تفہیم الاحادیث (جلددوم)

ریڈ مودودی ؒ   کی اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’ادارہ معارف اسلامی، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF میں ملاحظہ کیجیے۔

فصل اوّل: وحی وحی کا آغاز کس طرح ہوا

۱۔(۱) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی ﷺ پر وحی آنے کی ابتدا ہی سچّے خوابوں سے ہوئی تھی۔ (بخاری ومسلم)
(۲) متعدد احادیث میں یہ ذکر بھی آیاہے کہ حضورؐ نے فرمایا: فلاں بات میرے دل میں ڈالی گئی ، یا مجھے اس امر کی اطلاع دی گئی ہے، یا مجھے یہ حکم دیاگیاہے، یا مجھے فلاں چیز سے منع کیا گیاہے۔
معراج کے موقع پر حضورؐ کو وحی کی دوسری قسم سے مشرف فرمایا گیا۔ یہ وحی بہ صورت مکالمہ ہے۔
(۳) متعدد صحیح احادیث میں آںحضورﷺ کو پنج وقتہ نماز کا حکم دیے جانے( معراج کے موقع پر) اور آںحضورﷺ کے اس پر بار بار عرض معروض کرنے کا ذکر جس طرح آیاہے اُس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ اُس وقت اللہ اور اُس کے بندے محمدﷺکے درمیان ویساہی مکالمہ ہوا تھا جیسا دامنِ طُور میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہوا۔
نبی ﷺ کو وحی کے تینوں طریقوں سے ہدایات دی گئی ہیں۔ ان میں سے پہلی قسم خواب ہے۔ آپؐ پر خوابوںکا سلسلہ ابتدائے وحی سے شروع ہوا تھا اور پھر بعد میں بھی جاری رہاتھا۔ احادیث میں آپؐ کے بہت سے خوابوں کا ذکر ملتاہے، جن میں آپؐ کو کوئی تعلیم دی گئی ہے یا کسی بات پر مطلع کیا گیاہے۔ قرآن مجید میں بھی آپؐ کے ایک خواب کا صراحت کے ساتھ ذکر آیاہے۔ (الفتح :۲۷)
ایسی(جو پہلی حدیث میں مذکور ہیں)تمام چیزیں وحی کی پہلی قسم سے تعلق رکھتی ہیں اور احادیثِ قدسیہ بھی زیادہ تر اسی قبیل سے ہیں۔
رہی تیسری قسم تو اس کے متعلق قرآن خود شہادت دیتاہے کہ اسے جبریلؑ امین کے ذریعہ سے رسول اللہﷺ تک پہنچایاگیاہے۔ (تفہیم القرآن ج۴،الشوری، حاشیہ: ۸۳)
تخریج : حَدَّثَنٓا یَحْيَ بْنُ بُکَیْرٍ، قَالَ اَخْبَرَنَا اللَّیْثُ، عَنْ عُقَیْلٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا اَنَّھَا قَالَتْ : اَوَّلُ مَابُدِیَٔ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ فِی النَّوْمِ۔ فَکَانَ لاَیَرٰی رُؤْیًا اِلاَّ جَائَ تْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ۔(۱) (الحدیث)
ترجمہ:حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺپر وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی۔ آپؐ جو خواب بھی دیکھتے، اس کی تعبیرروزِ روشن کی طرح واضح طور پر سامنے آجاتی۔

خواب کے متعلق اسلامی نقطۂ نظر

سوال: خواب کے متعلّق یہ امرتحقیق طلب ہے کہ خواب کیسے بنتاہے؟ اور اس معاملہ میں اسلامی نقطۂ نظر کیاہے۔
فرائڈ کے نزدیک لاشعور کی خواہشات ، شعور میں آنا چاہتی ہیں مگر سوسائٹی کی بندشوں اور اَنا (Ego)کے دباؤ سے لاشعور میں دبی رہتی ہیں۔ رات کو سوتے وقت شعور سوجاتاہے اور لاشعور چپکے سے ان خواہشات کو شعور میں لے آتاہے۔ مگر ان خواہشوں کو لاشعور بھیس بدلوادیتاہے۔ (فرائڈ کے نزدیک سب خواب جنسی نوعیت کے Sexual ہوتے ہیں) چنانچہ جاگنے کے بعد خواب میں جو کچھ دیکھا تھا اس کے لیے فرائیڈ Manifest Contentکی حد استعمال کرتاہے اور یہ اپنے اندر علامتیں (Symbols) رکھتاہے جن کا مطلب کچھ اور ہوتاہے۔ خواب کا اصل مطلب ان علامتوں کی تعبیر کرکے پتہ چلتاہے اور اصل مطلب کیاہے، ان علامتوں کا؟ یہ لاشعوری خواہشات میں چھپاہوتاہے۔ ان شعوری خواہشات کے لیے فرائیڈLatent Content کی حد استعمال کرتاہے۔ نفسیات کے نزدیک تعبیر خواب دراصل یہ ہے کہ: Manifest Content یعنی ظاہر خواب سے اور اس کی علامتوں سے Latent Thoughtمعلوم کیا جائے۔ اس کے لیے نفسیات دان Free Associationکی تکنیک استعمال کرتے ہیں۔ اورخواب کی علامتوں(Symbols) کو جنسی معنی پہناتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک:
)۱( خواب کس طرح تشکیل پاتاہے؟
)۲( اس کی علامتوں کے معنی کیسے جانے جاتے ہیں۔ یعنی کس تکنیک سے؟ انبیاؑء وصحابہ کرام کس طرح علامتوں کو معنی دیتے تھے؟
)۳( کیا معیار ہے کہ جو معانی خوابوں کی علامات کو ہم نے پہنائے ہیں وہ اسلامی نظریۂ خواب وتعبیر کے مطابق ہیں؟
اس سلسلے میں چند سوالات یہ ہیں:
ا۔ علامہ ابنِ سیرینؒ اور صحابہ کرامؓ کی تعبیراتِ خواب قرآنی نظریۂ خواب کہلائیں گی یا ’’مسلم مفکّرین کا نظریۂ خواب وتعبیر‘‘ کے تحت ان کو لایاجائے گا؟
ب۔کیا وقت بھی خوابوں کی سچائی کی مقدار پر اثر انداز ہوتاہے؟ جیسا کہ کہاجاتاہے کہ صبح کا خواب زیادہ سچّا ہوتاہے۔
ج۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک ہے؟ (بخاری)
جواب : موجودہ زمانہ کے نفسیات دان دوامراض میں مبتلا ہیں ایک یہ کہ وہ کسی عالمِ بالا کے قائل نہیں ہیں جو انسان پر اور اس کے گردو پیش کی کائنات پر اثر انداز ہوتاہے۔
دوسرے یہ کہ وہ بنیادی طور پر انسان کو صرف ایک ذی شعور حیوان سمجھتے ہیں اور اس کے اندر حیاتیاتی زندگی (Biological Life) سے بالاتر کسی رُوح اور روحانیت کے وجود کو نہیں مانتے۔ اسی لیے انہوں نے خواب کی وہ توجیہات کی ہیں جو آپ کو فرائیڈ وغیرہ کے ہاں نظر آتی ہیں۔
اسلام چونکہ عالم بالا کا بھی قائل ہے اور انسان کے اندر رُوح کے وجود کو بھی مانتاہے اس لیے اسے خواب کی ان توجیہات سے قطعی انکارہے۔ وہ خواب کو دو بڑی اقسام پر تقسیم کرتاہے ایک رؤیائے صادقہ اور دوسرے اضغاثُ احلام۔

رویائے صادقہ

رویائے صادقہ جیسا کہ خود اس کے اصطلاحی نام ہی سے ظاہر ہے،سچے خواب ہی کو کہتے ہیں۔ یعنی ایسا خواب جو شعور کی مداخلت سے آزاد ہوکر مَلائِ اعلیٰ کے ساتھ انسانی رُوح کا رابطہ قائم ہوجانے کے نتیجے میں نظر آتاہے۔ اس حالت میں بسا اوقات آدمی کسی حقیقت کو، یا کسی ہونے والے واقعہ کو بالکل اصل شکل میں دیکھتاہے، کبھی آدمی کو کسی مسئلہ میں بالکل صریح اور صاف علم یا مشورہ دیاجاتاہے اور وہ یوں محسوس کرتاہے کہ گویا اس نے دن کی روشنی میں بحالتِ بیداری کوئی بات سُنی یا کوئی چیز دیکھی ہے۔ او رکبھی آدمی کو یہ امور کسی علامتی تمثیل کی شکل(Symbolic Form)میں نظر آتے ہیں۔ جس کے معنی متعیّن کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ تعبیرِ خواب میں بصیرت رکھنے والے ان تمثیلات کے معنی بسا اوقات ٹھیک ٹھیک متعیّن کرلیتے ہیں اور اگر اس طرح وہ متعیّن نہ ہوں تو بعد میں کسی وقت جب ان کی تعبیر عملاً سامنے آجاتی ہے تب یہ معلوم ہوجاتاہے کہ فلاں خواب جو ہم نے دیکھا تھا اور اس کے معنی ہم نہ سمجھ سکے تھے، اس کی صحیح تعبیر یہ تھی۔ ان تمثیلی اشکال کی تعبیر کے لیے صحیح طریقے کی طرف ہماری رہنمائی وہ دو خواب کرتے ہیں، جو حضرت یوسف علیہ السلام کو نظر آئے تھے اور ان کی تعبیر خود قرآن مجید میں بھی بتلائی گئی ہے۔ اس کے بعض اصول ان تعبیروں سے بھی معلوم ہوتے ہیں جو نبیﷺ یا صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ نے بعض خوابوں کی بیان کی ہیں۔ لیکن تعبیرِ خواب کا بہت بڑا انحصار خدا داد بصیرت پر ہے۔ اس کے کچھ لگے بندھے اصول نہیں ہیں کہ فنِّ تعبیر کو ایک سائنس کی طرح منضبِط کیا جاسکے اور ہر تمثیلی شکل یا لفظ کے لیے ایک خاص معنی کا تعیّن کیا جاسکے۔

اضغاثِ احلام

رہے اضغاث احلام، تو وہ مختلف اسباب سے مختلف نوعیّت کے ہوتے ہیں، مثلاً ایک قسم ان خوابوں کی ہے جن میں ایک گمراہ آدمی یا کمزور عقائد کے آدمی کو شیطان آکر کسی باطل کے حق ہونے یا کسی حق کے باطل ہونے کا یقین دِلاتاہے۔ اور اسے کچھ ایسی شکلیں دکھاتاہے اور ایسی باتیں سناتاہے جو اس کو گمراہ کرنے کی موجب ہوتی ہیں۔ ایک اور قسم ان خوابوں کی ہوتی ہے جو کسی بیماری کے اثر سے آدمی دیکھتاہے۔ ان مختلف قسم کے خوابوں کو اگر جمع کیا جائے تو ان سب کی توجیہہ فرائڈ کے نظریات کے تحت نہیں کی جاسکتی۔ اور نہ ان سے نتائج اخذ کرنے، یا ان کے معنی متعین کرنے کے لیے موجودہ نفسیات کے طریقے (Techniques)کافی ہیں۔ ان لوگوں کا عیب یہ ہے کہ پہلے ایک نظریہ قائم کرلیتے ہیں اور پھر اپنے قائم کردہ نظریے کے تحت سارے خوابوں کی ایک خاص لگی بندھی تعبیر کرتے چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ بہ کثرت خوابوں کو جمع کرکے ، اور ان کے دیکھنے والوں کی زندگی کا اچھی طرح مطالعہ کرکے یہ رائے قائم کی جائے کہ اضغاثُ احلام کس کس قسم کے ہوتے ہیں اور مختلف حالات میں مختلف لوگوں کو وہ کن کن اسباب سے نظر آتے ہیں۔
سچے خواب کو نبوّت کے اجزاء میں سے ایک جُز قراردینے کے دومطلب ہیں۔ ایک یہ کہ انبیاء علیہم السلام کے خواب وحی کی نوعیّت لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اضغاثُ احلام کی قسم کے نہیں ہوتے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ سچّا خواب چونکہ انسانی رُوح اور ملائِ اعلیٰ کے درمیان ایک ایسے رابطہ کا نتیجہ ہوتاہے جس میں انسانی خواہش، ارادہ یا شعور حائل نہیں ہوتا، اس لیے وہ بہت خفیف سی مماثلت اس رابطہ کے ساتھ رکھتاہے جو نہایت اعلیٰ اور مکمل صورت میں نبی کے قلب اور ملائِ اعلیٰ کے درمیان بہ شکل وحی والہام سے قائم ہوتاہے۔ (رسائل ومسائل حصہ پنجم ،عام مسائل: خواب کے متعلق۔۔۔)

آغازِ وحی

۲۔ محدثین نے آغازِ وحی کا قِصّہ اپنی اپنی سندوں کے ساتھ امام زہری سے اور انہوں نے حضرت عروہ بن زبیر سے اور انہوں نے اپنی خالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیاہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا سچے (اور بعض روایات میں ہے اچھے) خوابوں کی شکل میں ہوئی۔ آپؐ جو خواب بھی دیکھتے وہ ایسا ہوتا کہ جیسے آپ دن کی روشنی میں دیکھ رہے ہیں۔ پھر آپؐ تنہائی پسند ہوگئے اور کئی کئی شب وروز غارِ حرا میں رہ کر عبادت کرنے لگے (حضرت عائشہؓ نے تَحَنُّث کا لفظ استعمال کیاہے جس کی تشریح امام زہری نے تعبُّد سے کی ہے۔ یہ کسی طرح کی عبادت تھی جو آپؐ کرتے تھے، کیونکہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؐ کو عبادت کا طریقہ نہیں بتایاگیاتھا) آپؐ کھانے پینے کا سامان گھر سے لے جاکر وہاں چند روز گزارتے، پھر حضرت خدیجہؓ کے پاس واپس آتے اور وہ مزید چند روز کے لیے سامان آپؐ کے لیے مہیّا کردیتی تھیں۔
ایک روز جب کہ آپؐ غارِ حرا میں تھے، یکایک آپ پر وحی نازل ہوئی اور فرشتے نے آکر آپؐ سے کہاپڑھو۔ اس کے بعد حضرت عائشہؓ خود رسول اللہ ﷺ کا قول نقل کرتی ہیں کہ میں نے کہا’’میںتو پڑھاہوا نہیں ہوں‘‘۔اس پر فرشتے نے مجھے پکڑ کر بھینچا یہاں تک کہ میری قُوّتِ برداشت جواب دینے لگی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑدیا اور کہا پڑھو۔ میں نے کہا۔’’میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں۔‘‘ اس نے دوبارہ مجھے بھینچا اور میری قوتِ برداشت جواب دینے لگی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑدیا اور کہا پڑھو۔ میں نے پھر کہا۔ ’’میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں۔‘‘ اس نے تیسری مرتبہ مجھے بھینچا یہاں تک کہ میری قوتِ برداشت جواب دینے لگی۔ پھر اُس نے مجھے چھوڑدیا اور کہا اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ’’پڑھو اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا‘‘ یہاں تک کہ مَالَمْ یَعْلَمْ ’’جسے وہ نہ جانتا تھا‘‘ تک پہنچ گیا۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیںکہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺکانپتے لرزتے ہوئے وہاں سے پلٹے اور حضرت خدیجہؓ کے پاس پہنچ کر کہا۔’’مجھے اُڑھاؤ مجھے اُڑھاؤ‘‘۔ چنانچہ آپؐ کواُڑھادیا گیا۔ جب آپؐ پر سے خوف زدگی کی کیفیت دور ہوگئی تو آپؐ نے فرمایا۔’’اے خدیجہؓ یہ مجھے کیا ہوگیاہے۔‘‘ پھر سارا قصّہآپؐ نے ان کو سنایا اور کہا’’مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔‘‘ انہوں نے کہا۔’’ ہرگز نہیں۔ آپ خوش ہوجایئے، خدا کی قسم! آپؐ کوخداکبھی رسوا نہ کرے گا۔ آپؐ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں ـــــایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ امانتیں ادا کرتے ہیں ـــــ بے سہارا لوگوں کا بار برداشت کرتے ہیں، نادار لوگوں کو کماکر دیتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، اور نیک کاموں میں مدد کرتے ہیں۔‘‘
پھر وہ حضورؐ کو ساتھ لے کر وَرَقَہ بن نَوفَل کے پاس گئیں جو ان کے چچازاد بھائی تھے، زمانۂ جاہلیّت میں عیسائی ہوگئے تھے، عربی اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھے۔ بہت بوڑھے اور نابینا ہوگئے تھے۔ حضرت خدیجہؓ نے اُن سے کہا بھائی جان! ذرا اپنے بھتیجے کا قصّہ سنیئے۔ وَرَقہ نے حضور ؐسے کہا بھتیجے تم کو کیا نظر آیا؟ رسُول اللہ ﷺنے جو کچھ دیکھا تھا وہ بیان کیا۔ وَرَقہ نے کہا’’ یہ وہی ناموس (وحی لانے والا فرشتہ) ہے جو اللہ نے موسیٰ ؑپر نازل کیا تھا۔ کاش میں آپؐ کے زمانۂ نبوت میں قوی جوان ہوتا۔ کاش میں اس وقت تک زندہ رہوں جب آپؐ کی قوم آپؐ کو نکالے گی۔‘‘ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ ’’کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے۔‘‘ وَرَقہ نے کہا: ’’ہاں، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شخص وہ چیز لے کر آیاہو جو آپؐ لائے ہیں اور اس سے دشمنی نہ کی گئی ہو۔ اگر میں نے آپؐ کا وہ زمانہ پایا تو میں آپؐ کی پُرزور مدد کروں گا۔‘‘ مگر زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ وَرَقَہ کا انتقال ہوگیا۔
تخریج: حَدَّثَنَایَحْيَ بْنُ بُکَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، ح و حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُ ابْنُ مَرْوَانَ الْبَغْدَادِیُّ، قَالَ :ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْعَزِیْزِبْنِ اَبِیْ رِزْمَۃَ، قَالَ اَبُوْصَالِحٍ سَلْمُوْیَۃُ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ، عَنْ یُوْنُسَ بْنِ یَزِیْدَ، قَالَ : اَخْبَرَنِی ابْنُ شِھَابٍ اَنَّ عُرْوَۃَ ابْنَ الزُّبَیْرِ اَخْبَرَہٗ، اَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ قالَتْ: کَانَ اَوَّلُ مَابُدِیَٔ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ فِی النَّوْمِ، فَکَانَ لاَیَرٰی رُؤْیًا اِلاَّ جَآئَ تْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ اِلَیْہِ الْخَلاَئُ فَکَانَ یَلْحَقُ بِغَارِ حَرَآئَ فَیَتَحَنَّثُ فِیْہِ وَالتَّحَنُّثُ التَّعَبُّدُ اللَّیَالِیْ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ اَنْ یَّرْجِعَ اِلٰی اَھْلِہٖ، وَیَتَزَوَّدُ لِذٰلِکَ ثُمَّ یَرْجِعُ اِلٰی خَدِیْجَۃَ فَیَتَزَوَّدُ بِمِثْلِھَا حَتّٰی فَجِئَہُ الْحَقُّ وَھُوَ فِیْ غَارِ حَرَآئَ فَجَآئَ ہُ الْمَلَکُ فَقَالَ : اِقْرَأْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَا اَنَا بِقَارِیٍٔ، قَالَ : فَاَخَذَنِیْ فَغَطَّنِیْ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجُھْدُ ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ فَقَالَ: اِقْرَأْ ! قُلْتُ: مَا اَنَا بِقَارِیٍٔ، قَالَ: فَاَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّانِیَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجُھْدُ ثُمَّ اَرْسَلْنِیْ فَقَالَ: اِقْرَأْ فَقُلْتُ: مَا اَنَا بِقَارِیٍٔ فَاَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّالِثَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجُھْدُ ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ فَقَالَ: اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ، خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ، اِقْرَأْ وَرَبُّکَ الآیَات اِلٰی قَوْلِہٖ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ ۔
فَرَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تَرْجُفُ (تَضْطَرِبُ) بَوَادِرُہٗ حَتّٰی دَخَلَ عَلٰی خَدِیْجَۃَ فَقَالَ: زَمِّلُوْنِیْ زَمِّلُوْنِیْ فَزَمَّلُوْہُ حَتّٰی ذَھَبَ عَنْہُ الرَّوْعُ (الخَوْفُ) قَالَ لِخَدِیْجَۃَ اَیْ خَدِیْجَۃُ مَالِی خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ فَاَخْبَرَھَا الْخَبَرَ فَقَالَتْ خَدِیْجَۃُ :کَلاَّ اَبْشِرْ فَوَاللّٰہِ لاَیُخْزِیْکَ اللّٰہُ اَبَدًا فَوَاللّٰہِ اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِیْثَ، وَتَحْمِلُ الْکَلَّ، وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِی الضَّیْفَ، وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ فَانْطَلَقَتْ بِہٖ خَدِیْجَۃُ حَتّٰی اَتَتْ بِہٖ وَرَقَۃَ بْنَ نَوْفَلٍ وَھُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِیْجَۃَ اَخِیْ اَبِیْھَا، وَکَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ وَکَانَ یَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعَرَبِیَّ وَیَکْتُبُ مِنَ الْاِنْجِیْلِ بِالْعَرَبِیَّۃِ مَاشَآئَ اللّٰہُ اَنْ یَّکْتُبَ وَکَانَ شَیْخًا کَبِیْرًا قَدْ عَمِیَ قَالَتْ خَدِیْجَۃُ: یَابْنَ عَمٍّ اِسْمَعْ مِنَ ابْنِ اَخِیْکَ قَالَ وَرَقَۃُ: یَا ابْنَ اَخِیْ مَاذَا تَرٰی؟ فَاَخْبَرَہُ النَّبِیُّ ﷺ خَبْرَ مَارَاٰی فَقَالَ وَرَقَۃُ: ھٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِیْ اُنْزِلَ عَلٰی مُوْسٰی لَیْتَنِیْ فِیْھَا جَذَعٌ لَیْتَنِیْ اَکُوْنُ حَیًّا وَذَکَرَ حَرْفًا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَوْمُخْرِجِیَّ ھُمْ؟ قَالَ وَرَقَۃُ، نَعَمْ! لَمْ یَاْتِ رَجُلٌ بِمَا جِئْتَ بِہٖ اِلاَّ اُوْذِیَ وَاِنْ یُدْرِکْنِیْ یَوْمُکَ حَیًّا اَنْصُرْکَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا۔ ثُمَّ لَمْ یَنْشَبْ وَرَقَۃُ اَنْ تُوَفِّیَ وَفَتَرَ الْوَحْیُ فَتْرَۃً حَتّٰی حَزِنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الخ۔ (۲)
بخاری نے کتاب التعبیر باب اول مابدی بہ رسول اللّٰہ ﷺ من الوحی الرویا الصالحۃ کے تحت جو روایت نقل کی ہے اس کے آخر میں، ثُمَّ لَمْ یَنْشَبْ وَرَقَۃُ اَنْ تُوَفِّیَ وَفَتَرَا لْوَحْیُ فَتْرَۃً حتَیّٰ حَزِنَ النَّبِیُّ ﷺ کے بعد مندرجہ ذیل اضافہ ہے:
فِیْمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْہُ مِرَارًا کَیْ یَتَرَدّٰی مِنْ رُؤٗسِ شَوَاھِقِ الْجِبَالِ فَکُلَّمَا اَوْفٰی (اَشْرَفَ) بِذُرْوَۃِ جَبَلٍ لِکَیْ یُلْقِیَ نَفْسَہٗ مِنْہُ تَبَدّٰی لَہٗ جِبْرَئِیْلُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ، اِنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ حَقًّا، فَیَسْکُنُ لِذٰلِکَ جَاشُہٗ، وَتَقِرُّ نَفْسُہٗ فَیَرْجِعُ فَاِذَا طَالَتْ عَلَیْہ فَتْرَۃُالْوَحْیِ، غَدَ الْمِثْلَ ذٰلِکَ فَاِذَا اَوْفٰی بِذُرْوَۃِ الْجَبَلِ تَبَدَّی لَہٗ جِبْرَئِیْلُ فَقَالَ لَہٗ مِثْلَ ذٰلِکَ۔(۳)
ترجمہ : ہمیں جو اطلاع ملی ہے اس کے مطابق آپ کا رنج وغم اس حدتک بڑھ گیا کہ آپؐ کئی مرتبہ پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ جاتے کہ اپنے آپ کو وہاں سے نیچے گرا کر ہلاک کرلیں، مگر عین اسی موقعہ پر حضرت جبرئیل ؑ تشریف لاکر آپ کو تسلّی دیتے اور فرماتے: اے محمدؐ آپ یقینا اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو آپ کو سکون اور طمانیتِ قلب حاصل ہوتا اور آپ کی طبع مبارک کے ہیجان میں کمی آجاتی اور آپؐ واپس گھر تشریف لے آتے۔ مگر جب پھر وحی کے آنے میں زیادہ مدت گزرجاتی اور پھر پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر اپنے آپ کو وہاں سے نیچے گراکر ہلاک کرنے کا ارادہ فرماتے، تو جبریل امین پھر نمودار ہوکر تسلّی دیتے کہ آپؐ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔

کیا نزولِ وحی سے قبل آپ ؐاس کے منتظر تھے؟

نزولِ وحی کی کیفیت کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے پہلے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ نبی ﷺ کو اچانک اس صورتِ حال سے سابقہ پیش آیاتھا۔ آپ کو اس سے پہلے کبھی یہ گمان بھی نہ گزرا تھا کہ آپؐ نبی بنائے جانے والے ہیں۔ نہ اس کی کوئی خواہش آپؐ کے دل کے کسی گوشے میں موجود تھی۔ نہ اس کے لیے آپؐ پہلے سے کوئی تیاری کررہے تھے اور نہ اس کے مُتَوقِّع تھے کہ ایک فرشتہ اوپر سے پیغام لے کر آئے گا۔ آپؐ خلوت میں بیٹھ بیٹھ کر مراقبہ اور عبادت ضرور فرماتے تھے لیکن نبی بنائے جانے کا کوئی تصوّر آپؐ کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ تھا۔ اس حالت میں جب یکا یک غارِ حرا کی اس تنہائی میں فرشتہ آیا تو آپ کے اوپر فطرتاً اس پہلے عظیم اور غیر معمولی تجربے سے وہی گھبراہٹ طاری ہوئی جو لامحالہ ایک بشر پر طاری ہونی ہی چاہیے، قطع نظر اس کے کہ وہ کیسا ہی عظیم الشان بشر ہو۔ یہ گھبراہٹ بسیط نہیں، بلکہ مرکّب نوعیّت کی تھی۔ طرح طرح کے سوالات حضورؐ کے ذہن میں پیدا ہورہے تھے۔ جنہوں نے طبع مبارک کو سخت خلجان میں مبتلا کردیاتھا۔ کیا واقعی میں نبی ہی بنایا گیا ہوں؟ کہیں مجھے سخت آزمایش میں تو نہیں ڈال دیا گیاہے؟ یہ بارِ عظیم آخر میں کیسے اٹھاؤں گا؟ لوگوں سے کیسے کہوں کہ میں تمہاری طرف نبی مقرر ہوا ہوں؟ لوگ میری بات کیسے مان لیں؟ آج تک جس معاشرے میں عزّت کے ساتھ رہاہوں اب لوگ میرا مذاق اڑائیں گے اور مجھے دیوانہ کہیں گے۔ اس جاہلیّت کے ماحول سے آخر میں کیسے لڑسکوں گا؟ غرض اس طرح کے نہ معلوم کتنے سوالات ہوں گے جو آپؐکو پریشان کررہے ہوں گے۔ اسی وجہ سے جب آپ گھرپہنچے تو کانپ رہے تھے۔ جاتے ہی فرمایا کہ مجھے اُڑھادو، مجھے اُڑھادو۔ گھروالوں نے آپ کو اُڑھادیا۔ کچھ دیر کے بعد جب ذرا دل ٹھیرا تو خدیجہ ؓکو سارا واقعہ سنایا اور فرمایا: لَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ۔ ’’مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔‘‘ انہوں نے آپ کو اطمینان دلایا کہ کَلاَّ وَاللّٰہِ مَا یَحْزَنُکَ اللّٰہُ اَبَدًا۔اِنَّک لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَ تَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ۔ ’’ہرگز نہیں، خدا کی قسم! آپؐکواللہ کبھی رنج نہ دے گا۔ آپؐ تورشتہ داروں کے کام آتے ہیں،بیکسوں کی مدد کرتے ہیں، نادار کی دست گیری کرتے ہیں، مہمان کی تواضع کرتے ہیں، اور تمام نیک کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔‘‘ پھر وہ وَرَقَہ بن نَوفَل کے پاس آپؐکو لے گئیں ، کیونکہ وہ اہل کتاب میں سے تھے اور انبیائے سابقین کے حالات سے باخبر تھے۔ انہوں نے حضورؐ سے کیفیّت سن کر بلاتامّل تصدیق کی کہ’’یہ وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰ پر آیاتھا۔‘‘ اس لیے کہ وہ بچپن سے لے کر جوانی تک آپؐکی انتہائی پاکیزہ سیرت سے خوب واقف تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ یہاں پہلے سے نبوت کے دعوے کی کسی تیاری کا شائبہ تک نہیں پایا گیاہے۔ ان دونوں باتوں کو جب انہوں نے اس واقعہ سے ملایا کہ یکایک غیب سے ایک ہستی آکر ایسے شخص کو ان حالات میں وہ پیغام دیتی ہے جو عین تعلیماتِ انبیاء کے مطابق ہے تو یہ ضرورسچی نبوّت ہے۔
یہ سارا قصہ ایسا فطری اور معقول ہے کہ اس صورتِ حال میں یہی کچھ ہونا چاہیے تھا۔ اس پر شکوک کا پیدا ہونا تو درکنار، میرے نزدیک تو یہ رسول اللہ ﷺکے نبیِٔ صادق ہونے کے اہم ترین دلائل میں سے ایک ہے۔ اگریہ معاملہ اس طرح پیش نہ آتا اور آپؐیکا یک حرا سے آتے ہی بڑے اطمینان کے ساتھ فرشتے کی آمد کا واقعہ مجمع عام میں سناکر اپنی نبوّت کا دعویٰ پیش فرماتے تو ایک آدمی یہ شک کرسکتاتھا کہ حضرت پہلے سے اپنے آپ کو نبوت کا اہل سمجھے بیٹھے تھے اور دُور ایک غار میں بیٹھ بیٹھ کر اس کا انتظار کررہے تھے کہ کب کوئی کشف والہام ہوتاہے۔ آخر شدّتِ مراقبہ نے ذہن کے سامنے ایک فرشتے کا نقشہ پیش کرہی دیا اور کانوں میں آوازیں بھی آنے لگیں۔ معاذ اللہ! لیکن خدا کے فضل سے وہاں نبوت کا ارادہ اور اس کی خواہش اور کوشش تو درکنار، جب بالفعل وہ مل گئی تب بھی چند ساعتوں تک عالمِ حیرت ہی طاری رہا۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھیے کہ بے نظیر شخصیّت کے مالک ہونے پر بھی وہ ذات عُجب وخود پسندی سے اس درجہ خالی تھی کہ جب نبوّت کے منصبِ عظیم پر یکا یک مامور کردیے گئے اس وقت بھی کافی دیر تک یہ اطمینان نہ ہوتا تھا کہ دنیا کے کروڑوں انسانوں میں سے تنہا ایک میں ہی اس قابل ہوں کہ اس منصب کے لیے ربِّ کائنات کی نگاہ انتخاب میرے اُوپر پڑے۔
(رسائل ومسائل ، سوم، چند مزید اعتراضات: ابتدائے۔۔۔)

وحی کی اقسام اور الہام : جبلّی یا طبیعی وحی

وحی کی ایک قسم وہ ہے جسے وحی جبلّی یا طبیعی کہاجاسکتاہے جس کے ذریعہ سے اللہ ہر مخلوق کو اس کے کرنے کا کام سکھاتاہے۔ یہ وحی انسانوں سے بڑھ کر جانوروں اور شاید ان سے بھی بڑھ کر نباتات وجمادات پر ہوتی ہے۔

جُزئی وحی

دوسری قسم وہ ہے جسے وحی جُزئی کہاجاسکتاہے، جس کے ذریعے سے کسی خاص موقع پر اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو امورِ زندگی میں سے کسی امر کے متعلق کوئی علم یا کوئی ہدایت یا کوئی تدبیر سجھادیتاہے۔ یہ وحی آئے دن عا م انسانوں پر ہوتی رہتی ہے۔ دنیا میں بڑی بڑی ایجادیں اس وحی کی بدولت ہوئی ہیں۔ بڑے بڑے اہم علمی انکشافات اسی وحی کے ذریعے سے ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے اہم تاریخی واقعات میں اسی وحی کی کارفرمائی نظر آتی ہے، جب کہ کسی شخص کو کسی اہم موقع پر کوئی خاص تدبیر بلاغور وفکر اچانک سُوجھ گئی اور اس نے تاریخ کی رفتار پر ایک فیصلہ کُن اثر ڈال دیا۔ ایسی ہی وحی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ پر بھی ہوئی تھی۔

انبیاء کے لیے مخصوص وحی

ان دونوں قسم کی وحیوں سے بالکل مختلف نوعیّت کی وحی وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو حقائق غیبیہ پر مطّلع فرماتاہے اور اُسے نظام زندگی کے متعلق ہدایات بخشتاہے۔ تاکہ وہ اس علم اور اس ہدایت کو عام لوگوں تک پہنچائے اور انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ یہ وحی انبیاء کے لیے خاص ہے۔ قرآن سے صاف معلوم ہوتاہے کہ اس نوعیت کا علم، خواہ اس کا نام اِلقاء رکھیے، کشف رکھیے، الہام رکھیے یا اصطلاحاً اسے وحی سے تعبیر کیجیے، انبیاء ورسل کے سوا کسی کو نہیں دیا جاتا۔ اور یہ علم صرف انبیاء ہی کو اِس طورپر دیا جاتاہے کہ انہیں اس کے مِن جانب اللہ ہونے، اور شیطان کی دراندازی سے بالکل محفوظ ہونے اور خود اپنے ذاتی خیالات، تصوّرات اور خواہشات کی آلائشوں سے بھی پاک ہونے کا پورا یقین ہوتاہے نیز یہی علم حُجّتِ شرعی ہے۔ اس کی پابندی ہر انسان پر فرض ہے اوراس کو دوسرے انسانوں تک پہنچانے اور اس پر ایمان کی دعوت سب بندگانِ خدا کو دینے پر انبیاء علیہم السلام مامور ہوتے رہے ہیں۔

کیا غیر نبی پر اس وحی کا نزول ہوسکتاہے

نبیاء کے سوا دوسرے انسانوں کو اگر اس تیسری قسم کے علم کا کوئی جُز نصیب بھی ہوتاہے، تو وہ ایسے دُھندلے اشارے کی حد تک ہوتاہے جسے ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے وحیٔ نبوت کی روشنی سے مدد لینا ( کتاب وسنت پر پیش کرکے اس کی صحت وعدمِ صحت کو جانچنا اور بصورتِ صحت اس کا منشا متعیّن کرنا) ضروری ہے۔ اس کے بغیر جو شخص اپنے الہام کو ایک مستقل بالذّات ذریعۂ ہدایت سمجھے اور وحیٔ نبوّت کی کسوٹی پر اس معاملے کو پرکھے بغیر اس پر عمل کرے اور دوسروں کو اس کی پیروی کی دعوت دے، اس کی حیثیت ایک جعلی سکّہ ساز کی سی ہے، جوشاہی ٹکسال کے مقابلہ میں اپنی ٹکسال چلاتاہے۔ اس کی یہ حرکت خود ہی ثابت کرتی ہے کہ فی الواقع خدا کی طرف سے اس کو الہام نہیں ہوتا۔
یہ جو کچھ میں عرض کررہاہوں، قرآن میں اس کو متعدد مقامات پر صاف صاف بیان کیا گیاہے۔ خصوصاً سورۂ جن کی آخری آیات: ۲۶-۲۸ میں تو اسے بالکل ہی کھول کر فرمادیاگیاہے:
عَالِمُ الْغَیْبِ فَلاَیُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًا اِلاَّ مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّہٗ یَسْلُکُ مِنْ م بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ رَصَدًا لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِھِّمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْھِمْ وَاَحْصٰی کُلَّ شَیْئٍ عَدَدًا۔
آپ اگر اس بات کوسمجھنے کی کوشش فرمائیں تو آپ کو خود معلوم ہوجائے گاکہ اُمّت کے صالح ومُصلح آدمیوں کو نبی کا ساکشف والہام نہ دینے اور اس سے کم تر ایک طرح کا تابعانہ کشف والہام دینے میں کیا مصلحت ہے۔ پہلی چیز عطا نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہی چیز نبی اور اُمّتی کے درمیان بِنائے فرق ہے، اسے دُور کیسے کیا جاسکتاہے۔ اور دوسری چیز دینے کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ نبی کے بعد اس کے کام کو جاری رکھنے کی کوشش کریں، وہ اس بات کے محتاج ہوتے ہیں کہ دین میں اُن کو حکیمانہ بصیرت اور اقامتِ دین کی سعی میں ان کو صحیح رہنمائی اللہ کی طرف سے حاصل ہو۔ یہ چیز غیرشعوری طور پرتو ہرمخلص اور صحیح الفکر خادمِ دین کو بخشی جاتی ہے، لیکن اگر کسی کو شعوری طور پر بھی دے دی جائے تو یہ اللہ کا انعام ہے۔ (تجدید واحیائے دین: کشف و الہام کی حقیقت)

نزول وحی کی کیفیّت

۳۔حضرت زید بن ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺپر وحی اس حالت میں نازل ہوئی کہ آپؐ اپنا زانومیرے زانو پر رکھے ہوئے بیٹھے تھے۔ میرے زانو پر اس وقت ایسا بوجھ پڑا کہ معلوم ہوتاتھا کہ اب ٹوٹ جائے گا۔ (تفہیم القرآن ،ج۶، المزمل، حاشیہ: ۵)
تخریج: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ :حَدَّثَنِیْ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ سَھْلُ بْنُ سَعْدِ نِالسَّاعِدِیُّ اَنَّہٗ رَاٰی مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ فِی الْمَسْجِدِ فَاَقْبَلْتُ حَتّٰی جَلَسْتُ اِلٰی جَنْبِہٖ فَاَخْبَرَنَا۔ اَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ اَخْبَرَہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ اَمْلٰی عَلَیْہِ لاَیَسْتَوِی الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَجَآئَ ہُ ابْنُ اُمِّ مَکْتُوْمٍ وَھُوَ یُمِلُّھَا عَلَیَّ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَاللّٰہِ لَوْاَسْتَطِیْعُ الْجِھَادَ لَجَاھَدْتُّ۔ وَکَانَ اَعْمٰی فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَفَخِذُہٗ عَلٰی فَخِذِیْ فَثَقُلَتْ عَلَیَّ حَتّی خِفْتُ اَنْ تُرَضَّ فَخِذِیْ ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ غَیْرَ اُولِی الضَّرَرِ۔(۴)
ترجمہ:حضرت زیدبن ثابت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺمجھے ’’لایستوی القاعدون من المؤمنین والمجاھدون فی سبیل اللّٰہ ‘‘ لکھوارہے تھے کہ اسی دوران میں ابن اُمِّ مکتوم نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ اگر مجھ میں جہاد پر جانے کی استطاعت ہوتی تو میں ضرور اس میں شریک ہوتا۔ کیونکہ ابنِ اُمِّ مکتوم نابینا تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل فرمائی کہ اولی الضرر اس سے مستثنیٰ ہیں۔ جس وقت وحی کا نزول ہورہاتھا آپ کا زانومیرے زانو پر تھا تو میرے زانو پر اتنا بوجھ پڑا جس سے مجھے اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں اب یہ ٹوٹ نہ جائے ۔۔۔
۴۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے سخت سردی کے زمانے میں حضورؐ پر وحی نازل ہوتے دیکھی ہے۔ آپ کی پیشانی سے اس وقت پسینہ ٹپکنے لگتاتھا۔ (تفہیم القرآن ، ج۶ ، المزمل، حاشیہ: ۵)
تخریج :(۱) حَدَّثَنَاعَبْدُاللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ اَخْبَرَنَا مَالِکٌ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا اَنَّ الْحَارِثَ بْنَ ھِشَامٍ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ کَیْفَ یَاْتِیْکَ الْوَحْیُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَحْیَانًا یَاْتِیْنِیْ مِثْلَ صَلْصَلَۃِ الْجَرَسِ وَھُوَ اَشَدُّعَلَیَّ فَیُفْصَمُ عَنِّیْ وَقَدْ وَعَیْتُ عَنْہُ مَا قَالَ، وَاَحْیَانًا یَتَمَثَّلُ لِیَ الْمَلَکُ رَجُلاً فَیُکَلِّمُنِیْ فَاَعِیْ مَایَقُوْلُ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَلَقَدْ رَأَیْتُہٗ یَنْزِلُ عَلَیْہِ الْوَحْیُ فِی الْیَوْمِ الشَّدِیْدِ الْبَرْدِ فَیَفْصِمُ عَنْہُ وَاِنَّ جَبِیْنَہٗ لَیَتفَصَّدُ عَرَقًا۔(۵)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ حضرت حارث بن ہشام نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا’’اے رسولِ خدا آپؐ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟‘‘ جواب میں آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’بسا اوقات تو وحی گھنٹی کی آواز کی طرح سنائی دیتی ہے۔ وحی کی یہ صورت مجھ پر بڑی گراں ہوتی ہے۔ پس جب وہ مجھ سے جُدا ہوتی ہے تو میں ساری وحی کو یاد کرچکاہوتاہوں اور کبھی ایک فرشتہ انسانی شکل میں میرے روبرو آکر بات کرتاہے تو میں اس کی ساری باتیں اس کے جانے سے پہلے یاد کرلیتاہوں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیںکہ’’ میں نے سخت سردی کے زمانے میں حضوؐر پر وحی نازل ہوتے دیکھی ہے پس جب وہ آپؐ سے جدا ہوجاتی تو آپؐ کی پیشانی سے اس وقت پسینہ ٹپکنے لگتاتھا۔‘‘
مسلم نے کتاب الفضائل باب طیب عرقہ ﷺ میں مندرجہ ذیل روایت بھی درج کی ہے:
(۲) عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ : کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ اِذَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ الْوَحْیُ کُرِبَ لِذٰلِکَ وَتَرَبَّدَ وَجْھُہٗ۔
ترجمہ : حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ نبی ﷺ پر جب وحی نازل کی جاتی تو آپ اس کی وجہ سے تکلیف محسوس کرتے اور آپ کے چہرۂ مبارک پر پسینہ آجاتا۔
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ، قَالَ: نَا اَبُوْ اُسَامَۃَ، عَنْ ھِشَامٍ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: اَنْ کَانَ لَیَنْزِلُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِی الْغَدَاۃِ الْبَارِدَۃِ ثُمَّ تَفِیْضُ جَبْھَتُہٗ عَرَقًا۔(۶)
۵۔ایک اور روایت میں حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ جب کبھی آپؐ پر اس حالت میں وحی نازل ہوتی کہ آپؐ اونٹنی پر بیٹھے ہوں تو اونٹنی اپنا سینہ زمین پرٹِکادیتی تھی اور اس وقت تک حرکت نہ کرسکتی تھی جب تک نزولِ وحی کا سلسلہ ختم نہ ہوجاتاتھا۔
(تفہیم القرآن ج۶، المزمل، حاشیہ: ۵)
تشریح :قرآن کو بھاری کلام اس بناء پر بھی کہاگیاہے کہ اس کے احکام پر عمل کرنا، اس کی تعلیم کا نمونہ بن کر دکھانا، اس کی دعوت کو لے کر ساری دنیا کے مقابلے میں اٹھنا، اور اس کے مطابق عقائد وافکار، اخلاق وآداب اور تہذیب وتمدّن کے پورے نظام میں انقلاب برپا کردینا ایک ایسا کام ہے جس سے بڑھ کر کسی بھاری کام کا تصوّر نہیں کیا جاسکتا اور اس بناء پر بھی اس کو بھاری کلام کہاگیاہے کہ اس کے نزول کا تحمل بڑا دشوار کام تھا۔ (تفہیم القرآن، ج۶، المزمل ،حاشیہ:۵)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عَبْدِ الْاَعْلٰی، حَدَّثَنَا بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ھِشَامٍ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ۔ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ اِذَا اُوْحِیَ اِلَیْہِ وَھُوَ عَلٰی نَاقَتِہٖ وَضَعَتْ جِرَانَھَا۱؎ فَمَا تَسْتَطِیْعُ اَنْ تَحَرَّکَ حَتّٰی یُسَرّٰی عَنْہُ۔ (۷) (ھذا مرسلٌ)
ترجمہ : حضرت عروہؓ سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺپر وحی اس حالت میں نازل ہوتی کہ آپؐ اونٹنی پر سوار ہوتے، تو اونٹنی اپنا سینہ زمین پر ٹکادیتی تھی اور اس وقت تک حرکت نہ کرسکتی تھی جب تک نزول وحی کا سلسلہ ختم نہ ہوجاتا۔
حضرت عائشہؓ سے مروی روایت:
(۲) قَالَتْ اِنْ کَانَ لَیُوْحیٰ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَھُوَ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ فَتَضْرِبُ بِجِرَانِھَا۔ (۸)
ترجمہ: جب آپؐپر وحی ایسی حالت میں نازل ہوتی کہ آپؐاپنی سواری پر ہوتے تو وہ سواری اپنا سینہ زمین پر ٹیک دیتی۔

جبریلؑ کے ساتھ ساتھ وحی کے الفاظ دُہرانے کی ممانعت

۶۔ مسند احمد ، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن جریر، طبرانی، بَیْہقی اور دوسرے محدثین نے متعدد سندوں سے حضرت عبداللہ بن عباس کی یہ روایت نقل کی ہے کہ:
’’جب حضور پر قرآن نازل ہوتاتھا تو آپؐاس خوف سے کہ کہیں کوئی چیز بھول نہ جائیں، جبریل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ وحی کے الفاظ دہرانے لگتے تھے۔ اس پر فرمایا گیاکہ لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ۔
یہی بات شَعبی، ابن زید، ضحّاک، حسن بصری، قَتَادہ، مجاہد اور دوسرے اکابر مفسّرین سے منقول ہے۔
تشریح : نبوّت کے ابتدائی دَور میں، جب کہ حضوؐر کو وحی اخذ کرنے کی عادت اور مشق پوری طرح نہیں ہوئی تھی۔ آپ پر جب وحی نازل ہوتی تھی توآپؐکو یہ اندیشہ لاحق ہوجاتاتھا کہ جبریل علیہ السلام جو کلامِ الٰہی آپ کو سنارہے ہیں وہ آپؐکو ٹھیک ٹھیک یاد رہ سکے گا یا نہیں، اس لیے آپؐوحی سننے کے ساتھ ساتھ اسے یاد کرنے کی کوشش کرنے لگتے تھے۔ ایسی ہی صورت اُس وقت پیش آئی جب حضرت جبریل سورہ قیامہ کی یہ آیات (۱۶تا۱۹) آپؐکو سنارہے تھے۔ چنانچہ سلسلۂ کلام توڑ کر آپؐ کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپؐوحی کے الفاظ یاد کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ غور سے سنتے رہیں،اسے یاد کرادینا اوربعد میں ٹھیک ٹھیک آپؐسے پڑھوادینا ہمارے ذمّہ ہے، آپ مطمئن رہیںکہ اس کلام کا ایک لفظ بھی آپؐنہ بھولیں گے نہ کبھی اسے اداکرنے میں غلطی کرسکیں گے۔ (تفہیم القرآن ،ج۶،القیامہ، حاشیہ: ۱۱)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ :حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اَبِیْ عَائِشَۃَ، وَکَانَ ثِقَۃً۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا نَزَلَ عَلَیْہِ الْوَحْیُ حَرَّکَ بِہٖ لِسَانَہٗ۔ وَوَصَفَ سُفْیَانُ یُرِیْدُ اَنْ یَحْفَظَہٗ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ لاَتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ۔ (۹)
ترجمہ :حضرت ابن عباسؓ سے سعید بن جبیر روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی ﷺپر وحی نازل ہوئی تو آپ اپنی زبان مبارک کو حرکت دیتے۔ سفیان نے اپنی زبان کو حرکت دے کر دکھایا کہ حضورﷺ ایسا اس لیے کرتے کہ آپؐ وحی کو یاد کرنا چاہتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا کہ ’’تم اپنی زبان کو حرکت نہ دو تاکہ اسے جلدی سے یاد کرلو۔‘‘
بخاری ،مسلم میں ابن عباس ؓسے مروی روایت:
(۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیْ قَوْلِہٖ لاَتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا نَزَلَ عَلَیْہِ جِبْرِیْلُ بِالْوَحْیِ کَانَ مِمَّا یُحَرِّکُ بِہٖ لِسَانَہٗ وَشَفَتَیْہِ فَیَشُدُّ عَلَیْہِ فَکَانَ ذٰلِکَ یُعْرَفُ مِنْہُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی لاَتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ اَخْذَہٗ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ اِنَّ عَلَیْنَا اَنْ نَجْمَعَہٗ فِیْ صَدْرِکَ وَقُرْاٰنَہٗ فَتَقْرَأہُ فَاِذَا قَرَاْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ قَالَ اَنْزَلْنٰہُ فَاسْتَمِعْ لَہٗ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ اَنْ نُبَیِّنَہٗ بِلِسَانِکَ فَکَانَ اِذَا اَتَاہُ جِبْرِیْلُ اَطْرَقَ فَاِذَا ذَھَبَ قَرَاَہٗ کَمَا وَعَدَہٗ اللّٰہُ۔(۱۰)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے ارشادِ گرامی لاتحرک بہ لسانک کے بارے میں ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ جبریل امین جب وحی لے کر آپؐ کے پاس حاضر ہوتے تو حضور ﷺساتھ ساتھ پڑھتے جاتے۔ یہ صورت آپ پر بہت گراں گزرتی اور اس کا اظہار آپؐ کے چہرے سے ہوتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت لاتحرک بہ لسانکنازل فرمائی کہ قرآن کے اخذ کرنے میں عجلت سے کام نہ لیں۔ اس کا یاد کرانا اور پڑھوادینا ہمارے ذ مہ ہے۔ یعنی اسے تمہارے سینہ میں محفوظ کرنااور اسے پڑھوادینا ہماری ذمہ داری ہے لہٰذا جب ہم اسے پڑھ رہے ہوں تو تم اس کی قرأت غور سے سنتے رہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’ہم نے اسے نازل کیاہے اسے غور سے سنو اس کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے۔ چنانچہ اس کے بعد جب جبریل وحی لے کر آتے تو آپ خاموش ہوکر بغور سنتے۔ اور جب جبریل فارغ ہوکر چلے جاتے تو وعدۂ خدا وندی کے مطابق آپ اسے پڑھ لیتے۔
(۳) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، حَدَّثَنَا اَبُوْ عَوَانَۃَ، عَنْ مُوْسَی بْنِ اَبِیْ عَائِشَۃَ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِیْ قَوْلِہٖ لاَتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ۔ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِیْلِ شِدَّۃً کَانَ یُحَرِّکُ شَفَتَیْہِ فَقَالَ لِیَ ابْنُ عَبَّاسٍ، اَنَا اُحَرِّکُھُمَا لَکَ کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ یُحَرِّکُھُمَا فَقَالَ سَعِیْدٌ: اَنَا اُحَرِّکُھُمَا کَمَا کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یُحَرِّکُھُمَا فَحَرَّکَ شَفَتَیْہِ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ لاَتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ قَالَ: جَمَعَہٗ لَکَ فِیْ صَدْرِکَ ثُمَّ تَقْرَئَ ہٗ فَاِذَا قَرَأْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ قَالَ: فَاسْتَمِعْ لَہٗ وَاَنْصِتْ ثُم َّ اِنَّ عَلَیْنَا اَنْ تَقْرَئَ ہٗ قَالَ : فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا اَتَاہُ جِبْرِیْلُ اسْتَمَعَ فَاِذَا انْطَلَقَ جِبْرِیْلُ قَرَأَہُ النَّبِیُّ ﷺ کَمَا اَقْرَأَ ہُ۔(۱۱)
ترجمہ : حضرت سعید بن جبیر نے لاتحرک بہ لسانک کے شانِ نزول کے بارے میں حضرت ابن عباسؓکا قول بیان کیا ہے کہتے ہیں نبی ﷺنزولِ وحی کے وقت مشقت ودقت محسوس کرتے تھے اور اپنے لبوں کو حرکت دینے لگتے تھے یعنی ساتھ ساتھ پڑھنا شروع کردیتے تھے۔ (سعیدؓ کہتے ہیں ابنِ عباس ؓنے مجھ سے کہا کہ اپنے ہونٹ اسی طرح ہلاکر تمہیں دکھاتاہوں جس طرح رسول اللہ ﷺاپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے۔ سعید نے کہا میں تمہیں اپنے ہونٹ اسی طرح ہلاکر دکھاتاہوں جس طرح ابنِ عباس نے اپنے ہونٹ ہلائے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ہونٹ ہلاکر دکھائے) تو اللہ تعالیٰ نے آیت لاَ تَحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ اِنَّ عَلَیْنَاجَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ نازل کی۔۔۔ابن عباسؓ کہتے ہیں اس کے بعد رسول اللہﷺجبریل ؑ کی آمد پر پوری توجہ سے سنتے اور ان کے چلے جانے کے بعد اسی طرح پڑھتے جس طرح جبریل ؑ نے پڑھایا ہوتا۔

آپ الفاظِ وحی دہرانے کی ضرورت کیوں محسوس کرتے تھے؟

۷۔ حاکم نے حضرت سعدؓ بن ابی وقّاص سے اور ابنِ مَردُوْیَہ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قرآن کے الفاظ کو اس خوف سے دہراتے جاتے تھے کہ کہیں بھول نہ جائیں۔
ـــــ مجاہد اور کلبی کہتے ہیں کہ جبریل ؑوحی سناکر فارغ نہ ہوتے تھے کہ حضورؐ بھول جانے کے اندیشے سے ابتدائی حصّہ دہرانے لگتے تھے۔
تشریح : اسی وجہ سے قرآن کریم میں (تین(سورہ طٰہٰ :۱۱۴، سورہ قیامہ :۱۶ تا ۱۹ اور سورۃ الاعلیٰ :۶)جگہوںپر) نبی ﷺکو یہ اطمینان دلایا کہ وحی کے نزول کے وقت آپؐ خاموشی سے سنتے رہیں، ہم آپ ؐ کو اسے پڑھوادیں گے اور وہ ہمیشہ کے لیے آپ کو یا د ہوجائے گی، اس بات کا کوئی اندیشہ آپ ؐنہ کریں کہ اس کا کوئی لفظ بھی آپ بھُول جائیں گے۔ (تفہیم القرآن، ج۶، الاعلیٰ، حاشیہ: ۷)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُو الْوَلِیْدِ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ، ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، ثَنَا ھُشیْمٌ اَنْبَأَ یَعْلَی بْنُ عَطَائٍ، عَنِ الْقَاسِمِ ابْنِ رَبِیْعَہَ قَالَ : کَانَ سَعْدُ بْنُ اَبِیْ وَقَّاصٍؓ اِذَا قَرَأَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الاَْعْلٰی قَالَ : سَنُقْرِئُکَ فَلاَ تَنْسٰی قَالَ : یَتَذَکَّرُ الْقُرْاٰنَ مَخَافَۃَ اَنْ یَنْسٰی۔(۱۲)
ھٰذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ۔
ترجمہ : قاسم بن ربیعہ سے منقول ہے کہ حضرت سعدبن ابی وقّاص جب سورہ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الاَْعْلٰی کی تلاوت کرتے اور اس میں سَنُقْرِئُکَ فَلاَ تَنْسٰیپڑھتے تو فرماتے کہ نبی ﷺقرآن کے الفاظ کو اس خوف سے دہراتے تھے کہ کہیں بھول نہ جائیں۔

فترۃالوحی کا دَور اورآپ ؐکا اضطراب

۸۔ امام زُہریؒ بیان کرتے ہیں:’’ ایک مدّت تک رسول اللہ ﷺ پر وحی کا نزول بند رہا اور اُس زمانہ میں آپ ؐ پر اس قدر شدید غم کی کیفیت طاری رہی کہ بعض اوقات آپ ؐ پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ کر اپنے آپ کو گرادینے کے لیے آمادہ ہوجاتے تھے۔ لیکن جب کبھی آپ ؐکسی چوٹی کے کنارے پہنچتے تو جبریل علیہ السلام نمودار ہوکر آپ ؐسے کہتے کہ آپ ؐاللہ کے نبی ہیں۔ اس سے آپ ؐکے دل کو سکون ہوجاتاتھا اور وہ اضطراب کی کیفیت دُور ہوجاتی تھی۔ (تفہیم القرآن ،ج ۶، المدثر:زمانہ نزول)
تخریج: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبْدِ الْاَعْلٰی، قَالَ :ثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ: فَتَرَ الْوَحْیُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ فَتَرَۃً فَحَزِنَ حَزَنًا فَجَعَلَ یَعْدُوْا اِلٰی شَوَاھِقِ رُؤُسِ الْجِبَالِ لِیَتَرَدّٰی مِنْھَا فَکُلَّمَا اَوْفٰی بِذُرْوَۃِ جَبَلٍ تَبَدیّٰ لَہٗ جَبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَیَقُوْلُ اِنَّکَ نَبِیُّ اللّٰہِ فَیَسْکُنُ جَاشُہٗ، وَتَسْکُنُ نَفْسُہٗ۔ فَکَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُحَدِّثُ عَنْ ذٰلِکَ قَالَ : بَیْنَمَا اَنَا اَمْشِیْ یَوْمًا اِذْ رَأَیْتُ الْمَلَکَ الَّذِیْ کَانَ یَاْتِیْنِیْ بِحَرَائَ عَلٰی کُرْسِیٍّ بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْہُ رُعْبًا فَرَجَعْتُ اِلٰی خَدِیْجَۃَ فَقُلْتُ زَمِّلُوْنِیْ فَزَمَّلْنَاہٗ اَیْ فَدَثَّرْنَاہُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ یٰاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ۔
قَالَ الزُّہْرِیُّ فَکَانَ اَوَّلُ شَیٍْٔ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خلَقَ حَتّٰی بَلَغَ مَالَمْ یَعْلَمْ(روایت کا آخری حصہ صرف ابنِ جریر میں ہے۔ بخاری اور مسند احمد میں نہیں۔)(۱۳)
ترجمہ: پھر خود نبی ﷺنے یہ واقعہ سنایاکہ میں ایک روز جارہاتھا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ وہی فرشتہ جو غارِ حرا میں میرے پاس آیا تھا، کرسی پر بیٹھا ہوا ہے اور اس نے ساری فضائے ارض وسما کوگھیر رکھا ہے یہ کیفیت دیکھ کر میں اس سے دہشت زدہ ہوکر واپس خدیجہؓ کے پاس آگیا اور اس سے کہاکہ مجھے اُڑھادو۔ تو ہم نے آپؐ کو کمبل اوڑھادیا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورہ مدثّر نازل فرمائی کہ اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے اُٹھو اور قوم کو بیدار کرو اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔
بخاری میںجَاشُہٗکے بعدوَتَقِرُّ نَفْسُہٗ فَیَرْجِعُ فَاِذَا طَالَتْ عَلَیْہِ فَتْرَۃُ الْوَحْیِ غَدَا الْمِثْلُ ذٰلِکَ فَاِذَا اَوْفٰی بِذُرْوَۃِ الْجَبَلِ تَبَدَّی لَہٗ جِبْرِیْلُ فَقَالَ لَہٗ مِثْلَ ذٰلِکَ۔
۹۔امام زُہری حضرت جابر بن عبداللہ کی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فترۃ الوحی (وحی بند رہنے کے زمانے) کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا: ایک روز میں راستے سے گزررہاتھا۔ یکایک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، سر اٹھایا تو دیکھا کہ وہی فرشتہ جو غارِ حرا میں میرے پاس آیا تھا، آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہواہے۔ میں یہ دیکھ کر سخت دہشت زدہ ہوگیا اور گھر پہنچ کر میں نے کہا مجھے اڑھاؤ، مجھے اڑھاؤ۔چنانچہ گھروالوں نے مجھ پر لحاف (یاکمبل) اڑھادیا۔ اس وقت اللہ نے وحی نازل کی یٰٓاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ۔۔۔پھر لگاتار مجھ پر وحی کا نزول شروع ہوگیا۔
(بخاری، مسلم،مسند احمد، ابن جریر)
تشریح :(سورۃ المُدَثِّرکی ) پہلی سات آیات مکّہ معظّمہ کے بالکل ابتدائی دور کی نازل شدہ ہیں۔ بعض روایات جو بخاری، مسلم، تِرمذی اور مُسند احمد وغیرہ میں حضرت جابر بن عبداللہ سے منقول ہیں ان میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ یہ قرآن مجید کی اوّلین آیات ہیں جو رسول اللہ ﷺپر نازل ہوئیں۔ لیکن امّت میں یہ بات قریب قریب بالاتفاق مسلّم ہے کہ پہلی وحی جو حضورؐ پر نازل ہوئی وہ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ۱؎سے مَالَمْ یَعْلَمْ تک ہے۔ البتہ صحیح روایات سے جوکچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ اس پہلی وحی کے بعد کچھ مدت تک رسول اللہ ﷺپر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی، پھر اس وقفہ کے بعد جب از سرِ نو نزولِ وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو اس کا آغاز سورۂ مدثّر کی انہیں آیات سے ہوا تھا اور ان میں پہلی مرتبہ آپؐ کو یہ حکم دیاگیا کہ آپؐ اٹھیں اور خَلْقِ خُدا کو اُس روش کے انجام سے ڈرائیں جس پر وہ چل رہی ہے، اور اس دنیا میں جہاں دوسروں کی بڑائی کے ڈنکے بج رہے ہیں، خدا کی بڑائی کا اعلان کریں۔ اس کے ساتھ آپؐ کو ہدایت فرمائی گئی کہ اب جو کام آپؐ کو کرناہے اس کا تقاضایہ ہے کہ آپؐ کی زندگی ہرلحاظ سے انتہائی پاکیزہ ہو، اور آپؐ تمام دنیوی فائدوں سے قطع نظر کرکے کامل اخلاص کے ساتھ خلقِ خُدا کی اصلاح کا فریضہ سرانجام دیں۔پھر آخری فقرے میں آپؐ کو تلقین کی گئی کہ اس فریضہ کی انجام دہی میں جو مشکلات اور مصائب بھی پیش آئیں اُن پر آپؐ اپنے رب کی خاطر صبر کریں۔ (تفہیم القرآن ،ج۶، المدثر : موضوع اور مضمون)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ، قَالَ ابْنُ شِھَابٍ: سَمِعْتُ اَبَا سَلَمَۃَ: قَالَ اَخْبَرَنِیْ جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ اِنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ یُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَۃِ الْوَحْیِ فَبَیْنَا اَنَا اَمْشِیْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِّنَ السَّمَآئِ فَرَفَعْتُ بَصَرِیْ قِبَلَ السَّمَآئِ فَاِذَا الْمَلَکُ الَّذِیْ جَآئَ نِیْ بِحَرَائَ قَاعِدٌ عَلٰی کُرْسِیٍّ بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْہُ، حَتّٰی ھَوَیْتُ اِلَی الْاَرْضِ فَجِئْتُ اَھْلِیْ فَقُلْتُ زَمِّلُوْنِیْ زَمِّلُوْنِیْ فَزَمَّلُوْہُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی یٰٓاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ اِلٰی قَوْلِہٖ فَاھْجُرْ قَالَ اَبُوْسَلَمَۃَ ۔ وَالرُّجْزَ فَاھْجُرْ۔ اَلْاَوْثَانَ ثُمَّ حَمِی الْوَحْیُ وَتَتَابَعَ۔ (۱۴)
(۲) حَدَّثَنَا یَحْيٰ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمُبَارَکِ، عَنْ یَحْيٰ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، سَاَلْتُ اَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ اَوَّلِ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْاٰنِ قَالَ: یٰٓاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ قُلْتُ: یَقُوْلُوْنَ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ فَقَالَ اَبُوْسَلَمَۃَ : سَأَلْتُ جَابِرَبْنَ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ ذٰلِکَ وَقُلْتُ لَہٗ مِثْلَ الَّذِیْ قُلْتَ فَقَالَ جَابِرٌ: لَآ اُحَدِّثُکَ اِلاَّ مَا حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ قَالَ : جَاوَرْتُ (اعْتَکَفْتُ) بِحَرَآئَ فَلَمَّا قَضَیْتُ جَوَارِیْ (اعْتَکَافِیْ) ھَبَطْتُّ، فَنُوْدِیْتُ، فَنَظَرْتُ عَنْ یَمِیْنِیْ فَلَمَ اَرَ شَیْئًا،وَنَظَرْتُ عَنْ شِمَالِیْ فَلَمْ اَرَ شَیْئًا، وَنَظَرْتُ اَمَامِیْ فَلَمْ اَرَشَیْئًا، وَنَظَرْتُ خَلْفِی فَلَمْ اَرَشَیْئًا فَرَفَعْتُ رَأْسِیْ فَرَأیْتُ شَیْئًا فَاَتَیْتُ خَدِیْجَۃَ فَقُلْتُ : دَثِّرُوْنِیْ وَصُبُّوْا عَلَیَّ مَآئً بَارِدًا قَالَ : فدَثَّرُوْنِیْ وَصَبُّوْا عَلَیَّ مَآئً بَارِدًا قَالَ فَنَزَلَتْ یٰٓاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّر۔(۱۵)
ترجمہ : یحيٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے پوچھا قرآن کا کون سا حصّہ سب سے پہلے نازل ہوا ہے؟ انہوں نے جواب دیاکہ یٰٓاَیُّھَا الْمُدَثِّرْ۔ میں نے عرض کیا مجھے تو یہ بتایاگیاہے کہ پہلے اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ نازل ہوا ہے۔
ابوسلمہ نے کہا میں نے جابر بن عبداللہ سے پوچھا تھا کہ قرآن کا کون سا حصہ سب سے پہلے نازل ہواہے اور میں نے بھی ان سے یہی کہا تھا جو تم نے کہا ہے تو انہوں نے کہامیں تو تجھے وہی خبردوں گا جو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے۔ رسول اللہﷺنے فرمایا، ’’میں غارِ حرا میں تھا جب میں نے اپنا اعتکاف ختم کرلیا تو وہاں سے نیچے اترا اور ابھی وادی کے بیچ میں تھا کہ آواز سنائی دی۔ پھر میں نے اپنے آگے پیچھے، دائیں بائیں نظر دوڑائی تو کچھ نظر نہ آیا۔ پھر میں نے سر اٹھایا تو ایک چیز دیکھی۔ اس کے بعد میں نے خدیجہؓ کے پاس آکر کہا کہ مجھے اڑھاؤ اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو۔ انہوں نے مجھے اڑھادیا اور ٹھنڈا پانی ڈالا۔ پس ا س موقع پر یٰٓاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ مجھ پر نازل ہوئی۔

دورِ فترۃ وحی کا اختتام

۱۰۔ نبی ﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ بڑے اضطراب انگیز حالات سے گزررہے تھے۔ حضورؐ کو اور آپؐ کے صحابیوں کو ہروقت وحی کا انتظار رہتاتھاتاکہ اس سے رہنمائی بھی ملے اور تسلّی بھی حاصل ہو۔ جوں جوں وحی آنے میں دیر ہورہی تھی اضطراب بڑھتاجاتاتھا۔ اس حالت میں جبریل علیہ السلام فرشتوںکے جھُرمٹ میں تشریف لائے۔ پہلے وہ فرمان سنایا جو موقع کی ضرورت کے لحاظ سے فوراً درکار تھا۔ پھر آگے بڑھنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے اشارے سے یہ چند کلمات اپنی طرف سے کہتے ہیںجن میں اتنی دیر تک اپنے حاضر نہ ہونے کی معذرت بھی ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے حرفِ تسلّی بھی، اور ساتھ ساتھ صبرو ضبط کی تلقین بھی۔ (تفہیم القرآن، ج۳، مریم، حاشیہ: ۳۹)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْنُعَیْمٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُبْنُ ذَرٍّ، قَالَ سَمِعْتُ اَبِیْ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺَ لِجِبْرِیْلَ مَایَمْنَعُکَ اَنْ تَزُوْرَنَا اَکْثَرَ مِمَّا تَزُوْرَنَا؟ فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلاَّ بِاَمْرِ رَبِّکَ لَہٗ مَابَیْنَ اَیْدِیْنَا وَمَا خَلْفَنَا۔(۱۶)
ترجمہ :حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبریل سے پوچھا کہ بہ کثرت تمہاری ہم سے ملاقات ہوتی تھی۔ اب اس میں کون سی چیز مانع ہوئی ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ہم امرِربانی کے بغیر نہیں اترا کرتے۔ ہمارے سامنے اور ہمارے پیچھے جو کچھ ہے اسی کا ہے۔
(۲) عَنْ مُجَاھِدٍ، قَالَ : لَبِثَ جِبْرَئِیْلُ عَنْ مُحَمَّدٍ اثْنَتَی عَشَرَۃَ لَیْلَۃً وَیَقُوْلُوْنَ قَلٰی فَلَمَّا جَآئَ ہٗ قَالَ: اَیْ جِبْرَئِیْلُ لَقَدْ رَثَتَّ عَلَیَّ حَتّٰی ظَنَّ الْمُشْرِکُوْنَ کُلَّ ظَنٍّ، فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلاَّ بِاَمْرِ رَبِّکَ لَہٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَیْنَ ذٰلِکَ وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا۔(۱۷)
ترجمہ :حضرت مجاہد سے روایت ہے کہ بارہ روز جبریل علیہ السلام محمد ﷺکے پاس نہ آئے تو لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ وہ ناراض ہوگیاہے۔ پھر جب جبریل علیہ السلام آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضورؐ نے فرمایا،’’ آپ ؑنے میرے پاس آنے میں کافی تاخیر کردی جس کے نتیجہ میں مشرکین طرح طرح کی بدگمانیاں پھیلاتے رہے۔‘‘ اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم آپؐکے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترا کرتے۔ ہمارے آگے پیچھے جو کچھ بھی ہے اسی کا ہے اور جو کچھ اس کے درمیان میں ہے اس کا بھی وہی مالک ہے اور آپؐکا رب بھولتا نہیں۔
فتح القدیر میں یہ بھی ہے:
(۳) قِیْلَ اِحْتَبَسَعَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا، وَقِیْلَ خَمْسَۃَ عَشَرَ، وَقِیْلَ اِثْنَی عَشَرَ، وَقِیْلَ ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ الخ (۱۸)
ترجمہ:کہاگیاہے کہ جبریل علیہ السلام رسول اللہ ﷺکی خدمت میں چالیس روز تک حاضر نہیں ہوئے، یہ بھی کہاگیاہے کہ پندرہ روز اور یہ بھی کہاگیاہے کہ بارہ روز اور یہ بھی کہاگیاہے کہ تین روز حاضر نہیں ہوئے۔
(۴) حُدِّثْتُ عَنِ الْحُسَیْنِ، قَالَ:سَمِعْتُ اَبَا مُعَاذٍ یَقُوْلُ: ثَنَا عُبَیْدٌ قَالَ: سَمِعْتُ الضَّحَّاکَ یَقُوْلُ فِیْ قَوْلِہٖ وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلاَّ بِاَمْرِ رَبِّکَ اِحْتَبَسَ عَنْ نَبِیِّ اللّٰہِ ﷺَ حَتّٰی تَکَلَّمَ الْمُشْرِکُوْنَ فِیْ ذٰلِکَ وَاشْتَدَّ ذٰلِکَ عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ فَاَتَاہُ جَبْرَئِیْلُ فَقَالَ: اشْتَدَّ عَلَیْکَ اِحْتَبَاسَنَا عَنْکَ وَتَکَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ الْمُشْرِکُوْنَ وَاِنَّمَا اَنَا عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہٗ اِذَا اَمَرَنِیْ بِاَمْرٍ اَطَعْتُہٗ وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلاَّ بِاَمْرِ رَبِّکَ یَقُوْلُ بِقَوْلِ رَبِّکَ الخ۔ (۱۹)
ترجمہ: عبید نے بیان کیا کہ میں نے ضحّاک کو اللہ تعالیٰ کے ارشاد وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلاَّ بِاَمْرِ رَبِّکَ کے متعلق بیان کرتے سناہے کہ جبریل علیہ السلام نے نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا بند کردیا اور مشرکین نے اس پر باتیں بنانا شروع کردیں۔ یہ صورت حال آپؐپر بڑی گراں گزری۔ اتنے میں جبریل ؑ تشریف لے آئے۔ فرمایا ’’ہمارا آپؐ کی خدمت میں حاضر ہونے سے رُک جانا، اور مشرکین کا اس بارے میں باتیں بنانا گراں گزرا ہے۔‘‘ (واقعہ یہ ہے) کہ میں تو صرف اللہ کا بندہ اور اُس کا فرستادہ ہوں۔ جب وہ مجھے کسی امر کا حکم صادر فرماتے ہیں تو اس کی تعمیل کرتاہوں۔ ہم آپؐکے رب کے اذن کے بغیر نہیں اترا کرتے۔ یہ گویا وہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلاَّ بِاَمْرِ رَبِّکَ ہی کو بیان کررہے تھے۔
(۵) قَالَ الْحَکَمُ بْنُ اَبَانٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ، قَالَ اَبْطَأَ جِبْرَئِیْلُ النُّزُوْلَ عَلَی النَّبِیِّ ﷺَ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ﷺَ :مَانَزَلْتَ حَتّٰی اشْتَقْتُ اِلَیْکَ فَقَالَ لَہٗ جَبْرِیْلُ : بَلْ اَنَا کُنْتُ اِلَیْکَ اَشُوْقُ وَلٰکِنِّیْ مَامُوْرٌ فَاَوحَی اللّٰہُ اِلٰی جَبْرِیْلَ اَنْ قُلْ وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلاَّ بِاَمْرِ رَبِّکَ۔(۲۰)
ترجمہ:حضرت جبریل ؑ نبی ﷺکی خدمت میں چالیس روز تک نہ آئے۔ پھر تشریف لائے تو نبی ﷺ نے فرمایا مجھے آپ کے نزول کا اشتیاق ہی رہتاہے۔ جبریل نے فرمایا میں بھی آپؐ کی ملاقات کا مشتاق رہتاہوں لیکن میں تو مامور ہوں (جب ارشاد باری تعالیٰ ہوتاہے تو آتاہوں) اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے جبریل کو حکم فرمایا کہ یوں کہو ’’ہم آپؐکے رب کے اذن کے بغیر نہیں اترا کرتے۔
۱۱۔ جُندب بن عبداللہ البجلی کی روایت ہے کہ جب جبریل علیہ السلام کے آنے کا سلسلہ رُک گیا تو مشرکین نے کہنا شروع کردیا کہ محمدؐ کو ان کے رب نے چھوڑدیاہے۔ (ابن جریر، طبرانی، عبدبن حمید، سعید بن منصور ابن مردویہ)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: ثَنَا غُنْدُرٌ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْاَسْوَدِبْنِ قَیْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا الْبَجَلِیَّ قَالَتِ امْرَأَ ۃٌ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَا اَرٰی صَاحِبَکَ اِلاَّ اَبْطَئَکَ فَنَزَلَتْ مَاوَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی۔ (۲۱)
ترجمہ :جندب بجلی سے مروی ہے کہ ایک عورت نے پوچھا یا رسولؐ اللہ! معلوم ہوتاہے کہ تمہارے ساتھی نے تمہیں چھوڑدیاہے، اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی، نہ تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ ناراض ہواہے۔
(۲) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُھَیْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَسْوَدُ بْنُ قَیْسٍ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدَبَ بْنَ سُفْیَانَ، قَالَ: اشْتَکیٰ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَلَمْ یَقُمْ لَیْلَتَیْنِ اَوْثَلاَثًا فَجَائَ تِ امْرَأَ ۃٌ فَقَالَتْ : یَا مُحَمَّدُ اِنِّیْ لَاَرْجُوْا اَنْ یَکُوْنَ شَیْطَانُکَ قَدْ تَرَکَکَ لَمْ اَرَہٗ قَرِبَکَ لَیْلَتَیْنِ اَوْ ثَلاَثٍ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ وَالضُّحٰی وَاللَّیْلِ اِذَا سَجٰی مَاوَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی۔ (۲۲)
ترجمہ :حضرت جندب بن سفیان نے بیان کیاکہ رسول اللہ ﷺکی طبیعت ناساز ہوگئی تو آپ دو یا تین رات قیام اللیل نہ فرماسکے۔ ایک عورت آپؐ کی خدمت میں آکر کہنے لگی اے محمد (ﷺ)مجھے لگتاہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑدیاہے۔ مجھے وہ تمہارے پاس دو یا تین راتوں سے نظر نہیں آیا، تو اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَالضُّحٰی وَاللَّیْلِ اِذَا سَجٰی مَاوَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی یعنی’’قسم روز روشن کی اور رات کی جب کہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہوجائے۔ اے نبیؐ! تمہارے رب نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔‘‘
بخاری نے کتاب التہجدمیں جُندب بن عبداللہ سے جو روایت نقل کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:
(۳) اِحْتَبَسَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ عَلَی النَّبِیِّ ﷺَ فَقَالَتِ امْرَأَ ۃٌ مِنْ قُرَیْشٍ اَبْطَأَ عَلَیْہِ شَیْطَانُہٗ فَنَزَلَتْ وَالضُّحٰی وَاللَّیْلِ اِذَا سَجیٰ مَاوَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی۔(۲۳)
۱۲۔ عوفی اور ابن جریر نے ابن عباسؓ کی روایت نقل کی ہے کہ کئی روز تک جبریل کی آمد رک جانے سے حضورؐ پریشان ہوگئے اور مشرکین کہنے لگے کہ ان کا رب ان سے ناراض ہوگیاہے اور اس نے انہیں چھوڑدیاہے۔
قتادہ اور ضحّاک کی مُرسَل روایات میں بھی قریب قریب یہی مضمون بیان ہوا ہے۔
دوسری روایات سے معلوم ہوتاہے کہ ابولہب کی بیوی اُمِّ جمیل نے جو حضور ؐ کی چچی ہوتی تھی اور جس کا گھر حضورؐ کے مکان سے متصل تھا، آپؐ سے کہا۔’’معلوم ہوتاہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑدیاہے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۶، الضحیٰ، حاشیہ: ۳)
تخریج: قَالَ الْعَوْفِیْ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَمَّا نَزَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ الْقُرْاٰنَ اَبْطَأَ عَنْہُ جِبْرَئِیْلُ اَیَّامًا فَتَغَیَّرَ بِذَالِکَ فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ وَدَعَہٗ رَبُّہٗ وَقَلاَہُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ مَاوَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی۔(۲۴)
ترجمہ :حضرت ابنِ عباسؓ نے بتایا کہ نزولِ قرآن کے دوران چند روز جبریل نے آنے میں تاخیر کردی۔ اس سے آپؐ کی طبع مبارک متغیّر سی ہوگئی اور مشرکین نے کہنا شروع کردیا کہ اسے اُس کے رب نے چھوڑدیا اور اُس سے ناراض ہوگیاہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔’’تیرے رب نے نہ تو تجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ ناراض ہوا ہے۔‘‘
تشریح : روایات سے معلوم ہوتاہے کہ کچھ مدّت تک رسول اللہ ﷺپر وحی کا نزول بند رہاتھا۔ مختلف روایات میں یہ مدّت مختلف بیان کی گئی ہے۔ ابنِ جُریج نے بارہ روز، کَلْبِی نے پندرہ روز، ابنِ عباس نے ۲۵روز سُدّی اور مُقاتِل نے ۴۰ روز اس کی مدّت بیان کی ہے۔(روح المعانی جز ۳۰ ص۱۵۷۔) بہر حال یہ زمانہ اتنا طویل تھا کہ رسول اللہ ﷺبھی اس پر سخت غمگین ہوگئے تھے اور مخالفین بھی آپؐ کو طعنے دینے لگے تھے، کیونکہ حضورؐ پر جو نئی سورہ نازل ہوتی تھی اسے آپؐ لوگوں کو سنایا کرتے تھے، اس لیے جب اچھی خاصی مدّت تک آپؐ نے کوئی نئی وحی لوگوں کو نہیں سنائی تو مخالفین نے سمجھ لیا کہ وہ سرچشمہ بند ہوگیاہے جہاں سے کلام آتاتھا۔
اِس صورتِ حال میں حضورؐ کے شدید رنج وغم کا حال بھی متعدد روایات میں آیاہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا جب کہ محبوب کی طرف سے بظاہر عدم التفات، کفروایمان کے درمیان جنگ چھڑجانے کے بعد اُسی ذریعۂ طاقت سے بظاہر محرومی جو اس جاں گُسل کشمکش کے منجدھار میں آپؐ کے لیے واحد سہارا تھا، اور اُس پر مزید دشمنوں کی شَماتَت، یہ ساری چیزیں مل جل کر لامحالہ حضوؐر کے لیے سخت پریشانی کا موجب ہورہی ہوںگی اور آپؐ کو بار بار یہ شبہ گزرتاہوگا کہ کہیں مجھ سے کوئی قصور تو نہیں ہوگیاہے کہ میرا رب مجھ سے ناراض ہوگیا ہو اور اس نے مجھے حق وباطل کی اس لڑائی میں تنہا چھوڑدیا ہو۔
(تفہیم القرآن ،ج۶، الضحی، حاشیہ: ۳)
۱۳۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ ایک موقع پر حضورؐنے فرمایا: ’’میں کبھی حق کے سوا کوئی بات نہیں کہتا۔ کسی صحابی نے عرض کیا’’یا رسولؐ اللہ! کبھی کبھی آپؐ ہم لوگوں سے ہنسی مذاق بھی تو کرلیتے ہیں۔‘‘ فرمایا ’’فی الواقع میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۵، النجم، حاشیہ: ۴)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ اِسْحَاقَ، ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکَ، عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ سَعِیْدِنِ الْمَقْبُرِیِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّکَ تُدَاعِبُنَا قَالَ اِنِّیْ لاَاَقُوْلُ اِلاَّحَقًّا۔ (۲۵)
ترجمہ :حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں عرض کیا گیا یا رسول اللہ! آپؐ کبھی ہم لوگوں سے ہنسی مذاق بھی تو کرلیتے ہیں۔ فرمایا: ’’فی الواقع میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔‘‘
۱۴۔ حضرت عبداللہ بن عَمرو بن عاص کی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں جو کچھ بھی رسول اللہ ﷺکی زبان مبارک سے سنتاتھا وہ لکھ لیا کرتاتھا تاکہ اسے محفوظ کرلوں۔ قریش کے لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہنے لگے، تم ہربات لکھتے چلے جاتے ہو، حالانکہ رسول اللہﷺانسان ہیں، کبھی غصّے میں بھی کوئی بات فرمادیتے ہیں، اس پر میں نے لکھنا چھوڑدیا۔ بعد میں اس بات کا ذکر میں نے حضورؐ سے کیا تو آپؐ نے فرمایا:’’تم لکھے جاؤ، اُس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میری زبان سے کبھی کوئی بات حق کے سوا نہیں نکلی ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَاعَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یَحْيَ بْنُ سَعِیْدٍ، عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ الْاَخْنَسِ اَنَا الْوَلِیْدُ ابْنُ عَبْدِاللّٰہِ، عَنْ یُوْسُفَ بْنِ مَاھِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ : کُنْتُ اَکْتُبُ کُلَّ شَیْئٍ اَسْمَعُہٗ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اُرِیْدُ حِفْظَہٗ فَنَھَتْنِیْ قُرَیْشٌ فَقَالُوا اِنَّکَ تَکْتُبُ کُلَّ شَیْئٍ تَسْمَعُہٗ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَشَرٌ یَتَکَلَّمُ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَائِ فَاَمْسَکْتُ عَنِ الْکِتَابِ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ فَقَالَ: اُکْتُبْ فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَاخَرَجَ مِنِّیْ اِلاَّحَقٌّ۔(۲۶)
تشریح : (یہ احادیث ان باتوں سے متعلق ہیں) جو آپؐ ایک انسان ہونے کی حیثیت سے زندگی کے عام معاملات میں کرتے تھے، جن کا تعلُّق فرائض نبوّت سے نہ تھا، جو آپؐ نبی ہونے سے پہلے بھی کرتے تھے اور نبی ہونے کے بعد بھی کرتے رہے۔ اس نوعیت کی باتوں کے متعلق سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے بارے میں کفار سے کوئی جھگڑا نہ تھا۔ کفّار نے ان کی بناء پر آپ کو گمراہ اور بد راہ نہیں کہا تھا۔(اشارہ اس کی طرف ہے کہ حضوؐرتبلیغِ دین، دعوتِ الی اللہ، اعلائے کلمۃ اللہ کی جدوجہد اور اقامتِ دین کی خدمات کے سلسلے میں جو باتیں کرتے تھے کفّار ان پر معترض تھے اور آپؐ پرگمراہ اور بد راہ ہونے کا الزام لگاتے تھے۔ (مؤلّف)
۲؎ اشارہ سورۃ النحل کی آیت ۱۰۳۔ وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْہِ اَعْجَمِیٌّ وَھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُبِیْنٌ کی طرف ہے۔ یعنی کہ یہ شخص حضوؐرکو پڑھاتا تھا۔)یہ امر واقعہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی زبان مبارک سے کوئی بات اپنی زندگی کے اس نجی پہلو میں بھی کبھی خلافِ حق نہیں نکلتی تھی، بلکہ ہروقت ہر حال میں آپؐ کے اقوال وافعال ان حدود کے اندر محدود رہتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ایک پیغمبرانہ اور مُتّقیانہ زندگی کے لیے آپ کو بتادی تھیں۔ اس لیے درحقیقت وحی کا نور اُن میں بھی کارفرماتھا۔ (تفہیم القرآن، ج۵، النجم، حاشیہ: ۴)
دارمی میں فَاَمْسَکْتُکے بعد فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ فَاَوْمَأَ بِاِصْبَعِہٖ اِلٰی فِیْہِ وَقَالَ : اُکْتُبْ فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَاخَرَجَ مِنْہُ اِلاَّ حَقٌّ ہے۔

اہل مکّہ کی بدگمانی کہ آپؐکو چند مخصوص آدمی تعلیم دیتے ہیں

۱۵۔ روایات میں مختلف اشخاص کے متعلق بیان کیا گیاہے کہ کفّار مکّہ اُن۲؎ میں سے کسی پر گمان کرتے تھے۔ ایک روایت میں اس کا نام جبر بیان کیا گیاہے جو عامر بن حضرمی کا ایک رومی غلام تھا۔ دوسری روایات میں حُویطب بن عبدالعزّٰی کے ایک غلام کا نام لیا گیاہے جسے عائش یا یعیش کہتے تھے۔ ایک اور روایت میں یَسار کا نام لیا گیاہے جس کی کنیت ابو فَکَیْہَہ تھی اور جو مکّے کی ایک عورت کا یہودی غلام تھا۔ ایک اور روایت بَلْعَان یا بَلْعَام نامی ایک رُومی غلام سے متعلق ہے۔ بہرحال ان میں سے جو بھی ہو،کفّارِ مکّہ نے محض یہ دیکھ کرکہ ایک شخص تورات وانجیل پڑھتاہے اور محمدؐ سے اس کی ملاقات ہے بے تکلف یہ الزام گھڑدیاکہ اس قرآن کو دراصل وہ تصنیف کررہاہے اور محمد (ﷺ) اسے اپنی طرف سے خدا کا نام لے لے کر پیش کررہے ہیں۔ اس سے نہ صرف یہ اندازہ ہوتاہے کہ آنحضرت ﷺکے مخالفین آپؐکے خلاف افترا پردازیاں کرنے میں کس قدر بے باک تھے بلکہ یہ سبق بھی ملتاہے کہ لوگ اپنے ہم عصروں کی قدرو قیمت پہچاننے میں کتنے بے انصاف ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے سامنے تاریخ انسانی کی ایک ایسی عظیم شخصیت تھی جس کی نظیر نہ اس وقت دنیا بھر میں کہیں موجود تھی نہ آج تک پائی گئی ہے۔ مگر ان عقل کے اندھوں کو اُس کے مقابلہ میں ایک عجمی غلام جو کچھ توراۃ وانجیل پڑھ لیتاتھا،قابل تر نظر آرہاتھا اور وہ گمان کررہے تھے کہ یہ گو ہر نایاب اس کوئلے سے چمک حاصل کررہاہے۔ ( تفہیم القرآن، ج۲، النحل، حاشیہ: ۱۰۷)
تخریج:(۱) قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ فِی السِّیْرَۃِ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْمَا بَلَغَنِیْ کَثِیْرًا مَا یَجْلِسُ عِنْدَ الْمَرْوَۃِ اِلٰی سُبَیْعَۃَ غُلاَمٍ نَصْرَانِیٍّ یُقَالُ لَہٗ جَبَرٌ عَبْدٌ لِبَعْضِ بَنِی الْحَضْرَمِیِّ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ (وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْہِ اَعْجَمِیٌّ وَھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ) وَکَذَا قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ کَثِیْرٍ وَعَنْ عِکْرِمَۃَ وَقَتَادَۃَ کَانَ اِسْمُہٗ یَعِیْش۔
ترجمہ :محمد بن اسحاق اپنی سیرت (سیرت ابن ہشام) میں بیان کرتے ہیں کہ جو روایات مجھ تک پہنچی ہیں ان کی رُو سے رسول اللہ ﷺاکثر اوقات مروہ پہاڑی کے دامن میں سُبَیْعہ نامی ایک نصرانی غلام کے پاس بیٹھتے تھے جسے جبر کہتے تھے۔ یہ بنی حضرمی کے ایک شخص کا غلام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے وَلَقَدْ نَعْلَمُ الآیہ یعنی ہمیں معلوم ہے یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا پڑھاتاہے۔ حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے۔
(۲) وَقَالَ ابْنُ جَرِیْرٍ:حَدَّثَنِیْ اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطُّوْسِیُّ حَدَّثَنَا اَبُوْعَامِرٍ، حَدَّثَنَا اِبْرَھِیْمُ بْنُ طَھْمانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمَلاَئِیِّ عَنْ مُجَاھِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ یَعْلَمُ قَیْنًا بِمَکَّۃَ وَکَانَ اسْمُہٗ بَلْعَامٌ وَکَانَ اَعْجَمِیُّ اللِّسَانِ وَکَانَ الْمُشْرِکُوْنَ یَرَوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ یَدْخُلُ عَلَیْہِ وَیَخْرُجُ مِنْ عِنْدِہٖ فَقَالُوْا اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَلْعَامٌ۔
وَقَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُسْلِمٍ :کَانَ لَنَا غُلاَمَانِ رُوْمِیَانِ یَقْرَاٰنِ کِتَابًا لَھُمَا بِلِسَانِھِمَا فَکَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَمُرُّ بِھِمَا فَیَقُوْمُ فَیَسْمَعُ مِنْھُمَا فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ یَتَعَلَّمُ مِنْھُمَا۔
وَقَالَ الزُّھْرِیُّ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ الَّذِیْ قَالَ ذٰلِکَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ رَجُلٌکَانَ یَکْتُبُ الْوَحْیَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ فَارْتَدَّ بَعْدَ ذٰلِکَ عَنِ الْاِسْلاَمِ وَافْتَرٰی ھٰذِہِ الْمَقَالَۃَ۔(۲۷)
ترجمہ: ابنِ عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں ایک لوہار کو جانتے تھے، جس کا نام بَلْعَام تھا۔ مشرکین نے اس کے پاس آپ ؐ کی آمد ورفت دیکھ کر کہنا شروع کردیا کہ بَلْعَام اسے پڑھاتاسکھاتاہے۔
عبیداللہ بن مسلم کہتے ہیں کہ ہمارے دو رومی غلام تھے وہ اپنی مذہبی کتاب پڑھا کرتے تھے۔ نبی ﷺکا ان کے پاس سے گزرہوتا تو آپؐ کھڑے ہوکر سننا شروع کردیتے۔ اس سے مشرکین نے مشہور کردیا کہ یہ (محمدؐ) ان دونوں سے تعلیم حاصل کرتاہے۔
سعید بن مُسَیَّب کہتے ہیں کہ یہ بات مشرکین کے اس آدمی نے مشہور کی جو کاتب وحی رہ چکا تھا بعد میں مرتد ہوگیا۔ اس نے یہ قصہ گھڑا ہے۔

ماٰخذ

(۱) بخاری ج۱، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللّٰہ ﷺ ،ج۲،کتاب التفسیر سورۂ علق باب قولہٖ اقرأ وربک الاکرم٭کتاب التعبیر باب اول ما بدی بہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ٭مسلم ج۱کتاب الایمان باب بدئِ الوحی الی رسول اللّٰہ ﷺ اورکتاب الصلاۃ۔ مسلم نے الرؤیا الصالحۃ کے بجائے الرؤیا الصادقۃ نقل کیاہے٭ مُسند احمد ج۶ص۱۵۳۔۲۳۲٭ مُسندِ ابی عوانۃ ج۱ص۱۱۰٭ سیرت ابن ھشام ج ۱،ص۳۳۴ باب اول مابدیٔ بہ رسول اللّٰہ ﷺ الرؤیا الصادقۃ۔
(۲) بخاری ج۲، کتاب التفسیر سورہ اقرأ باسم ربک ،ج۱، کتاب الایمان باب کیف کان بدء الوحی الٰی رسول اللّٰہ ﷺ ٭مسلم ج۱،کتاب الایمان باب بدء الوحی الی رسول اللّٰہ ﷺ٭ مسند احمد ج۶،ص۲۳۲۔۲۳۳ روایت عائشۃ٭روح المعانی پ۳۰،ص۱۷۸(مختصر)٭ابنِ کثیر ج۴ سورہ علق ص۵۲۷٭ابنِ جریر ج۲۸؍۳۰ جلد۱۲ سورۃ العلق ٭ مسندِ ابی عوانۃ ج۱ص۱۱۱۔۱۱۲٭ المصنف لعبد الرّزاق ج۵ص۳۲۱۔۳۲۴ ٭فتح القدیر للشوکانی ج۵،ص۴۷۲ سورہ العلق۔
(۳) بخاری ج۲، کتاب التعبیر۔ باب اوّل ما بدیٔ بہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من الوحی الرؤیا الصالحۃ۔ مسند احمد ج۶، ص۲۳۳عن عائشۃ۔
(۴) بخاری کتاب التفسیر ج۲، سورۃ النساء باب لایستوی القاعدون من المومنین والمجاھدون فی سبیل اللّٰہ۔، ج۱کتاب الصلاۃ باب ما یذکر فی الفخذ۔٭ترمذی ج۲ابواب التفسیر، ھذا حدیث حسن صحیح۔ ٭المعجم الطبرانی الکبیر،ص۱۲۳۔۱۲۴زید بن ثابت٭ نسائی کتاب الجھاد باب فضل المجاھدین علی القاعدین ٭ مسندِ احمد ج۵ص۱۹۱۔ ٭السنن الکبریٰ للبَیْھَقِی ج۹، کتاب التفسیر ٭ابنِ کثیر ج۴ ص۴۳۵۔
(۵) بخاری ج۱، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللّٰہ ﷺ٭ بخاری ج۱، کتاب بدء الخلق باب ذکر الملائکۃ پر مختصر ہے٭ مسلم ج۱،کتاب الایمان باب بدء الوحی الیٰ رسول اللّٰہ ﷺ۔
(۶) مسلم ج۲ کتاب الفضائل باب طیب عرقہ ص۴۵۲٭ ترمذی ابواب المناقب باب ماجاء کیف کان ینزل الوحی علی النبیؐ٭ مسند احمد ج۶ص۱۵۸ تا ۲۵۷ قدرے لفظی اختلاف کے ساتھ٭ نسائی کتاب الافتتاح جامع ماجاء فی القرآن٭ موطأ امام مالک کتاب الصلوۃ باب ماجاء فی القرآن۔
(۷) ابنِ جریرجز۲۸؍۳۰ جلد ۱۲ص۸۰٭ ابنِ کثیر ج۴، سورۃ المزمل ٭المستدرک ج۲، تفسیر سورۃ المزمل توضیح معنی آیۃ انا سنلقی علیک قولاً ثقیلا ٭ فتح القدیر للشوکانی ج۵، بحوالہ عبد بن حُمَید، ابن نصرص۳۲۰
(۸) مُسندِ احمد ج۵۔ص۱۱۸ روایت عائشہ۔
(۹) بخاری ج۲، کتاب التفسیر سورہ قیامۃ باب وَقولہ لاتحرّک بہٖ لسانک لتعجل بہ٭ ترمذی ابواب التفسیر سورہ القیامۃ ج۲٭مسند احمد ج۱، ص۲۲۰عن ابن عباس۔
(۱۰) بخاری ج۲،کتاب ابواب فضائل القرآن۔ باب الترتیل فی القرأۃ۔٭کتاب التفسیر سورۃ القیامۃ، باب قولہ فاذا قرأناہ فاتبع قرآنہ۔٭ مسلم ج۱کتاب الصلاۃ باب الاستماع للقرأۃ۔٭فتح القدیر للشوکانی ج۵ص۳۴۰عن ابن عباس۔
(۱۱) کتاب الرد علی الجھمیۃ وغیرھم التوحید باب قول اللّٰہ لاتحرک بہ لسانک ٭مُسند احمد ج۱ص۳۴۳، عن ابن عباس٭نسائی ج۲ جامع ماجاء فی القراٰن٭فتح القدیر ج۵،ص۳۴۰٭ابن کثیر ج۴، عن ابن عباس۔
(۱۲) المستدرک للحاکم ج۲، کتاب التفسیر ۔ تفسیر سورۃ سبح اسم ربک الاعلیٰ٭ فتح القدیر للشوکانی ج۵ بحوالہ ابنِ مردویہ۔
(۱۳) ابنِ جریر جز۲۸؍۳۰ج۱۲، سورۃ المدثر٭ بخاری ج۲، کتاب التعبیر باب اول ما بدیٔ بہ رسول اللّٰہ ﷺ من الوحی الرُّؤیا الصالحۃ ٭ مُسندِ احمد ج۶ص۲۳۳، روایت عائشۃؓ ٭ مسند ابی عوانہ ج۱ص۱۱۲)
(۱۴) بخاری ج۲کتاب التفسیر سورۃ المدثر ٭مسلم ج۱کتاب الایمان باب بدء الوحی الی رسول اللّٰہ ﷺ٭ترمذی ج۲ابواب التفسیر سورۃ المدثر٭مُسند احمد ج۳ص۳۲۵، جابر بن عبداللّٰہ۔ابنِ کثیر ج۴، سورۃ المدثر ٭ابنِ جریرجز۲۸؍۳۰ج۱۲، سورۃ المدثر۔مسند احمد نے زَمِّلُوْنی تین مرتبہ نقل کیاہے۔ ٭ فتح القدیر للشَّوکانی ج۵ ص۳۲۸۔
(۱۵) بخاری ج۲،کتاب التفسیر سورۃ المدثّر ٭ مسلم ج۱، کتاب الایمان باب بدء الوحی الی رسول اللّٰہ ﷺ ٭فتح القدیر ج۵ص۳۲۸٭ابنِ جریرجز۲۸؍۳۰ جلد ۱۲ المدثر٭مُسندِ ابی عوانَۃج۱ص۱۱۵۔
(۱۶) بخاری ج۲،کتاب التفسیر سورہ کٰھٰیٰعٓصٓ باب وما نتنزل الا بامر ربک ٭ترمذی ج۲،ابواب التفسیر سورہ مریم ھذا حدیث حسن غریب ٭ روح المعانی جز ۱۶؍۱۸ پ۱۶ص۱۰۴٭فتح القدیر للشَّوکانی ج۳ ص۳۴۵ ٭ابنِ جریر جز ۱۵؍۱۶ج۸ص۷۸٭مسندِ احمد ج۱ عن ابن عباس٭ ابنِ کثیر ج۱، سورہ مریم ٭ابنِ ابی حاتم بحوالہ ابنِ کثیر ج۳ص۱۳۰۔
(۱۷) ابن جریر جز۱۵؍۱۶ مجلد ۸ص۷۸،٭ ابن کثیر ج۳، سورہ مریم۔
(۱۸) فتح القدیر للشوکانی ج۳ص۳۴۵۔
(۱۹) ابنِ جریر جز ۱۵؍۱۶ج۸۔ص۷۸۔
(۲۰) ابنِ کثیر ج۳، سورہ مریم ٭ ابنِ جریر ج۸ ص۷۸٭ فتح القدیر للشوکانی ج۳ص۱۴۵۔
(۲۱) بخاری ج۲کتاب التفسیر سورۃ الضّحیٰ٭ فتح القدیر للشوکانی ج۵،ص۴۵۶بحوالہ فریابی، عبدبن حُمَید، سعید بن منصور، طَبَرانی، ابن مردویہ۔
(۲۲) بخاری ج۲کتاب التفسیر سورۃ الضحیٰ٭ مسلم ج۲، کتاب الجھاد والسیر باب ما لقی النبی ﷺ من المشرکین ٭تِرمذی ج۲ ابواب التفسیر سورۃ الضُّحیٰ ٭ ابنِ جریرجز۲۸؍۳۰ جلد۱۲سورۃ الضُّحیٰ ٭ ابنِ کثیرج۴ ص۵۲۲٭فتح القدیر للشَّوکانی ج۵، الضُّحیٰ ٭روح المعانی جز ۲۸؍۳۰ الضُّحٰی٭مسند احمد ج۴، ص۳۱۲ جُندُب بَجَلی۔
(۲۳) بخاری ج۱ کتاب التہجد باب ترک القیام للمریض۔
(۲۴) ابن کثیر ج۴ص۵۲۲ ٭ابنِ جریر جز ۲۸؍۳۰ جلد ۱۲ص۱۴۸۔
(۲۵) مسند احمد ج۲،ص۳۶۰ روایت ابی ھریرۃ۔
(۲۶) مسندِ احمد ج۲ص۱۶۲، روایت عبداللّٰہ بن عَمْرو ٭ ابوداؤد ج۳، کتاب العلم باب فی کتاب العلم۔ابوداؤد نے ما خَرَجَ کے بجائے مَا یَخْرُجُ منہ نقل کیاہے٭دارمی مقدمہ باب ۱۰۳ باب من رخص فی کتابۃ العلم۔
(۲۷) ابنِ کثیر ج۲ سورۃ النّحل ۔

فصل دوم: تکمیلِ ایمان کے لیے نبیؐ کے ساتھ محبت کا معیار

بخاری ومسلم نے تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ روایت کیاہے:
۱۶۔ لاَیُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔
’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اُس کو اُس کے باپ اور اولاد سے اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔ ‘‘
تشریح : یعنی نبی ﷺ کا مسلمانوں سے اور مسلمانوں کا نبی ﷺسے جو تعلّق ہے وہ تو تمام دوسرے انسانی تعلّقات سے ایک بالاتر نوعیت رکھتاہے۔ کوئی رشتہ اُس رشتے سے اور کوئی تعلّق اُس تعلّق سے جونبی اور اہلِ ایمان کے درمیان ہے، ذرہ برابر کوئی نسبت نہیں رکھتا۔ نبی ﷺمسلمانوں کے لیے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر شفیق و رحیم اور ان کی اپنی ذات سے بھی بڑھ کر خیر خواہ ہیں۔ ان کے ماں باپ اور ان کے بیوی بچے ان کو نقصان پہنچاسکتے ہیں،ان کے ساتھ خود غرضی برت سکتے ہیں، ان کو گمراہ کرسکتے ہیں، ان سے غلطیوں کا ارتکاب کراسکتے ہیں، ان کو جہنّم میں دھکیل سکتے ہیں۔ مگر نبی ﷺاُن کے حق میں صرف وہی بات کرنے والے ہیں جس میں اُن کی حقیقی فلاح ہو۔ وہ خود اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارسکتے ہیں۔ حماقتیں کرکے اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کرسکتے ہیں۔ لیکن نبی ﷺاُن کے لیے وہی کچھ تجویز کریں گے جو فی الواقع ان کے حق میں نافع ہو اور جب معاملہ یہ ہے تو نبی ﷺکا بھی مسلمانوں پر یہ حق ہے کہ وہ آپؐ کو اپنے ماں باپ اور اولاد اور اپنی جان سے بڑھ کر عزیز رکھیں، دنیا کی ہرچیز سے زیادہ آپؐ سے محبت رکھیں، اپنی رائے پر آپ کی رائے کو اور اپنے فیصلے پر آپؐکے فیصلے کو مقدم رکھیں اور آپؐکے ہرحکم کے آگے سرِ تسلیم خم کردیں۔ (تفہیم القرآن، ج۴، الاحزاب حاشیہ: ۱۲)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ اَبِیْ اَیَاسٍ، قَالَ:ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَسٍ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لاَیُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔ (۱)
ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیاکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اُس کو اُس کے باپ اور اولاد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں۔
ایک روایت میں مسلم نے یہ الفاظ بھی بیان کیے ہیں:
(۲) حَدَّثَنِیْ زُھَیْرُبْنُ حَرْبٍ، قَالَ : نَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عُلَیَّۃَ ح وَحَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا عَبْدُ الْوَارِثِ کِلاَھُمَا عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ عَنْ اَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔ لاَیُؤْمِنُ عَبْدٌ وَفِی حَدِیْثِ عَبْدِ الْوَارِثِ الرَّجُلُ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ اَھْلِہٖ وَمَالِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔(۲)
ترجمہ :کوئی بندہ یا کوئی آدمی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اُس کو اُس کے اہل وعیال اُس کے مال واسباب اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں۔
کنزالعمال میں مسند احمد، بخاری اور ابویعلیٰ فی مسندہٖ کے حوالہ سے یہ الفاظ بھی نقل کیے گئے ہیں:
(۳) وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَایُؤمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ النَّاسِ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ۔(۳)
(۴) لَایُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ نَفْسِہٖ۔ (۴) (عن عبداللّٰہ بن ہشام)
(۵) وَاللّٰہِ لَا یَکُوْنُ اَحَدُکُمْ مُؤْمِنًا حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّلَدِہٖ وَوَالِدِہ۔(۵)(عن فاطمۃ بنت عتبہ)

ایمانِ کامِل کے لیے فیصلہ کن سند

۱۷۔ لاَیُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنُ ھَوَاہٗ تَبْعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ۔
’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشِ نفس اس طریقہ کی تابع نہ ہوجائے جسے میں لے کر آیاہوں۔‘‘
تشریح : جو کچھ اللہ کی طرف سے نبی ﷺلائے ہیں اور جس طریقہ پر اللہ کی ہدایت ورہنمائی کے تحت آپؐ نے عمل کیاہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کن سند ہے اور اس سند کو ماننے یا نہ ماننے ہی پر آدمی کے مومن ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، النساء حاشیہ: ۹۵)
تخریج :(۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لاَیُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ۔(۶)
ترجمہ: حضرت عبداللہؓبن عمرو سے روایت ہے کہ: رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ ’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشِ نفس اس طریقہ کی تابع نہ ہوجائے جسے میں لے کر آیاہوں۔‘‘
(۲) لاَیُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ مُتَّبِعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ۔ (۷)
ترجمہ: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشِ نفس اس طریقہ کی متبع نہ ہوجائے جسے میں لے کر آیاہوں۔‘‘

لذّتِ ایمان اور اس کی چاشنی کسے نصیب ہوتی ہے

۱۸۔ ذَاقَ طَعْمَ الْاِیْمَانِ مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلاَمِ دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلاً۔ (مسلم)
’’ایمان کا لذّت شناس ہوگیا وہ شخص جو راضی ہوا اس بات پر کہ اللہ ہی اس کا رب ہو، اور اسلام ہی اس کا دین ہو اور محمدؐ ہی اس کے رسول ہوں۔‘‘
تشریح : جن کی اطاعت محض ظاہری نہیں ہے، بادلِ نخواستہ نہیں ہے، بلکہ دل سے وہ اسلام ہی کی رہنمائی کو حق مانتے ہیں۔ ان کا ایمان یہی ہے کہ فکرو عمل کا جو راستہ قرآن اور محمد ﷺنے دکھایاہے وہی سیدھا اور صحیح راستہ ہے اور اسی کی پیروی میں ہماری فلاح ہے۔ جس چیز کو اللہ اور اس کے رسولؐ نے غلط کہہ دیاہے ان کی اپنی رائے بھی یہی ہے کہ وہ یقینا غلط ہے، اور جسے اللہ اور اس کے رسول نے حق کہہ دیاہے ان کا اپنا دل ودماغ بھی اسے برحق ہی یقین کرتاہے۔ ان کے نفس اور ذہن کی حالت یہ نہیں ہے کہ قرآن اور سنت سے جو حکم ثابت ہو اُسے وہ نامناسب سمجھتے ہوں اور اس فکر میں غلطاں وپیچاں رہیں کہ کسی طرح اسے بدل کر اپنی رائے کے مطابق، یا دنیا کے چلتے ہوئے طریقوں کے مطابق ڈھال بھی دیاجائے اور یہ الزام بھی اپنے سر نہ لیاجائے کہ ہم نے حکمِ خدا و رسولؐ میں ترمیم کرڈالی ہے۔ (تفہیم القرآن ،ج۴، الاحزاب، حاشیہ : ۵۵)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ یَحْیَ بْنُ اَبِیْ عُمَرَالْمَکِّیُّ وَبِشْرُبْنُ الْحَکَمِ، قَالَا: نَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ وَہُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ یَزِیْدَبْنِ الْہَادِ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ اِبْرَاہِیْمَ، عَنْ عَامِرِبْنِ سَعْدٍ عَنِ الْعَبَّاسِ ابْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ ذَاقَ طَعْمَ الْاِیْمَانِ مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ ﷺ رَسُوْلًا۔(۸)

رسولؐ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے

۱۹۔ مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ۔
’’جس نے میری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی۔‘‘
تشریح : یہ حدیث اس مضمون کو واضح کرتی ہے کہ اسلامی نظام کی دوسری بنیاد رسولؐ کی اطاعت ہے یہ کوئی مستقل بالذّات نہیں ہے بلکہ اطاعتِ خدا کی عملی صورت ہے۔ رسول اس لیے مُطاع ہے کہ وہی ایک مستند ذریعہ ہے جس سے ہم تک خدا کے احکام اور فرامین پہنچتے ہیں۔ ہم خدا کی اطاعت صرف اسی طریقے سے کرسکتے ہیں کہ رسول کی اطاعت کریں۔ کوئی اطاعتِ خدا رسول کی سند کے بغیر معتبر نہیں ہے اور رسول کی پیروی سے منہ موڑنا خدا کے خلاف بغاوت ہے۔
(تفہیم القرآن ،ج۱، النساء، حاشیہ: ۸۹)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ عَنْ یُوْنُسَ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَبُوْسَلَمَۃَ بْنُ عَبْدالرَّحْمٰنِ، اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ قَالَ: مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ وَمَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ۔(۹)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا،’’ جس نے میری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی اور جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔‘‘

ایک مثال سے رسالتِ محمدی کی وضاحت

۲۰۔میری اور تم لوگوں کی مثال اُس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی روشنی کے لیے مگر پروانے ہیں کہ اس پر ٹوٹے پڑتے ہیں جل جانے کے لیے۔ وہ کوشش کرتاہے کہ یہ کسی طرح آگ سے بچیں۔ مگر پروانے اس کی ایک نہیں چلنے دیتے۔ ایسا ہی حال میرا ہے کہ میں تمہیں دامن پکڑ پکڑ کر کھینچ رہاہوں اور تم ہو کہ آگ میں گرے پڑتے ہو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح : فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٰی اٰثَارِھِمْ اِنْ لَمْ یُؤْمِنُوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا۔
’’اچھا تو اے محمدؐ! شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھودینے والے ہو اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائیں۔‘‘
یہ اشارہ اس حالت کی طرف ہے جس میں اس وقت نبی ﷺمبتلاتھے۔ اس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ آپؐ کو رنج اُن تکلیفوں کا نہ تھا جو آپؐ کو اور آپؐ کے ساتھیوں کودی جارہی تھیں، بلکہ جو چیز آپؐ کو اندر ہی اندر کھائے جارہی تھی وہ یہ تھی کہ آپؐ اپنی قوم کو گمراہی اور اخلاقی پستی سے نکالنا چاہتے تھے اور وہ کسی طرح نکلنے پر آمادہ نہیں ہوتی تھی۔ آپؐ کویقین تھاکہ اس گمراہی کا لازمی نتیجہ تباہی اور عذاب الٰہی ہے۔ آپؐ ان کو اس سے بچانے کے لیے اپنے دن اور راتیں ایک کیے دے رہے تھے مگر انہیں اصرار تھا کہ وہ خدا کے عذاب میں مبتلا ہوکر ہی رہیں گے۔ (تفہیم القرآن ،ج۳، الکہف ،حاشیہ: ۴)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُو الَیَمَان، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُو الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِالرحْمٰنِ، اَنَّہٗ حَدَّثَہٗ اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا ھُرَیْرَۃَ، اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ یَقُوْلُ: اِنَّمَا مَثلِیْ وَمَثَلُ النَّاسِ کَمَثَلِ رَجُلٍ اِسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا اَضَآئَ تْ مَاحَوْلَہٗ جَعَلَ الْفِرَاشُ وَھٰذِہِ الدَّوَآبُّ الَّتِیْ تَقَعُ فِی النَّارِ یَقَعْنَ فِیْھَا وجَعَلَ یَنْزِعُھُنَّ وَیَغْلِبْنَہٗ فَیَقْتَحِمْنَ فِیْھَا فَانَا اٰخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ وَھُمْ یَقْتَحِمُوْنَ فِیْھَا۔ (۱۰)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوںنے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ’’میری اور تم لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی روشنی کے لیے مگر پروانے ہیں کہ اس پر ٹوٹے پڑتے ہیں جل جانے کے لیے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ یہ کسی طرح آگ سے بچیں، مگر پروانے اس کی ایک نہیں چلنے دیتے۔ ایسا ہی حال میرا ہے کہ میں تمہیں دامن پکڑ پکڑ کھینچ رہا ہوں اور تم ہو کہ آگ میں گرے پڑتے ہو۔‘‘
مسلم نے حضرت جابرؓ سے بھی ایک روایت نقل کی ہے، اس میں ہے:
(۲) مَثَلِیْ وَمَثَلُکُمْ کَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نارًا فَجَعَلَ الْجَنَادِبُ وَالْفَرَاشُ یَقَعْنَ فِیْہَا وَہُوَیَذُبُّہُنَّ عَنْہَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ وَاَنْتُمْ تُفْلِتُوْنَ مِنْ یَدِیَّ۔(۱۱)
مسلم کی ایک روایت میں یَقْتَحِمُوْنَ کی جگہ تقحَّمون فیہا بھی ہے۔

نبوّتِ محمدیؐ پر ایمان نہ لانے والے دوزخی ہیں

۲۱۔ وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدہٖ لاَیَسْمَعُ بِیْ اَحَدٌ مِنْ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ، یَھُوْدِیٌّ وَلاَ نَصْرَانِیٌّ ثُمَّ یَمُوْتُ وَلَمْ یُؤْمِنْ م بِالَّذِی ْاُرْسِلْتُ بِہٖ اِلاَّ کَانَ مِنْ اَصْحَابِ النَّارِ۔ (مسلم)
’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے کہ اس امت کا کوئی شخص ایسا نہیں ہے، خواہ وہ یہودی ہو یا عیسائی، جو میری رسالت کی خبر سنے اور اس پیغام کو جو میں لایا ہوں نہ مانے اور پھر دوزخیوں میں شامل نہ ہو۔ ‘‘ (تفہیمات اوّل: ایمان بالرسالۃ)
تخریج: (۱) حَدَّثَنِیْ یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاَعْلیٰ، قَالَ: انَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ: وَاَخْبَرَنِیْ عَمْرٌو اَنَّ اَبَایُوْنُسَ حَدَّثَہٗ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَّسُوْلِ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ ﷺ بِیَدِہٖ لَا یَسْمَعُ بِیْ اَحَدٌ مِنْ ہٰذِہِ الْاُمَّۃِ یَہُوْدِیٌّ وَلَا نَصْرَانِیٌّ ثُمَّ یَمُوْتُ وَلَمْ یُؤْمِنْ بِالَّذِیْ اُرْسِلْتُ بِہٖ اِلَّا کَانَ مِنْ اَصْحَابِ النَّارِ۔ (۱۲)
دارقطنی نے الافراد میں بحوالہ ابن مسعود بایں الفاظ درج ذیل روایت بھی نقل کی ہے:
(۲)مَنْ سَمِعَ بِیْ مِنْ یَہُوْدِیٍّ اَوْ نَصْرَانِیٍّ ثُمَّ لَمْ یَتْبَعْنِیْ فَہُوَ فِی النَّارِ۔
(۳) عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَایَسْمَعُ بِیْ اَحَدٌ مِنْ ہٰذِہِ الْاُمَّۃِ یَہُوْدِیٌّ اَوْنَصْرَانِیٌّ ثُمَّ لَا یُؤْمِنُ بِیْ اِلَّا دَخَلَ النَّارَ۔ (۱۳)
ترجمہ: حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت کا کوئی شخص ایسا نہیں ہے خواہ وہ یہودی ہو یا نصرانی جو میری رسالت کی خبر سنے پھر مجھ پر ایمان نہ لائے پھر وہ آگ (دوزخ) میں داخل نہ ہو۔‘‘
مسند احمد میں حضرت ابوموسیٰ اشعری سے ایک روایت بایں الفاظ بھی منقول ہے:
(۴) مَنْ سَمِعَ بِیْ مِنْ اُمَّتِیْ اَوْ یَہُوْدِیٌّ اَوْ نَصْرَانِیٌّ فَلَمْ یُؤْمِنْ بِیْ لَمْ یَدْخُلِ الْجَنَّۃَ۔ (۱۴)
ترجمہ: میری اُمت کا کوئی شخص یا یہودی یا عیسائی میری رسالت کی خبر سنے مگر ایمان نہ لائے تو وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔

سر چشمۂ ہدایت محض قرآن مجید اور اُسوۂ حسنہ ہے

۲۲۔ایک مرتبہ حضرت عمررضی اللہ عنہ توریت کا ایک نسخہ لیے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کو پڑھنا شروع کیا۔ جیسے جیسے وہ پڑھتے گئے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ سرخ ہوتا چلا گیا ایک صحابی نے حضرت عمرؓ سے کہا: تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ غصّے سے کتنا سرخ ہورہا ہے اور تم پڑھے چلے جارہے ہو۔ حضرت عمرؓ یہ دیکھ کر رک گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آج اگر موسیٰ بھی ہوتے تو میری پیروی کرنے کے سوا ان کے لیے کوئی چارۂ کار نہ ہوتا۔
تشریح : موسیٰ علیہ السلام اپنے زمانے کے نبی تھے لیکن رسول اللہ ﷺ کے تشریف لانے کے بعد اور قرآن کے آجانے کے بعد کوئی دوسرا سرچشمۂ ہدایت نہیں رہا جس کی طرف انسان رجوع کرسکے۔ ہدایت اگر موجود ہے تو رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ پاک اور اللہ تعالیٰ کی اس کتاب پاک میں ہے، اس کے باہر کسی جگہ کوئی ہدایت موجود نہیں ہے جس طرف بھی کوئی جائے گا بجز گمراہی اور ضلالت کے کچھ نہ پائے گا۔ (اسلام کا سرچشمۂ قوت، ص:۵)
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُبْنُ الْعَلَائِ ثنا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرٍ اَنَّ عُمَرَبْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہ ﷺ بِنُسْخَۃٍ مِنَ التَّوْرَاۃِ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ہٰذِہ نُسْخَۃٌ مِنَ التَّوْرٰۃِ فَسَکَتَ فَجَعَلَ یَقْرَأُ وَوَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یتَغَیَّرُ فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ ثَکِلَتْکَ الثَّوَاکِلُ مَا تَرٰی مَا بِوَجْہِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَنَظَرَ عُمَرُ اِلیٰ وَجْہِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: اَعُوْذُ بِااللّٰہِ مِنْ غَضَبِ اللّٰہِ وَغَضَبِ رَسُوْلِہٖ۔ رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّاوَّبِالْاِسْلَامِ دِیْنًاوَّبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا فَقَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ: وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لَوْ بَدَاَلَکُمْ مُوْسیٰ فَاتَّبَعْتُمُوْہُ وَتَرکْتُمُوْنِیْ لَضَلَلْتُمْ عَنْ سَوَآئِ السَّبِیْلِ وَلَوْکَانَ حَیًّا وَاَدْرَکَ نُبُوَّتِیْ لَا تَّبَعْنِیْ۔ (۱۵)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثنا عَبْدُ الرَّزّاقِ انا سُفْیَانُ عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ثابِتٍ، قَالَ: جَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ مَرَرْتُ بِاَخٍ لِّیْ مِنْ قُرَیْظَۃَ فَکَتَبَ لِیْ جَوَامِعَ مِنَ التَّورَاۃِ اَلَا اَعْرِضُہَا عَلَیْکَ؟ قَالَ: فَتَغَیَّرَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فقالَ عَبْدُ اللّٰہِ یَعْنِیْ ابْنَ ثَابِتٍ فَقُلْتُ لَہٗ: اَلَا تَرٰی مَا بِوَجْہِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ؟ فَقَالَ عُمَرُ: رَضِیْنَا بِاللّٰہِ تَعَالیٰ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ ﷺ رَسُوْلًا۔ قَالَ: فَسُرِّیَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ وَقَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لَوْاَصْبَحَ فِیْکُمْ مُوْسیٰ ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوْہُ وَتَرَکْتُمُوْنِیْ لَضَلَلْتُمْ اِنَّکُمْ حَظِّیْ مِنَ الْاُمَمِ وَاَنَا حَظُّکُمْ مِنَ النَّبِیِّیْنَ۔ (۱۶)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسولؐ اللہ میرا گزر ایک قریظی بھائی کے پاس سے ہوا انھوں نے مجھے تورات میں سے چند اصول تحریر کردیے ہیں۔ اجازت ہو تو آپؐ کے حضور پیش کروں؟ عبداللہ کہتے ہیں۔ یہ سنتے ہی رسالت مآب ﷺ کا رخ مبارک سرخ ہوگیا۔عبداللہ بن ثابت کا بیان ہے۔ میں نے عمرؓ سے کہا۔ دیکھتے نہیں، آپؐ کے رخ انور کا رنگ متغیر ہوگیا ہے۔ یہ دیکھتے ہی حضرت عمرؓنے عرض کیا میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی، اللہ اور اس کے رسول کی ناراضی سے۔ رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ ﷺ رَسُوْلًا۔راوی کا بیان ہے کہ اس سے آںحضور ﷺکے رخِ انور سے غصّے کے آثار دور ہوگئے۔ پھر آپؐ نے فرمایا، ’’ قسم ہے اس ذات کی، جس کے قبضۂ قدرت میں محمدؐ کی جان ہے۔ اگر آج تم میں موسیٰؑ آجائیںاور تم ان کی پیروی کرنے لگو اور میری اتباع چھوڑ دو تو یقینا تم گمراہ ہوجائو گے۔ بے شک تم امتوں میں سے میرا حصہ ہو اور میں انبیاء میں سے تمہارا حصّہ ہوں۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یُوْنُسُ وَغَیْرُہٗ قَالَ: ثَنَا حَمَّادٌ یَعْنِی ابْنُ زَیْدٍ، ثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ عَامِرِ نِالشَّعْبِیِّ عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْد اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:لَاتَسْأَ لُوْا اَہْلَ الْکِتٰبِ عَنْ شَیٍْٔ فَاِنَّہُمْ لَنْ یَّہْدُوْکُمْ وَقَدْ ضَلُّوْا فَاِنَّکُمْ اِمَّا اَنْ تُصَدِّ قُوْا بِبَاطِلٍ اَوْتُکَذِّبُوْا بِحَقٍّ فَاِنَّہٗ لَوْکَانَ مُوْسیٰ حَیًّا بَیْنَ اَظْہُرِکُمْ مَاحَلَّ لَہٗ اِلَّا اَنْ یَّتَّبِعَنِیْ۔ (۱۷)
ترجمہ: حضرت جابرؓ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا تم اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق کچھ دریافت نہ کرو وہ تمہاری رہنمائی کے اہل نہیں ہیں۔ وہ خود گم کردہ راہ ہیں۔ نتیجہ یہ ہوگا یا تو تم باطل کی تصدیق کروگے یا پھر حق کی تکذیب کے مرتکب ہوگے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر موسیٰ علیہ السلام تمہارے اندر زندہ موجود ہوتے تو انھیںبھی میری اتباع کے بغیر اور کوئی چیز حلال نہ ہوتی۔
(۴) اَنَّ عُمَرَبْنَ الْخَطَّابِ اَتَی النَّبِیَّ ﷺ بِکِتَابٍ اَصَابَہٗ مِنْ بَعْضِ اَہْلِ الْکِتٰبِ فَقَرَاَہُ النَّبِیَّ ﷺ فَغَضِبَ فَقَالَ: اَمُتَہَوِّکُوْنَ فِیْہَا یَابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہ لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِہَا بَیْضَاٰئَ نَقِیَّۃً لَاتَسْئَلُوْہُمْ عَنْ شَیٍْٔ فَیُخْبِرُوْکُمْ بِحَقٍّ فَتُکَذِّبُوْا بِہٖ اَوْبِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوْا بِہٖ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْاَنَّ مُوْسیٰ عَلَیْہِ السَّلاَم کَانَ حَیًّا مَا وَسِعَہٗ اِلَّا اَنْ یَّتَّبِعَنِیْ۔ (۱۸)
ترجمہ: حضرت جابرؓ بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ عمرؓبن الخطاب نبی ﷺ کے پاس ایک کتاب لے کر حاضر ہوئے جو انھیں اہل کتاب میں سے کسی سے ملی تھی۔ حضرت عمرؓ نے اسے پڑھ کر نبی ﷺ کو سنایا۔ آپؐ نے غصہ ہو کر فرمایا: ’’اے ابن خطاب کیا تم بھی اسی گڑھے میں گرنا چاہتے ہو (جس میں اہلِ کتاب گر چکے ہیں) قسم اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں بلا شبہ تمہارے پاس صاف و شفاف اور روشن شریعت لے کر آیا ہوں۔ اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق نہ پوچھو تاکہ یہ صورت پیش نہ آئے کہ وہ تمہیں حق کی خبر دیں اور تم اس کی تکذیب کردو یا باطل پیش کریں اور تم اس کی تصدیق کردو ! بخدا! اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام آج زندہ ہوتے تو وہ بھی میری اتباع کے بغیر کوئی گنجائش نہ پاتے۔
(۵) عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ حِیْنَ اَتَاہُ عُمَرُ فَقَالَ: اِنَّا نَسْمَعُ اَحَادِیثَ مِنْ یَہُوْدَ تُعْجِبُنَا اَفَتَرٰی اَنْ نَکْتُبَ بَعْضَہَا؟ فَقَالَ: اَمُتَہَوِّکُوْنَ اَنْتُمْ کَمَا تَہَوَّکَتِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی؟ لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِہَا بَیْضَائَ نَقِیَّۃً وَلَوْکَانَ مُوْسیٰ حَیًّا مَا وَسِعَہٗ اِلَّا اتِّبَاعِی۔ (۱۹)
ترجمہ:حضرت جابرؓ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ہم یہود سے بعض ایسی باتیں سنتے ہیں جو ہمیں اچھی لگتی ہیں آپؐ کا کیا ارشاد ہے ، کیا ہم ان میں سے کچھ لکھ نہ لیا کریں؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’کیا تم بھی (گمراہی کے) اس گڑھے میں گرنا چاہتے ہو جس میں یہود و نصاریٰ گرچکے ہیں؟ میں تمہارے پاس وہ شریعت لے کر آیا ہوں جو بالکل صاف و شفاف اور روشن ہے۔ اور اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو انھیں بھی میری اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔

دوہرے اجر کے مستحق لوگ

۲۳۔ ثَلٰثَۃٌ لَہُمْ اَجْرَانِ۔ رَجُلٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ آمَنَ بِنَبِیِّہٖ وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ الخ۔ (بخاری و مسلم)
’’حضرت ابوموسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: تین آدمی ہیں جن کے لیے دوہرا اجر ہے ان میں سے ایک ہے اہل کتاب میں سے وہ شخص جو اپنے سابق نبی پر ایمان رکھتا تھا اور پھر محمد (ﷺ) پر بھی ایمان لے آیا۔‘‘
(تفہیم القرآن، ج ۵، الحدید، حاشیہ:۵۵)
تشریح : بظاہر تو یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص پہلے نبی کو مانتا ہے اور بعد والے نبی کو بھی ماننے لگا اسے دوہرا اجر ملے مگر جس نے بعد والے نبی کو نہ مانا وہ پہلے نبی کو ماننے کے اجر سے بھی محروم ہوجائے ۔ سطحی نظر میں سیدھا حساب تو یہی نظر آتا ہے کہ اگر دو نبیوں کو ماننے کے دو اجر ہیں تو ایک کے ماننے پر ایک اجر ہونا چاہیے ۔ مگر یہ صرف ریاضی کا مغالطہ ہے، جو تھوڑے تامل سے دور ہوجاتا ہے۔ فرض کیجیے کہ ایک شخص ہے، جو حکومت کے مقرر کیے ہوئے پہلے گورنر کے تحت عمدہ خدمات بجالاتا رہا۔ پھر حکومت نے اس کی جگہ دوسرا گورنر بھیجا تو وہ اس کی ماتحتی بھی اسی حسن خدمت کے ساتھ کرتا رہا۔ حکومت کہتی ہے کہ ہم اس کی پچھلی خدمات کا صلہ بھی دیں گے اور بعد کی خدمات کا بھی۔ اب کیا حکومت کے اس بیان سے آپ یہ نتیجہ نکالنے میں حق بہ جانب ہوں گے کہ جس شخص نے پہلے گورنر کو تو مانا اور اس کی خوب اطاعت کی مگر دوسرے گورنر کو اس نے تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیا اسے حکومت ان خدمات کا اجر تو ضرور ہی دے گی جو اس نے پہلے گورنر کے ماتحت انجام دی تھیں؟ اس سوال کا جو کچھ بھی آپ جواب دیں گے وہی اس مسئلہ کا حل بھی ہے کہ دونوں پیغمبروں کے ماننے والے کا اجر دوہرا کیوں ہے اور بعد میں آنے والے پیغمبر کا انکار کرکے جو شخص پہلے پیغمبر ہی کے ساتھ وابستہ رہے وہ کسی بنا پر سرے سے کسی اجر کا مستحق ہی نہیں رہتا۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ اگر وہ بدکاریاں اور ظلم و ستم نہیں کرتا تو اس کا حشر ان لوگوں کے ساتھ نہ ہوگا جو ظالم و بدکار ہیں۔
(تفہیمات اوّل:ایمان بالرسالۃ)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ہُوَابْنُ سَلَامٍ، قَالَ: انا المُحَارِبِیُّ، ناصَالِحُ بْنُ حَیَّانٍ، قَالَ عَامِرُ نِالشَّعْبِیُّ حَدَّثَنِیْ اَبُوبُرْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ثلٰثَۃٌ لَہُمْ اَجْرَانِ رَجُلٌ مِن اَہْلِ الْکِتٰبِ اٰمَنَ بِنَبِیِّہٖ واٰمَنَ بِمُحَمَّدٍ، وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوْکُ اِذَا اَدّٰی حَقَّ اللّٰہِ وَحَقَّ مَوَالِیْہِ، وَرَجُلٌ کَانَتْ عِنْدَہٗ اَمَۃٌ یَطَأُہَا فَاَدَّبَہَا فَاَحْسَنَ تَاْدِیْبَہَا وَعَلَّمَہَا فَاَحْسَنَ تَعْلِیْمَہَا ثُمَّ اعْتَقَہَا فَتَزَوَّجَہَا فَلَہٗ اَجْرَانِ۔(۲۰) (الحدیث)
ترجمہ : حضرت عامر الشعبی نے بیان کیا کہ ابوبردہ نے اپنے والد کے حوالے سے مجھے حدیث سنائی کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ تین آدمی ایسے ہیں جو دوہرے اجر کے مستحق ہیں۔ ایک تو اہل کتاب میں سے وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور محمد ﷺ پر بھی ایمان لایا۔ دوسرا وہ غلام جس نے اللہ تعالیٰ کا حق بھی پورا ادا کیا اور اپنے آقائوں کا بھی ۔ اور تیسرا وہ شخص جس کے پاس لونڈی ہو، جس سے وہ مباشرت بھی کرتا ہو اور اسے زیورِ ادب و تعلیم سے اچھی طرح آراستہ کرے، پھر اسے آزاد کرے اور اسے اپنی زوجیت میں لے آئے۔ یہ بھی دوہرے اجر کا مستحق ہے۔
(۲) حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ یَحْیٰ ، قالَ: انا ہُشَیمٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ الہَمْدَانِیِّ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ: رَأَیْتُ رَجُلًا مِّنْ اَہْلِ خُرَاسَانَ سََأَلَ الشَّعْبِیَّ فَقَالَ: یَا اَبَا عَمْرٍو اِنَّ مِنْ قِبَلِنَا مِنْ اَہْلِ خُرَاسَانَ یَقُوْلُوْنَ فِی الرَّجُلِ اِذَا اعْتَقَ اَمَتَہٗ ثُمَّ تَزَوَّجَہَا فَہُوَ کَالرَّاکِبِ بَدَنَتَہٗ فَقَالَ الشَّعْبِیُّ حَدَّثَنِیْ ابُوْبُرْدَۃَ بْنُ اَبِیْ مُوْسیٰ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: ثَلَاثَۃٌ یُوْتَوْنَ اَجْرَہُمْ مَرَّتَیْنِ رَجُلٌ مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ اٰمَنَ بِنَبِیِّہٖ وَاَدْرَکَ النَّبِیَّ ﷺ فَاٰمَنَ بِہٖ وَاتَّبَعَہ وَصَدَّقَہٗ فَلَہٗ اَجْرَانِ، وَعَبْدٌ مَمْلُوْکٌ اَدَّیٰ حَقَّ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَحَقَّ سَیِّدِہٖ فَلَہٗ اَجْرَانِ، وَرَجُلٌ کَانَتْ لَہٗ اَمَۃٌ فَغَذَاہَا فَاَحْسَنَ غِذَائَ ہَا ثُمَّ اَدَّبَہَا فَاَحْسَنَ اَدَبَہَا ثُمْ اَعْتَقَہَا وَتَزَوَّجَہَا فَلَہٗ اَجْرَانِ۔(۲۱) (الحدیث)
ترجمہ: امام شعبی سے ایک خراسانی باشندے نے پوچھا اے ابوعمرو! ہماری طرف خراسان کے لوگ اس شخص کے بارے میں جو اپنی لونڈی کو آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے، کہتے ہیں کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص اپنی ہی اونٹنی پر سوار ہو، شعبی نے جواب دیا مجھے ابوبردہ نے اپنے والد کے حوالے سے حضور ﷺ کا ارشاد گرامی سنایا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’تین آدمی ایسے ہیں جنھیں دوہرا اجر دیا جائے گا۔ ایک اہل کتاب میں سے وہ آدمی جو پہلے اپنے نبی پر ایمان لایا اور نبی ﷺ کا زمانۂ رسالت پایا تو آپؐ پر بھی ایمان لے آیا، آپؐ کی اتباع و پیروی کی اور آپؐ کی نبوت کی تصدیق کی اس کے لیے دو اجر ہیں۔ دوسرا شخص وہ غلام ہے جس نے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کیا، اور اپنے آقا کا بھی اس کے لیے دواجر ہے۔ تیسرا شخص وہ ہے جس کی ایک لونڈی ہو۔ اس نے اس کی عمدہ خوراک دے کر پرورش کی، اچھا ادب سکھایا پھر اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلیا اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْ عَمَّارِ الْمَرْوَزِیُّ قَالَ: ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوْسیٰ، عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِیْدِبْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، یُؤتِکُمْ کِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِہٖ قَالَ: اَجْرَیْنِ لِاِیْمَانِہِمْ بِعِیْسیٰ عَلَیْہِ السَّلاَم وَتَصْدِیْقِہِمْ بِالتَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَاِیْمَانِہِمْ بِمُحَمَّدٍ ﷺ وَتَصْدِیْقِھِمْ۔(۲۲)
ترجمہ: ابنؓ عباس کا قول ہے وہ (اللہ تعالیٰ) تمہیں اپنی رحمت سے دوہرا اجر عطا فرمائے گا۔ ایک اجر حضرت عیسیٰؑ پر ایمان لانے اور تورات و انجیل کی تصدیق کی وجہ سے اور دوسرا محمد ﷺ پر ایمان لانے اور آپؐ کی تصدیق کرنے کی بنا پر۔

آپؐ کی رسالت عالم گیر اور ہمہ گیر ہے

۲۴۔ بُعِثْتُ اِلَی الْاَحْمَرِ وَالْاَسْوَدِ۔
نبی ﷺ نے احادیث میںبار بار بیان فرمایا ہے کہ:’’میں کالے اور گورے سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔‘‘
تخریج:(۱) عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: اُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ نَبِیٌّ قَبْلِیْ: بُعِثْتُ اِلَی الْاَحْمَرِ وَالْاَسْوَدِ، وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَطُہُوْرًا، وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِاَحَدٍ قَبْلِیْ وَ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ شَہْرًا یَرْعَبُ مِنِّی الْعَدُوُّ مَسِیْرَۃَ شَہْرٍ، وَ قِیْلَ لِیْ سَلْ تُعْطَہٗ فَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃً لِاُمَّتِیْ وَہِیَ نَائِلَۃٌ مِنْکُمْ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ تَعَالیٰ مَنْ لَّمْ یُشْرِکْ بِاللّٰہِ شَیْئًا۔ (۲۳)
ترجمہ : حضرت ابوذرؓ راوی ہیں نبی ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ اعزازات ایسے دیے گئے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے۔ (۱) میں کالے گورے سب کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ (۲) ساری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک بنادی گئی ہے۔ (۳) غنیمت کے مال میرے لیے حلال کردیے گئے ہیں مجھ سے پہلے کسی کے لیے یہ حلال نہیں تھے۔ (۴) ایک مہینے کی مسافت سے رعب و دبدبے سے میری مدد کی گئی ہے۔ یعنی دشمن ایک ماہ کے فاصلے سے مجھ سے خوف زدہ ہوجاتا ہے۔ (۵) مجھے کہا گیا کہ مانگو دیے جائو گے تو میں نے اپنی دعا کو اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپالیا۔ وہ ان شاء اللہ تم میں سے اس شخص کو جس نے شرک کا ارتکاب نہ کیا ہو مل کر رہے گی۔
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثنا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ یَزِیْد بْنِ اَبِی زِیَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ وَمُجَاہِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ اَحَدٌ قَبْلِیْ وَلَا اَقُوْلُہٗ فَخْرًا بُعِثْتُ اِلیٰ کُلِّ اَحْمَرَوَ اَسْوَدَ فَلَیْسَ مِنْ اَحْمَرَ وَلَا اَسْوَدَ یَدْخُلُ فِیْ اُمَّتِیْ اِلَّا کَانَ مِنْہُمْ وَ جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا۔ (۲۴)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ راوی ہیں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’مجھے پانچ عطیے ایسے دیے گئے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے اور میں یہ بات فخر یہ طور پر نہیں کہتا۔ میری بعثت ہرسرخ و سیاہ کی طرف ہوئی ہے۔ سرخ و سیاہ جو بھی میری امت میں داخل ہوگیا وہ انھیں میں سے ہے اور ساری زمین میرے لیے مسجد بنادی گئی ہے۔‘‘
۲۵۔کَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ اِلیٰ قَوْمِہٖ خَاصَّۃً وَبُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ عَامَّۃً۔
’’پہلے ایک نبی خاص طور پر اپنی ہی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور میں عام طور پر تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیاہوں۔ ‘‘
(بخاری و مسلم)
تخریج: (۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَیَّارٌ ہُوَاَبُوا لْحَکَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ الْفَقِیْرُ قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ اَحَدٌ مِنَ الْاَنْبِیَائِ قَبْلِیْ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیْرَۃَ شَہْرٍ وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَطُہُوْرًا وَاَیُّمَارَجُلٍ مِنْ اُمَّتِیْ اَدْرَکَتْہُ الصَّلوٰۃُ فَلْیُصَلِّ وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَکَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ اِلیٰ قَوْمِہٖ خَاصَّۃً وَبُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ کَآفَّۃً وَاُعْطِیْتُ الشَّفَاعَۃَ۔ (۲۵)
ترجمہ: جابرؓ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کی بنا پر ایک مہینے کی مسافت سے میرا رعب دشمن پر طاری ہوجاتا ہے۔ (۲)ساری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک بنادی گئی ہے۔ لہٰذا میری امت کے ہر فرد بشر کو اجازت ہے کہ جہاں نماز کا وقت آجائے اسی جگہ نماز پڑھ لے۔ (۳) مالِ غنیمت میرے لیے حلال کردیا گیا ہے۔ (۴) اس سے پہلے نبی بطور ِ خاص صرف کسی ایک قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور میری بعثت تمام لوگوں کی جانب ہے۔ (۵) اور مجھے شفا عت یعنی (شفاعت کبریٰ) کا اعزاز دیا گیا ہے۔‘‘
(۲) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: بُعِثْتُ اِلَی الْاَحْمَرِ وَالْاَسْوَد، وَقَالَ: اِنِّیْ اُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ اَحَدٌ مِنَ الْاَنْبِیَائِ قَبْلِیْ فَذَکَرَ مِنْہُنَّ اَنَّہٗ کَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ اِلیٰ قَوْمِہٖ خَآصَّۃً وَبُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ عَامَّۃً۔ (۲۶)
۲۶۔ وَاُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ۔
’’میں ساری خلقت کی طرف بھیجا گیا ہوں اور ختم کردیے گئے میری آمد پر انبیاء ۔‘‘ (مسلم)
تخریج: عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: فُضِّلْتُ عَلَی الْاَنْبِیَائِ بِسِتٍّ۔ اُعْطِیْتُ جَوَامِعُ الْکَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَ اُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَطُہُوْرًا، وَ اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ۔ (۲۷)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ مجھے انبیاء کے مقابلے میں چھ چیزوں کی فضیلت دی گئی ہے۔ جو امع الکلم سے نوازا گیا ہوں، رعب و دبدبہ سے نصرت فرمائی گئی ہے۔ غنیمتیں میرے لیے حلال قرار دی گئی ہیں۔ زمین کو میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک ٹھہرایا گیا ہے۔ ساری مخلوق کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور نبیوں کو مجھ پر ختم کر دیا گیا ہے۔
۲۷۔اَمَّا اَنَا فَاُرْسِلْتُ اِلَی النَّاسِ کُلِّہِمْ عَامَّۃً وَکَانَ مَنْ قَبْلِیْ اِنَّمَا یُرْسَلُ اِلیٰ قَوْمِہٖ۔ (مسند احمد)
’’میں عمومیت کے ساتھ تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ حالانکہ مجھ سے پہلے جو نبی بھی گزرا ہے وہ اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا ۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا بَکْرُبْنُ مُضَرَعَنِ ابْنِ الْہَادِ، عَنْ عَمْرِوبْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَامَ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ قَامَ مِنَ اللَّیْلِ یُصَلِّیْ فَاجْتَمَعَ وَرَأَہ رِجَالٌ مِنْ اَصْحَابِہٖ یَحْرِسُوْنَہٗ حَتّٰی اِذَا صَلّٰی وَانْصَرَفَ اِلَیْہِمْ فَقَالَ لَہُمْ: لَقَدْ اُعْطِیْتُ اللَّیْلَۃَ خَمْسًا مَا اُعْطِیَہُنَّ اَحَدٌ قَبْلِیْ:
اَمَّا اَنَا فَاُرْسِلْتُ اِلَی النَّاسِ کُلِّہِمْ عَامَّۃً وَکَانَ مَنْ قَبْلِیْ اِنَّمَا یُرْسَلُ اِلیٰ قَوْمِہٖ۔
وَنُصِرْتُ عَلَی الْعَدُوِّبِالرُّعْبِ ولَوْکَانَ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُمْ مَسِیْرَۃَ شَہْرٍ لَمُلِئَی مِنْہُ رُعْبًا۔
وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ اَکْلَہَا وَکَانَ مِنْ قَبْلِیْ یُعَظِّمُوْنَ اَکْلَہَا کَانُوْا یُحَرِّقُوْنَہَا۔
وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسَاجِدَ وَطُہُوْرًا اَیْنَمَا اَدْرَکَتْنِی الصَّلوٰۃُ تَمَسَّحْتُ وَصَلَّیْتُ فَکَانَ مَنْ قَبْلِیْ یُعَظِّمُوْنَ ذٰلِکَ اِنَّمَا کَانُوْا یُصَلُّوْنَ فِیْ کَنَآئِسِہِمْ وَبِیْعِہِمْ۔
وَالْخَامِسَۃُ ہِیَ مَاہِیَ قِیْلَ لِیْ سَلْ فَاِنَّ کُلَّ نَبِیٍّ قَدْ سَأَلَ فَاَخَّرْتُ مَسْأَلَتِیْ اِلیٰ یَوْمِ القِیَامَۃِ فَہِیَ لَکُمْ وَلِمَنْ شَہِدَ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔ (۲۸)
ترجمہ : عمروؓبن شعیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک کے سال ایک رات کو نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ آپؐ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آپؐکے گرد پہرہ دینے کے لیے جمع ہوگئے۔ جب آپؐ نے نماز پڑھ لی تو ان کی جانب رخِ انور پھیرا اور فرمایاکہ: ’’آج رات مجھے پانچ ایسے اعزازات دیے گئے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے:
(۱) پہلا تو یہ کہ مجھے تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے جب کہ مجھ سے پہلے نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا۔
(۲) دشمن پر میرا رعب و دبدبہ ڈال کر میری نصرت فرمائی گئی اگرچہ اس دشمن کے اور میرے درمیان ایک ماہ کی مسافت کا فاصلہ ہو۔ وہ اتنے فاصلے سے مرعوب ہو کر خوف زدہ ہوجائے گا۔
(۳) مالِ غنیمت کا کھانا میرے لیے حلال قرار دیا گیا ہے حالانکہ مجھ سے پیشتر لوگ اسے بہت بڑا گناہ تصوّر کرتے تھے اور اسے جلادیتے تھے۔
(۴) ساری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک قرار دے دی گئی ہے۔ جہاں نماز کا وقت ہوجائے( پانی نہ ملنے کی صورت میں) مٹی سے تیمم کرکے نماز پڑھ لوں۔ مجھ سے پہلی امتوں کے لوگ اسے بھی بہت بُرا سمجھتے تھے اور وہ نمازیں صرف اپنے کنیسوں اور گرجوں میں پڑھنا جائز سمجھتے تھے۔
(۵) پانچویں چیز جو مجھے عطا ہوئی ہے وہ یہ کہ مجھے مانگنے کی اجازت دی گئی کہ جو چاہوں مانگوں کیونکہ ہر نبی نے سوال کیا ہے ۔ میںنے اس پیشکش کو قیامت کے روز کے لیے مؤخر رکھ لیا ہے یہ تمہارے لیے اور ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس بات کی شہادت دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی الٰہ نہیں۔
۲۸۔ بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَا تَیْنِ یَعْنِی اِصْبَعَیْنِ۔ (بخاری و مسلم)
’’میری بعثت اور قیامت اس طرح ہیں، یہ فرماتے ہوئے نبی ﷺ نے اپنی دو انگلیاں اٹھائیں۔‘‘
تشریح :محمد ﷺ کی رسالت کسی ایک ملک کے لیے نہیں، پوری دنیا کے لیے ہے اور اپنے ہی زمانے کے لیے نہیں، آنے والے تمام زمانوں کے لیے ہے۔ یہ مضمون متعدد مقامات پر قرآن مجید میں بیان ہوا ہے۔ مثلاًفرمایا: یٰٓاَ یُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا۔(الاعراف : ۱۵۸)’’ اے انسانو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔‘‘ وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْ م بَلَغَ۔(الانعام : ۱۹)’’میری طرف یہ قرآن بھیجا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے میں تم کو خبردار کروں اور جس جس کو بھی یہ پہنچے۔‘‘ وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّاکَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا۔(سبا: ۲۸) ’ ’ہم نے تم کو سارے انسانوں کے لیے بشارت دینے والا اور خبر دار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ۔(الانبیاء : ۱۰۷) ’’ اور ہم نے آپؐ کو تمام دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۳، الفرقان، حاشیہ: ۴)
(حدیث نمبر ۲۸) کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح دو انگلیوں کے درمیان کوئی تیسری انگلی حائل نہیں ہے اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان بھی کوئی نبوت نہیں ہے۔ میرے بعد بس قیامت ہی ہے اور قیامت تک میں نبی رہنے والا ہوں۔
یہ بات کہ نبی ﷺ صرف اپنے ملک یا اپنے زمانے کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک پوری نوع بشری کے لیے مبعوث فرمائے گئے ہیں۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے۔ مثلاً:
وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْ م بَلَغَ۔(الانعام : ۱۹)
’’ اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں تم کو متنبہ کروں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے۔‘‘
قُلْ یٰآَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا۔ (الاعراف:۱۵۸)
’’اے نبی کہہ دو کہ اے انسانو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔‘‘
وَمَآاَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ۔ (الانبیاء : ۱۰۷)
’’اور اے نبیؐ! ہم نے نہیں بھیجا تم کو مگر تمام جہان والوں کے لیے رحمت کے طور پر۔‘‘
تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلیٰ عَبْدِہٖ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْرًا۔ (الفرقان:۱)
’’بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ تمام جہاں والوں کے لیے متنبہ کرنے والا ہو۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۳، الفرقان ، حاشیہ:۴)

جنّ و انس دونوں کے نبیؐ

۲۹۔ لَقَدْ قَرَأْ تُہَا عَلَی الْجِنِّ لَیْلَۃَ الْجِنِّ فَکَانُوْا اَحْسَنَ مَرْدُوْدًا مِنْکُمْ، کُنْتُ کُلَّمَا اَتَیْتُ عَلیٰ قَوْلِہٖ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَّانِ قَالُوْا لاَ بِشَیْئٍ مِنْ نِعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ۔
’’ترمذی، حاکم اور حافظ ابوبکر بزّار نے حضرت جابر بن عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ ان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جب لوگ سورۂ رحمن کو سن کر خاموش رہے تو آپؐ نے فرمایا۔’’ میں نے یہ سورہ اس رات جنّوں کو سنائی تھی جس میں وہ قرآن سننے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ وہ اس کا جواب تم سے بہتر دے رہے تھے۔ جب میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر پہنچتا تھا کہ اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے، تو وہ اس کے جواب میں کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، حمد تیرے ہی لیے ہے۔‘‘
تشریح : اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ احقاف : ۲۹-۳۲ میں رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے جنّوں کے قرآن سننے کا جو واقعہ بیان کیا گیا ہے، اس موقع پر حضوؐر نماز میں سورۂ رحمن تلاوت فرمارہے تھے۔ یہ (سیرۃ ابن ہشام ، جلد اول ص ۲۳۶ اور ص ۳۱۴ اوّل من جہر بالقرآن مطبوعہ مصطفی البابی مصر)۱۰ ؁نبوی کا واقعہ ہے جب آپ سفر طائف سے واپسی پر نخلہ میں کچھ مدت ٹھہرے تھے۔ اگرچہ بعض دوسری روایات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اُس موقع پر رسول اللہ ﷺ کو یہ معلوم نہ تھا کہ جِنّ آپؐ سے قرآن سن رہے ہیں بلکہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو یہ خبر دی کہ وہ آپ ؐکی تلاوت سن رہے تھے۔ لیکن یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کو جنّوں کی سماعت قرآن پر مطلع فرمایا تھا اُسی طرح اللہ تعالیٰ ہی نے آپؐ کو یہ اطلاع بھی دے دی ہوکہ سورۂ رحمن سنتے وقت وہ اس کا کیا جواب دیتے جارہے تھے۔
ان روایات سے تو صرف اسی قدر معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ رحمن ، سورۂ حجر اور سورۂ احقاف سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔ اس کے بعد ایک اور روایت ہمارے سامنے آتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مکہ معظّمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔
ابن اسحاق حضرت عروہ بن زبیر سے یہ واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک روز صحابہ کرامؓ نے آپس میں کہا کہ قریش نے کبھی کسی کو علانیہ، بآواز بلند قرآن پڑھتے نہیں سنا ہے ہم میں کون ہے جو ایک دفعہ ان کو کلام پاک سنا ڈالے؟ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا میں یہ کام کرتا ہوں۔ صحابہؓ نے کہا ہمیں ڈر ہے کہ وہ تم پر زیادتی کریں گے۔ ہمارے خیال میں کسی ایسے شخص کو یہ کام کرنا چاہیے جس کا خاندان زبردست ہو، تاکہ اگر قریش کے لوگ اس پر دست درازی کریں تو اس کے خاندان والے اس کی حمایت پر اٹھ کھڑے ہوں۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا مجھے یہ کام کر ڈالنے دو۔ میرا محافظ اللہ ہے۔ پھر وہ دن چڑھے حرم میں پہنچے جب کہ قریش کے سردار وہاں اپنی اپنی مجلسوں میں بیٹھے تھے۔ حضرت عبداللہؓ نے مقام ابراہیم پر پہنچ کر پورے زور سے سورۂ رحمن کی تلاوت شروع کردی۔ قریش کے لوگ پہلے تو سوچتے رہے کہ عبداللہ کیا کہہ رہے ہیں۔پھر جب انھیں پتہ چلا کہ یہ وہ کلام ہے جسے محمد ﷺخدا کے کلام کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں تو وہ اُن پر ٹوٹ پڑے اور ان کے منہ پر تھپڑ مارنے لگے۔ مگر حضرت عبداللہ ؓ نے پرواہ نہ کی۔ پٹتے جاتے تھے اور پڑھتے جاتے تھے۔جب تک ان کے دم میں دم رہا۔ قرآن سناتے چلے گئے۔ آخر کار جب وہ اپنا سوجا ہوا منہ لے کر پلٹے تو ساتھیوں نے کہا ہمیں اسی چیز کا ڈر تھا۔ انھوں نے جواب دیا۔ آج سے بڑھ کر یہ خدا کے دشمن میرے لیے کبھی ہلکے نہ تھے، تم کہو تو کل پھر انھیں قرآن سنائوں۔ سب نے کہا، بس اتنا ہی کافی ہے۔ جو کچھ وہ نہیں سننا چاہتے تھے وہ تم نے انھیں سنادیا ۔۱؎
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرحْمٰنِ بْنُ وَاقِدٍ اَبُوْ مُسْلِمٍ، نا الْوَلِیْدُبْنُ مُسْلِمٍ عَنْ زُہَیْرِبْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ الْمُنْکَدِر عَنْ جَابِرٍ، قَال: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلیٰ اَصْحَابِہٖ فَقَرَأَ عَلَیْہِمْ سُوْرَۃَ الرَّحْمٰنِ مِنْ اَوَّلِہَا اِلیٰ اٰخِرِ ہَا فَسَکَتُوْا فَقَالَ: لَقَدْ قَرَأْتُہَا عَلَی الْجِنِّ لَیْلَۃَ الْجِنِّ فَکَانُوْا اَحْسَنَ مَرْدُوْدًا مِنْکُمْ کُنْتُ کُلَّمَا اَتَیْتُ عَلیٰ قَوْلِہٖ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ قَالُوْا: لَا بِشَیٍْٔ مِنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ۔ (۲۹)
ہٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ لاَنَعْرِفُہٗ اِلاَّمِنْ حَدِیْثِ الْوَلِیْدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ۔ قَالَ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ کَانَ زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ اَلَّذِیْ وَقَعَ بِالشَّامِ لَیْسَ ہُوَالَّذِیْ یُرْوَی عَنْہُ بِالْعِرَاقِ کَاَنَّہٗ رَجُلٌ اٰخَرَ قَلَبُوْا اِسْمَہٗ یَعْنِیْ لَمَایَرْوَوْنَ عَنْہٗ مِنَ الْمَنَاکِیْرِ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنِ اِسْمَاعِیْلَ الْبُخَارِیَّ یَقُوْلُ اَہْلُ الشَّامِ یَرْوَوْنَ عَنْ زُبَیْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ مَنَاکِیْرَ وَاَہْلُ الْعِرَاقِ یَرْوَوْنَ عَنْہُ اَحَادِیْثَ مُقَارَبَۃٍ۔
ترجمہ: حضرت جابرؓ کا بیان ہے رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں کے پاس آئے اور انھیں سورۃ الرحمن اوّل تا آخر پڑھ کر سنائی۔ صحابہؓ سن کرخاموش رہے۔ آپؐ نے فرمایا :’’ میں نے لیلۃ الجن میں اس سورت کو جنوں کے سامنے پڑھاانھوں نے تم لوگوں سے بہتر اس کا جواب دیا تھا۔ میں جب فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ کی آیت پڑھتا تو وہ اسے سن کر لاَبِشَیْ ئٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُکہتے۔ ’’ یعنی اے ہمارے پروردگار ہم تیری کسی نعمت کی تکذیب نہیں کرتے۔ حمد و ستائش صرف تیرے لیے مخصوص ہے۔‘‘
(۲) عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: لَمَّا قَرَأَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سُوْرَۃَ الرَّحْمٰنِ عَلیٰ اَصْحَابِہٖ حَتّٰی فَرَغَ قَالَ: مَالِیْ اَرَاکُمْ سَکُوْتًا لَلْجِنُّ کَانُوْا اَحْسَنَ مِنْکُمْ رَدًّا مَاقَرَأْتُ عَلَیْہِمْ مِنْ مَّرَّۃٍ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَاتُکَذِّبٰنِ اِلَّا قَالُوْا وَلَا بِشَیْ ئٍ مِنْ نِعْمَتِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ۔ صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ۔(۳۰)
ترجمہ :حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے سورۃ الرحمن اپنے اصحاب کو پڑھ کر سنائی، جب آپؐ فارغ ہوئے تو اظہار تعجب کے طور پر فرمایا کیا بات ہے کہ تمہیں خاموش دیکھ رہا ہوں ؟ تم سے بہتر جواب تو جنوں نے دیا تھا۔ جب میں فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنپر پہنچتا تو وہ وَلَابِشَیٍٔ مِنْ نِّعْمَتِکَ رَبَّنَانُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُکہہ کر جواب دیتے۔
(۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَرَأَ سُوْرَۃَ الرَّحْمٰنِ اَوْقُرِئَتْ عِنْدَہٗ فَقَالَ: مَالِیْ اَسْمَعُ الْجِنَّ اَحْسَنَ جَوَابًا لِرَبِّہَا مِنْکُمْ ؟ قَالُوْا: وَمَا ذَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: مَا اَتَیْتُ عَلیٰ قَوْلِ اللّٰہِ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ اِلَّا قَالَتِ الْجِنُّ لَابِشَیٍْٔ مِنْ نِعْمَۃِ رَبِّنَا نُکَذِّبُ۔ (۳۱)
ترجمہ: ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ سورۃ الرحمن کی تلاوت فرمائی یا آپؐ کے پاس تلاوت کی گئی۔ آپؐ نے فرمایا: ’’میرے لیے یہ صورت حال بڑی عجیب و غریب ہے کہ جنوں سے اپنے رب کے کلام کا تمہارے مقابلہ میں بہتر جواب سن رہا ہوں۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! وہ کیا جواب تھا؟ آپؐ نے فرمایا: ’’میں نے جب بھی سورہ الرحمن کی آیت فَبِاَیِّ آلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ پڑھی تو جنوں نے اسے سن کر کہا لَا بِشَیٍْٔ مِنْ نِعْمَۃِ رَبِّنَا نُکَذِّبُ۔‘‘

جن و انس دونوں کو خطاب

قرآن مجید کی یہ ایک ہی سورہ ہے جس میں انسان کے ساتھ زمین کی دوسری بااختیار مخلوق، جنوں کو بھی براہ راست خطاب کیا گیا ہے۔ اور دونوں کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمالات، اس کے بے حدو حساب احسانات ، اس کے مقابلے میں ان کی عاجزی و بے بسی اور اُس کے حضوؐر اُن کی جوابدہی کا احساس دلا کر اُس کی نافرمانی کے انجام بد سے ڈرایا گیا ہے اور فرماں برداری کے بہترین نتائج سے آگاہ کیا گیا ہے۔اگرچہ قرآن پاک میں متعدد مقامات پر ایسی تصریحات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانو ںکی طرح جن بھی ایک ذی اختیار اور جوابدہ مخلوق ہیں جنھیں کفر و ایمان اور طاعت و عصیان کی آزادی بخشی گئی ہے اور اُن میں بھی انسانوں ہی کی طرح کافر و مومن اور مطیع و سرکش پائے جاتے ہیں، اور ان کے اندر بھی ایسے گروہ موجود ہیں جو انبیاء علیہم السلام اور کتب آسمانی پر ایمان لائے ہیں، لیکن یہ سورہ اس امر کی قطعی صراحت کرتی ہے کہ رسول اللہﷺ اور قرآن مجید کی دعوت جن اور انس دونوں کے لیے ہے اور حضورؐ کی رسالت صرف انسانوں تک محدود نہیں ہے۔
سورہ کے آغاز میں تو خطاب کا رُخ انسانوں کی طرف ہی ہے، کیوں کہ زمین کی خلافت انہی کو حاصل ہے، خداکے رسول انہی میں سے آئے ہیں، اور خدا کی کتابیں انہی کی زبانوں میں نازل کی گئی ہیں، لیکن آگے چل کر آیت ۱۳ سے انسان اور جن کو یکساں مخاطب کیا گیا ہے اور ایک ہی دعوت دونوں کے سامنے پیش کی گئی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۵،الرحمن: موضوع اور مضمون)

جنوں کو دعوتِ توحید

۳۰۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ مکہ میں رات بھر غائب رہے۔ ہم لوگ سخت پریشان تھے کہ کہیں آپؐ پر کوئی حملہ نہ کردیا گیا ہو۔ صبح سویرے ہم نے آپؐ کو حراء کی طرف سے آتے ہوئے دیکھا، پوچھنے پر آپؐ نے بتایا کہ ایک جن مجھے بلانے آیاتھا، میں نے اس کے ساتھ آکر جنوں کے ایک گروہ کو قرآن سنایا۔ (مسلم، مسند احمد،ترمذی ، ابودائود)
۳۱۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ہی کی ایک اور روایت ہے کہ ایک مرتبہ مکہ میں حضورؐ نے صحابہؓ سے فرمایاکہ آج رات تم میں سے کون میرے ساتھ جنوں کی ملاقات کے لیے چلتا ہے؟ میں آپؐ کے ساتھ چلنے کو تیار ہوگیا۔ مکہ کے بالائی حصہ میں ایک جگہ حضورؐ نے لکیر کھینچ کر مجھ سے فرمایا کہ اس سے آگے نہ بڑھنا۔ پھر آپؐ آگے تشریف لے گئے اور کھڑے ہوکر قرآن پڑھنا شروع کیا۔ میں نے دیکھاکہ بہت سے اشخاص ہیں جنھوں نے آپؐ کو گھیر رکھا ہے اور وہ میرے اورآپؐ کے درمیان حائل ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الاحقاف، حاشیہ: ۳۵)
۳۲۔ ایک موقع پر رات کے وقت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور مکہ معظمہ میں حجون کے مقام پر جنوں کے ایک مقدمہ کا آپؐ نے فیصلہ فرمایا۔ اس کے سالہا سال بعد ابن مسعودؓنے کوفہ میں جاٹوں کے ایک گروہ کو دیکھ کر کہا حجون کے مقام پر جنوں کے جس گروہ کو میں نے دیکھا تھا وہ ان لوگوں سے بہت مشابہ تھا۔ (ابن جریر)
تشریح : معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں کے پے درپے وفود نبی ﷺ کے پاس حاضر ہونے لگے اور آپؐ سے ان کی رُو در رُوملاقاتیں ہوتی رہیں۔ اس بارے میں جو روایات کتب حدیث میں منقول ہوئی ہیں ان کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں کم از کم چھ وفد آئے۔ (تفہیم القرآن، ج۴، الاحقاف، حاشیہ: ۳۵)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ الْمُثَنّٰی، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الْاَعْلیٰ، عَنْ دَاؤدَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَئَلْتُ عَلْقَمَۃَ ہَلْ کَانَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ شَہِدَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لَیْلَۃَ الْجِنِّ؟ قَالَ: فَقَالَ عَلْقَمَۃُ : اَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُوْدٍ فَقُلْتُ: ہَلْ شَہِدَاَحَدٌ مِنْکُمْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لَیْلَۃَ الْجِنِّ؟ قَالَ: لَا، وَلٰکِنَّا کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَفَقَدْنَاہُ فَالْتَمَسْنَاہُ فِی الْاَوْدِیَۃِ وَالشِّعَابِ فَقُلْنَا: اُسْتُطِیْرَاَوْاُغْتِیْلَ، قَالَ فَبِتْنَا بِشَرِّلَیْلَۃٍ بَاتَ بِہَا قَوْمٌ۔ فَلَمَّا اَصْبَحْنَا اِذَا ہُوَ جَآئٍ مِنْ قِبَلِ حِرَآئَ قَالَ: فَقُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَدْنَاکَ فَطَلْبَنَاکَ فَلَمْ نَجِدْکَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَیْلَۃٍ بَاتَ بِہَا قَوْمٌ فَقَالَ: اَتَانِیْ دَاعِی الْجِنِّ فَذَہَبْتُ مَعَہٗ فَقَرَأْتُ عَلَیْہِمِ الْقُرْاٰنَ قَالَ: فَانْطَلَقَ بِنَا فَاَرَانَا آثَارَہُمْ وَاٰثَارَ نِیْرَانِہِمْ وَسَأَلُوْہُ الزَّادَ فَقَالَ: لَکُمْ کُلُّ عَظْمٍ ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ یَقَعُ فِیْ اَیْدِیْکُمْ اَوْفَرَ مَایَکُونُ لَحْمًا وَکُلُّ بَعْرَۃٍ عَلَفٌ لِدَوَآبِّکُمْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : فَلَا تَسْتَنْجُوْا بِہِمَا فَاِنَّہُمَا طَعَامُ اِخْوَانِکُمْ۔ (۳۲)
ترجمہ: حضرت عامر سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے علقمہ سے پوچھا کہ کیا ابن مسعودؓ لیلۃ الجن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے؟علقمہ نے جواب دیا میں نے یہی سوال ابن مسعود سے خود بھی کیا تھا کہ کیا آپ میں سے کوئی لیلۃ الجن میں رسول اللہ کے ساتھ تھا تو انھوں نے نفی میں جواب دیا کہ نہیں لیکن ایک رات ہم آپؐ کے ساتھ تھے، پھر ہم نے آپؐ کو گم پایا۔ ہم نے آپ کو وادیوں اور گھاٹیوں میں بہت تلاش کیا مگرآپؐ نہ ملے تو ہمیں یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ آپؐکسی ناگہانی مصیبت کا شکار نہ ہوگئے ہوں یا پھر دشمنوں نے اچانک پکڑ کر ہلاک نہ کردیا ہو۔ ابن مسعود کا بیان ہے، یہ رات ہماری بہت پریشانی کی رات تھی۔ صبح کے وقت اچانک آپؐ غار حرا کی جانب سے آتے ہوئے نظر آئے ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہم نے آپ کو گم پایا۔ آپؐ کو ہم نے بہت تلاش کیا مگر پا نہ سکے لہٰذا رات انتہائی پریشانی میں گزاری۔آپؐ نے فرمایا: ’’مجھے ایک جن بلانے آیا تھا۔ میں اس کے ساتھ چلا گیا۔ میں نے جنوں کو قرآن پڑھ کر سنایا۔‘‘راوی کا بیان ہے ۔ پھر آپؐ ہمیں وہاں لے گئے اور ان کے آثار اور آگ کے نشانات ہمیں دکھائے۔ جنوں نے آپؐ سے اپنی خوراک کے متعلق دریافت کیا۔ آپؐ نے انھیں بتایا کہ ہر وہ ہڈی جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، وہ بطور گوشت تمہاری خوراک ہے اور ہر مینگنی تمہارے چوپایوں کے لیے چارہ ہے۔ پھرآپؐ نے انسانوں کے لیے حکم صادر فرمادیا کہ تم ان دونوں چیزوں کو استنجاء کے لیے استعمال نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے بھائیوں (جنوں) کی خوراک ہیں۔
(۲) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا اَبُوْزُرْعَۃَ وَہْبُ بْنُ رَاشِدٍ، قَالَ یُوْنُسُ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ اَخْبَرَنِیْ اَبُوْعُثْمَانُ بْنُ شَبَّۃَ الْخُزَاعِیُّ وَکَانَ مِنْ اَہْلِ الشَّامِ، اَنَّ ابْنَ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِاَصْحَابِہٖ وَہُوَبِمَکَّۃَ مَنْ اَحَبَّ مِنْکُمْ اَنْ یَّحْضُرَاَمْرَالْجِنِّ اللَّیْلَۃَ، فَلْیَفْعَلْ فَلَمْ یَحْضُرْ مِنْہُمْ اَحَدٌ غَیْرِیْ قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِاَعْلیٰ مَکَّۃَ خَطَّ لِیْ بِرِجْلِہٖ خَطًّا ثُمَّ اَمَرَنِیْ اَنْ اَجْلِسَ فِیْہِ ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّی قامَ فَافْتَتَحَ الْقُرْاٰنَ فَغَشِیَتْہُ اَسْوِدَۃٌ کَبِیْرَۃٌ حَالَتْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہٗ حَتّٰی مَا اَسْمَعُ صَوْتَہٗ ثُمَّ طَفِقُوْا یَتَقَطَّعُوْنَ مِثْلَ قَطْعِ السَّحَابِ ذَاہِبِیْنَ حَتّٰی بَقِیَ مِنْہُمْ رَہْطٌ فَفَرَغَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَعَ الْفَجْرِ فَانْطَلَقَ مُتَبَرِّزًا ثُمَّ اَتَانِیْ فَقَالَ:مَافَعَلَ الرَّہْطُ؟ قُلْتُ ہُمْ اُولٰٓئِکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَاَخَذَ عَظْمًا اَوْرَوْثًا اَوْجَمْجَمَۃً فَاعْطَاہُمْ اِیَّاہُ زَادًا ثُمَّ نَہٰی اَنْ یَسْتَطِیْبَ اَحَدٌ بِعَظْمٍ اَوْرَوْثٍ۔ (۳۳)
ترجمہ:ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میںاپنے ساتھیوں سے فرمایا، ’’آج رات جو شخص جنوں کی کارروائی میں حاضر ہونا چاہے اسے اجازت ہے۔‘‘ لیکن میرے سوا کوئی نہ آیا۔ کہتے ہیں ہم چل پڑے۔ جب مکہ کے بالائی حصہ میں پہنچے تو آپؐ نے اپنے پائوں سے ایک دائرہ بنا کر مجھے اس کے اندر بیٹھنے کی تلقین فرمائی اور خود آگے تشریف لے گئے اور کھڑے ہو کر قرآن پڑھنا شروع کردیا۔ آپؐ کو لوگوں کے ایک بڑے ہجوم نے گھیر لیا جو میرے اور آپ کے درمیان اس طرح حائل ہوگیا کہ میں آپؐ کی آواز نہ سن سکتا تھا۔ پھر وہ بادلوں کی طرح چھٹنے لگے اور کچھ لوگ ان میں سے باقی رہ گئے۔ آپ فجر کے وقت ان سے فارغ ہوئے۔پھر وہاں سے آپ قضائے حاجت کے لیے گئے۔ پھر میرے پاس تشریف لائے۔ فرمایا: وہ لوگ کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا۔ اے رسولِ خدا ﷺ وہ تو یہ ہیں۔ آپؐنے ایک ہڈی یا لید یا سر کی کھوپڑی اپنے دست مبارک سے پکڑ کر انھیں دیا کہ اسے خوراک بنائیں۔ پھر آپؐ نے منع فرمادیا کہ ہم میںسے کوئی ان چیزوں کو قضائے حاجت کے بعد ڈھیلے کے طور پر استعمال کرے۔
(۳) حَدَّثَنابِشْرٌ قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ قَالَ: ثنا سَعِیْدٌ عَنْ قَتَادَۃَ قَوْلَہٗ وَاِذْصَرَفْنَا اِلَیْکَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ قَالَ: ذُکِرَ لَنَا اَنَّہُمْ صَرَفُوْا اِلَیْہِ مِنْ نَیْنَوٰی قَالَ: فَاِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِنِّیْ اُمِرْتُ اَنْ اَقْرَأَ الْقُرْاٰنَ عَلَی الْجِنِّ فَایُّکُمْ یَتْبَعْنِیْ فَاَطْرَقُوْا ثُمَّ اسْتَتْبَعَہُمْ فَاَطْرَقُوْا ثُمَّ اسْتَتْبَعَہُمُ الثَّالِثَۃَ فَاَطْرَقُوْا فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّکَ لَذُوبَدِئۃِ ( ابن کثیر میں لَذُوْنَدِبَۃٍ وَحُرَرٍہے۔)۱ فَاَتْبَعَہٗ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ فَدَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ شِعْبًا یُقَالُ لَہٗ شِعْبُ الْحَجُوْنِ قَالَ: وَخَطَّ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ خَطًّا لِیُثَبِّتَہٗ بِہٖ۔ قَالَ : فَجَعَلَتْ تَہْوِیْ بِیْ وَاَرٰی اَمْثَالَ النَّسُوْرِ تَمْشِیْ فِیْ دُفُوْفِہَاوَسَمِعْتُ لَغَطًا شَدِیْدًا حَتّٰی خِفْتُ عَلیٰ نَبِیِّ اللّٰہِ ﷺ ثُمَّ تَلَاالْقُرْاٰنَ فَلَمَّا رَجَعَ نَبِیُّ اللّٰہِ قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ مَا اللَّغَطُ الَّذِیْ سَمِعْتُ؟ قَالَ: اجْتَمَعُوْا اِلَیَّ فِیْ قَتِیْلٍ کَانَ بَیْنَہُمْ فَقَضیٰ بَیْنَہُمْ بِالْحَقِّ وَذُکِرَلَنَا اَنَّ ابْنَ مَسْعُوْدٍ لَمَّا قَدِمَ الْکُوْفَۃَ رَاٰی شُیُوْخًا شَمْطًا مِنَ الزُّطِّ فَرَاعُوْہُ قَالَ: مَنْ ہٰٓؤُ لَآئِ؟ قَالُوْا: نَفَرٌ مِنَ الْاَعَاجِمِ، قَالَ: مَارَأَیْتُ لِلَّذِیْنَ قَرَأَ عَلَیْہِمُ النَّبِیُّ ﷺ الْاِسْلَامَ مِنَ الْجِنِّ شَبَہًا اَدْنیٰ مِنْ ہٰؤُلَآئِ۔(۳۴)
ترجمہ:حضرت قتادہ وَاِذْ صَرَفْنَا اِلَیْکَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَکی تفسیر میں فرماتے ہیںکہتے ہیں ہمیں بتایا گیا کہ جنوں کا ایک گروہ نینویٰ سے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو قرآن پڑھ کر سنائوں تم میں سے کون میرے ساتھ جانے کو تیار ہے ‘‘سب نے سر جھکالیے اور خاموش رہے۔ آپؐ نے پھر پوچھا کہ میری رفاقت میں کون جانے کو تیار ہے۔ پھرسب نے اپنے سرجھکائے رکھے اور خاموش رہے۔ اسی طرح تیسری بار آپؐ نے پھر پوچھا لیکن سب سرجھکائے خاموش بیٹھے رہے۔ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ہی ان کے سامنے جاسکتے ہیں۔ پھر عبداللہ بن مسعود ؓ آپؐ کے ساتھ جانے کو تیار ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ حجون نامی گھاٹی میں داخل ہوئے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن مسعودؓ کے سامنے ایک لکیر کھینچ دی تاکہ اس میں ابن مسعودؓ کو بٹھادیں۔ ابن مسعود کا بیان ہے کہ وہ میرے قریب اترنے لگے اور مجھے ایسا لگا گویا گدھ پر پھیلائے زمین پر اتررہے ہیں اور میں نے سخت شور و غوغا سنا کہ مجھے نبی ﷺ کی جان کا خطرہ محسوس ہوا۔ پھر آپؐ نے قرآن پاک پڑھ کر جنوں کو سنایا۔ جب آپؐ واپس تشریف لائے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی ﷺ وہ شورو غوغا کیسا سنائی دے رہا تھا؟ آپؐ نے فرمایا: ’’جنات ایک مقدمۂ قتل میرے پاس فیصلہ کے لیے لائے تھے۔‘‘آپؐ نے ان کے اس مقدمہ قتل کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ فرمادیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ ابن مسعودؓ جب کوفہ میں تشریف لائے تو وہاں انھوں نے جاٹوں کے کچھ بوڑھے لوگوں کو دیکھا اور وہ بھی آپ کی طرف متوجہ ہوئے تو پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ کہا گیا کہ چند عجمی لوگ ہیں۔ اس پر عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ حجون کے مقام پر جنوں کے جس گروہ کو میں نے دیکھا تھا جنھیں نبی ﷺ نے اسلام کی تعلیمات کی تبلیغ کی تھی وہ ان لوگوں سے بہت مشابہت رکھتا تھا۔

پیغمبر علیہ السلام کاکون سا ظن واجب الاتّباع ہے؟

۳۳۔ صحیح مسلم میں کتاب الفضائل کے تحت ایک مستقل باب ہے جس کا عنوان ہے۔ باب وجوب امتثال ماقالہ شَرْعَا دُوْنَ مَا ذکرہٗ ﷺ من معایش الدنیا علی سبیل الرّای، باب اس امر کے بیان میں کہ نبی ﷺ نے شرعی طریقہ پر جو کچھ فرمایا اس کا امتثال واجب ہے نہ کہ اس بات کا جسے آپؐ نے دنیوی معاملات میں اپنی رائے کے طور پر بیان کیا ہو۔‘‘ اس باب میں امام موصوف حضرت طلحہؓ ، حضرت رافع بن خدیج، حضرت عائشہؓ اور حضرت انسؓ کے حوالہ سے یہ قصہ نقل کرتے ہیں کہ جب حضورؐ مدینے تشریف لائے تو آپؐ نے دیکھا کہ اہل مدینہ مادہ کھجور میں نر کھجور کا پیوند لگاتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا : مَا اَظُنُّ یُغْنِیْ ذٰلِکَ شَیْئًا۔ لَعَلَّکُمْ لَوْلَمْ تَفْعَلُوْا کَانَ خَیْرًا ’’میں نہیں سمجھتاکہ اس کا کوئی فائدہ ہے۔اگر تم ایسا نہ کرو تو شاید اچھا ہو۔‘‘ لوگوں نے سنا تو، ایسا کرنا چھوڑ دیا مگر اس سال پھل اچھا نہ آیا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا۔ اِنْ کَانَ یَنْفَعُکُمْ ذٰلِکَ فَلْیَصْنَعُوْہُ فَاِنِّیْ اِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا فَلَا تُؤاخِذُوْنِیْ بِالظَّنِّ وَلٰکِنْ اِذَا حَدَّثْتُکُمْ عَنِ اللّٰہِ شَیْئًا فَخُذُوْابِہٖ۔ اِنِّیْ لَمْ اَکْذِبْ عَلَی اللّٰہِ۔’’ اگر تم لوگوں کو یہ کام نفع دیتا ہے تو ضرور اسے کریں ۔ میں نے تو ظن کی بنا پر ایک بات کہی تھی۔ تم ظن پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کرو۔ البتہ جب میں اللہ کی طرف سے کوئی بات تم سے کہوں تو اسے لے لو کیونکہ میں اللہ پر کبھی جھوٹ نہیں بولاہوں۔‘‘ (رسائل و مسائل سوم، چند مزید اعتراضات: احادیث دجال)
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْد نِالثَّقَفِیُّ وَاَبُوکَامِلِ الْجَحْدَرِیُّ وَتَقَارَبَا فِی اللَّفْظِ وَہٰذَا حَدِیْثُ قُتَیْبَۃَ قَالَا نَا اَبُوعَوَانَۃَ عَنْ سِمَاکٍ، عَنْ مُوْسیٰ بْنِ طَلْحَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: مَرَرْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بِقَوْمٍ عَلیٰ رُؤُسِ النَّخْلِ فَقَالَ: مَا یَصْنَعُ ہٰؤُلَآئِ؟ فَقَالُوْا : یُلَقِّحُوْنَہٗ یَجْعَلُوْنَ الذَّکَرَ فِی الْاُنْثیٰ فَتَلَقَّحُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَا اَظُنُّ یُغْنِیْ ذٰلِکَ شَیْئًا قَالَ: فَاُخْبِرُوْا بِذٰلِکَ فَتَرَکُوْہُ فَاُخْبِرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِذٰلِکَ فَقَالَ: اِنْ کَانَ یَنْفَعُہُمْ ذٰلِکَ فَلْیَصْنَعُوْہُ فَاِنِیِّ اِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا فَلَا تُؤَاخِذُوْنِیْ بِالظَّنِّ وَلٰکِنْ اِذَا حَدَّثْتُکُمْ عَنِ اللّٰہِ شَیْئًا فَخُذُوْا بِہٖ فَاِنِّیْ لَنْ اَکْذِبَ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ (۳۵)
ترجمہ:حضرت موسیٰ بن طلحہؓ اپنے والد کے حوالہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی معیت میں میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جو کھجور کے درختوں پر چڑھے ہوئے تھے۔ آپؐ نے پوچھا یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟ انھوں نے بتایا کہ وہ مادہ کھجور میں نر کھجور کا پیوند لگارہے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ’’ میں نہیں سمجھتا کہ اس کا کوئی فائدہ ہے۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ انھیں اس کی خبر ہوگئی تو لوگوں نے یہ کام چھوڑ دیا۔ اس کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو ہوئی تو آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر لوگوں کو یہ کام نفع دیتا ہے تو وہ ضرور اسے کریں۔ میں نے تو ظن کی بنا پر ایک بات کہی تھی۔ تم مجھ پر ظن سے مواخذہ نہ کرو۔ البتہ جب میں اللہ کی طرف سے کوئی بات تم سے کہوں تو اسے لے لو کیوں کہ میں اللہ پر کبھی جھوٹ نہیں بولتا ہوں۔‘‘

رسول خدؐا کی بشری اور نبوی حیثیت میں فرق کے چند واقعات

۳۴۔ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ اِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَیٍْٔ مِنْ دِیْنِکُمْ فَخُذُوْا بِہٖ وَاِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَـْیئٍ مِّنْ رَاْئِیْ فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ۔
’’میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔ جب میں تم کو تمہارے دین کے متعلق کوئی حکم دوں تو اسے مانو اور جب میں اپنی رائے سے کچھ کہوں تو بس میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔‘‘
تشریح :اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جن معاملات کو دین اسلام نے اپنے دائرۂ رہنمائی میں لیا ہے ان میں تو حضورؐ کے ارشاد گرامی کی پیروی لازم ہے، البتہ جن معاملات کو دین نے اپنے دائرے میں نہیں لیا ہے ان میں آپؐ کی رائے واجب الاتباع نہیں ہے۔ اب ہر شخص خود دیکھ سکتا ہے کہ دین نے کن معاملات کو اپنے دائرے میں لیا ہے کن کو نہیں لیا۔ ظاہر ہے کہ لوگوں کو باغبانی یا درزی کا کام یا باورچی کا کام سکھانا دین نے اپنے ذمہ نہیں لیا ہے لیکن خود قرآن ہی اس بات پر شاہد ہے کہ دیوانی اور فوجداری قوانین، عائلی قوانین، معاشی قوانین اور اس طرح اجتماعی زندگی کے تمام معاملات کے متعلق احکام و قوانین بیان کرنے کو دین اسلام نے اپنے دائرہ عمل میں لیا ہے۔ ان امور کے متعلق نبی ﷺ کی ہدایت کو رد کردینے کے لیے مذکورہ بالاحدیث کو دلیل کیسے بنایا جاسکتا ہے؟
تخریج:(۱)حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الرُّومِیِّ الْیَمامِیُّ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِیْمِ الْعَنْبَرِیُّ، وَاَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُعْقِرِیُّ: قَالُوْا : نَاالنَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: ناعِکْرِمَۃُ وَہُوَبْنُ عَمَّارٍ، قَالَ ثَنِیْ آبُوْالنَّجَاشِیِّ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ رَافِعُ بْنُ خُدَیْجٍ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِیُّ ﷺ الْمَدِیْنَۃَ وَہُمْ یَاْبِرُوْنَ النَّخْلَ یَقُوْلُ یُلَقِّحُوْنَ النَّخْلَ فَقَالَ: مَا تَصْنَعُوْنَ؟ قَالُوْا: کُنَّا نَصْنَعُہٗ قَالَ: لَعَلَّکُمْ لَو لَمْ تَفْعَلُوْا کَانَ خَیْرًا قَالَ: فَتَرَکُوْہُ فَنَفَضَتْ اَوْقَالَ فَنَقَصَتْ قَالَ: فَذَکَرُوْا ذٰلِکَ لَہٗ فَقَالَ: اِنَّمَا اََنَا بَشَرٌ اِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَـْیئٍ مِّنْ دِیْنِکُمْ فَخُذُوْا بِہٖ وَاِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَـْیئٍ مِّنْ رَاْئِیْ فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ قَالَ عِکْرِمَۃُ اَوْ نَحْوَ ہٰذَا قَالَ الْمَعْقِرِیُّ فَنَفَضَتْ وَلَمْ یَشُکَّ۔ (۳۶)
ترجمہ: رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ کھجور کے خوشوں میں پیوند کاری کررہے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا’’ یہ تم لوگ کیا کرتے ہو؟‘‘ بولے ہم یہ نر و مادہ کھجور کی باہم پیوند کاری کیا کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا۔’’تم اگر ایسا نہ کرو تو شاید یہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔‘‘ راوی کا بیان ہے انھوں نے اسے ترک کردیا اور پھل کم پیدا ہوا۔ راوی کا کہنا ہے کہ لوگوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں اس نقصان کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا:’’بھئی میں بھی انسان ہوں جب تمہیں دینی امور میں سے کسی کا حکم دوں تو اسے بے چون و چرا لے لو اور جب کوئی بات میں اپنی رائے سے کہوں تو بہر حال میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔‘‘
(۲)حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ کِلَا ہُمَاعَنِ الْاَسْوَدِ ابْنِ عَامِرٍ، قَالَ: نَاحَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ہِشَامِ ابْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، وَعَنْ ثَابِتِ بْنِ اَنَسٍ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ مَرَّبِقَوْمٍ یُلَقِّحُوْنَ فَقَالَ: لَوْلَمْ تَفْعَلُوْا لَصَلُحَ قَالَ: فَخَرَجَ شِیْصًا فَمَرَّ بِہِمْ فَقَالَ: مَا لِنَخْلِکُمْ؟ قَالُوْا: قُلْتَ کَذَاوَکَذَا قَالَ: اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِاَمْرِ دُنْیَا کُمْ۔(۳۷)
ترجمہ:حضرت ثابت بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا گزر ایسے لوگوں پر سے ہوا جو تابیر نخل میں مشغول تھے، آپؐ نے فرمایا: ’’ تم لوگ اگر ایسانہ کرو تو (میرے خیال میں) بہتر رہے گا۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ پھل ناقص پیدا ہوا۔ پھر انھیں لوگوں کے پاس سے آپؐ گزرے تودریافت فرمایا کہ تمہاری کھجوروں کو کیا ہوا؟ انھوں نے عرض کیا آپؐ نے جیسا فرمایا تھا (ویسا ہم نے کیا) اس پر آپؐ نے فرمایا تم اپنے دنیوی معاملات کو مجھ سے زیادہ سمجھتے ہو۔

جنگ بدر کے موقع پر رائے قبول فرمانا

۳۵۔ جنگ بدر کے موقع پر حضورؐ ابتدا میں جہاں خیمہ زن ہوئے تھے وہ جگہ مناسب نہ تھی۔ حضرت حباب بن منذر نے آپؐ سے دریافت کیا کہ اس جگہ کا انتخاب وحی کے ذریعہ کیا گیا ہے یا محض ایک تدبیر جنگ کے طور پر ہے؟فرمایا وحی نہیں ہے۔ انھوں نے عرض کیا اگر ایسا ہے تو میری رائے میں آگے بڑھ کر خیمہ زن ہونا چاہیے۔ حضورؐ نے ا ن کی رائے کو قبول فرمایا اور اسی پر عمل کیا۔
تخریج: وَالْمَعْرُوْفُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لَمَّا سَارَ اِلیٰ بَدْرٍ نَزَلَ عَلیٰ اَدْنیٰ مَائٍ ہُنَاکَ اَیْ اَوَّلَ مَائٍ وَجَدَہٗ فَتَقَدَّمَ اِلَیْہِ الحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ہٰذَا الْمَنْزِلُ الَّذِیْ نَزَلْتَہٗ مَنْزِلٌ اَنْزَلَکَ اللّٰہُ اِیَّاہُ فَلَیْسَ لَنَا اَنْ نُّجَاوِزَہٗ اَوْمَنْزِلٌ نَزَلْتَہٗ لِلْحَرْبِ وَالْمَکِیْدَۃِ؟ فَقَالَ: بَلْ مَنْزِلٌ نَزَلْتُہٗ لِلْحَرْبِ وَالْمَکِیْدَۃِ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ ہٰذَا لَیْسَ بِمَنْزِلٍ وَلٰکِنْ سِرْبِنَا حَتّٰی نَنْزِلَ عَلیٰ اَدْنیٰ مَائٍ یَلِی الْقَوْمَ وَنَغُوْرُ مَا وَرَائَ ہُ مِنَ الْقَلْبِ ونَسْتَقِی الْحِیَاضَ فَیَکُوْنُ لَنا مَائٌ وَلَیْسَ لَہُمْ مَائٌ فَسَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَفَعَلَ کَذٰلِکَ۔ (۳۸)
ترجمہ:رسول اللہ ﷺ جب بدر کی طرف چلے تو میدان بدر میں اس مقام پر خیمہ زن ہوگئے جہاں سب سے پہلے پانی دستیاب ہوا۔ حباب بن منذرآگے بڑھے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! یہ جگہ جہاں آپؐ فروکش ہوئے ہیں وحی کے ذریعہ منتخب کی گئی ہے یا محض ایک تدبیر جنگ کے طور پر؟ اگر بذریعہ وحی منتخب کی گئی ہے پھر تو ہم اس سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ فرمایا وحی نہیں! محض تدبیر جنگ کے طور پر انتخاب کیا ہے۔ انھوں نے عرض کیا اگر ایسا ہے تو یہ جگہ پڑائو کے لیے مناسب نہیں ہے۔ آپؐ ہمیں آگے ایسی جگہ لے چلیں جہاں پانی بھی ہو اور قوم قریش کے قریب بھی۔ اور مرکزی مقام سے ہم پورے ماحول پر نظر رکھ سکیں۔ اور وہاں حوض بنا کر پینے اور استعمال کے لیے پانی جمع کرلیں۔ اس طری ہمارے پاس پانی ہوگا اور حریف اس سے محروم رہے گا۔ آپؐ انھیں لے کر آگے تشریف لے گئے اور اسی تجویز کے مطابق عمل کیا۔

اسیران بدر کے بارے میں مشورہ لینا

سیران بدر کے مسئلے میں حضورؐ نے صحابہ کی جماعت سے مشورہ لیا اورخود بھی ایک عام رکن جماعت کی حیثیت سے رائے دی۔ اس موقع پر حضرت عمرؓ نے آپؐ کی اور صدیق ؓ اکبر کی رائے سے بے تکلف اختلاف کیا جس کا واقعہ تمام تاریخوں میں مشہور ہے۔ اسی مجلس میں حضورؐ نے خود اپنے داماد ابوالعاص کا مسئلہ بھی پیش کیا اور صحابہ سے فرمایا کہ اگر تمہاری مرضی ہے تو ان سے فدیہ میں جوہار لیا گیا ہے وہ انھیں واپس کردیا جائے۔ جب صحابہ نے بہ خوشی اس کی اجازت دی تب آپؐ نے ہار انھیں واپس کیا۔

غزوۂ خندق کے موقع پر بنی غطفان سے صلح

غزوۂ خندق کے موقع پر حضورؐ نے بنی غطفان سے صلح کرنے کا ارادہ فرمایا۔ انصار کے سرداروں نے عرض کیا کہ اگر یہ ارادہ وحی کی بنا پر ہے تو مجالِ کلام نہیں، اور اگر حضورؐ اپنی رائے سے ایسا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس تجویز سے اختلاف ہے۔ حضورؐ نے انہی کی رائے قبول فرمائی اور اپنے ہاتھ سے صلح نامہ کا مسودہ چاک کر ڈالا۔

صلح حدیبیہ

صلح حدیبیہ کے موقع پر تمام مسلمانوں کو بظاہر دب کر صلح کرنا پسند نہ تھا۔ حضرت عمرؓ نے علانیہ اس سے اختلاف کیا۔ مگر جب حضورؐ نے فرمایا کہ یہ کام میں خدا کے پیغمبرؐ کی حیثیت سے کررہا ہوں، تو باوجود یکہ غیرت اسلامی کی بنا پر سب ملول تھے، کسی نے دم مارنے کی جرأت نہ کی ۔ حضرت عمرؓ مرتے دم تک اس غلطی کے کفارے طرح طرح سے ادا کرتے رہے کہ وہ ایک ایسے امر میں حضوؐر سے اختلاف کربیٹھے جو بحیثیت رسول کیا جارہا تھا۔

جنگ حنین میں تقسیم غنائم کے موقع پر

جنگ حنین کے موقع پر تقسیم غنائم میں آپؐ نے مؤلفۃ القلوب کے ساتھ جو فیاضی ظاہر فرمائی تھی اس پر انصار چیںبہ جبیں ہوئے۔ حضورؐ نے ان کو بلایا۔ اپنے فعل کی تائید میں یہ نہیں فرمایا کہ میں خدا کا نبی ہوں۔ جو چاہوں کروں، بلکہ ایک تقریر کی۔ جس طرح ایک جمہوری حکومت کا سردار اپنی رائے سے اختلاف رکھنے والوں کے سامنے کرتا ہے اور ان کے ایمان بالرسالت سے اپیل نہیں کی۔ بلکہ ان کی عقل اور ان کے جذبات سے اپیل کی اور انھیں مطمئن کرکے واپس فرمایا۔۱؎

بریرہ کو اس کے شوہر کے بارے میں مشورہ

۳۶۔بریرہ ایک لونڈی تھی جو اپنے شوہر سے متنفر ہوگئی تھی مگر شوہر اس کا عاشق زار تھا وہ اس کے پیچھے روتاپھرتا تھا۔ نبیﷺ نے اس سے کہا کہ تو اپنے شوہر سے رجوع کرلیتی تو اچھا تھا۔ اس نے پوچھا ’’یارسول اللہ ! کیا آپؐ حکم دیتے ہیں؟‘‘ آپؐ نے جواب دیا۔ ’’حکم نہیں بلکہ سفارش کرتا ہوں۔‘‘ اس نے کہا’’ اگر یہ سفارش ہے تو میں اس کے پاس جانا نہیں چاہتی۔‘‘
تشریح :اس قسم کی اور بہت سی مثالیں ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب قرینہ سے یا خود حضوؐ ر کی تصریح سے لوگوں کو یہ معلوم ہوجاتا تھا کہ آپؐ کوئی بات اپنی رائے سے فرمارہے ہیں تو وہ آزادی کے ساتھ اس میں اظہار رائے کرتے تھے اور آپؐ خود اس آزادانہ اظہار رائے میں ان کی ہمت افزائی فرماتے تھے۔ ایسے مواقع پر اختلاف کرنا نہ صرف جائز تھا، بلکہ آپؐ کے نزدیک پسندیدہ تھا اور آپؐ خود بسااوقات اپنی رائے سے رجوع فرمالیتے تھے۔ (تفہیمات اوّل : آزادی کا اسلامی تصور)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ زَوْجَ بَرِیْرَۃَ کَانَ عَبْدًا یُقَالُ لَہٗ مُغِیْثٌ کَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلَیْہِ یَطُوْفُ خَلْفَہَا یَبْکِیْ وَدُمُوْعُہٗ تَسِیْلُ عَلیٰ لِحْیَتِہٖ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ لِعَبَّاسٍ: یَا عَبَّاسُ اَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِیْثٍ بَرِیْرَۃً وَمِنْ بُغْضِ بَرِیْرَۃَ مُغِیْثًا؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: لَوْ رَاجَعْتِیْہِ قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ تَاْمُرُنِیْ؟ قَالَ: اِنَّمَا اَشْفَعُ قَالَتْ: فَلَا حَاجَۃَ لِیْ فِیْہِ۔ (۳۹)
ترجمہ: حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ بریرہ کے شوہر غلام تھے۔ مغیث نام تھا۔ ابن عباس کا بیان ہے کہ گویا وہ منظر بعینہٖ میری آنکھوں کے سامنے ہے جب وہ روتا ہوا بریرہ کے پیچھے پیچھے چلاجارہا تھا اور آنسو اس کی ڈاڑھی پر بہہ رہے تھے۔ نبی ﷺ نے حضرت عباسؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا۔ عباس! مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت کیسی تعجب خیز ہے۔ پھر نبی ﷺنے بریرہ سے فرمایا کاش کہ تو مغیث کی طرف رجوع کرلیتی۔ بریرہ بولی یا رسولؐاللہ! آپؐمجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: ’’میں محض سفارش کررہا ہوں‘‘( یہ سن کر ) بریرہ نے جواب دیا حضورؐ والا پھر مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔

خواب میں زیارتِ نبویؐ اور زندگی پر اس کا اثر

۳۷۔ حضور ﷺ کی حدیث ہے کہ ’’جس نے خواب میں مجھے دیکھا، تو درحقیقت اس نے مجھے ہی دیکھا،کیونکہ شیطان میری تمثال میں نہیں آسکتا۔
تشریح :اس حدیث کی صحیح تشریح یہ ہے کہ جس نے نبی ﷺ کو حضورؐ کی اصلی شکل و صورت میں دیکھا اُس نے درحقیقت آپؐ ہی کو دیکھا۔ کیوں کہ شیطان کو یہ قدرت نہیں دی گئی ہے کہ وہ آپؐ کی صورت میں آکر کسی کو بہکاسکے۔ اس کی یہی تشریح ابن سیرین رحمہ اللہ نے کی ہے۔ امام بخاری کتاب التعبیر میں ان کا یہ قول نقل کرتے ہیںکہ اِذَا رَاٰہُ فِیْ صُوْرَتِہٖ ’’جب کہ دیکھنے والے نے آپؐ کو آپ ہی کی صورت میں دیکھا ہو‘‘ علامہ ابن حجر صحیح سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص ابن سیرین سے کہتا کہ میں نے خواب میں نبی ﷺ کو دیکھا ہے تو وہ اس سے پوچھتے تھے کہ تونے کس شکل میں دیکھا؟ اگر وہ آپؐ کی کوئی ایسی شکل بیان کرتا جو آپؐ کے حلیہ سے نہ ملتی تھی، تو ابن سیرین کہہ دیتے تھے کہ تونے حضورؐ کو نہیں دیکھا ہے۔ یہی طرز عمل ابنِ عباسؓ کا بھی تھا جیسا کہ حاکم نے بہ سند صحیح نقل کیا ہے۔ بلکہ سچ یہ ہے کہ خود حدیث کے الفاظ بھی اسی معنی کی توثیق کرتے ہیں۔ جن مختلف الفاظ میں یہ حدیث صحیح سندوں سے منقول ہوئی ہے ان سب کا مفہوم یہی ہے کہ ’’شیطان نبی ﷺ کی شکل میں نہیں آسکتا۔‘‘ نہ یہ کہ شیطان کسی شکل میں آکر آدمی کو یہ دھوکہ نہیں دے سکتا کہ وہ آں حضور کو دیکھ رہا ہے۔
اس کے ساتھ یہ بات بھی جان لینی ضروری ہے کہ اگر کوئی شخص خواب میں نبی ﷺ کو دیکھے اور آپؐ سے کوئی امر یا کوئی نہی کا حکم سنے، یا دین کے معاملے میں کسی قسم کا ایما آپؐ سے پائے تو اس کے لیے اس خواب کی پیروی اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک وہ اس تعلیم یا ایماء کے مطابق کتاب و سنت ہونے کا اطمینان نہ کرلے۔ اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے لیے دین کا معاملہ خوابوں اور کشفوں اور الہاموں پر نہیں چھوڑا ہے۔ حق اور باطل اور صحیح اور غلط کو ایک روشن کتاب اور ایک مستند سنت میں پیش کردیا گیا ہے جسے بیداری میں اور پورے شعور کی حالت میں دیکھ کر راہِ راست معلوم کی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی خواب یا کشف یا الہام اِس کتاب اور اس سنت کے مطابق ہے تو خدا کا شکر ادا کیجیے کہ اللہ نے حضورؐ کی زیارت نصیب کی، یا کشف و الہام کی نعمت سے نوازا۔ لیکن اگر وہ اس کے خلاف ہے تو اُسے رد کردیجیے اور اللہ سے دعا مانگیے کہ وہ ایسی آزمائشوں سے آپ کو اپنی پناہ میں رکھے۔
ان دو باتوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بہ کثرت لوگ گمراہ ہوئے ہیں اور ہوتے ہیں۔ متعدد آدمی میرے علم میں ایسے ہیں جو صرف اس بناپر ایک گمراہ مذہب کے پیرو ہوگئے کہ انھوں نے خواب میں نبی ﷺ کو اس مذہب کے بانی کی توثیق کرتے یا اس کی طرف التفات فرماتے دیکھا تھا۔ وہ اس گمراہی میں نہ پڑتے اگر اس حقیقت سے واقف ہوتے کہ خواب میں کسی شکل کے انسان کو نبی ﷺ کے نام سے دیکھ لینا درحقیقت حضورؐ کو دیکھنا نہیں ہے اور یہ کہ خواب میں واقعی حضورؐ ہی کی زیارت نصیب ہو تب بھی کوئی حکم شرعی اور امر دینی ایسے خواب سے اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر شیطان کے فریب سے تحفظ صرف اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ آدمی حضوؐر کو آپؐ کی اصلی شکل میں دیکھے تو اس کا فائدہ صرف انھیں لوگوں کو حاصل ہوسکتا تھا، جنھوں نے آپ کو بیداری میں دیکھا تھا کہ بعد کے لوگ آخر کیسے جان سکتے ہیں کہ جو شکل وہ خواب میں دیکھ رہے ہیں وہ حضورؐ ہی کی ہے یا کسی اور کی؟ ان کو اس حدیث سے کیا تسلی ہوئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بعد کے لوگ اس بات کا اطمینان تو نہیں کرسکتے کہ انھوں نے جو شکل خواب میں دیکھی، وہ حضورہی کی شکل تھی،مگر یہ تو معلوم کرسکتے ہیں کہ خواب کے معنی اور مضمون کی مطابقت قرآن و سنت کی تعلیم سے ہے یا نہیں۔ مطابقت پائی جاتی ہو تو پھر زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ انھوں نے خواب میں حضورؐ ہی کی زیارت کی ہے، کیوں کہ شیطان کسی کو راہِ راست دکھانے کے لیے تو بہروپ نہیں بھرا کرتا۔ (رسائل و مسائل چہارم ،عام مسائل: خواب۔۔۔)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: اَخْبَرَنا عَبْدُ اللّٰہِ، عَنْ یونُسَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوسَلَمَۃَ، اَنَّ اَبَاہُرَیْرَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ رَاٰنِیْ فِی الْمَنَامِ فَسَیَرَانِیْ فِی الْیَقْظَۃِ وَلَا یَتَمَثَّلُ الشَّیْطَانُ بِیْ۔ (۴۰)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا فرماتے تھے’’جس نے خواب میں مجھے دیکھا، تو وہ عنقریب حالت بیداری میں مجھے دیکھ لے گا کیوں کہ شیطان میری تمثال میں نہیں آسکتا۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ اَسَدٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِبْنُ مُخْتَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ رَاٰنِیْ فِی الْمَنَامِ فَقَدْرَاٰنِیْ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ لَایَتَخَیَّلُ بِیْ وَرُؤْیَاالْمُؤْمِنِ جُزْئٌ مِّنْ سِتَّۃٍ وَّاَرْبَعِیْنَ جُزْئً مِنَ النُّبُوَّۃِ۔
ترجمہ: حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’ جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو اس نے درحقیقت مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میرا روپ نہیں دھار سکتا۔ اور مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ یُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ: قَالَ: حَدَّثَنِی ابْنُ الْہَادِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ خَبَّابٍ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍنِ الخُدْرِیِّ سَمِعَ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ مَنْ رَاٰنِیْ فَقَدْ رَاٰی الْحَقَّ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَتَکَوَّنُنِیْ۔ (۴۱)
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدریؓ راوی ہیں انھوں نے آپؐ کایہ ارشاد گرامی خود سنا کہ ’’جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے حقیقتاً مجھے ہی دیکھا کیوں کہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کرسکتا۔‘‘
(۴) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: نَارُوْحٌ، قَالَ: نازَکَرِیَّا بْنُ اِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوالزُّبَیْرِ اِنَّہٗ سَمِعَ جَابِرَابْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ رَاٰنِیْ فِیْ النَّوْمِ فَقَدْ رَاٰنِیْ فَاِنَّہٗ لَایَنْبَغِیْ لِلشَّیْطَانِ اَنْ یَّتَشَبَّہَ بِیْ۔ (۴۲)
ترجمہ:حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے حقیقت میں مجھے دیکھا اس لیے کہ شیطان کو یہ اختیارہی نہیں کہ مجھ سے مشابہ بن سکے۔
(۵) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: نَا لَیْثٌ ح قَالَ: وَثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، قَالَ: اَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنْ رَاٰنِیْ فِی النَّوْمِ فَقَدْ رَاٰنِیْ اِنَّہٗ لَا یَنْبَغِیْ لِلشَّیْطَانِ اَنْ یَّتَمَثَّلَ فِیْ صُوْرَتِیْ الحدیث۔ (۴۳)
ترجمہ:حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:’’جس نے نیند کی حالت میں مجھے دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا۔ شیطان سے یہ بات مناسبت نہیں رکھتی کہ وہ میری صورت بنا کر آئے۔‘‘

کیا کسی کو ہدایت دینا نبی ﷺ کے اختیار میں ہے؟

۳۸۔صحیحین کی روایت ہے کہ یہ آیت۱؎ نبی ﷺ کے چچا ابوطالب کے معاملے میں نازل ہوئی ہے۔ ان کا جب آخری وقت آیا تو حضورؐ نے اپنی حد تک انتہائی کوشش کی کہ وہ کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پر ایمان لے آئیں تاکہ ان کا خاتمہ بالخیر ہو، مگر انھوں نے ملّت عبدالمطلب ہی پر جان دینے کو ترجیح دی۔
تشریح : محدثین اور مفسرین کا یہ طریقہ معلوم و معروف ہے کہ ایک آیت عہد نبوی کے جس معاملہ پر چسپاں ہوتی ہے اسے وہ آیت کی شان نزول کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اس لیے اس روایت اور اسی مضمون کی ان دوسری روایات سے جو ترمذی اور مسند احمد وغیرہ میں حضرات ابوہریرہؓ، ابن عباسؓ ، ابن عمروغیرہم سے مروی ہیں، لازماً یہی نتیجہ نہیں نکلتا کہ سورۂ قصص کی یہ آیت ابوطالب کی وفات کے وقت نازل ہوئی تھی بلکہ ان سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے مضمون کی صداقت سب سے زیادہ اس موقع پر ظاہر ہوئی۔ اگر چہ حضورؐ کی دلی خواہش تو ہر بندۂ خدا کو راہ راست پر لانے کی تھی، لیکن سب سے بڑھ کراگر کسی شخص کا کفر پر خاتمہ حضورؐ کو شاق ہوسکتا تھا، اور ذاتی محبت و تعلق کی بنا پر سب سے زیادہ کسی شخص کی ہدایت کے آپؐ آرزو مند ہوسکتے تھے تو وہ ابو طالب تھے۔ لیکن جب ان کو بھی ہدایت دینے پر آپؐ قادر نہ ہوئے تو یہ بات بالکل ظاہر ہوگئی کہ کسی کو ہدایت بخشنا اور کسی کو اس سے محروم رکھنا نبی کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ معاملہ بالکل اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ کے ہاں یہ دولت کسی رشتہ داری و برادری کی بناپر نہیں بلکہ آدمی کی قبولیت و استعداد اور مخلصانہ صداقت پسندی کی بنا پر عطا ہوتی ہے۔
(تفہیم القرآن ج ۳، القصص، حاشیہ:۷۹)
تخریج: (۱) حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ قَالَ: اَخْبَرَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبِیْ عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا سَعِیْدُبْنُ الْمُسَیَّبِ عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہٗ اَخْبَرَہٗ اَنَّہٗ لَمَّا حَضَرَتْ اَبَا طَالِبِ نِالْوَفَاۃُ جَائَ ہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَوَجَدَعِنْدَہٗ اَبَاجَہْلِ بْنِ ہِشَامٍ وَعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ اَبِیْ اُمَیَّۃَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِاَبِیْ طَالِبٍ، اَیْ عَمِّ قُلْ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کَلِمَۃً اَشْہَدُ لَکَ بِہَا عِنْدَ اللّٰہِ فَقَالَ اَبُوْ جَہْلٍ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِیْ اُمَیَّۃَ: یَا اَبَاطَالِبٍ اَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّۃِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! فَلَمْ یَزَلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَعْرِضُہَا عَلَیْہِ وَیَعُوْدَانِ تِلْکَ الْمَقَالَۃَ حَتّٰی قَالَ اَبُوْ طَالِبٍ اٰخِرَمَا کَلَّمَہُمْ بِہٖ ہُوَعَلیٰ مِلَّۃِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَاَبیٰ اَنْ یََّقُوْلَ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَمَاوَاللّٰہِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ مَالَمْ اُنْہَ عَنْہُ (عنک) فَاَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْہِ مَاکَانَ لِلنَّبِیِّ الآیۃ۔ (۴۴)
ترجمہ :سعید ؓ اپنے باپ مسیب سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے انھیں بتایا کہ جب ابوطالب کی وفات کا آخری وقت قریب آیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے۔ ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی اُمیہ بن المغیرہ وہاں پہلے سے موجود تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے روئے سخن ابوطالب کی طرف کرکے فرمایا: چچا جان ! لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کے قائل ہوجائو۔ میں قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے دربار میں اس کے بدلے شہادت دوں گا (کہ انھوں نے کلمۂ توحید کا اقرار کرلیا تھا) ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بولے : ابوطالب ! کیا تم اس آخری وقت میں ملت عبد المطلب سے روگردانی کرتے ہو۔ رسول اللہ ﷺ اپنی پیشکش دہراتے رہے اور وہ دونوں اپنی بات کا اعادہ کرتے رہے۔ آخر کار ابو طالب نے آخری بات جو کہی وہ یہ تھی کہ وہ ملت عبدالمطلب پر جان دے رہا ہے اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ سے انکار کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بخدا! میں ان کے لیے استغفار کرتا رہوں گاتاوقتیکہ مجھے اس سے روک نہ دیا جائے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ اَلْآیۃ۔
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْ الْیَمَانِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ سَعِیْدُبْنَ الْمُسَیَّبِ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ اَبَاطَالِبٍ الْوَفَاۃُ جَائَ ہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: قُلْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کَلِمَۃٌ اُحَآجُّ بِہَا عِنْدَ اللّٰہِ۔ (۴۵)
ترجمہ: حضرت مسیب بیان کرتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آگیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ’’ اے چچاجان لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کا اقرار کرلو میں اللہ تعالیٰ کی جناب میں اسی کو آپ کے حق میں حجت بنائوں گا (اسے ہی بطور دلیل پیش کرکے بخشش کی درخواست کرو ں گا)۔
(۳) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَیْمُوْنٍٍ قَالَ: نا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: نَا یَزِیْدُبْنُ کَیْسَانَ، قَالَ: انا اَبُوْحَازِمٍ اَلْاَشْجَعِیُّ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِعَمِّہٖ قُلْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اَشْہَدُ لَکَ بِہَایَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ: لَوْلَا اَنْ یُعَیِّرَنِیْ قُرَیْشٌ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا حَمَلَہٗ عَلیٰ ذٰلِکَ الْجَزْعُ لَاَقْرَرْتُ بِہَا عَیْنَکَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالیٰ اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ۔ (۴۶)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سے فرمایا کہ ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘ کے قائل ہوجائو قیامت کے روز اس کی بنا پر میں تمہارے حق میں شہادت دوں گا۔ ابوطالب نے جواب دیا۔ اگر قریش مجھ پر طعنہ زنی نہ کریں اور یہ نہ کہیں کہ سردار نے ڈرکے مارے ایسا کیا ہے تو میں تیری آنکھیں اقرار توحید سے ٹھنڈی کردیتا۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ۔

کوہِ صفا سے دعوتِ توحید

۳۹۔ یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، یَا عَبَّاسُ، یَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ، یَا فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، اَنَقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ، فَاِنِّیْ لَا اَمْلِکُ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا سَلُوْنِیْ مِنْ مَّالِیْ مَاشِئْتُمْ۔
’’اے بنی عبدالمطلب ، اے عباس، اے صفیہ رسولؐ اللہ کی پھوپھی، اے فاطمہ محمدؐ کی بیٹی ، تم لوگ آگ کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کرلو، میں خدا کی پکڑ سے تم کو نہیں بچاسکتا۔البتہ میرے مال میں سے تم لوگ جو کچھ چاہو مانگ سکتے ہو۔‘‘
تشریح :آپؐ نے صبح سویرے صفا کے سب سے اونچے مقام پر کھڑے ہو کر فرمایا : یَا صَبَاحَاہُ۔’’ہائے صبح کا خطرہ‘‘ اے قریش کے لوگو، اے بنی کعب بن لُوئَ یّ اے بنی مُرّہ، اے آلِ قُصَی، اے بنی عبدِ مناف، اے بنی عبدِ شمس، اے بنی ہاشم، اے آلِ عبدالمطلب ۔ اسی طرح قریش کے ایک ایک قبیلے اور خاندان کا نام لے لے کر آپؐ نے آواز دی ـــــ عرب میں قاعدہ تھاکہ جب صبح تڑکے کسی اچانک حملے کا خطرہ ہوتا تو جس شخص کو بھی اس کا پتہ چل جاتا وہ اسی طرح پکارنا شروع کردیتا اور لوگ اس کی آواز سنتے ہی ہر طرف سے دوڑپڑتے ـــــ چنانچہ حضوؐر کی اس آواز پر سب لوگ گھروں سے نکل آئے اور جو خود نہ آسکا اس نے اپنی طرف سے کسی کو خبر لانے کے لیے بھیج دیا۔ جب سب لوگ جمع ہوگئے تو آپؐ نے فرمایا:’’لوگو! ’’اگر میں تمہیں بتائوں کہ اس پہاڑ کے دوسری طرف ایک بھاری لشکر ہے جو تم پر ٹوٹ پڑنا چاہتا ہے تو تم میری بات سچ مانوگے،سب نے کہا ہاں، ہمارے تجربے میں تم کبھی جھوٹ بولنے والے نہیں رہے ہو۔‘‘ آپؐ نے فرمایا:’’اچھا تو میں خدا کا سخت عذاب آنے سے پہلے تم کو خبردار کرتا ہوں۔ اپنی جانوں کو اس کی پکڑ سے بچانے کی فکر کرو۔ میں خدا کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتا۔ قیامت میں میرے رشتہ دار صرف متقی ہوں گے۔ ایسا نہ ہو کہ دوسرے لوگ نیک اعمال لے کر آئیں اور تم لوگ دنیا کا وبال سرپر اٹھائے ہوئے ہو۔ اس وقت تم پکاروگے یا محمدؐ ! مگر میں مجبور ہوں گا کہ تمہاری طرف سے منہ پھیرلوں۔ البتہ دنیا میں میرا اور تمہارا خون کا رشتہ ہے اور یہاں میں تمہارے ساتھ ہر طرح کی صلہ رحمی کروں گا۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۳، الشعراء ، حاشیہ: ۱۳۵)
تخریج: (۱) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ وَزُہَیْرُبْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ناجَرِیْرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ، عَنْ مُوْسَی بْنِ طَلْحَۃَ، عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَال: لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قُرَیْشًا فَاجْتَمَعُوْا فَعَمَّ وَخَصَّ فَقَالَ: یَا بَنِیْ کَعْبِ بْنِ لُؤْیٍّ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِِنَ النَّارِ یَا بَنِیْ عَبْدِ شَمْسٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ یَابَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ یَا بَنِیْ ہَاشِمٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ یَا فَاطِمَۃُ اَنْقِذِیْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ فَاِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا غَیْرَاَنَّ لَکُمْ رَحِمًاسَاَبُلُّہَا بِبِلَالِہَا۔(۴۷)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ جب آیت وَاَنْذِر عَشِیْرَتَک الْاَقْرَبِیْنَ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کو پکارا۔ آپؐ نے پہلے عام انداز میں ڈرایا پھر خاص اندازمیں خطاب فرمایا۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا: اے بنی کعب بن لُؤی جہنم کی آگسے اپنے آپ کو بچائو۔ اے بنی مرہ بن کعب جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو بچائو۔اے بنی عبدشمس جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو بچائو۔اے بنی عبد مناف اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائو اے بنی ہاشم اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائو۔ اے بنی عبدالمطلب اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائو۔اے فاطمہؓ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائو۔ میں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے تمہیںذرا بھی نہ بچاسکوں گا۔ البتہ دنیا میں قرابتداری کی وجہ سے تمہارے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرتا رہوں گا۔
(۲) عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلَی الصَّفَا فَقَالَ :یَا فَا طِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، یَا صَفِیَّۃُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا اَمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا سَلُوْنِیْ مِنْ مَّالِیْ مَا شِئْتُمْ۔ (۴۸)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ جب آیۂ کریمہ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ نازل ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ نے کوہِ صفا پر کھڑے ہو کر فرمایا: ’’اے فاطمہؓ بنت محمدﷺ ، اے صفیہ بنت عبدالمطلب، اے بنی عبدالمطلب میں (قیامت کے روز) اللہ تعالیٰ کی گرفت سے تمہیں ذرا بھی نہ بچا سکوں گا۔ البتہ میرے دنیاوی مال و متاع میں سے جو چاہو مانگ لو۔
(۳) قَبِیْصَۃُ بْنُ المُخَارِقِ وَزُہِیْرُ بْنُ عَمْرٍ وقَالَا: لَمَّا نَزلَتْ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ قَالَ: اِنْطَلَقَ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی رَضْمَۃٍ مِنْ جَبَلٍ فَعَلَا اَعْلَاہَا حَجْرًا ثُمَّ نَادیٰ یَا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ اِنِّیْ نَذِیْرٌ اِنَّمَا مَثَلِیْ وَمَثَلُکُمْ کَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَی الْعَدُوَّ فَانْطَلَقَ یَرْبَأُ اَہْلَہٗ فَخَشِیَ اَنْ یَسْبِقُوْہُ فَجَعَلَ یَہْتِفُ یَا صَباحَاہَ۔(۴۹)
ترجمہ: حضرت قبیصہ بن مخارق اور زہیر بن عمرو سے روایت ہے دونوں بیان کرتے ہیں کہ جب وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَکا نزول ہوا تو نبی ﷺ پہاڑ کی ایک چٹان کے پاس تشریف لے گئے اور سب سے اونچے پتھر پر کھڑے ہو کر فرمایا: ’’اے عبدِ مناف کی اولاد! میں تم کو متنبہ کرنے والا ہوں۔ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جو دشمن کو دیکھ کر اپنے اہل و عیال کو بچانے کے لیے چل پڑے اور اس اندیشہ کے پیش نظر کہ مبادا دشمن پہلے پہنچ جائے وہ یَاصَبَاحَاہُ ’’ہائے صبح کی مصیبت‘‘ کی صدا زور زور سے لگانے لگے۔
(۴) حَدَّثَنِیْ حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰ، قَالَ: اَنَا ابْنُ وَہْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِی ابْنُ الْمُسَیَّبِ وَاَبُوْ سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، اَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ اُنْزِلَ عَلَیْہِ: وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ’’ یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ اِشْتَرُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ لَا اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا۔یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا ۔ یَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا۔ یَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا یَا فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ سَلِیْنِیْ مَا شِئْتِ لآ اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا۔‘‘ (۵۰)
ترجمہ :حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جب آیت وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ نازل ہوئی تو آپؐ نے فرمایا:’’ اے معشرقریش! اللہ تعالیٰ کی سزا سے بچائو کے لیے نیک اعمال کے بدلے اپنی جانوں کو خرید لو۔ میں عذاب الٰہی سے بچانے میں تمہارے کسی کام نہیں آسکوں گا۔ اے اولاد عبدالمطلب میں تمہارے بھی کسی کام نہیں آسکوں گا۔ اے عباس بن عبدالمطلب عذاب الٰہی سے بچانے کے لیے میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتا۔ اے صفیہ رسول خدا کی پھوپھی جان! میں اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے تمہارے کسی کام نہیں آسکوں گا۔اے فاطمہؓ لختِ جگر محمدؐ! مانگ لو مجھ سے جو جی چاہے۔ میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے تمہیں بچانے کے لیے کسی کام نہیں آسکوں گا۔
(۵)حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، قَالَ: اَخْبَرَنا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ سَعِیْدُبْنُ الْمُسَیَّبِ وَاَبُوْسَلَمَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، اَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ قَالَ: یَا مَعْشَرَقُرَیْشٍ اَوْ کَلِمَۃً نَحْوَہَا اِشْتَرُوْا اَنْفُسَکُمْ لَا اُغنِیْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا یَا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ لَااُغْنِیْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیئًا یَاعَبَّاس بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا اُغْنِیْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًاوَیَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لَآ اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا وَیَا فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ ﷺ سَلِیْنِیْ مَا شِئْتِ مِنْ مَّالِیْ لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا۔ (۵۱)
تابعہ اصیغ عَنِ بْن وہب عن یونس عن ابن عباس۔
(۶) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الاقْرَبِیْنَ جَمَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قُرَیْشًا فَخَصَّ وَعَمَّ فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ فَاِنِّیْ لَا اَمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا یا مَعْشَرَ بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ فَاِنِّیْ لَا اَمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا یَا مَعْشَرَ بَنِیْ قُصَیٍّ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ فَاِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا یا مَعْشَرَ بَنِیْ عَبْدِ المُطَّلِبِ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ فَاِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّاوَّ لَا نَفْعًا یَا فَاطِمَۃُ بِنْتِ مُحَمَّدٍ اَنْقِذِیْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ فَاِنّی لَآ اَمْلِکُ لَکِ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِنَّ لَکِ رَحِمًا وَسَاَبُلُّہَا ؎ ۱ بِبِلَالِہَا۔(۵۲)
ہذاحدیث حسن غریب من ہذا الوجہ۔
(۷) حَدَّثَنَا اَبُوالْاَشْعَثِ اَحْمَدُبْنُ الْمِقْدَامِ الْعَجَلِیُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الطَّنَاوِیُّ نَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْاٰیَۃُ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَا صَفِیَّۃُ بِنْتُ عَبْد الْمُطَّلِبِ، یَا فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا سَلُوْنِیْ مِنْ مَّالِیْ مَاشِئْتُمْ۔ (۵۳)
ہذا حدیث حسن صحیح وہکذا روی وکیع وغیروا حد ہذا الحدیث عن ہشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشۃ نحو حدیث محمد بن عبدالرحمٰن الطناوی وروی بعضہم عن ہشام بن عروۃ عن ابیہ عن النبی ﷺ مرسلاً ولم یذکرفیہ عن عائشۃ وفی الباب عن علی وابن عباس۔
(۸) حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ مُحَمَّدُبْنُ الْعَلَائِ، قَالَ: نَا اَبُوْ اُسَامَۃَ، عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ عَمْرِوبْنِ مُرَّۃَ، عَنْ سَعِیْدِبْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْاٰیَۃُ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ وَرَہْطَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی صَعِدَ الصَّفَا فَہَتَفَ یَا صَبَاحَاہ! فَقَالُوْا: مَنْ ہٰذَا الَّذِیْ یَہْتِفُ؟ قَالُوْا: مُحَمَّدٌ، فَاجْتَمَعُوْا اِلَیْہِ فَقَالَ: یَا بَنِیْ فُلَانٍ، یَا بَنِیْ فُلَانٍ، یَا بَنِیْ فُلَانٍ یَا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ، یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَا جْتَمَعُوْا فَقَالَ: اَرَأَیْتَکُمْ لَوْاَخْبَرْتُکُمْ اَنَّ خَیْلًا تَخْرُجُ بِسَفْحِ ہٰذَا الْجَبَلِ اَکُنْتُمْ مُصَدِّقِیّ؟ قَالُوْا:مَاجَرَّبْنَا عَلَیْکَ کَذِبًا قَالَ ﷺ: فَاِنِّیْ نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ قَالَ: فَقَالَ اَبو لَہَبٍ تَبًّا لَکَ اَمَّا جَمَعْتَنَا اِلَّا لِہٰذَا ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ السُّوْرَۃُ تَبَّتْ یَدَآاَبِیْ لَہَبٍ وَّتَبَّ کذا قرأ الاعمش الٰی اخرالسورۃ۔ (۵۴)
ترجمہ:حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ جب آیت وَاَنْذِر عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ وَرَہْطَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَ نازل ہوئی ’’اپنے قریبی رشتہ داروں اور اپنے قبیلے کے مخلص لوگوں کو متنبہ کردو‘‘ تو رسول اللہ ﷺ باہر نکلے اور کوہِ صفا پر چڑھ کر یَاصَبَاحَاہُ ’’ہائے صبح کی مصیبت‘‘کی صدا سے لوگوں کو بلایا: لوگ یہ آواز سن کر پوچھنے لگے کہ یہ کون ہے جو پکار رہا ہے؟ لوگوں نے کہا محمدؐ ہیں۔ آپؐ کی آواز سن کر سب لوگ آپؐ کے پاس جمع ہوگئے۔ آپؐ نے ہر ایک قبیلے کو مخاطب کرکے فرمایا اے بنی فلاں، اے بنی فلاں، اے بنی عبد مناف، اے بنی عبدالمطلب۔ جب وہ سب اکٹھے ہوگئے تو آپؐ نے فرمایا: ’’ کیا سمجھتے ہو اگر میں تمہیں خبردوں کہ اس پہاڑ کے نیچے سے سواروں کا ایک دستہ نکل رہا ہے کیا تم میری اس بارے میں تصدیق کروگے؟‘‘ وہ بیک زبان بولے ہم نے تمہاری کوئی بات جھوٹی نہیں پائی۔ تو آپؐ نے فرمایا: ’’میں تمہیں سخت عذاب سے خبردار کرتا ہوں۔‘‘ اس پر ابولہب بولا۔ تیرا ستیاناس جائے کیا تو نے ہم سب کو اسی لیے جمع کیا تھا۔
(۹) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُبْنُ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ ابْنِ اَبِیْ حُبَیْبَۃَ عَنْ دَاؤدَ بْنِ الْحَُصَیْنِ، عَنْ عِکْرَمَۃ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا اُنْزِلَتْ وَاَنْذِرعَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ صَعِدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلَی الصَّفَا، فَقَالَ: یَا مَعْشَرَقُرَیْشٍ! فَقَالَتْ قُرَیْشٌ: مُحَمَّدٌ عَلَی الصَّفَا یَہْتِفُ فَاَقْبَلُوْا وَاجْتَمَعُوْا فَقَالُوْا: مَالَکَ یَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ: اَرَأَیْتَکُمْ لَوْاَخْبَرْتُکُمْ اَنَّ خَیْلًا بِسَفْحِ ہٰذَا الْجَبَلِ اَکُنْتُمْ تُصَدِّقُوْنَنِیْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، اَنْتَ عِنْدَنَا غَیْرُ مُتَّہَمٍ، وَمَا جَرَّبْنَا عَلَیْکَ کَذِبًا قَطُّ، قَالَ: فَاِنِّیْ نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ۔ یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ۔ یَا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ، یا بنی زُہْرَۃَ، حَتّٰی عَدَّدَالْاَفْخَاذَ مِنْ قُرَیْشٍ اِنَّ اللّٰہَ اَمَرَنِیْ اَنْ اُنْذِرَ عَشِیْرَتِی الْاَقْرَبِیْنَ وَاِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ الدُّنْیَا مَنْفَعَۃً وَلَا مِنَ الْآخِرَۃِ نَصِیْبًا اِلَّا اَنْ تَقُوْلُوْا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، قَالَ: یَقُوْلُ اَبُوْلَہْبٍ تَبًّا لَّکَ سَائِرَالْیَوْمِ اَلِہٰذا جَمَعْتَنَا؟ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَہَبٍ وَّتَبَّ السورۃ کلہا۔ (۵۵)
(۱۰) حَدَّثَنَا عُمَرُبْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبِیْ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَمْرُوبْنُ مُرَّۃَ عَن سَعِیْدِبْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ صَعِدَ النَّبِیُّ ﷺ عَلَی الصَّفَا فَجَعَلَ یُنَادِیْ یَا بَنِیْ فِہْرٍ، یَا بَنِیْ عَدِیٍّ لِبُطُوْنِ قُرَیْشٍ حَتّٰی اجْتَمَعُوْا فَجَعَلَ الرَّجُلُ اِذَا لَمْ یَسْتَطِعْ اَنْ یَّخْرُجَ اَرْسَلَ رَسُوْلًا لِیَنْظُرَ مَا ہُوَ؟ فَجَآئَ اَبُوْ طَالِبٍ وَقُرَیْشٌ فَقَالَ: اَرَأَیْتَکُمْ لَوْاَخْبَرْتُکُمْ اَنَّ خَیْلًا بِالْوَادِیْ تُرِیْدُ اَنْ تُغِیْرَ عَلَیْکُمْ اَکُنْتُمْ مُصَدِّقِیَّ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، مَا جَرَّبْنَا عَلَیْکَ اِلَّا صِدْقًا، قَالَ: فَاِنِّیْ نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ فَقَالَ اَبُوْلَہَبٍ:تَبًّا لَّکَ سَائِرَالْیَوْمِ اَلِہٰذَا جَمَعْتَنَا؟ فَنَزَلَتْ تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَہَبٍ وَّ تَبَّ مَآ اَغْنٰی عَنْہُ مَا لُہٗ وَمَا کَسَبَ۔ (۵۶)
ترجمہ:حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ آیت وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ جب نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے کوہِ صفا پر چڑھ کر بآواز بلند قریشی قبائل کو پکارنا شروع کیا۔ اے بنی فہر، اے بنی عدی وغیرہ حتیّٰ کہ وہ جمع ہوگئے۔ جو آدمی خود نہ جاسکتا تھا اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا تاکہ صورتِ حال کا جائزہ لے اور ابوطالب، قبیلہ قریش کے اور لوگ بھی وہاں پہنچ گئے۔ آپؐ نے دریافت فرمایا: کہ ’’بتائو کہ اگر تمہیں میں اس بات کی خبر دوں کہ اس وادی میں لشکر جرّار تم پر ٹوٹ پڑنے کے لیے بالکل تیار کھڑا ہے تو کیا تم میری بات کو سچ تسلیم کروگے؟ وہ سب بولے ہاں۔ ہم نے آپ کو اپنے تجربے میں ہمیشہ سچا اور راست گو ہی پایا۔ آپؐ نے فرمایا:’’ میں عذابِ شدید کی آمد سے پہلے تمہارے لیے ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘ اس پر ابولہب بولا۔ تیرا ستیاناس جائے آج، تونے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا؟ اس موقع پر تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَہَبٍ وَّتَبَّ مَا اَغْنیٰ عَنْہُ مَا لُہٗ وَمَا کَسَبَ نازل ہوئی۔
(۱۱)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِیْ زِیَادٍ، نَا اَبُوْزَیْدٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ قَسَامَۃَ بْنِ زُہَیْرٍ، قَالَ: ثَنِی الْاَشْعَرِیُّ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ وَضَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِصْبَعَیْہِ فِیْ اُذُنَیْہِ فَرَفَعَ صَوْتَہٗ فَقَالَ: یَا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ یَا صَبَاحَاہ! (۵۷)
ہذا حدیث غریب من ہذا الوجہ وقد رواہ بعضہم عن عوف عن قسامۃ ابن زہیر عن النبی ﷺ مرسلاً وہوا صح ولم یذکرفیہ عن ابی موسیٰ۔
ترجمہ:اشعری سے منقول ہے کہ جب آیت وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال کر بلند آواز سے پکارا اے بنی عبدمناف ہائے صبح کا اندیشہ و خطرہ۔
(۱۲) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: ثنا اَبِیْ، ثَنا الْاَعْمَشُ، قَالَ: ثنی عَمْرُوبْنُ مُرَّۃَ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ جَعَلَ النَّبِیُّ ﷺ یُنَادِیْ یَا بَنِی فِہْرٍ، یا بَنِیْ عَدِیٍّ بِبُطُوْنِ قُرَیْشٍ وَقَالَ لَنَا قَبِیْصَۃُ: ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ اَبِیْ ثَابِتٍ عَنْ سَعِیْدِبْنِ جُبَیْرٍ۔
(۱۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَ اَنْذِرْعَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ جَعَلَ النَّبِیُّ ﷺ یَدْعُوْہُمْ قَبَآئِلَ قَبَآئِلَ۔ (۵۸)
ترجمہ :ابن عباسؓ سے منقول ہے وہ کہتے ہیں جب آیت وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ نازل ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ نے قبائل قریش کو نام بنام پکارا۔
(۱۴) حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، انا شُعَیْبٌ، ثنا اَبُوْ الزّنَادِ عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: یَابَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ اشتَرُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ، یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اِشْتَرُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ، یَا اُمَّ الزُّبَیْرِبْنِ الْعَوَّامِ عَمَّۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ، یَا فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، اِشْتَرِیَا اَنْفُسَکُم مِنَ اللّٰہِ لَآاَمْلِکُ لَکُمَا مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا سَلَانِیْ مِنْ مَّالِیْ مَا شِئْتُمَا۔ (۵۹)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا اور اے بنی عبد مناف اپنے نفسوں کو بیچ لو۔ اے بنی عبدالمطلب اپنے نفسوں کو بیچ لو( اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے) اے اُمِّ زبیر بن عوام رسولؐ خدا کی پھوپھی! اے فاطمہ بنت محمدؐ! اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی گرفت سے اپنے نفسوں کو بچانے کی فکر کرو۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے میں تمہارے ذرّہ برابر کام نہیں آسکوں گا۔ میرے دنیوی مال میں سے جس چیز کا چاہو مطالبہ کرلو۔
(۱۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشِیْرٍ ثنا مِسْعَرٌ ثناعَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَیْرٍ عَنْ مُوسیٰ بْنِ طَلْحَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرْعَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ جَعَلَ یَدْعُوْبُطُوْنَ قُرَیْشٍ بَطْنًا بَطْنًا یَابَنِیْ فُلَانٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِحَتّٰی انْتَہیٰ اِلیٰ فَاطِمَۃَ فَقَالَ: یَا فَاطِمَۃُ ابْنَۃُ مُحَمَّدٍ اَنْقِذِیْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا غَیْرَ اَنَّ لَکُمْ رَحِمًا سَاَبُلُّہَا بِبِلَالِہَا۔ (۶۰)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے منقول ہے کہ جب آیت وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کے چھوٹے بڑے ہر قبیلے کو نام بنام پکارا کہ اے بنی فلاں اپنی جانوں کو آگ سے بچائو۔ آخر کار حضرت فاطمہؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا: ’’اے فاطمہؓ بنت محمدؐ! اپنی جان کو آگ سے بچا۔میں اللہ کے عذاب سے یا اس کی گرفت سے تمہارے کسی کام نہیں آسکوںگا بجز اس کے کہ میرا تمہارے ساتھ خونی رشتہ ہے۔ یہاںمیں تمہارے ساتھ ہر طرح کی صلہ رحمی کروں گا۔‘‘

ماٰخذ

(۱) بخاری ج ۱،کتاب الایمان باب حُب الرَّسول ﷺ من الإِیمان ٭مسلم ج ۱، کتاب الایمان باب وجوب محبۃ رسول اللّٰہ ﷺ٭دارمی کتاب الرقاق باب لایؤمن احدکم حتی یحب لاخیہ مایحب لنفسہ٭مسند احمد ج۳،ص۲۰۷،۲۵۱،۲۷۲،۲۷۵،۲۸۹مرویات انس بن مالک٭کنزالعُمَّال ج۱ص۳۷۔ کنزالعمال اور مسلم کی روایت میں وَالِدِہٖ وَ وَلَدِہٖ کے بجائے وَلَدِہٖ وَوَالِدِہٖ ہے۔
(۲) مسلم، ج۱، کتاب الایمان باب وجوب محبۃ رسول اللّٰہ ﷺ٭ نسائی کتاب الایمان وَشَرائعہٖ ج۷؍۸ باب علامۃ الایمان٭ابن ماجہ المقدمۃ باب فی الایمان ح۶۷٭مسند ابی عوانہ ج۱ص۳۳۔
(۳) کنزالعمال، ج۱ص۳۸۔
(۴) کنزالعمال، ج۱ص۴۱۔
(۵) کنزالعمال، ج۱ص۴۱۔
(۶) مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ فصل دوم بحوالہ شرح السنۃ ٭شرح اربعین نوویٰ، عن ابی محمد عبداللّٰہ بن عمرو بن العاص قال النووی ہٰذا حدیث صحیح ٭ابن کثیر ج ۱ص۵۲۰ زیر تفسیر اٰیت۔ثُمَّ لاَیَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔ ابنِ کثیر نے وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لاَیُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ نقل کیاہے۔
(۷) کنزالعمال،ج۱،ص۲۱۷بہ حوالہ الحکیم وابونصر السجزی فی الابانۃ وقال حسن غریب والخطیب عن ابن عمرو۔
(۸) مسلم، ج۱، کتاب الایمان باب الدّلیل علی ان من رضی باللّٰہ ربًّا وبِالْاِسلامِ دینا وبِمحمد نبیّا ﷺ رسولا فہو مومن وان ارتکب المعاصی الکبائر٭ترمذی ابواب الایمان ج ۲ص۹۱٭ مسند احمد ج ۱ص۲۰۸ ٭کنزالعمال ج ۱ص۲۵۔ مسلم کتاب الایمان، ترمذی ابواب الایمان میں اور مسند احمد ج ۱ص۱۸،۲۰، میں ثلاث من کن فیہ وجد طعم الایمان کے الفاظ بھی آئے ہیں۔علاوہ ازیں ابوداؤد نے کتاب الزکاۃ میں، ترمذی نے ابواب العلم میں، نسائی نے کتاب الایمان میں، ابن ماجہ نے کتاب الفتن میں اور امام احمد نے مسند کی ج ۲ص۲۹۸، پراور۵۲۰ پربھی انہی الفاظ میں نقل کیا ہے۔
(۹) بخاری، ج ۲، کتاب الاحکام، باب قول اللّٰہ اطیعوا اللّٰہ واطیعوا الرسول واولی الامرمنکم اور بخاری، ج۱، کتاب الجہاد باب یقاتل من وراء الامام ویتقی بہ اور کتاب الاعتصام باب الاقتداء بسنن رسول اللّٰہ ﷺ میں یہ الفاظ ہیں: فَمَنْ اَطَاعَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَمَنْ عَصیٰ مُحَمَّدًا ﷺَ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ مسلم ج۲ کتاب الامارۃ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ وتحریمھا فی المعصیۃ۔٭نسائی کتاب البیعۃ۔ الترغیب فی طاعۃ اللّٰہ ٭ابن ماجہ المقدمۃ۔ باب اتباع سنۃ رسول اللّٰہ ﷺ اور کتاب الجہاد باب فی طاعۃ الامام ٭ کنزالعمال ج ۶ص۵۲٭ابن کثیر ج۱، عن ابی ہریرۃ بحوالہ ابن ابی حاتم ٭ابوداؤد الطیالسی مرویات ابی ہریرۃ (ابوعلقمۃ عن ابی ہریرۃ) ٭مسند احمد ج ۲ص۲۴۴،۲۵۳،۲۷۰، ۳۱۳،۳۴۲،۳۸۶،۴۱۶، ۴۶۷، ۴۷۱، ۵۱۱ ٭ ریاض الصالحین ، باب فی وجوب طاعۃ ولاۃ امورفی غیر معصیۃ الخ۔
(۱۰) بخاری ج۲، کتاب الرقاق، باب الانہاء عن المعاصی٭مسلم ج۲، کتاب الفضائل باب شفقتہ ﷺ علیٰ امتہٖ ومبالغتہ فی تحذیر ہم ما یضرہم٭مسند احمد، ج۲ص۳۱۲ تا۵۴۰، عن ابی ہریرۃ۔
(۱۱) مسلم ج ۲، کتاب الفضائل باب شفقتہ ﷺ ٭ ریاض الصالحین ص۵۹، عن جابر ٭ترمذی ابواب الامثال باب ماجاء مثل ابن اٰدم واجلہ واملہ٭مسند احمد ج ۳ص۱۶۱،۳۹۲، عن جابر ٭مجمع الزوائد ج ۸ص۲۶۲۔
(۱۲) مسلم ج۱،کتاب الایمان باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا محمد ﷺ٭مسند احمد ج ۲ص۳۵۰، عن ابی ہریرۃ ٭مسند احمد کی ایک روایت میں ولایہودی ولا نصرانی ہے یعنی دونوں جگہ ولا ہے ٭مسند احمد ج ۲،ص۲۵۰،۳۱۷ عن ابی ہریرۃ، ج۴ص۷۰ج۵ص۳۸۲ج۶ص۳۸۲ پر ولایومن باللّٰہ من لایومن بی بھی ہے۔ کنزالعمال ج ۱ص۲۶۸٭مجمع الزوائد ج ۸ص۲۶۲۔
(۱۳) تفسیر ابن کثیر ج ۲ص۴۴۰٭مجمع الزوائد ج ۸ص۲۶۱۔
(۱۴) مُسند احمد ج ۴ص۳۹۶،۳۹۸ ٭کنزالعُمَّال ج ۱ص۲۶۸، بحوالہ ٭ابن جریر اور طبرانی۔
(۱۵) دارمی،ج۱، باب ۳۹ مایتقی من تفسیر حدیث النبی اور مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ٭ابن حبّان نے باسناد صحیح روایت کیاہے۔ بحوالہ دارمی ج ۱ص۹۵، حاشیہ حدیث ۴۴۱٭کنزالعُمَّال جلد ۱ص۲۰۱۔
(۱۶) مسند احمدج ۴ص۲۶۶، مرویات عبداللّٰہ بن ثابت٭مجمع الزوائدج۱ص۱۷۳٭کنزالعمال ج۱ص۲۰۱، بحوالہ ابن سعد ، الحاکم فی الکنیٰ طبرانی، بیہقی فی شعب الایمان عن عبداللّٰہ ابن ثابت۔
(۱۷) مسند احمد بن حنبل ج ۳ص۳۳۸، مرویات جابر بن عبداللّٰہ۔
(۱۸) مسند احمد ج۳ص۳۸۷، مرویات جابر بن عبداللّٰہ ٭کنزالعمَّال ج۱ص۲۰۰٭ مجمع الزوائد ہیشمی ج۱ص۱۷۳اورج ۸ص۲۶۲۔
(۱۹) مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ بحوالہ بیہقی فی شعب الایمان ٭ابن حبّان بحوالہ کنزالعُمَّال ج۱ ص۲۰۱٭مجمع الزوائد۔ج۱ص۱۷۴۔
(۲۰) بخاری، ج ۱، کتاب العلم: باب تعلیم الرجل اَمَتَہ واہلہ ٭مسند احمد ج ۴، مرویات ابی موسیٰ اشعری۔
(۲۱) مسلم، ج ۱، کتاب الایمان باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا محمد ﷺ الی جمیع الناس ونسخ الملۃ بملتہ٭دارمی کتاب النکاح باب فضل من اعتق امۃ ثم تزوجہا٭مسند احمد ج ۴ص۴۰۲ تا۴۰۵٭ ابن جریر ج ۱۱ ص۱۴۱۔
(۲۲) ابن جریر جز ۲۴؍۲۷، جلد۱۱ص۱۴۰۔
(۲۳) دارمی کتاب السیر باب ان الغنیمۃ لا تحل لا حد قبلنا ٭مجمع الزوائد ج ۸ ص۲۵۸عن ابی موسیٰ۔
(۲۴) مسند احمد ج ۱ص۲۵۰۔ ان ہی سے مروی ایک روایت میں بُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ کَافَّۃً الْاحْمَرِ والْاَسْوَدِ الخ کے الفاظ بھی منقول ہیں۔ مسند احمد ج ۱ص۳۰۱۔
(۲۵) بخاری،ج۱،کتاب الصلاۃ باب قول النبی ﷺ جعلت لِی الارض مسجدًا وَطہورا ٭مسلم ج ۱، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ ٭دارمی کتاب الصلوٰۃ باب الارض کلہا طاہرۃ ماخلا المقبرۃ والحمام ٭مسند احمد ج۳ص۳۰۴، عن جابر ٭مجمع الزوائد ج ۶ص۶۵ عن ابی سعید مختصر ٭السنن الکبریٰ للبیہقی ج ۹ص۴۔
(۲۶) تفسیر ابن کثیر ج ۳،سورہ فرقان٭ نسائی، ج ۱ کتاب الطہارۃ باب التیمم بالصعید۔
(۲۷) مسلم ج ۱ کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ ٭ترمذی ابواب السیر۔ باب ماجاء فی الغنیمۃ۔ ہذا ہدیث حسن۔
(۲۸) مسند احمد ج ۲ص۲۲۲، روایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہٖ۔
(۲۹) ترمذی ابواب التفسیرج۴، باب سورۃ الرحمٰن٭فتح القدیر للشوکانی، ج ۵ص۱۳۰، بحوالہ ابن المنذر، ابوالشیخ فی العظمۃ ابن مردویہ۔ بَیْہَقِی فی الدلائل۔
(۳۰) المستدرک للحاکم ج ۲، کتاب التفسیر سورۃ الرحمٰن۔
(۳۱) تفسیر ابن جریر،پ۲۷، سورۃ الرحمٰن ص۷۲۔رواہ الحافظ البزار عن عمرو بن مالک بہ ثم قال لا نعلمہ یروی عن النبی ﷺ الامن ہذہ الوجہ بہذالاِسناد ٭تفسیر ابن کثیر ج ۴، سورۃ الرحمٰن۔
(۳۲) مسلم ج ۱،کتاب الصلاۃ باب الجہر بالقرأۃ فی الصبح والقرأۃ علی الجن٭ترمذی ابواب تفسیر القرآن سورۃ الاحقاف ہذا حدیث حسن ٭ابوداؤد الطیالسی ج ۱ص۳۷، مرویات ابن مسعود٭فتح القدیر للشوکانی ج۵ص۲۸بہ حوالہ عبد بن حمید٭مسند احمد ج ۱ص۳۹۸،۴۰۲،۴۴۹،۴۵۵،۴۵۷،۴۵۸ان صفحات پر یہ حدیث بہت مختصر ہے۔
(۳۳) تفسیر ابن جریر ج ۲۴؍۲۷ سورۃ الاحقاف ٭مسند احمد ج ۱ص۴۵۹، مرویات عبداللّٰہ بن مسعود۔
(۳۴) تفسیر ابن جریر ج ۲۴؍۲۷سورۃ الاحقاف۔
(۳۵) مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب امتثال ماقال شرعا دون ماذکرہ ﷺ من معایش الدنیا علی سبیل الرأی۔
(۳۶) مسلم ج ۲، کتاب الفضائل باب امتثال ماقال شرعاً دون ماذکرہٗ ﷺ معایش الدنیا ۔
(۳۷) مسلم ج ۲، کتاب الفضائل باب امتثال ماقال شرعاً الخ۔
(۳۸) تفسیر ابن کثیر ج ۲، سورۃ الانفال ۔
(۳۹) بخاری ج ۲، کتاب الطلاق باب شفاعۃ النبی ﷺ فی زوج بریرۃ٭نسائی کتاب اٰداب القاضی باب شفاعۃ الحاکم للخصوم قبل فصل الحکم جز۸ص۲۴۵٭دارقطنی کتاب الزکوٰۃ باب فی اوامرالنبی ﷺ ج ۲ص۱۵۴۔
(۴۰) بخاری ج ۲، کتاب التعبیر باب من رأی النبی ﷺ فی المنام۔
(۴۱) بخاری ج۲، کتاب التعبیر باب من راٰی النبی ﷺ فی المنام ٭مسلم کتاب الرؤیا۔
(۴۲) مسلم، ج ۲، کتاب الرؤیا ٭مسند احمد بن حنبل ج۳ص۳۵۰، مرویات جابر۔
(۴۳) مسلم، ج ۲، کتاب الرُؤیا۔
(۴۴) بخاری کتاب الجنائز ج۱، باب اذا قال المشرک عند الموت لا اٰلہ اِلَّا اللّٰہ ٭ج ۲کتاب مناقب الانصار اور تفسیر سورہ توبہ،٭مسلم،ج۱، کتاب الایمان باب الدلیل علی صحۃ اسلام من حضرہ الموت مالم یشرع فی النزع الخ۔ مسلم نے ماکان للنبی والذین اٰمنوا ان یستغفروا المشرکین مکمل آیت نقل کرکے آخر میں۔ وَاَنْزَلَ اللّٰہ تعالٰی فی ابی طالب فقال لرسول اللّٰہ ﷺ اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ وَہُوَاَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ نقل کیا ہے ٭نسائی کتاب الجنائز النہی عن الاستغفار للمشرکین ٭امام احمد اور نسائی نے اشہد لک بہا کی جگہ احاجّ لک بہا عند اللّٰہ عزّوجل روایت کیا ہے ٭مسند احمد ج ۵ص۴۳۳ مرویات المسیب بن حزن ٭ ابن کثیر ج۳ص۳۹۴،۳۹۵۔
(۴۵) بخاری ج ۱ کتاب الایمان والنذورباب اذقال واللّٰہ لا اتکلم الیوم۔
(۴۶) مسلم ج۱، کتاب الایمان باب الدلیل علی صحۃ اسلام من حضرہ الموت مَالَم یشرع فی النزع وہو الغرغرۃ الخ٭ترمذی ابواب التفسیر سورۃ القصص٭ابن کثیر ج ۳القصص آیت ۵۶٭مسند احمد بن حنبل ج ۲ص۴۳۴، مرویات ابی ہریرۃ ٭فتح القدیر للشوکانی ج ۴، القصص اٰیت ۵۶ ٭مسند ابی عوانۃ ، ج ۱۔
(۴۷) مسلم، ج ۱، کتاب الایمان باب بیان من مات علی الکفر فھو فی النّار ولا تنالہ شفاعۃ ولا تنفعہ قرابۃ المقربین ٭مسند ابی عوانہ، ج ۱ص۹۳۔
(۴۸) مسلم کتاب الایمان باب بیان من مات علی الکفر فھو فی النار ولاتنالہ الشفاعۃ ولا تنفعہ قرابۃ المقربین ٭مسند ابی عوانۃ، ج۱۔
(۴۹) مسلم کتاب الایمان باب بیان أنہ من مات علی الکفر فھو فی النار ولاتنالہ الشفاعۃ ولا تنفعہ قرابۃ المقربین ٭مسند ابی عوانۃ ، ج۱ص۹۳۔
(۵۰) مسلم ج ۱،کتاب الایمان باب فی قولہ تعالی: وأنذر عشیرتک الأقربین ٭مسند ابی عوانۃ ۔
(۵۱) بخاری، ج ۲، کتاب التفسیر باب قولہ وانذر عشیر تک الاقربین۔ سورۃ الشعراء ٭مسند ابی عوانۃ، ج۱ص۔۹۵ ٭بخاری، ج۱، کتاب الوصایا، باب ہل یدخل النساء والولد فی الاقارب٭نسائی کتاب الوصایا باب اذا اوصی لعشیرتہ الاقربین۔
(۵۲) ترمذی ابواب تفسیر القراٰن ۔ الشعراء٭نسائی کتاب الوصایا باب اذا اوصی لعشیرتہ الاقربین ٭مسند ابی عوانۃ، ج۱ص۹۴٭مسند احمد ج ۲ص۳۶۰، مرویات ابی ہریرۃ۔
(۵۳) ترمذی ابواب تفسیر الْقرآن، الشعرا٭نسائی کتاب الوصایا باب اذا اوصیٰ لعشیرتہ الاقربین ٭مسند ابی عوانۃ، ج۱ ص۹۵۔
(۵۴) مسلم ج ۱، کتاب الایمان باب فی قولہ تعالیٰ : وأنذر عشیرتک الأقربین ٭مسند ابی عوانۃ ج۱ص۹۲٭سیرت ابن ہشام، ج ۱ص۳۵۱، حاشیہ:۲۔
(۵۵) طبقات لابن سعد ، ج۱، ذکردعاء رسول اللّٰہ ﷺ الناس اِلی الاسلام٭مسند ابی عوانہ ، ج۱ص۹۲۔
(۵۶) بخاری ، ج۲، کتاب التفسیر باب قولہ وَاَنْذِرْعَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ اَلِنْ جناحَکَ ۔
(۵۷) ترمذی ابواب تفسیر القراٰن، الشعراء۔
(۵۸) بخاری، ج ۱، کتاب المناقب باب من انتسب الیٰ اٰبَائہٖ فی الاسلام والجاہلیۃ۔
(۵۹) بخاری ، ج۱، کتاب المناقب باب من انتسب الیٰ اٰبَائِہٖ فِی الْاِسْلَامِ وَالجاہلیۃ الخ ٭مسند ابی عوانۃ، ج ۱ص۹۶۔
(۶۰) مسند احمد بن حنبل ج۲ص۳۳۳، مرویات ابی ہریرۃ ۔

فصل سوم: دورمصائب و آلام

۴۰۔ بیہقی نے عروہ بن زبیر کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’قریش ابوطالب کی وفات تک بزدل بنے رہے۔‘‘ حاکم نے عروہ بن زبیر کی یہی روایت انہی الفاظ میں حضرت عائشہؓ کے حوالہ سے نقل کی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا۔
۴۱۔ ابن اسحاق نے قریش کی بڑھتی ہوئی جرأتوں کی ایک مثال عروہ بن زبیر کے حوالہ سے بیان کی ہے کہ ایک روز قریش کے ایک اوباش نے سربازار حضورؐ کے سرمبارک پر مٹی ڈال دی۔ آپؐ اسی حال میں گھر تشریف لے گئے۔ صاحبزادیوں میں سے ایک آپؐ کا سردھوتی جاتی تھیں اور روتی جاتی تھیں، اور حضوؐر انھیں تسلی دینے کے لیے یہ فرماتے جاتے تھے کہ ’’رونہیں میری بیٹی ، اللہ تیرے باپ کا حامی ہے۔‘‘ (سیرت سرور عالم، ج ۲،باب۱۰: کفّار کی۔۔۔)
تخریج: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ فَلَمَّا ہَلَکَ اَبُوْطَالِب، نَالَتْ قُرَیْشٌ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الْاَذیٰ مَالَمْ تَکُنْ تَطْمَعُ بِہٖ فِیَ حَیَاۃِ اَبِیْ طَالِبٍ، حَتّٰی اعْتَرَضَہٗ سَفِیْہٌ مِنْ سُفَہَآئِ قُرَیْشٍ، فَنَثَرَ عَلیٰ رَأسِہٖ تُرَابًا۔ قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: فَحَدَّثَنِیْ ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، قَالَ: لَمَّا نَثَرَ ذٰلِکَ السَّفِیْہُ عَلیٰ رَأسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ ذٰلِکَ التُّرَابَ، دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَیْتَہٗ وَالتُّرَابُ عَلیٰ رَأسِہٖ، فَقَامَتْ اِلَیْہِ اِحْدیٰ بَنَاتِہٖ، فَجَعَلَتْ تَغْسِلُ عَنْہُ التُّرَابَ وَہِیَ تَبْکِیْ، وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ لَہَا: لَا تَبْکِیْ یَا بُنَیَّۃُ۔ فَاِنَّ اللّٰہَ مَانِعٌ اَبَاکِ۔ (۱)
۴۲۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓسے روایت ہے کہ حضوؐر ایک روز کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور قریش کے لوگ اپنی اپنی مجلسوں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک شخص نے ـــــ مسلم کی روایت میں تصریح کی ہے کہ ابوجہل نے ـــــ کہا تم میں سے کون ہے جو جاکر فلاں شخص کے گھر سے ذبح کی ہوئی اونٹنی ـــــ مسلم کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جو ایک دن پہلے ذبح کی گئی تھی ـــــ کے پیٹ کی آلائش اور اس کا اوجھ اور خون سے لتھڑی ہوئی بچہ دانی اٹھالائے اور اس شخص کی پیٹھ پر سجدے کی حالت میں رکھ دے؟اس پر اُن کا سب سے زیادہ شقی آدمی، عقبہ بن ابی معیط اٹھا اور یہ گندگی لاکر اس نے سجدے کی حالت میں حضوؐر کی پیٹھ پر یا دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دی۔ اس کے بوجھ کی وجہ سے حضوؐر سجدے ہی میں پڑے رہے، سر نہ اٹھاسکے۔ قریش کے لوگ یہ منظر دیکھ دیکھ کر ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہوئے جارہے تھے اور ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے۔ اتنے میں کسی نے جاکر آپؐ کے گھر یہ خبر پہنچادی۔ حضرت فاطمہؓ سن کر دوڑی ہوئی آئیں، اور انھوں نے یہ گندگی کا انبار آپؐ کے اوپر سے کھینچ کھینچ کر پھینکا، اور پھرقریش کے لوگوں کو مخاطب کرکے انھیں بہت بری طرح ڈانٹا اور ان لوگوں کو بددعائیں دیں جنھوں نے یہ حرکت کی تھی (حافظ بزّار نے یہ اضافہ کیا ہے کہ کفار میں سے کسی نے حضرت فاطمہؓ کو کچھ نہ کہا) نماز ختم کرنے کے بعد حضورؐ نے فرمایا ’’خدایا!قریش سے نمٹ لے۔‘‘ کسی روایت میں یہ ہے کہ حضورؐنے یہ بات دو مرتبہ فرمائی اور کسی میں ہے تین مرتبہ فرمائی۔ بخاری کی روایت ہے کہ حضورؐ کی یہ بددعا قریش کو بہت شاق گزری، اور مسلم کی روایت ہے کہ حضورؐ کی آواز سن کر اُن لوگوں کی ساری ہنسی رخصت ہوگئی اور وہ آپؐ کی بددعا سے خوف زدہ ہوگئے۔ ایک اور روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد حضورؐ نے نام لے لے کر ابوجہل ، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ بن ربیعہ، امیہ بن خلف ، عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ بن ولید کو بددعا دی۔ (اس حدیث کو بخاری و مسلم کے علاوہ امام احمد، نسا ئی، بزّار، طبرانی اور ابودائود طیالسی وغیر ہم نے بھی نقل کیا ہے۔ طیالسی کی روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا یہ قول بھی منقول ہوا ہے کہ میں نے حضوؐر کو اُس دن کے سوا کبھی ان لوگوں کے حق میں بددعا کرتے نہیں سنا)۔
(سیرت سرورعالم ج۲،باب۱۰: کفّار کی۔۔۔)
تخریج: حَدَّثَنَا اَحْمَدُبْنُ اِسْحَاقَ السُّوْرَ مَارِیُّ، قَالَ: نَاعَبَیْدُاللّٰہِ بْنُ مُوْسیٰ، قَالَ: نَااِسْرَائِیْلُ عَنْ اَبِیْ اسحَاقَ، عَنْ عَمْرِوابْنِ مَیْمُوْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَائِمٌ یُصَلِّی عِنْدَ الْکَعْبَۃِ وَجَمْعٌ مِّنْ قُرَیْشٍ فِیْ مَجَالِسِہِمْ اِذْقَالَ قَائِلٌ مِنْہُمْ اَلَا تَنْظُرُوْنَ اِلیٰ ہٰذَا الْمُرَائِی اَیُّکُمْ یَقُوْمُ اِلیٰ جَزُوْرِاٰلِ فُلَانٍ فَیَعْمِدُ اِلیٰ فَرْثِہَا وَدَمِہَا وَسَلَاہَا فَیَجِیُٔ بِہٖ ثُمَّ یُمْہِلُہُ حَتّٰی اِذَا سَجَدَ وَضَعَہٗ بَیْنَ کَتِفَیْہِ فَانْبَعَثَ اَشْقَاہُمْ فَلَمَّا سَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَضَعَہٗ بَیْنَ کَتِفَیْہِ وَثَبَتَ النَّبِیُّ ﷺ سَاجِدًا، فَضَحِکُوْا حَتّٰی مَالَ بَعْضُہُمْ عَلیٰ بَعْضٍ مِنَ الضِّحْکِ، فَانْطَلَقَ مُنْطَلِقٌ اِلٰی فَاطِمَۃَ وَہِیَ جُوَیْرِیَّۃٌ فَاَقْبَلَتْ تَسْعیٰ وَثَبَتَ النَّبِیُّ ﷺ سَاجِدًا، حَتّٰی اَلْقَتْہُ عَنْہُ وَاَقْبَلَتْ عَلَیْہِمْ تَسُبُّہُمْ فَلَمَّا قَضیٰ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الصَّلوٰۃَ قَالَ: اَللّٰہُمَّ عَلَیْکَ بِقُرَیْشٍ اَللّٰہُمَّ عَلَیْکَ بِقُرَیْشٍ اَللّٰہُمَّ عَلَیْکَ بِقُرَیْشٍ ثُمَّ سَمّٰی اَللّٰہُمْ عَلَیْکَ بِعَمْرِوْبْنِ ہِشَامٍ، وَعُتْبَۃَ بْنِ رَبِیْعَۃَ وَشَیْبَۃَ بْنِ رَبِیْعَۃَ وَالْوَلِیْدَ بْنِ عُتْبَۃَ وَاُمَیَّۃَ بْنِ خَلَفٍ وَعُقْبَۃَ بْنِ اَبِیْ مُعَیْطٍ وَعُمَارَۃَ بْنِ الْوَلِیْدِ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ فَوَاللّٰہِ لَقَدْ رَاَیْتُہُمْ صَرْعیٰ یَوْمَ بَدْرٍ ثُمَّ سُحِبُوْا اِلَی الْقَلِیْبِ قَلِیْبِ بَدْرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : وَاُتْبِعَ اَصْحَابُ الْقَلِیْبِ لَعْنَۃً۔(۲)

اہل طائف کا حضوؐر پر ظلم عظیم

بن اسحاق اور واقدی وغیرہ کا بیان ہے کہ طائف کی سرداری اُس وقت عمروبن عمیر بن عوف کے تین لڑکوں، عبدیالیل، مسعود اور حبیب کے ہاتھ میں تھی، جن میں سے ایک کے گھر میں قریش کی عورت صفیہ بنت معمر جمحی تھی۔ رسول اللہ ﷺ ان سے ملے، ان کو اللہ کی طرف دعوت دی اور اُن سے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ آپ اسلام کے کام میں میری مدد کریں، اور میری قوم کے جو لوگ میری مخالفت کررہے ہیں ان کے مقابلے میں آپ لوگ میری حمایت کریں۔ اس پر ان میں سے ایک نے کہا کہ’’میں کعبے کے پردے نوچ ڈالوں گا اگر اللہ نے تم کو رسول بنایاہے۔‘‘ دوسرے نے کہا:’’کیا خدا کو تمہارے سوا کوئی رسول بنانے کے لیے نہیں ملا؟‘‘ تیسرے نے کہا: ’’میں تم سے ہرگز بات نہیں کروں گا، کیو ں کہ اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو تو تم اس سے بزرگ تر ہو کہ میں تمہاری بات کا جواب دوں، اور اگر تم اللہ کا نام لے کر جھوٹ بول رہے ہو تو اس قابل نہیں ہو کہ تم سے بات کی جائے۔‘‘ یہ سن کر حضوؐر اُٹھ گئے اور آپؐ کو ان سے کسی بھلائی کی توقع باقی نہیں رہی۔ چلتے ہوئے آپؐ نے ان سے کہا کہ ’’خیر، جو کچھ برتائو تم نے مجھ سے کیا سو کیا، مگر کم از کم اتنا کرو کہ میری بات کو مخفی رکھو۔‘‘ یہ بات آپؐ نے اس لیے فرمائی کہ آپ کو اندیشہ تھا کہ اگر قریش تک یہ خبر پہنچے گی تو وہ اور جری ہوجائیں گے۔ مگر انھوں نے ایسا نہ کیا اور اپنے لچوں لفنگوں اور غلاموں کو آپؐ کے خلاف ہشکار دیا اور وہ آپؐ کو گالیاں دینے اور آپؐ پر آواز کسنے لگے، یہاں تک کہ لوگ اکٹھے ہوگئے اور آپؐ کو ایک باغ کی دیوار تک پہنچاکر چھوڑاجو عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ کا تھا۔
واقدی سے ابن سعد کی روایت میں یہ ہے کہ آپؐ ثقیف کے اشراف و رئوساء میں سے ایک ایک کے پاس گئے، مگر کسی نے آپؐکی بات نہ مانی، بلکہ انھیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ ان کے نوجوانوں کو بگاڑ نہ دیں، اس لیے انھوں نے کہا ’’اے محمد! تم ہمارے شہر سے نکل جائو اور زمین میں تمھارے جو دوست بھی ہوں ان سے جاملو‘‘ پھر انھوں نے اپنے اوباشوں اور غلاموں کو آپ کے خلاف اکسایا اور انھوں نے آپؐ کو گالیاں دیں، اور شور مچا کر لوگوں کو اکٹھا کرلیا۔ موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے تاک تاک کر آپؐ کے ٹخنوں اور ایڑیوں پر پتھر مارے۔ راستے کے دونوں جانب وہ صفیں بنائے کھڑے تھے، اور جیسے جیسے آپؐ قدم اٹھا کر چلتے جاتے تھے، وہ سنگباری کیے چلے جاتے تھے، یہاں تک کہ آپ کی جوتیاں خون سے بھر گئیں۔ سلیمان التیمی کا بیان ہے کہ چوٹوں کی تکلیف سے جب آپؐ بیٹھ جاتے تو وہ آپؐ کو پکڑ کر کھڑا کردیتے تاکہ آپؐ پر پھر پتھر برسائیں، چنانچہ جب آپؐ مجبوراً چلنا شروع کرتے تو وہ پتھر مارتے اور ٹھٹھے لگاتے چلے جاتے تھے۔ واقدی کی روایت ابن سعد نے نقل کی ہے کہ اس موقع پر حضرت زیدؓ بن حارثہ آپؐ کو پتھروں سے بچانے کے لیے خود پتھروں کی بارش اپنے اوپر لیتے رہے یہاں تک کہ ان کا سرپھٹ گیا۔ (ان روایات کی تخریج اس کتاب میں سورہ اللھب کی فضیلت کے تحت مذکور ہے وہاں ملاحظہ ہو۔ (مرتب))(سیرت سرورعالم، ج۲،باب ۱۰:کفّار کی۔۔۔)

ابولہب کی اذیت رسانیاں

بن عباسؓ سے متعدد سندوں کے ساتھ یہ روایت محدثین نے نقل کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو دعوت عام پیش کرنے کا حکم دیا گیا اور قرآن مجید میں یہ ہدایت نازل ہوئی کہ آپؐ اپنے قریب ترین عزیزوں کو سب سے پہلے خدا کے عذاب سے ڈرائیں تو آپؐ نے صبح سویرے کوہ صفا پر چڑھ کر بلند آواز سے پکارا یا صباحاہ ’’ہائے صبح کی آفت۔‘‘ عرب میں یہ صدا وہ شخص لگاتا تھا جو صبح کے جھٹ پٹے میں کسی دشمن کو اپنے قبیلے پر حملہ کرنے کے لیے آتے دیکھ لیتا تھا۔ حضورؐ کی آواز سن کر لوگوں نے دریافت کیا کہ یہ کون پکاررہا ہے۔ بتایا گیا کہ یہ محمد (ﷺ) کی آواز ہے۔ اس پر قریش کے تمام خاندانوں کے لوگ آپؐ کی طرف دوڑپڑے، جو خود آسکتا تھا وہ خود آیا، اور جو نہ آسکتا تھا اس نے اپنی طرف سے کسی کو بھیج دیا۔ جب سب جمع ہوگئے تو آپؐ نے قریش کے ایک ایک خاندان کا نام لے لے کر پکارا، اے بنی ہاشم، اے بنی عبدالمطلب ، اے بنی فہر، اے بنی فلاں، اے بنی فلاں، اگر میں تمھیں یہ بتائوں کہ پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے تو تم میری بات سچ مانو گے؟ لوگوں نے کہا ہاں، ہمیں کبھی تم سے جھوٹ سننے کا تجربہ نہیں ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا تو تمھیں خبردار کرتا ہوں کہ آگے سخت عذاب آرہا ہے۔ اس پر قبل اس کے کہ کوئی اور بولتا حضورؐ کے اپنے چچا ابولہب نے کہا، تَبًّا لَّکَ اَلِہٰذَا جَمَعْتَنَا؟’’ستیاناس جائے تیرا، کیا اس لیے تونے ہمیں جمع کیا تھا؟‘‘ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس نے پتھر اٹھایا تاکہ رسول اللہ ﷺپر کھینچ مارے۔ (مجمع الزوائد ، ج۶،ص۱۸،۱۹ ۔) (مسند احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، ابن جریر)
۴۳۔مکہ میں ابولہب حضورؐ کا قریب ترین ہمسایہ تھا۔ دونوں کے گھر ایک دیوار بیچ واقع تھے۔ اُس کے علاوہ حکم بن عاص (مروان کا باپ) عقبہ بن ابی معیط، عدی بن حمراء اور ابن الاصداء الہذلی بھی آپؐ کے ہمسائے تھے۔ یہ لوگ گھر میں بھی حضورؐ کو چین نہیں لینے دیتے تھے۔ آپؐ کبھی نماز پڑھ رہے ہوتے تو یہ اُوپر سے بکری کا اوجھ آپؐ پر پھینک دیتے۔ کبھی صحن میں کھانا پک رہا ہوتا تو یہ ہنڈیا پر غلاظت پھینک دیتے۔ حضورؐ باہر نکل کر ان لوگوں سے فرماتے۔ ’’اے عبد مناف، یہ کیسی ہمسائیگی ہے۔‘‘
(تفہیم القرآن، ج ۶،اللہب: پس منظر)
تخریج: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: وَکَانَ النَّفَرُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فِی بَیْتِہٖ: اَبَالَہَبٍ، وَالْحَکَمَ بْنَ الْعَاصِ بْنِ اُمَیَّۃَ، وَعُقْبَۃَ بْنَ اَبِیْ مُعَیْطٍ، وَعَدِیَّ بْنَ حَمْرَائَ الثَّقَفِیَّ، وَابْنَ الْاَصْدَائِ الْہُذَالِیّ وَکَانُوْا جِیْرَانَہٗ لَمْ یُسْلِمْ مِنْہُمْ اَحَدٌ اِلَّا الْحَکَمُ بْنُ اَبِی الْعَاصِ، فَکَانَ اَحَدُہُمْ۔ فِیْمَا ذُکِرَ لِیْ۔ یَطْرَحُ عَلَیْہِ ﷺ رَحِمَ الشَّاۃِ وَہُوَ یُصَلِّیْ وَکَانَ اَحَدُہُمْ یَطْرَحُہَا فِیْ بُرْمَتِہٖ اِذَا نُصِبَتْ لَہٗ، حَتّٰی اتَّخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِجْرًا یَسْتَتِرُبِہٖ مِنْہُمْ اِذَا صَلّٰی، فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا طَرَحُوْا عَلَیْہِ ذٰلِکَ الْاَذٰی کَمَا حَدَّثَنِیْ عُمَرُابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، یَخْرُجُ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلَی الْعُوْدِ، فَیَقِفُ بِہٖ عَلیٰ بَابِہٖ، ثُمَّ یَقُوْلُ: یا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ، اَیَّ جَوَارِہٰذَا؟ ثُمَّ یُلْقِیْہِ فِی الطَّرِیْقِ۔ (۳)
۴۴۔ ابن زید کی روایت ہے کہ ابولہب نے رسول اللہ ﷺ سے ایک روز پوچھا اگر میں تمھارے دین کو مان لوں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپؐ نے فرمایا جو اور سب ایمان لانے والوں کو ملے گا۔ اس نے کہا میرے لیے کوئی فضیلت نہیں ہے؟ حضورؐ نے فرمایا اور آپؐ کیا چاہتے ہیں؟ اس پر وہ بولا:
تَبًّا لِہٰذَا الدِّیْنِ تَبَّا اَنْ اَکُوْنَ وَہٰؤُلَآئِ سَوَائً۔ (ابن جریر)
’’ناس جائے اس دین کا جس میں مَیں اور یہ دوسرے لوگ برابر ہوں۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنِیْ یُوْنُسُ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ زَیْدٍ فِی قَوْلِ اللّٰہِ تَبَّت یَدَآ اَبِیْ لَہَبٍ وَّتَبَّ: قَالَ التَّبُّ الْخُسْرَانُ۔ قَالَ: قَالَ اَبُوْ لَہَبٍ لِلنَّبِیِّ ﷺ : مَا ذَا اُعْطَیٰ یَامُحَمَّدُ، اِنْ اٰمَنْتُ بِکَ؟ قَالَ کَمَا یُعْطَی الْمُسْلِمُوْنَ، فَقَالَ مَا لِیْ عَلَیْہِمْ فَضْلٌ؟ قَالَ: وَاَیَّ شَیْیٍٔ تَبْتَغِیْ؟ قَالَ: تَبًّا لِہٰذَا مِنْ دِیْنٍ تَبًّا اَنْ اَکُوْنَ اَنَا وَہٰؤُلَآئِ سَوَائً۔ (۴)
۴۵۔ حضرت عبداللہ بن عباس، ابن زید، ضحاک اور ربیع بن انس کہتے ہیں:ابولہب کی بیوی اُمِّ جمیل راتوں کو خاردار درختوں کی ٹہنیاں لاکر رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر ڈال دیتی تھی۔ (ابن جریر)
سعید بن المسیب، حسن بصری اور قتادہ کہتے ہیں کہ وہ ایک بہت قیمتی ہارگردن میں پہنتی تھی، اور وہ کہا کرتی تھی کہ لات اور عزّیٰ کی قسم! میں اپنا یہ ہار بیچ کر اس کی قیمت محمد (ﷺ) کی عداوت میں خرچ کردوں گی۔
۴۶۔ نبوت سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی دو صاحب زادیاں ابولہب کے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے بیاہی ہوئی تھیں۔ نبوت کے بعد جب حضورؐ نے اسلام کی طرف دعوت دینی شروع کی تو اس شخص نے اپنے دونوں بیٹوں سے کہا کہ میرے لیے تم سے ملنا حرام ہے اگر تم محمد (ﷺ) کی بیٹیوں کو طلاق نہ دے دو۔ چنانچہ دونوں نے طلاق دے دی۔ اور عتیبہ تو جہالت میں اس قدر آگے بڑھ گیا کہ ایک روز حضورؐ کے سامنے آکر اس نے کہا کہ میں النَّجْمِ اِذَا ہَویٰ اور اَلَّذِیْ دَنَا فَتَدَلّٰیکا انکار کرتا ہوں، اور یہ کہہ کر اس نے حضورؐ کی طرف تھوکا جو آپؐ پر نہیں پڑا۔ حضورؐ نے فرمایا خدا یا! اس پر اپنے کتوں میں سے ایک کتے کو مسلط کردے(اس کی تخریج بھی سورۃ اللھب کی فضیلت کے ضمن میں دیکھی جائے۔ (مرتب)) اس کے بعد عتیبہ اپنے باپ کے ساتھ شام کے سفر پر روانہ ہوگیا۔ دوران سفر میں ایک ایسی جگہ قافلے نے پڑائو کیا جہاں مقامی لوگوں نے بتایا کہ راتوں کو درندے آتے ہیں۔ ابولہب نے اپنے ساتھی اہل قریش سے کہا کہ میرے بیٹے کی حفاظت کا کچھ انتظام کرو، کیونکہ مجھے محمدؐ کی بددعا کا خوف ہے۔ اس پر قافلے والوں نے عتیبہ کے گرد ہر طرف اپنے اونٹ بٹھا دیے اور پڑکر سورہے۔ رات کو ایک شیر آیا اور اونٹوں کے حلقے میں سے گزر کر اس نے عتیبہ کو پھاڑ کھایا (الاستیعاب لابنِ عبدالبرّ، الاصابہ لابن حجر، دلائل النبوۃ لابی نعیم الاصفہانی، روض الانف للسہیلی)۔ روایات میں یہ اختلاف ہے کہ بعض راوی طلاق کے معاملے کو اعلان نبوت کے بعد کا واقعہ بیان کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ تَبَّتْ یَدَآاَبِیْ لَہَبٍ کے نزول کے بعد پیش آیا تھا۔ اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ یہ ابولہب کا لڑکا عتبہ تھا یا عتیبہ۔ لیکن یہ بات ثابت ہے کہ فتح مکہ کے بعد عتبہ نے اسلام قبول کرکے حضورؐ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ یہ لڑکا عتیبہ تھا)۔
اس کے خبثِ نفس کا یہ حال تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے حضرت قاسم کے بعد دوسرے صاحبزادے حضرت عبداللہ کا بھی انتقال ہوگیا تو اپنے بھتیجے کے غم میں شریک ہونے کے بجائے خوشی خوشی دوڑا ہوا قریش کے سرداروں کے پاس پہنچا اور اُن کو خبردی کہ لو آج محمد (ﷺ) بے نام و نشان ہوگئے۔
رسول اللہ ﷺ جہاں جہاں بھی اسلام کی دعوت دینے کے لیے تشریف لے جاتے، یہ آپؐ کے پیچھے پیچھے جاتا اور لوگوں کو آپؐ کی بات سننے سے روکتا۔ ربیعہ بن عبادالدیلی بیان کرتے ہیں کہ میں نو عمر تھا جب اپنے باپ کے ساتھ ذوالمجاز کے بازار میں گیا ۔ وہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپؐ کہہ رہے تھے۔’’لوگو! کہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، فلاح پائو گے۔‘‘ اور آپؐ کے پیچھے پیچھے ایک شخص کہتا جارہا تھا کہ ’’یہ جھوٹا ہے دین آبائی سے پھر گیا ہے۔‘‘ میں نے پوچھا یہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابولہب ہے۔‘‘ (مسند احمد، بیہقی) دوسری روایت انہی حضرت ربیعہ سے یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپؐ ایک ایک قبیلے کے پڑائو پر جاتے ہیں اور فرماتے ہیں: ’’اے بنی فلاں ! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ تمھیں ہدایت کرتا ہوں کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ تم میری تصدیق کرو اور میراساتھ دو تاکہ میں وہ کام پورا کروں جس کے لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے۔‘‘ آپؐ کے پیچھے پیچھے ایک اور شخص آتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ’’اے بنی فلاں! یہ تم کو لات اور عزّیٰ سے پھیر کر اس بدعت اور گمراہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے جسے یہ لے کر آیا ہے۔ اس کی بات ہرگز نہ مانو اور اس کی پیروی نہ کرو۔‘‘ میں نے اپنے باپ سے پوچھا یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا یہ ان کا چچا ابولہب ہے ۔ (مسند احمد ، طبرانی) طارق بن عبداللہ المحاربی کی روایت بھی اسی سے ملتی جلتی ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں سے کہتے جاتے ہیں کہ’’لوگو لاالٰہ ا لّا اللہ کہو، فلاح پائو گے۔‘‘ پیچھے ایک شخص ہے جو آپ کو پتھر ماررہا ہے یہاں تک کہ آپؐ کی ایڑیاں خون سے تر ہوگئی ہیں، اور وہ کہتا جاتا ہے کہ ’’یہ جھوٹا ہے، اس کی بات نہ مانو۔‘‘ میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے؟’’لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابولہب ہے۔ (صحیح یہ معلوم ہوتا ہے کہ اصل روایت حضرت عمرو بن عاص کی ہے اور عبداللہ بن عمرو نے غالباً اپنے والد سے سنی ہوئی روایت بیان کی ہے کیوں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو نے ۶۵ھ؁ میں وفات پائی۔ وفات کے وقت ان کی عمر ۷۲ سال تھی۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو وہ اس واقعہ کے عینی شاہد نہیں ہوسکتے تھے، کیونکہ ان کی پیدائش ہجرت سے سات سال پہلے یعنی ۶ ؁ بعد بعثت میں ہوئی تھی۔ ) ‘‘ (ترمذی)
نبوت کے ساتویں سال جب قریش کے تمام خاندانوں نے بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کا معاشرتی اور معاشی مقاطعہ کیا اور یہ دونوں خاندان رسول اللہ ﷺ کی حمایت پر ثابت قدم رہتے ہوئے شعب ابی طالب میں محصور ہوگئے تو تنہا یہی ابولہب تھا جس نے اپنے خاندان کا ساتھ دینے کے بجائے کفارقریش کا ساتھ دیا۔ یہ مقاطعہ تین سال تک جاری رہا اور اس دوران میں بنی ہاشم اور بنی المطلب پر فاقوں کی نوبت آگئی۔ مگر ابولہب کا حال یہ تھا کہ جب مکہ میں کوئی تجارتی قافلہ آتا اور شعب ابی طالب کے محصورین میں سے کوئی خوراک کا سامان خریدنے کے لیے اس کے پاس جاتا تو یہ تاجروں سے پکار کر کہتا کہ اس سے اتنی قیمت مانگو کہ یہ خرید نہ سکیں، تمھیں جو خسارہ بھی ہوگا اسے میں پورا کردوں گا۔ چنانچہ وہ بے تحاشا قیمت طلب کرتے اور خریدار بے چارہ اپنے بھوک سے ٹرپتے ہوئے بال بچوں کے پاس خالی ہاتھ پلٹ جاتا ۔ پھر ابولہب انہی تاجروں سے وہی چیزیں بازار کے بھائو خرید لیتا۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، اللہب : پس منظر)
۴۷۔ بخاری میں حضرت عروہ بن زبیر کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے پوچھا کہ آپ نے مشرکین کا سب سے زیادہ سخت برتائو نبی ﷺ کے ساتھ کیا دیکھا ہے۔ انھوں نے کہا ایک روز آپؐ کعبہ کے صحن میں (اور ایک روایت میں ہے حجرۂ کعبہ میں) نماز پڑھ رہے تھے۔ یکایک عقبہ بن ابی معیط آگے بڑھا اور اس نے آپؐ کی گردن میں کپڑا ڈال کر اسے بل دینا شروع کردیا تاکہ گلاگھونٹ کر آپؐ کو مارڈالے مگر عین وقت پر حضرت ابوبکرؓ پہنچ گئے اور انھوں نے دھکا دے کر اسے ہٹا دیا۔ حضرت عبداللہ کا بیان ہے جس وقت ابوبکرصدیقؓ اس ظالم سے کشمکش کررہے تھے اس وقت ان کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے :
اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ؟
’’کیا تم ایک شخص کو صرف اس قصور میں مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے؟‘‘
۴۸۔ امام بخاریؒ نے یہ قصہ کئی جگہ اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ کسی جگہ روایت حضرت عمرو بن العاص سے اور کسی جگہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے(ا بن عبدالبر نے سیرت میں اس روایت کو موسیٰ بن عقبہ کے علاوہ محمد بن عبدالرحمن ابوالاسود اور یعقوب بن حمید بن کا سب کے حوالہ سے بھی نقل کیا ہے) ایک جگہ حضرت عمروبن العاص کی روایت یہ ہے کہ میں نے کبھی قریش کو رسول اللہ ﷺ کے قتل کا ارادہ کرتے نہیں دیکھا، سوائے ایک مرتبہ کے۔ وہ لوگ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے تھے اور حضورؐ مقام ابراہیم پر نماز پڑھ رہے تھے۔ اتنے میں انھوں نے ایک دوسرے کو آپؐ کے خلاف بھڑکایا۔ آخر عقبہ بن ابی معیط اٹھااور اس نے اپنی چادر آپؐ کے گلے میں ڈال کر کھینچنا شروع کیا یہاں تک کہ آپؐ گھٹنوں کے بل ٹک گئے اور لوگوں میں شور مچ گیا۔ اس وقت حضرت ابوبکر صدیق دوڑتے ہوئے آئے اور کہنے لگے’’ کیا تم ایک شخص کو صرف اس قصور میں مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے؟‘‘
پھر لوگ آپؐ کے پاس سے ہٹ گئے ۔ نماز سے فارغ ہو کر جب آپؐ قریش کے ان لوگوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تمھاری طرف ذبح کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔‘‘ اس پر ابوجہل بولا:اے محمدؐ تم کبھی نادان نہ تھے۔ حضوؐر نے فرمایا ’’اور تم انھیں میں سے ہو۔ ‘‘ (ابویعلیٰ ، ابن حبان، طبرانی، بیہقی)
۴۹۔ صحیح بخاری کی دوسری روایت میں یہ ہے کہ مشرکین نے حضوؐر کی ڈاڑھی اور سر کے بال نوچ ڈالے اور اکثر بال اکھڑگئے، حضرت ابوبکرؓ آپؐ کی حمایت میں اٹھے اور وہ روتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ ’’کیا تم ایک شخص کو صرف اس قصور میں مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا:’’ چھوڑ دوانھیں اے ابوبکرؓ ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ان کی طرف ذبح کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔‘‘ یہ سن کر ساری بھیڑ آپؐ کے پاس سے چھٹ گئی۔
تخریج: (۱) حَدَّثَنَاعَیَّاشُ بْنُ الْوَلِیْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَآ الْوَلِیْدُبْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِی الْاَوْزَاعِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ یَحْیَیٰ بْنُ اَبِی کَثِیْر عَنْ مُحَمَّدِبْنِ اِبْرَاہِیْمَ التَّیْمِیِّ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ، قَالَ: سَاَلْتُ بْنَ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِ، اَخْبِرْنِیْ بِاَشَدِّشَیْیٍٔ صَنَعَہُ الْمُشْرِکُوْنَ بِالنَّبِیِّ ﷺ ، قَالَ: بَیْنَا النَّبِیُّ ﷺ یُصَلِّیْ فی حِجْرِالْکَعْبَۃِ اِذْ اَقْبَلَ عُقْبَۃُ بْنُ اَبِیْ مُعَیْطٍ، فَوَضَعَ ثَوْبَہٗ فِیْ عُنُقِہٖ فَخَنَقَہٗ خَنْقًا شَدِیْدًا، فَاَقْبَلَ اَبُوْبَکْر حَتّٰی اَخَذَ بِمَنْکِبَیْہِ، وَدَفَعَہٗ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِیَّ اللّٰہُ الآیۃ۔ تَابَعَہُ ابْنُ اِسْحَاقَ، حَدَّثَنِیْ یَحْیٰ بْنُ عُرْوَۃ، عَنْ عُرْوَۃَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو،وَقَالَ عَبْدَۃُ عَنْ ہِشَامٍ،عَنْ اَبِیْہِ، قِیْلَ لِعَمْرِوبْنِ الْعَاصِ، وَقَالَ مُحَمَّدُبْنُ عَمْرٍ وعَنْ اَبِیْ سَلَمۃَ حَدَّثَنِیْ عَمْرُوبْنُ الْعَاصِ۔(۵)
(۲)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ یَزِیْدَ الْکُوْفِیُّ، ثَنَآ الْوَلِیْدُ عَنِ الْاَوْزاعِیِّ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِبْنَ اِبْرَاہِیْمَ، عَنْ عُرْوَۃَبْنِ الزُّبَیْرِ، قَالَ سَاَلْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو عَنْ اَشَدِّمَا صَنَعَ الْمُشْرِکُوْنَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: رَأَیْتُ عُقْبَۃَ بْنَ اَبِیْ مُعَیْطٍ جَآئَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ وَہُوَ یُصَلِّیْ، فَوَضَعَ رِدَآء ہٗ فِیْ عُنُقِہٖ، فَخَنَقَہٗ خَنْقًا شَدِیْدًا، فَجَآئَ اَبُوْبَکْرٍ حَتّٰی دفَعَہٗ عَنْہُ فَقَالَ: اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِیَّ اللّٰہُ وقَدْجَآئَ کُمْ بِالْبَیِّنَاتِ مِنْ رَّبِّکُم؟(۶)
(۳) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: فَحَدَّثَنِیْ یَحْیٰ ابْنُ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ اَبِیْہِ عُرْوَۃَ ابْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قُلْتُ لَہٗ: مَااَکْثَرُ مَا رَأَیْتَ قُرَیْشًا اَصَابُوْا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فِیْمَا کَانُوْا یُظْہِرُوْنَ مِنْ عَدَاوَتِہٖ؟ قَالَ: حَضَرْتُہُمْ، وَقَدْاجْتَمَعَ اَشْرَافُہُمْ یَوْمًا فِی الْحِجْرِ، فَذَکَرُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالُوْا:مَارَأَیْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَیْہِ مِنْ اَمْرِہٰذَا الرَّجُلِ قَطُّ، سَفَّہَ اَحْلَامَنَا وَشَتَمَ آبَائَ نَا، وَعَابَ دِیْنَنَا وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا، وَسَبَّ آلِہَتَنَا، لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْہُ عَلیٰ اَمْرٍ عَظِیْمٍ، اَوْکَمَا قَالُوْا: فَبَیْنَا ہُمْ فِیْ ذالِکَ، اِذَا طَلَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَاَقْبَلَ یَمْشِیْ حَتَّی اسْتَلَمَ الرُّکْنَ، ثُمَّ مَرَّبِہِمْ طَائِفًا بالْبَیْتِ، فَلَمَّا مَرَّبِہِمْ غَمَزُوْہُ، بِبَعْضِ الْقَوْلِ۔ قَالَ: فَعَرَفْتُ ذٰلِکَ فِیْ وَجْہِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: ثُمَّ مَضیٰ، فَلَمَّا مَرَّبِہِم الثَّانِیَۃَ غَمَزُوْہُ بِمِثْلِہَا، فَعَرَفْتُ ذٰلِکَ فِیْ وَجْہِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔ ثُمَّ مَرَّبِہِم الثَّالِثَۃَ فَغَمَزُوْہُ بِمِثْلِہَا فَوَقَفَ، ثُمَّ قَالَ: اَتَسْمَعُوْنَ یَامَعْشَرَ قُرَیشٍ، اَمَا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ، لَقَدْ جئْتُکُمْ بِالذَّبْحِ، قَال: فَاخَذَتِ الْقَوْمَ کَلِمَتُہٗ، حَتّٰی مَامِنْہُمْ رَجُلٌ اِلَّا کَاَنَّمَا عَلیٰ رَأسِہٖ طَائِرٌ وَاقِعٌ، حَتّٰی اِنَّ اَشَدَّہُمْ فِیْہِ وَصَاۃً قَبْلَ ذٰلِکَ، لِیَرْفَؤُہُ بِاَحْسَنِ مَایَجِدُ مِنَ الْقَوْلِ،حَتّٰی اِنَّہٗ لَیَقُوْلُ: اِنْصَرِفْ یَا اَبَا الْقَاسِمِ، فَوَاللّٰہِ مَاکُنْتَ جَہُوْلًا۔ قَالَ: فَانْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، حَتّٰی اِذَا کَانَ الْغَدُ اجْتَمَعُوْا فِی الْحِجْرِ وَاَنَا مَعَہُمْ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: ذَکَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْکُمْ، وَمَا بَلَغَکُمْ عَنْہُ، حَتّٰی اِذَا بَادَاکُمْ بِمَا تَکْرَہُوْنَ تَرَکْتُمُوْہُ فَبَیْنَمَاہُمْ فِی ذٰلِکَ طَلَعَ (عَلَیْہِمْ) رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَوَثَبُوْا اِلَیْہِ وِثْبَۃَ رَجُلٍ وَّاحِدٍ، وَاَحَاطُوْا بِہٖ، یَقُوْلُوْنَ: اَنْتَ الَّذِیْ تَقُوْلُ کَذَا وَکَذَا، لِمَا کَانَ یَقُوْلُ مِنْ عَیْبِ اٰلِہَتِہِمْ ودِیْنِہِمْ، فَیَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: نَعَمْ : اَنَا الَّذِی اَقُوْلُ ذٰلِکَ، قَالَ: لَقَدْ رَاَیْتُ رَجُلًا مِّنْہُمْ اَخَذَ بِمَجْمَحِ رِدَائِہٖ۔ قَالَ: فَقَامَ اَبُوْبَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ دُوْنَہٗ وَہُوَیَبْکِیْ وَیَقُوْلُ: ’’اَتَقْتُلُوْنَ رَجْلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ؟‘‘ ثُمَّ انْصَرَفُوْا عَنْہُ۔ فَاِنَّ ذٰلِکَ لَأَشَدُّ مَارَأَیْتُ قُرَیْشًا نَالُوْا مِنْہُ قَطُّ۔ (۷)
ترجمہ: ابن اسحاق نے کہا کہ روایت بیان کی مجھ سے یحيٰ نے اپنے والد عروہ بن زبیر کے حوالے سے۔ عروہ کا بیان ہے کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے پوچھا کہ قریش ، جو رسول اللہ ﷺ سے اپنی عداوت کا اظہار کیا کرتے تھے اس سلسلہ میں آپ نے ان کو زیادہ سے زیادہ کس قدر تکلیف حضوؐر کو پہنچاتے دیکھا ہے؟ انھوں نے بتایا کہ میں ان لوگوں کے پاس ایک روز ایسے وقت گیاجبکہ قریش کے اشراف مقام حجر میں جمع تھے۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کا تذکرہ کیا اور کہنے لگے کہ ہم نے اس شخص کے بارے میں اتنا صبرکیا ہے کہ کسی دوسرے معاملے میں اس کی نظیر و مثال نہیں ملتی ، اس نے ہمارے دانائوں اور زیرک دانش مندوں کو احمق اور نادان قرار دیا، ہمارے اسلاف اور بزرگوں کو گالیاں دیں۔ ہمارے دین میں عیب نکالے، ہماری جماعت کو پارہ پارہ کرکے منتشر کردیا، اور ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا، (اس کے برعکس) ہم نے اس کی بڑی بڑی باتوں پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا (راوی کہتا ہے) قریش کے اشراف نے یہی الفاظ کہے یا اسی طرح کے کچھ اور الفاظ کہے۔اشراف قریش یہی باتیں کررہے تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ ادھر تشریف لے آئے۔ آپؐ نے حجراسود کو بوسہ دیا پھر بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان لوگوں کے پاس سے گزرے (آپؐکو دیکھ کر) انھوں نے آپؐ کے بارے میں طعن و تشنیع کی باتیں کیں۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے حضور ﷺکے رخ انور پر اس کے اثرات ملاحظہ کیے پھر آپؐ وہاں سے چلے گئے اور دوسری مرتبہ پھر جب آپؐ کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو انھوں نے حسب سابق طعنہ زنی کی۔ اس کا بھی اثر میں نے حضور ﷺ کے روئے مبارک پر محسوس کیا۔ تیسری مرتبہ پھر آپؐ ان کے پاس سے گزرے تو انھوں نے پھر اسی طرح طعن و طنز کے نشتر چلائے۔ (اس مرتبہ) آپؐ نے کھڑے ہوکر فرمایا: أَتَسْمَعُوْنَ یَا مَعْشَرَ قُرَیْش، اَمَا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِالذَّبْحِ۔’’اے معشرقریش! کیا تم سن رہے ہو؟ اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، میں تمھاری طرف ذبح کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔‘‘ بس پھر تو آپؐ کے ان الفاظ نے ان کو جکڑ لیا اور ان کی حالت ایسی ہوگئی کہ گویا ان کے سر پر کوئی پرندہ ٹوٹا پڑرہا ہو۔ اب ان کے سخت مخالف افراد بھی جو آپؐ کے خلاف لوگوں کو ابھارا کرتے تھے،بہتر سے بہتر الفاظ میں، جو انھیں ملے، آپؐکی مدارات اور دلجوئی کرنے لگے اور بولے اے ابوالقاسم تشریف لے جائیے، بخدا آپؐ نے کبھی جہالت و نادانی کی باتیں نہیں کیں۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس کے بعد لوٹ آئے۔پھر دوسرے روز یہی لوگ حجر میں پھر جمع ہوئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا ۔ اور ایک دوسرے سے کہنے لگے۔ کچھ یاد ہے تمھاری طرف سے کیا پیام دیا گیا تھا اور اس کی جانب سے تمھیں کیا جواب ملا تھا؟ حتّٰی کہ جب آپؐ نے ڈنکے کی چوٹ پرایسی باتیں کہیں جو تمھیں ناپسند اور ناگوار تھیں تو تم نے اسے چھوڑ دیا۔ ابھی وہ لوگ یہ باتیں کررہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے، آپؐ کو دیکھتے ہی سب یکبارگی یہ کہتے ہوئے آپؐ پر ٹوٹ پڑے کہ کیا تووہی شخص ہے جس نے ایسا اور ایسا کہا ہے؟ یعنی وہ باتیںجو آپؐ ان کے دین اور معبودوں کے عیوب میں بیان فرمایا کرتے تھے، آپؐ نے فرمایا: نَعَمْ اَنَا الَّذِیْ اَقُوْلُ ذٰلِکَ ’’ ہاں میں ہی وہ شخص ہوں جو ایسی باتیں کہتا ہوں۔‘‘راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی چادر مبارک کے دونوں کو نوں کو پکڑ لیا۔ اس موقع پرحضرت ابوبکرؓآپؐ کی مدافعت کے لیے کھڑے ہوگئے۔ وہ روتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے؟ پھر انھوں نے آپؐ کو چھوڑ دیا اور چلے گئے۔ یہ وہ بدترین سلوک تھاجو اشراف قریش کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا گیا تھا۔

شعب ابی طالب

اس زمانے میں قریش کا غصہ اسلام اور محمد ﷺ کے خلاف روز بروز زیادہ بھڑکتا چلاجارہا تھا۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ ان کی ساری کوششوں کے باوجودمکے میں بھی اسلام اندر ہی اندر پھیلتا جارہا ہے اور بیرونی قبائل کے لوگ بھی پے درپے مسلمان ہورہے ہیں۔ پھر یہ معاملہ صرف عرب تک ہی محدود نہیں رہ گیا ہے بلکہ حبش تک اس کی جڑیں پھیل گئی ہیں، نجاشی کھلم کھلا مسلمانوں کا حامی بن گیا ہے ، اور وہاں سے اسلام قبول کرنے کے لیے محمد ﷺ کے پاس وفد آنے لگے ہیں۔ اس پر مزید اُن کی آتش غضب کو یہ چیز بھڑکارہی تھی کہ حضرت حمزہؓ اور حضرت عمرؓ جیسے بہادر اور بااثر سرداروں کی شمولیت سے ان مسلمانوں کی ہمتیں بڑھ گئی ہیں جو ہجرت حبشہ کے بعد مکہ میں رہ گئے تھے۔ ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’واللہ ہم بیت اللہ کے گرد نماز نہ پڑھ سکتے تھے جب تک کہ عمرؓ اسلام نہ لے آئے۔‘‘ بخاری میں انہی حضرت ابن مسعودؓ کا یہ قول بھی منقول ہے کہ مَازِلْنَا اَعِزَّۃً مُنْذُاَسْلَمَ عُمَرُ ’’عمرؓکے مسلمان ہونے کے بعد سے ہم برابر زور آورہی رہے۔‘‘
ان اسباب نے مل جل کر آخر کا ر قریش کی جاہلیت کو اس قدر برافروختہ کردیا کہ انھوں نے بالاتفاق ایک دستاویز لکھی جس میں اللہ کی قسم کھا کر یہ عہد کیا گیا تھا کہ جب تک بنی ہاشم اور بنی المطلب محمد (ﷺ) کو ان کے حوالہ نہ کردیں اُس وقت تک ان سے میل جول، شادی بیاہ بول چال اور خرید و فروخت کا کوئی تعلق نہ رکھا جائے گا۔ قریش کے تمام خاندانوں کے سربراہوں نے اس دستاویز کی توثیق کی اور اسے خانہ کعبہ میں لٹکا دیا گیا۔ ابن سعد اور ابن عبدالبر کا بیان ہے کہ یہ یکم محرم ۷ ؁ بعد بعثت کا واقعہ ہے۔
موسیٰ بن عقبہ نے امام زہری کے حوالہ سے اپنی مغازی میں لکھا ہے( مذکورہ بالا حدیث۔ (مرتب) )کہ ابوطالب کو جب معلوم ہوا کہ قریش کے لوگ محمد ﷺ کی جان کے درپے ہیں، تو انھوں نے بنی ہاشم اور بنی المطلب کو بلایا اور ان سے کہا کہ محمد ﷺ کو ساتھ لے کر سب کے سب شعب ابی طالب(ایضًا۔) میں جمع ہوجائیں اور آخر وقت تک آپ کی حفاظت کریں۔ اس تجویز کو دونوں خاندانوں نے قبول کیا اور اُن کے کافر اور مسلمان ، سب شعب ابی طالب میں سمٹ آئے۔ اس کے بعد قریش کے باقی خاندانوں نے آپس میں وہ معاہدہ کیا (سیرت ابن ہشام ج اوّل۔ (مرتب))جس کا ذکر اوپر گزرا ہے۔
اس کے برعکس ابن سعد نے واقدی کا اور ابن ہشام نے ابن اسحاق کا بیان نقل کیا ہے کہ پہلے قریش کے لوگوں نے بنی ہاشم اور بنی المطلب کے مقاطعہ کا عہد نامہ لکھا، اور اس کے بعد یہ دونوں خاندان ابوطالب کی ہدایت پر شعب ابی طالب میں محصور ہوکر بیٹھ گئے۔ یہی بات ابن عبدالبر نے بھی سیرت میںلکھی ہے۔ ابولہب اس موقع پر اپنے خاندان سے الگ رہا اور اس نے مقاطعہ کرنے والوں کا ساتھ دیا۔ بنی عبدمناف کے باقی دو خاندان ، بنی عبدشمس اور بنی نوفل بھی اپنے ہم جد رشتہ داروں کو چھوڑ کر مقاطعہ کرنے والے دشمنوں کے ساتھ رہے۔
ابن اسحاق کے حوالہ سے ابن ہشام نے محصوری کا زمانہ دو یا تین سال لکھا ہے۔ مگر ابن سعد اور موسیٰ بن عقبہ نے تعین کے ساتھ اس کی مدت تین سال بیان کی ہے۔ اس پورے زمانہ میں قریش کا محاصرہ بڑی سختی کے ساتھ جاری رہا۔ محصورین کی ایسی ناکہ بندی کردی گئی تھی کہ ان کو کھانے پینے کی چیزیں پہنچنے کے تمام راستے بند ہوگئے۔ موسیٰ بن عقبہ کا بیان ہے کہ باہر کے تاجر اگر مکّے آتے تو قریش کے لوگ جلدی کرکے ان کا سب سامان خرید لیتے تاکہ محصورین ان سے کوئی چیز نہ خرید سکیں۔ ابولہب کے متعلق ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ وہ محصورین کو کوئی چیز خریدتے دیکھتا تو پکار کرتاجر سے کہتا کہ ان سے اتنی زیادہ قیمت مانگو کہ یہ خریدنہ سکیں، پھر میں وہی چیز تم سے خریدلوں گا اور تمھارا نقصان نہ ہونے دوں گا۔ ابن سعد اور بیہقی کی روایت ہے کہ محصورین کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ ان کے بھوکے بچوں کے رونے اور بلکنے کی آوازیں شعب ابی طالب کے باہر سنی جاتی تھیں۔ یہ لوگ صرف حج کے زمانے میں نکلتے تھے اور دوسرا حج آنے تک اپنے محلے میں بند رہتے تھے۔
اس زمانے میں صرف حضرت خدیجہؓ کے بھتیجے حکیم بن حزام اور نضلہ بن ہاشم بن عبدمناف کے بھتیجے (اس کے ماں جائے بھائی کے بیٹے) ہشام بن عمرو العامری، چوری چھپے صلہ رحمی کا حق ادا کرتے رہے۔ ابن اسحاق کے حوالہ سے ابن ہشام نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل نے حکیم بن حزام کو اپنے پھوپھی صاحبہ کے لیے غلہ لے جاتے ہوئے پکڑ لیا اور کہا: ’’تم بنی ہاشم کے لیے خوراک کا سامان لے جارہے ہو؟ اچھا، میں تمھیں نہیں چھوڑوں گا جب تک مکّہ بھر میں تم کو رسوا نہ کردوں۔ اتنے میں ابوالبختری بن ہشام ، جوبنی اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی میں سے تھا اور حضرت خدیجہؓ کا قریبی رشتہ دار ہوتا تھا، وہاں پہنچ گیا اور اس نے پوچھا کیا معاملہ ہے؟ ابوجہل نے کہا کہ یہ بنی ہاشم کے لیے غلہ لے جا رہا ہے۔ وہ بولا چھوڑدے اس کو۔ یہ اس کی پھوپھی کاغلہ ہے جو وہ ان کے پاس لے جارہا ہے۔ کیا تو ان کی اپنی چیز ان کے پاس نہیں لے جانے دے گا؟ ابوجہل نے انکار کیا۔ اس پر دونوں میں لڑائی ہوگئی اور ابوالبختری نے اسے بری طرح رگیداحتّٰی کہ اونٹ کے جبڑے کی ہڈی اس کے سر پر اس زور سے ماری کہ اس کا سرپھٹ گیا۔ اس سارے معاملے کو حضرت حمزہؓ دیکھ رہے تھے، اس لیے دونوں کافروں نے شرما کر اپنا جھگڑا ختم کردیا تاکہ بنی ہاشم اس پر خوش نہ ہوں۔ (سیرت سرور عالم، ج ۲: باب۱۰)

حضرت عمرؓ کا قبول اسلام

۵۰۔خباب بن ارت بیان کرتے ہیںمیں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ خدایا! ابوالحکم (ابوجہل) بن ہشام یا عمر بن خطاب دونوں میں سے کسی کو اسلام کا حامی بنادے۔
تشریح :(حضرت عمرؓ)کے قبول اسلام کی سب سے زیادہ مشہور اور معتبر روایت یہ ہے کہ جب وہ نبی ﷺ کو قتل کرنے کی نیت سے نکلے تو راستہ میں ایک شخص نے ان سے کہا کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لو، تمھاری اپنی بہن اور بہنوئی اس نئے دین میں داخل ہوچکے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ سیدھے بہن کے گھر پہنچے۔ وہاں ان کی بہن فاطمہؓ بنت خطاب اور ان کے بہنوئی سعیدؓ بن زید بیٹھے ہوئے خباب بن ارت سے ایک صحیفے کی تعلیم حاصل کررہے تھے۔حضرت عمرؓ کے آتے ہی ان کی بہن نے صحیفہ فوراً چھپا لیا۔ مگر حضرت عمرؓ اس کے پڑھنے کی آواز سن چکے تھے۔ انھوں نے پہلے کچھ پوچھ گچھ کی۔ اس کے بعد بہنوئی پر پل پڑے اور مارنا شروع کردیا۔ بہن نے بچانا چاہا تو انھیں بھی مارا یہاں تک کہ ان کا سرپھٹ گیا۔ آخر کار بہن اور بہنوئی دونوں نے کہا کہ ہاں ہم مسلمان ہوچکے ہیں تم سے جو کچھ ہوسکے کرلو۔ حضرت عمرؓاپنی بہن کا خون بہتے دیکھ کر کچھ پشیمان سے ہوگئے اور کہنے لگے کہ اچھا مجھے بھی وہ چیز دکھائو جو تم لوگ پڑھ رہے تھے۔بہن نے پہلے قسم لی کہ وہ اسے پھاڑنہ دیں گے۔ پھر کہا کہ جب تک تم غسل نہ کرلو، اس پاک صحیفے کو ہاتھ نہیں لگاسکتے۔ حضرت عمرؓنے غسل کیا اور پھر وہ صحیفہ لے کر پڑھنا شروع کیا۔ اس میں سورہ طہٰ لکھی ہوئی تھی۔ پڑھتے پڑھتے یک لخت ان کی زبان سے نکلا’’ کیاخوب کلام ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی حضرت خباب بن ارتّ جو ان کی آہٹ پاتے ہی چھپ گئے تھے باہر آگئے اور کہا کہ بخدا مجھے توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنے نبی کی دعوت پھیلانے میں بڑی خدمت لے گا، کل ہی میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے۱؎۔ (اور فرمایا) پس اے عمر! اللہ کی طرف چلو، اللہ کی طرف چلو۔
اس۲؎ فقرے نے رہی سہی کسر پوری کردی اور اسی وقت حضرت خباب کے ساتھ جاکر حضرت عمرؓ نے نبی ﷺ کی خدمت میں اسلام قبول کرلیا۔ یہ ہجرت حبشہ سے تھوڑی مدت بعد ہی کا قصہ ہے۔۳؎ (تفہیم القرآن، ج۳، طٰہٰ: زمانہ نزول)
تخریج:(۱) فَقَالَ لَہٗ یَا عُمَرُ، وَاللّٰہِ اِنِّیْ لَاَرْجُوْا اَنْ یَکُوْنَ اللّٰہُ قَدْ خَصَّکَ بِدَعْوَۃِ نَبِیِّہٖ فَاِنِّیْ سَمِعْتُہٗ اَمْسَ وَہُوَ یَقُوْلُ : اَللّٰہُمَّ اَیِّدِالْاِسْلَامَ بِاَبِی الْحَکَمِ ابْنِ ہِشَامٍ اَوْبِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ فَاللّٰہَ اللّٰہَ یا عُمَرُ۔(۸)
ترجمہ: انھوں نے کہا: اے عمر ! بہ خدا مجھے توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی دعا کو تمھارے لیے خاص کردیا ہے۔ کیوں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے خود سنا ہے کہ خدا یا ابوالحکم (ابوجہل) بن ہشام یا عمر بن الخطاب دونوں میں سے کسی کو اسلام کا حامی بنادے۔ پس اے عمر! اللہ کی طرف چلو، اللہ کی طرف چلو۔
(۲) وَکَانَ عُمَرُ شَدِیْدًا عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَعَلَیٰ الْمُؤْ مِنِیْنَ فَقَالَ النَّبِیُّﷺ: اللّٰہُمَّ اَیِّدْ دِیْنَکَ بِاِبْنِ الْخَطَّابِ۔(۹)
ترجمہ: حضرت عمرؓ رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کے خلاف شدید عناد رکھتے تھے۔ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی۔ یا الٰہی! ابن خطاب کے ذریعہ اپنے دین کی تقویت فرما۔
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا اَبُوْ عَامِرٍ، ثَنَا خَارِجَۃُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْاَنْصَارِیُّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اَللّٰہُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِاَحَبِّ ہٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ اِلَیْکَ بِاَبِیْ جَہْلٍ اَوْبِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ فَکَانَ اَحَبَّہُمَا اِلَی اللّٰہِ عُمَرُبْنُ الْخَطَّابِ۔ (۱۰)
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بارگاہ رب العزت میں دعا کی: الٰہی ! ابوجہل یا ابن خطاب میں سے جو تجھے پسند ہو اس کے ذریعہ اسلام کو تقویت عطا فرما۔ پس ان دونوں میں سے اللہ تعالیٰ کو عمر بن خطاب محبوب تھے۔
(۴) حَدَّثَنَا اَبُوْ کُرَیْبٍ نا یُوْنُسُ بْنُ بُکَیْرٍ، عَنِ النَّضْرِ اَبِیْ عُمَرَ عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ: اَللّٰہُمَّ اَعِزَّالْاِسْلَامَ بِاَبِیْ جَہْلِ بْنِ ہِشَامٍ اَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: فَاَصْبَحَ فَغَدَا عُمَرُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ۔(۱۱)
ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ مِّنْ ھٰذَا الْوَجْہِ وَقَدْ تَکَلَّمَ بَعْضُھُمْ فِیْ النَّضْرِ اَبِیْ عَمْرٍو وَھُوَیَرْوِیْ مَنَاکِیْرَ۔
ترجمہ:حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بارگاہ الٰہی میں دعاکی۔ الٰہی! ابوجہل بن ہشام یا عمر بن خطاب کے ذریعہ اسلام کو تقویت عطا فرما۔ پس صبح عمرؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوئے۔
(۵)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ اَبُوْ عُبَیْدٍ اَلْمَدِیْنِیُّ۔ ثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنَ الْمَاجِشُوْنَ،حَدَّثَنِیْ الزَّنْجِیُّ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ہِشَامِ ابْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَللّٰہُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّۃً۔(۱۲)
ترجمہ:حضرت عائشہؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعا میں یوں استدعا کی۔’’اے اللہ! عمر بن خطاب ہی کے ذریعہ اسلام کو قوت عطا فرما۔‘‘

یہودیوں کی سازش

۵۱۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ یہودیوں میں سے ایک گروہ نے نبی ﷺ اور آپؐ کے خاص خاص صحابہ کو کھانے کی دعوت پر بلایا تھا اور خفیہ طور پر یہ سازش کی تھی کہ اچانک ان پر ٹوٹ پڑیں گے اور اس طرح اسلام کی جان نکال دیں گے۔ لیکن عین وقت پر اللہ کے فضل سے نبی ﷺ کو اس سازش کا حال معلوم ہوگیا اور آپؐ دعوت پر تشریف نہ لے گئے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، المائدہ، حاشیہ: ۳۰)
تخریج: حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُبْنُ سَعْدٍ، قَالَ: ثَنی اَبِیْ، قَالَ: ثنی عَمِیّ، قَالَ:ثَنی اَبِیْ عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ اْبنِ عَبَّاسٍ قولہ۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِلیٰ قَوْلِہٖ فَکَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ۔ ذٰلِکَ اَنَّ قَوْمًامِنَ الْیَہُوْدِ صَنَعُوْا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ وَاَصْحَابِہٖ طَعَامًا لِیَقْتُلُوْہُ اِذَا اَتٰی الطَّعَامَ فَاَوْحَی اللّٰہُ اِلَیْہِ بِشَانِہِمْ فَلَمْ یَأْتِ الطَّعَامَ وَاَمَرَ اَصْحَابَہٗ فَاَبَوْہُ۔(۱۳)

عتبہ بن ربیعہ کی پیشکش

۵۲۔ عتبہ سرداران قریش کی ایک محفل سے اٹھ کر نبی ﷺ کے پاس جابیٹھا۔ آپؐ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے کہا۔ بھتیجے! تم اپنی قوم میں اپنے نسب اور خاندان کے اعتبار سے جو حیثیت رکھتے ہو وہ تمھیں معلوم ہے۔ مگر تم اپنی قوم پر ایک بڑی مصیبت لے آئے ہو۔ تم نے جماعت میں تفرقہ ڈال دیا۔ ساری قوم کو بے وقوف ٹھیرایا، قوم کے دین اور اس کے معبودوں کی برائی کی۔ اور ایسی باتیں کرنے لگے جن کے معنی یہ ہیں کہ ہم سب کے باپ دادا کافر تھے۔ اب ذرا میری بات سنو۔ میں کچھ تجویزیں تمھارے سامنے رکھتا ہوں۔ ان پر غور کرو۔ شاید کہ ان میں سے کسی کو تم قبول کرلو۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابوالولید! آپ کہیں، میں سنوں گا۔‘‘ اس نے کہا، ’’بھتیجے، یہ کام جو تم نے شروع کیا ہے، اس سے اگر تمھارا مقصد مال حاصل کرنا ہے تو ہم سب مل کر تم کو اتنا کچھ دے دیتے ہیں کہ تم ہم میں سب سے زیادہ مالدار ہوجائو۔اگر اس سے اپنی بڑائی چاہتے ہو تو ہم تمھیں اپنا سردار بنائے لیتے ہیں، کسی معاملہ کا فیصلہ تمھارے بغیر نہ کریں گے۔ اگر بادشاہی چاہتے ہو تو ہم تمھیں اپنا بادشاہ بنالیتے ہیں۔ اور اگر تم پر کوئی جن آتا ہے جسے تم خود دفع کرنے پر قادر نہیں ہوتو ہم بہترین اطباء بلواتے ہیں اور اپنے خرچ پر تمھارا علاج کراتے ہیں۔‘‘ عتبہ یہ باتیں کرتا رہا اور حضوؐر خاموش سنتے رہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: ابوالولید! آپ کو جو کچھ کہنا تھا کہہ چکے؟‘‘ اس نے کہا ’’ہاں‘‘ آپؐ نے فرمایا:’’اچھا اب میری سنو۔ اس کے بعد آپ نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر سورۃ (حٰم السجدہ)کی تلاوت شروع کی اور عتبہ اپنے دونوں ہاتھ پیچھے زمین پر ٹیکے غور سے سنتا رہا۔ سورہ سجدہ (آیت :۳۸) پر پہنچ کر آپؐ نے سجدہ کیا۔ پھر سراٹھاکر فرمایا۔ اے ابوالولید! میرا جواب آپ نے سن لیا۔ اب آپ جانیں اور آپ کا کام۔‘‘
تشریح : نبی ﷺ کے قدیم ترین سیرت نگار محمد بن اسحاق نے مشہور تابعی محمد بن کعب القرظی کے حوالے سے یہ قصہ نقل کیا ہے کہ ایک دفعہ قریش کے کچھ سردار مسجد حرام میں محفل جمائے بیٹھے تھے اور مسجد کے ایک دوسرے گوشے میں رسول اللہ ﷺ تنہا تشریف رکھتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت حمزہؓ ایمان لاچکے تھے اور قریش کے لوگ مسلمانوں کی جمعیت میں روز افزوں اضافہ دیکھ دیکھ کر پریشان ہورہے تھے۔ اس موقع پر عتبہ بن ربیعہ (ابوسفیان کے خسر) نے سرداران قریش سے کہا کہ صاحبو! اگر آپ لوگ پسند کریں تو میں جاکر محمد (ﷺ) سے بات کروں اور ان کے سامنے چند تجویزیں رکھوں، شاید کہ وہ ان میں سے کسی کو مان لیں اور ہم بھی اسے قبول کرلیں اور اس طرح وہ ہماری مخالفت سے باز آجائیں۔ سب حاضرین نے اس سے اتفاق کیا اور عتبہ اٹھ کر نبی ﷺ کے پاس جابیٹھا (آپؐ کی اس کے ساتھ مندرجہ بالا حدیث میں بیان کردہ گفتگو ہوئی) عتبہ اٹھ کر سرداران قریش کی مجلس کی طرف چلا تولوگوں نے دور سے اس کو دیکھتے ہی کہا، خدا کی قسم! عتبہ کا چہرہ بدلا ہوا ہے، یہ وہ صورت نہیں ہے جسے لے کر یہ گیا تھا۔ پھر جب وہ آکر بیٹھا تو لوگوں نے کہا: کیا سن آئے؟ اس نے کہا: بہ خدا ! میں نے ایسا کلام سنا کہ کبھی اس سے پہلے نہ سنا تھا۔ خدا کی قسم! نہ یہ شعر ہے ، نہ سحر ہے، نہ کہانت۔ اے سرداران قریش! میری بات مانو اور اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کلام کچھ رنگ لاکر رہے گا۔ فرض کرو اگر عرب اس پر غالب آگئے تو اپنے بھائی کے خلاف ہاتھ اٹھانے سے تم بچ جائو گے اور دوسرے اس سے نمٹ لیں گے۔ لیکن اگر وہ عرب پر غالب آگیا تو اس کی بادشاہی تمھاری بادشاہی، اور اس کی عزت تمھاری عزت ہی ہوگی۔‘‘ سرداران قریش اس کی یہ بات سنتے ہی بول اٹھے۔ ’’ابوالولید آخر اس کا جادو تم پربھی چل گیا۔‘‘ عتبہ نے کہا، میری جو رائے تھی وہ میں نے تمھیں بتادی اب تمھارا جو جی چاہے کرتے رہو۔
(ابن ہشام، جلد ۱، ص: ۳۱۳۔۳۱۴)
اس قصے کو متعدد دوسرے محدثین نے حضرت جابر بن عبداللہ سے بھی مختلف طریقوں سے نقل کیا ہے، جس میں تھوڑا بہت لفظی اختلاف ہے۔ ان میں سے بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ جب حضوؐر تلاوت کرتے ہوئے آیت : فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِّثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ’’اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تمھیں عاد اور ثمود کے عذاب جیسے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں‘‘پر پہونچے تو عتبہ نے بے اختیار آپؐ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا، ’’خدا کے لیے اپنی قوم پر رحم کرو۔‘‘ بعد میں اس نے سرداران قریش کے سامنے اپنے اس فعل کی وجہ یہ بیان کی کہ ’’آپ لوگ جانتے ہیں، محمدؐ کی زبان سے جو بات نکلتی ہے وہ پوری ہوکر رہتی ہے۔ اس لیے میں ڈر گیا کہ کہیں ہم پر عذاب نازل نہ ہوجائے۔‘‘ ( تفہیم القرآن، ج ۴ ، حمٰ السجدہ : زمانہ نزول)
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ ابْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ، عَنِ الْاَجْلَحِ، عَنِ الزَّیَّالِ ابْنِ حَرْمَلَۃَ الْاَسَدِیِّ، عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: اِجْتَمَعَتْ قُرَیْشٌ یَوْمًا، فَقَالُوْا: اُنْظُرُوْا اَعْلَمَکُمْ بِالسِّحْرِ وَالْکَہَانَۃِ وَالشِِّعْرِ، فَلْیَاْتِ ہٰذَا الرَّجُلَ الَّذِیْ قَدْ فَرَّقَ جَمَاعَتَنَا وَشَتَّتَ اَمْرَنَا وَعَابَ دِیْنَنَافَلْیُکَّلِمْہُ وَلْنَنْظُرْمَاذَا یَرُدُّ عَلَیْہِ فَقَالُوْا: مَا نَعْلَمُ اَحَدًا غَیْرَعُتْبَۃَ بْنِ رَبِیْعَۃَ، فَقَالُوْا: اَنْتَ یَا اَبَاالْوَلِیْدِ، فَأتَاہُ عُتْبَۃُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ اَنْتَ خَیْرٌ اَمْ عَبْدُ اللّٰہِ؟ فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ۔ فَقَالَ:اَنْتَ خَیْرٌ اَمْ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ اِنْ کُنْتَ تَزْعُمُ اَنَّ ہٰؤُلَآئِ خَیْرٌ مِّنْکَ، فَقَدْ عَبَدُوْا الْاٰلِہَۃَ الَّتِیْ عَبَتَّ، وَاِنْ کُنْتَ تَزْعُمُ اَنَّکَ خَیْرٌ مِّنْہُمْ، فَتَکَلَّمْ حَتّٰی نَسْمَعَ قَوْلَکَ وَاِنَّا وَاللّٰہِ مَارَاَیْنَا سَخْلَۃً قَطُّ اَشْأَمَ عَلیٰ قَوْمِکَ مِنْکَ، فَرَّقْتَ جَمَا عَتَنَا وَشَتَّتَّ اَمْرَنَا وَعِبْتَ دِیْنَنَا وَفَضَحْتَنَا فِی الْعَرَبِ، حَتّٰی لَقَدْ طَارَفِیْہِمْ اَنَّ فِیْ قُرَیْشٍ سَاحِرًا وَأَنَّ فِیْ قُرَیْشٍ کَاہِنًا، وَاللّٰہِ مَا نَنْتَظِرُ اِلَّا مِثْلَ صَیْحَۃِ الجُبْلیٰ اَنْ یَّقُوْمَ بَعْضُنَا اِلیٰ بَعْضٍ بِالسُّیُوْفِ حَتّٰی نَتَفانیٰ اَیُّہَا الرَّجُلُ اِنْ کَانَ اِنَّمَا بِکَ الْحَاجَۃُ، جَمَعْنَا لَکَ حَتّٰی تَکُوْنَ اَغْنیٰ قُرَیْشٍ رَجُلًاوَاحِدًا، وَاِنْ کَانَ اِنَّمَا بِکَ الْبَائَ ۃُ، فَاخْتَرْاَیَّ نِسَآئِ قُرَیْشٍ شِئْتَ، فَلَنُزوِّجْکَ عَشْرًا۔
فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَرَغْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔حٰمٓ تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔حَتّٰی بَلَغَ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِّثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍوَّثَمُوْدَ۔ فَقَالَ عُتْبَۃُ:حَسْبُکَ حَسْبُکَ مَا عِنْدَ کَ غَیْرَ ہٰذَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لَا، فَرَجَعَ اِلٰی قُرَیْشٍ فَقَالُوْا: مَا وَرَائَ کَ؟ قَالَ: مَا تَرَکَتُ شَیْئًاأری اَنَّکُمْ تُکَلِّمُوْنَ بِہٖ اِلَّا کَلَّمْتُہٗ قَالُوْا: فَہَلْ اَجَابَکَ؟ قَالَ: نَعَمْ، لَاوَالَّذِیْ نَصَبَہَا بَنِیَّۃً مَا فَہِمْتُ شَیْئًا مِمَّا قَالَہٗ غَیْرَ اَنَّہٗ اَنْذَرَکُمْ صَاعِقَۃً مِثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَثَمُوْدَ، قَالُوْا: وَیْلَکَ یُکَلِِّمُکَ الرَّجُلُ بِالْعَرَبیَّۃِ لَاتَدْرِیْ مَاقَالَ؟ قَالَ: لآ وَاللّٰہِِ مَا فَہِمْتُ شَیْئًا مِمَّا قَالَ غَیْرَ ذِکْرِ الصَّاعِقَۃِ۔(۱۴)
ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن قریشی سرداروں کا اجتماع ہوا اور کہنے لگے کوئی ایسا شخص تلاش کرو جو سب سے زیادہ جادواور کہانت اور شعر کے فن سے واقف ہو۔ وہ اس شخص کے پاس جائے جس نے ہمارا نظم منتشر کردیا ہے اور ہمارے معاملے کو پارہ پارہ کردیا ہے اور ہمارے مذہب و دین کو معیوب قرار دیا ہے اس سے بات چیت کرے۔ ہم دیکھیں گے کہ وہ اس کا کیا جواب دیتا ہے۔ وہ بولے کہ عتبہ بن ربیعہ کے ماسوا تو ہمیں اور کوئی آدمی نظر نہیں آتا جو ان صفات سے متصف ہو۔ چنانچہ انھوں نے عتبہ سے مخاطب ہو کر کہا۔ اے ابوالولید! تم ہی یہ کام کر سکتے ہو۔ عتبہ آپؐ کے پاس آیا اور کہنے لگا۔ اے محمدؐ! بتائو تم بہتر ہو یا عبداللہ؟ یہ سن کر آپؐ خاموش رہے عتبہ نے پھر کہا۔ تم بہتر ہو یا عبدالمطلب ؟ نبی ﷺ پھر خاموش رہے۔ پھر کہنے لگا کہ اگر تمھارا یہ گمان ہے کہ یہ حضرات (عبداللہ اور عبدالمطلب) تم سے بہتر ہیں پھر تو یہ لوگ ان خدائوں کی عبادت کرتے تھے جن کا تم انکار کرتے ہو اور اگر تمھارا یہ خیال ہے کہ تم ان سے بہتر ہو تو پھر کہو ہم سنتے ہیں۔ بہ خدا ہم نے کبھی کوئی ایسا ذلیل شخص نہیں دیکھا جو تمھاری قوم کے لیے تم سے زیادہ باعث نحوست بنا ہو ۔ تو نے ہماری جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔ ہمارے دینی اتحاد کو پارہ پارہ کردیا ہے اور ہمارے دین کو معیوب ٹھہرایا ہے، عرب میں ہمیں رسوا کردیا ہے۔ حتیّٰ کہ اس قسم کی باتیں زبان زد عوام ہیں کہ قریش میں ایک ساحر پیدا ہوگیا ہے، قریش میں ایک کاہن پیدا ہوگیا ہے وغیرہ (اور اب معاملہ اس انتہا کو پہنچ گیا ہے کہ جس طرح بچہ پیدا ہونے میں حاملہ کی ایک چیخ کا انتظار ہوتا ہے) ہم بھی بس ایک چیخ کے منتظر ہیں جس کے بعد ہم تلواریں سونت کر ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑیں اور فناکے گھاٹ اترجائیں۔ اے شخص! اگر تمھیں مال و دولت کی ضرورت ہے تو ہم تمھارے لیے اتنا مال و دولت جمع کردیتے ہیں کہ تم قریش کے سب سے بڑے صاحب ثروت آدمی بن جائو، اگر تمھیں شادی کی خواہش و ضرورت ہے تو قریش کی کسی دوشیزہ کا انتخاب کرلو، ہم اس سے تمھارا نکاح کردیتے ہیں۔ ایک کیا دس قریشی دوشیزائیں بیاہ دیتے ہیں۔
آپؐ نے سب کچھ سن کر فرمایا ’’ کیا تم فارغ ہوگئے؟‘‘ اس نے کہا ہاں! مجھے جو کچھ کہنا تھا کہہ چکا۔
چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم سے اپنی گفتگو کا آغاز فرمایا۔ پھر حٰمٓ تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کی تلاوت شروع کی۔ جب آپؐ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِّثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍوَّثَمُوْدَ تک پہنچے تو عتبہ چلاّ اٹھا بس، بس۔ کیا اس کے سوا آپؐ کے پاس کچھ نہیں؟ فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ یہ سن کر عتبہ قریش کے پاس واپس آیا انھوں نے پوچھا: کیا ماجرا پیش آیا؟ اس نے بتایا میں نے تو کچھ بھی نہیں چھوڑا۔ جو باتیں تم نے کی تھیں وہ ساری باتیں میں نے ان سے کہہ دیں۔ انھوں نے پوچھا کیا اس نے آپ کی بات کا جواب دیا۔ بولا ہاں قسم ہے اس ذات کی جس نے خانہ کعبہ کو بلند کیا۔ اس نے جو کچھ کہا اس میں سے میں نے صرف اتنی بات سمجھی ہے کہ وہ تمھیں اس طرح کے عذاب سے خبردار کرتا ہے اور ڈراتا ہے جیسا عذاب عاد و ثمود پر آیا تھا۔
انھوں نے کہا افسوس ہے تم پر، وہ شخص عربی میں گفتگوکرتا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اس نے جو کچھ کہا ہے میں نہیں سمجھا۔ اس نے پھر کہا بہ خدا میں صاعقہ کے ذکر کے ماسوا اس کی بات ذرا نہیں سمجھا۔
(۲) عَنِ الزَّبَّالِ بْنِ حَرْمَلَۃَ، عَنْ جَابِِرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رضی اللّٰہُ عَنْہُ، وَذکرالحدیث الٰی قولہ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِّثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ۔ فَاَمْسَکَ عُتْبَۃُ عَلٰی فِیْہِ وَنَاشَدَہٗ بِالرَّحِمِ، وَرَجَعَ اِلٰی اَہْلِہٖ وَلَمْ یَخْرُجْ اِِلٰی قُرَیْشٍ وَاحْتَبَسَ عَنْہُمْ فَقَالَ اَبُوْجَہْلٍ:یَامَعْشَرَ قُرَیْشٍ! وَاللّٰہِِ مَانَریٰ عُتْبَۃَ اِلَّا قَدْ صَبَأ اِلیٰ مُحَمَّدٍ وَاَعْجَبَہٗ طَعَامُہٗ وَمَاذَاکَ اِلَّا مِنْ حَاجَۃٍ اَصَابَتْہُ، فَانْطَلِقُوْا بِنَا اِلَیْہِ فَانْطَلَقُوْا اِلَیْہِ فَقَالَ: اَبُوْجَہْلٍ: یَا عُتْبَۃُ مَا حَبَسَکَ عَنَّا اِلَّا اَنَّکَ صَبَأْتَ اِلیٰ مُحَمَّدٍ وَأعْجَبَکَ طَعَامُہٗ؟ فَاِنْ کانَتْ بِکَ حَاجَۃٌ جَمَعْنَا لَکَ مِنْ اَمْوَالِنَا مَا یُغْنِیْکَ عَنْ طَعَامِ مُحَمَّدٍ، فَغَضِبَ عُتْبَۃُ وَاَقْسَمَ اَنْ لاَیُّکَلِّمَ مُحَمَّدًا اَبَدًا قَالَ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ عَلِمْتُمْ اِنِّیْ مِنْ اَکْثَرِ قُرَیْشٍ مَالًا وَلٰکِنِّیْ اَتَیْتُہٗ وَقَصَصْتُ عَلَیْہِ الْقِِصَّۃَ فَاَجَابَنِیْ بِشَیٍٔ وَاللّٰہِ مَا ہُوَ بِشِعْرٍ وَلَآ کَہَانَۃٍ وَلَاسِحْرٍ وَقَرَأَ السُّوْرَۃَ اِلیٰ قَوْلِہٖ تَعَالیٰ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِّثْلَ صَاعِِقَۃِ عَادٍوَّثَمُوْدَ فَامْسَکْتُ بِفِیْہِ وَنَا شَدْتُّہٗ بِالرَّحِمِِ اَنْ یَّکُفَّ وَقَدْ عَلِمْتُمْ اَنَّ مُحَمَّدًا اِِذَا قَالَ شَیْئًا لَّمْ یَکْذِِبْ فَخَشِیْتُ اَنْ یَّنْزِلَ بِکُمُ الْعَذَابُ۔(۱۵)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے آیۂ کریمہ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃِ مِّثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ تلاوت فرمائی تو عتبہ نے آپؐ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور رحم کی درخواست کرنے لگا۔ گھر جاکر چھپ گیا اور قریش کے روبرو نہ ہوا۔ ابوجہل بولا اے قبیلۂ قریش بہ خدا ہمیں ایسا معلوم ہورہا ہے کہ عتبہ کا میلان محمدؐ کی جانب ہوگیا ہے اور اسے اس کا پیش کردہ کھانا لبھاگیا ہے ممکن ہے ایسا اس لیے ہوا ہو کہ اسے کسی قسم کی ضرورت لاحق ہوگئی ہو، آئو اس کے پاس چلیں۔ چنانچہ وہ سب عتبہ کی طرف گئے۔ ابوجہل بولا۔ اے عتبہ کیا محمدؐ کی طرف میلان نے ہم سے ملنے سے روک رکھا ہے۔ اس کی دعوت خوب پسند آئی۔ اگر تمھیں کوئی حاجت و ضرورت پیش آگئی ہے تو اپنے اموال میں سے اتنا کچھ جمع کیے دیتے ہیں کہ محمدؐ کے کھانے سے بے نیاز ہوجائو گے۔ اس پر عتبہ غضب ناک ہوا اور قسم کھائی کہ آئندہ کبھی محمد سے ہم کلام نہیں ہوں گا۔ پھر بولا خدا کی قسم! تمھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ قریش کے بہت سے لوگوں سے میرے پاس مال زیادہ ہے۔ میں اس (محمدؐ) کے پاس گیا اور اسے ساری روداد سنائی۔ اس نے جواب میں مجھے ایسا کلام سنایا جو کسی طرح بھی نہ شعر ہے نہ کہانت اور نہ جادو۔ اس نے فَاِنْ اَعْرَضُوْا سے لے کر مِثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ تک پڑھ کر سنایا تو میں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر بند کردیا اور رحم کی درخواست کی۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ محمدؐ جب کوئی بات کہہ دے تو وہ جھوٹی ثابت نہیں ہوتی ۔ مجھے اندیشہ لاحق ہوا مبادا تم پر عذاب نازل ہوجائے۔
(۳) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: وَحَدَّثَنِیْ یَزِیْدُ بْنُ زِیَآدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبِ نِالْقُرَظِیِّ قَالَ:حُدِّثْتُ اَنَّ عُتْبَۃَ بْنَ رَبِیْعَۃَ، وَکَانَ سَیِّدًا قَالَ یَوْمًا وَہُوَ جَالِسٌ فِی نَادِیِ قُرَیْشٍ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ جَالِسٌ فِیْ الْمَسْجِدِ وَحْدَہٗ: یَامَعْشَرَقُرَیْشٍ! اَلَا اَقُوْمَ اِلیٰ مُحَمَّدٍ فَاُکَلِّمَہٗ وَاَعْرِضَ عَلَیْہِ اُمُوْرًا لَعَلَّہٗ یَقْبَلُ بَعْضَہَا فَنُعْطِیْہِ اَیَّہَا شَائَ وَ یَکُفَّ عَنَّا؟ وَذٰلِکَ حِیْنَ اَسْلَمَ حَمْزَۃُ، وَرَأَوْا اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَزِیْدُوْنَ وَیَکْثُرُوْنَ، فَقَالُوْا: بَلٰی یَا اَبَاالْوَلِیْدِ! قُمْ اِلَیْہِ فَکَلِّمْہُ، فَقَامَ اِلَیْہِ عُتْبَۃُ حَتّٰی جَلَسَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ : یَابْنَ اَخِیْ، اِنَّکَ مِنَّا حَیْثُ قَدْ عَلِمْتَ مِنَ السِّطَّۃِِ فِی الْعَشِیْرَۃِ، وَالْمَکَانِ فِی النَّسَبِ، وَاِنَّکَ قَدْ اَتَیْتَ قَوْمَکَ بِاَمْرٍ عَظِیْمٍ فَرَّقْتَ بِہٖ جَمَاعَتَہُمْ وَسَفَّہْتَ بِِہٖٖ اَحْلَامَہُمْ ، وَعِِبْتَ بِہٖ اٰلِھَتَھُمْ وَدِیْنَھُمْ وَکَفَّرْتَ بِہ مَنْ مَضیٰ مِنْ اٰبَائِہِمْ، فَاسْمَعْ مِنِّیْ اَعْرِضُ عَلَیْکَ اُمُوْرًا تَنْظُرْ فِیْہِ لَعَلَّکَ تَقْبَلُ مِنْہَا بَعْضَہَا قَالَ: فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قُلْ یَا اَبَاالْوَلِیْدِ، اَسْمَعُ قَالَ: یَابْنَ اَخِیْ ! اِنْ کُنْتَ اِنَّمَا تُرِِیْدُ بِمَا جِئْتَ بِِہٖ مِنْ ہٰذَا الْاَمْرِ مَالًا، جَمَعْنَا لَکَ مِنْ اَمْوَالِنَا حَتّٰی تَکُوْنَ اَکْثَرَنَا مَالًا، وَاِِنْ کُنْتَ تُرِیْدُ بِہٖ شَرَفًا، سَوَّدْنَاکَ عَلَیْنَا حَتّٰی لَا نَقْطَعَ اَمَرًا دُوْنَکَ، وَاِنْ کُنْتَ تُرِیْدُ بِہٖ مُلْکًا، مَلَّکْنٰکَ عَلَیْنَا، وَاِنْ کَانَ ہٰذَا الَّذِیْ یَأْتِیْکَ رَئِیَّا ( ما یتراء ی للا نسان من الجن۔) تَرَاہُ لَاتَسْتَطِیْعُ رَدَّہٗ عَنْ نَّفْسِکَ، طَلَبْنَا لَکَ الطِّبَّ وَبَذَلْنَا فِیْہِ اَمْوَالَنَاحَتّٰی نُبْرِئَکَ مِنْہُ فَاِنَّہٗ رُبَمَا غَلَبَ التَّابِعُ عَلَی الرَّجُلِ حَتّٰی یُدَاوَی مِنْہُ اَوْ کَمَاقَالَ لَہٗ حَتّٰی اِذَا فَرَغَ عُتْبَۃُ وَرَسُوْلُ اللّہِ ﷺ یَسْتَمِعُ مِنْہُ قَالَ: أَقَدْ فَرَغْتَ یَا اَبَا الْوَلِیْدِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاسْمَعْ مِنِّیْ، قَالَ: اِفْعَلْ، فَقَالَ:بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔حٰمٓ تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کِتَابٌ فُصِّلَتْ اٰیَاتُہٗ قُرْآنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا فَاَعْرَضَ اَکْثَرُہُمْ فَہُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِی اَکِنَّۃٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَیْہِ ثُمَّ مَضیٰ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْہَا یَقْرَؤُہَا عَلَیْہِ فَلَمَّا سَمِعَ مِنْہُ عُتْبَۃُ اَنْصَتَ لَہَا وَاَلْقیٰ یَدَیْہِ خَلْفَ ظَہْرِہٖ مُعْتَمِدًا عَلَیْہِمَا یَسْمَعُ مِنْہُ ثُمَّ انْتَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلیٰ السِّجْدَۃِ مِنْہَافَسَجَدَ ثُمَّ قَالَ: قَدْ سَمِعْتَ یَا اَبَاالْوَلِیْدِ مَا سَمِعْتَ، فَاَنْتَ وَذَاکَ۔ فَقَامَ عُتْبَۃُ اِلیٰ اَصْحَابِہٖ فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: نَحْلِفُ بِاللّٰہِ لَقَدْ جَآئَ کُمْ اَبُوالْوَلِیْدِ بِغَیْرِ الْوَجْہِ الَّذِیْ ذَہَبَ بِہٖ فَلَمَّا جَلَسَ اِلَیْہِمْ قَالُوْا : مَا وَرَائَ کَ یَا اَبَا الْوَلِیْدِ؟ قَالَ: وَرَانِیْ اِنِّیْ سَمِعْتُ قَوْلًا وَاللّٰہِ مَاسَمِعْتُ مِثْلَہٗ قَطُّ وَاللّٰہِ مَا ہُوَ الشِّعْرُ وَلَا بِالسِّحْرِ وَلَا بِالْکَہَانَۃِ، یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ اَطِیْعُوْنِیْ واجْعَلُوْہَا بِیْ وَخَلُّوْا بَیْنَ ہٰذَا الرَّجُلِ وَبَیْنَ مَا ہُوَ فِیْہِ فَاعْتَزِلُوْہُ فَوَاللّٰہِ لَیَکُوْنَنَّ لِقَوْلِہِ الَّذِیْ سَمعْتُ مِنْہُ نَبَأٌعَظِیْمٌ فَاِنْ تُصِبْہُ الْعَرَبُ فَقَدْ کَفَیْتُمُوْہُ بِغَیْرِکُمْ وَاِنْ یَظْہَرْعَلَی الْعَرَبِ، فَمُلْکُہٗ مُلْکُکُم وَعِزُّہٗ عِزُّکُمْ وَکُنْتُمْ اَسْعَدَ النَّاسِ بِہٖ۔ قَالُوْا:سَحَرَکَ وَاللّٰہ یَا اَبَالْوَلِیْدِ بِلِسَانِہٖ، قَالَ: ہٰذَا رَاْئِیْ فِیْہِ فَاصْنَعُوْا مَابَدَالَکُمْ۔ (۱۶)
ترجمہ : حضرت محمد بن کعب قرظی سے مروی ہے ان کا بیان ہے کہ مجھے بتایا گیا کہ عتبہ بن ربیعہ بڑا معتبر سردار تھا۔ ایک دن وہ قریش کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اور رسول اللہ ﷺ مسجد میں تنہا تشریف فرماتھے۔عتبہ بولا۔ اے اہل قریش ! کیا میں محمد (ﷺ) کے پاس نہ جائوں کہ ان سے بات کروں اور چند باتیں ان کے سامنے غور و فکر کے لیے رکھوں شاید ان میں سے کچھ ان کے لیے قابل قبول ہوں تو ہم انھیں ان کی پسند کے مطابق وہ (مراعات) دے دیں۔ اس طرح وہ ہمارے درپے ہونے سے باز آجائے۔ یہ اس موقع کی بات ہے جب حضرت حمزہؓ دائرۂ اسلام میں داخل ہوچکے تھے اور انھیں نظر آرہا تھا کہ محمدؐ کے ساتھی روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہاں ، اے ابوالولید! اٹھو جاکر ان سے بات کرو۔عتبہ آپؐ کے پاس گیا اور آپؐ کے قریب بیٹھ کر کہنے لگا بھتیجے ہمارے خاندان میں جو بزرگی اور شرف تمھیں حاصل ہے اس کا تمھیں بہ خوبی علم ہے اور نسب کے لحاظ سے جو مقام خاندان میں تمھارا ہے اسے بھی تم جانتے ہو۔ تم نے قوم کو ایک بڑے المیے سے دو چار کردیا ہے۔ جس سے ان کا شیرازہ بکھر گیا ہے انھیں بیوقوف اور بے عقل ٹھہرایا ہے۔ ان کے معبودوں کو برا کہا ہے۔ ان کے گزشتہ آبائو اجداد کو کافر قرار دیا ہے۔ لہٰذا میری بات ذرا غور سے سنو۔ میں چند باتیں تمھارے سامنے رکھتا ہوں، تم ان پر غور کرلو شاید ان میں سے کچھ تمھارے لیے قابل قبول ہوں۔ یہ سب سننے کے بعد آپؐ نے عتبہ سے کہا اے ابوالولید کہو۔ میں ضرور سنو ں گا۔ بولا بھتیجے جو پیغام دعوت تو لے کر آیا ہے اس کا مقصد اگر مال و دولت کمانا ہے تو ہم اپنے ذاتی اموال میں سے اتنا مال جمع کردیتے ہیں کہ تم ہم میں سے سب سے زیادہ صاحب مال ہوجائو۔ اوراگر اس سے تم شرف و بزرگی حاصل کرنا چاہتے ہو تو ہم تمھیں اپنا سردار بنالیتے ہیں۔ تمھارے اشارۂ ابرو کے بغیر ہم کوئی فیصلہ نہ کیا کریں گے۔ اگر اس سے تمھارا مقصد بادشاہ بننا ہے تو ہم تم کو اپنا بادشاہ بنالیتے ہیں اور اگر تمھیں جن بھوت کی شکایت ہے جسے تم اپنے آپ سے دور نہیں کرسکتے تو ہم تمھارے علاج کے لیے کسی طبیب کو بلوالیتے ہیں۔ اس کے مصارف اس وقت تک ہم خود برداشت کرتے رہیں گے جب تک تم صحت یاب نہ ہوجائو۔بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی کا تابع (ہمزاد) اس پر غالب آجاتا ہے تو اس کا علاج معالجہ کرنا پڑتا ہے۔ جب تک عتبہ نے اپنی بات نہیں کرلی آپؐ بغور اس کی باتیں سنتے رہے۔ پھر پوچھا اے ابوالولید فارغ ہوگئے؟ اس نے کہا ہاں۔ آپؐنے فرمایا:’’اچھا اب میری سنو۔‘‘بولا سنائو۔ آپؐ نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سے گفتگو کا آغاز فرمایا اور حٰمٓ تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کِِتَابٌ فُصِّلَتْ اٰیَاتُہٗ الخ پڑھنا شروع کی۔ آپ پڑھتے رہے اور عتبہ کمر کے پیچھے دونوں ہاتھوں کے سہارے بیٹھا سنتا رہا۔ جب آپؐ سجدہ کی آیت پر پہنچے تو سجدہ کیا اور فرمایا:
’’ابوالولید! جو کچھ آپ نے سنا بس میرے پاس یہی ہے۔ اب فیصلہ تمھارے ہاتھ میں ہے۔‘‘ عتبہ آپؐ کے پاس سے اٹھ کر اپنے ساتھیوں کی جانب چلا تو اسے آتا دیکھ کر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ خدا کی قسم ! ابوالولید کا وہ چہرہ نہیں ہے جو وہ لے کر گیا تھا۔ جب وہ ان کے پاس بیٹھ گیا تو پوچھنے لگے۔ ابوالولید! تم کیا کرکے آئے ہو۔اس نے کہا کہ میرا ماجرا یہ ہے کہ میں نے ایسا کلام سنا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں سنا۔ خدا کی قسم! وہ کلام نہ تو شعر ہے اور نہ جادو اور کہانت ۔ سرداران قریش ! میری بات مانو اور اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو اور اس سے الگ رہو۔ خدا کی قسم! جو کلام میں نے اس کی زبان سے سنا ہے وہ ایک دن کسی بڑی عظیم خبر کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔اور اگر اہل عرب اس پر غالب آگئے تو تمھارے کچھ کیے بغیر ہمیں اس سے نجات مل جائے گی اور اگر وہ ان پرغالب آگیا تو اس کی بادشاہی تمھاری بادشاہی ہوگی۔اس کی عزت تمھاری عزت ہوگی اور اس کی وجہ سے تم لوگوں میں سب سے زیادہ خوش بخت و سعادت مند ہوجائو گے۔ یہ سن کر وہ بولے ابوالولید! خدا کی قسم! تم پر بھی اس کی زبان کا جادو چل گیا ہے۔ ابوالولید نے جواب دیا یہ میری رائے تھی جو میں نے تمھارے سامنے رکھ دی۔ اب تمھاری سمجھ میں جو آئے سو کرو۔

ابوجہل کی بے ہودگیاں

۵۳۔ حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ ابوجہل نے قریش کے لوگوں سے پوچھا ’’کیا محمد (ﷺ) تمھارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹکاتے ہیں؟‘‘ لوگوں نے کہا ہاں۔ اس نے کہا ’’لات اور عزّیٰ کی قسم! اگر میں نے ان کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پائوں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا۔‘‘ پھر ایسا ہوا کہ حضورؐ کو نماز پڑھتے دیکھ کر وہ آگے بڑھاتاکہ آپؐ کی گردن پر پائوں رکھے مگر یکایک لوگوں نے دیکھا کہ وہ پیچھے ہٹ رہا ہے اور اپنا منہ کسی چیز سے بچانے کی کوشش کررہا ہے۔ اُس سے پوچھا گیا کہ یہ تجھے کیا ہوگیا؟ اس نے کہا کہ میرے اور ان کے درمیان آگ کی ایک خندق اور ایک ہولناک چیز تھی اور کچھ پر تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ میرے قریب پھٹکتا تو ملائکہ اس کے چیتھڑے اُڑادیتے۔ ۱؎
تخریج: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُعَاذٍ وَمُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ الْاَعْلیٰ الْقَیْسِیُّ، قَالاَ: نَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ نُعَیْمُ بْنُ اَبِیْ ہِنْدٍ، عَنْ اَبِی حَازِمٍ۔ عَنْ ابِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ اَبُوْ جَہْلٍ: ہَلْ یُعَفِِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْہَہٗ بَیْنَ اَظْہُرِکُمْ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ وَاللَّاتِ وَالعُزّٰی لَئِن رَأَیْتُہٗ یُصَلِّیْ کَذٰلِکَ لَأَطَأَنَّ عَلیٰ رَقَبَتِہٖ وَلَأَعْفِرَنَّ وَجْہَہٗ فِی التُّرَابِ، فَاَتیٰ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ یُصَلِّیْ لِیَطَأَ عَلیٰ رَقَبَتِہٖ، قَالَ: فَمَا فَجَأَ ہُمْ مِنْہُ اِلَّاوَہُوَ یَنْقُصُ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَیتَّقِیْ بِیَدَیْہِ قَالَ: فَقِیْلَ لَہٗ مَا لَکَ؟ فَقَالَ اِنَّ بَیْنِیْ وَبَیْنَہٗ خَنْدَقًا مِنْ نَّارٍ وَہَوْلًا وَاَجْنِحَۃً۔ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَوْدَنَا مِِنِّیْ لاَخْتَطَفَتْہُ الْمَلَائِکَۃُ عُضْوًا عُضْوًا۔ (۱۷)
۵۴۔ابن عباس کی روایت ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں نے محمد ﷺ کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے دیکھ لیا تو ان کی گردن پائوں تلے دبادوں گا۔ نبی ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپؐ نے فرمایا کہ اگر اس نے ایسا کیا تو ملائکہ علانیہ اسے آپکڑیں گے۔ ۲؎
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا یَحْیٰ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیْمِ الْجَزْرِیِّ، عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ اَبُوْ جَہْلٍ، لَئِنْ رَأَیْتُ مُحَمَّدًا یُصَلِّیْ عِنْدَ الْکَعْبَۃِ لَأَطَأَنَّ عَلیٰ عُنُقِہٖ فَبَلَغَ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ: لَوْ فَعَلَہٗ لَاَخَذَتْہُ الْمَلَائِکَۃُ۔ (۱۸)
ترجمہ:ابن عباس کی روایت ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں نے محمد ﷺ کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے دیکھ لیا تو ان کی گردن پائوں تلے دبادوں گا۔ نبی ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپؐ نے فرمایا’’ اگر اس نے ایسا کیا تو ملائکہ علانیہ اسے آپکڑیں گے۔‘‘
(۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ اَبُوْجَہْلٍ: لَئِنْ عَادَ مُحَمَّدٌ یُصَلِّیْ عِنْدَ الْمَقَامِ لَاَقْتُلَنَّہٗ۔ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِِقْرَأْ بِِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ حَتّٰی بَلَغَ ہٰذِہِ الْاٰیَۃَ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِیَۃِ نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ فَلْیَدْعُ نَادِیَۃَ سَنَدْعُ الزَّبَانِیَّۃَ۔ فَجَآئَ النَّبِیُّ ﷺ فَصَلّٰی فَقِیْلَ مَا یَمْنَعُکَ؟ قَالَ: قَدِاسْوَدَّ مَا بَیْنِیْ وَبَیْنَہٗ مِنَ الْکَتَائِبِ۔ (۱۹)
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَاللّٰہِ لَوْ تَحَرَّکَ لَاَخَذَتْہُ الْمَلَائِکَۃُ وَالنَّاسُ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْہِ۔
ترجمہ :حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ ابوجہل بولا اگر محمدؐ نے مقام ابراہیم پر دو بارہ نماز پڑھی تو میں اسے لازماً قتل کرڈالوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ علق کی آیات اِقْرَأْ بِاسمِ رَبِِّکَ سے سَنَدْعُ الزَّبَانِیَّۃَ تک نازل فرمائیں۔ نبی ﷺ فوراً وہاں تشریف لے گئے اور نماز ادا کی۔ ابوجہل سے کسی نے پوچھا کس چیز نے تجھے باز رکھا؟ بولا میرے اور اس کے درمیان بے شمار لشکر حائل ہوگئے۔
ابن عباس کا قول ہے کہ اگر یہ ذرا بھی حرکت کرتا تو ملائکہ اسے دبوچ لیتے اور لوگ اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھتے۔
۵۵۔ ابن عباسؓ کی ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مقام ابراہیم پر نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوجہل کاادھر سے گزر ہوا تو اس نے کہا اے محمدؐ، کیا میں نے تم کو اس سے منع نہیں کیا تھا؟ اور اس نے آپؐ کو دھمکیاں دینی شروع کیں۔ جواب میں رسول اللہ ﷺ نے اس کو سختی کے ساتھ جھڑک دیا۔ اس پر اس نے کہا اے محمدؐ! تم کس بل پر مجھے ڈراتے ہو۔ خدا کی قسم! اس وادی میں میرے حمایتی سب سے زیادہ ہیں۔ (احمد، ترمذی، نسائی ، ابن جریر، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر ، طبرانی، ابن مردویہ)
تشریح : اس سلسلے میں کئی احادیث حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہیں جن میں ابوجہل کی ان بیہودگیوں کا ذکر کیا گیاہے۔
معلوم ایسا ہوتا ہے کہ نبی ہونے کے بعد قبل اس کے کہ حضورؐ اسلام کی علانیہ تبلیغ کا آغاز کرتے ، آپؐ نے حرم میں اس طریقے پر نماز ادا کرنی شروع کردی جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو سکھائی تھی، اور یہی وہ چیز تھی جس سے قریش نے پہلی مرتبہ یہ محسوس کیا کہ آپؐ کسی نئے دین کے پیرو ہوگئے ہیں۔ دوسرے لوگ تو اسے حیرت ہی کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے، مگر ابوجہل کی رگ جاہلیت اس پر پھڑک اٹھی اور اس نے آپ کو دھمکانا شروع کردیا کہ اس طریقے پر حرم میں عبادت نہ کریں۔
(تفہیم القرآن، ج۶، العلق: دوسرے حصے کی۔۔۔)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ کُرَیْبٍ، قَالَ: ثَنَا الْحَکَمُ بْنُ جُمَیْعٍ، قَالَ: ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ جَمِیْعًا عَنْ دَاؤُدَ بْنِ اَبِی ہِنْدٍ عَنْ عِِکْرِمَۃَ عَنِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُصَلِّی عِنْدَ الْمَقَامِ، فَمَرَّبِہٖ اَبُوْجَھْلِ ابْنُ ہِِشَامٍ فَقَال: یَامُحَمَّدُ، اَلَمْ اَنْہَکَ عَنْ ہٰذَا؟ وَتَوَعَّدَہٗ فَاغْلَظَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَانْتَہَرَہٗ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! بِاَیِّ شَیٍْٔ تُہَدِّدُنِیْ؟ اَمَاوَاللّٰہِ اِنِّیْ لَاَکْثَرُہٰذَا الْوَادِیْ نَادیًا، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ فَلْیَدْعُ نَادِیَہْ سَنَدْعُ الزَّبَانِیْہ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَوْدَعَا نَادِیَہٗ لَاَخَذَتْہُ مَلَائِکَۃُ الْعَذَابِ مِنْ سَاعَتِہٖ۔(۲۰)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہ بْنُ سَعِیْدِ الْاَشَجُّ، نَاابُوْخَالِِِدٍ نِالْاَحْمَدُ عَنْ دَاؤدَ بْنِ اَبِیْ ہِنْدٍ، عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُصَلِّیْ فَجَائَ اَبُوْ جَہْلٍ فَقَالَ: اَلَمْ اَنْہَکَ عَنْ ہٰذَا؟ اَلَمْ اَنْہَکَ عَنْ ہٰذَا؟ اَلَمْ اَنْہَکَ عَنْ ہٰذَا؟ فَانْصَرَفَ النَّبِیُّ ﷺ فَزَجَرَہٗ فَقَالَ اَبُوْجَہْلٍ: اِنَّکَ لَتَعْلَمُ مَا بِہَا نَادٍ اَکْثَرَ مِنِّیْ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَلْیَدْعُ نَادِیَۃَ سَنَدْعُ الزَّبَانِیَۃَ۔ (۲۱)
قَالَ ابْنُ عَبّاسٍ: وَاللّٰہِ لَوْدَعَا نَادِیَہْ لَاَخَذَتْہُ زَبَانِیَّۃُ اللّٰہِ۔
ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ غَرِیْبٌ صَحِیْحٌ وَفِیْہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ۔

کفار مکہ کی مخالفانہ روش میں شدّت

۵۶۔ جب کفار مکہ کی مخالفانہ روش شدید سے شدید تر ہوتی چلی گئی تو نبی ﷺ نے دعا کی کہ خدایا! یوسف ؑ کے قحط جیسے ایک قحط سے میری مدد فرما۔
تشریح :حضورؐ کا خیال یہ تھا کہ جب ان لوگوں پر مصیبت پڑے گی تو انھیں خدا یاد آئے گا اور ان کے دل نصیحت قبول کرنے کے لیے نرم پڑجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی دعا قبول فرمائی اور سارے علاقے میں ایسے زور کا قحط پڑاکہ لوگ بلبلا اٹھے۔ آخر کار بعض سردارانِ قریش ، جن میں حضرت عبداللہ ؓ بن مسعود نے خاص طورپر ابوسفیان کا نام لیا ہے حضورؐ کے پاس آئے اور آپؐ سے درخواست کی کہ اپنی قوم کو اس بلا سے نجات دلانے کے لیے اللہ سے دعا کریں۔
حضورؐ نے (قحط کی) دعا اس خیال سے کی تھی کہ مصیبت پڑے گی تو کفار کی اکڑی ہوئی گردنیں ڈھیلی پڑجائیںگی، شاید کہ پھر حرف نصیحت ان پر کارگر ہو۔ یہ توقع اس وقت کسی حد تک پوری ہوتی نظر آرہی تھی، کیونکہ بڑے بڑے ہیکٹر دشمنان حق کال کے مارے پکاراٹھے تھے کہ پروردگار، یہ عذاب ہم پر سے ٹال دے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ اس پر (سورہ دخان میں) نبیﷺ سے فرمایا گیا کہ ایسی مصیبتوں سے یہ لوگ کہاں سبق لینے والے ہیں، انھوں نے جب اس رسول کی طرف سے منہ موڑ لیا جس کی زندگی سے، جس کے کردار سے اور جس کے کام اور کلام سے علانیہ ظاہر ہورہا ہے کہ وہ یقینا خدا کا رسول ہے، تو اب محض ایک قحط ان کی غفلت کیسے دور کردے گا۔ دوسری طرف کفار کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ تم بالکل جھوٹ کہتے ہو کہ یہ عذاب تم پر سے ٹال دیا جائے تو تم ایمان لے آئو گے۔ ہم اس عذاب کو ہٹائے دیتے ہیں، ابھی معلوم ہوا جاتا ہے کہ تم اپنے اس وعدے میں کتنے سچے ہو۔ تمھارے سر پر تو شامت کھیل رہی ہے۔ تم ایک بڑی ضرب مانگ رہے ہو، ہلکی چوٹوں سے تمھارا دماغ درست نہیں ہوگا۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الدخان: موضوع اور مباحث)
تخریج: حَدَّثَنَا بِشْرُبْنُ خَالِدٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ سُلَیْمَانَ وَمَنْصُوْرٍ، عَنْ اَبِی الضُّحیٰ عَنْ مَسْرُوْقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُاللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ بَعَثَ مُحَمَّدًا ﷺ وَقَالَ: قُلْ مَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ وَمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِِّفِیْنَ ـــــــ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لَمَّا رَاٰی قُرَیْشَاً نِِاسْتَعْصَوْا عَلَیْہِ فَقَالَ:اَللّٰہُمَّ اَعِنِّیْ عَلَیْہِمْ بِسَبْعٍ کَسَبْعِ یُوْسُفَ، فَاَخَذَتْہُمُ السَّنَۃُ حَتّٰی حَصَّتْ کُلَّ شَیٍْٔ حَتّٰی اَکَلُوْا الْعِظَامَ وَالْجُلُوْدَ فَقَالَ اَحَدُہُمْ: حَتّٰی اَکَلُوا الْجُلُوْدَ وَالْمَیْتَۃَ وَجَعَلَ یَخْرُجُ مِنَ الْاَرْضِ کَہَیْئَۃِ الدُّخَانِ فَاَتَاہُ اَبُوْسُفْیَانَ فَقَالَ: اَیْ مُحَمَّدُ اِنَّ قَوْمَکَ قَدْ ہَلَکُوْا فَادْعُ اللّٰہَ اَنْ یَّکْشِفَ عَنْہُمْ فَدَعَا۔ الحدیث۔ (۲۲)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا اور حکم دیا کہ لوگوں سے کہہ دو کہ اس (تبلیغ رسالت)پر تم سے کسی قسم کا اجر نہیں مانگتا۔ اور میں بناوٹی لوگوں میں سے بھی نہیں ہوںـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ جب رسول اللہ ﷺ نے دیکھاکہ قریش مکہ نے آپؐ کی مخالفت میں شدت اختیار کرلی ہے تو آپؐ نے دعا فرمائی: خدایا یوسف ؑ کے قحط جیسے ایک قحط سے ان کے خلاف میری مدد فرما۔ چنانچہ دعا قبول ہوئی اور ان کو قحط نے آدبوچا (قحط سالی اتنی شدید تھی) کہ اس نے ہر چیز کا صفایا کردیا نوبت بایں جارسید کہ لوگ ہڈیاں اور چمڑے تک کھاگئے۔
ایک راوی کا بیان ہے کہ لوگوں نے چمڑے اور مردار تک کھالیے ہیں اور شدت بھوک کی وجہ سے زمین سے دھواں سا نکلتا دکھائی دینے لگا تو ابوسفیان نے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ اے محمد (ﷺ) تیری قوم فاقوں سے ہلاک ہورہی ہے اللہ سے دعا کر کہ وہ اس حالت کو دور فرمادے۔ چنانچہ آپؐ نے بارگاہ رب العزت میں دعا فرمائی۔

کفار مکہ کی طرف سے سمجھوتے کی پیشکش

۵۷۔ حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا ہم آپؐ کو اتنا مال دیے دیتے ہیں کہ آپؐ مکہ کے سب سے زیادہ دولت مند آدمی بن جائیں، آپؐ جس عورت کو پسند کریں اس سے آپ کی شادی کیے دیتے ہیں، ہم آپؐ کے پیچھے چلنے کے لیے تیار ہیں، آپؐ بس ہماری یہ بات مان لیں کہ ہمارے معبودوں کی برائی کرنے سے باز رہیں۔ اگر یہ آپؐ کو منظور نہیں تو ہم ایک اور تجویز آپؐ کے سامنے پیش کرتے ہیں جس میں آپؐ کی بھی بھلائی ہے اور ہماری بھی۔ حضوؐر نے پوچھا وہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا ایک سال آپؐ ہمارے معبودوں لات اور عزیٰ کی عبادت کریں اور ایک سال ہم آپؐ کے معبود کی عبادت کریں۔ حضورؐ نے فرمایا اچھا، ٹھیرو، میں دیکھتا ہوں کہ میرے رب کی طرف سے کیا حکم آتا ہے۔ اس پر وحی نازل ہوئی قُلْ یَا اَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ۔۔۔الخ اور یہ کہ قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰہِ تَاْمُرُوْنِیّْ اَعْبُدُ اَیُّہَا الْجٰہِِلُوْنَ (الزُّمَر: ۶۴) ’’اُن سے کہو، اے نادانو! کیا تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ اللہ کے سوا میں کسی اور کی عبادت کروں؟‘‘ (ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی)
تخریج: حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ مُوْسَی الْحَرْشِیُّ، قَالَ:ثَنَا اَبُوْ خَلْفٍ، قَالَ: ثنا دَاؤُدُ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اِنَّ قُرَیْشًا وَعَدُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَنْ یُعْطَوْہُ مَالًا فَیَکُوْنُ اَغْنیٰ رَجُلٍ بِمَکَّۃَ وَیُزَوِّجُوْہُ مَا اَرَادَ مِنَ النِّسَآئِ وَیَطَئُوْا عَقَبَہٗ فَقَالُوْا لَہٗ ہٰذَا لَکَ عِنْدَنَا یَا مُحَمَّد وَکُفَّ عَنْ شَتْمِ اٰلِہَتِنَا فَلَا تَذْکُرْہَا بِسُوْئٍ فَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَاِنَّا نَعْرِضُ عَلَیْکَ خَصْلَۃً وَاحِدَۃً فَہِیَ لَکَ وَلَنَا فِیْہَا صَلَاحٌ قَالَ: مَاہِیَ؟ قَالُوْا: تَعْبُدُ اٰلِہَتِنَا سَنَۃً اللَّاتَ وَالْعُزّٰی، وَنَعْبُدُ اِلٰہَکَ سَنَۃً، قَالَ: حَتّٰی اَنْظُرَ مَایَاْتِیْ مِنْ عِنْدِ رَبِِّیْ فَجَائَ الْوَحْیُ مِنَ اللَّوْحِ الْمَحْفُوْظِ قُلْ یَا اَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ السُّوْرَۃ وَ اَنْزَلَ اللّٰہُ قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰہِ تَاْ مُرُوْنِّیْ اَعْبُدُ اَیُّہَا الْجٰہِلُوْنَ اِلیٰ قَوْلِہٖ فَاعْبُدْ وَکُنْ مِنَ الشَّاکِرِیْنَ۔(۲۳)
۵۸۔ سعید بن مینا (ابوالبختری کے آزاد کردہ غلام ) کی روایت ہے کہ ولید بن مغیرہ ، عاص بن وائل، اسود بن المطلب اور ا میہ بن خلف رسول اللہ ﷺ سے ملے اور آپؐ سے کہا۔اے محمدؐ! آئو ہم تمھارے معبود کی عبادت کرتے ہیں اور تم ہمارے معبودوں کی عبادت کرو اور ہم اپنے سارے کاموں میں تمھیں شریک کیے لیتے ہیں۔اگر وہ چیز جو تم لے کر آئے ہو اس سے بہتر ہوئی جو ہمارے پاس ہے تو ہم تمھارے ساتھ اس میں شریک ہوں گے اور اپنا حصہ اس سے پالیں گے۔ اور اگر وہ چیز جو ہمارے پاس ہے اس سے بہتر ہوئی جو تم لائے ہو تو تم ہمارے ساتھ اس میں شریک ہوگے اور اس سے اپنا حصہ پالوگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل فرمائی کہ قُلْ یَا اَیُّہَا الْکٰـفِرُوْنَ۔۔۔ (ابن جریروابنِ ابی حاتم، ابن ہشام نے بھی سیرت میں اس واقعہ کو نقل کیا ہے)۔
تخریج: حَدَّثَنِیْ یَعْقُوْبُ، قَالَ: ثنابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ ثَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ مِیْنَائَ مَوْلَی الْبَخْتَرِیِّ قَالَ: لَقِیَ الْوَلِیْدُبْنُ الْمُغِیْرَۃِ وَالْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ وَالْاَسْوَدُبْنُ مُطَّلِبِ وَاُمَیَّۃُ بْنُ خَلَفٍ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالُوْا: یَا مُحَمَّدُ ہَلُمَّ فَلْنَعْبُدْ مَا تَعْبُدْ وَتَعْبُدُ مَانَعْبُدُ وَنُشْرِکَکَ فِیْ اَمْرِنَا کُلِّہٖ فَاِنْ کَانَ الَّذِیْ جِئْتَ بِہٖ خَیْرًا مِمَّا بِاَیْدِیْناَ کُنَّا قَدْ شَرَکْنَاک فِیْہِ وَاَخَذْنَا بِحَظِّنَا مِنْہُ وَاِنْ کَانَ الَّذِِیْ بِاَیْدِینَا خَیْرًا مِمَّا فِیْ یَدَیْکَ کُنْتَ قَدْ شَرَکْتَنَا فِیْ اَمْرِنَا وَاَخَذْتَ مِنْہُ بِحَظِّکَ فَاَنْزلَ اللّٰہُ قُلْ یٰٓاَیُّہَاالْکٰفِرُوْنَ حَتّٰی انْقَضَّتِ السُّوْرَۃُ۔(۲۴)
۵۹۔ ابن عباسؓ کی ایک اور روایت یہ ہے کہ قریش کے لوگوں نے حضورؐ سے کہا ’’اے محمدؐ! اگر تم ہمارے معبودوں کو چوم لو تو ہم تمھارے معبود کی عبادت کریں گے۔‘‘ اس پر سورہ (الْکفِرُوْن) نازل ہوئی۔ (عبدبن حمید)
تخریج: اَخْرَجَ عَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ وابْنُ الْمُنْذِرِ وَابْنُ مَرْدُوَیْہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ قُرَیْشًا قَالَتْ لَوْ اِسْتَلَمْتَ آلِہَتَنَا لَعَبَدْنَا اِلٰہَکَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ قُلْ یٰٓاَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ السورۃ کلہا۔ (۲۵)

اہل ایمان کے لیے مصائب و آلام کا دور

۶۰۔ حضرت خباب بن ارت فرماتے ہیں کہ جس زمانے میں مشرکین کی سختیوں سے ہم بری طرح تنگ آئے ہوئے تھے، ایک روز میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ کعبہ کی دیوار کے سائے میں تشریف رکھتے ہیں۔ میں نے حاضر ہو کر عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ ہمارے لیے دعانہیں فرماتے؟ یہ سن کر آپؐ کا چہرہ جوش اور جذبے سے سرخ ہوگیا اور آپؐ نے فرمایا، تم سے پہلے جو اہل ایمان گزرچکے ہیں ان پر اس سے زیادہ سختیاں توڑی گئی ہیں۔ ان میں سے کسی کو زمین میں گڑھا کھود کر بٹھایا جاتا اور اس کے سر پر آرہ چلا کر اس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے ۔ کسی کے جوڑوں پر لوہے کے کنگھے گھسے جاتے تھے تاکہ وہ ایمان سے باز آجائے۔ خدا کی قسم! یہ کام پورا ہو کر رہے گا، یہاں تک کہ ایک شخص صنعاء سے حضر موت تک بے کھٹکے سفر کرے گااور اللہ کے سوا کوئی نہ ہوگا جس کا وہ خوف کرے۔
تشریح : جن حالات میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ تھے کہ مکہ معظمہ میں جو شخص بھی اسلام قبول کرتا تھا اس پر آفات ، اور مصائب اور مظالم کا ایک طوفان ٹوٹ پڑتا تھا۔ کوئی غلام یا غریب ہوتا تو اس کو بری طرح مارا پیٹا جاتا اور سخت ناقابل برداشت اذیتیں دی جاتیں ۔ کوئی دکاندار یا کاریگر ہوتا تو اس کی روزی کے دروازے بند کردیے جاتے یہاں تک کہ بھوکوں مرنے کی نوبت آجاتی۔ کوئی کسی بااثر خاندان کا آدمی ہوتا تو اس کے اپنے خاندان کے لوگ اس کو طرح طرح سے تنگ کرتے اور اس کی زندگی اجیرن کردیتے تھے۔ ان حالات نے اگرچہ راسخ الایمان صحابہ کے عزم و ثبات میں کوئی تزلزل پیدا نہ کیا تھا لیکن انسانی فطرت کے تقاضے سے اکثر ان پر بھی ایک شدید اضطراب کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔
اس اضطرابی کیفیت کو ٹھنڈے صبر و تحمل میں تبدیل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو سورۃ العنکبوت کی آیات ۱ تا ۷میں سمجھایا ہے کہ ہمارے جو وعدے دنیا اور آخرت کی کامرانیوں کے لیے ہیں، کوئی شخص مجرد زبانی دعوائے ایمان کرکے ان کا مستحق نہیں ہوسکتا، بلکہ ہر مدعی کو لازماً آزمائشوں کی بھٹی سے گزرناہوگا تاکہ وہ اپنے دعوے کی صداقت کا ثبوت دے۔ ہماری جنت اتنی سستی نہیں ہے، اور نہ دنیا ہی میں ہماری خاص عنایات ایسی ارزاں ہیں کہ تم بس زبان سے ہم پر ایمان لانے کا اعلان کرو اور ہم وہ سب کچھ تمھیں بخش دیں۔ ان کے لیے تو امتحان شرط ہے۔ ہماری خاطر مشقتیں اٹھانی ہوں گی۔ جان و مال کا زیاں برداشت کرنا ہوگا۔ طرح طرح کی سختیاں جھیلنی ہوں گی۔ خطرات ، مصائب اور مشکلات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ خوف سے بھی آزمائے جائو گے اور لالچ سے بھی ۔ ہر چیز جسے عزیز و محبوب رکھتے ہو، ہماری رضا پر اسے قربان کرنا پڑے گا، اور ہر تکلیف جو تمھیں ناگوار ہے ہمارے لیے برداشت کرنی ہوگی۔ تب کہیں یہ بات کھلے گی کہ ہمیں ماننے کا جو دعویٰ تم نے کیا تھا وہ سچا تھا یا جھوٹا۔ یہ بات قرآن مجید میں ہر اُس مقام پر کہی گئی ہے جہاں مصائب و شدائد کے ہجوم میں مسلمانوں پر گھبراہٹ کا عالم طاری ہوا ہے۔ ہجرت کے بعد مدینے کی ابتدائی زندگی میں جب معاشی مشکلات، بیرونی خطرات ، اور یہود و منافقین کی داخلی شرارتوں نے اہل ایمان کو سخت پریشان کررکھا تھا، اس وقت فرمایا:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَاْتِکُمْ مَثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ مَسَّتْہُمُ الْبَاسَآئُ وَالضَّرَّآئُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتّٰی نَصْرُ اللّٰہِ، اَلَا اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ۔ (البقرہ: ۲۱۴)
’’ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجائو گے حالانکہ ابھی تم پر وہ حالات نہیں گزرے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے (اہل ایمان) پر گزرچکے ہیں۔ ان پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور وہ ہلامارے گئے۔ یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی (تب انھیں مژدہ سنایا گیا کہ) خبرداررہو! اللہ کی مدد قریب ہے۔‘‘
اسی طرح جنگ اُحد کے بعد جب مسلمانوں پر پھر مصائب کا ایک سخت دور آیا تو ارشاد ہوا:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جَاہَدُوْا مِنْکُمْ وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ ۔
(آل عمران : ۱۴۲)
’’ کیا تم نے سمجھ رکھا ہے کہ جنت میں داخل ہوجائو گے، حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے جہاد میں جان لڑانے والے اور پامردی دکھانے والے کون ہیں۔‘‘
(گویا کہ) آزمائش ہی وہ کسوٹی ہے جس سے کھوٹا اور کھرا پرکھا جاتا ہے۔ کھوٹا خود بخود اللہ تعالیٰ کی راہ سے ہٹ جاتا ہے اور کھرا چھانٹ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ کے ان انعامات سے سرفراز ہو جو صرف صادق الایمان لوگوں کا ہی حصہ ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، العنکبوت، حاشیہ:۱)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ: ثَنَا بَیَانٌ وَاِسْمَاعِیْلُ، قَالَا: سَمِعْنَا قَیْسًا قَالَ: سَمِعْتُ خَبَّابًا یَقُوْلُ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ وَہُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَہٗ وَہُوَ فِیْ ظِلِّ الْکَعْبَۃِ وَقَدْ لَقِیْنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ شِدَّۃً فَقُلْتُ: اَلَا تَدْعُوا اللّٰہَ فَقَعَدَ وَہُوَ مُحْمَرٌّ وَجْہُہٗ فَقَالَ: لَقَدْ کَانَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَیُمْشَطُ بِمَشاطِ الْحَدِیْدِ مَادُوْنَ عِظَامِہٖ مِنْ لَحْمٍ اَوْ عَصَبٍ مَا یَصْرِفُہٗ ذٰلِکَ عَنْ دِیْنِہٖ وَیُوْضَعُ الْمِنْشَارُ عَلیٰ مَفْرَقِ رَأْسِہٖ فَیُشَقُّ بِاثنَیْنِ مَا یَصْرِفُہٗ ذٰلِکَ عَنْ دِیْنِہٖ وَلَیُتِمَّنَّ اللّٰہُ ہٰذَا الْاَمْرَ حَتّٰی یَسِیْرَا لرَّاکِبُ مِنْ صَنْعَائَ اِلیٰ حَضْرَمَوْتَ مَایَخَافُ اِلَّا اللّٰہ۔ زادبیان وَالذِّئبَ عَلٰی غَنَمِہٖ۔ (۲۶)
بخاری نے کتاب الاکراہ میں خباب بن الارتّ سے اسی روایت کو مندرجہ ذیل الفاظ میں روایت کیا ہے:
(۲) عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْاَرَتِّ، قَالَ شَکَوْنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَۃً لَہٗ فِیْ ظِلِّ الْکَعْبَۃِ فَقُلْنَا: اَلَاتَسْتَنْصِرُ اَلَا تَدْ عُوْ لَنَا؟ فَقَالَ: قَدْ کَانَ مِنْ قَبْلِکُمْ یُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَیُحْفَرُلَہٗ فِی الْاَرْضِ فَیُجْعَلُ فِیْہَا فَیُجَآئُ بِالْمِنْشَارِ فَیُوْضَعُ عَلیٰ رَأَسِہٖ فَیُجْعَلُ نِصْفَیْنِ وَیُمْشَطُ بِاَمْشَاطِ الْحَدِیْدِ مَادُوْنَ لَحْمِہٖ وَعَظْمِہٖ فَمَا یَصُدُّہٗ ذٰلِکَ عَنْ دِیْنِہٖ۔ وَاللّٰہِ لَیُتِمَّنَّ ہٰذَا الْاَمْرُ حَتّٰی یَسِیْرَ الرَّاکِبُ مِنْ صَنْعَائَ اِلٰی حَضْرَمَوْتَ لَا یَخَآفُ اِلَّا اللّٰہَ وَالذِّئْبَ عَلیٰ غَنَمِہٖ وَلٰکِنَّکُمْ تَسْتَعْجِلُوْنَ۔ (۲۷)
ترجمہ : حضرت خباب بن ارت سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے حضور شکوہ کیا آپؐ اس وقت کعبہ کی دیوار کے سایہ میںایک چادرکی تکیہ لگائے تشریف فرماتھے۔ ہم نے عرض کیا: آپؐ ہمارے لیے مدد کی دعا کیوں نہیں فرماتے؟ آپؐ نے فرمایا تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں کہ ان میں سے ایک شخص کو پکڑلیا جاتا تھا اور زمین میں اس کے لیے گڑھا کھودا جاتا تھا۔ اس میں اسے ڈال دیا جاتا، پھر اس کے سر پر آرا چلا کر اس کے جسم کے دو ٹکڑے کردیے جاتے اور کسی کے جوڑوں پر لوہے کے کنگھے گھسے جاتے (تاکہ وہ ایمان سے باز آجائے) لیکن یہ اذیت رسانیاں اسے اپنے دین سے روگرداں نہ کرسکتی تھیں۔ خدا کی قسم! یہ کام پورا ہوکر رہے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک بے کھٹکے سفر کرے گا اور اللہ کے سوا اسے کسی کا خوف نہ ہوگا اور اپنی بکریوںپر بھی اسے بھیڑیے کے سوا کسی کا اندیشہ نہ ہوگا مگر تم لوگ ہو کہ جلدی مچارہے ہو۔

ہجرت مدینہ کے موقع پر آپؐ کو قتل کرنے کی ایک خفیہ سازش

جب قریش کا یہ اندیشہ یقین کی حد کو پہنچ گیا کہ اب محمدؐ بھی مدینہ چلے جائیں گے۔ اس وقت وہ آپس میں کہنے لگے کہ اگر یہ شخص مکہ سے نکل گیا تو پھر ہمارے قابو سے باہر ہوجائے گا۔ چنانچہ انھوں نے آپؐ کے معاملے میں ایک آخری فیصلہ کرنے کے لیے دارالندوہ میں تمام رؤسائے قوم کا ایک اجتماع کیا اور اس امر پر باہم مشورت کی کہ اس خطرے کا سدباب کس طرح کیا جائے۔ ایک فریق کی رائے یہ تھی کہ اس شخص کو بیڑیاں پہنا کر ایک جگہ قید کردیا جائے اور جیتے جی رہا نہ کیا جائے۔ لیکن اس رائے کو قبول نہ کیا گیا۔ کیوں کہ کہنے والوں نے کہا کہ اگر ہم نے اسے قید کردیا تو اس کے جو ساتھی قید خانے سے باہر ہوں گے وہ برابر اپنا کام کرتے رہیںگے اور جب ذرا بھی قوت پکڑ لیں گے تو اسے چھڑانے کے لیے اپنی جان کی بازی لگانے میں بھی دریغ نہ کریں گے۔ دوسرے فریق کی رائے یہ تھی کہ اسے اپنے ہاں سے نکال دو۔ پھر جب یہ ہمارے درمیان نہ رہے تو ہمیں اس سے کچھ بحث نہیں کہ کہاں رہتا ہے اور کیا کرتا ہے۔ بہر حال اس کے وجود سے ہمارے نظام زندگی میں خلل پڑنا تو بند ہوجائے گا لیکن اسے بھی یہ کہہ کر رد کردیا گیا کہ یہ شخص جادو بیان آدمی ہے، دلوں کو موہنے میں اسے بلا کا کمال حاصل ہے، اگر یہ یہاں سے نکل گیا تو نہ معلوم عرب کے کن کن قبیلوں کو اپنا پیرو بنا لے گا اور پھر کتنی قوت حاصل کرکے قلب عرب کو اپنے اقتدار میں لانے کے لیے تم پر حملہ آور ہوگا۔ آخر کار ابوجہل نے رائے پیش کی کہ ہم اپنے تمام قبیلوں میں سے ایک ایک عالی نسب، تیز دست جوان منتخب کریں اور یہ سب مل کر یکبارگی محمدؐپر ٹوٹ پڑیں اور اسے قتل کرڈالیں۔ اس طرح محمد کا خون تمام قبیلوں پر تقسیم ہوجائے گا اور بنو عبد مناف کے لیے ناممکن ہوجائے گا کہ سب سے لڑسکیں اس لیے مجبوراً خون بہا پر فیصلہ کرنے کے لیے راضی ہوجائیں گے۔ اس رائے کو سب نے پسند کیا، قتل کے لیے آدمی بھی نامزد ہوگئے اور قتل کا وقت بھی مقرر کردیا گیا، حتّٰی کہ جو رات اس کام کے لیے تجویز کی گئی تھی اس میں ٹھیک وقت پر قاتلوں کا گروہ اپنی ڈیوٹی پر پہنچ بھی گیا۔ لیکن ان کا ہاتھ پڑنے سے پہلے نبی ﷺان کی آنکھوں میں خاک جھونک کر نکل گئے اور ان کی بنی بنائی تدبیر عین وقت پر ناکام ہوکر رہ گئی۔
(تفہیم القرآن، ج ۲، الانفال،حاشیہ:۲۵)
تخریج: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: فَحَدَّثَنِیْ مَنْ لا اُتُّہِمَ مِِنْ اَصْحَابِنَا، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ نَجِیْحٍ، عَنْ مُجَاہِدِبْنِ جُبَیْرٍ اَبِی الْحَجَّاجِ وَغَیْرِہٖ مِمَّنْ لَا اُتُّہِمَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَال: لَمَّا اَجْمَعُوْا لِذٰلِکَ وَاتَّحَدُوْا اَنْ یَّدْخُلُوا فِیْ دَارِ النَّدْوَۃِ، لِیَتَشَاوَرُوْا فِیْہَا فِیْ اَمْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: اِنَّ ہٰذَا الرَّجُلَ قَدْ کَانَ مِنْ اَمْرِہٖ مَا قَدْ رَأَیْتُمْ فَاِنَّا وَاللّٰہِ مَا نَأمَنُہٗ عَلَی الْوُثُوْبِ عَلَیْنَا فِِیْمَنْ قَدْ اتَّبَعَہٗ مِنْ غَیْرِنَا فَاجْمِعُوْا فِیْہِ رَأْیًا قَالَ: فَتَشَاوَرُوْا ثُمَّ قَالَ قَائِلٌ مِّنْہُمْ: اِحْبِسُوْہُ فِی الْحَدِیْدِ، وَاَغْلِقُوْا عَلَیْہِ بَابًا، ثُمَّ تَرَبَّصُوْا بِہٖ مَا اَصَابَ اَشْبَاہَہٗ مِنَ الشُّعَرَائِ الَّذِیْنَ کَانُوْا قَبْلَہٗ زُہَیْرًا وَالنَّابِِغَۃَ، وَمَنْ مَضیٰ مِنْہُمْ، مِنْ ہٰذَا الْمَوْتِ، حَتّٰی یُصِیْبَہٗ مَااَصَابَہُمْ، قَالَ الشَّیْخُ النَّجْدِیُّ:لَاوَاللّٰہِ، مَاہٰذَا لَکُمْ بِرَأْیٍ۔ وَاللّٰہِ لَئِنْ حَبِسْتُمُوْہُ کَمَا تَقُوْلُوْنَ، لَیَخْرُجَنَّ اَمْرُہٗ مِنْ وَرَائِ الْبَابِ الَّذِیْ اَغْلَقْتُمْ دُوْنَہٗ اِلیٰ اَصْحَابِہٖ، فَلَاؤشَکُوْا اَن یَّثِبُوْا عَلَیْکُمْ، فَیَنْزِِعُوْہُ مِنْ اَیْدِیْکُمْ، ثُمَّ یُکَاثِرُوکُمْ بِہٖ، حَتّٰی یَغْلِبُوْکُمْ عَلیٰ اَمْرِکُمْ، مَا ہٰذَا لَکُمْ بِرَأْیٍ، فَانْظُرُوْا فِی غَیْرِہٖ۔ فَتَشَاوَرُوْا، ثُمَّ قَالَ قَائِلٌ مِنْہُمْ: نُخْرِجُہٗ مِنْ بَیْنِ اَظْہُرِِنَا، فَنَنْفِیْہِ مِنْ بِلَادِنَا، فَاِذَا اُخْرِجَ عَنَّا فَوَاللّٰہِِ مَانُبَالِیْ اَیْنَ ذَہَبَ، وَلَاحَیْثُ وَقَعَ، اِذَا غَابَ عَنَّا وَفَرَغْنَا مِنْہُ، فَاصْلَحْنَا اَمْرَنَا واُلْفَتَنَا کَمَاکَانَتْ۔ فَقَالَ الشَّیْخُ النَّجْدِیُّ: لَا وَاللّٰہِ،مَاہٰذَا لَکُمْ بِرَأْیٍ، اَلَمْ تَرَوْا حُسْنَ حَدِیْثِہٖ وَحَلَاوَۃَ مَنْطِقِہٖ، وَغَلَبَتَہٗ عَلیٰ قُلُوْبِ الرِّجَالِ بِِمَا یَاْتِیْ بِہٖ، وَاللّٰہِ لَوْ فَعَلْتُمْ ذٰلِکَ مَا اَمِنْتُمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلیٰ حَیٍّ مِنَ الْعَرَبِِ، فَیَغْلِبُ عَلَیْہِمْ بِذٰلِکَ مِنْ قَوْلِہٖ وَحَدِیْثِہٖ حَتّٰی یَتَابَعُوْہُ عَلَیْہِ، ثُمَّ یَسِیْرُبِہِمْ اِلَیْکُمْ حَتّٰی یَطَأَکُمْ بِہِمْ فِیْ بِلَادِکُمْ، فَیَاخُذَ اَمْرَکُمْ مِنْ اَیْدِیْکُمْ، ثُمَّ یَفْعَلُ بِکُمْ مَااَرَادَ، دَبِّرُوْا فِیْہِ رَاْیًا غَیْرَہٰذَا قَالَ: فَقَالَ اَبُوْ جَہْلِ بْنُ ہِشَامٍ: وَاللّٰہِ اِنَّ لِیْ فِیْہِ لَرَأْیًا، مَاأَرَاکُمْ وَقَعْتُمْ عَلَیْہِ بَعْدُ، قَالُوا: وَمَا ہُوَیا اَبَاالْحَکَمِ؟ قَالَ: اَرٰی اَنْ نَاْخُذَمِنْ کُلِّ قَبِیْلَۃٍ فَتًی شَابًّا جَلِیْدًا نَسِیْبًا وَسِیْطًا فِیْنًا، ثُمَّ نُعْطِیْ کُلَّ فَتًی مِّنْہُمْ سَیْفًا صَارِمًا، ثُمَّ یَعْمِدُوْا اِلَیْہِ، فَیَضْرِبُوہُ بِہَا ضَرْبَۃَ رَجُلٍ وَّاحِدٍ، فَیَقْتُلُوْہُ، فَنَسْتَرِیْحُ مِنْہُ، فَاِنَّہُمْ اِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ، تَفَرَّقَ دَمُہٗ فِی الْقَبَائِلِ جَمِیْعًا فَلَمْ یَقْدِرْبَنُوْعَبْدِ مَنَافٍ عَلیٰ حَرْبِ قَوْمَہِمْ جَمِیْعًا، فَرَضُوْا مِنَّا بِالْعَقْلِ، فَعَقَلْنَاہُ لَہُمْ۔ قَالَ: فَقَالَ الشَّیْخُ النَّجْدِیُّ: اَلْقَوْلُ مَاقَالَ الرَّجُلُ، ہٰذَا الرَّایُ الَّذِیْ لَاَرَأیَ غَیْرَہٗ، فَتَفَرَّقَ الْقَوْمُ عَلیٰ ذٰلِکَ وَہُمْ مُجْمَعُوْنَ لَہٗ۔(۲۸)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس نے بیان کیا کہ جب سرداران قریش نے دارالنَّدوہ میں جمع ہونے پر اتفاق کرلیا اور نبی ﷺ کے معاملہ کے بارے میں دارالندوہ میں بیٹھ کر مشورہ کرنے کے لیے تیار ہوگئے تو پھر اس کے بعد وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اس شخص کا معاملہ تو دیکھ ہی چکے ہو۔واللہ! اب ہمارے علاوہ دوسرے لوگ بھی اس کے پیروبن چکے ہیں ان کی معیت میں ہم اپنے اوپر اس کے حملہ سے بے خوف نہیں رہ سکتے، لہٰذا سب مل کر کوئی متفقہ رائے سوچو۔راوی کا بیان ہے کہ سب نے اجتماعی طور پر مشورہ کیا۔ان میں سے ایک نے یہ رائے دی کہ اسے لوہے (کی ہتھکڑیوں اور بیڑیوں ) میںجکڑ کر ایک کمرے میں بند کر دو اور اسی طرح اس کی موت کا انتظارکرو جس طرح اس سے پہلے دو شعراء زہیر اور نابغہ پر اور ان پر جو ان سے پہلے گزرچکے ہیں موت آئی۔ یہ بھی ان کی موت مرجائے گا۔شیخ نجدی بولا نہیں۔ خدا کی قسم! تمھاری یہ رائے تمھارے اپنے حق میں ٹھیک نہیں ہے۔ اگر تم نے اسے قید کردیا جس طرح کہ تمھارا خیال ہے تو اس کا حکم بنددروازے سے باہر اس کے ساتھیوں کو پہنچ جائے گا۔ عین قرین قیاس ہے کہ وہ تم پر حملہ کردیں اور اسے تمھارے ہاتھوں سے چھین لے جائیں۔ پھر وہ اپنی تعدادتمھارے مقابلہ میں بڑھائیں اور تم پر غالب آجائیں۔ یہ رائے تمھارے حق میں ٹھیک نہیں لہٰذا اور کوئی تدبیر سوچو۔ پھر ان لوگوں نے باہمی مشورہ کیا۔ ایک صاحب نے یہ رائے پیش کی کہ اسے اپنے ہاں سے نکال باہر کریں۔ شہر بدر کردیں۔ جب وہ ہمارے ہاں سے نکل جائے گا تو پھر ہمیں کوئی پروا نہیں کہ وہ کہاںجاتا ہے اور کہاں بستا ہے۔ جب وہ ہماری آنکھوں سے دور ہوجائے گااور ہمیں اس سے کوئی سروکار نہ رہے گا تو پھر ہم اپنے معاملات اور محبت کے روابط و تعلقات کو اسی طرح درست کرلیں گے جس طرح پہلے تھے۔ شیخ نجدی نے کہا نہیں نہیں، خدا کی قسم تمھاری یہ رائے بھی تمھارے لیے ٹھیک نہیں۔ کیا تم اس کی گفتار کی شیرینی اور کلام کی خوبی اور اس کی پیش کردہ دعوت کا لوگوں کے دلوں پر غلبہ کا مشاہدہ نہیں کرچکے۔ بہ خدا! اگر تم نے ایسا کیا تو مجھے اندیشہ ہے کہ وہ عرب کے جس قبیلے میں قیام پذیر ہوگا اس پر اپنے کلام و گفتار سے ایسا غلبہ حاصل کرے گاکہ وہ سب اس کے پیرو ہوجائیں گے۔ پھر انھیں لے کر تم پر چڑھ دوڑے گا۔ ان کے ذریعہ تمھیں پامال کرے گا۔ اور تمھارا اقتدار چھین لے گا اور تم سے جو چاہے گا سلوک کرے گا۔ کوئی اور تدبیر سوچو! راوی کا بیان ہے کہ ابوجہل بولا۔ واللہ ! میری بھی اس کے بارے میں ایک رائے ہے۔میرے خیال کے مطابق اب تک تم میں سے کسی نے اس کا خیال نہیں کیا۔ سب بیک زبان بولے۔ اے ابوالحکم وہ کیا رائے ہے؟ اس نے کہا۔ میری رائے یہ ہے کہ ہر قبیلے میں سے ایک ایک نو عمر، قوی، شریف النسب جوان مرد لے لیں اور ہر ایک کو ایک ایک تلوار دے دیں اور پھر سب اکٹھے اس پر تلواروں کا اس طرح وار کریں کہ گویا ایک شخص نے وار کیا ہے اور اسے قتل کردیں۔ اس طرح ہمیں اس سے نجات مل جائے گی اور اس کے خون کی ذمہ داری سب قبائل کے سر پر پڑجائے گی اور بنی عبد مناف پوری قوم سے جنگ نہ کرسکیں گے۔ مجبوراً ہم سے خون بہا لینے پر رضا مند ہوجائیں گے اور ہم انھیں خون بہا ادا کریں گے۔ راوی کا بیان ہے کہ شیخ نجدی بولا: بات تو بس یہی ہے جو اس شخص نے کہی ہے۔ یہ ایسی صائب رائے ہے کہ اس کے ماسوا اور کوئی رائے درست نہیں۔ یہ بات طے کرنے کے بعد متفرق ہوگئے جب کہ آپؐ کے قتل پر یہ سب متفق تھے۔

ماٰخذ

(۱) سیرت ابنِ ہشام ج اول ص۴۱۶٭ طَبَقات ابن سعد ج اول ص۲۰۰،۲۰۱۔
(۲) بخاری ج۱، کتاب الصلاۃ باب المرأۃ تطرح عن المصلّی شیْئًا مِنَ الاذی ٭کتاب الطہارۃ باب اذا القی علی ظہر المصلی قذرٌاوجیفۃ لَم تفسد علیہ صلاتہ۔ ٭کتاب الجہاد باب طرح جیف المشرکین فی البئرولایوخذ لہم ثَمَنٌ ٭کتاب المناقب باب ذکر مالقی النبیؐ واصحابہ من المشرکین بمکۃ ج ۲، کتاب المغازی باب دعاء النبیﷺ علی کفار قریش شیبہ وعتبہ والولید وابی جہل بن ہشام وہلاکہم ٭مسلم ج۲، کتاب الجہاد والسیر باب مالقی النبیﷺ من اذی المشرکین٭مسند ابی داؤد طیالسی ج۲، ص۴۳ مرویات ابن مسعود۔قال عبداللّٰہ فمارأیت رسول اللّٰہ ﷺ دعاعلیہم الّا یَوْمئذٍ الخ ٭مسند احمد ج۱، روایت ابن مسعود ٭مجمع الزوائد ج۶ص۱۸، قدرے مختصر ٭السنن الکبری بیہقی ج ۹ص۷،۸۔
(۳) سیرت ابن ہشام، ج اول ص۴۱۶٭طبقات ابن سعد ج اول ص۲۰۱۔
(۴) ابن جریر مجلد ۱۲ پ:۳۰سورہ اللھب۔
(۵) بخاری ج۱، کتاب مناقب الانصار باب مَالَقِیَ النّبِیّ ﷺ واصحابہ من المشرکین بمکۃ۔
(۶) بخاری ج۱کتاب المناقب باب مناقب ابی بکر الصدیق٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۹ص۷٭ مسند احمد،ج۲ ص۲۰۴، مناقب ابی بکر الصدیق ٭بخاری ج۲، کتاب التفسیر سورۃ المؤمن۔
(۷) سیرت ابن ہشام ج۱، ذکرمالقی رسول اللّٰہ ﷺ من قومہ۔ حدیث ابن العاص عن اکثر مارأی قریشاً نالتہ من رسول اللّٰہ ﷺ ٭مجمع الزوائد ج۶، کتاب المغازی والسیر باب تبلیغ النبی ﷺ ما أرسل بہ وصبرہ علی ذلک ٭مسند احمد ج ۲ص۲۱۸، مرویات عبداللہ بن عمرو بن العاص۔
(۸) سیرت ابن ہشام ج۱ص۳۴۵٭ المصنف لعبد الرزاق ج ۵ص۳۲۵۔
(۹) المصنف لعبد الرزاق ج ۵، کتاب المغازی باب اسلام عمر رضی اللّٰہ عنہ ٭ المستدرک للحاکم ج ۳ص۸۳، مستدرک کی روایت میں صرف اَللّٰہُمَّ اَیِّدِ الدِّیْنَ بِعُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ ہے۔ المصنف کی روایت کا پہلا حصہ نہیں ہے۔
(۱۰) مُسند احمد ج ۲ص۹۵ مرویات عبداللّٰہ بن عمر ٭ المستدرک ج ۳، کتاب معرفۃ الصحابۃ۔
(۱۱) ترمذی ابواب المناقب باب مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ۔ ٭المستدرک للحاکم ج۳، کتاب معرفۃ الصحابۃ ٭مجمع الزوائد ج ۹ص۶۱، عن عبد اللّٰہ بن مسعود ۔ مستدرک میں فَجَعَلَ اللّٰہُ دَعْوَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لِعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ہے۔
(۱۲) ابن ماجہ المقدمۃ فضل عمر رضی اللّٰہ عنہ ٭المستدرک للحاکم ج۳، کتاب معرفۃ الصحابۃ۔ فی الزوائد: حدیث عائشۃ ضعیف فیہ عبدالمَلِک بن الماجشون ضعفہ بعض ، وذکرہ ابن حبان فی الثقات۔ وفیہ مسلم بن خالدٍ الزنجی، قال البخاری منکر الحدیث وضعفہ ابوحاتم والنسائی وغیر ہم ووثقہ ابن معین وابن حبان۔
(۱۳) ابن جریر المجلد۴ص۹۴۔
(۱۴) ابن کثیر ج۴،سورہ حٰمٓ السجدہ ص۹۰ بحوالہ عبدبن حمید ٭فتح القدیر للشوکانی ج ۴، بحوالہ ابن ابی شیبۃ، ابویعلیٰ، ابن مردویہ، ابونعیم اور بیہقی فی الدلائل، ابن عساکر عن جابر بن عبداللّٰہ ٭مجمع الزوائد ج ۶ص۱۸۔
(۱۵) تفسیر ابن کثیر ج ۱ بحوالہ ابویعلیٰ الموصلی فی مسندہ۔
(۱۶) سیرت ابن ہشام ج ۱ص۲۹۳،۲۹۴٭ البدرایہ والنہایۃ ج ۳ص۶۲تا۶۴۔
(۱۷) مسلم ج ۲، کتاب صفات المنافقین واحکامہم باب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار٭مسند احمدج۲ص۳۷۰، روایت ابی ہریرۃ ٭ابن جریر۲۸؍۳۰مجلد ۱۲ص۱۶۳٭ابن کثیر ج ۴ص۵۲۹٭فتح القدیرللشوکانی ج۵ ص۴۷۱ ٭فتح القدیر للشوکانی ج ۵ بحوالہ ابن المنذر، ابن مردویہ، ابونعیم البیہقی۔
(۱۸) بخاری ج ۲، کتاب التفسیر باب قولہ کلا لَئِنْ لم ینتہ لنسفعاً بالناسیۃ ناصیۃ کاذبۃ خاطئۃ ٭ابن کثیر ج ۴ ص۵۲۸ ٭ترمذی ابواب التفسیر سورۃ اقرأباسم ربک اور لاخذتہ الملائکۃ کے بعد عَیَاناً کا اضافہ نقل کیا ہے۔ ہذا حدیث حسن غریب صحیح کہا ہے۔ ٭فتح القدیر ج ۵ بحوالہ عبدالرزاق ، عبدبن حُمَید، ابن جریر ، ابن المنذر، ابن مردویہ، ابونعیم اورالبیہقی۔
(۱۹) ابن جریر۲۸؍۳۰ جلد ۱۲ص۱۶۵٭ابن کثیر ج ۴ص۵۲۹٭فتح القدیر ج ۵ص۴۷۱۔
(۲۰) ابن جریر۲۸؍۳۰ جلد ۱۲ سورہ علق ٭ابن کثیر ج ۴، ص۵۲۹٭روح المعانی جز۳۰ص۱۸۷٭مسند احمد ج ۱ص۳۲۹ ابن عباس ٭فتح القدیر ج ۵ص۴۷۱ بحوالہ ابن المنذر، الطبرانی، ابن مردویہ، ابونعَیم اور البیہقی۔
(۲۱) ترمذی ابواب التفسیر سورہ اقرأ باسم ربِّکَ۔
(۲۲) بخاری ج۲، کتاب التفسیر سورۃ الدخان اور کتاب الدعوات اور کتاب الاستسقاء ٭ابن جریر،جلد۲۴؍۲۷ سورۃ الدخان ٭مسند احمد ج۱ص۴۳۱،۴۴۱٭ترمذی ابواب التفسیر سورۃ الدخان٭ابن کثیر ج ۴، الدخان ٭فتح القدیر للشَّوکانی ج۴ص۵۷۲٭روح المعانی ج ۹ پ ۲۵، الدخان۔
(۲۳) ابنِ جریر جز۲۸؍۳۰ج ۱۲ص۴۱۲۔ ٭فتح القدیر للشوکانی ج۵سورۃ الکافرون۔ بحوالہ ابنِ ابی حاتم الطبرانی۔
(۲۴) ابن جریرجز۲۸؍۳۰ج۱۲،سورہ کافرون٭روح المعانی ج ۲ پ:۳۰ ص۲۵۰٭سیرت ابن ہشام ج ۲ص۳۶۲ ٭سبب نزول سورۃ قُل یا ایہاالکافرون ٭فتح القدیر للشَّوکانی ج ۵ص۵۰۸۔ابن ابی حاتم، ابن الانباری فی المصاحف، عن سعید بن مینا بحوالہ فتح القدیرللشوکانی ج ۵۔ص۵۰۸
(۲۵) فتح القدیر للشوکانی ج ۵ص۵۰۸۔
(۲۶) بخاری باب بنیان الکعبۃ ج ۱، باب ذکرما لقی النبی ﷺ واصحابہ من المشرکین بمکۃ۔
(۲۷) بخاری ج ۱، کتاب الاکراہ باب من اختار الضرب والقتل والَہَوان علی الکفر٭ ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی الاسیر یکرہ علی الکفر۔ ابوداؤد نے ولٰکِنَّکُمْ تَعْجِلُوْن بیان کیا ہے ٭مسند احمدج ۵ ص۱۰۹مرویات خباب بن الارت اس میں لا یخاف کی جگہ لایخشی الا اللّٰہ تعالٰی ہے ٭المعجم الکبیر للطبرانی ج۴ص۶۲-۶۵ عن خباب بن ارتّ۔
(۲۸) سیرۃ ابن ہشام ج۱، ہجرۃ الرسول ﷺ۔

فصل چہارم: رسالت مآبؐ کے اخلاق و شمائل صاحب خلق عظیم

۶۱۔ کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنُ۔
مام احمد، مسلم، ابودائود ، نسائی ، ابن ماجہ، دارمی اور ابن جریر نے تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ یہ قول متعدد سندوں سے نقل کیا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج۶، القلم، حاشیہ: ۴))’’(حضرت عائشہؓ نے فرمایا) کہ’’قرآن آپؐ کا اخلاق تھا۔۱  ‘‘
تشریح :حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کی بہترین تعریف فرمائی ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دنیا کے سامنے محض قرآن کی تعلیم ہی پیش نہیں کی تھی بلکہ خود اس کا مجسم نمونہ بن کر دکھادیا تھا۔ جس چیز کا قرآن میں حکم دیا گیا آپؐ نے خود سب سے بڑھ کر اس پر عمل کیا، جس چیز سے اس میں روکا گیا آپؐ نے خود سب سے زیادہ اجتناب فرمایا ، جن اخلاقی صفات کو اس میں فضیلت قرار دیا گیا سب سے بڑھ کر آپؐ کی ذات اُن سے متصف تھی، اور جن صفات کو اُس میں ناپسندیدہ ٹھہرایا گیا سب سے زیادہ آپؐ اُن سے پاک تھے۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، القلم، حاشیہ: ۴)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ:ثَنَا مُبَارَکٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِبْنِ ہِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: اَتَیْتُ عَائِِشَۃَ فَقُلْتُ: یَا اُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ اَخْبِریْنِیْ بِخُلُقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَتْ: کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنُ۔ اَمَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَوْلَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ؟ الخ۔(۱)
ترجمہ :سعد بن ہشام بن عامر بیان کرتے ہیں کہ میں ام المومنین حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا اے ام المومنین! مجھے نبی ﷺ کے خلق کے متعلق بتائیں۔ انھوں نے فرمایا۔ آپؐ کا خلق قرآن تھا۔ کیا تم نے قرآن پاک میں یہ ارشاد ربّانی نہیں پڑھا؟ آپؐ بلاشبہ خلق عظیم پر ہیں۔
حسن سے بھی ایک روایت منقول ہے :
(۲)عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ عَنْ خُلُقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَتْ کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنُ۔(۲)
(۳) اَخْبَرَنِیْ اَحْمَدُبْنُ جَعْفَرِنِالْقُطَیْعِیُّ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَحْمَدَبْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یَحْیٰ بْنُ سَعیْدٍ، عَنْ سَعِیْدِبْنِ اَبِیْ عَرُوْبَۃَ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ اَوْفیٰ، عَنْ سَعْدِبْنِ ہِشَامٍ، اَنَّہٗ دَخَلَ مَعَ حَکِیْمِ بْنِ اَفْلَحَ عَلیٰ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، فَسَأَلَہَا فَقَالَ: یَااُمَّ الْمُوْمِنِیْنَ أَنْبِئِیْنِیْ عَنْ خُلُقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَتْ:اَلَیْسَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: بَلیٰ، قَالَتْ: فَاِنَّ خُلُقَ نَبِیِّ اللّٰہِ ﷺَ الْقُرْاٰنُ۔(۳)
ہذاحدیث صحیح علی شرط الشیخین وَلَمْ یخرجاہ۔
ترجمہ:سعد بن ہشام سے روایت ہے وہ کہتے ہیںکہ میں حکیم بن افلح کی رفاقت میں حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انھوں نے اُمّ المومنین سے پوچھا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں کچھ بتائیں۔ حضرت عائشہؓ نے پوچھا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا، کیوں نہیں، حضرت عائشہؓ نے فرمایا: اللہ کے نبی کا خلق تو قرآن ہے۔
(۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المثَنّٰی الْعَنَزِیُّ قَالَ: نا مُحَمَّدُبْنُ اَبِیْ عَدِیٍّ، عَنْ سَعِیْدٍ، عَنْ قَتَادَۃَ عَن زُرَارَۃُ اَنَّ سَعْدَ بْنَ ہِشَامِ ابْنِ عَامِرٍ ــــــ قَالَ: اِنْطَلَقْتُ اِلیٰ عَائِشَۃَ فَقُلْتُ: یَا اُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْبِئِیْنِیْ عَنْ خُلُقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَتْ: اَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ؟ قُلْتُ: بَلٰی، قَالَتْ فَاِنَّ خُلُقَ نَبِیِّ اللّٰہِ ﷺ کَانَ الْقُرْآنَ الحدیث۔(۴)
ترجمہ: سعد بن ہشام سے روایت ہے انھوں نے بیان کیا کہ میں ام المومنین حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے خلق کے بارے میں ارشاد فرمائیں۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: تم قرآن مجید نہیں پڑھتے؟‘‘ میں نے عرض کیا:’’کیوں نہیں، پڑھتا ہوں؟‘‘ انھوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کا خُلق تو پورا قرآن ہے۔‘‘

خادموں سے حسن سلوک

۶۲۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی ہے۔ آپؐ نے کبھی میری کسی بات پر اُف تک نہ کی، کبھی میرے کسی کام پر یہ نہ فرمایا تو نے یہ کیوں کیا، اور کبھی کام کے نہ کرنے پر یہ نہیں فرمایا کہ تونے یہ کیوں نہ کیا۔‘‘
(تفہیم القرآن، ج ۶، القلم، حاشیہ: ۴)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، سَمِعَ سَلَّامَ بْنَ مِِسْکِیْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا، یَقُوْلُ: حَدَّثَنَا اَنَسٌ، قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِیَّ ﷺ عَشَرَ سِنِیْنَ، فَمَا قَالَ لِیْ اُفٍّ وَلَا لِمَ صَنَعْتَ وَلَا اَلَّا صَنَعْتَ۔(۵)
(۲) عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْمَدِیْنَۃَ اَخَذَ اَبُوْ طَلْحَۃَ بِِیَدَیَّ، فَانْطَلَقَ بِیْ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، اِنَّ اَنَسًا غُلَامٌ کَیِّسٌ فَلْیَخْدِمْکَ قَالَ: فَخَدَمْتُہٗ فِی السَّفَرِ وَالْحَضَرِوَاللّٰہِ مَاقَالَ لِیْ لِِشَیٍْٔ صَنَعْتُہٗ لِمَ صَنَعْتَ ہٰذَا ہٰکَذَا؟ وَلَا لِشَـْیٍٔ لَمْ اَصْنَعْہٗ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ ہٰذَا ہٰکَذَا؟
(۳) عَنْ اَنَسٍ، قَالَ:خَدَمْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ تِسْعَ سِنِیْنَ فَمَا اَعْلَمُہٗ قَالَ لِیْ قَطُّ لِمَا فَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا؟ وَلَاعَابَ عَلَیَّ شَیْئًا قَطُّ۔
(۴) قَالَ اَنَسٌ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ اَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا فَاَرْسَلَنِیْ یَوْمًا لِحَاجَۃٍ فَقُلُتُ: وَاللّٰہِ لَا اَذْہَبُ وَفِیْ نَفْسِیْ اَنْ اَذْہَبَ۔ لَمَّا اَمَرَ نِیْ بِہٖ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ فَخَرَجْتُ حَتّٰی اَمُرَّعَلَی الصِّبْیَانِ، وَہُمْ یَلْعَبُوْنَ فِیْ السُّوْقِ فَاِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَدْ قَبَضَ بِِقَفَای مِنْ وَّرَائِیْ قَالَ: فَنَظَرْتُ اِلَیْہِ وَہُوَ یَضْحَکُ فَقَالَ: یَا اُنَیْسُ: ! أَ ذَہَبْتَ حَیْثُ اَمَرْتُکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، اَنَا اَذْہَبُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ اَنَسٌ: وَاللّٰہِِ لَقَدْ خَدَمْتُہٗ تِسْعَ سِنِیْنَ مَا عَلِمْتُہٗ قَالَ لِشَیٍْٔ صَنَعْتُہٗ لِمَ فَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا؟ اَوْ لِشَیٍْٔ تَرَکْتُہٗ ہَلَّافَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا؟ (۶)
ترجمہ: حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ اچھے اخلاق کے مالک تھے۔ ایک روز آپؐ نے مجھے کسی کام سے بھیجنا چاہا تو میں نے زبان سے تو انکار کردیا مگر دل میں تھا کہ جائوں گا، چنانچہ میں گھر سے باہر نکلا۔ سرِراہ میرا گزر بچوں پر ہوا جو گلی میں کھیل کود رہے تھے۔ میں بھی کھیل میں ان کے ساتھ شامل ہوگیا۔ اچانک رسول اللہ نے پیچھے سے میری گدّی پکڑلی۔ میں نے آپؐ کی طرف مڑکر دیکھا تو آپؐ مسکرارہے تھے۔ فرمانے لگے انیس ! میں نے تمھیں جہاں جانے کے لیے کہا تھا وہاں گئے؟ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ میں جارہا ہوں۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ بہ خدا! میں نے رسول اللہ ﷺ کی نو سال تک خدمت کی، مجھے کوئی ایسا موقع یاد نہیں جب آپؐ نے میرے کیے ہوئے کام کے متعلق فرمایا ہو کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ یا میں نے کوئی کام نہ کیا ہو اور آپؐ نے فرمایا ہو کہ ’’تم نے ایسا کیوں نہیں کیا۔‘‘؟
ابودائود کی روایت میں مزید یہ الفاظ ہیں:
(۵) قَالَ اَنَسٌ : وَاللّٰہِ لَقَدْ خَدَمْتُہٗ سَبْعَ سِنِیْنَ اَوْتِسْعَ سِنِیْنَ۔
(۶) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ الضَّبْعِیُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: خَدَمْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَشَرَ سِنِیْنَ فَمَا قَالَ لِیْ اُفٍّ قَطُّ وَمَا قَالَ لِشَیٍْٔ صَنَعْتُہٗ لِمَ صَنَعْتَہٗ؟ وَلَا لِشَیٍْٔ تَرَکْتُہٗ لِمَ تَرَکْتَہٗ؟ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ اَحْسَنِ النَّاسِِ خُلُقًا وَلَا مَسَسْتُ خَزًّا، وَلَاحَرِیْرًا وَلَاشَیْئًا اَلْیَنَ مِنْ کَفِّ رَسُوْلِِ اللّٰہِ ﷺ وَلَاشَمِِمتُ مِسْکًا قَطُّ، وَلَاعِطْرًا کَانَ اَطْیَبَ مِنْ عَرَقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔(۷)
ترجمہ: حضرت انسؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی دس سال خدمت کی۔ آپؐ نے اس عرصہ میں کبھی مجھے اُف تک نہ کہا؟ میں نے کوئی کام اپنی مرضی سے کرلیا تب بھی کبھی نہیں فرمایا کہ یہ کیوں کیا ہے؟ اور اگر کسی کام کو انجام نہ دیا تب بھی نہ پوچھا کہ یہ کیوں نہ کیا؟ رسول اللہﷺ حسن اخلاق میں تمام لوگوں سے بہتر تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی ہتھیلی اتنی نرم تھی کہ میں نے اتنا نرم اور ملائم ریشم بھی کبھی نہیں دیکھا اور آپ کا پسینہ ایسا خوشبودار تھا کہ اتنی خوشبو میں نے مشک اور عطر میں بھی نہیں پائی۔
(۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، ثنا سُلَیْمَانُ۔ یعنی ابن المُغیْرَۃَ۔ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِیَّ ﷺ عَشَرَ سِنِیْنَ بِالْمَدِیْنَۃِ، وَاَنَا غُلَامٌ لَیْسَ کُلُّ اَمْرِیْ کَمَا یَشْتَہِیْ صَاحِبِیْ اَنْ اَکُوْنَ عَلَیْہِ مَا قَالَ لِیْ (فِیْہَا) اُفٍّ قَطُّ، وَمَا قَالَ لِیْ: لِمَ فَعَلْتَ ہٰذَا؟ اَوْاَلَّا فَعَلْتَ ہٰذَا؟(۸)
ترجمہ: حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ میں نے مدینہ منورہ میں دس سال تک نبی ﷺ کی خدمت کا شرف حاصل کیا۔ میں بچہ ہی تھا میرا ہر کام ٹھیک اس معیار کے مطابق تو نہ ہوسکتا تھا جس پر میرے آقا مجھے دیکھنے کے خواہش مندتھے۔ لیکن نبیﷺ نے مجھے اُف تک نہ کہا، نہ یہ فرمایا کہ تم نے یہ کیوں کیا؟ اور نہ یہ کہ یہ کیوں نہ کیا؟

اپنی ذات کے لیے انتقام

۶۳۔ مَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِنَفْسِہٖ فِی شَیٍْٔ قَطُّ اِلَّا اَنْ تُنْہَکَ حُرْمَۃُ اللّٰہِ۔ (بخاری و مسلم)
’’حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا۔ البتہ جب اللہ کی حرمتوں میں سے کسی حرمت کی ہتک کی جاتی تب آپؐ سزادیتے تھے۔‘‘
تشریح: (گویا کہ مومن) غُصَیل اور جھلّے نہیں ہوتے، بلکہ نرم خواور دھیمے مزاج کے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کی سرشت انتقامی نہیں ہوتی بلکہ وہ بندگان خدا سے درگزر اور چشم پوشی کا معاملہ کرتے ہیں ، اور کسی بات پر غصہ آبھی جاتا ہے تو اسے پی جاتے ہیں۔ یہ وصف انسان کی بہترین صفات میں سے ہے جسے قرآن مجید میں (بھی) نہایت قابل تعریف قرار دیا گیا ہے (آل عمران :۱۳۴) اور رسول اللہ ﷺ کی کامیابی کے بڑے اسباب میں شمار کیا گیا ہے۔(آل عمران: ۱۵۹) (تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ، حاشیہ:۵۹)
تخریج: (۱) حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، قَالَ اَخْبَرَنَا یُوْنُسُ عَنِ الزُّھْرِیِّ قَالَ اَخْبَرَنَا عُرْوَۃُ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: مَا اِنْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِنَفْسِہٖ فِیْ شَیٍْٔ یُؤْتیٰ اِلَیْہِ حَتّٰی یُنْتَہَکَ مِنْ حُرُمَاتِ اللّٰہِ فَیَنْتَقِمُ لِلّٰہِ۔(۹)
بخاری نے کتاب الادب میں درج ذیل الفاظ نقل کیے ہیں:
(۲) عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّہَا قَالَتْ: مَاخُیِّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَیْنَ اَمْرَیْنِ قَطُّ اِلَّا اخْتَارَ اَیْسَرَہُمَا مَا لَمْ یَکُنْ اِثْمًا، فَاِنْ کَانَ اِثْمًا، کَانَ اَبْعَدَ النَّاسِ مِنْہُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِنَفْسِہٖ فِیْ شَیٍْٔ قَطُّ اِِلَّا اَنْ تُنْتَہَکَ حُرْمَۃُ اللّٰہِ فَیَنْتَقِمُ لِلّٰہِ بِہَا۔(۱۰)
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ، قَالَ: نَا ابُوْاُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: مَا ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِِ ﷺ شَیْئًاقَطُّ بِیَدِہٖ وَلَا امْرَأَۃً وَلَاخَادِمًا اِلَّا اَنْ یُجَاہِدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِِ وَمَا نِیْلَ مِنْہُ شَیٌْٔ قَطُّ فَیَنْتَقِمُ مِنْ صَاحِبِہٖ اِلَّا اَنْ یَنْتَہَکَ شَیْئًا مِنْ مَّحَارِمِ اللّٰہِ فَیَنْتَقِمُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔(۱۱)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے کبھی کسی عورت اور خادم کو نہیں مارا بہ جز جہاد فی سبیل اللہ کے ۔ آں جنابؐ کو اگر کسی شخص سے کوئی تکلیف پہنچی ہوتی تو اس سے بھی کبھی انتقام نہیں لیا الّا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو توڑا جائے تو پھر صرف اللہ تعالیٰ کے لیے انتقام لیتے۔

آپؐ کا حسن انتخاب

ایک روایت میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ:
۶۴۔’’رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی خادم کو نہیں مارا، کبھی کسی عورت پر ہاتھ نہ اٹھایا، جہاد فی سبیل اللہ کے سوا کبھی آپؐ نے اپنے ہاتھ سے کسی کو نہیں مارا، اپنی ذات کے لیے کبھی کسی ایسی تکلیف کا انتقام نہیں لیا جو آپؐ کو پہنچائی گئی ہو الّا یہ کہ اللہ کی حرمتوں کو توڑا گیا ہو اور آپؐ نے اللہ کی خاطر اس کا بدلہ لیا ہو اور آپؐ کا طریقہ یہ تھا کہ جب دو کاموں میں سے ایک کا آپؐ کو انتخاب کرنا ہوتا تو آپ آسان تر کام کو پسند فرماتے تھے اِلّا یہ کہ وہ گناہ ہو اور اگر کوئی کام گناہ ہوتا تو آپؐ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے تھے۔ ‘‘ (مسند احمد)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الطُّفَاوِیُّ قَالَ: ثنا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: مَا ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَادِمًا لَہٗ قَطُّ، وَلَا امْرَأَۃً لَّہٗ قَطُّ، وَلَاضَرَبَ بِیَدِہٖ اِلَّا اَنْ یُجَاہِدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَمَا نِیْلَ مِنْہُ شَیٌْٔ فَانْتَقَمَہٗ مِنْ صَاحِبِہٖ اِلَّا اَنْ تُنْتَہَکَ مَحَارِمُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَیَنْتَقِمُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ وَمَا عُرِضَ عَلَیْہِ اَمْرَانِ اَحَدُہُمَا اَیْسَرُمِنَ الْآخَرِ اِلَّا اَخَذَ بِاَیْسَرِہِمَا اِلَّا اَنْ یَکُوْنَ مَأْثَمًا فَاِنْ کَانَ مَأْثَمًا کَانَ اَبْعَدَ النَّاسِ مِنْہُ۔(۱۲)
ترجمہ:حضرت عائشہؓ سے مروی ہے ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ کبھی اپنے دست مبارک سے کسی خادم کو مارا اور نہ اپنی کسی اہلیہ کو اور نہ کبھی کسی شخص کو اپنے ہاتھ سے مارا بہ جز جہاد فی سبیل اللہ کے۔ آپؐ کو اگر کسی شخص سے کوئی تکلیف پہنچی ہوتی تو اس سے انتقام نہیں لیا اِلّا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو توڑاجائے تو محض اللہ تعالیٰ کے لیے سزا دیتے ۔ آپؐ کے سامنے جب دو کام پیش کیے جاتے تو ان میں سے آسان ترکا انتخاب فرماتے الّا یہ کہ کوئی گناہ کا کام ہو۔ اگر گناہ کا کام ہوتا تو آپ تمام لوگوں سے بڑھ کر اس سے دور رہتے۔
(۲) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَبْدَۃَ الضَّبِِیُّ، ثنا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ مَارَأیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مُنْتَصِراً مِنْ مَظْلَمَۃٍ ظُلِمَہَا قَطُّ مَالَمْ یُنْتَہَکَ مِنْ مَحَارِمِ اللّٰہِ تَعَالیٰ شَیٌْٔ فَاِذَا انْتُہِکَ مِنْ مَحَارِمِ اللّٰہِ تَعَالیٰ شَیٌْٔ، کَانَ مِنْ اَشَدِّہِمْ فِیْ ذٰلِکَ غَضَبًا، وَمَا خُیِّرَ بَیْنَ الْاَمَرَیْنِ، اِلَّا اخْتَارَ اَیْسَرَ ہُمَا مَالَمْ یَکُنْ مَاْ ثَمًا۔(۱۳)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی اپنے اوپر کیے گئے ظلم کا انتقام و بدلہ لیتے نہیں دیکھا۔ تاوقتے کہ اللہ تعالیٰ کی حرمتوں میں سے کسی حرمت کو پامال نہ کیا گیا ہو، جب اللہ تعالیٰ کی حرمتوں میں سے کسی حرمت کی ہتک کی جاتی تو آپ کا غیظ و غضب تمام لوگوں سے زیادہ ہوتا۔ آپ کو دو معاملوں میں اختیار دیا جاتا تو آپ ان میں سے آسان ترکو اختیار فرماتے، بشرطیکہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا۔

اختیار اہون البلیتین

اِخْتِیَارُ اَہْوَنَ الْبَلِیَّتَیْنِسے مراد یہ ہے کہ جب دو ناجائز کاموں میں سے کسی ایک کا اختیار کرنا ناگزیر ہوجائے تو ان میں سے وہ اختیار کیا جائے جو کم تر درجے کا ناجائز کام ہو۔ اس میں شرط اول یہ ہے کہ خیر کی راہ بالکل بند ہو اور اسے اختیارکرنے کا قطعاً کوئی امکان نہ ہو۔ صرف اسی صورت میں آدمی کے لیے اہون البلیتین کو اختیار کرنا جائز ہوسکتا ہے۔ ورنہ خیر کی راہ کا کچھ بھی امکان ہو تو وہ شخص گنہگار ہوگاجومحض اپنی کم ہمتی کی بنا پر اپنے آپ کو دوناجائز کاموں میں سے کسی ایک میں مبتلا کردے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ دو ناجائز کاموں میں سے ایک کو اہون بس یونہی نہ ٹھیرالیا جائے بلکہ اصول شریعت کے لحاظ سے دیکھا جائے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے کس بلا کو اہون اور کس کواشد قرار دیا جاسکتا ہے۔ مثلاً ایک شخص سخت بھوک میں مبتلا ہے اور موت سے بچنے کے لیے اس کے سامنے صرف دو ہی غذائیں موجود ہیں۔ ایک سور کا گوشت، دوسرے گدھ کا گوشت، اب اگر وہ اسلامی نقطۂ نظر سے فیصلہ کرے تو لامحالہ گدھ کا گوشت اہون ہوگا، کیونکہ اس کے حرام ہونے کی صراحت قرآن میں نہیں کی گئی ہے، بلکہ حدیث میں ایک اصول بیان کیا گیا ہے جس کا اطلاق گدھ پر بھی ہوتا ہے۔ یا مثلاً کوئی طاقتور ظالم کسی بے گناہ کی جان کے درپے ہو اور وہ بے گناہ آپ کے پاس پناہ لے اور آپ کسی طرح لڑکر اس بے گناہ کو نہ بچاسکتے ہوں۔ ایسی صورت میں اگر وہ ظالم آکر آپ سے اس کا پتہ پوچھے تو آپ کے لیے دو صورتیں ممکن ہوں گی۔ یا تو جھوٹ بول کر اس کی جان بچالیں یا اس کا پتہ بتا کر اسے قتل کے لیے پیش کردیں۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں جھوٹ بولنا اہون ہے کیوں کہ سچ بولنے سے ایک شدید تر برائی یعنی ’’قتل مظلوم‘‘ لازم آتی ہے۔ (رسائل و مسائل دوم ، فقہی مسائل: اختیار۔۔۔)
بخاری ، مسلم ، طبرانی، بیہقی، ابن سعد اور ابن اسحاق وغیرہ نے متعدد سندوں سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ آں حضورؐ نے جنگ احزاب سے فارغ ہوتے ہی صحابہ کی ایک جماعت کو بنی قریظہ کی ایک بستی پر چڑھائی کرنے کا حکم دیا اور بہ تاکید فرمایا کہ تم میں سے کوئی عصر کی نماز (اور بعض روایات کے مطابق ظہر کی نماز) نہ پڑھے جب تک وہاں پہنچ نہ جائے۔ مگر ان لوگوں کو راستے میں دیر لگ گئی اور نماز کا وقت ختم ہونے لگا۔ اجتماعی طور پر وہ فیصلہ نہ کر سکے کہ آیا وقت پر نماز پڑھنے کے حکم عام کو چھوڑیں یا حضوؐر کے اس حکم خاص کو ؟ آخر کار بعض لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ نماز پڑھ لیں گے اور پھر آگے جائیں گے۔ ان کا استدلال تو یہ تھا کہ حضوؐر دراصل یہ چاہتے تھے کہ ہم جلدی جلدی کوچ کرکے وہاں پہنچ جائیں نہ یہ کہ ہم نماز ہی نہ پڑھیں۔ اور بعض نے فیصلہ کیا کہ ہم وہاں پہنچنے سے پہلے نماز ہی نہ پڑھیں گے کیوں کہ حضوؐر نے صاف الفاظ میں یہی حکم دیا ہے۔ بعد میں جب حضوؐر کے سامنے یہ معاملہ رکھا گیا تو آپؐ نے ان میں سے کسی کے فعل کو بھی غلط نہ کہا۔ اب دیکھ لیجیے یہاں دو واجب الاطاعت احکام میں جب عملاً تضاد واقع ہوگیا تو ان میں سے کسی ایک کو ترک اور دوسرے کو اختیار کرنے کا فیصلہ ہر سپاہی نے اپنی صوابدید کے مطابق بطور خود کیا اور یہ کام خود صاحب شریعت ؐ کی زندگی میں کیا گیا۔ اگر اس قسم کے فیصلے کا ان لوگوں کو حق نہ ہوتا تو حضوؐر صاف فرمادیتے کہ تم نے دین میں وہ اختیار استعمال کیا ہے، جو شرعاً تمھیں حاصل نہ تھا۔
(تفہیمات سوم،باب دوم: حکمت عملی۔۔۔)

ایک نابینا سے بے رخی پر عتاب الٰہی

۶۵۔ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں مکہ معظمہ کے چند بڑے سردار بیٹھے ہوئے تھے اور حضورؐ ان کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش فرمارہے تھے۔ اتنے میں ابن اُمّ مکتوم نامی ایک نابینا حضوؐر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے آپؐ سے اسلام کے متعلق کچھ پوچھنا چاہا۔ حضورؐ کو ان کی یہ مداخلت ناگوار ہوئی اور آپؐ نے ان سے بے رخی برتی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سورۂ عَبَس نازل ہوئی۔
تشریح :حدیث کی جن روایات میں یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے اُن میں سے بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت وہ اسلام لاچکے تھے اور بعض سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی طرف مائل ہوچکے تھے اور تلاش حق میں حضورؐ کے پاس آئے تھے۔ حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ انھوں نے آکر عرض کیا تھا: ’’یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اَرْشِدْنِیْ ’’یا رسول اللہ ! مجھے سیدھا راستہ بتائیے۔‘‘
(ترمذی، حاکم، ابن حبان، ابن جریر، ابویعلی)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ وہ آکر قرآن کی ایک آیت کا مطلب پوچھنے لگے اورحضورؐسے عرض کیا یا رسول اللّٰہ عَلِّمْنِیْ مِِمَّا عَلَّمَکَ اللّٰہُ’’یا رسول اللہ ! مجھے وہ علم سکھائیے جو اللہ نے آپؐ کو سکھایا ہے۔‘‘
(ابن جریر ۲۸؍۳۰ جلد۱۲ سورہ عبس۔ ابن ابی حاتم)
ان بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضورؐ کو خدا کا رسول اور قرآن کو خدا کی کتاب تسلیم کرچکے تھے۔ دوسری طرف ابن زید سورہ عبس :۳کے الفاظ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰی کا مطلب لَعَلَّہٗ یُسْلِم ’’شاید کہ وہ اسلام قبول کرلے‘‘ بیان کرتے ہیں۔
(ابن جریر۲۸؍۳۰ج ۱۲ ، سورہ عبس)
اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ ’’تمھیں کیا خبر، شاید وہ سدھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لیے نافع ہو؟‘‘ اور ’’یہ کہ جو خود تمھارے پاس دوڑاآتا ہے اور وہ ڈر رہا ہوتا ہے، اُس سے تم بے رخی برتتے ہو‘‘ (عبس :۸۔۱۰) اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اُس وقت ان کے اندر طلب حق کا گہرا جذبہ پیدا ہوچکا تھا، وہ حضوؐر ہی کو ہدایت کا منبع سمجھ کر آپؐ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے تھے کہ اُن کی یہ طلب یہیں سے پوری ہوگی، اور یہ بات ان کی حالت سے ظاہر ہورہی تھی کہ انھیں ہدایت دی جائے تو وہ اس سے مستفید ہوں گے۔
جو لوگ اُس وقت حضورؐ کی مجلس میں بیٹھے تھے۔ مختلف روایات میں ان کے ناموں کی صراحت کی گئی ہے۔ اس فہرست میں ہمیں عتبہ ، شیبہ، ابوجہل، امیہ بن خلف، ابی بن خلف جیسے بدترین دشمنان اسلام کے نام ملتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اُس زمانہ میں پیش آیاتھا جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان لوگوں کا میل جول ابھی باقی تھا اور کشمکش اتنی نہ بڑھی تھی کہ آپؐ کے ہاں اُن کی آمد و رفت اور آپؐ کے ساتھ اُن کی ملاقاتوں کا سلسلہ بند ہوگیا ہو۔
آپؐ کا ایک نابینا سے بے رخی برتنا اور سرداران قریش کی طرف توجہ کرنا کچھ اس بنا پر نہ تھا کہ آپؐ بڑے لوگوں کو معزز اور ایک بے چارے نابینا کو حقیر سمجھتے تھے، اور معاذ اللہ یہ کوئی کج خلقی آپؐ کے اندر پائی جاتی تھی جس پر اللہ تعالیٰ نے گرفت فرمائی۔ بلکہ معاملہ کی اصل نوعیت یہ ہے کہ ایک داعی جب اپنی دعوت کا آغاز کرنے لگتا ہے تو فطری طورپر اس کا رجحان اس طرف ہوتا ہے کہ قوم کے بااثر لوگ اس کی دعوت قبول کرلیں تاکہ کام آسان ہوجائے، ورنہ عام بے اثر، معذور یا کمزور لوگوں میں دعوت پھیل بھی جائے تو اس سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑسکتا۔ قریب قریب یہی طرز عمل ابتدا میں رسول اللہ ﷺ نے بھی اختیار فرمایا تھا جس کا محرک سراسر اخلاص اور دعوت حق کو فروغ دینے کا جذبہ تھا نہ کہ بڑے لوگوں کی تعظیم اور چھوٹے لوگوں کی تحقیر کا تخیل ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سورۂ عبس نازل کرکے آپؐ کو سمجھایا کہ اسلامی دعوت کا صحیح طریقہ یہ نہیں ہے، بلکہ اس دعوت کے نقطۂ نظر سے ہر وہ انسان اہمیت رکھتا ہے جو طالب حق ہو، چاہے وہ کیسا ہی کمزور ، بے اثر، یا معذور ہو، اور ہر وہ شخص غیر اہم ہے جو حق سے بے نیازی برتے ، خواہ وہ معاشرے میں کتنا ہی بڑا مقام رکھتا ہو۔ اس لیے آپؐ اسلام کی تعلیمات کو ہانکے پکارے سب کو سنائیں۔ مگر آپؐ کی توجہ کے اصل مستحق وہ لوگ ہیں جن میں قبول حق کی آمادگی پائی جاتی ہو، اور آپؐ کی بلند پایہ دعوت کے مقام سے یہ بات فروتر ہے کہ آپؐ اُسے اُن مغرور لوگوں کے آگے پیش کریں جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں یہ سمجھتے ہوں کہ اُن کو آپؐ کی نہیں بلکہ آپؐ کو اُن کی ضرورت ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، عبس : موضوع اور مضمون)
تخریج:(۱) اَتیٰ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَعِِنْدَہٗ صَنَادِیْدُ قُرَیْشٍ عُتْبَۃُ وَشَیْبَۃُ اِبْنَارَبِیْعَۃَوَاَبُوْجَھْلٍ وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَاُمَیَّۃُ بْنُ خَلَفٍ وَالْوَلِیْدُبْنُ الْمُغِیْرَۃَ یُنَاجِیْہِمْ وَیَدْعُوْہُمْ اِلَی الْاِسْلَامِِ رَجَائَ اَنْ یُّسْلِمَ بِاِسلاَمِہِمْ غَیْرَہُمْ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَقْرِئْنِیْ وَعَلِّمْنِیْ مِمَّا عَلَّمَکَ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَکَرَّ رَ ذٰلِکَ وَلَمْ یَعْلَمْ تَشَاغُلَہٗ بِالْقَوْمِِ فَکَرِہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَطْعَہٗ لِکَلامِہٖ وَعَبَسَ وَاَعْرَضَ عَنْہُ فَنَزَلَتْ الخ۔(۱۴)
ترجمہ: ابن اُمّ مکتوم رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں اس وقت حاضر ہوئے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــجب آپ سرداران قریش، یعنی ربیعہ کے بیٹے عتبہ اور شیبہ،ابوجہل اور عباس بن عبدالمطلب اور امیہ بن خلف اور ولید بن مغیرہ سے گفتگو فرمارہے تھے۔ آپ انھیں اسلام کی طرف دعوت دے رہے تھے اس امید پر کہ وہ مسلمان ہوجائیں اور دوسروں کے لیے نمونہ بن جائیںــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اور انھوں نے آتے ہی رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ مجھے پڑھائیے مجھے وہ کچھ سکھائیے جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو سکھایا ہے۔ یہ سوال وہ بار بار کرتے رہے اور انھیں یہ نہ معلوم ہوا کہ حضورؐ لوگوں سے محو گفتگو ہیں۔ آپ کو اس موقع پر قطع کلام ناگوار گزرا ۔ آپؐ کی پیشانی شکن آلود ہوگئی اور ان کی طرف سے منہ پھیرلیا۔
(۲) حَدَّثَنَا سَعِیْدُبْنُ یَحْیٰ بْنِ سَعِیْدِ نِ الْاُمَوِیُّ، قَالَ: ثَنِیْ اَبِیْ، قَالَ: ہٰذَا مَا عَرَضْنَا عَلیٰ ہِشَامِ ابْنِ عُرْوَۃَ، وَعَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: اُنْزِلَ عَبَسَ وَتَوَلّٰی فِی ابْنِ اُمِّ مَکْتُوْمٍ الْاَعْمیٰ اَتیٰ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَجَعَلَ یَقُوْلُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَرْشِِدْنِیْ وَعِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ رَجُلٌ مِّنْ عُظَمَائِ الْمُشْرِکِیْنَ، فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُعْرِضُ عَنْہُ ویُقْبِلُ عَلَی الْاٰخَرِ یَقُوْلُ: اَتَرٰی بِمَا اَقُوْلُ بَاسًا فَیَقُوْلُ: لَا فَفِیْ ہٰذَا اُنْزِلَ۔ ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ غَرِیْبٌ۔(۱۵)
وَرَوَی بَعْضُہُمْ ہٰذَا الْحَدِیْثَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ اُنْزِلَ عَبَسَ وَتَوَلّٰی فِیْ ابْنِ اُمِّ مَکْتُوْمٍ وَلَمْ یَذْکُرْفِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ۔
ترجمہ: حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ عَبَسَ وَتَوَلّٰی ابن اُمّ مکتوم کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایسے وقت حاضر ہوئے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ جب مشرکین کے عظماء میں سے ایک شخص آپؐ کے پاس بیٹھا تھاـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ اور وہ آتے ہی کہنے لگے اے رسول خدا! مجھے رہ نمائی فرمائیں۔ آپؐ اس وقت ان سے اعراض فرماتے رہے اور اس سردار کی جانب متوجہ ہو کر فرماتے رہے کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں کیا اس میں کوئی بات غلط ہے؟ وہ کہتا کہ نہیں۔ بس اسی کے بارے میں یہ سورہ نازل ہوئی ہے۔

آپؐ کے روبرو اعمال اُمّت پیش کیے جانے کا مطلب

۶۶۔ یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا۔
’’اے نبیؐ! ہم نے تمھیں بھیجا ہے گواہ بناکر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر۔‘‘
تشریح :بعض لوگوں نے اس شہادت کو یہ معنی پہنانے کی کوشش کی ہے کہ نبی ﷺ آخرت میں لوگوں کے اعمال پر شہادت دیں گے، اور اس سے وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ حضور تمام لوگوں کے اعمال دیکھ رہے ہیں، ورنہ بے دیکھے شہادت کیسے دے سکیں گے۔ لیکن قرآن مجید کی رو سے یہ تاویل قطعاًغلط ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ لوگوں کے اعمال پر شہادت قائم کرنے کے لیے تو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرا ہی انتظام فرمایا ہے۔ اس غرض کے لیے اس کے فرشتے ہرشخص کا نامۂ اعمال تیار کررہے ہیں (ملاحظہ ہو قٓ :۱۷-۱۸ اور الکہف:۱۴۹) اور اس کے لیے وہ لوگوں کے اپنے اعضاء سے بھی گواہی لے لے گا (یٰسٓ :۶۵۔ حٰمٓ السجدہ:۰ ۲-۲۱) رہے انبیاء علیہم السلام ، تو ان کا کام بندوں کے اعمال پر گواہی دینا نہیں بلکہ اس بات پر گواہی دینا ہے کہ بندوں تک حق پہنچادیا گیا تھا۔ قرآن صاف فرماتا ہے:
یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَا اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ۔ (المائدہ:۱۰۹)
’’جس روز اللہ تمام رسولوں کو جمع کرے گا، پھر پوچھے گا کہ تمھاری دعوت کا کیا جواب دیا گیا، تو وہ کہیں گے کہ ہم کو کچھ خبر نہیں۔ تمام باتوں کو جاننے والے تو آپ ہی ہیں۔‘‘
اور اسی سلسلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ جب ان سے عیسائیوں کی گمراہی کے متعلق سوال ہوگا تو وہ عرض کریں گے:
وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا مَّادُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْہِمْ۔ (المائدہ: ۱۱۷)
’’میں جب تک ان کے درمیان تھا اسی وقت تک ان پر گواہ تھا۔ جب آپ نے مجھے اٹھالیا تو آپ ہی ان پر نگراں تھے۔‘‘
یہ آیات اس باب میں بالکل صریح ہیں کہ انبیاء علیہم السلام اعمال خلق کے گواہ نہیں ہوں گے۔ پھر وہ گواہ کس چیز کے ہوں گے؟ اس کا جواب قرآن اتنی ہی صراحت کے ساتھ یہ دیتا ہے:
وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِتَکُونُوْا شُہَدَآء عَلَی الناسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا۔ (البقرہ: ۱۴۳)
’’اور اے مسلمانو! اسی طرح ہم نے تم کو ایک امت وسط بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوا اور رسول تم پر گواہ ہوں۔‘‘
وَیَوْمَ نَبْعَثُ فِی کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیْدًا عَلَیْہِمْ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَجِئْنَا بِکَ شَہِیْدًا عَلیٰ ہٰٓؤُلَآئِ۔ (النَّحْل: ۸۹)
’’اورجس روز ہم ہر امت میں انہی کے اندر سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے جو ان پر گواہی دے گا اور (اے محمدؐ!) تمھیں ان لوگوں پر گواہ کی حیثیت سے لائیں گے۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز نبی ﷺ کی شہادت اپنی نوعیت میں اس شہادت سے مختلف ہوگی جسے ادا کرنے کے لیے حضورؐکی امت کو اور ہر امت پر گواہی دینے والے شہداء کو بلایاجائے گا۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ شہادت اعمال کی ہو تو ان سب کا بھی حاضر و ناظر ہونا لازم آتا ہے اور اگر یہ گواہ صرف اس امر کی شہادت دینے کے لیے بلائے جائیں گے کہ خلق تک اس کے خالق کا پیغام پہنچ گیا تھا تو لامحالہ حضورؐ بھی اسی غرض کے لیے پیش ہوں گے۔
اس مضمون کی تائید وہ احادیث بھی کرتی ہیں جن کو بخاری، مسلم، ترمذی، ابن ماجہ اور امام احمد وغیرہم نے عبداللہ بن مسعود ، عبداللہ بن عباس ، ابوالدّرداءؓ ، انس بن مالک اور بہت سے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے نقل کیا ہے۔ یہ مضمون اتنے صحابہؓ سے اتنی کثیر سندوںکے ساتھ نقل ہوا ہے کہ اس کی صحت میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں۔
اس سے یہ بات صریحاً ثابت ہوتی ہے کہ نبی ﷺ اپنی امت کے ایک ایک شخص اور اس کی ایک ایک حرکت کے شاہد قطعاً نہیں ہیں۔ رہی وہ حدیث جس میں یہ ذکر آیا ہے کہ حضورؐ کے سامنے آپؐ کی امت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں تو وہ کسی طرح بھی اس سے متعارض نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کا حاصل صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حضوؐر کو امت کے حالات سے باخبر رکھتا ہے۔ اس کے یہ معنی کب ہیں کہ حضوؐر ہر شخص کے اعمال کا عینی مشاہدہ فرمارہے ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج۴، الاحزاب، حاشیہ:۸۲)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِِ بْنُ مُحَمَّدِبْنِِ اَسْمَائِ نِالضَّبُعِیُّ وَشَعْبَانُ بْنُ فَرُّوْخٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا مَہْدِیُّ ابْنُ مَیْمُوْنٍ، قَالَ: نَاوَاصِلٌ مَوْلیٰ اَبِیْ عُیَیْنَۃَ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ عَقِیْلٍ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ یَعْمُرَ، عَنْ اَبِی الْاَسْوَدِ الدِّیْلِیِّ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: عُرِضَتْ عَلَیَّ اَعْمَالُ اُمَّتِیْ حَسَنُہَا وَسَیِّئُہَا فَوَجَدْتُّ فِیْ مَحاسِنِ اَعْمَالِہَا الاَذٰی یُمَاطُ عَنِ الطَّرِیْقِ وَوَجَدْتُّ فِی مَسَاوِیئِ اَعْمَالِہَا النُّحَائَ ۃُ تَکُوْنُ فِی الْمَسْجِد وَلَا تُدْفَنُ۔(۱۶)
ترجمہ: حضرت ابوذر غفاریؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے اچھے ، برے اعمال میرے روبرو پیش کیے گئے۔ ان کے اچھے اعمال میں، میں نے یہ بھی پایا کہ تکلیف دہ چیز کو راستہ سے ہٹادیا جائے، اور ان کے برے اعمال میں، میں نے یہ بھی پایا کہ بلغم مسجد میں پڑا ہے اور اسے دفن نہیں کیا جاتا۔

نبی کریم ﷺ کے چلنے کا انداز

۶۷۔ نبی ﷺ مضبوط قدم رکھتے ہوئے چلتے تھے کہ گویا نشیب کی طرف اتررہے ہیں۔
تشریح :حضرت عمرؓ کے متعلق روایات میں آیا ہے کہ انھوں نے ایک جوان آدمی کو مریل چال چلتے دیکھا تو روک کر پوچھا کیا تم بیمار ہو؟ اس نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے دُرّہ اٹھاکر اسے دھمکایا اور بولے قوت کے ساتھ چلو۔
(اس میں) غور طلب پہلو یہ ہے کہ آدمی کی چال میں آخر وہ کیا اہمیت ہے جس کی وجہ سے قرآن مجید میں اللہ کے نیک بندوں کی خصوصیات گناتے ہوئے اس کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ سورہ فرقان کی آیت ۶۳ میں ارشاد ہے : وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا الایۃ۔’’رحمان کے اصلی بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں۔‘‘اس سوال کو ذرا تامل کی نگاہ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کی چال محض اس کے انداز رفتارہی کا نام نہیں ہے بلکہ درحقیقت وہ اس کے ذہن اور اس کی سیرت و کردار کی اولین ترجمان بھی ہوتی ہے۔ ایک عیار آدمی کی چال، ایک غنڈے بدمعاش کی چال، ایک ظالم و جابر کی چال، ایک خود پسند متکبر کی چال، ایک باوقار مہذب آدمی کی چال، ایک غریب مسکین کی چال اور اسی طرح مختلف اقسام کے دوسرے انسانوں کی چالیں ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہوتی ہیں کہ ہر ایک کو دیکھ کر بآسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس چال کے پیچھے کس طرح کی شخصیت جلوہ گر ہے۔ مدعا یہ ہے کہ رحمان کے بندوں کو تو عام آدمیوں کے درمیان چلتے پھرتے دیکھ کر ہی بغیر کسی سابقہ تعارف کے الگ پہچان لوگے کہ یہ کس طرز کے لوگ ہیں۔ خدا کی بندگی نے ان کی ذہنیت اور سیرت کو جیسا کچھ بنادیا ہے اس کا اثر ان کی چال تک میں نمایاں ہے۔ ایک آدمی انھیں دیکھ کر پہلی نظر میں جان سکتا ہے کہ یہ شریف اور حلیم ہمدرد لوگ ہیں۔ ان سے کسی شر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الفرقان، حاشیہ: ۷۹)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ، وَغَیْرُ وَاحِدٍ، قَالُوْا : حَدَّثَنَا عِیْسَی بْنُ یُوْنُسَ، عَنْ عُمَرَبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ مَوْلیٰ غَفَرَۃَ، حَدَّثَنِیْ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِّنْ وُّلْدِِ عَلِیِِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ عَلِیٌّ، اِذَا وَصَفَ النَّبِیَّ ﷺ، قَالَ: اِذَا مَشیٰ تَقَلَّعَ کَاَنَّمَا یَنْحَطُّ فِیْ صَبَبٍ۔
ترجمہ:ابراہیم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ جب نبی ﷺ کی تعریف بیان کرتے تو فرماتے: ’’نبی کریم ﷺ مضبوط قدم رکھتے ہوئے چلتے تھے کہ گویا نشیب کی طرف اُتر رہے ہیں۔‘‘
(۲) عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ اِذَا مَشیٰ تَکَفَّأَکَاَنَّمَا یَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ۔(۱۷)
(۳) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُعَاذِبْنِ خَلِیْفٍ، ثَنَا عَبْدُ الْاَعْلیٰ، ثَنَا سَعِیْدُ نِاَلْجَرِیْرِیُّ عَنْ اَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ:رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قُلْتُ کَیْفَ رَأَیْتَہٗ؟ قَالَ: کَانَ اَبْیَضَ مَلِیْحًا اِذَا مَشیٰ کَاَنَّمَا یَہْوِیْ فِیْ صَبَبٍ۔(۱۸)
ترجمہ :سعید جریری روایت کرتے ہیں کہ ابوالطفیل نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ سعید کہتے ہیں میں نے پوچھا آپ نے رسالت مآب کو کیسا دیکھا۔ بولے: ’’آپ نہایت خوبصورت گورے رنگ کے تھے جب چلتے تو گویا نشیب کی طرف اتررہے ہیں۔‘‘

آپؐ کی عائلی زندگی

۶۸۔ ہُنَّ کَمَا تَریٰ یَسْأَلْنَنِیْ النَّفَقَۃَ۔
’’صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دیکھا کہ آپؐ کی ازواج آپؐ کے گرد بیٹھی ہیں اور آپؐ خاموش ہیں۔ آپؐ نے حضرت عمرؓ کو خطاب کرکے فرمایا: یہ میرے گرد بیٹھی ہیں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ یہ مجھ سے خرچ کے لیے روپیہ مانگ رہی ہیں۔‘‘
تشریح : اس پر دونوں صاحبوںنے اپنی اپنی بیٹیوں کو ڈانٹا اور ان سے کہا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو تنگ کرتی ہو اور وہ چیز مانگتی ہو جو آپؐ کے پاس نہیں ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ اس وقت کیسی مالی مشکلات میں مبتلاتھے اور کفر و اسلام کی انتہائی شدید کشمکش کے زمانے میں خرچ کے لیے ازواج مطہرات )کے تقاضے مزاج مبارک پر کیا اثر ڈال رہے تھے۔یہ واقعہ جنگ احزاب اور بنی قریظہ سے متصل زمانے ۵ھ ؁ کا ہے۔)
(تفہیم القرآن ، ج۴، الاحزاب، حاشیہ: ۴۱)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَبْدُ الْمَالِکِ بْنُ عُمَرَ وَاَبُوْعَامِرٍ، قَالَ ثَنَازَکَرِیّا یعنی ابْنَ اِسْحَاقَ عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: اَقْبَلَ اَبُوْبَکْرٍ یَسْتَأْذِنُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَالنَّاسُ بِبابِہٖ جُلُوْسٌ فَلَمْ یُؤْذَنْ لَہٗ، ثُمَّ اَقْبَلَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ فَلَمْ یُؤذَنْ لَہٗ، ثُمَّ اُذِنَ لِاَبِیْ بَکْرٍوَّعُمَرَ فَدَخَلَا، وَالنَّبِیُّ ﷺ جَالِسٌ وَحَوْلَہٗ نِسَآئُ ہٗ وَہُوَ سَاکِتٌ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: لَاُکَلِّمَنَّ النَّبِیَّ ﷺ لَعَلَّہٗ یَضْحَکُ فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ لَوْ رَأَیْتُ بِنْتَ زَیْدٍ اِمْرَأَۃَ عُمَرَ سَأَلَتْنِی النّفَقَۃَ اٰنِفًا فَوَجَأْتُ عُنُقَہَا، فَضَحِکَ النَّبِِیُّ ﷺ حَتّٰی بَدَا نَوَاجِذُہٗ قَالَ: ہُنَّ حَوْلِیْ کَمَا تَرٰی یَسْئَلْنَنِی النَّفَقَۃَ۔ فَقَامَ اَبُوْبَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اِلیٰ عَائِشَۃَ لِیَضْرِبَہَا وَقَامَ عُمَرُاِلیٰ حَفْصَۃَ، کِلَاہُمَا یَقُوْلَانِ: تَسْأَلَانِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَا لَیْسَ عِنْدَہٗ فَنَہَا ہُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقُلْنَ نِسَآؤُہُ وَاللّٰہِ لآنَسْأَلُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ بَعْدَ ہٰذَا الْمَجْلِِسِ مَالَیْسَ عِنْدَہٗ الحدیث۔(۱۹)
ترجمہ : حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دروازہ پر لوگ بیٹھے تھے کہ حضرت ابوبکرؓ آئے، اجازت مانگی لیکن اجازت نہ ملی۔ پھر حضرت عمرؓ آئے اور اجازت طلب کی لیکن اجازت نہ ملی، تھوڑی دیر بعد ابوبکرؓ و عمرؓ کو اجازت دے دی گئی، دونوں اندر چلے گئے۔ نبی ﷺ تشریف فرما ہیں اور آپؐ کی ازواج مطہرات آپؐ کے گرد جمع ہیں، آپؐ خاموش ہیں۔ حضرت عمرؓ نے دل میں کہا، میں رسول اللہ ﷺسے ضرور (دل لگی کی) بات کروں گا شاید آپؐ ہنس پڑیں (خوش ہوجائیں) اس فیصلہ پر عمل کرتے ہوئے عمرؓ نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! اگر میں زید کی بیٹی، عمرؓ کی بیوی کو اس وقت نفقہ کا مطالبہ کرتے ہوئے پائوں تو اس کی گردن دبوچ ڈالوں۔
اس پر رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے حتیّٰ کہ آپؐ کی ڈاڑھیں نمایاں ہوگئیں اور فرمایا یہ تو میرے گردجمع ہیں، تم دیکھ ہی رہے ہو اور نفقہ کا مطالبہ کررہی ہیں۔ اس پر ابوبکرؓ عائشہ کو مارنے کے لیے اور عمرؓ حفصہ کو مارنے کے لیے یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے تم رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کی طلب کرتی ہو جو آپؐ کے پاس نہیں ہے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے دونوں کو مارنے سے روک دیا، اس پر ازواج نے عرض کیا، اللہ کی قسم! اس نشست کے بعد ہم رسول اللہ ﷺ سے کسی ایسی چیز کی طلب نہیں کریں گی جو آپؐ کے پاس نہ ہو۔‘‘

ازواج مطہرات کے ساتھ آپؐ کا عدل

۶۹۔بخاری‘ مسلم‘ نسائی‘ ابوداؤد وغیرہم حضرت عائشہ ؓکا قول نقل کرتے ہیں کہ:
سورہ احزاب کی آیت۱ ۵ تُرْجِیْ مَنْ تَشآء ُ مِنْھُنَّ وَتُؤْوِیْٓ اِلَیْکَ مَنْ تَشَآئُ وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکَ۔ ’’تم کو اختیار دیا جاتا ہے کہ اپنی بیویوں میں سے جس کو چاہو اپنے سے الگ رکھو جسے چاہو اپنے ساتھ رکھو اور جسے چاہو الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلا لو‘‘ کے نزول کے بعد بھی حضورؐ کا طریقہ یہی رہا ہے کہ آپ ہم میں سے کسی بیوی کی باری کے دن دوسری بیوی کے یہاں جاتے تواس سے اجازت لے کر جاتے تھے۔
ابوبکر جصّاص عُروَہ بن زبیر کی روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے اُن سے فرمایا : ’’رسول اللہ ﷺ باریوں کے تقسیم میں ہم میں سے کسی کو کسی پر ترجیح نہ دیتے تھے۔ اگرچہ کم ہی ایسا ہوا تھا کہ آپؐ کسی روز اپنی سب بیویوں کے یہاں نہ جاتے ہوں مگرجس بیوی کی باری کا دن ہوتا تھا اس کے سوا کسی دوسری بیوی کو چھوتے تک نہ تھے۔‘‘
اور یہ روایت بھی حضرت عائشہؓ ہی کی ہے کہ جب حضور ﷺاپنی آخری بیماری میں مبتلا ہوئے اور نقل و حرکت آپؐ کے لیے مشکل ہو گئی توآپؐ نے سب بیویوں سے اجازت طلب کی کہ مجھے عائشہؓ کے ہاں رہنے دو، اور جب سب نے اجازت دے دی تب آپؐ نے آخری زمانہ حضرت عائشہؓ کے ہاں گزارا۔ (تفہیم القرآن ج ۴ ،الاحزاب، حاشیہ: ۹۱)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسٰی قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، قَالَ اَخْبَرَنَا عَاصِمُ الْاَحْوَلُ، عَنْ مُعَاذَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ،کَانَ یَسْتَاْذِنُ فِیْ یَْومِ الْمَرْأَۃِ مِنَّا بَعْدَ اَنْ اُنْزِلتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ۔ تُرْجِیْ مَنْ تَشَآئُ مِنْھُنَّ وَتُؤْوِیْ اِلَیْک مَنْ تَشَآئُ الخ۔(۲۰)
(۲) رَوَی عَاصِمُ نِالاَحْوَلُ عَنْ مُعَاذَۃَ الْعَدَوِیَّۃِ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَسْتَأْذِِنُنَا فِیْ یَوْمِ اِحْدَانَا بَعْدَ مَا اُنْزِِلَ تُرْجِیْ مَنْ تَشَآئُ مِنْہُنَّ الخ۔(۲۱)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ سورہ احزاب کی آیہ کریمہ تُرْجِیْ مَنْ تَشَآئُ مِنْہُنَّ الخ کے نزول کے بعد حضور کا طریقہ یہی رہا کہ آپؐ ہم میں سے کسی بیوی کی باری کے دن دوسری بیوی کے ہاں جاتے تو اس سے اجازت لے کر جاتے تھے۔
(۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ، قَال:حَدَّثَنَا اَبُوْ دَاؤدَ قَالَ:حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ، قَالَ:حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ یعنی ابْنَ اَبِی الزِّنَادِ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ: یَا ابْنَ اُخْتِیْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَایَفْضُلُ بَعْضَنَا عَلیٰ بَعْضٍ فِی الْقِسْمِ مِنْ مَکْثِہٖ عِنْدَہَا وَکَانَ قَلَّ یَوْمٍ اِلَّا وَہُوَ یَطُوْفُ عَلَیْنَا جَمِیْعًا فَیَدْنُوْ مِنْ کُلِّ امْرَأَۃٍ مِنْ غَیْرِ مَسِیْسٍ حَتّٰی یَبْلُغَ اِلَی الَّتِیْ ہُوَ یَوْمَہَا فَیَبِیْتُ عِنْدَہَا الخ ۔(۲۲)
ترجمہ:ابوبکر جصّاص عروہ بن زبیر کی روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے ان سے فرمایا، اے بھانجے رسول اللہ ﷺ باریوں کی تقسیم میں ہم میں سے کسی کو کسی پر ترجیح نہ دیتے تھے۔ اگرچہ کم ہی ایسا ہوتا تھا کہ آپؐ کسی روز اپنی سب بیویوں کے ہاں نہ جاتے ہوں مگر جس بیوی کی باری کا دن ہوتا تھا اس کے سوا کسی دوسری بیوی کو چھوتے تک نہ تھے۔
(۴) حَدَّثَنَا سَعِیْدُبْنُ عُفَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی اللَّیْثُ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ عُقَیْلٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِِ مَسْعُوْدٍ، اَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَاشْتَدَّبِہٖ وَجَعُہٗ اِسْتَأْذَنَ اَزْوَاجَہٗ اَنْ یُّمَرِّضَ فِیْ بَیْتِیْ فَاَذِنَّ لَہٗ الحدیث۔(۲۳)
ترجمہ: عبید اللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں حضرت عائشہؓ نے فرمایا جب حضوؐر اپنی آخری بیماری میں مبتلا ہوئے اور نقل و حرکت آپؐ کے لیے مشکل ہوگئی تو آپؐ نے سب بیویوں سے اجازت طلب کی کہ مجھے عائشہؓ کے ہاں رہنے دو، اور جب سب نے اجازت دے دی تب آپؐ نے آخری زمانہ حضرت عائشہؓ کے ہاںگزارا۔

حضورؐ کا اخلاقی رُعب

۷۰۔(قاضی ابوالحسن الَماوَردیِ نے اپنی کتاب اعلام الّنُبوۃ میں لکھا ہے) ابو جہل ایک یتیم کا وصی تھا ۔وہ بچہ ایک روز اس حالت میں اُس کے پاس آیا کہ اس کے بدن پر کپڑے تک نہ تھے اور اُس نے التجا کی کہ اُس کے باپ کے چھوڑے ہوئے مال میں سے وہ اس سے کچھ دے دے مگر اس ظالم نے اس کی طرف توجہ تک نہ کی اور وہ کھڑے کھڑے آخر کار مایوس ہو کر پلٹ گیا۔ قریش کے سرداروں نے ازراہِ شرارت اس سے کہا کہ محمد(ﷺ) کے پاس جاکر شکایت کر، وہ ابوجہل سے سفارش کرکے تجھے تیرا مال دلوادیں گے۔ بچہ بے چارہ ناواقف تھا کہ ابوجہل کا حضورؐسے کیا تعلق ہے اور یہ بدبخت اُسے کس غرض کے لیے مشورہ دے رہے ہیں۔ وہ سیدھا حضورؐ کے پاس پہنچا اور اپنا حال آپؐ سے بیان کیا۔ آپؐ اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے ساتھ لے کر اپنے بدترین دشمن ابوجہل کے ہاں تشریف لے گئے۔ آپؐ کو دیکھ کر اس نے آپ کا استقبال کیا اور جب آپؐ نے فرمایا کہ اس بچے کا حق اسے دے دو تو وہ فوراً مان گیا اور اس کا مال لاکر اسے دے دیا۔ قریش کے سردار تاک میں لگے ہوئے تھے کہ دیکھیں، ان دونوں کے درمیان کیا معاملہ پیش آتا ہے۔ وہ کسی مزے دار جھڑپ کی امید کررہے تھے۔ مگر جب انھوں نے یہ معاملہ دیکھا تو حیران ہو کر ابوجہل کے پاس آئے اور اسے طعنہ دیا کہ تم بھی اپنا دین چھوڑ گئے۔ اس نے کہا خدا کی قسم! میں نے اپنا دین نہیں چھوڑا۔ مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ محمد (ﷺ) کے دائیں اور بائیں ایک ایک حربہ ہے جو میرے اندر گھس جائے گا اگر میں نے ذرا بھی ان کی مرضی کے خلاف حرکت کی۔
تشریح :اس واقعہ سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں عرب کے ترقی یافتہ اور معزز قبیلے تک کے بڑے بڑے سرداروں کا یتیموں اور دوسرے بے یارومددگار لوگوں کے ساتھ کیا سلوک تھا، بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کس بلند اخلاق کے مالک تھے اور آپؐ کے اس اخلاق کا آپؐ کے بدترین دشمنوں تک پر کیا رعب تھا۔
(تفہیم القرآن، ج ۶،الماعون ، حاشیہ: ۵)
۷۱۔ایک دفعہ قبیلہ ٔ اَرَاش کا ایک شخص کچھ اونٹ لے کر مکہ آیا۔ ابوجہل نے اس کے اونٹ خرید لیے اور جب اس نے قیمت طلب کی تو ٹال مٹول کرنے لگا۔ اَرَاشی نے تنگ آکر ایک روز حرمِ کعبہ میں قریش کے سرداروں کو جاپکڑا اور مجمع عام میں فریاد شروع کردی۔ دوسری طرف حرم کے ایک گوشے میں نبی ﷺ تشریف فرماتھے۔ سرداران قریش نے اس شخص سے کہا کہ ’’ہم کچھ نہیں کرسکتے، دیکھو! وہ صاحب جو اس کونے میں بیٹھے ہیں، ان سے جاکر کہو وہ تم کو روپیہ دلادیں گے۔‘‘ اراشی نبی ﷺ کی طرف چلا، اور قریش کے سرداروں نے آپس میں کہا۔’’ آج لطف آئے گا۔‘‘ اراشی نے جاکر حضوؐر سے اپنی شکایت بیان کی۔ آپؐ اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے ساتھ لے کر ابوجہل کے مکان کی طرف روانہ ہوگئے۔ سرداروں نے پیچھے ایک آدمی لگادیا کہ جو کچھ گزرے اس کی خبر لاکردے۔ نبی ﷺسیدھے ابوجہل کے دروازے پر پہنچے اور کنڈی کھٹکھٹائی۔ اس نے پوچھا۔’’کون؟‘‘ آپؐ نے جواب دیا’’محمد‘‘ وہ حیران ہوکر باہر نکل آیا۔ آپؐ نے اس سے کہا ’’اس شخص کاحق ادا کردو۔‘‘ اس نے جواب میں کوئی چون وچرانہ کی، اندرگیا اور اس کے اونٹوں کی قیمت لاکر اس کے ہاتھ میں دے دی۔ قریش کا مخبریہ حال دیکھ کر حرم کی طرف دوڑا اور سرداروں کو سارا ماجرا سنادیا اور کہنے لگا کہ واللہ! آج وہ عجیب ماجرا دیکھا ہے جو کبھی نہ دیکھا تھا، حکم بن ہشام (ابوجہل) جب نکلا ہے تو محمد کو دیکھتے ہی اُس کا رنگ فق ہوگیا اور جب محمدؐ نے اس سے کہا کہ اس کا حق ادا کردو تو یہ معلوم ہوتا تھا کہ جیسے حکم بن ہشام کے جسم میں جان نہیں ہے۔ (ابن ہشام، ج اول ص۳۸۹،ج۲،ص۲۹،۳۰: مطبعہ البابی مصر)
تشریح : کفار مکہ کے وہ بڑے بڑے سردار آپس میں بیٹھ بیٹھ کر سرگوشیاں کیا کرتے تھے جن کو نبی ﷺ کی دعوت کا مقابلہ کرنے کی بڑی فکر لاحق تھی۔ وہ کہتے تھے کہ یہ شخص بہر حال نبی تو ہو نہیں سکتا کیوں کہ ہم ہی جیسا انسان ہے، کھاتا ہے، پیتا ہے، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، بیوی بچے رکھتا ہے۔ آخر اس میں وہ نرالی بات کیا ہے جو اس کو ہم سے ممتاز کرتی ہو اور ہماری بہ نسبت اس کو خدا سے ایک غیر معمولی تعلق کا مستحق بناتی ہو؟ البتہ اس شخص کی باتوں میں اور اس کی شخصیت میں ایک جادو ہے کہ جو اس کی بات کان لگا کر سنتا ہے اور اس کے قریب جاتا ہے وہ اس کا گرویدہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے اگر اپنی خیر چاہتے ہو تو نہ اس کی سنو اور نہ اس سے میل جول رکھو۔ کیوں کہ اس کی باتیں سننا اور اس کے قریب جانا گویا آنکھوں دیکھتے جادو کے پھندے میں پھنسنا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الانبیاء، حاشیہ: ۵)
تخریج: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الْمَلِکِ بنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ الثَّقَفِیُّ، وَکَانَ وَاعِیَۃً، قَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ اِرَاشٍ۔ قَالَ ابْنُ ہِشَامٍ: وَیُقَالُ: اِرَاشَۃٌ۔ بِابِلٍ لَّہٗ مَکَّۃَ، فَابْتَاعَہَا مِنْہُ اَبُوْجَہْلٍ، فَمَطَلَّہٗ بِاَثْمَانِہَا فَاَقْبَلَ الْاِرَاشِیُّ حَتّٰی وَقَفَ عَلیٰ نَادٍ مِّنْ قُرَیْشٍ، وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ نَاحِیَۃِ الْمَسْجِدِ جَالِسٌ فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْش، مَنْ رَجُلٌ یُؤدِّیْنیْ عَلیٰ اَبِیْ الْحَکَمِ بْنِ ہِشَامٍ، فَاِنِّیْ رَجُلٌ غَرِیْبٌ ابْنُ سَبِیْلٍ، وَقَدْ غَلَبَنِیْ عَلیٰ حَقِّیْ؟ قَالَ فَقَالَ لَہٗ اَہْلُ ذٰلِکَ الْمَجْلِسِ: اَتَریٰ ذٰلِکَ الرَّجُلَ الْجَالِسَ ـــ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، وَہُمْ یَہْزَئُ وْنَ بِہٖ لَمَّا یَعْلَمُوْنَ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ اَبِیْ جَہْلٍ مِنَ الْعَدَاوۃِ ـــ اِذْہَبْ اِلَیْہِ فَاِنَّہٗ یُؤدِّیْکَ عَلَیْہِ۔
فَاَقْبَلَ الْاِرَاشِیُّ حَتّٰی وَقَفَ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ یَا عَبْدَ اللّٰہِ! اِنَّ اَبَاالْحَکَمِ بْنِ ہِشَامٍ قَدْ غَلَبَنِیْ عَلیٰ حَقٍّ لِّیْ قِبَلَہٗ، وَاَنَا رَجُلٌ غَرِیْبٌ۔ ابْنُ سَبِیْلٍ، وَقَدْ سَأَلْتُ ہٰؤُلَآئِ الْقَوْمَ عَنْ رَجُلٍ یُؤَدِّیْنِیْ عَلَیْہِ، یَأْخُذُ لِیْ حَقِّیْ مِنْہُ، فَاَشَارُوْا لِیْ اِلَیْکَ، فَخُذْ لِیْ حَقِّیْ مِنْہُ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ، قَالَ: انْطَلِقْ اِلَیْہِ، وَقَامَ مَعَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَلَمَّارَأَوْہُ قَامَ مَعَہٗ۔ قَالُوْا لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَہُمْ: اِتَّبِعْہُ فَانْظُرْمَاذَا یَصْنَعُ۔
قَالَ:وَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی جَائَ ہٗ فَضَرَبَ عَلَیْہِ بَابَہٗ، فَقَالَ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالَ مُحَمَّدٌ، فَاخْرُجْ اِلَیَّ، فَخَرَجَ اِلَیْہِ، وَمَا فِِیْ وَجْہِِہٖ مِِنْ رَائِحَۃٍ، قَدِانْتُقِعَ لَوْنُہٗ فَقَالَ: اعْطِ ہٰذَا الرَّجُلَ حَقَّہٗ، قَالَ: نَعَمْ، لَا تَبْرَحْ حَتّٰی اُعْطِیَہُ الَّذِیْ لَہٗ، قَالَ: فَدَخَلَ، فَخَرَجَ اِلَیْہِ بِحَقِّہٖ، فَدَفَعَہٗ اِلَیْہِ۔ قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، وَقَالَ لِلْاِرَاشِیِّ: اِلْحَقْ بِشَأنِکَ، فَاَقْبَلَ الْاِرَاشِیُّ حَتّٰی وَقَفَ عَلیٰ ذٰلِکَ الْمَجْلِسِ، فَقَالَ: جَزَاہٗ اللّٰہُ خَیْرًا، فَقَدْ واللّٰہِ اَخَذَ لِیْ حَقِّیْ۔
قَالَ:وَجَائَ الرَّجُلُ الَّذِیْ بَعَثُوْا مَعَہٗ، فَقَالُوْا: وَیْحَکَ! مَاذَا رَأَیْتَ؟ قَالَ: عَجَبًا مِنَ الْعَجَائِبِ، وَاللّٰہِ مَا ہُوَ اِلَّا اَنْ ضَرَبَ عَلَیْہِ بَابَہٗ، فَخَرَجَ اِلَیْہِ وَمَا مَعَہٗ رُوْحُہٗ، فَقَالَ لَہٗ: اَعْطِ ہٰذَا حَقَّہٗ، فَقَالَ نَعَمْ، لَا تَبْرَحْ حَتّٰی اُخْرِجَ اِلَیْہِ حَقَّہٗ۔ فَدَخَلَ، فَخَرَجَ اِلَیْہِ بِحَقِّہٖ، فَاَعْطَاہُ اِیَّاہُ۔ قَالَ: لَمْ یَلْبَثْ اَبُوْجَہْلٍ اَنْ جَائَ، فَقَالُوْا لَہٗ: وَیْلَکَ! مَالَکَ؟ وَاللّٰہِِ مَارَأیْنَا مِثْلَ مَاصَنَعْتَ قَطُّ! قَالَ وَیْحَکُمْ وَاللّٰہِ مَا ہُوَ اِلَّا اَنْ ضَرَبَ عَلَیَّ بَابِیْ، وَسَمِعْتُ صَوْتَہٗ، فَمُلِئْتُ رُعْبًا، ثُمَّ خَرَجْتُ اِلَیْہِ وَاِنَّ فَوْقَ رَأْسِہٖ لَفَحْلًا مِنَ الْاِِبِلِ، مَارَأَیْتُ مِثْلَ ہَامَتِہٖ، وَلَا قَصْرَتِہٖ، وَلَا اَنْیَابِہٖ، لِفَحْلٍ قَطُّ، وَاللّٰہِ لَواَ بَیْتُ لَا کَلَنِیْ۔(۲۴)

آپؐ پر ساحری کا الزام

۷۲۔ جس چیز کی وجہ سے وہ نبی ﷺ پر ’’سحر‘‘ کا الزام چسپاں کرتے تھے اس کی چند مثالیں آپؐ کے قدیم ترین سیرت نگار محمد بن اسحاق متوفی ۱۵۲ھ نے بیان کی ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ ایک دفعہ عتبہ بن ربیعہ (ابوسفیان کے خسر، ہند جگر خوار کے باپ) نے سرداران قریش سے کہا، اگر آپ لوگ پسند کریں تو میں جاکر محمدؐ سے ملوں اور اسے سمجھانے کی کوشش کروں۔ یہ حضرت حمزہؓ کے اسلام لانے کے بعد کا واقعہ ہے جب کہ نبی ﷺ کے صحابہ کی تعداد روز بروزبڑھتے دیکھ کر اکابر قریش سخت پریشان ہورہے تھے۔ لوگوں نے کہا ابولولید، تم پر پورا اطمینان ہے، ضرور جاکر اس سے بات کرو۔ وہ حضوؐر کے پاس پہنچا اور کہنے لگا بھتیجے، ہمارے ہاں تم کو جو عزت حاصل تھی، تم خود جانتے ہو، اور نسب میں بھی تم ایک شریف ترین گھرانے کے فرد ہو۔ تم اپنی قوم پر یہ کیا مصیبت لے آئے ہو؟ تم نے جماعت میں تفرقہ ڈال دیا۔ ساری قوم کو بے وقوف ٹھہرایا اس کے دین اور اس کے معبودوں کی برائی کی۔ باپ دادا جو مرچکے ہیں ان سب کو تم نے گمراہ اور کافر بنادیا۔ بھتیجے، اگر ان باتوں سے تمھارا مقصد دنیا میں اپنی بڑائی قائم کرنا ہے تو آئو ہم سب مل کر تم کو اتنا روپیہ دے دیتے ہیں کہ تم سب سے زیادہ مالدار ہو جائو۔ سرداری چاہتے ہو تو ہم تمھیں سردار مانے لیتے ہیں۔ بادشاہی چاہتے ہو تو بادشاہ بنادیتے ہیں۔ اور اگر تمھیں کوئی بیماری ہوگئی ہے جس کی وجہ سے تم کو واقعی سوتے یا جاگتے میں کچھ نظر آنے لگا ہے تو ہم سب مل کر بہترین طبیبوں سے تمھارا علاج کرائے دیتے ہیں۔ یہ باتیں وہ کرتا رہا اور نبی ﷺ خاموش سنتے رہے۔
جب وہ خوب بول چکا تو آپؐ نے فرمایا۔ اچھا اب میری سنو۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ، حٰمٓ تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اس کے بعد کچھ دیر تک مسلسل آپ سورۂ حٰمٓ السجدہ کی تلاوت فرماتے رہے اور عتبہ پیچھے ہاتھ ٹیکے غور سے سنتا رہا۔ اڑتیسویں آیت پر پہنچ کر آپؐ نے سجدہ کیا۔ اور پھر سراٹھاکر عتبہ سے فرمایا، ’’ابوالولید، جو کچھ مجھے کہنا تھا وہ آپ نے سن لیا، اب آپ جانیں اور آپ کا کام‘‘ عتبہ وہاں سے اُٹھ کر سرداران قریش کی طرف پلٹا تو لوگوں نے دور ہی سے اس کو آتے دیکھ کر کہا۔ ’’خدا کی قسم!ابوالولید کا چہرہ بدلا ہوا ہے۔ یہ وہ صورت نہیں ہے جسے لے کر وہ گیا تھا۔‘‘ اس کے پہنچتے ہی لوگوں نے سوال کیا، کہو ابوالولید! کیا کرآئے ہو؟ اس نے کہا۔ ’’خدا کی قسم! آج میں نے ایسا کلام سنا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہ سنا تھا۔ واللہ یہ شعر نہیں ہے ، نہ سحر ہے اور نہ کہانت۔ اے معشر قریش! میری بات مانو اور اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔ اس کی باتیں جو میں نے سنی ہیں، رنگ لاکر رہیں گی۔اگر عرب اس پر غالب آگئے تو اپنے بھائی کا خون تمھاری گردن پر نہ ہوگا، دوسروں پر ہوگا۔ اور اگر یہ عرب پر غالب آگیا تو اس کی حکومت تمھاری حکومت ہوگی اور اس کی عزت تمھاری عزت ۔ لوگوں نے کہا۔ ’’واللہ ! ابوالولید تم پر بھی اس کا جادو چل گیا۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’یہ میری رائے ہے، اب تم جانو اور تمھارا کام۔‘‘ یہ تھا کلام کا اثر جس کو وہ لوگ جادو قرار دیتے تھے اور ناواقف لوگوں کو یہ کہہ کر ڈراتے تھے کہ اس شخص کے پاس نہ جانا ورنہ جادو کردے گا اور وہ تھا شخصیت اور سیرت و کردار کا اثر۔ (ابن ہشام۱؎ جلد اول ،ص:۳۱۳،۳۱۴)
بیہقی نے اس واقعہ کے متعلق جو روایات جمع کی ہیں ان میں سے ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جب حضورؐ سورہ حٰمٓ السجدہکی تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پر پہنچے کہ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صٰعِقَۃَ مِثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍوَّ ثَمُوْدَ۔تو عتبہ نے بے اختیار آگے بڑھ کر آپؐ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہنے لگا کہ خدا کے لیے اپنی قوم پر رحم کرو۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، الانبیاء ، حاشیہ:۵)

آں حضورؐ اور شعرو شاعری

۷۳۔ (معتبر روایات میں آیا ہے) کہ کوئی شعر حضورؐ کو پورا یاد نہ تھا۔ دوران گفتگو کبھی کسی شاعر کا کوئی اچھا شعر زبان مبارک پر آتا بھی تو غیرموزوں پڑھ جاتے تھے۔ حضرت حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دوران تقریر آپؐ نے شاعر کا مصرعہ یوں نقل کیا:
کَفیٰ بِالْاِسْلَامِ وَالشَّیْبِ لِلْمَرْئِ نَا ہِیًا
حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا یارسولؐاللہ! اصل مصرعہ یوں ہے:
کَفَی الشَّیْبُ وَالْاِسْلَامُ لِلْمَرْئِ نَا ہِِیًا
ایک مرتبہ عباس بن مرداس سلمی سے آپؐ نے پوچھا، کیا تم ہی نے یہ شعر کہا ہے:
اَتَجْعَلُ نَھْبِیْ وَنَھْبَ الْعبِیْدِ وَبَیْنَ الْاَقْرَعِ وَعُیَیْنَۃَ
انھوں نے عرض کیا آخری فقرہ یوں نہیں ہے بلکہ یوں ہے ۔ بَیْنَ عُیَیْنَۃَ وَالْاَقْرَع۔ آپؐ نے فرمایا: معنی میںتو دونوں یکساں ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج۳، الشعراء، حاشیہ: ۱۴۳)
تخریج:(۱) قَالَ ابنُ اَبِیْ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا اَبُوْسََلَمَۃَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ عَلِّیِ بْنِ زَیْدٍٍٍ، عَنْ الْحَسَنِ الْبَصَرِیّ قَالَ: اِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَتَمثَّلُ بِھٰذَا الْبَیْتِ کَفٰی بِالْاِسْلَامِ وَالشَّیْبِ لِلْمَرْئِ نَاھِیًا فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ رََضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کَفیَ الْشّیْبُ وَالْاِسْلَامُ نَاھِیاً۔(۲۵)
(۲) قَالَ ابْنُ ہِشَامٍ وَحَدَّثَنِیْ بَعْضُ اَہْلِ الْعِلْمِ اَنَّ عَبَّاسَ بْنَ مرْدَاسٍ اَتیٰ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْتَ الْقَائِلُ فَاَصْبَحَ نَہْبِیْ وَنَہْبُ الْعَبِیْدِ بَیْنَ الْاَقْرَعِ وَعُیَیْنَۃَ؟ فَقَالَ اَبُوْبَکْرنِالصِّدّیْقُ۔ بَیْنَ عُیَیْنَۃَ وَالْاَقْرَعِ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: ہُمَا وَاحِدٌ۔ فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ: اَشْہَدُ اَنَّکَ، کَمَا قَالَ اللّٰہُ: وَمَا عَلَّمْنَاہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ۔(۲۶)
ترجمہ:ابن ہشام کا بیان ہے کہ مجھے بعض اہل علم نے بتایا کہ عباس بن مرداس رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آں حضورؐ ﷺنے اس سے پوچھا : کہ یہ شعر فَاَصْبَحَ نَہْبِیْ وَنَہْبُ الْعَبیْد بَیْنَ الْاَقْرَع وَعُیَیْنَۃَ تم نے ہی کہا ہے؟ یہ سن کر حضرت ابوبکرؓ صدیق نے عرض کیا۔ بَیْنَ عُیَیْنَۃَ وَالْاَقْرَع ہے۔ آپؐ نے فرمایا۔’’معنی میں تو دونوں یکساں ہیں۔‘‘ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ ارشادِ باری تعالیٰ وَمَا عَلَّمْنَا ہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ کے صحیح مصداق ہیں۔
۷۴۔ حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیاکہ حضورؐ کبھی اشعار بھی اپنی تقریروں میں استعمال فرماتے تھے؟ انھوں نے فرمایا شعر سے بڑھ کر آپؐ کو کسی چیز سے نفرت نہ تھی ۔ البتہ کبھی کبھار بنی قیس کے شاعر کا ایک شعر پڑھتے تھے مگر اوّل کو آخر اور آخر کو اوّل پڑھ جاتے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ عرض کرتے یا رسول اللہ ﷺیوں نہیں بلکہ یوں ہے، تو’’ آپؐ فرماتے کہ بھائی میں شاعر نہیں ہوں، اور نہ شعر گوئی میرے کرنے کا کام ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن ،ج۳ ،الشعراء ،حاشیہ :۱۴۳)
تخریج:(۱) قَالَ بَلَغَنِیْ اَنَّہٗ قِِیْلَ لِِعَائِشَۃَ۔ ہَلْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَتَمَثَّلَ بشَیٍْٔ مِنَ الشِِّعْرِ؟ قَالَتْ: کَانَ اَبْغَضَ الْحَدِیْثِ اِلَیْہِ، غَیْرَ اَنَّہٗ کَانَ یَتَمَثَّلُ بِبَیْتِ اَخِیْ بَنِیْ قَیْسٍ فَیَجْعَلُ اَوَّلَہٗ وَآخِرَہٗ یَقُوْلُ: وَیَاتِیْکَ مَنْ لَّمْ تُزَوِّد بِالْاَخْبَارِفَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ: لَیْسَ ہٰکَذا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنِّیْ وَاللّٰہِ مَا اَنَا بِشَاعِرٍ وَلَا یَنْبَغیْ لِیْ۔(۲۷)
(۲)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِبْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ اَبِی الرَّبِیْعِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ فیْ قَوْلِہٖ۔وَمَا عَلَّمْنَاہُ الشِِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ قَالَ: بَلَغْنِیْ اَنَّ عَائِشَۃَ سُئِلَتْ ہَلْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یَتَمَثَّلُ بِشَیٍْٔ مِّنَ الشِّعْرِ فَقَالَتْ: لَا اِلَّا بِبَیْتِ اَخِیْ بَنِیْ قَیْسِ بْن طَرَفَۃَ۔
سَتُبْدِیْ لَکَ الْاَیَّامُ مَاکُنْتَ جَاہِلًا وَیَأْ تِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَّمْ تُزَوِّد
قَالَ فَجَعَلَ النَّبِِیُّ ﷺ یَقُوْلُ:
یَأْتِیْکَ مَنْ لَّمْ تُزَوِّدْ بِالْاَخْبَارِ
فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ: لَیْسَ ہٰکَذَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: اِنِّیْ لَسْتُ بِِشَاعِرٍ وَلَا یَنْبَغِیْ لِیْ۔(۲۸)
۷۵۔ لَاَنْ یَّمْتَلِیَٔ جَوْفُ اَحَدِکُمْ قَیْحًا خَیْرٌلَّہٗ مِنْ اَنْ یَمْتَلِیَٔ شِعْرًا۔
’’تم میں سے کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جانا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر ے۔‘‘
تشریح : جس قسم کے مضامین سے عرب کی شاعری لبریزتھی وہ یا تو شہوانیت اور عشق بازی کے مضامین تھے، یا شراب نوشی کے، یا قبائلی منافرت اور جنگ و جدل کے، یا نسلی فخروغرور کے، نیکی اور بھلائی کی باتیں ان میں بہت ہی کم پائی جاتی تھیں۔ پھر جھوٹ، مبالغہ، بہتان، ہجو، بے جا تعریف، ڈینگیں، طعن، پھبتیاں اور مشرکانہ خرافات تو اس شاعری کی رگ رگ میں پیوست تھیں۔ اسی لیے نبی ﷺ کی رائے اس شاعری کے بارے میں یہ تھی کہ تم میں سے کسی شخض کا پیٹ پیپ سے بھر جانا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرے کیوںکہ شاعر ہر وادی میں بھٹکتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں یعنی کوئی ایک راہ متعین نہیں ہے جس پر وہ سوچتے اور اپنی قوت گویائی صرف کرتے ہوں۔ بلکہ ان کا تَوسَنِ فکر ایک بے لگام گھوڑے کی طرح ہر وادی میں بھٹکتا پھرتاہے اور جذبات یا خواہشات و اغراض کی ہر نئی رَو اُن کی زبان سے ایک نیا مضمون اداکراتی ہے جسے سوچنے اور بیان کرنے میں اس بات کا کوئی لحاظ سرے سے ہوتا ہی نہیں کہ یہ بات حق اور صدق بھی ہے۔ کبھی ایک لہر اٹھی تو حکمت اور موعظت کی باتیںہونے لگیں اور کبھی د وسری لہر آئی تو اس زبان سے انتہائی گندے سفلی جذبات کا ترشح شروع ہو گیا۔ کبھی کسی سے خوش ہوئے تو اُ سے آسمان پر چڑھا دیا اور کبھی بگڑ بیٹھے تو اسکو تحت الثّریٰ میں جا گرایا۔ ایک بخیل کو حاتم اور ایک بزدل کو رستم و اسفندیار پر فضیلت دینے میں انھیں ذرا تامل نہیں ہوتا اگر اس سے کوئی غرض وابستہ ہو۔ اس کے برعکس کسی سے رنج پہنچ جائے تو اس کی پاک زندگی پر دھبّہ لگانے اوراس کی عزت پر خاک پھینکنے میں، بلکہ اس کے نسب پر طعن کرنے میں بھی ان کو شرم محسوس نہیں ہوتی۔ خدا پرستی اور دہریت ، مادہ پرستی اور روحانیت، حسن اخلاق اور بداخلاقی، پاکیزگی اور گندگی، سنجیدگی اور ہزل، قصیدہ اور ہجو سب کچھ ایک ہی شاعر کے کلام میں آپ کو پہلو بہ پہلو مل جائے گا۔ شعراء کی ان معروف خصوصیات سے جو شخص واقف ہو اس کے دماغ میں آخریہ بے تکی بات کیسے اتر سکتی ہے کہ اس قرآن کے لانے والے پر شاعری کی تہمت رکھی جائے جس کی تقریر جچی تلی، جس کی بات دو ٹوک، جس کی راہ بالکل واضح اور متعین ہے اور جس نے حق اور راستی اور بھلائی کی دعوت سے ہٹ کر کبھی ایک کلمہ بھی زبان سے نہیں نکالا ہے۔ (تفہیم القرآن ج۳، الشعراء، حاشیہ :۱۴۳)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسیٰ، قَالَ: اَخْبَرَنَا حَنْظَلَۃُ عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، قَالَ: لَاَنْ یَّمْتَلِیَٔ جَوْفُ اَحَدِکُمْ قَیْحًا خَیْرٌ لَّہٗ مِنْ اَنْ یَّمْتَلِیَ شِعْرًا۔(۲۹)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے انھوں نے نبی ﷺ کا یہ ارشاد بیان کیا کہ آپؐ نے فرمایا’’تم میں سے کسی شخص کاپیٹ پیپ سے بھر جانا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرے۔‘‘
(۲) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَاَنْ یَّمْتَلِیَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَیْحًا حَتّٰی یَرِیَۃٗ، خَیْرٌمِّنْ اَنْ یَّمْتَلِیَ شِعْرًا۔(۳۰)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک آدمی کا پیٹ اگر پیپ سے اس قدر بھر جائے کہ وہ اس کے پھیپھڑوں تک پہنچ جائے، اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ اپنے پیٹ کو شعر سے بھرے۔
(۳) عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ، قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ نَسِیْرُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بَالْعَرَج اِذْعَرَضَ شاعِرٌ یُنْشِِدُ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: خُذُوْا الشَّیْطَانَ! اَوْاَمْسِکُوا الشَّیْطَانَ، لَاَنْ یَّمْتَلِیَٔ جَوْفُ اَحَدِکُمْ قَیْحًا، خَیْرٌ لَّہٗ مِنْ یَّمْتَلِیَٔ شِعْرًا۔(۳۱)
ترجمہ:حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے : ’’ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مقام عرج پر سفر کررہے تھے کہ اچانک ایک شاعر سامنے سے شعر کہتا ہوا نمودار ہواتو نبی ﷺ نے فرمایا:پکڑو اس شیطان کو یا فرمایا روکو اس شیطان کو، تم میں سے کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھرجانا اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرے۔‘‘
۷۶۔ اِنَّ مِنَ الِشّعْرِ لَحِکْمَۃً۔
’’جس شعر میں کوئی اچھی بات ہوتی تو آپؐ اس کی داد دیتے، آپؐ کا ارشاد تھا: ’’بعض اشعار حکیمانہ ہوتے ہیں ۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ: نَااَخْبَرَنِْی اَبُوْبَکْرِبْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ، اَخْبَرَہٗ اِنَّ عَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنِ الْاَسْوَدِبْنَ عَبْدِیَغُوْثَ۔اَخْبَرَہٗ اَنَّ اُبَیَّ ابْنَ کَعْبٍ، اَخْبَرَہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ﷺ قَالَ: اِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِکْمَۃً۔(۳۲)
ترجمہ: حضرت ابی بن کعب نے بتایا کہ انہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک بعض اشعار حکیمانہ ہوتے ہیں۔‘‘
(۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَآئَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَجَعَلَ یَتَکَلَّمُ بِکَلَامٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ سِحْرًا، وَاِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِکَمًا۔(۳۳)
ترجمہ : حضرت ابنِ عباس سے روایت ہے کہ ایک بدوی دیہاتی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نہایت عمدہ انداز میں گفتگو کرنا شروع کردی۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بعض گفتگوئیں سحر انگیز ہوتی ہیں اور بعض اشعار حکیمانہ ہوتے ہیں۔
۷۷۔ اٰمَنَ شِعْرُہٗ وَکَفَرَ قَلْبُہٗ۔
’’امیّہ بن ابی الصَّلت کا کلام سن کر آپؐ نے فرمایا کہ ’’اس کا شعر مومن ہے مگر اس کا دل کافر ہے۔‘‘
تخریج:(۱) وَکَانَ اُمَیَّۃُ قَدْ قَرَئَ الْکُتُبَ وَرَغِبَ عَنْ عِبَادَۃِ الْاَوْثَانِ وَکَانَ یُخْبِرُ بِاَنَّ نَبِیًّا یُبْعَثُ قَدْ اَظَلَّ زَمَانُہٗ فَلَمَّا سَمِعَ بِخُرُوْجِ النَّبِیِّ ﷺ کَفَرَ حَسَدًا لَّہٗ۔ وَلَمَّا اَنْشَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ شِعْرَہ قَالَ: اٰمَنَ لِسَانُہٗ وَکَفَرَ قَلْبُہٗ۔(۳۴)
ترجمہ : اُمیہ بن ابی الصلت سابقہ کتب (سماوی) پڑھ کر بتوں کی پوجا پاٹ سے بے زار و بے رغبت ہوچکا تھا۔ اور لوگوں کو یہ خبردیتا تھا کہ ایک عظیم نبی کی بعثت کا وقت آن پہنچا ہے ۔ مگر جب اس نے سنا کہ نبی ﷺ نے ظہورفرمایا ہے تو مارے حسد کے آپ کی نبوت تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ رسول اللہ ﷺ جب کبھی اس کا شعر پڑھتے تو فرماتے کہ اس کی زبان (شعر) مومن ہے مگر اس کا دل کافر ہے۔
۷۸۔ایک مرتبہ ایک صحابی نے سو کے قریب عمدہ عمدہ اشعار آپؐ کو سنائے اور آپؐ فرماتے گئے ’’اور سناؤ‘‘۔
تخریج: حَدَّثَنَا عَمْرُوالنَّاقِدُ، وَابْنُ اَبِیْ عُمَرَ، کِلَاہُمَا عَنِ ابْنِِ اَبِیْ عُیَیْنَۃَ، قَالَ ابْنُ اَبِیْ عُمَرَ: نَاسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ اِبْرَا ہِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ، عَنْ عُمَرَبْنِ الشَّرِیْدِ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: رَدَفْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا فَقَالَ: ہَلْ مَعَکَ مِنْ شِعْرِ اُمَیَّۃَ بْنِ اَبِی الصَّلْتِ شَیْئًا؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ہِیْہِ، فَانْشَدْ تُّہٗ بَیْتًا۔ فَقَالَ: ہِیْہِ۔ ثُمَّ اَنْشَدْ تُّہٗ، بَیْتًا، فَقَالَ: ہِیْہِ حَتّٰی اَنْشَدْ تُّہٗ مِائَۃَ بَیْتٍ۔(۳۵)
ترجمہ: عمر اپنے باپ شرید سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک روز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ ہی کی سواری پر سوار تھا کہ آپؐ نے فرمایا اُمیہ بن ابی الصّلت کا کوئی شعر تمھیں یاد ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا، ہاں، آپؐ نے فرمایا ’’سنائو‘‘ چنانچہ میں نے آپؐ کو امیہ کا ایک شعر سنایا۔ پھر فرمایا: ’’اور سنائو‘‘ میں نے ایک اور شعر سنادیا۔پھر فرمایا: اور سنائو، اس طرح میں نے آپؐ کو امیہ کے سو شعر سنائے۔
دفاعی شاعری
۷۹۔ اُھْجُھُمْ فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَھُوَ اَشَدُّ عَلَیْھِمْ مِنَ النَّّبْلِ۔
’’ حضرت کعب بن مالکؓ سے آپؐ نے فرمایا: ’’ان کی ہجو کہو، کیونکہ اس خدا کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ۔ تمھارا شعر ان کے حق میں تیر سے زیادہ تیزہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا جَعْفَرابْنُ سُلَیْمَانَ، انبانا ثَابِِِتٌ عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ دَخَلَ مَکَّۃَ فِی عُمْرَۃِ الْقَضَائِ، وَابْنُ رَوَاحَۃَ یَمْشِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَہُوَ یَقُوْلُ: خَلُّوْا بَنِی الکُفَّارِ عَنْ سَبِیْلِہٖ الْیَوْمَ نَضْرِبُکُمْ عَلیٰ تَنْزِیْلِہٖ ضَرْبًا یُزِیْلُ الْہَامَ عَنْ مَقِیْلِہٖ وَیُذْہِلُ الْخَلِیْلَ عَنْ خَلِیْلِہٖ فَقَالَ لَہٗ عُمَرُ: یَابْنَ رَوَاحَۃَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، وَفِیْ حَرَمِ اللّٰہِ تَعَالیٰ تَقُوْلُ شِعْرًا؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: خَلِّ عَنْہُ یَا عُمَرُ، فَلَہِیَ اَسْرَعُ فِیْہِمْ مِنْ نَضْحِ النَّبْلِ۔(۳۶)
ترجمہ: حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ عمرۃ القضاء کے لیے مکہ میں داخل ہوئے۔ ابن رواحہ آپؐ کے آگے آگے یہ شعر پڑھتے جاتے تھے۔’’ اے کفار کی اولاد ان کے راستہ سے ہٹ جائو۔ آج رسول اللہ ﷺ کو روکنے پر ہم تمھاری کھوپڑیوں پر تلوار کی ایسی ضرب لگائیں گے کہ سرتن سے جدا ہوجائیں گے۔ اور دوست اپنے دوست کو بھول جائے گا۔ حضرت عمرؓ بولے ۔ اے ابن رواحہ! رسول اللہ ﷺ کے آگے حرم مکہ میں شعر کہہ رہے ہو۔ نبی ﷺ نے عمرؓ کی بات سن کر فرمایا: عمرؓ! ان اشعار کا اثر ان پر تیر سے بھی زیادہ تیز ہے لہٰذا اسے چھوڑ و کہنے دو۔
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ اللَّیْثِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ جَدِّیْ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ خَالِدُ ابْنُ یَزیْدَ، حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُبْنُ اَبِیْ ہِلَالٍ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ غزِیَّۃَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاہِیْمَ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرحْمٰنِ، عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اُہْجُوْا قُرَیْشًَا فَاِنَّہٗ اَشَدُّعَلَیْہِمْ مِنْ رَشْقِ النَّبْلِ۔(۳۷)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے حضرت حسان کو حکم دیا کہ قریش کی ہجو کہو۔ کیوں کہ یہ ان پر تیر سے زیادہ گراں گزرتی ہے۔
(۳) اَخْرَجَ ابْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِبْنِ سیرین قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَیْلَۃً وَہُمْ فِیْ سَفَرٍ اَیْنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ؟ فَقَالَ: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَسَعْدَیْکَ قَالَ:خُذْ! فَجَعَلَ یُنْشِدُہٗ وَیُصْغِیْ اِلَیْہِ حَتّٰی فَرَغَ نَشِیْدَہٗ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ: لَہٰذَا اَشَدُّ عَلَیْہِمْ مِنْ وَقْعِ النَّبْلِ۔(۳۸)
ترجمہ:ابن سیرین سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک رات جب کہ وہ سب سفر میں تھے، فرمایا کہ ’’حسان کہاں ہیں؟ حسانؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سعادت سے نوازے، حضور ﷺنے فرمایا: خبر لو! چناں چہ انھوں نے شعر کہنا شروع کردیے۔ آپؐ پوری توجہ سے ان کے اشعار سماعت فرماتے رہے تا آں کہ حضرت حسّانؓ نے شعر گوئی بند کردی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’یقینا یہ شعر ان پر تیر سے زیادہ سخت ہے۔‘‘
۸۰۔ اُھْجُھُمْ وَجِبْرِیْلُ مَعَکَ – قُلْ وَرُوْحُ الْقُدُسِ مَعَکَ۔
’’ان کی خبر لو اور جبریل تمھارے ساتھ ہیں ‘‘ ’’کہو اور روح القدس تمھارے ساتھ ہیں۔‘‘
تخریج :(۱) حَدَّثَنَا سُلْیمَانُ بْنُ حَرْبٍٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابتٍ۔عَنِ الْبَرَآئِ، اَنَّ النَّبیَّﷺ، قَالَ لِحَسَّانَ، اُھْجُھُمْ، اَوْقَالَ: ھَاجِھِمْ وَجِبْرِیْلُ مَعَکَ۔(۳۹)
ترجمہ: حضرت براء بن عازب سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حضرت حسّان سے فرمایا کہ ان کی ہجو کہو، جبریل ؑ تمھارے ساتھ ہیں۔
(۲) زَادَ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ طَہْمَاَنَ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ النَّبِیُّ ﷺ یَوْمَ قُرَیْظَۃَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ اُہْجُ الْمُشْرِکِیْنَ فَاِنَّ جِبْرِیْلَ مَعَکَ۔(۴۰)
ترجمہ : حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے قریظہ کے ساتھ معرکہ آرائی کے روز حضرت حسانؓ کو حکم دیا کہ مشرکین کی ہجو کہوجبرئیل ؑ تمہارے ساتھ ہیں۔
(۳)حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ مُوْسیٰ الْفَزَاریُّ، وَعَلیُّ بْنُ حَجْرٍوَالْمَعْنیٰ وَاحِدٌ قَالَا: انبانا عَبْدُ الرّحْمٰنِ بْنُ اَبِی الزِّنَادِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَضَعُ لِحَسَّانَ ابْنِ ثَابِتٍ مِنْبَرًا فِی الْمَسْجِِدِ یَقُوْمُ عَلَیْہِ قَائِمًا۔ یُفَاخِرُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَوْقالَ یُنَافِحُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَیَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ: اِنَّ اللّٰہَ یُؤَیِّدُ حَسَّانَ بِِرُوحِ الْقُدُسِ مَا یُنَافِحُ اَوْیُفَاخِرُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔(۴۱)
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ حسّان بن ثابت کے لیے مسجد نبوی میں منبر رکھواتے تھے۔ حسّان اس پر سیدھے کھڑے ہوکر اشعار کہتے جن سے رسول اللہ ﷺ کا دفاع کرتے اور رسول اللہ ﷺ فرماتے کہ اللہ تعالیٰ روح القدس کے ذریعے حسان کی مدد فرماتا ہے جب تک وہ رسول اللہ ﷺ کا دفاع کرتے رہتے ہیں۔
(۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمَصِیْصِیُّ (لوین)، ثنا ابی الزِّنَادِ عَنْ ابِیْہِ، عَنْ عُرْوَۃَ، وَہِِشَامٍ عَنْ عُرْوۃ،عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِی الْمَسْجِدِ فَیَقُوْمُ عَلَیْہِ یَہْجُوْمَنْ قَالَ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ مَعَ حَسَّانَ مَا نَافَحَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔(۴۲)
۸۱۔ اِنّ الْمُؤْمِنَ یُجَاھِدُ بِسَیْفِہٖ وَلِسَانِہٖ۔
’’مومن تلوار سے بھی لڑتا ہے اور زبان سے بھی۔‘‘
تشریح : (شاعروںکو مندرجہ بالا احادیث میں یہ کہا گیا ہے کہ) وہ شخصی اغراض کے لیے تو کسی کی ہجو نہ کریں، نہ ذاتی یا نسلی وقومی عصبیتوں کے خاطر انتقام کی آگ بھڑکائیں، مگر جب ظالموں کے مقابلے میں حق کی حمایت کے لیے ضرورت پیش آئے تو پھر زبان سے وہی کام لیں جو ایک مجاہد تیروشمشیرسے لیتا ہے۔ ہر وقت گھگھیاتے ہی رہنا اور مقابلے میں نیاز مندانہ معروضات ہی پیش کرتے رہنا مومنوں کا شیوہ نہیں ہے اسی کے متعلق روایات میں ہے کہ کفار و مشرکین کے شاعر، اسلام اور نبی ﷺ کے خلاف الزامات کا جو طوفان اٹھاتے اور نفرت و عداوت کا جو زہر پھیلاتے تھے اس کا جواب دینے کے لئے حضورؐ خود شعرائے اسلام کی ہمت افزائی فرمایا کرتے تھے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳ ، شعراء،حاشیہ:۴۵ ۱)
تخریج : حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہٗ قَالَ لِلنَّبِیِّ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ اَنْزَلَ فیِ الشُّعَرَآئِ مَااَنْزَلَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ۔اِنَّ الْمُؤْمِنَ یُجَاھِدُبِسَیْفِہٖ وَلِسَانِہٖ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَکَأَنَّ مَاتَرْمُوْنَھُمْ بِہٖ نَضْحَ النَّبْلِ۔(۴۳)
ترجمہ: عبدالرحمن بن کعب بن مالک اپنے والد کعب بن مالکؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں عرض کیاکہ اللہ تعالی نے قرآن مجیدمیں شعراء کے بارے میں جو کچھ نازل فرمایا ہے وہ تو نازل فرمایا ہی ہے ( آپؐ کو اچھی طرح معلوم ہے) اس پر نبیﷺ نے فرمایا :’’بے شک مومن تلوار سے بھی لڑتا ہے اور اپنی زبان سے بھی۔ قسم ہے اس ذات گرامی کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تمھارا شعر ان پر تیر کی طرح لگتا ہے۔‘‘
وَفِیْ الْاِسْتِیْعَابِ لِابْنِ عَبْدِالْبَرِّّ قَالَ:یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، مَاذَا تَریٰ فِی الشِّعْرِ؟ فَقَالَ: اِنَّ الْمُؤْمِنَ یُجَاہِدُ بِسَیْفِہٖ وَلِسَانِہٖ۔

سفر طائف سے واپسی پرربِّ کائنات کے حضور دعا

۸۲۔خداوندا! میں تیرے ہی حضور اپنی بے بسی وبے چارگی اور لوگوں کی نگاہ میں اپنی بے قدری کا شکوہ کرتا ہوں۔ اے ارحم الراحمین، تو سارے ہی کمزوروں کا رب ہے اور میرا رب بھی تو ہی ہے ۔ مجھے کس کے حوالے کر رہا ہے؟ کیا کسی بیگانے کے حوالے جو مجھ سے درشتی کے ساتھ پیش آئے؟ یا کسی دشمن کے حوالے جو مجھ پر قابو پا لے؟ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی مصیبت کی پرواہ نہیں، مگر تیری طرف سے عافیت مجھے نصیب ہو جائے تو اس میں میرے لئے زیادہ کشادگی ہے۔ میں پناہ مانگتا ہوں تیری ذات کے اُس نور کی جو اندھیرے میں اُجالا اور دنیا اور آخرت کے معاملات کو درست کرتا ہے۔ مجھے اس سے بچا لے کہ تیرا غضب مجھ پہ نازل ہو یا میں تیرے عتاب کا مستحق ہو جاؤں۔ تیری مرضی پر راضی ہوں یہاں تک کہ تو مجھ سے راضی ہو جائے، کوئی زور اور طاقت تیرے بغیر نہیں۔ (ابن ہشام،ج۲،ص:۶۲)
تشریح: ۱۰ ؁ نبوی حضورؐ کی حیات طیبہ میں انتہائی سختی کا سال تھا۔ تین برس سے قریش کے تمام قبیلوں نے مل کر بنی ہاشم اور مسلمانوں کا مکمل مقاطعہ کر رکھا تھا اور حضورؐ اپنے خاندان اور اپنے اصحاب کے ساتھ شِعبِ ابی طالب( شعبِ ابی طالب مکہ معظمہ کے محلے کا نام ہے جس میں بنی ہاشم رہاکرتے تھے۔ شعب عربی زبان میں گھاٹی کو کہتے ہیں۔ چونکہ یہ محلہ کوہ ابو قبیس کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں واقع تھا اور ابوطالب بنی ہاشم کے سردار تھے۔ اس لیے اسے شعبِ ابی طالب کہاجاتاتھا۔ مکہ معظمہ میں جو مکان آج مقامی روایات کے مطابق نبی ﷺ کے مقامِ پیدائش کی حیثیت سے معروف ہے، اسی کے قریب یہ گھاٹی واقع تھی۔ اب اسے شعبِ علی یاشعبِ بنی ہاشم کہتے ہیں۔
) میں محصور تھے۔ قریش کے لوگوں نے ہر طرف سے اس محلے کی ناکہ بندی کر رکھی تھی جس سے گزر کر کسی قسم کی رسد اندرنہ پہنچ سکتی تھی۔ صرف حج کے زمانہ میں یہ محصورین نکل کر کچھ خریداری کر سکتے تھے، مگر ابو لہب جب بھی ان میں سے کسی کو بازار کی طرف، یا کسی تجارتی قافلے کی طرف جاتے دیکھتا، پکار کر تاجروں سے کہہ دیتاکہ جو چیزیہ خریدنا چاہیں اس کی قیمت اتنی زیادہ بتاؤکہ یہ نہ خرید سکیں، پھر وہ چیز میں تم سے خرید لونگا اورتمہارا نقصان نہ ہونے دوں گا۔ متواتر تین سال کے اس مقاطعہ نے مسلمانوں اور بنی ہاشم کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔ اور ان پر ایسے ایسے سخت وقت گزر گئے جس میں بسا اوقات گھاس اور پتے کھانے کی نوبت آ جاتی۔
خدا خدا کر کے یہ محاصرہ اس سال ٹوٹاہی تھا کہ حضورؐ کے چچا ابو طالب جو دس سال سے آپؐ کے لئے ڈھال بنے ہوئے تھے، وفات پا گئے۔ اور اس سانحے پر بمشکل ایک مہینہ گزرا تھا کہ آپؐ کی رفیق حیات حضرت خدیجہؓ بھی انتقال فرماگئیں جن کی ذات آغازِ نبوت سے لے کر اس وقت تک آپ کے لئے وجہ سکون وتسلی بنی رہی تھی۔ ان پے درپے صدموں اور تکلیفوں کی وجہ سے حضورؐ اس سال کو عام الحزن (رنج و غم کا سال) فرمایا کرتے تھے۔
حضرت خدیجہؓ اور ابو طالب کی وفات کے بعدکفارِ مکّہ نبی ﷺ کے مقابلے میں اورزیادہ دلیر ہو گئے پہلے سے زیادہ آپ کو تنگ کرنے لگے۔ حتّٰی کہ آپ کا گھر سے باہر نکلنا بھی مشکل ہو گیا۔ اسی زمانے کا یہ واقعہ ابنِ ہشام نے بیان کیا ہے کہ ایک روزقریش کے اوباشوں میں سے ایک شخص نے سرِ بازار آپؐ کے سر پہ مٹی پھینک دی۔
آخر کار آپؐ اس ارادے سے طائف تشریف لے گئے کہ بنی ثقیف کو اسلام کی دعوت دیں اور اگر وہ اسلام نہ قبول کریں تو انھیں کم ازکم اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ آپؐ کو اپنے ہاں چین سے بیٹھ کر کام کرنے کا موقع دے دیں۔ آپؐ کو اس وقت کوئی سواری تک میسّر نہ تھی۔ مکہ سے طائف تک کا سارا سفر آپؐ نے پیدل طے کیا۔ بعض روایات کے مطابق آپؐ کے ساتھ صرف زید بن حارثہ تھے۔ وہاں پہنچ کر چند روزآپؐ نے قیام کیا اور ثقیف کے سرداروں اور معزّزین میں سے ایک ایک کے پاس جاکر بات کی۔ مگر انھوں نے نہ صرف یہ کہ آپؐ کی کوئی بات نہ مانی، بلکہ آپؐ کو صاف صاف نوٹس دے دیا کہ ان کے شہر سے نکل جائیں کیونکہ ان کو اندیشہ ہو گیا تھاکہ کہیں آپ کی تبلیغ ان کے نوجوانوں کو’’ بگاڑ‘‘ نہ دے۔ مجبوراً آپؐ کو طائف چھوڑ دینا پڑا۔ جب آپؐ وہاں سے نکلنے لگے تو ثقیف کے سرداروں نے اپنے ہاں کے لفنگوں کوآپؐ کے پیچھے لگا دیا۔ وہ راستے کے دونوں طرف دور تک آپؐ پر آوازیں کستے، گالیاں دیتے اور پتھر مارتے چلے گئے یہاں تک کہ آپؐ زخموں سے چور ہو گئے۔ اور آپؐ کی جوتیاں خون سے بھر گئیں۔اس حالت میں آپؐ طائف کے باہر ایک باغ کی دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے اور اپنے رب سے (مندرجہ بالا) دعا کی۔
دل شکستہ و غمگین پلٹ کر جب آپؐ قَرنِ المنازل کے قریب پہنچے تو محسوس ہوا کہ آسمان پر ایک بادل سا چھایا ہوا ہے۔ نظر اٹھا کر دیکھا تو جبریل علیہ السلام سامنے تھے۔ انھوں نے پکار کر کہا۔ ’’آپؐ کی قوم نے جو کچھ آپ کو جواب دیا ہے اللہ نے اسے سن لیا، اب یہ پہاڑوں کا منتظم فرشتہ اللہ نے بھیجاہے، آپؐ جو حکم دینا چاہیں اسے دے سکتے ہیں۔‘‘ پھر پہاڑوں کے فرشتے نے آپؐ کو سلام کر کے عرض کیا۔ ’’آپؐ فرمائیں تو دونوں طرف کے پہاڑ ان لوگوں پر الٹ دوں‘‘۔آپؐ نے جواب دیا، نہیں، بلکہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی نسل سے وہ لوگ پیدا کرے گاجو اللہ وحدہٗ لاشریک کی بندگی کریںگے۔ ‘‘
(بخاری، مسلم،نسائی)
اس کے بعد آپؐ چند روز نخلہ کے مقام پر جا کر ٹھہر گئے، پریشان تھے کہ اب کیسے مکّہ واپس جاؤں۔ طائف میں جو کچھ گزری ہے اس کی خبریں وہاں پہنچ چکی ہوں گی۔ اس کے بعد تو کفار پہلے سے بھی زیادہ دلیر ہو جائیں گے۔ انہیں ایّام میں ایک روز رات کو آپؐ نماز میں قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنوں کے ایک گروہ کا ادھر سے گزر ہوا، انھوں نے قرآن سنا، ایمان لائے واپس جاکراپنی قوم میںاسلام کی تبلیغ شروع کر دی، اور اللہ تعالی نے اپنے نبی کو یہ خوش خبری سنائی کہ انسان چاہے آپؐ کی دعوت سے بھاگ رہے ہوں، مگر بہت سے جن اس کے گرویدہ ہو گئے ہیں اور وہ اسے اپنی جنس میں پھیلا رہے ہیں۔
(تفہیم القرآن ج۴، الاحقاف:تاریخی پس منظر)
تخریج:(۱) قَالَ ابْنُ اسْحَاقَ: فَحَدَّثَنِیْ یَزِیْدُ بْنُ زیَادٍٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِِ کَعْبِ نِالْقُرَظِیِّ قَالَ: ـــــ فَلَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَالَ فِیْمَا ذُکِرَ لِیْ۔ اَللّٰھُمَّ! اِلَیْکَ اَشْکُوْا ضَعْفَ قُوَّتِِیْ وَقِلَّۃَ حِیْلَتِیْ وَھَوَانِیْ عَلَی النَّاسِِ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ! اَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ وَاَنْتَ رَبِّی، اِلٰی مَنْ تَکِلُنِیْ؟ اِلٰی بَعِیْدٍ یَتَجَھَّمَنِیْ؟اَمْ اِلٰی عَدُوٍّ مَلَّکْتَہٗ اَمْرِِیْ؟ اِِنْ لَّمْ یَکُنْ بِکَ عَلَیَّ غَضَبٌ فَلاَ اُبَالِیْ، وَلٰکِنْ عَافِیَتَکَ ھِیَ اَوْسَعُ لِیْ اَعُوْذُ بِنُوْرِ وَجْھِکَ الَّذِیْ اَشْرَقَتْ لَہُ الظُّلُمَاتُ وَصَلَحَ عَلَیْہِ اَمْرُ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ مِنْ اَنْ تَنْزِلَ بِیْ غَضَبُکَ اَوْیَحِِلَّ عَلَیَّ سَخْطُکَ لَکَ الْعُتْبٰی حَتّٰی تَرْضٰی وَلاَحَوْلَ وَلاَقُوَّۃَ اِلاَّ بِکَ۔(۴۴)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، اَنَا بْنُ وَھْبٍ، اَخْبَرَنِِیْ یُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، ثَنِیْ عُرْوَۃُ، اَنَّ عَائِِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ حَدَّثَتْہُ، اَنَّھَا قَالَتْ لِلنَّبِیِّ ﷺ ھَلْ اَتٰی عَلَیْکَ یَوْمٌ کَانَ اَشَدُّ عَلَیْکَ مِنْ یَوْمِ اُحُدٍ؟ قَالَ: لَقَدْ لَقِیْتُ مِنْ قَوْمِکَ مَالَقِیْتُ وَکَانَ اَشَدُّ مَا لَقِیْتُ مِنْھُمْ یَوْمَ الْعَقَبَۃِ اِذَا عَرَضْتُ نَفْسِیْ عَلَی ابْنِ عَبْدِ یَالِیْلَ ابْنِ عَبْدِ کُلاَلٍ فَلَمْ یُجِبْنِیْ اِلٰی مَا اَرَدْتُّ، فَانْطَلَقْتُ وَاَنَا مَھْمُوْمٌ عَلٰی وَجْھِیْ فَلَمْ اَسْتَفِقْ اِلاَّوَاَنَا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِیْ فَاِذَا اَنَا بِسَحَابَۃٍ قَدْ اَظَلَّتَنِیْ فَنَظَرْتُ فَاِذَا فِِیْھَا جِبْریْلُ نَادَانِیْ فَقَالَ:اِنَّ اللّٰہَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ وَمَارَدُّوْا عَلَیْکَ وَقَدْ بَعَثَ اللّٰہُ اِلَیْکَ مَلَکَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَہٗ بِمَا شِئْتَ فِیْھِمْ، فَنَادَانِیْ مَلَکُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَیَّ ثُمَّ قَالَ:یَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ ذٰلِکَ فَمَا شِئْتَ۔ اِنْ شِئْتَ اَنْ اُطْبِقَ عَلَیْھِمُ الْاَخْشَبَیْنِ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : بَلْ اَرْجُوْ اَنْ یُخْرِجَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْ اَصْلاَبِھِمْ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَحْدَہٗ لاَیُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا۔(۴۵)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا۔’’ کیاآپؐ پر اُحد کے دن سے زیادہ شدید اور سخت دن بھی گزرا ہے؟‘‘ آپؐ نے فرمایا۔ ’’تیری قوم سے مجھے دکھ پہنچے وہ تو پہنچے ہی ہیں مگر عقبہ کے روز مجھ پرجو گزری وہ اس سے شدید ترین تھی جب کہ میں نے ابنِ عبدِ یا لیل کے رو برو اپنے آپ کو پیش کیا۔ اس نے میری خواہش کے مطابق جو اب نہ دیا، دل شکستہ وغمگین ہوکر میں قرن الثعالب پر پہنچا تو میں نے آسمان کی طرف سر اٹھاکر دیکھا تو محسوس ہوا کہ آسمان پر بادل چھایا ہوا ہے۔ نظر اٹھا کر دیکھا تو جبریل علیہ السلام سامنے تھے۔ انہوں نے پکار کر کہا۔ آپؐ کی قوم نے جو کچھ آپ کو جواب دیاہے اللہ نے اسے سن لیا، اب یہ پہاڑوں کا منتظم فرشتہ اللہ نے بھیجا ہے، آپؐ جو حکم دینا چاہیں اسے دے سکتے ہیں۔‘‘ پھر پہاڑوں کے فرشتہ نے آپؐ کو سلام کرکے عرض کیا۔ آپؐ فرمائیں تو دونوں طرف کے پہاڑ ان لوگوں پر الٹ دوں۔‘‘ آپؐ نے جواب میں فرمایا: نہیں! بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو اللہ وحدہٗ لاشریک کی بندگی کریں گے۔‘‘

حضورؐ کا رفع ذکر

۸۳۔ حضرت ابوسعید خُدریؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’جبریل میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا میرا رب اور آپ ؐ کا رب پوچھتاہے کہ میں نے کس طرح تمہارا رفعِ ذکر کیا؟ میں نے عرض کیا اللہ ہی بہتر جانتاہے۔ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ تمہارا بھی ذکر کیا  ( ابن جریر، ابنِ حاتم، مُسند ابی یعلٰی، ابن المنذِر، ابن حبان، ابن مردویہ، ابونعیم ۔)جائے گا۔
تشریح : یہ بات اُس زمانے میں فرمائی گئی تھی جب کوئی شخص یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ جس فردِ فرید کے ساتھ گنتی کے چند آدمی ہیں اور وہ بھی صرف شہر مکّہ تک محدود ہیں اُس کا آوازہ دنیا بھر میں کیسے بلند ہوگا اور کیسی ناموَری اس کو حاصل ہوگی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان حالات میں اپنے رسول ﷺ کو یہ خوشخبری سنائی اور پھر عجیب طریقہ سے اس کو پورا کیا۔ سب سے پہلے آپؐ کے رفع ذکر کا کام اس نے خود آپؐکے دشمنوں سے لیا۔ کفارِ مکّہ نے آپؐکو زک دینے کے لیے جو طریقے اختیار کیے اُن میں سے ایک یہ تھا کہ حج کے موقع پر جب تمام عرب سے لوگ کھچ کھچ کر ان کے شہر میں آتے تھے، اس زمانہ میں کفار کے وفود حاجیوں کے ایک ایک ڈیرے پر جاتے اور لوگوں کو خبردار کرتے کہ یہاں ایک خطرناک شخص محمد (ﷺ) نامی ہے جو لوگوں پر ایسا جادو کرتاہے کہ باپ بیٹے، بھائی بھائی اور شوہر بیوی میں جدائی پڑجاتی ہے، اس لیے ذرا اُس سے بچ کر رہنا۔ یہی باتیں وہ اُن سب لوگوں سے بھی کہتے تھے جو حج کے سوا دوسرے دنوں میں زیارت یا کسی کاروبار کے سلسلے میں مکہ آتے تھے۔ اس طرح اگرچہ وہ حضورؐ کو بدنام کررہے تھے، لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عرب کے گوشے گوشے میں آپؐکا نام پہنچ گیا اور مکّہ کے گوشۂ گمنامی سے نکال کر خود دشمنوں نے آپؐکوتمام ملک کے قبائل سے متعارف کرادیا۔ اس کے بعد یہ بالکل فطری امر تھا کہ لوگ معلوم کریں کہ وہ شخص ہے کون؟ کیا کہتا ہے؟ کیسا آدمی ہے؟ اس کے ’’جادو‘‘ سے متأثر ہونے والے کون لوگ ہیں اور ان پر اس کے ’’جادو‘‘ کا آخر کیا اثر پڑا ہے؟کفارِ مکّہ کا پروپیگنڈا جتنا جتنا بڑھتا چلاگیا لوگوں میں یہ جستجو بھی بڑھتی چلی گئی۔ پھر جب اس جستجو کے نتیجے میں لوگوں کو آپؐکے اخلاق اور آپؐکی سیرت وکردارکا حال معلوم ہوا، جب لوگوں نے قرآن سنا اور انہیں پتہ چلا کہ وہ تعلیمات کیا ہیں جو آپؐپیش فرمارہے ہیں اور جب دیکھنے والوں نے یہ دیکھا کہ جس چیز کو جادو کہاجارہاہے اس سے متأثر ہونے والوں کی زندگیاں عرب کے عام لوگوں کی زندگیوں سے کس قدر مختلف ہوگئی ہیں، تو وہی بدنامی نیک نامی سے بدلنی شروع ہوگئی حتّٰی کہ ہجرت کا زمانہ آنے تک نوبت یہ پہنچ گئی کہ دور ونزدیک کے عرب قبائل میں شاید ہی کوئی قبیلہ ایسا رہ گیا ہو جس میں کسی نہ کسی شخص یا کنبے نے اسلام قبول نہ کرلیا ہو، اور جس میں کچھ نہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺسے اور آپؐکی دعوت سے ہمدردی ودلچسپی رکھنے والے پیدا نہ ہوگئے ہوں۔ یہ حضورؐ کے رفع ذکرکا پہلا مرحلہ تھا۔ اس کے بعد ہجرت سے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا جس میں ایک طرف منافقین، یہود اور تمام عرب کے اکابر مشرکین رسول اللہﷺ کو بدنام کرنے میں سرگرم تھے، اور دوسری طرف مدینۂ طیبہ کی اسلامی ریاست خدا پرستی وخدا ترسی، زہدو تقویٰ، طہارتِ اخلاق، حسنِ معاشرت، عدل وانصاف، انسانی مساوات، مالداروں کی فیاضی، غریبوں کی خبرگیری عہدوپیمان کی پاسداری اور معاملات میں راستبازی کا وہ عملی نمونہ پیش کررہی تھی جولوگوں کے دلوں کو مسخّر کرتاچلاجارہاتھا۔ دشمنوں نے جنگ کے ذریعہ سے حضورؐ کے اس بڑھتے ہوئے اثر کو مٹانے کی کوشش کی، مگرآپؐکی قیادت میں اہلِ ایمان کی جو جماعت تیار ہوئی تھی اس نے اپنے نظم وضبط، اپنی شجاعت، اپنی موت سے بے خوفی اور حالتِ جنگ تک میں اخلاقی حدود کی پابندی سے اپنی برتری اس طرح ثابت کردی کہ سارے عرب نے ان کا لوہا مان لیا۔ ۱۰ سال کے اندر حضور کا رفع ذکر اس طرح ہوا کہ وہی ملک جس میں آپ کو بدنام کرنے کے لیے مخالفین نے اپنا سارا زور لگادیا تھا، اُس کا گوشہ گوشہ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ کی صدا سے گونج اٹھا۔ پھر تیسرے مرحلے کا افتتاح خلافت راشدہ کے دور سے ہوا جب آپؐ کا نام مبارک تمام روئے زمین میں بلند ہونا شروع ہوگیا۔ یہ سلسلہ آج تک بڑھتا ہی جارہا ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک بڑھتا چلاجائے گا۔ دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں مسلمانوں کی کوئی بستی موجود نہ ہو اور دن میں پانچ مرتبہ اذان میں بآواز بلند محمد ﷺ کی رسالت کا اعلان نہ ہورہا ہو، نمازوں میں حضور پر درود نہ بھیجا جارہا ہو، جمعہ کے خطبوں میں آپ کا ذکر خیر نہ کیا جارہا ہو ، اور سال کے بارہ مہینوں میں سے کوئی دن اور دن کے۴ ۲ گھنٹوں میں سے کوئی وقت ایسا نہیں ہے۔ جب روئے زمین میں کسی نہ کسی جگہ حضورؐ کا ذکر مبارک نہ ہورہا ہو۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، الم نشرح ، حاشیہ:۳)
تخریج: قَالَ ابْنُ جَرِیْرٍ: حَدَّثَنِیْ یُوْنُسُ، اَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ، اَخْبَرَنَا عَمْرُوبْنُ الْحَارِث، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ اَبِیْ الْہَیْثَمِ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ: اَنَّہٗ قَالَ: اَتَانِیْ جِبْرِیْلُ، فَقَالَ: اِنَّ رَبِّیْ وَرَبُّکَ یَقُوْلُ: کَیْفَ رَفَعْتُ لَکَ ذِکْرَکَ؟ قَالَ: اللّٰہُ اَعْلَمُ، قَالَ: اِذَا ذُکِرْتُ ذُکِرْتَ مَعِِیْ۔(۴۶)

امت کو حاصل ہونے والی فتوحات کی خوشخبری

۸۴۔ طبرانی نے اوسط میں اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس کی روایت نقل کی ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: میرے سامنے وہ تمام فتوحات پیش کی گئیں جو میرے بعد میری امت کو حاصل ہونے والی ہیں۔ اس پر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا کہ آخرت تمہارے لیے دنیا سے بہتر ہے۔(الضحیٰ:۴)
تشریح :یہ خوشخبری اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کو ایسی حالت میں دی تھی جب کہ چند مٹھی بھر آدمی آپؐ کے ساتھ تھے، ساری قوم آپؐ کی مخالف تھی، بہ ظاہر کامیابی کے آثار دور دور کہیں نظر نہ آتے تھے۔ اسلام کی شمع مکہ ہی میں ٹمٹمارہی تھی اور اسے بجھادینے کے لیے ہر طرف سے طوفان اٹھ رہے تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ ابتدائی دور کی مشکلات سے آپؐ ذرا پریشان نہ ہوں۔ ہر بعد کا دور پہلے دور سے آپ کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔آپؐ کی قوت ، آپؐ کی عزت و شوکت اور آپؐ کی قدر و منزلت برابر بڑھتی چلی جائے گی اور آپؐ کا نفوذ و اثر پھیلتا چلا جائے گا۔ پھر یہ وعدہ صرف دنیا ہی تک محدود نہیں ہے، اس میں یہ وعدہ بھی شامل ہے کہ آخرت میں جو مرتبہ آپؐ کو ملے گا وہ اس مرتبے سے بدرجہا بڑھ کر ہوگاجو دنیا میں آپ کو حاصل ہوگا۔ (تفہیم القرآن، ج۶ ، الضحیٰ،حاشیہ: ۴)
تخریج: قَالَ الْاِمَامُ اَبُوْ عَمْرٍو اَلْاَوْزَاعِیُّ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِی الْمُہَاجِرِ الْمَخْزُوْمِیِّ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ : عُرِضَ عَلٰی رَسُوْلِِ اللّٰہِ ﷺ مَاہُوَ مَفْتُوْحٌ عَلیٰ اُمَّتِہٖ مِنْ بَعْدِہٖ کَنْزًا کَنْزًا، فَسُرَّبِذَالِکَ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ وَلَسَوْفُ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضیٰ فَاَعْطَاہُ فِی الْجَنَّۃِ اَلْفَ اَلْفِ قَصْرٍ فِیْ کُلِّ قَصْرٍمَّا یَنْبَغِیْ لَہٗ مِنَ الْاَزْوَاجِ وَالْخَدَمِ۔(۴۷)

آپ کی تواضع اور انکساری

۸۵۔اِعْمَلُوْا وَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَاعْلَمُوْا اَنَّ اَحَدًا لَنْ یُّدْخِلَہٗ عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ۔وَلَااَنَا اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِرَحْمَتِِہٖ۔
’’آپؐ نے فرمایا: عمل کرو اور اپنی حدِّ استطاعت تک زیادہ سے زیادہ ٹھیک کام کرنے کی کوشش کرو،میانہ روی اختیار کرو، مگر یہ جان لو کہ کسی شخص کو محض اس کا عمل ہی جنت میں نہ داخل کردے گا۔‘‘لوگوں نے عرض کیا۔ ’’یارسول اللہ! کیا آپؐ کا عمل بھی؟‘‘ فرمایا:ہاں میں بھی محض اپنے عمل کے زور سے جنت میں نہ پہنچ جائوں گا۔ الا یہ کہ مجھے میرا رب اپنی رحمت سے ڈھانک لے۔‘‘
تشریح :اس سے انسان کو اس حقیقت پر متنبہ کرنا مقصود ہے کہ یہ کامیابی کسی شخص کو نصیب نہیں ہوسکتی جب تک اللہ کا فضل شامل حال نہ ہو۔ اگرچہ آدمی کو انعام اس کے اپنے حسن عمل ہی پر ملے گا، لیکن اوّل تو حسن عمل ہی کی توفیق آدمی کو اللہ کے فضل کے بغیر کیسے نصیب ہوسکتی ہے۔ پھر جو بہتر سے بہتر عمل بھی آدمی سے بن آسکتا ہے وہ کبھی کامل و اکمل نہیں ہوسکتا جس کے متعلق دعوے سے یہ کہا جاسکے کہ اس میں نقص کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ یہ اللہ ہی کا فضل ہے کہ وہ بندے کی کمزوریوں اور اس کے عمل کی خامیوں کو نظر انداز کرکے اُس کی خدمات کو قبول فرمالے اور اسے انعام سے سرفراز فرمائے۔ ورنہ باریک بینی کے ساتھ حساب کرنے پر وہ اترآئے تو کس کی یہ ہمت ہے کہ اپنی قوت بازو سے جنت جیت لینے کا دعویٰ کرسکے۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، الدخان، حاشیہ: ۴۴)
تخریج:(۱) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ: اعْمَلُوْا وَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَاعْلَمُوْا اَنَّ اَحَدًا لَنْ یُّدْخِلَہٗ عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ قَالُوْا: وَلَا اَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ ﷺَ:وَلَا اَنَا اِلَّا اَنْ یّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَفَضْلٍ۔(۴۸)
ترجمہ:رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: عمل کرتے رہو، حتی المقدور زیادہ سے زیادہ درست عمل کرنے کی سعی کرتے رہو، میانہ روی اختیارکرو، اور اچھی طرح جان لو کہ کسی شخص کو محض اس کا عمل ہی جنت میں داخل نہ کردے گا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا’’یا رسولؐ اللہ ! کیا آپؐ کا عمل بھی ؟‘‘ فرمایا: ہاں میں بھی صرف اپنے عمل کے زور سے جنت میں نہ پہنچ جائوں گا اِلّا یہ کہ مجھے میرا رب اپنی رحمت میں ڈھانک لے۔
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ، عَنْ مُوْسیٰ ابْنِ عُقْبَۃَ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ سَدِّدُوْا وَقَارِبُوا وَاعْلَمُوْا اَنْ لَّنْ یُدْخِلَ اَحَدَکُمْ عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ۔(۴۹)
(۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ الزِّبَرْقَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ عَائِشَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: سَدِّدُوْا وَقَارِبُوا وَاَبْشِرُوا فَاِنَّہٗ لَایُدْخِلُ اَحَدًا الْجَنَّۃَ عَمَلُہٗ، قَالُوْا وَمَا اَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: وَلَا اَنَا اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَرَحْمَۃٍ۔(۵۰)
(۴) قَالَ قَرَأنَا عَلیٰ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ہَمَامِ بْنِ مُنَبِّہٍ اَنَّہٗ سَمِِعَ اَبَاہُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَیْسَ وَاحِدٌ مِنْکُمْ بِمُنْجِیۃِ عَمَلُہٗ وَلٰکِنْ سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا قَالُوْا: وَلَا اَنْتَ یَارسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: وَلَآ اَنَا اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ مِنْہُ وَفَضْلٍ۔(۵۱)

تزکیہ نفس کے لیے حضورؐ کی دعا

۸۶۔ اَفْلَحَتْ نَفْسٌ زَکَّاہَا اللّٰہُ عَزَّوجَلَّ۔
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فلاح پاگیا وہ نفس جس کو اللہ عزوجل نے پاک کردیا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَبِیْ، حَدَّثَنَا اَبُوزَرْعَۃَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا اَبُومَالِکٍ یعنی ابْنَ الحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ، عَنْ عَمْرِوبْنِ ہَاشِمٍ، عَنْ جُرَیْرٍ، عَنِ الضَّحَّاکِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ فِی قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکَّاہَا، قَالَ النَّبِیُّ ﷺ اَفْلَحَتْ نَفْسٌ زَکَّاہَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔(۵۲)
۸۷۔اللّٰہُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاہَا وَزَکِّہَا اَنْتَ خَیْرٌ مَنْ زَکَّاہَا، اَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلَاہَا۔
’’حضور ؐیہ دعا مانگا کرتے تھے کہ خدایا ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا کر اور اس کو پاکیزہ کر، تو ہی وہ بہتر ہستی ہے جو اس کو پاکیزہ کرے، تو ہی اس کا سرپرست اور مولیٰ ہے۔‘‘
تشریح : (مندرجہ بالا پہلی) جو حدیث ابن ابی حاتم نے عن جویبربن سعید عن الضحاک عن ابن عباس کی سند سے نقل کی ہے درحقیقت حضور ؐ سے ثابت نہیں ہے کیوں کہ اس کی سند میں جو یبرمتروک الحدیث ہے اور ابن عباسؓ سے ضحاک کی ملاقات نہیں ہے۔ البتہ وہ حدیث (جو اوپر درج ہے) صحیح ہے۔ یہ امام احمد، مسلم، نسائی اور ابن ابی شیبہ نے حضرت زیدبن ارقم سے روایت کی ہے۔ اسی سے ملتے جلتے الفاظ میں حضورؐ کی یہ دعا حضرت عبداللہ بن عباس سے طبرانی، ابن مردویہ اور ابن المنذر نے اور حضرت عائشہؓ سے امام احمد نے نقل کی ہے۔ اس کا مطلب درحقیقت یہ ہے کہ بندہ تو صرف تقویٰ اور تزکیہ کی خواہش اور طلب ہی کرسکتا ہے، رہا اس کا نصیب ہوجانا، وہ تو بہر حال اللہ ہی کی توفیق پر منحصر ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، الشمس ، حاشیہ: ۶)
روح نبوت جہاں جس انسان پر بھی نازل ہوئی ہے یہی ایک دعوت لے کر آئی ہے کہ خدائی صرف ایک اللہ کی ہے اور بس وہی اکیلا اس کا مستحق ہے کہ اُس سے تقویٰ کیاجائے، کوئی دوسرا اس لائق نہیں کہ اس کی ناراضی کا خوف ، اس کی سزا کا ڈر، اور اس کی نافرمانی کے نتائج بد کا اندیشہ انسانی اخلاق کا لنگر اور انسانی فکر و عمل کے پورے نظام کا محور بن کر رہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، النحل ، حاشیہ: ۵۔)
اللہ کے بجائے کسی اور کا خوف اور کسی اور کی ناراضی سے بچنے کا جذبہ تمھارے نظام زندگی کی بنیاد بنے۔
(تفہیم القرآن، ج۲، النحل، حاشیہ:۵ ۴)
سورۂ توبہ آیت۰۹ ۱ میں ارشاد ربانی ہے:
اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلیٰ تَقْویٰ مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی شَفَاجُرُفٍ ہَارٍ فَانْہَارَبِہٖ فِیْ نَارِجَہَنَّمَ۔
’’پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات کگر پر اٹھائی اور وہ اسے لے کر سیدھی جہنم کی آگ میں جاگری؟‘‘
جو لوگ اپنے عمل کی بنیاد خدا سے بے خوفی اور اس کی رضا سے بے نیازی پر رکھتے ہیں ان کی تعمیر حیات کو (اس آیت) میں اُس عمارت سے تشبیہ دی گئی ہے جو ایک کھوکھلے بے ثبات کنارۂ دریا پر اٹھائی گئی ہو۔ یہ ایک بے نظیر تشبیہ ہے جس سے زیادہ بہتر طریقہ سے اس صورت حال کی نقشہ کشی نہیں کی جاسکتی۔ اس کی پوری معنویت ذہن نشین کرنے کے لیے یوں سمجھیے کہ دنیوی زندگی کی وہ ظاہری سطح جس پر مومن، منافق، کافر، صالح، فاجر، غرض تمام انسان کام کرتے ہیں، مٹی کی اُس اوپری تہہ کے مانند ہے جس پر دنیا میں ساری عمارتیں بنائی جاتی ہیں۔ یہ تہہ اپنے اندر خود کوئی پائیداری نہیں رکھتی ، بلکہ اس کی پائیداری کا انحصار اس پر ہے کہ اس کے نیچے ٹھوس زمین موجود ہو۔ اگر کوئی تہہ ایسی ہو جس کے نیچے کی زمین کسی چیز، مثلاً دریا کے پانی سے کٹ چکی ہو تو جو ناواقف انسان اس کی ظاہری حالت سے دھوکا کھاکر اس پر اپنا مکان بنائے گا اسے وہ اس کے مکان سمیت لے بیٹھے گی اور وہ نہ صرف خود ہلاک ہوگا بلکہ اس ناپائیدار بنیاد پر اعتماد کرکے اپنا جو کچھ سرمایۂ زندگی وہ اس عمارت میں جمع کرے گا وہ بھی برباد ہوجائے گا۔بالکل اسی مثال کے مطابق حیات دنیا کی وہ ظاہری سطح بھی جس پر ہم سب اپنے کارنامۂ زندگی کی عمارت اٹھاتے ہیں، بجائے خود کوئی ثبات و قرار نہیں رکھتی بلکہ اس کی مضبوطی و پائیداری کا انحصار اس پر ہے کہ اس کے نیچے خدا کے خوف، اُس کے حضور جواب دہی کے احساس اور اُس کی مرضی کے اتباع کی ٹھوس چٹان موجود ہو۔ جو نادان آدمی محض حیاتِ دنیا کے ظاہری پہلو پر اعتماد کرلیتا ہے اور دنیا میں خدا سے بے خوف اور اس کی رضا سے بے پروا ہوکر کام کرتا ہے وہ دراصل خود اپنی تعمیر زندگی کے نیچے سے اس کی بنیادوں کو کھوکھلا کردیتا ہے اور اس کا آخری انجام اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ بے بنیاد سطح ، جس پر اس نے اپنی عمر بھر کا سرمایہ عمل جمع کیا ہے ایک دن یکایک گرجائے گا اور اسے اس کے پورے سرمائے سمیت لے بیٹھے گا۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، التوبہ، حاشیہ: ۱۰۳)
اگر تم دنیا میں اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرو اور تمھاری دلی خواہش یہ ہو کہ تم سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہونے پائے جو رضائے الٰہی کے خلاف ہو، تو اللہ تعالیٰ تمھارے اندر وہ قوت تمیز پیدا کردے گا جس سے قدم قدم پر تمھیں خود یہ معلوم ہوتا رہے گا کہ کون سا رویہ صحیح ہے اور کون سا غلط، کس رویہ میں خدا کی رضاہے اور کس میں اس کی ناراضی، زندگی کے ہر موڑ، ہر دوراہے، ہر نشیب اور ہر فراز پر تمھاری اندرونی بصیرت تمھیں بتانے لگے گی کہ کدھر قدم اٹھانا چاہیے اور کدھر نہ اٹھانا چاہیے، کون سی راہ حق ہے اور خدا کی طرف جاتی ہے اور کون سی راہ باطل ہے اور شیطان سے ملاتی ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۲، الانفال، حاشیہ: ۲۴)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِبْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ، وَاِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، وَمُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ نُمَیْرٍ والَّلفْظُ لِابْنِ نُمَیْرٍ، قَالَ: اِسْحَاقُ اَنَا، وَقَالَ الْاٰخَرَانِ: نا ابُوْمُعَاوِیَۃَ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ وَعَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ، عَنْ زَیْدِبْنِ اَرْقَمَ، قَالَ: لَا اَقُوْلُ لَکُمْ اِلَّا کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِِ ﷺ یَقُوْلُ: قَالَ کَانَ یَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِِکَ مِنَ الْعَجْزِ، وَالْکَسْلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْہَرَمِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔ اَللّٰہُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاہَا، وَزَکِّہَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاہَا اَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلَاہَا۔ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اٰعُوْذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا یَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَائٍ لَا یُسْتَجَابَ لَہَا۔(۵۳)
(۲) حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ نَافعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ سَعِیْدٍ، عَن عَائِشَۃَ اَنَّہَا فَقَدَتِ النَّبِِیَّ ﷺ مِنْ مَضْجِعِہٖ فَلَمَسَتْہُ بِیَدِہَا فَوَقَعَتْ عَلَیْہِ وَہُوَ سَاجِدٌ وَہُوَ یَقُوْلُ رَبِّ اَعْطِ نَفْسِیْ تَقْوَاہَا وَزَکِّہَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاہَا اَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلَاہَا۔(۵۴)
ترجمہ: حضرت صالح بن سعید بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے نبی ﷺ کوبستر سے غائب پایا تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے ٹٹولناشروع کیا اور ہاتھ حضورﷺ کے جسم اطہر پر جا لگا۔ آپ اس وقت ربِّ کائنات کے حضور سجدہ ریز تھے اور حالتِ سجدہ میں دعامانگ رہے تھے۔ اے میرے رب میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاکیزہ کر، تو ہی وہ بہتر ہستی ہے جو اس کو پاکیزہ کرے، توہی اس کا سرپرست اور مولیٰ ہے۔
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْزُرْعَۃَ، حَدَّثَنَآ یَعْقُوْبُ بْنُ حُمَیْدِ نِ الْمَدَنِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الاُمَوِیَّ حَدَّثَنَا مَعْنُ ابْنُ مُحَمَّدِ نِالْغِفارِیُّ، عَنْ حَنْظَلَۃَ ابْنِ عَلیٍّ الْاسْلَمِیّ، عَن اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقْرَأُ فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَاوَتَقْوَاہَا قَالَ: اَللّٰہُمَّ آتِ نَفْسِیْ تَقْوَاہَا وَزَکِّہَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاہَا اَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلَاہَا۔(۵۵)
(۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِبْنُ زِیَادٍ، ثَنَا عَاصِمُ نِاَلْاَحْوَلُ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ، قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ آتِ نَفْسِیْ تَقْوَاہَا، وَزَکِّہَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاہَا، اَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلَاہَا۔(۵۶)

شکرگزار بندہ

۸۸۔جب صحابۂ کرام حضورؐ کو عبادت میں غیر معمولی مشقتیں اٹھاتے ہوئے دیکھتے تھے تو عرض کرتے تھے کہ آپؐ کے تو اگلے پچھلے قصور معاف ہوچکے ہیں، پھر آپؐ اپنی جان پر اتنی سختی کیوں اٹھاتے ہیں،اور آپؐ جواب میں فرماتے تھے اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا’’کیا میں ایک شکر گزار بندہ نہ بنوں؟‘‘ (تفہیم القرآن ج۵، الفتح،حاشیہ:۲)
تخریج:(۱) حَدَّثَّنَا اَبُونُعَیْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ زِیَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِیْرَۃَ یَقُوْلُ: اِنْ کَانَ النَّبِیُّﷺ لَیَقُوْمُ اَوْلَیُصَلِّیْ حَتّٰی تَرِمَ قَدَمَاہُ اَوْسَاقَاہُ فَیُقَالُ لَہٗ: فَیَقُوْلُ: اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا؟(۵۷)
ترجمہ: زیاد سے روایت ہے کہ میں نے مغیرہ سے سنا ہے وہ بیان کررہے تھے کہ نبی ﷺ قیام فرماتے یا نماز پڑھتے تو اتنا طویل قیام فرماتے کہ آپؐ کے پائوں مبارک یا پنڈلیاں سوج جاتیں، آپؐ سے عرض کیا جاتا (کہ آپؐ ایسا کیوں کرتے ہیں) تو فرماتے کہ ’’کیا میں (اپنے اللہ تعالیٰ کا) شکر گزار بندہ نہ بنوں۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یَحْیٰ، قَالَ : اَخْبَرَنَا حَیْوَۃُ عَنْ اَبِیْ الْاَسْوَدِ سَمِعَ عُرْوۃ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ، کَانَ یَقُوْمُ مِنَ اللَّیْلِ حَتّٰی تَتَفَطَّرَقَدَمَاہُ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ لِمَ تَصْنَعُ ہٰذَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَقَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ؟فَلَا اُحِبُّ اَنْ اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا فَلَمَّا کَثُرَ لَحْمُہٗ صَلّٰی جَا لِسًا فَاِذَا اَرَادَ اَنْ یَّرْکَعَ قَامَ فَقَرَأَ ثُمَّ رَکَعَ۔
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ اتنا لمبا قیام اللیل کرتے تھے کہ آپؐ کے پائوں سوج جاتے۔ حضرت عائشہؓ نے ایک مرتبہ عرض کیا یا رسول اللہﷺ آپؐ ایسا کیوں کرتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرمادیے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا۔’’ کیامجھے یہ محبوب نہیں ہے کہ میں اللہ کا شکر گزار بندہ بنوں؟ پھر جب آپؐ کا جسم مبارک بھاری ہوگیا تو آپؐ نے بیٹھ کر نماز پڑھی اور جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہوجاتے اور تھوڑی تلاوت فرماکر رکوع کرلیتے۔
(۳) حَدَّثَنَا صَدَقَۃُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِیَادٌ اَنَّہٗ سَمِعَ الْمُغیْرَۃَ یَقُوْلُ: قَامَ النَّبِیُّ ﷺ حَتّٰی تَوَرَّمَتْ قَدَمَاہُ فَقِیْلَ لَہٗ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ قَالَ: اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا۔(۵۸)
(۴) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، نَا اَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ زِیَادِ بْنِ عَلاَقَۃَ عَنِ الْمُغِِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃ۔اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ صَلّٰی حَتَّی انْتَفَخَتْ قَدَمَاہُ فَقِیْلَ لَہٗ اَتَتَکَلَّفُ ہٰذَا وَقَدَ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ؟ فَقَاَلَ: اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا۔
(۵) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَابْنُ نُمَیْرٍ، قَالَا: نَا سُفْیَانُ عَنْ زِیَادِ بْنِ عَلاَقَۃَ سَمِعَ الْمُغیْرَۃَ ابْنَ شُعْبَۃَ، یَقُوْلُ قَامَ النَّبِیُّ ﷺ حَتّٰی وَرِمَتْ قَدَمَاہُ، قَالُوْا: قَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ، قَالَ: اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْراً۔(۵۹)
(۶) حَدَّثَنَا ہَارُوْنُ بْنُ مَعْرُوْفٍ وَہَارُوْنُ بْنُ سَعِیْدٍ الْاَیْلیُّ، قَالَا: ناابْنُ وَہْبٍ، اَخْبَرَنِیْ اَبُوْصَخْرٍ عَنِ ابْنِ قُسَیْطٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا صَلّٰی قَامَ حَتّٰی تَفَطَّرَ رِجْلَاہُ قَالَتْ عَائِشَۃُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَتَصْنَعُ ہٰذَا وَقَدْ غُفِرَ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ؟ فَقَالَ: یَاعَائِِشَۃُ: اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُورًا۔(۶۰)
(۷) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ وَبِشْرُ ابْنُ مُعَاذٍ، قَالَا: انا اَبُوْعَوَانَۃَ، عَنْ زِیَادِبْنِ عَلَا قَۃَ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ، قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی انْتَفَخَتْ قَدَمَاہُ فَقِِیْلَ لَہٗ: اَتَتَکَلَّفُ ہٰذَا وَقَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا۔
(۸)حَدَّثَنَا اَبُوْ عَمَّارَ نِ الْحُسَیْنُ بْنُ حُرَیْثٍ، اَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوْسیٰ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُصَلِّیْ حَتّٰی تَرِمَ قَدَمَاہُ قَالَ: فَقِیْلَ لَہٗ، تَفْعَلُ ہٰذَا وَقَدْ جَائَ کَ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَدْ غَفَرَلَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ؟ قَالَ: اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا۔
(۹) حَدَّثَنَا عِیْسَی بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عِیْسَی ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الرَّمْلِیُّ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْمُ یُصَلِّیْ حَتّٰی یَنْتَفِخَ قَدَمَاہُ فَیُقَالُ لَہٗ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَتَفْعَلُ وَقَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّ مَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ؟ قَالَ: اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُورًا۔(۶۱)
نوٹ:ان احادیث میں جو مختلف الفاظ منقول ہیں ان کے معنی قریب قریب ایک جیسے ہی ہیں مثلاً تتفطّر، تورّمت، انتفخت، ورمت، تفطّر، ترم وغیرہ سب کے معنی تقریباً پائوں کا سوج جانا ہیں۔ (مرتب)

ماٰخذ

(۱) مُسند احمد بن حنبل، ج ۶ ص۹۱-۱۶۳٭طبقات ابنِ سعد ج ۱۔ص۸۹۔
(۲) مسند احمد ج۶،ص۲۱۶ ابوداؤد، ج ۲، کتاب الصلوٰۃ باب فی صلاۃ اللیل٭السنن الکبری للْبَیْہَقی، ج ۷ باب ماوجب علیہ من قیام اللیل۔
(۳) المستدرک للحاکم ، ج ۲، کتاب التاریخ ٭نَسائی ج ۳؍۴کتاب قیام اللیل وتطوع النہار باب قیام اللیل۔
(۴) مسلم،ج۱، کتاب صلوٰۃ المسافر وقصرہا۔ باب صلوٰۃ اللیل وعدد رکعات النبی الخ ٭ابوداؤدج اول کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ اللیل ۔٭ تفسیر ابن کثیر، ج ۳، تفسیر سورۃ المؤمنون۔
(۵) بخاری ،ج۲، کتاب الادب ، باب حسن الخلق والسخاء وما یکرہ من البخل۔
(۶) مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب حسن خلقہ ﷺ ٭ابوداؤد کتاب الادب باب فی الحلم واخلاق النبی ﷺ۔
(۷) ترمذی ابواب الشمائل، باب ماجاء فی خُلق رسول اللّٰہ ﷺ ٭ ریاض الصالحین۔ص۱۸۵۔
(۸) ابوداؤد کتاب الادب باب فی الحلم واخلاق النبی ﷺ۔
(۹) بخاری ، ج ۲، کتاب المحاربین من اہل الکفرۃ والردۃ باب کم التعزیروالادب۔
(۱۰) بخاری،ج۲،کتاب الادب باب قول النبی ﷺ یسِّروا ولا تعسروا وکان یجب التخفیف والیسر علی الناس ٭بخاری، ج ۲، کتاب الحدود باب اقامۃ الحدود والانتقام لحرمات اللّٰہ ٭ابوداؤد کتاب الادب باب التجاوز فی الامر ٭ریاض الصالحین ۔ص۱۸۸
(۱۱) مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب مباعدتہ ﷺ للاٰثام واختیارہ مِنَ المباح اسہلہ وانتقامہ للّٰہ تعالٰی عند انتہاک حرماتہ ٭ ریاض الصالحین ص۔۱۸۹٭ مؤطا امام مالک کتاب الجامع باب ماجاء فی حسن الخلق۔
(۱۲) مسند احمد بن حنبل ج ۶، ص۳۲ مرویات عائشہؓ۔
(۱۳) ترمذی، شمائل ترمذی باب ماجاء فی خلق رسول اللہ ﷺ۔
(۱۴) روح المعانی، ج ۳۰، سورۂ عبس۔
(۱۵) ترمذی ابواب التفسیر سورۃ عبس۔حاکم نے المستدرک کتاب التفسیر ج ۲، سورہ عبس کے تحت یہی روایت بیان کرکے آخر میں لکھا ہے۔ ہذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ فقد أرسلہ جماعۃ عن ہشام بن عروۃ۔
(۱۶) مسلم،ج۱، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ۔باب النہی عن البصاق فی المسجد فی الصلوٰۃ وغیرہا الخ ٭مسند احمد ج ۵،۱۷۸ مرویات ابی ذر٭ابن ماجہ کتاب الادب باب اماطۃ الاذی عن الطریق۔
(۱۷) ترمذی ، شمائل الترمذی ، باب ماجاء فی مشیہٖ رسول اللّٰہ ﷺ ٭مسند احمد ،ج ۱، مرویات علی ٭ المستدرک للحاکم، ج ۲، کتاب التاریخ حلیۃ رسول اللّٰہ ﷺ۔
(۱۸) ابوداؤد کتاب الادب فی ہدی الرّجل۔
(۱۹) مسند احمد ، ج۳ص۳۲۸، جابر بن عبداللّٰہ ٭ابن کثیر، ج ۳ سورۃ الاحزاب۔
(۲۰) بخاری، ج ۲، کتاب التفسیر باب قولہ ترجی من تشاء منہن وتُؤویْ الیک من تشاء ٭مسلم، ج ۱، کتاب الطلاق باب ان تخییرہٗ امرأتہٗ لَا یکون طلاقًا الابالنِّیَّۃ ٭ابوداؤد، ج۲، کتاب النکاح باب فی القسم بین النساء۔
(۲۱) احکام القراٰن، ج ۳، سورۃ الاحزاب باب مَا اَحَلَّ اللّٰہ تعالیٰ لِرسولہ من النساء۔
(۲۲) احکام القراٰن للجصاص ج ۳، سورۃ الاحزاب باب احلّ اللّٰہ تعالیٰ لرسولہ من النسآء۔
(۲۳) بخاری، ج ۲، کتاب المغازی باب مرض النبی ﷺ ووفاتہٖ الخ۔
(۲۴) سیرت ابن ہشام، ج ۱ امرالاِراشَی الذی باع اباجہل ابلہ۔
(۲۵) تفسیر ابن کثیر، ج ۳، سورۃ یٰس ٭ابن سعد ، ج ۱۔ص۳۸۲۔
(۲۶) سیرت ابن ہشام ، ج۲شعر ابن مردا س، یستقل ما اخذ وا رضاء الرَّسول لہ۔٭ ابن کثیر،ج۳بحوالہ البیہقی فی الدلائل۔ ابن کثیر نے ہُمَا وَاحِدٌ کی جگہ اَلْکُلُّ سَوَائٌ نقل کیا ہے۔
(۲۷) فتح القدیر للشوکانی، ج ۴، سورہ یٰسٓ بحوالہ عبدالرزاق، عبدبن حُمَید، ابنِ جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم۔
(۲۸) احکام القراٰن للجصّاص ج ،۳، سورہ یٰسٓ۔
(۲۹) بخاری، ج ۲، کتاب الادب باب مایکرہ ان یکون الغالب علی الانسان الشعر الخ ٭ابوداؤد کتاب الادب باب ماجاء فی الشعر ٭مجمع الزوائد ج ۸ کتاب الادب باب ماجاء فی الشعر و الشعراء۔
(۳۰) بخاری،ج۱،کتاب الادب باب مایکرہ ان یکون الغالب علی الانسان الشعر حَتّٰی یصدّہٗ عَنْ ذکر اللّٰہ والعلم والقراٰن٭مسلم،ج۲، کتاب الشعر عن سعد ٭ترمذی ابواب الاستیذان باب ماجاء لان یمتلیٔ جوف احدکم قیحاًخیرلہ من ان یمتلی شعراً٭ابن ماجہ کتاب الادب باب الشعر٭فتح القدیرللشوکانی،ج۴ ص۱۲۴٭مجمع الزوائد، ج۸،ص۱۲۰ عن سلمان ٭دارمی کتاب الاستیذان باب ۶۹لان یمتلی جوف احدکم اس میں قیحا اودماً ہے۔
(۳۱) مسلم،ج۲،ص۲۴۰کتاب الشعر٭مسند احمد،ج۲ص۳۹،۹۶ج۳،ص۳،۸،۴۱ابوسعیدخدری٭ ابن کثیر، ج۳، سورہ شعراء ٭فتح القدیر للشوکانی ج ۴،ص۱۲۳ عن ابی سعید خدری الشعراء بحوالہ ابن ابی شیبۃ۔
(۳۲) بخاری،ج۲، کتاب الادب، باب مایجوز من الشعر والرجزوالحداء ومایکرہ مِنْہُ وَقَوْلُہٗ تَعَالٰی والشعراء یتبعہم الغاؤن الخ ٭ترمذی ابواب الاستیذان ، باب ماجاء ان من الشعرحکمۃ ٭ابوداؤدکتاب الادب،ج۴، باب ماجاء فی الشعر ٭ابن ماجہ کتاب الادب، باب الشعر٭فتح القدیر للشوکانی،ج ۴،ص۱۲۳بحوالہ ابن مردویہ۔ اس میں ان من الشعرلحکمۃ ہے ٭دارمی کتاب الاستیذان، ج ۲، باب ۶۸، فی ان من الشعر حکمۃ ٭مجمع الزوائد، ج ۸،ص۱۲۳عن عائشۃ۔
(۳۳) ابوداؤدکتاب الادب،ج۴، باب مَاجَائَ فی المتشدق فی الکلام ٭مؤطا امام مالک کتاب الجامع مایکرہ من الکلام بغیر ذکر اللّٰہ٭ترمذی ابواب البروالصلۃ، باب ماجاء ان من البیان سِحْرًا۔ اور ابواب الاستیذان باب ماجاء وان من الشعرحکمۃ ٭ابن ماجہ کتاب الادب باب الشعر٭فتح القدیر،ج ۴،ص۱۲۳بحوالہ ابن ابی شیبہ عن ابن مسعود ٭مجمع الزوائد ج۸،ص۱۲۳٭الطبرانی الکبیر، ج اول ص۲۶۰۔
(۳۴) المَعَارِف لابنِ قُتَیْبَۃَ دِیْنَوَرِی۔ص ۲۸۔
(۳۵) مسلم، ج۲، کتاب الشعر ٭ترمذی، شمائل ترمذی باب مَاجآء فی صفۃ کلام رسول اللّٰہ ﷺ ٭ابن ماجہ کتاب الادب، باب الشعر، السنن الکبریٰ للبَیْہَقی ج۱۰کتاب الشھادات ج ۱۰،ص۲۲۷ ٭طبرانی کبیر،ج۷ص۳۱۵، عَمروبن شرید عن ابیہ ٭فتح القدیر للشوکانی، ج ۴ص۱۴۴، الشعراء۔
(۳۶) شمائل ترمذی باب ماجاء فی صفۃ کلام رسول اللّٰہ ﷺ فی الشعر ٭ترمذی ابواب الاستیذان باب ماجاء فی انشاد الشعر٭نسائی کتاب الحج باب استقبال الحج ٭نسائی کتاب الحج باب انشاد الشعر فی الحرم والمشی بین یدی الامام۔
(۳۷) بخاری،ج۲، کتاب الادب باب ہجاء المشرکین ٭بخاری، ج۲، کتاب المغازی باب مرجع النبیؐ فی الاحزاب الخ۔ ٭ مسلم ج۲۔ کتاب الفضائل باب فضائل حسان بن ثابت۔
(۳۸) فتح القدیر للشوکانی،ج۴، ص۱۲۳ الشعراء بحوالہ ابن سعد، ابن ابی شیبۃ عن براء ابن عازب۔
(۳۹) مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب فضائل حسان بن ثابت۔
(۴۰) روح المعانی ، ج۱۹، سورہ شعراء۔
(۴۱) ترمذی شمائل ترمذی باب ماجاء فی صفۃ کلام رسول اللّٰہ ﷺ فی الشعر، ابواب الاستیذان باب ماجاء فی انشاء الشعر۔
(۴۲) ابوداؤد کتاب الادب باب ماجاء فی الشعر۔
(۴۳) مسند احمد،ج۳،ص۴۵۶،۴۶۰ ج ۶ص ۳۶۷روایت کعب بن مالک ٭ابن کثیر،ج۳ص۳۵۵٭روح المعانی، ج۱۹، سورۃ الشعراء ٭فتح القدیر للشوکانی،ج۴ص۱۲۳الشعراء بحوالہ بخاری فی التاریخ، ابویعلٰی، ابن مردویہ عن کعب بن مالک ٭مشکوٰۃ باب البیان والشعر فصل دوم بحوالہ شرح السنۃ۔
(۴۴) سیرت ابن ہشام،ج ۱ص۔۴۲۰٭کنزالعمال،ج۲ص۱۷۵حدیث۳۶۱۳،بحوالہ طبرانی ص۶۹۸۔۶۹۹ح ۵۱۲۰، بحوالہ ابن عدی فی الکامل۔
(۴۵) بخاری،ج۱، کتاب بدأ الخلق اذا قال احدکم اٰمین والملائکۃ فی السمآء آمین الخ ٭مسلم،ج۲، کتاب الجہاد والسیر باب مالقی النبی من اذی المشرکین والمنافقین۔
(۴۶) ابن جریر،ج ۲۸؍۳۰، جلد ۱۲سورہ اَلَمْ نشرح ٭ابن کثیر،ج۴،ص۵۲۴٭ابن ابی حاتم ٭مسند ابی یعلیٰ ٭روح المعانی جز۳۰، جلد۱۲ص۱۶۹، بحوالہ ابن المنذر،ابن حبان، ابن مردویہ اور ابونعیم فی الدلائل ٭فتح القدیر للشوکانی جلد ۵ سورہ الم نشرح وقال۔اَخْرَجَہ اَبُویَعْلٰی مِنْ طَرِیْقِ ابْن لِہَیَعَۃَ عَنْ دَرَّاجٍ۔ واخرَجہ ابن ابی حاتم من طریق یونُس بْنِ عَبْدِ الاعْلیٰ بِہٖ۔اَخْرَجَ بْنُ عَسَاکِرٍ مِنْ طَرِیْقِ الْکَلْبِیِّ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔
(۴۷) تفسیر ابن کثیر،ج۴، سورۃ الضحٰی٭الطبرانی فی الاوسط، البیھقی فی الدلائل عن ابن عباس٭ابن جریر، پ:۳۰، ج ۱۲، الضحٰی٭ فتح القدیرللشوکانی،ج ۵،ص۱۵۹بحوالہ ابن ابی شیبۃ، عبد ابن حمید، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ ٭المستدرک للحاکم،ج ۲۔ص۵۲۶۔
(۴۸) تفسیر ابن کثیر، ج ۴، سورۃ الدخان۔
(۴۹) بخاری،ج۲،کتاب الرقاق باب القصد والمداومۃ علی العمل۔
(۵۰) بخاری، ج۲، کتاب الرقاق باب القصد والمداومۃ علی العمل۔
(۵۱) المصنف لعبد الرزاق، ج ۱۱ باب دخول الجنۃ ٭ابن ماجہ کتاب الزہد باب التوقی علی العمل ٭دارمی ج ۲، کتاب الرقاق باب لن ینجی احدکم عملہ۔
(۵۲) ابن کثیر،ج۴بحوالہ ابن ابی حاتم ٭فتح القدیر للشوکانی، ج۵ ص۴۵۱، بحوالہ ابوالشیخ، ابن مردویہ اور دیلمی من طریق جویبر عن الضحاک عن ابن عباس۔
(۵۳) مسلم، ج ۲، کتاب الذکر باب فی الادعیۃ ٭نسائی کتاب الاستعاذۃ باب الاستعاذۃ من العجز ٭ کنزالعمال ج۲، حدیث نمبر۳۶۱۹، بحوالہ عبدبن حمید، عن زید بن ارقم۔
(۵۴) مسند احمد،ج ۶ص۲۰۹، مرویات عائشۃ ٭مسند احمد، ج ۴ص۳۷۱۔
(۵۵) ابن کثیر، ج ۴، بحوالہ ابن ابی حاتم و طبرانی کبیر۔
(۵۶) مسند احمد، ج۴ص۳۷۱٭فتح القدیر،ج۵ص۵۴۰، بحوالہ ابن ابی شیبۃ، ابن المنذر، طبرانی اور ابن مردویہ نے اس روایت کو ابن عباس سے روایت کیا ہے۔
(۵۷) بخاری،ج۱،کتاب التہجد باب قیام النبیﷺ اللیل حَتّی ترم قدماہ وقالت عائشۃ حتی تفطَّرقدماہ والفطور الشقوق، انفطرت انشقت۔ج۲،کتاب الرقاق، باب الصبر عن محارم اللّٰہ وانَّمَایوفَّی الصابرون اجرہم بغیرحساب۔ اس روایت میں ہے کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُصَلِّیْ حَتّی تَرِِمَ اَوْ تَنْتَفِخَ قَدَمَاہُ الخ۔
(۵۸) بخاری،ج۲، کتاب التفسیر، باب قولہ لیغفرلک اللّٰہ ما تقدم من ذنبک وما تاخَّر ویتم نعمتہ عَلَیْک وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُسْتَقِیْمًا۔
(۵۹) مسلم، ج ۲، کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب اکثار الاعمال والاجتہاد فی العبادۃ۔
(۶۰) مسلم،ج۲،کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار باب اکثار الاعمال والاجتہاد فی العبادۃ ٭مسند احمد، ص۱۱۵، عن عائشۃ۔
(۶۱) ترمذی ابواب الشمائل باب ماجاء فی عبادۃ رسول اللّٰہ ﷺ٭ترمذی ابواب الصلاۃ باب ماجاء فی الاجتہاد فی الصلوٰۃ٭ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصَّلوٰۃ والسنۃ فیہا باب ماجاء فی طول القیام فی الصلوٰۃ ٭طبقات ابن سعد ، ج۲ص۲۰۹٭السنن الکبری للبیہقی،ج ۷، کتاب النکاح باب ماوجب علیہ من قیام اللیل ٭مسند احمد،ج ۴، ص۴۵۱تا۴۵۵اورج۶ص۱۱۵٭نسائی ج۳کتاب قیام اللیل باب احیاء اللیل٭المصنف لعبد الرزاق ج۳۔ کتاب الصلوٰۃ باب الصلوٰۃ من اللیل ۔

فصل پنجم: ختم نبوت ختم نبوت کے بارے میں نبی ﷺ کے ارشادات

۸۹۔ قَالَ النَّبِِیُّ ﷺ کَانَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ تَسُوْ سُہُمُ الْاَنْبِیَآئُ۔ کُلَّمَا ہَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَہٗ نَبِیٌّ، وَاِنَّہٗ لَانَبِیَّ بَعْدِیْ وَسَیَکُوْنُ خُلَفَائُ۔ (بخاری)
’’نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ بنی اسرائیل کی قیادت انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی وفات پاجاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا بلکہ خلفاء ہوں گے۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: ثَنَاشُعْبَۃُ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَاحَازِمٍ، قَالَ:قَعَدْتُّ اَبَاہُرَیْرَۃَ خَمْسَ سِنِیْنَ فَسَمِعْتُہٗ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:کَانَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ تَسُوْ سُہُمْ الْاَنْبِیَآئُ کُلَّمَا ہَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَہٗ نَبِیٌّ، وَاِنَّہٗ لَانَبِیَّ بَعْدِیْ وَسَیَکُوْنُ خُلَفَآئُ فَیَکْثُرُوَنَ قَالُوْا: فَمَاتَأْمُرُنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟قَالَ: اَوْ فُوْا بِبَیْعَۃِ الْاَوَّلِ فَالْاَوَّلِ اُعْطُوْہُمْ حَقَّہُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ سَائِلُہُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاہُمْ۔(۱)
ترجمہ :حضرت ابوحازم سے مروی ہے ان کا بیان ہے میں پانچ سال تک حضرت ابوہریرہؓ کی مجلس میں بیٹھا ۔ میں نے انھیں نبی ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بیان کرتے ہوئے سنا کہ:بنی اسرائیل کی قیادت ان کے انبیاء کیا کرتے تھے جب کوئی نبی فوت ہوجاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا، مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگاصرف خلفاء ہوں گے اور بہ کثرت ہوں گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ اگر ایسی صورت ہے تو ہمارے لیے کیا ارشاد ہے۔ فرمایا جو پہلے خلیفہ بنے اس کی بیعت کے ساتھ وفا کرو۔اس کے بعد اس کی جو پہلے خلیفہ بنے۔ تم ان کے حقوق ادا کرو اور اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو ان کے سپرد کیا ہے ان کے حقوق کے بارے میں اللہ تعالیٰ ان سے باز پرس کرے گا۔
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اِدْرِیْسَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ: قَال رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ کَانَتْ تَسُوْسُہُمْ اَنْبِیَآئُ ہُمْ کُلَّمَا ذَہَبَ نَبِیٌّ وَاِنَّہٗ لَیْسَ کَائِنٌ بَعْدِیْ نَبِیٌّ فِیْکُمْ۔ قَالُوْا: فَمَا یَکُوْنُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: تَکُوْنُ خُلَفَآئُ فَیَکْثُرْ قَالُوْا: فَکَیْفَ نَصْنَعُ؟ قَالَ: اَوْ فُوْا بِبَیْعَۃِ الْاَوَّلِ فَالْاَوَّلِ۔ اَدُّوْا الَّذِیْ عَلَیْکُمْ فَسَیَسْأَ لُہُمْ اللّٰہُ عَزّوَجَلَّ عَنِِ الَّذِیْ عَلَیْہِمْ۔(۲)
۹۰۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْن جُبَیْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہ ابْنَ عَمْرِو ابْنِ عَاصٍ یَقُوْلُ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا کَالْمُوَدِّعِ فَقَالَ اَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِیُّ الْاُمِّیُّ ثلاثاً وَلَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔ (مسند احمد)
’’عبداللہ بن جبیر کہتے ہیںکہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص کو یہ کہتے سنا کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ اپنے مکان سے نکل کر ہمارے درمیان تشریف لائے اس انداز سے کہ گویا آپؐ ہم سے رخصت ہورہے ہیں۔ آپؐ نے تین مرتبہ فرمایا: ’’میں محمد نبی اُمّی ہوں۔‘‘ پھر فرمایا ’’اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِِیْ، ثَنَا یَحْیٰ بْنُ اِسْحَاقَ، ثَنَا بْنُ لَہِیَعَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْن ہُبَیْرَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِِ مَرِیْجِ الْخَوْلَانِیَّ قَالَ:سَمِعْتُ اَبَا قَیْسٍ مَوْلٰی عُمَروبْنِ العَاصِ،یَقُوْلُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو یَقُوْلُ: مَنْ صَلّٰی عَلی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ صَلَاۃً صَلَّی اللّٰہُ وَمَلائِکَتُہٗ سَبْعِیْنَ صَلَاۃً فَلْیَقِلَّ عَبْدٌ مِنْ ذٰلِکَ اَوْلِیَکْثُرْ، وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہ بْنَ عَمْرو یَقُوْلُ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا کَالْمُوَدِّعِ فَقَالَ: اَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِیُّ الْاُمِّیُّ قَالَہٗ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَلَانَبِیَّ بَعْدِیْ۔ اُوْتِِیْتُ فَوَاتِحَ الْکَلِم، وَخَوَاتمِہٖ، وَجَوَامِعہ وَعُلِّمْتُ کَمْ خَزَنَۃُ النَّارِ وَحَمَلَۃُ الْعَرْشِ، وَتُجُوِّزَبِِیْ وَعُوْفِیْتُ وَ عُوْفِیَتْ اُمَّتِیْ فَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا مَادُمْتُ فِیْکُمْ فَاِِذَا ذَہَبَ بِیْ فَعَلَیْکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ اَحِلُّوْاحَلَالَہٗ وحَرِِّمُوْا حَرَامَہٗ۔(۳)
ترجمہ:ابوقیس کہتے ہیں میں نے ابن عمرو سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ جس نے رسول اللہ ﷺ پر ایک مرتبہ درودپڑھا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ستّر مرتبہ درود پڑھتے ہیں اب جو شخص چاہے تھوڑا پڑھے یا زیادہ۔ اور میں نے عبداللہ بن عمروبن عاص کو یہ کہتے بھی سنا کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ اپنے مکان سے نکل کر اس انداز سے ہمارے درمیان تشریف لائے گویاآپؐ ہم سے رخصت ہورہے ہیں اور آپؐ نے تین مرتبہ فرمایا ’’میں محمد نبی اُمّی ہوں‘‘، پھر فرمایا:’’اور میرے بعدکوئی نبی نہیں۔ مجھے افتتاحی، اختتامی اور جامع کلمات عطا فرمائے گئے۔ اور مجھے بتایا گیا ہے کہ جہنم کے داروغہ کتنے ہیں، عرشِ الٰہی کو کتنے فرشتوں نے اٹھا رکھا ہے اور مجھے معاف کردیا گیا ہے اور درگزر کیا گیا ہے اور میری امت کو بھی معاف کردیا گیا ہے۔ لہٰذا جب تک میں تم میں زندہ ہوں اس وقت تک میری بات سنو اور اطاعت کرو اور جب مجھے اللہ لے جائے تو تم کتاب اللہ کو لازم پکڑ لو۔ اس کے حلال کردہ کو حلال اور حرام کردہ کو حرام سمجھو۔ ‘‘
۹۱۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ لَانُبُوَّۃَ بَعْدِیْ اِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ۔قِیْلَ:وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ الرُّؤیَاالْحَسَنَۃُ اَوْ قَالَ الرُّؤْیَاالصَّالِحَۃُ۔ (مسند احمد ، نسائی، ابوداؤد)
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے۔ صرف بشارت دینے والی باتیں ہیں۔عرض کیا گیا وہ بشارت دینے والی باتیں کیا ہیں یا رسولؐ اللہ؟ فرمایا اچھا خواب یا فرمایا صالح خواب۔‘‘
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ یعنی وحی کا اب کوئی امکان نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ اگر کسی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی اشارہ ملے گا بھی تو بس اچھے خواب کے ذریعہ سے مل جائے گا۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا حَمَّادٌ یَعْنِی ابْنَ زَیْدٍ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُبَیْد نِالرَّاسِِبِیُّ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَاالطُّفَیْلِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَانُبُوَّۃَ بَعْدِیْ اِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ۔ قِیْلَ وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: الرُّؤْیَاالْحَسَنَۃُ، اَوْقَالَ الرُّؤْیَاالصَّالِحَۃُ۔ (۴)
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہُرِیِّ، حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ، اَنَّ اَبَاہُرَیْرَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ: لَمْ یَبْقَ مِنَ النُّبُوَّۃِ اِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ قَالُوْا وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: اَلرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ۔(۵)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرمارہے تھے۔ نبوت اب باقی نہیں رہی بجز بشارت دینے والی باتوں کے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا، وہ بشارت دینے والی باتیں کیا ہیں؟ فرمایا:’’اچھا خواب۔‘‘
نسائی میں ہے:
(۳) اَنَّہٗ لَمْ یَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّۃِ اِلَّا الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ یَرَاہَا الْمُسْلِمُ اَوْ تُرَاہَا۔(۶)
ترجمہ:اب مبشرات نبوت تو باقی نہیں رہے صرف اچھا خواب ہے جسے ایک مسلم خواب میں دیکھے یا اسے دکھایاجائے۔
(۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدُرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِِ مَالِکٍ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:رُؤْیَا الْمُؤْمِنِ جُزْئٌ مِّنْ سِتَّۃٍ وَاَرْ بَعِیْنَ جُزْأً مِنَ النُّبُوَّۃِ۔(۷)
ترجمہ: مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔
(۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃ عَنْ مَالِکٍ، عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ اَبِی طَلْحَۃ عَنْ اَنَسِ ابْنِ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اَلرُّؤْیَا الْحَسَنَۃُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْئٌ مِّنْ سِتَّۃٍ وَّاَرْبَعِِیْنَ جُزْأًمِّنَ النُّبُوَّۃِ۔(۸)
ترجمہ : صالح آدمی کا اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔
(۶) اَلرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ جُزْئٌ مِّنْ سِتَّۃٍ وَّاَرْبَعِیْنَ جُزْئً مِّنَ النُّبُوَّۃِ۔(۹)
ترجمہ: صالح خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔
(۷) حَدَّثَنَا ہَارُوْنُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ ابْنِ اَبِیْ یَزِیْدَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ سِبَائِ ابْنِ ثَابِتٍ، عَنْ اُمِّ کُرْزٍالْکَعْبِیَّۃِ، قَالَتْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: ذَہَبَتِ النُّبُوَّۃُ وَبَقِیَتِ الْمُبَشِّرَاتُ۔(۱۰)
ترجمہ: ام کرزکہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے فرمارہے تھے۔نبوت چلی گئی یعنی ختم ہوگئی۔ اب بشارت دینے والی باتیں باقی ہیں۔
(۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الحَضْرَمِیُّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ اَلْحُلْوَانِیُّ ثَنَا اَبُوعَاصِمٍ، عَنْ مَہْدِیِّ بْنِ مَیْمُوْنٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُبَیْدٍ، عَنْ اَبِی الطُّفَیْلِ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ اُسَیْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ذَہبَتِ النُّبُوَّۃُ فَلَا نُبُوَّۃَ بَعْدِی اِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ۔(۱۱)
ترجمہ: نبوت ختم ہوگئی، اب میرے بعدکوئی نبی نہیں البتہ خوش خبری دینے والی باتیں باقی ہیں۔
(۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، عَنْ مَالِکٍ عَنْ اِِسْحَاقَ بْن عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ، عَنْ زُفَرِِبْنِ صَعْصَعَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ اِذَا انْصَرَفَ صَلَاۃَ الْغَدِ یَقُوْلُ: ہَلْ رَاٰی اَحَدٌ مِّنْکُمْ اللَّیْلَۃَ رُؤْیًا؟ وَیَقُوْلُ: اِنَّہٗ لَیْسَ یَبْقیٰ بَعْدِِیْ مِِنَ النُّبُوَّۃِ اِلَّا الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ۔ (۱۲)
ترجمہ : ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز سے فارغ ہوکر اپنا منہ مقتدیوں کی طرف پھیرتے تو دریافت فرماتے، کیا آج رات تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟ اور ساتھ ہی فرماتے کہ میرے بعد نبوت تو باقی نہیں البتہ صالح خواب ہیں۔
۹۲۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ الرِّسَالَۃَ وَالنُّبُوَّۃَ قَدِِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ، وَلَا نَبِیَّ۔ ۱؎
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ میرے بعد اب نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔ ‘‘
(ختم نبوت:ختم نبوت۔۔۔)
تخریج: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ نِِالزَّعْفَرَانِیُّ، نَاعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، نَاعَبْدُالْوَاحِدِ،نَا الْمُخْتَارُ ابْنُ فُلْفُلٍ، نَااَنَسُ بْنُ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ الرِّسَالَۃَ والنُّبُوَّۃَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلاَ رَسُوْلَ بَعْدِیْ، وَلَانَبِیَّ، قَالَ فَشَقَّ ذٰلِکَ عَلَی النَّاسِ۔ فَقَالَ لٰکِنَّ الْمُبَشِّرَاتِ، فَقَالُوا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: رُؤْیَا الْمُسْلِمِ، وَہِیَ جُزْئٌ مِّنْ اَجْزَائِ النُّبُوَّۃِ۔(۱۳)
وَفِی الْبَابِ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، وَحُذَیْفَۃَ بْنِ اُسَیْدٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَاُمِّ کُرْزٍ۔
ہٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ غَرِیْبٌ مِّنْ ہٰذَا الْوَجْہِ مِنْ حَدِیْثِ الْمُخْتَارِ بْنِ فِلْفِلٍ۔

قصر نبوت کی آخری اینٹ میں ہوں

۹۳۔میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک نہایت خوبصورت مکان بنایااور تمام عمارت بنا کر صرف ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدی۔ اب جو لوگوں نے اس کے گرد چکر لگایا تو وہ خالی جگہ انھیں کھٹکنے لگی اور وہ کہنے لگے اگر یہ آخری اینٹ بھی رکھ دی جاتی تو مکان بالکل مکمل ہوجاتا۔ سو وہ آخری اینٹ جس کی جگہ نبوت کے محل میں باقی رہ گئی تھی میں ہی ہوں۔ اب میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔
تشریح :اس مثال سے ختم نبوت کی وجہ صاف سمجھ میں آجاتی ہے۔ جب دین کامل ہوچکا، آیات الٰہی پوری وضاحت کے ساتھ بیان ہوچکیں، اوامر و نواہی ، عقائد و عبادات، تمدن و معاشرت، حکومت و سیاست ، غرض انسانی زندگی کے ہر شعبے کے متعلق پورے پورے احکام بیان کردیے گئے اور دنیا کے سامنے اللہ کا کلام اور اللہ کے رسول کا اسوہ حسنہ اس طرح پیش کردیا گیا کہ ہر قسم کی تلبیس و تحریف سے پاک ہے اور ہر عہد میں اس سے ہدایت حاصل کی جاسکتی ہے، تو نبوت کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ صرف تجدید و تذکیر کی ضرورت رہ گئی ہے جس کے لیے علمائے حق اور مومنین صادقین کی جماعت کافی ہے۔ (تفہیمات دوم: قرآن۔۔۔)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نا اَبُوْعامِرٍ الْعَقَدِیُّ، نَا زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِِ بْنِ عَقِیْلٍ، عَنِ الطُّفَیْلِ بْنِ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَثَلِیْ فِی النَّبِیِّیْنَ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی دَارًا، فَاَحْسَنَہَا، وَاَکْمَلَہَا وَاَجْمَلَہَا، وَتَرَکَ مِنْہَا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِالْبِنَائِ، وَیَعْجَبُوْنَ مِنْہُ، وَیَقُوْلُوْنَ: لَوْ تَمَّ مَوْضِعُ تِلْکَ اللَّبِنَۃِ، وَاَنَا فِی النَّبِیِّیْنَ مَوْضِعُ تِلْکَ اللَّبِنَۃِ۔ وَبِہٰذَا الْاِسْنَادِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اِذَاکَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ کُنْتُ اِمَامَ النَّبِیِّیْنَ، وَخَطِیْبَہُمْ، صَاحِب شِفَاعَتِہِمْ غَیْرَفَخْرٍ۔(۱۴) (ہذا حدیث حسن صحیح غریب)
ترجمہ : حضرت طفیل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انھوں نے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ انبیاء میں میری مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک شخص نے خوبصورت اور حسین و جمیل مکان بنایا۔ اسے مکمل بھی کیا مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔اب جو لوگوں نے اس کے ارد گرد چکر لگایا تو اسے پسند کیا۔ لیکن کہنے لگے کاش یہ آخری اینٹ کی جگہ بھی مکمل کردی جاتی ـــــ تو مکان بالکل مکمل ہوجاتا ـــــیہ بات ذہن نشین رہے کہ انبیاء علیہم السلام میں میرا مقام اسی اینٹ کا ہے۔ اسی اسناد سے نبی ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بھی مروی ہے کہ قیامت کے روز میں انبیاء کا امام ، ان کا خطیب اور ان کی سفارش کرنے والا ہوں گا، البتہ اس پر فخر نہیں کروں گا۔
۹۴۔ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اِنَّ مَثَلِیْ وَمَثَلَ الْاَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنیٰ بَیْتًا فَاَحْسَنَہٗ وَاَجْمَلَہٗ اِلَّامَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِنْ زَاوِِیَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ وَیَعْجَبُوْنَ لَہٗ وَیَقُوْلُوْنَ ہَلَّاوُضِعَتْ ہٰذِہِ اللَّبِنَۃُ، فَاَنَا اللَّبِنَۃُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔ (بخاری)
’’نبی ﷺ نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین و جمیل بنائی۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی تھی۔ لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی پر اظہار حیرت کرتے تھے مگر کہتے تھے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النّبیین ہوں ـــــیعنی میرے آنے پر نبوت کی عمارت مکمل ہوچکی ہے، اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے، جسے پر کرنے کے لیے کوئی نبی آئے۔‘‘
اس مضمون کی چار حدیثیں مسلم، کتاب الفضائل باب خاتم النبیین میں ہیں اور آخری حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں: فَجِئْتُ فَخَتَمْتُ الْاَنْبِیَاء ’’پس میں آیا اور میں نے انبیاء کا سلسلہ ختم کردیا۔‘‘
یہی حدیث انہی الفاظ میں ترمذی، کتاب المناقب، باب فضل النبی اور کتاب الآداب باب الامثال میں ہے۔
مسند ابوداؤد، طیالسی میں یہ حدیث جابر بن عبداللہ کی روایت کردہ احادیث کے سلسلہ میں آئی ہے اور اس کے آخری الفاظ یہ ہیں: خُتِمَ بِیَ الْاَنْبِیَاء۔ ’’میرے ذریعہ سے انبیاء کا سلسلہ ختم کیا گیا۔‘‘
مسند احمد میں تھوڑے تھوڑے لفظی فرق کے ساتھ اس مضمون کی احادیث حضرت ابی بن کعب، حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہؓ سے نقل کی گئی ہیں۔ (ختم نبوت:ختم نبوت۔۔۔)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دیْنَارٍ، عَنْ اَبِیْ صَالِِحٍ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِنَّ مَثَلِیْ، وَمَثَلَ الْاَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنیٰ بَیْتًا فَاَحْسَنَہٗ وَاَجْمَلَہٗ اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِنْ زَاوِیَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِہٖ وَیَتَعَجَّبُوْنَ لَہٗ وَیَقُوْلُوْنَ ہَلَّاوُضِعَتْ ہٰذِِہٖ اللَّبِنَۃُ، قَالَ: فَاَنَا اللَّبِنَۃُ، وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔(۱۵)
(۲) حَدَّثَنَا سَلِیْمُ بْنُ حَیَّانَ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ مِیْنائَ، عَنْ جابِرِ بْن عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْاَنْبِیَائِ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنیٰ دَارًا فَاَکْمَلَہَا وَاَحْسَنَہَا اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ فَکَانَ مَنْ دَخَلَہَا وَنَظَرَ اِلَیْہَا، قَالَ مَا اَحْسَنُہَا اِلَّا مَوْضِعَ ہٰذِہِ اللَّبِنَۃِ فَاَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَۃِ خُتِمَ بِیَ الْاَنْبِیَائُ۔(۱۶)
(۳) حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ اَیُّوبَ وَقُتَیْبَۃُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوْا نَااِسْمَاعِیْلُ یَعْنُوْنُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ السَّمَّاکِ۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْاَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلی کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنیٰ بُنْیَانًا فَاَحْسَنَہٗ وَاَجْمَلَہٗ اِِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِّنْ زَاوِیَۃٍ مِّنْ زَوَایَاہُ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِہٖ وَیَعْجَبُوْنَ لَہٗ وَیَقُوْلُوْنَ ہَلَّاوُضِعَتْ ہٰذِہٖ اللَّبِنَۃُ؟ قَالَ: فَاَنَا اللَّبِنَۃُ، وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔(۱۷)
(۴) حَدَّثَنَا عَمْرٌوالنَّاقِدُ، قَالَ: نَاسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ اَبِی الزِّنَاد، عَنِ الْاَعْرَج، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃُ، عَنِِ النَّبِیّ ﷺ قَالَ: مَثَلیْ وَمَثَلُ الْاَنْبِیَاء کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنیٰ بُنْیَانًا فَاَحْسَنَۃٗ وَاَجْمَلَہٗ فَجَعَلَ النَّاسُ یُطِیْفُوْنَ بِہٖ یَقُوْلُوْنَ مَا رَأَیْنَا بُنْیَاناً اَحْسَنَ مِنْ ہٰذَا اِلَّا ہٰذِہٖ اللَّبِنَۃُ فَکُنْتُ اَنَا تِلْکَ اللَّبِنَۃُ۔
(۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ رَافِعٍ، قَالَ: نَاعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: نَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبّہٍ، قَالَ: ہٰذَا مَا حَدَّثَنَا اَبُوْ ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَذَکَرَ اَحَادِیْثَ مِنْہَا وَقَالَ اَبُوالْقَاسِم ﷺ۔مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْاَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنیٰ بُیُوْتًا فَاَحْسَنَہَا، وَاَجْمَلَہَا وَاَکْمَلَہَا، اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِّنْ زَاوِیَۃٍ مِّنْ زَوَایَا ہَا فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِہٖ، وَیُعْجِبُہُمُ الْبُنْیَانُ فَیَقُوْلُوْنَ: اَلَا وَضَعْتَ ہَاہُنَا لَبِنَۃً فَیُتِمَّ بُنْیَانُکَ فَقَالَ مُحَمَّدٌ ﷺ: فَکُنْتُ اَنَّااللَّبِنَۃُ۔
(۶)حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا عَفَّانُ، قَالَ: نَا سَلِیْمُ بْنُ حَیَّانَ، قَالَ: نَا سَعِیْدُ بْنُ مِیْنَآئَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْاَنْبِیَائِ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنیٰ دَارًا فَاَتَمَّہَا، وَاَکْمَلَہَا اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَدْخُلُوْنَہَا وَیَتَعَجَّبُوْنَ مِنْہَا وَیَقُوْلُوْنَ: لَوْلَا مَوْضِعُ اللَّبِنَۃِ! قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : فَاَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَۃِ جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْاَنْبِیَائَ عَلَیْہِمُ السَّلَامُ۔(۱۸)
۹۵۔ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: فُضِّلْتُ عَلَی الْاَنَبِیَآئِ بِسِتٍّ۔ أُعْطِیْتُ جَوَامِعُ الْکَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَطُہُوْرًا، وَاُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَآفَّۃً، وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ۔ (مسلم، ترمذی، ابن ماجہ)
ترجمہ:رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مجھے چھ باتوںمیں انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے: (۱)مجھے جامع و مختصربات کہنے کی صلاحیت دی گئی۔ (۲) مجھے رعب کے ذریعہ سے نصرت بخشی گئی۔(۳) میرے لیے اموال غنیمت حلال کیے گئے۔ (۴)میرے لیے زمین کو مسجد بھی بنادیا گیا اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بھیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ یعنی میری شریعت میں نماز صرف مخصوص عبادت گاہوں میں ہی نہیں بلکہ روئے زمین پر ہر جگہ پڑھی جاسکتی ہے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ اور پانی نہ ملے تو میری شریعت میں تیمم کرکے وضو کی حاجت بھی پوری کی جاسکتی ہے اور غسل کی حاجت بھی۔(۵)مجھے تمام دنیا کے لیے رسول بنایا گیا۔ (۶) اور میرے اوپر انبیاء کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الاحزاب: ضمیمہ)
تخریج: حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ اَیُّوْبَ وَقُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، وَعَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوْا: نَااِسْمَاعِیْلُ وَہُوَابْنُ جَعْفَرٍ عَنِ الْعَلَائِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: فُضِّلْتُ عَلَی الْاَنْبِیَآئِ بِسِتٍّ، اُعْطِیْتُ جَوَامِعُ الْکَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ طُہُوْرًا وَمَسْجِدًا وَاُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَآفَّۃً، وَخُتِمَ بِِیَ النَّبِیُّوْنَ۔(۱۹)
۹۶۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَبْعَثْ نَبِیًّا اِلاَّحَذَّرَ اُمَّتَہُ الدَّجَّالَ وَاَنَا اٰخِرُ الْاَنْبِیَآئِ وَاَنْتُمْ اٰخِرُ الْاُمَمِ وَہُوَ خَارِجٌ فِیْکُمْ لَا مَحَالَۃَ۔ (ابن ماجہ)
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا، جس نے اپنی امت کو دجال کے خروج سے نہ ڈرایا ہو ـــــمگر ان کے زمانے میں وہ نہ آیاـــــاب میں آخری نبی ہوں ، اور تم آخری امت ہو۔ لامحالہ اب اس کو تمھارے اندر ہی نکلنا ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ اَبِیْ زُرْعَۃ الشَّیْبَانِیِّ یَحْیَی ابن اَبِیْ عَمْرٍو، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ الْبَاہِِلِیِّ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَکَانَ اَکْثَرُ خُطْبَتِہٖ حَدِیْثًا، حَدَّثَنَاہُ عَنِ الدَّجَّالِ، وَحَذَّرْنَا ہُ فَکَانَ مِنْ قَوْلِہٖ اَنْ قَالَ: اِنَّہٗ لَمْ تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِی الْاَرْضِ مُنْذُ ذَرَأَ اللّٰہُ ذُرِّیَّۃَ آدَمَ اَعْظَمَ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ، وَاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَبْعَثْ نَبِیًّا اِلَّا حَذَّرَ اُمَّتَہُ الدَّجَّالَ وَاَنَا اٰخِرُ الْاَنْبِیَآئِ، وَاَنْتُمْ اٰخِرُ الْاُمَمِ، وَہُوَ خَارِجٌ فِیْکُمْ لَا مَحَالَۃَ الخ۔(۲۰)
۹۷۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا اُمَّۃَ بَعْدَ اُمَّتِیْ۔ (بیہقی،طبرانی)
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کے بعد کوئی امت ـــــکسی نئے آنے والے نبی کی امت ـــــ نہیں۔‘‘
تخریج:حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، ثَنا مُعَاذٌ یعنی ابْنَ ہِشَامٍ، قَالَ وَجَدْتُ فِی کِتَابِ اَبِیْ بِخَطِّ یَدِہٖ، وَلَمْ اَسْمَعْہُ مِنْہُ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَبِیْ مِعْشَرٍ، عَنْ اِبْرَاہِیْمَ النَّخَعِیِّ، عَنْ ہَمَّامٍ، عَنْ حُذَیفَۃَ، اِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ وَدَجَّالُوْنَ سَبْعَۃٌ وَعِشْرُوْنَ مِنْہُمْ اَرْبَعٌ نِسْوَۃٌ وَاِنِّیْ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔(۲۱)
ترجمہ: نبی ﷺ نے فرمایا: میری امت میں ستائیس جھوٹے دجال نمودار ہوں گے ان میں چار عورتیں بھی ہوں گی۔ میں بہر حال خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
۹۸۔عَنْ ثوْبَانَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ۔۔۔وَاِنَّہٗ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ کُلُّہُمْ یَزْعُمُ اَنَّہٗ نَبِیٌّ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔ (ابوداؤد)
’’ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔۔۔اور یہ کہ میری امت میں تیس کذّاب ہوںگے جن میںسے ہر ایک نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا، حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنِیْ زُہَیْرُبْنُ حَرْبٍ وَاِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، قَالَ اِسْحَاقُ: اَنَا وَقَالَ زُہَیْرٌ: نَاعَبْدُ الرَّحْمٰنِ وَہُوَ بْنُ مَہْدِیٍّ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ اَبِی الزِّنَادِِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یُبْعَثَ دَجَّالُوْنَ کَذّاَبُوْنَ قَرِیْبًا مِّنْ ثَلَاثِیْنَ کُلُّہُمْ یَزْعُمُ اَنَّہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔(۲۲)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ تیس کے قریب جھوٹے فریبی دجّال نہ نکلیں گے۔ ان میں سے ہر ایک اللہ کا رسول ہونے کا مدعی ہوگا۔
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ یَعْنِی ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَائِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔ لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَخْرُجَ ثَلَاثُوْنَ دَجَّالُوْنَ کُلُّہُمْ یَزْعُمُ اَنَّہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ تیس دجال ظاہر نہ ہوں۔ ہر ایک کا دعویٰ یہ ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔
(۳) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مَعَاذٍ، ثنا اَبیْ ثنا مُحَمَّدٌ۔ یعنی ابْنَ عَمْرِو، عَنْ اَبِِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَخْرُجَ ثَلَاثُونَ کَذَّابًا دَجَّالًا کُلُّہُمْ یَکْذِبُ عَلَی اللّٰہِ وَعَلیٰ رَسُوْلِہٖ۔(۲۳)
ترجمہ : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی تاوقتے کہ تیس جھوٹے فریبی دجال نہ نکلیں۔ ہر ایک اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھے گا۔
(۴) حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُبْنُ غَیْلَانَ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نَامَعْمَرٌ، عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبَّہٍ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَنْبَعَثَ کَذَّابُوْنَ دَجَّالُوْنَ قَرِیْبٌ مِّنْ ثَلَاثِیْنَ کُلُّہُمْ یَزْعُمُ اَنَّہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔(۲۴)
ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔ وَفِی الْبَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ وَابْنِ عُمَرَ۔
ٔٔ(۵) حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْن شُعَیْب بْنِ شَابُوْرٍ، ثَنَا سَعِیْدُبْنُ بَشِیْرٍ، عَنْ قَتَادَۃَ، اَنَّہٗ حَدَّثَہُمْ عَنْ اَبِیْ قِلاَبَۃَ الْجَرْمِیّ عَبْد اللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ اَبیْ اَسْمَائَ الرَّحَبِِیّ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: وَاِنَّ بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَۃِ دَجَّالِیْنَ کَذَّابِیْنَ قَرِِیْبًا مِّنْ ثَلَاثِِیْنَ کُلُّہُمْ یَزعُمُ اَنَّہُ نَبِیٌّ الحدیث۔(۲۵)
ترجمہ : قیامت سے قبل تیس کے قریب جھوٹے دجال ہوں گے جن میں سے ہرایک دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے۔
(۶) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِیْسیٰ قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ، عَنْ اَبِیْ اَسْمَائَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی زَویٰ لِیَ الْاَرْضَ فَرَأَیْتُ مَشَارِقَہَا وَمَغَارِبَہَا وَاِنَّ مُلْکَ اُمَّتِیْ سَیَبْلُغُ مَازُوِیَ لِیْ مِنْہَا، وَاُعْطِیْتُ الْکَنْزَیْنِ الْاَحْمَرَ وَالَاَبْیَضَ، وَاِنِّیْ سَاَلْتُ رَبِِّیْ لِاُمَّتِیْ اَنْ لَّا یُّہْلِکَہَا بِسَنَۃٍ بِعَامَّۃٍ وَلَا یُسَلِّطُ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا مِنْ سِویٰ اَنْفُسِہِمْ، فَیَسْتَبِِیْحَ بِیْضَتَہُمْ وَاِنَّ رَبِّـیْ قَالَ لِیْ: یَا مُحَمَّدُ! اِنِّیْ اِذَا قَضَیْتُ قَضَائً فَاِنَّہٗ لَا یُرَدُّ وَلَااُہْلِکُہُمْ بِسَنَۃٍ بِِعَامَّۃٍ وَلَا اُسَلِّطُ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا مِنْ سِویٰ اَنْفُسِہِمْ فَیَستَبِیْحَ بِیْضَتَہُمْ وَلَوِاجْتَمَعَ عَلَیْہِمْ مِنْ بَیْنِ اَقْطَارِہَا اَوْقَالَ بِاَقْطَارِہَاحَتّٰی یَکُوْنَ بَعْضُہُمْ یُہْلِکُ بَعْضًا وَحَتّٰی یَکُوْنُ بَعْضُہُمْ یَسْبِیْ بَعْضًا وَاِنَّمَا اَخَافُ عَلیٰ اُمَّتِیْ الْأَئِمَّۃَ الْمُضِلِّیْنَ وَاِذَا وُضِعَ السَّیْفُ فِیْ اُمَّتِیْ لَمْ یُرْفَعْ عَنْہَا اِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ اُمَّتِیْ بِالْمُشْرِِکِیْنَ حَتّٰی تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ اُمَّتِیْ الْاَوْثَانَ وَاِنَّہٗ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُونَ ثَلَاثُوْنَ کُلُّہُمْ یَزْعُمُ اَنَّہٗ نَبِیٌّ وَاَنَا خاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا تَزَالُ طَآئِفَۃٌ مِّنْ اُمَّتِیْ عَلَی الْحَقِّ قَالَ ابْنُ عِیْسیٰ ظَاہِرِیْنَ ثُمَّ اتَّفَقَا لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ حَتّٰی یَاْتِیَ اَمْرُ اللّٰہِ تَعَالیٰ۔(۲۶)
ترجمہ: حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میرے لیے روئے زمین کو سمیٹ دیا تو میں نے اس کے مشارق و مغارب کامشاہدہ کیا۔ میری امت کی سلطنت وہاں تک ضرور پہنچ کر رہے گی جہاں تک زمین کو میرے لیے سکیڑا گیا اور مجھے دوخزانے بھی عطا کیے گئے ایک سرخ اور دوسرا سفید اور میں نے اپنے رب سے استدعا کی کہ وہ میری امت کو عام قحط سالی میں مبتلا کرکے ہلاک نہ کرے اور ان پر اپنوں کے سوا اغیار میں سے ایسادشمن مسلط نہ کرے جو ان کی نسل کشی کردے اورمیرے رب نے فرمایا اے محمدؐ! میں جو فیصلہ کردوں وہ رد نہیں کیا جاسکتا۔ میں تیری امت کے لوگوں کو عام قحط سالی میں مبتلا کرکے ہلاک نہیں کروں گا اور ان کے اپنوں کے علاوہ ان پر دوسرا کوئی دشمن بھی مسلط نہیں کروںگا جو ان کی نسل کشی کردے۔ خواہ دنیا کے گوشے گوشے سے دشمن اکٹھے ہو کر مسلمانوں کے خلاف اقدام کریں۔ تاوقتے کہ مسلمان باہم ایک دوسرے کو قتل نہ کریں اور ایک دوسرے کو قید نہ کرلیں۔ اور مجھے اپنی امت کے لیے سب سے زیادہ اندیشہ ائمہ مضلین کا ہے اور جب میری امت میں شمشیر چل پڑی ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــامت میں باہمی لڑائی شروع ہوگئیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ ـــــ تو قیامت تک وہ پھر نہ اٹھے گی۔ اور قیامت اس وقت تک برپا نہ ہوگی جب تک کہ میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین کے ساتھ نہ جاملیں اور بتوں کی پوجا شروع نہ کردیں اور یہ کہ میری امت میں تیس کذاب ضرور پیدا ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گاکہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ اور میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ محمد بن عیسیٰ کی روایت میں ہے کہ غالب رہے گا۔ مخالف ان کا کچھ نہ بگاڑسکیں گے تاآں کہ امر الٰہی آجائے۔
۹۹۔ اسی مضمون کی ایک اور حدیث ابوداؤدنے کتاب الملاحم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی ہے۔ ترمذی نے بھی حضرت ثوبانؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے یہ دونوں روایتیں نقل کی ہیں اور دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں:
حَتّٰی یَبْعَثَ دَجَّالُوْنَ کَذَّابُوْنَ قَرِیْبٌ مِنْ ثَلاَثِیْنَ کُلُّہُمْ یَزْعُمُ اَنَّہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ،’’یہاں تک کہ اٹھیں گے تیس کے قریب جھوٹے فریبی، جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گاکہ وہ اللہ کا رسول ہے ۔‘‘ (ختم نبوت:ختم نبوت ۔۔۔)

۱۰۰۔قَالَ النَّبِیُّ ﷺ اَنَا مُحَمَّدٌ، وَاَنَا اَحْمَدُ، وَاَنَا الْمَاحِی الَّذِیْ یُمْحیٰ بِہِ الْکُفْرُ، وَاَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی عَقَبِیْ، وَاَنَا الْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہٗ نَبِیٌّ ۔
(بخاری ومسلم، المستدرک للحاکم)
’’نبی ﷺنے فرمایا: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں کہ میرے ذریعہ سے کفرمحو کیا جائے گا۔میں حاشر ہوں کہ میرے بعد لوگ حشر میں جمع کیے جائیں گے ـــــ میرے بعد اب بس قیامت ہی آنی ہے ـــــ اور میں عاقب ہوں، اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔‘‘ (ختم نبوت :ختم نبوت۔۔۔)
اسی مضمون کی روایات حضرت جبیر بن مطعم سے امام مالک ، بخاری، مسلم، دارمی، ترمذی اور نسائی نے نقل کی ہیں حضورؐ کا یہ اسم گرامی صحابہ میں معروف تھا، چنانچہ حضرت حسان بن ثابت کا شعر ہے:
صَلَّی الْاِلٰہُ وَمَنْ یَحُفُّ لِعَرْشِہٖ وَالطَّیِّبُوْنَ عَلَی الْمُبَارَکِ اَحْمَدِ
’’اللہ نے اوراس کے عرش کے گرد جمگھٹا لگائے ہوئے فرشتوں نے اور سب پاکیزہ ہستیوں نے بابرکت احمد پردرود بھیجا ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا زُہَیْرُبْنُ حَرْبٍ، وَاِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، وَابْنُ اَبِیْ عَمْرٍو، وَاللَّفْظُ لِزُہَیْرٍ، قَالَ اِسْحَاقُ: انا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: نَاسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ، سَمِعَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَیْرِِبْنِ مُطْعِمٍ عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ وَسَلَّمَ قَالَ: اَنَا مُحَمَّدٌ، وَاَنا اَحْمَدُ، وَاَنَا الْمَاحِی الَّذِیْ یُمْحیٰ بِیَ الْکُفْرُ، وَاَنَا الْحَاشِرُ الَّذِِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلیٰ عَقَبِیْ، وَاَنَا الْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہٗ نَبِیٌّ۔(۲۷)
(۲) حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ الْحَنْظَلِیُّ، قَالَ: انا جَرِیْرٌ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِوبْنِ مُرَّۃَ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ،عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُسَمِّیْ لَنَا نَفْسَہٗ اَسْمَائً، فَقَالَ: اَنَا مُحَمَّدٌ، وَاَحْمَدُوَالْمُقَفِّیْ، وَالْحَاشِرُوَنَبِیُّ التَّوْبَۃِ، وَنَبِیُّ الرَّحْمَۃِِ۔(۲۸)
(۳) حَدَّثَنِیْ حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰ، قَالَ: انا ابْنُ وَہْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِنَّ لِیْ اَسْمَائٌ، اَنَا مُحَمَّدٌ، وَاَنَا اَحْمَدُ، وَاَنَا الْمَاحِی الَّذِیْ یَمْحُوْ اللّٰہُ بِیَ الْکُفْرَ، وَاَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُالنَّاسُ عَلیٰ قَدَمِیْ، وَاَنَا الْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہٗ اَحَدٌ، وَقَدْ سَمَّاہُ اللّٰہُ رَؤُوْفًا رَّحِیْمًا۔(۲۹)
(۴) حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرٍ مُحَمَّدُبْنُ اَحْمَدَ ابْنِ حَاتِمٍ الْمُزَکِّیْ بِمَرْوٍ، ثنا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حَاتِمٍ، ثنا اَبُوْنُعَیْمٍ، ثنا اَلْمَسْعُوْدِیُّ عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّۃَ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃ، عَنْ اَبِیْ مُوْسیٰ، قَالَ: سَمَّی لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ نَفْسَہٗ اَسْمَائً فَمِنْہَا مَاحَفِظْنَاہُ وَمِنْھَا مَانَسِیْنَاہُ قَالَ: اَنَامُحَمَّدٌ، وَاَنَا اَحْمَدُ، وَالْمُقَفِِّیْ، وَالْحَاشِرُ، ونَبِیُّ التَّوْبَۃِ، وَالْمَلْحَمَۃِ۔(۳۰)
ھٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحُ الْاَسْنَادِ وَلَمْ یُخْرِجَاہُ۔
ترجمہ :رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اپنے کئی نام بتائے۔ ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جنھیں ہم نے یاد رکھا اور کچھ ایسے ہیں جنھیں ہم بھول گئے۔ آپؐ نے فرمایا: میں محمدؐ ہوں، میں احمد ہوں، میں مقفی ہوں، میں حاشرہوں، میں نبی التوبہ ہوں اور میں نبی الملحمۃ ہوں۔
(۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثنا اَسْوَدُبْنُ عَامِرٍ، ثنا اَبُوْبَکْرٍ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ اَبِِیْ وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ حُذَیْفَۃُ۔اَنَااَمْشِیْ فِیْ طَرِیْقِ الْمَدِیْنَۃِ قَالَ: اِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَمْشِیْ فَسَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ: اَنَا مُحَمَّدٌ، وَاَنَا اَحْمَدُ، وَنَبِیُّ الرَّحْمَۃِ، وَنَبِیُّ التَّوْبَۃِ وَالْحَاشِرُ والْمُقَفِّی وَنَبِیُّ الْمَلَاحِمِ۔(۳۱)
(۶) حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنِیْ مَعْنٌ، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ بْنِ شِہَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِِ جُبَیْربْنِ مُطْعِمٍ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِیْ خَمْسَۃُ اَسْمَائٍ: اَنَا مُحَمَّدٌ، وَاَحْمَدُ، وَاَنَا الْمَاحِی الَّذِی یَمْحُوا للّٰہُ بِیَ الْکُفْرَ، وَاَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلیٰ قَدَمِیْ، وَاَنَا الْعَاقِبُ۔(۳۲)

احمد کے معنی

(یہاں) نبی کریم ﷺ کا اسم گرامی احمد بتایا گیا ہے۔ احمد کے دو معنی ہیں۔ ایک وہ شخص جو اللہ کی سب سے زیادہ تعریف کرنے والا ہو، دوسرے وہ شخص جس کی سب سے زیادہ تعریف کی گئی ہو، یا جو بندوں میں سب سے زیادہ قابل تعریف ہو، تاریخ سے بھی یہ ثابت ہے کہ حضوؐر کا نام مبارک صرف محمدؐ ہی نہ تھا بلکہ احمدؐ بھی تھا۔ عرب کا پورا لٹریچر اس بات سے خالی ہے کہ حضوؐر سے پہلے کسی کا نام احمدؐ رکھا گیا ہواور حضوؐر کے بعد احمد اور غلام احمد اتنے لوگوں کے نام رکھے گئے ہیں جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے بڑھ کر اس بات کا کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ زمانۂ نبوت سے لے کر آج تک تمام امت میں آپؐ کا یہ اسم گرامی معلوم و معروف رہا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الصف ، حاشیہ:۸)
۱۰۱۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِعَلِیٍّ اَنْتَ مِنَّیْ بِِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسیٰؑ۔اِلَّا اَنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔
(بخاری ومسلم)
’’ رسول اللہ ﷺنے حضرت علیؓ سے فرمایا میرے ساتھ تمھاری نسبت وہی ہے جو موسیٰ ؑ کے ساتھ ہارونؑ کی تھی مگرمیرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘
تشریح :بخاری ومسلم نے یہ حدیث غزوۂ تبوک کے ذکر میں بھی نقل کی ہے۔ مسند احمد نے اس مضمون کی دو حدیثیں حضرت سعد بن ابی وقّاص سے روایت کی ہیں۔ جن میں سے ایک کاآخری فقرہ یوں ہے: اِلَّا اَنَّہٗ لَانُبُوَّۃَ بَعْدِیْ۔ ’’مگر میرے بعدکوئی نبوت نہیں ہے۔‘‘ ابوداؤد، طیالسی، امام احمد اور محمد بن اسحاق نے اس سلسلے میں جو تفصیلی روایات نقل کی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ غزوۂ تبوک کے لیے تشریف لے جاتے وقت نبی ﷺ نے حضرت علیؓ کو مدینہ منورہ کی حفاظت و نگرانی کے لیے اپنے پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ فرمایا تھا۔ منافقین نے اس پر طرح طرح کی باتیں ان کے بارے میں کہنی شروع کردیں۔ انھوں نے جاکر حضورؐ سے عرض کیا ’’یا رسولؐ اللہ ! کیا آپؐ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جارہے ہیں؟‘‘ اس موقع پر حضورؐنے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’تم تو میرے ساتھ وہی نسبت رکھتے ہو، جو موسیٰ ؑ کے ساتھ ہارونؑ رکھتے تھے۔‘‘ یعنی جس طرح موسیٰؑ نے کوہِ طور پر جاتے ہوئے حضرت ہارونؑ کو بنی اسرائیل کی نگرانی کے لیے پیچھے چھوڑا تھا اسی طرح میں تم کو مدینے کی حفاظت کے لیے چھوڑے جارہا ہوں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی حضورؐ کو اندیشہ ہوا کہ حضرت ہارون کے ساتھ یہ تشبیہ کہیں بعد میں کسی فتنے کی موجب نہ بن جائے، اس لیے فوراً آپؐ نے یہ تصریح فرمادی کہ میرے بعدکوئی شخص نبی ہونے والا نہیں ہے۔ (ختم نبوت:ختم نبوت۔۔۔)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا غُنْدُرٌ، ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اِبْرَاہِِیْمَ بْنَ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ قَالَ النَّبِیُّﷺ لِعَلِیٍّ: اَمَا تَرْضیٰ اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسیٰ؟(۳۳)
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا غُنْدُرٌ، عَنْ شُعْبَۃَ ح قَالَ وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ مُثَنّٰی وابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: نا مُحَمَّدُبْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: نَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِبْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ، قَالَ: خَلَّفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ۔ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ! اَتُخَلِّفُنِیْ فِی النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ؟ فَقَالَ:اَمَا تَرْضیٰ اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسیٰ غَیْرَ اَنَّہٗ لَانَبِیَّ بَعْدِیْ؟(۳۴)
ترجمہ: حضرت سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے غزوہ تبوک کے موقعہ پر حضرت علیؓ کو اپنے پیچھے چھوڑا تو انھوں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ! آپؐ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جارہے ہیں؟ تو آپؐ نے فرمایا:کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تمھاری نسبت میرے ساتھ وہی ہے جو ہارونؑ کی موسیٰ سے تھی ۔ بہ جزء اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں؟
(۳) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیٰ عَنْ شُعْبَۃَ عَنِ الْحَکَمِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ خَرَجَ اِلیٰ تَبُوْکَ فَاسْتَخْلَفَ عَلِیًّا قَالَ: اَتُخَلِّفُنِیْ فِی الصِّبْیَانِ وَالنِّسَآئِ؟ قَالَ: اَلَا تَرْضیٰ اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسیٰ اِلَّا اَنَّہٗ لَیْسَ نَبِیٌّ بَعْدِیْ۔(۳۵)
(۴) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ وَمُحَمَّدُ ابْنُ عَبَّادٍ وتَقَارَبَا فِی اللَّفْظِ، قَالَا:نَاحَاتِمٌ وَہُوَ ابْنُ اِسْمٰعِیْلَ عَنْ بُکَیْرِبْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِبْنِ سَعْدِبْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ، عَنْ اَبِیْہِ، فَقَالَ لَہٗ عَلِیٌّ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! خَلَّفْتَنِیْ مَعَ النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ! فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَمَا تَرْضیٰ اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسیٰ اِلَّا اَنَّہٗ لَا نُبُوَّۃَ بَعْدِیْ اَلْحَدِیْث۔(۳۶)
(۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثنا اَبُوْسَعِیْدٍ مَوْلیٰ بَنِیْ ہَاشِمٍ، ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ثَنَا الْجُعَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہَا اَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، خَرَجَ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ حَتّٰی جَائَ ثَنِیَّۃَ الْوَدَاعِ وَعَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَبْکِیْ یَقُوْلُ: تُخَلِّفُنِیْ مَعَ الْخَوَالِفِ فَقَالَ: اَوَمَا تَرْضیٰ اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسیٰ اِلَّا النُّبُوَّۃَ۔(۳۷)
۱۰۲۔ قَالَ النَّبِِیُّ ﷺ: لَوْکَانَ بَعْدِیْ نَبِیٌّ لَکَانَ عُمَرُ ابْنُ الْخَطَّابِ۔ (ترمذی)
’’نبی ﷺ نے فرمایا: میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ بن خطاب ہوتے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ شُعَیْبٍ، نَاالْمُقْرِیُٔ عَنْ حَیْوَۃَ ابْنِ شُرَیْحٍ،عَنْ بَکْرِبْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِشْرَحِ بْن ہَاعَان، عَنْ عُقْبَۃَ بْن عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَوْ کَانَ نَبِیٌّ بَعْدِیْ لَکَانَ عُمَرُبْنُ الْخَطَّابِ۔(۳۸)
ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ غَرِیْبٌ لَا نَعْرِفُہٗ اِلاَّمِنْ حَدِیْثِ مِشْرَحِِِ ابْنِ ہَاعَانَِ۔
۱۰۳۔ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ لَقَدْ کَانَ فِیْمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ مِّنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ رِجَالٌ یُکَلَّمُوْنَ مِنْ غَیْرِِاَنْ یَکُوْنُوْا اَنْبِیَآئَ فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْ اُمَّتِیْ اَحَدٌ فَعُمَرُ۔ (بخاری)
’’نبی ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلے جوبنی اسرائیل گزرے ہیں، ان میں ایسے لوگ ہوئے ہیں، جن سے کلام کیا جاتا تھا بغیر اس کے کہ وہ نبی ہوں۔ میری امت میں اگر کوئی ہوا تو وہ عمر ہوگا۔‘‘
تشریح :مسلم میں اس مضمون کی جو حدیث ہے اس میں یُکَلَّمُوْنکے بجائے مُحَدَّثُوْنَ کا لفظ ہے۔ لیکن مکلَّم اور محدَّث دونوں کے معنی ایک ہی ہیں، یعنی ایسا شخص جو مکالمۂ الٰہی سے سرفراز ہو، یا جس کے ساتھ پر دۂ غیب سے بات کی جائے اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کے بغیر مخاطبۂ الٰہی سے سرفراز ہونے والے بھی اس امت میں اگر کوئی ہوتے تو وہ حضرت عمرؓ ہوتے۔
(ختم نبوت:ختم نبوت۔۔۔)
تخریج: حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ فَزَعَۃَ، ثَنَا اِبْرَاہیْمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِِ، عَنْ اَبیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: لَقَدْکَانَ فِیْمَا کَانَ قَبْلَکُمْ مِّنَ الْاُمَمِ نَاسٌ مُحَدَّثُوْنَ، فَاِنْ یَّکُ فِیْ اُمَّتِیْ اَحَدٌ فَاِنَّہٗ عُمَرُ، زَادَ زَکَریَّابْنُ اَبِیْ زَائِدَۃَ عَنْ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّﷺ: قَدْ کَانَ فِیْمَنْ قَبْلَکُمْ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ رِجَالٌ یُکَلَّمُوْنَ مِنْ غَیْرِاَنْ یَکُوْنُوْا اَنْبِیَآئَ، فَاِنْ یَّکُ فِیْ اُمَّتِیْ مِنْہُمْ اَحَدٌ، فَعُمَرُ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ نَبِیٍّ وَلَا مُحَدَّثٍ۔(۳۹)
۱۰۴۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَاِنِّیْ آخِرُ الْاَنْبِیَائِ وَاِنَّ مَسْجِدِیْ اٰخِرُالْمَسَاجِدِ۔ (مسلم)
منکرین ختم نبوت اس حدیث سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ جس طرح حضوؐر نے اپنی مسجد کو آخر المساجد فرمایا، حالانکہ وہ آخری مسجد نہیں ہے بلکہ اس کے بعد بھی بے شمار مسجدیں دنیا میں بنی ہیں۔ اسی طرح جب آپؐ نے فرمایا کہ میں آخر الانبیاء ہوں تو اس کے معنی بھی یہی ہیں کہ آپؐ کے بعد نبی آتے رہیں گے، البتہ فضیلت کے اعتبار سے آپؐ آخری نبی ہیں اور آپؐ کی مسجد آخری مسجد ہے۔ لیکن درحقیقت اسی طرح کی تاویلیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ یہ لوگ خدا اور رسولؐ کے کلام کو سمجھنے کی اہلیت سے محروم ہوچکے ہیں۔ صحیح مسلم کے جس مقام پر یہ حدیث وارد ہوئی ہے اس کے سلسلے کی تمام احادیث کو ایک نظر ہی آدمی دیکھ لے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ حضوؐر نے اپنی مسجد کو آخری مسجد کس معنی میں فرمایا ہے۔اس مقام پر حضرت ابوہریرہؓ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور ام المومنین حضرت میمونہؓ کے حوالہ سے جو روایات امام مسلم نے نقل کی ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں صرف تین مساجد ایسی ہیں جن کو عام مساجد پر فضیلت حاصل ہے، جن میں نماز پڑھنا دوسری مساجد میں نماز پڑھنے سے ہزارگنا زیادہ ثواب رکھتا ہے، اور اسی بنا پر صرف انہی تین مسجدوں میں نماز پڑھنے کے لیے سفر کرکے جانا جائز ہے۔باقی کسی مسجد کا یہ حق نہیں ہے کہ آدمی دوسری مسجدوں کو چھوڑ کر خاص طور پر ان میں نماز پڑھنے کے لیے سفر کرے۔ ان میں سے پہلی مسجد، مسجد الحرام ہے جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بنایا تھا۔ دوسری مسجد، مسجد اقصیٰ ہے جسے حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کیا۔ اور تیسری مسجد، مدینہ طیبہ کی مسجد نبوی ہے جس کی بناء حضور نبی اکرم ﷺ نے رکھی ۔ حضوؐر کے ارشاد کا منشا یہ ہے کہ اب چونکہ میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے، اس لیے میری اس مسجد کے بعد دنیا میں کوئی چوتھی مسجد ایسی بننے والی نہیں ہے جس میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مسجدوں سے زیادہ ہو اور جس کی طرف نماز کی غرض سے سفر کرکے جانا درست ہو۔
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ( مسجد نبوی) ہے۔ ‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنِیْ اِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، قَالَ:نَاعِیْسَی بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِیُّ، قَالَ: نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: نَا الزُّبَیْدِ یُّ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، وَاَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ الْاَغَرُّمَوْلَی الجُہَنِیِّیْنَ، وَکَانَ مِنْ اِصْحَابِ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّہُمَا سَمِعَا اَبَاہُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ: صَلَاۃٌ فِیْ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَفْضَلُ مِنْ اَلْفِ صَلَاۃٍ فِیْمَا سِوَاہُ مِنَ الْمَسَاجِدِ اِلَّا الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اٰخِرُ الْاَنْبِیَائِ، وَاِنَّ مَسْجِدَہٗ اٰخِرُالْمَسَاجِدِ۔
قَالَ اَبُوْسَلَمَۃَ وَاَبُوْعَبْدِ اللّٰہِ: لَمْ نَشُکَّ اَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ کَانَ یَقُوْلُ: عَنْ حَدِیْثِ رَسُوْلِ اللّٰہ ِﷺ فَمَنَعْنَا ذٰلکَ اَنْ نَسْتَثْبِتَ اَبَاہُرَیْرَۃَ عَنْ ذٰلِکَ الْحَدِیْثِ حَتّٰی اِذَا تَوَفّٰی اَبُوْہُرَیْرَۃَ تَذَاکَرْنَا ذَالِکَ وَتَلَاوَمْنَا اَنْ لَّا َنکُوْنَ کَلَّمْنَا اَبَاہُرَیْرَۃَ فی ذٰلِکَ حَتّٰی یُسْنِدَہٗ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اِنْ کَانَ سَمِعَہٗ مِنْہُ فَبَیْنَا نَحْنُ عَلیٰ ذٰلِکَ جَالَسْنَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ اِِبْرَاہِیْمَ ابْنِ قَارِظٍ فَذَکَرْنَا ذٰلِکَ الْحَدِیْثَ وَالَّذِیْ فَرَّطْنَا فِیْہِ مِنْ نَصِّ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنْہُ فَقَالَ لَنَا عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ اِبْرَاہِیْمَ ابْنِ قَارِِظٍ: اَشْہَدُ اَنِّیْ سَمِعْتُ اَبَاہُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: فَاِنِّیْ اٰخِِرُالْاَنْبِیَائِ وَاِنَّ مَسْجِدِیْ آخِرُالْمَسَاجِدِ۔(۴۰)
نسائی کی ایک روایت میں ہے :
(۲) فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اٰخِرُ الْاَنْبِیَائِ وَمَسْجِدُہٗ اٰخِِرُ الْمَسَاجِدِ۔
ایک دوسری روایت میں ہے:
(۳) فَاِنِّیْ اٰخِرُ الْاَنْبِیَآئِ، وَاِنَّہٗ اٰخِرُ الْمَسَاجِدِ۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ مسجدِ حرام کے علاوہ باقی تمام مساجد سے مسجد نبوی میں ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نماز سے بھی زیادہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپؐ کی مسجد آخری مسجد ہے۔
ابوسلمہ اور ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ ابوہریرہؓ نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سن کر ہی بیان کی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے ابوہریرہؓ سے اس حدیث کے بارے میں توثیق نہیں کرائی۔ حتیّٰ کہ جب حضرت ابوہریرہؓ وفات پاگئے تو ہمیں اس بات کا خیال آیا اور ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے اس حدیث کے متعلق حضرت ابوہریرہؓ سے دریافت کیوں نہ کیا تاکہ وہ بیان کردیتے کہ انھوں نے آں حضرت ﷺ سے یہ حدیث خود سنی ہے یا نہیں۔
ہم اسی شش و پنج میں تھے کہ ہمیں عبداللہ بن ابراہیم کے ساتھ نشست کا موقع مل گیا۔ ہم نے ان سے اس حدیث کا ذکر کیا اور اپنی اس کوتاہی کا بھی ذکر کیا جو حضرت ابوہریرہؓ سے اس کی اسنادکے طلب کرنے میں ہم سے سرزد ہوئی تو عبداللہ بن ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے خود ابوہریرہؓ کو کہتے سنا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔‘‘

(۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ الْمُثَنّٰی، وَابْنُ اَبیْ عُمَرَ جَمِیْعًا عَنِ الثَّقَفِیِّ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنّٰی: نَا عَبْدُ الْوَہَّابِ، قَالَ:سَمِعْتُ یَحْیَ بْنَ سَعِیْدٍ، یَقُوْلُ: سَأَلْتُ بِصَالِحٍ ہَلْ سَمِعْتَ اَبَاَہْرَیْرَۃَ یَذْکُرُ فَضْلَ الصَّلوٰۃ فِیْ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: لاَوَلٰکِنْ اخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِِ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ ابْنِ قَارِظٍ۔ اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَاہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:صَلَاۃٌ فِی مَسْجِدِِیْ ہٰذَا خَیْرٌ مِنْ اَلْفِ صَلوٰۃٍ اَوْ کَاَلْفِ صَلَاۃٍ فِیْمَا سِوَاہُ مِنَ الْمَسَاجِدِ اِلَّااَنْ یَّکُوْنَ الْمَسْجِِدُ الْحَرَامُ۔(۴۱)
(۵) حَدَّثَنِیْ زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی، قَالَا: نَا یَحْیٰ وَہُوَ الیَقَظَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ نافِعٌ، عَنِِ ابْنِ عُمَرَ عَنِِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: صَلَاۃٌ فِیْ مَسْجِدِیْ ہٰذَا اَفْضَلُ مِنْ اَلْفِ صَلَاۃٍ فِِیْمَا سِوَاہُ اِلَّا الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ۔(۴۲)
(۶) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْعٍ جَمِیْعًا عَنِ اللَّیْثِ ابْنِ سَعْدٍ، قَالَ قُتَیْبَۃُ: نا لَیْثٌ عَنْ نَافِِعٍ، عَنْ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَعبَدٍ، عَنِ ابْنِِ عَبَّاسٍ: اَنَّہٗ قَالَ: اِنَّ امْرَأَۃً اشْتَکَتْ شکْویٰ فَقَالَتْ: اِنْ شَفَانِی اللّٰہُ لَاَخْرُجَنَّ فَلَاُصَلِّیَنَّ فِیْ بَیْتِ الْمُقَدَّسِ فَبَرَأَتْ ثُمَّ تَجَہَّزَتْ تُرِِیْدُ الْخُرُوْجَ فَجَائَ تْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ تُسَلِّمُ عَلَیْہَا فَاَخْبَرَتْہَا ذٰلِکَ فَقَالَتْ اِجْلِسِیْ فَکُلِیْ مَاصَنَعْتِ وَصَلِّیْ فِیْ مَسْجِدِ الرَّسُوْلِﷺ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ : صَلَاۃٌ فِیْہِ اَفْضَلُ مِِنْ اَلْفِ صَلَاۃٍ فِیْمَا سِوَاہُ مِنَ الْمَسٰجِدِ اِلَّا مَسْجِدَ الْکَعْبَۃِ۔(۴۳)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہتے ہیںایک عورت بیمار ہوگئی تو اس نے نذر مانی کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ نے شفاء عطا فرمائی تو میں ضروربیت المقدس میں نماز ادا کروں گی۔ اللہ کی مہربانی سے وہ شفایاب ہوگئی۔ اس نے سفر کی تیاری کی۔ پھر وہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہاکے پاس گئی اور انھیں سلام کیا اور اپنے ارادے سے انھیں آگاہ کیا: حضرت میمونہ ؓ نے فرمایا کہ بیٹھ جائو، جو کچھ تیار کیا ہے اسے کھائو اور مسجد الرسول (مسجد نبوی)میں نماز پڑھ لو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے کہ میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مساجد میں ایک ہزار نماز سے افضل ہے مگر بیت اللہ شریف اس سے مستثنیٰ ہے۔

ختم کے لغوی معنی

منکرین ختم نبوت رسول اللہ ﷺ کے ان ارشادات کے مقابلہ میں اگر کوئی چیز پیش کرتے ہیں تو وہ یہ روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: ’ ’ قُوْلُوْا اَنَّہٗ خَاتَمَ الْاَنْبِیَآئِ وَلاَ تَقُوْلُوْا لاَ نَبِیَّ بَعْدَہٗ۔‘‘ یہ تو کہو کہ حضور خاتم الانبیاء ہیں۔ مگر یہ نہ کہو کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ لیکن اول تو حضوؐر کے صاف صاف ارشادات کے مقابلہ میں حضرت عائشہؓ کے کسی قول کو پیش کرنا ہی سخت گستاخی اور بے ادبی ہے۔ اس پر مزید یہ کہ حضرت عائشہؓ کی طرف جس روایت میں یہ قول منسوب کیا گیا ہے وہ بجائے خود غیر مستند ہے۔ اسے حدیث کی کسی معتبر کتاب میں کسی قابل ذکرمحدث نے نقل نہیں کیا ہے۔ تفسیرکی ایک کتاب درِّمنثور اور لغت حدیث کی ایک کتاب تکملۂ مجمع البحار سے اس کو نقل کیا جاتا ہے، مگر اس کی سند کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ایسی ایک ضعیف ترین روایت اور وہ بھی ایک صحابیہ کے قول کو لاکر نبی اکرم ﷺ کے ان ارشادات کے مقابلہ میں پیش کیا جاتا ہے، جنھیںتمام اکابر عربی لغت اور محاورے کی رُو سے ’’ختم‘‘ کے معنی مہر لگانے، بندکرنے ، آخر تک پہنچ جانے اور کسی کام کو پورا کرکے فارغ ہوجانے کے ہیں۔ خَتَمَ الْعَمَلکے معنی ہیں فَرَغَ مِنَ الْعَمَلِ’’کام سے فارغ ہوگیا۔‘‘
خَتَمَ الْاِنَائَکے معنی ہیں۔ ’’برتن کا منہ بند کردیا اور اس پر مہر لگادی تاکہ نہ کوئی چیزاس میں سے نکلے اور نہ کچھ اس کے اندر داخل ہو۔‘‘
خَتَمَ الْکِتَابَکے معنی ہیں۔ ’’خط بند کرکے اس پر مہر لگادی تاکہ خط محفوظ ہوجائے۔‘‘
خَتَمَ عَلَی الْقَلْبِ’’دل پر مہر لگادی کہ نہ کوئی بات اس کی سمجھ میں آئے، نہ پہلے سے جمی ہوئی کوئی بات اس میں سے نکل سکے۔‘‘
خِتَامُ کُلِّ مَشْرُوْبٍ’’وہ مزا جو کسی چیز کو پینے کے بعد آخر میں محسوس ہوتا ہے۔‘‘
خَاتِِمَۃُ کُلِّ شَـْیئٍ، عَاقِبَتُہٗ وَاٰخِرَتُہٗ’’ہر چیز کے خاتمہ سے مراد ہے اس کی عاقبت اور آخرت۔‘‘
خَتَمَ الشَّیْئُ بَلَغَ اٰخِرَہٗ’’کسی کو ختم کرنے کا مطلب ہے اس کے آخر تک پہنچ جانا۔‘‘ اس معنی میں ختم قرآن بولتے ہیں اور اسی معنی میں سورتوں کی آخری آیات کو خواتیم کہا جاتا ہے۔
خَاتَمُ الْقَوْمِ،اٰخِرُہُمْ’’خاتم القوم سے مراد ہے قبیلے کاآخری آدمی۔‘‘(ملاحظہ ہو لسان العرب ، قاموس اور اقرب الموارد)
تشریح :یہ احادیث۱؎بہ کثرت صحابہؓنے نبی ﷺ سے روایت کی ہیں اوربہ کثرت محدثین نے ان کو بہت سی قوی سندوں سے نقل کیا ہے۔ ان کے مطالعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضوؐر نے مختلف مواقع پر، مختلف طریقوں سے مختلف الفاظ میں اس امر کی تصریح فرمائی ہے، کہ آپؐ آخری نبی ہیں، آپؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ نبوت کا سلسلہ آپؐ پر ختم ہوچکا ہے، اور آپؐ کے بعد جو لوگ بھی رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کریں، وہ دجال و کذاب ہیں۔ قرآن کے الفاظ ’’خاتم النبیین‘‘ کی اس سے زیادہ مستند و معتبر اور قطعی الثبوت تشریح اور کیا ہوسکتی ہے۔ رسول پاک کا ارشاد تو بجائے خود سندو حجت ہے۔ مگر جب وہ قرآن کی ایک نص کی شرح کررہا ہو، تب تو وہ اور بھی زیادہ قوی حجت بن جاتاہے۔ اب سوال یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر قرآن کو سمجھنے والا اور اس کی تفسیر کا حق دار اور کون ہوسکتا ہے کہ وہ ختم نبوت کا کوئی دوسرا مفہوم بیان کرے اور ہم اسے قبول کرنا کیا معنی، قابل التفات بھی سمجھیں۔
محدثین نے صحیح سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے ۔

صحابہ کرام کا اجماع

قرآن و سنت کے بعد اہم ترین حیثیت صحابۂ کرام کے اجماع کی ہے۔ یہ بات تمام معتبر تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ کی وفات کے فوراً بعد جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ، اور جن لوگوں نے ان کی نبوت تسلیم کی، ان سب کے خلاف صحابہ کرامؓ نے بالاتفاق جنگ کی تھی۔
اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ مسلیمۂ کذاب کا معاملہ قابل ذکر ہے۔یہ شخص نبی ﷺ کی نبوت کا منکر نہ تھا بلکہ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ اسے حضوؐر کے ساتھ شریک نبوت بنایا گیاہے۔ اُس نے حضوؐر کی وفات سے پہلے جو عریضہ آپؐ کو لکھا تھا اس کے الفاظ یہ ہیں:
مِنْ مُسَیْلَمَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ الٰی مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اللّٰہِ سَلاَمٌ عَلَیْکَ فَاِنِّیْ اُشرِِکتُ فِی الْاَمْرِمَعَکَ۔ (طبری۔ جلد دوم ص ۳۹۹ طبع مصر)
’’مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کی طرف ۔ آپؐ پر سلام ہو۔ آپؐ کو معلوم ہو کہ میں آپؐ کے ساتھ نبوت کے کام میں شریک کیا گیا ہوں۔‘‘
علاوہ بریں مؤرخ طبری نے یہ روایت بھی بیان کی ہے کہ مسیلمہ کے ہاں جو اذان دی جاتی تھی اس میں اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰہِکے الفاظ بھی کہے جاتے تھے۔ اس صریح اقرار رسالت محمدیؐ کے باوجود اسے کافر اور خارج از ملت قرار دیا گیا اور اس سے جنگ کی گئی۔ تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ بنو حنفیہ نیک نیتی کے ساتھ (In Good Faith) اس پر ایمان لائے تھے اور انھیں واقعی اس غلط فہمی میں ڈالا گیا تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اس کو خود شریک رسالت کیا ہے۔ نیز قرآن کی آیات کو اُن کے سامنے مسیلمہ پر نازل شدہ آیات کی حیثیت سے ایک ایسے شخص نے پیش کیا تھا جو مدینہ طیبہ سے قرآن کی تعلیم حاصل کرکے گیا تھا (البدایہ والنہایہ لابن کثیر ج ۵ ص ۵۱)۔ مگر اس کے باوجودصحابہ کرامؓ نے ان کو مسلمان تسلیم نہیں کیا اور ان پر فوج کشی کی۔ پھر یہ کہنے کی بھی گنجائش نہیں کہ صحابہؓ نے ان کے خلاف ارتداد کی بنا پر نہیں بلکہ بغاوت کے جرم میں جنگ کی تھی۔ اسلامی قانون کی رو سے باغی مسلمانوں کے خلاف اگرجنگ کی نوبت آئے تو ان کے اسیران جنگ غلام نہیں بنائے جاسکتے۔ بلکہ مسلمان تو درکنار ، ذمی بھی اگر باغی ہوں تو گرفتار ہونے کے بعد ان کو غلام بنانا جائز نہیں ہے۔ لیکن مسیلمہ اور اس کے پیرؤوں پرجب چڑھائی کی گئی تو حضرت ابوبکرؓ نے اعلان فرمایا کہ ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا جائے گا۔ اور جب وہ لوگ اسیر ہوئے تو فی الواقع ان کو غلام بنایا گیا، چنانچہ انہی میں سے ایک لونڈی حضرت علیؓ کے حصے میں آئی جس کے بطن سے تاریخ اسلام کی مشہور شخصیت محمد بن حنفیہ (حنفیہ سے مراد ہے قبیلۂ بنو حنفیہ کی عورت۔) نے جنم لیا۔ (البدایہ والنہایہ ،ج ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۶ ،ص:۳۱۶،۳۲۵)
اس سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ صحابہؓ نے جس جرم کی بنا پر ان سے جنگ کی تھی وہ بغاوت کا جرم نہ تھا بلکہ یہ جرم تھا کہ ایک شخص نے محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا اور دوسرے لوگ اس کی نبوت پر ایمان لائے۔ یہ کارروائی حضوؐر کی وفات کے فوراً بعد ہوئی ہے، ابوبکرؓ کی قیادت میں ہوئی ہے اور صحابہؓ کی پوری جماعت کے اتفاق سے ہوئی ہے۔ اجماع صحابہؓ کی اس سے زیادہ صریح مثال شاید ہی کوئی اور ہو۔

تمام علمائے امت کا اجماع

اجماع صحابہ کے بعد مسائل دین میں جس چیز کو حجت کی حیثیت حاصل ہے وہ دور صحابہ کے بعد کے علمائے امت کا اجماع ہے۔ اس لحاظ سے جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پہلی صدی سے لے کر آج تک ہر زمانے کے، اور پوری دنیائے اسلام میں ہر ملک کے علماء اس عقیدے پر متفق ہیںکہ محمد ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہیںہوسکتا، اور یہ کہ جو بھی آپؐ کے بعد اس منصب کا دعویٰ کرے، یا اس کو مانے ، وہ کافر، خارج از ملت اسلام ہے۔اس سلسلہ کے بھی چند شواہد ملاحظہ ہوں:
(۱) امام ابوحنیفہؒ (۸۰ – ۱۵۰ھ) کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا ۔ ’’مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کی علامات پیش کروں۔‘‘ اس پر امام اعظمؒ نے فرمایا کہ جو شخص اس سے نبوت کی کوئی (مناقب الامام الاعظم ابی حنیفہ لابن احمد المکی ج ۱ ص ۱۶۱۔ مطبوعہ حیدرآباد ۱)علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا ۔۔۔۔
(۲) علامہ ابن جریر طبری (۲۲۴ھ-۳۱۰ھ) اپنی مشہور تفسیر قرآن میں آیت وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ کا مطلب بیان کرتے ہیں:
اَلَّذِیْ خَتَمَ النُّبُوَّۃَ فَطَبَعَ عَلَیْہَا فَلاَ تُفْتَحُ لِاَحَدٍ بَعْدَہٗ اِلٰی قِیَامِ السَّاعَۃِ۔
’’جس نے نبوت کو ختم کردیا اور اس پر مہر لگادی اب قیامت تک یہ دروازہ کسی کے لیے نہیں کھلے گا۔‘‘
(تفسیر ابن جریر، جلد ۲۲،ص:۱۲)
(۳) امام طحاوی (۲۳۹ھ-۳۲۱ھ) اپنی کتاب ’’عقیدۂ سلفیہ‘‘ میں سلف صالحین اور خصوصاً امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کے عقائد بیان کرتے ہوئے نبوت کے بارے میں یہ عقیدہ تحریر فرماتے ہیں: اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے برگزیدہ بندے، چیدہ نبی اور پسندیدہ رسول ہیں اور وہ خاتم الانبیاء، امام الاتقیاء، سید المرسلین اور حبیب رب العالمین ہیں، اور ان کے بعد نبوت کا ہر دعویٰ گمراہی اور خواہش نفس کی بندگی ہے۔  (شرح الطحاویہ فی العقیدۃ السلفیہ، دارالمعارف مصر، صفحات ۱۵،۷ ۸، ۹۶، ۹۷،۰۰ ۱،)‘‘
(۴) علامہ ابن حزم اندلسی (۳۸۴-۴۵۶ھ) لکھتے ہیں: یقینا وحی کا سلسلہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد منقطع ہوچکا ہے، دلیل اس کی یہ ہے کہ وحی نہیں ہوتی مگر ایک نبی کی طرف اور اللہ عزوجل فرما چکا ہے کہ محمدؐ نہیں ہیں تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ ، مگر وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ (المحلی ج ۱،ص:۲۶)
( امام غزالی کی اس رائے کو ہم ان کی اصل عبارت کے ساتھ اس لیے نقل کر رہے ہیں کہ منکرین ختم نبوت نے اس حوالے کی صحت کو بڑے زورو شور سے چیلنج کیا ہے۔)(۵) امام غزالی (۴۵۰ھ-۵۰۵ھ) فرماتے ہیں۳:
لَوْفُتِحَ ہٰذَا الْبَابُ (اَیْ بَابَ اِنْکَارِکَوْنُ الْاِجْمَاعِ حُجَّۃٌ) اِنْجَرَّاِلٰی اُمُوْرٍ شَنِیْعَۃٍ وَہُوَاَنَّ قَائِلاً لَوْقَالَ یَجُوْزُ اَنْ یُّبْعَثَ رَسُوْلٌ بَعْدَ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ ﷺ فَیُبْعَدُ التَّوَقُّفُ فِیْ تَکْفِیْرِہِ وَمُسْتَبْعَدٌ اِسْتِحَالَۃُ ذٰلِکَ عِنْدَالْبَعْثِ تُسْتَمَدُّ مِنَ الْاِجْمَاعِ لاَمُحَالَۃَ، فَاِنَّ الْعَقْلَ لاَیَحِیْلُہٗ، وَمَا نُقِلَ فِیْہِ مِنْ قَوْلِہٖ لاَنَبِیَّ بَعْدِیْ، وَمِنْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ، فَلاَ یُعْجِزُ ہٰذَا الْقَائِلَ عَنْ تَاْوِیْلِہٖ، فَیَقُوْلُ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ اَرَادَ بِہٖ اُوْلُوْا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ، فَاِنْ قَالُوْا النَبِیِّیْنَ عَامٌ، فَلاَیُبْعَدُ تَخْصِیْصُ الْعَامِ، وَقَوْلُہٗ لاَنَبِیَّ بَعْدِیْ لَمْ یَرِدْ بِہٖ الرَّسُوْلَ وَفَرْقُ بَیْنَ النَّبِیِّ وَالرَّسُوْلِ وَالنَّبِیُّ اَعْلٰی مَرْتَبَۃً مِّنَ الرَّسُوْلِ اِلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ مِنْ اَنْوَاعِ الْہِذْیَانِ، فَہٰذَا وَاَمْثَالُہٗ لاَیُمْکِنُ اَنْ نَدَّعِیْ اِسْتِحَالَتَہٗ مِنْ حَیْثُ مُجَرَّدِ اللَّفْظِ، فَاِنَّا فِیْ تَاْوِیْلِ ظَوَاہِرِ التَّشْبِیْہِ قَضَیْنَا بِاِحْتِمَالاَتٍ اَبْعَدَہٗ مِنْ ہٰذِہٖ، وَلَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ مُبْطِلاً لِلنُّصُوْصِ، وَلٰکِنَّ الرَّدَّ عَلٰی ہٰذَا الْقَائِلِ اَنَّ الْاُمَّۃَ فَہِمَتْ بِالْاِجْمَاعِ مِنْ ہٰذَا اللَّفْظِ وَمِنْ قَرَائِنِ اَحْوَالِہٖ اَنَّہٗ اَفْہَمَ عَدَمَ نَبِیٍّ بَعْدَہٗ اَبَدًا وَعَدَمَ رَسُوْلِ اللّٰہِ اَبَدًا وَاَنَّہٗ لَیْسَ فِیْہِ تَاْوِیْلٌ وَلاَتَخْصِیْصٌ فَمُنْکِرُہٰذَا لاَیَکُوْنُ اِلاَّمُنْکِرُ الْاِجْمَاعِ۔
(الاقتصاد فی الاعتقاد، المطبعۃ الادبیۃ، مصر،ص:۱۱۴)
’’اگر یہ دروازہ ـــــیعنی اجماع کو حجت ماننے سے انکار کا دروازہـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــکھول دیا جائے تو بڑی قبیح باتوںتک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ مثلاً اگر کہنے والا کہے کہ ہمارے نبی محمد ﷺ کے بعد کسی رسول کی بعثت ممکن ہے تو اس کی تکفیر میں تامل نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن بحث کے موقع پر جو شخص اس کی تکفیر میں تامل کو ناجائزثابت کرنا چاہتا ہو تو اسے لامحالہ اجماع سے مدد لینی پڑے گی۔ کیوں کہ عقل اس کے عدم جواز کا فیصلہ نہیں کرتی۔ اور جہاں تک نقل کا تعلق ہے اس عقیدے کا قائل لانبی بعدی اور خاتم النبیین کی تاویل کرنے سے عاجز نہ ہوگا۔ وہ کہے گا کہ خاتم النبیین سے مراد اولواالعزم رسولوں کا خاتم ہونا ہے اور اگر کہا جائے کہ نبیین کا لفظ عام ہے تو عام کو خاص قرار دے دینا اس کے لیے کچھ مشکل نہ ہوگا۔ اور لانبی بعدی کے متعلق وہ کہہ دے گا کہ لارسول بعدی تو نہیں کہا گیا ہے، رسول اور نبی میں فرق ہے، اور نبی کا مرتبہ رسول سے بلند تر ہے۔ غرض اس طرح کی بکواس بہت کچھ کی جاسکتی ہے اور محض لفظ کے اعتبار سے ایسی تاویلات کو ہم محال نہیں سمجھتے، بلکہ ظواہر تشبیہ کی تاویل میں ہم اس سے زیادہ بعید احتمالات کی گنجائش مانتے ہیں۔ اور اس طرح کی تاویلیں کرنے والے کے متعلق ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ نصوص کا انکار کررہا ہے۔ لیکن اس قول کے قائل کی تردید میں ہم یہ کہیں گے کہ امت نے بالاتفاق اس لفظ ـــــلاَنَبِیَّ بَعْدِیْ ـــــسے اور نبی ﷺ کے قرائن احوال سے یہ سمجھا ہے کہ حضورؐ کا مطلب یہ تھا کہ آپؐ کے بعد کبھی نہ کوئی نبی آئے گا نہ رسول۔ نیز امت کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ اس میں کسی تاویل اور تخصیص کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا ایسے شخص کو منکر اجماع کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔‘‘
(۶) محی السنہ بغوی (متوفی۵۱۰ھ) اپنی تفسیر معالم التنزیل میں لکھتے ہیں: اللہ نے آپؐ کے ذریعہ سے نبوت کو ختم کیا، پس آپؐ انبیاء کے خاتم ہیں۔۔۔ اور ابن عباس کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمادیا ہے کہ نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ (جلد ۳، ص:۱۵۸)
(۷) علامہ زمخشری (۴۶۷ھ-۵۳۸ھ ) تفسیر کشاف میں لکھتے ہیں: اگر تم کہو کہ نبی ﷺ آخری نبی کیسے ہوئے جب کہ حضرت عیسیٰؑ آخر زمانے میں نازل ہوں گے؟ تو میں کہوں گا کہ آپؐ کا آخری نبی ہونا اس معنی میں ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے گا، اورعیسیٰؑ اُن لوگوں میں سے ہیں جو آپؐ سے پہلے نبی بنائے جاچکے تھے۔ اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدیہ کے پیرو اور آپؐ کے قبلے کی طرف نماز پڑھنے والے کی حیثیت سے نازل ہوں گے گویا کہ وہ آپ ہی کی امت کے ایک فرد ہیں۔‘‘ (جلد ۲ ص ۲۱۵)
(۸) قاضی عیاض (متوفی ۵۴۴ھ) لکھتے ہیں: جو شخص خود اپنے حق میں نبوت کا دعویٰ کرے یا اس بات کو جائز رکھے کہ آدمی نبوت کا اکتساب کرسکتا ہے اور صفائی قلب کے ذریعہ سے مرتبہ نبوت کو پہنچ سکتا ہے ، جیسا کہ بعض فلسفی اور غالی صوفی کہتے ہیں، اور اسی طرح جو شخص نبوت کا دعویٰ تو نہ کرے مگر یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی آتی ہے۔۔۔ ایسے سب لوگ کافر اور نبی ﷺ کے جھٹلانے والے ہیں۔ کیوں کہ آپؐ نے خبردی ہے کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں اور آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر پہنچائی ہے کہ آپؐ نبوت کے ختم کرنے والے ہیں اور تمام انسانوں کی طرف آپؐ کو بھیجا گیا ہے اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر مفہوم پر محمول ہے، اس کے معنی و مفہوم میں کسی تاویل و تخصیص کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا اُن تمام گرو ہوں کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں ، بربنائے اجماع بھی اور بربنائے نقل بھی۔ (شفاء جلد۲، ص:۲۷۰-۲۷۱)
(۹) علّامہ شہرستانی (متوفّٰی۵۴۸ھ) اپنی مشہور کتاب ’’الملل والنحل‘‘ میں لکھتے ہیں۔ ’’اور اسی طرح جو کہے۔۔۔کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا ہے (بہ جزعیسیٰ علیہ السلام کے) تو اس کے کافر ہونے میں دوآدمیوں کے درمیان بھی اختلاف نہیں ہے۔‘‘ (جلد ۳، ص:۲۴۹)
(۱۰) امام رازی (۵۴۳ھ-۶۰۶ھ) اپنی تفسیر کبیر میں آیت خاتم النبیین کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس سلسلۂ بیان میں وَخَاتَمَ النبیین اس لیے فرمایا گیا کہ جس نبی کے بعد کوئی دوسرا نبی ہو وہ اگر نصیحت اور توضیح احکام میں کوئی کسر چھوڑ جائے تو اس کے بعد آنے والا نبی اسے پورا کرسکتا ہے۔مگر جس کے بعد کوئی آنے والا نبی نہ ہو وہ اپنی امت پر زیادہ شفیق ہوتا ہے اور اس کو زیادہ واضح رہنمائی دیتا ہے، کیوں کہ اس کی مثال اُس باپ کی ہوتی ہے جو جانتا ہے کہ اس کے بیٹے کا کوئی ولی و سرپرست اس کے بعد نہیں ہے۔ (جلد،۶ ص: ۵۸۱)
(۱۱) علّامہ بیضاوی (متوفی ۶۸۵ھ) اپنی تفسیر’’ انوار التنزیل ‘‘میں لکھتے ہیں: یعنی آپؐ انبیاء میں سب سے آخری نبی ہیں جس نے ان کا سلسلہ ختم کردیا، یا جس سے انبیاء کے سلسلے پر مہر کردی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام کا آپؐ کے بعد نازل ہونا اس ختم نبوت میں قادح نہیں ہے کیوں کہ جب وہ نازل ہوں گے تو آپؐ ہی کے دین پر ہوں گے۔
(جلد ۴، ص:۱۶۴)
(۱۲) علّامہ حافظ الدین النّسفی (متوفی ۷۱۰ھ) اپنی تفسیر ’’مدارک التنزیل‘‘ میں لکھتے ہیں: اورآپؐ خاتم النبیین ہیں۔۔۔ یعنی نبیوں میں سب سے آخری۔ آپؐ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں بنایا جائے گا۔ رہے عیسیٰ ؑتو وہ ان انبیاء میں سے ہیں جو آپؐ سے پہلے نبی بنائے جاچکے تھے۔ اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمد ﷺ پر عمل کرنے والے کی حیثیت سے نازل ہوں گے گویا کہ وہ آپؐ کی امت کے افراد میں سے ہیں۔‘‘ (ص:۴۷۱)
(۱۳) علّامہ علائوالدین بغدادی (متوفی ۷۲۵ھ) اپنی تفسیر ’’خازن‘‘ میں لکھتے ہیں: وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ۔یعنی اللہ نے آپؐپر نبوت ختم کردی، اب نہ آپؐ کے بعد کوئی نبوت ہے نہ آپؐ کے ساتھ کوئی اس میں شریک۔۔۔ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَـْیئٍ عَلِیْمًا۔’’یعنی یہ بات اللہ کے علم میں ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ (ص: ۴۷۱-۴۷۲)
(۱۴) علّامہ ابن کثیر (متوفی ۷۷۴ھ) اپنی مشہور و معروف تفسیرمیں لکھتے ہیں: پس یہ آیت اس باب میں نص صریح ہے کہ نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، اور جب آپؐ کے بعد نبی کوئی نہیں تو رسول بدرجۂ اولیٰ نہیںہے، کیوں کہ رسالت کا منصب خاص ہے اور نبوت کا منصب عام، ہر رسول نبی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔۔۔ حضورؐ کے بعد جو شخص بھی اس مقام کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، مفتری ، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والاہے۔ خواہ وہ کیسے ہی خرق عادت اور شعبدے اور جادو اور طلسم اور کرشمے بنا کر لے آئے ۔۔۔ یہی حیثیت ہر اس شخص کی ہے جو قیامت تک اس منصب کا مدّعی ہو۔‘‘ (ج ۳ ،ص:۴۹۳-۴۹۴)
(۱۵) علّامہ جلال الدین سیوطی (متوفی ۹۱۱ھ) تفسیر جلالین میں لکھتے ہیں: وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَـْیئٍ عَلِیْمًا،’’یعنی اللہ اس بات کو جانتا ہے کہ آں حضرت ﷺکے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور عیسی جب نازل ہوں گے تو آپ ہی کی شریعت کے مطابق عمل کریں گے۔ (ص: ۷۶۸)
(۱۶) علّامہ ابن نجیم (متوفی۹۷۰ھ) اصول فقہ کی مشہور کتاب ’’ اَلْاَشباہ والنَّظَائر، کتاب السِّیَر، باب الردّۃ میں لکھتے ہیں: ’’اگرآدمی یہ نہ سمجھے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے ، کیوں کہ یہ ان باتوں میں سے ہے جن کا جاننا اور ماننا ضروریات دین میں سے ہے۔ ‘‘ (ص:۱۷۹)
(۱۷) ملّاعلی قاری (متوفی ۱۰۱۶ھ) شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں: ’’ہمارے نبی ﷺکے بعد نبوت کا دعویٰ کرنابالاجماع کفر ہے۔‘‘ (ص:۲۰۲)
(۱۸) شیخ اسماعیل حقی (متوفی۱۱۳۷ھ) تفسیر’’ روح البیان‘‘ میں اس آیت۱؎ کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: عاصم نے لفظ خاتم ’’تَ‘‘کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی ہیں آلۂ ختم کے، جس سے مہر کی جاتی ہے۔ جیسے طابع اس چیز کو کہتے ہیںجس سے ٹھپا لگایا جائے۔ مراد یہ ہے کہ نبی ﷺ انبیاء میں سب سے آخر تھے جن کے ذریعہ سے نبیوں کے سلسلے پر مہر لگادی گئی۔ فارسی میں اسے ’’مہر پیغمبران‘‘ کہیں گے، یعنی آپؐ سے نبوت کا دروازہ سر بہ مہر کردیاگیا اور پیغمبروں کاسلسلہ ختم کردیا گیا۔ باقی قاریوں نے اسے ’’تِ‘‘ کے زیر کے ساتھ خاتم پڑھا ہے، یعنی آپ مہر کرنے والے تھے۔ فارسی میں اسے مہر کنندہ پیغمبران کہیں گے۔ اس طرح یہ لفظ بھی خاتم کا ہم معنی ہی ہے۔۔ ۔ اب آپؐ کی امت کے علماء آپ سے صرف ولایت ہی کی میراث پائیں گے، نبوت کی میراث آپؐ کی ختمیت کے باعث ختم ہوچکی اور عیسیٰ علیہ السلام کا آپؐ کے بعد نازل ہونا آپؐ کے خاتم النبیین ہونے میں قادح نہیں ہے۔ کیوں کہ خاتم النبیین ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہ بنایا جائے گا۔۔۔ اور عیسیٰ ؑآپ سے پہلے ہی نبی بنائے جاچکے تھے۔ اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدی ﷺکے پیرو کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ آپؐ ہی کے قبلے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں گے۔ آپؐ کی امت کے ایک فرد کی طرح ہوں گے۔ نہ ان کی طرف وحی آئے گی اور نہ وہ نئے احکام دیں گے۔بلکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ہوں گے۔۔۔اور اہل سنت والجماعت اس بات کے قائل ہیں کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا وَلٰکِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ ،اور رسول اللہ ﷺنے فرمادیا لاَنَبِیَّ بَعْدِیْاب جوکوئی کہے کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعدکوئی نبی ہے تو اس کو کافر قرار دیا جائے گا، کیوں کہ اس نے نص کا انکار کیا۔ اور اسی طرح اُس شخص کی تکفیرکی جائے گی جو اس میں شک کرے، کیوں کہ حجت نے حق کو باطل سے ممیز کردیا ہے اور جو شخص محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے اس کا دعویٰ باطل کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا۔ (جلد ۲۲، ص :۱۸۸)
(۱۹) فتاویٰ عالمگیری ، جسے بارھویں صدی ہجری میں اورنگ زیب عالمگیر کے حکم سے ہندوستان کے بہت سے اکابر علماء نے مرتب کیا تھا، اس میں لکھا ہے: اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلم نہیں ہے اور اگر وہ کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں یا میں پیغمبر ہوں تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔ (ج ۲، ص:۲۶۳)
(۲۰) علّامہ شوکانی (متوفی ۱۲۵۵ھ) اپنی تفسیر فتح القدیر میں لکھتے ہیں۔ ’’جمہورنے لفظ خاتم کو’’ت‘‘ کے زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور عاصم نے زبر کے ساتھ ۔ پہلی قرأت کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ نے انبیاء کو ختم کیا، یعنی سب کے آخرمیں آئے۔ اور دوسری قرأت کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ اُن کے لیے مہر کی طرح ہوگئے جس کے ذریعہ سے ان کا سلسلہ سربہ مہر ہوگیااور جس کے شمول سے ان کا گروہ مزین ہوا۔ (ج۴، ص:۲۷۵)
(۲۱) علامہ آلوسی (متوفی ۱۲۷۰ھ) تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں: ’’نبی کا لفظ رسول کی بہ نسبت عام ہے لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے خود بخود لازم آتا ہے کہ آپؐ خاتم المرسلین بھی ہوں۔اور آپؐ کے خاتم انبیاء و رسل ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں وصف نبوت سے آپؐ کے متصف ہونے کے بعد اب جن و انس میں سے ہر ایک کے لیے نبوت کا وصف منقطع ہوگیا۔ (جلد ۲۲، ص: ۳۲) رسول اللہ ﷺ کے بعد جو شخص وحی نبوت کا مدعی ہواسے کافر قرار دیا جائے گا۔ اس امر میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (جلد ۲۲، ص: ۳۸) ’’رسول اللہ ﷺکا خاتم النبیین ہونا ایک ایسی بات ہے جسے کتاب اللہ نے صاف صاف بیان کیا، سنت نے واضح طور پر اس کی تصریح کی اور امت نے اس پر اجماع کیا۔ لہٰذا جو اس کے خلاف کوئی دعویٰ کرے اسے کافر قرار دیا جائے گا ۔ (ج۲۲، ص: ۳۹)
یہ ہندوستان سے لے کر مراکش اور اندلس تک اور ٹرکی سے لے کریمن تک ہر مسلمان ملک کے اکابر علماء و فقہاء اور محدثین و مفسرین کی تصریحات ہیں۔ ہم نے ان کے ناموں کے ساتھ ان کے سنین ولادت ووفات بھی دے دیے ہیں جن سے ہر شخص بیک نظر معلوم کرسکتا ہے کہ پہلی صدی سے تیرھویں صدی تک تاریخ اسلام کی ہر صدی کے اکابر ان میں شامل ہیں۔ اگرچہ ہم چودھویں صدی کے علمائے اسلام کی تصریحات بھی نقل کرسکتے ہیں مگر ہم نے قصداً انھیں اس لیے چھوڑ دیا کہ ان کی تفسیر کے جواب میں ایک شخص یہ حیلہ کرسکتا ہے کہ ان لوگوں نے اس دور کے مدعی نبوت کی ضد میں ختم نبوت کے یہ معنی بیان کیے ہیں۔ اس لیے ہم نے پہلے علماء کی تحریریں نقل کی ہیں جو ظاہر ہے کہ آج کے کسی شخص سے کوئی ضد نہ رکھ سکتے تھے۔ ان تحریروں سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوجاتی ہے کہ پہلی صدی سے آج تک پوری دنیائے اسلام متفقہ طور پر ’’خاتم النبیین‘‘ کے معنی ’’آخری نبی‘‘ ہی سمجھتی رہی ہے۔ حضورؐ کے بعد نبوت کے دروازے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ رہا ہے، اور اس امر میں مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا کہ جو شخص محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور جو اس کے دعوے کو مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
اب یہ دیکھنا ہر صاحب عقل آدمی کا اپنا کام ہے کہ لفظ خاتم النبیین کا جو مفہوم لغت سے ثابت ہے، جو قرآن کی عبارت کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے جس کی تصریح نبی ﷺ نے خود فرمادی ہے ، جس پر صحابۂ کرام کا اجماع ہے اور جسے صحابہ کرامؓ کے زمانے سے لے کر آج تک تمام دنیا کے مسلمان بلا اختلاف مانتے رہے ہیں، اس کے خلاف کوئی دوسرا مفہوم لینے اور کسی نئے مدعی کے لیے نبوت کا دروازہ کھولنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے، اور ایسے لوگوں، کو کیسے مسلمان تسلیم کیا جاسکتاہے، جنھوں نے باب نبوت کے مفتوح ہونے کا محض خیال ہی ظاہر نہیں کیا ہے بلکہ اس دروازے سے ایک صاحب حریم نبوت میں داخل بھی ہوگئے ہیں اور یہ لوگ ان کی نبوت پر ایمان بھی لے آئے ہیں۔
اس سلسلے میں تین باتیں اور قابل غور ہیں:

- کیا اللہ کو ہمارے ایمان سے کوئی دشمنی ہے۱

پہلی بات یہ ہے کہ نبوت کا معاملہ ایک بڑا ہی نازک معاملہ ہے۔ قرآن مجید کی رو سے یہ اسلام کے ان بنیادی عقائد میں سے ہے جن کے ماننے یا نہ ماننے پر آدمی کے کفر و ایمان کا انحصار ہے۔ ایک شخص نبی ہو اور آدمی اس کو نہ مانے تو کافر ، اور وہ نبی نہ ہو اور آدمی اس کو مان لے تو کافر۔ ایک ایسے نازک معاملے میں تو اللہ تعالیٰ سے کسی بے احتیاطی کی بدرجۂ اولیٰ توقع نہیں کی جاسکتی۔ اگر محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا ہوتا تو اللہ تعالیٰ خود قرآن میں صاف صاف اس کی تصریح فرماتا، رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے اس کا کھلاکھلا اعلان کراتا اور حضور ؐ دنیا سے کبھی تشریف نہ لے جاتے جب تک اپنی امت کو اچھی طرح خبردار نہ کردیتے کہ میرے بعد بھی انبیاء آئیں گے اور تمھیں ان کو ماننا ہوگا۔ آخر اللہ اور اس کے رسول کوہمارے دین و ایمان سے کیا دشمنی تھی کہ حضور ؐ کے بعد نبوت کا دروازہ تو کھلا ہوتا اور کوئی نبی آنے والا بھی ہوتا جس پر ایمان لائے بغیر ہم مسلمان نہ ہوسکتے مگر ہم کو نہ صرف یہ کہ اس سے بے خبر رکھا جاتا، بلکہ اس کے برعکس اللہ اور اس کا رسول ، دونوں ایسی باتیں فرمادیتے جن سے تیرہ سو برس تک ساری امت یہی سمجھتی رہی اور آج بھی سمجھ رہی ہے کہ حضور ؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔
اب اگربہ فرض محال نبوت کادروازہ واقعی کھلا بھی ہو اور کوئی نبی آبھی جائے تو ہم بے خوف و خطر اس کا انکار کردیںگے۔خطرہ ہوسکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی باز پرس ہی کا تو ہوسکتا ہے۔ وہ قیامت کے روز ہم سے پوچھے گا۔تو ہم یہ سارا ریکارڈ برسرعدالت لاکر رکھ دیں گے جس سے ثابت ہوجائے گا کہ معاذ اللہ اس کفر کے خطرے میں تو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہی نے ہمیں ڈالا تھا۔ ہمیں قطعاً کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ اس ریکارڈ کو دیکھ کر بھی اللہ تعالیٰ ہمیں کسی نئے نبی پر ایمان نہ لانے کی سزاد ے ڈالے گا۔ لیکن اگر نبوت کا دروازہ فی الواقع بند ہے اور کوئی نبی آنے والانہیں ہے، اور اس کے بعد کوئی شخص کسی مدعی کی نبوت پر ایمان لاتا ہے تو اسے سوچ لیناچاہیے کہ اس کفر کی پاداش سے بچنے کے لیے وہ کون ساریکاڈ خدا کی عدالت میں پیش کرسکتا ہے جس سے وہ رہائی کی توقع رکھتا ہو۔ عدالت میں پیشی ہونے سے پہلے اسے اپنی صفائی کے مواد کا یہیں جائزہ لے لینا چاہیے، اور ہمارے پیش کردہ مواد سے مقابلہ کرکے خودہی دیکھ لینا چاہیے کہ جس صفائی کے بھروسے پر وہ یہ کام کررہا ہے کیا ایک عقلمند آدمی اس پر اعتماد کرکے کفر کی سزا کا خطرہ مول لے سکتا ہے؟

اب نبی کی آخر ضرورت کیا ہے؟

دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ نبوت کوئی ایسی صفت نہیں ہے جو ہر اُس شخص میں پیدا ہوجایا کرے جس نے عبادت اور عمل صالح میں ترقی کرکے اپنے آپ کو اس کا اہل بنا لیا ہو۔نہ یہ کوئی ایسا انعام ہے جو کچھ خدمات کے صلے میں عطا کیا جاتا ہو۔ بلکہ یہ ایک منصب ہے جس پر ایک خاص ضرورت کی خاطر اللہ تعالیٰ کسی شخص کو مقرر کرتا ہے۔ وہ ضرورت جب داعی ہوتی ہے تو ایک نبی اس کے لیے مامور کیا جاتا ہے، اور جب ضرورت نہیں ہوتی یا باقی نہیں رہتی تو خواہ مخواہ انبیاء پر انبیاء نہیں بھیجے جاتے۔
قرآن مجید سے جب ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی کے تقرر کی ضرورت کن کن حالات میں پیش آئی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ صرف چار حالتیں ایسی ہیں جن میں انبیاء مبعوث ہوئے ہیں:
اوّل یہ کہ کسی خاص قوم میں نبی بھیجنے کی ضرورت اس لیے ہو کہ اس میں پہلے کوئی نبی نہ آیا تھا اور کسی دوسری قوم میں آئے ہوئے نبی کا پیغام بھی اس تک نہ پہنچ سکتا تھا۔
دوم یہ کہ نبی بھیجنے کی ضرورت اس وجہ سے ہو کہ پہلے گزرے ہوئے نبی کی تعلیم بھلادی گئی ہو، یا اس میں تحریف ہوگئی ہو، اور اس کے نقش قدم کی پیروی کرنا ممکن نہ رہاہو۔
سوم یہ کہ پہلے گزرے ہوئے نبی کے ذریعہ مکمل تعلیم و ہدایت لوگوں کو نہ ملی ہو اور تکمیل دین کے لیے مزید انبیاء کی ضرورت ہو۔
چہارم یہ کہ ایک نبی کے ساتھ اس کی مدد کے لیے ایک اور نبی کی ضرورت ہو۔
اب یہ ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی ضرورت بھی نبی ﷺ کے بعد باقی نہیں رہی ہے۔
قرآن خود کہہ رہا ہے کہ حضوؐر کو تمام دنیا کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا گیا ہے اور دنیا کی تمدنی تاریخ بتارہی ہے کہ آپؐ کی بعثت کے وقت سے مسلسل ایسے حالات موجود رہے ہیں کہ آپؐ کی دعوت سب قوموں کو پہنچ سکتی تھی اور ہر وقت پہنچ سکتی ہے۔ اس کے بعد الگ الگ قوموں میں انبیاء آنے کی کوئی حاجت باقی نہیں رہتی۔
قرآن اس پر بھی گواہ ہے اور اس کے ساتھ حدیث و سیرت کا پورا ذخیرہ اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ حضور ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم بالکل اپنی صحیح صورت میں محفوظ ہے۔ اس میں مسخ و تحریف کا کوئی عمل نہیںہوا ہے۔ جو کتاب آپؐ لائے تھے اس میں ایک لفظ کی بھی کمی بیشی آج تک نہیں ہوئی، نہ قیامت تک ہوسکتی ہے۔جو ہدایت آپؐ نے اپنے قول و عمل سے دی اس کے تمام آثار آج بھی اس طرح ہمیں مل جاتے ہیں کہ گویا ہم آپؐ کے زمانے میں موجود ہیں۔ اس لیے دوسری ضرورت بھی ختم ہوگئی۔
پھر قرآن مجید یہ بات بھی صاف صاف کہتا ہے کہ حضوؐر کے ذریعہ سے دین کی تکمیل کردی گئی۔ لہٰذا تکمیل دین کے لیے بھی اب کوئی نبی درکار نہیں رہا۔
اب رہ جاتی ہے چوتھی ضرورت ، تو اگر اس کے لیے کوئی نبی درکار ہوتا، تو وہ حضورؐ کے زمانے میں آپؐ کے ساتھ مقرر کیا جاتا ۔ ظاہر ہے کہ جب وہ مقرر نہیں کیا گیا تو یہ وجہ بھی ساقط ہوگئی۔
اب ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ پانچویں وجہ کون سی ہے جس کے لیے آپؐ کے بعد ایک نبی کی ضرورت ہو۔ اگر کوئی کہے کہ قوم بگڑ گئی ہے اس لیے اصلاح کی خاطر ایک نبی کی ضرورت ہے تو ہم اس سے پوچھیں گے کہ محض اصلاح کے لیے نبی دنیا میں کب آیا ہے کہ آج صرف اس کام کے لیے وہ آئے؟ نبی تو اس لیے مقرر ہوتا ہے کہ اس پر وحی کی جائے، اور وحی کی ضرورت یا تو کوئی نیا پیغام دینے کے لیے ہوتی ہے یا پچھلے کام کی تکمیل کرنے کے لیے، یا اس کو تحریفات سے پاک کرنے کے لیے قرآن اور سنت محمد ﷺ کے محفوظ ہوجانے اور دین کے مکمل ہوجانے کے بعد جب وحی کی سب ممکن ضرورتیں ختم ہوچکی ہیں، تو اب اصلاح کے لیے صرف مصلحین کی حاجت باقی ہے نہ کہ انبیاء کی۔

نئی نبوت اب امت کے لیے رحمت نہیں بلکہ لعنت ہے

تیسری قابل توجہ بات یہ ہے کہ نبی جب بھی کسی قوم میں آئے گا فوراً اس میں کفر و ایمان کا سوال اُٹھ کھڑا ہوگا۔ جو اس کو مانیں گے وہ ایک اُمت قرار پائیں گے اور جو اس کو نہ مانیںگے وہ لامحالہ دوسری امت ہوں گے۔ ان دونوں امتوں کا اختلاف محض فروعی اختلاف نہ ہوگا بلکہ ایک نبی پر ایمان لانے اور نہ لانے کا ایسابنیادی اختلاف ہوگا جو انھیں اُس وقت تک جمع نہ ہونے دے گا جب تک ان میں سے کوئی اپنا عقیدہ نہ چھوڑدے۔ پھر ان کے لیے عملاً بھی ہدایت اور قانون کے ماخذ الگ الگ ہوں گے، کیوں کہ ایک گروہ اپنے تسلیم کردہ نبی کی پیش کی ہوئی وحی اور اس کی سنت سے قانون لے گا اور دوسرا گروہ اس کے ماخذ قانون ہونے کا سرے سے منکر ہوگا۔ اس بنا پر ان کا ایک مشترک معاشرہ بن جانا کسی طرح بھی ممکن نہ ہوگا۔
ان حقائق کو اگر کوئی شخص نگاہ میں رکھے تو اس پر یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی کہ ختم نبوت امت مسلمہ کے لیے اللہ کی ایک بہت بڑی رحمت ہے۔ جس کی بدولت ہی اس امت کا ایک دائمی اور عالم گیر برادری بننا ممکن ہوا ہے اس چیزنے مسلمانوںکو ایسے ہر بنیادی اختلاف سے محفوظ کردیا ہے جو ان کے اندرمستقل تفریق کا موجب ہو سکتا ہو۔اب جو شخص بھی محمد ﷺ کو اپنا ہادی ورہبر مانے اور ان کی دی ہوئی تعلیم کے سوا کسی اور ماخذہدایت کی طرف رجوع کرنے کا قائل نہ ہو وہ اس برادری کافرد ہے اور ہر وقت ہوسکتا ہے۔ یہ وحدت اس امت کو کبھی نصیب نہ ہوسکتی تھی اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہوجاتا۔ کیوں کہ ہر نبی کے آنے پر یہ پارہ پارہ ہوتی رہتی۔
آدمی سوچے تو اس کی عقل خود یہ کہہ دے گی کہ جب تمام دنیا کے لیے ایک نبی بھیج دیا جائے اور جب اس نبی کے ذریعہ سے دین کی تکمیل بھی کردی جائے اور جب اس نبی کی تعلیم کو پوری طرح محفوظ بھی کردیا جائے، تو نبوت کا درواہ بند ہوجانا چاہیے تاکہ اس آخری نبی کی پیروی پر جمع ہوکر تمام دنیا میں ہمیشہ کے لیے اہل ایمان کی ایک ہی امت بن سکے اور بلا ضرورت نئے نئے نبیوں کی آمد سے اس امت میں بار بار تفرقہ نہ برپا ہوتا رہے۔ نبی خواہ ’’ظلی‘‘ ہو یا ’’بروزی‘‘ امتی ہو یا صاحب شریعت اور صاحب کتاب، بہر حال جو شخص نبی ہوگا وہ خدا کی طرف سے بھیجا ہوا ہوگا۔ اس کے آنے کا لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ اس کے ماننے والے ایک امت بنیں اور نہ ماننے والے کافرقرار پائیں۔ یہ تفریق اس حالت میں تو ناگزیر ہے جب کہ نبی کے بھیجے جانے کی فی الواقع ضرورت ہو۔ مگر جب اس کے آنے کی کوئی ضرورت باقی نہ رہے تو خدا کی حکمت اور اس کی رحمت سے یہ بات قطعی بعید ہے کہ وہ خواہ مخواہ اپنے بندوں کو کفر و ایمان کی کشمکش میں مبتلا کرے اور انھیں کبھی ایک امت نہ بننے دے۔ لہٰذا جو کچھ قرآن سے ثابت ہے اور جو کچھ سنت اور اجماع سے ثابت ہے عقل بھی اسی کو صحیح تسلیم کرتی ہے اور اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اب نبوت کا دروازہ بند ہی رہنا چاہیے۔

ختم نبوّت کے خلاف شبہات کا بطلان

۱۰۵۔ لَوْعَاشَ اِبْرَاہِیْمُ لَکَانَ نَبِیًّا۔
’’اگر ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــرسول اللہ ﷺ کے صاحب زادیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔‘‘
تشریح :اس حدیث سے قادیانی حضرات جو استدلال کرتے ہیں وہ چار وجوہ سے غلط ہے:
اوّل یہ کہ جس روایت میں اسے خود نبی ﷺ کے قول کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے اس کی سند ضعیف ہے اور محدثین میں سے کسی نے بھی اس کو قوی تسلیم نہیں کیا ہے۔
دوم یہ کہ نووی اور ابن عبدالبر جیسے اکابر محدثین اس مضمون کو بالکل ناقابل اعتبار قرار دیتے ہیں۔ امام نوویؒ اپنی کتاب ’’تہذیب الاسماء واللغات‘‘ میں لکھتے ہیں:
اَمَّا مَارُوِیَ عَنْ بَعْضِ الْمُتَقَدِّمِیْنَ لَوْعَاشَ اِبْرَاہِیْمُ لَکَانَ نَبِیًّا فَبَاطِلٌ وَجَسَارَۃٌ عَلٰی الْکَلاَمِ عَلَی الْمُغِیْبَاتِ وَمُجَازِفَۃٌ وَہُجُوْمٌ عَلٰی عَظِیْمٍ۔
’’رہی وہ بات جو بعض متقدمین سے منقول ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔ تو وہ باطل ہے اور غیب کی باتوں پر کلام کرنے کی بے جا جسارت ہے۔ اور بے سوچے سمجھے ایک بڑی بات منہ سے نکال دینا ہے۔‘‘
اور علامہ ابن عبدالبر تمہید میں لکھتے ہیں:
لاَاَدْرِیْ مَا ہٰذَا فَقَدْ وَلَدُ نُوْحٍ عَلَیْہِ السَّلاَمُ غَیْرُ نَبِیٍّ وَلَوْلَمْ یَلِدِ النَّبِیُّ اِلاَّنَبِیًّا لَکَانَ کُلُّ اَحَدٍ نَبِیًّا لِاَنَّہُمْ مِّنْ نُوْحٍ عَلَیْہِ السَّلاَمُ۔
’’میں نہیں جانتا کہ یہ کیا مضمون ہے۔ نوح علیہ السلام کے ہاں غیر نبی اولاد ہوچکی ہے۔ حالانکہ اگر نبی کا بیٹا نبی ہی ہونا ضروری ہوتا تو آج سب نبی ہوتے، کیوں کہ سب کے سب نوح علیہ السلام کی اولاد ہیں۔‘‘
سوم یہ کہ اکثر روایات میں اسے نبی ﷺ کے بجائے بعض صحابیوں کے قول کی حیثیت سے نقل کیا گیا ہے۔ اور وہ اس کے ساتھ یہ تصریح بھی کردیتے ہیں کہ نبی ﷺ کے بعد چوں کہ کوئی نبی نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کے صاحب زادے کو اٹھالیا۔ مثال کے طور پر بخاری کی روایت یہ ہے:
عَنْ اِسْمٰعِیْلَ بْنِ اَبِیْ خَالِدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ ابِیْ اَوْفیٰ رَأَیْتَ اِبْرَاہِیْمَ بْنَ النَّبِیِّ ﷺ؟ قَالَ مَاتَ صَغِِیْرًا وَلَوْقَضیٰ اَنْ یَّکُوْنَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ ﷺ نَبِیٌّ عَاشَ ابْنُہٗ وَلٰکِنْ لَّانَبِیَّ بَعْدَہٗ۔ (بخاری)
’’اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ (صحابی) سے پوچھا کہ آپ نے نبی ﷺ کے صاحب زادے ابراہیم کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا وہ بچپن ہی میں مرگئے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہوتا کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو تو آپ کا صاحب زادہ زندہ رہتا، مگر حضور کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہے۔‘‘
اس سے ملتی جلتی روایت حضرت انسؓ سے بھی منقول ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
وَلَوْبَقٰی لَکَانَ نَبِیًّا لٰکِنَّ لَمْ یَبْقَ لِاَنَّ نَبِیَّکُمْ اٰخِرُ الْاَنْبِیَائِ۔(تفسیر روح المعانی ج ۲۲ص۳)
’’اگر وہ زندہ رہ جاتے تو نبی ہوتے مگر وہ زندہ نہ رہے کیوں کہ تمھارے نبی آخری نبی ہیں۔‘‘
چہارم یہ کہ اگر بالفرض صحابہ کرام کی یہ تصریحات بھی نہ ہوتیں، اور محدثین کے وہ اقوال بھی موجود نہ ہوتے جس میں اس روایت کو جو نبی ﷺکے قول کی حیثیت سے منقول ہوئی ہے، ضعیف اور ناقابل اعتبار قرار دیا گیا ہے، تب بھی وہ کسی طرح قابل قبول نہ ہوتی، کیوں کہ یہ بات علم حدیث کے مسلمہ اصولوں میں سے ہے کہ اگر کسی ایک روایت سے کوئی ایسا مضمون نکلتا ہو جوبہ کثرت صحیح احادیث کے خلاف پڑتا ہو تو اسے قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اب ایک طرف وہ کثیر التعداد صحیح اور قوی السند احادیث ہیں جن میں صاف صاف تصریح کی گئی ہے کہ نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہوچکا ہے اور دوسری طرف یہ اکیلی روایت ہے جو باب نبوت کے کھلے ہونے کا امکان ظاہر کرتی ہے۔آخر کس طرح جائز ہے کہ اس ایک روایت کے مقابلے میں ان سب روایتوں کو ساقط کردیا جائے؟ (رسائل و مسائل سوم: ختم نبوت کے۔۔۔)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ:حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، قُلْتُ لِابْنِ اَبِیْ اَوْفٰی:رَأَیْتَ اِبْرَاھِیْمَ ابْنَ النَّبِیِّﷺ؟ قَالَ:مَاتَ صَغِیْرًا وَلَوْقُضِیَ اَنْ یَّکُوْنَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ ﷺ نَبِیٌّ عَاشَ ابنُہٗ وَلٰکِنْ لاَّنَبِیَّ بَعْدَہٗ۔(۴۴)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَھْدِیٍّ، ثَنَا سُفْیَانُ، عَنِ السُّدِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسَ ابْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ: لَوْعَاشَ اِبْرَاھِیْمُ ابْنُ النَّبِیِّ ﷺ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَبِیًّا۔(۴۵)

انبیاء و رسل کی تعداد:

۱۰۶۔ نبی ﷺسے رسولوں کی تعداد پوچھی گئی تو آپ نے ۳۱۳ یا ۳۱۵ بتائی اور انبیاء کی تعداد پوچھی گئی تو آپؐ نے ایک لاکھ۲۴ ہزار بتائی۔
تشریح : اگرچہ اس حدیث کی سندیں ضعیف ہیں، مگر کئی سندوں سے ایک بات کا نقل ہونا اس کے ضعف کو بڑی حد تک دور کردیتا ہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا اَبُوالْمُغِیْرَۃِ، ثَنَا مَعَانُ بْنُ رِفَاعَۃَ حَدَّثَنِیْ عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِی الْمَسْجِدِ جَالِسًا وَکَانُوْا یَظُنُّوْنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌ عَلَیْہِ۔ الحدیث، قَالَ:قُلْتُ:یَانَبِیَّ اللّٰہِ فَاَیُّ الْاَنْبِیَائِ کَانَ اَوَّلُ؟ قَالَ: اٰدَمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَالَ: قُلْتُ:یَانَبِیَّ اللّٰہِ اَوَ نَبِیٌّ کَانَ اٰدَمُ؟ قَالَ: نَعَمْ، نَبِیٌّ مُکَلَّمٌ خَلَقَہُ اللّٰہُ بِیَدِہٖ ثُمَّ نَفَخَ فِیْہِ رُوْحَہٗ ثُمَّ قَالَ لَہٗ یَا اٰدَمُ قَبْلًا قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! کَمْ وَفِیْ عِدَّۃِ الْاَنْبِیَائِ قَالَ مِائۃُ اَلْفٍ وَارْبَعَۃٌ وَّعِشْرُوْنَ اَلْفًا الرُّسُلُ مِنْ ذٰلِکَ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَخَمْسَۃَ عَشَرَ جَمًّا غفِیْرًا۔(۴۶)

رسول کسے کہتے ہیں؟

رسول کے معنی ہیں ’’فرستادہ ‘‘ بھیجا ہوا۔ اس معنی کے لحاظ سے عربی زبان میں قاصد، پیغام بر، ایلچی اور سفیر کے لیے یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور قرآن میں یہ لفظ یا تو ان ملائکہ کے لیے استعمال ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کارِ خاص پر بھیجے جاتے ہیں، یا پھر ان انسانوں کو اس نام سے موسوم کیا گیا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے خلق کی طرف اپنا پیغام پہنچانے کے لیے مامور فرمایا۔

نبی کے معنی

’’نبی‘‘ کے معنی میں اہل لغت کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض اس کو لفظ نَبَا سے مشتق قرار دیتے ہیں جس کے معنی خبر کے ہیں، اور اس اصل کے لحاظ سے نبی کے معنی ’’خبردینے والے‘‘ کے ہیں۔ بعض کے نزدیک اس کا مادہ نَبَؤہے، یعنی رفعت اور بلندی۔ اور اس معنی کے لحاظ سے نبی کا مطلب ہے ’’بلند مرتبہ‘‘ اور ’’عالی مقام‘‘ ازہری نے کسائی سے ایک تیسرا قول بھی نقل کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ لفظ دراصلنَبِیئٌ ہے جس کے معنی طریق اور راستے کے ہیں، او ر انبیاء کو نبی اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ اللہ کی طرف جانے کا راستہ ہیں۔
پس کسی شخص کو ’’رسول نبی‘‘کہنے کا مطلب یا تو ’’عالی مقام پیغمبر‘‘ ہے، یا ’’اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبریں دینے والا پیغمبر‘‘ یا پھر ’’وہ پیغمبر جو اللہ کا راستہ بتانے والا ہے۔‘‘

قرآن مجید ان الفاظ کا استعمال کن معانی میں کرتا ہے

قرآن مجید میں یہ دونوں الفاظ بالعموم ہم معنی استعمال ہوئے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی شخصیت کو کہیں صرف رسول کہا گیا ہے اور کہیں صرف نبی اور کہیں رسول اور نبی ایک ساتھ۔لیکن بعض مقامات پر رسول اور نبی کے الفاظ اس طرح بھی استعمال ہوئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دونوں میں مرتبے اورکام کی نوعیت کے لحاظ سے کوئی اصطلاحی فرق ہے۔ مثلاً سورۂ حج، رکوع ۷ میں فرمایا وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَلَا نَبِیٍّ اِلَّا۔۔۔ ’’ ہم نے تم سے پہلے نہیں بھیجا کوئی رسول اور نہ نبی مگر۔۔۔‘‘ یہ الفاظ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ رسول اور نبی دو الگ اصطلاحیں ہیںجن کے درمیان کوئی معنوی فرق ضرور ہے۔اسی بنا پر اہل تفسیر میں یہ بحث چل پڑی ہے کہ اس فرق کی نوعیت کیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قطعی دلائل کے ساتھ کوئی بھی رسول اور نبی کی الگ الگ حیثیتوں کا تعین نہیں کرسکا ہے۔زیادہ سے زیادہ جو بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ رسول کا لفظ نبی کی بہ نسبت خاص ہے، یعنی ہر رسول نبی بھی ہوتاہے، مگر ہرنبی رسول نہیں ہوتا،یا بالفاظ دیگر انبیاء میں سے رسول کا لفظ ان جلیل القدر ہستیوں کے لیے بولا گیا ہے جن کو عام انبیاء کی بہ نسبت زیادہ اہم منصب سپرد کیا گیا تھا۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے۔جو امام احمد نے حضرت امامہ سے اور حاکم نے حضرت ابوذرؓ سے نقل کی ہے اور جو اوپر درج ہوچکی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، مریم، حاشیہ: ۳۰)

ماٰخذ

(۱) بخاری، ج ۱، کتاب الانبیاء باب ماذکر عن بنی اِسْرَائیل ٭مسلم، ج ۲، کتاب الامارۃ باب وجوب الوفاء ببیعۃ الخلیفۃ الْاَوَّل ٭مسند احمد ، ج ۲ص۲۹۷عن ابی ہریرۃ ٭کنزالعمال ج ۶، حدیث ۱۴۸۰۵۔
(۲) ابن ماجہ کتاب الجہاد باب الوفاء بالبیعۃ۔
(۳) مسند احمد ج ۲ص۱۷۲٭ عَبْدُ اللّٰہِ بن عمرو بن العاص٭ابن کثیر، ج ۳ ، سورۃ احزاب۔
(۴) مسند احمد ج۵ ص۴۵۴، مرویات ابوالطفیل ٭ ابن کثیر ج۳ص۴۹۳٭مجمع الزوائد ج ۷ص۱۷۳۔ ٭الطبرانی الکبیر بحوالہ الزوائد۔
(۵) بخاری، ج۲، کتاب التعبیر باب مبشرات ٭ ابن ماجہ کتاب تعبیر الرؤیا باب :۱٭نسائی کتاب الصلوٰۃ باب الذکر فی الرکوع اور کتاب الافتتاح باب الامر بالاجتہاد فی الدعاء فی السجود۔
(۶) ابوداؤد، ج ۱، کتاب الصلاۃ باب الدعاء فی الرکوع والسجود٭دارمی کتاب الصلاۃ باب :۷۷، النہی عن القراء ۃ فی الرکوع والسجود ٭مؤطا امام مالک کتاب الجامع باب ماجاء فی الرؤیا۔مؤطا میںحضرت ابوہریرہؓ سے لَیْسَ یَبْقیٰ بَعْدِیْ مِنَ النُّبُوَّۃِ اِلَّا الرُّؤیَا الصَّالحَۃُ بھی نقل کیا ہے۔٭مسند احمد ج۱ص۲۱۹۔ ج۳ص۵۰،۱۱۹،۱۲۲، ۱۳۷، ۲۱۹، ۲۳۲، ۲۳۳، ۲۶۹، ۳۱۴، ۳۲۵، ۳۴۲، ۳۶۹، ۴۳۸، ۴۹۵، ۵۰۷۔ ج۵ ص۳۱۵، ۳۲۱، ۳۲۵۔ ج۶ ص۱۲۹، ۱۵۳، ۲۳۲،۴۴۵،۴۴۷،۴۵۲۔
(۷) بخاری، ج ۲۔ص۱۰۳۵۔
(۸) بخاری، ج ۲ص۱۰۳۴٭مؤطا امام مالک، کتاب الجامع باب ماجاء فی الرؤیا۔
(۹) بخاری، ج ۲ص۱۰۳۴٭ترمذی ابواب الرؤیا باب ان رؤیا المومن جزء من ستۃ واربعین جزئً ا مِن النُّبُوَّۃ ٭ابن ماجہ کتاب تعبیرالرؤیا باب الرؤیا الصالحۃ یراہا المسلم اوتریٰ لہ ٭مجمع الزوائدج۷ ٭طبرانی کبیر والصغیر بحوالہ الزوائد۔
(۱۰) دارمی جز۲،کتاب الرؤیا باب ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات ٭ابن ماجہ کتاب تعبیر الرؤیا باب الرؤیا الصالحۃ یرا ہا المسلم اوتریٰ لہ۔
(۱۱) المعجم الکبیر للطبرانی ،ج ۳ حدیث ۳۰۵۱٭مجمع الزوائد، ج ۷۔ص۱۷۳۔
(۱۲) ابوداؤد کتاب الادب باب ماجاء فی الرؤیا ٭ مؤطا امام مالک کتاب الجامع باب ماجاء فی الرؤیا٭مسند احمد، ج ۲،ص۳۲۵ ج ۶۔ص۱۲۹۔
(۱۳) ترمذی ابواب الرویا باب ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات٭ابن کثیر ج ۳ص۴۹۳٭مسند احمدج۳، مرویات انس بن مالک مسند میں امام احمد نے فلا رسول بعدی ولا نبی بعدی نقل کیا ہے۔
(۱۴) ترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فی فضل النبی ﷺ ٭ فتح القدیر ، ج ۴ص۲۸۶٭ابواب الامثال عن جابر بن عبداللہ قدرے لفظی اور ضمائر کے الفاظ کے ساتھ ٭ ابن کثیر ج ۳۔ص۴۹۳۔
(۱۵) بخاری، ج۱، کتاب المناقب باب خاتم النبیین ٭مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب ذکر کونہ ﷺ خاتم النبیین ٭ترمذی ابواب الامثال باب ماجاء مثل النبی والانبیاء ﷺ اجمعین ٭مسند احمد ج ۲ص۲۴۴، ۲۵۶، ۳۱۲، ۳۹۸،۴۱۲ج۳ص۹،۳۶۱ ٭ابن کثیر ج ۳ص۴۹۳ ٭مسند ابی داؤد طِیَالِسی جزء ۸، حدیث نمبر۱۷۸۵ ٭فتح القدیر للشوکانی، ج ۴۔ص۲۸۶۔
(۱۶) ابن کثیر ، ج ۳ص۴۹۳ ٭السنن الکبریٰ للبیہقی، ج ۹، کتاب السیرباب مبتدا الخلق۔
(۱۷) مسلم ،ج۲، کتاب الفضائل باب ذکرﷺ خاتم النبیین ٭لفظ اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ مذکورہ روایات کے علاوہ مندرجہ ذیل روایتوں میں بھی ہے۔ البتہ بخاری میں خاتم الانبیا ہے٭بخاری ج ۲، سورۃ الاسراء ٭مسلم کتاب الایمان ٭ابوداؤد کتاب الفتن ٭ترمذی ، ابواب القیامۃ باب:۱۰٭دارمی مقدمہ باب:۸ ٭ابن کثیر ، ج ۳، ص۴۹۳ مسند احمد، ج ۱،ص۲۹۶ج ۲،ص۳۹۸،۴۳۶ ج ۴،۱۲۷،۱۲۸ج ۵ص۲۷۸۔
(۱۸) مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب ذکر کونہ ﷺ خاتم النبیین ٭ فتح القدیرللشَّوکانی ج۴، ص۲۸۶۔
(۱۹) مسلم، ج ۱، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ ٭ترمذی، ج ۱، ابواب السیر، باب ماجاء فی الغنیمۃ۔ عن ابی ہریرۃ ۔ ہذا حدیث حسن صحیح ٭مسند احمد، ج۲،ص۴۱۲ عن ابی ہریرۃ ٭ابن کثیر ج ۳ص۴۹۳ ٭السنن الکبریٰ للبیہقی ج ۹، ص۵۔
(۲۰) ابن ماجہ کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال ٭المستدرک،ج۴، ص۵۳۶کتاب الفتن ان اللّٰہ تعالٰی لم یبعث نبیاً الاحذر امتہ الدجال۔
(۲۱) مسند احمد، ج ۵ ص۳۹۶٭طبرانی کبیرج۳،ص۱۷۰حذیفۃ بن الیمان۔ طبرانی نے وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ نقل کیا ہے ٭مجمع الزوائد ج۷۔ص۳۳۲۔
(۲۲) ابوداؤد کتاب الفتن باب ذکر الفتن وَدَلَائِلِہَا ٭ابن ماجہ کتاب الفتن باب مایکون من الفتن٭ابن ماجہ میں وانا خاتم النبیین لانبی بعدی منقول نہیں ہے ٭ المستدرک للحاکم ، ج ۴ کتاب الفتن والملاحم اذا وضع السیف فی امتی لم یرفع عنہا الٰی یوم القیامۃ۔
(۲۳) مسلم، ج ۲، کتاب الفتن باب فی قولہ ﷺ ان بین یدی الساعۃ کذابین قریباً من ثلاثین ٭ مسند احمد، ج۲، ص۲۳۷، روایت ابی ہریرۃ ٭مجمع الزوائد، ج۷، ص۳۳۲۔
(۲۴) ابوداؤد کتاب الملاحم باب فی خبرابن الصائد۔
(۲۵) ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء لاتقوم الساعۃ حتّٰی یخرج کذابون۔
(۲۶) ابن ماجہ کتاب الفتن باب مایکون من الفتن۔
(۲۷) مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب فی اسمائہٖ ﷺ٭دارمی کتاب الرقاق باب فی اسماء النبی ﷺ٭ابن کثیر ج۳۔ص۴۹۴۔
(۲۸) مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب فی اسماء النبی ﷺ۔
(۲۹) مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب فی اسمائہٖ ﷺ ٭ابن کثیر، ج۳ص۴۹۴٭زادالمعاد، ج۱،ص۳۴ فی اسماء ہٖ ﷺ۔
(۳۰) المستدرک للحاکم،ج۲،کتاب التاریخ باب ذکر اسماء النبی ﷺ ٭ابوداؤد طیالسی جز۲،ص۶۷ ابوموسیٰ اشعری ٭زاد المعاد ، ج۱ص۳۴، فی اسماء ہٖ ﷺ۔٭ابن کثیر،ج ۴ ص۳۶۰٭طبقات ابن سعد، ج ۱۔
(۳۱) مجمع الزوائد، ج ۸، کتاب علامات النبوۃ باب فی اسماء ہ ﷺ عن حذیفۃ۔
(۳۲) بخاری، ج ۲، کتاب التفسیر سورہ الصف باب یاتی من بعدی اسمہ احمد ٭بخاری، ج ۱،کتاب المناقب باب ماجاء فی اسماء رسول اللّٰہ ﷺ٭ مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب فی اسمائہٖ ﷺ ٭ترمذی ابواب الاستیذان والادب باب ماجاء فی اسماء النبی ﷺ ٭مؤطا امام مالک کتاب الجامع ماجاء فی اسماء النبیﷺ ٭ابن کثیر، ج ۴٭فتح القدیر للشوکانی،ج۵٭المعجم الکبیر للطبرانی، ج۲،ص۱۲۰،۱۲۱،۱۳۳جبیر بن مطعم ٭طبقات بن سعد،ج۱،ص۱۰۴،۱۰۵ ذکر اسماء الرسول ﷺ وکنیتہ ٭زاد المعاد، ج۱، ص۳۴ فی اسماء ہ ﷺ جبیر بن مطعم۔
(۳۳) بخاری،ج۱، کتاب المناقب۔ مناقب علی ابن ابی طالب ٭ ابوداؤد طیالسی، ج۱،ص۲۹سعد بن ابی وقاص ٭ طبرانی کبیر،ص۲۴۸سعدبن ابی وقّاص۔
(۳۴) مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب من فضائل علی ابن ابی طالب٭ابوداؤد طیالسی ، ج۱ص۲۹، عن سعد بن ابی وقّاص۔
(۳۵) بخاری، ج ۲، کتاب المغازی باب غزوہ تبوک ٭مسند احمد، ج۱،ص۱۷۷روایت سعد بن ابی وقّاص ٭سیرت ابن ہشام ،ج۴ص۵۲۰، شان علی بن ابی طالب ٭ المستدرک،ج۳ص۱۳۳، عن ابن عباس اس میں لیس بعد ی نبی ہے۔
(۳۶) ترمذی ابواب المناقب علی ابن ابی طالب ٭ البدایہ والنہایۃ ،ج۵،ص۲٭مسند احمد ج۱ ص۱۸۵ روایت سعد بن ابی وقاص۔
(۳۷) مسند احمد، ج۱ص۱۷۰۔
(۳۸) ترمذی ابواب المناقب، مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب باب …٭مسند احمدج۴،ص۱۵۴روایت عقبۃ بْن عامرجُہَنی٭مجمع الزوائدج۹ص۶۸٭مسند احمد میں لوکَان من بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب ہے ٭المستدرک للحاکم، ج ۳، کتاب معرفۃ الصحابۃ لوکان بعدی نبی لکان عمر۔
(۳۹) کتاب المناقب، مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب۔ اور کتاب الانبیاء٭مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب من فضائل عمر بن الخطاب قال ابن وہب تفسیر مُحَدَّثُوْنَ مُلْہَمُوْنَ ٭ترمذی ابواب المناقب مناقب ابی حفص عمروابن الخطاب۔ ہذا حدیث حسن صحیح٭مسند احمد، ج۶ عن عائشہؓ ٭المستدرک للحاکم ، ج۳ کتاب معرفۃ الصحابۃ، رؤیا النبی ﷺ فی فضیلۃ علم عمر ٭مجمع الزوائدج۹ص۶۹عن ابی سعید خدری ٭ ریاض الصالحین، ص۳۶۵ حدیث: ۱۵۰۱۔
(۴۰) مسلم، ج ۱، کتاب الحج باب فضل الصلاۃ بمسجدی مکۃ والمدینۃ ٭نسائی کتاب المساجد باب فضل مسجد النبی ﷺ والصلوٰۃ فیہ۔
(۴۱) مسلم، ج ۱، کتاب الحج باب فضل المساجد الثلاثۃ٭ ترمذی ابواب المواقیت باب ماجاء فی ای المساجد افضل اور ابواب المناقب باب ماجاء فی فضل المدینۃ ٭نسائی کتاب المناسک۔ باب فضل الصلوٰۃ فی المسجد الحرام ٭ ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلوٰۃ باب۱۹۵ماجاء فی فضل الصلوٰۃ فی المسجد الحرام ومسجد النبی ﷺ ٭مؤطّا امام مالک ج۱ص۱۵۵،۱۵۶، باب ماجاء فی مسجد النبی ﷺ ، مسند احمد، ج۲،ص۱۶، ۲۹، ۵۳، ۵۴، ۶۸،۱۰۲،۲۳۹،۲۵۱،۲۵۶،۲۷۷،۲۷۸،۳۸۶،۳۹۷،۴۶۶،۴۶۸،۴۷۳،۴۸۴،۴۸۵،۴۹۹ج ۴ص۵۔
(۴۲) مسلم،ج۱،کتاب الحج باب فضل المساجد الثلاثۃ ٭ترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فی فضل المدینۃ ٭ترمذی ابواب المواقیت باب ماجاء فی ای المساجد افضل ٭نسائی ج۵کتاب المساجد باب فضل الصلوٰۃ فی المسجد الحرام ، اورکتاب المناسک باب فضل الصلاۃ فی المسجد الحرام ومسجد النبی ﷺ ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلوۃ الخ باب ۱۹۵ ماجاء فی فضل الصلوۃ فی المسجد الحرام ومسجد النبی ﷺ٭مؤطا امام مالک، ج ۱، باب ماجاء فی مسجد النبی ﷺ ٭مسند احمد، ج ۴ص۵۔
(۴۳) مسلم،ج۱،کتاب الحج باب فضل المساجد الثلاثۃ ٭نسائی کتاب المساجد باب فضل الصلاۃ فی المسجد الحرام ٭نسائی کتاب المناسک ج۵، باب فضل الصلوٰۃ فی المسجد الحرام٭نسائی میں ان مسجدہ اٰخرا المساجد ہے۔
(۴۴) بخاری، ج۲، کتاب الادب باب من سمی باسماء الانبیاء ٭ ترمذی ابواب المناقب٭ابن ماجہ کتاب الجنائز باب ماجاء فی الصلوٰۃ علی ابن رسول اللہ ﷺ وذکر وفاتہ ٭مسند احمد ،ج۴۔
(۴۵) مسند احمد،ج۳،ص۱۳۳ انس بن مالک الماوردی عن انس٭کنزالعمال ج۱۱،ص۴۶۹ اور۴۷۰ عن ابن عباس بحوالہ ابن عساکر عن بن عباس اور عن ابن ابی اوفٰی۔
(۴۶) مسنداحمد،ج۵ص۲۶۵،۲۶۶، روایت ابی أمامۃ ٭بیہقی ،ج۹ص۴،کتاب السیر باب مبتدء الخلق، تفرد بہ یحیٰ بن السعیدی ٭ابن کثیر ج ۴ص۵۷۵٭ابن کثیر نے خمسۃ عشر بھی بیان کیا ہے٭المستدرک للحاکم، ج۲ص۵۹۷، عن ابی ذرٍ٭طبقات ابن سعد ج ۱ص۵۴، عن ابی ذرٍّ٭مجمع الزوائد للہیثمی ج۱ص۱۵۹ بحوالہ طبرانی، ج ۸ص۲۱۰۔

فصل ششم : واقعۂ معراج، اُس کی کیفیت اور مشاہدات

معراج، پیغمبر اسلام کی زندگی کے اُن واقعات میں سے ہے، جنہیں دنیا میں سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی ہے۔ عام روایت کے مطابق یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً ایک سال پہلے ۲۷؍ رجب کی رات کوپیش آیا اس کا ذکر قرآن میں بھی ہے اور حدیث میں بھی۔ قرآن یہ بتاتاہے کہ معراج کس غرض کے لیے ہوئی تھی اور خدا نے اپنے رسولؐ کو بلاکر کیا ہدایات دی تھیں۔ حدیث یہ بتاتی ہے کہ معراج کس طرح ہوئی اور اس سفر میں کیا واقعات پیش آئے۔
اس واقعہ کی تفصیلات ۲۸ ہمعصر راویوں کے ذریعہ سے ہم تک پہنچی ہیں سات راوی وہ ہیں جو خود معراج کے زمانہ میں موجود تھے اور۱ ۲ وہ جنہوں نے بعد میں نبی ﷺ کی اپنی زبان مبارک سے اس کا قصہ سنا۔ مختلف روایتیں قصہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں اور سب کو ملانے سے ایک ایسا سفر نامہ بن جاتاہے جس سے زیادہ دلچسپ، معنی خیز او ر نظر افروز سفر نامہ انسانی لٹریچر کی پوری تاریخ میں نہیں ملتا۔
حضرت محمد ﷺ کو پیغمبری کے منصب پرسرفراز ہوئے ۱۲سال گزرچکے تھے۔ ۵۲ برس کی عمر تھی، حرم کعبہ میں سورہے تھے۔ یکا یک جبریلؑ فرشتے نے آکر آپؐ کو جگایا۔ نیم خفتہ ونیم بیدار حالت میں اٹھاکر آپؐکو زمزم کے پاس لے گئے، سینہ چاک کیا۔ زمزم کے پانی سے اس کو دھویا، پھر اُسے علم، بُردباری، دانائی اور ایمان ویقین سے بھردیا۔ اس کے بعد آپؐکی سواری کے لیے ایک جانور پیش کیا جس کا رنگ سفید اور قد خچّرسے کچھ چھوٹا تھا۔ برق کی رفتار سے چلتا تھا اور اسی مناسبت سے اس کا نام ’’بُرّاق‘‘ تھا۔ پہلے انبیاء بھی اس نوعیت کے سفر میں اسی سواری پر جایا کرتے تھے۔ جب آپؐ سوار ہونے لگے تو وہ چمکا۔ جبریلؑ نے تھپکی دے کر کہا، دیکھ کیا کرتاہے۔ آج تک محمدؐ سے بڑی شخصیت کا کوئی انسان تجھ پر سوار نہیں ہوا ہے۔ پھر آپؐاس پر سوار ہوئے اور جبریل ؑآپؐکے ساتھ چلے۔ پہلی منزل مدینہ کی تھی جہاں اتر کر آپؐنے نماز پڑھی۔ جبریلؑ نے کہا اس جگہ آپؐہجرت کرکے آئیں گے۔ دوسری منزل طور سینا کی تھی۔ جہاں خدا حضرت موسیٰؑ سے ہم کلام ہوا۔ تیسری منزل بیتِ لحم کی تھی جہاں حضرت عیسیٰؑ پیدا ہوئے۔ چوتھی منزل پر بیت المقدس تھاجہاں بُرّاق کاسفر ختم ہوا۔
اس سفر کے دوران میں ایک جگہ کسی پکارنے والے نے پکارا ادھر آؤ۔ آپؐنے توجّہ نہ کی۔ جبریل ؑ نے بتایا یہ یہودیت کی طرف بلارہاتھا۔ دوسری طرف سے آواز آئی۔ ادھر آؤ۔ آپؐ اس کی طرف بھی ملتفت نہ ہوئے۔ جبریل نے کہا یہ عیسائیت کا داعی تھا۔ پھر ایک عورت نہایت بنی سنوری نظر آئی۔ اور اس نے اپنی طرف بلایا۔ آپؐنے اس سے بھی نظر پھیرلی۔ جبریلؑ نے کہا یہ دنیا تھی۔ پھر ایک بوڑھی عورت سامنے آئی۔ جبریلؑ نے کہا کہ دنیا کی عمر کا اندازہ اس کی عمر سے کرلیجیے۔ پھر ایک اور شخص ملاجس نے آپؐکو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ مگر آپؐ اُسے بھی چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ جبریل ؑنے کہا یہ شیطان تھا جو آپؐکو راستے سے ہٹانا چاہتاتھا۔
بیت المقدس پہنچ کر آپؐ براق سے اتر گئے اور اسی مقام پر اُسے باندھ دیا جہاں پہلے انبیاء اس کو باندھا کرتے تھے۔ ہیکل سلیمانی میں داخل ہوئے تو ان سب پیغمبروں کو موجود پایا جو ابتدائے آفرینش سے اس وقت تک دنیا میں پیدا ہوئے تھے۔ آپؐکے پہنچتے ہی نماز کے لیے صفیں بندھ گئیں۔ سب منتظر تھے کہ امامت کے لیے کون آگے بڑھتاہے۔ جبریل ؑنے آپؐ کاہاتھ پکڑ کر آگے بڑھادیا اور آپؐنے سب کو نماز پڑھائی۔ پھر آپؐ کے سامنے تین پیالے پیش کیے گئے۔ ایک میں پانی، دوسرے میں دودھ، تیسرے میں شراب۔ آپؐنے دودھ کا پیالہ اٹھالیا۔ جبریل ؑ نے مبارکباد دی کہ آپؐفطرت کی راہ پاگئے۔
اس کے بعد ایک سیڑھی آپؐکے سامنے پیش کی گئی اور جبریلؑ اس کے ذریعہ سے آپؐکو آسمان کی طرف لے چلے۔ عربی زبان میں سیڑھی کو معراج کہتے ہیںاور اسی مناسبت سے یہ سارا واقعہ معراج کے نام سے مشہور ہواہے۔
پہلے آسمان پر پہنچے تو دروازہ بند تھا۔ محافظ فرشتوں نے پوچھا کہ کون آتاہے؟ جبریل نے اپنا نام بتایا۔ پوچھا تمہارے ساتھ کون ہے؟ جبریلؑ نے کہا محمدؐ۔ پوچھا کیاانہیں بلایا گیاہے؟ کہا ہاں۔تب دروازہ کھلا اور آپؐکا پُرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔ یہاں آپؐ کاتعارف فرشتوں اور انسانی ارواح کی ان بڑی بڑی شخصیتوں سے ہوا جو اُس مرحلہ پر مقیم تھیں۔ اُن میں نمایاں شخصیّت ایک ایسے بزرگ کی تھی جو انسانی بناوٹ کا مکمل نمونہ تھے۔ چہرے مُہرے اور جسم کی ساخت میں کسی پہلو سے کوئی نقص نہ تھا۔ جبریلؑ نے بتایا یہ آدمؑ ہیں۔ آپؐ کے مورثِ اعلیٰ۔ ان بزرگ کے دائیں بائیں بہت لوگ تھے۔ وہ دائیں جانب دیکھتے تو خوش ہوتے اور بائیں جانب دیکھتے تو روتے۔ پوچھا یہ کیا ماجراہے؟ بتایا گیا کہ یہ نسلِ آدم ہے۔ آدمؑ اپنی اولاد کے نیک لوگوں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور بُرے لوگوں کو دیکھ کر روتے ہیں۔
پھر آپؐکو تفصیلی مشاہدہ کا موقع دیا گیا۔ ایک جگہ آپؐنے دیکھا کچھ لوگ کھیتی کاٹ رہے ہیں اور جتنی کاٹتے جاتے ہیںاتنی ہی وہ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا یہ خداکی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں۔
پھر دیکھا کچھ لوگ ہیں جن کے سرپتھروں سے کچلے جارہے ہیں۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا یہ وہ لوگ ہیں جن کی سرگرانی انہیں نماز کے لیے اٹھنے نہ دیتی تھی۔
کچھ اور لوگ دیکھے جن کے کپڑوں میں آگے اور پیچھے پیوند لگے ہوئے تھے اور وہ جانور وں کی طرح گھاس چررہے تھے۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا یہ وہ ہیں جو اپنے مال میں سے زکوٰۃ خیرات کچھ نہ دیتے تھے۔
پھر ایک شخص کو دیکھا کہ لکڑیوں کا گٹھا جمع کرکے اٹھانے کی کوشش کرتاہے اور جب وہ نہیں اٹھتا تو اس میں کچھ اور لکڑیاں بڑھالیتاہے۔ پوچھا یہ کون احمق ہے؟ کہا گیا یہ وہ شخص ہے جس پر امانتوں اور ذمہ داریوں کا اتنا بوجھ تھاکہ اٹھانہ سکتا تھا۔ مگر یہ ان کو کم کرنے کی بجائے اور زیادہ ذمہ داریوں کا بار اپنے اوپر لادے چلا جاتاتھا۔
پھر دیکھا کہ کچھ لوگوں کی زبانیں اور ہونٹ قینچیوں سے کترے جارہے ہیں۔ پوچھا یہ کون ہیں؟کہا گیا یہ غیرذمہ دار مقرر ہیںجو بے تکلّف زبان چلاتے اور فتنہ برپا کیا کرتے تھے۔
ایک اور جگہ دیکھا کہ ایک پتھر میں ذرا سا شگاف ہوا اور اس سے ایک بڑا موٹا سا بیل نکل آیا۔ پھر وہ بیل اسی شگاف میں واپس جانے کی کوشش کرنے لگا مگر نہ جاسکا۔ پوچھا یہ کیا معاملہ ہے؟ کہا گیا یہ اس شخص کی مثال ہے جو غیرذمہ داری کے ساتھ ایک فتنہ انگیز بات کرجاتاہے پھر نادم ہوکر اس کی تلافی کرنا چاہتاہے مگر نہیں کرسکتا۔
ایک اور مقام پر کچھ لوگ تھے جو اپنا گوشت کاٹ کاٹ کر کھارہے تھے۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا یہ دوسروں پر زبانِ طعن دراز کرتے تھے۔
ایک اور مقام پر کچھ اورلوگ تھے جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرتے اور ان کی عزّت پر حملے کیا کرتے تھے۔
کچھ اور لوگ دیکھے جن کے ہونٹ اونٹوں کے مشابہ تھے۔ اور وہ آگ کھارہے تھے۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا یہ یتیموں کا مال ہضم کرتے تھے۔
پھر دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے پیٹ بے انتہا بڑے اور سانپوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ آنے جانے والے ان کو روندتے ہوئے گزرتے ہیں مگر وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتے۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا یہ سودخوار ہیں۔
پھر کچھ اور لوگ نظر آئے جن کے ایک جانب نفیس چکنا گوشت رکھا تھا اور دوسری جانب سڑا ہوا گوشت جس سے سخت بدبو آرہی تھی۔ وہ اچھا گوشت چھوڑ کرسڑا ہوا گوشت کھارہے تھے۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا یہ وہ مرد اور عورتیں ہیں جنہوں نے حلال بیویوں اور شوہروں کے ہوتے حرام سے اپنی خواہش نفس پوری کی۔
پھر دیکھا کہ کچھ عورتیں اپنی چھاتیوں کے بل لٹک رہی ہیں۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا یہ وہ عورتیں ہیں جنہوں نے اپنے شوہروں کے سر ایسے بچے منڈھ دیے جو اُن کے نہ تھے۔
انہی مشاہدات کے سلسلہ میں نبی ﷺ کی ملاقات ایک ایسے فرشتے سے ہوئی جو نہایت تُرش روئی سے ملا۔ آپؐنے جبریلؑ سے پوچھا، اب تک جتنے فرشتے ملے تھے سب خندہ پیشانی اور بشاش چہروں کے ساتھ ملے، ان حضرت کی خشک مزاجی کا کیا سبب ہے؟ جبریلؑ نے کہا اس کے پاس ہنسی کا کیا کام، یہ تو دوزخ کا داروغہ ہے۔ یہ سن کر آپؐنے دوزخ دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے یکایک آپؐکی نظر کے سامنے سے پردہ اٹھادیا اور دوزخ اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ نمودار ہوگئی۔
اس مرحلہ سے گزر کر آپؐدوسرے آسمان پر پہنچے۔ یہاں کے اکابر میں دونوجوان سب سے ممتاز تھے۔ تعارف پر معلوم ہوا یہ یحیٰؑ اور عیسیٰؑ ہیں۔
تیسرے آسمان پر آپؐکا تعارف ایک ایسے بزرگ سے کرایا گیا جن کا حُسن عام انسانوں کے مقابلہ میں ایسا تھا جیسے تاروں کے مقابلے میں چودھویں کاچاند۔ معلوم ہوا یہ یوسف علیہ السلام ہیں۔
چوتھے آسمان پر حضرت ادریس ؑ، پانچویں پر حضرت ہارون ؑ، چھٹے پر حضرت موسی ؑ آپؐسے ملے۔ ساتویں آسمان پر پہنچے تو ایک عظیم الشان محل (بیت المعمور) دیکھا۔ جہاں بے شمار فرشتے آتے اور جاتے تھے۔ اس کے پاس آپؐکی ملاقات ایک ایسے بزرگ سے ہوئی جو خود آپؐسے بہت مشابہ تھے۔ تعارف پر معلوم ہواحضرت ابراہیمؑ ہیں۔
پھر مزید ارتقا شروع ہوا یہاں تک کہ آپؐ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچ گئے جو پیش گاہِ ربُّ العزّت اور عالمِ خلق کے درمیان حدِّ فاصل کی حیثیت رکھتاہے۔ نیچے سے جانے والے یہاں رُک جاتے ہیں اور اوپر سے احکام اور قوانین براہِ راست یہاں آتے ہیں۔ اسی مقام کے قریب آپؐکو جنت کا مشاہدہ کرایا گیا۔ اور آپؐنے دیکھا کہ اللہ نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ کچھ مہیا کررکھاہے جونہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سُنا اور نہ کسی ذہن میں اس کا تصور تک گزرسکا۔
سدرۃ المنتہیٰ پر جبریل ٹھہرگئے اور آپ تنہا آگے بڑھے۔ ایک بلند ہموار سطح پر پہنچے تو بارگاہِ جلال سامنے تھی۔ ہم کلامی کا شرف بخشا گیا۔ جو باتیں ارشاد ہوئیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:
۱۔ ہرروز پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔
۲۔ سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں تعلیم فرمائی گئیں۔
۳۔ شرک کے سوا دوسرے سب گناہوں کی بخشش کا امکان ظاہر کیا گیا۔
۴۔ ارشاد ہوا کہ جو شخص نیکی کا ارادہ کرتاہے اس کے حق میں ایک نیکی لکھ لی جاتی ہے اور جب وہ اس پر عمل کرتا ہے تو دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ مگر جو برائی کا ارادہ کرتاہے اس کے خلاف کچھ نہیں لکھا جاتا اور جب وہ اس پر عمل کرتاہے تو ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے۔
پیشیٔ خداوندی سے واپسی پر نیچے اُترے تو حضرت موسیٰؑ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے روداد سُن کرکہا کہ میں بنی اسرائیل کا تلخ تجربہ رکھتاہوں، میرا اندازہ ہے کہ آپؐ کی اُمّت پچاس نمازوں کی پابندی نہیں کرسکتی۔جایئے اور کمی کے لیے عرض کیجیے۔ آپؐگئے اور اللہ جل شانہٗ نے دس نمازیں کم کردیں۔ پلٹے تو حضرت موسیٰؑ نے پھر وہی بات کہی۔ ان کے کہنے پر آپؐ باربار اوپر جاتے رہے اور ہر بار دس نمازیں کم کی جاتی رہیں۔ آخر پانچ نمازوں کی فرضیت کا حکم ہوا اور فرمایا گیا کہ یہی پچاس کے برابر ہیں۔
واپسی کے سفرمیں آپؐ اسی سیڑھی سے اُتر کر بیت المقدس آئے۔ یہاں پھر تمام پیغمبر موجودتھے۔ آپؐنے ان کو نماز پڑھائی جو غالباً فجر کی نماز تھی۔ پھر براق پر سوار ہوئے اور مکّہ واپس پہنچ گئے۔
سب سے پہلے آپؐنے اپنی چچازاد بہن اُمِّ ہانی کو یہ روداد سنائی۔ پھر باہر نکلنے کا قصد کیا۔ انہوں نے آپؐکی چادر پکڑلی اور کہا خدا کے لیے یہ قصّہ لوگوں کو نہ سنایئے گا ورنہ اُن کو آپؐکامذاق اڑانے کے لیے ایک اور شوشہ ہاتھ آجائے گا، مگر آپؐیہ کہتے ہوئے باہر نکل گئے کہ میں ضرور بیان کروں گا۔ حرمِ کعبہ میں پہنچے تو ابوجہل سے آمنا سامنا ہوا۔ اُس نے کہا۔ کوئی تازہ خبر؟ فرمایا ہاں۔ پوچھا کیا؟ فرمایاکہ میں آج کی رات بیت المقدس گیا تھا۔ کہا بیت المقدس؟ راتوں رات ہو آئے اور صبح یہاں موجود؟ فرمایا ہاں۔ کہا قوم کو جمع کروں، سب کے سامنے یہی بات کہوگے؟ فرمایا’’بیشک‘‘ ابوجہل نے آواز یں دے دے کر سب کو جمع کرلیا اور کہا، لو اب کہو۔ آپؐ نے سب کے سامنے پورا قصّہ بیان کردیا۔ لوگوں نے مذاق اڑانا شروع کیا۔ دومہینے کا سفر ایک رات میں؟ ناممکن! محال! پہلے توشک تھا، اب یقین ہوگیا کہ تم دیوانے ہوگئے ہو۔
آناً فاناً یہ خبر تمام مکّہ میں پھیل گئی۔ بہت سے مسلمان اس کو سن کر اسلام سے پھر گئے۔ لوگ اس امید پر حضرت ابوبکرؓ کے پاس پہنچے کہ یہ محمدؐ کے دستِ راست ہیں، یہ پھر جائیں تو اس تحریک کی جان ہی نکل جائے۔ انہوں نے یہ قصہ سُن کر کہا کہ اگر واقعی محمد ﷺنے یہ واقعہ بیان کیا ہے تو ضرور سچ ہوگا، اس میں تعجّب کی کیا بات ہے، میں تو روز سنتاہوں کہ ان کے پاس آسمان سے پیغام آتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتاہوں۔
حضرت ابوبکرؓ حرم کعبہ میں آئے ۔ رسولؐ اللہ موجود تھے۔ اور ہنسی اُڑانے والا مجمع بھی۔ پوچھا کیا واقعی آپؐنے ایسا فرمایاہے؟ جواب دیا، ہاں۔ کہا بیت المقدس میرا دیکھاہوا ہے۔ آپؐوہاں کا نقشہ بیان کریں۔ آپؐ نے فوراً نقشہ بیان کرنا شروع کردیا اور ایک ایک چیز اس طرح بیان کی گویا بیت المقدس سامنے موجود ہے اور دیکھ دیکھ کر اس کی کیفیّت بتارہے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ کی اس تدبیر سے جھٹلانے والوں کو ایک شدید ضرب لگی۔ وہاں بہ کثرت ایسے آدمی موجود تھے جو تجارت کے سلسلہ میں بیت المقدس جاتے رہتے تھے۔ وہ سب دلوں میں قائل ہوگئے کہ نقشہ بالکل صحیح ہے۔ اب لوگ آپؐکے بیان کی صحت کا مزید ثبوت مانگنے لگے۔ فرمایا جاتے ہوئے میں فلاں مقام پر فلاں قافلہ پر سے گزرا۔ جس کے ساتھ یہ سامان تھا، قافلہ والوں کے اونٹ براق سے بھڑکے، ایک اونٹ فلاں وادی کی طرف بھاگ نکلا، میں نے قافلہ والوں کو اس کا پتہ دیا۔ واپسی میں فلاں وادی میں فلاں کے قبیلے کاقافلہ مجھے ملا، سب لوگ سورہے تھے۔ میں نے ان کے برتن سے پانی پیا اوراس بات کی علامت چھوڑ دی کہ اس سے پانی پیا گیاہے۔ ایسے ہی کچھ اور اَتے پَتے آپؐنے دیے اور بعد میں آنے والے قافلوں سے ان کی تصدیق ہوئی۔ اس طرح زبانیں بند ہوگئیں۔ مگر دل یہی سوچتے رہے کہ یہ کیسے ہوسکتاہے؟ آج بھی بہت سے لوگ سوچ رہے ہیں کہ یہ کیسے ہوا؟ (نشری تقریریں :معراج کا سفر نامہ)
تشریح :یہ وہی واقعہ ہے جو اصطلاحاً ’’معراج‘‘ اور ’’اسر اء‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اکثر اور معتبر روایات کی رو سے یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے پیش آیا۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں اس واقعہ کی تفصیلات بہ کثرت صحابہؓ سے مروی ہیں، جن کی تعداد پچیس تک پہنچتی ہے۔ ان میں سے مفصل ترین روایات حضرت انس بن مالکؓ، حضرت مالک بن صعصعہؓ، حضرت ابوذر غفاریؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہیں۔ ان کے علاوہ حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت ابوسعید خدریؓ، حضرت حذیفہ بن یمانؓ، حضرت عائشہؓ اور متعدد دوسرے صحابہؓ نے بھی اس کے بعض اجزا بیان کیے ہیں۔
اس سفر کی کیفیت کیا تھی؟ یہ عالمِ خواب میں پیش آیا تھا یا بیداری میں؟ اور آیا حضورؐ بذاتِ خود تشریف لے گئے تھے یا اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے محض روحانی طورپر ہی آپؐکو یہ مشاہدہ کرادیاگیا؟ ان سوالات کا جواب قرآن مجید کے الفاظ خود دے رہے ہیں۔ سُبْحٰنَ الَّذِیْ ٓاَسْرٰی سے بیان کی ابتداء کرنا خود بتارہاہے کہ یہ کوئی بہت بڑا خارقِ عادت واقعہ تھا جواللہ تعالیٰ کی غیرمحدود قدرت سے رُونما ہوا۔ ظاہر ہے کہ خواب میں کسی شخص کا اس طرح کی چیزیں دیکھ لینا یا کشف کے طورپر دیکھنا یہ اہمیت نہیں رکھتاکہ اسے بیان کرنے کے لیے اس تمہید کی ضرورت ہو کہ تمام کمزوریوں اور نقائص سے پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو یہ خواب دکھایا یا کشف میں یہ کچھ دکھایا۔ پھر یہ الفاظ بھی کہ ’’ایک رات اپنے بندے کو لے گیا‘‘ آپؐکے جسمانی سفر پر صریحاً دلالت کرتے ہیں۔ خواب کے سفر یا کشفی سفر کے لیے یہ الفاظ کسی طرح موزوں نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا ہمارے لیے یہ مانے بغیرچارہ نہیں کہ یہ محض ایک روحانی تجربہ نہ تھا بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو کرایا۔
اب اگر ایک رات میں ہوائی جہازکے بغیر مکّہ سے بیت المقدس جانا اور آنا اللہ کی قدرت سے ممکن تھا تو آخر ان دوسری تفصیلات کو ناممکن کہہ کر کیوں رد کردیاجائے جو حدیث میں بیان ہوئی ہیں؟ ممکن اور ناممکن کی بحث تو صرف اُس صورت میں پیدا ہوتی ہے جب کہ کسی مخلوق کے باختیارِ خود کوئی کام کرنے کا معاملہ زیر بحث ہو۔ لیکن جب ذکریہ ہوکہ خدا نے فلاں کام کیا تو پھرامکان کا سوال وہی شخص اٹھاسکتاہے جسے خدا کے قادر مطلق ہونے کا یقین نہ ہو۔ اس کے علاوہ جودوسری تفصیلات حدیث میں آئی ہیں ان پر منکرینِ حدیث کی طرف سے متعدد اعتراضات کیے جاتے ہیں، مگران میں سے صرف دوہی اعتراضات ایسے ہیں جو کچھ وزن رکھتے ہیں۔
ایک یہ کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا کسی خاص مقام پر مقیم ہونا لازم آتاہے، ورنہ اس کے حضور بندے کی پیشی کے لیے کیا ضرورت تھی کہ اسے سفر کراکے ایک مقامِ خاص تک لے جایا جاتا؟
دوسرے یہ کہ نبی ﷺکو دوزخ اور جنت کا مشاہدہ اور بعض لوگوں کے مبتلائے عذاب ہونے کا معائنہ کیسے کرادیا گیا جب کہ ابھی بندوں کے مقدمات کا فیصلہ ہی نہیں ہوا ہے؟ یہ کیا کہ سزا وجزا کا فیصلہ تو ابھی ہونا ہے قیامت کے بعد، اور کچھ لوگوں کو سزا دے ڈالی گئی ہے ابھی سے؟
لیکن دراصل یہ دونوں اعتراض بھی قلتِ فکر کا نتیجہ ہیں۔ پہلا اعتراض اس لیے غلط ہے کہ خالق اپنی ذات میں تو بلاشبہ اطلاقی شان رکھتاہے، مگر مخلوق کے ساتھ معاملہ کرنے میں وہ اپنی کسی کمزوری کی بنا پر نہیں بلکہ مخلوق کی کمزوریوں کی بناء پر محدود وسائط اختیار کرتاہے۔ مثلاً جب وہ مخلوق سے کلام کرتاہے تو کلام کا وہ محدود طریقہ استعمال کرتاہے جسے ایک انسان سُن اور سمجھ سکے، حالانکہ بجائے خود اس کا کلام ایک اطلاقی شان رکھتاہے۔ اسی طرح جب وہ اپنے بندے کو اپنی سلطنت کی عظیم الشان نشانیاں دکھانا چاہتاہے تو اسے لے جاتاہے اور جہاں جو چیز دکھانی ہوتی ہے اسی جگہ دکھاتاہے، کیونکہ وہ ساری کائنات کو بیک وقت اس طرح نہیں دیکھ سکتا جس طرح خدا دیکھتاہے۔ خدا کو کسی چیز کے مشاہدے کے لیے کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہوتی، مگر بندے کو ہوتی ہے۔ یہی معاملہ خالق کے حضور بازیابی کا بھی ہے کہ خالق بذاتِ خود کسی مقام پر متمکن نہیں ہے، مگر بندہ اس کی ملاقات کے لیے ایک جگہ کا محتاج ہے جہاں اس کے لیے تجلّیات کو مرکوز کیا جائے ورنہ اُس کی شانِ اطلاق میں اس سے ملاقات بندۂ محدود کے لیے ممکن نہیں ہے۔
رہا دوسرا اعتراض تو وہ اس لیے غلط ہے کہ معراج کے موقع پر بہت سے مشاہدات جو نبی ﷺ کو کرائے گئے تھے ان میں بعض حقیقتوں کو ممثّل کرکے دکھایا گیاتھا۔ مثلاً ایک فتنہ انگیز بات کی یہ تمثیل کہ ایک ذراسے شگاف میں سے ایک موٹاسا بیل نکلا اور پھر اس میں واپس نہ جاسکا۔ یازناکاروں کی یہ تمثیل کہ ان کے پاس تازہ نفیس گوشت موجود ہے مگر وہ اسے چھوڑ کر سڑا ہوا گوشت کھارہے ہیں۔ اسی طرح بُرے اعمال کی جو سزائیں آپ کو دکھائی گئیں وہ بھی تمثیلی رنگ میں عالمِ آخرت کی سزاؤں کا پیشگی مشاہدہ تھیں۔
اصل بات جو معراج کے سلسلے میں سمجھ لینی چاہیے وہ یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ نے ان کے منصب کی مناسبت سے ملکوتِ سمٰوٰت وارض کامشاہدہ کرایاہے اور مادّی حجابات بیچ میں سے ہٹاکر آنکھوں سے وہ حقیقتیں دکھائی ہیں جن پر ایمان بالغیب لانے کی دعوت دینے پر وہ مامورکیے گئے تھے، تاکہ ان کا مقام ایک فلسفی کے مقام سے بالکل ممیّز ہوجائے۔ فلسفی جوکچھ بھی کہتاہے قیاس اور گمان سے کہتاہے، وہ خود اگر اپنی حیثیت سے واقف ہوتو کبھی اپنی کسی رائے کی صداقت پر شہادت نہ دے گا۔ مگر انبیاء جو کچھ کہتے ہیں وہ براہِ راست علم اور مشاہدے کی بناء پر کہتے ہیں، اور وہ خلق کے سامنے یہ شہادت دے سکتے ہیں کہ ہم ان باتوں کو جانتے ہیں اور یہ ہماری آنکھوں دیکھی حقیقتیں ہیں۔
(تفہیم القرآن ج۲، بنی اسرائیل، حاشیہ:۱)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیٍْرٍ، قَالَ: ثَنَا اللَّیْثُ، عَنْ یُوْنُسَ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ،عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ:کَانَ اَبُوْذَرٍّ یُحَدِّثُ اَنَّ النَّبِیَّﷺ قَالَ:فُرِجَ عَنْ سَقْفِ بَیْتِیْ وَاَنَا بِمَکَّۃَ، فَنَزَلَ جِبْرَائِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَفَرَجَ صَدْرِیْ ثُمَّ غَسَلَہٗ بِمَائِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَآئَ بِطَشْتٍ مِنْ ذَھَبٍ مُمْتَلِیئٍ حِکْمَۃً وَاِیْمَانًا فَاَفْرَغَہٗ فِیْ صَدْرِیْ ثُمَّ اَطْبَقَہٗ ثُمَّ اَخَذَ بِیَدِیْ فَعَرَجَ بِیْ اِلَی السَّمَآئِ فَلَمَّا جِئْتُ اِلَی السَّمَآئِ الدُّنْیَا قَالَ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ لِخَازِنِ السَّمَآئِ اِفْتَحْ قَالَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: ھٰذَا جِبْرِیْلُ قَالَ: ھَلْ مَعَکَ اَحَدٌ؟ قَالَ: نَعَمْ مَعِیْ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ:أَ اُرْسِلَ اِلَیِْہِ؟ قَالَ:نََعَمْ، فَلَمَّا فُتِحَ عَلَوْنَا السَّمَآئَ الدُّنْیَا فَاِذَا رَجُلٌ قَاعِدٌ عَلٰی یَمِیْنِہٖ اَسْوِدَۃٌ وَعَلٰی یَسَارِہٖ اَسْوِدَۃٌ اِذَا نَظَرَ قِبَلَ یَمِیْنِہٖ ضَحِکَ وَاِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِہٖ بَکیٰ فَقَالَ:مَرْحَبًا بِالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَالْاِبْنِ الصَّالِحِ قُلْتُ لِجِبْرَئِیْلَ:مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ:ھٰذَااٰدَمُ وَھٰذِہِ الْاَسْوِدَۃُ عَنْ یَمِیْنِہٖ وَشِمَالِہٖ نَسَمُ بَنِیْہِ فَاَھْلُ الْیَمِیْنِ مِنْھُمْ اَھْلُ الْجَنَّۃِ وَالْاَسْوِدَۃُ الَّتِیْ عَنْ شِمَالِہٖ اَھْلُ النَّارِ فَاِذَا نَظَرَ عَنْ یَمِیْنِہٖ ضَحِکَ وَاِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِہٖ بَکیٰ۔
حَتّٰی عَرَجَ بِیْ اِلَی السَّمَآئِ الثَّانِیَۃِ فَقَالَ: لِخَازِنِھَا:اِفْتَحْ فَقَالَ لَہٗ خَازِنُھَا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُ فَفُتِحَ قَالَ اَنَسٌ:فَذَکَرَ اَنَّہٗ وَجَدَ فِی السَّمٰوٰتِ اٰدَمَ وَاِدْرِیْسَ وَمُوْسیٰ وَعِیْسٰی وَاِبْرَاھِیْمَ وَلَمْ یَثْبُتْ کَیْفَ مَنَازِلُھُمْ غَیْرَ اَنَّہٗ ذَکَرَ اَنَّہٗ وَجَدَ اٰدَمَ فِی السَّمَآئِ الدُّنْیَا وَاِبْرَاھِیْمَ فِی السَّمَآئِ السَّادِسَۃِ۔
قَالَ اَنَسٌ:فَلَمَّا مَرَّ جِبْرَائِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ بِالنَّبِیِّ ﷺ بِاِدْرِیْسَ قَالَ:مَرْحَبًابِالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَالْاَخِ الصَّالِحِ فَقُلْتُ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ:ھٰذَا اِدْرِیْسُ، ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوْسٰی فَقَالَ:مَرْحَبًا بِالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَالْاَخِ الصَّالِحِ، قُلْتُ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: ھٰذَا مُوْسٰی ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِیْسٰی فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَالْاَخِ الصَّالِحِ، قُلْتُ:مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: ھٰذَا عِیْسیٰ ثُمَّ مَرَرْتُ بِاِبْرَاھِیْمَ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَالْاِبْنِ الصَّالِحِ قُلْتُ : مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ ھٰذَا اِبْرَاھِیْمُ۔
قَالَ ابْنُ شِھَابٍ:فَاَخْبَرَنِی بْنُ حَزْمٍ اَنَّ بْنَ عَبَّاسٍ وَاَبَا حَبَّۃَ الْاَنْصَارِیَّ کَانَا یَقُوْلاَنِ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ ثُمَّ عُرِجَ بِیْ حَتّٰی ظَھَرْتُ لِمُسْتَوًی اَسْمَعُ فِیْہِ صَرِیْفَ الْاَقْلاَمِ قَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَاَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ فَفَرَضَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی اُمَّتِیْ خَمْسِیْنَ صَلٰوۃً فَرَجَعْتُ بِذَالِکَ حَتّٰی مَرَرْتُ عَلٰی مُوْسٰی فَقَالَ:مَا فَرَضَ اللّٰہُ لَکَ عَلٰی اُمَّتِکَ؟ قُلْتُ:فَرَضَ خَمْسِیْنَ صَلٰوۃً۔ قَالَ:فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاِنَّ اُمَّتَکَ لاَتُطِیْقُ، فَرَاجَعْتُ فَوَضَعَ شَطْرَھَا فَرَجَعْتُ اِلٰی مُوْسٰی قُلْتُ: وَضَعَ شَطْرَھَا فَقَالَ:رَاجِعْ رَبَّکَ فَاِنَّ اُمَّتَکَ لاَتُطِیْقُ ذٰلِکَ، فَرَاجَعْتُ فَوَضَعَ شَطْرََھَا فَرَجَعْتُ اِلَیْہِ فَقَالَ: اِرْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاِنَّ اُمَّتَکَ لَاتُطِیْقُ ذٰلِکَ، فَرَاجَعْتُہٗ، فَقَالَ: ھِیَ خَمْسٌ وَھِیَ خَمْسُوْنَ لاَیُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ فَرَجَعْتُ اِلٰی مُوْسٰی فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّکَ فَقُلْتُ اسْتَحْیَیْتُ مِنْ رَّبِّیْ ثُمَّ اَنْطَلَقَ بِیْ حَتَّی انْتُھِیَ بِیْ اِلٰی سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی وَغَشِیَھَا اَلْوَانٌ لاَاَدْرِی مَاھِیَ ثُمَّ اُدْخِلْتُ الْجَنَّۃَ فَاِذَا فِیْھَاحَبَائِلُ اللُّؤْلُؤِوَاِذَا تُرَابُھَا الْمِسْکُ۔(۱)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ ابوذر غفاری حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: کہ میں مکّہ میں تھا کہ میرے گھر کی چھت کھُل گئی۔ جبریل علیہ السلام نازل ہوئے۔ انہوں نے میرا سینہ کھولا اور آبِ زمزم سے اسے دھویا۔ پھر سنہری طشت لایا گیا جو حکمت وایمان سے لبریز تھا۔ جبریل نے اسے میرے سینے میں انڈیل کر بند کردیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر آسمان کی طرف لے چڑھے۔ جب میں آسمانِ دنیا تک پہنچا تو جبریلؑ نے آسمان کے نگراں د