ مگر دراصل میں یہ ثابت کر رہا ہوں کہ جس نوعیت کا بھی نظامِ حکومت پیدا کرنا مقصود ہو‘ اسی کے مزاج اور اسی کی فطرت کے مناسب اسباب فراہم کرنا اور اسی کی طرف لے جانے والا طرزِعمل اختیار کرنا بہرحال ناگزیر ہے۔اس کے لیے ضروری ہے‘ کہ ویسی ہی تحریک اُٹھے‘ اسی قسم کے انفرادی کیرکٹر تیار ہوں‘ اسی طرح کا اجتماعی اخلاق بنے‘ اسی طرز کی لیڈر شپ ہو‘ اور اسی کیفیت کا اجتماعی عمل ہو‘ جس کا اقتضاء اس خاص نظامِ حکومت کی نوعیت فطرۃً کرتی ہے‘ جسے ہم بنانا چاہتے ہیں۔ یہ سارے اسباب وعوامل جب بہم ہوتے ہیں‘ اور جب ایک طویل مدّت تک جدوجہد کرنے سے ان کے اندر اتنی طاقت پیدا ہوجاتی ہے‘ کہ ان کی تیار کی ہوئی سوسائٹی میں کسی دوسری نوعیت کے نظامِ حکومت کا جینا دشوار ہوجاتا ہے تب ایک طبعی نتیجہ کے طور پر وہ خاص نظامِ حکومت ابھر آتا ہے‘ جس کے لیے ان طاقت ور اسباب نے جدوجہد کی ہو۔ بالکل اسی طرح جس طرح کہ ایک بیج سے جب درخت پیدا ہوتا ہے‘ اور اپنے زور میں بڑھتا چلا جاتا ہے‘ تو نشوونما کی ایک خاص حد پر پہنچ کر اسی میں وہی پھل آنے شروع ہوجاتے ہیں‘ جن کے لیے اس کی فطری ساخت زور کر رہی تھی۔ اس حقیقت پر جب آپ غور کریں گے تو آپ کو یہ تسلیم کرنے میں ذرا تامّل نہ ہوگا کہ جہاں تحریک‘ لیڈر شپ‘ انفرادی سیرت‘ جماعتی اخلاق‘ اور حکمت ِعملی ہر ایک چیز ایک نوعیت کا نظامِ حکومت پیدا کرنے کے لیے موزوں ومناسب ہو‘ اور اُمید یہ کی جائے کہ ان کے نتیجہ میں بالکل ہی ایک دوسری نوعیت کا نظام پیدا ہوگا وہاں بے شعوری‘ خام خیالی اور خام کاری کے سوا کوئی چیز کام نہیں کر رہی ہے۔
اصولی حکومت
اب ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ حکومت جس کو ہم اسلامی حکومت کہتے ہیں‘ اس کی نوعیت کیا ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلی خصوصیت جو اسلامی حکومت کو تمام دوسری حکومتوں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے‘ کہ قومیّت کا عنصر اس میں قطعی ناپید ہے۔ وہ مجرد ایک اصولی حکومت ہے۔ انگریزی میں میں اس کو (ideological state)کہوں گا۔ یہ ’’اصولی حکومت‘‘ وہ چیز ہے‘ جس سے دنیا ہمیشہ ناآشنا رہی ہے‘ اور آج تک ناآشنا ہے۔ قدیم زمانہ میں لوگ صرف خاندانوں یا طبقوں کی حکومت سے واقف تھے۔ بعد میں نسلی اور قومی حکومتوں سے واقف ہوئے۔ محض ایک اصولی حکومت‘ اس بنیاد پر کہ جو اس اصول کو قبول کر لے وہ بلا لحاظ قومیّت اسٹیٹ کو چلانے میں حصّہ دار ہوگا‘ دنیا کے تنگ ذہن میں کبھی نہ سما سکی۔ عیسائیت نے اس تخیل کا بہت ہی دھندلا سانقش پایا‘مگر اس کو وہ مکمل نظام فکر نہ مل سکا‘ جس کی بنیاد پر کوئی اسٹیٹ تعمیر ہوتا۔ انقلابِ فرانس میں اصولی حکومت کے تخیل کی ایک ذرا سی جھلک انسان کی نظر کے سامنے آئی مگر نیشنل ازم کی تاریکی میں گم ہوگئی۔{ FR 2524 }اشتراکیت نے اس تخیل کا خاصا چرچا کیا‘ حتیٰ کہ ایک حکومت بھی اس کی بنیاد پر تعمیر کرنے کی کوشش کی اور اس کی وجہ سے دنیا کی سمجھ میں یہ تخیل کچھ کچھ آنے لگا تھا‘ مگر اس کی رگ وپے میں بھی آخر کار نیشنل ازم گھس گیا۔ ابتدا سے آج تک تمام دنیا میں صرف اسلام ہی وہ مسلک ہے‘ جو قومیّت کے ہر شائبہ سے پاک کر کے‘ حکومت کا ایک نظام خالص آئیڈیالوجی کی بنیاد تعمیر کرتا ہے‘ اور تمام انسانوں کو دعوت دیتا ہے‘ کہ اس آئیڈیالوجی کو قبول کر کے غیر قومی حکومت بنائیں۔
یہ چیز چونکہ نرالی ہے‘ اور گردوپیش کی تمام دنیا اس کے خلاف چل رہی ہے‘ اس لیے نہ صرف غیر مسلم بلکہ خود مسلمان بھی اس کو اور اس کے جملہ مضمرات (impllcations) کو سمجھنے سے قاصر ہورہے ہیں۔ جو لوگ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئے ہیں‘ مگر جن کے اجتماعی تصوّرات تمام تر یورپ کی تاریخ‘ یورپ ہی کے سیاسیات اور علومِ عمران (social sciences)سے بنے ہیں‘ ان کے ذہن کی گرفت میں یہ تصوّر کسی طرح نہیں آتا۔ بیرون ہند کے وہ ممالک جن کی بیشتر آبادی مسلمان اور سیاسی حیثیت سے آزاد ہے۔ وہاں اس قسم کے لوگوں کے ہاتھ میں جب زمام حکومت آئی تو ان کو حکومت کا کوئی نقشہ قومی حکومت (national state)کے سوا نہ سوجھا‘ کیونکہ وہ اسلام کے علم وشعور اور اصولی حکومت کے تصوّر سے بالکل خالی الذّہن تھے۔ ہندستان میں بھی جن لوگوں نے اس طرز کی دماغی تربیت پائی ہے‘ وہ اسی مشکل میں مبتلا ہیں۔ اسلامی حکومت کا نام لیتے ہیں‘ مگر بے چارے اپنے ذہن کی ساخت سے مجبور ہیں‘ کہ ہِرپِھر کر جو نقشہ بھی نظر کے سامنے آتا ہے قومی حکومت ہی کا آتا ہے‘ قوم پرستانہ طرز فکر (nationalistic ideology)ہی میں دانستہ ونادانستہ پھنس جاتے ہیں‘ اور جو پروگرام سوچتے ہیں وہ بنیادی طور پر قوم پرستانہ ہی ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک پیشِ نظر مسئلہ کی نوعیت بس یہ ہے‘ کہ ’’مسلمان‘‘ کے نام سے جو ایک ’’قوم‘‘بن گئی ہے اس کے ہاتھ میں حکومت آجائے‘ یا کم از کم اس کو سیاسی اقتدار نصیب ہوجائے۔ اس نصب العین تک پہنچنے کے لیے یہ جتنا بھی دماغ پر زور ڈالتے ہیں۔ اس کے سوا کوئی طریق کار انہیں نظر نہیں آتا‘ کہ دنیا کی قومیں عموماً جو تدابیر اختیار کیا کرتی ہیں وہی اس قوم کے لیے بھی اختیار کی جائیں۔ جن اجزا سے یہ قوم مرکب ہے ان کو جوڑ کر ایک ٹھوس مجموعہ بنایا جائے‘ ان میں نیشنل ازم کا جوش پھونکا جائے۔{ FR 2525 }ان کے اندر مرکزی اقتدار ہوان کے نیشنل گارڈ س منظم ہوں‘ ان کی ایک قومی ملیشیا تیار ہو‘ وہ جہاں اکثریت میں ہوں وہاں اقتدار اکثریت(majority rule)کے مسلم جمہوری اصول پر ان کے قومی اسٹیٹ بن جائیں‘ اور جہاں ان کی تعداد کم ہووہاں ان کے ’’حقوق‘‘ کا تحفظ ہوجائے ان کی انفرادیت اسی طرح محفوظ ہو‘ جس طرح دنیا کے ہر ملک میں ہر قومی اقلیت (national minority) اپنی انفرادیت محفوظ کرنا چاہتی ہے‘ ملازمتوں اور تعلیمی وانتخابی اد ارات میں ان کا حصّہ مقرر ہواپنے نمائندے یہ خود چنیں‘ وزارتوں میں ایک قوم کی حیثیت سے یہ شریک کیے جائیں‘ وغیر ذالک من القومیّات۔یہ سب باتیں کرتے ہوئے یہ لوگ اُمت‘ جماعت‘ ملت‘ ملیت‘ امیر‘ اطاعت ِامیر اور اسی قسم کے دوسرے الفاظ‘ اسلامی اصطلاحات سے لے کر بولتے ہیں‘ مگر اسلامی فکر کے اعتبار سے یہ سب ان کے لیے مذہب ِقوم پرستی کی اصطلاحوں کے مترادفات ہیں‘ جو خوش قسمتی سے پرانے ذخیرے میں گھڑے گھڑائے مل گئے‘ اور غیراسلامی رنگ کے لیے اسلامی رنگ کیخلاف کا کام دینے لگے۔
اصولی حکومت کی نوعیت آپ سمجھ لیں تو آپ کو یہ بات سمجھنے میں ذرہ برابر بھی دقّت پیش نہ آئے گی کہ اس کی بِنا رکھنے کے لیے یہ طرزِ فکر‘ یہ اندازِ تحریک‘ یہ عملی پروگرام نقطہ آغاز کا بھی کام نہیں دے سکتا کجا کہ تعمیر کے انجام تک پہنچا سکے۔ بلکہ زیادہ صحیح یہ ہے‘ کہ اس کا ہر جُزو ایک تیشہ ہے‘ جس سے اصولی حکومت کی جڑکٹ جاتی ہے۔ اصولی حکومت کے تخیل کی تو بنیاد ہی یہ ہے‘ کہ ہمارے سامنے قومیں اور قومیّتیں نہیں‘ صرف انسان ہیں‘ ہم ان کے سامنے ایک اصول اِس حیثیت سے پیش کرتے ہیں‘ کہ اسی پر تمدّن کا نظام اور حکومت کا ڈھانچہ تعمیر کرنے میں ان کی فلاح ہے‘ اور جو اس کو قبول کر لے وہ اس نظام کو چلانے میں برابر کا حصّہ دار ہے۔ غور کیجیے‘ اس تخیل کو لے کر وہ شخص کس طرح اُٹھ سکتا ہے‘ جس کے دماغ‘ زبان‘ افعال وحرکات‘ ہر چیز پر قومیّت اور قوم پرستی کا ٹھپّا لگا ہوا ہو۔ اس نے تووسیع تر انسانیت کو اپیل کرنے کا دروازہ خود ہی بند کر دیا‘ پہلے ہی قدم پر اپنی پوزیشن کو آپ غلط کر کے رکھ دیا۔ قوم پرستی کے تعصّب میں جو قومیں اندھی ہورہی ہیں‘ جن کے لڑائی جھگڑوں کی ساری بنیاد ہی قوم پرستی اور قومی ریاستیں ہیں‘ ان کو انسانیت کے نام پر پکارنے اور انسانی فلاح کے اصول کی طرف بلانے کا آخر یہ کونسا ڈھنگ ہے‘ کہ ہم خود اپنے قومی حقوق کے جھگڑے اور قومی اسٹیٹ کے مطالبہ سے اس دعوت کی ابتدا کریں؟کس طرح آپ کی عقل یہ بات قبول کرتی ہے‘ کہ مقدمہ بازی سے لوگوں کو روکنے کی تحریک خود ایک مقدمہ عدالت میں دائر کرنے سے شروع کی جا سکتی ہے؟
خلافت الٰہیہ
اسلامی حکومت کی دوسری خصوصیت یہ ہے‘ کہ اس کی پوری عمارت خدا کی حاکمیت کے تصوّر پر قائم کی گئی ہے۔ اس کا بنیادی نظریہ{ FR 2526 } یہ ہے‘ کہ ملک خدا کا ہے۔ وہی اس کا حاکم ہے۔ کسی شخص یا خاندان یا طبقہ یا قوم کو بلکہ پوری انسانیت کو بھی حاکمیت (sovereignty) کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ حکم دینے اور قانون بنانے کا حق صرف خدا کے لیے خاص ہے۔ حکومت کی صحیح شکل اس کے سوا کوئی نہیں کہ انسان خدا کے خلیفہ کی حیثیت سے کام کرے‘ اور یہ حیثیت صحیح طور پر صررف دو صورتوں سے قائم ہوسکتی ہے‘ یا تو کسی انسان کے پاس براہِ راست خدا کی طرف سے قانون اور دستور حکومت آیا ہویا وہ اس شخص کی پیروی کواختیار کرے جس کے پاس خدا کی طرف سے قانون اور دستور آیا ہے۔ اس خلافت کے کام میں تمام وہ لوگ شریک ہوں گے‘ جو اس قانون پر ایمان لائیں اور اس کی پیروی کرنے پر تیار ہوں۔ یہ کام اس احساس کے ساتھ چلایا جائے گا‘ کہ ہم سب بہ حیثیت مجموعی‘ اور ہم میں سے ہر ایک فرد اً فرداً خدا کے سامنے جواب دہ ہے‘ اس خدا کے سامنے جو ظاہر اور پوشیدہ ہر چیز کو جاننے والا ہے‘ جس کے علم سے کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی اور جس کی گرفت سے ہم مرکر بھی نہیں چھوٹ سکتے۔خلافت کی ذمّہ داری جو ہمارے سپرد کی گئی ہے یہ اس لیے نہیں ہے‘ کہ ہم لوگوں پر اپنا حکم چلائیں ان کو اپنا غلام بنائیں‘ ان کے سر اپنے آگے جھکوائیں‘ ان سے ٹیکس وصول کر کے اپنے محل تعمیر کریں‘ حاکمانہ اختیارات سے کام لے کر اپنے عیش‘ اپنی نفس پرستی اور اپنی کبریائی کا سامان کریں‘ بلکہ یہ سارا بار ہم پر اس لیے ڈالا گیا ہے‘ کہ ہم خدا کے قانونِ عدل کو اس کے بندوں پر جاری کریں۔ اس قانون کی پابندی اور اس کے نفاذ میں ہم نے اگر ذراسی کوتاہی بھی کی‘ اگر ہم نے اس کام میں ذرہ برابر بھی خود غرضی‘ نفس پرستی‘ تعصّب‘ جانب داری یا بددیانتی کو دخل دیا تو ہم خدا کی عدالت سے سزا پائیں گے‘ خواہ دنیا میں ہر سزا سے محفوظ رہ جائیں۔
اس نظریہ کی بنیاد پر جو عمارت اُٹھتی ہے وہ اپنی جڑ سے لے کر چھوٹی سے چھوٹی شاخوں تک ہر چیز میں دنیو ی حکومتوں (secular states)سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اس کی ترکیب‘ اس کا مزاج اس کی فطرت‘ کوئی چیز بھی اُن سے نہیں ملتی۔ اس کو بنانے اور چلانے کے لیے‘ ایک خاص قسم کی ذہنیت‘ خاص طرز کی سیرت‘ اور خاص نوعیت کے کردار کی ضرورت ہے۔ اس کی فوج‘ اس کی پولیس‘ اس کی عدالت اس کے مالیات‘ اس کے قوانین‘ اس کے محاصل‘ اس کی انتظامی پالیسی‘ اس کی خارجی سیاست‘ اس کی صلح وجنگ کے معاملات‘ سب کے سب دنیوی ریاستوں سے مختلف ہیں۔ ان کی عدالتوں کے چیف جسٹس‘ اس کی عدالت کے کلرک‘ بلکہ چپراسی تک بننے کے اہل نہیں ہوسکتے۔ ان کی پولیس کے انسپکٹر جنرل وہاں کانسٹیبل کی جگہ کے لیے بھی موزوں نہیں ٹھیرتے۔ ان کے جنرل اور فیلڈ مارشل وہاں سپاہیوں میں بھرتی کرنے کے قابل بھی نہیں۔ ان کے وزارئے خارجہ وہاں کسی منصب پر تو کیا فائز ہوں گے‘ شاید اپنے جھوٹ‘ دغا‘ اور بددیانیتوںکی بدولت جیل جانے سے بھی محفوظ نہ رہ سکیں۔ غرض وہ تمام لوگ جو ان حکومتوں کے کاروبار چلانے کے لیے تیار کیے گئے ہوں‘ جن کی اخلاقی وذہنی تربیت ان کے مزاج کے مناسب حال کی گئی ہو‘ اسلامی حکومت کے لیے قطعی ناکارہ ہیں۔ اس کو اپنے شہری‘ اپنے ووٹر‘ اپنے کونسلر‘ اپنے اہل کار‘ اپنے سپاہی‘ اپنے جج اور مجسٹریٹ‘ اپنے محکموں کے ڈائریکٹر‘ اپنی فوجوں کے قائد‘ اپنے خارجی سفراء اور اپنے وزیر‘ غرض اپنی اجتماعی زندگی کے تما م اجزاء اپنی انتظامی مشین کے تمام پرزے‘ بالکل ایک نئی ساخت کے درکار ہیں۔ اس کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے‘ جن کے دلوں میں خدا کا خوف ہو‘ جو خدا کے سامنے اپنی دمہ داری کا احساس رکھتے ہوں‘ جو دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے والے ہوں‘ جن کی نگاہ میں اخلاقی نفع ونقصان کا وزن دنیوی نفع ونقصان سے زیادہ ہو‘ جو ہر حال میں اس ضابطے اور اس طرزِعمل کے پابند ہوں‘ جو ان کے لیے مستقل طور پر بنا دیا گیا ہے‘ جن کی تمام سعی وجہد کا ہدفِ مقصود خدا کی رضا ہو‘ جن پر شخصی یا قومی اغراض کی بندگی اور ہوا وہوس کی غلامی مسلّط نہ ہو‘ جو تنگ نظری وتعصّب سے پاک ہوں‘ جو مال اور حکومت کے نشہ میں بدمست ہوجانے والے نہ ہوں‘ جو دولت کے حریص اور اقتدار کے بھوکے نہ ہوں‘ جن کی سیرتوں میں یہ طاقت ہوکہ جب زمین کے خزانے ان کے دست قدرت میں آئیں‘ تو وہ پکے امانت دار ثابت ہوں‘ جب بستیوں کی حکومت ان کے ہاتھ میں آئے‘ تو وہ راتوں کی نیند سے محروم ہوجائیں‘ اور لوگ ان کی حفاظت میں اپنی جان‘ ‘ مال‘ آبرو‘ ہر چیز کی طرف سے بے خوف رہیں جب وہ فاتح کی حیثیت سے کسی ملک میں داخل ہوں‘ تو لوگوں کو ان سے قتل وغارت گری‘ ظلم وستم اور بدکاری وشہوت رانی کا کوئی اندیشہ نہ ہو‘بلکہ ان کے ہر سپاہی کو مفتوح ملک کے باشندے اپنی جان ومال اور اپنی عورتوں کی عصمت کا محافظ پائیں‘ جن کی دھاک بین الاقوامی سیاست میں اس درجہ کی ہوکہ ان کی راستی‘ انصاف پسندی‘ اصول اخلاق کی پابندی اور عہدوپیمان پر تمام دنیا میں اعتماد کیا جائے۔ اس قسم کے اور صرف اسی قسم کے لوگوں سے اسلامی حکومت بن سکتی ہے۔ اور یہی لوگ اس کو چلا سکتے ہیں۔رہے مادّہ پرست‘ افادی ذہنیت (utilitarian mentality)رکھنے والے لوگ‘ جو دنیوی فائدوں اور شخص یا قومی مصلحتوں کی خاطر ہمیشہ ایک نیا اصول بناتے ہوں‘ جن کے پیشِ نظر نہ خدا ہو‘ نہ آخرت‘ بلکہ جن کی ساری کوششوں کا مرکز ومحور اور ساری پالیسیوں کا مدار صرف دنیوی فائدہ ونقصان ہی کا خیال ہو‘ وہ ایسی حکومت بنانے یا چلانے کے قابل تو کیا ہوں گے‘ ان کا اس حکومت کے دائرے میں موجود ہونا ہی ایک عمارت میں دیمک کی موجودگی کا حکم رکھتا ہے۔
اسلامی انقلاب کی سبیل
اسلامی حکومت کی اس نوعیت کو ذہن میں رکھ کر غور کیجئے کہ اس منزل تک پہنچنے کی کیا سبیل ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ میں ابتدا میں عرض کر چکا ہوں‘ کسی سوسائٹی میں جس قسم کے فکری‘ اخلاقی‘ تمدّنی اسباب ومحرکات فراہم ہوتے ہیں اُن کے تعامل سے اُسی قسم کی حکومت وجود میں آتی ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے‘ کہ ایک درخت اپنی ابتدائی کو نپل سے لے کر پورا درخت بننے تک تو لیموں کی حیثیت سے نشو ونما پائے‘ مگر بار آوری کے مرحلے پر پہنچ کر یکا یک آم کے پھل دینے لگے۔ درحقیقت اسلامی حکومت کسی معجزے کی شکل میں صادر نہیں ہوتی۔ اس کے پیدا ہونے کے لیے ناگزیر ہے‘ کہ ابتداء میں ایک ایسی تحریک اُٹھے جس کی بنیاد میں وہ نظریۂ حیات‘ وہ مقصد زندگی‘ وہ معیارِ اخلاق‘ وہ سیرت وکردار ہوجو اسلام کے مزاج سے مناسبت رکھتا ہے۔ اس کے لیڈر اور کارکن صرف وہی لوگ ہوں‘ جو اس خاص طرز کی انسانیت کے سانچے میں ڈھلنے کے لیے مستعد ہوں۔ پھر وہ اپنی جدوجہد سے سوسائٹی میں اسی ذہنیت اور اسی اخلاقی روح کو پھیلانے کی کوشش کریں۔ پھر اسی بنیاد پر تعلیم وتربیت کا ایک نیا نظام اُٹھے جو اس مخصوص ٹائپ کے آدمی تیار کرے۔ اس سے مسلم سائنٹسٹ‘ مسلم فلسفی‘ مسلم مورخ‘ مسلم ماہرین مالیات ومعاشیات‘ مسلم ماہرین قانون‘ مسلم ماہرین سیاست‘ غرض ہر شعبہ علم وفن میں ایسے آدمی پیدا ہوں‘ جو اپنی نظر وفکر کے اعتبار سے مسلم ہوں‘ جن میں یہ قابلیت ہوکہ افکار ونظریات کا ایک پورا نظام اور عملی زندگی کا ایک مکمل خاکہ اسلامی اصولوں پر مرتّب کر سکیں‘ اور جن میں اتنی طاقت ہوکہ دنیا کے ناخداشناس ائمہ فکر کے مقابلہ میں اپنی عقلی وذہنی ریاست (intellectual leaderrship)کا سکّہ جما دیں۔{ FR 2527 } اس دماغی پس منظر کے ساتھ یہ تحریک عملاً اس غلط نظامِ زندگی کے خلاف جدوجہد کرے جو گردو پیش پھیلا ہوا ہے۔ اس جدوجہد میں اس کے علم بردار مصیبتیں اُٹھا کر سختیاں جھیل کر‘ قربانیاں دے کر‘ مار کھا کر اور جانیں دے کر اپنے خلوص اور اپنے ارادے کی مضبوطی کا ثبوت دیں۔ آزمائشوں کی بھٹی میں تپائے جائیں‘ اور ایسا سونا بن کر نکلیں‘ جس کو ہر پرکھنے والا ہر طرح سے جانچ کر بے کھوٹ کا مل العیار(finest standard) سوناہی پائے۔ اپنی لڑائی کے دوران میں اپنے ہر قول اور ہر فعل سے اپنی اس مخصوص آئیڈیالوجی کا مظاہرہ کریں‘ جس کے علم بردار بن کر وہ اُٹھے ہیں۔ اور ان کی ہر بات سے عیاں ہوکہ ایسے بے لوث‘ بے غرض‘ راست باز‘ پاک سیرت‘ اثیار پیشہ‘ بااصول‘ خدا ترس لوگ انسانیت کی فلاح کے لیے جس اصولی حکومت کی طرف دعوت دے رہے ہیں اس میں ضرور انسان کے لیے عدل اور امن ہوگا۔ اس طرح کی جدوجہد سے سوسائٹی کے وہ تمام عناصر جن کی فطرت میں کچھ بھی نیکی اور راستی موجود ہے اس تحریک میں کھنچ آئیں گے‘ پست سیرت لوگوں اور ادنیٰ درجہ کے طریقوں پر چلنے والوں کے اثرات اس کے مقابلہ میں دبتے چلے جائیں گے‘ عوام کی ذہنیت میں ایک انقلاب رونما ہوگا۔ اجتماعی زندگی میں اس مخصوص نظامِ حکومت کی پیاس پیدا ہوجائے گی‘ اور اس بدلی ہوئی سوسائٹی میں کسی دوسرے طرز کے نظام کا چلنا مشکل ہوجائے گا۔ آخر کار ایک لازمی اور طبعی نتیجہ کے طور پر وہی نظامِ حکومت قائم ہوجائے گا‘ جس کے لیے اس طور پر زمین تیار کی گئی ہو‘ اور جوں ہی کہ وہ نظام قائم ہوگا اس کو چلانے کے لیے ابتدائی اہل کاروں سے لے کر وزراء اور نظماء تک ہر درجہ کے مناسب کل پرزے اس نظامِ تعلیم وتربیت کی بدولت موجود ہوں گے‘ جس کا ذکر ابھی میں کر چکا ہوں۔
یہ ہے اس انقلاب کے ظہور اور اس حکومت کی پیدائش کا فطری طریقہ جس کو اسلامی انقلاب اور اسلامی حکومت کہا جاتا ہے۔ دنیا کے انقلابات کی تاریخ آپ کے سامنے ہے۔ آپ سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی کہ ایک خاص نوعیت کا انقلاب اسی نوعیت کی تحریک‘ اسی نوعیت کے لیڈر اور کارکن اور اسی نوعیت کا اجتماعی شعور اور تمدّنی واخلاقی ماحول چاہتا ہے۔انقلابِ فرانس کو وہی خاص اخلاقی وذہنی اساس درکار تھی جو روسو‘ والٹیر اور مونٹسکیو جیسے لیڈروں نے تیار کی۔ انقلابِ روس صرف مارکس کے انکار اور لینن اور ٹراٹسکی کی لیڈر شپ اور ان ہزارہا اشتراکی کارکنوں ہی کی بدولت رونما ہوسکتا تھا جن کی زندگیاں اشتراکیت کے سانچے میں ڈھل چکی تھیں۔ جرمنی کا نیشنل سوشلزم اُس مخصوص اخلاقی‘ نفسیاتی اور تمدّنی زمین ہی میں جڑ پکڑ سکتا تھا‘ جو ہیگل‘ فشتے‘ گیوتھے‘ نیتشے اور بہت سے مفکرین کے نظریات اور ہٹلر کی لیڈر شپ نے تیار کیا‘ اسی طرح سے اسلامی انقلاب بھی صرف اُسی صورت میں برپا ہوسکتا ہے‘ جب کہ ایک عمومی تحریک قرآنی نظریات وتصوّرات اور محمدیa سیرت وکردار کی بنیاد پر اُٹھے‘ اور اجتماعی زندگی کی ساری ذہنی‘ اخلاقی‘ نفسیاتی اور تہذیبی بنیادوں کو طاقت ورجدوجہد سے بدل ڈالے۔ یہ بات کم ازکم میری سمجھ میں نہیں آتی‘ کہ قوم پرستانہ نوعیت کی کوئی تحریک جس کا پس منظر یہ ناقص نظامِ تعلیم ہوجو اس وقت ہمارے ہاں پایا جاتا ہے‘ اور جس کی بنیاد افادی اخلاقیات (utilitarian morals)اور مصلحت پرستی (pragmatism)پر ہو‘ اسلامی انقلاب آخر کس طرح برپا سکتی ہے؟میں اس قسم کے معجزات پر یقین نہیں رکھتا‘ جن پر فرانس کے سابق وزیر اعظم موسیور ینو یقین رکھتے تھے۔{ FR 2528 } میں تو اس کا قائل ہوں کہ جیسی تدبیر کی جائے گی ویسے ہی نتائج بر آمد ہوں گے۔
خام خیالیاں
ہمارے ہاں یہ سمجھا جا رہا ہے بس مسلمانوں کی تنظیم ان کے تمام دردوں کی دوا ہے۔ ’’اسلامی حکومت‘‘ یا ’’آزاد ہندستان میں آزاد اسلام کے مقصد تک پہنچنے کی سبیل یہ سمجھی جا رہی ہے‘ کہ مسلمان قوم جن افراد سے مرکب ہے وہ سب ایک مرکز پر جمع ہوں‘ متحد ہوں‘ اور ایک مرکزی قیادت کی اطاعت میں کام کریں‘ لیکن دراصل یہ قوم پرستانہ پروگرام ہے‘ جو قوم بھی اپنا بول بالا کرنے کے لیے جدوجہد کرنا چاہے گی ‘وہ یہی طریق کار اختیار کرے گی‘ خواہ وہ ہندو قوم ہو‘ یا سکھ‘ یاجرمن‘ یا اطالوی‘ قوم کے عشق میں ڈوبا ہوا ایک لیڈر‘ جو موقع ومحل کے لحاظ سے مناسب چالیں چلنے میں ماہر ہو‘ اور جس میں حکم چلانے کی خاص قابلیت موجود ہو‘ ہر قوم کی سر بلندی کے لیے مفید ہوتا ہے خواہ وہ مونجے یا ساور کر ہو‘ یا ہٹلر یا مسولینی۔ ایسے ہزاروں لاکھوں نوجوان جو قومی عزائم کے لیے اپنے لیڈر کی اطاعت میں منظم حرکت کر سکتے ہوں‘ ہر قوم کا جھنڈا بلند کر سکتے ہیں‘ قطع نظر اس سے کہ وہ جاپانیت پر ایمان رکھتے ہوں‘ یا چینیت پر۔ پس اگر ’’مسلمان‘‘ ایک نسلی وتاریخی قومیّت کا نام ہے‘ اور پیشِ نظر مقصد صرف اس کا بول بالا کرنا ہے‘ تو اس کے لیے واقعی یہی سبیل ہے‘ جو تجویز کی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجہ میں ایک قومی حکومت بھی میسر آسکتی ہے‘ اور بدرجہ اقل وطنی حکومت میں اچھا خاصا حصّہ بھی مل سکتا ہے‘ لیکن اسلامی انقلاب اور اسلامی حکومت کے مقصد تک پہنچنے کے لیے یہ پہلا قدم بھی نہیں‘ بلکہ اُلٹا قدم ہے۔
یہاں جس قوم کا نام مسلمان ہے وہ ہر قسم کے رطب ویا بس لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ کیرکٹر کے اعتبار سے جتنے ٹائپ کافرقوموں میں پائے جاتے ہیں‘ اتنے ہی اس قوم میں بھی موجود ہیں‘ عدالتوں میں جھوٹی گواہیاں دینے والے جس قدر کا فر قومیں فراہم کرتی ہیں‘ غالباً اس تناسب سے یہ بھی فراہم کرتی ہے۔ رشوت‘ چوری‘ زنا جھوٹ اور دوسرے ذمائم اخلاق میں یہ کفّار سے کچھ کم نہیں ہے۔ پیٹ بھرنے اور دولت کمانے کے لیے‘ جو تدبیریں کفار کرتے ہیں‘ وہی اس قوم کے لوگ بھی کرتے ہیں۔ ایک مسلمان وکیل جان بوجھ کر حق کے خلاف اپنے موکل کی پیروی کرتے وقت خدا کے خوف سے اتنا ہی خالی ہوتا ہے‘ جتنا ایک غیر مسلم وکیل ہوتا ہے۔ ایک مسلمان رئیس دولت پا کر‘ یا ایک مسلمان عہدہ دار حکومت پا کر‘ وہی سب کچھ کرتا ہے‘ جو غیر مسلم کرتا ہے یہ اخلاقی حالت جس قوم کی ہو‘ اس کی تمام کالی اور سفید بھیڑوں کو جمع کر کے ایک منظم گلہ بنا دینا اور سیاسی تربیت سے ان کو لومڑی کی ہشیاری سکھانا‘ یا فوجی تربیت سے ان میں بھیڑئیے کی درندگی پیدا کر دینا‘ جنگل کی فرماں روائی حاصل کرنے کے لیے تو مفید ہوسکتا ہے‘ مگر میں نہیں سمجھتاکہ اس سے اعلائے کلمتہ اﷲ کس طرح ہوسکتا ہے۔ کون ان کی اخلاقی برتری تسلیم کرے گا؟کس کی نگاہیں ان کے سامنے عزت سے جھکیں گی؟کس کے دل میں انہیں دیکھ کر اسلام کے لیے جذبہ احترام پیدا ہوگا؟کہاں ان کے ’’انفاسِ قدسیہ‘‘ سے یدخلون فی دین اﷲ افواجا { FR 2529 } کا منظر دکھائی دے سکے گا؟کس جگہ ان کی روحانی امامت کا سکّہ جمے گا؟اور زمین پر بسنے والے کہاں ان کا خیر مقدم اپنے نجات دہندوں کی حیثیت سے کریں گے؟اعلائے کلمتہ الحق جس چیز کا نام ہے اس کے لیے تو صرف ان کارکنوں کی ضرورت ہے‘ جو خدا سے ڈرنے والے اور خدا کے قانون پر فائدہ ونقصان کی پروا کیے بغیر جمنے والے ہوں‘ خواہ وہ اس نسلی مسلمان قوم میں سے ملیں یا کسی دوسری قوم سے بھرتی ہوکر آئیں۔ ایسے دس آدمی اس مقصد کے لیے زیادہ قیمتی ہیں بہ نسبت اس کے کہ وہ انبوہ جس کا میں اوپر ذکر کر آیا ہوں‘ ۲۵ لاکھ یا پچاس لاکھ کی تعدا د میں بھرتی ہوجائے۔ اسلام کو تانبے کے ان سکوں کا خزانہ مطلوب نہیں ہے‘ جن پر اشرفی کا ٹھپہ لگا دیا گیا ہو۔ وہ سکّہ کے نقوش دیکھنے سے پہلے یہ دریافت کرتا ہے‘ کہ ان نقوش کے نیچے خالص سونے کا جو ہر بھی ہے‘ یا نہیں۔ ایسا ایک سکّہ جعلی اشرفیوں کے ڈھیر سے اس کے نزدیک زیادہ قیمتی ہے۔
پھر جس لیڈر شپ کی اعلائے کلمتہ اﷲ کے لیے ضرورت ہے وہ ایسی لیڈر شپ ہے‘ جو ان اصولوں سے ایک انچ بھی ہٹنے کے لیے تیار نہ ہوجن کا بول بالا کرنے کے لیے اسلام اُٹھا ہے خواہ اس ہٹ کی بدولت تمام مسلمان بھوکے ہی کوں نہ مر جائیں بلکہ تہ تیغ ہی کیوں نہ کر دیئے جائیں۔ہر معاملہ میں اپنی قوم کا فائدہ تلاش کرنے والی اور اصول سے بے نیاز ہوکر ہر اس تدبیر کو جس میں قوم کی دنیوی فلاح نظر آئے‘ اختیار کر لینے والی لیڈر شپ اور وہ لیڈر شپ جس میں تقویٰ اور خدا ترسی کا رنگ مفقود ہو‘ اس مقصد کے لیے قطعی ناکارہ ہے‘ جس پر اسلام نے اپنی نظر جما رکھی ہے۔
پھر وہ نظامِ تعلیم وتربیت جس کی بنیاد اس مشہور مقولہ پر رکھی گئی ہے‘ کہ ’’چلو تم ادھر کو ہوا ہوجدھر کی‘‘۔ اس اسلام کی خدمت کے لیے کس طرح موزوں ہوسکتا ہے‘ جس کا قطعی ناقابلِ ترمیم فیصلہ یہ ہے‘ کہ ہوا خواہ کسی طرف کی ہو۔ تم بہرحال اس راستہ پر چلو جو خدا نے تمہارے لیے معین کر دیا ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آج اگر آپ کو ایک خطّہ زمین حکومت کرنے کے لیے دے بھی دیا جائے‘ تو آپ اسلامی اصول پر اس کا انتظام ایک دن بھی نہ چلا سکیں گے۔اسلامی حکومت کی پولیس‘ عدالت‘ فوج‘ مال گزاری‘ فِنانس ‘ تعلیمات اور خارجی پالیسی کو چلانے کے لیے جس ذہنیت اور جس اخلاقی روح رکھنے والے آدمیوں کی ضرورت ہے‘ ان کو فراہم کرنے کا کوئی بندوبست آپ نے نہیں کیا ہے۔ یہ تعلیم جو آپ کے کالجوں میں دی جارہی ہے‘ غیراسلامی حکومت کے لیے سیکرٹری اور وزراء تک فراہم کر سکتی ہے‘ مگر بُرا نہ مانیے‘ اسلامی عدالت کے لیے چپراسی اور اسلامی پولیس کے لیے کانسٹیبل تک فراہم نہیں کر سکتی۔ اور یہ بات جدید تعلیم ہی تک محدود نہیں ہے۔ ہمارا وہ پرانا نظامِ تعلیم جو حرکت زمین کا سرے سے قائل ہی نہیں ہے‘ وہ بھی اس معاملہ میں اتنا ناکارہ ہے‘ کہ اس دور جدید میں اسلامی حکومت کے لیے ایک قاضی‘ ایک وزیر مال‘ ایک وزیر جنگ‘ ایک ناظم تعلیمات اور ایک سفیر بھی مہیا نہیں کر سکتا۔ اس تیاری پر اسلامی حکومت کا حوصلہ ! سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے‘ کہ جو لوگ یہ نام زبان پر لاتے ہیں ان کے ذہن اسلامی حکومت کے صحیح تصوّر سے خالی ہیں۔
بعض لوگ یہ خیال ظاہر کرتے ہیں‘ کہ ایک دفعہ غیراسلامی طرز ہی کا سہی‘ مسلمانوں کا قومی سٹیٹ قائم تو ہوجائے‘ پھر رفتہ رفتہ تعلیم وتربیت اور اخلاقی اصلاح کے ذریعہ سے اس کو اسلامی اسٹیٹ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مگر میں نے تاریخ‘ سیاسیات اور اجتماعیات کا جو تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے اس کی بنا پر میں اس کو ناممکن سمجھتا ہوں ‘اور اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوجائے‘ تو میں اس کو ایک معجزہ سمجھوں گا۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں حکومت کا نظام اجتماعی زندگی میں بڑی گہری جڑیں رکھتا ہے۔ جب تک اجتماعی زندگی میں تغیّر واقع نہ ہو‘ کسی مصنوعی تدبیر سے نظامِ حکومت میں کوئی مستقل تغیّر پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ عمر ابن عبدالعزیز جیسا فرمانروا جس کی پشت پر تابعینؒ وتبع تابعینؒ کی ایک بڑی جماعت بھی تھی‘ اس معاملہ میں قطعی ناکام ہوچکا ہے‘ کیونکہ سوسائٹی بحیثیت مجموعی اس اصلاح کے لیے تیار نہ تھی۔ محمدتغلق اور عالم گیر جیسے طاقت وربار شاہ اپنی شخصی دینداری کے باوجود نظامِ حکومت میں کوئی تغیّر نہ کر سکے۔ مامون الرشید جیسا باجبروت حکمران نظامِ حکومت میں نہیں‘ بلکہ صرف اس کی اوپری شکل میں خفیف سی تبدیلی پیدا کرنا چاہتا تھا‘ اور اس میں بھی ناکام ہوا۔ یہ اس وقت کا حال ہے‘ جب کہ ایک شخص کی طاقت بہت کچھ کر سکتی تھی۔ اب میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جو قومی اسٹیٹ جمہوری طرز پر قائم ہوگا وہ اس بنیادی اصلاح میں آخر کس طرح مدد گار ہوسکتا ہے۔ جمہوری حکومت میں اقتدار ان لوگوں کے ہاتھ میں آتا ہے‘ جن کو ووٹروں کی پسندیدگی حاصل ہو۔ ووٹروں میں اگر اسلامی ذہنیت اور اسلامی فکر نہیں ہے۔ اگر وہ صحیح اسلامی سیرت وکردار کے عاشق نہیں ہیں۔ اگر وہ اسے بے لاگ عدل اور ان بے لچک اصولوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ جن پر اسلامی حکومت چلائی جاتی ہے‘ تو ان کے ووٹوں سے کبھی ’’مسلمان‘‘ قسم کے آدمی منتخب ہوکر‘ پارلیمنٹ یا اسمبلی میں نہیں آسکتے۔ اس ذریعہ سے تو اقتدار انہی لوگوں کو ملے گا‘ جو مردم شماری کے رجسٹر میں چاہے مسلمان ہوں‘ مگر اپنے نظریات اور طریق کار کے اعتبار سے جن کو اسلام کی ہوا بھی نہ لگی ہو۔ اس قسم کے لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار آنے کے معنی یہ ہیں‘ کہ ہم اسی مقام پر کھڑے ہیں‘ جس پر غیر مسلم حکومت میں تھے۔بلکہ اس سے بھی بدتر مقام پر کیونکہ وہ ’’قومی حکومت‘‘ جس پر اسلام کا نما ئشی لیبل لگا ہوگا انقلاب کا راستہ روکنے میں اس سے بھی زیادہ جری اور بے باک ہوگی جتنی غیر مسلم حکومت ہوتی ہے غیر مسلم حکومت جن کاموں پر قید کی سزا دیتی ہے‘ وہ ’’مسلم قومی حکومت‘‘ان کی سزا پھانسی اور جلا وطنی کی صورت میں دے گی‘ اور پھر بھی اس حکومت کے لیڈر جیتے جی غازی اور مرنے پر رحمتہ اﷲ علیہ ہی رہیں گے۔پس یہ سمجھنا قطعی غلط ہے‘ کہ اس قسم کی ’’قومی حکومت‘‘ کسی معنی میں بھی اسلامی انقلاب لانے میں مدد گار ہوسکتی ہے‘‘۔ اب سوال یہ ہے‘ کہ اگر ہم کو اس حکومت میں بھی اجتماعی زندگی کی بنیادیں بدلنے ہی کی کوشش کرنی پڑے گی‘ اور اگر ہمیں یہ کام حکومت کی امداد کے بغیر بلکہ اس کی مزاحمت کے باوجود اپنی قربانیوں ہی سے کرنا ہوگا‘ تو ہم آج ہی سے یہ راہِ عمل کیوں نہ اختیار کریں؟اس نام نہاد ’’مسلم حکومت‘‘ کے انتظار میں اپنا وقت یا اس کے قیام کی کوشش میں اپنی قوّت ضائع کرنے کی حماقت آخر ہم کیوں کریں‘ جس کے متعلق ہمیں یہ معلوم ہے‘ کہ وہ ہمارے مقصد کے لیے نہ صرف غیر مفید ہوگی‘ بلکہ کچھ زیادہ ہی سدِّراہ ثابت ہوگی۔{ FR 2530 }
اسلامی تحریک کا مخصوص طریق کار
اب میں ایک مختصر تاریخی بیان کے ذریعہ سے اس امر کی تشریح کرنا چاہتا ہوں۔کہ اسلامی انقلاب کے لیے اجتماعی زندگی کی بنیادیں بدلنے اور از سرِنو تیار کرنے کی صورت کیا ہوتی ہے‘ اور اس جدوجہد کا وہ مخصوص طریق کار (technique)کیا ہے‘ جس سے یہ کامیابی کی منزل تک پہنچتی ہے۔
اسلام دراصل اس تحریک کا نام ہے‘ جو خدائے واحد کی حاکمیت کے نظریہ پر انسانی زندگی کی پوری عمارت تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ یہ تحریک قدیم ترین زمانہ سے ایک ہی بنیاد اور ایک ہی ڈھنگ پر چلی آرہی ہے۔ اس کے لیڈر وہ لوگ تھے‘ جن کو رُسُل اﷲ (خدا کے فرستادے) کہا جاتا ہے۔ ہمیں اگر اس تحریک کو چلانا ہے‘ تو لامحالہ انہی لیڈروں کے طرزِعمل کی پیروی کرنی ہوگی‘ کیونکہ اس کے سوا کوئی اور طرزِعمل اس خاص نوعیت کی تحریک کے لیے نہ ہے‘ اور نہ ہوسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں جب ہم ابنیاء علیہم السّلام کے نقش قدم کا سراغ لگانے کے لیے نکلتے ہیں‘ تو ہمیں ایک بڑی دقت کا سامنا ہوتا ہے۔قدیم زمانہ میں جو انبیاء گزرے ہیں‘ ان کے کام کے متعلق ہمیں کچھ زیادہ معلومات نہیں ملتیں۔ قرآن میں کچھ مختصر اشارات ملتے ہیں‘ مگر ان سے مکمل اسکیم نہیں بن سکتی۔ بائبل کے عہد جدید(new testament)میں سید نامسیح علیہ السّلام کے کچھ غیر مستند اقوال بھی ملتے ہیں‘ جن سے کسی حد تک اس پہلو پر روشنی پڑتی ہے‘ کہ اسلامی تحریک اپنے بالکل ابتدائی مرحلہ میں کس طرح چلائی جاتی ہے‘ اور کن مسائل سے اس کو سابقہ پیش آتا ہے‘ لیکن بعد کے مراحل حضرت مسیح علیہ السلام کو پیش ہی نہیں آئے ‘کہ ان کے متعلق کوئی اشارہ وہاں سے مل سکے۔{ FR 2531 } اس معاملہ میں ہم کو صرف ایک ہی جگہ سے صاف اور مکمل رہنمائی ملتی ہے‘ اور وہ سیدنا محمدa کی زندگی ہے۔ اس طرف ہمارے رجوع کرنے کی وجہ نری عقیدت مندی ہی نہیں ہے‘ بلکہ دراصل اس راہ کے نشیب وفراز معلوم کرنے کے لیے اسی طرف رجوع کرنے پر ہم مجبور ہیں۔ اسلامی تحریک کے تمام لیڈروں میں سے صرف ایک محمدa ہی وہ تنہا لیڈر ہیں‘ جن کی زندگی میں ہم کو اس تحریک کی ابتدائی دعوت سے لے کر اسلامی اسٹیٹ کے قیام تک اور پھر قیام کے بعد اس اسٹیٹ کی شکل‘ دستور‘ داخلی وخارجی پالیسی اور نظمِ مملکت کے نہج تک ایک ایک مرحلے اور ایک ایک پہلو کی پوری تفصیلات اور نہایت مستند تفصیلات ملتی ہیں۔ لہٰذا میں اسی ماخذ سے اس تحریک کے طریق کار کا ایک مختصر نقشہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔
رسول اﷲ a جب اسلام کی دعوت پر مامور ہوئے ہیں‘ تو آپ کو معلوم ہے‘ کہ دنیا میں بہت سے اخلاقی‘ تمدّنی‘ معاشی اور سیاسی مسائل حل طلب تھے‘ رومی اور ایرانی امپیریلزم بھی موجود تھا۔ طبقاتی امتیازات بھی تھے۔ ناجائز معاشی انتفاع (economic exploitation) بھی ہورہا تھا‘ اور اخلاقی ذمائم بھی پھیلے ہوئے تھے خود آپ کے اپنے ملک میں بہت سے ایسے پیچیدہ مسائل موجود تھے‘ جو ایک لیڈر کے ناخن تدبیر کا انتظار کر رہے تھے۔ ساری قوم جہالت‘ اخلاقی پستی‘ افلاس‘ طوائف الملوکی اور خانہ جنگی میں مبتلا تھی۔ کویت سے یمن تک مشرقی اور جنوبی عرب کے تمام ساحلی علاقے‘ عراق کے زر خیز صوبے سمیت ایرانی تسلّط میں تھے‘ شمال میں حجاز کی سرحد تک رومی تسلّط پہنچ چکا تھا۔ خود حجاز میں یہودی سرمایہ داروں کے بڑے بڑے گڑھ بنے ہوئے تھے‘ اور انہوں نے عربوں کو اپنی سُود خواری کے جال میں پھانس رکھا تھا۔ مغربی ساحل کے عین مقابل حبش کی عیسائی حکومت موجود تھی‘ جو چند ہی سال پہلے مکہ پر چڑھائی کر چکی تھی۔ اس کے ہم مذہب اور اس سے ایک گونہ معاشی وسیاسی تعلق رکھنے والوں کا ایک جتھا خود حجاز اور یمن کے درمیان نجران کے مقام پر موجود تھا۔ یہ سب کچھ تھا مگر جس لیڈر کو اﷲ نے رہنمائی کے لیے مقرر کیا تھا اس نے دنیا کے اور خود اپنے ملک کے ان بہت سے مسائل میں سے کسی ایک مسئلہ کی طرف بھی توجہ نہ کی‘ بلکہ دعوت اس چیز کی طرف دی کہ خدا کے سوا تمام الہٰوں کو چھوڑ دو اور صرف اسی ایک الٰہ کی بندگی قبول کرو۔
اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ اُس رہنما کی نگاہ میں دوسرے مسائل کوئی اہمیت نہ رکھتے تھے یا وہ کسی توجہ کے لائق ہی نہ تھے۔ آپ کو معلوم ہی ہے‘ کہ آگے چل کر اس نے ان سب مسئلوں کی طرف توجہ کی‘ اور ان سب کو ایک ایک کر کے حل کیا۔ مگر ابتداء میں ان سب کی طرف سے نظر پھیر کر اُسی ایک چیز پر تمام زور صرف کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اسلامی تحریک کے نقطۂ نظر سے انسان کی اخلاقی وتمدّنی زندگی میں جتنی خرابیاں بھی پیدا ہوتی ہیں‘ ان سب کی بنیادی علّت انسان کا اپنے آپ کو خود مختار (independent) اور غیر ذمّہ دار (Irresponsible)سمجھنا‘ بالفاظ ِدیگر آپ اپنا الٰہ بننا ہے‘ یا پھر یہ ہے‘ کہ وہ الٰہ العالمین کے سوا کسی دوسرے کو صاحب ِامر تسلیم کرے‘ خواہ وہ دوسرا کوئی انسان ہویا غیر انسان۔ یہ چیز جب تک جڑ میں موجود ہے‘ اسلامی نظریہ کی رُو سے کوئی اوپر ی اصلاح‘ انفرادی بگاڑیا اجتماعی خرابیوں کو دور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ایک طرف سے خرابی کو دور کیا جائے گا ‘اور کسی دوسری طرف سے وہ سر نکال لے گی۔ لہٰذا اصلاح کا آغاز اگر ہوسکتا ہے‘ تو صرف اسی چیز سے ہوسکتا ہے‘ کہ ایک طرف تو انسان کے دماغ سے خود مختاری کی ہوا کو نکالا جائے‘ اور اُسے بتایا جائے کہ تُو جس دنیا میں رہتا ہے‘ وہ درحقیقت بے بادشاہ کی سلطنت نہیں ہے‘ بلکہ فی الواقع اس کا ایک بادشاہ موجود ہے‘ اور اس کی بادشاہی نہ تیرے تسلیم کرنے کی محتاج ہے نہ تیرے مٹائے سے مٹ سکتی ہے نہ تو اس کے حدود سلطنت سے نکل کر کہیں جا سکتا ہے۔ اس اُمت ِاور اٹل واقعہ کی موجودگی میں تیرا خود مختاری کا زُعم ایک احمقانہ غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں ہے‘ جس کا نقصان لامحالہ تیرے ہی اوپر عائد ہوگا‘ عقل اور حقیقت پسندی (realism)کا تقاضا یہ ہے‘ کہ سیدھی طرح اس کے حکم کے آگے سر جھکا دے‘ اورمطیع بندہ بن کر رہ‘ دوسری طرف اس کو واقعہ کا یہ پہلو بھی دکھا دیا جائے کہ اس پوری کائنات میں صرف ایک ہی بادشاہ‘ ایک ہی مالک اور ایک ہی مختار کار ہے۔ کسی دوسرے کو نہ یہاں حکم چلانے کا حق ہے‘ اور نہ واقع میں کسی کا حکم چلتا ہے۔ اس لیے تو اس کے سوا کسی کا بندہ نہ بن‘ کسی کا حکم نہ مان‘ کسی کے آگے سر نہ جھکا۔ یہاں کوئی ہزہائینس نہیں ہے ہائینس صرف ایک ہی کو زیبا ہے یہاں کوئی ہزہولی نس نہیں ہے‘ ہولی نس ساری کی ساری اسی ایک کے لیے خاص ہے‘ یہاں کوئی ہز لارڈ شپ نہیں ہے‘ لارڈ شپ بالکلیہ اسی ایک کا حصّہ ہے‘ یہاں کوئی قانون ساز (law giver) نہیں ہے قانون اسی کا ہے‘ اور وہی قانون بنانے کا حق دار وسزا دار ہے‘ یہاں کوئی سرکار‘ کوئی ان داتا‘ کوئی ولی وکار ساز‘ کوئی دعائیں سننے والا اور فریاد رس نہیں ہے‘ کسی کے پاس اقتدار کی کنجیاں نہیں ہیں‘ کسی کو برتری وفوقیت حاصل نہیں ہے‘ زمین سے آسمان تک سب بندے ہی بندے ہیں۔ رب اور مولیٰ صرف ایک ہے۔ لہٰذا تو ہر غلامی‘ ہراطاعت‘ ہر پابندی سے انکار کر دے‘ اور اسی ایک کا غلام‘ مطیع اور پابند حکم بن جا۔ یہ تمام اصلاحات کی جڑ اور بنیاد ہے۔ اسی بنیاد پر انفرادی سیرت اور اجتماعی نظام کی پوری عمارت ادھڑ کر از سرِنو ایک نئے نقشے پر بنتی ہے‘ اور سارے مسائل جو انسانی زندگی میں آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک پیدا ہوئے‘ اور اب سے قیامت تک پیدا ہوں گے‘ اسی بنیاد پر ایک نئے طریقہ سے حل ہوتے ہیں۔
محمدa نے اس بنیادی اصلاح کی دعوت کو بغیر کسی سابق تیاری اور بغیر کسی تمہیدی کارروائی کے براہِ راست پیش کر دیا۔ انہوں نے اس دعوت کی منزل تک پہنچنے کے لیے کوئی ہیر پھیر کا راستہ اختیار نہ کیا ‘کہ پہلے کچھ سیاسی یا سوشل طرز کا کام کر کے لوگوں میں اثر پیدا کیا جائے‘ پھر اس اثر سے کام لے کر کچھ حاکمانہ اختیارات حاصل کیے جائیں پھر ان اختیارات سے کام لے کر رفتہ رفتہ لوگوں کو چلاتے ہوئے‘ اس مقام تک لے آئیں۔ یہ سب کچھ‘ کچھ نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں‘ کہ وہاں ایک شخص اُٹھا‘ اور چھوٹتے ہی اس نے لاالٰہ الا اﷲ کا اعلان کر دیا۔اس سے کم کسی چیز پر ایک لمحہ کے لیے بھی اس کی نظر نہ ٹھیری۔ اس کی وجہ محض پیغمبر انہ جرأت اور جوش نہیں ہے۔ دراصل اسلامی تحریک کا طریق کار ہی یہی ہے۔ وہ اثر یا وہ نفوذ واقتدار‘ جو دوسرے ذرائع سے پیدا کیا جائے۔ اس اصلاح کے کام میں کچھ بھی مددگار نہیں۔ جو لوگ لاالٰہ الا اﷲ کے سوا کسی اور بنیاد پر آپ کا ساتھ دیتے رہے ہوںوہ اِس بنیاد پرتعمیرِ جدید کرنے میں آپ کے کسی کام نہیں آسکتے۔ اِس کام میں تو وہی لوگ مفید ہوسکتے ہیں جو آپ کی طرف لاالٰہ الا اﷲ کی آواز سُن کر ہی آئیں‘ اِسی چیز میں ان کے لیے کشش ہو‘ اِسی حقیقت کو وہ زندگی کی بنیاد بنائیں‘ اور اِسی اساس پر وہ کام کرنے کے لیے اُٹھیں۔ لہٰذا اِسلامی تحریک کو چلانے کے لیے جس خاص قسم کے تدبر اور حکمتِ عملی کی ضرورت ہے اس کا تقاضا ہی یہی ہے‘ کہ کسی تمہید کے بغیر کام کا آغاز اِسی دعوتِ توحید سے کیا جائے۔
توحید کا یہ تصوّر محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں ہے‘ جیسا کہ میں ابھی عرض کر چکا ہوں اس سے اجتماعی زندگی کا وہ پورا نظام‘ جو انسان کی خود مختاری‘ یا غیر اﷲ کی حاکمیت والوہیت کی بنیاد پر بنا ہو‘ جڑ بنیاد سے اُکھڑ جاتا ہے‘ اور ایک دوسری اساس پر نئی عمارت تیار ہوتی ہے۔ آج دنیا آپ کے مؤذن کو اشھد ان الا الٰـہ الا اﷲ کی صدا بلند کرتے ہوئے اس لیے ٹھنڈے پیٹوں سن لیتی ہے‘ کہ نہ پکارنے والا جانتا ہے‘ کہ کیا پکار رہا ہوں‘ نہ سننے والوں کو اس میں کوئی معنی اور کوئی مقصد نظر آتا ہے‘ لیکن اگر یہ معلوم ہوجائے کہ اس اعلان کا مقصد یہ ہے‘ اور اعلان کرنے والا جان بوجھ کر‘ اس بات کا اعلان کر رہا ہے‘ کہ میرا کوئی بادشاہ یا فرمانروا نہیں ہے‘ کوئی حکومت میں تسلیم نہیں کرتا‘ کسی قانون کو میں نہیں مانتا‘ کسی عدالت کے حدودو اختیارات (jurisdiction)مجھ تک نہیں پہنچتے‘ کسی کا حکم میرے لیے حکم نہیں ہے‘ کوئی رواج اور کوئی رسم مجھے تسلیم نہیں‘ کسی کے امتیازی حقوق‘ کسی کی ریاست کسی کا تقدس‘ کسی کے اختیارات میں نہیں مانتا‘ ایک اﷲ کے سوا میں سب کا باغی اور سب سے منحرف ہوں‘ تو آپ سمجھ سکتے ہیں‘ کہ اس صدا کو کہیں بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ آپ خواہ کسی سے لڑنے جائیں یا نہ جائیں‘ دنیا خود آپ سے لڑنے آجائے گی۔ یہ آواز بلند کرتے ہی آپ کو یوں محسوس ہوگا کہ یکایک زمین وآسمان آپ کے دشمن ہوگئے ہیں‘ اور ہر طرف آپ کے لیے سانپ‘ بچھّو اور درندے ہی درندے ہیں۔
یہی صورت اس وقت پیش آئی جب محمدa نے یہ آواز بلند کی۔ پکارنے والے نے جان کر پکارا تھا‘ اور سننے والے سمجھتے تھے‘ کہ کیا پکار رہا ہے‘ اس لیے جس جس پر جس پہلو سے بھی اس پکار کی ضرب پڑتی تھی‘ وہ اس کو دبانے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا۔ پُجاریوں کو اپنی برہمنیت وپاپائیت کا خطرہ اس میں نظرآیا۔ رئیسوں کو اپنی ریاست کا‘ ساہو کاروں کو اپنی ساہو کاری کا‘ نسل پرستوں کو اپنے نسلی تفوق (racial superriority) کا‘ قوم پرستوں کو اپنی قومیّت کا‘ اجداد پرستوں کو اپنے باپ دادا کے موروثی طریقہ کا‘ غرض ہر بت کے پرستار کو اپنے بت کے ٹوٹنے کا خطرہ اسی ایک آواز میں محسوس ہوا‘ اس لیے اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَاحِدَۃٌ‘ وہ سب جو آپس میں لڑا کرتے تھے۔ اس نئی تحریک سے لڑنے کے لیے ایک ہوگئے۔ اس حالت میں صرف وہی لوگ محمدa کی طرف آئے‘ جن کا ذہن صاف تھا۔ جو حقیقت کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کی استعداد رکھتے تھے‘ جن کے اندر اتنی صداقت پسندی موجود تھی کہ جب ایک چیز کے متعلق جان لیں کہ حق یہ ہے‘ تو اس کی خاطر آگ میں کودنے اور موت سے کھیلنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ ایسے ہی لوگوں کی اس تحریک کے لیے ضرورت تھی۔ وہ ایک ایک دو دو چار چار کر کے آتے رہے‘ اور کش مکش بڑھتی رہی۔ کسی کا روز گار چھوٹا۔ کسی کو گھر والوں نے نکال دیا۔ کسی کے عزیز‘ دوست‘ آشنا‘ سب چھوٹ گئے۔ کسی پر مار پڑی۔ کسی کو قید میں ڈالا گیا‘ کسی کو تپتی ہوئی ریت پر گھسیٹا گیا‘ کسی کی سر بازار پتھروں اور گالیوں سے تواضع کی گئی‘ کسی کی آنکھ پھوڑ دی گئیں‘ کسی کا سر پھاڑ دیا گیا‘کسی کو عورت‘ مال‘ حکومت وریاست اور ہر ممکن چیز کا لالچ دے کر خریدنے کی کوشش کی گئی۔ یہ سب چیزیں آئیں‘ ان کاآنا ضروری تھا‘ ان کے بغیراسلامی تحریک نہ مستحکم ہوسکتی تھی‘ اور نہ بڑھ سکتی تھی۔
ان کا پہلا فائدہ یہ تھا‘ کہ گھٹیا قسم کے‘ بودی سیرت اور ضعیف ارادہ رکھنے والے لوگ‘ اس طرف آہی نہ سکتے تھے۔ جو بھی آیا وہ نسلِ آدم کا بہترین جوہر تھا‘ جس کی دراصل ضرورت تھی۔ کوئی دوسری صورت کام کے آدمیوں کو ناکارہ آدمیوں سے چھانٹ کر الگ نکال لینے کی اس کے سوا نہ تھی کہ جو بھی آئے وہ اس بھٹی میں سے گزر کر آئے۔
پھر جو لوگ آئے ان کو اپنی کسی ذاتی غرض کے لیے یا کسی خاندانی یا قومی مقصد کے لیے نہیں‘ بلکہ محض حق وصداقت کے لیے‘ صرف خدا اور اس کی رضا کی خاطر مصائب وآلام کا مقابلہ کرنا پڑا۔ اسی کے لیے وہ پِٹے‘ اسی کے لیے بھُوکے مرے‘ اسی کے لیے دنیا بھر کی جفا کاریوں کا تختۂ مشق بنے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں وہ صحیح اسلامی ذہنیت پیدا ہوتی گئی جس کی ضرورت تھی۔ ان کے اندر خالص اسلامی سیرت پیدا ہوئی۔ ان کی خدا پرستی میں خلوص آتا اور بڑھتا چلا گیا۔ مصائب کی اس زبردست تربیت گاہ میں کیفیتِ اسلامی کا طاری ہونا ایک طبعی امر تھا۔ جب کوئی شخص کسی مقصد کے لیے اُٹھتا ہے‘ اور اس کی راہ میں کش مکش‘ جدوجہد‘ مصیبت‘ تکلیف‘ پریشانی‘ مار‘ قید‘ فاقہ‘ جلا وطنی وغیرہ کے مرحلوں سے گزرتا ہے‘ تو اس ذاتی تجربہ کی بدولت اس مقصد کی تمام کیفیات اس کے قلب وروح پر چھا جاتی ہیں‘ اور اس کی پوری شخصیت اس مقصد میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس مقصد کی تکمیل میں مدد دینے کے لیے نماز ان پر فرض کی گئی‘ تاکہ نظر کی پر اگندگی کا ہر امکان دور ہوجائے۔ اپنے نصب العین پر ان کی نگاہ جمی رہے‘ جس کووہ حاکم مان رہے ہیں۔ اس کی حاکمیت کا بار بار اقرار کر کے وہ اپنے عقیدے میں مضبوط ہوجائیں۔ جس کے حکم کے مطابق انہیں اب دنیا میں کام کرنا ہے اس کا عالم الغیب والشَّھادۃ ہونا‘ اس کا مالک یوم الدین ہونا‘ اس کا قاہر فوق عبادہٖ ہونا‘ پوری طرح ان کے ذہن نشین ہوجائے‘ اور کسی حال میں بھی اس کی اطاعت کے سوا دوسرے کی اطاعت کا خیال تک ان کے دل میں نہ آنے پائے۔
ایک طرف آنے والوں کی تربیت اس طرح ہورہی تھی‘ اور دوسری طرف اسی کش مکش کی وجہ سے اسلامی تحریک پھیل بھی رہی تھی۔جب لوگ دیکھتے تھے‘ کہ چند انسان پیٹے جا رہے ہیں‘ تو خواہ مخواہ ان کے اندر یہ معلوم کرنے کا شوق پیدا ہوتا تھا‘ کہ آخر یہ سارا ہنگامہ ہے کس لیے؟ اور جب انہیں یہ معلوم ہوتا تھا‘ کہ زن‘ زر‘ زمین کسی چیز کے لیے بھی نہیں ہے‘ کوئی ان کی ذاتی غرض نہیں ہے۔یہ اﷲ کے بندے صرف اس لیے پٹ رہے ہیں‘ کہ ایک چیز کی صداقت ان پر منکشف ہوئی ہے‘ تو ان کے دلوں میں آپ سے آپ یہ جذبہ پیدا ہوتا تھاکہ اس چیز کو معلوم کریں‘ آخر ایسی کیا چیز ہے‘ جس کے لیے یہ لوگ ایسے ایسے مصائب برداشت کر رہے ہیں؟پھر جب انہیں معلوم ہوتاکہ وہ چیز ہے لاالٰہ اِلاّ اﷲ‘ اور اس سے انسانی زندگی میں اس نوعیت کا انقلاب رونما ہوتا ہے‘ اور اس دعوت کو لے کر ایسے لوگ اُٹھے ہیں‘ جو محض صداقت وحقیقت کی خاطر‘ دنیا کے سارے فائدوں کو ٹھکرا رہے ہیں‘ اور جان‘ مال‘ اولاد‘ ہر چیز کو قربان کر رہے ہیں‘ تو ان کی آنکھیں کھل جاتی تھیں۔ ان کے دلوں پر جتنے پردے پڑے ہوئے تھے وہ چاک ہونے لگتے تھے۔ اس پس منظر کے ساتھ یہ سچائی تیر کی طرح نشانے پر جا کر بیٹھتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ بحز ان لوگوں کے‘ جن کو ذاتی وجاہت کے تکبرّ یا اجداد پرستی کی جہالت‘ یا اغراض دنیوی کی محبت نے اندھا بنا رکھا تھا‘ اور سب لوگ اس تحریک کی طرف کھنچتے چلے گئے۔ کوئی جلدی کھنچا اور کوئی زیادہ دیر تک اس کش مکش کی مزاحمت کرتا رہا مگر دیر یا سویر ہر صداقت پسند‘ بے لوث آدمی کو اس طرف کھنچنا ہی پڑا۔
اس دوران میں تحریک کے لیڈر نے اپنی شخصی زندگی سے اپنی تحریک کے اصولوں کا اور ہر اس چیز کا جس کے لیے یہ تحریک اُٹھی تھی‘ پورا پورا مظاہرہ کیا۔ ان کی ہر بات‘ ہر فعل اور ہر حرکت سے‘ اسلام کی روح ٹپکتی تھی‘ اور آدمی کی سمجھ میں آتا تھا‘ کہ اسلام کسے کہتے ہیں یہ ایک بڑی تفصیل طلب بحث ہے‘ جس کی تشریح کا یہاں موقع نہیں۔ مگر مختصر اً چند نمایاں باتوں کا میں یہاں ذکر کروں گا۔
ان کی بیوی حضرت خدیجہ ؓ حجاز کی سب سے زیادہ مال دار عورت تھیں اور وہ ان کے مال سے تجارت کرتے تھے‘ جب اسلام کی دعوت شروع ہوئی‘ تو آنحضرتa کا سارا تجارتی کاروبار بیٹھ گیا‘ کیونکہ ہمہ تن اپنی دعوت میں مصروف ہوجانے اور تمام عرب کو اپنا دشمن بنا لینے کے بعد یہ کام نہ چل سکتا تھا۔ جو کچھ پچھلا اندوختہ تھا‘ اس کو میاں اور بیوی دونوں نے اس تحریک کے پھیلانے پر چند سال میں لٹا دیا۔ آخر کار نوبت یہاں تک آئی کہ جب آنحضرتa اپنی تبلیغ کے سلسلہ میں طائف تشریف لے گئے‘ تو وہ شخص جو کبھی حجاز کا ملک التجار تھا‘ اس کو سواری کے لیے ایک گدھا تک میسر نہ ہوا۔
قریش کے لوگوں نے آنحضرتa کے سامنے حجاز کا تخت پیش کیا۔ کہا کہ ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنا لیں گے‘ عرب کی حسین ترین عورت آپ کے نکاح میں دے دیں گے‘ دولت کے ڈھیر آپ کے قدموں میں لگا دیں گے‘ بشرطیکہ آپ اس تحریک سے باز آجائیں۔ مگر وہ شخص جو انسان کی فلاح کے لیے اُٹھا تھا۔ اس نے ان سب پیش کشوں کو ٹھکرا دیا اور گالیاں اور پتھر کھانے پر راضی ہوگیا۔
قریش اور عرب کے سرداروں نے کہا کہ محمدؐ! ہم تمہارے پاس کیسے آکر بیٹھیں اور تمہاری باتیں کیسے سنیں‘ جب کہ تمہاری مجلس میں ہر وقت غلام‘ مفلس (معاذ اﷲ) کمین لوگ بیٹھے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں جو سب سے زیادہ نیچے طبقے کے لوگ ہیں‘ ان کو تم نے اپنے گردو پیش جمع کر رکھا ہے‘ انہیں ہٹائو تو ہم تم سے ملیں‘ مگر وہ شخص جو انسانوں کی اونچ نیچ برابر کرنے آیا تھا‘ اس نے رئیسوں کی خاطر غریبوں کو دُھتکارنے سے انکار کر دیا۔
اپنی تحریک کے سلسلہ میں آنحضرت a نے اپنے ملک‘ اپنی قوم‘ اپنے قبیلہ‘ اپنے خاندان‘ کسی کے مفاد کی کبھی پروا نہیں کی۔ اسی چیز نے دنیا کو یقین دلایا کہ آپؐ انسان بحیثیت انسان کی فلاح کے لیے اُٹھے ہیں‘ اور اسی چیز نے آپ کی دعوت کی طرف ہر قوم کے انسانوں کو کھینچا۔ اگر آپ اپنے خاندان کی فکر کرتے تو غیر ہاشمیوں کو اس فکر سے کیا دلچسپی ہوسکتی تھی؟ اگر آپؐ اس بات کے لیے کبھی بے چین ہوتے کہ قریش کے اقتدار کو تو کسی طرح بچالوں تو غیر قریشی عربوں کو کیا پڑی تھی کہ اس کام میں شریک ہوتے؟ اگر آپؐ عرب کی برتری کے لیے اُٹھتے تو حبش کے بلال ؓ، روم کے صہیب ؓ اور فارس کے سلمان ؓ کو کیا غرض تھی کہ اس کام میں آپؐ کا ساتھ دیتے؟ دراصل جس چیز نے سب کو کھینچا وہ خالص خدا پرستی تھی‘ ہر ذاتی‘ خاندانی‘ قومی‘ وطنی غرض سے مکمل بے لوثی تھی۔
مکہ سے جب آپؐ کو ہجرت کرنی پڑی‘ تو وہ تمام امانتیں جو دشمنوں نے آپ کے پاس رکھوائی تھیں۔ حضرت علی ؓ کے سپرد کر کے نکلے کہ میرے بعد ہر ایک کی امانت اس کو پہنچا دینا۔ دنیا پرست ایسے موقع پر جو کچھ ہاتھ لگتا ہے‘ لے کر چلتے ہیں۔ مگر خدا پرست نے اپنی جان کے دشمنوں‘ اپنے خون کے پیاسوں کا مال بھی انہیں واپس پہنچانے کی فکر کی اور اس وقت کی جب کہ وہ اس کے قتل کا فیصلہ کر چکے تھے۔ یہ وہ اخلاق تھا‘ جس کو دیکھ کر عرب کے لوگ دنگ رہ گئے ہوں گے‘ اور مجھے یقین ہے‘ کہ جب وہ دو سال کے بعد بدر کے میدان میں آنحضرتa کے خلاف لڑنے کھڑے ہوئے ہوں گے تو ان کے دل اندر سے کہہ رہے ہوں گے کہ یہ تم کس سے لڑ رہے ہو؟ اُس فرشتہ خصلت انسان سے‘ جو قتل گاہ سے رخصت ہوتے وقت بھی انسانوں کے حقوق اور امانت کی ذمّہ داری کو نہیں بھولتا؟اس وقت ان کے ہاتھ ضد کی بنا پر لڑتے ہوں گے‘ مگر ان کے دل اندر سے بھنچ رہے ہوں گے۔ عجب نہیں کہ بدر میں کفار کی شکست کے اخلاقی اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہو۔
۱۳ برس کی شدید جدوجہد کے بعد وہ وقت آیا جب مدینہ میں اسلام کا ایک چھوٹا سا اسٹیٹ قائم کرنے کی نوبت آئی۔ اس وقت ڈھائی تین سو کی تعداد میں ایسے آدمی فراہم ہوچکے تھے‘ جن میں سے ایک ایک اسلام کی پوری تربیت پا کر اس قابل ہوچکا تھا‘ کہ جس حیثیت میں بھی اسے کام کرنے کا موقع ملے‘ مسلمان کی حیثیت سے اس کو انجام دے سکے۔ اب یہ لوگ ایک اسلامی اسٹیٹ کو چلانے کے لیے تیار تھے۔ چنانچہ وہ قائم کر دیا گیا۔ دس برس تک رسول اﷲ a نے اس اسٹیٹ کی رہنمائی کی اور اس مختصر سی مدّت میں ہر شعبہ حکومت کو اس اسلامی طرز پر چلانے کی پوری مشق ان لوگوں کو کرا دی۔ یہ دور اسلامی آئیڈیالوجی کے ایک مجرّد تخیل (abstract idea)سے ترقی کر کے ایک مکمل نظامِ تمدّن بننے کا دور ہے‘ جس میں اسلام کی انتظامی‘ تعلیمی‘ عدالتی‘ معاشی‘ معاشرتی‘ مالی‘ جنگی‘ بین الاقوامی پالیسی کا ایک ایک پہلو واضح ہوا‘ ہر شعبۂ زندگی کے لیے اصول بنے‘ ان اصولوں کو عملی حالات پر منطبق کیا گیا‘ اس خاص طرز پر کام کرنے والے کارکن تعلیم اور تربیت اورعملی تجربہ سے تیار کیے گئے‘ اور ان لوگوں نے اسلام کی حکمرانی کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ آٹھ سال کی مختصر مدّت میں مدینہ جیسے ایک چھوٹے سے قصبہ کا سٹیٹ پورے عرب کی سلطنت میں تبدیل ہوگا۔ جوں جوں لوگ اسلام کو اس کی عملی صورت میں اور اس کے نتائج کو محسوس شکل میں دیکھتے تھے‘ خود بخود اس بات کے قائل ہوجاتے تھے‘ کہ فی الواقع انسانیت اس کا نام ہے‘ اور انسانی فلاح اسی چیز میں ہے۔ بدترین دشمنوں کو بھی آخر قائل ہوکر اسی مسلک کو قبول کرنا پڑا جس کے خلاف وہ لڑ رہے تھے۔ خالدؓ بن ولید قائل ہوئے۔ ابوجہل کے بیٹے عکرمہؓ قائل ہوئے۔ ابوسفیانؓ قائل ہوئے۔ قاتلِ حمزہ ؓ وحشی قائل ہوئے۔ہند ِجگر خوار تک کو آخر اس شخص کی صداقت کے آگے سر تسلیم خم کر دینا پڑا‘ جس سے بڑھ کر اس کی نگاہ میں کوئی مبغوض نہ تھا۔
غلطی سے تاریخ نگاروں نے غزوات کو اتنا نمایاں کر دیا ہے‘ کہ لوگ سمجھتے ہیں عرب کا یہ انقلاب لڑائیوں سے ہوا۔ حالانکہ آٹھ سال کی تمام لڑائیوں میں جن سے عرب جیسی جنگجو قوم مسخر ہوئی‘ طرفین کے جانی نقصان کی تعدا ہزار بارہ سو سے زیادہ نہیں ہے۔ انقلابات کی تاریخ اگر آپ کے پیشِ نظر ہے‘ تو آپ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ انقلاب غیر خونی انقلاب (bloodless revolution)کہے جانے کا مستحق ہے۔ پھر اس انقلاب میں فقط ملک کا طریقِ انتظام ہی تبدیل نہیں ہوا‘ بلکہ ذہنتیں بدل گئیں۔ نگاہ کا زاویہ بدل گیا‘ سوچنے کا طریقہ بدل گیا‘ زندگی کاطرز بدل گیا‘ اخلاق کی دنیا بدل گئی‘ عادات اور خصائل بدل گئے‘ غرض ایک پوری قوم کی کا یا پلٹ کر رہ گئی۔ جوزانی تھے وہ عورتوں کی عصمت کے محافظ بن گئے۔ جو شرابی تھے‘ وہ منعِ شراب کی تحریک کے علمبر دار بن گئے۔ جو چور اور اُچکے تھے ان کا احساس دیانت اتنا نازک ہوگیا‘ کہ دوستوں کے گھر کھانا کھانے میں بھی ان کو اس بنا پر تائل تھا‘ کہ کہیں ناجائز طریقہ پر دوسروں کے مال کھانے کا اطلاق اس فعل پر بھی نہ ہوتا ہو‘ حتیٰ کہ قرآن میں خود اﷲ تعالیٰ کو انہیں اطمینان دلانا پڑا کہ اس طرح کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔{ FR 2532 }جو ڈاکو اور لٹیرے تھے وہ اتنے متدین بن گئے کہ ان کے ایک معمولی سپاہی کو پایہ تخت ایران کی فتح کے موقع پر کروڑوں کی قیمت کا شاہی تاج ہاتھ لگا‘ اور وہ رات کی تاریکی میں اپنے پیوند لگے ہوئے کمبل میں اسے چھپا کر سپہ سالار کے حوالے کرنے کے لیے پہنچا‘تاکہ اس غیر معمولی واقعہ سے اس کی دیانت کی شہرت نہ ہوجائے‘ اور اس کے خلوص پر ریا کاری کا میل نہ آجائے۔وہ جن کی نگاہ میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہ تھی‘ جو اپنی بیٹیوں کو آپ اپنے ہاتھ سے زندہ دفن کرتے تھے‘ ان کے اندر جان کا اتنا احترام پیدا ہوگیا‘ کہ کسی مرغ کو بھی بے رحمی سے قتل ہوتے نہ دیکھ سکتے تھے۔ وہ جن کو راست بازی اور انصاف کی ہوا تک نہ لگی تھی‘ ان کے عدل اور راستی کا یہ حال ہوگیا‘ کہ خیبر کی صلح کے بعد جب ان کا تحصیل دار یہودیوں سے سرکاری معاملہ وصول کرنے گیا‘ تو یہودیوں نے اس کو ایک بیش قرار رقم اس غرض کے لیے پیش کی کہ وہ سرکاری مطالبہ میں کچھ کمی کر دے‘ مگر اس نے رشوت لینے سے انکار کر دیا اور حکومت اور یہودیوں کے درمیان پیداوار کا آدھا آدھا حصّہ اس طرح تقسیم کیا کہ دو برابر کے ڈھیر آمنے سامنے لگا دئیے اور یہودیوں کو اختیار دیا کہ دونوں میں سے جس ڈھیر کو چاہیں اُٹھا لیں۔ اس نرالی قسم کے تحصیلدار کا یہ طرزِعمل دیکھ کر یہودی انگشت بدنداں رہ گئے‘ اور بے اختیار ان کی زبانوں سے نکلا کہ اسی عدل پر زمین وآسمان قائم ہیں۔ ان کے اندر وہ گورنر پیدا ہوئے‘ جو گورنمنٹ ہائوسوں میں نہیں‘ بلکہ رعایا کے درمیان انہی جیسے گھروں میں رہتے تھے۔ بازاروں میں پیدل پھرتے تھے دروازوں پر دربان نہ رکھتے تھے‘ رات دن میں ہر وقت جو چاہتا تھا ان سے انٹرویو کر سکتا تھا۔ ان کے اندر وہ قاضی پیدا ہوئے‘ جن میں سے ایک نے ایک یہودی کے خلاف خود خلیفہ وقت کا دعویٰ اس بنا پر خارج کر دیا کہ خلیفہ اپنے غلام اور اپنے بیٹے کے سوا کوئی گواہ پیش نہ کر سکتا۔{ FR 2533 }ان کے اندر وہ سپہ سالار پیدا ہوئے‘ جن میں سے ایک نے دوران جنگ میں ایک شہر خالی کرتے وقت پورا جزیہ یہ کہہ کر اہلِ شہر کو واپس دے دیا کہ ہم اب تمہاری حفاظت سے قاصر ہیں۔ لہٰذا جو ٹیکس ہم نے حفاظت کے معاوضہ میں وصول کیا تھا اسے رکھنے کا ہمیں کوئی حق نہیں۔ ان میں وہ سفیر پیدا ہوئے‘ جن میں سے ایک نے سپہ سالارِ ایران کے بھرے دربار میں‘ اسلام کے اصولِ مساوات انسانی کا ایسا مظاہرہ کیا اور ایران کے طبقاتی امتیازات پر ایسی بر محل تنقید کی کہ خدا جانے کتنے ایرانی سپاہیوں کے دلوں میں اس مذہب ِانسانیت کی عزت ووقعت کا بیچ اسی وقت پڑ گیا ہوگا۔ان میں وہ شہری پیدا ہوئے‘ جن کے اندر اخلاقی ذمّہ داری کا احساس اتنا زبردست تھا‘ کہ جن جرائم کی سزا ہاتھ کاٹنے اور پتھر مار مار کر ہلاک کر دینے کی صورت میں دی جاتی تھی ان کا اقبال خود آکر کرتے تھے‘ اور تقاضا کرتے تھے‘ کہ سزا دے کر انہیں گناہ سے پاک کر دیا جائے‘ تاکہ وہ چور یا زانی کی حیثیت سے خدا کی عدالت میں نہ پیش ہوں۔ ان میں وہ سپاہی پیدا ہوئے‘ جو تنخواہ لے کر نہیں لڑتے تھے‘ بلکہ اس مسلک کی خاطر جس پر وہ ایمان لائے تھے‘ اپنے خرچ پر میدان جنگ میں جاتے اور پھر جو مال غنیمت ہاتھ لگتا وہ سارا کا سارا لاکر سپہ سالار کے سامنے رکھ دیتے۔ کیا اجتماعی اخلاق اور اجتماعی ذہنیت کا اتنا زبردست تغیّر محض لڑائیوں کے زور سے ہوسکتا تھا؟ تاریخ آپ کے سامنے موجود ہے۔ کہیں آپ کو کوئی ایسی مثال ملتی ہے‘ کہ تلوار نے انسانوں کو اس طرح مکمل طور پر بدل ڈالا ہو؟
در حقیقت یہ ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہے‘ کہ ۱۳ برس کی مدّت میں توکل ڈھائی تین سو مسلمان پیدا ہوئے‘ مگر بعد کے دس سال میں سارا کا سارا ملک مسلمان ہوگیا۔ اس معمے کو لوگ حل نہیں کر سکتے‘ اس لیے عجیب عجیب تو جیہیں کرتے ہیں۔ حالانکہ بات بالکل صاف ہے جب تک اس نئی آئیڈیالوجی پر زندگی کا نقشہ نہیں بنا تھا‘ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا‘ کہ یہ نرالی قسم کا لیڈر آخر کیا بنانا چاہتا ہے۔ طرح طرح کے شبہات دلوں میں پیدا ہوتے تھے۔ کوئی کہتا یہ نری شاعرا نہ باتیں ہیں۔ کوئی اسے محض زبان کی ساحری قرار دیتا۔ کوئی کہتاکہ یہ شخص مجنون ہوگیا ہے‘ اور کوئی اسے محض ایک خیالی آدمی (visionary) قرار دے کر گویا اپنے نزدیک رائے زنی کا حق ادا کردیتا۔ اس وقت صرف غیر معمولی سمجھ اور ذہانت رکھنے والے لوگ ہی ایمان لائے‘ جن کی نگاہ حقیقت بیں اس نئے مسلک میں انسانی فلاح کی صورت صاف دیکھ سکتی تھی۔ مگر جب اس نظامِ فکر پر‘ ایک مکمل نظامِ حیات بن گیا‘ اور لوگوں نے اپنی آنکھوں سے اس کام کو ہوتے ہوئے دیکھ لیا اور اس کے نتائج ان کے سامنے عیاناً آگئے تب ان کی سمجھ میں آیا کہ یہ چیز تھی‘ جس کو بنانے کے لیے وہ اﷲ کا نیک بندہ دنیا بھر کے ظلم سہہ رہا تھا۔ اس کے بعد ضد اور ہٹ دھرمی کے لیے پائوں جمانے کا کوئی موقع باقی نہ رہا‘ جس کی پیشانی پر بھی دو آنکھیں تھیں اور ان آنکھوں میں نور تھا اس کے لیے آنکھوں دیکھی حقیقت سے انکار کرنا غیر ممکن ہوگیا۔
یہ ہے اس اجتماعی انقلاب کے لانے کا طریقہ جس کو اسلام برپا کرنا چاہتا ہے۔ یہی اس کا راستہ ہے‘ اسی ڈھنگ پر وہ شروع ہوتا ہے‘ اور اسی تدریج سے وہ آگے بڑھتا ہے۔ لوگ اس کو معجزہ کی قسم کا واقعہ سمجھ کر کہہ دیتے ہیں‘ کہ اب یہ کہاں ہوسکتا ہے‘ نبی ہی آئے‘ تو یہ کام ہو۔ مگر تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے‘ کہ یہ بالکل ایک طبعی قسم کا واقعہ تھا۔ اس میں علّت ومعلول کا پورا منطقی اور سائنٹی فِک ربط ہمیں نظر آتا ہے۔ آج بھی ہم اس ڈھنگ پر کام کریں‘ تو وہی نتائج بر آمد ہوسکتے ہیں۔ البتہ یہ صحیح ہے‘ کہ اس کام کے لیے ایمان‘ شعور‘ اسلامی‘ ذہن کی یکسوئی‘ مضبوط قوّتِ فیصلہ اور شخصی جذبات اور ذاتی امنگوں کی سخت قربانی درکار ہے۔ اس کے لیے ان جواں ہمت لوگوں کی ضرورت ہے‘ جو حق پر ایمان لانے کے بعد ‘اس پر پوری طرح نظر جما دیں‘ کسی دوسری چیز کی طرف توجہ نہ کریں۔ دنیا میں خواہ کچھ ہوا کرے‘ وہ اپنے نصب العین کے راستے سے ایک انچ نہ ہٹیں۔ دنیوی زندگی میں اپنی ذاتی ترقی کے سارے امکانات کو قربان کر دیں‘ اپنی اُمیدوں کا اور اپنے والدین کی تمنائوں کا خون کرتے ہوئے نہ جھجکیں‘ عزیزوں اور دوستوں کے چھٹ جانے کا غم نہ کریں‘ سوسائٹی‘ حکومت‘ قانون‘ قوم‘ وطن جو چیز بھی ان کے نصب العین کی راہ میں حائل ہواس سے لڑ جائیں۔ ایسے ہی لوگوں نے پہلے بھی اﷲ کا کلمہ بلند کیا تھا‘ ایسے ہی لوگ آج بھی کریں گے‘ اور یہ کام ایسے ہی لوگوں کے کیے سے ہوسکتا ہے۔
(ترجمان القرآن۔ ستمبر ۱۹۴۰ء)
خ خ خ

استدراک

اوپر کے مضمون میں اسلامی انقلاب کے طریق کار کی جو توضیح کی گئی ہے‘ اگر چہ وہ بجائے خود کافی ہے‘ لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے‘ کہ یہاں مسیح علیہ السّلام کے چند اقوال ایک خاص ترتیب کے ساتھ نقل کر دئیے جائیں جن سے اس تحریک کے ابتدائی مرحلہ پر اچھی روشنی پڑتی ہے۔ چونکہ ہمارے موجودہ زمانے کے حالات ان حالات سے بہت ملتے جلتے ہیں‘ جن میں سیدنا مسیح علیہ السّلام نے اہلِ فلسطین کو حکومتِ الٰہیہ کی دعوت دی تھی‘ اس لیے ان کے طریق عمل میں ہم کو مفید ہدایات مل سکتی ہیں:۔
فقیہوںمیں سے ایک نے …اُس سے پوچھا کہ سب حکموں میں اوّل کونسا ہے۔ یسوع نے جواب دیا کہ اوّل یہ ہے اے اسرائیل سن‘ خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے{ FR 2535 } اور تو خدا وند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ …فقیہہ نے اس سے کہا اسے استاد‘ کیا خوب ! تو نے سچ کہا کہ وہ ایک ہی ہے‘ اور اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ (مرقس۔۱۲:۲۸-۳۲)
تو خدا وند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر۔ (لوقا۔ ۴:۸)
پس تم اِس طرح دُعا مانگا کرو کہ اے ہمارے باپ!{ FR 2536 } تو جو آسمان پر ہے‘ تیرا نام پاک مانا جائے‘ تیری بادشاہت آئے‘ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔
(متی ۶:۹۔۱۰)
آخری آیت میں حضرت مسیح علیہ السّلام نے اپنے نصب العین کو واضح کر دیا ہے۔ یہ عام غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے‘ کہ خدا کی بادشاہت سے ان کی مراد محض روحانی بادشاہت تھی‘ یہ آیت اس کی تردید کرتی ہے۔ ان کا صاف مقصد یہ تھا‘ کہ زمین پر خدا کا قانون اور اس کا حکم شرعی اسی طرح جاری ہو‘ جس طرح تمام کائنات میں اس کا قانون طبیعی نافذ ہے۔ اسی انقلاب کے لیے وہ لوگوں کو تیار کر رہے تھے۔
یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں۔ صلح کرانے نہیں‘ بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں۔ میں اس لیے آیا ہوں کہ آدمی کو اس کے باپ سے اور بیٹی کو اس کی ماں سے اور بہو کو اس کی ساس سے جدا کر دوں۔ اور آدمی کے دشمن اس کے گھر ہی کے لوگ ہوں گے۔ جو کوئی باپ ماں کو مجھ سے زیادہ عزیز رکھتا ہے وہ میرے لائق نہیں۔ اور جو کوئی اپنی صلیب{ FR 2537 } نہ اُٹھائے اور میرے پیچھے نہ چلے وہ میرے لائق نہیں۔ جو کوئی اپنی جان بچاتا ہے اسے کھوئے گا ‘اور جو کوئی میرے سبب اپنی جان کھوتا ہے اسے بچائے گا۔
(متی ۱۰:۳۴-۳۹)
جو کوئی میرے پیچھے آنا چاہے‘ وہ اپنی خود ی{ FR 2538 } سے انکار کرے‘ اور اپنی صلیب اُٹھائے اور میرے پیچھے ہولے۔ (متی:۱۶-۲۴)
بھائی کو بھائی قتل کے لیے حوالے کرے گا‘ اور بیٹے کو باپ۔ اور بیٹے اپنے ماں باپ کے خلاف کھڑے ہوکر انہیں مروا ڈالیں گے۔ اور میرے نام کے باعث سب لوگ تم سے عداوت کریں گے۔ مگر جو آخر تک برداشت کرے گا وہی نجات پائے گا۔
(متی۱۰:۲۱-۲۲)
دیکھو میں تمہیں بھیجتا ہوں گویا بھیڑیوں کے بیچ میں …… آدمیوں سے خبر دار ہو۔ کیونکہ وہ تمہیں عدالتوں کے حوالے کر دیں گے‘ اور اپنے عبادت خانوں میں تمہارے کوڑے ماریں گے‘ اور تم میرے سبب حاکموں اور بادشاہوں کے سامنے حاضر کیے جائو گے۔ (۱۰:۱۶-۱۸)
اگر کوئی میرے پاس آئے اور اپنے باپ اور ماں اور بیوی اور بچوں اور بہنوں بلکہ اپنی جان سے بھی دشمنی نہ کرے{ FR 2539 } تو میرا شاگرد نہیں ہوسکتا۔ جو کوئی اپنی صلیب نہ اُٹھائے اور میرے پیچھے نہ آئے‘ وہ میرا شاگرد نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ تم میں ایسا کون ہے‘ کہ جب وہ ایک برج بنانا چاہے تو پہلے بیٹھ کر لاگت کا حساب نہ کرلے کہ آیا میرے پاس اس کے تیار کرنے کا سامان ہے‘ یا نہیں۔ ایسا نہ ہوکہ جب نیو ڈال کر تیار نہ کر سکے‘ تو سب دیکھنے والے یہ کہہ کر اس پر ہنسنا شروع کردیں کہ اس شخص نے عمارت شروع تو کی مگر تیار نہ کر سکا……تم میں سے جو کوئی اپنا سب کچھ ترک نہ کر دے وہ میرا شاگرد نہیں ہوسکتا۔
(لوقا ۱۴:۲۶-۳۳)
یہ تمام آیات صاف دلالت کرتی ہیں‘ کہ مسیح علیہ السّلام محض ایک دھرم کا پرچار کرنے نہیں اُٹھے تھے‘ بلکہ پورے نظامِ تمدّن وسیاست کو بدل دینا ان کے پیشِ نظر تھا‘ جس میں رومی سلطنت‘ یہودی ریاست‘ فقیہوں ‘اور فریسیوں کے اقتدار اور فی الجملہ تمام بندگا نِ نفس وہوائے نفس سے جنگ کا خطرہ تھا۔ اسی لیے وہ لوگوں کو کھلے الفاظ میں بتا دیتے تھے‘ کہ جو کام میں کرنے جا رہا ہوں وہ نہایت خطر ناک ہے‘ اور میرے ساتھ اسی کو آنا چاہئے‘ جو ان تمام خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو۔
شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے۔ اور اگر کوئی تجھ پر نالش کر کے تیرا کرتا لینا چاہے تو چوغہ بھی اسے لے لینے دے اور جو کوئی تجھ کو ایک کوس بیگار میں لے جائے اس کے ساتھ دو کوس چلا جا۔
(متی ۱۵:۳۹-۴۱)
جو بدن کو قتل کرتے ہیں اورروح کو قتل نہیں کر سکتے ان سے نہ ڈرو بلکہ اس سے ڈرو جو روح اور بدن دونوں کو جہنم میں ہلاک کر سکتا ہے۔ (متی۱۰:۲۸)
اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے‘ اور جہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں‘ بلکہ اپنے لیے آسمان پر مال جمع کرو۔ (متی ۶:۱۹-۲۰)
کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا… تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے۔ اپنی جان کی فکر نہ کرو کہ ہم کیا کھائیں گے۔ یا کیا پئیں گے‘ اور نہ بدن کی کہ کیا پہنیں گے۔ ہوا کے پرندوں کو دیکھو کہ نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے ہیں نہ کوٹھیوں میں جمع کرتے ہیں‘ پھر بھی تمہارا آسمانی باپ ان کو کھلاتا ہے۔کیا تم ان سے زیادہ قدر نہیں رکھتے؟تم میں ایسا کون ہے‘ جو فکر کر کے اپنی عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے؟اور پوشاک کے لیے کیوں فکر کرتے ہو؟جنگلی سوسن کے درختوں کو دیکھو کہ وہ کس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے ہیں نہ کاتتے ہیں۔ پھر بھی میں تم سے کہتا ہوں کہ سلیمان علیہ السلام بھی باوجود اپنی شان وشوکت کے ان میں سے کسی کے مانند پوشاک پہنے ہوئے نہ تھا۔ پس جب خدا میدان کی گھاس کو‘ جو آج ہے‘ اور کل تنور میں جھونکی جائے گی‘ ایسی پوشاک پہناتا ہے‘ تو اے کم اعتقادو! تم کو کیوں نہ پہنائے گا؟ …تم پہلے اس کی بادشاہت اور اس کی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تمہیں مل جائیں گی۔
(متی ۶:۲۴-۳۳)
مانگو تو تمہیں دیا جائے گا۔ ڈھونڈو تو تم پائو گے۔ دروازہ کھٹکھٹائو تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔ (متی ۷:۷)
عام غلط فہمی ہے‘ کہ سیدنا مسیح علیہ السلام نے رہبانیت اور ترک وتجرید کی تعلیم دی تھی حالانکہ اس انقلابی تحریک کے آغاز میں لوگوں کو صبر‘ تحمّلِ شد ائد اور توکل علی اﷲ کی تعلیم وتربیت دئیے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں۔ جہاں ایک نظامِ تمدّن سیاست پوری طاقت کے ساتھ زمین پر چھایا ہوا ہو‘ اور تمام وسائل وذرائع زندگی اس کے قبضہ واختیار میں ہوں‘ ایسی جگہ کوئی جماعت انقلاب کے لیے اُٹھ نہیں سکتی‘ جب تک وہ جان ومال کی محبت دل سے نکال نہ دے‘ سختیاں اُٹھانے کو تیار نہ ہوجائے‘ اپنے بہت سے فوائد کو قربان کرنے اور بہت سے نقصانات گوارا کرنے کے لیے آمادہ نہ ہو۔ حاضر الوقت نظام سے لڑنا دراصل تمام آفات ومصائب کو اپنے اوپر دعوت دینا ہے۔ یہ کام جنہیں کرنا ہوا نہیں ایک تھپڑ کھا کر دوسرے تھپڑ کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ کُرتا ہاتھ سے جاتا ہو‘ تو چوغہ بھی چھوڑنے کے لیے آمادہ ہونا چاہئے‘ اور روٹی کپڑے کی فکر سے آزاد ہوجانا چاہئے۔ خزائن رزق فی الوقت جن کے ہاتھ میں ہیں۔ ظاہر ہے‘ کہ ان سے لڑکر رزق پانے کی اُمید نہیں کی جا سکتی۔ لہٰذا جو اسباب سے قطع نظر کر کے صرف خدا کے بھروسہ پر اس راہ میں چھلانگ لگا سکتا ہووہی ان سے لڑ سکتا ہے۔
اے محنت اُٹھانے والو!بوجھ سے دبے ہوئے لوگو! سب میرے پاس آئو‘ میں تمہیں آرام دوں گا۔ کیونکہ میرا جُو املائم ہے‘ اور میرا بوجھ ہلکا۔ (متی ۱۱:۲۸-۳۰)
شاید حکومت ِ الٰہیہ کا مینی فسٹو اس سے زیادہ مختصر اور پر اثر الفاظ میں مرتّب نہیں کیا جا سکتا۔ انسان پر انسانی حکومت کا جوا بڑا ہی سخت اور بڑا ہی بوجھل ہے۔ اس بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کو الٰہی حکومت کا نقیب جو پیغام دے سکتا ہے وہ یہی ہے‘ کہ جس حکومت کا جوا میں تمہارے اوپر رکھنا چاہتا ہوں وہ نرم بھی ہے‘ اور خفیف بھی۔
غیر قوموں کے بادشاہ ان پر حکومت چلاتے ہیں۔ اور جو ان پر اختیار رکھتے ہیں وہ خدا وند ِنعمت کہلاتے ہیں۔ مگر تم ایسے نہ ہونا بلکہ جو تم میں بڑا ہے وہ چھوٹے کے مانند اور جو سردار ہے وہ خدمت کرنے والے کے مانند ہے۔ (لوقا ۲۲:۲۵-۲۶)
مسیح علیہ السّلام یہ ہدایت اپنے حواریوں (یعنی صحابیوں) کو فرماتے تھے۔ اس مضمون کے متعدد اقوال انجیلوں میں موجود ہیں۔ان کا مطلب یہ تھا‘ کہ کہیں فرعونوں اور نمرودوں کو ہٹا کر تم خود فرعون ونمرود نہ بن جانا۔
’’فقیہ اور فریسی{ FR 2540 }موسیٰ کی گدّی پر بیٹھے ہیں۔ پس جو کچھ وہ تمہیں بتائیں وہ سب کرو اور مانو لیکن ان کے سے کام نہ کرو۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں‘ اور کرتے نہیں۔ وہ ایسے بھاری بوجھ جن کا اُٹھانا مشکل ہے‘ باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں‘ مگر آپ انہیں اپنی انگلی سے بھی ہلانا نہیں چاہتے۔ وہ اپنے سب کام لوگوں کے دکھانے کو کرتے ہیں۔
اپنے تعویذ بڑے بناتے اور اپنی پوشاک کے کنارے چوڑے رکھتے اور ضیافتوں میں صدر نشینی اور عبادت خانوں میں اعلیٰ درجہ کی کرسیاں اور بازاروں میں سلام اور آدمیوں سے رَبِّی کہلانا پسند کرتے ہیں۔‘‘
اے ریا کار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس ہے‘ کہ آسمان کی بادشاہت لوگوں پر بند کرتے ہو‘ نہ آپ داخل ہوتے ہو‘ اور نہ داخل ہونے والوں کو داخل ہونے دیتے ہو۔
اے ریا کار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس ہے‘ کہ ایک مرید کرنے کے لیے تری اور خشکی کا دورہ کرتے ہو‘ اور جب وہ مرید ہوچکتا ہے‘ تو اسے اپنے سے دو گنا جہنم کا فرزند بنا دیتے۔
اے اندھے راہ بتانے والو! تم مچھر کو تو چھانتے ہو‘ اور اونٹ کو نگل جاتے ہو۔
اے ریا کار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس ہے تم سفیدی پھری ہوئی قبروں کے مانند ہو‘ جو اوپر سے تو خوبصورت دکھائی دیتی ہیں‘ مگر اندر مُردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری ہیں۔ اسی طرح تم بھی ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو‘ مگر باطن میں ریا کاری اور بے دینی سے بھرے ہوئے ہو۔ (متی ۲۳:۲-۲۸)
یہ اس وقت کے علما اور حاملانِ شریعت کا حال تھا۔ وہ علم رکھنے کے باوجود محض بندگی نفس کی وجہ سے آپ بھی گمراہ تھے‘ اور عام لوگوں کو بھی گمراہ کر رہے تھے‘ اور اس انقلاب کے راستہ میں رومی قیاصرہ سے بڑھ کر وہی حائل تھے۔
اس وقت فریسیوں نے جا کر مشورہ کیا کہ اسے کیونکر باتوں میں پھنسائیں۔ پس انہوں نے اپنے شاگردوں کو ہیروویوں{ FR 2541 } کے ساتھ اس کے پاس بھیجا اور انہوں نے (یعنی شاگردوں نے) کہا کہ اے استاد ہم جانتے ہیں‘ کہ تو سچا ہے‘ اور سچائی سے خدا کی راہ کی تعلیم دیتا ہے‘ اور کسی کی پروا نہیں کرتا… ہمیں بتا تو کیا سمجھتا ہے قیصر کو جزیہ دینا روا ہے‘ یا نہیں؟ یسوع نے ان کی شرارت جان کر کہا: اے ریا کارو! مجھے کیوں آزماتے ہو؟ جزیہ کا سکّہ مجھے دکھائو۔ وہ دینار اس کے پاس لے آئے۔ اس نے ان سے کہا یہ صورت اور نام کس کا ہے؟ انہوں نے کہا قیصر کا۔ اِس پر اُس نے کہا جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو۔ (متی ۲۲:۱۵-۲۱)
اس قصہ سے معلوم ہوتا ہے‘ کہ دراصل یہ ایک چال تھی۔ فریسی اس تحریک کو ختم کرنے کے لیے چاہتے تھے‘ کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا قبل از وقت حکومت سے تصادم کرا دیا جائے‘ اور تحریک کے جڑ پکڑنے سے پہلے حکومت کے زور سے اُسے کچلو اڈالا جائے۔ اسی لیے ہیرووی ریاست کی سی آئی ڈی کے سامنے یہ سوال اُٹھایا گیا کہ قیصر کو ٹیکس دیا جائے‘ یا نہیں۔ جواب میں حضرت مسیح علیہ السّلام نے جو ذُومعنی بات کہی اس کو دو ہزار برس سے مسیحی اور غیر مسیحی سب اس معنی میں لے رہے ہیں‘ کہ عبادت خدا کی کرو اور اطاعت ہر اس حکومت کی کرتے رہو‘ جو تمہارے زمانہ میں موجود ہو۔ لیکن دراصل مسیح علیہ السّلام نے نہ تو یہ فرمایا کہ قیصر کو ٹیکس دینا روا ہے‘ کیونکہ ایسا کہنا ان کی دعوت کے خلاف تھا‘ اور نہ یہ فرمایا کہ اسے ٹیکس نہ دیا جائے کیونکہ اس وقت تک ان کی تحریک اس مرحلہ تک نہیں پہنچی تھی کہ ٹیکس روکنے کا حکم دیا جاتا۔ اس لیے انہوں نے یہ لطیف بات کہہ دی کہ قیصر کا نام اور اس کی صورت تو قیصر ہی کو واپس کر دو اور سونا جو خدا نے پیدا کیا ہے وہ خدا کی راہ میں صرف کر دو۔
اس سازش میں ناکام ہونے کے بعد فریسیوں نے خود مسیح علیہ السّلام کے حواریوں میں سے ایک کو رشوت دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کسی ایسے موقع پر مسیح علیہ السّلام کو گرفتار کرائے جب کہ عام بلوے کا خطرہ نہ ہو۔ چنانچہ یہ تدبیر کار گر ہوئی اور یہوداہ سکریوتی نے مسیح علیہ السّلام کو پکڑوا دیا۔
پھر ان کی ساری جماعت اُٹھ کر اسے پِیلا طُس (رومی حاکم) کے پاس لے گئی اور انہوں نے الزام لگانا شروع کیا کہ اسے ہم نے اپنی قوم کو بہکاتے اور قیصر کو خراج دینے سے منع کرتے اور اپنے آپ کو مسیح بادشاہ کہتے پایا۔ پیلا طُس نے سردار کا ہنوں اور عام لوگوں سے کہا کہ میں اس شخص میں کوئی قصور نہیں پاتا۔ مگر وہ اور بھی زور دے کر کہنے لگے کہ یہ تمام یہود یہ میں‘ بلکہ گلیل سے لے کر یہاں تک لوگوں کو سکھا سکھا کر ابھارتا ہے۔ وہ چِلّا چِلّا کر سر ہوتے رہے‘ کہ اِسے صلیب دی جائے‘ اور ان کا چِلّانا کار گر ہوا۔ (لوقا ۲۳:۱-۲۳)
اس طرح دنیا میں حضرت مسیح علیہ السّلام کا مشن ان لوگوں کی بدولت ختم ہوا جو اپنے آپ کو حضرت موسیٰ علیہ السّلام کا وارث کہتے تھے۔ تاریخی شواہد کی رُو سے حضرت مسیح علیہ السّلام کی نبوت کا کل زمانہ ڈیڑھ سال اور تین سال کے درمیان رہا ہے۔ اس مختصر مدّت میں انہوں نے اتنا ہی کام کیا جتنا حضرت محمدa نے اپنی مکی زندگی کے ابتدائی دو تین سال میں کیا تھا۔ اگر کوئی شخص انجیل کی مذکورہ بالا آیات کا مقابلہ قرآن مجید کی مکی سورتوں اور زمانہ قیامِ مکہ کی احادیث سے کرے گا‘ تو دونوں میں بڑی مماثلت پائے گا۔

ایک صالح جماعت کی ضرورت

دنیا میں اس وقت بڑے زور کے ساتھ توڑ پھوڑ کا عمل جاری ہے۔{ FR 2542 }یہ ہم نہیں جانتے کہ اَشَرٌّ اُرِيْدَ بِمَنْ فِي الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِہِمْ رَبُّہُمْ رَشَدًاo الجن 10:72 اہلِ زمین کو محض ان کے کر توتوں کی سزا ہی دینے کا ارادہ کیا گیا ہے‘ یا اس توڑ پھوڑ کے بعد کوئی صالح چیز بھی بننے والی ہے۔مگر ظاہرِ آثار سے اتنا محسوس ہوتا ہے‘ کہ نوعِ انسانی کی امامت اب تک جس تہذیب کے علم برداروں کو حاصل رہی ہے۔اس کی عمر پوری ہوچکی ہے۔ان کے امتحان کا زمانہ خاتمہ پر آلگا ہے‘ اور سنّت اﷲ کے مطابق اب وقت آگیا ہے‘ کہ ان کو اور ان کی اس جاہلی تہذیب کو دنیا کے انتظام سے بے دخل کر دیا جائے۔ان کو زمین پر کام کرنے کا جتنا موقع ملنا تھا‘ مل چکا۔وہ اپنے تمام اوصاف اور اپنی تمام چھپی ہوئی قابلیتوں کا پورا پورا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ ان کے اندر شاید اب کوئی چیز ایسی باقی نہیں رہی ہے‘ جو باہر نہ آچکی ہو۔ لہٰذا غالب گمان یہی ہے‘ کہ عن قریب وہ میدان سے ہٹائے جانے والے ہیں‘ اور یہ زبردست شکست وریخت اسی لیے ہورہی ہے‘ کہ وہ خود اپنے ہی ہاتھوں سے‘ اپنے مراسمِ تجہیز وتدفین ادا کردیں۔ اس کے بعد یہ بھی ممکن ہے‘ کہ دنیا میں پھر ایک ظلمت کا دورہ شروع ہو‘ جس طرح آخری اسلامی تحریک کے زوال اور موجود جاہلی تہذیب کی پیدائش کے درمیان گزر چکا ہے‘ اور یہ بھی ممکن ہے‘ کہ اسی ٹوٹ پھوٹ کے دوران میں کسی نئی تعمیر کی صورت نکل آئے۔
سرمایہ دارانہ جمہوریت‘ قومی اجتماعیت (نیشنل سوشلزم) اور اشتراکیت (کمیونزم) کی جو طاقتیں اس وقت آپس میں متصادم ہیں‘ یہ دراصل الگ الگ تہذیبیں نہیں ہیں‘ کہ ان کے درمیان انتخاب‘ اور ان میں سے بہتر کے باقی رہنے کا کوئی سوال ہو۔حقیقت میں یہ ایک ہی تہذیب کی تین شاخیں ہیں۔ ایک ہی تصوّر کائنات‘ ایک ہی تصوّر انسان‘ ایک ہی نظریۂ حیات اور ایک ہی اساس اخلاق ہے‘ جس پر ان تینوں کی تعمیر ہوئی ہے۔ انسان کو حیوان سمجھنا۔دنیا کو بے خدا فرض کرنا‘ علومِ طبیعی سے انسانی زندگی کا قانون اخذ کرنا اور اخلاق کی بنیاد تجربہ ومصلحت اور خواہشات پر رکھنا یہ ان سب کی مشترک بنیاد ہے۔ ان کے درمیان فرق صرف اس حیثیت سے ہے‘ کہ اس جاہلی تہذیب نے سب سے پہلے فرد کی آزادی اور قوموں کی انفرادیت کا بیج بویا تھا‘ جس سے قومی ریاستوں کے ساتھ سرمایہ دارانہ جمہوریت پیدا ہوئی اور مدّت ہائے دراز تک انسانیت کو تباہ وبرباد کرتی رہی۔ پھر جب اس کے ظلم وستم سے انسانی مصائب حد کو پہنچ گئے‘ تو اسی تہذیب نے اشتراکی انقلاب کو بطور علاج پیش کیا۔ مگر بہت جلدی ظاہر ہوگیا‘ کہ یہ علاج اصل مرض سے بھی زیادہ تباہ کن ہے۔ آخر کار وہی تہذیب پھر ایک دوسری تجویز سامنے لائی‘ جس کا نام فاشزم یا نیشنل سوشل ازم ہے‘ اور چند سال کے تجربہ نے ثابت کر دیا کہ اس اُمّ الخبائث کا یہ آخری بچہ فتنہ انگریزی وشررباری میں پہلے دونوں برخورداروں سے بھی بازی لے گیا ہے۔
اب دنیا کے لیے اس تہذیب کو اور زیادہ آزمانے کا کوئی موقع باقی نہیں رہا ہے‘ جو آدمی کو جانور سمجھ کر اور اس جانور کو بے لگام فرض کر کے اپنا کام شروع کرتی ہے‘ اور اس کے اندر جوع البقر سے لے کر بدترین قسم کی درندگی تک ہر وہ بیماری پیدا کر دیتی ہے‘ جو آدمیت کے حق میں نہایت مہلک ہے۔ درحقیقت یہ پوری تہذیب اپنی تمام شاخوں سمیت عمر طبیعی کو پہنچ چکی ہے‘ امتحان کی مدّت ختم کر چکی ہے‘ اس کے پاس اب کوئی اور اَنچھر{ FR 2543 } ایسا باقی نہیں رہا ہے جس کو یہ انسانی مسائل کے حل کی حیثیت سے پیش کر سکے۔ اور بالفرض اگر یہ اپنی زندگی کی مہلت بڑھانے کے لیے کسی اور ’’ازم‘‘ کی تخلیق کا بہانہ کرے بھی تو خدا کی مشیت اب یہ نہیں معلوم ہوتی کہ وہ اسے اپنی زمین کو فساد سے بھرنے کا کوئی اور موقع دے گا۔ بہت ممکن ہے‘ کہ موجودہ تصادم کے بعد اس کی شاخوں میں سے کوئی شاخ باقی رہ جائے‘ مگر یقینا اس کا بقاء عارضی ہوگا‘ جلدی ہی وہ شاخ خود چٹخ کر اپنے اندر سے آگ جھاڑے گی‘ اور آپ اپنی ہی آگ سے جل کر خاکستر ہوجائے گی۔
اب رہا یہ سوال کہ آیا اس تہذیب کی تباہی کے بعد دنیا میں پھر کوئی ظلمت کا دور آنا ہے‘ یا کوئی نئی تعمیر شروع ہونی ہے‘ تو اس کا فیصلہ دو چیزوں پر منحصر ہے:۔
ایک یہ کہ جاہلیت خالصہ کی ناکامی کے بعد کوئی اور ایسا نظریہ انسان کو ملتا ہے‘ یا نہیں‘ جو پچھلے فاسد نظریوں سے بہتر ہو‘ جس سے انسانی عقل صَلاح کی توقعات وابستہ کر سکے اور جس پر ایک جاندار اور طاقت ور تہذیب قائم ہوسکے۔
دوسرے یہ کہ نوعِ انسانی میں سے کوئی ایسا گروہ اُٹھتا ہے‘ یا نہیں‘ جس کے اندر جہاد اور اجتہاد کی وہ صلاحیتیں اور قوّتیں ہوں‘ جو ایک نئے نظرئیے پر ایک نئی تہذیب کا قصر تعمیر کرنے کے لیے ضروری ہیں‘ اور جس کے اخلاق واوصاف ان لوگوں سے مختلف ہوں‘ جن کی خباثت وشرارت کا ابھی قریب ہی میں انسان کو تجربہ ہوچکا ہے۔
اگر ایسا کوئی نظریہ بر وقت سامنے آجائے‘ اور اس کو لے کر ایسی ایک صالح جماعت اُٹھ کھڑی ہو‘ تو یقینا نوعِ انسانی ایک دوسرے دور ظلمت (dark age)سے بچ سکتی ہے ور نہ کوئی قوّت اس کو اس تاریک گڑھے میں گرنے سے نہیں بچا سکتی۔ یہ صدمۂ عظیم جس سے انسانیت اس وقت دو چار ہے‘ یہ بھیڑیوں سے بدتر سلوک‘ جو اس وقت آدمی آدمی کے ساتھ کر رہا ہے‘ یہ بے دردی وسنگ دلی‘ جو کبھی دور وحشت میں بھی آدمی سے ظاہر نہیں ہوتی تھی‘ یہ بے رحمی وقساوت جس کی نظیر درندہ جانور بھی پیش کرنے سے عاجز ہیں یہ علم وحکمت کے نتائج‘ جو آج جہاں سوز طیاروں اور انسان پاش ٹینکوں کی شکل میں دیکھے جا رہے ہیں‘ یہ تنظیمی قابلیتوں کے ثمرات‘ جنہوں نے آج غارت گر فوجوں کی صورت اختیار کی ہے‘ یہ صنعتی ترقی کے پھل‘ جو آج آلاتِ جنگ کی بھیانک شکل میں نمو دار ہورہے ہیں یہ وسائل نشرو اشاعت کا کمال‘ جس سے آج دنیا میں جھوٹ پھیلانے اور قوموں میں منافرت کے بیج بونے کا کام لیا جا رہا ہے‘ یہ سب کچھ انسان کا دل توڑ دینے اور اس کو اپنے آپ سے اور اپنی ساری قابلیتوں اور صلاحیتوں سے مایوس کر دینے کے لیے بالکل کافی ہے ‘اور اس کا فطری نتیجہ یہی ہوسکتا ہے‘ کہ نوعِ انسانی دل شکستہ اور مایوس ہوکر صدیوں کے لیے نیند اور بے ہوشی کی حالت میں مبتلا ہوجائے۔
جیسا کہ اوپر بیان کر چکا ہوں انسانیت کو اس درد ناک انجام سے اگر کوئی چیز بچا سکتی ہے‘ تو وہ صرف ایک صالح نظریہ اور ایک صالح جماعت کا بر سر کار آنا ہے۔
مگر وہ کو نسا نظریہ ہوسکتا ہے‘ جس کے لیے آج کامیابی کا کوئی موقع ہو؟
مشر کانہ جاہلیت جس پر دنیا کی بہت سی قدیم تہذیبیں قائم ہوئی تھیں‘ اب اس کے احیاء کا کوئی امکان نہیں۔ شرک کی جڑ بنیاد کٹ چکی ہے۔ جاہل عوام پر چاہے اس کا تسلّط ابھی باقی ہو‘ مگر علم وعقل رکھنے والے لوگ اب اس وہم میں مبتلا نہیں ہوسکتے ‘کہ کائنات کے نظام کو بہت سے ’خدا چلا رہے ہیں‘ اور انسانی فلاح وسعادت کا سر رشتہ دیوتائوں یاروحوں سے وابستہ ہے۔ علاوہ بریں یہ حقیقت ہے‘ کہ مشرکانہ نظریہ سے انسانی زندگی کے پیچیدہ مسائل حل نہیں ہوتے‘ بلکہ یہ پیچیدگیاں کچھ اور بڑھ جاتی ہیں۔ سب سے بڑی مشکل جس نے اس وقت دنیا کو پریشان کر رکھا ہے‘ نوعِ انسانی میں وحدت کا فقدان ہے۔ مگر شرک اس مشکل کو حل نہیں کرتا‘ بلکہ وحدت پیدا کرنے کے بجائے مزید تفریق وتقسیم کے اسباب فراہم کرتا ہے لہٰذا کسی مشرکانہ نظریہ کے لیے آج دنیا میں بر سر اقتدار آنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
راہبانہ جاہلیت دنیا میں کبھی کوئی طاقت نہ تھی نہ بن سکتی ہے۔ کَرْما اور تَناسُخ اور اَہنسا اور ہمہ اوست کے نظریات‘ جو روح کو سرد اور ہمتوں کو پست اور قوائے فکر کو افیونِ تخیل کی پِیَنک میں مست کر دینے والے ہیں‘ اپنے اندر اتنی جان ہی نہیں رکھتے کہ ان کے بل پر کوئی ایسی تہذیب پیدا ہوسکے‘ جو زمین کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہو‘ اور دنیا کی امامت وپیشوائی کے منصب جلیل پر فائز ہوسکتی ہو۔ کوئی سامری اس تن مردہ میں روح پھونکنے کی جتنی چاہے کوشش کر دیکھے‘ یہ نظریات کبھی گیا ن‘ تیاگ اور تپسیّا کے مقام سے آگے بڑھ کر ایک صالح تمدّن کی تخلیق اور ایک عادل مملکت کی تاسیس اور ایک درخشاں تہذیب کی تعمیر تک نہیں پہنچ سکتے۔ لہٰذا مردہ اور روبہ زوال قومیں تو ان نظریات کے چکر میں پڑی رہ سکتی ہیں‘ مگر کسی زندہ اور ابھرنے والی قوم کے تخیل کو یہ کبھی اپنی طرف نہیں کھینچ سکیں گے۔
رہی جاہلیت ِخالصہ تو اس کا اور اس کی پیداوار کا اب دنیا کو اتنا کافی تجربہ ہوچکا ہے‘ کہ عن قریب وہ اس سے مایوس ہونے والی ہے۔ انسان کا اپنے آپ کو جانور فرض کرنا‘ جانوروں کی زندگی سے تنازع للبقاء اور انتخاب طبیعی اور بقائے اصلح کا قانون اپنے لیے اخذ کرنا‘ مادی فوائد اور لذتوں کو مقصودِ حیات ٹھیرانا‘ تجربات اور مصالح کو اخلاق کا ماخذ قرار دینا اور کسی فوق الانسانی اقتدار اعلیٰ کو تسلیم نہ کرنا‘ جو کچھ نتائج پیدا کر سکتا تھا وہ سب اپنی تمام تلخیوں کے ساتھ سامنے آچکے ہیں۔ ان نظریات کی بدولت انسان کو جو کچھ ملا ہے وہ قومی اور نسلی تعصّبات ہیں‘ رنگ ونسل کی برتری کے دعوے ہیں‘ قومی ریاستوں کی معاشی وسیاسی رقابتیں ہیں‘ قیصریت اور استعمار اور معاشی لُوٹ کے فتنے ہیں۔افراد سے لے کر بڑی بڑی قوموں اور سلطنتوں تک کا اپنے معاملات میں ہر اخلاقی قید سے آزاد ہوجانا ہے‘ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان کا واقعی جانور بن کر کام کرنا اور دوسرے انسانوں کے ساتھ جانوروں کا سا بلکہ بے روح مشینوں کا سا سلوک کرنا ہے۔ یہ نظریات اگر جمہوریت پیدا کرتے ہیں‘ تو ایسی جس میں افراد کو ظلم اور کسب ِحرام اور فحش اور بے حیائی کی آزادی ملتی ہے۔ اور اگر اشتراکیت یا اجتماعیت پیدا کرتے ہیں‘ تو ایسی جس میں افراد کو بھیڑ بکریوں کے گلے کی طرح ایک ڈکٹیٹر یا ایک چھوٹی سی پارٹی کے حوالے کر دیا جاتا ہے‘ تاکہ وہ انہیں‘ جس طرح چاہے ہانکے اور ان کا جو جی چاہے بنائے۔ یہ پھل جو ان نظریات سے پیدا ہوئے ہیں‘ کسی اتفاقی غلطی کا نتیجہ نہیں ہیں‘ بلکہ اس شجرِ خبیث کی عین فطرت کا تقاضا یہی ہے‘ کہ اس سے یہ پھل پیدا ہوں۔ لہٰذا جس طرح اب تک انسان اس سے کسی قسم کی فلاح نہیں پا سکا ہے اسی طرح آئندہ بھی یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ انسانیت کے اس حیوانی تصوّر اور کائنات کے اس مادّہ پرستانہ نظریے اور اخلاق کی اس تجربی اور مصلحت پرستانہ بنیاد پر کوئی ایسا اجتماعی مسلک پیدا ہوسکے گا‘ جو انسان کے لیے موجب ِفلاح ہو۔
ان سب نظریات کی ناکامی کے بعد دنیا اگر کسی نظریہ سے فلاح کی اُمیدیں وابستہ کر سکتی ہے‘ تو وہ صرف ایک ایسا نظریہ ہی ہوسکتا ہے:
جو انسان کو انسان قرار دے نہ کہ جانور‘ جو اپنی ذات کے متعلق انسان کی رائے کو بہتر بنائے‘ جس کا تصوّرِ انسانیت مغربی سائنس کے ’’تصوّر حیوانی‘‘ اور مسیحیت کے ’’پیدائشی گناہ گار‘‘ اور ہندو مت کے ’’مجبور تناسخ‘‘سے بلند تر ہو۔
جو انسان کو مختارِ مطلق اور شتر بے مہار نہ بنائے‘ بلکہ اسے سلطانِ کائنات کے اقتدار اعلیٰ کا تابع قرار دے اور اس کے آگے ذمّہ دار وجواب دہ ٹھیرائے۔
جو اخلاق کے ایک ایسے قابلِ عمل ضابطے کاانسان کو پابند بنائے‘ جس میں اپنی خواہشات کے مطابق ردّو بدل کرنے کا حق اس کو نہ ہو‘
جو مادّی بنیادوں پر انسانیت کو تقسیم کرنے کے بجائے ایک ایسی اخلاقی وروحانی بنیاد فراہم کرے‘ جس پر انسانیت متحد ہوسکتی ہو‘
جو اجتماعی زندگی کے لیے ایسے اصول انسان کو دے‘ جن پر افراد اور جماعتوں اور قوموں کے درمیان صحیح اور متوازنِ عدل قائم ہوسکے۔
جو زندگی کے نفس پرستانہ مقاصد سے بلند تر مقاصد اور قدروقیمت کے مادّہ پرستانہ معیاروں سے بہتر معیار انسان کو دے۔
اور ان سب خصوصیات کے ساتھ جو علمی وعقلی اور تمدّنی ارتقا میں انسان کی صرف مدد ہی نہ کرے‘ بلکہ صحیح رہنمائی بھی کرے‘ اور مادی واخلاقی‘ ہر دو حیثیتوں سے اسے ترقی کی طرف لے جائے۔
ایسا ایک نظریہ اسلام کے سوا دنیا میں اور کونسا ہے؟لہٰذا یہ کہنا بالکل حق بجانب ہے‘ کہ اب انسانیت کا مستقبل اسلام پر منحصر ہے۔ انسان کے اپنے بنائے ہوئے تمام نظریات ناکام ہوچکے ہیں۔ ان میں سے کسی کے لیے کامیابی کا اب کوئی موقع نہیں۔ اور انسان میں اب اتنی ہمت بھی نہیں ہے‘ کہ پھر کسی نظریہ کی تصنیف اور اس کی آزمائش پر اپنی قسمت کی بازی لگا سکے۔ اس حالت میں صرف اسلام ایک ایسا نظریہ ومسلک ہے‘ جس سے انسان فلاح کی توقعات وابستہ کر سکتا ہے‘ جس کے نوعِ انسانی کا دین بن جانے کا امکان ہے‘ اور جس کی پیروی اختیار کر کے انسان کی تباہی ٹل سکتی ہے۔
لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہ ہوگا کہ دنیا بس مفتوح ہونے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔ اسلام کی خوبیوں پر ایک وعظ اور اس پر ایمان لانے کے لیے ایک دعوت نامہ شائع ہونے کی دیر ہے‘ پھر ایشیا‘ یورپ‘ افریقہ‘ امریکہ سب مسخر ہوتے چلے جائیں گے۔ ایک تہذیب کا سقوط اس طرح اچانک نہیں ہوا کرتا‘کہ کل تھی‘ اور آج ناپید ہوگئی‘ اور دوسری تہذیب کا قیام بھی اس طرح واقع نہیں ہوتا‘کہ آج چٹیل میدان ہے‘ اور کل کسی منتر کے زور سے ایک عالی شان قصر بن کھڑا ہے۔ گرنے والی تہذیب کے افکار‘ اصول‘ طریقے‘ مدّتہائے دراز تک دلوں اور دماغوں پر علوم وآداب پر اور تمدّن ومعاشرت پر اپنا اثر جمائے رہتے ہیں۔ اس اثر کا استیصال خود بخود نہیں ہوجاتا‘ کرنے سے ہوتا ہے۔ اسی طرح گرنے والی تہذیب کے علمبر دار بھی زوال پذیر ہونے کے باوجود سالہا سال تک زمین پر قبضہ جمائے رہتے ہیں۔وہ خود جگہ چھوڑ کر نہیں ہٹ جاتے‘ ہٹانے سے ہٹتے ہیں۔ علی ہذا القیاس نئی تہذیب پر نئی عمارت بنانا بھی کوئی کھیل نہیں ہے‘ کہ آپ سہولت سے بیٹھے رہیں اور وہ خود بن جائے۔ اس کام کے لیے ایک زبردست تنقیدی‘ تخریبی اور تعمیری تحریک کی ضرورت ہے‘ جو ایک طرف علم وفکر کی طاقت سے‘ پرانی تہذیب کی جڑیں اُکھاڑ دے اور دوسری طرف علوم وفنون وآداب کو اپنی مخصوص فکری بنیادوں پر از سرِنو مدوّن کرے‘ حتیٰ کہ ذہنی دنیا پر اس طرح چھا جائے۔کہ لوگ اسی کے طرز پر سوچنا اور محسوس کرنا شروع کر دیں۔ ایک طرف ان پرانے سانچوں کو ڈھائے‘ جن میں انسانیت ڈھلا کرتی تھی‘ اور دوسری طرف نئے سانچے تیار کرے‘ جن میں نئے اخلاق اور نئی سیرتوں کے آدمی ڈھلنے لگیں۔ ایک طرف پرانے نظامِ تمدّن وسیاست کو بزور مٹائے اور دوسری طرف ایک پورا نظامِ تمدّن وسیاست اپنے اصولوں پر عملاً قائم کر دے۔
پس دنیا کو آئندہ دور ظلم کے خطرے سے بچانے اور اسلام کی نعمت سے بہرہ ور کرنے کے لیے صرف اتنی بات کافی نہیں ہے‘ کہ یہاں صحیح نظر یہ موجود ہے۔ صحیح نظریہ کے ساتھ ایک صالح جماعت کی بھی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ایسے لوگ درکار ہیں‘ جو اس نظریہ پر سچا ایمان رکھتے ہوں۔ ان کو سب سے پہلے اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہوگا ‘اور وہ صرف اسی طرح دیا جا سکتا ہے‘ کہ وہ جس اقتدار کو تسلیم کرتے ہیں اس کے خود مطیع بنیں‘ جس ضابطے پر ایمان لاتے ہیں۔ اس کے خود پابند ہوں‘ جس اخلاق کو صحیح کہتے ہیں‘ اس کا خود نمونہ بنیں‘ جس چیز کو فرض کہتے ہیں‘ اس کا خود التزام کریں‘ اور جس چیز کو حرام کہتے ہیں اسے خود چھوڑیں۔ اس کے بغیر تو ان کی صداقت آپ ہی مشتبہ ہوگی کجا کہ کوئی ان کے آگے سر تسلیم خم کرے۔ پھر ان کو اس فاسد نظامِ تہذیب وتمدّن وسیاست کے خلاف عملاً بغاوت کرنی ہوگی اس سے اور اس کے پیروئوں سے تعلق توڑنا ہوگا ان تمام فائدوں‘ لذتوں‘ آسائشوں اور اُمیدوں کو چھوڑنا ہوگا‘ جو اس نظام سے وابستہ ہوں ‘اور رفتہ رفتہ ان تمام نقصانات‘ تکلیفوں اورمصیبتوں کو برداشت کرنا ہوگا‘ جو ایک فاسد نظام کے تسلّط کو مٹانے اور ایک صحیح نظام قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس انقلاب کی جدوجہد میں اپنا مال بھی قربان کرنا ہوگا۔ اپنے اوقاتِ عزیز بھی صرف کرنے پڑیں گے۔ اپنے دل ودماغ اور جسم کی ساری قوّتوں سے بھی کام لینا پڑے گا‘ اور قید اور جلا وطنی اور ضبطِ اموال اور تباہی اہل وعیال کے خطرات بھی سہنے ہوں گے‘ اور وقت پڑے تو جانیں بھی دینی پڑیں گی۔ ان راہوں سے گزرے بغیر دنیا میں نہ کبھی کوئی انقلاب ہوا ہے نہ اب ہوسکتا ہے۔ ایک صحیح نظریہ کی پشت پر ایسے صادق الایمان لوگوں کی جماعت جب تک نہ ہو‘ محض نظریہ‘ خواہ وہ کتنا ہی بلند پایہ ہو‘ کتابوں کے صفحات سے منتقل ہوکر ٹھوس زمین میں کبھی جڑ نہیں پکڑ سکتا۔ نظریہ کی کامیابی کے لیے خود اس کے اصولوں کی طاقت جس قدر ضروری ہے۔ اسی قدر ان انسانوں کی سیرت‘ ان کے عمل اور ان کی قربانی وسرفروشی کی طاقت بھی ضروری ہے‘ جو اس پر ایمان رکھتے ہوں۔ زراعت کے طریقہ کی درستی‘ بیج کی صلاحیت‘ موسم کی موافقت‘ سب اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں‘ مگر زمین اتنی حقیقت پسند ہے‘ کہ جب تک کسان اپنے صبر سے‘ اپنی محنت سے‘ اپنے بہتے ہوئے پسینہ سے اور اپنی جفاکشی سے اس پر اپنا حق ثابت نہیں کر دیتا‘ وہ لہلہاتی ہوئی کھیتی اُگلنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔
اگرچہ خلوصِ ایمان اور قربانی وجانفشانی ہر دین کے قیام کے لیے ناگزیر ہے خواہ وہ دینِ حق ہویا دینِ باطل‘ مگر دینِ حق اس سے بہت زیادہ اخلاص اور قربانی مانگتا ہے‘ جو دین باطل کے قیام کے لیے درکار ہے۔ حق ایک ایسا باریک بین صراف ہے‘ جو ذراسی کھوٹ کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ وہ خالص سونا چاہتا ہے۔ آزمائشوں کی بھٹی میں سے گزر کر جب تک ساری کھوٹ جل نہ جائے‘ اور پورے عیار (standard) کا کندن نکل نہ آئے وہ اپنے نام سے اس کو بازار میں لانے کی ذمّہ داری لینا پسند نہیں کرتا‘ کیونکہ وہ حق ہے‘ باطل نہیں ہے‘ کہ کھوٹے سکے اور ملمع کیے ہوئے زیور بیچتا پھرے۔ یہی وجہ ہے‘ کہ قرآن بار بار کہتا ہے:
مَا كَانَ اللہُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰي مَآ اَنْتُمْ عَلَيْہِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ۝۰ۭ آل عمران 179:3
اﷲ کا یہ طریقہ نہیں ہے‘ کہ ایمان لانے والوں کو اسی حالت پر چھوڑ دے جس پر تم لوگ اس وقت ہو(کہ مومن اور منافق سب خَلْط مَلْط ہیں)وہ نہ مانے گا جب تک کھوٹے کو کھرے سے الگ نہ کر دے۔
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا يُفْتَنُوْنَo وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِيْنَo العنکبوت29:3-2
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے‘ کہ وہ بس اتنا کہہ دینے پر کہ ہم ایمان لائے‘ چھوڑ دئیے جائیں گے‘ اور انہیں آزمائش کی بھٹی میں تپایا نہ جائے گا؟حالانکہ ان سے پہلے جو گزر چکے ہیں (یعنی جنہوں نے بھی ایمان لانے کا دعویٰ کیا ہے)ان سب کو ہم نے تپایا ہے‘ پس ضرور ہے‘ کہ اﷲ دیکھے کہ سچے کون ہیں‘ اور جھوٹے کو ن۔
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ۝۰ۭ مَسَّتْہُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰى نَصْرُ اللہِ۝۰ۭ البقرہ 214:2
کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے‘ کہ جنت کا داخلہ تمہیں مل جائے گا حالانکہ ابھی تم پر وہ کیفیت تو گزری ہی نہیں‘ جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکی ہے؟ ان پر سختیاں اور مصیبتیں آئیں اور وہ ہلا مارے گئے‘ حتیٰ کہ رسول اور اس کے ساتھی اہلِ ایمان چیخ اُٹھے کہ اﷲ کی مدد کب آئے گی؟
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللہُ الَّذِيْنَ جٰہَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ وَلَا رَسُوْلِہٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَۃً۝۰ۭ التوبہ 16:9
کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے‘ کہ تم یونہی چھوڑ دئیے جائو گے حالانکہ ابھی اﷲ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون ایسے ہیں‘ جنہوں نے سعی وجہد کا حق ادا کیا اور اﷲ اور رسول اور اہلِ ایمان کے سوا کسی سے قلبی تعلق نہ رکھا۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللہِ فَاِذَآ اُوْذِيَ فِي اللہِ جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللہِ۝۰ۭ وَلَىِٕنْ جَاۗءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ۝۰ۭ اَوَلَيْسَ اللہُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِيْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِيْنَo وَلَيَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَo العنکبوت10-11:29
اور لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں‘ جو کہتے ہیں‘ کہ ہم اﷲ پر ایمان لائے مگر جب اﷲ کی راہ میں انہیں ستایا گیا‘ تو انسانوں کی ایذا سے ایسے ڈرے جیسے اﷲ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے۔ اور اگر تیرے رب کی طرف سے فتح نصیب ہوجائے‘ تو یہی لوگ آکر کہیں گے کہ ہم تو تمہارے ہی ساتھ تھے۔ کیا اﷲ اہلِ دنیا کے دلوں سے خوب واقف نہیں ہے؟ مگر ضرور ہے‘ کہ اﷲ یہ دیکھے کہ تم میں سے ایمان دار کون ہیں‘ اور منافق کون۔
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ۝۰ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَo الَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِيْبَۃٌ۝۰ۙ قَالُوْٓا اِنَّا لِلہِ وَاِنَّآ اِلَيْہِ رٰجِعُوْنَo اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ۝۰ۣ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُہْتَدُوْنَo البقرہ 155-157:2
ہم ضرور تم کو خطرات اور فاقوں سے اور جان ومال اور کمائیوں کے نقصانات سے آزمائیں گے‘ اور کامیابی کی بشارت دے دو ان مستقل مزاج لوگوں کو‘ جنہوں نے ہر مصیبت کی آمد پر کہا کہ ہم اﷲ ہی کے ہیں‘ اور آخر اسی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔ ایسے لوگوں پر ان کے رب کی طرف سے مہربانیاں ہیں‘ اور رحمت ہے‘ اور یہی لوگ راہِ راست پانے والے ہیں۔
قرآن یہ سب کچھ کہنے کے ساتھ اس حقیقت پر بھی متنبہ کر دیتا ہے‘ کہ
وَلَوْ يَشَاۗءُ اللہُ لَانْتَصَرَ مِنْہُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ۝۰ۭ محمد 4:47
اﷲ چاہتا تو خود ہی ان سے نمٹ لیتا‘ مگر وہ تم میں سے کچھ لوگوں کو کچھ لوگوں کے ذریعہ سے آزماتا ہے۔
یعنی یہ نہ سمجھنا کہ اﷲ اپنے باغیوں کی سر کو بی خود نہیں کر سکتا اس لیے تم سے مدد مانگتا ہے۔ نہیں‘ وہ اتنی زبردست طاقت رکھتا ہے‘ کہ چاہے تو ایک اشارے میں ان کو تباہ کر کے رکھ دے اور اپنے دین کو خود قائم کر دے‘ مگر اس نے یہ جہاد اور محنت وقربانی کا بار تم پر اس لیے ڈالا ہے‘ کہ وہ تم انسانوں کو ایک دوسرے کے مقابلہ میں آزمانا چاہتا ہے جب تک باطل پرستوں سے تمہارا تصادم نہ ہو‘ اور اس تصادم میں مصائب وشدائد اور خطرات ومہالک پیش نہ آئیں‘ سچے اہلِ ایمان جھوٹے مدعیوں سے ممیز نہیں ہوسکتے اور جب تک ناکارہ لوگوں میں سے کار آمد آدمی چھٹ کر الگ نہ ہوجائیں وہ جتھا نہیں بن سکتا جو خلافت ِالٰہیہ کی ذمّہ داری سنبھالنے کا اہل ہو۔
لہٰذا آج دنیا کا مستقبل درحقیقت اس امر پر منحصر نہیں ہے‘ کہ کوئی نظر یۂ حق انسان کو ملتا ہے‘ یا نہیں‘ کیونکہ نظر یہ حق تو موجود ہے البتہ وہ اگر منحصر ہے‘ تو اس امر پر ہے‘ کہ انسانوں میں سے کوئی ایسا گروہ اُٹھتا ہے‘ یا نہیں‘ جو سچے ایمان دار‘ دھن کے پکے اور اپنی ہر عزیز ومحبوب چیز کو خدا کی راہ میں قربان کرنے والے لوگوں پر مشتمل ہو۔
ہم سے کہا جاتا ہے‘ کہ ایسے لوگ بھلا اب کہاں مل سکتے ہیں؟وہ تو بس ایک مبارک دور میں پیدا ہوئے تھے‘ اور پھر خالق نے اس ماڈل کو ہمیشہ کے لیے منسوخ کر دیا۔ لیکن یہ محض ایک وہم ہے‘ اور ایسا وہم انہی لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے جنہیں خود اپنے آپ سے مایوسی ہے دنیا میں ہر قابلیت اور صلاحیت کے آدمی ہر زمانہ میں پائے گئے ہیں‘ اور پائے جاتے ہیں۔ جہاں منافقانہ خصوصیات رکھنے والے اور ضعیف الارادہ لوگ اور سہولت پسند اشخاص ہمیشہ پائے گئے ہیں‘ اور آج بھی پائے جاتے ہیں‘ وہاں ایسے لوگ بھی ہر زمانہ میں موجود رہے ہیں‘ اور آج بھی موجود ہیں‘ جو کسی چیز پر ایمان لانے کے بعد اس کو سر بلند کرنے کے لیے‘ سر دھڑ کی بازی لگا سکتے ہیں۔ آج آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں‘ کہ ایک دو نہیں ہزاروں انسان ایسے ہیں‘ جو ہٹلر اور جرمنی پر ایمان لائے ہیں‘ اور وہ اپنے اس ایمان کی خاطر ہوائی جہاز سے عین دشمن کے ملک میں جست لگاتے ہیں‘ جہاں ان کو معلوم ہے‘ کہ بے شمار شکاری ان کی گھات میں لگے ہوئے ہیں۔ روس کا انقلاب جو ابھی چوبیس پچیس سال پہلے ہی کی بات ہے اس کی تاریخ آپ دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ ہزار ہا آدمی جو انقلابی نظریات پر ایمان رکھتے تھے۔ مسلسل نصف صدی تک ہر قسم کی قربانیاں دیتے رہے۔ سائبیریا کے جہنم میں بھیجے گئے‘ پھانسی پر چڑھائے گئے‘ جلا وطنی کی حالت میں برسوں ملک ملک کی خاک چھانتے پھرے‘ اپنی ذاتی خوش حالی کی تمام خواہشوں اور تمنائوں کا خون کیا‘ خانماں بربادی کو خود اپنے ہاتھوں مول لیا‘ اور یہ سب کچھ اس وقت کیا جب کہ زار کی سلطنت کے مٹنے کا تصوّر بھی بمشکل ہی کیا جا سکتا تھا۔ دُور نہ جائیے خود ہندستان ہی کو دیکھ لیجیے۔ یہاں جو نوجوان اس غلط فہمی میں مبتلا ہوئے کہ کشت وخون کے ذریعہ سے وہ اپنے ملک کو آزاد کر ا سکیں گے انہوں نے اپنے مقصد کے پیچھے اپنی زندگیوں کو برباد کرنے اور خطرات کا مقابلہ کرنے میں کیا کسر اُٹھا رکھی؟کون سی ممکن التصوّر مصیبت ایسی تھی‘ جسے انہوں نے برداشت نہ کیا ہو؟ قید خانوں میں شدید ترین اذیتیں اُٹھائیں‘ حبسِ دوام میں عمریں گزار دیں‘ پھانسی کے تختہ پر جانیں تک دے دیں۔ اس سے بحث نہیں کہ ان کے طریقے صحیح تھے یا غلط‘ مگر اس سے یہ تو ضرور ثابت ہوتا ہے‘ کہ کسی مقصد پر ایمان لانے کے بعد اس کے لیے جان ومال اور شخصی امنگوں کی قربانی گوارا کرنے اور مصیبتیں سہنے کی صفت آج بھی انسانوں میں ناپید نہیں ہے۔ گاندھی جی کی سول نافرمانی ابھی حال ہی کی بات ہے۔ کیا اسی ہندستان کے باشندوں میں ایسے لوگ موجود نہ تھے‘ جنہوں نے لاٹھیاں کھائیں‘ جیل گئے‘ اور مالی نقصانات برداشت کیے؟کیا باردولی کے کسانوں نے اپنی زمینوں‘ اپنے جانوروں اور اپنے گھروں کے برتنوں تک کی قرقی اور نیلامی کو صبر کے ساتھ برداشت نہیں کیا؟ پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے‘ کہ آج ایثارو قربانی کی وہ صفات انسانوں میں مفقود ہیں‘ جو پہلے لوگوں میں پائی جاتی تھیں؟اگر ہٹلر اورمارکس اور گاندھی پر ایمان لاکر انسان یہ سب کچھ کر سکتا ہے‘ تو کیا خدا پر ایمان لاکر کچھ نہیں کر سکتا؟اگر خاکِ وطن میں اتنی کشش ہے‘ کہ اس کے لیے آدمی جان ومال کی قربانی گوارا کر سکتا ہے‘ تو کیا خدا کی رضا اور اس کے تقرّب میں اتنی کشش بھی نہیں ہے؟ پس جو لوگ خود پست ہمت اور ضعیفُ الارادہ ہیں انہیں یہ کہنے کا حق نہیں ہے‘ کہ اس کارِ عظیم کے لیے جن اولوالعزم انسانوں کی ضرورت ہے وہ کہیں مل ہی نہیں سکتے‘ البتہ اپنی ذات کی حد تک وہ ضرور کہہ سکتے ہیں‘ کہ
فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰہُنَا قٰعِدُوْنَo المائدہ 24:5
جائو تم اور تمہارا رب دونوں لڑیں اور ہم یہاں بیٹھے ہیں۔
(ترجمان القرآن۔اپریل۱۹۴۱ء){ FR 2544 }
خ خ خ

مطالبۂ پاکستان کو یہود کے مطالبہ ’’قومی وطن‘‘ سے تشبیہ دینا غلط ہے

سوال:۔’’ہمارا عقیدہ ہے‘ کہ مسلمان آدم علیہ السّلام کی خلافت ِارضی کا وارث ہے۔ مسلمان کی زندگی کا مقصد صرف اﷲ پاک کی رضا اور اس کے مقدس قانون پر چلنا اور دوسروں کو چلنے کی ترغیب دینا ہے۔ اس لیے اس کا فطری نصب العین یہ قرار پاتا ہے‘ کہ سارے عالم کو قانون الٰہیہ کے آگے مفتوح کر دے۔ لیکن مسٹر جناح اور ہمارے دوسرے مسلم لیگی بھائی پاکستان چاہتے ہیں‘ ہندوستان کی زمین کا ایک گوشہ!تاکہ ان کے خیال کے مطابق مسلمان چین کی زندگی گزار سکیں۔ کیا خالص دینی نقطۂ نظر سے یہ قابلِ اعتراض نہیں؟ یہودی قوم مقہورو مغضوب قوم ہے۔ اﷲ پاک نے اس پر زمین تنگ کر دی ہے‘ اور ہر چند کہ اس قوم میں دنیا کے بڑے سے بڑے سرمایہ دار اور مختلف علوم کے ماہرین موجود ہیں‘ لیکن ان کے قبضہ میں ایک انچ زمین بھی نہیں ہے آج وہ اپنا قومی وطن بنانے کے لیے کبھی انگریزوں سے بھیک مانگتے ہیں‘ اور کبھی امریکہ والوں سے‘ میرے خیال میں مسلمان یا بالفاظ دیگر مسلم لیگ بھی یہی کر رہی ہے۔ وہ یہودیوں کی طرح پاکستان کی بھیک کبھی ہندوئوں سے اور کبھی انگریزوں سے مانگتی پھر رہی ہے۔ تو پھر کیا یہ ایک مقہور اور مغضوب قوم کی پیروی نہیں ہے؟ اور کیا ایک مقہورو مغضوب قوم کی پیروی مسلمانوں کو بھی اسی صف میں لاکر کھڑانہ کر دے گی۔‘‘؟
جواب:پاکستان کے متعلق آپ میرے مفصل خیالات ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش‘ حصّہ سوم میں ملا حظہ فرمائیے۔ میرے نزدیک پاکستان کے مطالبہ پر یہودیوں کے قومی وطن کی تشبیہ چسپاں نہیں ہوتی۔ فلسطین فی الواقع یہودیوں کا قومی وطن نہیں ہے ان کو وہاں سے نکلے ہوئے دو ہزار برس گزر چکے ہیں‘ اسے اگر ان کا قومی وطن کہا جا سکتا ہے‘ تو اسی معنی میں جس معنی میں جرمنی کی آریہ نسل کے لوگ وسط ایشیا کو اپنا قومی وطن کہہ سکتے ہیں۔ یہودیوں کی اصل پوزیشن یہ نہیں ہے‘ کہ ایک ملک واقعی ان کا قومی وطن ہے‘ اور وہ اسے تسلیم کرانا چاہتے ہیں۔ بلکہ ان کی اصلی پوزیشن یہ ہے‘ کہ ایک ملک ان کا قومی وطن نہیں ہے‘ اور ان کا مطالبہ یہ ہے‘ کہ ہم کو دنیا کے مختلف گوشوں سے سمیٹ کر وہاں بسایا جائے‘ اور اسے بزور ہمارا قومی وطن بنا دیا جائے۔ بخلاف اس کے مطالبہ پاکستان کی بنیاد یہ ہے‘ کہ جس علاقہ میں مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے‘ وہ بالفعل مسلمانوں کا قومی وطن ہے‘ اور مسلمانوں کا مطالبہ صرف یہ ہے‘ کہ موجودہ جمہوری نظام میں ہندستان کے دوسرے حصوں کے ساتھ لگے رہنے سے ان کے قومی وطن کی سیاسی حیثیت کو جو نقصان پہنچتا ہے‘ اس سے اس کو محفوظ رکھا جائے‘ اور متحدہ ہندستان کی ایک آزاد حکومت کے بجائے ہندو ہندوستان اور مسلم ہندستان کی دو آزاد حکومتیں قائم ہوں۔ یعنی بالفاظ دیگر وہ صرف یہ چاہتے ہیں‘ کہ ان کا قومی وطن جو بالفعل موجود ہے اس کو اپنی آزاد حکومت الگ قائم کرنے کا حق حاصل ہوجائے۔
یہ چیز بعینہٖٖ وہی ہے‘ جو آج دنیا کی ہر قوم چاہتی ہے‘ اور اگر مسلمانوں کے ’’مسلمان‘‘ ہونے کی حیثیت کو نظر انداز کر کے انہیں صرف ایک قوم کی حیثیت کو نظر انداز کر کے انہیں صرف ایک قوم کو حیثیت سے دیکھا جائے‘ تو ان کے اس مطالبہ کے حق بجانب ہونے میں کوئی کلام نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اصولاً اس بات کے مخالف ہیں‘ کہ دنیا کی کوئی قوم کسی دوسری قوم پر سیاسی ومعاشی حیثیت سے مسلّط ہو۔ ہمارے نزدیک اصولاً یہ ہر قوم کا حق ہے‘ کہ اس کی سیاسی ومعاشی باگیں اس کے اپنے ہاتھوں میں ہوں۔ اس لیے ایک قوم ہونے کی حیثیت سے اگر مسلمان یہ مطالبہ کرتے ہیں‘ تو جس طرح دوسری قوموں کے معاملہ میں یہ مطالبہ صحیح ہے اسی طرح ان کے معاملہ میں بھی صحیح ہے۔ البتہ ہمیں اس چیز کو نصب العین بنانے پر جو اعتراض ہے وہ صرف یہ ہے‘ کہ مسلمانوں نے ایک اصولی جماعت اور ایک نظام کی داعی اور علم بردار جماعت ہونے کی حیثیت کو نظر انداز کر کے صرف ایک ’’قوم‘‘ ہونے کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اگر وہ اپنی اصلی حیثیت کو قائم رکھتے تو ان کے لیے قومی وطن اور اس کی آزادی کا سوال ایک نہایت حقیر سوال ہوتا بلکہ حقیقتاً سرے سے وہ ان کے لیے پیدا ہی نہ ہوتا۔ اب وہ کروڑوں ہوکر ایک ذرا سے خطے میں اپنی حکومت حاصل کر لینے کو ایک انتہائی نصب العین سمجھ رہے ہیں‘ لیکن اگر وہ نظام اسلامی کے داعی ہونے کی حیثیت اختیار کریں‘ تو تنہا ایک مسلمان ساری دنیا پر اپنی‘ یعنی درحقیقت اپنے اس نظام کی‘ جس کا وہ داعی ہے حکومت کا مدعی ہوسکتا ہے‘ اور صحیح طور پر سعی کرے تو اسے حاصل بھی کر سکتا ہے۔
(ترجمان القرآن‘ جولائی‘ اگست‘ ستمبر‘ اکتوبر۱۹۴۴ء)

خ خ خ

مسلم لیگ سے اختلاف کی نوعیت

مسلم لیگ کی مجلس عمل کی جانب سے حسب ذیل سوال نامہ ہمارے پاس بھیجا گیا ہے۔
’’کن اصول‘ خطوط اور بنیادوں پر ہندستانی مسلمانوں کی سیاسی ومعاشی اصلاح‘ ان حالات کے اندر رہتے ہوئے‘ جن میں وہ گھرے ہوئے ہیں‘ اسلامی اصول‘ روایات اور نقطۂ نظر کے مطابق ممکن ہے؟براہ کرم حسب ذیل خطوط پر اپنی تفصیلی رائے تحریر کیجئے:۔
(الف) ایک ایسا قابلِ عمل دستور تجویز کیجیے‘ جس کے ذریعہ قومی احیائ کے مشترکہ مقصد کے لیے مسلمانوں کے مختلف فرقوں اور مدارسِ فکر کو متحد اور مربوط کیا جا سکے۔
(ب) ایک ایسا اقتصادی نقشہ ونظام مرتّب کیجیے جو اصولِ اسلام کے ساتھ مطابقت رکھتا ہو۔
(ج) ہندستانی مسلمان جن مخصوص حالات میں گھرے ہوئے ہیں انہیں ذہن میں رکھ کر بتائیے کہ کیا یہ ممکن ہے‘ کہ اگر‘ اور جب وہ ایسی آزاد ریاستیں حاصل کر لیں جن میں ان کی اکثریت ہو‘ تو ایک ایسا نظامِ حکومت قائم کر سکیں جس میں مذہب اور ریاست کے درمیان ایک خوش آئند ہم آہنگی پیدا ہوجائے۔
(د) اسلامی اصول‘ روایات‘ تصوّرات اور نظریات کے مطابق ایک ایسی اسکیم مرتّب کیجیے‘ جو مسلمانوں کے معاشرتی‘ تہذیب اور تعلیمی پہلوئوں پر حاوی ہو۔
(ر) مجموعی قومی بہبودی کی خاطر مذہبی ادارات یعنی اوقاف اور دوسرے ذرائع آمدنی کو ایک مرکز کے ماتحت منظم کرنے کے لیے طریق کار اور نظام اس طرح مرتّب کیجیے‘ کہ ان اداروں پر قبضہ رکھنے والے اشخاص کے احساسات‘ میلانات‘ اغراض اور مختلف نظریات کا لحاظ رہے۔‘‘
اس سوالنامے کا جو جواب ہماری طرف سے بھیجا گیا وہ درج ذیل ہے:۔
آپ نے جو تفصیلی سوالات دریافت کیے ہیں‘ وہ دراصل ایک ہی بڑے سوال کے اجزاء ہیں۔ پھر کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ ان مسائل کو الگ الگ لینے اور ان پر الگ الگ رائے ظاہر کرنے کے بجائے اسی بڑے سوال کو بیک وقت سامنے لے آیا جائے جس کے یہ سب اجزاء ہیں؟وہ بڑا سوال یہ ہے‘ کہ مسلمان کس طرح وہ اصلی مسلمان بنیں جنہیں بنانا قرآن کا اصل منشا تھا؟یہ ہے اصل سوال اور اس کے حل ہونے سے باقی سب سوالات خود بخود حل ہوجائیں گے۔
میرے پاس اس سوال کا سیدھا اور صاف جواب یہ ہے‘ کہ پہلے اسلام کو‘جو کچھ کہ وہ ہے‘ اور جو کچھ کہ انسان سے اس کے مطالبات ہیں‘ واضح طور پر مسلمانوں کے سامنے رکھ دیا جائے‘ اور ان سے شعوری طور پر اسے قبول کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔ پھر جو لوگ اسے جاننے اور سمجھنے کے بعد قبول کریں‘ اور اپنے طرزِعمل سے ثابت کریں کہ واقعی انہوں نے اسے قبول کیا ہے‘ ان کو ایک پارٹی کی صورت میں منظم کرنا شروع کیا جائے‘ اور باقی مسلمانوں میں مسلسل تبلیغ وتلقین کا سلسلہ اس ارادہ کے ساتھ جاری رکھا جائے کہ بالآخر ہمیں اس پارٹی میں پوری قوم کو جذب کر لینا ہے۔
اس پارٹی کے سامنے صرف ایک ہی نصب العین ہو‘ یعنی اسلام کو بحیثیت ایک نظامِ زندگی کے عملاً زمین پر قائم کرنا۔ اور اس کا ایک ہی اصول ہو‘ یعنی اسلام کے خالص طریقہ پر چلنا (خواہ یہ طریقہ دنیا کو مرغوب ہویا نہ ہو) اور غیر اسلام کے ساتھ ہر مدارات ومصالحت (compromise)اور ہر آمیزس واختلاط کو قطعی چھوڑ دینا۔اس نصب العین اور اس اصول پر جو پارٹی کام کرے گی اس کے لیے وہ سوالات جو آپ کے سامنے آرہے ہیں اوّل تو سرے سے پیدا ہی نہ ہوں گے‘ اور اگر ان میں سے بعض سوالات پیدا ہوئے بھی تو وہ اس شکل میں نہیں ہوں گے جس شکل میں آپ کے سامنے اب یہ سوالات آرہے ہیں۔انہیں کوئی نئی اسکیم وضع نہیں کرنی ہوگی‘ بلکہ صرف وہ قوّت فراہم کرنی ہوگی‘ جس سے وہ اس اسکیم کو نافذ کر سکیں جو پہلے ہی بنی ہوئی موجود ہے۔ وہ اس کی پروا نہیں کریں گے کہ موجودہ حالات ہماری اسکیم کے نفاذ کے لیے ساز گار ہیں‘ یا نہیں۔ وہ ناساز گار حالات کو بزور بدلیں گے‘ تاکہ وہ اس اسکیم کے لیے ساز گاری کرنے پر مجبور ہوں۔ غرض یہ کہ ان کا نقطۂ نظر اس معاملہ میں اس نقطۂ نظر سے بالکل مختلف ہوگا‘ جو آپ حضرات نے اختیار کیا ہے۔
میرا خیال ہے‘ کہ آپ حضرات ایک ایسی پیچیدگی میں پڑ گئے ہیں‘ جس کا کوئی حل شاید آپ نہ پا سکیں اور وہ پیچیدگی یہ ہے‘ کہ ایک طرف تو آپ اس پوری مسلمان قوم کو ’’مسلمان‘‘کی حیثیت سے لے رہے ہیں‘ جس کے ننانوے فی صد افراد اسلام سے جاہل‘ اور پچانوے فی صد منحرف اور نوے فی صدی انحراف پر مصر ہیں‘ یعنی وہ خود اسلام کے طریقہ پر چلنا نہیں چاہتے اور نہ اس منشا کو پورا کرنا چاہتے ہیں‘ جس کے لیے ان کو مسلمان بنایا گیا ہے۔ دوسری طرف آپ حالات کے اس پورے مجموعہ کو جو اس وقت عملاً قائم ہے‘ تھوڑی سی ترمیم کے بعد قبول کر لیتے ہیں‘ اور چاہتے ہیں‘ کہ حالات تو یہی رہیں اور پھر ان کے اندر کسی اسلامی اسکیم کے نفاذ کی گنجائش نکل آئے۔ یہی چیز آپ کے لیے ایک بڑی پیچیدگی پیدا کرتی ہے‘ اور اسی وجہ سے میرا خیال یہ ہے‘ کہ جن مسائل سے آپ حضرات تعرض کر رہے ہیں ان کا کوئی حل آپ کبھی نہ پا سکیں گے۔
(ترجمان القرآن‘ جولائی‘ اگست‘ ستمبر‘ اکتوبر۱۹۴۴ء)

خ خ خ

وقت کے سیاسی مسائل میں جماعت ِاسلامی کا مسلک

سوال:۔اس وقت مسلمانانِ ہنددوفتنوں میں مبتلا ہیں۔ اوّل کانگریس کی وطنی تحریک کا فتنہ جو واحد قومیّت کے مفروضے اور مغربی ڈیمو کریسی کے اصول پر‘ ہندستان کی اجتماعی زندگی کی تشکیل کرنا چاہتی ہے۔ دوم مسلم نیشنل ازم کی تحریک جسے مسلم لیگ چلا رہی ہے‘ اور جس پر ظاہر میں تو اسلام کا لیبل لگا ہوا ہے‘ مگر باطن میں روح اسلامی سراسر مفقود ہے۔’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش‘‘کے مطالعہ سے یہ بات ہم پر واضح ہوچکی ہے‘ کہ یہ دونوں تحریکیں اسلام کے خلاف ہیں‘ لیکن حدیث میں آیا ہے‘ کہ انسان جب دو بلائوں میں مبتلا ہو‘ تو چھوٹی بلا کو قبول کر لے۔ اب کانگریس کی تحریک تو سراسر کفر ہے‘ اس کا ساتھ دینا مسلمانوں کی موت کے مترادف ہے۔ اس کے مقابلہ میں لیگ کی تحریک اگرچہ غیراسلامی ہے‘ لیکن اس سے یہ خطرہ تو نہیں ہے‘ کہ دس کروڑ مسلمانانِ ہند کی قومی ہستی ختم ہوجائے۔ لہٰذا کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ ہم لیگ سے باہر رہتے ہوئے اس کے ساتھ ہمدردی کریں؟ اس وقت ہندستان میں انتخابات کی مہم درپیش ہے‘ اور یہ انتخابات فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک طرف تمام غیر لیگی عناصر مل کر مسلم لیگ کو پچھاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ جن میں اگر وہ کامیاب ہوجائیں‘ تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ کانگریس کی وطنی تحریک مسلمانوں پر زبردستی مسلّط ہوکے رہ جائے گی۔دوسری طرف مسلم لیگ یہ ثابت کرنا چاہتی ہے‘ کہ مسلمان ایک مستقل قوم ہیں‘ اور وہ اپنی قومی حکومت قائم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ ان دونوں کا فیصلہ رائے دہندوں کے ووٹوں پر منحصر ہے۔ایسی صورت میں ہم کو کیا روّیہ اختیار کرنا چاہیے؟ کیا ہم لیگ کے حق میں ووٹ دیں اور دلوائیں؟ یا خاموش بیٹھے رہیں؟ یا خود اپنے نمائندے کھڑے کریں؟
جواب:۔آپ کے ذہن پر ملک کے موجودہ سیاسی حالات کا غلبہ ہے‘ اس لیے آپ کو صرف دو ہی فتنے نظر آئے‘ جن میں ہندستان کے مسلمان مبتلا ہیں۔ حالانکہ اگر آپ ذرا وسیع نگاہ سے دیکھتے تو ان دو فتنوں کے علاوہ آپ کو اور بہت سے اخلاقی‘ فکری‘ تمدّنی‘ مذہبی اور سیاسی ومعاشی فتنے نظر آتے‘ جو اس وقت مسلمانوں پر ہجوم کیے ہوئے ہیں‘ اور یہ ایک فطری سزا ہے‘ جو اﷲ کی طرف سے ہر اس قوم کو ملا کرتی ہے‘ جو کتاب اﷲ کی حامل ہونے کے باوجود اس کے اتباع سے منہ موڑے اور اس کے منشا کے مطابق کام کرنے سے جی چرائے۔ اس سزا سے اگر مسلمان بچ سکتے ہیں‘ تو وہ صرف اس طرح کہ اپنے اس اصلی وبنیادی جرم سے باز آجائیں‘ جس کی پاداش میں ان پر یہ فتنے مسلّط ہوئے ہیں۔ اور اس کام کے لیے کھڑے ہوجائیں‘ جس کی خاطر انہیں کتاب اﷲ دی گئی تھی۔ لیکن اگر وہ اس سے منہ موڑتے ہیں‘ تو پھر جو تدبیر یں چاہیں کر کے دیکھ لیں۔ یقین جانیے کہ کسی ایک فتنہ کا بھی سدّ باب نہ ہوگا بلکہ ہر تدبیر چند اور فتنے برپا کر دے گی۔
آپ نے جو سوال جماعت ِاسلامی کی توجہ اور فیصلے کے لیے پیش کیا ہے اس کے متعلق میں دو باتیں واضح طور پر عرض کیے دیتا ہوں‘ تاکہ آپ کو اور آپ کی طرح سوچنے والے اصحاب کو آئندہ اس سلسلہ میں کوئی اُلجھن نہ پیش آئے۔
اول یہ کہ پہلے آپ اس جماعت کے مقصد قیام کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ یہ جماعت کسی ملک یا قوم کے وقتی مسائل کو سامنے رکھ کر وقتی تدابیر سے ان کو حل کرنے کے لیے نہیں بنی ہے۔ اور نہ اس کی بنائے قیام‘ یہ قاعدہ ہے‘ کہ پیش آمدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے‘ جس وقت جو اصول چلتے نظر آئیں ان کو اختیار کر لیا جائے۔ اس جماعت کے سامنے تو صرف ایک ہی عالمگیر اور ازلی وابدی مسئلہ ہے‘ جس کی لپیٹ میں ہر ملک اور ہر قوم کے سارے وقتی مسائل آجاتے ہیں‘ اور وہ مسئلہ یہ ہے‘ کہ انسان کی دنیوی فلاح اور اخروی نجات کس چیز میں ہے؟ پھر اس مسئلے کا ایک ہی حل اس جماعت کے پاس ہے‘ اور وہ یہ ہے‘ کہ تمام بندگانِ خدا(جن میں ہندستان کے مسلمان بھی شامل ہیں) صحیح معنوں میں خدا کی بندگی اختیار کریں‘ اور اپنی پوری انفرادی واجتماعی زندگی کو اس کے سارے پہلوئوں سمیت ان اصولوں کی پیروی میں سپرد کر دیں جو خدا کی کتاب اور اس کے رسول a کی سنّت میں پائے جاتے ہیں۔ ہمیں اس مسئلے اور اس کے اس واحد حل کے سوا دنیا کی کسی دوسری چیز سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں ہے‘ اور جو شخص بھی ہمارے ساتھ چلنا چاہتا ہواسے لازم ہے‘ کہ ہر طرف سے نظر ہٹا کر پوری جمعیت ِخاطر کے ساتھ اس شاہراہ پر قدم جمائے چلتا رہے۔ اور جو شخص اتنی ذہنی وعملی یکسوئی بہم نہ پہنچا سکے‘ جس کے ذہن کو اپنے ملک یا اپنی قوم کے وقتی مسائل بار بار اپنی طرف کھینچتے ہوں ‘اور جس کے قدم بار بار ڈگمگا کر ان طریقوں کی طرف پھسلتے ہوں‘ جو دنیا میں آج رائج ہیں‘ اس کے لیے زیادہ مناسب یہ ہے‘ کہ پہلے ان ہنگامی تحریکوں میں جا کر اپنا دل بھرلے۔
دوم یہ کہ ووٹ اور الیکشن کے معاملہ میں بھی آپ ہماری پوزیشن کو صاف صاف ذہن نشین کرلیں۔ پیش آمدہ انتخاب یا آئندہ آنے والے انتخابات کی اہمیت جو کچھ بھی ہو‘ اور ان کا جیسا کچھ بھی اثر ہماری قوم یا ہمارے ملک پر پڑتا ہو‘ بہرحال ایک بااصول جماعت ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے یہ ناممکن ہے‘ کہ کسی وقتی مصلحت کی بنا پر ہم ان اصولوں کی قربانی گوارا کر لیں جن پر ہم ایمان لائے ہیں۔ موجود نظام کے خلاف ہماری لڑائی ہی اس بنیاد پر ہے‘ کہ یہ نظام حاکمیت جمہور(sovereignty of the people)کے اصول پر قائم ہوا ہے‘ اور جمہور جس پارلیمنٹ یا اسمبلی کو منتخب کریں یہ اس کو قانون بنانے کا غیر مشروط حق دیتا ہے‘ جس کے لیے کوئی بالا تر سند اس کو تسلیم نہیں ہے‘ بخلاف اس کے ہمارے عقیدئہ توحید کا بنیادی تقاضا یہ ہے‘ کہ حاکمیت (sovereignty)جمہور کی نہیں‘ بلکہ خدا کی ہو‘ اور آخری سند (final authority) خدا کی کتاب کو مانا جائے‘ اور قانون سازی جو کچھ بھی ہو‘ کتابِ الٰہی کے تحت ہونہ کہ اس سے بے نیاز۔ یہ ایک اصولی معاملہ ہے‘ جس کا تعلق عین ہمارے ایمان اور ہمارے اساسی عقیدے سے ہے۔{ FR 2545 } اگر ہندستان کے علما اور عامۂ مسلمین اس حقیقت سے ذُہول برت رہے ہیں‘ اور وقتی مصلحتیں ان کے لیے متقضیاتِ ایمانی سے اہم تر بن گئی ہیں‘ تو اس کی جواب دہی وہ خود اپنے خدا کے سامنے کریں گے‘ لیکن ہم کسی فائدے کے لالچ اور کسی نقصان کے اندیشے سے اس اصولی مسئلے میں‘ موجودہ نظام کے ساتھ کسی قسم کی مصالحت نہیں کر سکتے۔ آپ خود ہی سوچ لیجیے کہ توحید کا یہ عقیدہ رکھتے ہوئے آخر ہم کس طرح انتخابات میں حصّہ لے سکتے ہیں؟ کیا ہمارے لیے یہ جائز ہوسکتا ہے‘ کہ ایک طرف تو ہم کتاب اﷲ کی سند سے آزاد ہوکر قانون سازی کرنے کو شرک قراردیں۔ اور دوسری طرف خود اپنے ووٹوں سے ان لوگوں کو منتخب کرنے کی کوشش کریں‘ جو خدا کے آئینی اختیارات غصب کرنے کے لیے اسمبلی میں جانا چاہتے ہیں؟ اگر ہم اپنے عقیدے میں صادق ہیں‘ تو ہمارے لیے اس معاملہ میں صرف ایک ہی راستہ ہے‘ اور وہ یہ ہے‘ کہ ہم اپنا سارا زور اس اصول کے منوانے پر صرف کر دیں کہ حاکمیت صرف خدا کی ہے‘ اور قانون سازی کتاب الٰہی کی سند پر مبنی ہونی چاہئے۔ جب تک یہ اصول نہ مان لیا جائے ہم کسی انتخاب اور کسی رائے دہی کو حلال نہیں سمجھتے۔
(ترجمان القرآن۔ستمبر واکتوبر۴۵ء)
خ خ خ

نظام کفر کی قانون ساز مجلس میں مسلمانوں کی شرکت کا مسئلہ

سوال:۔آپ کی کتاب ’’اسلام کا نظریۂ سیاسی‘‘ پڑھنے کے بعد یہ حقیقت تو دل نشین ہوگئی ہے‘ کہ قانون سازی کا حق صرف خدا ہی کے لیے مختص ہے‘ اور اس حقیقت کے مخالف اصولوں پر بنی ہوئی قانون ساز اسمبلیوں کا ممبر بننا عین شریعت کے خلاف ہے۔ مگر ایک شبہ باقی رہ جاتا ہے‘ کہ اگر تمام مسلمان اسمبلیوں کی شرکت کو حرام تسلیم کر لیں تو پھر سیاسی حیثیت سے مسلمان تباہ ہوجائیں گے۔ ظاہر ہے‘ کہ سیاسی قوّت ہی سے قوموں کی فلاح وبہبود کا کام کیا جا سکتا ہے‘ اور ہم نے اگر سیاسی قوّت کو بالکلیہ غیروں کے حوالے ہوجانے دیا تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ اغیار مسلم دشمنی کی وجہ سے ایسے قوانین نافذ کریں گے‘ اور ایسا نظام مرتّب کریں گے جس کے نیچے مسلمان دب کر رہ جائیں گے‘ پھر آپ اس سیاسی تباہی سے بچنے کی کیا صورت مسلمانوں کے لیے تجویز کرتے ہیں؟‘‘
جواب:۔ آپ نے اپنے سوال میں سوچنے کا انداز غلط اختیار کیاہے۔ یہ بات تو آپ کی سمجھ میں آگئی ہے‘ کہ وہ نظام جس میں انسان خود اپنا قانون ساز بنتا ہے‘ یا دوسرے انسانوں کو قانون سازی کا حق دیتا ہے‘ سرے سے غلط ہے۔نیز یہ بات بھی آپ سمجھ چکے ہیں‘ کہ امرِ حق یہی ہے‘ کہ حکم صرف اﷲ کے لیے ہے‘ اور انسان کا کام اس کے حکم کااتباع کرنا ہے نہ کہ خود واضع حکم بن جانا۔ اب آپ کو یہ سوچنا چاہئے کہ مسلمان جن کے مفاد کی آپ فکر کر رہے ہیں وہ کس غرض کے لیے ’’مسلم‘‘ نامی ایک جماعت بنائے گئے تھے؟ آیا اس غرض کے لیے کہ وہ اس امر حق کو جو قرآن سے ثابت ہے دنیا کے سامنے پیش کریں‘ اس کو تسلیم کرائیں‘ خود اپنی زندگی کو اس پر قائم کریں‘ اور دنیا میں اس کو جاری کرنے کے لیے اپنی پوری قوّت صرف کر دیں؟یا اس غرض کے لیے کہ اس کے بالکل بر خلاف جو باطل بھی دنیا میں قائم ہوجائے (اور خود ان کی اپنی غفلتوں کی بدولت قائم ہو) اس کی موافقت کریں‘ اور اس کو اپنا لیں‘ اور اس کو مٹانے کی سعی سے اس لیے گریز کرتے رہیں کہ کہیں ان کے مفاد کو نقصان نہ پہنچ جائے؟اگر پہلی بات ہے‘ تو مسلمان آج جو کچھ کر رہے ہیں‘ غلط کر رہے ہیں‘ اور ان کا مفاد اگر اسی غلطی سے وابستہ ہے‘ تو وہ ہر گز اس قابل نہیں ہے‘ کہ اس کی پروا کی جائے‘ اور ایسی صورت حال میں ایک سچے مسلمان کو اپنی قوم کے ساتھ لگ کر جہنم کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے امر حق کو قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے‘ خواہ اس کی قوم اس کا ساتھ دے یا نہ دے۔ اور اگر آپ دوسری بات کے قائل ہیں‘ تو پھر مجھے کچھ کہنے کی ضروت نہیں ہے‘ حق کو حق جاننے کے باوجود خلافِ حق طریقہ پر اگر محض قومی مفاد کی خاطر آپ جانا چاہیں‘ تو جا سکتے ہیں۔
یہ اندیشہ اکثر پیش کیا جاتا ہے‘ کہ اگر ہم اسمبلیوں سے پرہیز کریں‘ تو ان پر غیر مسلم قابض ہوکر نظامِ حکومت کے تنہا مالک ومتصرّف بن جائیں گے‘ اور اگر نظام باطل کے کل پرزے ہم نہ بنیں تو دوسرے بن جائیں گے‘ اور اس طرح زندگی کے سارے کاروبار پر قابض ہوکر وہ ہماری ہستی ہی کو ختم کر دیں گے‘ حتیٰ کہ اسلام کا نام لینے والے باقی ہی نہ رہیں گے کہ تم ان سے خطاب کر سکو۔ لیکن واقعہ یہ ہے‘ کہ یہ اندیشے جتنے ہولناک ہیں اس سے زیادہ خام خیالی کے نمونے ہیں۔ اگر ہم نے یہ کہا ہوتاکہ صرف ایک منفی پالیسی اختیار کر کے مسلمان زندگی کا سارا کاروبار چھوڑ دیں اور گوشوں میں جا بیٹھیں تو یہ اندیشے ضرور کسی حقیقت پر مبنی ہوتے۔ لیکن ہم اس نفی کے ساتھ ساتھ ایک اثبات بھی تو پیش کرتے ہیں‘ اور وہ یہ ہے‘ کہ مسلمان اس نظام کے ساتھ ساز گاری کرنے کے بجائے دنیا میں نظام حق قائم کرنے کے لیے منظم سعی شروع کریں‘ اور دوسری قوموں کے ساتھ اپنے دنیوی مفاد کے لیے کشمکش اور مزاحمت کرنے کے بجائے‘ ان کے سامنے وہ دینِ حق پیش کریں‘ جس کی پیروی میں تمام انسانوں کی فلاح ہے‘ اور قرآن کے ذریعہ سے‘ سیرت رسول a کے ذریعہ سے اور اخلاق اسلامی کے ذریعے سے دنیا میں فکری‘ اخلاقی‘ معاشی‘ اور تمدّنی اور سیاسی انقلاب برپا کرنے کی کوشش کریں۔
ہماری اس دعوت کے جواب میں دو صورتیں پیش آسکتی ہیں:۔
ایک یہ کہ تمام ہندستان کے مسلمان جن کی تعداد دس کروڑ ہے‘ اور جن کے پاس مادی وسائل اور ذہنی اور دماغی قوّتوں اور ہاتھ پائوں کی طاقتوں کی کمی نہیں ہے‘ بیک وقت ہماری اس دعوت کو قبول کرلیںاور ذہنی‘ اخلاقی اور عملی تمام حیثیتوں سے اسلام کے سچے داعی بن جائیں‘ اگر ایسا ہوجائے‘ تو آپ تو یہ اندیشہ کر رہے ہیں‘ کہ سب کچھ آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا ‘اور میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ ہندستان ہی نہیں دنیا کا ایک بڑا حصّہ آپ کے ہاتھ آجائے گا‘ ہندوستان میں اقلیت اور اکثریت کا جھگڑا دیکھتے دیکھتے ختم ہوجائے گا‘ ہندستان میں خالص اسلامی حکومت کو قائم ہونے سے کوئی طاقت نہ روک سکے گی‘ بہت قلیل مدّت کے اندر مسلمان ممالک کی بھی کایا پلٹ جائے گی‘ اور خود وہ قومیں تک جو آج ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہیں‘ مسخر ہونے سے محفوظ نہ رہ سکیں گی۔
دوسری صورت یہ پیش آسکتی ہے‘ اور یہی اس وقت متوقع بھی ہے‘ کہ مسلمانوں میں سے بتدریج تھوڑی تھوڑی تعداد میں پاک نفس اور اعلیٰ درجہ کے ذہن رکھنے والے لوگ ہماری اس دعوت کو قبول کرتے جائیں گے‘ اور جب تک صالحین کا یہ گروہ منظم ہوکر ایک طاقت بنے‘ عام مسلمان اپنے لیڈروں کی پیروی میں وہی کچھ کرتے رہیں گے‘ جو ایک مدّت سے کرتے آرہے ہیں‘ اور آج کر رہے ہیں۔ اس صورت میں ظاہر ہے‘ کہ وہ خطرہ پیش نہیں آسکتا‘ جس کا آپ اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں‘ کیونکہ غلط کار مسلمانوں کی عظیم الشان اکثریت وہ سارے کام کرنے کے لیے موجود رہے گی جن کے نہ کرنے سے آپ سمجھتے ہیں‘ کہ مسلمانوں کا قومی مفاد خاک میں مل جائے گا۔ البتہ اگر یہ سارے کام ہوتے رہیں اور صرف وہی ایک کام نہ ہو‘ جس کی طرف ہم بلا رہے ہیں‘ اور اگر ہم بھی امر حق اور اس کے تقاضوں سے آنکھیں بند کر کے‘ محض قوم اور اس کے مفاد کی فکر میں ان باطل کاریوں کی طرف دوڑ جائیں‘ جو آج اسلام اور مسلم مفاد کے نام سے ہورہی ہیں‘ تو یقین رکھیے کہ اسلام کا جھنڈا تو خیر کیا بلند ہوگا‘ مسلمان قوم اس ذلت وخواری اور اس پستی کے گڑھے سے بھی نہ نکل سکے گی‘ جس میں وہ یہودیوں کی طرح صرف اس لیے مبتلا ہوئی ہے‘ کہ خدا کی کتاب رکھتے ہوئے اس نے اس کتاب کا منشا پورا کرنے سے منہ موڑا۔
(ترجمان القرآن۔محرم ۶۵ھ۔دسمبر۱۹۴۵ء)

مجالس قانون ساز کی رکنیت شرعی نقطۂ نظر سے

سوال:کیا مسلمان کو بحیثیت مسلمان ہونے کے اسمبلی کی ممبری جائز ہے ‘ یا نہیں؟ اگر نہیں‘ تو کیوں؟ یہاں مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے نمائندے اسمبلی کی رکنیت کے لیے کھڑے ہورہے ہیں‘ اور ان کی طرف سے ووٹ حاصل کرنے کے لیے مجھ پر دبائو پڑ رہا ہے‘ حتیٰ کہ علماء تک کا مطالبہ یہی ہے۔ اگر چہ مجملاً جانتا ہوں کہ انسانی حاکمیت کے نظریئے پر قائم ہونے والی اسمبلی اور اس کی رکنیت دونوں شریعت کی نگاہ میں ناجائز ہیں‘ مگر تاوقتیکہ معقول وجوہ پیش نہ کر سکوں‘ ووٹ کے مطالبہ سے چھٹکارا پانا دشوار ہے۔
جواب: اسمبلی کے متعلق یہ سمجھ لیجیے کہ موجودہ زمانہ میں جتنے جمہوری نظام بنے ہیں(جن کی ایک شاخ ہندستان کی موجودہ اسمبلیاں بھی ہیں) وہ اس مفروضے پر مبنی ہیں‘ کہ باشندگانِ ملک اپنے معاملات کے متعلق خود تمدّن‘ سیاست‘ معیشت‘ اخلاق اور معاشرت کے اصول وضع کرنے اور ان کے مطابق تفصیلی قوانین وضوابط بنانے کا حق رکھتے ہیں‘ اور اس قانون سازی کے لیے رائے عام سے بالا تر کسی سند کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ نظریہ اسلام کے نظریہ سے بالکل برعکس ہے۔ اسلام میں توحید کے عقیدے کا لازمی جُزو یہ ہے‘ کہ لوگوں کا اور تمام دنیا کا مالک اور فرماں روا اﷲ تعالٰے ہے‘ ہدایت اور حکم دنیا اس کا کام ہے‘ اور لوگوں کا کام یہ ہے‘ کہ اس کی ہدایت اور اس کے حکم سے اپنے لیے قانونِ زندگی اخذ کریں‘ نیز اگر اپنی آزادی رائے استعمال کریں بھی تو ان حدود کے اندر کریں جن حدود میں خود اﷲ تعا لیٰ نے ان کو آزادی دی ہے‘ اس نظرئیے کی رُو سے قانون کا ماخذ اور تمام معاملات زندگی میں مرجع اﷲ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنّت قرار پاتی ہے‘ اور اس نظریہ سے ہٹ کر اوّل الذکر جمہوری نظرئیے کو قبول کرنا‘ گویا عقیدہ توحید سے منحرف ہوجانا ہے۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں‘ کہ جو اسمبلیاں یا پارلیمنٹیں موجودہ زمانہ کے جمہوری اصول پر بنی ہیں‘ ان کی رکنیت حرام ہے‘ کیونکہ ووٹ دینے کے معنی ہی یہ ہیں‘ کہ ہم اپنی رائے سے کسی ایسے شخص کو منتخب کرتے ہیں‘ جس کا کام موجودہ دستور کے تحت وہ قانون سازی کرنا ہے‘ جو عقیدہ توحید کے سراسر منافی ہے۔ اگر علمائے کرام میں سے کوئی صاحب اس چیز کو حلال اور جائز سمجھتے ہیں‘ تو ان سے اس کی دلیل دریافت کیجیے۔{ FR 2546 }
اس قسم کے معاملات میں یہ کوئی دلیل نہیں ہے‘ کہ چونکہ یہ نظام مسلّط ہوچکا ہے‘ اور زندگی کے سارے معاملات اس سے متعلق ہیں اس لیے اگر ہم انتخابات میں حصّہ نہ لیں‘ اور نظامِ حکومت میں شریک ہونے کی کوشش نہ کریں‘ تو ہمیں فلاں اور فلاں نقصانات پہنچ جائیں گے‘ ایسے دلائل سے کسی ایسی چیز کو جو اصولاً حرام ہو‘ حلال ثابت نہیں کیا جا سکتا ورنہ شریعت کی کوئی حرام چیز ایسی نہ رہ جائے گی‘ جس کو مصلحتوں اور ضرورتوں کی بنا پر حلال نہ ٹھیرا لیا جائے۔۔ اضطرار کی بنا پر حرام چیزیں استعمال کرنے کی اجازت شریعت میں پائی تو جاتی ہے‘ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں‘ کہ آپ خود اپنی غفلتوں سے اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کر کے اضطرار کی حالتیں پیدا کریں‘ پھر اس اضطرار کو دلیل بنا کر تمام محرمات کو اپنے لیے حلال کرتے جائیں‘ اور اضطرار کی حالت کو ختم کرنے کے لیے کوئی کوشش نہ کریں۔ جو نظام اس وقت مسلمانوں پر مسلّط ہوا ہے‘ جس کے تسلّط کو وہ اپنے لیے دلیل اضطرار بنا رہے ہیں وہ آخر ان کی اپنی ہی غفلتوں کا تو نتیجہ ہے۔ پھر اب بجائے اس کے کہ اپنا سرمایہ قوّت وعمل اس نظام کے بدلنے اور خالص اسلامی نظام قائم کرنے کی سعی میں صرف کریں وہ اس اضطرار کو حجت بنا کر اسی نظام کے اندر حصّہ دار بننے اور پھلنے پھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
(ترجمان القرآن۔محرم ۶۵ھ۔ دسمبر ۱۹۴۵ء)
خ خ خ

پُر امن اِنقلاب کا راستہ

سوال:۔ ’’ذیل میں دو شبہات پیش کرتا ہوں۔براہ کرم صحیح نظریات کی توضیح فرما کر انہیں صاف کر دیجیے۔
(1)ترجمان القرآن کے گزشتہ سے پیوستہ پرچے میں ایک سائل کا سوال شائع ہوا ہے‘ کہ ’’نبی a کو کسی منظم اسٹیٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا‘ مگر حضرت یوسف علیہ السّلام کے سامنے ایک منظم اسٹیٹ تھا‘ اور انہوں نے جب ریاست کو اقتدار کلی منتقل کرنے پر آمادہ پایا تو اسے بڑھ کر قبول کر لیا اور یہ طریق کار اختیار نہیں کیا کہ پہلے مومنین صالحین کی ایک جماعت تیار کریں۔کیا آج بھی جب کہ اسٹیٹ اس دور سے کئی گنا زیادہ ہمہ گیر ہوچکا ہے‘ اس قسم کا طریق کار اختیار کیا جا سکتا ہے؟‘‘اس سوال کے جواب میں آپ نے جو کچھ لکھا ہے اس سے مجھے پورا پورا اطمینان نہیں ہوا۔ مجھے یہ دریافت کرنا ہے‘ کہ ہم کو حضرت یوسف علیہ السّلام کا اتباع کرنا ہی کیوں چاہئے؟ ہمارے لیے تو صرف نبیa کا اسوہ واجب الاتباع ہے۔ نبیa نے اہلِ مکہ کی بادشاہت کی پیش کش کو ردّ کر کے اپنے ہی خطوط پر جدا گانہ ریاست کی تعمیر وتشکیل کا کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا‘ اور ہمارے لیے بھی طریق کا ر اب یہی ہے! واضح فرمائیے کہ میری رائے کس حد تک صحیح یا غلط ہے؟
(2)آپ نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے‘ کہ کسی مرحلہ پر اگر ایسے آثار پیدا ہوجائیں کہ موجود الوقت دستوری طریقوں سے نظام باطل کو اپنے اصول پر ڈھالا جا سکے‘ تو ہمیں اس موقع سے فائدہ اُٹھانے میں تامل نہ ہوگا۔ اس جملہ سے لوگوں میں یہ خیال پیدا ہورہا ہے‘ کہ جماعت ِاسلامی بھی ایک حد تک اسمبلیوں میں آنے کے لیے تیار ہے‘ اور الیکشن کو جائز سمجھتی ہے۔ اس معاملہ میں جماعتی مسلک کی توضیح فرمائیے۔‘‘
جواب:۔ ہمارے لیے سارے ابنیاء علیہم السّلام واجب ُالاتباع ہیں۔ خود نبیa کو بھی یہی ہدایت تھی کہ اسی طریق پر چلیں‘ جو تمام ابنیاء کا طریق تھا۔ جب قرآن کے ذریعہ سے ہمیں معلوم ہوجائے کہ کسی معاملہ میں کسی نبی نے کوئی خاص طرزِعمل اختیار کیا تھا‘ اور قرآن نے اس کو منسوخ بھی نہ قرار دیا ہو‘ تو وہ ویسا ہی دینی طریق کار ہے‘ جیسا وہ جو نبی کریمa سے مسنون ہو۔
نبی کریم a کو جو بادشاہی پیش کی گئی تھی‘ وہ اس شرط کے ساتھ مشروط تھی کہ آپؐ اس دین کو اور اس کی تبلیغ کو چھوڑ دیں تو ہم سب مل کر آپ کو اپنا بادشاہ بنا لیں گے۔یہ بات اگر یوسف علیہ السّلام کے سامنے بھی پیش کی جاتی تو وہ بھی اسی طرح اس پر لعنت بھیجتے جس طرح نبی کریمa نے اس پر لعنت بھیجی۔اور ہم بھی اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ لیکن حضرت یوسفؑ کو جو اختیارات پیش کیے گئے تھے وہ غیر مشروط اور غیر محدود تھے‘ اور ان کے قبول کر لینے سے حضرت یوسف علیہ السلام کو یہ اقتدار حاصل ہورہا تھا‘ کہ ملک کے نظام کو اس ڈھنگ پر چلائیں‘ جو دینِ حق کے مطابق ہو۔ یہ چیز اگر نبی کریمa کے سامنے پیش کی جاتی تو آپ بھی اسے قبول کر لیتے اور خواہ مخواہ لڑ کر ہی وہ چیز حاصل کرنے پر اصرار نہ فرماتے‘ جو بغیر لڑے پیش کی جا رہی ہو۔ اسی طرح اگر کبھی ہم کو یہ توقع ہوکہ ہم رائے عام کی تائید سے نظامِ حکومت پر اس طرح قابض ہوسکیں گے کہ اس کو خالص اسلامی دستور پر چلا سکیں تو ہمیں بھی اس کے قبول کر لینے میں کوئی تامل نہ ہوگا۔
الیکشن لڑنا اور اسمبلی میں جانا اگر اس غرض کے لیے ہوکہ ایک غیراسلامی دستور کے تحت ایک لادینی (secular)جمہوری (democratic)ریاست کے نظام کو چلایا جائے‘ تو یہ ہمارے عقیدہ توحید اور ہمارے دین کے خلاف ہے۔ لیکن اگر کسی وقت ہم ملک کی رائے عام کو اس حد تک اپنے عقیدہ ومسلک سے متفق پائیں کہ ہمیں یہ توقع ہوکہ عظیم الشان اکثریت کی تائید سے‘ ہم ملک کا دستورِ حکومت تبدیل کر سکیں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس طریقہ سے کام نہ لیں۔ جو چیز لڑے بغیر سیدھے طریقہ سے حاصل ہوسکتی ہواس کو خواہ مخواہ ٹیڑھی انگلیوں ہی سے نکالنے کا ہم کو شریعت نے حکم نہیں دیا ہے۔ مگریہ اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ ہم یہ طریق کار صرف اس صورت میں اختیار کریں گے جب کہ:۔
اولاً: ملک میں ایسے حالات پیدا ہوچکے ہوں کہ محض رائے عام کا کسی نظام کے لیے ہموار ہوجانا ہی عملاً اس نظام کے قائم ہونے کے لیے کافی ہوسکتا ہو۔
ثانیاً:ہم اپنی دعوت و تبلیغ سے باشندگان ملک کی بہت بڑی اکثریت کو اپنا ہم خیال بنا چکے ہوں۔ اور غیر اسلامی نظام کے بجائے اسلامی نظام قائم کرنے کے لئے ملک میں عام تقاضا پیدا ہوچکا ہو۔
ثالثاً: انتخابات غیراسلامی دستور کے تحت اس کو چلانے کے لیے نہ ہوں‘ بلکہ بنائے انتخاب ہی یہ مسئلہ ہوکہ ملک کا آئندہ نظام کس دستور پر قائم کیا جائے۔
(ترجمان القرآن۔محرم۶۵ھ-دسمبر۴۵ء)

خ خ خ

۱۹۴۶ء کے انتخابات اور جماعت ِاسلامی

(۱۹۴۶ء کے انتخابات کے موقع پر مسلم لیگ کے ایک پر جوش حامی نے جماعت ِاسلامی کے مسلک پر تنقید کرتے ہوئے ایک مضمون لکھا تھا۔ ذیل میں ہم وہ مضمون اور اس کا جواب جوں کا توں نقل کر رہے ہیں)
کچھ دنوں سے اخبارات میں مولانا مودودی صاحب کے اس مضمون کا تذکرہ ہورہا ہے‘ جو ایک سوال کے جواب میں سہ روزہ ’’کوثر‘‘ مورخہ ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۴۵ء کے صفحہ ۳ پر شائع ہوا ہے۔ مولانا نے انتخابات کی شرکت اور رائے دہی کو حرام قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ:
ووٹ اور الیکشن کے معاملہ میں ہماری پوزیشن کو صاف صاف ذہن نشین کر لیجیے۔ پیش آمدہ انتخابات یا آئندہ آنے والے انتخابات کی اہمیت جو کچھ بھی ہو‘ اور ان کا جیسا کچھ بھی اثر ہماری قوم یا ملک پر پڑتا ہو‘ بہرحال ایک بااصول جماعت ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے یہ ناممکن ہے‘ کہ کسی وقتی مصلحت کی بنا پر‘ ہم ان اصولوں کی قربانی گوارا کر لیں جن پر ہم ایمان لائے ہیں۔ موجودہ نظام کے خلاف ہماری لڑائی ہی اس بنیاد پر ہے‘ کہ یہ نظام حاکمیت ِجمہور پر قائم ہوا ہے‘ اور جمہور جس پارلیمنٹ یا اسمبلی کو منتخب کریں‘ یہ اس کو قانون بنانے کا غیر مشروط حق دیتا ہے‘ جس کے لیے کوئی بالاتر سند اس کو تسلیم نہیں ہے۔ بخلاف اس کے ہمارے عقیدئہ توحید کا بنیادی تقاضا یہ ہے‘ کہ حاکمیت‘ جمہور کی نہیں‘ بلکہ خدا کی ہو‘ اور آخری سند خدا کی کتاب کو مانا جائے‘ اور قانون سازی جو کچھ بھی ہو‘ کتاب الٰہی کے ما تحت ہونہ کہ اس سے بے نیاز۔
دور حاضر کے علما حضرات‘ کانگریسی ہوں‘ یا احراری‘ بریلوی ہوں‘ یا دیو بندی‘ مختلف سیاسی نظریات رکھنے کے باوجود اسمبلیوں کے اشتراک وانسلاک میں متفق العمل ہیں۔ صاف انکار اور بائیکاٹ کی آواز پٹھان کوٹ کے سوا کہیں سے نہیں اُٹھی اور وہ بھی اب تک محض ایک انکار ہے۔ ایک مسئلہ کی حیثیت سے یہ معاملہ تشنہ بحث ہے۔ سطور ذیل میں اجمالی طور پر اپنے تاثرات پیش کرتا ہوں ممکن ہے اہلِ علم اصحاب کی توجہ سے اس کے جزئیات دلیل وبرہان کے ساتھ مزید روشنی میں آجائیں۔
اگر ممبران اسمبلی کو قانون سازی کا غیر مشروط حق حاصل ہے‘ تو اس حق کا غیر مشروط ہونا ہی اس امر کی کافی ضمانت ہے‘ کہ یہ لوگ صحیح قانون مرتّب کرنے میں آزاد ہیں۔ یعنی ان کو یہ اختیار حاصل ہوگا‘ کہ ایسا قانون مرتّب کریں جس میں ’’آخری سند خدا کی کتاب کو مانا جائے‘ اور قانون سازی جو کچھ بھی ہو‘ کتاب الٰہی کے ماتحت ہو‘ نہ کہ اس سے بے نیاز۔‘‘کیونکہ آخر زمین کے منہ پر خدا کے بندوں ہی کو خدائی قانون کی ذمّہ داریوں کو انجام دینا ہے۔ اگر حکم واختیار نیک بندوں کے ہاتھ میں آئیگا‘ تو یقینا خدا کی زمین پر نیکی کی اشاعت ہوگی‘ اور برائی مٹتی جائے گی۔
اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ۝۰ۭ الحج 41:22
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے۔
لہٰذا اس مقصد اعلیٰ کے حاصل کرنے کے لیے ایجابی پہلو تو یہ ہوا کہ ایسے لوگوں کے منتخب ہونے کی کوشش کی جائے‘ جن پر رضائے الٰہی کے ماتحت کام کرنے کا گمان غالب ہو‘ اور سلبی پہلو یہ رہا کہ ایسے لوگوں کے اختیار واقتدار میں شدید مزاحمت کی جائے‘ جن کی نسبت اس کے برعکس چلنے کا خیال ہو۔ علیحدگی‘ بائیکاٹ اور تعطل کا جواز کسی صورت میں پیدا نہیں ہوسکتا۔ اگر نیک لوگوں کے بر سر اقتدار آنے میں تعاون نہ کیا جائے‘ تو تعاون علی البر کے خلاف ہے‘ اور اگر خالی چھوڑ کر بروں کو موقع دے دیا جائے‘ تو سکوت عنِ الحق کا جرم ثابت۔
ہاں اگر موجودہ جماعتوں میں کوئی جماعت تعاون کی مستحق اور اہل نہیں‘ تو جماعت ِاسلامی کو میدان میں آنا چاہئے‘ تاکہ یہ لوگ’’اپنا سارا زور اس اصول کے منوانے میں صرف کر دیں کہ حاکمیت صرف خدا کی ہوا اور قانون سازی کتاب الٰہی کی سند پر مبنی ہو۔‘‘ تا ہم اس سارے زور کے لیے بائیکاٹ اور تجَّنب کا میدان تلاش کرنا یقینا وضاحت طلب ہے۔
اگر ہر معاملہ کو وقتی قرار دے کر مسلمانوں کو اس سے علیحدہ رہنے کی تلقین کر دی جائے‘ تو ایک ایسی دنیا مسلمانوں کے آباد ہونے کے لیے تلاش کرنی پڑے گی ‘جو اس لیل ونہار اور وقت وزمان کی قیود سے ماورا ہو۔ نیز یہ بھی خیال کرنا پڑے گا کہ کیا اسلامی نظام کی ہمہ گیری اس سے قاصر ہے‘ کہ وقتی مسائل کو اپنے ابدی وازلی قوانین کے ماتحت حل کر سکے۔ علیحدگی کسی صورت میں بھی اس مسئلہ کا حل نہیں کہلا سکتی۔ یا اس نظام کے ساتھ منع ومزاحمت کا معاملہ ہو‘ یا قبول واذعان کا تعلق‘ اگر پوری مزاحمت ناممکن بھی ہو‘ تو بھی مسلمان حتی الامکان کام کرنے کے لیے مجبور ہے۔
اس سلسلہ میں اکثر اضطرار واختیار کی بحث پیش آتی ہے۔ سواس کی نسبت عرض ہے‘ کہ محترم مولانا مودودی صاحب نے اپنی اکثر تحریروں میں اظہار افسوس کرتے ہوئے بالوضاحت لکھا ہے‘ کہ بدقسمتی سے اس وقت ہندستان میں ایسی کوئی جگہ نہیں‘ جہاں اسلامی قانون بغیر کسی منع ومزاحمت کے نافذ ہو۔ واقعی موجودہ حکومت کے ما تحت رہتے ہوئے‘ اور اس قانون وتمدّن میں زندگی بسر کرتے ہوئے یہ ہے بھی ناممکن کہ ہم اپنی تمام قوّتوں اور مال واملاک کو نظام باطل کا آلہ کار بننے سے محفوظ رکھ سکیں۔ اور ہندستان کے وسیع وعریض بر اعظم میں زمین کا ایک انچ بھر ٹکرا ایسا تلاش کر سکیں جو اس نظام کے اثر سے مائوف نہ ہو۔ تا ہم گورد اسپور کے ضلع میں قصبہ پٹھانکوٹ کے قریب زمین کے ایک ٹکڑے کو دارالاسلام بنایا جاتا ہے‘ اور اس شیطانی نظام کی تمام خرابیوں کے باوجود اس کے اندر وہ دارالاسلام ہے۔ اور یہ اسی مجبوری کا نتیجہ ہے‘ کہ جو چیز مکمل حاصل نہ کی جا سکے اس میں سے جس قدر حاصل ہوسکے کر لی جائے۔
پھر مولانا نے دارالاسلام کے نظام کی توضیح فرماتے ہوئے اس سے رہبانیت اور قدامت پرستی کے شائبہ کو بھی رفع فرمایا ہے۔ لکھا ہے‘ کہ دارالاسلام کے قیام کا مقصد اکثر غلط فہم دین داروں کی طرح یہ نہیں کہ تمدّن وحضارت کی جو حالت صحابہ کرام کے زمانہ میں تھی بالکل وہی پیدا کی جائے‘ اور ایک مُتَحَجِّر صورت میں قائم رکھی جائے بلکہ آپ آیۂ
وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْـتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّاللہِ وَعَدُوَّكُمْ الانفال 60:8
اور تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کےمقابلے کے لیےمہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعدا کو خوف زدہ کردو۔
سے استد لال کر کے قوانین طبیعی کی ہر نئی قوّت وایجاد کو شرعی قانون کے ما تحت استعمال کرنا ہی عین اسلام قرار دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر فرمایا ہے‘ کہ:
ریڈیو بجائے خود ناپاک نہیں‘ ناپاک وہ تہذیب ہے جو ریڈیو کے ڈائریکٹر کو داروغہ ارباب نشاط یا ناشرکذب وافترا بناتی ہے۔ (رسالہ ’’دارالاسلام‘‘صفحہ ۲۰)
اور فرمایا:
یہ طاقتیں تو تلوار کی طرح ہیں‘ کہ جو اُس سے کام لے گا وہی کامیاب ہوگا‘ خواہ وہ ناپاک مقصد کے لیے کام لے یا پاک مقصد کے لیے۔ پاک مقصد والا اگر اپنے مقصد کی پاکی کو لیے بیٹھا رہے‘ اور تلوار استعمال نہ کرے تو یہ اس کا قصور ہے‘ اور اس قصور کی سزا اسے بھگتنی پڑے گی‘ کیونکہ اس عالمِ اسباب میں خدا کی جو سنّت ہے اسے کسی کی خاطر نہیں بدلا جا سکتا۔ (رسالہ مذکور صفحہ ۲۰)
اب گزارش ہے‘ کہ اسمبلی کی غیر مشروط قانون ساز قوّت یا حکومت کے اختیار کی تلوار کا قبضہ اگر آپ جیسے صحیح الخیال اصحاب کے ہاتھ میں آنے کا موقع مل سکتا ہے‘ تو اسے مسترد کر دینے اور اس سے امکانی فوائد حاصل کرنے سے باز رہنے کے لیے وجہ جواز کیا ہے؟ مزاحمت ِباطل اور اعلائے حق کے مصائب سے عمداً کنارہ کش ہوکر گوشۂ عافیت اختیار کرنے کی یہ ایک دانشمندانہ کوشش تو نہیں۔
اگر پاک جماعت اپنے پاک مقاصد کو لیے بیٹھی رہے‘ اور ناپاک مقاصد رکھنے والے لوگوں کے لیے عمداً جگہ چھوڑ دے اور نظام باطل کی گاڑی کے سامنے مزاحمت پیدا کرنے کے بجائے اس کے پہیّے سے اپنے آپ کو بے حس وحرکت باندھ دینا ہی دین داری اور خدمتِ اسلام یقین کرلے تو کیا اس عالمِ اسباب میں خدا کی سنّت کے مطابق اس قصور کی سزا بھگتنی نہیں پڑے گی؟
یا تو نظام باطل سے کامل بے تعلقی عملاً حاصل ہوجائے‘ اور مسلمان ایک خالص اسلامی ماحول پیدا کر لے‘ لیکن اگر یہ صورت ناممکن ہوجیسا کہ ظاہر ہے‘ تو پھر یہ کون سا مسلک ہے‘ کہ وہ تعاون تو اضطرار اًجائز رکھا جائے جس سے یہ نظام کما حقہ متمتع ہوکر دن بدن مضبوط سے مضبوط تر ہورہا ہے‘ اور ان صورتوں سے اختیاراً دست کشی کر لی جائے جہاں کسی قدر اسلامی مفاد بھی حاصل کرنا مقصود ہو۔ اگر اسم اور مسمی میں کسی وجہ تسمیہ کا ہونا لازم ہے‘ تو ایسی روش کو مسلک(چلنے کی راہ) کے بجائے بقولِ ’’کوثر‘‘ موقف(ٹھہرنے کی جگہ) کہنا زیادہ موزوں ہوگا۔
’’کوثر‘‘کے اسی نمبر کے افتتاحیہ میں مولانا نصر اﷲ خان عزیز نے بھی اسی مسئلہ پر بحث فرمائی ہے‘ جس کے مطالعہ سے اس سلسلہ میں اور بھی اُلجھن پیدا ہوجاتی ہے‘ اور جمود وتعطل کا شائبہ یقین کی حد کو پہنچ جاتا ہے۔ آپ جہاد کے لیے دو شرطیں مقرر فرماتے ہیں۔ لکھا ہے:
اس کے لیے دو شرطیں ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بااختیار امیر کی قیادت میں ہو۔ کسی دوسرے نظامِ قاہر ومسلّط کے اندر رہتے ہوئے جہاں کسی بااختیار امیر کا وجود ناممکن ہے قتال کرنا بدامنی اور فساد ہے‘ جو جائز نہیں۔
یہ حکم مزید تو ضیح کا محتاج نہیں۔ بااختیار امیر کی قیادت کے بغیر جہاد فساد ہے‘ اور امیر کا وجود کسی دوسرے قاہر ومسلّط نظام کی موجودگی میں ناممکن ہے۔{ FR 2547 }
اس شرط کی صحت تسلیم کر لینے کے بعد نظام حقہ قائم ہونے کی صرف یہی صورت باقی رہ جاتی ہے‘ کہ قاہرو مسلّط نظام کے ارکان خود بخود مہربانی کر کے مسلمانوں پر سے اپنا قہر وتسلّط اُٹھا لیں‘ اور انہیں کامل آزاد ماحول میں چھوڑ کر ٹھنڈے ٹھنڈے کہیں سدھار جائیں‘ تاکہ مسلمانوں کو ایک بااختیار قیادت قائم کرنے کا شرعی حق حاصل ہوجائے۔ یہ علیحدہ بات ہے‘ کہ پھر جہاد کی ضرورت رہے یا نہ رہے۔ بہرحال جہاد حلال ہونے کی شرط یہی ہے۔
اگر یہ شرعی فتویٰ کسی غیر متقی کو مشتبہ نظر آئے‘ تو پھر سوا اس کے چارہ کا ر نظر نہیں آتاکہ جس طرح نظام باطل کے منع ومزاحمت کے باوجود ایک غیراسلامی ماحول میں دارالاسلام قائم کرنے کی کوشش مناسب وموزوں بلکہ ضروری نظر آتی ہے‘ اور اس نظام کے پیدا کردہ تمام آلات وقوی سے کام لینا‘ عین اسلام اور کام نہ لینا ہلاکت قرار دیا جاتا ہے‘ وہاں اسمبلیوں سے اپنا حصّہ حاصل کرنا اور اس کو صحیح طور پر استعمال کرنا ہی تقاضائے عقل وانصاف ہے۔
مسلم لیگ کی پیداکردہ موجودہ فضا اس مقام پر پہنچ چکی ہے‘ کہ اگر دیہات کے ناخواندہ زمینداروں کے سامنے جو آج تک ذات پات کی عصبیت میں اعراب عرب سے کسی حالت میں کم نہیں تھے‘ ایک طرف کوئی غیر متشرع نواب ہوتا‘ اور دوسری طرف ایک عالم دین تو یقینا وہ عالم دین کو کامیاب کر کے چھوڑتے۔ اس نادر موقع سے فائدہ اُٹھانے اور عوام کو مذہبی قیادت سے محروم رکھنے کی ذمّہ داری صرف ان لوگوں پر ہے‘ جو محض اپنے آرام کی خاطر علماء کو بائیکاٹ کا مشورہ دے رہے ہیں۔
یوسف علیہ السّلام نے اِجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَائِنِ الْاَرْضَ کا مطالبہ کر کے غیراسلامی حکومت کے ایک شعبہ کو ہاتھ میں لیا اور بہتر ین انتظام کر کے دنیا کو ہلاکت سے بچایا۔
موسیٰ علیہ السّلام نے فرعون سے اَنْ اَدُّوْا اِلَیَّ عِبَادَ اﷲِ اور اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ کے مسلسل مطالبات کر کے ایک غیر مہذب اور غیر صالح بھیڑ کو اسی ملک کے ایک حصّہ میں رکھ کر اصلاح وتہذیب کی کوشش کی۔
مریض کی صحت انہی اخلاط کی تبدیلی پر منحصر ہے‘ جو مریض کے وجود کے اندر موجود ہیں‘ ہمسائے کے گھر میں خواہ کسی قدر بہترین اور قیمتی ادویات کا انبار عمدہ سے عمدہ قرینہ اور ترتیب ہی سے کیوں نہ لگا دیا جائے‘ دوسرے گھر والا مریض صحت یاب نہیں ہوسکتا۔
خ خ خ

جواب

یہ مضمون دراصل متعدد مغالطوں یا غلط فہمیوں کا مجموعہ ہے۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو نظر انداز کر کے یہاں ہم صرف تین بڑی اور بنیادی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔
(1)صاحب مضمون کی پہلی غلط فہمی یہ ہے‘ کہ ’’اگر ممبران اسمبلی کو قانون سازی کا غیر مشروط حق حاصل ہے‘ تو اس حق کا غیر مشروط ہونا ہی اس امر کی کافی ضمانت ہے‘ کہ یہ لوگ صحیح قانون مرتّب کرنے میں آزاد ہیں‘ یعنی ان کو اختیار حاصل ہوگا کہ ایسا قانون مرتّب کریں جس میں آخری سند خدا کی کتاب کو مانا جائے۔‘‘
بظاہر یہ بات بڑی معقول معلوم ہوتی ہے‘ لیکن اس کی تھوڑی سی تحلیل کرنے سے ہی یہ حقیقت بآسانی کھل جاتی ہے‘ کہ یہ مغالطہ یا غلط فہمی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ آزادی کا ایک مفہوم یہ ہے‘ کہ انسان کو یا انسانوں کے کسی گروہ کو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا اختیار حاصل ہو۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے‘ کہ کوئی انسان یا انسانوں کا کوئی گروہ اپنا یہ اصول قرار دے‘ اور اس نظرئیے پر کار بند ہوکہ وہ اپنے عمل میں خود مختار ہے‘ اور خود اپنی خواہش اور صواب دید کے سوا کسی آسمانی ہدایت سے امرو نہی کے احکام لینے اور اپنے معاملات میں رہنمائی حاصل کرنے کا پابند نہیں ہے۔ ان دونوں مفہومات میں سے پہلے مفہوم کی آزادی تو انسان کی فطری مسئو لیت وذمّہ داری کی اساس ہے‘ جس کی بنیاد ہی پر وہ شرائع الٰہیہ کا مخاطب بنایا گیا ہے۔ یہ آزادی مومن ہونے کے لیے بھی اسی طرح ناگزیر ہے جس طرح کا فر ہونے کے لیے اسے ایمان واسلام کی راہ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے‘ اور کفرو معصیت کی راہ میں بھی۔ اس کو بجائے خود نہ کفر کہا جا سکتا ہے نہ ایمان۔ بلکہ یہ ایک شرط مقدم ہے‘ جس کے حصول کے بغیر کوئی فرد یا گروہ نہ ایمان کی راہ پر چل سکتا ہے نہ کفر کی راہ پر۔ بخلاف اس کے دوسری قسم کی آزادی قطعی طور پر ایک کا فرانہ آزادی ہے‘ اور کسی فرد یا قوم کا اسے بطور ایک نظریہ ومسلک کے اختیار کرنا‘ صر یحاً یہ معنی رکھتا ہے‘ کہ اُس نے ایمان کے بجائے کفر کی راہ اپنے لیے انتخاب کی ہے‘ کیونکہ کفر اس کے سوا کسی اور چیز کا نام ہی نہیں ہے‘ کہ انسان اپنے آپ کو ہدایت الٰہی سے بے نیاز قرار دے کر اپنے نظریات واعمال میں خود مختاری کا طریقہ اختیار کرے۔
اب دیکھنا یہ ہے‘ کہ ہندستان میں جس دستور پر حکومت خود اختیاری کا نظام اس وقت قائم کیا گیا ہے‘ اور جن خطوط پر آئندہ اس دستور کا نشو ونما ہورہا ہے‘ اس کی بنیاد آیا محض پہلی ہی قسم کی آزادی ہے‘ یا دوسری قسم کی آزادی بھی اس میں شامل ہے؟ جو شخص ہندستان کے موجودہ نظامِ حکومت سے کچھ بھی واقفیت رکھتا ہے‘ وہ جانتا ہے‘ کہ یہ پورا نظام دنیوی‘ لادینی ریاست (secular state)کے نظر یہ پر مبنی ہے‘ اور اب جو اس کا مزید دستوری ارتقا ہورہا ہے اس میں بھی یہ بات اصل واساس کے طور پر تسلیم کر لی گئی ہے‘ کہ وہ اسی دنیوی لادینی ریاست کے قاعدہ پر مبنی ہوگا یعنی اس میں باشندگان ملک کو صرف یہی آزادی حاصل نہیں ہوگی کہ اپنے لیے جو دستور چاہیں اختیار کریں بلکہ اس کی بنیاد لازماً اس نظریہ پر قائم ہوگی (اور آج بھی ہے) کہ حاکمیت (sovereignty) جمہور کی ہے‘ اور قانون سازی میں رائے عام سے بالاتر کسی کتاب الٰہی اور ہدایت خداوندی سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بنا پر یہ پورا نظام دراصل ایک کا فرانہ نظام ہے اس کی بنیاد اسلام کی بنیاد سے متصادم ہے‘ اور اس کے اصول کو تسلیم کرتے ہوئے اس میں داخل ہونا قطعاً ایمان کے خلاف ہے۔ یہ آواز اگر صرف ’’پٹھان کوٹ‘‘ سے اُٹھی ہے‘ تو اس میں بے چارے ’’پٹھان کوٹ‘‘ کا کوئی قصور نہیں‘ قصور ان دوسری جگہوں کا ہے ‘جہاں سے یہ اُٹھنی چاہیے تھی‘ مگر نہ اُٹھی۔
یہ کہنا بالکل غلط ہے‘ کہ ہم اس نظام کے اندر داخل ہوکر{ FR 2548 }اس کو اسلام کی طرف پھیر لیں گے۔ اس کے اندر داخل ہونا بغیر اس کے ممکن نہیں ہے‘ کہ پہلے اس کے بنیادی نظرئیے کو تسلیم کیا جائے‘ اور اس کے بنیادی نظرئیے کو تسلیم کرنا اسلام کے بنیادی نظرئیے سے انکار کا ہم معنی ہے۔ لہٰذا مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے‘ کہ باہر{ FR 2549 } سے اس کے خلاف لڑیں‘ اور اپنی تمام تر کوشش پہلے یہ اصول منوانے میں صرف کریں کہ قانون سازی کتابِ الٰہی کی سند پر مبنی ہونی چاہئے‘ نہ کہ اس سے آزاد اور باشندگانِ ملک کی حکومتِ خود اختیاری دوسری قوموں اور ملکوں کے مقابلہ میں خود اختیاری ہونی چاہئے‘ نہ کہ خدا کے مقابلہ میں۔ اصولی حیثیت سے قطع نظر عملی حیثیت سے بھی یہ تدبیر قطعاً ایک غلط تدبیر ہے‘ کہ اس کا فرانہ نظامِ حکومت کی مجالس قانون ساز میں داخل ہوکر ہم مذکورہ بالا اصول منوانے کی کوشش کریں۔ یہ پارلی منٹری طریق کا ر صرف ان جماعتوں کے لیے مفید ہوسکتا ہے‘ جو اصول میں رائج الوقت نظام سے متفق ہوں ‘اور صرف فروعی اصلاحات کے معاملہ میں اپنا الگ مسلک رکھتی ہوں۔ لیکن جو جماعت سرے سے اس نظام ہی کو اصولی طور پر بدل ڈالنا چاہتی ہواس کے لیے پارلیمنٹری طریق کار کسی طرح مفید نہیں ہوسکتا۔ اس کو تو لازماً انقلابی طریق کار اختیار کرنا پڑتا ہے‘ یعنی یہ کہ وہ رائج الوقت نظام کے خلاف عام بے چینی پیدا کرے‘ اور اس کو بدلنے کا ایک زبردست داعیہ باشندگان ملک میں ابھار دے‘ پھر وقت کے حالات کے لحاظ سے ایسی تدبیر اختیار کرے ‘جس سے نظامِ حکومت عملاً تبدیل ہوسکے۔
(۲)دوسری غلط فہمی جس میں صاحب ِمضمون مبتلا ہیں‘ یہ ہے‘ کہ ان کے نزدیک اس نظام کی اصلاح اس طرح اور صرف اسی طرح ہوسکتی ہے‘ کہ اچھے لوگوں کو منتخب کر کے ان اسمبلیوں میں بھیجنے کی کوشش کی جائے‘ جو اس کافرانہ دستور پر بنائی گئی ہیں‘ اور چونکہ جماعت ِاسلامی نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا ہے‘ اس لیے وہ سمجھتے ہیں‘ کہ اس جماعت نے محض علیحدگی واجتناب کا سلبی پہلو اختیار کر رکھا ہے‘ جس سے اصلاح تو کسی طرح نہ ہوگی البتہ اقتدار کی تلوار برے لوگوں کے ہاتھ میں جا کر‘ باطل کو اور زیادہ مضبوطی کے ساتھ جمانے میں استعمال ہوگی۔ اس غلط فہمی میں نہ صرف صاحب ِمضمون مبتلا ہیں‘ بلکہ بکثرت لوگ اسی طرز پر سوچ رہے ہیں‘ اور اس کی اصل وجہ سطح بینی اور قلت ِفکر وتدبر کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ دراصل یہ حضرات اس بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے‘ کہ کروڑوں مسلمانوں کے موجود ہوتے ہوئے ‘موجود کافرانہ نظام اس ملک میں آخر قائم کیسے ہوگا؟ اور کیا وجہ ہے‘ کہ ملک کا سارا دستوری ارتقا انہی کافرانہ اصولوں پر ہوئے چلا جا رہا ہے؟ اس سوال پر اگر انہوں نے کچھ غور کیا ہوتا‘ تو ان پر خود یہ حقیقت منکشف ہوجاتی‘ کہ اس خرابی کی اصل وجہ‘ صرف یہ ہے‘ کہ مسلمانوں میں عموماً شعور اسلامی مردہ یا نیم مردہ ہوگیا ہے‘ ان کے اندر اسلامی دستور حیات پر چلنے اور اس کے لیے جینے اور مرنے کا ارادہ مفقود یا فقدان کی حد تک ضعیف ہے۔ اور انہوں نے ہندستان کے غیر مسلم باشندوں کو بھی صحیح نظامِ زندگی سمجھانے اور اس کی طرف دعوت دینے کی کوئی کوشش نہیں کی ہے۔ اسی وجہ سے مسلمانوں کی اپنی زندگی بھی فکری‘ اخلاقی اور تمدّنی حیثیت سے بیشتر غیراسلامی ہوگئی ہے‘ اور ہندوستان کا پورا نظامِ تمدّن وسیاست بھی کافرانہ اصولوں پر قائم ہوگیا ہے۔ اب اس خرابی کا اور اس کے برے نتائج کا مدا وا کرنے کے لیے اس قسم کی تدابیر سے کچھ کام نہیں چل سکتا‘کہ اس کا فرانہ نظام کی مشینری میں ہم چند نیک مومنوں کو بھجوانے کی کوشش کریں۔ تھوڑی دیر کے لیے اگر اس اصولی سوال کو نظر انداز کر بھی دیا جائے‘ کہ ایک نیک مومن اس مشینری کی کافرانہ بنیادوں کو تسلیم کر کے اس میں داخل ہونے پر آمادہ ہی کیسے ہوسکتا ہے‘ اور اگر تقیہ کے شیعی طریقہ کو اختیار کر کے چند مومن اس نظام میں داخل ہونے پر آمادہ ہوبھی جائیں‘ تو دیکھنا یہ ہے‘ کہ اس تدبیر سے حاصل کیا ہوسکتا ہے۔
جمہوری نظام میں کوئی گروہ اپنے اصول کے مطابق نظامِ حکومت کو اس وقت تک ہر گز نہیں چلا سکتا‘ جب تک کہ وہ حکومت کی مشینری پر قابض نہ ہو۔
حکومت کی مشینری پر قابض ہونے کے لیے ضروری ہے‘ کہ مجالسِ قانون ساز میں اس گروہ کو غالب اکثریت حاصل ہو۔
اس غالب اکثریت کا حصول بحالاتِ موجودہ ہندستان کے ایک بڑے حصّہ میں اہلِ ایمان کے لیے ممکن نہیں ہے‘ کیونکہ اس وقت اسلام اس ملک میں ایک ایسی اصولی تحریک کی حیثیت نہیں رکھتا جس کے علم بردار‘ باشندگانِ ملک سے محض اپنے اصول کی بنا پر عام اپیل کر سکتے ہوں ‘اور یہ اُمید کی جا سکے کہ وہ اپنی دعوت کو مقبولِ عام بنا کر اکثریت کی تائید حاصل کر لیں گے‘ فی الحال تو اسلام ہندستان کی ایک ایسی قوم کا مذہب ہے‘ جس کی دوسری قوموں سے کش مکش ہورہی ہے۔ لہٰذا اگر کوئی گروہ اس وقت خالص اسلامی اصول لے کر انتخابی مقابلہ میں اُترے گا‘ تو مسلمان قومیّت کے پرستاروں کی طرح اس کو بھی صرف موجودہ مسلمان قوم ہی کے ووٹوں پر انحصار کرنا پڑیگا‘ اور معلوم ہے‘ کہ یہ قوم ملک کے بڑے حصّہ میں بجائے خود اقلیت میں ہے۔
رہے وہ علاقے جہاں مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہے‘ تو اگر بالفرض وہ پاکستان کی صورت میں خود مختار ہوجائیں‘ اور ایک مستقل صاحب ِحاکمیت اسٹیٹ کی حیثیت بھی ان کو حاصل ہوجائے‘ تب بھی خالص اسلامی اصولوں پر جو گروہ کام کرنا چاہتا ہو‘ اس کے غالب اکثریت حاصل کرنے کا بحالت ِموجودہ وہاں بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ کیونکہ ان علاقوں میں اس کے اکثریت حاصل کرنے کا تمامتر انحصار مسلمانوں کی رائے عام پر ہے‘ اور مسلمانوں کی رائے عام اس وقت بالکل ناتربیت یافتہ ہے‘ اسلامی فہم وشعور سے بہت بڑی حد تک عاری ہے‘ اور اسلامی مقاصد کی بہ نسبت اپنی دنیوی خواہشات واغراض کے عشق میں بری طرح مبتلا ہے۔ اس رائے عام کی تائید سے کسی ایسے گروہ کا اکثریت کے ساتھ منتخب ہونا‘ تقریباً ناممکن ہے‘ جو بے لاگ طریقہ سے خالص اسلامی اصولوں پر کام کرنا چاہتا ہو۔
پھر اگر بالفرض ایسا ایک گروہ اکثریت میں منتخب ہوبھی جائے‘ تو جو حالات اس وقت پائے جاتے ہیں ان میں یہ ممکن نہیں ہے‘ کہ آزاد پاکستان کے نظام کو اسلامی دستور میں تبدیل کیا جا سکے۔ کیونکہ جنت الحمقا میں رہنے والے لوگ اپنے خوابوں میں خواہ کتنے ہی سبز باغ دیکھ رہے ہوں لیکن آزاد پاکستان (اگر فی الواقع وہ بنا بھی تو) لازماً جمہوری لادینی اسٹیٹ کے نظر یہ پر بنے گا‘ جس میں غیر مسلم اسی طرح برابر کے شریک حکومت ہوں گے جس طرح مسلمان‘ اور پاکستان میں ان کی تعداد اتنی کم اور ان کی نمائندگی کی طاقت اتنی کمزور نہ ہوگی‘ کہ شریعت ِاسلامی کو حکومت کا قانون اور قرآن کو اس جمہوری نظام کا دستور بنایا جا سکے۔{ FR 2550 }
ہم ان حقائق کو سمجھتے ہیں‘ اور اس بنا پر ہمارے نزدیک وہ تدابیر بالکل لاحاصل ہیں‘ جن سے ہمارے محترم مضمون نگار اور ان کے طرز پر سوچنے والے بہت سے مسلمان‘ اسلامی نظام کے قیام کی اُمیدیں وابستہ کئے بیٹھے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس مقصد تک پہنچنے کا کوئی راستہ اس کے سوا نہیں ہے‘ کہ موجودہ حالات میں ہندوستان کا سیاسی نظام جس ڈھنگ پر چل رہا ہے‘ اور جس راہ پر وہ آگے بڑھتا نظر آرہا ہے اس سے فی الحال ہم قطع نظر کر لیں‘ اور اپنی ساری قوّت اس بنیادی کام پر صرف کریں‘ جس کے ذریعہ سے نظامِ زندگی میں اسلامی طرز کا انقلاب رونما ہوسکتا ہے۔ مسلمانوں کی جو جماعتیں حقیقی صورت معاملہ کو اچھی طرح نہیں سمجھ رہی ہیں‘ وہ اپنے طرزِعمل میں آزاد ہیں‘ جس طرح وہ کام کرنا چاہیں کریں‘ ہم ان کے خلاف خواہ مخواہ کوئی معرکہ آرائی نہیں کرنا چاہتے‘ لیکن ہم یہ جانتے ہیں‘ کہ پچھلے زمانہ کی غلطیوں کی بدولت اس وقت فوری طور پر ایسی کوئی قوّت فراہم نہیں کی جا سکتی‘ جس سے واقعات کی موجودہ رفتار پر وہ کم سے کم اثر بھی ڈالا جا سکے‘ جو اسلام کے مقصد کے لیے مطلوب ہے۔ اس لیے ہم اس وقت کی سیاسی کارروائیوں میں دخل دینا تضیع وقت بھی سمجھتے ہیں‘ اور اس وجہ سے بھی اس سے احتراز کرنا ضروری سمجھتے ہیں‘ کہ اس وقت ہم اپنے اصول سے ہٹے بغیر سیاسی جدوجہد میں حصّہ نہیں لے سکتے۔ نیز ہم یہ بھی جانتے ہیں‘ کہ اس وقت سیاسی معاملات کا فیصلہ خواہ کچھ ہوجائے‘ اور اس کے نتائج آگے چل کر خواہ کتنے ہی خوفناک نکلتے نظر آئیں‘ لیکن اگر ہم اس پروگرام پر ٹھیک ٹھیک عملدر آمد کرنے میں کامیاب ہوگئے‘ جو ہمارے پیشِ نظر ہے‘ تو واقعات کی رفتار بالآخر پلٹ کر رہے گی‘ اوران سارے نقصانات کی تلافی ہوجائے گی‘ جو اسوقت کے اجتناب سے ہمیں پہنچیں گے۔ ہمارا پروگرام مختصر یہ ہے:۔
(ا)مسلمانوں کے اس مخلوط انبوہ میں سے صالح اہلِ ایمان کے عنصر کو چھانٹ کر اعلیٰ درجہ کی اخلاقی تربیت کے ساتھ منظم کیا جائے‘ اور ان کو اس کام کے لیے تیار کیا جائے کہ وہ مسلم قومیّت کے بجائے خود اسلام کو ایک اصولی تحریک کی حیثیت سے لے کر اُٹھ سکیں۔
(ب)اس گروہ کے ذریعہ سے عامّۂ مسلمین میں اسلامی شعور وفہم اور اسلام اور غیر اسلام کی تمیز پیدا کی جائے‘ ان کی اخلاقی قدروں (moral values)کو تبدیل کر کے خالص اسلامی قدریں ان کے ذہن نشین کی جائیں‘ ان میں اسلامی نظامِ زندگی کے قیام کا مضبوط ارادہ (موہوم اور مبہم ارادہ نہیں‘ بلکہ واضع اور شعوری ارادہ)پیدا کیا جائے‘ اور ان کی رائے عام کو اس حد تک تیار کر دیا جائے‘ کہ اگر جمہوری طریقوں پر ملک میں انقلاب کرنا ممکن ہو‘ تو خالص اسلامی طرز پر کام کرنے والی جماعت کے سوا کوئی دوسرا گروہ انہیں بیوقوف بنا کر یا ان کے سامنے غیراسلامی مقاصد پیش کر کے‘ ان سے ووٹ نہ حاصل کر سکے‘ اور اگر جمہوری طریقے قابلِ عمل نہ ہوں‘ تو وہ اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے سردھڑ کی بازی لگانے پر آمادہ ہوجائیں۔
(ج)مسلمانوں اور غیر مسلموں کی موجودہ سیاسی کش مکش سے جو تعصّبات ہندستان کے غیر مسلموں میں پیدا ہوگئے ہیں‘ ان سے بالا تر ہوکر غیر مسلموں کے سامنے اسلامی نظامِ زندگی کو اوران اخلاقی بنیادوں کو جن پر یہ نظامِ زندگی قائم ہوتا ہے پیش کیا جائے‘ اور پوری حکمت‘ جانقشانی اور خالص للہیت کے ساتھ ایسے حالات پیدا کیے جائیں‘ جن میں یہ ممکن ہوکہ غیر مسلموں کا بھی ایک صالح عنصر اسلامی نظام کا معتقد اور اس کے قیام کا طالب ہوجائے‘ اور اسلامی نظام کا قیام صرف موجودہ مسلمان قوم کی رائے عام پر منحصر نہ رہے‘ بلکہ ان قوموں کی رائے عام بھی اس کی موید ہوجائے‘ جو آج غیر مسلم ہیں‘ اور جن کو مسلمانوں کی موجودہ قومیّت پرستانہ جنگ نے اسلام کے خلاف سخت تعصّبات میں مبتلا کر رکھا ہے۔
اس پروگرام میں جب ہم ایک قابلِ لحاظ حد تک کامیاب ہوجائیں گے‘ (اور ہمیں یقین ہے‘ کہ جس طرز پر ہم کام کر رہے ہیں‘ اس سے آخر کار ان شاء اﷲ ہم کو کامیابی ضرور ہوگی)تب ہم ملک کے حالات پر نظر ڈال کر دیکھیں گے‘ کہ آیا اس وقت یہاں جمہوریت اتنی ترقی کر چکی ہے‘ کہ دستور حکومت میں کوئی اصولی تغیّر صرف اس بنیاد پر ہوسکتا ہے‘ کہ رائے عام اس تغیّر کی خواہش مند ہے؟اگر یہ صورت ہم نے موجود پائی تو ہم وقت کے دستورِ حکومت کو تبدیل کرنے اور اسلامی اصول پر نیا دستور بنانے کا مطالبہ ملک کی رائے عام کے سامنے پیش کریں گے‘ اس تغیّر کے لیے اسے تیار کریں گے‘ اور وقت کے سیاسی نظام پر دبائو ڈالیں گے کہ وہ ایک نئی دستور ساز اسمبلی(constituent assembly) منعقد کرے جو اس امر کا فیصلہ کرے کہ ملک کا آئندہ دستور کیا ہو۔ اس اسمبلی کے الیکشن میں ہم پوری کوشش کریں گے‘ کہ رائے عام کی تائید سے ہم کو اکثریت حاصل ہو‘ اور ہم ملک کا دستور اسلامی اصولوں پر قائم کریں۔
بہت سے لوگ ایسے ہیں‘ جو اس پروگرام کو ایک بڑا لمبا پروگرام سمجھتے ہیں‘ اور یہ خیال کرتے ہیں‘ کہ شاید اس کے پورا ہونے میں دو تین صدیاں لگ جائیں گی۔ اس لیے ان کے نزدیک یہ کوئی عملی پروگرام نہیں ہے‘ بلکہ وہ اسے خیالی پلائو سمجھتے ہیں۔ لیکن واقعہ یہ ہے‘ کہ اس پروگرام میں سارا دیر طلب کام صرف اس ابتدائی صالح گروہ کی تنظیم وتربیت کا ہے‘ جو اسلامی انقلاب کی ایک وسیع تحریک کا موزوں محرک بن سکے۔ ایسے ایک گروہ کی تنظیم کے بعد یہ تحریک اس طرح پھیلے گی‘ جیسے خشک گھاس میں آگ پھیلتی ہے۔ وقت کے تعین کی پیشین گوئی تو میں نہیں کر سکتا‘ لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اس ابتدائی مرحلہ کے گزرنے کے بعد ہماری منزل مقصود اتنی دور نہیں رہے گی‘ جتنی بہت سے لوگ کام کیے بغیر صرف اپنے خیال میں دور سمجھ رہے ہیں۔ تا ہم اگر وہ دور بھی ہو‘ تو چونکہ منزل حق وہی ہے‘ اس لیے ہم اس کی طرف دوڑتے ہوئے مرجانا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں بہ نسبت اس کے کہ جانتے بوجھتے غلط مگر آسان راہوںمیں اپنی قوّت صرف کریں‘ یا نادانی کے ساتھ جنت الحمقاکے حصول میں اپنی قوّت ضائع کریں۔
(۳)تیسری غلط فہمی جس میں صاحب ِمضمون کے ساتھ بہت سے سادہ لوح مسلمان مبتلا ہیں‘ یہ ہے‘ کہ مسلم لیگ کی پیدا کردہ موجودہ فضا اس مقام پر پہنچ چکی ہے‘ کہ عام مسلمانوں کے ووٹوں سے صالح مومنین کا ایسا گروہ منتخب ہوکر آسکتا ہے‘ جو وقت کی سیاسی رفتار کو اسلامی نصب العین کی طرف پھیرنے کے قابل ہو۔ اسی بنا پر یہ حضرات کہتے ہیں کیسا نادر موقع مل رہا ہے‘ اور تم اسے کھوئے دیتے ہو۔ اندھے ایمان کی بات تو دوسری ہے‘ کہ اس میں تحقیق کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘ اور جب کوئی تحریک شورو غل اور ہنگامہ کے ساتھ طوفانی رفتار سے چل رہی ہو‘ تو عام طبائع میں اندھے ایمان کا رُجحان پیدا ہوہی جایا کرتا ہے‘ لیکن جب ہم تحقیق کی نگاہ ڈال کر اس فضا کا جائزہ لیتے ہیں‘ جو مسلم لیگ نے پیدا کی ہے‘ تو ہمیں کسی نادر تو درکنار غیر نادر موقع کا بھی نشان نہیں ملتا۔
مسلم لیگ کی تحریک کے متعلق پہلی بات تو یہ سمجھ لیجیے کہ اس کے بنیادی تصوّرات‘ اس کا نظام ترکیبی‘ اس کا مزاج اور اس کی اسپرٹ‘ اس کا طریق کار اور اس کے مقاصد سب کچھ وہی ہیں‘ جو قومی اور قوم پرستانہ تحریکوں کے ہوا کرتے ہیں۔ یہ اور بات ہے‘ کہ یہ مسلمانوں کی قومی تحریک ہے‘ اور مسلمان کی ہر چیز ’’اسلامی‘‘ بن جایا کرتی ہے‘ اس لیے خواہ مخواہ اسے بھی اسلامی تحریک سمجھ لیا گیا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے‘ کہ اسلامی تحریک اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالکل ایک دوسری ہی چیز ہوتی ہے‘ جس کا کوئی شائبہ بھی مسلم لیگ کی قومی تحریک میں نہیں پایا جاتا‘ اور یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے‘ کہ اسلام اپنے مخصوص طریق کار سے جس منزل تک پہنچنا چاہتا ہے۔ اس تک آپ ایک قوم پرستانہ تحریک کے ڈھنگ اختیار کر کے پہنچ جائیں۔ ہر منزل اپنی فطرت کے لحاظ سے اپنی ہی ایک مخصوص راہ رکھتی ہے۔ آپ اسلام کی منزل مقصود کو پہنچنا چاہیں‘ تو آپ کو اسلامی تحریک ہی کی مخصوص راہ کو سمجھنا اور اسے اختیار کرنا پڑے گا۔ قوم پرستی کے طریقے اختیار کر کے آپ قومیّت کی منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہیں‘ مگر یہ توقع کرنا انتہائی پراگندہ خیالی ہے‘ کہ ان ڈھنگوں سے آپ اسلامی منزلِ مقصود پر جا پہنچیں گے۔ اس نکتہ کی توضیح کا یہاں موقع نہیں ہے۔ میں اس سے پہلے تفصیل سے بتا چکا ہوں کہ ایک اصولی تحریک اور ایک قوم پرستانہ تحریک میں کیا فرق ہوتا ہے۔ ضرورت ہو‘ تو پھر اس کی تشریح کر سکتا ہوں۔ یہاں میں اشارۃ ً صرف اتنی بات واضح کر دینا کافی سمجھتا ہوں‘ کہ ایک اصولی تحریک کے کارکنوں کو یہ خبر دینا کہ تمہارے لیے ایک قوم پرستانہ تحریک نے بڑے اچھے مواقع پیدا کر دئیے ہیں‘ کسی بصیرت اور معاملہ فہمی کا ثبوت نہیں ہے۔اس کی مثال تو بالکل ایسی ہے جیسے کسی عازم کلکتہ کو یہ خبر دی جائے کہ کراچی میل تیار کھڑا ہے۔
ان کی یہ خوش خبری کسی حد تک اگر صحیح ہوبھی سکتی تھی تو شاید اس صورت میں ہوتی‘ جب کہ مسلمانوں کی اس قوم پرستانہ تحریک میں کم از کم ثانوی حیثیت ہی سے مذہبیت کا پرزور اثر موجود ہوتا۔لیکن افسوس ہے‘ کہ یہاں اس کا بھی فقدان ہے‘ بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہے‘ کہ مسلم لیگ فی الواقع مسلمانوں کو اسلام اور اس کی تہذیب اور اس کے احکام کی اطاعت سے روز بروز دور تر لیے جا رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عام مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے اس میں اسلام کا نام بہت لیا جاتا ہے‘ اور ایسی نمائشی باتیں بھی کچھ کر دی جاتی ہیں‘ جن سے اکابر لیگ کے گہرے جذبۂ دینی کا ثبوت بہم پہنچ جائے لیکن یہ چیزیں صرف سطح بین لوگوں کو دھوکے میں ڈال سکتی ہیں۔ حقیقت جو کچھ ہے وہ ہر صاحبِ نظر کے سامنے بالکل بے نقاب ہے۔ لیگ کی قیادت اس کی پالیسی کی تشکیل اس کے پورے نظام کی کار فرمائی‘ اور اس کی ساری قوّت محرکہ اس وقت مسلمان قوم کے ایک ایسے طبقہ کے ہاتھ میں ہے‘ جو زندگی کے جملہ مسائل میں دینی کے بجائے دنیوی (secular)نقطۂ نظر سے سوچنے اور کام کرنے والا ہے اسلام کے بجائے مغربی اصولِ حیات کا معتقد اور مقلّد ہے دینی تعلق کے بجائے قومیّت کے تعلق کی بناء پر مسلمانوں کی حمایت و کالت اسی طرح کر رہا ہے جس طرح ہر قوم پرست کیا کرتا ہے‘ اور صرف اتنا ہی نہیں ہے‘ کہ یہ گروہ خود علانیہ اسلام کے اصول واحکام کی خلاف ورزی کرنے میں بیباک ہے‘ بلکہ اس کی رہنمائی وسر براہ کاری کی وجہ سے مسلمانوں میں بالعموم اسلام کے احکام کی خلاف ورزی اور اس خلاف ورزی میں بیباکی روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔ ان کی دینی حس مردہ ہورہی ہے‘ اور ان پروہ ذہنیت بڑی تیزی کے ساتھ چھا رہی ہے‘ جو اپنی اصل کے لحاظ سے قطعاً ایک دنیا پرستانہ ذہنیت ہے‘ مگر ’’مسلم قوم کے مفاد‘‘ اور ’’ملت کی زندگی کے بقا‘‘کا نام لے لے کر اس پر’’اسلامیت‘‘کا جھوٹا ملمع چڑھایا جا رہاہے کوئی شک نہیں کہ اس صورت حال کے پیدا کرنے کی ذمّہ داری میں ان مذہبی رہنمائوں کی نادانی بھی برابر کی شریک ہے‘ جن کے ہاتھ میں تحریک خلافت کے زمانہ سے مسلمانوں کی قیادت کی باگیں تھیں اور جنہوں نے مسلمانوں کے عام احساسات کے علی الرغم ہندوستانی قوم پرستی کے سرا سر غلط مسلک پر اصرار کرکے مسلمانوں کو زبردستی لامذہب رہنمائوں کی گود میں دھکیل دیا‘ لیکن اسباب خواہ کچھ ہوں یہ امر بجائے خود واقعہ ہے‘ کہ مسلم لیگ کی پیدا کی ہوئی موجودہ فضا‘ اسلام کے لیے کوئی موافق فضا نہیں ہے‘ بلکہ انتہائی ناموافق اور ناساز گار فضا ہے‘ جس میں خالص دینی نقطۂ نظر سے کام کرنے کے مواقع کم اور کم تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ لیگ کے حلقہ میں ایسے لوگوں کا بھی ایک بہت بڑا گروہ شامل ہے‘ جو اخلاص کے ساتھ مسلمان ہیں‘ اور سچے دل سے اسلام کی برتری چاہتے ہیں۔ مگر مجھے ان کی سادہ لوحی پر بڑا ترس آتا ہے‘ یہ بیچارے اسی نادانی کا ارتکاب کر رہے ہیں‘ جس کا ارتکاب ٹرکی کے بہت سے نیک نیت مسلمانوں نے‘ پہلی جنگ ِعظیم کے بعد کیا تھا‘ اور اس کا براانجام دیکھ لیا۔ انہوں نے بھی اسی طرح قومی تحفظ کی خاطر (اور ’’مسلمان قوم‘‘ کا تحفظ تو ایک مقدس مذہبی کا م بن ہی جاتا ہے)مصطفیٰ کمال اور اس کی قوم پرست پارٹی کو زمام کا ر سونپی تھی۔ وہ بھی اسی طرح مذہبی تاویلیں کر کے‘ لادینی کی طرف اس کی ہر پیش قدمی کو گوارا کرتے رہے۔ اور یونہی وہ بھی اپنا دل یہ سوچ سوچ کر بہلا یا کرتے تھے‘ کہ اس وقت تو قوم کا تحفظ مقدم ہے‘ اور اس کے لیے اﷲ اپنے دین کی تائید اس رَجُلِ فاجر کے ذریعہ کر رہا ہے‘ جب یہ وقت گزر جائے گا‘ تو ان شاء اﷲ ہمارا کاروان جادہ اسلام کی طرف پھر مڑ جائے گا۔ مگر جو کاروان اپنے آپ کو بے دین قیادت کے قابو میں خوددے چکا تھا‘ اسے پھر اسلام کی راہ پر جادہ پیمائی کی توفیق نصیب نہ ہوئی۔
اب ذرا دینی پہلو سے قطع نظر کر کے‘ محض قومیّت کے نقطۂ نظر سے اس فضا کا جائزہ لیجیے جو مسلم لیگ نے اس وقت پیدا کی ہے۔ اس کایہ پہلو خواہ کتنا ہی شان دار ہوکہ مسلمانوں میں ایک عام قومی حرکت پیدا ہوگئی ہے‘ اور وہ ایک مرکزی طاقت سے بظاہر وابستہ ہوگئے ہیں‘ لیکن واقعہ یہ ہے‘ کہ لیگ کی یہ تحریک محض ایک اضطراری ہیجان ہے‘ جو ہندو قوم پرستی کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے خوف سے‘ مسلمانوں میں بھڑ ک اُٹھا ہے۔ اس ہیجان کے پیچھے کوئی سوچا سمجھا نقشہ نہیں ہے کوئی واضح مقصد{ FR 2551 }نہیں ہے کوئی تعمیری سعی نہیں ہے‘ جو حصول مقصد کے لیے طاقت فراہم کر سکے کوئی ایسی کارکن جماعت نہیں ہے‘ جو قابلِ اعتماد سیرت اور ایک منظم فکر رکھتی ہو‘ اور کوئی ایسی قیادت نہیں ہے‘ جو ایک عمومی تحریک کو چلانے کی اہل ہو‘ فی الواقع مسلمانوں میں جو حرکت پیدا ہوئی ہے‘ وہ لیگ اور اس کی قیادت نے سوچ سمجھ کر کسی نقشہ کے مطابق پیدا نہیں کی‘ بلکہ ہندوئوں کی قومی سامراجیت اور ان کے لیڈروں کی تنگ دلانہ سیاست سے مسلمانوں میں خود بخود ایک احساس خطر اور ہیجانِ اضطراب بھڑک اُٹھا‘ اور اس حالت میں جب مسلمانوں نے دیکھا کہ وہ مذہبی اورسیاسی لیڈر جن کی طرف وہ تحریک خلافت کے زمانہ سے رجوع کرتے رہے تھے‘ ان کے کسی کام نہیں آرہے تو جس نے بھی آگے بڑھ کر ان کی طرف مد د کا ہاتھ بڑھایا‘ اس کا دامن انہوں نے تھام لیا۔ اب یہ بدقسمتی کی بات ہے‘ کہ اس ہیجان کی حالت میں جو رہنمائی ان کو میسر آئی وہ بجز کانفرنسوں اور اسمبلیوں کی لڑائی لڑنے کے اور کسی طرز جنگ اور طریق تیاری سے واقف نہیں ہے‘ اور یہ کھیل چونکہ کسی تیاری اور کسی نقشہ کے بغیر کھیلا گیا تھا‘ اس لیے اس کا کوئی فائدہ اس کے سوا نہ ہوا کہ مسلمانوں کے قومی کیرکٹر کی کمزوری اور زیادہ بے نقاب ہوگئی‘ اور ان کی ہوا پہلے سے زیادہ اُکھڑ گئی۔ سب سے زیادہ افسوس ناک معاملہ جس نے لیگ کی موجودہ رہنمائی کا انتہائی نااہل ہونا واضح کر دیا ہے‘ اشتراکیوں کا معاملہ ہے اس گروہ کے متعلق ثابت ہوچکا ہے‘ کہ اس کی وفاداریاں اور ہمدردیاں روس کے ساتھ وابستہ ہیں‘ اور اس کی رہنمائی کی باگیں تک روس کے ہاتھ میں ہیں۔ کوئی قوم جو اپنے گھر میں آزاد ہونا یا رہنا چاہتی ہو‘ اپنے درمیان ایسے ایک گروہ کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دے سکتی‘ جو کسی بیرونی طاقت کے اشاروں پر کام کرتا ہو۔ اسی وجہ سے کانگریس نے اس گروہ کو اپنے اندر سے نکال باہر کیا اور ہندوئوں میں اس کے اثرات پھیلنے کا دروازہ تقریباً بند کر دیا۔ لیکن لیگ جس نے اپنے قابلِ اعتماد کارکن بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی‘ اور جو اس وقت اندھوں کی طرح ہر اس شخص یا گروہ کا سہارا لے رہی ہے‘ جو بس اس کا الیکشن پروپیگنڈا کرنے کے لیے اپنے آپ کو پیش کر دے‘ ان اشتراکیوں کو بے تکلف اپنے اندر لے آئی{ FR 2552 } اور اس کو کچھ نہیں سوجھا کہ اپنے پاکستان میں وہ ایک ایسی طاقت کے ایجنٹوں کو قدم جمانے کا موقع دے رہی ہے‘ جو ایمان پر اپنا تسلط قریب قریب مضبوط کر چکی ہے‘ اور اب اس کے اور پاکستان کے درمیان صرف افغانستان کی بودی سی دیوار حائل ہے۔ حدیہ ہے‘ کہ اس کم نظر قیادت کو یہ کھلے ہوئے آثار غداری بھی نظر نہیں آتے‘ کہ یہ کمیونسٹ جو ہندستان میں بڑے مسلمان قوم پرست بنے ہوئے ہیں‘ ایران اور ٹرکی پر روس کی دست درازیوں کے خلاف ایک حرف نہیں کہتے‘ بلکہ اُلٹا روس کو حق بجانب اور ایران وٹرکی کو قابلِ الزام ٹھیرا رہے ہیں‘ کیا اس سے بھی یہ پتہ نہیں چلتاکہ کل اگر یہی روس پاکستان میں دخل اندزی شروع کرے گا‘ تو ان کا روّیہ کیا ہوگا؟
جیسا کہ عرض کر چکا ہوں اسلام اور اس کے مقاصد سے تھوڑی دیر کے لیے قطع نظر کر لیجیے کہ اس کے لحاظ سے تو لیگ کی تحریک مسلمانوں کو کوسوں دور لیے جا رہی ہے‘ لیکن محض قومی مفاد کو بھی اگر سامنے رکھا جائے‘ تو مجھے وہ فضا کہیں نظر نہیں آتی جس کے متعلق خبر دی جا رہی ہے‘ کہ وہ بڑی ہی کوئی ساز گار فضا ہے۔ یہ مختلف عناصر آج کانگریس کے مقابلہ میں متحدو متفق ہوسکتے ہیں‘ لیکن یہ قطعی ناممکن ہے‘ کہ کل یہ سب مل کر کوئی ایک تعمیری اسکیم بنا سکیں اور اسے ٹھیک ٹھیک چلا لے جائیں۔ (ترجمان القرآن۔ فروری ۱۹۴۶ء)

تقسیم سے قبل ہندستان کے مسلمانوں کو آخری مشورہ (یہ وہ تقریر ہے‘ جو ۲۶اپریل ۱۹۴۷ء کو جماعت ِاسلامی کے اجلاس منعقدہ مدراس میں کی گئی تھی)

رفیقو اور دوستو!اس وقت ہم ہندستان کی تاریخ کے ایک بہت نازک اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہے ہیں‘ اور یہ مرحلہ جس طرح ہندستان کے باشندوں کی قسمت کے لیے فیصلہ کن ہے‘ اسی طرح ہماری اس تحریک کے لیے بھی فیصلہ کن ہے۔ اس لیے یہ نہایت ضروری ہے‘ کہ اس موقع پر ہم پوری ہوش مندی کے ساتھ اپنے اس مقصد کو‘ جس کے لیے ہم کام کرنا چاہتے ہیں‘ اور ان حالات کو جن میں ہمیں کام کرنا ہے‘ اور اس رخ کو جس کی طرف یہ حالات جا رہے ہیں‘ اور جن میں سے ہمیں اپنا راستہ نکالنا ہوگا‘ اچھی طرح سمجھ لیں‘ اور ہمارا ہر کارکن پوری بصیرت کے ساتھ یہ جان لے کہ موجودہ اور آئندہ حالات میں اسے کس حکمت عملی پر کار بند ہونا ہے۔
ہماری اس تحریک کا مقصد جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں صاف اور واضح الفاظ میں یہ ہے‘ کہ ہم اس صحیح طریق زندگی کو جس کا نام اسلام ہے‘ انفرادی اور اجتماعی طور پر عملاً قائم کریں‘ اپنے قول وعمل سے اس کا ٹھیک ٹھیک مظاہرہ کریں‘ دنیا کو اس بات پر مطمئن کرنے کی کوشش کریں کہ اسی طریق زندگی میں اس کے لیے فلاح اور سعادت ہے‘ اور موجودہ باطل نظاموں کی جگہ وہ نظامِ حق برپا کرنے کی جدوجہد کریں‘ جو سراسراس طریق زندگی پر مبنی ہو۔ اس مقصد کے لیے اگر چہ ہمیں کام تو ساری دنیا اور تمام نوعِ انسانی میں کرنا ہے‘ لیکن فطرۃً ہمارے کام کی جگہ وہی سر زمین ہے‘ جہاں ہم پیدا ہوئے ہیں‘ جہاں کی زبان ہماری زبان ہے ‘جہاں کے رسم ورواج سے ہم واقف ہیں‘ جہاں کے نفسیات سے ہم آشنا ہیں‘ اور جہاں کی معاشرت سے ہمارا پیدائشی رشتہ ہے۔ خود پیغمبروں کے لیے بھی اﷲ تعالیٰ نے ان کے اپنے وطن ہی کو جائے عمل اور مقامِ دعوت قرار دیا تھا حالانکہ ان کا پیغام ساری دنیا کے لیے تھا‘ کسی پیغمبر کے لیے جائز نہ تھا‘ کہ اپنے اس فطری حلقہ کار کو چھوڑ کر کہیں اور چلا جائے‘ جب تک کہ اس کے اہلِ وطن اسے نکال نہ دیں یا وہ خود دعوت وتبلیغ میں انتہائی کوشش صرف کرنے کے بعد ان سے مایوس نہ ہوجائے‘ لہٰذا ہماری اس جماعت کا فطری دائرہ عمل بھی یہی سر زمین ہے‘ جسے خدا نے ہماری سکونت کے لیے منتخب فرمایا … پوری جماعت کا دائرہ عمل پورا ملک‘ ہر علاقے کے ارکان کا دائرہ‘ ان کا اپنا علاقہ اور ہر شہر قصبے یا گائوں کے ارکان کا دائرہ ان کا اپنا وطن …ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے‘ کہ پورے استقلال کے ساتھ اپنی جگہ جم کر دعوت اصلاح اور سعی انقلاب میں منہمک رہے‘ اور اپنے مقام سے ہر گز نہ ہٹے ‘جب تک کہ اس کا وہاں رہنا قطعی غیر ممکن نہ ہوجائے‘ یا پھر وہاں دعوتِ حق کے بار آور ہونے کی کوئی اُمید باقی نہ رہے۔ آنے والے حالات میں آپ بہت کچھ ہجرت ومہاجرت کی آوازیں سنیں گے‘ اور بعید نہیں کہ عام روکو دیکھ کر‘ یا خیالی اندیشوں سے سہم کر‘ آپ میں سے بہتوں کے پائوں اکھڑنے لگیں۔لیکن آپ جس مشن کے حامل ہیں‘ اس کا مطالبہ یہ ہے‘ کہ آپ میں سے جو شخص جہاں ہے وہیں ڈٹ جائے‘ اور اپنی دعوت کو اپنے ہی علاقے کی زندگی پر غالب کرنے کی کوشش کرے۔ آپ کا حال جہاز کے اس بہادر کپتان کا سا ہونا چاہیے جوآخر وقت تک اپنے جہاز کو بچانے کی کوشش کرتا رہتا ہے‘ اور ڈوبتے ہوئے جہاز کو چھوڑنے والوں میں سب سے آخری شخص وہی ہوتا ہے۔ آپ جس مقصد پر ایمان لائے ہیں‘ اس کا تقاضا ہے‘ کہ جس علاقے میں آپ رہتے ہیں وہیں کے نظامِ زندگی کو بدلنے اور راہِ راست پر لانے کی کوشش کریں۔ اس علا قے پر آپ کا اور آپ پر اس علاقے کا حق ہے‘ اور وہ حق اسی طرح ادا ہوسکتا ہے‘ کہ اس کی اجتماعی زندگی میں جو خرابیاں پائی جاتی ہیں انہیں دور کرنے میں آپ اپنا پورا زور صرف کریں‘ اور جس ہدایت سے آپ سر فراز کیے گئے ہیں‘ اس کا فائدہ سب سے پہلے اسے پہنچائیں۔
ہندستان میں اس وقت جو حالات رونما ہیں وہ بظاہر ہماری دعوت کے لحاظ سے نہایت مایوس کن ہیں‘ اور میں یکھ رہا ہوں کہ آپ سب لوگوں پر ان کا دل شکن اثر پڑ رہا ہے ملک کی مختلف قومیں قومی خود غرضی میں بری طرح مبتلا ہیں‘ اور قوم پرستی کا جنون بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ گیا ہے‘ کہ ان سے وہ حرکات سر زد ہورہی ہیں‘ جنہیں اگر جانوروں سے بھی منسوب کیا جائے‘ تو وہ اپنی توہین سمجھیں۔ قومی کش مکش نے جنگ کی اور جنگ نے وحشت ودرندگی کی شکل اختیار کر لی ہے۔ پہلے تو بات یہیں تک تھی کہ ہر قوم ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنے دعوے اور جواب دعوے پیش کر رہی تھی‘ اور اس پر تلخ کلامی کا سلسلہ چل رہا تھا مگر اب نوبت یہ آگئی ہے‘ کہ یہ مختلف قومیں ایک دوسرے کا نام ونشان تک مٹا دینے کے درپے ہیں۔ انہوں نے اپنی رہنمائی کا کام ایسے ایسے لیڈروں اور اخبار نویسوں کے سپرد کر دیا ہے‘ جو انہیں ہر روز خود غرضانہ قوم پرستی کی شراب‘ نفرت وعداوت کا زہر ملا کر پلاتے ہیں‘ اور ان کی حد سے بڑھی ہوئی قومی خواہشات کی وکالت میں انصاف اور اخلاق کی ساری حدوں کو پھاندتے چلے جاتے ہیں۔ اخلاقی تصوّرات کے لیے ان کے دلوں میں اب فی الواقع کوئی گنجائش نہیں رہی ہے۔ تمام اخلاقی معیارات قومیّت کے تابع ہوگئے ہیں۔ جو کچھ قومی مفاد اور قومی خواہشات کے مطابق ہے وہی سب سے بڑا اخلاق ہے‘ خواہ وہ جھوٹ ہو‘ خیانت ہو‘ ظلم ہو‘ سنگ دلی اور بے رحمی ہو‘ یا اور کوئی ایسی چیز جو دنیا کے معروف اخلاقیات میں ہمیشہ سے بدی سمجھی جاتی رہی ہے۔ بخلاف اس کے سچائی‘ انصاف‘ دیانت‘ رحم‘ شرافت‘ انسانیت سب گناہ قرار پا چکے ہیں اگر وہ قومی مفاد کے خلاف پڑتے ہوں‘ یا قومی خواہشات کے حصول میں مانع ہوں۔
ان حالات میں کسی ایسی دعوت کے لیے کام کرنا سخت مشکل ہے‘ جو قومیّتوں کو نظر انداز کر کے انسانیت کو خطاب کرتی ہو‘ جو قومی خواہشات کو چھوڑ کر خالص اصولِ حق کی طرف بلاتی ہو‘ اور قومی خود غرضیوں کو توڑ کر عالم گیر انصاف قائم کرنا چاہتی ہو۔ جنون قومیّت کے اس دور میں ایسی دعوت کی آواز سننے کے لیے نہ ہندو تیار ہیں نہ مسلمان‘ مسلمان کہتے ہیں‘ کہ تم ہماری قوم کے افراد ہوتمہارا فرض تھا‘ کہ قوم کے جھنڈے تلے کھڑے ہوکر قومی لڑائی لڑتے یہ تم نے الگ جتھا بنا کر دین واخلاق اوراصولِ حق کی رٹ کیا لگانی شروع کر دی؟تمہاری اس صدائے بے ہنگام سے قوم کی طاقت منتشر ہوتی ہے‘ اور قومی مفاد کو نقصان پہنچتا ہے۔ لہٰذا ہم تمہیں قوم کا دشمن سمجھتے ہیں‘ خواہ تمہاری دعوت اسی اسلام کی طرف ہو‘ جس کا نام لے کر ہم یہ قومی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف ہندوئوں کے پاس جائیے تو وہ خیال کرتے ہیں‘ کہ ان لوگوں کی بات دل کو تو ضرور لگتی ہے‘ مگر اس چھاچھ کو ذرا پھونک کر پینا چاہیے‘ کیونکہ یہ ہیں‘ تو اسی قوم کے افراد جس سے ہماری لڑائی ہے‘ کیا خبر کی یہ اصولی دعوت بھی مسلمان قومیّت ہی کو فروغ دینے کے لیے ایک دوسری تدبیر ہو۔
لیکن یہ حالات خواہ کتنے ہی حوصلہ شکن اور صبر آزما ہوں‘ بہرحال مستقل نہیں ہیں‘ بلکہ عنقریب بدل جانے والے ہیں۔ اس وقت آپ کے لیے صحیح طرزِعمل یہ ہے‘ کہ صبر اور حسنِ اخلاق سے اپنا کام کیے جائیں۔ اُلجھنے والوں کے ساتھ نہ اُلجھیں‘ نادان لوگوں کی مخالفتوں پر برافروختہ نہ ہوں‘ جن لوگوں میں دوست اور دشمن تک کی تمیز باقی نہیں رہی ہے‘ اور جو لوگ جوشِ جنوں میں اب خود اپنے بھلے اور برے تک کا ہوش نہیں رکھتے‘ وہ اگر جہالت اور جاہلیت پر اتر آئیں‘ تو آپ شریف آدمیوں کی طرح ان کے مقابلے سے ہٹ جائیں‘ اور ان کی زیادتیوں کو خاموشی سے سہہ لیں۔ اس کے ساتھ آپ کو چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ معقول طریقہ سے اپنی دعوت مسلم اور غیر مسلم سوسائٹی کے ان سب لوگوں تک پہنچائیں‘ جو معقول بات کو سننے اور اس پر کھلے دل سے غور کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس طریقہ پر اگر آپ نے عمل کیا‘ تو ایک طرف آپ کی اخلاقی برتری کا سکّہ بیٹھ جائے گا ‘اور دوسری طرف وہ ذہنی فضا ایک حد تک تیار ہوجائے گی‘ جو آنے والے حالات میں موثر کام کے لیے ضروری ہے۔
جس تغیّر کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں‘ وہ یہ ہے‘ کہ عن قریب ملک تقسیم ہوجائے گا۔ ہندوئوں کو ان کی اکثریت کے علاقے اور مسلمانوں کو ان کی اکثریت کے علاقے‘ الگ الگ مل جائیں گے۔ دونوں اپنے اپنے علاقوں میں پوری طرح خود مختار ہوں گے‘ اور اپنی مرضی کے مطابق اپنے اسٹیٹ کا نظام چلائیں گے۔ یہ بڑا تغیّر اس نقشے کو بالکل بدل دے گا‘ جس پر اس وقت تک حالات چلتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہندوئوں اور مسلمانوں اور دوسری قوموں کے مسائل اور ان کی نوعیتیں بالکل بدل جائیں گی۔ ان کو بالکل ایک دوسری ہی صورت حال سے سابقہ پیش آئے گا۔ جس ڈھنگ پر اس وقت تک انہوں نے اپنے قومی روّیہ اور اپنی تحریکات اور جماعتی نظاموں کو قائم رکھا ہے‘ وہ بڑی حد تک بے معنی اور ناکارہ ہوجائے گا۔ بدلے ہوئے حالات میں ان سب کو سوچنا پڑے گا کہ جو کچھ اب تک وہ کرتے رہے ہیں‘ اس نے انہیں کہاں لاکھڑا کیا ہے‘ اور اب اس نئے دور زندگی میں ان کے لیے راہِ عمل کیا ہے۔ آج کے بنے اور جمے ہوئے عقیدے اس وقت مہمل ہوجائیں گے۔ آج کے خیالات اور تصوّرات کے لیے اس وقت کوئی جگہ نہ ہوگی۔ آج کے نعرے اُس وقت کھوٹے سکے ہوں گے‘ جنہیں کوئی مفت کو بھی نہ پوچھے گا‘ جن بنیادوں پر آج کی قومی تحریکیں اور جماعتیں قائم ہیں‘ وہ خود بخود ڈہ جائیں گی۔ اس لیے صرف یہی نہیںکہ آج کی لیڈریاں اپنی طبعی موت مر جائیں گی‘ بلکہ بعید نہیں کہ جو لوگ آج انہیں اپنا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں کل وہی ان کو اپنے مصائب وآلام کا اصلی سبب سمجھنے لگیں۔
آنے والے اس دور میں ہندو ہندستان اورمسلم ہندستان کے حالات بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے‘ اور چونکہ ہمیں دونوں علاقوں میں کام کرنا ہوگا‘ اس لیے ہمیں بھی اپنی تحریک کو دو مختلف طریقوں پر چلانا پڑے گا۔ بلکہ بعید نہیں کہ نظامِ جماعت کو بھی دو حصوں میں بانٹ دینا پڑے‘ تاکہ ہر حصّہ اپنے اپنے علاقے کے حالات کے مطابق مناسب پالیسی پر خود چل سکے اور اس کے لیے ضروری انتظامات خود کر سکے۔ جہاں تک مسلم علاقے کا تعلق ہے‘ اس پر تومیں یہاں کوئی بحث نہ کروں گا‘ کیونکہ اس کے لیے موزوں مقام شمالی مغربی حلقہ کا اجتماع ہے‘ جو عنقریب ہونے والا ہے۔ آپ کے سامنے مجھے صرف ہندو ہندوستان کے مستقبل پر گفتگو کرنی ہے‘ کہ یہاں مسلمانوں اور ہندوئوں کو آئندہ کن حالات سے سابقہ پیش آنے والا ہے‘ اور ان حالات میں آپ کو کس طرح کام کرنا ہوگا۔
سب سے پہلے مسلمانوں کے معاملہ کو لیجیے۔ ہندو اکثریت کے علاقے میں مسلمان عنقریب یہ محسوس کر لیں گے کہ جس مسلم قوم پرستی پر انہوں نے اپنے اجتماعی روّیہ کی بنیاد رکھی تھی‘ وہ انہیں بیابان مرگ میں لاکر چھوڑ گئی ہے‘ اور ان کی قومی جنگ جسے وہ بڑے جوش وخروش سے بغیر سوچے سمجھے لڑ رہے تھے‘ ایک ایسے نتیجہ پر ختم ہوئی ہے‘ جو ان کے لیے تباہی کے سوا اپنے اندر کچھ نہیں رکھتا۔ جن جمہوری اصولوں پر ایک مدّت سے ہندستان کا سیاسی ارتقا ہورہا تھا‘ اور جنہیں خود مسلمانوں نے بھی قومی حیثیت سے تسلیم کر کے اپنے مطالبات کی فہرست مرتّب کی تھی‘ انہیں دیکھ کر بیک نظر معلوم کیا جا سکتا تھا‘ کہ ان اصولوں پر بنے ہوئے نظامِ حکومت میں جو کچھ ملتا ہے‘ اکثریت کو ملتا ہے‘ اقلیت کو اگر ملتا بھی ہے‘ تو خیرات کے طور پر‘ دست نگر ہونے کی حیثیت سے‘ نہ کہ حق کے طور پر حریف اور مد مقابل اورشریک کی حیثیت سے یہ ایک ظاہر وبا ہر حقیقت تھی‘ مگر مسلمانوں نے اس کی طرف سے جانتے بوجھتے آنکھیں بند کر لیں‘ اور اس دوہری حماقت کا ارتکاب کیا کہ ایک طرف تو نظامِ حکومت کے لیے مغرب کے انہی جمہوری اصولوں پر راضی ہوگئے‘ اور دوسری طرف خود اپنی طرف سے تقسیم ملک کا یہ اصول پیش کیا کہ جہاں ہم اکثریت میں ہیں وہاں ہم حاکم اور تم محکوم ہو‘ اور جہاں تم اکثریت میں ہووہاں تم حاکم اور ہم محکوم ہوں۔کئی سال کی تلخ اور خون ریز کش مکش کے بعد اب یہ مرکب حماقت ’’کامیابی‘‘ کے مرحلے میں پہنچ گئی ہے‘ اور جس چیز کے لیے اقلیت کے صوبوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان خود لڑ رہے تھے وہ حاصل ہوا چاہتی ہے‘ یعنی اکثریت کی آزاد وخود مختار حکومت جس میں وہ بحیثیت ایک قوم کے محکوم ہوں گے‘ اور محکوم بھی اس اکثریت کے جس سے وہ ابھی کل تک قومی جنگ لڑتے رہے تھے۔
جو اسٹیٹ اب مسلم اقلیت کے علاقوں میں بن رہا ہے‘ وہ ہندوئوں کا قومی اسٹیٹ ہوگا۔ قومیّت وجمہوریت کے‘ جن نظریات کو مسلمان اور ہندویکساں تسلیم کر کے اپنی قومی تحریکوں کی اساس بنا چکے ہیں‘ ان کی بنیاد پر کوئی قومی اسٹیٹ اپنے اندر کسی دوسری ایسی قوم کے وجود کو گوارا نہیں کرتا‘ جو حکمران قومیّت سے الگ اپنی مستقل قومیّت کی مدعی ہو‘ اور پھر اس قومیّت کے دعوے کے ساتھ اپنے مخصوص قومی مطالبات بھی رکھتی ہو۔ یہ چیز صرف اسی وقت تک چل سکتی تھی‘ جب تک ملک میں عملاً اقتدار ایک بیرونی قوم کاتھا اور ہندو اور مسلمان دونوں اس کے محکوم تھے۔ صرف اسی وقت یہ ممکن تھا‘ کہ اقلیت بھی اکثریت کی طرح اپنی الگ قومیّت کا دعویٰ کرے‘ اور کم وبیش اپنے کچھ مستقل حقوق منوا لے۔ مگر جب جمہوری اصول پر اہلِ ملک کی آزاد حکومت بن جائے گی‘ تو ہندو ہندستان اکثریت کا قومی اسٹیٹ بن کر رہے گا ‘اور اس میں کسی اقلیت کی جداگانہ قومیّت اور مخصوص قومی مطالبات کے لیے گنجائش نہ ہوگی۔قومی اسٹیٹ ایسی کسی قومیّت کو تسلیم کر کے اس کے مطالبے کبھی پورے نہیں کیا کرتا‘ بلکہ وہ پہلے تو یہ کوشش کرتا ہے‘ کہ اسے تحلیل کر کے اپنے اندر ہضم کر لے‘ پھر اگر وہ اتنی سخت جان نکلتی ہے‘ کہ ہضم نہ ہوسکے‘ تو اسے دبا دینا چاہتا ہے‘ تاکہ جدا گانہ قومی وجود اور اس کی بنا پر مستقل قومی مطالبوں کی آواز بلند ہونے ہی نہ پائے‘ اور بالآخر اگر وہ دبائو کے نیچے بھی چیخے ہی چلی جائے‘ تو پھر قومی اسٹیٹ اسے باقاعدہ فنا کرنے کی کوشش شروع کر دیتا ہے۔ یہی کچھ ہندوئوں کے قومی اسٹیٹ میں مسلم اقلیت کو پیش آنے والا ہے‘ اس کے سامنے بھی عملاً یہی تین راستے پیش کیے جائیں گے۔
یا تو اپنی جدا گانہ قومیّت کے دعوے اور اس کی بنا پر مستقل حقوق کے مطالبے سے دستبردار ہوکر اسٹیٹ کی قومیّت میں جذب ہوجائے۔
یا اگر وہ اس کے لیے تیار نہ ہو‘ تو اسے ہر قسم کے حقوق سے محروم کر کے شُودروں اور اچھوتوں کی سی حالت میں رکھا جائے۔
یا اس پر استیصال کا پیہم عمل جاری کر دیا جائے‘ یہاں تک کہ قومی اسٹیٹ کے حدودمیں اس کا نام ونشان باقی نہ رہے۔
یہ لازمی نتیجہ ہے مغربی طرز کے ایک جمہوری نظام میں قومیّت کی اساس پر اپنی سیاسی پالیسی کی عمارت اُٹھانے کا‘ بصیرت کی آنکھیں اس نتیجہ کو اسی وقت دیکھ سکتی تھیں‘ جب یہ پالیسی اختیار کی جا رہی تھی‘ اور یہ نتیجہ ابھی بہت دور تھا۔ مگر اس وقت دیکھنے سے انکار کیا گیا‘ اور دکھانے کی کوشش کرنے والوں کو دشمن سمجھا گیا۔ اب یہ نتیجہ بالکل سامنے آگیا ہے‘ اور افسوس کہ اسے دیکھنا ہی نہیں بھگتنا بھی پڑے گا۔
مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی کے لیے‘ جو گروہ اس وقت پیش پیش ہیں ان میں سے ایک ’’نیشنلسٹ‘‘مسلمانوں کا گروہ ہے‘ جو آنے والے دور میں وہی پارٹ ادا کرے گا‘ جو انگریزی دور میں خان بہادر طبقہ ادا کر چکا ہے۔ یہ گروہ مسلمانوں کو دعوت دیگا کہ پہلی صورت کو برضا ورغبت قبول کر لیں یعنی اپنی قومی انفرادیت کے دعوے اور مخصوص حقوق کے مطالبے سے دست بردار ہوکر سیدھی طرح اسٹیٹ کی قومیّت میں مد غم ہوجائیں۔ اس گروہ کی بات اب تک تو نہیں چلی ہے‘ مگر مجھے اندیشہ ہے‘ کہ آگے بہت کچھ چلنے لگے گی‘ کیونکہ آئندہ یہی لوگ سرکار رس ہوں گے‘ انہی کی مدد سے نوکریاں اور ٹھیکے اور تعلیم گاہوں کے گرانٹ وغیرہ ملا کر یں گے‘ اور یہی حکمران قوم اور محکوم قوم کے درمیان واسطہ ووسیلہ بنیں گے۔ ان کی کوششیں مسلمانوں کی ایک معتدبہ تعداد کو اس حد تک گرا دینے میں کامیاب ہوجائیں گی‘ کہ وہ خود مہاشے اور ان کی بیویاں اور بیٹیاں شریمتیاں بنیں اور لباس‘ زبان‘ معاشرت‘ خیالات‘ ہر چیز میں حکمران قوم سے اس درجہ ہمرنگ ہوجائیں’’تاکس نگوید بعدازاں من دیگرم تو دیگری‘‘جس قوم کی ایک بڑی تعداد اس سے پہلے مسٹر اور مس بن چکی ہے‘ آخر اس کے لیے اب یہ نیا تغیّر ناممکن کیوں ہونے لگا؟ خصوصاً جب کہ آئندہ روٹی اور خوش حالی اور ترقی کا انحصار اسی پر ہوگا۔ لیکن مجھے اُمید نہیں کہ مسلمان من حیث القوم اس طرح سپر ڈال دینے پر راضی ہوجائیں گے۔ قومی حیثیت سے ان کی کوشش یہی ہوگی کہ اس جذب وانجذاب کی مزاحمت کریں۔
مزاحمت کے لیے وہ ابتداً اسی گروہ کی طرف رجوع کر یں گے‘ جو اس وقت سیاسی میدان میں ان کی رہنمائی کر رہا ہے۔ مگر تجربہ بہت جلدی مسلمانوں کو بتا دے گا کہ اب اس گروہ کی سیاست پر چل کر‘ وہ سیدھے تباہی کے گڑھے کی طرف جائیں گے۔ اکثریت کے قومی جمہوری اسٹیٹ میں رہ کر اگر اقلیت قومی جنگ لڑے گی‘ تو ہر طرف سے پیسی اور کچلی جائے گی زندگی کے ہر شعبے سے نکالی جائے گی‘ ہر قسم کے حقوق سے محروم کی جائے گی اچھوتوں سے بھی بدتر حالت میں گرا دی جائے گی‘ اور پھر بھی اگر اس کی آواز اُٹھتی رہی تو اسے اس طرح مٹایا جائے گا‘ کہ اس پر نہ زمین روئے گی نہ آسمان۔
کہا جاتا ہے‘ کہ اقلیت کے مسلمانوں کو اس انجام سے بچانے کے تین ذریعے ہیں:۔
ایک یہ کہ پاکستان کی ریاست ہندستان کی ریاست سے سودا کرے گی‘ یعنی وہ کہے گی کہ پاکستان کی ہندو اقلیت سے ہم وہی سلوک کریں گے‘ جو تم ہندستان کی مسلمان اقلیت سے کرو گے‘ اور اس طرح مسلمانوں کو وہی آئینی تحفظات مل جائیں گے‘ جوہندو پاکستان میں ہندوئوں کے لیے چاہیں گے۔ لیکن آغاز کا ر میں یہ تجویز خواہ کیسی ہی خوش آئند نظر آئے‘ مجھے یقین ہے‘ اورتجربہ بتا دے گا کہ آگے چل کر یہ قطعاً ناکام ہوگی۔{ FR 2553 }ہم صاف دیکھ رہے ہیں‘ کہ ہندستان اور پاکستان دونوں مغربی طرز سیاست کی راہ پر چلے جا رہے ہیں۔اس طرز سیاست کے جو نتائج مغرب میں نکل چکے ہیں‘ وہی یہاں نکل کر رہیں گے۔ اقلیت کی جدا گانہ قومیّت اور قومی حقوق اور مطالبوں کو نہ مسلمانوں کا قومی اسٹیٹ زیادہ مدّت تک برداشت کر سکے گا‘ اور نہ ہندوئوں کا قومی اسٹیٹ۔ خصوصاً جب یہ دونوں اقلیتیں‘ اپنی اپنی ہم قوم بیرونی ریاست کی طرف استمداد کا ہاتھ پھیلائیں گی‘ اور اپنے ملک کی حکومت کے بجائے بیرونی حکومت سے وفاداری‘ دلچسپی اور محبت کی پینگیں بڑھائیں گی‘ تو ان کا وجود ہندوستان اور پاکستان دونوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہوجائے گا۔ ابتدا میں خواہ کیسے ہی اطمینان بخش آئینی تحفظا ت دونوں نے ایک دوسرے کی اقلیتوں کو دئیے ہوں رفتہ رفتہ عملاً ان کو ختم کر دیا جائے گا‘ روز مرہ کے برتائو میں اقلیتوں کا استیصال کرنے والی پالیسی چل پڑے گی‘ دونوں حکومتیں اپنی اپنی قومی اقلیتوں کی خاطر ایک دوسرے پر دبائو ڈالنے کی کوشش کریں گی‘ اور بالآخر یا تو جنگ تک نوبت پہنچے گی۔ جس کے نتیجہ کے متعلق پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی۔ یا دونوں کو اس پرراضی ہونا پڑے گا کہ ایک حکومت ہندوئوں کے ساتھ اور دوسری حکومت مسلمانوں کے ساتھ جو برتائو چاہے کرے۔
دوسرا ذریعہ تحفظ یہ بتایا جاتا ہے‘ کہ اقوام متحدہ کے نظام(united nations organisation)سے اس معاملہ میں مدد لی جائے گی۔ لیکن جو لوگ اس نظام کے مزاج کو کچھ بھی جانتے ہیں‘ وہ بآسانی اندازہ کر سکتے ہیں‘ کہ اس ذریعہ تحفظ کے بل پر کوئی دبی ہوئی قوم کتنے دن جی سکتی ہے‘ اوّل تو اقوام متحدہ کے نظام سے مرافعہ کسی ایسے ہی معاملے میں کیا جا سکتا ہے‘ جس میں کوئی بہت بڑی اور نمایاں ظالمانہ کارروائی کی گئی ہو۔ روز مرہ کے چھوٹے چھوٹے معاملات خواہ مجموعی طور پر مل کر کتنا ہی بڑا ظلم بن جائیں‘ بہرحال اس نظام میں قابلِ مرافعہ قرار نہیں پا سکتے۔ نہ ان بظاہر معصوم پالیسیوں کو وہاں زیر بحث لایا جا سکتا ہے‘ جو مغربی معیار کے لحاظ سے بالکل برحق ہوتی ہیں‘ مگر ہمارے نقطۂ نظر سے مسلمانوں کی حیاتِ دینی وملی کو بالکل ختم کر دینے والی ہیں۔ پھر اس نظام نے اب تک تو یہ ثابت نہیں کیا ہے‘ کہ وہ بالکل بے لاگ انصاف کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے ارکان صرف یہی نہیں دیکھتے کہ معاملہ بجائے خود کیسا ہے‘ اور اس میں انصاف کا تقاضا کیا ہے‘ بلکہ یہ بھی دیکھتے ہیں‘ کہ شکایت جس حکومت کے خلاف کی گئی ہے اس سے ہماری اپنی حکومتوں کے تعلقات کیسے ہیں‘ اور آیا اسے مطعون کرنا ہماری حکومتوں کی مصلحت کے مطابق ہے‘ یا خلاف۔ اس لحاظ سے کون کہہ سکتا ہے‘ کہ آئندہ زمانہ میں نظام اقوام متحدہ کے اندر ہندستان اور پاکستان کی اِضافی (relative) پوزیشن کیا ہوگی‘ اور کس کی بات وہاں زیادہ وزن دار ہوگی۔
تیسرا ذریعہ ہجرت اور تبادلہ آبادی کا بیان کیا جاتا ہے‘ ہجرت کا مطلب یہ ہے‘ کہ مسلمان خود ہندستان چھوڑ چھوڑ کر پاکستان میں جا بسنے شروع ہوں۔ اور تبادلہ آبادی کا مطلب یہ ہے‘ کہ دونوں حکومتیں باہمی قرار داد سے ایک نظم کے ساتھ اپنی اپنی ہم قوم آبادی کو اپنے علاقے میں منتقل کر لیں۔ ان میں سے پہلی صورت قابلِ عمل ہے‘ مگر وہ ہندستان کے مسلمانوں کامسئلہ حل نہ کر سکے گی۔ کیونکہ اس صورت میں وقتاً فوقتاً صرف کھاتے پیتے لوگ یا بہت برداشتہ خاطر افراد وخاندان یا کچھ من چلے قسمت آزما لوگ ہی عمل کر سکیں گے‘ مسلمانوں کی عام آبادی جہاں اب بس رہی ہے وہیں بستی رہے گی‘ اور اس کا کسی بڑے پیمانے پر خود مہاجرت کرنا ممکن نہ ہوگا۔ اِلاّ یہ کہ کسی وقت خدا نخواستہ وہ حالات پیش آجائیں‘ جو بہار وغیرہ میں پیش آئے ہیں۔ رہی دوسری صورت‘ تو مجھے اُمید نہیں کہ آئندہ پچاس سال تک ہندوستان اور پاکستان کی حکومتیں ساڑھے چار کروڑ مسلمانوں اور ڈھائی تین کروڑ غیرمسلموں کو ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر منتقل کر نے کا انتظام کر سکیں گی‘ خواہ وہ دل سے ایسا کرنا چاہیں تا ہم اگر کوئی اس اُمید پر جینا چاہتا ہو‘ تو ضرور جِیے۔
یہ ہے ان ذرائع کی حقیقت‘ جن کی بنا پر اُمید کی جا رہی ہے‘ قوم پرستانہ سیاست جس طرح انگریزی اقتدار کے دور میں چلتی رہی ہے اسی طرح ہندستان کی قومی حکومت بن جانے کے بعد بھی چل سکے گی۔ آج مسلمان اپنی جہالت اور کم نگاہی کی وجہ سے ان حقائق کو نہیں سمجھ رہے ہیں۔مگر وہ وقت قریب ہے‘ جب یہ حقائق خود اپنے آپ کو ان کی سمجھ میں اتار دیں گے‘ اور اس وقت لامحالہ ان کو تین راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا۔
ایک یہ کہ ’’نیشنلسٹ‘‘ مسلمانوں کی پالیسی قبول کر کے ہندو قومیّت میں جذب ہونے پر تیار ہوجائیں۔
دوسرے یہ کہ ’’مسلم قوم پرستی‘‘ کی موجودہ روش پر بدستور چلتے رہیں‘ یہاں تک کہ مٹ جائیں۔
تیسرے یہ کہ قوم پرستی اور اس کے طور طریقوں اور اس کے دعووں اور مطالبوں سے تو بہ کر کے‘ اسلام کی رہنمائی قبول کر لیں‘ جس کا تقاضا یہ ہے‘ کہ مسلمان اپنی قومی اغراض کے لیے سعی وجہد کرنے کے بجائے اپنی تمام کوششوں کو صرف اسلام کی اصولی دعوت پر مرکوز کر دیں‘ اورمن حیث القوم اپنے اخلاق‘ اعمال اور اجتماعی زندگی میں اس کی شہادت دیں‘ جس سے دنیا یقین کر سکے کہ فی الواقع یہ وہ قوم ہے‘ جو اپنی ذات کے لیے نہیں‘ بلکہ محض دنیا کی اصلاح کے لیے جینے والی ہے‘ اور درحقیقت جن اصولوں کو یہ پیش کر رہی ہے وہ انسانی زندگی کو انفرادی اور اجتماعی طور پر نہایت اعلیٰ وارفع اور اصلح بنا دینے والے ہیں۔
یہی آخری راہ مسلمانوں کے لیے پہلے بھی راہ نجات تھی‘ اور اب بھی اسی میں ان کے لیے نجات ہے۔ میں کئی سال سے ان کو اس کی طرف بلا رہا ہوں۔ اگر یہ قوم پرستانہ سیاست کی راہ اختیار کرنے کے بجائے اس راہ کو اختیار کرتے اور جس طرح پچھلے دس سال میں انہوں نے اپنی پوری قومی طاقت کو اس راہ پر لگایا ہے اسی طرح کہیں اس راہ پر لگایا ہوتا‘ تو آج ہندستان کی سیاست کا نقشہ بالکل بدلا ہوا ہوتا‘ اور دو چھوٹے چھوٹے پاکستانوں کی جگہ سارے ہندستان کے پاکستان بن جانے کے امکانات ان کی آنکھوں کے سامنے ہوتے لیکن اس وقت میری دعوت انہیں دشمن کی دعوت یا ایک دیوانے دوست کی دعوت محسوس ہوئی اب واقعات انہیں گھیر کر ’’نا چار مسلمان شو‘‘ کے مقام پر خود کھینچ لائے ہیں۔ اب ان کے لیے زندگی کی راہ صرف ایک ہی رہ گئی ہے‘ اور وہ اسلام کی اصلی اور حقیقی اور مخلصانہ اسلام کی راہ ہے۔ دوسری راہیں زندگی کی نہیں‘ بلکہ خود کشی یا سزائے موت یا طبعی وفات کی راہیں ہیں۔
یہ وقت جس کے آنے کی میں خبر دے رہا ہوں‘ اب بالکل قریب آگیا ہے‘ جو نہی کہ ہندوستان کی سیاست کا موجودہ دور ختم ہوکر نیا دور شروع ہوا‘ اقلیت کے علاقوں میں مسلمانوں کو اپنی واقعی یاس انگیز پوزیشن کا عام احساس شروع ہوجائے گا۔ یہ ایک بڑی تحریک کے انہدام کا وقت ہوگا‘ جو تحریک خلاف کے انہدام سے کئی گنا زیادہ خطر ناک ہوگا۔ تحریک خلافت کی ناکامی نے مسلمانوں پر جو جمودو انتشار طاری کیا تھا‘ وہ اگر چہ نہایت نقصان دہ تھا مگر مہلک نہ تھا۔ اب اگر وہ کیفیت کہیں‘ پھر طاری ہوئی‘ تو قطعاً مہلک ثابت ہوگی۔ اپنے اس وقت تک کے رہنمائوں سے مایوس ہوکر‘ کوئی صحیح رہنمائی اور کوئی شعاع اُمید اگر مسلمانوں نے نہ پائی تو ان پر گھبراہٹ اور طوائف الملوکی مسلّط ہوجائے گی۔ کوئی نیشنلسٹ مسلمانوں کی طرف دوڑ یگا‘ کوئی کمیونسٹ گروہ کی طرف لپکے گا‘ کوئی ہجرت کی تیاری کرے گا‘ کوئی مایوسی کی حالت میں ہاتھ پائوں توڑ کر بیٹھ جائے گا‘ اور کوئی دل برداشتگی کے عالم میں یا محض احمقانہ جھنجھلاہٹ کی بنا پر ہاری ہوئی قومی جنگ کو پھر تازہ کر کے نہ صرف اپنے اوپر بلکہ اپنے ہزاروں لاکھوںبے گناہ بھائیوں پر بھی‘ تباہی کا طوفان اُٹھا لائے گا۔ اس نازک وقت کے لیے ابھی سے ایک ایسا منظم گروہ تیار رہنا چاہئے‘ جو ہوش میں آنے والے مسلمانوں کے سامنے بروقت صحیح راہِ عمل پیش کر سکے‘ ان کی مائل بانتشار قوّتوں کو غلط کاریوں اور خام کاریوں سے بچا کر‘ ایک روشن نصب العین کے گرد سمیٹ سکے‘ اور ان کو یاس کے بعد حقیقی کا میابیوں کی بشارت دے سکے۔ میری دعا ہے‘ کہ آپ ہی کا یہ گروہ اس خدمت کے انجام دینے کی توفیق پائے‘ اور اس وقت کے آنے سے پہلے اس حد تک طاقت ور اور منظم اور مستعد ہوجائے کہ یہ خدمت انجام دے سکے۔
اب میں چاہتا ہوں کہ آپ ذرا ہندو ہندو ستان کی اکثریت کے مستقبل کا بھی جائزہ لیں۔ میں آپ لوگوں سے اکثر کہتا رہا ہوں کہ اسلامی انقلاب برپا کرنے کا جتنا امکان مسلم اکثریت کے علاقوں میں ہے‘ قریب قریب اتنا ہی امکان غیر مسلم اکثریت کے علاقوں میں بھی ہے۔ میری اس بات کو بہت سے لوگ ایک غرقِ تخیل آدمی کا خواب سمجھتے ہیں‘ اور بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں‘ کہ غالباً یہ تصوف کا کوئی نکتہ ہے‘ جو ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس لیے کہ ان کو صریح طور پر یہ نظر آرہا ہے‘ کہ غیر مسلم اکثریت مسلمانوں کے مقابل میں ایک مضبوط متحد اور منظم بلاک بنی ہوئی ہے۔ اس کے اندر کہیں کوئی خلل یا شگاف نہیں ہے ‘جہاں سے اس کے ٹوٹنے کا امکان ہو۔اس پر قوم پرستی کا نشہ پوری طرح مسلّط ہے۔ ہندو انڈیا کا پورا نظامِ حکومت نہایت مستحکم طریقہ سے‘ اس کے ہاتھوں میں آچکا ہے‘ اور جو تھوڑ سی کسر باقی ہے وہ عن قریب پوری ہوتی جاتی ہے۔ اس حالت کو دیکھتے ہوئے ان کی سمجھ میں نہیں آتاکہ آخر یہاں اسلامی انقلاب کا راستہ کدھر سے نکل آئے گا۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ مضبوط بلاک جو آپ کے سامنے نظر آرہا ہے‘ اور بظاہرٹھوس بھی محسوس ہوتا ہے‘ اس کی ساخت کو ذرا سمجھنے کی کوشش کیجیے‘ کہ یہ کن اجزا سے مرکب ہے اور ان کی پیوستگی کی نوعیت کیا ہے۔
ہندستان کے ان کروڑوں غیر مسلموں کو جس چیز نے متحد اور منظم کیا ہے‘ وہ کوئی مستقل نظریۂ حیات‘ کوئی مضبوط فلسفہ زندگی اور کوئی شعوری نصب العین نہیں ہے‘ کہ اس کا متزلزل ہونا اور بدل جانا مشکل ہو‘ بلکہ وہ محض ایک قوم پرستی کا جذبہ ہے‘ جو ایک طرف اجنبی اقتدار کے خلاف اور دوسری طرف مسلم قوم پرستی کے مقابلہ میں بھڑکا یا گیا تھا۔ قوم پرستی کا فطری خاصہ یہ ہوتا ہے‘ کہ وہ صرف کسی مخالف ومزاحم اور مبار ز طاقت ہی کے مقابلہ میں پیدا ہوا کرتی ہے‘ اس کی شدت مزاحمت ہی سے بھڑکتی ہے‘ اور جب تک وہ طاقت مقابلہ میں موجود ہواسی وقت تک باقی رہتی ہے۔ جونہی کہ مزاحمت ختم ہوئی اور قوم پرستی کا مقصد حاصل ہوا‘ یہ جذبہ آپ سے آپ دب جاتا ہے‘ اندرونی زندگی کے دوسرے اہم تر مسائل لوگوں کی توجہات کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں‘ اور وہ عناصر جو محض قوم پرستی کے جذبہ سے باہم پیوستہ ہوئے تھے بکھرنے لگتے ہیں۔ ہندو قوم پرستی کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ جن دو پائوں پر کھڑ ی ہوئی تھی‘ ان میں سے ایک …یعنی انگریزی اقتدار سے نجات پانے کا جذبہ…عنقریب گرا چاہتا ہے‘ اس کے بعد صرف دوسرا پائوں باقی رہ جاتا ہے۔ یعنی مسلم قوم پرستی کے مقابلہ کا جذبہ سو پاکستان کے بن جانے کے بعد اس کا قائم رہنا بھی مشکل ہے‘ بشرطیکہ ہندو علاقے کی مسلمان اقلیت اپنے مسئلے کو حل کرنے کی کوئی ایسی راہ نکال لے جس سے نہ تو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ونزاع کے اسباب پیدا ہوں ‘اور نہ ہندستان کے اندر مسلم قوم پرستی کے دعوئوں اور مطالبوں کو دبانے کے لیے ہندو قوم پرستی کے مشتعل ہونے کا کوئی موقع باقی رہے۔ یہ حکمت اگر خدا نے مسلمانوں کو عطا کر دی تو آپ دیکھیں گے کہ نیشنلسٹ لیڈر اور قومی ومذہبی عصبیتوں کے مبلغین مصنوعی خطرے اور جعلی ہوّلے پیش کرکر کے موجودہ قوم پرستی کو زندہ اور مشتعل رکھنے کی خواہ کتنی ہی کوشش کریں‘ وہ بہرحال مر کے رہے گی‘ اور وہ مختلف ومتضاد عناصر جن کی ترکیب سے یہ قوم پرست بلاک بنا ہے‘ بکھر کر رہیں گے۔ اس لیے کہ اس بلاک کے اندر خود اس کے اپنے عناصر ترکیبی کے درمیان جو تمدّنی‘ معاشرتی بے انصافیاں جو معاشی جفا کاریاں‘ جو اغراض ومقاصد کی کشاکشیں‘ اور جو طبقاتی منافرتیں موجود ہیں‘ وہ بیرونی خطرات کے ہٹتے ہی‘ اپنے آپ کو بزور محسوس کرائیں گی‘ اور ملک کے آئندہ نظام‘ اختیارات کی تقسیم‘ حقوق کے تعین اور سماجی نظام کی تشکیل کے مسائل لامحالہ ان کو آپس میں پھاڑ دیں گے۔ اس تفرقہ کے لیے ایسے طاقت ور اور فطری اسباب موجود ہیں‘ کہ اسے رونما ہونے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔
ہندستان کا موجودہ سماجی نظام کچھ اس طرز پر بنا ہے‘ کہ وہ بے شمار طبقات پر مشتمل ہے‘ جن میں سے بعض بعض پر چڑھے ہوئے‘ اور بعض ان سے دبے ہوئے ہیں۔ ان طبقوں کے درمیان پیدائشی برتری وپستی‘ اور اٹل امتیازات کا تصوّر گہری جڑوں کے ساتھ جما ہوا ہے‘ اور اس کو تنا سخ کے فلسفے سے اور زیادہ مضبوط کر دیا گیا ہے۔ پست طبقوں کے حق میں یہ یقین پیدا کیا گیا ہے‘ کہ وہ پستی ہی کے لیے پیدا ہوئے ہیں‘ اور یہ ان کے پچھلے کرموں کا لازمی نتیجہ ہے‘ جسے انہیں بہرحال بھگتا ہی پڑے گا‘ جسے بدلنے کی ہر کوشش بے سود ہے۔ اور اونچے طبقوں کے حق میں یہ اذعان پیدا کیا گیا ہے‘ کہ وہ پیدا ہی برتری کے لیے ہوئے ہیں۔ برتری ان کا حق اور ان کے پچھلے کرموں کا نتیجہ ہے‘ اور اس کو بدلنے کی کوشش قانون قدرت کے خلاف ہے۔ اس سماجی نظام میں ہر اوپر کا طبقہ نیچے والے طبقہ کے سر پر پائوں رکھے کھڑا ہے‘ اور اسے روند رہا ہے۔ معاشرت کے ہر پہلو میں اونچ اور نیچ کا امتیاز ہے۔ قدم قدم پر بے شمار بے انصافیاں ہیں۔ تمدّن کے ہر گوشہ میں امتیاز کا برتائو ہے خواہ کھانے پینے کا معاملہ ہویا رہن سہن کا‘ یا شادی بیاہ کا‘ اور اس امتیاز میں صرف تفریق ہی کا نہیں‘ بلکہ تحقیر اورتذلیل کا عنصر بھی شامل ہے۔ حدیہ ہے‘ کہ اونچے طبقے اس بات کو بھی گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ کہ نیچے طبقوں کے مرد اور عورتیں ان کے سے لباس اور زیور پہن لیں‘ حال ہی کی بات ہے‘ کہ راجپوتا نہ کے گوجروں اور جاٹوں نے اس بات پر ہنگامہ برپا کر دیا تھا‘ کہ چما ر وغیرہ نیچے طبقوں نے …جو جنگ کی وجہ سے خوش حال ہوگئے ہیں‘ اور کچھ باہر کی ہوا بھی کھا آئے ہیں۔ اپنی عورتوں کو ان کی عورتوں کے سے لباس اور زیور پہنانے شروع کر دئیے ہیں‘ باوجود یکہ یہ جاٹ اور گوجر خود بھی اپنے ساتھ راجپوتوں کے ایسے ہی سلوک کی تلخی محسوس کرتے ہیں‘ مگر پھر بھی انہوں نے اس بات کو اپنی توہین قرار دیا‘ کہ چمار اُٹھ کر معاشرت میں ان کے ہم سر بنیں۔ چنانچہ مجموعی طور پر ان کی برادری نے زور لگانا شروع کیا کہ ان غریبوں کو زبردستی اسی پستی میں پھینک دیں جس سے وہ اُٹھنا چاہتے ہیں۔
معاشی نظام بڑی حد تک اسی سماجی نظام کی ترتیب پر قائم ہے‘ اور اس کے قدیم ظالمانہ پہلوئوں پر جدید سرمایہ داری کی خصوصیات کا اور اضافہ ہوگیا ہے۔ جو طبقے قدیم اجتماعی نظریات اور مابعد الطبیعی فلسفوں (metaphysical philosophies)کی مدد سے اوپر کی سیڑھیوں پر متمکن ہوچکے ہیں‘ انہوں نے صرف اتنے ہی پر اکتفا نہیں کیا ہے‘ کہ ملک کی تمدّنی زندگی میں برتری کو اپنے لیے مخصوص کر لیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہی ملک کی دولت اور اس کے وسائل وذرائع پر بھی قابض ہوگئے ہیں‘ اور نیچے کی سیڑھیوں پر رہنے والی عام آبادی کے لیے انہوں نے زندگی بسر کرنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں چھوڑی ہے‘ کہ وہ ذلت کے ساتھ ان کی خدمت اور مزدوری کریں۔ اس معاشی نظام میں محروم اور محنت پیشہ طبقوں کے ساتھ جو بے انصافیاں اور زیادتیاں پائی جاتی ہیں ان کا شمار کرنا مشکل ہے۔ پھر اونچے طبقوں نے خود اپنے دائرے میں بھی ظلم و ناانصافی کی بہت سی شکلیں اختیار کر رکھی ہیں‘ جن کی بنا پر کم لوگ خوش حال اور زیادہ لوگ بدحال ہیں۔ ان کی سود خواری ان کا مشترک خاندانی جائیداد کا طریقہ (joint family system)ان کا توریثِ اولادِ اکبر کا قانون(rule of primogeniture) اور اسی طرح کے اور بہت سے طریقے ایسے ہیں‘ جو دولت اور اس کے ذرائع کو سمیٹ کر چند لوگوں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں‘ اور بہت سوں کو محروم اور دست نگر بنا دیتے ہیں۔ انہی طریقوں سے جن ہاتھوں میں دولت سمٹی ہے وہ اب جدید سرمایہ داری کے ڈھنگ اختیار کر کے ملک کی صنعت‘ تجارت اور مالیات پر مسلّط ہوئے ہیں‘ اور ہوتے جا رہے ہیں۔
اب جو سیاسی نظام بنایا جا رہا ہے اس کی تصنیف میں کاغذ پر تو بلا شبہ جمہوریت‘ اجتماعی انصاف (social justice)مساوات اور مواقع کی یکسانی (equality of opportunities)کے بڑے بڑے نفیس تصوّرات بہت ستھری اور دلکش زبان میں رقم کیے جا رہے ہیں‘ لیکن ظاہر ہے‘ کہ ان الفاظ کی اصل قیمت ان کے تلفظ میں نہیں ان پر واقعی عمل درآمد میں ہے‘ عملاً جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے‘ کہ اسی سیاسی نظام کی تشکیل‘ تعمیر اور تنقید کے سارے کام پر وہی طبقے حاوی ہیں‘ جو سماجی اور معاشی نظام کی اوپر والی سیڑھیوں پر تشریف فرما ہیں… نہیں‘ بلکہ پیدا ہوئے ہیں… اور تجربہ نے ہمیں بتا دیا ہے‘ کہ ان طبقوں کو خدا نے سب کچھ دیا ہے‘ مگر بڑا دل‘ وسیع ظرف اور فراخ حوصلہ نہیں دیا۔ ان کی تنگ دلی اب تک بھی ہندستان کو بہت کچھ نقصان پہنچا چکی ہے‘ اور آئندہ بھی اسے دیکھتے ہوئے مشکل سے یہ توقع کی جا سکتی ہے‘ کہ یہ لوگ اپنی سیاسی طاقت کو واقعی انصاف قائم کرنے میں استعمال کریں گے۔
یہ حالات اپنے اندر اتنی تلخیاں رکھتے ہیں‘ جنہیں ملک کی عام آبادی شدت کے ساتھ محسوس کر رہی ہے۔ اب تک قوم پرستی کے نشے نے اس احساس کو بڑی حدتک دبائے رکھا تھا‘ اور لوگ اس اُمید پر جی رہے تھے‘ کہ ملک کا انتظام جب ہمارے ہاتھ میں آجائے گا‘تو یہ بے انصافیاں ختم ہوجائیں گی۔ اب انتظام کے اختیارات جب فی الواقع اہلِ ملک کی طرف منتقل ہوجائیں گے‘ تو یہ سوال زیادہ دیر تک نہ ٹل سکے گا‘ کہ ان اختیارات کو آئندہ کس طرح استعمال کیا جائے‘ جس سے ملک میں حقیقی انصاف قائم ہو۔ ہندوستان کے مستقبل کی باگیں اس وقت جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں وہ ہندو کلچر کی سابق روایات کے ساتھ مغربی یورپ اور امریکہ کے طریق زندگی اور کچھ سوشل ازم کا جوڑ لگاتے نظر آتے ہیں۔ یہ میرا اندازہ اگر صحیح ہے‘ تو اس طرح سے وہ ایک نمائشی جمہوریت‘ ایک ظاہری مساوات اور ایک نظر فریب عدل قائم کرنے میں تو ضرور کامیاب ہوجائیں گے‘ مگر اس کی تہہ میں بدستور وہی بے انصافیاں‘ وہی ناہمواریاں اور وہی تفریقیں بر قرار رہیں گی ‘جو اس وقت پائی جاتی ہیں‘ کیونکہ تفریق وامتیاز‘ ہندو کلچر کی رگ رگ میں پیوست ہے‘ جس کے ہوتے کسی حقیقی جمہوریت کا قیام غیر ممکن ہے‘ اور اس کے ساتھ مغربی نظریات کا جوڑ لگنے سے اس کے سوا کچھ حاصل ہونے کی اُمید نہیں کی جا سکتی‘ کہ اونچے طبقوں کی برتری وسرمایہ داری کو الیکشنوں اور ووٹوں کے ذریعہ سے سند جو از مل جائے۔ اسی لیے یہ امر قریب قریب یقینی نظر آتا ہے‘ کہ یہ لوگ بہت جلدی ہندستان کی عام آبادی کو مایوس کر دیں گے۔ ان کے ہاتھوں انصاف قائم نہ ہوسکے گا‘ اور کچھ زیادہ دیر نہ گزرنے پائے گی‘ کہ ہندستانی عوام‘ کسان‘ مزدور‘ اور خود اونچے طبقہ کے محروم لوگ‘ کسی دوسرے منصفانہ نظام کی طلب میں بے چین ہونے لگیں گے۔
اشتراکی گروہ اسی صورت حال سے فائدہ اُٹھانے کی تیاریاں کر رہا ہے‘ جونہی کہ موجودہ قوم پرستی اپنے مدعا کو پہنچنے کے بعد مضمحل ہوئی وہ اسی طبقاتی خلل اور اسی تصادمِ اغراض کے شگافوں میں سے اپنا راستہ نکالنے کی کوشش کرے گا‘ اور عام باشندوں کو انصاف کی اُمیدیں دلا کر سیاسی اقتدار حاصل کرنا چاہے گا۔ مگر اس گروہ کے پاس ان بے انصافیوں کو ختم کرنے کے لیے کوئی ایسا پروگرام نہیں ہے‘ جو خود ظلم سے بے انصافی سے‘ کشت وخون اور فساد سے اور بالآخر جباری وقہاری سے پاک ہو۔ وہ ہندستان کو موجودہ فرقہ وارانہ منافرت اور نزاع کی جگہ طبقہ وارانہ منافرت اور نزاع کا تحفہ دے گا۔ اب تک جہاں ہندو اور مسلمان کے جھگڑے کی بنا پر لوگ ایک دوسرے کے سر پھاڑتے اور گھر جلاتے رہے ہیں وہاں اب روٹی کے جھگڑے کی بنا پر وہی لوگ کشت وخون کرنے لگیں گے۔ ایک طبقہ دوسرے طبقے کے خلاف اسی طرح نفرت اور غصے سے بھڑک اُٹھے گا‘ جس طرح آج ایک فرقہ دوسرے فرقے کے خلاف بھڑکا ہوا ہے۔ فرقہ پرستی اور قوم پرستی کی جگہ طبقاتی مفاد کی پرستاری لے لے گی‘ اور انصاف کے حقیقی جذبہ سے دل جس طرح آج قومی جنگ کے زمانے میں خالی ہیں اسی طرح اس وقت طبقاتی جنگ کے زمانہ میں بھی خالی ہوں گے۔ بر سر اقتدار طبقے محروم طبقوں کو محروم رکھنے کے لیے لڑیں گے‘ اور محروم طبقے ان کی جگہ لے کر اُلٹا انہیں محروم کر دینے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائیں گے۔ اس طرح ہندستان ایک مدّت تک امن کی صورت کو تر ستارہے گا‘ اور آخر کار اگر خدانخواستہ اشتراکی انقلاب کامیاب ہوگیا‘ تو مزید ایک طویل مدّت تک یہاں روس کی طرح اونچے طبقوں کو ان کی زمینوں‘ جائیدادوں اور کارخانوں سے بے دخل کرنے کے لیے سخت کشت و خون اور ظلم وجور کا بازار گرم رہے گا۔ پھر اشتراکی نظام قائم ہوجانے کے بعد ویسی ہی ڈکٹیٹر شپ یہاں بھی قائم ہوگی‘ جیسی روس میں ہے۔ اسی طرح ملک کی پوری آبادی کو ایک جابرانہ اور ہمہ گیر (totalitarian)اقتدار کے شکنجے میں کس دیا جائے گا‘ اسی طرح لوگ زبان اور قلم اور خیال کی آزادی سے محروم ہوجائیں گے‘ اسی طرح تمام لوگوں کا رزق چند لوگوں کے ہاتھوں میں آجائے گا ‘اور اسی طرح بندگانِ خدا کو اتنی آزادی بھی حاصل نہ رہے گی کہ اس نظام کی سختیوں سے دل برداشتہ ہوں‘ تو کچھ چیخ پکار کر لیں یا اس حالت کو بدلنے کے لیے کوئی سیاسی تنظیم اور اجتماعی کوشش کر سکیں۔ اور ان سب سے بڑھ کر اس اشتراکی انقلاب سے جو نقصان ہندوستان کو پہنچے گا‘ وہ یہ ہے‘ کہ پچھلی صدیوں کے انحطاط کے باوجود جو تھوڑی بہت روحانی اور اخلاقی قدریں ہندستان کی تہذیب میں باقی ہیں‘ وہ بھی ختم ہوجائیں گی‘ اور یہ ملک سر اسر ایک مادّہ پرست ملک بن کر رہ جائے گا۔
اس انجام سے اگر کوئی چیز ہندستان کو بچا سکتی ہے‘ تو وہ یہ ہے‘ کہ کوئی گروہ ایک ایسے نظامِ فکرو عمل کو لے کر اُٹھے‘ جس میں اعلیٰ درجہ کی اور حقیقی روحانی واخلاقی قدریں بھی ہوں‘ سچائی اور بے لاگ اجتماعی انصاف بھی ہو‘ اصلی جمہوریت… محض سیاسی ہی نہیں‘ بلکہ تمدّنی ومعاشرتی جمہوریت (social democracy)بھی ہو‘ اور تمام باشندگانِ ملک کے لیے بلا امتیاز طبقہ ونسل انفرادی واجتماعی حیثیت سے ترقی کے یکساں مواقع بھی ہوں۔ جو ایک یا چند طبقوں کے مفاد کو نہیں‘ بلکہ سب انسانوں کے مفاد کو یکساں ہمدردی اور انصاف کی نظر سے دیکھے‘ کسی کا حمایتی اور کسی کا دشمن نہ ہو‘ طبقوں اور گروہوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکسانے اور لڑانے کے بجائے‘ ایک مبنی بر انصاف نظامِ زندگی پر انہیں متحد کرے‘ محروم طبقوں کو وہی کچھ دلائے جو ان کا فطری حق ہے‘ اور اونچے طبقوں سے صرف وہی کچھ لے‘ جو ان کے پاس ان کے فطری حقوق سے زائد ہے۔ ایسے ایک نظام کو اگر ملک کے لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے‘ اور اس کو پیش کرنے والے وہ لوگ ہوں‘ جن کی سیرت اور اخلاق پر اعتماد کیا جا سکے‘ جو خود کسی قسم کی قومی یا طبقاتی یا ذاتی خود غرضی میں مبتلا نہ ہوں‘ جن کی اپنی زندگیاں اس بات پر گواہ ہوں‘ کہ درحقیقت انہی سے انصاف کی اُمید وابستہ کی جا سکتی ہے‘ اور جن میں دیانت اور انتظامِ دنیا کی صلاحیت دونوں جمع ہوں‘ تو کوئی وجہ نہیں ہے‘ کہ ہندستان کے باشندے اس نظام کے مقابلہ میں اشتراکی انقلاب کے راستے کو ترجیح دیں۔ اشتراکی انقلاب تو ایک آپریشن ہے‘ جو مرض کے ساتھ تندرستی کے بھی ایک بڑے حصے کا استیصال کر دیتا ہے‘ اور انسان اسے صرف ایسی مجبوری کی حالت ہی میں گوارا کیا کرتا ہے‘ جب دوا سے مرض کی اصلاح ہونے کی کوئی اُمید باقی نہ رہے۔ دنیا میں جہاں بھی کسی ملک کے لوگوں نے اس آپریشن کے طریقے کو اختیار کیا ہے اسی وجہ سے کیا ہے‘ کہ ان کے سامنے ظالمانہ سرمایہ داری اور اشتراکیت کے درمیان کوئی ایسا تیسرا راستہ تھا ہی نہیں‘ جس میں وہ ان دونوں کی خرابیوں سے بچ کر انصاف پا لینے کی اُمید کر سکتے۔ اگر اس قسم کا تیسرا راستہ پیش کر دیا جائے۔جیساکہ پیش کرنے کا حق ہے‘ تو نہ ہندستان کے لوگ ایسے پاگل ہیں‘ اور نہ دنیا کے دوسرے ملکوں کی آبادی ہی کو اس قدر دیوانہ فرض کرنے کی کوئی وجہ ہے‘ کہ وہ ایک کارگردوا کو آزمانے کے بجائے خواہ مخواہ آپریشن ہی پر اصرار کریں۔
سوال یہ ہے‘ کہ آیا مسلمان یہ تیسرا راستہ پیش کر سکتے ہیں‘ یا نہیں؟اگر پیش کر سکتے ہیں‘ اور اس تیسرے راستے کا نام اسلام ہی ہے‘ تو میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ مستقبل کے ہندستان میں اشتراکیت کے بالمقابل اسلام کے لیے کامیابی کے کم از کم ۶۰فی صدی امکانات ہیں یہ مسلمانوں کی انتہائی بدقسمتی اور سخت نالائقی ہوگی‘ کہ ان کے پاس اسلام جیسا ایک کامل اور صحیح نظام موجود ہو‘ اور پھر وہ اُسے لے کر اُٹھنے کے بجائے‘ پورا میدان اشتراکیت کے لیے خالی چھوڑ دیں۔
اب میں آپ کو مختصر طور پر بتائوں گا کہ ہندستان میں اسلامی انقلاب کا راستہ ہموار کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا ہے۔
(1)سب سے مقدم کام یہ ہے‘ کہ اس قومی کش مکش کا خاتمہ کیا جائے‘ جو ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان اب تک برپا رہی ہے‘ میرے نزدیک یہ بات پہلے بھی غلط تھی کہ مسلمان اسلام کے لیے کام کرنے کے بجائے اپنی قومی اغراض اور مطالبوں کے لیے لڑتے رہے۔ مگر اب تو اس لڑائی کو جاری رکھنا محض غلطی نہیں‘ بلکہ مہلک غلطی اور احمقانہ خودکشی ہے۔ اب یہ نہایت ضروری ہے‘ کہ مسلمان اپنے طرزِعمل کو بالکل بدل دیں۔ یہ اسمبلیوں میں نمائندگی کے تناسب کا سوال یہ انتخابات کی دوڑ دھوپ‘ یہ ملازمتوں کے لیے کش مکش‘ اور یہ دوسرے قومی حقوق اور مطالبوں کے لیے چیخ پکار‘ آئندہ دور میں لاحاصل ہوگی‘ اور نقصان دہ بھی۔ لاحاصل اس لیے کہ اب جن لوگوں کے ہاتھ میں ہندستان کی حکومت آرہی ہے‘ وہ مخلوط انتخابات اور ملازمتوں میں صرف قابلیت کے لحاظ کا اصول مقرر کر کے‘ مسلمانوں کی جدا گانہ سیاسی ہستی کو ختم کر دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں‘ اور ان کے فیصلے کو نافذ ہونے سے کسی طرح نہیں روکا جا سکتا۔ نقصان دہ اس لیے کہ ان ’’حقوق‘‘ کے استقرار کی جتنی کوشش بھی مسلمان کریں گے وہ ہندوئوں کے قومی تعصّب کو اور زیادہ مشتعل کرے گی‘ اور اگر وہ اپنی شکایات کو رفع کرانے کے لیے پاکستان کی مدد حاصل کرنا چاہیں گے‘ تو یہ بین الاقوامی پیچیدگی اور کش مکش کا سبب بن جائے گا‘ جس سے ہندو قوم پرستی کو زندگی کی مزید طاقت مل جائے گی۔ لہٰذا اب ہمیں وسیع پیمانے پر مسلمانوں میں ایسی رائے عام تیار کرنی چاہئے‘ کہ وہ بحیثیت ایک قوم کے حکومت اور اس کے نظام سے بے رغبتی اختیار کر لیں‘ اور ہندو قوم پرستی کو اپنے طرزِعمل سے یہ اطمینان دلا دیں کہ میدان میں کوئی دوسری سیاسی قومیّت اس کے ساتھ کش مکش کرنے کے لیے موجود نہیں ہے۔ یہی ایک طریق ہے اس غیر معمولی تعصّب کو ختم کر دینے کا‘ جو اس وقت غیر مسلم اکثریت کے اندر اسلام کے خلاف پیدا ہوگیا ہے‘ اور اسی طریقہ سے غیر مسلموں کے اس اندیشے کو بھی دورکیا جا سکتا ہے‘ کہ اگر اسلام کو مزید اشاعت کا موقع دیا گیا‘ تو کہیں‘ پھر کسی علاقے کے مسلمان ایک اور پاکستان مانگنے کے لیے کھڑے نہ ہوجائیں۔
(2)دوسرا اہم کام ہمارے لیے یہ ہے‘ کہ ہم مسلمانوں میں وسیع پیمانے پر اسلام کا علم پھیلائیں‘ ان میں اسلام کی دعوت وتبلیغ کا عام جذبہ پیدا کردیں۔ اور ان کی اخلاقی وتمدّنی اور معاشرتی زندگی کی اس حد تک اصلاح کر لیں‘ کہ ان کے ہمسایہ غیر مسلموں کو خود اپنی سوسائٹی کی بہ نسبت ان کی سوسائٹی صریحاً بہتر محسوس ہونے لگے‘ اور ان میں سے جو لوگ بھی اس سوسائٹی میں شامل ہونے کے لیے آمادہ ہوں خواہ وہ کسی طبقے کے ہوں‘ ان کو بالکل مساویانہ حیثیت سے اپنے اندر لیا جا سکے۔یہ کام برسوں کی انتھک اور لگاتار محنت چاہتا ہے‘ مگر جب تک ہم مسلم سوسائٹی کے ایک بڑے حصّہ کو علمی وعملی اور تمدّنی ومعاشرتی حیثیت سے اسلام کا صحیح نمائندہ نہ بنا لیں ہمارا یہ اُمید کرنا محض ایک بوالفضولی ہے‘ کہ ہندستان کی عام غیر مسلم آبادی کی رائے کو اسلام کے حق میں ہموار کیا جا سکے گا۔ غیر مسلموں کے سامنے آپ کاغذ پر یا تقریر میں اسلام کو کیسے ہی دلپذیر انداز سے پیش کریں بہرحال وہ ان کو اپیل نہیں کر سکتا کیونکہ اسلام کے نمائندوں کا جو تجربہ انہیں رات دن کی زندگی میں ہورہا ہے‘ وہ آپ کے بیان کی تصدیق نہیں کرتا۔ پھر اگر ان میں کوئی ایسا حق پسند نکل بھی آئے کہ مسلمانوں کے بجائے اسلام کو دیکھ کر اسے قبول کرلے تو موجودہ مسلم سوسائٹی میں اس کا کھپنا مشکل ہوتا ہے‘ اس لیے کہ یہاں ابھی تک قدیم ہندوانہ جاہلیت کے موروثی تعصّبات‘ اونچ نیچ کے امتیازات‘ ذات برادری کے تفرقے اسلام میں آجانے کے باوجود جوں کے توں مخصوص ہیں‘ اور اس بنا پر ایک نو مسلم کو پھر انہی معاشرتی خرابیوں سے سابقہ پیش آتا ہے‘ جنہیں چھوڑ کر وہ ہندو سوسائٹی سے نکلاتھا۔ لہٰذا مسلمانوں کی…اگر سب کی نہیں‘ تو کم از کم ان کے ایک معتدبہ حصّہ کی… اخلاقی‘ تمدّنی اور معاشرتی زندگی کی اصلاح کے بغیر دعوتِ اسلامی کا قدم آگے نہیں بڑھ سکتا اور یہ ممکن نہیں ہے‘ کہ ہم محض نو مسلموںکی ایک الگ سوسائٹی بنا سکیں۔ اس اصلاح میں اگر ہم کسی حد تک بھی کامیاب ہوجائیں‘ اور اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں اسلام سے عام واقفیت بھی پیدا کریں‘ اور ان کے اندر یہ جذبہ بھی ابھار دیں کہ رات دن کی زندگی میں ان کو ہر جگہ غیر مسلموں سے جو سابقہ پیش آتا ہے اس میں وہ حسب ِموقع ان کے سامنے اسلام کو پیش کرتے رہیں‘ تو دعوت کی رفتار اتنی تیز ہوسکتی ہے‘ کہ ہندستان میں کوئی دوسری تحریک ِاسلام کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ یہاں مسلمانوں کی تعدا د چار پانچ کروڑ کے قریب ہے۔ اس تعداد کا بیسواں حصّہ بھی اگر اسلام کو جانتا ہو‘ اور اس کی تبلیغ شروع کر دے۔ تو اسلام کے مبلغوں کی تعداد ۲۰‘ ۲۵ لاکھ کے لگ بھگ ہوگی۔ کیا کوئی دوسری تحریک ایسی موجود ہے‘ جس کے پاس اتنے مبلغ ہوں؟پھر مسلمان ہندستان کی آبادی میں کھچڑی کی طرح‘ غیر مسلموں کے ساتھ ملے جلے ہیں‘ اور زندگی کے ہر شعبے میں‘ ہر جگہ‘ ہر وقت‘ انہیں دوسروں تک اپنے خیالات پہنچانے اور اپنے برتائو کا اثر ڈالنے کا موقع ملتا ہے‘ کیا کسی دوسری تحریک کو یہ مواقع حاصل ہیں؟پھر دوسری کسی تحریک کی اپنی کوئی مستقل سوسائٹی اور اپنا کوئی تمدّنی نظام نہیں ہے‘ ان کے دامن میں پناہ لے کر ہندستان کے بسنے والے اور دبے ہوئے طبقے‘ کچھ اپنے پیٹ کے مطالبے تو پورے کر سکتے ہیں‘ مگر اپنی معاشرتی زندگی کی مشکلات اور خرابیاں رفع نہیں کر سکتے۔ بخلاف اس کے مسلمان اپنی ایک مستقل سوسائٹی رکھتے ہیں‘ جو اگر ہمارے نصب العین کے مطابق کچھ بھی اصلاح یا فتہ ہوجائے‘ تو تمام ان لوگوں کے لیے پوری پناہ گاہ بن سکتی ہے‘ جنہیں معاشرتی زندگی میں پست بنا کر رکھ دیا گیا ہے‘ یا جن کو جاہلی نظامِ تمدّن ومعاشرت کی دوسری خرابیوں نے پریشان کر دیا ہے۔
(3)تیسرا ضروری کام یہ ہے‘ کہ ہم اس ملک کے مسلمانوں کی ذہنی طاقت کا زیادہ سے زیادہ حصّہ‘ اپنی اس دعوت کے لیے فراہم کر دیں‘ اور اس سے باقاعدگی کے ساتھ کام لیں۔ ہندستانی مسلمانوں کا تعلیم یافتہ طبقہ اپنے ان مقاصد میں ناکام ہوچکا ہے‘ جن پر اس نے اب تک نظر جما رکھی تھی۔ اس ناکامی کا شعور حاصل ہوتے ہی اس پر یاس طاری ہونی شروع ہوجائے گی اس موقع پر اگر ان کے سامنے ایک روشن نصب العین اُمیدوں اور بشارتوں کے ساتھ آئے‘ تو وہ ان کے ایک بڑے حصے کی توجہات اپنی طرف کھینچ لے گا۔ اس طرح جیسے جیسے ہماری دعوت کو یہ طاقت حاصل ہوتی جائے ہم چاہتے ہیں‘ کہ اسے ان نتیجہ خیز کاموں پر لگایا جاتا رہے‘ جو اسلامی انقلاب کو قریب تر لاسکیں۔ مثلاً ہم مسلمانوں کی اخبار نویسی کے موجودہ رُجحانات کو بالکل بدل دینا چاہتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے‘ کہ بہتر قسم کے اہلِ قلم اب انگریزی‘ اردو اور دوسری زبانوں میں اخبارات جاری کریں‘ اور ان میں حقوق کی چیخ پکار‘ ملازمتوں کے فی صدی تناسب پر شورو غل اور محکموں میں ہندو گردی پر واویلا کرنے کے بجائے رائج الوقت نظام پر اصولی تنقید کریں اس کی خامیوں کا ایک ایک پہلو نمایاں کر کے پبلک کو دکھائیں اور اس سے بہتر ایک نظامِ زندگی پیش کرکے رائے عام کو اس کے حق میں ہموار کریں۔ اسی طرح ہم چاہتے ہیں‘ کہ ہمارے نوجوان ادیب ارباب نشاط کا پیشہ چھوڑ کر اپنی ادبی قابلیتوں کو ایک اعلیٰ درجہ کا تعمیری ادب پیدا کرنے میں صرف کریں‘ جو انسانیت کے شعور کو بیدار کرے‘ اور ذہنوں میں ایک صالح نظام کے لیے تڑپ پیدا کر دے۔ پھر جن لوگوں کو خدا نے زیادہ بلند درجہ کی دماغی صلاحیتیں دی ہیں‘ ان کو ہم دنیا کی ذہنی امامت کا راستہ دکھانا چاہتے ہیں‘ اور وہ یہ ہے‘ کہ یہ حضرات قرآن کی مشعل ہاتھ میں لے کر‘ علم کے ہر گوشے اور مسائل حیات کے ہر پہلو کا جائزہ لیں‘ اور تحقیق وکاوش کے ساتھ اسلامی نظامِ زندگی کی پوری تصویر دنیا کے سامنے پیش کر دیں‘ جس سے دیکھ کر لوگ بآسانی یہ معلوم کر سکیں کہ اگر دنیا کاانتظام اس نظام کے مطابق ہو‘ تو اس کی تفصیلی صورت کیا ہوگی۔ ان سب کے علاوہ اسی اہلِ دماغ طبقہ میں سے وہ لوگ بھی نکل سکتے ہیں‘ جو لیڈرشپ کی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ اسلامی دعوت کو ایک عمومی تحریک بنانے کے لیے ضروری ہے‘ کہ ان لوگوں کو اس کی رہنمائی کا منصب سنبھالنے کے لیے تیار کیا جائے۔
(4)چوتھا ضروری کام یہ ہے‘ کہ ہمارے سب کارکن اور وہ تمام لوگ جو آئندہ ہماری تحریک سے متاثر ہوں ہندستان کی ان مقامی زبانوں کو سیکھیں اور ان میں تحریر وتقریر کی قابلیت بہم پہنچائیں‘ جو آئندہ تعلیم اور لٹریچر کی زبانیں بننے والی ہیں۔ نیز اس امر کی انتہائی کوشش کریں کہ ان زبانوں میں جلدی سے جلدی اسلام کاضروری لٹریچر منتقل کر دیا جائے۔ جنوبی ہند میں تامل‘ لنگی‘ کنٹری‘ ملایا لم اور مرہٹی‘ مغربی ہند میں گجراتی‘ مشرقی ہند میں بنگلہ اور باقی ہندستان میں ہندی اب تعلیم کی زبانیں ہوں گی۔ یہی اپنے اپنے علاقوں میں دفتری اور سرکاری زبانیں بھی ہوں گی‘ اور انہی میں ملک کا لٹریچر شائع ہوگا۔ اگر مسلمان اپنی قومی عصبیت کی بنا پر صرف اردو تک اپنی تحریر وتقریر کو محدود رکھیں گے تو ملک کی عام آبادی سے بے گانہ ہوکر رہ جائیں گے‘ اور ان کے پاس اپنے کروڑوں ہمسایوں کو اپنا ہم خیال بنانے کا کوئی ذریعہ نہ رہے گا۔ بلا شبہ ہم یہ ضرور چاہتے ہیں‘ کہ اردو زبان نہ صرف باقی رہے‘ بلکہ فروغ پائے کیونکہ ہمارا اب تک کا سارا سرمایہ علم وتہذیب اسی زبان میںہے۔ لیکن ہم اسلام کے مستقبل کو اردو زبان کے دامن سے باندھ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر اردو زبان ملک کی عام زبان نہیں بن سکتی اور آثار یہی بتا رہے ہیں‘ کہ اس کو یہ حیثیت حاصل نہ ہوگی‘ تو پھر جن جن زبانوں کو ملک میں رواج حاصل ہوگا ہم ان سب میں اسلام کا لٹریچر مہیا کریں گے‘ اور ان سب کواسلام کی دعوت وتبلیغ کے لیے استعمال کریں گے۔ ایسا کرنا محض غیر مسلموں ہی کی خاطر نہیں‘ بلکہ خود مسلمانوں کی آئندہ نسلوں کو بھی مسلمان رکھنے کی خاطر ضروری ہے‘ کیونکہ آگے چل کر مسلمان بچے درسگاہوں میں تعلیمی زبان اور درس گاہوں سے باہر سرکاری اور ملکی زبان سے اس قدر متاثر ہوں گے کہ اردو سے ان کا تعلق برائے نام رہ جائے گا ‘اور اگر ان زبانوں میں کافی اسلامی لٹریچر نہ ملا تو وہ بالکل اکثریت کے رنگ میں رنگتے چلے جائیں گے۔
یہ چار کام ایسے ہیں‘ جن پر ہندستان میں اسلام کا اور خود آپ کا مستقبل منحصر ہے‘ اس لیے آپ کو اپنے تمام ذرائع اور اپنی پوری قوّت کار اور اپنی ساری فکر ان پر مرکوز کر دینی چاہئے کیونکہ اس ابتدائی پروگرام کو بڑی حد تک عمل میں لائے بغیر آگے کا کوئی پروگرام آپ نہیں بنا سکتے۔ اب وہ وقت ہے‘ کہ ایک لمحہ بھی اگر آپ تساہل میں ضائع کریں گے تو جرم کریں گے جس طوفان کی میں دس سال سے خبر دیتا رہا ہوں وہ امنڈ آیا ہے۔ اب اگر آپ نے اس کے تدارک کی فکر نہ کی‘ تو یہ سب مسلمانوں کے ساتھ آپ کو بھی لے ڈوبے گا۔ جو حالات اب اس ملک میں پیش آنے والے ہیں وہ آپ کے صبر کا آپ کے عزم کا آپ کے استقلال کا آپ کی حکمت ودانائی کا اور آپ کی عملی طاقت کا سخت امتحان لیں گے۔ آپ کے ایک طرف دجال کی جنت ہوگی‘ جس میں داخل ہونے اور مدارج عالیہ پر چڑھنے کے لیے شرطِ لازم یہ ہوگی کہ تیز سے تیز قوّت شامہ رکھنے والے کو بھی آدمی کے اندر اسلامیت اور غیرت کی ذرا سی بُوتک محسوس نہ ہوسکے اور آپ دیکھیں گے کہ آپ کے گردو پیش بہت سے مسلمان اپنی دنیوی نجات کی خاطر اس شرط کو پورا کرنے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ آپ کے دوسری جانب ہتھوڑے اور درانتی کا جھنڈا بلند ہوگا ‘اور اس کے سایہ میں ایک دوسری جنت شداد کا خیالی نقشہ پیش کیا جائے گا‘ جس کے عاشقوں کو قسم دی جائے گی کہ خدا پرستی اور دیانت واخلاق سے اپنے دلوں کو خالی کر لیں۔ آپ کی آنکھیں یہ بھی دیکھیں گی کہ دنیا کے بھوکے مسلمانوں غیر مسلموں کا ایک جم غفیر اس کی طرف دوڑ رہا ہوگا۔ ان دو جھوٹی جنتوں کے درمیان آپ اپنے آپ کو ایسے مقام پر کھڑا پائیں گے جہاں اسلام پر جمنے والوں اور اس کے لیے کام کرنے والوں کو ترقی وخوش حالی تو درکنار زندہ رہنے کا سامان بھی مشکل ہی سے میسر آئے گا۔ ان کو ہر قدم پر ہمت شکن حالات سے سابقہ پیش آئے گا۔ ان کی غیرت اسلامی اور عزت نفس کو ہر وقت چرکے لگیں گے۔ شعائر اسلامی کو وہ نہ صرف مٹتے دیکھیں گے‘ بلکہ ان کی علانیہ اہانت ہوگی‘ اور بعید نہیں کہ مسلمانوں کے اپنے ہاتھوں ہو۔ ان حالات میں صرف وہی لوگ اسلامی انقلاب کے لیے کام کر سکیں گے‘ جو غیر معمولی صبر وثبات انتہائی سر گرمی اور غایت درجہ کی حکمت ودانش مندی سے بہرہ ور ہوں۔ یہ تین خصوصیات اگرآپ اپنے اندر پیدا کر لیں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان شاء اﷲ اس طوفان کا رخ پھیر دینے میں بہت زیادہ دیر نہ لگے گی۔ (ترجمان القرآن-جون ۱۹۴۷ء)

خ خ خ

صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں جماعت ِاسلامی کا مسلک

سوال:۔جیسا کہ آپ کو معلوم ہے صوبہ سرحد میں اس سوال پر ریفرنڈم ہورہا ہے کہ اس صوبہ کے لوگ تقسیم ہند کے بعد اپنے صوبے کو ہندستان کے ساتھ شامل کرانا چاہتے ہیں‘ یا پاکستان کے ساتھ؟وہ لوگ جو جماعت ِاسلامی پر اعتماد رکھتے ہیں‘ ہم سے دریافت کرتے ہیں‘ کہ ان کو اس استصواب میں رائے دینی چاہئے؟ اور کس طرف سے رائے دینی چاہئے؟ کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے‘ کہ اس استصواب میں بھی ہماری پالیسی اسی طرح غیر جانب دارانہ ہونی چاہئے‘ جیسی مجالس قانون ساز انتخابات میں رہی ہے ورنہ ہم پاکستان کے حق میں اگر ووٹ دیں گے تو یہ ووٹ آپ سے آپ اس نظامِ حکومت کے حق میں بھی شمار ہوگا‘ جس پر پاکستان قائم ہورہا ہے۔
جواب:۔استصواب رائے کا معاملہ مجالس قانون ساز کے انتخابات کے معاملے سے اصولاً مختلف ہے۔ استصواب رائے صرف اس امر سے متعلق ہے‘ کہ تم کس ملک سے وابستہ رہنا چاہتے ہو‘ ہندستان سے یا پاکستان سے؟ اس معاملے میں رائے دینا بالکل جائز ہے‘ اور اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔ لہٰذا جن جن علاقوں میں استصواب رائے کیا جا رہا ہے‘ وہاں کے ارکان جماعت ِاسلامی کو اجازت ہے‘ کہ اس میں رائے دیں۔
رہا یہ سوال کہ کس چیز کے حق میں رائے دیں تو اس معاملے میں جماعت کی طرف سے کوئی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی کیونکہ جماعت اپنے ارکان کو صرف ان امور میں پابند کرتی ہے‘ جو تحریک اسلامی کے اصول اور مقصد سے تعلق رکھتے ہیں‘ اور یہ معاملہ نہ اصولی ہے نہ مقصدی۔ اس لیے ارکان جماعت کو اختیار ہے‘ کہ وہ اپنی صواب دید کے مطابق جو رائے چاہیں دیدیں۔ البتہ شخصی حیثیت سے میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر میں خود صوبہ سرحد کا رہنے والا ہوتا‘ تو استصواب رائے میں میرا ووٹ پاکستان کے حق میں پڑتا۔ اس لیے کہ جب ہندستان کی تقسیم ہندو اور مسلم قومیّت کی بنیاد پر ہورہی ہے‘ تو لامحالہ ہر اس علاقے کو جہاں مسلمان قوم کی اکثریت ہو‘اس تقسیم میں مسلم قومیّت ہی کے علاقے کے ساتھ شامل ہونا چاہئے۔
پاکستان کے حق میں ووٹ دینا لازماً اس نظامِ حکومت کے حق میں ووٹ دینے کا ہم معنی نہیں ہے‘ جو آئندہ یہاں قائم ہونے والا ہے۔وہ نظام اگر فی الواقع اسلامی ہوا جیسا کہ وعدہ کیا جاتا رہا ہے‘ تو ہم دل وجان سے اس کے حامی ہوں گے۔ اور اگر وہ غیراسلامی نظام ہوا تو ہم اسے تبدیل کر کے اسلامی اصولوں پر ڈھالنے کی جدوجہد اسی طرح کرتے رہیں گے جس طرح موجودہ نظام میں کر رہے ہیں۔{ FR 2554 } (سہ روزہ کوثر مورخہ ۵ جولائی ۱۹۴۷ء)

خ خ خ

تقسیم ہند‘ حالات پر تبصرہ

پچھلے سال ہماری آنکھوں نے جو ہولناک انقلاب دیکھا ہے اس نے تمام انقلابات کو مات کر دیا ہے‘ جو اس سے پہلے نہ صرف ہمارے اس ملک{ FR 2555 } میں بلکہ دنیا کے کسی ملک میں پیش آئے ہیں۔ ممکن ہے‘ کہ انسانی جانوں کا اتلاف اس سے پہلے کہیں اس سے بھی زیادہ وسیع رقبوں میں ہوا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے‘ کہ اس سے پہلے کبھی اس سے زیادہ بڑی آبادیوں کو ان کے آبائی وطنوں سے اُکھاڑ پھینکا گیا ہو۔ مگر شاید اس سے پہلے کبھی اور کہیں انسان نے انسان کے ساتھ‘ اتنے بڑے پیمانہ پر ایسی سنگ دلانہ درندگی اور ایسی بے شرمانہ بہیمیت کا برتائو نہیں کیا ہے۔ قوموں میں دشمنیاں بھی ہوئی ہیں ملکوں میں خانہ جنگیاں بھی ہوچکی ہیں‘ لیکن غالباً کبھی دنیا کی دو قوموں کے درمیان عداوت نے یہ شدت یہ تلخی اور یہ تندی اختیار نہیں کی ہے۔ انسان انسان سے بار ہا لڑا ہے۔ مگر لڑائی میں کمینہ پن اور بدمعاشی کا جو مظاہرہ یہاں ہوا ہے۔ یہ اپنی نظیر بس آپ ہی ہے۔ یہاں انسان صورت جانوروں نے وہ وہ کام کیے ہیں‘ کہ اگر کتوں اور بھیڑیوں پر ان کا الزام تھوپ دیا جائے‘ تو وہ بھی اسے اپنی توہین محسوس کریں۔ اور یہ کر توت چند گنے چنے بدمعاشوں کے نہیں تھے‘ بلکہ پوری پوری قوموں نے اپنے آپ کو بدمعاش ثابت کیا۔باقاعدہ حکومتیں بدمعاش بن گئیں بڑے بڑے لیڈروں اور رئیسوں اور وزیروں نے بدمعاشی کی اسکیم سوچی اور حکومتوں کے پورے نظم ونسق نے اپنے مجسٹریٹوں اور اپنی پولیس اور اپنی فوج کے ذریعہ سے اس اسکیم کو عملی جامہ پہنایا۔ دو سال پہلے تک ہمیں اندازہ نہیں تھا‘ کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں اس کی آبادی کا اخلاقی زوال اس انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ نفیس لباسوں‘ اعلیٰ ڈگریوں اور بڑے ناموں کے پردے میں جو شخصیتیں چھپی ہوئی تھیں ان کو ہم شرفا میں شمار کرتے تھے۔ عام آبادی کے پُرامن روّیے کو دیکھ کر ہم سمجھتے تھے‘ کہ یہ بھلے انسانوں کی بستیاں ہیں۔ مگرافسوس کہ واقعات نے اس سارے حسن ظن کا پردہ چاک کر دیا‘ معلوم ہوا کہ پہلے جوکچھ ہم دیکھ رہے تھے وہ محض انگریز کی سنگین کا کرشمہ تھا۔ اس سنگین کے ہٹتے ہی یہ حقیقت کھل گئی‘ کہ یہ ملک لاکھوں‘ کروڑوں ڈاکوئوں‘ لیٹروں‘ قاتلوں‘ زانیوں اور سخت کمینہ صفت ظالموں سے بھرا ہوا تھا۔
کیا یہ سب کچھ جو واقع ہوا محض ایک اتفاقی حادثہ تھا؟ جو لوگ پچھلے تیس سال سے اس ملک کی رہنمائی کرتے رہے ہیں‘ اور جن کی قیادت میں یہ انقلاب رونما ہوا ہے وہ ایسا ہی کچھ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اس فساد عظیم کے اسباب کی بحث کو باتوں میں ٹالنا چاہتے ہیں۔ وہ اس کی ایک شاعرانہ توجیہ ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں‘ کہ کشت وخون اور ظلم وستم کا یہ مظاہرہ کوئی غیر معمولی چیز نہیں ہے‘ جس پر کچھ فکر مند ہونے کی ضرورت ہو‘ یہ تو ایک آزاد قوم کی ولادت کے درد ہیں‘ جو ایسے موقع پر ہوا ہی کرتے ہیں۔{ FR 2556 }حالانکہ اگر یہ ولادت کے درد ہی تھے تو یہ دنیا کو ایک درندے کی پیدائش کی خوش خبری دے رہے تھے‘ نہ کہ کسی انسان کے تولد کی۔ انہوں نے دنیا کو جو اطلاع دی وہ اس بات کی نہ تھی کہ کچھ انسان ہیں‘ جن کا بند اسیری ٹوٹا ہے‘ بلکہ دراصل یہ اس بات کی اطلاع تھی کہ کچھ بھیڑئیے قید تھے‘ جن کا پنجرہ کھل گیا ہے۔ اس کے بعد لازماً یہ سوال پیدا ہوتا ہے‘ کہ کیا ہندستان کے باشندے اپنی فطرت اور اپنے مزاج ہی کے لحاظ سے کمینے‘ بدمعاش اور سفاک ہیں‘ یا ان کو ایسا بنا دیا گیا ہے؟پہلا الزام ثابت کرنے کے لیے اس سے زیادہ قوی ثبوت کی ضرورت ہے‘ جو پچھلے دو سال کے واقعات نے فراہم کیا ہے۔ آخر ہندستانیوں کی پچھلی سینکڑوں برس کی تاریخ موجود ہے۔
اپنے ماضی میں انہوں نے کب ایسی ذلیل صفات کا مظاہرہ کیا تھا؟پھر اگر یہ الزام ثابت نہیں ہے‘ تو یقینا دوسرا الزام آپ سے آپ ثابت ہے‘ یعنی یہ کہ ہمارے ملک کی آبادی کو اس اخلاقی پستی کے گڑھے میں گرایا گیا ہے۔ یہی وہ نتیجہ ہے‘ جس سے بچنے کے لیے پچھلے درد ناک واقعات کے اسباب کی بحث کو‘ باتوں میں اڑانے کی کوشش کی جاتی ہے‘ کیونکہ یہ بحث ان سب لوگوںکا منہ کالا کر دینے والی ہے‘ جنہوں نے پچھلی ربع صدی میں ہمارے ملک کی سیاسی تحریکوں کی قیادت فرمائی ہے۔
ہندوستان میں سیاسی بے داری کی ابتدا مغربی تعلیم وتہذیب کے زیر اثر ہوئی۔ اس تعلیم اور تہذیب نے دو تحفے ہمارے ملک کے کار فرما دماغوں اور کارکن ہاتھوں کو دئیے۔ ایک قومیّت کا احساس اور قوم پرستی کا جذبہ‘ دوسرے مادّہ پرستانہ اخلاق۔
پہلی چیز کو لے کر یہاں کے سیاسی لیڈروں نے ’’ہندستانی قومیّت‘‘کا ایک مصنوعی تخیل پیدا کرنے کی کوشش کی‘ مگر چونکہ اس کے لیے کوئی حقیقی بنیاد موجود نہ تھی اس لیے قومیّت کی حِس بیدار کرنے کی جتنی کوششیں کی گئیں‘ ان کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں ان مختلف گروہوں میں اپنی جدا گانہ قومیّتوں کا شعور جاگ اُٹھا‘ جو فی الحقیقت اپنے اندر قومیّت کے فطری عناصر رکھتے تھے۔ اس طرح چالیس پچاس سال کی تبلیغ قومیّت نے اس ملک میں ایک کے بجائے بہت سی چھوٹی بڑی قومیّتیں پیدا کر دیں‘ جن میں سے تین یعنی ہندو قومیّت‘ مسلم قومیّت اور سکھ قومیّت… تو پوری طرح بر سر کار آکر اپنا کھیل کھیل چکی ہیں‘ اور باقی بہت سی صوبائی اور لسانی قومیّتیں ابھی دوران تخلیق میں ہیں۔ پھر سیاسی اختیارات حاصل کرنے کے لیے برطانوی اقتدار کے خلاف جو جدوجہد ہورہی تھی‘ اس کا قدم جتنا جتنا آگے بڑھتا گیا‘ ان مختلف قومیّتوں کے درمیان آپس کی کشمکش اتنی ہی تیز تر اور تلخ تر ہوتی چلی گئی۔ اس کشمکش نے ان میں سے ہر ایک کے اندر قوم پرستی کا شعور بھڑکا دیا‘ اور ایک کی طرف سے دوسرے کے قومی حوصلوں کی مزاحمت جتنی بڑھی اتنی ہی قومی عداوت ان کے درمیان بڑھتی چلی گئی۔
دوسری طرف مادّہ پرستانہ اخلاق کا جو درس مغربی تعلیم وتہذیب سے لیا گیا تھا وہ بائولے کتے کے زہر کی طرح سارے ملک کی رگ رگ میں پھیل گیا۔اس نے دلوں کو خدا ترسی اور حق شناسی سے خالی کر دیا‘ شرافت اور انسانیت کی جڑیں ہلا دیں‘ اور ان تما م اخلاقی قدروں کو ختم کر دیا‘ جو اس ملک کے لوگوں نے اپنے قدیم مذہبوں سے پائی تھیں۔ یہ اس نئے اخلاق ہی کا کرشمہ تھا‘ کہ پچھلے پچیس سال میں ہندوئوں‘ مسلمانوں اور سکھوں کی قومی کشمکش روز بروززیادہ سے زیادہ رذالت کے راستوں پر بڑھتی چلی گئی۔ بڑے بڑے لیڈروں نے بے حیائی کیساتھ‘ ایمان نگل نگل کر قومی خود غرضیوں کے تقاضے پورے کیے‘ بڑی بڑی ذمّہ دار سیاسی جماعتوں نے حق اور انصاف سے بے نیاز ہوکر ایک دوسرے کے خلاف جوڑ توڑ کیے‘ ملک بھر کے اخبارات نے انتہائی بے شرمی کے ساتھ جھوٹے پروپیگنڈے کیے‘ گالم گلوچ کا طوفان بپا کیا اور نفرت وعداوت کی شراب پلا پلا کر اپنی اپنی قوموں کو بدمست کر دیا۔ پھر دونوں مخالف گروہوں کے لوگوں نے سرکاری محکموں میں‘ منڈیوں اور بازاروں میں اور زندگی کے ہر کاروبار میں ایک دوسرے کے خلاف کھلی کھلی بے انصافیاں اور حق تلفیاں کیں اور ہر اس بے ایمانی کو اپنے لیے نیکی اور کار ثواب بنا لیا جو حریف قوم کے کسی فرد کے ساتھ کی جائے۔ واقعات کی یہ رفتار صاف بتا رہی تھی کہ اس ملک کا اخلاقی زوال کس پستی کی طرف بہا چلا جا رہا ہے۔
یہ دو اسباب ہیں‘ جنہوں نے مل جل کر وہ ہولناک نتائج پیدا کیے جو ہماری آنکھیں ابھی ابھی دیکھ چکی ہیں۔ ظاہر ہے‘ کہ اس کی ذمّہ داری سے وہ لوگ بری نہیں ہوسکتے جو اس دور میں یہاں کی مختلف قوموں کے رہنما اور سر براہ کار رہے ہیں۔ یہی تو وہ لوگ ہیں‘ جنہوں نے ایک طرف اپنی اپنی قوم کے لوگوں میں قومی خواہشات برانگنیتحہ کیں اور دوسری طرف قومی ا خلاق کو سنبھالنے کے لیے کچھ نہ کیا۔ بلکہ صحیح یہ ہے‘ کہ اسے گرایا اور گرنے میں خود اس کی حوصلہ افزائی کی۔ اگر یہ اس کھیل کے نتائج سے بے خبر تھے تو سخت اناڑی تھے ایسے اناڑی اس قابل نہیں ہیں‘ کہ کروڑوں انسانوں کی قسمتوں کے ساتھ بازی گری کرنے کے لیے انہیں چھوڑ دیا جائے۔ اور اگر انہوں نے جان بوجھ کر یہ سارا کھیل کھیلا تو درحقیقت یہ انسانیت کے اور خود اپنی قوم کے دشمن ہیں‘ ان کا صحیح مقام پیشوائی کی مسند نہیں‘ بلکہ عدالت کا کٹہرا ہے ‘جہاں ان کے اعمال کا محاسبہ ہونا چاہئے۔
یہ خیال کرنا سخت حماقت ہے‘ کہ جو کچھ ہوگزرا وہ اس قومی کشمکش کا آخری باب تھا‘ اور یہ کہ اب تقسیم ملک کے بعد تاریخ ایک صحیح راستے پر چل پڑے گی۔ ہر گز نہیں۔ حقیقت یہ ہے‘ کہ ۱۵ اگست ۴۷ء کی تقسیم سے یہاں جو دو مملکتیں بنی ہیں‘ انہوں نے قومی خود غرضی اور اخلاقی پستی کا وہ سارا زہر میراث میں پایا ہے‘ جو قبل تقسیم کے ہندوستان کی رگ رگ میں سرایت کر چکا تھا‘ اور ان دنوں مملکتوں کی پیدائش کا آغاز جن سخت المناک حالات میں ہوا ہے وہ ان کی آئندہ تاریخ پر اثر ڈالے بغیر نہیں رہ سکتے۔ نئی سیاسی سرحدوں کے دونوں جانب جو دو قومیں آباد ہیں ان کے دل ایک دوسرے کے خلاف انتقام اور عداوت کے تلخ ترین جذبات سے لبریز ہیں… خصوصاً سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان تو وہ دشمنی پیدا ہوچکی ہے‘ جو شاید اس وقت کہیں بھی دنیا کی دو قوموں کے درمیان نہیں پائی جاتی… مسلمان‘ ہندو اور سکھ ایک دوسرے کو وہ چر کے لگا چکے ہیں‘ جن کے زخم مدّتوں رستے رہیں گے‘ اور اب وہ کسی غیر قوم کے ماتحت بے بس نہیں ہیں‘ بلکہ اپنی اپنی آزاد مملکتیں رکھتے ہیں۔ اگر اب بھی ان دونوں مملکتوں کے باشندوں کو ہوش نہ آیا اگر اب بھی ان کی لیڈر شپ تبدیل نہ ہوئی‘ اور اگر اس نئے دور میں بھی ان کے معاملات اسی اندھی اور گندی قوم پرستی پر اور اسی مادّہ پرستانہ اخلاق پر چلتے رہے‘ جس پر اب تک وہ چلے ہیں‘ تو آئندہ ان بااختیار قوموں کی کش مکش بہت زیادہ بڑے پیمانے پر بدر جہا زیادہ تلخ نتائج پیدا کرے گی۔ پہلے جو گالم گلوچ اخباروں کے کالموں میں ہوتی تھی‘ وہ اب بین الاقوامی چوراہے پر ہوگی۔ پہلے جو چھوٹے چھوٹے معرکے دفتروں اور منڈیوں میں برپا ہوا کرتے تھے‘ اب وہ دو سلطنتوں کے درمیان سیاسی رسہ کشی اور معاشی رقابت کی شکل میں برپا ہوں گے‘ اور پھر اگر خدا نخواستہ ان دونوں قوموں کے درمیان کبھی جنگ ہوگئی‘ تو یقینا وہ ایسی سخت انتقامی جنگ ہوگی‘ جو اپنی وحشت وبربریت میں تاریخِ انسانی کی بدترین لڑائیوں کو بھی مات کر دیگی۔
لہٰذا اب پاکستان اور ہندستان‘ دونوں کے مستقبل کی بہتری کا انحصار اس بات پر ہے‘ کہ اگر ان کی آبادیوں میں شریف معقول اور خدا ترس انسانوں کا کوئی عنصر موجود ہے‘ تو وہ منظم ہوکر اُٹھے‘ اپنی اپنی قوم کی ذہنیت بدلنے کی کوشش کرے‘ اور موجودہ قیادتوں کو بدل کر ایسے طریقے پر دونوں ملکوں کے معاملات چلائے جس سے ان کے تعلقات شریفانہ ہمسایگی اور منصفانہ تعاون پر قائم ہوسکیں۔
اب ذرا ایک نظر تقسیم کے اس ڈرامے پر بھی ڈال لیجیے‘ جو پچھلے سال یہاں کھیلا گیا ہے‘ تاکہ آپ کو ان لیڈروں کی سیاسی دانائی کا حال معلوم ہوجائے‘ جن کی مہارتِ فن کا شہرہ ایک مدّت سے ہم سن رہے تھے۔
اس ڈرامے کے اصل اداکار تین تھے انگریز کانگریس اور مسلم لیگ ان تینوں کے کام کا جائزہ لے کر ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنے آپ کو کیا ثابت کیا ہے۔
انگریزوں کے لیے دوسری جنگ ِعظیم کے پیدا کردہ مسائل اور ہندستان کی سیاسی بیداری نے جو سوال پیدا کردیا تھا وہ یہ تھا‘ کہ آیا اس ملک پر آخر وقت تک قاہرانہ تسلّط جاری رکھا جائے‘ یہاں تک کہ زبردستی نکالے جانے کی نوبت آجائے؟یا وہ وقت آنے سے پہلے ہی باہمی رضا مندی سے یہ ملک چھوڑ دیا جائے؟پہلی صورت میں وہ مزید چند سال تک اس ملک پر قبضہ رکھ سکتے تھے‘ مگر اس عارضی فائدے کا مستقل نقصان یہ تھا‘ کہ زبردستی نکالے جانے کے بعد انہیں ان تمام فائدوں سے ہمیشہ کے لیے ہاتھ دھو لینا پڑتا جو ہندستان سے اُٹھائے جا سکتے تھے۔ دوسری صورت میں برٹش ایمپائر کا بظاہر خاتمہ تھا۔ مگر آزاد ہندستان سے فائدہ اُٹھانے کے امکانات باقی رہتے تھے۔ ان دونوں صورتوں کے فوائد اور نقصانات کا موازنہ کر کے انگریزی قوم نے ٹھنڈے دل سے دوسری صورت کا انتخاب کیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ تاریخ اور نفسیات کے اس سبق سے بھی غافل نہ تھی کہ جو قوم کسی دوسری قوم کی غلامی سے آزاد ہوتی ہے‘ اس کے اندر مدّتوں تک اس قوم کے خلاف شدید تعصّب بلکہ انتقام کا جذبہ بھڑکتا رہتا ہے‘ جو اس پر جبروقہر سے حکومت کرتی رہی ہو۔ اس لیے وہ اپنے مفاد کی خاطر یہ ضروری سمجھتی تھی کہ ہندستان کا معاملہ ایسے طریقے سے طے کیا جائے‘ جس سے تعصّب وانتقام کے وہ سارے جذبات جو اس کے خلاف بھڑک سکتے تھے خود ہندستانیوں کے درمیان آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوجائیں‘ اور انگریز دونوں کا یار غار بن کر رہے۔ اس غرض کے لیے برطانوی حکومت نے پہلے لارڈویول کو استعمال کرنا چاہا۔ مگر معلوم نہیں کہ وہ چالاک کم تھا یا شریف زیادہ بہرحال وہ تاریخ انسانی کی عظیم ترین سیاسی بدمعاشی کا وہ کام انجام نہ دے سکا جو اس کی قومی حکومت اس سے لینا چاہتی تھی۔ آخر کار نگاہ انتخاب لارڈ مائونٹ بیٹن پر جا کر ٹھہری{ FR 2557 } اور اس شخص نے آکر تقسیم ہند کا پورا نقشہ ایسے طرز پر بنایا جو لازمی اور قطعی طور پر وہی نتائج پیدا کر سکتا تھا‘ جو اس نے فی الواقع پیدا کیے۔{ FR 2558 }کلکتہ‘ نواکھالی‘ بہار‘ گڑھ مکتیشور‘ راولپنڈی اور امر تسر کے واقعات کے بعد تقسیم ملک اور انتقال اختیارات کا جو ڈھنگ لارڈ مائونٹ بیٹن نے اختیار کیا اس کو دیکھ کر ایک معمولی عقل وبصیرت رکھنے والا آدمی بھی ہ اندازہ کر سکتا تھا‘ کہ اس سے ملک کے ایک بڑے حصے میں سخت خون ریزی ہوکر رہے گی۔اب اگر یہ مائونٹ بیٹن کا اناڑی پن تھا‘ اور کوئی دانستہ چالا کی نہ تھی‘ جسے اس کی قوم کی رضا مندی حاصل ہوتی‘ تو جو ہولناک نتائج اس سے بر آمد ہوئے انہیں دیکھ لینے کے بعد بجائے اس کے کہ اس شخص پر تحسین وآفرین کے پھول برسائے جاتے اس پر لعنت ملامت کی بوچھاڑ ہونی چاہئے تھی‘ اور لاکھوں انسانوں کے قتل اور ایک کروڑ سے زیادہ انسانوں کی خانہ بربادی کے بدلے میں اس پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہئے تھا۔ لیکن اس کی سیاست دانی کی جودادانگلستان میں دی گئی وہ اس بات کا صریح ثبوت ہے‘ کہ یہ سب کچھ دانستہ کیا گیا تھا‘ اور اسے پوری انگریزی قوم کی رضا مندی حاصل تھی۔آج یہ اسی چالاکی کا کرشمہ ہے‘ کہ ہندو اور مسلمان اور سکھ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں‘ اور وہ انگریز جو کل تک تینوں پر یکساں ظلم کر رہا تھا۔ تینوں کا مشترک دوست ہے۔مسلمان کے لیے ہندوستان کی اور ہندو اور سکھ کے لیے پاکستان کی زمین تنگ ہے‘ مگر انگریز کے لیے ہر جگہ فراخی ہی فراخی ہے۔ انسانیت کے نقطۂ نظر سے آپ چاہے اس کو کتنا ہی بڑا جرم قرار دے لیں انگریز کی قومی خود غرضی کے لحاظ سے یہ بالیقین ایک کامیاب ترین سیاسی چال تھی۔ مگر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے‘ کہ اس پر زیادہ دادکا مستحق کون ہے‘ لارڈ مائونٹ بیٹن‘ یا ہندستان کے وہ اندھے سیاسی لیڈر جو تقسیم کے اس نقشے کی ساخت اور تکمیل میں ہر مرحلے پر اس کے شریک کار رہے؟
اس ڈرامے کی دوسری اداکار کانگریس تھی‘ اور اس نے جو پارٹ ادا کیا‘ وہ احمقوں کے سوا کسی سے داد نہیں پا سکتا۔ تقسیم ہند سے دو تین برس پہلے ہی یہ بات بالکل واضح ہوچکی تھی‘ کہ اب تقسیم کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس کے بعد دور استے کھلے ہوئے تھے۔ ایک راستہ یہ تھا‘ کہ تلخی اور بدمزگی کے بڑھنے سے پہلے ہی اس چیز کو سیدھی طرح قبول کر لیا جاتا جو ناگزیر ہوچکی تھی‘ اور بھلے آدمیوں کی طرح بیٹھ کر سارے معاملات ایسے طریقے سے طے کر لیے جاتے‘ کہ پھر مل جانے یا کم از کم شریف ہمسایوں کی طرح رہنے کے مواقع باقی رہتے۔ دوسرا راستہ یہ تھا‘ کہ ’’لے کر رہیں گے‘‘ اور ’’ہر گز نہ دیں گے‘‘کے اس جھگڑے کو انتہائی تلخی کی حد تک بڑھنے دیا جاتا اور اس ناگزیر تقسیم کو ایسے مرحلے پر پہنچ کر قبول کیا جاتا‘ جہاں الگ ہونے والی قوموں کے درمیان دوستانہ تو درکنار شریفا نہ انسانی تعلقات بر قرار رہنے کے امکانات بھی ختم ہوجاتے۔ کانگریسی لیڈروں نے ان دونوں راستوں میں سے دوسرے راستے کو انتخاب کیا اس کی وجہ اگر نادانی تھی تو بدقسمت ہے وہ قوم جو اپنی باگیں ایسے نادان لوگوں کے ہاتھ میں دے۔اور اگر اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ اپنی قوم میں اپنی ہر دلعزیزی کو کھونے کے لیے تیار نہ تھے‘ تو یہ اور بھی زیادہ افسوسناک ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں‘ کہ ان لوگوں نے اپنی پوزیشن کی خاطر ملک کو اس راستے پر جان بوجھ کر چلایا جس میں ان کے کروڑوں ہم وطنوں کی بربادی تھی۔
اس سارے کھیل میں کانگریس نے اپنے طرزِعمل سے اپنے دشمنوں اور مخالفوں کی ایک ایک بات کو سچا اور اپنی ایک ایک بات کو جھوٹا کر دکھایا۔
ہندستان کی آزادی کے خلاف چرچل اور دوسرے انگریز مدبّرین کی سب سے زیادہ پرزور دلیل یہ تھی کہ ہمارے ہٹتے ہی ملک میں فساد عظیم رونما ہوجائے گا۔ کانگریسی لیڈر اس کے جواب میں کہتے تھے‘ کہ یہ ایک بات ہے‘ جو تم اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لیے بناتے ہو۔ ذرا ذمّہ داری کا بوجھ اہلِ ملک پر ڈال تود و‘ پھر دیکھو کہ کیسا امن اور انصاف قائم ہوتا ہے۔ اب واقعات نے کسے سچا اور کسے جھوٹا ثابت کیا؟ یہ آج سارا زمانہ دیکھ رہا ہے۔
مسٹر جناح کا سب سے بڑا الزام کانگریس پر یہ تھا‘ کہ وہ دراصل ایک متعصّب ہندو قوم پرست جماعت ہے‘ اور اس نے محض منافقت کے ساتھ ہندوستانی قوم پرستی کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ کانگریسی اس الزام کو بالکل غلط کہتے تھے۔ لیکن وزارتی مشن (cabinet mission)کی آمد کے بعد سے آج تک کانگریس اور اس کے لیڈروں نے جو کچھ کیا ہے وہ مسٹر جناح کے الزام کا ناقابلِ تر دید ثبوت ہے۔ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر سے اس لبادے کو اتار پھینکا ہے‘ جسے مسٹر جناح منافقت کا لبادہ کہتے تھے۔
کانگریس کے مخالفین کہتے تھے‘ کہ جو سوراج کانگریس قائم کرنا چاہتی ہے وہ دراصل ہندوراج ہوگا‘ جس میں مسلمانوں کے لیے کوئی آزادی نہ ہوگی۔اسی اندیشے پر تقسیم ملک کی تجویز مبنی تھی‘ اور اسی خطرے کی بنا پر مسلمانوں کی عظیم اکثریت اس تحریک آزادی کو مشتبہ نظروں سے دیکھتی تھی‘ جس کی علم برداری کا ’’شرف‘‘کانگریس کو حاصل تھا۔ کانگریسی لیڈر ہمیشہ مسلمانوں کے ان اندیشوں اور خطرات کو بے بنیاد قرار دیتے رہے۔ مگر ۱۵؍اگست کے بعد جو کچھ ہندستان میں ہوا اور اب تک ہورہا ہے اس نے ان سارے اندیشوں کو بالکل صحیح ثابت کر دیا‘ جن کی بنا پر مسلمان کانگریس کی تحریک آزادی کو اپنے لیے تحریک بربادی سمجھتے تھے‘ بلکہ درحقیقت سوراج قائم ہوتے ہی جو سلوک مسلمانوں کے ساتھ شروع ہوا‘ وہ تو ان بدتر سے بدتر اندازوں سے بھی بدر جہا زیادہ بدتر نکلا جو کانگریس کے شدید ترین مخالف لگا سکتے تھے۔
کانگریس کا دعویٰ تھا‘ کہ وہ ہندستان کی وحدت کا عقیدہ رکھتی ہے‘ اور تقسیم کو محض مسلم لیگ اور انگریز ی حکومت کی زبردستی سے بادل نخواستہ قبول کر رہی ہے‘ لیکن تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے وقت اور تقسیم کے بعد جو کچھ اس نے کیا‘ وہ سب اس تقسیم کو دائمی اور ابدی بنا دینے والا ہے۔ اگر آدمیت سے تقسیم کا معاملہ طے کیا جاتا شرافت سے اس پر عملدر آمد کیا جاتا‘ اور اس کے بعد ہندستان کے مسلمانوں سے منصفانہ سلوک کیا جاتا تو بعید نہ تھا‘ کہ کچھ مدّت بعد پاکستان خود ہندستان کے ساتھ اتحاد کا خواہشمند ہوتا۔ مگر اب پاکستان اور ہندستان کے درمیان وہ دیواریں کھڑی ہوچکی ہیں‘ جو صدیوں تک انہیں ایک دوسرے سے جُدا رکھیں گی۔
اب تیسرے اداکار کو لیجیے جس کا پارٹ اس ڈرامے میں سب سے زیادہ ناکام رہا ہے۔
دس سال سے مسلمانوں کی قیادت ِعظمیٰ جس لائحہ عمل پر چل رہی تھی‘ وہ سلطان عبدالحمید خان کی سیاست سے ملتا جلتا تھا۔ جس طرح وہ ۳۳ سال تک محض دُوَلِ یورپ کی باہمی رقابتوں سے فائدہ اُٹھا کر جیتے رہے‘ اور اس دوران میں خود اپنے ملک کی کوئی طاقت انہوں نے نہ بنائی جس کے بل بوتے پر وہ جی سکتا۔ اسی طرح اس قیادت کا بھی سارا سیاسی کھیل بس انگریز اور کانگریس کی کشمکش سے فائدہ اُٹھانے تک محدود تھا۔ پورے دس سال میں اس نے خود اپنی قوم کی اخلاقی‘ مادّی اورتنظیمی طاقت بنانے اور اس کے اندر قابلِ اعتماد سیرت پیدا کرنے کی کوئی کوشش نہ کی ‘جس کی بنا پر وہ اپنے کسی مطالبہ کو خود اپنی طاقت سے منوا سکتی۔ اسی کا نتیجہ تھا‘ کہ جوں ہی انگریزاور کانگریس کی باہمی کشمکش ختم ہوئی‘ اس قیادت عظمیٰ نے اپنے آپ کو ایسی حالت میں پایا‘ جیسے اس کے پائوں تلے زمین نہ ہو۔ اب وہ مجبور ہوگئی کہ جو کچھ جن شرائط پر بھی ملے اسے غنیمت سمجھ کر قبول کر لے‘ بنگال وپنجاب کی تقسیم اُسے بے چون وچرا ماننی پڑی۔ سرحدوں کی تعین جیسے نازک مسئلے کو اسے صرف ایک شخص کے فیصلے پر چھوڑ دینا پڑا۔انتقالِ اختیارات کے لیے جو وقت اور جو طریقہ تجویز کر دیا گیا‘ اسے بھی بلاتا مل اس نے مان لیا۔ حالانکہ یہ تینوں امور صریح طور پر مسلمانوں کے حق میں مہلک تھے۔ انہی کی وجہ سے ایک کروڑ مسلمانوں پر تباہی نازل ہوئی‘ اور انہی کی وجہ سے پاکستان کی عمارت اول روز ہی سے سخت متزلزل بنیادوں پر اُٹھی۔
اس قیادت کی غلطیاں اس سے بہت زیادہ ہیں‘ کہ چند سطروں میں انہیں شمار کیا جاسکے۔ مگر اس کی چند غلطیاں تو اتنی نمایاں ہیں‘ کہ آج ہر ذی ہوش آدمی اُن کو بری طرح محسوس کر ہے۔ مثال کے طور پر۔
۱- اس نے حصولِ پاکستان کی جنگ میں ان علاقوں کے مسلمانوں کو شریک کیا جنہیں لامحالہ ہندستان ہی میں رہنا تھا۔ آج یہ اسی کا خمیازہ ہے‘ کہ ہندستان کی سر زمین ان غریبوں کے لیے جہنم بن گئی ہے‘ حالانکہ اگر تقسیم کے بعد ہندستانی اور پاکستانی مسلمانوں کا مستقبل ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوجانے والا تھا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ تقسیم سے پہلے دونوں کی پالیسی ایک ہوتی۔
۲- اس نے ہندستانی مسلمانوں کو ایک ہفتہ پہلے بھی خبر دار نہ کیا کہ تقسیم کے وقت ان پر کیا طوفان ٹوٹنے والا ہے۔ اگر فی الواقع اسے ان حالات کا اندازہ ہی نہ تھا تو اس کی غفلت وبیخبری قابلِ ماتم ہے۔ اور اگر اس نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو بے خبر رکھا تو اس غداری کے لیے اسے کبھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔
۳- جن لیڈروں پر ہندستان کے مسلمان‘ آخر وقت تک اندھا اعتماد کیے ہوئے تھے وہ عین وقت پر انہیں چھوڑ کر پاکستان اُٹھ آئے اور انہیں کچھ بھی نہ بتایا کہ ان کے پیچھے وہ کیا کریں۔
۴- جو عجیب وغریب ہدایت ہندستان کے مسلمانوں کو دی گئی وہ یہ تھی کہ ایک رات میں وہ ان سارے اصولوں کو نگل جائیں‘ جن پر وہ دس برس سے کانگریس کے خلاف لڑ رہے تھے۱۴؍اگست کا سورج دو قومی نظرئیے کا کلمہ پڑھتے ہوئے غروب ہو‘ اور ۱۵؍اگست کا سورج طلوع ہوتے ہی‘ ہر ہندی مسلمان ہندستانی قومیّت کا معتقد بن کر اُٹھے۔
۵- پچھلے دس سال کی قومی تحریک میں اسلام کا نام جس قدر لیا گیا‘ اس کا پچاسواں حصّہ بھی مسلمانوں کے اندر اسلامی اخلاق پیدا کرنے کے لیے کام نہیں کیا گیا۔ بلکہ ان کے قومی اخلاق کو پہلے سے کچھ زیادہ ہی پست کر دیا گیا۔یہی وجہ ہے‘ کہ قومی جنگ میں مسلمان ان تمام اخلاقی جرائم کے مرتکب ہوئے‘ جن کا ارتکاب ان کے حریفوں نے کیا۔ مظالم کی مقدار میں چاہے کتنا ہی فرق رہا ہو‘ مگر مظالم کی نوعیت میں دونوں کے کارنامے ایک دوسرے سے کچھ بھی مختلف نہ رہے۔ اگر ہماری قومی قیادت نے ہمارے عوام کی اخلاقی تربیت کے لیے کوئی کوشش کی ہوتی‘ اور اکثریت کے علاقوں کے مسلمان وہ حرکات نہ کرتے‘ جو انہوں نے کیں تو اقلیت کے مسلمان اس بری طرح نہ پیسے جاتے‘ اور آج پاکستان کی اخلاقی پوزیشن ہندستان سے اتنی زیادہ اونچی ہوتی کہ ہندستان اس سے آنکھ ملا کر بات نہ کر سکتا۔ (ترجمان القرآن۔جون ۱۹۴۸ء)

خ خ خ

تقسیم کے وقت مسلمانوں کی حالت کا جائزہ

گزشتہ صفحات میں ہندستان کے تازہ سیاسی انقلاب کا جو جائزہ لیا گیا تھا‘ وہ اس کے صرف ایک پہلو سے تعلق رکھتا تھا۔ اس میں ہم نے بحیثیت مجموعی پورے ملک { FR 2559 }کی حالیہ سر گزشت ِخونیں پر ایک نگاہ ڈال کر یہ بتایا تھا‘ کہ اس ملک کے سابق حکمرانوں اور سیاسی لیڈروں نے مل جل کر اپنی خود غرضی‘ تنگ دلی اور احمقانہ بے تدبیری سے‘ اس کو کس خوف ناک تباہی کے راستے پر ڈال دیا ہے‘ اور اس سے بچنے کی واحد صورت اب کیا ہے۔ آج ہم اس کے دوسرے پہلو پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں‘ اور وہ یہ ہے‘ کہ اس انقلاب میں سب سے زیادہ تباہی جس قوم پر آئی ہے‘ یعنی مسلم قوم وہ آج کس حال میں ہے کن اسباب نے اسے اس حالت کو پہنچا دیا ہے‘ اور اب کیا چیز اسے بچا سکتی ہے۔
دس گیارہ برس پہلے کی بات ہے جب ہندستان کے سات صوبوں میں یکایک کانگریس کو بر سر اقتدار دیکھ کر‘ اور پنڈت نہرو سے مسلم عوام کے ساتھ براہِ راست ربط قائم کرنے (muslim mass contact)کا پروگرام سن کر مسلمانوں کو پہلی مرتّبہ یہ احساس ہوا کہ اس ملک میں ہندو قوم پرستی کا غلبہ ان کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے‘ اور یہ خطرہ سر پر آچکا ہے۔
اس وقت مسلمانوں میں دو گروہ موجود تھے۔ ایک گروہ کہتا تھا‘ کہ خطرہ وطرہ کچھ نہیں ہے‘ سب تمہارا وہم اور انگریز کادلایا ہوا ڈراوا ہے‘ جو سیلاب اُٹھ رہا ہے ٹھیک اُٹھ رہا ہے اطمینان کے ساتھ اس میں کود پڑو اور جدہر وہ بہا کر لے جانا چاہتا ہے پورے انشراح صدر کے ساتھ ادھر بہہ جائو۔ دوسرا گروہ کہتا تھا‘ کہ خطرہ واقعی اور حقیقی ہے یہ سیلاب محض آزادی وطن کا سیلاب نہیں‘ بلکہ ہندو سامراجیت کا سیلاب ہے‘ اپنے آپ کو اس کے حوالہ کر دینے کے معنی قومی خود کشی کے ہیں‘ اور اس سے بچنے کی تدبیر ضرور کرنی چاہئے۔ پہلا گروہ اگرچہ بڑی بڑی مذہبی شخصیتوں اور آزمودہ کار سیاسی لیڈروں پر مشتمل تھا‘ لیکن چونکہ وہ ایسی بات کہہ رہا تھا‘ جو مسلمانوں کے عام احساسات کے خلاف تھی‘ اور پوری قوم کو ہند ستان کے ہر گوشے اور زندگی کے ہر میدان میں ہندو قوم پرستی کے ہاتھوں اس کے بالکل برعکس تجربات پیش آرہے تھے اس لیے مسلمانوں نے مجموعی طور پر اس کو ردّ کر دیا اور جوق درجوق دوسرے گروہ کی آواز پر وہ لبیک کہتے چلے گئے۔
پھر دوسرے گروہ میں بھی جلدی ہی اسے مسئلے پر اختلاف رائے ہوگیا‘ کہ ہندو سامراج کی اس بڑھتی ہوئی رُو کے مقابلہ میں مسلمانوں کے لیے راہِ عمل کیا ہے۔
ایک رائے یہ تھی کہ مغربی جمہوریت اور قوم پرستی کے اصولوں پر ہندو اقتدار کی تحریک کا مقابلہ کرنا اصولاً بھی غلط ہے‘ اور عملاً بھی مفید نہیں۔ اصولاً اس لیے غلط ہے‘ کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ اصول ان اسلامی اصولوں سے ٹکراتے ہیں‘ جن پر ہم ایمان لانے کے مدعی ہیں۔ اور عملاً یہ راہ اس بنا پر غیر مفید ہی نہیں‘ قطعی مہلک بھی ہے‘ کہ ہندستان کے ایک چھوٹے سے حصے کو چھوڑ کر باقی سارے ملک میں مسلمان قلیل التعداد ہیں‘ اور ایک جمہوری نظام میں قومی جنگ لڑکر اقلیت بجز تباہی کے اور کچھ مول نہیں لے سکتی۔ اس رائے کے پیش کرنے والوں نے مسلمانوں سے کہا‘ کہ اگر تم محض ایک قوم ہوتے‘ تو بلا شبہ تمہارے لیے یہاں اس کے سوا کوئی چارہ کارنہ ہوتا‘کہ قومی جنگ لڑکر اپنے جتنے حصے کو بچا سکتے بچا لیتے‘ اور باقی حصوں کی طرف سے پیشگی فاتحہ پڑھ لیتے۔ لیکن تم محض عام معنی میں ایک قوم نہیں ہو‘بلکہ ایک اصولی جماعت ہو‘ جس کے پاس اصولِ اسلام کا ہتھیار وہ زبردست ہتھیار ہے‘ جو پہلے بھی دنیا کو مسخر کر چکا ہے‘ اور آج بھی کر سکتا ہے۔ لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ تم یہ مایوسا نہ نقشہ جنگ بنائو۔ تمہارے لیے صحیح راہِ عمل یہ ہے‘ کہ سیاسی اور معاشی اغراض کے لیے لڑنے والی ایک قلیل التعداد قوم کی یہ پوزیشن چھوڑ دو جو غلطی سے تم نے اختیار کر رکھی ہے‘ اور اس کے بجائے اپنا اصل منصب سنبھالو‘ جو مسائل زندگی کا ایک بہترین حل اور تمام موجود الوقت نظاموں سے زیادہ جامع اور منصفانہ نظام پیش کرنے والی جماعت کا منصب ہے۔ اس چیز کو لے کر اگر تم اُٹھ کھڑے ہوئے‘ اور تم نے علمی وفکری حیثیت سے اصولِ اسلام کا تفوق تمام دوسرے اصولوں پر ثابت کر دیا اور اس کے ساتھ اپنے آپ کو اخلاقی حیثیت سے بھی اپنے ہمسایوں پر فائق کر کے دکھا دیا تو یقین جانو کہ تھوڑی ہی مدّت کے اندر ہندستان میں توازن قوّت بدل جائے گا‘ ہندستان کی سیادت تمہارے سوا پھر کسی اور کا حصّہ نہ ہوگی‘ اور بجائے اس کے کہ تم اپنے بچائو کے لیے پریشان ہوتمہارے حریفوں کو یہ فکر لاحق ہوجائے گی کہ وہ تمہارے بڑھتے ہوئے سیلاب سے اپنے آپ کو کس طرح بچائیں۔
یہ وہی بات تھی جو نبی a مکہ میں قریش کے لوگوں سے فرمایا کرتے تھے‘ کہ میں وہ کلمہ لے کر آیا ہوں کہ اگر تم اسے لے لو تو عرب اور عجم سب تمہارے زیر نگین ہوجائیں گے۔ لیکن مسلمانوں نے اس مشورے میں وہی خطرہ محسوس کیا جو قریش نے محسوس کیا تھا‘ کہ اِنْ نَّتَّبِعِ الْہُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا۝۰ۭ القصص28:57 یعنی اگر ہم اس راہِ عمل کو اختیار کر لیں تو اس سر زمین میں ہمارا کوئی ٹھکانا نہ رہے گا۔ پوری قوم میں بہت کم لوگ اس راہ کے امکانات کو سمجھ سکے‘ اور بہت ہی کم لوگ اس پر چلنے کے لیے آمادہ ہوئے۔ اس طرح یہ رائے قومی طرزِعمل نہ بن سکی۔
دوسری رائے یہ تھی کہ تمام ہندستان کے مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں‘ اور مل کر آواز اُٹھائیں‘ کہ ہم ایک الگ قوم ہیں‘ ہمارا مذہب الگ ہے‘ ہماری تہذیب الگ ہے‘ ہمیں اور ہندوئوں کو ملا کر سارے ملک میں ایک قومی جمہوری ریاست بنا دینا صحیح نہیں ہے‘ ملک کو تقسیم کیا جائے‘ جہاں ہماری اکثریت ہے وہاں ہماری آزاد قومی حکومت بنے‘ اور جہاں ہندوئوں کی اکثریت ہے‘ وہاں ان کی آزاد قومی حکومت بن جائے۔
یہ راستہ آسان تھا۔ اس میں نہ کسی ذہنی کاوش کی کوئی حاجت تھی‘ اور نہ کسی اخلاقی اصلاح وانضباط کا کوئی سوال۔ بظاہر بات بھی بالکل صاف تھی‘ اور مسلمانوں کے ذہین طبقہ کو ایک مدّت سے جس قسم کی تعلیم وتربیت مل رہی تھی اس کے لحاظ سے یہی بات ان کی دماغی سطح سے قریب تر بھی تھی۔ اس لیے مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت نے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ تھوڑے لوگوں کو چھوڑ کر ساری قوم نے اس رائے کو اپنا لیا۔ اس مرکزی تخیل پر جمع ہونے کے بعد سے پچھلے چند سالوں میں مسلمانوں نے من حیث القوم جو کچھ کیا ہے اسی تحریک اور اسی قیادت کے زیر اثر کیا ہے‘ جو اس تخیل کو پیش کرنے کی ذمّہ دار تھی۔ لہٰذا ہماری ماضی قریب کی سر گزشت کا اور ہمارے آج کے حال کا حسن وقج لازماً اس تحریک ہی کی طرف راجع ہوگا۔
یہ تحریک ایک قومی تحریک تھی۔ اس میں وہ سب لوگ شریک ہوئے‘ جو نام ونسب کے لحاظ سے مسلم قوم کے افراد تھے۔یہ سوال اس میں سرے سے بے محل تھا‘ کہ جو اس میں شامل ہوتا ہے وہ خدا‘ رسول‘ آخرت‘ وحی وکتاب اور دین وشریعت کو مانتا ہے‘ یا نہیں‘ حرام وحلال کی تمیز کا قائل ہے‘ یا نہیں اور فجور وتقویٰ‘ دین داری وبے دینی کی مختلف صفات میں سے کس صفت کے ساتھ متصف ہے۔ اصل مسئلہ قوم کو بچانے کا تھا‘ اور اس کے لیے تمام قومی عناصر کا متحدہ محاذ بننا ضروری تھا۔ پھر جو کام پیشِ نظر تھا‘ وہ بھی فتوے اور امامت کا نہ تھا‘کہ دین واعتقاد کے تجسس کی ضرورت پیش آتی۔ مقصود صرف قومی مدافعت تھی‘ اور اس کے لیے تحریک کی شرکت تو درکنار اس کی قیادت ورہنمائی کے معاملہ میں بھی یہ دیکھنے کی حاجت نہ تھی کہ جن لوگوں کو ہم آگے لارہے ہیں ان کا اسلام سے کتنا اور کیسا تعلق ہے۔
یہ تحریک سیاسی تھی‘ اس میں اخلاق کا بھی کوئی سوال نہ تھا۔ جس نے سیاسی جوڑ توڑ میں جتنی زیادہ مہارت دکھائی وہ اتنے ہی زیادہ ذمّہ داری کے منصب کا اہل قرار پایا۔ اس قابلیت کا ثبوت مل جانے کے بعد یہ دیکھنا بالکل غیر ضروری تھا‘ کہ اس کی دیانت‘ امانت‘ صداقت کا کیا حال ہے‘ اور اس کی سیرت کہاں تک اعتماد کے لائق ہے۔
اس تحریک میں اگرچہ مذہب کا کوئی دخل نہ تھا۔ بعینہٖ اسی قسم کی تحریک ایسے ہی کارکنوں اور لیڈروں اور پیروئوں کے ساتھ دنیا کی ہر قوم اُٹھا سکتی تھی۔ لیکن اتفاق کی بات تھی کہ جو قوم اپنی مدافعت کے لیے یہ تحریک لے کر اُٹھی تھی اس کا مذہب اسلام تھا۔ اس لیے اسلام کی خدمات بھی اس کے لیے حاصل کی گئیں۔ اصول یہ قرار پایا کہ ہدایت ورہنمائی تو اسلام کے بس کا روگ نہیں ہے‘ اور نہ یہ کہنے کا اسے حق ہے‘ کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہ کرنا چاہئے‘ البتہ یہ اس کا فرض اور اولین فرض ہے‘ کہ جو کچھ ہم کریں وہ اس کی تصدیق وتوثیق کرے اس پر اجر کی اُمید دلائے‘ اس پر چسپاں کرنے کے لیے اپنی کوئی نہ کوئی اصطلاح مستعار دے‘ اور اس میں ہمارا ساتھ نہ دینے والوں کو جہنم کا راستہ دکھائے‘ اس لیے کہ ہم جو کچھ کرینگے اسی پر مسلم قوم کا بچنا موقوف ہے‘ اور مسلم قوم ہی نہ رہی تو یہ اسلام صاحب آخر رہیں گے کہاں؟یوں اس تحریک میں اسلام سے وہ خدمت لی گئی جو بگڑے ہوئے نواب زادے اپنے خاندان کے کسی پرانے جانثار ملازم سے لیا کرتے ہیں۔ مشورہ اور نصیحت اس کا کام نہیں ہوتا۔ میاں لوگ اپنی مرضی سے جو چاہیں کریں۔ مگر آڑے وقت میں بوڑھے خادم کو پکارا جاتا ہے‘ کہ آاور حق نمک ادا کر۔ پھر اگر وہ غریب ان حرکات پر صبر نہیں کر سکتا جن کی وجہ سے برے وقت آتے ہیں‘ اور بے چین ہوکر کبھی کہہ بیٹھتا ہے‘ کہ صاحبزادے اپنے اطوار ٹھیک کرو‘ تو اسے ڈانٹ دیا جاتا ہے‘ کہ ایاز قدرخود بشناس‘ تو اپنے کام سے کام رکھ‘ تیری یہ حیثیت کب سے ہوگئی کہ ہمارے معاملات میں دخل دے۔
یہ تھیں وہ بنیادیں جن پر ہماری یہ قومی تحریک اوّل روز سے اُٹھی اور آخر تک بڑھتی چل گئی۔ اس کے اجزائے ترکیبی میں مومن اور منافق اور کھلے کھلے ملحدسب شامل تھے‘ بلکہ دین میں جو جتنا ہلکا تھا وہ اتنا ہی اوپر آیا۔ اس میں اخلاق کی سرے سے کوئی پوچھ نہ تھی۔ عام کارکنوں سے لے کر بڑے سے بڑے ذمّہ دار لیڈروں تک میں‘ انتہائی ناقابلِ اعتماد سیرت کے لوگ موجود تھے‘ بلکہ تحریک کا قدم جتنا آگے بڑھا اس قسم کے عناصر کا تناسب بڑھتا ہی چلا گیا۔اس میں اسلام کو اتباع کے لیے نہیں‘ بلکہ صرف عوام میں مذہبی جوش پیدا کرنے کے لیے فریق جنگ بنایا گیا تھا۔کبھی ایک دن کے لیے بھی اس کو یہ حیثیت نہیں دی گئی کہ وہ حکم دے اور یہ اسے مانیں اور کوئی قدم اُٹھاتے وقت یہ اس سے استصواب کریں۔
پھر چونکہ مقابلہ ہندو سے تھا اس لیے یہ بھی ضروری تھا‘ کہ اس کے ہر حربے کا جواب ویسے ہی حربے سے‘ ہر چوٹ کا جواب ویسی ہی چوٹ سے‘ اور ہر چال کا جواب ویسی ہی چال سے دیا جائے‘ جن جن پستیوں میں وہ گرا مسلمان بھی اس کی ضد میں گرے اور جو جو کچھ وہ اپنی قومی خود غرضیوں کی خاطر کرتا گیا‘ مسلمانوں نے اس دلیل پر اس کا ارتکاب کیا‘ کہ ہندو ایسا کر رہا ہے۔ اس مقابلہ ومسابقت نے مسلمانوں کی عام اخلاقی سطح اتنی گرا دی کہ شاید اس سے پہلے وہ کبھی اخلاقی حیثیت سے اتنے نہ گرے تھے۔
یہ تو تھا ہماری اس عظیم الشان قومی تحریک کا اخلاقی ودینی پس منظر‘ اب ذرا اس کے اصل کام کا جائزہ لیجیے جو وہ قوم کو بچانے کے لیے کر رہی تھی۔
مسلمانوں کا قومی مطالبہ جو اس نے مرتّب کیا وہ یہ تھا‘ کہ ہندوئوں اور مسلمانوں کی عدوی اکثریت کے لحاظ سے ملک تقسیم کر دیا جائے۔ اس مطالبہ کے اندر آپ سے آپ تین باتیں شامل تھیں۔ ایک یہ کہ تقریباً آدھے مسلمان ہندوئوں کے قومی غلام بن کر رہ جائیں۔ دوسرے یہ کہ مسلمانوں کی قومی ریاست دو ایسے چھوٹے چھوٹے خطوں میں بٹے‘ جن کی حیثیت ہندو ریاست کی سرحدوں پر قریب قریب وہی ہوجو پولینڈ اور چیکوسلوواکیہ جیسی ریاستوں کی حیثیت روس کی سرحد وں پر ہے۔ تیسرے یہ کہ ان دونوں خطوں کے درمیان بھی ایک ہزار میل کا ہندو علاقہ حائل ہو‘ اور ان کے درمیان نہ حالتِ امن میں پوری طرح تعاون ہوسکے نہ حالت جنگ میں یہ ایک دوسرے کی مدد کر سکیں۔{ FR 2560 }
اول روز ہی سے معلوم تھا‘ کہ ہندو اس مطالبہ کی سخت مزاحمت کرے گا‘ چنانچہ وہ اس نے کی اورایک طرف سے مطالبے اور دوسری طرف سے مزاحمت نے چند سال کے اندر قومی جنگ کو اتنی شدید تلخی کی حد تک پہنچا دیا‘ کہ شاید آج جرمنی اور روس‘ امریکہ اور جاپان‘ عرب اور یہود کے درمیان بھی اس سے زیادہ تلخی نہ ہوگی۔ اس قومی جنگ میں لامحالہ مسلمان ہی سب سے زیادہ نقصان اُٹھانے والے تھے۔کیونکہ ان کا پورا نصف حصّہ ہمارے اپنے مطالبہ کی رُو سے ان کے مالکانہ تصرف میں جانے والا تھا۔ پھر چونکہ اقلیت کے مسلمانوں کو بھی اس جنگ میں شریک کیا گیا تھا‘ بلکہ پیش پیش وہی تھے۔ اس لیے یقینی بات تھی کہ جنگ کے آخری مرحلوں میں اور تقسیم کے بعد ان کو بدترین مظالم کا تختہ مشق بننا پڑے گا۔ یوپی‘ بہار‘ اور دوسرے ہندو ستانی علاقوں میں کسی مکان پر’’پاکستان زندہ باد‘‘ لکھا ہونا یہ معنی رکھتا تھا‘ کہ ایک وقت میں یہی فقرے بدمست دشمنوں کو آتش زنی‘ قتل وغارت اور عصمت دری کی دعوت دیں۔
اس کے ساتھ مزید غضب یہ کہ قومی جنگ کے لیے ہم نے جو طاقت فراہم کی تھی‘ وہ نعرے‘ جھنڈے‘ جلسے‘ جلوس‘ ریزو لیوشن‘ اخباری بیانات اور سیاسی گفت وشنید سے زیادہ کچھ نہ تھی۔ یہ سب ہتھیار صرف اسی حالت کے لیے موزوں ہوسکتے تھے‘ جب کہ قسمتوں کی میزان ایک تیسری طاقت کے ہاتھ میں ہو‘ اور وہ خود اپنی مصلحتوں کی خاطر توازن قائم کرنے کے لیے ایک فریق کے مقابلہ میں دوسرے فریق کے شوروغل کو وزن دینا چاہے۔ ہمارے لیڈر مدّتوں تک اس حالت میں رہتے رہتے اس کے اتنے خوگر ہوچکے تھے‘ کہ وہ سب کچھ اس کے اندر ہی سوچ سکتے تھے۔ اس حالت کے گزر جانے کے بعد دوسری حالت میں کیا کچھ درکار ہے‘ اس کا شاید انہیں کوئی اندازہ ہی نہ تھا۔ یہی وجہ ہے‘ کہ جب دوسرے حالات یکا یک پیش آگئے‘ تو ان کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ بالکل بے سرو سامان تھے۔
پچھلے سال (۱۹۴۷ء) کے آغاز تک کسی کو بھی محسوس نہ ہوا‘ کہ ہم اپنے اندر کیا کمزوریاں لیے ہوئے ہیں۔ ہماری سیاست کیا نتائج اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے‘ اور قومی جنگ کس رخ پر جا رہی ہے۔ شورو شغب اور ہنگامہ وجوش نے ایک ایسا فریب قوّت پیدا کر دیا تھا‘ کہ ہم اپنی تنظیم کو ایک مکمل تنظیم اور اپنی سیاست کو ایک ماہرانہ سیاست سمجھے بیٹھے تھے‘ اور اس وقت ہر وہ شخص ہمیں اپنا دشمن نظر آرہا تھا‘ جو سطح کے نیچے چھپے ہوئے کمزور پہلوئوں کی طرف‘ یا سر پر آئے ہوئے طوفان بلا کی طرف ذرا اشارہ بھی کر دے۔ مگر جونہی کہ تقسیم کا فیصلہ ہوا‘ یکا یک وہ ساری ہی کمزوریاں رنگ لے آئیں‘ جو ہمارے قومی اخلاق میں ہماری قومی تنظیم میں اور ہمارے سیاسی نقشے میں موجود تھیں۔
پانچ کروڑ مسلمانوں نے انتہائی بے بسی کی حالت میں‘ ایک مفتوح اور شکست خور وہ قوم کی حیثیت سے اپنے آپ کو اچانک ان ہندوئوں اور سکھوں کے چنگل میں پایا جن کے ساتھ وہ چند روز پہلے دو بدو لڑ رہے تھے۔ اس طرح جو تحریک پوری قوم کو بچانے کے لیے اُٹھی تھی‘ اس کی تدبیر مدافعت کا خلاصہ یہ نکلا کہ ایک نصف کو بچانے کے لیے دوسرے نصف کو ایسی سخت تباہی کے گڑھے میں پھینک دیا گیا‘ جس کا تصوّر بھی پہلے نہ کیا جا سکتا تھا۔
مشرقی پنجاب‘ دہلی اور اس کے آس پاس کے دوسرے علاقوں میں جب مسلمانوں پر ظلم وستم کا پہاڑ یکا یک ٹوٹ پڑا‘ تو وہ قومی تنظیم جس پر کئی سال سے مسلمان اعتماد کیے ہوئے تھے‘ ان کے لیے بالکل بیکار ثابت ہوئی۔ ہر جگہ کے مقامی لیڈروں اور قومی کارکنوں میں سے ۹۵ فی صدی سخت ناقابلِ اعتماد نکلے۔ انہوں نے عین وقت پر اپنی قوم کا ساتھ چھوڑ دیا اور صرف اپنے بچائو کی فکر کی۔ ان محافظینِ قوم نے وہ اسلحہ تک جو مسلمانوں کی مدافعت کے لیے فراہم کیے گئے تھے‘ زیادہ داموں پر ہندوئوں اور سکھوں کے ہاتھوں فروخت کرنے میں تامل نہ کیا۔ انہوں نے خطرے کے علاقوں سے مسلمانوں کو بچا کر نکالنے کے بجائے‘ اپنے جانوروں اور اپنے عیش کے سامانوں کو نکال لانا زیادہ ضروری سمجھا۔ انہوں نے پاکستان کے سرکاری ٹرکوں پر پناہ گزینوں کو بٹھانے کے لیے بھی رشوتیں وصول کیں۔ انہوں نے کیمپوں میں ایک ایک دانے کے لیے ترسنے والے پناہ گزینوں کے ہاتھ بھی وہ روٹیاں مہنگے داموں بیچیں جو سرکاری خرچ پر بھیجی گئی تھیں۔
پھر مسلمانوں کے قومی اخلاق کی تعمیر سے جو غفلت برتی گئی تھی‘ اس نے اپنے بدترین نتائج پاکستان کی سرحد کے دونوں طرف دکھائے۔ مشرقی پنجاب میں مسلمانوں نے بڑے بڑے علاقے محض دھمکیوں میں خالی کر دئیے‘ انہوں نے انتہائی بے غیرتی کے منظر‘ جیتے جی اپنی آنکھوں سے دیکھے‘ ایک ایک سکھ کے آگے پچاس پچاس مسلمان زمین بوس ہوئے‘ اور اس کے ساتھ عین اس قیامت ِصغریٰ کی حالت میں بھی مسلمان نے مسلمان کو لوٹنے میں‘ اور ذرا ذراسی ضرورت کی چیزیں اپنے مصیبت کے ساتھیوں کے ہاتھ بلیک مارکیٹ کے داموں بیچنے میں کوئی شرم محسوس نہ کی۔ دوسری طرف مغربی پنجاب‘ سرحد اور سندھ کے مسلمانوں نے ان کے لیڈروں اور قومی کارکنوں نے ان کے منتخب کیے ہوئے ایم ایل اے صاحبان نے اور ان سرکاری ملازموں نے جو کبھی قومی درد سے بہت تڑپا کرتے تھے۔ ہندوئوں اور سکھوں کے مال لوٹ لوٹ کر جس طرح اپنے گھر بھرے‘ اپنے پناہ گزین بھائیوں کے بسنے میں جو مشکلات پیدا کیں‘ مصیبت کے مارے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ جس بیدردی کا سلوک کیا اور پاکستان بنتے ہی بے نظمی‘ نافرض شناسی‘ رشوت‘ خیانت‘ اقر باپروری اور ظلم وبے انصافی کی جو گرم بازاری کی اسے دیکھ کر یہ بالکل عیاں ہوگیا‘ کہ سیرت واخلاق کے بغیر نرے جھنڈوں‘ نعروں اور جلوسوں کے بل پر کسی قوم کو اُٹھانے کے کیا نتائج ہوا کرتے ہیں۔
اس سارے نامۂ اعمال میں اگر کسی چیز کو نفع کے خانہ میں رکھا جا سکتا ہے‘ تو وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے‘ کہ انہوں نے کم از کم آدھے مسلمانوں کو تو بچا لیا اور ان کی ایک قومی ریاست بنوا دی۔ لیکن افسوس کہ اس ’’روشن‘‘کارنامے کو بھی ہم بدترین غلطیوں سے داغدار پاتے ہیں‘ اور بری طرح ان کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ تقسیم ہند کا معاملہ جس طریقے سے طے کیا گیا وہ غلطیوں بلکہ حماقتوں کا ایک مجموعہ تھا۔ سرحدات کا تعین‘ گفت وشنید سے طے کرنے کے بجائے‘ دو کمیشنوں پر چھوڑ دیا گیا۔ کمیشن کی ترکیب ایسی قبول کی گئی جس سے فیصلہ کا اختیار کلیتہً صدر کے ہاتھ میں رہ جاتا تھا صدر بھی کسی غیر جانبدار قوم کا آدمی نہیں بنایا گیا‘ بلکہ انگریز قوم سے لیا گیا‘ جو ہندوستان میں نہ غیر جانبدار تھی نہ بے غرض۔ پھر اس فیصلہ کا اعلان کرنے کے اختیارات بھی اس شخص (لارڈ مائونٹ بیٹن)کے ہاتھ میں چھوڑ دئیے گئے‘ جو صرف ہندستان کا گورنر جنرل رہ جانے والا تھا۔ اور ہماری قیادت ِعظمیٰ نے پیشگی یہ قول دیدیا ‘کہ اس فیصلے کی رُو سے جو بھی سرحدیں مقرر کر دی جائیں گی انہیں وہ بے چون وچرامان لے گی۔ اس شدید غلطی کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنگال اور پنجاب دونوں میں مسلمان اکثریت کے متعدد علاقے ہندوستان کے ساتھ ملحق کر دئیے گئے‘ مشرقی پنجاب کی پوری نو تحصیلیں جن میں مسلمانوں کی واضح اکثریت تھی‘ ہندوئوں اور سکھوں کے قبضہ میں چلی گئیں‘ اور سب سے زیادہ یہ کہ گورداس پور کا ضلع ہندستان میں شامل ہوگیا‘ جس کی وجہ سے کشمیر کے ہندو رئیس کو ہندوستان کے ساتھ تعلق جوڑنے کا راستہ مل گیا۔
انتقالِ اختیارات کی جو صورت لارڈ مائونٹ بیٹن نے تجویز کی تھی‘ وہ صریح طور پر پاکستان کے حق میں سخت مضر تھی‘ مگر ہماری قیادتِ عظمیٰ نے اسے بھی جوں کا توں قبول کر لیا۔ پاکستان کے حصّہ کی فوجیں جگہ جگہ منتشر تھیں‘ اس کے حصے کا سامان اور فوجی ذخائر بھی ہندستان کے قبضے میں تھے‘ اس کے حصے کا سرمایہ بھی ہندوستان ہی کے ہاتھ میں تھا اس کے دفاتر اور اس کا عملہ تک ابھی پوری طرح منتقل نہ ہوا تھا‘ اور اس حالت میں پاکستان کی مستقل مملکت نظم ونسق اور دفاع کی پوری ذمّہ داری کے ساتھ قائم کر دی گئی۔ آج یہ اس حماقت کا نتیجہ ہے‘ کہ اپنی قوم کے جس آدھے حصے کو انہوں نے ہندو اقتدار کے چنگل سے نکالا ہے وہ بھی اس کے دبائو سے پوری طرح آزاد نہیں ہوسکا۔ جونا گڑھ پر انہوں نے زبردستی قبضہ کیا اور ہم اپنی بے بسی کی وجہ سے انگلی تک نہ ہلا سکے۔ کشمیر کے مسلمانوں کو وہ ہمارے سامنے پا مال کر رہے ہیں‘ اور ہم ان کے مقابلہ میں کھل کر لڑنے کی جرأت نہیں رکھتے۔ ہماری کنی ان سے دبی ہوئی ہے‘ اور ہم ہر موقع پر ان سے دبتے چلے جا رہے ہیں۔
آج ایک سال کے بعد کہا جا رہا ہے‘ کہ یہ سب کچھ مائونٹ بیٹن نے اپنی زبردستی سے کیا تھا‘ اور ہم اس پر راضی نہ تھے۔مگر سوال یہ ہے‘ کہ جب یہ زیادتی کی جا رہی تھی‘ اور آپ دیکھ رہے تھے‘ کہ مائونٹ بیٹن ہماری بربادی کے سامان کر رہا ہے۔اس وقت آپ کی زبان کہاں چلی گئی تھی؟کیوں نہیں آپ نے اپنی قوم اور ساری دنیا کو اس شرارت کی اطلاع دی؟کیوں آپ خاموشی کے ساتھ وہ سب کچھ قبول کرتے چلے گئے جو مسلمانوں کے لیے سخت تباہ کن تھا؟کیوں آپ نے اسی وقت یہ اعلان نہ کیا کہ یہ سب کچھ مائونٹ بیٹن اپنی ذمّہ داری پر کر رہا ہے‘ اور ہم برضا ورغبت اس کی ذمّہ داری میں شریک نہیں ہیں؟صرف یہی نہیں کہ اس وقت آپ خاموش رہے۔ بعد میں جب اس غلط طرز تقسیم کے سخت ہولناک نتائج رونما ہوگئے‘ اور لاکھوں مسلمانوں کو اس کا بدترین خمیازہ بھگتنا پڑا‘ اس وقت بھی آپ نے اپنی پوزیشن صاف کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہ کی۔
جیسا کہ ہم ابتدا میں کہہ چکے ہیں‘ دس سال پہلے مسلمانوں کے سامنے یہ سوال آیا تھا‘ کہ وہ ہندو سامراج کے تسلّط سے اپنے آپکو کیسے بچائیں۔ اس سوال کا ایک حل یہ پیش کیا گیا تھا‘ کہ اسلام کے اصولوں اور اسلامی سیرت کی طاقت سے‘ اس خطرے کا مقابلہ کیا جائے۔ مگر اس حل نے مسلمانوں کو اپیل نہ کیا اور وہ اسے آزمانے پر آمادہ نہ ہوئے۔ اب یہ بحث بیکار ہے‘ کہ اسے آزما یا جاتا تو کیا ہوتا‘ دوسرا حل جو پیش کیا گیا وہ یہ تھا‘ کہ قومیّت کی بنیاد پر سیاسی جنگ لڑی جائے۔ اسی حل کو مسلمانوں نے قبول کیا اور اپنی ساری قومی طاقت‘ اپنے تمام ذرائع اور اپنے جملہ معاملات اس قیادت کے حوالے کر دئیے جو ان کے قومی مسئلے کو اس طرح حاصل کرنا چاہتی تھی۔ دس برس کے بعد آج اس کا پورا کارنامہ ہمارے سامنے ہے‘ اور ہم دیکھ چکے ہیں‘ کہ اس نے کس طرح کس صورت میں ہمارے مسئلے کو حل کیا۔ جو کچھ ہوچکا ہے وہ تو امٹ ہے اب اسے بدلا نہیں جا سکتا۔ اس پر اس حیثیت سے تو بحث بیکار ہے‘ کہ یہ نہ کیا جاتا تو کیا ہوتا۔ البتہ اس حیثیت سے اس پر بحث کرنا ضروری ہے‘ کہ جو مسائل اب ہمیں درپیش ہیں‘ کیا ان کے حل کے لیے بھی وہی قیادت موزوں ہے‘ جو اس سے پہلے ہمارے قومی مسئلے کو اس طرح حل کر چکی ہے؟کیا اس کا اب تک کا کارنامہ یہی سفارش کرتا ہے‘ کہ اب جو بڑے بڑے اور نازک مسائل ہمارے سر پر آپڑے ہیں‘ جن کا بیشتر حصّہ خود اسی قیادت کی کار فرمائیوں کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے انہیں حل کرنے کے لیے ہم اس پر اعتماد کریں؟ (ترجمان القرآن۔ جولائی ۱۹۴۸ء)
ؕ
خ خ خ

تقسیم کے بعد سامنے آنے والے مسائل

مسلمان اس وقت بحیثیت ایک قوم کے جن بڑے بڑے مسائل سے دو چار ہیں ان کا ابھی تک پوری طرح جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔ ہمارے سوچنے سمجھنے والے طبقے ان مسائل کا کچھ نہ کچھ ادراک ضرور رکھتے ہیں‘ اور ان پر غور وفکر کرتے بھی رہتے ہیں‘ لیکن عام طور پر جو بحثیں پڑھنے اور سننے میں آتی ہیں ان سے یہی اندازہ ہوتا ہے‘ کہ نہ تو ان مسائل کا پورا احاطہ کیا گیا ہے‘ اور نہ ان کا تجزّیہ کر کے دیکھا گیا ہے‘ کہ ان میں سے ہر ایک مسئلہ کیا نوعیت رکھتا ہے‘ کیا اس کے اسباب ہیں کیا اس کی اہمیت ہے‘ اور کس طرح وہ حل ہوسکتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ قوم بحیثیت مجموعی اب تک اپنے اصل مسائل سے غافل ہے۔ پھر ہمارے اندر ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے‘ جن کی خواہش اور کوشش یہی ہے‘ کہ قوم کو ان مسائل سے غافل کیا اور رکھا جائے۔ وہ اس کی توجہ ان سے ہٹا کر ہنگامی معاملات کی طرف پھیرتے رہتے ہیں‘ وہ اسے اب تک وہی نشہ پلائے جا رہے ہیں‘ جو آزادی سے پہلے پلا رہے تھے۔ وہ اسے تھپکیاں دے دے کر مطمئن کر رہے ہیں‘ کہ یہ مسائل یا تو موجود ہی نہیں ہیں‘ یا ہیں بھی تو ان کے لیے کچھ زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ باتیں خواہ نادانی کے ساتھ کی جا رہی ہوں‘ یا ہوشیاری کے ساتھ اور خواہ کسی پارٹی کی اغراض کے لیے یہ کتنی ہی مفید ہوں‘ بہرحال قوم کی خیر خواہی کا ان میں شائبہ تک نہیں ہے۔ قومی بھلائی اسی میں ہے‘ کہ اس کے سامنے واضح طور پر وہ سارے مسائل رکھ دیے جائیں‘ جن سے اس کو عہدہ بر آہونا ہے۔ پھر اسے یہ سوچنے کی دعوت دی جائے کہ آیا وہ اپنی موجودہ حالت میں ان مسائل سے عہدہ برا ہونے کے قابل ہے‘ یا نہیں۔ اگر ہے‘ تو الحمد ﷲ اور نہیں ہے‘ تو اسے لامحالہ اپنے اندر تبدیل کرنی ہوگی‘ اور غور کرنا پڑے گا کہ وہ تبدیلی کس نوعیت کی ہو۔
ہمارے لیے اس وقت سب سے زیادہ نازک اور سب سے بڑھ کر دل خراش مسئلہ ان مسلمانوں کا ہے‘ جو تقسیمِ ملک کے بعد ہندستان میں رہ گئے ہیں۔ تقسیم کے وقت ان کی تعداد پانچ کروڑ کے لگ بھگ تھی یعنی ہماری قوم کا پورا نصف حصّہ تقسیم کے بعد ان میں سے کئی لاکھ فنا کے گھاٹ اتار دئیے گئے۔ ایک بڑی تعداد جبراً غیر مسلم بنا لی گئی‘ ساٹھ ستر لاکھ پاکستان میں دھکیل دئیے گئے‘ اور دس پندرہ لاکھ کو حیدر آباد میں پناہ لینی پڑی۔{ FR 2561 }اب اندازہ کیا جاتا ہے‘ کہ چار کروڑ مسلمان ہندستان میں باقی ہیں۔ یہ باقی ماندہ مسلمان آج انڈین یونین میں وہی حیثیت رکھتے ہیں‘ جو روس کے ما تحت مفتوح جرمنوں کی اور امریکہ کے ماتحت شکست خوردہ جاپانیوں کی ہے۔ دس سال کی تلخ وتیز قومی جنگ کے بعد اب وہ بالکل بے بسی کے ساتھ اپنے سابق حریفوں کے قبضے میں ہیں۔ انہیں ’’پاکستان زندہ باد‘‘کی وہ قیمت دینی پڑ رہی ہے‘ جو ان کے شہری حقوق ہی کو نہیں‘ انسانی حقوق تک کو کھا گئی ہے۔ وہ سب ’’غذار‘‘ اور سب ’’جاسوس‘‘ ہیں۔ ہر ایک کی وفا داری مشتبہ ہے۔ ہر ایک کے لیے خانہ تلاشی اور گرفتاری مقدر ہے اِلاّیہ کہ کسی کی باری آنے میں ابھی کچھ دیر ہو۔ پوری قوم اصل میں یر غمال بن چکی ہے۔ اس کے لیے عزت کی زندگی کا دروازہ بند ہے‘ اور صرف تین راستے کھلے ہوئے ہیں‘ یا تو برضا ورغبت مرتد ہوجائے‘ یا اچھوتوں سے بدتر حالت میں رہے‘ یا پھر خاموشی کے ساتھ‘ ان سب تدبیروں کو برداشت کرتی چلی جائے‘ جو اس کی امتیازی ہستی کو مٹانے اور اسے ہندو قومیّت میں جذب کرنے کے لیے عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ یہ حالت اگریوں ہی جا ری رہی تو مستقبل قریب میں مسلمان ہندستان سے اسی طرح غائب ہوجائیں گے جس طرح وہ اَندلس(اسپین) اور صقلیہ (سسلی) سے غائب ہوچکے ہیں۔لاقدّر اﷲ۔
چار کروڑ مسلمانوں کی یہ عظیم الشان قوم اس وقت بالکل بے سہارا ہے۔ جس سیاست پر اب تک اس کا مدارِ کار تھا‘ اس کی بساط انقلاب کے ایک ہی پلٹے نے اُلٹ دی جس قومی تنظیم پر اس کا سارا اعتماد تھا وہ طوفان کا ایک تھپیڑ ابھی نہ سہ سکی‘ جن لیڈروں کے ہاتھ میں وہ اپنے معاملات سونپ کر مطمئن ہوبیٹھی تھی‘ وہ اس کے لیے بالکل بے کار ثابت ہوئے۔ ان کے کچھ اکابر تو خاموشی کے ساتھ اُٹھ کر پاکستان چلے آئے اور باقی اکابرواصاغر سب دشمنوں کے آگے تو بہ واستغفار کرنے میں مشغول ہوگئے۔ سیرت واخلاق کے بغیر جو لوگ محض نعروں کے بل پر لیڈر بنے تھے‘ وہ زمانے کا رخ بدل جانے کے بعد ایک دن بھی اپنے قبلے کی سمت استوار نہ رکھ سکے۔ انقلاب کی پہلی ہی رات وہ اپنے ان نظریات اور اصولوں کو طلاق مغلظ دے بیٹھے‘ جن پر دس سال سے وہ اپنی قوم کو لڑا رہے تھے۔ دو قومی نظریہ یک لخت ان کے نزدیک باطل ہوگیا۔ یک قومی نظرئیے کی صداقت اچانک ان پر منکشف ہوگئی۔ ترنگے جھنڈے کی عقیدت یکا یک ان کے دل میں گھر کر گئی۔ چند روز کے اندر ان مجاہدینِ ملّت کو‘ وطن پرستی میں ایسا شرح صدر نصیب ہوا کہ ان کے حلقے سے مخلوط ہندو مسلم شادیوں تک کی تجویزیں آنے لگیں‘ تاکہ مسلم وہندو کے اندر سے یہ کم بخت ’’من دیگرم تو دیگری‘‘کا احساس تو کسی طرح دور ہو! اس پورے گروہ میں سے ایک کوہ کن بھی نہ نکلا جو بازی کھونے کے بعد سردے سکتا۔ ساری جماعت بازی گروں سے پٹی پڑی تھی جنہوں نے عجیب عجیب قلابازیاں کھا کر‘ دنیا کو اپنی بودی سیرت اور کھوکھلے اخلاق کا تماشا دکھایا‘ اور اس قوم کی رہی سہی عزت بھی خاک میں ملا دی‘ جس کے وہ نمائندے بنے ہوئے تھے۔
اس سے مایوس ہوکر اس ڈوبتی ہوئی قوم نے ان تنکوں کا سہارا لینا چاہا جو پہلے سے کانگریسی دریا کی سطح پر تیر رہے تھے‘ مگر اب وہ بھی اس کے لیے بے کار ثابت ہورہے ہیں ان میں سے ایک گروہ اب بھی وہی رائے رکھتا ہے‘ کہ مسلمان اپنے امتیازی وجود کو خود بھول جائیں‘ اور ہندی قومیّت میں اپنے آپ کو گم کر دیں۔ ظاہر ہے‘ کہ یہ تحفظ ذات کا نہیں‘ بلکہ ’’آسا ن بمیری‘‘ کا نسخہ ہے‘ جو مسلمان کے مزاج کو نہ پہلے راس آیا تھا‘ اور نہ اب راس آسکتا ہے۔دوسرا گروہ کچھ مسلمان کے ’’مستقل وجود‘‘ اورکچھ اس کے ’’حقوق‘‘ کا بھی تصوّر رکھتا ہے‘ مگر یہ نام زبان پر آتے ہی پرانے سے پرانا کانگریسی مسلمان بھی ہندو قوم پرستوں کی نگاہ میں بس ایک نقاب پوش مسلم لیگی بن کر رہ جاتا ہے۔
ہندستان کے ان مسلمانوں کا مسئلہ اس وقت درحقیقت ہماراسب سے بڑا قومی مسئلہ ہے‘ تقسیم نے ہمیں کاٹ ضرور دیا ہے‘ مگر وہ ہیں ہماری ہی قوم کا ایک حصّہ‘ اور معمولی نہیں پورا ۵/۲ حصہ۔ ان کو ہم یوں ہی مٹنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتے۔ ان کا ہم پر سب سے بڑا حق ہے‘ اس لیے کہ جس پاکستان سے ہم متمتع ہورہے ہیں اس کی اصل قیمت انہی نے ادا کی ہے۔ وہ اس لیے بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہیں‘ کہ ہمارا بہترین مردم خیز حصّہ وہی ہیں۔ انہیں اس بنا پر بھی نذر تغافل نہیں کیا جا سکتا‘کہ ہماری ہزار سالہ تہذیب کے تمام چیدہ ثمرات اور ہمارے تمام بڑے بڑے معاہد (institutions)اور تہذیبی مراکز کے امانت دار وہی ہیں‘ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آخر ہم ٹھنڈے دل سے یہ بات کیسے گوارا کر سکتے ہیں‘ کہ ہمارے اسلاف نے پچھلے ایک ہزار سال میں جو محنتیں اور جو جانفشانیاں اسلام کے پیغام کو اکناف ہند میں پھیلانے کے لیے کی ہیں‘ ان سب پر پانی پھر جائے‘ اور توحید کی دعوت سمٹ کر بر عظیم ہند کے صرف دو چھوٹے چھوٹے خطوں میں محدود ہوجائے۔ لہٰذا کوئی شخص بے پروائی کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتاکہ ہندستان کے مسلمانوں کا مسئلہ ان کا اپنا مسئلہ ہے۔ نہیں یہ پاکستان کا بھی ویسا ہی مسئلہ ہے‘ جیسا ہندستان کے مسلمانوں کا ہے‘ اور فی الواقع یہ اس پوری ملّت اسلامیہ کا مسئلہ ہے‘ جو اس مصنوعی تقسیم کے باوجود‘ اب بھی ہندوستان اور پاکستان میں ایک ہی ملّت ہے۔
اب سوال یہ ہے‘ کہ ان چار کروڑ مسلمانوں کوبچانے ‘اور ہندستان میں اسلام کی دعوت کو زندہ اور تازہ رکھنے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں؟اب تک چونکہ قومی حیثیت سے ہمارا مدار کار بالکل مسلم لیگ کے نظام اور اس کی قیادت پر رہا ہے‘ اس لیے یہ سوال لازماًاسی کی طرف پھرتا ہے‘ کیا تقسیم سے پہلے مسلم لیگ کی قیادت عظمیٰ نے اس مسئلے کا کوئی حل تجویز کیا تھا؟ کیا تقسیم کے بعد ہندستان میں مسلم لیگ کی سیاست اور قیادت کے لیے کام کرنے کا اب کوئی موقع ہے؟کیا پاکستانی مسلم لیگ اس بارے میں اپنے پاس کوئی لائحہ عمل رکھتی ہے؟کیا پاکستان کی موجودہ حکومت اس قابل ہے‘ کہ ہندستانی مسلمانوں کی قسمت پر کوئی اچھا اثر ڈال سکے‘ یا ہندستان میں اسلام کے مستقبل کو درخشاں نہیں‘ تو کم از کم محفوظ ہی کرنے کے لیے کچھ کر سکے؟اگر ان سوالات کا کوئی جواب ہے‘ تو اسے معلوم کر کے ہم بہت خوش ہوں گے۔ اگر نہیں ہے‘ تو اس کے صاف معنی یہ ہیں‘ کہ جب تک ہمارے قومی معاملات کی سر براہ کاری‘ موجودہ سیاست وقیادت کے ہاتھ میں ہے اپنی ملّت کے اس سب سے بڑے مسئلے کا کوئی حل ہمارے لیے ممکن نہیں ہے‘ اور یہی سیاست وقیادت ہماری سر براہ کار رہی تو ہمیں چند سال کے اندر یہ دیکھنے کے لیے تیار رہنا چاہئے‘ کہ واہگہ سے راس کماری تک اور مشرقی بنگال کی سرحدوں سے کاٹھیاواڑ کے سواحل تک پورا علاقہ اسلام سے خالی ہوجائے۔
دوسرے مسائل پاکستان سے متعلق ہیں۔ عموماً ان سب مسائل کو لپیٹ کر صرف ایک بڑا مسئلہ ہمارے سامنے پیش کیا جاتا ہے‘ جس کا عنوان ہے ’’پاکستان کا دفاع اوراستحکام‘‘۔اور اس کا حل یہ پیش کیا جاتا ہے‘ کہ سب پاکستانی مل کر ایک ہوجائیں‘ اور فوجی حیثیت سے مضبوط ہوں۔ لیکن تھوڑا سا تجزّیہ کرنے ہی پر یہ بات کھل جاتی ہے‘ کہ پاکستان کا دفاع واستحکام کوئی ایک سادہ سا مسئلہ نہیں ہے‘ بلکہ بہت سے مسائل کا مجموعہ ہے‘ اور اس کا حل بھی اتنا سادہ نہیں ہے جتنا اسے سمجھ لیا گیا ہے۔ کیا ایک ملک جس کے اخلاق کو گھن لگا ہوا ہومحض اسلحہ اور فوجی تربیت کے بل پر کھڑا ہوسکتا ہے؟ کیا ایک ملک جس کے عناصر ترکیبی کو ایک دوسرے سے پھاڑنے اور باہم متصادم کرنے کے لیے بہت سے طاقت ور اساب موجود ہوں بس ’’ایک ہوجائو‘‘کی تسبیحیں پڑھنے سے واقعی ایک ہوسکتا ہے؟ پس بجائے اس کے کہ ہم سادگی وسادہ لوحی سے خود کام لیں یا دوسروں کو سادہ لوح فرض کر کے ان کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانے اور فرضی مسائل کی طرف پھیرنے کی کوشش کریں ہمیں واضح طور پر یہ دیکھنا چاہئے کہ فی الواقع پاکستان کا بقاو تحفظ اور اس کا استحکام کن مسائل سے وابستہ ہے‘ اور ہم کس طرح انہیں حاصل کر سکتے ہیں۔
اولین مسئلہ ملک کے اخلاق کا ہے‘ جو تشویش ناک حد تک گرچکے ہیں۔ ہماری تمام مشکلات میں سب سے زیادہ اخلاق ہی کی خرابیاں کار فرما ہیں۔ اس بگاڑ کا زہرا تنے وسیع پیمانے پر ہماری سوسائٹی میں پھیل گیا ہے‘ اور اتنا گہرا اتر چکا ہے‘ کہ اگر ہم اسے اپنا قومی دشمن نمبر ایک قرار دیں تو ہر گز مبالغہ نہ ہوگا۔ کوئی بیرونی خطرہ ہمارے لیے اتنا خوف ناک نہیں ہے جتنا یہ اندرونی خطرہ ہے۔ یہ ہماری قوّت حیات کو کھا گیا ہے‘ اور کھائے چلا جا رہا ہے۔
پچھلے سال کے فسادات میں بداخلاقی کا جو طوفان اُٹھا تھا وہ ہماری آبادی کے ایک بہت بڑے حصّہ کو بہا لے گیا۔ قتل وخون‘ آتش زنی اور عورتوں کے بھگانے کی مشق تو شاید ہزاروں ہی کو ہوئی ہوگی لیکن لوٹ مار کی آلائش نے لاکھوں کو ملوث کر کے چھوڑا۔ اس اخلاقی زوال کی وسعت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے‘ کہ ایک گائوں کی ڈھائی ہزار آبادی میں صرف ایک شخص ایسا نکلا جس نے لوٹ میں حصّہ لینے سے پرہیز کیا تھا‘ اور ایک قصبہ کے ساتھ سو گھر میں سے بمشکل۳۵ گھر ایسے پائے گئے‘ جن میں لوٹ کا مال نہ پہنچا تھا۔پھر ان لیٹروں میں محض جاہل عوام اور بازاری لوگ ہی شامل نہ تھے۔ بڑے بڑے شرفا اور معززین‘ اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ‘ سوسائٹی اور حکومت میں بڑے مرتّبے رکھنے والے حضرات بھی اسی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے تھے‘ بلکہ وہ تو اس میں خوب جی بھر کر نہائے۔ پولیس کے چھوٹے بڑے افسر‘ امن وانتظام کے ذمّہ دار مجسٹریٹ‘ حکومت کے اعلیٰ سے اعلیٰ عہدہ دار بڑے بڑے نامور قومی کارکن‘ اسمبلی کے ممبر اور بعض وزرا تک اس گندگی میں غوطہ لگا گئے۔ یہ واقعات کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ ایک دنیا ان کو جانتی ہے‘ اور شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپانے سے کچھ حاصل نہیں۔ یہ حقیقت اب کھل چکی ہے‘ کہ ہمارے اخلاق کے جوڑ بند بری طرح ڈھیلے ہوگئے ہیں۔ ہم میں ہزارہا آدمی ایسے موجود ہیں‘ جو قتل وخون کے مشاق ہوچکے ہیں ہزاروں ایسے لوگ ہیں‘ جو موقع ملنے پر بدسے بدتر جرائم کا ارتکاب کر سکتے ہیں‘ اور نیچے سے لے کر اونچے طبقوں تک کم از کم ۹۵ فی صدی تعداد ان لوگوں کی ہے جنہیں حرام کا مال سمیٹنے میں قطعاً کوئی تامل نہیں ہے بشرطیکہ اُنہیں قانون کی گرفت سے محفوظ رہنے کا اطمینان ہو۔
ان حالات میں ہمارے لیے یہ کوئی وجہ تسلی نہیں ہے‘ کہ اس سے بدر جہا زیادہ بدتر اخلاقی صفات کا ظہور ہندستان میں ہندوئوں اور سکھوں سے ہوا ہے۔ جو زہر انہوں نے کھایا اس کی فکر انہیں ہویا نہ ہو‘ ہمیں تو اس زہر کی فکر ہے‘ جو ہماری رگوں میں اتر گیا ہے کیا مشاق مجرموں اور بے باک خائنوں کی اتنی کثیر تعداد اپنے اندر لیے ہوئے ہم اپنی قومی زندگی کو مستحکم بنا سکتے ہیں؟کیا وہ بداخلاقیاں جو کل غیروں کی جان مال اور عصمت کے معاملے میں برتی گئی تھیں‘ ان کے ساتھ ہی ختم ہوگئیں اور اپنا کوئی پائیدار اثر ہماری سیرت وکردار پر نہیں چھوڑ گئیں؟کیا یہ بگڑے ہوئے اخلاق اب خود اپنوں پر ہاتھ صاف کرنے سے رکے رہ جائیں گے؟
ایک سال کا تجربہ ہمیں بتا رہا ہے‘ کہ جس اخلاقی زوال کی خبر گزشتہ فسادات نے دی تھی‘ وہ وقتی اورمحدود نہ تھا۔ دراصل وہ ایک نہایت خوف ناک مرض کی حیثیت سے ہمارے اندر اب بھی موجود ہے‘ اور ہماری قومی زندگی کے ہر شعبے کو خراب کر رہا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد جو دشواریاں فطرۃ ًایک نئی مملکت کو پیش آیا کرتی ہیں‘ وہ تو ہمیں پیش آنی ہی تھیں۔ اور جو مصائب انگریز ہندو اورسکھ کی باہمی سازش سے ہم پر نازل ہوئے وہ بھی اپنی جگہ تھے‘ لیکن یہ سب کچھ بڑی آسانی سے انگیز کیا جا سکتا تھا‘ اگر ہمارے عوام وخواص اور ہمارے سر براہ کاروں کے اخلاق اتنے بگڑے ہوئے نہ ہوتے۔ یہ واقعہ ہے‘ اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتاکہ اخلاق کی خرابیوں نے ہماری مشکلات اور مصیبتوں کو جتنی کہ وہ تھیں‘ اصل سے کئی گنا زیادہ بڑھا دیا۔
مثال کے طور پر ’’مہاجرین‘‘ کے مسئلے کو لیجیے‘ جو پاکستان بنتے ہی ایک پہاڑ کی طرح ہم پر نازل ہوا۔ بلا شبہ ایک ملک کے لیے اس سے بڑی کوئی مصیبت نہیں‘ کہ اس پر ساٹھ ستر لاکھ بے سرو سامان آدمی ایک لخت لاکر ڈال دئیے جائیں۔ لیکن غور سے دیکھئے کہ اس طرح جو مشکلات حقیقتہً رونما ہوئی تھیں‘ ان پر کتنا اضافہ ہماری اپنی اخلاقی خرابیوں نے کر دیا۔{ FR 2562 }ہندوئوں اور سکھوں نے جو عمارات‘ سامان‘ اموال‘ دکانیں‘ کارخانے‘ زمینیں اور دوسری چیزیں پاکستان میں چھوڑی تھیں‘ اگر ان پر خود پاکستان کے باشندے‘ حکومت کے عمال اور قومی کارکن قبضے کر کے نہ بیٹھ جاتے‘ تو کیا مہاجرین کو بسانے میں ہم کو وہی دقتیں پیش آسکتی تھیں جن سے اب ہم دو چار ہیں؟مغربی پنجاب اور سرحد اورسندھ کی حکومتوں سے پوچھئے کہ جانے والوں نے کیا کچھ چھوڑا تھا‘ اور اس کا کتنا حصّہ آنے والوں کو دیا گیا‘ اور کتنا حصّہ کن کن غیر مستحقین کو پہنچا؟اگر یہ اعدادو شمار روشنی میں آجائیں‘ تو دنیا یہ دیکھ کر ونگ رہ جائے‘ کہ مہاجرین کے مسئلے کا جو زخم غیروں نے ہم کو لگایا تھا اسے سرطان کا پھوڑا بنا دینے والے دراصل کون لوگ ہیں۔ نہیں کہا جا سکتاکہ اس حمام میں آپ کس کس کو برہنہ دیکھیں گے۔
پھر جو لوگ کل تک ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے‘ جن سے بڑھ کر قوم کے درد میں تڑپنے والا کوئی نظر نہ آتا تھا‘ اور جو آج بھی زبان سے بہت بڑے ’’مجاہد ملت‘‘ بنے ہوئے ہیں‘ ان میں عظیم الشان اکثریت آپ کو ایسے افراد کی نظر آئے گی‘ جو پاکستان بننے کے بعد ہر زاویے سے اس کی کشتی میں سوراخ کیے جا رہے ہیں۔ یہ رشوت خوریاں‘ یہ خیانتیں‘ یہ غبن‘ یہ قومی خرچ پر اقربا پر وریاں اور دوست نوازیاں‘ یہ فرائض سے غفلت‘ یہ ڈسپلن سے گریز‘ یہ غریب قوم کی دولت پر عیاشیاں‘ جن کا ایک طوفان سا ہمارے نظامِ حکومت کے ہر شعبے میں برپا ہے‘ اور جس میں بکثرت چھوٹے اہل کاروں سے لے کر بہت سے عالی مقام حکام اور وزرا تک آلودہ ہیں کیا یہ سب پاکستان کو مضبوط کرنے والی چیزیں ہیں؟ یہ دکانوں اور کارخانوں کی ناجائز تقسیم جس کی بدولت ملک کی صنعت وتجارت کا بڑا حصّہ نااہل اور ناتجربہ کار ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔ کیا یہ پاکستان کی طاقت کو مستحکم کرنے والی چیز ہے؟ یہ پبلک کا بالعموم حکومت کے ٹیکس ادا کرنے سے گریز کرنا اور ان سے بچنے کے لیے نیز دوسرے ناجائز فوائد حاصل کرنے کے لیے سرکاری ملازموں کو رشوتیں دینا‘ اور جہاں بھی قانون کی گرفت سے بچ نکلنے کی اُمید ہوپبلک فنڈ کا بڑے سے بڑا نقصان کرنے میں بھی تامل نہ کرنا‘ کیا یہی وہ چیزیں ہیں‘ جن سے پاکستان مضبوط ہوسکتا ہے؟ ملک کے باشندوں کی اخلاقی حالت اس قدر گر چکی ہے‘ کہ ہندستان سے آنے والے مہاجرین کی لاشیں جب واہگہ اور لاہور کے درمیان پڑی سڑ رہی تھیں اور کیمپوں میں بھی موت کا بازار گرم تھا اس وقت ۱۲-۱۳ لاکھ مسلمانوں کے شہر میں سے چند ہزار نہیں‘ چند سو آدمی بھی ایسے نہ نکلے جو اپنے بھائیوں کو دفن کرنے کی زحمت اُٹھاتے۔ متعد مثالیں ہمارے علم میں ایسی ہیں‘ کہ کوئی مہاجر مر گیا ہے‘ اور اس کے عزیزوں کو نماز جنازہ پڑھنے کے لیے اُجرت پر آدمی فراہم کرنے پڑے ہیں‘ یہاں تک بھی نوبت پہنچی ہے‘ کہ سرحد کے قریب کسی گائوں میں مہاجرین کو زمینیں دی گئیں‘ اور مقامی مسلمانوں نے سرحد پار سے سکھوں کو بلا کر ان پر حملہ کر ا دیا‘ تاکہ یہ بھاگ جائیں‘ اور زمین ہمارے قبضہ میں رہ جائے۔ حد یہ ہے‘ کہ قوم کی جو بیٹیاں ہندستان کے ظالموں سے بچ کر آگئی تھیں‘ ان کی عصمتیں یہاں خود اپنے بھائیوں کے ہاتھوں محفوظ نہ رہ سکیں اس قسم کے واقعات شاذ نہیں ہیں‘ بلکہ بکثرت ہمارے علم میں آئے ہیں‘ اور ان شرم ناک جرائم کے مرتکب صرف عام شہد ے{ FR 2563 } ہی نہیں تھے… کیا اتنے شدید اخلاقی تنزل کے ہوتے ہوئے ہم یہ اُمید کر سکتے ہیں‘ کہ کسی بڑی اندرونی یا بیرونی مصیبت کے مقابلے میں ہم مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہوسکیں گے؟ اور کیا یہ اخلاقی تنزل اپنے ملک کی تعمیر کے لیے ہماری کسی اسکیم کو کامیابی کے ساتھ چلنے دے گا؟
تھوڑی دیر کے لیے ہم اس سوال کو جانے دیتے ہیں‘ کہ ہماری قیادت نے سیاسی تحریک کے ساتھ قوم کی اخلاقی طاقت کو سنبھالنے کی فکر کیوں نہ کی؟ ہم پوچھتے ہیں‘ کہ اب وہ اس کے لیے کیا کر رہی ہے؟ اخلاق بنانے اور سنوارنے کا کیا سرو سامان اس کے پاس ہے؟ کیا تدابیر اس کے پیشِ نظر ہیں؟ کیا لائحہ عمل اس نے بنایا ہے؟یہ ایک اہم سوال ہے‘ جس کا واضح جواب ہمیں ملنا چاہئے۔اگر اس کے جواب میں ان نصائح کی طرف اشارہ کیا جائے‘ جو کبھی کبھی ریڈیو اور سرکاری پریس اور تقریروں کے ذریعہ سے پبلک کو اور حکومت کے چھوٹے اہل کاروں کو کی جاتی رہتی ہیں‘ تو ہم پہلے ہی کہے دیتے ہیں‘ کہ اس طرح کی طفل تسلیوں سے ہمیں معاف رکھا جائے۔ اس لیے کہ بداخلاقی کے اصل سرچشمے تو خود قصرِ قیادت کے ستونوں میں شامل ہیں۔ کار فرمائی اور کار پردازی کی باگیں تو اس وقت ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں‘ جن کی بڑی اکثریت ہی کے دم قدم سے بداخلاقی کا بازار گرم ہے۔ پھر بھلا خیانت کی زبان سے امانت کا سبق‘ خود غرضی کی زبان سے ایثار کا وعظ‘ اور گناہ کی زبان سے نیکی کا درس‘ انسانی فطرت نے کب قبول کیا ہے‘ کہ یہاں اس کے کارگر ہونے کی توقع کی جائے!
دوسرا مسئلہ جو پاکستان کی زندگی‘ اس کے بقا اور اس کے استحکام کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے وہ یہ ہے‘ کہ پاکستان جن عناصر پر مشتمل ہے انہیں کس طرح جوڑ کر ایک بنیان مرصوص بنایا جائے؟یہ عناصر اس وقت شدت کے ساتھ مائل انتشار نظر آرہے ہیں‘ اور ظاہر ہے‘ کہ کسی چیز کے عناصر ترکیبی ہی اگر مجتمع اور باہم پیوستہ نہ ہوں‘ تو اس کے وجود کا بر قرار رہنا سخت دشوار ہوتا ہے۔ اس کے اجزائے وجود میں پراگندگی کا رُجحان یہ معنی رکھتا ہے‘ کہ اس کی اپنی تعمیر ہی میں خرابی کی صورت مضمر ہے۔ لہٰذا اگر یہ واقعہ ہے‘ اور کون ہے‘ جو اس کا انکار کر سکتا ہوکہ پاکستان کے ترکیبی عناصر میں جمع وتالیف کے بجائے کچھ انتشار وپراگندگی کے رُجحانات پائے جاتے ہیں‘ اور کچھ قوّتیں ان کو بڑھانے میں لگی ہوئی ہیں‘ تو ہمیں سمجھنا چاہئے‘ کہ ہمارے بند ِاستحکام‘ بلکہ عین ہماری بندشِ وجود ہی میں ایک خطر ناک رخنہ موجود ہے‘ جسے دور کیے بغیر ہم اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔
پاکستان جن عناصر پر مشتمل ہے ان میں تین تفریقیں اس وقت بالکل نمایاں ہیں۔
پہلی تفریق مہاجرین اور غیر مہاجرین کے درمیان ہے۔ ہماری آبادی میں مہاجرین کی تعداد اس وقت ۷۰ لاکھ سے متجاوز ہوچکی ہے‘ اور یہ تعداد روزافزوں ہے‘ کیونکہ ہندستان کے ہر حصّہ سے مسلمان اکھڑا کھر کر برابر پاکستان کی طرف چلے آرہے ہیں۔ مشرقی ہند کے لوگوں کا رخ مشرقی پاکستان کی طرف ہے‘ اور باقی ہندستان کے لوگ مغربی پاکستان کی راہ لے رہے ہیں۔{ FR 2564 }یہ نیا عنصر اب ہماری آبادی کا ایک مستقل عنصر ہے‘ اور تعداد کے لحاظ سے کوئی معمولی عنصر نہیں ہے۔ لیکن متعدد اسباب ایسے ہیں‘ جو نئے اور پرانے عناصر کو مل کر‘ ایک قوم بننے سے روک رہے ہیں۔ کچھ تو زبان‘ تہذیب‘ معاشرت اور عادات وخصائل کے قدرتی اختلافات ہیں‘ جو بہرحال ایک مدّت تک یگانگت میں مانع ہوا ہی کرتے ہیں۔ مگر ان پر غیر معمولی اضافہ جس چیز نے کر دیا ہے وہ یہ ہے‘ کہ مہاجرین اور غیر مہاجرین دونوں میں جاہلیت کے تعصّبات اور نفسانی خود غرضیاں کار فرما ہیں۔ یہ چیز ہر جگہ ان دونوں عناصر کو پھاڑ رہی ہے‘ ان کو مخالف جتھوں کی شکل میں منظم کر رہی ہے ان کے درمیان آویزش کی صورتیں پیدا کر رہی ہے‘ اور دونوں طرف کے تنگ نظر اور خود غرض مفسدین ان کو باہم لڑا رہے ہیں۔{ FR 2565 }
دوسری تفریق جغرافی‘ نسلی اور لسانی ہے۔ پاکستان اوّل تو دو ایسے خطوں پر مشتمل ہے‘ جن کے درمیان ایک ہزار میل سے زیادہ کا فاصلہ ہے۔ پھر یہ خطے بھی اپنی اپنی جگہ اندرونی وحدت نہیں رکھتے‘ بلکہ مختلف اجزا سے مرکب ہیں‘ اور ہر جُزو دوسرے جزوکے خلاف تعصّب رکھتا ہے۔ اس وقت درحقیقت ہم ایک قوم نہیں ہیں‘ پانچ مختلف قومیں ہیں‘ جو مصنوعی طور پر ایک سیاسی وحدت میں منسلک ہوگئی ہیں‘ یعنی سندھی‘ بلوچی‘ پٹھان‘ پنجابی اور بنگالی۔ ان میں سے ہر ایک قوم کے اندر علیحدگی کا رُجحان شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے‘ اور بعض نادان گروہ اس کو شدید تر کرنے کی پیہم جدوجہد کر رہے ہیں۔{ FR 2566 }
تیسری تفریق معاشی ہے۔ امیر اور غریب‘ زمیندار اور کاشت کار‘ مزدور اور سرمایہ دار‘ بڑی تنخواہیں پانے والے افسر اور چھوٹے اہل کار‘ یہ مختلف گروہ ہیں‘ جن کو معاشی بے انصافیوں نے ایک دوسرے سے پھاڑ دیا ہے۔ ان کے درمیان اخوت اور ہمدردی کا تعلق نہیں ہے‘ بلکہ حسد اور بغض کا تعلق ہے۔ یہ ایک دوسرے کے رفیق اور حامی و ناصر نہیں ہیں‘ بلکہ حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کی کش مکش بھی روز بروز بڑھ رہی ہے‘ اور ہمارے اندر ایک گروہ ایسا موجود ہے‘ جس کا مستقل فلسفہ ہی یہ ہے‘ کہ انہیں ملا کر ایک کر دینے کا خیال باطل ہے‘ اور حق صرف یہ ہے‘ کہ ان کو باہم لڑا دیا جائے۔{ FR 2567 }
سوال یہ ہے‘ کہ یہ مختلف تفریقیں جو ہماری قوم اور ریاست کو پارہ پارہ کردینے پر تلی ہوئی ہیں‘ جن کو نشو ونما دینے کے لیے گہرے داخلی اسباب بھی موجود ہیں‘ اور جنہیں بھڑکانے کے لیے خارجی محرکات کی بھی کمی نہیں‘ آخر کس طریقے سے مٹائی جا سکتی ہیں؟ طاقت کے ذریعہ سے ان کو دبا کر‘ ریاست کی سیاسی وحدت اور اس کے امن کو بر قرار رکھنا ایک حد تک ممکن ہے‘ مگر یہ چیز دلوںکو جوڑ کر‘ وہ قلبی وحدت تو ہر گز پیدا نہیں کر سکتی‘ جو ریاست کی اندرونی ترقی اور بیرونی خطرات کے مقابلہ میں اس کی متحدہ مدافعت کے لیے ضروری ہے۔ پھٹے ہوے دل اور کھنچے ہوئے ہاتھ نہ تعمیر میں تعاون کر سکتے ہیں‘ اور نہ مدافعت ہی میں بنیانِ مرصوص بن کر کھڑے ہوسکتے ہیں۔قومیّت کا پرچا ر بھی اس معاملہ میں بے بس ہے۔ ہندستان میں ہم اس کا نتیجہ دیکھ چکے ہیں مغربی تصوّرات کے مطابق قومیّت کی تبلیغ وتلقین وہاں جتنی بڑھتی گئی۔ اس نے ملک کی آبادی میں وحدت پیدا کرنے کے بجائے ان تمام گروہوں میں اپنے امتیازی وجود کا احساس جگا دیا‘ جو اپنے اندر قومیّت کے عناصر رکھتے تھے۔ پھر معاشی اغراض کا تصادم تو وہ چیز ہے‘ جس کے زہر کا تریا ق فراہم کرنے میں قومیّت جگہ جگہ ناکام ہوئی اور ہورہی ہے۔ اب ہم معلوم کرنا چاہتے ہیں‘ کہ ہماری موجودہ قیادت کے پاس اس مسئلہ کا کیا حل ہے‘ اور وہ کہاں تک اس سے عہدہ بر آہونے کی اہلیت رکھتی ہے؟
کوئی شخص یہ گمان نہ کرے کہ ہم ان دوسرے مسائل کی اہمیت سے غافل ہیں‘ جو اس وقت پاکستان کی نوزائیدہ مملکت کو درپیش ہیں۔ بلا شبہ وہ مالی‘ صنعتی‘ انتظامی‘ دفاعی اور خارجی مسائل بھی اپنی جگہ کا فی اہم ہیں‘ جن سے ہم اس مملکت کی پیدائش کے بعد دوچار ہوئے۔کوئی نہیں کہتاکہ ان کی طرف توجہ نہ کی جائے۔ نہ ان واقعی خدمات کا انکار کرنا قرین انصاف ہے‘ جو اس سلسلہ میں موجودہ قیادت نے انجام دیں۔ لیکن جہاں تک ہم سمجھتے ہیں مسلمانوں کی حیات قومی کے لیے‘ اس وقت سب سے بڑے مسئلے یہی تین ہیں‘ جن کا ذکر ہم نے کیا ہے‘ اور قیادت کا اصل محک امتحان یہ ہے‘ کہ وہ انہیں صحیح طور پر حل کرنے کی اہلیت‘ فکری اور اخلاقی حیثیت سے کہاں تک اپنے اندر رکھتی ہے۔ (ترجمان۔ القرآن۔ اگست ۱۹۴۸ء)

خ خ خ

کیا پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہئے؟

(پاکستان کے قائم ہوتے ہی یہ بحثیں شروع کر دی گئی تھیں‘ کہ اس مملکت کو ایک اسلامی مملکت بنانے میں کیا مشکلات اور قباحتیں درپیش ہیں‘ اور اس غرض کے لیے دلائل فراہم کیے جانے لگے تھے‘ کہ اس کو ایک لادینی ریاست ہونا چاہئے‘ اس کا اندازہ اس مباحثہ سے ہوسکتا ہے‘ جو ۱۸ء مئی ۱۹۴۸ء کو ریڈیو پاکستان لاہور سے نشر ہوا تھا۔ اس مباحثہ میں سائل کی حیثیت سے وجیہہ الدین صاحب بو ل رہے تھے‘ اور مجیب کی حیثیت سے سید ابوالا علیٰ مودودی)
س۔اس بحث کو شروع کرنے سے پہلے غالباً یہ جان لینا ضروری ہے‘ کہ آپ کے ذہن میں مذہبی ریاست کا کیا تصوّر ہے؟
م۔ ظاہر بات ہے‘ کہ ایک مسلمان جب مذہب کا لفظ بولے گا‘ تو اس کے ذہن میں اسلام ہی مراد ہوگا۔ میں جب کہتا ہوں کہ پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہئے‘ تو اس سے میرا مطلب یہ ہوتا ہے‘ کہ اسے ایک اسلامی ریاست ہونا چاہئے۔ یعنی ایک ایسی ریاست جو اخلاق‘ تہذیب‘ تمدّن‘ معاشرت‘ قانون‘ سیاست اور معیشت کے ان اصولوں پر قائم ہو‘جو اسلام نے ہم کو دئیے ہیں۔
س۔ آپ نے مذہبی ریاست کا جو مفہوم بیان فرمایا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے‘ کہ اس ریاست کا سیاسی اقتدار ماہرین دینیات کے ایک مخصوص طبقے کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس طبقہ کا کام یہ ہوگا‘ کہ وہ سیاسی اور انتظامی امور کے بارے میں اسلامی نقطۂ نظر سے تحقیق وتفتیش کرے‘ ریاستی قوانین وضع کرے‘ اور شرعی احکامات کی بنا پر‘ ہر سیاسی گتھی کو سلجھائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے‘ کہ اس طبقے کی پشت پناہ کو ن لوگ ہوں گے؟ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں‘ کہ اقتصادی لحاظ سے ہماری سماج مختلف طبقوں میں منقسم ہے۔ہر طبقہ اس کوشش میں ہے‘ کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مذہبی جواز تلاش کرے‘ اور مذہبی نعروں کو استعمال میں لائے۔ماہرین دینیات اس طبقاتی کش مکش سے بے نیاز اور غیر متعلق نہیں رہ سکتے۔ ان کے لیے لازم ہے‘ کہ یا تو وہ عوامی طاقتوں کا ساتھ دیں‘ یا اپنے آپ کو سرمایہ دار اور جاگیر دار طبقہ سے وابستہ کر دیں۔ اس صورت میں قرآنی اصولوں کی جو بھی تفسیر پیش کی جائے گی‘ وہ ان کے سیاسی رُجحان کی آئینہ دار ہوگی۔ مختلف سیاسی خیالات رکھنے والے مفسروں میں‘ اہم ترین مسائل پر شدید ترین اختلاف رائے پیدا ہوجائے گا۔ اقتصادی کش مکش ایک لامتناہی فقیہا نہ بحث کی صورت اختیار کرے گی۔ اور وہ مسائل جن کا مناسب حل ڈھونڈنا اس وقت اشد ضروری ہے‘ جوں کے توں دہرے کے دہرے رہ جائیں گے۔
م۔ جس طبقاتی کش مکش کی طرف آپ اشارہ فرما رہے ہیں‘ وہ دراصل پیدا ہی اس لیے ہوئی ہے‘ کہ مدّتوں سے غیراسلامی اثرات کے تحت رہتے رہتے‘ ہمارا معاشرہ اخلاق کی اس روح سے اور انصاف کے ان اصولوں سے محروم ہوگیا ہے‘ جو اسلام نے ہم کو دئیے تھے۔ جس مادّہ پرستی نے دنیا کے دوسرے معاشروں کو طبقات میں تقسیم کیا اوران کے اندر اغراض ومفاد کا تصادم پیدا کیا‘ وہی بدقسمتی سے اب ہمارے معاشرے کو پھاڑنے‘ اور باہم ٹکرا دینے کی دہمکیاں دے رہی ہے۔ ابھی ابھی ہم فرقہ وارانہ کشاکش کے ہولناک نتائج بھگت چکے ہیں‘ اور اس سے لگے ہوئے زخم ابھی بھرے بھی نہیں ہیں۔ اب ہم اس کے لیے تیار نہیں ہیں‘ کہ اپنے آپ کو ان اجتماعی فلسفوں کے حوالے کر دیں جو ہمارے اندر ایک دوسری جنگ… طبقاتی جنگ برپا کر دیں‘ اور ہمیں اس وقت تک امن کی صورت نہ دیکھنے دیں‘ جب تک ہمارا کوئی ایک طبقہ دوسرے طبقوں کو ملیا میٹ نہ کر دے۔دوسری قوموں نے تو ان اجتماعی فلسفوں کو شاید اس لیے قبول کر لیا‘ کہ ان کے پاس اخلاق اور انصاف کے وہ اصول موجود نہ تھے‘ جو طبقاتی خود غرضیوں کے نشوونما روک سکتے اور مختلف عناصر کو ایک عادل برادری میں جمع کر دیتے۔ لیکن ہم خوش قسمتی سے ایک ایسا نظامِ حیات رکھتے ہیں‘ جو ہمیں اس خطرے سے بچا سکتا ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے‘ کہ ہم اپنے اندر سے ان لوگوں کو ابھاریں‘ جو اسلام کی روح کو پوری طرح سمجھتے ہوں ‘اور طبقاتی تعصّبات سے بالا ہوکر اسلام کے قوانین کی بے لاگ تعبیر کر سکتے ہوں۔ پھر یہ لوگ بالا تفاق‘ یا اکثریت کے ساتھ جو تعبیر ہمارے سامنے پیش کریں اسے ہم سب مان لیں‘ اور ہم میں سے کوئی طبقہ اپنے ہی مطلب کی تعبیر لینے پر اصرار نہ کرے۔ ایسے لوگوں کی پشت پناہی پوری قوم کو بحیثیت مجموعی کرنی چاہئے نہ کہ کسی ایک طبقے یا چند طبقوں کو ہمیں ان کے انتخاب میں صرف اس معیار کو ملحوظ رکھنا چاہئے کہ وہ بھر وسے کے قابل سیرت رکھتے ہوں ‘اور اسلام کی صحیح تعبیر کرنے کے اہل ہوں۔
س۔ میری ناچیز رائے میں سیاسی نظام کے مرتّب کرنے میں صرف خلوص اور ایمانداری ہی سے کام نہیں چل سکتا۔ ہمارے سامنے اس وقت بہت سے پیچیدہ سیاسی اور معاشی مسائل ہیں‘ جن پر سنجیدہ غور وفکر کی ضرورت ہے۔ ذرائع پیداوار کو قومی ملکیت قرار دیا جائے‘ یا شخصی ملکیت ریاست میں ایک ہی سیاسی پارٹی ہونی چاہئے‘ یا ایک سے زیادہ‘ سیاسی پارٹیوں کا ہونا جمہوریت کو بر قرار رکھنے کے لیے ضروری ہے؟مزدوروں کو ہڑتال کا حق ہونا چاہیے یا نہیں؟وغیرہ وغیرہ آپ ان گتھیوں کو مذہبی پیشوائوں کے حوالہ کر دیجیے‘ آپ دیکھیں گے کہ وہ کسی فیصلہ کن نتیجے تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے‘ کہ ریاست کی تعمیر کے لیے فقیہانہ تحقیق وتجسس اور مذہبی کتب کی چھان بین کے بجائے سیاسی تجزئیے اور تاریخی شعور کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں دینیات کے ماہروں کی بہ نسبت سیاسیات اور اقتصادیات کے ماہرین ہماری بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں۔
م۔ آپ جب ’’دینیات کا لفظ بولتے ہیں‘ تو شاید ’’دُنیویات‘‘ کو اس سے خارج کر دیتے ہیں۔ اسی لیے آپ کو بجا طور پر یہ اندیشہ ہوا کہ اگر ہم نے اپنے سیاسی اور معاشی مسائل کا حل‘ ان ماہرینِ دینیات کے حوالہ کر دیا‘ جو دنیویات سے ناواقف ہیں‘ تو ہمارا کوئی مسئلہ بھی حل نہ ہوسکے گا۔ لیکن آپ ذرا اس پہلو پر بھی غور فرمائیں کہ اگر ہم نے اپنے تمدّن‘ اپنی سیاست اور اپنی معیشت کے مسائل ان ماہرین کے حوالے کر دئیے‘ جو صرف مغربی نظریات وعملیات سے واقف ہیں‘ اور اسلامی تعلیمات سے کوئی مس نہیں رکھتے تو ہم کہاں پہنچیں گے؟آپ کہتے ہیں‘ کہ یہ لوگ ماہرین دینیات کی بہ نسبت ہماری بہتر رہنمائی کر سکیں گے۔ لیکن مجھے اندیشہ ہے‘ کہ یہ رہنمائی ہمیں اسی منزل پر لے جائے گی‘ جس پر آج دنیا کی بڑی بڑی قومیں پہنچ چکی ہیں۔ یعنی گھر کے اندر طبقاتی خود غرضیوں کی کشاکش اور گھر کے باہر بین الاقوامی خود غرضیوں کی کھینچ تان۔ کیا اس سے بہتر یہ نہ ہوگا کہ ہم اپنی قوم میں ان لوگوں کو تلاش کریں‘ جو دین اور دنیا‘ دونوں کو اچھی طرح جانتے ہوں‘ جن کی نگاہ قرآن وحدیث کی تعلیمات پر اور سیاسیات ومعاشیات وغیرہ کے مسائل پر یکساں ہو‘ اور وہ سر جوڑ کر ہماری گتھیوں کا ایسا حل پیش کریں‘ جو ہماری زندگی کو ساری دنیا کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ بنا دے؟
س۔ریاست ِپاکستان کو اسلامی شریعت کے مطابق تنظیم دینے‘ اور شرعی احکامات کے موجودہ حالات پر اطلاق کرنے میں ہمیں ایک اور مشکل بھی پیش آئے گی۔ ہم بسااوقات مذہبی احکامات کی روح کو فراموش کر دیتے ہیں‘ اور ان کی لفظی حقیقت ہمارے پیشِ نظر رہتی ہے۔ اس طرح وسائل اور مقاصد ایک دوسرے سے خَلْط مَلْط ہوکر رہ جاتے ہیں۔ سود ہی کو لیجیے۔ سود کونا جائز قرار دینے کا مقصد یہی تھا‘ کہ اقتصادی استحصال کو روکا جائے۔ اسی طرح اجارہ‘ احتکار اور چور بازاری کی مخالفت کی گئی۔ لیکن جائز تجارت کو روا رکھا گیا۔ کیونکہ اس زمانے میں سرمایہ دار ی نظام ابھی طفولیت کی حالت میں تھا‘ اور صنعتی سرمایہ کی طرح ظلم واستبداد کا آلہ نہ تھا۔ آج حالات بدل چکے ہیں۔ آج بیرونی تجارت کا مفہوم یہ ہے‘ کہ سامراجی نظام کو تقویت دی جائے‘ اور دوسری قوموں کو اقتصادی اور سیاسی طور پر محکوم بنایا جائے۔ جائز اور ناجائز تجارت کا فرق مٹ چکا ہے۔ لیکن ہمارے علما اقتصادیات پر فتوے لگاتے ہیں‘ تو وہ یہ بھول جاتے ہیں‘ کہ موجودہ اقتصادی نظام میں مہاجنی سود کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ غربت اور بدحالی اس شے کی پیداوار ہے‘ جسے وہ جائز قرار دیتے ہیں یعنی صنعتی سرمایہ داری اور بینکنگ۔
م۔ یہ خرابی جس کا آپ ذکر فرما رہے ہیں۔ ہر اس جگہ پیدا ہوجاتی ہے ‘جہاں قانون کے منشا اور اس کی روح کو چھوڑ کر صرف اس کے الفاظ لے لیے جاتے ہیں۔ کہیں یہ خرابی علم اور بصیرت کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے‘ اور کہیں اس وجہ سے کہ لوگ اپنی اغراض کے لیے قانونِ روح سے بغاوت کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ظاہر داری کو قائم رکھنے کے لیے قانون کی شکل بدلنے سے اعتراز کرتے ہیں۔ ہمیں اس خرابی سے اگر کوئی چیز بچا سکتی ہے‘ تو وہ صرف یہ کہ عام مسلمانوں میں‘ اسلام کا شعور اور اس کی واقعی پیروی کا ارادہ موجود ہو۔ یہ چیز جب موجود ہوگی‘ تو وہ اسلامی قوانین کی تعبیر کے لیے اپنے اندر سے انہی لوگوں کو منتخب کریں گے‘ جو قرآن وسنّت کے محض الفاظ ہی نہ جانتے ہوں‘ بلکہ ان کی روح کو بھی سمجھتے ہوں۔
س۔ شریعت کے مفسرین اور شارحین میں سیاسی اختلافات کے علاوہ جو خالصتہً مذہبی اختلافات ہیں‘ ان کے بارے میں آپ کا خیال ہے؟کیا آپ کی نظر میں یہ اختلافات مستقبل کے سیاسی اور سماجی نظام کا تصوّر قائم کرنے میں رکاوٹ نہ ڈالیں گے؟
م۔ ان اختلافات کی نوعیت وہی کچھ ہے‘ جو ہمارے دوسرے اختلافات کی ہے‘ اور انہیں بھی ہم اسی طرح حل کر سکتے ہیں‘ جس طرح دوسرے اختلافات کو حل کیا کرتے ہیں۔ کوئی معاشرہ جو انسانوں پر مشتمل ہو‘ ایسا نہیں ہوسکتا‘ جس میں زندگی کے مختلف مسائل سے متعلق‘ مختلف نظرئیے نہ پائے جاتے ہوں۔ لیکن ان اختلافات کو کہیں بھی ایسی رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ زندگی کی گاڑی کو آگے چلنے ہی نہ دیں۔ اختلافات کو حل کرنے کا جمہوری طریقہ یہ ہے‘ کہ ریاست کا نظام اس نقطۂ نظر کے مطابق چلایا جائے جس کو اکثریت قبول کرتی ہو‘ اور قلیل التعداد گروہوں کے نقطۂ نظر کی زیادہ سے زیادہ اتنی رعایت کی جائے‘ جس کی اصول میں گنجائش ہو‘ نیز اقلیت کی حیثیت سے ان کے حقوق کا منصفانہ تحفظ کر دیا جائے۔ ہم کوشش کریں گے کہ پاکستان کی ریاست اسلام کے ان وسیع ترین اصولوں پر قائم ہو‘جن پر مسلمانوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ اتفاق پایا جاتا ہے۔ تا ہم کچھ ایسے گروہ باقی رہ سکتے ہیں‘ جو ان وسیع ترین اصولوں میں بھی اکثریت کے ساتھ متفق نہ ہوں۔ اس صورت میں ہم کو وہی جمہوری طریقہ اختیار کرنا پڑے گا‘ جس کا ابھی میں ذکر کر چکا ہوں۔ ورنہ یہ بالکل ایک عجیب بات ہوگی‘ کہ ہم سب غیر اسلام پر اس لیے اتفاق کرلیں کہ اسلام پر ہم متفق نہ ہوسکے۔
س۔ مسلمانوں کے اندرونی اختلافات کے علاوہ ریاست پاکستان میں اقلیتوں کا مسئلہ بھی قابلِ غور ہے۔ آپ کس طرح ان کو اس بات پر راضی کر سکتے ہیں‘ کہ وہ مسلمانوں کی مذہبی ریاست کا قیام گوارا کر لیں اوراس کے وفادار ہیں؟
م۔ اس گتھی کا حل بھی وہی ہے‘ جو مسلمانوں کے اندرونی اختلافات کا ہے۔ جمہوری طریقہ پر ایک ملک کا نظام انہی اصولوں کے مطابق بنتا اور چلتا ہے‘ جو اکثریت کی رائے میں صحیح ہوں۔ اقلیت یہ مطالبہ ضرور کر سکتی ہے‘ کہ اس کے نقطۂ نظر پر بھی غور کیا جائے‘ نیز یہ کہ اس کے حقوق شہریت اور اس کے پرسنل لاکو محفوظ رکھا جائے۔ لیکن ازروئے انصاف وہ یہ مطالبہ نہیں کر سکتی‘ کہ اکثریت اس کی خاطر اپنی رائے بدل دے۔ اس ملک کی اکثریت ایمانداری کے ساتھ یہ رائے رکھتی ہے‘ کہ اسلام کے اصولوں کی پیروی میں پاکستان کے باشندوں کی فلاح ہے۔ اس کو یہ حق حاصل ہونا چاہئے‘ کہ ملک کا نظام اس کی اس رائے کے مطابق بنے۔ اقلیت اس سے اپنے حقوق کا تحفظ مانگ سکتی ہے‘ مگر یہ کہنے کا اسے حق نہیں ہے‘ کہ اکثریت اسلام کے بجائے کچھ دوسرے اصولوں میں اپنی فلاح تلاش کرے۔ رہا وفاداری کا سوال‘ تو حقیقت یہ ہے‘ کہ وفاداری کا تعلق کسی ریاست کے مذہبی یا غیر مذہبی ہونے سے نہیں ہے‘ بلکہ وہ اس انصاف‘ شرافت اور فیاضی پر منحصر ہے‘ جو اکثریت کی طرف سے اقلیت کے ساتھ برتی جائے۔ آپ اقلیت کو محض اس ریا کاری سے مطمئن نہیں کر سکتے کہ دیکھو ہم نے تمہاری خاطر اپنے مذہب کو چھوڑ دیا اور ایک غیر مذہبی ریاست بنا لی۔ اقلیت تو یہ دیکھے گی کہ آپ اس کے ساتھ انصاف کرتے ہیں‘ یا نہیں؟ آپ کا برتائو تعصّب اور تنگ دلی پر مبنی ہے‘ یا رواداری اور فیاضی پر؟یہی تجزّیہ دراصل فیصلہ کرے گا کہ اقلیت کو اس ریاست میں وفادار بن کر رہنا ہے‘ یا بے زار بن کر۔
س۔ میری رائے میں ہر ملک کا سیاسی نظام‘ اس کے باشندوں کے رسم ورواج‘ اخلاق‘ عادات وخصائل اور اعتقادات وتو ہمات کا پر تو ہوتا ہے۔ ریاستی نظام بجائے خود کسی فلسفے یا مذہبی کا حامل نہیں ہوسکتا۔ اگر اسے ایسا بنانے کی کوشش کی جائے‘ تو وہ ایک مصنوعی اور عارضی کوشش ہوگی۔ قدیم یونان کی شہری ریاست‘ افلاطون کے تخیل کی پیداوار نہیں تھی بلکہ اس انداز فکر اور فلسفہ زندگی کی پیداوار تھی‘ جو یونان کے باشندوں میں مشترک تھا۔ اسی طرح اگر ہم اسلامی ریاست کی تعمیر چاہتے ہیں‘ تو ہمیں چاہئے کہ پاکستان کے باشندوں میں صحیح اسلامی اسپرٹ پیدا کریں‘ اور انہیں دین کی اصلی اقدار سے روشناس کرائیں۔ جب یہ اقدار مضبوط ہوجائیں گی‘ اور ہمارے قومی کیرکٹر میں اسلامی تصوّرات پوری طرح سرایت کر جائیں گے‘ اس وقت ہمار ا سیاسی نظام خود بخود اسلامی رنگ اختیار کر لے گا۔ ہم اس وقت تک اسلامی ریاست کی داغ بیل نہیں ڈال سکتے‘ جب تک ہماری روحانی‘ شخصی اور سماجی زندگی میں‘ اسلامی روایات پوری تابندگی سے جلوہ گر نہ ہوں۔ میری نظر میں وہ وقت ابھی بہت دور ہے‘ جب ہم مکمل طور پر اسلامی تصوّرات کو قبول کر لیں گے۔ اس لیے اسلامی ریاست کو قائم کرنے کی تمام کوششیں پیش از وقت ہیں۔ ہماری بنیادیں ابھی اتنی استوار نہیں ہیں‘ کہ ہم ان پر ایک عمارت کھڑی کر سکیں۔
م۔ آپ نے سچ فرمایا‘ کہ ایک ملک کا سیاسی نظام‘ اس کے باشندوں کی اخلاقی اور ذہنی حالت کا پر تو ہوا کرتا ہے۔ اب اگر پاکستان کے باشندے اسلام کی طرف ایک پرزور میلان رکھتے ہیں‘ اور ان کے اندر اسلام کے راستے پر آگے بڑھنے کی خواہش موجود ہے‘ تو کیوں نہ ان کی قومی ریاست ان کے اس میلان اور اس خواہش کا پر تو ہو؟آپ کا یہ ارشاد بھی بالکل درست ہے‘ کہ اگر ہم پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں‘ تو ہمیں پاکستان کے باشندوں میں اسلامی شعور‘ اسلامی ذہنیت اور اسلامی اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ مگر میں نہیں سمجھا کہ اس کوشش میں حصّہ لینے سے آپ خود ریاست کو کیوں مستثنیٰ رکھنا چاہتے ہیں؟۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء سے پہلے کی صورت حال تو یہ تھی کہ ہمارے اوپر ایک غیر مسلم اقتدار مسلّط تھا۔ اس وجہ سے ہم اسلامی خطوط پر‘ اپنی ملّت کی تعمیر میں ریاست اور اس کی طاقتوں اور اس کے ذرائع سے کوئی مدد نہیں پا رہے تھے‘ بلکہ درحقیقت اس وقت ریاست کا پورا ادارہ اپنے زور سے ہمیں ایک دوسری طرف کھینچے لیے جا رہا تھا‘ اور ہم انتہائی ناساز گار حالت میں‘ اسلامی زندگی کی تعمیر کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ اب جو سیاسی انقلاب ۱۵؍ اگست ۴۷ ء کو رونما ہوا ہے‘ اس کے بعد ہمارے سامنے یہ سوال پیدا ہوگیا ہے‘ کہ آیا اب ہماری قومی ریاست اسلامی زندگی کی تعمیر میں وہ حصّہ لے گی‘ جو ایک معمار کا حصّہ ہوتا ہے؟ یا وہ طرزِعمل اختیار کرےگی‘ جو ایک بے نیاز غیر جانب دار کا ہوا کرتا ہے؟ یا اب بھی وہی پچھلی صورت حال بر قرار رہے گی‘ کہ ہمیں حکومت کی مدد کے بغیر ہی نہیں‘ بلکہ اس کی مزاحمت کے باوجود اسلامی زندگی کی تعمیر کا کام کرنا ہوگا؟اس وقت چونکہ پاکستان کا آئندہ نظام زیر تشکیل ہے‘ اس لیے ہم چاہتے ہیں‘ کہ ایسی ریاست بن جائے‘ جو اسلامی زندگی کی معمار بن سکے۔ ہماری یہ خواہش اگر پوری ہوگئی‘ تو ریاست کے وسیع ذرائع اورطاقتوں کو استعمال کر کے پاکستان کے باشندوں میں ذہنی اور اخلاقی انقلاب برپا کرنا بہت آسان ہوجائے گا۔ پھر جس نسبت سے ہمارا معاشرہ بدلتا جائے گا‘ اسی نسبت سے ہماری ریاست بھی ایک مکمل اسلامی ریاست بنتی چلی جائے گی۔
(ترجمان القرآن۔ جون ۱۹۴۸ء بشکریہ ریڈیو پاکستان)

خ خ خ

پاکستان میں اسلامی قانون کیوں نہیں نافذ ہوسکتا؟

ایک تقریر جو ۶؍جنوری ۱۹۴۸ء کو لاکالج لاہور میںکی گئی تھی
(قیام پاکستان کے بعد ہی وہ عذرات پیش کرنے شروع کر دیئے گئے تھے‘ جو کچھ لوگوں کے نزدیک یہاں اسلامی قانون نافذ کرنے میں مانع تھے۔ اس تقریر میں انہی عذرات کا جواب دیا گیا ہے)
آج کل کسی ملک میں … غیر مسلموں کے نہیں‘ مسلمانوں کے اپنے ملک میں …اگر اسلامی قانون کے جاری کرنے کا سوال اُٹھایا جائے‘ تو اعتراضات کی ایک بوچھاڑ ہوتی ہے‘ جس سے آدمی کو سابقہ پیش آتا ہے‘ کیا صدیوں کا پرانا قانون جدید زمانے کی سوسائٹی اور اسٹیٹ کی ضرورت کے لیے کافی ہوسکتا ہے؟ کیا ایک خاص زمانے کے قانون کو ہمیشہ کے لیے قابلِ عمل سمجھنا حماقت نہیں ہے؟کیا اس مہذب دور میں ہاتھ کاٹنے اور کوڑے برسانے کی وحشیانہ سزائیں دی جائیں گی؟ کیا ہماری منڈیوں میں اب پھر غلام بکا کریں گے؟ اور آخر اس ملک میں مسلمانوں کے کس فرقہ کی فقہ جاری ہوگی؟ پھر جو غیر مسلم یہاں رہتے ہیں وہ کیسے راضی ہوجائیں گے‘ کہ مسلمانوں کا مذہبی قانون ان پر مسلّط کر دیا جائے؟ یہ اور ایسے ہی بہت سے سوالات ہیں‘ جو تا بڑ توڑ برسنے شروع ہوتے ہیں‘ اور یہ بات غیر مسلموں کی زبان سے نہیں‘ بلکہ مسلمانوں کے اپنے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی زبان سے ادا ہوتی ہے۔{ FR 2568 }
اس کی وجہ یہ نہیں ہے‘ کہ ان لوگوں کو اسلام سے کوئی دشمنی ہے۔ دراصل اس کی وجہ ناواقفیت ہے۔ آدمی کا خاصا ہے‘ کہ وہ جس چیز کو نہیں جانتا‘ اس کا نام سن کر‘ طرح طرح کے وسوسے اس کے دل میں پیدا ہوتے ہیں‘ اور دور کی شنا سائی انسیت کے بجائے اکثر وحشت ہی بڑھاتی ہے۔ہماری بدقسمتی کی طویل داستان کا ایک نہایت افسوس ناک باب یہ بھی ہے‘ کہ آج محض اغیار ہی نہیں‘ ہماری اپنی ملّت کے لوگ بھی‘ اکثر اپنے دین سے اور اپنے اسلاف کے چھوڑے ہوئے عظیم الشان ترکہ سے‘ نابلد اور متوحش ہیں۔ اس حالت کو ہم اچانک نہیں پہنچ گئے ہیں‘ بلکہ صدیوں کے مسلسل انحطاط نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ہے۔ پہلے مدّت ہائے دراز تک ہمارے ہاں تہذیب وتمدّن کا ارتقا اورعلوم وفنون کا نشوونما معطل رہا۔ پھر جمود کے نتیجے میں ہم پر سیاسی زوال آیا‘ اور دنیا کی مسلمان قومیں یا تو براہِ راست غیر مسلم حکومتوں کی غلام ہوگئیں‘ یا ان میں سے بعض کو کچھ آزادی حاصل بھی رہی تو وہ غلامی سے کم نہ تھی کیونکہ شکست خوردگی کا اثران کے قلب وروح کی گہرائیوں تک اتر چکا تھا۔ آخر جب ہم نے اُٹھنا چاہا تو ہر جگہ کے مسلمانوں کو‘ خواہ وہ غلام تھے یا آزاد اُٹھنے کی ایک ہی صورت نظر آئی اور وہ یہ تھی کہ جدید تہذیب وتمدّن اور جدید علوم کا سہارا لے کر اُٹھیں۔ ہمارے دینی علوم کے حامل جو طبقے تھے وہ خود اسی انحطاط میں مبتلا تھے جس میں ساری اُمت مبتلا تھی۔ دینی بنیادوں پر کوئی زندگی بخش اور انقلاب انگیز حرکت برپا کرنا ان کے بس میں نہ تھا۔ ان کی رہنمائی سے مایوس ہوکر اُمت کے بے چین طبقے دنیا کے اس نظامِ زندگی کی طرف متوجہ ہوگئے جو صریحاً کامیاب نظرآرہا تھا۔ اسی سے انہوں نے اصول لیے‘ اسی کے علوم سیکھے‘ اسی کے تمدّنی اداروں کا نقشہ حاصل کیااور اسی کے نقش قدم پر چل پڑے۔ رفتہ رفتہ اہلِ دین کا گروہ بالکل گوشہ خمول میں پھینک دیا گیا‘ اور تمام مسلمانوں قوموں میں کار فرمائی کی باگیں اور کارکن طاقتیں‘ انہی لوگوں کے ہاتھ میں آگئیں‘ جو دین سے ناواقف اور تہذیب جدید کے فکری وعملی سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دو کو چھوڑ کر تمام آزاد مسلم ممالک کی حکومتیں‘ مغرب کی بے دین ریاستوں (secularr states)کے نمونے پر بن گئیں‘ جن میں کہیں‘ تو پوری اسلامی شریعت منسوخ ہوچکی ہے‘ اور کہیں غیر دینی حکومت کے نظام میں مسلمانوں کے لیے محض ان کا پرسنل لااسلامی رہنے دیا گیا‘ یعنی مسلمانوں کی اپنی حکومت میں ان کو صرف وہ مذہبی حقوق عطا ہوئے ہیں‘ جو اسلامی حکومتوں میں کبھی ذمیوں کو دئیے جاتے تھے۔{ FR 2569 }
اسی طرح جو ممالک غلام تھے ان میں بھی تمام تہذیبی اداروں اور سیاسی تحریکوں کے کار فرما اسی قسم کے لوگ بنے‘ اور آزادی کی طرف ان کا جو قدم بھی بڑھا‘ اسی منزل کی طرف بڑھا جس پر دوسری آزاد قومیں پہنچی ہوئی تھیں۔ اب اگر ان لوگوں سے اسلامی قانون اور اسلامی دستور کے نفاذ کا مطالبہ کیا جائے‘ تو وہ بے چارے مجبورہیں‘ کہ اسے ٹالیںیاد باتیں‘ کیونکہ وہ اس چیز کی ابجد تک سے ناواقف ہیں‘ جس کے قیام ونفاذ کا ان سے مطالبہ کیا جاتا ہے۔ جو تعلیم اور ذہنی وعملی تربیت انہوں نے پائی ہے‘ وہ انہیں اسلامی قانون کی روح ومزاج سے اتنی دور لے جاچکی ہے‘ کہ اس کو سمجھنا‘ ان کے لیے آسان نہیں رہاہے‘ اور حاملانِ دین کی رہنمائی میں‘ دینی تعلیم کا جو نظام چل رہا ہے‘ وہ اس وقت تک بیسویں صدی کے لیے بارہویں صدی کے مردان کار تیار کرنے میں مشغول ہے۔ اس لیے کوئی ایسا گروہ بھی موجود نہیں ہے‘ جو شاگرد انِ مغرب کو ہٹا کر‘ اسلامی آئین وقانون کے مطابق‘ ایک جدید ریاست کا نظام بنا اور چلا سکے۔
یہ واقعی ایک سخت پیچیدگی ہے‘ جس نے تمام مسلم ممالک میں اسلامی قانون ودستور کے نفاذ کو مشکل بنا رکھا ہے۔ مگر ہمارا معاملہ دوسرے مسلمان ملکوں سے بالکل مختلف ہے۔ ہم اس برعظیم ہند میں‘ پچھلے دس سال سے اس بات پر لڑتے رہے ہیں‘ کہ ہم اپنی مستقل تہذیب‘ الگ نظر یہ زندگی اور مخصوص آئین حیات رکھتے ہیں‘ ہمارے لیے مسلم وغیر مسلم کی ایک ایسی متحدہ قومیّت ناقابلِ قبول ہے‘ جس کا نظامِ زندگی لامحالہ ہمارے آئین حیات سے مختلف ہوگا‘ ہمیں ایک الگ خطہ زمین درکار ہے‘ جس میں ہم اپنے آئین پر زندگی کا نظام بنا اور چلا سکیں۔ ایک طویل اور انتھک کش مکش کے بعد بالآخر ہمیں وہ خطہ زمین مل گیا ہے‘ جس کا ہم مطالبہ کر رہے تھے۔ اور اس کی قیمت میں ہم کو لاکھوں مسلمانوں کی جان ومال اور آبرو دینی پڑی ہے۔ یہ سب کچھ ہوچکنے کے بعد اگر ہم نے یہاں اپنا وہ آئین حیات ہی نافذ نہ کیا‘ جس کے لیے اتنے پاپڑبیل کر‘ اور اتنی بھاری قیمت ادا کر کے یہ خطہ زمین حاصل کیا گیا ہے‘ تو ہم سے بڑھ کر زیاں کار کوئی نہ ہوگا۔اسلامی دستور کے بجائے جمہوری لادینی دستور‘ اور اسلامی قانون کی جگہ تعزیرات ہند اور ضابطہ دیوانی ہی جاری کرنا تھا تو آخر ہندستان کیا برا تھا‘ کہ اتنے لڑائی جھگڑوں سے یہ پاکستان لیا جاتا؟ اور اگر ہمارا مقصد اشتراکی پروگرام نافذ کرنا تھا تو یہ ’’کار خیر‘‘ بھی ہندستان کی سوشلسٹ یا کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ مل کر انجام دیا جا سکتا تھا۔ اس کے لیے بھی کوئی ضرورت نہ تھی‘ کہ خواہ مخواہ اتنی جانقشانی اور اتنی بڑی قیمت پر پاکستان حاصل کرنے کی حماقت کی جاتی۔ دراصل ہم ایک قوم کی حیثیت سے اپنے آپ کو خدا اور خلق اور تاریخ کے سامنے آئین اسلامی کے نفاذ کے لیے پابند کر چکے ہیں۔ ہمارے لیے اب اپنے قول سے پھر ناممکن نہیں رہا ہے۔ لہٰذا چاہے دوسری مسلمان قومیں کچھ کرتی رہیں ہمیں بہرحال ان ساری پیچیدگیوں کو حل کرنا ہی پڑگا‘ جو اس کام کی راہ میں حائل ہیں۔
جہاں تک اسلامی قانون کے نفاذ کی عملی مشکلات کا تعلق ہے ان سب کو دور کرنے کی تدبیر یں کی جا سکتی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اصلی مشکل نہیں ہے۔ اصلی مشکل صرف یہ ہے‘ کہ وہ دماغ جن کی فکرو محنت اس کام کے لیے درکار ہے بجائے خود مطمئن نہیں ہیں۔ اور ان کے عدم اطمینان کی وجہ ان کی عدم واقفیت ہے۔ اس لیے سب سے پہلے جو کام کرنے کا ہے وہ یہی ہے‘ کہ انہیں واضح طریقہ پر یہ بتایا جائے کہ اسلامی قانون کس چیز کا نام ہے۔ اس کی حقیقت کیا ہے۔ اس کا مقصد اس کے اصول‘ اس کی روح اور اس کا مزاج کیا ہے۔ اس میں کیا چیز قطعی اور مستقل ہے‘ اور اس کے ایسا ہونے کا فائدہ کیا ہے۔ اور اس میں کون سی چیز ابد تک ترقی پذیر ہے‘ اور وہ کس طرح ہر دور میں ہماری بڑھتی ہوئی تمدّنی ضرورتوں کو پورا کر سکتی ہے۔ اس کے احکام کن مصالح پر مبنی ہیں‘ اور ان غلط فہمیوں کی کیا اصلیت ہے‘ جو ان احکام کے متعلق ناواقف لوگوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اگر یہ تفہیم صحیح طریق پر ہوجائے‘ تو ہمیں یقین ہے‘ کہ ہمارے بہترین کار فرما اور کارکن دماغ مطمئن ہوجائیں گے‘ اور اُن کا اطمینان اُن ساری تدبیروں کا دروازہ کھول دے گا‘ جو اسلامی قانون کے نفاذ کو عملاً ممکن بنا سکتی ہیں۔
میری آج کی تقریر اسی تعارف کے لیے ہے۔
قانون اور نظامِ زندگی کا باہمی تعلق
قانون کے لفظ سے ہم جس چیز کو تعبیر کرتے ہیں‘ وہ دراصل اس سوال کا جواب ہے‘ کہ انسانی طرزِعمل‘ انفرادی اور اجتماعی طور پر کیا ہونا چاہئے۔ اس سوال کا دائرہ اس دائرہ سے بہت وسیع ہے‘ جس میں قانون اس کا جواب دیتا ہے۔ ہم کو بہت وسیع پیمانے پر اس ’’ہونا چاہئے‘‘ کے سوال سے سابقہ پیش آتا ہے‘ اور اس کے بے شمار جوابات ہیں‘ جو مختلف عنوانات کے تحت مرتّب ہوتے ہیں۔ ان کا ایک مجموعہ ہماری اخلاقی تعلیم وتربیت میں شامل ہوتا ہے‘ اور اسی کے مطابق ہم اپنے افراد کی سیرت وکردار کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا ایک دوسرا مجموعہ ہمارے معاشرتی نظام میں داخل ہوتا ہے‘ اور اسی کے لحاظ سے ہم اپنی معاشرت میں مختلف قسم کے انسانی تعلقات کو منضبط کرتے ہیں۔ ان کا ایک تیسرا مجموعہ ہمارے معاشی نظام میں جگہ پاتا ہے‘ اور اسی کی روشنی میں ہم دولت اور اس کی پیدائش اور اس کی تقسیم اور اس کے تبادلہ اوراس پر لوگوں کے حقوق کا ضابطہ بناتے ہیں۔ غرض اسی طریقہ پر ان جوابات کے بہت سے مجموعے بن جاتے ہیں‘ جو ہماری زندگی کے مختلف شعبوں کی شکل اور ان کے ضوابط عمل معین کرتے ہیں۔ اور قانون ان بہت سے مجموعوں میں سے صرف ان جوابات پر مشتمل ہوتا ہے‘ جن کو نافذ کرنے کے لیے سیاسی اقتدار استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب اگر کوئی شخص کسی قانون کو سمجھنا چاہے تو یہ کافی نہیں ہے‘ کہ وہ اپنی تحقیقات کو صرف اسی دائرے تک محدود رکھے‘ جس میں قانون نے اس ’’ہونا چاہئے‘‘ کے سوال کا جواب دیا ہے‘ بلکہ اسے سوسائٹی کی اس پوری اسکیم کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی‘ جس میں زندگی کے ہر شعبے کے متعلق اس سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ قانون اسی اسکیم کا ایک جُزو ہے‘ اور اس جُزو کے مزاج کو سمجھنا ‘یا اس کے متعلق کوئی رائے قائم کرنا بغیر اس کے ممکن نہیں ہے‘ کہ کل کو سمجھا جائے۔
نظامِ زندگی کی فکری اور اخلاقی بنیادیں
پھر زندگی کے پورے دائرے میں ’’کیا ہونا چاہئے‘‘ کے سوال کا جو جواب ہم دیتے ہیں‘ وہ دراصل ایک دوسرے سوال یعنی ’’کیوں ہونا چاہئے‘‘ کے جواب سے ماخوذ ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھئے کہ ’’کیا ہونا چاہئے‘‘ کے متعلق ہمارے تمام جوابات دراصل ان نظریات پر مبنی ہوتے ہیں‘ جو ہم نے انسانی زندگی اور اس کے خیر وشر اور اس کے حق وباطل اور صحیح وغلط کے بارے میں قائم یا اختیار کیے ہیں‘ اور ان نظریات کی نوعیت متعین کرنے میں اس مآخذیا ان مآخذ کا بہت بڑا دخل‘ بلکہ اصلی فیصلہ کن اثر ہوتا ہے ‘جہاں سے ہم نے ان نظریات کو اخذ کیا ہے۔ دنیا میں مختلف انسانی گروہوں کے قوانین کا اختلاف اسی وجہ سے ہے‘ کہ انسانی زندگی کے متعلق ان کے نظریات ایک مآخذ سے لیے ہوئے نہیں ہیں‘ بلکہ ان کے مآخذ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اس اختلاف کے باعث ان کے نظرئیے مختلف ہوئے۔ ان کے اختلاف نے زندگی کی اسکیمیں مختلف کر دیں‘ اور پھر ان اسکیموں کے جو حصے قانون سے متعلق ہیں‘ وہ بھی لازماً مختلف ہوکر رہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے‘ کہ ہم زندگی کی کسی خاص اسکیم کے بنیادی نظریات اور ان کے مآخذ اور ان سے وجود میں آنے والے پورے نظامِ حیات کو سمجھے بغیر صرف اس کے قانونی حصّہ کے متعلق کوئی رائے قائم کر سکیں‘ اور وہ بھی اس قانونی حصّہ کا تفصیلی مطالعہ کر کے نہیں‘ بلکہ اس کے بعض پہلوئوں کے بارے میں چند اڑتی ہوئی خبریں سن کر!
میں یہاں تقابلی مطالعے (comparative study)کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اگرچہ بات پوری طرح تو اسی وقت سمجھ میں آسکتی ہے جب مغربی نظامِ زندگی کو جس کا قانون آپ پڑھتے اور اپنے ملک میں جاری کرتے ہیں‘ اسلامی نظامِ زندگی کے بالمقابل رکھ کر دیکھا جائے کہ ان کے درمیان کیا اختلاف ہے‘ اور اس اختلاف نے کیوں ان کے قوانین کو مختلف کر دیا ہے‘ لیکن اس بحث سے گفتگو بہت طویل ہوجائے گی‘ اس لیے میں صرف اسلامی نظامِ زندگی کی تشریح پر اکتفا کروں گا۔

اسلامی نظامِ زندگی کا مآخذ

اسلام جس نظامِ زندگی کا نام ہے اس کا مآخذ ایک کتاب ہے‘ جس کے مختلف ایڈیشن قدیم ترین زمانے سے توراۃ‘ انجیل‘ زبور وغیرہ بہت سے ناموں کے ساتھ دنیا میں شائع ہوتے رہے‘ اور آخری ایڈیشن قرآن کے نام سے‘ انسانیت کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس کتاب کا اصل نام اسلام کی اصلاح میں ’’الکتاب‘‘(The Book)ہے‘ اور یہ دوسرے نام دراصل اس کے ایڈیشوں کے نام ہیں۔ اس کا دوسرا مآخذ وہ لوگ ہیں‘ جو مختلف زمانوں میں اس الکتاب کو لے کر آئے اور جنہوں نے اپنے قول اور عمل سے اس کے منشا کی ترجمانی کی۔ یہ لوگ اگر چہ الگ الگ اشخاص ہونے کی حیثیت سے نوح‘ ابراہیم‘ موسیٰ اور محمد (علیہم الصلوۃ والسّلام اجمعین) وغیرہ ناموں سے موسوم ہیں‘ لیکن اس بنا پر کہ یہ ایک ہی گروہ کے اشخاص ہیں‘ جو ایک ہی مشن لے کر اُٹھے تھے‘ ان سب کو ایک جامع نام ’’الرسول‘‘ سے موسوم کرنا بالکل صحیح ہے۔
اسلام کا نظریہ زندگی
اس ’’الکتاب‘‘اور ’’الرسول‘‘ نے زندگی کا جو نظریہ پیش کیا ہے وہ یہ ہے‘ کہ یہ عظیم الشان کائنات جو تمہیں صریحاً ایک زبردست نظام میں جکڑی ہوئی اور ایک مقررہ قانون پر چلتی ہوئی نظر آرہی ہے‘ دراصل ایک خدا کی حکومت ہے۔ خدا ہی اس کا خالق ہے وہی اس کا مالک ہے‘ اور وہی اس کا فرمانروا ہے۔ یہ زمین جس پر تم رہتے ہواس کی بے پایاں سلطنت کے لاتعداد صوبوں میں سے ایک چھوٹا سا صوبہ ہے‘ اور یہ صوبہ بھی مرکزی اقتدار کی اس گرفت میں پوری طرح جکڑا ہوا ہے‘ جس میں اس جہان ہست وبود کا ہر حصّہ جکڑا ہوا ہے۔ تم اس صوبے میں خدا کی پیدائشی رعیت (born subjects)ہو۔ تم اپنے خالق آپ نہیں ہو‘بلکہ اس کی مخلوق ہو۔ اپنے پروردگار آپ نہیں ہو‘بلکہ اس کے پروردہ ہو۔ اپنے بل پر آپ نہیں جی رہے ہو‘بلکہ اس کے جلائے جی رہے ہو۔ اس لیے تمہارے ذہن میں اپنی خود مختاری کا اگر کوئی زعم ہے‘ تو وہ ایک غلط فہمی اور نظر کے ایک دھوکے سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اپنی زندگی کے ایک بہت بڑے حصے میں تو تم صریح طور پر رعیت ہو‘ اور اپنی محکومی کو خود جانتے ہو۔ اپنی مائوں کے پیٹوں میں استقرارِ حمل سے لے کر اپنی موت کی آخری ساعت تک تم خدا کے قانونِ طبعی (law of nature)سے اس طرح بندھے ہوئے ہو‘کہ ایک سانس تک اس کے خلاف نہیں لے سکتے‘ اور تمہارے اوپر فطرت کی قوّتیں اور قوانین اس طرح حاوی ہیں‘ کہ تم جو کچھ کر سکتے ہوان کے تحت رہ کر ہی کر سکتے ہو‘ ایک لمحہ کے لیے بھی تمہارا ان سے آزاد ہوجانا ممکن نہیں ہے۔ اب رہ گیا تمہاری زندگی کا اختیاری حصّہ‘ جس میں تم اپنے اندر ارادے کی آزادی محسوس کرتے ہو‘ اور اپنی پسند کے مطابق انفرادی واجتماعی عمل کی راہیں انتخاب کرنے کی طاقت پاتے ہو‘ تو بلا شبہ تمہیں اس حد تک آزادی حاصل ہے‘ مگر یہ آزادی تمہیں فرما نروائے کائنات کی رعیت ہونے سے خارج نہیں کر دیتی‘ بلکہ صرف یہ اختیار دیتی ہے‘ کہ چاہو تو اطاعت کا روّیہ اختیار کرو‘ جو پیدائشی رعیت ہونے کی حیثیت سے تمہیں اختیار کرنا چاہئے‘ اور چاہو تو خود مختاری وبغاوت کا روّیہ اختیار کرو‘ جو اپنی فطری حقیقت کے اعتبار سے تمہیں نہ اختیار کرنا چاہئے۔
حق کا بنیادی تصوّر
یہاں سے حق کا سوال پیدا ہوتا ہے‘ اور یہ اولین بنیادی حق کا سوال ہے‘ جو تمام چھوٹے سے چھوٹے جزوی معاملات تک حق اور باطل کے فیصلے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ زندگی کی حقیقت کا جو نظریہ’’الکتاب‘‘ اور ’’الرسول‘‘ نے پیش کیا ہے‘ اس کو بطور ایک امر واقعہ کے تسلیم کر لینے کے بعد یہ بات صریح طور پر حق قرار پا جاتی ہے‘ کہ آدمی اپنی زندگی کے اختیاری حصّہ میں بھی اسی خدا کی حاکمیت (sovereignty)تسلیم کر ے جو اس کی زندگی کے پورے غیر اختیاری حصے کا اور اس تمام کائنات کا‘ جس میں یہ زندگی بسر ہورہی ہے آپ سے آپ حاکم (sovereign) ہے۔ یہ چیز کئی وجوہ سے حق ہے۔ یہ اس لیے بھی حق ہے‘ کہ انسان جن قوّتوں اور جن جسمانی آلات سے اپنے اختیارات کو استعمال کرتا ہے وہ خدا کا عطیہ ہیں۔اس لیے بھی حق ہے‘ کہ خود یہ اختیارات انسان کے اپنے حاصل کردہ نہیں ہیں‘ بلکہ تفویض کردہ (delegated)ہیں۔ اس لیے بھی حق ہے‘ کہ جن چیزوں پر یہ اختیارات استعمال کیے جاتے ہیں وہ سب خدا کی ملک ہیں۔ اس لیے بھی حق ہے‘ کہ جس ملک میں استعمال کیے جاتے ہیں وہ خدا کا ملک ہے۔ اور اس لیے بھی حق ہے‘ کہ عالمِ کائنات اور حیات انسانی کی ہمواری وموافقت(harmony)کا تقاضا یہی ہے‘ کہ ہماری زندگی کے اختیاری اور غیر اختیاری‘ دونوں حصوں کا حاکم اور سر چشمہ احکام ایک ہی ہو۔ ان دو حصوں کے دو الگ اور ایک دوسرے سے مختلف قبیلے بن جانے سے ایسا تضاد پیدا ہوجاتا ہے‘ جوموجب فساد ہوکر رہتا ہے۔ ایک شخص کی زندگی میں تو اس چیز کا فساد محدود پیمانے پر ہی ظاہر ہوتا ہے۔ مگر بڑی بڑی قوموں کی زندگی میں اس کے برے نتائج اتنے بڑے پیمانے پر نکلتے ہیں‘ کہ خشکی اور تری اور ہوافساد سے بھر جاتی ہے۔
’’اسلام‘‘ اور ’’مسلم‘‘ کے معنی
’’الکتاب‘‘ اور ’’الرسول‘‘ انسان کے سامنے اسی حق کو پیش کرتے ہیں‘ اور اس کو دعوت دیتے ہیں‘ کہ کسی دبائو کے بغیر وہ اپنی خوشی سے اس کو قبول کر لے۔ چونکہ یہ انسانی زندگی کے اس حصے کا معاملہ ہے‘ جس میں خدا نے انسان کو خود ہی اختیار دیا ہے‘ اس لیے یہ بات کہ انسان اس حصے میںخدا کو اپنا حاکم مانے‘ کسی دبائو سے نہیں منوائی جاتی بلکہ برضا ورغبت تسلیم کرائی جاتی ہے۔ جس کا اطمینان بھی اس بیان واقعہ (statement of fact)پر ہوجائے‘ جو ’’الکتاب‘‘ اور ’’الرسول‘‘ نے کائنات کی حقیقت کے متعلق دیا ہے‘ اور جس کا ضمیر بھی اس امر کی گواہی دے کہ اس واقعی حقیقت کی موجودگی میں حق وہی ہے‘ جو منطقی نتیجہ کے طور پر اس سے نکلتا ہے‘ وہ اپنی مرضی سے اپنی آزادی وخود مختاری خدا کی حاکمیت کے آگے تسلیم(surrender)کر دے۔ اسی تسلیم کا نام ’’اسلام‘‘ ہے۔ اور جو لوگ تسلیم کا یہ فعل کریں وہ ’’مسلم‘‘ کہلاتے ہیں یعنی ایسے لوگ جنہوں نے خدا کی حاکمیت مان لی‘ اپنی خود مختاری سے اس کے حق میں دست بردار ہوگئے‘ اور اس بات کو انہوں نے خود اپنے اوپر لازم کر لیا کہ اپنی زندگی کا نظام خدا کے احکام کے مطابق چلائیں گے۔
مسلم سوسائٹی کی حقیقت
اب ایسے تمام لوگ جنہوں نے تسلیم کا یہ فعل کیا ہو‘ایک وحدت میں منسلک کیے جاتے ہیں‘ اور ان کے اجتماع سے ’’مسلم‘‘ سوسائٹی کی تشکیل وتنظیم ہوتی ہے۔یہ سوسائٹی ان سوسائٹیوں سے بالکل مختلف ہے‘ جو اتفاقی حوادث کے نتیجہ میں بنتی ہیں۔{ FR 2570 }اس کی تشکیل ایک ارادی فعل سے ہوتی ہے‘ اور اس کی تنظیم ایک ایسے معاہدے (contract) کے ذریعہ سے عمل میں آتی ہے‘ جو خدا اور بندوں کے درمیان شعوری طور پر واقع ہوتا ہے۔ اس معاہدے میں بندے یہ تسلیم کرتے ہیں‘ کہ خدا ان کا حاکم ہے‘ اسی کی ہدایت ان کے لیے دستور زندگی ہے‘ اسی کے احکام ان کے لیے قانون ہیں وہ اسی کو خیر مانیں گے‘ جسے خدا خیر بتائے گا‘ اور اسی کو شر تسلیم کریں گے‘ جسے خدا شر کہے گا۔صحیح وغلط اور جائزو ناجائز کا معیار وہ خدا ہی سے لیں گے‘ اور اپنی آزادی کو ان حدود کے اندر محدود رکھیں گے‘ جو خدا ان کے لیے کھینچ دے گا۔ مختصر یہ کہ اس معاہدے کی بنیادپر جو سوسائٹی بنتی ہے‘ وہ واضح طور پر یہ اقرار کرتی ہے‘ کہ وہ اپنے معاملاتِ زندگی میں ’’کیا ہونا چاہئے‘‘کا جواب بطور خودتجویز نہیں کرے گی‘ بلکہ اس جواب کو قبول کرے گی‘ جو خدا کی طرف سے ملے گا۔{ FR 2571 }
اس واضح اقرار کی بنیاد پر جب ایک سوسائٹی بن جاتی ہے تو’’الکتاب‘‘ اور ’’الرسول‘‘ اُسے ایک ضابطہ زندگی دیتے ہیں‘ جو ’’شریعت‘‘ کہلاتا ہے‘ اور سوسائٹی پر خود اپنے ہی اقرار کی وجہ سے یہ لازم ہوجاتا ہے‘ کہ اپنے معاملات زندگی کو اس اسکیم کے مطابق چلائے جو اس شریعت میں تجویز کی گئی ہے۔ تاوقتیکہ کسی شخص کی عقل بالکل ہی خبط نہ ہوگئی ہو‘ وہ کسی طرح اس بات کو ممکن فرض نہیں کر سکتاکہ کوئی مسلم سوسائٹی اپنے بنیادی معاہدے کو توڑے بغیر شریعت کے سوا کوئی دوسرا ضابطۂ زندگی اختیار کر سکتی ہے۔ دوسرا ضابطہ اختیار کرنے کے ساتھ ہی معاہدہ خود بخود ٹوٹ جاتا ہے‘ اور اس کے ٹوٹتے ہی وہ سوسائٹی ’’مسلم‘‘ کے بجائے غیر مسلم بن جاتی ہے۔ اتفاقی طور پر کسی شخص کا اپنی زندگی کے کسی معاملہ میں شریعت کی خلاف ورزی کر بیٹھنا اور چیز ہے۔ اس سے معاہدہ ٹوٹتا نہیں ہے‘ بلکہ صرف ایک جرم کا ارتکاب ہوتا ہے۔ لیکن اگر ایک پوری سوسائٹی جان بوجھ کر یہ طے کرے کہ شریعت اب اس کا ضابطۂ حیات نہیں ہے‘ اور یہ کہ اپنا ضابطہ اب وہ خود تجویز کریگی‘ یا کسی دوسرے مآخذ سے لے گی‘ تو یقینا یہ ایک فسخِ معاہدہ کا فعل ہے‘ اور قطعاً کوئی وجہ نہیں کہ ایسی سوسائٹی پر لفظ ’’مسلم‘‘ کا اطلاق درست ہو۔
شریعت کا مقصد اور اس کے اصول
ان بنیاد ی امور کی توضیح کے بعد اب ہمیں اس اسکیم کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے‘ جو انسانی زندگی کے لیے شریعت نے تجویز کی ہے۔ اس غرض کے لیے یہ مناسب ہوگا کہ ہم پہلے اس کے مقصد اور اس کے بڑے بڑے اصولوں کا جائزہ لے لیں۔
اس کا مقصد انسانی زندگی کے نظام کو معروفات پر قائم کرنا اور منکرات سے پاک کرنا ہے۔ معروفات سے مراد وہ نیکیاں‘ خوبیاں اور بھلائیاں ہیں‘ جن کو انسانی فطرت ہمیشہ سے بھلائی کی حیثیت سے جانتی ہے۔ اور منکرات سے مراد وہ برائیاں ہیں‘ جن کو ہمیشہ سے انسانیت کا ضمیر بُرا جانتا آیا ہے۔دوسرے الفاظ میں معروف فطرتِ انسانی سے مناسبت رکھنے والی چیز ہے‘ اور منکراس کے خلاف ہے۔
وہ ہمارے لیے انہی چیزوں کو بھلائی قرار دیتی ہے جوخدا کی بنائی ہوئی فطرت کے مطابق ہیں‘ اور انہی چیزوں کو بُرا اقرار دیتی ہے‘ جو اس فطرت سے موافقت نہیں رکھتیں۔ وہ ان بھلائیوں کی محض ایک فہرست ہی بنا کر ہمارے حوالہ کر دینے پر اکتفا نہیں کرتی‘ بلکہ زندگی کی پوری اسکیم ایسے نقشے پر بناتی ہے‘ کہ اس کی بنیادیں معروف بھلائیوں پر قائم ہوں‘اور معروفات اس میں پروان چڑھ سکیں‘ اور منکرات کو اس کی تعمیر میں شامل ہونے سے روکا جائے‘ اور نظامِ زندگی میں ان کے درآنے اور ان کا زہر پھیلنے کے مواقع باقی نہ رہنے دئیے جائیں۔
اس غرض کے لیے وہ معروفات کے ساتھ ان اسباب اور ذرائع کو بھی اپنی اسکیم میں شامل کرتی ہے‘ جن سے وہ قائم ہوسکتے اور پروان چڑھ سکتے ہیں‘ اور ان موانع کو ہٹانے کا انتظام بھی تجویز کرتی ہے‘ جو معروفات کے قیام اور نشوونما میں کسی طورپر سدِّراہ ہوسکتے ہیں۔اس طرح اصل معروفات کے ساتھ ان کے وسائل قیام وترقی بھی معروف شمار ہوتے ہیں‘ اور ان کے موانع منکرات کی فہرست میں شامل کر دئیے جاتے ہیں۔یہی معاملہ منکرات کے ساتھ بھی ہے۔ اصل منکرات کے ساتھ وہ چیزیں بھی منکر قرار پائی ہیں‘ جو کسی منکر کے وقوع‘ یاظہور‘ یا نشوونما کا ذریعہ بنیں۔ سوسائٹی کے پورے نظام کو شریعت اس طرز پر ڈھالتی ہے‘ کہ ایک ایک معروف اپنی پوری صورت میں قائم ہو‘ زندگی کے تمام متعلق شعبوں میں اس کا ظہور ہو‘ ہر طرف سے اس کو قائم ہونے اور پروان چڑھنے میں مدد ملے اور ہر وہ رکاوٹ دور کی جائے‘ جو کسی طرح سے اس کی راہ میں حائل ہوسکتی ہو۔ اسی طرح ایک ایک منکر کوچن چن کر زندگی سے نکالا جائے‘ اس کی پیدائش اور نشوونما کے اسباب روکے جائیں‘ جدہر جدہر سے وہ زندگی میں گھس سکتا ہے اس کا راستہ بند کیا جائے‘ اور اگر وہ سر اُٹھا ہی لے تو پھر سختی کے ساتھ اسے دبا دیا جائے۔
معروفات کو شریعت تین قسموں پر تقسیم کرتی ہے۔ ایک واجب یا فرض‘ دوسرے مندوب یعنی مطلوب‘ تیسرے مباح یعنی جائز۔
(۱) فرض و واجبات وہ مصردفات ہیں جو مسلم سوسائٹی پر لازم کیے گئے ہیں۔ ان کےمتعلق شریعت صاف صاف اور قطعی احکام دیتی ہے۔
(۲) مطلوب وہ معروفات ہیں‘ جن کو شریعت چاہتی ہے‘ یا پسند کرتی ہے‘ کہ وہ سوسائٹی میں قائم اور جاری ہوں۔ ان میں سے بعض کو صاف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے‘ اور بعض کا اشارہ شارع کے ارشادات سے نکلتا ہے۔ بعض کے قیام ونشوونما کا بندوبست کیا گیا ہے‘ اور بعض کی صرف سفارش کی گئی ہے‘ تاکہ سوسائٹی بحیثیت مجموعی یا اس کے صالح لوگ ان کی طرف خود توجہ کریں۔
(۳) رہے مباح معروفات‘ تو شریعت کی زبان میں ہر وہ چیز اور فعل مباح ہے‘ جس کی ممانعت نہ کی گئی ہو۔ اس تعریف کی بنا پر مباحات صرف وہی نہیں ہیں‘ جن کی اجازت کی تصریح ہو‘ یا جن کے معاملہ میں ہمیں صاف طور پر اختیار دیا گیا ہو‘ بلکہ ان کا دائرہ بہت وسیع ہوجاتا ہے‘ حتیٰ کہ چند بیان کردہ ممنوعات کو چھوڑ کر دنیا میں سب کچھ مباح ٹھیرتا ہے۔ یہی مباحات کا دائرہ وہ دائرہ ہے جس میں شریعت نے ہم کو آزادی عمل دی ہے‘ اور اسی دائرہ میں ہم کو اپنی ضرورتوں کے مطابق قوانین وضوابط اور طریق کار خود تجویز کر لینے کے اختیارات حاصل ہیں۔
منگرات کو شریعت میں دو قسموں پر تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک حرام یعنی قطعی ممنوع‘ دوسرے مکروہ یعنی ناپسندیدہ۔
حرام وہ ہے‘ جس سے باز رہنا اور اپنی انفرادی واجتماعی زندگی کو اس سے پاک رکھنا مسلمانوں پر لازم کر دیا گیا ہے‘ اورشریعت میں اس کے متعلق صاف صاف احکام دے دئیے گئے ہیں۔
رہا مکروہ‘ تو اس کے متعلق شارع کسی نہ کسی طور پر صراحتہً یا کنا یتہً ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے‘ جس سے بآسانی معلوم ہوجاتا ہے‘ کہ وہ کس درجہ میں ناپسندیدہ ہے۔ بعض مکر وہات حرام کے قریب ہیں‘ اور بعض مباح کی سرحد سے ملے ہوئے ہیں‘ اور بہت سے ان کے درمیانی مراتب پر ہیں۔ بعض کو روکنے اور بند کرنے کا شریعت کے نظام میں بندوبست کیا گیا ہے‘ اور بعض کو ناپسندیدہ بتا کر چھوڑ دیا گیا ہے‘ تاکہ سوسائٹی خود یا اس کے صالح عناصر ان کا سدباب کریں۔
شریعت کی ہمہ گیری
معروف اور منکر کے متعلق یہ احکام ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مذہبی عبادات‘ شخصی کردار‘ اخلاق اور عادات‘ کھانا پینا‘ پہننا اوڑھنا‘ نشست وبرخاست‘ بات چیت‘ خاندانی زندگی‘ معاشرتی تعلقات‘ معاشی معاملات‘ ملکی انتظام شہریت کے حقوق وواجبات‘ قیامِ عدل کا نظام‘ حکومت کے طریقے‘ صلح وجنگ اور دوسری قوموں کے ساتھ تعلقات‘ غرض زندگی کا کوئی شعبہ اورپہلو ایسا نہیں رہ گیاہے‘ جس کے متعلق شریعت نے ہم پر نیکی اور بدی کے طریقے‘ بھلائی اور برائی کے راستے اور پاک وناپاک کے امتیازات واضح نہ کر دئیے ہوں۔ وہ ہمیں ایک صالح نظامِ زندگی کا پورا نقشہ دیتی ہے‘ جس میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے‘ کہ کیا بھلائیاں ہیں‘ جنہیں ہم کو قائم کرنا‘ بڑھانا اور نشوونما دینا ہے کیا برائیاں ہیں‘ جن کو دبانا اور مٹانا ہے کن حدود کے اندر ہماری آزادی عمل کو محدود رہنا چاہئے‘ اور عملاً ہمیں کون سے طریقے اختیار کرنے چاہئیں‘ جن سے ہماری زندگی میں مطلوبہ بھلائیاں پروان چڑھیں اور برائیوں کا استیصال ہو۔
نظامِ شریعت کا ناقابلِ تقسیم ہونا
یہ پورا نقشۂ زندگی ایک ہی نقشۂ زندگی ہے‘ اور اس کا ایک مجموعی مزاج ہے‘ جو تقسیم ہوکر قائم نہیں رہ سکتا۔ اس کی وحدت کچھ اِسی طرح کی ہے جیسی خود انسان کے وجود کی وحدت ہے آپ جس چیز کو انسان کہتے ہیں وہ آدمی کا سالم وجود ہے نہ کہ انسانی جسم کے الگ الگ کیے ہوئے ٹکڑوں کا مجموعہ‘ ایک کٹی ہوئی ٹانگ کو آپ ۸/۱انسان یا ۶/۱انسان نہیں کہہ سکتے۔ نہ یہ کٹی ہوئی ٹانگ ان خدمات میں سے کوئی خدمت انجام دے سکتی ہے‘ جو زندہ اور سالم جسم کا ایک عضو ہونے کی صورت میں وہ انجام دیا کرتی ہے۔ نہ اس ٹانگ کو کسی اور جانورکے جسم میں لگا کر آپ یہ توقع کر سکتے ہیں‘ کہ اس جانور میں ایک ٹانگ کے بقدر انسانیت پیدا ہوجائے گی۔ اسی طرح انسانی جسم کے ہاتھ‘ پائوں‘ آنکھ‘ ناک وغیرہ اعضاء کو الگ