تفہیم الاحادیث (جلد اول)

ریڈ مودودی ؒ   کی اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’ادارہ معارف اسلامی، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF میں ملاحظہ کیجیے۔

چند باتیں

قارئین محترم کی خدمت میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے فکر و قلم کے شاہ کار تفہیم الاحادیث کا زیر نظر حصہ پیش کرتے ہوے ہمیں یک گونہ خوشی و مسرت محسوس ہورہی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی اس عنایت کے لیے اس کے بے حد شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمیں اکیسویں صدی کے بالکل آغاز میں اپنے رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ارشادات و فرمودات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب پیش کرنے کی توفیق بخشی ۔ ہمیں یقین ہے کہ ملت اسلامیہ ہند کی طرف سے مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز کی اس پیش کش کا خیر مقدم کیا جائے گا اور حدیث کے اس مبارک سلسلے کو تمام انسانوں تک پہنچانے اور انھیں پیغام رسولؐ سے روشناس کرانے میں مکتبے کے ساتھ بھر پور تعاون کا مظاہرہ ہوگا۔
تفہیم الاحادیث مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کوئی مستقل تصنیف نہیں ، بلکہ یہ ان احادیث کا مجموعہ ہے، جو مولانا محترم نے اپنی شہرۂ آفاق تفسیر ’’تفہیم القرآن ‘‘ اور بعض دوسری تصانیف میں حسب موقع نقل کی ہیں ۔
صورت واقعہ یہ ہے کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جس نہج پر اپنی مقبول عام تفسیر ’’تفہیم القرآن ‘‘ کی چھے۶ جلدیں تحریر کی تھیں، بالکل اسی نہج پر وہ احادیث پر بھی کام کرنے کا عزم مصمّم کرچکے تھے۔ نہ صرف عزم مصمم کرچکے تھے، بلکہ انھوں نے اس کام کے لیے ایک ابتدائی خاکہ بھی تیار کرلیا تھا ـــــــلیکن اچانک وہ بیمار ہوگئے، پھر بیماریوں کا سلسلہ اتنا طویل ہوتا گیا کہ انھیں اس سے نجات ہی نہ مل سکی۔ اسی بیماری میں ان کی مہلتِ عمر بھی ختم ہوگئی۔ اس کے بعد یہ کام التوا میں پڑگیا۔ وفات کے کافی دنوں کے بعد مولانا محترم کے رفیق خاص مولانا خلیل احمد حامدیؒڈائریکٹر ادارۂ معارف اسلامی منصورہ کو اس کام کی فکر لاحق ہوئی۔ چنانچہ انھوں نے ذمے داروں اور دوسرے ارباب علم و دانش کے مشوروں سے علوم اسلامیہ اور عربی ادب کے فاضل مشہور عالم و محقق مولانا عبدالوکیل علوی کو یہ ذمّے داری تفویض کی کہ وہ تفہیم القرآن اور دوسری تصانیف کی مدد سے مولانا محترم کے بنائے ہوئے خاکے میں رنگ بھریں۔ چنانچہ مولانا موصوف نے پورے کام کااز سر نو خاکہ تیارکیا اور ضروری کتب فراہم کرکے کام کا آغاز کردیا۔
مولانا عبدالوکیل علوی کا نام تحریکی حلقے کے لیے غیر معروف و اجنبی نہیں ہے۔ وہ عربی ادب کے مایۂ ناز فاضل، اسلامی علوم کے ذہین عالم اور صاحب طرز اہل قلم کی حیثیت سے تعارف رکھتے ہیں۔اس سے پہلے مولانا مودودیؒ کی تصانیف کی مدد سے وہ متعدد ترتیبی و تخریجی خدمات انجام دے چکے ہیں ۔سیرت سرور عالم کی دو جلدیں ان کی ترتیبی و تخریجی صلاحیت کی بہترین نمایندگی کرتی ہیں۔
مولانا عبدالوکیل علوی نے اس کام میں کتنا وقت صرف کیا ہے ،انھوں نے احادیث کی چھان بین اور ترتیب و تخریج میں کتنی عرق ریزی اور دقّتِ نظر سے کام لیا ہے، یہ سب بتانے کی ضرورت نہیں۔ پڑھنے والے خود ہی اس کا ادراک کرلیں گے۔ ’’مشک آنست کہ خود بہ بوید نہ کہ عطار بگوید‘‘ اصلی مشک خود اپنی مہک سے پہچان لیا جاتا ہے، اس کے لیے کسی عطار کی تعریف و توصیف کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز کی اس کوشش کو شرفِ قبول سے نوازے، تمام انسانوں کے لیے اِسے نفع بخش بنائے اور اس کی تیاری میں جن رفقاء اور کارکنوں نے حصہ لیا ہے، انھیں حدیثِ رسول ؐ کی خدمت کی برکات سے سرفراز کرے۔

ناشر
مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،نئی دہلی

عرض مرتب

الحمد للہ تفہیم الاحادیث کے جس کار عظیم کو آج سے چند سال قبل شروع کیا گیاتھا، اسے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے ۔ یہ سعادت محض خالق ارض وسما کے فضل وکرم اور اس کی توفیق خاص کی مرہون منت ہے۔ ورنہ ایں سعادت بہ زور بازو نیست۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑے کٹھن مراحل سے گزر کر ساحل تکمیل تک پہنچنے کی اپنی حد تک ایک کاوش کی گئی ہے۔ جب یہ کام شروع کیا گیا تب اندازہ ہوا کہ ایک ٹھوس علمی وتحقیقی کتاب اپنی طرف سے مدون ومرتب کرنے کے مقابلے میں مولانا محترم رحمتہ اللہ علیہ کے پورے ذخیرۂ کتب میں سے عبارتیں نکال کر کوئی کتاب ترتیب دینے کا کام کتنا محنت طلب ہے۔ تفہیم القرآن کی چھے جلدوں کے ساتھ ساتھ مولانا کے وسیع لٹریچر کو ایک خاص نقطۂ نظر سے پڑھنا، تمام احادیث کے متون، تراجم، تشریحات اور فقہی مسائل کی الگ الگ نشان زدگی، پھر اس کی تشریح کے لیے مفید مطلب مناسب و موزوں عبارات پر نشان لگانا، ان کی نقول تیار کرنا اور سب سے آخر میں ان کی بہ اعتبارِ ابواب و فصول ترتیب اور ان کی عنوان بندی، یہ سارا کام اتنا صبر آزماتھا کہ بار بار دامن ہمت تار تار ہوجانے کا اندیشہ لاحق ہوتارہا۔ مگر ایسے مواقع پر فضل ایزدی نے ڈھارس بندھائی اور کام جاری رہا۔ الحمد للہ آج اس کاوش اور سعی وجہد کا ثمرہ آپ کے سامنے ہے۔
تالیف وتدوین کا یہ کام اپنی نوعیت اور اہمیت کے اعتبار سے جتنا اہم اور عظیم ہے، اپنے حجم کے لحاظ سے اُسی قد ر ضخیم بھی۔ اس کام کی تکمیل پر کس قدر محنت کی گئی یا کتنی عرق ریزی سے یہ کام انجام پایا؟ اس کا صحیح اندازہ صرف انہیں کو ہوسکتاہے، جنہوں نے کبھی اس وادیٔ پر خار میں قدم رکھاہو۔مولانا کی تصانیف میں سے انتخاب کرکے جو مواد نقل کیا گیا، وہ سیکڑوں نہیں بل کہ ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں وہ تمام احادیث جمع کی گئی ہیں، جنہیں مولانا محترم نے اپنے پورے لٹریچر میں استعمال کیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اسے نقل کرنے سے پہلے پورے کا پورا لٹریچر ایک خاص نقطہ نظر سے پڑھاگیا، عبارات پر نشان لگایا گیا اور واضح کیا گیا کہ یہ حدیث کا متن ہے اور یہ اس کا ترجمہ وتشریح۔ جن احادیث سے فقہی مسائل مستنبط کیے گئے، ان پر الگ نشان لگایاگیااور متنِ حدیث کی بجائے کہیں محض ترجمہ ملا تو اسے بھی نکال لیا گیا۔
مولانا محترم نے زیادہ تر مقامات پر احادیث نقل کرتے وقت صرف اتنا کہہ دیاہے کہ فلاں حدیث بخاری ومسلم میں ہے یا متفق علیہ یا ابوداؤد اور ترمذی وغیرہ نے اسے روایت کیاہے۔ اسی طرح احادیث کی دوسری کتب کے حوالے بھی دیے ہیں، مگر بخاری ومسلم نے اس حدیث کو کس کتاب میں، کس فصل یا باب میں اور کس عنوان کے تحت یا کتاب کے کس صفحے پر روایت کیاہے؟ اس کا التزام کم ہی کیا جاسکاہے۔ پھر مولانا محترم نے اکثر مقامات پر حدیث کا صرف اتنا ہی جز نقل کیاہے، جتنا انہیں اس مقام کے لحاظ سے استشہاد کے لیے مطلوب تھا۔ پوری حدیث نقل نہیں کی اور پوری سند تو بہت ہی کم نقل ہوسکی ہے۔
اس نقل شدہ مواد کو ایک مفید کتاب کی صورت میں مرتب ومدون کرنے کے لیے ان تمام نقل شدہ احادیث کی سندیں شامل کی گئیں۔ جہاں حدیث کا ایک جزو استعمال کیا گیا، وہ پوری حدیث مع سند نقل کی گئی تاکہ قاری یہ جان سکے کہ یہ کس حدیث کا جزو ہے یا کس محدث نے اپنی کس کتاب اوراس کتاب کے کس باب یا فصل میں اور کس عنوان کے تحت روایت کیا ہے وغیرہ۔ اورحدیث کے بارے میں محدث کی محدثانہ رائے کہ یہ حدیث کس درجے کی ہے، صحیح، حسن یا ضعیف وغیرہ بھی درج کی گئی ہے۔ مزید برآں ایسی احادیث بھی شامل کی گئی ہیں، جو ان کے مفہوم کی تائید کرتی ہیں، جنہیں مویدات کہہ سکتے ہیں۔ اس مفید اضافے سے اصل مواد کی ضخامت تو واقعۃً بڑھ گئی مگر فوائد میں بے حساب اضافہ بھی ہوا ہے۔
حدیث کی تخریج کے لیے جو اصول پیش نظر رکھاگیاہے وہ یہ ہے:
سب سے پہلے حدیث کو( بخاری ومسلم) میں تلاش کیاگیا۔ اگروہ ان میں مل گئی اور دونوں کے الفاظ بھی یکساں ملے تو اس صورت میں سند اور متن حدیث صحیح بخاری کا لیا گیا اور حوالے میں متفق علیہ درج کیا گیاہے۔ اگر صحیحین کی روایت میں معنوی یکسانی تو موجود ہے مگر لفظی اختلاف ہے تو اس صورت میں بھی سند اور متن حدیث صحیح بخاری کا لیا گیاہے اور صحیح مسلم کا اختلاف اور فرق الگ سے واضح کردیاگیاہے۔ اگر مولانا محترم نے خود ہی صحیح مسلم کی روایت لی ہے تو پھر اصل متن اسی روایت کو قراردیا گیاہے اور صحیح بخاری کی روایت میں جو اختلاف ہے، اسے واضح کرکے اس کا حوالہ دیاگیاہے اور اگر مولانا نے صحیحین کے علاوہ باقی کتب اربعہ یعنی سنن ابی داؤد، ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ میں سے کسی کا حوالہ دیا ہے اور وہ حدیث صحیحین میں سے کسی ایک میں بھی قدرے لفظی اختلاف یا فرق کے ساتھ موجود ہے تو اس صورت میں اصل ماخذ بیان کرنے کے بعد صحیحین کا حوالہ اور فرق واختلاف بھی درج کرنے کی محتاط کوشش کی گئی ہے۔اگرکوئی حدیث صحیحین میں نہ ملی تو پھر ابوداؤد کی روایت کو ترجیحا نقل کیاگیاہے۔ اگر ابوداؤد اور دیگر کتب میں بھی کوئی حدیث موجود ہے تو اصل متن کے طورپر ابوداؤد کی روایت درج کی گئی ہے اور باقی ترمذی، نسائی ، ابن ماجہ اور دیگر کتب کے حوالے درج کیے گئے ہیں۔ حوالوں کے بارے میں میری یہ کوشش رہی ہے کہ حتی الوسع ایک حدیث کے زیادہ سے زیادہ ممکن الحصول ماخذ ومصادر درج کیے جائیں۔ اصل کتب ماخذ جتنی مجھے دستیاب ہوسکیں، ان سب کے حوالے دینے کی بساط بھر کوشش کی ہے۔ تخریج مواد، اس کو نقل کرنے، عبارات پر اعراب لگانے اور اضافہ شدہ عربی عبارات کا ترجمہ کرنے کے بعد نقل شدہ مواد کی روشنی میں اسے ایک کتابی صورت میں لانے کے لیے اس کی پہلے ابواب بندی کی گئی اور پھر انہیں فصول اور مختلف عناوین کے تحت تقسیم کیا گیا۔ پھرذیلی عنوانات قائم کیے گئے۔ بعد ازاں حوالہ جات اور احادیث کے نمبر لگائے گئے اور ان حوالوں کو اپنے اپنے مقام پر درج کیا گیا تاکہ قاری کو اگر کسی عبارت کے اصل ماخذ کی ضرورت محسوس ہوتو وہ بغیر کسی دشواری اور پریشانی کے اصل ماخذ سے رجوع کرسکے۔
آخر میں بارگاہِ رب العزت میں دست بہ دعاہو ںکہ اس کام کو اللہ تعالیٰ کے حضور شرف قبول حاصل ہو اور یہ مولانا محترم کے لیے بلندی درجات کا باعث بنے۔

وماتوفیقی الا باللہ
خاکسار
عبدالوکیل علوی

مقدمہ

اسلام کی نعمت ہر زمانے میں انسان کو دو ہی ذرائع سے پہنچی ہے۔ ایک اللہ کا کلام ، دوسرے انبیاء علیہم السلام کی شخصیتیں جن کو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اپنے کلام کی تبلیغ و تعلیم اور تفہیم کا واسطہ بنایا، بلکہ اس کے ساتھ عملی قیادت و رہنمائی کے منصب پر بھی مامو ر کیا تاکہ وہ کلام اللہ کا ٹھیک ٹھیک منشا پورا کرنے کے لیے انسانی افراد اور معاشرے کا تزکیہ کریں اور انسانی زندگی کے بگڑے ہوئے نظام کو سنوارکر اس کی تعمیر صالح کردکھائیں۔
یہ دونوں چیزیں ہمیشہ سے ایسی لازم و ملزوم رہی ہیں کہ ان میں سے کسی کو کسی سے الگ کرکے نہ انسان کو کبھی دین کا صحیح فہم نصیب ہوسکا ، اور نہ وہ ہدایت سے بہرہ یاب ہوسکا۔ کتاب کو نبی سے الگ کردیجیے تو وہ ایک کشتی ہے، نا خدا کے بغیر، جسے لے کر اناڑی مسافر زندگی کے سمندر میں خواہ کتنے ہی بھٹکتے پھریں، منزل مقصود پر کبھی نہیں پہنچ سکتے، اور نبی کو کتاب سے الگ کردیجیے، تو خدا کا راستہ پانے کے بجائے آدمی ناخدا ہی کو خدا بنابیٹھنے سے کبھی نہیں بچ سکتا۔ یہ دونوں ہی نتیجے پچھلی قومیں دیکھ چکی ہیں۔ ہندوئوں نے اپنے انبیاء کی سیرتوں کو گم کیا اور صرف کتابیں لے کر بیٹھ گئے۔ انجام یہ ہوا کہ کتابیں ان کے لیے گورکھ دھندوں سے بڑھ کر کچھ نہ رہیں۔ حتیّٰ کہ آخرکار خود انھیں بھی وہ گم کر بیٹھے ۔ عیسائیوں نے کتاب کو نظر انداز کر کے نبی کا دامن پکڑا اور اس کی شخصیت کے گرد گھومنا شروع کیا نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی چیز انھیں نبی اللہ کو ابن اللہ بلکہ عین اللہ بنانے سے باز نہ رکھ سکی۔
پرانے ادوار کی طرح اب اس نئے دور میں بھی انسان کو نعمت اسلام میسر آنے کے دو ہی ذرائع ہیں جو ازل سے چلے آرہے ہیں، ایک خدا کا کلام جو اب صرف قرآن پا ک کی صورت ہی میں مل سکتا ہے۔ دوسرے اسوۂ نبوت جو اب صرف محمد عربی ﷺ کی سیرتِ پاک ہی میں محفوظ ہے۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی اسلام کا صحیح فہم انسان کو اگر حاصل ہوسکتا ہے تو اس کی صورت صرف یہ ہے کہ وہ قرآن کو محمد ﷺ سے اور محمد ﷺ کو قرآن سے سمجھے۔ ان دونوں کو ایک دوسرے کی مدد سے جس نے سمجھ لیا، اس نے اسلام کو سمجھا۔ ورنہ فہم دین سے بھی محروم رہا اور نتیجتاً ہدایت سے بھی۔
پھر قرآن اور محمد ﷺ دونوں چوں کہ ایک مشن رکھتے ہیں، ایک مقصد و مدّعا کو لیے ہوئے آئے ہیں، اس لیے ان کو سمجھنے کا انحصار اس پر ہے کہ ہم ان کے مشن اور مقصد و مدّعا کو کس حد تک سمجھتے ہیں۔ اس چیز کو نظر انداز کرکے دیکھیے تو قرآن عبارتوں کا ایک ذخیرہ اور سیرت پاک، واقعات و حوادث کا ایک مجموعہ ہے۔ آپ لغت اور روایات اور علمی تحقیق و کاوش کی مدد سے تفسیروں کے انبار لگاسکتے ہیں اور تاریخی تحقیق کا کمال دکھا کر رسول اللہ ﷺ کی ذات اور آپ کے عہد کے متعلق صحیح ترین اور وسیع ترین معلومات کے ڈھیر لگا سکتے ہیں، مگر روح دین تک نہیں پہنچ سکتے، کیونکہ وہ عبارات اور واقعات سے نہیں بلکہ اس مقصد سے وابستہ ہے جس کے لیے قرآن اتارا گیا اور محمد عربی ﷺ کو اس کی علم برداری کے لیے کھڑا کیا گیا۔ اصل مقصد کا تصور جتنا صحیح ہوگا، اتنا ہی قرآن اور سیرت کا فہم صحیح، اور جتنا وہ ناقص ہوگا، اتنا ہی ان دونوں کا فہم ناقص رہے گا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن اور سیرتِ محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام دونوں ہی بحرِ ناپیداکنار ہیں۔ کوئی انسان یہ چاہے کہ ان کے تمام معانی اور فوائد و برکات کا احاطہ کرے تو اس میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ البتہ جس چیز کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ وہ بس یہ ہے کہ جس حد تک ممکن ہو آدمی ان کا زیادہ سے زیادہ صحیح فہم حاصل کرے اور ان کی مدد سے روحِ دین تک رسائی پائے۔
دنیا کے تمام ہادیوں میں یہ خصوصیت صرف حضرت محمد ﷺ کو حاصل ہے کہ آپؐ کی تعلیم اور آپ ؐ کی شخصیت ۱۴صدیوں سے بالکل اپنے حقیقی رنگ میں محفوظ ہے اور خدا کے فضل سے کچھ ایسا انتظام ہوگیا ہے کہ اب اس کا بدلنا غیر ممکن ہوگیا ہے۔ انسان کی اوہام پرستی اور اعجوبہ پسندی سے بعید نہ تھا کہ وہ اس برگزیدہ ہستی کو بھی ، جو کما ل کے سب سے اعلیٰ درجے پر پہنچ چکی تھی، افسانہ بنا کر الوہیت سے کسی نہ کسی طرح متّصف کر ڈالتی اور پیروی کے بجائے محض ایک تحیّرواستعجاب اور عبادت وپرستش کا موضوع بنالیتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو بعثتِ انبیاء کے آخری مرحلے میں ایک ایسا ہادی اور رہنما بھیجنا منظور تھا، جس کی ذات انسان کے لیے دائمی نمونۂ عمل اور عالمگیر چشمۂ ہدایت ہو۔ اس لیے اس نے محمد بن عبداللہ ﷺ کی ذات کو اس ظلم سے محفوظ رکھا جو جاہل معتقدوں کے ہاتھوں دوسرے انبیاء اور ہادیانِ اقوام کے ساتھ ہوتا رہا ہے ــــــآپ کے صحابہ و تابعین اور بعد کے محدثین نے پچھلی امتوں کے برعکس ، اپنے نبی کی سیرت کو محفوظ رکھنے کا خود ہی غیر معمولی اہتمام کیا ہے، جس کی وجہ سیـــــہم آ پ کی شخصیت کو چودہ سو برس گزر جانے پر بھی آج تقریباً اتنے ہی قریب سے دیکھ سکتے ہیں جتنے قریب سے خود آپ کے عہد کے لوگ دیکھ سکتے تھے۔

حدیث اور قرآن کا باہمی تعلق

قدیم و جدید دور کے منکرین حدیث کی جانب سے انکار حدیث کے سلسلے میں جو دلائل پیش کیے گئے ہیں،ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے لیے صرف قرآن کافی ہے۔ حدیث کی روایات ناقابلِ اعتبار ہیں اور ان پر مذہب کی بنیاد رکھنا صحیح نہیں ہے۔ (گویا) منکرین حدیث کی رائے میں حدیث سے اسلام کو قطعاً کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ بلکہ اس کے برعکس اسی چیز نے دشمنان اسلام کو وہ اسلحے فراہم کیے ہیں، جن سے وہ اسلام پر حملے کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی خواہش ہے کہ اسلام سے حدیث کو بالکل خارج کردیا جائے اور اس کو وہ اسلام کی ایک بڑی خدمت سمجھتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ امر غور طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن اور اس سے پہلے تمام آسمانی کتابوںکو رسولوں کے واسطے سے کیوں نازل کیا؟ کیا اللہ اس پر قادر نہ تھا کہ مطبوعہ کتابیں یکایک زمین پر اتاردیتا اور ان کا ایک ایک نسخہ نوع بشری کے ہرہرفرد کے پاس آپ سے آپ پہنچ جاتا؟ اگر وہ اس پر قادر نہ تھا تو عاجز تھا، اس کو خدا ہی کیوں مانیے؟ اور اگر وہ قادر تھا اور یقینا قادر تھا تو اس نے نشر و اشاعت کا یہ ذریعہ کیوں نہ اختیار کیا؟ یہ تو بظاہر ہدایت کا یقینی ذریعہ ہوسکتا تھا۔ کیونکہ ایسے صریح معجزے اور بین خرق عادت کو دیکھ کر ہر شخص مان لیتا کہ یہ ہدایت خدا کی طرف سے آئی ہے۔ لیکن خدا نے ایسا نہ کیا اور ہمیشہ رسولوں ہی کے ذریعہ سے کتابیں بھیجتا رہا۔ پھر اس رسالت کے کام پر بھی اس نے فرشتوں یا دوسری غیر انسانی ہستیوں کو مامور نہ کیا۔ بلکہ ہمیشہ انسانوں ہی کو اس کے لیے منتخب فرمایا۔ ہر زمانے کے کفار نے بہتیر ا کہا کہ اگر خدا کو ہم تک کوئی پیغام پہنچانا ہی منظور ہے تو فرشتے کیوں نہیں بھیجتا، تاکہ ہم کو بھی اس پیغام کے منزّل من اللّٰہ ہونے کا یقین آجائے۔ مگر خدا نے ہر ایسے سوال پر یہی فرمایا کہ اگر ہم فرشتے بھی بھیجتے تو ان کو آدمی بنا کر بھیجتے وَلَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکاً لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلاً۔ (انعام: ۹) اور یہ کہ اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے تو ہم ان کی ہدایت کے لیے فرشتے بھیجتے۔ لَوْکَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآئِ مَلَکاً رَّسُوْلاً۔ (بنی اسرائیل:۹۵)
سوال یہ ہے کہ تنزیلِ کتب کے لیے رسولوں کو واسطہ بنانے اور رسالت کے لیے تمام بندگان خدا میں سے بالخصوص انسانوں ہی کو منتخب کرنے پر اس قدر اصرار کیوں کیا گیا؟ اس کا جواب خود کلام اللہ دیتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ خدا نے جتنے رسول بھیجے ہیںان کی بعثت کا مقصد یہ رہا ہے کہ وہ فرامین خداوندی کے مطابق حکم دیں اور لوگ ان کے احکام کی اطاعت کریں۔ وہ الٰہی قوانین کے مطابق زندگی بسر کریں اور لوگ انہی کے نمونہ کو دیکھ کر اس کا اتباع کریں ، وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ۔ (النساء: ۶۴) انبیاء علیہم السلام پے درپے آئے اور ہر ایک نے لوگوں سے یہی مطالبہ کیا کہ خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اِتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ۔(الشعراء: ۱۰۸، ۱۱۰، ۱۲۶، ۱۳۱، ۱۴۴، ۱۵۰، ۱۶۳، ۱۷۹) نبی ﷺ سے کہلوایا گیا کہ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔ (آل عمران: ۳۱) مومنوں سے کہا گیا کہ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔ (احزاب:۲۱) اگر محض کتاب اللہ اتاردی جاتی اور کوئی رسول نہ آتا تو لوگ آیات کے معانی میں اختلاف کرتے اور کوئی اس کا فیصلہ کرنے والا نہ ہوتا۔ لوگ احکام کے منشا سمجھنے میں غلطیاں کرتے اور کوئی ان کو صحیح منشا بتانے والا نہ ہوتا۔ اس ضرورت کو تو خیر ایک حد تک فرشتے بھی پورا کرسکتے تھے، مگر پاکیزگی ، طہارت اور تقویٰ کے احکام پر لوگ یہ خیال کرتے کہ عملی زندگی میں ان پر عمل کرنا انسان کے بس کا کام نہیں ہے۔ فرشتہ تو انسانی جذبات سے محروم ہے۔ پیٹ نہیں رکھتا۔ شہوانی قوتیں نہیں رکھتا۔ انسانی ضرورتوں سے بے نیاز ہے۔ اس کے لیے متقیانہ زندگی بسرکرنا کچھ مشکل نہیں۔ مگر ہم انسانی کمزوریاں رکھتے ہوئے اس کی تقلید کیسے کریں؟ اس لیے ضروری تھا کہ ایک انسان انہی جذبات و داعیات اور انہی تمام قوتوں اور انسانی تقیدات کے ساتھ زمین پر آتا اور لوگوں کے سامنے احکامِ الٰہی کے مطابق زندگی بسر کرکے بتاتا کہ اس طرح انسان خدا کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرسکتا ہے۔ اس کو زندگی کے وہ تمام معاملات پیش آتے جو انسان کو پیش آتے ہیں۔ وہ ان تمام معاملات میں عام انسانوں کے ساتھ شریک ہوتا، عملاً حصہ لیتا، قدم قدم پر ان کو اپنے عمل اور اپنے قول سے ہدایات دیتا، ان کی تربیت کرتا ، اور انھیں بتاتا کہ زندگی کی پیچیدہ راہوں میں سے کس طرح انسان بچ کر حق اور نیکی کے سیدھے راستے پر چل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے تنہا کتاب اللہ کو کافی نہ سمجھا اور رسولؐ اللہ کی اتباع اور ان کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کو اس کے ساتھ لازم کردیا۔
قرآن شریف میں صاف طور پر تین چیزوں کی اطاعت کا حکم دیا گیاہے۔ ایک حکم خدا، دوسرے حکم رسول، تیسرے مسلمان حکام اور فرمانروائوں کے احکام اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ۔ (النساء:۵۹) اگر محض قرآن کا اتباع کافی ہوتا اور اس کے سوا کسی دوسری چیز کے اتباع کی حاجت نہ ہوتی تو رسول اور حکّامِ (اولی الامر)کی اطاعت کا حکم ہی نہ دیا جاتا۔ اگر رسول اور اولی الامر کا حکم قرآنی احکام کے ماسوا کوئی شے نہ ہوتا، تب بھی بقیہ دونوں کی اطاعت کا حکم الگ دینا بے معنی تھا۔ تین چیزوں کی اطاعت کا الگ الگ حکم دینا صاف بتاتا ہے کہ قرآن میں جو احکام براہ راست اللہ تعالیٰ نے دیے ہیں، ان کے علاوہ وہ احکام بھی واجب الاطاعت ہیں جو رسولؐ اللہ دیں، اور ان کی اطاعت بعینہٖ ایسی ہے جیسی اللہ کی اطاعت مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ۔ (النساء: ۸۰) پھر ان کے ماسوا جو احکام مسلمانوں کے اولی الامر دیں ان کی اطاعت بھی لازم ہے بشر طیکہ ان کے احکام خدا اور رسول کے احکام سے اصولی مطابقت رکھتے ہوں۔ اختلاف کی صورت میں ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی دی ہوئی ہدایات کی طرف رجوع کیا جائے۔ فَاِنْ تَنَازعْتُمْ فِیْ شَیٍْٔ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ۔ (النساء: ۵۹)
اس سے معلوم ہوا کہ تنہا کتاب اللہ کا فی نہیں ہے، اس کے ساتھ رسالت کا رشتہ ناقابل انقطاع ہے، اور احکامِ رسول کی اطاعت اور اسوۂ رسول کی پیروی بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح خود کتاب اللہ کے احکام کی اطاعت فرض ہے۔ جو شخص کہتا ہے کہ ہم صرف کتاب اللہ کو لیں گے اور حکم رسول اور اسوۂ رسول کو نہ لیں گے وہ رسالت سے اپنا تعلق منقطع کرتا ہے۔ وہ اس واسطہ کو کاٹتا ہے جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں اور اپنی کتاب کے درمیان ایک لازمی واسطہ کے طور پر قائم فرمایا ہے۔ وہ گویا یہ کہتا ہے کہ خدا کی کتاب اپنے بندوں کے لیے کافی تھی مگر خدا نے بلا ضرورت یہ فعل عبث کیا کہ کتاب کو رسول کے ذریعہ سے نازل فرمایا۔ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالیٰ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ۔
کتاب اللہ اور سنتِ رسول کا لازمی تعلق ثابت ہوجانے کے بعد اب اس سوال پر غور کیجیے کہ آیا رسول اللہ ﷺ کے احکام کی اطاعت اور ان کے اسوۂ حسنہ کی پیروی صرف ان کی حیات جسمانی تک ضروری تھی؟ ان کے بعد اس کی حاجت باقی نہیں رہی؟ اگر ایسا ہے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت صرف اس عہد کے لیے تھی جس میں آپ جسم کے ساتھ زندہ تھے۔ آپ کے رحلت فرماتے ہی آپ کی رسالت کا تعلق عملاً دنیا سے منقطع ہوگیا۔ اس صورت میں رسالت کا منصب بے معنی ہوجاتا ہے۔ رسول کا کام اگر محض ایک نامۂ بر کی طرح کتاب اللہ کو پہنچادینا تھا، اور اس سے بڑھ کرکسی اور چیز کی ضرورت نہ تھی تو ہم پھر وہی کہیں گے کہ اس صورت میں رسول کی ضرورت ہی نہ تھی۔ یہ کام کوئی فرشتہ کرسکتا تھا، بلکہ اسے بلاواسطہ بھی کرنا ممکن تھا۔ لیکن اگر کتاب پہنچادینے کے علاوہ بھی کسی شے کی ضرورت تھی اور اسی کے لیے اتباع کے احکام دیے گئے تھے، اور اگر ہدایت نوعِ بشری کے لیے قرآن کے ساتھ رسولؐ کی ہدایات اور سیرت نبوی کے عملی نمونے کی بھی ضرورت تھی، تو پھر یہ سب کچھ صرف تئیس چوبیس سا ل کے لیے ہونا کیا معنی؟ محض ایک صدی کے چوتھائی حصہ کے لیے ایک رسول مبعوث کرنا اور اتنی سی مدت کے لیے رسالت کا اتنا بڑا منصب قائم کرنا، اور ایک چیز کو جو رسول کے جسم و جان کا تعلق منقطع ہوتے ہی دنیا کے لیے غیر ضروری ہوجانے والی تھی، اتنی شدو مد کے ساتھ ذریعۂ ہدایت قرار دینا ، یہ سب بچوں کا کھیل معلوم ہوتا ہے جو خدائے حکیم و دانا کے ہر گز شایان شان نہیں ہے۔
اس الزام کو خود اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں رفع کردیا ہے۔ وہ محمد ﷺ سے فرماتا ہے کہ وَمَآاَرْسَلْنَاکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ۔ (انبیاء: ۱۰۷) ظاہر ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کا فیضان رسالت صرف اپنے زمانے تک کے لیے ہوتا تو آپؐ کو رحمۃٌ للعالمین نہیں کہا جاسکتا تھا۔ اگر کہا جائے کہ آپ قرآن لائے ہیں جو ہمیشہ رہنے والا ہے اور اسی لیے آپ رحمۃٌ للعالمین ہیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ آپ رحمت نہ تھے بلکہ رحمت تو قرآن تھا اور آپؐ کو خواہ مخواہ رحمت کہہ دیا گیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو الگ رحمت فرمایا ہے اور اس کے لانے والے کو الگ ۔ پھر یہ جو فرمایا کہ وَمَآ اَرْسَلْنَاکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ (السبا: ۲۸) یہ ارشاد صاف اشارہ کررہا ہے کہ نبی ﷺ کی بعثت کے وقت سے لے کر قیامت تک جن بندگانِ خدا پر’’الناس‘‘ کا اطلاق ہوتا ہے ان سب کے لیے آپؐ خدا کے رسول ہیں۔ آپؐ کی رسالت کسی خاص زمانہ کے لیے نہیں ہے بلکہ جب تک روئے زمین پر ’’الناس‘‘ بستے ہیں اس وقت تک آپؐ کی رسالت قائم ہے۔ آیت میں کوئی قرینہ ایسا نہیں ہے جس سے معلوم ہوکہ’’الناس‘‘ سے صرف اسی زمانہ کے لوگ مراد ہیں ۔ نہ ایسا کوئی خفیف سے خفیف اشارہ موجود ہے جس سے بعد کے کسی زمانہ تک کی قید نکلتی ہو۔ بخلاف اس کے دوسری آیات اس تفسیر کی تائید کرتی ہیں کہ حضوؐر کی رسالت دائمی ہے۔ اللہ تعالیٰ حضوؐر کے ذریعہ سے دین کی تکمیل کرچکا ہے۔ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ (مائدہ:۱۳) حضوؐر کی ذات پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔ مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآاَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیٍْٔ عَلِیْمًا۔ (احزاب:۴۰) اور دوسرے انبیاء کی لائی ہوئی کتابوں کے بخلاف آپؐ کی لائی ہوئی کتاب کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا گیا ہے، کیونکہ پہلی کتابیں مخصوص زمانوں کے لیے ہدایت تھیں اور یہ دائمی ہدایت ہے۔ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر: ۹)
اس سے ثابت ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کی نبوت و رسالت ہمیشہ کے لیے ہے اور جب ایسا ہے تو وہ تمام آیات اور احکام بھی ہمیشہ کے لیے ہیں جن میں آنحضرتؐ کے احکام کی اطاعت فرض قرار دی گئی ہے، آپ کی ذات کو اسوۂ حسنہ بتایا گیا ہے، آپ کے اتباع کو رضائے الٰہی کے حصول کا ذریعہ کہا گیا ہے، اور ہدایت کا دامن آپ کی پیروی کے ساتھ وابستہ کردیا گیا ہے۔ وَاِنْ تُطِیْعُوْہُ تَہْتَدُوْا (النور:۵۴) رضائے الٰہی حاصل کرنے اور ہدایت پانے کی ضرورت جس طرح رسول اللہ ﷺ کے ہم عہد لوگوںکو تھی اسی طرح آج کے لوگوں کو بھی ہے، اور قیامت تک جو لوگ آئیں گے ان سب کو رہے گی۔ پس جب یہ دونوں چیزیں رسولؐ اللہ کے اتباع اور آپ کے نمونۂ حیات کی تقلید کے ساتھ وابستہ ہیں تو لازم ہوا کہ سیرتِ نبوی کے وہ پاک نمونے اور زبانِ وحی ترجمان کے وہ مقدّس احکام بھی قرآن کے ساتھ ساتھ باقی رہیں جن سے رسولِ اکرم ﷺ کے ہم عہد لوگوں نے ہدایت پائی تھی، ورنہ بعد کی نسلوں کے لیے ہدایت ناقص رہ جائے گی۔
میں نے ’’ہدایت ناقص رہ جائے گی ‘‘ کے الفاظ بہت ہی نرم استعمال کیے ہیں۔ تنزیل کتب کے ساتھ رسالت کا جو ناقابلِ انقطاع رشتہ اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے، اور اس باب میں اللہ تعالیٰ کی جو غیر متبدل سنت ابتداسے چلی آرہی ہے اس کا لحاظ کرتے ہوئے تو مجھے کہنا چاہیے تھا کہ اگر اسوۂ رسول باقی نہ رہتا، اگر رسول اللہ ﷺ کے احکام باقی نہ رہتے، اگر ہدایت کا وہ پاک سرچشمہ بند ہوجاتا جو رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں تھا، تو محض کتاب اللہ سے دنیا کی ہدایت ہوہی نہیں سکتی تھی۔ اس لیے کہ رسالت کے آثار مٹ جانے کے بعد کتاب اللہ کا باقی رہ جانا بالکل ایسا ہی ہے جیسے رسول کے بغیر کتاب اللہ کا نازل ہونا۔ اگر کتاب کی تنزیل کے بعد آثارِ رسالت کے باقی رہنے کی ضرورت نہیں ہے تو سرے سے تنزیل کے لیے رسالت ہی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ خدا کی حکمت پر کھلا ہوا طعن ہے اور اگر تنزیل کے ساتھ رسالت کا ہونا لازم ہے، تو یقینا اس کے ساتھ آثار رسالت کا رہنا بھی لازم ہے۔ بغیر آثارِ رسالت کے تنہا کتاب اللہ موجب ہدایت نہیں ہوسکتی۔ اس کی وجہ آپ بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ اگر آثارِ رسالت محو ہوجاتے تو مسلمانوں کا حشران قوموں کا سا ہوجاتا جن کے پاس بجز افسانوں کے اور کچھ نہیں ہے۔ لوگ کہتے کہ جس شخص پر تمہارے قول کے مطابق یہ کتاب نازل ہوئی ہے اس کے حالات تو بتائو کہ ہم ان کو جانچ کر دیکھیں کہ آیا فی الواقع وہ رسولِ خدا ہونے کے قابل تھا بھی یا نہیں۔ مگر ہم انھیں کچھ نہ بتا سکتے۔ لوگ پوچھتے کہ تمہارے پاس قرآن کے دعوے کی تائید میں کون سی ایسی خارجی شہادت ہے جس سے تمہارے نبی کی نبوت ثابت ہوسکتی ہے؟مگر ہم کوئی شہادت نہ پیش کرسکتے۔ ہم کو خود یہ نہ معلوم ہوسکتا کہ کب اور کن حالات میں قرآن نازل ہوا، کس طرح رسول اللہ ﷺ کی شخصیت اور آپؐ کی پاک زندگی کو دیکھ کر لوگ فوج در فوج ایمان لائے، کس طرح آپؐ نے نفوس کا تزکیہ کیا، حکمت کی تعلیم دی اور آیاتِ الٰہی کی تلاوت سے معرفتِ حق کا نور پھیلا یا، کس طرح آپؐ نے انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں تنظیم اور اصلاح کا وہ زبردست کام انجام دیا اور شریعت کا وہ ہمہ گیر اور حکیمانہ ضابطہ بنایا جو محض انسانی عقل کے بس کا کام نہیں ہے اور جو اس بات کا ناقابلِ انکار ثبوت ہے کہ آپ حقیقت میں اللہ کے رسول تھے۔ یہی نہیں بلکہ اگر وہ روایات نہ ہوتیں جو منکرین حدیث کے نزدیک دریا برد کردینے کے قابل ہیں تو ہم قرآن کی سند اس کے لانے والے تک نہ پہنچا سکتے۔ ہمارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہ ہوتا کہ یہ قرآن حقیقت میں وہی ہے اور اسی عبارت میں ہے جس میں رسولؐ اللہ پر نازل ہوا تھا۔ ہماری اس کتاب کی وہی حیثیت رہ جاتی جو زند، اوستا، گیتا، ویدوں اور بدھ مذہب کی کتابوں کی حیثیت ہے۔ اسی طرح ہماری مذہبی زندگی کے جتنے اعمال اور جتنے اصول و قوانین ہیں، یہ بھی سب کے سب بے سند ہو کر رہ جاتے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دوسرے اعمال جس صورت میں ادا کیے جاتے ہیں ان کے متعلق ہم نہ بتاسکتے، اور خود نہ جانتے کہ یہ سب رسولؐ اللہ کے مقرر کیے ہوئے طریقوں پر ہیں۔ منکرینِ حدیث کہتے ہیں کہ ان سب اعمال کے لیے ’’سنتِ متواترہ‘‘ کافی ہے۔ مگر مدوّن اور مستند روایات کی غیر موجودگی میں اس ’’سنتِ متواترہ‘‘ کی حیثیت بجز اس کے اور کیا ہوتی کہ اگلوں سے پچھلوں تک نسلاً بعد نسلٍ ایسا ہوتا چلا آیا ہے؟ اس قسم کی متواتر سنتیں تو ہندوئوں ، بودھوں اور دوسری قوموں میں بھی ہیں۔ وہ سب یہی کہتے ہیں کہ جو عبادتیں ہم کرتے ہیں اور جو رسمیں ہم میں جاری ہیں وہ بزرگوں سے یونہی چلی آرہی ہیں۔ مگر کیا آج ان کی سنتِ متواترہ پر دنیا اور خود ان قوموں کے روشن خیال لوگوں میں یہ شبہ نہیں کیا جاتا کہ خدا جانے ان طریقوں کی اصل کیا تھی اور امتدادِ زمانہ کے ساتھ وہ کس طرح بدلتے چلے گئے؟ کیا ان تمام طریقوں پر آج رسوم پرستی کی پھبتی نہیں اڑائی جاتی؟ اگر کوئی شخص ان میں تغیر کرکے کوئی نئی بدعت ایجاد کرنا چاہے تو کیا ان کے پاس اس بدعت کے خلاف کوئی حجت بجز اس ایک دلیل کے موجود ہے کہ جو کچھ باپ دادا کرتے چلے آرہے ہیں اس میں تغیر نہیں ہوسکتا؟ پھر اگر منکرینِ حدیث کی خواہش کے مطابق ہمارے ہاں بھی ایسی مسلسل ، مستند اور مرتّب روایات نہ ہوتیں جو ہمارے عہد سے لے کر رسول اللہ ﷺ کے عہد تک ہر واقعہ یا ہر قول کی سند بہم پہنچادیتی ہیں اور اگر ہمارے پاس بھی صرف عملِ متواتر ہی باقی رہ جاتا ، تو ہمارے مذہبی اعمال اور معتقدات کا حال ان طریقوں اور ان اوہام سے کچھ مختلف نہ ہوتا جو ہندئووں اور دوسری قوموں میں پائے جاتے ہیں اور جن کو ’’رسوم‘‘ اور ’’مذہبی افسانوں‘‘سے تعبیر کیا جاتا ہے۔(خود مسلمانوں میں عرسوں ، نیازوں اور شادی و غمی کی رسموں کا جو سلسلہ آج چل رہا ہے، حدیث کی غیر موجودگی میں ان سب کو بھی ’’سنتِ متواترہ‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اور انکارِ حدیث کے بعد ان ’’متواتر سنتوں‘‘ کی تردید نہیں کی جاسکتی۔) غور کیجیے، یہ اسلام کے لیے قوت اور استحکام کا سبب ہوتا یا کمزوری و نااستواری کا سبب؟
اس بحث سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ کتاب اللہ کے ساتھ سنتِ رسول کا رہنا قطعاً ضروری اور ناگزیر ہے۔ اب اس سوال کی طرف آئیے کہ سنتِ رسول کے ہم تک پہنچنے کی صورت کیا ہے اور کیا ہوسکتی ہے؟ یہ بالکل ظاہر ہے کہ نبیﷺ نے بعثت سے رحلت تک تقریباً ربع صدی کا جو زمانہ بسر کیا وہ محض قرآن پڑھنے اورسنانے ہی میں بسر نہیں ہوا ہوگا، بلکہ آپؐ تلاوتِ آیات کے علاوہ بھی شب و روز اپنے دین کی تبلیغ فرماتے رہتے ہوں گے، گمراہ لوگوں کو سمجھانے کی کوشش بھی فرماتے ہوں گے، ایمان لانے والوں کو تعلیم بھی دیتے ہوں گے، اور اپنی عبادات، اپنے اخلاق ، اور اپنے اعمالِ حسنہ کا نمونہ پیش کرکے لوگوں کی تربیت اور اصلاح کرنے میں مشغول رہتے ہوں گے۔ خود قرآن میں فرمایا گیا ہے یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّالَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ۔ (البقرہ: ۱۵۱) نیز قرآن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ معلّمانہ زندگی ایسی شدید مصروفیت میں بسر ہوتی تھی کہ آپ کو اپنے آرام کا ذرہ برابر خیال نہ تھا، ہر لمحہ یا تو عبادات میں بسر ہوتا تھا یا وعظ و نصیحت اور تعلیمِ حکمت اور تزکیۂ نفوس میں۔ حتیّٰ کہ بار بار اللہ تعالیٰ آپؐ سے فرماتا تھا کہ آپ اس قدر محنت کیوں کرتے ہیں؟ اپنے آپ کو ہلاک کیوں کیے ڈالتے ہیں؟
اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایسی سرگرم مُبلّغانہ زندگی میں آیاتِ قرآنی کے سوا کوئی بات بھی آپؐ کی زبان سے ایسی نہ نکلتی تھی جو یاد رکھنے اور بیان کرنے کے قابل ہوتی؟ کوئی کام بھی آپ کی زندگی کا ایسا نہ تھا جس کو لوگ اپنے لیے نمونہ سمجھتے اور دوسروں کو اس پاکیزہ نمونہ کی تقلید کا مشورہ دیتے؟ آپؐ کے اقوال و اعمال کے متعلق تو اہلِ ایمان کا اعتقاد تھا اور قرآن نے بھی ان کو یہی اعتقاد رکھنے کا حکم دیا تھا کہ آپ کا ہر ارشاد برحق ہے۔ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی (النجم: ۳) اور آپ کا ہر عمل واجب التقلید ہے، لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (احزاب: ۲۱) ظاہر ہے کہ یہ اعتقاد رکھتے ہوئے تو مسلمان یقینا آں حضرت ﷺ کے ہر ارشاد کو دل سے سنتے ہوں گے ، ہرعمل پر نگاہ رکھتے ہوں گے، اور آپس میں ایک دوسرے کے سامنے حضوؐر کے اقوال و اعمال کے چرچے کرتے ہوں گے۔ جہاںرسالت اور کسی قسم کے تقدس کا اعتقاد نہیں ہوتا وہاں بھی بڑے لوگوں کی باتوں اور حرکات و سکنات پر لوگ نظر رکھتے ہیں اور ان کے اقوال و اعمال کے چرچے کیا کرتے ہیں۔ پھر کیوںکر ممکن تھاکہ صحابہ کرام جس مقدس انسان کو خدا کا رسول اور اسلام کا مکمل نمونہ سمجھتے تھے اس سے صرف قرآن لے لیتے اور اس کے دوسرے تمام ارشادات اور اس کے تمام اعمال کی طرف سے کان اور آنکھیں بند کرلیتے۔
اس زمانہ میں فوٹوگرافی کے آلات نہ تھے کہ آں حضرت ﷺ کی تمام حرکات و سکنات کے فلم لے لیے جاتے۔نہ آواز بھرنے کے آلات تھے کہ آپ کی تقریروں کے ریکارڈ بھر کر رکھ لیے جاتے۔ نہ مکہ و مدینہ سے اخبارات نکلتے تھے کہ روزانہ آپ کی تبلیغی سرگرمیوں اور آپ کے اعمالِ حیات کی رپورٹیں شائع ہوتیں۔ ضبط اور نقل کا ذریعہ جو کچھ بھی تھا وہ لوگوں کا حافظہ اور زبانیں تھیں۔ قدیم زمانہ میں نہ صرف عرب بلکہ تمام قوموں کے پاس واقعات کو محفوظ رکھنے اور بعد کی نسلوں تک پہنچانے کا یہی ایک ذریعہ تھا۔ مگر عرب خصوصیت کے ساتھ اپنے حافظہ اور صحتِ نقلِ میں ممتاز تھے،اور ان کی یہ خصوصیت ایسی تھی کہ شاید ان حضرات کے فون کریمر کو بھی اس سے انکار نہ ہو، جو قوم ایّام العرب ، کلامِ جاہلیّت، انسابِ قبائل حتیٰ کہ اونٹوں اور گھوڑوں تک کے نسب نامے یاد کرتی ہو اور اپنی اولاد کو یاد کراتی ہو، اس سے بعید تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ جیسی عظیم الشان شخصیّت کے حالات اور آپ کے ارشادات کو یاد نہ رکھتی اور آنے والی نسلوں تک انھیں منتقل نہ کرتی۔
پھر جب آں حضرت ﷺ کا وصال ہواتوفطری بات تھی کہ لوگوں میں آپ کے احوال و اقوال کی جستجو اور زیادہ بڑھ جاتی۔ جو لوگ حضوؐر کی زیارت اور صحبت سے محروم رہ گئے تھے ان میں یہ شوق پیدا ہونا بالکل فطری امر تھا کہ آپ کے صحبت یافتہ بزرگوں سے آپؐ کے ارشادات اور آپؐ کے حالات پوچھیں۔ ہم خود دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی پیر مرد ایسا نکل آتا ہے جس نے پچھلی صدی کے اکابر میں سے کسی نامور بڑے شخص کی صحبت پائی ہو تو لوگ اس کے پاس جاتے ہیں اور اس کے حالات دریافت کرتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست نے شمالی ہندوستان سے حیدر آباد کا سفر اس غرض کے لیے کیا کہ اگر کوئی پرانا آدمی ایسا مل جائے جس نے سید جمال الدین افغانی کی صحبت پائی ہو تو اس سے سید صاحب کے حالات معلوم کریں۔ یہ معاملہ جب معمولی انسانوں کے ساتھ پیش آتا ہے تو کیا یہ ممکن تھا کہ خدا کے سب سے بڑے پیغمبر ؐ اور دنیا کے سب سے بڑے معلّمؐ کی وفات کے بعدمسلمانوں میں اس کے حالات پوچھنے اور اس کے ارشادات سے مستفید ہونے کی کوئی خواہش نہ ہوتی ؟ کیا تاریخ کے ان واقعات میں کوئی استبعاد ہے کہ لوگ جہاں کسی صحابی کی خبر پالیتے وہاں سیکڑوں میل سے سفر کرکے جاتے اور آں حضرت ﷺکے حالات پوچھتے؟ یہی معاملہ یقینا صحابہ کے بعد تابعین کے ساتھ پیش آیا ہوگا۔ کم از کم دو صدی تک سماعتِ حدیث اور نقلِ حدیث کا غیر معمولی شغف مسلمانوں میں پایا جانا یقینی ہے اور یہ بات نہ صرف قیاس کے عین مطابق ہے، بلکہ تاریخ بھی اس بات کی شہادت دیتی ہے۔ منکرینِ حدیث قیاس عقلی سے تو کام ہی نہیں لیتے ۔ رہی تاریخ، تو وہ اس کے صرف اسی حصہ کو مانتے ہیں جس سے انکارِ حدیث کے لیے مواد مل سکتا ہو۔ اس کے سوا تاریخ کی جتنی شہادتیں ہیں سب ان کے نزدیک نامعتبر ہیں۔ لیکن جن لوگوں میں انکارِ حدیث کے لیے ضد پیدا نہیں ہوئی ہے وہ یقینا اس بات کو تسلیم کرلیں گے کہ نبی اکرم ﷺ کی زبردست شخصیت اور آپؐ کی تابناک پیغمبرانہ زندگی اتنی ناقابل اعتنا تو نہ تھی کہ مسلمانوں میں کم از کم دو سو برس تک بھی آپ کے حالات معلوم کرنے اور آپ کے ارشادات سننے کا عام شوق نہ رہتا۔ اس سے انکار کرنے کے دوسرے معنی یہ ہوں گے کہ قرونِ اولیٰ کے لوگوں پر رسول اللہ ﷺ کا کوئی اثر نہ تھا، اور وہ لوگ بھی آپ کی جانب کوئی توجہ نہ رکھتے تھے جو آپ کی رسالت کے قائل ہوچکے تھے۔ منکرینِ حدیث کو اختیار ہے کہ رسولؐ کی ذات اور ان لوگوں کے متعلق جو آپ سے قریب تر تھے یہ یا اس سے بھی زیادہ بری کوئی رائے قائم کرلیں۔مگر ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی مسلمان تو کجا، اسلامی تاریخ اور اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کرنے والا کوئی منصف مزاج غیر مسلم بھی اس رائے کو صحیح باور نہ کرے گا۔
اس میں شک نہیں کہ عہدِ رسالت سے دور ہونے کے بعد مسلمانوں میں بیرونی اثرات بھی داخل ہونے لگے تھے، اور یہ اثرات بیشتروہ لوگ اپنے ساتھ لائے تھے جنھوں نے عراق، ایران ، شام اور مصر میں مذہب اسلام قبول تو کرلیا تھا مگر قدیم مذہب کے تخیلات ان کے ذہن سے محو نہ ہوئے تھے۔ اس میں بھی شک نہیں کہ مسلمانوں میں ایک گروہ ایسا بھی پیدا ہوگیا تھا جو اپنے دل سے گھڑ کر باتیں نکالتا تھا اور محض لوگوں پر اثر قائم کرنے کے لیے ان باتوں کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کردیتا تھا۔ یہ دونوں باتیں تاریخ سے بھی ثابت ہیں اور قیاس بھی یہی چاہتا ہے کہ ایسا ضرور ہوا ہوگا۔مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کیا درست ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں میں سب کے سب ایسے ہی لوگ تھے؟ سب جھوٹے اور بے ایمان تھے؟ سب ایسے منافق تھے کہ اسی ہستی پر بہتان گھڑتے جس کی رسالت پر وہ دن بھر میں کم از کم پانچ مرتبہ گواہی دیا کرتے تھے؟ سب ایسے دشمن حق تھے کہ دنیا بھر کی خرافات لے کر رسولؐ کے نام سے خدا کے دین میں داخل کرتے اور اس کی جڑیں کاٹتے؟ یہ نتیجہ نہ عقلاً نکالا جاسکتا ہے اور نہ تاریخ اس کی تائید کرتی ہے اور جب یہ صحیح نہیں ہے تو صداقت کے ساتھ صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ پہلی صدی کے آخر سے حدیث کے ذخیرے میں ایک حصّہ ایسی روایات کا بھی داخل ہونے لگا تھا جو موضوع تھیں، اور یہ کہ بعد کی نسلوں کو جو احادیث پہنچی ہیں ان میں صحیح اور غلط اور مشکوک سب قسم کی حدیثیں ملی جلی تھیں۔
کھرے اور کھوٹے کی اس آمیزش کے بعد صحیح طریق کار کیا تھا؟ کیا یہ صحیح ہوسکتا تھا کہ آمیزش کی بنا پر صحیح اور غلط سب کو ایک ساتھ رد کردیا جاتا، اور بعد کے مسلمان رسالت سے اپنا تعلق منقطع کرلیتے؟ منکرین حدیث اس کو ایک آسان بات سمجھتے ہیں۔ مگر جو لوگ قرآن پر ایمان رکھتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی ذات کو اسوۂ حسنہ سمجھتے تھے، اور جن کے نزدیک حضوؐر کی پیروی کے بغیر ہدایت کا میسّر ہونا ممکن نہ تھا، ان کے لیے ایسا کرنا بہت دشوار تھا۔ اتنا دشوار جتنا کسی کے لیے برضا و رغبت آگ میں کود پڑنا ہوسکتا ہے۔ انھوں نے سب کو رد کردینے کی بہ نسبت پہاڑ کھود کر جواہر نکالنے کی مشقّت کو زیادہ آسان سمجھا۔ رسالت سے اپنا اور مسلمانوں کا تعلق برقرار رکھنے کے لیے شب و روز محنتیں کیں۔ حدیثوں کو جانچنے اور پرکھنے کے اصول بنائے۔ کھرے کوکھوٹے سے ممتاز کیا۔ ایک طرف اصولِ روایت کے اعتبار سے حدیثوں کی تنقیح کی، دوسری طرف ہزاروں لاکھوں راویوں کے احوال کی جانچ پڑتال کی۔ تیسری طرف درایت کے اعتبار سے حدیثوں پر نقد کیا۔ اور اس طرح سنتِ رسول کے متعلق ان لوگوں نے ایک ایسا ذخیرہ فراہم کردیا جس کے برابر مستند اور معتبر ذخیرہ آج دنیا میں گزشتہ زمانے کے کسی شخص اور کسی عہد کے متعلق موجود نہیں ہے۔ منکرینِ حدیث کو آزادی ہے کہ ان کی ساری محنتوں پر بیک جنبشِ قلم پانی پھیردیں۔ منکرین حدیث کو اختیار ہے کہ دین کے ان سچے خادموں کو وضّاعِ حدیث، پروردگانِ عجم، زلہ ربایانِ بنی اُمیّہ و بنی عبّاس( یہ سب القاب منکرین حدیث نے ائمۂ حدیث کے لیے استعمال فرمائے ہیں۔) اور جو کچھ چاہیں کہیں لیکن حق یہ ہے کہ مسلمانوں پر ان محدّثین کا اتنا بڑا احسان ہے کہ وہ قیامت تک اس بار سے سبکدوش نہیں ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو نور سے بھردے، یہ انہی عاشقانِ رسول کی محنتوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے پاس رسولؐ اکرم اور صحابہ کرامؓ کے عہد کی پوری تاریخ اپنے جزئیات کے ساتھ موجود ہے اور وہ وسائل بھی ہمارے پاس موجود ہیں جن سے ہم حدیث کے ذخیرے کی جانچ پڑتال کرکے آج بھی واقعات کی صحیح صحیح تحقیق کرسکتے ہیں۔ منکرینِ حدیث کہتے ہیں کہ بجز متواتر روایات کے (جو بہت کم ہیں) باقی جتنی احادیث ہیں یقینی نہیں ہیں، ان سے علمِ یقین حاصل نہیں ہوتا بلکہ زیادہ سے زیادہ ظنِ غالب حاصل ہوتا ہے، پھر ایسی چیزوںپر مذہب کا مدار رکھنا کیا معنی ؟ ہم کہتے ہیں کہ مشاہدۂ عینی اور تجربۂ حسّی کے سوا دنیا میں کوئی ذریعہ بھی ایسا نہیں ہے جو مفید یقین ہوسکتا ہو۔ تو اتر کوبھی محض اس قیاس کی بنا پر یقینی سمجھا جاتا ہے کہ بہت سے آدمیوں کا جھوٹ پر متفق ہوجانا مستبعد ہے۔ لیکن خبرِ متواتر کے لیے جو شرائط ہیں وہ بہت کم ایسی خبروں میں پائی جاتی ہیں جن پر تواتر کا گمان ہوتا ہے۔ اکثر و بیشتر امورِ غیب ہیں خواہ وہ زمانہ ماضی سے تعلق رکھتے ہوں یا حال سے، ہمارے علم اور ہمارے فیصلوں کا مدار اسی ظنِ غالب پر ہے جو کم از کم دو شہادتوں سے حاصل ہوتا ہے۔ خود قرآن نے اسی شہادت کو اتنا معتبر قرار دیا ہے کہ اس کی بنا پر ایک مسلمان کا خون مباح ہوسکتا ہے۔ حالانکہ قرآن کی رو سے مسلمان کا خون اتنا محترم ہے کہ جو کوئی مسلمان کو عمداً قتل کردے اسے خلودفی النار کی سزا دی جائے گی۔ اسی طرح زنا، قذف اور سرقہ کی حدود میں بھی ایسے اہم فیصلہ جات کا مدار صرف دو یا چار شہادتوں پر رکھا گیا ہے جن سے ایک مسلمان کا ہاتھ کاٹ دیا جاسکتا ہے، یا ایک مسلمان کی پیٹھ پر کوڑے برسائے جاسکتے ہیں ۔ پس جب قرآن مجید میں غیر متواتر شہادتوں ہی پر پورے نظامِ عدل کی بنیاد رکھی گئی ہے تو قرآن کے مقابلہ میں کس مسلمان کو یہ کہنے کی جرأت ہوسکتی ہے کہ کسی حدیث کو حدیثِ رسول مان لینے کے لیے ہر مرتبہ اسناد میں دو چار راویوں کا ہونا کافی نہیں ہے؟ البتہ راویوں میں سے ہم ہر راوی پر اعتماد نہ کریں گے، جس طرح شاہدوں میں سے ہر شاہد کا اعتبار نہیں کرتے۔ ہم حکمِ قرآن کے بموجب ذواعدل کی شرط لگاتے ہیں اور اسی کی تحقیق کے لیے اسماء الرجال کا فن ایجاد کیا گیا، تاکہ راویوں کے حالات کی تحقیق کی جائے۔ اسی طرح ہم راویوں پر جرح بھی کریں گے کہ حدیث کے جو ہری نکات میں ان کے درمیان ایسا اختلاف تو نہیں ہے جو ان کے بیان کی صحت کو مشکوک کردیتا ہو؟ اسی طرح ہم درایت سے بھی کام لیں گے جیسے ایک جج مقدمات میں درایت سے کام لیتا ہے۔( فنِ حدیث میں درایت کی حیثیت وہی ہے جو قانون میںجج کی رائے اور قوتِ فیصلہ کی ہے ۔ جس طرح جج ہر گواہ کے بیان کو یونہی قبول نہیں کرلیتا بلکہ اس کو مختلف پہلوئوں سے جانچ کر رائے قائم کرتا ہے اسی طرح ایک محدث بھی ہر روایت کو آنکھ بند کرکے قبول نہیں کرتا بلکہ جانچ پڑتال کرکے اس کے متعلق رائے قائم کرتا ہے۔
) مگر جس طرح شاہدوںکے بیانات کا جانچنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے، اسی طرح درایت بھی بچوں کا کھیل نہیں ہے، حدیث کو اصولِ درایت پر وہی شخص جانچ سکتا ہے جس نے قرآن کا علم حاصل کرکے اسلام کے اصولِ اولیہ کو خوب سمجھ لیا ہو، اور جس نے حدیث کے بیشتر ذخیرہ کا گہرا مطالعہ کرکے احادیث کو پرکھنے کی نظر بہم پہنچائی ہو۔ کثرتِ مطالعہ اور ممارست سے انسان میں ایسا ملکہ پیدا ہوجاتا ہے جس سے وہ رسول اللہ ﷺ کا مزاج شناس ہوجاتا ہے اور اسلام کی صحیح روح اس کے دل و دماغ میں بس جاتی ہے۔ پھر وہ ایک حدیث کو دیکھ کر اوّل نظر میں سمجھ لیتا ہے کہ آیا رسول اللہ ﷺ ایسا فرماسکتے تھے یا نہیں؟ یا آپ کا عمل ایسا ہوسکتا تھا یا نہیں؟ پھر جس طرح ایک معاملہ میں دو قاضیوں کا اجتہاد مختلف ہوتا ہے اور جس طرح قرآن مجید کے معانی میں دو فاضلوں کی تفسیریں مختلف ہوسکتی ہیں، اسی طرح دو محدثوں کی درایت میں بھی اختلاف ممکن ہے۔ خدا نے ہم کو انسانی طاقت سے زیادہ کسی چیز کا مکلّف قرار نہیں دیا ہے۔ اختلاف رائے انسانی فطرت کا مقتضی ہے، اور اس کی وجہ سے نہ قرآن چھوڑا جاسکتا ہے، نہ حدیث ، اور نہ عدالت کی کرسی۔ پس ایک حدیث کے متعلق جس حد تک تحقیق انسان کے بس میں ہے، اس کا سامان محدثین نے فراہم کردیا ہے۔ ہمارا کام اس سامان سے فائدہ اٹھا کر صحیح کو غلط سے ممتاز کرنا اور صحیح کا اتباع کرنا ہے۔ نہ یہ کہ صحیح و غلط کے اختلاط کو دیکھ کر سرے سے رسالت ہی سے قطع تعلق کرلینا۔
منکرینِ حدیث کہتے ہیں کہ ہم حدیث کو صرف تاریخ ہی کی حیثیت سے لیں گے حجتِ شرعی نہ بنائیں گے۔مگر کیا ان حضرات نے رسول کی تاریخ کو سکندر اور نپولین کی تاریخ سمجھا ہے کہ اس کے صحیح ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہ پڑتا ہو؟ کیا وہ اتنا نہیں سمجھتے کہ یہ اس انسان کی تاریخ ہے جس کا اتباع فرض ہے، جس کی اطاعت پر نجات کا مدار ہے، جس کی سیرت مسلمانوں کے لیے اسوۂ حسنہ ہے؟ اس ذاتِ پا ک کی تاریخ دو حال سے خالی نہیں ہوسکتی، یا صحیح ہوگی یا غلط اگر غلط ہے تو اس کو لینا کیا معنی نذرِ آتش کردیجیے۔ رسول پر بہتان اور آپ اس کو تاریخ کی حیثیت سے قبول کریں؟ اور اگر وہ صحیح ہے تو اس کا اتباع فرض ہے۔ مسلمان ہوتے ہوئے اس کی پیروی سے آپ بچ کر کہاں جاسکتے ہیں؟

منکرین حدیث کا استدلال اور اس کا اِبطال

انکارِ حدیث کی بنیاد تین بڑے اعتراضات پر رکھی گئی ہے۔ ایک یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے احادیث کو لکھنے سے منع کردیا تھا۔ دوسرے یہ کہ حضوؐر کے زمانے میں اور آپؐ کے بعد خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی قرآن کو محفوظ کرنے کا تو اہتمام کیا گیا، مگر احادیث کے محفوظ کرنے کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا۔ تیسرے یہ کہ احادیث صحابہ اور تابعین کے ذہنوں میں چھپی پڑی رہیں۔ وہ کبھی کبھار اتفاقاً کسی کے سامنے ان کا ذکر کردیا کرتے تھے، اور ان روایات کو جمع کرنے کا کام حضوؐر کی وفات کے چند سو برس بعد کیا گیا۔ ان تین خلافِ واقعہ بنیادوں پر بعض حضرات سوالیہ انداز میں اس نتیجے کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں کہ احادیث کے ساتھ یہ برتائو اس لیے کیا گیا کہ دراصل وہ محض ایک وقتی حیثیت رکھتی تھیں، دنیا بھر کے لیے اور ہمیشہ کے لیے ان کو ماخذِ قانون بنانا سرے سے مطلوب ہی نہ تھا۔
سطور ذیل میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ ان تینوں باتوں میں، جن پر اس نتیجے کی بنا رکھی گئی ہے ، صداقت کا جوہر کس قدر ہے؟ اور خود وہ نتیجہ جو ان سے برآمد کیا گیا ہے، بجائے خود کہاں تک صحیح ہے؟

کتابتِ حدیث کی ابتدائی ممانعت اور اس کے وجوہ

رسول اللہ ﷺ کی دو حدیثوں میں، صرف احادیث لکھنے سے منع کیا گیا ہے، ان کو زبانی روایت کرنے سے منع نہیں کیا گیا ہے، بلکہ ان میں سے ایک حدیث میں تو بالفاظِ صریح حضوؐر نے فرمایا ہے حَدِّ ثُوْا عَنِّیْ وَلَاحَرَجٌ میری باتیں زبانی بیان کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
لیکن دراصل یہ بات سرے سے ہی غلط ہے کہ صرف ان دو حدیثوں کو لے کر ان سے نتائج اخذ کرڈالے جائیں، اور اس سلسلے کے تمام دوسرے متعلقہ واقعات کو نظر انداز کردیا جائے۔ پہلی بات جو اس باب میں جاننی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ نبی ﷺ جس زمانے میں مبعوث ہوئے ہیں اس وقت عرب کی پوری قوم اَن پڑھ تھی اور اپنے سارے معاملات حافظے اور زبان سے چلاتی تھی۔ قریش جیسے ترقی یافتہ قبیلے کا حال مؤرخ بلاذری کی روایت کے مطابق یہ تھا کہ اس میں صرف ۱۷ آدمی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ مدینہ کے انصار میں بلاذری ہی کے بقول ۱۱ سے زیادہ آدمیوں کو لکھنا پڑھنا نہ آتا تھا۔ کتابت کے لیے کاغذ ناپید تھا۔ جھلّیوں اور ہڈیوں اور کھجور کے پتوں پر تحریریں لکھی جاتی تھیں۔ ان حالات میں جب حضوؐر مبعوث ہوئے تو آپؐ کے سامنے اوّلین کام یہ تھا کہ قرآن مجید کو اس طرح محفوظ کریں کہ اس میں کسی دوسری چیز کی آمیزش نہ ہونے پائے۔ لکھنے والے چونکہ گنے چنے آدمی تھے، اس لیے آپ کو خطرہ تھا کہ جو لوگ وحی کے الفاظ اور آیات لکھ رہے ہیں، وہی لوگ اگر آپؐ ہی سے سن کر آپ کے حوالہ سے دوسری چیزیں بھی لکھیں گے تو قرآن آمیزش سے نہ بچ سکے گا۔ آمیزش نہ ہوگی تو کم از کم شک پڑجائے گا کہ ایک چیز آیتِ قرآنی ہے یا حدیثِ رسول۔ اس بنا پر ابتدائی دور میں حضوؐر نے احادیث لکھنے سے منع فرمادیا تھا۔

کتابت ِ حدیث کی عام اجازت

مگر یہ حالت زیادہ دیر تک باقی نہیں رہی۔ مدینہ طیّبہ پہنچنے کے تھوڑی مدت بعد آپ نے اپنے صحابہ اور ان کے بچوں کو لکھنے پڑھنے کی تعلیم دلوانے کا خود اہتمام فرمایا، اور جب ایک اچھی خاصی تعداد پڑھی لکھی ہوگئی تو احادیث لکھنے کی آپؐ نے اجازت دے دی۔ اس سلسلے میں مستند روایات یہ ہیں:
(۱) عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ سے جو کچھ سنتا تھا وہ لکھ لیتا تھا۔ لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا رسولؐ اللہ ایک انسان ہیں، کبھی رضا کی حالت میں بولتے ہیں اور کبھی غضب کی حالت میں، تم سب کچھ لکھ ڈالتے ہو؟ اس پر میں نے فیصلہ کیا کہ جب تک حضورؐ سے پوچھ نہ لوں آپؐ کی کوئی بات نہ لکھوں گا۔ پھر جب حضوؐر سے میں نے پوچھا تو آپ نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اُکْتُبْ فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا یَخْرُجُ مِنْہُ اِلَّا حَقٌّ۔ ’’لکھو،اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس منہ سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔‘‘
(ابودائود،مسند احمد،دارمی حاکم، بیہقی فی المدخل)
تخریج : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَاَبُوْبَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَا: ثَنَآ یَحْیٰ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ الْاَخْنَسِ، عَنِ الْوَلِیْدِ ابْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ مُغِیْثٍ، عَنْ یُوْسُفَ بْنِ مَا ہِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍ و، قَالَ: کُنْتُ اَکْتُبُ کُلَّ شَیْیٍٔ اَسْمَعُہٗ مِنْ رَّسُولِ اللّٰہِ ﷺ اُرِیْدُ حِفْظَہٗ فَنَہَتْنِیْ قُرَیْشٌ وَقَالُوْا اَتَکْتُبُ کُلَّ شَیْیٍٔ تَسْمَعُہٗ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَشَرٌیَتَکَلَّمُ فِی الْغَضَبِ وَالرَّضَا فَاَمْسَکْتُ عَنِ الْکِتَابِ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِﷺ فَاَؤْ مَأَ بِاِصْبَعِہٖ اِلیٰ فِیْہِ فَقَالَ: اُکْتُبْ فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَایَخْرُجُ مِنْہٗ اِلَّا حَقٌّ۔(۱)
(۲) ابوہریرہؓ کہتے ہیں ، انصار میں سے ایک شخص نے عرض کیا۔ ’’میں آپؐ سے بہت سی باتیں سنتا ہوں مگر یاد نہیں رکھ سکتا۔‘‘ حضورؐ نے فرمایا اِسْتَعِنْ بِیَمِیْنِکَ وَاَوْمَأَبِیَدِہٖ اِلیٰ الْخَطِّ ’’اپنے ہاتھ سے مدد لو‘‘اور پھر ہاتھ کے اشارہ سے بتایا کہ ’’لکھ لیا کرو۔‘‘ (ترمذی)
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، نَا اللَّیْثُ، عَنِ الْخَلِیْلِ بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ کَانَ رَجَلٌ مِّنَ الْاَنْصَارِ یَجْلِسُ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَیَسْمَعُ مِنَ النَّبِیِّ ﷺ الْحَدِیْثَ فَیُعْجِبُہٗ وَلَا یَحْفَظُہٗ فَشَکَا ذٰلِکَ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ لَاَسْمَعُ مِنْکَ الْحَدِیْثَ فَیُعْجِبُنِیْ وَلَا اَحْفَظُہٗ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِسْتَعِنْ بِیَمِیْنِکَ وَاَوْمَأَبِیَدِہِ الْخَطَّ۔ (۲)
(۳) ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک خطبہ دیا۔ بعد میں (یمن کے ایک صاحب) ابوشاہ نے عرض کیا کہ میرے لیے اسے لکھوادیجیے۔ حضوؐر نے فرمایا اکتبوا لابی شاہ ’’ابوشاہ کو لکھ کر دے دو۔‘‘ (بخاری ، احمد، ترمذی) اسی واقعہ کی تفصیل ہے جو حضرت ابوہریرہؓ کی ایک دوسری روایت میں یوں بیان ہوئی ہے کہ فتح مکہ کے بعد حضوؐر نے ایک خطبہ دیا جس میں حرمِ مکّہ کے احکام اور قتل کے معاملہ میں چند قوانین بیان فرمائے۔ اہل یمن میں سے ایک شخص (ابو شاہ) نے اٹھ کر عرض کیا کہ یہ احکام مجھے لکھوادیں۔ آپ نے فرمایا ’’اسے یہ احکام لکھ کر دے دیے جائیں۔‘‘ (بخاری ،ابودائود: کتا ب العلم)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُو نُعَیْمٍ اَلْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ، قَالَ: ثَنَا شَیْبَانٌ، عَنْ یحْیٰ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ خُزَاعَۃَ قَتَلُوْا رَجُلًا مِنْ بَنِیْ لَیْثٍ عَامَ فَتْحِ مَکَّۃَ بِقَتِیْلٍ مِّنْہُمْ قَتَلُوْہُ، فَاُخْبِرَبِذَالِکَ النَّبِیُّ ﷺ فَرَکِبَ رَاحِلَتَہٗ، فَخَطَبَ، فَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ حَبَسَ عَنْ مَکَّۃَ الْقَتْلَ اَوِالْفِیْلَ، قَالَ مُحَمَّدٌ وَاجْعَلُوْہُ عَلَی الشَّکِّ کَذَا، قَالَ اَبُوْ نُعَیْمٍ: الْقَتْلَ اَوِالْفِیْلَ وَغَیْرُہٗ یَقُوْلُ الْفِیْلَ وَسُلِّطَ عَلَیْہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَالْمُؤْمِنُوْنَ اَلَا وَاِنَّہَا لَمْ تَحِلَّ لِاَحَدٍ قَبْلِیْ وَلَا تَحِلُّ لِاَحَدٍ بَعْدِیْ اَلَا وَاِنَّہَا حَلَّتْ لِیْ سَاعَۃً مِنْ نَّہَارٍ اَلَا وَاِنَّہَا سَاعَتِیْ وَہٰذِہٖ حَرَامٌ لَا یُخْتَلیٰ شَوْکُہَا وَلَا یُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلَاتُلْتَقَطُ سَاقِطُہَا اِلَّا لِمُنْشِدٍ فَمَنْ قُتِلَ فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظْرَیْنِ اِمَّا اَنْ یُعْقَلَ وَاِمَّااَنْ یُّقَادَاَہْلُ الْقَتِیْلِ فَجَآئَ رَجُلٌ مِّنْ اَہْلِ الْیَمَنِ فَقَالَ اُکْتُبْ لِیْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ اُکْتُبُوْا لِاَبِیْ فُلَانٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ اِلَّا الْاِذْخِرُیَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَاِنَّا نَجْعَلُہٗ فِیْ بُیُوْتِنَا وَقُبُوْرِنَا فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ اِلَّا الْاِذْخِرُ اِلَّا الْاِذْخِرُ۔(۳)
(۴) ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ صحابہ میں سے کوئی مجھ سے زیادہ حدیثیں نہ رکھتا تھا، مگر عبداللہ بن عمرو بن عاص اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اس لیے کہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں نہ لکھتا تھا۔ (بخاری، مسلم ،ترمذی ، ابودائود، نسائی، مسند احمد)
تخریج: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: ثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ: ثَنَا عَمْرٌ و: قَالَ: اَخْبَرَنِیْ وَہْبُ بْنُ مُنَبِّہٍ، عَنْ اَخِیْہِ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَاہُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ، مَا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ اَحَدٌ اَکْثَرَ حَدِیْثاً عَنْہُ مِنِّیْ اِلَّا مَاکَانَ مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍ وفَاِنَّہٗ کَانَ یَکْتُبُ وَلَااَکْتُبُ۔ تَابَعَہٗ مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامٍ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ۔(۴)
(۵) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مختلف لوگوں نے پوچھا، اور ایک مرتبہ برسرِ منبر بھی آپ سے پوچھا گیا کہ آیا آپ کے پاس کوئی ایسا علم بھی ہے جو خاص طور پر آپ ہی کو نبی ﷺ نے دیا ہو۔ انھوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ میرے پاس صرف کتاب اللہ ہے ، اور یہ چند احکام ہیں جو میں نے حضورؐ سے سن کر لکھ لیے تھے پھر وہ تحریر آپ نے نکال کر دکھائی۔ اس میں زکوٰۃ، اور قانونِ تعزیرات، اور حرم مدینہ، اور ایسے ہی بعض اور معاملات کے متعلق چند احکام تھے۔
(بخاری، مسلم، احمد اور نسائی نے اس مضمون کے متعدد روایات مختلف سندوں کے ساتھ نقل کی ہیں)
اس کے علاوہ نبی ﷺ نے اپنے حکّام کو مختلف علاقوں کی طرف بھیجتے وقت متعدد مواقع پر فوجداری اور دیوانی قوانین اور زکوٰۃ اور میراث کے احکام لکھوا کر دیے تھے جن کو ابودائود ، نسائی، دارقطنی ، دارمی ، طبقات ابن سعد، کتاب الاموال لا بی عبید، کتاب الخراج لابی یوسف اور المحلّٰی لابنِ حزم وغیرہ کتابوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔

احادیث کو زبانی روایت کرنے کی تاکید

یہ تو ہے معاملہ کتابتِ حدیث کا۔ لیکن جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں، اہلِ عرب ہزاروں برس سے اپنے کام کتابت کے بجائے حفظ و روایت اور زبانی کلام سے چلانے کے عادی تھے، اور یہی عادت ان کو اسلام کے ابتدائی دور میں بھی برسوں تک رہی۔ ان حالات میں قرآن کو محفوظ کرنے کے لیے تو کتابت ضروری سمجھی گئی، کیونکہ اس کا لفظ لفظ آیات اور سورتوں کی ٹھیک اسی ترتیب کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی تھی، محفوظ کرنا مطلوب تھا۔ لیکن حدیث کے معاملہ میں اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کیونکہ اس میں مخصوص الفاظ اور ان کی خاص ترتیب کے وحی ہونے کا نہ دعویٰ تھا نہ تصور، بلکہ مقصود صرف ان احکام اور تعلیمات و ہدایات کو یادرکھنا اور پہنچانا تھا جو صحابہؓ کو حضور سے ملی تھیں۔اس باب میں زبانی نقل و روایت کی محض کھلی اجازت ہی نہ تھی بلکہ بکثرت احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نبی ﷺ نے لوگوں کو بار بار اور بکثرت اس کی تاکید فرمائی تھی۔ مثال کے طور پر چند احادیث ملاحظہ ہوں:
(۱) زید بن ثابت ، عبداللہ بن مسعود، جبیر بن مطعم اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم حضوؐر کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں:
نَضَّرَ اللّٰہُ اِمْرأً سَمِعَ مِنَّا حَدِیْثًا فَحَفِظَہُ حَتّٰی یُبَلِّغَہٗ فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ اِلیٰ مَنْ ہُوَ اَفْقَہُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ لَیْسَ بِفَقِیْہٍ۔
’’اللہ اس شخص کو خوش و خرم رکھے جو ہم سے کوئی بات سنے اور دوسروں تک پہنچائے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص سمجھ کی بات کسی ایسے شخص کو پہنچادیتا ہے جو اس سے زیادہ فقیہ ہو۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص خود فقیہ نہیں ہوتا مگر فقہ پہنچانے والا بن جاتا ہے۔‘‘ (ابودائود ، ترمذی، احمد، ابن ماجہ،دارمی)
تخریج: حَدَّثَنَامُسَدَّدٌ، ثنا یَحْیٰ، عَنْ شُعْبَۃَ، حَدَّثَنِیْ عَمْرُوبْنُ سُلَیْمَانَ مِنْ وَّلَدِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ اَبَانٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ زَیْدِبْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ، یَقُوْلُ: نَضَّرَ اللّٰہُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِیْثًا فَحَفِظَہٗ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ إلیٰ مَنْ ہُوَاَفْقَہُ مِنْہُ وَرُبَّ حَاصِلِ فِقْہٍ لَیْسَ بِفَقِیْہٍ۔ (۵)
حَدَثَّنَا مَحْمُوْدُبْنُ غَیْلانَ، نا اَبُوْدَاودَ، انبانَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ نَضَّرَ اللّٰہُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا شَیْئًا فَبَلَّغَہٗ کَمَا سَمِعَہٗ فَرُبَّ مُبَلِّغٍ اَوْعیٰ مِنْ سَامِعٍ۔ہٰذا حدیث حسن صحیح۔ (ترمذی حوالہ مذکورہ بالا)
(۲) ابوبکرہؓکہتے ہیں کہ حضوؐ رنے فرمایا: لِیُبَلِّغَ الْغَائِبَ الشَّاہِدُ عَسیٰ اَنْ یُبَلِّغَ مَنْ ہُوَاَ وْعیٰ مِنْہُ ۔’’ جو حاضر ہے وہ ان لوگوں تک پہنچادے جو حاضر نہیں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ کسی ایسے آدمی تک پہنچادے جو اس سے زیادہ سمائی رکھتا ہو۔
(بخاری و مسلم)
تخریج: حَدَّثَنَامُسَدَّدٌ،قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: حَدَّثََنَا بْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ۔ قَالَ: ذَکَرَ النَّبِیُّ ﷺ قَعَدَ عَلیٰ بَعِیْرِہٖ وَاَمْسَکَ اِنْسَانٌ بِخطَا مِہٖ اَوْبِزِمَامہٖ، قَالَ: اَیُّ یَوْمٍ ہٰذَا؟ فَسَکَتْنَاحَتّٰی ضَنَنَّا اَنَّہٗ سَیُسَمِّیْہِ سِوَی اسْمِہٖ، قَالَ: اَلَیسَ یَوْمُ النَّحْرِ؟ قُلْنَا بَلیٰ، قَالَ: اَیُّ شَہْرٍہٰذَا؟ فَسَکَتْنَا حَتّٰی ظَنَنَّا اَنَّہٗ سَیُسَمِّیْہِ بِغَیْرِ اسْمِہٖ، قَالَ: اَلیْسَ بِذِی الْحِجَّۃِ؟ قُلْنَا بَلیٰ، قَالَ: فَاِنَّ دِمَائَ کُمْ وَاَمْوَالَکُمْ وَاَعْرَاضَکُمْ بَیْنَکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہٰذَا فِیْ شَہْرِ کُمْ ہٰذَا فِیْ بَلَدِ کُمْ ہٰذا لِیُبَلِّغَ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ فَاِنَّ الشَّاہِدَ عَسٰی اَنْ یُّبَلِّغَ مَنْ ہُمْ اَوْعیٰ لَہٗ مِنْہُ۔ (۶)
(۳) ابو شریح کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دوسرے دن حضوؐر نے خطبہ دیا جسے میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے اور خوب یاد رکھا ہے اور وہ موقع اب تک میری آنکھوں میں سمایا ہوا ہے۔ خطبہ ختم کرکے حضوؐر نے فرمایا وَلِیُبَلِّغَ الشَّاہِدُا لْغَائِبَ ’’جو حاضر ہیں وہ ان لوگوں تک پہنچادیں جو حاضر نہیں ہیں۔‘‘ (بخاری)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ قَالَ حَدَّثَنِیْ سَعِیْدٌ ہُوَابْنُ اَبِیْ سَعِیْدٍ عَنْ اَبِیْ شُرَیْحٍ اَنَّہٗ قَالَ لِعَمْرِوبْنِ سَعِیْدٍ وَہُوَ یَبْعَثُ الْبَعُوْثَ اِلیٰ مَکَّۃَ إئْذَنْ لِیْ اَیُّہَا الْاَمِیْرُ اُحَدِّثْکَ قَوْلًا قَامَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْغَدَ مِنْ یَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْہُ اُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِیْ وَاَبْصَرَتْہُ عَیْنَایَ حِیْنَ تَکَلَّمَ بِہٖ حَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ اِنَّ مَکَّۃَ حَرَّمَہَا اللّٰہُ وَلَمْ یُحَرِّمْہَا النَّاسُ فَلَا یَحِلُّ لِاَمْرِیٍٔ یُؤْمِنْ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِاَنْ یَسْفِکَ بِہَادَمًا وَلَا یَعْضُدُ بِہَا شَجَرَۃًفَاِنْ اَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُوْلِ اللّٰہِ فِیْہَا فَقُوْلُوْا اِنَّ اللّٰہَ قَدْاَذِنَ لِرَسُوْلِہٖ وَلَمْ یَاْذَنْ لَکُمْ وَاِنَّمَا اَذِنَ لِیْ فِیْہَا سَاعَۃً مِنْ نَّہَارٍ ثُمَّ عَادَتْ حُرْمَتُہَا الْیَوْمَ کَحُرْمَتِہَا بِالْاَمْسِ وَلَیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ الْحَدِیْث۔ (۷)
(۴) حجۃ الوداع کے موقع پر بھی تقریر ختم کرکے آپؐ نے قریب قریب وہی بات فرمائی تھی جو اوپر والی دونوں حدیثوں میں منقول ہوئی ہے۔ (بخاری)
(۵) بنی عبدالقیس کا وفد جب بحرین سے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے چلتے وقت عرض کیا کہ ہم بہت دور دراز کے باشندے ہیں اور ہمارے اور آپؐ کے درمیان کفّار حائل ہیں۔ ہم صرف حرام مہینوں میں ہی حاضر خدمت ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا آپ ہمیں کچھ ایسی ہدایات دیں جو ہم واپس جاکر اپنی قوم کے لوگوں کو بتائیں اور جنت کے مستحق ہوں۔ حضوؐرنے جواب میں ان کو دین کے چند احکام بتائے اور فرمایا اِحْفَظُوْہُ وَاَخبِرُوْہُ مَنْ وَرَائَ کُمْ ’’ ان باتوں کو یاد کرلو اور وہاں کے لوگوں کو بتادو۔‘‘ (بخاری و مسلم)
تخریج: حَدَّثَنَاعَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ اَبِیْ جَمْرَۃَ، قَالَ: کُنْتُ اَقْعُدُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَیُجْلِسُنِیْ عَلیٰ سَرِیْرِہٖ، فَقَالَ: اَقِمْ عِنْدِیْ حَتّٰی اَجْعَلَ لَکَ سَہْمًا مِنْ مَّالِیْ فَاَقَمْتُ مَعَہٗ شَہْرَیْنِ، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ وَفْدَعَبْدِ الْقَیْسِ لَمَّا اَتَوُالنَّبِیَّ ﷺ، قَالَ: مَنِ الْقَوْمُ اَوْمَنِ الْوَفْدُ ؟ قَالُوْا : رَبِیْعَۃٌ، قَالَ: مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ اَوْبِالْوَفْدِ غَیْرَخَزَایَا وَلَا نَدَامیٰ، فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا لَا نَسْتَطِیْعُ اَنْ نَّاْتِیَکَ اِلَّا فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ بَیْنَنَا وَبَیْنَکَ ہٰذَا الْحَیُّ مِنْ کُفَّارِ مُضَرَفَمُرْنَا بِاَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْبِہٖ مَنْ وَّرَائَ نَا وَنَدْ خُلْ بِہِ الْجَنَّۃَ، وَسَأَلُوْہُ عَنِ الْاَشْرِ بَۃِ، فَاَمَرَہُمْ بِاَرْبَعٍ وَنَہَاہُمْ عَنْ اَرْبَعٍ، اَمَرَہُمْ بِالْاِیْمَانِ بِاللّٰہِ وَحْدَہٗ، قَالَ: اَتَدْرُوْنَ مَاالْاِیْمَانُ بِاللّٰہِ وَحْدَہٗ؟ قَالُوا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ: شَہَادَۃُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَاِقَامَ الصَّلوٰۃِ وَاِیْتَائَ الزَّکوٰۃِ وَصِیَامَ رَمَضَانَ وَاَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمُسَ وَنَہَا ہُمْ عَنْ اَرْبَعٍ عَنِ الْحَنْتُمِ وَالدُّبَّآئِ وَالنَّقِیْرِ وَالْمُزَفَّتِ وَرُبَمَا قَالَ الْمَقِیْرِ، وَقَالَ احْفَظُوْ ہُنَّ وَاخْبِرُوْا بِہِنَّ مَنْ وَرَآئَ کُمْ۔ (۸)
کیا یہ ہدایات اور بار بار کی تاکیدیں یہی ظاہر کرتی ہیں کہ حضوؐر روایت حدیث کی حوصلہ افزائی نہ کرنا چاہتے تھے؟ یا یہ کہ آپ اپنے احکام کو وقتی احکام سمجھتے تھے اور یہ نہ چاہتے تھے کہ لوگوں میں وہ پھیلیں اور عام حالات پر ان کا انطباق کیا جانے لگے؟

جھوٹی حدیث روایت کرنے پر سخت وعید

اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی حدیث کی نشر و اشاعت کے لیے تاکید فرماتے تھے، بلکہ اس کے ساتھ آپؐ نے ان کی حفاظت اور ان میں جھوٹ کی آمیزش سے احتراز کی بھی سخت تاکید فرمائی ہے۔ اس سلسلے میں چند احادیث ملاحظہ ہوں:
عبداللہ بن عمروبن عاصؓ ، ابوہریرہؓ ، حضرت زبیرؓ اور حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔ ’’جو شخص میرا نام لے کر قصداً جھوٹی بات میری طرف منسوب کرے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔‘‘ (بخاری و ترمذی)
(۱) ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ حضوؐر نے فرمایا حَدِّثُوْا عَنِّیْ، وَلَاحَرَجَ وَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔’’میری باتیں روایت کرو، اس میں کوئی حرج نہیں، مگر جو میری طرف جان بوجھ کر جھوٹی بات منسوب کرے گا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے گا۔‘‘ (مسلم)
تخریج: حَدَّثَنَاہُدَّا بُ بْنُ خَالِدِنِ الْاَنْدِیُّ، نَاہَمَّامٌ عَنْ زَیْدِبْنِ اَسْلَمَ، عَنْ عَطَآئِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِالخُدْرِیِّ، اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لَا تَکْتُبُوْا عَنِّیْ وَمَنْ کَتَبَ عَنِّیْ غَیْرَ الْقُرْاٰنِ فَلْیُمْحِہٖ وَحَدِّثُوا عَنِّیْ وَلَا حَرَجَ۔ وَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ، قَالَ ہَمَّامٌ: اَحْسِبُہٗ، قَالَ: مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ، مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔ (۹)
(۲) ابن عباسؓ، ابن مسعودؓ اورجابرؓ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضوؐر نے فرمایا : اِتَّقُوا الْحَدِیْثَ عَنِّیْ اِلَّا مَاعَلِمْتُمْ فَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔’’میری طرف سے کوئی بات بیان نہ کرو جب تک تمہیں یہ علم نہ ہو کہ میں نے وہ کہی ہے، کیونکہ جو میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے گا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے گا۔‘‘ (ترمذی، ابن ماجہ)
تخریج: (الف)حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ وَکِیْعٍ، نَاسُوَیْدُبْنُ عَمْرٍوالْکَلِبِیُّ، نَا اَبُوعَوَانَۃَ، عَنْ عَبْدِ الْاَعْلیٰ، عَنْ سَعِیْدِبْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اِتَّقُوا الْحَدِیْثَ عَنِّیْ اِلَّا مَا عَلِمْتُمْ فَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ وَمَنْ قَالَ فِی الْقُرآنِ بِرَأْیِہٖ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔ (۱۰) (ہذا حدیث حسن)
(ب) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِتَّقُوا الْحَدِیْثَ عَنِّیْ اِلَّا مَا عَلِمْتُمْ فَاِنَّہٗ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ وَمَنْ کَذَبَ فِی الْقُراٰنِ بِغَیْرِ عِلْمٍ فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔ (۱۱)
(۳) حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضور ؐ نے ارشاد فرمایا: لَا تَکْذِبُوا عَلَیَّ فَاِنَّہٗ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ فَلْیَلِجِ النَّارَ۔ ’’میرا نام لے کر جھوٹ نہ بولو، کیونکہ جو شخص میرا نام لے کر جھوٹ بولے گا وہ آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ (بخاری)
تخریج: (الف) حَدَّثَنَا عَلِیُّ ابْنُ الْجَعْدِ، قَالَ:اَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ مَنْصُورٌ: قَالَ: سَمِعْتُ رِبْعِیَّ بْنَ خِرَاشٍ یَقُوْلُ سَمِعْتُ عَلِیًّا، یَقُوْلُ: قَالَ النَّبِیَّ ﷺ: لَا تَکْذِبُوْا عَلَیَّ فَاِنَّہٗ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ فَلْیَلِجِ النَّارَ۔ (۱۲)
ابن ماجہ میں حضرت علیؓ سے مروی روایت کے الفاظ:
عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَاتَکْذِبُوا عَلَیَّ فَاِنَّ الْکِذْبَ عَلَیَّ یُوْلِجُ النَّارَ۔ (۱۳)
ترمذی نے حضرت علی بن ابی طالب کی روایت یہ بیان کی ہے:
(ب) عَنْ عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَا تَکْذِ بُوْا عَلَیَّ فَاِنَّہٗ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ یَلِجِ النَّارَ۔ (۱۴)
اور لکھتے ہیں کہ اسے بیس صحابہ کرام نے روایت کیا ہے۔ ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، زبیرؓ، سعید بن زیدؓ، عبداللہ بن عمروؓ، انسؓ، جابرؓ ، ابن عباسؓ ، ابوسعیدؓ، عمروبن عبستہؓ، عقبۃ بن عامرؓ، معاویہؓ، بریدہؓ، ابوموسیٰ ؓ، ابو امامۃؓ، عبداللہ بن عمرؓ، منقعؓ، اوس ثقفیؓ، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم۔
حدیث علی بن ابی طالب، حدیث حسن صحیح قال عبدالرحمن بن مہدی منصوربن معتمر اثبت اہل الکوفۃ، وقال وکیع الم یکذب ربعی بن خراش فی الاسلام کذبۃ۔
(۴) حضرت سلمہؓ کہتے ہیں: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ، یََقُولُ: مَنْ یَّقُلْ عَلَیَّ مَا لَمْ اَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔ میں نے حضوؐر کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو شخص میرا نام لے کر وہ بات کہے جو میں نے نہیں کہی ہے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔‘‘ (بخاری)
تخریج: (الف) حَدَّثَنَا الْمَکِیُّ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیْدُبْنُ اَبِیْ عُبَیْدٍ، عَنْ سَلَمَۃَ ہُوَابْنُ الْاَکْوَعِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ: مَنْ یَّقُلْ عَلَیَّ مَالَمْ اَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔(۱۵)
حضرت ابوہریرہؓسے ابن ماجہ نے اسے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
(ب) عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَقَوَّلَ عَلَیَّ مَا لَمْ اَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأَ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔ (۱۶)
کیا یہ بار بار کی سخت وعید یہی ظاہر کرتی ہے کہ حضوؐر کے ارشادات کی دین میں کوئی اہمیت نہ تھی؟ اگر آپ کی سنت کی کوئی قانونی حیثیت دین میں نہ ہوتی اور اس سے احکامِ دین کے متاثر ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو کیا ضرورت پڑی تھی کہ جہنم کی وعید سناسنا کر لوگوں کو جھوٹی روایت کرنے سے روکا جاتا؟ بادشاہوں اور رئیسوں کی طرف تاریخوں میں بہت سی غلط باتیں منسوب ہوجاتی ہیں۔ ان سے آخر دین پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اگر حضوؐر کی سنت کی یہی حیثیت ہے تو آپ کی تاریخ کو مسخ کردینے کی یہ سزا کیوں ہوکہ آدمی کو واصل جہنم کردیا جائے؟

سنت رسولؐ کے حجت ہونے کی صریح دلیل

اس سلسلے میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جب ایک مسئلے میں اللہ اور اس کے رسول کی صاف صاف تصریحات موجود ہوں تو اس کے بارے میں غیر متعلق چیزوں سے نتائج نکالنے کی ضرورت ہی کیا باقی رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں اپنے رسول کو تشریح کتاب اللہ کے اختیارات بھی دیے ہیں اور تشریعی اختیارات بھی۔ سورۂ نحل کی آیت ۴۴ ، سورۂ اعراف کی آیت ۱۵۷، سورۂ حشر کی آیت ۷، اس معاملے میں بالکل واضح ہیں۔ پھر نبی ﷺ نے بھی صاف صاف اپنے ان اختیارات کو بیان کیا ہے:
(۱) ابورافع کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لَا اُلْفِیَنَّ اَحَدَ کُمْ مُتَّکِئًا عَلیٰ اَرِیْکَتِہٖ یَاْتِیْہِ الْاَمْرُ مِنْ اَمْرِیْ مِمَّا اَمَرْتُ بِہٖ اَوْ نَہَیْتُ فَیَقُولُ لَا اَدْرِیْ، مَا وَجَدْ نَا فِی کِتَابِ اللّٰہِ اتَّبَعْنَاہُ۔ ’’ میں ہرگز نہ پائوں تم میں سے کسی شخص کو کہ وہ اپنی مسند پر تکیہ لگائے بیٹھا ہو اور اس کو میرے احکام میں سے کوئی حکم پہنچے ، خواہ میں نے کسی چیز سے منع کیا ہو یا کسی کام کے کرنے کا حکم دیا ہو۔ اور وہ سن کر کہے کہ میں نہیں جانتا، جو کچھ ہم کتاب اللہ میں پائیں گے اس کی پیروی کریں گے۔‘‘
(احمد، شافعی، ترمذی، ابودائود، ابن ماجہ، بیہقی فی دلائل النبوۃ)
تخریج: (الف) حَدَّثَنَا اَحْمَدُبْنُ مُحَمَّدِبْنِ حَنْبَلٍ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفُضَیْلِیُّ وَابْنُ کَثِیْرٍ قَالُوَا: ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ اَبِی النَّضْرِ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ رَافِعٍ ، عَنْ اَبیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: لَا اُلْفِیَنَّ اَحَدَکُمْ مُتَّکِئًا عَلیٰ اَرِیْکَتِہٖ یَاْ تِیْہُ الْاَمْرُ مِنْ اَمْرِیْ مِمَّا اَمَرْتُ بِہٖ اَوْ نَہَیْتُ عَنہُ فَیَقُوْلُ لَا نَدْرِیْ مَا وَجَدْنَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ اتَّبَعْنَاہُ۔ (۱۷)
(ب) حَدَّثَنَاعَبْدُ اللّٰہِ حَدَّ ثَنِیْ اَبِیْ ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ اِسْحَاقَ انا عَبْدُ اللّٰہِ انا ابْنُ لَہِیَعَۃُ، حَدَّثَنِیْ اَبُوالنَّضْرِاَنَّ عُبَیْدَ اللّٰہِ بْنَ اَبِیْ رَافِعٍ حَدَّثَہٗ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: لَاَعْرِفَنَّ مَا یَبْلُغُ اَحَدَکُمْ مِنْ حَدِیْثِیْ شَیْیٌٔ وَہُوَ مُتَّکِیٌٔ عَلیٰ اَرِیْکَتِہٖ فَیَقُوْلُ مَا اَجِدُ ہٰذَا فِی کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالیٰ۔ (۱۸)
(۲) مقدام بن معدیکرب کی روایت ہے کہ حضوؐر نے فرمایا: اَلَا اِنِّیْ اُوتِیْتُ الْقُراٰنَ وَمِثْلَہٗ مَعَہٗ ، اَلَا یُوْشِکُ رَجُلٌ شَبْعَانَ عَلیٰ اَرِیْکَتِہٖ یَقُولُ عَلَیْکُمْ بِہٰذَا الْقُرْاٰنِ فَمَا وَجَدْ تُّمْ فِیْہِ مِنْ حَلَالٍ فَاَحِلُّوہُ وَمَا وَجَدْتُّمْ فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوْہُ، وَاِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ کَمَا حَرَّمَ اللّٰہُ، اَلَا یَحِلُّ لَکُمْ الْحِمَارُ الْاَہْلِیُّ، وَلَا کُلُّ ذِیْ نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ۔۔۔۔ ’’خبردار رہو ، مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ویسی ہی ایک اور چیز بھی۔ خبردار ایسا نہ ہو کہ کوئی پیٹ بھرا شخص اپنی مسند پر بیٹھا ہوا یہ کہنے لگے کہ بس تم قرآن کی پیروی کرو، جو کچھ اس میں حلال پائو اسے حلال سمجھو اور جو کچھ اس میں حرام پائو اسے حرام سمجھو۔ حالانکہ دراصل جو کچھ اللہ کا رسول حرام قرار دے وہ ویسا ہی حرام ہے جیسے اللہ کا حرام کیا ہوا۔ خبردار رہو تمہارے لیے پالتو گدھا حلال نہیں ہے اور نہ کوئی کچلیوں والا درندہ حلال ہے۔‘‘  (ابودائود، ابن ماجہ، دارمی، حاکم)

( یہ آخری جملے واضح کررہے ہیں کہ کچھ لوگوں نے گدھے اور کتے اور دوسرے درندوں کو اس دلیل سے حلال ٹھیرانے کی کوشش کی ہوگی کہ قرآن مجید میں ان کی حرمت کا کوئی حکم نہیں آیاہے۔ اس پر حضورؐ نے یہ تقریر فرمائی ہوگی۔)

تخریج: حَدَّثَنَاعَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ نَجْدَۃَ، ثنا اَبُوعَمْرِوبْنُ کَثِیْرِبْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ حُرَیْزبْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، ابْنِ اَبِیْ عَوْفٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ۔ اَلَا اِنِّیْ اُوْتِیْتُ الْکِتَابَ وَمِثَلَہٗ مَعَہٗ اَلَا یُوْشِکُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلیٰ اَرِیْکَتِہٖ یَقُوْلُ: عَلَیْکُمْ بِہٰذَا القُرْاٰنِ فَمَا وَجَدْ تُّمْ فِیْہِ مِنْ حَلَالٍ فَاَحِلُّوْہُ وَمَا وَجَدتُّمْ فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوْہُ اَلَا لَا یَحِلُّ لَکُمُ الحِمَارُ الأَہْلِیُّ وَلَا کُلُّ ذِیْ نَابٍ مِنَ السَّبُعِ وَلَا لُقْطَۃُ مُعَاہِدٍ اِلَّا اَنْ یَسْتَغْنِیْ عَنْہَا صَاحِبُہَا وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَیْہِمْ اَنْ یَقَرُوْہُ فَإِنْ لَّمْ یَقْرُوْہُ فَلَہٗ اَنْ یُعْقِبَہُمْ بِمِثْلِ قِرَاہٗ۔ (۱۹)
(۳) عرباض بن ساریہ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور اس میں فرمایا اَیَحْسَبُ اَحَدُکُمْ مُتَّکِـئًا عَلیٰ اَرِیْکَتِہٖ یَظُنُّ اَنَّ اللّٰہَ لَمْ یُحَرِّمْ شَیْئًا اِلَّا مَا فِی الْقُرْاٰنِ۔ اَلَا وَاِنِّیْ وَاللّٰہِ قَدْ اَمَرْتُ وَوَعَظْتُ وَنَہَیْتُ عَنْ اَشْیَائَ اِنَّہَا لِمَثْل الْقُرْاٰنِ اَوْ اَکْثَرَ وَاِنَّ اللّٰہَ لَمْ یُحِلَّ لَکُمْ اَنْ تَدْخُلُوا بُیُوتَ اَہْلِ الْکِتابِ اِلّا بِاِذْنٍ وَلَا ضَرْبَ نِسَائِ ہِمْ وَلَا اَکْلَ ثِمَارِہِمْ اِذَا اَعْطَوکُمُ الَّذِیْ عَلَیْہِمْ۔’’کیا تم میں سے کوئی شخص اپنی مسند پر تکیہ لگائے یہ سمجھے بیٹھا ہے کہ اللہ نے کوئی چیز حرام نہیں کی سوائے ان چیزوں کے جو قرآن میں بیان کردی گئی ہیں؟ خبردار رہو، خدا کی قسم میں نے جن باتوں کا حکم دیا ہے اور جو نصیحتیں کی ہیں اور جن کاموں سے منع کیا ہے وہ بھی قرآن ہی کی طرح ہیں بلکہ کچھ زیادہ۔ اللہ نے تمہارے لیے ہرگز یہ حلال نہیں کیا ہے کہ اہل کتاب کے گھروں میں اجازت کے بغیر گھس جائو، یا ان کی عورتوں کو مارو پیٹو، یا ان کے پھل کھا جائو جب کہ وہ اپنے واجبات ادا کرچکے ہیں۔‘‘  (ابودائود)

(حدیث کا یہ آخری ٹکڑا صاف بتارہا ہے کہ کچھ منافقین نے ذمیوں پر دست درازیاں کی ہوں گی اور قرآن کا سہارا لے کر کہا ہوگا کہ بتائو قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ اہل کتاب کے گھروں میں داخل ہونے کے لیے بھی اجازت کی ضرورت ہے۔ اور قرآن میں کہاں ان کی عورتوں پر ہاتھ ڈالنے اور ان کے باغوں کے پھل کھالینے سے منع کیا گیا ہے۔ اس پر حضوؐر نے یہ تقریر فرمائی ہوگی۔)

تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیْسٰی، ثنا اَشْعَثُ بْنُ شُعْبَۃَ، ثنا اَرْطَاۃُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَکِیْمَ بْنَ عُمَیْرٍ اَبَاالْاَحْوَصِ یُحَدِّثُ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ السُّلَمِیِّ قَالَ: نَزَلْنَا مَعَ النَّبِیِّﷺ خَیْبَرَ وَمَعَہٗ مِنْ اَصْحَابِہٖ وَکَانَ صَاحِبُ خَیْبَرَ رَجُلًا مَارِدًا مُنْکِرًا فَاَقْبَلَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ یَامُحَمَّدُ أَلَکُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا حُُمُرَنَا وَتَاْکُلُوْا ثَمَرَنَا وَتَضْرِبُوْا نِسَآئَ نَا؟ فَغَضَبَ یَعْنِی النَّبِیُّ ﷺ وَقَالَ یَا ابْنَ عَوْفٍ اِرْکَبْ فَرْسَکَ ثُمَّ نَادِ اَلَا اِنَّ الْجَنَّۃَ لَا تَحِلُّ اِلَّا لِمُؤْمِنٍ وَاَنِ اجْتَمِعُوْا لِلصَّلوٰۃِ قَالَ فَاجْتَمَعُوْا ثُمَّ صَلَّی بِہِمُ النَّبِیُّ ﷺ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: اَیَحْسَبُ اَحَدُ کُمْ مُتَّکِئًا عَلیٰ اَرِیْکَتِہٖ قَدْ یَظُنُّ اَنَّ اللّٰہَ لَمْ یُحَرِّمْ شَیْئًااِلَّا مَافِی ہٰذَا الْقُرْاٰنِ، اَلَا وَاِنِّیْ وَاللّٰہِ قَدْ وَعَظْتُ وَاَمَرْتُ وَنَہَیْتُ عَنْ اَشْیَائَ اِنَّہَا لَمِثْلُ الْقُرْاٰنِ اَوْاَکْثَرَ وَاِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ لَمْ یَحِلَّ لَکُمْ اَنْ تَدْ خُلُوا بُیُوْتَ اَہْلِ الْکِتَابِ اِلَّا بِاِذْنٍ وَلَا ضَرْبَ نِسَآئِ ہِمْ وَلَا اَکْلَ ثِمَارِ ہِمْ اِذَا اَعْطَوْکُمُ الَّذِیْ عَلَیْہِمْ۔ (۲۰)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضوؐر نے فرمایا فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ۔ ’’ جو شخص میری سنت سے منہ پھیرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ (بخاری و مسلم)
تخریج: حَدَّثَنَا سَعِیْدُبْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُبْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ حُمَیْدُبْنُ اَبِیْ حُمَیْدِ نِ الطَّوِیْلُ اَنَّہٗ سَمِعَ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ جَآئَ ثَلَاثَۃُ رَہْطٍ اِلیٰ بُیُوْتِ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ ﷺ یَسْئَلُوْنَ عَنْ عِبَادَۃِ النَّبِیِّ ﷺ فَلَمَّا اُخْبِرُوْا کَاَنَّہُمْ تَقَالُّوْہَا فَقَالُوْا وَاَیْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِیِّﷺ قَدْ غُفِرَلَہٗ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَمَا تَأَخَّرَقَالَ اَحَدُہُمْ اَمَّا اَنَا فَاِنِّیْ اُصَلِّی اللَّیْلَ اَبَدًا وَقَالَ اٰخَرُاَنَا اَصُوْمُ الدَّہْرَ وَلَا اُفْطِرُ وَقَالَ اٰخَرُوَاَنَا اَعْتَزِلُ النِّسَائَ فَلَا اَتَزَوَّجُ اَبَدًا فَجَآئَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلَیْہِمْ فَقَالَ اَنْتُمُ الَّذِیْنَ قُلْتُمْ کَذَاوَکَذَا اَمَا وَاللّٰہِ اِنّی لَاَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَاَتْقَاکُمْ لَہٗ لٰکِنِّیْ اَصُوْمُ وَاُفْطِرُوَاُصَلِّیْ واَرْقُدُوَاَتَزوَّجُ النِّسَآئَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ۔ (۲۱)
اللہ اور رسول کے ان صاف صاف ارشادات کے بعد آخر اس استدلال میں کیا وزن رہ جاتا ہے کہ حدیثیں چونکہ لکھوائی نہیں گئیں اس لیے وہ عام انطباق کے لیے نہ تھیں۔

کیا قابل اعتماد صرف لکھی ہوئی چیز ہی ہوتی ہے؟

منکرین حدیث کے استدلال کا بڑا انحصار اس خیال پر ہے کہ قرآن اس لیے قابل اعتماد و استناد ہے کہ وہ لکھوالیا گیا، اور احادیث اس لیے قابل اعتماد و استناد نہیں ہیں کہ وہ عہد رسالت اور عہد خلافت میں نہیں لکھوائی گئیں۔ اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن کو جس وجہ سے لکھوایا گیا وہ یہ تھی کہ اس کے الفاظ اور معانی دونوںمن جانب اللہ تھے۔ اس کے الفاظ کی ترتیب ہی نہیں، اس کی آیتوں کی ترتیب اور سورتوں کی ترتیب بھی خدا کی طرف سے تھی۔ اس کے الفاظ کو دوسرے الفاظ کے ساتھ بدلنا بھی جائز نہ تھا اور وہ اس لیے نازل ہوا تھا کہ لوگ انہی الفاظ میں اسی ترتیب کے ساتھ اس کی تلاوت کریں۔ اس کے مقابلہ میں سنت کی نوعیت بالکل مختلف تھی۔ وہ محض لفظی نہ تھی بلکہ عملی بھی تھی اور جو لفظی تھی اس کے الفاظ قرآن کے الفاظ کی طرح بذریعہ وحی نازل نہیں ہوئے تھے بلکہ حضوؐر نے اس کو اپنی زبان میں ادا کیا تھا۔ پھر اس کا ایک بڑا حصّہ ایسا تھا جسے حضوؐر کے ہمعصروں نے اپنے الفاظ میں بیان کیا تھا، مثلاً یہ کہ حضوؐر کے اخلاق ایسے تھے، حضوؐر کی زندگی ایسی تھی، اور فلاں موقع پر حضوؐر نے یوں عمل کیا۔ حضوؐر کے اقوال اور تقریریں نقل کرنے کے بارے میں بھی یہ پابندی نہ تھی کہ سننے والے انھیں لفظ بلفظ نقل کریں، بلکہ اہل زبان سامعین کے لیے یہ جائز تھا اور وہ اس پر قادر بھی تھے کہ آپ سے ایک بات سن کر معنی و مفہوم بدلے بغیر اسے اپنے الفاظ میں بیان کردیں۔ حضوؐر کے الفاظ کی تلاوت مقصود نہ تھی بلکہ اس تعلیم کی پیروی مقصود تھی جو آپؐ نے دی ہو۔ احادیث میں قرآن کی آیتوں اور سورتوں کی طرح یہ ترتیب محفوظ کرنا بھی ضروری نہ تھا کہ فلاں حدیث پہلے ہو اور فلاں اس کے بعد۔ اس بنا پر احادیث کے معاملے میں یہ بالکل کافی تھا کہ لوگ انھیں یاد رکھیں اور دیانت کے ساتھ انھیں لوگوں تک پہنچائیں۔ ان کے معاملے میں کتابت کی وہ اہمیت نہ تھی جو قرآن کے معاملے میں تھی۔
دوسری بات جسے خوب سمجھ لینا چاہیے، یہ ہے کہ کسی چیز کے سند اور حجت ہونے کے لیے اس کا لکھا ہوا ہونا قطعاً ضروری نہیں ہے۔ اعتماد کی اصل بنیاد اس شخص یا ان اشخاص کا بھروسے کے قابل ہونا ہے جس کے یا جن کے ذریعہ سے کوئی بات دوسروں تک پہنچے، خواہ وہ مکتوب ہو یا غیر مکتوب۔ خود قرآن کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے لکھوا کر نہیں بھیجا بلکہ نبیؐ کی زبان سے اس کو بندوں تک پہنچایا۔اللہ تعالیٰ نے پورا انحصار اس بات پر کیا کہ جو لوگ نبی کو سچا مانیں گے وہ نبی کے اعتماد پر قرآن کو بھی ہمارا کلام مان لیں گے۔ نبی ﷺ نے بھی قرآن کی جتنی تبلیغ و اشاعت کی، زبانی ہی کی۔ آپؐ کے جو صحابہ مختلف علاقوں میں جاکر تبلیغ کرتے تھے وہ قرآن کی سورتیں لکھی ہوئی نہ لے جاتے تھے۔لکھی ہوئی آیات اور سورتیں تو اس تھیلے میں پڑی رہتی تھیں جس کے اندر آپ انھیں کا تبانِ وحی سے لکھواکر ڈال دیا کرتے تھے۔ باقی ساری تبلیغ و اشاعت زبان سے ہوتی تھی اور ایمان لانے والے اس ایک صحابی کے اعتماد پر یہ بات تسلیم کرتے تھے کہ جو کچھ وہ سنا رہا ہے وہ خدا کا کلام ہے، یا رسول اللہ ﷺ کا جو حکم پہنچا رہا ہے وہ حضوؐر ہی کا حکم ہے۔

احادیث قرآن کی طرح کیوں نہ لکھوائی گئیں؟

منکرین حدیث یہ سوال عموماً بڑے زور سے اٹھاتے ہیں اور اپنے خیال میں اسے بڑا لاجواب سوال سمجھتے ہیں۔ ان کا تصوّر یہ ہے کہ قرآن چونکہ لکھوایا گیا اس لیے وہ محفوظ ہے ، اور حدیث چونکہ حضوؐر نے خود لکھوا کر مرتب نہیں کردی اس لیے وہ غیر محفوظ ہے۔ لیکن میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اگر حضوؐر نے قرآن مجید کو محض لکھوا کر چھوڑ دیا ہوتا اور ہزاروں آدمیوں نے اسے یاد کرکے بعد کی نسلوں کو زبانی نہ پہنچایا ہوتا تو کیا محض وہ لکھی ہوئی دستاویز بعد کے لوگوں کے لیے اس بات کا قطعی ثبوت ہوسکتی تھی کہ یہ وہی قرآن ہے جو حضوؐر نے لکھوایا تھا؟ وہ توخود محتاج ثبوت ہوتی، کیونکہ جب تک کچھ لوگ اس بات کی شہادت دینے والے نہ ہوتے کہ یہ کتاب ہمارے سامنے نبی ﷺ نے لکھوائی تھی، اس وقت تک اس لکھی ہوئی کتاب کا معتبر ہونا مشتبہ رہتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تحریر پر کسی چیز کے معتبر ہونے کا دارومدار نہیں ہے بلکہ وہ اسی وقت معتبر ہوتی ہے جب کہ زندہ انسان اس کے شاہد ہوں۔ اب اگر فرض کیجیے کہ کسی معاملے کے متعلق تحریر موجود نہیں ہے مگر زندہ انسان اس کے شاہد موجود ہیں، تو کسی قانون داں سے پوچھ لیجیے، کیا ان زندہ انسانوں کی شہادت ساقط الاعتبار ہوگی جب تک کہ تائید میں ایک دستاویز نہ پیش کی جائے؟ شاید آپ کو قانون کا علم رکھنے والا ایک شخص بھی ایسا نہ ملے گا جو اس سوال کا جواب اثبات میں دے۔ آج نبی ﷺ کا لکھوایا ہوا قرآن مجید دنیا میں کہیں موجود نہیں ہے، مگر اس سے قرآن کے مستند اور معتبر ہونے پر ذرہ برابر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ متواتر اور مسلسل زبانی روایات سے اس کا معتبر ہونا ثابت ہے۔ خود یہ بات کہ حضوؐر نے قرآن لکھوایا تھا، روایات ہی کی بنا پر تسلیم کی جارہی ہے، ورنہ اصل دستاویز اس دعوے کے ثبوت میں پیش نہیں کی جاسکتی، اور وہ کہیں مل بھی جائے تو یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ یہ وہی صحیفے ہیں جو حضوؐر نے لکھوائے تھے۔ لہٰذا تحریر پر جتنا زور یہ حضرات دیتے ہیں وہ بالکل غلط ہے۔ نبیﷺ نے اپنی سنتوں پر قائم کیا ہوا ایک پورا معاشرہ چھوڑا تھا جس کی زندگی کے ہر پہلو پر آپؐ کی تعلیم و ہدایت کا ٹھپا لگاہوا تھا۔ اس معاشرے میں آپ کی باتیں سنے ہوئے، آپ کا کام دیکھے ہوئے اورآپؐ کے زیر ہدایت تربیت پائے ہوئے ہزاروں لوگ موجود تھے۔ اس معاشرے نے بعد کی نسلوں تک وہ سارے نقوش منتقل کیے اور ان سے وہ نسلاً بعد نسلٍ ہم کو پہنچے۔ دنیا کے کسی مسلّم اصولِ شہادت کی رو سے بھی یہ شہادت رد نہیں کی جاسکتی۔ پھریہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ یہ نقوش کاغذ پر ثبت نہیں کیے گئے۔ انھیں ثبت کرنے کا سلسلہ حضوؐر کے زمانے میں شروع ہوچکا تھا۔ پہلی صدی ہجری میں اس کا خاص اہتمام کیا گیا اور دوسری صدی کے محدّثین میں زندہ شہادتوں اور تحریری شہادتوں دونوں کی مدد سے اس پورے نقشے کو ضبط تحریر میں لے آئے۔

کیا احادیث ڈھائی سو برس تک گوشۂ خمول میںپڑی رہیں؟

ان حضرات کا یہ خیال ’’کہ احادیث نہ یاد کی گئیں نہ محفوظ کی گئیں بلکہ وہ ان لوگوں کے ذہنوں میں چھپی پڑی رہیں جو اتفاقاً کبھی دوسروں کے سامنے ان کا ذکر کرکے مرگئے۔ یہاں تک کہ ان کی وفات کے کئی سو برس بعد ان کو جمع اور مرتّب کیا گیا‘‘، یہ نہ صرف واقعہ کے خلاف ہے بلکہ درحقیقت یہ نبی ﷺ کی شخصیت کا اور آپؐ کے ساتھ ابتدائی دور کے مسلمانوں کی عقیدت کا بہت ہی حقیراندازہ ہے۔ واقعات سے قطع نظر ایک شخص محض اپنی عقل ہی پر زور ڈال کر صحیح صورت حال کا تصوّر کرے تو وہ کبھی یہ باور نہیں کرسکتا کہ جس عظیم الشان شخصیت نے عرب کے لوگوں کو اخلاق و تہذیب اور عقائد و اعمال کی انتہائی پستیوں سے نکال کر بلند ترین مقام پر پہنچا دیا تھا اس کی باتوں اور اس کے کاموں کو وہی لوگ اس قدر ناقابل التفات سمجھتے تھے کہ انھوں نے اس کی کوئی بات یادرکھنے کی کوشش نہ کی، نہ دوسروں کے سامنے اتفاقاً ذکر آجانے سے بڑھ کر کبھی اس کا چرچا کیا، نہ بعد کی آنے والی نسلوں نے اس کو کوئی اہمیت دی کہ اس کے دیکھنے والوں سے کبھی اس کے حالات پوچھتے۔ ایک معمولی لیڈر تک سے جس کسی کو شرف صحبت نصیب ہوجاتاہے تو وہ اس سے اپنی ملاقاتوں کی ایک ایک بات یاد رکھتا ہے اور دوسروں کے سامنے اس کا ذکر کرتا ہے اور اس کے مرنے کے بعد نئی آنے والی نسلوں کے لوگ جاجاکر اس کے ملنے والوں سے اس کے حالات دریافت کرتے ہیں۔ آخر (ان حضرات) نے رسول اللہ ﷺ کو کیا سمجھ لیا ہے کہ حضوؐر کو آپ کے ہم عصر اور آپ سے متصل زمانے کے لوگ اتنے التفات کا بھی مستحق نہ سمجھتے تھے۔
اب ذرا اصل صورت واقعہ ملاحظہ فرمائیے۔ رسول اللہ ﷺ صحابۂ کرام کے لیے ایک ایسے پیشوا تھے جن سے وہ ہر وقت عقائد ، عبادات ، اخلاق اور تہذیب و شائستگی کا سبق حاصل کرتے تھے۔ آپ کی زندگی کے ایک ایک رخ اور ایک ایک پہلو کو دیکھ کر وہ پاکیزہ انسانوں کی طرح رہنا سیکھتے تھے۔ ان کو معلوم تھا کہ آپؐ کی بعثت سے پہلے ہم کیا تھے اور آپ نے ہمیں کیا کچھ بنا دیا ہے۔ ان کے لیے ہر پیش آنے والے مسئلے میں مفتی بھی آپؐ ہی تھے اور قاضی بھی آپؐ۔ آپؐ ہی کی قیادت میں وہ لڑتے بھی تھے اور صلح بھی کرتے تھے۔ ان کو تجربہ تھا کہ اس قیادت کی پیروی میں ہم کہاں سے چلے تھے اور بالآخر کہاں پہنچ کررہے۔ اس بنا پر وہ آپؐ کی ایک ایک بات کو یاد رکھتے تھے۔جو قریب رہتے تھے وہ بالالتزام آپؐ کی صحبتوں میں بیٹھتے تھے، جنھیں کسی وقت آپ کی مجلس سے غیر حاضر رہنا ہوتا تو وہ دوسروں سے پوچھ کر معلوم کرتے تھے کہ آج آپؐ نے کیا کیا اور کیا کہا۔ دور دور سے آنے والے لوگ اپنے ان اوقات کو جو آپؐکے ساتھ بسر ہوجاتے تھے اپنا حاصل زندگی سمجھتے تھے اور عمر بھر ان کی یاد دل سے نہ نکلتی تھی۔ جنھیں حاضر ہونے کا موقع نصیب نہ ہوتا تھا وہ ہر اس شخص کے گرد اکٹھے ہوجاتے تھے جو آپؐ سے مل کر آتا تھا اور کرید کرید کر ایک ایک بات اس سے پوچھتے تھے۔ جنھوں نے آپؐ کو دورسے کبھی دیکھا تھا یا کسی بڑے مجمع میں صرف آپ ؐکی تقریر سن لی تھی وہ جیتے جی اس موقع کو نہ بھولتے تھے اور فخریہ اپنے اس شرف کو بیان کرتے تھے کہ ہماری آنکھوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے اور ہمارے کان آپ ؐکی تقریر سن چکے ہیں۔ پھر حضوؐر کے بعد جو نسلیں پیدا ہوئیں ان کے لیے تو دنیا میں سب سے اہم اگر کوئی چیز تھی تو وہ اس رسول عظیم سیرت تھی جس کی قیادت کے معجزے نے عرب کے شتر بانوں کو اٹھا کر سندھ سے اسپین تک کافرماں روا بنادیا تھا۔ وہ ایک ایک ایسے شخص کے پاس پہنچتے تھے جس نے آپ ؐکی صحبت پائی تھی، یا آپ ؐکو کبھی دیکھا تھا، یا آپ ؐکی کوئی تقریر سنی تھی۔ اور جوں جوں صحابہ دنیا سے اٹھتے چلے گئے، یہ اشتیاق بڑھتا گیا، حتیّٰ کہ تابعین کے گروہ نے وہ سارا علم نچوڑ لیا جو سیرت پاک کے متعلق صحابہ سے ان کو مل سکتا تھا۔

صحابہؓ کی روایت حدیث

عقل گواہی دیتی ہے کہ ایساضرور ہوا ہوگا اور تاریخ گواہی دیتی ہے کہ فی الواقع ایسا ہی ہوا ہے۔ آج حدیث کا جو علم دنیا میں موجود ہے وہ تقریباً دس ہزار صحابہ سے حاصل کیا گیا ہے۔ تابعین نے صرف ان کی احادیث ہی نہیں لی ہیں بلکہ ان سب صحابیوں کے حالات بھی بیان کردیے ہیں۔ اور یہ بھی بتادیا ہے کہ کس نے حضوؐرکی کتنی صحبت پائی ہے؟ یا کب اور کہاں آپ کو دیکھا ہے؟ اور کن کن مواقع پر آپ کی خدمت میں حاضری دی ہے؟ (یہ حضرات) تو فرماتے ہیں کہ احادیث ابتدائی دور کے مسلمانوں کے ذہن میں دفن پڑی رہیں اور دوڈھائی صدی بعد امام بخاریؒ اور ان کے ہم عصروں نے انھیں کھود کر نکالا۔ لیکن تاریخ ہمارے سامنے جو نقشہ پیش کرتی ہے وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ صحابہؓ میں سے جن حضرات نے سب سے زیادہ روایات بیان کی ہیں، ان کی اور ان کے مرویات کی فہرست ملاحظہ ہو:

اسماء
سن وفات
احادیث کی تعداد

ابوہریرہؓ( ان کے شاگردوں کی تعداد ۸۰۰ کے لگ بھگ تھی اور ان کے بکثرت شاگردوں نے ان کی احادیث کو قلم بند کیا تھا۔)۱؎
۵۷ھ؁
۵۳۷۴

ابوسعید خدریؓ
۴۶ھ؁
۱۱۷۰

جابر بن عبداللہؓ
۷۴ھ؁
۱۵۴۰

انس بن مالکؓ
۹۳ھ؁
۱۲۸۶

اُمّ المومنین عائشہ صدیقہؓ
۵۹ھ؁
۲۲۱۰

عبداللہ بن عباسؓ
۶۸ھ؁
۱۶۶۰

عبداللہ بن عمرؓ
۷۰ھ؁
۱۶۳۰

عبداللہ بن عمروبن عاصؓ
۶۳ھ؁
۷۰۰

عبداللہ بن مسعودؓ
۳۲ھ؁
۸۴۸

کیا یہ اسی بات کا ثبوت ہے کہ صحابۂ کرام نبی ﷺ کے حالات کو اپنے سینوں میں دفن کرکے یونہی اپنے ساتھ دنیاسے لے گئے؟

دورِ صحابہؓ سے امام بخاری کے دور تک علم حدیث کی مسلسل تاریخ

اس کے بعد ان تابعین کو دیکھیے جنھوں نے صحابۂ کرامؓ سے سیرتِ پاک کا علم حاصل کیااور بعد کی نسلوں تک اس کو منتقل کیا۔ ان کی تعداد کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ صرف طبقات ابن سعد میں چند مرکزی شہروں کے جن تابعین کے حالات ملتے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:
مدینہ مکہ کوفہ بصرہ
۴۸۴ ۱۳۱ ۴۱۳ ۱۶۴
ان میں سے جن اکابر تابعین نے حدیث کے علم کو حاصل کرنے ، محفوظ کرنے اور آگے پہنچانے کا سب سے بڑھ کر کام کیا ہے وہ یہ ہیں:
اسماء پیدائش وفات
سعید بن المسیَّب ۱۴ھ؁ ۶۳ھ؁
حسن بصری ۲۱ھ؁ ۱۱۰ھ؁
ابن سیرین ۳۳ھ؁ ۱۱۰ھ؁
عروہ بن زبیر( انھوں نے سیرت رسولؐ پر پہلی کتاب لکھی۔)۱ ۲۲ھ؁ ۹۴ھ؁
علی بن حسین (زین العابدین) ۳۸ھ؁ ۹۴ھ؁
مجاہد ۲۱ھ ؁ ۱۰۴ھ؁
قاسم بن محمد بن ابی بکر ۳۷ھ؁ ۱۰۶ھ؁
شریح (حضرت عمرؓ کے زمانہ میں قاضی مقرر ہوئے) ۷۸ھ؁
مسروق (حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں مدینہ آئے) ۶۳ھ؁
اسود بن یزید ۷۵ھ؁
مکحول ۱۱۲ھ؁
رجاء بن حیوہ ۱۰۳ھ؁
ہمام بن منب( انھوں نے احادیث کا ایک مجموعہ مرتب کیا جو صحیفہ ہمّام بن منبہ کے نام سے آج بھی موجود ہے اور شائع ہوچکا ہے۔)۲ ۴۰ھ؁ ۱۳۱ھ؁
سالم بن عبداللہ بن عمر ۱۰۶ھ؁
نافع مولیٰ عبداللہ بن عمر ۱۱۷ھ؁
سعید بن جبیر ۴۵ھ؁ ۹۵ھ؁
اسماء پیدائش وفات

سلیمان الاعمش ۶۱ھ؁ ۱۴۸ھ؁
ایوب السختیانی ۶۶ھ؁ ۱۳۱ھ؁
محمد بن المنکَدِر ۵۴ھ؁ ۱۳۰ھ؁
ابن شہاب زُہری ۱( انھوں نے حدیث کا بہت بڑا تحریری ذخیرہ چھوڑا۔) ۵۸ھ؁ ۱۲۴ھ؁
سلیمان بن یسار ۳۴ھ؁ ۱۰۷ھ؁
عِکرمہ مولیٰ ابن عباس ۲۲ھ؁ ۱۰۵ھ؁
عطاء بن ابی رباح ۲۷ھ؁ ۱۱۵ھ؁
قتادہ بن دعامہ ۶۱ھ؁ ۱۱۷ھ؁
عامر الشعبی ۱۷ھ؁ ۱۰۴ھ؁
علقمہ (یہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جوان تھے مگر حضوؐر سے ملے نہیں) ۶۲ھ؁
ابراہیم النخعی ۴۶ھ؁ ۹۶ھ؁
یزید بن ابی حبیب ۵۳ھ؁ ۱۲۸ھ؁

ان حضرات کی تواریخ پیدائش و وفات پر ایک نگاہ ڈالنے سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ ان لوگوں نے صحابہ کے عہد کا بہت بڑا حصہ دیکھا ہے۔ ان میں سے بیشتر وہ تھے جنھوں نے صحابہ کے گھروں میں اور صحابیات کی گودوں میں پرورش پائی ہے، اور بعض وہ تھے جن کی عمر کسی نہ کسی صحابی کی خدمت میں بسر ہوئی ہے۔ ان کے حالات پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے ایک ایک شخص نے بہ کثرت صحابہ سے مل کر نبی ﷺ کے حالات معلوم کیے ہیں اور آپ کے ارشادات اور فیصلوں کے متعلق وسیع واقفیت بہم پہنچائی ہے۔ اسی وجہ سے روایت حدیث کا بہت بڑا ذخیرہ انہی لوگوں سے بعد کی نسلوں کو پہنچا ہے۔ تاوقتیکہ کوئی شخص یہ فرض نہ کرلے کہ پہلی صدی ہجری کے تمام مسلمان منافق تھے، اس بات کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا کہ ان لوگوں نے گھر بیٹھے حدیثیں گھڑلی ہوں گی اور پھر بھی پوری امت نے انھیں سر آنکھوں پر بٹھایا ہوگا اور ان کو اپنے اکابر علماء میں شمار کیا ہوگا۔
اس کے بعد اصاغر تابعین اور تبع تابعین کا وہ گروہ ہمارے سامنے آتا ہے جو ہزار ہا کی تعداد میں تمام دنیائے اسلام میں پھیلا ہوا تھا۔ ان لوگوں نے بہت بڑے پیمانے پر تابعین سے احادیث لیں اور دور دراز کے سفر کرکے ایک ایک علاقے کے صحابہ اور ان کے شاگردوں کا علم جمع کیا۔ ان کی چند نمایاں شخصیتیں یہ ہیں:
اسماء پیدائش وفات
جعفر بن محمد بن علی (جعفر الصادق) ۸۰ھ؁ ۱۴۸ھ؁
ابوحنیفۃ النعمان (امام اعظم) ۸۰ھ؁ ۱۵۰ھ؁
شعبہ بن الحجاج ۸۳ھ؁ ۱۶۰ھ؁
لیث بن سعد ۹۳ھ؁ ۱۶۵ھ؁
ربیعۃ الرائے (استاذ امام مالک) ۱۳۶ھ؁
سعید بن عروبہ ۱۵۶ھ؁
مسعربن کدام ۱۵۲ھ؁
عبدالرحمن بن قاسم بن محمد بن ابی بکر ۱۲۶ھ؁
سفیان الثوری ۹۷ھ؁ ۱۶۱ھ؁
حمّاد بن زید ۹۸ھ؁ ۱۷۹ھ؁

دوسری صدی ہجری کے جامعین حدیث

یہی دور تھا جس میں حدیث کے مجموعے لکھنے اور مرتب کرنے کا کام باقاعدگی کے ساتھ شروع ہوا۔ اس زمانے میں جن لوگوں نے احادیث کے مجموعے مرتب کیے وہ حسب ذیل ہیں:
اسماء پیدائش وفات کارنامے
ربیع بن صبیح ۱۶۰ھ؁ انھوں نے ایک ایک فقہی عنوان پر الگ رسائل مرتب کیے۔
سعید بن عروبہ ۱۵۶ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
موسیٰ بن عقبہ ۱۴۱ھ؁ انھوں نے نبی ﷺ کے غزوات کی تاریخ مرتب کی۔
امام مالک ۹۳ھ؁ ۱۷۶ھ؁ انھوں نے احکام شرعی کے متعلق احادیث و آثار کو جمع کیا۔
ابن جُرَیج ۸۰ھ؁ ۱۵۰ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
امام اوزاعی ۸۸ھ؁ ۱۵ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
سفیان ثوری ۹۷ھ؁ ۱۶۱ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
حمّاد بن سلمہ بن دینار ۱۷۶ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
امام ابویوسف ۱۱۳ھ؁ ۱۸۲ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
امام محمد ۱۳۱ھ؁ ۱۸۹ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
محمد بن اسحاق ۱۵۱ھ؁ انھوں نے نبی ﷺ کی سیرت پاک مرتب کی۔
اسماء پیدائش وفات کارنامے
ابن سعد ۱۶۸ھ؁ ۲۲۰ھ؁ انھوں نے نبی ﷺ اور صحابہ و تابعین کے حالات جمع کیے۔
عبید اللہ بن موسیٰ العبسی ۲۱۳ھ؁ انھوں نے ایک ایک صحابی کی روایات الگ الگ جمع کیں۔
مسدد بن مسرہد البصری ۲۱۸ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
اسد بن موسیٰ ۲۱۲ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
نعیم بن حمّاد الخزاعی ۲۲۸ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
امام احمد بن حنبل ۱۶۴ھ؁ ۲۴۱ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
اسحٰق بن راہویہ ۱۶۱ھ؁ ۲۳۸ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
عثمان بن ابی شیبہ ۱۵۶ھ؁ ۲۳۹ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
ابوبکربن ابی شیبہ ۱۵۹ھ؁ ۲۳۵ھ؁ انھوں نے فقہی ابواب اور صحابہ کی جدا گانہ مرویات
دونوں کے لحاظ سے احادیث جمع کیں۔
ان میں سے امام مالک، امام ابویوسف، امام محمد ، محمد بن اسحاق، ابن سعد، امام احمد بن حنبل اور ابو بکر ابن شیبہ کی کتابیں آج تک موجود ہیں اور شائع ہوچکی ہیں۔ نیز موسیٰ بن عقبہ کی کتاب المغازی کا بھی ایک حصہ شائع ہوچکا ہے اور جن حضرات کی کتابیں آج نہیں ملتیں وہ بھی درحقیقت ضائع نہیں ہوئی ہیں، بلکہ ان کا پورا مواد بخاری و مسلم اور ان کے ہم عصروں نے اور ان کے بعد آنے والوں نے اپنی کتابوں میں شامل کرلیا۔ اس لیے لوگ ان سے بے نیاز ہوتے چلے گئے۔
امام بخاریؒ کے دور تک علم حدیث کی اس مسلسل تاریخ کو دیکھنے کے بعد کوئی شخص ان ارشادات کو آخر کیا وزن دے سکتا ہے کہ ’’احادیث نہ یا دکی گئیں نہ محفوظ کی گئیں بلکہ وہ ان لوگوں کے ذہنوں میں چھپی پڑی رہیں جو اتفاقاً کبھی دوسروں کے سامنے ان کا ذکر کرکے مرگئے یہاں تک کہ ان کی وفات کے چند سو برس بعد ان کو جمع اور مرتب کیا گیا۔‘‘ اور یہ کہ ’’بعد میں پہلی مرتبہ رسول اللہ ﷺکے تقریباً ایک سو برس بعد احادیث کو جمع کیا گیا مگر ان کا ریکارڈ اب محفوظ نہیں ہے۔‘‘

احادیث میں اختلاف کی حقیقت

یہ حضرات کہتے ہیں کہ ’’بہت کم احادیث ہیں جن میں یہ جامعین حدیث متفق ہوں۔‘‘ یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جو سرسری طور پر چند مختلف احادیث پر ایک نگاہ ڈال کر تو کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر تفصیل کے ساتھ کتب حدیث کا متقابل مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے درمیان اتفاق بہت زیادہ اور اختلاف بہت کم ہے۔ پھرجن میں اختلاف ہے ان کا جائزہ لیا جائے تو زیادہ تر اختلافات حسب ذیل چار نوعیتوں میں سے کسی نوعیت کے پائے جاتے ہیں:
ایک یہ کہ مختلف راویوں نے ایک ہی بات یا واقعہ کو مختلف الفاظ میں بیان کیا ہے اور ان کے درمیان معانی میں کوئی اہم اختلاف نہیں ہے، یا مختلف راویوں نے ایک ہی واقعہ یا تقریر کے مختلف اجزاء نقل کیے ہیں۔
دوسرے یہ کہ خود حضورؐ نے ایک مضمون کو مختلف الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔
تیسرے یہ کہ حضورؐ نے مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے عمل فرمایا ہے۔
چوتھے یہ کہ ایک حدیث پہلے کی ہے اور دوسری حدیث بعد کی اور اس نے پہلی کو منسوخ کردیا ہے۔
ان چار اقسام کو چھوڑ کر جن احادیث کا باہمی اختلاف رفع کرنے میں واقعی مشکل پیش آتی ہے ان کی تعداد پورے ذخیرۂ حدیث میں ایک فی صدی سے بھی کم ہے۔ کیا چند روایات میں اس خرابی کا پایا جانا یہ فیصلہ کردینے کے لیے کافی ہے کہ پورا ذخیرۂ حدیث مشکوک اور ناقابل اعتماد ہے؟ روایات کسی ایک ناقابل تقسیم کل کا نام نہیں ہے جس کے کسی جز کے ساقط ہوجانے سے کل کا ساقط ہوجانا لازم آئے۔ ہر روایت اپنی ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے اور اپنی جداگانہ سند کے ساتھ آتی ہے۔ اس بنا پر ایک دو نہیں، دوچار سو روایتوں کے ساقط ہوجانے سے بھی بقیہ روایات کا سقوط لازم نہیں آسکتا۔ علمی تنقید پر جو جوروایات پوری اتریں انھیں ماننا ہی ہوگا۔
محدثین کے درمیان اختلاف کی ایک اور صورت یہ ہے کہ کسی روایت کی سند کو ایک محدث اپنی تنقید کے اعتبار سے درست سمجھتا ہے اور دوسرا محدث اسے کمزور قرار دیتا ہے۔ یہ رائے اور تحقیق کا اختلاف ہے جس سے پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ کیا عدالتوں میں کسی شہادت کو قبول کرنے اور نہ قبول کرنے پر اختلاف کبھی نہیں ہوتا؟

کیا حافظہ سے نقل کی ہوئی روایات ناقابل اعتماد ہیں؟

(یہ حضرات)کہتے ہیں کہ ’’آج کے عربوں کا حافظہ جیسا کچھ قوی ہے ، پہلی صدی ہجری کے عربوں کا حافظہ بھی اتنا ہی قوی ہوگا۔ تاہم اسے خواہ کتنا ہی قوی مان لیا جائے ، کیا صرف حافظہ سے نقل کی ہوئی باتیں قابل اعتماد سمجھی جاسکتی ہیں؟‘‘ پھر ان کا ارشاد ہے کہ ’’ایک ذہن سے دوسرے ذہن تک پہنچتے پہنچتے بات کچھ سے کچھ ہوجاتی ہے اور ہر ذہن کے اپنے خیالات اور تعصبات اس کو موڑتے توڑتے چلے جاتے ہیں۔‘‘ یہ دو مزید وجہیں ہیں جن کی بنا پر وہ احادیث کو اعتماد و استناد کے قابل نہیں سمجھتے۔
جہاںتک پہلی بات کا تعلق ہے وہ تجربے اور مشاہدے کے خلاف ہے۔ تجربے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ آدمی اپنی جس قوت سے زیادہ کام لیتا ہے وہ ترقی کرتی ہے اور جس سے کام کم لیتا ہے وہ کمزور ہوجاتی ہے۔ یہ بات جس طرح تمام انسانی قوتوں کے معاملے میں صحیح ہے، حافظہ کے بارے میں بھی صحیح ہے۔ اہل عرب نبی ﷺ سے پہلے ہزاروں برس سے اپناکام تحریر کے بجائے یاد اور حافظے سے چلانے کے خوگر تھے۔ ان کے تاجر لاکھوں روپے کا لین دین کرتے تھے اور کوئی لکھا پڑھی نہ ہوتی تھی۔ پائی پائی کا حساب ، اور بیسیوں گاہکوں کا تفصیلی حساب وہ نوکِ زبان پر رکھتے تھے۔ ان کی قبائلی زندگی میں نسب اور خونی رشتوں کی بڑی اہمیت تھی۔ یہ سب کچھ بھی حافظے میں محفوظ رہتا اور زبانی روایت سے ایک نسل کے بعد دوسری نسل تک پہنچتا تھا۔ ان کا سارا لٹریچر بھی کاغذ پر نہیں بلکہ لوح قلب پر لکھا ہوا تھا۔ ان کی یہی عادت تحریر کا رواج ہوجانے کے بعد بھی تقریباً ایک صدی تک جاری رہی۔ اس لیے کہ قومی عادتیں بدلتے بدلتے ہی بدلی ہیں۔ وہ کاغذ کی تحریر پر اعتماد کرنے کے بجائے اپنے حافظے پر اعتماد کرنا زیادہ پسند کرتے تھے۔ انھیں اس پر فخر تھا، اور ان کی نگاہ سے وہ شخص گرجاتاتھا جس سے کوئی بات پوچھی جائے اور وہ زبانی بتانے کے بجائے گھر سے کتاب لاکر اس کا جواب دے۔ ایک مدت دراز تک وہ لکھنے کے باوجود یا د کرتے تھے اور تحریر پڑھ کر سنانے کے بجائے نوک زبان سے سنانا نہ صرف باعث عزت سمجھتے تھے بلکہ ان کے نزدیک آدمی کے علم پر اعتماد بھی اسی طریقے سے قائم ہوتا تھا۔
کوئی وجہ نہیں کہ حافظے کی یہ کیفیت آج کے عربوں میں باقی رہے۔ صدیوں سے کتابت پر اعتماد کرتے رہنے اور حافظے سے کام کم لینے کے باعث اب کسی طرح بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ ان کی یادداشت قدیم عربوں کی سی رہ جائے۔ لیکن عربوں اورغیر عربوں، سب میں آج بھی اس امر کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ان پڑھ لوگ اور اندھے آدمی پڑھے لکھے اور بینا انسانوں کی بہ نسبت زیادہ یاد داشت رکھتے ہیں۔ ناخواندہ تاجروں میں بہ کثرت لوگ ایسے دیکھے جاتے ہیں جنھیں بہت سے گاہکوں کے ساتھ اپنا ہزارہا روپے کا لین دین پوری تفصیل کے ساتھ یاد رہتا ہے۔ بے شمار اندھے ایسے موجود ہیں جن کی قوتِ حافظہ آدمی کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ یہ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ تحریر پر اعتماد کرلینے کے بعد ایک قوم کے حافظے کی وہ حالت باقی نہیں رہ سکتی جو ناخواندگی کے دور میں اس کی تھی۔

احادیث کے محفوظ رہنے کی اصل علّت

یہ اس معاملے کا ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ صحابہ کے لیے خاص طور پر نبی ﷺ کی احادیث کو ٹھیک ٹھیک یاد رکھنے اور انھیں صحیح صحیح بیان کرنے کے کچھ مزید محرکات بھی تھے جنھیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
اولاً، وہ سچّے دل سے آپ کو خدا کا نبی اور دنیا کا سب سے بڑا انسان سمجھتے تھے۔ ان کے دلوں پر آپؐ کی شخصیت کا بڑا گہرا اثر تھا۔ ان کے لیے آپ کی بات اور آپ کے واقعات و حالات کی حیثیت عام انسانی وقائع جیسی نہ تھی کہ وہ ان کو اپنے معمولی حافظے کے حوالے کردیتے۔ ان کے لیے تو ایک ایک لمحہ جو انھوں نے آپؐ کی معیت میں گزارا، ان کی زندگی کا سب سے زیادہ قیمتی لمحہ تھا اور اس کی یاد کو وہ اپنا سب سے بڑا سرمایہ سمجھتے تھے۔
ثانیاً وہ آپ کی ایک ایک تقریر، ایک ایک گفتگو اور آپ کی زندگی کے ایک ایک عمل سے وہ علم حاصل کررہے تھے جو انھیں اس سے پہلے کبھی حاصل نہ ہوا تھا۔ وہ خود جانتے تھے کہ ہم اس سے پہلے سخت جاہل اور گمراہ تھے، اور یہ پاکیزہ ترین انسان اب ہم کو صحیح علم دے رہا ہے اور مہذب انسان کی طرح جینا سکھا رہا ہے۔ اس لیے وہ پوری توجہ کے ساتھ ہر بات سنتے اور ہر فعل کو دیکھتے تھے، کیونکہ انھیں اپنی زندگی میں عملاً اسی کا نقش پیوست کرنا تھا، اسی کی نقل اتارنی تھی، اور اسی کی رہنمائی میں کام کرنا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس شعور و احساس کے ساتھ آدمی جو کچھ دیکھتا اور سنتا ہے اسے یاد رکھنے میں وہ اتنا سہل انگار نہیں ہوسکتا جتنا وہ کسی میلے یا کسی بازار میں سنی اور دیکھی ہوئی باتیں یاد رکھنے میں ہوسکتا ہے۔
ثالثاً ، وہ قرآن کی رو سے بھی یہ جانتے تھے اور نبی ﷺ کے بار بار متنبہ کرنے سے بھی ان کو شدت کے ساتھ اس بات کا احساس تھا کہ خدا کے نبی پر افتراکرنا بہت بڑا گناہ ہے جس کی سزا ابدی جہنم ہوگی۔ اس بنا پر وہ حضوؐر کی طرف منسوب کرکے کوئی بات کرنے میں سخت محتاط تھے۔ صحابہ کرام میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کسی صحابی نے اپنی کسی ذاتی غرض سے یا اپنا کوئی کام نکالنے کے لیے حضوؐر کے نام سے کبھی ناجائز فائدہ اٹھایا ہو۔ حتّٰی کہ ان کے درمیان جب اختلافات برپا ہوئے اور دو خونریز لڑائیاں تک ہوگئیں، اس وقت بھی فریقین میں سے کسی ایک شخص نے بھی کوئی حدیث گھڑ کر دوسرے کے خلاف استعمال نہیں کی۔ اس قسم کی حدیثیں بعد کے خداناترس لوگوں نے تو ضرور تصنیف کیں مگر صحابہ کے واقعات میں اس کی مثال ناپید ہے۔
رابعاً وہ اپنے اوپر اس بات کی بہت بڑی ذمہ داری محسوس کرتے تھے کہ بعد کے آنے والوں کو حضوؐر کے حالات اور آپ کی ہدایات و تعلیمات بالکل صحیح صورت میں پہنچائیں اور اس میں کسی قسم کا مبالغہ یا آمیزش نہ کریں، کیونکہ ان کے نزدیک یہ دین تھا اور اس میں اپنی طرف سے تغیر کردینا کوئی معمولی جرم نہیں بلکہ ایک عظیم خیانت تھا۔ اسی وجہ سے صحابہ کے حالات میں اس قسم کے بہ کثرت واقعات ملتے ہیں کہ حدیث بیان کرتے ہوئے وہ کانپ جاتے تھے، ان کے چہرہ کا رنگ اڑجاتا تھا، جہاں ذرہ برابر بھی خدشہ ہوتا تھا کہ شاید حضوؐر کے الفاظ کچھ اور ہوں وہاں بات نقل کرکے اوکماقال کہہ دیتے تھے تاکہ سننے والا ان کے الفاظ کو بعینہٖ حضوؐر کے الفاظ نہ سمجھ لے۔
خامساً، اکابر صحابہؓ خاص طور پر عام صحابیوں کو احادیث روایت کرنے میں احتیاط کی تلقین کرتے رہتے تھے۔ اس معاملے میں سہل انگاری برتنے سے شدت کے ساتھ روکتے تھے اور بعض اوقات ان سے حضوؐر کا کوئی ارشادسن کر شہادت طلب کرتے تھے تاکہ یہ اطمینان ہوجائے کہ دوسروں نے بھی یہ بات سنی ہے۔ اسی اطمینان کے لیے صحابیوں نے ایک دوسرے کے حافظے کا امتحان بھی لیا ہے۔ مثلاً ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ کو حج کے موقع پر حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص سے ایک حدیث پہنچی۔ دوسرے سال حج میں اُمّ المومنین نے اُسی حدیث کو دریافت کرنے کے لیے ان کے پاس آدمی بھیجا۔ دونوں مرتبہ حضرت عبداللہ کے بیان میں ایک حرف کا فرق بھی نہ تھا۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے فرمایا واقعی عبداللہ کو بات ٹھیک یاد ہے۔
(بخاری، مسلم)
صحابہؓ کے معاشرے میں، ان کی شخصی زندگیوں میں، ان کے گھروں میں، ان کی معیشت اور حکومت اور عدالت میں اس کا پورا ٹھپہ لگا ہوا تھا، جس کے آثار و نقوش ہر طرف لوگوں کو چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔ ایسی ایک چیز کے متعلق کوئی شخص حافظے کی غلطی ، یا اپنے ذاتی خیالات و تعصبات کی بنا پر کوئی نرالی بات لاکر پیش کرتا بھی تو وہ چل کہاں سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی نرالی حدیث آئی بھی ہے تو وہ الگ پہچان لی گئی ہے اور محدثین نے اس کی نشاندہی کردی ہے کہ اس خاص راوی کے سوا یہ بات کسی اور نے بیان نہیں کی ہے۔ یا اس پر عمل درآمد کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔

احادیث کی صحت کا ایک ثبوت

ان سب کے علاوہ ایک نہایت اہم بات اور بھی ہے جسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو عربی زبان جانتے ہیں اور جنھوں نے محض سرسری طور پر کبھی کبھار متفرق احادیث کا مطالعہ نہیں کر لیا ہے بلکہ گہری نگاہ سے حدیث کی پوری پوری کتابوں کو، یا کم از کم کسی ایک ہی کتاب (مثلاً بخاری یا مسلم) کو از اوّل تا آخر پڑھا ہے۔ ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اپنی ایک خاص زبان اور آپ کا اپنا ایک مخصوص انداز بیان ہے جو تمام صحیح احادیث میں بالکل یکسانیت اور یک رنگی کے ساتھ نظر آتا ہے۔ قرآن کی طرح آپ کا لٹریچر اور اسٹائل اپنی ایسی انفرادیت رکھتا ہے کہ اس کی نقل کوئی دوسرا شخص نہیں کرسکتا۔ اس میں آپ کی شخصیت بولتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اس میں آپ کا بلند منصب و مقام جھلکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کو پڑھتے ہوئے آدمی کا دل یہ گواہی دینے لگتا ہے کہ یہ باتیں محمد رسول اللہ کے سوا کوئی دوسرا شخص کہہ نہیں سکتا۔ جن لوگوں نے کثرت سے احادیث کو پڑھ کر حضوؐر کی زبان طرز بیان کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے وہ حدیث کی سند کو دیکھے بغیر محض متن کو پڑھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے یا موضوع، کیونکہ موضوع کی زبان ہی بتادیتی ہے کہ یہ رسول اللہﷺ کی زبان نہیں ہے۔ حتیّٰ کہ صحیح احادیث تک میں روایت باللفظ اور روایت بالمعنیٰ کا فرق صاف محسوس ہوجاتا ہے، کیونکہ جہاں راوی نے حضوؐر کی بات کو اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے وہاں آپؐ کے اسٹائل سے واقفیت رکھنے والا یہ بات پالیتا ہے کہ یہ خیال اور بیان تو حضوؐر ہی کا ہے لیکن زبان میں فرق ہے۔ یہ انفرادی خصوصیت احادیث میں کبھی نہ پائی جاسکتی اگر بہت سے کمزور حافظوں نے ان کو غلط طریقوں سے نقل کیا ہوتا اور بہت سے ذہنوں کی کارفرمائی نے ان کو اپنے اپنے خیالات و تعصبات کے مطابق توڑا مروڑا ہوتا۔ کیا یہ بات عقل میں سماتی ہے کہ بہت سے ذہن مل کر ایک یک رنگ لٹریچر اور ایک انفرادی اسٹائل پیدا کرسکتے ہیں؟
اور یہ معاملہ صرف زبان و ادب کی حد تک ہی نہیں ہے اس سے آگے بڑھ کر دیکھیے تو نظر آتا ہے کہ طہارت جسم و لباس سے لے کر صلح و جنگ اور بین الاقوامی معاملات تک زندگی کے تمام مختلف شعبوں میں اور ایمان و اخلاق سے لے کر علامات قیامت اور احوال آخرت تک تمام فکری اور اعتقادی مسائل میں صحیح احادیث ایک ایسا نظام فکر و عمل پیش کرتی ہیں جو اوّل سے آخر تک اپنا ایک ہی مزاج رکھتا ہے اور جس کے تمام اجزا میں پورا پورا منطقی ربط ہے۔ ایسا مربوط اور ہم رنگ نظام اور اتنا مکمل وحدانی نظام لازماً ایک ہی فکر سے بن سکتا ہے، بہت سے مختلف ذہن مل کر اسے نہیں بنا سکتے۔ یہ ایک اور اہم ذریعہ ہے جس سے موضوع احادیث ہی نہیں مشکوک احادیث تک پہچانی جاتی ہیں۔ سند کو دیکھنے سے پہلے ایک بصیرت رکھنے والا آدمی اس طرح کی کسی حدیث کے مضمون ہی کو دیکھ کر یہ بات صاف محسوس کرلیتا ہے کہ صحیح احادیث اور قرآن مجید نے مل کر اسلام کا جو نظام فکر اور نظام حیات بنایا ہے اس کے اندر یہ مضمون کسی طرح ٹھیک نہیں بیٹھتا کیونکہ اس کا مزاج پورے نظام کے مزاج سے مختلف نظر آتا ہے۔
ان حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے (تو ان حضرات) کی یہ رائے بڑے ہی سرسری مطالعے اور نہایت ناکافی غور و تحقیق کا نتیجہ نظر آتی ہے کہ حدیث کو حافظوں کی غلطی اور مختلف ذہنوں کی کارفرمائی نے مسخ کر دیا ہے۔

ماٰخذ

(۱) ٭ابوداؤد، کتاب العلم: باب فی کتاب العلم۔ ٭مسند احمد، ج۲، مرویات عبد اللّٰہ بن عمرو۔ ٭المستدرک للحاکم جلد ا کتاب العلم، الامربکتابۃ الحدیث ٭ دارمی باب من رخص فی کتاب العلم ٭ مسند احمد، ج۲، عمرو بن شعیب ۔
(۲) ٭ترمذی، ابواب العلم : باب فی الرخصۃ فیہ۔
(۳) ٭بخاری، ج ۱، کتاب العلم : باب کتابۃ العلم۔ ٭ابوداؤد: کتاب العلم: باب فی کتاب العلم۔ ٭ترمذی: ابواب العلم: باب ماجاء فی الرخصۃ فیہ۔
(۴) ٭بخاری ج ۱، کتاب العلم: باب کتابۃ العلم۔٭ترمذی: ابواب العلم: باب فی الرخصۃ فیہ۔ ٭دارمی: کتاب العلم: باب من رخص فی کتابۃ العلم۔٭ مسند احمد، ج ۲، عن ابی ہریرۃ۔
(۵) ٭ابوداؤد، کتاب العلم ج ۳، باب فضل نشر العلم۔ ٭ترمذی، ابواب اعلم ج ۲، باب ماجاء فی الحث علی تبلیغ السماع۔ حدیث زید بن ثابت حسن۔ ٭ ابن ماجہ ، المقدمہ: باب من بلغ علما ٭مسند احمد، ج ۵، زید بن ثابت۔ ٭دارمی، ج ۱، باب الاقتداء بالعلماء۔
(۶) ٭بخاری، ج ۱،کتاب العلم: باب قول النبی ﷺ ربّ مبلغ اوعی من سامع۔ ٭مسند احمد ، ج۱، عن ابن عباس۔ ٭ابن ماجہ، المقدمہ: باب من بلغ علما۔
(۷) ٭بخاری، ج ۱،کتاب العلم: باب لیبلّغ العلم الشاہد الغائب الخ۔
(۸) ٭بخاری، ج ۱،کتاب الایمان: باب اداء الخمس من الایمان۔ ٭ بخاری، ج ۱، کتاب العلم: باب تحریض النبی وفد عبدالقیس علی حفاظۃ الایمان۔ ٭ مسلم، ج ۱، کتاب الایمان: باب الامربالایمان باللّٰہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ وشرائع الدین والدعاء الیہ والسوال عنہ وحفظہ و تبلیغہ من لم یبلغہ۔ ٭ابوداؤد: کتاب الاشربہ : باب فی الاوعیۃ۔ ٭ ترمذی ابواب الایمان: باب ماجاء فی اضافۃ الفرائض الی الایمان۔ اس میں وا دواخمس ما غنمتم تک ہے۔ ٭نسائی: کتاب الایمان: باب اداء الخمس ۔ آخری جملہ اس میں بھی نہیں ہے۔
(۹) ٭مسلم، ج ۲، کتاب الزہد: باب التثبت فی الحدیث وحکم کتابۃ العلم۔
(۱۰) ٭ترمذی: ابواب تفسیر القراٰن: باب ماجاء فی الذی یفسرالقراٰن برأیہ۔
(۱۱) ٭مسند احمد، ج ۱، ابن عباس۔٭مسند جلد ۱ پر ابن عباس سے جو روایت مروی ہے اس میں فی القرآن کی بجائے علی القرآن ہے۔

(۱۲) ٭بخاری، ج ۱، کتاب العلم: باب اثم من کذب علی النبی ﷺ
(۱۳) ٭ابن ماجہ: باب التغلیظ فی تعمد الکذب الخ۔
(۱۴) ٭ترمذی: ابواب العلم: باب فی تعظیم الکذب علی رسول اللّٰہ ﷺ۔
(۱۵) ٭بخاری ج۱،کتاب العلم: باب اثم من کذب علی النبی ﷺ۔
(۱۶) ٭ابن ماجہ: المقدمہ :باب التغلیظ من تعمد الکذب علیٰ رسول اللّٰہ ﷺ۔
(۱۷) ٭المستدرک للحاکم، ج ۱، کتاب العلم۔ ٭ابوداؤد: کتاب السنۃ باب فی لزوم السنۃ۔ ٭ترمذی: ابواب العلم: باب مانص عنہ ان یقال عنہ حدیث رسول اللّٰہ ﷺ۔ ٭ابن ماجہ: باب تعظیم حدیث رسول اللّٰہ ﷺ والتغلیظ علیٰ من عارضہ۔ ٭موارد الظمآن میں نہیت عنہ کے بعد ماندری ماہذا عند ناکتاب اللّٰہ لیس ہذا فیہ کے الفاظ ہیں۔ ٭موارد الظمآن: کتاب العلم: باب اتباع رسول اللّٰہ ﷺ ۔ ٭ابن ماجہ نے من امری کے الفاظ روایت نہیں کیے۔ اور فیقول لاندری کے بجائے لاادری روایت کیا ہے۔
(۱۸) ٭مسند احمد، ج ۶، مرویات ابی رافع رضی اللّٰہ عنہ۔
(۱۹) ٭ابوداؤد: کتاب السنۃ: باب فی لزوم السنۃ۔ ٭دارقطنی: ج ۲٭دارمی، باب السنۃ قاضیۃ علیٰ کتاب اللّٰہ ٭ابن ماجہ: المقدمہ۔
(۲۰) ابوداؤد: کتاب الخراج والفئی والامارۃ: باب فی تعشیر اہل الذمہ اذا اختلفوا بالتجارات۔
(۲۱) بخاری، ج ۲، کتاب النکاح: باب الترغیب فی النکاح۔ ٭مسلم: کتاب النکاح، ج ۱۔

اساساتِ اسلام

۱۔ اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَشْہَدَ اَنْ لّآ اِلٰہ الاَّ اللّٰہ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَتُقِیْمَ الصَّلوٰۃَ وَتُوْتِیَ الزَّکوٰۃَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ وَ تَحُجَّ الْبَیْتَ اِنِ اسْتَطَعْتَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً۔ (مسلم، ابوداؤد ، ترمذی، نسائی)
ترجمہ: اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ؐ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے اگر وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ (تفہیمات حصہ دوم ص:فتنۂ تکفیر)
تخریج: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ خَیْثَمَۃَ زُہَیْرُبْنُ حَرْبٍ، قَالَ: نَاوَکِیْعٌ عَنْ کَہْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ یَحْییٰ بْنِ یَعْمُرَح وَحَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُعَاذِنِ الْعَنْبَرِیُّ وَہٰذَا حَدِیْثُہٗ، قَالَ: نَااَبِی، قَالَ: نَا کَہْمَسٌ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ یَعْمُرَ، قَالَ: کَانَ اَوَّلَ مَنْ قَالَ فِی الْقَدْرِ بِالْبَصَرَۃِ مَعْبَدُنِ الْجُہَنِیُّ فَانْطَلَقْتُ اَنَا وَحَمِیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحِمْیَرِیُّ حَاجَّیْنِ اَوْ مُعْتَمِرَیْنِ ، فَقُلْنَا: لَوْ لَقِیْنَا اَحَدًا مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ فَسَاَلْنَاہُ عَمَّایَقُوْلُ ہٰؤُلَائِ فِی الْقَدْرِ، فَوُفِّقَ لَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ دَاخِلًا الْمَسْجِدَ فَاکْتَنَفْتُہُ اَنَا وَصَاحِبِیْ۔ اَحَدُنَا عَنْ یَمِیْنِہٖ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِہٖ فَظَنَنْتُ اَنَّ صَاحِبِیْ سَیَکِلُ الْکَلَامَ اِلَیَّ، فَقُلْتُ : یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّہٗ قَدْ ظَہَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْاٰنَ وَیَتَقَفَّرُوْنَ الْعِلْمَ وَذَکَرَمِنْ شَاْنِہِمْ وَاَنَّہُمْ یَزْعُمُوْنَ اَنْ لَّا قَدْرَ۔ وَاَنَّ الْاَمْرَ اُنُفٌ۔ قَالَ: اِذَا لَقِیْتَ اُولٰٓئِکَ فَاَخْبِرْہُمْ اَنِّیْ بَرِٓیٌٔ مِنْہُمْ وَاَنَّہُمْ بُرَآئٌ مِّنِّیْ وَالَّذِیْ یَحْلِفُ بِہٖ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ لَوْاَنَّ لِاَحَدِ ہِمْ مِثْلَ اُحُدٍ ذَہَبًا فَاَنْفَقَہٗ مَاقَبِلَ اللّٰہُ مِنْہُ حَتّٰی یُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ۔
ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عُمَرُبْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ذَاتَ یَوْمٍ اِذْ طَلَعَ عَلَیْنَا رَجُلٌ شَدِیْدُ بِیَاضِ الثِّیَابِ شَدِیْدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا یُریٰ عَلَیْہِ اَثَرُ السَّفَرِ وَلَایَعْرِفُہٗ مِنَّا اَحَدٌ حَتّٰی جَلَسَ اِلیٰ النَّبِیِّ ﷺ فَاَسْنَدَ رُکْبَتَیْہِ اِلیٰ رُکْبَتَیْہِ وَوَضَعَ کَفَّیْہِ عَلیٰ فَخِذَیْہِ، وَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِسْلَامِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَشْہَدَ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَتُقِیْمَ الصَّلوٰۃَ وَتُؤْتِیَ الزَّکوٰۃَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَیْتَ اِنِ اسْتَطَعْتَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا۔ قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَعَجِبْنَا لَہٗ یَسْئَلُہٗ، وَیُصَدِّقُہٗ۔ قَالَ: فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِیْمَانِ، قَالَ: اَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الاٰخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسَانِ، قَالَ: اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاکَ، قَالَ: فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ السَّاعَۃِ، قَالَ: مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْہَابِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، قَالَ: فَاَخْبِرْنِیْ عَنْ اَمَارَاتِہَا، قَالَ: اَنْ تَلِدَ الْاَمَۃُ رَبَّتَہَا وَاَنْ تَرَی الحُفَاۃَ الْعُرَاۃَ الْعَالَۃَ رِعَآئَ الشَّائِ، یَتَطَاوَلُوْنَ فِی الْبُنْیَانِ، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِیًّا، ثُمَّ قَالَ لِیْ: یَاعُمَرُ! اَتَدْرِیْ مَنِ السَّائِلُ؟ قُلْتُ:اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ: فَاِنَّہُ جِِبْرِیْلُ اَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَکُمْ۔ (۱)
یحییٰ بن یعمر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بصرہ میں معبد جہنی نے سب سے پہلے انکارِ تقدیر پر گفتگو کی۔ میں اور حمید بن عبدالرحمن حمیری دونوں حج یا عمرہ کا عزم لیے ہوئے روانہ ہوئے۔ ہماری خواہش تھی کہ کاش اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے کسی سے ہماری ملاقات ہوجائے تو ہم ان سے اس نظریہ کے بارے میں دریافت کریں جو یہ لوگ تقدیر کے متعلق رکھتے ہیں۔ حسنِ اتفاق سے عبداللہ بن عمر سے ہماری ملاقات اس وقت ہوگئی جب وہ مسجد میں داخل ہورہے تھے۔ ہم دونوں نے ان کو دائیں بائیں دونوں طرف سے گھیر ے میں لے لیا۔چونکہ میرا خیال یہ تھا کہ میرا ساتھی آغازِ گفتگو کا موقع مجھے ہی دے گا۔ اس خیال سے میں نے گفتگو شروع کردی میں نے کہا۔ اے ابو عبدالرحمن! ہمارے ہاں کچھ لوگ ایسے ظاہر ہوگئے ہیں جو تلاوتِ قرآن کرتے ہیں اور علم کا شوق بھی رکھتے ہیں اور اس کے متعلق باریکیاں بھی چھانٹتے ہیں اور مزید ان کے حالات پر روشنی ڈالی۔ مگر ان لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کوئی چیز نہیں۔ ہر معاملہ بغیر تقدیر کے از خود ہوجاتا ہے۔ ابن عمرؓ نے فرمایا کہ اگر ان سے تمہاری ملاقات ہو تو صاف صاف کہہ دینا کہ ان کا مجھ سے کوئی تعلق و واسطہ نہیں اور نہ میرا ان سے کوئی تعلق ہے۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کی ابن عمر قسم کھاتا ہے۔ اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور اسے راہِ خدا میں خرچ کردے اللہ تعالیٰ اس کی اس خیرات کو اس وقت تک قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ وہ تقدیر پر ایمان نہ لائے۔
اس کے بعد ابن عمرؓ نے فرمایا کہ میرے والد نے مجھے حدیث سنائی کہ ایک روز ہم لوگ آں حضرت ﷺ کی خدمت میں حاضرتھے۔ اچانک اس اثنا میں ایک اجنبی شخص آپ کی خدمت میںحاضر ہوا۔ لباس نہایت سفید ، بال انتہائی سیاہ۔ سفر کا کوئی نشان اس پر نمایاں نہیں تھا۔ ہم میں سے کوئی بھی اسے جانتا پہچانتا نہ تھا۔ بالآخر وہ حضوؐر کے روبرو دوزانوں ہو کر بیٹھ گیا اور اپنے دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیے (مؤدب ہو کر بیٹھا) اور عرض کیا اے محمدؐ مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے۔ آپؐ نے فرمایا، ’’اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی شہادت دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی الٰہ نہیں اور اس بات کی شہادت دے کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ تو نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور ماہ رمضان کے روزے رکھے اور اگر استطاعت ہو تو حج بیت اللہ کرے۔‘‘ اس نے عرض کیا، ’’آپؐ نے سچ فرمایا۔‘‘ ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کررہا ہے اور خود ہی اس کی تصدیق کررہا ہے۔ پھر اس نے عرض کیا کہ اچھا بتائیے ایمان کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا، ’’ایمان یہ ہے کہ تم خدا پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور قیامت پر ایمان لائو اور خیر و شر کے مقدر ہونے پر ایمان لائو۔‘‘ اس نے عرض کیا کہ ’’ آپ نے سچ فرمایا۔‘‘ پھر پوچھا کہ ’’احسان کیا ہے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا، ’’احسان یہ ہے کہ تم خدا کی عبادت اس طرح کرو گویا اسے دیکھ رہے ہو کیونکہ تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو اس یقین کے ساتھ عبادت کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس شخص نے کہا ’’اچھا اب قیامت کے متعلق ارشاد فرمائیے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا، ’’مسئول عنہ سائل سے اس بارے میں زیادہ علم نہیں رکھتا۔‘‘ اس پر اس نے عرض کیا اچھا کچھ علامات بتادیں۔ آپؐ نے فرمایا، ’’اس کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی۔ اور برہنہ پا مفلس چرواہے اونچے اونچے عالی شان محلات تعمیر کریں گے اور ان پر اترائیں گے۔‘‘ اس کے بعد وہ آدمی چلا گیا۔ حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں کہ تھوڑی دیر میں ٹھیرا رہا۔ پھر حضوؐر نے دریافت فرمایا، ’’جانتے ہو یہ سائل کون تھا؟‘‘ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ’’یہ جبریل تھے تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔‘‘ ( بقول قاضی عیاض : یہ حدیث ایسی جامع ہے کہ جملہ امورِ شریعت اس میں بیان کردیے ہیں۔ مثلاً
ارکان و اساساتِ اسلام: شہادۃ ان لا الہ الّااللّٰہ و ان محمدارسول اللّٰہ۔ اقامت صلوٰۃ، ایتاء الزکوٰۃ، صوم رمضان، بصورتِ استطاعت حج بیت اللہ۔
ایمانیات: ایمان باللہ، ایمان بالملائکہ، ایمان بالکتب، ایمان بالرسل، ایمان بالآخرۃ، اور ایمان بالقدر خیرہ و شرہ وغیرہ۔
احسان: ایک جملہ میں سارے تصوف اورسلوک کو یکجا کردیا ہے کہ عبادت اس رنگ میں کرنی چاہیے کہ عابد اپنے معبودِ حقیقی کو اپنے روبرو دیکھ رہا ہو۔ اگر اس مرتبہ پر نہ پہنچے تو کم از کم یہ احساس تو ہو کہ وہ معبود اپنے عابد کو دیکھ رہا ہے گویا خدائے بزرگ و برتر کے ہر آن اور ہر لمحہ حاضر و ناظر ہونے کا تصور رہے۔ )۱؎
جس چیز کو ہم اسلامی اخلاقیات سے تعبیر کرتے ہیں وہ قرآن اور حدیث کی روسے دراصل چار مراتب ( حدیث جبریل میں اساسات اسلام، ایمانیات اور احسان کی حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسلامی اخلاقیات کی عمارت چار بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔ یعنی ایمان، اسلام ، تقویٰ اور احسان۔ اسی کے پیش نظر اس مقام پر ایمان، اسلام اور احسان کے ساتھ تقویٰ کو بالترتیب بیان کیا گیا ہے۔ )۲؎ پر مشتمل ہے۔ ایمان۱ ، تقو۲یٰ ، اسلا۳م اور احسا۴ن یہ چاروں مراتب یکے بعد دیگرے اس فطری ترتیب پر واقع ہیں کہ ہر بعد کا مرتبہ پہلے مرتبے سے پیدا اور لازماً اسی پر قائم ہوتا ہے، اور جب تک نیچے والی منزل پختہ و محکم نہ ہوجائے دوسری منزل کی تعمیر کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ اس پوری عمارت میں ایمان کو بنیاد کی حیثیت حاصل ہے۔ اس بنیاد پر اسلام کی منزل تعمیر ہوتی ہے۔ پھر اس کے اوپر تقویٰ اور اس سے اوپر احسان کی منزلیں اٹھتی ہیں۔ ایمان نہ ہو تو اسلام و تقویٰ یا احسان کا سرے سے کوئی امکان ہی نہیں۔ ایمان کمزور ہو تو اس پر کسی بالائی منزل کا بوجھ نہیں ڈالا جاسکتا، یا ایسی کوئی منزل تعمیر کربھی دی جائے تو وہ بودی اور متزلزل ہوگی۔ ایمان محدود ہو تو جتنے حدود میں وہ محدود ہوگا، اسلام، تقویٰ اور احسان بھی بس انہی حدود تک محدود رہیں گے۔ پس جب تک ایمان پوری طرح صحیح، پختہ اور وسیع نہ ہو، کوئی مرد عاقل جو دین کا فہم رکھتا ہو، اسلام، تقویٰ یا احسان کی تعمیر کا خیال نہیں کرسکتا۔ اسی طرح تقویٰ سے پہلے اسلام اور احسان سے پہلے تقویٰ کی تصحیح، پختگی اور توسیع ضروری ہے۔ لیکن اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اس فطری و اصولی ترتیب کو نظر انداز کرکے ایمان و اسلام کی تکمیل کے بغیر تقویٰ و احسان کی باتیں شروع کردیتے ہیں، اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک یہ ہے کہ بالعموم لوگوں کے ذہنوں میں ایمان و اسلام کا ایک نہایت محدود تصور جاگزیں ہے اس وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ محض وضع قطع، لباس ، نشست و برخاست، اکل و شرب اور ایسی ہی چند ظاہری چیزوں کو ایک مقرر نقشے پر ڈھال لینے سے تقویٰ کی تکمیل ہوجاتی ہے، اور پھر عبادات میں نوافل ، اذکار ، اوراد و وظائف اور ایسے ہی بعض اعمال اختیار کرلینے سے احسان کا بلند مقام حاصل ہوجاتا ہے حالانکہ بسااوقات اسی تقویٰ اور احسان کے ساتھ ساتھ لوگوں کی زندگیوں میں ایسی صریح علامات بھی نظر آتی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ابھی ان کا ایمان ہی سرے سے درست اور پختہ نہیں ہوا ہے۔ یہ غلطیاں جب تک موجود ہیں، کسی طرح یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ ہم اسلامی اخلاقیات کا نصاب پورا کرنے میں کبھی کامیاب ہوسکیں گے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ہمیں ایمان، اسلام، تقویٰ اور احسان کے ان چاروں مراتب کا پورا پورا تصور بھی حاصل ہو اور اس کے ساتھ ہم ان کی فطری ترتیب کو بھی اچھی طرح سمجھ لیں۔

ایمان

سب سے پہلے ایمان کو لیجیے جو اسلامی زندگی کی بنیاد ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ توحید و رسالت کے اقرارکا نام ایمان ہے۔ اگر کوئی شخص اس کا اقرار کرلے تو اس سے وہ قانونی شرط پوری ہوجاتی ہے جو دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے رکھی گئی ہے اور وہ اس کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ کیا جائے مگر کیا یہی سادہ اقرار، جو ایک قانونی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے، اس غرض کے لیے بھی کافی ہوسکتا ہے کہ اسلامی زندگی کی ساری سہ منزلہ عمارت صرف اس بنیاد پر قائم ہوسکے؟ لوگ ایسا ہی سمجھتے ہیں، اور اسی لیے جہاں یہ اقرار موجود ہوتا ہے وہاں عملی اسلام اور تقویٰ اور احسان کی تعمیر شروع کردی جاتی ہے جو اکثر ہوائی قلعے سے زیادہ پائیدار ثابت نہیں ہوتی۔ لیکن فی الواقع ایک مکمل اسلامی زندگی کی تعمیر کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ ایمان اپنی تفصیلات میں پوری طرح وسیع اور اپنی گہرائی میں اچھی طرح مستحکم ہو۔ اس کی تفصیلات میں سے جو شعبہ بھی چھوٹ جائے گا، اسلامی زندگی کا وہی شعبہ تعمیر ہونے سے رہ جائے گا، اور اس کی گہرائی میں جہاں بھی کسر رہ جائے گی اسلامی زندگی کی عمارت اسی مقام پر بودی ثابت ہوگی۔
مثال کے طور پر ایمان باللہ کو دیکھیے جو دین کی اوّلین بنیاد ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ خدا کا اقرار اپنی سادہ صورت سے گزر کر جب تفصیلات میں پہنچتا ہے تو اس کی بے شمار صورتیں بن جاتی ہیں۔ کہیں وہ صرف اس حد پر ختم ہوجاتا ہے کہ بے شک خدا موجود ہے اور وہ دنیا کا خالق ہے اور اپنی ذات میں اکیلا ہے۔ کہیں اس کی انتہائی وسعت بس اتنی ہوتی ہے کہ خداہمارا معبود ہے اور ہمیں اس کی پرستش کرنی چاہیے۔ کہیں خدا کی صفات اور اس کے حقوق و اختیارات کا تصور کچھ زیادہ وسیع ہو کر بھی اس سے آگے نہیں بڑھتا کہ عالم الغیب ، سمیع وبصیر ، سمیع الدعوات اور قاضی الحاجات اور ’’پرستش‘‘ کی تمام جزوی شکلوں کا مستحق ہونے میں خدا کا کوی شریک نہیں ہے،اور یہ کہ ’’مذہبی معاملات‘‘ میں آخری سند خدا ہی کی کتاب ہے۔ ظاہر ہے کہ ان مختلف تصورات سے ایک ہی طرز کی زندگی نہیں بن سکتی بلکہ جو تصور جتنا محدود ہے، عملی زندگی اور اخلاق میں بھی لازما ًاسلامی رنگ اتنا ہی محدود ہوگا، حتیّٰ کہ جہاں عام مذہبی تصورات کے مطابق ایمان باللہ اپنی انتہائی وسعت پر پہنچ جائے گا وہاں بھی اسلامی زندگی اس سے آگے نہ بڑھ سکے گی کہ خدا کے باغیوں کی وفاداری اور خدا کی وفاداری ایک ساتھ نباہ لی جائے، یا نظام کفر اور نظام اسلام کو سمو کر ایک مرکب بنالیا جائے۔
اسی طرح ایمان باللہ کی گہرائی کا پیمانہ بھی مختلف ہے۔ کوئی خدا کا اقرار کرنے کے باوجود اپنی کسی معمولی سے معمولی چیز کو بھی خدا پر قربان کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا، کوئی بعض چیزوں سے خدا کو عزیز تر رکھتا ہے مگر بعض چیزیں اسے خدا سے عزیز تر ہوتی ہیں، کوئی اپنی جان و مال تک خدا پر قربان کردیتا ہے مگر اپنے رجحاناتِ نفس اور اپنے نظریات و افکار کی قربانی یا اپنی شہرت کی قربانی اسے گوارا نہیں ہوتی۔ ٹھیک ٹھیک اسی تناسب سے اسلامی زندگی کی پائیداری و ناپائیداری بھی متعین ہوتی ہے، اور انسان کا اسلامی اخلاق ٹھیک اسی مقام پر دغا دے جاتا ہے جہاں اس کے نیچے ایمان کی بنیاد کمزور رہ جاتی ہے۔ ایک مکمل اسلامی زندگی کی عمارت اگر اٹھ سکتی ہے تو صرف اسی اقرار توحید پر اٹھ سکتی ہے جو انسان کی پوری انفرادی و اجتماعی زندگی پر وسیع ہو جس کے مطابق انسان اپنے آپ کو اور اپنی ہر چیز کو خدا کی ملک سمجھے، اسی کو اپنا اور تمام دنیا کا ایک ہی جائز مالک ، معبود ، مطاع اور صاحب امر و نہی تسلیم کرے، اسی کو ہدایت کاسرچشمہ مانے، اور پورے شعور کے ساتھ اس حقیقت پر مطمئن ہوجائے کہ خدا کی اطاعت سے انحراف ، یا اس کی ہدایت سے بے نیازی، یا اس کی ذات و صفات اور حقوق و اختیارات میں غیر کی شرکت جس پہلو اور جس رنگ میں بھی ہے سراسر ضلالت ہے۔ پھر اس عمارت میں استحکام اگر پیدا ہوسکتا ہے تو صرف اس وقت ہوسکتا ہے کہ آدمی پورے شعور اور پورے ارادے کے ساتھ یہ فیصلہ کرلے کہ وہ اور اس کا سب کچھ اللہ کا ہے اور اللہ ہی کے لیے ہے۔ اپنے معیار پسند اور ناپسند کو ختم کرکے اللہ کی پسند و ناپسند کے تابع کردے۔ اپنی خود سری کو مٹا کر اپنے نظریات ، خیالات، خواہشات ، جذبات ،اور اندازِ فکر کو اس علم کے مطابق ڈھال لے جو خدا نے اپنی کتاب میں دیا ہے۔ اپنی تمام ان وفاداریوں کو دریا برد کردے جو خدا کی وفاداری کے تابع نہیں بلکہ اس کی مدِّمقابل بن سکتی ہوں۔ اپنے دل میں سب سے بلند مقام پر خدا کی محبت کو بٹھائے اور ہر اس بت کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر نہان خانۂ دل سے نکال پھینکے جو خدا کے مقابلہ میں عزیز تر ہونے کا مطالبہ کرتا ہو۔ اپنی محبت اور نفرت ، اپنی دوستی ودشمنی، اپنی رغبت اور کراہیت ، اپنی صلح اور جنگ ہر چیز کو خدا کی مرضی میں اس طرح گم کردے کہ اس کا نفس وہی چاہنے لگے جو خدا چاہتا ہے اور اس سے بھاگنے لگے جو خدا کو ناپسند ہے۔ یہ ہے ایمان باللہ کا حقیقی مرتبہ اور آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ جہاں ایمان ہی ان حیثیات سے اپنی وسعت اور ہمہ گیری اور اپنی پختگی و مضبوطی میں ناقص ہو وہاں تقویٰ یا احسان کا کیا امکان ہوسکتا ہے۔
اسی پر دوسرے ایمانیات کو بھی قیاس کر لیجیے۔ نبوت پر ایمان اس وقت تک مکمل نہیںہوتا جب تک انسان کا نفس زندگی کے سارے معاملات میں نبی ﷺ کو اپنا رہنما نہ مان لے اور اس کی رہنمائی کے خلاف یا اس سے آزاد جتنی رہنمائیاں ہوں ان کو رد نہ کردے۔ کتاب پر ایمان اس وقت تک ناقص ہی رہتا ہے جب تک نفس میں کتاب اللہ کے بتائے ہوئے اصول زندگی کے سوا کسی دوسری چیز کے تسلّط پر رضا مندی کا شائبہ بھی باقی ہو یا اتّباع مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ کو اپنی اور ساری دنیا کی زندگی کا قانون دیکھنے کے لیے قلب و روح کی بے چینی میں کچھ کسر بھی ہو۔ اسی طرح آخرت پر ایمان بھی مکمل نہیں کہا جاسکتا جب تک کہ نفس پوری طرح آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے اور اخروی قدروں کے مقابلہ میں دنیوی قدروں کو ٹھکرادینے پر آمادہ نہ ہوجائے اور آخرت کی جواب دہی کا خیال اسے زندگی کی ہر راہ پر چلتے ہوئے قدم قدم پر کھٹکنے نہ لگے۔ یہ بنیادیں ہی جہاں پوری طرح موجود نہ ہوں آخر وہاں اسلامی زندگی کی عالی شان عمارت کس شے پر تعمیر ہوگی۔ جب لوگوں نے ان بنیادوں کی توسیع و تکمیل اور پختگی کے بغیر ہی تعمیراخلاقِ اسلامی کو ممکن سمجھا تب ہی تو نوبت یہاں تک پہنچی کہ کتاب اللہ کے خلاف فیصلہ کرنے والے جج، غیر شرعی قوانین کی بنیاد پر مقدمے لڑنے والے وکیل، نظامِ کفر کے ماتحت معاملات زندگی کا انتظام کرنے والے کارکن، کافرانہ اصولِ تمدّن و سیاست پر زندگی کی تشکیل و تاسیس کے لیے لڑنے والے لیڈر اور پیر و، غرض سب کے لیے تقویٰ و احسان کے مراتب عالیہ کا دروازہ کھل گیابشرطیکہ وہ اپنی زندگی کے ظاہری اندازو اطوار کو ایک خاص نقشے پر ڈھال لیں۔ اور کچھ نوافل و اذکار کی عادت ڈال لیں۔

اسلام

ایمان کی یہ بنیادیں ، جن کا ابھی میں نے آپ سے ذکر کیا ہے ، جب مکمل اور گہری ہوجاتی ہیں، تب ان پر اسلام کی منزل تعمیر ہوتی ہے۔ اسلام دراصل ایمان کے عملی ظہور کا دوسرا نام ہے۔ ایمان اور اسلام کا باہمی تعلق ویسا ہی ہے جیسا بیج اور درخت کا تعلق ہوتا ہے۔ بیج میں جو کچھ اور جیسا کچھ موجود ہوتا ہے وہی درخت کی شکل میں ظاہر ہوجاتا ہے، حتیّٰ کہ درخت کا امتحان کرکے بآسانی یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ بیج میں کیا تھا اور کیا نہ تھا۔ آپ نہ یہ تصور کرسکتے ہیں کہ بیج نہ ہو اور درخت موجود ہو، اور نہ یہی ممکن ہے کہ زمین بنجر بھی نہ ہو اور بیج اس میں موجود بھی ہو پھربھی درخت پیدا نہ ہو۔ ایسا ہی معاملہ ایمان اور اسلام کا ہے۔ جہاں ایمان موجود ہوگا، لازماً اس کا ظہور آدمی کی عملی زندگی میں، اخلاق میں، برتائومیں، تعلقات کے کٹنے اور جڑنے میں، دوڑ دھوپ کے رخ میں ، مذاق و مزاج کی افتاد میں، سعی و جہد کے راستوں میں، اوقات اور قوتوں اور قابلیتوں کے مصرف میں، غرض مظاہر زندگی کے ہر ہر جز میں ہو کر رہے گا۔ ان میں سے جس پہلو میں بھی اسلام کے بجائے غیر اسلام ظاہر ہورہا ہے یقین کرلیجیے کہ اس پہلو میں ایمان موجود نہیں ہے یا ہے تو بالکل بودا اور بے جان ہے، اور اگر عملی زندگی ساری کی ساری ہی غیر مسلمانہ شان سے بسر ہو رہی ہو تو جان لیجیے کہ دل ایمان سے خالی ہے یا زمین اتنی بنجر ہے کہ ایمان کا بیج برگ وبار نہیں لارہا ہے۔ بہر حال میں نے جہاں تک قرآن اور حدیث کو سمجھا ہے، یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ دل میں ایمان ہو اور عمل میں اسلام نہ ہو۔
تھوڑی دیر کے لیے اپنے ذہن سے ان بحثوں کو نکال دیں جو فقہاء اور متکلمین نے اس مسئلہ میں کی ہیں اور قرآن سے اس معاملہ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ قرآن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اعتقادی ایمان اور عملی اسلام لازم و ملزوم ہیں۔ اللہ تعالیٰ جگہ جگہ ایمان اور عمل صالح کا ساتھ ساتھ ذکر کرتا ہے ، اور تمام اچھے وعدے جو اس نے اپنے بندوں سے کیے ہیں انہی لوگوں سے متعلق ہیں جو اعتقاداً مومن اور عملاً مسلم ہوں۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں منافقین کو پکڑا ہے وہاں ان کے عمل ہی کی خرابیوں سے ان کے ایمان کے نقص پر دلیل قائم کی ہے اور عملی اسلام ہی کو حقیقی ایمان کی علامت ٹھیرایا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قانونی لحاظ سے کسی شخص کو کافر ٹھیرانے اور امت سے اس کا رشتہ کاٹ دینے کا معاملہ دوسرا ہے اور اس میں انتہائی احتیاط ملحوظ رہنی چاہیے، مگر میں یہاں اس ایمان و اسلام کا ذکر نہیں کررہا ہوں جس پر دنیا میں فقہی احکام مترتب ہوتے ہیں بلکہ یہاں ذکر اس ایمان و اسلام کا ہے جو خدا کے ہاں معتبر ہے اور جس پر اخروی نتائج مترتب ہونے والے ہیں۔ قانونی نقطۂ نظر کو چھوڑ کر حقیقت نفس الامری کے لحاظ سے اگر آپ دیکھیں گے تو یقینا یہی پائیں گے کہ جہاں عملاً خدا کے آگے سپر اندازی اور سپر دگی و حوالگی میں کمی ہے، جہاںنفس کی پسند خدا کی پسند سے مختلف ہے، جہاں خدا کی وفاداری کے ساتھ غیر کی وفاداری نبھ رہی ہے۔ جہاں اقامت دین کی سعی کے بجائے دوسرے مشاغل میں انہماک ہے، جہاں کو ششیں اور محنتیں راہ خدا کے بجائے دوسری راہوں میں صرف ہورہی ہیں، وہاں ضرور ایمان میںنقص ہے اور ظاہر ہے کہ ناقص ایمان پر تقویٰ اور احسان کی تعمیر نہیں ہوسکتی خواہ ظاہر کے اعتبار سے متقیوں کی سی وضع بنانے اور محسنین کے بعض اعمال کی نقل اتارنے کی کتنی ہی کوشش کی جائے۔ ظاہر فریب شکلیں اگر حقیقت کی روح سے خالی ہوں تو ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسی ایک نہایت خوب صورت آدمی کی لاش بہترین وضع و ہیئت میں موجود ہو مگر اس میں جان نہ ہو۔ اس خوبصورت لاش کی ظاہری شان سے دھوکا کھا کر آپ کچھ توقعات اس سے وابستہ کریں گے تو واقعات کی دنیا اپنے پہلے ہی امتحان میں اس کا ناکارہ ہونا ثابت کر دے گی اور تجربے سے آپ کو خود ہی معلوم ہوجائے گا کہ ایک بدصورت مگر زندہ انسان ایک خوب صورت مگر بے روح لاش سے بہر حال زیادہ کارگر ہوتا ہے۔ ظاہر فریبیوں سے آپ اپنے نفس کو تو ضرور دھوکا دے سکتے ہیں، لیکن عالم واقعہ پر کچھ بھی اثر نہیں ڈال سکتے اور نہ خدا کی میزان ہی میں کوئی وزن حاصل کرسکتے ہیں۔

تقویٰ

تقویٰ کی بات کرنے سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ تقویٰ ہے کیا چیز۔تقویٰ حقیقت میں کسی وضع وہیئت اور کسی خاص طرز معاشرت کا نام نہیں ہے بلکہ دراصل وہ نفس کی اس کیفیت کا نام ہے جو خدا ترسی اور احساسِ ذمہ داری سے پیدا ہوتی ہے اور زندگی کے ہر پہلو میں ظہور کرتی ہے۔ حقیقی تقویٰ یہ ہے کہ انسان کے دل میں خدا کا خوف ہو، عبدیت کا شعور ہو، خدا کے سامنے اپنی ذمہ داری و جواب دہی کا احساس ہو، اور اس بات کا زندہ ادراک موجود ہو کہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے جہاں خدا نے ایک مہلت عمر دے کر مجھے بھیجا ہے اور آخرت میں میرے مستقبل کا فیصلہ بالکل اس چیز پر منحصر ہے کہ میں اس دیے ہوئے وقت کے اندر اس امتحان گاہ میں اپنی قوتوں اور قابلیتوں کو کس طرح استعمال کرتا ہوں۔ اس سروسامان میں کس طرح تصرف کرتا ہوں جو مشیت الٰہی کے تحت مجھے دیا گیاہے، اور ان انسانوں کے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہوں جن سے قضائے الٰہی نے مختلف حیثیتوں سے میری زندگی متعلق کردی ہے۔ یہ احساس و شعور جس شخص کے اندر پیدا ہوجائے اس کا ضمیر بیدار ہوجاتا ہے۔ اس کی دینی حس تیز ہوجاتی ہے اس کو ہر وہ چیز کھٹکنے لگتی ہے جو خدا کی رضا کے خلاف ہو۔ اس کے مذاق کو ہر وہ شے ناگوار ہونے لگتی ہے جو خدا کی پسند سے مختلف ہو۔وہ اپنے نفس کا آپ جائزہ لینے لگتا ہے کہ میرے اندر کس قسم کے رجحانات و میلانات پرورش پارہے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کا خود محاسبہ کرنے لگتا ہے کہ میں کن کاموں میں اپنا وقت اور قوتیں صرف کررہا ہوں۔ وہ صریح ممنوعات کو تو درکنار مشتبہ امور میں بھی مبتلا ہوتے ہوئے خود بخود جھجکنے لگتا ہے۔ اس کا احساس فرض اسے مجبور کردیتا ہے کہ تمام اوامر کو پوری فرماں برداری کے ساتھ بجالائے۔ اس کی خدا ترسی ہراس موقعہ پر اس کے قدم میں لغزش پیدا کردیتی ہے۔ جہاں حدود اللہ سے تجاوز کا اندیشہ ہو۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی نگہداشت آپ سے آپ اس کا وتیرہ بن جاتی ہے اور اس خیال سے بھی اس کا ضمیر کانپ اٹھتا ہے کہ کہیں اس سے کوئی بات حق کے خلاف سرزد نہ ہوجائے۔ یہ کیفیت کسی ایک شکل یا کسی مخصوص دائرہ عمل میں ہی ظاہر نہیں ہوتی بلکہ آدمی کے پورے طرزِ فکر اور اس کے تمام کارنامۂ زندگی میں اس کا ظہور ہوتا ہے اور اس کے اثر سے ایک ایسی ہموار و یک رنگ سیرت پیدا ہوتی ہے جس میں آپ ہر پہلو سے ایک ہی طرز کی پاکیزگی و صفائی پائیں گے۔ بخلاف اس کے جہاں تقویٰ اس چیز کا نام رکھ لیا گیا ہے کہ آدمی چند مخصوص شکلوں کی پابندی اور مخصوص طریقوں کی پیروی اختیار کرلے اور مصنوعی طور پر اپنے آپ کو ایک ایسے سانچے میں ڈھال لے جس کی پیمائش کی جاسکتی ہو۔ وہاں آپ دیکھیں گے کہ وہ چند اشکالِ تقویٰ جو سکھادی گئی ہیں، ان کی پابندی انتہائی اہتمام کے ساتھ ہورہی ہے۔ مگر اس کے ساتھ زندگی کے دوسرے پہلوئوں میں وہ اخلاق ، وہ طرزِ فکر اور وہ طرزِ عمل بھی ظاہر ہورہے ہیں جو مقام تقویٰ تو درکنار، ایمان کے ابتدائی مقتضیات سے بھی مناسبت نہیں رکھتے ۔یعنی حضرت مسیحؑ کی تمثیلی زبان میں مچھر چھانے جارہے ہیں اور اونٹ بے تکلّفی کے ساتھ نگلے جارہے ہیں۔
حقیقی تقویٰ اور مصنوعی تقویٰ کے اس فرق کو یوں سمجھیے کہ ایک شخص تو وہ ہے جس کے اندر طہارت و نظافت کی حس موجود ہے اور پاکیزگی کا ذوق پایا جاتا ہے۔ ایسا شخص گندگی سے فی نفسہٖ نفرت کرے گا خواہ وہ جس شکل میں بھی ہو اور طہارت کو بجائے خود اختیار کرے گا خواہ اس کے مظاہر کا احاطہ نہ ہوسکتا ہو بخلاف اس کے ایک دوسرا شخص ہے جس کے اندر طہارت کی حس موجود نہیں ہے مگر وہ گندگیوں اور طہارتوں کی ایک فہرست لیے پھرتا ہے جو کہیں سے اس نے نقل کرلی ہیں، یہ شخص ان گندگیوں سے سخت اجتناب کرے گا جو اس کی فہرست میں لکھی ہوئی ہیں، مگر بے شمار ایسی گھنائونی چیزوں میں آلودہ پایا جائے گا جو ان گندگیوں سے بدرجہا زیادہ ناپاک ہوں گی جن سے وہ بچ رہا ہے صرف اس وجہ سے کہ وہ اس کی فہرست میں درج ہونے سے رہ گئیں۔ یہ فرق جو میں آپ سے عرض کررہا ہوں، یہ محض ایک نظری فرق نہیں ہے بلکہ آپ اس کو اپنی آنکھوں سے ان حضرات کی زندگیوں میں دیکھ سکتے ہیں جن کے تقویٰ کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ ایک طرف ان کے ہاں جزئیات شرع کا یہ اہتمام ہے کہ داڑھی ایک خاص مقدار سے کچھ بھی کم ہو تو فسق کا فیصلہ نافذ کردیا جاتا ہے، پائنچہ ٹخنے سے ذرا نیچے ہوجائے تو جہنم کی وعید سنادی جاتی ہے۔ اپنے مسلک فقہی کے فروعی احکام سے ہٹنا ان کے نزدیک گویا دین سے نکل جانا ہے، لیکن دوسری طرف دین کے اصول و کلیات سے ان کی غفلت اس حد کو پہنچی ہوئی ہے کہ مسلمانوں کی پوری زندگی کا مدار انھوں نے رخصتوں اور سیاسی مصلحتوں پر رکھ دیا ہے، اقامتِ دین کی سعی سے گریز کی بے شمار راہیں انھوں نے نکال رکھی ہیں، غلبۂ کفر کے تحت ’’اسلامی زندگی‘‘ کے نقشے بنانے ہی میں ان کی ساری محنتیں اور کوششیں صرف ہورہی ہیں، اور انہی کی غلط رہنمائی نے مسلمانوں کو اس چیز پر مطمئن کیا ہے کہ ایک غیر اسلامی نظام کے اندر رہتے ہوئے بلکہ اس کی خدمت کرتے ہوئے بھی ایک محدود دائرے میں مذہبی زندگی بسر کرکے وہ دین کے سارے تقاضے پورے کرسکتے ہیں اور اس سے آگے کچھ مطلوب نہیں ہے جس کے لیے وہ سعی کریں۔پھر اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اگر کوئی ان کے سامنے دین کے اصلی مطالبے پیش کرے اور سعی اقامتِ دین کی طرف توجہ دلائے تو صرف یہی نہیں کہ وہ اس کی بات سنی ان سنی کردیتے ہیں بلکہ کوئی حیلہ، کوئی بہانہ اور کوئی چال ایسی نہیں چھوڑتے جو اس کام سے خود بچنے اور مسلمانوں کو بچانے کے لیے استعمال نہ کریں۔ اس پر بھی ان کے تقویٰ پر کوئی آنچ نہیں آتی اور نہ مذہبی ذہنیت رکھنے والوں میں سے کسی کو یہ شک ہوتا ہے کہ ان کے تقویٰ میں کوئی کسر ہے۔ اسی طرح حقیقی اور مصنوعی تقویٰ کا فرق بے شمار دوسری شکلوں میں بھی ظاہر ہوتا رہتا ہے مگر آپ اسے تب ہی محسوس کرسکتے ہیں کہ تقویٰ کا اصلی تصور آپ کے ذہن میں واضح طور پر موجود ہو۔
میری ان باتوں کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ وضع قطع، لباس اور معاشرت کے ظاہری پہلوئوں کے متعلق جو آداب و احکام حدیث سے ثابت ہیں، میں ان کا استخفاف کرنا چاہتا ہوں یا انھیں غیر ضروری قرار دیتا ہوں۔ خدا کی پناہ اس سے کہ میرے دل میں ایسا کوئی خیال ہو، دراصل جو کچھ میں آپ کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اصل شے حقیقت تقویٰ ہے نہ کہ یہ مظاہر۔ حقیقت تقویٰ جس کے اندر پیدا ہوگی تو اس کی پوری زندگی ہمواری و یک رنگی کے ساتھ اسلامی زندگی بنے گی اور اسلام اپنی پوری ہمہ گیری کے ساتھ اس کے خیالات میں، اس کے جذبات و رجحانات میں، اس کے مذاقِ طبیعت میں، اس کے اوقات کی تقسیم اور اس کی قوتوں کے مصارف میں، اس کی سعی کی راہوں میں، اس کے طرزِ زندگی اور معاشرت میں، اس کی کمائی اور خرچ میں۔ غرض اس کی حیات دنیوی کے سارے ہی پہلوئوں میں رفتہ رفتہ نمایاں ہوتا چلا جائے گا۔ بخلاف اس کے اگر مظاہر کو حقیقت پر مقدم رکھا جائے گا اور ان پر بے جازور دیا جائے گا اور حقیقی تقویٰ کی تخم ریزی و آبیاری کے بغیر مصنوعی طور پر چند ظاہری احکام کی تعمیل کرادی جائے گی تو نتائج وہی کچھ ہوں گے جن کامیں نے ابھی آپ سے ذکر کیا ہے۔ پہلی چیز دیر طلب اور صبر آزما ہے۔ بتدریج نشو نما پاتی اور ایک مدت کے بعد برگ و بار لاتی ہے ۔ جس طرح بیج سے درخت کے پیدا ہونے اور پھل پھول لانے میں کافی دیر لگاکرتی ہے، اسی لیے سطحی مزاج کے لوگ اس سے اپراتے ہیں۔ بخلاف اس کے دوسری چیز جلدی اور آسانی سے پیدا کرلی جاتی ہے، جیسے ایک لکڑی میں پتے اور پھل اور پھول باندھ کر درخت کی سی شکل بنادی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ تقویٰ کی پیداوار کا یہی ڈھنگ آج مقبول ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ جو توقعات ایک فطری درخت سے پوری ہوتی ہیں، وہ اس قسم کے مصنوعی درختوں سے کبھی پوری نہیں ہوسکتیں۔

احسان

احسان دراصل اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین کے ساتھ اس قلبی لگائو، اس گہری محبت ، اس سچی وفا داری اور فدویت وجاں نثاری کا نام ہے جو مسلمان کو فنا فی الاسلام کردے۔ تقویٰ کا اساسی تصور خدا کا خوف ہے جو انسان کو اس کی ناراضی سے بچنے پر آمادہ کرے اور احسان کا اساسی تصور خدا کی محبت ہے جو آدمی کو اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ابھارے۔ ان دونوں چیزوں کے فرق کو ایک مثال سے یوں سمجھیے کہ حکومت کے ملازموں میں سے ایک تو وہ لوگ ہیں جو نہایت فرض شناسی و تن دہی سے وہ تمام خدمات ٹھیک ٹھیک بجالاتے ہیں جو ان کے سپرد کی گئی ہوں۔ تمام ضابطوں اور قاعدوں کی پوری پوری پابندی کرتے ہیں اور کوئی ایسا کام نہیں کرتے جو حکومت کے لیے قابل اعتراض ہو۔ دوسرا طبقہ ان مخلص وفاداروں اور جاں نثاروں کا ہوتا ہے جو دل و جان سے حکومت کے ہوا خواہ ہوتے ہیں، صرف وہی خدمات انجام نہیں دیتے ہیں جو ان کے سپرد کی گئی ہوں بلکہ ان کے دل کو ہمیشہ یہ فکر لگی رہتی ہے کہ سلطنت کے مفاد کو زیادہ سے زیادہ کس طرح ترقی دی جائے، اور اس دھن میں فرض اور مطالبہ سے زائد کام کرتے ہیں، سلطنت پر کوئی آنچ آئے تو وہ جان و مال اور اولاد سب کچھ قربان کرنے کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں، قانون کی کہیں خلاف ورزی ہو تو ان کے دل کو چوٹ لگتی ہے، کہیں بغاوت کے آثار پائے جائیں تو وہ بے چین ہوجاتے ہیں اور اسے فروکرنے میں جان لڑادیتے ہیں، جان بوجھ کر خود سلطنت کے مفاد کو نقصان پہنچانا تو درکنار اس کو کسی طرح نقصان پہنچتے دیکھنا بھی ان کے لیے ناقابل برداشت ہوتا ہے اور اس خرابی کے رفع کرنے میں وہ اپنی حد تک کوشش کا کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے، ان کی دلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ دنیا میں بس ان کی سلطنت ہی کا بول بالا ہو اور زمین کا کوئی چپہ ایسا باقی نہ رہے جہاں اس کاپھریرانہ اڑے۔ ان دونوں میں سے پہلی قسم کے لوگ حکومت کے متقی ہیں اور دوسری قسم کے لوگ اس کے محسن۔ اگرچہ ترقیاں متقین کو بھی ملتی ہیں اور بہرحال ان کے نام اچھے ہی ملازموں کی فہرست میں لکھے جاتے ہیں، مگر جو سرفرازیاں محسنین کے لیے ہیں ان میں کوئی دوسرا ان کا شریک نہیں ہوتا۔ پس اسی مثال پر اسلام کے متقیوں اور محسنوں کو بھی قیاس کرلیجیے۔ اگرچہ متقین بھی قابل قدر اور قابل اعتماد لوگ ہیں۔ مگر اسلام کی اصلی طاقت محسنین کا گروہ ہے اور وہ اصلی کام جو اسلام اس دنیا میں کرنا چاہتا ہے اسی گروہ سے بن آسکتا ہے۔
احسان کی اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد آپ خود ہی اندازہ کرلیں کہ جو لوگ اپنی آنکھوں سے خدا کے دین کو کفر سے مغلوب دیکھیں ، جن کے سامنے حدود اللہ پامال ہی نہیں بلکہ کالعدم کردی جائیں، خدا کا قانون عملاً ہی نہیں بلکہ باضابطہ منسوخ کردیا جائے۔ خدا کی زمین پر خدا کا نہیں بلکہ اس کے باغیوں کا بول بالا ہو رہا ہو۔ نظام کفر کے تسلط سے نہ صرف عام انسانی سوسائٹی میں اخلاقی و تمدنی فساد برپا ہو بلکہ خود امت مسلمہ بھی نہایت سرعت کے ساتھ اخلاقی و عملی گمراہیوں میں مبتلا ہورہی ہو۔ اور یہ سب کچھ دیکھ کر بھی ان کے دلوں میں نہ کوئی بے چینی پیدا ہو نہ اس حالت کو بدلنے کے لیے کوئی جذبہ بھڑکے بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے نفس کو اور عام مسلمانوں کو غیر اسلامی نظام کے غلبے پر اصولاً و عملاًمطمئن کردیں، ان کا شمار آخر کار محسنین میں کس طرح ہوسکتا ہے اور اس جرم عظیم کے ساتھ محض یہ بات انھیں احسان کے مقام عالی پر کیسے سرفراز کرسکتی ہے کہ وہ چاشت اور اشراق اور تہجد کے نوافل پڑھتے رہے، ذکر و شغل اور مراقبے کرتے رہے، حدیث و قرآن کے درس دیتے رہے، جزئیات فقہ کی پابندی اور چھوٹی چھوٹی سنتوں کے اتباع کا سخت اہتمام فرماتے رہے اور تزکیہ نفس کی خانقاہوں میں دینداری کا وہ فن سکھاتے رہے جس میں حدیث فقہ اور تصوف کی باریکیاں تو ساری موجود تھیں مگر ایک نہ تھی تو وہ حقیقی دینداری جو ’’سردادند اددست دردست یزید‘‘ کی کیفیت پیدا کرے اور ’’بازی اگرچہ پانہ سکا سر تو کھوسکا‘‘ کے مقام وفاداری پر پہنچائے۔ آپ دنیوی ریاستوں اور قوموں میں بھی وفادار اور غیر وفادار کی اتنی تمیز ضرور نمایاں پائیں گے کہ اگر ملک میں بغاوت ہوجائے یا ملک کے کسی حصے پر دشمن کا قبضہ ہوجائے تو باغیوں اور دشمنوں کے تسلط کو جو لوگ جائز تسلیم کرلیں، یا ان کے تسلط پر راضی ہوجائیں اور ان کے ساتھ مغلوبانہ مصالحت کرلیں، یا ان کی سرپرستی میں کوئی ایسا نظام بنائیں جس میں اصلی اقتدار کی باگیں انہی کے ہاتھ میں رہیں اور کچھ ضمنی حقوق و اختیارات انھیں بھی مل جائیں، تو ایسے لوگوں کو کوئی ریاست اور کوئی قوم اپنا وفادار ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتی خواہ وہ قومی فیشن کے کیسے ہی سخت پابند اور جزئی معاملات میں قومی قانون کے کتنے ہی شدید پیرو ہوں۔۱( اس حدیث کے جزء ماالمسئول عنہا باعلم من السائل فصل ۳ کے تحت عالم الغیب کے ضمن میں ملاحظہ ہو۔ )؎ (روداد جماعت اسلامی حصہ سوم :احسان)
۲۔ اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْہَدُوْا اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَیُقِیْمُوا الصَّلوٰۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکوٰۃَ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّیْ دِمَآئَ ہُمْ اِلَّا بِحَقِّ الْاِسْلَامِ وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ (بخاری، مسلم، مسند احمد، دارقطنی)
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں جب وہ ایسا کردیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں بچالیں گے، اِلَّا یہ کہ اسلام کا کوئی حق ان کے خلاف قائم ہو، اور ان کا حساب اللہ عزوجل کے ذمے ہے۔‘‘
تشریح: جہاں تک کسی شخص کے درحقیقت مومن یا غیر مومن ہونے کا تعلق ہے اس کا فیصلہ کرنا تو کسی انسان کا کام ہی نہیں ہے۔ یہ معاملہ تو براہ راست خدا سے تعلق رکھتا ہے اور وہی اس کا فیصلہ قیامت کے روز فرمائے گا۔ رہے بندے، تو ان کے فیصلہ کرنے کی چیز اگر کوئی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ خدا اور اس کے رسول نے ملت اسلام کے لیے جو امتیازی نشانات بتائے ہیں ان کے لحاظ سے کون شخص سرحد اسلام کے اندر ہے اور کون اس سے باہر نکل گیا ہے۔ اس غرض کے لیے جو چیزیں ہم کو بنائے اسلام کی حیثیت سے بتائی گئی ہیں۔ (وہ وہی ہیں جو اوپر مذکور ہیں) (تفہیمات حصہ دوم :فتنۂ تکفیر)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِنِ الْمُسْنَدِیُّ، قَالَ:حَدَّثَنَا اَبُوْ رَوْحِ نِ الْحَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ وَاقِدِبْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبِیْ یُحَدِّثُ: عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْہَدُوْا اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَ یُقِیْمُوا الصَّلوٰۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکوٰۃَ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّیْ دِمَآئَ ہُمْ اِلَّا بِحَقِّ الْاِسْلَامِ وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ (۲)
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوںسے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں جب وہ ایسا کردیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں بچالیں گے، اِلّا یہ کہ اسلام کا کوئی حق ان کے خلاف قائم ہو اور ان کا حساب اللہ عزوجلّ کے ذمے ہے۔‘‘
۳۔ تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلوٰۃَ وَتُؤْتِی الزَّکوٰۃَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ۔
ترجمہ: اللہ کی بندگی کر، اس کے ساتھ خداوندی میں کسی کو شریک نہ کر، نماز کا پابند رہ، زکوٰۃ دے اور قرابت داروں کے حقوق ادا کر۔
پس منظر: ایک مرتبہ آپؐ سفر میں تھے،ایک اعرابی نے آکر آپ کے اونٹ کی نکیل تھام لی اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ ؐ! مجھے کوئی ایسی چیز بتایے جو مجھ کو جنت سے قریب اور دوزخ سے دور کردے۔ (فرمایا: تَعْبُدُ اللّٰہ ۔۔۔)
تشریح: یہاںایک ایسا شخص سامنے ہے جو آپؐ کی رسالت کا قائل ہے، حیاتِ اخروی کا قائل ہے، اسلام قبول کرچکا ہے، اس کو تمام ایمانیات اور اخلاقیات کی تفصیل مطلوب نہیں۔ وہ صرف خدا کا قرب حاصل کرنے کے لیے ہدایت مانگ رہا ہے۔ آپؐ اس کی ضرورت کے مطابق اس کو تعلیم دیتے ہیں کہ جس عقیدہ پر اسلام کی بنیاد قائم ہے، اس میں مضبوط ہوجا اور اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کیے جا۔ (تفہیمات حصہ اوّل : کیا نجات کے لیے۔۔۔؟)
تخریج: حَدَّثَنَااَبُوا لْوَلِیْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ: اَخْبَرَنِی ابْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوْسیٰ بْنَ طَلْحَۃَ عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ، اَنَّ رَجُلًا قَالَ : یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ بِعَمَلٍ یُّدْخِلُنِی الْجَنَّۃَح وَحَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ، حَدَّثَنَا بَہْزٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُوْہِبٍ وَاَبُوْہُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّہُمَا سَمِعَا مُوْسیٰ بْنَ طَلْحَۃَ، عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ، اَنَّ رَجُلًاقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ بِعَمَلٍ یُّدْخِلُنِی الْجَنَّۃَ، فَقَالَ الْقَوْمُ : مَالَہٗ مَا لَہٗ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَرَبٌ مَالَہٗ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ : تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلوٰۃَ وَتُؤْتِی الزَّکَوٰۃَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ۔ (۳)
ترجمہ: حضرت ایوب انصاری سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یا رسول اللہ! مجھے ایسا عمل ارشاد فرمائیں جو مجھے جنت میں داخل کردے۔‘‘ لوگوں نے شور مچانا شروع کردیا کہ ’’اسے کیا ہوگیا اسے کیا ہوگیا۔‘‘آپؐ نے فرمایا ’’اسے کوئی ضرورت پیش آگئی ہے، پھر فرمایا ’’اللہ کی بندگی کر، اس کے ساتھ خداوندی میں کسی کو شریک نہ کر، نماز کا پابند رہ، زکوٰۃ دے اور قرابت داروں کے حقوق ادا کر۔‘‘
حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکَرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا اَبُوْالْاَحْوَصِ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ مُوْسیٰ بْنُ طَلْحَۃَ، عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ قَالَ: جَآئَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: دُلَّنِیْ عَلیٰ عَمَلٍ اَعْمَلُہٗ یُدْنِیْنِیْ مِنَ الْجَنَّۃِ وَیُبَاعِدُنِیْ مِنَ النَّارِ، قَالَ: تَعْبُدُ اللّٰہَ لَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلوٰۃَ وَتُؤْتِی الزَّکوٰۃَ وَتَصِلُ ذَارَحِمَکَ فَلَمَّا اَدْبَرَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ: اِنْ تَمَسَّکَ بِمَا اُمِرَ بِہٖ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔(۴)
ترجمہ: ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میںحاضر ہو کر عرض کیا ’’ (یارسول اللہ) مجھے ایسے عمل کی راہ نمائی فرمائیں جو مجھے جنت کے قریب اور دوزخ سے دور کردے۔‘‘ جواب میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا، ’’اللہ تعالیٰ کی بندگی کر اور اس کے ساتھ خداوندی میں کسی کو شریک نہ کر، نماز قائم رکھ، اور زکوٰۃ دے اور قریبی رشتہ داروں سے صلہ رحمی کر۔‘‘ یہ سن کر وہ شخص جب واپس پلٹنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، ’’جن امور کا اسے حکم دیا گیا ہے اگر ان پر عمل پیرا رہا تو جنت میں داخل ہوگیا۔‘‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ اَبِیْ عُمَرَ الْعَدَنِیُّ، ثَنَاعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ اَبِیْ النُّجُوْدِ، عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذِبْنِ جَبَلٍ، قَالَ: کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ سَفَرٍ فَاَصْبَحْتُ یَوْمًا قَرِیْبًا مِّنْہُ وَنَحْنُ نَسِیْرُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ بِعَمَلٍ یُدْخِلُنِی الْجَنَّۃَ وَیُبَاعِدُنِیْ مِنَ النَّارِ، قَالَ: لَقَدْ سَأَلْتَ عَظِیْمًا وَاِنَّہٗ یَسِیْرٌ عَلیٰ مَنْ یَسَّرَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔ تَعْبُدُ اللّٰہَ لَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلوٰۃَ وَتُوْتِی الزَّکوٰۃَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَیْتَ۔۔۔ (۵)
ترجمہ: حضرت معاذ بن جبل سے مروی ہے بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں، میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ہمارا سفر جاری تھا کہ ایک روز علی الصبح حضوؐر کا قرب مجھے نصیب ہوگیا (اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے) میں نے عرض کیا ’’اسے رسولؐ خدا! ’’مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت کے قریب اور دوزخ سے دور کردے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا ، ’’تم نے بہت بڑا سوال کیا مگر اللہ تعالیٰ جس کے لیے آسان فرمادے اس کے لیے بڑا آسان ہے۔ ( پھر فرمایا) ’’اللہ تعالیٰ کی بندگی کر اور اس کے ساتھ خداوندی میں کسی کو شریک و ساجھی نہ بنا، نماز قائم رکھ اور زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھ اور بیت اللہ کا حج کر۔‘‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ نُمَیْرٍ، قَالَ: نَا اَبِیْ، قَالَ: نَا عَمْرُوبْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: نا مُوسیٰ بْنُ طَلْحَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنِی اَبُوْ اَیُّوْبَ اَنَّ اَعْرَابِیًّا عَرَضَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ فِیْ سَفَرٍ فَاَخَذَ بِخِطَامِ نَا قَتِہٖ اَوْبِزِمَا مِہَا، ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَوْ یَا مُحَمَّدُ اَخْبِرْنِی بِمَایُقَرِّبُنِیْ مِنَ الْجَنَّۃِ وَمَا یُبَاعِدُنِیْ مِنَ النَّارِ، قَالَ: فَکَفَّ النَّبِیُّ ﷺ، ثُمَّ نَظَرَفِیْ اَصْحَابِہٖ، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ وُفِّقَ اَوْلَقَدْ ہُدِیَ، قَالَ: کَیْفَ قُلْتَ؟ قَالَ فَاَعَادَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلوٰۃَ وَتُؤْتِی الزَّکوٰۃَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ دَعِ النَّاقَۃَ۔ (۶)
ترجمہ: ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ سفر میں تھے۔ ایک اعرابی نے سامنے سے آکر آپؐ کے اونٹ کی نکیل پکڑلی اور عرض کیا ’’یا رسول اللہ مجھے کوئی ایسی چیز ارشاد فرمائیں جو مجھے جنت کے قریب اور دوزخ سے دور کردے۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تھوڑے سے توقف کے بعد اپنے صحابہ میں نظر دوڑا کر فرمایا ’’لازماً توفیق الٰہی سے نوازا گیا یا فرمایا راہِ ہدایت دکھایا گیا۔‘‘ پھر آپؐ نے اس سے فرمایا کہ ذرا اپنا سوال پھر دہرائو تو اس نے دوبارہ پہلے کی طرح عرض کیا۔ آپؐ نے فرمایا، ’’اللہ کی بندگی کر، اس کے ساتھ خداوندی میں کسی کو شریک نہ کر، نماز کا پابند رہ، زکوٰۃ دے اور قرابت داروں کے حقوق ادا کر اور اونٹنی کی نکیل چھوڑ دو۔‘‘
۴۔تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکْ بِہٖ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلوٰۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ وَتُؤْتِیْ الزَّکوٰۃَ الْمَفْرُوْضَۃَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ۔
ترجمہ: ’’وہ عمل یہ ہے کہ تو صرف اللہ کی بندگی کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، جو نماز فرض کی گئی ہے اس کا پابند رہے، جوزکوٰۃ مقرر کر دی گئی ہے وہ ادا کرتا رہے اور رمضان کے روزے رکھے۔‘‘
پس منظر: ایک دوسرے موقع پر ایک اعرابی حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھ کو جنت میں پہنچادے (تو آپؐ نے یہ کلمات ارشاد فرمائے) اس نے کہا ’’بہ خدا میں نہ اس سے زیادہ کچھ کروں گا نہ کم‘‘ جب وہ چلا گیا تو حضوؐر نے فرمایا، ’’جو شخص اہلِ جنت میں سے کسی کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کرنا چاہتا ہو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔‘‘
(تفہیمات حصہ اوّل: کیا نجات کے لیے ۔۔۔؟)
تشریح: اب حضوؐر کی تعلیم اور اس شخص کے جواب اور پھر آپؐ کے آخری ارشاد پر غور کیجیے۔ ایک سچا مسلمان سامنے تھا۔ نبی کی ہدایت کو صدق دل سے قبول کرنے کو تیار تھا۔ اس کو صرف یہ سمجھانے کی ضرورت تھی کہ خدا کی جنت میں داخل ہونے کے لیے بڑی بڑی ریاضتوں اور مجاہدوں کی ضرورت نہیں، چلے کھینچنے اور رات رات بھر وظیفے پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ اسی دنیا داری کی زندگی میں اگر تو اپنے اعتقاد کو شرک سے پاک رکھے اور خدا کے عائد کیے ہوئے فرائض ادا کرتا رہے تو جنت تجھے مل سکتی ہے۔
(تفہیمات حصہ اوّل : کیا نجات کے لیے۔۔۔؟)
تخریج: حَدَّثَنَامُحَمَّدُبْنُ اِبْرَاہِیْمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ عَنْ یَحْیٰ بْنِ سَعِیْدِبْنِ حَیَّانَ، عَنْ اَبِیْ زُرْعَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ اَعْرَابِیًّا اَتَی النَّبِیَّ ﷺ، فَقَالَ: دُلَّنِیْ عَلیٰ عَمَلٍ اِذَاعَمِلْتُہٗ دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ، قَالَ: تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلوٰۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ وَتُؤَدِّی الزَّکوٰۃَ الْمَفْرُوْضَۃَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ، قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَااَزِیْدُ عَلیٰ ہٰذَا فَلَمَّا وَلّٰی، قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: مَنْ سَرَّہٗ اَنْ یَنْظُرَاِلیٰ رَجُلٍ مِّنْ اَہْلِ الْجَنَّۃِ فَلْیَنْظُرْاِلیٰ ہٰذَا۔ (۷)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا ، ’’مجھے ایسے عمل کی طرف راہ نمائی فرمائیں کہ جب میں اسے انجام دوں تو جنت میں داخل ہوجائوں۔‘‘ تو آپؐ نے فرمایا:وہ عمل یہ ہے کہ ’’تو صرف اللہ کی بندگی کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائے، جو نماز فرض کی گئی ہے اس کا پابند رہے۔ جو زکوٰۃ مقرر کردی گئی ہے وہ ادا کرتا رہے اور رمضان کے روزے رکھے۔‘‘(یہ ارشادات سن کر) اس شخص نے کہا، ’’بہ خدا میں نہ اس سے زیادہ کچھ کروں گا نہ کم۔‘‘ جب وہ چلا گیا تو حضوؐر نے فرمایا ’’جو شخص اہل جنت میں سے کسی کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کرنا چاہتا ہو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔‘‘
۵۔ ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ایک مشن پر یمن بھیجا تو فرمایا کہ تم اہل کتاب کی ایک قوم میں پہنچوگے۔ سب سے پہلے ان کو اس بات کی دعوت دینا کہ لا الٰہ الااللّٰہ کی شہادت دیں اور یہ تسلیم کریں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔جب اس کو مان لیں تو ان سے کہنا کہ اللہ نے تم پر رات دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ اس کوبھی مان لیں تو ان سے کہنا کہ اللہ نے تم پر زکوٰۃ بھی فرض کی ہے، جو تمہارے مال داروں سے لی جائے گی اور تمہارے غریبوں کو دے دی جائے گی۔ جب وہ اس کو بھی مان لیں تو خبر دار ان کے (عمدہ و نفیس) مال کو ہاتھ نہ لگانا۔ اور مظلوم کی بددعا سے بچنا کہ اس کے اور خدا کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔
(تفہیمات حصہ اوّل : کیا نجات کے لیے ۔۔۔؟)
تخریج: حَدَّثَنِیْ حِبَّانٌ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ اِسْحَاقَ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ صَیْفِیٍّ، عَنْ اَبِیْ مَعْبَدٍ مَوْلیٰ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِمُعَاذِبْنِ جَبَلٍ حِیْنَ بَعَثَہٗ اِلَی الْیَمَنِ: اِنَّکَ سَتَاْتِیْ قَوْمًا مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ فَاِذَا جِئْتَہُمْ فَادْعُہُمْ اِلیٰ اَنْ یَّشْہَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوْا لَکَ بِذٰلِکَ فَاَخْبِرْہُمْ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْکُمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوْا لَکَ بِذٰلِکَ فَاَخْبِرْہُمْ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْکُمْ صَدَقَۃً تُوْخَذُ مِنْ اَغْنِیَآئِ ہِمْ فَتُرَدُّ عَلیٰ فُقَرَآئِ ہِمْ فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوْا لَکَ بِذٰلَکَ فَاِیَّاکَ وَکَرَائِمَ اَمْوَالِہِمْ وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ فَاِنَّہٗ لَیْسَ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ اللّٰہِ حِجَابٌ۔ (۸)
۶۔ اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حتّٰی یَشْہَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَیُؤْمِنُوْا بِیْ وَبِمَا جِئْتُ بِہٖ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّیْ دِمَآئَ ہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ اِلَّا بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں اور مجھ پر اور ان سب باتوں پر ایمان لائیں جو میں لایا ہوں۔ پھرجب انھوں نے ایسا کردیا تو مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو بچالیا الاّ یہ کہ ان کے خلاف کوئی حق قائم ہوجائے، اس کے بعد ان کا حساب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
تخریج: (الف) حَدَّثَنَا اَحْمَدُبْنُ عَبْدَۃَ الضَّبِّیُّ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ یَعْنِی الدَّرَاوَرْدِیُّ، عَنِ الْعَلَائِ ح وَحَدَّثَنَا اُمَیَّۃُ بْنُ بَسْطَامٍ وَاللَّفْظُ لَہٗ، قَالَ: نَا یَزِیْدُبْنُ زُرَیْعٍ، قَالَ: نَارَوْحٌ عَنِ الْعَلَائِ ابْنِ عَبدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَعْقُوبَ عَنْ اَبِیْہِ۔ عَن اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْہَدُوْا اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَیُؤْمِنُوْا بِیْ وَبِمَا جِئْتُ بِہٖ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّیْ دِمَآئَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ اِلَّا بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ۔ (۹)
(ب) حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ بُکَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ، عَنْ عُقَیْلٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ، اَنَّ اَبَاہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَمَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ عَصَمَ مِنِّیْ مَالُہٗ وَنَفْسُہٗ اِلَّا بِحَقِّہٖ وَحِسَابُہٗ عَلَی اللّٰہِ ۔۔۔(۱۰)
اس روایت میں جمع کے بجائے واحد کا صیغہ ہے۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں۔ پس جس شخص نے لا الہ الا اللہ کہا تو اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان کو بچالیا اِلّا یہ کہ اس کے خلاف کوئی حق قائم ہو جائے، اس کے بعد اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
(ج) حَدَّثَنَامُسَدَّدٌ، ثَنا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَاِذَا قَالُوْہَا مَنَعُوْا مِنِّیْ دِمَآئَ ہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ اِلَّا بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ تَعَالیٰ۔(۱۱)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لا الہٰ الّا اللہ کہیں (اقرار کریں) پس جب انھوں نے لا الہٰ الّا اللہ کا اقرار کرلیا تو مجھ سے اپنے خون ، اپنے مال بچالیے الّا یہ کہ ان کے خلاف کوئی حق قائم ہوجائے، اس کے بعد ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
اس روایت میں یَشْہَدُوْا کے بجائے قَالُوْا ہے۔
(د) حَدَّثَنَاأَحْمَدُبْنُ الْاَزْہَرِ، ثنا اَبُوا النَّضْرِ، ثَنَا اَبُوْ جَعْفَرٍ، عَنْ یُوْنُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْہَدُوْا اَنْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَیُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَیُوْتُوا الزَّکوٰۃَ۔ (۱۲)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی شہادت دیں اور اس کی شہادت دیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیتے رہیں۔‘‘
۷۔ اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْہَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ وَاَنْ یَسْتَقْبِلُوْا قِبْلَتَنَا وَاَنْ یَاْکُلُوْا ذَبِیْحَتَنَا وَاَنْ یُّصَلُّوْا صَلَاتَنَا فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ حَرُمَتْ عَلَیْنَا دِمَائُ ہُمْ وَاَمْوَالُہُمْ اِلَّا بِحَقِّہَا لَہُمْ مَا لِلْمُسْلِمِیْنَ وَعَلَیْہِمْ مَا علَی الْمُسْلِمِیْنَ۔ (ابوداؤد، ترمذی)
ترجمہ: حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اس کا بندہ اور رسول ہے اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کریں اور ہمارا ذبیحہ کھائیں اور ہماری طرف نماز پڑھیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو ہمارے اوپر ان کے خون اور ان کے اموال حرام ہوجائیں گے۔ بجز اس کے کہ کسی حق کے بدلے میں ان کو لیا جائے۔ ان کے حقوق وہی ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور ان پر فرائض وہی عائد ہوں گے جو مسلمانوں پر ہیں۔‘‘
تشریح: اس اعتقادی قانون کی رو سے اسلام اور کفر کے درمیان ابدی جنگ ہے مگر یہ جنگ محض نظری (Theoretical) ہے۔ ہر کافر حربی (Enemy) ہے، مگر اس معنی میں کہ جب تک ہماری اور اس کی قومیت الگ ہے۔ ہمارے اور اس کے درمیان بنائے نزاع قائم ہے۔ ہر دارالکفر دار الحرب ہے، مگراس کا مفہوم صرف یہ ہے کہ جب تک وہ دارلکفر ہے محل حرب ہے۔ یا بالفاظ دیگر حربیت کا کلی ارتفاع صرف اختلاف قومیت ہی کے مٹ جانے سے ہوسکتا ہے۔ اس قانون نے محض ایک نظریہ اور قاعدۂ اصلیہ واضح طور پر مسلمانوں کے سامنے رکھ دیا ہے جس پر ان کی حکمت عملی کی بنا قائم ہے۔ باقی رہے حقوق و واجبات اور جنگ و صلح کے عملی مسائل تو ان کا اس قانون سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ دستوری اور بین الاقوامی قانون سے تعلق رکھتے ہیں۔
(سود: اعتقاد ی قانون)
تخریج: حَدَّثَنَا سَعِیْدُبْنُ یَعْقُوْبَ الطَّالِقَانِیُّ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ، عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ اَنْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْہَدُوْا اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ وَاَنْ یسْتَقْبِلُوْا قِبْلَتَنَا وَاَنْ یَّاْکُلُوْا ذَبِیْحَتَنَا ، وَاَنْ یُّصَلُّوْا صَلَاتَنَا فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ حَرُمَتْ عَلَیْنَا دِمَائُ ہُمْ وَاَمْوَالُہُمْ اِلَّا بِحَقِّہَا، لَہُمْ مَا لِلْمُسْلِمِیْنَ، وَعَلَیْہِمْ مَا عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ۔(۱۳)
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یَشْہَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ فَاِذَا شَہِدُوْا اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَصَلُّوا صَلَا تَنَا وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَاَکَلُوْا ذَبَائِحَنَا ۔۔۔
اس روایت میں الناس کے بجائے مشرکون کا لفظ آیا ہے۔
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مشرکین سے جنگ کروں یہاں تک کہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ پس جب وہ اس کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور ہماری طرح نماز پڑھیں اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کریں اور ہمارا ذبیحہ کھائیں۔‘‘
حَدَّثَنَا نُعَیْمٌ، قَالَ: نَا ابْنُ الْمُبَارَکِ، عَنْ حُمَیْدِنِ الطَّوِیْل، عَنْ اَنَسِ ابْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَاِذَا قَالُوْہَا وَصَلُّوْا صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلُوْا قِبْلَتَنَآ وَاَکَلُوْا ذَبِیْحَتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَیْنَا دِمَائُ ہُمْ وَاَمْوَالُہُمْ اِلَّا بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ۔ (۱۴)
ترجمہ: حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہیں (اقرار کریں) پس جب وہ اس کلمہ کا اقرار کرلیں اور ہماری طرح نماز پڑھیں اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کریں اور ہمارا ذبیحہ کھائیں تو ان کے خون اور ان کے مال ہم پر حرام ہوگئے۔ اِلّا یہ کہ کوئی حق ان کے خلاف قائم ہوجائے۔ اس کے بعد ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

قانونی اور حقیقی اسلام کا فرق

۸۔ مَنْ اَحَبَّ لِلّٰہِ وَاَبْغَضَ لِلّٰہِ وَاَعْطیٰ لِلّٰہِ وَمَنَعَ لِلّٰہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الْاِیْمَانَ۔
ترجمہ: حضرت ابو امامہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’جس نے کسی سے دوستی و محبت کی تو خدا کے لیے کی اور دشمنی کی تو خدا کے لیے کی اور کسی کو دیا تو خدا کے لیے دیا اور کسی سے روکا تو خدا کے لیے روکا، اس نے اپنے ایمان کو کامل کرلیا، یعنی وہ پورا مومن ہوگیا۔‘‘
تشریح: اللہ تعالیٰ اپنی کتاب پاک میں فرماتا ہے۔
قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذَالِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ۔
’’ ( اے محمد ﷺ) کہو میری نماز اور میرے تمام مراسمِ عبودیت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ کے لیے ہے جو ساری کائنات کا مالک ہے۔ اس کاکوئی شریک نہیں، اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے میں اس کی اطاعت میں سر تسلیم خم کرتا ہوں۔‘‘
اس آیت کی تشریح نبی ﷺ کے (مندرجہ بالا)ارشاد سے ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی بندگی کو اور اپنے جینے اور مرنے کو صرف اللہ کے لیے خالص کرلے اور اللہ کے سوا کسی کو اس میں شریک نہ کرے۔ یعنی نہ تو اس کی بندگی اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے ہو اور نہ اس کا جینا اور مرنا ۔ اس کی جو تشریح نبی ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کی محبت اور دشمنی اور اپنی دنیوی زندگی کے معاملات میں اس کا لین دین خالصتاً خدا کے لیے ہونا عین تقاضائے ایمان ہے۔ اس کے بغیر ایمان ہی کی تکمیل نہیں ہوتی کجا کہ مراتبِ عالیہ کا دروازہ کھل سکے۔جتنی کمی اس معاملے میں ہوگی اتنا ہی نقص آدمی کے ایمان میں ہوگا اور جب اس حیثیت سے آدمی مکمل طور پر خدا کا ہوجائے تب کہیں اس کا ایمان مکمل ہوتا ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی چیزیں صرف مراتب عالیہ کا دروازہ کھولتی ہیں، ورنہ ایمان و اسلام کے لیے انسان کے اندر یہ کیفیت پیدا ہونا شرط نہیں ہے۔ یعنی بالفاظ دیگر اس کیفیت کے بغیر بھی انسان مومن و مسلم ہوسکتا ہے۔ مگر یہ ایک غلط فہمی ہے اور اس غلط فہمی کے پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر لوگ فقہی اور قانونی اسلام اور اس حقیقی اسلام میں جو خدا کے ہاں معتبر ہے، فرق نہیں کرتے۔ فقہی اور قانونی اسلام میں آدمی کے قلب کا حال نہیں دیکھا جاتا اور نہیں دیکھا جاسکتا۔ بلکہ صرف اس کے اقرار زبانی کو اور اس امر کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے اندر ان لازمی علامات کو نمایاں کرتا ہے یا نہیں، جو اقرار زبانی کی توثیق کے لیے ضروری ہیں۔ اگر کسی شخص نے زبان سے اللہ اور رسول ﷺ اور قرآن اور آخرت اور دوسرے ایمانیات کو ماننے کا اقرار کرلیا اور اس کے بعد وہ ضروری شرائط بھی پوری کردیں جن سے اس کے ماننے کا ثبوت ملتا ہے تو وہ دائرہ اسلام میں لے لیا جائے گا۔ اور سارے معاملات اس کے ساتھ مسلمان سمجھ کر کیے جائیں گے۔ لیکن یہ چیز صرف دنیا کے لیے ہے اور دنیوی حیثیت سے وہ قانونی اور تمدنی بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر مسلم سوسائٹی کی تعمیر کی گئی ہے۔ اس کا حاصل اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ایسے اقرار کے ساتھ جتنے لوگ مسلم سوسائٹی میں داخل ہوں، ان کو ایک دوسرے پر شرعی اور قانونی اور اخلاقی اور معاشرتی حقوق حاصل ہوجائیں۔ ان کے درمیان شادی بیاہ کے تعلقات قائم ہوں، میراث تقسیم ہو، اور دوسرے تمدنی روابط وجود میں آئیں۔ لیکن آخرت میں انسان کی نجات اور اس کا مسلم و مومن قرار دیا جانا اور اللہ کے مقبول بندوں میں شمار ہونا اس قانونی اقرار پر مبنی نہیں ہے، بلکہ وہاں اصل چیز آدمی کا قلبی اقرار، اس کے دل کا جھکائو اور اس کا برضا و رغبت اپنے آپ کو بالکلیہ خدا کے حوالے کردینا ہے۔ دنیا میں جو زبانی اقرار کیا جاتا ہے وہ تو صرف قاضی شرع کے لیے اور عام انسانوں اور مسلمانوں کے لیے ہے۔ کیونکہ وہ صرف ظاہرہی کو دیکھ سکتے ہیں، مگر اللہ آدمی کے دل کو اور اس کے باطن کو دیکھتا ہے، اور اس کے ایمان کو ناپتا ہے۔ اس کے ہاں آدمی کو جس حیثیت سے جانچا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ آیا اس کا جینا اور مرنا اور اس کی وفاداریاں اور اس کی اطاعت و بندگی ، اور اس کا پورا کارنامۂ زندگی اللہ کے لیے ہے یا کسی اور کے لیے۔ اگر اللہ کے لیے ہے تو وہ مسلم اور مومن ہے اور اگر کسی اور کے لیے ہے تو نہ مسلم ہے نہ مومن۔ اس حیثیت سے جو جتنا خام ہے اتنا ہی اس کا ایمان اور اسلام خام ہے خواہ دنیا میں اس کا شمار کیسے ہی بڑے مسلمانوں میں ہوتا ہو اور اس کو کتنے ہی بڑے مراتب دیے جاتے ہوں۔ اللہ کے ہاں قدر صرف اس چیز کی ہے کہ جو کچھ اس نے آپ کو دیا ہے وہ سب کچھ آپ نے اس کی راہ میں لگادیا یا نہیں۔ اگر آپ نے ایسا کردیا تو آپ کو وہی حق دیا جائے گا جو وفاداروں کو اور حق بندگی ادا کرنے والوں کو دیا جاتا ہے، اور اگر آپ نے کسی چیز کو خدا کی بندگی سے مستثنیٰ کرکے رکھا، تو آپ کا یہ اقرار کہ آپ مسلم ہوئے یعنی یہ کہ آپ نے اپنے آپ کو بالکل خدا کے حوالے کردیا، محض ایک جھوٹا اقرار ہے، جس سے دنیا کے لوگ دھوکا کھاسکتے ہیں، جس سے فریب کھا کر مسلم سوسائٹی آپ کو اپنے اندر جگہ دے سکتی ہے، جس سے دنیا میں آپ کو مسلمانوں کے سے تمام حقوق مل سکتے ہیں۔ لیکن اس سے فریب کھا کر خدا اپنے ہاں آپ کو وفاداروں میں جگہ نہیں دے سکتا۔
یہ قانونی اور حقیقی اسلام کا فرق جو (اوپر بیان کیا گیا ہے) اگر آپ اس پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کے نتائج صرف آخرت ہی میں مختلف نہیں ہوں گے بلکہ دنیا میں بھی ایک بڑی حد تک مختلف ہیں۔ دنیا میں جو مسلمان پائے گئے ہیں یا آج پائے جاتے ہیں، ان سب کو دو قسموں پر منقسم کیا جاسکتا ہے۔ ایک قسم کے مسلمان وہ جوخدا اور رسول کا اقرار کرکے اسلام کو بحیثیت اپنے مذہب کے مان لیں، مگر اپنے اس مذہب کو اپنی کل زندگی کا محض ایک جز اور ایک شعبہ ہی بنا کر رکھیں، اس مخصوص جز اور شعبے میں تو اسلام کے ساتھ عقیدت ہو، عبادت گزار یاں ہوں، تسبیح و مصلّے ہوں، خدا کا ذکر ہو ، کھانے پینے اور بعض معاشرتی معاملات میں پرہیز گاریاں ہوں اور وہ سب کچھ ہو جسے مذہبی طرزِ عمل کہا جاتا ہے، مگر اس شعبے کے سوا ان کی زندگی کے دوسرے تمام پہلو ان کے مسلم ہونے کی حیثیت سے مستثنیٰ ہوں۔ وہ محبت کریں تو اپنے نفس یا اپنے مفاد یا اپنے ملک و قوم یا کسی اور کی خاطر کریں۔ وہ دشمنی کریں، اور کسی سے جنگ کریں تو وہ بھی ایسے ہی کسی دنیوی یا نفسانی تعلق کی بنا پر کریں۔ ان کے کاروبار ، ان کے لین دین، ان کے معاملات اور تعلقات ، ان کا اپنے بال بچوں ، اپنے خاندان ، اپنی سوسائٹی اور اپنے اہل محکمہ کے ساتھ برتائو سب کا سب ایک بڑی حد تک دین سے آزاد اور دنیوی حیثیتوں پر مبنی ہو۔ ایک زمیندار کی حیثیت سے، ایک تاجر کی حیثیت سے، ایک حکمران کی حیثیت سے، ایک سپاہی کی حیثیت سے، ایک پیشہ ور کی حیثیت سے ان کی اپنی ایک مستقل حیثیت ہو۔ جس کا ان کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے، خواہ جزئی طور پر متاثر یا منسوب ہوں، لیکن فی الواقع ان کو اسلام سے کوئی علاقہ نہ ہو۔ دوسری قسم کے مسلمان وہ ہیں جو اپنی پوری شخصیت کو اور اپنے سارے وجود کو اسلام کے اندر پوری طرح دے دیں۔ ان کی ساری حیثیتیں ان کے مسلمان ہونے کی حیثیت میں گم ہوجائیں۔ وہ باپ ہوں تو مسلمان کی حیثیت سے، بیٹے ہوں تو مسلمان ہونے کی حیثیت سے، شوہر یا بیوی ہوں تو مسلمان کی حیثیت سے۔ تاجر، زمیندار، مزدور، ملازم یا پیشہ ور ہوں تو مسلمان کی حیثیت سے ان کی خدمات ، ان کی خواہشات ، ان کے نظریات ، ان کے خیالات اور ان کی رائیں، ان کی نفرت اور رغبت ، ان کی پسند اور نا پسند سب کچھ اسلام کے تابع ہو۔ ان کے دل و دماغ پر، ان کی آنکھوں اور کانوں پر، ان کے پیٹ اور ان کی شرم گاہوں پر، اور ان کے ہاتھ پائوں اور ان کے جسم و جان پر اسلام کا مکمل قبضہ ہو۔ نہ ان کی محبت اسلام سے آزاد ہو نہ دشمنی۔ جس سے ملیں تو اسلام کے لیے ملیں اور جس سے لڑیں تو اسلام کے لیے لڑیں۔ کسی کو دیں تو اس لیے دیں کہ اسلام کا تقاضا یہی ہے کہ اسے دیا جائے اور کسی سے روکیں تو اس لیے روکیں کہ اسلام یہی کہتا ہے کہ اس سے روکا جائے۔ اور ان کا یہ طرزِ عمل صرف انفرادی حد تک ہی نہ ہو بلکہ ان کی اجتماعی زندگی بھی سراسر اسلام کی بنیاد پر قائم ہو۔بحیثیت ایک جماعت کے ان کی ہستی صرف اسلام کے لیے قائم ہواور ان کا سارا اجتماعی برتائو اسلام کے اصولوں ہی پر مبنی ہو۔
یہ دو قسم کے مسلمان حقیقت میں ایک دوسرے سیبالکل مختلف ہیں، چاہے قانونی حیثیت سے دونوں پر لفظ مسلمان کا اطلاق یکساں ہو۔ پہلی قسم کے مسلمانوں کا کوئی کارنامہ تاریخ اسلام میںقابل ذکر یا قابل فخر نہیں ہے۔ انھوں نے فی الحقیقت کوئی ایسا کام نہیں کیا ہے جس نے تاریخ عالم پر کوئی اسلامی نقش چھوڑا ہو۔ اسلام کو اگر تنزّل نصیب ہوا ہے تو ایسے ہی لوگوں کی بدولت نصیب ہوا ہے۔ ایسے ہی مسلمانوں کی کثرت مسلم سوسائٹی میں ہو جانے کا نتیجہ اس شکل میں رونما ہوا کہ دنیا کے نظام زندگی کی باگیں کفر کے قبضے میں چلی گئیں اور مسلمان اس کے ماتحت رہ کر صرف ایک محدود مذہبی زندگی کی آزادی پر قانع ہوگئے۔ خدا کو ایسے مسلمان ہر گز مطلوب نہ تھے۔ اس نے اپنے انبیاء کو دنیا میں اس لیے نہیں بھیجا تھا، نہ اپنی کتابیں اس لیے نازل کی تھیں کہ صرف اس طرز کے مسلمان دنیا میں بناڈالے جائیں۔ دنیا میں ایسے مسلمانوں کے نہ ہونے سے کسی حقیقی قدروقیمت رکھنے والی چیز کی کمی نہ تھی جسے پورا کرنے کے لیے سلسلہ وحی و نبوت کو جاری کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ درحقیقت جو مسلمان خدا کو مطلوب ہیں جنھیں تیار کرنے کے لیے انبیاء کی بعثت اور کتابوں کی تنزیل ہوئی اور جنھوں نے اسلامی نقطۂ نظر سے کبھی کوئی قابلِ قدر کام کیا ہے یا آج کرسکتے ہیں وہ صرف دوسری ہی قسم کے مسلمان ہیں۔
(روداد جماعت اسلامی سوم : قانونی اور حقیقی ۔۔۔)
ایمان ( ضمائر کے قدرے تغیر کے ساتھ) اسلام کا یہ معیار جو اس حدیث میں بیان ہوا ہے ہم سب اپنے آپ کو اس پر پرکھ کر دیکھیں اور اس کی روشنی میں اپنا محاسبہ کریں۔ ۔ ۔ کیا ہم نے اپنی پسند اور ناپسند کو سراسر رضائے الٰہی کے تابع کردیا ہے؟ پھر دیکھیے کہ واقعی ہم جس سے محبت کرتے ہیں خدا کے لیے کرتے ہیں۔ ہماری نفسانیت کا کوئی حصہ شامل نہیں ہے؟ پھر کیا ہمارا دینا اور روکنا بھی خدا کی خاطر ہوچکا ہے؟ اپنے پیٹ اور اپنے نفس سمیت دنیا میں ہم جس کو جو کچھ دے رہے اسی لیے دے رہے ہیں کہ خدا نے اس کا حق مقرر کیا ہے اور اس کو دینے سے صرف خدا کی رضا ہم کو مطلوب ہے؟ اور اسی طرح جس سے ہم جو کچھ روک رہے ہیں وہ بھی اسی لیے روک رہے ہیں کہ خدا نے اسے روکنے کا حکم دیا ہے، اور اس کے روکنے میں ہمیں خدا کی خوشنودی حاصل ہونے کی تمنا ہے؟ اگر ہم یہ کیفیت اپنے اندر پاتے ہیں تو اللہ کا شکر کیجیے کہ اس نے ہم پر نعمت ایمان کا اتمام کردیا۔ اور اگر اس حیثیت سے ہم اپنے اندر کمی محسوس کرتے ہیں تو ساری فکریں چھوڑ کر بس اسی کمی کو پورا کرنے کی فکر کیجیے اور اپنی تمام کوششوں اور محنتوں کو اسی پر مرکوز کردیجیے ، کیونکہ اسی کسر کے پورے ہونے پر دنیا میں ہماری فلاح اور آخرت میں ہماری نجات کا مدار ہے۔ ہم دنیا میں خواہ کچھ بھی حاصل کرلیں، اس کے حصول سے اس نقصان کی تلافی نہیں ہوسکتی جو اس کسر کی بدولت ہمیں پہنچے گا۔ لیکن اگر یہ کسر ہم نے پوری کرلی تو خواہ ہم کو دنیا میں کچھ حاصل نہ ہو پھر بھی ہم خسارے میں نہ رہیں گے۔
یہ کسوٹی اس غرض کے لیے نہیں ہے کہ اس پر ہم دوسروں کو پرکھیں اور ان کے مومن یا منافق اور مسلم یا کافر ہونے کا فیصلہ کریں۔ بلکہ یہ کسوٹی اس غرض کے لیے ہے کہ ہم اس پر خود اپنے آپ کو پرکھیں، اور آخرت کی عدالت میں جانے سے پہلے اپنا کھوٹ معلوم کرکے یہیں اسے دور کرنے کی فکر کریں۔ ہمیں فکر اس بات کی نہ ہونی چاہیے کہ دنیا میں مفتی اور قاضی ہمیں کیا قرار دیتے ہیں، بلکہ اس کی ہونی چاہیے کہ احکم الحاکمین اور عالم الغیب و الشہادۃ ہمیں کیا قرار دے گا۔ ہم اس پر مطمئن نہ ہوں کہ یہاں ہمارا نام مسلمانوں کے رجسٹر میں لکھا ہے، فکر اس بات کی کیجیے کہ خدا کے دفتر میں ہم کیا لکھے جاتے ہیں۔ ساری دنیا بھی ہم کو سند اسلام و ایمان دے دے تو کچھ حاصل نہیں۔ فیصلہ خدا کے ہاتھ ہے اس کے ہاںمنافق کے بجائے مومن، نافرمان کے بجائے فرماں بردار اور بے وفا کی جگہ وفادار قرار پانا اصل کامیابی ہے۔ (خطبات : محاسبۂ نفس)
تخریج: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، ثَنَا مُحَمَّدُبْنُ شُعَیْبِ بْنِ شَابُوْرٍ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ،عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ، اَنَّہٗ قَالَ: مَنْ اَحَبَّ لِلّٰہِ وَاَبْغَضَ لِلّٰہِ وَمَنَعَ لِلّٰہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الْاِیْمَانَ۔ (۱۵)

اِسْتِقَامت فِی الدین

۹۔ قَدْ قَالَہَاالنَّاسُ ثُمَّ کَفَرَ اَکْثَرُہُمْ، فَمَنْ مَاتَ عَلَیْہَا فَہُوَ مِمَّنِ اسْتَقَامَ۔
ترجمہ: حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ حضوؐر نے فرمایا ’’بہت سے لوگوں نے اللہ کو اپنا رب کہا مگر ان میں سے اکثر کافر ہوگئے۔ ثابت قدم وہ شخص ہے جو مرتے دم تک اسی عقیدے پر جما رہا۔ (ابن جریر، نسائی، ابن ابی حاتم)
تشریح: یعنی محض اتفاقاً کبھی اللہ کو اپنا رب کہہ کر نہیں رہ گئے، اور نہ اس غلطی میں مبتلا ہوئے کہ اللہ کو اپنا رب کہتے بھی جائیں اور ساتھ ساتھ دوسروں کو اپنا رب بناتے بھی جائیں، بلکہ ایک مرتبہ یہ عقیدہ قبول کرلینے کے بعد پھر ساری عمر اس پر قائم رہے، اس کے خلاف کوئی دوسرا عقیدہ اختیار نہ کیا نہ اس عقیدے کے ساتھ کسی باطل عقیدے کی آمیزش کی، اور اپنی عملی زندگی میں بھی عقیدۂ توحید کے تقاضوں کو پورا کرتے رہے۔
خدا اور رسول کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پر چلنے اور خدا کے دین کو قائم کرنے میں جو مشکلات بھی پیش آئیں، جو خطرات بھی درپیش ہوئے، جو تکلیفیں بھی اٹھانی پڑیں اور جن نقصانات سے بھی دوچار ہونا پڑے ان کا پوری ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے رہے۔ کوئی خوف کوئی لالچ اور خواہشات نفس کا کوئی تقاضا ان کو سیدھی راہ سے ہٹادینے میں کامیاب نہیں ہوا۔
تخریج: حَدَّثَنَا عَمْرُوبْنُ عَلِیٍّ، قَالَ: ثَنَا سَالِمُ بْنُ قُتَیْبَۃَ اَبُوْ قُتَیْبَۃَ، قَالَ: ثَنَا سُہَیْلُ بْنُ اَبِیْ حَزْمِ ن الْقُطَعِیٌّ، عن ثَابِتِ نِالْبَنَانِیُّ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَرَأَ: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا، قَالَ قَدْ قَالَہَا النَّاسُ ثُمَّ کَفَرَاَکْثَرُ ہُمْ فَمَنْ مَاتَ عَلَیْہَا فَہُوَ مِمَّنِ اسْتَقَامَ۔ (۱۶)
حضرت ابوبکر صدیقؓ اس حدیث کی تشریح یوں کرتے ہیں:
لَمْ یُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ شَیْئًا، لَمْ یَلْتَفِتُوْا اِلیٰ اِلٰہٍ غَیْرِہٖ۔
’’پھر اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا۔ اس کے سوا کسی دوسرے معبود کی طرف توجہ نہ کی۔‘‘ (ابن جریر)
تخریج(۱): حَدَّثَنَا اَبُو کُرَیْبٍ وَاَبُو السَّائِبِ، قَالَا: ثَنَا ابْنُ اِدْرِیْسُ، قَالَ: اَخْبَرَنَا الشَّیْبَانِیُّ عَنْ أَبِیْ بَکْرِبْنِ اَبِیْ مُوْسیٰ، عَنِ الْاَسْوَدِبْنِ ہِلَالِ نِ الْمُحَارِبِیِّ، قَالَ: قَالَ اَبُوْ بَکْرٍ مَا تَقُوْلُوْنَ فِیْ ہٰذِہِ الْاٰیَۃِ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا، قَالَ: فَقَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا مِنْ ذَنْبٍ، قَالَ: فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ: لَقَدْ حَمِلْتُمْ عَلیٰ غَیْرِ الْمَحْمَلِ، قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَمْ یَلْتَفِتُوا اِلیٰ اِلٰہٍ غَیْرِہٖ۔(۱۷)
حضرت عمرؓ نے ایک مرتبہ منبر پر فرمایا:’’خدا کی قسم! استقامت اختیار کرنے والے وہ ہیں جو اللہ کی اطاعت پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوگئے، لومڑیوںکی طرح اِدھرسے اُدھر اور ُادھر سے اِدھر دوڑتے نہ پھرے۔‘‘ (ابن جریر)
(۲): حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مَنِیْعٍ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمَبَارَکِ، قَالَ: ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ یَزِیْدَ، عَنِ
الزُّہْرِیِّ، قَالَ: تَلَا عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلَی الْمِنْبَرِ، اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثمَّ اسْتَقَامُوْا قَالَ اسْتَقَامُوْا وَاللّٰہِ بِطَاعَتِہٖ وَلَمْ یُرَوِّغُوْا رَوْغَانِ الثَّعَالِبِ۔ (۱۸)
حضرت عثمانؓ (استقامت کے بارے میں ) فرماتے ہیں کہ ’’اپنے عمل کو اللہ کے لیے خالص کرلینا‘‘
(کشّاف ص۳۳۱، سورہ حٰم ٓالسجدہ)
( کشّاف، ص:۳۳۱ سورہ حٰمٓ السجدہ مطبع الشرفیہ (تفہیم القرآن، ج ۴، حٰمٓالسجدہ))حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ’’ اللہ کے عائد کردہ فرائض فرماں برداری کے ساتھ ادا کرتے رہنا۔‘‘

توکّل علی اللہ

۱۰۔ مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَکُوْنَ اَقْویٰ النَّاسِ فَلْیَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ، وَمَنْ اَحَبَّ اَنْ یَکُوْنَ اَغْنَی النَّاسِ فَلْیَکُنْ بِمَا فِی یَدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اَوْثَقَ مِنْہُ بِمَا فِیْ یَدَیْہِ، وَمَنْ اَحَبَّ اَنْ یَکُوْنَ اَکْرَمَ النَّاسِ فَلْیتَّقِ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔
ترجمہ: ابن ابی حاتم نے ابنِ عباسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ’’جو شخص چاہتا ہو کہ سب انسانوں سے زیادہ طاقتور ہوجائے اسے چاہیے کہ اللہ پر توکل کرے اور جو شخص چاہتا ہو کہ سب سے بڑھ کر غنی ہوجائے اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس پر زیادہ بھروسہ رکھے بہ نسبت اس چیز کے جو اس کے اپنے ہاتھ میں ہے، اور جو شخص چاہتا ہو کہ سب سے زیادہ عزت والا ہوجائے اسے چاہیے کہ اللہ عزوجل سے ڈرے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۴،الزمر حاشیہ: ۵۷)
تشریح: توکل کے معنی یہ ہیں کہ:
اولاً، آدمی کو اللہ تعالیٰ کی رہنمائی پر کامل اعتماد ہو اور وہ سمجھے کہ حقیقت کا جو علم، اخلاق کے جو اصول ، حلال و حرام کے جو حدود اور دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے جو قواعد و ضوابط اللہ نے دیے ہیں وہی برحق ہیں اور انہی کی پیروی میں انسان کی خیر ہے۔
ثانیاً، آدمی کا بھروسا اپنی طاقت، قابلیت، اپنے ذرائع و وسائل، اپنی تدابیر اور اللہ کے سوا دوسروں کی امداد و اعانت پر نہ ہو، بلکہ وہ پوری طرح یہ بات ذہن نشین رکھے کہ دنیا و آخرت کے ہر معاملے میں اس کی کامیابی کا اصل انحصار اللہ کی توفیق و تائید پر ہے، اور اللہ کی توفیق و تائید کا وہ اسی صورت میں مستحق ہوسکتا ہے جب کہ وہ اس کی رضا کو مقصود بنا کر، اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کی پابندی کرتے ہوئے کام کرے۔
ثالثًا، آدمی کو ان وعدوں پر پورا بھروسا ہوجو اللہ تعالیٰ نے ایمان و عملِ صالح کا رویہ اختیار کرنے والے اور باطل کے بجائے حق کے لیے کام کرنے والے بندوں سے کیے ہیں، اور انہی وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے وہ ان تمام فوائد اور منافع اور لذائذ کو لات ماردے جو باطل کی راہ پر جانے کی صورت میں اسے حاصل ہوتے نظر آتے ہوں، اور ان سارے نقصانات اور تکلیفوں اور محرومیوں کو انگیز کر جائے جو حق پر استقامت کی وجہ سے اس کے نصیب میں آئیں۔
توکل کے معنی کی اس تشریح سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایمان کے ساتھ اس کا کتنا گہرا تعلق ہے، اور اس کے بغیر جو ایمان محض خالی خولی اعتراف و اقرار کی حد تک ہو، اس سے وہ شاندار نتائج کیوں نہیں حاصل ہوسکتے جن کا وعدہ ایمان لاکر توکل کرنے والوں سے کیا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن ج ۴، الشوریٰ حاشیہ :۵۷)
تخریج: قَالَ ابْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ،حَدَّثَنَا اَحْمَدُبْنُ عِصَامِ نِ الْاَنْصَارِیُّ، ثَنَاعَبْدُاللّٰہِ بْنُ بَکْرِ السَّہْمِیُّ، ثَنَا مُحَمَّدُبْنُ حَاتِمٍ، عَنْ اَبِی الْمِقْدَامِ مَوْلیٰ آلِ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ کَعْبِ نِالْقُرَظَیِّ، ثَنَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، رَفَعَ الْحَدِیْثَ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَکُوْنَ اَقْوَی النَّاسِ فَلْیَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ وَمَنْ اَحَبَّ اَنْ یَکُوْنَ اَغْنَی النَّاسِ فَلْیَکُنْ بِمَا فِی یَدِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اَوْثَقَ مِنْہُ بِمَا فِیْ یَدَیْہِ وَمَنْ اَحَبَّ اَنْ یَکُوْنَ اَکْرَمَ النَّاسِ فَلْیَتَّقِ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔

صرف ایمان باللہ سے ہی انسان راہ راست پر قائم رہ سکتا ہے

۱۱۔ عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ، لَایَقْضِی اللّٰہُ لَہٗ قَضَائً اِلَّا کَانَ خَیْرًا لَّہٗ، وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِاَحَدٍاِلَّا لِلْمُؤْمِنِ۔
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اللہ اس کے حق میں جو فیصلہ بھی کرتا ہے وہ اس کے لیے اچھا ہی ہوتا ہے مصیبت پڑے تو صبر کرتا ہے اور وہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے خوشحالی میسر آئے تو شکر کرتا ہے، اور وہ بھی اس کے لیے اچھا ہی ہوتا ہے۔ یہ بات مومن کے سوا کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔‘‘
تشریح: مصائب کے ہجوم میں جو چیز انسان کو راہ راست پر قائم رکھتی ہے اور کسی سخت سے سخت حالت میں بھی اس کے قدم ڈگمگانے نہیں دیتی وہ صرف ایمان باللہ ہے جس کے دل میں ایمان نہ ہو وہ آفات کو یا تو اتفاقات کا نتیجہ سمجھتا ہے یا دنیوی طاقتوں کو ان کے لانے اور روکنے میں مؤثر مانتا ہے، یا انھیں ایسی خیالی طاقتوں کا عمل سمجھتا ہے جنھیں انسانی اوہام نے نفع و ضرر پہنچانے پر قادر فرض کرلیا ہے، یا خدا کو فاعل مختار مانتا توہے مگر صحیح ایمان کے ساتھ نہیں مانتا۔ ان تمام مختلف صورتوں میں آدمی کم ظرف ہو کر رہ جاتا ہے۔ ایک خاص حد تک تو وہ مصیبت سہہ لیتا ہے لیکن اس کے بعد وہ گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔ ہر آستانے پر جھک جاتا ہے۔ ہر ذلت قبول کرلیتا ہے۔ ہر کمینہ حرکت کرسکتا ہے۔ ہر غلط کام کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ خدا کو گالیاں دینے سے بھی نہیں چوکتا حتّٰی کہ خودکشی تک کر گزرتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص یہ جانتا اور سچے دل سے مانتا ہو کہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہی اس کائنات کا مالک و فرماں روا ہے۔ اور اسی کے اذن سے مصیبت آتی اور اسی کے حکم سے ٹل سکتی ہے۔ اس کے دل کو اللہ صبر و تسلیم اور رضا بقضاء کی توفیق دیتا ہے۔ اس کو عزم اور ہمت کے ساتھ ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کی طاقت بخشتا ہے۔ تاریک سے تاریک حالات میں بھی اس کے سامنے اللہ کے فضل کی امید کا چراغ روشن رہتا ہے اور کوئی بڑی سے بڑی آفت بھی اس کو اتنا پست ہمت نہیں ہونے دیتی کہ وہ راہ راست سے ہٹ جائے، یا باطل کے آگے سرجھکادے، یااللہ کے سوا کسی اور کے درپر اپنے درد کا مداوا ڈھونڈنے لگے۔ اس طرح ہر مصیبت اس کے لیے مزید خیر کے دروازے کھول دیتی ہے اور کوئی مصیبت بھی حقیقت میں اس کے لیے مصیبت نہیں رہتی بلکہ نتیجے کے اعتبار سے سراسر رحمت بن جاتی ہے کیونکہ خواہ وہ اس کا شکار ہو کر رہ جائے یا اس سے بخیریت گزر جائے، دونوں صورتوں میں وہ اپنے رب کی ڈالی ہوئی آزمائش سے کامیاب ہوکر نکلتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۵ التغابن حاشیہ:۲۵)
تخریج: وَفِی الْحَدِیْثِ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ:
عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ لَا یَقْضِی اللّٰہُ لَہٗ قَضَائً اِلَّا کَانَ خَیْرًا لَّہٗ اِنْ اَصَابَتْہُ ضَرَّائُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ وَاِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّائُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِاَحَدٍ اِلَّا لِلْمُؤْمِنِ۔ (۲۰)
حَدَّثَنَا ہُدَّابُ بْنُ خَالِدِ نِ الْاَزْدِیُّ وَشَیْبَانُ بْنُ فَرُّوْخٍ جَمِیْعًا، عَنْ سُلَیْمَانَ ابْنِ الْمُغِیْرَۃِ وَاللَّفْظُ لِشَیْبَانَ، قَالَ: نَا سُلَیْمَانُ، نَاثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلیٰ، عَنْ صُہَیْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: عَجَبًا لِاَمْرِ الْمُؤْ مِنِ اِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ لَہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِاَحَدٍ اِلَّا لِلْمُؤْمِنِ اِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّائُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ وَاِنْ اَصَابَتْہُ ضَرَّائُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ۔ (۲۱)
ترجمہ: مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ بلا شبہ اس کا سارے کا سارا معاملہ اچھا ہے۔ یہ بات مومن کے سوا کسی کو بھی نصیب نہیں۔ اگر خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو شکر گزاری کا طرزِ عمل اختیار کرتا ہے اور اگر تکلیف سے دوچار ہوتا ہے تو صبر و شکیب سے کام لیتا ہے۔ لہٰذا یہ بھی اس کے حق میں اچھا ہے اور بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِی اَبِیْ، ثَنَا بَہْزٌ وحَجَّاجٌ، قَالَا: ثَنَا سُلَیْمَانُ ابْنُ الْمُغِیْرَۃِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ابْنِ اَبِیْ لَیْلیٰ عَنْ صُہَیْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: عَجِبْتُ مِنْ اَمْرِالْمُؤْمِنِ اَنَّ اَمْرَ المُؤْمِنِ کُلَّہٗ لَہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِاَحَدٍ اِلَّا لِلْمُؤْمِنِ اِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّائُ شَکَرَ کَانَ ذٰلِکَ لَہٗ خَیْرٌ وَاِنْ اَصَابَتْہُ ضَرَّائُ فَصَبَرَکَانَ ذٰلِکَ لَہٗ خَیْرًا۔ (۲۲)
اَخْبَرَنَا اَبُوْ حَاتِمِ الْبَصَرِیُّ رُوْحُ بْنُ اَسْلَمَ، ثَنَا حَمَّادُبْنُ سَلَمَۃَ، اَنَا ثَابِتٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلیٰ، عَنْ صُہَیْبٍ، قَالَ: بَیْنَمَارَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ جَالِسٌ وَضَحِکَ، فَقَالَ: اَلَا تَسْأَلُوْنِیْ مِمَّا اَضْحَکُ؟ فَقَالُوْا: مِمَّ تَضْحَکُ؟ قَالَ: عَجَبًا مِنْ اَمْرِ الْمُؤْمِنِ کُلِّہٖ لَہٗ خَیْرٌ ۔ اِنْ اَصَابَہٗ مَایُحِبُّ حَمِدَ اللّٰہَ عَلَیْہِ فَکَانَ لَہٗ خَیْرًا وَاِنْ اَصَابَہٗ مَایَکْرَہُ فَصَبَرَ، کَانَ لَہٗ خَیْرًا، وَلَیْسَ کُلُّ اَحَدٍ اَمْرَہٗ لَہٗ خَیْرٌ اِلَّا الْمُؤْمِنُ۔ (۲۳)

انسان کا اصل دشمن

۱۲۔ ترجمہ: حضرت ابو مالک اشعری سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’تیرا اصل دشمن وہ نہیں ہے جسے اگر تو قتل کردے تو تیرے لیے کامیابی ہے اور وہ تجھے قتل کردے تو تیرے لیے جنت ہے، بلکہ تیرا اصل دشمن ، ہوسکتا ہے کہ تیرا اپنا وہ بچہ ہو جو تیری ہی صلب سے پیدا ہوا ہے، پھر تیرا سب سے بڑا دشمن وہ مال ہے جس کا تو مالک ہے۔
تشریح: اللہ تعالیٰ نے سورۂ انفال میں بھی یہ فرمایا ہے کہ اگر تم مال اور اولاد کے فتنے سے اپنے آپ کو بچالے جائو اور ان کی محبت پر اللہ کی محبت کو غالب رکھنے میں کامیاب رہو، تو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۵ التغابن حاشیہ:۳۰)
انسان کے اخلاص ایمانی میں جو چیز بالعموم خلل ڈالتی ہے اور جس کی وجہ سے انسان اکثر منافقت ، غداری، اور خیانت میں مبتلا ہوتا ہے، وہ اپنے مالی مفاد اور اپنی اولاد کے مفاد سے اس کی حد سے بڑھی ہوئی دلچسپی ہوتی ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ مال اور اولاد ، جن کی محبت میں گرفتار ہو کر تم عموماً راستی سے ہٹ جاتے ہو، دراصل یہ دنیا کی امتحان گاہ میں تمہارے لیے سامان آزمایش ہیں جسے تم بیٹا یا بیٹی کہتے ہو، حقیقت کی زبان میں وہ دراصل امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ اور جسے تم جائداد یا کاروبار کہتے ہو وہ بھی درحقیقت ایک دوسرا پرچۂ امتحان ہے۔ یہ چیزیں تمہارے حوالہ کی ہی اس لیے گئی ہیں کہ ان کے ذریعہ سے تمہیں جانچ کر دیکھا جائے کہ تم کہاں تک حقوق اور حدود کا لحاظ کرتے ہو، کہاں تک ذمہ داریوں کا بوجھ لادے ہوئے جذبات کی کشش کے باوجود راہ راست پر چلتے ہو، اور کہاں تک اپنے نفس کو، جو ان دنیوی چیزوں کی محبت میں اسیر ہوتا ہے۔ اس طرح قابو میں رکھتے ہو کہ پوری طرح بندۂ حق بھی بنے رہو اور ان چیزوں کے حقوق اس حد تک ادا بھی کرتے رہو جس حد تک حضرتِ حق نے خود ان کا استحقاق مقرر کیا ہے۔ (تفہیم القرآن ، ج ۲ الانفال حاشیہ :۲۳)
تخریج: قَالَ الطبرانی: حَدَّثَنَاہَاشِمُ بْنُ مَرْ ثَدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ عَیَّاشٍ، حَدَّثَنِی اَبِی، حَدَّثَنِیْ ضَمْضَمُ بْنُ زُرْعَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ، عَنْ اَبِیْ مَالِکِنِ الْاَشْعَرِیِّ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ، قَالَ:لَیْسَ عَدُوُّکَ الَّذِیْ اِنْ قَتَلْتَہٗ کَانَ فَوْزًا لَکَ وَاِنْ قتَلَکَ دَخَلْتَ الْجَنَّۃَ وَلٰکِنَّ الَّذِیْ لَعَلَّہُ عَدُوٌّلَّکَ وَلَدُکَ الَّذِی خَرَجَ مِنْ صُلْبِکَ ثُمَّ اَعْدٰی لَکَ مَالُکَ الَّذِی مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ۔

اخلاصِ عمل

۱۳۔ اِنَّ اللّٰہ تَعَالیٰ لَا یَقْبَلُ اِلَّا مَنْ اَخْلَصَ لَہٗ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کوئی عمل بھی قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ خالص اسی کے لیے نہ ہو۔
تشریح: یہ حدیث ابن مردویہ نے یزید الرقاشی سے نقل کی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین کو خالص کرکے اس کی بندگی تم کو کرنی چاہیے کیوں کہ خالص اور بے آمیز اطاعت و بندگی اللہ کا حق ہے۔ دوسرے الفاظ میں بندگی کا مستحق کوئی دوسرا ہے ہی نہیں کہ اللہ کے ساتھ اس کی بھی پرستش اور اس کے احکام و قوانین کی بھی اطاعت کی جائے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے سوا کسی اور کی خالص اور بے آمیز بندگی کرتا ہے تو وہ غلط کرتا ہے۔ اور اسی طرح اگر وہ اللہ کی بندگی کے ساتھ بندگیٔ غیر کی آمیزش کرتا ہے تو یہ بھی حق کے سراسر خلاف ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، الزمر حاشیہ: ۴)
تخریج: (الف) اَخْرَجَ ابْنُ مَرْدَوَیْہِ، عَنْ یَزِیْدَ الرَّقَاشِیِّ، اِنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نُعْطِیْ اِلْتِمَاسَ الذِّکْرِ فَہَلْ لَّنَا مِنْ اَجْرٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :لَا، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نُعْطِیْ اَمْوَالَنَا الْتِمَاسَ الْاَجْرِوالذِّکْرِ فَہَلْ لَّنَا اَجْرٌ؟ فَقَالََ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ لَا یَقْبَلُ اِلَّا مَنْ اَخْلَصَ لَہٗ۔ (۲۵)
ترجمہ: (یزید الرقاشی سے مروی ہے کہ) ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ’’ہم اپنا مال دیتے ہیں، اس لیے کہ ہمارا نام بلند ہو، کیا اس پر ہمیں کوئی اجر ملے گا؟‘‘ حضوؐر نے فرمایا ’’نہیں‘‘۔ اس نے پوچھا اگر اللہ کے اجر اور دنیا کی ناموری دونوں کی نیت ہو؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کوئی عمل بھی قبول نہیں کرتا جب تک وہ خالص اسی کے لیے نہ ہو۔
(ب) نا یَحْیٰ بْنُ مُحَمَّدِبْنِ صَاعِدٍ، وجَعْفَرُبْنُ مُحَمَّدِبْنِ یَعْقُوْبَ الصَّنْدَلِیُّ، قَالَا: نَا اِبْرَاہِیْمُ ابْنُ مَحْشَرٍ، نَا عُبَیْدَۃُبْنُ حُمَیْدٍ، حَدَّثَنِیْ عَبْدُالْعَزِیْزِبْنُ رَفِیْعٍ وَغَیْرُہٗ عَنْ تَمِیْمِ بْنِ طَرفَۃَ عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ قَیْسِ نِ الفَہْرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: اَنَاخَیْرُ شَرِیْکٍ فَمَنْ اَشْرَکَ مَعِیْ شَرِیْکًا فَہُوَ لِشَرِیْکِیْ۔
یَا اَیُّہَا النَّاسُ! اَخْلِصُوْا اَعْمَالَکُمْ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَقْبَلُ اِلَّا مَا اَخْلَصَ لَہٗ۔ وَلَا تَقُوْلُوْا: ہٰذا لِلّٰہِ وَلِلرَّحِمِ، فَاِنَّہَا لِلرَّحِمِ وَلَیْسَ لِلّٰہِ مِنْہَا شَییٌ، وَلَا تَقُوْلُوْا، ہٰذَا لِلّٰہِ وَلِوُجُوْہِکُمْ فَاِنَّہَا لِوُجُوْہِکُمْ وَلَیْسَ لِلّٰہِ مِنْہَا شَیْیٌٔ۔ (۲۶)
ترجمہ: حضرت ضحّاک بن قیس فہری سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل ارشاد فرماتے ہیں، میں سب شریکوں سے بہتر ہوں۔پس جس چیز میں کسی نے میرے ساتھ غیر کو شریک بنایا وہ میرے شریک کے لیے ہے۔
لوگو! اپنے اعمال خالصتاً اللہ کے لیے کرو کیوں کہ وہ ایسا کوئی عمل قبول نہیں کرتا جو صرف اسی کے لیے نہ کیا گیا ہو۔ لہٰذا تم یوں نہ کہا کرو کہ ’’یہ اللہ کے لیے اور قرابت داری کے لیے ہے کیوں کہ اس طرح یہ قرابت داری کے لیے ہے اللہ کے لیے اس میں سے کچھ بھی نہیں ہے، اور یوں بھی نہ کہا کرو کہ یہ اللہ کے لیے ہے اور تمہاری ذات کے لیے ہے۔ ایسا کہو گے تو یہ صرف تمہاری ذاتوں کے لیے ہوگا اللہ کے لیے اس میں سے کچھ بھی نہ ہوگا۔‘‘

اسلام میں ایمان بلا امانت اور دین بلا عہد کا کوئی تصوّر نہیں

۱۴۔ لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَّا اَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَّا عَہْدَ لَہٗ۔
ترجمہ: جو امانت کی صفت نہیں رکھتا وہ ایمان نہیں رکھتا ، اور جو عہد کا پاس نہیں رکھتا وہ دین نہیں رکھتا۔ (بیہقی فی شعب الایمان)
بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت ہے کہ حضوؐر نے فرمایا:
چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں وہ چاروں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے او ر جس میں کوئی ایک پائی جائے اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہے جب تک کہ وہ اسے چھوڑ نہ دے۔ ’’ جب کوئی امانت اس کے سپرد کی جائے تو خیانت کرے۔ جب بولے تو جھوٹ بولے۔جب عہد کرے تو توڑ دے اور جب کسی سے جھگڑے تو (اخلاق و دیانت کی)ساری حدیں پھاند جائے۔‘‘
تشریح: سورۂ مومنون میں ارشاد ہوا ہے۔ وَالَّذِیْن لِاَمَانَاتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رَاعُوْنَ۔ ’’امانات‘‘ کا لفظ جامع ہے اُن تمام امانتوں کے لیے جو خداوندِ عالم نے ، یا معاشرے نے، یا افراد نے کسی شخص کے سپرد کی ہوں۔ اور عہدو پیمان میں وہ سارے معاہدے داخل ہیں جو انسان اور خدا کے درمیان،(متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ تخلیق آدم کے موقع پر پیش آیا۔ اس وقت جس طرح فرشتوں کو جمع کرکے انسانِ اوّل کو سجدہ کرایا گیا تھا اور زمین پر انسان کی خلافت کا اعلان کیا گیا تھا، اسی طرح پوری نسلِ آدم کو بھی ، جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی، اللہ تعالیٰ نے بیک وقت وجود اور شعور بخش کر اپنے سامنے حاضر کیا تھا اور ان سے اپنی ربوبیت کی شہادت لی تھی۔ اس کی تفسیر حضرت ابی بن کعب نے غالباً نبی ﷺ سے استفادہ کرکے جو کچھ بیان کی ہے وہ اس مضمون کی بہترین شرح ہے، وہ فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے سب کو جمع کیا اور (ایک ایک قسم یا ایک ایک دور کے) لوگوں کو الگ الگ گروہوں کی شکل میں مرتب کرکے انھیں انسانی صورت اور گویائی کی طاقت عطا کی، پھر ان سے عہد و میثاق لیا اور انھیں آپ اپنے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انھوں نے عرض کیا، ضرور آپ ہمارے رب ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم پر زمین و آسمان سب کو اور خود تمہارے باپ آدم کو گواہ ٹھیراتا ہوں تاکہ تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ سکو کہ ہم کو اس کا علم نہ تھا۔ خوب جان لو کہ میرے سو ا کوئی مستحق عبادت نہیں ہے اور میرے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرانا۔ میں تمہارے پاس اپنے پیغمبر بھیجوں گا جو تم کو یہ عہد و میثاق جو تم میرے ساتھ باندھ رہے ہو، یاد دلائیں گے اور تم پر اپنی کتابیں بھی نازل کروں گا ۔اس پر سب انسانوں نے کہا کہ ہم گواہ ہوئے، آپ ہی ہمارے رب اور آپ ہی ہمارے معبود ہیں، آپ کے سوا نہ کوئی ہمارا رب ہے نہ کوئی معبود) ۔
یا انسان اور انسان کے درمیان، یا قوم اور قوم کے درمیان استوار کیے گئے ہوں۔ مومن کی صفت یہ ہے کہ وہ کبھی امانت میں خیانت نہ کرے گا اور کبھی اپنے قول و قرار سے نہ پھرے گا۔
(تفہیم القرآن، ج ۳ المؤ منون حاشیہ:۸)
ان دونوں قسم کی امانتوں اور دونوں قسم کے عہد و پیمان کا پاس و لحا ظ ایک مومن کی سیرت کے لازمی خصائص میں سے ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، المعارج حاشیہ:۲۱)
تخریج: اَخْبَرَنَا اَبُوالْخَیْرِجَامِعُ بْنُ اَحْمَدَبْنِ مُحَمَّدِبْنِ مَہْدِیِّ نِ اَلْوَکِیْلُ،اَنْبَأَاَبُوْطَا ہِرِنِ المُحَمَّدُ اَبَاذِی، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیْدِ نِ الدَّارِمِیُّ، ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، ثَنَا اَبُو ہِلَالٍ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنْسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَا اَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا عَہْدَلَہٗ۔ (۲۷)
ترجمہ: جو امانت کی صفت نہیں رکھتا وہ ایمان نہیں رکھتا، اور جو عہد کا پاس نہیں رکھتا وہ دین نہیں رکھتا۔

مومنِ صادق کی پہچان

۱۵۔ (نبی ﷺ نے فرمایا) ’’ لَایَابْنَتَ الصِّدِّیْقِ وَلٰکِنَّہُ الَّذِیْ یُصَلِّیْ وَیَصُوْمُ ویَتَصَدَّقُ وَہُوَ یَخَافُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔‘‘
ترجمہ: (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آں حضور ﷺ سے دریافت کیا) ’’یا رسول اللہ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری ، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے؟‘‘جواب میں نبی ﷺ نے فرمایا: نہیں، اے صدیق ؓ کی بیٹی! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے،زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر اللہ عزوجل سے ڈرتا رہتا ہے۔
تشریح: حدیث بالا سورہ المومنون کی آیت نمبر ۶۰ کے متعلق ہے۔ آیت میں فرمان ربّانی ہے ۔ وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَآاٰتَوْاوَّ قُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّہُمْ اِلیٰ رَبِّہِمْ رَاجِعُوْنَ۔
عربی زبان میں ’’دینے‘‘ (ایتاء) کا لفظ صرف مال یا کوئی مادی چیز دینے ہی کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ معنوی چیزیں دینے کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے۔ مثلاً کسی شخص کی اطاعت قبول کرلینے کے لیے کہتے ہیں کہ اٰتَیْتُہٗ من نَفْسِی الْقَبُوْلَ۔کسی شخص کی اطاعت سے انکار کردینے کے لیے کہتے ہیں اٰتَیْتُہٗ مِنْ نَفْسِی الْاِبَائَۃَ۔ پس اس دینے کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ وہ راہِ خدا میں مال دیتے ہیں، بلکہ اس کا مطلب اللہ کے حضور طاعت و بندگی پیش کرنے پر بھی حاوی ہے۔
اس معنی کے لحاظ سے آیت کا پورا مفہوم یہ ہوا کہ وہ اللہ کی فرماں بردار ی میں جو کچھ بھی نیکیاں کرتے ہیں، جو کچھ بھی خدمات انجام دیتے ہیں، جو کچھ بھی قربانیاں کرتے ہیں، ان پر وہ پھولتے نہیں ہیں۔ غرورِ تقویٰ اور پندارِ خدارسیدگی میں مبتلا نہیں ہوتے، بلکہ اپنے مقدور بھر سب کچھ کرکے بھی ڈرتے رہتے ہیں کہ خدا جانے یہ قبول ہویا نہ ہو، ہمارے گناہوں کے مقابلے میں وزنی ثابت ہو یا نہ ہو، ہمارے رب کے ہاں ہماری مغفرت کے لیے کافی ہو یا نہ ہو۔
(حدیث مذکورہ بالا میں حضرت عائشہؓ کے) سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہؓ یؤْتُوْنَ مَا اٰتَوْا کو یَاتُوْنَ مَا اَتَوْا کے معنی میں لے رہی تھیں، پھر (حضوؐر) جواب سے پتہ چلا کہ آیت کی صحیح قرأت یَاتُوْنَ نہیں بلکہ یُؤْتُوْنَ ہے، اور یہ یُؤْتُوْنَ صرف مال دینے کے محدود معنی میں نہیں ہے بلکہ طاعت بجالانے کے وسیع معنی میں ہے۔
ایک مومن کس قلبی کیفیت کے ساتھ اللہ کی بندگی کرتا ہے۔ اس کی مکمل تصویر حضرت عمرؓ کی وہ حالت ہے کہ عمر بھر کی بے نظیر خدمات کے بعد جب دنیا سے رخصت ہونے لگتے ہیں تو خدا کے محاسبے سے ڈرتے ہوئے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر آخرت میں برابر سرابر بھی چھوٹ جائوں تو غنیمت ہے۔ حضرت حسن بصریؒ نے خوب کہا ہے کہ، مومن طاعت کرتا ہے پھر بھی ڈرتا رہتا ہے، اور منافق معصیت کرتا ہے پھر بھی بے خوف رہتا ہے۔ (تفہیم القرآن ج ۳، المومنون حاشیہ:۵۴)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا وَکِیْعٌ، قَالَ: ثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَعِیْدِ بْنِ وَہْبِ نِالْہَمَدَانِیِّ۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَووَّ قُلُوبُہُمْ وَجِلَۃٌ، اَہُوَ الرَّجُلُ یَزْنِیْ ویَسْرِقُ وَیَشْرَبُ الْخَمْرَ؟ قَالَ: لا، یَابْنَتَ الصِّدِیْقِ! وَلٰکِنَّہُ الرَّجُلُ یَصُوْمُ وَیُصَلِّیْ وَیَتَصَدَّقُ وَہُوَ یَخَافُ اَنْ لَّا یُقْبَلَ مِنْہُ۔ (۲۸)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ’’میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت ’’الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَا اٰتَوا وَّقُلُوبُہُمْ وَجِلَۃٌ‘‘ کے متعلق پوچھا کہ ’’کیا اس سے مراد وہ شخص ہے جو زانی ہو، چورہو اور مے خوار ہو۔‘‘ آپؐ نے فرمایا’’نہیں، اے صدیق کی بیٹی! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر اللہ عزوجل سے ڈرتا رہتا ہے کہ اس کا عمل قبول نہ کیا جائے۔‘‘
وَقَالَ:لَا، یَابْنَۃَ الصِّدّیْقِ! وَلٰکِنَّہُمُ الَّذِینَ یُصَلُّوْنَ وَیَصُوْمُوْنَ وَیَتَصَدَّقُوْنَ وَہُمْ یَخَافُوْنَ اَلَّا یُتَقَبَّلَ مِنْہُمْ۔(۲۹)

گنہگار مومن اور ’’نیکوکار‘‘ کافر کا فرق

گنہگار مومن اور نیکو کار کافر کے درمیان فرق کی بنیاد یہ ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری قبول کرکے اس کے وفادار بندوں میں شامل ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد اپنی اخلاقی کمزوریوں کی وجہ سے وہ کسی جرم یا بعض جرائم کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔ اس کے برعکس کافر دراصل ایک باغی ہوتا ہے اور اگر وہ نیکو کار ہو بھی تو اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ اس نے بغاوت کے جرم پرکسی اور جرم کا اضافہ نہیں کیا۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جو شخص باغی نہیں ہے اور صرف مجرم ہے اسے صرف جرم کی حد تک سزا دی جائے گی ، بغاوت کی سزا اس کو نہیں دی جاسکتی، کیوں کہ جرم کرنے کی وجہ سے کوئی شخص وفادار رعیت کے زمرے سے خارج نہیں ہوجاتا۔ لیکن بغاوت بجائے خود سب سے بڑا جرم ہے، اس کے ساتھ اگر کوئی شخص دوسرے جرائم کا اضافہ نہ بھی کرتا ہو تو اسے وہ حیثیت کسی طرح نہیں دی جاسکتی جو وفادار رعیت کو دی جاتی ہے۔ وہ بغاوت کی سزا بہر حال پاکر رہے گا خواہ وہ اس کے علاوہ کسی جرم کا ارتکاب نہ کرے۔ لیکن اگر وہ باغی ہونے کے ساتھ کچھ جرائم کا مرتکب بھی ہو تو اسے بغاوت کی سزا کے ساتھ ان دوسرے جرائم کی سزا بھی دی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ کی وفادار و فرماں بردار رعیت میں صرف وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید کو کسی قسم کے شرک کی آمیزش کے بغیر اور اللہ کے سب پیغمبروں کو کسی استثناء کے بغیر، اور اللہ کی بھیجی ہوئی کتابوں کو کسی کا انکار کیے بغیر مانتے ہوں اور آخرت کی جواب دہی کو بھی تسلیم کرتے ہوں۔ ان میں سے جس چیز کو بھی آدمی نہ مانے گا وہ باغی ہوگا اور اسے خدا کی وفادار رعیت میں شمار نہ کیا جاسکے گا۔ اب مثال کے طور پر رسولوں اور کتابوں ہی کے معاملہ کو لے لیجیے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی انجیل کو جب یہودیوں نے نہ مانا تو وہ سب باغی ہوگئے، اگرچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے کے انبیاء اور ان کی لائی ہوئی کتابوں کو وہ مانتے تھے۔ اسی طرح حضرت محمد ﷺ کی آمد سے پہلے تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیرو اللہ کی وفادار رعیت تھے۔ لیکن جب انھوں نے آں حضرت ﷺ اور قرآن کو ماننے سے انکار کردیا تو وہ بھی باغی ہوگئے۔ مسیح اور انجیل اور سابق انبیاء اور ان کی کتابوں کو ماننے کے باوجود وہ اللہ کی وفاداررعیت میں شمار نہیں ہوسکتے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت باغیوں کے لیے نہیں بنائی ہے بلکہ اپنی وفاداررعیت کے لیے بنائی ہے۔ اس وفاداررعیت میں سے اگر کوئی شخص کوئی ناقابل معافی جرم کرتا ہے یا اس نوعیت کے بہت سے جرائم کا ارتکاب کربیٹھتا ہے تو اسے اس کے جرائم کے مطابق سزادی جائے گی اور جب وہ اپنی سزا بھگت لے گا تو جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ لیکن جس نے بغاوت کا ارتکاب کیا ہے وہ کسی طرح جنت میں نہیں جاسکتا۔ اس کا مقام بہر حال دوزح ہے۔ دوسرے کسی جرم کا وہ مرتکب نہ بھی ہو تو بغاوت بجائے خود اتنا بڑا جرم ہے جس کے ساتھ کوئی نیکی بھی اسے جنت میں نہیں پہنچا سکتی۔ (رسائل و مسائل حصہ پنجم ص ۱۷۰ تا۱۷۳)
کفر بجائے خود انسان کے جہنمی ہونے کا مستقل سبب ہے، اور کفر کے ساتھ کوئی نیک عمل بھی اس کو جہنم سے نہیں بچاسکتی۔ البتہ فرق اگر ہے تو صرف اس لحاظ سے ہے کہ اس دارالعذاب کے دروازے بہت سے ہیں۔ اچھے کام کرنے والا کافر کسی اور دروازے سے داخل ہوگا اور برے کام کرنے والے کفار اپنے برے اعمال کے مطابق مختلف دروازوں سے داخل ہوں گے۔ بالفاظ دیگر کسی کے لیے عذاب ہلکا ہوگا اور کسی کے لیے سخت اور کسی کے لیے سخت سے سخت۔ اعمال صرف عذاب کے خفیف یا شدید ہونے کے موجب تو بن سکتے ہیں، لیکن جہنم میں جانے سے کوئی کافر نہیں بچ سکتا۔ کیوں کہ کفر خدا سے بغاوت ہے، اور باغی کے لیے اللہ نے اپنی جنت نہیں بنائی ہے۔
رہے مومن تو وہ دو قسم کے ہوسکتے ہیں۔ ایک وہ جو ایمان کے ساتھ بحیثیت مجموعی صالح ہوں۔ ان کے اگر کچھ قصور بھی ہوں تو وہ بھی توبہ سے معاف ہوسکتے ہیں، دنیا کے مصائب ، امراض ،تکالیف ان کا کفارہ بن سکتی ہیں، شفاعت بھی ان کے حق میں نافع ہوسکتی ہے ، اور اللہ اپنے فضل و کرم سے بھی ان کی مغفرت فرماسکتا ہے۔
دوسری قسم کے مومن وہ ہیں جو ایمان رکھنے کے باوجود بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب ہوئے ہوں۔ وہ باغی نہیں بلکہ مجرم ہیں۔ ان کے لیے اگر کوئی چیز بھی بخشش کی موجب نہ بن سکتی ہو، تو انھیں بغاوت کی نہیں بلکہ جرم یا جرائم کی سزادی جائے گی۔ دنیا کے قوانین بھی باغی اور مجرم کو ایک سطح پر نہیں رکھتے پھر وہ احکم الحاکمین سے یہ توقع کیسے کرسکتے ہیں کہ وہ دونوں کو ایک سطح پر رکھے گا؟

کس موقع کا ایمان معتبر ہے

۱۶۔ لَوْ قُلْتَہَا وَاَنْتَ تَمْلِکُ اَمْرَکَ اَفْلَحْتَ کُلَّ الْفَلَاحِ۔
ترجمہ: (مسند احمد اور مسلم میں حضرت عمر ان بن حصین کی روایت ہے کہ ) بنی عقیل کا ایک شخص گرفتار ہو کر آیا اور اس نے کہا کہ میں نے اسلام قبول کرلیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اگر یہ بات تو نے اس وقت کہی ہوتی جب تو آزاد تھا تو یقینا فلاح پاجاتا۔‘‘
تشریح: جو شخص قید میں آنے سے پہلے اسلام قبول کرچکا ہو اور پھر کسی طرح گرفتار ہوجائے وہ تو آزاد کردیا جائے گا۔ مگر جو شخص قید ہو نے کے بعد اسلام قبول کرے، یا کسی شخص کی ملکیت میں دے دیے جانے کے بعد مسلمان ہو تو یہ اسلام اس کے لیے آزادی کا سبب نہیں بن سکتا۔
اسی بنا پر فقہائے اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ قید ہونے کے بعد مسلمان ہونے والا غلامی سے نہیں بچ سکتا(السِّیر الکبیر، امام محمد) اور یہ بات سراسر معقول بھی ہے۔ اگر ہمارا قانون یہ ہوتا کہ جو شخص بھی گرفتار ہونے کے بعد اسلام قبول کرلے گا وہ آزاد کردیا جائے گا تو آخر وہ کون سا نادان قیدی ہوتا جو کلمہ پڑھ کر رہائی نہ حاصل کرلیتا۔ (تفہیم القرآن ،ج ۵سور ہ محمد حاشیہ:۸)
تخریج: حَدَّثَنِیْ زُہَیْرُبْنُ حَرْبٍ وَعَلِیُّ بْنُ حُجْرِنِ السَّعْدِیُّ وَاللَّفْظُ لِزُہَیْرٍ، قَالَ: نَا إسْمَاعِیْلُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ قَالَ: نَا اَیُّوْبُ عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ عَنْ اَبِی الْمُہَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، قَالَ: کَانَتْ ثَقِیْفٌ حُلَفَاٰئَ لِبَنِیْ عُقَیْلٍ فَاَسَرَتْ ثَقِیْفٌ رَجُلَیْنِ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاَسَرَاَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ عُقَیلٍ وَاَصَابُوْا مَعَہُ الْعَضْبَائَ فَاَتَی عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ فِی الْوَثَاقِ قَال: یَا مُحَمَّدُ! فَاَتَاہُ، قَالَ: مَا شَاْنُکَ ؟ قَالَ، بِمَ اَخَذْتَنِیْ وَبِمَ اَخَذْتَ سَابِقَۃَ الْحَآجِّ، قَالَ: اِعْظَامًالِذٰلِکَ اَخَذْتُکَ بِجَرِیْرَۃِ حُلَفَاٰئِکَ ثَقِیْفَ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْہُ فَنَادَاہُ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ یَامُحَمَّدُ! وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَحِیْمًا رَقِیْقًا فَرَجَعَ اِلَیْہِ فَقَالَ: مَا شَأنُکَ، قَالَ: اِنِّیْ مُسْلِمٌ قَالَ: لَوْ قُلْتَہَا وَاَنْتَ تَمْلِکُ اَمْرَکَ اَفْلَحْتَ کُلَّ الْفَلَاحِ۔ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَادَاہُ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ یَاْمُحَمَّدُ! فَاَتَاہُ، فَقَالَ: مَاشَانُکَ ؟ قَالَ : اِنِّیْ جَائِعٌ فَاَطْعِمْنِیْ وَظَمْاٰنُ فَاسْقِنِیْ، قَالَ: ہٰذِہٖ حَاجَتُکَ فَفَدَی بِالرَّجُلَیْنِ۔ (الحدیث) (۳۰)
ترجمہ: حضرت عمران بن حصین نے بیان کیا کہ قبیلہ ثقیف بنی عقیل کا حلیف تھا۔ ثقیف والوں نے رسول اللہ ﷺ کے دو صحابیوں کو قیدی بنالیا اور اصحابِ رسول اللہ ﷺ نے بنی عقیل کے ایک آدمی کو قید کرلیا اور عضباء نامی اونٹنی بھی اس کے ساتھ ہی انھوں نے حاصل کرلی۔ اسے جب نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو وہ جکڑا ہوا تھا۔اس نے پکارا یا محمدؐ ۔ آپؐ اس کی آواز سن کر اس کے پاس تشریف لائے اور پوچھا کہو کیا ماجرا ہے؟ بولا مجھے اور سابقۃ الحاج (عضباء) کو تم نے کس جرم میں پکڑرکھا ہے۔ آپ نے فرمایا تجھے اس بات سے خبردار کرنے کے لیے کہ تمہارے حلیف قبیلے ثقیف نے ہمارے دو آدمی اسیر بنا کر کتنا بڑا جرم کیا ہے۔ پھر آپ واپس ہوئے تو اس نے پھر بلند آواز سے پکارنا شروع کردیایا محمدؐ یا محمدؐ! آپ انتہائی رقیق القلب اور رحم دل انسان تھے۔ واپس اس کی طرف لوٹے اور دریافت فرمایا ’’کہو کیا ماجرا ہے؟‘‘ بولاکہ میں مسلم ہوں۔ آپ نے فرمایا ’’اگر یہ بات تو نے اس وقت کہی ہوتی جب تو آزاد تھا تو یقینا فلاح پاجاتا۔‘‘ پھر آپؐ واپس ہوئے تو اس نے پھر یا محمدؐ یا محمدؐ کہہ کر پکارنا شروع کردیا۔ آپؐ نے دریافت فرمایا ’’کیا ماجرا ہے؟‘‘ بولا میں بھوکا ہوں ، پیاسا ہوں کچھ کھلائیے، پلائیے‘‘۔ ’’آپؐ نے فرمایا یہ تمہاری ضرورت ہے۔ پھر آپ نے ایک کے بدلے دو کو رہا کرایا۔‘‘

مخلص مومن کے لیے دنیوی مصائب گناہوں کا کفارہ ہیں

۱۷۔ مَا یُصِیْبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَآ وَصَبٍ وَلَا ہَمٍّ وَلَا حَزَنٍ وَلَا اَذیً وَلَا غَمٍّ حَتَّی الشَّوکَۃِ یُشَاکُہَا اِلَّا کَفَّرَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ خَطَایَاہُ (بخاری و مسلم)
ترجمہ: مسلمان کو جو رنج اور دکھ اور فکر اور غم اور تکلیف اور پریشانی بھی پیش آتی ہے، حتیّٰ کہ ایک کانٹا بھی اگر اس کو چبھتا ہے تو اللہ اس کو اس کی کسی نہ کسی خطا کا کفّارہ بنادیتا ہے۔
تشریح: مومن مخلص کے لیے اللہ کا قانون (یہ ہے کہ) اس پر جو تکلیفیں اور مصیبتیں بھی آتی ہیں وہ سب اس کے گناہوں اور خطائوں اور کوتاہیوں کا کفارہ بنتی چلی جاتی ہیں۔
رہے وہ مصائب جو اللہ کی راہ میں اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے کوئی مومن برداشت کرتا ہے، تو وہ محض کوتاہیوں کا کفارہ ہی نہیں ہوتے بلکہ اللہ کے ہاں ترقی درجات کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ تصوّرکرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وہ گناہوں کی سزا کے طور پر نازل ہوتے ہیں۔ ( تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ حاشیہ :۵۲)
تخریج: (۱) حَدَّثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ ابْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا زُہَیْرُبْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِبْنِ عَمْرِ وبْنِ حَلَحَلَۃَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الخُدْرِیِّ وَ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: مَا یُصِیْبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا ہَمٍّ وَلَا حَزَنٍ وَلَا اَذًی وَلَا غَمٍّ حَتّٰی الشَّوْکَۃِ یُشَاکُہَا اِلَّا کَفَّرَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ خَطَایَاہُ۔ (۳۱)
(۲) حَدَّثَنَاقَبِیْصَۃُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الْاَعْمشِ، عَنْ اِبْرَاہِیْمَ التَّیْمِیِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ فِی مَرَضِہٖ فَمَسسْتُہٗ وَہُوْیُوْعَکُ وَعْکًا شَدِیْدًا، فَقُلْتُ: اِنَّکَ لَتُوْعَکُ وَعْکًا شَدِیْدًا وَذَاکَ اِنَّ لَکَ اَجْرَیْنِ، قَالَ: اَجَلْ! وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ یُصِیْبُہٗ اَذًی اِلَّا حَآتَّتْ عَنْہُ خَطَایَاہُ کَمَا تُحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ۔ (۳۲)
ترجمہ: عبداللہ بن مسعود نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ان کی بیماری کے دوران حاضر ہوا۔ میں نے اپنا ہاتھ لگا کر دیکھا کہ آپ کو تیز بخار ہے۔ میں نے عرض کیا حضوؐر! آپؐ کو شدید قسم کا بخار ہے اور یہ اس لیے کہ آپؐ کو دوہرا اجر ملے؟ آپؐ نے فرمایا ’’ہاں ، کوئی مسلم ایسا نہیں کہ اسے کوئی اذیت و تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑجاتے ہیں جس طرح (موسم خزاں میں) درخت کے پتے جھڑجاتے ہیں۔
(۳) حَدَّثَنَابْنُ اَبِیْ عُمَرَوَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِیْ زِیَادٍ الْمَعْنیٰ وَاحِدٌ ، قَالَا: نَا سُفْیَانُ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ مُحَیْصِنٍ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ قَیْسِ بْنِ مَخْرَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ : لمَّا نَزَلَتْ مَنْ یَعْمَل سُوْئً یُّجْزَبِہٖ شَقَّ ذٰلِکَ عَلَی المُسْلِمِیْنَ فَشَکَوْا ذٰلِکَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ، فَقَالَ: قَارِبُوْا وسَدِّدُوْاوَفِیْ کُلِّ مَا یُصِیْبُ الْمُؤْمِنَ کَفَّارَۃٌ حَتَّی الشَّوْکَۃِ یُشَاکُہَا وَالنَّکْبَۃِ یَنْکِبُہَا(۳۳)۔ (ہذا حدیث حسن غریب)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ جب آیت مَنْ یَعْمَلْ سُوْٓئً یُجْزَبِہٖ نازل ہوئی تو مسلمانوں کو یہ گراں گزری اور نبی ﷺ کی خدمت میں شکوہ کیا۔ آپؐ نے فرمایا۔’’ میانہ روی اختیار کرو، افراط وتفریط سے بچو۔ ہر وہ تکلیف جو کسی مومن کو پہنچتی ہے حتّٰی کہ کانٹا بھی اگر چبھ جائے یا اور کسی قسم کی مصیبت پہنچ جائے تو وہ اس کے لیے کفارہ کا کام دیتی ہے۔‘‘
(۴) عَنِ الْاَسْودِ، قَالَ: دَخَلَ شَبَابٌ مِّنْ قُرَیْشٍ عَلیٰ عَائِشَۃَ وَہِی بِمِنًی وَہُمْ یَضْحَکُوْنَ، فَقَالَتْ: مَا یُضْحِکُکُمْ ؟ قَالُوْا: فُلَان، خَرَّعَلیٰ طَنُبِ فُسْطَاطٍ فَکَادَتْ عُنُقُہٗ اَوْعَیْنُہٗ اَنْ تَذہَبَ۔ قَالَتْ : لَا تَضْحَکُوْا فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: ’’مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُشَاکُ شَوْکَۃً فَمَا فَوْقَہَا اِلَّا کُتِبَتْ لَہٗ بِہَادَرَجَۃٌ و مُحِیَتْ عَنْہُ بِہَا خَطِیْئَۃٌ۔‘‘
ترجمہ: کچھ قریشی نوجوان حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ اس وقت منیٰ میں تشریف فرما تھیں۔ آپ نے دیکھا کہ وہ نوجوان ہنس رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا کہ تم کیوں ہنس رہے ہو؟ بولے کہ فلاں صاحب خیمے کی طنابوں میں پھنس کر اس بری طرح منہ کے بل گرے کہ اس کی آنکھ کے ضائع ہونے یا گردن کے ٹوٹنے کا اندیشہ تھا، حضرت عائشہؓ نے فرمایا۔ ’’مت ہنسو! میں نے اپنے کانوں سے رسول خدا ﷺ کا یہ ارشادِ گرامی سنا ہے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’کوئی مسلم ایسا نہیں کہ اسے کانٹا چبھنے کی تکلیف پہنچے یا اس سے کچھ زیادہ اور کسی قسم کی اذیت کہ اس کے بدلے میں اس کا ایک درجہ نہ لکھ دیا جائے اور اس کی ایک خطا مٹا نہ دی جائے۔‘‘
(۵) عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَال رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَا یصیْبُ الْمُؤمِنَ شَوْکَۃٌ فَمَا فَوقہا اِلا قصَّ اللّٰہ بہَا مِنْ خَطِیْئَتِہٖ۔
(۶) عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: ’’مَا مِنْ مُصِیْبَۃٍ یُصَابُ بِہَا الْمُسْلِمُ اِلَّا کُفِّرَبِہَا عَنْہُ حَتّٰی الشَّوکَۃِ یُشَاکُہَا۔
( ۷ ) عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا: اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: لَا یُصِیبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِیبَۃٍ حَتَّی الشَّوْکَۃِ اِلَّا قُصَّ بِہَا مِنْ خَطَایَاہُ اَوْکُفِّرَ بِہَا مِنْ خَطَایَاہُ لَا یَدْرِیْ یَزِیْدُ اَیَّتُہُمَا قَالَ عُرْوَۃُ۔
( ۸ ) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ: مَا مِنْ شَیٍٔ یُصِیْبُ الْمُؤْمِنَ حَتَّی الشَّوْکَۃِ تُصِیْبُہٗ اِلَّا کَتَبَ اللّٰہُ لَہٗ بِہَا حَسَنَۃً اَوْحُطَّتْ عَنْہُ بِہَا خَطِیْئَۃٌ۔
(۹) عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ واَبِیْ ہُرَیْرَۃ رضی اللہ عنہما: اِنَّہُمَا سَمِعَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ: مَا یُصِیْبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا سَقَمٍ وَلَا حَزَنٍ حَتَّی الْہَمِّ یَہُمُّہٗ اِلَّا کُفِّرَبِہٖ مِنْ سَیِّئَاتِہٖ۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت ابوسعید خدریؓ دونوں روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا کہ مومن کو جو دُکھ اور جو رنج اور جو بیماری اور غم پہنچتا ، حتیّٰ کہ جو فکر بھی لاحق ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کی سیئات کا کفارہ بنادیتا ہے۔
(۱۰) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓئً یُجْزَبِہٖ بَلَغَتْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ مَبْلَغًا شَدِیْدًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : قَارِبُوْا وَسَدِّدُوْا فَفِیْ کُلِّ مَا یُصَابُ بِہٖ الْمُسْلِمَ کَفَّارَۃٌ حَتَّی النَّکْبَۃِ یَنْکِبُہَا اَوِالشَّوْکَۃِ یُشَاکُہَا۔
(۱۱) اَخْبَرَنَا جَابِرُبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ: اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ دَخَلَ عَلیٰ اُمِّ السَّآئِبِ اَوْ اُمِّ المُسَیَّبِ، فَقَالَ: مَالَکِ یَااُمَّ السَّآئِبِ اَوْ یَا اُمَّ الْمُسَیَّبِ تُزَفْزِفِیْنَ، قَالَتْ: الْحُمّٰی لَا بَارَکَ اللّٰہُ فِیْہَا، فَقَالَ: لَا تَسُبِّی الْحُمّٰی فَاِنَّہَا تُذْہِبُ خَطَایَا بَنِیْ اٰدَمَ کَمَا یُذْہِبُ الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ۔ (۳۴)
ترجمہ: جابر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اُمّ السائب یا اُمّ المسیّب کے ہاںتشریف لے گئے (شدید بخار میں مبتلاپاکر) آپؐ نے اس سے دریافت فرمایا۔’’ام السائب کہا یا ام المسیّب تمہیں کیا ہوا؟ تمہاری سانس پھولی ہوئی ہے۔ کپکپی تم پر طاری ہے۔’’بولیں حضوؐر بخار کی لپیٹ میں ہوں، جس میں کوئی بھلائی و برکت نہیں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا۔’’بخار کو برا بھلا مت کہو یہ تو آولادِ آدم کے گناہ اس طرح جھاڑویتا ہے جس طرح بھٹّی لوہے کا زنگ جلا کر صاف کردیتی ہے۔
اس کی مزید توضیح اس حدیث سے ہوتی ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابوادائو میں مروی ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ! میرے نزدیک کتاب اللہ کی سب سے خوفناک آیت وہ ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ مَنْ یَّعْمَلْ سّوْٓئً یُّجْزَبہٖ ’’جو شخص کوئی برائی کرے گا وہ اس کی سزا پائے گا۔‘‘ اس پرحضوؐر نے فرمایا، عائشہؓ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خدا کے مطیع فرمان بندے کو دنیا میں جو تکلیف بھی پہنچتی ہے حتّٰی کہ کوئی کانٹا بھی اس کو چبھتا ہے تو اللہ اسے اس کے کسی نہ کسی قصور کی سزادے کر دنیا میں ہی اس کا حساب صاف کردیتا ہے؟ (تفہیم القرآن، ج۲، الرعد حاشیہ:۳۴)
تخریج: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا یَحْیٰ ،ح وثَنَا مُحَمَدُبْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عْثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ اَبُودَاؤد: وَہٰذَا لفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ، عَنْ اَبِیْ عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنِ بْنِ اَبِیْ مُلَیکَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ لَاَعْلَمُ اَشَدَّ آیَۃً فِی الْقُرْاٰنِ، قَالَ: اَیَّۃُآیَۃٍ یَا عَائِشَۃُ؟ قَالَتْ: قَوْلُ اللّٰہِ تَعالیٰ (مَنْ یَعْمَلْ سُوْئً ایُجْزَبِہٖ) قَال: اَمَا عَلِمْتِ یَا عَائِشَۃُ! اَنَّ الْمُؤْمِنَ تُصِیْبُہُ النَّکْبَۃُ اَوِ الشَّوْکَۃُ فَیُکَافَأُ بِأسْوَئِ عَمَلِہٖ، الحدیث۔ (۳۵)
۱۸۔ جاء فی الحدیث لَا یَزَالُ الْبَلَائُ بِالْمُؤْمِنِ حَتّٰی یَخْرُجَ نَقِیًّا مِنْ ذُنُوْبِہِ وَالْمُنَافِقُ مَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْحِمَارِ لَا یَدْرِیْ فِیْمَ رَبَطَہٗ اَہْلُہٗ وَلَا فِیْمَا اَرْسَلُوْہُ۔ (ابن کثیر ج ۲، ص ۲۳۳، سورہ اعراف)
ترجمہ: مصیبت مومن کی تو اصلاح کرتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ جب وہ اس بھٹّی سے نکلتا ہے تو ساری کھوٹ سے صاف ہوکر نکلتا ہے۔ لیکن منافق کی حالت بالکل گدھے کی سی ہوتی ہے جو کچھ نہیں سمجھتا کہ اس کے مالک نے کیوں اسے باندھا تھا اور کیوں اسے چھوڑ دیا۔
تشریح: جب کسی قوم میں کوئی نبی بھیجا گیا تو پہلے اس قوم کے خارجی ماحول کو قبولِ دعوت کے لیے نہایت سازگار بنایا گیا۔ یعنی اس کو مصائب اور آفات میں مبتلا کیا گیا۔ قحط ، وبا، تجارتی خسارے ، جنگی شکست یا اسی طرح کی تکلیفیں اس پر ڈالی گئیں۔ تاکہ اس کا دل نرم پڑے۔ اس کی شیخی اور تکبر سے اکڑی ہوئی گردن ڈھیلی ہو۔ اس کا غرور، طاقت اور نشۂ دولت ٹوٹ جائے، اپنے ذرائع و وسائل اور اپنی قوتوں اور قابلیتوں پر اس کا اعتماد شکستہ ہوجائے، اسے محسوس ہو کہ اوپر کوئی اور طاقت بھی ہے جس کے ہاتھ میں اس کی قسمت کی باگیں ہیں۔ اور اس طرح اس کے کان نصیحت کے لیے کھل جائیں اور وہ اپنے خدا کے سامنے عاجزی کے ساتھ جھک جانے پر آمادہ ہوجائے۔ پھر جب اس ساز گار ماحول میں بھی اس کا دل قبولِ حق کی طرف مائل نہیں ہوتا تو اس کو خوش حالی کے فتنے میں مبتلا کردیا جاتا ہے اور یہاں سے اس کی بربادی کی تمہید شروع ہوجاتی ہے۔ جب وہ نعمتوں سے مالامال ہونے لگتا ہے تو اپنے برے دن بھول جاتا ہے اور اس کے کج فہم رہنما اس کے ذہن میں تاریخ کا یہ احمقانہ تصوّربٹھاتے ہیں کہ حالات کا اتار چڑھائو اور قسمت کا بنائو اور بگاڑ کسی حکیم کے انتظام پر نہیں ہورہا ہے بلکہ ایک اندھی طبیعت بالکل غیر اخلاقی اسباب سے کبھی اچھے اور کبھی برے دن لاتی ہی رہتی ہے۔ لہٰذا مصائب اور آفات کے نزول سے کوئی اخلاقی سبق لینا اور کسی ناصح کی نصیحت قبول کرکے خدا کے آگے زاری و تضرع کرنے لگنا بجز ایک طرح کی نفسی کمزوری کے اور کچھ نہیں ہے۔یہی وہ احمقانہ ذہنیت ہے جس کا نقشہ نبی ﷺ نے کھینچا ہے۔
پس جب کسی قوم کا حال یہ ہوتا ہے کہ نہ مصائب سے اس کا دل خدا کے آگے جھکتا ہے، نہ نعمتوں پر وہ شکرگزار ہوتی ہے اور نہ کسی حال میں اصلاح قبول کرتی ہے تو پھر اس کی بربادی اس طرح اس کے سر پر منڈلانے لگتی ہے جیسے پورے دن کی حاملہ عورت کہ کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کب اس کا وضعِ حمل ہوجائے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، الاعراف حاشیہ:۷۷)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِنِ النُّفَیْلِیُّ، ثَنَا مُحَمَّدُبْنُ سَلَمَۃَ عَن مُحَمَّدِبْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ رَجُلٌ مِنْ اَہْلِ الشَّامِ یُقَالُ لَہٗ اَبُو مَنْصُوْرٍ، عَنْ عَمِّہٖ، قَال: حَدَّثَنِیْ عَمِّیْ عَنْ عَامِرٍ الرَّامِ اَخِیْ الخَضْرِ، قَالَ اَبُوْداؤدَ، قَالَ النُّفَیْلِیُّ: ہُوَ الْخَضِرُ وَلٰکِنْ کَذَا قَالَ، قَالَ: اِنِّیْ لَببلَادِنَا اِذَا رُفِعَتْ لَنَا رَاْیَاتٌ وَاَلْوِیَۃٌ، فَقُلْتُ: مَا ہٰذَا؟ قَالُوْا: ہٰذَا لِوَائُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَاَتَیْتُہٗ وَہُوَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ قَدْ بُسِطَ لَہٗ کِسَائٌ وَہُوَ جَالِسٌ عَلَیْہِ وَقَدِ اجْتَمَعَ اِلَیْہِ اَصْحَابُہٗ فَجَلَسْتُ اِلَیْہِمْ، فَذَکَرَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْاَسْقَامَ، فَقَال: اِنَّ الْمُؤْمِنَ اِذَا اَصَابَہُ السَّقَمُ ثُمَّ اَعْفَاہُ اللّٰہُ مِنْہُ کَانَ کَفَّارۃً لِّمَامَضٰی مِنْ ذُنُوْبِہٖ وَمَوْعِظَۃً لَّہٗ فِیْمَا یَسْتَقْبِلُ۔ وَاِنَّ الْمُنَافِقَ اِذَا مَرِضَ ثُمَّ اُعْفِیَ کَانَ کَالْبَعِیْرِ عَقَلَہٗ اَہْلُہٗ ثُمَّ اَرْسَلُوْہُ فَلَمْ یَدْرِلِمَ عَقَلُوْہُ وَلَمْ یَدْرِ لِمَ اَرْسَلُوْہُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِمَّنْ حَوْلَہٗ، یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا الْاَسْقَامُ؟ وَاللّٰہِ مَا مَرِضْتُ قَطُّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: قُمْ عَنَّافَلَستَ مِنَّا ۔ الحدیث۔ (۳۶)
ترجمہ: خضر بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے گائوں میں تھا کہ ہمیں کچھ جھنڈے اور علم بلند ہوتے ہوئے دکھائی دیے۔ میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا ہے۔ میں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؐ کے لیے چادر بچھائی ہوئی تھی۔ اس پر آپؐ تشریف فرما تھے۔صحابہ کرامؓ آپ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے۔ میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ حضوؐر نے امراض کا ذکر فرمایا کہ ’’ایک مومن جب کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے صحت و تندرستی عطا فرما دیتا ہے تو یہ بیماری اس مومن کے گزشتہ گناہوں کا کفارہ اور مستقبل کے لیے نصیحت و موعظت بن جاتی ہے اور منافق جب بیمار پڑجاتا ہے اور پھر اسے صحت ہوجاتی ہے۔ تو یہ منافق اس اونٹ کی مانند ہوتا ہے جسے اس کے مالک نے باندھ رکھا ہو پھر اسے آزاد چھوڑ دے اسے نہ یہ معلوم ہو کہ اسے کیوں باندھا گیا تھا اور نہ یہ معلوم ہوکہ اسے آزاد کیوں چھوڑا گیا۔‘‘ حاضرین مجلس میں سے ایک شخص بولا’’یا رسول اللہ ؐ! یہ امراض کیا ہیں، میں تو زندگی بھر کبھی بیمار نہیں ہوا۔‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’اٹھو ہمارے ہاں سے تمہارا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔‘‘

مسند احمد میں ہے:
وَما یَزَالُ الْبَلَائُ بِالْعَبْدِ حَتّٰی یَمْشِیْ عَلیٰ ظَہْرِ الْاَرْضِ لَیْسَ عَلَیْہِ خَطِیْئَۃٌ۔ (۳۷)
ایک اور روایت میں ہے:
لَا یَزَالُ الْبَلَائُ بِالْمُؤْمِنِ اَوِالْمُؤْمِنَۃِ فِی جَسَدِہٖ وَفِیْ مَالِہٖ وَفِیْ وَلَدِہٖ حَتّٰی یَلْقَی اللّٰہَ وَمَا عَلَیْہِ مِنْ خَطِیْئَۃٍ۔ (۳۸)

ایک اسرائیلی مُوَحِّد کا ایمان افروز واقعہ

۱۹۔ حضرت صہیبؓ رومی نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ ایک بادشاہ کے پاس ایک ساحر تھا۔ اس نے اپنے بڑھاپے میں بادشاہ سے کہا کہ کوئی لڑکا ایسا مامور کردے جو مجھ سے یہ سحر سیکھ لے۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو مقرر کردیا۔ مگر وہ لڑکا ساحر کے پاس آتے جاتے ایک راہب سے بھی (جو غالباً پیروانِ مسیح علیہ السلام میں سے تھا) ملنے لگااور اس کی باتوں سے متاثر ہو کر ایمان لے آیا۔ حتّٰی کہ اس کہ تربیت سے صاحب کرامت ہوگیا اور اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو تندرست کرنے لگا۔ بادشاہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ لڑکا توحید پر ایمان لے آیا ہے تو اس نے پہلے راہب کو قتل کیا۔ پھر اس لڑکے کو قتل کرنا چاہا ، مگر کوئی ہتھیار اور کوئی حربہ اس پر کارگر نہ ہوا۔ آخر کار لڑکے نے کہا کہ اگر تو مجھے قتل کرنا ہی چاہتا ہے تو مجمع عام میں بِاسْمِ رَبِّ الْغُلَامِ ’’اس لڑکے کے رب کے نام پر‘‘ کہہ کر مجھے تیر مار میں مرجائوں گا۔ چنانچہ بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور لڑکا مرگیا۔ اس پر لوگ پکار اٹھے کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے۔ بادشاہ کے مصاحبوں نے اس سے کہا کہ یہ تو وہی کچھ ہوگیا جس سے آپ بچنا چاہتے تھے۔ لوگ آپ کے دین کو چھوڑ کر اس لڑکے کے دین کومان گئے۔ بادشاہ یہ حالت دیکھ کر غصّے میں بھر گیا۔ اس نے  احمد  سڑکوں کے کنارے گڑھے کھدوائے، ان میں آگ بھروائی اور جس جس نے ایمان سے پھر نا قبول نہ کیا اس کو آگ میں پھکوادیا۔
تشریح: (اس روایت میں نبی ﷺ نے ایمان لانے والوں کو آگ میں پھینکنے کا قصہ بیان کیا۔ آگ میں پھینکنے کے اور بھی واقعات( احمد ، مسلم، نسائی، ترمذی، ابن جریر، عبدالرزاق ابن ابی شیبہ، طبرانی، عبد بن حمید۔)  روایات میں بیان ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ظلم دنیا میں کئی بار ہوا)۔
تخریج: حَدَّثَـنَا عَبْدُ اللّٰہِ ،حَدَّثَـنِیْ اَبِـیْ، ثـنا عَـفَّانُ، ثناحَمَّادُبْنُ سَلَمَۃَ، انا ثَابِتُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلیٰ، عَنْ صُہَیْبٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: کَانَ مَلِکٌ فِیْمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ وَکَانَ لَہٗ سَاحِرٌ فَلَمَّا کَبُرَ السَّاحِرُ، قَالَ لِلْمَلِکِ : اِنِّیْ قَدْ کَبُرَتْ سِنِّیْ، وَحَضَرَ أَجَلِیْ، فَادْفَعْ اِلَیَّ غُلَامًا فَلِاُعَلِّمْہُ السِّحْرَ فَدَفَعَ اِلَیْہِ غُلَامًا فَکَانَ یُعَلِّمُہُ السِّحْرَ وَکَانَ بَیْنَ السَّاحِرِ وَبَیْنَ الْمَلِکِ رَاہِبٌ، فَاَتَی الْغُلَامُ عَلَی الرَّاہِبِ، فَسَمِعَ مِنْ کَلَامِہٖ فَاعْجَبَہٗ نَحْوَہٗ کَلَامَہٗ فکَانَ اِذا اَتَی السَّاحِرَ ضَرَبَہٗ وَقَالَ: مَاحَبَسَکَ؟ واِذَا اَتٰی اَہْلَہٗ ضَرَبُوہٗ، وَقَالُوْا: ماحَبَسَکَ؟ فَشَکَاذٰلِکَ اِلَی الرَّاہِبِ، فَقَالَ: اِذَا اَرَادَالسَّاحِرُاَنْ یَضْرِبَکَ، فَقُلْ: حَبَسَنِیْ اَہْلِیْ وَاِذَا اَرَادَ اَہْلُکَ اَنْ یَضْرِبُوْکَ فَقُلْ حَبَسَنِی السَّاحِرُوَقَالَ فَبَیْنَمَا ہُوَکَذٰلِکَ اِذْاَتٰی ذَاتَ یَوْمٍ عَلیٰ دَآبَّۃٍ فَظِیْعَۃٍ عَظِیْمَۃٍ۔ وَقَدْ حَبَسَتِ النَّاسَ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ اَنْ یَجُوْزُوْا، فَقَالَ: اَلْیَوْمَ اَعْلَمُ اَمْرُ الرَّاہِبِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ اَمْ اَمْرُالسَّاحِرِ! فَاَخَذَ حَجَرًا، فَقَالَ: اَللّٰہُمَّ اِنْ کَانَ اَمْرُ الرَّاہِبِ اَحَبَّ اِلَیْکَ وَاَرْضیٰ لَکَ مِنْ اَمْرِ السَّاحِرِ فَاقْتُلْ ہٰذِہِ الدَّابَّۃَ حَتّٰی یَجُوْزَ النَّاسُ وَرَمَاہَا فَقَتَلَہَا وَمَضَی النَّاسُ فَاَخْبَرَ الرَّاہِبَ بِذٰلِکَ، فَقَالَ : اَیْ بُنَیَّ اَنْتَ اَفْضَلُ مِنِّیْ وَاِنَّکَ سَتُبْتَلیٰ فَاِنِ ابْتُلِیْتَ فَلَا تَدُلُّ عَلَیَّ۔ فَکَانَ الَغُلَامُ یُبْرِیُٔ اَکْمَہَ وَسَائِرَ الْاَدْوَائِ وَیَشْفِیْہِمْ وَکَانَ جَلِیْسٌ لِلْمَلِکِ فَعَمِیَ فَسَمِعَ بِہٖ فَاَتَاہُ بِہَدَایَا کَثِیْرَۃٍ، فَقَالَ: اِشْفِنِیْ وَلَکَ مَا ہٰہُنَا اَجْمَعَ، فَقَالَ: مَااَشْفِیْ اَنَا اَحَدًا اِنَّمَا یَشْفِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَاِنْ اَنْتَ آمَنْتَ بِہٖ دَعْوتُ اللّٰہَ فَشَفَاکَ فَاٰمَنَ فَدَعَااللّٰہَ لَہٗ فَشَفَاہُ ثُمَّ اَتَی الْمَلِکَ فَجَلَسَ مِنْہُ نَحْوَمَا کَانَ یَجْلِسُ، فَقَالَ لَہُ الْمَلِکُ، یَا فُلَانُ! مَنْ رَدَّ عَلَیْکَ بَصَرَکَ؟ فَقَالَ: رَبِّیْ ۔ قَالَ: اَنَا، قَالَ: لَا، وَلٰکِنْ رَبِّیْ ورَبُّکَ اللّٰہُ، قَالَ: اَوَلَکَ رَبٌّ غَیْرِیْ؟ قَالَ: نَعَمْ! فَلَمْ یَزَل یُعَذِّبُہٗ حَتّٰی دَلَّہٗ عَلَی الْغُلَامِ فَبَعَثَ اِلَیْہِ، فَقَالَ: اَیْ بُنَیَّ قَدْ بَلَغَ مِنْ سِحْرِکَ اَنْ تُبْرِیَٔ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَہٰذِہِ الْاَدْوَائَ، قَال: مَا اَشْفِیْ اَنَا اَحَدًا، مَا یَشْفِیْ غَیْرُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: اَنَا، قَالَ: لَا، قَالَ: اَوَلَکَ رَبٌّ غَیْرِیْ؟ قَالَ: نَعَمْ! رَبِّیْ وَرَبُّکَ اللّٰہُ، فَاَخَذَہٗ اَیْضًا بِالْعَذَابِ فَلَمْ یَزَلْ بِہٖ حَتّٰی دَلَّ عَلَی الرَّاہِبِ فَاُتِیَ بِالرَّاہِبِ، فَقَالَ: اِرْجِعْ عَنْ دِیْنِکَ فَاَبٰی فَوُضِعَ الْمِنْشَارُفِی مَفْرَقِ رَأَسِہِ حَتّٰی وَقَعَ شِقَّاہُ وَقَالَ لِلْاَعْمٰی اِرْجِعْ عَنْ دِیْنِکَ فَاَبیٰ فَوضَعَ الْمِنْشَارَفِی مَفرَقِ رَأْسِہِ حَتّٰی وَقَعَ شِقَّاہُ اِلَی الْاَرْضِ، وَقَالَ لِلْغُلَامِ: اِرْجِعْ عَنْ دِیْنِکَ، فَاَبیٰ، فَبَعَثَ بِہٖ مَعَ نَفَرٍ اِلیٰ جَبَلِ کَذَا وَکَذَا،فَقَالَ: اِذَا بَلَغْتُمْ ذِرْوَتِہٖ فَاِنْ رَّجَعَ عَنْ دِیْنِہٖ وَاِلَّا فَدَہْدَہُوْہُ مِن فَوْقِہٖ، فَذَہَبُوْا بِہٖ فَلَمَّا عَلَوْا بِہٖ الْجَبَلَ، قَالَ: اَللّٰہُمَّ اَکْفِنِیْہِمْ بِمَا شِئْتَ، فَرَجَفَ بِہِمُ الْجَبَلُ فَدَہْدَہُوْا اَجْمَعُوْنَ۔ وَجَآئَ الْغُلَامُ یَتَلَمَّسُ حَتّٰی دَخَلَ عَلَی الْمَلِکِ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ اَصْحَابُکَ؟ فَقَالَ: کَفَانِیْہِمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَبَعَثَہٗ مَعَ نَفَرٍ فِیْ قُرْقُوْزٍ، فَقَالَ: اِذَالَجَجْتُمْ بِہِ الْبَحْرَ فَاِنْ رَجَعَ عَن دِیْنِہٖ وَاِلَّا فَغَرِّقُوْہُ فَلَجَّجُوْا بِہِ الْبَحْرَ، فَقَالَ الْغُلَامُ: اَللّٰہُمَّ اَکْفِنِیْہِمْ بِمَا شِئْتَ فَغَرَقُوْا اَجْمَعُوْنَ وَجَآئَ الْغُلَامُ یَتَلَمَّسُ حَتّٰی دَخَلَ عَلَی الْمَلِکِ۔ فَقَالَ: مَا فَعَلَ اَصْحَابُکَ ؟ قَالَ: کَفَانِیْہِمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔ ثُمَّ قَالَ لِلْمَلِکِ: اِنَّکَ لَسْتَ بِقَاتِلِیْ حَتَّی تَفْعَلَ مَاآمُرُکَ بِہٖ، فَاِنْ اَنْتَ فَعَلْتَ مَا اٰمُرُکَ بِہٖ قَتَلْتَنِیْ وَاِلَّا فَاِنَّکَ لَا تَسْتَطِیْعُ قَتْلِیْ، قَال: وَمَا ہُوَ؟ قَالَ: تَجْمَعُ النَّاسَ فِی صَعِیْدٍ ثُمَّ تَصْلُبْنِیْ عَلیٰ جِذْعٍ فَتَاْخُذْ سَہْمًا مِنْ کِنَانَتِیْ، ثُمَّ قُلْ بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْغُلَامِ، فَاِنَّکَ اِذَا فَعَلْتَ ذٰلِکَ قَتَلْتَنِیْ، فَفَعَلَ وَوَضَعَ السَّہْمَ فِیْ کَبِدِ قَوْسِہٖ، ثُمَّ رَمیٰ، فَقَالَ: بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْغُلَامِ، فَوَضَعَ السَّہْمُ فِیْ صُدْغِہٖ فَوَضَعَ الْغُلَامُ یَدَہٗ عَلیٰ مَوْضِعِ السَّہْمِ وَمَاتَ ۔ فَقَالَ النَّاسُ: آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ فَقِیْلَ لِلْمَلِکِ اَرَأَیْتَ مَاکُنْتَ تَحْذَرُ فَقَدْ وَاللّٰہِ نَزَلَ بِکَ قَدْ آمَنَ النَّاسُ کُلُّہُمْ فَاَمَرَبِاَفْوَاہِ السِّکَکِ فَخُدَّدَتْ فِیْہَا الْاُخْدُوْدُ وَاُضرِمَتْ فِیْہَا النِّیَرانُ وَقَالَ: مَنْ رَجَعَ عَن دِیْنِہٖ فَدَعُوْہُ وَاِلَّا فَاقْحَمُوْہُ فِیہَا قَالَ فَکَانُوْایَتَعَادُوْنَ فِیْہَا وَیَتَدَافَعُوْنَ فَجَآئَ تْ اِمْرَأ ۃٌ بِابْنٍ لَّہَا تُرْضِعُہٗ فَکَاَنَّہَا تَقَاعَسَتْ اَنْ تَقَعَ فِی النَّارِ فَقَالَ الصَّبِیُّ یَا اُمَّہِ! اصْبِرِیْ فَاِنَّکِ عَلَی الْحَقِّ۔ (۳۹)
ترجمہ: حضرت صہیبؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ تم سے پہلے لوگوں میں ایک بادشاہ تھا۔ اس کے پاس ایک ساحر تھا۔ جب ساحر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ ’’میں اب بہت بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری اجل قریب ہے۔ مجھے ایک لڑکا دو جسے میں سحر سکھادوں۔‘‘ بادشاہ نے اسے ایک لڑکا دے دیا۔ساحر نے اسے سحر سکھانا شروع کردیا۔ بادشاہ اور جادوگر کے درمیانی راستے میں ایک راہب رہتا تھا یہ لڑکا اس کے پاس ٹھیرنے لگا۔ راہب کا کلام لڑکے نے سنا تو اسے اس کا انداز اور کلام بہت اچھا لگا۔ اب معاملہ کی نوعیت یہ ہوگئی کہ لڑکا جب ساحر کے پاس پہنچتا تو وہ اس کی پٹائی کرتا اور دریافت کرتا کہ کس چیز نے تمہیں روکے رکھا اور جب وہ لڑکا اپنے گھر پہنچتا تو گھر والے دیر سے پہنچنے کی وجہ سے مارتے اور پوچھتے تاخیر سے آنے کی کیا وجہ ہے؟ اس صورت حال سے لڑکے نے راہب کو آگاہ کیا تو اس نے ایک تجویز اسے سجھائی کہ جب ساحر تجھے مارنے کے درپے ہو تو اس کو کہہ دیا کرو کہ گھر والوں نے کسی کام سے روک لیا تھا اور جب گھر والے دیر سے پہنچنے کی سزا دینے لگیں تو ان سے کہہ دیا کرو کہ ساحر نے مجھے روکے رکھا۔ اسی اثناء میں ایک روز اس لڑکے کا گزر ایک ہیبت ناک اور بہت بڑے جانور پر ہوا جس نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا۔ اس کی دہشت اور خوف سے لوگ اس راستہ سے نہیں گزرتے تھے۔ یہ معاملہ دیکھ کر لڑکے کو خیال آیا کہ میں آج معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو راہب کا طریقہ زیادہ پسند ہے یا جادو گر کا۔ یہ سوچ کر اس نے ایک پتھر ہاتھ میں پکڑ ا اور یہ کہہ کر اس جانور کو کھینچ مارا کہ اے اللہ ! اگر اس راہب کا طریقہ تیری نظر میں ساحر کے طریقے سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے، تو اس جانور کو ماردے۔ تاکہ لوگوں کا راستہ کھل جائے اور یہ گزر جائیں، چنانچہ وہ جانور اس پتھر سے مرگیا اور لوگ آرام سے گزرگئے۔ پھر یہ سارا ماجرا لڑکے نے راہب کو سنایا۔ راہب سن کر بولا۔ بیٹے اب تم مجھ سے بازی لے گئے ہو۔ تمہارا مقام مجھ سے افضل ہے۔ لہٰذا اب مستقبل قریب میں تمہاری آزمائش ضرور ہوگی۔ لہٰذا اگر تمہیں سخت آزمائش میں ڈالا گیا اور یہ پوچھا گیا کہ تم نے یہ علم کس سے حاصل کیا ہے تو میرے بارے میں کچھ نہ بتانا۔ (یہ لڑکا راہب سے تعلیم پاکر صاحبِ کرامت ہو گیا) اور اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو تندرست کرنے لگا اور دوسرے بیماروں کو بھی شفا دینے لگا۔’’شفا کی نسبت لڑکے کی طرف سبب کے درجے میں ہے حقیقی نہیں، حقیقی شفاء صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ بادشاہ کا ایک ہم جلیس بھی نابینا تھا۔ اسے اس لڑکے کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ بہت تحائف اور ہدایالے کر اس کے پاس آیا۔ کہنے لگا اے لڑکے مجھے شفا دے۔ اس کے عوض یہاں جو کچھ میں لایا ہوں وہ سب تیرا ہے۔ لڑکا بولا میں تو کسی کو بھی شفایاب نہیں کرسکتا۔ شفاء تو صرف اللہ عزوجل کے قبضۂ اختیار میں ہے، اگر تو ایمان لے آئے تو میں اللہ سے دعا کروں گا وہ تجھے شفا دے دے گا۔ وہ ایمان لے آیا ۔ لڑکے نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اوروہ شفایاب ہوگیا۔ اس کے بعد وہ بادشاہ کے پاس آیا اور حسبِ معمول وہیں بیٹھ گیا، جہاں بیٹھتا تھا۔ بادشاہ نے دیکھا اور حیران ہو کر پوچھا، ارے تمہاری بینائی کس نے لوٹائی ہے؟ بولا میرے رب نے۔ بادشاہ نے کہا’’میں نے؟‘‘ اس نے نفی میں جواب دیا کہ نہیں بلکہ میرے اور تمہارے رب نے مجھے شفا عطا فرمائی ہے۔ بادشاہ بولا میرے علاوہ بھی تیرا اور کوئی رب ہے؟ اس نے اثبات میں جواب دیا کہ ’’ہاں!ہے‘‘۔ پس پھر کیا تھا بادشاہ نے اسے عذاب میں اس وقت تک مبتلا رکھا جب تک کہ اس نے لڑکے کا اتا پتا نہ بتادیا۔ بادشاہ نے اس لڑکے کو اپنے پاس بلواکر پوچھا ۔ اے نوجوان! تیرا جادو اس حد کو پہنچ گیا ہے کہ تو اندھے کو بینا اور کوڑھی کو تندرست کردیتا ہے۔ لڑکا بولا کسی کو شفا دینا میرے دائرۂ اختیار میں نہیں ہے۔ شفاء دینا صرف اللہ عزوجل کا کام ہے کسی غیر اللہ کا یہ کام نہیں۔ بادشاہ بولا’’تو وہ میں ہوں‘‘۔ لڑکے نے جواب دیا ’’نہیں تم نہیں ہو۔‘‘ بادشاہ نے کہا’’ کیا میرے سوا تیرا اور بھی کوئی رب ہے؟‘‘ بولا ہاں میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔ اس پر اسے بھی بادشاہ نے مبتلائے عذاب کردیا اور اتنا عذاب دیا کہ لڑکا راہب کے متعلق بتانے پر مجبور ہوگیا۔ بادشاہ نے اس راہب کو بلوایا اور حکم دیا کہ اپنے دین سے پھر جائو۔ راہب نے اپنا دین ترک کرنے سے انکار کر دیا تو بادشاہ نے اس کے سرکے وسط میں آرا رکھوا کر چروا دیا۔ پھر بادشاہ اس اندھے کی طرف متوجہ ہوا اور اسے حکم دیا کہ اپنے دین سے پھر جائے۔ مگر ایسا کرنے سے اس نے بھی انکار کردیا تو اس کے سر پر بھی آرا رکھ کر چروادیا حتّٰی کہ وہ دو ٹکڑے ہو کر زمین پر گرپڑا۔ پھر بادشاہ لڑکے کی طرف متوجہ ہوا اور اسے بھی حکم دیا کہ اپنے دین سے پھر جائے مگر ایسا کرنے سے اس نے بھی انکار کر دیا تو اسے کچھ سپاہیوں کی تحویل میں دے کر حکم دیا کہ اسے فلاں اونچے پہاڑ پر لے جاکر پوچھو۔ اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے تو چھوڑ دو۔ بصورت دیگر اسے پہاڑ کی چوٹی سے لڑھکادو۔ تعمیل حکم میں یہ لوگ اسے لے کر جب پہاڑ پر لے چڑھے تو لڑکے نے اللہ سے دعا کی، اے اللہ! تو خود ان سے جس طرح چاہے نبٹ لے۔ چنانچہ پہاڑ اس شدت سے لرزا کہ وہ سارے کے سارے لڑھکتے ہوئے نیچے آرہے اور مرگئے۔لڑکا راستہ تلاش کرتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ گیا۔ پوچھا کہ تمہارے ساتھ جو لوگ گئے تھے ان کا کیا حال ہے۔ وہ بولا، اللہ تعالیٰ نے ان کاکام تمام کردیا ہے۔ پھربادشاہ نے اسے کچھ لوگوں کے ساتھ بھیجا اور کہا کہ اسے بڑی کشتی پر سوار کرکے سمندر کی تلاطم خیز موجوں میں لے جائو۔ وہاں جا کر اگر یہ اپنے دین سے پھرنے کا اقرار کرلے تو چھوڑ دو ورنہ اسے وہیں غرق کردو۔ چنانچہ وہ اسے بپھری ہوئی موجوں میں لے گئے۔اس موقع پر لڑکے نے پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ! تو ہی جس طرح چاہے ان سے نبٹ لے۔ دعا قبول ہوئی اور وہ سب موجوں کی لپیٹ میں آکر لقمہ اجل بن گئے۔ لڑکا پھر راستہ تلاش کرتا ہوا بادشاہ تک پہنچ گیا۔ اس نے پوچھا تیرے ساتھیوں کا کیا بنا؟ لڑکے نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا اور ان کو ہلاک کردیا۔ پھر لڑکے نے بادشاہ سے کہا کہ اے بادشاہ تو مجھے قتل نہیں کرسکتا جب تک کہ تو اس طرح نہ کرے جس طرح میں تجھے بتاتا ہوں۔ اگر تو نے میری بتائی ہوئی تدبیر پر عمل کیا تو تو مجھے قتل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا ورنہ تو مجھے ہرگز قتل نہیں کرسکتا۔ بادشاہ نے پوچھا وہ کیا ہے؟ لڑکا بولا، تمام لوگوں کو ایک کھلے میدان میں جمع کراور مجھے کھجور کے تنے پر پھانسی پر لٹکا کر میرے ترکش سے تیرلے اور یوں کہہ کر تیرمار ’’اس لڑکے کے پروردگار اللہ کے نام سے‘‘ پس جب تو حسبِ ہدایت عمل کرے گا تو مجھے قتل کردے گا۔ لہٰذا بادشاہ نے ایسا ہی کیا۔ کمان کے بیچ میں تیر لگا کر مارا اور ساتھ ہی کہا بسم اللّٰہ رب الغلام تیر سیدھالڑکے کی کنپٹی پر لگا۔ لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر لگنے کے مقام پر رکھا اور مرگیا۔ اس پر لوگ پکار اٹھے کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے۔ بادشاہ کے مصاحبوں نے اس سے کہا یہ تو وہی کچھ ہوگیا جس سے آپ بچنا چاہتے تھے۔ لوگ آپ کے دین کو چھوڑ کر اس لڑکے کے دین کو مان گئے۔ بادشاہ یہ دیکھ کر غصے سے بھر گیا۔ اس نے سڑکوں کے کنارے گڑھے کھدوائے اور ان میں آگ بھروائی اور جس نے ایمان سے پھرنا قبول نہ کیا اس کو ان گڑھوں میں پھکوادیا۔ اسی دوران میں ایک خاتون اس حال میں آئی کہ وہ اپنے بچے کو دودھ پلارہی تھی اور وہ آگ میں کودنے سے ہچکچائی تو اس کا شیر خوار بچہ بول اٹھا۔ ’’امی جان ثابت قدم رہو۔ بلاشبہ تم حق پر ہو۔‘‘
ترمذی میں یہ اضافہ ہے:
قال قام الغلام فانہ دفن قال فیذکرانہ اُخرج فی زمن عمر بن الخطاب واصبعہ علی صدغہٖ کما وضعہا حین قتل۔(۴۰) (ہٰذا حدیث حسن غریب)
(۲) حَدَّثَنَاابْنُ حُمَیْدٍ، قَالَ: ثنا یَعْقُوْبُ الْقُمِّیُّ عَنْ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ أَبْزٰی، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ الْمُہَاجِرُوْنَ مِنْ بَعْضِ غَزَوَاتِہِمْ، بَلَغَہُمْ نَعْیُ عُمَرَبْنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: اَیُّ الْاَحْکَامِ تَجْرِیْ فِی الْمَجُوْسِ وَاِنَّہُمْ لَیْسُوْا بِاَہْلِ الْکِتٰبِ وَلَیْسُوْا مِنْ مُشْرِکِی الْعَرَبِ، فَقَالَ عَلَیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: قَدْ کَانُوْا اَہْلَ کِتَابٍ وَقَدْ کَانَتِ الْخَمْرُ اُحِلَّتْ لَہُمْ فَشَرِ بَہَا مَلِکٌ مِنْ مُّلُوْکِہِمْ حَتّٰی ثَمَلَ مِنْہَا فَتَنَا وَلَ اُخْتَہٗ فَوَقَعَ عَلَیْہَا فَلَمَّا ذَہَبَ عَنْہُ السُّکْرُ،قَالَ لَہَا وَیْحَکِ فَمَا الْمَخْرَجُ مِمَّا ابْتَلَیْتُ بِہٖ؟ فَقَالَتْ: اُخْطُبِ النَّاسَ، فَقُلْ، یَااَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَلَّ نِکَاحَ الْاَخَواتِ، فَقَامَ خَطِیْبًا، فَقَالَ : یَا اَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَلَّ نِکَاحَ الْاَخَوَاتِ، فَقَالَ النَّاسُ: اِنَّا نَبْرَأُ اِلَی اللّٰہِ مِنْ ہٰذَا الْقَوْلِ مَا اَتَانَا بِہٖ نَبِیٌّ وَلَا وَجَدْنَاہُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ، فَرَجَعَ اِلَیْہَا نَادِمًا فَقَالَ لَہَا: وَیْحَکِ اِنَّ النَّاسَ قَدْ اَبَوْا عَلَی اَنْ یُّقِرُّوْا بِذٰلِکَ، فَقَالَتْ: اُبْسُطْ عَلَیْہِمْ السِّیَاطَ فَفَعَلَ فَبَسَطَ عَلَیْہِمُ السِیَاطَ فَاَبَوا اَنْ یُّقِرُّوْا فَرَجَعَ اِلَیْہَا نَادِمًا، فَقَالَ: اِنَّہُمْ اَبَوْا اَنْ یُّقِرُّوْا، فَقَالَتْ: اُخطُبْہُمْ فَاِنْ اَبَوْا فَجَرِّدْ فِیْہِمِ السَّیْفَ، فَفَعَلَ فَاَبٰی عَلَیْہِ النَّاسُ، فَقَالَ لَہَا:قَدْ اَبٰی عَلَیَّ النَّاسُ، فَقَالَتْ :خَدِّ لَہُمُ الْأخْدُوْدَ ثُمَّ اَعْرِضْ عَلَیْہَا اَہْلَ مَمْلَکَتِکَ فَمَنْ اَقَرَّوَاِلَّا فَاقْذِفہُ فِی النَّارِ، فَفَعَلَ ثُمَّ عَرَضَ عَلَیْہَا اَہْلَ مَمْلَکَتِہٖ فَمَنْ لَّمْ یُقِرَّ مِنْہُمْ قَذَفَہٗ فِی النَّارِ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ فِیہِمْ قُتِلَ اَصْحَابُ الْاُخْدُوْدِ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ اِلیٰ اَنْ یُؤْمِنُوا بِا للّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ۔۔۔اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَالمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَہُمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَلَہُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ۔ فَلَمْ یَزَالُوْا مُنْذُذٰلِکَ یَسْتَحِلُّوْنَ نِکَاحَ الْاَخَوَاتِ والْبَنَاتِ وَالْاُمَّہَاتِ۔ (۴۱)
ترجمہ: ابن جریر کا بیان ہے کہ جب مہاجرین بعض غزوات سے واپس لوٹے انھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر پہنچی تو ایک دوسرے سے کہنے لگے مجوس کے متعلق احکام شریعت کیا ہیں؟ وہ اہل کتاب میں سے بھی نہیں اور مشرکین عرب میں بھی ان کا شمار نہیں۔ اس موقعہ پر حضرت علیؓ نے فرمایا ’’یہ اہل کتاب ہیں کیونکہ ان کی شریعت میں شراب نوشی حلال تھی۔ ان کے کسی ایک بادشاہ نے شراب پی اور حواس باختہ ہوگیا اور اس نے اپنی حقیقی بہن کو پکڑ کر اس سے حرام کاری کی مگر جب نشہ کافور ہواتو اسے اس کا بڑا افسوس ہوا کہنے لگا۔ بڑا افسوس ہے۔ اب اس سے مخلصی کا راستہ کیا ہے جس میں میں مبتلا ہوچکا ہوں۔اس کی بہن نے مشورہ دیا کہ عوام سے خطاب کرکے انھیںیقین دلائو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حقیقی بہن سے نکاح جائز قرار دے دیا ہے چنانچہ اس نے کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کیا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہنوں سے نکاح جائز کردیا مگر لوگوں نے اس کی اس بات کو یہ کہہ کر تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیا کہ ہم اس بات سے اظہار برأت کرتے ہیں اس لیے کہ نہ تو ہمارے نبی نے یہ فرمایا ہے اور نہ ہی ہمیں اللہ کی کتاب میں یہ بات ملی ہے۔ لوگوں کا یہ جواب سن کر نادم و پریشان واپس چلا گیا اور جاکر بہن کو سارا واقعہ سنایا کہ انھو ں نے یہ بات تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیا ہے۔ بہن نے پھر مشورہ دیا کہ ان پر کوڑے برسائے جائیں چنانچہ اس نے کوڑے برسائے مگر پھر بھی لوگوں نے بات ماننے سے انکار کردیا۔ نادم و پشیمان واپس آیا اور سارا ماجرا بہن کو سنایا کہ لوگوں نے میری بات ماننے سے انکار کردیا ہے اس نے کہا کہ ان پر کوڑے برسائو۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ اس کے باوجود انھوں نے نہ مانا۔ پھر بہن کو سارا واقعہ سنایا تو اس نے مزید مشورہ دیا کہ ان کو تلوار برہنہ سے ڈرائو۔ اس نے شمشیر سے انھیں مرعوب کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ پھر اس نے خندقیں کھدوائیں اور عوام میں اعلان کروادیا کہ جو میری بات کا اقرار کرے وہ زندہ رہ سکے گا مگر جس نے اس کی بات کو نہ مانا اسے اسنے آگ کی خندق میںڈال دیا۔ اسی واقعہ کے متعلق قرآن پاک کی سورہ بروج میںذکر آیا ہے ۔قُتِلَ اَصْحَابُ الْاُخْدُوْدِ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ اِلیٰ اَنْ یُؤْمِنُوا باللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ…اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَہُمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَلَہُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ۔اس واقعہ کے بعد سے بہنوں اور بیٹیوں اور حقیقی مائوں سے نکاح حلال قرار دے دیا گیا۔
۳۔ ابن عباسؓ نے غالباً اسرائیلی روایات سے نقل کیا ہے کہ بابل والوں نے بنی اسرائیل کو دینِ موسیٰ علیہ السلام سے پھر جانے پر مجبور کیا تھا یہاں تک کہ انھوں نے آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں ان لوگوں کو پھینک دیا جو اس سے انکار کرتے تھے۔ (ابن جریر، عبد بن حُمید)
(۳) قال العوفی عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: قُتِلَ اَصْحَابُ الْاُخْدُوْدِ ۔ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ۔ قَالَ نَاسٌ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ: خَدُّوْا اُخْدُوْدًا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ اَوْقَدُوا فِیْہِ نَارًا ثُمَّ اَقَامُوْا عَلیٰ ذٰلِکَ الْاُخْدُوْدِ رِجَالاً وَّنِسَآئً فَعُرِضُوْا عَلَیْہَا وَزَعَمُوْا اَنَّہٗ دَانِیَالُ وَاَصْحَابُہٗ۔ (۴۲)
۴۔ سب سے مشہور واقعہ نجران کا ہے جسے ابنِ ہشام، طبری ، ابن خلدون اور صاحب معجم البلدان وغیرہ اسلامی مؤرّخین نے بیان کیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حمیر (یمن) کا بادشاہ تُبان اسعد ابوکَرِب ایک مرتبہ یثرب گیا جہاں یہودیوں سے متاثر ہو کر اس نے دین یہودقبول کرلیا اور بنی قُرَیظہ کے دو یہودی عالموں کو اپنے ساتھ یمن لے گیا۔وہاں اس نے بڑے پیمانے پر یہودیت کی اشاعت کی۔ اس کا بیٹا ذونواس اس کا جانشین ہوا اور اس نے نجران پر، جو جنوبی عرب میں عیسائیوں کا گڑھ تھا، حملہ کیا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ کردے اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کرے۔ (ابن ہشام کہتا ہے کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کے اصل دین پر قائم تھے) نجران پہنچ کر اس نے لوگوں کو دین یہود قبول کرنے کی دعوت دی مگر انھوں نے انکار کیا۔ اس پر اس نے بکثرت لوگوں کو آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں پھینک کر جلوادیا اور بہت سوں کو قتل کردیا۔ یہاں تک کہ مجموعی طور پر بیس ہزار آدمی مارے گئے۔ اہل نجران میں سے ایک شخص دوس ذوثعلبان بھاگ نکلا۔ اور ایک روایت کی رو سے اس نے قیصر روم کے پاس جاکر، اور دوسری روایت کی رو سے حبش کے بادشاہ نجاشی کے ہاں جاکر اس ظلم کی شکایت کی۔ پہلی روایت کی روسے قیصر نے حبش کے بادشاہ کو لکھا، اور دوسری روایت کی روسے نجاشی نے قیصر سے بحری بیڑا فراہم کرنے کی درخواست کی۔ بہر حال آخر کار حبش کی ۷۰ ہزار فوج اریاط نامی ایک جنرل کی قیادت میں یمن پر حملہ آور ہوئی، ذونواس مارا گیا۔ یہودی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ اور یمن حبش کی عیسائی سلطنت کا ایک حصہ بن گیا۔ (تفہیم القرآن،ج ۶ البروج حاشیہ:۴)
(۴) ذکَرَ مُحَمَّدُبْنُ اِسْحَاقَ فِی السِّیْرَۃِ، اِنَّ الَّذِیْ قَتَلَ اَصْحَابَ الْاُخْدُوْدِ،ہُوَذُوْنَوَاسٍ وَاِسْمُہٗ زُرْعَۃُ وَیُسَمِّیْ فِی زَمَانِ مَمْلَکَتِہٖ بِیُوْسُفَ وَہُوَبْنُ ثَنَا۔ اَسْعَدُ اَبِیْ کُرَیْبٍ وَہُوَتُبَّعٌ الَّذِیْ غَزَّالْمَدِیْنَۃَ وَکَسَیَ الْکَعْبَۃَ وَاسْتَصْحَبَ مَعَہٗ حِبْرَیْنِ مِنْ یَہُوْدِ الْمَدِیْنَۃِ فَکَانَ تَہَوَّدَ مَنْ تَہَوَّدَ مِنْ اَہْلِ الْیَمَنِ عَلیٰ یَدَیْہِمَا کَمَا ذَکَرَہُ ابْنُ اِسْحَاقَ مَبْسُوطًا۔ فَقَتَلَ ذُوْنَوَاسٍ فِیْ غَدَاۃٍ وَاحِدَۃٍ فِی الْاُخْدُوْدِ عِشْرِیْنَ اَلْفًا وَلَمْ یَنْجُ مِنْہُمْ سِویٰ رَجُلٍ وَاحِدٍ یُقَالُ لَہٗ دَوْسٌ ذُوْتَغْلَبَانِ ذَہَبَ فَارِسًا وَطَرَدُوْا وَرَآئَ ہٗ فَلَمْ یَقْدِرُوْا عَلَیْہِ فَذَہَبَ اِلیٰ قَیْصَرَ مَلِکِ الشَّامِ فَکَتَبَ اِلَی النَّجَاشِیِّ مَلِکِ الْحَبَشَۃِ فَاَرْسَلَ مَعَہٗ جَیْشاً مِنْ نَصَارَی الْحَبَشَۃِ یَقْدِمُہُمْ اَرْبَاط وَاَبْرَہَۃ فَاسْتَنْقَذُوا الْیَمَنَ مِنْ اَیْدِی الْیَہُوْدِ وَذَہَبَ ذُوْنَوَاسٍ ہَارِبًا فَلَجَّجَ فِی الْبَحْرِفَغَرِقَ وَاسْتَمَرَّ مُلْکُ الْحَبَشَۃِ فِی اَیْدِی النَّصَاریٰ سَبْعِیْنَ سَنَۃً ۔۔۔ (۴۳)
ترجمہ: محمد بن اسحاق نے اپنی ’’سیرۃ‘‘ میں بیان کیا ہے کہ جس آدمی نے اصحاب الاخدود کو قتل کیا تھا وہ ذونواس یعنی زرْعہ نامی شخص تھا۔ اپنی بادشاہت میں یوسف کے نام سے موسوم تھا۔ ابن ثنا بھی اسے کہتے تھے۔ اسعد ابوکریب یعنی تبع جس نے اہل مدینہ کے ساتھ جنگ کی تھی اور خانہ کعبہ پر غلاف چڑھایا تھا۔ جاتے ہوئے مدینہ کے دو یہودی علماء اپنے ساتھ لے گیا۔ ان دونوں کے ذریعہ سے اہل یمن میں سے بہت سے لوگ یہودی بن گئے۔ جیسا کہ ابن اسحاق نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ذونواس نے ایک ہی صبح میں بیس ہزار آدمیوں کو گڑھوں میں ڈال کر قتل کردیا۔ دوس تغلبان کے سوا کوئی زندہ نہ بچ سکا۔ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگ گیا۔ لوگوں نے اس کا تعاقب کیا مگر اسے پکڑنہ سکے۔ اس کے بعد وہ ملک شام کے فرماں روا قیصر کے پاس پہنچا۔ اس نے حبش کے بادشاہ نجاشی کو خط لکھا۔ اس نے حبشہ کے عیسائیوں کا ایک لشکر اس کے ساتھ روانہ کیا۔ اس لشکر نے یمن کو یہودی قبضہ سے آزاد کرالیا۔ ذونواس نے راہِ فرار اختیار کی اور سمندر کی تلاطم خیز موجوں میں کو دکرغرق ہوگیا۔ سلطنت حبشہ پر عیسائیوں کی ستر سال تک لگاتار حکومت رہی۔
قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِبْنِ مُحَمَّدِبْنِ عَمْرِوبْنِ حَزْمٍ ،اَنَّہٗ حُدِّثَ اَنَّ رَجُلًا مِنْ اَہْلِ نَجْرَانَ کَانَ فِیْ زَمَانِ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ حَفَرَخَرِبَۃً مِّنْ خَرِبِ نَجْرَانَ لِبَعْضِ حَاجَتِہٖ فَوَجَدُوْاعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الثَامُر تَحْتَ دَفْنٍ مِنْہَا قَاعِدًا وَاضِعًا یَدَہٗ عَلیٰ ضَرْبَۃٍ فِیْ رَأْسِہٖ مُمْسِکًا بِیَدِہٖ عَلَیْہَا فَاِذَا اُخِّرَتْ یَدُہٗ عَنْہَا تَنْبَعِثُ دَمًا وَاِذَا اُرْسِلَتْ یَدُہٗ رَدَّہَا عَلَیْہَا فَاَمْسَکَتْ دَمہَا وَفِیْ یَدِہٖ خَاتَمٌ مَکْتُوْبٌ فِیْہِ رَبِّیَ اللّٰہُ فَکَتَبَ فِیْہِ اِلیٰ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ۔ یُخْبِرُ بِاَمْرِہٖ فَکَتَبَ اِلَیْہِمْ عُمَرُرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنْ اَقِرُّوْہٗ عَلیٰ حَالِہٖ وَرُدُّوْا عَلَیْہِ الدَّفْنَ الَّذِی کَانَ عَلَیْہِ فَفَعَلُوْا۔ (۴۴)
ترجمہ: ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ابوبکر بن محمد بن عمر بن حزم نے روایت بیا ن کی ہے کہ اہل نجران میں ایک آدمی تھا اس نے اپنی ضرورت کے لیے حضرت عمرؓ بن خطاب کے عہد خلافت میں نجران کے کھنڈرات میں سے ایک کھنڈرکی کھدائی کی تو ایک قبر میں سے عبداللہ بن ثامر کی لاش برآمد ہوئی جو اپنی قبر میں بیٹھا ہوا تھا اور اپنا ہاتھ سرکے اس مقام پر رکھے ہوئے تھا جہاں زخم آیا تھا اس نے ہاتھ رکھ کر خون کو بہنے سے روک رکھا تھا۔ جوں ہی ہاتھ اس مقام سے ہٹایا جاتا خون بہہ پڑتا اور جیسے ہی ہاتھ واپس اسی مقام پر لوٹا دیا جاتا تو خون رک جاتا۔ اس کے ہاتھ میں انگوٹھی تھی جس پر رَبِّیَ اللّٰہُ منقش تھا۔ اس کی اطلاع حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تحریری طور پر دی گئی ۔ حضرت عمرؓ بن خطاب نے انھیں لکھا کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو اور لاش کو اسی حالت میں دفن کردو جس حالت میں وہ تھی چنانچہ لوگوں نے اسی طرح اسے دفن کردیا۔