تفہیمات (حصہ اول)

ریڈ مودودی ؒ   کی اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

دیباچۂ طبع اوّل

اس سے قبل میرے مضامین کا ایک مجموعہ تنقیحات کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ وہ ان مباحث پر مشتمل تھا جن میں موجودہ مغربی نظریات و عملیات کی الجھنوں سے دماغوں کو صاف کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب یہ دوسرا مجموعہ ایک دوسری نوعیت کے مضامین پر مشتمل ہے۔ اس میں اسلام کے ان مہماتِ مسائل کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے جن کے متعلق آج کل عموماً لوگوں میں غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اسی مناسبت سے اس مجموعہ کا نام ’تفہیمات‘ رکھا گیا ہے۔ ان مضامین کی مقدار توقع سے بہت زیادہ نکلی اس لیے مجبوراً انھیں تین حصوں پر تقسیم کر دیناپڑا، ورنہ ابتداء ً یہی خیال تھا کہ یہ ایک ہی مجلد میں سما جائیں گے۔

ابوالاعلیٰ
۳۰، محرّم ۱۳۵۹ھ ۔ مارچ ۱۹۴۰ئ

دیباچۂ طبع ششم

یہ کتاب اس سے پہلے پانچ مرتبہ طبع ہو چکی ہے۔ اب یہ چھٹی مرتبہ پریس میں جا رہی ہے۔ اس موقع پر میں نے نظرثانی کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ بعض جزوی ترمیمات اور کچھ ضروری اضافے کیے ہیں، بلکہ ایک نیا مضمون بھی اس میں بڑھا دیا ہے جس کا عنوان ہے ’’رسول کی حیثیت شخصی اور حیثیت نبوی۔‘‘

ابُوالاعلیٰ
لاہور۔ ۶ نومبر ۱۹۶۱ئ (۲۷ جمادی الاولیٰ ۱۳۸۱ھ)

عقل کا فیصلہ

بڑے بڑے شہروں میں ہم دیکھتے ہیں کہ سینکڑوں کارخانے بجلی کی قوت سے چل رہے ہیں۔ ریلیں اور ٹرام گاڑیاں رواں دواں ہیں۔ شام کے وقت دفعتاً ہزارو ں قمقمے روشن ہو جاتے ہیں۔ گرمی کے زمانے میں گھر گھر پنکھے چلتے ہیں۔ مگر ان واقعات سے نہ تو ہمارے اندر حیرت و استعجاب کی کوئی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور نہ ان چیزوں کے روشن یا متحرک ہونے کی علت میں کسی قسم کا اختلاف ہمارے درمیان واقع ہوتا ہے۔ یہ کیوں؟ اس لیے کہ ان قمقموں کا تعلق جن تاروں سے ہے ان کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ ان تاروں کا تعلق جس بجلی گھر سے ہے اس کا حال بھی ہم کو معلوم ہے۔ اس بجلی گھر میں جو لوگ کام کرتے ہیں ان کے وجود کا بھی ہم کو علم ہے۔ ان کام کرنے والوں پر جو انجینئر نگرانی کر رہا ہے اس کو بھی ہم جانتے ہیں۔ ہم کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ انجینئر بجلی بنانے کے کام سے واقف ہے، اس کے پاس بہت سی کلیں ہیں اور ان کلوں کو حرکت دے کر وہ اس قوت کو پیدا کر رہا ہے جس کے جلوے ہم کو قمقموں کی روشنی، پنکھوں کی گردش، ریلوں اور ٹرام گاڑیوں کی سیر، چکیوں اور کارخانوں میں نظر آتے ہیں۔ پس بجلی کے آثار کو دیکھ کر اس کے اسباب کے متعلق ہمارے درمیان اختلاف رائے واقع نہ ہونے کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان اسباب کا پورا سلسلہ ہمارے محسوسات میں داخل ہے اور ہم اس کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔
فرض کیجیے کہ یہی قمقمے روشن ہوتے، اسی طرح پنکھے گردش کرتے، یونہی ریلیں اور ٹرام گاڑیاں چلتیں، چکیاں اور مشینیں حرکت کرتیں، مگر وہ تارجن سے بجلی ان میں پہنچتی ہے ہماری نظروں سے پوشیدہ ہوتے، بجلی گھر بھی ہمارے محسوسات کے دائرے سے خارج ہوتا، بجلی گھر میں کام کرنے والوں کا بھی ہم کو کچھ علم نہ ہوتا اور یہ بھی معلوم نہ ہوتا کہ اس کارخانے کا کوئی انجینئر ہے جو اپنے علم اور اپنی قدرت سے اس کو چلا رہا ہے، کیا اس وقت بھی بجلی کے ان آثار کو دیکھ کر ہمارے دل ایسے ہی مطمئن ہوتے؟ کیا اس وقت بھی ہم اس طرح ان مظاہر کی علتوں میں اختلاف نہ کرتے؟ ظاہر ہے کہ آپ اس کاجواب نفی میں دیں گے۔ کیوں؟ اس لیے کہ جب آثار کے اسباب پوشیدہ ہوں اور مظاہر کی علتیں غیر معلوم ہوں تو دلوں میں حیرت کے ساتھ بے اطمینانی کا پیدا ہونا، دماغوں کا اس راز سربستہ کی جستجو میں لگ جانا، اور اس راز کے متعلق قیاسات و آراء کا مختلف ہونا ایک فطری بات ہے۔
اب ذرااسی مفروضے پر سلسلۂ کلام کو آگے بڑھائیے۔ مان لیجیے کہ یہ جو کچھ فرض کیا گیا ہے درحقیقت عالم واقعہ میں موجود ہے۔ ہزاروں لاکھوں قمقمے روشن ہیں، لاکھوں پنکھے چل رہے ہیں، گاڑیاں دوڑ رہی ہیں، کارخانے حرکت کر رہے ہیں اور ہمارے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ ان میں کون سی قوت کام کر رہی ہے اور وہ کہاں سے آتی ہے۔ لوگ ان مظاہر و آثار کو دیکھ کر حیران و ششدر ہیں۔ ہر شخص ان کے اسباب کی جستجو میں عقل کے گھوڑے دوڑا رہا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ سب چیزیں آپ سے آپ روشن یا متحرک ہیں، ان کے اپنے وجود سے خارج کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو انھیں روشنی یا حرکت بخشنے والی ہو۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ چیزیں جن مادوں سے بنی ہوئی ہیں انھی کی ترکیب نے ان کے اندر روشنی اور حرکت کی کیفیتیں پیدا کر دی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اس عالم مادہ سے ماوراء چند دیوتا ہیں جن میں سے کوئی قمقمے روشن کرتا ہے، کوئی ٹرام اور ریلیں چلاتا ہے، کوئی پنکھوں کو گردش دیتا ہے اور کوئی کارخانوں اور چکیوں کا محرک ہے۔ بعض لوگ ایسے ہیں جو سوچتے سوچتے تھک گئے ہیں اور آخر میں عاجز ہو کر کہنے لگے ہیں کہ ہماری عقل اس طلسم کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتی، ہم صرف اتنا ہی جانتے ہیں جتنا دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں، اس سے زیادہ کچھ ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور جو کچھ ہماری سمجھ میں نہ آئے اس کی نہ ہم تصدیق کر سکتے ہیں اور نہ تکذیب۔
یہ سب گروہ ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔مگر اپنے خیال کی تائید اور دوسرے خیالات کی تکذیب کے لیے ان میں سے کسی کے پاس بھی قیاس اورظن و تخمین کے سوا کوئی ذریعۂ علم نہیں ہے۔
اس دوران میں کہ یہ اختلافات برپا ہیں، ایک شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ بھائیو، میرے پاس علم کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو تمھارے پاس نہیں ہے۔ اس ذریعے سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ ان سب قمقموں، پنکھوں، گاڑیوں، کارخانوں اور چکیوں کا تعلق چند مخفی تاروں سے ہے جن کو تم محسوس نہیں کرتے۔ ان تاروں میں ایک بہت بڑے بجلی گھر سے وہ قوت آتی ہے جس کا ظہور روشنی اور حرکت کی شکل میں ہوتا ہے۔ اس بجلی گھر میں بڑی بڑ ی عظیم الشان کلیں ہیں جنھیں بے شمار اشخاص چلا رہے ہیں۔ یہ سب اشخاص ایک بڑے انجینئر کے تابع ہیں، اوروہی انجینئر ہے جس کے علم اور قدرت نے اس پورے نظام کو قائم کیا ہے۔ اسی کی ہدایت اور نگرانی میں یہ سب کام ہو رہے ہیں۔
یہ شخص پوری قوت سے اپنے اس دعوے کو پیش کرتا ہے۔ لوگ اس کو جھٹلاتے ہیں، سب گروہ مل کر اس کی مخالفت کرتے ہیں، اسے دیوانہ قرار دیتے ہیں، اس کو مارتے ہیں، تکلیفیں دیتے ہیں، گھر سے نکال دیتے ہیں، مگر وہ ان سب روحانی اور جسمانی مصیبتوں کے باوجود اپنے دعوے پر قائم رہتا ہے۔ کسی خوف یا لالچ سے اپنے قول میں ذرّہ برابر ترمیم نہیں کرتا۔ کسی مصیبت سے اس کے دعوے میں کمزوری نہیں آتی۔ اس کی ہر ہر بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو اپنے قول کی صداقت پر کامل یقین ہے۔
اس کے بعد ایک دوسرا شخص آتا ہے اور وہ بجنسہٖ یہی قول اسی دعوے کے ساتھ پیش کرتا ہے، پھر تیسرا، چوتھا، پانچواں آتا ہے اور وہی بات کہتا ہے جو اس کے پیشرووں نے کہی تھی۔ اس کے بعد آنے والوں کا ایک تانتا بندھ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کی تعداد سینکڑوں اور ہزاروں سے متجاوز ہو جاتی ہے، اور یہ سب اسی ایک قول کو اسی ایک دعوے کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ زمان و مکان اور حالات کے اختلاف کے باوجود ان کے قول میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ سب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس علم کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ سب کو دیوانہ قرار دیا جاتا ہے، ہر طرح کے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ہر طریقے سے ان کو مجبور کیا جاتا ہے کہ اپنے قول سے باز آجائیں، مگر سب کے سب اپنی بات پر قائم رہتے ہیں اور دنیا کی کوئی قوت ان کو اپنے مقام سے ایک انچ نہیں ہٹا سکتی۔ اس عزم و استقامت کے ساتھ ان لوگوں کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں کہ ان میں سے کوئی جھوٹا، چور، خائن، بدکار، ظالم اور حرام خور نہیں ہے، ان کے دشمنوں اور مخالفوں کو بھی اس کا اعتراف ہے۔ ان سب کے اخلاق پاکیزہ ہیں، سیرتیں انتہا درجے کی نیک ہیں، اور حسن خلق میں یہ اپنے دوسرے ابنائے نوع سے ممتاز ہیں۔ پھر ان کے اندر جنوں کا بھی کوئی اثر نہیں پایا جاتا۔ بلکہ اس کے برعکس وہ تہذیب اخلاق، تزکیہ نفس، اور دنیوی معاملات کی اصلاح کے لیے ایسی ایسی تعلیمات پیش کرتے اور ایسے ایسے قوانین بناتے ہیں جن کے مثل بنانا تو درکنار بڑے بڑے علما و عقلا کو ان کی باریکیاں سمجھنے میں پوری پوری عمریں صرف کر دینی پڑتی ہیں۔
ایک طرف وہ مختلف الخیال مکذبین ہیں، اور دوسری طرف یہ متحد الخیال مدعی دونوں کا معاملہ عقلِ سلیم کی عدالت میں پیش ہوتا ہے۔ جج کی حیثیت سے عقل کا فرض ہے کہ پہلے اپنی پوزیشن کو خوب سمجھ لے، پھر فریقین کی پوزیشن کو سمجھے، اور دونوں کا موازنہ کرنے کے بعد فیصلہ کرے کہ کس کی بات قابل ترجیح ہے۔
جج کی اپنی پوزیشن یہ ہے کہ خود اس کے پاس امر واقعی کو معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ وہ خود حقیقت کا علم نہیں رکھتا۔ اس کے سامنے صرف فریقین کے بیانات، ان کے دلائل، ان کے ذاتی حالات اور خارجی آثار و قرائن ہیں۔ انھی پر تحقیق کی نظر ڈال کر اسے فیصلہ کرنا ہے کہ کس کا برحق ہونا اغلب ہے۔ مگر اغلبیت سے بڑھ کر بھی وہ کوئی حکم نہیں لگا سکتا، کیونکہ مِسل پر جو کچھ مواد ہے اس کی بنا پر یہ کہنا اس کے لیے مشکل ہے کہ امر واقعی کیا ہے۔ وہ فریقین میں سے ایک کو ترجیح دے سکتا ہے، لیکن قطعیت اور یقین کے ساتھ کسی کی تصدیق یا تکذیب نہیں کرسکتا۔
مکذبین کی پوزیشن یہ ہے:
۱۔ حقیقت کے متعلق ان کے نظریے مختلف ہیں۔ اور کسی ایک نکتے میں بھی ان کے درمیان اتفاق نہیں ہے حتیٰ کہ ایک ہی گروہ کے افراد میں بسا اوقات اختلاف پایا گیا ہے۔
۲۔ وہ خود اقرار کرتے ہیں کہ ان کے پاس علم کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جو دوسروں کے پاس نہ ہو۔ ان میں سے کوئی گروہ اس سے زیادہ کسی چیز کا مدعی نہیں ہے کہ ہمارے قیاسات دوسروں کے مقابلے میں زیادہ وزنی ہیں۔ مگر اپنے قیاسات کا قیاسات ہونا سب کو تسلیم ہے۔
۳۔ اپنے قیاسات پر ان کا اعتقاد، ایمان و یقین اور غیر متزلزل وثوق کی حد تک نہیں پہنچا ہے۔ ان میں تبدیلی رائے کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں۔ بارہا دیکھا گیا ہے کہ ان میں کا ایک شخص کل تک جس نظریے کو پورے زور کے ساتھ پیش کر رہا ہے، آج خود اسی نے اپنے پچھلے نظریے کی تردید کردی اور ایک دوسرا نظریہ پیش کر دیا۔ عمر، عقل، علم اور تجربے کی ترقی کے ساتھ ساتھ اکثر ان کے نظریات بدلتے رہتے ہیں۔
۴۔ مدعیوں کی تکذیب کے لیے ان کے پاس بجز اس کے اور کوئی دلیل نہیں ہے کہ انھوں نے اپنی صداقت کا کوئی یقینی ثبوت نہیں پیش کیا، انھوں نے وہ مخفی تارہم کو نہیں دکھائے جن کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ قمقموں اور پنکھوں وغیرہ کا تعلق انھی سے ہے، نہ انھوں نے بجلی کا وجود تجربے اور مشاہدے سے ثابت کیا، نہ بجلی گھر کی ہمیں سیر کرائی، نہ اس کی کلوں اور مشینوں کا معاینہ کرایا، نہ اس کے کارندوں میں سے کسی سے ہماری ملاقات کرائی، نہ کبھی انجینئر سے ہم کو ملایا، پھر ہم یہ کیسے مان لیں کہ یہ سب کچھ حقائق ہیں؟
مدعیوں کی پوزیشن یہ ہے:
۱۔ وہ سب آپس میں متفق القول ہیں۔ دعوے کے جتنے بنیادی نکات ہیں ان سب میں ان کے درمیان کامل اتفاق ہے۔
۲۔ ان سب کا متفقہ دعویٰ یہ ہے کہ ہمارے پاس علم کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہے۔
۳۔ ان میں سے کسی نے نہیں کہا کہ ہم اپنے قیاس یا گمان کی بنا پر ایسا کہتے ہیں۔ بلکہ سب نے بالاتفاق کہا ہے کہ انجینئر سے ہمارے خاص تعلقات ہیں۔ اس کے کارندے ہمارے پاس آتے ہیں، اس نے اپنے کارخانے کی سیر بھی ہم کو کرائی ہے اور ہم جو کچھ کہتے ہیں علم و یقین کی بنا پر کہتے ہیں۔ ظن و تخمین کی بنا پر نہیں کہتے۔
۴۔ ان میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کسی نے اپنے بیان میں ذرّہ برابر بھی تغیر و تبدل کیا ہو۔ ایک ہی بات ہے جو ان میں کا ہر شخص دعوے کے آغاز سے زندگی کے آخری سانس تک کہتا رہا ہے۔
۵۔ ان کی سیرتیں انتہا درجے کی پاکیزہ ہیں۔ جھوٹ، فریب، مکاری، دغا بازی کا کہیں شائبہ تک نہیں ہے۔ اور کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ جو لوگ زندگی کے تمام معاملات میں سچے اور کھرے ہوں، وہ خاص اسی معاملے میں بالاتفاق کیوں جھوٹ بولیں۔
۶۔ اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ دعویٰ پیش کرنے سے ان کے پیش نظر کوئی ذاتی فائدہ تھا۔ برعکس اس کے یہ ثابت ہے کہ ان میں سے اکثر و بیشتر نے اس دعوے کی خاطر انتہائی درجے کے مصائب برداشت کیے ہیں، جسمانی تکلیفیں سہیں، قید کیے گئے، مارے اور پیٹے گئے، جلاوطن کیے گئے۔ بعض قتل کر دیئے گئے۔ حتیٰ کہ بعض کو آرے سے چیر ڈالا گیا، اور چند کے سوا کسی کو بھی خوش حالی و فارغ البالی کی زندگی میسر نہ ہوئی۔ لہٰذا کسی ذاتی غرض کا الزام ان پر نہیں لگایا جاسکتا۔ بلکہ ان کا ایسے حالات میں اپنے دعوے پر قائم رہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کو اپنی صداقت پر انتہا درجے کا یقین تھا، ایسا یقین کہ اپنی جان بچانے کے لیے بھی ان میں سے کوئی اپنے دعوے سے باز نہ آیا۔
۷۔ ان کے متعلق مجنون یا فاتر العقل ہونے کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے۔ زندگی کے تمام معاملات میں وہ سب کے سب غایت درجے کے دانشمند اور سلیم العقل پائے گئے ہیں۔ ان کے مخالفین نے بھی اکثر ان کی دانشمندی کا لوہا مانا ہے۔ پھر یہ کیسے باورکیا جاسکتا ہے کہ ان سب کو اسی خاص معاملے میں جنون لاحق ہوگیا ہو؟ اور وہ معاملہ بھی کیسا؟ جو ان کے لیے زندگی اور موت کا سوال بن گیا ہو۔ جس کے لیے انھوں نے دنیا بھر کا مقابلہ کیا ہو۔ جس کی خاطر وہ سالہا سال دنیا سے لڑتے رہے ہوں۔ جو ان کی ساری عاقلانہ تعلیمات کا (جن کے عاقلانہ ہونے کا بہت سے مکذبین کو بھی اعتراف ہے) اصل الاصول ہو۔
۸۔ انھوں نے خود بھی یہ نہیں کہا کہ ہم انجینئر یا اس کے کارندوں سے تمھاری ملاقات کراسکتے ہیں یا اس کا مخفی کارخانہ تمھیں دکھا سکتے ہیں یا تجربے اور مشاہدے سے اپنے دعوے کو ثابت کرسکتے ہیں۔ وہ خود ان تمام امور کو ’’غیب‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ہم پر اعتماد کرو اور جو کچھ ہم بتاتے ہیں اسے مان لو۔
فریقین کی پوزیشن اور ان کے بیانات پر غور کرنے کے بعد اب عقل کی عدالت اپنا فیصلہ صادر کرتی ہے۔
وہ کہتی ہے کہ چند مظاہر و آثار کو دیکھ کر ان کے باطنی اسباب و علل کی جستجو دونوں فریقوں نے کی ہے اور ہر ایک نے اپنے اپنے نظریات پیش کیے ہیں۔ بادی النظر میں سب کے نظریات اس لحاظ سے یکساں ہیں کہ اوّلاً ان میں سے کسی میں استحالۂ عقلی نہیں ہے، یعنی قوانین عقلی کے لحاظ سے کسی نظریے کے متعلق نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا صحیح ہونا غیر ممکن ہے۔ ثانیاً ان میں سے کسی کی صحت تجربے یا مشاہدے سے ثابت نہیں کی جاسکتی۔ نہ فریق اوّل میں سے کوئی گروہ اپنے نظریات کا ایسا سائنٹفک ثبوت دے سکتا ہے جو ہر شخص کو یقین کرنے پر مجبور کر دے۔ اور نہ فریق ثانی اس پر قادر یا اس کا مدعی ہے۔ لیکن مزید غور و تحقیق کے بعد چند امور ایسے نظر آتے ہیں جن کی بنا پر تمام نظریات میں سے فریق ثانی کا نظریہ قابل ترجیح قرار پاتا ہے۔
اوّلا، کسی دوسرے نظریے کی تائید اتنے کثیر التعداد عاقل، پاک سیرت، صادق القول آدمیوں نے متفق ہو کر اتنی قوت اور اتنے یقین و ایمان کے ساتھ نہیں کی ہے۔
ثانیاً، ایسے پاکیزہ کیرکٹر اور اتنے کثیر التعداد لوگوں کا مختلف زمانوں اور مختلف مقامات میں اس دعوے پر متفق ہو جانا کہ ان سب کے پاس ایک غیر معمولی ذریعۂ علم ہے، اور ان سب نے اس ذریعے سے خارجی مظاہر کے باطنی اسباب کو معلوم کرلیا ہے، ہم کو اس دعوے کی تصدیق پر مائل کر دیتا ہے، خصوصاً اس وجہ سے کہ اپنی معلومات کے متعلق ان کے بیانات میں کوئی اختلاف نہیں ہے، جو معلومات انھوں نے بیان کی ہیں ان میں کوئی استحالۂ عقلی بھی نہیں ہے اور نہ یہ بات قوانین عقلی کی بنا پر محال قرار دی جاسکتی ہے کہ بعض انسانوں میں کچھ ایسی غیر معمولی قوتیں ہوں جو عام طور پر دوسرے انسانوں میں نہ پائی جاتی ہوں۔
ثالثاً، خارجی مظاہر کی حالت پر غور کرنے سے بھی اغلب یہی معلوم ہوتا ہے کہ فریق ثانی کا نظریہ صحیح ہو۔ اس لیے کہ قمقمے، پنکھے، گاڑیاں، کارخانے وغیرہ نہ تو آپ سے آپ روشن اور متحرک ہیں، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ان کا روشن اور متحرک ہونا ان کے اپنے اختیار میں ہوتا، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ نہ ان کی روشنی و حرکت ان کے مادۂ جسمی کی ترکیب کا نتیجہ ہے، کیونکہ جب وہ محترک اور روشن نہیں ہوتے اس وقت بھی یہی ترکیب جسمی موجود رہتی ہے۔ نہ ان کا الگ الگ قوتوں کے زیر اثر ہونا صحیح معلوم ہوتا ہے، کیونکہ بسا اوقات جب قمقموں میں روشنی نہیں ہوتی تو پنکھے بھی بند ہوتے ہیں، ٹرام کاریں بھی موقوف ہو جاتی ہیں اور کارخانے بھی نہیں چلتے۔ لہٰذا خارجی مظاہر کی توجیہ میں فرق اوّل کی طرف سے جتنے نظریات پیش کیے گئے ہیں وہ سب بعید از عقل و قیاس ہیں۔ زیادہ صحیح یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ ان تمام مظاہر میں کوئی ایک قوت کار فرما ہو اور اس کا سر رشتہ کسی ایسے حکیم و توانا کے ہاتھ میں ہو جو ایک مقررہ نظام کے تحت اس قوت کو مختلف مظاہر میں صرف کر رہا ہو۔
باقی رہا مشککین کا یہ قول کہ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی، اور جو بات ہماری سمجھ میں نہ آئے اس کی تصدیق یا تکذیب ہم نہیں کرسکتے، تو حاکم عقل اس کو بھی درست نہیں سمجھتا کیونکہ کسی واقعہ کا واقعہ ہونا اس کا محتاج نہیں ہے کہ وہ سننے والوں کی سمجھ میں بھی آجائے۔ اس کے وقوع کو تسلیم کرنے کے لیے معتبر اور متواتر شہادت کافی ہے۔ اگر ہم سے چند معتبر آدمی آکر کہیں کہ ہم نے زمین مغرب میں آدمیوں کو لوہے کی گاڑیوں میں بیٹھ کر ہوا پر اڑتے دیکھا ہے، اور ہم اپنے کانوں سے لندن میں بیٹھ کر امریکہ کا گانا سن آئے ہیں، تو ہم صرف یہ دیکھیں گے کہ یہ لوگ جھوٹے اور مسخرے تو نہیں ہیں؟ ایسا بیان کرنے میں ان کی کوئی ذاتی غرض تو نہیں ہے؟ ان کے دماغ میں کوئی فتور تو نہیں ہے؟ اگر ثابت ہوگیا کہ وہ نہ جھوٹے ہیں نہ مسخرے، نہ دیوانے، نہ ان کا کوئی مفاد اس روایت سے وابستہ ہے، اور اگر ہم نے دیکھا کہ اس کو بلا اختلاف بہت سے سچے اور عقلمند لوگ سنجیدگی کے ساتھ بیان کر رہے ہیں تو ہم یقیناً اس کو تسلیم کرلیں گے، خواہ لوہے کی گاڑیوں کا ہوا پر اڑنا اور کسی مادی واسطے کے بغیر ایک جگہ کا گانا کئی ہزار میل کے فاصلے پر سنائی دینا کسی طرح ہماری سمجھ میں نہ آتا ہو۔
یہ اس معاملے میں عقل کا فیصلہ ہے۔ مگر تصدیق و یقین کی کیفیت جس کا نام ’’ایمان‘‘ ہے اس سے پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے لیے وجدان کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ اندر سے ایک آواز آئے جو تکذیب، شک اور تذبذب کی تمام کیفیتوں کا خاتمہ کر دے اور صاف کہہ دے کہ لوگوں کی قیاس آرائیاں باطل ہیں، سچ وہی ہے جو سچے لوگوں نے قیاس سے نہیں بلکہ علم و بصیرت کی رُو سے بیان کیا ہے۔
(ترجمان القرآن۔ رجب ۱۳۵۲ھ۔ دسمبر ۱۹۳۳ئ)

کوتہ نظری

’’ایک دو سال کا خوبصورت بچہ بخار اور دردِ قولنج میںمبتلا تھا۔ اس کی تکلیف اور اضطراب کو سخت سے سخت دل انسان بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ رفع تکلیف کے لیے کبھی وہ اپنے ماں باپ کی طرف دیکھتا اور کبھی ڈاکٹر کے سامنے کڑوی کسیلی دوا کے لیے منہ کھولتا۔ اسی تکلیف میں ایک دن رات رہ کر ہمیشہ کے لیے اپنے ماں باپ سے رخصت ہوگیا۔ اس کو کرب اور نزع کی حالت میں دیکھ کر دل میں سوال پیدا ہوا کہ رب رحیم جو رأفت اور شفقت کا منبع ہے، چھوٹے اور معصوم بچوں پر مصائب اور تکالیف کیوں وارد کرتا ہے؟ حالانکہ وہ خود کہتا ہے کہ مَااَنَا بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِیْدِ ۔
یہ ایک کرم فرما کے خط کا اقتباس ہے، جو سوال ان کے دل میں پیدا ہوا ہے قریب قریب وہی سوال مختلف صورتوں میں ہر ایسے موقع پر لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے جب وہ موت اور بیماری اور نزول آفات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ وبامیں ہزاروں آدمیوں کا انتہائی بے کسی کی موت مرنا، زلزلے میں ہزارہا گھروں کا تباہ ہونا، سیلاب میں لوگوں کا بے اندازہ مصائب و شدائد سے دوچار ہونا، مختلف قسم کی موذی بیماریوں میں لوگوں کا سخت کرب و اذیت کے ساتھ تڑپنا، غرض مصیبت اور درد و الم کا ہر نظارہ انسان کے دل میں آپ سے آپ یہ سوال پیدا کر دیتا ہے کہ وہ خدا جو رئوف و رحیم ہے، اور وہ خدا جو اپنی ربوبیت اور اپنے فضل و کرم پر ناز رکھتا ہے ، اور وہ خدا جو خود کہتا ہے کہ میں ظالم نہیں ہوں، آخر وہ اپنے بندوں پر یہ سختیاں کیوں نازل کرتا ہے؟ خود اپنی بنائی ہوئی مخلوق کو، جسے خود اس نے درد و الم کا احساس دیا ہے، اس طرح مصائب و آلام میں کس لیے مبتلا کرتا ہے؟ بعض لوگ تو اس مسئلے میں یہاں تک بڑھ جاتے ہیں کہ قہر خداوندی کے ان آثار کو حق تعالیٰ کی صفت رأفت و رحمت کے منافی سمجھنے لگتے ہیں اور انھیں گمان ہونے لگتا ہے کہ معاذ اللہ خدا ایک اندھی طاقت (Blind Force)ہے جس کو کسی کی راحت و اذیت کا کچھ علم نہیں۔ وہ یونہی بلا کسی علم کے بنانے اور توڑنے پھوڑنے میں مشغول ہے۔
جن لوگوں نے کائنات کے نظم اور ملکوت ارض و سماء پر غور کیا ہے وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کائنات علیحدہ علیحدہ مستقل الوجود اجزا پر مشتمل نہیں ہے بلکہ ایک کل ہے جس کے تمام اجزا ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں۔ زمین کا ایک ذرّہ مریخ اور عطارد کے ذرّات سے ویسا ہی تعلق رکھتا ہے جیسا میرے سر کا ایک بال میرے ہاتھ کے ایک رونگٹے سے رکھتا ہے۔ گویا پوری کائنات ایک جسد واحد ہے اور اس کے اجزا میں باہم ویسا ہی ربط ہے جیسا ایک جسم کے اجزا میں ہوتا ہے۔ پھر جس طرح کائنات کے اجزا میں ربط اور تسلسل ہے اسی طرح ان واقعات میں بھی ربط و تسلسل ہے جو اس کائنات میں پیش آتے ہیں۔ دنیا کا کوئی چھوٹا یا بڑا واقعہ بجائے خود ایک مستقل واقعہ نہیں ہے۔ بلکہ وہ تمام کائنات کے سلسلۂ واقعات کی ایک کڑی ہے اور کلی مصلحت کے تحت صادر ہوتا ہے جس کو پیش نظر رکھ کر خداوند عالم اپنی اس غیر محدود سلطنت کو چلا رہا ہے۔ اب یہ امر قابل غور ہے کہ جس شخص کی نظر پوری کائنات پر نہیں بلکہ اس کے ایک نہایت ہی حقیر حصے پر ہے جس کو کل کے ساتھ اتنی نسبت بھی نہیں جتنی ایک ذرے کو آفتاب کے ساتھ ہوتی ہے، اور جس شخص کے سامنے واقعات عالم کا پورا سلسلہ نہیں ہے بلکہ اس سلسلے کی بے حد و حساب کڑیوں میں سے محض ایک یا دو یا چند کڑیاں ہیں اور جو شخص کائنات کے اس حقیر حصے اور واقعات کی ان چند کڑیوں میں بھی صرف ظاہری سطح کو دیکھ رہا ہے، باطنی حقائق تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ اس کے پاس نہیں ہے، کیا ایسا شخص کسی جزئی واقعے کو دیکھ کر اس کی حکمت و مصلحت کے متعلق کوئی رائے قائم کرنے کا اہل ہوسکتا ہے؟ اور اگر وہ کوئی رائے قائم کرنے کی جرأت کرے تو کیا اس کی رائے صحیح ہوسکتی ہے؟
کائنات کا نظام اور خدا کی خدائی تو خیر اس قدر وسیع ہے کہ اس کے تصور ہی سے ہمارا ذہن تھک جاتا ہے۔ آپ ایک چھوٹے پیمانے پر کسی انسانی سلطنت ہی کو لے لیجیے۔ جو شخص کرسیٔ وزارت یا تخت شاہی پر بیٹھا ہوا ایک بڑی سلطنت کا انتظام کر رہاہے وہ بھی اگرچہ ہماری ہی طرح کا ایک انسان ہے، اور فطری استعداد کے لحاظ سے ہمارے اور اس کے درمیان کچھ زیادہ فرق نہیں ہے، نیز اس کے جتنے معاملات ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کو سمجھنے اور انجام دینے کی قوت و استعداد ہم میں نہ ہو، لیکن محض یہ فرق کہ وہ کرسیٔ حکومت پر سے تمام سلطنت کے نظم و نسق کو یکھ رہا ہے اور ہم ایک گوشے میں اس نظم سے یک گو نہ بے تعلق بیٹھے ہوئے ہیں ، ہمارے اور اس کے درمیان اتنا عظیم تفاوت پیدا کر دیتا ہے کہ ہم بالفعل اس کے معاملات کو نہیں سمجھ سکتے اور اگر کوئی جزئی واقعہ ہمارے سامنے آتا ہے تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کی غایت و مصلحت کیا ہے۔ پھر جب انسان اور انسان کے درمیان محض پوزیشن کے فرق سے اتنا تفاوت واقع ہو جاتا ہے، تو غورکیجیے کہ انسان اور خداکے درمیان کتنا تفاوت ہوگا، دراں حالیکہ یہاں پوزیشن کا نہیں حقیقت کا فرق عظیم ہے۔ وہ تمام عالم پر سلطنت کر رہا ہے اور ہم اس کی سلطنت کے ایک نہایت ہی حقیر گوشے میں بیٹھے ہیں۔ اس کی دانش و بینش سارے عالم پر حاوی ہے، اور ہماری دانش و بینش کی رسائی خود اپنے جسم کی باطنی حقیقتوں تک بھی نہیں۔ اس کی طاقتیں بے پایاں ہیں اور ہمارے پاس ان میں سے کوئی طاقت بھی نہیں۔ اگراس تفاوت عظیم کے باوجود اس کے کاموں پر ہم تنقید کریں اور ان کی حکمت و مصلحت کے متعلق کوئی رائے قائم کریں تو کیا یہ تنقید اس تنقید سے کروڑ درجہ زیادہ جاہلانہ نہ ہوگی جو ایک گنوار اپنی جھونپڑی میں بیٹھ کر سلطنت کے معاملات پر کرتا ہے۔
اس سے زیادہ واضح ایک اور مثال لیجیے۔ فرض کیجیے کہ آپ ایک باغبان ہیں۔ جو باغ آپ نے بڑی محنت سے لگایا ہے اورجس کی ترتیب و تزئین میں آپ نے اپنی پوری مہارت صرف کر دی ہے، اس کے درختوں اور پودوں اور بیلوں سے یقیناً آپ کو محبت ہوگی۔ آپ ان کی حفاظت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیں گے۔ ان کو بے ضرورت کاٹنا، چھانٹنا یا اکھاڑ پھینکنا آپ کبھی پسند نہ کریں گے اور اگر کوئی غیر آکر ان پر تیشہ چلائے تو آپ کو سخت ناگوار ہوگا۔ پھر آپ کو علمی طریق سے یہ بھی معلوم ہے کہ نباتات میں راحت اور اذیت، رنج اور خوشی کا احساس ہوتا ہے، اور آپ جانتے ہیں کہ اگر درختوں اور پودوں پر قینچی یا کلہاڑی چلائی جائے تو ان کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔ اپنے اعضا کے کٹنے اور اپنے بچوں (پھلوں) سے جدا ہو جانے کا انھیں بھی رنج ہوتا ہے۔ لیکن اس محبت اور علم کے باوجود آپ ضرورت اور باغ کی کلی مصلحت کا لحاظ کرکے اپنے باغ میں تراش خراش کرتے ہیں، پتیوں اور شاخوں کو کاٹتے چھانٹتے ہیں۔ پودوں کو تراش کر قلمیں لگاتے ہیں، سبزے کو کاٹ کر ہموار کرتے ہیں، کچے اور پکے پھل حسب ضرورت اتار لیتے ہیں، کھلے اور بن کھلے پھول توڑ لیتے ہیں، غیر ضروری پودوں کو اکھاڑتے ہیں، سوکھے ہوئے درختوں کو کاٹ پھینکتے ہیں۔
اگر درختوں اور پودوں اور بیل بوٹوں کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ سب کچھ سراسر ظلم ہے۔ اگر ان میں گویائی ہوتی تو وہ کہتے کہ یہ باغبان کیسا بے درد اور ظالم ہے۔ ہمارے اعضا کی قطع و برید کرتا ہے۔ ہمارے بچوں کو ہم سے چھین لیتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے پودوں کو جنھوں نے ابھی زندگی کی ایک بہار بھی نہیں دیکھی تھی، اکھاڑ پھینکتا ہے۔ ننھی ننھی کلیوں کو توڑلے جاتا ہے۔ بوڑھوں کو دیکھتا ہے نہ بچوں اور جوانوں کو۔ بس کاٹنے سے کام ہے۔ اور کبھی تو ظالم ایک مشین لے کر اس طرح پھراتا ہے کہ ہماری برادری کے ہزاروں افراد کا بیک وقت صفایا کر ڈالتا ہے۔ کیا ایسا شخص شفیق و مہربان ہو سکتا ہے؟ کیا اس کے دل میں محبت اور رحمت و رأفت کے پاکیزہ جذبات ہوسکتے ہیں؟ ہم تو اس کاٹ چھانٹ اور اکھیڑ پچھاڑ میں کوئی مصلحت بھی نہیں دیکھتے۔ ہمیں تو یہ ایک اندھا، بے حس، سنگ دل وجود معلوم ہوتا ہے جو بغیر کسی علم و حکمت اور غرض و غایت کے کبھی ہم کو پانی دیتا ہے اور کبھی ہم پر قینچی چلاتا ہے، کبھی ہم کو کھاد بہم پہنچاتا ہے اورکبھی ہمیں کلہاڑی سے کاٹ پھینکتا ہے، کبھی دوسروں سے ہماری حفاظت کرتا ہے اورکبھی ہمیں خود اپنی ہاتھوں اکھاڑ ڈالتا ہے، کبھی بیماریوں میں ہمارا مداوا کرتا ہے اور کبھی خود ایک مشین لے کر ہمارا قتل عام کر دیتا ہے۔
اگر درخت آپ کے انتظام پر نکتہ چینی کریں تو آپ کیا کہیں گے؟ یہی ناکہ ان کی نظر محدود ہے، وہ صرف اپنے وجود اور اپنے قریبی متعلقات کو دیکھتے ہیں، مگر میری نظر وسیع ہے، میں باغ کی کلی مصلحت کو دیکھتا ہوں۔ وہ صرف اپنے پھل پھول، پتوں اور شاخوں سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ بہت بڑھے تو آس پاس کے پودوں اور درختوں سے محبت اور ہمدردی کے تعلقات پیدا کر لیے۔ مگر میرے پیش نظر پورے باغ کی بہتری ہے اور میں مجموعی طور پر سب کی اصلاح حال کے لیے عمل کر رہا ہوں۔ ہر نادان درخت اور بیوقوف پودا یہ سمجھ رہا ہے کہ سارا باغ اسی کی ذات اور اس کے دوستوں اور عزیزوں کے لیے لگایا گیا ہے اور اس باغ میں اسی کا مفاد قابل لحاظ ہے۔ لیکن میں نے دراصل ان کو باغ کے لیے لگایا ہے۔ ان کی ذات سے مجھ کو جو کچھ دلچسپی ہے اپنے باغ کی خاطر ہے۔ جس حد تک باغ کی بہتری کے لیے مناسب اور ضروری ہے میں ہر درخت اور ہر پودے اور ہر بیل بوٹے کی حفاظت اور پرورش کرتا ہوں۔ مگر جب باغ کی مصلحت متقاضی ہوتی ہے تو میں اس میں کاٹ چھانٹ، تراش خراش، اور اکھاڑ پچھاڑ سب کچھ کرتا ہوں، کیونکہ باغ کا مجموعی مفاد میرے نزدیک ایک ایک پودے اور ایک ایک درخت اور بیل بوٹے کے شخصی مفاد سے زیادہ قیمت رکھتا ہے۔ یہ گمان کرتے ہیں کہ میں دشمنی کی راہ سے ان پر ہاتھ صاف کرتا ہوں، لیکن یہ محض ان کی نادانی اور تنگ خیالی ہے۔ ان میں یہ صلاحیت نہیں کہ باغ کے معاملات اور اس کے مصالح کو سمجھ سکیں۔ ان کے پاس صرف اپنی تکلیف کا احساس اور اپنی راحت اور زندگی کی خواہش ہے۔ جب ان کی خواہشات اور احساسات کو صدمہ پہنچتا ہے تو یہ بے صبر ہو جاتے ہیں اور مجھ پر ظالم ہونے کا شبہ کرنے لگتے ہیں۔ مگر حقیقت ان کے گمان کے تابع نہیں ہے۔ ان کے سمجھنے سے میں درحقیقت ظالم نہیں ہوسکتا اور ان کی خاطر میں اپنے باغ کے انتظام کو بھی نہیں بدل سکتا۔
اس چھوٹی سی مثال کو جب آپ پھیلا کر دیکھیں گے تو آپ کو اپنے بہت سے گلوں شکووں کا جواب مل جائے گا۔
کائنات کے نظم پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ اس زبردست کارخانے کو بنانے اور چلانے والا یقیناً ایک ایسا وجود ہونا چاہیے جو کمال درجہ حکیم و دانا اور علیم و خبیر ہو۔ جس نے ہم میں خواہشات پیدا کی ہیں ممکن نہیں کہ وہ خواہشات سے بے خبر ہو۔ جس نے ہم میں احساسات پیدا کیے ہیں، ممکن نہیں کہ وہ ہمارے احساسات سے ناواقف ہو۔ جس نے بچے کو پیدا کیا ہے اور بچے کی پرورش کے لیے ماں باپ کے دل میں محبت پیدا کی ہے، وہ ضرور جانتا ہے کہ بیماری اور موت سے بچے کو کیا تکلیف ہوتی ہے۔ اور ماں باپ کے دل کو کیسا صدمہ پہنچتا ہے۔ لیکن جب یہ سب کچھ جاننے اور ہم سے زیادہ جاننے کے باوجود اس نے بچے اور ماں باپ کو یہ اذیت دینا گوارا کیا، جب ہمارے احساسات سے باخبر ہونے کے باوجود اس نے ان کو پامال کرنا پسند کیا، جب ہماری خواہشات کا علم رکھنے کے باوجود اس نے ان کو پورا کرنے سے انکار کیا، تو ہم کو سمجھنا چاہیے کہ ایسا کرنا یقیناً ناگزیر ہی ہوگا، اور اس علیم و خبیر کے علم میں اس سے بہتر کوئی صورت نہ ہوگی، ورنہ وہ اس بہتر صورت ہی کو اختیار کرتا، کیونکہ وہ حکیم ہے، اور حکیم کے حق میں یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ اگر بہتر تدبیر ممکن ہو تو وہ اسے چھوڑ کر بدتر تدبیر اختیار کرے گا ______ اس میں شک نہیں کہ اس کی حکمتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور نہیں آسکتیں، اس لیے کہ ہماری نظر پورے نظام عالم پر نہیں ہے، اور ہم نہیں جان سکتے کہ نظام عالم کے مصالح کیا ہیں، اور ان کے لیے کس وقت کون سی تدبیر ضروری ہے۔ لیکن اگر اجمالی طور پر ہم اللہ تعالیٰ کی حکمت و دانائی اور اس کے علم کامل پر صحیح اعتقادرکھتے ہوں تو ہر آفت کے نزول پر ہم سمجھ لیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اسی کی متقاضی ہوگی اور اس کے علم میں ایسا ہی مناسب ہوگا اور ہمارے لیے بجز تسلیم و رضا کے اور کوئی چارہ نہیں۔
پھر ایک دوسری بات جو غور و فکر سے ہم کو معلوم ہوتی ہے، یہ ہے کہ جو ہستی کائنات کے اس نظام کو چلا رہی ہے، اس کے پیش نظر خیر کلّی ہے۔ اس کے کاموں میں جو امور ہم کو شر اور فساد نظر آتے ہیں وہ دراصل اعتباری شرور ہیں، یعنی افراد و اشخاص کی طرف قیاس کرتے ہوئے ان کو شرور کہا جاسکتا ہے۔ مگر حقیقت میں وہ سب خیر کلّی ہی کے لیے ہیں، اور ان کا وقوع دراصل خیر کلّی کے حصول کا ایک ناگزیر وسیلہ ہے۔ اگر یہ شرور ناگزیر نہ ہوتے اور ان کے بغیر خیر کلّی کا حصول ممکن ہوتا تو خدائے حکیم و علیم ان کو اختیار نہ کرتا اور کوئی دوسرا نظام تجویز کرتا۔ خود ہم اپنی کمزوریوں اور نارسائیوں کے باوجود جب گہری نظر سے دیکھتے ہیں تو ہماری عقل حکم لگاتی ہے کہ اس کائنات کے لیے اس سے بہتر نظام ممکن نہیں ہے۔ کوئی دوسرا نظام ایسا تجویز نہیں کیا جاسکتا جو ان جزوی و اعتباری شرور سے یکسر خالی ہو۔ بلکہ اگر یہ شرور واقع نہ ہوں تو حقیقت میں ان کا عدم ایک بڑا شر ہوگا کیونکہ وہ ایک خیر جزئی کی خاطر بہت سے خیرات کے حصول کو روک دے گا۔ مثال کے طور پر موت ہی کو لے لیجیے جس پر انسان سب سے زیادہ واویلا کرتا ہے۔ ایک شخص کی موت کتنے اشخاص کے لیے زندگی کا راستہ صاف کرتی ہے۔ اگر ایک شخص کو زندگی کا پروانہ دے دیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ بہت سے اشخاص پر زندگی کا دروازہ بند کر دیا گیا۔ اس کی دائمی زندگی اگر خیر ہے تو صرف اس کی ذات کے لیے ہے۔ لیکن خیر کلی کے لیے وہ شر ہوگی۔ بخلاف اس کے اس خاص شخص کی موت صرف اس کے لیے ایک جزئی شر ہے۔ لیکن یہی شر بہت سے جزئی خیرات کے حصول کا بھی ذریعہ ہے۔ رہا خیر کل تو اس شخص کے مرجانے سے اس میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا کیونکہ نظام عالم میں اس کی موت سے کوئی خلل نہیں آتا۔
اسی مثال پر قیاس کرکے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اشخاص پر جتنے مصائب نازل ہوتے ہیں وہ سب ایک اعتبار سے شر ہیں اور دوسرے اعتبار سے وسیلۂ خیر، اور خیر کلّی کے لیے ان کا وقوع ناگزیر ہے۔ بسا اوقات ہم خود غور کرکے ان کے وسیلۂ خیر ہونے کی جہت کو سمجھ لیتے ہیں۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تجربے سے ہم پر ثابت ہو جاتا ہے کہ جس چیز کو ہم نے شر سمجھا تھا وہ حقیقت میں سبب خیر تھی۔ لیکن اگر کبھی کسی شر کی جہت خیر ہماری سمجھ میں نہ آئے، تب بھی ہم کو مجملاً اس حقیقت پر ایمان رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرتا ہے بہتر کرتا ہے، اور ہماری خیریت اسی میں ہے کہ اس کی قضا کے آگے سر جھکا دیں خواہ اس کے فعل کی لِم ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ (ترجمان القرآن۔ ربیع الاول ۱۳۵۴ھ۔ جون ۱۹۳۵ئ)

ہدایت و ضلالت کا راز

کچھ مدت ہوئی کہ اسلام کے متعلق مسٹر جارج برناڈشا کے خیالات جرائد میں شائع ہوئے تھے۔ حال میں جب انھوں نے مشرق کا سفر کیا تو اس کے دوران میں سنگاپور کے عربی اخبار الہدیٰ کا نامہ نگار ان سے ملا اور اس سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے پھر ایک مرتبہ اسلام کی خوبیوں کا اعتراف کیا۔ انھوں نے کہا کہ اسلام آزادی اور دستوری و ذہنی حریت کا دین ہے۔ اجتماعی نقطۂ نظر سے مسیحیت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ کسی مذہب کا نظامِ اجتماعی اتنا مکمل نہیں ہے جتنا اسلام کا نظام ہے۔ دنیائے اسلام کا تنزل اسلام سے دُور ہٹ جانے کی بدولت ہے۔ مسلمان جب صرف اسلام کی بنیادوں پر جدوجہد کریں گے تو عالم اسلامی کا خواب، بیداری سے بدل جائے گا۔
اِن خیالات کے سننے کے بعد نامہ نگار نے سوال کیا کہ جب آپ اسلام کو اچھا سمجھتے ہیں تو پھر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیوں نہیں کر دیتے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو فطری طور پر ان بیانات کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ ایک سلیم الطبع آدمی کے لیے کسی چیز کے اعتراف قبح اور اس کو ترک کر دینے اور کسی چیز کے اعتراف حسن اور اس کو قبول و تسلیم کرلینے میں کوئی حد فاصل نہیں ہوسکتی۔ لیکن مسٹر شانے جو کچھ جواب دیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قبول اسلام کے لیے تیار نہیں ہیں، اور ایسا نہ کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی دلیل بھی نہیں ہے، بلکہ صرف اس چیز کی کمی ہے جس کو شرح صدر کہتے ہیں۔
ایک مسٹر شاہی پر موقوف نہیں ہے بہت سے اہل فکر و نظرپہلے بھی گزر چکے ہیں اور اب بھی موجود ہیں جنھوں نے اسلام کی خوبیوں کا اعتراف کیا، اس کے دنیوی یا دینی یا دونوں حیثیتوں سے مفید ہونے کا اقرار کیا، اس کی تہذیب، اس کے نظام اجتماعی اس کی علمی صداقت اور اس کی عملی قوت کی برتری تسلیم کی، مگر جب ایمان لانے اور دائرۂ اسلام میں داخل ہو جانے کا سوال سامنے آیا تو کسی چیز نے ان کو قدم آگے بڑھانے سے روک دیا، اور وہ اسلام کی سرحد پر پہنچ کر ٹھہر گئے۔
برعکس اس کے بہت سے آدمی ایسے بھی ہو گزرے ہیں جنھوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اسلام کی مخالفت اور اس کی دشمنی میں صرف کر دیا، لیکن اسی مخالفت کے سلسلے میں اسلام کا مطالعہ کرتے ہوئے حقیقت اسلام ان پر منکشف ہوگئی اور اس انکشاف کے بعد کوئی چیز ان کو ایمان لانے سے نہ روک سکی۔
حقیقت یہ ہے کہ ہدایت و ضلالت کا راز بھی ایک عجیب راز ہے۔ ایک ہی بات ہے جو ہزاروں آدمیوں کے سامنے کہی جاتی ہے، مگر کوئی اس کی طرف توجہ ہی نہیں کرتا، کوئی توجہ کرتا ہے لیکن وہ اس کے پردۂ گوش پر سے اچٹ کر چلی جاتی ہے، کوئی اس کو سنتا اور سمجھتا ہے مگر مانتا نہیں، کوئی اس کی تعریف و تحسین کرتا ہے مگر قبول و تسلیم نہیں کرتا، اور کسی کے دل میں وہ گھر کر جاتی ہے اور وہ اس کی صداقت پر ایمان لے آتا ہے۔
ہمارا شب و روز کا مشاہدہ ہے کہ ایک شخص کو بازار میں چوٹ لگ کر گرتے ہوئے سینکڑوں آدمی دیکھتے ہیں۔ بہت سے اس کو معمولی واقعہ سمجھ کر یونہی بس دیکھتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ بہتوں کے دل میں رحم آتا ہے مگر وہ افسوس کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ بہت سے اس کا تماشا دیکھنے کے لیے جمع ہو جاتے ہیں۔ اور بعض اللہ کے بندے ایسے نکلتے ہیں جو بڑھ کر اسے اٹھاتے ہیں، اس سے ہمدردی کرتے ہیں اور اس کو مدد پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ____ ایک مجرم کو پا بہ زنجیر جاتے ہوئے بہت سے آدمی دیکھتے ہیں۔ کوئی اس کی طرف التفات ہی نہیں کرتا، کوئی اس پر حقارت کی نظر ڈالتا ہے، کوئی اس پر ترس کھاتا ہے، کوئی اس کی ہنسی اڑاتا ہے، کوئی اس کے انجام پر خوش ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے کہ جیسا کیا ویسا بھرا، اور کوئی اس کے انجام سے عبرت حاصل کرتا ہے اور جرم سے بچنے کی خواہش اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے۔
یہ تو مختلف لوگوں کی مختلف نفسی کیفیات و تاثرات ہیں، جن کا اختلاف زیادہ تعجب خیز نہیں۔ اس سے بڑھ کر عجیب بات یہ ہے کہ ایک ہی شخص کے تاثر اور اس پر ایک ہی چیز کے اثر کی نوعیت مختلف اوقات میں مختلف ہوتی ہے۔ وہی ایک بات ہے جس کو ایک شخص ہزاروں مرتبہ سنتا ہے اور نہیں مانتا، مگر ایک ایسا موقع آتا ہے کہ یکایک اس کے دل تک پہنچ جاتی ہے، اور وہ خود حیران ہوتا ہے کہ یہی بات میں پہلے بھی بارہا سن چکا ہوں، پھر آج یہ کیا ماجرا ہوگیا کہ یہ خود بخود دل میں اتری چلی جارہی ہے؟ ایک ہی شخص کو بارہا آفت رسیدہ آدمیوں کے دیکھنے کا اتفاق ہوتا ہے اور وہ ان کی طرف التفات بھی نہیں کرتا۔ لیکن ایک موقع پر کسی شخص کی مصیبت دیکھ کر دفعتاً اس کا دل بھر آتا ہے‘ قساوت کا پردہ چاک چاک ہو جاتا ہے اور وہ سب سے زیادہ ہمدرد، رحیم اور نرم دل بن جاتا ہے۔ ایک شخص کو اپنی عمر میں بے شمار عبرتناک مناظر دیکھنے کا اتفاق ہوتا ہے کبھی وہ ان کو تماشا سمجھ کر دیکھتا ہے، کبھی ایک حسرت و افسوس کی نگاہ ڈالتا ہے اور کبھی ایک معمولی نظر سے اس پر ایسا اثر پڑتا ہے کہ دل پر ایک مستقل نقش بیٹھ جاتا ہے۔
یہی حال ہدایت و ضلالت کا بھی ہے۔ وہی ایک قرآن تھا۔ وہی ایک اس کی تعلیم تھی۔ وہی ایک اس کو سنانے والی زبان تھی۔ ابوجہل اور ابولہب تمام عمر اس کو سنتے رہے مگر کبھی وہ ان کے کانوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔ خدیجۃ الکبریٰ ؓ، ابوبکرؓ، اور علیؓبن ابی طالب نے سنا اور پہلے ہی لمحے میں اس پر ایمان لے آئے بغیر اس کے کہ ان کے دل میں شک کا شائبہ بھی گزرتا۔ عمر ابن الخطاب نے بیسیوں مرتبہ اس کو سنا اور صرف یہی نہیں کہ تسلیم نہ کیا بلکہ جوں جوں سنتے رہے مخالف اور دشمن ہوتے چلے گئے، لیکن ایک مرتبہ انھی کانوں نے اس چیز کو سنا تو کان اور دل کے درمیان جتنی مضبوط دیواریں چنی ہوئی تھیں، یکایک منہدم ہوگئیں اور اس چیز نے ان کے دل میں ایسا اثر کیا کہ ان کی زندگی کی بالکل کایا پلٹ گئی۔
ہر چند نفسی نقطۂ نظر سے اس اختلاف کیفیت اور اختلاف اثر و تاثر کی بہت سی توجیہیں کی جاسکتی ہیں اور وہ سب اپنی اپنی جگہ درست بھی ہیں۔ مگر اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جو چیز چشم و گوش اور دل و دماغ کے درمیان کہیں ایک مدت تک حجاب بنی رہتی ہے اور ایک نفسیاتی موقع پر خود بخود چاک ہو جاتی ہے، کہیں سرے سے حجاب بنتی ہی نہیں، کہیں کسی بات کے لیے حجاب بنتی ہے اور کسی بات کے لیے نہیں بنتی، وہ بالکل انسان کے ارادہ و اختیار کے تابع نہیں ہے، بلکہ فطری و جبلی طور پر خود بخود انسان میں پیدا ہو جاتی ہے۔
یہی نکتہ ہے جس کو قرآن مجید میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ:
فَمَنْ يُّرِدِ اللہُ اَنْ يَّہْدِيَہٗ يَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ۝۰ۚ وَمَنْ يُّرِدْ اَنْ يُّضِلَّہٗ يَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَيِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاۗءِ۝۰ۭ كَذٰلِكَ يَجْعَلُ اللہُ الرِّجْسَ عَلَي الَّذِيْنَ لَايُؤْمِنُوْنَ الانعام6:125
اللہ جس کو ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کو گمراہ رکھنا چاہتا ہے اس کے سینے کو ایسا تنگ کرتا ہے ایسا بھینچتا ہے کہ گویا وہ آسمان پر چڑھا چلا جارہا ہے۔ یہ طریقہ ہے جس سے ایمان نہ لانے والوں پر اللہ کی طرف سے ناپاکی مسلط کی جاتی ہے۔
ایک اور موقع پر اس کو یوں ادا کیا گیا ہے کہ:
وَلَوْ شَاۗءَ اللہُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلٰكِنْ يُّضِلُّ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَہْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ۝۰ۭ وَلَتُسْـــَٔـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ النحل16:93
اگر خدا چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ مگر وہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔
پھر اس ہدایت کی کیفیت کو یوں بیان کیا ہے کہ:
قُلْ اِنَّ اللہَ يُضِلُّ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَہْدِيْٓ اِلَيْہِ مَنْ اَنَابَ الرعد13:27
ان سے کہو کہ اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔
اور ضلالت کی کیفیت اس طرح بیان کی ہے کہ:
وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاo وَّجَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِہِمْ اَكِنَّۃً اَنْ يَّفْقَہُوْہُ وَفِيْٓ اٰذَانِہِمْ وَقْرًا۝۰ۭ بنی اسرائیل17: 45-46
جب تم نے قرآن پڑھا تو ہم نے تمھارے اور آخرت کا یقین نہ رکھنے والوں کے درمیان ایک گاڑھا پردہ ڈال دیا اور ان کے دلوں پر غلاف چڑھا دئیے کہ قرآن نہ سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دی۔
اِن آیات میں اس فطری کیفیت کو جو ایک حق بات سن کر اسے قبول کر لینے کے لیے اضطراری طور پر دل میں پیدا ہوتی ہے اور جو آخر کار انسان کو ایمان کی طرف کھینچ لاتی ہے، خدائی ہدایت اور اس کے پیدا کرنے کو ’’شرحِ صدر‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اور اس ہدایت کے برعکس انسان کے دل میں حق سے انکار اور اعراض کرنے پر آمادگی کی جو کیفیت پیدا ہوتی ہے، اس کو اللہ کی طرف سے مسلط کی ہوئی گمراہی قرار دیا گیا ہے، اور ’’شرح صدر‘‘ کے مقابل جو انقباضی کیفیت دل میں پیدا ہوتی ہے اسے ’’ضیق صدر‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پھر اس ’’ہدایت و ضلالت‘‘ اور ’’شرحِ صدر‘‘ و ’’ضیق صدر‘‘ کے پیدا ہونے کا سبب یہ بتایا ہے کہ انسان جب ایک مرتبہ خدا کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے تو اس کو خود بخود وہ راستہ دکھائی دینے لگتا ہے جو اسے سیدھا خدا کی جانب لے جاتا ہے اور جو شخص سرے سے یہ احساس ہی نہیں رکھتا کہ مجھے کبھی خدا کے حضور میں حاضر ہونا اور اپنے قلب و جوارح کے افعال کا حساب دینا ہے، اس کو لاکھ کوئی شخص کلمۂ حق سنائے اور وعظ و تلقین کرے، کوئی بات اس کے دل میں نہیں اترتی اور وہ کسی طرح راہ راست پر نہیں آتا۔
یہاں پھر دو باتیں مل گئی ہیں جن کو الگ الگ سمجھ لینے سے قرآن مجید کے وہ مقامات بآسانی حل ہو جاتے ہیں جن میں یہ مضمون مختلف پیرایوں سے بیان کیا گیا ہے۔
ایک طرف ہدایت و شرح صدر اور ضلالت و ضیق صدر کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے دوسری طرف اس ہدایت و شرح صدر کے عطا کرنے کے لیے یہ شرط لگائی ہے کہ انسان خدا کی طرف رجوع اور توجہ کرے، اور ضلالت و ضیق صدر کے مسلط کر دینے کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ گمراہ شخص خدا کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور اس کے سامنے مسئول و جوابدہ ہونے کا احساس نہیں رکھتا۔
ان دونوں چیزوں کے باہمی تعلق کو یوں سمجھو کہ انسان کی فطرت میں خدا نے ایک ایسی قوت رکھ دی ہے جو اس کو حق و باطل کے امتیاز اور صحیح و غلط کا فرق سمجھنے میں مدد دیتی ہے اور اس کے ساتھ ہی اسے حق کی طرف بڑھنے اور باطل سے احتراز کرنے پر مائل کرتی ہے۔ یہی قوت وہ فطری ہدایت ہے جسے خدا اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور جس کی طرف ارشاد خداوندی فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اس کے خلاف ایک اور قوت بھی انسان میں کام کر رہی ہے جو اس کو برائی کی طرف کھینچتی ہے، غلطی اور کج روی کی طرف مائل کرتی ہے اور جھوٹ اور باطل کو اس کے سامنے مزین کرکے پیش کرتی ہے۔ ان دونوں کے ساتھ بہت سی خارجی اور داخلی قوتیں ایسی ہیں جن میں سے بعض ہدایت کی قوت کو مدد پہنچانے والی ہوتی ہیں اور بعض ضلالت کی قوت کو۔ اکتساب علم اور اس کے مختلف مدارج، تربیت اور اس کی مختلف کیفیات، سوسائٹی اور اس کے مختلف احوال، یہ وہ چیزیں ہیں جو باہر سے اس پر اثر انداز ہوتی ہیں اور ترازو کے دونوں پلڑوں میں سے کسی ایک میں اپنا وزن ڈالتی رہتی ہیں۔ اور انسان کا اپنے اختیار تمیزی، اپنی فہم و فراست، اپنی عقل و بصیرت، اپنے ذرائع اکتساب علم سے صحیح یا غلط کام لینا، اور اپنی قوت فیصلہ کو بجایا بے جا استعمال کرنا، یہ وہ چیز ہے جو خود اس کے ارادے کے تابع ہے اور جس سے وہ ہدایت و ضلالت کی متضاد قوتوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے۔
اب ہوتا یہ ہے کہ خدا کی بخشی ہوئی ہدایت اور اس کی مسلط کی ہوئی ضلالت دونوں غیر محسوس طور پر اپنا عمل کرتی رہتی ہیں۔ ہدایت کی قوت اسے راہ راست کی طرف لطیف اشارے کیا کرتی ہے اور ضلالت کی قوت اسے باطل کے ملمع پر رجھائے جاتی ہے۔ مگر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان غلط اثرات سے متاثر ہو کر اور خود اپنی اختیاری قوتوں کو غلط طریقے سے استعمال کرکے ضلالت کے پھندے میں گرفتار ہو جاتا ہے اور ہدایت کی پکار پر کان ہی نہیں دھرتا، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ غلط راستے پر چل رہا ہوتا ہے اور اس دوران میں کچھ بیرونی اثرات اور کچھ خود اس کی اپنی عقل و بصیرت، دونوں مل جل کر اسے گمراہی سے بیزار کر دیتے ہیں اور اس وقت ہدایت کی وہی روشنی جو پہلے مدھم تھی دفعتاً تیز ہو کر اس کی آنکھیں کھول دیتی ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک مدت تک انسان ہدایت اور ضلالت کے درمیان مذبذب رہتا ہے، کبھی اِدھر کھنچتا ہے کبھی اُدھر، قوت فیصلہ اتنی قوی نہیں ہوتی کہ بالکل کسی ایک طرف کا ہو جائے۔ بعض بدقسمت اسی تذبذب کے عالم میں دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، بعض کا آخری فیصلہ ضلالت کے حق میں ہوتا ہے، اور بعض ایک طویل کشمکش کے بعد ہدایت الٰہی کا اشارہ پا لیتے ہیں۔ مگر سب سے زیادہ خوش قسمت وہ سلیم الفطرت، صحیح القلب، اور سدید النظر لوگ ہوتے ہیں جو خدا کی دی ہوئی عقل، اس کی عطا کی ہوئی آنکھوں،اس کے بخشے ہوئے کانوں اور اس کی ودیعت کی ہوئی قوتوں سے ٹھیک ٹھیک کام لیتے ہیں۔ مشاہدات اور تجربات سے درست نتائج اخذ کرتے ہیں۔ آیات الٰہی کو دیکھ کر ان سے صحیح سبق حاصل کرتے ہیں۔ باطل کی زینت ان کو رجھانے میں ناکام ہوتی ہے۔ جھوٹ کا فریب ان کو اپنا گرویدہ نہیں بناسکتا۔ ضلالت کی کج راہیوں کو دیکھتے ہی وہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ آدمی کے چلنے کے قابل نہیں ہیں۔ پھر جونہی کہ وہ حق کی طرف رجوع کرتے اور اس کی طلب میں آگے بڑھتے ہیں، حق ان کے استقبال کو آتا ہے، ہدایت کا نور ان کے سامنے چمکنے لگتا ہے اور حق کو حق سمجھ لینے اور باطل کو باطل جان لینے کے بعد پھر دنیا کی کوئی قوت ان کو راہ راست سے پھیرنے اور گمراہی کی طرف لگانے میں کامیاب نہیں ہوتی۔
ایک اور بات بھی اس سلسلے میں قابل بیان ہے اور ضرورت ہے کہ مسلمان اس کو ذہن نشین کرلیں۔ عام طور پر جب غیر مسلم مشاہیر کی جانب سے اسلام کے متعلق کچھ اچھے خیالات کا اظہار ہوتا ہے تو مسلمان بڑے فخر سے ان خیالات کو شہرت دیتے ہیں گویا ان کا اسلام کو اچھا سمجھنا اسلام کے لیے کوئی سرٹیفکیٹ ہے۔ لیکن یہ حقیقت فراموش نہ کرنی چاہیے کہ اسلام کی صداقت و حقانیت اس سے بے نیاز ہے کہ کوئی اس کا اعتراف کرے۔ جس طرح آفتاب کا روشن ہونا اس کا محتاج نہیں کہ کوئی اس کو روشن کہے اور جس طرح آگ کا گرم ہونا اور پانی کا سیال ہونا اس کا محتاج نہیں کہ کوئی اس کی گرمی اور اس کے سیلان کو تسلیم کرے، اسی طرح اسلام کا برحق ہونا اس کا حاجت مند نہیں کہ کوئی اس کے برحق ہونے کو مان لے۔ خصوصاً ایسے لوگوں کی تحسین اور مدح تو کوئی بھی وقعت نہیں رکھتی جن کے دل ان کی زبانوں کا ساتھ نہیں دیتے اور جو خود اپنے اعراض و انکار سے اپنی مدح و تحسین کی تکذیب کرتے ہیں۔ اگر حقیقت میں وہ اسلام کی خوبی کے معترف ہوتے تو اس پر ایمان لے آتے لیکن جب انھوں نے زبانی اعتراف کے باوجود ایمان لانے سے انکار کر دیا تو اہل عقل کی نگاہ میں ان کی حیثیت بالکل اس شخص کی سی ہے جو طبیب کی صداقت کو تسلیم کرے، اس کے تجویز کردہ نسخے کی صحت کا اعتراف کرے مگر اپنی بیماری کا علاج کسی عطائی طبیب سے کرائے۔
مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بڑے سے بڑے غیر مسلم کا اعتراف بھی اسلام کے لیے قابل فخر نہیں ہے۔ اس کے لیے ایک ہی فخر کافی ہے۔ اور وہ اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ آل عمران3:19 اور رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا المائدہ5:3کا فخر ہے۔
(ترجمان القرآن۔ محرم ۱۳۵۲۔ مئی ۱۹۳۳)

اسلام ایک علمی و عقلی مذہب

انسان نے خود اپنی تلاش و جستجو سے جتنے طریقے یا مذاہب ایجاد کیے ہیں ان سب کو دو قسموں پر تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک قسم ان مذاہب کی ہے جو تخیل کی بلند پروازیوں سے پیدا ہوئے ہیں اور انسان کی اعجوبہ پسندی کو اپیل کرتے ہیں۔ دوسری قسم ان طریقوں کی ہے جو خواہشات اور اہوائے نفس سے پیدا ہوئے ہیں اور انسان کے حواس کو اپیل کرتے ہیں۔ اگرچہ ان دونوں قسم کے طریقوں میں عقل اور استعداد علمی سے کام لیا گیا ہے لیکن نہ عقل ان کی محرک ہے نہ وہ عقل کو اپیل کرتے ہیں، نہ عقلی نتائج کا حصول ان کا منتہائے مقصود ہے۔ عقل اور استعداد علمی ان کے پاس محض ایک آلے کے طور پر ہے جس سے وہ ادنیٰ درجے کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے کام لیتے ہیں۔ ایک عالم مادی سے قطع نظر کرکے عالم باطنی کی طرف توجہ کرتا ہے اور علم و عقل کی تمام قوتوں کو ایسے ذرائع دریافت کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے جن سے وہ نفس کی باطنی قوتوں کو مادّی قیود سے آزاد کرکے مکاشفات اور لذات روحانی اور خوارق عادت کے حصول پر قادرہو جائے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا عالم باطنی سے قطع کرکے اپنی تمام توجہ عالم مادّی کی طرف پھیر دیتا ہے اور یہاں وہ علم و عقل کی ساری طاقتوں کو ان طریقوں کے دریافت کرنے میں استعمال کرتا ہے جن سے وہ مادّی اسباب و وسائل سے زیادہ سے زیادہ انتفاع کرکے اپنے جسم کے لیے زیادہ سے زیادہ آسائش اور اپنے حواس کے لیے زیادہ سے زیادہ لذتیں حاصل کرسکے۔ غرض علم و عقل ان طریقوں کے خادم ضرور ہیں، مگر بجائے خود ان کی بنا جہل اور نادانی پر ہے۔
ان کے مقابلے میں ایک مذہب وہ ہے جو خدا نے اپنے رسولوں کے ذریعے بھیجا ہے یہ مذہب خالص علم سے پیدا ہوا ہے، سراسر عقل کو اپیل کرتا ہے، اور اس کا اصل مقصد انسان کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر علم کی روشنی میں لانا ہے تاکہ وہ کائنات میں اپنی اصلی حیثیت سے واقف ہو۔ موجودات کے ساتھ اپنے تعلق کی حقیقی نوعیت کو سمجھے، اور علم و فہم کی روشنی میں اپنی تمام ظاہری و باطنی قوتوں اور مادی و روحانی وسائل کو اس مقصد تک پہنچنے میں استعمال کرے جو درحقیقت انسانی زندگی کا اصلی مقصد ہے ____ یعنی اس دنیا میں اس خدمت کا ٹھیک ٹھیک حق ادا کرنا جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر اس کے سپرد کی ہے، اور آخرت میں اپنے مالک کی خوشنودی سے سرفراز ہونا جو ادائے فرض کا لازمی نتیجہ ہے۔
یہ مذہب انسان کی کسی قوت کو بیکار نہیں کرتا بلکہ ہر ایک کو صرف کرنے کا صحیح راستہ بتاتا ہے۔ وہ انسان کی کسی خواہش کو پامال نہیں کرتا بلکہ ہر ایک کے لیے ایک جائز اور معقول حد مقرر کر دیتا ہے۔ وہ تخیل کو بلند پروازی سے روکتا نہیں بلکہ اس کی پرواز کے لیے ایک بہتر فضا اور ایک صحیح رخ متعین کرتا ہے۔ وہ انسان کی عملی قوتوں کو مادّی اسباب و وسائل کے اکتشاف اور ان سے انتفاع کرنے سے باز نہیں رکھتا، بلکہ اس اکتشاف و انتفاع کو صحیح مقاصد کی طرف موڑ دیتا ہے۔ وہ ہر شخص کو اسی کام میں لگاتا ہے جس کی اہلیت لے کر وہ پیدا ہوا ہے، خواہ اس کا میلان روحانیت کی طرف ہو یا مادیت کی طرف، لیکن ان دونوں قسم کے انسانوں کو وہ ایسے علم اور ایسے تعقل سے بہرہ ور کر دینا چاہتا ہے جس کی مدد سے وہ افراط و تفریط کو چھوڑ کر ایک صراط مستقیم پر چل سکیں، انسان ہونے کی حیثیت سے اپنے فرائض کو سمجھیں اور بجا لائیں، ان کی ذات پر خدا اور مخلوقات اور خود ان کے اپنے نفس کے جو حقوق ہیں ان کو جانیں اور ادا کریں، روحانیات کی طرف جائیں تو ان میں اس قدر گم نہ ہو جائیں کہ تمام تر مکاشفات اور لذات روحانی ہی ان کی جدوجہد کا محور بن کر رہ جائیں، اور مادیت کی طرف متوجہ ہوں تو ادھر بھی ان کا انہماک اس قدر نہ بڑھ جائے کہ وہ بالکل حسی لذتوں اور جسمانی آسائشوں اور مادّی کامیابیوں ہی کو اپنا کعبۂ مقصود بنالیں۔
یہ سراسر علمی و عقلی مذہب ہے، اس لیے اس کا صحیح اتباع بھی علم اور عقل کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ یہاں ہر ہر قدم پر تفقہ اور تدبر کی ضرورت ہے۔ جو شخص اس مذہب کی روح سے ناآشنا ہو، اس کی حکمتوں سے ناواقف ہو، اس کے اصول کو نہ سمجھتا ہو، اس کی تعلیم میں غور و فکر نہ کرتا ہو، وہ اس راہ راست پر استقامت کے ساتھ چل ہی نہیں سکتا جس کی طرف یہ مذہب رہنمائی کر رہا ہے۔ اس کا عقیدہ بے قیمت ہے جب تک کہ وہ زبانی اقرار سے گذر کر فکر و شعور پر حاوی نہ ہوگیا ہو۔ اس کا عمل بے اثر ہے جب تک کہ وہ علم اور فہم کی رُوح سے معمور نہ ہو جائے۔ اس کا اتباع قانون بے معنی ہے جب تک کہ قانون کی سپرٹ اس کے جوارح سے گذر کر اس کے دل و دماغ پر چھا نہ گئی ہو۔ اگر محض تقلید کی راہ سے وہ بغیر سمجھے بوجھے اس مذہب کی صداقت پر ایمان رکھتا ہو اور اس کا اتباع کر رہا ہو، تو اس کا ایمان اور اتباع بالکل ایک ریت کے تودے کی طرح ہوگا جسے ہوا کا ہر جھونکا اپنی جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ جما سکتا ہے۔ ایسے جاہل کے ایمان اور اندھے کے اتباع میں کوئی پائیداری نہیں ہوسکتی۔ ہر گمراہ کرنے والا اس کو صحیح مرکز سے ہٹا سکتا ہے۔ ہر خوش نما راستہ اس کو اپنی طرف مائل کر سکتا ہے۔ ہر توہم، ہر مفروضہ، ہر نظریہ اس کے اعتقاد کی بنیادوں کو متزلزل کرسکتا ہے۔ ہوائے نفس کی ہر لہر اور ضلالت عام کی ہر رو اس کو بہا کر کہیں سے کہیں لے جاسکتی ہے اگر وہ قدامت پسند ہوگا تو اعتقاد اور عمل کی ہر اس گمراہی پر اصرار کرے گا جو آبائو اجداد سے اس کو میراث میں ملی ہو۔ اگر تجدد کا ذوق رکھتا ہوگا تو خواہشات نفس کو اپنا خدا بنا کر ہر اس نئے راستے پر بھٹکتا پھرے گا جسے اس کے نفس کا شیطان اس کے سامنے مزین بنا کر پیش کر دے۔ اگر کمزور طبیعت کا ہوگا تو ہر اس راہرو کے پیچھے چل کھڑا ہوگا جو اسے زندگی کے راستے پر کسی حیثیت سے کامیابی کے ساتھ قطع منازل کرتا نظر آئے اگر خود اپنے اجتہاد سے کوئی راہ نکالنے کی اس میں صلاحیت ہوگی تو دین میں صحیح بصیرت نہ رکھنے اور الٰہی قانون کے اصول سے ناواقف ہونے کی وجہ سے زندگی کے سفر میں ہر دوراہے پر پہنچ کر وہ علم کے بجائے ظن و تخمین سے کام لے گا۔ اور آخر کہیں نہ کہیں جاکر سیدھے راستے سے بھٹک ہی جائے گا۔ غرض اس خدائی مذہب کا صحیح اتباع اور اس اتباع میں استقامت، جہل اور نافہمی کے ساتھ ممکن ہی نہیں ہے۔ اس کے لیے علم اور سمجھ بوجھ اور غور و فکر ناگزیر ہے اور انھی چیزوں کے کمال پر کمالی درجات مترتب ہوتے ہیں۔
اس مذہب کی تاریخ پر نگاہ ڈالیے تو ہمارے اس بیان کی صداقت آپ کے سامنے نمایاں ہو جائے گی جتنے انبیاء علیہم السلام اللہ کی طرف سے آئے وہ صرف ایک قانون اور ایک کتاب ہی لے کر نہیں آئے بلکہ اس کے ساتھ حکمت بھی لائے، تاکہ لوگ ان کی تعلیم کو سمجھیں اور علیٰ وجہ البصیرت اس قانون کی پیروی کریں جو ان کے ذریعے سے بھیجا گیا تھا۔ فَقَدْ اٰتَيْنَآ اٰلَ اِبْرٰہِيْمَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ النساء4:54 وَيُعَلِّمُہُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ آل عمران3:48 وَاٰتَيْنٰہُ الْحِكْمَۃَصٓ38:20 قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَۃِ الزخرف43:63 یہ حکمت کیا چیز تھی؟ دین کی سمجھ، علم کی روشنی، بصیرت کا نور، تدبر کی صلاحیت، اور تفقہ کی قابلیت۔ جب کبھی کوئی نبی آیا اس نے اپنے پیرووں کو کتاب کے ساتھ یہ چیز بھی دی اور اسی کی مدد سے لوگ سیدھے رستے پر قائم رہے۔ اس کے بعد ایک دَور جہالت اور اندھی تقلید کا آیا جس میں حکمت غائب ہوگئی اور کتاب باقی رہ گئی۔ کچھ عرصے تک لوگ محض کتاب کو لیے ہوئے اس ڈگر پر چلتے رہے جس پر ان کے اسلاف انھیں چلا گئے تھے۔ مگر اب ان میں گمراہیوں کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگئی، کیونکہ وہ چیز ان میں باقی نہیں رہی تھی جس سے وہ کتاب کو سمجھتے اور ہدایت کو ضلالت سے ممتاز کرسکتے۔ رفتہ رفتہ ان کے قدم راہ راست سے ہٹنے شروع ہوئے۔ کسی نے ہوائے نفس کا اتباع کیا۔ کسی نے ظن و تخمین کی پیروی کی۔ کسی نے گمراہ قوموں کے اثرات قبول کیے۔ کسی نے جھوٹے رہنمائوں کو ارباب من دون اللہ بنایا۔ آخر کار حکمت کے ساتھ کتاب بھی رخصت ہو گئی، اور خدا کے بھیجے ہوئے دین کو مسخ کرکے اوہام اور خرافات اور فکر و عمل کی گمراہیوں کا مجموعہ بنا دیا گیا۔
اس طرح بار بار دین الٰہی کے مسخ ہونے، اور کتب آسمانی کے گم یا محرف ہو جانے اور امتوں میں ہدایت کے بعد ضلالت کے پھیل جانے کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ دین الٰہی میں اصل چیز الفاظ کتاب کی تلاوت اور رسوم مذہب کی بجا آوری نہیں ہے، بلکہ تمام تردار و مدار کتاب کے صحیح علم و فہم پر ہے۔ جب تک لوگوں میں حکمت رہی اور وہ آیات الٰہی میں تدبر کرتے رہے اور انبیاء کی بتائی ہوئی راہ مستقیم پر نور بصیرت کے ساتھ چلتے رہے، اس وقت تک کوئی چیز ان کو گمراہ نہ کرسکی۔ اور جب یہ چیز ان سے مفقود ہوگئی تو گویا ان میں بیماریوں کی استعداد پیدا ہوگئی۔ ان کے اندر بھی امراض پیدا ہوئے اور باہر سے بھی وبائی جراثیم نے ان پر حملہ کیا یہاں تک کہ دین اور کتاب اور قانون سب کچھ کھو کر وہ ضلالت کے ہزارہا راستوں میں بھٹک گئے۔
انبیائے سابقین کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی کتاب اور ایسی ہدایت دے کر بھیجا گیا جس کو پچھلی کتابوں کی طرح مسخ اور محرف ہونے کا تو کوئی خطرہ نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو صحیح صورت میں باقی رکھنے کا ایسا انتظام کر دیا ہے کہ اگر انسان اس کو بدلنے اور مٹانے کی کوشش بھی کرے تو کامیاب نہیں ہوسکتا۔ لیکن اب بھی اس کتاب اور اس ہدایت سے فائدہ اٹھانے، اور دین کے سیدھے راستے پر قائم رہنے اور اعتقاد و عمل کی گمراہیوں سے بچنے کا انحصار کلیتاً اسی چیز پر ہے جس پر ابتدا سے دین الٰہی کی بِنا رکھی گئی ہے، یعنی علم اور عقل۔ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہر زمانے اور ہر حال میں بہترین رہنما ہے، مگر ان کے لیے جو علم اور عقل رکھتے ہوں اللہ اور اس کے رسول کی ہدایت کو سمجھیں، اس میں غور و خوض کریں، اس سے اکتساب نور کریں، اور زندگی کی ہر راہ میں اس نور کو لے کر چلیں۔ رہے وہ لوگ جو تفقہ و تدبر کی نعمت کھو چکے ہیں اور صرف اس لیے مسلمان ہیں کہ ان کے باپ دادا ان کو مسلمان چھوڑ گئے ہیں، تو درحقیقت ان کے لیے دین میں کوئی استقامت ہے ہی نہیں۔ وہ ہر وقت گمراہی کے خطرے میں ہیں۔ گمراہی ان کے اندر سے بھی پھوٹ سکتی ہے اور باہر سے بھی حملہ کرسکتی ہے۔ ممکن ہے کہ ان کی اپنی جہالت اور نافہمی ان کو راہ راست سے بھٹکا دے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے گرد و پیش جو ضلالتیں پھیلی ہوئی ہیں ان میں سے کسی کے پیچھے وہ بغیر جانے بوجھے لگ چلیں۔ کیونکہ ان کے پاس وہ چیز ہے ہی نہیں جو ان کو دین کے سیدھے رستے پر مضبوطی کے ساتھ قائم رکھ سکتی ہے۔
قرآن مجید میں انسان کی گمراہی کا اصل سبب صرف ایک چیز کو قرار دیا گیا ہے اور وہ آیات الٰہی کو نہ سمجھنا ہے، چنانچہ وہ بار بار اس پر متنبہ کرتا ہے اور نہایت شدت کے ساتھ اس کی مذمت کرتا ہے۔
اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللہِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ الانفال8:22
اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔
لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَہُوْنَ بِہَا۝۰ۡوَلَہُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِہَا۝۰ۡوَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِہَا۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ اعراف7: 179
ان کے پاس دل ہیں مگر ان سے سمجھتے نہیں ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ اور بھی زیادہ گمراہ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
صَرَفَ اللہُ قُلُوْبَھُمْ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَہُوْنَ التوبہ9:127
اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا ہے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔
لَاَانْتُمْ اَشَدُّ رَہْبَۃً فِيْ صُدُوْرِہِمْ مِّنَ اللہِ۝۰ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَہُوْنَ الحشر59:13
ان کے دلوں میں خدا سے زیادہ تمھارا (یعنی بندوں کا) خوف ہے، یہ اس لیے کہ وہ سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگ نہیں ہیں۔
اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا محمد47:24
کیا وہ قرآن میں تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں؟
اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ المومنون23 :68
کیا انھوں نے اس بات پر (جو ان سے کہی جا رہی ہے) غور نہیں کیا؟
اس عدم تدبر اور نافہمی کے نتائج دو مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اور وہ دونوں گمراہی کی بدترین صورتیں ہیں۔
ایک صورت یہ ہے کہ انسان بغیر سمجھے بوجھے اپنے دین و ایمان کو دوسروں پر چھوڑ دیتا ہے۔ خواہ وہ اس کو نجات کے رستے پر لے جائیں یا ہلاکت کے رستے پر۔
وَاِذَا قِيْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللہُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْہِ اٰبَاۗءَنَا۝۰ۭ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤُہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يَہْتَدُوْنَ المائدہ5:104
اور جب ان سے کہا گیا کہ آئو اس کتاب کی طرف جو اللہ نے اتاری ہے اور رسول کی طرف تو بولے کہ ہمارے لیے وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے آبائو اجداد کو پایا ہے۔ کیا یہ لوگ باپ دادا ہی کی تقلید کریں گے خواہ وہ کچھ نہ جانتے ہوں اور نہ راہ راست پر ہوں۔
اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہ ِ التوبہ9:31
انھوں نے خدا کو چھوڑ کر اپنے علماء اور مشائخ کو خدا بنا لیا ہے (کہ جس کو وہ حرام کہیں وہی ان کے نزدیک حرام ہے خواہ اللہ نے اس حلال کیاہو اور جس کو وہ حلال کہیں وہ ان کے لیے حلال ہے خواہ اللہ نے اس کو حرام کیا ہو)
يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْہُہُمْ فِي النَّارِ يَقُوْلُوْنَ يٰلَيْتَنَآ اَطَعْنَا اللہَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَاوَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاۗءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِيْلَا احزاب33:66-67
جب ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے تو وہ کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی بات مانی ہوتی۔ اور کہیں گے کہ خدایا ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انھوں نے ہم کو گمراہ کر دیا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ انسان خدا کی بخشی ہوئی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی رائے پر اعتماد کرتا ہے۔ اس راہ میں اوّل تو یقین نہیں ہوتا (جو راہ راست پر چلنے کا یقینی ذریعہ ہے) بلکہ زیادہ تر ظن و گمان ہوتا ہے، دوسرے بڑا خطرہ اس میں یہ ہے کہ انسان کی عقل پر نفس کی خواہشات غالب آجاتی ہیں اور اس کو اعتدال کے خط مستقیم سے ہٹا کر افراط و تفریط کی جانب لے جاتی ہیں۔ جب انسان اس رستے پر چلتا ہے تو اس کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے کوئی گھٹا ٹوپ اندھیرے میں گامزن ہو، کہیں علم صحیح اور عقل سلیم کی بجلی اتفاق سے چمک گئی تو راستہ نظر آگیا اور کچھ چل لیے، کُلَّماَ اَضَائَ لَھُمْ مَّشَوْا فِیْہِ، ورنہ حیران ہو کر کھڑے ہوگئے، وَاِذَا اَظْلَمَ عَلَیْھِمْ قَاَمُوْا، یا چلے تو کسی خارزار میں جا پھنسے یا کسی گڑھے میں گر گئے۔
وَمَا يَتَّبِـــعُ اَكْثَرُھُمْ اِلَّا ظَنًّا۝۰ۭ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔـا۝۰ۭ یونس10:36
اور ان میں سے اکثر بجز گمان کے کسی اور چیز کی پیروی نہیں کرتے۔ اور گمان کا حال یہ ہے کہ وہ حق (علم یقین) سے کچھ بھی بے نیاز نہیں کرتا۔
اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ۝۰ۭ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَيْہِ وَكِيْلًا اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَہُمْ يَسْمَعُوْنَ اَوْ يَعْقِلُوْنَ۝۰ۭ اِنْ ہُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ سَبِيْلًا الفرقان25:43-44
کیا تو نے دیکھا اس شخص کو جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہے؟…… کیا تو گمان کرتا ہے کہ ایسے لوگوں میں سے اکثر سنتے اور سمجھتے ہیں؟ نہیں وہ تو بس جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ بدراہ۔
وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ بِغَيْرِ ہُدًى مِّنَ اللہِ۝۰ القصص28:50
اور اس سے زیادہ بدراہ اور کون ہوگا جس نے اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش نفس کی پیروی کی؟
وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَكَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا کہف18:28
اور اس شخص کی بات ہرگز نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے۔ اپنی خواہش نفس کی پیروی اختیار کی ہے اور جس کے کام میں اعتدال سے تجاوز ہے۔
وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاۗءَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ جاثیہ45:18
اور ان لوگوں کی خواہش کی پیروی نہ کرنا جو علم نہیں رکھتے۔
یہ نتائج ہیں آیاتِ الٰہی میں غور و خوض نہ کرنے اور تدبر و تفقہ سے کام نہ لینے کے۔ جو لوگ آیات کی تلاوت کرتے ہیں مگر ان کو نہیں سمجھتے، کتاب رکھتے ہیں مگر خود اس کی تعلیم میں بصیرت حاصل کرنے اور اس کے احکام کو معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتے، رسول کی صداقت پر ایمان رکھتے ہیں مگر اس ہدایت کی طرف سے اندھے ہیں جو رسول نے پیش کی ہے، اسلام کی حقانیت پر اعتقاد رکھتے ہیں مگر اس کے اصول اور اس کی روح سے ناواقف ہیں، ان کے لیے ہر ہر قدم پر یہ خطرہ ہے کہ گمراہی کی ان دونوں صورتوں میں سے کسی صورت میں مبتلا ہو جائیں۔ اسی لیے اللہ اور اس کے رسول نے مسلمانوں کو بار بار تاکید کی ہے کہ دین میں بصیرت پیدا کریں، اس کی تعلیم اور اس کے احکام کو سمجھیں، اور کم از کم ان میں سے ایک گروہ ہمیشہ ایسا رہے جو تفقہ فی الدین حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو وقف کردے تاکہ اپنے دوسرے بھائیوں کی صحیح رہنمائی کرسکے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِہٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ صٓ38:29
یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تجھ پر اتاری ہے، برکت والی ہے۔ تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و خوض کریں اور جو عقل رکھتے ہیں وہ اس سے سبق لیں۔
قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّفْقَہُوْنَ انعام6:98
ہم نے آیات کو مفصل بیان کر دیا ہے ان لوگوں کے لیے جو سمجھ رکھتے ہیں۔
لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ آل عمران3:164
اللہ نے مومنوں پر بڑا ہی احسان کیا کہ ان میں خود انھی میں کا ایک رسول بھیج دیا جو ان کو اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کے نفوس کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔
وَمَنْ يُّؤْتَ الْحِكْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيْرًا البقرہ2:269
اور جس شخص کو حکمت دی گئی اس کو بہت کچھ بھلائی دے دی گئی۔
فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَــۃٍ مِّنْھُمْ طَاۗىِٕفَۃٌ لِّيَتَفَقَّہُوْا فِي الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَيْہِمْ التوبۃ9:122
پھر کیوں ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ ایسے نہ نکلے کہ دین میں تفقہ حاصل کرتے اور واپس جاکر اپنی قوم کو آگاہ کرتے۔
اس باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت ہدایات فرمائی ہیں۔ مثال کے طور پر سیدنا علیؓ سے مروی ہے کہ:
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلاَ لاَ خَیْرَ فِیْ عِبَادَۃٍ لَیْسَ فِیْھَا تَفَقُّہٌ وَلَا عِلْمَ لَیْسَ فِیْہِ تَفَھُّمٌ وَلاَ قِرْائَ ۃَ لَیْسَ فِیْھَا تَدَبُّرٌ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن رکھو اس عبادت میں کوئی بھلائی نہیں جس میں تفقہ نہیں ہے اور اس علم میں کوئی بھلائی نہیں جس میں سمجھ بوجھ نہیں ہے، اور اس قرآن خوانی میں کوئی بھلائی نہیں جس میں تدبر نہیں ہے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے:
اَفْضَلُ النَّاسِ اَفْضَلُھُمْ عَمَلاً اِذَا فَقِھُوْادِ یْنَھُہْ
لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہیں جو عمل کے اعتبار سے بہتر ہیں بشرطیکہ دین میں سمجھ بوجھ رکھتے ہوں۔
اس وقت مسلمانوں کی سب سے بڑی بلکہ اصلی مصیبت یہی ہے کہ ان میں تفقہ فی الدین اور تدبر فی الکتب و السنۃ نہیں ہے۔ اسی چیز کے فقدان نے ان کے اعتقادات کو کھوکھلا، ان کی عبادت کو بے روح، ان کی مساعی کو پراگندہ و پریشان اور ان کی زندگیوں کو بے ضابطہ و بد نظم کر دیا ہے۔ اسلام کے شیدائی ان میں بہت ہیں، مگر اسلام کو سمجھنے والے بہت ہی کم ہیں۔ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جس دین کو پیش کیا ہے اس کی روح اور اس کے اصول کو سمجھنے والے آٹے میں نمک کے برابر ہیں بلکہ اتنے بھی نہیں۔ یہ اسی نافہمی کے نتائج ہیں کہ جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے اور سمجھتے ہیں ان میں بدترین قسم کے توہمات اور مشرکانہ عقائد سے لے کر الحاد، دہریت اور کفر کی حد کو پہنچے ہوئے خیالات تک پائے جاتے ہیں اور ان کو اس بات کا احساس تک نہیں کہ جس اسلام کی پیروی کے وہ مدعی ہیں اس میں اور ان خیالات میں کلی تبایُن ہے۔ اس سے بدتر حالت اخلاقی و عملی زندگی کی ہے۔ بت پرستانہ رسوم و رواجات سے لے کر جدید مغربی تہذیب کے بدترین ثمرات تک ہر قسم کے اطوار اس قوم میں رائج ہیں جو اپنے آپ کو اسلام کا پیرو کہتی ہے۔ اور الاماشاء اللہ کسی گروہ کو یہ احساس تک نہیں کہ وہ کہاں کہاں اس قانون کے اصول اور قواعد سے صریح انحراف کر گئی ہے جس پر ایمان رکھنے کا اس کو دعویٰ ہے۔ ہر غلط خیال اور غلط طریقہ جو کہیں سے آتا ہے ان میں رواج پا جاتا ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں اس کی بھی گنجائش ہے۔ ہر گمراہ کن شخص جو کسی خوش آیندہ طریقے پر چل رہا ہے،بآسانی ان کا رہنما بن جاتا ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم اس کی پیروی بھی کرسکتے ہیں۔ ہر چیز جو غیر اسلام ہے وہ بے تکلف اسلام کے ساتھ ایک ہی دماغ اور ایک ہی زندگی میں جمع کرلی جاتی ہے، کیونکہ اسلام اور غیر اسلام کا امتیاز علم و فہم پر موقوف ہے، اور اسی کا یہاں فقدان ہے۔ جو شخص مشرق اور مغرب کا فرق جانتا ہو وہ کبھی اس حماقت میں مبتلا نہیں ہوسکتا کہ مشرق کی طرف چل رہا ہو اور یہ سمجھے کہ مغرب کی سمت جارہا ہوں۔ یہ فعل صرف ایک جاہل ہی کا ہوسکتا ہے، اور یہی جہالت ہم ایک نہایت قلیل جماعت کے سوا مشرق سے لے کر مغرب تک مسلمانوں میں عام دیکھ رہے ہیں، خواہ وہ ان پڑھ عوام ہوں، یا دستار بند علماء یا خرقہ پوش مشائخ، یا کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ حضرات۔ ان سب کے خیالات اور طور طریقے ایک دوسرے سے بدرجہا مختلف ہیں، مگر اسلام کی حقیقت اور اس کی روح سے ناواقف ہونے میں یہ سب یکساں ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نہایت ہی حکیمانہ ارشاد ہے کہ:
صِنْفَانِ اِذَا صَلُحَا صَلُحَتْ الْامَّۃُ وَاِذَا فَسَدَ فَسَدَتِ الْاُمَّۃُ أَلسُّلطَانُ وَالَّعُلَمَائُ
دو گروہ ہیں کہ اگر وہ درست ہوں تو امت درست ہے اور اگر وہ بگڑ جائیں تو امت بگڑ جائے، حکمران اور علماء۔
مسلمانوں کی تاریخ کا ہر باب اس ارشاد نبوی کی صداقت پر گواہ ہے۔ اور سب سے زیادہ آج ہم اس کی صداقت کو نمایاں دیکھ رہے ہیں۔ اگر ہمارے حکمرانوں اور علماء میں تقویٰ اور دین کا صحیح علم ہوتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی، اور آج بھی اگر مسلمان قوموں کو ایسے رہنما میسر آجائیں تو حالات کے اس درجہ بگڑ جانے پر بھی اصلاح سے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔
(ترجمان القرآن، شوال ۱۳۵۴ھ۔ جنوری ۱۹۳۶ئ)

اسلام میں عبادت کا تصور

انسان کے مذہبی تصورات میں عبادت کا تصور سب سے پہلا اور اہم تصور ہے، بلکہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ مذہب کا بنیادی تصور عبادت ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک نوع انسانی کے جتنے مذاہب کا پتہ چلا ہے، عام اس سے کہ وہ انتہا درجے کی وحشی اقوام کے خرافات و اوہام ہوں۔ یا اعلیٰ درجے کی متمدن اقوام کے پاکیزہ معتقدات، ان میں سے ایک بھی عبادت کے تصور و تخیل سے خالی نہیں۔ علم الانسان اور آثار قدیمہ کی تلاش و جستجو کے سلسلے میں پرانی سے پرانی تہذیب کی حامل قوموں کے جو حالات معلوم ہوئے ہیں وہ اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ گو وہ قومیں عقل و شعور کے بالکل ابتدائی درجے میں تھیں لیکن اس حالت میں بھی انھوں نے اپنی بساط بھر کسی نہ کسی کو ضرور معبود بنایا ہے، اور کوئی نہ کوئی طریق عبادت ضرور اختیار کیا ہے۔۱؎ قدیم قوموں کو جانے دیجیے۔ آج بھی بہت سی انسانی جماعتیں زمین کے مختلف گوشوں میں موجود ہیں جو عقلی و ذہنی اعتبار سے قدیم ترین قوموں کی سطح پر ہیں، یا یوں کہیے کہ نوع انسانی کے بالکل ابتدائی دَور کا نقشہ اپنی زندگی میں پیش کر رہی ہیں۔ ان میں مشکل ہی سے کوئی ایسی جماعت دیکھی گئی ہے جو معبود اور عبادت کے تصور سے کلیتاً خالی ہو۔۲؎ پس یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ انسان قدیم ترین وحشت و بداوت سے لے کر جدید ترین تہذیب و حضارت تک جتنے مدارج سے گزرا ہے ان میں سے ہر درجے میں عبادت کا تصور اس کے ساتھ ساتھ رہا ہے، گو اس کے مظاہر و اشکال میں بے شمار تغیرات و اختلافات رونما ہوئے ہیں۔
عبادت ایک فطری جذبہ
غور کرنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہے؟ کیا وجہ ہے کہ یہ خیال سارے بنی آدم پر حاوی ہے اور تمام زمانوں میں باوجود اختلاف احوال یکساں حاوی رہا ہے؟ کیا یہ بالارادہ اختیار کیا گیا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو ساری نوع پر اس کا اس طرح حاوی ہونا غیر ممکن تھا۔ کیونکہ بالارادہ اختیار کی ہوئی چیزوں میں کبھی کامل اتفاق نہیں ہوسکتا۔ انسان کی اختیار کی ہوئی چیزوں میں سے ایک بھی ایسی نہ ملے گی جس کے اندر ہر مرتبہ اور ہر دَور کی تمام انسانی جماعتیں یکساں مشترک ہوں اور یہ کسی طرح متصور نہیں ہے کہ ہر زمانے کے تمام آدمیوں نے ایک عالمگیر کانفرنس کرکے باہم یہ ٹھہرالیا ہو کہ وہ کسی کی عبادت ضرور کریں گے، خواہ معبود مختلف اور طریقہ ہائے عبادت بے شمار ہوں۔ پھر جب یہ چیز اختیاری نہیں ہوسکتی تو لامحالہ ماننا پڑے گا کہ عبادت کا جذبہ انسان کے اندر ایک فطری جذبہ ۱؎ ہے۔ جس طرح انسان کو بھوک فطری طور پر لگتی ہے اور اس کے فرو کرنے کے لیے وہ غذا تلاش کرتا ہے، جس طرح اسے سردی اور گرمی فطری طور پر محسوس ہوتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے وہ سایہ اور لباس ڈھونڈتا ہے، جس طرح ادائے مافی الضمیر کی خواہش اس میں فطری طور پر پیدا ہوتی ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے وہ الفاظ و اشارات بہم پہنچاتا ہے بالکل اسی طرح عبادت کا جذبہ بھی انسان میں فطرۃً پیدا ہوتا ہے اور اس کی تسکین کے لیے وہ کسی معبود کی تلاش کرتا اور اس کی بندگی کرتا ہے۔
مگر جیسا کہ ہم بھوک اور سردی و گرمی کے احساس، اور ادائے مافی الضمیر کی خواہش کے معاملے میں دیکھتے ہیں، فطرت کا اثر زیادہ تر اس مجرد داعیہ کی حد تک رہتا ہے جو انسان کو غذا، سایہ، لباس اور وسیلۂ اظہار مافی الضمیر کی تلاش پر مجبور کرتا اور جسم کے ان اعضاء کو جو ان کاموں سے متعلق ہیں حرکت دینے پر ابھارتا ہے۔ اور اسی حد تک تمام انسانوں میں اشتراک بھی پایا جاتا ہے۔ اس کے آگے فطرت کا اثر کمزور اور خود انسان کا اپنا اختیار غالب ہو جاتا ہے اور یہیں سے وہ بے شمار اختلافات شروع ہوتے ہیں، جو غذا، مکان، لباس، زبان اور اشارات و علامات کی مختلف صورتوں اور ہئیتوں کے اعتبار سے ہر زمانے کی مختلف قوموں میں پائے گئے ہیں۔ قریب قریب یہی حال عبادت کے جذبے کا بھی ہے کہ وہ انسان کو بندگی و پرستش پر اکسا کر چھوڑ دیتا ہے، اور اس کے بعد یہ انسان کے اپنے انتخاب پر ہے کہ اس جذبے کی تسکین کے لیے وہ کس کو مجبور مانتا ہے اور اس کی عبادت کا کیا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اسی اختیار کی حد پر پہنچ کر معبودوں اور عبادت کے طریقوں میں وہ اختلاف شروع ہوتا ہے جو انسان کی اختیار کی ہوئی تمام چیزوں میں نظر آتا ہے۔ اگرچہ اس معاملے میں بھی فطرت کی رہنمائی انسان کا ساتھ بالکل نہیں چھوڑ دیتی، جس طرح غذا اور لباس وغیرہ فطری معلومات کے انتخاب میں نہیں چھوڑتی ہے، لیکن یہ رہنمائی اتنی دھندلی اور خفی ہوتی ہے کہ اس کا ادراک کرنے کے لیے نہایت لطیف و نازک شعور کی ضرورت ہے جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔
آئیے اب ہم سراغ لگائیں کہ اس فطری داعیہ کا سر رشتہ کہاں سے ملتا ہے؟ اس کشش کا مرکز کہاں ہے جو انسان کو عبادت کے لیے کھینچتی ہے؟ کون سی قوتیں ہیں جو اسے معبود کی تلاش اور اس کی عبادت پر ابھارتی ہیں؟ اور وہ کیا رہنمائی ہے جو اس تلاش میں ہم کو خود فطرت سے حاصل ہوتی ہے؟ اس کے لیے ہم کو سب سے پہلے خود عبادت کی حقیقت پر غور کرنا چاہیے کہ اس کے بغیر ان سوالات کا حل مشکل ہے۔
عبادت کی حقیقت
عبادت کا تصور دراصل ایک جامع تصور ہے جو دو ذیلی تصورات کے امتزاج سے مکمل ہوتا ہے، ایک بندگی، دوسرے پرستش، بندگی کے معنی ہیں کسی بالاتر قوت کی بڑائی تسلیم کرکے اس کی فرمانبرداری و اطاعت کرنا۔ اور پرستش کے معنی ہیں کسی بالاتر ہستی کو پاک، مقدس اور بزرگ سمجھ کر اس کے آگے سرنیاز جھکا دینا اور اسے پوجنا۔ ان میں سے پہلا تصور عبادت کا ابتدائی اور بنیادی تصور ہے اور دوسرا تصور انتہائی اور تکمیلی۔ پہلا زمین کی حیثیت رکھتا ہے اور دوسرا عمارت کی۔ اس لیے ہمیں اپنی تحقیق کی ابتدا پہلے تصور سے کرنی چاہیے۔
بندگی
بندگی یا فرمانبرداری و اطاعت ہمیشہ اس قوت کے مقابلے میں کی جاتی ہے جو بندگی کرنے والے پر قہر و غلبہ اور قدرت و استیلا رکھتی ہو، اور بندے یا مطیع میں اس کے حکم سے سرتابی کا یارا نہ ہو۔ اس کی محدود شکل تو وہ ہے جو آقا اور نوکر کے درمیان ہم عموماً دیکھتے ہیں، لیکن اس سے زیادہ وسیع تصور کے لیے سب سے زیادہ واضح مثال وہ بندگی ہے جو رعایا اپنی حکومت کی کرتی ہے۔ حکومت کوئی مادی شے نہیں ہے، نہ ایک محسوس و مشاہد چیز ہے۔ ایک نظام و ضابطے کی بندش ہے جس کا غلبہ و استیلا لاکھوں کروڑوں آدمیوں پر حاوی ہوتا ہے۔ رعایا اس کے قانون پر طوعاً و کرہاً چلتی ہے۔ لوگ اپنے گھروں میں، کسان اپنے کھیتوں میں اور مسافر دُور دراز جنگلوں میں، جہاں بظاہر حکومت کا زور جتانے والی کوئی چیز موجود نہیں ہوتی، اس کے قوانین کی اطاعت کرتے ہیں۔ اس کے حدود و اختیار میں رہ کر جو شخص اس کے قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ سزا پاتا ہے اور زیادہ شدید نافرمانی کی صورت میں اس کے تمام وہ حقوق سلب ہو جاتے ہیں جو رعیت ہونے کی حیثیت سے اس کو حاصل تھے۔ اس لحاظ سے جس قدر لوگ کسی حکومت کے حدود میں رہتے ہیں اور اس کے قوانین کی پابندی کرتے ہیں ان کے متعلق ہم کہا کرتے ہیں کہ وہ فلاں حکومت کی فرمانبرداری و اطاعت کر رہے ہیں۔ اگر ہم ان الفاظ کی جگہ مذہبی اصطلاح استعمال کریں تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس کی بندگی و عبادت کر رہے ہیں۔
اب اس تصور کو اور زیادہ وسیع کیجیے۔ پوری کائنات پر نظر ڈالیے۔ آپ دیکھیں گے کہ سارا عالم اور اس کا ایک ایک ذرّہ ایک زبردست نظام میں جکڑا ہوا ہے، اور ایک قانون ہے جس پر خاک کے ایک ذرے سے لے کر آفتاب عالمتاب تک ساری کائنات طوعاً و کرہاً عمل کر رہی ہے۔ کسی شے کی یہ مجال نہیں کہ اس قانون کے خلاف چل سکے۔ جو چیز اس سے ذرّہ برابر سرتابی کرتی ہے، وہ فساد اور فنا کی شکار ہو جاتی ہے۔ یہ زبردست قانون جو انسان، حیوان، درخت، پتھر، ہوا، پانی، اجسام ارضی اور اجرامِ فلکی سب پر یکساں حاوی ہے، ہماری زبان میں قانون فطرت یا قانون قدرت کہلاتا ہے۔ اس کے ماتحت جو کام جس چیز کے سپرد کر دیا گیا ہے وہ اس کے کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ ہوائیں اس کے اشارے پر چلتی ہیں۔ بارش اس کے حکم سے ہوتی ہیں۔ پانی اس کے فرمان سے بہتا ہے۔ سیارے اس کے ارشاد سے حرکت کرتے ہیں۔ غرض اس تمام کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے اسی قانون کے ماتحت ہو رہا ہے اور ہر ذرہ اسی کام میں لگا ہوا ہے جس پر اس قانون نے اسے لگا دیا ہے۔ جس چیز کو ہم زندگی، بقا اور کَون کہتے ہیں وہ دراصل نتیجہ ہے اس قانون کی اطاعت کا اور جس کو ہم موت، فنا اور فساد کہتے ہیں وہ درحقیقت نتیجہ ہے اس قانون کی خلاف ورزی کا۔ دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر شے جو زندہ اور باقی ہے وہ اس قانون کی اطاعت کر رہی ہے اور کائنات عالم میں کوئی شے زندہ اور باقی نہیں رہ سکتی اگر اس کی اطاعت نہ کرے۔
لیکن جس طرح حکومت کی مثال میں ہم دیکھتے ہیں کہ قانون کی اطاعت دراصل قانون کی اطاعت نہیں بلکہ اس حکومت کی اطاعت ہے جس نے اپنے قہر و غلبے سے اس قانون کو نافذ کیا ہے، اور حکومت کا نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے لا محالہ ایک حاکم، ایک مرکزی فرمانروا، ایک مقتدرِ اعلیٰ ہستی کا وجود ضروری ہے، بالکل اسی طرح قانون فطرت کی اطاعت بھی دراصل اس غالب و قاہر حکومت کی اطاعت ہے جو اس قانون کو بنانے اور زور و قوت سے اس کو چلانے والی ہے، اور یہ حکومت ایک فرمانروا کے دست قدرت میں ہے جس کے بغیر اتنا بڑا عالمگیر نظام ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چل سکتا۔ یہاں اگر ہم قانونی لفظ ’’اطاعت‘‘ کو مذہبی اصطلاح ’’عبادت‘‘ سے بدل دیں اور لفظ ’’حاکم‘‘ کی جگہ ’’اللہ‘‘ یا ’’خدا‘‘ کا لفظ رکھ دیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ ساری کائنات اور اس کی ہر ہر چیز اللہ کی عبادت کر رہی ہے، اور یہ ایسی عبادت ہے جس پر ہر شے کے وجود و بقا کا انحصار ہے۔ کائنات کی کوئی شے اور مجموعی طور پر ساری کائنات اللہ کی عبادت سے ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہیں ہوسکتی، اور اگر غافل ہو جائے تو ایک لمحے کے لیے بھی باقی نہیں رہ سکتی۔
قرآن مجید میں اس بندگی کو کہیں عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے، کہیں تسبیح و تقدیس سے، کہیں سجود سے، اور کہیں قنوت سے۔ چنانچہ جگہ جگہ اس مضمون کی آیات آتی ہیں:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ الذاریات51:56
میں نے جن اور انسان کو اسی لیے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں۔
وَلَہٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ وَمَنْ عِنْدَہٗ لَا يَسْـتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَلَا يَسْتَحْسِرُوْنَيُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَالنَّہَارَ لَا يَفْتُرُوْنَ انبیاء21:19-20
آسمانوں اور زمین میں جس قدر مخلوقات ہیں اور جو خدا کے پاس حاضر ہیں سب اسی کے ہیں اور اس کی عبادت سے سرتابی نہیں کرتے اور نہ تھکتے ہیں۔ رات دن اس کی تسبیح میں لگے ہوئے ہیں اور کبھی اس سے کاہلی نہیں کرتے۔
يُسَـبِّحُ لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِيْزِ الْحَكِـيْمِ
جمعہ62: 1
آسمانوں اور زمین میں جو چیز بھی ہے اللہ ہی کی تسبیح کر رہی ہے، اس بادشاہ کی جو پاک، غالب اور صاحب حکمت ہے۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ يُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّيْرُ صٰۗفّٰتٍ۝۰ۭ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہٗ وَتَسْبِيْحَہٗ۝۰ۭ وَلِلہِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۚ وَاِلَى اللہِ الْمَصِيْرُ النور24:41-42
کیا تو نہیں دیکھتا کہ جس قدر مخلوق آسمانوں اور زمین میں ہے، اور جو پرندے پر پھیلائے اڑ رہے ہیں سب اللہ ہی کی تسبیح کر رہے ہیں، سب اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتے ہیں … اور زمین و آسمان کی حکومت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور سب کو اسی کی طرف جانا ہے۔
تُـسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْہِنَّ۝۰ۭ وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَہُوْنَ تَسْبِيْحَہُمْ۝۰ۭ بنی اسرائیل17:44
ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب اسی کی تسبیح کر رہے ہیں اور کوئی چیز نہیں جو اس کی حمد کے گیت نہ گاتی ہو مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو۔
وَلَہٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ كُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوْنَ الروم30:26
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ سب اسی کے حکم کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔
اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْـبَانٍ وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدٰنِ الرحمن55:5-6
سورج اور چاند ایک حساب سے چکر لگا رہے ہیں، اور درخت اور تارے سجدے میں ہیں۔
کیا لوگوں نے خدا کی مخلوق میں سے کسی چیز کی طرف بھی نظر نہیں کی جن کے سائے دائیں اور بائیں جھکتے ہیں، گویا اللہ کے آگے سربسجود ہیں اور اظہار عجز کر رہے ہیں؟ اور جتنے جاندار اور ملائکہ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور اس کے حکم سے سرتابی نہیں کرتے اور اپنے رب سے جو بالاتر ہے ڈرتے ہیں اور جو ان کو حکم دیا جاتا ہے وہی کرتے ہیں۔ (النحل۱۶:۴۸ تا ۵۰)
کیا تو نہیں دیکھتا کہ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے، اور چاند اور سورج اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے نیک آدمی اور بہت سے وہ بھی جو اپنی نافرمانی کی وجہ سے مستحق عذاب ہو چکے ہیں، سب کے سب اللہ کے آگے سربسجود ہیں؟ (الحج۲۲: ۱۸)
زمین اور آسمان میں جس قدر چیزیں ہیں سب طوعاً و کرہاً اللہ ہی کو سجدہ کر رہی ہیں۔ (الرعد۱۳:۱۵)
یہ عبادت، یہ سجود، یہ تسبیح، یہ قنوت، تمام جاندار اور بے جان، ذی شعور اور بے شعور چیزوں پر یکساں حاوی ہے، اور انسان بھی اس پر اسی طرح مجبور ہے جس طرح مٹی کا ایک ذرہ، پانی کا ایک قطرہ اور گھاس کا ایک تنکا۔ انسان خواہ خدا کا قائل ہو یا منکر، خدا کو سجدہ کرتا ہو یا پتھر کو، خدا کی پوجا کرتا ہو یا غیر خدا کی، جب وہ قانون فطرت پر چل رہا ہے اور اس قانون کے تحت ہی زندہ ہے تو لا محالہ وہ بغیر جانے بوجھے، بلا عمد و اختیار، طوعاً و کرہاً خدا ہی کی عبادت کر رہا ہے، اسی کے سامنے سربسجود ہے اور اسی کی تسبیح میں لگا ہوا ہے۔ اس کا چلنا پھرنا، سونا جاگنا، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، سب اسی کی عبادت ہے۔ چاہے وہ اپنے اختیار سے کسی اور کی پوجا کر رہا ہو اور اپنی زبان سے کسی اور کی بندگی و اطاعت کر رہا ہو مگر اس کا رونگٹا رونگٹا اسی خدا کی عبادت میں مشغول ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے۔ اس کا خون اسی کی عبادت میں چکر لگا رہا ہے، اس کا قلب اسی کی عبادت میں متحرک ہے، اس کے اعضا اسی کی عبادت میں کام کر رہے ہیں اور اس کی وہ زبان بھی جس سے وہ خدا کو جھٹلاتا اور غیروں کی حمد و ثنا کرتا ہے دراصل اسی کی عبادت میں چل رہی ہے۔
بندگی کا صلہ
اس عبادت کا صلہ یا اجر خدا کی طرف سے کیا ملتا ہے؟ فیضانِ وجود ، رزق اور قوت بقا۔ جتنی چیزیں خدا کے قانون پر چلتی ہیں اور اس کی بندگی کرتی ہیں، وہ زندہ اور باقی رہتی ہیں اور انھیں وہ وسیلۂ بقا عطا کیا جاتا ہے جسے ہم اپنی زبان میں ’’رزق‘‘ کہتے ہیں۔ اور جو چیزیں اس کے قانون سے انحراف کرتی ہیں ان پر فساد مسلط ہوجاتا ہے، ان کا رزق بند ہو جاتا ہے، اور وہ فیضان وجود سے محروم ہو جاتی ہیں۔ یہ معاملہ کائنات کی ہر چیز کے ساتھ ہو رہا ہے اور اس میں شجر و حجر حیوان و انسان کا فرد شاکر کے درمیان کوئی امتیاز نہیں۔
وَمَامِنْ دَاۗبَّۃٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللہِ رِزْقُہَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّہَا وَمُسْـتَوْدَعَہَا۝۰ۭ ھود11:6
کوئی چیز زمین پر چلنے والی ایسی نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو۔ اللہ ہر ایک کے ٹھکانے سے بھی واقف ہے اور اس کے سونپے جانے کی جگہ بھی جانتا ہے۔
يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَيْكُمْ۝۰ۭ ہَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللہِ يَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۝۰ۡۖ فَاَنّٰى تُـؤْفَكُوْنَ فاطر35:3
لوگو اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو زمین اور آسمان سے تم کو رزق دیتا ہو؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر تم کدھربھٹکائے جارہے ہو؟
ہُوَالَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِيْ مَنَاكِبِہَا وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖ۝۰ۭ الملک67:15
وہی ہے جس نے زمین کو تمھارے لیے مطیع و مسخر بنا دیا۔ پس تم اس کی پہنائیوں پر چلو اور پھر اس کا رزق کھائو۔
اَمَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُہٗ وَمَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللہِ۝۰ۭ قُلْ ہَاتُوْا بُرْہَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ النمل27:64
کون ہے جو مخلوقات کو اوّل بار پیدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟ اور کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ اور تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔
اَوَلَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِ فَوْقَہُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّیَقْبِضْنَم٭ مَا یُمْسِکُہُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیْ ئٍ بَصِیْرٌo اَمَّنْ ہٰذَا الَّذِیْ ہُوَ جُندٌ لَّکُمْ یَنْصُرُکُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اِنِ الْکٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍ اَمَّنْ ہٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُکُمْ اِنْ اَمْسَکَ رِزْقَہٗ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّنُفُوْرٍ
الملک67: 19-21
کیا یہ لوگ پرندوں کو نہیں دیکھتے جو ان کے اوپر پَر پھیلاتے اور سکیڑتے ہوئے اڑ رہے ہیں؟ رحمن کے سوا کوئی نہیں جو ان کو سنبھالے ہوئے ہو۔ وہ ہر چیز کی دیکھ بھال کرنے والا ہے۔ اور یہ رحمن کے سوا اور کون ہے جو تمھارا لشکر بن کر تمھاری مدد کرتا ہے؟ مگر کافر ہیں کہ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں اور اگر اللہ اپنا رزق بند کر دے تو کون ہے جو تم کو رزق دے سکتا ہے؟ مگر کافر سرکشی اور سرتابی پر جمے ہوئے ہیں۔
اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ جس طرح انسان اس بندگی میں دوسری اشیا کے ساتھ مساوی ہے، اسی طرح اس بندگی کے اجر اور معاوضے میں بھی وہ ان کے ساتھ مساوی رکھا گیا ہے۔ انعام کی صورتوں کا فرق جو کچھ بھی ہے، دراصل استعداد اور حاجتوں کے فرق پر مبنی ہے۔ لیکن صورتوں سے قطع نظر کرکے اگر حقیقت کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ایک درخت، ایک جانور، ایک چڑیا، ایک گھاس کی پتی کی احتیاج و استعداد کے مطابق اللہ اس کی دیکھ بھال، خبر گیری، امداد و اعانت، اور رزق رسانی کر رہا ہے، اسی طرح انسان کی احتیاج و استعداد کے مطابق اس پر بھی انعام فرماتا ہے۔ اس بارے میں انسان کو دوسری مخلوقات کے مقابلے میں اگر کوئی فضیلت ہے تو محض وہ صورت انعام کے اعتبار سے ہے نہ کہ حقیقت انعام کے اعتبار سے اور صورت انعام کا حال یہ ہے کہ وہ ہر شے کی طبیعت اور حاجت کے عین مناسب ہے۔ ایک چوہے پر جو انعام فرمایا گیا ہے، انعام کی وہی صورت اس کی فطرت اور ضرورت سے مناسبت رکھتی ہے۔ دوسری کوئی صورت جس کو ہم بہتر سمجھتے ہیں، اس کے لیے انعام نہیں سزا ہو جائے گی۔ ایک بڑے سے بڑا منعم انسان جو آرام اپنی پھولوں کی سیج پر محسوس کرتا ہے، وہی آرام ایک چھوٹی سے چھوٹی چڑیا اپنے گھاس پھونس کے گھونسلے میں محسوس کرتی ہے۔ پھولوں کی سیج تنکوں کے گھونسلے پر لاکھ فخر کرے مگر حقیقت میں گھونسلے والے کی استعداد کے مطابق اس کی احتیاج پوری کی گئی ہے۔ اس حیثیت سے دونوں پر خدا کا انعام یکساں ہے پھر یہی معاملہ کافر و شاکر، مومن و مشرک کے ساتھ بھی یکساں ہے۔ جو لوگ خدا کے منکر ہیں اور اس کی پرستش نہیں کرتے، جو اس کے ساتھ اس کی مخلوق کو شریک کرتے ہیں، جو شجر و حجر کو اس کا مدمقابل ٹھہراتے ہیں، ان پر بھی رزق اور فیضان وجود اور حفاظت و خبر گیری کا انعام اسی طرح ہوتا ہے جس طرح پکے موحدوں اور خدا پرستوں پر ہوتا ہے۔ بلکہ اگر قانون فطرت کی پیروی یا بالفاظ دیگر ’’فطری عبادت‘‘ میں ایک کافر ایک مومن سے بڑھا ہوا ہے تو اس کی عبادت کا صلہ بھی کافر کو مومن سے بہتر صورت میں عطا ہوتا ہے خواہ وہ حقیقت کی نگاہ میں متاع غرور ہی کیوں نہ ہو۔
جذبۂ عبادت کیوں پیدا ہوتا ہے
اب یہ سوال بآسانی حل ہو جاتا ہے کہ انسان میں عبادت کا جذبہ فطری طور پر کیوں پیدا ہوتا ہے اور وہ کیوں اپنے معبود کو تلاش کرتا ہے۔ جب ساری کائنات اور اس کی ہر چیز ایک غالب و قاہر فرمانروا کی بندگی کر رہی ہے، اور جبکہ خود انسان کا اپنا بھی ایک ایک رونگٹا اس کی عبادت میں لگا ہوا ہے، وہ تمام عناصر جن سے انسان کا جسم مرکب ہے اس کے آگے سربسجود ہیں، جسم انسانی میں ان عناصر کی ترکیب اس کے فرمان سے ہوئی ہے، اور انسان کا وجود ہر آن اس کی بندگی ہی پر منحصر ہے، تو آپ سے آپ بندگی و عبودیت انسان کی سرشت میں داخل ہوگئی ہے۔ گو وہ اس صاحب حکومت کو نہیں دیکھتا جس کا وہ بندہ ہے، نہ دنیوی حکومتوں کی طرح اس خدائی حکومت کے عامل اور نمائندے اس کے سامنے آتے ہیں، مگر چونکہ وہ بندہ ہی پیدا ہوا ہے، اور بلا ارادہ ہر وقت بندگی کر رہا ہے اور اس کے مالک کی حکومت نے ہر طرف سے ____ اندر سے بھی اور باہر سے بھی ____ اس کو اور اس کے گرد و پیش کی تمام چیزوں کو جکڑ رکھا ہے، اس لیے فطری طور پر اس کے اندر نیاز مندی، نیائش و گرائش، پرستش و عبودیت کا ایک گہرا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اور اس کا دل بے اختیار کسی معبود کو تلاش کرتا ہے کہ اس کی حمد و ثنا کرے، اس سے اپنی حاجتوں میں مدد مانگے، اور ہر آفت سے اس کے دامن میں پناہ ڈھونڈے۔ یہی سرشت ہے جس نے ابتدائے آفرینش سے انسان کو تلاش معبود پر مجبور کیا ہے۔ اسی تحریک پر اس نے ہمیشہ پرستش کی کوئی نہ کوئی شکل اختیار کی ہے اور یہی وہ عنصر ہے جس سے مذہب کی پیدائش ہوئی ہے۔
تلاشِ معبود میں فطرت کی رہنمائی
لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے، فطرت نے ہر معاملے میں انسان کے اندر ایک مجرد طلب، ایک سادہ خواہش، ایک خالص کشش پیدا کرکے اس کو چھوڑ دیا ہے کہ اپنے مطلوب کو خود تلاش کرے۔ گویا یوں سمجھیے کہ فطرت انسان سے آنکھ مچولی کھیلتی ہے۔ ایک نامعلوم چیز کی طلب پر اس کو اکساتی ہے اور پردے کے پیچھے چھپ جاتی ہے تاکہ وہ اپنی عقل پر زور دے کر اپنے حواس سے کام لے کر معلوم کرے کہ اس کے دل میں جس چیز کی لگن لگی ہوئی ہے، اس کی فطرت جو چیز مانگ رہی ہے، وہ کیا ہے اور کہاں ہے۔ اور کس طرح اس کو حاصل کیا جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان کو مشکلات پیش آئی ہیں اور اس نے اپنی عقل استعداد، اپنی قوت فکر و تمیز کی رسائی اور اپنے ذوق و وجدان کی صلاحیت کے مطابق اپنے لیے وہ مختلف راستے نکالے ہیں جو آج نوع انسانی کے تمدن و معاشرے کی گوناگونی میں ہم دیکھ رہے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اس تلاش و جستجو اور اختیار و انتخاب میں فطرت نے کبھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑا ہے۔ مگر جس طرح وہ ہر ہر قدم پر حیوانات کی رہنمائی کرتی ہے، اس طرح انسان کی رہنمائی نہیں کرتی۔ انسان کو وہ نہایت لطیف اشاروں میں ہدایت دیتی ہے، نہایت خفیف روشنی دکھاتی ہے جس کا ادراک معمولی عقل و بصیرت والے لوگ نہیں کرسکتے۔ اسی وجہ سے اکثر ایسا ہوا ہے کہ انسان کا اختیار تمیزی صحیح راستے کی تلاش میں ناکام ہوا اور ہوائے نفس اس کو غلط راستوں پر بھٹکا لے گئی۔
مثال کے طور پر غذا کی خواہش پیدا کرنے سے فطرت کا منشا تو یہ تھا کہ انسان ایسا مواد اپنے جسم کو مہیا کرے جس سے وہ زندہ رہ سکے اور تحلیل شدہ اجزا کا بدل اس کو ملتا رہے۔ مگر بہت سے لوگ اس خوردن برائے زیستن کی حقیقت کو نہ سمجھے۔ تلاش غذا پر ابھارنے کے لیے جو ذائقہ کی چاشنی فطرت نے اس کے کام و دہن میں لگا دی تھی اس کو وہ اصل مقصود سمجھ بیٹھے اور ہوائے نفس ان کو زیستن برائے خوردن کی غلط فہمی میں مبتلا کرکے فطرت کے اصل منشا سے دُور ہٹا لے گئی۔ اسی طرح لباس اور مکان کی طلب دراصل موسمی اثرات سے جسم کو محفوظ رکھنے کے لیے پیدا کی گئی تھی۔ مگر ہوائے نفس نے اس کو بھڑک اور تفاخر اور اظہار شان و ترفع کا ذریعہ بنا لیا، اور انسان فطرت کے منشا سے تجاوز کرکے انواع و اقسام کے نفیس لباس اور عالیشان محل بنانے لگا جو آخر کار خود اسی کے لیے مضرت رساں ثابت ہوئے۔ یہی حال ان تمام داعیات فطرت کا ہوا ہے جنھوں نے انسان میں مختلف چیزوں کی طلب پیدا کی، اور انسان نے فطرت کے منشا کو نہ سمجھ کر، یا بسا اوقات سمجھنے کے باوجود نظر انداز کرکے، اپنے اختیار سے اس طلب کو پورا کرنے کے لیے وہ مختلف ڈھنگ اور طریقے نکال لیے جوفطرت کے اصل مقصد سے زائد اور بہت سے معاملات میں اس کے خلاف تھے۔ پھر یہی چیزیں اگلوں سے پچھلوں تک تمدن و تہذیب، رسم و رواج اور آداب و اطوار بن کر پہنچیں جن کی گرفت نے بعد کی انسانی نسلوں کو ایسا جکڑا کہ فطرت کی رہنمائی کو سمجھنا تو درکنار، ان کے لیے اپنے اختیار بدتمیزی کو استعمال کرنے کی آزادی بھی باقی نہ رہی، اور اسلاف کے طریقوں نے مقدس قوانین بن کر ان کو اندھی تقلید کے رستے پر ڈال دیا۔ حالانکہ فطرت جس طرح پہلے انسان کو لطیف اشارے اور خفیف ہدایتیں دے رہی تھی، اسی طرح آج بھی دے رہی ہے اور ہمیشہ دیتی رہے گی، جنھیں عقل سلیم تھوڑے یا بہت اجتہاد سے ہر وقت سمجھ سکتی ہے۔
معبود کی طرف ہادیٔ فطرت کے اشارے
تلاشِ معبود کی فطری خواہش کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آیا ہے۔ جب انسان نے عبادت کے جذبے سے بے چین ہو کر اپنے لیے کسی معبود کو ڈھونڈنا شروع کیا تو فطرت اپنے اسی لطیف انداز میں اس کو معبود حقیقی کے اَتے پتے دینے لگی کہ تیرا معبود وہ ہے جس نے تجھے پیدا کیا ہے، جو تجھ سے بالاتر ہے، جس کی قوت کے سامنے تو عاجز ہے، جو ہر چیز پر غالب ہے، جو تجھے اور ہر جاندار کو روزی دیتا ہے، جو اپنے حسن و جمال اور خوبی و رعنائی کی بنا پر ہر طرح تیری مدح و ستائش کا مستحق ہے، جس کا نور آفتاب و ماہتاب اور ستاروں کو روشنی دیتا ہے، جس کا جمال اپنے جلووں سے آب و گل کی مورتوں کو یہ جو بن اور یہ نکھار اور یہ دلفریب حسن بخشتا ہے۔ جس کا جلال پانی کی موج، ہوا کے طوفان، زمین کی لرزش، پہاڑ کی سربلندی، شیر کی درندگی اور سانپ کی گزندگی میں اپنی شوکت کا اظہار کرتا ہے، جس کی ربوبیت ماں کے سینے میں محبت و شفقت بن کر، گائے کے تھن میں دودھ بن کر، پتھر کے کلیجے میں پانی بن کر ظہور کرتی ہے۔ یہ لطیف اشارے ہر زمانے میں مختلف سمجھ بوجھ کے لوگوں کو دئیے گئے، اور ہر ایک نے اپنی بساط کے مطابق اتوں پتوں سے اس پہیلی کو بوجھنے کی کوشش کی۔ جب انسان اپنی ابتدائی فطری حالت (ِstate of nature) میں تھا تو وہ ان اشاروں کو صاف سمجھتا تھا اور اس ایک ہی معبود کے آگے جھکتا تھا جس کی طرف یہ اشارے ہو رہے تھے۔ مگر جب وہ اس حالت سے آگے بڑھا اور استدلالی فکر کی راہ پر چلنے لگا تو اس کی سرگردانیوں کا آغاز ہوگیا۔
انسان کی سرگردانیاں
کسی نے ان صفات کے معبود کو زمین پر تلاش کیا اور پہاڑوں، دریائوں، درختوں اور نفع و ضرر پہنچانے والے جانوروں پر فریفتہ ہوگیا، صنفی اعضا (sexual organs) کو پوجنے لگا، آگ کے سامنے دھونی رما بیٹھا، ہوا کے آگے سر بسجود ہوا، دھرتی ماتا کو عقیدت کا خراج دینے لگا۔ غرض اس کی نظر آس پاس ہی کے مناظر میں الجھ کر رہ گئی۔
کسی کی نظر اس سے آگے بڑھی۔ وہ ارضی معبودوں سے مطمئن نہ ہوا۔ اس نے دیکھا کہ یہ سب چیزیں تو اسی کی طرح کسی اور کی بندگی میں مبتلا ہیں، خود اپنے وجود بقا کے لیے بھی غیر کی محتاج ہیں، ان کے پاس کیا رکھا ہے جس لیے ہم استعانت کا ہاتھ بڑھائیں اور عقیدت کی پیشانی جھکائیں۔ آخر اس نے زمین کو چھوڑ کر آسمان پر اپنے معبود کو تلاش کیا۔ سورج کو دیکھا، چاند پر نظر ڈالی، اجرام فلکیہ کی چمک دمک دیکھی اور کہا کہ یہ ہیں عبادت کے لائق۔
مگر جو اس سے زیادہ باریک بین تھا اس کو آسمان والوں کا حال بھی زمین والوں سے کچھ زیادہ مختلف نظر نہ آیا۔ اس نے کہا یہ لاکھ بلند تر و برتر سہی، روشن اور روشن گر سہی۔ لیکن اپنے اختیار سے کیا کر سکتے ہیں؟ ایک مقرر قانون، ایک لگے بندھے نظام کے تحت گردش کیے جارہے ہیں۔ سورج کو بایں ہمہ عظمت و بزرگی آج تک یہ مجال نہ ہوئی کہ مشرق کے بجائے کسی روز مغرب سے نکل آتا یا اپنے مقام سے ایک ہی انچ سرک جاتا۔ چاند کبھی اس قابل نہ ہوا کہ جو دن اس کے ہلال بننے کا تھا اس دن بدر بن کر نکلتا۔ اسی طرح کوئی اور سیارہ بھی اپنی مقرر گردش سے یک سرمُو تجاوز نہ کرسکا۔ اس بندگی، بے چارگی کھلی ہوئی غلامی کو دیکھ کر اس جویائے معبود نے آسمان سے بھی منہ موڑ لیا، تمام مادی و جسمانی چیزوں کو ناقابل پرستش قرار دیا، اور اپنے معبود کی تلاش میں معانی مجردہ (abstract ideas)اور روحانیات کی طرف پیش قدمی کی، نور کا پروانہ بنا۔ دولت کی دیوی کا فریفتہ ہوا، محبت کے دیوتا پر ریجھا، حسن کی دیوی کا گرویدہ ہوا، قوت کے دیوتا کو سجدہ کیا، مدبرات عالم (world forces )کے ہیکل تجویز کیے اور ان کی عبادت اختیار کی، ارواح اور عقول (logos) اور ملائکہ کو مسجود بنایا اور سمجھا کہ یہی عبادت کے لائق ہیں۔
اس طرح کائنات کی ہر وہ چیز جس کے اندر مختلف قابلیتوں کے لوگوں کو اپنی اپنی فکر کی رسائی اور نظر کی استعداد کے مطابق برتری، ربوبیت، نعمت بخشی، قدرت حسن و جمال، قہر و جلال، اور خالقیت کی جھلک نظر آئی، اس کے آگے جھک گئے اور فطرت کے دیئے ہوئے سراغ پر جو شخص جتنی دُور جاسکا، گیا، اور ٹھہر گیا، مگر جو لوگ زیادہ صحیح وجدان، زیادہ لطیف ادراک اور زیادہ سلیم عقل رکھتے تھے، اور فطرت کے بتائے ہوئے نشانات پر ٹھیک ٹھیک سفر کر رہے تھے وہ ان اراضی و سماوی معبودوں اور روحانی و خیالی دیوتائوں میں سے ایک سے بھی مطمئن نہ ہوئے، بیچ کی منازل میں سے ایک پر بھی نہ ٹھہرے اور بڑھتے بڑھتے اس منزل پر پہنچ گئے جہاں انھیں کائنات کی تمام مادی، روحانی، ذہنی، علوی اور سفلی قوتیں کسی اور کی گرفت میں جکڑی ہوئی، کسی اور کی بندگی میں مشغول، کسی اور کے آگے جھکی ہوئی، کسی اور کی تسبیح پڑھتی ہوئی نظر آگئیں۔ یہاں انھوں نے اپنے دل کے کانوں سے یہ آواز سنی۔
لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ انبیاء21:25
میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس تم میری ہی عبادت کرو۔
یہ اسی معبود کی آواز تھی جس کی تلاش میں وہ چلے تھے۔ طالب کو قریب پاکر مطلوب خود پکار اٹھا۔ اس نے آپ ہی آگے بڑھ کر اپنا پتہ بتا دیا۔ یہاں پہنچ کر سفر ختم ہوگیا، منزل مقصود مل گئی، اور ڈھونڈنے والے مطمئن ہوگئے۔۱؎ یہ حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس آخری ہدایت کو پانے کے بعد بھی کوئی مزید تلاش و جستجو کے لیے بے چین نہ ہوا۔ بے چینی، بے قراری، بے اطمینانی جو کچھ بھی تھی بیچ کی منزلوں میں تھی۔ آخری منزل پر پہنچ کر ہر دل نے گواہی دی کہ جس کو ڈھونڈ رہے تھے وہ یہی ہے۔ اب کسی تلاش و جستجو کی حاجت نہیں۔اَلَا بِذِكْرِ اللہِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ الرعد13:28
انسان اپنے معبود کی تلاش میں جب تک خدائے واحد تک نہ پہنچا، بے چین رہا، غیر مطمئن رہا، اس کے دل میں تلاش کی بے کلی اور جستجو کی کھٹک برابر چٹکیاں لیتی رہی، مگر جب خدائے واحد کو اس نے پالیا تو اس کا دل مطمئن ہوگیا۔ پھر کبھی اس نے تلاش معبود کی بے چینی محسوس نہ کی۔
خدائے واحد ہی حقیقی معبود ہے
اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ کیا وجہ ہے کہ تلاش معبود کا یہ سفر خدا کے سوا کسی غیر پر ختم نہیں ہوا اور خدا تک پہنچ کر ایسا ختم ہوا کہ پھر کسی اور کی جستجو دل میں پیدا ہی نہ ہوئی؟ غور کرنے سے اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ انسان کو جو فطری جذبہ پرستش پر مجبور کرتا ہے، اس کا اصل مقصد خدائے واحد ہی کی پرستش ہے۔ جب تک وہ اپنے اس معبود حقیقی کو نہیں پہنچ جاتا، مطمئن نہیں ہوتا اور نہیں ہوسکتا۔ یہ دوسری بات ہے کہ عقل و فکر کی نارسائی، یا تعصب اورہٹ دھرمی، یا آباو اجداد کی اندھی تقلید بعض افراد کو یہ بے اطمینانی محسوس نہ ہونے دے۔
جیسا کہ ہم اوپر کہہ چکے ہیں، انسان کے اندر پرستش کا فطری جذبہ پیدا ہی اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اس کے گرد و پیش کائنات کا ذرہ ذرہ خدا کی بندگی میں مشغول ہے۔ ایسی حالت میں جب ایک ظلوم و جہول انسان خدا سے ناواقف ہو کر غیر خدا کی پرستش کے لیے جھکتا ہے تو اس کے گرد و پیش کا کوئی عنصر، حتیٰ کہ خود اس کے اپنے جسم کا بھی کوئی جز اس کا ساتھ نہیں دیتا۔ وہ جن پائوں سے اپنے خود ساختہ معبود کی طرف بڑھتا ہے وہ خدا کی عبادت میں چلتے ہیں۔ جن ہاتھوں سے اس کے آگے نذر پیش کرتا ہے وہ خدا کی بندگی میں حرکت کرتے ہیں۔ جس پیشانی سے اس کو سجدہ کرتا ہے وہ خدا کے سجدے میں جھکی ہوئی ہوتی ہے۔ جس زبان سے اس کی بڑائی بیان کرتا ہے وہ خدا کی تقدیس و تمجید میں مشغول ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں اس کی یہ ساری پرستش، یہ تمام نیائش و گرائش ایک جھوٹ ایک افتراء، ایک بہتان، ایک صریح جعل ہوتی ہے جس کے بطلان پر کائنات کا ہر ذرہ گواہی دیتا ہے، اور خود انسان کی فطرت اپنی لطیف وغیر محسوس آواز میں بار بار اسے تنبیہ کرتی ہے کہ یہ تو کس دھوکے میں پڑ گیا ہے؟ کیا تجھے بندے کی بندگی، پرستار کی پرستش، فرمانبردار کی فرمانبرداری کرتے شرم نہیں آتی اُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُوْنَ انبیاء21:67
پرستش اور بندگی کی یکجائی
پرستش دراصل بندگی کی فرع ہے اور اپنی عین فطرت کے اقتضا سے اپنی اصل کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ جب انسان اپنے جہل اور بے خبری کی بنا پر فرع کو اصل سے جدا کرتا ہے ____ بندگی ایک کی کرتا ہے اور پرستش دوسرے کی ____ تو یہ تفریق سراسر فطرت کے خلاف واقع ہوتی ہے اور ایک نہایت خفی و غیر محسوس تحت الشعوری بے اطمینانی پیدا ہو جاتی ہے۔ بخلاف اس کے جب نادانی کا پردہ درمیان سے اٹھ جاتا ہے ____ انسان کو اس حقیقت کا علم ہو جاتا ہے کہ معبود وہی ہے جو مالک اور خالق اور پروردگار ہے ____ تو بندگی اور پرستش دونوں یکجا ہو جاتی ہیں، فرع اصل سے مل جاتی ہے، بیٹی اپنی ماں کی آغوش میں پہنچ جاتی ہے، اور اس وصال سے وہ لطف، وہ مزا، وہ اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے جو ہجر و فراق کی حالت میں مفقود تھا۔
خلافت و نیابت الٰہی
بندگی اور پرستش کی یہی مواصلت ہے جس سے انسان کو دوسری مخلوقات پر شرف حاصل ہوتا ہے، اور وہ اس مرتبہ پر پہنچتا ہے جسے خدا نے اپنی خلافت و نیابت قرار دیا ہے۔ پچھلی تقریر پر پھر ایک نظر ڈالیے۔ عرض کر چکا ہوں کہ خدا کی بندگی تو انسان آپ سے آپ بلا عمد و اختیار، بغیر جانے بوجھے کر ہی رہا ہے، اور ٹھیک اسی طرح کر رہا ہے جس طرح لایعقل حیوان، بے شعور درخت، بے جان پتھر کر رہے ہیں۔ اس حیثیت سے اس میں اور دوسری مخلوقات میں کوئی فرق نہیں۔ اور اس بندگی کا جو انعام ہے یعنی فیضانِ وجود اور عطائے رزق، اس میں بھی وہ فی الحقیقت دوسری مخلوقات سے ممتاز نہیں ہے۔ فرق و امتیاز اور برتری و شرف جو کچھ ہے، اس امر میں ہے کہ دوسری موجودات کے برخلاف جو عقل و شعور، جو آزادیٔ ارادہ و اختیار، اور جو قوت علمیہ انسان کو دی گئی ہے اس سے کام لے کر وہ اس کو پہچانے جس کا وہ بندہ ہے، اور بالاختیار بھی اسی کی عبادت اور پرستش کرے جس کی وہ بلا اختیار بندگی کر رہا ہے۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا اور اپنی عقل اور قوت علمیہ سے اپنے مالک کی معرفت حاصل نہ کی، اور اپنے اختیار کے حدود میں اس کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت اور پرستش شروع کر دی تو شرف کیسا، وہ تو جانوروں سے بھی بدتر ہوگیا۔
لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَہُوْنَ بِہَا۝۰ۡوَلَہُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِہَا۝۰ۡوَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِہَا۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ اعراف7:179
بجائے خود عقل اور قوت علمیہ میں کوئی شرف اور برتری نہیں ہے۔ یہ تو محض حصول شرف کے لیے ایک آلہ ہے اور اس آلے نے انسان کو یہ استعداد بہم پہنچا دی ہے کہ اس سے ٹھیک ٹھیک کام لے کر وہ بندگیٔ اضطراری کے حیوانی مقام سے ترقی کرکے عبادت اختیاری کے انسانی مقام پر پہنچ سکے۔ لیکن اگر انسان نے اس آلے سے غلط کام لیا، اور اس کو چھوڑ کر جس کا وہ بندہ ہے ان کی عبادت اختیار کی جن کا فی الحقیقت وہ بندہ نہیں ہے۱؎ تو وہ حیوانی مقام سے بھی نیچے اتر گیا۔ حیوان گمراہ تو نہ تھا، یہ گمراہ ہوا، حیوان منکر تو نہ تھا، یہ منکر ہوا۔ حیوان کافر و مشرک تو نہ تھا، یہ کافر و مشرک ہوگیا۔ حیوان جس مقام پر پیدا کیا گیا تھا اسی مقام پر وہ رہا۔ اور حیوان ہونے کی حیثیت سے یہ بھی اسی مقام پر ہے، مگر انسان ہونے کی حیثیت سے جو ترقی اس کو کرنی چاہیے تھی وہ اس نے نہ کی، بلکہ الٹا تنزل کی طرف چلا گیا۔ ترقی کے لیے اس کو جو عقل کا آلہ دیا گیا تھا اس کو اس نے انسانی ترقی کے لیے استعمال نہ کیا بلکہ حیوانیت میں ترقی کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس نے دُوربین بنائی کہ حیوان جتنی دُور کی چیز دیکھ سکتا ہے اس سے زیادہ دُور کی چیز یہ دیکھ سکے۔ اس نے ریڈیو ایجاد کیا کہ حیوان جتنی دُور کی آواز سن سکتا ہے اس سے زیادہ دُور کی آواز یہ سن سکے، اس نے ریل اور موٹر بنائی کہ حیوان جس قدر قطع مسافت کرسکتا ہے اس سے زیادہ یہ کرسکے۔ اس نے ہوائی جہاز بنائے کہ اڑنے میں پرندوں سے بازی لے جائے اس نے بحری جہاز بنائے کہ تیرنے میں مچھلیوں کو مات کر دے۔ اس نے آلات حرب بنائے کہ لڑنے میں درندوں پر سبقت لے جائے۔ اس نے عیش و عشرت کے سامان فراہم کیے کہ جانوروں سے زیادہ پر لطف زندگی بسر کرے۔ مگر کیا ان ترقیات کے باوجود یہ مقام حیوانی سے کچھ بھی بلند ہوا؟ عقل و علم کے ذریعے سے عالم مادی میں جتنے تصرفات یہ کر رہا ہے وہ سب کے سب انھی قوانین فطرت کے ماتحت توہیں جن کے تحت عقل و علم کے بغیر حیوانات ایک محدود پیمانے پر ایسے ہی تصرفات کرتے ہیں۔ پس یہ تو وہی بندگیٔ اضطراری کا مقام ہوا جس میں حیوان ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ حیوان نے کمتر درجے کی بندگی کی، کمتر درجے کا رزق پایا۔ اس نے عقل و علم کی قوت سے اعلیٰ درجے کی بندگی کی۔ اعلیٰ درجے کے رزق کا مستحق ہوا۔ حیوان کو گھاس ملتی تھی۔ اس کو توس اور مکھن ملا۔ حیوان کو صوف اور اون ملتا تھا۔ اس کو نفیس کپڑے ملے۔ حیوان کو گھونسلے میں جگہ دی جاتی تھی۔ اس کو بنگلوں اور کوٹھیوں میں ٹھیرایا گیا۔ حیوان کو پیدل دوڑنا پڑتا تھا اس کو موٹروے دی گئی۔ یہ اس کی حیوانی بندگی اور اس کی اضطراری عبادت کا کافی انعام ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ ترقی کا جو آلہ اس کو دیاگیا تھا اس سے اس نے ترقی کیا کی؟ ترقی کے معنی تو یہ تھے کہ حیوان ہونے کی حیثیت سے جس کو بے اختیار سجدہ کر رہا ہے، انسان ہونے کی حیثیت سے اختیاری سجدہ بھی اسی کو کرتا۔ حیوان ہونے کی حیثیت سے جس کے حکم تکوینی (natural law)کی اطاعت کر رہا ہے، انسان ہونے کی حیثیت سے اسی کے حکم شرعی (moral law)کی اطاعت بھی کرتا۔ اگر یہ ترقی اس نے کی تو بے شک یہ حیوانات اور تمام موجودات پر شرف لے گیا، اس نے بالفعل وہ خلافت حاصل کرلی جس کی قوت و استعداد اس کو دی گئی تھی، اس نے تمام موجودات سے بڑھ کر اپنے خالق کی بندگی و عبادت کی، اس لیے تمام موجودات عالم سے زیادہ اجر کا مستحق ہوگیا۔ لیکن اگر یہ ترقی اس نے نہ کی اور آلۂ ترقی کے غلط استعمال سے الٹا تنزل کی پستیوں میں اتر گیا تو بلا شائبہ شک و ریب تمام اسافل سے اسفل اور تمام اراذل سے ارذل بن گیا ___ اس نے خود اپنی حماقت سے اپنے کو عذاب کا مستحق بنا لیا۔۱؎ یہی حقیقت ہے جس کو سورۂ تین میں بیان کیا گیا ہے۔
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ التین95:4-6
ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا، پھر اس کو تمام ادنیٰ درجے والوں سے بھی ادنیٰ درجے میں پھیر دیا بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے کہ ان کے لیے بے نہایت اجر ہے۔
یہ اجمال ان تفصیلات کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو اوپر بیان ہوئی ہیں۔ ’’بہترین ساخت‘‘ سے مراد ترقی کی وہ قوت و استعداد ہے جو انسان کو زمین کی تمام مخلوقات سے بڑھ کر دی گئی ہے۔ مگر محض بہترین ساخت پر ہونا بالفعل ترقی نہیں ہے۔ ترقی کا انحصار اس پر ہے کہ انسان اس قوت و استعداد سے کام لے کر اپنے خالق کی معرفت حاصل کرے جس کے انتہائی مرتبے کا نام ’’ایمان‘‘ ہے اور اس کے حکم شرعی کے تحت دنیا میں کام کرے جس کو ’’عمل صالح‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جس نے یہ نہ کیا وہ ادنیٰ درجے کی مخلوقات سے بھی فروتر درجے میں گر گیا۔ اور جس نے یہ ترقی کرلی وہ ’’اجر غیر ممنون‘‘ کا مستحق ہوگیا۔ یعنی ایسا اجر جو کبھی بند ہونے والا نہیں ہے، جو دنیا کی اس زندگی سے لے کر آخرت کی زندگی تک بلا نہایت چلتا ہے۔ بندگیٔ اضطراری کے صلے میں جو اجر ملتا ہے وہ تو منقطع ہو جاتا ہے۔ بس ایک اجل مقرر تک ہی زندگی عطا کی جاتی ہے اور ایک حدِ خاص تک ہی رزق دیا جاتا ہے۔ مگر عبادت اختیاری کے صلہ میں وہ عیش نصیب ہوتا ہے جو خلل سے پاک ہے، وہ رزق میسر آتا ہے جس کے بند ہونے کا کوئی خوف نہیں۔
عبادت کا پورا مفہوم
اب ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں عبادت کا صحیح اور مکمل مفہوم واضح طور پر ہمارے سامنے آجاتا ہے۔ اوپر جو کچھ کہا گیا ہے اس کے مطالعے سے معلوم ہو چکا ہے کہ عبادت کے اجزائے معنوی دو ہیں جن کی ترکیب سے عبادت کا مفہوم مکمل ہوتا ہے، ایک بندگی یعنی قانون فطرت کی ٹھیک ٹھیک پیروی اور اس سے منحرف نہ ہونا۔ دوسرے پرستش جو اپنی تکمیل کے لیے دو چیزوں کی محتاج ہے۔
(۱) اپنے حقیقی معبود یعنی خدائے واحد کی ایسی معرفت جو بالکل خالص ہو، جس میں شرک کا شائبہ تک نہ ہو، جس میں کفر و انکار اور شک و ریب کی ذرّہ برابر آمیزش نہ ہو۔ جس میں خدا کے سوا کسی کا خوف نہ ہو، کسی کے انعام کی طمع نہ ہو، کسی پر اعتماد و توکّل نہ ہو، کسی کی طرف الہٰیت و ربوبیت کو منسوب نہ کیا جائے، کسی کو نافع و ضار نہ سمجھا جائے، کسی سے عبدیت کا تعلق وابستہ نہ کیا جائے۔ اسی کا نام ’’ایمان‘‘ ہے۔
(۲) اپنی زندگی کے اختیاری شعبے میں اس معبود کے حکم شرعی کی اسی طرح اطاعت کرنا جس طرح اضطراری شعبے میں اس کے حکم تکوینی کی اطاعت کی جاتی ہے، تاکہ ساری زندگی ایک ہی فرمانروا، ایک ہی حکومت اور ایک ہی قانون کی تابع فرمان ہو کر ہم رنگ وہم آہنگ ہو جائے اور اس میں کسی حیثیت سے بھی دورنگی اور ناہمواری باقی نہ رہے۔ اسی کو ’’عمل صالح‘‘ کہتے ہیں۔
غلط کہتا ہے جو کہتا ہے کہ یہ عبادت صرف تسبیح و مصلّٰی اور خانقاہ تک محدود ہے۔ مومن صالح صرف اسی وقت اللہ کا عبادت گزار نہیں ہوتا جب وہ دن میں پانچ وقت نماز پڑھتا ہے، اور بارہ مہینوں میں ایک مہینے کے روزے رکھتا ہے اور سال میں ایک وقت زکوٰۃ دیتا ہے اور عمر بھر میں ایک مرتبہ حج کرتا ہے، بلکہ درحقیقت اس کی ساری زندگی عبادت ہی عبادت ہے۔ جب وہ کاروبار میں حرام کے فائدوں کو چھوڑ کر حلال روزی پر قناعت کرتا ہے تو کیا وہ عبادت نہیں کرتا؟ جب وہ معاملات میں ظلم اورجھوٹ اور دغا سے پرہیز کرکے انصاف اور راستبازی سے کام لیتا ہے تو کیا یہ عبادت نہیں ہے؟ جب وہ خلق خدا کی خدمت اور حقداروں کی حق رسانی کے لیے کمر بستہ ہوتا ہے تو کیا اس کی ہر حرکت عین عبادت نہیں ہوتی؟ جب وہ اپنے افعال و اقوال میں خدا کے قانون کی پیروی کرتا اور اس کی حدود کا لحاظ رکھتا ہے تو کیا اس کا ہر قول و فعل عبادت میں شمار نہ ہوگا؟ پس حق یہ ہے کہ اللہ کے قانون کی پیروی اور اس کی شریعت کے اتباع میں انسان دین اور دنیا کا جو کام بھی کرتا ہے وہ سراسر عبادت ہے، حتیٰ کہ بازاروں میں اس کی خرید و فروخت اور اپنے اہل و عیال میں اس کی معاشرت اور اپنے خالص دنیوی اشغال میں اس کا انہماک بھی عبادت ہے۔
مگر یہ عبادت کا ادنیٰ مرتبہ ہے۔ اس عبادت کی مثال ایسی ہے جیسے رعیت کے عام افراد اپنے بادشاہ کے قانون کی پیروی اور اس کے فرامین کی اطاعت کرتے ہیں۔ اس سے بڑا درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے مالک کا نوکر بن جائے اور اس کے قوانین کی نہ صرف خود پیروی کرے بلکہ دوسروں پر بھی ان کو نافذ کرنے کی کوشش کرے، اس کے احکام پر نہ صرف خود عامل ہو بلکہ دنیا میں ان کے اِجرا کے لیے بھی جدوجہد کرے، اس کی حکومت میں نہ صرف خود امن اور وفاداری اور اطاعت کیشی کے ساتھ رہے بلکہ اپنے دل و دماغ اور دست و بازو کی قوتیں امن کے قیام میں، بگڑی ہوئی رعایا کی اصلاح میں اور باغی و سرکش بندوں کی سرکوبی میں بھی صرف کرے اور اس خدمت میں اپنا تن من دھن سب کچھ نثار کردے۔
وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَہِيْدًا۝۰ۭ البقرہ2:143
اور اس طرح ہم نے تم کو اقوام عالم کے درمیان ایک بہترین امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو۱؎ اور رسول تم پر گواہ ہو۔
ہُوَسَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ۝۰ۥۙ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ ھٰذَا لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِيْدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ۝۰ۚۖ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ وَاعْتَصِمُوْا بِاللہِ۝۰ۭ الحج22:78
اسی نے تمھارا نام پہلے بھی مسلم رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی، تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ہو۔ پس نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کے رستے پر جمے رہو۔
اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ۝۰ۭ الحج22:41
وہ جن کو اگر ہم زمین میں طاقت بخشیں گے تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم کریں گے اور بدی سے روکیں گے۔
یہ ہے اس عبادت کی حقیقت جس کے متعلق لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ وہ محض نماز، روزہ اور تسبیح و تہلیل کا نام ہے اور دنیا کے معاملات سے اس کو کچھ سروکار نہیں، حالانکہ دراصل صوم و صلوٰۃ اور حج و زکوٰۃ اور ذکر و تسبیح انسان کو اس بڑی عبادت کے لیے مستعد کرنے والی تمرینات (Training Courses)ہیں جو انسان کی زندگی کو حیوانی زندگی کے ادنیٰ مقام سے اٹھا کر انسانی زندگی کے بلند ترین مقام پر لے جاتی ہیں، اس کو اضطرار و اختیار دونوں میں اپنے مالک کا مطیع و فرمانبردار بندہ بنا دیتی ہیں، اور اسے بادشاہ حقیقی کی سلطنت کا ایسا ملازم بناتی ہیں کہ اس کی خدمت وہ اپنے جسم و جان کی ساری قوتوں کے ساتھ اپنی زندگی کے ہر لمحے میں کرتا ہے۔ جب انسان عبادت سے اس مرتبے پر پہنچ جاتا ہے تو اس کو وہ شرف حاصل ہوتا ہے جس میں کائنات کی کوئی مخلوق اس کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔ ملائکہ تک اس کے مقام سے فروتر ہوتے ہیں۔ وہ دنیا میں بالفعل خدا کا خلیفہ ہوتا ہے۔ اس کو خدا کے سوا کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ذلت نہیں دی جاتی۔ اس کی گردن میں خدا کی غلامی کے سوا کسی کی غلامی کا طوق نہیں ہوتا۔ اس کے پائوں میں خدا کی زنجیر کے سوا کسی کی زنجیر نہیں ہوتی۔ اس کا سر خدا کے حکم کے سوا کسی کے حکم کے آگے نہیں جھکتا۔ وہ خدا کا غلام اور سب کا آقا ہوتا ہے۔ وہ خدا کا محکوم اور سب کا حاکم ہوتا ہے۔ اس کو خدا کی طرف سے اس کی زمین پر حکومت کا حق حاصل ہوجاتا ہے۔ وہ فرعون و نمرود کی طرح باغی اور غاصب نہیں ہوتا بلکہ شاہی فرمان سے زمین پر خدا کا نائب ہوتا ہے اور حق کے ساتھ فرماں روائی کرتا ہے۔
وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ كَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۝۰۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَہُمْ دِيْنَہُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَہُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا۝۰ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا۝۰ ۭ النور24:55
تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ ان کو یقیناً زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے کے لوگوں کو بنا چکا ہے اور ضرور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے مضبوطی کے ساتھ قائم کرے گا۔ اور بالیقین ان کی حالت خوف کو امن سے بدل دے گا بس وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔
یہ تو دنیا کا انعام ہے۔ اور آخرت کا انعام کیا ہے؟ یہ کہ
وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَيَخْشَ اللہَ وَيَتَّقْہِ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ النور24:52
اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اور اللہ سے ڈرا اور اس کے غضب سے بچا تو ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں۔
رِجَالٌ۝۰ۙ لَّا تُلْہِيْہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللہِ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَاِيْتَاۗءِ الزَّكٰوۃِ۝۰۠ۙ يَخَافُوْنَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ لِيَجْزِيَہُمُ اللہُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَيَزِيْدَہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ۝۰ۭ النور24:37-38
وہ لوگ جن کو کوئی تجارت اورکوئی خریدو فروخت اللہ کے ذکر اور اقامت نماز اور ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کرتی، جو ڈرتے ہیں اس دن سے جب دل الٹ جائیں گے اور آنکھیں پھر جائیں گی۔ ان کو امید ہے کہ اللہ ان کے اعمال کا بہتر سے بہتر بدلہ دے گا اور اپنے فضل سے اس پر مزید اضافہ کرے گا۔
عبادت کا غلط مفہوم
افسوس کہ عبادت کے اس صحیح اور حقیقی مفہوم کو مسلمان بھول گئے۔ انھوں نے چند مخصوص اعمال کا نام عبادت رکھ لیا اور سمجھے کہ بس انھی اعمال کو انجام دینا عبادت ہے اور انھی کو انجام دے کر عبادت کا حق ادا کیا جاسکتا ہے۔ اس عظیم الشان غلط فہمی نے عوام اور خواص دونوں کو دھوکے میں ڈال دیا۔ عوام نے اپنے اوقات میں سے چند لمحے خدا کی عبادت کے لیے مختص کرکے باقی تمام اوقات کو اس سے آزاد کرلیا۔ قانون الٰہی کی دفعات میں سے ایک ایک دفعہ کی خلاف ورزی کی، حدود اللہ میں سے ایک ایک حد کو توڑا، جھوٹ بولے، غیبت کی، بدعہدیاں کیں، حرام کے مال کھائے، حق داروں کے حق مارے، کمزوروں پر ظلم کیا، نفس کی بندگی میں دل، آنکھ، ہاتھ اور پائوں سب کو نافرمانی کے لیے وقف کر دیا، مگر پانچ وقت کی نماز پڑھ لی، زبان اور حلق کی حد تک قرآن کی تلاوت کرلی، سال میں مہینے بھر کے روزے رکھ لیے، اپنے مال میں سے کچھ خیرات کردی، ایک مرتبہ حج بھی کر آئے اور سمجھے کہ ہم خدا کے عبادت گزار بندے ہیں۔ کیا اسی کا نام خدا کی عبادت ہے؟ کہ اس کے سجدے سے سر اٹھاتے ہی ہر معبود باطل کے آگے جھک جائو، اس کے سوا ہر زندہ اور مردہ کو حاجت روا بنائو، ہر اس بندے کو خدا بنالو جس میں تم کو نقصان پہنچانے یا نفع دینے کی ذرّہ برابر بھی قوت نظر آئے، روٹی کے ایک ٹکڑے کے لیے کفار و مشرکین تک کے آگے ہاتھ جوڑو اور ان کے پائوں چومو، انھی کو رازق سمجھو، انھی کو عزت اور ذلت دینے والا سمجھو، انھی کے قانون کو قانون سمجھو اس لیے کہ وہ طاقت رکھتے ہیں اور نافذ کرنے کی قوت نہیں رکھتا، کیایہی تمہارا اسلام ہے؟ یہی تمھارے ایمان کی شان ہے؟ اسی پر تمھیں گمان ہے کہ تم خدا کی عبادت کرتے ہو؟ اگر یہی اسلام اور ایمان ہے اور یہی اللہ کی عبادت ہے تو پھر وہ کیا چیز ہے جس نے تم کو دنیا میں ذلیل و خوار کر رکھا ہے؟ کیا چیز ہے جو تم سے خدا کے سوا ہر در کی گدائی کرا رہی ہے؟ کس چیز نے تمھاری گردنوں میں غلامی اور ذلت کے طوق ڈال رکھے ہیں؟
خواص نے اس کے برعکس دوسرا راستہ اختیار کیا۔ وہ تسبیح و مصلّٰی لے کر حجروں میں بیٹھ گئے۔ خدا کے بندے گمراہی میں مبتلا ہیں، دنیا میں ظلم پھیل رہا ہے۔ حق کی روشنی پر باطل کی ظلمت چھائی جارہی ہے، خدا کی زمین پر ظالموں اور باغیوں کا قبضہ ہو رہا ہے، الٰہی قوانین کے بجائے شیطانی قوانین کی بندگی خدا کے بندوں سے کرائی جارہی ہے، مگر یہ ہیں کہ نفل پر نفل پڑھ رہے ہیں، تسبیح کے دانوں کو گردش دے رہے ہیں، ہو حق کے نعرے لگا رہے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں مگر محض ثواب تلاوت کی خاطر، حدیث پڑھتے ہیں مگر صرف تبرکا ً، سیرت پاک اور اسوۂ صحابہ پر وعظ فرماتے ہیں مگر قصہ گوئی کا لطف اٹھانے کے سوا کچھ مقصود نہیں، دعوت الی الخیر اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور جہاد فی سبیل اللہ کا سبق نہ ان کو قرآن میں ملتا ہے، نہ حدیث میں، نہ سیرت پاک میں، نہ اسوۂ صحابہ میں، کیا یہ عبادت ہے؟ کیا یہی عبادت ہے کہ بدی کا طوفان تمھارے سامنے اٹھ رہا ہو اور تم آنکھیں بند کیے ہوئے مراقبے میں مشغول رہو؟ کیا عبادت اسی کو کہتے ہیں کہ گمراہی کا سیلاب تمھارے حجرے کی دیواروں سے ٹکرا رہا ہو اور تم دروازہ بند کرکے نفل پر نفل پڑھے جائو؟ کیا عبادت اسی کا نام ہے کہ کفار چار دانگ عالم میں شیطانی فتوحات کے ڈنکے بجاتے پھریں، دنیا میں انھیں کا علم پھیلے، انھی کی حکومت کار فرما ہو، انھی کا قانون رواج پائے۔ انھی کی تلوار چلے، انھی کے آگے بندگان خدا کی گردنیں جھکیں اور تم خدا کی زمین اور خدا کی مخلوق کو ان کے لیے چھوڑ کر نمازیں پڑھنے، روزے رکھنے اور ذکر و شغل کرنے میں منہمک ہو جائو؟ اگر عبادت یہی ہے جو تم کر رہے ہو، اور اللہ کی عبادت کا حق اسی طرح ادا ہوتا ہے تو پھر یہ کیا ہے کہ عبادت تو تم کرو اور زمین کی حکومت و فرمانروائی دوسروں کو ملے؟ کیا معاذ اللہ خدا کا وہ وعدہ جھوٹا ہے جو اس نے قرآن میں تم سے کیا تھا کہ وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ كَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۝۰۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَہُمْ دِيْنَہُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَہُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا۝۰ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا۝۰ۭ النور24:55 اگر خدا اپنے وعدے میں سچا ہے، اور اگر یہ واقعہ ہے کہ تمھاری اس عبادت کے باوجود نہ تم کو زمین کی خلافت حاصل ہے، نہ تمھارے دین کو تمکن نصیب ہے، نہ تم کو خوف کے بدلے میں امن میسر آتا ہے، تو تم کو سمجھنا چاہیے کہ تم اور تمھاری ساری قوم عبادت گزار نہیں بلکہ تارک عبادت ہے اور اسی ترک عبادت کا وبال ہے، جس نے تم کو دنیا میں ذلیل کر رکھا ہے۔ (ترجمان القرآن ربیع الثانی ۱۳۵۴ھ۔ جولائی ۱۹۳۵ئ)

جہاد فی سبیل اللہ

عموماً لفظ ’’جہاد‘‘ کا ترجمہ انگریزی زبان میں (Holywar)’’مقدس جنگ‘‘ کیا جاتا ہے اور اس کی تشریح و تفسیر مدتہائے دراز سے کچھ اس انداز میں کی جاتی رہی ہے کہ اب یہ لفظ ’’جوشِ جنوں‘‘ کا ہم معنی ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کے سنتے ہی آدمی کی آنکھوں میں کچھ اس طرح کا نقشہ پھرنے لگتا ہے کہ مذہبی دیوانوں کا ایک گروہ ننگی تلواریں ہاتھ میں لیے۔ ڈاڑھیاں چڑھائے، خونخوار آنکھوں کے ساتھ اللہ اکبر کے نعرے لگاتا ہوا چلا آرہا ہے، جہاں کسی کافرکو پاتا ہے پکڑ لیتا ہے اور تلوار اس کی گردن پر رکھ کر کہتا ہے کہ بول لا الہٰ الا اللہ ورنہ ابھی سرتن سے جدا کر دیا جاتا ہے۔ ماہرین نے ہماری یہ تصویر بڑی قلمکاریوں کے ساتھ بنائی ہے اور اس کے نیچے موٹے حرفوں میں لکھ دیا ہے کہ
بوئے خوں آتی ہے اس قوم کے افسانوں سے
لطف یہ ہے کہ اس تصویر کے بنانے والے ہمارے وہ مہربان ہیں جو خود کئی صدیوں سے انتہا درجے کی غیر مقدس جنگ (Unholy war)میں مشغول ہیں۔ ان کی اپنی تصویر یہ ہے کہ دولت و اقتدار کے بھوکے ہر قسم کے اسلحے سے مسلح ہو کر قزاقوں کی طرح ساری دنیا پر پل پڑے ہیں اور ہر طرف تجارت کی منڈیاں، خام پیداوار کے ذخیرے، نو آبادیاں بسانے کے قابل زمینیں اور معدنیات کی کانیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں تاکہ اپنے نفس کی کبھی نہ بجھنے والی آگ کے لیے ایندھن فراہم کریں۔ ان کی جنگ خدا کی راہ میں نہیں بلکہ پیٹ کی راہ میں ہے، ہوس اور نفس امارہ کی راہ میں ہے۔ ان کے نزدیک کسی قوم پر حملہ کرنے کے لیے بس یہ کافی وجہ جواز ہے کہ اس کی زمین میں کانیں ہیں، یا اجناس کافی پیدا ہوتی ہیں، یا ان کے کارخانوں کا مال وہاں اچھی طرح کھپایا جاسکتا ہے، یا اپنی زائد آبادی کو وہاں آسانی کے ساتھ بسایا جاسکتا ہے، یا اور کچھ نہیں تو اس قوم کا گناہ بھی کوئی معمولی گناہ نہیں کہ وہ کسی ایسے ملک کے راستے میں رہتی ہے جس پر یہ پہلے قبضہ کر چکے ہیں یا اب قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے تو جو کچھ کیا وہ زمانہ ماضی کا قصہ ہے، اور ان کے کارنامے حال کے واقعات ہیں جو شب و روز دنیا کی آنکھوں کے سامنے گزر رہے ہیں۔ ایشیا، افریقہ، یورپ، امریکہ، غرض کرۂ زمین کا کون سا حصہ ایسا بچا رہ گیا ہے جو ان کی اس غیر مقدس جنگ سے لالہ زار نہیں ہو چکا؟ مگر ان کی مہارت قابل داد ہے۔ انھوں نے ہماری تصویر اتنی بھیانک اور اتنی بڑی بنائی کہ خود ان کی تصویر اس کے پیچھے چھپ گئی۔ اور ہماری سادہ لوحی بھی قابل داد ہے۔ جب ہم نے غیروں کی بنائی ہوئی اپنی یہ تصویر دیکھی تو ایسے دہشت زدہ ہوئے کہ ہمیں اس تصویر کے پیچھے جھانک کر خود مصوروں کی صورت دیکھنے کا ہوش ہی نہ آیا اور لگے معذرت کرنے کہ حضور بھلا ہم جنگ و قتال کیا جانیں، ہم تو بھکشوئوں اور پادریوں کی طرح پُر امن مبلغ لوگ ہیں، چند مذہبی عقائد کی تردید کرنا اور ان کی جگہ کچھ دوسرے عقائد تسلیم کرا لینا، بس یہ ہمارا کام ہے، ہمیں تلوار سے کیا واسطہ؟ البتہ اتنا قصور کبھی کبھار ہم سے ضرور ہوا ہے کہ جب کوئی مارنے آیا تو ہم نے بھی جواب میں ہاتھ اٹھا دیا۔ سو اب ہم اس سے بھی توبہ کر چکے ہیں۔ حضور کی طمانیت کے لیے تلوار والے جہاد کو ’’سرکاری طور پر‘‘ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اب تو جہاد فقط زبان و قلم کی کوشش کا نام ہے۔ توپ اور بندوق چلانا سرکار کاکام ہے اور زبان و قلم چلانا ہمارا کام۔
جہاد کے متعلق غلط فہمی کے اسباب
خیر یہ تو سیاسی چالوں کی بات ہے۔ مگر خالص علمی حیثیت سے جب ہم ان اسباب کا تجزیہ کرتے ہیں جن کی وجہ سے ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کی کوشش کو سمجھنا غیر مسلموں اور خود مسلمانوں کے لیے دشوار ہوگیا ہے تو ہمیں دو بڑی اور بنیادی غلط فہمیوں کا سراغ ملتا ہے۔
پہلی غلط فہمی ہے کہ اسلام کو ان معنوں میں محض ایک مذہب سمجھ لیا گیا ہے جن میں لفظ مذہب عموماً بولا جاتا ہے۔
دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان معنوں میں محض ایک قوم سمجھ لیا گیا جن میں یہ لفظ عموماً مستعمل ہوتا ہے۔
ان دو غلط فہمیوں نے صرف ایک جہاد ہی کے مسئلے کو نہیں بلکہ مجموعی حیثیت سے پورے اسلام کے نقشے کو بدل ڈالا ہے اور مسلمانوں کی پوزیشن کلی طور پر غلط کرکے رکھ دی ہے۔
مذہب کے معنی عام اصطلاح کے اعتبار سے بجز اس کے اور کیا ہیں کہ وہ چند عقائد اور چند عبادات اور مراسم کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے مذہب کو واقعی ایک پرائیویٹ معاملہ ہی ہونا چاہیے۔ آپ کو اختیار ہے کہ جو عقیدہ چاہیں رکھیں، اور آپ کا ضمیر جس کی عبادت کرنے پر راضی ہو اس کو جس طرح چاہیں پکاریں۔ زیادہ سے زیادہ اگر کوئی جوش اور سرگرمی آپ کے اندر اس مذہب کے لیے موجود ہے تو آپ دنیا بھر میں اپنے عقائد کی تبلیغ کرتے پھریئے، اور دوسرے عقائد والوں سے مناظرے کیجیے۔ اس کے لیے تلوار ہاتھ میں پکڑنے کا کون سا موقع ہے؟ کیا آپ لوگوں کو مار مار کر اپنا ہم عقیدہ بنانا چاہتے ہیں؟ یہ سوال لازمی طور پر پیدا ہوتا ہے جبکہ آپ اسلام کو عام اصطلاح کی رُو سے ایک ’’مذہب‘‘ قرار دے لیں، اور یہ پوزیشن اگر واقعی اسلام کی ہو تو جہاد کے لیے حقیقت میں کوئی وجہ جواز ثابت نہیں کی جاسکتی۔
اسی طرح قوم کے معنی اس کے سوا کیا ہیں کہ وہ ایک متجانس گروہ اشخاص (Homogeneous group of men)کا نام ہے جو چند بنیادی امور میں مشترک ہونے کی وجہ سے باہم مجتمع اور دوسرے گروہوں سے ممتاز ہوگیا ہے۔ اس معنی میں جو گروہ ایک قوم ہو وہ دو ہی وجوہ سے تلوار اٹھاتا ہے اور اٹھا سکتا ہے، یا تو اس کے جائز حقوق چھیننے کے لیے کوئی اس پر حملہ کرے، یا وہ خود دوسروں کے جائز حقوق چھیننے کے لیے حملہ آور ہو۔ پہلی صورت میں توخیر تلوار اٹھانے کے لیے کچھ نہ کچھ اخلاقی جواز موجود بھی ہے (اگرچہ بعض دھرماتماوں کے نزدیک یہ بھی ناجائز ہے) لیکن دوسری صورت کو تو بعض ڈکٹیٹروں کے سوا کوئی بھی جائز نہیں کہہ سکتا، حتیٰ کہ برطانیہ اور فرانس جیسی وسیع سلطنتوں کے مدبرین بھی اس کو جائز کہنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔
جہاد کی حقیقت
پس اگر اسلام ایک ’’مذہب‘‘ اور مسلمان ایک ’’قوم‘‘ ہے تو جہاد کی ساری معنویت جس کی بنا پر اسے افضل العبادات کہا گیا ہے، سرے سے ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام کسی ’’مذہب‘‘ کا اور مسلمان کسی ’’قوم‘‘ کا نام نہیں ہے بلکہ دراصل اسلام ایک انقلابی نظریہ و مسلک ہے جو تمام دنیا کے اجتماعی نظم (social order)کو بدل کر اپنے نظریہ و مسلک کے مطابق تعمیر کرنا چاہتا ہے اور مسلمان اس بین الاقوامی انقلابی جماعت (International Revolutionary Party)کا نام ہے جسے اسلام اپنے مطلوبہ انقلابی پروگرام کو عمل میں لانے کے لیے منظم کرتا ہے، اور جہاد اس انقلابی جدوجہد (Revolutionary struggle)اس انتہائی صرف طاقت کا نام ہے جو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے عمل میں لائی جائے۔
تمام انقلابی مسلکوں کی طرح اسلام بھی عام مروج الفاظ کو چھوڑ کر اپنی ایک خاص اصطلاح زبان (terminology)اختیار کرتا ہے تاکہ اس کے انقلابی تصورات عام تصورات سے ممتاز ہوسکیں۔ لفظ جہاد بھی اسی مخصوص اصطلاحی زبان سے تعلق رکھتا ہے۔ اسلام نے حرب اور اسی نوعیت کے دوسرے عربی الفاظ جو جنگ (war)کے مفہوم کو ادا کرتے ہیں، قصدًا ترک کر دیئے اور ان کی جگہ ’’جہاد‘‘ کا لفظ استعمال کیا جو (struggle)کا ہم معنی ہے بلکہ اس سے زیادہ مبالغہ رکھتا ہے۔ انگریزی میں اس کا صحیح مفہوم یوں ادا کیا جاسکتا ہے:
(To exert one’s utmost endavour in furthering a cause)
’’اپنی تمام طاقتیں کسی مقصد کی تحصیل میں صرف کر دینا۔‘‘
سوال یہ ہے کہ پرانے الفاظ کو چھوڑ کر یہ نیا لفظ کیوں اختیار کیاگیا؟ اس کا جواب بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ ’’جنگ‘‘ کا لفظ قوموں اور سلطنتوں کی ان لڑائیوں کے لیے استعمال ہوتا تھا اور آج تک ہوتا رہا ہے، جو اشخاص یا جماعتوں کی نفسانی اغراض کے لیے کی جاتی ہیں۔ ان لڑائیوں کے مقاصد محض ایسے شخصی یا اجتماعی مقاصد ہوتے ہیں جن کے اندر کسی نظریے اور کسی اصول کی حمایت کا شائبہ نہیں ہوتا۔ اسلام کی لڑائی چونکہ اس نوعیت کی نہیں ہے اس لیے وہ سرے سے اس لفظ کو ہی ترک کر دیتا ہے۔ اس کے پیش نظر ایک قوم کا مفاد یا دوسری قوم کا نقصان نہیں ہے۔ وہ اس سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا کہ زمین پر ایک سلطنت کا قبضہ رہے یا دوسری سلطنت کا۔ اس کو دلچسپی جس چیز سے ہے وہ محض انسانیت کی فلاح ہے۔ اس فلاح کے لیے وہ اپنا ایک خاص نظریہ اور ایک عملی مسلک رکھتا ہے۔ اس نظریے اور مسلک کے خلاف جہاں جس چیز کی حکومت بھی ہے اسلام اس کو مٹانا چاہتا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ کوئی قوم ہو اور کوئی ملک ہو۔ اس کا مدعا اپنے نظریے اور مسلک کی حکومت قائم کرنا ہے بلالحاظ اس کے کہ کون اس کا جھنڈا لے کر اٹھتا ہے اور کس کی حکمرانی پر اس کی ضرب پڑتی ہے۔ وہ زمین مانگتا ہے ____ زمین کا ایک حصہ نہیں بلکہ پورا کرۂ زمین ____ اس لیے نہیں کہ ایک قوم یا بہت سی قوموں کے ہاتھ سے نکل کر زمین کی حکومت کسی خاص قوم کے ہاتھ میں آجائے، بلکہ صرف اس لیے کہ انسانیت کی فلاح کا جو نظریہ اور پروگرام اس کے پاس ہے اس سے تمام نوع انسانی متمتع ہو۔ اس غرض کے لیے وہ تمام ان طاقتوں سے کام لینا چاہتا ہے جو انقلاب برپا کرنے کے لیے کار گر ہوسکتی ہیں اور ان سب طاقتوں کے استعمال کا ایک جامع نام ’’جہاد‘‘ رکھتا ہے۔ زبان و قلم کے زور سے لوگوں کے نقطۂ نظر کو بدلنا اور ان کے اندر ذہنی انقلاب پیدا کرنا بھی جہاد ہے۔ تلوار کے زور سے پرانے ظالمانہ نظام زندگی کو بدل دینا اور نیا عادلانہ نظام مرتب کرنا بھی جہاد ہے اور اس راہ میں مال صرف کرنا اور جسم سے دوڑ دھوپ کرنا بھی جہاد ہے۔
فی سبیل اللہ کی لازمی قید
لیکن اسلام کا جہاد نرا ’’جہاد‘‘ نہیں ہے بلکہ ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ ہے اور ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی قید اس کے ساتھ ایک لازمی قید ہے۔ یہ ’’فی سبیل اللہ‘‘ کا لفظ بھی اسلام کی اسی مخصوص اصطلاحی زبان سے تعلق رکھتا ہے جس کی طرف ابھی میں اشارہ کر چکا ہوں۔ اس کا لفظی ترجمے ہے ’’راہ خدا میں‘‘ اس ترجمہ سے لوگ غلط فہمی میں پڑ گئے۔ اور یہ سمجھ بیٹھے کہ زبردستی لوگوں کو اسلام کے مذہبی عقائد کا پیرو بنانا ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ ہے، کیونکہ لوگوں کے تنگ دماغوں میں ’’راہ خدا‘‘ کا کوئی مفہوم اس کے سوا نہیں سما سکتا۔ مگر اسلام کی زبان میں اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ ہر وہ کام جو اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے کیا جائے اور جس کے کرنے والے کا مقصد اس سے خود کوئی دنیوی فائدہ اٹھانا نہ ہو، بلکہ محض خدا کی خوشنودی حاصل کرنا ہو، اسلام ایسے کام کو ’’فی سبیل اللہ‘‘ قرار دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ خیرات دیتے ہیں اس نیت سے کہ اسی دنیا میں مادی یا اخلاقی طور پر اس خیرات کا کوئی فائدہ آپ کی طرف پلٹ کر آئے تو یہ فی سبیل اللہ نہیں ہے۔ اور اگر خیرات سے آپ کی نیت یہ ہے کہ ایک غریب انسان کی مدد کرکے آپ خدا کی خوشنودی حاصل کریں تو یہ فی سبیل اللہ ہے۔ پس یہ اصطلاح مخصوص ہے ایسے نیک کاموں کے لیے جو کامل خلوص کے ساتھ ہر قسم کی نفسانی اغراض سے پاک ہو کر اس نظریے پر کیے جائیں کہ انسان کا دوسرے انسانوں کی فلاح کے لیے کام کرنا خدا کی خوشنودی کا موجب ہے، اور انسان کی زندگی کا نصب العین مالک کائنات کی خوشنودی حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
’’جہاد‘‘ کے لیے بھی ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی قید اسی غرض کے لیے لگائی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ جب نظام حکومت میں انقلاب برپا کرنے اور اسلامی نظریے کے مطابق نیا نظام مرتب کرنے کے لیے جدوجہد کرنے اٹھے، تو اس قیام اور اس سربازی و جاں نثاری میں اس کی اپنی کوئی نفسانی غرض نہ ہونی چاہیے، اس کا یہ مقصد ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ قیصر کو ہٹا کر خود قیصر بن جائے، اپنی ذات کے لیے مال و دولت یا شہرت و ناموری یا عزت و جاہ حاصل کرنے کا شائبہ تک اس کی جدوجہد کے مقاصد میں شامل نہ ہونا چاہیے، اس کی تمام قربانیوں اور ساری محنتوں کا مدعا صرف یہ ہونا چاہیے کہ بندگان خدا کے درمیان ایک عادلانہ نظام زندگی قائم کیا جائے اور اس کے معاوضے میں خدا کی خوشنودی کے سوا اور کچھ اس کو مطلوب نہ ہو۔ قرآن کہتا ہے:
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا۝۰ۭ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِيْنَ القصص28:83
آخرت میں عزت کا مقام ہم نے ان لوگوں کے لیے رکھا ہے جو زمین میں اپنی بڑائی قائم کرنا اور فساد کرنا نہیں چاہتے۔ اور عاقبت کی کامیابی تو خدا ترس لوگوں کے لیے ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیاراہِ خدا کی جنگ سے کیا مراد ہے؟ ایک شخص مال کے لیے جنگ کرتا ہے۔ دوسرا شخص بہادری کی شہرت حاصل کرنے کے لیے جنگ کرتا ہے۔ تیسرے شخص کو کسی سے عداوت ہوتی ہے یا قومی حمیت کا جوش ہوتا ہے اس لیے جنگ کرتا ہے۔ ان میں سے کس کی جنگ فی سبیل اللہ ہے؟ آن حضرت نے جواب دیا: کسی کی بھی نہیں۔ فی سبیل اللہ تو صرف اس شخص کی جنگ ہے جو خدا کا بول بالا کرنے کے سوا کوئی مقصد نہیں رکھتا۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ اگر کسی شخص نے جنگ کی اور اس کے دل میں اونٹ باندھنے کی ایک رسی حاصل کرنے کی نیت ہوئی تو اس کا اجر ضائع ہوگیا۔ اللہ صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جو محض اس کی خوشنودی کے لیے ہو، کسی شخصی یا جماعتی غرض کے لیے نہ ہو۔ پس جہاد کے لیے فی سبیل اللہ کی قید اسلامی نقطۂ نظر سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔۱؎ مجرد جہاد تو دنیا میں سب ہی جاندار کرتے ہیں۔ ہر ایک اپنے مقصد کی تحصیل کے لیے اپنا پورا زور صرف کر رہا ہے۔ لیکن ’’مسلمان‘‘ جس انقلابی جماعت کا نام ہے اس کے انقلابی نظریات میں سے ایک اہم ترین نظریہ بلکہ بنیادی نظریہ یہ ہے کہ اپنی جان و مال کھپائو، دنیا کی ساری سرکش طاقتوں سے لڑو، اپنے جسم و روح کی ساری طاقتیں خرچ کر دو، نہ اس لیے کہ دوسرے سرکشوں کو ہٹا کر تم ان کی جگہ لے لو، بلکہ صرف اس لیے کہ دنیا سے سرکشی و طغیان مٹ جائے اور خدا کا قانون دنیا میں نافذ ہو۔
جہاد کے اس مفہوم اور فی سبیل اللہ کی اصل معنویت کو مختصراً بیان کر دینے کے بعد اس دعوت انقلاب کی تھوڑی سی تشریح کرنا چاہتا ہوں جو اسلام لے کر آیا ہے تاکہ آسانی کے ساتھ یہ سمجھا جاسکے کہ اس دعوت کے لیے جہاد کی حاجت کیا ہے اور اس کی غایت (Objective)کیا ہے۔
اسلام کی دعوتِ انقلاب
اسلام کی دعوت انقلاب کا خلاصہ یہ ہے:
يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ البقرہ2:21
اے انسانو! صرف اپنے اس رب کی بندگی کرو جس نے تمھیں پیدا کیا ہے۔
اسلام مزدوروں، یا زمینداروں یا کاشتکاروں یا کارخانہ داروں کو نہیں پکارتا بلکہ تمام انسانوں کو پکارتا ہے۔ اس کا خطاب انسان سے بحیثیت انسان ہے اور وہ صرف یہ کہتا ہے کہ اگر تم خدا کے سوا کسی کی بندگی، اطاعت، فرمانبرداری کرتے ہو تو اسے چھوڑ دو، اور اگر خود تمھارے اندر خدائی کا داعیہ ہے تو اسے بھی نکال دو کہ دوسروں سے اپنی بندگی کرانے اور دوسروں کا سر اپنے آگے جھکوانے کا حق بھی تم میں سے کسی کو حاصل نہیں ہے، تم سب کو ایک خدا کی بندگی قبول کرنی چاہیے اور اس بندگی میں سب کو ایک سطح پر آجانا چاہیے۔
تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَۃٍ سَوَاۗءٍؚبَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللہَ وَلَا نُشْرِكَ بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۭ آل عمران3:64
آئو ہم اور تم ایک ایسی بات پر جمع ہو جائیں جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے وہ یہ ہے کہ ہم خدا کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اور خداوندی میں کسی کو خدا کا شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے بجائے امر و نہی کا مالک بھی نہ بنائے۔
یہ عالمگیر اور کلی انقلاب کی دعوت تھی۔ اس نے پکار کر کہا کہ اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ حکومت سوائے خدا کے اور کسی کی نہیں ہےکسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ بذات خود انسانوں کا حکمراں بن جائے اور اپنے اختیار سے جس چیز کا چاہے حکم دے اور جس چیز سے چاہے روک دے۔ کسی انسان کو بالذات امر و نہی کا مالک سمجھنا دراصل خدائی میں اسے شریک کرنا ہے اور یہی بنائے فساد ہے۔ اللہ نے انسان کو جس صحیح فطرت پر پیدا کیا ہے اور زندگی بسر کرنے کا جو سیدھا راستہ بتایا ہے اس سے انسان کے ہٹنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگ خدا کو بھول جائیں اور نتیجۃً خود اپنی حقیقت کو بھی فراموش کر دیں۔ اس کا نتیجہ لازمی طور پر یہی ہوتا ہے کہ ایک طرف بعض اشخاص یا خاندان یا طبقے خدائی کا کھلا یا چھپا داعیہ لے کر اٹھتے ہیں اور اپنی طاقت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر لوگوں کو اپنا بندہ بنا لیتے ہیں اور دوسری طرف اسی خدا فراموشی و خود فراموشی کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگوں کا ایک حصہ ان طاقتوروں کی خداوندی مان لیتا ہے اور ان کے اس حق کو تسلیم کرلیتا ہے کہ یہ حکم کریں اور وہ اس حکم کے آگے سر جھکا دیں۔ یہی دنیا میں ظلم و فساد اور ناجائز انتفاع کی (exploitation)بنیاد ہے، اور اسلام پہلی ضرب اسی پر لگاتا ہے۔ وہ ہانکے پکارے کہتا ہے:
وَلَا تُطِيْعُوْٓا اَمْرَ الْمُسْرِفِيْنَ الَّذِيْنَ يُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ
الشعراء26: 151-152
ان لوگوں کا حکم ہرگز نہ مانو جو اپنی حد جائز سے گزر گئے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔
وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَكَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا الکہف18:28
اس شخص کی اطاعت ہرگز نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جو اپنی خواہشات نفس کا بندہ بن گیا ہے اور جس کاکام افراط و تفریط پر مبنی ہے۔
اَنْ لَّعْنَۃُ اللہِ عَلَي الظّٰلِــمِيْنَ الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ وَيَبْغُوْنَہَا عِوَجًا۝۰ۚ
الاعراف7: 44-45
خدا کی لعنت ہو ان ظالموں پر جو خدا کے بنائے ہوئے زندگی کے سیدھے راستے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں اور اس کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں۔
وہ لوگوں سے پوچھتا ہے کہ ءَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ؟ یوسف12:39 یہ بہت سے چھوٹے بڑے خدا جن کی بندگی میں تم پسے جارہے ہو ان کی بندگی قبول ہے، یا اس ایک خدا کی جو سب سے زبردست ہے؟ اگر اس خدائے واحد کی بندگی قبول نہ کرو گے تو ان چھوٹے اور جھوٹے خدائوں کی آقائی سے تمھیں کبھی نجات نہ مل سکے گی، یہ کسی نہ کسی طور سے تم پر تسلط پائیں گے، اور فساد برپا کرکے رہیں گے:
الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَۃً اَفْسَدُوْہَا وَجَعَلُوْٓا اَعِزَّۃَ اَہْلِہَآ اَذِلَّۃً۝۰ۚ وَكَذٰلِكَ يَفْعَلُوْنَ
النمل27: 34
یہ بادشاہ جب کسی بستی میں گھستے ہیں تو اس کے نظام حیات کو تہ و بالا کر ڈالتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں اور ان کا یہی وتیرہ ہے۔
وَاِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِي الْاَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيْہَا وَيُہْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ۝۰ۭ وَاللہُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ البقرہ2:205
اور جب وہ اقتدار پالیتا ہے تو زمین میں فساد پھیلاتا ہے۔ کھیتوں کو خراب اور نسلوں کو تباہ کرتا ہے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔
یہاں پوری تفصیل کا موقع نہیں۔ مختصراً میں یہ بات آپ کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام کی دعوت توحید و خدا پرستی محض اس معنی میں ایک مذہبی عقیدے کی دعوت نہ تھی جس میں اور دوسرے مذہبی عقائد کی دعوت ہوا کرتی ہے، بلکہ حقیقت میں یہ ایک اجتماعی انقلاب (Social revolution)کی دعوت تھی۔ اس کی ضرب بلاواسطہ ان طبقوں پر پڑتی ہے جنھوں نے مذہبی رنگ میں پروہت بن کر، یا سیاسی رنگ میں بادشاہ اور رئیس اور حکمران گروہ بن کر، یا معاشی رنگ میں مہاجن اور زمیندار اور اجارہ دار بن کر عامۃ الناس کو اپنا بندہ بنا لیا تھا۔ یہ کہیں علانیہ ارباب من دُون اللہ بنے ہوئے تھے، دنیا سے اپنے پیدائشی طبقاتی حقوق کی بنا پر اطاعت و بندگی کا مطالبہ کرتے تھے اور صاف کہتے تھے کہ مَالَکُمْ مِنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ اور اَنَاَ ربُّکمُ الْاَعْلیٰ اور اَنَااُحیٖ وَاُمِیْتُ اور مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً۔اور کسی جگہ انھوں نے عامۃ الناس کی جہالت کو استعمال کرنے کے لیے بتوں اور ہیکلوں کی شکل میں مصنوعی خدا بنا رکھے تھے جن کی آڑ پکڑ کر یہ اپنے خداوندی حقوق بندگان خدا سے تسلیم کراتے تھے۔ پس کفر و شرک اور بت پرستی کے خلاف اسلام کی دعوت، اور خدائے واحد کی بندگی و عبودیت کے لیے اسلام کی تبلیغ براہ راست حکومت اور اس کو سہارا دینے والے یا اس کے سہارے چلنے والے طبقوں کی اغراض سے متصادم ہوئی تھی۔ اس وجہ سے جب کبھی کسی نبی نے یَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ کی صدا بلند کی، حکومت وقت فوراً اس کے مقابلے میں آن کھڑی ہوئی، اور تمام ناجائز انتفاع کرنے والے طبقے اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے، کیونکہ یہ محض ایک مابعد الطبیعی قضیے (Metaphysical Proposition) کا بیان نہ تھا، بلکہ ایک اجتماعی انقلاب کا اعلان تھا، اور اس میں پہلی آواز سنتے ہی سیاسی شورش کی بُو سونگھ لی جاتی تھی۔
اسلامی دعوت انقلاب کی خصوصیت
اس میں شک نہیں کہ انبیاء علیہم السلام سب کے سب انقلابی لیڈر تھے، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے انقلابی لیڈر ہیں۔ لیکن جو چیز دنیا کے عام انقلابیوں اور ان خدا پرست انقلابی لیڈروں کے درمیان واضح خط امتیاز کھینچتی ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے انقلابی لوگ خواہ کتنے ہی نیک نیت کیوں نہ ہوں، عدل اور توسط کے صحیح مقام کو نہیں پا سکتے۔ وہ یا تو خود مظلوم طبقوں میں سے اٹھتے ہیں، یا ان کی حمایت کا جذبہ لے کر اٹھتے ہیں، اور پھر سارے معاملات کو انھی طبقوں کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نظر غیر جانبدارانہ اور خالص انسانیت کی نظر نہیں ہوتی بلکہ ایک طبقے کی طرف غصے و نفرت کا اور دوسرے طبقے کی طرف حمایت کا جذبہ لیے ہوئے ہوتی ہے۔ وہ ظلم کا ایسا علاج سوچتے ہیں جو نتیجۃً ایک جوابی ظلم ہوتا ہے۔ ان کے لیے انتقام، حسد اور عداوت کے جذبات سے پاک ہو کر ایک ایسا معتدل اور متوازن اجتماعی نظام تجویز کرنا ممکن نہیں ہوتا جس میں مجموعی طور پر تمام انسانوں کی فلاح ہو۔ بخلاف اس کے انبیاء علیہم السلام خواہ کتنے ہی ستائے گئے ہوں اور کتنا ہی ان پر اور ان کے ساتھیوں پر ظلم کیا گیا ہو، ان کی انقلابی تحریک میں کبھی ان کے شخصی جذبات کا اثر آنے نہیں پایا۔ وہ براہِ راست خدا کی ہدایت کے تحت کام کرتے تھے، اور خدا چونکہ انسانی جذبات سے منزہ ہے، کسی انسانی طبقے سے اس کا مخصوص رشتہ نہیں، نہ کسی دوسرے انسانی طبقے سے اس کو کوئی شکایت یا عداوت ہے، اس لیے خدا کی ہدایت کے تحت انبیاء علیہم السلام تمام معاملات کو بے لاگ انصاف کے ساتھ اس نظر سے دیکھتے تھے کہ تمام انسانوں کی مجموعی فلاح و بہبود کس چیز میں ہے اور کس طرح ایک ایسا نظام بنایا جائے جس میں ہر شخص اپنی جائز حدود کے اندر رہ سکے، اپنے جائز حقوق سے متمتع ہوسکے، اور افراد کے باہمی روابط، نیز فرد اور جماعت کے باہمی تعلق میں کامل توازن قائم ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی انقلابی تحریک کبھی طبقاتی نزاع (Class war)میں تبدیل نہ ہونے پائی۔ انھوں نے اجتماعی تعمیر نو (Social reconstruction) اس طرز پر نہیں کی کہ ایک طبقے کو دوسرے طبقے پر مسلط کر دیں، بلکہ اس کے لیے عدل کا ایسا طریقہ اختیار کیا جس میں تمام انسانوں کے لیے ترقی اور مادی و روحانی سعادت کے یکساں امکانات رکھے گئے تھے۔
جہاد کی ضرورت اور اس کی غایت
مختصر مقالے میں میرے لیے اس اجتماعی نظام (Social order)کی تفصیلات پیش کرنا مشکل ہے جو اسلام نے تجویز کیا ہے۔ تفصیل کا موقعہ ان شاء اللہ عنقریب آئے گا۔ یہاں اپنے موضوع کی حد میں رہتے ہوئے جس بات کو مجھے واضح کرنا تھا وہ صرف یہ تھی کہ اسلام محض ایک مذہبی عقیدہ اور چند عبادات کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک جامع سسٹم ہے جو دنیا سے زندگی کے تمام ظالمانہ اورمفسدانہ نظامات کو مٹانا چاہتا ہے اور ان کی جگہ اپنا ایک اصلاحی پروگرام نافذ کرنا چاہتا ہے جس کو وہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے سب سے بہتر سمجھتا ہے۔
اس تخریب و تعمیر اور انقلاب و اصلاح کے لیے وہ کسی ایک قوم یا گروہ کو نہیں بلکہ تمام انسانوں کو دعوت دیتا ہے۔ وہ خود ان ظالم طبقوں اور ناجائز انتفاع کرنے والے گروہوں، حتیٰ کہ بادشاہوں اور رئیسوں کو بھی پکارتا ہے کہ آئو اس جائز حد کے اندر رہنا قبول کرلو جو تمھارے خالق نے تمھارے لیے مقرر کی ہے۔ اگر تم عدل اور حق کے نظام کو قبول کرلو گے تو تمھارے لیے امن اور سلامتی ہے۔ یہاں کسی انسان سے دشمنی نہیں ہے، بلکہ دشمنی جو کچھ بھی ہے ظلم سے ہے، فساد سے ہے، بداخلاقی سے ہے، اس بات سے ہے کہ کوئی شخص اپنی فطری حد سے تجاوز کرکے وہ کچھ حاصل کرنا چاہے جو فطرت اللہ کے لحاظ سے اس کا نہیں ہے۔
یہ دعوت جو لوگ بھی قبول کرلیں وہ خواہ کسی طبقے، کسی نسل، کسی قوم اور کسی ملک کے ہوں، یکساں حقوق اور مساویانہ حیثیت سے اسلامی جماعت کے رکن بن جاتے ہیں، اور اس طرح وہ بین الاقوامی انقلابی پارٹی تیار ہوتی ہے جسے قرآن ’’حزب اللہ‘‘ کے نام سے یاد کرتا ہے، اور جس کا دوسرا نام ’’اسلامی جماعت‘‘ یا ’’امت مسلمہ‘‘ ہے۔
یہ پارٹی وجود میں آتے ہی اپنے مقصد وجود کی تحصیل کے لیے جہاد شروع کر دیتی ہے۔ اس کے عین وجود کا اقتضاء یہی ہے کہ یہ غیر اسلامی نظام کی حکمرانی کو مٹانے کی کوشش کرے اور اس کے مقابلے میں تمدن و اجتماع کے اس معتدل و متوازن ضابطے کی حکومت قائم کرے جسے قرآن ایک جامع لفظ ’’کلمۃ اللہ‘‘ سے تعبیر کرتا ہے۔ اگر یہ پارٹی حکومت کو بدلنے اور اسلامی نظام حکومت قائم کرنے کی کوشش نہ کرے تو اس کے وجود میں آنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے کیونکہ یہ کسی اور مقصد کے لیے بنائی ہی نہیں گئی ہے، اور اس جہاد کے سوا اس کی ہستی کا اور کوئی مصرف ہی نہیں۔ قرآن اس کی پیدائش کا ایک ہی مقصد بیان کرتا ہے اور وہ یہ ہے:
كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝۰ۭ آل عمران3:110
تم وہ بہترین امت ہو جسے نوع انسانی کے لیے نکالا گیا ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو۔
یہ مذہبی تبلیغ کرنے والے واعظین (preachers)اور مبشرین (missionaries) کی جماعت نہیں ہے بلکہ خدائی فوجداروں کی جماعت ہے (وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ وَارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ ) البقرہ2:143 اور اس کاکام یہ ہے کہ دنیا سے ظلم، فتنہ، فساد، بداخلاقی، طغیان اور ناجائز انتفاع کو بزور مٹا دے، اَرْبابٌ مِّنْ دُوْنِ اللہ کی خدائی کو ختم کر دے، اور بدی کی جگہ نیکی قائم کرے۔ وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلہِ ۱؎ ۔ البقرہ2:193 وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۭ اِلَّا تَفْعَلُوْہُ تَكُنْ فِتْنَۃٌ فِي الْاَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيْرٌ الانفال8:73 ۱؎۔ ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۝۰ۙ وَلَوْ كَرِہَ الْمُشْرِكُوْنَ ؎۲ التوبۃ9:33 لہٰذا اس پارٹی کے لیے حکومت کے اقتدار پر قبضہ کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے، کیونکہ مفسدانہ نظام تمدن ایک فاسد حکومت کے بل پر ہی قائم ہوتا ہے، اور ایک صالح نظام تمدن اس وقت تک کسی طرح قائم ہی نہیں ہوسکتا جب تک کہ حکومت مفسدین سے مسلوب ہو کر مصلحین کے ہاتھ میں نہ آجائے۔
دنیا کی اصلاح سے قطع نظر اس جماعت کے لیے خود اپنے مسلک پر عامل ہونا بھی غیر ممکن ہے اگر حکومت کا نظام کسی دوسرے مسلک پر قائم ہو۔ کوئی پارٹی جو کسی سسٹم کو برحق سمجھتی ہو کسی دوسرے سسٹم کی حکومت میں اپنے مسلک کے مطابق زندگی بسر نہیں کرسکتی۔ ایک اشتراکی مسلک کا آدمی اگر انگلستان یا امریکہ میں رہ کر اشتراکیت کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہے تو کسی طرح اپنے اس ارادے میں کامیاب نہیں ہوسکتا، کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام کا ضابطۂ حیات حکومت کی طاقت سے بجبر اس پر مسلط ہوگا اور وہ اس کی مہر بانی سے کسی طرح بچ نہ سکے گا۔ اسی طور پر ایک مسلمان بھی اگر کسی غیر اسلامی حکومت میں رہ کر اسلامی اصول پر زندگی بسر کرنا چاہے تو اس کاکامیاب ہونا بھی محال ہے۔ جن قوانین کو وہ باطل سمجھتا ہے، جن ٹیکسوں کووہ حرام سمجھتا ہے، جن معاملات کو وہ ناجائز سمجھتا ہے، جس طرز زندگی کو وہ فاسد سمجھتا ہے جس طریق تعلیم کو وہ مہلک سمجھتا ہے وہ سب کے سب اس پر، اس کے گھر بار پر، اس کی اولاد پر اس طرح مسلط ہو جائیں گے کہ وہ کسی طرح ان کی گرفت سے بچ کر نہ نکل سکے گا۔ لہٰذا جو شخص یا گروہ کسی مسلک پر اعتقاد رکھتا ہو وہ اپنے اعتقاد کے فطری اقتضاء ہی سے اس امر پر مجبور ہوتا ہے کہ مسلک مخالف کی حکومت کو مٹانے اور خود اپنے مسلک کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ اس کے بغیر وہ اپنے مسلک پر عمل کر ہی نہیں سکتا۔ اگر وہ اس کوشش سے غفلت برتتا ہے تو اس کا صریح مطلب یہ ہے کہ وہ درحقیقت اپنے عقائد ہی میں جھوٹا ہے۔
عَفَا اللہُ عَنْكَ۝۰ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ حَتّٰي يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَتَعْلَمَ الْكٰذِبِيْنَ لَا يَسْـتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ يُّجَاہِدُوْا بِاَمْوَالِـہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ۝۰ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌۢ بِالْمُتَّقِيْنَ اِنَّمَا يَسْـتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ
التوبۃ9: 43-45
اے نبی! خدا تمھیں معاف کرے، تم نے ان لوگوں کو جہاد کی شرکت سے علیٰحدہ رہنے کی اجازت کیوں دے دی؟ حالانکہ جہاد ہی وہ کسوٹی ہے جس سے تم پر کھل سکتا ہے کہ اپنے ایمان میں سچے کون ہیں اور جھوٹے کون، جو لوگ اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے یہ درخواست نہیں کرسکتے کہ انھیں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرنے سے معذور رکھا جائے… ایسی درخواست صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو نہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں، اور نہ یوم آخر پر۔
ان الفاظ میں قرآن نے صاف اور صریح فتویٰ دے دیا ہے کہ اپنے اعتقاد (convictions)میں کسی جماعت کے صادق ہونے کا واحد معیار یہی ہے کہ وہ جس مسلک پر اعتقاد رکھتی ہو اس کو حکمران بنانے کے لیے جان و مال سے جہاد کرے۔ اگر تم اپنے اوپر مسلک مخالف کی حکومت کو گوارا کرتے ہو تو یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ تم اپنے اعتقاد میں جھوٹے ہو، اور اس کا فطری نتیجہ یہی ہے اور یہی ہوسکتا ہے کہ آخر کار اسلام کے مسلک پر تمھارا نام نہاد عقیدہ بھی باقی نہ رہے گا۔ ابتداء میں تم مسلک مخالف کی حکومت کو بکراہت گوارا کرو گے، پھر رفتہ رفتہ تمھارے دل اس سے مانوس ہوتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ کراہت رغبت سے بدل جائے گی، اور آخر میں نوبت اس حد تک پہنچے گی کہ مسلک مخالف کی حکومت قائم ہونے اور قائم رہنے میں تم خود مددگار بنو گے، اپنی جان و مال سے جہاد اس لیے کرو گے کہ مسلک اسلام کے بجائے مسلک غیر اسلام قائم ہو یا قائم رہے، تمھاری اپنی طاقتیں مسلک اسلام کے قیام کی مزاحمت میں صرف ہونے لگیں گی، اور یہاں پہنچ کر تم میں اور کافروں میں اسلام کے منافقانہ دعویٰ، ایک بدترین جھوٹ، ایک پُر فریب نام کے سوا کوئی فرق نہ رہے گا۔ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نتیجے کو صاف صاف بیان فرما دیا ہے:
وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَتَأْمُرُنَّ بِالمْعَرُوْفِ وَلَتَنْھَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ لَتَأْخُذُنَّ یَدَ الْمُسٔیِ وَلَتَأَطِرُنَّہٗ عَلَی الْحَقِّ اِطْرَائً اَوْ لَیَضْرِبَنَّ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِکُمْ عَلٰی بَعْضٍ اَوْلَیَلْعَنُکُمْ کَمَا لَعَنَھُمْ۔
اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یا تو تمھیں ایسا کرنا پڑے گا کہ نیکی کا حکم کرو اور بدی سے روکو، اور بدکار کا ہاتھ پکڑ لو اور اسے حق کی طرف بزور موڑ دو، یا پھر اللہ کے قانون فطرت کا نتیجہ ظاہر ہو کر رہے گا کہ بدکاروں کے دلوں کا اثر تمھارے دلوں پر بھی پڑ جائے اور ان کی طرح تم بھی ملعون ہو کر رہو۔
عالمگیر انقلاب
اس بحث سے آپ پر یہ بات واضح ہوگئی ہوگی کہ اسلامی جہاد کا مقصود (objective)غیر اسلامی نظام کی حکومت کو مٹا کر اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ اسلام یہ انقلاب صرف ایک ملک یا چند ملکوں میں نہیں بلکہ تمام دنیا میں برپا کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ ابتداء ً مسلم پارٹی کے ارکان کا فرض یہی ہے کہ جہاں جہاں وہ رہتے ہوں وہاں کے نظام حکومت میں انقلاب پیدا کریں۔ لیکن ان کی آخری منزل مقصود ایک عالمگیر انقلاب (world revolution)کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کوئی انقلابی مسلک جو قومیت کے بجائے انسانیت کی فلاح کے اصول لے کر اٹھا ہو، اپنے انقلابی مطمح نظر کو کبھی ایک ملک یا ایک قوم کے دائرے میں محدود نہیں کرسکتا، بلکہ وہ اپنی فطرت کے عین اقتضاء ہی سے مجبور ہے کہ عالمگیر انقلاب کو اپنا مطمح نظر بنائے۔ حق جغرافی حدود کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ میں اگر کسی دریا یا پہاڑ کے اس پار بھی حق ہی ہوں تو اس پار بھی حق ہی ہوں۔ نوع انسانی کے کسی حصے کو بھی مجھ سے محروم نہ رہنا چاہیے۔ انسان جہاں بھی ظلم و ستم کا اور افراط و تفریط کا تختۂ مشق بنا ہوا ہے وہاں اس کی مدد کے لیے پہنچنا میرا فرض ہے۔ اسی تخیل کو قرآن ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔
وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْيَۃِ الظَّالِمِ اَہْلُھَا۝۰ۚ النساء4:75
تمھیں کیا ہوگیا ہے کہ تم خدا کی راہ میں ان مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے نہیں لڑتے جنھیں کمزور پا کر دبا لیا گیا ہے اور جو دعائیں مانگتے ہیں کہ خدایا ہمیں اس بستی سے نکال جس کے کار فرما ظالم ہیں۔
علاوہ بریں قومی و ملکی تقسیمات کے باوجود انسانی تعلقات و روابط کچھ ایسی عالمگیری اپنے اندر رکھتے ہیں کہ کوئی ایک مملکت اپنے اصول و مسلک کے مطابق پوری طرح عمل نہیں کرسکتی جب تک کہ ہمسایہ ممالک میں بھی وہی اصول و مسلک رائج نہ ہو جائے۔ لہٰذا مسلم پارٹی کے لیے اصلاحِ عمومی اور تحفظِ خودی، دونوں کی خاطر یہ ناگزیر ہے کہ کسی ایک خطے میں اسلامی نظام کی حکومت قائم کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ جہاں تک اس کی قوتیں ساتھ دیں، اس نظام کو تمام اطرافِ عالم میں وسیع کرنے کی کوشش کرے۔ وہ ایک طرف اپنے افکار و نظریات کو دنیا میں پھیلائے گی اور تمام ممالک کے باشندوں کو دعوت دے گی کہ اس مسلک کو قبول کریں جس میں ان کے لیے حقیقی فلاح مضمر ہے۔ دوسری طرف اگر اس میں طاقت ہوگی تو وہ لڑ کر غیر اسلامی حکومتوں کو مٹا دے گی اور ان کی جگہ اسلامی حکومت قائم کرے گی۔
یہی پالیسی تھی جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے بعد خلفائے راشدین نے عمل کیا۔ عرب، جہاں مسلم پارٹی پیدا ہوئی تھی، سب سے پہلے اسی کو اسلامی حکومت کے زیر نگیں کیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطراف کے ممالک کو اپنے اصول و مسلک کی طرف دعوت دی، مگر اس کا نتظار نہ کیا کہ یہ دعوت قبول کی جاتی ہے یا نہیں، بلکہ قوت حاصل کرتے ہی رومی سلطنت سے تصادم شروع کر دیا۔ آنحضرت کے بعد جب حضرت ابوبکرؓ پارٹی کے لیڈر ہوئے تو انھوں نے روم اور ایران دونوں کی غیر اسلامی حکومت پر حملے کر دیا اور پھر حضرت عمرؓ نے اس حملے کو کامیابی کے آخری مراحل تک پہنچا دیا۔ مصر و شام اور روم و ایران کے عوام اوّل اوّل اس کو عرب کی امپیریلسٹ پالیسی سمجھے۔ انھوں نے خیال کیا کہ جس طرح پہلے ایک قوم دوسری قوموں کو غلام بنانے کے لیے نکلا کرتی تھی اسی طرح اب بھی ایک قوم اسی غرض کے لیے نکلی ہے۔ اس غلط فہمی کی بنا پر لوگ قیصر و کسریٰ کے جھنڈے تلے مسلمانوں سے لڑنے کے لیے نکلے۔ مگر جب ان پر مسلم پارٹی کے انقلابی مسلک کا حال کھلا، جب انھیں معلوم ہوا کہ یہ جفاکارانہ قوم پرستی (Agressive Nationalism)کے علمبردار نہیں ہیں بلکہ قومی اغراض سے پاک ہیں اور محض ایک عادلانہ نظام قائم کرنے آئے ہیں، اور ان کا مقصد ان ظالم طبقوں کی خداوندی کو ختم کرنا ہے جو قیصریت و کسرویت کی پناہ میں ہم کو تباہ و برباد کر رہے ہیں، تو ان کی اخلاقی ہمدردیاں مسلم پارٹی کی طرف جھک گئیں، وہ قیصر و کسریٰ کے جھنڈے سے الگ ہوتے چلے گئے اور اگر مارے بندھے سے فوج میں بھرتی ہو کر لڑنے آئے بھی تو بے دلی سے لڑے۔ یہی سبب ہے ان حیرت انگیز فتوحات کا جو ابتدائی دَور میں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں، اور یہی سبب ہے اس کا کہ اسلامی حکومت قائم ہونے کے بعد جب ان ممالک کے باشندوں نے اسلامی نظام اجتماعی کو عملاً کام کرتے ہوئے دیکھا تو وہ خود فوج در فوج اس بین الاقوامی پارٹی میں شریک ہوتے چلے گئے اور خود اس مسلک کے علمبردار بن کر آگے بڑھے تاکہ دوسرے ملکوں میں بھی اس کو پھیلا دیں۔
جارحانہ اور مدافعانہ کی تقسیم غیر متعلق ہے
یہ جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس پر جب آپ غور کریں گے تو یہ بات بآسانی آپ کی سمجھ میں آجائے گی کہ جنگ کی جو تقسیم جارحانہ (offensive)اور مدافعانہ (deffensive)کی اصطلاحوں میں کی گئی ہے اس کا اطلاق سرے سے اسلامی جہاد پر ہوتا ہی نہیں۔ یہ تقسیم صرف قومی اور ملکی لڑائیوں پر ہی منطبق ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اصطلاحاً ’’حملہ‘‘ اور ’’مدافعت‘‘ کے الفاظ ایک ملک یا ایک قوم کی نسبت سے ہی بولے جاتے ہیں۔ مگر جب ایک بین الاقوامی پارٹی ایک جہانی نظریہ و مسلک کو لے کر اٹھے، اور تمام قوموں کو انسانی حیثیت سے اس مسلک کی طرف بلائے اور ہر قوم کے آدمیوں کو مساویانہ حیثیت سے اپنی پارٹی میں شریک کرے، اور محض مسلک مخالف کی حکومت کو مٹا کر اپنے مسلک کی حکومت قائم کرنے کے لیے جدوجہد کرے، تو ایسی حالت میں اصطلاحی حملہ اور اصطلاحی مدافعت کا قطعاً کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ بلکہ اگر اصطلاح سے قطع نظر کرلی جائے تب بھی اسلامی جہاد پر جارحانہ اور مدافعانہ کی تقسیم منطبق نہیں ہوتی۔ اسلامی جہاد بیک وقت جارحانہ بھی ہے اور مدافعانہ بھی۔ جارحانہ اس لیے کہ مسلم پارٹی مسلک مخالف کی حکمرانی پر حملہ کرتی ہے اور مدافعانہ اس لیے ہے کہ وہ خود اپنے مسلک پر عامل ہونے کے لیے حکومت کی طاقت حاصل کرنے پر مجبور ہے۔ پارٹی ہونے کی حیثیت سے اس کا کوئی گھر نہیں کہ وہ اس کی مدافعت کرے۔ اس کے پاس محض اپنے اصول ہیں جن کی وہ حمایت کرتی ہے۔ اسی طرح مخالف پارٹی کے بھی گھر پر وہ حملہ نہیں کرتی بلکہ اس کے اصولوں پر حملہ کرتی ہے اور اس حملے کا مدعا یہ نہیں ہے کہ اس سے زبردستی اس کے اصول چھڑائے جائیں، بلکہ مدعا صرف یہ ہے کہ اس کے اصولوں سے حکومت کی طاقت چھین لی جائے۔
ذِمّیوں کی حیثیت
یہیں سے یہ سوال بھی حل ہو جاتا ہے کہ اسلامی نظام حکومت میں ان لوگوں کی کیا حیثیت ہے جوکسی دوسرے عقیدہ و مسلک کے متبع ہوں۔ اسلام کا جہاد لوگوں کے عقیدہ و مسلک اور ان کے طریق عبادت یا قوانین معاشرت سے تعرض نہیں کرتا۔ وہ ان کو پوری آزادی دیتا ہے کہ جس عقیدے پر چاہیں قائم رہیں اور جس مسلک پر چاہیں چلیں۔ البتہ وہ ان کے اس حق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے کہ ایسے کسی طریقے پر حکومت کا نظام چلائیں جو اسلام کی نگاہ میں فاسد ہے۔ نیز وہ ان کے اس حق کو بھی نہیں مانتا کہ وہ معاملات کے ان طریقوں کو اسلامی نظام حکومت میں جاری رکھیں جو اسلام کے نزدیک اجتماعی فلاح کے لیے مہلک ہیں۔ مثلاً وہ حکومت کا نظام ہاتھ میں لیتے ہی سودی کاروبار کی تمام صورتوں کو مسدُود کر دے گا۔ جوئے کی ہرگز اجازت نہ دے گا۔ خرید و فروخت اور مالی لین دین کی ان تمام شکلوں کو روک دے گا جو اسلامی قانون میں حرام ہیں۔ قحبہ خانوں اور فواحش کے اڈوں کو کلیتاً بند کر دے گا۔ غیر مسلم عورتوں کو ستر کے کم سے کم حدود کی پابندی کرنے پر مجبور کرے گا اور انھیں تبرُّجِ جاہلیت کے ساتھ پھرنے سے روک دے گا، سنیما پر احتساب قائم کرے گا اور تمام غیر اخلاقی عناصر کو اس سے نکال دے گا۔ کسی گروہ کو مخلوط تعلیم کی اجازت نہ دے گا۔ اس قسم کے اور بہت سے امور ہیں جن میں ایک اسلامی نظام حکومت نہ صرف اجتماعی فلاح و بہبود کی خاطر، بلکہ اپنے تحفظ (defence)کی خاطر بھی ان تمدنی معاملات کی اجازت نہ دے گا جو غیر مسلموں کے مسلک میں چاہے ناجائز نہ ہوں، مگر اسلام کی نگاہ میں موجب فساد و ہلاکت ہیں۔
اس بات میں اگر کوئی شخص اسلام پر نارو اداری کا الزام عائد کرے تو اسے دیکھنا چاہیے کہ دنیا کے کسی انقلابی و اصلاحی مسلک نے دوسرے مسلک والوں کے ساتھ اتنی رواداری نہیں برتی ہے جتنی اسلام برتتا ہے۔ دوسری جگہ تو آپ دیکھیں گے کہ غیر مسلک والوں کے لیے زندگی دو بھر کر دی جاتی ہے۔۱؎ حتیٰ کہ وہ وطن چھوڑ کر نکل جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ لیکن اسلام غیر مسلک والوں کو پورے امن کے ساتھ ہر قسم کی ترقی کرنے کا موقع دیتا ہے، اور ان کے ساتھ ایسی فیاضی کا برتائو کرتا ہے جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔
امپیریلزم کا شبہ
یہاں پہنچ کر مجھے پھر اس بات کا اعادہ کرنا چاہیے کہ اسلام کی نظر میں جہاد صرف وہی ہے جو محض فی سبیل اللہ ہو، اور اس جہاد کے نتیجے میں جب اسلامی حکومت قائم ہو تو مسلمانوں کے لیے ہرگز جائز نہیں ہے کہ وہ قیصر و کسریٰ کو ہٹا کر خود ان کی جگہ لے لیں۔ مسلمان اس لیے نہیں لڑتا اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے نہیں لڑ سکتا کہ اس کی ذاتی حکومت قائم ہو جائے، اور وہ خدا کے بندوں کو اپنا بندہ بنا لے اور ناجائز طور پر لوگوں کی گاڑھی محنتوں کا روپیہ وصول کرکے اپنے لیے زمین میں جنتیں بنانے لگے۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ نہیں بلکہ جہاد فی سبیل الطاغوت ہے، اور ایسی حکومت کو اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ اسلام کا جہاد تو ایک خشک اور بے مزہ محنت ہے جس میں جان، مال اور خواہشات نفس کی قربانی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اگر یہ جہاد کامیاب ہو اور نتیجے میں حکومت مل جائے تو سچے مسلمان حکمران پر ذمہ داریوں کا اس قدر بھاری بوجھ عائد ہو جاتا ہے کہ اس غریب کے لیے راتوں کی نیند اور دن کی آسائش تک حرام ہو جاتی ہے۔ مگر اس کے معاوضے میں وہ حکومت و اقتدار کی ان لذتوں میں سے کوئی لذت بھی حاصل نہیں کرسکتا جن کی خاطر دنیا میں عموماً حکومت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسلام کافرمانروانہ تو رعیت کے عام افراد سے ممتاز کوئی بالاترہستی ہے، نہ وہ عظمت و رفعت کے تخت پر بیٹھ سکتا ہے، نہ اپنے آگے کسی سے گردن جھکوا سکتا ہے، نہ قانونِ شریعت کے خلاف ایک پتہ ہلا سکتا ہے، نہ اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ اپنے کسی عزیز یا دوست یا خود اپنی ذات کو کسی ادنیٰ سے ادنیٰ ہستی کے جائز مطالبے سے بچا سکے، نہ وہ حق کے خلاف ایک حبہ لے سکتا ہے اور نہ چپہ بھر زمین پر قبضہ کرسکتا ہے، ایک متوسط درجے کے مسلمان کو زندگی بسر کرنے کے لیے جتنی تنخواہ کافی ہوسکتی ہے اس سے زیادہ بیت المال سے ایک پائی لینا بھی اس کے لیے حرام ہے۔ وہ غریب نہ عالیشان قصر بنوا سکتا ہے، نہ خدم و حشم رکھ سکتا ہے، نہ عیش و عشرت کے سامان فراہم کر سکتا ہے۔ اس پر ہر وقت یہ خوف غالب رہتا ہے کہ ایک دن اس کے اعمال کا سخت حساب لیا جائے گا اور اگر حرام کا ایک پیسہ، جبر سے لی ہوئی زمین کا ایک چپہ، تکبر و فرعونیت کا ایک شمہ، ظلم و بے انصافی کا ایک دھبہ اور خواہشات نفسانی کی بندگی کا ایک شائبہ بھی اس کے حساب میں نکل آیا تو اسے سخت سزا بھگتنی ہوگی۔ اگر کوئی شخص حقیقت میں دنیا کا لالچی ہو تو اس سے بڑا کوئی بے وقوف نہ ہوگا اگر اسلامی قانون کے مطابق حکومت کا بار سنبھالنے پر آمادہ ہو، کیونکہ اسلامی حکومت کے فرمانروا سے بازار کے ایک معمولی دوکاندار کی پوزیشن زیادہ اچھی ہوتی ہے۔ وہ دن کو خلیفہ سے زیادہ کماتا ہے اور رات کو آرام سے پائوں پھیلا کر سوتا ہے، خلیفہ بے چارے کو نہ اس کے برابر آمدنی نصیب اور نہ رات کو چین سے سونا ہی نصیب۔
یہ بنیادی فرق ہے اسلامی حکومت اور غیر اسلامی حکومت میں۔ غیر اسلامی حکومت میں حکمران گروہ اپنی خداوندی قائم کرتا ہے اور اپنی ذات کے لیے ملک کے وسائل و ذرائع استعمال کرتا ہے۔ بخلاف اس کے اسلامی حکومت میں حکمراں گروہ مجرد خدمت کرتا ہے اور عام باشندوں سے بڑھ کر اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل نہیں کرتا۔ اسلامی حکومت کی سول سروس کو جو تنخواہیں ملتی تھیں، ان کا تقابل آج کل کی یا خود اس دَور کی امپریلسٹ طاقتوں کی سول سروس کے مشاہروں سے کرکے دیکھیے، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اسلام کی جہاں کشائی اور امپیریلزم کی عالمگیری میں روحی و جوہری فرق ہے۔ اسلامی حکومت میں خراسان، عراق، شام اور مصر کے گورنروں کی تنخواہیں آپ کے معمولی انسپکٹروں کی تنخواہوں سے بھی کم تھیں۔ خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ صرف سو روپے مہینہ پر اتنی بڑی سلطنت کا انتظام کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ کی تنخواہ ڈیڑھ سو روپے سے زیادہ نہ تھی، دراں حالیکہ بیت المال دنیا کی دو عظیم الشان سلطنتوں کے چھوڑے ہوئے خزانوں سے بھر پور ہو رہا تھا۔ اگرچہ ظاہر میں امپیریلزم بھی ملک فتح کرتا ہے اور اسلام بھی۔ مگر دونوں کے جوہر میں زمین و آسمان کا بَل ہے۔
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اَور ہے شاہیں کا جہاں اور
یہ ہے اس جہاد کی حقیقت جس کے متعلق آپ بہت کچھ سنتے رہے ہیں۔ اب اگر آپ مجھ سے دریافت کریں کہ آج اسلام اور مسلم جماعت اور جہاد کا وہ تصور جو تم پیش کر رہے ہو کہاں غائب ہوگیا، اور کیوں دنیا بھر کے مسلمانوں میں کہیں بھی اس کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا، تو میں عرض کروں گا کہ یہ سوال مجھ سے نہ کیجیے بلکہ ان لوگوں سے کیجیے جنھوں نے مسلمانوں کی توجہ ان کے اصلی مشن سے ہٹا کر تعویذ گنڈوں اور عملیات اور مراقبوں اور ریاضتوں کی طرف پھیردی۔ جنھوں نے نجات اور فلاح اور حصول مقاصد کے لیے شارٹ کٹ تجویز کیے تاکہ مجاہدے اور جانفشانی کے بغیر سب کچھ تسبیح پھرانے یا کسی صاحب قبرکی عنایات حاصل کرلینے ہی سے میسر آجائے۔ جنھوں نے اسلام کے کلیات اور اصول اور مقاصد سب کو لپیٹ کر تاریک گوشوں میں پھینک دیا اور مسلمانوں کے ذہن کو آمین بالجہر اور رفع یدین اور ایصال ثواب و زیارت قبور اور اسی قسم کے بے شمار جزئیات میں ایسا پھنسایا کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے مقصد تخلیق کو اور اسلام کی حقیقت کو قطعی بھول گئے۔ اگر اس سے بھی آپ کی تشفی نہ ہو تو پھر یہ سوال ان امرا اور اصحاب اقتدار کے سامنے پیش کیجیے جو قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کا اس سے زیادہ کوئی حق اپنے اوپر تسلیم نہیں کرتے کہ کبھی ختم قرآن کرا دیں اورکبھی عید میلاد کے جلسے کرا دیں اور کبھی اللہ میاں کو نعوذ باللہ ان کی شاعری کی داد دے دیا کریں۔ رہا اس قانون اور ہدایت کو عملاً نافذ کرنا، تو یہ حضرات اپنے آپ کو اس سے بری الذمہ سمجھتے ہیں، کیونکہ درحقیقت ان کا نفس ان پابندیوں کو قبول کرنے اور ان ذمہ داریوں کا بوجھ سنبھالنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہے جو اسلام ان پر عائد کرتا ہے۔ یہ بڑی سستی نجات کے طالب ہیں۔
(ترجمان القرآن، ربیع الاول ۱۳۵۸ھ۔ مئی۱۹۳۹ئ)

آزادی کا اسلامی تصوُّر

ایک صاحب تحریر فرماتے ہیں:
’’سورۂ احزاب میں حضرت زید بن حارثہؓ اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا جو واقعہ بیان ہوا ہے اس کے سلسلے میں ایک اہم شبہ پیدا ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید سے فرمایا اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللہَ احزاب33:37 (اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں رہنے دے اور اللہ سے ڈر)مگر حضرت زیدؓ نے اس حکم نبوی کی خلاف ورزی کی اور حضرت زینب کو طلاق دے دی۔ اس فعل کے خلافِ حکم ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں اور قرآن کے انداز بیان میں صراحتاًیا کنایتاًایسی کوئی بات بھی نہیں پائی جاتی جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت زید کی اس سرتابی کو ادنیٰ درجہ بھی ناپسند کیا ہو، بلکہ بیان واقعہ کی ابتدا میں ان کا ذکر لِلَّذِيْٓ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِ احزاب33:37 (جس پر اللہ نے انعام کیا) کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ نبی کے حکم کی خلاف ورزی بھی کی جاسکتی ہے اور نبی کا قول اگر ثابت بھی ہو جائے کہ نبی ہی کا قول ہے تب بھی وہ اس طرح واجب الاطاعت نہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان واجب الاطاعت ہے۔‘‘
سوال میں کوئی پیچیدگی نہیں۔ چند لفظوں میں شبہ کو رفع کیا جاسکتا تھا۔ لیکن دراصل شبہ جہاں سے پیدا ہوتا ہے وہاں متعدد غلط فہمیوں کا منبع ہے، اور ان غلط فہمیوں کا سلسلہ دُور تک پہنچا ہوا ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس شبہ کو رفع کرنے کے ساتھ اس کی اصل اور اس کے فروع کی طرف بھی کچھ اشارات کر دیئے جائیں۔
قرآن حکیم تمام آسمانی کتابوں سے زیادہ صراحت کے ساتھ اس امر کا اعلان کرتا ہے کہ حاکم مطلق بجز اللہ کے اور کوئی نہیں،اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ ۱؎صرف اسی کو یہ حق ہے کہ جیسا چاہے حکم دے، اِنَّ اللہَ يَحْكُمُ مَا يُرِيْدُ۔۱؎ وہی ایک ایسا حاکم ہے جس کے احکام میں کسی چون و چرا کی گنجائش نہیںلَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ۔۲؎ اطاعت اس کی فرض ہے اور اس لیے فرض ہے کہ انسان اپنی عین خلقت کے لحاظ سے اس کا بندہ ہے اور دراصل صرف اسی کی بندگی کے لیے پیدا کیا گیا ہے، وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ ۔۳؎ اس کے سوا انسان کسی کا مخلوق ہے نہ بندہ نہ پروردہ، اس لیے دراصل کسی انسان پر کسی دوسرے انسان کی اطاعت فرض نہیں يَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍۭ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّہٗ لِلہِ۔۴؎ کسی انسان کو نہ تو دوسرے انسان پر حاکمیت مطلقہ (Absolute authority)حاصل ہے اور نہ کسی انسان پر یہ واجب کیا گیا ہے کہ خدا کے سوا کسی اور کے حکم کی اطاعت کرے محض اس بنا پر کہ وہ اس خاص شخص کا حکم ہے۔
قرآن کے نزول کا اصلی مقصد یہی ہے کہ انسان کی گردن سے غیر اللہ کی اطاعت کا قلادہ نکال دے اور اللہ یعنی مطاع حقیقی (Real sovereign)کا بندہ بنانے کے بعد اس کو رائے اور ضمیر کی پوری آزادی عطا کرے۔ چنانچہ انسانی غلامی کے خلاف سب سے بڑھ کر جس کتاب نے جہاد کیا ہے وہ قرآن ہی ہے۔ یہ کتاب کسی انسان کا یہ حق تسلیم نہیں کرتی کہ بطور خود اس کے حلال کیے ہوئے کو حلال اور اس کے حرام کیے ہوئے کو حرام سمجھا جائے اور اس کے حکم اور اس کی ممانعت کی اس طرح اطاعت کی جائے کہ گویا وہ اپنے محکوموں کے لیے بمنزلہ خدا ہے۔ اسی قسم کی اطاعت اور محکومی کو قرآن شرک کا ایک شعبہ قرار دیتا ہے اور جو لوگ اپنے علماء و مشائخ کو، پنڈتوں اور پروہتوں کو، اور دنیوی حاکموں کو ارباب من دُون اللہ (gode other than God)بنا لیتے ہیں، انھیں مشرک ٹھہراتا ہے۔ کیونکہ انسان جب کبھی کسی انسان کی ایسی اطاعت کرے گا، تو لا محالہ اس کی تہ میں الوہیت کا تصور اور عبودیت کا جذبہ ہی کار فرما ہوگا۔ ایک انسان دوسرے انسان کے مقابلے میں اپنے دل اور دماغ اور روح اور جسم کی آزادی سے کلیتاً دستبردار ہوتا ہی اس وقت ہے جب وہ اس کو یا تو خطا سے بری اور عیوب و نقائص سے پاک اور جزو کل کا عالم سمجھ لیتا ہے، یا یہ سمجھتا ہے کہ وہ ذاتی حق کی بنا پر امرونہی کا مالک ہے اور اسے حکومت کا طبعی حق حاصل ہے، یا یہ گمان کرتا ہے کہ وہ دراصل نفع اور نقصان پہنچانے والا اور رزق دینے اور رزق روکنے والا ہے۔ خدا کے سوا کسی دوسری ہستی کو ان صفات کا حامل سمجھنا ہی شرک اور غلامی کی جڑ ہے۔ اور توحید ____ جس کا لازمی نتیجہ آزادی ہے ____ یہ ہے کہ خدا کے سوا تمام چیزوں کو ان صفات سے خالی سمجھا جائے اور ان کے حق حکمرانی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جائے۔
یہ مقدمہ ذہن نشین کرلینے کے بعد اب اس امر کی تحقیق کیجیے کہ نبی کی اطاعت جو اسلام میں فرض کی گئی ہے، اور جس پر دین کا مدار ہے، یہ کس حیثیت سے ہے۔ یہ اطاعت اس حیثیت سے ہرگز نہیں ہے کہ نبی وہ خاص شخص مثلاً ابن عمران یا ابن مریم، یا ابن عبداللہ ہے، اور یہ شخص خاص ہونے کی بنا پر اس کو حکم دینے اور منع کرنے کا، حلال کرنے اور حرام ٹھیرانے کا حق حاصل ہے۔ اگر ایسا ہو تو معاذ اللہ نبی خود بھی اربابٌ من دُون اللہ میں سے ایک ہو جائے گا، اور اس طرح خود اسی کے ہاتھوں وہ مقصد فوت ہو کر رہے گا جس کے لیے وہ نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ قرآن نے اس مسئلے کو نہایت واضح الفاظ میں صاف کر دیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ذاتی حیثیت میں تو نبی ویسا ہی ایک بشر ہے جیسے تم بشر ہو قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ ہَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا ۱؎ بنی اسرائیل17:93 قَالَتْ لَہُمْ رُسُلُہُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ۲؎ ابراہیم14:11 البتہ نبی ہونے کی حیثیت سے اس میں اور تم میں عظیم الشان فرق ہے۔اس کو خدا کی طرف سے جب نبوت عطا کی جاتی ہے تو اس کے ساتھ ’’حکم ‘‘ بھی عطا ہوتا ہے۔ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اٰتَيْنٰہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّۃَ ۳؎ الانعام6:89 ’’حکم‘‘ کے مفہوم میں قوت فیصلہ (Judgement) اور اقتدار حکومت (authority) دونوں شامل ہیں۔ پس نبی کو جو اقتدار حاصل ہے وہ ذاتی اقتدار نہیں بلکہ تفویض کردہ اقتدار ہے۔اس لیے اس کی اطاعت دراصل خدا ہی کی اطاعت ہے، مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۴؎ نساء4:80 وہ بھیجا ہی اس لیے جاتا ہے کہ خدا کی طرف سے اس کے احکام نافذ کرے اور تم ان احکام کی اطاعت کرو،وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِـاِذْنِ اللہِ۔ ۱ ؎ النساء4:64 اس حیثیت میں اس کا حکم خدا کا حکم ہے اور کسی کو اس میں چون و چرا کرنے کا حق نہیں،وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَہُ الْہُدٰى وَيَتَّبِـعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا۲؎ النساء4:115 عمل تو درکنار اگر دل میں بھی اس کی نافرمانی کا خیال آجائے تو قطعاً ایمان سلب ہو جاتا ہے، فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا ۳؎ النساء4:65 اور اس نافرمانی کا نتیجہ ابدی خسران و نامرادی ہے، يَوْمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَعَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُـسَوّٰى بِہِمُ الْاَرْضُ۔۴؎ النساء4:42
جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا یہ اطاعت اور کامل سپردگی، جس پروین و ایمان کا مدار رکھا گیا ہے اور جس کے متعلق صاف کہہ دیا گیا ہے کہ ہدایت سربسر نبی کی اطاعت پر منحصر ہے۔ وَاِنْ تُطِيْعُوْہُ تَہْتَدُوْا۔ النور24:54اس کا مرجع نبی کی انسانی اور شخصی حیثیت نہیں ہے۔ کسی نبی کو اللہ نے اس لیے بھیجا ہے کہ وہ ان کو خدا کا تابع فرمان بنائے، مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَہُ اللہُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّۃَ ثُمَّ يَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللہِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ۔۵؎ آل عمران3:79 وہ اس لیے نہیں آیا کہ لوگوں کو اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی پر مجبور کرے، اپنی شخصی عظمت و بزرگی کا سکہ ان پر جمائے اور ان کو اپنے شخصی اقتدار کے شکنجے میں کس کر اس قدر بے بس کر دے کہ وہ اس کی رائے کے مقابلے میں خود کوئی رائے دیکھنے کے حق سے بالکل دستبردار ہو جائیں اور اپنے دل و دماغ کو اس کے سامنے معطل کر دیں۔ یہ تو وہی غیر اللہ کی بندگی ہوئی جس کو مٹانے کے لیے نبی بھیجا جاتا ہے۔ انسان کی گردن میں جتنے طوق انسان نے ڈالے ہیں ان سب کو کاٹ دینا ہی تو نبی کی بعثت کا مقصود ہے، وَيَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ ۱؎ اعراف7:157 انسان نے انسان کے لیے فرائض اور حقوق مقرر کرنے اور جائز و ناجائز کی من مانی حدیں ٹھہرانے کے جن اختیارات پر قبضہ کر رکھا تھا ان کو سلب کرنے ہی کے لیے تو نبی مامور کیا جاتا ہے۔ وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ۲؎ النحل16:116 انسانی حکم اور فیصلے کے سامنے سر جھکانے کی جو ذلت انسان نے اختیار کرلی تھی اس سے نجات دلانے ہی کے لیے تو نبوت قائم کی جاتی ہے، وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ۔۳؎ آل عمران3:64 پھر کیوں کر جائز ہوسکتا ہے کہ نبی ان کی گردنوں سے دوسروں سے چھین کر خود اپنے قبضے میں کر لے اور استبداد کی مسند سے دوسروں کو ہٹا کر خود اس پر متمکن ہو جائے۔ اس نے تو یہود و نصاریٰ کو اسی پر ملامت کی تھی کہ اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ۴؎ التوبہ9:31 پھر وہ کیسے کہتا کہ اب تم خدا کو چھوڑ کر مجھ کو رب بنا لو اور میری خواہشات نفس کی پابندی کرو۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے بار بار اس حقیقت کا اظہار کراتا ہے کہ وہ اطاعت جو مومن پر فرض کی گئی ہے، جو اصل ایمان ہے، اور جس سے کسی مومن کو سرتابی کیا معنی یک سرمُوانحراف کا بھی حق نہیں، وہ دراصل نبی بحیثیت انسان کی اطاعت نہیں ہے بلکہ نبی بحیثیت نبی کی اطاعت ہے۔ یعنی اس علم، اس ہدایت، اس حکم اور اس قانون کی اطاعت جسے اللہ کا نبی اللہ کی طرف سے اس کے بندوں تک پہنچاتا ہے۔ پس درحقیقت اسلام جس اطاعت کی بندش میں انسان کو باندھتا ہے، وہ دراصل انسان کی اطاعت نہیں بلکہ خدا کی اطاعت ہے۔
اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰىكَ اللہُ النساء4:105
اے نبی ہم نے تمھاری طرف کتاب برحق اتاری ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اس حق کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تم کو دکھایا ہے۔
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ المائدہ5:45
اور جو اللہ کے نازل کیے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی دراصل ظالم ہیں۔
اس آیت میں جس طرح دوسرے انسان بندھے ہوئے ہیں اسی طرح خود نبی بحیثیت انسان بھی بندھا ہوا ہے:
اِنْ اَتَّبِـــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ الانعام6:50
میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔
یہ اور ایسی ہی بہت سی آیات اس امر پر واضح دلالت کرتی ہیں کہ اطاعت دراصل صرف حق تعالیٰ شانہ کی ہے، اور اسلام آیا ہی اس لیے ہے کہ غیر اللہ کی بندگی اور انسان پر انسان کی خداوندی کا قلع قمع کردے۔ اسلام میں کسی انسان کی اطاعت بحیثیت انسان ہونے کے نہیں ہے۔ نبی کی اطاعت ہے تو اس بنا پر ہے کہ اللہ کی طرف سے اس کو ’’حکم‘‘ عطا کیا گیا ہے۔ حکام کی اطاعت ہے تو اس بنا پر کہ وہ اللہ اور رسول کے احکام کو نافذ کرنے والے ہیں۔ علماء کی اطاعت ہے تو اس بنا پر کہ وہ خدا اور رسو ل کے امرونہی اور اس کے مقرر کیے ہوئے حدود سے آگاہ کرنے والے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی شخص خدا کا حکم پیش کرے تو مسلمان پر واجب ہے کہ اس کے آگے سر جھکا دے۔ وہ اس میں ہرگز چون و چرا کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اس کو خدا کے مقابلے میں کوئی حریت فکر اور آزادیٔ رائے حاصل نہیں۔ لیکن اگر کوئی انسان خدا کا نہیں، خود اپنا کوئی خیال پیش کرے، تو مسلمان پر اس کی اطاعت فرض نہیں۔ وہ آزادی کے ساتھ خود سوچنے اور رائے قائم کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس کو آزادانہ اتفاق کرنے کا بھی اختیار ہے اور آزادانہ اختلاف کرنے کا بھی۔ اس معاملے میں علما اور حکام تو درکنار، خود نبی کی ذاتی رائے سے بھی اختلاف کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کا ایک حصہ یہ تھا کہ خدا کی اطاعت و فرمانبرداری کا قلادہ انسان کی گردن میں ڈال دیں۔ اور دوسرا حصہ یہ تھا کہ انسان کی اطاعت و فرمانبرداری کا قلادہ اس کی گردن سے اتار پھینکیں۔ یہ دونوں کام آپ کے مقصد بعثت میں شامل تھے اور دونوں کی اہمیت یکساں تھی۔ پہلے کام کی تکمیل کے لیے ضروری تھا کہ نبی ہونے کی حیثیت سے آپ تمام مسلمانوں کو اپنی کامل اور غیر مشروط اطاعت پر مجبور کریں۔ کیونکہ آپ کی اطاعت ہی پر خدا کی اطاعت موقوف تھی۔ اس کے مقابلے میں دوسرے کام کی تکمیل کے لیے یہ بھی اتنا ہی ضروری تھا کہ سب سے پہلے آپ خود اپنے عمل اور اپنے برتائو سے یہ حقیقت مسلمانوں کے ذہن نشین کر دیں کہ کسی انسان کی، حتیٰ کہ خود محمد بن عبداللہ بحیثیت انسان کی اطاعت بھی ان پر واجب نہیں ہے اور ان کی روحیں انسان کی بندگی سے قطعی آزاد ہیں۔ یہ دراصل ایک نہایت نازک کام تھا۔ ایک ہی ذات میں حیثیت نبوت اور حیثیت بشریت دونوں جمع تھیں اور ان کو کسی واضح خط امتیاز کے ساتھ ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا تھا۔ مگر اللہ کے رسول پاک نے اللہ کی بخشی ہوئی حکمت سے اس کام کو بہترین طریق پر انجام دیا۔ آپ نے ایک طرف نبی ہونے کی حیثیت سے اپنی ایسی اطاعت کرائی کہ تاریخ عالم میں کبھی کسی امیر کی ایسی اطاعت نہیں کی گئی۔ اور دوسری طرف انسان ہونے کی حیثیت سے آپ نے اپنے جاں نثار متبعین کو ایسی آزادیٔ رائے عطا کی کہ دنیا کے کسی بڑے سے بڑے جمہوریت پسند سردار نے بھی اپنے ماتحتوں کو ایسی آزادی نہیں بخشی۔ اگر کوئی شخص اس امر پر غور کرے کہ نبی ہونے کی حیثیت سے آپ کو اپنے پیرووں پر کتنا بڑا اقتدار حاصل تھا اور مسلمان کتنی گہری عقیدت آپ کے ساتھ رکھتے تھے اور پھر یہ دیکھیے کہ اتنا زبردست اقتدار رکھنے کے باوجود آپ کس طرح معاشرت اور معاملات میں ہمیشہ اور ہر وقت اپنی پیغمبرانہ حیثیت اور انسانی حیثیت کو الگ الگ رکھتے تھے، اور پیغمبرانہ حیثیت میں اپنی بے چون و چرا اطاعت کرانے کے ساتھ انسانی حیثیت میں لوگوں کو کتنی مکمل آزادیٔ رائے عطا فرماتے اور خود اپنی ذاتی آراء سے اختلاف کرنے میں کس طرح ان کی ہمت افزائی کرتے تھے، تو اسے ماننا پڑے گا کہ یہ کمال درجے کا ضبط نفس، یہ حیرت انگیز قوت امتیاز اور ایسی مکمل بصیرت صرف ایک نبی ہی کو میسر آسکتی ہے۔ اس مقام پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نبی کی شخصی حیثیت الگ ہونے کے باوجود اس کی پیغمبرانہ حیثیت میں گم ہو جاتی ہے۔ نبی اپنی شخصی حیثیت میں بھی پیغمبری کے فرائض انجام دیتا ہے۔ وہ جب اپنی شخصی حیثیت میں کام کرتا ہے تو اس وقت وہ اپنے پیرووں میں آزادیٔ فکر کی رُوح پھونکتا ہے، صحیح جمہوری اصولوں پر ان کی تربیت کرتا ہے، انھیں سکھاتا ہے کہ انسان کے مقابلے میں ان کو کس طرح آزادیٔ رائے استعمال کرنی چاہیے، اور انھیں بتاتا ہے کہ آزادیٔ رائے کا حق ان کو ہر انسان کے مقابلے میں حاصل ہے حتیٰ کہ اس انسان کامل، اس عظیم الشان شخصیت کے مقابلے میں بھی وہ رائے کی پوری آزادی رکھتے ہیں جس کو وہ خدا کے پیغمبر کی حیثیت سے بلند ترین اقتدار کا درجہ دینے پر مجبور ہیں۔ نبی کے سوا کسی دوسرے کو لوگوں پر ایسا مکمل اقتدار نصیب ہو تو وہ ضرور ان کو اپنا بندہ بنالے اور ان پر اپنے وہی حقوق جمائے جو دنیا میں پیروں اور پنڈتوں اور بادشاہوں نے جما کر دکھا دیئے۔ حضورؐ فرماتے ہیں کہ:
اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌاِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَیْئٍ مِّنْ دِیْنِکُمْ فَخُذُوْا بِہٖ وَاِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَیْئٍ مِّنْ رَأْیٖیَ فَاِنَّماَ اَنَا بَشَرٌ۔
میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔ جب میں تم کو تمھارے دین کے متعلق کوئی حکم دوں تو اسے مانو۔ اور جب میں اپنی رائے سے کچھ کہوں تو بس میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔
ایک مرتبہ حضور نے مدینے کے باغبانوں کو کھجور کی کاشت کے متعلق ایک مشورہ دیا۔ لوگوں نے اس پر عمل کیا مگر وہ مفید ثابت نہ ہوا۔ آپؐ سے اس بارے میں عرض کیا گیا تو جواب میں آپؐ نے فرمایا:
اِنّیْ اِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنّاً وَلَا تُوأخِذُوْنِیْ بِالظَّنِّ ولٰکَنْ اِذَا حَدَثْتُکُمْ عَنِ اللّٰہِ شَیْئًا فَخُذُوْابِہٖ فَاِنِّیْ لَمْ اَکْذِبْ عَلَی اللّٰہِ۔
میں نے تو اندازے سے ایک بات کہی تھی۔ تم میری ان باتوں کو نہ لو جو گمان اور رائے پر مبنی ہوں۔ ہاں جب میں خدا کی طرف سے کچھ بیان کروں تو اس کو لے لو کیونکہ مَیں نے خدا پر کبھی جھوٹ نہیں باندھا۔
جنگ بدر کے موقع پر حضورؐ ابتدا میں جہاں خیمہ زن ہوئے تھے وہ جگہ مناسب نہ تھی۔ حضرت حباب بن منذر نے آپ سے دریافت کیا کہ اس مقام کا انتخاب وحی کے ذریعے سے کیا گیا ہے یا محض ایک تدبیر جنگ کے طور پر ہے؟ فرمایا وحی نہیں ہے۔ انھوں نے عرض کیا کہ اگر ایسا ہے تو میری رائے میں آگے بڑھ کر فلاں مقام پر خیمہ زن ہونا چاہیے۔ حضورؐ نے ان کی رائے کو قبول فرمایا اور اسی پر عمل کیا۔
اسیران بدر کے مسئلے میں حضورؐ نے صحابہ کی جماعت سے مشورہ لیا اور خود بھی ایک عام رُکن جماعت کی حیثیت سے رائے دی۔ اس موقع پر حضرت عمرؓ نے آپؐ کی اور صدیق اکبرؓ کی رائے سے بے تکلف اختلاف کیا جس کا واقعہ تمام تاریخوں میں مشہور ہے۔ اسی مجلس میں حضورؐ نے خود اپنے داماد ابوالعاص کا مسئلہ بھی پیش کیا اور صحابہ سے فرمایا کہ اگر تمھاری مرضی ہے تو ان سے فدیے میں جو ہار لیا گیا ہے وہ انھیں واپس کر دیا جائے۔ جب صحابہ نے بخوشی اس کی اجازت دی تب آپ نے ہار انھیں واپس کیا۔
غزوۂ خندق کے موقع پر حضورؐ نے بنی غطفان سے صلح کرنے کا ارادہ فرمایا۔ انصار کے سرداروں نے عرض کیا کہ اگر یہ ارادہ وحی کی بنا پر ہے تو مجال کلام نہیں اور اگر حضورؐ اپنی رائے سے ایسا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس تجویز سے اختلاف ہے۔ حضورؐ نے انھی کی رائے قبول فرمائی اور اپنے ہاتھ سے صلح نامے کا مسودہ چاک کر ڈالا۔
صلح حدیبیہ کے موقع پر تمام مسلمانوں کو بظاہر دب کر صلح کرنا پسند نہ تھا۔ حضرت عمرؓ نے علانیہ اس سے اختلاف کیا۔ مگر جب حضورؐ نے فرمایا کہ یہ کام میں خدا کے پیغمبر کی حیثیت سے کر رہا ہوں تو باوجودیکہ غیرت اسلامی کی بنا پر سب ملول تھے، کسی نے دم مارنے کی جرأت نہ کی۔ حضرت عمرؓ مرتے دم تک اس غلطی کے کفارے طرح طرح سے ادا کرتے رہے کہ وہ ایک ایسے امر میں حضورؐ سے اختلاف کر بیٹھے جو بحیثیت رسول کیا جارہا تھا۔
جنگ حنین کے موقع پر تقسیم غنائم میں آپ نے مؤلفۃ القلوب کے ساتھ جو فیاضی ظاہر فرمائی تھی اس پر انصار چیں بجبیں ہوئے۔ حضورؐ نے ان کو بلایا۔ اپنے فعل کی تائید میں یہ نہیں فرمایا کہ میں خدا کا نبی ہوں جو چاہوں کروں، بلکہ ایک تقریر کی جس طرح ایک جمہوری حکومت کا سردار اپنی رائے سے اختلاف رکھنے والوں کے سامنے کرتا ہے۔ ان کے ایمان بالرسالت سے اپیل نہیں کی بلکہ ان کی عقل اور ان کے جذبات سے اپیل کی اور انھیں مطمئن کرکے واپس فرمایا۔
یہ تو خیر ان لوگوں کے ساتھ معاملہ تھا جو سوسائٹی میں بڑی اونچی پوزیشن رکھتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں اور لونڈیوں تک میں استقلال رائے کی روح پھونک دی تھی۔ بریرہ ایک لونڈی تھی جو اپنے شوہر سے متنفر ہوگئی تھی۔ مگر شوہر اس کا عاشق زار تھا۔ وہ اس کے پیچھے روتا پھرتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا کہ تو اپنے شوہر سے رجوع کرلیتی تو اچھا تھا۔ اس نے پوچھا ’’یارسول اللہ کیا آپ حکم دیتے ہیں؟‘‘ آپ نے جواب دیا’’حکم نہیں بلکہ سفارش کرتا ہوں۔‘‘ اس نے کہا ’’اگر یہ سفارش ہے تو میں اس کے پاس جانا نہیں چاہتی۔‘‘
اس قسم کی اور بہت سی مثالیں ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب قرینے سے یا خود حضورؐ کی تصریح سے لوگوں کو یہ معلوم ہو جاتا تھا کہ آپ کوئی بات اپنی رائے سے فرما رہے ہیں تو وہ آزادی کے ساتھ اس میں اظہار رائے کرتے تھے اور آپ خود اس آزادانہ اظہار رائے میں ان کی ہمت افزائی فرماتے تھے۔ ایسے موقع پر اختلاف کرنا نہ صرف جائز تھا، بلکہ آپ کے نزدیک پسندیدہ تھا، اور آپ خود بسا اوقات اپنی رائے سے رجوع فرما لیتے تھے۔
اب حضرت زید کے واقعہ کی طرف رجوع کیجیے۔ حضورؐ کے ساتھ ان کے تعلقات کئی طرح کے تھے۔ ایک تعلق یہ تھا کہ آپ ان کے پیشوا تھے اوروہ آپ کے پیرو تھے۔ دوسرا تعلق یہ تھا کہ آپ ان کے برادرِ نسبتی تھے اور وہ آپ کے بہنوئی تھے۔ تیسرا تعلق یہ تھا کہ آپ ان کے مُربی تھے اور وہ آپ کے پروردہ تھے۔ بیوی سے ان کا نباہ نہ ہوسکا۔ انھوں نے طلاق دینے کا ارادہ کیا۔ آپ نے ان کو وہی مشورہ دیا جو ہر برادر نسبتی اپنے بہنوئی کو اور ہر سر پرست اپنے پروردہ کو دے گا، یعنی یہ کہ خدا کا خوف کرو اور اپنی بیوی کو طلاق نہ دو۔ مگر جس اختلاف مزاج کی بنا پر زوجین میں باہم نفرت پیدا ہوگئی تھی اس کو حضرت زید خود زیادہ محسوس کرسکتے تھے۔ یہ معاملہ ان کے دین و ایمان کا نہیں بلکہ ان کے حسیات نفس کا تھا۔ اس لیے انھوں نے حضورؐ کے مشورے کو قبول نہ کیا اور طلاق دے دی۔ یہ خلاف ورزی رسول کے مقابلے میں نہ تھی، نہ حضورؐ نے جو مشورہ دیا تھا وہ رسول خدا کی حیثیت سے تھا، اس لیے نہ آپ ناراض ہوئے نہ خدا ناراض ہوا۔ اگر حضورؐ کی جگہ کوئی اور ایسا شخص ہوتا جس نے کسی کو بچپن سے پالا ہو اور اس پر احسانات کیے ہوں اور آخر میں غلامی سے داغدار ہونے کے باوجود اپنی بہن کی شادی اس سے کی ہو، اور پھر اس نے باوجود منع کرنے کے اس کی بہن کو طلاق دے دی ہو، تو وہ ضرور ناراض ہوتا۔ مگر حضورؐ صرف مربی اور برادر نسبتی ہی نہ تھے بلکہ رسول خدا بھی تھے اور رسول ہونے کی حیثیت سے یہ بھی آپ کا فرض تھا کہ انسان کو انسان کی بندگی سے آزاد کریں اور انسان کو انسان کے مقابلے میں آزادی کا کھویا ہوا حق واپس دلوائیں۔ اس لیے آپ نے حکم نہیں بلکہ مشورہ دیا اور اس مشورے کے خلاف عمل کرنے پر قطعاً کسی ناراضی کا اظہار نہ فرمایا۔ اسی سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آپ کی ذات میں حیثیت نبوی اور حیثیت بشری الگ الگ بھی تھیں اور باہم پیوستہ بھی تھیں۔ آپ نے ان دونوں کے استعمال میں ایسا حیرت انگیز توازن قائم کیا تھا کہ ایک نبی ہی ایسے توازن پر قادر ہوسکتا ہے۔ حیثیت بشری میں بھی آپ اس طرح عمل فرماتے تھے کہ نبوت کے فرائض اس کے ضمن میں ادا ہوتے رہتے تھے۔
سرکارِ رسالت مآب نے جس حریت فکر کی تخم ریزی کی تھی، اور احکامِ الٰہی کی اطاعت کے ساتھ ساتھ انسان کے مقابلے میں آزادیٔ رائے استعمال کرنے کا جو سبق اپنے متبعین کو خود اپنے عمل اور اپنے برتائو سے سکھایا تھا، اسی کا یہ اثر تھا کہ صحابۂ کرام تمام انسانوں سے زیادہ احکامِ الٰہی کے اطاعت کیش اور تمام انسانوں سے زیادہ آزاد خیال و جمہوریت پسند تھے۔ وہ بڑے سے بڑے شخص کے مقابلے میں بھی اپنی رائے کی آزادی کو قربان نہ کرتے تھے۔ ان کی ذہنیت سے یہ بات بالکل بعید تھی کہ کسی رائے کو محض اس بنا پر تنقید سے بالا تر سمجھیں کہ وہ فلاں بڑے آدمی کی رائے ہے۔ ان میں سے جو بڑے آدمی تھے، جن کی بڑائی کو وہ خود تسلیم کرتے تھے اور جن کی بڑائی آج ایک دنیا تسلیم کر رہی ہے، ان کی رائے کو بھی انھوں نے محض ان کی بڑائی کی بنا پر قبول نہ کیا بلکہ آزادی کے ساتھ رد بھی کیا اور قبول بھی کیا۔ خلفائے راشدین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ اس آزادیٔ رائے کے حامی تھے۔ انھوں نے اپنے آقا کی پیروی میں لوگوں کی آزادی کو نہ صرف گوارا کیا بلکہ اس کی ہمت افزائی کی اور کبھی کسی چھوٹے سے چھوٹے آدمی سے بھی یہ مطالبہ نہ کیا کہ ہم بڑے آدمی ہیں اس لیے ہماری بات بے چون و چرا تسلیم کرو۔
خلفائے راشدین کے بعد بنی امیہ اور بنی عباس نے حریت فکر کو خوف اور طمع دلا کر ظلم و ستم اور زرپاشی کی طاقتوں سے ہر طرح کچلنے کی کوشش کی، مگر تابعین اور تبع تابعین میں اور ان کے بعد بھی ایک مدت تک مسلمانوں میں یہ روح باقی رہی۔ ابتدائی دو تین صدیوں تک آپ کو تاریخ اسلامی میں اس کے نہایت روشن نشانات نظر آئیں گے۔ امراء اور حکام کے مقابلے میں آزادی تو نسبتاً ایک چھوٹی چیز ہے۔ رُوح اور دماغ کی آزادی کا سب سے بڑا مظہر یہ ہے کہ انسان جس کو مقدس سمجھے، جس کی عزت و عظمت اس کے پہنائے قلب میں جاگزین ہو، اس کی اندھی تقلید سے انکار کر دے، اور اس کے مقابلے میں آزادی کے ساتھ سوچے اور آزادی کے ساتھ رائے قائم کرے۔ یہی سپرٹ ہم کو اس دَور کے اہل علم میں نظر آتی ہے۔ صحابۂ کرام سے بڑھ کر مقدس ہستیاں اور کون ہوں گی؟ اور حضرت تابعین سے بڑھ کر کس کے دل میں ان کا احترام ہوگا؟ مگر یہ لوگ آزادی کے ساتھ صحابۂ کرام کی آراء پر نقد کرتے تھے، ان کے اختلافات میں محاکمہ کرتے تھے، اور ایک کی رائے کو چھوڑ کر دوسرے کی رائے قبول کرتے تھے۔ اختلاف صحابہؓ میں امام مالکؒ کس صفائی کے ساتھ فرماتے ہیں کہ خَطَائٌ وَصَوَابٌ فَانْظُرْفِیْ ذَالِکَ ’’صحابہ کی آراء میں خطاء بھی ہے اور صواب بھی۔ تم خود غور کرکے رائے قائم کرو۔‘‘ اسی طرح امام ابوحنیفہؒ کا ارشاد ہے: اَحَدُ الْقَوْلَیْنِ خَطَائٌ وَالْمَأْ ثِمْ فِیْہِ مَوْضُوْعٌ ’’دو مختلف اقوال میں سے ایک بہرحال غلط ہوگا۔‘‘
خود ان بزرگوں میں سے بھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ ہم خطا سے بری ہیں، اور تم اپنی فکر و نظر کو بالکل معطل کرکے صرف ہماری رائے کی پیروی کرو۔ سیدنا ابوبکرؓ صدیق جب کسی مسئلے میں اپنی رائے سے کچھ فرماتے تو ساتھ ہی یہ بھی فرما دیتے کہ ھٰذَا رَأَیِیْ فَانِ یَّکُنْ صَوَاباً فَمِنَ اللّٰہِ وَانْ یَّکُنْ خَطَائً فَمِنِّیْ وَاَسْتَغْفِرُاللّٰہَ۔ ’’یہ میری رائے ہے، اگر درست ہے تو اللہ کی طرف سے ہے، اگر غلط ہے تو میری خطا ہے اور میں خدا سے مغفرت چاہتا ہوں‘‘
حضرت عمرؓ فرماتے ہیں لَا تَجْعَلُوْا خَطَائَ الرَّاْیِ سَنَّۃً لِلّاْمُۃَّ۔’’رائے کی غلطی کو امت کے لیے سنت نہ بنالو۔‘‘
حضرت ابن مسعودؓ کا قول ہے اَلاَ یُقَلِّدَنَّ اَحَدُ کُمْ دِیِنْہٗ رُجَلاًاِنْ اٰمَنَ اٰمَنَ وَاِنْ کَفَرَ کَفَرَفَاِنَّہٗ لَااُسْوۃَ فِی الشَّرِّ۔ ’’خبردار کوئی شخص اپنے دین کے معاملے میں کسی دوسرے شخص کی اندھی تقلید نہ کرے کہ وہ مومن ہوا تو یہ بھی مومن رہا اور وہ کافر ہوا تو یہ بھی کافر ہوگیا۔ برائی اور غلطی میں کسی کی پیروی نہیں ہے۔‘‘
امام مالکؒ فرماتے ہیں اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌاُ خْطِیْ وَاُصِیْبُ فَانْظُرُوْا فِیْ رَأیْ فُکُلَّمَا وَافَقَ الْکِتَابَ وَالسُّنَۃَ فَخُذُوْہُ وَ کُلَّماَ لَمْ یُوَافِقِ الْکِتَابَ وُالسُّنَّۃَ فَاتْرُکُوْہُ۔ میں ایک انسان ہوں۔ میری رائے غلط بھی ہوتی ہے اور درست بھی۔ تم میری رائے پر غور کرو۔ جو کچھ کتاب و سنت کے موافق پائو اسے قبول کرو اور جو بات خلاف دیکھو اسے چھوڑ دو۔‘‘ امام مالکؒ ہی کا یہ واقعہ تاریخوں میں موجود ہے کہ خلیفہ منصور عباسی ان کی کتاب المؤطا کو تمام عالم اسلامی کا دستور العمل بنانا چاہتا تھا اور اس کا خیال یہ تھا کہ تمام مذاہب فقہیہ کو موقوف کرکے صرف مذہب مالکی کو رائج کر دے۔ مگر امام صاحب نے خود اس کو ایسا کرنے سے روک دیا کیونکہ وہ دوسروں سے تحقیق و آزادیٔ رائے اور اجتہاد کا حق سلب کرنا نہیں چاہتے تھے۔
امام ابو یوسفؒ فرماتے ہیں لَایَحِلُّ لِاَحَدٍ اَنْ یَّقُوْلَ مُقَالَتَنَا حَتّٰی یَعْلَمَ مِنْ اَیْنَ قُلْنَا۔ ’’کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ ہمارے قول کا قائل ہو تاوقتیکہ اسے یہ معلوم نہ ہو کہ ہمارے قول کا ماخذ کیا ہے۔‘‘
امام شافعیؒ فرماتے ہیں: مَثَلُ الَّذِیْ یَطْلُبُ الْعِلْمَ بِلاَ حُجَّۃٍ کَمَثَلِ حَاطِبِ لَیْلٍ یَحْمِلُ خِرْمَۃَ حَطَبٍ وَفِیْہِ اَفْعِیٌّ تَلْدَغُہٗ وَھُوَ لَایَدْرِیْ۔ ’’جو شخص دلیل کے بغیر علم حاصل کرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی سی جو رات کو لکڑیاں چن رہا ہو۔ وہ لکڑیوں کا گٹھا اٹھاتا ہے اور اس کی خبر نہیں کہ اس گٹھے میں کہیں سانپ بھی چھپا ہوا ہے جو اسے ڈس لے گا۔‘‘
تقریباً تین صدیوں تک تحقیق و اجتہاد اور حریت فکر و نظر اور آزادانہ طلب حق کی وہ اسپرٹ مسلمانوں میں پوری شان کے ساتھ باقی رہی جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے متبعین میں پیدا کر گئے تھے۔ اس کے بعد امرا و حکام اور علما و مشائخ کے استبداد نے اس روح کو کھانا شروع کر دیا۔ سوچنے والے دماغوں سے سوچنے کا حق اور دیکھنے والی ٓنکھوں سے دیکھنے کا حق اور بولنے والی زبانوں سے بولنے کا حق سلب کر لیا گیا۔ درباروں سے لے کر مدرسوں اور خانقاہوں تک ہر جگہ مسلمانوں کو غلامی کی باقاعدہ تربیت دی جانے لگی، دل اور دماغ، روح اور جسم کی غلامی ان پر پوری طرح مسلط ہوگئی۔ دربار والوں نے اپنے سامنے رکوع اور سجدے کرا کے غلامانہ ذہنیت پیدا کی، مدرسے والوں نے خدا پرستی کے ساتھ اکابر پرستی کا زہر دماغوں میں اتارا۔ خانقاہ والوں نے ’’بیعت‘‘ کے مسنون طریقے کو مسخ کرکے مقدس غلامی کا وہ طوق مسلمانوں کی گردنوں میں ڈالا جس سے زیادہ سخت اور بھاری طوق انسان نے انسان کے لیے کبھی ایجاد نہ کیا ہوگا۔ جب غیر اللہ کے سامنے زمین تک سر جھکنے لگیں، جب غیر اللہ کے آگے نماز کی طرح ہاتھ باندھے جانے لگیں، جب انسان کے سامنے نظر اٹھا کر دیکھنا سوئِ ادبی ہو جائے، جب انسان کے ہاتھ اور پائوں چومے جانے لگیں، جب انسان انسان کا خداوند اور اَن داتا بن جائے، جب انسان بذات خود امر و نہی کا مختار اور کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کی سند سے بے نیاز قرار دیا جائے، جب انسان خطا سے پاک اور نقص سے بری اور عیب سے منزہ سمجھ لیا جائے، جب انسان کا حکم اور اس کی رائے اعتقاداً نہ سہی عملاً اسی طرح واجب الاطاعت قرار دے لی جائے جس طرح خدا کا حکم واجب الاطاعت ہے تو پھر سمجھ لیجیے کہ اس دعوت سے منہ موڑ لیے گئے جو اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللہَ وَلَا نُشْرِكَ بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ آل عمران3:64 کے الفاظ میں دی گئی تھی۔ اس کے بعد کوئی علمی، اخلاقی، روحانی ترقی ممکن ہی نہیں، پستی اور زوال اس کا لازمی نتیجہ ہے۔
(ترجمان القرآن، رمضان ۱۳۵۵ھ، دسمبر ۱۹۳۶ئ)

رواداری

اگر ایک ہی شے کو ایک شخص سیاہ کہے، دوسرا سپید، تیسرا زرد اور چوتھا سرخ تو ممکن نہیں ہے کہ یہ چاروں معاً سچے ہوں۔ اگر ایک ہی فعل کو ایک بُرا کہتا ہے اور دوسرا اچھا، ایک اس سے منع کرتا ہے اور دوسرا اس کا حکم دیتا ہے تو کسی طرح ممکن نہیں کہ دونوں کی رائے صحیح ہو، دونوں برحق ہوں اور دونوں امر و نہی کا کھلا ہوا اختلاف رکھنے کے باوجود اپنے حکم میں درست ہوں۔ جو شخص ایسے متضاد اقوال کی تصدیق کرتا ہے اور ایسے متضاد احکام کو برحق قرار دیتا ہے اس کا یہ فعل دو حال سے خالی نہیں ہوگا۔ یا تو وہ سب کو خوش کرنا چاہتا ہے، یا اس نے اس مسئلے پر سرے سے غور ہی نہیں کیا اور بے سوچے سمجھے رائے ظاہر کر دی۔ بہرحال دونوں صورتیں عقل اور صداقت کے خلاف ہیں اور کسی دانشمند اور حق پسند انسان کے لیے یہ زیبا نہیں کہ کسی وجہ سے بھی مختلف الخیال لوگوں کی تصدیق کرے۔
عموماً لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ دس مختلف خیالات رکھنے والے آدمیوں کے مختلف اور متضاد خیالات کو درست قرار دینا ’’رواداری‘‘ ہے۔ حالانکہ یہ دراصل رواداری نہیں، عین منافقت ہے۔ رواداری کے معنی یہ ہیں کہ جن لوگوں کے عقائد یا اعمال ہمارے نزدیک غلط ہیں ان کو ہم برداشت کریں، ان کے جذبات کا لحاظ کرکے ان پر ایسی نکتہ چینی نہ کریں جو ان کو رنج پہنچانے والی ہو، اور انھیں ان کے اعتقاد سے پھیرنے یا ان کے عمل سے روکنے کے لیے زبردستی کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ اس قسم کا تحمل اور اس طریقے سے لوگوں کو اعتقاد و عمل کی آزادی دینا نہ صرف ایک مستحسن فعل ہے، بلکہ مختلف الخیال جماعتوں میں امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن اگر ہم خود ایک عقیدہ رکھنے کے باوجود محض دوسرے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ان کے مختلف عقائد کی تصدیق کریں، اور خود ایک دستور العمل کے پیرو ہوتے ہوئے دوسرے مختلف دستوروں کا اتباع کرنے والوں سے کہیں کہ آپ سب حضرات برحق ہیں، تو اس منافقانہ اظہار رائے کو کسی طرح رواداری سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ مصلحتاً سکوت اختیار کرنے اور عمداً جھوٹ بولنے میں آخر کچھ تو فرق ہونا چاہیے۔
صحیح رواداری وہ ہے جس کی تعلیم اسلام نے ہم کو دی ہے۔ ہم سے کہا گیا ہے کہ:
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ فَيَسُبُّوا اللہَ عَدْوًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ۝۰ۭ كَذٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَہُمْ۝۰۠ ثُمَّ اِلٰى رَبِّہِمْ مَّرْجِعُہُمْ فَيُنَبِّئُہُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ انعام6:108
یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر جن دوسرے معبودوں کو پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہو، کیونکہ اس کے جواب میں نادانی کے ساتھ ناحق یہ خدا کو گالیاں دیں گے۔ ہم نے تو اسی طرح ہر قوم کے لیے اس کے اپنے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے پھر ان سب کو اپنے پروردگار کی طرف واپس جانا ہے۔ وہاں ان کا پروردگار انھیں بتا دے گا کہ انھوں نے کیسے عمل کیے ہیں۔
وَالَّذِيْنَ لَا يَشْہَدُوْنَ الزُّوْرۙ وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا فرقان25:72
خدا کے نیک بندے وہ ہیں جو جھوٹ پر گواہ نہیں بنتے۔ ۱؎ اور جب کسی نامناسب فعل کے پاس سے گزرتے ہیں تو خودداری کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔
قُلْ يٰٓاَيُّہَا الْكٰفِرُوْنَo لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَo وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُo وَلَآ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْo وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُo لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِo الکٰفرون109:1-6
اے محمد! ان سے کہہ دو کہ اے کافرو! نہ میں ان معبودوں کو پوجتا ہوں جن کو تم پوجتے ہو اور نہ تم اس معبود کو پوجنے والے ہو جس کو میں پوجتا ہوں۔ اور آیندہ بھی نہ میں ان معبودوں کو پوجنے والا ہوں جن کو تم نے پوجا ہے اور نہ تم اس معبود کو پوجنے والے ہو جس کو میں پوجتا ہوں۔ تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔
لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ البقرہ 2:256
دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔
وَيَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّيِّئَۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ يُنْفِقُوْنَ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْہُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ۝۰ۡسَلٰمٌ عَلَيْكُمْ۝۰ۡلَا نَبْتَغِي الْجٰہِلِيْنَ
القصص 28: 54-55
اوربدی کو نیکی سے دفع کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور جب کوئی نامناسب بات سنتے ہیں تو اس سے درگزر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمھارے اعمال تمھارے لیے۔ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں سے کچھ غرض نہیں رکھتے۔
فَلِذٰلِكَ فَادْعُ۝۰ۚ وَاسْتَقِمْ كَـمَآ اُمِرْتَ۝۰ۚ وَلَا تَتَّبِـعْ اَہْوَاۗءَہُمْ۝۰ۭ وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ مِنْ كِتٰبٍ۝۰ۚ وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ۝۰ۭ اَللہُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ۝۰ۭ لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ۝۰ۭ لَا حُجَّۃَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ۝۰ۭ اَللہُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا۝۰ۚ وَاِلَيْہِ الْمَصِيْرُ الشُوریٰ 42:15
پس تم ان کو حق کی دعوت دو اور اپنے مسلک پر جمے رہو جیسا کہ تم کو حکم دیا گیا ہے اور ان کی خواہشات کی ہرگز پیروی نہ کرو اور کہو کہ اللہ نے جو کتاب اتاری ہے اس پر میں ایمان لایا ہوں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمھارے درمیان انصاف کروں، اللہ ہمارا بھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی، ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمھارے اعمال تمھارے لیے، ہمارے اور تمھارے درمیان کوئی حجت نہیں۔ اللہ ہم سب کو قیامت میں جمع کرے گا اور اسی کی طرف واپس جانا ہے۔
اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ۝۰ۭ
النحل16 : 125
اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ پند و نصیحت کے ساتھ بلائو اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے مباحثہ کرو۔
یہی وہ رواداری ہے جو ایک حق پرست، صداقت پسند اور سلیم الطبع انسان اختیار کرسکتا ہے۔ وہ جس مسلک کو صحیح سمجھتا ہے اس پر سختی کے ساتھ قائم رہے گا، اپنے عقیدے کا صاف صاف اظہار و اعلان کرے گا، دوسروں کو اس عقیدے کی طرف دعوت بھی دےگا، مگر کسی کی دل آزاری نہ کرے گا، کسی سے بدکلامی نہ کرے گا، کسی کے معتقدات پر حملہ نہ کرے گا، کسی کی عبادات اور اعمال میں مزاحمت نہ کرے گا، کسی کو زبردستی اپنے مسلک پر لانے کی کوشش نہ کرے گا۔ باقی رہا حق کو حق جانتے ہوئے حق نہ کہنا۔ یا باطل کو باطل سمجھتے ہوئے حق کہہ دینا، تو یہ ہرگز کسی سچے انسان کا فعل نہیں ہوسکتا۔ اور خصوصاً لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ایسا کرنا تو نہایت مکروہ قسم کی خوشامد ہے۔ ایسی خوشامد نہ صرف اخلاقی حیثیت سے ذلیل ہے بلکہ اس مقصد میں بھی کامیاب نہیں ہوتی جس کے لیے انسان اپنے آپ کو اس پست منزل تک گراتا ہے۔ قرآن کا صاف اور سچا فیصلہ ہے کہ:
وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَہُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ۝۰ۭ قُلْ اِنَّ ھُدَى اللہِ ھُوَالْہُدٰى۝۰ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ بَعْدَ الَّذِيْ جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ۝۰ۙ مَا لَكَ مِنَ اللہِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ البقرہ 2: 120
یہود اور نصاریٰ تجھ سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک کہ تو ان کی ملت کا پیرو نہ بن جائے گا۔ صاف کہہ دے کہ اللہ کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے، ورنہ اگر تو نے اس علم کے بعد جو تیرے پاس آیا ہے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو کوئی حامی و مددگار تجھ کو خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔
جھوٹی رواداری کا اظہار تو خیر سیاسی اغراض کے لیے کیا جاتا ہے اور اس دَور میں یہ ’’جائز‘‘ ہے۔ کیونکہ مغربی ارباب ریاست کی کوششوں سے مدت ہوئی کہ اخلاق اور سیاست کے درمیان مفارقت کرا دی گئی ہے۔ لیکن افسوس کے قابل ان ’’محققین‘‘ کا حال جو عقل کو سوچنے اور فکر کو حرکت کرنے کی زحمت دیئے بغیر اپنی مذہبی تحقیقات کا یہ عجیب نظریہ ظاہر فرمایا کرتے ہیں کہ ’’تمام مذاہب برحق ہیں۔‘‘ یہ جملہ اکثر ان لوگوں کی زبان سے سنا جاتا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ ہم کوئی بات زبان سے نہیں نکالتے اور نہ تسلیم کرتے ہیں جب تک کہ اس کو میزان عقل میں تول نہ لیں۔ لیکن میزان عقل کا حال یہ ہے کہ وہ ان کی اس تحقیق انیق کو پر کاہ کے برابر بھی وزن دینے کے لیے آمادہ نہیں ہے۔ جن مختلف مذاہب کو معاً برحق ہونے کی سند عطا کی جاتی ہے، ان کے اصول میں سیاہ اور سفید کا کھلا ہوا فرق موجود ہے۔ ایک کہتا ہے کہ خدا ایک ہے۔ دوسرا کہتا ہے دو ہیں۔ تیسرا کہتا ہے تین ہیں۔ چوتھا کہتا ہے بہت سی قوتیں خدائی میں شریک ہیں۔ پانچویں کی تعلیم میں سرے سے خدا کا تصور ہی موجود نہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ پانچوں سچے ہوں؟ ایک انسان کو خدائی کے مقام میں لے جاتا ہے۔ دوسرا خدا کو کھینچ کر انسانوں کے بیچ میں اتار لاتا ہے۔ تیسرا انسان کو عبد اور خدا کو معبود قرار دیتا ہے۔ چوتھا عبد اور معبود دونوں کے تخیل سے خالی ہے۔ کیا صداقت میں ان چاروں کے لیے اجتماع کی گنجائش نکل سکتی ہے؟ ایک نجات کو صرف عمل پر موقوف رکھتا ہے۔ دوسرا نجات کے لیے صرف ایمان کو کافی سمجھتا ہے۔ تیسرا ایمان اور عمل دونوں کو نجات کے لیے شرط قرار دیتا ہے۔ کیا یہ تینوں بیک وقت صحیح ہوسکتے ہیں؟ ایک نجات کی راہ دنیا اور اس کی زندگی سے باہر نکالتا ہے۔ دوسرے کے نزدیک نجات کا راستہ دنیا اور اس کی زندگی کے اندر سے گزرتا ہے۔ کیا یہ دونوں راستے یکساں درست ہوسکتے ہیں؟ ایسے متضاد امور کو صداقت کی سند عطا کرنے والی شے کا نام اگر عقل ہے تو پھر جمع بین الاضداد کو محال قرار دینے والی شے کا نام کچھ اور ہونا چاہیے۔
مذاہب میں جو تصورات مشترک نظر آتے ہیں، افسوس ہے کہ سطحی نظر رکھنے والے ان کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے اور محض سطح پر نگاہ ڈال کر چند غلط مقدمات کو غلط طریقے سے ترتیب دے کر غلط نتائج نکال لیتے ہیں۔ حالانکہ دراصل یہ اشتراک ایک اہم حقیقت کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ وہ پتہ دیتا ہے کہ درحقیقت یہ تمام مذاہب ایک ہی اصل سے نکلے ہیں۔ ان تمام تصورات اور تعلیمات کا مبدأ ایک ہے۔ کوئی ایک ذریعۂ علم ہے جس نے انسان کو مختلف ممالک، مختلف اوقات اور مختلف زبانوں میں، ان مشترک صداقتوں سے روشناس کیا۔ کوئی ایک بصیرت ہے جو مشرق و مغرب کا بُعد رکھنے والے اور سینکڑوں ہزاروں برس کا فصل رکھنے والے لوگوں کو حاصل ہوئی، اور اس بصیرت سے وہ سب کے سب ایک ہی قسم کے نتائج تک پہنچے۔ لیکن مذاہب جب اپنی اصل اور اپنے مبدأ سے دُور ہوگئے تو ان میں کچھ خارجی تصورات اور اجنبی معتقدات و تعلیمات نے راہ پالی اور چونکہ یہ بعد والی چیزیں اس مشترک مبدأ اور مشترک بصیرت سے ماخوذ نہ تھیں، بلکہ مختلف طبائع، مختلف رجحانات اور مختلف علمی و عقلی مراتب رکھنے والے انسانوں کی طبع زاد تھیں، اس لیے انھوں نے ان مشترک بنیادوں پر جو عمارتیں تعمیر کیں وہ اپنے نقشوں اور اپنی وضع و ہیئت میں بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہوگئیں۔
پس حق اور صدق کا اگر حکم لگایا جاسکتا ہے تو اس اصل مشترک پر لگایا جا سکتا ہے جو تمام مذاہب میں پائی جاتی ہے نہ کہ ان مختلف تفصیلی صورتوں اور ہئیتوں پر جن میں موجودہ مذاہب پائے جاتے ہیں۔ کیونکہ حق ایک جنس بسیط ہے، اس کے افراد میں اختلاف نہیں ہوسکتا۔ جس طرح ہم سیاہ اور سپید، سرخ اور سبز پر لفظ ’’رنگ‘‘ کا اطلاق یکسانی کے ساتھ کرتے ہیں، اس طرح خدا ایک ہے اور خدا دو ہیں اور خدا کروڑوں ہیں کے مختلف احکام پر لفظ ’’حق‘‘ کا اطلاق نہیں کرسکتے۔
یہ بات کہ تمام مذاہب کی اصل ایک ہے، اور ایک صداقت ہے جو مختلف قوموں پر مختلف زمانوں میں ظاہر کی گئی، قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ اس کتاب میں بار بار کہا گیا ہے کہ ہر قوم میں خدا کے رسول اور پیغامبر آئے ہیں۔ وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا النحل16:36 وَ اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ فاطر35:24 یہ تمام انبیاء و رُسُل ایک سرچشمے سے صداقت کا پیغام حاصل کرتے تھے،جَآئُ وْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْکِتٰبِ الْمُنِیْرِ آل عمران3:184 لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ الحدید57:25 ان سب کا پیغام ایک ہی تھا، اور وہ یہ تھا:
اعْبُدُوا اللہَ وَاجْتَـنِبُوا الطَّاغُوْتَ انبیاء21: 25
خدا کی بندگی کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو۔
سب پر خدا کی طرف سے ایک ہی وحی آئی تھی:
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْہِ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ
انبیاء21: 25
اے محمدؐ! تم سے پہلے ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس کی طرف یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، لہٰذا تم میری بندگی کرو۔
ان میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ جو کچھ ہم پیش کر رہے ہیں وہ ہماری اپنی عقل و فکر کا نتیجہ ہے، بلکہ سب یہی کہتے رہے کہ یہ سب خدا کی طرف سے ہے۔
وَمَا كَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۭ وَعَلَي اللہِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَوَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَي اللہِ وَقَدْ ہَدٰىنَا سُبُلَنَا۝۰ۭ ابراہیم 14:11-12
ہم یہ قدرت نہیں رکھتے کہ خدا کے اذن کے بغیر کوئی حجت لاسکیں۔ جو ایمان لانے والے ہیں وہ تو خدا ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں اور ہم کیوں نہ خدا پر بھروسہ رکھیں جبکہ اسی نے ہم کو ہدایت بخشی ہے۔
پھر ان میں سے کسی نے یہ بھی نہیں کہا کہ تم ہماری بندگی کرو، بلکہ سب یہی کہتے رہے کہ خدا پرست بن جائو۔
مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَہُ اللہُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّۃَ ثُمَّ يَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللہِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ آل عمران3:79
کسی بشر کا یہ کام نہیں کہ اللہ جب اس کو کتاب اور حکم اور نبوت عطا کرے تو وہ لوگوں سے کہے کہ تم خدا کے بجائے میرے بندے بن جائو۔ بلکہ وہ تو یہی کہے گا کہ خدا پرست بنو۔
یہ تھی وہ مشترک تعلیم جو تمام قوموں کو ان کے مذہبی رہنمائوں نے دی تھی۔
قرآن مجید کا بیان ہے کہ اوّل اوّل تمام انسان ایک ہی امت تھے، یعنی ایک خالص انسانی فطری حالت (State of Nature)میں تھے اور ان کے پاس خدا کی طرف سے راہِ راست کا علم آیا ہوا تھا۔۱؎ پھر ان میں اختلاف ہوا، اور اختلاف اس وجہ سے ہوا کہ ان میں سے بعض لوگوں نے اپنی حد جائز سے گزرنے، اپنے فطری مرتبے سے زیادہ بلند مرتبہ حاصل کرنے، اور اپنے فطری حقوق سے بڑھ کر حقوق قائم کرنے کی کوشش کی۔ تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء آنے شروع ہوئے تاکہ لوگوں کو حق کا صحیح علم دیں، اور ان کے درمیان اجتماعی عدل (Social Justice)قائم کریں۔ تمام انبیاء کا دنیا میں یہی مشن رہا ہے۔ جن لوگوں نے اس مشن کو قبول کیا اور نبی کے دیئے ہوئے علم کی ٹھیک ٹھیک پیروی کی، اور نبی کے بتائے ہوئے قانون کا اتباع کیا، صرف وہی حق پر ہیں اور باقی سب باطل پر ____ وہ بھی باطل پر جنھوں نے نبی کے اتباع سے انکار کیا، اور وہ بھی باطل پر جنہوں نے نبی کی تعلیم کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال لیا۔
وَمَا كَانَ النَّاسُ اِلَّآ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْا یونس19:10
لوگ دراصل ایک ہی امت تھے، پھر مختلف ہوگئے۔
كَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً۝۰ۣ فَبَعَثَ اللہُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ۝۰۠ وَاَنْزَلَ مَعَہُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِــيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِـيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْہِ۝۰ۭ وَمَا اخْتَلَفَ فِيْہِ اِلَّا الَّذِيْنَ اُوْتُوْہُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْہُمُ الْبَيِّنٰتُ بَغْيًۢا بَيْنَہُمْ۝۰ۚ فَہَدَى اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِيْہِ مِنَ الْحَقِّ بِـاِذْنِہٖ۝۰ۭ وَاللہُ يَہْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَـقِيْمٍo البقرہ:213:2
لوگ پہلے ایک ہی امت تھے (پھر جب ان میں اختلاف ہوا) تو اللہ نے نبیوں کو بھیجا جو بشارت دینے والے اور متنبہ کرنے والے تھے، اور ان کے ساتھ برحق کتاب اتاری تاکہ وہ کتاب لوگوں کے درمیان ان معاملات کا فیصلہ کر دے جس میں انھوں نے اختلاف کیا تھا۔ اور یہ اختلاف جو لوگوں میں ہوا اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ انھوں نے ایک دوسرے پر زیادتی کرنی چاہی ۱؎ ورنہ اللہ کی طرف سے تو ان کے پاس پہلے ہی واضح ہدایات آچکی تھیں۔ پھر جن لوگوں نے نبیوں اورکتابوں کی بات مان لی ان کو اللہ نے اس حق کی راہ دکھا دی جس میں لوگوںکے درمیان اختلاف ہوا تھا اور اللہ جس کو چاہتا ہے راہ راست کی طرف ہدایت بخشتا ہے۔
لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۝۰ۚ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْہِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ الحدید25:57
ہم نے اپنے رسولوں کو واضح ہدایات کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اتاری اور ان کو ترازو۱؎ دیا تاکہ لوگ انصاف کے طریقے پر قائم ہوں، اور ہم نے لوہا اتارا جس میں زبردست قوت بھی ہے اور لوگوں کے لیے فائدے بھی۔
فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰيo وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِيْشَۃً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُہٗ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ اَعْمٰىo طٰہٰ123-124:20
پھر جو میری ہدایت پر چلا وہ نہ راہ راست سے بھٹکے گا اور نہ بدبخت ہوگا۔ اور جو میری نصیحت سے منہ موڑے گا تو دنیا میں اس کی زندگی تنگ ہوگی اور آخرت میں ہم اس کو اندھا اٹھائیں گے۔
یہ قرآن کا نظریۂ تاریخ یا اخلاقی تعبیر تاریخ (Moral Interpretation of History) ہے جو تمدنی اختلافات کے معمے کی طرح مذہبی اختلافات کے معمے کو بھی نہایت تشفی بخش طریقے سے حل کر دیتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا کی تمام قوموں کے پاس خدا کے نبی اسی لیے آتے رہے کہ جس فطری مسلک حیات سے وہ اپنی ’’بغاوت‘‘ کے سبب ہٹ گئی تھیں اسی کی طرف پھر انھیں لے جائیں اور انھیں حق اور عدل کے طریقے پر قائم کر دیں۔ مگر وہی بغاوت کا جذبہ جو ان کی گمراہی کا اصل سبب تھا، انھیں بار بار ہٹا کر پھر ٹیڑھے راستوں کی طرف لے جاتا رہا۔ پس جو تھوڑے بہت صحیح تصورات اور اخلاق کے برحق اصول دنیا کی مختلف قوموں میں پائے جاتے ہیں وہ سب انبیا کی تعلیمات کے وہ باقی ماندہ اثرات ہیں جو اپنی ذاتی قوت کی وجہ سے قوموں کے اذہان اور ان کی زندگی میں جذب ہو کر رہ گئے۔
اس کے بعد قرآن جو دعویٰ پیش کرتا ہے وہ یہ ہے کہ جس ’’اسلام‘‘ کی طرف وہ بلا رہا ہے وہ وہی ’’اصل دین‘‘ ہے جس کو ابتدا سے تمام قوموں میں تمام انبیا پیش کرتے رہے ہیں۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کوئی نرالا پیغام لے کر نہیں آئے ہیں جو پہلے کبھی پیش نہ کیا گیا ہو قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ ۱؎ بلکہ آپ کا پیغام وہی ہے جو ہر نبی نے ہر قوم تک ہر زمانے میں پہنچایا ہے،اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَـمَآ اَوْحَيْنَآ اِلٰي نُوْحٍ وَّالنَّـبِيّٖنَ مِنْۢ بَعْدِہٖ۝۰ۚ ۲؎ النساء163:4 اس پیغام سے عرب، مصر، ایران، ہندوستان، چین، جاپان، امریکہ، یورپ، افریقہ، غرض کوئی سرزمین محروم نہیں رکھی گئی۔ سب جگہ اللہ کے رسول، اللہ کی کتابیں لے کر آئے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ بدھ، کرشن، رام، کنفیوشس، زردشت، مانی، سقراط، فیثاغورث وغیرہم انھی رسولوں میں سے ہوں۔ لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں اور ان دوسرے پیشوائوں میں فرق یہ ہے کہ ان کی اصل تعلیمات تولوگوں کے اختلافات میں گم ہوگئیں مگر آنحضرت نے جو کچھ پیش فرمایا وہ اصلی شکل میں محفوظ ہے۔
پس حقیقت یہ ہے کہ ’’اسلام‘‘ مذاہب میں سے ایک مذہب نہیں ہے بلکہ نوع انسانی کا اصل مذہب یہی ہے، اور باقی سب مذاہب اسی کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں۔ مذاہب میں جو کچھ ’’حق‘‘ اور ’’صدق‘‘ پایا جاتا ہے وہ اسی اصل اسلام کا بچا کھچا اثر ہے جو سب کے ہاں آیا تھا اور اختلافات میں گم کر دیا گیا۔ جس مذہب میں اس باقی ماندہ حق کی مقدار جتنی زیادہ ہے اس میں اتنا ہی زیادہ ’’اسلام‘‘ موجود ہے۔ رہے وہ اختلافات جو اصل ’’اسلام‘‘ کے خلاف ہیں، تو یہ سب یقیناً باطل ہیں اور ان پر ’’حق‘‘ کا حکم لگانا صریح ظلم ہے۔ بجائے اس کے کہ ہم اس جھوٹی رواداری کا مظاہرہ کریں ہمیں تو اپنے تمام انسانی بھائیوں سے یہ کہنا چاہیے کہ دوستو براہ کرم تعصب اور تنگ نظری کو چھوڑ دو اور حق و باطل کی آمیزشوں پر جمے رہنے کے بجائے اس چیز کو قبول کرو جو خالص اور بے آمیز حق ہے۔ حق کسی نسل یا قوم یا ملک کی موروثی جائداد نہیں ہے، بلکہ تمام انسانیت کی مشترک میراث ہے۔ یہ میراث خداوند عالم کی طرف سے سب ملکوں اور قوموں اور نسلوں کو بانٹی گئی تھی۔ دوسروں نے اسے اگر گم کردیا اور اس کے ساتھ مخلوقات پرستی کے، ظلم و ناانصافی کے اور بے جا امتیازات کے زہر ملا لیے تو یہ ایک بدقسمتی تھی، ہماری اور تمھاری سب کی بدقسمتی تھی، کوئی وجہ نہیں کہ تم اس بدقسمتی کے ساتھ خواہ مخواہ چمٹے رہو صرف اس وجہ سے کہ تمھارے آبا و اجداد اس غلطی کے مرتکب ہوگئے تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر اس میراث کو پاکر جوں کا توں پہنچا دیا اور اس کے اندر کسی مخلوق پرستی کا کسی ظالمانہ اور غیر منصفانہ رسم و رواج کا اور کسی قسم کے بے جا امتیازات کا زہر شامل نہ ہوسکا، تو یہ ایک خوش قسمتی ہے، ہماری اور تمھاری اور سب نوع انسانی کی خوش قسمتی ہے، اس کا شکر ادا کرو اور اس سے فائدہ اٹھانے میں صرف اس لیے تامل نہ کرو کہ خدا کی یہ نعمت ایک عرب کے ذریعے سے تمھیں مل رہی ہے۔ حق تو اسی طرح کی عالمگیر نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جس طرح ہوا، پانی اور روشنی اس کی عالمگیر نعمتیں ہیں۔ پھر اگر ہوا سے تم محض اس لیے ناک بند نہیں کرلیتے ہو کہ وہ مشرق سے آرہی ہے، پانی کو تم اپنے حلق سے اتارنے میں صرف اس بنا پر تامل نہیں کرتے ہو کہ اس کا چشمہ فلاں سرزمین میں واقع ہے، اور روشنی سے فائدہ اٹھانے میں تم کو صرف اس وجہ سے کوئی تامل نہیں ہوتا ہے کہ وہ فلاں شخص کے چراغ سے نکل رہی ہے، تو آخر کیا وجہ ہے کہ خالص حق کی جو نعمت تم کو محمدؐ عربی کے ذریعے سے مل رہی ہے اس کو لینے میں تم صرف اس لیے تامل کرو کہ اس کا پیش کرنے والا تمھاری سرزمین میں پیدا نہیں ہوا ہے۔
(ترجمان القرآن صفر ۱۳۵۳ھ۔جون ۱۹۳۴ئ)

اسلامی قومیت کا حقیقی مفہوم

زمانۂ حال میں مسلمانوں کی جماعت کے لیے لفظ ’’قوم‘‘ کا استعمال بڑی کثرت کے ساتھ کیا گیا ہے اور عموماً یہی اصطلاح ہماری اجتماعی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے رائج ہو چکی ہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے، اور بعض حلقوں کی طرف سے اس کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن اور حدیث میں مسلمانوں کے لیے لفظ قوم (یا نیشن کے معنی میں کسی دوسرے لفظ) کو اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔ مختصراً یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان الفاظ میں اصلی قباحت کیا ہے، جس کی وجہ سے اسلام میں ان سے پرہیز کیا گیا اور وہ دوسرے الفاظ کون سے ہیں جن کو قرآن و حدیث میں استعمال کیا گیا ہے۔ یہ محض ایک علمی بحث نہیں ہے۔ بلکہ اس سے ہمارے بہت سے ان تصورات کی غلطی واضح ہو جاتی ہے جن کی بدولت زندگی میں ہمارا رویہ بنیادی طور پر غلط ہو کر رہ گیا ہے۔
لفظ ’’قوم‘‘ اور اس کا ہم معنی انگریزی لفظ (nation)یہ دونوں دراصل جاہلیت کی اصطلاحیں ہیں۔ اہل جاہلیت نے قومیت (nationality)کو کبھی خالص تہذیبی بنیادوں (cultural basis)پر قائم نہیں کیا، نہ قدیم جاہلیت کے دور میں اور نہ جدید جاہلیت کے دَور میں۔ ان کے دل و دماغ کے ریشوں میں نسلی اور روایتی علائق کی محبت کچھ اس طرح پلا دی گئی ہے کہ وہ نسلی روابط اور تاریخی روایات کی وابستگی سے قومیت کے تصور کو کبھی پاک نہ کرسکے۔ جس طرح قدیم عرب میں قوم کا لفظ عموماً ایک نسل یا ایک قبیلے کے لوگوں پر بولا جاتا تھا اسی طرح آج بھی لفظ ’’نیشن‘‘ کے مفہوم میں مشترک جنسیت (Common Descent)کا تصور لازمی طور پر شامل ہے، اور یہ چیز چونکہ بنیادی طور پر اسلامی تصور اجتماع (Conception of Society)کے خلاف ہے اس وجہ سے قرآن میں لفظ قوم اور اس کے ہم معنی دوسرے عربی الفاظ مثلاً شعب وغیرہ کو مسلمانوں کی جماعت کے لیے اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی اصطلاح اس جماعت کے لیے کیوں کر استعمال کی جاسکتی ہے جس کے اجتماع کی اساس میں خون اور خاک اور رنگ اور اسی نوع کی دوسری چیزوں کا قطعاً کوئی دخل نہ تھا، جس کی تالیف و ترکیب محض اصول اور مسلک کی بنیاد پر کی گئی تھی، اور جس کا آغاز ہی ہجرت اور قطع نسب اور ترک علائق مادی سے ہوا تھا۔
قرآن نے جو لفظ مسلمانوں کی جماعت کے لیے استعمال کیا ہے وہ ’’حزب‘‘ ہے جس کے معنی پارٹی کے ہیں۔ قومیں نسل و نسب کی بنیاد پر اٹھتی ہیں اور پارٹیاں اصول و مسلک کی بنیاد پر۔ اس لحاظ سے مسلمان حقیقت میں قوم نہیں بلکہ ایک پارٹی ہیں۔ ان کو تمام دنیا سے الگ اور ایک دوسرے سے وابستہ صرف اس بنا پر کیا گیا ہے کہ یہ ایک اصول اور مسلک کے معتقد اور پیرو ہیں۔ جن لوگوں سے ان کا اصول و مسلک میں اشتراک ہے وہ خواہ کسی ملک اور کسی قوم و نسل سے تعلق رکھتے ہوں ان میں شامل ہو جاتے ہیں، اور جن سے اس چیز میں ان کا اشتراک نہیں ہے وہ خواہ ان سے قریب ترین مادی رشتے ہی کیوں نہ رکھتے ہوں، ان کے ساتھ ان کا کوئی میل نہیں ہے قرآن روئے زمین کی اس پوری آبادی میں صرف دو ہی پارٹیاں دیکھتا ہے، ایک اللہ کی پارٹی (حزب اللہ) دوسری شیطان کی پارٹی (حزب الشیطان)۔ شیطان کی پارٹی میں خواہ باہم اصول اور مسلک کے اعتبار سے کتنے ہی اختلافات ہوں، قرآن سب کو ایک سمجھتا ہے کیونکہ ان کا طریق فکر اور طریق عمل بہرحال اسلام نہیں ہے اور جزئی اختلافات کے باوجودبہر حال وہ سب شیطان کے اتباع پر متفق ہیں۔ قرآن کہتا ہے:
اِسْتَحْوَذَ عَلَيْہِمُ الشَّيْطٰنُ فَاَنْسٰـىہُمْ ذِكْرَ اللہِ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ الشَّيْطٰنِ۝۰ۭ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ الشَّيْطٰنِ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَo المجادلہ: 19:58
شیطان ان پر غالب آگیا اور اس نے خدا سے انھیں غافل کر دیا۔ وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں اور جان رکھو کہ شیطان کی پارٹی آخر کار نامراد ہی رہنے والی ہے۔
برعکس اس کے اللہ کی پارٹی والے خواہ نسل اور وطن اور زبان اور تاریخی روایات کے اعتبار سے باہم کتنے ہی مختلف ہوں، بلکہ چاہے ان کے آباو اجداد میں باہم خونی عداوتیں ہی کیوں نہ رہ چکی ہوں، جب وہ خدا کے بتائے ہوئے طریق فکر اور مسلک حیات میں متفق ہوگئے تو گویا الٰہی رشتے (حبل اللہ) سے باہم جڑ گئے اور اس نئی پارٹی میں داخل ہوتے ہی ان کے تمام تعلقات حزب الشیطان والوں سے کٹ گئے۔
پارٹی کا یہ اختلاف باپ اور بیٹے تک کا تعلق توڑ دیتا ہے، حتیٰ کہ بیٹا باپ کی وراثت تک نہیں پا سکتا۔ حدیث کے الفاظ ہیں لَا یَتَوَاَرَثُ اَھْلُ مِلَّتَیْنِ دو مختلف ملتوں کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے۔
پارٹی کا یہ اختلاف بیوی کو شوہر سے جدا کر دیتا ہے حتیٰ کہ اختلاف رونما ہوتے ہی دونوں پر ایک دوسرے کی مواصلت حرام ہو جاتی ہے، محض اس لیے کہ دونوں کی زندگی کے راستے جدا ہو چکے۔ قرآن میں ہے لَاھُنَّ حِلٌّ لَّھُمْ وَلاَ ھُمْ یَحِلُّوْنَ لَھُنَّ ، نہ وہ ان کے لیے حلال‘ نہ یہ ان کے لیے حلال۔
پارٹی کا یہ اختلاف ایک برادری، ایک خاندان کے آدمیوں میں پورا معاشرتی مقاطعہ کرا دیتا ہے حتّٰی کہ حزب اللہ والے کے لیے خود اپنی نسلی برادری کے ان لوگوں میں شادی بیاہ کرنا حرام ہو جاتا ہے جو حزب الشیطان سے تعلق رکھتے ہوں۔ قرآن کہتا ہے :
مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔ مومن لونڈی مشرک خاتون سے بہتر ہے خواہ وہ تمھیں کتنی ہی پسند ہو۔ اور اپنی عورتوں کے نکاح بھی مشرک مردوں سے نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔ مومن غلام مشرک آزاد شخص سے بہتر ہے چاہے وہ تمھیں کتنا ہی پسند ہو۔
پارٹی کا یہ اختلاف نسلی ووطنی قومیت کا تعلق صرف کاٹ ہی نہیں دیتا بلکہ دونوں میں ایک مستقل نزاع قائم کر دیتا ہے جو دائماً قائم رہتی ہے تاوقتیکہ وہ اللہ کی پارٹی کے اصول تسلیم نہ کرلیں۔ قرآن کہتا ہے:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَۃٌ حَسَـنَۃٌ فِيْٓ اِبْرٰہِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَہٗ۝۰ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۡكَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَاۗءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَحْدَہٗٓ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰہِيْمَ لِاَبِيْہِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ
الممتحنہ 4:60
تمھارے لیے بہترین نمونہ ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں ہے۔ ان لوگوں نے اپنی (نسلی)قوم والوں سے صاف کہہ دیا تھا کہ ہمارا تم سے اور تمھارے ان معبودوں سے جن کی تم خدا کو چھوڑ کر بندگی کرتے ہو کوئی واسطہ نہیں۔ ہم تم سے بے تعلق ہو چکے اور ہمارے تمھارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت پڑ گئی تاوقتیکہ تم خدائے واحد پر ایمان نہ لائو۔ مگر تمھارے لیے ابراہیم ؑ کے اس قول میں نمونہ نہیں ہے کہ اس نے اپنے کافر باپ سے کہا کہ میں تیرے لیے بخشش کی دعا کروں گا۔
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰہِيْمَ لِاَبِيْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاہُ۝۰ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَہٗٓ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ۝۰ۭ التوبہ114:9
ابراہیم ؑ کا اپنے باپ کے لیے بخشش کی دعا کرنا تو محض اس وعدے کی بنا پر تھا جو وہ اس سے کر چکا تھا، مگر جب اس پر کھل گیا کہ اس کا باپ خدا کا دشمن ہے تو وہ اس سے دستبردار ہوگیا۔
پارٹی کا یہ اختلاف ایک خاندان والوں اور قریب ترین رشتہ داروں کے درمیان بھی محبت کا تعلق حرام کر دیتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر باپ اور بھائی اور بیٹے بھی حزب الشیطان میں شامل ہوں تو حزب اللہ والا اپنی پارٹی سے غداری کرےگا اگر ان سے محبت رکھے۔ قرآن میں ارشاد ہے۔
لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَاۗءَہُمْ اَوْ اَبْنَاۗءَہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِيْرَتَہُمْ۝۰ۭ…… اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ اللہِ۝۰ۭ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَo المجادلہ22:58
تم ایسا ہرگز نہ پائو گے کہ کوئی جماعت اللہ اور یوم آخر پر ایمان بھی رکھتی ہو اور پھر اللہ اور رسول کے دشمنوں سے دوستی بھی رکھے خواہ وہ ان کے باپ، بیٹے، بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں…… یہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں اور جان رکھو کہ آخر کار اللہ کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔
دوسرا لفظ جو پارٹی ہی کے معنی میں قرآن نے مسلمانوں کے لیے استعمال کیا ہے وہ لفظ ’’اُمّت‘‘ ہے۔ حدیث میں بھی یہ لفظ کثرت سے مستعمل ہوا ہے۔ امت اس جماعت کو کہتے ہیں جس کو امر جامع نے مجتمع کیا ہو۔ جن افراد کے درمیان کوئی اصل مشترک موجود ہو ان کو اسی اصل کے لحاظ سے ’’امت‘‘ کہا جاتا ہے۔ مثلاً ایک زمانے کے لوگ بھی ’’امت‘‘ کہے جاتے ہیں۔ ایک نسل یا ایک ملک کے لوگ بھی امت کہے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو جس امر مشترک کی بنا پر امت کہا گیا ہے وہ نسل یا وطن یا معاشی اغراض نہیں ہیں بلکہ وہ ان کی زندگی کا مشن اور ان کی پارٹی کا اصول اور مسلک ہے۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے:
كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝۰ۭ آل عمران110:3
تم وہ بہترین امت ہو جسے نوع انسانی کے لیے نکالا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو‘ بدی سے روکتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو۔
وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَہِيْدًا۝۰ۭ البقرہ143:2
اور اس طرح ہم نے تم کو ایک بیچ کی امت ۱؎ بنایا ہے تاکہ تم نوع انسانی پر نگراں۲؎ ہو اور رسول تم پر نگراں ہو۔
ان آیات پر غور کیجیے۔ ’’بیچ کی امت‘‘ سے مراد یہ ہے کہ ’’مسلمان‘‘ ایک بین الاقوامی جماعت (International Party)ہے۔ دنیا کی ساری قوموں میں سے ان اشخاص کو چھانٹ کر نکالا گیا ہے جو ایک خاص اصول کو مانتے، ایک خاص پروگرام کو عمل میں لانے اور ایک خاص مشن کو انجام دینے کے لیے تیار ہوں یہ لوگ چونکہ ہر قوم میں سے نکلے ہیں اور ایک پارٹی بن جانے کے بعد کسی قوم سے بھی ان کا تعلق نہیں رہا ہے۔ اس لیے یہ بیچ کی امت ہیں۔ لیکن ہر ہر قوم سے تعلق توڑنے کے بعد سب قوموں سے ان کا ایک دوسرا تعلق قائم ہوگیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ دنیا میں خدائی فوجدار کے فرائض سر انجام دیں۔ ’’تم نوع انسانی پر نگران ہو‘‘ کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ مسلمان خدا کی طرف سے دنیا میں فوجدار مقرر کیا گیا ہے۔ اور ’’نوع انسانی کے لیے نکالا گیا ہے۔‘‘ کا فقرہ صاف کہہ رہا ہے کہ مسلمان کا مشن ایک عالمگیر مشن ہے۔ اس مشن کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’حزب اللہ‘‘ کے لیڈر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو فکر و عمل کا جو ضابطہ خدا نے دیا تھا اس کو تمام ذہنی، اخلاقی اور مادی طاقتوں سے کام لے کر دنیا میں نافذ کیا جائے اور اس کے مقابلے میں ہر دوسرے طریقے کو مغلوب کر دیا جائے۔ یہ ہے وہ چیز جس کی بنیاد پر مسلمان ایک امت بنائے گئے ہیں۔
تیسرا اصطلاحی لفظ جو مسلمانوں کی اجتماعی حیثیت ظاہر کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت استعمال کیا ہے وہ لفظ ’’جماعت‘‘ ہے اور یہ لفظ بھی ’’حزب‘‘ کی طرح بالکل پارٹی کا ہم معنی ہے۔ عَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ اور یَدُاللّٰہِ عَلَی الْجَماَعَۃِ اور ایسی ہی بکثرت احادیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ ’’قوم‘‘ یا ’’شعب‘‘ یا اس کے ہم معنی دوسرے الفاظ استعمال کرنے سے قصداً احتراز فرمایا اور ان کے بجائے ’’جماعت‘‘ ہی کی اصطلاح استعمال کی۔ آپ نے کبھی نہ فرمایا کہ ’’ہمیشہ قوم کے ساتھ رہو‘‘ یا ’’قوم پر خدا کا ہاتھ ہے۔‘‘ بلکہ ایسے تمام مواقع پر آپ جماعت ہی کا لفظ استعمال فرماتے تھے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے اور یہی ہوسکتی ہے کہ مسلمانوں کے اجتماع کی نوعیت ظاہر کرنے کے لیے ’’قوم‘‘ کے بجائے جماعت، حزب اور پارٹی کے الفاظ ہی زیادہ مناسب ہیں۔ قوم کا لفظ جن معنوں میں عموماً مستعمل ہوتا ہے ان کے لحاظ سے ایک شخص خواہ وہ کسی مسلک اور کسی اصول کا پیرو ہو، ایک قوم میں شامل رہ سکتا ہے جبکہ وہ اس قوم میں پیدا ہوا ہو اور اپنے نام، طرز زندگی اور معاشرتی تعلقات کے اعتبار سے اس قوم کے ساتھ منسلک ہو۔ لیکن پارٹی،جماعت اور حزب کے الفاظ جن معنوں میں مستعمل ہوتے ہیں، ان کے لحاظ سے اصول و مسلک ہی پر پارٹی میں شامل ہونے یا اس سے خارج ہونے کا مدار ہوتا ہے۔ آپ ایک پارٹی کے اصول و مسلک سے ہٹ جانے کے بعد ہرگز اس میں شامل نہیں رہ سکتے، نہ اس کا نام استعمال کرسکتے ہیں، نہ اس کے نمایندے بن سکتے ہیں، نہ اس کے مفاد کے محافظ بن کر نمودار ہوسکتے ہیں، اور نہ پارٹی والوں سے آپ کا کسی طور پر تعاون ہوسکتا ہے۔ اگر آپ یہ کہیں کہ میں پارٹی کے اصول و مسلک سے تو متفق نہیں ہوں، لیکن میرے والدین اس پارٹی کے ممبر رہ چکے ہیں اور میرا نام ان کے ممبروں سے ملتا جلتا ہے اس لیے مجھے ممبروں کے سے حقوق ملنے چاہییں، تو آپ کا یہ استدلال اتنا مضحکہ خیز ہوگا کہ شاید سننے والوں کو آپ کی دماغی حالت پر شبہ ہونے لگے گا۔ لیکن پارٹی کے تصور کو قوم کے تصور سے بدل ڈالیے۔ اس کے بعد یہ سب حرکات کرنے کی گنجائش نکل آتی ہے۔
اسلام نے اپنی بین الاقوامی پارٹی کے ارکان میں یک جہتی اور ان کی معاشرتی زندگی میں یکسانی پیدا کرنے کے لیے اور ان کی ایک سوسائٹی بنا دینے کے لیے حکم دیا تھا کہ آپس ہی میں شادی بیاہ کرو۔ اس کے ساتھ ہی ان کی اولاد کے لیے تعلیم و تربیت کا ایسا انتظام تجویز کیا گیا تھا کہ وہ خود بخود پارٹی کے اصول و مسلک کے پیرو بن کر اٹھیں اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ افزائش نسل سے بھی پارٹی کی قوت بڑھتی رہے۔ یہیں سے اس پارٹی کے قوم بننے کی ابتدا ہوتی ہے۔ بعد میں مشترک معاشرت، نسلی تعلقات اور تاریخی روایات نے اس قومیت کو زیادہ مستحکم کر دیا۔
اس حد تک تو جو کچھ ہوا درست ہوا۔ لیکن رفتہ رفتہ مسلمان اس حقیقت کو بھولتے گئے کہ وہ دراصل ایک پارٹی ہیں اور پارٹی ہونے کی حیثیت ہی پر ان کی قومیت کی اساس رکھی گئی ہے۔ یہ بھلاوا بڑھتے بڑھتے اب یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ پارٹی کا تصور قومیت کے تصور میں بالکل ہی گم ہوگیا۔ مسلمان اب صرف ایک ’’قوم‘‘ بن کر رہ گئے ہیں، اسی طرح کی قوم جیسی کہ جرمن ایک قوم ہے یا جاپانی ایک قوم ہے، یا انگریز ایک قوم ہے۔ وہ بھول گئے ہیں کہ اصل چیز وہ اصول اور مسلک ہے جس پر اسلام نے ان کو ایک امت بنایا تھا، وہ مشن ہے جس کو پورا کرنے کے لیے اس نے اپنے پیرووں کو ایک پارٹی کی صورت میں منظم کیا تھا۔ اس حقیقت کو فراموش کرکے انھوں نے غیر مسلم قوموں سے ’’قومیت‘‘ کا جاہلی تصور لے لیا ہے۔ یہ ایسی بنیادی غلطی ہے اور اس کے قبیح اثرات اتنے پھیل گئے ہیں کہ احیائے اسلام کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھ سکتا جب تک کہ اس غلطی کو مٹا نہ دیا جائے۔
ایک پارٹی کے ارکان میں باہمی محبت، رفاقت اور معاونت جو کچھ بھی ہوتی ہے، شخصی یا خاندانی حیثیت سے نہیں ہوتی، بلکہ صرف اس بنا پر ہوتی ہے کہ وہ سب ایک اصول کے معتقد اور ایک مسلک کے پیروہوتے ہیں۔ پارٹی کا ایک رکن اگر جماعتی اصول اور مسلک سے ہٹ کر کوئی کام کرے تو صرف یہی نہیں کہ اس کی مدد کرنا پارٹی والوں کا فرض نہیں ہوتا، بلکہ اس کے برعکس پارٹی والوں کا فرض یہ ہوتا ہے کہ اس کو ایسے غدارانہ طرز عمل سے روکیں، نہ مانے تو اس کے خلاف جماعتی ضوابط کے تحت سخت کاروائی کریں، پھر بھی نہ مانے تو جماعت سے نکال باہر کریں۔ ایسی مثالیں بھی دنیا میں ناپید نہیں ہیں کہ جو شخص پارٹی کے مسلک سے انحراف کرتا ہے اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ ۱؎ لیکن ذرا مسلمانوں کا حال دیکھیے کہ اپنے آپ کو پارٹی کے بجائے ’’قوم‘‘ سمجھنے کی وجہ سے یہ کیسی شدید غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ان میں سے جب کوئی شخص اپنے فائدے کے لیے غیر اسلامی اصولوں پر کام کرتا ہے تو دوسرے مسلمانوں سے توقع رکھتا ہے کہ اس کی مددکریں گے۔ اگر مدد نہیں کی جاتی تو شکایت کرتا ہے کہ دیکھو مسلمان مسلمان کے کام نہیں آتے۔ سفارش کرنے والے اس کی سفارش ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ ایک مسلمان بھائی کا بھلا ہوتا ہے اس کی مدد کرو۔ مدد کرنے والے بھی اگر اس کی مدد کرتے ہیں تو اپنے اس فعل کو اسلامی ہمدردی سے موسوم کرتے ہیں۔ اس سارے معاملے میں ہر ایک کی زبان پر اسلامی ہمدردی، اسلامی برادری، اسلام کے رشتۂ دینی کا نام بار بار آتا ہے۔ حالانکہ درحقیقت اسلام کے خلاف عمل کرنے میں خود اسلام ہی کا حوالہ دینا اور اس کے نام سے ہمدردی کرنا صریح لغوبات ہے۔ جس اسلام کا یہ لوگ نام لیتے ہیں اگر حقیقت میں وہ ان کے اندر زندہ ہو تو جونہی کہ ان کے علم میں یہ بات آئے کہ اسلامی جماعت کا کوئی شخص کوئی کام اسلامی نظریے کے خلاف کر رہا ہے، یہ اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جائیں اور اس سے توبہ کرا کے چھوڑیں ۔ کسی کا مدد چاہنا اور کسی کا سفارش کرنا تو درکنار، ایک زندہ اسلامی سوسائٹی میں تو کوئی شخص اصول اسلام کی خلاف ورزی کا نام تک زبان پر نہیں لا سکتا۔ لیکن آپ کی اس سوسائٹی میں رات دن یہی معاملہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ آپ کے اندر جاہلی قومیت آگئی ہے۔ جس چیز کو آپ اسلامی اخوت کہہ رہے ہیں یہ دراصل جاہلی قومیت کا رشتہ ہے جو آپ نے غیر مسلموں سے لے لیا ہے۔
اسی جاہلیت کا ایک کرشمہ یہ ہے کہ آپ کے اندر ’’قومی مفاد‘‘ کا ایک عجیب تصور پیدا ہوگیا ہے اور آپ اس کو بے تکلف ’’اسلامی مفاد‘‘ بھی کہہ دیا کرتے ہیں۔ یہ نام نہاد اسلامی مفاد یا قومی مفاد کیا چیز ہے؟ یہ کہ جو لوگ ’’مسلمان‘‘ کہلاتے ہیں ان کا بھلا ہو، ان کے پاس دولت آئے، ان کی عزت بڑھے، ان کو اقتدار نصیب ہو، اور کسی نہ کسی طرح ان کی دنیا بن جائے بلا لحاظ اس کے کہ یہ سب فائدے اسلامی نظریے اور اسلامی اصول کی پیروی کرتے ہوئے حاصل ہوں یا خلاف ورزی کرتے ہوئے۔ پیدائشی مسلمان یا خاندانی مسلمان کو آپ ’’مسلمان‘‘ کہتے ہیں چاہے اس کے خیالات اور اس کے طرز عمل میں اسلام کی صفت کہیں ڈھونڈے نہ ملتی ہو۔ گویا آپ کے نزدیک مسلمان روح کا نام نہیں بلکہ جسم کا نام ہے اور صفت اسلام سے قطع نظر کرکے بھی ایک شخص کو مسلمان کہا جاسکتا ہے۔ اس غلط تصور کے ساتھ جن جسموں کا اسم ذات آپ نے مسلمان رکھ چھوڑا ہے ان کی حکومت کو آپ اسلامی حکومت، ان کی ترقی کو آپ اسلام کی ترقی، ان کے فائدے کو آپ اسلامی مفاد قرار دیتے ہیں، خواہ یہ حکومت اور یہ ترقی اور یہ مفاد سراسر اسلام کے منافی ہی کیوں نہ ہو۔ جس طرح جرمنیت کسی اصول کا نام نہیں، محض ایک قومیت کا نام ہے اور جس طرح ایک جرمن قوم پرست صرف جرمنوں کی سربلندی چاہتا ہے خواہ کسی طریقے سے ہو، اسی طرح آپ نے بھی ’’مسلمانیت‘‘ کو محض ایک قومیت بنا لیا ہے۔ اور آپ کے مسلمان قوم پرست محض اپنی قوم کی سربلندی چاہتے ہیں خواہ یہ سر بلندی اصولاً اورعملاً اسلام کے بالکل برعکس طریقوں کی پیروی کا نتیجہ ہو۔ کیا یہ جاہلیت نہیں ہے؟ کیا درحقیقت آپ اس بات کو بھول نہیں گئے ہیں کہ مسلمان صرف اس بین الاقوامی پارٹی کا نام تھا جو دنیا میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ایک خاص نظریہ اور ایک عملی پروگرام لے کر اٹھی تھی؟ اس نظریے اور پروگرام کو الگ کر دینے کے بعد محض اپنی شخصی یا اجتماعی حیثیت سے جو لوگ کسی دوسرے نظریے اور پروگرام پر کام کرتے ہیں ان کے کاموں کو آپ ’’اسلامی‘‘ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ جو شخص سرمایہ داری کے اصول پر کام کرتا ہو اسے اشتراکی کے نام سے یاد کیا جائے؟ کیا سرمایہ دارانہ حکومت کو کبھی آپ اشتراکی حکومت کہتے ہیں؟ کیا فاشستی طرز ادارہ کو آپ جمہوری طرز ادارہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں؟ اگر کوئی شخص اس طرح اصطلاحوں کو بے جا استعمال کرے تو آپ شاید اسے جاہل اور بے وقوف کہنے ہیں ذرا تامل نہیں کریں گے۔ مگر یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام اور مسلمان کی اصطلاح کو بالکل بے جا استعمال کیا جارہا ہے اور اس میں کسی کو جاہلیت کی بُو تک محسوس نہیں ہوتی۔
مسلمان لفظ خود ظاہر کر رہا ہے کہ یہ ’’اسم ذات‘‘ نہیں بلکہ ’’اسم صفت‘‘ ہی ہوسکتا ہے۔ اور ’’پیروِ اسلام‘‘ کے سوا اس کا کوئی دوسرا مفہوم سرے سے ہے ہی نہیں۔ یہ انسان کی اس خاص ذہنی، اخلاقی اور عملی صفت کو ظاہر کرتا ہے جس کا نام ’’اسلام‘‘ ہے۔ لہٰذا آپ اس لفظ کو شخص مسلمان کے لیے اس طرح استعمال نہیں کرسکتے جس طرح آپ ہندو یا جاپانی یا چینی کے الفاظ شخص ہندو یا شخص جاپانی یا شخص چینی کے یے استعمال کرتے ہیں۔ مسلمانوں کا سا نام رکھنے والا جونہی اصول اسلام سے ہٹا اس سے مسلمان ہونے کی حیثیت خود بخود سلب ہو جاتی ہے۔ اب وہ جو کچھ کرتا ہے اپنی شخصی حیثیت میں کرتا ہے، اسلام کا نام اسے استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اسی طور پر مسلمان کا مفاد، ’’مسلمان کی ترقی‘‘، ’’مسلمان کی حکومت و ریاست‘‘، ’’مسلمان کی وزارت‘‘، ’’مسلمانوں کی تنظیم‘‘ اور ایسے ہی دوسرے الفاظ آپ صرف ان مواقع پر بول سکتے ہیں جبکہ یہ چیزیں اسلامی نظریے اور اصول کے مطابق ہوں اور اس مشن کو پورا کرنے سے متعلق ہوں جو اسلام لے کر آیا ہے۔ اگر یہ بات نہ ہو تو ان میں سے کسی چیز کے ساتھ بھی لفظ مسلمان کا استعمال درست نہیں، آپ ان کو جس دوسرے نام سے چاہیں موسوم کریں، بہرحال مسلمان کے نام سے موسوم نہیں کرسکتے، کیونکہ صفت اسلام سے قطع نظر کرکے مسلمان سرے سے کوئی شے ہی نہیں ہے۔ آپ کبھی اس بات کا تصور نہیں کرسکتے کہ اشتراکیت سے قطع نظر کرکے کسی شخص یا قوم کا نام اشتراکی ہو اور اس معنی میں کسی مفادکو اشتراکی مفاد یا کسی حکومت کو اشتراکی حکومت یا کسی تنظیم کو اشتراکیوں کی تنظیم یا کسی ترقی کواشتراکیوں کی ترقی کہا جاسکے۔ پھر آخر مسلمان کے معاملے میں آپ نے یہ کیوں سمجھ رکھا ہے کہ اسلام سے قطع نظر کرکے مسلمان کسی شخص یا قوم کا ذاتی نام ہے اور اس کی ہر چیز کو اسلامی کہہ دیا جاسکتا ہے۔
اس غلط فہمی نے بنیادی طور پر اپنی تہذیب، اپنے تمدن اور اپنی تاریخ کے متعلق آپ کے رویے کو غلط کر دیا ہے۔ جو بادشاہتیں اور حکومتیں غیر اسلامی اصولوں پر قائم ہوئی تھیں آپ ان کو ’’اسلامی حکومتیں‘‘ کہتے ہیں محض اس لیے کہ ان کے تخت نشین مسلمان تھے۔ جو تمدن قرطبہ و بغداد اور دہلی و قاہرہ کے عیش پرست درباروں میں پرورش پایا تھا آپ اسے ’’اسلامی تمدن‘‘ کہتے ہیں، حالانکہ اس کو اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ آپ سے جب اسلامی تہذیب کے متعلق سوال کیا جاتا ہے تو آپ جھٹ سے آگرہ کے تاج محل کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں۔ گویا یہ ہے اس تہذیب کا سب سے نمایاں نمونہ۔ حالانکہ اسلامی تہذیب سرے سے یہ ہے ہی نہیں کہ ایک میت کو سپرد خاک کرنے کے لیے ایکڑوں زمین مستقل طور پر گھیر لی جائے اور اس پر لاکھوں روپے کی عمارت تیار کی جائے۔ آپ جب اسلامی تاریخ کے مفاخر بیان کرنے پر آتے ہیں تو عباسیوں، سلجوقیوں اور مغلوں کے کارنامے بیان کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقی اسلامی تاریخ کے نقطۂ نظر سے ان کارناموں کا بڑا حصہ آب زر سے نہیں بلکہ سیاہ روشنائی سے جرائم کی فہرست میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ آپ نے مسلمان بادشاہوں کی تاریخ کا نام ’’اسلامی تاریخ‘‘ رکھ چھوڑا ہے، بلکہ آپ اسے ’’تاریخ اسلام‘‘ بھی کہہ دیتے ہیں، گویا ان بادشاہوں کا نام اسلام ہے۔ آپ بجائے اس کے کہ اسلام کے مشن اور اس کے اصول و نظریات کو سامنے رکھ کر اپنی گزشتہ تاریخ کا احتساب کریں اور پورے انصاف کے ساتھ اسلامی حرکات کو غیر اسلامی حرکات سے ممتاز کرکے دیکھیں اور دکھائیں، اسلامی تاریخ کی خدمت آپ اس کو سمجھتے ہیں کہ مسلمان حکمرانوں کی حمایت و مدافعت کریں۔ آپ کے زاویۂ نظر میں یہ کجی صرف اس لیے پیدا ہوئی کہ آپ مسلمان کی ہر چیز کو ’’اسلامی‘‘ سمجھتے ہیں اور آپ کا یہ گمان ہے کہ جو شخص مسلمان کہلاتا ہے وہ اگر غیر مسلمانہ طریق پر بھی کام کرے تو اس کے کام کو مسلمان کاکام کہا جاسکتا ہے۔
یہی ٹیڑھا زاویۂ نظر آپ نے اپنی ملی سیاست میں بھی اختیار کر رکھا ہے۔ اسلام کے اصول و نظریات اور اس کے مشن سے قطع نظر کرکے آپ ایک قوم کو ’’مسلم قوم‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں، اور اس قوم کی طرف سے، یا اس کے نام سے، یا اس کے لیے، ہر شخص اورہر گروہ من مانی کارروائیاں کرسکتا ہے۔ آپ کے نزدیک ہر وہ شخص مسلمانوں کا نمایندہ، بلکہ ان کا لیڈر بھی بن سکتا ہے جو ’’مسلمانوں کی قوم‘‘ سے تعلق رکھتا ہو، خواہ اس غریب کو اسلام کے متعلق کچھ بھی معلوم نہ ہو۔ آپ ہر اس پارٹی کے ساتھ لگ چلنے کو تیار ہو جاتے ہیں جس کی پیروی میں آپ کو کسی نوعیت کا فائدہ نظر آئے، خواہ اس کا مشن اسلام کے مشن سے کتنا ہی مختلف ہو۔ آپ خوش ہو جاتے ہیں جب مسلمانوں کو چار روٹیاں ملنے کا کوئی انتظام ہو جائے، خواہ اسلام کی نگاہ میں وہ حرام کی روٹیاں ہی کیوں نہ ہوں۔ آپ پھولے نہیں سماتے جب کسی جگہ مسلمان آپ کو اقتدار کی کرسی پر بیٹھا نظر آتا ہے، خواہ وہ اس اقتدار کو بالکل اسی طرح غیر اسلامی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہو جس طرح ایک غیر مسلم کرسکتا ہے۔ آپ اکثر ان چیزوں کا نام اسلامی مفاد رکھتے ہیں جو حقیقتاً غیر اسلامی ہیں، ان اداروں کی حمایت اور حفاظت پر اپنا زور صرف کرتے ہیں جو اصول اسلام کے بالکل خلاف قائم ہوئے ہیں، اور ان مقاصد کے پیچھے اپنا روپیہ اور اپنی قومی طاقت ضائع کرتے ہیں جو ہرگز اسلامی نہیں ہیں۔ یہ سب نتائج اسی ایک بنیادی غلطی کے ہیں کہ آپ نے اپنے آپ کو محض ایک قوم سمجھ رکھا ہے اور اس حقیقت کو آپ بھول گئے ہیں کہ دراصل آپ ایک ’’بین الاقوامی پارٹی‘‘ ہیں جس کا کوئی مفاد اور کوئی مقصد اپنی پارٹی کے اصولوں کو دنیا میں حکمران بنانے کے سوا نہیں ہے۔ جب تک آپ اپنے اندر قوم کے بجائے پارٹی کا تصور پیدا نہ کریں گے اور اس کو زندہ تصور نہ بنائیں گے، زندگی کے کسی معاملے میں بھی آپ کا رویہ درست نہ ہوگا۔
(ترجمان القرآن۔ صفر ۱۳۵۸ھ۔ اپریل ۱۹۳۹ئ)

استدراک

اس مضمون کی اشاعت کے بعد متعدد اصحاب نے اس شبہے کا اظہار کیا کہ ’’اسلامی جماعت‘‘ کو ’’قوم‘‘ کے بجائے ’’پارٹی‘‘ کہنے میں اس امر کی گنجائش نکلتی ہے کہ وہ کسی وطنی قومیت کی جز بن کر رہے۔ جس طرح ایک قوم میں مختلف سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں اور اپنا الگ مسلک رکھنے کے باوجود سب کی سب اس بڑے مجموعہ میں شامل رہتی ہیں جس کو ’’قوم‘‘ کہا جاتا ہے، اسی طرح اگر مسلمان ایک پارٹی ہیں تو وہ بھی اپنے وطن کی قوم کا جز بن کر رہ سکتے ہیں۔
چونکہ جماعت یا پارٹی کے لفظ کو عام طور پر لوگ سیاسی جماعت یا پولیٹیکل پارٹی کے معنی میں لیتے ہیں اس وجہ سے وہ غلط فہمی پیدا ہوئی جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن یہ لفظ کا اصلی مفہوم نہیں ہے بلکہ ایک خاص معنی میں بکثرت مستعمل ہونے سے پیدا ہوگیا ہے۔ اصلی مفہوم اس لفظ کا یہ ہے کہ جو لوگ ایک مخصوص عقیدے، نظریے، مسلک اور مقصد پر مجتمع ہوں وہ ایک جماعت ہیں۔ اسی معنی میں قرآن نے ’’حزب‘‘ اور ’’امت‘‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں، اور اسی معنی میں ’’جماعت‘‘ کا لفظ احادیث اور آثار میں مستعمل ہوا ہے اور یہی مفہوم ’’پارٹی‘‘ کا بھی ہے۔
اب ایک جماعت تو وہ ہوتی ہے جس کے پیش نظر ایک قوم یا ملک کے مخصوص حالات کے لحاظ سے سیاسی تدبیر کا ایک خاص نظریہ اور پروگرام ہوتا ہے۔ اس قسم کی جماعت محض ایک سیاسی جماعت ہوتی ہے اس لیے وہ اس قوم کا جز بن کر کام کرسکتی ہے اور کرتی ہے جس میں وہ پیدا ہو۔
دوسری جماعت وہ ہوتی ہے جو ایک کلی نظریہ اور جہانی تصور (world Idea)لے کر اٹھتی ہے، جس کے سامنے تمام نوع انسانی کے لیے (بلالحاظ قوم و وطن) ایک عالمگیر مسلک ہوتا ہے، جو پوری زندگی کی تشکیل و تعمیر ایک نئے ڈھنگ پر کرنا چاہتی ہے‘ جس کا نظریہ و مسلک عقائد و افکار اور اصول و اخلاق سے لے کر انفرادی برتائو اور اجتماعی نظام کی تفصیلات تک ہر چیز کو اپنے سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے، جو ایک مستقل تہذیب اور ایک مخصوص تمدن (civilization)کو وجود میں لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ جماعت بھی اگرچہ حقیقت میں ایک جماعت ہی ہوتی ہے، لیکن یہ اس قسم کی جماعت نہیں ہوتی جو کسی قوم کاجز بن کر کام کرسکتی ہو۔ یہ محدود قومیتوں سے بالاتر ہوتی ہے۔ اس کا تو مشن ہی یہ ہوتا ہے کہ ان نسلی و روایتی تعصبات کو توڑ دے جن پر دنیا میں مختلف قومیتیں بنی ہیں، پھر یہ خود اپنے آپ کو کس طرح ان قومیتوں کے ساتھ وابستہ کرسکتی ہے؟ یہ نسلی و تاریخی قومیتوں کی بجائے ایک عقلی قومیت (rational Nationality) بناتی ہے۔ جامد قومیتوں کی جگہ ایک نامی قومیت (expanding nationality) بناتی ہے، یہ خودایک ایسی قومیت بنتی ہے جو عقلی و تہذیبی اور اصول وحدت کی بنیاد پر روئے زمین کی پوری آبادی کو اپنے دائرے میں لینے کے لیے تیار ہوتی ہے۔ لیکن ایک قومیت بننے کے باوجود حقیقت میں یہ ایک جماعت ہی رہتی ہے، کیونکہ اس میں شامل ہونے کا مدار پیدائش پر نہیں ہوتا بلکہ اس نظریہ و مسلک کی پیروی پر ہوتا ہے جس کی بنیاد پر یہ جماعت بنی ہے۔
مسلمان دراصل اسی دوسری قسم کی جماعت کا نام ہے۔ یہ اس قسم کی پارٹی نہیں ہے جیسی پارٹیاں ایک قوم میں بنا کرتی ہیں بلکہ اس قسم کی پارٹی ہے جو ایک مستقل نظام تہذیب و تمدن (civilization)بنانے کے لیے اٹھتی ہے اور چھوٹی چھوٹی قومیتوں کی سرحدوں کو توڑ کر عقلی بنیادوں پر ایک بڑی جہانی قومیت (world nationality)بنانا چاہتی ہے۔ اس کو ’’قوم‘‘ کہنا اس لحاظ سے یقیناً درست ہوگا کہ یہ اپنے آپ کو دنیا کی نسلی یا تاریخی قومیتوں میں سے کسی قومیت کے ساتھ بھی باعتبار تمدن یا باعتبار جذبات وابستہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی بلکہ اپنے نظریۂ حیات اور فلسفۂ اجتماعی (Social philosophy) کے مطابق خود اپنی تہذیب و مدنیت کی عمارت بناتی ہے۔ لیکن اس معنی کے لحاظ سے ’’قوم‘‘ ہونے کے باوجود یہ حقیقت میں ’’جماعت‘‘ ہی رہتی ہے کیونکہ محض اتفاقی پیدائش (mere accident of birth)کسی شخص کو اس قوم کا ممبر نہیں بنا سکتی جب تک کہ وہ اس کے مسلک کا معتقد اور پیرو نہ ہو۔ اور اسی طرح کسی شخص کا کسی دوسری قوم میں پیدا ہونا اس کے لیے اس امر میں مانع نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنی قوم سے نکل کر اس قومیت میں داخل ہو جائے جب کہ وہ اس کے مسلک پر ایمان لانے کے لیے تیار ہو۔ پس جو کچھ میں نے کہا ہے اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ مسلم قوم کی قومیت اس کے ایک جماعت یا پارٹی ہونے ہی کی بنا پر قائم ہے۔ اس کی قومی حیثیت اس کی جماعتی حیثیت کی فرع ہے۔ اگر جماعتی حیثیت کو اس سے الگ کرلیا جائے۔ اور یہ مجرد ایک قوم بن کر رہ جائے تو یہ اس کا تنزل (degeneration)ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسانی اجتماعات کی تاریخ میں اسلامی جماعت کی حیثیت بالکل نرالی اور انوکھی واقع ہوئی ہے۔ بودھ مت اور مسیحیت نے قومیتوں کے حدود توڑ کر تمام عالم انسانی کو خطاب تو کیا تھا اور ایک نظریہ و مسلک کی بنیاد پر عالمگیر برادری بنانے کی کوشش بھی کی تھی مگر ان دونوں مسلکوں کے پاس چند اخلاقی اصولوں کے سوا کوئی ایسا اجتماعی فلسفہ نہ تھا جس کی بنیاد پر یہ تہذیب و تمدُّن کا کوئی کلی نظام بناسکتے۔ اس لیے یہ دونوں مسلک کوئی عالمگیر قومیت نہ بنا سکے بلکہ ایک طرح کی برادری (brother-hood)بنا کر رہ گئے۔ بعد میں مغرب کی سائنٹیفک تہذیب اٹھی جس نے اپنے خطاب کو بین الاقوامی بنانا چاہا، مگر اوّل یوم پیدائش سے اس پر نیشنلزم کا بھوت سوار ہوگیا لہٰذا یہ بھی عالمگیر قومیت بنانے میں ناکام ہوئی۔ اب مارکسی اشتراکیت آگے بڑھی ہے اور قومیتوں کی حدود کو توڑ کر جہانی تصور کی بنیاد پر ایک ایسی تہذیب وجود میں لانا چاہتی ہے جو عالمگیر ہو۔ لیکن چونکہ ابھی تک وہ نئی تہذیب پوری طرح وجود میں نہیں آئی ہے جو اس کے پیش نظر ہے، اس لیے ابھی تک مارکسیت بھی ایک عالمگیر قومیت میں تبدیل نہیں ہوسکی ہے۔۱؎ اس وقت تک میدان میں تنہا اسلام ہی ایک ایسا نظریہ و مسلک ہے جو نسلی اور تاریخی قومیتوں کو توڑ کر تہذیبی بنیادوں پر ایک عالمگیر قومیت بناتا ہے۔ لہٰذا جو لوگ اسلام کی اسپرٹ سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ایک ہی اجتماعی ہیئت کس طرح بیک وقت قوم بھی اور پارٹی بھی ہوسکتی ہے۔ وہ دنیا کی جتنی قوموں کو جانتے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں ہے جس کے ارکان پیدا نہ ہوتے ہوں بلکہ بنتے ہوں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ جو شخص اٹالین پیدا ہوا ہے وہ اٹالین قوم کا رُکن ہے اور جو اٹالین پیدا نہیں ہوا وہ کسی طرح اٹالین نہیں بن سکتا۔ ایسی قومیت سے وہ واقف نہیں ہیں جس کے اندر آدمی اعتقاد اور مسلک کی بنا پر داخل ہوتا ہو اور اعتقاد و مسلک کے بدل جانے پر اس سے خارج ہو جاتا ہو۔ ان کے نزدیک یہ صفت ایک قوم کی نہیں بلکہ ایک پارٹی کی ہی ہوسکتی ہے۔ مگر جب وہ دیکھتے ہیں کہ یہ نرالی پارٹی اپنی الگ تہذیب بناتی ہے، اپنی مستقل قومیت کا اِدّعا کرتی ہے اور کسی جگہ بھی مقامی قومیت کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرنے پر راضی نہیں ہوتی تو ان کے لیے یہ معاملہ ایک چیستاں بن کر رہ جاتا ہے۔
یہی نافہمی غیر مسلموں کی طرح مسلمانوں کو بھی پیش آرہی ہے۔ مدتوں سے غیر اسلامی تعلیم و تربیت پاتے رہنے اور غیر اسلامی ماحول میں زندگی گزارنے کی وجہ سے ان کے اندر ’’تاریخی قومیت‘‘ کا جاہلی تصور پیدا ہوگیا ہے۔ یہ اس بات کو بھول گئے ہیں کہ ہماری اصل حیثیت ایک ایسی جماعت کی تھی جو دنیا میں عالمگیر انقلاب برپا کرنے کے لیے جود میں آتی تھی، جس کی زندگی کا مقصد اپنے نظریے کو دنیا میں پھیلانا تھا، جس کاکام دنیا کے غلط اجتماعی نظامات کو توڑ پھوڑ کر اپنے فلسفۂ اجتماعی کی بنیاد پر ایک عالمگیر اجتماعی نظام مرتب کرنا تھا۔ یہ سب کچھ بھول بھال کر انھوں نے اپنے آپ کو بس اسی قسم کی ایک قوم سمجھ لیا ہے جیسی اور بہت سی قومیں موجود ہیں۔ اب ان کی مجلسوں اور انجمنوں میں، ان کی کانفرنسوں اور جمعیتوں میں، ان کے اخباروں اور رسالوں میں، کہیں بھی ان کی اجتماعی زندگی کے اس مشن کا ذکر نہیں آتا جس کے لیے ان کو دنیا بھر کی قوموں میں سے نکال کر ایک امت بنایا گیا تھا۔ اس مشن کے بجائے اب جو چیز ان کی تمام توجہات کا مرکز بنی ہوئی ہے وہ ’’مسلمانوں کا مفاد‘‘ ہے____مسلمانوں سے مراد وہ سب لوگ ہیں جو مسلمان ماں باپ کی نسل سے پیدا ہوئے ہوں، اور مفاد سے مراد ان نسلی مسلمانوں کا مادی و سیاسی مفاد ہے یا بدرجۂ آخر اس کلچر کا تحفظ ہے جو ان کو آبائی ورثے میں ملی ہے … اس مفاد کی حفاظت اور ترقی کے لیے جو تدبیر بھی کارگر ہو اس کی طرف یہ دوڑ جاتے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح مسولینی ہر اس طریقے کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہو جاتا تھا جو اطالویوں کے مفاد کے لیے مناسب ہو۔ کسی اصول اور نظریے کا وہ پابند نہ تھا نہ یہ ہیں۔ وہ کہتا تھا کہ جو کچھ اطالویوں کے لیے مفید ہو وہ حق ہے، یہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ’’مسلمانوں‘‘ کے لیے مفید ہو وہ حق ہے۔ یہی چیز ہے جس کو میں مسلمانوں کا تنزل کہتا ہوں۔ اور اسی تنزل کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے مجھے یہ یاد دلانے کی ضرورت پیش آئی ہے کہ تم نسلی اور تاریخی قوموں کی طرح ایک قوم نہیں ہو بلکہ حقیقت میں ایک جماعت ہو، اور تمھاری نجات صرف اس چیز میں ہے کہ اپنے اندر جماعتی احساس (Party sense)پیدا کرو۔
اس جماعتی احساس کے فقدان یا خود فراموشی کے برے نتائج اتنے زیادہ ہیں کہ اس کا شمار کرنا مشکل ہے۔ یہ اسی بے حسی و خود فراموشی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان ہر رہرو کے پیچھے چلنے اور ہر نظریے اور مسلک کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے، خواہ وہ اسلام کے نظریے اور اس کے مقاصد اور اس کے اصولوں سے کتنا ہی ہٹا ہوا ہو۔ وہ نیشنلسٹ بھی بنتا ہے، کمیونسٹ بھی بنتا ہے۔ فاشستی اصول تسلیم کرنے میں بھی اسے کوئی تامل نہیں ہوتا۔ مغرب کے مختلف اجتماعی اور مابعد الطبیعی افکار اور علمی نظریات میں سے قریب قریب ہر ایک کے پیرو آپ کو مسلمانوں میں مل جائیں گے۔ دنیا کی کوئی سیاسی، اجتماعی یا تمدنی تحریک ایسی نہیں جس کے ساتھ کچھ نہ کچھ مسلمان شریک نہ ہوں۔ اور لطف یہ ہے کہ یہ سب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، سمجھتے ہیں اور سمجھے جاتے ہیں۔ ان مختلف راہوں پر بھٹکنے اور دوڑنے والوں میں سے کسی ایک کو بھی یہ یاد نہیں آتا کہ ’’مسلمان‘‘ کوئی پیدائشی لقب نہیں ہے بلکہ اسلام کی راہ پر چلنے والے کا اسم صفت ہے۔ جو شخص اسلام کی راہ سے ہٹ کر کسی دوسری راہ پر چلے اس کو ’’مسلمان‘‘ کہنا اس لفظ کا بالکل غلط استعمال ہے۔ مسلم نیشنلسٹ اور مسلم کمیونسٹ اور اسی قسم کی دوسری اصطلاحیں بالکل اسی طرح کی متناقض اصطلاحیں ہیں جس طرح ’’کمیونسٹ مہاجن‘‘ اور ’’جینی قصائی‘‘ کی اصطلاحیں متناقض ہیں۔

امربالمعروف و نہی عن المنکر

ہر چیز کے لیے اپنی صفت کے لحاظ سے کمال کے دو درجے ہوا کرتے ہیں۔ پہلا درجہ یہ ہے کہ وہ جس صفت سے متصف ہے اس میں اتصاف کی انتہا کو پہنچ جائے۔ اور دوسرا درجہ یہ کہ اس کی ذات میں وہ صفت اتنی شدید ہو جائے کہ وہ دوسری چیزوں تک متعدی ہو اور دوسروں کو بھی اپنی صفت کے رنگ میں رنگ دے۔ برف کا کمال اول یہ ہے کہ وہ انتہا درجے کی سرد ہے اور کمال ثانی یہ ہے کہ وہ دوسری چیزوں کو بھی سرد کر دیتی ہے۔ آگ کا کمال اوّل یہ ہے کہ وہ خود انتہا درجے کی گرم ہے۔ اور کمال ثانی یہ کہ وہ آس پاس کی چیزوں کو بھی اپنی اسی گرمی سے گرم کر دیتی ہے۔ بالکل یہی حال نیکی اور بدی کا بھی ہے۔ نیک آدمی کا پہلا کمال یہ ہے کہ وہ خود نیکی کا مجسمہ بن جائے اور دوسرا کمال یہ کہ وہ اپنے اثر سے دوسروں کو بھی نیک بنا دے۔ اسی طرح برے آدمی کا پہلا کمال یہ ہے کہ وہ خود بدی کی صفت سے بدرجۂ اتم متصف ہو اور دوسرا کمال یہ کہ وہ اپنی اس بدی کو دوسروں تک متعدی کر دے۔
اس قاعدۂ کلیہ کے مطابق کافر اور مومن کے لیے بھی کمال کے دو مرتبے ہیں۔ کافر اگر بجائے خود اپنے عقیدۂ کفر میں راسخ اور مضبوط ہو تو وہ کمال کفر کے پہلے مرتبے میں ہے اور اگر وہ کفر کی تبلیغ کرے، لوگوں کو راہ حق سے روک کر باطل کی طرف کھینچ لانے کی کوشش کرے، اور اپنے زور بیان، یازورِ مال یا زور شمشیر یا کسی دوسرے زور سے کفر کی اشاعت کرے تو وہ کمال کفر کے دوسرے مرتبے کی بھی تحصیل کر لیتا ہے۔ اور ان دونوں کو جمع کرنے کے بعد اس کے لیے کمال کا کوئی اور درجہ باقی نہیں رہ جاتا۔ اسی طرح مومن اگر خود اپنے عقیدۂ ایمان میں راسخ اور اطاعت حق میں کامل ہو تو وہ کمال ایمان کے پہلے مرتبے پر فائز ہوگا، اور اگر اس میں یہ صفت اتنی شدید ہو جائے کہ وہ دوسروں میں بھی ایمان و اطاعت حق کی تبلیغ و اشاعت کرنے لگے اور دوسروں میں بھی اپنی زبان و قلم اور اپنے کیرکٹر اور اپنے برتائو کے اثر سے اور اپنے دست و بازو کی جدوجہد سے اسلام اور اطاعت حق کی صفت پیدا کر دے تو اس کو کمال ایمان کا دوسرا درجہ بھی حاصل ہو جائے گا اور اس کے بعد وہ پورا مومن کہلائے جانے کا مستحق ہوگا۔
اس مضمون کو سورۂ آل عمران کے دسویں اور گیارہویں رکوع میں بڑی خوبی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ پہلے فرمایا:قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللہِ۝۰ۤۖ آل عمران98:3
(اے محمد ان سے) کہو کہ اے اہل کتاب تم کیوں اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو؟
پھر فرمایا:قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَھَا عِوَجًا ۔
آل عمران 99:3
کہو کہ اے اہل کتاب تم کیوں ایمان لانے والوں کو اللہ کے راستے سے روکتے اور اس کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو؟
یہ دونوں آیات صاف طور پر دلالت کرتی ہیں کہ کفر کا پہلا کمال آیات الٰہی کا خود منکر ہونا ہے، اور دوسرا کمال اس کی اشاعت کرنا، اور لوگوں کو خدا کے سیدھے رستے سے روکنا اور اعتقاد و عمل کے ٹیڑھے راستے ان کے سامنے پیش کرنا ہے۔
اس کے بعد مومنوں سے خطاب شروع ہوتا ہے۔ اور ان سے بھی دو باتیں کہی جاتی ہے۔ ایک یہ ہے کہ:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَo وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا۝۰۠ آل عمران 102-103:3
اے ایمان لانے والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ اور تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔ اور سب کے سب مل کر اللہ کی رسی کو پکڑے رہو اور پراگندہ نہ ہو جائو۔
دوسرے یہ کہ:
وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّۃٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَo آل عمران:104:3
اور تم میں سے ایک ایسی جماعت تو ضرور ہی ہونی چاہیے جو نیکی طرف بلاتی ہو، اچھے کام کا حکم دیتی ہو اور بُرے کام سے روکتی ہو۔ اور فلاح پانے والے ایسے ہی لوگ ہیں۔
یہاں ایمان کے بھی دو درجے بتا دیئے ہیں۔ پہلا درجہ تو یہ ہے کہ مومن اللہ سے ڈرنے والا ہو، اور مرتے دم تک اوامرالٰہی کا مطیع رہے، اور اللہ کی رسی کو مضبوط تھامے رکھے۔ اور دوسرا درجہ یہ ہے کہ وہ اپنے دوسرے ابنائے نوع کو بھی نیکی کی طرف بلائے، اچھے کاموں کا حکم دے اور بُرے کاموں سے روکے۔
پھر کمال ثانی کے اندر بھی بہت سے مراتب ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ موم بتی‘ بجلی کا قمقمہ، چاند اور سورج، سب پر منیر اور روشن گر ہونے کا اطلاق ہوتا ہے، مگر روشن گری میں ان کے مدارج متفاوت ہیں۔ موم بتی صرف ایک حجرے کو روشن کر سکتی ہے۔ بجلی کے قمقمے کی روشنی ایک بڑے مکان کی حد تک پھیل سکتی ہے۔ چاند کی روشنی زمین اور اس کے ارگرد کی فضا تک محدود ہے۔ مگر سورج ایک عالم کو اپنی روشنی سے چمکا رہا ہے اور ہمارا پورا نظام شمسی اس کی روشنیوں سے منور ہے۔ اسی طرح مومن اگر اپنے جیسے ایک انسان کے دل میں بھی ایمان کی شمع روشن کر دے تو وہ کمال ثانی کے مرتبے میں داخل ہو جائے گا۔ لیکن یہ اس کمال کا پہلا درجہ ہوگا۔ پھر ایک جماعت، ایک قوم، ایک ملک میں دعوت اِلیٰ الخیر کے مدارج ہیں۔ اور آخری درجہ یہ ہے کہ اس کی دعوت الی الخیر تمام عالم انسانی کے لیے عام ہو، وہ ساری دنیا کو نیکی طرف بلائے، پورے ربع مسکُوں میں اللہ کا فوجدار بن جائے، بدی اور منکر جہاں بھی ہو اس کے استیصال کے لیے آستین چڑھائے اور اپنے آپ کو کسی خاص برادری، کسی خاص قوم، کسی خاص ملک اور کسی خاص نسلی یا جغرافی حد کے اندر محدود نہ سمجھے۔ یہ کمال ایمان کا سب سے بڑا اور اونچا درجہ ہے اور چونکہ حضرت حق جل مجدہ نے ہر معاملے میں مسلمانوں کے سامنے ایک بلند مطمح نظر پیش فرمایا ہے اور کسی جگہ پست حوصلگی کی تعلیم نہیں دی ہے، اس لیے آگے چل کر بارہویں رکوع میں صاف فرما دیا کہ مسلمان کا شخصی اور قومی نصب العین و مقصد حیات یہی ہے کہ وہ تمام عالم کو خدا کی شریعت کا محکوم بنانے کی کوشش کرے:
كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝۰ۭ آل عمران110:3
تم بہترین امت ہو جسے نوع انسانی کے لیے نکالا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو۔ بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
آیت وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ… الخ کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان اختلاف واقع ہوا ہے اور اختلاف کا منشا لفظ مِنْکُمْ ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ مِنْ یہاں تبعیض کے لیے نہیں بلکہ تبیین کے لیے آیا ہے، اور دوسرا گروہ کہتا ہے کہ نہیں وہ تبعیض ہی کے لیے آیا ہے۔
پہلے گروہ کا استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر واجب کیا ہے، جیسا کہ فرمایا: کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃِ اُخْرِجَتْ لِنَّاسِ…… الخ اور حقیقت میں ہر مکلف ہستی پر واجب ہے کہ وہ نیکی کا حکم دے اور بدی کو دفع کرے خواہ ہاتھ سے کرے یا زبان سے کرے یا اور کچھ نہ ہوسکے تو قلب ہی سے کرے۔ لہٰذا آیت کے معنی یہ ہیں کہ ’’تم ایسی امت ہو جائو جو خیر کی طرف بلاتی اور برائی سے روکتی ہو‘‘، کیونکہ مِنْ یہاں تبیین کے لیے ہے اور اس کی مثال یہ آیت ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ یعنی بتوں کی گندگی سے بچو، نہ یہ کہ بتوں میں سے اس چیز سے بچو جو گندگی ہے۔
دوسرا گروہ کہتا ہے کہ مِنْ یہاں تبعیض کے لیے آیا ہے اور اس کے دو وجوہہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں میں ایک بڑا حصہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور مریضوں پر مشتمل ہے جو دعوت اِلیٰ الخیر اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے واجبات ادا نہیں کرسکتا۔ دوسرے یہ کہ امر بالمعروف و نہی المنکر کے لیے کچھ شرائط ہیں جو ہر شخص میں نہیں پائی جاتیں۔ اس کے لیے خیر اور معروف کا صحیح علم درکار ہے۔ اس کے لیے حکمت اور عقل کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ آدمی پہلے خود کمال درجے کا متقی اور پرہیزگار ہو، تب لوگوں کو تقویٰ اور پرہیزگاری کی دعوت دے۔
مگر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ میں تامل کرنے سے یہ اختلاف بآسانی دُور ہوسکتا ہے۔
ہم نے اوپر کلام اللہ سے مومن کے لیے دو کمال ثابت کیے ہیں۔ ان میں سے پہلا کمال یعنی خوف خدا اور اوامرِ الٰہیہ کے آگے سرجھکا دینا، اور اللہ کی رسی کو مضبوط تھامے رہنا تو ذات مومن کے ساتھ صفت ایمان کے نفس قیام کے لیے ضروری ہے۔ لہٰذا ہر مومن میں اس کمال کے کسی نہ کسی مرتبے کا متحقق ہونا لابد ہے کہ اگر وہ اس میں نہ ہو تو وہ مومن ہی نہ ہوگا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اگر چراغ میں روشنی نہ ہو تو وہ چراغ ہی نہ ہوگا۔ اگر برف میں سردی نہ ہو تو وہ برف نہ ہوگی۔ اگر آگ میں گرمی نہ ہو تو وہ آگ ہی نہیں ہوسکتی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمام مومنوں کو خطاب کرکے پورے زور کے ساتھ فرمایا ہے کہ اِتَّقُو ا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ اور وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلاَّ وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ اور وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلاَ تَفَرَّ قُوْا۔اس آیت میں تبعیض کا نام و نشان تک نہیں بلکہ عموم کے ساتھ تاکید ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مسلمان میں لازمی طور پر یہ صفات ہونی چاہییں۔
رہا دوسرا کمال تو وہ کمال زائد ہے جس کا متحقق ہونا، مومن کے مومن ہونے کے لیے نہیں اس کے کامل و مکمل اور بلند و عالیشان مومن ہونے کے لیے ضروری ہے۔ اب اس کمال کے اعتبار سے ایک قوم کی دو ہی حالتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک حالت تو یہ ہے کہ قوم کے کم از کم ایک حصے میں کمال ایمان کا یہ اعلیٰ مرتبہ متحقق ہو اور باقی افراد صرف کمال اوّل سے متصف رہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم پہلی حالت میں ہو یعنی اگر تمھاری پوری قوم دنیا میں آفتاب ہدایت بن جائے اور تمام اقوام عالم کو نیکی کا حکم دینے والی اور بدی سے روکنے والی ہو، تو تم دنیا کی بہترین امت ہوگے کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعَرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ المُنْکَرِوُتْومِنُوْنَ بِاللّٰہِلیکن اگر تم میں اس اعلیٰ مرتبے کی ہمت نہ ہو اور پوری قوم اس صفت سے متصف نہ ہوسکے، تو تمھارے اندر کم از کم ایک گروہ تو ایسا رہنا ہی چاہیے جو خیر کی طرف بلاتا رہے اور بدی سے روکتا رہے۔ وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعوْنَ اِلَی الْخَیْر۔ اسی لیے پہلی آیت میں عموم ہے، مگر تاکید نہیں اور دوسری آیت میں تاکید ہے مگر عموم نہیں۔
کمال ایمان کے یہ دو درجے، جن کا بار بار ذکر آرہا ہے، صرف اعتبار میں دو ہیں ورنہ حقیقت میں تو دونوں ایک ہی ہیں۔ جس شخص کے دل میں ایمان راسخ موجود ہوگا، اور جو اللہ سے ایسا ڈرنے والا ہوگا جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے، اس کے لیے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی کو گمراہی میں مبتلا دیکھے اور راہ حق کی طرف دعوت نہ دے، کہیں بدی کا وجود پائے اور اس کو مٹانے کی کوشش نہ کرے۔ طبیعت مومن کی مثال ایسی ہے جیسے مشک کہ رائحۂ ایمان اس کے جَرم تک محدود نہیں رہتی بلکہ پھیلتی ہے جہاں تک پھیلنے کا اس کو موقع ملے۔ یا چراغ کہ نور ایمان سے جہاں وہ منور ہوا اور اس نے آس پاس کی فضا میں اپنی شعاعیں پھیلا دیں۔ مشک میں جب تک خوشبو رہے گی وہ مشام جاں کو معطر کرتا رہے گا۔ چراغ جب تک روشن رہے گا روشنی کرتا رہے گا۔ مگر جب مشک کی خوشبو قریب سے قریب سونگھنے والے کو بھی محسوس نہ ہو اور چراغ کی روشنی اپنے قریب ترین ماحول کو بھی روشن نہ کرے تو ہر شخص یہی حکم لگائے گا کہ مشک مشک نہیں رہا اور چراغ نے اپنی چراغیت کھودی۔ یہی حال مومن کا ہے کہ اگر وہ خیر کی طرف دعوت نہ دے، نیکی کا حکم نہ دے، بدی کو برداشت کرلے اور اس سے روکے نہیں، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں خوفِ خدا کی آگ سرد پڑ گئی ہے اور ایمان کی روشنی مدھم ہوگئی ہے۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم میں سے جو کوئی بدی کو دیکھے تو لازم ہے کہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے اور اگر استطاعت نہ رکھتا ہو تو زبان ہی سے سہی۔ اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو تو کم از کم دل میں اس کو بُرا سمجھے اور اس کو مٹانے کی خواہش رکھے۔ کیونکہ یہ ایمان کا کم سے کم درجہ ہے۔جس دل میں بدی سے نفرت تک نہ ہو اس میں رائی برابر بھی ایمان نہیں۔ اسی لیے قرآن مجید میں مومنوں کی عام صفات میں سے ایک صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ نیکی کا حکم دینے والے اور بدی سے روکنے والے ہیں۔
وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ التوبہ71:9
مومن مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے حامی اور مددگار ہیں۔ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور بدی سے روکتے ہیں۔
اَلتَّاۗىِٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّاۗىِٕحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاہُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللہِ۝۰ۭ التوبہ 112:9
وہ توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، خدا کی حمد کرنے والے، خدا کی راہ میں سفر کرنے والے، رکوع و سجود کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، بدی سے روکنے والے اور حدُود الٰہی کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ۝۰ۭ الحج41:22
یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم نے ان کو زمین میں طاقت بخش دی تو یہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم کریں گے اور بدی سے روکیں گے۔
پھر جبکہ مومن کی ضروری صفات میں سے ایک صفت امربالمعروف و نہی عن المنکر بھی ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس کی حیثیت فرض کفایہ کی سی رکھی گئی اور اس معاملے میں اتنی نرمی کی گئی کہ مسلمانوں کی پوری قوم میں سے صرف ایک جماعت کا آمر بالمعروف اور ناہی عن المنکر ہونا کافی سمجھا گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدائے علیم و خبیر کو معلوم تھا کہ عہدِ رسالت کے گزر جانے کے بعد مسلمانوں کے ایمان ضعیف تر ہوتے چلے جائیں گے۔ جُوں جُوں زمانہ گزرتا چلا جائے گا یہ قوم مائل ِ تنزل ہوتی چلی جائے گی۔ حتیٰ کہ ایک وقت وہ آئے گا کہ کروڑوں مسلمان دنیا میں موجود ہوں گے مگر ان کی شمع ایمان میں اتنی روشنی بھی نہ ہوگی کہ اپنے قریبی ماحول کو ہی منور کرسکیں۔ بلکہ ظلمت کفر کے غلبے سے خود ان کے اپنے نور بجھ جانے کا خوف ہوگا۔ لہٰذا ایسی حالتوں کے لیے اس نے فرمایا کہ تمھارے اندر کم از کم ایک ایسی جماعت تو ضرور ہی موجود رہنی چاہیے جو خیر کی طرف دعوت دینے والی اور بدی کا مقابلہ کرنے والی ہو۔ کیونکہ اگر تمھارے اندر ایسی ایک جماعت بھی نہ رہے تو پھر تم کو عذاب الٰہی اور قطعی ہلاکت و تباہی سے کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔
اس مضمون کو قرآن مجید میں خوب کھول کر بیان کیا گیا ہے، چنانچہ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے:
لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَلٰي لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ۝۰ۭ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَo كَانُوْا لَا يَتَنَاہَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْہُ۝۰ۭ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَo المائدہ:78-79:5
بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا تھا ان پر دائود اور عیسیٰ بن مریمؑ کی زبان سے لعنت کی گئی اس لیے کہ انھوں نے سرکشی کی اور وہ حد سے گزر جاتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو بُرے افعال کے ارتکاب سے نہ روکتے تھے اور یہ بہت بُری بات تھی جو وہ کرتے تھے۔
دوسری جگہ فرمایا:
فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِيَّۃٍ يَّنْہَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْاَرْضِ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّنْ اَنْجَيْنَا مِنْہُمْ۝۰ۚ وَاتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مَآ اُتْرِفُوْا فِيْہِ وَكَانُوْا مُجْرِمِيْنَo وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُہْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَہْلُہَا مُصْلِحُوْنَo ہود: 116-117:11
تم سے پہلے کی قوموں میں کچھ لوگ ایسے کیوں نہ ہوئے جو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے۔ان میں ایسے لوگ اگر تھے بھی تو وہ بہت کم تھے سو ان کو ہم نے نجات دے دی۔ باقی رہے ظالم لوگ تو وہ مجرم تھے اور وہ ان دنیوی لذتوں کے پیچھے پڑے رہے جو ان کو دی گئی تھیں۔ تو اے نبی تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو یوں ہی ظلم سے ہلاک کر دے، دراں حالیکہ ان کے باشندے نیکوکار ہوں۔
اس مضمون کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بیان فرمایا ہے:
اِنَّ اللّٰہَ لَا یُعَذِّبُ الْعَامَّۃَ بِعَمَل خَاصَّۃٍ حَتّٰی یَرَوُالْمُنْکَرَ بَیْنَ ظَھْرَا نَیْھِمْ وَھُمْ قَادِرُوْنَ عَلٰی اَنْ یُنْکِرُوْہُ فَلاَ یُنْکِرُوْہُ فَاِذَا فَعَلُوْا ذَالِکَ عَذَّبَ اللّٰہُ الْخَاصَّۃَ وَالْعَامَّۃَ ۔ (رواہ احمد)
اللہ عام لوگوں کو خاص لوگوں کے بُرے اعمال کی سزا نہیں دیتا جب تک کہ نوبت یہاں تک نہ پہنچ جائے کہ وہ اپنے سامنے بُرے کام ہوتے دیکھیں اور ان کو روکنے کی قدرت رکھتے ہوں اور پھر نہ روکیں۔ جب وہ ایسا کرنے لگتے ہیں تو اللہ خاص اور عام سب پر عذاب نازل کرتا ہے۔
ایک دوسرے موقعے پر فرمایا:
وَالَّذِیْ نَفْسْیِ بِیَدہٖ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلَتَنْھَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ وَلَتأَ خُذُنّ عَلٰی یَدِالْمُسِیْٔ وَلَتأْطِرَنَّہٗ عَلَی الْحَقِّ اِطْرَاء اَوْلَیَضْرِبَنَّ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِکُمْ عَلٰی بَعْضٍ اَوْلَیَلْعَنُکُمْ کَمَا لَعَنَھُمْ۔ (رواہ الترمذی و ابودائود و ابن ماجہ باختلاف قلیل)
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم پر لازم ہے کہ نیکی کا حکم دو، بدی سے روکو، اور بدکار کا ہاتھ پکڑلو اور اسے حق کی طرف موڑ دو، ورنہ اللہ تمھارے دلوں کی برائیاں ایک دوسرے پر مسلط کر دے گا، یا تم پر اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح بنی اسرائیل پر کی۔
پس یہ بات واضح ہوگئی کہ آیت وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ… الخ میں جو تبعیض ہے وہ اس معنی میں نہیں ہے کہ مسلمانوں میں سے صرف ایک ہی ایسی جماعت مطلوب ہے جو داعی اِلیٰ الخیر اور آمر بالمعروف اور ناہی عن المنکر ہو، اور باقی مسلمانوں کے لیے اس خدمت کا بجا لانا واجب ہی نہیں بلکہ دراصل اس کے معنی یہ ہیں کہ مسلمانوں میں کم از کم ایک جماعت تو ایسی ضرور ہی رہنی چاہیے، جو خیر کی شمع روشن رکھے اور شر کی ظلمت کو دفع کرتی رہے۔ اگر ایسی ایک جماعت بھی ان میں موجود نہ رہی تو خیر امت ہونا تو درکنار اس قوم کا عذاب الٰہی اور لعنتِ خداوندی سے بچ جانا بھی محال ہے۔
(ترجمان القرآن جمادی الاولیٰ ۱۳۵۲ھ، ستمبر۱۹۳۳ئ)

نُزولِ عذاب الٰہی کا قانون

قرآن مجید میں جگہ جگہ ان قوموں کا ذکر آیا ہے جن پر گزشتہ زمانہ میں خدا کا عذاب نازل ہوا ہے۔ ہر قوم پر نزول عذاب کی صورت مختلف رہی ہے۔ عاد پر کسی طرح کا عذاب اترا۔ ثمود پر کسی اور طرح کا۔ اہل مدین پر کسی دوسری صورت میں۔ آل فرعون پر ایک نئے انداز میں۔ مگر عذاب کی شکلیں اور صورتیں خواہ کتنی ہی مختلف ہوں، وہ قانون جس کے تحت یہ عذاب نازل ہوا کرتا ہے ایک ہی ہے اور ہرگز بدلنے والا نہیں۔
سُـنَّۃَ اللہِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ۝۰ۚ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللہِ تَبْدِيْلًاo احزاب:62:33
نزول عذاب کے اس قانون کی تمام دفعات پوری تشریح کے ساتھ قرآن مجید میں درج کی گئی ہیں۔ اس کی پہلی دفعہ یہ ہے کہ جب کسی قوم کی خوشحالی بڑھ جاتی ہے تو وہ غلط کاری اور گمراہی کی طرف مائل ہو جاتی ہے اور خود اس کی عملی قوتوں کا رُخ صلاح سے فساد کی طرف پھر جایا کرتا ہے۔
وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّہْلِكَ قَرْيَۃً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْہَا فَفَسَقُوْا فِيْہَا فَحَـــقَّ عَلَيْہَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰہَا تَدْمِيْرًاo بنی اسرائیل16:17
اور جب ہم ارادہ کرتے ہیں کہ کسی بستی کو ہلاک کریں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم ۱؎ دیتے ہیں اور وہ لوگ اس بستی میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں۔ پھر وہ بستی عذاب کے حکم کی مستحق ہو جاتی ہے پھر ہم اس کو تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔
دوسرا قاعدۂ کلیہ یہ ہے کہ خدا کسی قوم پر ظلم نہیں کرتا۔ بدکار قوم خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتی ہے۔ خدا کسی قوم کو نعمت دے کر اس سے کبھی نہیں چھینتا۔ ظالم قوم خود اپنی نعمت کے درپے استیصال ہو جاتی ہے اور اس کے مٹانے کی کوشش کرتی ہے۔
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللہَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَہَا عَلٰي قَوْمٍ حَتّٰي يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ۝۰ۙ
انفال53:8
یہ اس لیے کہ اللہ کبھی اس نعمت کو بدلنے والا نہیں ہے جو اس نے کسی قوم کو بخشی ہو‘ تاوقتیکہ وہ قوم خود اپنے آپ کو نہ بدل دے۔
فَمَا كَانَ اللہُ لِيَظْلِمَہُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ يَظْلِمُوْنَo التوبہ:70:9
اللہ ایسا نہیں ہے کہ ان پر ظلم کرتا۔ وہ تو خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔
پھر یہ بھی اسی قانون کی ایک دفعہ ہے کہ خدا ظلم (برنفس خود) پر مواخذہ کرنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ ڈھیل دیتا ہے اور تنبیہیں کرتا رہتا ہے کہ نصیحت حاصل کریں اور سنبھل جائیں۔
وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللہُ النَّاسَ بِظُلْمِہِمْ مَّا تَرَكَ عَلَيْہَا مِنْ دَاۗبَّۃٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُہُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى۝۰ۚ النحل:61:16
اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم کے بدلے میں پکڑتا تو روئے زمین پر کوئی متنفس باقی نہ رہتا۔ مگر وہ لوگوں کو ایک مقررہ مدت تک مہلت دیا کرتا ہے۔
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰہُمْ بِالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ لَعَلَّہُمْ يَتَضَرَّعُوْنَo فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَہُمْ بَاْسُـنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُہُمْ وَزَيَّنَ لَہُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ o انعام:42-43:6
ہم نے تم سے پہلے کی قوموں میں بھی اسی طرح پیغمبر بھیجے اور ان کو سختی اور تکلیف میں گرفتار کیا تاکہ شاید وہ ہماری طرف عاجزانہ جھکیں۔ پس جب ان پر ہماری طرف سے مصیبت آئی تو کیوں نہ وہ ہمارے آگے گڑگڑائے؟ مگر ان کے دل تو سخت ہو چکے تھے اور شیطان نے ان کی نگاہوں میں ان کے اعمال کو خوشنما بنا دیا تھا۔
اس ڈھیل کے زمانے میں اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ظالم قوموں کو خوشحالی کے فتنے میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ وہ اس سے دھوکا کھا جاتی ہیں اور واقعی یہ سمجھ بیٹھتی ہیں کہ ہم ضرور نیکوکار ہیں ورنہ ہم پر نعمتوں کی بارش کیوں ہوتی؟
اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّہُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَo نُسَارِعُ لَہُمْ فِي الْخَــيْرٰتِ۝۰ۭ بَلْ لَّا يَشْعُرُوْنَo المومنون 55-56:23
کیا یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہم جو مال اولاد سے ان کی امداد کیے چلے جارہے ہیں (تو اس کے معنی یہ ہیں کہ) ہم ان کو فائدہ پہنچانے میں جلدی کر رہے ہیں؟ (حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔ اصلی بات جو کچھ ہے) اسے یہ نہیں سمجھتے۔۱؎
آخر کار جب وہ قوم کسی طرح کی تنبیہ سے بھی نہیں سنبھلتی اور ظلم کیے ہی جاتی ہے تو خدا اس کے حق میں نزول عذاب کا فیصلہ کر دیتا ہے اور جب اس پر عذاب کا حکم ہو جاتا ہے تو کوئی قوت اس کو نہیں بچا سکتی۔
وَتِلْكَ الْقُرٰٓى اَہْلَكْنٰہُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَجَعَلْنَا لِمَہْلِكِہِمْ مَّوْعِدًاo الکہف 59:18
یہ بستیاں (جن کے آثار تم دیکھ رہے ہو) ان کو ہم نے اس وقت تباہ کیا کہ جب انھوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کے ہلاک ہونے کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا۔
وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَہِىَ ظَالِمَۃٌ۝۰ۭ اِنَّ اَخْذَہٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌo
ہود: 102:11
اور جب تیرا رب ظالم ہستیوں کو پکڑتا ہے تو وہ ایسی ہی بُری طرح پکڑتا ہے اور اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوا کرتی ہے۔
وَاِذَآ اَرَادَ اللہُ بِقَوْمٍ سُوْۗءًا فَلَا مَرَدَّ لَہٗ۝۰ۚ وَمَا لَہُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّالٍo رعد11:13
اور جب خدا کسی قوم کے حق میں برائی کا ارادہ کرتا ہے تو کوئی قوت اس کی شامت کو دفع کرنے والی نہیں ہوتی، اور پھر خدا کے مقابلے میں ان کا کوئی مدد گار نہیں نکلتا۔
یہ عذاب الٰہی کا اٹل قانون جس طرح پچھلی قوموں پر جاری ہوتا رہا ہے اسی طرح آج بھی اس کا عمل جاری ہے۔ اور اگر بصیرت ہو تو آج آپ خود اپنی آنکھوں سے اس کے نفاذ کی کیفیت ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ مغرب کی وہ عظیم الشان قومیں جن کی دولتمندی و خوشحالی، طاقت و جبروت، شان و شوکت، عقل و ہنر کو دیکھ دیکھ کر نگاہیں خیرہ ہوئی جاتی ہیں اور جن پر انعامات کی پیہم بارشوں کے مشاہدے سے یہ دھوکہ ہوتا ہے کہ شاید یہ خدا کے بڑے ہی مقبول اور چہیتے بندے اور خیر و صلاح کے مجسمے ہیں، ان کی اندرونی حالت پر ایک غائر نگاہ ڈالیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ اس عذاب الٰہی کے قانون کی گرفت میں آچکی ہیں۔ اور انھوں نے اپنے آپ کو خود اپنے انتخاب و اختیار سے اس دیو ظلم ( ظلم برنفس خود) کے چنگل میں پوری طرح پھنسا دیا ہے جو تیزی کے ساتھ انھیں تباہی و ہلاکت کی طرف لیے چلا جارہا ہے۔
وہی صنعت و حرفت کی فراوانی، وہی تجارت کی گرم بازاری، وہی دہائے سیاست کی کامیابی، وہی علوم حکمیہ و فنون عقلیہ کی ترقی، وہی نظام معاشرت کی سربفلک بلندی، جس نے ان قوموں کو دنیا پر غالب کیا، اور روئے زمین پر ان کی دھاک بٹھائی، آج ایک ایسا خطرناک جال بن کر ان کو لپٹ گئی ہے جس کے ہزاروں پھندے ہیں اور ہر پھندے میں ہزاروں مصیبتیں ہیں۔ وہ اپنی عقلی تدبیروں سے جس پھندے کو کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں اس کا ہر تارکٹ کر ایک نیا پھندا بن جاتا ہے، اور رہائی کی ہرتدبیر مزید گرفتاری کا سبب ہو جاتی ہے ؎
از سر گرہ زندگرہِ ناکشودہ را
یہاں ان تمام معاشی اور سیاسی اور تمدنی مصائب کی تفصیل کا موقع نہیں ہے جن میں مغربی قومیں اس وقت گرفتار ہیں۔ بیان مدعا کے لیے اس تصویر کا ایک پہلو پیش کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہو جائے گا کہ یہ قومیں کس طرح اپنے اوپر ظلم کر رہی ہیں اورکس طرح اپنے ہاتھوں اپنی ہلاکت کا سامان مہیا کیے جارہی ہیں۔
اپنے معاشی، تمدنی اور سیاسی احوال کی خرابی کے اسباب تشخیص کرنے اور ان کا علاج تجویز کرنے میں اہل فرنگ سے عجیب عجیب غلطیاں ہو رہی ہیں۔ منجملہ ان کے ایک غلطی یہ ہے کہ وہ اپنی مشکلات کا بڑا بلکہ اصلی سبب آبادی کی کثرت کو سمجھنے لگے، اور ان کو اس کا صحیح علاج یہ نظر آیا کہ افزائش نسل کو روکا جائے، معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ یہ خیال نہایت تیزی کے ساتھ مغربی ممالک میں پھیلنا شروع ہوا اور دلوں میں کچھ اس طرح بیٹھا کہ لوگ اپنی نسل کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھنے لگے، یا بالفاظ دیگر اپنی نسل کے سب سے بڑے دشمن بن گئے، چنانچہ ضبط ولادت کے نئے نئے طریقے جو پہلے کسی کے ذہن میں بھی نہ آتے تھے عام طور پر رائج ہونے شروع ہوئے۔ اس تحریک کو ترقی دینے کے لیے نہایت وسیع پیمانے پر تبلیغ و اشاعت کی گئی۔ کتابیں، پمفلٹ، رسائل اور جرائد خاص اسی موضوع پر شائع ہونے لگے، انجمنیں اور جمعیتیں قائم ہوئیں۔ ہر عورت اور مرد کو اس کے متعلق معلومات بہم پہنچانے، اور عملی آسانیاں فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا۔ غرض یورپ اور امریکہ کے عمرانی ’’مصلحین‘‘نے اپنی نسلوں کے خلاف ایک زبردست جنگ چھیڑ دی اور جوش اصلاح میں ان کو یہ سوچنے کا ہوش بھی نہ آیا کہ آخر یہ جنگ کہاں جاکر رکے گی۔
توالدوتناسُل سے مغربی قوموں کی نفرت کاحال یہ ہوگیا کہ ضبط ولادت کے متعدد طریقوں سے بچ بچا کر جو حمل ٹھیر جاتے ان کو بھی اکثر و بیشتر گرایا جانے لگا۔ روس میں تو یہ فعل قانوناً جائز قرار دے دیا گیا اور ہر عورت کا یہ حق تسلیم کیا گیا کہ تین مہینے کا حمل ساقط ۱؎ کر دے۔ لیکن انگلستان اور دوسرے فرنگی ممالک میں بھی جہاں اسقاط حمل قانوناً ممنوع ہے، خفیہ طور پر اسقاط کی کثرت وبا کی حد تک پہنچ گئی۔ فرانس میں عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ جتنے بچے ہر سال پیدا ہوتے ہیں قریب قریب اتنے ہی حمل ہر سال ساقط کیے جاتے ہیں، بلکہ بعض ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ اسقاط کی تعداد پیدائش سے زیادہ ہے۔ تیس اور چالیس برس کے درمیان شاید ہی کوئی عورت ہو جس نے اسقاط کا ارتکاب نہ کیا ہو۔ گو قانوناً یہ فعل جرم ہے لیکن دواخانوں میں علانیہ اس کا ارتکاب ہوتا ہے اور فرضی بیماریاں رجسٹروں میں درج کر دی جاتی ہیں۔ انگلستان میں بہت سی دائیاں ہیں جن کا کاروبار اسقاط ہی سے چلتا ہے۔ ایک ڈاکٹر کا اندازہ ہے کہ ہر پانچ عورتوں میں سے چار ایسی ضرور نکلیں گی جنھوں نے کبھی نہ کبھی اسقاط کیا ہوگا۔ جرمنی میں تقریباً دس لاکھ حمل ہر سال ساقط کیے جاتے ہیں۔۲؎ اور اتنی ہی تعداد زندہ پیدا ہونے والے بچوں کی ہے۔ بعض جرمن شہروں میں تو اندازہ کیا گیا ہے کہ گزشتہ بیس سال کے اندر جتنے بچے پیدا ہوئے اس سے دو گنے حمل ساقط کر دیئے گئے۔
عورت جس کے اندر فطرت نے ایک زبردست جذبۂ مادری رکھا تھا، مغربی ممالک میں اب اتنی شقی القلب ہوگئی ہے کہ وہ اپنے پیٹ کی اولاد کو ہلاک کرنے کےلیے خود اپنی جان تک کو خطرے میں ڈالنے سے نہیں چوکتی۔ ڈاکٹر نارمن ہیر (Dr.Norman Haire)اپنی ایک تقریر میں بیان کرتا ہے کہ ایک حاملہ عورت اس کے ہاں آئی اور اس نے اسقاط کی خواہش ظاہر کی۔ جب قانونی مجبوری کی بنا پر عذر کیا گیا تو اس نے طرح طرح کی زہریلی دوائیں کھا کر پیٹ گرانے کی کوشش کی۔ سیڑھیوں پر سے قصداً اپنے آپ کو لڑھکایا۔ اونچے اونچے مقامات سے کود گئی، بھاری بھاری بوجھ اٹھائے۔ اور جب اس سے بھی اسقاط نہ ہوا تو آخر کار ایک اناڑی قابلہ کی دوا استعمال کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ مادام البرشیت (Madame Albrecht)کا بیان ہے کہ عورتیں حمل ساقط کرنے کے لیے وہ وہ حرکتیں کر گزرتی ہیں جو بیان نہیں کی جاسکتیں۔ مثلاً پیٹ پر سخت آلات سے ضربیں لگانا، رحم کو مختلف آلات سے صدمہ پہنچانا، وحشیانہ طریقوں سے ناچنا، اپنے آپ کو قصداً اونچی جگہ سے گرا دینا، سخت سے سخت زہریلی چیزیں حتیٰ کہ باردت تک کھا جانا۔ وہ ایک فرانسیسی عورت کا قصہ بیان کرتی ہے کہ اس نے حمل سے تنگ آ کر ایک لمبی پن لی اور رحم میں چبھو چبھوکر اسے اتنا زخمی کرلیا کہ خون جاری ہوگیا۔ اس قسم کی مجنونانہ حرکات سے بکثرت عورتیں ہر سال اپنی جان دے دیتی ہیں۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ انگلستان کے شفاخانہ ہائے نسواں میں جتنی عورتیں ہر سال مرتی ہیں ان میں سے نصف کا سبب اسقاط حمل ہے اور یہی کیفیت دوسرے ممالک کی بھی ہے۔
ایم پال بیورو اپنی کتاب ’’اخلاقی دیوالہ کی راہ پر‘‘ (towards moral bankruptcy) میں پیرس کی ایک رقاصہ کاحال لکھتا ہے کہ اس نے اپنے نومولود بچے کو نہایت بے رحمی کے ساتھ سر میں کیل ٹھونک ٹھونک کر قتل کیا اور جب وہ عدالت میں پیش ہوئی تو اس نے اپنے بیان میں صاف کہا کہ اس بچے کی پیدائش نے میری زندگی کے عیش کو کر کرا کر دیا تھا اس لیے میں نے اسے قتل کر دیا۔ طبی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ اس میں قطعاً کسی جنون کے آثار نہ تھے بلکہ اس نے پورے شعور کے ساتھ اس فعل کا ارتکاب کیا تھا۔
اس زبردست نسل کشی کا نتیجہ یہ ہے کہ یورپ کی شرح پیدائش میں بہت کمی واقع ہوگئی ہے۔ ۱۸۷۶ئ اور ۱۹۳۰ئکے اعداد کا مقابلہ کیجیے انگلستان اور ویلز میں شرح پیدائش ۲ئ۳۶ فی ہزار سے گھٹ کر۳ئ۱۶ (اور ۱۹۳۱ء میں ۸ئ۱۵) رہ گئی ہے۔ جرمنی میں ۹ئ۴۰ سے۵ ء۱۷۔اٹلی میں۲ ء۳۹ سے۷ ء۲۶۔ سویڈن میں۸ئ۳۰سے ۴ئ۱۵ اور نیوزی لینڈ میں ۰ئ۴۱سے ۰ئ ۱۸ تک گھٹ گئی ہے۔۱؎ سردست چونکہ ان ممالک میں شرح اموات بھی قریب قریب اسی نسبت سے کم ہوئی ہے اس لیے آبادی ایک حالت پر ٹھیری ہوئی ہے۔ لیکن اندازہ کیا گیا ہے کہ اگر شرح پیدائش اسی رفتار سے گھٹتی رہی تو دس سال گزرنے کے بعد یہ ٹھیری ہوئی حالت قائم نہ رہے گی بلکہ آبادی گھٹنی شروع ہو جائے گی۔
سب سے زیادہ خطرناک حالت فرانس کی ہے۔ تمام دنیا کے ممالک میں صرف یہی ملک ایسا ہے جہاں کی آبادی روز بروز گھٹتی چلی جارہی ہے۔ ۱۸۸۰ء میں وہاں کی شرح پیدائش ۲۵ء۲ فی ہزار تھی، ۱۹۳۱ء میں ۱۷ء۱ رہ گئی۔ مگر شرح اموات میں اس تناسب سے کمی نہیں ہوئی۔ ۱۸۸۰ء میں شرح اموات ۲۲ء۶ تھی۔ ۱۹۳۱ء میں صرف ۱۶ء۳ تک اتری۔ فرانس کے ہمسایہ اور حریف ممالک، جرمنی اور اٹلی میں ۱۳۵ اور ۱۳۰ آدمی فی مربع کلومیٹر آباد ہیں۔ مگر فرانس میں صرف ۷۳ فی مربع کلومیٹر آبادی کا اوسط ہے۔ ۱۹۳۱ء میں فرانس کی سرزمین پر ۷۳۰۲۴۹ بچے پیدا ہوئے۔ اور اس کے حریف جرمنی میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد ۱۰۳۱۵۰۸ تھی۔
مس سسلی ہیملٹن اپنی کتاب جدید فرانس (modern france)میں لکھتی ہے کہ اس حالت نے فرانس کے مدبرین سیاست میں ایک گہری پریشانی پیدا کر رکھی ہے جس کا بُرا اثر نہ صرف فرانس بلکہ تمام دنیا کی سیاست پر مترتب ہو رہا ہے۔ فرانس کی عیش پسند آبادی دیہات کو چھوڑ چھوڑ کر شہروں میں منتقل ہو رہی ہے۔ اٹلی اور پولینڈ وغیرہ ممالک کے باشندے ہجرت کرکرکے فرانس میں آرہے ہیں اور زمینوں پر قبضہ کرتے چلے جارہے ہیں۔ فی ہفتہ ۶ ہزار مہاجرین کا اوسطاً اندازہ لگایا گیاہے۔ ۱۹۲۹ء میں فرانسیسی سرزمین پر جتنے بچے پیدا ہوئے ان میں تقریباً ۹ فی صدی غیر قوموں کے تھے۔ اس سے فرانسیسی سیاسیین کو اندیشہ ہے کہ آگے چل کر ایک وقت ایسا آئے گا جب فرانسیسی قوم خود اپنے گھر میں غیر قوموں کی اکثریت سے مغلوب ہو جائے گی۔ تاہم یہ خطرہ بعید ہے۔ بالکل قریبی خطرہ یہ ہے کہ فرانس کے حریف اٹلی اور جرمنی کی آبادی اس سے بہت زیادہ ہے۔ اگر تخفیف اسلحہ کی تجاویز کو منظور کرکے فرانس اپنے آلات جنگ کم کر دے تو آیندہ لڑائی میں کامیابی کا انحصار فوج کی کثرت پر ہوگا۔ اور اس میدان میں اکیلا جرمنی اور اکیلا اٹلی، فرانس پردر رہے گا۔۱؎ یہی خطرات ہیں جن کی وجہ سے فرانس کا طرز عمل بین الملی مسائل میں دوسری اقوام کے خلاف ہے۔
یہ نتائج ہیں اس ’’عاقلانہ تدبیر‘‘ کے جو یورپ نے اپنی معاشی اور تمدنی مشکلات کو دُور کرنے کے لیے اختیار کی ہے۔ اس وقت فرانس کے سوا تمام فرنگی ممالک کی آبادی صرف اس وجہ سے ایک ٹھیری ہوئی حالت پر قائم ہے کہ شرح اموات سے شرح پیدائش ابھی تک زیادہ ہے، اس لیے شرح پیدائش کے گھٹنے کا اثر آبادی پر مترتب نہیں ہوا ہے۔ لیکن اہل فرنگ کے پاس یہ یقین کرنے کی کون سی معقول وجہ ہے کہ شرح اموات اور شرح پیدائش کا یہی تناسب ہمیشہ برقرار رہے گا؟ کیا انھوں نے اس کا اطمینان کرلیا ہے کہ کسی روز مغربی افریقہ کے مچھر زرد بخار کے جراثیم لیے ہوئے خود انھی کے ہوائی جہازوں پر بیٹھ کر یورپ نہ پہنچ جائیں گے؟ کیا انھوں نے اس کی کوئی ضمانت لے لی ہے کہ کبھی یورپ میں اچانک انفلوانزا‘ طاعون، ہیضہ اور ایسے ہی دوسرے وبائی امراض میں سے کوئی مرض نہ پھیل جائے گا؟ کیا وہ اس سے بے خوف ہو چکے ہیں کہ ایک دن یکایک فرنگی سیاست کے باردت خانوں میں سے کسی ایک میں ویسی ہی کوئی چنگاری نہ آپڑے گی جیسی ۱۹۱۴ء میں سراحیفو(سرائیو) میں گری تھی۔ اور پھر فرنگی قومیں خود اپنے ہاتھوں سے وہ سب کچھ نہ کر گزریں گی جو کوئی وبا اور کوئی بیماری نہیں کرسکتی؟ ۲؎ اگر ان میں سے کوئی صورت بھی پیش آگئی اور دفعتاً یورپ کی آبادی سے چند کروڑ آدمی قتل یا ہلاک یا ناکارہ ہوگئے تو اس وقت یورپ کے باشندوں کو معلوم ہوگا کہ انھوںنے اپنے آپ کو خود کس طرح تباہ کیا۔
اَفَاَمِنَ اَہْلُ الْقُرٰٓي اَنْ يَّاْتِـيَہُمْ بَاْسُـنَا بَيَاتًا وَّہُمْ نَاۗىِٕمُوْنَo اَوَاَمِنَ اَہْلُ الْقُرٰٓي اَنْ يَّاْتِـيَہُمْ بَاْسُـنَا ضُـحًى وَّہُمْ يَلْعَبُوْنَo اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللہِ۝۰ۚ فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَo اعراف97-99:7
کیا بستیوں کے لوگ مطمئن ہیں کہ ہمارا عذاب ان پر راتوں رات نہ آجائے گا جبکہ وہ سوتے ہوں گے؟ اور کیا ان بستیوں کے لوگوں نے اس امر کا اطمینان کرلیا ہے کہ ہمارا عذاب کبھی دن دہاڑے ان کو نہ آئے گا جبکہ وہ کھیلتے ہوں گے؟ اورکیا وہ اللہ کی چال سے بے خوف ہوگئے ہیں؟ سو اللہ کی چال سے تو وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جن کو برباد ہونا ہے۔
ایسی ہی ایک قوم اب سے تین ہزار برس پہلے عرب کے جنوبی ساحل پر آباد تھی جس کا ذکر قرآن میں سبا کے نام سے کیا گیا ہے۔ اس قوم کی گھنی آبادی کا سلسلہ سواحل بحر ہند سے سواحل بحر احمر تک پھیلا ہوا تھا۔ ہندوستان اوریورپ کے درمیان جتنی تجارت اس زمانے میں ہوتی تھی وہ سب اسی قوم کے ہاتھوں میں تھی۔ اس کے تجارتی قافلے جنوبی ساحل سے مال لے کر چلتے تو مغربی ساحل تک مسلسل بستیوں اور باغوں کی چھائوں میں چلے جاتے تھے،وَجَعَلْنَا بَيْنَہُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْہَا قُرًى ظَاہِرَۃً وَّقَدَّرْنَا فِيْہَا السَّيْرَ۝۰ۭ سِيْرُوْا فِيْہَا لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيْنَo سبا:18:34مگر انھوں نے اللہ کی اس نعمت کو مصیبت سمجھا اور چاہا کہ ان کی یہ گھنی، متصل، مسلسل بستیاں کم ہو جائیں اور ان کا باہمی فصل بڑھ جائے، فَقَالُوْا رَبَّنَا بَاعِدْبَیْنَ اَسْفَارِنَاوَظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ یہاں لفظ بَاعِدْبَیْنَ اَسْفَارِنَا سے پتہ چلتا ہے کہ تجارتی خوشحالی کی وجہ سے جب آبادی بڑھی اور بستیاں گنجان ہوگئیں تو وہاں بھی یہی سوال پیدا ہوا تھا جو آج یورپ میں پیدا ہوا ہے۔ اور ظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ سے اشارہ ملتا ہے کہ شاید انھوں نے بھی مصنوعی تدبیروں سے آبادی گھٹانے کی کوشش کی ہوگی۔ پھر ان کا حشر کیا ہوا؟ فَجَعَلْنٰہُمْ اَحَادِيْثَ وَمَزَّقْنٰہُمْ كُلَّ مُمَــزَّقٍ۝۰ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍo سبا19:34 خدا نے ان کو منتشر اور پارہ پارہ کرکے ایسا تباہ و برباد کیا کہ بس ان کا وجود افسانوں ہی میں رہ گیا۔ (ترجمان القرآن۔ صفر ۱۳۵۲ھ۔ جون ۱۹۳۳ء)

ایک مسیحی بزرگ کے چند اعتراضات

امید واثق ہے کہ ایک محقق اور طالب حقیقت کے ذیل کے استفسارات پر ترجمان القرآن کے توسط سے روشنی ڈالتے ہوئے نہ صرف مستفسر کو ہی بلکہ تمام ناظرین کو تشکُّرو امتنان کا موقع دیں گے۔
(۱) قرآن نے مسیح کی نسبت چار وعدے ذکر کیے ہیں۔ چوتھا وعدہ ہے: وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِج آل عمران55:3مسیح کے متبعین اور مسیح کے کافر دونوں کے وجود کا قیامِ قیامت تک پایا جانا اس بات کو مستلزم ہے کہ مسیح کے متبعین مسیح کے اتباع پر قائم رہیں اور اتباع کے لیے مسیح کی ہدایت اور تعلیم کا قائم اور محفوظ رہنا اور پھر قیامت تک محفوظ رہنا ضروری ہے، جس سے لازم آتا ہے کہ مسیح ہی قیامت تک اپنی تعلیم اور ہدایت دائمی کی رُو سے دائمی ہادی ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو درمیان میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے وجود کو گھسیڑنےکے کیا معنی؟ دوسرے اسلام کا تخالف پہلی صورت مسلمہ کے منافی معلوم ہوتا ہے۔
(۲) اہل اسلام کے نزدیک اگر مسیح آسمان پر زندہ ہیں اور وہی آنے والے ہیں، پیغمبر اسلام کے ظہور سے پہلے بھی وہی اور بعد میں بھی وہی، تو اس صورت میں درمیان میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے ظہور کا کیا مطلب؟ جبکہ غلبۂ متبعین مسیح کا وعدہ استمرار بلا فصل کے معنوں میں قیامت کے لیے پیش کیا جاچکا ہے۔ (۳)آیت فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ۝۰ۚ لَقَدْ جَاۗءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَo یونس 94:10سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب خود پیغمبر اسلام بھی قرآن کی وحی کے متعلق شک میں پڑ جاتے تھے تو اس صورت میں شک کو نکالنے کے لیے آپ کو حکم ہوا کہ اہل کتاب سے آپ اپنے شک کو نکلوا لیجیے، جس سے واضح ہے کہ یہ قرآن پیغمبر اسلام کو بھی شک میں ڈالنے والی چیز ہے اور اہل کتاب کی کتاب اور تعلیم ایسی چیز ہے کہ قرآن کے متعلق شک رکھنے والے کو بھی وہی دُور کرتی ہے، تو اس صورت میں بھی اسلام اور پیغمبر اسلام کے ظہور سے اور مسیح کے بعد آنے سے کیا فائدہ ہوا؟ اور قرآن کریم کی نسبت تو یہ ہے، مگر تورات کی نسبت لکھا ہے قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىۃِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَo آلعمران 93:3 جس سے ظاہر ہے کہ توراۃ قابل استشہاد ہے اور وہ اس صورت میں کہ محفوظ ہو اور محرف و مبدل نہ ہو۔ اور یہ صورت بھی پہلی صورت پیش کردہ کی موید ثابت ہوتی ہے۔
امید ہے کہ آپ ان ہر سہ سوالات پر جن کا مآلِ معنی واحد ہے، ایمانداری کے ساتھ خوب روشنی ڈالیں گے ورنہ آپ کی خاموشی یا غلط اور ناقابل تسلی جو اب سے کئی مسلمان کہلانے والے معزز اور اہل علم عیسائی ہونے والے ہیں۔ اور سات اشخاص تو عیسائی ہو چکے ہیں۔ شاید آپ ابھی تک بے خبر ہی ہوں۔ حیدر آباد میں اندر ہی اندر آپ کو معلوم ہے کہ کیا ہورہا ہے؟ اور قدرت شاہ خاں مبشر مسیحی کے ٹریکٹ ’’خط بنام مسلمانان حیدر آباد‘‘ نے کیا کچھ تہلکہ مچا دیا ہے کہ کئی خاندانوں کے خاندان عیسائی ہونے کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔‘‘ (آپ کا مخلص ایک محقق)
کاتب خط کوئی مسیحی پادری معلوم ہوتے ہیں جنھوں نے مسلمان بن کر سوال کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر وہ ایک سچے عیسائی کی طرح سامنے آکر اعتراضات کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا اور اس صورت میں بھی ان کے اعتراض کا جواب اسی محبت سے دیا جاتا جس کے ساتھ ایک بھٹکے ہوئے مسلمان کو دیا جاسکتا ہے۔ خیر طریق اعتراض کے انتخاب میں وہ آزاد ہیں۔ ہمارا کام بہرحال ان کے اعتراض کو رفع کرنا اور انھیں مطمئن کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
(۱) سب سے پہلے میں آپ کو اس بڑی اور بنیادی غلطی پر متنبہ کر دینا ضروری سمجھتا ہوں جو نہ صرف آپ نے کی ہے بلکہ مسیحی معترضین بالعموم اس میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں۔ وہ غلطی یہ ہے کہ آپ لوگ جب اسلام اور پیغمبر اسلام کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے آپ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ ایک نئے مذہب کا نام ہے جس کا آغاز ساتویں صدی عیسوی میں ہوا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بانی تھے۔ اسی وجہ سے آپ کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اگر توراۃ و انجیل برحق تھی اور موسیٰ و مسیح برحق تھے تو ان کے بعد ’’اسلام‘‘ کیوں آیا اور ’’پیغمبر اسلام‘‘ کے ظہور کی کیا ضرورت لاحق ہوئی۔ لیکن قاعدے کی بات ہے کہ اگر آپ کسی پر گرفت کرنا چاہتے ہوں تو اسے اس دعویٰ پر پکڑیئے جو اس نے خود کیا ہو نہ کہ اس الزام پر جو آپ زبردستی اس کے سرمنڈھ دیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کب کہا تھا کہ میں ایک نئے مذہب کی بنا ڈال رہا ہوں اور میرے اس نو ایجاد مذہب کا نام اسلام ہے؟ وہ تو اس بات کے سرے سے مدعی ہی نہیں ہیں۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ میں اسی مذہب کو لے کر آیا ہوں جسے مجھ سے پہلے عیسیٰ اور موسیٰ اور ابراہیم اور نوح علیہم السلام لے کر آئے تھے اور اس مذہب کا نام ہمیشہ سے اسلام (خدا کی فرمانبرداری) ہی تھا نہ کہ یہودیت یا عیسویت۔ پھر وہ ان گذشتہ پیغمبروں کے بعد اپنے آنے کی وجہ جو بیان کرتے ہیں اس میں بھی کہیں یہ دعویٰ نہیں ہے کہ موسیٰ اور مسیح علیہما السلام کی تعلیمات دنیا سے بالکل مٹ گئی تھیں، یا بالکل مسخ ہوگئی تھیں اس لیے بھیجا گیا ہوں۔ بلکہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ اوّل تو توراۃ و انجیل میں تحریف ہوگئی ہے، دوسرے اس تحریف کے باوجود جو خدائی تعلیمات ان دونوں میں صاف صاف پائی جاتی ہیں ان سے ہٹ کر پیرو ان موسیٰ نے ایک نیا نظام ’’یہودیت‘‘ کے نام سے اور پیروان عیسیٰ نے ایک دوسرا نظام ’’مسیحیت‘‘ کے نام سے بنا لیا ہے، اور ان دونوں مذہبوں میں بہت سی ایسی باتیں بِنائے دین بنالی گئی ہیں جو اس اسلام کے خلاف ہیں جسے موسیٰ اور عیسیٰ لے کر آئے تھے۔ اس لیے ضرورت پیش آئی کہ پھر اسلام کی اصل تعلیم کو اس کی خاص صورت میں آمیزشوں سے چھانٹ کر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے میں بھیجا گیا ہوں۔ یہ ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل دعویٰ۔ اب اگر آپ گرفت کرنا چاہتے ہیں تو اس دعوی پرکیجیے۔ یہ آخر بحث و تحقیق کا کون سا طریقہ ہے کہ ایک شخص کی طرف آپ بطور خود ایک دعویٰ خواہ مخواہ منسوب کرتے ہیں… جس سے وہ بشدت انکاری ہے… اور پھر اس کے دعوے پر نہیں، بلکہ اپنے منسوب کیے ہوئے دعوے پر اعتراضات شروع کر دیتے ہیں۔ اس غلطی کا ارتکاب آج سے نہیں، ایک مدت سے مسیحی علماء کر رہے ہیں اور یہی غلطی ہے جس پر ان کے اکثر و بیشتر اعتراضات کی بنا قائم ہے۔ اگر آپ واقعی ایک محقق ہیں تو میں آپ سے درخواست کروں گا کہ پہلے آپ ٹھنڈے دل سے اس امر کی تحقیق فرمائیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل دعویٰ وہ ہے جو میں بیان کر رہا ہوں یا وہ جو آپ ان کی طرف منسوب کر رہے ہیں؟ پھر اگر ثابت ہو کہ ان کا واقعی دعویٰ وہی ہے جو میں نے عرض کیا ہے تو یہ دیکھیں کہ آیا وہ صحیح ہے یا نہیں؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کا مذہب ’’اسلام‘‘ (خدا کی فرمانبرداری)تھا؟ کیا وہ ازلی و ابدی حقیقتیں جن کو ماننے اور جن کے مطابق اخلاق و اعمال کو ڈھالنے پر انسان کی نجات کا مدار ہے ہمیشہ سے وہی نہیں رہی ہیں جن کی طرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت دی ہے؟ کیا خدا کے ہاں انسان کی نجات کا مدار ابراہیم اور اسحق کے زمانے میں کچھ اور اصولوں پر، موسیٰ اور عیسیٰ کے زمانے میں کچھ دوسرے اصولوں پر اور بعد کے زمانے میں ان سے مختلف اصولوں پر ہوسکتا ہے؟ اگر آپ مانتے ہیں کہ یہ اصول ازلی و ابدی ہیں تو نو ایجاد مذہب یہودیت اور مسیحیت قرار پاتے ہیں یا اسلام؟ یہودیت اور مسیحیت میں تو آپ متعدد ایسی چیزیں پائیں گے جن کو اصول (یعنی مدار نجات) کا مرتبہ دیا گیا ہے حالانکہ وہ ایک خاص نسل یا ایک خاص زمانے تک محدود ہیں۔ لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں آپ قطعاً کوئی چیز ایسی نہیں پاسکتے جو نوع انسانی کی نجات کے عالمگیر ازلی و ابدی اصولوں سے زائد یا ان سے مختلف ہو۔ اس نقطۂ نظر سے آپ دیکھیں گے تو سوال کی نوعیت ہی بدل جائے گی۔ پھر تو سوال یہ نہ ہوگا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بیچ میں کہاں آگئے بلکہ یہ ہوگا کہ آدم نوح اور ابراہیم و اسحق کے وقتوں سے جو اصل دین (اسلام) چلا آرہا تھا اس کے سلسلے میں یہ یہودیت اور مسیحیت کہاں آ داخل ہوئیں؟
(۲)آپ نے اپنے پہلے اعتراض میں جو آیت نقل کی ہے اس میں مسیح کا انکار کرنے والوں سے مراد یہودی ہیں اور مسیح کا اتباع کرنے والوں میں نصاریٰ اور مسلمان دونوں شامل ہیں۔ اور اگر اتباع سے مراد اتباع کامل یعنی ٹھیک قدم بقدم چلنا مراد لیا جائے تب تو نصاریٰ اس کے مصداق نہیں رہتے، بلکہ صرف مسلمان ہی اس کے مصداق قرار پاتے ہیں۔ اس لیے کہ نصاریٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم کے اصل الاصول کو چھوڑ دیا اور یہودیوں کے بالمقابل ایک دوسرے طور پر ان کے ساتھ کفر کیا۔ بخلاف اس کے مسلمان اسی تعلیم پر قائم رہے جو حضرت عیسیٰ نے اور ان سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام نے دی تھی۔ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے جتنے بھی رسول آئے ہیں خواہ وہ کسی ملک اور کسی زمانے میں آئے ہوں، ان سب کی ایک ہی تعلیم تھی، اور وہ یہ تھی کہ خدائے واحد کی بندگی کرو۔ ان میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ مجھ کو خدا مان لو۔
مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَہُ اللہُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّۃَ ثُمَّ يَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللہِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ آل عمران79:3
کسی بشر کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ تو اس کو کتاب اور حکم اور نبوت عطا کرے، اور وہ لوگوں سے کہے کہ تم خدا کو چھوڑ کر میرے بندے بن جائو۔ بلکہ وہ تو یہی کہے گا کہ تم خدا پرست بن جائو۔
اسی مقدس گروہ کے ایک فرد حضرت عیسیٰ بھی تھے اور انھوں نے بھی کبھی عبدیت کے مقام سے بال برابر تجاوز کرنے کی کوشش نہیں کی۔
لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ اَنْ يَّكُوْنَ عَبْدًا لِلّٰہِ النساء172:4
مسیح نے کبھی اس کو عار نہ سمجھا کہ وہ اللہ کا ایک بندہ ہو۔
پس نصاریٰ کا عقیدۂ تثلیت اورعیسیٰ علیہ السلام کی طرف الوہیت کی نسبت کرنا اور ان کو خدا کا بیٹا کہنا دراصل حضرت عیسیٰ کی تعلیم کے قطعاً خلاف ہے، اور جو لوگ ایسا عقیدہ رکھتے ہیں۔ وہ آپ کے ساتھ ویسا ہی کفر کرتے ہیں جیسا کہ یہودی کرتے ہیں۔
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللہَ ہُوَالْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ۝۰ۭ وَقَالَ الْمَسِيْحُ يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اعْبُدُوا اللہَ رَبِّيْ وَرَبَّكُمْ۝۰ۭ ………… لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللہَ ثَالِثُ ثَلٰــثَۃٍ۝۰ۘ
المائدہ 72-73:5
یقیناً کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے، درانحالیکہ خود مسیح نے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل تم اللہ کی بندگی کرو جو میرا اور تمھارا پروردگار ہے…… یقیناً کفر کیا انھوں نے جنھوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے۔
اس لحاظ سے اِتَّبَعُوْکَ کے اصلی مصداق مسلمان اور وہ عیسائی ہیں جو مسیح کو خدا کا بیٹا نہیں بلکہ اس کا رسول مانتے ہیں، ان کی طرف کسی درجے میں الوہیت کو منسوب نہیں کرتے، اور اس عقیدۂ صالحہ کے قائل ہیں،اِنَّمَا الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللہِ وَكَلِمَتُہٗ۝۰ۚ اَلْقٰىہَآ اِلٰي مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِّنْہُ۔۱؎ النساء 171:4 اور اِنَّمَا اللہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ۝۰ۭ سُبْحٰنَہٗٓ اَنْ يَّكُوْنَ لَہٗ وَلَدٌ ۔۲؎ النساء:171:4 البتہ اگر اتباع سے مراد اتباع کامل نہ لیا جائے تو اس اعتبار سے مسلمانوں کی طرح عیسائی بھی متبعین مسیح میں داخل ہو جاتے ہیں، اور اللہ کا یہ وعدہ دونوں سے متعلق ہو جاتا ہے کہ ان کو یہودیوں پر غلبہ عطا فرمائے جنھوں نے مسیح کا قطعی اور کلی انکار کیا۔
(۳) مسیح کی، اور صرف انھی کی نہیں بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کی ہدایت اور تعلیم اپنی اصل کے لحاظ سے قائم و محفوظ ہے، اور قیامت تک رہے گی جیسا کہ ابتدا میں عرض کر چکا ہوں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس تعلیم و ہدایت کو مٹانے نہیں آئے تھے بلکہ اس کو ثابت اور مستحکم کرنے اور ان آمیزشوں سے پاک کرنے آئے تھے جو انسانی خواہشات اور بشری و ساوس کی بدولت اس میں گھل مل گئی تھیں۔ نصاریٰ سے ان کی جنگ اس بات پر نہ تھی کہ وہ مسیح اور ان کی تعلیم و ہدایت کو کیوں مانتے ہیں، بلکہ اس بات پر تھی کہ وہ اس کو کیوں نہیں مانتے۔ انھوں نے بار بار اپنے خدا کی طرف سے فرمایا کہ يٰٓاَہْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ۔ ۱؎ النساء171:4 اور يٰٓاَہْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىۃَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ۝۰ۭ ۔ ۲؎ المائدہ:68:5 اور وَلَوْ اَنَّہُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىۃَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْہِمْ مِّنْ رَّبِّہِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِہِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِہِمْ۝۰ۭ ۔۳؎ المائدہ66:5 اور وَلْيَحْكُمْ اَہْلُ الْاِنْجِيْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فِيْہِ۝۰ۭ ۔۴؎ المائدہ47:5 مگر جب دیکھا کہ مسیح کے متبعین سرے سے انجیل ہی کھو بیٹھے ہیں اور انجیل کے نام سے مسیح کی چند سوانح عمریاں لیے پھرتے ہیں جن میں مسیح کی تعلیم و ہدایت کا ایک بہت ہی خفیف حصہ اور وہ بھی آمیزشوں سے آلودہ پایا جاتا ہے تو انھوں نے نصاریٰ کے سامنے قرآن پیش کیا، اور کہا کہ جو کچھ تم نے کھو دیا تھا، وہ پہلے سے بھی زیادہ مکمل صورت میں پھر تمھارے پاس آگیا ہے۔ یہ وہی تعلیم ہے جو مسیح نے دی اور ان سے پہلے موسیٰ اور ابراہیم اور نوح دے چکے ہیں، تم نے اور تم سے پہلے کی امتوں نے اس ہدایت کو باربار گم کیا، مگر اب یہ ہدایت تم کو ایسی مستحکم صورت میں دی جاتی ہے کہ قیامت تک اس کو کوئی گم نہ کر سکے گا۔ پس درحقیقت متی اور مرقس اور لوقا اور یوحنا کی کتابوں میں نہیں بلکہ قرآن میں مسیح کی اصلی تعلیم قائم اور محفوظ ہے اور وہی ان شاء اللہ قیامت تک محفوظ رہے گی۔
(۴) آپ کا یہ قول بھی محل نظر ہے کہ آیت زیر بحث سے لازم آتا ہے کہ ’’مسیح ہی قیامت تک اپنی تعلیم اور ہدایت دائمی کی رُو سے دائمی ہادی ہے۔‘‘ یہ مفہوم آپ کے تخیل کا پیدا کردہ ہے۔ آیت کے الفاظ اس پر دلالت نہیں کرتے۔ وہاں تو صرف اس قدر کہا گیا ہے کہ جو تیرا انکار کرتے ہیں، ان پر ہم تیرا اتباع کرنے والوں کو قیامت تک غالب رکھیں گے۔ ان الفاظ سے یہ معنی کیوں کر نکالے جاسکتے ہیں کہ اب تو ہی دائمی ہادی ہے اور تیرے بعد یہی ہدایت پیش کرنے کے لیے کوئی اور نبی نہ بھیجا جائے گا۔ افسوس کہ آیات کتاب میں لفظی و معنوی تحریفات کرنے کی پرانی عادت ہمارے مسیحی بھائیوں میں سے ابھی تک نہیں گئی۔
(۵) مسیح کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کا مطلب آپ ہم سے پوچھنے کے بجائے خود مسیح علیہ السلام سے پوچھیے۔ جن کا یہ ارشاد تمام تحریفات کے باوجود کتاب یوحنا میں اب تک موجود ہے:
’’لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمھارے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جائوں تو وہ مددگار (تسلی دہندہ، یا وکیل یا شفیع) تمھارے پاس نہ آئے۔ لیکن اگر جائوں گا تو اسے تمھارے پاس بھیج دوں گا اور وہ آکر دنیا کو گناہ اور راست بازی اور عدالت کے بارے میں قصور وار ٹھیراے گا۔‘‘(یوحنا ۱۶:۷۔۸)
اور یہ کہ:
’’لیکن جب وہ مددگار آئے گا جس کو میں تمھارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا، یعنی سچائی کی روح جو باپ کی طرف سے نکلتی ہے، تو وہ میری گواہی دے گا۔‘‘(یوحنا۱۵:۲۶)
اور یہ کہ:
’’لیکن مددگار یعنی سچائی کی روح جسے باپ میرے نام سے بھیجے وہی تمھیں سب باتیں سکھائے گا۔ اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمھیں یاد دلائے گا۔‘‘(یوحنا۱۴:۲۶)
اور یہ کہ:
’’اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔‘‘ (یوحنا۱۴:۳۰)
اور یہ کہ:
’’مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنی ہیں مگر اب تم ان کو برداشت نہیں کرسکتے۔ لیکن جب وہ سچائی کا رُوح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔ اس لیے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمھیں آیندہ کی خبریں دے گا۔‘‘ (یوحنا۱۶:۱۲۔۱۳)
مسیح کے ان ارشادات سے آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کا مطلب اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ غلبۂ متبعین مسیح کا وعدہ، جو آپ کے نزدیک ’’استمرار بلا فصل‘‘ کے معنوں میں قیامت تک کے لیے پیش کیا گیا ہے آنحضرت کے ظہور سے ٹوٹتا نہیں، اور زیادہ مستحکم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ آپ نے آکر مسیح کی گواہی دی اِنَّمَا الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللہِ النسائ171:4 اور وَجِيْہًا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَo آل عمران45:3 اور اس بہتان عظیم پر یہودیوں کو توبیخ کی جو وہ مسیح اور اس کی ماں پر رکھتے تھے۔ وَّبِكُفْرِہِمْ وَقَوْلِـہِمْ عَلٰي مَرْيَمَ بُہْتَانًا عَظِيْمًاo النساء4:156 اور وہ سب باتیں مسیحیوں کو یاد دلائیں جو مسیح نے ان سے کہی تھیں وَلْيَحْكُمْ اَہْلُ الْاِنْجِيْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فِيْہِ۝۰ۭالمائدہ47:5مسیح اسی لیے گئے تھے کہ اس دوسرے آنے والے کے لیے جگہ خالی کر دیں جو ان کے بعد آکر اس کام کو پورا کرنے والا تھا جسے وہ نامکمل چھوڑ گئے تھے۔
(۶) آیت اِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍ الخ…….. میں اگرچہ خطاب بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف معلوم ہوتا ہے، مگر دراصل ہر وہ شخص اس کا مخاطب ہے جو قرآن پڑھے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اے ناظر یا سامع اگر تجھے قرآن کے منزل من اللہ ہونے میں شک ہے تو جن لوگوں کے پاس قرآن سے پہلے آئی ہوئی کتابیں موجود ہیں ان سے دریافت کرلے، ان کی گواہی سے تجھ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ کتاب خدا ہی کی طرف سے ہے۔ یہ اشارہ ہے ان پیشگوئیوں کی طرف جو انبیائے سابقین کی کتابوں میں نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے متعلق موجود ہیں۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس مضمون کو بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً:
اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَہٗ كَـمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ۝۰ۭ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنْہُمْ لَيَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَo البقرہ146:2
جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو ایسا پہچانتے ہیں۔ جیسا کہ وہ خود اپنی اولاد کوپہچانتے ہیں۔ مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے سچی بات کو چھپاتا ہے۔
وَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰہُمُ الْكِتٰبَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ انعام115:6
اور جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ قرآن درحقیقت تیرے پروردگار کی طرف سے اُترا ہوا ہے۔
قرآن نے اپنی صداقت پر منجملہ بہت سی شہادتوں کے ایک شہادت انبیائے سابقین کی کتابوں سے بھی پیش کی ہے اور اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بلکہ بالخصوص ان لوگوں کو مطمئن کرنا مقصود ہے جو انبیائے سابقین کی کتابوں کو تو مانتے ہیں مگر قرآن کی صداقت میں شک کرتے ہیں۔ اس لیے کہ کتب سابقہ کی گواہی انھیں کے لیے معتبر ہوسکتی ہے۔ اس طلب شہادت میں کوئی بات ایسی نہیں جس سے یہ مطلب نکالا جاسکتا ہو کہ قرآن شک میں ڈالنے والی چیز ہے۔ بات کو اس کے صاف اور واضح مفہوم سے پھیر کر پیچیدہ مطالب نکالنے کی کوشش کرنا کسی طالب حق کاکام نہیں۔ ان طریقوں کو ایسے لوگوں کے لیے چھوڑ دیجیے جو نزاع و جدال کی الجھنوں میں اپنا وقت ضائع کرنا چاہتے ہوں۔
(۷) قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىۃِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَo آل عمران93:3 سے پہلے ایک اور فقرہ تھا جس کو آپ نے دانستہ یا نادانستہ چھوڑ دیا۔ پوری آیت یہ ہے:
كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاۗءِيْلُ عَلٰي نَفْسِہٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىۃُ۝۰ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىۃِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَo آل عمران93:3
تمام کھانے بنی اسرائیل کے لیے حلال تھے بجز ان کے جنھیں اسرائیل نے توراۃ کے نزول سے پہلے اپنے لیے حرام کرلیا تھا۔ اے محمد کہو کہ توراۃ لے آئو اور اس کو پڑھو اگر تم سچے ہو۔
اس آیت میں یہود کو یہ الزام دیا گیا ہے تم توراۃ کے احکام کو چھپاتے ہو۔ اور یہ الزام ایک جگہ نہیں متعدد مقامات پر دیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ مائدہ میں ہے:
وَكَيْفَ يُحَكِّمُوْنَكَ وَعِنْدَہُمُ التَّوْرٰىۃُ فِيْہَا حُكْمُ اللہِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ۝۰ۭ وَمَآ اُولٰۗىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَo المائدہ43:5
وہ تجھ کو اپنے معاملے میں کیسے حکم بنائیں جبکہ خود ان کے پاس توراۃ موجود ہے جس میں اللہ کا حکم ہے اور پھر وہ اس سے روگردانی کرتے ہیں وہ دراصل توراۃ پر ایمان ہی نہیں رکھتے۔
قرآن میں یہودیوں کے دو جرم بتائے گئے ہیں۔ ایک جرم یہ ہے کہ وہ کتاب میں تحریف کرتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ تحریفات کے باوجود جو کچھ کتاب میں سچی خدائی تعلیم باقی ہے اس کو بھی اپنی خواہشات نفس کے اتباع میں چھپاتے اور اس کے خلاف عمل کرتے ہیں۔ یہاں اگر توراۃ سے استشہاد ہے تو وہ یہودیوں کے جرم پر ہے اس سے آپ کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ (ترجمان القرآن۔ جمادی الاولیٰ ۱۳۵۴ھ ۔ اگست ۱۹۳۵ئ )

کیا نجات کے لیے صرف کلمۂ توحید کافی ہے؟

’’مَنْ قَالَ لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ دَخَلَ الْجَنَّۃَ‘‘ اس حدیث میں اوّل تو ایمان بِالرُّسُل کے بغیر جنت کی بشارت دی گئی ہے، حالانکہ قرآن میں ایمان بالرسل پر جس شدت سے تاکید ہے ظاہر ہے، حتیٰ کہ کوئی ایمان بالرسل کے بغیر نہ راہِ ہدایت پاسکتاہے نہ فوز و فلاح، نہ آخرت کی زندگی میں اس کے لیے کوئی حصہ ہے۔ نیز اس حدیث میں عمل صالح کی بھی کوئی شرط نہیں ہے۔ اگرچہ اعمال صالحہ جزو ایمان نہیں ہیں مگر قرآن کریم میں تو آخرت کی کامیابی و کامرانی، انعام و اکرام اور جنت کی بشارت اپنے صاحب ایمان اور صالح بندوں ہی کو دی گئی ہے۔
جیسا کہ آیات ذیل سے واضح ہوتا ہے:
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۝۰ۙ …… جَزَاۗؤُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ الایہ……… بینہ 7-8:98 وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَـنُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ النساء57:4
مَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللہِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُّكَفِّرْ عَنْہُ سَـيِّاٰتِہٖ وَيُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ …..الایہ
التغابن 9:64
ہماری سطح بیں نظروں میں یہ حدیث قرآن کے خلاف واقع ہو رہی ہے۔ براہ کرم اپنے شغف علمی اور محققانہ نظر سے مستفید فرما کر مطمئن فرما دیں تو موجب صد ممنونیت۔‘‘ (ایک طالب حق از نظام آباد)
سب سے پہلے یہ غلط فہمی دُور ہو جانی چاہیے کہ یہ حدیث قرآن کے خلاف ہے۔ قرآن مجید میں بھی ایک جگہ فرمایا گیا ہے:
اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا تَـتَنَزَّلُ عَلَيْہِمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَo حم السجدہ:30:41
بیشک جن لوگوں نے کہا کہ خدا ہی ہمارا رب ہے پھر اس قول پر جم گئے ان پر ملائکہ اترتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) نہ خوف کھائو اور نہ رنج کرو اور اس جنت کی خوشخبری سے شاد کام ہو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔
دیکھیے یہاں بھی وہی بات دوسرے لفظوں میں کہی گئی ہے جو آپ کی نقل کردہ حدیث میں پائی جاتی ہے۔ جس طرح اس آیت سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ نجات اور بخشش اور دخول جنت کے لیے توحید کا اعتقاد کافی ہے، اور ایمان بالرسل اور عمل صالح کی ضرورت نہیں، اسی طرح مذکورۂ بالاحدیث سے بھی ایسا نتیجہ نکالنا درست نہیں۔ علیٰ ہذا القیاس جس طرح قرآن مجید کی یہ آیت ان آیات سے معارض نہیں ہے جو آپ نے پیش فرمائی ہیں، اسی طرح یہ حدیث بھی ان آیات سے معارض نہیں۔
حدیث اور قرآن دونوں کو سمجھنے میں ایک غلطی عام طور پر پیش آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن اور کتب حدیث دونوں کو لوگ عام تصنیفات کی طرح دیکھنا چاہتے ہیں، اور یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح دوسری کتابوں میں ایک ایک مضمون ایک ایک جگہ بتمام و کمال بیان کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اسی طرح قرآن و حدیث میں بھی کی گئی ہوگی۔ لیکن دراصل معاملہ یہ نہیں ہے۔ قرآن ۲۳ سال کی مدت میں مختلف مواقع پر مختلف حالات اور ضروریات کے مطابق تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہوا ہے۔ اسی طرح احادیث میں حضورؐ کے وہ اقوال جمع کیے گئے ہیں جو ۲۳ سال کے طویل زمانے میں آپؐ نے مختلف مواقع پر مختلف حالات میں حسب ضرورت ارشاد فرمائے ہیں۔ ان دونوں میں ایک چیز تو اسلام کی مرکزی تعلیم ہے جسے بار بار مختلف طریقوں سے دہرایا گیا ہے۔ اور دوسری چیز اسلامی ہدایت کی تفصیلات ہیں جن کو کہیں یکجا اور کہیں جدا جدا مختلف حالتوں اور مختلف ضرورتوں کے لحاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ صحیح نتیجہ اخذ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان سب پر بحیثیت مجموعی نگاہ ڈالی جائے۔ ورنہ اگر کسی ٹکڑے کو کہیں سے لے لیا گیا اور دوسرے متعلق اجزا سے صرف نظر کرکے اسی کو ایک مستقل چیز سمجھ لیا گیا تو یقیناً غلط فہمی پیدا ہوگی۔
مثال کے طور پر قرآن میں کہیں تو صرف ایمان باللہ پر زور دیا گیا ہے جیسا کہ اوپر منقول ہوا۔ کہیں صرف یوم آخر کے اقرار کی تاکید ہے (الانعام:۴) کہیں خدا کے ساتھ یوم آخر کا ذکر ہے (سورۂ بقرہ:۸) کہیں خدا کے ساتھ رسولوں پر ایمان لانے کا حکم ہے (آل عمران:۱۸) کہیں خدا کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی تعلیم ہے (النور:۹) کہیں یوم آخر اور کتب الٰہی پر اعتقادرکھنے کی شدید تاکید ہے (النساء:۱) کہیں خدا اور انبیاء اور ملائکہ کے انکار کو کفر و فسق قرار دیا گیا ہے (بقرہ: ۱۲) کہیں ایمان کے پانچ اجزا بیان کیے گئے ہیں، یعنی ایمان باللہ، ایمان بالرسل، ایمان بالکتب، ایمان بالملائکہ اور ایمان بالیوم الآخر (بقرہ:۲۲) ان مختلف مقامات میں درحقیقت کوئی اختلاف نہیں ہے۔ بلکہ ایک مقام پر ایمانیات کو یک جا بیان کرکے دوسرے مقامات پر ان میں سے ایک ایک دو دو کو حسب موقع و ضرورت زیادہ زور دے کر پیش کیا گیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص اس اصل سے قطع نظر کرکے اور کسی ایک آیت کو لے کر یہ دعویٰ کر دے کہ مومن ہونے کے لیے صرف خدا کی توحید پر، یا محض خدا اور یوم آخر پر، یا فقط خدا اور رسولوں پر ایمان لانا کافی ہے، اور یہ گمان کرلے کہ اجزائے ایمانی میں سے بعض کا انکار کرکے بھی بعض کا اقرار انسان کے لیے ناقع ہوسکتا ہے، تو دراصل یہ قرآن کی زبان اور اس کے انداز بیان سے قطعی ناواقفیت کا نتیجہ ہوگا۔
اسی طرح قرآن میں کہیں صرف ایمان پر زور دیا گیا ہے جیسا کہ اِنَّ الَّذِیْنَ قَاُلْوا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَا مُوْا میں ہے، اور کہیں ایمان کے ساتھ عمل صالح اور تقویٰ کو نجات کے لیے شرط ٹھیرایا گیا ہے، مثلاً وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِيْمٌo آل عمران179:3 اور وَالْعَصْرِo اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍo اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ۝۰ۥۙ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِo العصر 1-3:103 پھر اعمال صالحہ میں سے بھی کسی جگہ ایک کی تاکید ہے اورکسی جگہ دوسرے کی۔ کہیں نماز اور زکوٰۃ پر زور دیا جارہا ہے، کہیں راستبازی اور حسن معاملہ پر، کہیں عفت و عصمت پر، کہیں صلہ رحمی اور قرابت داروں کے حقوق پر، کہیں اکل حلال اور ترک حرام پر۔ ان میں سے ہر ایک کو اپنی اپنی جگہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ گویا فلاح و نجات کا مدارا سی پر ہے۔ اگر کوئی شخص ان احکام اور ہدایات کے پورے مجموعہ سے قطع نظر کرکے محض کسی ایک آیت کو لے اور اس سے یہ نتیجہ نکالے کہ قرآن مجید محض ایمان پر نجات کی بشارت دیتا ہے بغیر اس کے کہ اس کے ساتھ عمل صالح ہو، یا اعمال صالحہ میں سے صرف نماز یا زکوٰۃ یا عفت یا صلہ رحمی یا کسی اور چیز کو کافی سمجھتا ہے بغیر اس کے کہ اس کے ساتھ دوسرے حسنات بھی ہوں، تو یہ اس کی قلت تدبر کا نتیجہ ہوگا۔ قرآن تو اپنی مجموعی تعلیم میں فکری و عملی زندگی کے لیے ایک مکمل اسکیم پیش کرتا ہے جس میں ایمانیات، اخلاقیات اور عملی قوانین سب اپنی اپنی مناسب جگہ پر ہیں۔ مگر اس نے ان چیزوں کو ذہن نشین کرنے کے لیے ایک خاص حکیمانہ طریقہ اختیار کیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ایک ایک ہدایت کو وہ الگ الگ مناسب مواقع پر دلوں میں اتارتا جاتا ہے۔ کبھی کوئی خاص واقعہ پیش آگیا، دیکھا کہ ذہن اس وقت ایک خاص ہدایت قبول کرنے کے لیے تیار ہے، فوراً وہ ہدایت نازل کر دی گئی اور اس قوت کے ساتھ نازل کی گئی کہ قلب و روح میں پیوست ہوگئی۔ کبھی کسی خاص گروہ کی تعلیم پر حضورؐ کو مامور کیا گیا اور اس گروہ کے خاص حالات کو پیش نظر رکھ کر اسی قسم کی ہدایات دی گئیں جو اس کی اصلاح کے لیے ضروری تھیں۔ کبھی کوئی خاص تعلیم دینے کی ضرورت پیش آئی تو پہلے تمثیلوں سے، اقوام گذشتہ کی نظیروں سے، انبیائے کرام کے حالات سے، آفاق و انفس کے شواہد سے دلوں کو اس کی قبولیت کے لیے تیار کیا گیا پھر وہ تعلیم دی گئی تاکہ اس کا اثر ہو اور وہ روح میں جذب ہو جائے۔ یہ انتہا درجے کا حکیمانہ طریق تعلیم و تربیت اس لیے اختیار کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا مقصد محض ایک اسکیم اور ایک ہدایت نامہ مرتب کر دینا نہیں تھا، بلکہ درحقیقت اپنی اسکیم کو نافذ کرنا اور ایک جماعت کی زندگی میں انقلاب پیدا کرنا تھا جس کے لیے تدریج اور ترتیب اور مواقع و محل کی مناسبت اور نفسیات انسانی کی رعایت ناگزیر تھی۔
ٹھیک ٹھیک اسی حکیمانہ طریقے کی پیروی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمائی ہے۔ ۲۳ سال کی پیغمبرانہ زندگی میں آپ ہر وقت تبلیغ و تعلیم اور اصلاح و ہدایت میں مشغول رہتے تھے۔ ہر قسم کے لوگ آپ کے پاس آتے تھے۔ ہر ایک کی ذہنیت، ہر ایک کی استعداد، ہر ایک کی اخلاقی، اعتقادی اور عملی حالت جداگانہ تھی۔ اگر آپ ہر وقت ہر شخص سے ایک ہی لگی بندھی بات کہتے اور ایک ہی قسم کی ہدایات دے کر رخصت کر دیا کرتے تو آپ کو وہ کامیابی نصیب نہ ہوتی جس نے تاریخ میں انقلاب پیدا کر دیا۔ آپؐ حکیم مطلق کے شاگرد تھے اور اس حکیم نے جو طریق ہدایت اپنی کتاب میں اختیار کیا تھا اسی کی پیروی آپ بھی کرتے تھے۔ آپ کی تعلیم موقع و محل کی رعایت کے ساتھ ہوتی تھی۔ جس وقت جس بات کا موقع ہوتا تھا اس وقت وہی بات آپ کی زبان سے نکلتی تھی، اور سیدھی دلوں میں اتر جاتی تھی۔ یہ چیزیں جو منتشر طور پر حدیثوں میں پھیلی ہوئی ہیں ان سب کو مجموعی حیثیت سے دیکھیے تب آپ کو معلوم ہوگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری تعلیم کیا تھی اور آپ کس طرح اس کو ذہن نشین کراتے تھے۔ اگر آپ ان اکائیوں کو جوڑ کر ایک منظم عدد نہ بنائیں گے اور ایک ایک فرد کو الگ الگ لے کر اس سے جداگانہ نتائج اخذ کرنے لگیں گے تو ویسی ہی غلطی پیش آئے گی جیسی آیات قرآنی کو متفرق طور پر دیکھنے سے پیش آسکتی ہے۔
اس قاعدے کو ملحوظ رکھ کر آپ ان احادیث پر نظر ڈالیے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تعلیمات مختلف طریقوں سے بیان فرمائی ہیں۔
ایک مرتبہ آپ سفر میں تھے۔ ایک اعرابی نے آکر آپ کے اونٹ کی نکیل تھام لی اور عرض کیا یارسول اللہ، مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جو مجھ کو جنت سے قریب اور دوزخ سے دُر کر دے۔ فرمایا تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلاَ تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا وَّ تُقِیْمُ الصَّلوٰۃُ وَتُؤْتیِ الزکّٰوٰۃَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ۔اللہ کی بندگی کر اور اس کے ساتھ خداوندی میں کسی کو شریک نہ کر، نماز کا پابند رہ، زکوٰۃ دے اور قرابت داروں کے حقوق ادا کر۔ دیکھیے یہاں ایک ایسا شخص سامنے ہے جو آپ کی رسالت کا قائل ہے، اسلام قبول کر چکا ہے، اس کو تمام ایمانیات اور اخلاقیات کی تفصیل مطلوب نہیں۔ وہ صرف خدا کا قرب حاصل کرنے کے لیے ہدایت مانگ رہا ہے۔ آپ اس کی ضرورت کے مطابق اس کو تعلیم دیتے ہیں کہ جس عقیدے پر اسلام کی بنیاد قائم ہے اس میں مضبوط ہو جا، اور اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کیے جا۔
ایک دوسرے موقع پر ایک اعرابی حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھ کو جنت میں پہنچا دے۔ آپؐ نے فرمایا تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلاَ تُشْرِکَ بِہٖ شَیْئاً وَّتُقِیْمُ الصَّلوٰۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ وَتُؤْتِی الزَّکوٰۃَ الْمَفْرُوْضَۃَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ۔ ’’وہ عمل یہ ہے کہ تو صرف اللہ کی بندگی کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائے، جو نماز فرض کی گئی ہے اس کا پابند رہے، جو زکوٰۃ مقرر کر دی گئی ہے وہ ادا کرتا رہے اور رمضان کے روزے رکھے۔‘‘ اس نے کہا بہ خدا میں نہ اس سے زیادہ کچھ کروں گا نہ کم۔ جب وہ چلا گیا تو حضورؐ نے فرمایا: جو شخص اہل جنت میں سے کسی کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کرنا چاہتا ہو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔ اب حضورؐ کی تعلیم اور اس شخص کے جواب اور پھر آپ کے آخری ارشاد پر غور کیجیے۔ ایک سچا مسلمان سامنے تھا۔ نبی کی ہر ہدایت کو صدق دل سے قبول کرنے کو تیار تھا۔ اس کو صرف یہ سمجھانے کی ضرورت تھی کہ خدا کی جنت میں داخل ہونے کے لیے بڑی بڑی ریاضتوں اور مجاہدوں کی ضرورت نہیں، چلے کھینچنے اور رات رات بھر وظیفے پڑھنے کی ضرورت نہیں، اسی دنیاداری کی زندگی میں اگر تو اپنے اعتقاد کو شرک سے پاک رکھے اور خدا کے عاید کیے ہوئے فرائض ادا کرتا رہے تو جنت تجھے مل سکتی ہے۔
اس کے بعد ایک دوسری قسم کی حدیث ملاحظہ کیجیے:
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جب آپؐ نے ایک مشن پر بھیجا تو فرمایا کہ تم اہل کتاب کی ایک قوم میں پہنچو گے۔ سب سے پہلے ان کو اس بات کی دعوت دینا کہ لا الٰہ الا اللہ کی شہادت دیں اور یہ تسلیم کریں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ جب اس کو مان لیں تو ان سے کہنا کہ اللہ نے تم پر رات دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ اس کو بھی مان لیں تو ان سے کہنا کہ اللہ نے تم پر زکوٰۃ بھی فرض کی ہے جو تمھارے مالداروں سے لی جائے گی اور تمھارے غریبوں کو دے دی جائے گی۔ جب وہ اس کو بھی مان لیں تو خبردار ان کے مال کو ہاتھ نہ لگانا اور مظلوم کی بددعا سے بچنا کہ اس کے اور خدا کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔ اسی نوعیت کی دوسری احادیث میں ہے:
اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوْا اَنْ لاَّ الِٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَلَقِیْمُوا الصَّلوٰۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکوٰۃَ فَاِذَا فَعَلُوْہُ عَصَمُوْا مِنِّیْ دِمَا ئَ ھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ ۔
مجھے حکم دیا گیا کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کا رسول ہے اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ پھر جب انھوں نے ایسا کر دیا تو مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو بچالیا۔ اس کے بعد ان کا حساب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
اُمْرِتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتیّٰ یَشْھَدُوْا اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَیُؤمِنُوْا بِیْ وَبِمَا جِئْتُ بِہٖ فَاِذَا فَعَلُوْا فَالِکَ عَصَمُوْا مِنّیْ دِمَائَ ھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ اِلاَّ بِحَقِھَا وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ ۔
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں، اور مجھ پر اور ان سب باتوں پر ایمان لائیں جو میں لایا ہوں۔ پھر جب انھوں نے ایسا کر دیا تو مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو بچالیا، الایہ کہ ان کے خلاف کوئی حق قائم ہو جائے، اس کے بعد ان کا حساب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
ان احادیث میں حضورؐ نے اسلام کا دستوری قانون (constitutional law) بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص خدا کی وحدانیت اور آپ کی رسالت کو ماننے کا اقرار کرے تو وہ دائرۂ اسلام میں آجاتا ہے اور اسلامی اسٹیٹ کا شہری (citizen)بن جاتا ہے۔ یہ بات کہ وہ حقیقی مومن ہے یا نہیں اس کا فیصلہ اللہ کرنے والا ہے۔ ہم اس کا فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں کیونکہ لَمْ اُوْمَرْاَنْ اَشُقَّ عَنْ قُلُوْبِ النَّاسِ وَلَا بُطُوْنِھِمْ۔۱؎ جان و مال کی عصمت (security)صرف کلمۂ توحید اور اعتقادِ رسالت کے اقرار سے قائم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد کسی دست درازی کا حق نہیں رہتا۔ البتہ اگر کوئی شخص خدا کا حق یا بندوں کا حق ادا کرنے سے انکار کرے تو اس کو جرم کے مطابق سزا دی جاسکتی ہے۔
دیکھیے یہاں کوئی شخص پیش نظر نہیں تھا بلکہ ایک علاقے کے گورنر کو قانونی ہدایات دی جارہی تھیں اس لیے صرف قانون کے حدود بیان کرنے پر اکتفا کی گئی۔ یہ نہیں فرمایا کہ اقرار توحید و رسالت اور ادائے فرائض سے ہر شخص کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔ نیز اس موقع پر آپ نے ہر شخص کو تمام ایمانیات اور عملی قوانین سے آگاہ کرنے کا حکم بھی نہیں دیا، کیونکہ یہاں صرف یہ سمجھانا مقصود تھا کہ اسلام اور غیر اسلام کی سرحد کیا ہے، اور اسلام کی سرحد میں داخل ہوتے ہی انسان کو کیا آئینی حقوق حاصل ہو جاتے ہیں۔ یہ ٹھیک ٹھیک اس آیت کے مطابق ہے جس میں فرمایا گیا ہے فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَہُمْ۝۰ۭ التوبہ9:5 اگر وہ کفر و شرک سے توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو انھیں چھوڑ دو) پس کسی شخص کو ان قانونی ہدایات سے یہ نتیجہ نکالنے کا حق نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف توحید و رسالت کے اقرار اور ادائے نماز و زکوٰۃ میں اسلام کو محدود رکھتے تھے اور ان کے سوا کسی اور چیز کی کوئی اہمیت آپ کی نگاہ میں نہ تھی۔
اوپر آپ نے دو قسم کی حدیثیں دیکھیں۔ ایک وہ احادیث جن کے مخاطب خاص لوگ تھے۔ ان میں آنحضرتؐ نے ان لوگوں کے مخصوص حالات کو پیش نظر رکھ کر تعلیم دی ہے۔ دوسری وہ احادیث جن میں مخصوص افراد سے بحث نہ تھی بلکہ دستوری قانون کی رو سے مسلم اور غیر مسلم کا اصولی فرق اور مسلم کے آئینی حقوق بیان کرنا مقصود تھا۔ ان دونوں قسم کی حدیثوں کے انداز بیان میں آپ کو نمایاں فرق نظر آتا ہے۔ ایک جگہ آپؐ عوام کے روحانی رہنما کی حیثیت سے کلام کر رہے ہیں، دوسری جگہ آپؐ کی حیثیت ایک مقنن اور ایک نئے نظام سیاسی کے موسِّس کی ہے۔
اب ان احادیث پر ایک نگاہ ڈالیے جن میں آپ کے مخاطب عرب کے وہ بہترین چیدہ اشخاص تھے جن کو اپنے عہد کی عرب سوسائٹی میں سے چھانٹ کر آپ نے اپنی صحبت میں رکھا تھا اور بطور خاص ان کو تعلیم و تربیت دے رہے تھے تاکہ وہ اسلام کی اسپرٹ کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر آپ کے مشن کی توسیع میں مددگار ہوں۔
ایک مرتبہ حضورؐ سواری پر چلے جارہے تھے اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آپ کے ردیف تھے۔ آپؐ نے تین مرتبہ ٹھیر ٹھیر کر آواز دی ’’یامعاذ بن جبل‘‘! حضرت معاذؓ نے ہر مرتبہ عرض کیا ’’لبَّیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَسَعْدَیْکَ، اس طرح تین مرتبہ پکار کر جب آپؐ نے مخاطب کو اچھی طرح اپنی جانب متوجہ کرلیا اور آپ کو یقین ہوگیا کہ جو بات آپؐ فرمانا چاہتے ہیں سننے والا اس کو خاص اہمیت کے ساتھ سنے گا تب فرمایا: جانتے ہو بندوں پر خدا کا کیا حق ہے؟ انھوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا:اللہ کا حق اس کے بندوں پر یہ ہے کہ صرف اسی کی بندگی کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ تھوڑی دُور آگے چل کر پھر آواز دی: یا معاذ بن جبل! انھوں نے عرض کیا لبیک یارسول اللہ و سعدیک۔ فرمایا:پھر جانتے ہو کہ بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے جبکہ وہ ایسا کریں؟ انھوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا: ان کا حق یہ ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے۔ حضرت معاذؓ نے یہ سن کر پوچھا: کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت دے دوں؟ فرمایا: نہیں ان کو بشارت نہ دو کیونکہ وہ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے۔ یعنی عام لوگ اس کی اسپرٹ کو نہ سمجھیں گے اور اس غلط فہمی میں پڑ جائیں گے کہ محض زبانی کلمۂ شہادت پڑھ لینے سے نجات لازم ہو جاتی ہے۔
ایک اور موقع پر حضورؐ اپنے خاص صحابیوں کے درمیان بیٹھے تھے۔ یکایک آپ اٹھے اور تشریف لے گئے۔ جب بہت دیر گزر گئی تو صحابہ کو تشویش ہوئی کہ کہیں کوئی حادثہ پیش نہ آجائے۔ ڈھونڈنے نکلے۔ سب سے پہلے جو صاحب گئے وہ حضرت ابوہریرہؓ تھے۔ یہ سرکار کو تلاش کرتے ہوئے انصار کے ایک باغ پر پہنچے۔ جس کا دروازہ تلاش کے باوجود نہ ملا۔ آخر ایک چھوٹی سی نہر کے رستے سے اندر پہنچے۔ دیکھا کہ حضورؐ تشریف فرما ہیں۔ آپؐ نے پوچھا کہ کیسے آئے؟ انھوں نے ماجرا عرض کیا۔ آپؐ نے اپنی دونوں جوتیاں اٹھا کر انھیں دے دیں اور فرمایا: انھیں لے جائو اور باغ کے پیچھے جو شخص ایسا ملے جو لا الٰہ الا اللہ کی شہادت دیتا ہو اور اس پر دل سے یقین رکھتا ہو اسے جنت کی بشارت دے دو۔ یہ اس حکم کی تعمیل کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں سب سے پہلے حضرت عمرؓ ملے۔ انھوں نے پوچھا یہ جوتیاں کیسی ہیں؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعلین ہیں اور آپ نے مجھے ایسا اور ایسا کہنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے یہ سن کر ان کے ایک زور کا دھپ رسید کیا اور کہا کہ واپس جائو۔ یہ گرتے پڑتے بھاگے اور جاکر حضورؐ سے سارا معاملہ بیان کیا۔ اتنے میں حضرت عمرؓ بھی پہنچ گئے۔ آپ نے پوچھا کہ عمرؓ! کس چیز نے تم کو اس حرکت پر آمادہ کیا؟ انھوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، کیا آپ نے ابوہریرہ کو ایسا اور ایسا کہنے کے لیے بھیجا تھا؟ حضورؐ نے فرمایا: ہاں۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا: ایسا نہ کیجیے، مجھے خوف ہے کہ لوگ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیںگے، انھیں عمل کے لیے چھوڑ دیجیے۔ آپؐ نے فرمایا: اچھا تو انھیں عمل کے لیے چھوڑ دو۔
ایک مرتبہ حضرت ابوذرغفاری حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ ایک سفید کپڑا اوڑھے ہوئے لیٹے ہیں۔ یہ واپس ہوگئے۔ دوبارہ حاضر ہوئے تو آپ اٹھ چکے تھے۔ ان کو دیکھ کر فرمایا مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ ثُمَّ مَاتَ عَلٰی ذَالِکَ اِلاَّدَخَلَ الجنۃ۔جس بندے نے کہہ دیا کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں اور اسی عقیدے پر جان دی وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔ انھوں نے پوچھا وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ۔ اگرچہ اس نے زنا کی ہو؟ اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟ آپؐ نے فرمایا وَانِ زَنیٰ وَاِنْسَرَقَ۔انھوں نے پھر یہی پوچھا اور آپؐ نے پھر یہی جواب دیا۔ انھوں نے سہ بارہ پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: وَاِنْ زَنیٰ وَاِنْ سَرَقَ عَلیٰ رَغْمَ اَنْفِ اَبِیْ ذَرٍّ۔
ان تینوں حدیثوں پر غور کیجیے۔ مخاطب وہ لوگ ہیں جن کے کامل الاسلام ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ وہ تعلیمات قرآنی اور قوانین اسلامی سے نہ صرف خوب واقف بلکہ ان پر پورے عامل بھی ہیں۔ ان کے سامنے حضورؐ نے جو کچھ فرمایا اس سے یہ اندیشہ کرنے کی گنجائش ہی نہ تھی کہ وہ توحید کے سوا اسلام کے دوسرے اصولی عقاید اور حقوق و فرائض کو غیر ضروری سمجھ لیںگے۔ اس لیے ان کو آپؐ نے یہ حقیقت بتا دی کہ اسلام میں اصل اور بنیادی چیز عقیدۂ توحید ہے۔ انبیاء کی آمد کا اصلی مقصد یہی ہے کہ انسان کو خدا کے سوا ہر ایک کی بندگی سے نکالیں اور صرف خدا کا بندہ بنائیں۔ دنیا اور آخرت میں انسان کی فلاح و کامیابی کا انحصار بھی اسی پر ہے کہ وہ غیر اللہ کی بندگی سے نکلے اور بس ایک خدا کا بندہ بن کر رہے۔ یہ حقیقت جس نے سمجھ لی اور جس کے دل میں یہ بات خوب بیٹھ گئی کہ خدائے واحد کے سوا دنیا کی کسی چیز کو قطعاً کسی قسم کی الوہیت حاصل نہیں ہے۔ اور صرف ایک خدا ہی ہے جس کی اطاعت، فرمانبرداری، غلامی اور بندگی اس کو کرنی ہے، وہ یقیناً اپنی زندگی میں سیدھا راستہ اختیار کرے گا اور ٹیڑھے راستوں سے بچ کر چلے گا۔ اس کے مزاج میں راستی ہوگی۔ صداقت کو قبول کرے گا۔ متقی اور پرہیزگار ہوگا۔ تمام وہ حقوق ادا کرے گا جن کو خدا نے حق ٹھیرایا ہے اور تمام وہ فرائض بجا لائے گا جن کو خدا نے فرض قرار دیا ہے۔ لہٰذا یہی ایک چیز اس کو صحیح الخیال بھی بنائے گی اور طاہر الاخلاق اور صالح الاعمال بھی۔ رہی یہ بات کہ بشری کمزوری کی بنا پر کبھی اس سے گناہ سرزد ہو جائے، تو خدا پر ایمان اسے مجبور کرے گا کہ اس گناہ سے توبہ کرے۔ کیونکہ ایمان کے ساتھ یہ نا ممکن ہے کہ وہ گناہ اور بدکاری پر جما رہے۔
مذکورہ بالااحادیث اور ان کی ہم معنی دوسری احادیث کا یہی مفہوم صحابہ کرام نے سمجھا تھا اور یہی ان کا حقیقی مفہوم تھا۔ ان میں سے کسی نے بھی یہ خیال نہ کیا کہ بس عقیدۂ توحید ہی کافی ہے، اس کے بعد نہ رسالت کو ماننے کی ضرورت ہے، نہ کلام اللہ کو اور نہ پاکیزگیٔ اخلاق مطلوب ہے نہ صلاحیت اعمال۔ ایسا غلط مفہوم وہ کس طرح سمجھ سکتے تھے جبکہ ان کو پوری طرح بتا دیا گیا تھا کہ اسلام کیا ہے اور اس میں کن چیزوں کا اعتقاد، کن عبادات کی پابندی، کن حدود کی حفاظت، کن قوانین کی اطاعت اور کن طریقوں سے اجتناب ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ نے یہ تعلیم صرف کاملین کو دی اور عوام کے سامنے اس کو بیان کرنے سے منع فرما دیا۔ معاذ بن جبل والی حدیث میں آپ نے اس کی وجہ بھی خود ہی بیان فرما دی ہے کہ عام لوگ اس کو سن کر غلط فہمی میں پڑ جائیں گے۔ حضرت ابوہریرہؓ والی حدیث میں ایک شخص کو شبہ ہوسکتا ہے کہ آپ نے شاید عوام تک پہنچانے کی ہدایت فرمائی تھی۔ خود حضرت عمرؓ کو بھی ایسا ہی شبہ ہوا تھا۔ لیکن دراصل حضورؐ کا مقصد کامل الاسلام لوگوں کو بشارت دینا تھا۔ چنانچہ جب حضرت عمرؓ نے اپنا اندیشہ بیان کیا تو آپؐ نے ان کی رائے سے اتفاق فرمایا۔ اسی طرح حضرت ابوذرؓ والی حدیث میں بھی کوئی شخص یہ شبہ نہیں کرسکتا کہ قَالَ لَااِلٰہ اِلاَّ اللّٰہُ سے مراد مجرد زبانی قول ہے۔ اس لیے کہ حضورؐ نے دوسرے مواقع پر تصریح فرمائی ہے کہ دخول جنت کے لیے توحید پر کامل ایمان کی ضرورت ہے۔ کہیں مُسْتَیْقِناً بِھَا قَلْبُہٗ فرمایا کہیں عَبْدٌ غَیْرُشَاکٍّ فرمایا۔ اور کہیں دوسرے الفاظ ارشاد فرمائے، جو اسی معنی پر دلالت کرتے ہیں۔
بہرحال یہ اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ جن احادیث میں توحید کی اہمیت بیان کی گئی ہے ان کاخطاب دراصل ان لوگوں سے ہے جو تمام شرائط کے ساتھ دائرۂ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں، نہ کہ ان لوگوں سے جو مسلمان ہی نہ ہوں۔ پھر مسلمانوں کو بھی اعتقاد توحید پر دخول جنت کی بشارت دینے سے یہ مراد نہیں کہ بس خدا کی وحدانیت مان لو، پھر جس قسم کی بدعقیدگی اور فسق و فجور اور بدعت و معصیت میں چاہو مبتلا رہو۔ بلکہ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ مسلمان کی کامیابی کامدار سب سے بڑھ کر اعتقاد توحید کی صحت اور مضبوطی پر ہے۔ اس میں اگر خرابی آگئی تو پھر کوئی چیز نافع نہیں ہوسکتی۔ اور اگر یہ صحیح و مضبوط ہو تو آخری کامیابی حاصل ہو کر رہے گی۔ اسی جہت سے اس معنی کی احادیث اس آیت قرآنی سے مطابق ہوتی ہیں جس میں فرمایا گیا ہے کہ:
اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا تَـتَنَزَّلُ عَلَيْہِمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَo حم سجدہ30:41
(ترجمان القرآن صفر۱۳۵۶ھ۔مئی ۱۹۳۷ء)

کیا رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے؟

ایک صاحب نے میرے مضمون’’ اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی‘‘ میں ایمان کی بحث پڑھ کر ایک شبہ پیش کیا ہے جو درج ذیل ہے:
’’اسلام کا مقصود بالذات توحید و عبادت الٰہی ہے۔ انبیاء محض ذریعہ ہیں اور ان پر ایمان مقصود اصلی نہیں ہے۔ ہر شخص ایمان کے لیے وسعت علم و فکر تک مکلف ہے۔ لہٰذا اگر کوئی غیر مسلم توحید پر ایمان رکھے اور اپنے طریق پر عبادت الٰہی کرے مگر اپنے علم اور فکر سے کام لینے کے باوجود رسالت کے متعلق نیک نیتی سے شکوک رکھتا ہو ایسے شخص کو ناجی قرار نہ دینے کی معقول وجوہ کیا ہیں؟ اس سلسلے میں ذیل کی آیات توجہ کے قابل ہیں:
يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَۃٍ سَوَاۗءٍؚبَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ الخ آل عمران64:3
وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ۝۰ۭ مِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَكْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ
آل عمران 110:3
لَيْسُوْا سَوَاۗءً۝۰ۭ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اُمَّۃٌ قَاۗىِٕمَۃٌ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللہِ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ وَھُمْ يَسْجُدُوْنَo يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُسَارِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ۝۰ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ مِنَ الصّٰلِحِيْنَo وَمَا يَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُّكْفَرُوْہُ۝۰ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌۢ بِالْمُتَّقِيْنَo آل عمران: 113-115:3
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَاٰمِنُوْا بِرَسُوْلِہٖ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَّحْمَتِہٖ الحدید28:57
آیت مؤخر الذکر کے متعلق یہ بھی بتائیے کہ کفلین سے کیا مراد ہے اور کفل تثنیہ کیوں ہے؟‘‘
آپ نے اپنے پہلے فقرے میں اسلام کا جو مقصد بیان فرمایا ہے وہ دراصل اسلام کے مقصد کا پورا پورا بیان نہیں ہے بلکہ اس کا صرف ایک حصہ ہے۔ لیکن میں بہ خوف طوالت اس بحث میں نہ پڑوں گا۔ میں یہاں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام کا جوادھورا مقصد آپ نے متعین کیا ہے، اس کو حاصل کرنے کے لیے بھی انبیاء علیہم السلام کی رہنمائی ناگزیر ہے۔
سب سے پہلا سوال جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، یہ ہے کہ اسلام کا جو مقصد آپ قرار دیتے ہیں اس کے حصول کا یقینی ذریعہ کیا ہے۔ ’’توحید‘‘ جس چیز کا نام ہے وہ صرف ’’خدا کو ایک کہنا‘‘ ہی نہیں ہے بلکہ وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کی صحیح معرفت ہے۔ اسی طرح ’’عبادت الٰہی‘‘ کا مفہوم بھی صرف اسی قدر نہیں ہے کہ کسی نہ کسی طور پر خدا کی پرستش کی جائے، بلکہ صحیح معنوں میں اللہ کی عبادت یہ ہے کہ انسان شرک کے تمام شائبوں سے بچ کر اپنی زندگی کو اس ذات پاک کی بندگی کے لیے خالص کر دے۔ یہ دونوں چیزیں (یعنی علم و معرفت کی صحت، اور عبادت کا خلوص) اسلام کی اصطلاح میں ’’ہدایت‘‘ کے جامع نام سے موسوم ہیںاور قرآن کہتا ہے کہ ہدایت جس شے کا نام ہے وہ وہی ہے جو خدا کی طرف سے عطا ہو۔ قُلْ اِنَّ الْھُدَی ھُدَی اللّٰہِ
خدا کی طرف سے ہدایت پانے کی دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ یا تو کسی کے پاس براہ راست خدا کی طرف سے ہدایت آئے، یا کسی ایسے شخص کا اتباع کیا جائے جس کے پاس خدا کی طرف سے براہ راست ہدایت آئی ہو۔ پہلا شخص اسلام کی اصطلاح میں رسول یا نبی ہے۔ اور دوسرے شخص کے لیے اصطلاحی نام ’’مومن‘‘ یا ’’مسلم‘‘ ہے۔ پس اگر کوئی شخص توحید کا صحیح علم رکھتا ہے اور اپنی بندگی و عبادت کو خدائے واحد کے لیے مخصوص کر چکا ہے، تو لا محالہ یا تو وہ خود نبی ہے یا کسی نبی کا متبع۔ لیکن اگر وہ ان دونوں میں سے کوئی بھی نہیں ہے تو اس کے پاس علم نہیں ہے محض گمان اور اٹکل ہےوَاِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔاo انجم28:53 اور جب اس کے پاس ’’علم‘‘ نہیں ہے تو اس کی عبادت بھی خالص نہیں ہوسکتی، کیونکہ عبادت کا خالصۃً اللہ کے لیے ہونا اس پر موقوف ہے کہ آدمی کو اللہ کی صحیح معرفت حاصل ہو۔
آپ کو یہ مطالبہ کرنے کا حق ہے کہ قرآن کے اس دعویٰ پر عقلی دلیل پیش کی جائے۔ میں اس مطالبے کو پورا کرنے کے لیے حاضر ہوں۔
اس میں شک نہیں کہ انسان کی فطرت میں خدا کی معرفت کا جوہر موجود ہے اور یہ بات بھی اس کی فطرت ہی میں ہے کہ وہ صرف خدا کی بندگی کرے جیسا کہ قرآن میں کہا گیا ہےفِطْرَتَ اللہِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْہَا۝۰ۭ الروم30:30 اور حدیث نبوی میں آیا ہے کہ کُلُّ مَوْلُوْدیُوْلَدُ عَلٰی فِطْرَۃِ الْاِسْلَامِ۔۱؎ لیکن اس فطری استعداد کے قوت سے فعل میں آنے کے لیے چند شرائط ہیں، اور بادنیٰ تامل یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ شرائط ہر شخص میں پوری نہیں ہوتیں۔
پہلی شرط قوت مشاہدہ کا استعمال اور صحیح استعمال ہے، تاکہ انسان آنکھیں کھول کر آفاق و انفس میں اللہ کی نشانیوں کو دیکھے اور صفات الٰہی کے ان نشانات کو پہچانے جو ہر ذرّے اور خود انسان کے اپنے وجود میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن نوع انسانی کی ایک بڑی اکثریت ایسی ہے جو اس طرح کا مشاہدہ نہیں کرتی۔ وہ آثار ومظاہر کے صرف ظاہری پہلو کو دیکھتے ہیں، مگر ان کے باطن کی طرف توجہ بھی نہیں کرتے۔ چنانچہ قرآن اس کی شکایت کرتا ہے کہ
وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْہَا وَہُمْ عَنْہَا مُعْرِضُوْنَo
یوسف105:12
آسمانوں اور زمین میں اللہ کی کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے لوگ یونہی گزر جاتے ہیں اور غور و فکر نہیں کرتے۔
وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَo یونس92:10 لوگوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔‘‘ ظاہر ہے کہ جو لوگ سرے سے مشاہدے کی قوت ہی استعمال نہیں کرتے ان کے لیے معرفت کا دروازہ کبھی نہیں کھل سکتا۔
دوسری شرط یہ ہے کہ انسان میں غور و فکر کا مادہ موجود ہو، اور وہ بھی صحیح و سلیم ہو، تاکہ انسان اپنے مشاہدات کو صحیح طریقے سے ترتیب دے کر ان سے صحیح نتائج اخذ کرسکے۔ یہ شرط پہلی شرط سے بھی زیادہ کمیاب ہے۔ اوّل تو غور و فکر کرنے والے افراد ہی نوع انسانی میں بہت کم ہیں، اور جو ہیں ان میں بھی صحیح الفکر افراد کم پائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید بار بار کہتا ہے کہ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ اور وَلٰکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لَا یَعْقِلُوْنَ۔ یہ غور و فکر کا فقدان اور صحت فکر کی کمیابی ان موانع میں سے ہے جو انسان کو علم حق تک پہنچنے سے روکتے اور اسے ٹیڑھے راستوں پر ڈال دیتے ہیں۔ اگرچہ راہ راست کے نشانات ہر طرف موجود ہیں مگر جو شخص ان نشانات کو دیکھتا ہی نہ ہو، یا دیکھتا تو ان سے ٹھیک نتیجہ نہ نکالتا ہو وہ کیوں کر صحیح راستہ پا سکتا ہے؟ یہی بات قرآن مجید میں کہی گئی ہے کہ ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں مگر ان کے لیے جو عقل رکھتے ہوں۔ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَo الروم28:30 اور دیکھے کہ یہی بات دوسرے موقع پر کتنے زور کے ساتھ کہی گئی ہے:
وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَــہَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ۝۰ۡۖ لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَہُوْنَ بِہَا۝۰ۡوَلَہُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِہَا۝۰ۡوَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِہَا۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَo اعراف179:7
ہم نے جنوں اور انسانوں میں سے ایک بڑی تعداد کو دوزخ کے لیے پیدا کیا ہے جن کا حال یہ ہے کہ دل رکھتے ہیں مگر ان سے سمجھنے بوجھنے کی خدمت نہیں لیتے، آنکھیں رکھتے ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں، کان رکھتے ہیں مگر ان سے سنتے نہیں، وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ، یہ وہی لوگ ہیں جو غفلت برتنے والے ہیں۔
تیسری شرط یہ ہے کہ اس کی طبیعت ایسی سلیم ہو کہ وہ سوسائٹی کے اثرات، باپ دادا کی تربیت اور خاندانی و قومی روایات سے متاثر نہ ہو اور ان سب پردوں کو چاک کرکے نور حقیقت کو صاف صاف دیکھ لے۔ یہ شرط پہلی دونوں شرطوں سے زیادہ کمیاب ہے۔ بڑے بڑے ذی علم، عاقل اور ذکی و فطین لوگوں کو دیکھا ہے کہ سوسائٹی اور خاندان کے اثرات سے آزاد نہیں ہوسکتے۔ جس ڈگر پر ماحول نے ان کو ڈال دیا ہے، اسی پر چلے جارہے ہیں اور اسی کو حق سمجھتے ہیں۔ قرآن مجید اس کو بھی گمراہی کا اہم سبب بتاتا ہے۔ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْہِ اٰبَاۗءَنَا۝۰ۭ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤُہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يَہْتَدُوْنَo المائدہ104:5
چوتھی شرط یہ ہے کہ انسان میں حق پسندی اور اس کے ساتھ قوت ارادی اتنی زبردست ہو کہ وہ خود اپنے نفس کی خواہشات اور رجحانات کا مقابلہ کرسکے۔ کیونکہ خواہش نفس اوّل تو معرفت حق ہی میں مانع ہوتی ہے، اور اگر کوئی شخص حق کو پہچان بھی لے تو وہ اس کو اپنے علم کے مطابق عمل کرنے سے روکتی ہے، قدم قدم پر مزاحمت کرتی ہے۔ انسان کے نفس میں یہ ایسی زبردست قوت ہے جو اکثر اس کی عقل و فکر پر چھا جاتی ہے اور بسا اوقات اس کو جانتے بوجھتے غلط راستوں پر بھٹکا دیتی ہے۔ معمولی آدمی تو درکنار بڑے بڑے لوگ بھی جو اپنے علم و فضل اور اپنی عقل و بصیرت اور فہم فراست کے لحاظ سے یکتائے روزگار ہوتے ہیں، اس رہزن کی شرارتوں سے بچنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس چیز کو قرآن مجید میں بھی گمراہی کا سب سے بڑا سبب قرار دیا گیا۔
وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ بِغَيْرِ ہُدًى مِّنَ اللہِ۝۰ۭ القصص50:28
اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جس نے اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی ہوائے نفس کی پیروی کی۔
اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــہَہٗ ہَوٰىہُ وَاَضَلَّہُ اللہُ عَلٰي عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰي سَمْعِہٖ وَقَلْبِہٖ وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً۝۰ۭ جاثیہ23:45
تو کیا تو نے دیکھا اس شخص کو جس نے اپنی خواہش نفس ہی کو اپنا خدا بنا لیا۔ باوجودیہ کہ وہ علم رکھتا تھا مگر (جب اس نے ایسا کیا تو) اللہ نے اسے بھٹکا دیا اور اس کے دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔
اور تو اور بسا اوقات پیغمبروں تک کو اس نفس شریر کی رہزنی کے خطرے پیش آئے ہیں۔ چنانچہ حضرت دائود جیسے جلیل القدر پیغمبر کو ایک موقع پر تنبیہ کی گئی ہے کہلَا تَتَّبِعِ الْہَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ۝۰ۭ ص26:38 ہوائے نفس کی پیروی نہ کرنا ورنہ یہ تمھیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔
آخری شرط یہ ہے کہ انسان کی وجدانی قوتیں بیدار ہوں، اس کے ذہن کا سانچہ ایسا ہو کہ صحیح اور حق بات سوچنے اور سمجھنے کے لیے غور و فکر اور استدلال عقلی کا زیادہ محتاج نہ ہو، بلکہ فطرتاً وہ غلط بات کو قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہو اور قیاس و استدلال کے بغیر محض حدس Intuition (وجدان)کی قوت سے سچی اور حق بات تک پہنچ جائے۔ یہ شرط سب سے زیادہ کڑی مگر معرفت کی تکمیل کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔ انسان کا مشاہدہ خواہ کتنا ہی صحیح ہو، غور و فکر اور تعقل و تدبر کی قوت سے وہ کتنا ہی بہرہ مند ہو، اور تقلید غیر و بندگی نفس کی زنجیروں سے کتنا ہی آزاد ہو، لیکن جو حقیقتیں اس کے حواس سے ماوراء ہیں اور جن کی کنہ پر اس کی عقل پوری طرح حاوی ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی، ان کا علم اور یقینی علم انسان کو محض آثار کے مشاہدے اور محض آزادانہ تفکر کی بدولت حاصل نہیں ہوسکتا۔ وہ ان حقیقتوں کے قریب تک پہنچ سکتا ہے، مگر ان کا ادراک نہیں کرسکتا۔ وہ عقل کے زور پر زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتا ہے کہ شاید ایسا ہو، اغلب ہے کہ ایسا ہو، یا حد سے حد یہ کہ ایسا ہونا چاہیے۔ لیکن محض تعقل اس کو اتنی قوت بہم نہیں پہنچا سکتا کہ وہ جزم و یقین کے ساتھ کہہ سکے کہ فی الواقع ایسا ہے اور یہی حقیقت اور صداقت ہے، اور اس کے سوا جو کچھ ہے قطعاً باطل اور غلط ہے۔ یہ جزم اور یقین اور ایمان کامل کی کیفیت صرف ’’حدس‘‘ سے پیدا ہوتی ہے۔ عرفان کی آخری منزل میں پہنچ کر قیاس و استدلال کام نہیں دیتا۔ وہاں بجلی کی سی سرعت کے ساتھ ذہن میں ایک روشنی نمودار ہوتی ہے اور وہ آن کی آن میں حقیقت کا مشاہدہ کرا دیتی ہے، ویسا ہی مشاہدہ جیسا کہ ہم اپنی آنکھوں سے کوئی مرئی چیز دیکھ رہے ہیں۔ اسی مشاہدے پر جزم و یقین کی بنا قائم ہوتی ہے۔ اس وقت انسان کا اعتقاد گمان اور اندازے اور اٹکل جیسی کمزور اور متزلزل بنیادوں پر نہیں ہوتا بلکہ وہ دل کی آنکھوں سے مشاہدہ کرکے ایک ایسی دیکھی بھالی بات پر ایمان لاتا ہے جس کی صداقت میں شک اور شبہ اور جانب مخالف کے امکان کا کوئی شائبہ تک نہیں ہوتا۔ اسی کا نام معرفت کامل ہے۔ اور جب تک معرفت کا یہ درجہ حاصل نہ ہو، انسان نہ پورا پورا خدا شناس ہوسکتا ہے اور نہ خدا کے لیے اس کی بندگی خالص ہوسکتی ہے۔ لیکن حدس کی یہ روشنی جس پر معرفت کی تکمیل موقوف ہے، انسان کے اپنے بس کی نہیں۔ نہ وہ اس کی حقیقت سے واقف ہے، نہ اس کو پیدا کرنے پر قادر ہے، اور نہ کسب و کوشش سے اس کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ محض خداداد ہے، اور یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن مجید میں ’’نور خداداد‘‘ اور بُرہان رب‘‘ اور ’’ہدایت الٰہی‘‘ اور ’’تعلیم خداوندی‘‘ وغیرہ الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مثلاً ارشاد ہوتا ہے کہ وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللہُ لَہٗ نُوْرًا فَمَا لَہٗ مِنْ نُّوْرٍo النور40:24 جس کو اللہ نے روشنی نہ دی ہو اس کے لیے پھر کوئی روشنی نہیں۔ حضرت یوسف کے متعلق فرمایا ہے کہ لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْہَانَ رَبِّہٖ۝۰ۭ یوسف24:12 اگر وہ اپنے رب کی بُرہان نہ دیکھ لیتا تو وہ بھی بھٹک جاتا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوتا ہے کہ قُلْ اِنَّنِيْ ہَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍۥۚ انعام160:6 لوگوں سے کِہہ دو کہ مجھ کو میرے رب نے راہ راست کی طرف ہدایت بخشی ہے۔حضرت موسیٰ کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَاسْتَوٰٓى اٰتَيْنٰہُ حُكْمًا وَّعِلْمًا۝۰ۭ قصص28:14 اور جب وہ پوری جوانی کو پہنچا اور پورا آدمی بن گیا تو ہم نے اس کو قوت فیصلہ اور علم عطا کیا۔
اب ان پانچ شرطوں پر غور کیجیے۔ اگر آپ کو ان میں سے کسی شرط کی ضرورت سے انکار ہے تو وجہ انکار ارشاد ہو، اگر کسی شرط کے بغیر انسان صداقت اور حقیقت تک پہنچ سکتا ہو تو دلیل پیش فرمائی جائے اور اگر حقیقت تک پہنچنے کے لیے ان پانچوں شرطوں کا پورا ہونا آپ کی رائے میں لازم ہے تو بتائیے کہ کتنے لاکھ نہیں کتنے کروڑ بلکہ کتنے ارب انسانوں میں سے ایک میں یہ شرطیں اس کمال کے ساتھ پوری ہوتی ہیں کہ وہ خداوند جل و علا جیسی سرحد ادراک سے وراء الوراء ہستی کی معرفت ِ کامل حاصل کر سکے؟ اگر آپ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ جنس گراں کمیاب ہے، تو پھر فرمائیے کہ ان کروڑوں بندگان خدا کا کیا حشر ہو جو اس سے محروم ہیں یا اگر بہرہ مند بھی ہیں تو اس درجہ نہیں؟ کیا ہر شخص کو اس کے ناقص ذرائع کے ساتھ چھوڑ دیا جائے کہ وہ خود اپنی اندھی آنکھوں اور مفلوج پائوں کے ساتھ خود ہی راستہ ٹٹول کر چلے، جس چیز کو چاہے نیک نیتی کے ساتھ خدا سمجھ لے، اور جس طرح چاہے اس کی پوجا کرے؟ اگر آپ کا یہی خیال ہے تو آپ کیوں نہیں کہتے کہ ہر شخص کو اپنے مرض کا علاج آپ کرنا چاہیے، کسی طبیب اور ڈاکٹر کی ضرورت نہیں۔ ہر شخص کو اپنا راستہ آپ تلاش کرنا چاہیے، کسی سے راستہ پوچھنے اور کسی کو راستہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ ہر شخص کو خود ہی علم حاصل کرنا چاہیے، کسی استاد اور معلم کی حاجت نہیں… کیا اس دنیا کا پورا نظام یونہی چل رہا ہے؟
انسان کے محدود ذہن میں اتنی سمائی نہیں ہے کہ تمام جہان کی قابلیتیں بیک وقت ایک ہی شخص میں جمع ہو جائیں حتیٰ کہ وہ اپنے ہر کام میں دوسروں کی مدد سے بے نیاز رہے۔ دوسری طرف انسان کی ضروریات اتنی وسیع اور گوناگوں ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کے لیے خاص قسم کی قابلیت درکار ہے اور زندگی کا ہر شعبہ اپنے لیے مناسب حال قابلیتیں چاہتا ہے۔اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مختلف انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مختلف لوگوں کو مختلف قابلیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کسی کو طب سے لگائو ہے اور وہ لوگوں کی طبی ضروریات کو پورا کر رہا ہے۔ کسی کو قانون سے لگائو ہے۔ کسی کو تجارت سے، کسی کو کاشتکاری سے۔ کسی کو صنعت و حرفت سے، کسی کو حکومت و سیاست سے۔ اور یہ سب اپنے اپنے شعبے میں نوع انسانی کے محتاج الیہ ہیں۔ ہر شعبۂ زندگی کے مخصوص معاملات میں دوسرے تمام شعبوں کے لوگ اسی خاص شعبے کے آدمیوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ جو شخص اس نظام کو توڑ کر آپ ہی اپنا طبیب، اپنا وکیل، اپنا مزارع، اپنا بیوپاری اور اپنا صناع بننے کی کوشش کرے گا، وہ خواہ کتنی ہی ’’نیک نیتی‘‘ کے ساتھ اس حماقت کا مرتکب ہو، فطرت کے نظام کو توڑنے کا نتیجہ بہرحال ظاہر ہو کر رہے گا اور وہ یقیناً ناکام زندگی بسر کرے گا۔
یہ نظام جس طرح زندگی کے تمام معاملات میں درست ہے، اسی طرح مذہب کے معاملے میں بھی درست ہے۔ یہاں بھی ہر شخص اس خاص قابلیت سے بہرہ مند نہیں ہے جو معبود کو پہچاننے اور صحیح طریقے سے اس کی عبادت کرنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ قابلیت بھی خاص خاص لوگوں کو عطا کی گئی ہے۔ انھوں نے معبود کو پہچانا ہے اور اس کی نشانیاں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں۔ اس کی عبادت و بندگی کا صحیح طریقہ دریافت کیا ہے اور اس کو بتا بھی گئے ہیں۔ عقلمند انسان کاکام ہے کہ اس شعبے میں اسی شعبے کے ماہروں پر اعتماد کرے، جیسی تعلیم انھوں نے دی ہے اس کو قلب و روح میں جگہ دے اور جو طریق بندگی انھوں نے قول اور عمل سے بتا دیا ہے اسی کا اتباع کرے۔ وہ بلاشبہ اس معاملے میں بھی اپنی عقل کو استعمال کرسکتا ہے۔ لیکن یہاں عقل کے استعمال کی صحیح صورت یہ نہیں ہے کہ وہ خود اپنی ناقص قوتوں اور اپنے محدود ذرائع پر اعتماد کرکے راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کرے اور جو راستہ اپنے نزدیک صحیح معلوم ہو اس پر چلنے لگے۔ بلکہ اس کی صحیح صورت یہ ہے کہ وہ اپنے لیے صحیح رہنما تلاش کرے اور جو لوگ مذہب کے میدان میں رہنمائی کے مدعی ہیں ان سب کی سیرتوں اور ان کی تعلیمات پر اپنی حد تک ایک تحقیقی نظر ڈال کر معلوم کرے کہ ان میں سے کون زیادہ بہتر اور صحیح راہ دکھانے والا ہے، کس کی ذات میں وہ پانچوں شرطیں بدرجۂ اتم پوری ہوگئی ہیں جو ہدایت یافتہ ہونے کے لیے ضروری ہیں، اور کس کی تعلیم سب سے زیادہ قابل عمل ہے۔ اس امتحان پر جو شخص پورا اترے اس کی تعلیم کو مان لینا چاہیے اور اس کے اتباع کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس معقول طریقے کو چھوڑ کر جو شخص غیر معقول طریقہ اختیار کرے گا وہ خواہ کتنا ہی ’’نیک نیت‘‘ ہو بہرحال وہ اپنی غلطی کے بُرے نتائج ضرور دیکھے گا۔ غلطی خواہ نیک نیتی سے کی جائے یا بدنیتی سے، اس کی ذمہ داری اور اس کے وبال سے انسان بچ نہیں سکتا۔ جو شخص بیمار ہو اور فن طب کے ماہر کو تلاش کرنے اور اس پر اعتماد کرنے کے بجائے اپنے ناقص علم پر اعتماد کرکے خود اپنا علاج کرنے لگے وہ اپنی اس غلطی کا نتیجہ ضرور بھگتے گا‘ خواہ اس نے یہ غلطی کتنی ہی نیک نیتی سے کی ہے۔ جو شخص قانون کے معاملے میں ماہر قانون کو چھوڑ کر خود اپنی ناقص رائے پر عمل کرے گا وہ اپنی حماقت کے نتائج سے نہ بچ سکے گا چاہے اس نے یہ حرکت انتہائی نیک نیتی کے ساتھ کی ہو۔ غلطی بہرحال غلطی ہے اور ہر غلطی کے جو فطری نتائج مقرر ہیں وہ ہرحال میں ظاہر ہو کر رہتے ہیں۔ البتہ بدنیتی سے ایک جُرم کا اضافہ اور ہو جاتا ہے۔
اب میں ان آیات کی طرف توجہ کرتا ہوں جو آپ نے اپنے نقطۂـ نظر کی تائید میں پیش فرمائی ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے اس قاعدۂ کلیہ کو سمجھ لیجیے کہ کسی مسئلے میں قرآن مجید سے استدلال کرنے کے لیے ایک دو آیتوں کو چھانٹ کر نکال لینا کوئی صحیح طریقہ نہیں ہے بلکہ اس کے لیے پورے قرآن پر نظر ڈالنی ضروری ہے تاکہ مسئلے کے تمام پہلو سامنے آجائیں آپ کو معلوم ہے کہ قرآن مجید کوئی مسلسل تصنیف نہیں ہے جس میں ترتیب کے ساتھ ہر ہر مسئلے کو ایک ایک جگہ مفصل بیان کیا گیا ہو، بلکہ یہ مجموعہ ہے، ان آیات کا جو ۲۳ سال کی طویل مدت میں موقع اور ضروریات کے لحاظ سے وقتاً فوقتاً نازل ہوتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے جتنے مہمات مسائل ہیں وہ سب کسی ایک جگہ اپنی پوری پوری تفصیلات کے ساتھ بیان نہیں کر دیئے گئے ہیں، بلکہ پورے قرآن میں پھیلے ہوئے ہیں اور مختلف آیات میں موقع و محل کے لحاظ سے ان کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ پس اگر آپ رسالت کے مسئلے میں قرآن کی تعلیم ٹھیک ٹھیک معلوم کرنا چاہتے ہیں تو پورے قرآن پر مجموعی نظر ڈالیے۔ ایک دو آیتوں کو چھانٹ کر سلسلے سے الگ کرلیں تو غلط فہمی میں مبتلا ہو جائیں گے۔
اس قاعدے کے مطابق جب قرآن کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ قرآن کا مدعا ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہر شخص آپ اپنا راستہ تلاش کرنے کے لیے آزاد ہے اور ہر راستہ جس کو وہ نیک نیتی کے ساتھ درست سمجھتا ہے وہی حقیقت میں بھی صحیح ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس وقت بنی آدم کو زمین پر اتارا تھا اسی وقت اس نے ان کو سیدھا راستہ بتانے کاکام خود اپنے ذمے لے لیا تھا اور ان سے صاف کہہ دیا تھا کہ تمھارے لیے نجات کی صورت بس یہی ہے کہ میری طرف سے جو ہدایت تمھیں پہنچے اس کی پیروی کرو فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّـنِّىْ ھُدًى فَمَنْ تَبِــعَ ھُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَo وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ۝۰ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَo البقرہ38-39:2 پھر اس نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ یہ ہدایت ہر شخص کے پاس فرداً فرداً نہیں بھیجی جائے گی۔ بلکہ میں خود تم ہی میں سے کچھ لوگوں کا انتخاب کروں گا اور ان پر اپنی ہدایات نازل کروں گا اور ان کو تمھارے پاس رسول بنا کر بھیجوں گا۔ ہر شخص جو میرے رسول کو اور اس کے لائے ہوئے پیغام کو سچے دل سے مانے گا وہی ہدایت پائے گا۔ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَـقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ۝۰ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُوْنَo اعراف35:7 جو میرے پیغامبروں کو نہ مانے گا وہ اس کی سزا پائے گا ۔ اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِo ۱؎ ص14:38 اور جب قیامت کے روز اس کو عذاب دیا جائے گا تو اس سے کہا جائے گا کہ کیا تمھارے پاس رسول نہیں آئے تھے اور انھوں نے تم کو خدا کی آیات نہیں سنا دی تھیں اور اس دن کے انجام سے آگاہ نہیں کر دیا تھا؟ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا۝۰ۭ الزمر71:39 اس کے ساتھ ہی قرآن مجید صاف کہتا ہے کہ جو شخص اللہ کے رسولوں کو نہ مانے اس کے لیے اللہ کو ماننا ہرگز نافع نہیں ہے:
اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللہِ وَرُسُلِہٖ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللہِ وَرُسُلِہٖ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ۝۰ۙ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًاo اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا۝۰ۚ النساء 150-151:4
یقیناً جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں سے کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لائیں گے اور بعض کا انکار کریں گے اور چاہتے ہیں کہ اس کے بیچ کی کوئی راہ اختیار کریں، وہ لوگ یقیناً کافر ہیں۔
قرآن کے نزدیک مومن وہی ہے جو اللہ کے ساتھ اس کے رسول پر بھی ایمان لائے۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ الحجرات15:49
مومن دراصل وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔
اور جو شخص رسول کے ذریعے سے ہدایت کا راستہ واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کو اختیار کرنے سے انکار کرے وہ جہنم سے بچ نہیں سکتا۔ اس معاملے میں نیک نیتی اور بدنیتی کا کوئی سوال نہیں ہے۔
وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَہُ الْہُدٰى وَيَتَّبِـعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ۝۰ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًاo النسائ115:4
اور جو شخص ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد بھی رسول سے جھگڑا کرے اور مومنوں کے راستے پر نہ چلے اس کو ہم اسی طرف پھیر دیں گے جس کی طرف وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونک دیں گے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔
یہ بات قرآن مجید کی تعلیم کے اصول سے ہے اور قرآن میں آپ کہیں ایسی بات نہیں پاسکتے جو اس کے خلاف ہو۔ آپ نے جن آیات کو سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش فرمایا ہے وہ بظاہر آپ کو اس سے متناقض معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اگر آپ سورۂ آل عمران کو چھٹے رکوع سے لے کر بارھویں رکوع تک مسلسل پڑھیں تو تناقض کا شائبہ تک نہ رہے گا۔ چھٹے رکوع میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے کہ:
اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَo فَمَنْ حَاۗجَّكَ فِيْہِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا…… ثُمَّ نَبْتَہِلْ۔ آل عمران60-61:3
یہ علم حق تیرے رب کی طرف سے ہے لہٰذا تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو جائیو۔ پھر جو کوئی اس کے بارے میں تجھ سے حجت کرے جبکہ تیرے پاس علم آچکا ہے تو کہہ کہ آئو… پھر ہم مباہلہ کرلیں۔
اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے کہ اہل کتاب کو ایک سیدھی اور صاف بات یعنی توحید خالص کی طرف دعوت دو اور ان سے کہو کہ ابراہیم جس کے بارے میں تم جھگڑتے ہو وہ یہودی یا نصرانی نہ تھا، بلکہ وہ خالص موحد تھا، اور اس کے ساتھ اصلی تعلق وہی لوگ رکھتے ہیں جو اس کا اتباع کرتے ہیں۔ پھر فرمایا جاتا ہے کہ تمام پیغمبروں سے (اور بالتبع ان کی امتوں سے) ہمیشہ یہ عہد لیا جاتا رہا ہے کہ ہر نبی جو خدا کی طرف سے تمھاری کتابوں کی تصدیق کرنے کے لیے آئے، اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا۔ اس عہد سے جو لوگ پھر جائیں وہ فاسق ہیں۔ آگے چل کر ارشاد ہوتا ہے کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحق اور موسیٰ اورعیسیٰ اور دوسرے نبیوں پر جو کچھ اترا ہے اس سب پر ایمان لائو۔ یہی اسلام ہے اور جو شخص اس اسلام کے سوا کسی اور دین کا خواہاں ہو اس کا وہ دین ہرگز مقبول نہ ہوگا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھائے گا۔ وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْہُ۝۰ۚ وَھُوَفِي الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَo آل عمران85:3 آخر میں اہل کتاب کے متعلق فرمایاجاتا ہے کہ وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ۝۰ۭ آل عمران110:3 اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔ مِنْھُمُ الْمُؤمِنُوْنَ وَاکْثَرُھُمُالْفَاسِقُوْنَ۔ان میں سے تھوڑے ایمان لائے اور اکثر نافرمان ہیں۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں ایمان سے مراد رسول عربی پر ایمان ہے۔ کیونکہ جو لوگ ’’اہل کتاب‘‘ ہیں وہ موسیٰ یا عیسیٰ علیہما السلام کو یا دونوں کو اور ان کی لائی ہوئی کتابوں کو مانتے ہیں، اور خدا کے بھی قائل ہیں۔
آخری آیت جو سورۂ حدید سے آپ نے نقل فرمائی ہے، اس میں ان تمام لوگوں کو جو پچھلے انبیاء پر ایمان لاچکے ہیں، دو چیزوں کی دعوت دی گئی ہے۔ ایک یہ کہ خدا سے ڈریں اورتقویٰ اختیار کریں، دوسرے یہ کہ خدا کے رسول یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں۔ پھر فرمایا کہ اگر تم یہ دونوں باتیں اختیار کرو گے تو تم کو خدا کی رحمت کے دو حصے ملیں گے، یعنی ایک حصہ انبیائے سابقین پر ایمان اور تقویٰ کے اجر میں اور دوسرا حصہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے اجر میں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیزگاری کے ساتھ پچھلے انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی دی ہوئی تعلیم پر ٹھیک ٹھیک عامل ہیں ان کو بھی خدا کی رحمت کا کچھ نہ کچھ حصہ ملے گا۔ اس کی تائید دوسری آیات سے بھی ہوتی ہے۔ مثلاً وَالَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ۝۰ۭ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِيْنَo اعراف170:7 يٰٓاَہْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىۃَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ۝۰ۭ المائدہ68:5 لیکن ایک دوسرے موقع پر یہ بھی تو فرمایا ہے:
اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ ہُوَاَعْمٰى۝۰ۭ الرعد19:13
کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کتاب تیرے اوپر اتاری گئی ہے وہ حق ہے، اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے جو اندھا ہے۔
اور یہ بھی تو ارشاد ہوا ہے کہ جو لوگ پچھلی کتابوں کا صحیح علم رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ قرآن خدا کی طرف سے آیا ہے اور برحق ہے۔
وَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰہُمُ الْكِتٰبَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ انعام114:6
لہٰذا ان دونوں مضمونوں کی آیتوں کو ملانے سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ جو لوگ جہالت اور نابینائی کے باعث رسولؐ عربی کی صداقت کے قائل نہیں ہیں، مگر انبیائے سابقین پر ایمان رکھتے ہیں اور صلاح و تقویٰ کی زندگی بسر کرتے ہیں ان کو اللہ کی رحمت کا اتنا حصہ ملے گا کہ ان کی سزا میں تخفیف ہو جائے گی۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
(ترجمان القرآن۔ جمادی الاولیٰ ۱۳۵۳ھ۔ جولائی ۱۹۳۴ئ)

ایمان بالرّسالت

پچھلے مضمون کو دیکھ کر وہی صاحب جن کے استفسار پر وہ مضمون لکھا گیا تھا، پھر لکھتے ہیں:
’’ایمان بالرسالۃ کے متعلق آپ کا عالمانہ تبصرہ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ میرے خیال ناقص میں ایک دو پہلو ابھی حل طلب ہیں جو مختصراً معروض ذیل ہیں:
(۱) آپ فرماتے ہیں کہ انسان کی فطرت میں خدا کی معرفت اور اس کے لیے بندگی کے خلوص کی استعداد موجود ہے…… لیکن اس فطری استعداد کے قوت سے فعل میں آنے کے لیے چند شرائط ہیں اور بادنیٰ تامل یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ شرائط ہر شخص میں پوری نہیں ہوتیں۔‘‘ اس کے بعد ان شرائط کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کے متعلق عرض یہ ہے کہ فرمودۂ الٰہی لَا يُكَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا۝۰ۭ البقرہ286:2 کے مطابق ہر شخص اپنی وسعت علم و فکر تک مکلف ہے جیسا کہ شروع سوال تک مذکور ہے۔ اگر تربیت، ماحول اور استعداد ذاتی تکمیل شرائط میں حائل ہیں تو اس کمی کی ذمہ داری اس متجسس پر کیوں عائد ہو؟ انتخاب طریق میں اس نے اپنی لیاقت کے مطابق تفکر اور تعقل سے کام لیا اور اسی حد تک وہ مکلف تھا۔ اس کو مورد عذاب و الزام کرنا بظاہر تکلیف مالایطاق ہے۔
(ب) جناب فرماتے ہیں کہ ’’قرآن مجید کوئی مسلسل تصنیف نہیں جس میں ترتیب کے ساتھ ہر مسئلے کو ایک ایک جگہ مفصل بیان کیا گیا ہو۔ بلکہ یہ مجموعہ ہے ان آیات کا جو ۲۳ سال کی طویل مدت میں موقع اور ضرورت کے لحاظ سے وقتاً فوقتاً نازل ہوتی رہی ہیں۔‘‘ مگر پھر بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ’’سورۂ آل عمران کو چھٹے رکوع سے بارھویں رکوع تک مسلسل پڑھا جائے تاکہ تناقض کا شائبہ تک نہ رہے۔ سوال بھیجنے سے پہلے بھی پڑھا تھا اور دوبارہ بھی ان سب آیات کو پڑھا ہے مگر مشکل رفع نہیں ہوتی۔ اہل کتاب کے جھگڑوں ضد، شرک وغیرہ کو دیکھ کر ایک معتدل روش کی طرف دعوت دی گئی تھی کہ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَۃٍ سَوَاۗءٍؚبَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ آل عمران64:3 ان کلمات اور اس دعوت کا کیا مفہوم اور مقصد تھا؟ بظاہر تو یہی ہے کہ تم اگر اپنی سچی تعلیم پر عمل کرو گے اور شریک چھوڑ دو گے تو دعوت الی اللہ کے مشترک کام میں تم اور ہم یکساں ہوں گے۔ دل نہیں مانتا کہ یہ الفاظ یونہی رسمی طور پر دفع الوقتی یا رفع الزام کے لیے کہے گئے اور کہ فی الحقیقت اشتراک فی العمل اور دعوت مقصود نہ تھا۔
(ج)سوال لکھتے وقت فی الذہن اہل کتاب ہی تھے اور آیات مرقومہ اسی لیے استشہاداً پیش کی گئی تھیں۔ جہاں کہیں اہل کتاب کے اس گروہ کی تعریف کی گئی ہے جو دیانت دار تھے، خدا ترس تھے، امین تھے، شب گزار تھے، بعض مفسرین نے اس کی وہی تفسیر کی ہے جس کی طرف آپ گئے ہیں کہ یہ وہ گروہ ہے جو مسلمان ہو چکا تھا جیسے کہ عبداللہ بن سلام، ثعلبہ، نصاریٰ نجران وغیرہم، مگر افسوس کہ اس سے تسلی نہیں ہوتی اور نہ ہی الفاظ قرآن اس کے حامل ہیں۔ مثلاً وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ۝۰ۭ مِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَكْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَo آل عمران110:3 کے ترجمے میں آپ فرماتے ہیں کہ ان میں سے تھوڑے ایمان لائے اور اکثر نافرمان ہیں۔ مومنون اور فاسقون دونوں ساتھ ساتھ مذکور ہیں اور دونوں اسم فاعل کے صیغے ہیں۔ ان میں سے ایک کے معنی ماضی کے لینے اور دوسرے کے حال کے اور پھر الفاظ مِنْھُمْ اور اَکْثَرُ ھُمْ کے مفہوم کو متعین نہ کرنا تسلی بخش نہیں کَمَا لَایَخْفیٰ عَلَی الْمُتأمِلْ ۔ مگر دوسری آیت واضح ترین ہے جس میں ایسی تاویل کی گنجائش ہی نہیں اور جس کا ترجمہ جناب نے نہیں فرمایا۔ یعنی
لَيْسُوْا سَوَاۗءً۝۰ۭ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اُمَّۃٌ قَاۗىِٕمَۃٌ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللہِ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ وَھُمْ يَسْجُدُوْنَo يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُسَارِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ۝۰ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ مِنَ الصّٰلِحِيْنَo وَمَا يَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُّكْفَرُوْہُ۝۰ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌۢ بِالْمُتَّقِيْنَo آل عمران 113-114-115:3
سب کے سب برابر نہیں، اہل کتاب میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کی آیتیں راتوں کو کھڑے پڑھتے رہتے ہیں۔ اور سجدے کرتے ہیں، اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور روز آخرت پر، نیک کاموں کا حکم کرتے ہیں اور برے کاموں سے منع کرتے ہیں اور نیک کاموں میں جلدی کرتے ہیں اوریہی لوگ صالحین میں سے ہیں وہ کسی طرح کی بھی نیکی کریں گے اس کی ہرگز ناقدری نہ ہوگی اور متقین کو اللہ خوب جانتا ہے۔
اس کی تائید قرآن شریف کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے جس میں نصاریٰ کی تعریف کی ہے کہ ان میں دیندار طبقہ ہے اور وہ متکبر نہیں ہیں۔ اگر آیات مذکورہ میں وہی لوگ مراد ہوتے جو جناب لے رہے ہیں تو فصاحت اور بلاغت قرآنی کو مدنظر رکھتے ہوئے الفاظ مختلف ہوتے۔
(د) يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَاٰمِنُوْا بِرَسُوْلِہٖ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَّحْمَتِہٖ الحدید28:57 کے متعلق جناب فرماتے ہیں کہ ’’اس میں تمام لوگوں کو جو پچھلے انبیاء پر ایمان لاچکے ہیں دو چیزوں کی دعوت دی گئی ہے۔ ایک یہ کہ خدا سے ڈریں اورتقویٰ اختیار کریں دوسرے یہ کہ خدا کے رسول یعنی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں۔ پھر فرمایا گیا کہ اگر تم یہ دونوں باتیں اختیار کرو گے تو تم کو خدا کی رحمت سے دو حصے ملیں گے یعنی ایک حصہ انبیائے سابقین پر ایمان اور تقویٰ کے اجر میں اور دوسرا حصہ ایمان برمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اجر میں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیزگاری کے ساتھ پچھلے انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی دی ہوئی تعلیم پر ٹھیک ٹھیک عامل ہیں ان کو بھی خدا کی رحمت کا ایک حصہ ملے گا۔ اس کی تائید دوسری آیات سے بھی ہوتی ہے۔ مثلاً وَالَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ۝۰ۭ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِيْنَo اعراف170:7 مگر ان سب آیات کو ملا کر جو نتیجہ آپ نے آخر مضمون میں نکالا ہے وہ تعجب انگیز ہے۔ یعنی ’’ان کو اللہ کی رحمت کا صرف اتنا حصہ ملے گا کہ ان کی سزا میں تخفیف ہوگی۔‘‘
تیلی بھی کیا اور روکھا بھی کھایا۔
کم علمی کی وجہ سے یہ شکوک سوجھے ہیں اگر جناب و دیگر علمائے کرام مزید توجہ فرما کر ان کو رفع کریں گے تو ان شاء اللہ عند الناس مشکور اور عنداللہ ماجور ہوں گے۔
آپ نے جو اعتراضات پیش فرمائے ہیں ان کے جوابات مختصراً درج ذیل ہیں:
(۱) آپ کا استدلال اگر صحیح مان لیا جائے تو اس سے نہ صرف منکر رسالت کو برسر حق تسلیم کرنا لازم آئے گا بلکہ ہر شخص کے مسلک کو اس کی حد تک صحیح مان لینا لازم آجائے گا، خواہ وہ مشرک ہو یا دہریہ یا کوئی اور۔ کیونکہ جب ہر شخص اپنی وسعت علم و فکر کی حد تک مکلف ہے اور تلاش حق میں غلطی یا کوتاہی کی ذمہ داری اس پر کچھ نہیں ہے تو جس طرح وہ موحد مورد الزام و مستحق عذاب نہیں ہے جو غور و فکر کے باوجود رسالت میں ’’نیک نیتی‘‘ کے ساتھ شک رکھتا ہے۔ اسی طرح وہ مشرک بھی‘ کسی عقوبت کا مستحق نہ ہونا چاہیے جو ’’نیک نیتی‘‘ کے ساتھ کسی پتھر یا درخت یا جانور کو خدا سمجھتا ہے، اور وہ دہریہ بھی کسی سزا کا مستوجب نہ ہونا چاہیے جو سرے سے خدا ہی کے وجود میں ’’نیک نیتی‘‘ کے ساتھ شکوک رکھتا ہے اس لیے کہ یہ سب بھی تو اپنی وسعت علم و فکر تک ہی مکلف ہیں اور ان کے علم و فکر کی رسائی بھی تو وہیں تک ہے جہاں تک یہ پہنچے ہیں۔ اس قاعدے کو اگر تسلیم کرلیا جائے تو مومن اور کافر اور مشترک کا امتیاز سراسر لغو قرارپائے گا اور تبلیغ دین کے لیے سرے سے کوئی عقلی بنیاد ہی باقی نہ رہے گی۔ کیونکہ دین جن باتوں کی طرف بلاتا ہے ان کو اگر کوئی شخص اپنی کوتاہیٔ فکر کی بنا پر، مگر ’’نیک نیتی‘‘ کے ساتھ رد کر دے، تب بھی وہ برسرحق ہی رہے گا اور اپنے اس فعل کے لیے کسی الزام یا کسی سزا کا مستحق نہ ہوگا۔
آپ اس قاعدے کی بنا آیت لَا يُكَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا۝۰ۭ البقرہ286:2 پر رکھتے ہیں۔ لیکن میں عرض کرتا ہوں کہ اگر اس کا وہی مفہوم ہے جو آپ نے سمجھا ہے تو یہ آیت قرآن مجید کی پوری تعلیم کے خلاف ہے، اور اس صورت میں یہ تسلیم کرنا لازم آتا ہے کہ قرآن نے دو بالکل متعارض اصول پیش کیے ہیں۔ ایک طرف تو وہ انسان کو خدا اور اس کے ملائکہ اور کتابوں اور رسولوں اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر تم ان چیزوں کو نہ مانو گے تو کافر ہوگے اور تم کو آخرت میں سزا دی جائے گی۔ دوسری طرف وہی قرآن (آپ کے زعم کے مطابق) کہتا ہے کہ تم صرف اپنی وسعت علم و فکر تک مکلف ہو، اگر تمھاری فکر کی رسائی ان پانچوں ایمانیات، یا ان میں سے کسی ایک تک نہ ہو، اور اس نارسائی فکر کی بنا پر تم ایک کو یا سب کو ماننے سے انکار بھی کر دو، اور ان کے خلاف کوئی دوسرا عقیدہ رکھو، تب بھی تم پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے، اور تم کسی الزام یا سزا کے مستحق نہیں ہو۔ یقین مانیے کہ اگر قرآن مجید کی تعلیم میں حقیقتاً اتنا صریح تناقض موجود ہوتا تو کوئی صاحب عقل انسان اس کو خدا کی کتاب نہ مانتا۔
اس اشکال کا وہ حل ہے جو میں اپنے سابق مضمون میں بیان کر چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ تکلیف ہی نہیں دی ہے کہ وہ اپنی محدود قوتوں سے اس کی معرفت تک پہنچے اور اس کی بندگی کا صحیح طریقہ دریافت کرنے کی کوشش کرے۔ جس خدا نے انسان کو بنایا ہے وہ جانتا ہے کہ انسان کی وسعت علم و فکر کہاں تک ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ عام انسانوں کی قوت فکر اور صلاحیت اکتساب علم اتنی ہے ہی نہیں کہ وہ اس بلند مقام تک پرواز کرسکیں جہاں اس جیسی ماورائے سرحدِ ادراک ہستی کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ عام انسان اپنی پیدائشی کمزوریوں اور ماحول کے اثرات سے اس قدر پاک اور منزہ نہیں ہوسکتے کہ محض اپنے اجتہاد سے صرف خداوند عالم کے لیے اپنی بندگی کو خالص کر دیں۔ اس لیے اس نے ان کی وسعت و طاقت سے زیادہ ان پر تکلیف کا بارڈالا ہی نہیں۔ اس نے تو خود انسانوں ہی میں سے بعض خاص اشخاص کو منتخب کرکے انھیں راہ راست کا علم دیا اور ان کو اس بات پر مامور کیا کہ اپنے ابنائے نوع کو اس کی نشانیاں کھول کھول کر بتائیں اور ان کی عقل و فہم کے مطابق انھیں تعلیم دیں۔يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَـقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ۝۰ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُوْنَo الاعراف35:7 پس تکلیف جو کچھ بھی دی گئی ہے وہ اس امر کی ہے کہ انسان خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں کی سیرت اور ان کی تعلیم پر غور کرے۔ اور جب دیکھے کہ وہ جس راستے کی طرف بلا رہے ہیں اس میں ان کی کوئی ذاتی غرض نہیں ہے، نہ وہ جھوٹ بولنے والے اور دھوکہ دینے والے لوگ ہیں، نہ کسی ایسی بات کی طرف بلا رہے ہیں جو تقویٰ اور صلاح کے خلاف ہو، تو ان پر ایمان لائے اور ان کی پیروی کرے۔ اس تکلیف کو مالا یطاق نہیں کہا جاسکتا۔ اگر ہدایت کو انسان کے علم و عقل سے اتنا قریب کر دینے کے بعد بھی کوئی شخص نیک نیتی یا بدنیتی کے ساتھ اس کو قبول نہیں کرتا اور اس کے خلاف چلتا ہے تو اس کو اپنی اس کوتاہی کا انجام ضرور دیکھنا پڑے گا۔
آپ پھر پلٹ کر کہیں گے کہ اگر کوئی شخص اپنی وسعت علم و فکر کی حد تک رسولوں کی سیرت اور ان کی تعلیم پر غور کرنے کے باوجود ان کی رسالت پر مطمئن نہ ہوسکے تو اس کوتاہی فہم و نارسائی فکر کی اس پر کوئی ذمہ داری نہیں اور اس کو موردِ الزام و مستحق عذاب نہ ہونا چاہیے۔ میں عرض کروں گا کہ جب کوئی شے انسان بحیثیت انسان کی حد عقل و فہم سے باہر ہو اور کوئی انسان اس تک نہ پہنچے تو البتہ وہ معذور ہے کیونکہ اس شے کی یہ شان ہی نہیں ہے کہ انسان اس تک پہنچ سکے۔ لیکن اگر کوئی چیز اس حد کے اندر ہو، اور اس کی شان یہ ہو کہ انسان بحیثیت انسان ہونے کے اپنی بشری قوتوں کے ساتھ اس حد تک پہنچ سکتا ہو‘ اور پھر کوئی شخص اس تک نہ پہنچے تو یہ دو حال سے خالی نہ ہوگا، یا تو اس نارسائی میں اس کی ہوائے نفس کا دخل ہوگا، یا یہ نارسائی خالصتاً اس کی کوتاہیٔ فہم پر مبنی ہوگی۔ پہلی صورت میں تو اس کے مجرم ہونے میں کسی کو کلام نہیں ہوسکتا۔ رہی دوسری صورت، تو آپ کو خواہ اس کم عقل انسان پر کتنا بھی رحم آئے، بہرحال اس سے آپ انکار نہیں کرسکتے کہ وہ اپنی کوتاہ فہمی سے جس نتیجے پر پہنچا ہے وہ حق نہیں ہے اور یہ کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں کہ جو حق تک نہیں پہنچا ہے‘‘ وہ انجام کار میں ان لوگوں کے برابر ہو جو حق تک پہنچ گئے ہیں۔
اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہے کہ ہر شخص جو کچھ سوچے اور سمجھے گا اپنی وسعت علم و فکر کی حد تک ہی سوچے اور سمجھے گا۔ اس حد سے آگے جانا اس کے بس کی بات نہیں ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آیا حق اور صداقت ہر شخص کی انفرادی سمجھ بوجھ کے مطابق بدلنے والی چیز ہے، یا ایک متعین شے ہے خواہ کوئی شخص اسے سمجھے یا نہ سمجھے؟ اگر آپ پہلی بات کے قائل ہیں تو گویا آپ یہ کہتے ہیں کہ مثلاً ۳۰ اور ۵۰ کا مجموعہ کوئی مخصوص عدد نہیں ہے، بلکہ ہر شخص اپنی حد تک غور و فکر کرنے کے بعد ’’نیک نیتی‘‘ کے ساتھ جس عدد پر بھی پہنچ جائے وہی صحیح مجموعہ ہے خواہ وہ ۷۹ ہو یا ۸۱ یا ۸۰ مگر یہ ایسی غیر معقول بات ہے کہ مجھے امید نہیں کہ آپ اس کے قائل ہوں۔ لہٰذا آپ کو لامحالہ دوسری شق ماننی پڑے گی، یعنی یہ کہ ۳۰ اور ۵۰ کا مجموعہ بہرحال ۸۰ ہے خواہ کسی کی حد علم و فکر وہاں تک پہنچے یا نہ پہنچے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جو شخص ۳۰ اور ۵۰ کے مجموعہ کو ۷۹ یا ۸۱ یا کچھ اور کہتا ہے خواہ کوتاہ فہمی کی بنا پر ’’نیک نیتی‘‘ کے ساتھ ایسا کہے یا جان بوجھ کر بدنیتی کے ساتھ، دونوں صورتوں میں اس کا حساب غلط ہوگا، اس کی فرد حساب اس غلطی کی وجہ سے آخر تک غلط ہو جائے گی، اور اس کی تمام محنت جو اس نے فرد تیار کرنے میں صرف کی ہے ضائع ہو جائے گی۔ ’’نیک نیتی‘‘ اور ’’بدنیتی‘‘ کا کوئی دخل حساب کی صحت و عدم صحت میں نہیں ہے۔ نہ یہ ہوسکتا ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ غلط حساب لگانے والے کو اس شخص کے برابر کر دیا جائے جس نے صحیح حساب لگایا ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہوگا کہ نیک نیت احمق کو اتنی سزا نہ دی جائے گی جتنی بدنیت شریر کو دی جائے گی۔
(۲)قرآن مجید کی ترتیب کے بارے میں جو کچھ عرض کیا گیا تھا اس سے یہ کہنا مقصود نہ تھا کہ آیات قرآنی میں کوئی ربط نہیں ہے، بلکہ اس بات کی طرف اشارہ مقصود تھا کہ قرآن مجید میں ایک ایک مسئلے پر تسلسل کے ساتھ یک جا بحث نہیں کی گئی ہے، بلکہ جہاں جیسا موقع پیش آیا ہے مسائل کے پہلوئوں میں سے ایک پہلو یا چند پہلوئوں کو بیان کر دیا گیا ہے، اس لیے قرآن مجید کے مطالعہ کرنے والے کو لازم ہے کہ جب وہ کسی مسئلے پر کوئی رائے قائم کرنا چاہے تو مجموعی طور پر قرآن کی پوری تعلیم پیش نظر رکھے۔ ورنہ اگر وہ محض کسی ایک آیت یا چند آیات پر حصر کرے گا اور دوسری آیات کو جو اس مسئلے سے تعلق رکھتی ہیں نظر انداز کر دے گا تو صحیح رائے قائم نہ کرسکے گا۔
(۳) تعجب ہے کہ آپ نے سورۂ آل عمران کو چھٹے رکوع سے لے کر بارھویں رکوع تک بارہا پڑھا اور پھر بھی مشکل رفع نہ ہوئی۔ حالانکہ چھٹے رکوع کے آغاز میں ہی آپ دیکھ سکتے تھے کہ جو لوگ حضرت ابراہیم اور یعقوب اور موسیٰ اور دوسری انبیائے بنی اسرائیل علیہم السلام پر ایمان رکھتے تھے ان کو اس بنا پر دنیا اور آخرت میں عذاب شدید کی دھمکی دی گئی ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ پر ایمان نہ لائے تھے۔ غور کیجیے کہ یہ لوگ مطلقاً رسالت کے منکر نہ تھے صرف ایک رسول کا دعوائے رسالت سن کر انھوں نے اپنی وسعت علم و فکر تک غور کیا اور جب ان کا دل اسی پر نہ ٹھکا تو انھوں نے ماننے سے انکار کر دیا۔ مگر اس پر لَا يُكَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا۝۰ۭ البقرہ286:2 کا وہ قاعدہ جو آپ تجویز فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جاری نہ کیا بلکہ فرمایا کہ فَاُعَذِّبُھُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ۝۰ آل عمران56:3 نہ صرف اس مقام پر بلکہ قرآن مجید میں کسی دوسری جگہ بھی کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ اس عذاب کی وعید سے وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جو اگرچہ حضرت عیسیٰ کی رسالت میں نیک نیتی کے ساتھ شک رکھتے ہیں مگر شرک سے مجتنب اور توحید و تقویٰ کے طریقے پر قائم ہیں۔
(۴) الجھن کی بڑی وجہ یہ آیت ہے جس میں اہل کتاب کو ایک کلمۂ سوائ کی طرف بلایا گیا ہے، اور اس میں رسالت محمدی پر ایمان لانے کا ذکر نہیں ہے۔ قبل اس کے کہ آیت پر بحث کی جائے، آیت کے اصل الفاظ سن لیجیے:
قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَۃٍ سَوَاۗءٍؚبَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللہَ وَلَا نُشْرِكَ بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۭ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْہَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَo آل عمران64:3
اے محمدؐ، کہو کہ اے اہل کتاب آئو ایک ایسے کلمے کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہیں، اور وہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا اپنا رب نہ بنالے۔ پھر اگر وہ اس دعوت سے روگردانی کریں تو کہہ دو کہ گواہ رہو ہم مسلم ہیں۔
اس آیت میں کون سا لفظ ہے جس سے آپ نے یہ معنی نکالے کہ اس کلام سے مقصد یہود و نصاریٰ کو دعوت الی اللہ کے کام میں مسلمانوں کے ساتھ شرکت عمل کی دعوت دینا تھا؟ اور یہ کہاں کہا گیا ہے کہ اگر تم اپنی سچی تعلیم پر عمل کرو گے اور شرک کو چھوڑ دو گے تو دعوت الی اللہ کے مشترک کام میں ہم اور تم یکساں ہوںگے؟ اور اس معنی کی طرف کون سا اشارہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان نہ لانے والے ایمان لانے والوں کی طرح حق پر ہیں اور ان کے برابر درجہ رکھتے ہیں؟
اصل بات یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے سامنے اپنا دعوائے رسالت پیش کیا اور وہ آپ سے جھگڑا کرنے لگے (جیسا کہ آیت مباہلہ میں اس آیت سے اوپر ہی بیان کیا گیا ہے) تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کو حکم دیا کہ تم ان کو اس بات کی طرف دعوت دو جو تمھارے اور ان کے درمیان مشترک ہے یعنی یہ کہ:
اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔
اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب اور اپنا الہٰ اور حقیقی فرمانروا اور حاکم نہ بنائو۔
یہ تینوں باتیں وہ تھیں جو موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کی اصل تعلیمات میں موجود تھیں، مگر یہود و نصاریٰ ان کو چھوڑ بیٹھے تھے۔ نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ اور مریم علیہما السلام کو معبود بنا لیا تھا۔ یہودی اور نصرانی دونوں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگے تھے وَقَالَتِ الْيَہُوْدُ عُزَيْرُۨ ابْنُ اللہِ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللہِ۝۰ۭ التوبہ30:9 یہود و نصاریٰ دونوں نے اپنے علماء و مشائخ اور مذہبی عہدے داروں کو خدا بنا رکھا تھا۔ اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ التوبہ31:9 چونکہ یہود و نصاریٰ کی گمراہی کا آغاز اسی سبب سے ہوا تھا کہ انھوں نے موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کی بنیادی تعلیم کو چھوڑ دیا تھا، اس لیے حکم ہوا کہ پہلے ان کو اس چیز کی طرف بلائو جو ان کے اپنے تسلیم کردہ مذہب کی تعلیم بھی ہے اور تمھارے دین کی بنیاد بھی۔ اس دعوت سے دو فائدے مقصود تھے۔ ایک یہ کہ اہل کتاب میں سے جو اتنا حق پسند اور سلیم الطبع ہوگا کہ اپنے مذہب کے صدیوں کے متوارث عقائد باطلہ کو چھوڑ دینے پر آمادہ ہو جائے گا، اس کے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت تسلیم کر لینے میں کوئی مشکل حائل نہ رہے گی، دوسرے یہ کہ اس کلمۂ سوائ کی دعوت سے یہود اور نصاریٰ دونوں کو معلوم ہو جائے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی چیز کی طرف بلانے والے ہیں جس کی طرف عیسیٰ اور موسیٰ اور دوسرے انبیاء علیہم السلام بلاتے تھے۔ پھر ان کی تصدیق کرنے والے کے لیے ان کی تکذیب کرنے کی کون سی معقول وجہ ہے؟
یہ اس آیت کا صاف اور واضح مفہوم ہے۔ اس سے یہ بات کہاں نکلتی ہے کہ اہل کتاب سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا مطالبہ نہ تھا؟ اور اس سے یہ بات کیسے نکالی جاسکتی ہے کہ اگر اہل کتاب صرف ’’اپنی سچی تعلیم‘‘ پر عمل کریں اور شرک چھوڑ دیں تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے یا آپ کی رسالت میں شک رکھنے کے باوجود ہدایت یافتہ اور مستحق نجات ہوں گے؟ کیا یہ آیت اس آیت کو منسوخ کرتی ہے جس میں تمام نوع انسانی کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے؟ قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا… فَاٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ…لَعَلَّكُمْ تَہْتَدُوْنَo الاعراف158:7 اور کیا یہ آیت اس آیت کی بھی ناسخ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو اس نبی کی نبوت اور اس کے لائے ہوئے پیغام کو نہ مانے گا وہ خسران میں رہے گا؟ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِہٖ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَo البقرہ121:2کیا قرآن میں کوئی مثال ایسی ملتی ہے کہ کسی قوم کے پاس رسول بھیجا جائے اور وہ اس کو نہ مانے اور اور پھر بھی ہدایت یافتہ اور مستحق نجات ہی رہے؟ اگر خدا کی طرف سے آئے ہوئے رسول کو ماننا اور نہ ماننا دونوں یکساں ہوں اور نہ ماننے کی صورت میں بھی اسی طرح نجات نصیب ہوسکے جس طرح ماننے کی صورت میں ہوئی ہے، تو پیغمبروں کے بھیجنے سے بڑھ کر لغو اور عبث فعل اور کیا ہوگا؟ بظاہر ایسا خیال کرنے میں بڑی رواداری نظر آتی ہے۔ مگر حقیقت میں غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی طرف اس بات کو منسوب کرنا خدا کو معاذ اللہ نادان ثابت کرنا ہے۔
(۵) ضمن ج کے ماتحت آپ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کے جواب میں وہ بات کافی ہے جو میں ابھی عرض کر چکا ہوں۔ مگر جن دو آیتوں کی طرف آپ نے اشارہ فرمایا ہے ان کی مزید تشریح ضروری ہے۔ وَلَواٰمَنَ اَھْلُ الِکِتٰبِمیں اٰمَنَ سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟ اس آیت میں جن کا ذکر اہل کتاب کے لفظ سے کیا گیا ہے ان کا اہل کتاب ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اللہ پر، اپنی کتاب پر، اپنے رسول یا رسولوں پر، ملائکہ پر اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہیں۔ اب آپ ہی فرمائیے کہ اور کس پر ایمان لانے کی کسر باقی رہ گئی ہے؟ اسی طرح مِنْھُمُ الْمُؤمِنُوْنَ میں انھی اہل کتاب میں سے بعض کو جب مومن کہا گیا ہے تو اس کا مفہوم بھی بجز اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ یہ مومنین وہ اہل کتاب ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے؟ اور معلوم ہے کہ وہ چند ہی تھے۔ ان میں سے اکثر ایمان نہیں لائے اور انھی کو ’’فاسق‘‘ کہا گیا ہے۔ میں نے ترجمے میں ماضی اور حال کا فرق محض مفہوم واضح کرنے کے لیے کر دیا تھا۔ ورنہ اگر آیت کا ترجمہ اس طرح کیا جائے کہ ’’ان میں سے بعض مومن ہیں اور اکثر فاسق‘‘ تو اس سے بھی مفہوم نہیں بدلتا۔
رہی دوسری آیت، تو اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب میں بھی مدارج کا فرق ہے۔ ان میں سے جو گروہ راتوں کو عبادت کرتا اور کتاب پڑھتا ہے اور خدا اور یوم آخر پر ایمان رکھتا ہے، اور پرہیزگاری کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے، اور نہ صرف خود نیکوکار ہے بلکہ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دیتا اور بدی سے روکتا ہے، وہ اس گروہ سے توبہرحال بہتر اور بلند تر درجے میں ہے جو آیات الٰہی کا منکر اور حق سے تجاوز کرنے والا، اور بدکار ونا فرمان ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر ان دونوں گروہوں کو یکساں سمجھا جائے اور ان کا انجام ایک ہی سا ہو تو یہ عدل کے خلاف ہوگا۔ ان بدکاروں کے مقابلے میں ان نیکوکاروں کی قدر یقیناً ہونی چاہیے اور ہوگی بھی۔ مگر یہ پہلے ہی کہہ دیا کہ ان متقی اور نیک اہل کتاب کے حق میں بھی بہتریہی تھا کہ وہ نبی امی پر ایمان لے آتے (لَوْاٰمَنَ اَھْلُ الْکِتَابِ لَکَانَ خِیْرًا لَّھُمْ)کیونکہ خدا نے جس نبی کو بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ اس کی بات مانی جائے (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۭ ) (النساء64:4 ) جو شخص خدا کے رسول کی بات نہیں مانتا وہ دراصل خدا کی بات نہیں مانتا (مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۝۰ۚ )(النسائ 80:4 ) اور اسی کا نام فسق ہے مِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَكْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَo (آل عمران 110:3) اور فسق کرنے والے کو دارالفاسقین ضرور دکھایا جائے گا۔
(۶) آیت يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَّحْمَتِہٖ الحدید28:57 کی تفسیر میں جو کچھ میں نے عرض کیا ہے وہ کلمۂ شک کے ساتھ ہے۔ میں یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ پرہیزگار اور نیک اہل کتاب کو اللہ کی رحمت میں سے کتنا حصہ ملے گا اور ان کے اعمال کی قدر کس صورت میں ہوگی؟ اس کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، اور اللہ نے اپنی کتاب میں جب اس کی کوئی تصریح نہیں کی ہے تو مجھے اور کسی کو بھی اپنی رائے سے اس کی تعیین کرنے کا کوئی حق نہیں۔ میں یقین کے ساتھ جو کچھ کہہ سکتا ہوں وہ بس اسی قدر ہے کہ نہ تو وہ اس ادنیٰ درجے میں رکھے جائیں گے جو بدکار کافروں کے لیے ہے اور نہ ان کامل الایمان لوگوں کے ہم رُتبہ کر دیئے جائیں گے جو تمام رسولوں کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور تمام کتابوں کے ساتھ قرآن مجید پر ایمان لائے ہیں۔۱؎ (ترجمان القرآن۔ شعبان۱۳۵۳ھ۔ نومبر ۱۹۳۴ئ)

نبوت محمدی کا عقلی ثبوت

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ھَادُوْا وَالنَّصٰرٰى وَالصّٰبِـــِٕيْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ۝۰ۚ۠ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَo
البقرہ 62:2
یوں تو قرآن مجید کی آیات میں معنوی تحریف کرنے کی ہر زمانے میں کوششیں کی گئی ہیں، اور ہر دَور میں کج نظر لوگوں کا یہی شیوہ رہا ہے کہ کتاب الٰہی کے واضح ارشادات کو توڑ مروڑ کر اپنے نفس کی خواہشات یا اپنے دوستوں کے رجحانات ومطالبات کے مطابق ڈھالتے رہیں۔ لیکن زمانۂ حال میں جو معنوی تحریف آیت مندرجہ عنوان میں کی گئی ہے، اس سے بڑھ کر گمراہ کن تحریف شاید ہی کبھی کی گئی ہو۔ دوسری تحریفات تو زیادہ تر احکام کی قطع وبرید پر مشتمل ہیں، یا تعلیمات اسلامی کے اجزا میں سے کسی جز پر ضرب لگاتی ہیں، مگر یہ تحریف سرے سے اس بنیاد ہی کو اکھیڑ پھینکتی ہے جس پر قرآن مجید تمام عالم کو ایک صراطِ مستقیم کی طرف دعوت دیتا ہے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر اس کی زد اس قاعدۂ کلیہ پر براہ راست پڑتی ہے جو نوع انسانی کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اور جس کے تحت ابتدائے آفرینش سے بعثت ِ محمدی صلعم تک تنزیل کتب اور ارسال رسل کا سلسلہ جاری رہا ہے حقیقت میں اس تحریف نے روح ضلالت کی وہ خدمت انجام دی ہے جس سے ائمہ کفر و ضلال بھی عاجز رہ گئے تھے۔ یہ ایک طرف تو غیر مسلموں کو قرآن کی دعوت حق قبول نہ کرنے کے لیے خود قرآن ہی سے دلیل بہم پہنچاتی ہے، دوسری طرف مسلمانوں کی جماعت میں جو منافقین اسلام کی گرفت سے آزاد ہونے کے لیے بے چین ہیں ان کو یہ کفر و اسلام کاامتیاز اٹھا دینے کی اجازت خود اسلام ہی کی زبان سے دلواتی ہے اور تیسری طرف جو اچھے خاصے صاحب ایمان لوگ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی پیروی پر قائم ہیں، ان کے ایمان کو بھی متزلزل کر دیتی ہے، حتیٰ کہ وہ بے چارے اس شک میں پڑ جاتے ہیں کہ جب قرآن اور رسالت محمدی سے انکار کرکے بھی انسان نجات پاسکتا ہے، اور جب نجات کے لیے سرے سے کتاب اور رسالت پر ایمان لانے کی ضرورت ہی نہیں ہے تو پھر اسلام کی پابندی محض بے معنی ہے، اور ہمارا مسلمان ہونا یا ہندو، عیسائی، پارسی، یہودی وغیرہ ہونا یکساں ہے۔ غرض یہ ایک شاہ ضرب (master stroke)ہے جو ہر طرف سے، اندر سے بھی اور باہر سے بھی، اسلام کو نشانہ بناتی ہے۔ داد دینی چاہیے اس ذہانت کی جس نے کتاب ہدایت سے ضلالت کا یہ ہتھیار نکالا!… شاید قرآن پر اس سے بڑا بہتان کبھی نہیں لگایا گیا۔
مجھے بکثرت مجلسوں میں اس تحریف کے کرشمے دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ اور خصوصیت کے ساتھ میں نے دیکھا کہ جدید تعلیم یافتہ حضرات بُری طرح اس کے شکار ہو رہے ہیں۔ ناظرین ترجمان القرآن میں سے بھی متعدد اصحاب نے مجھے لکھا کہ اس آیت کی ’’جدید تفسیر‘‘ سے سخت غلط فہمیاں پھیل رہی ہیں۔ بعض غیر مسلم مشاہیرکی تحریروں اور تقریروں سے بھی اندازہ ہوا کہ اس ’’تفسیر نو‘‘ سے کافی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس فتنے کو دیکھ کر یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا صحیح مفہوم قرآن مجید سے متعین کیا جائے، اور جو معنی اس کو پہنائے گئے ہیں ان کی تردید خود قرآن ہی سے کر دی جائے۔ کیونکہ جب قائل خود اپنے قول کی تشریح کر دے تو کسی شخص کو اپنے طور پر اس کے قول کو کچھ دوسرے معنی پہنانے کا حق ہی نہیں رہتا۔
سب سے پہلے آیت کے اصل الفاظ ملاحظہ کر لیجیے:
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ھَادُوْا وَالنَّصٰرٰى وَالصّٰبِـــِٕيْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ۝۰ۚ۠ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَo
البقرہ 62:2
بے شک جو لوگ ایمان لائے (یعنی مسلمان) اور جو یہود ہوئے اور نصاریٰ اور صابی، ان میں سے جو کوئی بھی اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان لایا اور جس نے بھی نیک عمل کیے ان سب کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں اجر ہے اور ان کے لیے خوف اور رنج کی کوئی بات نہیں ہے۔
اسی مضمون کا اعادہ سورۂ مائدہ کے دسویں رکوع میں بھی تھوڑے سے تغیر لفظی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ دونوں آیتوں کا مفہوم متعین کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ان کا تجزیہ کرکے ایک ایک لفظ کا مفہوم متعین کیا جائے اور اس کے بعد یہ دیکھا جائے کہ جو بات ان آیتوں میں مختصراً بیان کی گئی ہے، اس کی تفصیل خود قرآن میں دوسرے مقامات پر کس طرح کی گئی ہے۔
(۱) اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔ اس کا لفظی ترجمہ صرف اس قدر ہے کہ ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے۔‘‘مگر اس مبتدا کی خبر مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِر۔ (جو بھی اللہ پر ایمان لایا اور یوم آخر پر)میں دوبارہ ایمان لانے کا ذکرکیا گیا ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایمان لانے والے کا ایمان لانا کیا معنی رکھتا ہے؟ اَلَّذِیْنَ سے اگر وہی لوگ مراد ہوں جو خدا اورآ خرت پر ایمان لائے ہیں تو ان کے لیے دوبارہ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاَخِرِ کہنا فضول ہوگا۔ لہٰذا یہ ماننا لازم آتا ہے کہ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے مراد محض گروہ اہل اسلام ہے، اور اس کے مقابلے میں مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ سے وہ شخص مراد ہے جو درحقیقت ایمان کامل کا حامل ہو، بلالحاظ اس کے کہ وہ کس گروہ سے انتساب رکھتا ہے۔
نزول قرآن کے عہد میں گروہ بندی کے جو تخیلات دماغوں پر مسلط تھے وہی آج بھی مسلط ہیں اور ان کو پیش نظر رکھ کر یہ سمجھنا بہت آسان ہے کہ قرآن مجید یہاں دراصل فرق کر رہا ہے ان لوگوں کے درمیان جو اہل ایمان کے گروہ سے انتساب رکھتے ہو ں اور ان کے درمیان جو فی الواقع حقیقت ایمان کے حامل ہوں۔ آج بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا فرقہ بندی کے نقطۂ نظر سے ہی اشخاص میں تمیز کرتی ہے۔ ایک شخص کو مومن یا مسلم کہا جاتا ہے، صرف اس لیے کہ جماعتوں کی تقسیم کے اعتبار سے وہ مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہے۔ اس سے بحث نہیں کہ وہ درحقیقت بھی ’’مسلم‘‘ ہے یا نہیں۔ اسی طرح ایک عیسائی، ایک یہودی، ایک بودھی کو بھی اس کے ظاہری انتساب کا لحاظ کرتے ہوئے عیسائی، یہودی وغیرہ کہا جاتا ہے قطع نظر اس سے کہ حقیقت میں وہ اپنے گروہ کے ایمانیات پر اعتقاد رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔ اسی قسم کی صورت حال نزول قرآن کے عہد میں بھی تھی کہ حقیقت سے قطع نظر کرکے نوع انسانی کو ظاہر کے اعتبار سے گروہوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ لوگ اس لحاظ سے اشخاص اور جماعتوں کے درمیان امتیاز کرتے تھے کہ فلاں شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کا آدمی ہے، اور فلاں یہودیوں کے گروہ سے ہے، اور فلاں نصرانیوں کے فرقے والاہے۔ چنانچہ اسی جماعتی تقسیم کے لحاظ سے منافقین بھی گروہ اہل ایمان (اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) میں شمار کیے جاتے تھے، حالانکہ فی الواقع وہ ایمان نہ رکھتے تھے۔
یہاں اللہ تعالیٰ اسی نقطۂ نظر کی غلطی واضح کرنا چاہتا ہے، اس لیے وہ حقیقت نفس الامری کو بیان کرنے سے پہلے گروہوں کا ذکر ان کے جدا جدا ناموں سے کر رہا ہے، اور ابتدا اس نے مسلمانوں کے گروہ سے کی ہے۔
(۲) وَالَّذِیْنَ ھَادُوْ۔ لفظی ترجمہ: ’’وہ لوگ جو یہودی ہوئے‘‘۔ مقصود یہاں بھی وہی ہے جس کی تصریح اوپر کی گئی ہے۔ ’’یہودی ہوئے‘‘ سے مراد یہ نہیں کہ جنھوں نے حقیقت میں یہودیوں کا عقیدہ اور مسلک اختیار کیا ہے ان کے لیے وہ حکم ہے جو آگے چل کر بیان ہونے والا ہے۔ بلکہ دراصل گروہ اہل یہود میں شمار ہونے والوں کو اَلَّذِیْنَ ھَادُوْ ا سے تعبیر کیا گیا ہے۔
(۳) وَالنَّصٰرٰی۔ سلسلۂ کلام کے تحت یہاں نصاریٰ سے مراد بھی ’’اعتقادی عیسائی‘‘ نہیں ہیں بلکہ وہ لوگ جو عیسائیوں کی قوم میں شمار ہوتے ہیں۔
(۴) وَالصَّابِئِیْنَ۔ یہ لفظ اہل عرب کی زبان میں عراق و الجزیرہ وغیرہ علاقوں کے اس گروہ کے لیے بولا جاتا تھا جس میں انبیائے مقتدمین کی تعلیمات کے ساتھ کواکب پرستی اور ملائک پرستی کے عقاید خلط ملط ہوگئے تھے۔ یہاں بھی صَابِئِیْنَ سے مراد محض اس گروہ کے لوگ ہیں، نہ کہ صابیت پر اعتقاد رکھنے والے۔
(۵) مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ۔ لفظی ترجمہ یہ ہے:
جو کوئی بھی ایمان لایا اللہ پر اور روز آخرت پر اور جس نے بھی نیک عمل کیے ایسے لوگوں کا اجر ان کے پروردگار کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ رنج۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے دراصل اس خیال کی تردید کی ہے جو عام طور پر پھیلا ہوا ہے کہ انسانوں کی تقسیم نام و نسب اور ظاہری انتسابات کے اعتبار سے جو مختلف قوموں اور گروہوں میں ہوگئی ہے اسی کے مطابق ان کا حشر بھی ہوگا۔ یہودی یہ سمجھتا ہے کہ جو یہودیوں کے گروہ میں شامل ہے وہی نجات پانے والا ہے، اس گروہ کے باہر کسی کے لیے نجات نہیں ہے۔ نصرانی یہ گمان کرتا ہے کہ نصرانیوں کے گروہ میں شامل ہونا گویا اہل حق میں شامل ہو جانا ہے، اور اس گروہ سے باہر سب اہل باطل ہیں۔ مسلمان بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے کہ محض گروہ اہل اسلام میں نام اور خاندان اور چند ظاہری اشکال و مراسم کے اعتبار سے شامل ہو جانا ہی ’’مسلمان‘‘ ہونا ہے اور اس لحاظ سے جو لوگ اس گروہ میں شامل ہیں وہ ان لوگوں پر شرف رکھتے ہیں جو اس لحاظ سے ان میں شامل نہیں ہیں۔ ان غلط خیالات کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان اور انسان میں حقیقی فرق و امتیاز ظاہری گروہ بندی سے نہیں ہوتا، بلکہ اصل چیز ایمان اور عمل صالح ہے۔ جو مومن کہلاتا ہے مگر حقیقت میں ایمان اور عمل صالح سے بہرہ ور نہیں وہ حقیقت میں مومن نہیں ہے اور اس کا انجام وہ نہیں ہوسکتا جو مومنین کے لیے مخصوص ہے۔ اسی طرح جو یہودی یا نصرانی یا صا بی گروہوں کی طرف منسوب ہے، اگر وہ ایمان اور عمل صالح کی صفت سے متصف ہو جائے تو وہ حقیقت میں یہودی یا صابی نہیں بلکہ مومن ہے، اور اس کا حشر وہ ہوگا جو مومنین و صالحین کے لیے مقرر کیا گیا ہے، لیکن اگر وہ ان صفات سے عاری ہو تو جس طرح مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہونا کسی شخص کے لیے نافع نہیں ہے اسی طرح یہودی و نصرانی یا صابی گروہوں میں شامل ہونا بھی کسی کے لیے نافع نہیں ہوسکتا۔
قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر یہود و نصاریٰ کی اس گروہ پرستی کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے اور اس کی تردید کی گئی ہے۔ مثلاً فرمایا:
وَقَالُوْا لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى۝۰ۭ تِلْكَ اَمَانِيُّھُمْ۝۰ۭ قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَo بَلٰي۝۰ۤ مَنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلہِ وَھُوَمُحْسِنٌ فَلَہٗٓ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ۝۰۠ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَo البقرہ111-112:2
انھوں نے کہا کہ کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا تاوقتیکہ وہ یہودی نہ ہو یا نصرانی نہ ہو۔ یہ محض ان کے من سمجھوتے ہیں۔ اے محمدؐ! ان سے کہہ دو کہ اگر تم سچے ہو تو دلیل لائو۔ ہاں جو بھی خدا کے آگے سر تسلیم خم کر دے گا اور نیکوکار ہوگا اس کے لیے اپنے پروردگار کے ہاں اجر ہے اور ایسے ہی لوگوں کے لیے کوئی خوف اور رنج نہیں ہے۔
وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللہِ وَاَحِبَّاۗؤُہٗ۝۰ۭ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ۝۰ۭ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ۝۰ۭ المائدہ18:5
یہودیوں اور عیسائیوں نے کہا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں اے محمدؐ ان سے پوچھو کہ پھر اللہ تمھارے گناہوں کی تم کو سزا کیوں دیتا ہے؟ دراصل تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے خدا نے اور انسان پیدا کیے ہیں۔
قَالُوْا لَنْ تَمَــسَّـنَا النَّارُ اِلَّآ اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ۝۰۠ وَغَرَّھُمْ فِيْ دِيْــنِہِمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَo فَكَيْفَ اِذَا جَمَعْنٰھُمْ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيْہِ۝۰ۣ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَo آل عمران24-25:3
انھوں نے کہا کہ ہم کو آگ ہرگز نہ چھوئے گی اور اگر چھو بھی گئی تو زیادہ سے زیادہ چند روز، جو باتیں انھوں نے خود گھڑ لی ہیں انھی نے ان کو اپنے دین کے بارے میں دھوکہ دے رکھا ہے۔ پھر اس وقت کیسی کچھ گزرے گی جب ہم ان کو اس دن جمع کریں گے جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ہے اور ہر شخص کو اپنے کیے کا بدلہ ملے گا اور لوگوں کے ساتھ ظلم نہ ہوگا بلکہ وہی کیا جائے گا جس کے وہ حقیقت میں مستحق ہوں گے۔
قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ عِنْدَ اللہِ خَالِصَۃً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَo البقرہ94:2
اے محمد! ان سے کہو کہ اگر اللہ کے ہاں آخرت کا گھر بس تمھارے ہی لیے ہے اور دوسرے لوگ اس میں حصہ دار نہیں ہیں، تب تو تمھیں موت کی تمنا کرنی چاہیے اگر تم سچے ہو۔
ان تمام آیات میں یہی حقیقت واضح کی گئی ہے کہ اللہ کا کسی گروہ کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ہے۔ نہ نجات پر کسی قوم کا اجارہ ہے۔ تم اس بنا پر کسی خاص برتائو کا حق نہیں رکھتے کہ فلاں قوم میں پیدا ہوئے ہو، یا فلاں جماعت سے منسوب ہو، خدا کی نگاہ میں انسان ہونے کی حیثیت سے سب برابر ہیں۔ کوئی قوم نہ بجائے خود چہیتی اور مقبول بارگاہ ہے۔ اور نہ کوئی صرف اس لیے راندۂ درگاہ کہ وہ فلاں نام سے موسوم اور فلاں طبقے سے منسوب ہے۔ خدا کے ہاں اصل وزن انتسابات اور قومیتوں کا نہیں ہے بلکہ اصول اور حقائق کا ہے۔ سچے دل سے ایمان لائو گے اور نیک عمل کرو گے تو اچھا بدلہ پائو گے اور اگر ایمان و عمل صالح سے خالی رہو گے تو کوئی چیز تمھیں بری جزا سے نہ بچا سکے گی خواہ تم کسی گروہ سے تعلق رکھتے ہو۔ اسی مضمون کو مسلمانوں اور اہل کتاب دونوں سے خطاب کرتے ہوئے بیان کیاگیا ہے:
لَيْسَ بِاَمَانِيِّكُمْ وَلَآ اَمَانِيِّ اَھْلِ الْكِتٰبِ۝۰ۭ مَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا يُّجْزَ بِہٖ۝۰ۙ وَلَا يَجِدْ لَہٗ مِنْ دُوْنِ اللہِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًاo وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَھُوَمُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ نَقِيْرًاo النساء123-124:4
عاقبت کا مدار تمھاری خواہشات پر ہے اور نہ اہل کتاب کی تمنائوں پر جو بُرا عمل کرے گا، اس کا بدلہ پائے گا اور خدا کی پکڑ سے بچانے کے لیے اس کو کوئی حامی و مددگار نہ ملے گا اور جو نیک عمل کرے گا اس حال میں کہ وہ با ایمان ہو، تو وہ مرد ہو یا عورت، ایسے لوگ جنت میں جائیں گے۔ دونوں قسم کے آدمیوں کے ساتھ رتی برابر بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔
یہی بات ہے جس کو آیت زیر بحث میں ایک دوسرے انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ جس سلسلۂ کلام میں یہ آیت نازل ہوئی ہے اس میں بحث یہ تھی ہی نہیں کہ مومن ہونے کے لیے کن کن باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے، اور صالح ہونے کے لیے عمل کا ضابطہ کیا ہونا چاہیے، یہ تفصیلات قرآن میں دوسری جگہ بیان ہوئی ہیں۔ وہاں تو محض یہ قاعدہ کلیہ بیان کرنا مقصود تھا کہ خدا کے ہاں اصل اعتبار حقائق نفس الامری کا ہے نہ کہ ان خارجی مظاہر اور سطحی اشکال اور نمائشی انتسابات کا جن پر دنیا کے لوگ کٹے مرتے ہیں۔ اسی لیے وہاں حقائق نفس الامری کی طرف ایک مختصر اشارہ کر دیا گیا۔ اب اگر اس سے کوئی شخص یہ معنی نکالتا ہے کہ اس آیت میں چونکہ صرف خدا اور آخرت پر ایمان لانے کا ذکر کیا گیا ہے اس لیے بس یہی دو چیزیں انسان کی نجات کے لیے کافی ہیں، ان کے بعد کسی رسول یا کسی کتاب کو ماننے اور کسی شریعت کا اتباع کرنے کی ضرورت نہیں، یا یہ کہے کہ قرآن کی دعوت کا منشا اس سے زیادہ کچھ اور نہیں ہے کہ ہندو پکا ہندو بن جائے اور یہودی سچا یہودی بن کر رہے اور ہر شخص اسی مذہب کا پورا اتباع کرے جس کا وہ معتقد ہے، باقی رہا قرآن اور رسالت محمدی پر ایمان تو وہ نجات کے لیے شرط نہیں، تو ایسے شخص کے متعلق ہم صاف کہتے ہیں کہ وہ قرآن کی تفسیر نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ مذاق کرتا ہے۔ اس کی بات تسلیم ہی نہیں کی جاسکتی جب تک کہ ان دو آیتوں کو مستثنیٰ کرکے سارے قرآن کا انکار نہ کر دیا جائے۔
اس میں شک نہیں کہ دین کی اصل ایمان باللہ ہی ہے، اور اسی لیے آیات زیر بحث میں سب سے پہلے اسی کا ذکر کیا گیا ہے، مگر ایمان باللہ کے معنی یہ نہیں ہیں کہ بس خدا کے وجود کا اور اس کی وحدانیت کا اقرار کرلیا جائے۔ قرآن واضح طور پر خود ہی ہم کو بتاتا ہے کہ ایمان باللہ سے اس کی مراد کیا ہے۔
بَلٰي۝۰ۤ مَنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلہِ وَھُوَمُحْسِنٌ فَلَہٗٓ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ۝۰۠ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَo البقرہ112:2
جس نے اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دیا اور نیکوکاری اختیارکی اس کے لیے اپنے رب کے ہاں اجر ہے اور ایسے لوگوں کے لیے کوئی خوف اور رنج نہیں۔
یہاں ایمان باللہ کی تشریح کر دی گئی ہے کہ اس سے مراد ’’اسلام‘‘ یعنی اپنے آپ کو خدا کی رضا کا مطیع بنا دینا ہے۔ اور اس کا اجر بھی ٹھیک وہی بیان کیا گیا ہے جو آیت اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْم میں بیان کیا گیا تھا، یعنی ایسا کرنے والے کا اجر اس کے رب کے پاس ہے اور اس کے لیے نہ خوف ہے نہ رنج۔
پھر دوسرے مقامات پر مزید تشریح کی گئی کہ ایسا ایمان یا ’’اسلام‘‘ آدمی کو صرف انبیاء اور کتب آسمانی کی وساطت ہی سے مل سکتا ہے، یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص خود اپنی جگہ غور و فکر کرکے خدا اور آخرت کے متعلق ایک عقیدہ اور اخلاقِ فاضلہ کے متعلق ایک نظریہ قائم کرے، یا اپنے ذاتی انتخاب سے کام لے کر کچھ باتیں اِس مذہب کی اور کچھ اُس مذہب کی چن لے، اور وہ قرآن کی نظر میں مومن قرار پائے۔
قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِاللہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓى اِبْرٰھٖمَ… وَمَآ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّہِمْ۝۰ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ۝۰ؗۖ وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَo فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اھْتَدَوْا۝۰ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ھُمْ فِيْ شِقَاقٍ۝۰ۚ البقرہ136-137:2
کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس کتاب پر جو ہماری طرف آئی ہے اور ان کتابوں پر جو ابراہیم اور اسمعیل اور اسحق اور یعقوب اور اولاد یعقوب کی طرف اتاری گئی تھیں اور ان سب کتابوں پر جو تمام انبیاء کو ان کے پروردگار کی طرف سے دی گئیں۔ ہم ان پیغمبروں میں سے کسی کو الگ نہیں کرتے اور ہم اسی خدا کے فرمانبردار (مسلم) ہیں اگر وہ ایمان لائیں اسی طرح جس طرح تم ایمان لائے ہو، تو انھوں نے ہدایت پالی۔ اور اگر وہ ایسے ایمان سے انکار کریں تو وہ ضد پر ہیں۔
آل عمران میں دوبارہ اسی مضمون کا اعادہ کیا گیا ہے اور نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ تک بیان کرنے کے بعد صاف کہا گیا ہے کہ وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْہُ۝۰ۚ وَھُوَفِي الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَo آل عمران85:3 یعنی جو شخص اس دین کو چھوڑ کر کوئی اور دین پسند کرے وہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ نامراد رہے گا۔
پھر اسی سورۃ میں دوسری جگہ فرمایا:
فَاِنْ حَاۗجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْہِيَ لِلہِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ۝۰ۭ وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ۝۰ۭ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا۝۰ۚ آل عمران20:3
اگر وہ تم سے حجت کریں تو کہو کہ میں نے اور میرے پیرئووں نے تو اپنے آپ کو خدا کی رضا کا مطیع (مسلم) بنا دیا ہے۔ پھر اہل کتاب یہود و نصاریٰ اور ان پڑھ لوگوں (غیر اہل کتاب) سے کہو تم بھی اسی طرح اسلام لائے ہو؟ اگر وہ اسلام لائیں تب وہ بے شک ہدایت یافتہ ہوں گے۔
ان آیات سے پوری صراحت کے ساتھ یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ آیت زیر تفسیر میں ایمان باللہ سے مراد محض خدا کو مان لینا نہیں ہے، بلکہ انبیاء علیہم السلام اور کتب آسمانی کی تعلیم کے مطابق ماننا ہے اور اسی کا نام اسلام ہے۔ قرآن نہایت قطعی الفاظ میں بار بار اس امر کا اعادہ کرتا ہے کہ نبی اور کتاب کا واسطہ انسانی ہدایت کے لیے ناگزیر ہے۔ اس واسطے سے بے نیاز ہو کر کوئی شخص ہدایت نہیں پاسکتا۔ اور اس بنا پر کوئی شخص صاحب ایمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ خدا کے ساتھ اس کے پیغمبروں پر بھی ایمان نہ لائے۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ النور62:24
مومن تو صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائیں۔
وَمَنْ يَّكْفُرْ بِاللہِ وَمَلٰۗىِٕكَتِہٖ وَكُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًاo
النساء 136:4
اور جو کوئی اللہ سے اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور آخرت سے کفر کرے وہ گمراہی میں بہت دُور نکل گیا۔
وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَۃٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّہَا وَرُسُلِہٖ فَحَاسَبْنٰہَا حِسَابًا شَدِيْدًا۝۰ۙ وَّعَذَّبْنٰہَا عَذَابًا نُّكْرًاo فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِہَا وَكَانَ عَاقِبَۃُ اَمْرِہَا خُسْرًاo الطلاق 8-9:65
اور کتنی ہی بستیاں تھیں جنھوں نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں سے سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت باز پرس کی اور ان کو بڑی بُری سزا دی اور انھوں نے اپنے کیے کا مزہ چکھا اور آخر کار وہ گھاٹے میں رہے۔
یہ ان بے شمار آیات میں سے چند ہیں جن میں صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ ایمان باللہ کے ساتھ ایمان بالرسل کا تعلق غیر منفک ہے اور رسالت کا منکر کسی طرح خدا کا مومن نہیں ہوسکتا۔ پھر یہ بھی بیان کر دیا گیا کہ ایمان بالکتب اور ایمان بالرسل کے معنی یہی نہیں ہیں کہ رسولوں کی عظمت و بزرگی کا اعتراف کرلیا جائے اور زبان سے کہہ دیا جائے کہ ان کو بھی مانتے ہیں اور ان کی لائی ہوئی کتابوں کو بھی۔ ایمان کے لیے محض اس طرح کا ایک تعظیمی اعتراف کافی نہیں ہے جیسا کہ برہمو سماجی حضرات یا گاندھی جی کی قسم کے لوگ کرتے ہیں، بلکہ عملی اطاعت اور اتباع بھی ضروری ہے اور اس قاعدۂ کلیہ کو تسلیم کرنا ایک ناگزیر شرط ہے کہ نبی کا قول آخری قول (final authority)ہے اور اس کے مقابلے میں اپنی حجت چلانے کا کسی مومن کو حق نہیں۔
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۭ النساء64:4
ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ فرمان خداوندی کے تحت اس کی اطاعت کی جائے۔
مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۝۰ۚ النساء80:4
جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی۔
وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَہُ الْہُدٰى وَيَتَّبِـعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ۝۰ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًاo النساء115:4
جس شخص نے رسول سے جھگڑا کیا، دراں حالیکہ ہدایت اس پر واضح ہو چکی ہو اور مومنوں کے طریقے (یعنی اطاعت رسول) کو چھوڑ کر کوئی دوسرا راستہ اختیار کیا، تو جدھر وہ مڑ گیا ہم بھی اسے ادھر ہی موڑیں گے اور اسے جہنم میں جھونکیں گے اور اس کا بہت بُرا ٹھکانا ہوگا۔
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَى اللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَہُمُ الْخِـيَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ۝۰ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًاo الاحزاب36:33
کسی مومن مرد یا عورت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ جب خدا اور اس کا رسول کسی امر کا فیصلہ کر دے تو پھر وہ خود اپنے معاملے میں اپنے اختیار سے کوئی فیصلہ کرے اللہ اور اس کے رسول کی جس نے نافرمانی کی وہ کھلی گمراہی میں مبتلا ہوا۔
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًاo النساء65:4
نہیں، تیرے رب کی قسم وہ ہرگز مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ اپنے باہمی اختلاف میں (اے نبی) تجھ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں اور جو فیصلہ تو کرے اس پر اپنے دل میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ بے چون و چرا اس کو تسلیم کرلیں۔
اس کے ساتھ یہ تصریح کی گئی ہے کہ کسی ایک نبی یا ایک کتاب کو یا چند کتابوں کو مان لینا کافی نہیں ہے، بلکہ تمام انبیا اور تمام خدائی کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے، حتیٰ کہ اگر ایک نبی کا بھی انکار کیا جائے گا تو تمام انبیا اور خود اللہ تعالیٰ سے بھی کفر لازم آئے گا۔
اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللہِ وَرُسُلِہٖ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللہِ وَرُسُلِہٖ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ۝۰ۙ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًاo اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا۝۰ۚ النساء150-151:4
جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں، اور جو لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق کریں (یعنی خدا کو مانیں اور رسولوں کو نہ مانیں) اور جو لوگ کہتے ہیں ہم بعض رسولوں کو مانیں گے اور بعض کو نہ مانیں گے اور چاہتے ہیں کہ درمیان کی کوئی راہ اختیار کریں، وہ سب کے سب بالیقین کافر ہیں۔
یہ اس لیے کہ تمام انبیا ایک ناقابل تفریق جماعت ہیں اور ایک ہی دین کی دعوت دیتے ہیں۔ لہٰذا ایک کا انکار سب کا انکار بلکہ اصل دین کا انکار ہے۔ اگر دس آدمی ایک ہی بات کہتے ہوں تو تمھارے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ یا تو سب کی تصدیق کرویا سب کی تکذیب کرو۔ جو شخص ان میں سے نوکو سچا کہے گا اور ایک کو جھوٹا کہے گا وہ دراصل دسوں کی تکذیب بلکہ خود اس بات کی تکذیب کا مرتکب ہوگا جو انھوں نے بالاتفاق بیان کی ہے۔
يٰٓاَيُّہَا الرُّسُلُ… وَاِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّــقُوْنِo المومنون 51-52:23
اے پیغمبرو… اور بلاشبہ تمھاری یہ جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمھارا پروردگارہوں لہٰذا مجھ ہی سے ڈرو۔
شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰٓى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْہِ۝۰ۭ الشوریٰ13:42
اللہ نے تمھارے لیے دین کا وہی راستہ ٹھیرایا ہے جس پر چلنے کا نوح کو حکم دیا اور جس کی وحی اے محمد!تمھاری طرف بھیجی اور جس کا حکم ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا کہ اسی دین کو قائم رکھو اور اسی میں تفرقہ نہ ڈالو۔
اس قاعدۂ کلیہ کے تحت یہ آپ سے آپ لازم آجاتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی بھی تصدیق کی جائے، کیونکہ اگر کوئی شخص تمام انبیا پر ایمان لائے اور صرف آنحضرت پر ایمان لانے سے انکار کر دے، یا تمام کتب آسمانی کو مانے اور صرف قرآن کو نہ مانے، تو درحقیقت وہ تمام انبیااور تمام کتب آسمانی، بلکہ اصل دین الٰہی کا منکر ہوگا جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ اس بات کی تصریح قرآن مجید میں ایک جگہ نہیں بے شمار مقامات پر کی گئی ہے، اور اسی بنا پر انبیائے سابقین اور کتب سابقہ کے ماننے والوں کو محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے اور ان سے صاف صاف کہا گیا ہے کہ اگر تم ان پر ایمان نہ لائو گے تو کفر کے مجرم ہوگے۔
وَلَمَّا جَاۗءَھُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ۝۰ۙ وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۝۰ۚۖ فَلَمَّا جَاۗءَھُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِہٖ۝۰ۡفَلَعْنَۃُ اللہِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَo
البقرہ 89:2
اور جب خدا کی طرف سے ان کے پاس وہ کتاب آئی جو انھی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھیں، تو باوجودیکہ وہ اس کتاب کی آمد سے پہلے کفار کے مقابلے میں اسی کتاب کی توقع پر فتح کی دعائیں کرتے تھے۔
وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَاۗءَہٗ۝۰ۤ
البقرہ 91:2
مگر اس کے آنے پر انھوں نے اس سے انکار کر دیا، حالانکہ وہ اسے خوب پہچانتے تھے۔ پس خدا کی لعنت ہو ان کافروں پر…… اور جب ان سے کہا گیا کہ ایمان لائو اس چیز پر جو خدا نے بھیجی ہے تو انھوں نے کہا کہ ہم تو صرف اسی کتاب کو مانیں گے جو ہمارے پاس آئی ہے اس کے سوا دوسری کتاب کو ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں۔
نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْہِ… اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللہِ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ۝۰ۭ آل عمران 3-4:3
اللہ نے تم پر یہ کتاب برحق اتاری ہے۔ یہ تصدیق کرتی ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے آچکی ہیں… بے شک جو لوگ خدا کی آیتوں سے منکر ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْہًا فَنَرُدَّھَا عَلٰٓي اَدْبَارِھَآ اَوْ نَلْعَنَھُمْ كَـمَا لَعَنَّآ اَصْحٰبَ السَّبْتِ۝۰ۭ النساء47:4
ان سے بھی زیادہ صاف الفاظ میں وہ آیت ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ:
وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ بِاللہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلہِ۝۰ۙ لَا يَشْتَرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللہِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ۝۰ۭ
آل عمران 199:3
یہ آخری آیت نہایت واضح طور پر آیت زیر بحث کی تفسیر کر رہی ہے۔ وہاں کہا گیا تھا کہ مسلمان یہودی، عیسائی، صابی، ان میں سے جو کوئی اللہ اور آخرت پر ایمان لائے گا وہ اس کا اجر اپنے پروردگار کے ہاں پائے گا۔ یہاں اس کی تفسیر اس طرح کر دی گئی کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے آجانے کے بعد صرف وہی اہل کتاب خدا کے ہاں اجر پاسکیں گے جو اللہ اور اس کی بھیجی ہوئی پچھلی کتابوں پر ایمان لانے کے ساتھ اس کتاب پر بھی ایمان لائیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی ہے۔ اس سے زیادہ کھلی ہوئی تفسیر اور کیا ہو سکتی ہے؟
اس کے باوجود جو شخص آیت پر بحث سے یہ معنی نکالتا ہے کہ یہودی کا بس پکا یہودی بن جانا اور عیسائی کا محض سچا عیسائی بن جانا قرآن کی نظر میں ہدایت یافتہ اور مستحق اجر ہونے کے لیے کافی ہے، وہ خود قرآن کے صریح بیانات کے خلاف قرآن کی تفسیر کرتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ قرآن یہودیوں اور عیسائیوں کو توراۃ اور انجیل کے اتباع کی دعوت دیتا ہے، مگر یہ بھی خبر ہے کہ اس دعوت کے معنی کیا ہیں؟ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ یہود و نصاریٰ، قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر توراۃ و انجیل کا اتباع کریں، بلکہ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ توراۃ و انجیل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لائے ہوئے پیغام کی پیروی کرنے کے لیے جو ہدایات دی گئی تھیں ان کا اتباع کیا جائے۔ چنانچہ قرآن میں صاف کہہ دیا گیا ہے کہ اب توراۃ و انجیل کا حقیقی اتباع، قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع ہے:
يٰٓاَہْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىۃَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ۝۰ۭ المائدہ68:5
اے اہل کتاب تمھارا دعوائے حق پرستی ہیچ ہے جب تک کہ تم توراۃ اور انجیل اور اس کتاب کی پیروی پر قائم نہ ہو جو تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس بھیجی گئی ہے۔
اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَہٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِي التَّوْرٰىۃِ وَالْاِنْجِيْلِ۝۰ۡ ……اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَo اعراف157:7
یہ صرف اسی بنا پر نہیں ہے کہ قرآن اسی تعلیم خداوندی کو پیش کرتا ہے جس کو توراۃ اور انجیل پیش کرتی تھیں، بلکہ یہ اس وجہ سے بھی ناگزیر ہے کہ قرآن اس تعلیمِ ہدایت کا جدید ترین (latest)بلکہ آخری ایڈیشن (last edition)ہے۔ اس میں بہت سی ان چیزوں کا اضافہ کیا گیا ہے جو پچھلے اڈیشنوں میں نہ تھیں، اور بہت سی وہ چیزیں حذف کر دی گئی ہیں جن کی اب ضرورت باقی نہیں رہی۔ لہٰذا جو شخص اس ایڈیشن کو قبول نہ کرے گا وہ صرف خدا کی نافرمانی ہی کا مرتکب نہ ہوگا بلکہ ان فوائد سے بھی محروم رہ جائے گا جو آخری اور جدید ترین ایڈیشن میں انسان کو عطا کیے گئے ہیں۔
يٰٓاَہْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُـبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ۝۰ۥۭ المائدہ15:5
اے اہل کتاب تمھارے پاس ہمارا پیغمبر آگیا ہے جو تم کو کتاب الٰہی کی بہت سی وہ باتیں کھول کر بتاتا ہے جن کو تم چھپاتے ہو۔ اور بہت سی چیزوں سے معاف بھی کر دیتا ہے۔
وَيُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْہِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ الاعراف157:7
اور وہ ان کے لیے پاک چیزوں کو حلال اور ناپاک چیزوں کو حرام کرتا ہے اور ان پر سے وہ بھاری بوجھ اور وہ طوق و سلاسل اتار دیتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے۔
نیز یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اہل کتاب نے خدا کی پچھلی کتابوں میں قصداً تحریف کی اور بہت سی چیزوں کو بھلا دیا۔ اور بعض کتابوں (مثلاً اصل منزل من اللہ انجیل) کو کھو دیا، جس کی وجہ سے اب کسی طرح ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی اتباع قرآن کے بغیر موسیٰ علیہ السلام اور توراۃ اورعیسیٰ علیہ السلام اور انجیل کا اتباع کرسکے۔
يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ۝۰ۙ وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِہٖ۝۰ۚ ……وَمِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰٓى اَخَذْنَا مِيْثَاقَہُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِہٖ۝۰ المائدہ13-14:5
یہودی ، الفاظ کو ان کے اصلی معنوں سے پھیر دیتے ہیں، اور انھوں نے ان ہدایتوں کا ایک بڑا حصہ بھلا دیا جو ان کو دی گئی تھیں…… اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم عیسائی ہیں ان سے ہم نے عہد لیا تھا مگر انھوں نے ان ہدایات کا ایک حصہ بھلا دیا تھا جو ان کو دی گئی تھیں۔
اب یہ ظاہر ہے کہ جن قوموں کے متعلق خود قرآن نے تصدیق کی ہے کہ ان کو خدا کی طرف سے کتاب دی گئی تھی، ان کے لیے بھی جب اتباع قرآن کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے، تو پھر ان قوموں کو اتباع قرآن کے بغیر ہدایت کا راستہ کیسے مل سکتا ہے جن کا اہل کتاب ہونا محض قاعدۂ کلیہ لِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ رعد 7:13 کی بنا پر فرض کر لیا گیا ہے۔
بظاہر یہ کہنے میں بڑی رواداری نظر آتی ہے کہ ’’اسلام صرف اپنے آپ ہی کو برحق نہیں کہتا بلکہ دوسرے مذاہب کو بھی سچا سمجھتا ہے، اور اس کا دعویٰ یہ نہیں ہے کہ لوگ جب تک اپنے اپنے مذہبوں کو چھوڑ کر اسلام نہ لے آئیں ہدایت اور نجات سے بہرہ یاب نہ ہوں گے۔ بلکہ وہ تو صرف یہ کہتا ہے کہ اپنے اپنے مذہبوں کی اصلی تعلیمات کا اتباع کرو‘‘۔ لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ سراسر ایک غیر معقول بات ہے۔ دو نقطوں کے درمیان جس طرح خط مستقیم ایک ہی ہوسکتا ہے، اسی طرح انسان سے خدا تک صراط مستقیم بھی ایک ہی ہوسکتی ہے۔ اسلام جب اپنے آپ کو صراط مستقیم کہتا ہے تو اس کے ساتھ ہی یہ لازم آجاتا ہے کہ اس کے سوا جتنے راستے ہیں وہ ان سب کو غلط اور ٹیڑھے راستے قرار دے۔ کسی راستے کو صراط مستقیم بھی کہنا، اور پھر مختلف راستوں کو راہ راست بھی قرار دینا، کسی صاحب عقل کاکام نہیں ہے۔ یہ اگر رواداری ہے تو محض ایک جھوٹی رواداری ہے، اور قرآن ایسی رواداری سے صاف انکار کرتا ہے۔ قرآن مجید میں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو صاف صاف یہ اعلان کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ:
وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْہُ۝۰ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّـبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِہٖ۝۰ۭ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِہٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَo الانعام153:6
اور یہی میرا راستہ سیدھا ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو خدا کی راہ سے بھٹکا دیں گے۔ یہ ہدایت ہے جو خدا نے تم کو دی ہے شاید کہ تم پرہیز گار بن جائو۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کو کھینچ کر اپنی طرف لانے کے لیے آئے تھے، اسی لیے کہ آپ کو اپنے برحق ہونے پر کمال درجہ کا وثوق تھا۔ آپ نہ مذبذب تھے اور نہ معاذ اللہ خوشامدی کہ تمام مختلف راہوں پر چلنے والوں کے ساتھ مصالحت اور مدارات (compromise)کرنے کے لیے تیار ہو جاتے۔
رواداری جتنی مستحسن چیز ہے، اس سے بدرجہا زیادہ غیر مستحسن چیز جھوٹ ہے۔ جس شخص کو اس معاملے میں اپنی رواداری کا مظاہرہ کرنا ہو وہ اپنی طرف سے ایسی بات کہہ سکتا ہے، مگر اسے قرآن کی طرف سے وہ بات کہنے کا کیا حق ہے جو اس نے نہیں کہی؟ قرآن تو اس کے مقابلے میں علی الاعلان کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی پیروی کے سوا کوئی راستہ بھی صحیح نہیں ہے، تمام نوع انسانی کے لیے اور ہمیشہ کے لیے اب یہی ایک راستہ ہدایت اور نجات کا راستہ ہے، جو اس کو اختیار نہ کرلے گا اس کا انجام دنیا میں گمراہی اور آخرت میں خسران کے سوا کچھ نہ ہوگا۔
قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الاعراف158:7
کہہ دو کہ اے انسانو! میں تم سب کی طرف خدا کا رسول ہوں۔
وَاُوْحِيَ اِلَيَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِہٖ وَمَنْۢ بَلَغَ۝۰ۭ الانعام19:6
اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ تم کو اور ان سب لوگوں کو خبردار کروں جن تک یہ پہنچے۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَاۗفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا السبا28:34
اے محمدؐ! ہم نے تم کو تمام انسانوں کے لیے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّۃً۝۰۠ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ۝۰ۭ البقرہ 208:2
اے ایمان والو تم سب کے سب اسلام میں داخل ہو جائو اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو۔
يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَيْرًا لَّكُمْ۝۰ۭ وَاِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ النساء170:4
اے انسانو! یہ رسول تمھارے پاس خدا کی طرف سے حق لے کر آیا ہے۔ ایمان لائو کہ اسی میں تمھارے لیے بھلائی ہے اور اگر کفر کرو گے تو جان رکھو کہ خدا آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔
وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ اٰيٰتٍؚبَيِّنٰتٍ۝۰ۚ وَمَا يَكْفُرُ بِہَآ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَo البقرہ99:2
اے محمدؐ! ہم نے تمھاری طرف کھلی کھلی آیتیں بھیجی ہیں اور ان کا انکار صرف وہی کرتے ہیں جو نافرمان ہیں۔
وَمَنْ يَّكْفُرْ بِہٖ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَo البقرہ121:2
اور جو اس کا انکار کریں وہی نامراد ہوں گے۔
كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ۝۰ۭ ……وَمَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَآ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَo العنکبوت29:47
اور اسی طرح ہم نے تمھاری طرف یہ کتاب بھیجی …… اور ہماری آیتوں کے ماننے سے صرف کافر ہی انکار کرتے ہیں۔
فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖٓ اَنْ تُصِيْبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ يُصِيْبَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌo
النور 63:24
پس خوف کریں وہ لوگ جو رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑ جائیںیا کہیں کوئی سخت عذاب ان کو نہ آلے۔
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰي مُحَمَّدٍ وَّہُوَالْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ۝۰ۙ o ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَاَنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّہِمْ۝۰ۭ
محمد47: 2-3
جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے اور اس ہدایت کو مان لیا جو محمد پر اتاری گئی ہے کہ وہی ان کے پرودگار کی طرف سے حق ہے، ان کے گناہ خدا نے معاف کر دیئے اور ان کا حال درست کیا۔ یہ اس لیے کہ جنھوں نے نہ مانا انھوں نے باطل کا اتباع کیا اور جنھوں نے مان لیا انھوں نے اس حق کا اتباع کیا جو ان کے پروردگار کی طرف سے ہے۔
قَدْ اَنْزَلَ اللہُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًاo رَّسُوْلًا يَّتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ اللہِ مُبَـيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۝۰ۭ الطلاق10-11:65
اللہ نے تمھاری طرف پیغمبر کو تمھاری آگاہی کے لیے بھیجا ہے۔ وہ تم کو اللہ کی کھلی کھلی آیات سناتا ہے تاکہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لائے۔
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ …… فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَo آل عمران31-32:3
اے محمد! کہہ دو کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، خدا بھی تم سے محبت کرے گا…… اور اگر وہ اس سے باز رہیں تو بے شک اللہ کافروں سے تو محبت نہیں کرتا۔
یہ زور جو مذکورہ بالا آیات میں پایا جاتا ہے، یہ صرف اسی کلام میں ہوسکتا ہے جس کے قائل کو اپنے صادق اور حق ہونے پر پورا پورا علم ہو اور جو اپنے علم کے مطابق نوع انسانی کی اصلاح کا محکم ارادہ رکھتا ہو۔ ایسے کلام کی قدر وہ کمزور اخلاقی طاقت رکھنے والے کس طرح کرسکتے ہیں جو صداقت کا یقینی علم بھی نہ رکھتے ہوں اور پھر دنیا میں ہر ایک کو خوش بھی رکھنے کے متمنی ہوں۔ وہ تو بڑی سے بڑی بات جو کہہ سکتے ہیں وہ یہی ہوگی کہ بھائیو تم سب اچھے اور سب سچے! (’’ترجمان القرآن‘‘۔ محرم ۱۳۵۷ھ۔ مارچ ۱۹۳۸ئ)

تھوڑی دیر کے لیے جسمانی آنکھیں بند کرکے تصور کی آنکھیں کھول لیجیے اور ایک ہزار چار سو برس پیچھے پلٹ کر دنیا کی حالت پر نظر ڈالیے۔ یہ کیسی دنیا تھی؟ انسان اور انسان کے درمیان تبادلۂ خیالات کے وسائل کس قدر کم تھے۔ قوموں اور ملکوں کے درمیان تعلق کے ذرائع کتنے محدود تھے۔ انسان کی معلومات کس قدر کم تھیں۔ اس کے خیالات کس قدر تنگ تھے۔ اس پر وہم اور توحش کا کس قدر غلبہ تھا۔ جہالت کے اندھیرے میں علم کی روشنی کتنی دھندلی تھی اور اس اندھیرے کو دھکیل دھکیل کر کتنی دِقتوں کے ساتھ پھیل رہی تھیں۔ دنیا میں نہ تار تھا نہ ٹیلیفون تھا۔ نہ ریڈیو تھا نہ ریل اور ہوائی جہاز۔ نہ مطابع اور اشاعت خانے تھے۔ نہ مدرسوں اور کالجوں کی کثرت تھی۔ نہ اخبارات اور رسالے شائع ہوتے تھے۔ نہ کتابیں کثرت سے لکھی جاتی تھیں، نہ کثرت سے ان کی اشاعت ہوتی تھی۔ اس زمانے کے عالم کی معلومات بھی بعض حیثیات سے موجودہ زمانے کے ایک عامی کی بہ نسبت کم تھیں۔ اس زمانے کی اونچی سوسائٹی کا آدمی بھی موجودہ زمانے کے ایک مزدور کی بہ نسبت کم شائستہ تھا۔ اس زمانے کا ایک نہایت روشن خیال آدمی بھی آج کل کے تاریک خیال آدمی سے زیادہ تاریک خیال تھا۔ جو باتیں آج ہر کس و ناکس کو معلوم ہیں وہ اس زمانے میں برسوں کی محنت اور تلاش و تحقیق کے بعد بھی بمشکل معلوم ہوسکتی تھیں۔ جو معلومات آج روشنی کی طرح فضا میں پھیلی ہوئی ہیں اور بچے کو ہوش سنبھالتے ہی حاصل ہو جاتی ہیں ان کے لیے اس زمانے میں سینکڑوں میل کے سفر کیے جاتے تھے اور عمریں ان کی جستجو میں بیت جاتی تھیں۔ جن باتوں کو آج اوہام و خرافات سمجھا جاتا ہے وہ اس زمانے کے ’’حقائق‘‘ تھے۔ جن افعال کو آج ناشائستہ اور وحشیانہ کہا جاتا ہے وہ اس زمانے کے عام معمولات تھے۔ جن طریقوں سے آج انسان کا ضمیر نفرت کرتا ہے وہ اس زمانے کے اخلاقیات میں نہ صرف جائز تھے بلکہ کوئی شخص یہ خیال بھی نہ کرسکتا تھا کہ ان کے خلاف بھی کوئی طریقہ ہو سکتا ہے۔ انسان کی عجائب پرستی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ وہ کسی چیز میں اس وقت تک کوئی صداقت، کوئی بزرگی، کوئی پاکیزگی تسلیم ہی نہ کرسکتا تھا جب تک کہ وہ فوق الفطرت نہ ہو، خلاف عادت نہ ہو، غیر معمولی نہ ہو، حتیٰ کہ انسان خود اپنے آپ کو اس قدر ذلیل سمجھتا تھا کہ کسی انسان کاخدا رسیدہ ہونا اور کسی خدا رسیدہ ہستی کا انسان ہونا اس کے تصور کی رسائی سے بہت دُور تھا۔
اس تاریک دَور میں زمین کا ایک گوشہ ایسا تھا جہاں تاریکی کا تصرف اور بھی زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ جو ممالک اس زمانے کے معیار تمدن کے لحاظ سے متمدن تھے ان کے درمیان عرب کا ملک سب سے الگ تھلگ پڑا ہوا تھا۔ اس کے ارد گرد ایران، روم، اور مصر کے ملکوں میں علوم و فنون اور تہذیب و شائستگی کی کچھ روشنی پائی جاتی تھی۔ مگر ریت کے بڑے بڑے سمندروں نے عرب کو ان سے جدا کر رکھا تھا۔ عرب سوداگر اونٹوں پر مہینوں کی راہ طے کرکے ان ملکوں میں تجارت کے لیے جاتے تھے اور صرف اموال کا مبادلہ کرکے واپس آجاتے تھے۔ علم و تہذیب کی کوئی روشنی ان کے ساتھ نہ آتی تھی۔ ان کے ملک میں نہ کوئی مدرسہ تھا، نہ کتب خانہ تھا، نہ لوگوں میں تعلیم کا چرچا تھا، نہ علوم و فنون سے کوئی دلچسپی تھی تمام ملک میں گنتی کے چند آدمی تھے جنھیں کچھ لکھنا پڑھنا آتا تھا مگر وہ بھی اتنا نہیں کہ اس زمانے کے علوم و فنون سے آشنا ہوتے۔ ان کے پاس ایک اعلیٰ درجے کی باقاعدہ زبان ضرور تھی جس میں بلند خیالات کو ادا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔ ان میں بہترین ادبی مذاق بھی موجود تھا۔ مگر ان کے لٹریچر کے جو کچھ باقیات ہم تک پہنچے ہیں ان کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی معلومات کس قدر محدود تھیں، تہذیب و تمدن میں ان کا درجہ کس قدر پست تھا، ان پر اوہام کا کس قدر غلبہ تھا، ان کے خیالات اور ان کی عادات میں کتنی جہالت اور وحشت تھی، ان کے اخلاقی تصورات کتنے بھدے تھے۔
وہاں کوئی باقاعدہ حکومت نہ تھی، کوئی ضابطہ اور قانون نہ تھا، ہر قبیلہ اپنی جگہ خود مختار تھا اور صرف ’’جنگل کے قانون‘‘ کی پیروی کی جاتی تھی۔ جس کا جس پر بس چلتا اسے مار ڈالتا اور اس کے مال پر قابض ہو جاتا۔ یہ بات ایک عرب بدوی کے فہم سے بالاتر تھی کہ جو شخص اس کے قبیلے کا نہیں ہے اسے وہ کیوں نہ مار ڈالے اور اس کے مال پر کیوں نہ متصرف ہو جائے۔
اخلاق و تہذیب و شائستگی کے جو کچھ بھی تصورات ان لوگوں میں تھے وہ نہایت ادنیٰ اور سخت ناتراشیدہ تھے۔ پاک اور ناپاک،جائز اور ناجائز، شائستہ اور ناشائستہ کی تمیز سے وہ تقریباً ناآشنا تھے۔ ان کی زندگی نہایت گندی تھی، ان کے طریقے وحشیانہ تھے۔ زنا، جوا، شراب، چوری، رہزنی اور قتل و خوں ریزی ان کی زندگی کے معمولات تھے۔ وہ ایک دوسرے کے سامنے بے تکلف برہنہ ہو جاتے تھے۔ ان کی عورتیں تک ننگی ہو کر کعبہ کا طواف کرتی تھیں۔ وہ اپنی لڑکیوں کو اپنے ہاتھ سے زندہ دفن کر دیتے تھے محض اس جاہلانہ خیال کی بنا پر کہ کوئی ان کا داماد نہ بنے۔ وہ اپنے باپوں کے مرنے کے بعد اپنی سوتیلی مائوں سے نکاح کرلیتے تھے۔ انھیں کھانے اور لباس اور طہارت کے معمولی آداب تک معلوم نہ تھے۔
مذہب کے باب میں وہ ان تمام جہالتوں اور ضلالتوں کے حصہ دار تھے جن میں اس زمانے کی دنیا مبتلا تھی۔ بُت پرستی، ارواح پرستی، کواکب پرستی، غرض ایک خدا کی پرستش کے سوا اس وقت دنیا میں جتنی ’’پرستیاں‘‘ پائی جاتی تھیں وہ سب ان میں رائج تھیں۔ انبیائے قدیم اور ان کی تعلیمات کے متعلق کوئی صحیح علم ان کے پاس نہ تھا۔ وہ اتنا ضرور جانتے تھے کہ ابراہیم اور اسمٰعیل ان کے باپ ہیں مگر یہ نہ جانتے تھے کہ ان دونوں باپ بیٹوں کا دین کیا تھا اور وہ کس کی عبادت کرتے تھے۔ عاد اور ثمود کے قصے بھی ان میں مشہور تھے مگر ان کی جو روایتیں عرب کے مورخین نے نقل کی ہیں ان کو پڑھ جائیے، کہیں آپ کو صالح اور ہود کی تعلیمات کا نشان نہ ملے گا۔ ان کو یہودیوں اور عیسائیوں کے واسطے سے انبیائے بنی اسرائیل کی کہانیاں بھی پہنچی تھیں، مگر وہ جیسی کچھ تھیں ان کا اندازہ کرنے کے لیے صرف ایک نظر ان اسرائیلی روایات پر ڈال لینا کافی ہے جو مفسرین اسلام نے نقل کی ہیں، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اہل عرب اور خود بنی اسرائیل جن انبیا سے واقف تھے وہ کیسے انسان تھے اور نبوت کے متعلق ان لوگوں کا تصور کس قدر گھٹیا درجے کا تھا۔
ایسے زمانے میں، ایسے ملک میں ایک شخص پیدا ہوتا ہے۔ بچپن ہی میں ماں باپ اور دادا کا سایہ اس کے سر سے اٹھ جاتا ہے۔ اس لیے اس گئی گذری حالت میں ایک عرب بچے کو جو تھوڑی بہت تربیت مل سکتی تھی وہ بھی اس کو نہیں ملتی۔ ہوش سنبھالتا ہے تو بدوی لڑکوں کے ساتھ بکریاں چرانے لگتا ہے۔ جوان ہوتا ہے تو سوداگری میں لگ جاتا ہے۔ اٹھنا، بیٹھنا، ملنا جلنا سب کچھ انھی عربوں کے ساتھ ہے جن کا حال اوپر آپ نے دیکھ لیا۔ تعلیم کا نام تک نہیں، حتیٰ کہ پڑھنا لکھنا تک نہیں آتا۔ کسی عالم کی صحبت بھی میسر نہ ہوئی کہ ’’عالم‘‘ کا وجود اس وقت تمام عرب میں کہیں نہ تھا۔ چند مرتبہ اسے عرب سے باہر قدم نکالنے کا اتفاق ضرور ہوا مگر یہ سفر صرف شام کے علاقے تک تھے اور ویسے ہی تجارتی سفر تھے جیسے اس زمانے میں عرب کے تجارتی قافلے کیا کرتے تھے۔ بالفرض اگر ان اسفار کے دوران میں اس نے کچھ آثار علم و تہذیب کا مشاہدہ کیا اور کچھ اہل علم سے ملاقات کا اتفاق بھی ہوا تو ظاہر ہے کہ ایسے منتشر مشاہدات اور ایسی ہنگامی ملاقاتوں سے کسی انسان کی سیرت نہیں بن جاتی۔ ان کا اثر کسی شخص پر اتنا زبردست نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے ماحول سے بالکل آزاد، بالکل مختلف اور اتنا بلند ہو جائے کہ اس میں اور اس کے ماحول میں کچھ نسبت ہی نہ رہے۔ ان سے ایسا علم حاصل ہونا ممکن نہیں ہے جو ایک اَن پڑھ بدوی کو ایک ملک کا نہیں تمام دنیا کا، اور ایک زمانے کا نہیں تمام زمانوں کا لیڈر بنا دے۔ اگر کسی درجے میں اس نے باہر کے لوگوں سے علمی استفادہ کیا بھی ہو تو جو معلومات اس وقت دنیا میں کسی کو حاصل ہی نہ تھیں، مذہب، اخلاق، تہذیب اور تمدن کے جو تصورات اور اصول اس وقت دنیا میں کہیں موجود ہی نہ تھے، انسانی سیرت کے جو نمونے اس وقت کہیں پائے ہی نہ جاتے تھے، ان کے حصول کا کوئی ذریعہ نہیں ہوسکتا تھا۔
صرف عرب ہی کا نہیں دنیا کا ماحول پیش نظر رکھیے اور دیکھیے:
یہ شخص جن لوگوں میں پیدا ہوا جن میں بچپن گزارا، جن کے ساتھ پل کر جوان ہوا، جن سے اس کا میل جول رہا، جن سے اس کے معاملات رہے، ابتدا ہی سے عادات میں، اخلاق میں وہ ان سب سے مختلف نظر آتا ہے۔ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا، اس کی صداقت پر اس کی ساری قوم گواہی دیتی ہے۔ اس کے کسی بدترین دشمن نے بھی کبھی اس پر یہ الزام نہیں لگایا کہ اس نے فلاں موقع پر جھوٹ بولا تھا۔ وہ کسی سے بدکلامی نہیں کرتا۔ کسی نے اس کی زبان سے کبھی گالی یا کوئی فحش بات نہیں سنی۔ وہ لوگوں سے ہر قسم کے معاملات کرتا ہے مگر کبھی کسی سے تلخ کلامی اور تُوتُو میں میں کی نوبت ہی نہیں آتی۔ اس کی زبان میں سختی کے بجائے شیرینی ہے اور وہ بھی ایسی کہ جو اس سے ملتا ہے گرویدہ ہو جاتا ہے۔ وہ کسی سے بدمعاملگی نہیں کرتا۔ کسی کی حق تلفی نہیں کرتا۔ برسوں سوداگری کا پیشہ کرنے کے باوجود کسی کا ایک پیسہ بھی ناجائز طریقے سے نہیں لیتا۔ جن لوگوں سے اس کے معاملات پیش آتے ہیں وہ سب اس کی ایمانداری پر کامل بھروسہ رکھتے ہیں۔ ساری قوم اس کو امین کہتی ہے۔ دشمن تک اس کے پاس اپنے قیمتی مال رکھواتے ہیں اور وہ ان کی بھی حفاظت کرتا ہے۔ بے حیا لوگوں کے درمیان وہ ایسا حیادار ہے کہ ہوش سنبھالنے کے بعد کسی نے اس کو برہنہ نہیں دیکھا۔ بداخلاقوں کے درمیان وہ ایسا پاکیزہ اخلاق ہے کہ کبھی کسی بدکاری میں مبتلا نہیں ہوتا، شراب اور جوئے کو ہاتھ تک نہیں لگاتا۔ ناشائستہ لوگوں کے درمیان وہ ایسا شائستہ ہے کہ ہر بدتمیزی اور گندگی سے نفرت کرتا ہے اور اس کے ہر کام میں ستھرائی اور پاکیزگی پائی جاتی ہے۔ سنگ دلوں کے درمیان وہ ایسا نرم دل ہے کہ ہر ایک کے دکھ درد میں شریک ہوتا ہے، یتیموں اور بیوائوں کی مدد کرتا ہے، مسافروں کی میزبانی کرتا ہے، کسی کو اس سے دکھ نہیں پہنچتا اور وہ دوسروں کی خاطر دکھ اٹھاتا ہے۔ وحشیوں کے درمیان وہ ایسا صلح پسند ہے کہ اپنی قوم میں فساداور خوںریزی کی گرم بازاری دیکھ کر اس کو اذیت ہوتی ہے، اپنے قبیلے کی لڑائیوں سے دامن بچاتا ہے اور مصالحت کی کوششوں میں پیش پیش رہتا ہے۔ بت پرستوں کے درمیان وہ ایسا سلیم الفطرت اور صحیح العقل ہے کہ زمین و آسمان میں کوئی چیز اسے پوجنے کے لائق نظر نہیں آتی، کسی مخلوق کے آگے اس کا سر نہیں جھکتا، بتوں کے چڑھاوے کا کھانا بھی وہ قبول نہیں کرتا، اس کا دل خود بخود شرک اور مخلوق پرستی سے نفرت کرتا ہے۔
اس ماحول میں یہ شخص ایسا ممتاز نظر آتا ہے جیسے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ایک شمع روشن ہے یا پتھروں کے ڈھیر میں ایک ہیرا چمک رہا ہے۔
تقریباً چالیس سال تک ایسی پاک، صاف، شریفانہ زندگی بسر کرنے کے بعد اس کی زندگی میں ایک انقلاب شروع ہوتا ہے۔ وہ اس تاریکی سے گھبرا اٹھتا ہے جو اس کو ہر طرف سے محیط نظر آرہی تھی۔ وہ جہالت، بداخلاقی، بدکرداری بدنظمی، شرک اور بت پرستی کے اس ہولناک سمندر سے نکل جانا چاہتا ہے جو اس کو گھیرے ہوئے تھا۔ اس ماحول میں کوئی چیز بھی اس کو اپنی طبیعت کے مناسب نظر نہیں آتی۔ وہ سب سے الگ ہو کر آبادی سے دُور پہاڑوںکی صحبت میں جاجاکر بیٹھنے لگتا ہے۔ تنہائی اور سکون کے عالم میں کئی کئی دن گزارتا ہے۔ روزے رکھ رکھ کر اپنی روح اور اپنے دل و دماغ کو اور زیادہ پاک صاف کرتا ہے۔ سوچتا ہے، غور و فکر کرتا ہے، کوئی ایسی روشنی ڈھونڈتا ہے جس سے وہ اس چاروں طرف چھائی ہوئی تاریکی کو دُور کر دے۔ ایسی طاقت حاصل کرنا چاہتا ہے جس سے اس بگڑی ہوئی دنیا کو توڑ پھوڑ کر پھر سے سنوار دے۔
یکایک اس کی حالت میں ایک عظیم الشان تغیر رونما ہوتا ہے۔ ایک دم سے اس کے دل میں وہ روشنی آجاتی ہے جو پہلے اس میں نہ تھی۔ اچانک اس کے اندر وہ طاقت بھر جاتی ہے جس سے وہ اس وقت تک خالی تھا۔ وہ غار کی تنہائی سے نکل آتا ہے۔ اپنی قوم کے پاس آتا ہے۔ اس سے کہتا ہے کہ یہ بت جن کے آگے تم جھکتے ہو، یہ سب بے حقیقت چیزیں ہیں، انھیں چھوڑ دو۔ کوئی انسان، کوئی درخت، کوئی پتھر، کوئی روح، کوئی سیارہ اس قابل نہیں کہ تم اس کے آگے سر جھکائو اور اس کی بندگی و عبادت کرواور اس کی فرماںبرداری و اطاعت کرو۔ یہ زمین، یہ چاند، یہ سورج، یہ ستارے، یہ زمین اور آسمان کی ساری چیزیں ایک خدا کی مخلوق ہیں۔ وہی تمھارا اور ان سب کا پیدا کرنے والا۔ وہی مارنے اور جلانے والا ہے۔ اسی کی بندگی کرو۔ اس کا حکم مانو اور اسی کے آگے سر جھکائو۔ یہ چوری، یہ لوٹ مار، یہ قتل و غارت، یہ ظلم و ستم، یہ بدکاریاں جو تم کرتے ہو، سب گناہ ہیں۔ انھیں چھوڑ دو، خدا انھیں پسند نہیں کرتا، سچ بولو، انصاف کرو، نہ کسی کی جان لو، نہ کسی کا مال چھینو۔ جو کچھ لو حق کے ساتھ لو، جو کچھ دو حق کے ساتھ دو۔ تم سب انسان ہو۔ انسان اور انسان سب برابر ہیں۔ نہ کوئی ذلت کا داغ لے کر پیدا ہوا اور نہ کوئی عزت کا تمغہ لے کر دنیا میں آیا۔ بزرگی اور شرف نسل اور نسب میں نہیں، صرف خدا پرستی اور نیکی اور پاکیزگی میں ہے۔ جو خدا سے ڈرتا ہے اور نیک اور پاک ہے وہی اعلیٰ درجے کا انسان ہے، اور جو ایسا نہیں وہ کچھ بھی نہیں۔ مرنے کے بعد تم سب کو اپنے خدا کے پاس حاضر ہونا ہے۔ تم میں سے ہر ہر شخص اپنے اعمال کے لیے خدا کے سامنے جواب دہ ہے، اس خدا کے سامنے جو سب کچھ دیکھتا اور جانتا ہے۔ تم کوئی چیز اس سے چھپا نہیں سکتے۔ تمھاری زندگی کا کارنامہ اس کے سامنے بے کم و کاست پیش ہوگا اور اسی کارنامے کے لحاظ سے وہ تمھارے انجام کا فیصلہ کرے گا۔ اس عادل حقیقی کے ہاں نہ کوئی سفارش کام آئے گی، نہ رشوت چلے گی، نہ کسی کا نسب پوچھا جائے گا۔ وہاں صرف ایمان اور نیک عمل کی پوچھ ہوگی۔ جس کے پاس یہ سامان ہوگا وہ جنت میں جائے گا اور جس کے پاس ان میں سے کچھ بھی نہ ہوگا وہ نامراد دوزخ میں ڈالا جائے گا۔
یہ تھا وہ پیغام جسے لے کر وہ غار سے نکلا۔
جاہل قوم اس کی دشمن ہو جاتی ہے۔ گالیاں دیتی ہے۔ پتھر مارتی ہے۔ ایک دن دو دن نہیں اکٹھے تیرہ برس تک اس پر سخت سے سخت ظلم توڑتی ہے۔ یہاں تک کہ اسے وطن سے نکال باہر کرتی ہے۔ اورپھر نکالنے پر بھی دم نہیں لیتی۔ جہاں وہ جاکر پناہ لیتا ہے وہاں بھی اسے ہر طرح ستاتی ہے۔ تمام عرب کو اس کے خلاف ابھار دیتی ہے اور کامل آٹھ برس اس کے خلاف برسرپیکار رہتی ہے۔ وہ ان سب تکلیفوں کو سہتا ہے مگر اپنی بات سے نہیں ٹلتا۔
یہ قوم اس کی دشمن کیوں ہوئی؟ کیا زر اور زمین کا جھگڑا تھا؟ کیا خون کا کوئی دعویٰ تھا؟ کیا وہ ان سے دنیا کی کوئی چیز بھی مانگ رہا تھا؟ نہیں، ساری دشمنی صرف اس بات پر تھی کہ وہ ایک خدا کی بندگی اور پرہیزگاری اور نیکوکاری کی تعلیم کیوں دیتا ہے، بت پرستی اور شرک اور بدعملی کے خلاف تبلیغ کیوں کرتا ہے، پجاریوں اور پروہتوں کی پیشوائی پر کیوں ضرب لگاتا ہے، سرداروں کی سرداری کا طلسم کیوں توڑتا ہے، انسان اور انسان کے درمیان سے اونچ نیچ کا فرق کیوں مٹانا چاہتا ہے، قبائلی اور نسلی تعصبات کو جاہلیت کیوں قرار دیتا ہے، زمانۂ قدیم سے سوسائٹی کا جو نظام بندھا چلا آرہا ہے اسے کیوں توڑنا چاہتا ہے۔ قوم کہتی تھی کہ یہ باتیں جو تو کہہ رہا ہے، یہ سب خاندانی روایات اور قومی طریقے کے خلاف ہیں تو ان کو چھوڑ دے ورنہ ہم تیرا جینا مشکل کر دیں گے۔
اچھا تو اس شخص نے یہ تکلیفیں کیوں اٹھائیں؟ قوم اس کو بادشاہی دینے پر آمادہ تھی، دولت کے ڈھیر اس کے قدموں میں ڈالنے کو تیار تھی، بشرطیکہ وہ اس تعلیم سے باز آجائے۔ مگر اس نے ان سب کو ٹھکرا دیا اور اپنی تعلیم کی خاطر پتھر کھانا اور ظلم سہنا قبول کیا۔ یہ آخر کیوں؟ کیا ان کے خدا پرست اور نیکوکار بن جانے میں اس کا کوئی ذاتی فائدہ تھا؟ کیا کوئی ایسا فائدہ تھا جس کے مقابلے میں ریاست اور امارت اور دولت اور عیش کے سارے لالچ بھی ناقابل التفات تھے؟ کیا کوئی ایسا فائدہ تھا جس کی خاطر ایک شخص سخت سے سخت جسمانی اور روحانی اذیتوں میں مبتلا ہونا اور کامل ۲۱ سال مبتلا رہنا بھی گوارا کرسکتا ہو؟ غور کرو! کیا نیک نفسی، ایثار اور ہمدردی بنی نوع کا اس سے بھی بلند تر کوئی مرتبہ تمھارے تصور میں آسکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی فائدے کی خاطر نہیں، دوسروں کے بھلے کی خاطر تکلیفیں اٹھائے؟ جن کی بھلائی اور بہتری کے لیے وہ کوشش کرتا ہے، وہی اس کو پتھر ماریں، گالیاں دیں، گھر سے بے گھر کر دیں، غریب الوطنی میں بھی اس کا پیچھا نہ چھوڑیں، اور ان سب باتوں پر بھی وہ ان کا بھلا چاہنے سے باز نہ آئے۔
پھر دیکھو! کیا کوئی جھوٹا شخص کسی بے اصل بات کے پیچھے ایسی مصیبتیں برداشت کرسکتا ہے؟ کیا کوئی تیر تکے لڑانے والا انسان محض گمان اور قیاس سے کوئی بات کہہ کر اس پر اتنا جم سکتا ہے کہ مصیبتوں کے پہاڑ اس پر ٹوٹ جائیں، زمین اس پر تنگ کر دی جائے، تمام ملک اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہو، بڑی بڑی فوجیں اس پر امنڈ امنڈ کر آئیں، مگر وہ اپنی بات سے یک سرِ مُو ہٹنے پر آمادہ نہ ہو؟ یہ استقامت، یہ عزم، یہ ثبات، خود گواہی دے رہا ہے کہ اس کو اپنی صداقت پر یقین اور کامل یقین تھا۔ اگر اس کے دل میں شک اور شبہ کا ادنیٰ شائبہ بھی ہوتا تووہ مسلسل ۲۱ سال تک مصائب کے ان پے درپے طوفانوں کے مقابلے میں کبھی نہ ٹھیر سکتا۔
یہ تو اس شخص کے انقلاب حال کا ایک پہلو تھا۔ دوسرا پہلو اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے۔
چالیس برس کی عمر تک وہ ایک عرب تھا عام عربوں کی طرح۔ اس دوران میں کسی نے اس سوداگر کو ایک خطیب، ایک جادو بیان مقرر کی حیثیت سے نہ جانا۔ کسی نے اس کو حکمت اور دانائی کی باتیں کرتے نہ سنا۔ کسی نے اس کو الٰہیات اور فلسفۂ اخلاق اور قانون اور سیاسیات اور معاشیات اور عمرانیات کے مسائل پر بحث کرتے نہ دیکھا۔ کسی نے اس سے خدا اور ملائکہ اور آسمانی کتابوں اور پچھلے انبیا اور امم قدیمہ اور قیامت اور حیات بعد الموت اور دوزخ و جنت کے متعلق ایک لفظ بھی نہ سنا۔ وہ پاکیزہ اخلاق، شائستہ اطوار اور بہترین سیرت تو ضرور رکھتا تھا، مگر چالیس برس کی عمر کو پہنچنے تک اس کی ذات میں کوئی بھی غیر معمولی بات نہ پائی گئی جس سے لوگ متوقع ہوتے کہ یہ شخص اب کچھ بننے والا ہے۔ اس وقت تک جاننے والے اس کو محض ایک خاموش، امن پسند اور نہایت شریف انسان کی حیثیت سے جانتے تھے۔ مگر چالیس برس کے بعد جب وہ اپنے غار سے ایک نیا پیغام لے کر نکلا تو یک لخت اس کی کایا ہی پلٹی ہوئی تھی۔
اب وہ ایک حیرت انگیز کلام سنا رہا تھا جس کو سن کر سارا عرب مبہوت ہوگیا اس کلام کی شدت تاثیر کا یہ حال تھا کہ اس کے کٹر دشمن بھی اس کوسنتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں یہ دل میں اتر نہ جائے۔ اس کی فصاحت و بلاغت اور زور بیان کا یہ عالم تھا کہ تمام قوم عرب کو جس میں بڑے بڑے شاعر، خطیب اور زبان آوری کے مدعی تھے، اس نے چیلنج دیا اور بار بار چیلنج دیا کہ تم سب مل کر ایک ہی سورت اس کے مانند بنا لائو، مگر کوئی اس کے مقابلے کی جرأت نہ کرسکا۔ ایسا بے مثل کلام کبھی عرب کے کانوں نے سنا ہی نہ تھا۔
اب یکایک وہ ایک بے مثل حکیم، ایک لاجواب مصلحِ اخلاق و تمدن ایک حیرت انگیز ماہر سیاست، ایک زبردست مقنّن، ایک اعلیٰ درجے کا جج، ایک بے نظیر سپہ سالار بن کر ظاہر ہوا۔ اس نے، اس ان پڑھ صحرا نشین نے حکمت اور دانائی کی وہ باتیں کہنی شروع کر دیں جو نہ اس سے پہلے کسی نے کہی تھیں نہ اس کے بعد کوئی کہہ سکا۔ وہ امی الہٰیات کے عظیم الشان مسائل پر فیصلہ کن تقریریں کرنے لگا۔ تاریخ اقوام سے عروج و زوال امم کے فلسفے پر لکچر دینے لگا۔ پرانے مصلحین کے کارناموں پر تبصرے اور مذاہب عالم پر تنقید اور اختلافات اقوام کے فیصلے کرنے لگا۔ اخلاق اور تہذیب اور شائستگی کا درس دینے لگا۔
اس نے معاشرت اور معیشت اور اجتماعی معاملات اور بین الاقوامی تعلقات کے متعلق قوانین بنانے شروع کر دیئے اور ایسے قوانین بنائے کہ بڑے بڑے علما اور عقلا غور و خوض اور عمر بھر کے تجربات کے بعد بمشکل ان کی حکمتوں کو سمجھ سکتے ہیں، اور دنیا کے تجربات جتنے بڑھتے جاتے ہیں ان کی حکمتیں اور زیادہ کھلتی جاتی ہیں۔
وہ خاموش پر امن سوداگر، جس نے کبھی تمام عمر تلوار نہ چلائی تھی، کبھی کوئی فوجی تربیت نہ پائی تھی، حتیٰ کہ جو عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ ایک لڑائی میں محض ایک تماشائی کی حیثیت سے شریک ہوا تھا، دیکھتے دیکھتے وہ ایک بہادر سپاہی بن گیا جس کا قدم سخت سے سخت معرکوں میں بھی اپنے مقام سے ایک انچ نہ ہٹا۔ ایسا زبردست جرنل بن گیا جس نے ۹ سال کے اندر تمام ملک عرب کو فتح کرلیا۔ ایسا حیرت انگیز ملٹری لیڈر بن گیا کہ اس کی پیدا کی ہوئی فوجی تنظیم اور جنگی روح کے اثر سے بے سروسامان عربوں نے چند سال میں دنیا کی دو عظیم الشان فوجی طاقتوں کو الٹ کر رکھ دیا۔
وہ الگ تھلگ رہنے والا سکون پسند انسان جس کے اندر کسی نے چالیس برس تک سیاسی دلچسپی کی بو بھی نہ پائی تھی، یکایک اتنا زبردست ریفارمر اور مدبر بن کر ظاہر ہوا کہ ۲۳ سال کے اندر اس نے ۱۲ لاکھ مربع میل میں پھیلے ہوئے ریگستان کے منتشر، جنگجو، جاہل، سرکش غیر متمدن اور ہمیشہ آپس میں لڑنے والے قبائل کو، ریل اور تار اور ریڈیو اور پریس کی مدد کے بغیر ایک مذہب، ایک تہذیب، ایک قانون اور ایک نظام حکومت کا تابع بنا دیا۔ اس نے ان کے خیالات بدل دیئے، ان کے اخلاق بدل دئیے، ان کی ناشائستگی کو اعلیٰ درجے کی شائستگی میں، ان کی وحشت کو بہترین مدنیت میں، ان کی بدکرداری کو اور بداخلاقی کو صلاح و تقویٰ اور مکارم اخلاق میں، ان کی سرکشی اور انار کی کو انتہا درجے کی پابندیٔ قانون اور اطاعت امر میں تبدیل کر دیا۔ اس بانجھ قوم کو جس کی گود میں صدیوں سے کوئی ایک بھی قابل ذکر انسان پیدا نہ ہوا تھا، اس نے ایسا مردم خیز بنایا کہ اس میں ہزار در ہزار اعاظمِ رجال اٹھ کھڑے ہوئے، اور دنیا کو دین اور اخلاق اور تہذیب کا درس دینے کے لیے چار دانگ عالم میں پھیل گئے۔
اور یہ کام اس نے ظلم اور جبر اور دغا اور فریب سے انجام نہیں دیا بلکہ دل موہ لینے والے اخلاق اور روحوں کو مسخر کرلینے والی شرافت اور دماغوں پر قبضہ کرلینے والی تعلیم سے انجام دیا۔ اس نے اپنے اخلاق سے دشمنوں کو دوست بنایا۔ رحم اور شفقت سے دلوں کو موم کیا۔ عدل اور انصاف سے حکومت کی۔ حق اور صداقت سے کبھی یک سر مُو انحراف نہ کیا۔ جنگ میں بھی کسی سے بدعہدی اور دغا نہ کی۔ اپنے بدترین دشمنوں پر بھی ظلم نہ کیا۔ جو اس کے خون کے پیاسے تھے، جنھوں نے اس کو پتھر مارے تھے، اس کو وطن سے نکالا تھا، اس کے خلاف تمام عرب کو کھڑا کر دیا تھا، حتیٰ کہ جنھوں نے جوش عداوت میں اس کے چچا کا کلیجہ تک نکال کر چبا ڈالا تھا، ان کو بھی اس نے فتح پا کر بخش دیا۔ اپنی ذات کے لیے کبھی اس نے کسی سے بدلہ نہ لیا۔
ان سب باتوں کے ساتھ اس کے ضبط نفس بلکہ بے نفسی کا یہ عالم تھا کہ جب وہ تمام ملک کا بادشاہ ہوگیا اس وقت بھی وہ جیسا فقیر پہلے تھا ویسا ہی فقیر رہا۔ پھونس کے چھپر میں رہتا تھا۔ بوریئے پر سوتا تھا۔ موٹا جھوٹا پہنتا تھا۔ غریبوں کی سی غذا کھاتا تھا۔ فاقے تک کر گزرتا تھا۔ رات رات بھر اپنے خدا کی عبادت میں کھڑا رہتا تھا۔ غریبوں اور مصیبت زدوں کی خدمت کرتا تھا۔ ایک مزدور کی طرح کام کرنے میں بھی اسے تامل نہ تھا۔ آخر وقت تک اس کے اندر شاہانہ تمکنت اور امیرانہ ترفع اور بڑے آدمیوں کے سے تکبر کی ذرا سی بو بھی پیدا نہ ہوئی۔ وہ ایک عام آدمی کی طرح لوگوں سے ملتا تھا۔ ان کے دکھ درد میں شریک ہوتا تھا۔ عوام کے درمیان اس طرح بیٹھتا تھا کہ اجنبی آدمی کو یہ معلوم کرنا مشکل ہوتا تھا کہ اس محفل میں قوم کا سردار، ملک کا بادشاہ کون ہے۔ اتنا بڑا آدمی ہونے کے باوجود چھوٹے سے چھوٹے آدمی کے ساتھ بھی ایسا برتائو کرتا تھا کہ گویا وہ اسی جیسا ایک انسان ہے۔ تمام عمر کی جدوجہد میں اس نے اپنی ذات کے لیے کچھ بھی نہ چھوڑا۔ اپنا پورا ترکہ اپنی قوم پر وقف کر دیا۔ اپنے پیرووں پر اس نے اپنے یا اپنی اولاد کے کچھ بھی حقوق قائم نہ کیے۔ حتیٰ کہ اپنی اولاد کو زکوٰۃ لینے کے حق سے بھی محروم کر دیا۔ محض اس خوف سے کہ کہیں آگے چل کر اس کے پیرو اس کی اولاد ہی کو ساری زکوٰۃ نہ دینے لگ جائیں۔
ابھی اس عظیم الشان آدمی کے کمالات کی فہرست ختم نہیں ہوئی۔ اس کے مرتبے کا صحیح اندازہ کرنے کے لیے آپ کو تاریخ عالم پر بحیثیت مجموعی ایک نظر ڈالنی چاہیے۔ آپ دیکھیں گے کہ صحرائے عرب کا یہ اَن پڑھ بادیہ نشین، جو چودہ سو برس پہلے اس تاریک دَور میں پیدا ہوا تھا، دراصل دور جدید کا بانی اور تمام دنیا کا لیڈر ہے۔ وہ نہ صرف ان کا لیڈر ہے جو اسے لیڈر مانتے ہیں، بلکہ ان کا بھی لیڈر ہے جو اسے نہیں مانتے۔ ان کو اس امر کا احساس تک نہیں کہ جس کے خلاف وہ زبان کھولتے ہیں اس کی رہنمائی کس طرح ان کے خیالات میں، ان کے اصول حیات اور قوانین عمل میں اور ان کے عصر جدید کی روح میں پیوست ہوگئی ہے۔
یہی شخص ہے جس نے دنیا کے تصورات کا رُخ و اہمیت اور عجائب پرستی اور رہبانیت کی طرف سے ہٹا کر عقلیت اور حقیقت پسندی اور متقیانہ دنیاداری کی طرف پھیر دیا۔ اسی نے محسوس معجزے مانگنے والی دنیا میں عقلی معجزوں کو سمجھنے اور انھی کو معیار صداقت ماننے کا مذاق پیدا کیا۔ اسی نے خرق عادت میں خدا کی خدائی کے آثار ڈھونڈنے والوں کی آنکھیں کھولیں اور انھیں آثار فطرت (natural phenomena)میں خدا کی نشانیاں دیکھنے کا خوگر بنایا۔ اسی نے خیالی گھوڑے دوڑانے والوں کو قیاس آرائی (speculation)سے ہٹا کر تعقل اور تفکر اور مشاہدہ اور تحقیق کے راستے پر لگایا۔ اسی نے عقل اور حس اور وجدان کے امتیازی حدود انسان کو بتائے۔ مادیت اور روحانیت میں مناسبت پیدا کی۔ دین سے علم و عمل کا اور علم و عمل سے دین کا ربط قائم کیا۔ مذہب کی طاقت سے دنیا میں سائنٹفک اسپرٹ اور سائنٹفک اسپرٹ سے صحیح مذہبیت پیدا کی۔ اسی نے شرک اور مخلوق پرستی کی بنیادوں کو اکھاڑا اور علم کی طاقت سے توحید کا اعتقاد ایسی مضبوطی کے ساتھ قائم کیا کہ مشرکوں اور بت پرستوں کے مذہب بھی واحدانیت کا رنگ اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اسی نے اخلاق اور روحانیت کے بنیادی تصورات کو بدلا۔ جو لوگ ترک دنیا اور نفس کشی کو عین اخلاق سمجھتے تھے، جن کے نزدیک نفس و جسم کے حقوق ادا کرنے اور دنیوی زندگی کے معاملات میں حصہ لینے کے ساتھ روحانی ترقی اور نجات ممکن ہی نہ تھی، ان کو اسی نے تمدن اور سماج اور دنیوی عمل کے اندر فضیلت اخلاق اور ارتقائے روحانی اور حصول نجات کا راستہ دکھایا۔ پھر وہی ہے جس نے انسان کو اس کی حقیقی قدر و قیمت سے آگاہ کیا۔ جو لوگ بھگوان اور اوتار اور ابن اللہ کے سواکسی کو ہادی و رہنما تسلیم کرنے پر تیار نہ تھے، ان کو اسی نے بتایا کہ انسان اور تمھارے ہی جیسا انسان آسمانی بادشاہت کا نمایندہ اور خداوند عالم کا خلیفہ ہوسکتا ہے۔ جو لوگ ہر طاقتور انسان کو اپنا خدا بناتے تھے ان کو اسی نے سمجھایا کہ انسان بجز انسان کے اور کچھ نہیں ہے۔ نہ کوئی شخص تقدس اور حکمرانی اور آقائی کا پیدائشی حق لے کر آیا ہے، اور نہ کسی پر ناپاکی اور محکومیت اور غلامی کا پیدایشی داغ لگا ہوا ہے۔ اسی تعلیم نے دنیا میں وحدت انسانی اور مساوات اور جمہوریت اور آزادی کے تخیلات پیدا کیے ہیں۔
تصورات سے آگے بڑھیے۔ آپ کو اس امی کی لیڈر شپ کے عملی نتائج دنیا کے قوانین اور طریقوں اور معاملات میں اس کثرت سے نظر آئیں گے کہ ان کا شمار مشکل ہو جائے گا۔ اخلاق اور تہذیب، شائستگی اور طہارت و نظافت کے کتنے ہی اصول ہیں جو اس کی تعلیم سے نکل کر تمام دنیا میں پھیل گئے ہیں۔ معاشرت کے جو قوانین اس نے بنائے تھے دنیا نے کس قدر ان کی خوشہ چینی کی اور اب تک کیے جارہی ہے۔ معاشیات کے جو اصول اس نے سکھائے تھے ان سے دنیا میں کتنی تحریکیں پیدا ہوئیں اور اب تک پیدا ہوئے جارہی ہیں۔ حکومت کے جو طریقے اس نے اختیار کیے تھے، ان سے دنیا کے سیاسی نظریات میں کتنے انقلاب برپا ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ عدل اور قانون کے جو اصول اس نے وضع کیے تھے انھوں نے دنیا کے عدالتی نظامات اور قانونی افکار کو کس قدر متاثر کیا اور اب تک ان کی تاثیر خاموشی کے ساتھ جاری ہے۔ جنگ اور صلح اور بین الاقوامی تعلقات کی تہذیب جس شخص نے عملاً دنیا میں قائم کی وہ دراصل یہی عرب کا امی ہے۔ ورنہ پہلے دنیا اس سے ناواقف تھی کہ جنگ کی بھی کوئی تہذیب ہوسکتی ہے اور مختلف قوموں میں مشترک انسانیت کی بنیاد پر بھی معاملات ہونے ممکن ہیں۔
انسانی تاریخ کے منظر میں اس حیرت انگیز انسان کی بلند و بالا شخصیت اتنی ابھری ہوئی نظر آتی ہے کہ ابتدا سے لے کر اب تک کے بڑے سے بڑے تاریخی انسان جن کو دنیا اکابر (heroes)میں شمار کرتی ہے، جب اس کے مقابلے میں لائے جاتے ہیں تو اس کے آگے بَونے نظر آتے ہیں۔ دنیا کے اکابر میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کے کمال کی چمک دمک انسانی زندگی کے ایک دو شعبوں سے آگے بڑھ سکی ہو۔ کوئی نظریات کا بادشاہ ہے مگر عملی قوت نہیں رکھتا۔ کوئی عمل کا پتلا ہے مگر فکر میں کمزور ہے۔ کسی کے کمالات سیاسی تدبیر تک محدود ہیں۔ کوئی محض فوجی ذہانت کا مظہر ہے۔ کسی کی نظر اجتماعی زندگی کے ایک پہلو پر اتنی زیادہ گہری جمی ہے کہ دوسرے پہلو اوجھل ہوگئے ہیں۔ کسی نے اخلاق اور روحانیت کو لیا تو معیشت و سیاست کو بھلا دیا۔ کسی نے معیشت و سیاست کو لیا تو اخلاق و روحانیت کو نظر انداز کر دیا۔ غرض تاریخ میں ہر طرف یک رخے ہیرو ہی نظر آتے ہیں۔ مگر تنہا یہی ایک شخصیت ایسی ہے جس میں تمام کمالات جمع ہیں۔ وہ خود ہی فلسفی اور حکیم بھی ہے۔ اور خود ہی اپنے فلسفے کو عملی زندگی میں نافذ کرنے والا بھی۔ وہ سیاسی مدبر بھی ہے، فوجی لیڈر بھی ہے، واضع قانون بھی ہے، معلم اخلاق بھی ہے، مذہبی اور روحانی پیشوا بھی ہے۔ اس کی نظر انسان کی پوری زندگی پر پھیلتی ہے اور چھوٹی چھوٹی تفصیلات تک جاتی ہے۔ کھانے اور پینے کے آداب اور جسم کی صفائی کے طریقوں سے لے کر بین الاقوامی تعلقات تک ایک ایک چیز کے متعلق وہ احکام اور ہدایات دیتا ہے۔ اپنے نظریات کے مطابق ایک مستقل تہذیب (civilization) وجود میں لاکر دکھا دیتا ہے اور زندگی کے تمام مختلف پہلوئوں میں ایسا صحیح توازن (equilibrium)قائم کرتا ہے کہ افراط و تفریط کا کہیں نشان تک نظر نہیں آتا۔ کیا اس جامعیت کا کوئی دوسرا شخص تمھاری نظر میں ہے؟
دنیا کی بڑی بڑی تاریخی شخصیتوں میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں جو کم و بیش اپنے ماحول کی پیدا کردہ نہ ہو۔ مگر اس شخص کی شان سب سے نرالی ہے اس کے بنانے میں اس کے ماحول کا کوئی حصہ نظر نہیں آتا، اور نہ کسی دلیل سے یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ عرب کا ماحول اس وقت تاریخی طور پر ایسے ایک انسان کی پیدائش کا مقتضی تھا۔ بہت کھینچ تان کر تم جو کچھ کہہ سکتے ہو وہ اس سے زیادہ کچھ نہ ہوگا کہ تاریخی اسباب عرب میں ایک ایسے لیڈر کے ظہور کا تقاضا کرتے تھے جو قبائلی انتشار کو مٹا کر ایک قوم بناتا، اور ممالک کو فتح کرکے عربوں کی معاشی فلاح و بہبود کا سامان کرتا …… یعنی ایک نیشنلسٹ لیڈر جو اس وقت کی تمام عربی خصوصیات کا حامل ہوتا، ظلم، بے رحمی، خوں ریزی اور مکرو دغا، غرض ہر ممکن تدبیر سے اپنی قوم کو خوش حال بناتا اور ایک سلطنت پیدا کرکے اپنے پسماندوں کے لیے چھوڑ جاتا۔ اس کے سوا اس وقت کی عربی تاریخ کا کوئی تقاضا تم ثابت نہیں کرسکتے۔ ہیگل کے فلسفۂ تاریخ یا مارکس کی مادی تعبیر تاریخ کے نقطۂ نظر سے تم حد سے حد یہی حکم لگا سکتے ہو کہ اس وقت اس ماحول میں ایک قوم اور ایک سلطنت بنانے والا ظاہر ہونا چاہیے تھا، یا ظاہر ہوسکتا تھا۔ مگر ہیگلی یا مارکسی فلسفہ اس واقعہ کی توجیہ کیوںکر کرے گا کہ اس وقت اس ماحول میں ایسا شخص پیدا ہوا جو بہترین اخلاق سکھانے والا، انسانیت کو سنوارنے اور نفوس کا تزکیہ کرنے والا اور جاہلیت کے اوہام و تعصبات کو مٹانے والا تھا۔ جس کی نظر قوم اور نسل اور ملک کی حدیں توڑ کر پوری انسانیت پر پھیل گئی۔ جس نے اپنی قوم کے لیے نہیں بلکہ عالم انسانیت کے لیے ایک اخلاقی و روحانی اور تمدنی و سیاسی نظام کی بنا ڈالی۔ جس نے معاشی معاملات اور سیاست مُدن اور بین الاقوامی تعلقات کو عالم خیال میں نہیں بلکہ عالم واقعہ میں اخلاقی بنیادوں پر قائم کرکے دکھایا اور روحانیت و مادیت کی ایسی معتدل اور متوازن آمیزش کی جو آج بھی حکمت و دانائی کا ویسا ہی شاہکار ہے جیسا اس وقت تھا۔ کیا ایسے شخص کو تم عرب جاہلیت کے ماحول کی پیداوار کہہ سکتے ہو؟
یہی نہیں کہ وہ شخص اپنے ماحول کی پیداوار نظر نہیں آتا، بلکہ جب ہم اس کے کارنامے پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمان و مکان کی قیود سے آزاد ہے۔ اس کی نظر وقت اور حالات کی بندشوں کو توڑتی ہوئی صدیوں اور ہزاریوں (millenniums)کے پردوں کو چاک کرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے۔ وہ انسان کو ہر زمانے اور ہر ماحول میں یکساں مناسبت کے ساتھ ٹھیک بیٹھتی ہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہے جن کو تاریخ نے پرانا کر دیا ہے، جن کی تعریف ہم صرف اس حیثیت سے کرسکتے ہیں کہ اپنے زمانے کے اچھے رہنما تھے۔ سب سے الگ اور سب سے ممتاز، وہ انسانیت کا ایسا رہنما ہے جو تاریخ کے ساتھ حرکت (march)کرتا ہے اور ہر دَور میں ویسا ہی جدید (modern)نظر آتا ہے جیسا اس سے پہلے دَور کے لیے تھا۔
تم جن لوگوں کو فیاضی کے ساتھ ’’تاریخ بنانے والے‘‘ (makers of history)کا لقب دیتے ہو وہ حقیقت میں تاریخ کے بنائے ہوئے (creatures of history)ہیں۔ دراصل تاریخ بنانے والا پوری انسانی تاریخ میں صرف یہی ایک شخص ہے، دنیا کے جتنے لیڈروں نے تاریخ میں انقلاب برپا کیے ہیں، ان کے حالات پر تحقیقی نگاہ ڈالو تم دیکھو گے کہ ہر ایسے موقع پر پہلے سے انقلاب کے اسباب پیدا ہو رہے تھے، اور وہ اسباب خود ہی اس انقلاب کا رخ اور راستہ بھی معین کر رہے تھے جس کے برپا ہونے کے وہ مقتضی تھے۔ انقلابی لیڈر نے صرف اتنا کیا کہ حالات کے اقتضا کو قوت سے فعل میں لانے کے لیے اس ایکٹر کا پارٹ ادا کر دیا جس کے لیے اسٹیج اور کام دونوں پہلے سے معین ہوں۔ مگر تاریخ بنانے والوں یا انقلاب برپا کرنے والوں کی پوری جماعت میں یہ اکیلا ایسا شخص ہے کہ جہاں انقلاب کے اسباب موجود نہ تھے ہاں اس نے خود اسباب کو پیدا کیا، جہاں انقلاب کا مواد موجود نہ تھا وہاں اس نے خود مواد تیار کیا، جہاں اس انقلاب کی اسپرٹ اور عملی استعداد لوگوں میں نہ پائی جاتی تھی وہاں خود اس نے اپنے مطلب کے آدمی تیار کیے، اپنی زبردست شخصیت کو پگھلا کر ہزارہا انسانوں کے قالب میں اتار دیا اور ان کو ویسا بنایا جیسا وہ بنانا چاہتا تھا، اس کی طاقت اور قوت ارادی نے خود ہی انقلاب کا سامان کیا، خود ہی اس کی صورت اور نوعیت معین کی اور خود ہی اپنے ارادے کے زور سے حالات کی رفتار کو موڑ کر اس راستے پر چلایا جس پر وہ اسے چلانا چاہتا تھا۔ اس شان کا تاریخ ساز اور اس مرتبے کا انقلاب انگیز تم کو اور کہاں نظر آتا ہے؟
____________
آئیے اب اس سوال پر غور کیجیے کہ ۱۴ سو برس پہلے کی تاریک دنیا میں، عرب جیسے تاریک تر ملک کے ایک گوشے میں ایک گلہ بانی اور سوداگری کرنے والے اَن پڑھ بادیہ نشین کے اندر یکایک اتنا علم، اتنی روشنی، اتنی طاقت، اتنے کمالات، اتنی زبردست تربیت یافتہ قوتیں پیدا ہو جانے کا کون سا ذریعہ تھا؟ آپ کہتے ہیں کہ یہ سب اس کے اپنے دل و دماغ کی پیداوار تھی۔ میں کہتا ہوں کہ اگر یہ اسی کے دل و دماغ کی پیداوار تھی تو اس کو خدائی کا دعویٰ کرنا چاہیے تھا۔ اور اگر وہ ایسا دعویٰ کرتا تو وہ دنیا جس نے رام کو خدا بنا ڈالا، جس نے کرشن کو بھگوان قرار دینے میں تامل نہ کیا، جس نے بدھ کو خود بخود معبود بنا لیا۔ جس نے مسیح کو آپ اپنی مرضی سے ابن اللہ مان لیا، جس نے آگ اور پانی اور ہوا تک کو پوج ڈالا، وہ ایسے زبردست باکمال شخص کو خدا مان لینے سے کبھی انکار نہ کرتی۔ مگر دیکھو، وہ خود کیا کہہ رہا ہے۔ وہ اپنے کمالات میں سے ایک کا کریڈٹ بھی خود نہیں لیتا۔ کہتا ہے میں ایک انسان ہوں، تمھیں جیسا انسان۔ میرے پاس کچھ بھی اپنا نہیں۔ سب کچھ خدا کا ہے اور خدا ہی کی طرف سے ہے۔ یہ کلام جس کی نظیر لانے سے تمام نوع انسانی عاجز ہے میرا کلام نہیں ہے، میرے دماغ کی قابلیت کا نتیجہ نہیں ہے، لفظ بلفظ خدا کی طرف سے میرے پاس آیا ہے اور اس کی تعریف خدا ہی کے لیے ہے۔ یہ کارنامے جو میں نے دکھائے، یہ قوانین جو میں نے وضع کیے، یہ اصول جو میں نے تمھیں سکھائے، ان میں سے کوئی چیز بھی میں نے خود نہیں گھڑی ہے۔ میں کچھ بھی اپنی ذاتی قابلیت سے پیش کرنے پر قادر نہیں ہوں۔ ہر ہر چیز میں خدا کی رہنمائی کا محتاج ہوں۔ ادھر سے جو اشارہ ہوتا ہے وہی کرتا ہوں اور وہی کہتا ہوں۔
دیکھو یہ کیسی حیرت انگیز صداقت ہے۔ کیسی امانت اور راستبازی ہے۔ جھوٹا انسان تو بڑا بننے کے لیے دوسروں کے ایسے کمالات کا کریڈٹ بھی لے لینے میں تامل نہیں کرتا جس کے اصل ماخذ کا پتہ بآسانی چل جاتا ہے۔ لیکن یہ شخص ان کمالات کو بھی اپنی طرف منسوب نہیں کرتا جن کو اگر وہ اپنے کمالات کہتا تو کوئی اس کو جھٹلانہ سکتا تھا، کیونکہ کسی کے پاس ان کے اصلی ماخذ تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ ہی نہیں۔ سچائی کی اس سے زیادہ کھلی ہوئی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے؟ اس شخص سے زیادہ سچا اور کون ہوگا جس کو ایک نہایت مخفی ذریعے سے ایسے بے نظیر کمالات حاصل ہوں، اور وہ بلا تکلف اپنے اصلی ماخذ کا حوالہ دے دے؟ بتائو کیا وجہ ہے کہ ہم اس کی تصدیق نہ کریں؟
(ترجمان القرآن شوال ۱۳۵۵ھ۔ جنوری ۱۹۳۷ئ)

اتباع اور اطاعت رسول

صاحب تعلیمات قرآن نے رسالت اور اس کے احکا م کی تشریح کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ میرے نزدیک رسالت کے اس تصور سے موافقت نہیں رکھتے جو قرآن پیش کرتا ہے کتاب کے صفحہ ۵۹ پر فاضل مولف نے لکھا ہے:
اصولی قانون صرف اللہ کی کتاب ہے:
اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ۝۰ۭ اعراف7:3
جو تمھارے رب کی طرف سے تمھارے اُوپر اتارا گیاہے اسی کی پیروی کرو اور اس کے سوا اولیاء کی پیروی نہ کرو۔
جملہ ضوابط اسی کی روشنی میں باہمی مشورے سے بنائے جائیں گے:
وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰى بَيْنَہُمْ۝۰۠ شوریٰ38:42
اور ان کی حکومت آپس کے مشورے سے ہے۔
یہاں مولف نے بیچ میں سے اسوۂ رسول کو صاف اڑا دیا ہے۔ ان کی تجویز یہ ہے کہ قرآن کریم سے اصول لے کر مسلمان باہمی مشورے سے تفصیلی قوانین وضع کر لیا کریں۔ لیکن ان دونوں کڑیوں کے درمیان سلسلے کی ایک اورکڑی بھی تھی جس کو خود اللہ تعالیٰ نے اس زنجیر میں پیوست کیا تھا۔ وہ کڑی یہ ہے:
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ آل عمران31:3
اے محمد! کہو کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو خدا تم سے محبت کرے گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اصولی قانون قرآن ہی ہے، مگر یہ قانون ہمارے پاس بلاواسطہ نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ رسول خدا کے واسطے سے بھیجا گیا ہے۔ اور رسول کو درمیانی واسطہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ وہ اصولی قانون کو اپنی اور اپنی امت کی عملی زندگی میں نافذ کرکے ایک نمونہ پیش کر دیں، اور اپنی خداداد بصیرت سے ہمارے لیے وہ طریقے متعین کردیں جن کے مطابق ہمیں اس اصولی قانون کو اپنی اجتماعی زندگی اور انفرادی برتائو میں نافذ کرنا چاہیے۔ پس قرآن کی رُو سے صحیح ضابطہ یہ ہے کہ پہلے خدا کا بھیجا ہوا قانون، پھر خدا کے رسول کا بتایا ہوا طریقہ، پھر ان دونوں کی روشنی میں ہمارے اولی الامر کا اجتہاد۔
اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ النساء59:4
اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اولی الامر کی جو تم میں سے ہوں۔ پھر اگر تمھارے درمیان کسی بات میں نزاع ہو تو اس میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو۔
فَرُدُّوْہٗ اِلَی اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلِ کا فقرہ خاص طور پر قابل غور ہے۔مسائلِ شرعی میں جب مسلمانوں کے درمیان نزاع اور اختلاف واقع ہو تو حکم ہے کہ خدا اوررسول کی طرف رجوع کرو۔ اگر مرجع صرف قرآن مجید ہوتا تو صرف فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ کہنا کافی تھا۔ لیکن اس کے ساتھ وَالرَّسُوْلِ بھی کہا گیا ہے جس میں صاف اشارہ ہے کہ قرآن کے بعد رسول کا طریقہ تمھارے لیے مرجع ہے۔
اس کے بعد مؤلف نے صفحہ ۱۲۸ پر لکھا ہے:
مَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ۝۰ۭ المائدہ99:5
رسولوں کے اوپر کچھ نہیں ہے بجز اس کے کہ وہ (پیغام) پہنچا دیں۔
وَمَا عَلَيْنَآ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُo یٰس17:36
ہمارے اوپر سوائے واضح تبلیغ کے اور کچھ نہیں ہے۔
آگے چل کر صفحہ ۱۵۵ پر لکھتے ہیں:
اور بحیثیت منصب رسالت رسول کا فریضہ صرف پیغام الٰہی کی تبلیغ ہے اور بس۔
اِنْ عَلَيْكَ اِلَّا الْبَلٰــغُ۝۰ۭ الشوریٰ48:42
تیرے اوپر صرف تبلیغ ہے۔
فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰي رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُo التغابن12:64
اگر تم نے منہ پھیر لیا تو ہمارے رسول پر صرف کھلی ہوئی تبلیغ ہے اور بس۔
فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُo الرعد40:13
تجھ پر پہنچانا ہے اور ہمارے اوپر حساب لینا ہے۔
یہاں مؤلف نے آیات کے سیاق و سباق اور فحوائے کلام کو نظر انداز کرکے رسول کی حیثیت کو اس انداز سے بیان کیا ہے کہ گویا وہ محض ایک نامہ بریا نعوذ باللہ ڈاک کا ہر کارہ ہے۔ لیکن اگر وہ ان جملوں کو ان عبارات کے سیاق و سباق سے ملا کر پڑھتے جن میں یہ وارد ہوئے ہیں تو انھیں خود معلوم ہو جاتا کہ دراصل یہ جو کچھ کہا گیا ہے، یہ نبی پر ایمان لانے والوں سے نہیں بلکہ ان کا انکار کرنے والوں سے تعلق رکھتا ہے جو لوگ رسول کی تعلیم کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے، اور بار بار رسول کو جھٹلاتے تھے، ان سے کہا گیا ہے کہ رسول کاکام تم تک ہمارا پیغام دینا ہے سو اس نے پہنچا دیا۔ اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے پاس کوئی رہنما نہیں بھیجا گیا، مَا جَاۗءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّلَا نَذِيْرٍ المائدہ19:5 اب خدا پر تمھاری کوئی حجت نہیں رہی۔ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَي اللہِ حُجَّــۃٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ۝۰ۭ النساء165:4 اب تم نہ مانو گے تو اپنا کچھ بگاڑو گے، فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِo المائدہ12:5 اسی سلسلے میں رسول اللہ سے بھی فرمایا گیا ہے کہ تم ان کافروں کی روگردانی سے دل گرفتہ کیوں ہوتے ہو؟ تم ان پر داروغہ نہیں بنائے گئے ہو۔ تمھارے سپرد جو خدمت کی گئی ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ ان کے سامنے سیدھا راستہ پیش کر دو، سو وہ تم نے پیش کر دیا۔ اب رہی یہ بات کہ وہ اس راستے پر آتے ہیں یا نہیں تو اس بارے میں کوئی ذمہ داری تم پر نہیں۔ تمھارا یہ کام نہیں کہ ان کو کھینچ کر اس راستے کی طرف لائو اگر وہ تمھاری تعلیم و تبلیغ سے منہ موڑ کر ٹیڑھے راستوں پر چلتے ہیں تو ان کے اس فعل کی کوئی باز پرس تم سے نہ ہوگی۔ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْہِمْ حَفِيْظًا۝۰ۭ اِنْ عَلَيْكَ اِلَّا الْبَلٰــغُ۝۰ۭ الشُوریٰ48:42 فَذَكِّرْ۝۰ۣۭ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌo لَسْتَ عَلَيْہِمْ بِمُصَۜيْطِرٍo الغاشیہ21-22:88
یہ سب کچھ کفار کے مقابلے میں ہے۔ رہے وہ لوگ جو اسلام قبول کرلیں اور امت مسلمہ میں داخل ہو جائیں، تو ان کے لیے رسول کی حیثیت محض پیغام پہنچا دینے والے کی نہیں ہے، بلکہ رسول ان کے لیے معلم اور مربی بھی ہے، اسلامی زندگی کا نمونہ بھی ہے اور ایسا امیر بھی ہے جس کی اطاعت ہر زمانے میں بے چون و چرا کی جانی چاہیے۔ معلم کی حیثیت سے رسول کاکام یہ ہے کہ پیغام الٰہی کی تعلیمات اور اس کے قوانین کی تشریح و توضیح کرے (وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ) (البقرہ129:2)، مربی ہونے کی حیثیت سے اس کاکام یہ ہے کہ قرآنی تعلیمات اور قوانین کے مطابق مسلمانوں کی تربیت کرے اور ان کی زندگیاں اسی سانچے میں ڈھالے (وَیُزکِّیْھِمْ)،نمونہ ہونے کی حیثیت سے اس کاکام یہ ہے کہ خود قرآنی تعلیم کا عملی مجسمہ بن کر دکھائے، تاکہ اس کی زندگی اس زندگی کی ٹھیک ٹھیک تصویر ہو جو کتاب اللہ کے مقصود کے مطابق ایک مسلمان کی زندگی ہونی چاہیے، اور اس کے ہر قول اور ہر فعل کو دیکھ کر معلوم ہو جائے کہ زبان کو اس طرح استعمال کرنا، اور اپنی قوتوں سے یوں کام لینا، اور دنیا کی زندگی میں ایسا برتائو رکھنا کتاب اللہ کے مقصود کے مطابق ہے، اور جو کچھ اس کے خلاف ہے وہ منشائے کتاب کے خلاف ہے۔ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ احزاب21:33 اور وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰىo اِنْ ہُوَاِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰىo النجم 3-4:53 اس کے ساتھ ہی رسول کی حیثیت مسلمانوں کے امیر کی بھی ہے۔ ایسا امیر نہیں جس سے نزاع کی جائے، بلکہ ایسا امیر جس کے حکم کو بے چون و چراماننا ویسا ہی فرض ہے جیسا قرآن کی آیات کو ماننا فرض ہے فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ النساء59:4 اور مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۝۰ۚ النساء80:4 ایسا امیر نہیں جو صرف اپنی زندگی ہی میں امیر ہوتا ہے، بلکہ ایسا امیر جو قیامت تک کے لیے امت مسلمہ کا امیر ہے، جس کے احکام مسلمانوں کے لیے ہر زمانے اور ہر حال میں مرجع ہیں۔ اس لیے کہ قرآن کی جتنی آیات اوپر پیش کی گئی ہیں ان میں سے کوئی بھی زمانے کے ساتھ مقید نہیں ہے، نہ منسوخ ہے۔
مؤلف نے منصب رسالت کے ان مراتب کو سمجھنے میں تین بہت بڑی غلطیاں کی ہیں:
(۱) پہلی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے بعض آیات کا غلط مفہوم لے کر رسول کاکام صرف تبلیغ (یعنی نامہ بری) میں محدود کر دیا۔ حالانکہ رسول کی مبلغانہ حیثیت صرف اس وقت تک ہے جب تک کہ لوگ دائرۂ اسلام میں داخل نہ ہوں، اور صرف ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے رسول کی تعلیم کو ابھی قبول نہ کیا ہو۔ رہے وہ لوگ جو اسلام قبول کرکے امت مسلمہ میں داخل ہو جائیں، تو ان کے لیے رسول کی حیثیت محض مبلغ کی نہیں ہے بلکہ وہ ان کا لیڈر ہے، فرماں رواں ہے، مقنن ہے، معلم ہے، مربی اور واجب التقلید نمونہ ہے۔
(۲) مؤلف کی دوسری غلطی اسی پہلی غلطی کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ جب انھوں نے رسول کو مسلمانوں اور غیر مسلموں، سب کے لیے محض مبلغ قرار دے لیا تو ان کو یہ زحمت پیش آئی کہ قرآن میں جو رسول کو مسلمانوں کے لیے معلم اور مربی اور نمونہ قرار دیا گیا ہے اس کا کیا مفہوم معین کیا جائے۔ آخر کار انھوں نے رسول کی ان سب حیثیات کو تبلیغ ہی کے ضمن میں شامل کر دیا، اور اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ مبلغانہ حیثیت کے ماسوا آں حضرت کی زندگی کے اور جتنے پہلو ہیں وہ سب آپ کی شخصی (پرائیویٹ) حیثیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:
’’آیت وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰىo اِنْ ہُوَاِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰىo النجم 3-4:53 کا یہ مفہوم قرار دینا کہ رسول اللہ جو کچھ کلام کرتے تھے وہ سب کا سب وحی تھا صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ دعویٰ قرآن کے وحی ہونے کا تھا جس کا کفار انکار کرتے تھے۔ اس کے بارے میں کہا گیا کہ جو کچھ وہ بولتے ہیں وحی ہے۔ گھر یا ازواج مطہرات یا باہر دیگر حضرات سے جو گفتگو فرماتے تھے اس کے متعلق نہ وحی ہونے کا دعویٰ تھا نہ کفار کو کوئی بحث تھی۔‘‘
اس تقریر کو جب ہم مؤلف کی ان عبارتوں کے ساتھ ملا کر پڑھتے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ’’رسول کا کام صرف پیغام الٰہی کی تبلیغ ہے اور بس‘‘ اور ’’رسول کی اطاعت کا مفہوم یہ ہوا کہ اللہ کا پیغام جو وہ لایا ہے اس پر عمل کیا جائے‘‘ اور یہ کہ’’ہمارے رسول صرف اللہ کی کتاب یعنی قرآن کے مبلغ تھے،‘‘ تو اس سے مؤلف کا مدعا یہ معلوم ہوتا ہے کہ محمدؐ بن عبداللہ بحیثیت رسول، اور محمد بن عبداللہ بحیثیت انسان کے درمیان فرق کر دیں۔ رسول ہونے کی حیثیت سے آنحضرت قرآن کی جو تعلیم دیں اور قرآن کے مطابق جو احکام دیں، وہ تو مؤلف کے نزدیک سمع و اطاعت کے مستحق ہیں، مگر بحیثیت انسان آپ کے اقوال و افعال ویسے ہی ہیں جیسے ایک انسان کے ہوتے ہیں۔ ان کا خدا کی طرف سے ہونا، اور ضلالت و گمراہی سے پاک ہونا مؤلف کے نزدیک مسلم نہیں ہے، اور نہ جناب مؤلف ان کے اندر امت مسلمہ کے لیے کوئی قابل تقلید نمونہ پاتے ہیں۔
لیکن یہ تفرق جو انھوں نے محمد بن عبداللہ بحیثیت انسان اور محمد رسول اللہ بحیثیت مبلغ کے درمیان کی ہے، قرآن مجید سے ہرگز ثابت نہیں۔ قرآن میں آنحضرت کی ایک ہی حیثیت بیان کی گئی ہے اور وہ رسول و نبی ہونے کی حیثیت ۱؎ ہے۔ جس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو منصب رسالت سے سرفراز کیا اس وقت سے لے کر حیات جسمانی کے آخری سانس تک آپ ہر آن اور ہر حال میں خدا کے رسول تھے۔ آپؐ کا ہر فعل اور ہر قول رسول خدا کی حیثیت سے تھا۔ اسی حیثیت میں آپ مبلغ اور معلم بھی تھے، مربی ّ اور مزکّی بھی تھے، قاضی اور حاکم بھی تھے، حتیٰ کہ آپ کی نجی اور خاندانی اور شہری زندگی کے سارے معاملات بھی اسی حیثیت کے تحت آگئے تھے، اور ان تمام حیثیتوں میں آپ کی پاک زندگی ایک انسان کامل اور مسلم قانت اور مومن صادق کی زندگی کا ایسا نمونہ تھی جس کو حق تعالیٰ نے ہر اس شخص کے لیے بہترین قابل تقلید نمونہ قرار دیا تھا جو اللہ کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہو، لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ احزاب21:33 قرآن مجید میں کہیں کوئی خفیف سے خفیف اشارہ بھی ایسا نہیں ملتا جس کی بنا پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت رسالت اور حیثیت انسانی اور حیثیت امارت میں کوئی فرق کیا گیا ہو۔ اور یہ فرق کیسے کیا جاسکتا ہے؟ جب آپ خدا کے رسول تھے تو لازم تھا کہ آپ کی پوری زندگی خدا کی شریعت کے ماتحت ہو، اور اس شریعت کی نمایندہ ہو، اور آپ سے کوئی ایسا فعل اور کوئی ایسی حرکت صادر نہ ہو جو خدا کی رضا کے خلاف ہو۔
اسی بات کی طرف سورۂ و النجم کی ابتدائی آیات میں اشارہ کیا گیا ہے کہ مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَاغَویٰ تمھارا صاحب (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم)، نہ بدراہ ہوا، نہ گمراہ ہوا، وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَویٰ اور جو کچھ کہتا ہے ہوائے نفس کی بنا پر نہیں کہتا اِنْ ھُوَ اِلاَّ وَحْیٌ یُّوْحٰی اس کی بات کچھ نہیں ہے مگر وحی جو اس پر نازل کی جاتی ہے۔ عَلَّمَہ ٗ شَدِیْدُ الْقُوٰی اس کوایسے استاد نے تعلیم دی ہے جس کی قوتیں بڑی زبردست ہیں۔
جناب مؤلف فرماتے ہیں کہ ان آیات میں محض قرآن کے وحی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے جس کا کفار انکار کرتے تھے۔ لیکن مجھے ان آیات میں کہیں کوئی خفیف سا اشارہ بھی قرآن کی طرف نظر نہیں آتا۔ اِنْ ھُوَ اِلاَّ وَحْیٌ یُّوْحٰی میں ھُوَ کی ضمیر نطق رسول کی طرف پھرتی ہے جس کا ذکر وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی میں کیا گیا ہے۔ ان آیات میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کی بنا پر نطق رسول کو صرف قرآن کے ساتھ مخصوص کیا جاسکتا ہو۔ ہر وہ بات جس پر نطق رسول کا اطلاق کیا جاسکتا ہے، آیات مذکورہ کی بنا پر وحی ہوگی اور ہوائے نفس سے پاک ہوگی۔ یہ تصریح قرآن میں اسی لیے کی گئی ہے کہ رسول کو جن لوگوں کے پاس بھیجا گیا ہے ان کو رسول کے بدرا ہی اور گمراہی اور ہوائے نفس سے محفوظ ہونے کا کامل اطمینان ہو جائے اور وہ جان لیں کہ رسول کی ہر بات خدا کی طرف سے ہے۔ ورنہ اگر کسی ایک بات میں بھی یہ شبہ ہو جائے کہ وہ خواہش نفس پر مبنی ہے اور خدا کی طرف سے نہیں ہے تو رسول کی رسالت پر سے اعتماد اٹھ جائے۔ کفار اسی چیز کے منکر تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ نعوذ باللہ رسول کو جنون ہے، یا کوئی آدمی اس کو پڑھاتا ہے، یا وہ اپنے دل سے باتیں بنا کر کہتا ہے۔ حق تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما کر اس غلط خیال کی تردید کی ہے اور صاف الفاظ میں فرما دیا ہے کہ نہ تمھارا صاحب بدراہ ہے نہ گمراہ ہے اور نہ خواہش نفس کی بنا پر کچھ کہتا ہے۔ اس کی زبان سے جو کچھ نکلتا ہے حق نکلتا ہے جو خاص ہماری طرف سے ہے اور اس کو کوئی انسان یا جن یا شیطان نہیں پڑھاتا بلکہ وہ معلم سبق دیتا ہے جو شدید القویٰ ہے۔ یہی بات خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی زبان مبارک کی طرف اشارہ کرکے فرمائی کہ فَوَ الَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا یَخْرُجُ مِنْہُ اِلاَّ حَقًّا۔ اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس سے جو کچھ نکلتا ہے حق ہی نکلتا ہے۔
افسوس ہے کہ صاحب تعلیمات قرآن کو اس حقیقت سے انکار ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ’’آنحضرتؐ اپنے گھر میں ازواج مطہرات سے یا باہر دیگر حضرات سے جو گفتگو فرماتے تھے اس کے متعلق نہ وحی ہونے کا دعویٰ تھا نہ کفار کو کوئی بحث تھی۔ میں کہتا ہوں کہ آنحضرت جس وقت جس حالت میں جو کچھ بھی کرتے تھے رسول کی حیثیت سے کرتے تھے۔ سب کچھ ضلالت و غوایت اور ہوائے نفس سے پاک تھا۔ اللہ نے جو فطرت سلیمہ آپ کو عنایت فرمائی تھی، اورتقویٰ و پاکیزگی کے جو حدود آپ کو بتائے تھے، آپ کے تمام اقوال و افعال اسی فطرت سے صادر اور انھی حدود سے محدود ہوتے تھے۔ ان کے اندر تمام عالم انسانی کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ تھا، اور ہم انھیں سے یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ کیا چیز جائز ہے اور کیا ناجائز، کون سی چیز حرام ہے اور کون سی حلال، کون سی باتیں حق تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہیں اور کون سی اس کے خلاف ہیں، کن امور میں ہم کو رائے اور اجتہاد کی آزادی حاصل ہے اور کن امور میں نہیں ہے، کس طرح ہم اطاعت امر کریں، کس طرح شوریٰ سے معاملات طے کریں اور کیا معنی ہیں ہمارے دین میں جمہوریت کے۔
(۳) مؤلف کی تیسری بڑی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے رسول اللہ کی حیثیت امارت کو حیثیت رسالت سے الگ کر دیا ہے جس کا ثبوت قرآن میں نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ۔
’’اطاعت بحیثیت رسول اور اطاعت بحیثیت امیر میں دو باتوں کا فرق ہے:
(۱) بحیثیت رسالت رسول اللہ کو کسی سے مشورہ لینے کا حکم نہ تھا بلکہ فریضۂ تبلیغ اللہ کی طرف سے آپ کے ذمے لازم کیاگیا تھا، يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ۝۰ۭ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ۝۰ۭ المائدہ67:5 اور امیر کی حیثیت سے لوگوں سے مشورہ لینے کا حکم دیا گیا تھا وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ۝۰ۚ آل عمران159:3
(۲) بحیثیت رسول آپ کی اطاعت قیامت تک فرض ہے کیونکہ قرآن ہمیشہ کے لیے ہے۔ لیکن بحیثیت امیر آپ کی اطاعت بالمشافہ تھی يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْہُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَo انفال20:8 اور امارت کے فرائض ہمیشہ ہنگامی ہوں گے کیونکہ زمانے کے ساتھ ساتھ ماحول بھی بدلتا رہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ آج جو امیر ہوگا وہ غزوۂ بدر واحد کی متابعت میں صرف نیزہ و شمشیر سے جہاد میں کام نہ لے گا بلکہ موجودہ زمانے کے اسلحے استعمال کرے گا۔ امرا کے مقابلے میں منازعت کا حق حاصل ہے۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ النساء59:4
یہ سب کچھ قرآن کے منشا کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ مؤلف نے یہ نہیں سمجھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے بنائے ہوئے امیر نہیں تھے، نہ خود بن گئے تھے، بلکہ خدا کے مقرر کیے ہوئے امیر تھے۔ آپ کی امارت آپ کی رسالت سے الگ نہ تھی۔ دراصل آپ رسول خدا ہونے کی حیثیت سے ہی امیر تھے۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ آپ امیر نہیں بلکہ مامور من اللہ تھے۔ مؤلف نے اسی حقیقت کو نہیں سمجھا اسی لیے رسول اللہ کی حیثیت امارت کو عام امرا کی سی حیثیت امارت سمجھ لیا۔
اپنے اس خیال کی تائید میں مولف نے قرآن کی جن آیات سے استدلال کیا ہے ان کو بھی وہ ٹھیک ٹھیک نہیں سمجھے ہیں۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں سے مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا، مگر وہ اس لیے تھا کہ آپ اپنی امت کے لیے مشاورت کا نمونہ پیش کریں اور خود اپنے عمل سے جمہوریت (democracy)کے صحیح اصول کی طرف رہنمائی کریں۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہے کہ آپ کی حیثیت دوسرے امرا کی سی ہے۔ دوسرے امرا کے لیے تو یہ قانون مقرر کیا گیا ہے کہ وہ مشورے سے کام کریں، وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰى بَيْنَہُمْ۝۰۠ الشوریٰ38:42 اور یہ کہ اگر شوریٰ میں نزاع ہو تو وہ خدا اور رسول کی طرف رجوع کریں، فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ النساء59:4 لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاں مشورہ لینے کا حکم دیا گیا ہے وہیں یہ بھی کہہ دیا ہے کہ جب آپ کسی بات کا عزم فرمالیں تو خدا پر بھروسہ کرکے عمل کا اقدام فرمائیں،فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ۝۰ۭ آل عمران159:3 اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ مشورہ کے محتاج نہ تھے بلکہ آپ کو شوریٰ کا حکم صرف اس لیے دیا گیا تھا کہ آپ کے مبارک ہاتھوں سے ایک صحیح جمہوری طرزِ حکومت کی بنیاد پڑ جائے۔
رہی یہ بات کہ امیر کی حیثیت سے آنحضرت صلعم کی اطاعت صرف آپ کے عہد تک تھی، تو یہ بھی غلط ہے اور جس آیت سے استدلال کیا گیا ہے اس سے یہ مفہوم نہیں نکلتا۔ مؤلف نے وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ سے یہ سمجھا ہے کہ اطاعت رسول کا حکم صرف ان لوگوں کو دیا گیا تھا جو اس وقت اس حکم کو سن رہے تھے۔ لیکن اگر وہ سورۂ انفال کو ابتدا سے پڑھتے تو ان کو معلوم ہو جاتاکہ وہاں مقصود ہی کچھ اور ہے۔ ابتدا میں فرمایا گیا ہے کہ وَاَطِيْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَo الانفال8 :1 اگر تم ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ پھر ان لوگوں کو ڈانٹا گیا ہے جو رسول اللہ کی دعوت جہاد پر دلوں میں کڑھتے تھے۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِنَّ اللہَ شَدِيْدُ الْعِقَابِo الانفال14:8 اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول سے جھگڑا کرتا ہے اسے معلوم ہو جائے کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ اس کے بعد یہ ارشاد ہوا ہے کہ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْہُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَo۱؎ الانفال20:8 اس آیت میں اور پچھلی تمام آیات میں رسول کے ساتھ اللہ کی اطاعت کا ذکر بار بار کیاگیا ہے جس سے یہ یاد دلانا مقصود ہے کہ رسول کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے۔ پھر ہر جگہ لفظ رسول آیا ہے۔ امیر کا لفظ کسی جگہ بھی استعمال نہیں کیا گیا، اور نہ کوئی مخفی سے مخفی اشارہ ایسا موجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہو کہ یہاں رسول اللہ سے مراد رسول کی ایسی امیرانہ حیثیت ہے جو رسالت سے مختلف ہو۔ پھر رسول کے حکم سے منہ موڑنے کو منع کیا گیا ہے جس پر سخت عذاب کی دھمکی اوپر دی جا چکی ہے۔ اس کے بعد وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ کہنے کا منشا صاف یہ ہے کہ تم ہمارے ان تاکیدی احکام کو سنتے ہوئے ہمارے رسول کی اطاعت سے کبھی منہ نہ موڑو۔ اس اَنْتُمْ اور تَسْمَعُوْنَ کے مخاطب صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو اس وقت موجود تھے، بلکہ قیامت تک جو لوگ ایمان کے ساتھ قرآن کو سنیں گے ان سب پر لازم ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حکم ان کو پہنچے اس کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیں۔
اور یہ مؤلف نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض امارت اسی طرح ہنگامی ہیں جس طرح دوسرے امرا کے ہوا کرتے ہیں۔ کیونکہ آج ہم جہاد میں بدر و احد کی طرح نیزہ و شمشیر سے نہیں لڑ سکتے، تو یہ بہت ہی عجیب بات ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عہد میں جن اسلحہ سے کام لیا وہ اسلحہ تو ضرور ایک خاص ماحول سے تعلق رکھتے تھے، لیکن حضورؐ نے اپنی لڑائیوں میں جو اخلاقی ضوابط برتے تھے اور جن ضوابط کو برتنے کی ہدایت فرمائی تھی وہ کسی عہد کے لیے مخصوص نہ تھے، بلکہ انھوں نے مسلمانوں کے لیے ایک دائمی قانون جنگ بنا دیا ہے۔ شرعی نقطۂ نگاہ سے یہ سوال اہمیت نہیں رکھتا کہ آپ تلوار استعمال کرتے ہیں یا بندوق یا توپ۔ بلکہ اہمیت اس سوال کی ہے کہ آپ اپنے اسلحے کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور کس طرح ان سے خوںریزی کاکام لیتے ہیں۔ اس باب میں جو نمونہ آنحضرت صلعم نے اپنے غزوات میں پیش فرمایا ہے وہ ہمیشہ کے اسلامی جہاد کا ایک مکمل نمونہ ہے اور معنوی حیثیت سے سرور عالم قیامت تک کے لیے ہر مسلمان فوج کے سالار اعظم ہیں۔
مؤلف نے امارت اور رسالت میں ایک فرق اور بھی بیان کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے امرا سے نزاع اور اختلاف کرنے کا حق حاصل ہے۔ اب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امیرانہ حیثیت ویسی ہی ہے جیسی دوسرے امرا کی ہے۔ تو کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کسی مسلمان کو نزاع کا حق حاصل تھا؟ جس امیر کے مقابلے میں آواز بلند کرنے تک کی اجازت نہ تھی، اور جس کے مقابلے میں محض اونچی آواز سے بولنے پر تمام عمر کے اعمال غارت ہو جانے کی دھمکی دی گئی تھی (حجرات) اور جس سے جھگڑا کرنے والے کو دوزخ میں جھونک دیئے جانے کا خوف دلایا گیا تھا (النساء: ۱۷) کیا اس امیر سے منازعت کرنے کا حق کسی مسلمان کو حاصل ہوسکتا ہے؟ اگر نہیں تو کہاں اس امیر کی امارت اور کہاں ان امرا کی امارت جن سے منازعت کا حق مسلمانوں کو دیا گیا ہے۔
مؤلف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت امارت اور عام امرا کی حیثیت امارت میں قطعاً کوئی امتیاز نہیں رکھا ہے، حتیٰ کہ ان تمام احکام کو جو اطاعت رسول سے متعلق ہیں، اطاعت امیر کے احکام قرار دے دیا ہے۔ صفحہ ۱۵۷ کے حاشیے میں لکھتے ہیں:
’’اللہ اور رسول کے الفاظ قرآن میں اکثر جہاں جہاں ساتھ ساتھ آئے ہیں ان سے مراد امارت ہے جس کا قانون کتاب اللہ ہے اور جس کے نافذ کرنے والے رسول اللہ یا ان کے جانشین ہیں۔ مثلاً يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ۝۰ۭ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلہِ وَالرَّسُوْلِ۝۰ۚ الانفال8:1 مال غنیمت کا حکم عہد رسالت تک محدود نہ تھا بلکہ آیندہ کے لیے بھی ہے جس کی تعمیل خلافت کا فریضہ ہے۔‘‘
پھرفَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ النساء59:4 کے متعلق صفحہ۱۵۸ پر حاشیہ لکھتے ہیں:
’’آخری اختیار اللہ و رسول یعنی امارت ہے اس لیے رسول اللہ کا جو منصب بحیثیت امیر کے ہے وہی ان کے خلفا کا بھی ہوگا۔‘‘
یہ حق سے صریح تجاوز ہے۔ قرآن مجید میں اطاعت خدا، اطاعت رسول اور اطاعت اولی الامر کے تین مراتب بیان کیے گئے ہیں۔ اطاعت خدا سے مراد قرآن مجید کے احکام کی اطاعت ہے، اطاعت رسول سے مراد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور عمل کی پیروی ہے اور اطاعت اولی الامر سے مراد مسلمانوں کے امرا اور ارباب حل و عقد کی اطاعت ہے‘ پہلے دونوں مراتب کے متعلق قرآن میں ایک جگہ نہیں بیسیوں جگہ اس امر کی تصریح کی گئی ہے کہ خدا اور رسول کے احکام میں کسی چون و چرا کی گنجائش نہیں ہے۔ مسلمانوں کاکام سننا اور اطاعت کرنا ہے۔ خدا اور رسول کے فیصلے کے بعد کسی مسلمان کو یہ اختیار باقی نہیں رہتا کہ وہ اپنے معاملے میں خود کوئی فیصلہ کرے۔ رہا تیسرا مرتبہ تو اس کے متعلق یہ فرمایا گیا ہے کہ اولی الامر کی اطاعت خدا اور رسول کے احکام کے تابع ہے، اور نزاع کی صورت میں خدا اور رسول کی طرف رجوع کرنا لازم ہے۔ ایسے صاف اور کھلے ہوئے احکام کے موجود ہوتے ہوئے اس کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے کہ خدا اور رسول سے مراد امارت لی جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب امارت کو اس امارت کے ساتھ ملا دیا جائے جو مسلمانوں کے عام امرا کو حاصل ہے۔ اس معاملے میں قُلِ الْاَنْفالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُولِ سے جواستدلال کیا گیا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔‘‘ اموال غنیمت خدا اور رسول کے لیے ہیں‘‘ کہنے کا مدعا یہ ہے کہ خدا اور رسول نے اسلامی جماعت کا جو نظام قائم کیا ہے اس کے مصالح میں یہ غنائم صرف کیے جائیں۔ اس سے یہ مطلب کہاں نکلتا ہے کہ اللہ اور رسول سے مراد امارت ہے۔
حدیث کے متعلق مؤلف کا مسلک
حدیث کے متعلق مؤلف نے قریب قریب وہی مسلک اختیار کیا ہے جو منکرین حدیث کے ایک بڑے گروہ کا مسلک ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’تعلیم کتاب کا ایک شعبہ یہ بھی تھا کہ رسول اس کے احکام پر عمل کرکے دکھادے تاکہ امت اسی نمونے پر عامل ہو جائے۔‘‘
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ الاحزاب21:33
تمھارے لیے رسول اللہ کے اندر اچھا نمونہ ہے۔
چنانچہ ہمارے رسولؐ نے جملہ احکام قرآنی مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، وغیرہ پر عمل کرکے دکھلا دیا اور مسلمان اسی نمونے پر عمل کرنے لگے۔ یہ اسوۂ حسنہ امت کے پاس عمل متواتر کی شکل میں موجود ہے، جس کے مطابق رسول اللہ کے عہد سے نسلاً بعد نسل وہ عمل کرتی چلی آتی ہے۔ اس لیے یہ یقینی اور دینی ہے۔ اس کی مخالفت خود قرآن کی مخالفت ہے‘‘۔
دوسری جگہ مؤلف نے لکھا ہے:
’’غیر یقینی شے کا دین میں کچھ دخل نہیں۔‘‘
ان عبارات اور مؤلف کی ان تصریحات سے جو اوپر بیان ہو چکی ہیں ان کا مسلک واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ:
(۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عدالتی فیصلے اور وہ قوانین جو آپ نے سیاسی‘ جنگی، اور تمدنی اور اجتماعی امور میں امیر قوم کی حیثیت سے نافذ کیے تھے، اس اسوۂ رسول کی تعریف سے خارج ہیں جس کی پیروی کا حکم عام قرآن میں دیا گیا ہے، لہٰذا ان کی اب ضرورت نہیں رہی، کیونکہ امارت کے فرائض ہنگامی ہیں اور زمانے کے ساتھ ساتھ ماحول بھی بدلتا رہتا ہے۔
(۲) صرف ان امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل (نہ کہ قول) قابل تقلید ہے جو عبادات اور دینی اعمال سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنی احکام پر عمل درآمد کرنے کی صورت خود اپنے عمل سے بتا دی ہے۔
(۳) مؤلف کے نزدیک صرف وہ عمل متواتر یقینی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سے اب تک جاری ہے، اور جس کی پیروی ہر نسل اپنے سے پہلی نسل کو دیکھ کر کرتی رہی ہے۔ رہیں وہ روایات جو آنحضرت کے اقوال و اعمال کے متعلق احادیث میں وارد ہوئی ہیں، تو وہ یقینی نہیں ہیں اور دین میں ان کا کچھ دخل نہیں۔
ان میں سے پہلی دونوں باتوں کے متعلق میں قطعیت کے ساتھ کہتا ہوں کہ قرآن کے بالکل خلاف ہیں۔ قرآن میں کوئی خفیف سے خفیف اشارہ بھی ایسا نہیں ملتا جس کی بنا پر یہ حکم نکلتا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محض مذہبی اعمال ہی دائماً قابل تقلید ہیں، رہے تمدنی و اجتماعی امور میں آپ کے فیصلے اور آپ کے نافذ کردہ قوانین، تو وہ صرف اس عہد کے لیے مخصوص تھے جس عہد میں وہ نافذ کیے گئے تھے۔ اگر ایسی کوئی آیت قرآن میں ہو جس کے ان دونوں قسم کے اعمال میں فرق کیا جاسکتا ہو اور دونوں کے احکام مختلف قرار دیئے جاسکتے ہوں تو اس کو پیش کیا جائے۔ مجھ کو تو قرآن میں صاف حکم یہ ملتا ہے کہ
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَى اللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَہُمُ الْخِـيَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ۝۰ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًاo الاحزاب36:33
کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی امر میں فیصلہ کر دے، تو ان کو اپنے معاملے میں خود کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار باقی ہے۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ کھلی گمراہی میں مبتلا ہوگا۔
اس آیت میں زمانے کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ مومن اور مومنہ سے خاص عہد رسالت کے مومن مرد و عورت مراد نہیں لیے جاسکتے۔ اَمْرًا کا لفظ نہایت عام ہے جو ہر قسم کے معاملات پر حاوی ہے، خواہ وہ دینی ہوں یا دنیوی۔ اللہ اور رسول سے مراد اللہ اور رسول ہی ہیں۔ ’’امارت‘‘ ہرگز نہیں ہے، کیونکہ امیر یا اولی الامر بہرحال مومن ہی ہوں گے، اور یہاں تمام مومنین و مومنات سے یہ حق سلب کرلیا گیا ہے کہ خدا اور رسول نے جس معاملے کا فیصلہ کردیا ہو اس میں انھیں مجتمعا یا منفرداً خود فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار باقی رہے۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ ’’جو اس کے خلاف عمل کرے گا وہ کھلی گمراہی میں مبتلا ہوگا۔ یہ اشارہ ہے اس طرف کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کی ہدایت سے اس کے رسول نے اپنے احکام اور اپنے قوانین سے اسلامی جماعت کا جو نظام قائم کردیا ہے، اس کا قیام منحصر ہی اس پر ہے کہ جو احکام جاری کر دیئے گئے ہیں اور جو قوانین نافذ کر دیئے گئے ہیں ان کی ٹھیک ٹھیک پیروی کی جائے۔ اگر خدا اور اس کے رسول کی قولی اور عملی رہنمائی سے قطع نظر کرکے لوگ خود اپنی رائے اور اپنے اختیار سے کچھ طریقے اختیار کریں گے تو یہ نظام باقی نہ رہے گا اور اس نظام کے ٹوٹتے ہی تم راہ راست سے بھٹک کر بہت دُور نکل جائو گے۔ تعجب ہے کہ جس قرآن میں ایسی صاف اور صریح ہدایت موجود ہے اس کی تعلیمات لکھنے والے نے وہ مسلک اختیار کیا ہے جو آپ ابھی سن آئے ہیں۔
رہی تیسری بات، تو اس کے متعلق میں نے اپنے خیالات تفصیل کے ساتھ اپنے مضمون ’’حدیث اور قرآن‘‘ میں بیان کیے ہیں۔ اس لیے یہاں ان کے دُہرانے کی ضرورت نہیں۔ البتہ میں جناب مؤلف سے صرف یہ سوال کروں گا کہ اگر کوئی شخص ان تمام بدعات و خرافات کو جو آج مسلمانوں کی مذہبی زندگی میں رائج ہوگئی ہیں، وہ ’’یقینی عمل متواتر‘‘ قرار دے جو رسول اللہ کے عہد سے نسلاً بعد نسلٍ چلا آرہا ہے، اور اس بنا پر انھیں داخل دین سمجھے، تو آپ کے پاس کون سا ایسا یقینی ذریعہ ہے جس سے آپ یہ فیصلہ کرسکیں گے کہ یہ عمل رسول اللہ کا نہیں ہے بلکہ بعد کے لوگوں کی ایجاد ہے؟ آپ فرمائیں گے کہ ہم قرآن مجید کی طرف رجوع کریں گے اور اس کی آیات سے ان بدعات کی تردید کریں گے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ اوّل تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل سے آیات قرآنی کے معانی کی جو تعیین ہوتی ہے اس کو نظر انداز کرنے کے بعد آیات کی تاویل میں ایک بدعت پسند انسان اتنی گنجائش نکال سکتا ہے کہ اس کی بہت سی بدعتوں کی تردید مشکل ہو جائے گی۔ دوسرے اگر آپ نے قرآن سے اس کی بدعات کی تردید کر بھی دی تو یہ اس کے اس دعویٰ کی تردید نہ ہوگی کہ یہ وہی یقینی عمل متواتر ہے جو رسول اللہ کے عہد سے نسلاً بعد نسلٍ چلا آرہا ہے۔ آپ اپنے مسلک کے مطابق اس عمل کو غیر یقینی کہہ نہیں سکتے اور آپ تاریخ سے بھی (جو روایات کی طرح غیریقینی ہی ہونی چاہیے) یہ استدلال نہیں کرسکتے کہ یہ بدعات عہد رسالت میں نہ تھیں، بلکہ فلاں عہد میں جاری ہوئیں۔ اب صرف یہی صورت رہ جاتی ہے کہ آپ ان کو یقینی مان لیں، پھر یا تو ان کی پیروی کریں یا یہ فیصلہ کر دیں کہ عمل رسول تعلیم قرآن کے خلاف تھا۔ معلوم نہیں کہ فاضل مؤلف اور ان کے ہم خیال حضرات کے پاس اس پیچیدگی کا کیا حل ہے؟
(ترجمان القرآن۔ رجب ۱۳۵۴ھ۔ اکتوبر۱۹۳۴ئ)

رسول کی حیثیت شخصی وحیثیت نبوی

اس کتاب کے دو مضامین ’’آزادی کا اسلامی تصور‘‘ اور ’’اتباع و اطاعت رسولؐ ‘‘کا عربی ترجمہ د مشق کے رسالے المسلمون میں شائع ہوا تھا۔ اس پر شام کے اہل علم حضرات نے مصنف کو توجہ دلائی کہ ان دونوں مضامین میں کچھ تعارض محسوس ہوتا ہے جسے رفع کرنے کی ضرورت ہے۔ نیز د مشق کے ایک صاحب نے مقدم الذکر مضمون پر حسب ذیل اعتراض بھی کیا:
’’کیا محمد علیہ الصلوٰۃ و السلام باعتبار انسان ہمارے اندر ایک عام فرد کی حیثیت رکھتے ہیں؟ اور باعتبار انسان ان کے اندر بھی ایسی ذاتی خواہشات پائی جاتی ہیں جن کی بنا پر وہ لوگوں پر اپنی ذاتی عظمت کا سکہ جمائیں اور اپنے شخصی اقتدار کے پنجے میں جکڑیں؟ اگر یہ صورت ہے تو آپ کا بحیثیت نبی معصوم ہونا اور بحیثیت انسان محفوظ ہونا چہ معنی دارد؟ آپ کی اس زندگی کی تفصیلات کیا فائدہ رکھتی ہیں جب کہ آپ محض انسان تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو منصب نبوت پر سرفراز نہیں فرمایا تھا؟ اور کیا رسول ہونے کے بعد آپ کی یہ حیثیتیں حیثیت بشری اور حیثیت نبوی یکجا ہوگئی ہیں یا الگ الگ ہیں؟ اور کیا ان دونوں حیثیتوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا جاسکتا ہے؟ تاکہ محمد الرسول کی اطاعت کی جائے اور محمد الانسان کی مخالفت میں ہم آزاد ہوں؟ کیا اس تفریق کے لیے کوئی قاعدہ کلیہ بھی موجود ہے جس کی روشنی میں ہم آپ کے انسانی کلام … جس سے اختلاف کا ہمیں حق ہے… اور نبوی کلام… جو واجب الاطاعت ہے… کے درمیان خط امتیاز کھینچ سکیں؟
کیا نبی کی ذاتی رائے سے اختلاف کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے؟ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے اندر یہ روح پھونکتے تھے کہ بحیثیت انسان آپ کی اطاعت واجب نہیں ہے، بلکہ اپنی ذاتی رائے سے اختلاف کرنے میں ان کی ہمت افزائی کرتے تھے؟ نیز کیا یہ درست ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی حجت اور دلیل کی بنا پر آپ سے بحیثیت انسان اختلاف کیا تھا… ؟‘‘
ذیل کا مضمون انھی اعتراضات کے جواب میں لکھا گیا تھا:
المسلمون جلد ششم ، شمارہ ۶،۷ اور ۸ میں میرے جو مضامین ’’آزادی کا اسلامی تصور‘‘ اور ’’اتباع و اطاعت رسول‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئے ہیں، ان کے متعلق مجھے توجہ دلائی گئی ہے کہ ان میں تناقض محسوس ہوتا ہے، جسے رفع کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی پہلے مضمون میں تو کہا گیا ہے کہ نبی کی حیثیت شخصی اور حیثیت نبوی الگ الگ ہیں اور اسلام کی دعوت صرف حیثیت نبوی کی اطاعت کی طرف ہے نہ کہ حیثیت شخصی کی اطاعت کی طرف۔ لیکن دوسرے مضمون میں اس بات سے انکار کیا گیا ہے کہ نبی کی یہ دو حیثیتیں الگ الگ ہیں اور پورے اصرار کے ساتھ کہا گیا ہے کہ نبی کی ایک ہی حیثیت تھی اور وہ تھی صرف نبی ہونے کی حیثیت۔ ان دونوں باتوں میں توفیق و تطبیق کی کیا صورت ہے‘ علاوہ بریں میرے پہلے مضمون ’’آزادی کا اسلامی تصور‘‘ پر دمشق سے ایک صاحب نے کچھ سوالات کیے ہیں، جو المسلمون کے شمارہ۷ میں درج ہوئے ہیں۔
یہ دونو ں اعتراضات چونکہ ایک دوسرے سے قریبی تعلق رکھتے ہیں، اس لیے ایک ہی مختصر مضمون میں ان کا جواب دے رہا ہوں:
دراصل اس مسئلے کے دو پہلو ہیں۔ ایک نظری، اس اعتبار سے کہ حقیقت نفس الامری کیا ہے؟ دوسرے عملی، اس لحاظ سے کہ جہاں تک نبی کی ذات سے ہدایت اخذ کرنے کا تعلق ہے، آیا وہ ہمارے لیے پورا کا پورا نبی اور صرف نبی ہے یا ہم اس کی شخصیت کو دو حصوں میں تقسیم کرکے صرف اس کی حیثیت نبوی کا اتباع اور اسی کی اطاعت کریں گے اور حیثیت شخصی کو چھوڑ دیں گے؟
اب پہلے نظری پہلو کو لیجیے۔ قرآن مجید اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ انبیا علیہم السلام کی حیثیت شخصی اور حیثیت نبوی میں فرق ہے۔ وہ انسانوں کو اپنا بندہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا بندہ بنانے کے لیے بھیجے جاتے ہیں مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّوْتِیَہُ اللّٰہُ الْکِتٰبَ وَالْحُکْمَ وَالنَّبوَّۃَ ثُمَّ یَقُوْلُ لِلنَّاسِ کُوْنُوْا عِبَادًا لِیّ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلٰکِنْ کُوْنُوْا رَبَّا نِیِّیْنَ، آل عمران79:3 کسی انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ تو اس کو کتاب اور حکم اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کے بجائے تم میرے بندے بن جائو۔ وہ تو یہی کہے گا کہ سچے ربانی بنو۔
ان کے سپرد دو فریضے ایک ساتھ کیے جاتے تھے۔ ایک یہ کہ لوگوں کو ہر غیر اللہ کی بندگی سے نکالیں، جس میں دوسری سب مخلوقات کے ساتھ ان کی اپنی ذات بھی شامل تھی۔ دوسرے یہ کہ ان کو صرف ایک اللہ کی بندگی میں داخل کریں۔
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللہَ وَاجْتَـنِبُوا الطَّاغُوْتَ۝۰ۚ النحل36:16
ہم نے ہر قوم میں ایک رسول بھیجا (یہ پیغام دے کر)کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے الگ رہو۔
قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَۃٍ سَوَاۗءٍؚبَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللہَ وَلَا نُشْرِكَ بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۭ آل عمران64:3
اے نبی کہو کہ اے اہل کتاب! آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنا لے۔
دین میں ان کی بے چون و چرا اطاعت کا جو حکم دیا گیا، وہ ان کے ذاتی استحقاق کی بنا پر نہیں بلکہ صرف اس بنا پر تھا کہ رسول ہی وہ شخص ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی مرضی ظاہر فرماتا اور اپنے احکام بھیجتا ہے۔ اسی وجہ سے رسول کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت قرار دی گئی ہے۔
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۭ النساء 64:4
ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے اس کی اطاعت کی جائے۔
اور مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۝۰ۚ النساء 80:4
جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
اس کے ساتھ یہ امر بھی قرآن اور بکثرت احادیث سے ثابت ہے کہ جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم سے نہیں بلکہ اپنی رائے سے کی یا کہی ہے اس میں بے چون و چرا اطاعت کا وہ مطالبہ آپ نے کبھی نہیں کیا جو امر الٰہی کے تحت کوئی کام کرنے یا کوئی بات کہنے کی صورت میں کیا ہے۔ اس کی بہت سی مثالیں میں نے اپنے مضمون’’ آزادی کا اسلامی تصور‘‘ میں پیش کی ہیں۔ خصوصاً حضرت زید کا حضورؐ کے منع فرمانے کے باوجود سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دینا اور اللہ اور اس کے رسول کا ان پر کوئی نکیر نہ کرنا تو اس کی صریح مثال ہے، جس کی کوئی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکتی جو میں نے اپنے اس مضمون میں کی ہے۔ اور تابیر نخل والے معاملے میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس مسئلے کو بالفاظ صریح فرما چکے ہیں۔
اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ اِذَاَ اَمَرْ تُکُمْ بِشَیٔئٍ مِنْ دِیْنْکُمْ فَخُذُوْا بِہٖ وَاِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَیٍٔ مِّنْ رَّأیٖیٔ فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ… اِنَّمَا ظَننْتُ ظَنًّا فَلاَ تُوأٰخِذُوْنِیْ بِالظّٰنِّ وَلٰکِنْ اِذَا حَدَّ ثْتُکُمْ مِنَّ اللّٰہِ شَیْئًا فَخُذُوْا بِہٖ فَاِنّیْ لَمْ اَکْذِبْ عَلَی اللّٰہ… اَنْتُمْ اَعْلَمْ بِاَمْرِ دُیْنَکُمْ (صحیح مسلم، کِتَابُ الْفَضَائِل، بَابُ وُجُوْبِ اِمْتِثَالِ مَا قَالَہٗ شَرْعًا دُوْنَ مَا ذَکَرَہٗ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ مَّعَایِشِ الدُّیْنَا عَلیٰ سَبِیْلِ الرَّایِٔ)
میں بھی ایک انسان ہی ہوں، جب میں تم کو تمھارے دین کے متعلق کوئی حکم دوں تو اسے مانو اور جب میں اپنی رائے سے کچھ کہوں، تو بس میں بھی ایک انسان ہی ہوں… میں نے اندازے سے ایک بات کہی تھی۔ تم میری ان باتوں کو نہ لو، جو گمان اور رائے پر مبنی ہوں۔ ہاں جب میں خدا کی طرف سے کچھ بیان کروں تو اس کو لے لو، اس لیے کہ میں نے خدا پر کبھی جھوٹ نہیں باندھا… تمھیں اپنے دنیوی معاملات کا زیادہ علم ہے۔
یہ تو ہے نظری اور اصولی فرق۔ اب اس کے عملی پہلو کو لیجیے:
دراصل یہ ایک بڑا نازک اور پیچیدہ معاملہ تھا کہ ایک بشر کو اللہ تعالیٰ اپنا واحد نمایندہ بنا کر انسانوں کے درمیان اس دوہری خدمت پر مامور فرمائے کہ ایک طرف تو وہ بشر اپنے ابنائے نوع کواپنی شخصیت سمیت تمام مخلوقات کی بندگی سے آزاد کرے اور خود اس آزادی کی انھیں تربیت دے، اور دوسری طرف وہی بشر ان سے اللہ کی مکمل، بے چون و چرا اطاعت کرائے اور اس اطاعت کا مرجع بھی تمام عملی اغراض کے لیے اس بشر کی اپنی ہی ذات من حیث الرسول ہو۔ یہ دو متضاد کام ایک ہی شخصیت کو بیک وقت کرنے تھے اور ان کے حدود ایک دوسرے کے ساتھ اتنے گتھے ہوئے تھے کہ خود اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی دوسرا ان کے درمیان خط امتیاز نہ کھینچ سکتا تھا۔
اس معاملے کی نزاکت اور پیچیدگی اور بڑھ جاتی ہے جب ہم تین باتوں پر غور کرتے ہیں۔
اوّل یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت احکام الٰہی کے تحت اپنی اطاعت کراتے تھے اس وقت تو ظاہر ہی ہے کہ آپ ایک وظیفۂ رسالت انجام دیتے تھے، مگر جس وقت آپ اپنے انتہائی اطاعت گزار متبعین کو خود اپنی ذات کی ذہنی غلامی سے آزاد کرکے حریت فکر و رائے کی تربیت دیتے تھے، جب آپ ان کواپنی شخصی آرا کے مقابلے میں اختلاف کی ہمت دلا کر تمام انسانوں کے سامنے استقلالِ فکر برتنا سکھاتے تھے، اور جب آپ اپنی حیثیت شخصی اور حیثیت نبوی میں خود ایک خط امتیاز کھینچ کر بتاتے تھے کہ یہاں تم آزاد ہو اور یہاں تمھارے لیے سمع و طاعت کے سوا چارہ نہیں ہے، اس وقت بھی دراصل آپ وظیفۂ رسالت ہی کا ایک حصہ ادا فرماتے تھے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر ہمارے لیے آپ کی حیثیت شخصی اور حیثیت نبوی کے فرق کوسمجھنا اورعملاً ان دونوں حیثیتوں میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہاں یہ دونوں حیثیتیں ایک دوسرے سے اس طرح ملی جلی نظر آتی ہیں کہ ان کے درمیان صرف نظری فرق رہ جاتا ہے، عملاً اپنی شخصی حیثیت میں بھی کام کرتے وقت آپ نبوت ہی کا ایک کام کرتے پائے جاتے ہیں۔
ثانیاً، جو معاملات بظاہر بالکل شخصی معاملات ہیں، مثلاً ایک انسان کا کھانا پینا، کپڑے پہننا، نکاح کرنا، بیوی بچوں کے ساتھ رہنا، گھر کاکام کاج کرنا، غسل اور طہارت اوررفع حاجت وغیرہ، وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں خالص نجی نوعیت کے معاملات نہیں ہیں، بلکہ انھی میں شرعی حدود اور طریقوں اور آداب کی تعلیم بھی ساتھ ساتھ شامل ہے اور آدمی کے لیے خود یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ ان میں کہاں حیثیت رسالت ختم ہوتی ہے اور حیثیت شخصی شروع ہو جاتی ہے۔
ثالثاً، قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ نبی کی ذات بحیثیت مجموعی ایک اُسوہ ہے جس کا ہر پہلو اور ہر رُخ ہمیں ہدایت کی روشنی دیتا ہے اور اس ذات کا کوئی فعل اور قول بھی ہوائے نفس یا ضلالت و غوایت سے ذرّہ برابر بھی آلودہ نہیں ہے۔
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ الاحزاب21:33
تمھارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین اُسوہ ہے۔
يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًاo وَّدَاعِيًا اِلَى اللہِ بِـاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًاo الاحزاب45-46:33
اے نبی ہم نے تمھیں (لوگوں کے لیے) گواہ اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ کے اذن سے اللہ کی طرف بلانے والا اور ایک روشن چراغ بنایا ہے۔
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰىo وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰىo اِنْ ہُوَاِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰىo
النجم 2-4:53
ان وجوہ سے نہ توعملاً ہمارے لیے یہ ممکن ہے اور نہ شرعاً ہم اس کے مجاز ہیں کہ بطور خود نبی کی حیثیت شخصی اور حیثیت نبوی میں فرق کریں اور آپ ہی آپ اس کے حدود متعین کرلیں، اور خود ہی یہ بھی طے کرلیں کہ فلاں امور آپ کی حیثیت نبوی کے تحت تھے جن میں ہم آپ کی اطاعت کریں گے اور فلاں شخصی حیثیت میں تھے، جن میں ہم آپ کی اتباع اور اطاعت سے آزاد ہیں۔ اس فرق کے معلوم ہونے کا ذریعہ یا تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی تصریح ہوسکتی ہے، یا پھر وہ اصول شریعت جو آپ ہی کی دی ہوئی تعلیمات سے مستنبط ہوں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ صحابہ کرام اپنی ذاتی رائے ظاہر کرنے سے پہلے آپ سے دریافت کرلیتے تھے کہ آپ کا ارشاد یا عمل حکم الٰہی کی بنا پر ہے یا اپنی ذاتی رائے پر، اور جب معلوم ہو جاتا تھا کہ وہ آپ کی ذاتی رائے سے ہے، تب وہ اپنی بات عرض کرتے تھے۔ چنانچہ غزوۂ بدر میں حضرت حباب بن المنذر نے اپنی رائے پیش کرنے سے پہلے پوچھ لیا کہ اس مقام کا انتخاب وحی کے ذریعے سے کیا گیا ہے جس سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا ہمارے لیے جائز نہیں ہے، یا یہ محض ایک تدبیر جنگ کے طور پر ہے؟ اسی طرح غزوۂ خندق میں حضرت سعد بن معاذ نے بنی غطفان سے صلح کی تجویز پر اظہار رائے کرنے سے پہلے دریافت کرلیا ’’اے اللہ کے رسول! کیا یہ ارادہ وحی کی بنا پر فرمایا گیا ہے کہ اس میں ہمارے لیے مجال کلام نہیں ہے، یا حضور صرف اپنی رائے سے ایسا کرنا چاہتے ہیں؟‘‘
اور بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی یہ ظاہر فرما دیتے تھے کہ فلاں بات آپ اللہ کی طرف سے ایک حکم دینی کے طور پر نہیں فرما رہے ہیں بلکہ اپنی شخصی رائے ظاہر فرما رہے ہیں، جیسا کہ اوپر تابیر نخل کے معاملے میں حضورؐ کے ارشادات گزر چکے ہیں۔
اور بعض اوقات معاملے کی نوعیت ہی ایسی ہوتی تھی جس سے خود بخود یہ ظاہر ہوتا تھا کہ حضورؐ کا ارشاد اپنی شخصی حیثیت میں ہے۔ مثلاً حضرت زیدؓ سے آپؐ کا فرمانا کہ اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللہَ الاحزاب37:33 ’’اپنی بیوی کوطلاق نہ دو اور، اللہ سے ڈرو‘‘ اس ارشاد کے متعلق یہ بات ظاہر تھی کہ یہ ایک مومن کو نبی کا حکم شرعی نہیں ہے بلکہ ایک خاندان کے فرد کو بزرگِ خاندان کا مشورہ ہے۔ اسی وجہ سے حضرت زیدؓ نے حضورؐ کے ارشاد کے باوجود حضرت زینبؓ کو طلاق دی اور اللہ اور اس کے رسول کے اس پر کوئی نکیر نہ کرنے سے یہ ثابت ہوگیا کہ حضرت زیدؓ نے آپ کے فرمان کی نوعیت ٹھیک مشخص کی تھی۔
یہ تو وہ مثالیں ہیں جو حضورؐ کی حیات طیبہ میں پیش آئی تھیں۔ ان کے علاوہ متعدد معاملات ایسے ہیں جن میں اب بھی اصول شریعت کی روشنی میں اس فرق کو معلوم کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً حضورؐ کے لباس اور آپؐ کے کھانے کے معاملے کو لیجیے۔ اس کا ایک پہلو تو یہ تھا کہ آپ ایک خاص وضع اور قطع کا لباس پہنتے تھے جو عرب میں اس وقت پہنا جاتا تھا اور جس کے انتخاب میں آپ کے شخصی ذوق کا دخل بھی تھا۔ اسی طرح آپ وہی کھانے کھاتے تھے جیسے آپ کے عہد میں اہل عرب کے گھروں میں پکتے تھے اور ان کے انتخاب میں بھی آپ کے اپنے ذوق کا دخل ہوتا تھا۔ دوسرا یہ پہلو تھا کہ اسی کھانے اور پہننے میں آپ اپنے عمل اور قول سے شریعت کے حدود اور اسلامی آداب کی تعلیم دیتے تھے۔ اب یہ بات خود حضورؐ ہی کے سکھائے ہوئے اصول شریعت سے ہم کو معلوم ہوتی ہے کہ ان میں سے پہلی چیز آپ کی شخصی حیثیت سے تعلق رکھتی تھی۔ اور دوسری چیز حیثیت نبویہ سے، اس لیے کہ شریعت نے جس کی تعلیم دینے کے لیے آپ اللہ کی طرف سے مامور کیے گئے تھے، انسانی زندگی کے اس معاملے کو اپنے دائرے میں نہیں لیا ہے کہ لوگ اپنے لباس کس تراش خراش اور وضع قطع پر سلوائیں، اور اپنے کھانے کس طرح پکائیں، البتہ اس نے یہ چیز اپنے دائرۂ عمل میں لی ہے کہ کھانے اور پہننے کے معاملے میں حرام اور حلال، جائز اور ناجائز کے حدود معین کرلے اور لوگوں کو ان آداب کی تعلیم دے جو اہل ایمان کے اخلاق و تہذیب سے مناسبت رکھتے ہیں۔
یہ فرق خواہ ہم کو حضورؐ کی تصریح سے معلوم ہو یا آپ کے سکھائے ہوئے اصول شریعت سے، بہرحال اس کے علم کا ذریعہ نبی کی تعلیم ہی ہے۔ گویا ہم آپ کی حیثیت شخصیہ کے کام کو متعین کرنے کے لیے بھی آپ کی حیثیت نبویہ ہی کی طرف رجوع کریں گے۔ حیثیت شخصیہ سے براہ راست ہمارا کوئی معاملہ نہیں ہے جو آپ کی حیثیت نبویہ کو نظر انداز کرکے ہم کرسکتے ہوں۔ یہی وہ چیز ہے جس پر میں نے اپنے دوسرے مضمون ’’اتباع و اطاعت رسول‘‘ میں منکرین سنت کو متنبہ کیا ہے۔ ان کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ محمد بن عبداللہ باعتبار رسول اور محمد بن عبداللہ بااعتبار انسان میں خود تفرق کرکے ان دونوں حیثیتوں کے کاموں میں ایک خط امتیاز کھینچ دیتے ہیں اور آپ کی زندگی کے جس دائرے کو وہ خود آپ کی حیثیت رسالت سے الگ سمجھ بیٹھے ہیں، اس کے اتباع و اطاعت سے خود ہی انھوں نے آزادی اختیار کرلی ہے۔ حالانکہ حضورؐ کی شخصی اور نبوی حیثیتوں میں حقیقت کے اعتبار سے جو بھی فرق ہے وہ عنداللہ و عند الرسول ہے اور ہمیں اس سے صرف اس لیے آگاہ کیا گیا ہے کہ ہم کہیں عقیدے کی گمراہی میں مبتلا ہو کر محمد بن عبداللہ کو اللہ کے بجائے مطاع حقیقی نہ سمجھ بیٹھیں۔ لیکن امت کے لیے تو عملاً آپ کی ایک ہی حیثیت ہے اور وہ ہے رسول ہونے کی حیثیت، حتیٰ کہ محمد بن عبداللہ کے مقابلے میں اگر ہم کو آزادی حاصل بھی ہوتی ہے، تووہ محمد رسول اللہ کے عطا کرنے سے ہوتی ہے اور محمد رسول اللہ ہی اس کے حدود متعین کرتے ہیں اور اس آزادی کے استعمال کی تربیت بھی ہم کو محمد رسول اللہ ہی نے دی ہے۔
ان توضیحات کے بعد اگر میرے دونوں مضمونوں کو ملاحظہ کیا جائے تو کوئی غلط فہمی باقی نہیں رہ سکتی۔ (ترجمان القرآن۔ دسمبر ۱۹۵۹ئ)

رسالت اور اس کے احکام

میرے مضمون ’’اتباع و اطاعت رسول‘‘ کو دیکھ کر میرے دوست چودھری غلام احمد پرویز صاحب نے اپنے ایک طویل مراسلے میں حسب ذیل خیالات کا اظہار کیا ہے:
’’… لیکن مجھے آپ کی وَمَایَنْطِقُ عَنِ الْھَویٰ کی تفسیر سے کچھ اختلاف ہے۔ آپ نے لکھا ہے:
’’جس وقت سے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو منصب نبوت پر سرفراز کیا اس وقت سے لے کر حیات جسمانی کے آخری سانس تک آپؐ ہر آن اور ہر حال میں خدا کے رسول تھے۔ آپؐ کا ہر فعل اور ہر قول رسول خدا کی حیثیت سے تھا۔
پھر دوسری جگہ آپ لکھتے ہیں:
’’آنحضرؐت جس وقت جس حال میں جو کچھ کرتے تھے رسول کی حیثیت سے کرتے تھے‘‘
اس کا مقصد واضح ہے کہ حضورؐ کا ہر قول و فعل من جانب اللہ ہوتا تھا۔ اور بحیثیت رسول صادر فرمانے کی بنا پر امت مسلمہ کے لیے واجب الاطاعت۔
اس کے متعلق یہاں صرف دو ایک اشاروں پر اکتفا کروں گا۔ پہلے تو قرآن کریم کو لیجیے۔ آپ کو متعدد ایسے امور ملیں گے جن میں حضورؐ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تہدید و تادیب ہوئی ہے۔ مثلاً آپ نے ایک قسم کا شہد کھانے سے قسم کھالی تو ارشاد ہوا:
يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللہُ لَكَ۝۰ۚ التحریم66:1
اے نبی جس کو اللہ نے تمھارے لیے حلال کیا ہے اسے تم حرام کیوں کرتے ہو۔
ظاہر ہے کہ اگر حضورؐ کا شہد کو اپنے اوپر حرام کرلینا خدا کی جانب سے تھا تو خدا اس پر معترض کیوں ہوا؟
دوسری جگہ ہے:
عَفَا اللہُ عَنْكَ۝۰ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ التوبہ43:9
اے نبی خدا نے تم سے درگزر کیا، تم نے انھیں کیوں اجازت دے دی تھی؟
اب اگر حضورؐ کا اجازت دے دینا ازروئے وحی تھا اور یہ فعل خدا کے رسول کی حیثیت سے تھا تو اس پر وحی بھیجنے والے نے تہدید کس لیے فرمائی؟
اسی طرح عَبَسَ وَتَوَلّٰی اَنْ جَآئَ ہُ الْاَعْمیٰ (عبس)اگر حضورؐ کا پیشانی مبارک پر بل لے آنا بہ حیثیت رسول تھا تو قرآن کریم میں اس پر تنبیہ کیوں آئی؟
ان تصریحات سے صاف ظاہر ہے کہ حضورؐ کے یہ افعال و اقوال بہ حیثیت رسول نہ تھے بلکہ ذاتی حیثیت سے تھے۔ اس سے یہ مطلب نہیں کہ (نعوذ باللہ) یہ امور ضلالت و غوایت اور ہوائے نفس کی بنا پر تھے بلکہ یہ کہ امور دنیاوی میں بہ حیثیت بشر خاصۂ بشریت حضورؐ کے ساتھ تھا جس میں ایسے معمولی سہو کوئی معنی نہیں رکھتے۔ اور اس سے حضورؐ کے خلق عظیم اور قرآن کے منجانب اللہ ہونے کے لیے دشمنان اسلام کے لیے زندہ شہادت ملتی ہے۔ اب اس کی شہادت خود احادیث سے بھی ملتی ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں ایک باب اس عنوان سے لکھا ہے جس میں وہ تحریر فرماتے ہیں کہ جو کچھ آنحضرتؐ سے مروی ہے اور کتب حدیث میں مدون ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تو وہ امور جو تبلیغ رسالت سے علاقہ رکھتے ہیں۔ دوسرے وہ امور جن کو تبلیغ رسالت سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی کی نسبت حضورؐ نے فرمایا ہے:
اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ اِذَاَ اَمْرتُکُمْ بِشَیئٍ مِنْ دِیْنِکُمْ فَخُذُوْا بِہٖ وَاِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَیْ ئٍ مِنْ رَائِیْ فَاِنَّمَا اِنَّا بَشَرٌ۔
میں ایک انسان ہوں۔ جب تم سے کوئی مذہبی امر بیان کروں تو اس کو اختیار کرو اور جو بات میں اپنی رائے سے کہوں تو میں ایک انسان ہوں۔
اسی بنا پر درخت خرما کے گابھا لگانے کے مشہور واقعہ کے بعد حضورؐ نے فرمایا تھا:
اِنِیّ ظَنَنْتُ ظَنًّا وَلَا تُوأَ خِذُوْنِیْ بِالظَّنِّ وَلٰکِنْ اِذَا حَدُّثتَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ بِشَیْئٍ فَخُذُوْا بِہٖ فَاِنِّیْ لَمْ اَکذِبْ عَلَی اللّٰہِ ۔
میں نے صرف ایسا گمان کیا تھا۔ تخمینی بات کا مجھ سے مواخذہ نہ کرو لیکن میں خدا کی جانب سے کوئی بات بیان کروں تو اس کو اختیار کرو اس لیے کہ میں خدا پر جھوٹ نہیں بولتا۔
چنانچہ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اس میں سے وہ امور ہیں جنھیں حضورؐ عادۃً کیا کرتے تھے یا اتفاقیہ بلا قصد یا بہ سبیل تذکرہ بیان فرماتے۔ اور اس کے بعد وہ ان مواقع و امور کی مثالیں بھی بیان فرماتے ہیں، انھیں میں وہ ان امور کو بھی لیتے ہیں جو حضور کے عہد میں ایک جزئی مصلحت رکھتے تھے لیکن وہ تمام امت کے لیے حتمی اور لازمی نہ تھے۔
اس سے ظاہر ہے کہ جو کچھ آپ دین کے متعلق فرماتے تھے وہی بحیثیت رسول ہوتا تھا، خواہ وہ وحی منزل ہو یا اجتہاد رسولؐ ،اور وہی امت کے لیے واجب الاتباع ہے۔ اور اس کے علاوہ جو باتیں بحیثیت بشر فرماتے ان میں یہ قید نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض امور مشاورت میں ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہؓ نے رائے بھی پیش کی اور وہ اختیار بھی کی گئی۔ یہی نہیں حضور کی ایسی رائے کے خلاف عمل بھی تھا۔ چنانچہ قرآن شاہد ہے کہ آپ نے حضرت زیدؓ سے فرمایا کہ اَمْسِکَ عَلیْکَ زَوَجَکَ، لیکن انھوں نے حضرت زینب کو طلاق دے دی۔ کیا آپ خیال کرسکتے ہیں کہ بحیثیت رسول آپ کا فرمان ہوتا اور حضرت زید اس کی خلاف ورزی کرتے؟ کتب احادیث میں کئی ایسے واقعات مذکور ہیں جن میں حضورؐ نے کوئی ارشاد فرمایا اور صحابہ نے عرض کیا کہ یہ حکم بحیثیت رسول ارشاد فرما رہے ہیں یا بطور اپنی رائے کے؟ چنانچہ جنگ بدر میں جب آپ ایک مقام پر کیمپ نصب فرمانا چاہتے تھے تو ایک صحابی نے یہی سوال کیا اور جب معلوم ہوا کہ حضورؐ اپنی رائے سے ایسا فرما رہے ہیں تو انھوں نے بہ ادب گذارش کیا کہ اگر حضورؐ ذرا آگے جاکر خیمہ زن ہوں تو زیادہ قرین مصلحت ہوگا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
ان تصریحات سے ثابت ہے کہ حضورؐ ہر آن اور ہرحال میں رسول نہیں ہوتے تھے اور آپ کا ہر قول اور ہر فعل بہ حیثیت رسول ہی نہیں ہوتا تھا۔ ہاں جو مرد خدا محبوب کے رنگ میں رنگا جانا چاہے اس کی بات بالکل جدا ہے۔ لیکن اس شکل اور وجوب کی صورت میں بڑا فرق ہے۔ اگرچہ شاہ صاحب نے حضورؐ کے فیصلے بھی اسی ذیل میں رکھے ہیں جو رسالت کی حیثیت لیے ہوئے نہ تھے (غالباً ان کی مراد وقتی فیصلوں سے ہوگی) اور صاحب ’’تعلیمات‘‘ نے بھی امارت کو رسالت سے الگ کیا ہے تو غالباً اسی بنا پر۔ لیکن میں تو حضورؐ کے قضا یا متعلقہ دین کو عین تبلیغ رسالت میں ہی سمجھتا ہوں اور واجب الاتباع۔ البتہ ایک اور چیز ہے جو امارت اور رسالت کی بحث میں میرے سامنے آگئی ہے اور اگرچہ صاحب ’’تعلیمات‘‘ نے اس پر بوضوح روشنی نہیں ڈالی لیکن قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا منشا شاید یہی ہے جو میرے ذہن میں آیا ہے۔ جہاں تک نبی کریم کا تعلق ہے امور دین میں حضور کی اطاعت کیا بحیثیت رسول اور کیا بحیثیت امیر قیامت تک کے لیے ہے۔ اس میں نہ اس وقت کسی منازعت کا حق تھا نہ ہوسکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ حضورؐ کے بعد قرآن کریم نے خدا اور رسول کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے تو اسلامی نظام کے بقا کے لیے یہ تو ضروری ہے کہ کوئی ایسی سند ( authority)ہو جو یہ بتا سکے کہ خدا و رسول کا اس بارے میں یہی فیصلہ ہے، یا وقتی امور میں ایسا ہی فیصلہ خود صادر کرسکے۔ ظاہر ہے کہ اگر خلیفہ برحق ہو اور اس کے ساتھ اس کی مجلس شوریٰ (صحیح طریق پر منتخب شدہ) کام کر رہی ہو تو یہی جماعت یعنی خلیفہ اِن کونسل (caliph-in-council)ہی وہ آخری سند (authority)ہوگی جو امت مسلمہ کے لیے ’’خدا اور رسول‘‘ کی نمایندگی کرے گی یعنی اس مجلس کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوگا اور کسی شخص کو اس کے خلاف منازعت کا حق نہ ہوگا۔ ورنہ اگر ہر شخص کو اختیار دے دیا جائے کہ وہ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ کا فریضہ خود ہی سر انجام دے لے تو ظاہر ہے کہ نظام اسلام کسی طرح بھی قائم رہ نہیں سکتا۔ یہی مجلس اعلیٰ (supreme council)ہوگی جس کے قضا یا کی پھر کہیں اپیل نہ ہوگی۔ اور یہی جماعت فقہ مرتب کرنے کا کام کرے گی۔ البتہ جب اس جماعت کا کوئی رُکن کتاب و سنت کے خلاف فیصلے صادر کرے تو جمہور کو اختیارہوگا کہ انھیں برطرف کرکے ان کی جگہ دوسرا انتخاب عمل میں لے آئیں۔ کیونکہ یہاں ایسے اولی الامر سے منازعت کا حق حاصل ہو جائے گا جو امت کو خدا اور رسول کی اطاعت کی طرف نہیں لے جاتے لیکن انفرادی طور پر کسی کو حق نہ ہوگا کہ ان کے فیصلوں سے اس بنا پر سرتابی شروع کر دے کہ وہ اس کے اپنے خیال میںکتاب و سنت کے خلاف ہیں۔ یہی وہ با اختیار جماعت ہوگی جو وقتی امور میں بنا برمصلحت کسی سابقہ وقتی فیصلے یا انتظام کے خلاف بھی فیصلہ کرسکے گی جیسا کہ کتب سیر و احادیث سے ظاہر ہے۔ رسول اللہ نے نجران کے عیسائیوں اور خیبر کے یہود کو اپنی اپنی جگہ رہنے دیا۔ لیکن حضرت عمرؓ نے اپنے زمانۂ خلافت میں بنا بر مصلحت ِ وقت ان کو وہاں سے نکال دیا۔ اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات خود خلیفۂ وقت (مثلاً حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ) ابھی عدالتوں میں بحیثیت مدعا علیہ پیش ہوا کرتے تھے جس سے ظاہر ہے کہ خلیفہ کے خلاف بھی ہر شخص کو منازعت کا حق حاصل ہے، تو واضح رہے کہ یہ لوگ خلیفہ اور اس کی ذاتی حیثیت (personal capacity) میں فرق نہیں کرتے۔ عدالتوں میں عمر ابن خطاب اور علی ابن ابی طالب پیش ہوتے تھے۔ اور دعاوی ان کی ذات کے خلاف تھے نہ کہ ’’خلیفہ ان کونسل‘‘ کے خلاف۔ اور یہ اسلامی نظام حکومت کا طغرائے امتیاز ہے کہ اس نے قانون کو رائج کرنے والوں کو بھی قانون کی زد سے مستثنیٰ نہیں کیا۔ پھر یہ بھی واضح رہے کہ ’’خلیفہ ان کونسل‘‘ کی حیثیت بھی واضع قانون کی نہیں ہوگی۔ بلکہ جہاں تک اصول قانون کا تعلق ہے وہ تو کتاب و سنت میں ہمیشہ کے لیے منضبط ہو چکے۔ اب ان اصول کو نافذ کرنا یا ان کی روشنی میں جزئی امور میں قواعد مرتب کرنا یہ اس مجلس کا فریضہ ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ صاحب ’’تعلیمات‘‘ نے جہاں یہ لکھا ہے کہ قرآن کریم میں جہاں جہاں اطاعت خدا اور رسول کا حکم آیا ہے اس سے مراد امارت ہے، ان کے پیش نظر یہی خاکہ ہے جو اوپر گزارش کیا گیا ہے اور اگر ایسا ہی ہے تو اس میں کسی اعتراض کی گنجائش نہیں کہ اس بااختیار جماعت کی اطاعت عین اطاعت رسول ہے، اور اس کی معصیت معصیت خدا و رسول، جیسا کہ نبی اکرم نے خود ارشاد فرمایا کہ:
مَنْ یُّطِعِ الْاَ مِیْرَ فَقَدْ اَطَاعِنْی وَمَنْ عَصَی الْاَمِیْرَ فَقَدْ عَصَانِیْ ۔
جس شخص نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔
بحث طویل ہوگئی۔ لیکن امید ہے کہ اس میں بہت سی کام کی باتیں نکل آئیں گی اخیر میں اتنا گزارش کرنا ضروری ہے کہ چونکہ میں نے اس میں آپ کو مخاطب کیا ہے اس لیے وہی امور پیش کیے ہیں جن میں مجھے آپ کے جواب کے بعد مزید اطمینان کی ضرورت نظر آئی۔ رہے وہ امور جن سے اتفاق ہے یا صاحب ’’تعلیمات‘‘ سے جن امور میں اختلاف ہے انھیں دہرانا تحصیل حاصل سمجھا گیا ہے اور یہ گزارشات بھی محض لِیَطْمَئِنَّ قلبی ہیں۔
اطاعت رسول کے مسئلے میں یہ امر تو متفق علیہ ہے کہ کوئی رسول اپنی ذاتی حیثیت میں مطاع اور متبوع نہیں ہوسکتا۔ نہ موسیٰ علیہ السلام کی اطاعت اور پیروی اس بنا پر ہے کہ وہ موسیٰ بن عمران ہیں، نہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اس وجہ سے لائق اطاعت و اتباع ہیں کہ وہ عیسیٰ بن مریم ہیں، اور نہ نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع اس حیثیت سے لازم ہے کہ آپ محمد بن عبداللہ ہیں۔ اطاعت اور پیروی جو کچھ بھی ہے صرف اس حیثیت سے ہے کہ یہ حضرات اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ نے ان کو وہ علم حق عطا کیا جو عام انسانوں کو عطا نہیں کیا، اور ان کو وہ ہدایت بخشی جو عام لوگوں کو نہیں بخشی، اور ان کو دنیا میں اپنی رضاکے مطابق زندگی بسر کرنے کے وہ صحیح طریقے بتائے جن کو عام لوگ اپنی رائے و عقل یا انبیا کے سوا دوسرے لوگوں کی رہنمائی سے معلوم نہیں کرسکتے۔ اب اختلاف جس امر میں واقع ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول کی اطاعت اور پیروی کس امر میں ہے اور کس حد تک ہے۔
ایک گروہ کہتا ہے کہ اطاعت اور پیروی صرف اس کتاب کی ہے جو اللہ کی طرف سے اس کا رسول لے کر آتا ہے۔ تبلیغ کتاب کے بعد رسول کی حیثیت رسالت ختم ہو جاتی ہے۔ پھر وہ بھی ویسا ہی ایک انسان ہے جیسے اور دوسرے انسان۔ دوسرے انسان اگر امیر اور سردار قوم ہوں تو محض نظم و ضبط (discipline)کے لیے ان کی اطاعت لازم ہوگی۔ مگر مذہبی فریضہ نہ ہوگی۔ دوسرے اگر عالم، حکیم اورمقنّن ہوں تو ان کے اوصاف (merits)کا لحاظ کرتے ہوئے ان کی پیروی کی جائے گی اور یہ پیروی اختیاری ہوگی، واجب نہ ہوگی۔ یہی معاملہ رسول خدا کا بھی ہے۔ تبلیغ کتاب کے سوا دوسرے تمام معاملات میں رسول کی حیثیت محض شخصی ہے۔ بحیثیت ایک شخص کے اگر وہ امیر ہے تو اس کی اطاعت بالمشافہ ہے نہ کہ دائمی۔ اگر وہ قاضی ہے تو اس کے فیصلے وہیں تک نافذ ہوں گے جہاں تک اس کے حدود قضا (jurisdiction)ہیں۔ ان سے باہر زیادہ سے زیادہ ایک فاضل جج کی حیثیت سے اس کے فیصلے بطور ایک نظیر کے، لیے جائیں گے نہ کہ ایک شارع اور واضع قانون کی حیثیت سے۔ اگر وہ حکیم ہے تو اس کی زبان سے جو حکمت اور اخلاق کی باتیں نکلیں گی وہ اپنی قدر و قیمت کے لحاظ سے قبول کی جائیں گی۔ جس طرح دوسرے علماء و عقلاء کی ایسی ہی باتیں قبول کی جاتی ہیں۔ محض اس بنا پر کہ وہ حامل منصب رسالت کی زبان سے نکلی ہیں وہ داخل دین نہیں سمجھی جائیں گی۔ اسی طرح اگر وہ ایک نیک سیرت انسان ہے، اور اس کی زندگی اپنے اطوار آداب اور معاملات کے اعتبار سے ایک بہترین زندگی ہے، تو ہم بالاختیار اس کو ایک نمونہ (Model)بنائیں گے جس طرح ایک غیر نبی کی اچھی زندگی کو نمونہ قرار دینے میں ہم مختار ہیں۔ لیکن اس کا کوئی عمل اور قول ہمارے لیے اخلاق، معاشرت، معیشت اور معاملات میں ایسا قانون نہ ہوگا جس کی پیروی ہم پر واجب ہو۔ یہ مذہب اس گروہ کا ہے جو آج کل اہل قرآن کہلاتا ہے۔
ایک دوسرا گروہ اس خیال میں تھوڑی سی ترمیم کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ رسول کے ذمے صرف کتاب پہنچا دینا ہی نہ تھا، بلکہ کتاب کے احکام پر عمل کرکے دکھا دینا بھی تھا کہ امت اسی نمونے پر عامل ہو۔ لہٰذا عبادات و طاعات وغیرہ کے متعلق احکام کتاب کی جو تفصیلی عملی صورت رسول نے بتائی ہے، اس کی پیروی بھی کتاب ہی کی پیروی ہے، اور دینی فرض ہے۔ باقی رہے وہ معاملات جو احکام کتاب کے علاوہ رسول اپنی شخصی حیثیت میں ایک امیر، ایک قاضی، ایک مصلح قوم، ایک حکیم، ایک شہری، اور ایک فرد جماعت کی حیثیت سے انجام دے، تو ان میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو ایک دائمی اور عالمگیر ضابطہ و قانون بنانے والی ہو اور جس کی پیروی ہمیشہ کے لیے ایک دینی فرض ہو۔ اس گروہ کے نمایندے جناب مولانا اسلم جیراج پوری ہیں۔
ایک تیسرا گروہ ہے جو رسول کی حیثیت رسالت کو اس کی زندگی کے ایک بہت بڑے حصے پر حاوی سمجھتا ہے۔ اخلاق، معاشرت، معاملات، احکام و قضایا، اور بہت سے دوسرے معاملات میں اس کے قول اور فعل کا خدا کی جانب سے ہونا تسلیم کرتا ہے۔ اور یہ بھی مانتا ہے کہ یہ سب چیزیں امت کے لیے اسوۂ حسنہ ہیں۔ مگر وہ حیثیت رسالت اور حیثیت شخصی میں فرق ضرور کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ رسول کی زندگی کے کچھ معاملات ایسے ضرور ہیں جو حیثیت رسالت سے خارج ہیں، اور قابل تقلید نمونہ نہیں اگرچہ وہ کوئی ایسا واضح خط نہیں کھینچ سکتا جو حیثیت رسالت اور حیثیت شخصی میں بیّن امتیاز کر دیتا ہو، اور ایک ایسی حد مقرر کرتا ہو جہاں پہنچ کر رسول کی حیثیت محض ایک انسان کی رہ جاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ چودھری صاحب اسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں، اور میں ابتدا ہی میں یہ امر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ان کا مسلک مقدم الذکر دونوں گروہوں کی بہ نسبت حق سے بہت زیادہ قریب ہے۔ اگرچہ تھوڑی غلطی اس میں ضرور ہے لیکن الحمدللہ کہ وہ گمراہی کی حد تک نہیں پہنچتی۔
چوتھا گروہ کہتا ہے کہ رسول کی حیثیت شخصی اور رسالت کی حیثیت اگرچہ اعتبار میں دو جداگانہ حیثیتیں ہیں مگر وجود میں دونوں ایک ہی ہیں اور ان کے درمیان عملاً کوئی فرق کرنا ممکن نہیں ہے۔ منصب رسالت دنیوی عہدوں کی طرح نہیں ہے کہ عہدے دار جب تک اپنے عہدے کی کرسی پر بیٹھا ہے، عہدے دار ہے، اور جب اس سے اترا تو ایک عام انسان ہے۔ بلکہ رسول جس وقت منصب رسالت پر سرفراز ہوتا ہے اس وقت سے مرتے دم تک وہ ہر وقت اور ہر آن مامور (on duty)ہوتاہے اور وہ کوئی ایسا فعل نہیں کرسکتا جو اس سلطنت کی پالیسی کے خلاف ہو جس کا وہ نمائندہ بنا کربھیجا گیا ہے۔ اس کی زندگی کے معاملات عام اس سے کہ وہ امام کی حیثیت سے ہوں یا امیر کی حیثیت سے، قاضی کی حیثیت سے ہوں یا معلم اخلاق کی حیثیت سے، ایک شہری اورسوسائٹی کے ایک فرد کی حیثیت سے ہوں، یا ایک شوہر، باپ، بھائی، رشتہ دار اور دوست کی حیثیت سے، سب پر اس کی حیثیت رسالت اس طرح حاوی ہوتی ہے کہ اس کی ذمہ داریاں کسی حال میں ایک لمحے کے لیے بھی اس سے منفک نہیں ہوتیں۔ حتیٰ کہ جب وہ اپنی خلوت میں اپنی بیوی کے پاس ہوتا ہے، اس وقت بھی وہ اسی طرح اللہ کا رسول ہوتا ہے جس طرح وہ مسجد میں نماز پڑھاتے وقت ہوتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں وہ جو کچھ کرتا ہے اللہ کی ہدایت کے تحت کرتا ہے۔ اس پر ہر آن اللہ کی طرف سے سخت نگرانی قائم رہتی ہے، جس کے ماتحت وہ انھیں حدود کے اندر چلنے پر مجبور ہوتا ہے جو اللہ نے مقرر کر دی ہیں، اور اپنے اقوال میں اعمال میں اور زندگی کے پورے رویے میں دنیا کے سامنے اس امر کا مظاہرہ کرتا ہے کہ یہ ہیں وہ اصول جن پر انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا نظام قائم ہونا چاہیے۔ اور یہ ہیں وہ حدود جن کے دائرے میں انسان کی آزادی عمل کو محدود ہونا چاہیے۔ اس خدمت کو نبی اپنی شخصی و خانگی زندگی میں بھی اسی طرح انجام دیتا رہتا ہے جس طرح اپنی سرکاری حیثیت میں اور کسی معاملے میں بھی اگر اس کے قدم کو ذرا سی لغزش ہو جاتی ہے تو اس کو فوراً تنبیہ کی جاتی ہے، کیونکہ اس کی خطا صرف اسی کی خطا نہیں بلکہ ایک پوری امت کی خطا ہے۔ اس کو بھیجنے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان زندگی بسر کرکے ان کے سامنے ایک ’’مسلم‘‘ کی زندگی کا مکمل نمونہ پیش کر دے، اور صرف یہی نہیں کہ انفرادی معاملات میں ان کی رہنمائی کرکے ان کو فرداً فرداً مسلمان بنائے بلکہ اس کے ساتھ ہی اسلام کا تمدنی، سیاسی، معاشی اور اخلاقی نظام قائم کرکے صحیح معنوں میں ایک مسلم سوسائٹی بھی وجود میں لے آئے۔ لہٰذا اس کا خطا اور غلطی سے محفوظ ہونا لازم ہے تاکہ کامل اعتماد کے ساتھ اس کی پیروی کی جاسکے اور اس کے قول و فعل کو بالکلیہ اسلام کی تعلیم اور اسلامیت کا معیار قرار دیا جاسکے۔ اس میں شک نہیں کہ نبیؐ کے اقوال و افعال میں تقلید و تاسی کے لحاظ سے فرق مراتب ضرور ہے۔ بعض وجوب اور فرضیت کے درجہ میں ہیں بعض استحباب کے درجے میں، اور بعض ایسے ہیں جن کی حیثیت درجہ ٔ کمال کی ہے۔ لیکن فی الجملہ نبی کی پوری زندگی ایک ایسا نمونہ (model)ہے جس کو اسی لیے پیش کیا گیا ہے کہ بنی آدم اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔ جو شخص اس نمونے کی مطابقت میں جتنا بڑھا ہوا ہوگا وہ اتنا ہی کامل انسان اور مسلمان ہوگا، اور جو اس کی مطابقت کے کم از کم ناگزیرمرتبے سے بھی گھٹ جائے گا وہ اپنی کوتاہی کے لحاظ سے فاسق، فاجر، گمراہ اور مغضوب ہوگا۔
میرے نزدیک یہی آخری گروہ حق پر ہے۔ اور میں قرآن اور عقل کی روشنی میں جتنا زیادہ غور کرتا ہوں اس مسلک کی حقانیت پر میرا یقین بڑھتا جاتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے جو حالات قرآن مجید میں بیان ہونے ہیں ان کو دیکھنے سے مجھ کو نبوت کی حیثیت یہ نہیں معلوم ہوتی کہ اللہ تعالیٰ یکایک کسی راہ چلتے کو پکڑ کر اپنی کتاب پہنچانے کے لیے مامور کر دیتا ہو، یا کسی شخص کو اس طور پر اپنی پیغام بری کے لیے مقرر کرتا ہو کہ وہ منجملہ اپنے دوسرے کاروبار کے ایک پیغمبری کاکام بھی انجام دے دیا کرے، گویا کہ وہ ایک جز وقتی مزدور (part-time worker)ہے جو مقرر اوقات میں اک مقرر کام کر دیتا ہے اور اس کام کو ختم کرنے کے بعد آزاد ہوتا ہے کہ جو چاہے کرے۔ برعکس اس کے میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جب کسی قوم میں نبی بھیجنا چاہا ہے تو خاص طور پر ایک شخص کو اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ نبوت کی خدمت انجام دے۔ اس کے اندر انسانیت کی وہ بلند ترین صفات اور وہ اعلیٰ درجے کی ذہنی و روحانی قوتیں ودیعت کی ہیں جو اس اہم ترین منصب کو سنبھالنے کے لیے ضروری ہیں۔ پیدائش کے وقت سے خاص اپنی نگرانی میں اس کی پرورش اور تربیت کرائی ہے۔ نبوت عطا کرنے سے پہلے بھی اس کو اخلاقی عیوب اور گمراہیوں اور غلط کاریوں سے محفوظ رکھا ہے، خطرات اور مہلکوں سے اس کو بچایا ہے اور ایسے حالات میں اس کی پرورش کی ہے جن میں اس کی استعداد نبوت ترقی کرکے فعلیت کی طرف بڑھتی رہی ہے پھر جب وہ اپنے کمال کو پہنچ گیا ہے تو اس کو خاص اپنے پاس سے علم اور قوت فیصلہ (Judgement)اور نور ہدایت عطا کرکے منصب نبوت پر مامور کیا ہے، اور اس سے اس طرح یہ کام لیا ہے کہ اس منصب پر آنے کے بعد سے آخری سانس تک اس کی پوری زندگی اسی کام کے لیے وقف رہی ہے۔ اس کے لیے دنیا میں تلاوت آیات اور تعلیم کتاب و حکمت اور تزکیہ نفوس کے سوا اور کوئی مشغلہ نہیں رہا ہے۔ رات دن اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے اس کو یہی دھن رہی ہے کہ گمراہوں کو راہ راست پر لائے اور راہ راست پر آجانے والوں کو ترقی کی اعلیٰ منزلوں پر جانے کے قابل بنائے۔ وہ ہمیشہ ایک ہمہ وقتی ملازم (whole-time servant) رہا ہے جس کو کبھی چھٹی نہیں ملی اور نہ اس کے لیے کبھی اوقات کار (working Hours)مقرر کیے گئے۔ اس پر خدا کی طرف سے شدید نگرانی قائم رہی ہے کہ خطا نہ کرنے پائے۔ ہوائے نفس کے اتباع اور شیطانی وساوس سے اس کی سخت حفاظت کی گئی ہے۔ معاملات کو بالکل اس کی بشری عقل اور اس کے انسانی اجتہاد پر نہیں چھوڑ دیا گیا، بلکہ جہاں بھی اس کی خواہش یا اس کے اجتہاد نے خدا کے مقرر کیے ہوئے خط مستقیم سے بال برابر جنبش کی ہے وہیں اس کو ٹوک کر سیدھا کر دیا گیا ہے۔ کیونکہ اس کی پیدائش اور اس کی بعثت کا مقصد ہی یہ رہا ہے کہ خدا کے بندوں کو سواء السبیل اور صراطِ مستقیم پر چلائے، اگر وہ اس خط سے یک سرِ مُوبھی ہٹتا تو عام انسان میلوں اس سے دُور نکل جاتے۔
یہ جو کچھ کہہ رہا ہوں اس کے لفظ لفظ پر قرآن گواہ ہے۔
۱۔ یہ بات کہ انبیا علیہم السلام پیدائش سے پہلے ہی نبوت کے لیے نامزد کر دیئے جاتے تھے، اور ان کوخاص طور پر اسی منصب کے لیے پیدا کیا جاتا تھا، متعدد انبیا کے احوال سے معلوم ہوتی ہے۔ مثلاً حضر ات اسحاق کی پیدائش سے پہلے ہی حضرت ابراہیم ؑ کو ان کی پیدائش اور نبوت کی خوش خبری دے دی جاتی ہے، وَبَشَّرْنٰہُ بِـاِسْحٰقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَo وَبٰرَكْنَا عَلَيْہِ وَعَلٰٓي اِسْحٰقَ۝۰ۭ الصّٰفٰ112-113:37 حضرت یوسف کے متعلق بچپن ہی میں حضرت یعقوب کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو برگزیدہ کرنے اور ابراہیم واسحق علیہماالسلام کی طرح ان پر اپنی نعمت کا اتمام کرنے والا ہے۔ حضرت زکریا بیٹے کے لیے دعا کرتے ہیں تو ان کو حضرت یحییٰ کی خوشخبری ان الفاظ میں دی جاتی ہے کہ اَنَّ اللہَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيٰي مُصَدِّقًۢـا بِكَلِمَۃٍ مِّنَ اللہِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَo آل عمران39:3 حضرت مریم کے پاس خاص طو ر پر فرشتہ بھیجا جاتا ہے کہ ان کو ایک پاک طینت لڑکے (غلام زکی) کی خوشخبری دے، اور جب ان کے وضع حمل کا وقت آتا ہے تو خاص حق تعالیٰ کی طرف سے ان کی زچگی کے انتظامات ہوتے ہیں (ملاحظہ ہو سورۂ مریم رکوع دوم) پھر اس اسرائیلی چرواہے کو بھی دیکھیے جس سے وادیٔ مقدس طویٰ میں بلا کر باتیں کی گئیں۔ وہ بھی عام چرواہوں کی طرح نہ تھا۔ اسے مصر میں خاص طور پر فرعونیت کو تباہ کرنے اور بنی اسرائیل کو غلامی سے نجات دلانے کے لیے پیدا کیا گیا۔ اس کو قتل سے بچانے کے لیے ایک تابوت میں رکھوا کر دریا میں ڈلوایا گیا۔ خاص اُسی فرعون کے گھر میں پہنچایا گیا جس کو وہ تباہ کرنے والا تھا۔ اس کو پیاری صورت دی گئی کہ فرعون کے گھر والوں کے دل میں گھر کرلے وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّۃً مِّنِّيْ طٰہٰ39:20 یہ چندمثالیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیا علیہم السلام خاص طور پر نبوت ہی کے لیے پیدا کیے جاتے تھے۔
۲۔ پھر دیکھیے کہ اس طرح جن لوگوں کو پیدا کیا جاتا ہے وہ عام انسانوں کی طرح نہیں ہوتے بلکہ غیر معمولی قابلیتوں کے ساتھ وجود میں آتے ہیں۔ ان کی فطرت نہایت پاکیزہ ہوتی ہے۔ ان کے ذہن کا سانچہ ایسا ہوتا ہے کہ اس سے جو بات نکلتی ہے، سیدھی نکلتی ہے۔ غلط اندیشی اور کج مبنی کی استعداد ہی ان میں نہیں ہوتی۔ وہ جبلی طور پر ایسے بنائے جاتے ہیں کہ بلا ارادہ اور بلا کسی غور و فکر کے محض حدس اور وجدان (Intuition) سے ان صحیح نتائج پر پہنچ جاتے ہیں جن پر دوسرے انسان غور و فکر کے بعد بھی نہیں پہنچ سکتے۔ ان کے علوم کسبی نہیں ہوتے بلکہ جبلی ووہبی ہوتے ہیں حق اور باطل‘ صحیح اور غلط کا امتیاز ان کی عین سرشت میں ودیعت کیا جاتا ہے۔ وہ فطرتاً صحیح سوچتے ہیں صحیح بولتے ہیں صحیح عمل کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت یعقوب کو دیکھیے! حضرت یوسفؑ کا خواب سنتے ہی ان کے دل میں کھٹک پیدا ہو جاتی ہے کہ اس بچے کو اس کے بھائی جینے نہ دیں گے۔ برادران یوسف ان کو کھیل کے لیے لے جانا چاہتے ہیں تو حضرت یعقوبؑ نہ صرف ان کی بری نیت کو بھانپ جاتے ہیں بلکہ ان کو ٹھیک وہ بہانہ بھی معلوم ہو جاتا ہے جو بعد میں وہ بنانے والے تھے۔ فرماتے ہیںوَاَخَافُ اَنْ يَّاْكُلَہُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْہُ غٰفِلُوْنَo یوسف13:12 پھر جب یوسف کے بھائی خون کا بھرا ہوا کرتہ لاکر دکھاتے ہیں تو حضرت یعقوب ؑ دیکھ کر فرماتے ہیں بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا۝۰ۭ یوسف18:12 اسی طرح جب برادران مصر سے واپس آکر کہتے ہیں کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے اور یقین دلانے کے لیے یہاں تک عرض کرتے ہیں کہ اس بستی کے لوگوں سے پوچھ لیجیے جہاں سے ہم آرہے ہیں تو حضرت یعقوب پھر وہی جواب دیتے ہیں کہ یہ تمھارے نفس کا دھوکہ ہے۔ بیٹوں کو پھر مصر بھیجتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اذْہَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُوْسُفَ وَاَخِيْہِ یوسف87:12 اس کے بعد جب ان کے بیٹے حضرت یوسفؑ کا قمیص لے کر مصر سے چلتے ہیں تو ان کو دُور ہی سے حضرت یوسف ؑ کی خوشبو آنے لگتی ہے۔ ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیا علیہم السلام کی نفسی و روحانی قوتیں کس قدر غیر معمولی ہوتی ہیں۔ یہ صرف حضرت یعقوب ہی کی خصوصیت نہیں۔ تمام انبیا کا یہی حال ہے۔ حضرت یحییٰ کے متعلق ارشاد ہے:
وَاٰتَيْنٰہُ الْحُكْمَ صَبِيًّاo وَّحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَزَكٰوۃً۝۰ۭ مریم13:19
ہم نے بچپن ہی میں اس کو قوت فیصلہ اور رحم دلی اور پاک طنیتی اپنی طرف سے عطا کی۔
حضرت عیسیٰ کی زبان سے گہوارے میں کہلوایا جاتا ہے کہ:
وَّجَعَلَنِيْ مُبٰرَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ۝۰۠ ‎وَاَوْصٰىنِيْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّكٰوۃِ مَا دُمْتُ حَيًّاo وَّبَرًّۢا بِوَالِدَتِيْ۝۰ۡوَلَمْ يَجْعَلْنِيْ جَبَّارًا شَقِيًّاo مریم31-32:19
اور اللہ نے مجھ کو برکت والا بنایا جہاں بھی میں رہوں۔ اور اس نے مجھ کو وصیت کی کہ جب تک جیوں نماز پڑھوں اور زکوٰۃ دوں اور اس نے مجھ کو اپنی ماں کا خدمت گذار بنایا اور مجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا۔
نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا:
وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍo القلم4:68
اور تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو۔
یہ سب ان جبلی اور فطری کمالات کی طرف اشارات ہیں جن کو لے کر انبیا علیہم السلام پیدا ہوتے ہیں۔ پھر حق تعالیٰ ان کی انھی فطری استعدادات کو ترقی دے کر فعلیت کی طرف لے جاتا ہے یہاں تک کہ ان کو وہ چیز عطا کرتا ہے جس کو قرآن میں علم اور حکم (قوت فیصلہ) اور ہدایت اور مبینہ وغیرہ الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حضرت نوح اپنی قوم سے کہتے ہیں:
وَاَعْلَمُ مِنَ اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَo الاعراف62:7
میں خدا کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ملکوت سماوات وارض کا مشاہدہ کرا دیا جاتا ہے (انعام:۹) اور جب وہ اس مشاہدے سے علم یقین لے کر پلٹتے ہیں تو اپنے باپ سے کہتے ہیں:
يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ قَدْ جَاۗءَنِيْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِيْٓ اَہْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّاo مریم 43:19
اے باپ! میرے پاس وہ علم آیا ہے جو تیرے پاس نہیں، لہٰذا میری پیروی کر، میں تجھے سیدھا راستہ بتائوں گا۔
حضرت یعقوبؑ کے متعلق ارشاد ہے:
وَاِنَّہٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰہُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَo یوسف68:12
اور یقیناً وہ وہ علم رکھتا تھا جو ہم نے اس کو تعلیم کیا تھا مگر اکثر لوگ یہ راز نہیں جانتے۔
حضرت یوسفؑ کے حق میں فرمایا:
وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗٓ اٰتَيْنٰہُ حُكْمًا وَّعِلْمًا۝۰ۭ یوسف22:12
اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا تو ہم نے اس کو دانش اور قوت فیصلہ عطا کی۔
یہی بات حضرت موسیٰ کے حق میں بھی فرمائی (قصص:۲) یہی حکم اور علم حضرت لوطؑ کو عطا کیا گیا (انبیاء:۵) اور اسی غیر معمولی علم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی سرفراز ہوئے۔
وَاَنْزَلَ اللہُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ۝۰ۭ النسائ 113:4
قُلْ اِنِّىْ عَلٰي بَيِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّيْ انعام57:6
کہو کہ میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح اور روشن راستے پر ہوں۔
قُلْ ہٰذِہٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللہِ۝۰ۣؔ عَلٰي بَصِيْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ۝۰ۭ یوسف108:12
کہو کہ یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ میں بھی بصیرت پر ہوں اور وہ بھی جو میرے پیروہیں۔
اس علم اور حکم سے نبی اور عام انسانوں کے درمیان اتنا عظیم تفاوت واقع ہو جاتا ہے جتنا ایک آنکھوں والے اور ایک نابینا کے درمیان ہوتا ہے۔
اَتَّبِـــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ۝۰ۭ قُلْ ہَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ۝۰ۭ الانعام50:6
میں تو اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔ کہو اے محمدؐ! کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟
ان آیات میں جس چیز کا ذکر کیا گیا ہے وہ محض کتاب نہیں ہے، بلکہ وہ ایک روشنی ہے جو انبیا علیہم السلام کے نفس میں پیدا کر دی جاتی ہے۔ اسی لیے اس کا ذکرکتاب سے الگ کیا گیا ہے، اور اسے انبیا کی صفت کے طور پر بیان کیاگیا ہے وہ اس روشنی سے حقائق کا عینی مشاہدہ کرتے ہیں، اسی سے غلط اور صحیح میں امتیاز کرتے ہیں، اسی سے معاملات میں فیصلہ کرتے ہیں اور اسی سے ان امور میں نظر کرتے ہیں جو ان کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔ علمائے اسلام نے اسی چیز کا نام وحی خفی رکھا ہے، یعنی وہ اندرونی ہدایت و بصیرت جو ہر وقت ان بزرگوں کو حاصل رہتی تھی اور جس سے وہ ہر موقع پر کام لیتے تھے۔ دوسرے لوگ غور و فکر کے بعد بھی جن باتوں کی تہ کو نہیں پہنچ سکتے اور جن امور میں حق اور صواب معلوم نہیں کرسکتے، ان میں نبی کی نظر اللہ کی دی ہوئی روشنی اور بصیرت کے زور سے آن واحد میں تہ تک پہنچ جاتی تھی۔
۳۔ اس کے بعد قرآن مجید ہم کو بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیا علیہم السلام کو نہ صرف حکمت اور قوت فیصلہ اور غیر معمولی دانش و بینش عطا کی ہے، بلکہ اس کے ساتھ ہی وہ ہمیشہ ان پر خاص نظررکھتا ہے، غلطیوں سے ان کی حفاظت کرتا ہے، گمراہیوں سے ان کو بچاتا ہے۔ خواہ وہ انسانی اثرات کے تحت ہوں یا شیطانی وساوس کے تحت یا خود ان کے اپنے نفس سے پیدا ہوں۔ حتیٰ کہ اگر بہ مقتضائے بشریت کبھی وہ اپنے اجتہاد میں بھی غلطی کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فوراً ان کی اصلاح کر دیتا ہے۔ حضرت یوسف ؑ کے قصے میں دیکھیے۔ جب قریب تھا کہ عزیز مصر کی بیوی ان کو اپنے جال میں پھنسا لے، اللہ تعالیٰ نے اپنی ’’بُرہان‘‘ دکھا کر ان کو بدکاری سے محفوظ کر دیا۔
وَلَقَدْ ہَمَّتْ بِہٖ۝۰ۚ وَہَمَّ بِہَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْہَانَ رَبِّہٖ۝۰ۭ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوْۗءَ وَالْفَحْشَاۗءَ۝۰ۭ اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَo یوسف24:12
اس نے یوسف سے ارادۂ بد کر ڈالا، اور وہ بھی اس کی طرف ارادہ کرتا اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا۔ ایسا ہوا تاکہ ہم اس کو برائی اور بے حیائی سے پھیر دیں کیونکہ وہ ہمارے ان بندوں میں سے تھا جن کو ہم نے اپنے لیے مخصوص کرلیا ہے۔
حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو جب فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا گیا تو انھیں خوف ہوا کہ کہیں فرعون ان پر زیادتی نہ کرے۔ اس پر حق تعالیٰ نے فرمایا کہ کچھ خوف نہ کرو میں تمھارے ساتھ ہوں اور سب کچھ سن اور دیکھ رہا ہوں (طٰہٰ: ۲)خوف بشریت کی بنا پر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بشری کمزوری کو اپنی وحی سے دُور کیا۔
حضرت نوحؑ بیٹے کو ڈوبتے دیکھ کر چیخ اٹھے ’’رَبِّ اِنَّ ابْنِيْ مِنْ اَہْلِيْ ‘‘ ہود45:11 خدایا یہ میرا بیٹا ہے۔ یہ بشری کمزوری تھی۔ اللہ نے اسی وقت یہ حقیقت ان پر واضح کر دی وہ تیرے نطفے سے ہو تو ہوا کرے، مگر تیرے ’’اہل‘‘ سے نہیں، کیونکہ عمل غیر صالح ہے۔ بشریت نے محبت پدری کے جوش میں ذرا سی دیر کے لیے نبی کی نظر سے اس حقیقت کو چھپا دیا تھاکہ حق کے معاملے میں باپ، بیٹا، بھائی کوئی چیز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے اسی وقت آنکھوں پر سے پردہ اٹھا دیا اور حضرت نوح مطمئن ہوگئے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی متعدد مرتبہ ایسے واقعات پیش آچکے ہیں۔ اپنی فطری رحمت و رأفت، کفار کو مسلمان بنانے کی حرص، کفار کی تالیف قلب، لوگوں کے چھوٹے سے چھوٹے احسان کا بدلہ دینے کی کوشش، منافقین کے دلوں میں ایمان کی روح پھونکنے کی خواہش اور کبھی کبھی اقتضائے بشریت کی بنا پر جب کبھی آپ سے کوئی اجتہادی لغزش ہوئی ہے، وحی جلی سے اس کی اصلاح کی گئی ہے۔عَبَسَ وَتَوَلّٰٓيo اَنْ جَاۗءَہُ الْاَعْمٰىo عبس 1:80 مَاكَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰيانفال67:8 عَفَا اللہُ عَنْكَ۝۰ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ التوبہ43:9 اِسْتَغْفِرْ لَہُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْلَہُمْ۝۰ۭ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّۃً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللہُ لَہُمْ۝۰ۭ توبہ80:9 وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا التوبہ84:9
يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللہُ لَكَ۝۰ۚ تحریم66:1 یہ سب آیات اسی امر کی شہادت دیتی ہیں۔ لوگ ان آیات کو اس امر کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غلطیاں سرزد ہوتی تھیں اور آپ غلطیوں سے مبرا نہ تھے۔ خصوصاً حضرات اہل قرآن کو تو ان آیات کے ذریعے سے اللہ کے رسول کی غلطیاں پکڑنے میں خاص مزہ آتا ہے۔ لیکن دراصل یہی تو وہ آیتیں ہیں جن سے صریح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اپنے نبی کو غلطیوں سے بچانے اور اس کی زندگی کو ٹھیٹھ معیار حق پر قائم رکھنے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نےراہ راست اپنے ذمے لے رکھی تھی۔ اور یہ حقیقت صرف مذکورہ بالا آیات ہی میں بیان نہیں ہوئی ہے بلکہ قرآن میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اسے اصولی حیثیت سے بھی بیان فرمایا ہے۔ مثلاً فرمایا:
وَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُہٗ لَہَمَّتْ طَّاۗىِٕفَۃٌ مِّنْھُمْ اَنْ يُّضِلُّوْكَ۝۰ۭ وَمَا يُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَيْءٍ۝۰ۭ وَاَنْزَلَ اللہُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ۝۰ۭ النساء113:4
اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ تم کو راہ راست سے ہٹا دینے کا عزم کر ہی چکا تھا مگر وہ خود اپنے آپ کو بہکانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے اور تمھارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ کیونکہ اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری ہے اور تم کو وہ علم دیا ہے جو تم پہلے نہ جانتے تھے۔
وَاِنْ كَادُوْا لَيَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ لِتَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَہٗ۝۰ۤۖ وَاِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِيْلًاo وَلَوْلَآ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَيْہِمْ شَـيْــــًٔـا قَلِيْلًاo
بنی اسرائیل 73-74:17
قریب تھا کہ وہ تم کو اس بات سے جو ہم نے تم پر وحی کی ہے منحرف کر دیتے تاکہ تم اس کے سوا کچھ اور ہم پر بنالو اور اس وقت وہ تم کو دوست بنا لیتے۔ اگر ہم تم کو ثابت قدم نہ رکھتے تو کسی قدر تم ان کی طرف جھک ہی جاتے۔
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ اِلَّآ اِذَا تَـمَنّٰٓي اَلْقَى الشَّيْطٰنُ فِيْٓ اُمْنِيَّتِہٖ۝۰ۚ فَيَنْسَخُ اللہُ مَا يُلْقِي الشَّيْطٰنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللہُ اٰيٰتِہٖ۝۰ۭ الحج52:22
ہم نے تم سے پہلے جو نبی یا رسول بھیجا ہے اس نے جب کبھی کسی بات کی تمنا کی شیطان نے اس کی تمنا میں وسوسہ ڈال دیا۔ مگر اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ (نبی کے دل میں)شیطان جو وسوسہ بھی ڈالتا ہے اللہ اسے مٹا دیتا ہے اور پھر اپنی آیات کو مضبوط کر دیتا ہے۔
ان اصولی ارشادات سے اور اوپر کی واقعاتی مثالوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زندگی کو ٹھیک ٹھیک معیار مطلوب پر قائم رکھنے کی ذمہ داری خود اپنے اوپر لی ہے اور اس نے اس بات کا سخت اہتمام کیا ہے کہ نبی سے جو لغزش بھی سرزد ہو جائے اس کی فوراً اصلاح کرے، خواہ وہ لغزش کسی ذاتی معاملے میں ہو یا پبلک معاملے میں۔ پھر اگر اصولی طور پر یہ بات مان لی جائے تو اسی سے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ نبی کے جن کاموں پر اللہ تعالیٰ نے گرفت نہیں کی ہے وہ سب کے سب اللہ کے معیار مطلوب پر پورے اُترتے ہیں اور گویا ان پر خود اللہ ہی کی مہرِ ثوثیق ثبت ہے۔
یہاں تک جو کچھ عرض کیا گیا ہے وہ اس امر کی توضیح کے لیے بالکل کافی ہے کہ نبوت کی حقیقت یہ نہیں ہے کہ ایک انسان جو تمام حیثیات سے دوسرے انسانوں جیسا ایک انسان ہو، ایک عمر کو پہنچنے کے بعد یکایک خدا کی طرف سے نزول وحی کے لیے چن لیا جائے، اور بجز اس کتاب کے جو اس پر نازل کی گئی ہو اور کسی بات میں بھی اس کی رائے، اس کے خیالات، اس کے اعمال، اس کے احکام اور اس کے فیصلے غیر نبی انسانوں سے ممتاز نہ ہوں، جیسا کہ نام نہاد اہل قرآن کا گمان ہے۔ یا یہ کہ اس میں اور عام انسانوں میں صرف اتنا ہی فرق ہو کہ تنزیل ِ کتاب کے ساتھ ساتھ اس کو احکام کتاب کی عملی تفصیلات بھی بتا دی گئی ہوں اور اس خاص امتیازی حیثیت سے قطع نظر کرکے وہ محض عام امیروں جیسا ایک امیر اور عام قاضیوں جیسا ایک قاضی اور عام لیڈروں جیسا ایک لیڈر ہو جیسا کہ مولانا اسلم جیراج پوری کا خیال ہے۔ اسی طرح نبوت کی حقیقت یہ بھی نہیں ہے کہ نبی کی ذات بشریہ پر نبوت عارض ہوتی ہے اور اس کے عروض کے بعد بھی نبی کی بشریت اور اس کی نبوت دونوں علیحدہ علیحدہ رہتی ہوں حتیٰ کہ ہم اس کی زندگی کو دو مختلف شعبوں میں تقسیم کرکے صرف اس شعبے کو اطاعت و اتباع کے لیے منتخب کرسکیں جو نبوت سے تعلق رکھتا ہے، جیسا کہ ہمارے دوست چودھری غلام احمد صاحب پرویز کا خیال ہے: یہ تینوں خیالات بے اصل ہیں۔ ان کے برعکس قرآن مجید سے نبوت کی حقیقت پر جو روشنی پڑتی ہے اس سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ نبی اپنی پیدائش اور پرورش کے مراحل سے گزرنے کے بعد نبوت کے لیے منتخب نہیں کیا جاتا ہے بلکہ وہ کار نبوت ہی کے لیے پیدا کیا جاتا ہے۔ وہ اگرچہ بشر ہی ہوتا ہے اور ان تمام حدود سے محدود ہوا کرتا ہے جو حق تعالیٰ نے فطرت بشریہ کے لیے مقرر فرمائی ہیں، لیکن ان حدود کے اندر اس کی بشریت آخری اور انتہا درجے کی کامل و اکمل بشریت ہوتی ہے جس میں وہ تمام قوتیں بدرجہ اتم موجود ہوتی ہیں جو زیادہ سے زیادہ ایک انسان کو حاصل ہونی ممکن ہیں۔ اس کے جسمانی، نفسانی اور عقلی و روحانی قویٰ عدل و تسویہ (balance and moderation) کے انتہائی مقام پر ہوتے ہیں۔ اس کے ادر اکات اتنے لطیف ہوتے ہیں کہ وہ بلا کسی غور و فکر کے اپنے وجدان سے اس الہام الٰہی کو پالیتا ہے جس کی طرف فَاَلْھَہَاَ فُجُورْھَاَ وَتَقُوٰھَا میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اس کی فطرت اتنی صحیح ہوتی ہے کہ وہ کسی خارجی تعلیم و تربیت کے بغیر صرف اپنے میل طبعی سے فجور کی راہ چھوڑ کر تقویٰ کی راہ اختیار کرتا ہے۔ اس کا قلب اتنا سلیم ہوتا ہے کہ وہ ہر معاملے میں جو اس کے سامنے آئے اس الٰہی ہدایت کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لیتا ہے جس کی طرف وَھَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ میں اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اس کے قلب کی سلامت اور اس کی فطرت کی صحت اس کو خود بخود ان راستوں سے ہٹا دیتی ہے جو رضائے الٰہی کے خلاف ہیں۔ اور وہ آپ سے آپ ان راستوں پر چلتا ہے جو مرضات الٰہی کے عین مطابق ہیں۔ یہی کامل و اکمل بشریت ہے جس کے ساتھ وہ صحیح معنوں میں بالفعل خدا کا خلیفہ ہوتا ہے اور یہی چیز ہے جو اپنی پختگی اور اپنے کمال کو پہنچ جانے کے بعد ہدایت عام کے منصب پر سرفراز کی جاتی ہے، حق تعالیٰ کی جانب سے علم کی مزید روشنی پا کر سراج منیر بنتی ہے، مصالح عامہ بشریہ کے لیے تعلیمات اور احکام کا مہبط قرار پاتی ہے، اور اصطلاح میں نبوت و رسالت سے موسوم ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ سمجھنا صحیح نہیں ہے کہ نبوت ایک عرض ہے جو ایک خاص وقت میں نبی کے جوہر انسانیت پر عارض ہوتا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہی انسانیت کاملہ کا جوہر ہے جو نبوت کی استعداد کے ساتھ پیدا کیا جاتا ہے اور فعلیت کی طرف ترقی کرتے کرتے آخر کار نبوت بنا دیا جاتا ہے۔ نبوت کا منصب ایسا نہیں ہے کہ ایک انسان تھا جو وائسرائے بنا دیا گیا، حتیٰ کہ اگر اس کی جگہ کوئی دوسرا انسان ہوتا تو وہ بھی اسی کی طرح وائسرائے بنا دیا جاسکتا تھا، بلکہ دراصل نبوت ایک پیدائشی چیز ہے، اور نبی کی حیثیت ذاتی ہی اس کی حیثیت نبوی ہے۔ فرق اگر ہے تو صرف اتنا ہے کہ بعثت سے قبل اس کی حیثیت نبوی بالقوۃ ہوتی ہے اور بعثت کے بعد بالفعل ہو جاتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے میٹھا پھل، کہ وہ بالذات میٹھا پھل ہی پیدا ہوا ہے، لیکن اس کی مٹھاس پختگی کی ایک خاص حد پر پہنچ کر ہی ظاہر ہوتی ہے۔
اب ان آیات کا مفہوم اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبوت اور ذات نبوی کے حق میں متعدد مقامات پر ارشاد فرمائی ہیں۔ میں توضیح مدّعا کے لیے ان آیات کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ مرتب کرکے نقل کرتا ہوں:
(۱) وَمَا كَانَ اللہُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَي الْغَيْبِ وَلٰكِنَّ اللہَ يَجْتَبِىْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ يَّشَاۗءُ۝۰۠ فَاٰمِنُوْا بِاللہِ وَرُسُلِہٖ۝۰ۚ آل عمران179:3
اللہ کا یہ قاعدہ نہیں ہے کہ تم کو براہ راست غیب کا علم دے بلکہ وہ اس کام کے لیے اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے۔ پس ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔
(۲)وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۭ النساء64:4
اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے اذن ۱؎سے۔
(۳) مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۝۰ۚ النساء80:4
جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی۔
(۴) وَالنَّجْمِ اِذَا ہَوٰىo مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰىo وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰىo اِنْ ہُوَاِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰىo النجم 1-4:53
تارے کی قسم جب ہ ٹوٹتا ہے، تمھارا صاحب (یعنی نبی) نہ گم کردہ راہ ہے اور نہ کج راہ، اور نہ وہ ہوائے نفس سے بولتا ہے۔ وہ صرف وحی ہے جو اس پر کی جاتی ہے۔
(۵) اِنْ اَتَّبِـــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ۝۰ۭ انعام50:6
میں صرف اس وحی کا اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر کی جاتی ہے۔
(۶) لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ احزاب21:33
تمھارے لیے رسول خدا میں ایک اچھا نمونہ ہے۔
(۷) قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ آل عمران31:3
اے محمد! کہہ دو کہ اگر تم کو خدا سے محبت ہے تو میرا اتباع کرو۔ اللہ تم سے محبت کرے گا۔
(۸) اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَى اللہِ وَرَسُوْلِہٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَہُمْ اَنْ يَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۝۰ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَo النور51:24
اہل ایمان کاکام تو یہ ہے کہ جب ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ (رسول) ان کے درمیان فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا۔ ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں…… اور اگر تم اس کی (یعنی رسول کی) اطاعت کرو گے تو ہدایت پائو گے۔
(۹) فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًاo النساء65:4
پس قسم ہے تیرے پروردگار کی، نہیں وہ ہرگز مومن نہیں ہیں جب تک کہ وہ اپنے آپس کے جھگڑے میں تجھ کو فیصلہ کرنے والا نہ بنائیں، پھر تو جو فیصلہ کرے اس سے اپنے دلوں میں کوئی تنگی بھی نہ پائیں بلکہ سربسر تسلیم کرلیں۔
(۱۰) وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَى اللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَہُمُ الْخِـيَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ۝۰ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًاo
احزاب 36:33
کسی مومن مرد یا عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ کردے تو اس کے لیے اپنے معاملے میں خود کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار باقی رہے۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ کھلی گمراہی میں پڑ گیا۔
ان آیات پر غور کیجیے تو تمام حقیقت آپ پر کھل جائے گی۔
(۱) پہلی آیت میں نبی اور عام انسانوں کے درمیان فرق ظاہر کیاگیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ نبی پر ایمان لانا کیوں ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ ہے کہ اپنے غیب ۱؎ کا علم ہر انسان پر فرداً فرداً ظاہر نہیں کرتا بلکہ اپنے بندوں میں سے کسی خاص بندے پر ظاہر کرتا ہے، اس لیے عام انسانوں پر لازم ہے کہ وہ اس بندے پر ایمان لائیں۔
(۲) دوسری آیت میں بتایا گیا ہے کہ رسول پر ایمان لانے کا مدعا یہی نہیں ہے کہ اس کو رسول خدا مان لیا جائے، اس کے ساتھ رسول کی اطاعت بھی ضروری ہے۔ یہ اطاعت کا حکم نہ صرف اس آیت میں، بلکہ قرآن کریم میں جہاں جہاں بھی دیا گیا ہے، مطلق ہے، مقید نہیں ہے۔ کسی ایک جگہ بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ رسول کی اطاعت فلاں فلاں امور میں ہے اور ان امور کے سوا کسی دوسرے امر میں نہیں ہے۔ پس قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سے اس کا رسول ایک حاکم عام ہے۔ جو حکم بھی وہ دے، مومنوں پر اس کا ماننا لازم ہے۔ یہ خود رسول کے اپنے اختیار میں ہے کہ الٰہی ہدایت کے ماتحت اپنی حکومت کے اقتدار کو مخصوص حدود کے اندر محدود کر دے، اور ان حدود سے باہر لوگوں کو رائے اور عمل کی آزادی بخش دے۔ لیکن مومنوں کو یہ حق ہرگز نہیں دیا گیا کہ وہ خود رسول کے اختیارات کی حد بندی کر دیں۔ وہ تو قطعاً محکوم و مامور ہیں۔ اگر رسول ان کو زراعت اور نجاری اور حدّادی وغیرہ کے طریقوں میں سے بھی کسی خاص طریقے کو اختیار کرنے کا حکم دیتا تو ان کا فرض یہی تھا کہ بے چون و چرا اس کے حکم کی اطاعت کرتے۔
(۳)جب اطاعت غیر مشروط اور غیر محدود کا حکم دے دیا گیا تو یہ اطمینان دلانا بھی ضروری تھا کہ نبی کی اطاعت، اپنے جیسے ایک انسان کی اطاعت نہیں ہے، جیسا کہ جاہل کفار کا خیال تھا۔ جوکہتے تھے کہ ہَلْ ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ۝۰ۚ الانبیاء21:3 کیا یہ تمھی جیسا ایک بشر نہیں ہے؟‘‘ اور مَا ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ۝۰ۙ يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ۝۰ۭ المومنون24:23 کچھ نہیں ہے مگر تمھارے ہی جیسا ایک بشر، اور اس پر یہ چاہتا ہے کہ تم پر فضیلت حاصل کرلے۔ اور وَلَىِٕنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ۝۰ۙ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَo المومنون34:23 اگر تم نے اپنے جیسے ایک بشر کی اطاعت کی تو تم ضرور ٹوٹے میں رہوگے، بلکہ دراصل یہ خدا کی اطاعت ہے، کیونکہ نبی جو کچھ کہتا ہے خدا کی طرف سے کہتا ہے اور جو کچھ عمل کرتا ہے خدا کی ہدایت کے ماتحت کرتا ہے، وہ خود اپنے نفس کی خواہش سے کوئی بات نہیں کرتا بلکہ خدا کی وحی کا اتباع کرتا ہے، اس لیے تم کو مطمئن ہو جانا چاہیے کہ اس کی پیروی میں کسی قسم کی گمراہی اور غلط روی کا خطرہ نہیں ہے۔
یہی بات ہے جو تیسری، چوتھی اور پانچویں آیت میں بیان کی گئی ہے۔ چوتھی اور پانچویں آیت میں جس چیز کو وحی کہا گیا ہے اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد کتاب اللہ ہے اور کتاب کے سوا کوئی وحی نبی پر نازل نہیں ہوتی لیکن یہ خیال قطعاً غلط ہے۔ قرآن مجید سے ثابت ہے کہ انبیا علیہم السلام پر صرف کتاب ہی نازل نہیں کی جاتی تھی بلکہ ان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ ہمیشہ وحی نازل کرتا رہتا تھا اور اسی وحی کی روشنی میں وہ سیدھی راہ چلتے تھے، معاملات میں صائب رائے قائم کرتے تھے، اور تدبیریں عمل میں لاتے تھے۔ مثال کے طور پر دیکھیے۔ نوح علیہ السلام طوفان کی پیش بندی کے لیے اللہ کی نگرانی میں اور اس کی وحی کے ماتحت کشتی بناتے ہیں وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا ہود37:11 حضرت ابراہیم کو ملکوت سمٰوات و ارض کا مشاہدہ کرایا جاتا ہے اور مردوں کو زندہ کرنے کی کیفیت دکھائی جاتی ہے۔ حضرت یوسف کو خوابوں کی تعبیر بتائی جاتی ہے ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ۝۰ۭ یوسف37:12 حضرت موسیٰ سے طور پر باتیں کی جاتی ہیں۔ پوچھا جاتا ہے کہ یہ تمھارے ہاتھ میں کیا ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ میری لاٹھی ہے، اس سے بکریاں چراتا ہوں۔ حکم ہوتا ہے کہ اس کو پھینک دو۔ جب لاٹھی اژدہا بن جاتی ہے اور حضرت موسیٰ ڈر کر بھاگتے ہیں تو فرمایا جاتا ہے يٰمُوْسٰٓي اَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ ۝۰ۣ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِيْنَo القصص31:28 ’’موسیٰ ڈرو نہیں، آگے بڑھو، تم امن میں ہو‘‘ پھر حکم دیا جاتا ہےاِذْہَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰيo طٰہٰ24:20 فرعون کی طرف جائو وہ سرکش ہوگیا ہے۔ وہ اپنی مدد کے لیے ہارون علیہ السلام کو مانگتے ہیں اور یہ درخواست قبول کی جاتی ہے۔ دونوں بھائی فرعون کے پاس جاتے ہوئے ڈرتے ہیں تو ارشاد ہوتا ہے لَا تَخَافَآ اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰىo طٰہ46:20 ’’ڈرو نہیں‘ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں اور سنتا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔‘‘ فرعون کے دربار میں سانپوں کو دیکھ کر حضرت موسیٰ ڈرتے ہیں تو وحی آتی ہے لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰىo طٰہٰ68:20 ’’مت ڈرو، تمھارا ہی بول بالا ہوگا۔‘‘ جب فرعون پر اتمام حجت ہوچکتا ہے تو ان کو حکم دیا جاتا ہے کہ اَسْرِ بِعِبَادِيْٓ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَo الشعراء52:26 ’’میرے بندوں کو لے کر راتوں رات چل پڑو، تمھارا تعاقب کیا جائے گا‘‘۔ دریا پر پہنچتے ہیں تو فرمان آتا ہے اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ۝۰ۭ الشعراء63:26 ’’دریا پر اپنا عصا مارو‘‘۔ کیا ان میں سے کوئی وحی بھی ایسی ہے جو کتاب کی صورت میں ہدایت عامہ کے لیے نازل ہوئی ہو؟ یہ مثالیں اس امر کے ثبوت میں کافی ہیں کہ انبیا علیہم السلام کی طرف اللہ تعالیٰ متوجہ رہتا ہے اور ہر ایسے موقع پر جہاں بشری فکر ورائے کی غلطی کرنے کا امکان ہو اپنی وحی سے ان کی رہنمائی کرتا رہتا ہے اور یہ وحی اس وحی سے ماسوا ہوتی ہے جو ہدایت عام کے لیے ان کے واسطے سے بھیجی جاتی اور کتاب میں ثبت کی جاتی ہے تاکہ لوگوں کے لیے ایک الٰہی ہدایت نامے اور دستور العمل کاکام دے۔
ایسی ہی وحی غیر متلو اور وحی خفی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی نازل ہوتی تھی جس کی طرف قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اشارے کیے گئے ہیں۔ حضور انورؐ نے پہلے بیت المقدس کو قبلہ بنایا تھا۔ اس کے متعلق کوئی حکم کتاب اللہ میں نہیں آیا۔ مگر جب اس قبلے کو منسوخ کرکے بیت الحرام کو قبلہ بنانے کا حکم دیا گیا اس وقت ارشاد ہوا:
وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِىْ كُنْتَ عَلَيْہَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰي عَقِبَيْہِ۝۰ۭ البقرہ143:2
جس قبلے پر تم تھے اس کو ہم نے صرف اس لیے مقرر کیا تھا کہ رسول کا اتباع کرنے والے اور اتباع سے منہ موڑنے والے کے درمیان امتیاز ہو جائے۔
اس سے معلوم ہوا کہ پہلے جو بیت المقدس کو قبلہ بنایا گیا تھا، وہ وحی کی بنا پر تھا۔
جنگ اُحد کے موقع پر حضورؐ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمھاری مدد کے لیے فرشتے بھیجے گا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کے اس ارشاد کا ذکر قرآن میں اس طرح فرمایا:
وَمَا جَعَلَہُ اللہُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ آل عمران126:3
اللہ نے اس وعدے کو تمھارے لیے خوشخبری بنایا۔
ظاہر ہوا کہ یہ وعدہ اللہ کی طرف سے تھا۔
جنگ اُحد کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر ثانیہ کے لیے لوگوں کو نکلنے کا حکم دیا۔ یہ حکم قرآن میں کہیں نہیں آیا۔ مگر اللہ نے بعد میں تصدیق کی کہ یہ بھی اسی کی جانب سے تھا۔
اَلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِلہِ وَالرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ۝۰ۭۛ آل عمران172:3
جن لوگوں نے لڑائی میں زخم کھانے کے بعد پھر اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہا۔
جنگ بدر کے موقع پر حضورؐ کے مدینے سے نکلنے کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا گیا ہے:
كَـمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ۝۰۠ الانفال8:5
جس طرح تیرے رب نے تجھے تیرے گھر سے نکالا۔
گھر سے نکلنے کا حکم قرآن میں نہیں آیا، مگر بعد میں اللہ نے تصدیق فرمائی کہ یہ خروج اس کے حکم سے تھا نہ کہ اپنی رائے سے۔
پھر عین جنگ کے موقع پر اللہ نے اپنے نبی کو خواب دکھایا:
اِذْ يُرِيْكَہُمُ اللہُ فِيْ مَنَامِكَ قَلِيْلًا۝۰ۭ الانفال43:8
جب کہ اللہ ان کو قلیل بنا کر تیرے خواب میں تجھے دکھا رہا تھا۔
منافقین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم صدقات پر ناک بھوں چڑھائی تو اللہ نے اس حقیقت پر سے پردہ اٹھایا کہ یہ تقسیم خود حضرت حق کے ارشاد سے عمل میں آئی تھی۔
وَلَوْ اَنَّہُمْ رَضُوْا مَآ اٰتٰىہُمُ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ۝۰ۙ التوبہ59:9
اگر وہ راضی ہو جاتے اس حصے پر جو اللہ اور اس کے رسول نے ان کو دیا۔
صلح حدیبیہ کے موقع پر تمام صحابہ صلح کے مخالف تھے، اور صلح کی شرائط ہر شخص کو ناقابل قبول نظر آتی تھیں مگر اللہ کے نبی نے ان کو قبول کیا، اور اللہ نے بعد میں تصدیق کی کہ یہ صلح اسی کی جانب سے تھی۔
اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًاo الفتح48:1
ہم نے تجھ کو فتح مبین عطا کی۔
آیات کے تتبع سے اس قسم کی اور بھی بہت سی مثالیں مل سکتی ہیں۔ مگر یہاں استقصا مقصود نہیں ہے۔ صرف یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ اللہ کا تعلق اپنے انبیا کے ساتھ کوئی عارضی اور موقتی تعلق نہیں ہے کہ جب کبھی اس کو اپنے بندوں تک کوئی پیغام پہنچانا ہو بس اسی وقت یہ تعلق بھی قائم ہو اور اس کے بعد منقطع ہو جائے۔ بلکہ دراصل حق تعالیٰ جس شخص کو اپنی پیغمبری کے لیے منتخب فرماتا ہے اس کی طرف وہ ہمیشہ ایک توجہ خاص کے ساتھ متوجہ رہتا ہے اور دائماً اپنی وحی سے اس کی ہدایت و رہنمائی فرماتا رہتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی میں ٹھیک ٹھیک راہ راست پر گامزن رہے، اور اس سے کوئی ایسا قول یا فعل صادر نہ ہونے پائے جو مرضات الٰہی کے خلاف ہو۔ سورۂ نجم کی ابتدائی آیات میں جو کچھ ارشاد ہوا ہے وہ دراصل اسی حقیقت کا اظہار ہے۔ اور جیسا کہ میں اس مضمون کے پہلے حصے میں عرض کر چکا ہوں، یہ بات بھی قرآن نے کھول کر بیان کر دی ہے کہ انبیا پر ہمیشہ اللہ کی نگرانی رہتی ہے، ان کو غلط روی سے محفوظ رکھا جاتا ہے، اور اگر باقتضائے بشریت ان سے کبھی کوئی لغزش ہوتی ہے، یا وحی خفی کے لطیف اشارے کو سمجھنے میں وہ کبھی غلطی کرتے ہیں، یا اپنے اجتہاد سے کوئی ایسی روش اختیار کر جاتے ہیں جو مرضات الٰہی سے یک سر مُو بھی ہٹی ہوئی ہو تو اللہ تعالیٰ فوراً ان کی اصلاح کرتا ہے اور تنبیہ کرکے سیدھے رستے پر لے آتا ہے۔ قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیائے کرام کی لغزشوں اور ان پر اللہ تعالیٰ کی تنبیہوں کا جو ذکر آیا ہے، اس کا ہرگز یہ منشا نہیں کہ لوگوں کے دلوں سے انبیا علیہم السلام کا اعتماد اٹھ جائے اور لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ جب انبیا بھی ہماری ہی طرح نعوذ باللہ غلط کار ہیں تو ان کے احکام کی اطاعت اور ان کی روش کی پیروی کامل اطمینان کے ساتھ کیسے کی جاسکتی ہے بلکہ اس ذکر سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیا کوہوائے نفس کا اتباع کرنے یا اپنی رائے اور بشری اجتہاد پر چلنے کے لیے آزاد نہیں چھوڑ دیا ہے۔ وہ چونکہ اس کی طرف سے اس کے بندوں کی رہنمائی کے لیے مامور کیے گئے ہیں، اس لیے ان پر یہ پابندی عائد کر دی گئی ہے کہ دائماً اس کی ہدایت پر کار بند رہیں اور اپنی زندگی کے کسی چھوٹے سے چھوٹے کام میں بھی اس کی رضا کے خلاف عمل نہ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں بعض ایسی باتوں پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنبیہ کی گئی ہے جو عام انسانی زندگی میں قطعاً کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ مثلاً کسی انسان کا شہد کھانا یا نہ کھانا، اور کسی اندھے کی طرف توجہ نہ کرنا اور اس کے دخل در معقولات پر چیں بہ جبیں ہو جانا، یا کسی کے لیے دعائے مغفرت کرنا، کون سا ایسا اہم واقعہ تھا؟ مگر اللہ نے اپنے نبی کو ایسے چھوٹے معاملات میں بھی اپنی رائے یا دوسروں کی مرضی پر چلنے نہ دیا۔ اسی طرح جنگ کی شرکت سے کسی کو معاف کر دینا اور بعض قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دینا ایک امیر کی زندگی میں محض ایک معمولی واقعہ ہے، مگر نبی کی زندگی میں یہی واقعہ اتنا اہم بن جاتا ہے کہ اس پر وحی جلی کے ذریعے سے تنبیہ کی جاتی ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ اللہ کے نبی کی حیثیت عام امرا کی سی نہیں ہے کہ وہ اپنے اجتہاد پر عمل کرنے میں آزاد ہو، بلکہ منصب نبوت پر مامور ہونے کی وجہ سے نبی کے لیے لازم ہے کہ اس کا اجتہاد بھی ٹھیک ٹھیک منشائے الٰہی کے مطابق ہو۔ اگر وہ اپنے اجتہاد میں وحی خفی کے اشارے کو نہ سمجھ کر مرضی الٰہی کے خلاف بال برابر بھی جنبش کرتا ہے تو اللہ وحی جلی سے اس کی اصطلاح کرنا ضروری سمجھتا ہے۔
(۴)اللہ نے اپنے نبی کی اس خصوصیت کو ہمارے سامنے اسی لیے بیان فرمایا ہے کہ ہم کو اس کے نبی کی راست روی پر کامل اعتماد ہو اور ہم پورے وثوق کے ساتھ یقین رکھیں کہ نبی کا قول اور عمل گمراہی اور کج راہی اور اتباع ہوا اور بشری فکر و رائے کی غلطیوں سے قطعاً محفوظ ہے۔ زندگی میں اس کا قدم مضبوطی کے ساتھ اس صراط مستقیم پر جما ہوا ہے جو ٹھیک ٹھیک خدا کی بتائی ہوئی ہے‘ اس کی سیرت پاک اسلامی سیرت کا ایک ایسا معیاری نمونہ ہے جس میں کسی نقص کا شائبہ تک نہیں ہے۔ اور اللہ نے خاص طور پر اس کامل و اکمل نمونے کو اسی لیے بنایا ہے کہ اس کے بندوں میں سے جو کوئی اس کا مقبول و محبوب بندہ بننا چاہے وہ بے خطر اسی کی پیروی کرے۔ اس مقصد کو چھٹی اور ساتویں آیت میں کھول دیا گیا ہے۔ چھٹی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ تمھارے لیے رسول اللہ میں ایک ’’اسوۂ حسنہ‘‘ ہے۔ اور ساتویں آیت میں رسول اللہ کے اتباع کو محبوب الٰہی بننے کا واحد ذریعہ بنایا گیا ہے۔
یہاں پھر ہم کو کسی قسم کی تخصیص و تحدید نظر نہیں آتی۔ صریح تعمیم و اطلاق ہے۔ رسول اللہ کی ذات کو مطلقاً اسوۂ حسنہ بتایا گیا ہے اور مطلقاً ہی آپ کے اتباع کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جس قدر زیادہ آپ کا اتباع کرو گے، اور اپنی زندگی میں سیرت پاک کا رنگ جتنا زیادہ پیدا کرو گے ، اتنا ہی تقرب تم کو بارگاہ الٰہی میں حاصل ہوگا، اور حق تعالیٰ اتنا ہی تم کو پیار کرے گا۔
مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو نمونہ قرار دینے اور آپ کے اتباع کا حکم دینے سے یہ مراد نہیں ہے کہ تمام معاملات زندگی میں آپ نے جو کچھ کیا ہے اور جس طرح کیا ہے سب انسان بعینہٖ وہی فعل اسی طرح کریں، اور اپنی زندگی میں آپؐ کی حیات طیبہ کی ایسی نقل اتاریں کہ اصل اور نقل میں کوئی فرق نہ رہے یہ مقصد نہ قرآن کا ہے، نہ ہوسکتا ہے۔ دراصل یہ ایک عام اور اجمالی حکم ہے جس پر عمل کرنے کی صحیح صورت ہم کو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طریقے سے معلوم ہو جاتی ہے۔ یہاں اس کی تفصیل کا موقع نہیں۔ مجملاً میں عرض کرتا ہوں کہ جو امور فرائض و واجبات اور ارکان اسلام کی حیثیت رکھتے ہیں ان میں تو حضورؐ کے ارشادات کی اطاعت اور آپ کے عمل کی پیروی طابق النعل بالنعل کرنی ضروری ہے، مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور طہارت وغیرہ مسائل کہ ان میں جو کچھ آپ نے حکم دیا ہے اور جس طرح خود عمل کرکے بتایا ہے اس کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرنی لازم ہے۔ رہے وہ امور جو اسلامی زندگی کی عام ہدایات سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً تمدنی، معاشی، اور سیاسی معاملات، اور معاشرت کے جزئیات، تو ان میں بعض چیزیں ایسی ہیں جن کا حضورؐ نے حکم دیا ہے یا جن سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے، بعض ایسی ہیں جن میں آپ نے اخلاق اور حکمت اور شائستگی کی تعلیم دی ہے، اور بعض ایسی ہیں جن کو پیش نظر رکھ کر ہم یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ عمل کے مختلف طریقوں میں سے کون سا طریقہ روح اسلامی سے مطابقت رکھتا ہے۔ پس اگر کوئی شخص نیک نیتی کے ساتھ حضورؐ کا اتباع کرنا چاہے اور اسی غرض سے آپ کی سنت کا مطالعہ کرے تو اس کے لیے یہ معلوم کرنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ کن امور میں آپ کا اتباع طابق النعل بالنعل ہونا چاہیے، کن امور میں آپ کی سنت سے اخلاق و حکمت اور خیر و صلاح کے عام اصول مستنبط کرنے چاہییں۔ مگر جن لوگوں کی طبیعت نزاع پسند واقع ہوئی ہے وہ اس میں طرح طرح کی حجتیں نکالتے ہیں۔ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عربی بولتے تھے تو کیا ہم بھی عربی بولیں؟ آپ نے عرب عورتوں سے شادیاں کیں تو کیا ہم بھی عربوں ہی میں شادیاں کریں؟ آپ ایک خاص وضع کا لباس پہنتے تھے تو کیا ہم بھی ویسا ہی لباس پہنیں؟ آپ ایک خاص قسم کی غذا کھاتے تھے تو کیا ہم بھی وہی غذا کھائیں؟ آپ کی معاشرت کا ایک خاص طریقہ تھا تو کیا ہم بھی بعینہٖ ویسی ہی معاشرت اختیار کریں؟ کاش یہ لوگ غور کرتے کہ اصل چیز وہ زبان نہیں ہے جو آپ بولتے تھے بلکہ وہ اخلاقی حدود ہیں جن کی پابندی کو حضورؐ نے ہمیشہ کلام میں ملحوظ رکھا۔ اصل چیز یہ نہیں ہے کہ شادی عرب عورت سے کی جائے یا غیر عرب سے بلکہ یہ ہے کہ جس عورت سے بھی کی جائے اس کے ساتھ ہمارا معاملہ کیسا ہو، اس کے حقوق ہم کس طرح ادا کریں، اور اپنے جائز شرعی اختیارات کو اس پر کس طرح استعمال کریں۔ اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو برتائو اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ تھا اس سے بہتر نمونہ ایک مسلمان کی خانگی زندگی کے لیے اور کون سا ہوسکتا ہے۔ پھر یہ کس نے کہا کہ آپ جس وضع کا لباس پہنتے تھے وہی مشروع لباس ہے؟ اور جو کھانا آپ کھاتے تھے بعینہٖ وہی کھانا ہر مسلمان کو کھانا چاہیے؟ اصل میں اتباع کے قابل جو چیز ہے وہ تو تقویٰ اور پاکیزگی کے وہ حدود ہیں جو آپ اپنے کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے میں ملحوظ رکھتے تھے۔ انھی حدود سے ہم کو معلوم ہوسکتا ہے کہ رہبانیت اور نفس پرستی کے درمیان جس معتدل روش کا ہم کو قرآن میں ایک مجمل سبق دیا گیا ہے اور اس پر ہم کس طرح عمل کریں کہ نہ تو طیبات سے ناروا اجتناب ہو اور نہ اسراف۔ یہی حال حضورؐ کی پرائیویٹ اور پبلک زندگی کے دوسرے تمام معاملات کا بھی ہے۔ وہ پاک زندگی پوری کی پوری ایک سچے اور خدا ترس مسلمان کی زندگی کا معیاری نمونہ تھی۔ حضرت عائشہ نے سچ فرمایا کہ کَانَ خُلُقُہٗ الْقُرْآنُ۔ اگر تم کو معلوم کرنا ہو کہ قرآن کی تعلیم اور اسپرٹ کے مطابق ایک مومن انسان کو دنیا میں کس طرح زندگی بسر کرنی چاہیے، تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو دیکھ لو۔ جو اسلام خدا کی کتاب میں مجمل ہے وہی رسول خدا کی ذات میں تم کو مفصل نظر آئے گا۔
الحمدللہ کہ ہمارے دوست چودھری غلام احمد صاحب ان لوگوں کے ہم خیال نہیں ہیں، مگر بعض احادیث سے ان کو یہ شبہ ہوگیا ہے کہ ’’حضور ہر آن اور ہر حال میں رسول نہیں ہوتے تھے اور آپ کا ہر قول اور ہر فعل بہ حیثیت رسول نہیں ہوتا تھا۔‘‘ یہ غلط فہمی جن روایات سے پیدا ہوتی ہے وہ دراصل ایک دوسری حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر آن اور ہر حال میں خدا کے رسول ہی تھے، اور یہ شان رسالت ہی تھی کہ آپ ہمیشہ اس مقصد کو پیش نظر رکھتے تھے جس کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا۔ آپ کی بعثت کا مقصد یہ تو نہ تھا کہ لوگوں سے رائے اور عمل کی آزادی قطعاً سلب کر لیں اور ان کی عقل و فکر کو معطل کر دیں۔ نہ آپ دنیا کو زراعت اور صنعت و حرفت سکھانے آئے تھے۔ نہ آپ کو اس لیے بھیجا گیا تھا کہ لوگوں کے کاروبار اور ان کے ذاتی معاملات میں ان کی رہنمائی فرمائیں۔ آپؐ کی زندگی کا مقصد صرف ایک تھا اور وہ اسلام کو عقیدے کی حیثیت سے دلوں میں بٹھانا اور عمل کی حیثیت سے افراد کی سیرت اور سوسائٹی کے نظام میں نافذ کر دینا تھا۔ اس مقصد کے سوا دوسری کسی چیز کی طرف حضورؐ نے کبھی توجہ نہیں فرمائی۔ اور اگر شاذ و نادر کسی موقع پر کچھ فرمایا بھی تو صاف کہہ دیا کہ تم اپنی رائے اور عمل میں آزاد ہو، جس طرح چاہو کرو واَنْتُمْ اَعْلَمُ بِاُمُوْرِدُنْیَاکُمْ۔ اگرچہ صحابہ کرام آپ کے ہر ارشاد کو رسول کا ارشاد سمجھ کر بہ دِل و جان اس کی اطاعت پر آمادہ تھے، اور آپ کو مطلقاً مُطاع و متبوع سمجھتے تھے، اور اسی لیے جب کبھی حضورؐ کسی دنیوی مسئلے میں بھی کچھ ارشاد فرماتے تو صحابہ کو شبہ گزرتا تھا کہ شاید یہ حکم رسالت ہو، لیکن کبھی ایسا نہ ہوا کہ آپؐ نے کسی ایسے مسئلے میں، جو آپ کے مقصد بعثت سے متعلق نہ تھا، صحابہ کو کوئی حکم دیا ہو اور انھیں اطاعت پر مجبور کیا ہو۔ ۲۳ سال کی مدت میں ایک لمحے کے لیے بھی اپنے مشن سے غافل نہ ہونا، اور ہر آن اس باریک فرق کو ملحوظ رکھنا کہ کون سا معاملہ اس مشن سے تعلق رکھتا ہے اور کون سا نہیں رکھتا، اور اپنے متبعین پر کامل اقتدار رکھنے کے باوجود کبھی ان کو کسی غیر متعلق امر میں حکم نہ دینا خود اس بات پر شاہد ہے کہ شان رسالت کسی وقت بھی حضورؐ سے منفک نہ ہوتی تھی۔ مگر یہ خیال کرنا صحیح نہ ہوگا کہ دنیوی معاملات میں جو کچھ حضورؐ نے فرمایا وہ خدا کی وحی سے نہ تھا۔ اگرچہ آپ کے ایسے ارشادات آپ کے احکام نہیں ہیں، نہ آپ نے ان کو حکم کے انداز میں فرمایا، اور نہ کسی نے ان کو حکم سمجھا، مگر پھر بھی جو بات آپ کی زبان مبارک سے نکلی وہ سراسر حق تھی، اور غلطی کا اس میں شائبہ تک نہ تھا۔ مثال کے طور پر طب نبوی کے باب میں جو کچھ آپ سے ثابت ہے وہ ایسی ایسی حکیمانہ باتوں سے لبریز ہے جن کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ عرب کا امی جو طبیب نہ تھا جس نے کبھی فن طب کی تحقیق نہ کی تھی، وہ کس طرح اس فن کی حقیقتوں تک پہنچا، جو صدیوں کے تجربات کے بعد اب منکشف ہو رہی ہیں۔ اس قسم کی سینکڑوں مثالیں ہم کو حضورؐ کے حکیمانہ ارشادات میں ملتی ہیں۔ اگرچہ یہ باتیں بقول آپ کے تبلیغ رسالت سے تعلق نہیں رکھتیں، مگر اللہ اپنے رسولوں کی جبلت میں جو غیر معمولی قوتیں ودیعت فرماتا ہے وہ صرف تبلیغ رسالت کے کام ہی نہیں آتیں، بلکہ ہر معاملے میں اپنی شان امتیاز دکھا کر رہتی ہیں۔ حدّا دی اور زرہ سازی کا تبلیغ رسالت سے کیا تعلق ہوسکتا ہے؟ مگر حضرت دائود اس میں غیر معمولی کمال دکھاتے ہیں اور حق تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ یہ فن ہم نے ان کو سکھایا تھا، وَعَلَّمْنٰہُ صَنْعَۃَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ۝۰ۚ الانبیاء80:21 پرندوں کی بولیاں جاننے سے تبلیغ رسالت کو کیا واسطہ؟ مگر حضرت سلیمان اس میں کمال ظاہر فرماتے ہیں اور خود کہتے ہیں کہ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ النحل16:27 نجاری اور کشتی سازی تبلیغ رسالت کا کون سا شعبہ ہے؟ مگر اللہ تعالیٰ حضرت نوح سے یہ نہیں کہتا کہ ایک مضبوط کشتی بنوا لو، بلکہ فرماتا ہے وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا ہود37:11
پس انبیا کے حق میں یہ گمان کرنا صحیح نہیں کہ ان پر صرف وہی امور وحی کیے گئے تھے جو براہِ راست تبلیغ رسالت سے تعلق رکھتے ہیں۔ درحقیقت ان کی ساری زندگی حق تعالیٰ کی ہدایت کے تابع تھی۔ البتہ اگر فرق ہے تو یہ کہ ان کی زندگی کا ایک شعبہ ایسا ہے جس میں ان کے قدم بقدم چلنا مسلمان ہونے کے لیے ناگزیر شرط ہے، اور ایک شعبہ ایسا ہے جس میں ان کا اتباع ہر مسلمان پر فرض نہیں۔ مگر جو شخص اللہ کا محبوب و مقبول بندہ بننا چاہتا ہو اور بارگاہِ حق میں تقرب کا طلبگار ہو، اس کے لیے بغیر اس کے چارہ نہیں کہ ٹھیک ٹھیک نبی کی سنت پر چلے، حتیٰ کہ اگر یک سرمُو بھی اس خط سے ہٹے گا تو تقرب اور محبوبیت میں اسی انحراف کی حد تک کسر رہ جائے گی۔ اس لیے کہ محبوبیت کے لیے بجز اتباع نبی کے اور کوئی راستہ ہی نہیں، فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ آل عمران31:3
(۵) اس بحث کے بعد یہ بات خود بخود واضح ہو جاتی ہے کہ نبی کی امارت اور دوسرے امیروں کی امارت میں کیا فرق ہے اور نبی کے فیصلے اور دوسرے قاضیوں کے فیصلے میں کتنا عظیم الشان تفاوت ہے۔ تاہم میں نے تین آیتیں آخر میں ایسی نقل کی ہیں جن سے یہ فرق قطعی طور پر واضح ہو جاتا ہے۔ ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ کے حکم پر سر جھکا دینا اور آپ کے فیصلے کو تسلیم کرنا ایمان کے لیے ضروری شرط ہے جو اس سے انکار کرے وہ مومن ہی نہیں۔ کیا یہ بات کسی دوسرے امیر یا قاضی کو حاصل ہے؟ اگر نہیں تو یہ کہنا کس قدر غلط ہے کہ ’’اللہ اور رسول کے الفاظ قرآن میں جہاں جہاں ساتھ ساتھ آئے ہیں، ان سے مراد امارت ہے‘‘۔ مجھے مولانا جیراج پوری کے اسی قول پر اعتراض ہے اور میں اس کو قرآن مجید کی تعلیم کے قطعاً خلاف سمجھتا ہوں۔ رہا وہ مسئلہ جو چودھری صاحب نے پیش فرمایا ہے تو وہ ایک جداگانہ مسئلہ ہے اور اس میں مجھے ان سے بالکل اتفاق ہے۔ میں بھی تسلیم کرتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اولُو الامر کی اطاعت واجب ہے۔ اور اولُو الامر اسلامی حکومت کے وہ تمام فرائض انجام دیں گے جو رسول اکرم اپنی حیات طیبہ میں انجام دیتے تھے، اور معاملات میں اولُو الامر کا فیصلہ ہی آخری فیصلہ ہوگا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص اپنی دانست میں ان کے فیصلے کو حکم خدا و رسول کے خلاف بھی سمجھتا ہو، تب بھی ایک حد خاص تک اس کے لیے لازم ہوگا کہ اپنی رائے پر قائم رہتے ہوئے ان کے فیصلے کو تسلیم کرے۔ لیکن اس کے یہ معنی کبھی نہیں ہوسکتے کہ امارت بعینہٖ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں ’’اللہ اور رسول‘‘ کہا گیا ہے اور امارت کے احکام ہو بہو وہی ہیں جو اللہ اور رسول کے احکام ہیں۔ اگر ایسا ہو تو امرا کے بگڑ جانے اور ارباب حل و عقد کے کتاب و سنت سے منحرف ہو جانے کی صورت میں مسلمانوں کے لیے کوئی چارہ ان کی اطاعت کرنے کے سوا، اور ہلاکت کے راستوں میں ان کی پیروی کرنے کے سوا باقی نہ رہے گا۔ ایسی صورت میں اگر کوئی بندۂ خدا اٹھے اور اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرنے کی تاکید کرے تو مولانا اسلم کے فتوے کی رو سے تو امرا اس کو باغی قرار دے کر قتل کر دینے میں بالکل حق بجانب قرار پائیں گے اور ان کو یہ کہنے کا حق ہوگا کہ ’’اللہ اور رسول‘‘ تو ہم ہی ہیں۔ دوسرا کون ہے جس کی طرف تو ہم کو پھیرنا چاہتا ہے؟
(ترجمان القرآن۔ ربیع الثانی ۱۳۵۴ھ۔ جولائی ۱۹۳۵ئ)

حدیث اور قرآن

منکرین ِ حدیث کے مسلک پر ایک ناقدانہ نظر

حال میں ایک صاحب نے ایک مختصر سا رسالہ لکھا ہے جس کا عنوان ہے:
’’میں منکرِ حدیث کیوں ہوا۱؎۔‘‘مصنف نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا بلکہ اپنے لیے ’’حق گو‘‘ کا لقب اختیار فرمایا ہے۔ انھی ’’حق گو‘‘ صاحب کا ایک مفصل مضمون ’’مطالعہ حدیث کے عنوان سے بھی بعض رسائل میں شائع ہوتا رہا ہے جس کے بعض حصے ہمارے نظر سے گزرے ہیں۔ دلائل قریب قریب وہی ہیں جو منکرین حدیث کی جانب سے پیش کیے جاتے ہیں۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے لیے صرف قرآن کافی ہے، حدیث کی روایات ناقابلِ اعتبارہیں، اور ان پر مذہب کی بنیاد رکھنا صحیح نہیں ہے۔ حق گو صاحب اور ان کے ہم خیال منکرین ِ حدیث کی رائے میں حدیث سے اسلام کو قطعاً کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، بلکہ اس کے برعکس اسی چیز نے دشمنانِ اسلام کو وہ اسلحہ فراہم کیے ہیں جن سے وہ اسلام پر حملے کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی خواہش ہے کہ اسلام سے حدیث کو بالکل خارج کر دیا جائے اور اس کو وہ اسلام کی ایک بڑی خدمت سمجھتے ہیں۔
حق گو صاحب نے اپنی تائید میں حدیث کی کتابوں سے بہت سی شہادتیں پیش کی ہیں جن سے وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ احادیث سے کس طرح دشمنوں کو اسلام اور رسول کی رسالت پر حملہ کرنے کے لیے مواد حاصل ہوتا ہے، مثلاً بعض احادیث تحریف قرآن کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ بعض اس الزام کی تائید کرتی ہیں کہ وحی کا نزول ایک ڈھونگ تھا، رسول اللہ جو کچھ اہل کتاب سے سنتے تھے اس کو وحی بنا کر پیش کر دیتے تھے (معاذ اللہ)۔ بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی کا نزول رسول اللہ کی خواہشات نفسانی کے مطابق ہوتا تھا۔ بعض اس امر کی شہادت دیتی ہیں کہ رسول اللہ پر جادو کا اثر ہو جاتا تھا۔ بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ اپنے مخالفین کو خفیہ طریقوں سے قتل کرا دیتے تھے (کعب بن اشرف کا واقعہ) بعض سے رسول اللہ پر ظلم اور بے رحمی کا الزام عاید ہوتا ہے (عکل اور عرینہ والوں کا قتل) بعض سے رسول اللہ پر نفس پرستی کا الزام نکلتا ہے۔ اسی سلسلے میں مصنف نے رسول اکرم پر شاردا ایکٹ بھی نافذ کیا ہے اور ان سب روایات کو ناقابل اعتبار ٹھیرا دیا ہے جو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے نو سال کی عمر میں شادی ہونا ثابت کرتی ہیں۔ اس کے بعد مصنف علم حدیث پر عام اعتراضات کرتا ہے۔ اس کے خیال میں حدیث کی اشاعت عہد خلفائے راشدین میں ممنوع تھی۔ بنو امیہ اور آل عباس کے زمانے میں روایت کا سلسلہ شروع ہوا اور بادشاہوں کی سیاسی اغراض کے لیے حدیثیں وضع کی گئیں۔ امام حسن بصری، امام زہری، امام مالک، صحاح ستہ کے مصنفین اور دوسرے وہ لوگ جنھوں نے حدیث کی کتابیں مدون کی ہیں، سب کے سب مصنف کے زعم میں جھوٹی حدیثیں گھڑنے والے تھے اور ان لوگوں نے بے سرو پا روایتیں جمع کرکے اسلام کو مسخ کر دیا۔ سیاسی اغراض کے علاوہ حدیث میں یہودیت، مسیحیت مجوسیت اور دوسرے مذاہب کے عقاید اور خرافات بھی داخل ہوگئے۔ پانچ وقت کی نماز، تیس دن کے روزے، صراط اور میزان کا تخیل‘ احکام ذبیحہ، کھانے پینے کی چیزوں میں مذہب کا دخل، ختنہ، قربانی، احکام طہارت، تصاویر اور مجسموں کی حرمت، معراج کے قصے اور ایسی ہی بہت سی چیزیں مصنف کے نزدیک محدثین نے دوسرے مذاہب سے لیں اور رسول اللہ کی طرف منسوب کرکے اسلام میں داخل کردیں۔
ائمہ فقہ بھی مصنف کے نزدیک قابلِ طعن ہیں کیونکہ انھوں نے شریعت کا تخیل یہودیوں سے لے کر اسلام کے سر چپک دیا، زندگی کے تمام معاملات پر مذہب کو حاوی کر دیا، جو قوانین عراق کی آب و ہوا اور پہلی دوسری صدی کے حالات کی بنا پر وضع کیے گئے تھے ان کو رسول اللہ کی طرف منسوب کرکے مذہبی قوانین بنا ڈالا، اور اس طرح مذہب اسلام ’’قومی شریعت‘‘ کا پابند ہو کر اس قابل نہ رہا کہ دنیا میں اس کی اشاعت ہوتی اور دوسری قومیں اس کا اتباع کرسکیں۔ مصنف کے نزدیک سینٹ پال اور اس کے متبعین کا یہ خیال درست تھا کہ مذہب (یعنی ایمانیات) کو شریعت (یعنی قانون حیات) سے الگ کر دیا جائے، اور یہی چیز دنیا میں مسیحیت کی اشاعت کا باعث ہوئی۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بھی مصنف کے خیال میں اس لیے ہوئی تھی کہ شریعت کی بیڑیوں کو کاٹ دیں اور زندگی کے معاملات کو مذہب کی پابندیوں سے آزاد کر دیں۔ دلیل میں یہ آیت پیش کی گئی ہے کہ وَيَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ اعراف: 157:7 اس آیت میں اغلال (بیڑیوں) سے مراد مصنف کے نزدیک ’’اغلال شریعت‘‘ ہیں اور وہ کہتا ہے کہ ائمہ فقہ اور ائمہ حدیث نے رسول اللہ کے خلاف بغاوت کرکے پھر انھی اغلال شریعت کو مسلمانوں پر ڈال دیا، جنھیں کاٹنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کیے گئے تھے، اور یہود کی تقلید میں ان لوگوں نے روایت حدیث اور ’’شریعت سازی‘‘ شروع کر دی یہ سب کچھ مصنف کی رائے میں اس لیے کیا گیا کہ یہود کے فریسیوں کی طرح یہ لوگ مسلمانوں پر اپنی گرفت قائم کرنا چاہتے تھے، اور اس غرض کے لیے انھوں نے رسول اللہ کے نام سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔
پھر لطف یہ ہے کہ مصنف اپنے تمام نظریات کی بنا تاریخی استدلال پر رکھتا ہے، حالانکہ اگر حدیث کی روایات قابل اعتبار نہیں ہیں تو تاریخ ان سے بھی زیادہ ناقابل اعتبار ہے۔ حدیث میں تو ہمارے زمانے سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابۂ کرام یا ائمہ تک اسناد کا پورا سلسلہ موجود ہے، خواہ وہ آپ کے نزدیک مشکوک ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن تاریخ کے پاس تو کوئی سند ہی نہیں ہے۔ جن قدیم کتابوں کو آپ تاریخ کا سب سے زیادہ معتبر ذخیرہ سمجھتے ہیں ان کے متعلق آپ کے پاس اس امر کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ جن مصنفین کی طرف وہ منسوب ہیں انھی کی لکھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح جو حالات ان کی کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں ان کے لیے بھی آپ کوئی ایسی سند نہیں رکھتے جس کی بنا پر ان کی صحت کا یقین کیا جاسکے۔ پس اگر حدیث کی مسلسل اور مستند روایات کی تکذیب اس آسانی کے ساتھ کی جاسکتی ہے تو تاریخ کے پورے ذخیرے کو اس سے بھی زیادہ آسانی کے ساتھ رد کیا جاسکتا ہے۔ ایک شخص بے تکلف کہہ سکتا ہے کہ عباسیوں کا وجود دنیا میں کہیں نہ تھا۔ اموی سلطنت کبھی قائم نہیں ہوئی۔ سکندر کا وجود محض ایک افسانہ ہے۔ غرض تاریخ کے ہر واقعہ کو اس دلیل سے بدرجہا زیادہ قوی دلیل کی بنا پر جھٹلایا جاسکتا ہے جس کی بنا پر آپ حدیث کو جھٹلاتے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں زمانہ گزشتہ کے حالات کا کوئی ذخیرہ اتنا مستند نہیں ہے جتنا حدیث کا ذخیرہ ہے، اور جب وہ بھی ناقابل اعتبار ہے تو قدیم زمانے کے متعلق جتنی روایات ہم تک پہنچی ہیں وہ سب دریا برد کر دینے کے قابل ہیں۔ تعجب ہے کہ جو شخص حدیث کی روایات سے انکار کرتا ہو، اور جس کے نزدیک یہ ممکن ہو کہ رسول اللہ سے قریب تر زمانے میں ایسے ایسے نامور مسلمان بھی، جن سے زیادہ نمایاں ہستیاں مسلمانوں کی قوم سے پیش نہیں کی جاسکتیں، اسلام کا دعویٰ رکھنے کے باوجود رسول اللہ پر بہتان گھڑ سکتے تھے اور اپنے دل سے حدیثیں وضع کرکے رسول اللہ کی طرف منسوب کرسکتے تھے، وہ آخر تاریخ پر کیسے اعتماد کرلیتا ہے؟ وہ کیوں نہیں کہتا کہ طبری، ابن اثیر، ابن خلدون اور تاریخ کی تمام کتابیں موضوع ہیں، افسانہ ہیں، اور گذشتہ زمانے کا کوئی حال ہم تک صحت کے ساتھ نہیں پہنچا ہے؟ اس سے زیادہ ستم ظریفی یہ ہے کہ جو شخص بخاری و مسلم، ترمذی و ابودائود حتیٰ کہ امام مالک‘ امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام حسن بصری تک کو ناقابل اعتماد سمجھتا ہے کہ وہ فون کریمر سے استناد کرنے میں تامل نہیں کرتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بات کی پچ آدمی کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہے۔
’’حق گو‘‘ صاحب کا رسالہ اگر کوئی ناواقف مسلمان یا غیر مسلم پڑھے تو اس کے دل پر یہ بات نقش ہو جائے گی کہ رسول اللہ کی وفات پرپچاس برس بھی نہ گزرے تھے کہ مسلمانوں نے رسول خدا اور اسلام کے خلاف عام بغاوت کر دی اور وہی لوگ اس بغاوت کے سرغنے بنے جو اسلام کی مذہبی تاریخ میں سب سے زیادہ نمایاں ہیں، اور جنھیں مذہب اسلام کا ستون سمجھا جاتا ہے۔ ان لوگوں کے دل میں ایمان کا شائبہ تک نہ تھا۔ انھوں نے اپنی اغراض کے لیے حدیث، فقہ، سنت اور شریعت کے شاندار الفاظ گھڑے اور دنیا کو دھوکا دینے کے لیے وہ باتیں رسول اللہ کی طرف منسوب کیں جو آں حضرت اور قرآن کی تعلیم کے بالکل خلاف تھیں۔ یہ اثر پڑنے کے بعد ہمیں امید نہیں کہ کوئی شخص اسلام کی صداقت کا قائل ہوگا، کیونکہ جس مذہب کے ائمہ اور ممتاز ترین داعیوں کا یہ حال ہو اس کے پیرئووں میں صرف ’’حق گو‘‘ صاحب اور ان کے ہم خیال گنتی کے چند آدمیوں کو دیکھ کر کون عقل مند یہ باور کرے گا کہ ایسا مذہب بھی کوئی سچا مذہب ہوسکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس قسم کے اعتراضات کو دیکھ کر تو ایک شخص اس امر میں بھی شک کرسکتا ہے کہ آیا اسلام اپنی اصلی شکل میں اس وقت محفوظ ہے بھی یا نہیں۔ کیونکہ جب مسلمانوں کے اسلاف میں پہلی صدی سے لے کر اب تک کوئی گروہ بھی ایسا موجود نہیں رہا جو اپنے پیغمبر کے حالات، اقوال اور تعلیمات کو ٹھیک ٹھیک محفوظ رکھتا اور جب اس قوم کے چھوٹے بڑے سب کے سب ایسے بددیانت تھے کہ جو کچھ جی میں آتا تھا گھڑ کر اپنے رسول کی طرف منسوب کر دیتے تھے، تو اسلام کی کسی بات کا بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ بھی یقین نہیں کیا جاسکتا کہ عرب میں فی الواقع کوئی پیغمبر مبعوث ہوا تھا، کیا عجب کہ عوام پر گرفت قائم کرنے کے لیے رسول اور رسالت کا افسانہ گھڑ لیا گیا ہو۔ اسی طرح قرآن کے متعلق بھی شک کیا جاسکتا ہے کہ وہ فی الواقع کسی پیغمبر پر اترا تھا یا نہیں، اور اگر اترا بھی تھا تو اپنی اصلی عبارت میں محفوظ ہے یا نہیں، کیونکہ اس کے ہم تک پہنچنے کا ذریعہ وہی لوگ تو ہیں جو یہود و نصاریٰ اور مجوسیوں کی باتیں لے لے کر پیغمبر کی طرف منسوب کرتے ہوئے ذرا نہ شرماتے تھے، یا پھر وہ لوگ ہیں جن کی آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ ہوتا تھا اور وہ دم نہ مارتے تھے۔ ’’حق گو‘‘ صاحب اور ان کے ہم خیال منکرین ِ حدیث نے یہ ایسا حربہ دشمنانِ اسلام کے ہاتھ میں دے دیا ہے جو حدیث کے فراہم کیے ہوئے حربوں سے لاکھ درجہ زیادہ خطرناک ہے، اس سے تو اسلام کی جڑ بنیاد ہی کھود کر پھینک دی جاسکتی ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ ’’حق گو‘‘ صاحب نے حدیث کی کتابوں پر صرف عیب چینی کی نگاہ ڈالی ہے اور ان کتابوں کے بے شمار جواہر کی طرف سے آنکھیں بند کرکے اپنا سارا وقت ان چیزوں کی تلاش میں صرف کیا ہے جو ان کے نزدیک حدیث پر طعن کرنے کے لیے مفید ہوسکتی تھیں۔ ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اگر اسی عیب چینی کی نگاہ سے وہ قرآن کو دیکھتے تو یہ کتاب بھی ان کو سراسر عیوب سے لبریز نظر آتی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہزارہا کفار قرآن کو پڑھتے ہیں اور بجائے ہدایت پانے کے اور زیادہ گمراہ ہو جاتے ہیں؟ یہی ناکہ وہ ہدایت کی طلب میں قرآن نہیں پڑھتے بلکہ عیوب تلاش کرتے اور اسلام کے خلاف اسلحہ فراہم کرنے کے لیے پڑھتے ہیں۔ اسی وجہ سے تو ان کو قرآن میں بجز عیوب کے اور کچھ نہیں ملتا، کیونکہ انسان ہر جگہ وہی کچھ پاتا ہے جس کی اسے طلب ہوتی ہے۔ لہٰذا ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ قرآن کا مطالعہ کرتے وقت ’’حق گو‘‘ صاحب کی آنکھوں پر عیب چینی کی عینک نہ لگ گئی، ورنہ وہ دیکھتے کہ مخالفین ِ اسلام کو بہت سے اسلحہ اس کتاب نے بھی فراہم کیے ہیں، اور یہ بات ان کو قرآن سے بھی انکار کر دینے پر اسی طرح آمادہ کر دیتی جس طرح حدیث کے فراہم کردہ اسلحہ دشمنوں کے ہاتھ میں دیکھ کر انھوں نے حدیث سے انکار کر دیا۔
’’حق گو‘‘ صاحب نے حدیث پر جتنے اعتراضات کیے ہیں ان سب کا لفظ بہ لفظ جواب دیا جاسکتا ہے۔ لیکن ہم جزئیات میں الجھنا مناسب نہیں سمجھتے، بلکہ چند اصولی باتوں پر کلام کرنا چاہتے ہیں جو دراصل مدار بحث ہیں۔ اگرچہ ان کی اور عام منکرین ِ حدیث کی عیب جو یا نہ ذہنیت کو دیکھتے ہوئے اصلاح کی امید کم ہے لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ ان لوگوں کی گمراہی کا آغاز دراصل نیک نیتی کے نقطے سے ہوتا ہے اور محض ناواقفیت اور ضد ان کو غلط راستوں پر ڈال دیتی ہے۔ اس لیے ہم امید کرتے ہیں کہ اگر انھوں نے اپنے ذہن کو منکرانہ خیالات سے تھوڑی دیر کے لیے خالی رکھ کر ہمارے دلائل پر غور کیا تو ان کے عقیدے کی اصلاح ہو جائے گی۔
سب سے پہلے یہ امر غور طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن اور اس سے پہلے تمام آسمانی کتابوں کو رسولوں کے واسطے سے کیوں نازل کیا؟ کیا اللہ اس پر قادر نہ تھا کہ مطبوعہ کتابیں یکایک زمین پر اتار دیتا اور ان کا ایک ایک نسخہ نوع بشری کے ہر فرد کے پاس آپ سے آپ پہنچ جاتا؟ اگر وہ اس پر قادر نہ تھا تو عاجز تھا، اس کو خدا ہی کیوں مانیے؟ اور اگر وہ قادر تھا اور یقیناً قادر تھا تو اس نے نشر و اشاعت کا یہ ذریعہ کیوں نہ اختیار کیا؟ یہ تو بظاہر ہدایت کا یقینی ذریعہ ہوسکتا تھا۔ کیونکہ ایسے صریح معجزے اور بیّن خرق عادت کو دیکھ کر ہر شخص مان لیتا کہ یہ ہدایت خدا کی طرف سے آئی ہے۔ لیکن خدا نے ایسا نہ کیا اور ہمیشہ رسولوں ہی کے ذریعے سے کتابیں بھیجتا رہا۔ پھر ا س رسالت کے کام پر بھی اس نے فرشتوں یا دوسری غیر انسانی ہستیوں کو مامور نہ کیا، بلکہ ہمیشہ انسانوں ہی کو اس کے لیے منتخب فرمایا۔ ہر زمانے کے کفار نے بہتیرا کہا کہ اگر خدا کو ہم تک کوئی پیغام پہنچانا ہی منظور ہے تو فرشتے کیوں نہیں بھیجتا تاکہ ہم کو بھی اس پیغام کے منزل من اللہ ہونے کا یقین آجائے۔ مگر خدا نے ہر ایسے سوال پر یہی فرمایا کہ اگر ہم فرشتے بھی بھیجتے تو ان کو آدمی بنا کر بھیجتے وَلَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلًا الانعام6:9 اور یہ کہ اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے تو ہم ان کی ہدایت کے لیے فرشتے بھیجتے، لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰۗىِٕكَۃٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْہِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَلَكًا رَّسُوْلًاo بنی اسرائیل95:17
سوال یہ ہے کہ تنزیل کتب کے لیے رسولوں کو واسطہ بنانے اور رسالت کے لیے تمام بندگان خدا میں سے بالخصوص انسانوں ہی کو منتخب کرنے پر اس قدر اصرار کیوں کیا گیا؟ اس کا جواب خود کلام اللہ دیتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ خدا نے جتنے رسول بھیجے ہیں ان کی بعثت کا مقصد یہ رہا ہے کہ وہ فرامین خداوندی کے مطابق حکم دیں اور لوگ ان کے احکام کی اطاعت کریں۔ وہ الٰہی قوانین کے مطابق زندگی بسر کریں اور لوگ انھی کے نمونے کو دیکھ کر اس کا اتباع کریں،وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۭ النساء64:4 انبیا علیہم السلام پے درپے آئے اور ہر ایک نے لوگوں سے یہی مطالبہ کیا کہ خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو،فَاتَّقُوا اللہَ وَاَطِيْعُوْنِo الشعراء: 108:26 نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلوایا گیا کہ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ آل عمران31:3 مومنوں سے کہا گیا کہلَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ احزاب21:33 اگر محض کتاب اللہ اتار دی جاتی اور کوئی رسول نہ آتا تو لوگ آیات کے معانی میں اختلاف کرتے اور کوئی اس کا فیصلہ کرنے والا نہ ہوتا۔ لوگ احکام کے منشا سمجھنے میں غلطیاں کرتے اور کوئی ان کو صحیح منشا بتانے والا نہ ہوتا۔ اس ضرورت کو خیر ایک حد تک فرشتے بھی پورا کرسکتے تھے، مگر پاکیزگی، طہارت اور تقویٰ کے احکام پر لوگ یہ خیال کرتے کہ عملی زندگی میں ان پر عمل کرنا انسان کے بس کاکام نہیں ہے۔ فرشتہ تو انسانی جذبات سے محروم ہے۔ پیٹ نہیں رکھتا، شہوانی قوتیں نہیں رکھتا۔ انسانی ضرورتوں سے بے نیاز ہے۔ اس کے لیے متقیانہ زندگی بسر کرنا کچھ مشکل نہیں۔ مگر ہم انسانی کمزوریاں رکھتے ہوئے اس کی تقلید کیسے کریں؟ اس لیے ضروری تھا کہ ایک انسان انھی جذبات و داعیات اور انھی تمام قوتوں اور انسانی تقیدات کے ساتھ زمین پر آتا اور لوگوں کے سامنے احکام الٰہی کے مطابق زندگی بسر کرکے بتاتا کہ اس طرح انسان خدا کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرسکتا ہے۔ اس کو زندگی کے وہ تمام معاملات پیش آتے جو انسان کو پیش آتے ہیں۔ وہ ان تمام معاملات میں عام انسانوں کے ساتھ شریک ہوتا۔ حصہ لیتا، قدم قدم پر ان کو اپنے عمل اور اپنے قول سے ہدایات دیتا، ان کی تربیت کرتا، اور انھیں بتاتا کہ زندگی کی پیچیدہ راہوں میں سے کس طرح انسان بچ کر حق اور نیکی کے سیدھے راستے پر چل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے تنہا کتاب اللہ کو کافی نہ سمجھا اور رسول اللہ کے اتباع اور ان کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کو اس کے ساتھ لازم کر دیا۔
قرآن شریف میں صاف طور پر تین چیزوں کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک حکم خدا، دوسرے حکم رسول، تیسرے مسلمان حکام اور فرماں روائوں کے احکام يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ النساء59:4 اگر محض قرآن کا اتباع کافی ہوتا اور اس کے سوا کسی دوسری چیز کے اتباع کی حاجت نہ ہوتی تو رسول اور حکام (اولو الامر) کی اطاعت کا حکم ہی نہ دیا جاتا۔ اگر رسول اور اولو الامر کا حکم قرآنی احکام کے ماسوا کوئی شے نہ ہوتا، تب بھی بقیہ دونوں کی اطاعت کا حکم الگ دینا بے معنی تھا۔ تین چیزوں کی اطاعت کا الگ الگ حکم دینا صاف بتاتا ہے کہ قرآن میں جو احکام براہ راست اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں، ان کے علاوہ وہ احکام بھی واجب الاطاعت ہیں جو رسول اللہ دیں، اور ان کی اطاعت بعینہٖ ایسی ہے جیسی اللہ کی اطاعت،مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۝۰ۚ النساء: 80:4 پھر ان کے ماسوا جو احکام مسلمانوں کے اولو الامر دیں ان کی اطاعت بھی لازم ہے بشرطیکہ ان کے احکام خدا اور رسول کے احکام سے اصولی مطابقت رکھتے ہوں۔ اختلاف کی صورت میں ضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی دی ہوئی ہدایات کی طرف رجوع کیا جائے، فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ النساء59:4
اس سے معلوم ہوا کہ تنہا کتاب اللہ کافی نہیں ہے، اس کے ساتھ رسالت کا رشتہ ناقابل انقطاع ہے، اور احکام رسول کی اطاعت اور اسوۂ رسول کی پیروی بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح خود کتاب اللہ کے احکام کی اطاعت فرض ہے۔ جو شخص کہتا ہے کہ ہم صرف کتاب اللہ کو لیں گے اور حکم رسول و اسوۂ رسول کو نہ لیں گے وہ رسالت سے اپنا تعلق منقطع کرتا ہے وہ اس واسطے کو کاٹتا ہے جسے خود اللہ نے اپنے بندوں اور اپنی کتاب کے درمیان ایک لازمی واسطے کے طور پر قائم فرمایا ہے۔ وہ گویا یہ کہتا ہے کہ خدا کی کتاب اس کے بندوں کے لیے کافی تھی مگر خدا نے بِلا ضرورت یہ فعل ِ عبث کیا کہ کتاب کو رسول کے ذریعے سے نازل فرمایا۔ سُبْحَانَہ ٗوَ تَعَالٰی عَمَّا یَقُوْلُوْنَ۔
کتاب اللہ اور سنت رسول کا لازمی تعلق ثابت ہو جانے کے بعد اب اس سوال پر غور کیجیے کہ آیا رسول اللہ کے احکام کی اطاعت اور ان کے اسوۂ حسنہ کی پیروی صرف ان کی حیاتِ جسمانی تک ضروری تھی؟ ان کے بعد اس کی حاجت باقی نہیں رہی؟ اگر ایسا ہے تو اس کے معنی یہ ہوںگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت صرف اسی عہد کے لیے تھی جس میں آپ جسم کے ساتھ زندہ تھے۔ آپ کے رحلت فرماتے ہی آپ کی رسالت کا تعلق عملاً دنیا سے منقطع ہوگیا۔ اس صورت میں رسالت کا منصب بے معنی ہو جاتا ہے۔ رسول کاکام اگر محض ایک نامہ بر کی طرح کتاب اللہ کو پہنچا دینا تھا، اور اس سے بڑھ کر کسی اور چیز کی ضرورت نہ تھی تو ہم پھر وہی کہیں گے کہ اس صورت میں رسول کی ضرورت ہی نہ تھی۔ یہ کام کوئی فرشتہ کرسکتا تھا۔ بلکہ اسے بلاواسطہ بھی کرنا ممکن تھا۔ لیکن اگر کتاب پہنچا دینے کے علاوہ بھی کسی شے کی ضرورت تھی اور اسی کے لیے اتباع کے احکام دیئے گئے تھے، اور اگر ہدایت نوع بشری کے لیے قرآن کے ساتھ رسول کی ہدایات اور سیرت نبوی کے عملی نمونے کی بھی ضرورت تھی، تو پھر یہ سب کچھ صرف تئیس چوبیس سال کے لیے ہونا کیا معنی؟ محض ایک صدی کے چوتھائی حصے کے لیے ایک رسول مبعوث کرنا اور اتنی سی مدت کے لیے رسالت کااتنا بڑا منصب قائم کرنا، اور ایک چیز کو جو رسول کے جسم و جان کا تعلق منقطع ہوتے ہی دنیا کے لیے غیر ضروری ہو جانے والی تھی، اتنی شد و مد کے ساتھ ذریعۂ ہدایت قرار دینا، یہ سب بچوں کا کھیل معلوم ہوتا ہے جو خدائے حکیم و دانا کے ہرگز شایان شان نہیں ہے۔
اس الزام کو خود اللہ نے اپنی کتاب میں دفع کر دیا ہے۔ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِيْنَo الانبیاء107:21 ظاہر ہے کہ اگر رسول اللہ کا فیضان رسالت صرف اپنے زمانے تک کے لیے ہوتا تو آپ کو رحمۃٌ للعالمین نہیں کہا جاسکتا تھا۔ اگر کہا جائے کہ آپ قرآن لائے ہیں جو ہمیشہ رہنے والا ہے اور اسی لیے آپ رحمۃ للعالمین ہیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ آپ رحمت نہ تھے بلکہ رحمت تو قرآن تھا اور آپ کو خواہ مخواہ رحمت کہہ دیا گیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو الگ رحمت فرمایا ہے اور اس کے لانے والے کو الگ۔ پھر یہ جو فرمایا کہ وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَاۗفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَo السبا28:34 یہ ارشاد صاف اشارہ کر رہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت سے لے کر قیامت تک جن بندگان خدا پر ’’الناس‘‘ کا اطلاق ہوتا ہے ان سب کے لیے آپ خدا کے رسول ہیں۔ آپ کی رسالت کسی خاص زمانے کے لیے نہیں ہے بلکہ جب تک روئے زمین پر ’’الناس‘‘ بستے ہیں اس وقت تک آپ کی رسالت قائم ہے۔ آیت میں کوئی قرینہ ایسا نہیں ہے جس سے معلوم ہو کہ ’’الناس‘‘ سے صرف اسی زمانے کے لوگ مراد ہیں۔ نہ ایسا کوئی خفیف سے خفیف اشارہ موجود ہے جس سے بعد کے کسی زمانے تک کی قید نکلتی ہو۔ بخلاف اس کے دوسری آیات اس تفسیر کی تائید کرتی ہیں کہ حضورؐ کی رسالت دائمی ہے۔ اللہ تعالیٰ حضورؐکے ذریعے سے دین کی تکمیل کر چکا ہے۔ اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ المائدہ5:3 حضورؐ کی ذات پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ۝۰ۭ وَكَانَ اللہُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًاo الاحزاب40:33 اور دوسرے انبیا کی لائی ہوئی کتابوں کے بخلاف آپ کی لائی ہوئی کتاب کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا گیا ہے، کیونکہ پہلی کتابیں مخصوص زمانوں کے لیے ہدایت تھیں اور یہ دائمی ہدایت ہے وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَo الحجر15:9
اس سے ثابت ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت ہمیشہ کے لیے ہے اور جب ایسا ہے تو وہ تمام آیات اور احکام بھی ہمیشہ کے لیے ہیں جن میں آں حضرت کے احکام کی اطاعت فرض قرار دی گئی ہے، آپ کی ذات کو اسوۂ حسنہ بتایا گیا ہے، آپ کے اتباع کورضائے الٰہی کے حصول کا ذریعہ کہا گیا ہے، اور ہدایت کا دامن آپ کی پیروی کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا ہے۔ وَاِنْ تُطِيْعُوْہُ تَہْتَدُوْا۝۰ۭ النور54:24 رضائے الٰہی حاصل کرنے اور ہدایت پانے کی ضرورت جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عہد لوگوں کو تھی اسی طرح آج کے لوگوں کو بھی ہے،اور قیامت تک جو لوگ آئیں گے ان سب کو رہے گی۔ پس جب یہ دونوں چیزیں رسول اللہ کے اتباع اور آپ کے نمونۂ حیات کی تقلید کے ساتھ وابستہ ہیں تو لازم ہوا کہ سیرت نبوت کے وہ پاک نمونے اور زبان وحی ترجمان کے وہ مقدس احکام بھی قرآن کے ساتھ ساتھ باقی رہیں جن سے رسول اکرم کے ہم عہد لوگوں نے ہدایت پائی تھی، ورنہ بعد کی نسلوں کے لیے ہدایت ناقص رہ جائے گی۔
میں نے ’’ہدایت ناقص رہ جائے گی‘‘ کے الفاظ بہت ہی نرم استعمال کیے ہیں۔ تنزیل کتب کے ساتھ رسالت کا جو ناقابل انقطاع رشتہ اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے، اور اس باب میں اللہ تعالیٰ کی جو غیر متبدل سنت ابتدا سے چلی آرہی ہے اس کا لحاظ کرتے ہوئے تو مجھے کہنا چاہیے تھا کہ اگر اسوۂ رسول باقی نہ رہتا، اگر رسول اللہ کے احکام باقی نہ رہتے، اگر ہدایت کا وہ پاک سرچشمہ بند ہو جاتا جو رسول اللہ کی سیرت میں تھا، تو محض کتاب اللہ سے دنیا کی ہدایت ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ اس لیے کہ رسالت کے آثار مٹ جانے کے بعد کتاب اللہ کا باقی رہ جانا بالکل ایسا ہی ہے جیسے رسول کے بغیر کتاب اللہ کا نازل ہونا۔ اگر کتاب کی تنزیل کے بعد آثار رسالت کے باقی رہنے کی ضرورت نہیں ہے تو سرے سے تنزیل کے لیے رسالت ہی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ خدا کی حکمت پر کھلا ہوا طعن ہے۔ اور اگر تنزیل کے ساتھ رسالت کا ہونا لازم ہے تو یقیناً اس کے ساتھ آثار رسالت کا رہنا بھی لازم ہے۔ بغیر آثار رسالت کے تنہا کتاب اللہ موجب ہدایت نہیں ہوسکتی۔ اس کی وجہ آپ بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ اگر آثار رسالت محو ہو جاتے تو مسلمانوں کا حشر ان قوموں کا سا ہو جاتا جن کے پاس بجز افسانوں کے اور کچھ نہیں ہے۔ لوگ کہتے کہ جس شخص پر تمھارے قول کے مطابق یہ کتاب نازل ہوئی ہے اس کے حالات تو بتائو کہ ہم ان کو جانچ کر دیکھیں کہ آیا فی الواقع وہ رسول خدا ہونے کے قابل تھا بھی یا نہیں۔ مگر ہم انھیں کچھ نہ بتا سکتے۔ لوگ پوچھتے کہ تمھارے پاس قرآن کے دعوے کی تائید میں کون سی ایسی خارجی شہادت ہے جس سے تمھارے نبی کی نبوت ثابت ہوسکتی ہو؟ مگر ہم کو شہادت نہ پیش کرسکتے۔ ہم کو خود یہ نہ معلوم ہوسکتا کہ کب اورکن حالات میں قرآن نازل ہوا، کس طرح رسول اللہ کی شخصیت اور آپ کی پاک زندگی کو دیکھ کر لوگ فوج در فوج ایمان لائے، کس طرح آپ نے نفوس کا تزکیہ کیا، حکمت کی تعلیم دی اور آیات الٰہی کی تلاوت سے معرفت حق کا نور پھیلایا، کس طرح آپ نے انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں تنظیم اور اصلاح کا وہ زبردست کام انجام دیا اور شریعت کا وہ ہمہ گیر اور حکیمانہ ضابطہ بنایا جو محض انسانی عقل کے بس کاکام نہیں ہے۔ اور جو اس بات کا ناقابل انکار ثبوت ہے کہ آپ حقیقت میں اللہ کے رسول تھے۔ یہی نہیں بلکہ اگر وہ روایات نہ ہوتیں جو منکرین حدیث کے نزدیک دریا برد کر دینے کے قابل ہیں تو ہم قرآن کی سند اس کے لانے والے تک نہ پہنچا سکتے۔ ہمارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہ ہوتا کہ یہ قرآن حقیقت میں وہی ہے اور اسی عبارت میں ہے جس میں رسول اللہ پر نازل ہوا تھا۔ ہماری اس کتاب کی وہی حیثیت رہ جاتی جو ژند، اوستا، گیتا، ویدوں اور بدھ مذہب کی کتابوں کی حیثیت ہے۔ اسی طرح ہماری مذہبی زندگی کے جتنے اعمال اور جتنے اصول و قوانین ہیں، یہ بھی سب کے سب بے سند ہو کر رہ جاتے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دوسرے اعمال جس صورت میں ادا کیے جاتے ہیں ان کے متعلق ہم نہ بتا سکتے، اور خود نہ جانتے کہ یہ سب رسول اللہ کے مقرر کیے ہوئے طریقوں پر ہیں۔ منکرین حدیث کہتے ہیں کہ ان سب اعمال کے لیے ’’سنت متواترہ‘‘ کافی ہے۔ مگر مدون اور مستند روایات کی غیر موجودگی میں اس ’’سنتِ متواترہ‘‘ کی حیثیت بجز اس کے اور کیا ہوتی کہ اگلوں سے پچھلوں تک نسلاً بعد نسلٍ ایسا ہوتا چلا آیا ہے؟ اس قسم کی متواتر سنتیں تو ہندئووں، بودھوں اور دوسری قوموں میں بھی ہیں۔ وہ سب یہی کہتے ہیں کہ جو عبادتیں ہم کرتے ہیں اورجو رسمیں ہم میں جاری ہیں وہ بزرگوں سے یونہی چلی آرہی ہیں۔ مگر کیا آج ان کی سنت متواترہ پر دنیا اور خود ان قوموں کے روشن خیال لوگوں میں یہ شبہ نہیں کیا جاتا کہ خدا جانے ان طریقوں کی اصل کیا تھی اور امتدادِ زمانہ کے ساتھ وہ کس طرح بدلتے چلے گئے؟ کیا ان تمام طریقوں پر آج رسوم پرستی کی پھبتی نہیں اڑائی جاتی؟ اگر کوئی شخص ان میں تغیر کرکے کوئی نئی بدعت ایجاد کرنا چاہے تو کیا ان کے پاس اس بدعت کے خلاف کوئی حجت بجز اس ایک دلیل کے موجود ہے کہ جو کچھ باپ دادا کرتے چلے آرہے ہیں اس میں تغیر نہیں ہوسکتا؟ پھر اگر منکرین حدیث کی خواہش کے مطابق ہمارے ہاں بھی ایسی مسلسل، مستند اور مرتب روایات نہ ہوتیں جو ہمارے عہد سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد تک ہر واقعہ یا ہر قول کی سند بہم پہنچا دیتی ہیں اور اگر ہمارے پاس بھی صرف عمل متواتر ہی باقی رہ جاتا، جس کو ’’حق گو‘‘ صاحب ’’سنت ِ متواترہ‘‘ سے تعبیر فرماتے ہیں، تو ہمارے مذہبی اعمال اور معتقدات کا حال ان طریقوں اور ان اوہام سے کچھ مختلف نہ ہوتا جو ہندئووں اور دوسری قوموں میں پائے جاتے ہیں اور جن کو ’’رسوم‘‘ اور ‘‘مذہبی افسانوں‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ۱؎ غور کیجیے، یہ اسلام کے لیے قوت اور استحکام کا سبب ہونا یا کمزوری و نا استواری کا سبب؟
اس بحث سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ کتاب اللہ کے ساتھ سنت رسول کا رہنا قطعاً ضروری اور ناگزیر ہے۔
اب اس سوال کی طرف آئیے کہ سنت رسول کے ہم تک پہنچنے کی صورت کیا ہے اور کیا ہوسکتی ہے؟ یہ بالکل ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعثت کے بعد سے رحلت تک تقریباً ربع صدی کا جو زمانہ بسر کیا۔ وہ محض قرآن پڑھنے اور سنانے ہی میں بسر نہیں ہوا ہوگا، بلکہ آپ تلاوت آیات کے علاوہ بھی شب و روز اپنے دین کی تبلیغ فرماتے رہتے ہوں گے، گمراہ لوگوں کو سمجھانے کی کوشش بھی فرماتے ہوں گے۔ ایمان لانے والوں کو تعلیم بھی دیتے ہوں گے، اور اپنی عبادات، اپنے اخلاق، اور اپنے اعمال حسنہ کا نمونہ پیش کرکے لوگوں کی تربیت اور اصلاح کرنے میں مشغول رہتے ہوں گے۔ خود قرآن میں فرمایا گیا ہے يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَo البقرہ151:2 نیز قرآن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ معلمانہ زندگی ایسی شدید مصروفیت میں بسر ہوتی تھی کہ آپ کو اپنے آرام کا ذرّہ برابر خیال نہ تھا، ہر لمحہ یا تو عبادات میں بسر ہوتا تھا، یا وعظ و نصیحت اور تعلیم حکمت اور تزکیہ نفوس میں۔ حتیٰ کہ بار بار اللہ تعالیٰ آپ سے فرماتا تھا کہ آپ اس قدر محنت کیوں کرتے ہیں؟ اپنے آپ کو ہلاک کیوں کیے ڈالتے ہیں؟
اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایسی سرگرم مبلغانہ زندگی میں آیات قرآنی کے سوا کوئی بات بھی آپ کی زبان سے ایسی نہ نکلتی تھی جو یاد رکھنے اور بیان کرنے کے قابل ہوتی؟ کوئی کام بھی آپ کی زندگی کا ایسا نہ تھا جس کو لوگ اپنے لیے نمونہ سمجھتے، اور دوسروں کو اس پاکیزہ نمونے کی تقلید کا مشورہ دیتے؟ آپ کے اقوال و اعمال کے متعلق تو اہل ایمان کا اعتقاد تھا اور قرآن نے بھی ان کو یہی اعتقاد رکھنے کا حکم دیا تھا کہ آپ کا ہر ارشاد برحق ہے، وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰىo النجم53:3 اور آپ کا ہر عمل واجب التقلید ہے، لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اَسْوَۃٌ حَسَنۃٌ ظاہر ہے کہ یہ اعتقاد رکھتے ہوئے تو مسلمان یقیناً آ ں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ارشاد کو دل سے سنتے ہوں گے، ہر عمل پر نگاہ رکھتے ہوں گے، اور آپس میں ایک دوسرے کے سامنے حضورؐ کے اقوال و اعمال کے چرچے کرتے ہوں گے۔ جہاں رسالت اور کسی قسم کے تقدس کا اعتقاد نہیں ہوتا وہاں بھی بڑے لوگوں کی باتوں اور حرکات و سکنات پر لوگ نظر رکھتے ہیں۔ اور ان کے اقوال و اعمال کے چرچے کیا کرتے ہیں پھر کیوں کر ممکن تھا کہ صحابہ کرام جس مقدس انسان کو خدا کا رسول اور اسلام کا مکمل نمونہ سمجھتے تھے اس سے صرف قرآن لے لیتے اور اس کے دوسرے تمام ارشادات اور اس کے تمام اعمال کی طرف سے کان اور آنکھیں بند کرلیتے۔
اس زمانے میں فوٹو گرافی کے آلات نہ تھے کہ آنحضرت کی تمام حرکات و سکنات کے فلم لے لیے جاتے۔ نہ آواز بھرنے کے آلات تھے کہ آپ کی تقریروں کے ریکارڈ بھر کر رکھ لیے جاتے۔ نہ مکہ و مدینہ سے اخبارات نکلتے تھے کہ روزانہ آپ کی تبلیغی سرگرمیوں اور آپ کے اعمال حیات کی رپورٹیں شائع ہوتیں۔ ضبط اور نقل کا ذریعہ جو کچھ بھی تھا وہ لوگوں کا حافظہ اور زبانیں تھیں۔ قدیم زمانے میں نہ صرف عرب بلکہ تمام قوموں کے پاس واقعات کو محفوظ رکھنے اور بعد کی نسلوں تک پہنچانے کا یہی ایک ذریعہ تھا۔ مگر عرب خصوصیت کے ساتھ اپنے حافظے اور صحتِ نقل میں ممتاز تھے اور ان کی یہ خصوصیت ایسی تھی کہ شاید ہمارے ’’حق گو‘‘ صاحب کے فون کریمر کو بھی اس سے انکار نہ ہو۔ جو قوم ایام العرب، کلام جاہلیت، انساب قبائل حتیٰ کہ اونٹوں اور گھوڑوں تک کے نسب نامے یاد کرتی ہو اور اپنی اولاد کو یاد کراتی ہو، اس سے بعید تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عظیم الشان شخصیت کے حالات اور آپ کے ارشادات کو یاد نہ رکھتی اور آنے والی نسلوں تک انھیں منتقل نہ کرتی۔
پھر جب آنحضرت صلعم کا وصال ہوا تو فطری بات تھی کہ لوگوں میں آپ کے احوال و اقوال کی جستجو اور زیادہ بڑھ جاتی۔ جو لوگ حضورؐ کی زیارت اور صحبت سے محروم رہ گئے تھے ان میں یہ شوق پیدا ہونا بالکل فطری امر تھا کہ آپ کے صحبت یافتہ بزرگوں سے آپؐ کے ارشادات اور آپؐ کے حالات پوچھیں۔ ہم خود دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی پیر مرد ایسا نکل آتا ہے جس نے پچھلی صدی کے اکابر میں سے کسی نامور بڑے شخص کی صحبت پائی ہو تو لوگ اس کے پاس جاتے ہیں اور ان کے حالات دریافت کرتے ہیں ہمارے ایک دوست نے شمالی ہندوستان سے حیدر آباد کا سفر اس غرض کے لیے کیا کہ اگر کوئی پرانا آدمی ایسا مل جائے جس نے سید جمال الدین افغانی کی صحبت پائی ہو تو اس سے سید صاحب کے حالات معلوم کریں۔ یہ معاملہ جب معمولی انسانوں کے ساتھ پیش آتا ہے تو کیا یہ ممکن تھا کہ خدا کے سب سے بڑے پیغمبرؐ اور دنیا کے سب سے بڑے معلمؐ کی وفات کے بعد مسلمانوں میں اس کے حالات پوچھنے اور اس کے ارشادات سے مستفید ہونے کی کوئی خواہش نہ ہوتی؟ کیا تاریخ کے ان واقعات میں کوئی استبعاد ہے کہ لوگ جہاں کسی صحابی کی خبر پالیتے وہاں سینکڑوں میل سے سفر کرکے جاتے اور آنحضرت صلعم کے حالات پوچھتے؟ یہی معاملہ یقیناً صحابہ کے بعد تابعین کے ساتھ پیش آیا ہوگا۔ کم از کم دو صدی تک سماعت حدیث اور نقل حدیث کا غیر معمولی شغف مسلمانوں میں پایا جانا یقینی ہے اور یہ بات نہ صرف قیاس کے عین مطابق ہے، بلکہ تاریخ بھی اس کی شہادت دیتی ہے۔ منکرین حدیث قیاس عقلی سے تو کام ہی نہیں لیتے۔ رہی تاریخ، تو وہ اس کے صرف اس حصے کو مانتے ہیں جس سے انکار حدیث کے لیے مواد مل سکتا ہو۔ اس کے سوا تاریخ کی جتنی شہادتیں ہیں سب ان کے نزدیک نامعتبر ہیں۔ لیکن جن لوگوں میں انکار حدیث کے لیے ضد پیدا نہیں ہوئی ہے وہ یقیناً اس بات کو تسلیم کرلیں گے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبردست شخصیت اور آپ کی تابناک پیغمبرانہ زندگی اتنی ناقابل اعتنا تو نہ تھی کہ مسلمانوں میں کم از کم دو سو برس تک بھی آپ کے حالات معلوم کرنے اور آپ کے ارشادات سننے کا عام شوق نہ رہتا۔ اس سے انکار کرنے کے دوسرے معنی یہ ہوں گے کہ قرون اولیٰ کے لوگوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی اثر نہ تھا، اور وہ لوگ بھی آپ کی جانب کوئی توجہ نہ رکھتے تھے جو آپ کی رسالت کے قائل ہو چکے تھے۔ منکرین حدیث کو اختیار ہے کہ رسول کی ذات اور ان لوگوں کے متعلق جو آپ سے قریب تر تھے یہ یا اس سے بھی زیادہ بُری کوئی رائے قائم کر لیں۔ مگر ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی مسلمان تو کجا، اسلامی تاریخ اور اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کرنے والا کوئی منصف مزاج غیر مسلم بھی اس رائے کو صحیح باور نہ کرے گا۔
اس میں شک نہیں کہ عہد رسالت سے دُور ہونے کے بعد مسلمانوں میں بیرونی اثرات بھی داخل ہونے لگے تھے، اور یہ اثرات بیشتر وہ لوگ اپنے ساتھ لائے تھے جنھوں نے عراق، ایران، شام اور مصر میں مذہب اسلام قبول تو کرلیا تھا مگر قدیم مذاہب کے تخیلات ان کے ذہن سے محو نہ ہوئے تھے۔ اس میں بھی شک نہیں کہ مسلمانوں میں ایک گروہ ایسا بھی پیدا ہوگیا تھا جو اپنے دل سے گھڑ کر باتیں نکالتا تھا اور محض لوگوں پر اثر قائم کرنے کے لیے ان باتوں کو رسول اللہؐ کی طرف منسوب کر دیتا تھا۔ یہ دونوں باتیں تاریخ سے بھی ثابت ہیں اور قیاس بھی یہی چاہتا ہے کہ ایسا ضرور ہوا ہوگا۔ مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کیا درست ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں میں سب کے سب ایسے ہی لوگ تھے؟ سب جھوٹے اور بے ایمان تھے؟ سب ایسے منافق تھے کہ اسی ہستی پر بہتان گھڑتے جس کی رسالت پر وہ دن بھر میں کم از کم پانچ مرتبہ گواہی دیا کرتے تھے؟ سب ایسے دشمن حق تھے کہ دنیا بھر کی خرافات لے کر رسول کے نام سے خدا کے دین میں داخل کرتے اور اس کی جڑیں کاٹتے؟ یہ نتیجہ نہ عقلاً نکالا جاسکتا ہے اور نہ تاریخ اس کی تائید کرتی ہے اور جب یہ صحیح نہیں ہے تو صداقت کے ساتھ صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ پہلی صدی کے آخر سے حدیث کے ذخیرے میں ایک حصہ ایسی روایات کا بھی داخل ہونے لگا تھا جو موضوع تھیں، اور یہ کہ بعد کی نسلوں کو جو احادیث پہنچی ہیں ان میں صحیح اور غلط اور مشکوک سب قسم کی حدیثیں ملی جلی تھیں۔
کھرے اور کھوٹے کی اس آمیزش کے بعد صحیح طریق کار کیا تھا؟ کیا یہ صحیح ہوسکتا تھا کہ آمیزش کی بنا پر صحیح اور غلط سب کو ایک ساتھ رد کر دیا جاتا، اور بعد کے مسلمان رسالت سے اپنا تعلق منقطع کرلیتے؟ منکرین حدیث اس کو ایک آسان بات سمجھتے ہیں۔ مگر جو لوگ قرآن پر ایمان رکھتے تھے اور رسول اللہ کی ذات کو اسوۂ حسنہ سمجھتے تھے، اور جن کے نزدیک حضورؐ کی پیروی کے بغیر ہدایت کا میسر ہونا ممکن نہ تھا، ان کے لیے ایسا کرنا بہت دشوار تھا… اتنا دشوار جتنا کسی کے لیے بہ رضا و رغبت آگ میں کود پڑنا ہوسکتا ہے۔ انھوں نے سب کو رد کر دینے کی بہ نسبت پہاڑ کھود کر جواہر نکالنے کی مشقت کو زیادہ آسان سمجھا۔ رسالت سے اپنا اور مسلمانوں کا تعلق برقرار رکھنے کے لیے شب و روز محنتیں کیں۔ حدیثوں کو جانچنے اور پرکھنے کے اصول بنائے۔ کھرے کو کھوٹے سے ممتاز کیا۔ ایک طرف اصول روایت کے اعتبار سے حدیثوں کی تنقیح کی، دوسری طرف ہزاروں لاکھوں راویوں کے احوال کی جانچ پڑتال کی۔ تیسری طرف درایت کے اعتبار سے حدیثوں پر نقد کیا۔ اور اس طرح سنت رسول کے متعلق ان لوگوں نے ایک ایسا ذخیرہ فراہم کر دیا جس کے برابر مستند اور معتبر ذخیرہ آج دنیا میں گذشتہ زمانے کے کسی شخص اور کسی عہد کے متعلق موجود نہیں ہے۔ منکرین حدیث کو آزادی ہے کہ ان کی ساری محنتوں پر بہ یک جنبش قلم پانی پھیر دیں۔ منکرین حدیث کو اختیار ہے کہ دین کے ان سچے خادموں کو وضاعِ حدیث، پروردگان عجم، زلہ ربان بنی امیہ و بنی عباس۱؎ اور جو کچھ چاہیں کہیں۔ لیکن حق یہ ہے کہ مسلمانوں پر ان محدثین کا اتنا بڑا احسان ہے کہ وہ قیامت تک اس بار سے سبکدوش نہیں ہوسکتے ۔ اللہ ان کی قبروں کو نور سے بھر دے، یہ انھی عاشقان رسولؐ کی محنتوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے پاس رسول اکرم اور صحابہ کرام کے عہد کی پوری تاریخ اپنے جزئیات کے ساتھ موجود ہے اور وہ رسائل بھی ہمارے پاس موجود ہیں جن سے ہم حدیث کے ذخیرے کی جانچ پڑتال کرکے آج بھی واقعات کی صحیح صحیح تحقیق کرسکتے ہیں۔ منکرین حدیث کہتے ہیں کہ بجز متواتر روایات کے (جو بہت کم ہیں) باقی جتنی احادیث ہیں یقینی نہیں ہیں، ان سے علم یقین حاصل نہیں ہوتا، بلکہ زیادہ سے زیادہ ظن غالب حاصل ہوتا ہے، پھر ایسی چیزوں پر مذہب کا مدار رکھنا کیا معنی؟ ہم کہتے ہیں کہ مشاہدۂ عینی اور تجربۂ حسی کے سوا دنیا میں کوئی ذریعہ بھی ایسا نہیں ہے جو مفید ہوسکتا ہو۔ تواتر کو بھی محض اس قیاس کی بنا پر یقینی سمجھا جاتا ہے کہ بہت سے آدمیوں کا جھوٹ پر متفق ہو جانا مستبعد ہے۔ لیکن خبر متواتر کے لیے جو شرائط ہیں وہ بہت کم ایسی خبروں میں پائی جاتی ہیں جن پر تواتر کا گمان ہوتا ہے۔ اکثر و بیشتر امور غیب میں خواہ وہ زمانہ ماضی سے تعلق رکھتے ہوں یا حال سے، ہمارے علم اور ہمارے فیصلوں کا مدار اسی ظن غالب پر ہے جو کم از کم دو شہادتوں سے حاصل ہوتا ہے۔ خود قرآن نے اسی ظنی شہادت کو اتنا معتبر قرار دیا ہے کہ اس کی بنا پر ایک مسلمان کا خون مباح ہوسکتا ہے۔ حالانکہ قرآن کی رُو سے مسلمان کا خون اتنا محترم ہے کہ جو کوئی مسلمان کو عمداً قتل کر دے اسے خلو د فی النار کی سزا دی جائے گی۔ اسی طرح زنا، قذف اور سرقہ کی حدُود میں بھی ایسے اہم فیصلہ جات کا مدار صرف دو یا چار شہادتوں پر رکھا گیا ہے جن سے ایک مسلمان کا ہاتھ کاٹ دیا جاسکتا ہے، یا ایک مسلمان کی پیٹھ پر کوڑے برسائے جاسکتے ہیں۔ پس جب قرآن مجید میں غیر متواتر شہادتوں ہی پر پورے نظام عدل کی بنیاد رکھی گئی ہے تو قرآن کے مقابلے میں کس مسلمان کو یہ کہنے کی جرأت ہوسکتی ہے کہ کسی حدیث کو حدیث رسول مان لینے کے لیے ہر مرتبہ اسناد میں دو چار راویوں کا ہونا کافی نہیں ہے؟ البتہ راویوں میں سے ہم ہر راوی پر اعتماد نہ کریں گے، جس طرح شاہدوں میں سے ہر شاہد کا اعتبار نہیں کرتے۔ ہم حکم قرآن کے بموجب ذَوَاعَدْلٍ کی شرط لگاتے ہیں اور اسی کی تحقیق کے لیے اسماء الرجال کا فن ایجاد کیا گیا، تاکہ راویوں کے حالات کی تحقیق کی جائے۔ اسی طرح ہم راویوں پر جرح بھی کریں گے کہ حدیث کے جوہری نکات میں ان کے درمیان ایسا اختلاف تو نہیں ہے جو ان کے بیان کی صحت کو مشکوک کر دیتا ہو؟ اسی طرح ہم درایت سے بھی کام لیں گے جیسے ایک جج مقدمات میں درایت سے کام لیتا ہے۔۱؎ مگر جس طرح شاہدوں کے بیانات کا جانچنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے، اسی طرح درایت بھی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ حدیث کو اصول درایت پر وہی شخص جانچ سکتا ہے جس نے قرآن کا علم حاصل کرکے اسلام کے اصول اولیہ کو خوب سمجھ لیا ہو، اور جس نے حدیث کے بیشتر ذخیرے کا گہرا مطالعہ کرکے احادیث کو پرکھنے کی نظر بہم پہنچائی ہو۔ کثرت مطالعہ اور ممارست سے انسان میں ایسا ملکہ پیدا ہو جاتا ہے جس سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج شناس ہو جاتا ہے اور اسلام کی صحیح روح اس کے دل و دماغ میں بس جاتی ہے۔ پھر وہ ایک حدیث کو دیکھ کر اول نظر میں سمجھ لیتا ہے کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا فرما سکتے تھے یا نہیں؟ یا آپ کا عمل ایسا ہوسکتا تھا یا نہیں؟ پھر جس طرح ایک معاملے میں دو قاضیوں کا اجتہاد مختلف ہوتا ہے اور جس طرح قرآن مجید کے معانی میں دو فاضلوں کی تفسیریں مختلف ہوسکتی ہیں، اسی طرح دو محدثوں کی درایت میں بھی اختلاف ممکن ہے۔ خدا نے ہم کو انسانی طاقت سے زیادہ کسی چیز کا مکلف قرار نہیں دیا ہے۔ اختلاف رائے انسانی فطرت کا مقتضیٰ ہے، اور اس کی وجہ سے نہ قرآن چھوڑا جاسکتا ہے، نہ حدیث، اور نہ عدالت کی کرسی۔ پس ایک حدیث کے متعلق جس حد تک تحقیق انسان کے بس میں ہے، اس کا سامان محدثین نے فراہم کر دیا ہے۔ ہمارا کام اس سامان سے فائدہ اٹھا کر صحیح کو غلط سے ممتاز کرنا اور صحیح کا اتباع کرنا ہے۔ نہ یہ کہ صحیح و غلط کے اختلاط کو دیکھ کر سرے سے رسالت ہی سے قطع تعلق کر لینا۔
منکرین حدیث کہتے ہیں کہ ہم حدیث کو صرف تاریخ کی حیثیت سے لیں گے‘ حجت شرعی نہ بنائیں گے۔ مگر کیا ان حضرات نے رسول کی تاریخ کو سکندر اور نپولین کی تاریخ سمجھا ہے کہ اس کے صحیح ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہ پڑتا ہو؟ کیا وہ اتنا نہیں سمجھتے کہ یہ اس انسان کی تاریخ ہے جس کا اتباع فرض ہے، جس کی اطاعت پر نجات کا مدار ہے، جس کی سیرت مسلمانوں کے لیے اسوۂ حسنہ ہے؟ اس ذات پاک کی تاریخ دو حال سے خالی نہیں ہوسکتی، یا صحیح ہوگی یا غلط۔ اگر غلط ہے تو اس کو لینا کیا معنی نذر آتش کر دیجیے۔ رسول پر بہتان اور آپ اس کو تاریخ کی حیثیت سے قبول کریں؟ اور اگر وہ صحیح ہے تو اس کا اتباع فرض ہے۔ مسلمان ہوتے ہوئے اس کی پیروی سے آپ بچ کہاں سکتے ہیں؟
منکرین حدیث کے مقالات پر نظر کرتے ہوئے انکار حدیث کے دو وجوہ قرار دیے جاسکتے ہیں۔
ایک یہ کہ اسلام کے نظام دینی میں سرے سے حدیث کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ صرف قرآن کافی ہے۔
دوسرے یہ کہ احادیث ناقابلِ اعتبار ہیں۔
ان میں سے پہلی وجہ کا جواب پہلے دیا جاچکا ہے۔ رہی دوسری وجہ، تو اس کی غلطی بھی اشارۃً گزشتہ صفحات میں ظاہر کی جاچکی ہے۔ لیکن ضرورت ہے کہ اس شبہے کو بھی تفصیل کے ساتھ رفع کر دیا جائے۔ احادیث کو ناقابل اعتبار سمجھنے کی اصل وجہ وہم اور شک کا حد سے زیادہ بڑھ جانا ہے۔ انسان کی فطرت میں شک کا مادہ اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ بحث و تحقیق اور تلاش و تجسس کے لیے محرک ہو اور حقیقت کی جستجو پر انسان کو ابھارے۔ لیکن ہر چیز کے لیے ایک حد ہوتی ہے جس سے گھٹنے یا بڑھ جانے پر وہ مستحسن نہیں رہتی۔ شک کا مادہ اگر اتنا بڑھ جائے کہ وہ تحقیق کے ان طریقوں سے جو انسان کے امکان میں ہیں، اس کو مطمئن نہ ہونے دے اور ان تمام باتوں سے انکار پر آمادہ کر دے جو تحقیق کے ایک غیر ممکن الحصول معیار پر پوری نہ اترتی ہوں تو یہ بھی ایک مذموم صفت ہے جس کو ہم اردو زبان میں ’’وہمی پن‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔
غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ انسان اکثر و بیشتر معاملات میں صرف اس تحقیق پر اعتماد کرنے کے لیے مجبور ہے جس سے ظن غالب حاصل ہوتا ہے۔ اگر وہ اس تحقیق میں شک کرے، اور علم یقین کے بغیر ہر بات کو ماننے سے انکار کر دے تو وہ دنیا کے کام کا نہ رہے گا بلکہ شاید زندہ بھی نہ رہ سکے گا۔ مثال کے طور پر میں نے آج تک کبھی کسی شخص کو سانپ کے کاٹے سے مرتے ہوئے نہیں دیکھا، نہ مجھے سانپ نے کاٹا کہ اس کے مہلک ہونے کا مجھے علم یقین حاصل ہوتا۔ میں نے صرف لوگوں سے یہ سنا ہے کہ جب سانپ کاٹتا ہے تو انسان مر جاتا ہے۔ میں اس روایت پر یقین رکھتا ہوں، اور سانپ کو دیکھ کر اس سے بچ جاتا ہوں۔ لیکن اگر میں اس روایت میں شک کروں اور کہوں کہ جب تک سانپ میرے سامنے کسی کو نہ کاٹے اور اسی کی تاثیر سے وہ میرے سامنے مر نہ جائے