تفہیم الاحادیث (جلدسوم)

ریڈ مودودی ؒ   کی اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’ادارہ معارف اسلامی، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF میں ملاحظہ کیجیے۔

:فصل اول: ہر کام کی ابتدا اللہ کے نام سے:کتاب الصَّلوٰۃ

۱۔ کُلُّ اَمْرٍ ذیْ بَالٍ لَا یُبْدَأُفِیْہِ بِحَمْدِ اللّٰہِ فَہُوَ اَبْتر۔(نبی ﷺ کا مستقل معمول تھا کہ آپ ہمیشہ اپنے خطبوں کا آغاز حمد و ثنا سے فرمایا کرتے تھے۔ (لہٰذا )جب تم اللہ کی طرف دعوت دینے کے لیے اٹھو تو اللہ کی حمد و تسبیح سے اس کا آغاز کرو۔ (تفہیم القرآن،ج ۵، الطور، حاشیہ :۴۰)(

’’ہر وہ کام جو کوئی اہمیت رکھتا ہو، اللہ کی حمد کے بغیر شروع کیا جائے تو وہ ابتر ہے۔‘‘
تخریج: قُرِیَٔ عَلٰی اَبِی الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ وَاَنَا اَسْمَعُ، حَدّثَکُمْ دَاوُدُبْنُ رَشِیْدٍ، ثَنا الْوَلِیْدُ عَنِ الْاَوْزَاعِیِّ، عَنْ قُرَّۃَ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: کُلُّ اَمْرٍ ذِیْ بَالٍ لَایُبْدَأُ فِیْہِ بِحَمْدِ اللّٰہِ اَقْطَعُ (1)(تَفَرَّدَبِہٖ قُرَّۃُ عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، وَاَرْسَلَہٗ غَیْرُہٗ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، وَقُرَّۃُ لَیْسَ بِقَوِیٍّ فِی الْحَدِیْثِ۔ وَرَوَاہُ صَدَقَۃٗ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِیْدٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ اَبَیْہِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، وَلَا یَصِحُّ الْحَدِیْثُ، وَصَدَقَۃٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدِ ضَعِیْفَانِ، وَالْمُرْسَلُ ہُوَ الصَّوَابُ۔)

مفہوم
یعنی اس کی جڑکٹی ہوئی ہے، اسے کوئی استحکام نصیب نہیں ہے۔ یا اس کا انجام اچھا نہیں ہے۔
ابتر کے معنی
یہ لفظ بَـتـَرَ سے ہے، جس کے معنی کاٹنے کے ہیں۔ مگر محاورے میں یہ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ نامراد آدمی کو بھی ابتر کہتے ہیں۔ ذرائع و وسائل سے محروم ہوجانے والا بھی ابتر کہلاتا ہے۔ جس شخص کے لیے کسی خیر اور بھلائی کی توقع باقی نہ رہی ہو اور جس کی کامیابی کی سب امیدیں منقطع ہوگئی ہوں، وہ بھی ابتر ہے۔ جو آدمی اپنے کنبے، برادری اور اعوان و انصار سے کٹ کر اکیلا رہ گیا ہو، وہ بھی ابتر ہے۔ جس آدمی کی کوئی اولاد نرینہ نہ ہو یا مرگئی ہو، اس کے لیے بھی ابتر کا لفظ بولا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کے پیچھے اس کا نام لیوا باقی نہیں رہتا اور مرنے کے بعد وہ بے نام و نشان ہوجاتا ہے۔‘‘
(تفہیم القرآن،ج ۶، الکوثر، حاشیہ: ۴)
تشریح: اسلام جو تہذیب انسان کو سکھاتا ہے، اس کے قواعد میں سے ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہر کام کی ابتدا خدا کے نام سے کرے۔ اس قاعدے کی پابندی اگر شعور اور خلوص کے ساتھ کی جائے تو اس سے لازماًتین فائدے حاصل ہوں گے۔
ایک یہ کہ آدمی بہت سے برے کاموں سے بچ جائے گا ، کیونکہ خدا کا نام لینے کی عادت اسے ہر کام شروع کرتے وقت یہ سوچنے پر مجبور کردے گی کہ کیا واقعی میں اس کام پر خدا کا نام لینے میں حق بجانب ہوں؟
دوسرے یہ کہ جائز ،صحیح اور نیک کاموں کی ابتدا کرتے ہوئے خدا کا نام لینے سے آدمی کی ذہنیت بالکل ٹھیک سمت اختیار کرلے گی اور وہ ہمیشہ صحیح ترین نقطہ سے اپنی حرکت کا آغاز کرے گا۔
تیسرا اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب وہ خدا کے نام سے اپنا کام شروع کرے گا تو خدا کی تائید اور توفیق اس کے شامل حال ہوگی۔ اس کی سعی میں برکت ڈالی جائے گی اور شیطان کی فساد انگیزیوں سے اس کو بچایا جائے گا۔ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ جب بندہ اس کی طرف توجہ کرتا ہے تو وہ بھی بندے کی طرف توجہ فرماتا ہے۔
دعا کی ابتدا اس ہستی کی تعریف سے کی جانی چاہیے جس سے ہم دعا مانگنا چاہتے ہیں یہ گویا اس امر کی تعلیم ہے کہ دعا جب مانگو تو مہذب طریقہ سے مانگو۔ یہ کوئی تہذیب نہیں ہے کہ منہ کھولتے ہی جھٹ اپنا مطلب پیش کردیا ۔ تہذیب کا تقاضا یہ ہے کہ جس سے دعا کر رہے ہو پہلے اس کی خوبی کا، اس کے احسانات اور اس کے مرتبے کا اعتراف کرو۔
تعریف ہم جس کی بھی کرتے ہیں، دو وجوہ سے کیا کرتے ہیں۔
۔ ایک یہ کہ وہ بجائے خود حسن و خوبی اور کمال رکھتا ہو، قطع نظر اس سے کہ ہم پر اس کے ان فضائل کا کیا اثر ہے۔
۔ دوسرے یہ کہ وہ ہمارا محسن ہو اور ہم اعتراف نعمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر اس کی خوبیاں بیان کریں۔
اللہ تعالیٰ کی تعریف ان دونوں حیثیتوں سے ہے۔ یہ ہماری قدر شناسی کا تقاضا بھی ہے اور احسان شناسی کا بھی کہ ہم اس کی تعریف میں رطب اللسان ہوں۔
دنیا میں جہاں ، جس چیز اور جس شکل میں بھی کوئی حسن، کوئی خوبی ، کوئی کمال ہے اس کا سرچشمہ اللہ ہی کی ذات ہے۔ کسی انسان، کسی فرشتے، کسی دیوتا، کسی سیارے، غرض کسی مخلوق کا کمال بھی ذاتی نہیں ہے بلکہ اللہ کا عطیہ ہے۔ پس اگر کوئی اس کا مستحق ہے کہ ہم اس کے گرویدہ اور پرستار ، احسان مند اور شکر گزار ، نیاز مند اور خدمت گار بنیں تو وہ خالق کمال ہے نہ کہ صاحب کمال ۔ (تفہیم القرآن ،ج ۱، فاتحہ، حاشیہ:۱ ،۲)

حمد کے معنی

حمد کا لفظ تعریف اور شکر دونوں کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اس کے اصل معنی تعریف کے ہیں۔ شکر کے معنی ضمناً پیدا ہوتے ہیں۔ جب ایک آدمی کسی کا احسان مند ہوتا ہے تو اس کی تعریف کرتا ہے، اس وجہ سے شکر کا مفہوم اس کے اندر آپ سے آپ آجاتا ہے۔ اسی لیے بسا اوقات جب کوئی آپ سے پوچھتا ہے کہ آپ کا مزاج کیسا ہے؟ آپ کہتے ہیں الحمدللہ؛ تو وہ الحمد للہ شکر کے معنی میں ہوتا ہے ۔ کھانا کھاکر آپ اٹھتے ہیں آپ کہتے ہیں الحمد للہ۔ پانی پیتے ہیں آپ کہتے ہیں الحمد للہ۔ یہ سارا الحمد للہ شکر کے معنیٰ میں ہے۔ لیکن اس کی بنا کیا ہے؟ اس کی بنا یہ ہے کہ آدمی جب کسی کا شکر گزار ہوتا ہے اور اپنے دل میں احسان مندی محسوس کرتا ہے تو وہ اس کی تعریف کرتا ہے اور اس تعریف کا جواصل محرک ہوتا ہے وہ شکر کا جذبہ ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ آپ دیکھیں گے کہ کسی شخص نے اگر ان کے اوپر بہت بڑا احسان کیا ہے وہ کہیں گے اجی اس کا کیا کہنا! وہ تو بڑا سخی آدمی ہے۔ بڑا فیاض آدمی ہے۔ بڑا ہمدرد آدمی ہے۔ اب یہ ساری باتیں جو وہ کہہ رہا ہے تو وہ ظاہر ہے تعریف کررہا ہے۔ درحقیقت وہ اظہار شکر کررہا ہے۔ محرک اس کا شکر ہوتا ہے۔ لیکن بنا جو اصل ہے وہ حمد کی ہے وہ تعریف ہے۔ اور تعریف دو طرح سے ہوا کرتی ہے۔ ایک بجائے خود کسی کے کمال کی تعریف ہوتی ہے اور ایک کسی کے ایسے کمال کی تعریف ہوتی ہے، جو ہمارے لیے نافع ہے۔ مثلاً یہ کہ ایک پھول کو آپ دیکھتے ہیں۔ اس کے حسن کی آپ تعریف کرتے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ وہ آپ کے لیے نافع ہے، یا نہیں۔ یعنی بجائے خود وہ پھول اتنا حسین ہے کہ آپ اس کی تعریف کررہے ہیں، وہ اس تعریف کا مستحق ہے۔ ایک دوا کی آپ تعریف کرتے ہیں۔ یہ تعریف اس بنا پر ہے کہ اس کے ۔خواص آپ کے لیے نافع ہیں

تعریف اللہ ہی کے لیے مخصوص کیوں ہے؟

اللہ تعالیٰ کی جو تعریف ہے وہ ان دونوں وجوہ سے ہے۔ اس وجہ سے بھی ہے کہ وہ بجائے خود کامل ہے، بجائے خود تمام کمالات کا اور ساری خوبیوں کا مجموعہ ہے۔ اس بنا پر بھی ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی قابل تعریف ہے اس کے اندر جو صفت بھی پیدا ہوتی ہے تعریف کی، وہ اللہ کے پیدا کرنے سے ہوتی ہے۔ تو وہ منبع کمالات بھی ہے اور سرچشمہ کمالات بھی ہے۔ تمام خوبیوں کی ابتدا اسی کی ذات سے ہوتی ہے اور تمام خوبیاں اسی کی پیدا کردہ ہیں اور اس بنا پر بھی ہے کہ اس کی بے شمار صفات ایسی ہیں جو براہ راست ہمارے وجود کا سبب بنی ہیں۔ براہ راست ہمارے لیے جو کچھ بھی ہم کو بھلائی پہنچتی ہے، اللہ تعالیٰ کی ان صفات سے پہنچتی ہے۔ تو ان فوائد و منافع کی وجہ سے بھی جو اللہ سے ہم کو پہنچتے ہیں ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور بجائے خود اس کے کمالات کی بنا پر بھی تعریف کرتے ہیں کہ جس چیز میں بھی جو کچھ کمال ہے اس کا سرچشمہ اس کی ذات ہے۔ جب الحمد للہ کہا جائے تو اس کے اندر خود یہ مفہوم شامل ہوجاتا ہے کہ حقیقت میں تعریف جس چیز کا نام ہے اس کا مستحق وہی ہے۔ یعنی دوسرا کوئی کسی تعریف کا مستحق نہیں ہے۔ دوسرا اگر تعریف کا مستحق ہے تو مجازاً ہوتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ بالذات مستحق ہے اور حقیقت میں تعریف اگر پہنچتی ہے تو اسی کو پہنچتی ہے۔ مثلاً آپ چیز دیکھتے ہیں کہ بڑی اچھی بنی ہوئی ہے۔ جب آپ اس کی تعریف کرتے ہیں کہ کیا خوب بنی ہوئی ہے تو حقیقت میں اس بنانے والے کی تعریف کرتے ہیں۔ یعنی وہ چیز بجائے خود تعریف کی مستحق نہیں ، بنانے والا تعریف کا مستحق ہے جس نے اتنی اعلیٰ درجے کی چیز بنائی۔ تو جتنی چیزیں بھی ہیں جن کی کوئی شخص تعریف کرتا ہے حقیقت میں وہ ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہوتی ہے ـــــــ اگر تعریف کا مستحق اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے تو باقی وہ کون ہیں جو معبود ہونے کے مستحق ہیں: ظاہر بات ہے کہ اگر تمام تعریف اللہ کے لیے ہے تو یقینا ساری عبادت اللہ ہی کے لیے ہے۔ کوئی دوسرا کسی عبادت کا مستحق کیسے ہوسکتا ہے جب کہ اگر اس میں کوئی کمال ہے بھی تو عطیہ ہے اللہ تعالیٰ کا۔ اپنا ذاتی کوئی کمال نہیں۔ ذاتی کمال جب اس کا نہیں ہے تو وہ عبادت کا مستحق کیسے ہوسکتا ہے۔ ایک نبی بلاشبہ نہایت ہی مقدس ہستی ہے نہایت پاکیزہ ہستی ہے۔ لیکن کس بنا پر وہ قابل تعریف ہے اس بنا پر کہ اللہ نے نبی بنایا ہے۔ جب اللہ کا بنایا ہوا نبی ہونے کی وجہ سے وہ قابل تعریف ہے اور جو کچھ اس کے کمالات ہیں وہ اللہ کے دیے ہوئے ہیں تو معبود نبی کو ہونا چاہیے کہ اللہ کو ہونا چاہیے؟ اسی طرح دوسری جو ہستیاں بھی ہیں اگر فرض کیجیے کوئی شخص سورج کی عبادت کررہا ہے۔ سورج کو روشنی کہاں سے ملی۔ سورج کو حرارت کہاں سے ملی۔ یہ انرجی جو سورج دے رہا ہے یہ اُسے کہاں سے حاصل ہوئی؟ اگر اس کا بنانے والا اللہ ہی ہے اور ظاہر بات ہے کہ اللہ ہی ہے تو معبود ہونے کا مستحق سورج نہیں ہے بلکہ اللہ ہے۔ تو اس طرح سے الحمد للہ کا لفظ خود شرک کی جڑکاٹ دیتا ہے۔ یہیں سے آغاز ہوجاتا ہے شرک کی جڑ کاٹنے کا اور توحید کے اثبات کا۔
(کیسٹ سورۃ الفاتحہ، تفسیر سید مودودیؒ، ادارہ الابلاغ نور چیمبر لاہور)

پوری زمین پاک اور عبادت کی جگہ ہے

۲۔ جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِداً وَّ طُہُوْراً۔
’’نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ میرے لیے پوری زمین عبادت کی جگہ اور طہارت حاصل کرنے کا ذریعہ بنائی گئی ہے۔ ‘‘
(تفہیم القرآن ، ج ۶، الجن، حاشیہ: ۱۹)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ سِنَانٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَیَّارٌہُوَ اَبُوالْحَکَمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ نِ الْفَقِیْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بِنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُعْطِیْتُ خَمْساً لَمْ یُعْطَہُنَّ اَحَدٌمِّنَ الْاَنْبِیآئِ قَبْلِیْ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیْرَۃَ شَہْرٍ وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِداً وَطُہُوْراً وَاَیَّمَا رَجُلٍ منْ اُمَّتِیْ اَدْرَکَتْہُ الصَّلوٰۃُ فَلْیُصَلِّ وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَآئِمُ وَکَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ اِلیٰ قَوْمِہِ خَآصَّۃً وَبُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ کَآفَّۃً وَاُعْطِیْتُ الشَّفَاعَۃَ۔(۲)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: مجھے پانچ (امتیازات) ایسے عطا کیے گئے ہیں جو مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی کو نہیں دیے گئے۔ ایک مہینے کی مسافت کی بقدر (دشمنوں پر) رعب و دبدبہ سے میری نصرت فرمائی گئی، میرے لیے پوری زمین عبادت کی جگہ اور طہارت حاصل کرنے کا ذریعہ بنائی گئی ہے، اور میرا کوئی امتی، جب اسے نماز کا وقت آن پہنچے تو اسے چاہیے کہ وہ نماز پڑھ لے۔ اور غنائم میرے لیے حلال قرار دیئے گئے ہیں۔ دوسرا نبی خاص طور پر اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے اور شفاعت (کبریٰ) کا اعزاز مجھے عطا ہوا ہے۔

تشریح: نماز پڑھنے کے لیے اس امر کے علم کی ضرورت نہیں ہے کہ جگہ پاک ہے، بلکہ ہر خشک جگہ کو پاک ہی سمجھنا چاہیے جب تک کہ اس کے ناپاک ہونے کا علم نہ ہو۔ اس لیے محض شک اور وہم کی بنا پر نماز قضا کرنا درست نہیں۔ اگر طبیعت کا وہم دور نہ ہو تو اپنا ہی کوٹ (وغیرہ) اتار کر کہیں بچھالیجیے اور اس پر پڑھ لیجیے ۔ (رسائل ومسائل دوم، فقہی مسائل :دارالکفر میں۔۔۔ )

ماخذ

(۱) سنن دار قطنی ج ۱کتاب الصلوٰۃ ٭ ابن ماجہ: کتاب النکاح، باب خطبۃ النکاح قال السندی: الحدیث قد حسنہ ابن الصلاح والنووی وَاَخْرَجہ ابن حبان فی صحیحہ والحاکم فی المستدرک۔٭ السنن الکبری للبیہقی ج۳ کتاب الجمعۃ، باب مایستدل بہ علی وجوب التحمید فی خطبۃ الجمعۃ ٭ کنزالعمال ج۱، حدیث ۲۵۱۱۔ ٭ مجمع الزوائد: ج ۲ ٭ ریاض الصالحین: کتاب حمد اللّٰہ تعالی و شکرہ۔ ٭ فتح القدیر للشو کانی ج ۱ ص۲۱۔ ٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۹کتاب الادب باب ماقالوا یستحب ان یبدأ بہ من الکلام۔ ابن ابی شیبۃ میں’’کل کلام ذی بال، لایبدأ فیہ بالحمد للّٰہ فہو اقطع‘‘ منقول ہے اور المصنف میں عبدالرزاق نے ج۶-ص۱۸۹ پر’’کل کلام ذی بال لا یبدأ فیہ بذکر اللّٰہ فہوابتر‘‘ اور مسند احمد ج۲، ص ۳۵۹ پر عن ابی ہریرۃ ’’کل کلام او امرذی بال لایفتح بذکر اللّٰہ عزوجل فہو ابتر اوقال اقطع‘‘ مذکور ہے اور سنن دارقطنی ج ۱،کتاب الصلوٰۃ میں حضرت ابوہریرۃ سے کل امر ذی بال لا یبدأ فیہ بذکر اللّٰہ اقطع‘‘ روایت کیا ہے۔ کنزالعمال ج ۱، احادیث ۲۵۰۹۔۲۵۱۰۔ ۲۵۱۱ میں’’کل امر ذی بال لا یبدافیہ بحمد اللّٰہ والصلوٰۃ علی فہو اقطع ابتر ممحوق من کل برکۃ‘‘ ذکر کیا ہے۔ فتح المجید کے ص ۶ پر’’کل امر ذی بال لایبدأ فیہ بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم فہو اقطع اخرجہ ابن حبان، قال ابن الصلاح والحدیث حسن ذکر ہے۔کنزالعمال ج۱۔۵۵۵ پر فی فضائل السور والاٰیات والبسملۃ کے تحت عبدالقادر الرہاوی فی الاربعین عن ابی ہریرۃ کے حوالہ سے ’’کل امر ذی بال لا یبدأ فیہ بسم اللّٰہ الرحیم ( اس مقام پر غالبا الرحمن چھوٹ گیا ہے کیونکہ دارقطنی، ج۱ میں کتاب الصلوٰۃ کے تحت حاشیہ الرہاوی کے حوالہ میں الرحمن مذکورہے۔ (مرتب)) اقطع‘‘مذکور ہے۔ ابوداؤد نے ج ۴،کتاب الادب باب الہدی فی الکلام میں ’’کل کلام لایبدا فیہ بالحمد للّٰہ فہو اجزم‘‘ بھی بیان کیا ہے۔
(۲) بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب قول النبی ﷺ جعلت الارض مسجدا وطہورا۔ کتاب التیمم میںکافۃ کی بجائے عامۃ ہے۔٭مسلم: کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ ٭ ترمذی: ابواب السیر، باب ماجاء فی الغنیمۃ اور ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء ان الارض کلہا مسجدٌ إلا المقبرۃ٭نسائی کتاب الغسل اورکتاب المساجد ٭ ابن ماجہ: کتاب المساجد والجماعات، باب المواضع التی تکرہ فیہا الصلوٰۃ۔ ابن ماجہ نے بھی ترمذی کی ابواب الصلوٰۃ والی روایت بیان کی ہے۔٭دارمی: کتاب السیر، باب ان الغنیمۃ لاتحل لاحد قبلنا ٭ دارمی: کتاب الصلوٰۃ، باب الارض کلہا طاہرۃ ماخلا المقبرۃ والحمام٭مسند احمد، ج۵، ص ۱۴۵- ۱۴۸- ۱۶۱- ۲۴۸- ۲۵۶- ۳۸۳-مسند احمد ج۱، ص ۲۵۰-۳۰۱، ج۲، ص ۲۲۲- ۲۴۰- ۲۵۰- ۴۱۲-۴۴۲-۵۰۲، ج۳ ، ص۳۰۴، ج ۴، ص ۴۱۶٭ مجمع الزوائد ہیشمی ج ۱،کتاب الطہارۃ، باب فی التیمم٭الطبرانی اور بزار بحوالہ مجمع الزوائد٭ مسند ابی عوانۃ ج ۱، ص ۳۹۶ ٭ تفسیر ابن کثیر، ج ۳، ص ۳۲۱-۳۰۸- سورہ فرقان اور ج ۱، ص ۵۰۵ عن جابر٭ احکام القرآن للجصاص ج ۴ ، ص ۲۶۰۔

فصل : وضو کے مسائل

  چہرے میں منہ اور ناک ، سر میں کان شامل ہیں۔

۳۔ ’’نبی ﷺ نے فرمایاکہ وضو کے دوران منہ دھونے میں کلی کرنا اور ناک صاف کرنا بھی شامل ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثَنَا حَمَّادٌ ح وَثَنَا مُسَدَّدٌ وَقُتَیْبَۃُ عَنْ حَمَّادِ ابْنِ زَیْدٍ، عَنَ سِنَانِ بْنِ رَبِیْعَۃَ، عَنْ شَہْرِبْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، ذَکَرَ وُضُوْئَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَمْسَحُ الْمَأقَیْنِ قَالَ: وَقَالَ (الْاُذُنَانِ مِنَ الرَّاسِ)۔ (۱)
ترجمہ : حضرت ابوامامہؓ (باہلی) سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے وضو کا ذکر کیا اور بیان کیا کہ آپؐ ناک کی طرف کے گوشہ چشم کا مسح فرماتے اور فرمایا، کان سر کا ایک حصہ ہیں۔
ابن ماجہ نے اسے مرفوع نقل کیا ہے:
(۲) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلْاُذُنَانِ مِنَ الرَّاْسِ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن زید سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ کان سر کا ایک حصہ ہیں۔
 ابودائود نے اس پر جرح کرتے ہوئے کہا ہے اور ترمذی نے بھی:
ـــــــ قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: یَقُوْلَہَا اَبُواُمَامَۃَ۔ قَالَ قُتَیْبَۃُ: قَالَ حَمَّادُ: لَا اَدْرِیْ ہُوَ مِنْ قَوْلِ النَّبِیِّ ﷺ اَوْ (من) اَبِیْ اُمَامَۃَ۔ یَعْنِیْ قِصَّۃَ الاُذُنَیْنِ، قَالَ قُتَیْبَۃُ عَنْ سِنَانٍ ابِیْ رَبِیْعَۃَ قَالَ اَبُوْدَاؤُدَ : وَہُوَ ابْنُ رَبِیْعَۃَ، کُنِّیَّتُہٗ اَبُوْ رَبِیْعَۃَ ۔(۲)
ـــــــسلیمان بن حرب کا قول ہے کہ یہ ’’الاذنان من الراس‘‘ کا جملہ ابو امامہ کا ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان نہیں۔ قتیبہ کہتے ہیں کہ حماد کا قول ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ جملہ نبی ﷺ کا فرمودہ ہے یا ابوامامہ کا اپنا قول۔
تشریح :  بغیر اس کے منہ کے غسل کی تکمیل نہیں ہوتی۔ اور کان چونکہ سر کا ایک حصہ ہیں، اس لیے سر کے مسح میں کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصوں کا مسح بھی شامل ہے۔ نیز وضو شروع کرنے سے پہلے ہاتھ دھولینے چاہییں تاکہ جن ہاتھوں سے آدمی وضو کررہا ہو وہ خود پہلے پاک ہوجائیں۔                       (تفہیم القرآن،ج ۱، مائدہ، حاشیہ: ۲۴)

وضو سے فراغت کے بعد دعا

۴۔اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ، اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَہِّرِیْنَ ۔
’’ میں شہادت دیتا ہوں کہ ایک اکیلے لا شریک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ خدایا مجھے توبہ کرنے والوں میں شامل کر اور مجھے پاکیزگی اختیار کرنے والا بنا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا جَعْفَرُبْنُ مُحَمَّدِبْنِ عِمْرَانَ الثَّعْلَبِیُّ الْکُوْفِیُّ نَازَیْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ ابْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ یَزِیْدَ الدمَشْقِیِّ، عَنْ اَبِیْ ادْرِیْسَ الْخَوْلَا نِیِّ وَاَبِیْ عُثْمَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَن تَوَضَّأَفَاَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ قَالَ:’’اَشْہَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ، وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ، وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَہِّرِیْنَ۔ فُتِحَتْ لَہٗ ثَمَانِیَۃُ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یَدْخُلُ مِنْ اَیِّہَا شَآئَ‘‘وَفِی الْبَابِ عَنْ اَنَسٍ وَعُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ۔(۳)
ترجمہ:حضرت عمربن الخطاب سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے وضو کیا اور اچھی طرح کیا پھر وضو کے بعد اَشْہَدُ اَنْ لّآ اِلٰہ الاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ الخ پڑھا کہ ’’ میں شہادت دیتا ہوں کہ ایک لا شریک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ خدایا مجھے توبہ کرنے والوں میں شامل کر اور مجھے پاکیزگی اختیار کرنے والا بنا۔‘‘ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں کہ جس میں سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْ عِیْسیٰ: حَدِیْثُ عُمَرَ قَدْ خُوْلِفَ زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ۔ رَویٰ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ وَغَیْرُہُ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ یَزِیْدَ، عَنْ اَبِیْ اِدْرِیْسَ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُمَرَ، عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ، عَنْ جُبَیْرِبْنِ نُفَیْرٍ ، عَنْ عُمَرَ۔ وَہٰذَا حَدِیْثٌ فِیْ اسْنَادِہٖ اِضْطِرَابٌ۔ وَلَا یَصِحُّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ کَبِیْرُ شَییٍٔ۔ قَالَ مُحَمَّدُ: اَبُوْ اِدْرِیْسَ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ شَیْئًا۔
تشریح: وضو کے دوران میں اگر تم اپنے اعضاء دھونے کے ساتھ ساتھ اللہ کاذکر کرتے رہو اور فارغ ہو کر وہ (مندرجہ بالا) دعا پڑھو جو رسول اللہ ﷺ نے سکھائی ہے ، تو محض تمہارے اعضاء ہی نہ دھلیں گے، بلکہ ساتھ ساتھ تمہارا دل بھی دھل جائے گا۔
(خطبات، باب سوم، نماز میں۔۔۔)

نواقض وضو

نواقض وضو کے مسئلے کی صحیح صورت یہ ہے کہ شریعت میں جن جن باتوں سے وضو کے ٹوٹنے اور تجدید وضو لازم آنے کا حکم لگایا گیا ہے، پہلے ان سب کو اپنے ذہن سے نکال دیجیے۔ پھر خود اپنے طور پر سوچیے کہ عام انسانوں کے لیے ( جن میں عالم اور جاہل ، عاقل اور کم عقل، طہارت پسند اور طہارت سے غفلت کرنے والے، سب ہی قسم کے لوگ مختلف درجات و حالات کے موجود ہیں) آپ کو ایک ایسا ضابطہ بنانا ہے جس میں حسب ذیل خصوصیات موجود ہوں:
(۱) لوگوں کو بار بار صاف اور پاک ہوتے رہنے پر مجبور کیا جائے اور ان میں نظافت کی حس اس قدر بیدار کردی جائے کہ وہ نجاستوں اور کثافتوں سے خود بچنے لگیں۔
(۲) خدا کے سامنے حاضر ہونے کی اہمیت اور امتیازی حیثیت ذہن میں بٹھائی جائے، تاکہ نیم شعوری طور پر آدمی خود بخود اپنے اندر یہ محسوس کرنے لگے کہ نماز کے قابل ہونے کی حالت، دنیا کی دوسری مشغولیتوں کے قابل ہونے کی حالت سے لازماً مختلف ہے۔
(۳) لوگوں کے اپنے نفس اور اس کے حال کی طرف توجہ رکھنے کی عادت ڈالی جائے، تاکہ وہ اپنے پاک یا ناپاک ہونے، اور ایسے ہی دوسرے احوال سے جو ان پر وارد ہوتے رہتے ہیں، بے خبر نہ ہونے پائیں اور ایک طرح سے خود اپنے وجود کا جائزہ لیتے رہیں۔
(۴) ضابطہ کی تفصیلات کو ہر شخص کے اپنے فیصلہ اور رائے پر نہ چھوڑا جائے بلکہ ایک طریق کار معین ہو، تا کہ انفرادی طور پر لوگ طہارت میں افراط و تفریط نہ کریں۔
(۵) ضابطہ اس طرح بنایا جائے کہ اس میں اعتدال کے ساتھ طہارت کا مقصد حاصل ہو، نہ اتنی سختی ہو کہ زندگی تنگ ہو کر رہ جائے اور نہ اتنی نرمی کہ پاکیزگی ہی باقی نہ رہے۔
ان پانچ خصوصیات کو پیش نظر رکھ کر آپ خود ایک ضابطہ تجویز کریں اور خیال رکھیں کہ اس میں کوئی بات اس نوعیت کی نہ آنے پائے جس پر اعتراضات ہوسکتے ہیں۔
اس قسم کا ضابطہ بنانے کی کوشش میں اگر آپ صرف ایک ہفتہ صرف کریں گے تو آپ کی سمجھ میں خود بخود یہ بات آجائے گی کہ ان خصوصیات کو ملحوظ رکھ کر صفائی وطہارت کا کوئی ایسا ضابطہ نہیں بنایا جاسکتا جس پر اعتراضات واردنہ ہوسکتے ہوں۔آپ کو بہر حال کچھ چیزیں ایسی مقرر کرنی پڑیں گی جن کے پیش آنے پر ایک طہارت کو ختم شدہ فرض کرنا اور دوسری طہارت کو ضروری قرار دینا ہوگا۔ آپ کو یہ بھی متعین کرنا ہوگا کہ ایک طہارت کی مدت قیام (Duration) کن حدود تک رہے گی اور کن حدود پر ختم ہوجائے گی۔ ا س غرض کے لیے جو حدیں بھی آپ تجویز کریں گے، ان میں ناپاکی ظاہر اورنمایاں اور محسوس نہ ہوگی بلکہ فرضی اور حکمی ہی ہوگی اور لامحالہ بعض حوادث ہی کو حد بندی کے لیے نشان مقرر کرنا ہوگا۔
جب آپ اس زاویہ نظر سے اس مسئلہ پر غور کریں گے تو آپ خود بخود اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ شارع نے جو ضابطہ تجویز کردیا ہے، وہی ان اغراض کے لیے بہترین اور غایت درجہ معتدل ہے۔ اس کے ایک ایک جزئیہ کو الگ الگ لے کر علت و معلول اور سبب و مسبب کا ربط تلاش کرنا معقول طریقہ نہیںہے ۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ کیا بہ حیثیت مجموعی ان اغراض و مصالح کے لیے جو اوپر بیان ہوئی ہیں، اس سے بہتر اور جامع تر کوئی ضابطہ تجویز کیا جاسکتا ہے؟ لوگوں کو احکام وضو میں جو غلط فہمی پیش آتی ہے اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ وہ اس بنیادی حکمت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے جو بہ حیثیت مجموعی ان احکام میں ملحوظ رکھی گئی ہے۔ بلکہ ایک ایک جزئی حکم کے متعلق یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ فلاں فعل میں آخر کیا بات ہے کہ اس کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی ضرب آخر کس طرح شکست وضو کا سبب بن جاتی ہے۔
(رسائل و مسائل اول،فقہی مسائل: نواقض وضو)

سگریٹ نوشی سے وضو نہیں ٹوٹتا

سوال: ’’مولانا! وضو کی حالت میں سگریٹ پینا کیسا ہے؟‘‘
جواب: ’’کوئی حرج نہیں۔ وضو نہیں ٹوٹتا، البتہ نماز سے پہلے کلی کرکے منہ کو اچھی طرح صاف کرلینا چاہیے تاکہ سگریٹ کی بو باقی نہ رہے۔‘‘ (۵- اے ذیلدار پارک دوم، ص :۱۷۲)

جرابوں پر مسح

۵۔ مَسَحَ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ۔
’’نبی ﷺ نے اپنی جرابوں اور جوتوں پر مسح فرمایا۔‘‘ ) جہاں تک چمڑے کے موزوں پر مسح کرنے کا تعلق ہے اس کے جواز پر قریب قریب تمام اہل سنت کا اتفاق ہے۔ مگر سوتی اور اونی جرابوں کے معاملے میں عموماً ہمارے فقہاء نے یہ شرط لگائی ہے کہ وہ موٹی ہوں، اور شفاف نہ ہوں کہ ان کے نیچے سے پائوں کی جلد نظر آئے۔ اور وہ کسی قسم کی بندش کے بغیر خود قائم رہ سکیں۔ میں نے اپنی امکانی حد تک یہ تلاش کرنے کی کوشش کی کہ ان شرائط کا ماخذ کیا ہے مگر سنت میں ایسی کوئی چیز نہ مل سکی۔ (
تخریج : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، عَنْ وَکِیْعٍ، عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ قَیْسِ نِ الْاَوْدِیْ ہُوَ عَبْدُ الرَّ حْمٰنِ بْنُ ثَرْوَانَ، عَنْ ہُزَیْلِ بْنِ شُرَ حْبِیْلَ، عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَوَضَّاَ وَمَسَحَ عَلَی الْجَوْ رَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ۔( نسائی کے سوا تمام کتب سنن اور مسند احمد میں بہ روایت مغیرہ بن شعبہ موجود ہے۔)
ترجمہ: حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا اور اپنی جرابوں اور جوتوں پر مسح فرمایا۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْ عِیْسیٰ:ہٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ، وَہُوَقَوْلُ غَیْرِ وَاحِدٍ مِّنْ اَہْلِ الْعِلْمِ وَبِہٖ یَقُوْلُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِیُّ وَاَحْمَدُ وَاِسْحَاقُ قَالُوْا  یَمْسَحُ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ وَاِنْ لَّمْ یَکُوْنَا نَعْلَیْنِ اِذَا کَانَا ثِخِّیْنَیْنِ۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاؤدَ:کَانَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ مَہْدِیْ لاَ یُحَدِّثُ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ، لِاَنَّ الْمَعْرُوْفَ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ مَسَحَ عَلَی الْخُفَّیْنِ۔
ـــــــ  حضرت مغیرہ سے مروی ایک اور روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے موزوں پر مسح فرمایا۔
ـــــــ قَالَ ابُوْدَاوٗدَ: وَرُوِیَ ہٰذَا اَیْضاً عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّعَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہُ مَسَحَ عَلیٰ الْجَوْرَبَیْنِ وَلَیْسَ بِالْمُتَّصِلِ وَلَا بِالْقَوِیِّ۔
ـــــــ ’’ابودائود کا خیال ہے کہ ابو موسیٰ الاشعری کے واسطہ سے مسح علی الجور بین والی روایت متصل بھی نہیں اور نہ وہ قوی ہے۔‘‘
ـــــــ قَالَ اَبُوْ دَاوُدَ وَمَسَحَ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ، وَابْنُ مَسْعُوْدٍ، وَالْبَرَآئُ بْنُ عَازِبٍ، وَاَنَسُ ابْنُ مَالِکٍ، وَاَبُوْ اُمَا مَۃَ، وَسَہْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَمْرُ وْبْنُ حُرَیْثٍ، وَرُوِیَ ذٰلِکَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخطَّابِ وَابْنِ عَبَّاسٍ۔(۴)
ترجمہ : حضرت علیؓ بن طالب ، عبداللہ بن مسعودؓ ، براء بن عازب ؓ ، انس بن مالکؓ ، ابو امامہ ؓ ، سہل بن سعدؓ، عمروبن حریثؓ نے جرابوں پر مسح کیا ہے۔ حضرت عمرؓ بن الخطاب اور ابن عباسؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
۶۔ حضرت اوس بن ابی اوس ثقفی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا اور اپنے جوتوں اور پائوں پر مسح فرمایا۔
تخریج:(۱)وَقَالَ عبادٌ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَتیٰ کِظَامَۃَ قَوْمٍ ـــــ یَعْنِی اَلْمِیْضَاَۃَ ـــــ وَلَمْ یَذْکُرْ مُسَدَّدٌ اَلْمِیْضَاَۃَ وَالکِظَاَمَۃَ ثُمَّ اتَّفَقَا فَتَوَضَّأ وَمَسَحَ عَلیٰ نَعْلَیْہِ وَقَدَ مَیْہِ۔    (ابوداؤد)
(۲)حدَّثنا مُسَدَّدٌ وَعَبَادُبْنُ مُوْسیٰ قَالَا: ثَنَا ہُشیْمٌ عَنْ یَعْلیٰ بْنِ عَطَآئٍ عَنْ اَبِیْہِ ، قَالَ عبادٌ: قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَوْسُ بْنُ اَوْسٍ الثَّقَفِیُّ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ توضأ ومَسَحَ عَلیٰ نعْلَیْہِ وَقَدَمَیْہ ۔
تشریح:  سنت سے جو کچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ نبی ﷺ نے جرابوں اور جوتوں پر مسح فرمایا ہے۔ ابودائود کا بیان ہے کہ حضرت علیؓ حضرت عبداللہ بن مسعود، براء بن عازب، انس بن مالک، ابوامامہ، سہل بن سعد اور عمرو بن حریث نے جرابوں پر مسح کیا ہے۔ نیز حضرت عمرؓ اور ابن عباسؓ سے بھی یہ فعل مروی ہے۔ بلکہ بیہقی نے ابن عباس اور انس بن مالک سے اور طحاوی نے اوس بن ابی اوس سے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے صرف جوتوں پر مسح فرمایا ہے۔اس میں جرابوں کا ذکر نہیں ہے۔ اور یہی عمل حضرت علی سے بھی منقول ہے۔ ان مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف جراب اور صرف جوتے، اور جرابیں پہنے ہوئے جوتے پر مسح کرنا بھی اسی طرح جائز ہے جس طرح چمڑے کے موزوں پر مسح کرنا۔ ان روایات میں کہیں یہ نہیں ملتا کہ نبی ﷺ نے فقہاء کی تجویز کردہ شرائط ۱؎ میں سے کوئی شرط بیان فرمائی ہو۔ اور نہ یہ ذکر کسی جگہ ملتا ہے کہ جن جرابوں پر حضور اور مذکورہ بالا صحابہ نے مسح فرمایا وہ کس قسم کی تھیں۔ اس لیے میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ فقہاء کی عائد کردہ ان شرائط کا کوئی ماخذ نہیں ہے اور فقہاء چونکہ شارع نہیں ہیں، اس لیے ان کی شرطوں پر اگر کوئی عمل نہ کرے، تو وہ گنہگار نہیں ہوسکتا۔
امام شافعی اور امام احمد کی رائے یہ ہے کہ جرابوں پر اس صورت میں آدمی مسح کرسکتا ہے جب کہ آدمی جوتے اوپر سے پہنے رہے۔ لیکن اوپر جن صحابہ کے آثار نقل کیے گئے ہیں ان میں سے کسی نے بھی اس شرط کی پابندی نہیں کی ہے۔
(رسائل و مسائل دوم، فقہی مسائل: جرابوں پر مسح)

مَسَحٌ عَلَی الْخُفَّیْنِ (موزوں پر مسح)

مسح علی الخفین کے مسئلے پر غور کرکے میں نے جو کچھ سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ دراصل یہ تیمم کی طرح ایک سہولت ہے جو اہل ایمان کو ایسی حالتوں کے لیے دی گئی ہے جب وہ کسی صورت سے پائوں ڈھانکے رکھنے پر مجبور ہوں اور بار بار پائوں دھونا ان کے لیے موجب نقصان یا وجہ مشقت ہو۔ اس رعایت کی بنا اس مفروضے پر نہیں ہے کہ طہارت کے بعد موزے پہن لینے سے پائوں نجاست سے محفوظ رہیں گے۔ اس لیے ان کو دھونے کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ بلکہ اس کی بنا اللہ کی رحمت ہے جو بندوں کو سہولت عطا کرنے کی مقتضی ہوئی۔ لہٰذا ہر وہ چیز جو سردی سے، یا راستے کے گردوغبار سے بچنے کے لیے، یا پائوں کے کسی زخم کی حفاظت کے لیے آدمی پہنے اور جس کے بار بار اتارنے اور پھر پہننے میں آدمی کو زحمت ہو، اس پر مسح کیا جاسکتا ہے، خواہ وہ اونی جراب ہو، یا سوتی۔ چمڑے کا جوتا ہو یا کرمچ کا، یا کوئی کپڑا ہی ہو جو پائوں پر لپیٹ کر باندھ لیا گیا ہو۔ میں جب کبھی کسی کو وضو کے بعد مسح کے لیے پائوں کی طرف ہاتھ بڑھاتے دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ بندہ اپنے خدا سے کہہ رہا ہے کہ ’’حکم ہو تو ابھی یہ موزے کھینچ لوں اور پائوں دھوڈالوں۔ مگر چونکہ سرکار ہی نے رخصت عطا فرمادی ہے، اس لیے مسح پر اکتفا کرتا ہوں۔‘‘ میرے نزدیک دراصل یہی معنی مسح علی الخفین وغیرہ کی حقیقی روح ہیں۔ اور اس روح کے اعتبار سے وہ تمام چیزیں یکساں ہیں جنہیں ان ضروریات کے لیے آدمی پہنے، جن کی رعایت ملحوظ رکھ کر مسح کی اجازت دی گئی ہے۔
(رسائل و مسائل ، دوم، فقہی مسائل: جرابوں پر مسح)
تخریج: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدِنِ الْحَرَّانِیُّ، قَالَ: ثَنَااللَّیْثُ عَنْ یَحْیٰ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ سَعْدِ ابْنِ اِبْرَاہِیْمَ عَنْ نَا فِعِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنْ عُرْوَۃَبْنِ الْمُغِیْرَۃِ عَنْ اَبِیْہِ الْمُغِیْرَۃِ ابْنِ شُعْبَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّہُ خَرَجَ لِحَاجَتِہِ فَاتَّبَعَہُ الْمُغِیْرَۃُ بِاِدَاوَۃٍ فِیْہَا مَآ ئٌ فَصَبَّ عَلَیْہ حِیْنَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِہ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی الْخُفَّیْنِ۔(۵)
ترجمہ : حضرت مغیرہؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ قضاء حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے۔ مغیرہ بن شعبہ پانی کا لوٹا لے کر آپ کے پیچھے ہولیے۔ جب آپ قضاء حاجت سے فارغ ہوئے تو انہوں نے پانی ڈالا۔ آپؐ نے وضو فرمایا اور موزوں پر مسح کیا۔

وضو کے احکام قرآن کو سمجھنے میں حدیث نبویؐ سے مدد

(ایک سائل کے جواب میں) بلا شبہ وضو کے بارے میں قرآن مجید میں یہی حکم ہے کہ جب نماز کے لیے اٹھو تو وضو کرو، مگر نبیﷺ نے ہمیں بتایا ہے کہ اس کا منشا کیا ہے؟ اسی طرح قرآن میں صرف منہ دھونے کا حکم ہے مگر آں حضرت ﷺ نے ہمیں منہ دھونے کا صحیح طریقہ اور معنی بتائے کہ اس میں کلی کرنا اور ناک میں پانی دینا بھی شامل ہے۔ قرآن میں صرف سر کے مسح کا حکم ہے، مگر حضورؐ نے ہمیں بتایاکہ سر کے مسح میں کان کا مسح بھی شامل ہے۔ آپ نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ وضو شروع کرتے وقت پہلے ان ہاتھوں کو پاک کر لو، جن سے تمہیں وضو کرنا ہے۔ یہ باتیں قرآن میں نہیں بتائی گئی تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے حکم قرآنی کی تشریح کرکے ہمیں یہ باتیں بتائی ہیں۔ قرآن کے ساتھ نبی کے آنے کا مقصد یہی تھا کہ وہ کتاب کے منشا کو کھول کر ہمیں بتائے اور اس پر عمل کرکے بتائے۔ آیت وَاَنْزَلْنَااِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ اِلَیْہِمْ (النحل:۴۴) میںاسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ یعنی اے نبی! ہم نے یہ ذکر لوگوں کے پاس براہ راست بھیج دینے کے بجائے تمہاری طرف اس لیے نازل کیا ہے کہ تم لوگوں کے سامنے وضاحت کے ساتھ اس ہدایت کی تشریح کرو جو ان کی طرف بھیجی گئی ہے۔
اس بات کو اگر آپ اچھی طرح سمجھ لیں تو آپ کو اپنے اس سوال کا جواب سمجھنے میں بھی کوئی زحمت پیش نہ آئے گی کہ ایک ہی وضو سے ایک سے زائد نمازیں پڑھنا کیوں جائز ہے۔ دراصل نبی ﷺ نے ہمیں بتایا کہ ایک وضو کی مدت قیام کس قدر ہے اور کن چیزوں سے یہ مدت ختم ہوتی ہے۔ اگر حضورؐ یہ نہ بتاتے تو ایک شخص یہ غلطی کرسکتا تھا کہ تازہ وضو کے بعد پیشاب کرلیتا، یا کسی دوسرے ناقض وضو فعل کا صدور اس سے ہوجاتا اور وہ پھر بھی نماز کے لیے کھڑا ہوجاتا۔ یا مثلاً دوران نماز میں ریح خارج ہوجانے کے باوجود نماز پڑھ ڈالتا۔ قرآن میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ نماز کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ وضو کب تک باقی رہتا ہے اور کن چیزوں سے ساقط ہوجاتا ہے۔ کوئی شخص بہ طور خود یہ نہیں سمجھ سکتا تھا کہ ابھی ابھی جس شخص نے وضو کیا ہے، ریح خارج ہونے سے اس کے وضو میں کیا قباحت واقع ہوجاتی ہے۔ اب جبکہ حضورؐ نے واضح طور پر یہ بتادیا کہ وضو کو ساقط کرنے والے اسباب کیا ہیں تو اس سے خود بخود یہ بات نکل آئی کہ جب تک ان اسباب میں سے کوئی سبب رونما نہ ہو، وضو باقی رہے گا۔ خواہ اس پر کتنے ہی گھنٹے گزر جائیں اور جب ان میں سے کوئی سبب رونما ہوجائے تو وضو باقی نہیں رہے گا۔ خواہ آدمی نے ابھی ابھی تازہ وضو کیا ہو اور اس کے اعضاء بھی پوری طرح خشک نہ ہوئے ہوں۔
اب اگر (کوئی صاحب یہ کہتے ہیں) کہ قرآن میں چونکہ حکم ان الفاظ میں آیا ہے(کہ جب تم نماز کے لیے اٹھو تو وضو کرو، اس لیے ہر نماز کے لیے تازہ وضو ضروری ہے) تو اسی طرح کا استدلال کرکے ایک شخص یہ حکم لگاسکتا ہے کہ ہر مستطیع مسلمان کو ازروئے قرآن ہر سال حج کرنا چاہیے اور یہ بھی دعویٰ کرسکتا ہے کہ عمر بھر میں ایک دفعہ زکوٰۃ دے کر آدمی قرآن کا حکم پورا کردیتا ہے۔ تشریح رسولؐ سے بے نیاز ہو کر تو ہر مسلمان شخص قرآن کی ہر آیت کی ایک نرالی تعبیر و تاویل کرسکتا ہے اور کسی کی رائے بھی کسی دوسرے شخص کے لیے حجت نہیں بن سکتی۔ (رسائل و مسائل دوم، تفسیر آیات ۔۔۔ حدیث کے۔۔۔)

احکام وضو کی تشریح

منہ اور پائوں (وضو میں) دھونے کے حکم کی جو وجہ بعض لوگوں نے سمجھی ہے وہ بھی صحیح نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حکم محض گرد صاف کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ اور جہاں گرد و غبار نہ ہو وہاں اس پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حالانکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے ہی نہیں۔ دراصل اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اس کی عبادت کے قابل ہونے اور قابل نہ ہونے کی حالت کے درمیان فرق کیا جائے تاکہ آدمی جب اس کی عبادت کرنے کا ارادہ کرے تو وہ اپنے جسم اور لباس کا جائزہ لے کر دیکھے کہ آیا میں خدا کے حضور حاضر ہونے کے قابل ہوں یا نہیں؟ اور جانے سے پہلے اپنے آپ کو پاک صاف کرکے اہتمام کے ساتھ جائے۔ اس طرح عبادت کی اہمیت دل میں جاگزیں ہوتی ہے۔ اور آدمی اسے اپنے عام معمولی کاموں سے ایک مختلف اور بالاتر نوعیت کا کام سمجھ کر بجالاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں پانی نہ ملے وہاں تیمم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حالانکہ تیمم سے بہ ظاہر کوئی صفائی بھی نہیں ہوتی۔
علاوہ بریں وضو میں جس صفائی کا حکم دیا گیا ہے اس سے ایک ضمنی مقصد یہ بھی ہے کہ پنج وقتہ نماز کی وجہ سے آدمی کو پاک رہنے کی عادت پڑجائے۔ گندگی لازماً صرف مٹی اور گرد و غبار کی وجہ سے ہی نہیں ہوتی، بلکہ آدمی کے مسامات سے ہر وقت کچھ نہ کچھ فضلات خارج ہوتے رہتے ہیں۔ اگر اسے دھویا نہ جاتا رہے تو یہ مادے جسم کی سطح پر جم جم کر بوپیدا کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صاحب لوگوں کے منہ سے بھی بو آتی ہے ، ان کے بدن میں بھی ایک طرح کی سڑاند ہوتی ہے، اور ان کے پائوں تو سخت بدبودار ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے جوتوں اور جرابوں میں بھی ایک تعفن پیدا ہوجاتا ہے۔ اسلام اس کو پسند نہیں کرتا کہ اس کے پیرو کسی حیثیت سے بھی نفرت انگیز حالت میں رہیں۔ یورپ کے لوگ اس بدبو کو دبانے کے لیے عطریات اور لونڈر استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ بدبو کو اوپری خوشبوئوں سے دبانا کوئی پاکیزگی و طہارت نہیں ہے۔
جاڑے کے زمانے میں یا سرد علاقوں میں پائوں دھونے کی زحمت سے بچانے کے لیے شریعت نے پہلے ہی یہ آسانی رکھ دی ہے کہ آدمی ایک دفعہ وضو میں پائوں دھونے کے بعد موزے پہن لے۔ پھر ۲۴ گھنٹے تک مقیم کے لیے اور ۷۲ گھنٹے تک مسافر کے لیے پائوں دھونے کی حاجت نہیں ہے بشرطیکہ اس دوران میں وہ موزے نہ اتارے۔
(رسائل و مسائل سوم،فقہی مسائل: اجتہاد کے حدود)

آیت وضو میں اہل سنت اور اہل تشیع کا اختلاف

آیت وضو (سورۂ مائدہ، رکوع دوم) کے متعلق شیعوں اورسنیوں کے درمیان یہ اختلاف بہت پرانا ہے کہ آیا اس میں پائوں دھونے کا حکم دیا گیاہے یا ان پر صرف مسح کرنے کا۔ ان کو یہ غلط فہمی ہے کہ قرآن میں صاف پیروں کے مسح کرنے کا حکم ہے اور اہل سنت نے محض حدیث کی بنیاد پر دھونے کا مسلک اختیار کرلیا ہے۔ اگر صاف حکم یہی موجود ہوتا تو پھر کس کی مجال تھی کہ اس کے خلاف عمل کرتا۔ اصل مختلف فیہ سوال تو یہی ہے کہ قرآن فی الواقع ان دونوں فعلوں میں سے کس کا حکم دیتا ہے اور اس کا حقیقی منشا کیا ہے۔
آیت کے الفاظ یہ ہیں:
یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلوٰۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْ ہَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُئُ وْسِکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ۔ط (المائدۃ: ۶)
’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ، جب تم اٹھو نماز کے لیے تو دھوئو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک اور مسح کرو اپنے سروں پر اور اپنے پائوں ٹخنوں تک۔‘‘
اس میں لفظ وَاَرْجُلکُمْکی دو قرأ تیں متواتر ہیں۔ نافع، ابن عامر، حفص، کسائی اور یعقوب کی قرأ ت وَاَرْجُلَکُمْ (بفتح لام)ہے، اور ابن کثیر، حمزہ، ابو عمرو اور عاصم کی قرأ ت وَاَرْجُلِکُمْ (بکسرلام) ہے۔ ان میں سے کسی قرأ ت کی حیثیت بھی یہ نہیں ہے کہ بعد میں کسی وقت بیٹھ کر نحویوں نے اپنے اپنے فہم اور منشا کے مطابق الفاظ قرآنی پر خود اعراب لگادیے ہوں، بلکہ یہ دونوں قرأ تیں متواتر طریقے سے منقول ہوئی ہیں۔ اب اگر پہلی قرأ ت اختیار کی جائے تو وَاَرْجُلَکُمْکا تعلق فاغْسلُوْا کے حکم سے جڑتا ہے اور معنی یہ ہو جاتے ہیں اور دھوئو اپنے پائوں ٹخنوں تک ، اور اگر دوسری قرأت قبول کی جائے تو اس کا تعلق وامْسَحُوْ ابِرُء ُ وْسِکُمْ سے قائم ہوتاہے اور معنی یہ نکلتے ہیں: ’’ اور مسح کرو اپنے پائوں پر ٹخنوں تک۔‘‘
یہ صریح اختلاف ہے جو ان دو مشہور و معروف اور متواتر قراء توں کی وجہ سے آیت کے معنی میں واقع ہوجاتا ہے ۔ اس تعارض کو رفع کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ دونوں قراء توں کو کسی ایک ہی مفہوم (غسل یا مسح) پر محمول کیا جائے۔ لیکن اس کی جتنی کوششیں بھی کی گئی ہیں وہ ہمیں کسی قطعی نتیجے پر نہیں پہنچاتیں۔ کیونکہ جتنے وزنی دلائل کے ساتھ ان کو غسل پر محمول کیا جاسکتا ہے قریب قریب اتنے ہی وزنی دلائل مسح پر محمول کرنے کے حق میں بھی ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ محض قواعد زبان کی بنا پر ان میں کسی ایک معنی کو ترجیح دی جائے۔ لیکن یہ صورت بھی مفید مطلب نہیں، کیونکہ دلائل ترجیح دونوں پہلوئوں میں قریب قریب برابر ہیں۔ اب آخر اس کے سوا کیا چارہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے عمل کو دیکھا جائے۔
ظاہر ہے کہ وضو کا حکم کہیں خلا میں تو نہیں دیا گیا تھا، اور نہ وہ محض قرآن کے مصحف پر لکھا ہوا ہمیں مل گیا ہے۔ یہ تو ایک ایسے فعل کا حکم ہے جو پنج وقتہ نمازوں کے موقع پر عمل کرنے کے لیے دیا گیا تھا۔ حضوؐر خود اس پر ہر روز کئی کئی بار عمل فرماتے تھے۔ اور آپؐ کے متبعین ، مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے سب روزانہ اس حکم کی تعمیل اس طریقے پر کرتے تھے جو انہوں نے آںحضورؐ کے قول اور عمل سے سیکھا تھا۔ آخر ہم کیوں نہ یہ دیکھیں کہ قرآن کے اس حکم پر ہزارہا صحابہؓ نے حضوؐر کو اور بعد کے بے شمار مسلمانوں نے صحابہؓ کو کس طرح عمل کرتے دیکھا؟ قرآن کے الفاظ سے جو بات واضح نہ ہوئی ہو اسے سمجھنے کے لیے اس ذریعہ سے زیادہ معتبر ذریعہ اور کون سا ہو سکتا ہے۔
اس ذریعہ علم کی طرف جب ہم رجوع کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ صحابہؓ کی اتنی کثیر تعداد رسول اللہ ﷺ سے پائوں دھونے کے قول اور عمل کو نقل کرتی ہے اور تابعین کی اس سے بھی زیادہ تعداد صحابہؓ سے اس کو روایت کرتی ہے کہ اس خبر کی صحت میں شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ یہ درست ہے کہ کچھ تھوڑی سی روایات مسح کے حق میں بھی ہیں، لیکن ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہؓ کا عمل مسح کا تھا، بلکہ دو تین صحابیوں کی اپنی رائے یہ تھی کہ قرآن صرف مسح کا حکم دیتا ہے نیز ان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہؓ اگر وضو سے ہوتے اور پھر نماز کے وقت تجدید وضو کرنا چاہتے تو صرف مسح پر اکتفا کرتے تھے۔دوسری طرف متعدد مستند روایات خود اہل تشیع کے ہاں ایسی ملتی ہیں، جن سے پائوں دھونے کا حکم اور عمل ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً محمد بن نعمان کی روایت ابوعبداللہؓ سے جس کو کلبی اور ابوجعفر طوسی نے بھی صحیح سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اس میں وہ فرماتے ہیں کہ ’’اگر تم سرکا مسح بھول جائو اور پائوں دھو بیٹھو، تو پھر سر کا مسح کرو اور دوبارہ پائوں دھولو۔‘‘ اس طرح محمد بن حسن الصفار حضرت زید بن علیؓ سے ، وہ اپنے والد امام زین العابدین سے، وہ اپنے والد امام حسین ؓ سے اور وہ اپنے والد سیدنا علیؓ سے ان کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ ’’میں وضو کرنے بیٹھا، سامنے سے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ میں پائوں دھونے لگا تو آپؐ نے فرمایا ’’اے علی! انگلیوں کے درمیان خلال کرلو۔‘‘ الشرف الرضی نے نہج البلاغہ میں حضرت علیؓ سے رسول اللہ ﷺ کے وضو کی جو کیفیت نقل کی ہے اس میں بھی وہ پائوں دھونے ہی کا ذکر فرماتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روایات کا وزن تمام تر غسل قدمین کے حق میں ہے۔ اور محض مسح کی تائید بہت ہی کم اور سنداً و معنی کمزور روایتیں کرتی ہیں۔
اب عقل کے لحاظ سے دیکھیے تو پائوں دھونے ہی کا عمل زیادہ معقول اور قرآن کے منشا کے قریب تر محسوس ہوتا ہے۔ وضو میں جتنے اعضاء کی صفائی کا حکم دیا گیا ہے، ان میں سب سے زیادہ گندگی اور میل کچیل لگنے کا امکان اگر کسی عضو کو ہے تو وہ پائوں ہی ہیں۔ اور سب سے کم جس حصہ جسم کے آلودہ ہونے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں وہ سر ہے۔ یہ عجیب بات ہوگی کہ دوسرے سب اعضاء کو تو دھونے کا حکم ہو اور پائوں مسح کے حکم میں سرکے ساتھ شامل کیے جائیں۔ پھر پائوں پر مسح اگر وضو کے آخر میں کیا جائے تو لامحالہ گیلے ہاتھ ہی پھیرنے ہوں گے۔ اس صورت میں پائوں پر جو گردوغبار یا میل کچیل ہوگا وہ گیلے ہاتھ پھیرنے سے اور بھی زیادہ گندہ ہوجائے گا۔ علاوہ بریں اگر آدمی پائوں پر صرف مسح کرے تو آیت کے دو محتمل معنوں میں سے ایک ( غسل قد مین) لازماً چھوٹ جاتا ہے اور صرف ایک ہی مفہوم کی تعمیل ہوتی ہے۔ لیکن اگر آدمی پائوں دھوئے بھی اور اچھی طرح ہاتھوں سے مل کر ان کو صاف بھی کردے تو آیت کے دونوں مفہوموں پر بدرجہ اتم عمل ہوجاتا ہے، کیونکہ اس صورت میں غسل اور مسح دونوں جمع ہوجاتے ہیں۔
البتہ مسح کے حکم پر عمل رسول اللہ ﷺ نے اس حالت میں بیان کیا ہے جبکہ آپؐ موزے پہنے ہوئے تھے۔ یہ آیت کے دوسرے مفہوم سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ بکثرت روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے اور سراسر معقول بھی۔ مگر تعجب ہے کہ شیعہ حضرات اسے نہیں مانتے، حالانکہ یہ ان کے اپنے مسلک سے بھی قریب تر ہے۔
(رسائل و مسائل دوم، اختلافی مسائل، اہل سنت۔۔۔)

ماخذ

(۱) ابوداؤد ج۱، کتاب الطہارۃ، باب صفۃ وضوء رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ٭ ترمذی: کتاب الطہارۃ، باب ماجاء ان الأذنین من الراس٭ ابن ماجہ: کتاب الطہارۃ و سننہا، باب الْاُذُنَانِ مِنَ الرَّاْسِ۔
(۲) دارقطنی نے کتاب الطہارۃ ج۱ ص ۹۷ پر باب ماروی من قول النبی ﷺ الاذنان من الراسپر تفصیل سے بحث کی ہے۔
(۳) ترمذی ج۱ ابواب الطہارۃ، باب مایقال بعد الوضوء۔ مسلم نے کتاب الطہارۃ میں عقبہ بن عامر سے باب الذکر المستحب عقب الوضوء، ابوداؤد نے کتاب الطہارۃ، باب مایقول الرجل اذا توضا، دارمی نے کتاب الصلوٰۃ، باب القول بعد الوضوء ص ۱۴۷ پر اور مسند احمد ج ۴ ، ص ۱۴۶ روایت عقبہ بن عامر سے صرف’’ اشہد ان لا الٰہ الا اللہ واشہد ان محمد اعبدہ ورسولہ الا فتحت لہ ابواب الجنۃ الثمانیۃ یدخل من ایہاشاء‘‘ نقل کیا ہے۔ علاوہ ازیں ابن خزیمہ ، ابن حبان اور ابن ابی شیبہ نے بھی اتنا ہی روایت کیا ہے۔ تاریخ بغداد ج ۵ص۲۷۰ پر بھی مذکور ہے۔
(۴) ابوداودج۱ کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الجوربین ٭ ترمذی: ابواب الطہارۃ، باب فی المسح علی الجوربین والنعلین٭ ابن ماجہ: ابو اب الطہارۃ وسننہا، باب المسح علی الجوربین والنعلین٭مسند احمد ج۴، ص ۲۵۲، مغیرۃ بن شعبۃ٭موارد الظمأن۔ کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الجوربین والنعلین والخمار۔
(۵) بخاری ج۱کتاب الوضوء، باب المسح علی الخفین٭مسلم ج۱کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین٭ ابوداؤدج۱، کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین٭ ترمذی ج۱ ابواب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین ٭ نسائی ج۱کتاب الطہارۃ، باب المسح علی العمامۃ اور باب المسح علی الخفین فی السفر٭ابن ماجہ ج۱ کتاب الطہارۃ، باب ماجاء فی المسح علی الخفین٭ دارمی،ج۱،کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین ٭دارقطنی ج۱ کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین٭ موطا امام مالک، باب ماجاء فی المسح علی الخفین ٭مسند احمد، ج ۴، ص ۲۴۴، مغیرہ بن شعبۃ،ج۱، ص ۱۴، ۱۵، ۲۰، ۲۳، ۳۵، ۴۴، ۴۹، ۵۴، ۱۰۰، ۱۱۳، ۱۸۶، ۳۲۳، ۳۶۶۔ ج ۴، ص ۱۳۹، ۱۷۹، ۲۴۰، ۲۵۱، ۲۵۳۔ ج ۵، ص ۲۱۳، ۲۸۱، ۲۸۷، ۲۸۸، ۳۵۱، ۳۸۲، ۴۰۲، ۴۳۹، ۴۴۰۔ ج ۶، ص ۱۲، ۱۵، ۳۳۳۔

فصل :۳ غسل کے مسائل

غسل جنابت کے لیے پانی کی مقدار۷۔ابو سلمہ ؓ بیان فرماتے ہیں کہ ’’میں اور حضرت عائشہؓ کے بھائی حضرت عائشہ ؓ کے پاس گئے اور حضرت عائشہؓ کے بھائی نے ان سے نبی ﷺ کے غسل کی بابت دریافت کیا۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے ایک برتن منگایا جو قریب قریب ایک صاع کے برابر تھا اور انہوں نے غسل کیا اور اپنے سر پر پانی بہایا اس حال میں کہ ہمارے اور ان کے درمیان (ایک) پردہ تھا ۔ ( بخاری)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ:حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ شُعْبَۃُ ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ اَبُوْ بَکْرِ ابْنُ حَفْصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا سَلَمَۃَ یَقُوْلُ: دَخَلْتُ اَنَاوَاَخُوعَائِشَۃَ علی عائشۃ فَسَاَلَہَا اَخُوْہَا عَنْ غُسْلِ النَّبِیِّﷺ فَدَعَتْ بِاَنَائٍ نَحْوٍمِّنْ صَاعٍ فَاغْتَسَلَتْ وَاَفَاضَتْ عَلیٰ رَاْسِھَا وَبَیْنَنَا وَبَیْنَہَا حِجَابٌ۔(۱)
ترجمہ:حضرت ابو بکرؓ نے بتایا کہ میں نے ابو سلمہؓ کو یہ بیان کرتے سنا ہے کہ ’’میں اور حضرت عائشہؓ کے بھائی حضرت عائشہؓ کے پاس گئے اور حضرت عائشہ ؓ کے بھائی نے ان سے رسول اللہ ﷺ کے غسل کی بابت دریافت کیا۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے ایک برتن منگوایا جو قریب قریب ایک صاع کے برابر تھا اور انہوں نے غسل کیا اور اپنے سر پر پانی بہایا اس حال میں کہ ہمارے اور ان کے درمیان ایک پردہ تھا۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْعَبْدِاللّٰہِ: قَالَ یَزِیْدُبْنُ ہَارُوْنَ وَبَہْزٌ وَالْجَدِّیُّ عَنْ شُعْبَۃَ قَدْرَ صَاعٍ۔
(۲) عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ۔ قَالَ: دَخَلْتُ عَلیٰ عَائِشَۃَ، اَنَآ وَاَخُوْھَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ۔ فَسَاَلَہَا عَنْ غُسْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَۃِ؟ فَدَعَتْ بِاِنَآئٍ قَدْرَ الصَّاعِ۔ (فَاغْتَسَلَتْ) وَبَیْنَنَا وَبَیْنَہَا سِتْرٌ۔ وَأَفْرَغَتْ عَلیٰ رَاْسِہَا ثَلَاثاً۔(۲)
ترجمہ:حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ عبدالرحمن اور حضرت عائشہؓ کے رضاعی بھائی حضرت عائشہؓ کے پاس گئے اور حضرت عائشہؓ کے رضاعی بھائی نے ان سے نبی ﷺ کے غسل جنابت کی بابت دریافت کیا۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے ایک برتن منگوایا جو بقدر صاع تھا۔ انہوں نے غسل فرمایا اور اپنے سر پر تین مرتبہ پانی گرایا (بہایا)۔ در آں حالیکہ ان کے اور ہمارے درمیان ایک پردہ تھا۔
تشریح: اس حدیث پر اعتراض کرنے والوں کی پہلی غلطی یہ ہے کہ وہ ابو سلمہؓ کا نام پڑھ کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ کوئی غیر شخص تھے، حالانکہ وہ حضرت عائشہؓ کے رضاعی بھانجے تھے، جنہیں حضرت ام کلثوم بنت ابی بکر صدیق ؓ نے دودھ پلایا تھا۔ پس دراصل یہ دونوں صاحب جو حضرت عائشہؓ سے مسئلہ پوچھنے گئے تھے، آپ کے محرم ہی تھے، ان میں سے کوئی غیر نہ تھا۔
پھر دوسری غلطی، بلکہ زیادتی وہ یہ کرتے ہیں کہ روایت میں تو صرف ’’ حجاب‘‘ یعنی پردے کا ذکر ہے مگر یہ لوگ اپنی طرف سے اس میں یہ بات بڑھالیتے ہیں کہ وہ پردہ باریک تھا۔ اور اس اضافے کے لیے وہ دلیل یہ دیتے ہیں کہ اگر باریک نہ ہوتا جس میں سے حضرت عائشہؓ نہاتی ہوئی نظر آسکتیں تو پھر اسے درمیان ڈال کر نہانے سے کیا فائدہ تھا؟ حالانکہ اگر انہیں یہ معلوم ہوتا کہ اس وقت مسئلہ کیا درپیش تھا جس کی تحقیق کے لیے یہ دونوں صاحب اپنی خالہ اور بہن کے پاس گئے تھے، تو انہیں اپنے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا اور یہ سوچنے کی ضرورت بھی نہ پیش آتی کہ پردہ باریک ہونا چاہیے تھا۔
دراصل وہاں سوال یہ نہ تھا کہ غسل کا طریقہ کیا ہے؟ بلکہ بحث یہ چھڑ گئی تھی کہ غسل کے لیے کتنا پانی کافی ہوسکتا ہے۔ بعض لوگوں کو نبی ﷺ کے متعلق یہ روایت پہنچی تھی کہ آپؐ ایک صاع بھر پانی سے غسل کرلیتے تھے۔ اتنے پانی کو لوگ غسل کے لیے ناکافی سمجھتے تھے۔ اور بنائے غلط فہمی یہ تھی کہ وہ غسل جنابت اور غسل بغرض صفائی بدن کا فرق نہیں سمجھ رہے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ نے ان کو تعلیم دینے کے لیے بیچ میں ایک پردہ ڈالا جس سے صرف ان کا سر اور چہرہ ان دونوں صاحبوں کو نظر آتا تھا اور پانی منگاکر اپنے اوپر بہایا۔ اس طریقے سے حضرت عائشہؓ ان کو دو باتیں بتانا چاہتی تھیں۔ ایک یہ کہ غسل جنابت کے لیے صرف جسم پر پانی بہانا کافی ہے۔ دوسرے یہ کہ اس مقصد کے لیے صاع بھر پانی کفایت کرتا ہے۔( اس تشریح کے بعد آپ خود سوچیں کہ اس میں آخر قابل اعتراض کیا چیز ہے جس کی بنا پر خواہ مخواہ ایک مستند حدیث کا انکار کرنے کی ضرورت پیش آئے اور پھر اسے تمام حدیثوں کے غیر معتبر ہونے پر دلیل ٹھہرایا جائے؟)(رسائل و مسائل دوم،تفسیر آیات۔۔۔ چنداحادیث ۔۔۔

بربنائے عذر کھڑے ہوکر پیشا ب کرنا

۸۔حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اور نبی ﷺ چلے جارہے تھے کہ راستے میں آپ ؐ کو ڑے کے ڈھیر کی طرف گئے جو ایک دیوار کے پیچھے تھا اور آپ ؐ کھڑے ہوئے جیسے تم میں سے کوئی کھڑا ہوتا ہے اور آپؐ نے پیشاب کیا۔ میں ہٹ کر دور جانے لگا تو مجھے آپؐ نے اشارہ کیا اور میںآپؐ کے پیچھے کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ آپؐ فارغ ہوگئے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: ثَنَا جَرِیْرٌ، عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ حُذَیْفَۃَ، قَالَ: رَایْتُنِیْ اَنَاوَالنَّبِیُّﷺ نَتَمَاشَی فَاَتیٰ سُبَاطَۃَ قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ فَقَامَ کَمَا یَقُوْمُ اَحَدُکُمْ، فَبَالَ فَانْتَبَذْتُ مِنْہُ فَاَشَارَ اِلَیَّ فَجِئْتُہُ، فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِہِ حَتیّٰ فَرَغَ۔(۳)
ترمذی نے مندرجہ ذیل الفاظ نقل کیے ہیں:
(۲)عَنْ حُذَیْفَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَتٰی سُبَاطَۃَ قَوْمٍ، فَبَالَ عَلَیْہَا قَائِمًا، فَاَتَیْتُہُ بِوَضُوٌئٍ فَذَ ہَبْتُ لِاَتَاَخَّرَعَنْہُ، فَدَعَانِیْ حَتّٰی کُنْتُ عِنْدَ عَقِبَیْہِ، فَتَوَضَّأ، وَمَسَحَ عَلیٰ خُفَّیْہ۔(۴)
ترجمہ: حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قوم کے کوڑے کے ڈھیر کی طرف آئے اور کھڑے کھڑے اس پر پیشاب کیا۔ میں وضو کا برتن لے کر حاضر خدمت ہوا اور آپؐ سے ذرا پیچھے ہٹ کر کھڑا ہونا چاہا۔ آپؐ نے مجھے بلایا یہاں تک کہ میں آپؐ کے پیچھے کھڑا ہوگیا پھر آپؐ نے وضو فرمایا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: وَہٰکَذَارَوَی مَنْصُوْرٌوَعُبَیْدَۃَ الضَّبِّیُ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ حُذَیْفَۃَ مِثْلَ رِوَایَۃِ الْاَعْمَشِ وَرَوَی حَمَّادُبْنُ اَبِیْ سُلَیْمَانَ وَعَاصِمُ بْنُ بَہْدَلَۃَ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ عَنِ الْمُغِیْرَۃَ بْنِ شَعْبَۃَ عَنِ النَّبِیِّﷺ۔ وَحَدِیْثُ اَبِیْ وَائِلٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ اَصَحُّ۔ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ اَہْلِ الْعِلْمِ فِی الْبَوْلِ قَائِماً۔
(۳) عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: اَتَی النَّـبِّیُ ﷺ سُبَاطَۃَ قَومٍ فَبَالَ قَائِماً ثُمَّ دَعَا بِمَآئٍ فجئتہ بمائٍ فَتَوَضَّأَ۔(۵)
ترجمہ : حضرت حذیفہؓ کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی ﷺ قوم کے ایک کوڑے کے ڈھیر کی طرف آئے اور کھڑے کھڑے پیشاب کیا، پھر پانی طلب فرمایا اور وضو کیا۔
(۴) عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ:اَتَی النَّـبِّیﷺ سُبَاطَۃَ قَومٍ فَبَالَ قَائِماً ثُمَّ دَعَابِمَآئٍ  فَمَسَحَ عَلیٰ خُفَّیْہِ۔(۶)
ترجمہ:حضرت حذیفہؓ ہی سے مروی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ قوم کے ایک کوڑے کے ڈھیر کی طرف آئے اور کھڑے کھڑے پیشاب کیا۔ پھر آپؐ نے پانی طلب فرمایا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔
تشریح: یہ حدیث بخاری کتاب الوضوء کے متعدد ابواب میں آئی ہے اور حدیث کی دوسری کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ نے دیوار اور ڈھیر کے درمیان کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ تاکہ دونوں طرف سے پردہ رہے۔ اور حضرت حذیفہ ؓ کو روک کر پیچھے کھڑا کیا۔ کیونکہ اس صورت میں نظر آنے کا کوئی امکان نہیں رہتا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مستند روایات کے مطابق نبیؐ ہمیشہ بیٹھ کر ہی پیشاب کرتے تھے، مگر اس موقع پر آپؐ نے کسی عذر کی وجہ سے ہی ایسا کیا تھا اور حضرت حذیفہؓ نے یہ روایت اس لیے بیان کی تھی کہ ان کے زمانے میں بعض لوگ کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کو قطعی ناجائز قرار دینے لگے تھے۔    (رسائل و مسائل دوم، تفسیر آیات۔۔۔:چند احادیث ۔۔۔ )
جہاں بیٹھ کر پیشاب کرنا ممکن نہ ہو وہاں کھڑے ہوکر کرنے میں مضائقہ نہیں۔ اگر احتیاط برتی جائے توکپڑے چھینٹوں سے بچائے جاسکتے ہیں۔ اگر باہر کہیں رفع حاجت کرکے پانی استعمال کرنا ممکن نہ ہو تو کاغذ استعمال کرلیں اور بعد میں قیام گاہ پر آکر پانی سے استنجا کریں۔

اگر مکھی مشروب میں گر جائے؟

۹۔اگر مکھی کسی پینے کی چیز میں گر جائے تو اسے غوطہ دے کر نکالو، کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفا۔ (بخاری)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا خَالِدُبْنُ مَخْلَدٍ، ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ثنی عُتْبَۃُ بْنُ مُسْلِمٍ، اَخْبَرَنِیْ عُبَیْدُ اللّٰہ ابْنُ حُنَیْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِیْ شَرَابِ اَحَدِ کُمْ فَلْیَغْمِسْہُ ثُمَّ لَیَنْزَعْہُ ، فَاِنَّ فِیْ اِحْدیٰ جَنَاحَیْہِ دَائً وَالْاُخْرٰی شِفَائً۔(۷)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’جب تم میں سے کسی کے پینے کی چیز میں مکھی گرجائے تو اسے غوطہ دے کر باہر نکالو اور پھینک دو، کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہوتی ہے۔
ـــــــ (اس روایت میں وقع کے بجائے سقطہے۔ دونوں کے معنی قریب قریب ’’گرنا‘‘ ہیں)۔ (از مرتب)
(۲) حَدَثَّنَا اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا بِشْرٌ یعنی ـــــ اِبْنَ الْمُفَضَّلِ ـــــ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِیْدِنِ الْمَقْبُرِیِّ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ’’اِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِیْ اِنَائِ اَحَدِکُمْ فَامْقُلُوْہُ، فِاِنَّ فِیْ اَحَدِ جَنَاحَیْہِ دَائً وَفِیْ الْاٰخَرِ شِفَائً، وَاِنَّہٗ یَتَّقِیْ بِجَنَاحِہٖ الَّذِیْ فِیْہِ الدَّائُ، فَلْیَغْمِسْہُ کُلَّہٗ۔(۸)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے بتایا ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’جب تمہارے کسی کے برتن (کھانے کے برتن) میں مکھی گرجائے تو اسے خوب غوطہ دو، کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہوتی ہے۔‘‘ اور مکھی (برتن میں گرتے وقت) اپنے بیماری والے پرسے اپنا بچاؤ کرتی ہے (یعنی کھانے پینے کے برتن میں اسی کے بل گرتی ہے) لہٰذا اسے پوری طرح غوطہ دے کر نکالا کرو۔
مشکوٰۃ نے شرح السنہ کے حوالہ سے کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ فصل دوم میں حضرت ابو سعید خدری سے روایت نقل کی ہے اس میں ہے:
(۳) فَانَّ فِیْ اَحَدِ جَنَا حَیْہِ سَمًّا وَفِی الْاٰخَرِ شِفَائً وَاِنَّہ یُقَدِّمُ السَّمَّ وَیُوَخِّرُ الشِّفَائَ۔
ترجمہ:حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے، انہوں نے نبی ﷺ کا ارشاد بیان کیا کہ ’’جب مکھی کھانے میں گر جائے تو اسے خوب غوطہ دے کر نکال لو، کیونکہ اس کے ایک پر میں زہر ہوتا ہے اور دوسرے میں شفاء ۔ زہر والے پر کو وہ آگے کرتی ہے اور شفا والے کو پیچھے رکھتی ہے۔
تشریح: اس مضمون کی روایات بخاری نے کتاب بدء الخلق اور کتاب الطب میں نقل کی ہیں۔ نیز ابن ماجہ، نسائی، ابودائود اور دارقطنی میں بھی یہ موجود ہیں۔ بعض شارحین نے اس حدیث کے الفاظ کو ٹھیک ان کے لغوی معنوں میں لیا ہے اور اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ فی الواقع مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں اس کا تریاق پایا جاتا ہے ، اس لیے جب یہ کسی کھانے پینے کی چیز میں گر جائے تو اسے ڈبوکرنکالا جائے۔(جدید طبّی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مکھی کے پروں میں ایک خاص قسم کے جراثیم ہوتے ہیں جن کو جراثیم کش یا جراثیم خور (Bacteriophge) کہا جاتا ہے۔ یہ مکھی کے جسم کے دوسرے جراثیم کو بآسانی ہلاک کرسکتے ہیں۔)
اور بعض نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ نبی ﷺ دراصل اس بے جا غرور کا علاج کرنا چاہتے تھے جس کی بنا پر بعض لوگ دودھ کے اس پیالے یا سالن کی اس پوری رکابی سے ہاتھ اٹھالیتے ہیں جس میں مکھی گری ہو۔ اور پھر یا تو اسے پھینک دیتے ہیں یا اپنے خادموں کو کھانے کے لیے دے دیتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کا غرور توڑنے کے لیے آپؐ نے فرمایا کہ مکھی اگر تمہارے کھانے میں گرجائے تو اسے ڈبو کر نکالو اور پھر اس کھانے کو کھائو۔ اس کے ایک پر میں بیماری ہے، یعنی کبرو غرور کی بیماری جو اسے دیکھ کر تمہارے نفس میں پیدا ہوتی ہے اور دوسرے پر میں اس کا تریاق ۔ یعنی اس کبرو غرور کا علاج جس کی وجہ سے تم ایسے کھانے کو پھینک دیتے ہو یا اپنے خاص خادموں کو کھلاتے ہو۔ اس معنی کی تائید وہ احادیث بھی کرتی ہیں جن میں نبیﷺ نے برتن میں تھوڑا کھانا چھوڑ کر اٹھ جانے کو ناپسند فرمایا ہے اور حکم دیا ہے کہ اپنی رکابی کو صاف کرکے اٹھو۔ اس حکم کی وجہ بھی یہی ہے کہ جو شخص اس طرح برتن میں کچھ چھوڑ کر اٹھتا ہے وہ گویا یہ چاہتا ہے کہ یا تو اس بقیہ کھانے کو پھینک دیا جائے یا اسے کوئی دوسرا کھائے۔ (رسائل و مسائل دوم، تفسیر آیات ۔۔۔ چند احادیث ۔۔۔)

عورت اور احتلام

۱۰۔نَعَمْ۔ فَمِنْ اَیْنَ یَکُوْنُ الشَّبَہُ!اِنَّ مَآئَ الرَّجُلِ غَلِیْظٌ اَبْیَضُ۔ وَمَآئَ الْمَرْاَۃِ رَقِیْقٌ اَصْفَرُ۔ فَمِنْ اَیِّہِمَا عَلَا، اَوْ سَبَقَ، یَکُوْنُ مِنْہُ الشَّبَہُ۔ (بخاری و مسلم)
’’ام سلیم نے آکر نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ اگر عورت خواب میں وہ کچھ دیکھے جو مرد دیکھا کرتا ہے ( یعنی اس کو احتلام ہو) تو کیا کرے؟ آپؐ نے فرمایا ’’غسل کرے‘‘۔ اس پر حضرت ام سلمہؓ نے عرض کیا ’’عورت کو بھی یہ معاملہ پیش آتا ہے؟‘‘ ان کا مطلب یہ تھا کہ کیا عورت کو بھی انزال اور احتلام ہوا کرتا ہے؟ حضوؐر نے جواب دیا: ’’ہاں! ورنہ آخر بچہ ماں کے مشابہ کیسے ہوجاتا ہے؟ مرد کا پانی گاڑھا سپیدی مائل ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا زردی مائل۔ پھر ان میں سے جو بھی غالب آجاتا ہے یا جو بھی سبقت لے جاتا ہے، بچہ اسی کے مشابہ ہوتا ہے۔‘‘
۱۱۔ وَہَلْ یَکُوْنُ الشَّبَہُ اِلَّا مِنْ قِبَلِ ذٰلِکَ۔ اِذَاعَلَا مَآئُ ہَا مَآئَ الرَّجُلِ اَشْبَہَ الْوَلَدُ اَخْوَالَہُ۔ وَاِذَا عَلاَمَآئُ الرَّجُلِ مَآئَ ہَا اَشْبَہَ اَعْمَامَہُ۔
’’ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک خاتون کے سوال پر حضرت عائشہؓ نے بھی اسی طرح کے تعجب کا اظہار کیا تھا اور اس پر حضورؐ نے فرمایا تھا:’’اور کیا بچے کا ماں کے مشابہ ہونا اس کے سوا کسی اور وجہ سے ہوتا ہے؟ جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو بچہ اپنی ننھیا ل پر جاتا ہے اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو بچہ ددھیال پر جاتا ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ سَلَامٍ ، قَالَ: اَنَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ قَالَ: حَدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ زَیْنَبَ ابنۃ اُمِّ سَلَمَۃَ، عن اُم سلمۃ قَالَتْ: جَآئَ تْ اُمُّ سُلَیْمٍ اِلَی رَسُوْلِ اللّٰہ ﷺ فَقَالَتْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ لَایَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ فَہَلْ عَلَی الْمَرْاَۃِ مِنْ غُسْلٍ اِذَا احْتَلَمَتْ؟ قَالَ النَّبِیُّﷺ اِذَا رَأَتِ الْمَآئَ فَغَطَّتْ اُمُّ سَلَمَۃَ تَعْنِیْ وَجْہَہَا وَقَالَتْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَتَحْتَلِمُ الْمَرْاَۃُ؟ قَالَ نَعَمْ تَرِبَتْ یَمِیْنُکَ فَبِمَ یُشْبِہُمَا وَلَدُہَا۔(۹)
ترجمہ:حضر ت ام سلمہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ام سلیم نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ؐ بلا شبہ اللہ تعالیٰ حق بیان کرنے سے نہیں شرماتا۔ اگر عورت کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر غسل ہے؟ اس پر نبی اکرم ؐ نے فرمایا ’’جب عورت پانی دیکھے‘‘ (تو اس وقت غسل ہے)۔ (یہ سن کر) ام سلمہ نے اپنا منہ چھپا لیا اور عرض کیا یارسول اللہؐ کیا عورت کو بھی انزال اور احتلام ہوا کرتا ہے؟ حضوؐر نے جواب دیا تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو، تو پھر اس کا بچہ اس کے مشابہ کیسے ہوتا ہے؟
کتاب الانبیاء میں مروی روایت کے الفاظ:
(۲) اِنَّ اُمَّ سُلَیْمٍ قَالَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ فَہَلْ عَلَی الْمَرْأَۃِ الْغُسْلُ اِذَا احْتَلَمَتْ؟ قَالَ: نَعَمْ اِذَا رَأَتِ الْمَآئَ۔ فَضَحِکَتْ اُمُّ سَلَمَۃَ، فَقَالَتْ:تَحْتَلِمُ الْمَرْأَۃُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ’’فَبِمَ یُشْبِہُ الْوَلَدُ؟‘‘(۱۰)
ترجمہ:حضرت ام سلیم نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسولؐ بے شک اللہ تعالیٰ حق کے بیان کرنے سے نہیں شرماتا۔ کیا عورت پر غسل ہے جب اسے احتلام ہوجائے؟ فرمایا! ہاں، جب اسے پانی نظر آجائے۔ یہ سن کر ام سلمہ ہنس کر بولیں ’’عورت کو بھی احتلام ہوا کرتا ہے؟‘‘ رسول اللہ ؐ نے فرمایا تو پھر بچے کی اس سے مشابہت کیسے ہوتی ہے؟
ـــــــ یہ روایت موطا امام مالک میں بھی ہے مگر اِذَا رَأَتِ الْمَائَ تک ہے۔
ابودائود میں اسی مضمون کی دو روایتیں حضرت عائشہؓ صدیقہ سے مروی ہیں:
(۳) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الرَّجُلِ یَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا یَذْکُرُ اِحْتِلَامًا، قَالَ: یَغْتَسِلُ وَعَنِ الرَّجُلِ یَرٰی اَنْ قَدِ احْتَلَمَ وَلَا یَجِدُ الْبَلَلَ قَالَ: لَا غُسْلَ عَلَیْہِ، فَقَالَتْ اُمُّ سُلَیْمٍ: اَلْمَرْاَۃُ تَرٰی ذٰلِکَ اَعَلَیْہَا غُسْلٌ؟ قَالَ: نَعَمْ اِنَّمَا النِّسَآئُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ۔(۱۱)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جو خواب میں تری پاتا ہے مگر احتلام اسے یاد نہیں۔ فرمایا: وہ غسل کرے گا۔ اور ایک دوسرے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جسے احتلام لاحق ہوجاتا ہے مگر تری اسے نظر نہیں آتی، اس کے بارے میں فرمایا: اس پر غسل نہیں ہے۔ (اس موقعہ پر ) ام سلیم نے دریافت کیا۔ عورت اگر ایسی صورت حال سے دوچار ہو تو کیا اس پر بھی غسل ہے؟ فرمایا: ہاں! عورتیں مردوں کا حصہ ہیں۔
(۴) عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ اُمَّ سُلَیْمِ نِالْاَنْصَارِیَّۃَ وَہِیَ اُمُّ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اللّٰہَ(ل) لایَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ اَرَاَیْتَ الْمَرْاَۃُ اِذَا رَأتْ فِی النَّوْمِ مَا یَرَی الرَّجُلُ اَتَغْتِسِلُ امْ لَا؟ قَالَتْ عائِشَۃُ: فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ نَعَمْ فَلْتَغْتَسِلْ اِذَا وَجَدَتِ الْمَآئَ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَاَقْبَلْتُ عَلَیْہَا فَقُلْتُ اُفٍّ لَّکِ وَہَلْ تَرٰی ذٰلِکَ الْمَرْأَ ۃُ۔ فَاَقْبَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: تَرِبَتْ یَمِیْنُکِ یَا عَائِشَۃُ! وَمِنْ اَیْنَ یَکُوْنُ الشَّبَہُ۔(۱۲)
ترجمہ:حضرت عائشہؓ سے روایت ہے حضرت انسؓ کی والدہ حضرت ام سلیم نے رسول اللہ ؐ سے دریافت کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ حق کے بیان کرنے سے نہیں شرماتا، اگر عورت خواب میں وہ کچھ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے (یعنی اس کو احتلام ہو) تو عورت غسل کرے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں جب وہ پانی دیکھے تو غسل کرے۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں ام سلیم کی طرف متوجہ ہوئی اور اس سے کہا کہ افسوس ہے تم پر اتنا بھی پتہ نہیں کہ عورت کو یہ حالت لاحق نہیں ہوتی۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے میری جانب روئے سخن فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو اے عائشہؓ !یہ مشابہت پھر کہاں سے آجاتی ہے۔
ترمذی نے یہ حدیث ام سلمہ سے روایت کی ہے:
(۵) عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: جَآ ئَ تْ اُمُّ سُلَیْمٍ بنت مَلِحانَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اللّہَ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ، فَہَلْ عَلَی الْمَراَۃِ ـــــ تَعْنِی غُسْلاًـــــ اِذَا ہِیَ رَاَتْ فِی الْمَنَامِ مِثْلَ مَا یَرَی الرَّجُلُ؟ قَالَ : نَعَمْ اِذَا ہِیَ رَأتِ الْمَآئَ فَلْتَغْتَسِلْ۔ قَالَتْ اُمُّ سَلَمَۃَ: قُلْتُ لَہَا: فَضَحْتِ النِّسَآئَ یَا اُمَّ سُلَیْمٍ۔(۱۳)
ـــــــ اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت ام سلمہؓ نے حضرت ام سلیم ؓ کا سوال سن کر فرمایا اے ام سلیم تو نے تو عورتوں کو رسوا کردیا۔
ـــــــ نسائی نے حضرت انسؓ حضرت عائشہ صدیقہؓ اور حضرت ام سلمہؓ اور خولہ بنت حکیم کی روایات بیان کی ہیں۔ اختلافِ الفاظ کے قدرے فرق کے باوجود مضمون روایت وہی ہے جو متذکرہ روایات کا ہے۔(۱۴)
(۶) حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیْدِ، قَالَ: نَایَزِیْدُ بْنُ زُرَیْعٍ، قَالَ: نَا سَعِیْدٌ، عَنْ قَتَادَۃَ، اَنَّ اَنَسَ بْنَ مالِکٍ، حدَّثَہُمْ، اَنَّ اُمَّ سُلَیْمٍ حَدَّثَتْ: اَنَّہَا سَالَتْ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الْمَرْاَۃِ تَرٰی فِیْ مَنَا مِہَا مَایَرَی الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِذَارَاَتْ ذٰلِکَ الْمَرْاَۃُ فَلْتَغْسِلْ، فَقَالَتْ اُمُّ سُلَیم: وَاسْتَحْیَیْتُ مِنْ ذٰلِکَ، قَالَتْ: وَہَلْ یَکُوْنُ ہٰذَا؟ فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ : نَعَمْ ، فَمِنْ اَیْنَ یَکُوْنُ الشَّبَہُ؟ اِنَّ مَائَ الرَّجُلِ غَلِیْظٌ اَبْیَضُ، وَمَائَ الْمَرْأَۃِ رَقِیْقٌ اَصْفَرُ، فَمِنْ اَیِّہِمَا عَلَا اَوْسَبَقَ یَکُوْنُ مِنْہُ الشَّبَہُ ۔(۱۵)
ترجمہ:حضرت انس بن مالک سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ ام سلیم نے خود بیان کیا کہ اس نے نبی ﷺ سے اس عورت کے متعلق دریافت کیا کہ جو خواب میں وہ کچھ دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو اسے غسل کرنا چاہیے۔ ام سلیم خود کہتی ہیں کہ مجھے اس سے شرم محسوس ہوئی اور کہنے لگی کہ ایسا بھی ہوتا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ہاں! ورنہ آخر بچہ ماں کے مشابہ کیسے ہوجاتا ہے؟ مرد کا پانی گاڑھا سپیدی مائل ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا زردی مائل۔ پھر ان میں سے جو بھی غالب آجاتا ہے، یا جو بھی سبقت لے جاتا ہے بچہ اسی کے مشابہ ہوتا ہے۔
(۷) حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مُوْسٰی الرَّازِیُّ وَسَہْلُ بْنُ عُثْمَانَ وَاَبُوْ کُرَیْبٍ۔ وَاللَّفْظُ لِاَبِیْ کُرَیْبٍ، قَالَ سَہْلٌ: ثَنَا وَقَالَ الْاٰخَرَانِ: انَا ابْنُ اَبِیْ زَائِدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَیْبَۃَ، عَنْ مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ عُرْوَۃَ ابْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ امْرَاَۃً قَالَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ: ہَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْاَۃُ اِذَا احْتلَمَتْ، وَاَبْصَرَتِ الْمَائَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ: تَرِبَتْ یَدَاکِ وَاُلَّتْ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: دَعِیْہَا، وَہَلْ یَکُوْنُ الشَّبَہُ اِلَّا مِنْ قِبَلِ ذٰلِکَ؟ اِذَا عَلَامَائُ ہَا مَائَ الرَّجُلِ اَشْبَہَ الْوَلَدُ اَخْوَالَہٗ۔ وَاِذَا عَلَا مَائُ الرَّجُلِ مَائَ ہَااَشْبَہَ اَعْمَامَہُ۔(۱۶)
ترجمہ: حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ سے دریافت کیا کہ جب عورت کو احتلام ہوجائے اور وہ پانی دیکھ لے، تو کیا وہ غسل کرے گی؟ حضوؐر نے فرمایا: ہاں! حضرت عائشہؓ نے اس عورت کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، تجھے نیزہ لگے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: عائشہ ؓ !چھوڑ و اسے، کیا بچے کا ماں کے مشابہ ہونا اس کے سوا کسی اور وجہ سے ہوتا ہے؟ جب عورت کا پانی (منی) مرد کے پانی (منی) پر غالب آجاتا ہے تو بچہ اپنی ننھیال پر جاتا ہے اور جب مرد کا پانی (منی) عورت کے پانی (منی) پر غالب آتا ہے تو بچہ ددھیال پر جاتا ہے۔
۱۲۔مَآئُ الرَّجُلِ اَبْیَضُ وَمَآئُ الْمَرْاَۃِ اَصْفَرُ، فَاِذَا اجْتَمَعَا فَعَلَا مَنِیُّ الرَّجُلِ مَنِیَّ الْمَرْاَۃِ اَذْکَرَابِاِذْنِ اللّٰہِ، وَاِذَا عَلَامَنِیُّ الْمَرْاَۃِ مَنِّیَ الرَّجُلِ، اٰنَثَا بِاِذْنِ اللّٰہِ۔
’’ایک اور روایت میں ہے کہ ایک یہودی عالم نے نبی ﷺ سے اولاد کے بارے میں سوال کیا تو آپؐ نے جواب میں فرمایا: ’’مرد کا پانی سفیدی مائل اور عورت کا پانی زردی مائل ہوتا ہے۔ جب یہ دونوں ملتے ہیں اور مرد کی منی عورت کی منی پر غالب آتی ہے تو اللہ کے حکم سے بیٹا ہوتا ہے اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آتی ہے تو اللہ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے۔‘‘
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ’’اگر یہ مرکب مائل بہ سفیدی ہوتو بچہ ہوتا ہے ورنہ بچی۔‘‘ اور نہ یہ کہ’’اگر مجامعت کے وقت مرد کا انزال عورت سے پہلے ہو تو بچہ باپ پر جاتا ہے ورنہ ماں پر؟‘‘ (رسائل و مسائل دوم،تفسیر آیات ۔۔۔چند احادیث ۔۔۔)
تخریج: حَدَّثَنِی الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحُلْوَانِیُّ ، قَالَ: نَا اَبُوْ تَوْبَۃَ وَہُوَ رَبِیْعُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: نَامُعَاوِیَۃُ ـــــ یَعْنِیْ ابْنَ سَلَّامٍ ـــــ عَنْ زَیْدٍ ـــــ یَعْنِیْ اَخَاہُ ـــــ اَنَّہُ سَمِعَ اَبَا سَلَّامٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ اَسْمَائِ الرَّحْبِیُّ، اَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ حَدَّثَہُ، قَالَ: کُنْتُ قَائِماً عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَجَائَ حِبْرٌ مِنَ الْاَحْبَارِ الْیَہُوْدِفَقَالَ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدُ، فَدَفَعْتُہُ دَفْعَۃً کَادَ یُصْرَعُ مِنْہَا، فَقَالَ: لِمَ تَدْفَعُنِیْ؟ فَقُلْتُ: اَلَّا تَقُوْلَ یَا رَسُوْلِ اللّٰہِ؟ فَقَالَ الْیَہُوْدِیُّ: اِنَّمَا نَدْعُوْہُ بِاسْمِہِ الَّذِیْ سَمَّاہُ بِہ اَہْلُہُ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اِسْمِیْ مُحَمَّدٌ الَّذِیْ سَمَّانِیْ بِہ اَہْلِیْ۔ فَقَالَ الْیَہُوْدِیُّ: جِئْتُ اَسْئَالُکَ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَیَنْفَعُکَ شَیْیٌٔ اِنْ حَدَّثْتُکَ قَالَ: اَسْمَعُ بِاُذُنِیْ فَنَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِعُوْدٍ مَعَہُ، فَقَالَ سَلْ، فَقَالَ الْیَہُوْدِیُّ: اَیْنَ یَکُوْنُ النَّاسُ یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَالْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ہُمْ فِیْ الظُّلْمَۃِ دُوْنَ الْجَسْرِ، قَالَ: فَمَنْ اَوَّلُ النَّاسِ اِجَازَۃً؟ فَقَالَ: فُقَرَائُ الْمُہَاجِرِیْنَ، قَالَ الْیَہُوْدِیُّ: فَمَآ تُحْفَتُہُمْ حِیْنَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ؟ قَالَ: زِیَادَۃُ کَبِدِ النُّوْنِ، قَالَ: فَمَا غَدَائُ ہُمْ عَلیٰ اَثِرِہَا؟ قَالَ: یُنْحَرُ لَہُمْ ثَوْرُالْجَنَّۃِ الَّذِیْ کَانَ یَاْکُلُ مِنْ اَطْرَافِہَا، قَالَ: فَمَا شَرَابُہُمْ عَلَیْہِ؟ قَالَ: مِنْ عَیْنٍ فِیْھَا تُسَمّٰی سَلْسَبِیْلًا قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: وَجِئْتُ اَسْئَالُکَ عَنْ شَییٍٔ لَا یَعْلَمُہُ اَحَدٌ مِنْ اَہْلِ الْاَرْضِ اِلَّا نَبِیٌّ اَوْرَجُلٌ اَوْ رَجُلَانِ، قَالَ: یَنْفَعُکَ اِنْ حَدَّثْتُکَ قَالَ: اَسْمَعُ بِاُذُنِیْ، قَالَ: جِئْتُ اَسْئَا لُکَ عَنْ الْوَلَدِ قَالَ: مَائُ الرَّجُلِ اَبْیَضُ، وَمَا ئُ الْمَرْاَۃِ اَصْفَرُ، فَاِذَا اجْتَمَعَا، فَعَلَا مَنیُّ الرَّجُلِ مَنِیَّ الْمَرْاَۃِ اَذْکَرَا بِاِذْنِ اللّٰہِ ، وَاِذَا عَلَا مَنِیُّ الْمَرْاَۃِ مَنِیَّ الرَجُلِ اٰنَثَا بِاِذْنِ اللّٰہِ، قَالَ الْیَہُوْدِیُّ: لقَدْ صَدَقْتَ وَاِنَّکَ لَنَبِیٌّ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَذَہَبَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لَقَدْ سَئَالَنِیْ ہٰذَا عَنِ الَّذِیْ سَئَا لَنِیْ عَنْہُ وَمَا لِیْ عِلْمٌ بِشَیٍٔ مِّنْہُ حَتّٰی اَتَانِیَ اللّٰہُ بہِ۔(۱۷)
ترجمہ:حضرت ثوبان، رسول اللہ ﷺ کے مولا (یعنی آزاد کردہ غلام) نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس کھڑا ہوا تھا۔ اتنے میں علماء یہود کا ایک عالم آیا۔ اور السلام علیک یا محمد کہا۔ یہ سن کر میں نے اسے ایسا دھکا دیا، قریب تھا کہ زمین پر گرپڑتا۔ وہ بولا تم نے مجھے دھکا کیوں دیا؟ میں نے جواب دیا کہ تو یارسول اللہؐ کہہ کر حضورؐ سے مخاطب کیوں نہیں ہوا؟ یہودی عالم بولا میں نے تو آپؐ کو اس نام سے بلایا ہے جو ان کے گھر والوں نے ان کا رکھا ہے۔ (یہ مکالمہ) سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: واقعتامیرا نام محمد ہے۔ میرے گھر والوں نے میرا یہی نام رکھا ہے۔ اب یہودی نے کہا میں آپ کی خدمت میں کچھ پوچھنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ حضورؐ نے اس سے فرمایا: میں اگر تجھے کچھ بتائوں تو کیا کوئی چیز تیرے لیے سود مند ہوگی؟ وہ بولا میں بغور کان لگا کر سنوں گا (یعنی پوری توجہ اور انہماک سے سنوں گا)۔ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں لکڑی تھی۔ آپؐ نے اس سے زمین پر خط کشیدگی شروع کردی اور فرمایا ’’پوچھو! یہودی نے دریافت کیا ، ’’ لوگ اس روز کہاں ہوں گے جب زمین اور آسمانوں کو ان کی موجودہ حالت سے دوسری حالت میں تبدیل کردیا جائے گا۔‘‘ آپؐ نے جواب دیا کہ ’’پل صراط کے ورے تاریکی میں ہوں گے۔‘‘ پھر پوچھا کہ لوگوں میں سے سب سے پہلے (جنت میں داخلہ کی) اجازت کسے ملے گی؟ فرمایا ’’فقراء مہاجرین کو۔‘‘ پھر پوچھا کہ ’’جب یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے تو سب سے پہلے کس چیز سے ان کی تواضع کی جائے گی؟ ‘‘ ( سب سے پہلے کون سا تحفہ انہیں دیا جائے گا) فرمایا ’’مچھلی کی کلیجی۔‘‘ پھر پوچھا کہ ’’اس کے بعد کون سا کھانا پیش کیا جائے گا۔‘‘ فرمایا کہ ’’ان کی مہمان نوازی کے لیے جنت کا وہ بیل نحر کیا جائے گا جو جنت میں چرکر پلا ہوگا۔‘‘ پھر اس نے پوچھا، ’’انہیں مشروب کون سا دیا جائے گا؟‘‘ فرمایا ’’سلسبیل نامی چشمہ کا پانی۔‘‘ (یہ جوابات سن کر بولا آپ نے سچ فرمایا۔ پھر اس نے کہا کہ میںآپ سے ایک ایسی چیز کے متعلق پوچھنے حاضر ہوا ہوں جسے سوائے ایک نبی کے روئے زمین کے دوسرے کسی کو اس کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ آپؐ نے فرمایا’’میں اگر کچھ بتائوں تو تجھے اس کا کچھ فائدہ ہوگا؟‘‘ وہ بولا میں آپ کا ارشاد بغور کان لگا کر سنوں گا۔ اس نے سوال کیا میں آپ سے بچے کی پیدائش کے بارے میں پوچھنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپ نے فرمایا مرد کا پانی (منی) سپیدی مائل اور عورت کا پانی (منی ) زردی مائل ہوتا ہے، جب یہ دونوں ملتے ہیں اور مرد کی منی عورت کی منی پر غالب آتی ہے تو اللہ کے حکم سے لڑکا ہوتا ہے اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آتی ہے تو اللہ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے۔ (یہ جواب ) سن کر یہودی عالم بول اٹھا ’’آپ نے سچ فرمایا بلاشبہ آپ نبی ہیں۔ ‘‘ پھر پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔‘‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا’’ اس شخص نے مجھ سے ایسی بات دریافت کی جس کا مجھے اس سے پہلے کوئی علم نہیں تھا، تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھے علم عطا فرمایا۔

ماخذ

(۱) بخاری ج۱، کتاب الغسل، باب الغسل بالصاع و نحوہ۔٭ مسند احمد ج۶، ص ۷۲، عن عائشۃ۔
(۲) مسلم ج۱، کتاب الحیض، باب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ۔
(۳) بخاری ج ۱،کتاب الوضوء، باب البول عندصاحبہ والتستربالحائط۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۱،کتاب الطہارۃ، باب البول قائما۔
(۴) ترمذی ج۱ ابواب الطہارۃ، باب الرخصۃ فی ذلک٭ السنن الکبریٰ ج۱،کتاب الطہارۃ، باب البول قائماً۔
(۵) بخاری ج۱،کتاب الوضوء، باب البول قائماً وقاعداً ٭بخاری: ابواب المظالم والقصاص، باب الوقوف والبول عند سباطۃ قوم ٭ مسلم ج۱، کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین ٭دارمی:کتاب الصلوٰۃ والطہارۃ، باب فی البول قائماً ٭ مسند احمد، ج ۵، ص ۳۸۲، عن حذیفۃ۔
(۶) ابو داؤدج۱، کتاب الطہارۃ، باب البول قائماً ٭ مسند احمد ، ج ۵، ص ۴۰۲، حذیفۃ بن الیمانج ۱، ص ۲۸۴ ج ۴، ص ۲۴۶، مغیرہ بن شعبہ ٭ نسائی ج۱ کتاب الطہارۃ، باب الرخصۃ فی البول فی الصحراء قائماً ٭ ابن ماجہ: کتاب الطہارۃ وسننہا، باب ماجاء فی البول قائماً٭دارمی ج۱، کتاب الصلوٰۃ والطہارۃ، باب فی البول قائماً٭نسائی اور مسند احمد دونوں نے ’’مشیٰ الی سباطۃ قوم۔۔۔ ‘‘بھی نقل کیا ہے۔
(۷) بخاری ج۱،کتاب بدا الخلق، باب اذا وقع الذباب فی شراب احد کم فَلْیَغْمِسْہُ فان فی احدی جناحیہ داء وفی الاخریٰ شفائً۔ج۲ کتاب الطب، باب اذا وقع الذباب فی الاناء ۔ ٭سنن دارمی ج۲،کتاب الاطعمۃ، باب الذباب یقع فی الطعام٭ مسند احمد، ج ۲، ص ۲۲۹،۲۳۰، ۲۴۶، ۲۶۳، ۳۴۰، ۳۵۵، ۳۸۸، ۳۹۸، ۴۴۳، عن ابی ہریرۃ ج ۳، ص ۲۴۔ ٭نسائی ج۷، کتاب الفرع والعتیرۃ، باب الذباب یقع فی الماء مختصرًا عن ابی سعیدٍ خدری٭ ابن ماجہ: کتاب الطب، باب یقع الذباب فی الاناء۔ عن ابی ہریرۃ۔ ابن ماجہ نے ’’فلیغمسہ فیہ ثم لیطرحہ‘‘ روایت کیا ہے۔٭ السنن الکبرٰی للبیہقی ج۱، کتاب الطہارۃ، باب مالانفس لہ سائلۃ اذامات فی الماء القلیل۔
(۸) ابو داؤد ج۳، کتاب الاطعمۃ، باب فی الذباب یقع فی الطعام۔ السنن الکبرٰی للبیہقی ج۱،کتاب الطہارۃ، باب مالانفس لہ سائلۃ اذامات فی الماء القلیل ۔
(۹) بخاری ج۱ کتاب العلم، باب الحیاء فی العلم الخ۔ کتاب الغسل، باب اذا احتلمت المراۃ ج۲ کتاب الادب، باب اذا لم تستحی فاصنع ماشئت ج۱ کتاب الانبیاء، باب خلق آدم و ذریتہ ٭مسلم ج۱کتاب الحیض، باب وجوب الغسل علی المرأۃ بخروج المنی منہا۔ مسلم نے ’’فغطت ام سلمۃ و جہہا‘‘ نقل کیا ہے۔
(۱۰) موطا امام مالک: کتاب الطہارۃ، غسل المرأۃ اذارأت فی المنام مثل مایری الرجل ۔
(۱۱) ابوداؤد ج۱، کتاب الطہارۃ، باب فی الرجل یجد البلۃ فی منامہ ٭ ترمذی ج۱، ابواب الطہارۃ، باب فیمن یستیقظ ویری بللا ولا یذکر احتلاماً ٭ دارمی: کتاب الصلوٰۃ والطہارۃ، باب فی المرأۃ تری فی منامہا مایری الرجل۔
(۱۲) ابوداؤدج۱، کتاب الطہارۃ: باب فی المرأۃ تری مایری الرجل٭دارمی ج۱، کتاب الصلوٰۃ والطہارۃ، باب فی المرأۃ تری فی منامہا٭ موطا امام مالک: کتاب الطہارۃ، غسل المراۃ اذارأت فی المنام مثل مایری الرجل ۔
(۱۳) ترمذی ج۱، ابواب الطہارۃ، باب ماجاء فی المرأۃ تری فی المنام مثل ما یری الرجل٭ابن ماجہ ج۱ کتاب الطہارۃ، باب فی المراۃ تری فی منامہا مایری الرجل۔
(۱۴) نسائیج۱، کتاب الطہارۃ، غسل المرأۃ تری فی منامہا مایری الرجل٭ ابن ماجہ ج۱، کتاب الطہارۃ، باب فی المرأۃ تری فی منامہا مایری الرجل۔
(۱۵) مسلم ج۱، کتاب الحیض، باب وجوب الغسل علی المرأۃ بخروج المنی منہا٭ ابن ماجہ :کتاب الطہارۃ، باب فی المراۃ تری فی منامھا مایری الرجل ٭ السنن الکبرٰی للبیہقی ج۱ کتاب الطہارۃ، باب المراۃ تری فی منامہا مایری الرجل۔
(۱۶) مسلم ج۱، کتاب الحیض، باب وجوب الغسل علی المر أۃ بخروج المنی منہا ٭ السنن الکبرٰی للبیہقی ج۱ کتاب الطہارۃ، باب المراۃ تری فی منامہا مایری الرجل۔
(۱۷) مسلم ج۱،کتاب الحیض، باب بیان صفۃ منی الرجل والمراۃ وان الولد مخلوق من مائہما ٭طبقات ابن سعد ، ج۱، ص۱۷۵، ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۱، کتاب الطہارۃ، باب صفۃ ماء الرجل وماء المراۃ الذین یوجبان الغسل۔

فصل :۴ اذان کا آغاز کس طرح ہوا؟

۱۳۔مشکوٰۃ کی کتاب الصلوٰۃ میں باب الاذان میں جو احادیث جمع کی گئی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ طیبہ میں جب نماز باجماعت کا باقاعدہ نظام قائم کیا گیا تو اوّل اوّل اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ہدایت اس بارے میں نہیں آئی تھی کہ نماز کے لیے لوگوں کو کس طرح جمع کیا جائے۔ حضوؐر نے صحابہ کرام ؓکو جمع کرکے مشورہ کیا۔ بعض لوگوں نے رائے دی کہ آگ جلائی جائے تاکہ اس کا دھواں بلند ہوتے دیکھ کر لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ نماز کھڑی ہورہی ہے۔ بعض دوسرے لوگوں نے ناقوس بجانے کی رائے دی۔ لیکن کچھ اور لوگوں نے کہا کہ پہلا طریقہ یہود کا اور دوسرا نصاریٰ کا ہے۔ ابھی اس معاملہ میں کوئی آخری فیصلہ نہ ہوا تھا اور اسے سوچا جارہا تھا کہ حضرت عبداللہ ؓ بن زید انصاری نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص ناقوس لیے جارہا ہے۔ انہوں نے اس سے کہا، اے بندۂ خدا یہ ناقوس بیچتا ہے؟ اس نے پوچھا اس کا کیا کروگے؟ انہوں نے کہا نماز کے لیے لوگوں کو بلائیں گے۔ اس نے کہا میں اس سے اچھا طریقہ تمہیں بتاتا ہوں۔ چنانچہ اس نے اذان کے الفاظ انہیں بتائے۔ صبح ہوئی تو حضرت عبداللہ ؓ نے آکر حضورؐ کواپناخواب سنایا۔ حضوؐر نے فرمایا کہ یہ سچا خواب ہے ، اٹھو اور بلالؓ کو ایک ایک لفظ بتاتے جائو، یہ بلند آواز سے پکارتے جائیں گے۔ جب اذان کی آواز بلند ہوئی تو حضرت عمرؓ دوڑتے ہوئے آئے اور عرض کیا کہ خدا کی قسم آج میں نے بھی یہی خواب دیکھا ہے۔ حضوؐر نے فرمایا فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔ (مشکوۃ کی احادیث درباب اذان کا خلاصہ)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ غَیْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ نَافِعٌ اَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُوْلُ: کَانَ الْمُسْلِمُوْنَ حِیْنَ قَدِمُوا الْمَدِیْنَۃَ یَجْتَمِعُوْنَ فیَتَحَیَّنُوْنَ الصَّلوٰۃَ لَیْسَ یُنَادَیْ لَہَا فَتَکَلَّمُوْا یَوْمًا فِیْ ذٰلِکَ فَقَالَ بَعْضُہُمْ: اتَّخِذُوْا نَاقُوْسًا مِثْلَ نَاقُوْسِ النَّصَارٰی، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: بَلْ بُوْقًا، مِثْلَ قَرْنِ الْیَہُوْدِ۔ فَقَال عُمَرُ: اَوَلَا تَبْعَثُوْنَ رَجُلاً یُّنَادِیْ بِالصَّلوٰۃِ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَا بِلَالُ قُمْ، فَنَادِ بِالصَّلوٰۃِ۔(۱)
ترجمہ:ابن عمر بیان کرتے تھے کہ مسلمان جب ہجرت کرکے مدینہ میں آئے تو نماز کی ادائیگی کے لیے وقت کے تعین کے لیے جمع ہوئے۔ اس وقت تک نماز کی منادی کرنے والا کوئی مقرر نہیں تھا۔ اس بارے میں گفتگو ہوئی۔ کچھ نے کہا نصاریٰ کی طرح ناقوس بنالو۔ اور کچھ نے رائے دی کہ یہود کی طرح بوق بنالو۔ ساری کارروائی سن کر حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم لوگ کسی ایسے آدمی کو کیوں نہیں مقرر کرتے جو نماز کی منادی کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلالؓ ! تم اٹھو اور نماز کے لیے منادی کرو۔
(۲) حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ یَحْیٰ بن سعیدٍ الْاُمَویَّ، نَا اَبِیْ، نَامُحَمَّدُبْنُ اسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاہِیْمَ التَّیْمِیِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زِیْدٍ، عَنْ ابِیْہِ، قَالَ: لَمَّا اَصْبَحْنَا اَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَاَخْبَرْتُہُ بِالرُّؤْیَا، فَقَالَ: اِنَّ ہٰذِہِ لَرُوْیَا حقٍّ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَانَّہُ اَنْدٰی وَاَمَدُّ صوْتًا مِنْکَ، فَاَلْقِ عَلَیْہِ مَاقِیْلَ لَکَ وَلْیُنَادِبِذٰلِکَ قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نِدَآئَ بِلَالٍ بِالصَّلوٰۃِ خَرَجَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ یَجُرُّ اِزَارَہُ وَہُوَ یَقُوْلُ یَا رَسُوْل اللّٰہِ ﷺ وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَاَیْتُ مِثْلَ الَّذِیْ قَالَ، ]قَالَ[: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ، فَذٰلِکَ اَثْبَتُ۔(۲)
ترجمہ: عبداللہ اپنے باپ زید سے روایت بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نے صبح کی تو ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میںنے اپنا خواب آپ کو سنایا تو آپ نے فرمایا یہ برحق خواب ہے۔ بلالؓ کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ کیونکہ ان کی آواز تم سے اونچی اور لمبی ہے۔اور جو کچھ تجھے خواب میںبتایا گیا ہے وہ ان کو بتاتے اور سناتے جائو۔ وہ اس کو اونچی آواز سے پکاریں۔ راوی کا بیان ہے کہ جب حضرت عمر ؓ نے بلالؓ کی نماز کے لیے منادی سنی تو گھر سے اپنی ازار کھینچتے ہوئے حضورؐ کی خدمت میں پہنچے، یہ کہتے ہوئے کہ اے اللہ کے رسول قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے بھی خواب میں یہی کچھ دیکھا ہے جو اس نے کہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فللّٰہ الحمد۔
ـــــــ وَفِی الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔ قَالَ اَبُوْ عِیْسٰی: حِدِیْثُ عِبْدِ اللّٰہِ بْنِ زِیْدٍ حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ وَقَدْرَوَی ہٰذَا الْحَدِیْثَ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ اَتَمَّ مِنْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ وَاَطْوَلَ۔ وَذَکَرَ فِیْہِ قِصَّۃَ الْاَذَانِ مَثْنٰی مَثْنٰی وَالْاِقَامَۃَ مَرَّۃً مَرَّۃً وَعَبْدُاللّٰہِ بْنُ زَیْدٍ ہُوَ ابْنُ عَبْدِرَبِّہٖ، وَیُقَالُ ابْنُ عَبْدِرَبٍّ وَلَا نَعْرِ فُ لَہُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ شَیْئًا یَصِحُّ اِلَّا ہٰذَا الْحَدِیْثُ الْوَاحِدِ فِی الْاَذَانِ۔ وَعَبْدُاللّٰہِ بْنُ زَیْدِ بْنِ عَاصِمِ الْمَازِنِیُّ لَہٗ اَحَادِیْثٌ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، وَہُوَ عَمُّ عُبَّادُبْنُ تَمِیْمٍ۔
(۳)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ الطُّوْسِیُّ، ثَنَا یَعْقُوْبُ، ثَنَا اَبِیْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ، حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّہِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ زَیْدٍ، قَالَ : لَمَّا اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِا لنَّاقُوْسِ یُعْمَلُ لِیُضْرَبَ بِہِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلوٰۃِ طَافَ بِیْ وَاَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ یَحْمِلُ نَاقُوْسًا فِیْ یَدِہِ فَقُلْتُ: یَاعَبْدَ اللّٰہِ ، اَتَبِیْعُ النَّاقُوْسَ؟ قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِہِ؟ فَقُلْتُ نَدْعُوْبِہِ اِلَی الصَّلوٰۃِ، قَالَ: اَفَلَا اَدُلُّکَ عَلیٰ مَا ہُوَ خَیْرٌ مِنْ ذٰلِکَ ؟ فَقُلْتُ: (لَہُ): بَلیٰ قَالَ: فَقَالَ تَقُوْلُ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ ، اََللّٰہُ اَکبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ ، اَشْہَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ،اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ،حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ،حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ،لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، قَالَ: ثُمَّ اسْتَاْخَرَ عَنِّیْ غَیْرَ بَعِیْدٍ ثُمَّ قَالَ: وَتَقُوْلُ اِذَا اَقَمْتَ الصَّلوٰۃَ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ ، اَشْہَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ ، لَا ٓ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔ فَلَمَّا اَصْبَحْتُ اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَاَخْبَرْتُہُ بِمَا رَاَیْتُ، فَقَالَ: اِنَّہَا لَرُئْ یَا حَقٍّ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَاَلْقِ عَلَیْہِ مَارَاَیْتَ فَلْیُوَذِّنْ بِہِ، فَاِنَّہُ اَنْدیٰ صَوْتًا مِنْکَ۔ فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ، فَجَعَلْتُ اُلْقِیْہِ عَلَیْہِ وَیُوَذِّنُ بِہِ، قَالَ: فَسَمِعَ ذٰلِکَ عُمَرُبْنُ الْخَطَّابِ وَہُوَ فِیْ بَیْتِہِ فَخَرَجَ یَجُرُّرِدَائَ ہُ وَیَقُوْلُ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ لَقَدْرَاَیْتُ مِثْلَ مَارَاَی فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ:(۳)
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاوُدَ: ہٰکَذَارِوَایَۃُ الزُّہْرِیِّ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اکْبَرُ، وَقَالَ مَعْمَرٌ وَیُوْنُسُ عَنِ الزُّہْرِیِّ فِیْہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اکْبَرُ لَمْ یُثَنِّیَا۔
تشریح: اس سے جو کچھ ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ نماز کے لیے اذان دینے کا طریقہ مشورے سے نہیں طے ہوا، بلکہ الہام سے ہوا ہے، اور یہ الہام بصورت خواب حضرت عبداللہ بن زید اور حضرت عمرؓ پر ہوا تھا۔ لیکن مشکوۃ کے علاوہ دوسری کتب حدیث میں جو روایات آئی ہیں، ان سب کو اگر جمع کیا جائے تو ان سے ثابت ہوتا ہے کہ جس روز ان صحابیوں کو خواب میں اذان کی ہدایت ملی اسی روز خود نبی ﷺ کے پاس بھی بذریعہ وحی یہ حکم آگیا تھا۔
فتح الباری میں علامہ ابن حجر نے ان روایات کو جمع کردیا ہے۔ (سنت کی آئینی حیثیت :اعتراضات اور ۔۔۔)

اذان

دن میں پانچ وقت آپ کو یہ کہہ کر پکارا جاتا ہے:
۔ اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ ، ’’خدا سب سے بڑا ہے، خدا سب سے بڑا ہے‘‘۔
۔ اَشْہَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ، کوئی بندگی کا حق دار نہیں‘‘۔
۔ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں‘‘۔
۔ حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ، ’’آئو نماز کے لیے ‘‘۔
۔ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ، ’’آئو اس کام کے لیے جس میں فلاح ہے‘‘۔
۔ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ ، ’’اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے‘‘۔
۔ لَا ٓ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘‘۔
دیکھو یہ کیسی زبردست پکار ہے۔ ہر روز پانچ مرتبہ یہ آواز کس طرح تمہیں یاد دلاتی ہے کہ ’’زمین میں جتنے بڑے خدائی کے دعویدار نظر آتے ہیں سب چھوٹے ہیں۔ زمین و آسمان میں ایک ہی ہستی ہے جس کے لیے بڑائی ہے، اور وہی عبادت کے لائق ہے۔ آئو اس کی عبادت کرو۔ اسی کی عبادت میں تمہارے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔‘‘ کون ہے جو اس آواز کو سن کر ہل نہ جائے گا؟ کیونکر ممکن ہے کہ جس کے دل میں ایمان ہو، وہ اتنی بڑی گواہی اور ایسی زبردست پکار سن کر اپنی جگہ بیٹھا رہے اور اپنے مالک کے آگے سرجھکانے کے لیے دوڑ نہ پڑے؟ (خطبات،باب سوم: اذان ۔۔۔)
سوال: حالیہ بارشوں اور سیلاب کے دوران بعض لوگوں نے مکانوں کی چھتوں پر خوف خدا سے اذانیں دیں، ایسا کرنا کہاں تک جائز ہے؟ کیا یہ فعل مستحب ہے یا گناہ ہے یا خلاف شرع ہے؟
جواب : سیلاب یا کثرت بارش، یا کسی اور آفت کے موقع پر اذانیں دینا مسلمانوں میں رائج ہوگیا ہے، لیکن میرے علم کی حد تک یہ طریقہ کسی سند پر مبنی نہیں ہے، بلکہ غالباً لوگوں نے اسے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکار نے کی ایک صورت سمجھ کر اختیار کیاہے۔ اگر لوگ اسے مشروع سمجھ کر کریں تو غلط ہے، اور اگر محض اللہ سے فریاد کرنے اور اس کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی نیت سے کریں تو مباح ہے۔ ( رسائل و مسائل پنجم،فقہی ومعاشی مسائل: کوے کی۔۔۔)

اذان سن کر شیطان کا گوز کرنا

حضوؐر کا فرمانا کہ اذان سن کر شیطان گوز کرتا ہوا بھاگتا ہے۔ اس حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں:
۱۴۔ اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلوٰۃِ اَدْبَرَ الشَّیْطَانُ وَلَہٗ ضُرَاطٌ حَتّٰی لَا یَسْمَعَ التَّاْ ذِیْنَ فَاِذَا قَضَی النِّدَائُ اَقْبَلَ حَتّٰی اِذَا ثُوِّبَ لِلصَّلوٰۃِ اَدْبَرَ حَتّٰی اِذَا قَضَی التَّثْوِیْبُ اَقْبَلَ حَتّٰی یَخْطُرَ بَیْنَ الْمَرْئِ وَنَفْسِہٖ یَقُوْلُ اُذْکُرْ کَذَا أُذکرکذا لِمَا لَمْ یَکُنْ یَذْکُرْ حَتّٰی یَظِلَّ الرَّجُلُ لَا یَدْرِیْ کَمْ صَلّٰی۔
’’جب نماز کے لیے ندا کی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اور اس کے گوز صادر ہوتے ہیں کہ اذان نہ سنے پھر جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پلٹ آتا ہے۔ پھر جب نماز کے لیے تکبیر اقامت کہی جاتی ہے تو پھر بھاگتا ہے اور جب تکبیر ختم ہوجاتی ہے تو واپس آجاتا ہے کہ وسوسہ ڈالے آدمی اور اس کے نفس کے درمیان۔ کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کر، فلاں بات یاد کر۔ ایسی ایسی باتیں یاد دلاتا ہے جن کا اس کو نماز سے پہلے خیال تک نہ تھا۔ حتیٰ کہ آدمی بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھیں۔‘‘
بخاری میں مروی روایات:
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ ، قَالَ: اَخْبَرَ نَا مَالِکٌ عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلوٰۃِ اَدْبَرَ الشَّیْطٰنُ وَلَہُ ضُرَاطٌ حَتّٰی لَا یَسْمَعَ التَّاذِیْنَ، فَاِذَا قَضَی النِّدَائُ اَقْبَلَ حَتّٰی اِذَا ثُوِّبَ لِلصَّلوٰۃِ اَدْبَرَحَتّٰی اِذَا قُضِیَ التَّثْوِیْبُ اَقْبَلَ حَتّٰی یَخْطِرَ بَیْنَ الْمَرْئِ وَنَفْسِہِ یَقُوْلُ: اُذْکُرْ کَذَا، اُذْکُرْ کَذَا، لِمَالَمْ یَکُنْ یَذْکُرُہُ حَتّٰی یَظِلَّ الرَّجُلُ لَا یَدْرِیْ کَمْ صَلّٰی۔(۴)
حضرت ابوہریرہ سے مروی دوسری روایت :
(۲) عَنْ اَبِیْ ہُرِیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَانُوْدِیَ بِالصَّلوٰۃِ اَدْبَرَ الشَّیْطٰنُ وَلَہُ ضُرَاطٌ، فَاِذَا قُضِیَ اَقْبَلَ، فَاِذَا ثُوِّبَ بِہَا اَدْبَرَ، فَاِذَاقُضِیَ اَقْبَلَ حَتّٰی یَخْطِرَ بَیْنَ الْاِنْسَانِ وَقَلْبِہِ، فَیَقُوْلُ: اُذْکُرْ کَذَا، وَکَذَا، حَتّٰی لَا یَدْرِیْ، اَثَلَاثًا صَلّٰی اَمْ اَرْبَعًا ، فَاِذَا لَمْ یَدْرِ ثَلَاثًا صَلّٰی أَوْ اَرْبَعًا سَجَدَ سَجْدَتَی السَّہْوِ۔(۵)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کافرمان ہے ’’جب نماز کے لیے ندا کی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اور اس کے گوز صادر ہوتے ہیں۔ پھر جب اذان ختم ہوجاتی ہے۔ تو واپس پلٹ آتا ہے۔ پھر جب نماز کے لیے تکبیر اقامت کہی جاتی ہے تو پھر پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے۔اور جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو واپس آجاتا ہے کہ آدمی اور اس کے نفس کے درمیان خطرے (وساوس) ڈالے کہ فلاںاور فلاں بات یاد کر۔ حتیٰ کہ نمازی نہیں جانتا کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار۔ جب اسے یہ یاد نہیں رہتا ہے کہ اس نے تین رکعات پڑھی ہیں یا چار، تو پھر سجدہ سہو کرتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ سے مروی تیسری روایت:
(۳) قَالَ اَبُوْ ہُرَیْرۃَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِذَا اُذِّنَ بِالصَّلوٰۃِ اَدْبَرَ الشَّیْطٰنُ لَہُ ضُرَاطٌ حَتّٰی لَایَسْمَعَ التَّاذِیْنَ، فَاِذَا سَکَتَ الْمُوَذِّنُ اَقْبَلَ، فَاِذَا ثُوِّبَ اَدْبَرَ، فَاِذَا سَکَتَ اَقْبَلَ ، فَلَا یَزَالُ بِالْمَرْئِ یَقُوْلُ لَہُ: اُذْکُرْ مَالَمْ یَکُنْ یَذْکُرْ حَتّٰی لَا یَدْرِیْ کَمْ صَلّٰی۔(۶)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے ’’جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اور اس کے گوز صادر ہوتے ہیں کہ اذان نہ سنے۔ جب موذن خاموش ہوجاتا ہے تو پھر واپس پلٹ آتا ہے۔ پھر جب تکبیر اقامت کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے۔ پھر جب موذن خاموش ہوجاتا ہے تو واپس آجاتا ہے۔ اسی طرح بندے کے ساتھ رہتا اور اسے کہتا ہے یاد کر ایسی چیزیں جو اسے یاد نہیں ہوتیں۔ یہاں تک کہ نمازی بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے۔
(۴)عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِذَا اَذَّنَ الْمُوَذِّنُ اَدْبَرَ الشَّیْطٰنُ وَلَہُ حُصَاصٌ۔(۷)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’جب موذن اذان کہتا ہے تو شیطان دم دبا کر پیٹھ پھیرتے ہوئے بھاگتا ہے۔‘‘
ایک روایت میں ولّٰی ولہُ حُصاصٌ ہے۔
دارمیاور دارقطنی نے مندرجہ ذیل روایت بیان کی ہے:
(۵) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قال : اِذَا اَذَّنَ الْمُوَذِّنُ، خَرَجَ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسْجِدِ لَہُ حُصَاصٌ، فَاِذَا سَکَتَ الْمُوَذِّنُ رَجَعَ، فَاِذَا اَقَامَ الْمُوَذِّنُ الصَّلوٰۃَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَلَہُ ضُرَاطٌ فَاِذَا سَکَتَ رَجَعَ، حَتّٰی یَاْتِیَ الْمَرْئَ الْمُسْلِمَ فِیْ صَلَاتِہِ فَیَدْخُلُ بَیْنَہُ وَبَیْنَ نَفْسِہِ لَا یَدْرِیْ اَزَادَفِیْ صَلَاتِہِ اَمْ نَقَصَ۔(۸)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’جب موذن اذان کہتا ہے تو شیطان دم دبا کر مسجد سے بھاگتا ہے۔ پھر جب موذن خاموش ہوجاتا ہے تو واپس لوٹ آتا ہے۔ پھر جب موذن تکبیر اقامت کہتا ہے تو مسجد سے باہر نکل بھاگتا ہے اور اس کے گوز صادر ہوتے ہیں۔ پھر جب موذن خاموش ہوجاتا ہے تو واپس لوٹ آتا ہے۔ تاآنکہ ایک مسلم آدمی کے پاس آتا ہے جب کہ وہ نماز میں ہوتا ہے۔ پھر اس آدمی کے اور اس کے نفس کے درمیان داخل ہوجاتا ہے اور نمازی نہیں جانتا کہ اس نے نماز زیادہ پڑھ لی ہے یا کم۔
(۶) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَاِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، (قَالَ اِسْحَاقُ: اَنَا وَ قَالَ الْآخَرَانِ : نَاجَرِیْرٌ) عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ سُفْیَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ:’’اِنَّ الشَّیْطٰنَ اِذَا سَمِعَ النِّدَآ ئَ بِا لصَّلَاۃِ ذَہَبَ حَتّٰی یَکُوْنَ مَکَانَ الرَّوْحَآئِ‘‘ قَالَ سُلَیْمَانُ: فَسَاَلْتُہُ عَنِ الرَّوْحَآئِ؟ فَقَالَ ہِیَ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ سِتَّۃٌ وَّثَلَاثُوْنَ مِیْلًا ۔(۹)
ترجمہ: حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے خود سنا ہے، فرمارہے تھے: ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ شیطان جب نماز کے لیے کی گئی ندا سنتا ہے تو مقام روحاء تک بھاگتا چلا جاتا ہے۔‘‘ سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے روحاء کے متعلق ان سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ ایک مقام ہے جو مدینہ منورہ سے چھتیس میل کے فاصلہ پر ہے۔
تشریح: حدیث کی روایت میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی بنا پر وضع یا ضعف کا حکم لگایا جاسکے۔ اس کو امام بخاری نے خفیف سے لفظی تغیر کے ساتھ تین مختلف ابواب میں تین طریقوں سے روایت کیا ہے۔ کتاب الاذان، باب فضل التاذین میں عبداللہ بن یوسف، مالک، ابوالزناد اعرج اور ابوہریرہ اس کے راوی ہیں۔ باب تفکر الرجل الشیٔ فی الصلوٰۃ میں یحییٰ بن بکیر، لیث ، جعفر بن ربیعہ، اعرج اور ابوہریرہ نے اس کو روایت کیا ہے۔ اور کتاب بدء الخلق باب صفۃ الابلیس وجنودہ میں محمد بن یوسف، اوزاعی، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ اور ابوہریرہ کے نام اس کے اسناد میں نظر آتے ہیں۔ نسائی نے بھی باب فضل التاذین میں اس روایت کو نقل کیاہے۔ سلسلہ اسناد میں قتیبہ اور مالک آتے ہیں۔ مسلم نے بھی باب فضل الاذان میں اس مضمون کی پانچ روایتیں نقل کی ہیں جن میں سے بعض میں لَہٗ ضُرَاطٌ کی جگہ لَہٗ حُصَاصٌ آیا ہے۔ جس کی تفسیر اصمعی نے شدت فرار سے کی ہے۔ ایک اور حدیث جو مسلم نے جابر سے نقل کی ہے، یہ ہے کہ شیطان جب اذان کی آواز سنتا ہے تو روحاء(روحاء ایک مقام ہے مدینہ سے کئی میل کے فاصلہ پر۔) تک بھاگتا چلا جاتا ہے۔
اب رہا متن حدیث تو اس میں جو کچھ ارشاد ہوا ہے اس کی صداقت پر نماز پڑھنے والا گواہی دے سکتا ہے۔ اذان اور تکبیر کی آواز سن کر فی الواقع انسان خدا کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور اس وقت کوئی خطرہ اس کے قلب میں نہیں آتا۔ مگر نماز شروع کرتے ہی طرح طرح کے وسوسے آنے لگتے ہیں۔ اس کیفیت کی وجہ کو مختلف پیرایوں میں بیان فرمایا گیا ہے۔ مقصود صرف یہ بتانا تھا کہ اذان کی آواز سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔ اس میں فرار کی شدت کو ظاہر کرنے کے لیے کہیں فرمایا گیا ہے کہ وہ روحاء تک بھاگتا چلا جاتاہے۔ یعنی میلوں تک نہیں ٹھہرتا، کہیں وہی مفہوم لہ حصاص کے لفظ سے ادا فرمایا ہے اور کہیں لہ ضراط کہہ کر شدت کے ساتھ کراہت کا بھی اظہار کردیا گیا ہے۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم اردو میں کہیں کہ شیطان دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ محض استعارہ ہوگا۔ اب اگر کوئی شخص اس مجازی کلام کو حقیقت پر محمول کرے اور یہ فرض کرلے کہ شیطان واقعی ایک دم رکھتا ہے اور بھاگتے وقت اس کو ٹانگوں میں دبا لیتا ہے ۔ تو یہ قائل کے بیان کا نہیں، سامع کی عقل کا قصور ہوگا۔ اسی طرح شیطان کے گوز کرتے ہوئے بھاگنے سے بھی اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ شیطان واقعی پیٹ رکھتا ہے اور اس میں غذا ہضم ہوتی ہے اور اس سے ریاح خارج ہوتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ یکسر کودن آدمی ہے۔ بات کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ ایسی باتوں پر اعتراض کرنے والے تو محض فتنہ پرداز ہیں۔ ان کے دلوں پر مہر لگی ہوئی ہے، جو انہیں سیدھی سی بات کو بھی سیدھی طرح نہیں سمجھنے دیتی۔ مگر افسوس ان مسلمانوں پر ہے جو ایسے اعتراضات کو سن کر لاجواب اور شرمندہ ہوتے ہیں۔ (ترجمان القرآن، ج ۴، عدد ۵، ص ۳۰۵-۳۰۷)

حدیث اَدْبَرَ الشَّیْطَانُ لَہٗ ضُرَاطٌ کی مزید تشریح

مختلف احادیث پر نظر ڈالنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آں حضرت ﷺ نے مختلف مواقع پر اذان کی تاثیر کو مختلف طریقوں سے بیان فرمایا ہے۔ ان سب ارشادات کو ملا کر پڑھا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اصل مقصد اذان کا یہ اثر بیان کرنا تھا کہ اس کو سن کر شیطان بھاگ جاتا ہے اور اس کے دوران میں انسان شیطانی وساوس سے محفوظ رہتا ہے۔
میں نے جہاں تک کتاب اللہ کا مطالعہ کیا ہے، اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس اور اس کی ذریت اور جن، انسان اور حیوان کی طرح مادی جسم نہیں رکھتے، بلکہ آتشیں مخلوق ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید میں ابلیس کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَخَلَقْتَہُ مِنْ طِیْنٍ (الاعراف:۲۲) اور جنوں کے متعلق حق تعالیٰ شانہ نے فرمایا ہے کہ وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِنْ نَّارٍ (الرحمٰن :۱۵) اور ابلیس کے متعلق ارشاد ہے کہ کَانَ مِنَ الْجِنِّ۔ (الکھف:۵۰) ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ شیطان کی حقیقت انسان سے مختلف ہے۔ نہ وہ انسان کا سا جسم رکھتا ہے اور نہ اس پر وہ احوال گزرتے ہیں جو انسان پر گزرا کرتے ہیں، مثلااکل طعام و اخراج ریاح وغیرہ۔ باقی رہی یہ بات کہ حدیث نبوی کے الفاظ لہ ضراط کو شیطان کے صاحب شکم ہونے اور اس سے ریاح خارج ہونے کے لیے دلیل قرار دیا جائے تو میرے خیال میں یہ صحیح نہیں ہے۔ لغت عرب میں ضراط کا لفظ محض ریح شکم کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ مجازاً بہت سے معانی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مثلاً خفت کے معنی میں، چنانچہ بالوں کی کمی کو الضراط کہتے ہیں اور جس شخص کی داڑھی ہلکی ہو اس کو اضرط کہا جاتا ہے۔ جس عورت کی بھویں ہلکی ہوں وہ ضرطاء کہلاتی ہے۔ انکار اور استخفاف کے معنی میں: یُقَالُ اَضْرَطَ فُلاَنٌ بِفُلاَنٍ اِذَا اسْتَخَفَّ بِہٖ وَسَخِرَ مِنْہُ اور حدیث علیؓ میں ہے کہ اِنَّہٗ دَخَلَ بَیْتَ الْمَالِ فَاَضْرَطَ بِہٖ اَی اسْتَخَفَّ بِہٖ وَسَخِرَ مِنْہُ ناپسندیدگی اور کراہت کے معنی میں: وَفِی الْمَثَلِ اَلْاَکَلُ سَرْطَانٌ وَالْفَضَائُ ضَرْطَانٌ وَتَاوِیْلُ ذٰلِکَ اَنْ تَأْخُذَ وَتَکْرَہَ اَنْ تَرُدَّاس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں شیطان کے بھاگنے کی کیفیت بیان کرتے ہوئے حضورؐ نے لہ ضراط جو فرمایا ہے، اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ بھاگتے وقت فی الواقع اس کے پیٹ سے ریاح خارج ہوتی ہیں، بلکہ اس سے مراد ایسی شدت فرار ہے جس میں خوف اور کراہت اور گھبراہٹ بھی شامل ہے۔ خود ہماری زبان کے محاورات میں بھی گوز کرنے کا لفظ حقیقی معنی پر محمول نہیں کیا جاتا، بلکہ اس سے اضطراب اور خوف اور بد حواسی اور عجز وغیرہ کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔ مثلاً اگر کہیں کہ فلاں شخص گوز کرتا ہوا بھاگا، تو کوئی بھی اس کا یہ مفہوم نہیں لیتا کہ فی الواقع بھاگتے وقت اس کے پیٹ سے ریاح خارج ہورہی تھی، بلکہ اس سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ سخت بدحواسی اور خوف کی حالت میں بھاگا۔ پس جب انسان کے متعلق یہ الفاظ سن کر آپ ان کو حقیقت پر محمول نہیں کرتے، حالانکہ انسان پیٹ رکھتا ہے اور اس سے ریاح خارج ہونا ایک امر طبیعی ہے، تو پھر شیطان کے حق میں یہ الفاظ سن کر آپ ان کو حقیقت پر کس طرح محمول کرسکتے ہیں، درآں حالیکہ وہ انسان و حیوان کا سا جسم نہیں رکھتا؟
میں اپنے محدود علم کی بناپر اس حدیث کے معنی کی جو تحقیق کرسکتا تھا وہ میں نے بیان کردی ہے۔ اگر کوئی شخص میری تحقیق کو غلط ثابت کردے تو میں اس سے رجوع کرنے میں کبھی تامل نہ کروں گا۔ الحمد للہ ،میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اپنی رائے کو وحی و الہام سمجھتے ہیں، اور اختلاف کرنے والوں کو گالیاں دیتے ہیں۔
رہا آپ کا یہ سوال کہ جب اذان سن کر شیطان بھاگ جاتا ہے تو نماز پڑھنے میں واپس کیوں آجاتا ہے؟ اور کیا نماز اذان سے فرو تر چیز ہے؟ تو اس کا جواب میرے ذمہ نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کرنا چاہیے کہ اس نے اذان اور نماز کے درمیان کیا فرق رکھا ہے جس کا یہ اثر ہے، یا پھر شیطان سے پوچھنا چاہیے کہ تواذان کی آواز سن کر بھاگ کیوں جاتا ہے اور نماز پڑھنے میں واپس کیوں آجاتا ہے؟ مگر ایک بات میں بھی آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ حدیث میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے آیا وہ صحیح ہے، یا نہیں؟ آپ کا خود اپنا تجربہ اس کی تصدیق کرتا ہے، یا نہیں؟
دوسرے نماز پڑھنے والوں کے تجربات بھی اس کی تائید کرتے ہیں، یا نہیں؟ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ اذان کی آواز سن کر ہر نمازی مسلمان کا دل یکایک ذکر الٰہی کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے، اور یہ چند لمحے شیطانی وساوس سے خالی گزرتے ہیں، لیکن نماز پڑھنے میں طرح طرح کے خیالات آکر اس کو گھیر لیتے ہیں، اور ایسی ایسی باتیں یاد آتی ہیں جو نماز شروع کرنے سے پہلے اس کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہوتیں؟ اگر یہ واقعہ ہے اور آپ کا ذاتی تجربہ بھی اس کا شاہد ہے تو آپ اس کی تصدیق کو اس کی وجہ معلوم ہونے پر کیوں موقوف رکھتے ہیں؟ کیا واقعہ کو واقعہ تسلیم کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کو اس کی وجہ معلوم ہوجائے ؟ اگر کسی واقعہ کی وجہ نہ معلوم ہو تو کیا آپ اس کے واقعہ ہونے سے انکار کردیں گے؟ اگر آپ کے سر میں درد ہو اور اس کی وجہ سمجھ میں نہ آئے تو کیا آپ اپنے احساس درد کو جھٹلا دیں گے؟ یہ بات تو بالکل عقل عام (Common Sense) سے تعلق رکھتی ہے کہ واقعہ کو واقعہ ماننے کے لیے وجہ کا معلوم ہونا شرط نہیں ہے۔ آپ دنیا کے بہت سے واقعات کو تسلیم کرتے ہیں۔ درآں حالیکہ آپ کو ان کی وجہ معلوم نہیںہوتی۔ پھر آخر یہ حجت طلبی مذہبی لٹریچر ہی کے ساتھ کیوں مخصوص ہوگئی ہے کہ اگر اس کے کسی بیان کی تائید تجربہ و مشاہدہ سے بھی ہوجائے تو اسے ماننے کو دل نہیں چاہتا جب تک کہ اس کی وجہ معلوم نہ ہوجائے؟ اور اگر ا س کی وجہ بھی معلوم ہوجائے تو پھر تصدیق میں یہ سوال مانع ہوجاتا ہے کہ جب اس خاص معاملہ میں یہ واقعہ پیش آتا ہے تو ایک دوسرے معاملہ میں بھی یہی واقعہ کیوں پیش نہیں آتا۔
آپ پوچھتے ہیں کہ کیا نماز اذان سے بہتر ہے یا نماز میں کوئی ایسی خرابی موجود ہے جس کے باعث حالت نماز میں شیطان کو تسلط کا موقع مل جاتا ہے؟ میں کہتا ہوں کہ شیطان کے بھاگنے اور واپس آجانے سے نہ تو نماز پر اذان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور نہ نماز میں کسی خرابی کا موجود ہونا لازم آتا ہے۔ اس سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ اذان اور نماز کی کیفیات میں فرق ہے۔ شیطان کے لیے ان دونوں میں جو کچھ فرق ہے اس کو ہم نہیں جان سکتے اور نہ وہ ہم کو بتایا گیا ہے۔ البتہ نفس انسانی کے یے ان دونوں میں جو فرق ہے وہ ہم سمجھ سکتے ہیں۔ نفسیات کا ایک معمولی نکتہ ہے کہ جب کوئی آواز انسان کی توجہ کو دفعتاً اپنی طرف جذب کرتی ہے تو تھوڑی دیر کے لیے انسان کا نفس دوسرے مشاغل سے ہٹ کر اس کی جانب متوجہ ہوجاتا ہے۔مگر جب انسان کسی کام میں زیادہ دیر تک مشغول رہتا ہے، تو بغیر خاص کوشش کے اس کو پوری جمعیت خاطر (Concentration) حاصل نہیں ہوتی، اورخیالات ادھر ادھر بھٹکنے لگتے ہیں۔ عوام پر یہ حالت اکثر گزرتی ہے، کیونکہ وہ جمعیت خاطر اور کامل توجہ الی اللہ بہم پہنچانے پر کم قادر ہوتے ہیں۔ لیکن خواص بھی اس پر خاص قدرت رکھنے کے باوجود کبھی کبھی بتقاضائے بشریت محض اضطراری طور پر انتشار خیال میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اذان اور نماز کا یہ فرق دونوں کی کیفیتوں کے فرق پر مبنی ہے، نہ کہ خدا کی جناب میں ان کی مقبولیت اور ان کے مراتب کے فرق پر۔ (ترجمان القرآن، جلد ۵، عدد ۶، ص ۱۵۴ تا ۱۵۷)

اَلَاصَلُّوْا فِی الرِّحَالِ کا حکم کن حالات میںہے؟

۱۵۔نماز کے بارے میں شرعی حکم یہی ہے کہ جہاں تک اذان کی آواز پہنچتی ہو وہاں کے لوگوں کو مسجد میں حاضر ہونا چاہیے۔ الاّ یہ کہ کوئی عذر شرعی مانع ہو۔ عذر شرعی یہ ہے کہ آدمی بیمار ہو، یا اسے کوئی خطرہ لاحق ہو۔ یا کوئی ایسی چیز مانع ہو جس کا شریعت میں اعتبار کیا گیا ہو۔ بارش اور کیچڑ، پانی ایسے ہی موانع میں سے ہے۔ چنانچہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہؓ اس حالت میں اذان کے ساتھ اَلاَصَلُّوْافِیْ رِحَالِکُمْ کی آواز لگادیتے تھے، تاکہ لوگ اذان سن کر اپنی اپنی جگہ ہی نماز پڑھ لیں۔
(رسائل و مسائل دوم)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیٰ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ نَافِعٌ، قَالَ: اذَّنَ ابْنُ عُمَرَ فِیْ لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ بِضَجْنَانَ، ثُمَّ قَالَ:صَلُّوْا فِیْ رِحَالِکُمْ وَاَخْبَرَنَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَاْمُرُمُوَذِّنًا یُوَذِّنُ ثُمَّ یَقُوْلُ عَلیٰ اِثْرِہِ اَلَا صَلُّوْا فِی الرِّحَالِ فِیْ اللَّیْلَۃِ الْبَارِدَۃِ اَوِالْمَطِیْرَۃِ فِی السَّفَرِ۔(۱۰)
ترجمہ:حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر نے مقام ضجنان پر، سرد رات میں اذان کہی اور پھر صلوا فی رحالکم (اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو)کہا۔ اور ہمیں خبر دی گئی کہ رسول اللہ ﷺ اپنے موذن سے فرمایا کرتے تھے کہ وہ اذان کہے اور پھر الاصلوا فی الرحال کہے۔ سردرات یا سفر میں بارش کے موقع پر یہ ارشاد فرماتے۔
ابن ماجہ کی روایت میں ہے:
(۲)کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُنَادِیْ مُنَادِیْہِ فِی اللَّیْلَۃِ الْمَطِیْرَۃِ اَوِاللَّیْلَۃِ الْبَارِدَۃِ ذَاتِ الرِّیْحِ، صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ ۔
ترجمہ:رسول اللہ ﷺ اپنے موذن سے فرمادیا کرتے تھے کہ جب رات بارش والی ہو یا سرد و ٹھنڈی یخ بستہ ہوا چل رہی ہوتو صلوا فی الرحال کی ندا دے دیا کرو۔
(۳)عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ سَفَرٍ۔ فَمُطِرْنَا۔ فَقَالَ: لِیُصَلِّ مَنْ شَائَ مِنْکُمْ فِیْ رَحْلِہٖ۔(۱۱)
ترجمہ: حضرت جابرؓ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ایک سفر پر نکلے۔ راستے میں بارش نے آلیا۔ اس موقع پر آپؐ نے فرمایا ’’تم میں سے جو اپنے ٹھکانہ پر نماز پڑھنا چاہے وہ پڑھ سکتا ہے۔
اور ترمذی میں حضرت جابرؓ سے مروی روایت:
(۳) عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: کُنَّامَعَ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ سَفَرٍ، فَاَصَابَنَا مَطَرٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: مَنْ شَآئَ فَلْیُصَلِّ فِیْ رَحْلِہِ۔(۱۲)
ترجمہ: حضرت جابرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے کہ اتنے میں باران رحمت ہوئی تو آپؐ نے اعلان کروادیا ’’جو کوئی چاہے وہ اپنے ٹھکانے پر نماز پڑھ لے۔
ـــــــ امام ترمذی کی تحقیق کے مطابق، بعض اہل علم نے بارش اور کیچڑ کی حالت میں نماز باجماعت اور جمعہ میں حاضری سے رخصت دی ہے۔
ـــــــ وَفِی الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَسَمُرَۃَ، وَاَبِیْ الْمَلِیْحِ عَنْ اَبِیْہِ، وَعَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَ۔ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: حَدِیْثُ جَابِرٍ حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ وَقَدْرَخَّصَ اَہْلُ الْعِلْمِ فِی الْقُعُوْدِ عَنِ الْجَمَاعَۃِ وَالْجُمُعَۃِ فِی الْمَطَرِ وَالطِّیْنِ۔ وَبِہٖ یَقُوْلُ اَحْمَدُ، وَاِسْحَاقُ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَازَرْعَۃَ یَقُوْلُ رَوَی عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَمْرٍو بْنِ عَلِیٍّ حَدِیْثًا۔ وَقَالَ اَبُوْزَرْعَۃَ لَمْ نَرَبِالْبَصَرَۃَ اَحْفَظُ مِنْ ہٰوُلَآئِ الثَّلَاثَۃِ: عَلِیُّ بْنُ الْمَدِیْنِیِّ، وَابْنُ الشَّاذَکُوْنِی وَعَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ، وَاَبُو الْمَلِیْحِ بْنِ اُسَامَۃَ اِسْمُہٌ عَامِرٌ وَیُقَالُ ’’ زَیْدُ بْنُ اُسَامَۃَ بْنِ عُمَیْرِ الْہَذَلِیِّ۔

ماخذ

(۱) بخاری ج۱، کتاب الاذان، باب بدء الاذان وَقَوْلُہُ تَعَالیٰ وَاِذَانَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلوٰۃِ اتَّخَذُوْہَا ہُزُواً وَّلَعِبًا ذٰلِکَ بِانَّہُمْ قَوْمٌ لَّایَعْقِلُوْنَ وَقوْلُہُ تَعْالیٰ اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلوٰۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ۔ ٭مسلم ج۱کتاب الصلوۃ، باب بدء الاذان۔ مسلم میں بَلْ بُوْقَا کی جگہ قَرْنا مِثْلَ قَرْنِ الْیَہُوْدِ ہے۔٭ترمذی ج۱ ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی بدء الاذان ٭ترمذی نے’’فیتحینون الصلوات‘‘ نقل کیا ہے۔ قال ابوعیسیٰ : ہذا حدیث حسن صحیح غریب من حدیث ابنِ عمر۔
(۲) ترمذی ج۱ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی بدء الاذان۔
(۳) ابوداود ج۱کتاب الصلوٰۃ، باب کیف الاذان۔
(۴) بخاری ج۱، کتاب الاذان، باب فضل التأذین اورکتاب التہجد، باب ماجاء فی السھوکے تحت ’’باب اذالم ید رکم صلی ثلاثا او اربعا۔٭ مسلم ج۱: کتاب المساجد،اورکتاب الصلوٰۃ، باب فضل الاذان وہرب الشیطن۔٭ ابوداؤد ج۱ کتاب الصلوٰۃ، باب رفع الصوت بالأذان۔٭نسائی ج۲،کتاب الاذان، باب فضل التاذین۔٭ کنزالعمال، ج۷، ص۶۹۱۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۱کتاب الصلوٰۃ، باب الترغیب فی الاذان۔٭ موطا امام مالک: باب ماجاء فی النداء للصلوٰۃ۔٭دارمی ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الرجل اذالم یدرأ ثلاثا صلی أم اربعاً۔٭ مسند ابی عوانہ،ج۲، ص۱۹۲، ج ۱، ص ۳۳۴۔
(۵) بخاری ج۱، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ ابلیس وجنودہ۔
(۶) بخاری ج۱، کتاب التہجد، باب یفکر الرجل الشئی فی الصلوٰۃ۔
(۷) مسلم ج۱ کتاب الصلوٰۃ، باب فضل الاذان وہرب الشیطان عند سماعہ۔٭ مسند ابی عوانۃ، ج۱، ص ۳۳۴۔
(۸) دارقطنی، کتاب الصلوٰۃ، باب ادبار الشیطان من سماع الاٰذان٭دارمی ج۱ کتاب الصلوٰۃ، باب الشیطان اذا سمع النداء فر۔
(۹) مسلم ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب فضل الاذان وہرب الشیطان عند سماعہ۔٭ مسند ابی عوانۃ ج۱باب الترغیب فی الاذان۔٭ کنزالعمال، ج۷، ص۶۹۲، بحوالہ ابن خزیمہ۔٭السنن الکبریٰ ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الترغیب فی الاٰذان۔
(۱۰) بخاری ج۱، کتاب الاذان، باب الاٰذان للمسافر اذا کانوا جماعۃ ٭مسلم ج۱،کتاب صلوٰۃ المسافر وقصرہا، باب الصلوٰۃ فی الرحال فی المطر٭ ابوداود ج۱،کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب الجمعۃ، باب التخلف عن الجماعۃ فی اللیلۃ الباردۃ اواللیلۃ المطیرۃ٭ نسائی ج۲، کتاب الاذان، باب الاذان فی التخلف عن شہود الجماعۃ فی اللیلۃ المطیرۃ عن ابن عمر۔٭مسند احمد، ج ۲، ص ۴، عبداللہ بن عمر۔٭مسند ابی عوانۃ،ج۲، ص ۳۴۸۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا:، باب الجماعۃ فی اللیلۃ المطیرۃ۔٭السنن الکبریٰ ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب استحباب تاخیر الکلام الیٰ آخر الاذان، عن ابن عمر۔
(۱۱) مسلم ج۱، کتاب صلوٰۃ المسافرین وقصرہا، باب الصلوٰۃ فی الرحال فی المطر۔
(۱۲) ترمذی: ابواب الصلوٰۃ عن رسول اللّٰہ ﷺ، باب ماجاء اذا کان المطر فالصلوۃ فی الرحال۔

فصل :۵ کیفیات صلوٰۃ

جسمانی و بدنی طہارت۔اس آواز (اذان) کو سن کر تم اٹھتے ہو اور سب سے پہلے اپنا جائزہ لے کر دیکھتے ہو کہ میں پاک ہوں یا ناپاک؟ میرے کپڑے پاک ہیں یا نہیں؟ مجھے وضو ہے یا نہیں؟ گویا تمہیں اس بات کا احساس ہے کہ پادشاہ دوعالم کے دربار میں حاضری کا معاملہ دنیا کے دوسرے سب معاملات سے مختلف ہے۔ دوسرے کام تو ہر حال میں کیے جاسکتے ہیں، مگر یہاں جسم اور لباس کی پاکی اور اس پاکی پر مزید طہارت ( وضو) کے بغیر حاضری دینا سخت بے ادبی ہے۔ اس احساس کے ساتھ تم پہلے اپنے پاک ہونے کا اطمینان کرتے ہو اور پھر وضو شروع کردیتے ہو۔ اس وضو کے دوران میں اگر تم اپنے اعضاء دھونے کے ساتھ ساتھ اللہ کا ذکر کرتے رہو اور فارغ ہوکر وہ دعا پڑھو جو رسول اللہؐ نے سکھائی ہے تو محض تمہارے اعضاء ہی نہ دھلیں گے بلکہ ساتھ ساتھ تمہارا دل بھی دھل جائے گا ۔اس دعا کے الفاظ یہ ہیں:
۱۶۔ اَشْہَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَہِّرِیْنَ۔
’’میں شہادت دیتا ہوں کہ اکیلے ایک لاشریک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ خدایا مجھے توبہ کرنے والوں میں شامل کر اور مجھے پاکیزگی اختیار کرنے والا بنا۔‘‘ (خطبات ، ص :۱۴۸،۱۴۹)
تخریج:(۱) حَدَثَّنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِبْنِ عِمْرَانَ الثَّعْلَبِیُّ الْکُوْفِیُّ، نَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ یَزِیْدَ الدِمَشْقِیِّ، عَنْ اَبِیْ اِدْرِیْسَ الْخَوْلَانِیِّ وَاَبِیْ عُثْمَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ تَوَضَّاَ فَاَحْسَنَ الْوُضُوْئَ، ثُمَّ قَالَ: اَشْہَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ، وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَہِّرِیْنَ۔ فُتِحَتْ لَہُ ثَمَانِیَۃُ اَبْوَابٍ مِنَ الْجَنَّۃِ یَدْخُلُ مِنْ اَیِّہَا شَآئَ۔(۱)
ترجمہ:حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جس نے وضو کیا اور اچھی طرح کیا، پھر یہ دعا پڑھی ’’میں شہادت دیتا ہوں کہ اکیلے ایک لاشریک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ خدایا مجھے توبہ کرنے والوں میں شامل کر اور مجھے پاکیزگی اختیار کرنے والا بنا۔ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے جس میں سے چاہے داخل ہوجائے۔
ـــــــ وَفِی الْبَابِ عَنْ اَنَسٍ وَعُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ: قَالَ اَبُوْ عِیْسیٰ حَدِیْثُ عُمَرَ قَدْ خُوْلِفَ زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ۔ رَوَی عَبْدُاللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ وَغَیْرُہٗ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ یَزِیْدٍ، عَنْ اَبِیْ اِدْرِیْسَ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُمَرَ، وَعَنْ رَبِیْعَۃَ عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ عَنْ جُبَیْرٍ بْنِ نُفَیْرٍ، عَنْ عُمَرَ۔ وَہٰذَا حَدِیْثٌ فِیْ اِسْنَادِہٖ اِضْطِرَابٌ۔ وَلَایَصِحُّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ کَبِیْرُ شیْ۔ قَالَ مُحَمَّدُ: وَأَبُوْاِدْرِیْسَ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ شَیْئاً۔
(۲) عَبْدُالرَّزَّاقِ عَنْ یَحْیٰ عَنِ ابْنِ الْعلَائِ عَنِ الْاَ عْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِی الْجَعْدِ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: اِذَا تَوَ ضَّاَ الرَّجُلُ فَلْیَقُلْ: اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ اللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَہِّرِیْنَ۔(۲)
ابن ابی شیبہ میں عقبہ بن عامر سے مروی روایت میں ہے:
(۲)قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ تَوَضَّاَفَاَتَمَّ وُضُوْئَ ہُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ اِلَی السَّمَآئِ، فَقَال: اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ الَّا اللّٰہُ الخ۔(۳)

نیت نماز

اس کے بعد تم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو۔ منہ قبلہ کے سامنے ہے۔ پاک صاف ہو کر پادشاہ عالم کے دربار میں حاضر ہو، سب سے پہلے تمہاری زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں: اللہ اکبر،’’ اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘ اس زبردست حقیقت کا اقرار کرتے ہوئے تم کانوں تک ہاتھ اٹھاتے ہو ، گویا دنیا و مافیہا سے دست بردار ہورہے ہو۔ پھر ہاتھ باندھ لیتے ہو، گویا اب تم بالکل اپنے بادشاہ کے سامنے باادب دست بستہ کھڑے ہو۔ اس کے بعد تم کیا عرض معروض کرتے ہو

تسبیح

۱۷۔ سُبْحٰنَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالیٰ جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ ۔
’’ تیری پاکی بیان کرتا ہوں اے اللہ! اور وہ بھی تیری تعریف کے ساتھ۔ بڑی برکت والا ہے تیرا نام ، سب سے بلند و بالاہے تیری بزرگی اور کوئی معبود نہیں تیرے سوا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عِیْسٰی، ثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَامٍ، ثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ اَلْمَلَائِیُّ، عَنْ بُدَیْلِ بْنِ مَیْسَرَۃَ، عَنْ اَبِی الْجَوْزَائِ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلوٰۃَ قَالَ: سُبْحٰنَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ۔(۴)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرنا چاہتے تو فرماتے: ’’اے اللہ تو پاک ہے اور سب تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاوٗدَ: وَہٰذَا الْحَدِیْثُ لَیْسَ بِالْمَشْہُوُرِ عَنْ عَبْدِالسَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، لَمْ یَرَوْہُ اِلَّا طَلْقُ بْنُ غِنَامٍ، وَقَدْرَوَیَ قِصَّۃُ الصَّلوٰۃِ عَنْ بُدَیْلٍ جَمَاعَۃٌ لَمْ یَذْکُرُوْا فِیْہِ شَیْئاً مِنْ ہٰذَا۔(۴)
(۲) عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِن الْخُدْرِیِّ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ کَبَّرَ ثُمَّ یَقُوْلُ: سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ، ثُمَّ یَقُوْلُ: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ثَلَاثًا ثُمَّ یَقُوْلُ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا ثَلَاثًا اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ مِنْ ہَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفَثِہِ ثُمَّ یَقْرَاُ ۔(۵)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو اٹھتے تو پہلے اللہ اکبر کہتے پھر فرماتے اے اللہ! تو پاک ہے ا ور سب تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے اور تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر فرماتے اللہ اکبر کبیراً۔ (تین مرتبہ) ’’میں اللہ سمیع و علیم کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود کی شرارتوں اور اس کے ہمزسے، اس کے نفخ سے اور اس کے نفث سے۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: وَحَدِیْثُ اَبِیْ سَعِیْدٍ اَشْہَرُ حَدِیْثٍ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ، وَقَدْ اَخَذَ قَوْمٌ مِّنْ اَہْلِ الْعِلْمِ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ وَأَمَّاأَکْثَرُ أَہْلِ الْعِلْمِ فَقَالُواْ اِنَّمَا یُرْویٰ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالیٰ جَدُّکَ وَلَااِلٰہَ غَیْرُ کَ۔ وَہٰکَذَاَ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، وَ الْعَمَلُ عَلیٰ ہٰذَا عِنْدَ اَکْثَرِ اَہْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِیْنَ وَغَیْرِہِمْ، وَقَدْ تَکَلَّمَ فِیْ اِسْنَادٍ۔ وَحَدِیْثُ اَبِیْ سَعِیْدٍ کَانَ یَحْییٰ بْنَ سَعِیْدٍ یَتَکَلَّمُ فِیْ عَلِیِّ بْنِ عَلِیٍّ، وَقَالَ اَحْمَدُ لَایَصِحُّ ہٰذَا الْحَدِیْثُ۔
(۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِہْرَ انَ الرَّازِیُّ، قَالَ: نَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: نَا الْاَوْزَاعِیُّ عَنْ عَبْدَۃَ أَنَّ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، کَانَ یَجْہَرُ بِہٰوُلَا ٓئِ الْکَلِمَاتِ یَقُوْلُ: سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالیٰ جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ۔(۶)
ترجمہ: حضرت عمر بن الخطابؓ ان کلمات کو جہراً پڑھتے تھے: تو پاک ہے اے اللہ! اور سب تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے اور تیری شان بلند و برتر ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔

تعوذ

اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم

بسملہ

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
’’شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ (خطبات، باب سوم: نماز میں ۔۔۔)

شیطان سے پناہ مانگنے کی حکمت

قرآن مجید میں یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ جب تم قرآن پڑھو تو پہلے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو شیطان رجیم سے ـــــ اسی حکم کی بناء پر قرآن مجید کی تلاوت کا آغاز اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ سے کیا جاتا ہے ـــــ یہ ہدایت کیوں دی گئی ہے؟
پناہ مانگنے میں آپ سے آپ کچھ باتیں شامل ہوتی ہیں۔ پناہ مانگنے کے عین مفہوم میں کچھ چیزیں شامل ہیں۔ ایک خود پناہ۔ دوسرے پناہ مانگنے والا۔ تیسرے وہ جس سے پناہ مانگی جائے۔
پناہ مانگنے والا پناہ ہمیشہ اس صورت میں مانگا کرتا ہے جب کہ اسے کسی خطرے کا احساس ہو۔ اگر خطرے کا احساس ہی نہ ہو تو پناہ کا کوئی تصور اس کے ذہن میں نہیں آتا اور پناہ ہمیشہ اس سے مانگی جاتی ہے جس کے متعلق آدمی کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ یہ ہمیں محفوظ کرسکتا ہے اس خطرے سے جس کا ہم احساس رکھتے ہیں۔ جب تک یہ دونوں باتیں شامل نہیں ہوں گی، آدمی کے ذہن میں نہ کوئی پناہ لینے کا تصور آئے گا اور نہ کسی کی طرف وہ توجہ کرے گا، مانگنے کی۔
ظاہر بات ہے کہ اگر کسی آدمی کو پناہ لینے کی ضرورت کا احساس ہی نہ ہو تو وہ کبھی نہیں بھاگے گا۔ جیسے مثلاً زلزلہ اچانک آتا ہے۔ چونکہ لوگوں کو احساس نہیںہوتا کہ کوئی خطرہ پیش آنے والا ہے، اس لیے لوگ اطمینان سے بیٹھے رہتے ہیں۔ اگر ایک منٹ پہلے بھی انہیں یہ معلوم ہوجائے کہ زلزلہ آنے والاہے اور ہمارے مکان کو گرجانے کا خطرہ ہے، تو بے خبری ہی کی وجہ سے آدمی خطرے میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر خطرے کا احساس ہوجائے، یہ معلوم ہوجائے کہ مثلاً شیر آرہا ہے، یہ معلوم ہوجائے کہ مکان گرنے والا ہے، یہ معلوم ہوجائے کہ آگ لگنے والی ہے تو آدمی فوراً ہوشیار ہوجاتا ہے۔ وہ پناہ لینے کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح سے اگر آدمی کو یہ اطمینان نہ ہو کہ فلاں جگہ مجھے تحفظ حاصل ہوگا تو اطمینان کے ساتھ اس جگہ کی طرف رخ نہیں کرتا۔ اگر ایک آدمی مثلاً خطرہ محسوس کرتا ہے لیکن اسے جائے پناہ نہیں معلوم ۔ آپ دیکھیں گے کہ گھبرایا پھرے گا۔ گھبرایاگھبرایا چاروں طرف پھرے گا۔ چونکہ اس کو یہ اطمینان نہیں ہے کہ فلاں جگہ ہے جہاں مجھے پناہ مل سکتی ہے۔ اطمینان کے ساتھ کسی ایک ہی طرف رخ اسی صورت میں کیا کرتا ہے جب کہ اسے پورا یقین ہو کہ فلاں جگہ ہے جہاں مجھے پناہ مل سکتی ہے۔ اب دیکھئے قرآن مجید پڑھنے سے پہلے یہ ہدایت فرمائی گئی کہ جب تم قرآن پڑھو تو اللہ کی پناہ مانگو، شیطان رجیم سے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو یہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ شیطان رجیم سے خطرہ عظیم ہے انسان کو ۔ کیوں؟ اس وجہ سے کہ اول روز پیدائش سے جب کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا تھا اسی وقت سے وہ بھی خار کھائے بیٹھا ہے کہ جس خلافت کے منصب پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو مامور کیا ہے اس خلافت کے منصب کا میںاس کو نااہل ثابت کروں گا۔ میں یہ ثابت کروں گا کہ یہ اس قابل نہیں تھا کہ اس کو خلافت سونپی جاتی ۔ میں یہ ثابت کروں گا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا اور فساد برپا کرے گا اور خرابیاں لائے گا جو خلافت کے منصب کے لیے موزوں نہیں۔
یہ قرآن مجید اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ تمہارا ازلی دشمن شیطان ہے، جو اس بات کے پیچھے پڑا ہوا ہے کہ تم کو اللہ کے راستے سے بھٹکائے، تمہارے دلوں میں وسوسے ڈالے، تم کو دنیا پر فریفتہ کرے، آخرت کو بھلائے حتیٰ کہ خود اللہ تعالیٰ کے وجودکے سلسلے میں بھی تمہارے دلوں میں شک ڈالے۔ ہر ممکن طریقے سے وہ تم کو بہکانے پر تلا ہوا ہے۔ اب جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا ہے کہ زلزلہ مثلاً اچانک آتا ہے، آدمی کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں زمین کے اندر وہ مواد پک رہا ہے جو زلزلہ لائے گا۔ تو بے خبر آدی خطرے میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ اگر اس کو خبردارکر دیا جائے کہ زلزلہ آنے والا ہے۔ اور آدمی یہ محسوس کرے کہ یہ میرے لیے خطرناک ہے تو اس صورت میں آدمی پناہ لینے کی کوشش کرے گا۔
قرآن مجید یہ کام کرتا ہے کہ وہ خبردار کردیتا ہے آدمی کو کہ تمہارے لیے شیطان ایک خطرہ ہے جو اس بات پر تلا ہوا ہے کہ تم قرآن مجید کو نہ سمجھو اور کوشش کرتا ہے کہ تم الٹا سمجھو، کوشش کرتا ہے تمہارے دلو ںمیں شکوک ڈالنے کی۔ کوشش کرتا ہے تمہیں راہ ہدایت سے بھٹکانے کی۔ یہ آخری چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدمی کی ہدایت کے لیے نازل کی ہے۔ لیکن شیطان کی کوشش یہ ہے کہ یہیں سے آدمی ہدایت نہ پائے اور اگر یہاں سے اس نے ہدایت نہ پائی تو پھر دنیا میں اور کہیں سے ہدایت وہ پا نہیں سکتا۔ اس وجہ سے چونکہ یہی ایک منبع ہدایت ہے، یہی سرچشمہ ہے راہنمائی کا۔ اور شیطان اس پر تلا ہو ا ہے کہ تم یہاں سے ہدایت نہ پانے پائو۔ اس وجہ سے تم کو اس خطرے کو محسوس کرنا چاہیے۔ جب تم قرآن پڑھنے بیٹھو تو اس خطرے کو محسوس کرو کہ شیطان پیچھے ہے۔ دیکھیے قرآن مجید میں بکثرت وہ باتیں کی گئی ہیں کہ جو بہت سے خود ساختہ انسانی نظریات کے خلاف پڑتی ہیں۔ بہت سی وہ باتیں کی گئی ہیں جو انسان کی خواہشات نفس کے خلاف پڑتی ہیں۔ بہت سی وہ باتیں بیان کی گئی ہیں جو انسان میں جو مختلف قسم کے اوہام اور رسوم و آداب رائج ہیں ان کے خلاف پڑتی ہیں۔ پھر بہت سی وہ چیزیں ہیں جو متشابہات کے (قبیل سے ہیں)، جن میں اس بات کا امکان ہے کہ اگر آدمی غلط معنی لے بیٹھے تو بالکل کفر میں مبتلا ہوجائے۔ مثلاً قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا ذکر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کا ذکر کرتا ہے۔ اس طرح کی بہت سی چیزیں ہیں کہ جو قرآن مجید میں بیان کی گئی ہیں۔ اگر آدمی اس کے غلط معنی لے بیٹھے، تو کفر میں مبتلا ہوجائے ۔ میں اس سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔ بلکہ فی الواقع آپ کے اندر احساس ہونا چاہیے کہ شیطان رجیم ایک خطرہ ہے اور دوسری یہ کہ اللہ کی پناہ جب مانگنے جائیں تو اپنی طرف سے وہ کام نہ کریں کہ جس کی وجہ سے آپ اللہ کی پناہ سے محروم ہوجائیں ۔ کیوں؟ مثلاً آدمی زبان سے یہ کہہ رہا ہے کہ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ لیکن اپنے وہ تصورات جو اس کے دماغ میں بیٹھے ہوئے ہیں وہ ان کو نہیں نکالتا، اپنے جو نظریات قائم کیے ہیں ان کے اوپر جما ہوا ہے۔ کوشش یہ کررہا ہے کہ قرآن اس کے مطابق ہی ملے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کو نہ خطرہ لاحق ہے، نہ خطرے کا احساس ہوا ہے، نہ وہ اللہ کی پناہ فی الواقع مانگ رہا ہے۔ اللہ کی پناہ مانگنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے ذہن کو دوسرے تصورات سے خالی کر لے اور اس ارادے سے بیٹھے کہ یہاں سے ہدایت پانی ہے، اس کے بعد اللہ کی پناہ آپ کو ملے گی۔ اور جس وقت آپ کے دل میں کوئی احساس پیدا ہوا، آپ محسوس کرجائیں اس بات کو کہ کوئی وسوسہ آرہا ہے، کوئی شک آرہا ہے، تو پھر کانپ جائیے اور اللہ سے پناہ مانگئے ۔ تب جاکر یہ نسخہ کارگر ہوسکتا ہے۔ یہ حقیقت میں کوئی تعویذ نہیں ہے، یا عملیات کی قسم کی کوئی چیز نہیں ہے کہ زبان سے نکالتے ہی پھر وہ حصار ہوگیا آپ کے گرد۔ اور اب شیطان نہیں آسکتا۔ یہ نہیں ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہم کو یہ ہدایت کی ہے کہ میری کتاب کو پڑھتے ہوئے چوکنے رہو۔ بالکل ہوشیار رہو۔ (کیسٹ نمبر ۱، سورۃ فاتحہ کے ضمن میں تعوذ پر گفتگو)

سورۂ فاتحہ

۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَoلا
’’ تعریف خدا کے لیے ہے، جو سارے جہان والوں کا پروردگار ہے۔‘‘
۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِoلا
’’نہایت رحمت والا بڑا مہربان ہے۔‘‘
۔ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ oط
’’روز آخرت کا مالک ہے۔‘‘  (جس میں اعمال کا فیصلہ کیا جائے گا اور ہر ایک کو اس کے کیے کا پھل ملے گا)۔
۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُoط
’’مالک! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔‘‘
۔ اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَoلا
’’ ہم کو سیدھا راستہ دکھا۔‘‘
۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْoلا
’’ ایسے لوگوں کا راستہ، جن پر تونے فضل کیا اور انعام فرمایا۔‘‘
۔ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَاَالضَّآلِّیْنَoع
’’ جن پر تیرا غضب نازل نہیں ہوا اور جو بھٹکے ہوئے لوگ نہیں ہیں۔‘‘
۔ آمِیْن
’’خدایا ایسا ہی ہو، مالک ہماری اس دعا کو قبول فرما۔‘‘                (خطبات،باب سوم :نماز میں ۔۔۔)

الحمد للہ کے ترجمہ پر اعتراض اور اس کا جواب

سوال: تفہیم القرآن میں آپ نے الحمد للہ کا ترجمہ ’’تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ کیا ہے۔حالانکہ مترجمین سلف وخلف نے اس کا ترجمہ ’’ تمام خوبیاں اللہ کے لیے‘‘، ’’ سب تعریف اللہ کے لیے ‘‘ کیا ہے۔ تفہیم القرآن کا ترجمہ کچھ نامکمل ، یا ناتمام سا محسوس ہوتا ہے۔
جواب: اردو زبان میں ’’اللہ کے لیے تعریف ہے‘‘ اور ’’تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ کے درمیان معنی کے اعتبار سے بہت بڑا فرق ہے۔ اللہ کے لیے تعریف ہے، کے معنی صرف یہ ہوں گے کہ جس طرح دوسروں کے لیے تعریف ہوسکتی ہے اسی طرح اللہ کے لیے بھی ہے۔ لیکن جب ’’تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ کہا جائے گا تو مطلب یہ ہوگا کہ تعریف جس چیز کا نام ہے وہ اپنے تمام مفہومات کے ساتھ اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے، کسی دوسرے کو یہ تعریف نہیں پہنچتی ۔ میں نے اس ترجمے میں بعینہ اس مضمون کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے جو الحمد للہ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس انداز بیان کو اختیار کرنے سے وہ معنی زیادہ اچھی طرح ادا ہوجاتے ہیں۔ جو دوسرے مترجمین نے ’’تمام خوبیاں اللہ کے لیے ہیں‘‘ ، یا ’’ساری خوبیاں اللہ کے لیے ہیں‘‘ یا ’’سب تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ ، اور ایسے ہی دوسرے الفاظ سے ادا کرنا چاہتے ہیں۔
(رسائل ومسائل پنجم، تفسیر آیات ۔۔۔:تفہیم القرآن میں۔۔۔)

رکوع

اس کے بعد تم اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع کرتے ہو، گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اپنے مالک کے آگے جھکتے ہو اور بار بار کہتے ہو:
۔ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ
’’پاک ہے میرا پروردگار، جو بڑا بزرگ ہے۔‘‘

قومہ

پھر سیدھے کھڑے ہوجاتے ہو اور کہتے ہو:
۔ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ
’’ اللہ نے سن لی اس شخص کی بات جس نے اس کی تعریف بیان کی۔‘‘

سجدہ

پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں گرجاتے ہو اور بار بار کہتے ہو:
۔ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی
’’ پاک ہے میرا پروردگار جو سب سے بالا و برتر ہے۔‘‘

تشہد

پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سر اٹھاتے ہو اور نہایت ادب سے بیٹھ کر یہ پڑھتے ہو:
۔ اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ ۱؎
’’ہماری سلامیاں، ہماری نمازیں اور ساری پاکیزہ باتیں اللہ کے لیے ہیں۔ سلام آپ پر اے نبیؐ اور اللہ کی رحمت اور برکتیں، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے سب نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘

تشہد میں انگشت شہادت اٹھانا:

یہ شہادت دیتے وقت تم شہادت کی انگلی اٹھاتے ہو، کیونکہ یہ نماز میں تمہارے عقیدے کا اعلان ہے اور اس کو زبان سے ادا کرتے وقت خاص طور پر توجہ اور زور دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد تم درود پڑھتے ہو۔

درود

اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَعَلیٰ اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ، اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلیٰ اٰلِ ابِرَاہِیْمَ، اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔( مکمل تخریج ،درود و سلام کی فصل میں ملاحظہ ہو ۔ (مرتب))
’’خدایا رحمت فرما ہمارے سردار اور مولیٰ محمدؐ اور ان کی آل پر، جس طرح تو نے رحمت فرمائی ابراہیم ؑ اور آل ابراہیم ؑ پر۔ یقینا تو بہترین صفات والا اور بزرگ ہے۔ اور خدا یا برکت نازل فرما ہمارے سردار اور مولیٰ محمدؐ اور ان کی آل پر، جس طرح تونے برکت نازل فرمائی ابراہیم ؑ اور آل ابراہیم ؑ پر۔ یقینا تو بہترین صفات والا اور بزرگ ہے۔
(خطبات،باب سوم: نماز میں ۔۔۔)

رکوع اور سجدہ کی دعا کا ماخذ

۱۸۔حضرت عقبہؓ بن عامرجہنی سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ پڑھنے کا حکم (سورۃ الاعلیٰ کی آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی) کی بنا پر دیا تھا، اور رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم پڑھنے کا جو طریقہ حضور ؐ نے مقرر فرمایا تھا، وہ سورۂ واقعہ کی آخری آیت فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ پر مبنی تھا۔( تفہیم القرآن ، ج ۶ ، الاعلیٰ ،حاشیہ ۱، ص :۳۱۰۔)
(مسند احمد، ابودائود، ابن ماجہ، ابن حبان، حاکم، ابن المنذر)
تخریج :(۱) حَدَّثَنَا الرَّبِیْعُ بْنُ نَافِعٍ اَبُوْ تَوْبَۃَ وَمُوْسٰی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ المعنی قَالَا: ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ، عَنْ مُوْسٰی، قَالَ اَبُوْ سَلَمَۃَ: مُوْسٰی ابْنُ اَیُّوْبَ، عَنْ عَمِّہِ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ’’فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ‘‘ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اجْعَلُوْ ہَا فِیْ رُکُوْعِکُمْ، فَلَمَّا نَزَلَتْ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ ، قَالَ: اجْعَلُوْہَا فِیْ سُجُوْدِ کُمْ۔(۷)
ترجمہ:حضرت عقبہ بن عامر سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ جب آیت فَسَبِّحْ بِا سْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ (الواقعۃ:۷۴) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اسے اپنے رکوع میں پڑھا کرو اور جب آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی (الاعلٰی:۱) نازل ہوئی تو فرمایا اسے اپنے سجود میں پڑھا کرو۔‘‘
عقبہ بن عامر سے مروی ایک دوسری روایت:
(۲) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ،ثَنَا اللَّیْثُ ـــــ یعنی ابْنُ سَعْدٍ ـــــ عَنْ اَیُّوْبَ بْنِ مُوْسٰی اَوْمُوْسَی بْنِ اَیُّوْبَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِہِ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، بِمَعنَاہُ زَادَقَالَ: فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا رَکَعَ قَالَ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہِ ثَلَاثًا، وَاِذَا سَجَدَ قَالَ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی وَبِحَمْدِہِ ثَلَاثًا۔(۸)
ترجمہ: حضرت عقبہ بن عامر سے مروی ہے، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع فرماتے تو سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہتین بارپڑھتے اور جب سجدہ کرتے تو سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ وَبِحَمْدِہٖتین بار کہتے۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاؤدَ: وَہٰذِہٖ الزِّیَادَۃُ نَخَافُ اَنْ لَّا تَکُوْنَ مَحْفُوْظَۃٌ۔ قَالَ اَبُوْدَاوٗدَ: اِنْفَرَدَ اَہْلُ مِصْرَ بِاِسْنَادِ ہٰذَیْنِ الْحَدِیْثَیْنِ: حَدِیْثُ الرَّبِیْعِ، وَحَدِیْثُ اَحْمَدَ بْنِ یُوْنُسَ۔
حضرت حذیفہؓ سے مروی روایت:
(۳) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ: قُلْتُ لِسُلَیْمَانَ اَدْعُوْ فِی الصَّلوٰۃِ اِذَا مَرَرْتُ بِآیَۃِ تَخَوُّفٍ؟ فَحَدَّثَنِیْ عَنْ سَعْدِبْنِ عُبَیْدَۃَ عَنْ مُسْتَوْرِدٍ، عَنْ صِلَۃَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَیْفَۃَ اَنَّہُ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فَکَانَ یَقُوْلُ فِیْ رُکُوْعِہٖ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ، وَفِیْ سُجُوْدِہِ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی، وَمَا مَرَّ بِاٰیَۃِ رَحْمَۃٍ اِلَّا وَقَفَ عِنْدَہَا، فَسَاَلَ، وَلَابِاٰیَۃِ عَذَابٍ اِلَّا وَقَفَ عِنْدَہَا، فَتَعَوَّذَ۔(۹)
ترجمہ: حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ۔ آپ رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ، کہتے تھے اور سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی، جب آیت رحمت پر گزر ہوتا تو وہاں ذرا ٹھہر کر اللہ تعالیٰ سے رحمت کا سوال کرتے اور جب ایسی آیت پر گزر ہوتا جس میں عذاب الٰہی کا ذکر ہوتا تو وہاں بھی قدرے توقف کرکے اس سے اللہ کی پناہ مانگتے۔
عبداللہ ؓ بن مسعود سے مروی روایت:
(۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ، نَا عِیْسَی بْنُ یُوْنُسَ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ ذِئْبٍ، عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ یَزِیْدَ الْہُذَلِیِّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: اِذَا رَکَعَ اَحَدُ کُمْ فَقَالَ فِیْ رُکُوْعِہِ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ رُکُوْعُہُ وَ ذٰلِکَ اَدْنَاہُ، وَاِذَا سَجَدَ فَقَالَ فِیْ سُجُوْدِہِ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی: ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ سُجُوْدُہُ وَذٰلِکَ اَدْنَاہُ۔(۱۰)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تم میں سے جب کوئی رکوع کرے تو وہ اپنے رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ تین بار کہے۔ جب اس نے ایسا کرلیا تو اس کا رکوع پورا ہوگیا اور یہ کم سے کم ہے۔ اور جب سجدہ کرے تو اسے اپنے سجدہ میں تین بار سُبْحَانَ رَبِیَّ الْاَعْلٰیکہنا چاہیے جب اس نے ایسا کرلیا تو اس نے سجدہ پورا کرلیا اور یہ کم سے کم ہے (یا اس کا سجدہ مکمل ہوگیا) ۔
قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: حَدِیْثُ ابْنِ مَسْعُوْدٍ لَیْسَ اِسْنَادُہٗ بِمُتَّصِلٍ، عَوْنُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ لَمْ یَلْقِ ابْنَ مَسْعُوْدٍ۔ وَالْعَمَلُ عَلیٰ ہٰذَا عِنْدَ اَہْلِ الْعِلْمِ۔
ابن ماجہ اور بیہقی میں ابن مسعود سے مروی روایت میں ہے:
(۵) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَارَکَعَ اَحَدُ کُمْ فَقَالَ فِیْ رُکُوْعِہِ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ۔(۱۱)

سجدہ باعث قرب الٰہی

۱۹۔صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ ’’بندہ سب سے زیادہ اپنے رب سے اس وقت قریب ہوتا ہے جب وہ سجدہ میں ہوتا ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۶، العلق ،حاشیہ :۱۶)
تخریج : حَدَّثَنَا ہَا رُوْنُ بْنُ مَعْرُوْفٍ وَعَمْرُ وبْنُ سَوَّادٍ، قَالَا: نَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ عَنْ عَمْرِ و ابْنِ الْحَارِثِ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ غَزِیَّۃَ، عَنْ سُمّیٍ مَوْلٰی اَبِیْ بَکْرٍ اَنَّہُ سَمِعَ اَبَا صَالِحٍ ذَکَوَانَ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَّبِّہِ وَہُوَ سَاجِدٌ فَاَکْثِرُ وْا الدُّعَآئَ۔ (۱۲)

دعابعد درود

۲۰۔ اللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَہنَّمَ، وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَاوَالْمَمَاتِ وَاعُوذُبِکَ مِنَ الْمَاْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔
’’خدا یا! میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں (اس گمراہ کرنے والے) دجال کے فتنے سے (جو زمین پر چھاجانے والا ہے)اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے۔ خدا یا میں تیری پناہ مانگتا ہوں برے اعمال کی ذمہ داری اور قرض داری سے۔‘‘
تخریج : اَخْبَرَنَا اَبُوْ الْیَمَانِ ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبِیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، اَخْبَرَتْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَدْعُوْ فی الصَّلوٰۃِ۔ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَاوَفِتْنَۃِ الْمَمَاتِ، اللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْمَاْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔(۱۳)

سلام

یہ دعا پڑھنے کے بعد تمہاری نماز پوری ہوگئی۔ اب تم مالک کے دربار سے واپس ہوتے ہو اور واپس ہو کر پہلا کام کیا کرتے ہو؟ یہ کہ دائیں اور بائیں مڑکر تمام حاضرین اور دنیا کی ہر چیز کے لیے سلامتی اور رحمت کی دعا کرتے ہو:
۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔
گویا یہ بشارت ہے جو خدا کے دربار سے پلٹتے ہوئے تم دنیا کے لیے لائے ہو۔
یہ ہے وہ نماز جو تم صبح اٹھ کر دنیا کے کام کاج شروع کرنے سے پہلے پڑھتے ہو۔ پھر چند گھنٹے کام کاج میں مشغول رہنے کے بعد دوپہر کو خدا کے دربار میں حاضر ہو کر دوبارہ یہی نماز ادا کرتے ہو۔ پھر چند گھنٹوں کے بعد تیسرے پہر کو یہی نماز پڑھتے ہو۔ پھر چند گھنٹے مشغول رہنے کے بعد شام کو اسی نماز کا اعادہ کرتے ہو۔ پھر دنیا کے کاموں سے فارغ ہو کر سونے سے پہلے آخری مرتبہ اپنے مالک کے سامنے جاتے ہو۔ اس آخری نماز کا خاتمہ و تر پر ہوتا ہے، جس کی تیسری رکعت میں تم ایک عظیم الشان اقرار نامہ اپنے مالک کے سامنے پیش کرتے ہو۔ یہ دعائے قنوت ہے۔
قنوت کے معنی ہیں خدا کے آگے ذلت و انکساری ، اطاعت اور بندگی کا اقرار ۔ یہ اقرار تم کن الفاظ میں کرتے ہو۔ ذرا غور سے سنو۔

دعائے قنوت

۲۱۔ اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَھْدِیَکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنُوْمِنُ بِکَ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرَ کُلَّہُ، نَشْکُرُکَ وَلَا نَکْفُرُکَ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ، اَللّٰہُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُ وَاِلَیْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْ رَحْمَتَکَ وَنَخْشیٰ عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ۔
’’خدا یا! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں، تجھ سے ہدایت طلب کرتے ہیں، تجھ سے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں، تجھ پر ایمان لاتے ہیں، تیرے ہی اوپر بھروسہ رکھتے ہیں، اور ساری تعریف تیرے ہی لیے خاص کرتے ہیں۔ ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں، ناشکری نہیں کرتے۔ ہم ہر اس شخص کو چھوڑ دیں گے اور اس سے تعلق کاٹ دیں گے، جو تیرا نافرمان ہو۔ خدا یا! ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تیرے ہی لیے نماز اور سجدہ کرتے ہیں اور ہماری ساری کوشش اور ساری دوڑ دھوپ تیری ہی خوشنودی کے لیے ہے۔ ہم تیری رحمت کے امید وار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ یقینا تیرا سخت عذاب ایسے لوگوں پر پڑے گا جو کافر ہیں۔‘‘
(خطبات ، باب سوم: نماز میں ۔۔۔)
تخریج:(۱) وَکَانَ ﷺ یَقُوْلُ فِیْ خُطْبَتِہِ وَیُعَلِّمُ اَصْحَابَہُ اَنْ یَّقُوْلُوْا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَسْتَعِیْنُہُ وَنَسْتَہْدِیَہُ وَمِنْ دُعَآئِ الْقُنُوْتِ الَّذِیْ کَانَ یَدْعُوْبِہٖ عُمَرُ وَغَیْرُہُ اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَہْدِیَکَ۔(۱۴)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ اپنے خطبہ میں اکثر فرمایا کرتے تھے اور اپنے صحابہؓ کو سکھایا کرتے تھے کہ وہ یہ دعا پڑھا کریں: سب تعریف اللہ کے لیے ہے۔ ہم اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اور اسی سے طلب ہدایت کے خواستگار ہیں۔ حضرت عمرؓ جو دعائے قنوت پڑھتے تھے وہ بھی اسی طرح شروع ہوتی ہے۔ خدایا! ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے ہی ہدایت طلب کرتے ہیں۔‘‘
(۲)اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْحَافِظُ ثَنَا اَبُوْا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوْبَ، ثَنَابَحْرُ بْنُ نَصْرِالْخَوْلَانِّیُ، قَالَ: قُرِیَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ: اَخْبَرَکَ مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْقَاہِرِ، عَنْ خالِدِ بْنِ اَبِیْ عِمْرَانَ، قَالَ: بَیْنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَدْعُوْ عَلیٰ مُضَرَ اِذجَآئَ ہُ جِبْرَئِیْلُ فَاَوْمَاَاِلَیْہِ اَنْ اَسْکُتَ فَسَکَتَ، فَقَالَ: یَامُحَمَّدُ! اِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَبْعَثْکَ سَبَّابًا وَلَا لَعَّانًا وَاِنَّمَا بَعَثَکَ رَحْمَۃً وَلَمْ یَبْعَثْکَ عَذَابًا ’’لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْٔاَوْ یَتُوْبَ عَلَیْہِمْ اَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَاِنَّہُمْ ظَالِمُوْنَ(آل عمران:۱۲۸)        ثُمَّ عَلَّمَہُ ہٰذَا الْقُنُوْتَ۔
اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنُوْمِنُ بِکَ وَنَخْضَعُ لَکَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَکْفُرُکَ، اَللّٰہُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُ وَاِلَیْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْ رَحْمَتَکَ وَنَخْشیٰ عَذَابَکَ وَنَخَافُ عَذَابَکَ الْجِدَّ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکَافِرِیْنَ مُلْحِقٌ۔(۱۵)
ترجمہ: حضرت خالد بن عمران سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک موقعہ پر قبیلہ مضر کے حق میں بددعا کررہے تھے کہ جبرئیل تشریف لے آئے ، جبرئیل نے آپ کو اشارہ کیا کہ خاموش ہوجائیں۔ چنانچہ آپؐ خاموش ہوگئے، تو جبرئیل نے کہا اے محمدؐ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو گالی گلوچ دینے والا، لعن طعن کرنے والا بنا کر تو نہیں بھیجا، بلکہ اس نے تو آپ کو رحمت بناکر بھیجا ہے اور اس نے آپؐ کو عذاب بناکر بھی نہیں بھیجا۔ فیصلوں کے اختیارات میں آپ کا کوئی حصہ نہیں، اللہ کو اختیار ہے چاہے اللہ ان کی توبہ قبول کرے، چاہے انہیں عذاب دے۔ اس لیے کہ وہ ظالم ہیں۔ پھر انھوں نے حضوؐر کو یہ قنوت سکھائی۔
خدایا! ہم تجھ سے مدد طلب کرتے ہیں اور تجھ سے بخشش و مغفرت مانگتے ہیں اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تیرے حضور جھکتے ہیں۔ ہم ہر اس شخص کو چھوڑ دیں گے اور اس سے قطع تعلق کرلیں گے جو تیرا انکار کرے۔ خدایا! ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تیرے ہی لیے نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں۔ اور ہماری ساری کوشش اور ساری دوڑ دھوپ تیری ہی خوشنودی کے لیے ہے۔ اور ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ یقینا تیرا عذاب ایسے لوگوں پر پڑے گا جو کافر ہیں۔
ــــــ ہٰذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ صَحِیْحاً مَوْصُوْلًا۔
حضرت عمرؓ سے منقول دعائے قنوت:
(۳) اِنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَنَتَ بَعْدَ الرُّکُوْعِ فَقَالَ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلِلْمُوْمِنِیْنَ وَالْمُوْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَاَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِہِمْ وَانْصُرْہُمْ عَلیٰ عَدُوِّکَ وَعَدُوِّہِمْ اَللّٰہُمَّ الْعَنْ کَفَرَۃَ اَہْلِ الْکِتَابِ اَلَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِکَ وَیُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ وَیُقَاتِلُوْنَ اَوْلِیَائَکَ اَللّٰہُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِہِمْ وَزَلْزِلْ اَقْدَامَہُمْ وَاَنْزِلْ بِہِمْ بَاْسَکَ الَّذِیْ لَا تَرُدُّہُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ۔
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ  وَنَسْتَغْفِرُکَ  وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ وَلَا نَکْفُرُکَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَللّٰہُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُ وَلَکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ وَنَخْشیٰ عَذَابَکَ الْجِدَّ نَرْجُوْ رَحْمَتَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکَافِرِیْنَ مُلْحِقٌ۔
(رواہ سعید بن عبدالرحمن بن ابزیٰ عن ابیہ عن عمر فخالف ہذافی بعضہ)
ترجمہ:حضرت عمرؓ رکوع کے بعد دعائے قنوت میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے ۔ خدایا! ہمیں بخش دے۔ مومن مردوں اور عورتوں کو، مسلمان مردوں اور عورتوں سب کو بخش دے۔ اور ان کے دلوں میں الفت و محبت پیوست کردے اور ان کی اصلاح احوال فرمادے۔ اپنے اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد و نصرت فرما، خدایا ! اہل کتاب کے ان کافروں پر لعنت برسا جو تیرے راستہ سے رکتے اور روکتے ہیں، تیرے رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں اور تیرے نیک بندوں (اولیاء) کو قتل کرتے ہیں۔ خدایا !ان کے قول (کلمہ) میں مخالفت پیدا کردے۔ ان کے قدم اکھاڑدے اور ان پر ایسا عذاب نازل فرما جو مجرم قوم سے ٹلا نہیں کرتا۔
آغاز اللہ رحمن و رحیم کے نام سے: خدایا! ہم تجھ سے مدد طلب کرتے ہیں اور تجھ سے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں اور تیری ہم تعریف کرتے ہیں اور تیری ناشکری نہیں کرتے اور ہم ہر اس شخص کو چھوڑ دیں گے اور اس سے تعلق کاٹ لیں گے جو تیرا نافرمان ہوگا۔ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہر بان نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ خدایا! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے ہی لیے نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں۔ اور ہماری ساری کوششیں اور دوڑ دھوپ تیری ہی خوشنودی کے لیے ہے اور تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں اور تیری رحمت کے امیدوار رہتے ہیں۔ یقینا تیرا عذاب ایسے لوگوں پر پڑے گا جو کافر ہیں۔
(۴) اَخْبَرَنَا اَبُوْعَبْدِاللّٰہِ الْحَافِظُ، ثَنَا اَبُوْالْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوْبَ اَنْبَاَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیْدِ اَخْبَرَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا الْاَوْزَاعِیُّ، حَدَّثَنِیْ عَبْدَۃُ بْنُ اَبِیْ لُبَابَۃَ عَنْ سَعِیْدِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبْزٰی، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ صَلوٰۃَ الصُّبْحِ فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ بَعْدَ الْقِرَاَئَ ۃِ قَبْلَ الرُّکُوْعِ: الَلّٰہُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُ وَاِلَیْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ نَرْجُوْا رَحْمَتَکَ وَنَخْشٰی عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکَافِرِیْنَ مُلْحِقٌ اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرَ وَلَانَکْفُرُکَ وَنُوْمِنُ بِکَ وَنَخْضَعُ لَکَ وَنَخْلَعُ مَنْ یَّکْفُرُکَ۔ (۱۶)
ترجمہ:  عبدالرحمن بن ابزیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب کی اقتداء میں نماز فجر ادا کی۔ میں نے سنا کہ حضرت عمرؓ قراء ت کے بعد اور رکوع جانے سے پہلے یہ کہہ رہے تھے:
’’اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے ہی لیے نمازپڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں اور ہماری ساری کوشش اور دوڑ دھوپ تیری خوشنودی کے لیے ہے ۔ تیری رحمت کے امید وار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں بلاشبہ تیرا عذاب ایسے لوگوں پر پڑے گا جو کافر ہیں۔ خدایا! ہم تجھ سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے تمام گناہوں کی تجھ سے معافی مانگتے ہیں اور ساری تعریف تیرے ہی لیے خاص کرتے ہیں اور تیری ناشکری نہیں کرتے اور تجھ پر ایمان لاتے اور تیرے حضور جھکتے ہیں اور ہر اس شخص سے قطع تعلق کرتے ہیں جو تیرا نافرمان ہو۔‘‘
ـــــــکَذَاقَالَ قَبْلَ الرُّکُوْعِ وَہُوَ وَاِنْ کَانَ اِسْنَاداً صَحِیْحاً فَمَنْ رَوَی عَنْ عُمَرَ قُنُوْتَہٗ بَعْدَ الرُّکُوْعِ اَکْثَرُ، فَقَدْ رَوَاہُ اَبُوْرَافِعٍ، وَعُبَیْدُ بْنُ عُمَیْرٍ، وَاَبُوْ عُثْمَانَ النَّہْدِیٌّ، وَزَیْدُ بْنُ وَہَبٍ، وَالْعَدَدُ اَوْلیٰ بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ وَفِیْ حُسْنِ سِیَاقِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ لِلْحَدِیْثِ دَلاَلَۃٌ عَلیٰ حِفْظِہٖ وَحِفْظِ مَنْ حَفِظَ عَنْہٗ، وَرَوَیْنَا عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّہٗ قَنَتَ فِی الْفَجْرِ فَقَالَ: اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ، وَرَوَیْنَا عَنْ اَبِیْ عَمْرِو بْنِ الْعَلَائِ اَنَّہٗ کَانَ یَقْرَئُ فِیْ دُعَائِ الْقُنُوْتِ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ یَعْنِیْ بِخَفْضِ الْحَائِ۔

سورج کا عرش الٰہی کے نیچے سجدہ کرنے سے کیا مراد ہے؟ـــــــایک ضمنی بحث

۲۲۔’’نبی ﷺ نے فرمایا، جانتے ہو سورج غروب ہو کر جاتا کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا، اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا وہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اور اجازت مانگتا ہے (یعنی پھر مشرق سے طلوع ہونے کی) اور اسے اجازت دے دی جاتی ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ وہ سجدہ کرے گا اور اجازت مانگے گا، مگر اجازت نہ ملے گی اور حکم ہوگا کہ پلٹ جا اور وہ مغرب سے طلوع ہوگا۔ پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی: وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَاطذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ oط(یٰس:۳۸) (بخاری)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ یُوْسُفَ ، ثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ التَّیْمِیِّ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ لِاَبِیْ ذَرٍّ حِیْنَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ تَدْرِیْ اَیْنَ تَذْہَبُ؟ قُلْتُ : اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ قَالَ: فَاِنَّہَا تَذْہَبُ حَتّٰی تَسْجُدَتَحْتَ الْعَرْشِ فَتَسْتَاْذِنُ فَیُوْذَنُ لَہَا وَیُوْشِکُ اَنْ تَسْجُدَ فَلَایُقْبَلُ مِنْہَا وَتَسْتَاْذِنُ فُلَا یُوْذَنُ لَہَا یُقَالُ لَہَا اِرْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَّغْرِبِہَا فَذٰلِکَ قُوْلُہُ تَعَالٰی وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍ لَّہَاطذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ۔oط (یس:۳۸) (۱۷)
ترجمہ: حضرت ابوذرؓ خود بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان سے اس وقت پوچھا جب سورج غروب ہوچکا تھا کہ ’’جانتے ہو یہ کہاں چلاگیا؟‘‘ ابوذر کہتے ہیں میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسولؐ ہی بہتر جانتے ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا :وہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اور پھر( مشرق سے طلوع ہونے کی) اجازت مانگتا ہے اور اسے اجازت دے دی جاتی ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ وہ سجدہ کرے گا اور اجازت مانگے گا، مگر اجازت نہ ملے گی اور حکم ہوگا کہ پلٹ جا تو وہ مغرب سے طلوع ہوگا، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی، وَالشَّمْسُ تَجْرِی الآیۃ۔
مسند احمد نے الفاظ قدرے مختلف نقل کیے ہیں:
(۲)قَالَ یَااَبَاذَرٍّ اَیْنَ تَذْہَبُ الشَّمْسُ؟ قُلْتُ: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ قَالَ: فَاِنَّہَا تَذْہَبُ حَتّٰی تَسْجُدَ بَیْنَ یَدَیْ رَبِّہَا عَزَّوَجَلَّ ثُمَّ تَسْتَاْذِنُ فَیُوْذَنُ لَہَا وَکَاَنَّہَا قَدْقِیْلَ لَہَا اِرْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَّکَانِہَا وَذٰلِکَ مُسْتَقَرٌّ لَّہَا قَالَ مُحَمَّدٌ ثُمَّ قَرَأَ وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍ لَّہَا ۔(۱۸)
ترجمہ: حضورؐ نے فرمایا اے ابوذر! سورج غروب ہو کر کہاں چلا جاتا ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسولؐ زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا وہ جاتا ہے یہاں تک کہ اپنے پروردگار کے سامنے سجدہ کرتا ہے۔ پھر اجازت طلب کرتا ہے اسے اجازت دے دی جاتی ہے، گویا اسے یوں کہا جاتا ہے کہ واپس پلٹ جا جہاں سے آیا ہے۔ تو وہ اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے اور یہی اس کا مستقر ہے۔
ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِکے ضمن میں ابوذر ؓسے ایک اور روایت ملاحظہ ہو:
(۳)عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، قَالَ: کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فِی الْمَسْجِدِ عِنْدَ غُرُوْبِ الشَّمْسِ فَقَالَ: یَا اَبَا ذَرٍّ اَتَدْرِیْ اَیْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ ؟ قُلْتُ: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ قَالَ: فَاِنَّہَا تَذْہَبُ حَتّٰی تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَذٰلِکَ قُوْلُہْ تَعْالیٰ وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّہَا ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ۔
ترجمہ: حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں غروب شمس کے وقت نبی ﷺ کے ساتھ مسجد میں تھا۔ آپؐ نے فرمایا ’’ابوذر جانتے ہو یہ غروب ہو کر کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسولؐ زیادہ جانتے ہیں۔‘‘ فرمایا ’’ وہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے یہ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق ہے وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّہَا۔۔۔ الخ۔
مسلم نے ابوذر سے اس روایت کے الفاظ ، درج ذیل نقل کیے ہیں:
(۴)عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ، یَوْمًا اَتَدْرُوْنَ اَیْنَ تَذْہَبُ ہٰذِہِ الشَّمْسُ؟ قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ ، قَالَ: اِنَّ ہٰذِہِ تَجْرِیْ حَتّٰی تَنْتَہِیَ اِلٰی مُسْتَقَرِّ ہَا تَحْتَ الْعَرْشِ۔ فَتَخِرُّ سَاجِدَۃً فَلَا تَزَالُ کَذٰلِکَ حَتّٰی یُقَالَ لَہَا: اِرْتَفِعِیْ، اِرْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جئْتِ۔ فَتَرْجِعُ۔ فَتُصْبِحُ طَالِعۃً مِنْ مَطْلَعِہَا۔ ثُمَّ تَجْرِیْ حَتّٰی تَنْتَہِیَ اِلیٰ مُسْتَقَرِّہَا تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَخِرُّسَاجِدَۃً وَلاَتَزَالُ کَذٰلِکَ حَتّٰی یُقَالَ لَہَا: اِرْتَفِعِیْ۔ اِرْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِئْتِ، فَتَرْ جِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَۃً مِنْ مَطْلَعِہَا ثُمَّ تَجْرِیْ لَا یَسْتَنْکِرُ النَّاسُ مِنْہَا شَیْئًا حَتّٰی تَنْتَہِیَ اِلٰی مُسْتَقَرِّہَا ذَاکَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَـیُقَالُ لَہَا اِرْتَفِعِیْ اِصْبِحِیْ طَالِعَۃً مِنْ مَّغْرِبِکِ فَتُصْبِحُ طَالِعَۃً مِنْ مَغْرِبِہَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَتَدْرُوْنَ مَتٰی ذَاکُمْ؟ ذَاکَ حِیْنَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِہَا خَیْرًا۔(۱۹)
ترجمہ: حضرت ابوذرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے دریافت کیا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ انہوں نے عرض کیا ’’اللہ اور اس کے رسولؐ ہی زیادہ جانتے ہیں۔‘‘ فرمایا ’’یہ سورج چلتا رہتا ہے تاآنکہ عرش کے نیچے اپنے مستقر تک پہنچ کر سجدہ میں گرپڑتا ہے۔ اسی حالت پر رہتا ہے کہ اسے حکم دیا جاتا ہے کہ اٹھو جہاں سے آئے تھے، وہیں جائو تو وہ واپس پلٹ آتا ہے، اور صبح اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے۔ پھر وہ چلتا رہتا ہے تا آنکہ عرش کے نیچے اپنے مستقر تک پہنچ کر سجدہ ریز ہوجاتا ہے ۔ پھر اسی حالت پر رہتا ہے کہ اسے حکم دیا جاتا ہے ’’اٹھو اور جہاں سے آئے تھے، وہیں لوٹ جائو۔‘‘ تو وہ واپس لوٹ آتا ہے اور صبح اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے۔ پھر چلتا ہے لوگ اس کی کسی چیز میں کمی محسوس نہیں کریں گے کہ یہ عرش کے نیچے اپنے ایک مستقر تک پہنچ جاتا ہے تو اسے حکم دیا جاتا ہے اٹھو اور صبح مغرب سے طلوع ہو تو وہ صبح مغرب سے طلوع ہو گا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم لوگ جانتے ہویہ کب ہوگا؟ (پھر خود ہی فرمایا) یہ اس وقت ہوگا جب کسی نفس کو اس کا ایمان لانا نفع بخش نہیں رہے گا جب کہ وہ اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو۔۔۔الخ۔
تشریح: اس میں دراصل جو مضمون بیان کیا گیا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ ’’سورج ہر آن اللہ تعالیٰ کے حکم کا تابع ہے، اس کا طلوع بھی اللہ ہی کے حکم سے ہوتا ہے اور اس کا غروب بھی‘‘ سورج کا سجدہ کرنا ظاہر ہے کہ اس معنی میں نہیں ہے جس میں ہم نماز میں سجدہ کرتے ہیں، بلکہ اس معنی میں ہے کہ جس میں قرآن دنیا کی ہر چیز کو خدا کے آگے سر بسجود قرار دیتا ہے، یعنی کلیتاً تابع امررب ہونا۔ پھر سورج کا مغرب بھی ایک نہیں ہے، بلکہ قرآن کی رو سے بہت سے مغرب ہیں۔ کیونکہ وہ ہر آن ایک خطہ زمین میں غروب اور ہر آن دوسرے خطے میں طلوع ہوتا ہے۔ اس لیے اجازت مانگ کر طلوع و غروب ہونے کا مطلب ہر آن امر الٰہی کے تحت ہونا ہے۔رہا اس کا کسی وقت مغرب سے طلوع ہونا، تویہ بھی کوئی بعید بات نہیں ہے۔ ہر وقت اس امر کاامکان ہے کہ دنیا کا قانون جذب و کشش یکایک ایک پلٹی کھاجائے اور سیاروں کی رفتار بالکل الٹ جائے۔ طبیعیات اور ہیئت کے ماہرین میں سے کوئی بھی اس قانون کو اٹل نہیں مانتا اور نہ اس میں تغیر واقع ہونے، یا ا س کے بالکل درہم برہم ہوجانے کو ناممکن سمجھتا ہے۔
رہا یہ امر کہ اس حدیث میں طلوع و غروب کو سورج کی گردش کا نتیجہ سمجھا گیا ہے، نہ کہ زمین کی گردش کا، تو اس پر اعتراض کرنے والے کو دو باتیں اچھی طرح جان لینی چاہئیں ، اول یہ کہ انبیاء علیہم السلام طبیعات اور ہیئت اور کیمیا کے مسائل بتانے نہیں آئے تھے، بلکہ عرفان حقیقت بخشنے اور فکر و عمل کی تصحیح کرنے کے لیے آئے تھے۔ ان کا کام یہ بتانا نہ تھا کہ زمین حرکت کرتی ہے یا سورج، بلکہ یہ بتانا تھا کہ ایک ہی خدا زمین اور سورج کا مالک و فرمانروا ہے اور ہر چیز ہر آن اس کی بندگی کررہی ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ بات حکمت تبلیغ کے بالکل خلاف ہے کہ مبلغ کے اپنے زمانے میں جو علم اشیاء موجود ہوں ان کو چھوڑ کر وہ ہزارہا سال بعد کے علم اشیاء کو تعلیم حقیقت کا ذریعہ بنائے۔ اسے جن حقائق کو ذہن نشین کرنا ہوتا ہے ان کی تفہیم کے لیے اس کو لامحالہ اپنے زمانے ہی کے مواد علمی سے کام لینا پڑتا ہے، ورنہ اگر وہ ان معلومات سے کام لے جو صدیوں بعد انسان کے علم میں آنے والی ہوں تو اس کے معاصرین اس کی اصل تعلیم کو چھوڑ کر اس بحث میں لگ جائیں کہ یہ شخص کس عالم کی باتیں کررہا ہے اور ان میں سے ایک شخص بھی اس کی تبلیغ سے متاثر ہوکر نہ دے۔ اب یہ آپ خود سوچ لیں کہ اگر کسی نبی کی تعلیم اس کے معاصرین ہی کی سمجھ میں نہ آتی اور اس کے عہد کے ہی لوگوں میں مقبول نہ ہوتی، تو وہ بعد کی نسلوں تک پہنچتی کیسے؟ اب سے ڈیڑھ ہزار برس پہلے اگر اوپر والی حدیث کا مضمون اس ڈھنگ سے بیان کیا جاتا کہ سننے والا طلوع و غروب کا سبب سورج کے بجائے زمین کی حرکت کو سمجھتا تو بے شک آج کے لوگ اسے علم کا ایک معجزہ قرار دیتے، مگر آپ کا کیا خیال ہے کہ خود اس زمانے کے لوگ اس معجزۂ علمی کا استقبال کس طرح کرتے ؟ اور پھر وہ اصل بات بھی کہاں تک ان کے دل و دماغ میں اترتی جو اس مضمون میں بیان کرنی مقصود تھی؟ اور جب کہ اس عہد کے لوگ ہی ایسے’’علمی معجزات ‘‘ کی بدولت ایمان لانے سے محروم رہ جاتے تو یہ معجزے آپ تک پہنچتے ہی کیا کہ آپ ان کی داد دیتے؟ ( رسائل و مسائل دوم: چند احادیث ۔۔۔)

نماز کے بعد ذکر

۲۳۔صحیحین میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ غریب مہاجرین نے حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہؐ مالدار لوگ تو بڑے درجے لوٹ لے گئے۔ حضورؐ نے فرمایا ’’کیاہوا؟ ‘‘ انہوں نے عرض کیا کہ وہ بھی نمازیں پڑھتے ہیں، جیسے ہم پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، مگر وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم نہیں کرسکتے، وہ غلام آزاد کرتے ہیں اور ہم نہیں کرسکتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’کیا میں تمہیں ایسی چیز بتائوں جسے اگر تم کرو تو تم دوسرے لوگوں سے بازی لے جائو گے بجز ان کے جو وہی عمل کریں جو تم کرو گے؟ وہ عمل یہ ہے کہ تم ہر نماز کے بعد ۳۳،۳۳ مرتبہ سبحان اللہ، الحمد للہ، اور اللہ اکبر کہا کرو۔ کچھ مدت کے بعد ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی یہ بات سن لی ہے اور وہ بھی یہی عمل کرنے لگے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُوْتِیْہِ مَنْ یَّشَائُ۔ ایک روایت میں ان کلمات کی تعداد ۳۳،۳۳ کے بجائے دس دس بھی منقول ہوئی ہے۔                            (تفہیم القرآن ،ج ۵،قٓ ،حاشیہ: ۵۱)
تخریج :(۱) حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّیِمِْیُّ، قَالَ: نَاالْمُعْتَمَرٌ وَقَالَ: نَا عُبَیْدُ اللّٰہِ ح وَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، حَدَّثَنَا: لَیْثٌ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، کِلَاہُمَا عَنْ سُمِّیٍّ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ وَہٰذَا حَدِیْثُ قُتَیْبَۃَ اَنَّ فُقَرَآئَ الْمُہَاجِرِیْنَ اَتَوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالُوْا: ذَہَبَ اَہْلُ الدُّثُوْرِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلیٰ وَالنَّعِیْمِ الْمُقِیْمِ، فَقَالَ: وَمَاذَاکَ؟ قَالُوْا: یُصَلُّوْنَ کَمَا نُصَلِّیْ وَیَصُوْمُوْنَ کَمَا نَصُوْمُ۔ وَیَتَصَدَّقُوْنَ وَلَانَتَصَدَّقُ وَیُعْتِقُوْنَ، وَلَا نُعْتِقُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَفَلَا اُعَلِّمُکُمْ شَیْئًا تُدْرِکُوْنَ بِہِ مَنْ سَبَقَکُمْ وَتَسْبِقُوْنَ بِہِ مَنْ بَعْدَ کُمْ؟ وَلَا یَکُوْنُ اَحَدٌ اَفْضَلَ مِنْکُمْ اِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ؟ قَالُوْا: بَلیٰ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، قَالَ: تُسَبِّحُوْنَ وَتُکَبِّرُوْنَ وَتَحْمَدُوْنَ دُبُرَ کُلِّ صَلَاۃٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِیْنَ مَرَّۃً۔ قَالَ اَبُوْ صَالِحٍ: فَرَجَعَ فُقَرَآئُ الْمُہَاجِرِیْنَ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالُوْا: سَمِعَ اِخْوَانُنَا اَہْلُ الْاَمْوَالِ بِمَا فَعَلْنَا فَفَعَلُوْا مِثْلَہُ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُوْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ۔(۲۰)
(۲) حَدَّثَنِیْ اِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا یَزِیْدُ اَخْبَرَنَا وَرَقَائُ عَنْ سُمِّیٍّ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ ابِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ذَہَبَ اَہْلُ الدُّثُوْرِ بِالدَّرَجَاتِ وَالنَّعِیْمِ الْمُقِیْمِ قَالَ: کَیْفَ ذَاکَ؟ قَالُوْا : صَلُّوْا کَمَا صَلَّیْنَا وَجَاہَدُوْا کَمَا جَاہَدْنَا، وَاَنْفَقُوْا مِنْ فُضُوْلِ اَمْوَالِہِمْ، وَلَیْسَتْ لَنَا اَمْوالٌ، قَالَ: اَفَلَا اُخْبِرُ کُمْ بِاَمْرٍ تُدْرِکُوْنَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ وَتَسْبِقُوْنَ مَنْ جَائَ بَعْدَ کُمْ، وَلَا یَاْتِیْ اَحْدٌ بِمِثْلِ مَا جِئْتُمْ اِلَّا مَنْ جَاء بِمِثْلِہِ تُسَبِّحُوْنَ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ عَشْرًا وَتَحْمَدُوْنَ عَشْرًا وَتُکَبِّرُونَ عَشْرًا۔(۲۱)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ( غریب ) مہاجرین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا یا رسول اللہؐ !مالدار لوگ جنت میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور بڑے درجے لوٹ لے گئے۔ حضورؐ نے پوچھا وہ کیسے؟ انہوں نے عرض کیا وہ بھی نمازیں پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں۔ انہوں نے بھی جہاد میں حصہ لیا جیسے ہم لیتے ہیں اور انہوں نے مزید برآں اپنے زائد مال (راہ خدا میں) خرچ کیے جبکہ ہمارے پاس مال و دولت نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتائوں جس سے تم اپنے سے پہلوں کے درجے پالو اور بعد میں آنے والوں سے بازی لے جائو۔ اور کوئی بھی وہ مرتبہ لے کر نہ آئے جو تم لائو۔ بجز اس کے جو وہی عمل کرے جو تم کرو، وہ عمل یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہا کرو۔
کعب بن عجرہ کی روایت:
(۳) حَدَّثَنَا نَضْرُ بْنُ عَلِیِّ نِ الْجَہْضَمِیُّ، قَالَ: نَا اَبُوْ اَحْمَدَ، قَالَ : نَا حَمْزَۃُ الزَّیَّاتُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلیٰ ، عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ، عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: مُعَقِّبَاتٌلَا یَخِیْبُ قَائِلُہُنَّ اَوْفَاعِلُہُنَّ ثَلاَثٌ وَّثَلَاثِیْنَ تَسْبِیْحَۃً وَثَلَاثٌ وَّثَلٰثِیْنَ تَحْمِیْدَۃً وَاَرْبَعٌ وَّثَلَاثِیْنَ تَکْبِیْرَۃً فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ۔(۲۲)
ترجمہ: حضرت کعب بن عجرہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ،آپ نے فرمایا: کچھمعقبات (یعنی ہر نماز کے بعد پڑھے جانے والے کلمات) ہیں،ان کے کہنے یا کرنے والا خائب و خاسر نہیں رہتا، یعنی ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ ،۳۳ مرتبہ الحمد للہ اور ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر۔
عبداللہ بن عمرو سے مروی روایت:
(۴) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍ وقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ، خُلَّتَانِ لَا یُحْصِیْہَا رَجُلٌ مُّسْلِمٌ اِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، اَلَا وَہُمَا یَسِیْرٌ وَمَنْ یَّعْمَلْ بِہِمَا قَلِیْلٌ، یُسَبِّحُ اللّٰہَ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاہٍ عَشْرًا، وَیَحْمَدُہُ عَشْرًا، وَیُکَبِّرُہُ عَشْرًا۔ قَالَ فَاَنَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَعْقِدُہَا بِیَدِہِ، قَالَ فَتِلْکَ خَمْسُوْنَ وَمِائَۃٌ بِاللِّسَانِ وَاَلْفٌ وَخَمْسُمِائَۃٍ فِیْ الْمِیْزَانِ، وَاِذَا اَخَذْتَ مَضْجَعَکَ تُسَبِّحُہُ وَتُکَبِّرُہُ وَتَحْمَدُہُ مِائَۃً فَتِلْکَ مِائَۃٌ بِاللِّسَانِ وَاَلْفٌ فِیْ الْمِیْزَانِ، فَاَیُّکُمْ یَعْمَلُ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ اَلْفَی وَخَمْسُمِائَۃٍ سَیِّئَۃً؟ قَالُوْا فَکَیْفَ لَانُحْصِیْہَا۔ قَالَ یَاْتِیْ اَحَدَکُمْ الشَّیْطَانُ وَہُوَ فِیْ صَلَاتِہِ فَیَقُوْلُ اُذْکُرْ کَذَا اُذْکُرْ کَذَا حَتّٰی یَنْفَتِلَ فَلَعَلَّہُ لَّا یَفْعَلَ وَیَاتِیْہِ وَہُوَ فِیْ مَضْجَعِہِ فَلَا یَزَالُ یُنَوِّمُہُ حَتّٰی یَنَامَ۔(۲۳)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو عادتیں ایسی ہیں کہ کوئی مسلم مرد ان کی حفاظت نہیں کرتا مگر جنت میں داخل ہوتا ہے۔ سنو! وہ معمولی ہیں، عمل بھی تھوڑا سا کرنا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ اور دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبرکہا کرو۔ راوی کا بیان ہے کہ حضوؐر اپنی انگلیوں پر ان کو گن رہے تھے۔ پھر فرمایا: یہ مجموعی طور پر ۱۵۰ ہیں۔ زبان پر تو ۱۵۰ ہیں، مگر میزان میں یہ ڈیڑھ ہزار کے برابر ہے۔ (دوسرے) جب سونے کے لیے بستر پر جائو تو سبحان اللہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر سو مرتبہ کہو، زبان پر تو یہ سو ہوں گے، مگر میزان میں دوہزار پانچ سو کے برابر ہوں گے۔ انہوں نے عرض کیا ہم کیسے ان کی حفاظت نہ کریں گے۔ فرمایا: تمہارے ایک کے پاس شیطان نماز میں آکر کہتا ہے فلاں بات یاد کر، فلاں بات یاد کر۔ حتیٰ کہ وہ شخص نماز سے فارغ ہوجاتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ یہ کیا ہے یا نہیں۔ اور بستر پر وہ آکر سلانے کی کوشش کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ آدمی سوجاتا ہے۔
ـــــــ ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ وَفِی الْبَابِ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَ اَنَسٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ۔
۲۴۔حضرت زید بن ثابت کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ہدایت فرمائی تھی کہ ہم ہر نماز کے بعد ۳۳،۳۳ مرتبہ سبحان اللہ اور الحمد للہ کہا کریں اور ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر کہیں۔ بعد میں ایک انصاری نے عرض کیا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ کوئی کہتا ہے کہ اگر تم ۲۵،۲۵ مرتبہ یہ تین کلمہ کہو اور پھر ۲۵ مرتبہلَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہو تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ حضورؐ نے فرمایا اچھا اسی طرح کیا کرو۔( تفہیم القرآن ج۵، قٓ، حاشیہ:۵۱۔)        (احمد،نسائی، دارمی)
تخریج :حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، اَنَا ہِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ کَثِیْرِبْنِ اَفْلَحَ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: اُمِرْنَا اَنْ نُسَبِّحَ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ ثَلَاثًا وَّثَلَاثِیْنَ وَنَحْمَدَ               ثَلَاثًا وَّثَلَاثِیْنَ وَنُکَبِّرَ اَرْبَعًا وَّثَلَاثِیْنَ، فَاَتٰی رَجُلٌ فِی الْمَنَامِ مِنَ الْاَنْصَارِ فَقِیْلَ لَہُ اَمَرَ کُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ اَنْ تُسَبِّحُوْا فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ کَذَا وَکَذَا قَالَ الْاَنْصَارِیُّ فِیْ مَنَامِہِ: نَعَمْ، قَالَ: فَاجْعَلُوْہَا خَمْسًا وَّ عِشْرِیْنَ خَمْسًا وَّعِشْرِیْنَ وَاجْعَلُوْا فِیْہَا التَّہْلِیْلَ فَلَمَّا اَصْبَحَ غَدَا عَلی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَاَخْبَرَ ہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَافْعَلُوْا۔(۲۴)
۲۵۔ سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَoج وَسَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ oج  وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَoع
’’حضرت ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوکر جب پلٹتے تھے تو میں نے آپؐ کو یہ الفاظ کہتے سنا ہے۔‘‘   (احکام القرآن للجصاص)
تخریج: رَویٰ اَبُوہَارُوْنَ الْعَبْدِیُّ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ فِیْ آخِرِصَلَاتِہِ عِنْدَ اِنْصِرَافِہِ، سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ  رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔(۲۵)
تشریح: اس کے علاوہ بھی ذکر بَعْدَ الصَّلوٰۃ کی متعدد صورتیں رسول اللہ ﷺ سے منقول ہوئی ہیں۔ جو حضرات اس پر عمل کرنا چاہیں وہ مشکوٰۃ بَابُ الذِّکْرِ بَعْدَ الصَّلوٰۃِ میں سے کوئی ذکر جو ان کے دل کو سب سے زیادہ لگے چھانٹ کر یاد کر لیں اور اس کا التزام کریں۔ رسول اللہ ﷺ کے اپنے بتائے ہوئے ذکر سے بہتر کون سا ذکر ہوسکتا ہے مگر یہ خیال رکھیں کہ ذکر سے اصل مقصود چند مخصوص الفاظ کو زبان سے گزاردینا نہیں، بلکہ ان معانی کو ذہن میں تازہ اور مستحکم کرنا ہے جو ان الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں۔ اس لیے جو ذکر بھی کیا جائے اس کے معنی اچھی طرح سمجھ لینے چاہئیں۔ اور پھر معنی کے استحضار کے ساتھ ذکر کرنا چاہیے۔

ذکر الٰہی اور اس کے طریقے

سوال: ذکر الٰہی کے مسنون، یا غیر مسنون ہونے کے معاملے میں مجھے بعض ذہنی اشکالات پیش آرہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کا ایک اثر بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے اپنے بعض شاگردوں کو دیکھا کہ وہ ذکر کے لیے ایک مقررہ جگہ پر جمع ہوا کرتے ہیں تو غصے میں فرمایا کہ کیا تم اصحاب رسول اللہؐ سے بھی زیادہ ہدایت یافتہ ہو؟
دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا کہ رسول اللہؐ کے زمانے میں تو میں نے اس طرح کا ذکر نہیں دیکھا، پھر تم لوگ کیوں یہ نیا طریقہ نکال رہے ہو؟
دوسری طرف مشکوٰۃ میں متعدد احادیث ایسی موجود ہیں جن سے اجتماعی ذکر کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ مثلاً حضرت انسؓ راوی ہیں کہ نبی ﷺ نے ذکر کے حلقوں کو جنت کے باغوں سے تشبیہ دی ہے۔ حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ آں حضورؐ نے فرمایا کہ نہیں بیٹھتی کوئی قوم ذکر الٰہی کے لیے مگر یہ کہ گھیر لیتے ہیں، اسے فرشتے اور چھا جاتی ہے اس پر رحمت۔ اسی طرح بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ فرشتے ذکر الٰہی کی مجالس کو ڈھونڈتے ہیں اور ان میں بیٹھتے ہیں۔
ان احادیث کی روشنی میں حلقہ ذکر کا بدعت ہونا سمجھ میں نہیں آتا۔ آپ واضح کریں کہ ارشادات نبویؐ کی موجودگی میں حضرت ابن مسعود سے مروی اثر کی کیا صحیح توجیہ ہوسکتی ہے؟
جواب: لفظ ’’ذکر‘‘ کا اطلاق بہت سی چیزوں پر ہوتا ہے۔ اس کے ایک معنی دل میں اللہ کو یاد کرنے، یا یاد رکھنے کے ہیں۔ دوسرے معنی اٹھتے بیٹھتے ہر حال میں طرح طرح سے اللہ کا ذکر کرنے کے ہیں۔ مثلاً موقع بموقع الحمد للہ ، ماشاء اللہ، انشاء اللہ، سبحان اللہ وغیرہ کہنا، بات بات میں کسی نہ کسی طریقے سے اللہ کا نام لینا، رات دن کے مختلف احوال میں اللہ سے دعا مانگنا، اور اپنی گفتگوئوں میں اللہ کی نعمتوں اور حکمتوں اور اس کی صفات اور اس کے احکام وغیرہ کا ذکر کرنا۔
تیسرے معنی قرآن مجید اور شریعت الٰہیہ کی تعلیمات بیان کرنے کے ہیں، خواہ وہ درس کی شکل میں ہوں، یا باہم مذاکرہ کی شکل میں، یا وعظ و تقریر کی شکل میں۔
چوتھے معنی تسبیح و تہلیل و تکبیر کے ہیں۔ جن احادیث میں ذکر الٰہی کے حلقوں اور مجلسوں پر حضورؐ کے اظہار تحسین کا ذکر آیا ہے۔ ان سے مراد تیسری قسم کے حلقے ہیں اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے جس چیز پر اظہار ناراضی کیا ہے۔ اس سے مراد چوتھی قسم کا حلقہ ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں حلقے بناکر تسبیح و تہلیل کا ذکر جہری کرنا رائج نہ تھا، نہ حضورؐ نے اس کی تعلیم دی اور نہ صحابہؓ نے یہ طریقہ کبھی اختیار کیا۔ رہا پہلے دو معنوں میں ذکر الٰہی ،تو ظاہر ہے کہ وہ سرے سے حلقے بناکر ہوہی نہیں سکتا، بلکہ وہ لازماً انفرادی ذکر ہی ہوسکتا ہے۔ ( رسائل ومسائل: پنجم، عام مسائل: ذکرالہٰی ۔۔۔)

فصل ۶:نماز کی اہمیت

۲۶۔ بَیْنَ الْعَبْدِ وَبَیْنَ الْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلوٰۃِ ۔
’’بندے اور کفر کے درمیان ترک صلوٰۃ واسطہ ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثَنَاوَکِیْعٌ، ثَنا سُفْیَانُ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: بَیْنَ الْعَبْدِ وَبَیْنَ الْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلوٰۃِ۔(۲۶)
ترجمہ: کفر اور ایمان کے درمیان ترک صلوٰۃ واسطہ ہے۔
ـــــــترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔
ایک روایت میںہے :
(۲) بَیْنَ الْعَبْدِ وَبَیْنَ الْشِّرْکِ اَوِالْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلوٰۃِ۔
ترجمہ: بندہ اور شرک یا کفر کے درمیان ترک صلوٰۃ واسطہ ہے۔
اور ایک دوسری روایت میں جو حضرت جابر سے مروی ہے :
(۳) بَیْنَ الْکُفْرِ وَالْاِیْمَانِ تَرْکُ الصَّلوٰۃِ لَیْسَ بَیْنَ الْعَبْدِ وَبَیْنَ الْکُفْرِ اِلَّا تَرْکُ الصَّلوٰۃِ۔(۲۷)
تشریح : جس پر نماز گراں گزرے وہ خود اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ خدا کی بندگی و اطاعت کے لیے تیار نہیں ہے۔ یعنی ترک صلوٰۃ وہ پل ہے جس کو عبور کرکے آدمی ایمان سے کفر کی طرف جاتا ہے۔ اسی بنا پر رحمۃٌ للعالمین نے فرمایا کہ ’’جو لوگ اذان کی آواز سن کر گھروں سے نہیں نکلتے، میرا جی چاہتا ہے کہ جاکر ان کے گھروں میں آگ لگادوں۔‘‘ اور اسی بنا پر فرمایا: اَلْعَہْدُ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمُ الصَّلوٰۃُ فَمَنْ تَرَکَہَا فَقَدْ کَفَرَ۔ (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
۲۷۔ہمارے اور عرب کے بدئوں کے درمیان تعلق کی بنا نماز ہے۔ جس نے اسے چھوڑ دیا وہ کافر قرار پائے گا۔ اور اس سے ہمارا تعلق ٹوٹ جائے گا۔
تخریج: عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُریْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِنَّ الْعَہْدَ الَّذِیْ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمُ الصَّلَاۃُ فَمَنْ تَرَکَہَا فَقَدْ کَفَرَ۔(۲۸)
ترجمہ:حضرت عبداللہؓ اپنے والدبریدہؓ کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’یقینا ہمارے اور ان کے (کفار کے) مابین صلوٰۃ واسطہ ہے۔ لہٰذا جس نے اسے ترک کردیا، وہ کافر ہوگیا۔‘‘
۲۸۔کَانَ اَصْحَابُ النَّبِیِّ ﷺ لاَیَرَوْنَ شَیْئاً مِنَ الْاَعْمَالِ تَرْکُہٗ کُفْرٌ غَیْرَ الصَّلوٰۃِ۔ (ترمذی)
’’مستند روایت ہے کہیعنی نبی ﷺ کے صحابہ میں یہ بات متفق علیہ تھی کہ اسلامی اعمال میں سے صرف نماز ہی وہ عمل ہے جس کو چھوڑ دینا کفر ہے۔ ‘‘ (اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر، نماز: فرض شناسی)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، نَا بِشْرُبْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنِ الْجَرَیْرِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ شَقِیْقٍ الْعُقَیْلِیِّ، قَالَ: کَانَ اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ﷺ: لَا یَرَوْنَ شَیْئًا مِنَ الْاَعْمَالِ تَرْکُہُ کُفْرٌ غَیْرَ الصَّلوٰۃِ۔(۲۹)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن شقیق عقیلی نے بیان کیا کہ :’’نبی ﷺ کے صحابہ سوائے ترک صلوٰۃ کے دوسرے کسی عمل کو کفر تصور نہیں کرتے تھے۔‘‘
(۲)بَیْنَ الْعَبْدِ وَبَیْنَ الْکُفْرِ وَالْاِیْمَانِ الصَّلَاۃُ فَاِذَا تَرَکَہَا فَقَدْ اَشْرَکَ۔(۳۰)
ترجمہ: بندے اور کفر اور ایمان کے درمیان نماز واسطہ ہے۔ لہٰذا جب کسی نے اسے ترک کردیا تو اس نے شرک کا ارتکاب کیا۔
(۳) بَیْنَ الْعَبْدِ وَالْکُفْرِ اَوِالشِّرْکِ تَرَکُ الصَّلوٰۃِ فَاِذَا تَرَکَ الصَّلَا ۃَ فَقَدْ کَفَرَ ۔ (۳۱)
ترجمہ: بندے اور کفر یا شرک کے درمیان ترک صلوٰۃ واسطہ ہے لہٰذا جب کسی نے ترک صلوٰۃ کیا تو وہ کافر ہوگیا۔
(۴) لَیْسَ بَیْنَ الْعَبْدِ وَالشِّرْکِ اِلَّا تَرْکُ الصَّلوٰۃِ۔ فَاِذَا تَرَکَہَا فَقَدْ اَشْرَکَ۔(۳۲)
ترجمہ: بندے اور شرک کے درمیان نہیں ہے واسطہ مگر ترک صلوٰۃ۔ لہٰذا جب کسی نے اسے ترک کیا تو اس نے شرک کیا۔
(۵) مَا بَیْنَ الْکُفْرِ اَوِ الشِّرْکِ وَالْاِیْمَانِ تَرْکُ الصَّلوٰۃِ۔(۳۳)
ترجمہ:کفر یا شرک اور ایمان کے مابین جو چیز واسطہ ہے۔ وہ ترک صلوٰۃ ہے۔
(۶) مَنْ تَرَکَ الصَّلوٰۃَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ کَفَرَ جِہَارًا۔(۳۴)
ترجمہ: جس نے عمداً یعنی جان بوجھ کر ترک صلوٰۃ کیا تو اس نے علانیہ سب کے روبرو کفر کا ارتکاب کیا۔
(۷) قَالَ ابْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : مَنْ تَرَکَ الصَّلَا ۃَ فَقَدْ کَفَرَ ۔(۳۵)
ترجمہ: ابن ابی شیبہ بیان کرتے ہیںکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے نماز کو ترک کیا تو اس نے یقینا کفر کیا۔‘‘
(۸) قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍالْمَرْوَزِیُّ:سَمِعْتُ اِسْحَاقَ یَقُوْلُ:صَحَّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اِنَّ تَارِکَ الصَّلوٰۃِ کَا فِرٌ۔(۳۶)
ترجمہ: محمد بن نصر مروزی نے بیان کیا کہ میں نے اسحاق کو نبی ﷺ کا یہ ارشاد بیان کرتے ہوئے سنا: ’’تارک صلوٰۃ یقینا کافر ہے۔‘‘
(۹) عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: مَنْ لَّمْ یُصَلِّ فَہُوَ کَافِرٌ ۔(۳۷)
ترجمہ: حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ’’جس نے نماز نہ پڑھی ، وہ کافر ہے۔‘‘
(۱۰) وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: مَنْ تَرَکَ الصَّلوٰۃَ فَلَا دِیْنَ لَہُ۔(۳۸)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا قول ہے کہ ’’جس نے ترک صلوٰۃ کیا اس کا کوئی دین نہیں۔‘‘
(۱۱) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَنْ تَرَکَ الصَّلوٰۃَ فَقَدْ کَفَرَ۔(۳۹)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا قول ہے کہ ’’جس نے نماز ترک کی، وہ یقینا کافر ہوگیا۔‘‘
(۱۲) وَعَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: مَنْ لَّمْ یُصَلِّ فَہُوَ کَافِرٌ۔(۴۰)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہؓ کا قول ہے کہ ’’جس نے نماز نہ پڑھی، وہ کافر ہے۔‘‘
(۱۳) وَعَنْ ابِیْ الدَّرْدَائِ قَالَ: لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَا صَلَاۃَ لَہُ وَلَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّا وُضُوْئَ لَہُ۔(۴۱)
ترجمہ: حضرت ابودردا ءؓ کا قول ہے کہ ’’جس کی نماز نہیں، اس کا دین ہی نہیں اور جس کا وضو نہیں اس کی نماز ہی نہیں۔‘‘
تشریح: آج دین سے قطعی ناواقفیت کا نتیجہ یہ ہے کہ جو لوگ نماز نہیں پڑھتے ، جو اذان کی آواز سن کر ٹس سے مس نہیں ہوتے، جن کو یہ محسوس تک نہیں ہوتا کہ موذن کس کو بلا رہا ہے اور کس کام کے لیے بلا رہا ہے، وہ بھی مسلمان سمجھے جاتے ہیں۔ اور یہ خیال عام ہوگیا ہے کہ نماز کی کوئی اہمیت اسلام میں نہیں ہے، اس کے بغیر بھی آدمی مسلمان ہوسکتا ہے۔ بلکہ مسلمانوں کا امام اور ملت کا قائد بھی ہو سکتا ہے۔( مگر) جب اسلام ایک تحریک کی حیثیت سے زندہ تھا۔ اس وقت یہ حال نہ تھا۔
(اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر، نماز:فرض شناسی)

اقامت دین میں نماز کا مقام

۲۹۔اَلَااَدُلُّکَ بِرَاْسِ الْاَمْرِوَعُمُوْدِہِ وَذِرْوَۃِ سِنَامِہِ قَالَ بَلیٰ؟یَارَسُوْلَ اللّٰہِ۔قَالَ رَاْسُ الْاَمْرِالْاِسْلَامُ وَعُمُوْ دُہُ الصَّلوٰۃُ وَذِرْوَۃُ سِنَامِہِ الْجِہَادُ۔ (رسائل ومسائل چہارم، ص: ۳۶۳)
’’کیا میں تمہیں دین و شریعت کی اساس و اصل، اس کا ستون و عمود اور اس کی بلندی شان و عظمت نہ بتائوں؟ عرض کیا، ہاں یارسول اللہ! آپؐ نے فرمایا: اسلام اس کا رأس الامر ہے۔ عمود اس کا صلوٰۃ ہے، بلندی عظمت و شان اس کی جہاد (فی سبیل اللہ) ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ عُمَرَ، نَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُعَاذٍ الصَّنْعَانِیُّ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ اَبِی النَّجُوْدِ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ سَفَرٍ، فَاَصْبَحْتُ یَوْ مًا قَرِیْبًا مِّنْہُ وَنَحْنُ نَسِیْرُ۔ فَقُلْتُ : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ بِعَمَلٍ یُّدْخِلُنِی الْجَنَّۃَ وَیُبَاعِدْنِیْ مِنَ النَّارِ قَالَ: لَقَدْ سَاَلْتَنِیْ عَنْ عَظِیْمٍ، وَاِنَّہُ لَیَسِیْرٌ عَلیٰ مَنْ یَّسَّرَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ ۔ تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِ کْ بِہِ شَیْئًا، وَتُقِیْمُ الصَّلوٰۃَ، وَتُوْتِی الزَّکَاۃَ، وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَیْتَ، ثُمَّ قَالَ: اَلَا اَدُلُّکَ عَلیٰ اَبْوَابِ الْخَیْرِ؟ اَلصَّوْمُ جُنَّۃٌ۔ وَالصَّدَقَۃُ تُطْفِی الْخَطِیْئَۃَ کَمَا یُطْفِی الْمَآئُ النَّارَ۔ وَصَلَاۃُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ قَالَ: ثُمَّ تَلَا ’’ تَتَجَافیٰ جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ‘‘حَتّٰی بَلَغَ ’’ یَعْمَلُوْنَ‘‘(السجدۃ:۱۶،۱۷)ثُمَّ قَالَ: اَلَا اُخْبِرُکَ بِرَاْسِ الْاَمْرِ کُلِّہِ وَعمُوْدِہِ، وَذِرْوَۃِ سِنَامِہِ؟ قُلْتُ: بَلیٰ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: رَاْسُ الْاَمْرِ اَلْاِسْلَامُ وَعمُوْدُہُ الصَّلَاۃُ وَذِرْوَۃُ سِنَامِہِ الْجِہَادُ۔ ثُمَّ قَالَ اَلَا اُخْبِرُ کَ بِمِلَاکِ ذٰلِکَ کُلِّہِ؟ قُلْتُ بَلیٰ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ، فَاَخَذَ بِلِسَانِہ قَالَ: کُفَّ عَلَیْکَ ہٰذَا، فَقُلْتُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! وَاِنَّا لَمُوَاخذُوْنَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِہِ؟ فَقَال: ثَکِلَتْکَ اُمُّکَ یَا مُعَاذُ! وَہَلْ یَکُبُّ النَّاسُ فِی النَّارِ عَلیٰ وُجُوْہِہِمْ اَوْعَلیٰ مَنَاخِرِ ہِمْ اِلَّا حَصَائِدُ اَلْسِنَتِہِمْ (ہذا حدیث حسن صحیح)۔(۴۲)
ترجمہ: حضرت معاذؓ بن جبل سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں حضور ﷺ کی معیت میں تھا۔ ایک دن صبح سویرے آںجناب کا قرب نصیب ہوا۔ ہم چلے جارہے تھے کہ میں نے عرض کیا، اے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ ! مجھے ایسا عمل ارشاد فرمائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور آگ (دوزخ کی آگ) سے دور کردے۔‘‘ حضور ﷺ نے فرمایا: ’’تم نے ایک بہت بڑی چیز کے متعلق مجھ سے پوچھا ہے، اللہ تعالیٰ جس پر اسے آسان فرمائے ، اس پر یہ بہت آسان ہے، (وہ یہ ہے) کہ تو صرف ایک اللہ کی عبادت کر، اور اس کے ساتھ کسی شے کو شریک نہ ٹھہرا، اور نماز قائم کر اور زکوٰۃدے۔ اور رمضان کے روزے رکھ اور بیت اللہ کاحج کر، پھر فرمایا! کیا میں تجھے بھلائی کے دروازوں کی راہنمائی نہ کروں۔‘‘ (پھر خود ہی فرمایا) ’’ روزہ ڈھال ہے، صدقہ و خیرات گناہوں کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور آدمی کی صلوٰۃ شب ۔(یہ بیان فرماکر) آپ نے قرآن پاک کی آیت بطور استشہاد تلاوت فرمائی ’’(ایسے لوگ) کہ جن کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں، اپنے رب کی عبادت کرتے ہیںالآیۃ۔‘‘ پھر فرمایا! ’’کیا میں تجھے سارے کا سارا راس الامر،اس کا عمود اور اس کی بلند چوٹی نہ بتائوں۔‘‘ میں نے عرض کیا، ’’ہاں یا رسول اللہ ؐ (ضرور ارشاد فرمائیں) حضورؐ نے فرمایا : ’’راس الامراسلام ہے، اس کا ستون صلوٰۃ ہے اور اس کی بلند و بالا چوٹی جہاد ہے‘‘ پھر ارشاد فرمایا ، ’’کیا میں تجھے اس سب کا لب لباب نہ بتائوں۔‘‘ میں نے عرض کیا ، ’’ہاں یارسول اللہؐ! (ضرور ارشاد فرمائیں) راوی کا بیان ہے کہ آپؐ نے اپنی زبان اپنے ہاتھ سے پکڑ کر فرمایا: ’’بس اسے روک لو۔‘‘ تو میں نے عرض کیا، ’’اے رسول خدا ﷺ !کیا ہم سے ہماری باتوں اور گفتگوئوں کا مواخذہ بھی ہوگا؟ فرمایا: ’’اے معاذ! تیری ماں تجھے گم پائے لوگ جہنم میں اوندھے منہ اس زبان کی کاٹی ہوئی فصل کے سوا اور کس وجہ سے گرائے جائیں گے۔‘‘ (زبان سے کاٹی ہوئی فصل سے مراد کلمات کفر و شرک و الحاد ، قذف ، سب و شتم، غیبت، بہتان وغیرہ ہیں(از مرتب)) ۔
تشریح:نماز ، روزہ، حج اور زکوۃ اس دین کے ارکان ہیں جن پر یہ دین قائم ہوتا ہے۔ اس لیے ان کو قائم کرنا اقامت دین کے لیے مطلوب ہے اور جہاد چونکہ دین کو اس کے نظام کے ساتھ قائم کرنے کا ذریعہ ہے اس لیے وہ بھی اقامت دین ہی کے لیے مطلوب ہے۔ (رسائل و مسائل چہارم ،ص: ۳۶۳)
سوال:کیا نماز اقامت دین کا حکم بھی دیتی ہے؟
جواب: نماز ہی تو حکم دیتی ہے اقامت دین کا ــــــ جب آپ کہتے ہیں ’’ نَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ‘‘ تو دشمنان دین سے آپ کی لڑائی کا آغاز ہوجاتا ہے۔ (۵ اے ذیلدار پارک دوم ،ص :۲۳۰)
۳۰۔ مَنْ صَلّٰی صَلوٰتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَاَکَلَ ذَبِیْحَتَنَا فَذَالِکَ الْمُسْلِمُ۔۔۔ الخ ۔
’’آپؐ نے فرمایا جس نے وہی نماز پڑھی جو ہم پڑھتے ہیں اور اسی قبلے کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارے ذبیحے کو کھایا، وہ مسلمان ہے۔‘‘
تخریج:حَدَّثَنَا عَمْرُ وْ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمَہْدِیِّ، قَالَ: حَدَّثَناَ مَنْصُوْرُبْنُ سَعْدٍ،عَنْ مَیْمُوْنِ بْنِ سَیَاہٍ، عَنْ اَنَسِ ابْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ صَلّٰی صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَاَکَلَ ذَبِیْحَتَنَا۔ فَذٰلِکَ الْمُسْلِمُ الَّذِیْ لَہُ ذِمَّۃُ اللّٰہِ وَذِمَّۃُ رَسُوْلِہٖ فَلَا تُخْفِرُ وْا اللّٰہَ فِیْ ذِمَّتِہ۔(۴۳)
ترجمہ:حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’جس نے وہی نماز پڑھی جو ہم پڑھتے ہیں اور اسی قبلے کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارے ذبیحے کو کھایا، وہ مسلمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی امان میں ہے۔ لہٰذا تم اللہ تعالیٰ کی امان میں خیانت نہ کرو، یا بے وفائی نہ کرو۔
تشریح: نماز پڑھنے اور قبلے کی طرف رخ کرنے کے باوجود ایک شخص اس وقت تک اسلام میں پوری طرح جذب نہیں ہوتا جب تک کہ وہ کھانے پینے کے معاملے میں پچھلی جاہلیت کی پابندیوں کو توڑ نہ دے اور ان توہمات کی بندشوں سے آزاد نہ ہوجائے جو اہل جاہلیت نے قائم کررکھی تھیں۔ کیوں کہ اس کا ان پابندیوں پر قائم رہنا اس بات کی علامت ہے کہ ابھی تک اس کی رگ و پے میں جاہلیت کا زہر موجود ہے۔
(یہاں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ ) اگر تم ایمان لاکر صرف خدائی قانون کے پیرو بن چکے ہو، جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے تو پھر وہ ساری چھوت چھات اور زمانہ جاہلیت کی وہ ساری بندشیں اور پابندیاں توڑ ڈالو، جو پنڈتوں اور پروہتوں نے، ربیوں اور پادریوں نے ، جوگیوں اور راہبوں نے اور تمہارے باپ دادا نے قائم کی تھیں۔ جو کچھ خدا نے حرام کیا ہے اس سے تو ضرور بچو، مگر جن چیزوں کو خدا نے حلال کیا ہے انہیں بغیر کسی کراہت اور رکاوٹ کے کھائو پیو۔ (تفہیم القرآن،ج۱،البقرۃ، حاشیہ:۱۷۰)

نماز کی ایک اہم خوبی

۳۱۔ مَنْ لَّمْ تَنْہَہُ صَلَاتُہُ عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ فَلَا صَلَاۃَ لَہُ۔ (ابن ابی حاتم)
’’جسے اس کی نماز نے فحش اور برے کاموں سے نہ روکا اس کی نماز نہیں ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ہَارُوْنَ الْمَخْرَمِیُّ الْفَلَّاسُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ ابْنُ نَافِعٍ اَبُوْ زِیَادٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ اَبِیْ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِیُّ ﷺ عَنْ قَوْلِ اللّٰہِ ’’اِنَّ الصَّلوٰۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَر‘‘(العنکبوت:۴۵) قَالَ: مَنْ لَّمْ تَنْہَہٗ صَلَاتُہُ عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ فَلَا صَلَاۃَ لَہُ۔(۴۴)
۳۲۔ مَنْ لَّمْ تَنْہَہَ صَلوٰتُہُ عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ لَمْ یَزْدَدْبِہَا مِنَ اللّٰہِ اِلَّا بُعْدًا۔(ابن ابی حاتم، طبرانی)
’’جس کی نماز نے اسے فحش اور برے کاموں سے نہ روکا اس کو اس کی نماز نے اللہ سے اور زیادہ دور کردیا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ، حَدَّثَنَا یَحیٰ بْنُ اَبِیْ طَلْحَۃَ الْیَرْبُوْعِیُّ، حَدَّثَنَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ عَنْ لَیْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ لَّمْ تَنْہَہٗ صَلَاتُہُ عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ لَمْ یَزْدَدْ بِہَا مِنَ اللّٰہِ اِلَّا بُعْدًا۔(۴۵)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا، ’’ جس کی نماز نے اسے فحش اور برے کاموں سے نہ روکا اس کو اس کی نماز نے اللہ سے اور زیادہ دور کردیا۔‘‘
۳۳۔ لَا صَلوٰۃَ لِمَنْ لَّمْ یُطِعِ الصَّلوٰۃَ، وَطَاعَۃُ الصَّلوٰۃِ اَنْ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ۔
( ابن جریر، ابن ابی حاتم)
’’اس شخص کی کوئی نماز نہیں ہے جس نے نماز کی اطاعت نہ کی، اور نماز کی اطاعت یہ ہے کہ آدمی فحشاء و منکر سے رک جائے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ بْنُ الْبَرِیْدِ عَنْ جُوَیْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاکِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ،عَنِ النَّبِیِّﷺ اِنَّہُ قَال:لَاصَلَاۃَ لِمَنْ لَّمْ یُطِعِ الصَّلَاۃَ، وَطَاعَۃُ الصَّلوٰۃِ اَنْ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ الخ۔(۴۶)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’اس شخص کی کوئی نماز نہیں، جس نے نماز کی اطاعت نہ کی، اور نماز کی اطاعت یہ ہے کہ آدمی فحشاء و منکر سے رک جائے۔
تشریح: نماز کے بہت سے اوصاف میں سے ایک اہم وصف کو مندرجہ بالا احادیث میں پیش کیا گیا ہے۔ اور اقامت صلوٰۃ کو فحشاء و منکر سے روکنے کا ذریعہ بتایا ہے۔
فحشاء اور منکر کا اطلاق جن برائیوں پر ہوتا ہے انہیں انسان کی فطرت برا جانتی ہے اور ہمیشہ سے ہر قوم اور ہر معاشرے کے لوگ، خواہ وہ عملاً کیسے ہی بگڑے ہوئے ہوں، اصولاً ان کو برا ہی سمجھتے رہے ہیں۔ نزول قرآن کے وقت عرب کا معاشرہ بھی اس عام کلیے سے مستثنیٰ نہ تھا۔ اس معاشرے کے لوگ بھی اخلاق کی معروف خوبیوں اور برائیوں سے واقف تھے، بدی کے مقابلے میں نیکی کی قدر پہچانتے تھے، اور شاید ہی ان کے اندر کوئی ایسا شخص ہو جو برائی کو بھلائی سمجھتا ہو، یا بھلائی کو بری نگاہ سے دیکھتا ہو۔ اس حالت میں اس بگڑے ہوئے معاشرے کے اندر کسی ایسی تحریک کا اٹھنا جس سے وابستہ ہوتے ہی خود اسی معاشرے کے افراد اخلاقی طور پر بدل جائیں اور اپنی سیرت و کردار میں اپنے ہم عصروں سے نمایاں طور پر بلند ہوجائیں، لامحالہ اپنا اثر کیے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ ممکن نہ تھا کہ عرب کے عام لوگ برائیوں کو مٹانے والی اور نیک اور پاکیزہ انسان بنانے والی اس تحریک کا اخلاقی وزن محسوس نہ کرتے اور اس کے مقابلے میں محض جاہلی تعصبات کے کھوکھلے نعروں کی بنا پر ان لوگوں کاساتھ دیئے چلے جاتے، جو خود اخلاقی برائیوں میں مبتلا تھے اور جاہلیت کے اس نظام کو قائم رکھنے کے لیے لڑرہے تھے، جو ان برائیوں کو صدیوں سے پرورش کررہا تھا۔
نماز کی یہ خوبی جوآیت :إنَّ الصَّلوٰۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ(العنکبوت:۴۵)۔اور ( مندرجہ بالا احادیث) میں بیان کی گئی ہے۔ اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک اس کا وصف لازم ہے۔ یعنی یہ کہ وہ فحشاء اور منکر سے روکتی ہے اور دوسرا اس کا وصف مطلوب ہے، یعنی یہ کہ اس کا پڑھنے والا واقعی فحشاء اور منکر سے رک جائے۔ جہاں تک روکنے کا تعلق ہے، نماز لازماً یہ کام کرتی ہے۔ جو شخص بھی نماز کی نوعیت پر ذرا سا غور کرے گا وہ یہ تسلیم کرے گا کہ انسان کو برائیوں سے روکنے کے لیے جتنے بریک بھی لگانے ممکن ہیں، ان میں سب سے زیادہ کارگر بریک نماز ہی ہوسکتی ہے۔ آخر اس سے بڑھ کر موثر مانع اور کیا ہوسکتا ہے کہ آدمی کو ہر روز دن میں پانچ وقت خدا کی یاد کے لیے بلایا جائے اور اس کے ذہن میں یہ بات تازہ کی جائے کہ تو اس دنیا میں آزادو خودمختار نہیں ہے بلکہ ایک خدا کا بندہ ہے، اور تیرا خدا وہ ہے جو تیرے کھلے اور چھپے تمام اعمال سے، حتیٰ کہ تیرے دل کے ارادوں اور نیتوں تک سے واقف ہے، اور ایک وقت ضرور ایسا آنا ہے جب تجھے اس خدا کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہوگی۔ پھر اس یاد دہانی پر بھی اکتفا نہ کی جائے بلکہ آدمی کو عملاً ہر نماز کے وقت اس بات کی مشق کرائی جاتی رہے کہ وہ چھپ کر بھی اپنے خدا کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کرے۔ نماز کے لیے اٹھنے کے وقت سے لے کر نماز ختم کرنے تک مسلسل آدمی کو وہ کام کرنے پڑتے ہیں جن کو اس کے اور خدا کے سوا کوئی تیسری ہستی یہ جاننے والی نہیں ہوتی کہ اس شخص نے خدا کے قانون کی پابندی کی ہے، یا اسے توڑ دیا ہے۔ مثلاً اگر آدمی کا وضو ساقط ہوچکا ہو، اور وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوجائے تو اس کے اور خدا کے سوا آخر کسے معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ وضو سے نہیں ہے۔ اگر آدمی نماز کی نیت ہی نہ کرے اور بظاہر رکوع و سجود اور قیام و قعود کرتے ہوئے اذکار نماز پڑھنے کے بجائے خاموشی کے ساتھ غزلیں پڑھتا رہے تو اس کے اور خدا کے سوا کسی پر یہ راز فاش ہوسکتا ہے کہ اس نے دراصل نماز نہیں پڑھی ہے۔ اس کے باوجود جب آدمی جسم اور لباس کی طہارت سے لے کر نماز کے ارکان اور اذکار تک قانون خداوندی کی تمام شرائط کے مطابق ہر روز پانچ وقت نماز ادا کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نماز کے ذریعہ سے روزانہ کئی کئی بار اس کے ضمیر میں زندگی پیدا کی جارہی ہے، اس میں ذمہ داری کا احساس بیدار کیا جارہا ہے، اسے فرض شناس انسان بنایا جارہا ہے اور اس کو عملاً اس بات کی مشق کرائی جارہی ہے کہ وہ خود اپنے جذبہ اطاعت کے زیر اثر خفیہ اور علانیہ ہر حال میں اس قانون کی پابندی کرے جس پر وہ ایمان لایا ہے، خواہ خارج میں اس سے پابندی کرانے والی کوئی طاقت موجود ہو، یا نہ ہو اور خواہ دنیا کے لوگوں کو اس کے عمل کا حال معلوم ہو یا نہ ہو۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تویہ ماننے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ نماز صرف یہی نہیں کہ آدمی کو فحشاء اور منکر سے روکتی ہے بلکہ درحقیقت دنیا میں کوئی دوسرا طریق تربیت ایسا نہیں ہے جو انسا ن کو برائیوں سے روکنے کے معاملے میں اس درجہ موثر ہو۔ اب رہا یہ سوال کہ آدمی نماز کی پابندی اختیار کرنے کے بعد عملاً بھی برائیوں سے رکتا ہے یا نہیں، تو اس کا انحصار خود اس آدمی پر ہے جو اصلاح نفس کی یہ تربیت لے رہا ہو۔ وہ اس سے فائدہ اٹھانے کی نیت رکھتا ہو اور اس کی کوشش کرے تو نماز کے اصلاحی اثرات اس پر مترتب ہوں گے، ورنہ ظاہر ہے کہ دنیا کی کوئی تدبیر اصلاح بھی اس شخص پر کارگر نہیں ہوسکتی۔ جو اس کا اثر قبول کرنے کو تیار ہی نہ ہو، یا جان بوجھ کر اس کی تاثیر کو دفع کرتا رہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے غذا کی لازمی خاصیت، بدن کا تغذیہ اور نشوونما ہے، لیکن یہ فائدہ اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب کہ آدمی اسے جزو بدن بننے دے۔ اگر کوئی شخص ہر کھانے کے بعد فوراً ہی قے کر کے ساری غذا باہر نکالتا چلا جائے تواس طرح کا کھانا اس کے لیے کچھ بھی نافع نہیں ہوسکتا۔ جس طرح ایسے شخص کی نظیر سامنے لا کر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ غذا موجب تغذیہ بدن نہیں ہے کیونکہ فلاں شخص کھانا کھانے کے باوجود سوکھتا چلا جارہا ہے، اسی طرح بدعمل نمازی کی مثال پیش کرکے آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ نماز برائیوں سے روکنے والی نہیں ہے، کیونکہ فلاں شخص نماز پڑھنے کے باوجود بدعمل ہے۔ ایسے نمازی کے متعلق تو یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ وہ درحقیقت نماز نہیں پڑھتا جیسے کھانا کھاکر قے کر دینے والے کے متعلق یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ وہ درحقیقت کھانا نہیں کھاتا۔(َویٰ بَعْضُ الْاِمَامِیَّۃِ عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ اَنَّہُ قَالَ: مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَّعْلَمَ قُبِلَتْ صَلَاتُہُ اَمْ لَمْ تُقْبَلْ فَلْیَنْظُرْ ہَلْ مَنَعَتْہُ عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ فَبِقَدْرِ مَا مَنَعَتْہُ قُبِلَتْ مِنْہُ۔ ( روح المعانی، ج ۱۹-۲۱، ص: ۱۴۲ ))
امام جعفر صادق (اسی کے بارے میں) فرماتے ہیں، جو شخص یہ معلوم کرنا چاہے کہ اس کی نماز قبول ہوئی ہے یا نہیں، اسے دیکھنا چاہیے کہ اس کی نماز نے اسے فحشاء اور منکر سے کہاں تک باز رکھا ۔ اگر نماز کے روکنے سے وہ برائیاں کرنے سے رک گیا ہے تو اس کی نماز قبول ہوئی ہے۔ (تفہیم القرآن سوم، العنکبوت، حاشیہ:۷۸)

نماز اصلاح کا آخری رشتہ ہے

۳۴۔حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ سے ایک شخص کے متعلق پوچھا گیا کہ وہ دن کو نمازیں پڑھتا ہے اور رات کو چوریاں کرتا ہے۔ اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ،یا تو چوری اس سے نماز چھڑوادے گی، یا نماز اس سے چوری چھڑوادے گی۔ (ابن کثیر، ج ۳، ص: ۴۱۵)
تخریج: قَالَ الْحَافِظُ اَبُوْبَکْرِنِ البَزَّارُ:حَدَّثَنَا یُوْسُفُ ابْنُ مُوْسٰی، اَنْبَاَنَا جَرِیْرٌ۔ یَعْنِیْ اِبْنُ عَبْدِ الْحَمِیْدِ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ ، قَالَ : اُرَاہُ عَنْ جَابِرٍ، شَکَّ الْاَعْمَشُ قَالَ:قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِیِّ ﷺ اِنَّ فُلَا نًا یُصَلِّیْ بِاللَّیْلِ فَاِذَا اَصْبَحَ سَرَقَ قَالَ: سَیَنْہَاہُ مَاتَقُوْلُ وَقَالَ الامامُ اَحْمَدَ: حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، اَخْبَرَنَا الْاَ عْمَشُ، قَالَ: اَریٰ اَبَا صَالِحٍ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: جَآئَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِی ِّﷺ فَقَالَ: اِنَّ فُلَا نًا یُصَلِّیْ بِا للَّیْلِ فَاِذَا اَصْبَحَ سَرَقَ فَقَالَ: اِنَّہُ سَیَنْہَاہُ مَاتَقُوْلُ۔(۴۷)
تشریح: یہ تو ہے رسول اللہ ﷺ کی دی ہوئی تعلیم۔ اب اگر ایک آدمی اصلاح کے جوش میں آکر ایسے شخص سے یہ کہے کہ کم بخت جب تو چوری کرتا ہے تو تیری نماز کس کام کی؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس کی اصلاح کی آخری امید منقطع کرنا چاہتے ہیں۔ چوری میں تو وہ مبتلا ہے ہی۔ اب آپ اس سے نماز بھی چھڑوانا چاہتے ہیں۔ نماز ایک آخری رشتہ ہے جس سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ مکمل بھلائی کی طرف پلٹ آنے میں اس کی مدد کرے۔ لیکن آپ وہ رشتہ بھی جوش اصلاح میں کاٹ دینا چاہتے ہیں۔ اپنے نزدیک تو آپ نے بڑی اصلاح کی بات کی۔ لیکن حقیقت میں آپ نے اسے جہنم کی طرف ڈھکیلنے میں حصہ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ جب وہ شخص چوری کرتا ہے تو نماز سے اسے کیا حاصل ؟ بلکہ یہ فرمایا کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ ایک وقت آئے گا کہ یا تو اس کی نماز اس سے چوری چھڑوادے گی، یا چوری نماز چھڑادے گی۔ بڑی مشکل یہ ہے کہ لوگ اصلاح کی باتیں تو کرتے ہیں۔ لیکن اصلاح کے لیے جس حکمت کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس کے ابتدائی تقاضوں سے بھی واقف نہیں ہوتے اور بسا اوقات اپنے غیر حکیمانہ طرز عمل سے درست ہوتے ہوئے آدمیوں کو بھی بگاڑ دیتے ہیں۔ (۵ اے ذیلدار پارک دوم، ص :۲۱۷،۲۱۸)
سوال:کیا نماز ،روزے سے نفس کی پاکیزگی بھی حاصل ہوتی ہے؟
جواب: مسلمان کی نماز تو اسے یہی حکم دیتی ہے کہ وہ برائی سے بچے بشرطیکہ نماز پڑھنے والا یہ سمجھ کر نماز پڑھے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔ اگر وہ بلا سوچے، یا نماز کے مقصد کو نظر انداز کرکے پڑھے گا تو پھر نماز پڑھ کر رشوت لینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھے گا۔ اگر رشوت لینے والا نماز پڑھے گا اور سمجھے گا کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے تو یہ خیال کرکے کہ میں تو حرام کھا رہا ہوں، وہ رشوت کے قریب بھی نہیں جائے گا۔

شب و روز کی فرض نمازیں

۳۵۔ ایک شخص کے پوچھنے پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، کہ تم پر دن رات میں پانچ وقت(پچاس نمازوں والا واقعہ معتبر احادیث میں آیاہے۔ اس سے جو سبق ملتاہے وہ یہ ہے کہ نماز کے لیے شب وروز میں پانچ وقت زیادہ نہیں ہیں، بلکہ جتنی بار انسان کو اللہ کی عبادت کرنی چاہیے اس کے مقابلے میں بہت کم ہیں، اور یہ کہ ان اوقات میں سے کسی وقت کی نماز کو آدمی ضائع کرتاہے تو ایک نہیں، بلکہ گویا دس نمازوں کو ضائع کرتا ہے۔ (مکاتیب اول، ص ۲۹: مورخہ ۱۹ مئی ۶۲ء) (کی نمازیں فرض ہیں۔ اس نے پوچھا، کیا اس کے سوا بھی کوئی چیز مجھ پر لازم ہے؟ جواب میں ارشاد ہوا ، نہیں، الاّ یہ کہ تم اپنی خوشی سے کچھ پڑھو۔‘‘ ) تفہیم القرآن ج ۶، المزمل، حاشیہ:۲۱۔(
(بخاری و مسلم)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَالِکُ بْنُ اَنَسٍ عَنْ عَمِّہِ اَبِیْ سُھَیْلِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہُ سَمِعَ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِاللّٰہِ یَقُوْلُ: جَآئَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ اَھْلِ نَجْدٍ ثَائِرُ الرَّاْسِ نَسْمَعُ دَوِیَّ صَوْتِہِ وَلَانَفْقَہُ مَا یَقُوْلُ حَتّٰی دَنَا فَاِذَا ھُوَیَسْاَلُ عَنِ اْلِاسْلاَمِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : خَمْسُ صَلَوٰتٍ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ، فَقَالَ: ھَلْ عَلَیَّ غَیْرُھَا؟ قَالَ: لاَ اِلاَّ اَنْ تَطَوَّعَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: وَصِیَامُ رَمَضَانَ، قَالَ: ھَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُ؟ قَالَ : لاَ اِلاَّ اَنْ تَطَوَّعَ، قَالَ: وَذَکَرَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الزَّکٰوۃَ، قَالَ: ھَلْ عَلَیَّ غَیْرُھَا؟ قَالَ: لاَ اِلاَّ اَنْ تَطَوَّعَ، قَالَ: فَاَدْبَرَ الرَّجُلُ وَھُوَ یَقُوْلُ: وَاللّٰہِ لاَ اَزِیْدُ عَلٰی ھٰذَا وَلاَ اَنْقُصُ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَفْلَحَ اِنْ صَدَقَ۔(۴۸)
ترجمہ: مالک نے بیان کیاکہ طلحہ بن عبیداللہ کو اس نے یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ’’ایک آدمی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس کا تعلق اہل نجد سے تھا۔ سرکے بال پراگندہ تھے۔ ہم اس کی گنگناہٹ تو سن رہے تھے (لیکن)جو کچھ وہ کہہ رہاتھا اسے سمجھ نہیں رہے تھے۔ اتنے میں وہ حضورؐ کے قریب ہوا اور اسلام کے متعلق پوچھنے لگا(کہ اسلام کیاہے؟) ا ٓپؐ نے فرمایا: ’’شب وروز میں پانچ نمازیں۔‘‘ اس نے پھر پوچھا، کیا اس کے سوابھی کوئی چیز مجھ پر لازم ہے؟ جواب میں ارشاد ہوا ’’نہیں، الا یہ کہ تم اپنی خوشی سے کچھ پڑھو۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے (مزید برآں) فرمایا: ’’رمضان کے روزے۔‘‘ اس نے پوچھا،کیااس کے سوا بھی کوئی چیز مجھ پر لازم ہے؟ جواب میں ارشاد ہوا: ’’نہیں‘‘ الایہ کہ تم اپنی خوشی سے کچھ (روزے) رکھو۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ ’’رسول اللہ ﷺ نے اس کے سامنے زکوٰۃ کا ذکر بھی فرمایا۔‘‘ اس نے پوچھا، کیا اس کے سوا بھی کوئی چیز مجھ پر لازم ہے؟ جواب میں ارشاد ہوا: ’’نہیں، الا یہ کہ تم اپنی خوشی سے کچھ مزید دو۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ وہ آدمی یہ کہتا ہوا چلاگیا کہ ’’بخدا میں اس میں نہ بیشی کروں گا نہ کمی۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’کامیاب ہوگیا، اگر اس نے سچ کہا۔‘‘
ابن کثیر نے صرف مندرجہ ذیل الفاظ نقل کیے:
(۲) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِذٰلِکَ الرَّجُلِ: خَمْسُ صَلَوٰتٍ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ، قَالَ : ھَلْ عَلَیَّ غَیْرُھَا؟ قَالَ : لاَ اِلاَّ اَنْ تَطَوَّعَ ۔(۲۹)
ترجمہ:دن رات میں صرف پانچ نمازیں۔ اس نے پوچھا، کیا اس کے سوابھی مجھ پر کچھ لازم ہے؟ جواب میں ارشاد ہوا:نہیں، الاّیہ کہ تم اپنی مرضی سے کچھ پڑھو۔

نماز باجماعت کی اہمیت

۳۶۔’’نبی ﷺ نے فرمایا کہ’’ جو لوگ اذان کی آواز سن کر اپنے گھروں سے نہیں نکلتے، میرا جی چاہتاہے کہ جاکر ان کے گھروں میں آگ لگادوں۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبِیْ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : لَیْسَ صَلَا ۃٌ اَثْقَلَ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ مِنَ الْفَجْرِ وَالْعِشَآئِ وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَا فِیْہِمَا لَاَ تَوْہُمَا وَلَوْ حَبْوًا، لَقَدْ ہَمَمْتُ اَنْ اٰمُرَ الْمُوَذِّنَ، فَیُقِیْمُ ، ثُمَّ اٰمُرَ رَجُلًا یَوُمُّ النَّاسَ ثُمَّ اٰخُذَ شُعْلًا مِنْ نَّارٍ، فَاُ حَرِّقُ عَلیٰ مَنْ لَا یَخْرُجُ اِلَی الصَّلوٰۃِ بَعْدُ۔(۵۰)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’منافقین پر فجر اور عشاء کی نمازیں سب سے زیادہ گراں اور بوجھل ہیں۔ اگر انہیں اس کا علم ہوتا کہ ان دونوں کا کتنا (ثواب و اجر) ہے تو یہ کولہوں کے بل گھسٹ کر بھی آتے۔ میں نے ارادہ کرلیا کہ موذن کو اشارہ کروں کہ وہ اقامت کہے پھر کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں خود آگ بھڑکا کرلے جائوں جو لوگ اذان سننے کے بعد بھی نماز کے لیے نہ نکلیں، انہیں آگ لگا کر جلادوں۔‘‘
مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت:
(۲)عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ: فَقَدَ نَاسًا فِیْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ فَقَالَ: لَقَدْ ہَمَمْتُ اَنْ اٰمُرَ رَجُلًا یُّصَلِّیْ بِالنَّاسِ ثُمَّ اُخَالِفُ اِلیٰ رِجَالٍ یَّتَخَلَّفُوْنَ عَنْہَا فَاٰمُرَبِہِمْ فَیُحَرِّقُوْا عَلَیْہِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ بُیُوْتَہُمْ وَلَوْ عَلِمَ اَحَدُہُمْ اَنَّہُ یَجِدُ عَظْمًا سَمِیْنًا لَشَہِدَہَا یَعْنِیْ صَلَاۃَ الْعِشَآئِ۔(۵۱)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض نمازوں سے کچھ لوگوں کو غیر حاضر پایا، تو فرمایا: ’’میں نے ارادہ کرلیا کہ کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور خود میں ان لوگوں کی طرف جائوں جو نمازوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ پھرلوگوں کو حکم دوں کہ لکڑیوں کے گٹھوں کو آگ لگا کر ان کے گھروں کو جلادیں۔ ان میں سے کسی کو اگر یہ معلوم ہو کہ اسے وہاں موٹے تازے پائے ملیں گے تو لازماً نماز عشاء میں حاضر ہوجائیں۔‘‘
ترمذی نے حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ابواب الصلوٰۃ عن رسول اللہ ﷺ باب ماجاء فیمن سمع الندا ء فلا یجیبمیں بیان کرکے لکھا ہے:
ـــــــ وَفِی الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، وَاَبِی الدَّرْدَائِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ، وَجَابِرٍ۔ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: حَدِیثُ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ، وَقَدْ رُوِیَ عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ مِّنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ ، اَنَّہُمْ قَالُوْا: مَنْ سَمِعَ النِّدَا ئَ فَلَمْ یُجِبْ فَلَا صَلوٰۃَ لَہٗ وَقَالَ بَعْضُ اَہْلِ الْعِلْمِ: ہٰذَا عَلَی التَّغْلِیْظِ وَالتَّشْدِیْدِ وَلَارُخْصَۃَ لِاَحَدٍ فِیْ تَرْکِ الْجَمَاعَۃِ اِلَّامِنْ عُذْرٍ۔ قَالَ مُجَاہِدٌ: وَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ یَصُوْمُ النَّہَارَ وَیَقُوْمُ اللَّیْلَ لَا یَشْہَدُ جُمُعَۃً وَلاَ جَمَاعَۃً، فَقَالَ: ہُوَ فِی النَّارِ۔
ـــــــ’’امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہؓ کی روایت بیان کرکے فرمایا کہ حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے۔ اسے بہت سے اصحاب نبیﷺ نے بیان کیاہے۔ انہوں نے اپنی رائے یوں بیان کی ہے کہ جو اذان سنے اور اس کا جواب نہ دے، یعنی نماز کے لیے مسجد میں نہ آئے تو اس کی نماز نہیں، بعض اہل علم کی رائے اس بارے میں یہ ہے کہ اس انداز بیان کو اظہار شدت پر محمول کیا جائے گا۔ عذر (شرعی) کے بغیر کسی کے لیے بھی ترک جماعت کی اجازت و رخصت نہیں ہے۔‘‘ مجاہد کا بیان ہے کہ ابن عباس سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے ، مگر وہ نہ تو جمعہ میں حاضر ہوتا ہے اور نہ نماز باجماعت میں شریک ہوتا ہے۔ ابن عباسؓ نے جواب دیا کہ وہ تو دوزخ میں جائے گا۔
تشریح: نماز دن میں پانچ وقت بگل بجاتی ہے، تاکہ اللہ کے سپاہی اس کو سن کر ہر طرف سے دوڑے چلے آئیں اور ثابت کریں کہ وہ اللہ کے احکام کو ماننے کے لیے مستعد ہیں۔ جو مسلمان اس بگل کو سن کر بھی بیٹھارہتاہے اور اپنی جگہ سے نہیں ہلتا، وہ دراصل یہ ثابت کرتاہے کہ وہ یا تو فرض کو پہچانتاہی نہیں، یا اگر پہچانتاہے تو وہ اتنا نالائق اور ناکارہ ہے کہ خدا کی فوج میں رہنے کے قابل نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ حدیث میں نماز کو کفر اور اسلام کے درمیان وجہ تمیز قراردیاگیاہے۔ عہد رسالتؐ اور عہد صحابہؓ میں کوئی ایسا شخص مسلمان ہی نہ سمجھا جاتاتھا جو نماز کے لیے جماعت میں حاضر نہ ہوتا ہو۔ حتیٰ کہ منافقین بھی ، جنہیں اس امر کی ضرورت ہوتی تھی کہ ان کو مسلمان سمجھا جائے، اس امر پر مجبور ہوتے تھے کہ نماز باجماعت میں شریک ہوں۔ چنانچہ قرآن میں جس چیز پر منافقین کو ملامت کی گئی ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ وہ نماز نہیں پڑھتے، بلکہ یہ ہے کہ بادل نخواستہ نہایت بددلی کے ساتھ نماز کے لیے اٹھتے ہیں۔ وَاِذَا قَامُوْآاِلَی الصَّلوٰۃِ قَامُوْا کُسَالیٰ(النساء: ۱۴۲) اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں کسی ایسے شخص کے مسلمان سمجھے جانے کی گنجائش نہیں ہے جو نماز نہ پڑھتا ہو۔ اس لیے کہ اسلام محض ایک اعتقادی چیز نہیں ہے، بلکہ عملی چیز ہے، اور عملی چیز بھی ایسی کہ زندگی میں ہر وقت ہر لمحہ ایک مسلمان کو اسلام پر عمل کرنے اورکفر و فسق سے لڑنے کی ضرورت ہے۔ ایسی زبردست عملی زندگی کے لیے لازم ہے کہ مسلمان خدا کے احکام بجالانے کے لیے ہر وقت مستعد ہو۔ جو شخص اس قسم کی مستعدی نہیں رکھتا وہ اسلام کے لیے قطعاً ناکارہ ہے۔ اس لیے دن میں پانچ وقت نماز فرض کی گئی، تاکہ جو لوگ مسلمان ہونے کے مدعی ہیں، ان کا بار بار امتحان لیا جاتا رہے کہ وہ فی الواقع مسلمان ہیں یا نہیں۔ اگر وہ خدائی پیریڈ کا بگل سن کر جنبش نہیں کرتے تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ اسلام کی عملی زندگی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کے بعد ان کا خدا کو ماننا اور رسولؐ کو ماننا محض بے معنی ہے۔ اسی بنا پر قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ :  وَ اِنَّہَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخَاشِعِیْنَ (البقرہ: ۴۵) یعنی جو لوگ خدا کی اطاعت و بندگی کے لیے تیار نہیں ہیں صرف انہی پر نماز گراں گزرتی ہے اور جس پر نماز گراں گزرے وہ خود اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ وہ خدا کی بندگی و اطاعت کے لیے تیار نہیں ہے۔
نماز کی پابندی احساس فرض کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ اگر ایک آدمی ایمانداری کے ساتھ یہ محسوس کرلے کہ جس خدا پر میں ایمان لایا ہوں اس نے نماز مجھ پر فرض کی ہے اور میں منافق ہوں گا کہ ایمان کا دعویٰ بھی کروں اور خدا کا عائد کردہ فرض بھی ادا نہ کروں تو وہ کبھی نماز پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ لیکن اگر آدمی اس فرض کے احساس ہی سے خالی ہو تو اس سے نماز کی پابندی نہیں ہوسکتی۔        (مکاتیب سید ابوالاعلیٰ مودودی دوم، ص: ۳۲۵)

نماز ضائع کرنے سے کیا مراد ہے؟

نمازوں کو ضائع کرنے سے مراد ترک نماز بھی ہے ، نماز باجماعت کے اہتمام سے غفلت بھی، اور اس میں وہ مفہوم بھی آجاتا ہے جو آپ نے سمجھا ہے۔ یعنی نماز کے حقیقی فائدوں کو ضائع کرنا اور ادائے نماز کے باوجود خوف خدا سے خالی رہنا۔
(مکاتیب ص ۳۸، مورخہ ۸ دسمبر ۶۲ء)

ماخذ

(۱) مسند احمد ، ج ۱، ص ۱۹،بروایت عمر بن خطاب ۔ ٭ ترمذی: ابواب الطہارۃ: باب مایقال بعد الوضوء ۔
(۲) المصنف ج۱، باب القول اذا فرغ من الوضوء ۔ ابن السنی ، الخطیب ابن النجار عن ثوبان بحوالہ کنزالعمال ج۹،ص ۲۹۷،حدیث نمبر ۲۶۰۸۳۔ ٭ کنزالعمال ج ۹،ص ۲۹۶،حدیث نمبر ۲۶۰۷۶۔ ٭ مصنف ابن ابی شیبہ ج۱، کتاب الدعاء ماید عوبہ الرجل اذا فرغ من وضوئہ۔
(۳) ابن ابی شیبہ ج۱، کتاب الدعاء۔٭ابوداود ج۱،کتاب الطہارۃ، باب ما یقول الرجل اذاتوضأ۔٭ابوداود میں ’’اللہم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المطہرین‘‘ منقول نہیںہے۔
(۴) ابوداود ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب من رای الاستفتاح بسبحانک اللہم وبحمدک۔ ٭ نسائی ج۳،کتاب الافتتاح، باب نوع آخر من الذکر بین الصلوۃ و بین القراء ۃ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب افتتاح الصلوٰۃ۔ ٭ دارقطنی ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب دعاء الاستفتاح بعد التکبیر۔٭المستدرک للحاکم ج۱کتاب الصلوٰۃ، باب دعاء افتتاح الصلوٰۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج ۲،کتاب الصلوٰۃ، باب الاستفتاح بسبحانک اللہم وبحمدک۔ ٭ دارمی ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقال بعد افتتاح الصلوٰۃ- مستدرک میں ’’صحیح وفی حارثۃ لین‘‘ ہے۔ ٭ مسند احمد ج ۳، ص ۶۹ روایت ابی سعید خدری۔
(۵) ابوداود ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب من رای الاستفتاح بسبحانک اللہم و بحمدک۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوۃ والسنۃ فیہا: باب افـتـتاح الصلوٰۃ ٭ترمذی: ابواب الصلوٰۃ، باب مایقول عند افتتاح الصلوٰۃ ٭المصنف لعبد الرزاق ج۲، باب استفتاح الصلوٰۃ۔ ٭ السنن الکبرٰی للبیہقی ج۲،کتاب الصلوٰۃ،باب الاستفتاح بسبحانک اللہم وبحمدک۔
(۶) مسلم ج۱،کتاب الصلوٰۃ، بابحجۃ من قال لایجھر بالبسملۃ٭المستدرک للحاکم ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب دعاء افتتاح الصلوٰۃ۔ وقد أسند ہذا الحدیث عن عمر ولا یصح۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۲،کتاب الصلوٰۃ،باب الاستفتاح بسبحانک اللہم وبحمدک۔٭ المصنف لعبد الرزاق ج۲،باب استفتاح الصلوٰۃ۔٭دارقطنی کتاب الصلوٰۃ، باب دعاء الاستفتاح بعد التکبیر۔ ہذا صحیح عن عمر قولہ’’وقد اسندہ بعضہم عن عمر ولا یصح‘‘ (حاشیہ)۔
(۷) ابوداود ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول الرجل فی رکوعہ و سجودہ ٭ مسند ابی داود الطیالسی جز ۴، عن عقبۃ بن عامر۔ ٭ ابن ماجہ ج۱ کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا،باب التسبیح فی الرکوع والسجود۔ ٭مسند احمد ج ۴۔ص۱۵۵۔ عن عقبۃ بن عامر۔ ٭ السنن الکبری للبیہقی ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب القول فی الرکوع۔ عن عقبہ بن عامر٭سنن دارمی ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب مایقال فی الرکوع ۔٭ روح المعانی جز ۲۷ ص۱۴۰، سورہ واقعہ۔ ٭ ابن کثیر ج ۴ ص ۲۲۷، سورہ واقعہ ٭ المستدرک للحاکم ج۱،کتاب الصلوٰۃ ٭ ابن المنذر اور ابن مردویہ عن عقبہ بن عامر جھنی، بحوالہ فتح القدیر للشوکانی ج ۵ ص ۴۲۶۔
(۸) ابوداؤد ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ ۔
(۹) ابوداود ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ۔٭ترمذی ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التسبیح فی الرکوع والسجود۔ عن حذیفہ۔٭ترمذی نے’’وما مر‘‘ کی جگہ ’’ومااٰتی علیٰ ایۃ‘‘ نقل کیا ہے اور اسے ’’حسن صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔٭نسائی ج۲، کتاب الافتتاح، باب الدعاء فی السجود۔٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب التسبیح فی الرکوع والسجود۔٭سنن دارمی ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقال فی الرکوع۔ ٭مسند احمد، ج ۵ ، ص ۲۸۹- ۳۸۲- ۳۸۴- ۳۹۴- ۳۹۷۔
(۱۰) ترمذی ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التسبیح فی الرکوع والسجود۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب التسبیح فی الرکوع والسجود۔
(۱۱) السنن الکبریٰ للبیہقی ج ۲،کتاب الصلوٰۃ، باب القول فی الرکوع۔ ہذا مرسل ، عون بن عبداللّٰہ لم یدرک عبداللّٰہ بن مسعود۔
(۱۲) مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب مایقال فی الرکوع والسجود۔ ٭ ابوداود: کتاب الصلوٰۃ، باب فی الدعاء فی الرکوع والسجود۔ ٭نسائی ج۲، اقرب مایکون العبد من اللّٰہ عزوجل۔٭مسند احمد ج۲، روایت ابی ہریرہ۔ ٭ مسند ابی عوانہ ج۲، بیان ثواب السجود والترغیب فی کثرۃ السجود۔
(۱۳) بخاری ج۱،کتاب الاذان، باب الدعاء قبل السلام۔ ٭ بخاری: کتاب الدعوات اور کتاب الفتن۔٭ مسلم ج۱، کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب استحباب التعوذ من عذاب القبر۔٭ ابوداود ج۱، عن ابن عباس۔ ابوداود میں ’’فتنۃ المحیاو الممات‘‘ تک ہے۔٭نسائی: کتاب الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من عذاب جہنم وشر مسیح الدجال۔٭ ابن ماجہ: کتاب الدعاء، باب ماتعوذ منہ رسول اللہ ﷺ ۔٭ دارمی ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الدعاء بعد التشہد۔٭السنن الکبریٰ ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب ما یستحب لہ ان لا یقصر عنہ من الدعاء قبل السلام۔ ٭ مسند احمد ، ج ۶، ص ۵۳-۸۹، مرویات عائشہ۔
(۱۴) کتاب التوضیح عن توحید الخلاق لمحمد بن عبدالوہاب، ص ۱۸۳۔
(۱۵) السنن الکبریٰ للبیہقی ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب دعاء القنوت۔
(۱۶) السنن الکبریٰ ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب دعاء القنوت۔
(۱۷) بخاری: کتاب بدا الخلق، باب صفۃ الشمس والقمر بحسبان۔٭مسند احمد،ج۵، ص۱۷۷۔ روایات ابوذر غفاری۔٭ترمذی نے’’فانہا تذہب فتستاذن فی السجود فیوذن لہا وکأنہا قد قیل لہا الخ‘‘ بیان کیا ہے۔ ٭ترمذی ج۲، ابواب التفسیر، سورۂ یٰسین۔
(۱۸) مسند احمدج۵، ص۱۷۷۔ ٭ مسلم ج۱، کتاب الایمان، باب بیان الزمن الذی لایقبل فیہ الایمان۔
(۱۹) مسلم ج۱،کتاب الایمان، باب بیان الزمن الذی لایقبل فیہ الایمان۔
(۲۰) مسلم ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ۔٭بخاری ج۱،کتاب الاذان، باب الذکر بعد الصلوٰۃ۔٭ابوداود ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب التسبیح بالحصی۔٭مسند احمد ج ۲،ص۲۳۸، عن ابی ہریرۃ۔ ٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب مایقال بعد التسلیم۔٭دارمی ج۱: کتاب الصلوٰۃ ، باب التسبیح فی دبر الصلوٰۃ۔
(۲۱) بخاری کتاب الدعوات، باب الدعاء بعد الصلوٰۃ۔
(۲۲) مسلم ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ۔٭ترمذی ج۲، ابواب الدعوات، باب منہ، باب ماجاء فی التسبیح والتکبیر والتحمید عند المنام۔
(۲۳) ترمذی: ابواب الدعوات، باب منہ۔٭ابوداود،کتاب الادب: باب فی التسبیح عند النوم۔٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب مایقال بعد التسلیم۔
(۲۴) مسند احمد، ج۵، زید بن ثابت۔٭دارمی ج۱،کتاب الصلوۃ، باب التسبیح فی دبر الصلوٰۃ۔٭ابن حبان، ابن خزیمۃ بحوالہ دارمی۔ دارمی میں ’’ ان تسبحوا ‘‘ کے بجائے ’’ان تسبحوا اللّٰہ‘‘ ہے۔٭نسائی ج۳، کتاب الصلوٰۃ، نوع آخر من عدد التسبیح۔٭ احکام القرآن للجصاص، ج ۳، سورۂ ق۔
(۲۵) احکام القرآن للجصاص ج ۳، سورۂ ق۔
(۲۶) ابوداود ج۴،کتاب السنۃ، باب فی رد الارجاء۔٭ترمذی ج۲،ابواب الایمان، باب ماجاء فی ترک الصلوٰۃ۔٭ابن ماجہ: کتاب الصلوٰۃ، باب ماجاء فیمن ترک الصلوٰۃ۔٭دارقطنی، ج ۲، ٭مصنف ابن ابی شیبہ،ج۱۱، حدیث نمبر۱۰۴۴۳، عن جابر۔ ٭ مسند ابی عوانہ، ج ۱، بیان افضل الایمان۔
(۲۷) نسائی ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الحکم فی ترک الصلوٰۃ: اور ابن ماجہ نے کتاب الصلوٰۃ باب ماجاء فیمن ترک الصلوٰۃ اور دارقطنی نے ج ۲، ص ۵۳ پر نقل کیا ہے اور مسند ابی عوانہ نے ج۱، ص ۶۱ پر نقل کیا ہے اور ایک اور روایت بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلوٰۃِ جسے مسلم ج۱، کتاب الایمان، باب بیان اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلوٰۃ۔٭ سنن دارمی :کتاب الصلوٰۃ، باب فی تارک الصلوٰۃ۔٭مسند احمد، ج ۳، ص۳۷۰، ۳۸۹، جابر بن عبداللہ۔ ٭ مسند ابی عوانہ ج ۱، ص ۶۱۔
(۲۸) نسائی ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الحکم فی تارک الصلوٰۃ۔٭ ترمذی ج۲، ابواب الایمان، باب ماجاء فی ترک الصلوٰۃ۔ ہذا حدیث حسن صحیح غریب ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی من ترک الصلوٰۃ۔ ٭مسند احمد، ج ۵، ص ۳۴۶۔ ٭ دارقطنی ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب التشدید فی ترک الصلوٰۃ و کفر من ترکہا۔٭ مصنف ابن ابی شیبہ،ج۱۱ کتاب الایمان والرؤیۃ، حدیث نمبر ۱۰۴۴۵ عن بریدۃ۔
(۲۹) ترمذی ج۲، ابواب الایمان، باب ماجاء فی ترک الصلوٰۃ۔ ٭ مصنف ابن ابی شیبہ،ج۱۱، ص ۴۹، حدیث نمبر۱۰۴۹۵۔
(۳۰) حافظ ہبۃ اللّٰہ الطبری قال المنذری صحیح۔
(۳۱) محمد بن نصرالمروزی فی کتاب الصلوٰۃ۔
(۳۲) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ۷۷، فیمن ترک الصلوٰۃ۔
(۳۳) دارقطنی ج ۲،کتاب الصلوٰۃ، ص ۵۳۔
(۳۴) الطبرانی فی الاوسط باسنادٍ لاباس بہ٭التعلیق المغنی شمس الحق عظیم آبادی۔٭دار قطنی،ج۲، ص۵۳، (حاشیہ)۔
(۳۵) ابن ابی شیبہ بحوالہ دارقطنی، ج ۲، ص ۵۳۰، حاشیہ۔
(۳۶) بحوالہ دارقطنی، ج ۲، ص ۵۳-۵۴(حاشیہ)۔
(۳۷) ابن ابی شیبہ ج۱۱، فی کتاب الایمان ، حدیث نمبر۱۰۴۸۵والبخاری فی تاریخہ موقوفا۔
(۳۸) محمد بن نصر موقوفا۔٭مصنف ابن ابی شیبہ،ج ۱۱، من لم یصل فلا دین لہ، عن ابن مسعود ۔
(۳۹) محمد بن نصر، ابن عبدالبر موقوفا۔
(۴۰) ابن عبدالبر موقوفا۔
(۴۱) ابن عبدالبر وغیرہ موقوفا بحوالہ دارقطنی ج ۲، ص ۵۳، (حاشیہ)۔
(۴۲) ترمذیج۲، ابواب الایمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلوٰۃ۔ ٭مسند احمد ج۵، ص۲۳۱۔ معاذ بن جبل۔٭ابن ماجہ: کتاب الفتن، باب۱۲۔ کف اللسان فی الفتنۃ۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۹، کتاب السیر، باب اصل فرض الجہاد عن معاذ بن جبل۔٭مصنف ابن ابی شیبۃ، ج ۱۱، ص۸۔ (مختصر روایت)
(۴۳) بخاری ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب فضل استقبال القبلۃ، مطبوعہ اصح المطابع، کراچی۔٭نسائی نے کتاب الایمان و الشرائع، باب صفۃ المسلم کے تحت حضرت انسؓ سے یہی روایت نقل کی ہے ۔ اس میں فذلک المسلم تک ہے۔
(۴۴) ابن کثیر، ج ۳، سورۃ العنکبوت، بحوالہ ابن ابی حاتم۔٭روح المعانی ج۲۱، سورۃ العنکبوت۔٭فتح القدیر للشوکانی، ج ۴، سورۃ العنکبوت بحوالہ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ۔ ٭عبد بن حمید اور بیہقی فی شعب الایمان بحوالہ روح المعانی، ج ۲۱، سورۃ العنکبوت۔
(۴۵) ابن کثیر، ج۳، سورۃ العنکبوت۔٭مجمع الزوائد: ج۲، باب صلوٰۃ اللیل تنہی عن الفحشآء رواہ الطبرانی فی الکبیر۔ وفیہ لیث بن سلیم وہو ثقۃ ولکنہ مدلس۔ باطل وہو مع اشتہارہ علی الالسنۃ، لایصح من قبل اسنادہ ولامن جہۃ متنہ۔ اما اسنادہ، فقد اخرجہ الطبرانی فی المعجم الکبیر (ج ۳ ورقہ ۱۰۶، وجہ ۲، من مخطوطہ الظاہریہ) والقضاعی فی مسند الشہاب ۴۳/۲۔ وابن ابی حاتم کمافی تفسیر ابن کثیر، ج ۳، ص ۴۱۴۔ والکواکب الدراری ۸۳/ ۲/۱ من طریق لیث عن طاوس عن ابن عباس ۔ وہذا اسناد ضعیف۔ (من اجل لیث وہو ابن ابی سلیم فانہ ضعیف ۔ الاحادیث الضعیفہ ص ۱۴۔(ناصر الدین البانی)۔
(۴۶) تفسیر ابن جریر، جزء۲۰/۲۳ جلد ۱۰، ص ۹۹۔ سورۃ العنکبوت۔ ابن کثیر نے ابن مسعود سے مروی تمام روایات کو موقوف قرار دیا ہے۔
(۴۷) ابن کثیر، ج ۳، ص ۴۱۵۔
(۴۸) بخاری ج۱،کتاب الایمان، باب الزکوٰۃ من الاسلام وقولہ تعالیٰ وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین الخ۔ ٭بخاری: کتاب الصوم، کتاب الحیل، کتاب الشہادات۔٭مسلم،ج۱،کتاب الایمان، باب الصلوات التی ھی احد ارکان الاسلام۔٭ ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ۔٭ ترمذی ج۱، ابواب الزکوٰۃ، باب ماجاء اذا أدیت الزکوٰۃ فقد قضیت ماعلیک ٭نسائی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب کم فرضت فی الیوم واللیلۃ کتاب الصیام اور کتاب الایمان۔٭موطا امام مالک،ج۱، جامع الترغیب فی الصلوٰۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب ذکر البیان ان لافرض فی الیوم واللیلۃ من الصلوات اکثر من خمس۔
(۴۹) ابن کثیر ج۴، ص ۴۳۹۔
(۵۰) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب فضل صلوٰۃ العشاء فی الجماعۃ۔کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب ذکر العشاء والعتمۃ (مختصر) عن ابی ہریرۃ۔٭مسلم،ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب فضل الجماعۃ وبیان التشدید فی التخلف عنہا وانہافرض کفایۃ۔٭ابوداود،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التشدید فی ترک الصلوٰۃ عن ابی الدرداء۔٭مسند احمد، ج ۵، ص ۱۴۰-۱۴۱۔ عن ابی بن کعب (مختصر روایت ہے)۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳،کتاب الصلوٰۃ، باب ماجاء من التشدید فی ترک الجماعۃ من غیر عذر عن ابی ہریرۃ٭مسلم، ابوداود دونوں نے آخر میں ’’لایشہدون الصلوٰۃ فاحرق علیہم بیوتہم بالنار‘‘ نقل کیا ہے۔
(۵۱) مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلوٰۃ، باب فضل الجماعۃ وبیان التشدید فی التخلف عنہا۔٭نسائی: کتاب الامامۃ، باب التشدید فی ترک الجماعۃ۔٭ابن ماجہ: ابواب المساجد والجماعات، باب التغلیظ فی التخلف عن الجماعۃ۔٭موطا امام مالک،ج۱، باب فضل صلوٰۃ الجماعۃ علی صلوٰۃ الفذ عن ابی ہریرۃ۔٭دارمی: کتاب الصلوٰۃ، باب فیمن تخلف عن الصلوٰۃ۔ دارمی میں’’لقد ہممت ان آمر فتیانی فیجمعوا حطباً‘‘ ہے۔٭مسند ابی عوانہ: کتاب الصلوٰۃ، بیان ایجاب إتیان الجماعۃ۔٭السنن الکبریٰ،ج۳،کتاب الصلوٰۃ، باب ماجاء من التشدید فی ترک الجماعۃ من غیر عذر۔(۱) مسند احمد ، ج ۱، ص ۱۹،بروایت عمر بن خطاب ۔ ٭ ترمذی: ابواب الطہارۃ: باب مایقال بعد الوضوء ۔
(۲) المصنف ج۱، باب القول اذا فرغ من الوضوء ۔ ابن السنی ، الخطیب ابن النجار عن ثوبان بحوالہ کنزالعمال ج۹،ص ۲۹۷،حدیث نمبر ۲۶۰۸۳۔ ٭ کنزالعمال ج ۹،ص ۲۹۶،حدیث نمبر ۲۶۰۷۶۔ ٭ مصنف ابن ابی شیبہ ج۱، کتاب الدعاء ماید عوبہ الرجل اذا فرغ من وضوئہ۔
(۳) ابن ابی شیبہ ج۱، کتاب الدعاء۔٭ابوداود ج۱،کتاب الطہارۃ، باب ما یقول الرجل اذاتوضأ۔٭ابوداود میں ’’اللہم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المطہرین‘‘ منقول نہیںہے۔
(۴) ابوداود ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب من رای الاستفتاح بسبحانک اللہم وبحمدک۔ ٭ نسائی ج۳،کتاب الافتتاح، باب نوع آخر من الذکر بین الصلوۃ و بین القراء ۃ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب افتتاح الصلوٰۃ۔ ٭ دارقطنی ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب دعاء الاستفتاح بعد التکبیر۔٭المستدرک للحاکم ج۱کتاب الصلوٰۃ، باب دعاء افتتاح الصلوٰۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج ۲،کتاب الصلوٰۃ، باب الاستفتاح بسبحانک اللہم وبحمدک۔ ٭ دارمی ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقال بعد افتتاح الصلوٰۃ- مستدرک میں ’’صحیح وفی حارثۃ لین‘‘ ہے۔ ٭ مسند احمد ج ۳، ص ۶۹ روایت ابی سعید خدری۔
(۵) ابوداود ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب من رای الاستفتاح بسبحانک اللہم و بحمدک۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوۃ والسنۃ فیہا: باب افـتـتاح الصلوٰۃ ٭ترمذی: ابواب الصلوٰۃ، باب مایقول عند افتتاح الصلوٰۃ ٭المصنف لعبد الرزاق ج۲، باب استفتاح الصلوٰۃ۔ ٭ السنن الکبرٰی للبیہقی ج۲،کتاب الصلوٰۃ،باب الاستفتاح بسبحانک اللہم وبحمدک۔
(۶) مسلم ج۱،کتاب الصلوٰۃ، بابحجۃ من قال لایجھر بالبسملۃ٭المستدرک للحاکم ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب دعاء افتتاح الصلوٰۃ۔ وقد أسند ہذا الحدیث عن عمر ولا یصح۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۲،کتاب الصلوٰۃ،باب الاستفتاح بسبحانک اللہم وبحمدک۔٭ المصنف لعبد الرزاق ج۲،باب استفتاح الصلوٰۃ۔٭دارقطنی کتاب الصلوٰۃ، باب دعاء الاستفتاح بعد التکبیر۔ ہذا صحیح عن عمر قولہ’’وقد اسندہ بعضہم عن عمر ولا یصح‘‘ (حاشیہ)۔
(۷) ابوداود ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول الرجل فی رکوعہ و سجودہ ٭ مسند ابی داود الطیالسی جز ۴، عن عقبۃ بن عامر۔ ٭ ابن ماجہ ج۱ کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا،باب التسبیح فی الرکوع والسجود۔ ٭مسند احمد ج ۴۔ص۱۵۵۔ عن عقبۃ بن عامر۔ ٭ السنن الکبری للبیہقی ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب القول فی الرکوع۔ عن عقبہ بن عامر٭سنن دارمی ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب مایقال فی الرکوع ۔٭ روح المعانی جز ۲۷ ص۱۴۰، سورہ واقعہ۔ ٭ ابن کثیر ج ۴ ص ۲۲۷، سورہ واقعہ ٭ المستدرک للحاکم ج۱،کتاب الصلوٰۃ ٭ ابن المنذر اور ابن مردویہ عن عقبہ بن عامر جھنی، بحوالہ فتح القدیر للشوکانی ج ۵ ص ۴۲۶۔
(۸) ابوداؤد ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ ۔
(۹) ابوداود ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ۔٭ترمذی ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التسبیح فی الرکوع والسجود۔ عن حذیفہ۔٭ترمذی نے’’وما مر‘‘ کی جگہ ’’ومااٰتی علیٰ ایۃ‘‘ نقل کیا ہے اور اسے ’’حسن صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔٭نسائی ج۲، کتاب الافتتاح، باب الدعاء فی السجود۔٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب التسبیح فی الرکوع والسجود۔٭سنن دارمی ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقال فی الرکوع۔ ٭مسند احمد، ج ۵ ، ص ۲۸۹- ۳۸۲- ۳۸۴- ۳۹۴- ۳۹۷۔
(۱۰) ترمذی ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التسبیح فی الرکوع والسجود۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب التسبیح فی الرکوع والسجود۔
(۱۱) السنن الکبریٰ للبیہقی ج ۲،کتاب الصلوٰۃ، باب القول فی الرکوع۔ ہذا مرسل ، عون بن عبداللّٰہ لم یدرک عبداللّٰہ بن مسعود۔
(۱۲) مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب مایقال فی الرکوع والسجود۔ ٭ ابوداود: کتاب الصلوٰۃ، باب فی الدعاء فی الرکوع والسجود۔ ٭نسائی ج۲، اقرب مایکون العبد من اللّٰہ عزوجل۔٭مسند احمد ج۲، روایت ابی ہریرہ۔ ٭ مسند ابی عوانہ ج۲، بیان ثواب السجود والترغیب فی کثرۃ السجود۔
(۱۳) بخاری ج۱،کتاب الاذان، باب الدعاء قبل السلام۔ ٭ بخاری: کتاب الدعوات اور کتاب الفتن۔٭ مسلم ج۱، کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب استحباب التعوذ من عذاب القبر۔٭ ابوداود ج۱، عن ابن عباس۔ ابوداود میں ’’فتنۃ المحیاو الممات‘‘ تک ہے۔٭نسائی: کتاب الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من عذاب جہنم وشر مسیح الدجال۔٭ ابن ماجہ: کتاب الدعاء، باب ماتعوذ منہ رسول اللہ ﷺ ۔٭ دارمی ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الدعاء بعد التشہد۔٭السنن الکبریٰ ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب ما یستحب لہ ان لا یقصر عنہ من الدعاء قبل السلام۔ ٭ مسند احمد ، ج ۶، ص ۵۳-۸۹، مرویات عائشہ۔
(۱۴) کتاب التوضیح عن توحید الخلاق لمحمد بن عبدالوہاب، ص ۱۸۳۔
(۱۵) السنن الکبریٰ للبیہقی ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب دعاء القنوت۔
(۱۶) السنن الکبریٰ ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب دعاء القنوت۔
(۱۷) بخاری: کتاب بدا الخلق، باب صفۃ الشمس والقمر بحسبان۔٭مسند احمد،ج۵، ص۱۷۷۔ روایات ابوذر غفاری۔٭ترمذی نے’’فانہا تذہب فتستاذن فی السجود فیوذن لہا وکأنہا قد قیل لہا الخ‘‘ بیان کیا ہے۔ ٭ترمذی ج۲، ابواب التفسیر، سورۂ یٰسین۔
(۱۸) مسند احمدج۵، ص۱۷۷۔ ٭ مسلم ج۱، کتاب الایمان، باب بیان الزمن الذی لایقبل فیہ الایمان۔
(۱۹) مسلم ج۱،کتاب الایمان، باب بیان الزمن الذی لایقبل فیہ الایمان۔
(۲۰) مسلم ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ۔٭بخاری ج۱،کتاب الاذان، باب الذکر بعد الصلوٰۃ۔٭ابوداود ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب التسبیح بالحصی۔٭مسند احمد ج ۲،ص۲۳۸، عن ابی ہریرۃ۔ ٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب مایقال بعد التسلیم۔٭دارمی ج۱: کتاب الصلوٰۃ ، باب التسبیح فی دبر الصلوٰۃ۔
(۲۱) بخاری کتاب الدعوات، باب الدعاء بعد الصلوٰۃ۔
(۲۲) مسلم ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ۔٭ترمذی ج۲، ابواب الدعوات، باب منہ، باب ماجاء فی التسبیح والتکبیر والتحمید عند المنام۔
(۲۳) ترمذی: ابواب الدعوات، باب منہ۔٭ابوداود،کتاب الادب: باب فی التسبیح عند النوم۔٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب مایقال بعد التسلیم۔
(۲۴) مسند احمد، ج۵، زید بن ثابت۔٭دارمی ج۱،کتاب الصلوۃ، باب التسبیح فی دبر الصلوٰۃ۔٭ابن حبان، ابن خزیمۃ بحوالہ دارمی۔ دارمی میں ’’ ان تسبحوا ‘‘ کے بجائے ’’ان تسبحوا اللّٰہ‘‘ ہے۔٭نسائی ج۳، کتاب الصلوٰۃ، نوع آخر من عدد التسبیح۔٭ احکام القرآن للجصاص، ج ۳، سورۂ ق۔
(۲۵) احکام القرآن للجصاص ج ۳، سورۂ ق۔
(۲۶) ابوداود ج۴،کتاب السنۃ، باب فی رد الارجاء۔٭ترمذی ج۲،ابواب الایمان، باب ماجاء فی ترک الصلوٰۃ۔٭ابن ماجہ: کتاب الصلوٰۃ، باب ماجاء فیمن ترک الصلوٰۃ۔٭دارقطنی، ج ۲، ٭مصنف ابن ابی شیبہ،ج۱۱، حدیث نمبر۱۰۴۴۳، عن جابر۔ ٭ مسند ابی عوانہ، ج ۱، بیان افضل الایمان۔
(۲۷) نسائی ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الحکم فی ترک الصلوٰۃ: اور ابن ماجہ نے کتاب الصلوٰۃ باب ماجاء فیمن ترک الصلوٰۃ اور دارقطنی نے ج ۲، ص ۵۳ پر نقل کیا ہے اور مسند ابی عوانہ نے ج۱، ص ۶۱ پر نقل کیا ہے اور ایک اور روایت بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلوٰۃِ جسے مسلم ج۱، کتاب الایمان، باب بیان اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلوٰۃ۔٭ سنن دارمی :کتاب الصلوٰۃ، باب فی تارک الصلوٰۃ۔٭مسند احمد، ج ۳، ص۳۷۰، ۳۸۹، جابر بن عبداللہ۔ ٭ مسند ابی عوانہ ج ۱، ص ۶۱۔
(۲۸) نسائی ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الحکم فی تارک الصلوٰۃ۔٭ ترمذی ج۲، ابواب الایمان، باب ماجاء فی ترک الصلوٰۃ۔ ہذا حدیث حسن صحیح غریب ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی من ترک الصلوٰۃ۔ ٭مسند احمد، ج ۵، ص ۳۴۶۔ ٭ دارقطنی ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب التشدید فی ترک الصلوٰۃ و کفر من ترکہا۔٭ مصنف ابن ابی شیبہ،ج۱۱ کتاب الایمان والرؤیۃ، حدیث نمبر ۱۰۴۴۵ عن بریدۃ۔
(۲۹) ترمذی ج۲، ابواب الایمان، باب ماجاء فی ترک الصلوٰۃ۔ ٭ مصنف ابن ابی شیبہ،ج۱۱، ص ۴۹، حدیث نمبر۱۰۴۹۵۔
(۳۰) حافظ ہبۃ اللّٰہ الطبری قال المنذری صحیح۔
(۳۱) محمد بن نصرالمروزی فی کتاب الصلوٰۃ۔
(۳۲) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ۷۷، فیمن ترک الصلوٰۃ۔
(۳۳) دارقطنی ج ۲،کتاب الصلوٰۃ، ص ۵۳۔
(۳۴) الطبرانی فی الاوسط باسنادٍ لاباس بہ٭التعلیق المغنی شمس الحق عظیم آبادی۔٭دار قطنی،ج۲، ص۵۳، (حاشیہ)۔
(۳۵) ابن ابی شیبہ بحوالہ دارقطنی، ج ۲، ص ۵۳۰، حاشیہ۔
(۳۶) بحوالہ دارقطنی، ج ۲، ص ۵۳-۵۴(حاشیہ)۔
(۳۷) ابن ابی شیبہ ج۱۱، فی کتاب الایمان ، حدیث نمبر۱۰۴۸۵والبخاری فی تاریخہ موقوفا۔
(۳۸) محمد بن نصر موقوفا۔٭مصنف ابن ابی شیبہ،ج ۱۱، من لم یصل فلا دین لہ، عن ابن مسعود ۔
(۳۹) محمد بن نصر، ابن عبدالبر موقوفا۔
(۴۰) ابن عبدالبر موقوفا۔
(۴۱) ابن عبدالبر وغیرہ موقوفا بحوالہ دارقطنی ج ۲، ص ۵۳، (حاشیہ)۔
(۴۲) ترمذیج۲، ابواب الایمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلوٰۃ۔ ٭مسند احمد ج۵، ص۲۳۱۔ معاذ بن جبل۔٭ابن ماجہ: کتاب الفتن، باب۱۲۔ کف اللسان فی الفتنۃ۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۹، کتاب السیر، باب اصل فرض الجہاد عن معاذ بن جبل۔٭مصنف ابن ابی شیبۃ، ج ۱۱، ص۸۔ (مختصر روایت)
(۴۳) بخاری ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب فضل استقبال القبلۃ، مطبوعہ اصح المطابع، کراچی۔٭نسائی نے کتاب الایمان و الشرائع، باب صفۃ المسلم کے تحت حضرت انسؓ سے یہی روایت نقل کی ہے ۔ اس میں فذلک المسلم تک ہے۔
(۴۴) ابن کثیر، ج ۳، سورۃ العنکبوت، بحوالہ ابن ابی حاتم۔٭روح المعانی ج۲۱، سورۃ العنکبوت۔٭فتح القدیر للشوکانی، ج ۴، سورۃ العنکبوت بحوالہ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ۔ ٭عبد بن حمید اور بیہقی فی شعب الایمان بحوالہ روح المعانی، ج ۲۱، سورۃ العنکبوت۔
(۴۵) ابن کثیر، ج۳، سورۃ العنکبوت۔٭مجمع الزوائد: ج۲، باب صلوٰۃ اللیل تنہی عن الفحشآء رواہ الطبرانی فی الکبیر۔ وفیہ لیث بن سلیم وہو ثقۃ ولکنہ مدلس۔ باطل وہو مع اشتہارہ علی الالسنۃ، لایصح من قبل اسنادہ ولامن جہۃ متنہ۔ اما اسنادہ، فقد اخرجہ الطبرانی فی المعجم الکبیر (ج ۳ ورقہ ۱۰۶، وجہ ۲، من مخطوطہ الظاہریہ) والقضاعی فی مسند الشہاب ۴۳/۲۔ وابن ابی حاتم کمافی تفسیر ابن کثیر، ج ۳، ص ۴۱۴۔ والکواکب الدراری ۸۳/ ۲/۱ من طریق لیث عن طاوس عن ابن عباس ۔ وہذا اسناد ضعیف۔ (من اجل لیث وہو ابن ابی سلیم فانہ ضعیف ۔ الاحادیث الضعیفہ ص ۱۴۔(ناصر الدین البانی)۔
(۴۶) تفسیر ابن جریر، جزء۲۰/۲۳ جلد ۱۰، ص ۹۹۔ سورۃ العنکبوت۔ ابن کثیر نے ابن مسعود سے مروی تمام روایات کو موقوف قرار دیا ہے۔
(۴۷) ابن کثیر، ج ۳، ص ۴۱۵۔
(۴۸) بخاری ج۱،کتاب الایمان، باب الزکوٰۃ من الاسلام وقولہ تعالیٰ وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین الخ۔ ٭بخاری: کتاب الصوم، کتاب الحیل، کتاب الشہادات۔٭مسلم،ج۱،کتاب الایمان، باب الصلوات التی ھی احد ارکان الاسلام۔٭ ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ۔٭ ترمذی ج۱، ابواب الزکوٰۃ، باب ماجاء اذا أدیت الزکوٰۃ فقد قضیت ماعلیک ٭نسائی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب کم فرضت فی الیوم واللیلۃ کتاب الصیام اور کتاب الایمان۔٭موطا امام مالک،ج۱، جامع الترغیب فی الصلوٰۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب ذکر البیان ان لافرض فی الیوم واللیلۃ من الصلوات اکثر من خمس۔
(۴۹) ابن کثیر ج۴، ص ۴۳۹۔
(۵۰) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب فضل صلوٰۃ العشاء فی الجماعۃ۔کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب ذکر العشاء والعتمۃ (مختصر) عن ابی ہریرۃ۔٭مسلم،ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب فضل الجماعۃ وبیان التشدید فی التخلف عنہا وانہافرض کفایۃ۔٭ابوداود،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التشدید فی ترک الصلوٰۃ عن ابی الدرداء۔٭مسند احمد، ج ۵، ص ۱۴۰-۱۴۱۔ عن ابی بن کعب (مختصر روایت ہے)۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳،کتاب الصلوٰۃ، باب ماجاء من التشدید فی ترک الجماعۃ من غیر عذر عن ابی ہریرۃ٭مسلم، ابوداود دونوں نے آخر میں ’’لایشہدون الصلوٰۃ فاحرق علیہم بیوتہم بالنار‘‘ نقل کیا ہے۔
(۵۱) مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلوٰۃ، باب فضل الجماعۃ وبیان التشدید فی التخلف عنہا۔٭نسائی: کتاب الامامۃ، باب التشدید فی ترک الجماعۃ۔٭ابن ماجہ: ابواب المساجد والجماعات، باب التغلیظ فی التخلف عن الجماعۃ۔٭موطا امام مالک،ج۱، باب فضل صلوٰۃ الجماعۃ علی صلوٰۃ الفذ عن ابی ہریرۃ۔٭دارمی: کتاب الصلوٰۃ، باب فیمن تخلف عن الصلوٰۃ۔ دارمی میں’’لقد ہممت ان آمر فتیانی فیجمعوا حطباً‘‘ ہے۔٭مسند ابی عوانہ: کتاب الصلوٰۃ، بیان ایجاب إتیان الجماعۃ۔٭السنن الکبریٰ،ج۳،کتاب الصلوٰۃ، باب ماجاء من التشدید فی ترک الجماعۃ من غیر عذر۔

فصل :۷ امامت صلوٰۃ

۳۷۔(نبی ﷺ نے فرمایا) : ’’جبریل نے دومرتبہ مجھ کو بیت اللہ کے قریب نماز پڑھائی۔ پہلے دن ظہرکی نماز ایسے وقت پڑھائی جب کہ سورج ابھی ڈھلا ہی تھا اور سایہ ایک جوتی کے تسمے سے زیادہ درازنہ تھا، پھر عصر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جب کہ ہر چیز کا سایہ اس کے اپنے قد کے برابر تھا، پھر مغرب کی نماز ٹھیک اس وقت پڑھائی جب کہ روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے، پھر عشاء کی نماز شفق غائب ہوتے ہی پڑھادی، اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے۔ دوسرے دن انہوں نے ظہر کی نماز مجھے اس وقت پڑھائی جب کہ ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے برابر تھا، اور عصر کی نماز اس وقت جب کہ ہر چیز کا سایہ اس کے قد سے دوگنا ہوگیا، اور مغرب کی نماز اس وقت جب کہ روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے ، اور عشاء کی نماز ایک تہائی رات گزر جانے پر، اور فجر کی نماز اچھی طرح روشنی پھیل جانے پر۔ پھر جبریل نے پلٹ کر مجھ سے کہا کہ اے محمدؐ یہی اوقات انبیاء کے نماز پڑھنے کے ہیں۔ اور نمازوں کے صحیح اوقات ان دونوں وقتوں کے درمیان ہیں۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا یَحْیٰ عَنْ سُفْیَانَ، حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ فُلَانِ بْنِ اَبِیْ رَبِیْعَۃَ، قَالَ اَبُوْ دَاؤُدَ: ہُوَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ اَبِیْ رَبِیْعَۃَ، عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حَکِیْمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِبْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَمَّنِیْ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ عِنْدَ الْبَیْتِ مَرَّتَیْنِ، فَصَلّٰی بِیَ الظُّہْرَ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَکَانَتْ قَدْرَ الشِّرَاکِ وَصَلّٰی بِیَ الْعَصْرَ حِیْنَ کَانَ ظِلُّہُ مِثْلَہُ، وَصَلّٰی بِیَ ـــــ یَعْنِی الْمَغْرِبَ ـــــ حِیْنَ اَفْطَرَ الصَّائِمُ، وَصَلّٰی بِیَ الْعِشَآئَ حِیْنَ غَابَ الشَّفَقُ، وَصَلّٰی بِیَ الْفَجْرَ حِیْنَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَی الصَّآئِمِ، فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ صَلّٰی بِیَ الظُّہْرَ حِیْنَ کَانَ ظِلُّہُ مِثْلَہُ وَصَلّٰی بِیَ الْعَصْرَ حِیْنَ کَانَ ظِلُّہُ مِثْلَیْہِ، وَصَلّٰی بِیَ الْمَغْرِبَ حِیْنَ اَفْطَرَ الصَّآئِمُ، وَصَلّٰی بِیَ الْعِشَآئَ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ وَصَلّٰی بِیَ الْفَجْرَ فَاَسْفَرَ ثُمَّ الْتَفَتَ اِلَیَّ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ ہٰذَا وَقْتُ الْاَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِکَ وَالْوَقْتُ مَابَیْنَ ہٰذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ۔(۱)
(۲)حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، ثَنَالَیْثٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، اَنَّ عُمَرَ ابْنَ عَبْدِ الْعَزِیْزِ اَخَّرَ الْعَصْرَ شَیْئًا فَقَالَ لَہُ عُرْوَۃُ: اَمَا اَنَّ جِبْرَئِیْلَ قَدْ نَزَلَ فَصَلّٰی اَمَامَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ عُمَرُ: اِعْلَمْ مَا تَقُوْلُ یَا عُرْوَۃُ؟ قَالَ: سَمِعْتُ بَشِیْرَبْنَ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ اَبَا مَسْعُودٍ، یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: نَزَلَ جِبْرَئِیْلُ فَاَمَّنِیْ فَصَلَّیْتُ مَعَہُ، ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ، ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ ، ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ، ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ، یَحْسِبُ بِاَصَابِعِہِ خَمْسَ صَلوٰتٍ۔ (۲)
ترجمہ: عمر بن عبدالعزیز نے ایک روز نماز عصر ذرا تاخیر سے پڑھی، تو عروہ نے کہا جبرئیل ناز ل ہوئے اور حضور ﷺ کی امامت کراکر نماز پڑھائی۔ عمر بن عبدالعزیز نے متنبہ کیا، عروہ! کیا کہہ رہے ہو، سوچ لو! عروہ نے کہا میں نے بشیر بن ابو مسعود سے سنا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو مسعود سے سنا ہے ، کہہ رہے تھے کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ حضورؐ ارشاد فرمارہے تھے ’’جبرئیل نازل ہوئے، اور امامت کرائی۔ میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ نے اپنی انگلیوں پر پانچ نمازیں شمار فرمائیں۔
(۳)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: اَمَّنِیْ جِبْرِیْلُ عِنْدَ الْبَیْتِ مَرَّتَیْنِ، فَصَلَّی الظُّہْرَ فِی الْاُوْلٰی مِنْہُمَا حِیْنَ کَانَ الْفَیْیُٔ مِثْلَ الشِّرَاکِ، ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ حِیْنَ کَانَ کُلُّ شَیْیٍٔ مِثْلَ ظِلِّہِ، ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ حِیْنَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ وَاَفْطَرَ الصَّآئِمُ، ثُمَّ صَلَّی الْعِشَآئَ حِیْنَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ صَلَّی الْفَجْرَ حِیْنَ بَرِقَ الْفَجْرُ وَحَرُمَ الطَّعَامُ عَلَی الصَّآئِمِ وَصَلَّی الْمَرَّۃَ الثَّانِیَۃَ الظُّہْرَ حِیْنَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْٔمِثْلَہٗ لِوَقْتِ الْعَصْرِ بِالْاَمْسِ، ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ حِیْنَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْمِثْلَیْہِ،  ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ لِوَقْتِہِ الْاَوَّلِ، ثُمَّ صَلَّی الْعِشَآئَ الْا ٓخِرَۃِ حِیْنَ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ، ثُمَّ صَلَّی الصُّبْحَ حِیْنَ اَسْفَرَتِ الْاَرْضُ ثُمَّ الْتَفَتَ اِلَیَّ جِبْرَئِیْلُ، فَقَالَ: یَامُحَمَّدُ! ہٰذَا وَقْتُ الْاَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِکَ وَالْوَقْتُ فِیْمَا بَیْنَ ہٰذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ۔(۳)
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ:حَدِیْثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِیْثٌ حَسَنٌ۔ وقَالَ مُحَمَّدُ: اَصَحُّ شَیْفِی الْمَوَاقِیْتِ حَدِیْثُ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ۔
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: بیت اللہ کے پاس جبریل نے دو مرتبہ مجھے نماز پڑھائی ۔ پہلے دن ظہر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جب کہ سایہ ایک جوتی کے تسمے جتنا تھا۔ پھر عصر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جب کہ ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے برابر ہوگیا، پھر مغرب ایسے وقت پڑھائی جب سورج غروب ہوگیا اور روزہ دارنے روزہ افطار کیا، پھر عشاء کی نماز ایسے وقت پڑھائی جب شفق غائب ہوگئی ، پھر فجر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جب فجر روشن ہوگئی اور روزہ دار کے لیے کھانا حرام ہوگیا۔ اور دوسرے روز ظہر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے برابر ہوگیا۔ یعنی جو گزشتہ روز نماز عصر کا وقت تھا، پھر عصر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے قد سے دوگنا ہو گیا، پھر مغرب اوّل روز کے وقت پر پڑھائی ، پھر عشاء کی آخری نماز ایک تہائی رات گزرنے پر پڑھائی ، پھر صبح کی نماز ایسے وقت پڑھائی جب روشنی اتنی پھیل گئی کہ زمین صاف نظر آنے لگی۔ اس کے بعد جبرئیل نے میری جانب متوجہ ہوکر فرمایا: اے محمد! آپؐ سے پہلے انبیاء کا یہی وقت تھا ان دونوں اوقات کے مابین نماز کا وقت ہے۔
دارقطنی میں حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی روایت:
(۴)عَنْ جَابِرْ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ: اَنَّ جِبْرَئِیْل عَلَیْہِ السَّلَامُ اَتَی النَّبِیَّ ﷺ یُعَلِّمُہُ الصَّلوٰۃَ، فَجَآئَ ہُ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، فَتَقَدَّمَ جِبْرَئِیْلُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَلْفَہُ، وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، فَصَلَّی الظُّہْرَ، ثُمَّ جَآئَ ہُ حِیْنَ صَارَ الظِّلُ مِثْلَ قَامَۃِ شَخْصِ الرَّجُلِ، فَتَقَدَّمَ جِبْرَئِیْلُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَلْفَہٗ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، فَصَلَّی الْعَصْرَ، ثُمَّ جَآئَ ہُ حِیْنَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، فَتَقَدَّمَ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَلْفَہُ، وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثُمَّ ذَکَرَ بَاقی الحدیث۔ وَقَالَ فِیْہِ: ثُمَّ اَتَاہُ الْیَوْمَ الثَّانِیْ حِیْنَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ، فَتَقَدَّمَ جِبْرَئِیْلُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَلْفَہُ، وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، فَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَقَالَ فِیْ آخِرِہِ: ثُمَّ قَالَ : مَابَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ وَقْتٌ، قَالَ فَسَاَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الصَّلوٰۃِ فَصَلّٰی بِہِمْ کَمَا صَلّٰی بِہِ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، ثُمَّ قَالَ: اَیْنَ السَّائِلُ عَنِ الصَّلوٰۃِ؟ مَابَیْنَ الصَّلَا تَیْنِ وَقْتٌ۔
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نماز کی تعلیم دینے کے لیے نبی ﷺ کے پاس آئے۔ ابھی سورج ڈھلاہی تھا کہ جبرئیل تشریف لے آئے۔ جبرئیل آگے ہوئے اور رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے اور دوسرے لوگ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صف بستہ ہوگئے، تو انھوں نے نماز ظہر پڑھائی۔ پھر جبرئیل ،نبی ﷺ کے پاس ایسے وقت آئے جب سایہ ایک انسان کے قد کے برابر ہوگیا، تو جبرئیل آگے ہوئے اور رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے اور باقی لوگ آپؐ کے پیچھے صف باندھ کر کھڑے ہوئے اور عصر کی نماز پڑھائی۔ پھر ایسے وقت جبرئیل آئے کہ سورج غروب ہوگیا، آگے ہو کر جبرئیل نے رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے پیچھے صف بستہ لوگوں کو نماز مغرب پڑھائی ۔ پھر دوسرے روز بھی اُسی وقت جبرئیل آئے جب سورج غروب ہوگیا (یعنی ایک ہی وقت) جبرئیل آگے ہوئے، رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے اور دوسرے لوگ آپؐ کے پیچھے صف باندھ کر کھڑے ہوئے۔ جبرئیل نے نماز پڑھائی ۔ آخر میں فرمایا: نمازوں کے ان اوقات کے مابین نماز کا وقت ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے نماز کے متعلق پوچھا توآپؐ نے انہیں اسی طرح نماز پڑھائی جس طرح جبرئیل نے آپؐ کو پڑھائی تھی۔ پھر فرمایا، نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟ (پھر خود فرمایا) ’’ان دونوں اوقات نماز کے درمیان وقت ہے۔‘‘
انہی سے مروی ایک اور روایت:
(۵)قَالَ:جَآئَ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: قُمْ یَامُحَمَّدُ! فَصَلِّ الظُّہْرَ، فَقَامَ فَصَلَّی الظُّہْرَ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ مَکَثَ حَتّٰی کَانَ فَیْیُٔ الرَّجُلِ مِثَلَہُ، فَجَآئَ ہُ الْعَصْرَ، فَقَالَ: قُمْ یَامُحَمَّدُ! فَصَلِّ الْعَصْرَ، فَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ، ثُمَّ مَکَثَ حَتّٰی غَابَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ، فَقَامَ فَصَلَّا ہَا حِیْنَ غَابَتِ الشَّمْسُ سَوَائً، ثُمَّ مَکَثَ حَتّٰی ذَہَبَ الشَّفَقُ فَجَآئَ ہُ قَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَآئَ، فَقَامَ فَصَلَّا ہَا، ثُمَّ جَآئَ ہُ حِیْنَ سَطَعَ الْفَجْرُ بِا الصُّبْحِ فَقَالَ: قُمْ یَامُحَمَّدُ! فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّی الصُّبْحَ، ثُمَّ جَآئَ ہُ مِنَ الْغَدِ حِیْنَ کَانَ فَیْیُٔ الرَّجُلِ مِثْلَہُ، فَقَالَ: قُمْ یَامُحَمَّدُ! فَصَلِّ الظُّہْرَ، فَقَامَ فَصَلَّی الظُّہْرَ، ثُمَّ جَآئَ ہُ حِیْنَ کَانَ فَیْیُٔ الرَّجُلِ مِثْلَیْہِ، فَقَالَ: قُمْ یَامُحَمَّدُ! فَصَّلِ الْعَصْرَ ، فَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ، ثُمَّ جَآئَ ہُ لِلْمَغْرِبِ حَیْنَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ یَزَلْ عَنْہُ، قَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ، فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثُمَّ جَآئَ ہُ لِلْعِشَآئِ حِیْنَ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ الْاَوَّلِ ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَآئَ، فَصَلَّی، ثُمَّ جَآئَ ہُ لِلصُّبْحِ حِیْنَ اَسْفَرَ جِدًّا، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحِ، ثُمَّ قَالَ: مَابَیْنَ ہٰذَیْنِ کُلِّہِ وَقْتٌ۔ (۴)
ترجمہ: حضرت جابرؓ ہی بیان کرتے ہیں کہ جبرئیل رسول اللہ ﷺکے پاس عین اس وقت آئے جب دن ڈھلا ہی تھا، جبریل نے کہا اے محمدؐ! اٹھیے اور ظہر کی نماز پڑھیے، آپؐ اٹھے اور دن ڈھلا ہی تھا کہ آپؐ نے نماز ظہر پڑھی۔ پھر اتنی دیر ٹھہرے کہ مرد کا سایہ اس کے قدکے برابر ہوگیا۔ پھر عصر کے وقت جبرئیل آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا، اے محمدؐ ! اٹھیے اور نماز عصر پڑھیے۔ آپؐ اٹھے اور عصر کی نماز پڑھی۔ پھر غروب آفتاب تک آپ ٹھہرے رہے۔ جبرئیل نے آکر کہا، اٹھیے اور نماز مغرب پڑھیے۔ آپؐ اٹھے اورسورج پوری طرح جب غروب ہوگیا تو نماز مغرب پڑھی۔ پھر کچھ دیر ٹھہرے کہ شفق غائب ہوگئی تو جبرئیل نے پھر آکر کہا اٹھیے اور نماز عشاء پڑھیے ۔آپؐ اٹھے اور نماز عشاء پڑھی ۔ پھر ایسے وقت آئے جب پوپھٹ رہی تھی۔ جبرئیل نے کہا، اٹھیے اے محمدؐ! اور نماز پڑھیے۔ آپؐ اٹھے اور صبح کی نماز پڑھی۔ پھر اگلے روز ایسے وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہوگیا تھا۔ جبرئیل نے کہا اٹھیے اے محمدؐ !اور ظہر کی نماز پڑھیے۔ آپ اٹھے اور نماز ظہر پڑھی۔ پھر ایسے وقت آئے جب ہر آدمی کا سایہ اس کے قد سے دوگنا ہوگیا۔ جبرئیل نے کہا اے محمد!اٹھیے اور نماز عصر پڑھیے۔ آپؐ اٹھے اور عصر کی نماز پڑھی۔ پھر مغرب کی نماز کے لیے آئے جب سورج غروب ہوگیا، وہ ایک ہی وقت ہے۔ کہا، اٹھیے نماز پڑھیے۔ پھر عشاء کے لیے ایسے وقت آئے جب اوّل رات کی ایک تہائی گزرچکی تھی۔ جبرئیل نے کہا ’’اٹھیے اور عشاء کی نماز پڑھیے۔ آپؐنے نماز عشاء پڑھی۔ پھر صبح کی نماز کے لیے ایسے وقت آئے کہ اچھی طرح روشنی ہوچکی تھی۔ جبرئیل نے کہا، اٹھیے اور صبح کی نماز پڑھیے۔ پھر فرمایا ان اوقات کے مابین وقت ہے۔‘‘
تشریح:(یہاں) یہ بتایا گیا ہے کہ پنج وقتہ نماز ،جو معراج کے موقع پر فرض کی گئی تھی، اس کے اوقات کی تنظیم کس طرح کی جائے۔ (قرآن میں) حکم ہوا ہے کہ ایک نماز تو طلوع آفتاب سے پہلے پڑھ لی جائے اور باقی چار نمازیں زوال آفتاب کے بعد سے ظلمت شب تک پڑھی جائیں۔ (پھر جبریل علیہ السلام نے حکم الٰہی کی تشریح کی اور) ٹھیک ٹھیک اوقات کی تعلیم نبیﷺ کو دی ۔                  (تفہیم القرآن ج۲، بنی اسرائیل، حاشیہ:۹۵)
قرآن مجید میں نماز کے ان پانچوں اوقات کی طرف مختلف مواقع پر اشارے کیے گئے ہیں۔ چنانچہ سورۂ ہود میں فرمایا:
ـــــــ وَاَقِمِ الصَّلوٰۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّیْلِ۔(آیت :۱۱۴)
’’نماز قائم کر دن کے دونوں کناروں پر ( فجر اور مغرب ) اور کچھ رات گزرنے پر (عشاء)۔‘‘
اور سورۂ  طٰہ میں ارشاد ہوا:
ـــــــ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِہَاج وَمِنْ اٰنَآیِٔ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَافَ النَّہَارِ۔                (آیت:۱۳۰)
’’اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر طلوع آفتاب سے پہلے (فجر ) اور غروب آفتاب سے پہلے (عصر) اور رات کے اوقات میں پھر تسبیح کر (عشاء) اور دن کے سروں پر ( صبح، ظہر اور مغرب)۔‘‘
پھر سورۂ روم میں ارشاد ہوا:
ـــــــ فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَ o  وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَحِیْنَ تُظْہِرُوْنَ o                       (آیت: ۱۷،۱۸)
’’پس اللہ کی تسبیح کرو جب کہ تم شام کرتے ہو (مغرب) اور جب صبح کرتے ہو (فجر)۔ اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں۔ اور اس کی تسبیح کرو دن کے آخری حصے میں (عصر) اور جب کہ تم دو پہر کرتے ہو (ظہر)۔‘‘(  (بخاری، مسلم، ابودائود، ترمذی اور موطا وغیرہ کتب حدیث میں صحیح سندوں کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ ) جبرئیل علیہ السلام نے آپؐ کو نمازوں کے صحیح اوقات بتانے کے لیے دو روز تک پانچوں وقت کی نمازیںآپؐ کو پڑھائیں۔ ان میں آپؐ مقتدی تھے اور جبرئیل امام۔
        بعض لوگ اس مقام پر یہ شبہ ظاہر کرتے ہیں کہ جبرئیل امین کو رسول اللہ ﷺ کا (امام) کیسے قرار دیا جاسکتا ہے، اس کے معنی تو یہ ہوں گے کہ وہ استاد ہیں اور حضوؐر شاگرد اور اس سے حضوؐر پر جبرئیل کی فضیلت لازم آئے گی ۔ لیکن یہ شبہ اس لیے غلط ہے کہ جبرئیل اپنے کسی ذاتی علم سے حضوؐر   کو تعلیم نہیں دیتے تھے، جس سے آپؐ پر ان کی فضیلت لازم آئے بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے آپؐ تک علم پہنچانے کا ذریعہ بنایا تھا اور وہ محض واسطہ تعلیم ہونے کی حیثیت سے مجازاً  آپؐ کے معلم تھے۔ اس سے ان کی فضیلت کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔ محض تعلیم کی غرض سے ان کا امام بنایا جانا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ آپؐ سے افضل تھے۔       (تفہیم القرآن،ج ۵، النجم حاشیہ: ۵)(

امامت جبریل اور نماز پنج گانہ کے اوقات۔

امامت کے شرائط و آداب:

(۱)متقی اور پرہیزگار۳۸۔حکم ہے کہ امام ایسے شخص کو بنایا جائے جو پرہیز گار ہو، علم میں زیادہ ہو، قرآن زیادہ جانتا ہو، اور سن رسیدہ بھی ہو۔ حدیث میں ترتیب بھی بتادی گئی ہے کہ ان صفات میں کون سی صفت کس صفت پر مقدم ہے۔(یہیں سے یہ تعلیم بھی دے دی گئی کہ سردار قوم کے انتخاب میں کن باتوں کا لحاظ کرنا چاہیے۔)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ مُثَنّٰی وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ مُثَنّٰی: نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَائٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ اَبَا مَسْعُوْدٍ، یَقُوْلُ : قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : یَؤُمُّ الْقَوْمَ اَقْرَئُ ہُمْ لِکِتٰبِ اللّٰہِ وَاَقْدَمُہُمْ قِرَائَ ۃً۔ فَاِنْ کَانَتْ قِرَائَ تُہُمْ سَوَآئً فَلْیَؤُمُّہُمْ اَقْدَمُہُمْ ہِجْرَۃً۔ فَاِنْ کَانُوْا فِی الْہِجْرَۃِ سَوَآئً فَلْیَؤُمُّہُمْ اَکْبَرُ ہُمْ سِنًّا۔ وَلَا تَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ فِیْ اَہْلِہِ وَلَافِیْ سُلْطَانِہِ۔ وَلَا تَجْلِسْ عَلیٰ تَکْرِمتِہِ فِیْ بَیْتِہِ، اِلَّا اَنْ یَاْذَنَ لَکَ اَوْ بِاِذْنِہٖ۔(۵)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ارشاد فرمایا ، ’’لوگوں کی امامتِ نماز ایسا آدمی کرے جس نے قرآن زیادہ پڑھا ہو، اور جسے قرآن پڑھے زیادہ عرصہ گزرا ہو۔ اگر قراء ت ( قرآن خوانی ) میں لوگ مساوی المرتبہ ہوں، تو پھر وہ آدمی امامت کرائے جس نے ہجرت پہلے کی ہو۔ پھر اگر ہجرت میں برابر ہوں تووہ آدمی امامت کرائے جو ان میں زیادہ سن رسیدہ ہو۔ اور ایک آدمی کو نہ تو دوسرے کے گھر میں امامت کرانی چاہیے نہ دوسرے کے حدود اختیار میں ، اور نہ بغیر اجازت اسے صاحب خانہ کے گھر میں اس کی مسند پر بیٹھنا چاہیے۔
مسلم نے ایک اور روایت بھی تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ نقل کی ہے:
(۲) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَؤُمُّ الْقَوْمَ اَقْرَأُہُمْ لِکِتَابِ اللّٰہِ۔ فَاِنْ کَانُوْا فِی الْقِرَائَ ۃِ سَوَائً فَاَعْلَمُہُمْ بِالسُّنَّۃِ۔ فَاِنْ کَانُوْا فِی السُّنَّۃِ سَوَائً فَاَقْدَمُہُمْ ہِجْرَۃً۔ فَاِنْ کَانُوْا فِی الْہِجْرَۃِسَوَائً فَاَقْدَمُہُمْ سِلْمًا۔۔۔ الخ
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’لوگوں کا (نماز کے لیے ) امام ایسا ہو جو قرآن سب سے زیادہ پڑھاہوا ہو۔ اگر اس میں سب برابر ہوں تو ایسے شخص کو امامت کرانی چاہیے جسے سنت رسولؐ کا زیادہ علم ہو۔ پھر اگر سنت کے علم میں برابر ہوں تو ایسا شخص امامت کرائے جس نے ہجرت پہلے کی ہو۔ پھر اگر ہجرت میں بھی برابر ہوں تو ایسا آدمی امامت کرائے جس نے اسلام پہلے قبول کیا ہو۔‘‘
دارقطنی نے ابو مسعود سے دو روایتیں نقل کی ہیں، ایک درج ذیل ہے:
(۳) عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ، قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : یَؤُمُّ الْقَوْمَ اَکْثَرُ ہُمْ قُرْاٰنًا۔ فَاِنْ کَانُوْا فِی الْقُرْآنِ وَاحِدًا فَاَقْدَمُہُمْ ہِجْرَۃً۔ فَاِنْ کَانُوْا فِی الْہِجْرَۃِ وَاحِدًا فَاَفْقَہُہُمْ فِقْہًا۔ فَاِنْ کَانَ الْفِقْہُ وَاحِدًا فَاَکْبَرُ ہُمْ سِنًّا۔(۶)
ترجمہ: حضرت ابومسعود سے روایت ہے: کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں کو نماز وہ آدمی پڑھائے جسے قرآن سب سے زیادہ آتا ہو، اگر قرآن میں سب یکساں یعنی ایک ہی حیثیت کے ہوں تو ایسا آدمی ہو جس نے ہجرت سب سے پہلے کی ہو۔ پھر اگر ہجرت میں ایک ہی مرتبہ کے ہوں تو پھر ان میں سب سے زیادہ فقیہ پڑھائے۔ اگر فقاہت میں بھی مساوی المرتبہ ہوں تو پھر ایسا آدمی پڑھائے جس کی عمر سب سے زیادہ ہو۔‘‘
امام بخاری نے کتاب الاذان کے بَابُ اِذَا اسْتَوَوْا فِی الْقِراَئَ ِۃ فَلْیَوُ مُّہُمْ اَکْبَرُ ہُمْ کے تحت مالک بن حویرث سے ایک روایت نقل کی ہے:
(۴) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ:حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَی النَّبِیِّ ﷺ وَنَحْنُ شَبَبَۃٌ فَلَبِثْنَا عِنْدَہُ نَحْوًا مِنْ عِشْرِیْنَ لَیْلَۃً وَکَانَ النَّبِیُّ ﷺ رَحِیْمًا فَقَالَ: لَوْ رَجَعْتُمْ اِلیٰ بِلَادِ کُمْ فَعَلِّمْتُمُوْہُمْ مُرُوْہُمْ فَلْیُصَلُّوْا صَلَاۃَ کَذَا فِیْ حِیْنِ کَذَاوَصَلَاۃَ کَذَا فِیْ حِیْنِ کَذَا وَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَلْیُوَذِّنْ لَکُمْ اَحَدُکُمْ وَلَیَؤُمَّکُمْ اَکْبَرُکُمْ۔(۷)
ترجمہ: حضرت مالک بن حویرث بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نوجوان تھے، بیس دن رات کے لگ بھگ ہم آپ کے پاس ٹھہرے۔ نبی ﷺ نہایت رحیم و شفیق تھے، اس لیے ارشاد فرمایا:’’اگر تم لوگ اپنے وطن کو واپس پلٹ جائو اور انہیں جا کر تعلیم دو اور انہیں بتائو کہ فلاں نماز، فلاں وقت اور فلاں نماز فلاں وقت پڑھیں اور جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے ایک صاحب اذان کہے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو، وہ امامت کرائے۔‘‘

(۲)اکثریت کا نمائندہ

حکم ہے کہ امام ایسا شخص نہ ہو جس سے جماعت کی اکثریت ناراض ہو، یوں تو تھوڑے بہت مخالف کس کے نہیں ہوتے۔ لیکن اگر جماعت میں زیادہ تر آدمی کسی شخص سے نفرت رکھتے ہوں تو اسے امام نہ بنایا جائے۔( یہاں پر سردار قوم کے انتخاب کا ایک قاعدہ بتا دیا گیا۔)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْاَعْلٰی بْنُ وَاصِلٍ الْکُوْفِیُّ، نَامُحَمَّدُبْنُ قَاسِمٍ اَلْاَسَدِیُّ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ دَلْہَمٍ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، یَقُوْلُ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثَلَاثَۃً رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَہُمْ لَہُ کَارِہُوْنَ، وَامْرَاۃٌ بَاتَتْ وَزَوْجُہَا عَلَیْہَا سَاخِطٌ، وَرَجُلٌ سَمِعَ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ ثُمَّ لَمْ یُجِبْ۔ (۸)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک کہتے ہیں ’’رسول اللہ ﷺ نے تین آدمیوں پر لعنت کی ہے۔ ایک وہ آدمی جو مقتدیوں کی ناپسندیدگی کے باوجود ان کا امام بنے، دوسرے وہ عورت جو ایسی حالت میں رات گزارے کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو، اور تیسرے وہ آدمی جس نے حی علی الفلاح کی ندا سنی اور نماز کے لیے حاضر نہ ہوا۔‘‘
ـــــــ وَفِی الْبَابِ۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَطَلَحَۃَ، وَعَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، وَاَبِیْ اُمَامَۃَ۔ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: حَدِیْثُ اَنَسٍ لَایَصِحُّ، لِاَنَّہٗ قَدْرَوَی ہٰذَا عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ مُرْسَلٌ۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْ عِیْسیٰ وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ تَکَلَّمَ فِیْہِ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَضَعَّفَہٗ وَلَیْسَ بِالْحَافِظِ۔
ـــــــ وَقَدْ کَرِہَ قَوْمٌ مِّنْ اَہْلِ الْعِلْمِ اَنْ یَؤمَّ الرَّجُلُ قَوْمًا وَہُمْ لَہُ کارہُوْنَ، فَاِذَا کَانَ الْاِمَامُ غَیْرَ ظَالِمٍ فَاِنَّمَا الْاِثْمُ عَلیٰ مَنْ کَرِہَہُ، وَقَالَ اَحْمَدُ وَاِسْحَاقُ فِیْ ہٰذَا: اِذَا کَرِہَ وَاحِدٌ اَوْ اِثْنَانٌ اَوْثَلَاثَۃٌ فَلَا بَأْسَ اَنْ یُصَلِّیَ بِہِمْ حَتّٰی یَکْرَہَہٗ اَکْثَرُ الْقَوْمِ۔
ـــــــکچھ اہل علم نے اس کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے کہ ایسا آدمی لوگوں کی امامت کرائے جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ہاں اگر امام ظالم نہ ہوں تو پھر گناہ اس پر جو اسے ناپسند کرتا ہے۔ امام احمد اور امام اسحاق کی اس بارے میں رائے یہ ہے کہ ناپسند کرنے والے جب ایک یادو یاتین آدمی ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں جب تک کہ اکثریت اسے ناپسند نہ کرے۔
(۲) اَبُوْاُمَامَۃَ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ثَلَاثَۃٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُہُمْ اٰذَانَہُمْ۔ اَلْعَبْدُ الْاٰبِقُ حَتّٰی یَرْجِعَ ، وَامْرَاَۃٌ بَاتَتْ وَزَوْجُہَا عَلَیْہَا سَاخِطٌ ، وَاِمَامُ قَوْمٍ وَہُمْ لَہُ کَارِہُوْنَ۔(۹)
ترجمہ:حضرت ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تین آدمی ایسے ہیں کہ ان کی نماز ان کے کانوں سے آگے تجاوز نہیں کرتی۔ ایک بھگوڑا غلام تاآنکہ واپس آقا کے پاس آجائے ۔ دوسرے وہ عورت جس نے رات ایسی حالت میں گزاری کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو۔ تیسرے وہ امام ،قوم جسے ناپسند کرتی ہو۔‘‘
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ غَرِیْبٌ مِنْ ہٰذَا الْوَجْہِ، وَاَبُوْ غَالِبٍ اِسْمُہٗ حَزَوَّرَ۔
ابودائود اور ابن ماجہ نے ابوامامہ سے جو روایت نقل کی ہے اس کے الفاظ ہیں:
(۳) ثَلَا ثَۃٌ لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُمْ صَلوٰۃً: مَنْ تَقَدَّمَ قَوْمًا وَہُمْ لَہُ کَارِہُوْنَ۔ (۱۰)
ترجمہ: ’’ تین آدمی ایسے ہیں جن کی نماز کو شرف قبولیت نہیں بخشاجاتا۔ ایک وہ آدمی جو آگے بڑھ کر لوگوں کو نماز پڑھائے حالانکہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں۔‘‘
ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس کے حوالہ سے ایک اور روایت بھی نقل کی ہے:
(۴) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثَلَاثَۃٌ لَا تَرْتَفِعُ صَلَاتُہُمْ فَوْقَ رُئُ وْسِہِمْ شِبْرًا: رَجُلٌ اَمَّ قَوْمًا وَہُمْ لَہُ کَارِہُوْنَ۔۔۔ الخ۔ (۱۱)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’تین آدمی ایسے ہیں جن کی نماز ان کے سروں سے ایک بالشت بھی اونچی اٹھائی نہیں جاتی (ان میں سے ایک) وہ آدمی ہے جو لوگوں کو نماز پڑھائے اس حال میں کہ وہ اسے پسند نہ کرتے ہوں۔‘‘

(۳)مقتدیوں کا ہمدرد ہو

۳۹۔’’نبی ﷺ کو نماز پڑھاتے میں کسی بچے کے رونے کی آواز آجاتی تو نماز مختصر کردیتے تھے تاکہ اگر بچے کی ماں جماعت میں شریک ہے، تو اسے تکلیف نہ ہو۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ: نَا مَالِکٌ، عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ، قَالَ: اِذَا صَلّٰی اَحَدُ کُمْ لِلنَّاسِ فَلْیُخَفِّفْ فَاِنَّ فِیْہِمُ الضَّعِیْفَ، وَالسَّقِیْمَ، وَالْکَبِیْرَ وَاِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمْ لِنَفْسِہِ فَلْیُطَوِّلْ مَاشَآئَ۔(۱۲)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ تم میں سے اگر کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تواُسے مختصر نماز کردینی چاہیے۔ کیونکہ ان میں کمزور بھی ہیں، بیمار بھی ہیں اور بوڑھے بھی ہیں، البتہ جب تم میں سے کوئی تنہا نماز پڑھ رہا ہو، تو جتنی چاہے لمبی کرلے۔‘‘
ایک اور روایت میں ہے:
(۲) عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! اِنِّی لَاَتَاَخَّرُ عَنِ الصَّلوٰۃِ فِی الْفَجْرِ مِمَّا یُطِیْلُ بِنَا فُلَانٌ فِیْہَا، فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا رَاَیْتُہُ غَضِبَ فِیْ مَوْعِظَۃٍ کَانَ اَشَدَّ غَضْبًا مِنْہُ یَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ: یٰاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ مِنْکُمُ مُنَفِّرِیْنَ فَمَنْ اَمَّ مِنْکُمُ النَّاسَ فَلْیَتَجَوَّزْ، فَاِنَّ خَلْفَہُ الضَّعِیْفَ، وَالْکَبِیْرَ، وَذَاالْحَاجَۃِ۔(۱۳)
ترجمہ:حضرت ابومسعودؓ سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اپنا واقعہ سنایا کہ میں فلاں صاحب کی طویل قراء ت کی وجہ سے نماز فجر میں شمولیت سے پیچھے رہتا ہوں، (یہ واقعہ سن کر) رسول اللہ ﷺ اتنے ناراض ہوئے کہ اس سے پہلے وعظ و نصیحت کے مواقع پر کبھی میں نے اتنا ناراض نہیں دیکھا تھا۔ پھر ارشاد فرمایا: ’’لوگو! تم میں یقینا نفرت پیدا کرنے والے ہیں۔ لہٰذا تم میں سے جو کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے اسے چاہیے کہ نماز مختصر کردے کیونکہ اس کے پیچھے کمزور بھی ہوتے ہیں ، بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں جلدی نماز پڑھ کر اپنی حاجت کے لیے جانا ہوتا ہے۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ زُرَیْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِیْدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ، اَنَّ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، حَدَّثَہُ اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِنِّیْ لَاَدْخُلُ فِی الصَّلوٰۃِ وَاَنَا اُرِیْدُ اِطَالَتَہَا، فَاَسْمَعُ بُکَآئَ الصَّبِیِّ فَاَتَجَوَّزُ فِیْ صَلَاتِیْ مِمَّا اَعْلَمُ مِنْ شِدَّۃِ وَجْدِ اُمِّہِ مِنْ بُکائِہِ ۔(۱۴)
ترجمہ:حضرت انس بن مالک نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ کہ میں نماز میں داخل ہوچکا ہوتا ہوں، ارادہ بھی ہوتا ہے کہ قراء ت ذرا لمبی کروں، مگر بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں، تو اپنی نماز مختصر کردیتا ہوں، اس وجہ سے کہ مجھے اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ بچے کے رونے کی وجہ سے (شریک جماعت ) ماں کو تکلیف ہوگی۔‘‘
حضرت انس بن مالک سے مروی دوسری روایت:
(۴) یَقُوْلُ مَا صَلَّیْتُ وَرَآئَ اِمَامٍ قَطُّ اَخَفَّ صَلَاۃً وَلَااَتَمَّ مِنَ النَّبِیِّ ﷺ وَاِنْ کَانَ لَیَسْمَعُ بُکَآئَ الصَّبِیِّ فَیُخَفِّفُ مَخَافَۃَ اَنْ تُفْتَنَ اُمُّہُ۔(۱۵)
ترجمہ:حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی امام کے پیچھے کبھی ایسی نماز نہیں پڑھی جس کی نماز نبی ﷺ کی نماز سے مختصر بھی ہو اور پوری بھی ہو۔ (اس کے باوجود) آپ اگر بچے کے رونے کی آواز سنتے، تو نماز مختصر کردیتے، اس اندیشہ کے پیش نظر کہ کہیں اس کی ماں فتنہ کاشکار نہ ہوجاے۔‘‘ (آزمائش میں نہ پڑجائے)۔
بخاری کی ایک روایت میں ہے:
(۵) فَاَتَجَوَّزُ فِیْ صَلاَ تِیْ کَرَاہِیَۃَ اَنْ اَشُقَّ عَلیٰ اُمِّہٖ۔
تشریح: حکم ہے کہ جو شخص جماعت کا امام بنایا جائے، وہ نماز ایسی پڑھائے کہ جماعت کے ضعیف ترین آدمی کو بھی تکلیف نہ ہو۔ محض جو ان ، مضبوط، تندرست اور فرصت والے آدمیوں کو ہی پیش نظر رکھ کر لمبی لمبی قراء ت اور لمبے لمبے رکوع اور سجدے نہ کرنے لگے، بلکہ یہ بھی دیکھے کہ جماعت میں بوڑھے بھی ہیں، بیمار بھی ہیں، کمزور بھی ہیں اور ایسے مشغول بھی ہیں جو جلدی نماز پڑھ کر اپنے کام پر واپس جانا چاہتے ہیں، نبی ﷺ نے اس معاملہ میں یہاں تک رحم اور شفقت کا نمونہ پیش فرمایا ہے کہ نماز پڑھاتے میں کسی بچے کے رونے کی آواز آجاتی تو نماز مختصر کردیتے تھے۔ تاکہ اگر بچے کی ماں جماعت میں شریک ہے تو اسے تکلیف نہ ہو۔ یہ گویا سردار قوم کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ جب سردار بنایا جائے تو قوم کے اندر اس کا طرز عمل کیسا ہونا چاہیے۔

(۴) معذوری میں جگہ خالی کردے

حکم ہے کہ امام کو اگر نماز پڑھاتے میں کوئی حادثہ پیش آجائے ،جس کی وجہ سے وہ نماز پڑھانے کے قابل نہ رہے تو فوراً ہٹ جائے اور اپنی جگہ پیچھے کے آدمی کو کھڑا کردے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ سردار قوم کا بھی یہی فرض ہے، جب وہ سرداری کے قابل اپنے آپ کو نہ پائے تو اسے خود ہٹ جانا چاہیے اور دوسرے اہل آدمی کے لیے جگہ خالی کردینی چاہیے۔ اس میں نہ شرم کا کچھ کام ہے اور نہ خود غرضی کا

(۵) امام کی کامل اطاعت

۴۰۔ حکم ہے کہ امام کے فعل کی سختی کے ساتھ پابندی کرو۔ اس کی حرکت سے پہلے حرکت کرناسخت ممنوع ہے، یہاں تک کہ جو شخص امام سے پہلے رکوع یا سجدے میں جائے اس کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ وہ گدھے کی صورت میں اٹھایا جائے گا۔ یہاں گویا قوم کو سبق دیا گیا ہے کہ اسے اپنے سردار کی اطاعت کس طرح کرنی چاہیے۔
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ، قَالَ : سَمِعْتُ اَبَاہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَمَایَخْشٰی اَحَدُ کُمْ اَوْ اَلَایَخْشٰی اَحَدُ کُمْ اِذَا رَفَعَ رَاْسَہُ قَبْلَ الْاِمَامِ اَنْ یَجْعَلَ اللّٰہُ رَاْسَہُ رَاْسَ حِمَارٍ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ صُوْرَتَہُ صُوْرَۃَ حِمَارٍ۔(۱۶)
ترجمہ: محمد بن زیاد نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہؓ کو نبی ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بیان کرتے سنا ہے: ’’ آیا تم میں سے کسی کو یہ خوف لاحق نہیں ہوتا کہ اگر اس نے اپنا سر امام سے پہلے اٹھالیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کا سر بنادے یا اس کی شکل و صورت بگاڑ کر گدھے ایسی شکل بنادے۔‘‘
موارد الظماٰن میں ایک اور روایت:
(۲)عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَمَا یَخْشٰی الَّذِیْ یَرْفَعُ رَأْسَہٗ قَبْلَ الْاِمَامِ اَنْ یُّحَوِّلَ اللّٰہُ رَأْسَہٗ رَأْسَ الْکَلْبِ۔(۱۷)

(۶) غلطی پر تنبیہ

امام اگر نماز میں غلطی کرے، مثلاً جہاں اسے بیٹھنا چاہیے تھا وہاں کھڑا ہوجائے، یا جہاں کھڑا ہونا چاہیے تھا وہاں بیٹھ جائے، تو حکم ہے کہ سبحان اللہ کہہ کر اسے غلطی پر متنبہ کردو۔ سبحان اللہ کے معنی یہ ہیں ’’ اللہ پاک ہے‘‘ امام کی غلطی پر سبحان اللہ کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ غلطی سے تو صرف اللہ ہی پاک ہے۔ تم انسان ہو، تم سے بھول چوک ہوجانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہ طریقہ ہے امام کو ٹوکنے کا۔ اور جب اس طرح سے اسے ٹوکا جائے تو اس کو لازم ہے کہ بلا کسی شرم و لحاظ کے اپنی غلطی کی اصلاح کرے۔ البتہ اگر ٹوکے جانے کے باوجود امام کو یقین ہو کہ اس نے صحیح فعل کیا ہے تو وہ اپنے یقین کے مطابق عمل کرسکتا ہے اور اس صورت میں جماعت کا کام یہ ہے کہ اس عمل کو غلط جاننے کے باوجود اس کا ساتھ دے۔ نماز ختم ہوجانے کے بعد مقتدی حق رکھتے ہیں کہ امام پر اس کی غلطی ثابت کریں اور نماز دوبارہ پڑھانے کا اس سے مطالبہ کریں۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ اَبِیْ حَازِمِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ سَہْلِ ابْنِ سَعْدٍ السَّاعدِیِّ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ذَہَبَ اِلیٰ بَنِیْ عَمْرِ وْبْنِ عَوْفٍ لِیُصْلِحَ بَیْنَہُمْ، فَحَانَتِ الصَّلَاۃُ، فَجَائَ الْمُوَذِّنُ اِلیٰ اَبِیْ بَکْرٍ، فَقَال: اَتُصَلِّیْ لِلنَّاسِ، فَاُقِیْمُ، قَالَ: نَعَمْ، فَصَلّٰی اَبُوْبَکْرٍ، فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَالنَّاسُ فِی الصَّلوٰۃِ، فَتَخَلَّصَ حَتّٰی وَقَفَ فِی الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ، وَکَانَ اَبوْبَکْرٍ لَا یَلْتَفِتُ فِیْ صَلَا تِہِ فَلَمَّا اَکْثَر النَّاسُ التَّصْفِیْقَ الْتَفَتَ، فَرَاٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ، فَاَشَارَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنِ امْکُثْ مَکَانَکَ فَرَفَعَ اَبُوْ بَکْرٍ یَدَیْہِ فَحَمِدَ اللّٰہَ عَلیٰ مَااَمَرَہُ بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ ذٰلِکَ ثُمَّ اسْتَاخَرَ اَبُوْ بَکْرٍ حَتّٰی اسْتَوٰی فِی الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَصَلّٰی فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: یَا اَبَابَکْرٍ! مَا مَنَعَکَ اَنْ تَثْبُتَ اِذْاَمَرْتُکَ؟ فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ: مَا کَانَ لِابْنِ اَبِیْ قُحَافَۃَ اَنْ یُّصَلِّیَ بَیْنَ یَدَی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَالِیْ رَاَیْتُکُمْ اَکْثَرْتُمُ التَّصْفِیْقَ مَنْ نَابَہُ شَیْٔفِیْ صَلَاتِہ فَلْیُسَبِّحْ فَاِنَّہُ اِذَا سَبَّحَ اُلْتُفِتَ اِلَیْہِ وَاِنَّمَا التَّصْفِیْقُ لِلنِّسَائِ۔(۱۸)
ترجمہ: حضرت سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنی عمرو بن عوف کے ہاں ان میں صلح کرانے تشریف لے گئے، تو وہاں نماز کا وقت ہوگیا (آپ واپس تشریف نہ لاسکے) تو موذن حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آکر کہنے لگے اگر آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو اقامت کہہ دیتا ہوں۔ ابوبکر ؓ نے کہا: ہاں۔ حضرت ابوبکرؓ نے لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کی، اسی دوران رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لے آئے ، لوگ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ صفوں سے گزر کر پہلی صف میں پہنچ گئے تو لوگوں نے تالی پیٹنا شروع کردی۔ حضرت ابوبکرؓ نماز کی حالت میں ادھر ادھر ذرہ برابر بھی التفات نہیں کیا کرتے تھے۔ لیکن جب دیکھا کہ اکثر لوگ تالیاں بجارہے ہیں تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ رسول اللہ (تشریف لے آئے ہیں) آپؐ نے حضرت ابوبکرؓ کی طرف اپنے دست مبارک سے اشارہ فرمایا کہ تم اپنی جگہ کھڑے رہو، مگر حضرت ابوبکرؓ کو رسول اللہ ﷺ نے جو یہ حکم دیا (کہ اپنی جگہ پر کھڑے رہو اور نماز پڑھاؤ) اس کے لیے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کرکے اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا اور پیچھے ہٹ گئے (یعنی پچھلی صف میں آگئے) اور رسول اللہ ﷺ پہلی صف میں تشریف لے گئے۔ حضور اکرم ﷺ نے نماز پڑھائی ۔ جب نماز سے فارغ ہو کر منہ پھیرا تو حضرت ابوبکرؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا: جب میں نے تمہیں اے ابوبکرؓ اپنی جگہ کھڑے رہنے کا حکم دیا تو کس چیز نے تجھے اپنے مقام پر کھڑا رہنے سے منع کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ زیب ہی نہیں دیتا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے آگے نماز پڑھے اور آپؐ نے مقتدیوں کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے فرمایا: کیا ہوا کہ میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم نے تالی بہت بجائی (پیٹی) ہے (یاد رکھو!) نماز میں جب کسی کو کوئی ناگہانی چیز پیش آجائے تو اسے سبحان اللہ کہنا چاہیے۔ اس لیے کہ جب سبحان اللہ کہے گا تو اس کی جانب متوجہ ہوا جائے گا۔ تالی بجانا تو عورتوں کے لیے ہے۔‘‘ (ران پر ہاتھ مارکر تالی بجانا)۔
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی روایت:
(۲) اَبُوْہُریْرَۃَ، یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَلتَّسْبِیْحُ لِلرِّجَاِل وَالتَّصْفِیْقُ لِلنِّسَآئِ۔(۱۹)

(۷)معصیت میں اطاعت نہیں

امام کے ساتھ جماعت کا یہ برتائو صرف ان حالات کے لیے ہے جب کہ غلطی چھوٹی چھوٹی باتوں میں ہو۔ لیکن اگر امام سنت نبویؐ کے خلاف نماز کی ترکیب بدل دے، یا نماز میں قرآن کو جان بوجھ کر غلط پڑھے، یا نماز پڑھاتے ہوئے کفر و شرک یا صریح گناہ کا ارتکاب کرے تو جماعت کا فرض ہے کہ اسی وقت نماز توڑ کر اس امام سے الگ ہوجائے۔ (خطبات ، باب سوم:امامت کے۔۔۔)

مشینی امامت

ریڈیو پر ایک شخص کی امامت میں دور دراز کے مقامات کے لوگوں کا نماز پڑھنا یا گرامو فون کے ذریعہ سے نماز کا ریکارڈ بنانا اور پھر کسی جماعت کا اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا، اصولاً صحیح نہیں ہے۔ اس کے وجوہ پر آپ غور کریں تو خود آپ کی سمجھ میں آسکتے ہیں۔
امام کا کام محض نماز پڑھانا ہی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک طرح سے مقامی جماعت کا رہنما ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ اپنے مقام کے لوگوں سے شخصی ارتباط قائم کرے۔ ان کے اخلاق ، معاملات اور مقامی حالات پر نظر رکھے اور حسب موقع و ضرورت اپنے خطبوں میں یا دوسرے مفید مواقع پر اصلاح و ارشاد کے فرائض انجام دے۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلمانوں کی دوسری چیزوں کے ساتھ اس ادارہ میں بھی اب انحطاط رونما ہوگیا ہے لیکن بہر حال نفس ادارہ کو تو اپنی اسی صورت پر قائم رکھنا ضروری ہے۔ اگر ریڈیو پر نمازیں ہونے لگیں۔ اگر گراموفون سے امامت و خطابت کا کام لیا جانے لگے تو امامت کی اصل روح ہمیشہ کے لیے فنا ہوجائے گی۔
نماز دوسرے مذاہب کی عبادتوں کی طرح محض ’’پوجا‘‘ نہیں ہے۔ لہٰذا اس کی امامت سے شخصیت کو خارج کردینا اور اس میں ’’مشینیت ‘‘ پیدا کردینا، دراصل اس کی قدر و قیمت کو ضائع کردینا ہے۔
علاوہ بریں اگر کسی مرکزی مقام سے کوئی شخص ریڈیو، یا گراموفون کے ذریعہ سے امامت و خطابت کے فرائض انجام دے اور مقامی امامتوں کا خاتمہ کردیا جائے، تو یہ ایک ایسی مصنوعی یکسانیت ہوگی جو اسلام کی جمہوری روح کو ختم کردے گی اور اس کی جگہ ڈکٹیٹر شپ کو ترقی دے گی۔ یہ چیز ان نظامات کے مزاج سے مناسبت رکھتی ہے جن میں پوری پوری آبادیوں کو ایک مرکز سے کنٹرول کرنے اور تمام لوگوں کو ایک لیڈر کا بالکلیہ تابع بنا دینے کا اصول اختیار کیا گیا ہے۔ جیسے فاشزم اور کمیونزم۔ لیکن اسلام ایک مرکزی امام، یا امیر کے اقتدار کو ایسا ہمہ گیر بنانا نہیں چاہتا کہ مقامی لوگوں کی باگ ڈور بالکل اس کے ہاتھوں میں چلی جائے اور خود ا ن کے اندر اپنے مفاد کو سوچنے اور اپنے معاملات کو سمجھنے اور ان کو طے کرنے کی صلاحیت ہی نشوونما نہ پاسکے۔
نبی کریم ﷺ کی قرن خیر القرون میں ’’امام‘‘ محض پجاری کی حیثیت نہیں رکھتے تھے جن کا کام چند مذہبی مراسم کو ادا کردینا ہو۔ بلکہ وہ مقامی لیڈر کے طور پر مقرر کیے جاتے تھے۔ ان کا کام تعلیم و تزکیہ اور اصلاح تمدن و معاشرت تھا اور مقامی جماعتوں کو اس غرض کے لیے تیار کرنا تھا کہ وہ بڑی اور مرکزی جماعت کی فلاح و بہبود میں اپنی قابلیتوں کے مطابق حصہ لیں۔ ایسے اہم مقاصد ریڈیو سیٹ، یا گراموفون سے کیوںکر پورے ہوسکتے ہیں۔ آلات، انسان کا بدل کبھی نہیں ہوسکتے۔ صرف مددگار ہوسکتے ہیں۔ ان وجوہ سے میں سمجھتا ہوں کہ ’’مشینی امامت‘‘ اسلام کی روح کے بالکل خلاف ہے۔
(رسائل و مسائل دوم،فقہی مسائل:مشینی امامت)

ماخذ

(۱) ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب فی المواقیت۔ ٭ ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ عن رسول اللّٰہ ﷺ، باب ماجآء فی مواقیت الصلوٰۃ عن النبی۔٭ دارقطنی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب ذکر بیان المواقیت الخ۔ ٭ المستدرک،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب اوقات الصلوات الخمس ۔ ٭ السنن الکبریٰ،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب جماع ابواب المواقیت۔
(۲) بخاری،ج۱، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملٰئکۃ۔٭مسلم،ج۱،کتاب المساجد، باب اوقات الصلوات الخمس۔٭ ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب فی المواقیت۔ ٭ ترمذی ،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجآء فی مواقیت الصلوٰۃ عن النبی ﷺ مختصر۔٭ ابن ماجہ: کتاب الصلوٰۃ، ابواب مواقیت الصلوٰۃ۔٭موطا امام مالک ج۱، ص ۱۴، وقوت الصلوٰۃ۔٭مسند احمد، ج۱، ص۳۳۳:۳۵۴۔ ج۳، ص۳۰۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی، ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب جماع ابواب المواقیت۔
(۳) ترمذی، ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی مواقیت الصلوۃ عن النبی ﷺ ٭ نسائی : کتاب المواقیت: باب من ادرک رکعتین من العصر۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب آخر وقت الظہر و اوّل وقت العصر۔
(۴) دارقطنی،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب امامۃ جبرئیل۔٭السنن الکبریٰ،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب وقت المغرب۔
(۵) مسلم،ج۱،کتاب المساجد و مواضع الصلوٰۃ۔باب من أحق بالامامۃ٭ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب من احق بالامامۃ۔ ٭ ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب من احق بالامامۃ۔٭نسائی،ج۲،کتاب الامامۃ، باب من احق بالامامۃ۔٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب من احق بالامامۃ۔ ٭ مسند احمد، ج ۴، ص۱۱۸-۱۲۱، ج ۵، ص ۲۷۲۔
(۶) دارقطنی،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب من احق بالا مامۃ۔
(۷) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب اذا استووا فی القرآن فلیو مہم اکبر ہم۔ ٭ دارمی: کتاب الصلوٰۃ، باب ۴۲من احق بالامامۃ۔
(۸) ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء من أم قوما وہم لہ کارہون۔
(۹) ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء من أم قوماً وہم لہ کارہون۔
(۱۰) ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الرجل یؤم القوم وہم لہ کارہون٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ۴۳من أم قوماً وہم لہ کارہون۔
(۱۱) ابن ماجہ : کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب۴۳ من ام قوماً وہم لہ کارہون۔
(۱۲) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب اذا صلی لنفسہ فلیطول ماشاء۔ ٭ نسائی:ج۲، کتاب الامامۃ، باب ماعلی الامام من التخفیف۔
(۱۳) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب من شکا امامہ اذا طول۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب من أم قوماً فلیخفف۔
(۱۴) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب من اخف الصلوٰۃ عند بکاء الصبی۔٭مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب امر الائمۃ بتخفیف الصلوٰۃ فی تمام٭ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب تخفیف الصلوٰۃ للأمریحدث٭ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء ان النبی ﷺ قَالَ انی لَاَسْمع بکاء الصبی فی الصلوٰۃ فاخفف۔٭ نسائی،ج۲،کتاب الامامۃ، باب ماعلی الامام من التخفیف۔ نسائی نے اِنِّیْ لَاَقُوْمُ فِی الصَّلوٰۃِ فَاَسْمَعُ بُکَائَ الصَّبِیِّ فَأَوجز فِیْ صَلَاتِیْ کَرَاہِیَۃَ اَنْ اَشُقَّ عَلیٰ اُمہ نقل کیا ہے۔٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب الامام یتخفف الصلوٰۃ اذا حدث امر۔٭مسند احمد، ج۳، ص ۱۰۹، ۱۵۳، ۱۵۶، ۱۸۲، ۱۸۸، ۲۰۵، ۲۳۳، ۲۴۰، ۲۵۷۔
(۱۵) بخاری،ج۱،کتاب الاذان: باب من اخف الصلوٰۃ عند بکاء الصبی۔٭مسلم کتاب الصلوٰۃ، باب امر الائمۃ بتخفیف الصلوٰۃ فی تمام۔ ٭ ترمذی: ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء ان النبی ﷺ قاَل انی لا سمع بکاء الصبی فی الصلوٰۃ فاخفف۔٭مسند احمد،ج۲،ص۴۳۲۔
(۱۶) ٭بخاری،ج۱،کتاب الاذان: باب اثم من رفع راسہ قبل الامام۔ ٭ مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب تحریم سبق الامام برکوع او سجود ۔۔۔ الخ۔٭ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التشدید فیمن یرفع قبل الامام او یضع قبلہ۔٭ ترمذی، ج۱، ابواب السفر، باب ماجاء من التشدید فی الذی یرفع رأسہ قبل الامام، حدیث حسن صحیح۔٭نسائی،ج۲،کتاب الامامۃ، باب مبادرۃ الامام۔ اس میں ’’الایخشی‘‘ ہے۔٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب النہی ان یسبق الامام بالرکوع والسجود۔٭دارمی: باب النہی عن مبادرۃ الائمۃ بالرکوع والسجود۔ ٭ السنن الکبریٰ،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب اثم من رفع راسہ قبل الامام عن ابی ہریرہ۔
(۱۷) موارد الظمٰان: باب فیمن رفع راسہ قبل الامام۔
(۱۸) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب من دخل لیؤم الناس فجاء الامام الاول، فتأخر الاول أولم یتأخر جازت صلوٰتہ۔ مسلم،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب تقدم الجماعۃ من یصلی بہم اذا تأخر الامام۔۔۔ الخ۔٭ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التصفیق فی الصلوٰۃ۔٭ نسائی، ج۲، کتاب الامامۃ، باب اذا تقدم الرجل من الرعیۃ ثم جاء الوالی ہل یتاخر اورج۳، پر بھی ہے٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول اذا نابہ شییٔ فی صلوٰتہ۔٭موطا امام مالک،ج۱، الالتفات والتصفیق عندالحاجۃ فی الصلوٰۃ عن سہل بن سعد الساعدی۔
(۱۹) مسلم، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب تسبیح الرجال وتصفیق النساء اذانا بہما شیئی فی الصلوٰۃ۔٭ ابوداؤد، ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب التصفیق فی الصلوٰۃ۔٭ترمذی،ج۱، ابواب المواقیت، باب ماجاء ان التسبیح للرجال والتصفیق للنساء۔٭نسائی،ج۳، کتاب السہو، باب التصفیق فی الصلوٰۃ۔ ج۲،کتاب الامامۃ، باب اذا تقدم الرجل من الرعیۃ ثم جاء الوالی ہل یتاخر۔٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب التسبیح للرجال فی الصلوٰۃ والتصفیق للنساء ۔ ٭دارمی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب التسبیح للرجال والتصفیق للنسآء۔٭ السنن الکبریٰ،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول اذا نابہ شئی فی صلوٰۃ۔٭مسند احمدج۱،ص۲۹۰۔ ۵۴۱۔ ج ۲، ص ۲۴۱، ۲۶۱، ۳۱۷، ۳۷۶، ۴۳۲، ۴۴۰، ۴۷۳، ۴۷۹، ۴۹۲، ۵۰۷، ۵۲۹۔ ج ۳، ص ۳۴۰، ۳۴۸، ۳۵۷۔ ج ۵ ص ۳۳۰، ۳۳۳۔

فصل :۸ تلاوت

حضوؐر کا طرزِ تلاوت۔۔۔۔

۴۱۔رسول اللہ ﷺ کی قراء ت کا طریقہ حضرت انسؓ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپؐ الفاظ کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے۔ مثال کے طور پر انہوں نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر بتایا کہ آپؐ اللہ ، رحمن اور رحیم کو مد کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔
(بخاری)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِیْرُ بْنُ حَازِمٍ الْاَزْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ، قَالَ: سَاَلْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ عَنْ قِرَائَ ۃِ النَّبِیِّ ﷺ ، فَقَالَ: کَانَ یَمُدُّمَدًّا۔(۱)
ترجمہ: حضرت قتادہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انسؓبن مالک سے نبی ﷺ کی قراء ت کا طریقہ پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ’’آپؐ الفاظ کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے۔‘‘
 حضرت انسؓ سے مروی دوسری روایت:
(۲)عَنْ قَتَادَۃَ، قَالَ: سُئِلَ اَنَسٌکَیْفَ کَانَتْ قِرَائَ ۃُ النَّبِیِّ ﷺ ؟ فَقَالَ: کَانَتْ مَدًّا ثُمَّ قَرَأَ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ یَمُدُّ بِبِسْمِ اللّٰہِ وَیَمُدُّ بِالرَّحْمٰنِ وَیَمُدُّ بِالرَّحِیْمِ۔(۲)
ترجمہ:حضرت قتادہ سے منقول ہے کہ انس بن مالک سے نبی ﷺ کی قراء ت کا طریقہ پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا   ’’آپ الفاظ کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے۔ پھر انہوں نے  بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ خود پڑھ کر بتایا کہ حضور ﷺ بسم اللہ،  رحمن اور رحیم کو مد کے ساتھ پڑھتے تھے۔‘‘
نسائی میں ہے:
(۳)عَنْ قَتَا دَۃَ قَالَ: سَاَلْتُ اَنَسَاً کَیْفَ کَانَتْ قِرَائَ ۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: کَانَ یَمُدُّ صَوْتَہُ مَدًّا۔(۳)
ترجمہ:  حضرت قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک سے رسول اللہ ﷺ کی قراء ت کا طریقہ پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آپؐ اپنی آواز کو اچھی طرح کھینچتے تھے۔
۴۲۔حضرت ام سلمہؓ سے یہی سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ حضورؐ ایک ایک آیت کو الگ الگ پڑھتے اور ہر آیت پر ٹھہرتے جاتے تھے، مثلاً  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ پڑھ کر رک جاتے ۔ پھر اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پر ٹھیرتے اور اس کے بعد رک کر مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کہتے۔           (مسند احمد ، ابودائود، ترمذی)
 حضرت ام سلمہؓ سے مروی روایت:
تخریج: عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ اَنَّہَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَائَ ۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، فَقَالَتْ: کَانَ یَقْطَعُ قِرَاَء تَہُ آیَۃً آیَۃً۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔
ترجمہ: حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہ ﷺ کی قراء ت کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ آپؐ ہر آیت کو جدا جدا کرکے پڑھتے تھے۔ مثلاً بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ (یہاں ٹھہرتے) پھراَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ  (یہاں ٹھہرتے) مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ (یہاں ٹھہرتے)۔
۴۳۔ دوسری ایک روایت میں حضرت ام سلمہؓ بیان فرماتی ہیں کہ حضوؐر ایک ایک لفظ واضح طور پر پڑھاکرتے تھے۔ ‘‘
          (ترمذی ، نسائی)
تخریج: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ خَالِدِبْنِ مُوْہِبٍ الرَّمَلِیُّ، ثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنْ یَعْلیٰ بْنِ مَمْلَکٍ، اَنَّہُ سَاَلَ اُمَّ سَلَمَۃَ عَنْ قِرَائَ ۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَصَلَاتِہِ، فَقَالَتْ: وَمَا لَکُمْ وَصَلَاتَہُ؟کَانَ یُصَلِّیْ وَیَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّی ، ثُمَّ یُصَلِّیْ قَدْرَ مَانَامَ، ثُمَّ یَنَامُ قَدْرَمَا صَلَّی حَتّٰی یُصْبِحَ، وَنَعَتَتْ قِرَائَ تَہُ فَاِذَا ہِیَ تَنْعَتُ قِرَائَ تَہُ حَرْفًاحَرْفًا۔(۴)
ترجمہ: یعلی بن مملک بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہؓ سے رسول اللہ ﷺ کی قراء ت اور آپؐ کی نماز کا طریقہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپؐ کی نماز کے متعلق کیا پوچھتے ہو؟ آپؐ جتنی دیر نماز پڑھتے ، اتنی دیر سو بھی لیتے پھر (اٹھ کر) اتنی دیر نماز پڑھتے جتنی دیر آپؐ سو چکے ہوتے، پھر اتنا سو جاتے جتنی دیر نماز پڑھ چکے ہوتے۔ یہ عمل صبح تک رہتا۔ پھر انہوں نے آپؐ کی قراء ت کا طریقہ بیان فرمایا کہ ’’حضور ﷺ ایک ایک لفظ بلکہ ایک ایک حرف واضح طور پر پڑھا کرتے تھے۔‘‘
۴۴۔ حضرت حذیفہؓ بن یمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رات کی نماز میں حضورؐ کے ساتھ کھڑا ہوگیا تو آپؐ کی قراء ت کا یہ انداز دیکھا کہ جہاں تسبیح کا موقع آتا وہاں تسبیح فرماتے، جہاں دعا کا موقع آتا وہاں دعا مانگتے، جہاں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا موقع آتا، وہاں پناہ مانگتے۔                      (مسلم، نسائی)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرٍ اَبِیْ شَیْبَۃَ قَالَ: نَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ نُمَیْرٍ وَاَبُوْ مُعَاوِیَۃَ ح  وَحَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ جَمِیْعًا عَنْ جَرِیْرٍ۔ کُلُّہُمْ عَنِ الْاَعْمَشٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ وَاللَّفْظُ لَہُ قَالَ نَا اَبِیْ قَالَ: نَا الاَعْمَشُ عَنْ سَعْدِبْنِ عُبَیْدَۃَ، عَنْ الْمَسْتَوْرِدِبْنِ الْاَحْنَفِ ، عَنْ صِلَۃَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَیْفَۃَ، قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ ذَاتَ لَیْلَۃٍ۔ فَافْتَتَحَ الْبَقَرَۃَ فَقُلْتُ : یَرْکَعُ عِنْدَ الْمِائَۃِ، ثُمَّ مَضیٰ فَقُلْتُ: یُصَلِّیْ بِہَا فِیْ رَکْعَۃٍ، فَمَضیٰ۔ فَقُلْتُ : یَرْ کَعُ بِہَا ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَآئَ فَقَرَاَہَا۔ ثُمَّ افْتَتَحَ اٰلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَ ہَا یَقْرَاُ مُتَرَ سِّلًا۔ اِذَا مَرَّ بِاٰیَۃٍ فِیْہَا تَسْبِیْحٌ سَبَّحَ۔ وَاِذَا مَرَّ بِسُوَالٍ سَاَلَ۔ وَاِذَا مَرَّ بِتَعَوَّذٍ تَعَوَّذَ۔ ثُمَّ رَکَعَ فَجَعَلَ یَقُوْلُ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ فَکَانَ رُکُوْعُہُ نَحْوًا مِنْ قِیَامِہ۔ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ثُمَّ قَامَ طَوِیْلًا۔ قَرِیْبًا مِمَّا رَکَعَ۔ ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ فَکَانَ سُجُوْدُ ہُ قَرِیْبًا مِنْ قِیَامِہِ۔ قَالَ وَفِیْ حَدِیْثِ جَرِیْرٍ مِنَ الزِّیَادَۃِ فَقَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ۔(۵)
ترجمہ: حضرت حذیفہ سے روایت ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک رات میں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپؐ نے سورۂ بقرہ پڑھنا شروع کردی۔ میرا خیال تھا کہ سو آیات پڑھ کر رکوع فرمائیں گے، مگر آپؐ نے تلاوت جاری رکھی تو میں نے خیال کیا کہ پوری سورۃ بقرہ ایک ہی رکعت میں پڑھیں گے۔ پھر رکوع کریں گے (مگر میرا یہ اندازہ صحیح نہ نکلا) آپؐ نے سورۂ بقرہ کے اختتام کے بعد سورۂ نساء پھر سورہ آل عمران شروع کی اور ساری پڑھ لی، آپؐ نے قراء ت آہستہ آہستہ فرمائی۔ جب آپ ایسی آیت پرسے گزرتے جس میں تسبیح کا موقع ہوتا، تو وہاں تسبیح فرماتے اور جب ایسی کسی آیت پر سے گزر ہوتا جس میں سوال و دعا کا موقع ہوتا، تو وہاں دعا مانگتے اور جب ایسی کسی آیت پر سے گزر ہوتا جس میں پناہ مانگنے کا موقع ہوتا، تو وہاں پناہ مانگتے۔ پھر آپؐ نے رکوع کیا اور اس میں سبحان ربی العظیم پڑھا۔ آپؐ نے رکوع میں تقریباً اتنا وقت لگایا جتنا عموماً حالت قیام میں لگاتے۔ پھر اٹھتے ہوئے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہا۔ پھر اتنی دیر کھڑے رہے جتنی دیر رکوع میں رہے تھے۔ پھر اس کے بعد سجدے میں گئے اور سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہا۔ آپؐ کا سجدہ بھی حالت قیام جتنا لمبا تھا۔
(۲)عَنْ حُذَیْفَۃَ اَنَّہُ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَکَانَ یَقُوْلُ فِیْ رُکُوْعِہِ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ، وَفِیْ سُجُوْدِہِ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی، وَمَا اَتٰی عَلیٰ اٰیَۃِ رَحْمَۃٍ اِلَّا وَقَفَ وَسَأَلَ، وَمَا اَتٰی عَلیٰ اٰیَۃِ عَذَابٍ اِلَّا وَقَفَ وَتَعَوَّذَ۔(۶)
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ : وَہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔
ترجمہ: حضرت حذیفہؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ حضورؐ نے اپنے رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ اور سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ کہا۔ جب کوئی آیت رحمت آتی تو وہاںٹھیرتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور جب کسی آیت عذاب پر پہنچتے تو وہاں ٹھیرتے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے۔
ابودائود نے عوف بن مالک اشجعی سے بھی روایت نقل کی ہے:
(۳)قَالَ: قُمْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ لَیْلَۃً، فَقَامَ فَقَرَأَ سُوْ رَۃَ الْبَقَرَۃِ: لَا یَمُرُّبِاٰیَۃِ رَحْمَۃٍ اِلَّا وَقَفَ فَسَأَلَ، وَلَا یَمُرُّ بِاٰیَۃِ عَذَابٍ اِلَّا وَقَفَ فَتَعَوَّذَ۔(۷)
ترجمہ: حضرت عوف بن مالک اشجعی کہتے ہیں کہ میں ایک رات نماز میں حضوؐر کے ساتھ کھڑا ہوا۔ آپؐ نے حالت قیام میں سورۂ بقرہ پڑھی۔ کسی ایسی آیت کے پاس سے نہیں گزرتے تھے جس میں رحمت باری کا ذکر ہو، مگر وہاں ٹھیرتے اور رحمت کی استدعا فرماتے اور نہ کسی ایسی آیت سے گزرتے تھے جس میں عذاب الٰہی کا تذکرہ ہو، مگر وہاں بھی ٹھیرتے اور اس سے  اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے۔
ـــــــنسائی کی ایک راویت میں   وَلاَ بِاٰیَۃِ عَذَابٍ اِلاَّاسْتَجَارَ بھی ہے۔
نسائی کی مروی روایت میں ہے نہ آیت عذاب سے گزرتے ، مگر تحفظ کی استدعا فرماتے:
(۴) عَنْ حُذَیْفَۃَ اَنَّ النَّبِیَّﷺ صَلّٰی۔ فَکَانَ اِذَا مَرَّ بِاٰیَۃِ رَحْمَۃٍ سَاَلَ، وَ اِذَا مَرَّ بِاٰیَۃِ عَذَابٍ، اسْتَجَارَ، وَاِذَا مَرَّ بِاٰیَۃٍ فِیْہَا تَنْزِیْہٌ لِلّٰہِ سَبَّحَ۔(۸)
ترجمہ: حضرت حذیفہؓ نے روایت بیان کی ہے کہ نبی ﷺ نے نماز پڑھی ۔ پس جب آپؐ کا گزر ایسی آیت پر ہوتا جس میں رحمت الٰہی کا ذکر ہوتا تو دعا فرماتے ۔ اور جب ایسی کسی آیت پر گزر ہوتا جس میں عذاب الٰہی کا تذکرہ ہوتا تو اس سے بچنے کی درخواست فرماتے اور جب ایسی آیت پر گزر ہوتا جس میں رب کائنات کی تنزیہہ بیان کی ہوتی تو وہاں تسبیح فرماتے۔
(۵)عَنْ اَبِیْ لَیْلیٰ، قَالَ: صَلَّیْتُ اِلیٰ جَنْبِ النَّبِیِّ ﷺ وَہُوَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ تَطَوُّعًا۔ فَمَرَّ بِاٰیَۃِ عَذَابٍ، فَقَالَ: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ وَوَیْلٌ لِاَ ہْلِ النَّارِ۔(۹)
 ترجمہ: حضرت ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات جب کہ آپؐ نماز پڑھ رہے تھے، آپؐ کے پہلو میں ساتھ کھڑاہوگیا۔ لہٰذا آپؐ  آیت عذاب سے گزرے تو اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ وَوَیْلٌ لِاَہْلِ النَّارِ فرمایا۔
حضرت حذیفہ سے مروی روایت کا متن:
(۶) عَنْ حُذَیْفَۃَ اَنَّہُ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ﷺ ذَاتَ لَیْلَۃٍ، وَکَانَ یَقُوْلُ فِیْ رُکُوْعِہِ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ وَفِیْ سُجُوْدِہِ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ، وَمَا یَأْتِیْ عَلیٰ ٰایَۃِ رَحْمَۃٍ اِلَّاوَقَفَ عِنْدَہَا فَسَاَلَ، وَمَا یَأْتِیْ عَلیٰ اٰیَۃِ عَذَابٍ الَّا تَعَوَّذَ۔(۱۰)
ترجمہ: حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک رات نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ۔ اور آپؐ اپنے رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ اور اپنے سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰیکہتے تھے ۔ جب آیت رحمت پر پہنچتے تو وہاں ٹھیرتے اور دعائے رحمت کرتے اور جب آیت عذاب پر پہنچتے تو وہاں بھی ٹھیرتے اور اس سے اللہ کی پناہ مانگتے۔
۴۵۔اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَج وَاِنْ تَغْفِرْلَہُمْ فِاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ  (المائدۃ:۱۱۸)
’’حضرت ابوذرؓ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ رات کی نماز میں جب حضوؐر اس مقام پر پہنچے   ( اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو معاف فرمادے تو تو غالب اور دانا ہے) تو اسی کو دہراتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔‘‘
(مسند احمد، بخاری)
 تخریج:(۱)  حَدَّثَنَا نُوْحُ بْنُ حَبِیْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ سَعِیْدِنِ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا  قُدَامَۃُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ جَسْرَۃَ بِنْتُ دَجَاجَۃً قَالَتْ: سَمِعْتُ اَبَا ذَرٍّ یَقُوْلُ: قَامَ النَّبِیُّ ﷺ حَتّٰی اِذَا اَصْبَحَ بِاٰ یَۃٍ وَالْاٰیَۃُ: اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔(۱۱)
ترجمہ: حضرت ابوذرؓ (غفاری) بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک مرتبہ رات کی نماز کے قیام میں صبح تک یہ آیت پڑھتے رہے، ’’کہ اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو معاف فرمادے تو ، توغالب اور دانا ہے۔‘‘
مسند احمد میں ہے:
(۲)عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَیْلَۃً، فَقَرَاَ بِآیَۃٍ حَتّٰی اَصْبَحَ یَرْ کَعُ بِہَا وَیَسْجُدُ بِہَا اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَانَّہُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ فَلَمَّا اَصْبَحَ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَازِلْتَ تَقْرَاُ ہٰذِہِ الآ یَۃَ حَتّٰی اَصْبَحْتَ تَرْ کَعُ بِہَا وَتَسْجُدُ بِہَا قَالَ: اِنِّیْ  سَاَلْتُ رَبِّیْ عَزَّ و جَلَّ الشَّفَاعَۃَ لِاُمَّتِیْ فَاَعْطَا نِیْہَا وَہِیَ نَائِلَۃٌ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ لِمَنْ لآ یُشْرِکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ شَیْئًا۔(۱۲)
ترجمہ: حضرت ابوذرؓ (غفاری) سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات نماز پڑھی۔صبح تک اپنے رکوع و سجود میں یہی دہراتے رہے، ’’اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو معاف فرمادے تو،  تو غالب اور دانا ہے۔ صبح میں نے عرض کیا یارسول اللہ !صبح تک آپؐ اسی آیت مبارکہ کو اپنے سجدے اور رکوع میں پڑھتے رہے ہیں۔ حضورؐ نے جواب میں ارشاد فرمایا، میں اپنے پروردگار سے اپنی امت کی شفاعت کے لیے سوال کرتا رہاہوں،اس نے مجھے عطا فرمادی ہے اور امت ان شاء اللہ اسے پالے گی ، مگر وہ آدمی اس سے محروم رہے گا ، جس نے کسی شے کو اللہ کا شریک ٹھیرایا۔
ترمذی نے حضرت عائشہؓ سے صرف مندرجہ ذیل الفاظ نقل کیے ہیں:
(۳)عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : قَامَ النَّبِیُّ ﷺ بِاٰ یَۃٍ مِنَ الْقُرْآنِ لَیْلَۃً۔(۱۳)
ابن ماجہ نے حضرت ابوذرؓ سے بایں الفاظ روایت کیا ہے:
(۴)قَامَ النَّبِیُّ ﷺ بِاٰ یَۃٍ حَتّٰی اَصْبَحَ یُرَدِّدُہَا۔ وَالْاٰیَۃُ ’’اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔‘‘(۱۴)
تشریح:گویا کہ حضورؐ کی قراء ت تیز تیز رواں دواں نہ ہوتی تھی،بلکہ آپؐ ایک ایک لفظ آہستہ آہستہ زبان سے ادا کرتے تھے اور ہر آیت پر ٹھیرتے تاکہ ذہن پوری طرح کلام الٰہی کے مفہوم و مدعا کو سمجھے اور اس کے مضامین سے متاثر ہو۔ کہیں اللہ کی ذات و صفات کا ذکر ہے ،تو اس کی عظمت و ہیبت دل پر طاری ہو۔ کہیں اس کی رحمت کا بیان ہے، تو دل جذبات تشکر سے لبریز ہو جائے۔ کہیں اس کے غضب اور اس کے عذاب کا ذکر ہے، تو دل پر اس کا خوف طاری ہو۔ کہیں کسی چیز کا حکم ہے یا کسی چیز سے منع کیا گیا ہے، تو سمجھا جائے کہ کس چیز کا حکم دیا گیا ہے اور کس چیز سے منع کیا گیا ہے۔ غرض یہ قراء ت محض قرآن کے الفاظ کو زبان سے ادا کردینے کے لیے نہیں بلکہ غور و فکر اور تدبر کے ساتھ ہونی چاہیے۔         (تفہیم القرآن،ج ۶، المزمل، حاشیہ: ۴)

نماز میں کسی خاص سورہ کا التزام

کسی نماز میں کسی خاص سورہ کا التزام کرلینادرست نہیں ہے۔ عادتاً پڑھنے میں مضائقہ نہیں مگر کبھی کبھی اس کے خلاف بھی کر لینا چاہیے تاکہ بدعت کی سی صورت نہ پیدا ہو۔ (رسائل و مسائل چہارم، ص: ۳۵۰)

نماز میں قرآن اعتدال سے پڑھنے کی ہدایت

۴۶۔ ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ مکے میں جب نبی ﷺ یا دوسرے صحابہؓ نماز پڑھتے وقت بلند آواز سے قرآن پڑھتے تھے تو کفار شور مچانے لگتے اور بساا وقات گالیوں کی بوچھاڑ شروع کردیتے تھے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲،بنی اسرائیل،حاشیہ:۱۲۴)
تخریج : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ ہُشَیْمٍ، عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ، عَنْ سَعِیْدِ ابْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَاتَجْہَرْ صَلوٰتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا قَالَ : اُنْزِلَتْ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مُتَوَارٍ بِمَکَّۃَ، فَکَانَ اِذَا رَفَعَ صَوْتَہُ سَمِعَ الْمُشْرِ کُوْنَ فَسَبُّوا الْقُرْآنَ، وَمَنْ اَنْزَلَہُ وَمَنْ جَآئَ بِہ وَقَالَ اللّٰہُ: وَلَا تَجْہَرْ بِصَلٰوتِکَ وَلاَتُخَافِتْ بِھَا لَاتَجْھَرْ بِصَلٰوتِکَ حَتّٰی یَسْمَعَ الْمُشْرِکُوْنَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا عَنْ اَصْحَابِکَ فَلَا تُسْمِعُہُمْ وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً اَسْمِعْہُمْ وَلَا تَجْہَرْ حَتّٰی یَاْخُذُوْا عَنْکَ الْقُرْآنَ۔(۱۵)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلوٰتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَاکا شان نزول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیںکہ یہ آیت مبارکہ اس موقع پر نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں چھپ کر عبادت کرتے تھے ۔ پس جب آپؐ بلند آواز سے پڑھتے تو مشرک سن کر قرآن ، اور اللہ تعالیٰ اور جبریل کو گالیاں دینا شروع کردیتے، تو اس موقعہ پر ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ’’ (اے نبیؐ) اور آپ اپنی نماز میں نہ زیادہ اونچی آواز سے پڑھیے اور نہ ہی بالکل پست آواز سے (یعنی)آپ اسے اپنی نماز میں اتنی اونچی آواز سے نہ پڑھیں کہ مشرکین اسے سن لیں اور اتنا پست و دھیمی آواز سے بھی نہ پڑھیں کہ آپؐ کے ساتھی بھی سن نہ سکیں۔ بلکہ دونوں کے مابین راستہ تلاش کریں کہ اپنے ساتھیوں کو سناسکیں تاکہ وہ آپؐ سے قرآن اخذ کرلیں۔‘‘
تشریح: (ان حالات میں حکم الٰہی نازل ہوا کہ) نہ تو اتنے زورسے پڑھو کہ کفار سن کر ہجوم کریں، اور نہ اس قدر آہستہ پڑھو کہ تمہارے ساتھی بھی نہ سن سکیں۔ یہ حکم صرف انھیں حالات کے لیے تھا۔ مدینے میں جب حالات بدل گئے تو یہ حکم باقی نہ رہا۔ (ایضاً)

اگر امام کوئی آیت پڑھنا بھول جائے

۴۷۔ (صحیح بخاری کی روایت ہے کہ ) ایک مرتبہ صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ قراء ت کے دوران میںایک آیت چھوڑ گئے۔ نماز کے بعد حضرت ابی بن کعب نے پوچھا کیا یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے؟ حضوؐر نے فرمایا نہیں، میں بھول گیا تھا۔ (تفہیم القرآن،ج ۶، الاعلیٰ ،حاشیہ: ۸)
تخریج :(۱) اِنَّہُ ﷺ اَسْقَطَ اٰیَۃً فِی قِرَائَ تِہِ فِی الصَّلوٰۃِ وَکَانَتْ صَلَاۃَ الْفَجْرِ فَحَسِبَ اُبَیٌّ اَنَّہَا نُسِخَتْ فَسَاَلَہُ عَلَیْہِ الصَّلَا ۃُ وَالسَّلَامُ ، فَقَالَ: نَسِیْتُہَا۔(۱۶)
(۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُبَشِّرٍ، ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثَنَایَعْقُوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّہْرِیُّ ، ثَنَا عُمَرُبْنُ نَجِیْحٍ، ثَنَا اَبُوْ مُعَاذٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، قَالَ صَلَّی رَسُوْل اللّٰہِ ﷺ صَلَاۃً فَقَرَاَسُوْرَۃً، فَاَسْقَطَ مِنْہَا اٰیَۃً ، فَلَمَّا فَرَغَ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اٰیَۃُ کَذَاوَکَذَااَنُسِخَتْ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَاِنَّکَ لَمْ تَقْرَأْہَا قَالَ: اَفَلَا لَقَّنْتَنِیْہَا؟(۱۷)
ترجمہ: حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک نماز پڑھی۔ اس میں آپؐ نے ایک سورہ تلاوت فرمائی۔ دوران قراء ت اس کی ایک آیت چھوڑ گئے۔ جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا ’’اے اللہ کے رسولؐ کیا فلاں اور فلاں آیت منسوخ ہوچکی ہے۔‘‘ جواب میں ارشاد فرمایا، ’’نہیں‘‘۔ میں نے عرض کیا ’’آپؐ نے اسے (بہر حال) پڑھا نہیں ہے۔‘‘ فرمایا، ’’پھر تم نے مجھے یاد کیوں نہ دلایا۔‘‘
(۳)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ عُبَیْدِبْنِ مَیْمُوْنٍ، اَخْبَرَنَا عِیْسٰی بْنُ یُوْنُسَ، عَنْ ہِشَامٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ:سَمِعَ النَّبِیﷺ رَجُلًا یَقْرَأُ فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ:رَحِمَہُ اللّٰہُ لَقَدْاَذْکَرَنِیْ کَذَا وَکَذَا اٰیَۃٍ اَسْقَطْتُّہُنَّ مِنْ سُوْرَۃِ کَذَاوَکَذَا الخ۔ (۱۸)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے مسجد میں ایک آدمی کو قراء ت کرتے سنا تو اس کے حق میں فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کی اس پر رحمت ہو کہ اس نے مجھے فلاں فلاں آیت یاد دلادی ہیں جنہیں میں فلاں فلاں سورۃ سے چھوڑ گیا تھا۔‘‘
ابودائود کتاب الحروف والقراء ۃ میں ایک روایت نقل کرتے ہیں:
(۴) اِنَّ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ، فَقَرَاَ فَرَفَعَ صَوْتَہُ بِالْقُرْاٰنِ، فَلَمَّا اَصْبَحَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَرْحَمُ اللّٰہُ فُلَا نًا کَائِنٌ مِّنْ اٰیَۃٍ اَذْکَرَنِیْہَا اللَّیْلَۃَ کُنْتُ قَدْ اَسْقَطْتُّہَا۔(۱۹)
ترجمہ: ایک آدمی نے قیام اللیل کیا اور قرآن مجید کی تلاوت بلند آواز سے کی۔ صبح کو رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے دعائے رحمت فرمائی کہ فلاں صاحب پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے کہ اس نے رات مجھے وہ آیت یاد دلا دی جسے میں چھوڑ گیا تھا۔

ماخذ

(۱) بخاری،ج۲، کتاب ابواب فضائل القرآن، باب مدالقراء ۃ ٭ ابوداؤد،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب استحباب الترتیل فی القراء ۃ۔
(۲) بخاری،ج۲،کتاب ابواب فضائل القرآن، باب مدالقراء ۃ۔٭ المستدرک، ج۱، ص۲۳۳۔
(۳) نسائی،ج۲، کتاب الافتتاح، باب مدالصوت بالقراء ۃ۔٭ترمذی،ابواب الشمائل، باب ماجاء فی قراء ۃ رسول اللّٰہ ﷺ۔
(۴) ابوداؤد،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب استحباب الترتیل فی القراء ۃ۔٭ ترمذی: ابواب الشمائل، باب ماجاء فی قراء ۃ رسول اللّٰہ ﷺ۔٭نسائی،ج۲،کتاب الافتتاح، باب تزیین القرآن بالصوت۔٭مسنداحمد، ج۶، ص۲۹۴۔ عن ام سلمہ۔ ٭نسائی اور مسند احمد میں’’ تنعت قراء ۃ مفسرۃ حرفاً ‘‘حرفاً ہے۔
(۵) مسلم،ج۱،کتاب صلوٰۃ المسافرین و قصر ہا، باب استحباب تطویل القراء ۃ فی صلوٰۃ اللیل۔
(۶) ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التسبیح فی الرکوع والسجود۔٭ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول الرجل فی رکوعہ۔
(۷) ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ۔٭مسند احمد، ج ۵، ص ۳۸۲-۳۸۴۔ ج۶، ص۲۴، عوف بن مالک اشجعی۔٭نسائی،ج۲،کتاب الافتتاح، باب تعوذ القاری اذامر باٰیۃ عذاب اورکتاب التطبیق۔
(۸) ابن ماجہ،ج۱،کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی القرآء ۃ فی صلوٰۃ اللیل۔
(۹) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی القراء ۃ فی صلوٰۃ اللیل۔
(۱۰) دارمی :کتاب الصلوٰۃ، باب مایقال فی الرکوع ۔
(۱۱) نسائی،ج۲،کتاب الافتتاح، باب تردید الآیۃ۔
(۱۲) مسند احمد،ج۵، ابوذرغفاری۔
(۱۳) ترمذی،ج۱، ابواب صلوٰۃ اللیل۔
(۱۴) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی القراء ۃ فی اللیل۔٭المستدرک،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب قام النبی ﷺ بِاٰیۃ حتیٰ اصبح یرددہا۔
(۱۵) بخاری،ج۲،کتاب التوحید، باب الرد علی الجہمیۃ الخ وقولہ انزلہ بعلمہ والملائکۃ یشہدون۔کتاب التفسیر، سورہ بنی اسرائیل۔٭ مسلم،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التوسط فی القراء ۃ الجہریۃ بین الجہر والاسرارالخ۔ ٭ ترمذی: ابواب تفسیر القرآن، سورہ بنی اسرائیل۔ حدیث حسن صحیح۔ ترمذی نے ’’ شتموا ‘‘ نقل کیا ہے۔ نسائی،ج۲،کتاب الافتتاح، قولہ عزوجل ولا تجہر بصلوٰتک ولاتخافت بہا۔٭مسند احمد، ج۱، ص ۲۱۵۔ ٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب الاختیار للامام والماموم فی ان یخفیاالذکر۔مسلم نے ’’مختفی‘‘ اور نسائی نے ’’مختف بمکۃ‘‘ نقل کیا ہے۔ جب کہ بخاری نے متذکرہ بالا روایت میں ’’متواربمکۃ‘‘ بیان کیا ہے۔
(۱۶) روح المعانی، ج۳۰، سورۃ الاعلیٰ۔
(۱۷) دارقطنی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب تلقین الماموم لا مامہ اذا وقف فی قراء تہ۔
(۱۸) بخاری، ج۱،کتاب الشہادات، باب شہادۃ الاعمی وامرہ الخ ۔ج۲،کتاب ابواب فضائل القرآن، باب نسیان القرآن۔کتاب الدعوات، باب قول اللّٰہ تعالیٰ وصل علیہم٭مسلم،کتاب صلوۃ المسافرین، باب امر من نعس فی صلوٰتہ الخ۔٭ ابوداؤد،کتاب الصلوٰۃ، باب رفع الصوت بالقراء ۃ فی صلوٰۃ اللیل۔
(۱۹) ابوداؤد،ج۴،کتاب الحروف۔

فصل: ۹جماعت میں شمولیت کے آداب

نماز باجماعت میں شمولیت کے آداب۔۔۔۴۸۔حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب نماز کھڑی ہو تو اس کی طرف سکون و وقار کے ساتھ چل کر آئو۔ بھاگتے ہوئے نہ آئو، پھر جتنی نماز بھی مل جائے اس میں شامل ہو جائو اور جتنی چھوٹ جائے اسے بعد میں پورا کرلو۔‘‘ (صحاح ستّہ)
تخریج: حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَاابْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ عَنْ سَعِیْدٍ وَاَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، ح و حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، قَالَ اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَبُوْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، اَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّہِ ﷺ یَقُوْلُ: اِذَا اُقِیْمَتِ الصَّلَا ۃُ فَلَاتَاْتُوْہَا تَسْعَوْنَ وَاْتُوْہَا تَمْشُوْنَ عَلَیْکُمُ السَّکِیْنَۃَ، فَمَا اَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوْا وَمَا فَاتَکُمْ فَاَتِمُّوْا۔(۱)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا کہ : ’’ جب نماز کھڑی ہوچکی ہو تو اس کی طرف بھاگتے ہوئے نہ آئو، بلکہ سکون و وقار کے ساتھ آئو۔ پھر جتنی نماز بھی مل جائے اتنی پڑھو اور جتنی چھوٹ جائے اسے بعد میں پورا کرلو۔‘‘ (صحاح ستّہ)
۴۹۔ حضرت ابوقتادہ انصاریؓ فرماتے ہیں، ایک مرتبہ ہم حضورؐ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے کہ یکایک لوگوں کے بھاگ بھاگ کر چلنے کی آواز آئی۔ نماز ختم کرنے کے بعد حضورؐ نے ان لوگوںسے پوچھا یہ کیسی آواز تھی؟ ان لوگوں نے عرض کیا ہم نماز میں شامل ہونے کے لیے بھاگ کر آرہے تھے۔ فرمایا :ایسا نہ کیا کرو، نماز کے لیے جب بھی آئو، پورے سکون کے ساتھ آئو۔ جتنی مل جائے اس کو امام کے ساتھ پڑھ لو، جتنی چھوٹ جائے وہ بعد میں پوری کرلو۔ (بخاری، مسلم)
(تفہیم القرآن، ج۵، الجمعہ، حاشیہ:۱۵)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ نُعَیْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ یَحْیٰ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّیْ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ اِذَا سَمِعَ جَلَبَۃَ الرِّجَالِ فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: مَاشَاْنُکُمْ؟ قَالُوْا: اِسْتَعْجَلْنَا اِلَی الصَّلَا ۃِ قَالَ: فَلَا تَفْعَلُوْا، اِذَا اَتَیْتُمُ الصَّلوٰۃَ فَعَلَیْکُمُ السَّکِیْنَۃَ فَمَآ اَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوْا وَمَا فَاتَکُمْ فَاَتِمُّوْا۔(۲)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد کے حوالہ سے بیان کرتے ہیںکہ ایک مرتبہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ حضوؐر نے لوگوں کے بھاگ کر چلنے کی آواز سنی۔ نماز سے فارغ ہو کر حضورؐ نے لوگوں سے پوچھا’’تمہیں کیا ہوا؟‘‘ انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے نماز میں شامل ہونے کے لیے جلدی کی۔ فرمایا: ’’ایسا نہ کیا کرو، نماز کے لیے جب آئو تو پورے سکون کے ساتھ آئو۔ جتنی مل جائے، اس کو پڑھ لو اور جتنی چھوٹ جائے اسے بعد میں پورا کرلو۔‘‘
بخاری کی ایک روایت میں:
(۲) اِذَا سَمِعْتُمُ الْاِقَامَۃَ فَامْشُوْا اِلَی الصَّلوٰۃِ وَعَلَیْکُمُ بِالسَّکِیْنَۃِ وَالْوَقَارِ وَلَاتُسْرِعُوْا فَمَا اَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوْا وَمَا فَاتَکُمْ فَاَتِمُّوْا۔(۳)
ترجمہ: جب اقامت تمہیں سنائی دے تو نماز کی طرف نہایت سکون و وقارکے ساتھ آئو۔ جلدی بھاگ دوڑ کر مت آئو۔ جتنی مل جائے ، اتنی امام کے ساتھ پڑھ لو اور جتنی چھوٹ جائے اسے بعد میں پورا کر لو۔
ابوداؤد نے کِتَابُ الصَّلوٰۃِ کے بَابُ ’’السَّعْیِ اِلَی الصَّلوٰۃِ‘‘ میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی اس روایت کو نقل کرکے آخر میں راویان حدیث کے لفظی اختلاف کو بیان کیا ہے۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاوٗدَ ، کَذَا قَالَ الزُّبَیْدِیُّ، وَابْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ ، وَاِبْرَ اہِیْمُ بْنُ سَعْدٍ، وَ مَعْمَرٌ، وَشُعَیْبُ بْنُ اَبِیْ حَمْزَۃَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، ’’وَمَا فَاتَکُمْ فَاَتِمُّوْا ‘‘ وَقَالَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَحْدَہٗ فَاقْضَوْا۔ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ وَ جَعْفَرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ عَنِ الْاَعْرَجِ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ: فَاَتِمُّوْا۔ وَابْنُ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ وَاَبُوْقَتَادَۃَ واَنَسُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، کُلَّہُمْ (قَالُوْا) فَاَتِمُّوْا۔(۴)
اس روایت پر امام ترمذی کا تبصرہ:
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ : اِخْتَلَفَ اَہْلُ الْعِلْمِ فِی الْمَشْیِ اِلَی الْمَسْجِدِ۔ فَمِنْہُمْ مَنْ رَأیَ الاْسْراَعَ اِذَا خَافَ فَوْتَ التَّکْبِیْرَۃِ الْاُوْلیٰ حَتّیٰ ذُکِرَ عَنْ بَعْضِہِمْ اَنَّہٗ کَانَ یُہَرْوِلُ اِلَی الصَّلوٰۃِ۔ وَمِنْہُمْ مَنْ کَرِہَ الاْسْرَاعَ۔ وَاخْتَارَ اَنْ یَّمْشِیَ عَلَی تَوْدَۃٍ وَوَقَارٍ۔وَبِہٖ یَقُوْلُ اَحْمَدُ وَ اِسْحَاقُ۔ وَقَالَا:اَلْعَمَلُ عَلَی حَدِیْثِ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ۔ وَقَالَ اِسْحَاقُ اِنْ خَافَ فَوْتَ التَّکْبِیْرَۃِ الْاُوْلیٰ فَلَا بَاسَ اَنْ یَّسْرَعَ فِی الْمَشْیِ۔(۵)
ـــــــ امام ترمذی کہتے ہیں ۔ مسجد کی جانب نماز کے لیے جانے کے انداز کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ کچھ اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اگر تکبیر اولیٰ کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو بھاگ کر شامل ہونے میں کوئی قباحت نہیں، بلکہ وہ تیز دوڑکر شامل ہوسکتا ہے۔ البتہ بعض اہل علم ایسے ہیں جو تیز دوڑکر جانے کے حق میں نہیں ہیں۔ اور ان کا مختار مسلک یہ ہے کہ سکون و وقار سے چلاجائے۔ یہ رائے امام احمد و اسحاق کی ہے۔ انہوں نے رائے یہی دی ہے کہ ابوہریرہ والی حدیث کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔

نماز میں سلام کاجواب اشارہ سے دیا جاسکتا ہے

۵۰۔ترمذی میں حضرت بلالؓ سے اور نسائی میں حضرت صہیبؓ سے مروی ہے کہ جب آں حضرت ﷺ کو حالت نماز میں سلام کیاجاتا تو آپؐ ہاتھ کے اشارے سے جواب دیتے تھے۔
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ بُکَیْرٍ، عَنَ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَائِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ صُہَیْبٍ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَرَرْتُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ یُصَلِّیْ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ ، فَرَدَّ عَلَیَّ اِشَارَۃً وَلَا اَعْلَمُ اِلَّا اَنَّہُ قَالَ: بِاِصْبِعِہِ۔(۶)
ترجمہ: حضرت صہیب ؓ صاحب رسالت مآب بیان کرتے ہیں کہ میرا رسول ﷺ پر ایسی حالت میں گزر ہوا کہ آپؐ نماز پڑھ رہے تھے۔ پس میں نے آپؐ کو سلام کیا اور آپؐ نے مجھے اشارہ سے جواب دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ اشارہ آپؐ نے اپنی انگشت مبارک سے کیا تھا۔
(۲) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُبْنُ مَنْصُوْرٍ الْمَکِّیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ﷺ مَسْجِدَ قُبَائَ لِیُصَلِّیْ فِیْہِ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ رِجَالٌ یُسَلِّمُوْنَ عَلَیْہِ، فَسَاَلْتُ صُہَیْبًا وَکَانَ مَعَہُ، کَیْفَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَصْنَعُ اِذَا سُلِّمَ عَلَیْہِ؟ قَالَ: کَانَ یُشِیْرُ بِیَدِہِ۔(۷)
ترجمہ: حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ابن عمرؓ نے بتایا تھا کہ نبی ﷺ مسجد قباء میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے۔ اتنے میں چند آدمی مسجد میں داخل ہوئے۔ اور انہوں نے آپؐ کو سلام کیا۔ میں نے صہیب سے پوچھا کہ آپ تو حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔ جب ان لوگوں نے آپؐ کو سلام کیا تو آپ نے کیسے جواب دیا؟ انھوں نے بتایا کہ’’ آپؐ نے اپنے دست مبارک سے اشارہ کیا۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ غَیْلَانَ، نَا وَکِیْعٌ، نَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ،عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ لِبِلَالٍ: کَیْفَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَرُدُّ عَلَیْہِمْ حِیْنَ کَانُوْا یُسَلِّمُوْنَ عَلَیْہِ وَہُوَ فِی الصَّلوٰۃِ؟ قَالَ:کَانَ یُشِیْرُ بِیَدِہِ۔ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ زَیْدِبْنِ اَسْلَمَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ لِبِلَالٍ: کَیْفَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَصْنَعُ حَیْثُ کَانُوْا یُسَلِّمُوْنَ عَلَیْہِ فِیْ مَسْجِدِ بَنِیْ عَمْرِوبْنِ عَوْفٍ؟ قَالَ: کَانَ یَرُدُّ اِشَارَۃً۔(۸)
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بلال سے پوچھا کہ ’’نماز میں جب لوگ مسجد عمرو بن عوف میں حضور ﷺ کو سلام کہتے تھے تو آپ انہیں کس طرح جواب دیتے تھے؟بلالؓ نے جواب دیا، کہ ’’آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کردیتے تھے۔‘‘
ـــــــ امام ترمذی کہتے ہیں حضرت صہیب سے مروی حدیث حسن کی مرتبہ کی ہے۔ مجھے یہ حدیث لیث عن بکیر کے علاوہ اور دوسری سند معلوم نہیں اور یہ روایت زید بن اسلم نے ابن عمر کے حوالہ سے بھی بیان کی ہے۔ اس میں ہے کہ ابن عمر نے بلال سے پوچھا نبی ﷺ نے لوگوں کے سلام کا جواب کس طرح دیا جب مسجد بنی عمرو بن عوف میں انہوں نے آپ کو سلام کیا۔ اس نے جواب دیا کہ آپ اشارہ سے ان کے سلام کا جواب دیتے تھے۔
ـــــــ امام ترمذی کہتے ہیں دونوں حدیثیں صحیح ہیں اگرچہ دونوں کے مواقع الگ الگ ہیں۔ ممکن ہے ابن عمر نے دونوں سے روایت کیا ہو۔
(۴) عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ ، اَنَّہُ سَلَّمَ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ یُصَلِّیْ فَرَدَّ عَلَیْہِ۔
ترجمہ: حضرت عمار بن یاسرؓ راوی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسی حالت میں سلام کیا، جب کہ آپؐ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپؐ نے ان کے سلام کا جواب دیا۔
(۵)عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِحَاجَۃٍ ثُمَّ اَدْرَکْتُہُ وَہُوَ یُصَلِّیْ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَاَشَارَ اِلَیَّ فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِیْ فَقَالَ: اِنَّکَ سَلَّمْتَ عَلَیَّ آنِفًا وَاَنَا اُصَلِّیْ وَاِنَّمَا ہُوَ مُوَجِّہٌ یَوْمَئِذٍ اِلَی الْمَشْرِقِ۔(۹)
ترجمہ: حضرت جابرؓ خود روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا (واپسی) پر میں نے آپ کو نماز پڑھتے پایا، تو میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے مجھے اشارہ کیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلا کر فرمایا: تو نے ابھی مجھے سلام کیا تھا، جب کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس روز آپ کا رخ مشرق کی طرف تھا۔
تشریح: اگر آدمی نماز میں ہو اور کوئی سلام کرے تو اشارے سے جواب دینا مفسد صلوٰۃ نہیں۔
۵۱۔حضرت عائشہؓ کا ارشاد ہے کہ جب نبی ﷺ کا مرض سخت ہوگیا تو آپؐ کے حکم سے حضرت ابوبکرؓ نماز پڑھانے لگے۔ ایک روز حضورؐ نے مرض میں کمی محسوس فرمائی اور نماز میں شریک ہونے کے لیے تشریف لے گئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے جب آپؐ کے آنے کی آہٹ پائی تو پیچھے ہٹنے لگے۔ مگر آپؐ نے اشارے سے ان کو منع کیا۔ چنانچہ وہ اپنی جگہ کھڑے رہے اور آں حضرت ﷺ ان کی بائیں جانب جاکر بیٹھ گئے۔ (متفق علیہ)
تخریج: حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیٰ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ہِشَامُ ابْنُ عُرْوَۃ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَبَا بَکْرٍ اَنْ یُّصَلِّیَ بِالنَّاسِ فِیْ مَرَضِہِ، فَکَانَ یُصَلِّیْ بِہِمْ۔قَالَ عرْوَۃُ: فَوَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ نَفْسِہِ خِفَّۃً فَخَرَجَ، فَاِذَا اَبُوْبَکْرٍ یَؤُمُّ النَّاسَ، فَلَمَّا رَاٰہُ اَبُوْبَکْرٍ اسْتَاْخَرَ، فَاَشَارَ اِلَیْہِ اَنْ کَمَا اَنْتَ فَجَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِذَآئَ اَبِیْ بَکْرٍ اِلٰی جَنْبِہِ فَکَانَ اَبُوْبَکْرٍ یُصَلِّیْ بِصَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَالنَّاسُ یُصَلُّوْنَ بِصَلَاۃِ اَبِیْ بَکْرٍ۔(۱۰)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر کو حکم دیا کہ آپؐ کے مرض کے دوران میں لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔ عروۃ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی طبیعت میں قدرے افاقہ محسوس فرمایا تو مسجد کی جانب نکلے (تو دیکھا) کہ ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھارہے ہیں، مگر ابوبکر نے جب حضوؐر کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا۔ حضورؐ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر اسی حالت پر قائم رہیں۔ آپؐ ابوبکر کے برابر ایک پہلو میں بیٹھ گئے۔ اب ابوبکر رسول اللہ ﷺ کی نماز کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے اور دوسرے لوگ حضرت ابوبکرؓ کی اقتداء میں۔

خشوع قلب و جوارح

قَدْ اَخْرَجَ الْحَکِیْمُ اَلتِّرْمِذِیُّ فِیْ نَوَادِرِ الْاُصُوْلِ لٰـکِنْ بِسَنَدٍ ضَعِیْفٍ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہُ رَاٰی رَجُلًا یَعْبِثُ بِلِحْیَتِہِ فِیْ صَلَاتِہِ۔ فَقَالَ: لَوْ خَشَعَ قَلْبُ ہٰذَا۔ خَشَعَتْ جَوَارِحُہُ۔(۱۲)
ترجمہ: ایک ضغیف السند روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے نماز میں ایک آدمی کو اپنی ڈاڑھی سے کھیلتے دیکھا تو فرمایا:’’اگر اس کے قلب میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضاء و جوارح پر بھی خشوع طاری ہوتا۔‘‘
ـــــــ قَالَ الزَّیْنُ الْعِرَاقِیُّ فِیْ شَرْحِ التِّرْمِذِیِّ۔ وَسُلَیْمَانُ بْنُ عَمْرٍ و ہُوَ اَبُوْدَاؤدَ النَّخَعِیُّ مُتَّفَقٌ عَلَی ضُعْفِہٖ۔
ـــــــ وَاِنَّمَا یُعْرَفُ ہٰذَا عَنْ ابْنِ الْمُسَیَّبِ۔ وَقَالَ فِیْ الْمُغْنِیْ: سَنَدُہٗ ضَعِیْفٌ وَالْمَعْرُوْفُ اَنَّہٗ مِنْ قَوْلِ سَعِیْدٍ، رَوَاہُ ابْنُ اَبِیْ شَیْبَہَ فِیْ مُصَنَّفِہٖ، وَفِیْہِ رَجُلٌ لَمْ یُسَمِّ۔ وَقَالَ الزَّیْلَعِیُّ: قَالَ ابْنُ عَدِیٍّ: اَجْمَعُوْا عَلیٰ اَنَّہٗ یَضَعُ الْحَدِیْثَ۔
ـــــــ قُلْتُ: رَوَاہُ مَوْقُوْ فًا عَلَی سَعِیْدٍ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْمُبَارَکِ فِی الزُّہْدِ، ج ۱، ص ۲۱۳: اَنَا مَعْمَرٌ عَنْ رَجُلٍ عَنْہُ بِہٖ وَہٰذَا سَنَدٌ ضَعِیْفٌ بِجِہَالَۃِ الرَّجُلِ۔
ـــــــ قُلْتُ: فَالْحَدِیْثُ مَوْضُوْعٌ مَرْفُوْعاً ضَعِیْفٌ مَوْقُوْفاً، بَلْ مَقْطُوْعاً۔(۱۳)
ترمذی نے فضل بن عباس سے ان الفاظ سے روایت بیان کی ہے:
(۴) عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْ لُ اللّٰہِ ﷺ الصَّلَاۃُ مَثْنٰی مَثْنیٰ تَشَہُّدٌ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ وَتَخَشُّعٌ وَتَضَرُّعٌ وَتَمَسْکُنٌ وَتَقَنُّعُ یَدَیْکَ یَقُوْلُ تَرْفَعُہُمَا اِلیٰ رَبِّکَ مُسْتَقْبِلًا بِبُطُوْ نِہِمَا وَجْہَکَ وَتَقُوْلُ یَا رَبِّ یَا رَبِّ! وَمَنْ لَّمْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ فَہُوَ کَذَا وَکَذَا۔(۱۴)
ترجمہ: حضرت فضل بن عباس نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ نماز، دو، دو رکعت ہے۔ (دو،دورکعات کرکے پڑھنی چاہیے) اور ہر دو رکعت میں تشہد ہے اور خشوع و خضوع ، انکساری اور عجز ہے، دست بستہ کھڑاہونا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ دونوں ہاتھوں کا سیدھے رخ اپنے رب کے حضور بلند کرکے یارب یا رب پکارنا ہے۔ جس کسی نے ایسا نہ کیا، وہ ایسا ایسا ہے۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ اِسْمَاعِیْلَ یَقُوْلُ: رَوَی شُعْبَۃُ ہٰذَا الْحَدِیْثَ عَنْ عَبْدِ رَبِّہٖ بْنِ سَعِیْدٍ، فَاَخْطَاَ فِیْ مَوَاضِعٍ، فَقَالَ عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِیْ اَنَسٍ، وَہُوَ عِمْرَانُ بْنُ أَبِیْ اَنَسٍ وَقَالَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ وَاِنَّمَا ہُوَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ نَافِعِ بْنِ الْعُمْیَا عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ الْحَارِثِ وَقَالَ شُعْبَۃُ: عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ الْمُطَّلِبِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، وَاِنَّمَا ہُوَعَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّؐ قَالَ مُحَمَّدُ: وَحَدِیْثُ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدِ أَصَحُّ مِنْ حَدِیْثِ شُعْبَۃَ۔
(۵) اَخْرَجَ الْحَکِیْمُ التِّرْمِذیُّ مِنْ طَرِیْقِ الْقَاسِمِ ابْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ عَنْ اُمِّ رُوْمَانَ وَالِدَۃِ عَائِشَۃَ رَضِی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہَاقَالَتْ:رَاٰنِیْ اَبُوْبَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ اَتَمَیَّلُ فِیْ صَلَاتِیْ فَزَجَرَنِیْ زَجْرَۃً، کِدْتُّ اَنْصَرِفُ عَنْ صَلَاتِیْ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: اِذَا قَامَ اَحَدُ کُمْ فِیْ الصَّلَا ۃِ فَلْیَسْکُنْ اَطْرَ افُہُ لَا یَتَمَیَّلُ تَمَیُّلَ الْیَہُوْدِ، فَاِنَّ سُکُوْنَ الْاَ طْرَافِ فِی الصَّلوٰۃِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاۃ۔(۱۵)
ترجمہ: حضرت ام رومان والدہ ام المومنین حضرت عائشہؓ نے بیان کیا، کہ مجھے ابوبکر نے دیکھ لیا کہ میں نماز میں جھوم رہی ہوں۔ تو انہوں نے مجھے تنبیہ کرتے ہوئے ذرا ڈانٹ کر کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ تم میں سے جب کوئی نماز میں کھڑا ہو ، تو اس کے اعضاء میں سکون ہونا چاہیے۔ یہود کی طرح نازو انداز نہ کیا جائے، کیونکہ نماز میں اعضاء کا سکون پذیر ہونا بھی نماز کی تکمیل کا ایک حصہ ہے۔
تشریح: خشوع کے اصل معنی ہیں کسی کے آگے جھک جانا، دب جانا، اظہار عجز و انکسار کرنا۔ اس کیفیت کا تعلق دل سے بھی ہے او ر جسم کی ظاہری حالت سے بھی، دل کا خشوع یہ ہے کہ آدمی کسی کی ہیبت اور عظمت و جلال سے مرعوب ہو۔ اور جسم کا خشوع یہ ہے کہ جب وہ اس کے سامنے جائے تو سرجھک جائے۔ اعضاء ڈھیلے پڑجائیں، نگاہ پست ہوجائے، آواز دب جائے اور ہیبت زدگی کے وہ سارے آثار اس پر طاری ہوجائیں ،جو اس حالت میں فطرتاً طاری ہوجایا کرتے ہیں، جب کہ آدمی کسی زبردست باجبروت ہستی کے حضور پیش ہو۔ نماز میں خشوع سے مراد دل اور جسم کی یہی کیفیت ہے اور یہی نماز کی اصل روح ہے۔
اگرچہ خشوع کا تعلق حقیقت میں دل سے ہے اور دل کا خشوع آپ سے آپ جسم پر طاری ہوتا ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے ابھی معلوم ہوا۔ لیکن شریعت میں نماز کے کچھ ایسے آداب بھی مقرر کردیے گئے ہیں جو ایک طرف قلبی خشوع میں مدد گار ہوتے ہیں اور دوسری طرف خشوع کی گھٹتی بڑھتی کیفیات میں فعل نماز کو کم از کم ظاہری حیثیت سے ایک معیار خاص پر قائم رکھتے ہیں۔ ان آداب میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی دائیں بائیں نہ مڑے اور نہ سر اٹھا کر اوپر کی طرف دیکھے (زیادہ سے زیادہ صرف گوشہ چشم سے ادھر ادھر دیکھا جاسکتا ہے۔ حنفیہ اور شافعیہ کے نزدیک نگاہ سجدہ گاہ سے متجاوز نہ ہونی چاہیے، مگر مالکیہ اس بات کے قائل ہیں کہ نگاہ سامنے کی طرف رہنی چاہیے)۔ نماز میں ہلنا اور مختلف سمتوں میں جھکنا بھی ممنوع ہے۔ کپڑوں کو بار بار سمیٹنا، یا ان کو جھاڑنا، یا ان سے شغل کرنا بھی ممنوع ہے۔ اس بات سے بھی منع کیا گیا کہ سجدے میں جاتے وقت آدمی اپنے بیٹھنے کی جگہ یا سجدے کی جگہ صاف کرنے کی کوشش کرے۔ تن کر کھڑے ہونا، بہت بلند آواز سے کڑک کر قراء ت کرنا، یا قراء ت میں گانا بھی آداب نماز کے خلاف ہے۔ زور زور سے جمائیاں لینا اور ڈکاریں مارنا بھی نماز میں بے ادبی ہے۔ جلدی جلدی مارا مار نماز پڑھنا بھی سخت ناپسندیدہ ہے۔ حکم یہ ہے کہ نماز کا ہر فعل پوری طرح سکون اور اطمینان سے ادا کیا جائے اور ایک فعل مثلاً رکوع یا سجود یا قیام یا قعود جب تک مکمل نہ ہولے دوسرا فعل شروع نہ کیا جائے۔ نماز میں اگر کوئی چیز اذیت دے رہی ہو تو اسے ایک ہاتھ سے دفع کیا جاسکتا ہے ، مگر بار بار ہاتھوں کو حرکت دینا، یا دونوں ہاتھوں کو استعمال کرنا ممنوع ہے۔
ان ظاہری آداب کے ساتھ یہ چیز بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ آدمی نماز میں جان بوجھ کر غیر متعلق باتیں سوچنے سے پرہیز کرے۔ بلا ارادہ خیالات ذہن میں آئیں اور آتے رہیں تو یہ نفس انسانی کی ایک فطری کمزوری ہے۔ لیکن آدمی کی پوری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ نماز کے وقت اس کا دل خدا کی طرف متوجہ ہو اور جو کچھ وہ زبان سے کہہ رہا ہو وہی دل سے بھی عرض کرے۔اس دوران میں اگر بے اختیار دوسرے خیالات آجائیں تو جس وقت بھی آدمی کو ان کا احساس ہو اسی وقت اسے اپنی توجہ ان سے ہٹا کر نماز کی طرف پھیر لینی چاہیے۔                   (تفہیم القرآن،ج ۳، المومنون ،حاشیہ: ۳)

نماز باجماعت میں آگے پیچھے دیکھنے کی آپؐ کی خصوصیت

۵۳۔ یَااُمَّۃَ مُحَمَّدٍ وَاللّٰہِ لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا وَ لَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا۔(بخاری)
’’اے محمدؐ کی قوم! خدا کی قسم اگر تم کو وہ باتیں معلوم ہوتیں جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنستے اور بہت روتے۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدَۃُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، اَنَّہُ قَالَ :یَااُمَّۃَ مُحَمَّدٍ! وَاللّٰہِ لَوْتَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ  لَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا وَلَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا۔(۱۶)
حاکم نے مستدرک میں حضرت ابوذر غفاری سے ایک روایت نقل کی ہے:
(۱) عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنِّیْ اَرٰی مَالَا تَرَوْنَ وَاَسْمَعُ مَا لَاتَسْمَعُوْنَ اَطَتِ السَّمَآئُ وَحَقٌّ لَّہَا اَنْ تَئِطَّ مَا فِیْہَا مَوطِعُ اَرْبَعِ اَصَابِعَ اِلَّا وَمَلَکٌ وَاضِعٌ جَبْہَتَہُ سَاجِدًا لِلّٰہِ وَاللّٰہِ لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا وَلَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بالنِّسَآئِ عَلَی الْفُرُشِ وَلَخَرَجْتُمْ اِلَی الصَّعِدَاتِ تَجْاَرُوْنَ اِلَی اللّٰہِ وَلَوَدِدْتُّ اِنِّی کُنْتُ شَجَرَۃً تُعْضَدُ۔(۱۷)
ترجمہ: حضرت ابوذر غفاری ؓسے روایت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں، تمہیں وہ دکھائی نہیں دے رہا اور جو کچھ میں سن رہا ہوں وہ تمہیں سنائی نہیں دے رہا۔ (میں سن رہا ہوں) کہ آسمان سے چڑچڑاہٹ کی آواز آرہی ہے اسے مناسب یہی ہے کہ وہ چڑچڑائے۔ چپہ بھی جگہ کہیں خالی نظر نہیں آتی کہ ہر جگہ فرشتہ ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی پیشانی ٹکائی ہوئی ہے۔ بخدا ، اگر تمہیں وہ باتیں معلوم ہوتیں جو میں جانتا ہوں تو پھر کم ہنستے اور روتے زیادہ۔ اور اپنی بیویوں سے زن و شو کے تلذذ کو چھوڑ دیتے اور بلند مقامات کی جانب نکل کھڑے ہوتے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ تلاش کرتے۔ میری خواہش تھی کہ کاش میں کوئی درخت ہوتا جسے کاٹ ڈالا جاتا۔
ـــــــ ہٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحُ الْاِسْنَادِ عَلیٰ شَرْطِ الشَّیْخَیْنِ وَلَمْ یُخْرِجَاہُ۔
۵۵۔ لَا َرَاکُمْ مِنْ وَّرَائِی کَمَا اَرَاکُمْ۔(بخاری)
’’میں تم کو پیچھے سے بھی ایسا ہی دیکھتا ہوں جیسا سامنے دیکھتا ہوں۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عُبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ ، قَالَ: اَنَا مَالِکٌ ، عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: ہَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِیْ ہٰہُنَا؟ فَوَاللّٰہِ مَا یَخْفیٰ عَلَیَّ خُشُوْ عُکُمْ وَلَا رُکُوْعُکُمْ اِنِّیْ لَاَرَاکُمْ مِنْ وَرَآئِ ظَہْرِیْ۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’کیا ادھر میرے سامنے سے تمہیں کچھ نظر آتا ہے؟ خدا کی قسم! مجھ پر نہ تمہارا خشوع پوشیدہ ہے اور نہ تمہارا رکوع۔ یقینا میں تمہیں اپنی پشت پیچھے سے دیکھ رہا ہوتاہوں۔
حضرت انس بن مالک سے مروی روایت :
(۲) قَالَ: صَلّٰی بِنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاۃً ثُمَّ رَقِیَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: فِی الصَّلوٰۃِ وَفِی الرُّکُوْعِ اِنِّیْ لَاَرَاکُمْ مِنْ وَّرَآئِ کَمَا اَرَاکُمْ ۔ (۱۸)
ترجمہ: حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی ، نماز کے بعد آپؐ منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور فرمایا: ’’تمہاری نماز اورتمہارے رکوع میں، میں تمہیں پیچھے سے بھی ایسا ہی دیکھتا ہوں جیسا سامنے سے دیکھتا ہوں۔‘‘
بخاری نے کتاب الاذان میں انہیں سے ایک روایت نقل کی ہے:
(۳) اَقِیْمُوْا الصُّفُوفَ فَاِنِّیْ اَرَاکُمْ خَلْفَ ظَہْرِیْاوراَقِیْمُوْا صُفُوْفَکُمْ وَتَرَآصُّوا فَاِنِّیْ اَرَاکُمْ مِنْ وَّرَآئِ ظَہْرِیْ۔ (۱۹)
ترجمہ: فرمایا صفیں قائم کرو۔ کیونکہ میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔ صفیں باندھو اور ترتیب سے ایک دوسرے سے مل کر کھڑے ہو، کیونکہ میں تم کو اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔
 انس بن مالک سے روایت :
(۴) اِنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ لِلنَّاسِ اَحْسِنُوْا صَلوٰتِکُمْ۔ فَاِنِّی اَرَاکُمْ خَلْفِی کَمَا اَرَاکُمْ اَمَامِی۔(۲۰)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: اپنی نمازوں میں حسن پیدا کرو (خوب اچھے طریقے سے پڑھو) کیونکہ میں تم کو اپنے پیچھے سے ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے آگے سے دیکھتا ہوں۔
تشریح: بہ کثرت آیات اور روایات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ رسولوں کو جو علم غیب دیا گیا تھا وہ اس سے بہت زیادہ تھا جو ان کے واسطے سے بندوں تک پہنچا اور عقل بھی یہی چاہتی ہے کہ ایسا ہو۔ کیونکہ بندوں کو تو غیب کی صرف وہی باتیں معلوم ہونے کی ضرورت ہے، جن کا تعلق عقائد ایمانیہ سے ہے۔ لیکن رسولوں کو ان کے سوا اور بہت سی ایسی معلومات ہونی چاہئیں جو فرائض رسالت انجام دینے میں ان کے لیے مددگار ہوں۔ جس طرح سلطنت کی پالیسی اور اس کے اسرار سے نائب السطنت اور گورنروں کا ایک خاص حد تک واقف ہونا ضروری ہے اور عام رعایا تک ان رازوں کا پہنچ جانا بجائے مفید ہونے کے الٹا مضر ہوتا ہے۔ اسی طرح ملکوت الٰہی کے بھی بہت سے اسرار ہیں جو خدا کے خاص نمائندے اور اس کے رسول جانتے ہیں اور عام رعیت ان سے بے خبر ہے۔ یہ علم غیب رسولوں کو تو اپنے فرائض انجام دینے میں مدد دیتا ہے لیکن عام رعایا نہ اس علم کی ضرورت ہی رکھتی ہے اور نہ اس کا تحمل ہی کرسکتی ہے۔ (زیادہ صحت کے ساتھ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ مجملاً بس اس قدر ہے کہ نبی کا علم خدا کے علم سے کم اور بندوں کے علم سے زیادہ ہوتا ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ وہ کتنا ہوتا ہے اور کتنا نہیں تو اس کو ناپنے کا کوئی پیمانہ ہمارے پاس نہیں ہے۔)                                        (رسائل و مسائل حصہ اوّل، علم غیب رسل)

خانہ کعبہ میں آپؐ کی نماز کا واقعہ

۵۵۔مسند احمد میں حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ ’’میں نے رسول اللہ ﷺ کو حرم میں خانہ کعبہ کے اس گوشے کی طرف رخ کرکے نماز پرھتے دیکھا جس میں حجراسود نصب ہے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے، جب کہ ابھی فاصْدَعْ بِمَاتُوْمَرُ(الحجر:۹۴)’’جس چیز کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے ، اسے ہانکے پکارے کہہ دو) کا فرمان الٰہی نازل نہیں ہوا تھا۔ مشرکین اس نماز میں آپؐ کی زبان سے فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ (الرحمن:۱۳،۱۶،۲۱وغیرہ)کے الفاظ سن رہے تھے۔‘‘ (تفہیم القرآن،ج ۵:تمہید سورۂ رحمن )
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ ،حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ، ثَنَا یَحْیٰ بْنُ اِسْحَا قَ، قَالَ: انا ابْنُ لَہْیَعَۃَ عَنْ اَبِی الْاَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ یَقْرَأُ وَہُوَ یُصَلِّیْ نَحْوَالرُّکْنِ قَبْلَ اَنْ یَّصْدَعَ بِمَا یُوْمَرُ وَالْمُشْرِ کُوْنَ یَسْتَمِعُوْنَ فَبِاَ یِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔(۲۱)

ماخذ

(۱) بخاری،ج۱،کتاب الجمعۃ، باب المشی الی الجمعۃ الخ۔ قول اللّٰہ عزوجل فاسعوا الی ذکر اللّٰہ الخ۔٭مسلم، ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ، باب استحباب اتیان الصلوٰۃ بوقار الخ۔٭ ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب السعی الی الصلوٰۃ۔٭ ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی المشی الی المسجد۔٭ نسائی،ج۲،کتاب الامامۃ، السعی الی الصلوٰۃ۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب المساجد و الجماعات، باب المشی الی الصلوٰۃ۔٭موطا امام مالک ج۱، باب ماجاء فی النداء ٭مسند احمد، ج ۲، ص ۲۳۷۔ ۲۳۸۔ ۲۳۹۔ ۲۷۰۔ ۲۸۲۔ ۳۱۸۔ ۳۸۶۔ ۳۸۷۔ ۴۲۷۔ ۴۵۲۔ ۴۶۰۔ ۴۷۲۔ ۴۸۹۔ ۵۲۹۔ ۵۳۲۔ ج ۵، ص ۳۰۶۔ ۳۱۰۔٭مسند ابی عوانہ،ج۱، باب حظر السعی لاتیان المسجد۔ نسائی نے ابتدا ’’اذا اتیتم الصلوٰۃ‘‘ اوراختتام ’’فاقضوا‘‘پرکیا ہے۔٭دارمی،ج۱، باب کیف یمشی الی الصلوٰۃ۔
(۲) بخاری،ج۱، کتاب الاذان، باب قول الرجل فاتتناالصلوٰۃ الخ۔٭مسلم،ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب استحباب اتیان الصلوٰۃ بوقارو سکینۃ الخ ۔٭مسند احمد بن حنبل، ج۵، ابوقتادہ انصاریؓ۔ مسلم اور مسنداحمد میں ’’فاتکم‘‘ کی جگہ’’ماسبقکم‘‘ ہے۔٭دارمی،ج۱، باب ۵۹کیف یمشی الی الصلوٰۃ۔دارمی میں’’اذا اتیتم‘‘ سے آخر تک ہے۔٭ مسند ابی عوانہ ، ج ۲، ص ۸۳ نہی النبی عن الاستعجال الیٰ الصلوٰۃ۔
(۳) بخاری، ج۱، کتاب الاذان، باب لایسعی إلی الصلوۃ ولیأت بالسکینۃ۔
(۴) ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب السعی الی الصلوٰۃ٭کنزالعمال ج۷، ص۶۴۵ تا ۶۴۷پرمزید روایات یکجا نقل کی گئی ہیں۔
(۵) ترمذی: ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی المشی الی الصلوٰۃ۔
(۶) نسائی، ج۳،کتاب السہو، باب رد السلام بالا شارۃ فی الصلوٰۃ۔٭ ترمذی، ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی الاشارۃ فی الصلوٰۃ۔ ٭ مسند احمد، ج ۴، ص ۳۳۲، عن صہیب بن سنان۔
(۷) نسائی،ج۳، کتاب السہو، باب رد السلام بالا شارۃ فی الصلوٰۃ٭ابن ماجہ:کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب المصلی یسلم علیہ کیف یرد۔
(۸) ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی الاشارۃ فی الصلوٰۃ۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب الاشارۃ بردالسلام۔
(۹) نسائی،ج۳، کتاب السہو، باب رد السلام بالا شارۃ فی الصلوٰۃ۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا۔
(۱۰) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب من قام الی جنب الامام لعلۃ۔کتاب الانبیاء۔ ٭ مسلم ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب استخلاف الامام اذا عرض لہ عذر من مرض الخ۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی صلوٰۃ رسول اللہ ﷺ فی مرضہ۔٭مسند احمد، ج ۱، ص ۲۱۔۳۹۶۔۴۰۵، ج ۵، ص ۴۶۱۔ (قدرے لفظی اختلاف کے ساتھ)۔
(۱۱) المصنف لعبد الرزاق ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب العبث فی الصلوٰۃ۔ ٭ مصنف ابن ابی شیبہ،ج۲، کتاب الصلوات، باب فی مس اللحیۃ فی الصلوٰۃ۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی، ج ۲٭کنزالعمال،ج۸، عن علی العسکری فی المواعظ وفیہ زیاد بن المنذر، متروک۔٭روح المعانی، جز۱۸، ص۳، مجلد ۱۶-۱۸ سورہ مومنون زیر آیت ’’الذین ہم فی صلوٰتہم خاشعون‘‘ کے تحت بیان کرتے ہیں۔
(۱۲) بحوالہ الاحادیث الضعیفہ للألبانی، ص ۱۰۔٭ کنزالعمال، ج۳، ص۱۴۶بحوالہیٔ الحکیم عن ابی ہریرہ۔
(۱۳) الاحادیث الضعیفہ والموضوعہ، ص ۱۰ حدیث نمبر ۱۱۰۔
(۱۴) ترمذی ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التخشع فی الصلوٰۃ۔
(۱۵) تفسیر روح المعانی ، جز ۱۸، سورۃ المومنون۔ زیر آیت الذین ہم فی صلوٰتہم خاشعون۔
(۱۶) بخاری،ج۲،کتاب الأیمان والنذور، باب کیف کان یمین النبی ﷺ۔ ج۱،کتاب الکسوف، باب الصدقۃ فی الکسوف۔ ج۲،کتاب النکاح،کتاب الرقاق،٭مسلم،ج۲،کتاب الفضائل، باب توقیرہ ﷺ وتبرک اکثار سوالہ الخ اورج۱،کتاب الکسوف، ٭ترمذی، ج۲،ابواب التفسیر، اور ابواب الزہد۔٭نسائی،ج۳،کتاب الکسوف، باب نوع آخر منہ عن عائشہ۔٭ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الحزن والبکاء۔٭موطا امام مالک، ج۱،ص ۱۵۰، العمل فی صلوٰۃ الکسوف۔٭دارمی، ج۲، کتاب الرقاق، باب لوتعلمون ما اعلم، عن انس۔٭مسند احمد، ج ۲، ص ۳۱۲، ۳۱۳، ۳۵۸، ۴۱۸، ۴۳۲، ۴۵۳، ۴۶۷، ۴۷۷، ۵۰۲۔ مسند میں ’’والذی نفس محمد بیدہ‘‘ سے آغاز کیا گیا ہے۔
(۱۷) المستدرک،ج۴، ص۵۸۹،کتاب الاہوال۔
(۱۸) بخاری،ج۱، کتاب الصلوۃ، باب عظۃ الامام الناس فی الصلوٰۃ وذکر القبلۃ۔
(۱۹) بخاری،ج۱، کتاب الاذان، باب اقبال الامام علی الناس عند تسویۃ الصفوف٭مسلم،ج۱،کتاب الصلوۃ، باب الأمر بتحسین الصلوٰۃ واتمامہا والخشوع فیہا۔٭موطا امام مالک،ج۱، باب العمل فی جامع الصلوٰۃ، عن ابی ہریرۃ۔
(۲۰) مسند احمد، ج ۲، ص ۳۷۹ اور ج ۳، ص۲۴۰۔
(۲۱) مسند احمد، ج ۶، ص ۳۴۹۔