سنت کی آئینی حیثیت

انکار سنت کا فتنہ اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں اُٹھا تھا اور اس کے اُٹھانے والے خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وہ سنت حائل تھی جس نے اس معاشرے کو ایک نظم و ضبط پر قائم کیا تھا، اور اس کی راہ میں حضور کے وہ ارشادات حائل تھے جن کی موجودگی میں خوارج کے انتہا پسندانہ نظریات نہ چل سکتے تھے۔ اس بنا پر اُنھوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دو گونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کو اس کی ضرورت اس لیے لاحق ہوئی کہ عجمی اور یونانی فلسفوں سے پہلا سابقہ پیش آتے ہی اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے میں جو شکوک و شبہات ذہنوں میں پیدا ہونے لگے تھے، اُنھیں پوری طرح سمجھنے سے پہلے وہ کسی نہ کسی طرح اُنھیں حل کر دینا چاہتے تھے۔ خود ان فلسفوں میں ان کو وہ بصیرت حاصل نہ ہوئی تھی کہ ان کا تنقیدی جائزہ لے کر ان کی صحت و قوت جانچ سکتے۔ اُنھوں نے ہر اس بات کو جو فلسفے کے نام سے آئی، سراسر عقل کا تقاضا سمجھا اور یہ چاہا کہ اسلام کی عقائد اور اصولوں کی ایسی تعبیر کی جائے جس سے وہ ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو جائیں۔ اس راہ میں پھر وہی حدیث و سنت مانع ہوئی۔ اس لیے اُنھوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھیرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کیا۔
اس کتاب میں مولانا مودودیؒ نے مخالفانہ دلائل کو ایک ایک کرکے اس طرح بیان کیا ہے کہ اس کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
سید مودودیؒ کتاب کے آخر میں رقم طراز ہیں: ”ہم نے ایک ایک دلیل کا تفصیلی جائزہ لے کر جو بحث کی ہے اسے پڑھ کر ہر صاحب علم آدمی خود یہ رائے قائم کر سکتا ہے کہ ان دلائل میں کتنا وزن ہے اور ان کے مقابلے میں سنت کے ماخذ قانون اور احادیث کے قابل استناد ہونے پر جو دلیلیں ہم نے قائم کی ہیں وہ کس حد تک وزنی ہیں۔ ہم خاص طور پر خود فاضل جج سے اور مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ان کے رفقا سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ پورے غور کے ساتھ ہماری اس تنقید کو ملاحظہ فرمائیں اور اگر ان کی بے لاگ رائے میں، جیسی کہ ایک عدالت عالیہ کے فاضل ججوں کے رائے بے لاک ہونی چاہیے، یہ تنقید فی الواقع مضبوط دلائل پر مبنی ہو تو وہ قانون کے مطابق کوئی ایسی تدبیر عمل میں لائیں جس سے یہ فیصلہ آئیندہ کے لیے نظیر نہ بن سکے۔ عدالتوں کا وقار ہر ملک کے نظام عدل و انصاف کی جان ہوتا ہے اور بہت بڑی حد تک اسی پر ایک مملکت کے استحکام کا انحصار ہوتا ہے۔ اس وقار کے لیے کوئی چیز اس سے بڑھ کر نقصان دہ نہیں ہے کہ ملک کی بلند ترین عدالتوں کے فیصلے علمی حیثیت سے کمزور دلائل اور ناکافی معلومات پر مشتمل ہوں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ جب ایمان دارانہ تنقید سے ایسی کسی غلطی کی نشان دہی ہو جائے تو اولین فرصت میں خود حاکمان عدالت ہی اس کی تلافی کی طرف توجہ فرمائیں۔“
حدیث کے حوالے سے شکوک وشبہات کا اظہار کرنے والے افراد کے لیے اس کتاب کو پڑھنا بہت اہم ہے۔

عرضِ ناشر

اس کتاب کے مضامین اس سے پہلے ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور کے خاص نمبر (منصبِ رسالت نمبر،ستمبر۱۹۶۱ء) میں شائع ہو چکے ہیں۔ اب ہم انھی مضامین کو سُنّت کی آئینی حیثیت کے نام سے کتابی صورت میں شائع کر رہے ہیں۔ ان مضامین کو کتابی صورت میں شائع کرنے کے لیے کچھ معمولی ترمیم وحذف سے کام لینا پڑا ہے۔ وہ ترمیم وحذف یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالودود صاحب کے تیسرے خط کا بڑا حصہ جو کہ دُشنام طرازی اور تکرارِ بیان پر مبنی تھا، حذف کر دیا گیا ہے۔ اس کے بجائے ڈاکٹر عبدالودود صاحب نے اپنے اس مکتوب میں جو نئے نکات اُٹھائے ہیں انھیں، انھی کے الفاظ میں اعتراضات وسوالات کی شکل میں پیش کیا گیا ہے اور ان کے جواب میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے وہی الفاظ نقل کیے گئے ہیں جوماہنامہ ترجمان القرآ ن میں شائع ہو چکے ہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ اس طرح قارئین ان لایعنی اور طویل تحریروں کے مطالعے کی زحمت سے بھی بچ جائیں گے جو ڈاکٹر صاحب کے تیسرے مکتوب میں بکثرت موجودتھیں اور مغزِ بحث کو بھی زیادہ آسانی سے پالیں گے۔
اس کتاب کے بارے میں ہمارا کچھ کہنا تحصیل حاصل ہے۔ ماہنامہ ترجمان القرآن کے خا ص نمبر (منصبِ رسالت نمبر) کو اندرون وبیرونِ ملک کے ہر طبقۂ خیال سے تعلق رکھنے والے حضرات، وکلا، ادبا، عالمانِ دین، مصنّفین اور صحافیوں نے خراجِ تحسین پیش کیا ہے، اس سے ہر پڑھا لکھا شخص واقف ہے۔ سید مودودیؒ نے جس شان دار طریقے سے سُنّت نبویa کی مدافعت کی ہے اور اسے جس واضح اور مُنَقَّح شکل میں پیش کیا ہے، موجودہ زمانے میں اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔
دین اسلام میں حدیث کی اہمیت اور ضرورت کو واضح اور اجاگر کرنے اور منکرین حدیث کو منہ توڑ جواب دینے والی، اس معرکہ آرا تالیف کی اشاعت پر ہم اللہ تعالیٰ کے حضورسپاس شکر بجا لاتے ہیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ حامیانِ سُنّتِ نبویa اور شائقینِ علم قرآن و سنت اس کی وہی قدر فرمائیں گے جس کی یہ عظیم تالیف مستحق ہے۔
منیجنگ ڈائریکٹر

تصریح

کتاب کی تدوین میں بہتری کے لیے زیر نظر اشاعت میں ذیل کی تبدیلیاں کی گئی ہیں:
۱۔ کچھ آیات قرآنی کے تراجم، سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے ترجمہ قرآن مجید اشاعت اگست ۲۰۰۸ء سے تبدیل کیے گئے ہیں۔
۲۔ سید مودودیؒ نے کہیں کہیں وضاحت کے لیے، یا کسی سوال کے جواب میں کتاب ھذا کے کسی صفحے یا صفحات کے نمبر درج کیے تھے۔ زیر نظر اشاعت میں وہ نمبر کاٹ کر، مذکورہ صفحات پر درج مطلوبہ عنوان لکھ دیا گیا ہے۔
۳۔ اس سے پہلے کی اشاعتوں میں حواشی کے نمبر، ہر صفحے پر الگ الگ ہوتے تھے۔ زیر نظر اشاعت میں پوری کتاب کے حواشی کو مسلسل نمبر دیے گئے ہیں۔
۴۔ آیات قرآنی اور احادیث نبویہa کے متون اور اعراب کی تصحیح کی حتی المقدور کوشش کی گئی ہے۔
۵۔ باب تین (اعتراضات اور جوابات) میں پانچ بلا عنوان بلا نمبر اعتراضات پر عنوان اور نمبر بھی لگائے گئے ہیں۔
ہم اس کاوش کے لیے اسلامک پبلی کیشنز کے جزو قتی علمی رفیق عبدالجبار بھٹی صاحب کے مشکور ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کے علم اور صلاحیتوں میں اضافہ فرمائے اور انھیں اجرِ عظیم سے نوازے۔(آمین)
ہم اپنی جملہ تصانیف میں بہتری کے لیے معزز قارئین اور احباب کے مشوروں اور تجاویز کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں۔

دیباچہ

انکارِ سُنّت کا فتنہ اِسلامی تاریخ میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں اُٹھا تھا اور اس کے اُٹھانے والے خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں رسول اللّٰہa کی وہ سُنّت حائل تھی جس نے اس معاشرے کو ایک نظم وضبط پر قائم کیا تھا اور اس کی راہ میں حضورaکے وہ ارشادات حائل تھے جن کی موجودگی میں خوارج کے انتہا پسندانہ نظریات نہ چل سکتے تھے۔ اس بِنا پر اُنھوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سُنّت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔
معتزلہ کو اس کی ضرورت اس لیے لاحق ہوئی کہ عجمی اور یونانی فلسفوں سے پہلا سابقہ پیش آتے ہی اِسلامی عقائد اور اصول واحکام کے بارے میں جو شکوک وشبہات ذہنوں میں پیدا ہونے لگے تھے انھیں پوری طرح سمجھنے سے پہلے وہ کسی نہ کسی طرح انھیں حل کر دینا چاہتے تھے۔ خود ان فلسفوں میں ان کو وہ بصیرت حاصل نہ ہوئی تھی کہ ان کا تنقیدی جائزہ لے کر ان کی صحت وقوت جانچ سکتے۔ انھوں نے ہر اس بات کو جو فلسفے کے نام سے آئی، سراسر عقل کا تقاضا سمجھا اور یہ چاہا کہ اِسلام کے عقائد اور اصولوں کی ایسی تعبیر کی جائے جس سے وہ ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو جائیں۔ اس راہ میں پھر وہی حدیث وسُنّت مانع ہوئی،اس لیے انھوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھیرایا اور سُنّت کو حجت ماننے سے انکار کیا۔
ان دونوں فتنوں کی غرض اور ان کی ٹیکنیک مشترک تھی۔ ان کی غرض یہ تھی کہ قرآن کو اس کے لانے والے کی قولی وعملی تشریح وتوضیح سے، اور اس نظام فکر وعمل سے جو خدا کے پیغمبر نے اپنی راہ نُمائی میں قائم کر دیا تھا، الگ کرکے مجرد ایک کتاب کی حیثیت سے لے لیا جائے، اور پھر اس کی من مانی تاویلات کرکے ایک دوسرا نظام بنا ڈالا جائے جس پر اِسلام کا لیبل چسپاں ہو۔ اس غرض کے لیے جو ٹیکنیک انھوں نے اختیار کی اس کے دو حربے تھے:
٭ ایک یہ کہ احادیث کے بارے میں یہ شک دلوں میں ڈالا جائے کہ وہ فی الواقع حضورa کی ہیں بھی یا نہیں۔
٭ دوسرے: یہ اصولی سوال اُٹھایا جائے کہ کوئی قول یا فعل حضور a کا ہو بھی تو ہم اس کی اطاعت واتباع کے پابند کب ہیں۔
ان کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ محمد رسول اللّٰہ a ہم تک قرآن پہنچانے کے لیے مامور کیے گئے تھے، سو انھوں نے وہ پہنچا دیا۔ اس کے بعد محمدaبن عبداللّٰہ ویسے ہی ایک انسان تھے جیسے ہم ہیں۔ انھوں نے جو کچھ کہا اور کیا وہ ہمارے لیے حجت کیسے ہو سکتا ہے۔
یہ دونوں فتنے تھوڑی مدت چل کر اپنی موت آپ مر گئے اور تیسری صدی کے بعد پھر صدیوں تک اِسلامی دُنیا میں ان کا نام ونشان باقی نہ رہا۔ جن بڑے بڑے اسباب نے اس وقت ان فتنوں کا قلع قمع کر ڈالا، وہ حسب ذیل تھے:
۱۔ محدثین کا زبردست تحقیقی کام، جس نے مسلمانوں کے تمام سوچنے سمجھنے والے لوگوں کو مطمئن کر دیا کہ رسول اللّٰہ a کی سُنّت جن روایات سے ثابت ہوتی ہے، وہ ہرگز مشتبہ نہیں ہیں بلکہ نہایت معتبر ذرائع سے امت کو پہنچی ہیں اور ان کو مشتبہ روایات سے الگ کرنے کے لیے بہترین علمی ذرائع موجود ہیں۔
۲۔ قرآن کی تصریحات، جن سے اس زمانے کے اہل علم نے عام مسلمانوں کے سامنے یہ بات ثابت کر دی کہ دین کے نظام میں محمد رسول اللّٰہ a کی وہ حیثیت ہرگز نہیں ہے جو منکرینِ سُنّت حضورa کو دینا چاہتے ہیں۔ آپa قرآن پہنچا دینے کے لیے محض ایک نامہ برمقرر نہیں کیے گئے تھے، بلکہ آپa کو خدا نے معلم، راہ نُما، مفسر قرآن، شارعِ قانون اور قاضی وحاکم بھی مقرر کیا تھا۔ لہٰذا خود قرآن ہی کی رو سے آپa کی اطاعت وپیروی ہم پر فرض ہے اور اس سے آزاد ہو کر جو شخص قرآن کی پیروی کا دعوٰی کرتا ہے وہ دراصل قرآن کا پیرو بھی نہیں ہے۔
۳۔ منکرینِ سُنّت کی اپنی تاویلات، جن کا کھلونا قرآن کو بنا کر انھوں نے عام مسلمانوں کے سامنے یہ حقیقت بالکل برہنہ کر دی کہ سُنّتِ رسول اللّٰہa سے جب کتاب اللّٰہ کا تعلق توڑ دیا جائے تو دین کا حلیہ کس بُری طرح بگڑتا ہے، خدا کی کتاب کے ساتھ کیسے کیسے کھیل کھیلے جاتے ہیں، اور اس کی معنوی تحریف کے کیسے مضحکہ انگیز نمونے سامنے آتے ہیں۔
۴۔ امت کا اجتماعی ضمیر، جو کسی طرح یہ بات قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھا کہ مسلمان کبھی رسولa کی اطاعت وپیروی سے آزاد بھی ہو سکتا ہے۔ چند سر پھرے انسان تو ہر زمانے اور ہر قوم میں ایسے نکلتے ہیں جو بے تُکی باتوں ہی میں تُک محسوس کرتے ہوں۔ مگر پوری امت کا سر پھرا ہو جانا بہت مشکل ہے۔ عام مسلمانوں کے ذہنی سانچے میں یہ غیر معقول بات کبھی ٹھیک نہ بیٹھ سکی کہ آدمی رسولa کی رسالت پر ایمان بھی لائے اور پھر اس کی اطاعت کا قلادہ اپنی گردن سے اتار بھی پھینکے۔ ایک سیدھا سادھا مسلمان، جس کے دماغ میں ٹیڑھ نہ ہو، عملًا نافرمانی کا مرتکب تو ہو سکتا ہے، لیکن یہ عقیدہ کبھی اختیار نہیں کر سکتا کہ جس رسولa پر وہ ایمان لایا ہے اس کی اطاعت کا وہ سرے سے پابند ہی نہیں ہے۔ یہ سب سے بڑی بنیادی چیز تھی جس نے آخر کار منکرینِ سُنّت کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ اس پر مزید یہ کہ مسلمان قوم کا مزاج اتنی بڑی بدعت کو ہضم کرنے کے لیے کسی طرح تیار نہ ہو سکا کہ اس پورے نظام زندگی کو، اس کے تمام قاعدوں اور ضابطوں اور اداروں سمیت رد کر دیا جائے جو رسول اللّٰہ a کے عہد سے شروع ہو کر خلفائے راشدین، صحابہ کرام، تابعین، ائمہ مجتہدین اور فقہائے امت کی راہ نُمائی میں مسلسل ایک ہموار طریقے سے ارتقا کرتا چلا آ رہا تھا، اور اُسے چھوڑ کر آئے دن ایک نیا نظام ایسے لوگوں کے ہاتھوں بنوایا جائے جو دُنیا کے ہر فلسفے اور ہر تخیل سے متاثر ہو کر اِسلام کا ایک جدید اڈیشن نکالنا چاہتے ہوں۔
اس طرح فنا کے گھاٹ اتر کر یہ انکار سُنّت کا فتنہ کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا، یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری (انیسویں صدی عیسوی) میں وہ پھر جی اُٹھا۔ اس نے پہلا جنم عراق میں لیا تھا۔ اب یہ دوسرا جنم اس نے ہندستان میں لیا۔ یہاں اس کی ابتدا کرنے والے سر سید احمد خاں اور مولوی چراغ علی تھے۔ پھر مولوی عبداللہ چکڑالوی اس کے عَلم بردار بنے۔ اس کے بعد مولوی احمد الدین امرتسری نے اس کا بیڑا اُٹھایا۔ پھر مولانا اسلم جیراج پوری اسے لے کر آگے بڑھے اور آخر کار اس کی ریاست چودھری غلام احمد پرویز کے حصے میں آئی جنھوں نے اس کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا ہے۔
اس کی دوسری پیدائش کا سبب بھی وہی تھا جو دوسری صدی میں پہلی مرتبہ اس کی پیدائش کا سبب بنا تھا، یعنی بیرونی فلسفوں اور غیر اِسلامی تہذیبوں سے سابقہ پیش آنے پر، ذہنی شکست خوردگی میں مبتلا ہو جانا، اور تنقید کے بغیر باہر کی اُن ساری چیزوں کو سراسر تقاضائے عقل مان کر اِسلام کو ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا۔ لیکن دوسری صدی کی بہ نسبت تیرہویں صدی کے حالات بہت مختلف تھے۔ اس وقت مسلمان فاتح تھے، ان کو فوجی وسیاسی غلبہ حاصل تھا، اور جن فلسفوں سے انھیں سابقہ پیش آیا تھا، وہ مفتوح ومغلوب قوموں کے فلسفے تھے، اس وجہ سے ان کے ذہن پر ان فلسفوں کا حملہ بہت ہلکا ثابت ہوا اور بہت جلدی رد کر دیا گیا۔ اس کے برعکس تیرہویں صدی میں یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب کہ مسلمان ہر میدان میں پٹ چکے تھے، ان کے اقتدار کی اینٹ سے اینٹ بجائی جا چکی تھی، ان کے ملک پر دشمنوں کا قبضہ ہو چکا تھا، ان کو معاشی حیثیت سے بُری طرح کچل ڈالا گیا تھا، ان کا نظام تعلیم درہم برہم کر دیا گیا تھا، اور ان پر فاتح قوم نے اپنی تعلیم، اپنی تہذیب، اپنی زبان، اپنے قوانین اور اپنے اجتماعی وسیاسی اور معاشی اداروں کو پوری طرح مسلط کر دیا تھا۔ ان حالات میں جب مسلمانوں کو فاتحوں کے فلسفے اور سائنس سے اور ان کے قوانین اور تہذیبی اصولوں سے سابقہ پیش آیا تو قدیم زمانے کے معتزلہ کی بہ نسبت ہزار درجہ زیادہ سخت مرعوب ذہن رکھنے والے معتزلہ ان کے اندر پیدا ہونے لگے۔ انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ مغرب سے جو نظریات، جو افکار و تخیلات، جو اصولِ تہذیب وتمدن اور جو قوانینِ حیات آ رہے ہیں، وہ سراسر معقول ہیں، ان پر اِسلام کے نقطۂ نظر سے تنقید کرکے حق وباطل کا فیصلہ کرنا محض تاریک خیالی ہے۔ زمانے کے ساتھ چلنے کی صورت بس یہ ہے کہ اِسلام کو کسی نہ کسی طرح ان کے مطابق ڈھال دیا جائے۔
اس غرض سے جب انھوں نے اِسلام کی مرمت کرنی چاہی تو انھیں بھی وہی مشکل پیش آئی جو قدیم زمانے کے معتزلہ کو پیش آئی تھی۔ انھوں نے محسوس کیا کہ اِسلام کے نظامِ حیات کو جس چیز نے تفصیلی اور عملی صورت میں قائم کیا ہے وہ رسول اللّٰہ a کی سُنّت ہے۔ اسی سُنّت نے قرآن کی ہدایات کا مقصد ومنشا متعین کرکے مسلمانوں کے تہذیبی تصورات کی تشکیل کی ہے اور اسی نے ہر شعبۂ زندگی میں اِسلام کے عملی ادارے مضبوط بنیاد پر تعمیر کر دیئے ہیں۔ لہٰذا اِسلام کی کوئی مرمت اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ اس سُنّت سے پیچھا چھڑایا جائے۔ اس کے بعد صرف قرآن کے الفاظ رہ جاتے ہیں جن کے پیچھے نہ کوئی عملی نمونہ ہو گا، نہ کوئی مستند تعبیر وتشریح ہو گی اور نہ کسی قسم کی روایات اور نظیریں ہوں گی۔ ان کو تاویلات کا تختۂ مشق بنانا آسان ہو گا اور اس طرح اِسلام بالکل ایک موم کا گولہ بن کر رہ جائے گا جسے دُنیا کے ہر چلتے ہوئے فلسفے کے مطابق ہر روز ایک نئی صورت دی جا سکے گی۔
اس مقصد کے لیے انھوں نے پھر وہی ٹیکنیک، انھی دو حربوں کے ساتھ اختیار کیا جو قدیم زمانے میں اختیار کیا گیا، یعنی ایک طرف ان روایات کی صحت میں شک ڈالا جائے جن سے سُنّت ثابت ہوتی ہے، اور دوسری طرف سُنّت کو بجائے خود حجت وسند ہونے سے انکار کر دیا جائے لیکن یہاں پھر حالات کے فرق نے اس ٹیکنیک اور اس کے حربوں کی تفصیلی صورت میں بڑا فرق پیدا کر دیا ہے۔ قدیم زمانے میں جو لوگ اس فتنے کا علم لے کر اٹھے تھے وہ ذی علم لوگ تھے، عربی زبان وادب میں بڑا پایہ رکھتے تھے، قرآن، حدیث اور فقہ کے علوم میں کافی درک رکھتے تھے اور ان کو سابقہ بھی اس مسلمان پبلک سے تھا، جس کی علمی زبان عربی تھی، جس میں عام لوگوں کا تعلیمی معیار بہت بلند تھا، جس میں علوم دینی کے ماہرین بہت بڑی تعداد میں ہر طرف پھیلے ہوئے تھے اور ایسی پبلک کے سامنے کوئی کچی پکی بات لا کر ڈال دینے سے خود اس شخص کی ہوا خیزی ہو جانے کا خطرہ تھا جو ایسی بات لے کر آئے۔ اسی وجہ سے قدیم زمانے کے معتزلہ بہت سنبھل کر بات کرتے تھے۔ اس کے برعکس ہمارے دور میں جو لوگ اس فتنے کو ہوا دینے کے لیے اٹھے ہیں ان کا اپنا علمی پایہ بھی سرسید کے زمانے سے لے کر آج تک درجہ بدرجہ ایک دوسرے سے فروتر ہوتا چلا گیا ہے، اور ان کو سابقہ بھی ایسی پبلک سے پیش آیا ہے جس میں عربی زبان اور دینی علوم جاننے والے کا نام ’’تعلیم یافتہ‘‘ نہیں ہے اور ’’تعلیم یافتہ‘‘ اس شخص کا نام ہے جو دُنیا میں اور چاہے سب کچھ جانتا ہو، مگر قرآن پر بہت مہربانی کرے تو کبھی کبھار اس کو ترجموں… اور وہ بھی انگریزی ترجموں … کی مدد سے پڑھ لے، حدیث اور فقہ کے متعلق حد سے حد کچھ سنی سنائی معلومات … اور وہ بھی مستشرقین کی پہنچائی ہوئی معلومات … پر اکتفا کرے، اِسلامی روایات پر زیادہ سے زیادہ ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈال لے اور وہ بھی اس حیثیت سے کہ یہ کچھ بوسیدہ ہڈیوں کا مجموعہ ہے جسے ٹھکرا کر زمانہ بہت آگے نکل چکا ہے۔ پھر اس ذخیرۂ علم دین کے بل بوتے پر وہ اس زعم میں مبتلا ہو کہ اِسلام کے بارے میں آخری اور فیصلہ کُن رائیں قائم کرنے کی وہ پوری اہلیت اپنے اندر رکھتا ہے۔ ایسے حالات میں پرانے اعتزال کی بہ نسبت نئے اعتزال کا معیار جیسا کچھ گھٹیا ہو سکتا ہے ظاہر ہے یہاں علم کم اور بے علمی کی جسارت بہت زیادہ ہے۔ اب جو ٹیکنیک اس فتنے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے، اس کے اہم اجزا یہ ہیں:
۱۔ حدیث کو مشتبہ ثابت کرنے کے لیے مغربی مستشرقین نے جتنے حربے استعمال کیے ہیں اُن پر ایمان لانا اور اپنی طرف سے حواشی کا اضافہ کرکے انھیں عام مسلمانوں میں پھیلا دینا تاکہ ناواقف لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جائیں کہ رسول اللّٰہ a سے قرآن کے سوا کوئی چیز بھی امت کو قابل اعتماد ذرائع سے نہیں ملی ہے۔
۲۔ احادیث کے مجموعوں کو عیب چینی کی غرض سے کھنگالنا … ٹھیک اسی طرح جیسے آریہ سماجیوں اور عیسائی مشنریوں نے کبھی قرآن کو کھنگالا تھا … اور ایسی چیزیں نکال نکال کر، بلکہ بنا بنا کر عوام کے سامنے پیش کرنا، جن سے یہ تاثر دیا جا سکے کہ حدیث کی کتابیں نہایت شرم ناک یا مضحکہ خیز مواد سے لبریز ہیں، پھر آنکھوں میں آنسو بھر کر یہ اپیل کرنا کہ اِسلام کو رسوائی سے بچانا ہے تو اس سارے دفتر بے معنی کو غرق کر دو۔
۳ رسول اللّٰہ a کے منصب رسالت کو محض ایک ڈاکیے کا منصب قرار دینا جس کا کام بس اس قدر تھا کہ لوگوں کو قرآن پہنچا دے۔
۴۔ صرف قرآن کو اِسلامی قانون کا ماخذ قرار دینا اور سُنّت رسولa کو اِسلام کے قانونی نظام سے خارج کر دینا۔
۵۔ امت کے تمام فقہا، محدثین، مفسرین اور ائمہ لغت کو ساقط الاعتبار قرار دینا تاکہ مسلمان قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے ان کی طرف رجوع نہ کریں، بلکہ ان کے متعلق اس غلط فہمی میں پڑ جائیں کہ ان سب نے قرآن کی حقیقی تعلیمات پر پردے ڈالنے کے لیے ایک سازش کر رکھی تھی۔
۶۔ خود ایک نئی لغت تصنیف کرکے قرآن کی تمام اصطلاحات کے معنی بدل ڈالنا اور آیات قرآنی کو وہ معانی پہنانا جن کی کوئی گنجائش دُنیا کے کسی عربی دان آدمی کو قرآن کے الفاظ میں نظر نہ آئے۔ (لطف یہ ہے کہ جو صاحب یہ کام کر رہے ہیں ان کے سامنے اگر قرآن کی چند آیتیں اعراب کے بغیر لکھ کر رکھ دی جائیں تو وہ انھیں صحیح پڑھ بھی نہیں سکتے۔ لیکن ان کا دعوٰی یہ ہے کہ اب خود عرب بھی عربی نہیں جانتے، اس لیے اگر ان کے بیان کردہ معنوں کی گنجائش کسی عرب کو قرآن کے الفاظ میں نظر نہ آئے تو قصور اس عرب ہی کا ہے)
اس تخریبی کام کے ساتھ ساتھ ایک نئے اِسلام کی تعبیر بھی ہو رہی ہے جس کے بنیادی اصول تعداد میں صرف تین ہیں، مگر دیکھیے کہ کیسے بے نظیر اصول ہیں:
(i) اس کا پہلا اصول یہ ہے کہ تمام شخصی املاک کو ختم کرکے ایک مرکزی حکومت کے تصرف میں دے دیا جائے اور وہی حکومت افراد کے درمیان تقسیمِ رزق کی مختار کل ہو۔ اس کا نام ہے نظام ربوبیت اور کہا جاتا ہے کہ قرآن کا اصل مقصود یہی نظام قائم کرنا تھا، مگر پچھلے تیرہ سو سال میں کسی کو اسے سمجھنے کی توفیق میسر نہ ہوئی، صرف حضرت مارکس اور ان کے خلیفۂ خاص حضرت اینجلز قرآن کے اس مقصدِ اصل کو پا سکے۔
(ii) اس کا دوسرا اصول یہ ہے کہ تمام پارٹیاں اور جماعتیں توڑ دی جائیں اور مسلمانوں کو قطعًا کوئی جماعت بنانے کی اجازت نہ دی جائے، تاکہ وہ معاشی حیثیت سے بے بس ہو جانے کے باوجود اگر مرکزی حکومت کے کسی فیصلے کی مزاحمت کرنا چاہیں تو غیر منظم ہونے کی وجہ سے نہ کر سکیں۔
(iii) اس کا تیسرا اصول یہ ہے کہ قرآن میں جس ’’اللّٰہ اور رسول‘‘ پر ایمان لانے، اور جس کی اطاعت بجا لانے، اور جسے آخری سند تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس سے مراد ہے ’’مرکزِ ملت‘‘۔ یہ مرکزِ ملت چوں کہ خود ’’اللّٰہ اور رسول‘‘ ہے، اس لیے قرآن کو جو معنی وہ پہنائے وہی اس کے اصل معنی ہیں۔ اس کے حکم یا قانون کے متعلق یہ سوال سرے سے اُٹھایا ہی نہیں جا سکتا کہ وہ قرآن کے خلاف ہے۔ جو کچھ وہ حرام کرے وہ حرام اور جو کچھ وہ حلال کرے وہ حلال۔ اس کا فرمان شریعت ہے اور عبادات سے لے کر معاملات تک جس چیز کی جو شکل بھی وہ تجویز کرے اس کا ماننا فرض، بلکہ شرط اِسلام ہے۔ جس طرح بادشاہ غلطی نہیں کر سکتا، اسی طرح ’’مرکزِ ملت‘‘ بھی سُبّوح وقدوس ہے۔ لوگوں کا کام اس کے سامنے بس سر جھکا دینا ہے۔اللّٰہ اور رسول مرکزِ ملت نہ تنقید کے ہدف بن سکتے ہیں، نہ ان کے خطا کار ہونے کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے، اور نہ ان کو بدلا ہی جا سکتا ہے۔
اس نئے اِسلام کے ’’نظام ربوبیت‘‘ پر ایمان لانے والے تو ابھی بہت کم ہیں لیکن اس کے باقی تمام تعمیری اور تخریبی اجزا چند مخصوص حلقوں میں بڑے مقبول ہو رہے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کے لیے اس کا تصور ’’مرکزِ ملت‘‘ بہت اپیل کرنے والا ہے۔ اس لازمی شرط کے ساتھ کہ مرکزِ ملت وہ خود ہوں اور یہ خیال بھی انھیں بہت پسند آتا ہے کہ تمام ذرائع ان کے تصرف میں ہوں اور قوم پوری طرح غیر منظم ہو کر ان کی مٹھی میں آ جائے۔ ہمارے ججوں اور قانون پیشہ لوگوں کا ایک عنصر اسے اس لیے پسند کرتا ہے کہ انگریزی حکومت کے دور میں جس قانونی نظام کی تعلیم وتربیت انھوں نے پائی ہے، اس کے اصولوں اور بنیادی تصورات ونظریات اور جزئی وفروعی احکام سے اِسلام کا معروف قانونی نظام قدم قدم پر ٹکراتا ہے اور اس کے مآخذ تک بھی ان کی دسترس نہیں ہے، اس بِنا پر وہ اس خیال کو بہت پسند کرتے ہیں کہ سُنّت اور فقہ کے جھنجھٹ سے انھیں نجات مل جائے اور صرف قرآن باقی رہ جائے جس کی تاویل کرنا جدید لغت کی مدد سے اب اور بھی زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام مغربیت زدہ لوگوں کو یہ مسلک اپنی طرف کھینچ رہا ہے کیوں کہ اِسلام سے نکل کر مسلمان رہنے کا اس سے زیادہ اچھا نسخہ ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا ہے۔ آخر اس سے زیادہ مزے کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ جو کچھ مغرب میں حلال اور ’’ملا کے اِسلام‘‘ میں آج تک حرام ہے وہ حلال بھی ہو جائے اور قرآن کی سند ان حلال کرنے والوں کے ہاتھ میں ہو۔
میں پچھلے پچیس چھبیس سال میں اس فتنے کی تردید کے لیے بہت سے مضامین لکھ چکا ہوں جو میری متعدد کتابوں میں درج ہیں۔اس وقت جن مضامین کا مجموعہ شائع کیا جا رہا ہے، وہ دوحصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں وہ پوری مراسلت یکجا درج کر دی گئی ہے جو سُنّت کی آئینی حیثیت کے بارے میں میرے اور ڈاکٹر عبدالودود صاحب کے درمیان ہوئی تھی۔ دوسرے حصے میں مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے ایک رکن جسٹس محمد شفیع صاحب کا ایک فیصلہ نقل کیا جا رہا ہے جو انھوں نے ۲۱؍ جولائی ۱۹۶۰ء کو مقدمۂ رشیدہ بیگم بنام شہاب دین وغیرہ میں صادر فرمایا ہے، اور میں نے اس پر مفصل تنقید کی ہے۔ ان دونوں حصوں میں ناظرین ایک طرف منکرین سُنّت کے تمام مسائل اور دلائل ان کی اپنی زبان میں ملاحظہ فرما لیں گے اور دوسری طرف انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ دین کے نظام میں سُنّت کی اصل حیثیت کیا ہے۔ اس کے بعد یہ رائے قائم کرنا ہر شخص کا اپنا کام ہے کہ وہ کس مسلک کو قبول کرتا ہے۔
جن حضرات تک یہ مجموعۂ مضامین پہنچے ان سے میں ایک خاص گزارش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ بحث دین کے ایک نہایت اہم بنیادی مسئلے سے تعلق رکھتی ہے جس میں کسی ایک پہلو کو ترک اور دوسرے کو اختیار کرنے کے نتائج بڑے دور رس ہیں۔ بدقسمتی سے دین کی اساس کے متعلق یہ بحث ہمارے ملک میں نہ صرف چھڑ چکی ہے بلکہ ایک نازک صورت اختیار کر چکی ہے۔ ہمارے اربابِ اقتدار کا ایک معتدبہ عنصر انکارِ سُنّت کے مسلک سے متاثر ہو رہا ہے۔ ہماری اعلیٰ عدالتوں کے جج اس کا اثر قبول کر رہے ہیں۔ حتّٰی کہ ہائی کورٹ سے ایک فیصلہ کلیۃً انکارِ سُنّت کی بنیاد پر صادر ہو چکا ہے جو آگے نہ معلوم اور کن کن مقدمات میں نظیر کا کام دے۔ ہمارے تعلیم یافتہ لوگوں میں، اور خصوصاً سرکاری دفتروں میں یہ تحریک منظم طریقے سے چل رہی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ جن حضرات تک بھی یہ مجموعہ پہنچے وہ نہ صرف خود گہری نگاہ سے اس کا مطالعہ فرمائیں، بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس کے مطالعے کی طرف توجہ دلائیں۔ قطع نظر اس سے کہ وہ سُنّت کے قائل ہوں یا منکر۔ رائے جو شخص جیسی بھی چاہے، قائم کرے، مگر کسی پڑھے لکھے آدمی کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ محض یک رخے مطالعے پر اپنا ایک ذہن بنا لے اور دوسرا رخ دیکھنے سے انکار کر دے۔ اس مجموعے میں چوں کہ دونوں رخ پوری وضاحت کے ساتھ آ گئے ہیں اس لیے امید ہے کہ یہ قائلینِ سُنّت اور منکرینِ سُنّت، دونوں کو ایک متوازن رائے قائم کرنے میں مدد دے گا۔
خاکسار
ابو الاعلیٰ
لاہور۔۳۰ جولائی ۱۹۶۱ء

باب اوّل: سُنّت کی آئینی حیثیت

ایک اَہم مراسلت
ذیل میں وہ مراسلت درج کی جا رہی ہے جو بزم طلوع اِسلام کے ایک نمایاں فرد جناب ڈاکٹر عبدالودود صاحب اور مصنف کے درمیان سُنّت کو اِسلام کے آئین کی بنیاد ماننے کے مسئلے پر ہوئی تھی۔

ڈاکٹر صاحب کا پہلا خط

مخدوم ومحترم مولانا! دام ظلکم
السلام علیکم۔ دستوری تدوین کے اس فیصلہ کن مرحلے پر ہر سچے مسلمان کی دینی امنگوں کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ پاکستان کا آئین اِسلام کی مستقل اقدار کی اساس پر ترتیب وتکمیل پائے۔ اس سلسلے میں آئین کمیشن کے سوالنامے کے جواب میں آپ اور دیگر حضرات کرام کا یہ متفقہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ آئین پاکستان کی بنیاد ’’کتاب وسُنّت‘‘ پر ہونی چاہیے۔ مجھے نہ تو ’’سُنّت‘‘ کی حقیقی اہمیت سے مجال انکار ہے اور نہ اس کی اس اہمیت کو ختم کرنا مقصود، لیکن جب اِسلامی آئین کی اساس کے طور پر سُنّت کا ذکر کیا جاتا ہے تو ایک اشکال ذہن میں لازمًا پیدا ہوتا ہے اور اس سے جو سوال ابھرتے ہیں، میں انھیں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ اوّلین فرصت میں اس اشکال کا حل تحریر فرمائیں گے۔ سوالات حسب ذیل ہیں:
۱۔ آپ کے نزدیک سُنّت سے کیا مراد ہے؟ یعنی جس طرح کتاب سے مراد قرآن مجید ہے اسی طرح سُنّت (یعنی سُنّت رسول اللّٰہ a) سے کیا مراد ہے؟
۲۔ کیا (قرآن کی طرح) ہمارے ہاں ایسی کوئی کتاب موجود ہے جس میں سُنّت رسول اللّٰہa مرتب شکل میں موجود ہو؟ یعنی قرآن کی طرح اس کی کوئی جامع و مانع کتاب ہے؟
۳۔ کیا سُنّت رسول اللّٰہa کی اس کتاب کا متن تمام مسلمانوں کے نزدیک اسی طرح متفق علیہ ہے اور شک وتنقید سے بالاتر ہے جس طرح قرآن کا متن؟
۴۔ اگر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں تو پھر جس طرح یہ بآسانی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ فلاں فقرہ قرآن مجید کی آیت ہے اسی طرح یہ کیوں کر معلوم کیا جائے گا کہ فلاں بات سُنّت رسول اللّٰہa ہے یا نہیں۔
میں آپ کو یقین دلا دوں کہ جہاں تک اِسلامی آئین کی ضرورت کا تعلق ہے میں قلب ونظر کی پوری ہم آہنگی سے اسے ایک مسلمان کی زندگی کا نصب العین قرار دیتا ہوں۔ میری ان مخلصانہ گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ اِسلامی آئین کا مطالبہ کرتے ہوئے اِسلام پسند ذہنوں میں اس کا ایک واضح، متفق علیہ اور ممکن العمل تصور موجود ہو، تاکہ ملک کا لادینی ذہن جو پوری شدت سے اِسلامی آئین کے خلاف مصروفِ کار ہے، اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اِسلام پسند عناصر میں انتشار کی صورت پیدا نہ کر سکے۔ چوں کہ آئین کے سلسلے میں عام لوگوں کے ذہن میں ایک پریشانی سی پائی جاتی ہے، اس لیے اگر عوام کی آگاہی کے لیے آپ کے موصولہ جواب کو شائع کر دیا جائے تو مجھے امید ہے کہ آپ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
والسلام
نیاز آگیں: عبدالودود

جواب

مکرمی، السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ
عنایت نامہ مورخہ ۲۱؍ مئی ۱۹۶۰ء وصول ہوا۔ آپ نے جو سوالات کیے ہیں۔ وہ آج پہلی مرتبہ آپ نے پیش نہیں کیے ہیں۔ اس سے پہلے یہی سوالات دوسرے گوشوں سے آ چکے ہیں اور ان کا جواب بھی واضح طور پر میں دے چکا ہوں۔ ایک ہی طرح کے سوالات کا مختلف گوشوں سے بار بار دہرایا جانا اور پہلے کے دئیے ہوئے جوابات کو ہمیشہ نظر انداز کر دینا کوئی صحیح بات نہیں ہے۔ اگر بالفرض آپ کے علم میں میرے وہ جوابات نہیں ہیں جو میں اب سے بہت پہلے دے چکا ہوں تو میں اب آپ کو ان کا حوالہ دیے دیتا ہوں (ملاحظہ ہو: ترجمان القرآن، جنوری ۱۹۵۸ء، ص ۲۰۹ تا ۲۲۰، دسمبر ۱۹۵۸ء ص ۱۶۰ تا ۱۷۰)۔ آپ انھیں پڑھ کر مجھے تفصیل کے ساتھ بتائیں کہ آپ کے سوالات میں سے کس سوال کا جواب ان میں نہیں ہے اور جن سوالات کا جواب موجود ہے، اس پر آپ کو کیا اعتراض ہے۔
اگر آپ اپنے اس عنایت نامے کے ساتھ میرے اس جواب کو شائع کرنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہوں تو براہِ کرم میرے مذکورہ بالا دونوں مضامین بھی بجنسہٖ شائع فرما دیں کیوں کہ دراصل وہی میری طرف سے آپ کے ان سوالات کا جواب ہیں۔ اس لیے آپ یہ نہیں کَہہ سکتے کہ میں نے آپ کو جواب دینے سے پہلو تہی کی ہے۔
خاکسار
ابو الاعلیٰ

ڈاکٹر صاحب کا دوسرا خط

مولانائے محترم! زید مجدکم
السلام علیکم۔ گرامی نامہ ملا جس کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ مجھے اس کا علم ہے کہ اس قسم کے سوالات اس سے پہلے بھی کئی گوشوں سے کیے گئے ہیں۔ لیکن مجھے خاص طور پر استفسار کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ میری نظر سے ان سوالات کے ایسے جوابات آج تک نہیں گزرے جو متعین اور واضح ہوں۔
آپ نے اپنے جن مضامین کی نشاندہی فرمائی ہے، میں نے انھیں دیکھا ہے لیکن مجھے بڑے افسوس سے یہ عرض کرنے دیجیے کہ ان سے بھی میرے سوالات کا متعین جواب نہیں مل سکا بلکہ ان سے میری الجھن بڑھ گئی ہے، اس لیے کہ ان میں کئی باتیں ایسی ہیں جو آپ کی دوسری تحریروں سے مختلف ہیں۔ بہرحال چوں کہ میرا مقصد مناظرہ بازی نہیں (اور نہ آپ کے احترام کے پیش نظر میں ایسی جرأت کر سکتا ہوں) بلکہ محض بات کا سمجھنا ہے اس لیے جو کچھ میں آپ کے مضامین سے سمجھ سکا ہوں، اسے نیچے لکھتا ہوں۔ اگر میں نے مفہوم کو صحیح سمجھا ہے تو توثیق فرما دیجیے اور اگر غلط سمجھا ہے تو براہِ کرم! اس کی تصریح کر دیجیے۔ اس کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں گا۔
۱۔ آپ نے فرمایا ہے کہ نبی اکرم (a) نے ۲۳ برس کی پیغمبرانہ زندگی میں قرآن مجید کی تشریح کرتے ہوئے جو کچھ فرمایا، یا عملًا کیا اُسے سُنّت رسول اللّٰہa کہتے ہیں۔ اس سے دو نتیجے نکلتے ہیں:
الف۔ رسول اللّٰہ (a) نے اس ۲۳ سالہ زندگی میں جو باتیں اپنی شخصی حیثیت سے ارشاد فرمائیں، یا عملًا کیں وہ سُنّت میں داخل نہیں۔
ب۔ سُنّت قرآنی احکام واصول کی تشریح ہے۔ قرآن کے علاوہ دین کے اصول یا احکام تجویز نہیں کرتی اور نہ ہی سُنّت قرآن کے کسی حکم کو منسوخ کر سکتی ہے۔
۲۔ آپ نے فرمایا ہے کہ کوئی کتاب ایسی نہیں کہ جس میں سُنّت رسول اللّٰہa بہ تمام وکمال درج ہو اور جس کا متن قرآن کے متن کی طرح تمام مسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ ہو۔
۳۔ آپ نے فرمایا ہے کہ احادیث کے موجودہ مجموعوں سے صحیح احادیث کو الگ کیا جائے گا۔ اس کے لیے روایات کو جانچنے کے جو اصول پہلے سے مقرر ہیں وہ حرف آخر نہیں۔ اصول روایات کے علاوہ درایت سے بھی کام لیا جائے گا اور درایت انھی لوگوں کی معتبر ہو گی جن میں علوم اِسلامی کے مطالعے سے ایک تجربہ کار جوہری کی بصیرت پیدا ہو چکی ہو۔
۴۔ احادیث کے اس طرح پرکھنے کے بعد بھی یہ نہیں کہا جا سکے گا کہ یہ اسی طرح کلام رسولa ہیں جس طرح قرآن کی آیات، اللّٰہ کا کلام۔
مجھے آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔
والسلام
نیاز آگیں:
عبدالودود

جواب

محترمی ومکرمی، السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ
آپ کا عنایت نامہ مورخہ ۲۴؍مئی ۶۰ء ڈاک سے مل چکا تھا۔ اس کے بعد آپ نے دوبارہ ۲۸؍ مئی کو دستی بھی اس کی ایک نقل مجھے ارسال فرما دی لیکن میں مسلسل مصروفیت کے باعث اب تک جواب نہ دے سکا جس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔
مجھے مسرت ہے کہ آپ نے اپنے اس عنایت نامے میں یہ یقین دلایا ہے کہ آپ کا مقصد اس مراسلت سے کوئی مناظرہ بازی نہیں ہے بلکہ آپ بات سمجھنا چاہتے ہیں۔ میں آپ جیسے شخص سے اسی چیز کا متوقع بھی تھا۔ لیکن جو طریقہ آپ نے اپنی مراسلت میں بات سمجھنے کے لیے اختیار فرمایا ہے وہ اس یقین دہانی کے ساتھ کچھ مطابقت رکھتا ہوا کم از کم مجھے تو محسوس نہیں ہوتا۔ آپ ذرا اپنا ۲۱ مئی کا خط نکال کرملاحظہ فرمائیں، اس میں آپ نے ۴ متعین سوالات میرے سامنے پیش کرکے ان کا جواب مانگا تھا۔ میں نے اسی تاریخ کو اس خط کے جواب میں آپ کو لکھا کہ’’ آپ جنوری ۵۸ء اور دسمبر ۵۸ء کے ترجمان القرآن میں میرے فلاں فلاں مضامین ملاحظہ فرما کرمجھے تفصیل کے ساتھ بتائیں کہ آپ کے سوالات میں سے کس سوال کا جواب ان میں نہیں ہے اور جن سوالات کا جواب موجود ہے اس پرآپ کو کیا اعتراض ہے‘‘۔ لیکن آپ نے ان مضامین کو ملاحظہ فرما کر اپنے ابتدائی سوالات کی روشنی میں ان پرکوئی کلام کرنے کے بجائے کچھ اور سوالات ان پر قائم کر دیے اور اب آپ چاہتے ہیں کہ میں ان کا جواب دوں۔ کیا واقعی یہی کسی بات کو سمجھنے کا طریقہ ہے کہ ایک بحث کو طے کرنے سے پہلے دوسری بحث چھیڑ دی جائے اور بلا نہایت اسی طرح بات میں سے بات نکالنے کا سلسلہ چلتا رہے؟
آپ کے نئے سوالات پر گفتگو کرنے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے ابتدائی سوالات کی طرف پلٹیں اور خود دیکھیں کہ ان میں سے ایک ایک کا میرے ان مضامین میں کیا جواب آپ کو ملا تھا اور آپ نے اس سے کس طرح گریز کیا ہے۔

سُنّت کیا چیز ہے؟

آپ نے چار سوالات اس بِنا پر اُٹھائے تھے کہ ہم نے آئین کمیشن کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ’’اِسلامی آئین کی اساس کے طور پر سُنّت کا ذکر کیا ہے۔‘‘ دوسرے الفاظ میں آپ کے یہ سوالات سُنّت کی قانونی حیثیت سے متعلق تھے۔ اس سلسلے میں آپ کا پہلا سوال یہ تھا:
آپ کے نزدیک سُنّت سے کیا مراد ہے؟ یعنی جس طرح ’’کتاب‘‘ سے مراد قرآن ہے اسی طرح سُنّت (یعنی سُنّتِ رسول اللّٰہa ) سے کیا مراد ہے؟
اس کے جو جوابات میرے مذکورہ بالا مضامین میں آپ کے سامنے آئے وہ یہ ہیں:
یہی محمدی تعلیم وہ بالاتر قانون (supreme law) ہے جو حاکم اعلیٰ (یعنی اللّٰہ تعالیٰ) کی مرضی کی نمایندگی کرتا ہے۔ یہ قانون محمد a سے ہم کو دو شکلوں میں ملا ہے۔ ایک: قرآن، جو لفظ بلفظ خداوندِ عالَم کے احکام وہدایات پر مشتمل ہے۔ دوسرے: محمد a کا اسوۂ حسنہ، یا آپ کی سُنّت، جو قرآن کے منشا کی توضیح وتشریح کرتی ہے۔ محمد a خدا کے محض نامہ بر نہیں تھے کہ اس کی کتاب پہنچا دینے کے سوا ان کا کوئی کام نہ ہوتا۔ وہ اس کے مقرر کیے ہوئے راہ نُما، حاکم اور معلم بھی تھے۔ ان کا کام یہ تھا کہ اپنے قول اور عمل سے قانونِ الٰہی کی تشریح کریں، اس کا صحیح منشا سمجھائیں، اس کے منشا کے مطابق افراد کی تربیت کریں، پھر تربیت یافتہ افراد کو ایک منظم جماعت کی شکل دے کر معاشرے کی اصلاح کے لیے جدوجہد کریں، پھر اصلاح شدہ معاشرے کو ایک صالح ومصلح ریاست کی صورت دے کر یہ دکھا دیں کہ اِسلام کے اصولوں پر مکمل تہذیب کا نظام کس طرح قائم ہوتا ہے۔ آں حضرتa کا یہ پورا کام، جو ۲۳ سال کی پیغمبرانہ زندگی میں آپa نے انجام دیا، وہ سُنّت ہے جو قرآن کے ساتھ مل کر حاکمِ اعلیٰ کے قانونِ برتر کی تشکیل وتکمیل کرتی ہے اور اسی قانونِ برتر کا نام اِسلامی اصطلاح میں شریعت ہے۔
(ترجمان القرآن، جنوری ۱۹۵۸ء، ص ۲۱۰۔۲۱۱)
یہ ایک ناقابلِ انکار تاریخی حقیقت ہے کہ محمدa نے نبوت پر سرفراز ہونے کے بعد اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے صرف قرآن پہنچا دینے پر اکتفا نہیں کیا تھا، بلکہ ایک ہمہ گیر تحریک کی راہ نُمائی بھی کی تھی جس کے نتیجے میں ایک مسلم سوسائٹی پیدا ہوئی، ایک نیا نظامِ تہذیب وتمدن وجود میں آیا اور ایک ریاست قائم ہوئی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن پہنچانے کے سوا یہ دوسرے کام جو محمد a نے کیے یہ آخر کس حیثیت سے تھے؟ آیا یہ نبی کی حیثیت سے تھے جس میں آپ اسی طرح خدا کی مرضی کی نمایندگی کرتے تھے جس طرح کہ قرآن؟ یا آپa کی پیغمبرانہ حیثیت قرآن سنا دینے کے بعد ختم ہو جاتی تھی اور اس کے بعد آپ عام مسلمانوں کی طرح ایک مسلمان رہ جاتے تھے جس کا قول وفعل اپنے اندر بجائے خود کوئی قانونی سند وحجت نہیں رکھتا؟ پہلی بات تسلیم کی جائے تو سُنّت کو قرآن کے ساتھ قانونی سند وحجت ملنے کے سوا چارہ نہیں رہتا۔ البتہ دوسری صورت میں اسے قانون قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔
جہاں تک قرآن کا تعلق ہے وہ اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ محمدaصرف نامہ بر نہیں تھے، بلکہ خدا کی طرف سے مقرر کیے ہوئے رہبر، حاکم اور معلم بھی تھے جن کی پیروی واطاعت مسلمانوں پر لازم تھی اور جن کی زندگی کو تمام اہلِ ایمان کے لیے نمونہ قرار دیا گیا تھا۔ جہاں تک عقل کا تعلق ہے وہ یہ ماننے سے انکار کرتی ہے کہ ایک نبی صرف خدا کا کلام پڑھ کر سنا دینے کی حد تک تو نبی ہو اور اس کے بعد وہ محض ایک عام آدمی رہ جائے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے وہ آغازِ اِسلام سے آج تک بالاتفاق ہر زمانے میں اور تمام دُنیا میں محمدa کو نمونہ واجب الاتباع اور ان کے امرونہی کو واجب الاطاعت مانتے رہے ہیں۔ حتّٰی کہ کوئی غیر مسلم عالِم بھی اس امرِ واقعی سے انکار نہیں کر سکتا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ آں حضرت a کی یہی حیثیت مانی ہے اور اسی بِنا پر اِسلام کے قانونی نظام میں سُنّت کو قرآن کے ساتھ دوسرا ماخذ قانون تسلیم کیا گیا ہے۔ اب میں نہیں جانتا کہ کوئی شخص سُنّت کی اس قانونی حیثیت کو کیسے چیلنج کر سکتا ہے جب تک وہ صاف صاف یہ نہ کہے کہ محمد a صرف تلاوتِ قرآن کی حد تک نبی تھے اور یہ کام کر دینے کے ساتھ ہی ان کی حیثیت نبوی ختم ہوجاتی تھی۔ پھر اگر وہ ایسا دعوٰی کرے بھی تو اسے بتانا ہو گا کہ یہ مرتبہ وہ آں حضرتa کو بطور خود دے رہا ہے یا قرآن نے حضورa کو یہی مرتبہ دیا ہے؟ پہلی صورت میں اس کے قول کو اِسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ دوسری صورت میں اسے قرآن سے اپنے دعوے کا ثبوت پیش کرنا ہو گا۔
(ترجمان القرآن، جنوری ۱۹۵۸ء، ص ۲۱۶۔۲۱۷)
اب آپ فرمائیں کہ آپ کو اپنے اس سوال کا جواب ملا یا نہیں کہ ’’سُنّت سے مراد کیا ہے؟‘‘ اور آپ کو یہ معلوم ہوا یا نہیں کہ اِسلامی آئین کی اساس کے طور پر جس سُنّت کا ذکر کیا جاتا ہے وہ کیا چیز ہے؟ دوسرے سوالات چھیڑنے سے پہلے آپ کو یہ بات صاف کرنی چاہیے تھی کہ آیا آپ کے نزدیک رسول اللّٰہ a نے قرآن پڑھ کر سنا دینے کے سوا دُنیا میں اور کوئی کام کیا ہے یا نہیں؟ اگر کیا ہے تو وہ کس حیثیت میں تھا؟ اگر آپ کی رائے میں یہ کام کر دینے کے بعد آں حضرتa صرف ایک مسلمان تھے عام مسلمانوں کی طرح، اور ان زائد از تلاوتِ قرآن اقوال وافعال میں، آں حضرتa کی حیثیت ایک نبی کی نہ تھی تو صاف صاف یہ بات کہیے اور یہ بھی بتائیے کہ آپ کی اس رائے کا ماخذ کیا ہے؟ یہ آپ کے اپنے ذہن کی پیداوار ہے یا قرآن سے اس کا ثبوت ملتا ہے؟ اور اگر آپ یہ بات مانتے ہیں کہ خدا کے مقرر کردہ ہادی، حاکم، قاضی، معلم، مربی کی حیثیت سے آں حضورa نے ایک مسلم معاشرہ تیار کرنے اور ایک ریاست کا نظام بنا کر اور چلا کر دکھانے کا جو کارنامہ انجام دیا اس میں آپa کی حیثیت ایک نبی کی تھی تو یہ وہی سُنّت ہے یا نہیں جسے اِسلام میں آئین کی اساس کا مرتبہ حاصل ہونا چاہیے؟ یہ بحث بعد کی ہے کہ اس سُنّت کا اطلاق کن چیزوں پر ہوتا ہے اور کن پر نہیں ہوتا۔ پہلے تو آپ یہ بات صاف کریں کہ قرآن کے علاوہ سُنّت رسولa بجائے خود کوئی چیز ہے یا نہیں؟ اور اس کو آپ قرآن کے ساتھ ماخذِ قانون مانتے ہیں یا نہیں؟ اور نہیں مانتے تو اس کی دلیل کیا ہے؟ یہ بنیادی بات جب تک صاف نہ ہو لے، ان ضمنی سوالات پر جو آپ نے اپنے دوسرے عنایت نامے میں چھیڑے ہیں، بحث کرنے کا آخر فائدہ کیا ہے؟

سُنّت کس شکل میں موجود ہے؟

آپ کا دوسرا سوال یہ تھا:
کیا قرآن کی طرح ہمارے ہاں ایسی کوئی کتاب موجود ہے جس میں سُنّتِ رسول اللّٰہa مرتب شکل میں موجود ہو، یعنی قرآن کی طرح اس کی کوئی جامع ومانع کتاب ہے؟
اس سوال کا جو جواب میرے محولہ بالا مضامین میں موجود تھااور اگر آپ نے ان کو بغور پڑھا ہے تو آپ کے سامنے بھی وہ آیا ہو گا، اسے مَیں پھریہاں نقل کیے دیتا ہوں، تاکہ جب نہیں تو اَب آپ اُسے ملاحظہ فرما لیں:
سُنّت کو بجائے خود مآخذ قانون تسلیم کرنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے معلوم کرنے کا ذریعہ کیا ہے۔ مَیں اس کے جواب میں عرض کروں گا کہ آج پونے چودہ سو سال گزر جانے کے بعد پہلی مرتبہ ہم کو اس سوال سے سابقہ پیش نہیں آ گیا ہے کہ ڈیڑھ ہزار سال قبل جو نبوت مبعوث ہوئی تھی اس نے کیا سُنّت چھوڑی تھی۔ دو تاریخی حقیقتیں ناقابل انکار ہیں:
۱۔ ایک یہ کہ قرآن کی تعلیم اور محمد a کی سُنّت پر جو معاشرہ اِسلام کے آغاز میں پہلے دن قائم ہوا تھا وہ اس وقت سے آج تک مسلسل زندہ ہے، اس کی زندگی میں ایک دن کا انقطاع بھی واقع نہیں ہوا ہے اور اس کے تمام ادارے اس ساری مدت میں پیہم کام کرتے رہے ہیں۔ آج تمام دُنیا کے مسلمانوں میں عقائد اور طرز فکر، اخلاق اور اقدار (values)، عبادات اور معاملات، نظریہ حیات اور طریق حیات کے اعتبار سے جو گہری مماثلت پائی جاتی ہے، جس میں اختلاف کی بہ نسبت ہم آہنگی کا عنصر بہت زیادہ موجود ہے، جو اُن کو تمام روئے زمین پر منتشر ہونے کے باوجود ایک امت بنائے رکھنے کی سب سے بڑی بنیادی وجہ ہے۔ یہی امر اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ اس معاشرے کو کسی ایک ہی سُنّت پر قائم کیا گیا تھا اور وہ سُنّت ان طویل صدیوں کے دوران میں مسلسل جاری ہے۔ یہ کوئی گم شدہ چیز نہیں ہے جسے تلاش کرنے کے لیے ہمیں اندھیرے میں ٹٹولنا پڑ رہا ہو۔
۲۔ دوسری تاریخی حقیقت، جو اتنی ہی روشن ہے، یہ ہے کہ نبی a کے بعد سے ہر زمانے میں مسلمان یہ معلوم کرنے کی پیہم کوشش کرتے رہے ہیں کہ سُنّت ثابتہ کیا ہے اور کیا نئی چیز ان کے نظام حیات میں کسی جعلی طریقے سے داخل ہو رہی ہے چوں کہ سُنّت ان کے لیے قانون کی حیثیت رکھتی تھی، اسی پر ان کی عدالتوں میں فیصلے ہوئے تھے اور ان کے گھروں سے لے کر حکومتوں تک کے معاملات چلتے تھے، اس لیے وہ اس کی تحقیق میں بے پروا اور لاابالی نہیں ہو سکتے تھے۔ اس تحقیق کے ذرائع بھی اور اس کے نتائج بھی ہم کو اِسلام کی پہلی خلافت کے زمانے سے لے کر آج تک نسلًا بعد نسلٍ میراث میں ملے ہیں اور بلا انقطاع ہر نسل کا کیا ہوا کام محفوظ ہے۔
ان دو حقیقتوں کو اگر کوئی اچھی طرح سمجھ لے اور سُنّت کو معلوم کرنے کے ذرائع کا باقاعدہ علمی مطالعہ کرے تو اسے کبھی یہ شبہ لاحق نہیں ہو سکتا کہ یہ کوئی لاینحل معما ہے جس سے وہ آج یکایک دوچار ہو گیا ہے۔ (ترجمان القرآن، جنوری ۱۹۵۸ء، ص ۲۱۸)
اسی مسئلے پر دوبارہ روشنی ڈالتے ہوئے میں نے اپنے دوسرے مضمون میں، جس کا حوالہ بھی میں پہلے آپ کو دے چکا ہوں، یہ لکھا تھا کہ:
نبی a اپنے عہد نبوت میں مسلمانوں کے لیے محض ایک پیرومرشد اور واعظ نہیں تھے بلکہ عملًا ان کی جماعت کے قائد، راہ نُما، حاکم، قاضی، شارع، مربی، معلم سب کچھ تھے اور عقائد وتصورات سے لے کر عملی زندگی کے تمام گوشوں تک مسلم سوسائٹی کی پوری تشکیل آپa ہی کے بتائے، سکھائے اور مقرر کیے ہوئے طریقوں پر ہوئی تھی۔ اس لیے کبھی یہ نہیں ہوا کہ آپa نے نماز، روزے اور مناسک حج کی جو تعلیم دی ہو، بس وہی مسلمانوں میں رواج پا گئی ہو اور باقی باتیں محض وعظ وارشاد میں مسلمان سن کر رہ جاتے ہوں، بلکہ فی الواقع جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ جس طرح آپa کی سکھائی ہوئی نماز فورًا مسجدوں میں رائج ہوئی اور اسی وقت جماعتیں اس پر قائم ہونے لگیں، اسی طرح شادی بیاہ اور طلاق ووراثت کے متعلق جو قوانین آپa نے مقرر کیے انھی پر مسلم خاندانوں میں عمل شروع ہو گیا، لین دین کے جو ضابطے آپa نے مقرر کیے انھی کا بازاروں میں چلن ہونے لگا، مقدمات کے جو فیصلے آپa نے کیے وہی ملک کا قانون قرار پاتے، لڑائیوں میں جو معاملات آپa نے دشمنوں کے ساتھ، اور فتح پا کر مفتوح علاقوں کی آبادی کے ساتھ کیے وہی مسلم مملکت کے ضابطے بن گئے، اور فی الجملہ اِسلامی معاشرہ اور اس کا نظام حیات اپنے تمام پہلوئوں کے ساتھ انھی سنتوں پر قائم ہوا جو آپ نے خود رائج کیں یا جنھیں پہلے کے مروج طریقوں میں سے بعض کو برقرار رکھ کر آپa نے سُنّتِ اسلام کا جز بنا لیا۔
یہ وہ معلوم ومتعارف سنتیں تھیں جن پر مسجد سے لے کر خاندان، منڈی، عدالت، ایوان حکومت اور بین الاقوامی سیاست تک مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے تمام ادارات نے حضور a کی زندگی ہی میں عمل درآمد شروع کر دیا تھا اور بعد میں خلفائے راشدین کے عہد سے لے کر دورِ حاضر تک ہمارے اجتماعی ادارات کے تسلسل میں ایک دن کا انقطاع بھی واقع نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد اگر کوئی انقطاع رونما ہوا ہے تو صرف حکومت وعدالت اور پبلک لا(public law) کے ادارات عملًا درہم برہم ہوجانے سے ہوا ہے ان (سنتوں) کے معاملے میں ایک طرف حدیث کی مستند روایات اور دوسری طرف امت کا متواتر عمل، دونوںایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ (ترجمان القرآن، دسمبر ۱۹۵۸ء، ص ۱۶۷)
پھر اسی سلسلے میں آگے چل کر مزید تشریح کرتے ہوئے میں نے یہ بھی لکھا تھا:
ان معلوم ومتعارف سنتوں کے علاوہ ایک قسم سنتوں کی وہ تھی جنھیں حضورa کی زندگی میں شہرت اور رواج عام حاصل نہ ہوا تھا، جو مختلف اوقات میں حضورa کے کسی فیصلے،ارشاد، امرونہی، تقریر({ FR 6800 })واجازت، یا عمل کو دیکھ کر، یا سن کر خاص خاص اشخاص کے علم میں آئی تھیں اور عام لوگ ان سے واقف نہ ہو سکے تھے۔
ان سنتوں کا علم جو متفرق افراد کے پاس بکھرا ہوا تھا، امت نے اس کو جمع کرنے کا سلسلہ حضور a کی وفات کے بعد فورًا ہی شروع کر دیا کیوں کہ خلفا، حکام، قاضی، مفتی اور عوام سب اپنے اپنے دائرہ کار میں پیش آنے والے مسائل کے متعلق کوئی فیصلہ یا عمل اپنی رائے اور استنباط کی بِنا پر کرنے سے پہلے یہ معلوم کر لینا ضروری سمجھتے تھے کہ اس معاملے میں آں حضرت a کی کوئی ہدایت تو موجود نہیں ہے۔ اسی ضرورت کی خاطر ہر اُس شخص کی تلاش شروع ہوئی جس کے پاس سُنّت کا کوئی علم تھا، اور ہر اس شخص نے جس کے پاس ایسا کوئی علم تھا، خود بھی اس کو دوسروں تک پہنچانا اپنا فرض سمجھا۔ یہی روایتِ حدیث کا نقطہ آغاز ہے اور ۱۱ہجری سے تیسری چوتھی صدی تک ان متفرق سنتوں کو فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ موضوعات گھڑنے والوں نے ان کے اندر آمیزش کرنے کی جتنی کوششیں بھی کیں وہ قریب قریب سب ناکام بنا دی گئیں کیوں کہ جن سنتوں سے کوئی حل ثابت یا ساقط ہوتا تھا، جن کی بِنا پر کوئی چیز حرام یا حلال ہوتی تھی، جس سے کوئی شخص سزا پا سکتا تھا یا کوئی ملزم بری ہو سکتا تھا، غرض یہ کہ جن سنتوں پر احکام اور قوانین کا مدار تھا، ان کے بارے میں حکومتیں اور عدالتیں اور افتا کی مسندیں اتنی بے پرواہ نہیں ہو سکتی تھیں کہ یوںہی اٹھ کر کوئی شخص قال النبی a کہہ دیتااور ایک حاکم، یا جج، یا مفتی اسے مان کر کوئی حکم صادر کر ڈالتا۔ اسی لیے جو سنتیں احکام سے متعلق تھیں ان کے بارے میں پوری چھان بین کی گئی، سخت تنقید کی چھلنیوں سے ان کو چھانا گیا، روایت کے اصولوں پر بھی انھیں پرکھا گیا اور درایت کے اصولوں پر بھی، اور وہ سارا مواد جمع کر دیا گیا، جس کی بِنا پر کوئی روایت مانی گئی ہے یا رد کر دی گئی ہے، تاکہ بعد میں بھی ہر شخص اس کے رد وقبول کے متعلق تحقیقی رائے قائم کر سکے۔
(ترجمان القرآن، دسمبر ۱۹۵۸ء، ص ۱۶۸۔۱۶۹)
اس جواب کو بغور ملاحظہ فرما لینے کے بعد اب آپ فرمائیں کہ آپ کو اپنے دوسرے سوال کا جواب ملا یا نہیں۔ ممکن ہے آپ اس پر یہ کہیں کہ تم نے: قرآن کی طرح ایک جامع ومانع کتاب‘‘ کا نام تو لیا ہی نہیں جس میں ’’سُنّت رسول اللّٰہa مرتب شکل میں موجود ہو، مگر میں عرض کروں گا کہ میرے اس جواب پر یہ اعتراض ایک کج بحثی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ آپ ایک پڑھے لکھے ذی ہوش آدمی ہیں۔ کیا آپ اتنی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتے کہ ایک معاشرے اور ریاست کا پورا نظام صرف ایک مدون کتاب آئین (code) ہی پر نہیں چلا کرتا ہے، بلکہ اس کتاب کے ساتھ رواجات (conventions) ، روایات (traditions)، نظائر (precedents)، عدالتی فیصلوں، انتظامی احکام، اخلاقی روایات وغیرہ کا ایک وسیع سلسلہ بھی ہوتا ہے جوکتابِ آئین پر عملًا ایک نظام زندگی چلنے کا لازمی نتیجہ ہے۔ یہ چیز ایک قوم کے نظامِ حیات کی جان ہوتی ہے جس سے الگ کرکے محض اس کی کتابِ آئین نہ تو اس کے نظامِ حیات کی پوری تصویر ہی پیش کرتی ہے، نہ وہ ٹھیک طور پر سمجھی ہی جا سکتی ہے اور یہ چیز دُنیا میں کہیں بھی کسی ’’ایک جامع ومانع کتاب‘‘ کی شکل میں مرتب نہیں ہوتی، نہ ہو سکتی ہے، نہ ایسی کسی ’’ایک کتاب‘‘ کا فقدان یہ معنی رکھتا ہے کہ اس قوم کے پاس اس کی کتاب آئین کے سوا کوئی ضابطہ وقانون موجود نہیں ہے۔ آپ انگلستان، امریکہ، یا دُنیا کی کسی اور قوم کے سامنے یہ بات ذرا کہہ کر دیکھیں کہ تمھارے پاس تمھارے مدوّن قانون (codified law) کے سوا جو کچھ بھی ہے سب ساقط الاعتبار ہے، اور تمھاری تمام روایات وغیرہ کو یا تو ’’ایک کتاب‘‘ کی شکل میں مرتب ہونا چاہیے، ورنہ انھیں آئینی حیثیت سے بالکل ناقابل لحاظ قرار دیا جانا چاہیے، پھر آپ کو خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ آپ کا یہ ارشاد کتنے وزن کا مستحق قرار پاتا ہے۔
کسی کا یہ کہنا کہ عہد نبویa کے رواجات، روایات، نظائر، فیصلوں، احکام اور ہدایات کا پورا ریکارڈ ہم کو ’’ایک کتاب‘‘ کی شکل میں مرتب شدہ ملنا چاہیے تھا، درحقیقت ایک خالص غیر عملی طرزفکر ہے اور وہی شخص یہ بات کہہ سکتا ہے جو خیالی دُنیا میں رہتا ہو۔ آپ قدیم زمانے کے عرب کی حالت کو چھوڑ کر تھوڑی دیر کے لیے آج اس زمانے کی حالت کو لے لیجیے جب کہ احوال ووقائع کو ریکارڈ کرنے کے ذرائع بے حد ترقی کر چکے ہیں۔ فرض کر لیجیے کہ اس زمانے میں کوئی لیڈر ایسا موجود ہے جو ۲۳ سال تک شب وروز کی مصروف زندگی میں ایک عظیم الشان تحریک برپا کرتا ہے، ہزاروں افراد کو اپنی تعلیم وتربیت سے تیار کرتا ہے، ان سے کام لے کر ایک پورے ملک کی فکری، اخلاقی، تمدنی، اور معاشی زندگی میں انقلاب پیدا کرتا ہے، اپنی قیادت وراہ نُمائی میں ایک نیا معاشرہ اور ایک نئی ریاست وجود میں لاتا ہے، اس معاشرے میں اس کی ذات ہر وقت ایک مستقل نمونۂ ہدایت بنی رہتی ہے، ہر حالت میں لوگ اس کو دیکھ دیکھ کر یہ سبق لیتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہ کرنا چاہیے، ہر طرح کے لوگ شب وروز اس سے ملتے رہتے ہیں اور وہ ان کو عقائد وافکار، سیرت واخلاق، عبادات ومعاملات، غرض ہر شعبۂ زندگی کے متعلق اصولی ہدایات بھی دیتا ہے اور جزئی احکام بھی۔ پھر اپنی قائم کردہ ریاست کا فرماں روا، قاضی، شارع، مدبر اور سپہ سالار بھی تنہا وہی ہے اور دس سال تک اس مملکت کے تمام شعبوں کو وہ خود اپنے اصولوں پر قائم کرتا اور اپنی راہ نُمائی میں چلاتا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آج اس زمانے میں بھی یہ سارا کام کسی ایک ملک میں ہو تو اس کا ریکارڈ’’ایک کتاب‘‘ کی شکل میں مرتب ہو سکتا ہے؟ کیا ہر وقت اس لیڈر کے ساتھ ٹیپ ریکارڈر لگا رہ سکتا ہے؟ کیا ہر آن فلم کی مشین اس کی شبانہ روز نقل وحرکت ثبت کرنے میں لگی رہ سکتی ہے؟ اور اگر یہ نہ ہو سکے تو کیا آپ کہیں گے کہ وہ ٹھپا جو اس لیڈر نے ہزاروں لاکھوں افراد کی زندگی پر پورے معاشرے کی ہیئات اور پوری ریاست کے نظام پر چھوڑا ہے، سرے سے کوئی شہادت ہی نہیں ہے جس کا اعتبار کیا جا سکے؟ کیا آپ یہ دعوٰی کریں گے کہ اس لیڈر کی تقریریں سننے والے، اس کی زندگی دیکھنے والے، اس سے ربط وتعلق رکھنے والے بے شمار اشخاص کی رپورٹیں سب کی سب ناقابل اعتماد ہیں کیوں کہ خود اس لیڈر کے سامنے وہ ’’ایک کتاب‘‘ کی شکل میں مرتب نہیں کی گئیں اور لیڈر نے ان پر اپنے ہاتھ سے مہر تصدیق ثبت نہیں کی؟ کیا آپ فرمائیں گے کہ اس کے عدالتی فیصلے، اس کے انتظامی احکام، اس کے قانونی فرامین، اس کے صلح وجنگ کے معاملات کے متعلق جتنا مواد بھی بہت سی مختلف صورتوں میں موجود ہے اس کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے کیوں کہ وہ ’’ایک جامع ومانع کتاب‘‘ کی شکل میں تو ہے ہی نہیں؟
ان امور پر اگر بحث کی نیت سے نہیں، بلکہ بات سمجھنے کی نیت سے غور کیا جائے تو ایک ذی فہم آدمی خود محسوس کر لے گا کہ یہ ’’ایک کتاب‘‘ کا مطالبہ کتنا مہمل ہے۔ اس طرح کی باتیں ایک کمرے میں بیٹھ کر چند نیم خواندہ اور فریب خوردہ عقیدت مندوں کے سامنے کر لی جائیں تو مضائقہ نہیں، مگر کھلے میدان میں پڑھے لکھے لوگوں کے سامنے ان کو چیلنج کے انداز میں پیش کرنا بڑی جسارت ہے۔

کیا سُنّت متفق علیہ ہے؟ اور اس کی تحقیق کا ذریعہ کیا ہے؟

آپ کا تیسرا سوال یہ تھا:
کیا سُنّت رسول اللّٰہa کی اس کتاب کا متن تمام مسلمانوں کے نزدیک اسی طرح متفق علیہ اور شک وتنقید سے بالاتر ہے جس طرح قرآن کا متن؟
اور چوتھا سوال یہ کہ:
اگر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں تو پھر جس طرح یہ بآسانی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ فلاں فقرہ قرآن مجید کی آیت ہے اسی طرح یہ کیوں کر معلوم کیا جائے گا کہ فلاں بات سُنّت رسول اللّٰہa ہے یا نہیں؟
ان سوالات کے جواب میں اپنے جن مضامین کی طرف میں نے آپ کو توجہ دلائی تھی ان کو اگر آپ نے پڑھا ہے تو ان کے اندر یہ عبارتیں ضرور آپ کی نظر سے گزری ہوں گی:
بلاشبہ سُنّت کی تحقیق اور اس کے تعین میں بہت سے اختلافات ہوئے ہیں اور آیندہ بھی ہو سکتے ہیں لیکن ایسے ہی اختلافات قرآن کے بہت سے احکام واشارات کے معنی متعین کرنے میں بھی ہوئے ہیں اور ہو سکتے ہیں۔ ایسے اختلافات اگر قرآن کو چھوڑ دینے کے لیے دلیل نہیں بن سکتے تو سُنّت کو چھوڑ دینے کے لیے انھیں کیسے دلیل بنایا جا سکتا ہے؟ یہ اصول پہلے بھی مانا گیا ہے اور آج بھی اسے ماننے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ جو شخص بھی کسی چیز کے حکمِ قرآن یا حکمِ سُنّت ہونے کا دعوٰی کرے وہ اپنے قول کی دلیل دے۔ اس کا قول اگر وزنی ہو گا تو امت کے اہلِ علم سے، یا کم از کم ان کے کسی بڑے گروہ سے اپنا سکہ منوا لے گا اور جو بات دلیل کے اعتبار سے بے وزن ہو گی وہ بہرحال نہ چل سکے گی۔ یہی اصول ہے جس کی بِنا پر دُنیا کے مختلف حصوں میں کروڑوں مسلمان کسی ایک مذہب فقہی پر مجتمع ہوئے ہیں اور ان کی بڑی بڑی آبادیوں نے احکام قرآنی کی کسی تفسیر وتعبیر اور سنن ثابتہ کے کسی مجموعے پر اپنی اجتماعی زندگی کے نظام کو قائم کیا ہے۔ (ترجمان القرآن، جنوری ۵۸، ص۲۱۹)
’’اگر مختلف فیہ، سُنّت کا بجائے خود مرجع وسند (authority)ہونا نہیں ہے،بلکہ اختلاف جو کچھ بھی واقع ہوتا ہے اور ہوا ہے وہ اس امر میں ہے کہ کسی خاص مسئلے میں جس چیز کے سُنّت ہونے کا دعوٰی کیا گیا ہو وہ فی الوقت سُنّت ثابتہ ہے یا نہیں، تو ایسا ہی اختلاف قرآن کی آیات کا مفہوم ومنشا متعین کرنے میں بھی واقع ہوتا ہے۔ ہر صاحب علم یہ بحث اُٹھاسکتا ہے کہ جو حکم کسی مسئلے میں قرآن سے نکالا جا رہا ہے وہ درحقیقت اس سے نکلتا ہے یا نہیں۔ فاضل مکتوب نگار (جسٹس ایس۔ اے رحمٰن) نے خود قرآن مجید میں اختلاف تفسیروتعبیر کا ذکر کیا ہے اور اس اختلاف کی گنجائش ہونے کے باوجود وہ بجائے خود قرآن کو مرجع وسند مانتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اسی طرح الگ الگ مسائل کے متعلق سنتوں کے ثبوت وتحقیق میں اختلاف کی گنجائش ہونے کے باوجود فی نفسہٖ ’’سُنّت‘‘ کو مرجع وسند تسلیم کرنے میں انھیں کیوں تامل ہے۔
یہ بات ایک ایسے فاضل قانون دان سے جیسے کہ محترم مکتوب نگار ہیں، مخفی نہیں رہ سکتی کہ قرآن کے کسی حکم کی مختلف ممکن تعبیرات میں سے جس شخص، ادارے یا عدالت نے تفسیر وتعبیر کے معروف علمی طریقے استعمال کرنے کے بعد بالآخر جس تعبیر کو حکم کا اصل منشا قرار دیا ہو، اس کے علم اور دائرۂ کار کی حد تک وہی حکمِ خدا ہے۔ اگرچہ یہ دعوٰی نہیں کیا جا سکتا کہ حقیقت میں بھی وہی حکمِ خدا ہے۔ بالکل اسی طرح سُنّت کی تحقیق کے علمی ذرائع استعمال کرکے، کسی مسئلے میں جو سُنّت بھی ایک فقیہ، یا لیجسلیچر، (LEGISLATOR) یا عدالت کے نزدیک ثابت ہو جائے وہی اس کے لیے حکمِ رسولa ہے۔ اگرچہ قطعی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حقیقت میں رسولa کا حکم وہی ہے۔ ان دونوں صورتوں میں یہ امر تو ضرور مختلف فیہ رہتا ہے کہ میرے نزدیک خدا یا رسول کا حکم کیا ہے اور آپ کے نزدیک کیا، لیکن جب تک میں اور آپ خدا اور رسولa کو آخری سند (final authority)مان رہے ہیں، ہمارے درمیان یہ امر مختلف فیہ نہیں ہو سکتا کہ خدا اور اس کے رسولa کا حکم بجائے خود ہمارے لیے قانون واجب الاتباع ہے۔ (ترجمان القرآن، دسمبر ۱۹۵۸ء، ص ۱۶۲)
سنتوں کا معتدبہ حصہ فقہائ اور محدثین کے درمیان متفق علیہ ہے، اور ایک حصے میں اختلافات ہیں۔ بعض لوگوں نے کسی چیز کو سُنّت مانا ہے اور بعض نے اسے نہیں مانا، مگر اس طرح کے تمام اختلافات میں صدیوں اہلِ علم کے درمیان بحثیں جاری رہی ہیں اور نہایت تفصیل کے ساتھ ہر نقطۂ نظر کا استدلال اور وہ بنیادی مواد جس پر یہ استدلال مبنی ہے، فقہ اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ آج کسی صاحبِ علم کے لیے بھی یہ مشکل نہیں ہے کہ کسی چیز کے سُنّت ہونے یا نہ ہونے کے متعلق خود تحقیق سے کوئی رائے قائم کر سکے۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ سُنّت کے نام سے متوحش ہونے کی کسی کے لیے بھی کوئی معقول وجہ ہو سکتی ہے، البتہ ان لوگوں کا معاملہ مختلف ہے جو اس شعبۂ علم سے واقف نہیں ہیں اور جنھیں بس دور ہی سے حدیثوں میں اختلافات کا ذکر سن کر گھبراہٹ لاحق ہو گئی ہے۔‘‘ (ترجمان القرآن، دسمبر ۱۹۵۸ء، ص۱۶۹)
مَیں نے آپ کے مذکورۂ بالا دونوں سوالات کے جواب میں ان عبارات کے مطالعے کا مشورہ اس امید پر دیا تھا کہ ایک تعلیم یافتہ ذی ہوش آدمی جو بات سمجھنے کی خواہش رکھتا ہو، انھیں پڑھ کر اپنی اس بنیادی غلطی کو خود سمجھ لے گا جو اس کے سوالات میں موجود ہے، اور اس کی سمجھ میں آپ سے آپ یہ بات آ جائے گی کہ سُنّت کی تحقیق میں اختلاف، اس کو آئین کی بنیاد بنانے میں اسی طرح مانع نہیں ہو سکتا جس طرح قرآن کی تعبیر میں اختلاف اسے آئین کی بنیاد قرار دینے میں مانع نہیں ہے لیکن آپ نے نہ اس غلطی کو محسوس کیا نہ بات سمجھنے کی کوشش فرمائی اور الٹے مزید کچھ سوالات چھیڑ دیے۔ میں آپ کے چھیڑے ہوئے ان سوالات سے تو بعد میں تعرض کروں گا، پہلے آپ یہ بات صاف کریں کہ اگر آپ کے نزدیک صرف وہی چیز آئین کی بنیاد بن سکتی ہے جس میں اختلاف کی گنجائش نہ ہو تو اس آسمان کے نیچے دُنیا میں وہ کیا چیز ایسی ہے جو انسانی زندگی کے معاملات ومسائل سے بحث کرتی ہو اور اس میں انسانی ذہن اختلاف کی کوئی گنجائش نہ پا سکیں؟ آپ قرآن کے متعلق اس سے زیادہ کوئی دعوٰی نہیں کر سکتے کہ اس کا متن متفق علیہ ہے اور اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ فلاں فقرہ قرآن کی آیت ہے لیکن کیا آپ اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ آیات قرآنی کا منشا سمجھنے، اور ان سے احکام اخذ کرنے میں بے شمار اختلافات ہو سکتے ہیں اور ہوئے ہیں؟ اگر ایک آئین کی اصل غرض الفاظ بیان کرنا نہیں، بلکہ احکام بیان کرنا ہے تو اس غرض کے لحاظ سے الفاظ میں اتفاق کا کیا فائدہ ہوا جب کہ احکام اخذ کرنے میں اختلاف ہے، رہا ہے اور ہمیشہ ہو سکتا ہے؟ اس لیے یا تو آپ کو اپنے اس نقطہ نظر میں تبدیلی کرنی ہو گی کہ ’’آئین کی بنیاد صرف وہی چیز بن سکتی ہے جس میں اختلاف نہ ہو سکے‘‘ یا پھر قرآن کو بھی اساسِ آئین ماننے سے انکار کرنا ہو گا۔ درحقیقت اس شرط کے ساتھ تو دُنیا میں سرے سے کوئی آئین ہو ہی نہیں سکتا۔ جن سلطنتوں کا کوئی مکتوب آئین (written constitution) سرے سے ہے ہی نہیں (مثلاً برطانیہ) ان کے نظام کا تو خیر خدا ہی حافظ ہے، مگر جن کے ہاں ایک مکتوب آئین موجود ہے، ان کے ہاں بھی صرف آئین کی عبارات ہی متفق علیہ ہیں۔ تعبیرات ان میں سے کسی کی متفق علیہ ہوں تو براہِ کرم اس کی نشان دہی فرمائیں۔

چار بنیادی حقیقتیں

اس کے علاوہ میری مذکورۂ بالا عبارات میں چند امور اور بھی ہیں جن سے آپ نے صرفِ نظر کرکے اصل مسائل سے پیچھا چھڑانے کے لیے دوسرے سوالات چھیڑ دیے ہیں لیکن میں اس راہ گریز کی طرف آپ کو نہ جانے دوں گا جب تک ان امور کے متعلق آپ کوئی متعین بات صاف صاف نہ کہیں۔ یا تو آپ ان کو سیدھی طرح تسلیم کیجیے اور اپنا موقف بدلیے، یا پھر محض دعووں سے نہیں بلکہ علمی دلیل سے ان کا انکار کیجیے۔ وہ امور یہ ہیں:
۱۔ سنتوں کا بہت بڑا حصہ امت میں متفق علیہ ہے۔ اِسلامی نظام حیات کا بنیادی ڈھانچہ جن سنتوں سے بنتا ہے وہ تو قریب قریب سب ہی متفق علیہ ہیں۔ ان کے علاوہ اصول اور کلیاتِ شریعت جن سنتوں پرمبنی ہیں، ان میں بھی زیادہ تر اتفاق ہے۔ اختلاف اکثر وبیش تر ان سنتوں میں ہے جن سے جزئی احکام نکلتے ہیں اور وہ بھی سب مختلف فیہ نہیں ہیں، بلکہ ان کا بھی ایک اچھا خاصا حصہ ایسا ہے جن پر علمائے امت کے درمیان اتفاق پایا جاتا ہے۔ صرف یہ بات کہ ان اختلافی مسائل کو بحثوں اور مناظروں میں زیادہ اچھالا گیا ہے، یہ فیصلہ کر دینے کے لیے کافی نہیں ہے کہ ’’سُنّت‘‘ پوری کی پوری مختلف فیہ ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی سنتوں کے بڑے حصے کو متفق علیہ قرار دینے میں مانع نہیں ہے کہ چند چھوٹے چھوٹے خبطی اور زیادہ تر بے علم گروہوں نے کبھی کہیں اور کبھی کہیں اٹھ کر متفق علیہ چیزوں کو بھی اختلافی بنانے کی کوشش کی ہے۔ ایسے گروہوں نے ایک سُنّت ہی پر ہاتھ صاف نہیں کیا ہے، بلکہ ان میں سے بعض تحریفِ قرآن تک کے مدعی ہوئے ہیں، مگر اس قسم کے چند سر پھرے اور کم سواد لوگوں کا وجود امت مسلمہ کے بحیثیتِ مجموعی اتفاق کو باطل نہیں کر سکتا۔ ایسے دو چار سو یا دو چار ہزار آدمیوں کو آخر یہ اجازت کیوں دی جائے کہ پورے ملک کے لیے جو آئین بن رہا ہو اس میں سے ایک ایسی چیز کو خارج کر دینے کے لیے کھڑے ہوجائیں جسے قرآن کے بعد ساری امت اِسلامی قانون کی دوسری بنیاد مانتی ہے اور ہمیشہ سے مانتی رہی ہے؟
۲۔ جزئی احکام سے متعلق جن سنتوں میں اختلاف ہے ان کی نوعیت بھی یہ نہیں ہے کہ فرد فرد ان میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتا ہو، بلکہ ’’دُنیا کے مختلف حصوں میں کروڑوں مسلمان کسی ایک مذہبِ فقہی پر مجتمع ہو گئے ہیں اور ان کی بڑی بڑی آبادیوں نے احکامِ قرآنی کی کسی ایک تعبیر وتفسیر اور سننِ ثابتہ کے کسی ایک مجموعے پر اپنی اجتماعی زندگی کے نظام کو قائم کرلیا ہے۔ مثال کے طور پر اپنے اسی ملک، پاکستان کو لے لیجیے جس کے آئین کا مسئلہ زیر بحث ہے۔ قانون کے معاملے میں اس ملک کی پوری مسلم آبادی صرف تین بڑے بڑے گروہوں پر مشتمل ہے۔ ایک: حنفی، دوسرے: شیعہ، تیسرے: اہل حدیث۔
ان میں سے ہر ایک گروہ احکامِ قرآن کی ایک تعبیر اور سننِ ثابتہ کے ایک مجموعے کو مانتا ہے۔ کیا جمہوری اصول پر ہم آئین کے مسئلے کو اس طرح بآسانی حل نہیں کر سکتے کہ شخصی قانون (پرسنل لاء) کی حد تک ہر ایک گروہ کے لیے احکامِ قرآن کی وہی تعبیر اور سننِ ثابتہ کا وہی مجموعہ معتبر ہو، جسے وہ مانتا ہے اور ملکی قانون (پبلک لائ) اس تعبیرِ قرآن اور ان سننِ ثابتہ کے مطابق ہو جس پر اکثریت اتفاق کرے؟
۳۔ بجائے خود بھی یہ سوال کہ ’’یہ کیوں کر معلوم کیا جائے کہ فلاں سُنّت رسول اللّٰہa ہے یا نہیں۔‘‘ درحقیت کوئی لاینحل سوال نہیں ہے۔ جن سنتوں کے بارے میں یہ اختلاف پیدا ہوا ہے کہ وہ ثابت ہیں یا نہیں، ان پر ’’صدیوں اہل علم کے درمیان بحثیں جاری رہی ہیں اور نہایت تفصیل کے ساتھ ہر نقطۂ نظر کا استدلال اور وہ بنیادی مواد جس پر یہ استدلال مبنی ہے، فقہ اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ آج کسی صاحب علم کے لیے بھی یہ مشکل نہیں ہے کہ کسی چیز کے سُنّت ہونے یا نہ ہونے کے متعلق خود تحقیق سے کوئی رائے قائم کرسکے۔
۴۔ پھر آئین اور قانون کی اغراض کے لیے اس مسئلے کا آخری حل یہ ہے کہ ’’قرآن کی مختلف ممکن تعبیرات میں سے جس شخص، ادارے یا عدالت نے تفسیر وتعبیر کے معروف علمی طریقے استعمال کرنے کے بعد بالآخر جس تعبیر کوحکم کا اصل منشا قرار دیا ہو، اس کے علم اوردائرۂ کار کی حد تک وہی حکم خدا ہے، اگرچہ یہ دعوٰی نہیں کیا جا سکتا کہ حقیقت میں بھی وہی حکمِ خدا ہے۔ بالکل اسی طرح سُنّت کی تحقیق کے علمی ذرائع استعمال کرکے کسی مسئلے میں جو سُنّت بھی ایک فقیہ، لیجسلیچر، (legislator) یا عدالت کے نزدیک ثابت ہوجائے وہی اس کے لیے حکمِ رسولa ہے، اگرچہ قطعی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حقیقت میں رسولa کا حکم وہی ہے۔‘‘
اب آپ خود ایمان داری کے ساتھ اپنے ضمیر سے پوچھیں کہ یہ امور جو میری محولہ بالا عبارات میں آپ کے سامنے آئے تھے، ان میں آپ کو اپنے تیسرے اور چوتھے سوال کا جواب مل گیا تھا یا نہیں؟ اور ان کا سامنا کرکے ان کے متعلق ایک واضح بات نفیًا، یا اِثباتًاکہنے کے بجائے آپ نے دوسرے سوالات چھیڑنے کی جو کوشش فرمائی ہے، اس کی معقول وجہ، جس پر آپ کا ضمیر مطمئن ہو، کیا ہے؟

دوسرے خط کا جواب

اس کے بعد میں آپ کے دوسرے عنایت نامے کو لیتا ہوں۔ اس میں آپ شکایت فرماتے ہیں کہ آپ کے پہلے خط کے جواب میں جن مضامین کی نشاندہی میں نے کی تھی اُن سے آپ کو اپنے سوالات کا متعین جواب نہیں مل سکا، بلکہ آپ کی الجھن اور بڑھ گئی لیکن اب آپ کے ان سوالات کے متعلق جو تفصیلی گزارشات میں نے پیش کی ہیں انھیں پڑھ کر آپ خود فیصلہ کریں کہ ان میں آپ کو ہر سوال کا ایک متعین جواب ملا ہے یا نہیں، اور ان سے آپ کی الجھن بڑھنے کا اصل سبب، آیا ان مضامین میں ہے یا آپ کے اپنے ذہن میں۔
پھر آپ فرماتے ہیں کہ ان میں کئی باتیں ایسی ہیں جو تمھاری دوسری تحریروں سے مختلف ہیں… اس کے جواب میں اگر میں یہ عرض کروں کہ براہِ کرم میری ان تحریروں کا حوالہ دیجیے اور یہ بتائیے کہ ان میں کیاچیزیں ان مضامین سے مختلف ہیں، تو مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو گریز کا ایک اور میدان مل جائے گا اس لیے بحث کے دائرے کو زیر بحث مسائل پر مرکوز رکھنے کی خاطر، یہ جواب دینے کے بجائے میں آپ سے عرض کروں گا کہ میری دوسری تحریروں کو چھوڑئیے۔ اب جو باتیں میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں ان کے متعلق فرمائیے کہ انھیں آپ قبول کرتے ہیں یا رد، اور اگر رد کرتے ہیں تو اس کے لیے دلیل معقول کیا ہے؟

چار نکات

اس کے بعد آپ مجھے یہ یقین دلا کر کہ اس مراسلت سے آپ کا مقصد مناظرہ بازی نہیں بلکہ بات کا سمجھنا ہے، میرے ان مضامین کا عطر چار نکات کی صورت میں نکال کر میرے سامنے پیش فرماتے ہیں اور مجھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یا تو میں اس بات کی توثیق کر دوں کہ میرے ان مضامین کا عطر یہی کچھ ہے، یا یہ تصریح کر دوں کہ آپ نے ان مضامین کا مطلب غلط سمجھا ہے۔
وہ نکات جو آپ نے عطر کے طور پر ان مضامین سے کشید کیے ہیں، ان پر تو میں ابھی ابھی نمبروار بحث کرتا ہوں، لیکن اس بحث سے پہلے میں آپ سے گزارش کروں گا کہ اپنے مضامین سے جو نکات میں نے اوپر نکال کر پیش کیے ہیں ان کے مقابلے میں اپنے اخذ کردہ ان نکات کو رکھ کر آپ خود دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ جو ذہن ان نکات کے بجائے ان نکات کی طرف ملتفت ہوا ہے وہ بات سمجھنے کا خواہش مند ہے یا مناظرہ بازی کا مریض…؟

نکتۂ اُولیٰ

آپ نے یہ فرمایا ہے کہ :
نبی اکرم a نے ۲۳ برس کی پیغمبرانہ زندگی میں قرآن مجید کی تشریح کرتے ہوئے جو کچھ فرمایا، یا عملًا کیا اُسے سُنّت رسولa کہتے ہیں۔ اس سے دو نتیجے نکلتے ہیں:
الف۔ رسول اللّٰہa نے ۲۳ سالہ زندگی میں جو باتیں اپنی شخصی حیثیت سے ارشاد فرمائیں، یا عملًا کیں وہ سُنّت میں داخل نہیں ہیں۔
ب۔ سُنّت، قرآنی احکام واصول کی تشریح ہے۔ قرآن کے علاوہ دین کے اصول یا احکام تجویز نہیں کرتی اور نہ ہی سُنّت قرآن کے کسی حکم کو منسوخ کر سکتی ہے۔

رسول اللّٰہa کے کام کی نوعیت

یہ خلاصہ جو آپ نے میرے کلام سے نکالا ہے اس کا پہلا جز ہی غلط ہے۔ میرے ان مضامین میں، جن سے آپ یہ خلاصہ نکال رہے ہیں، یہ بات کہاں لکھی ہے کہ ’’نبی اکرمa نے ۲۳ برس کی پیغمبرانہ زندگی میں قرآن کی تشریح کرتے ہوئے جو کچھ فرمایا، یا عملًا کیا، اسے سُنّت رسول اللّٰہa کہتے ہیں۔‘‘ میں نے تو اس کے برعکس یہ کہا ہے کہ حضورa کی پیغمبرانہ زندگی کا وہ پورا کام جو آپa نے ۲۳ سال میں انجام دیا، قرآن کے منشا کی توضیح وتشریح ہے، اور یہ سُنّت قرآن کے ساتھ مل کر حاکم اعلیٰ (یعنی اللّٰہ تعالیٰ) کے قانونِ برتر کی تشکیل وتکمیل کرتی ہے، اور یہ سارا کام چوں کہ آں حضورa نے نبی کی حیثیت سے کیا تھا ،لہٰذا اس میں آپa اسی طرح خدا کی مرضی کی نمایندگی کرتے تھے جس طرح کہ قرآن۔ اگر آپ دوسروں کی عبارتوں میں خود اپنے خیالات پڑھنے کے عادی نہیں ہیں تو آپ کے سوال نمبر ۱ کے جواب میں جو کچھ میں نے لکھا ہے اسے پڑھ کر خود دیکھ لیں کہ میں نے کیا کہا تھا اور آپ نے اسے کیا بنا دیا۔
پھر اس سے جو دو نتیجے آپ نے نکالے ہیں، وہ دونوں اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ آپ نے میری ان عبارتوں میں اپنے سوال کا جواب ڈھونڈنے کے بجائے ایک نئی بحث کا راستہ تلاش کیا ہے، کیوں کہ نہ آپ کا پہلا سوال ان مسائل سے متعلق تھا، نہ میں نے اپنے مخصوص مضامین کا حوالہ آپ کو اس لیے دیا تھا کہ آپ ان مسائل کا جواب ان میں تلاش کریں۔ تاہم میں آپ کو یہ کہنے کا موقع نہیں دینا چاہتا کہ آپ کے چھیڑے ہوئے سوالات کا جواب دینے سے میں نے گریز کیا ہے، اس لیے ان دونوں نتیجوں کے متعلق مختصراً عرض کرتا ہوں۔

حضور a کی شخصی حیثیت اور پیغمبرانہ حیثیت کا فرق

الف۔ یہ بات مسلمات شریعت میں ہے کہ سُنّت واجب الاتباع صرف وہی اقوال وافعال رسولa ہیں جو حضورa نے رسولa کی حیثیت سے کیے ہیں۔ شخصی حیثیت سے جو کچھ آپa نے فرمایا،یا عملًا کیا ہے، وہ واجب الاحترام تو ضرور ہے مگر واجب الاتباع نہیں ہے۔ شاہ ولی اللّٰہ صاحب نے حجۃ اللّٰہ البالغہ میں بَابُ بَیَانِ اَقْسَامِ عُلُوْمِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے عنوان سے اس پر مختصر مگر بڑی جامع بحث کی ہے۔ صحیح مسلم میں امام مسلم نے ایک پورا باب ہی اس اصول کی وضاحت میں مرتب کیا ہے اور ان کا عنوان یہ رکھا ہے: بَابُ وُجُوْبِ اِمْتِثَالِ مَاقَالَہ‘ شَرْعًا دُوْنَ مَاذَکَرَہ‘صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ مَّعَایِشِ الدُّنْیَا عَلٰی سَبِیْلِ الرَّاْیِ(یعنی باب اس بیان میں کہ واجب صرف ان ارشادات کی پیروی ہے جو نبی a نے شرعی حیثیت سے فرمائے ہیں نہ کہ ان باتوں کی جو دُنیا کے معاملات میں آں حضورaنے اپنی رائے کے طور پر بیان فرمائی ہیں)، لیکن سوال یہ ہے کہ حضورa کی شخصی حیثیت اور پیغمبرانہ حیثیت میں فرق کرکے یہ فیصلہ آخر کون کرے گا اور کیسے کرے گا کہ آپa کے افعال واقوال میں سے سُنّت واجب الاتباع کیا چیز ہے اور محض ذاتی وشخصی کیا چیز؟ ظاہر ہے کہ ہم بطور خود یہ تفریق وتحدید کر لینے کے مجاز نہیں ہیں۔ یہ فرق دو ہی طریقوں سے ہو سکتا ہے: یا تو حضورa نے اپنے کسی قول وفعل کے متعلق خود تصریح فرما دی ہو کہ وہ ذاتی وشخصی حیثیت میں ہے یا پھر جو اصول شریعت آں حضورaکی دی ہوئی تعلیمات سے مستنبط ہوتے ہیں ان کی روشنی میں محتاط اہل علم یہ تحقیق کریں کہ آپ کے افعال واقوال میں سے کس نوعیت کے افعال واقوال آپ کی پیغمبرانہ حیثیت سے تعلق رکھتے ہیں اور کس نوعیت کی باتوں اور کاموں کو شخصی وذاتی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس مسئلے پر زیادہ تفصیلی بحث میں اپنے ایک مضمون میں کر چکا ہوں جس کا عنوان ہے: رسولa کی حیثیتِ شخصی اور حیثیتِ نبویa۔ (ترجمان القرآن،دسمبر ۱۹۵۹ء)

قرآن سے زائد ہونا اور قرآن کے خلاف ہونا ہم معنی نہیں ہے

ب۔یہ نتیجہ آپ نے بالکل غلط نکالا ہے کہ سُنّت قرآنی احکام واصول کی شارح اس معنی میں ہے کہ ’’وہ قرآن کے علاوہ دین کے اصول یا احکام تجویز نہیں کرتی۔‘‘ اگر آپ اس کے بجائے ’’قرآن کے خلاف‘‘ کا لفظ استعمال کرتے تو نہ صرف میں آپ سے اتفاق کرتا بلکہ تمام فقہا ومحدثین اس سے متفق ہوتے ہیں۔ لیکن آپ ’’قرآن کے علاوہ‘‘ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں جس کے معنی: قرآن سے زائد ہی کے ہو سکتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ’’زائد‘‘ ہونے اور ’’خلاف‘‘ ہونے میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔({ FR 6801 }) سُنّت اگر قرآن سے زائد کوئی چیز نہ بتائے تو آپ خود سوچیں کہ اس کی ضرورت کیا ہے۔ اس کی ضرورت تو اسی لیے ہے کہ وہ قرآن کا وہ منشا واضح کرتی ہے جو خود قرآن میں صراحتاً مذکور نہیں ہوتا۔ مثلاً: قرآن ’’اقامتِ صلوٰۃ‘‘ کا حکم دے کر رہ جاتا ہے۔ یہ بات قرآن نہیں بتاتا بلکہ سُنّت بتاتی ہے کہ صلوٰۃ سے کیا مراد ہے اور اس کی اقامت کا مطلب کیا ہے۔ اس غرض کے لیے سُنّت ہی نے مساجد کی تعمیر، پنج وقتہ اذان اور نماز باجماعت کا طریقہ، نماز کے اوقات، نماز کی ہیئت، اس کی رکعتیں اور جمعہ وعیدین کی مخصوص نمازیں اور ان کی عملی صورت اور دوسری بہت سی تفصیلات ہم کو بتائی ہیں۔ یہ سب کچھ قرآن سے زائد ہے، مگر اس کے خلاف نہیں ہے۔ اسی طرح تمام شعبہ ہائے زندگی میں سُنّت نے قرآن کے منشا کے مطابق انسانی سیرت وکردار اور اِسلامی تہذیب وتمدن وریاست کی جو صورت گری کی ہے وہ قرآن سے اس قدر زائد ہے کہ قرآنی احکام کے دائرے سے سُنّت کی ہدایات کا دائرہ بدرجہا زیادہ وسیع ہو گیا ہے لیکن اس میں کوئی چیز قرآن کے خلاف نہیں ہے، اور جو چیز بھی واقعی قرآن کے خلاف ہو، اُسے فقہا ومحدثین میں سے کوئی بھی سُنّت رسول اللّٰہﷺ نہیں مانتا۔

کیا سُنّت قرآن کے کسی حکم کو منسوخ کر سکتی ہے؟

اسی سلسلے میں آپ نے ایک اور نتیجہ یہ نکالا ہے کہ ’’نہ سُنّت قرآن کے کسی حکم کو منسوخ کر سکتی ہے۔‘‘ یہ بات آپ نے ایک غلط فہمی کے تحت لکھی ہے جسے صاف کرنا ضروری ہے۔ فقہائے حنفیہ جس چیز کو ’’نسخ الکتاب بالسنۃ‘‘کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں اس سے مراد دراصل قرآن کے کسی حکم عام کو مخصوص (qualify) کرنا اور اس کے ایسے مدعا کو بیان (explain) کرنا ہے جواس کے الفاظ سے ظاہر نہ ہوتا ہو۔ مثلاً: سورۂ بقرہ میں والدین اور اقربین کے لیے وصیت کا حکم دیا گیا تھا (آیت ۱۸۰)۔ پھر سورۂ نساء میں تقسیمِ میراث کے احکام نازل ہوئے اور فرمایا گیا کہ یہ حصے متوفی کی وصیت پوری کرنے کے بعد نکالے جائیں (آیات ۱۱۔۱۲) نبیﷺ نے اس کی وضاحت یہ فرما دی کہ لَا وَصِیَّۃَ لِوَارثٍ، یعنی اب وصیت کے ذریعے سے کسی وارث کے حصے میں کمی بیشی نہیں کی جا سکتی کیوں کہ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ نے وارثوں کے حصے خود مقرر فرما دئیے ہیں۔ ان حصوں میں اگر کوئی شخص وصیت کے ذریعے سے کمی بیشی کرے گا تو قرآن کی خلاف ورزی کرے گا۔ اس طرح اس سُنّت نے وصیت کی اجازت عام کو، جو بظاہر قرآن کی ان آیتوں سے مترشح ہوتی تھی، غیر وارث مستحقین کے لیے خاص کر دیا اور یہ بتا دیا کہ شرعًاجو حصے وارثوں کے لیے مقرر کر دیے گئے ہیں ان میں کمی بیشی کرنے کے لیے وصیت کی اس اجازت عام سے فائدہ نہیں اُٹھایا جا سکتا۔
اسی طرح قرآن کی آیتِ وضو (المائدہ۵:۶) میں پائوں دھونے کا حکم دیا گیا تھا جس میں کسی حالت کی تخصیص نہ تھی۔ نبی ﷺ نے مَسْحُ عَلَی الْخُفَّیْن پر عمل کرکے اور اس کی اجازت دے کر واضح فرما دیا کہ یہ حکم اس حالت کے لیے ہے جب کہ آدمی موزے پہنے ہوئے نہ ہو، اور موزے پہننے کی صورت میں پائوں دھونے کے بجائے مسح کرنے سے حکم کا منشا پورا ہو جاتا ہے۔ اس چیز کو خواہ نسخ کہا جائے، یا تخصیص، یا بیان۔ اس سے مراد یہی ہے، اور یہ اپنی جگہ بالکل صحیح اور معقول چیز ہے۔ اس پر اعتراض کرنے کا آخر ان لوگوں کو کیا حق پہنچتا ہے جو غیر نبی ہونے کے باوجود قرآن کے بعض صریح احکام کو محض اپنے ذاتی نظریات کی بنیاد پر ’’عبوری دور کے احکام‘‘ قرار دیتے ہیں، جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ عبوری دور جب ان کی رائے نامبارک میں گزر جائے گا تو قرآن کے وہ احکام منسوخ ہو جائیں گے۔({ FR 6802 })

نکتۂ دوم

دوسرا نکتہ جو آپ نے میرے ان مضامین سے اخذ کیا ہے وہ یہ ہے:
آپ نے فرمایا ہے کہ کوئی کتاب ایسی نہیں کہ جس میں سُنّت رسول اللّٰہﷺ بہ تمام وکمال درج ہو اور جس کا متن قرآن کے متن کی طرح تمام مسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ ہو۔
یہ خلاصہ جو آپ نے میرے مضامین سے نکالا ہے، اس کے متعلق میں بس اتنا ہی عرض کروں گا کہ اپنے خیالات میں مگن رہنے والے اور معقول بات سمجھنے سے انکار کرنے والے لوگ دوسروں کے کلام سے ایسے ہی خلاصے نکالا کرتے ہیں۔ ابھی ابھی آپ کے پہلے عنایت نامے پر بحث کرتے سوال نمبر ۲ پر جو کچھ میں لکھ چکا ہوں اسے پلٹ کر پھر پڑھ لیجیے۔ آپ کو خود معلوم ہو جائے گا کہ میں نے کیا کہا ہے اور آپ نے اس کا خلاصہ کیا نکالا ہے۔

نکتۂ سوم

آپ کا اخذ کردہ تیسرا نکتہ یہ ہے:
آپ نے فرمایا ہے کہ احادیث کے موجودہ مجموعوں سے صحیح احادیث کو الگ کیا جائے گا۔ اس کے لیے روایات کو جانچنے کے جو اصول پہلے سے مقرر ہیں وہ حرف آخرنہیں۔ اصولِ روایات کے علاوہ درایت سے بھی کام لیا جائے گا اور درایت انھی لوگوں کی معتبر ہو گی جن میں علوم اِسلامی کے مطالعے سے ایک تجربہ کار جوہری کی بصیرت پیدا ہو چکی ہے۔

احادیث کو پرکھنے میں روایت اور درایت کا استعمال

یہ جن عبارتوں کا عجیب اور انتہائی مسخ شدہ خلاصہ آپ نے نکالا ہے انھیں میں لفظ بلفظ یہاں نقل کیے دیتا ہوں تاکہ جو کچھ میں نے کہا ہے، وہی اصل صورت میں سامنے آ جائے اور اس کے من مانے خلاصوں کی حاجت نہ رہے:
فن حدیث اسی تنقید (یعنی تاریخی تنقید) ہی کا دوسرا نام ہے۔ پہلی صدی سے آج تک اس فن میں یہی تنقید ہوتی رہی ہے اور کوئی فقیہہ یا محدث اس بات کا قائل نہیں رہا ہے کہ عبادات ہوں یا معاملات، کسی مسئلے کے متعلق بھی رسول اللّٰہ ﷺسے نسبت دی جانے والی کسی روایت کو تاریخی تنقید کے بغیر حجت کے طور پر تسلیم کر لیا جائے۔ یہ فن حقیقت میں اس تنقید کا بہترین نمونہ ہے اور جدید زمانے کی بہتر سے بہتر تاریخی تنقید کو بھی مشکل ہی سے اس پر کوئی اضافہ وترقی (improvement) کہا جا سکتا ہے، بلکہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ محدثین کے اصولِ تنقید اپنے اندر ایسی نزاکتیں اورباریکیاں رکھتے ہیں جن تک موجودہ دور کے ناقدینِ تاریخ کا ذہن بھی ابھی تک نہیں پہنچا ہے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر میں بلا خوفِ تردید یہ کہوں گا کہ دُنیا میں صرف محمد رسول اللّٰہﷺ کی سُنّت وسیرت اور ان کے دور کی تاریخ کا ریکارڈ ہی ایسا ہے جو اس کڑی تنقید کے معیاروں پر کسا جانا برداشت کر سکتا تھا جو محدثین نے اختیار کی ہے، ورنہ آج تک دُنیا کے کسی انسان اور کسی دور کی تاریخ بھی ایسے ذرائع سے محفوظ نہیں رہی ہے کہ ان سخت معیاروں کے آگے ٹھہر سکے اور اس کو قابلِ تسلیم تاریخی ریکارڈ مانا جا سکے… تاہم! میں یہ کہوں گا کہ مزید اصلاح وترقی کا دروازہ بند نہیں ہے۔ کوئی شخص یہ دعوٰی نہیں کر سکتا کہ روایات کو پرکھنے اور جانچنے کے جو اصول محدثین نے اختیار کیے ہیں وہ حرف آخر ہیں۔ آج اگر کوئی ان کے اصول سے اچھی طرح واقفیت پیدا کرنے کے بعد، ان میں کسی خامی یا کمی کی نشاندہی کرے اور زیادہ اطمینان بخش تنقید کے لیے کچھ اصول معقول دلائل کے ساتھ سامنے لائے تو یقینا اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ ہم میں سے آخر کون نہ چاہے گا کہ کسی چیز کو رسول اللّٰہ ﷺ کی سُنّت قرار دینے سے پہلے اس کے سُنّتِ ثابتہ ہونے کا تیقُّن حاصل کر لیا جائے اور کوئی کچی پکی بات حضور ﷺ کی طرف منسوب نہ ہونے پائے۔
احادیث کے پرکھنے میں روایت کے ساتھ درایت کا استعمال بھی، جس کا ذکر فاضل مکتوب نگار (جسٹس ایس اے رحمن) نے کیا ہے، ایک متفق علیہ چیز ہے… البتہ اس سلسلے میں جو بات پیش نظر رہنی چاہیے، اور مجھے امید ہے کہ فاضل مکتوب نگار کو بھی اس سے اختلاف نہ ہو گا، وہ یہ ہے کہ درایت صرف انھی لوگوں کی معتبر ہو سکتی ہے جو قرآن وحدیث اور فقہ اِسلامی کے مطالعہ وتحقیق میں اپنی عمر کا کافی حصہ صرف کرچکے ہوں، جن میں ایک مدت کی ممارست نے ایک تجربہ کار جوہری کی سی بصیرت پیدا کر دی ہو، اور خاص طور پر جن کی عقل اِسلامی نظام فکر وعمل کے حدود اربعہ سے باہر کے نظریات، اصول اور اقدار لے کر اِسلامی روایات کو ان کے معیار پر پرکھنے کا رجحان نہ رکھتی ہو۔ بلاشبہ عقل کے استعمال پر ہم کوئی پابندی نہیں لگا سکتے، نہ کسی کہنے والے کی زبان پکڑ سکتے ہیں لیکن بہرحال یہ امر یقینی ہے کہ اِسلامی علوم سے کورے لوگ اناڑی پن کے ساتھ کسی حدیث کو خوش آئند پا کر قبول اور کسی کو اپنی مرضی کے خلاف پا کر رد کرنے لگیں، یا اِسلام سے مختلف کسی دوسرے نظامِ فکر وعمل میں پرورش پائے ہوئے حضرات یکایک اٹھ کر اجنبی معیاروں کے لحاظ سے احادیث کے رد وقبول کا کاروبار پھیلا دیں، تو مسلم ملت میں نہ ان کی درایت مقبول ہو سکتی ہے اور نہ اس ملت کا اجتماعی ضمیر ایسے بے تکے عقلی فیصلوں پر کبھی مطمئن ہو سکتا ہے۔ اِسلامی حدود میں تو اِسلام ہی کی تربیت پائی ہوئی عقل اور اِسلام کے مزاج سے ہم آہنگی رکھنے والی عقل ہی ٹھیک کام کر سکتی ہے۔ اجنبی رنگ ومزاج کی عقل، یا غیر تربیت یافتہ عقل بجز اس کے کہ انتشار پھیلائے، کوئی تعمیری خدمت اس دائرے میں انجام نہیں دے سکتی۔‘‘
(ترجمان القرآن، دسمبر ۵۸، ص ۱۶۴۔ ۱۶۶)
ان عبارات سے آپ خود ہی اپنے نکالے ہوئے خلاصے کا تقابل فرما لیں۔ آپ پر واضح ہو جائے گا کہ بات سمجھنے کی خواہش کا کتنا اچھا نمونہ آپ نے پیش فرمایا ہے۔

نکتۂ چہارم

چوتھا نکتہ جو آپ نے خلاصے کے طور پر میرے مضامین سے نکالا ہے، یہ ہے:
احادیث کے اس طرح پرکھنے کے بعد بھی یہ نہیں کہا جا سکے گا کہ یہ اسی طرح کلامِ رسولﷺ ہیں جس طرح قرآن کی آیات اللّٰہ کا کلام۔
یہ ایک اور بے نظیر نمونہ ہے جو مناظرہ بازی کے بجائے بات سمجھنے کی خواہش کا آپ نے پیش فرمایا ہے۔ جس عبارت کا یہ خلاصہ آپ نے نکالا ہے، اس کے اصل الفاظ یہ ہیں:
قرآن کے کسی حکم کی مختلف ممکن تعبیرات میں سے جس شخص یا ادارے یا عدالت نے تفسیر وتعبیر کے معروف علمی طریقے استعمال کرنے کے بعد بالآخر جس تعبیر کو حکم کا اصل منشا قرار دیا ہو، اس کے علم اور دائرۂ کار کی حد تک وہی حکم خدا ہے، اگرچہ یہ دعوٰی نہیں کیا جا سکتا کہ حقیقت میں بھی وہی حکم خدا ہے۔ بالکل اسی طرح سُنّت کی تحقیق کے علمی ذرائع استعمال کرکے کسی مسئلے میں جو سُنّت بھی ایک فقیہ، یا لیجسلیچر(legislator) یا عدالت کے نزدیک ثابت ہو جائے، وہی اس کے لیے حکم رسولﷺ ہے، اگرچہ قطعی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حقیقت میں رسولﷺ کا حکم وہی ہے۔‘‘
یہ عبارت اگرچہ میں پہلے نقل کر چکا ہوں، لیکن تکرار کی قباحت کے باوجود میں نے اسے پھر نقل کیا ہے تاکہ آپ خود بھی اپنے جوہر (extract) نکالنے کے فن کی داد دے سکیں اور اس اخلاقی جسارت کی داد، میں اپنی طرف سے آپ کو دیتا ہوں کہ میری عبارت کو میرے ہی سامنے توڑ مروڑ کر پیش کرکے آپ نے واقعی کمال کر دکھایا ہے۔ میں شخصی طور پر آپ کی بڑی قدر کرتا ہوں، اور ایسی باتوں کی آپ جیسے معقول انسان سے توقع نہ رکھتا تھا، مگر شاید یہ بزم طلوع اِسلام کا فیض ہے کہ اس نے آپ کو بھی یہاں تک پہنچا دیا۔

اشاعت کا مطالبہ

آخری بات مجھے یہ عرض کرنی ہے کہ اپنے پہلے عنایت نامے کو آپ نے اس فقرے پر ختم فرمایا تھا:
چوں کہ آئین کے سلسلے میں عام لوگوں کے ذہن میں ایک پریشانی سی پائی جاتی ہے اس لیے اگر عوام کی آگاہی کے لیے آپ کے موصولہ جواب کو شائع کر دیا جائے تو مجھے امید ہے کہ آپ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
مَیں اس کے متعلق یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اعتراض ہونا تو درکنار میری دلی خواہش یہ ہے کہ آپ اس مراسلت کو جوں کا توں شائع فرما دیں۔ میں خود اسے ترجمان القرآن میں شائع کر رہا ہوں۔ آپ بھی اس کو طلوع اِسلام کی کسی قریبی اشاعت میں درج کرنے کا انتظام فرمائیں، تاکہ دونوں طرف کے عوام اس سے آگاہ ہوکر پریشانی سے نجات پا سکیں۔
خاکسار
ابو الاعلیٰ
(ترجمان القرآن، جولائی ۱۹۶۰ء)
٭…٭…٭…٭…٭

باب دوم: منصبِ نبوت

صحیح اور غلط تصوّر کا فرق
صفحاتِ گزشتہ میں سُنّت کی آئینی حیثیت کے متعلق ڈاکٹر عبدالودود صاحب اور مصنف کی جو مراسلت ناظرین کے ملاحظے سے گزری ہے، اس کے سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کا ایک اورخط وصول ہوا، جسے ذیل میں مصنف کے جواب کے ساتھ درج کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کا خط

مولانایٔ محترم! السلام علیکم
آپ کا خط مورخہ ۸ ؍اگست ملا۔ مجھے امید ہے کہ اس کے بعد بات ذرا اطمینان سے ہو سکے گی۔ آپ نے اپنے خط مورخہ ۲۶ جون میں میرے پہلے سوال کے جواب کے اختتام پر فرمایا تھا:
دوسرے سوالات چھیڑنے سے پہلے آپ کو یہ بات صاف کرنی چاہیے تھی کہ آیا رسول اللّٰہﷺ نے قرآن پڑھ کر سنا دینے کے سوا دُنیا میں کوئی اور کام کیا تھا یا نہیں، اور اگر کیا تھا تو کس حیثیت میں؟
نیز یہ بھی کہ:
پہلے آپ یہ بات صاف کریں کہ آیا سُنّت رسول اللّٰہﷺ بجائے خود کوئی چیز ہے یا نہیں؟ اور اس کو آپ قرآن کے ساتھ مآخذ قانون مانتے ہیں یا نہیں، اور نہیں مانتے تو اس کی دلیل کیا ہے؟
چنانچہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میں اپنے موجودہ خط میں مسئلہ زیر بحث کے صرف اسی حصے پر گفتگو کروں اور اس کے باقی اجزا آیندہ کے لیے ملتوی کر دوں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ میں نے اپنے اوّلین خط مورخہ ۲۱؍ مئی میں صاف طور پر یہ عرض کیا تھا کہ:
مجھے نہ تو سُنّت کی حقیقی اہمیت سے مجال انکار ہے اور نہ اس کی اہمیت کو ختم کرنا مقصود۔
چنانچہ آپ کا یہ سوال کہ میرے نزدیک سُنّت رسول اللّٰہﷺ بجائے خود کوئی چیز ہے یا نہیں؟ غیرضروری ہے۔ البتہ میرے نزدیک سُنّت کا مفہوم آپ سے مختلف ہے۔ باقی رہا یہ سوال کہ آیامیں سُنّت کو قرآن کے ساتھ مآخذ قانون مانتا ہوں یا نہیں؟ میرا جواب نفی میں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کی دلیل کیا ہے؟ اجازت دیجیے کہ میں پہلے اس بات کو صاف کر لوں کہ آیا رسول اللّٰہ ﷺنے قرآن سنا دینے کے سوا دُنیا میں کوئی کام کیا تھا یا نہیں؟ اور اگر کیا تھا تو کس حیثیت میں؟ جب اس کا جواب سامنے آ جائے گا تو دلیل خود بخود سامنے آ جائے گی۔
مجھے آپ سے سو فی صدی اتفاق ہے کہ حضورﷺ معلم بھی تھے، قاضی بھی تھے، سپہ سالار بھی۔ آپ نے افراد کی تربیت کی اور تربیت یافتہ افراد کو ایک منظم جماعت کی شکل دی اور پھر ایک ریاست قائم کی وغیرہ وغیرہ! لیکن اس بات پر آپ سے اتفاق نہیں کہ ’’۲۳ سالہ پیغمبرانہ زندگی میں حضورﷺ نے جو کچھ کیا تھا یہ وہ سُنّت ہے جو قرآن کے ساتھ مل کر حاکم اعلیٰ کے قانون برتر کی تشکیل وتکمیل کرتی ہے۔‘‘
بے شک حضور ﷺ نے حاکم اعلیٰ کے قانون کے مطابق معاشرے کی تشکیل تو فرمائی لیکن یہ کہ کتاب اللّٰہ کا قانون (نعوذ باللّٰہ) نامکمل تھا اور جو کچھ حضورﷺ نے عملًا کیا اس سے اس قانون کی تکمیل ہوئی۔ میرے لیے ناقابلِ فہم ہے۔ میرے نزدیک وحی پانے کا سلسلہ نبی اکرمﷺ کے ساتھ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ لیکن رسالت کے فرائض جو حضورﷺ نے سرانجام دیے ان کا مقصد یہ تھا کہ حضور ﷺ کے بعد بھی انھی خطوط پر معاشرے کا قیام عمل میں لایا جا سکے اور یہ تسلسل قائم رہے۔ اگر حضورﷺ نے مَا اَنْزَلَ اللّٰہُکو دوسروں تک پہنچایا تو امت کا بھی فریضہ ہے کہ مَااَنْزَلَ اللّٰہُ کو دوسروں تک پہنچائے۔ اگر حضور ﷺنے مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ کے مطابق جماعت بنائی، ریاست قائم کی اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کیا تو امت کا بھی فریضہ ہے کہ انھی خطوط پر عمل کرے۔ اگر حضورﷺنے مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ کے مطابق معاملات کے فیصلے کیے تو امت بھی مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ کے مطابق فیصلے کرے۔ اگر حضورﷺ نے ’’شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ‘‘کے مطابق امورِ سلطنت میں مشاورت سے کام کیا تو امت بھی ایسا ہی کرے۔ اگر حضور ﷺ نے نبوت کے ۲۳ سال غزوات میں گھوڑے کی پیٹھ پر گزارے تو امت بھی انھی اصولوں کو پیش نظر رکھ کر جنگ کرے۔ چنانچہ مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ کے مطابق تربیت، جماعت بندی، ریاست کا قیام، مشاورت، قضا، غزوات، یہ سارے کام امت کرے تو یہ سُنّت رسول اللّٰہﷺ ہی کی پیروی ہے۔ حضور ﷺ نے بھی اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ پر عمل کرتے ہوئے، معاشرے کی تشکیل کی اور سُنّت رسول اللّٰہﷺ کی پیروی یہ ہے کہ ہر زمانے کی امت زمانے کے تقاضوں کے مطابق مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ پر عمل کرتے ہوئے معاشرے کی تشکیل کرے۔ موجودہ وقت میں ہم جو بھی طرز حکومت، حالات اور موجودہ تقاضوں کے مطابق مناسب سمجھیں عمل میں لائیں لیکن مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر یہی سُنّت رسول اللّٰہﷺ پر عمل ہو گا۔ اگر ہم ان مقاصد کو پیش نظر رکھ کر جو مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ نے متعین کیے ہیں جنگیں لڑیں تو یہی سُنّت رسول اللّٰہﷺ پر عمل ہو گا لیکن اگر جیسا کہ ایک مقامی اخبار میں ایک مولوی صاحب نے گذشتہ ہفتے لکھا تھا کہ حضرت عمرؓ کی فوج کو ایک قلعہ فتح کرنے میں تاخیر اس لیے ہوئی کہ فوج نے کئی دن مسواک نہیں کی تھی، یا یہ کہ آج کے ایٹمی دور میں جنگ کے اندر تیروں کا استعمال ہی ضروری ہے کیوں کہ حضورؐ نے جنگوں میں تیر استعمال کیے تھے تو اس سے بڑھ کر سُنّت رسول اللّٰہﷺ سے مذاق کیا ہو سکتا ہے۔ ان تمام اعمال میں جو حضور ﷺنے ۲۳ سالہ پیغمبرانہ زندگی میں کیے وہ اسی مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ کا جو کتاب اللّٰہ میں موجود ہے، اتباع کرتے تھے اور امت کو بھی یہی حکم ملا کہ اسی کا اتباع کرے۔ جہاں اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ الاعراف 3:7 کہہ کر امت کے افراد کو تلقین کی، وہاں یہ بھی اعلان ہوا کہ حضور ﷺ بھی اسی کا اتباع کرتے ہیں۔قُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِــعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ۝۰ۚ الاعراف 203:7 نہ معلوم آپ کن وجوہات کی بِنا پر کتاب اللّٰہ کے قانون کو نامکمل قرار دیتے ہیں۔ کم از کم میرے لیے تو یہ تصور بھی جسم میں کپکپی پیدا کر دیتا ہے۔ کیا آپ قرآن کریم سے کوئی ایسی آیت پیش فرمائیں گے؟ جس سے معلوم ہو کہ قرآن کا قانون نامکمل ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے تو انسانوں کی راہ نُمائی کے لیے صرف ایک ضابطۂ قوانین کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو شک وشبہ سے بالاتر ہے، بلکہ اس کی ابتدا ہی ان الفاظ سے کی ہے ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ اور پھر معاملات زندگی میں فیصلوں کے لیے اس ضابطۂ حیات کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا اور یہ بھی واضح طور پر اعلان کر دیا کہ یہ ضابطۂ قانون مفصّل ہے۔ اَفَغَيْرَ اللہِ اَبْتَغِيْ حَكَمًا وَّہُوَالَّذِيْٓ اَنْزَلَ اِلَيْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا۝۰ۭالانعام 114:6 بلکہ مومن اور کافر کے درمیان تمیز یہ رکھ دی کہ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَo المائدہ 44:5 کیا قرآن کریم کو کتاب عزیز (ایک غالب کتاب) کہہ کر نہیں پکارا گیا۔ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا۝۰ۭ الانعام 115:6 کا اعلان یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں کہ قانون خداوندی مکمل ہو چکا ہے اورجو کچھ باقی رہتا تھا، وہ پورا ہو گیا۔ کافر بھی تو اس کتاب کے علاوہ کوئی چیز اپنی تسلی کے لیے چاہتے تھے۔ جب اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا یہ کتاب ان کے لیے کافی نہیں؟اَوَلَمْ يَكْفِہِمْ اَنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ يُتْلٰى عَلَيْہِمْ۝۰ۭ العنکبوت 51:29
مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ چوں کہ دین کا تقاضا یہ تھا کہ کتاب پر عمل اجتماعی شکل میں ہو، اور یہ ہو نہیں سکتا کہ ایک شخص قرآن پر اپنی سمجھ کے مطابق عمل کرے اور دوسرا اپنی سمجھ کے مطابق۔ اس لیے نظام کو قائم رکھنے کے لیے ایک زندہ شخصیت کی ضرورت ہے اور مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ جہاں اجتماعی نظام کے قیام کا سوال ہو وہاں پہنچانے والے کا مقام بہت آگے ہوتا ہے، کیوں کہ پیغام اس نے اس لیے پہنچایا کہ وحی اس کے سوا اور کسی کو ملتی نہیں۔ چنانچہ قرآن نے اسی لیے واضح کر دیا کہمَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۝۰ۚ النسائ 80:4 چنانچہ حضورﷺ مرکزِ ملت بھی تھے اور سُنّت رسول اللّٰہﷺ پر عمل یہی ہے کہ حضورﷺ کے بعد بھی اسی طرح مرکزیت کو قائم رکھا جائے۔ چنانچہ اسی نکتے کو قرآن کریم نے ان الفاظ میں واضح کر دیا کہ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ۝۰ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ۝۰ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓى اَعْقَابِكُمْ۝۰ۭ آل عمران 144:3 ظاہر ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا سلسلہ (اگر اس کا مقصد وعظ ونصیحت نہیں) اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے کہ سُنّت رسول اللّٰہ ﷺپر عمل کرتے ہوئے مرکز ملت کے قیام کو مسلسل عمل میں لایا جائے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جس ضابطۂ قانون پر چلانا حضورﷺ کا مقصد تھا اور آیندہ مرکز ملت کا مقصد رہے گا۔ اس ضابطۂ قانون کو نامکمل قرار دے دیا جائے۔
آپ کا اگلا سوال یہ ہے کہ جو کام حضور ﷺ نے ۲۳ سالہ پیغمبرانہ زندگی میں سرانجام دیے ان میں آں حضرت ﷺ کی پوزیشن کیا تھی؟میرا جواب یہ ہے کہ حضورﷺ نے جو کچھ کرکے دکھایا وہ ایک بشر کی حیثیت سے لیکن مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ کے مطابق کرکے دکھایا۔ میرا یہ جواب کہ حضور ﷺ کے فرائض رسالت کی سرانجام دہی ایک بشر کی حیثیت سے تھی، میرے اپنے ذہن کی پیداوار نہیں، بلکہ خود کتاب اللّٰہ سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ حضور ﷺ نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ الکہف 110:18 قرآن کی آیات سے واضح ہے کہ حضور ﷺ نظام مملکت کی انجام دہی میں ایک بشر کی حیثیت رکھتے تھے اور کبھی کبھی آں حضرت سے اجتہادی غلطیاں بھی ہو جاتی تھیں۔ قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَآ اَضِلُّ عَلٰي نَفْسِيْ۝۰ۚ وَاِنِ اہْتَدَيْتُ فَبِمَا يُوْحِيْٓ اِلَيَّ رَبِّيْ۝۰ۭ اِنَّہٗ سَمِيْعٌ قَرِيْبٌo سبا 50:34 اگر یہ اجتہادی غلطیاں ایسی ہوتیں جن کا اثر دین کے اہم گوشے پر پڑتا تو خدا کی طرف سے اس کی تادیب بھی آ جاتی: جیسے کہ ایک جنگ کے موقع پر بعض لوگوں نے پیچھے رہنے کی اجازت چاہی اور حضورﷺ نے اجازت دے دی۔ اس پر اللّٰہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی۔عَفَا اللہُ عَنْكَ۝۰ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ حَتّٰي يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَتَعْلَمَ الْكٰذِبِيْنَo التوبہ 43:9 اسی طرح سورۂ تحریم میں تادیب آ گئی: يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللہُ لَكَ۝۰ۚ التحریم 1:66 اسی طرح سورۂ عبس میں ہے: عَبَسَ وَتَوَلّٰٓيo اَنْ جَاۗءَہُ الْاَعْمٰىo وَمَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّہٗ يَزَّكّٰٓيo اَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَہُ الذِّكْرٰىo اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىo فَاَنْتَ لَہٗ تَصَدّٰىo وَمَا عَلَيْكَ اَلَّا يَزَّكّٰىo وَاَمَّا مَنْ جَاۗءَكَ يَسْعٰىo وَہُوَيَخْشٰىo فَاَنْتَ عَنْہُ تَلَہّٰىo عبس 1-10:80
مندرجہ بالا تصریحات سے ظاہر ہے کہ وحی کی روشنی میں امورِ سلطنت کی سرانجام دہی میں جزئی معاملات میں حضورﷺ سے اجتہادی غلطیاں بھی ہو جاتی تھیں اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا تھا کہ حضور ﷺان امور کو ایک بشر کی حیثیت سے سرانجام دیتے تھے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کے دو نتائج لازمًا پیدا ہوتے، اوّلاً: یہ تصور کہ چوں کہ حضور ﷺ نے جو کچھ کیا وہ ایک نبی کی حیثیت سے کیا، اس لیے عام انسان اس کو نہیں کر سکتے۔ چنانچہ آج بھی مایوسی کے عالم میں بعض جگہ یہ تصور پایا جاتا ہے کہ حضورﷺ نے جو معاشرہ قائم کیا تھا وہ عام انسانوں کے بس کا روگ نہیں اور وہ دوبارہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تصور بجائے خود سُنّت رسولﷺ کی پیروی کی نفی ہے۔ دوسرا نتیجہ اس کا یہ تصور ہو سکتا ہے کہ اس لیے حضور ﷺ کے بعد نبیوں کے آنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ پھر سے اس قسم کا معاشرہ قائم کرسکیں (چوں کہ عام انسان ایسا نہیں کر سکتے)۔ آپ خود سوچیے کہ یہ دونوں نتائج کس قدر خطرناک ہیں جو اس تصور کے نتیجے کے طور پر ابھر کر سامنے آتے ہیں کہ حضور ﷺنے جو کچھ بھی کیا، ایک نبی کی حیثیت سے کیا۔ ختمِ نبوت انسانیت کے سفرِ زندگی میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے شخصیتوں کا دور ختم ہوتا ہے اور اصول واقدار کا دور شروع ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ تصور کہ حضور ﷺ نے جو کچھ کیا ایک نبی کی حیثیت سے کیا۔ ختمِ نبوت کے اصول کی تردید کے مترادف ہے۔ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ۝۰ۚ… آل عمران 144:3 جیسی واضح آیات کے بعد یہ کہنا کہ رسول اللّٰہ ﷺجو کچھ کرتے تھے، وحی کی رو سے کرتے تھے (اور وحی کا سلسلہ حضورﷺکی ذات کے ساتھ ختم ہو گیا)۔ اس بات کا اعلان ہے کہ حضورﷺ کی وفات کے بعد دین کا سلسلہ قائم نہیں رہ سکتا۔ حضرات خلفائے کرام اچھی طرح سمجھتے تھے کہ وحی ’’الکتاب‘‘ کے اندر محفوظ ہے اور اس کے بعد حضور ﷺ جو کچھ کرتے تھے باہمی مشاورت سے کرتے تھے۔ اس لیے حضورﷺ کی وفات کے بعد نظام میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ سلطنت کی وسعت کے ساتھ تقاضے بڑھتے گئے اس لیے آئے دن نئے نئے امور سامنے آتے تھے جن کے تصفیے کے لیے اگر کوئی پہلا فیصلہ مل جاتا جس میں تبدیلی کی ضرورت نہ ہوتی تو اسے علیٰ حالہٖ قائم رکھتے تھے۔ اگر اس میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی تو باہمی مشاورت سے تبدیلی کر لیتے اور اگر نئے فیصلے کی ضرورت ہوتی تو باہمی مشاورت سے نیا فیصلہ کر لیتے۔ یہ سب کچھ قرآن کی روشنی میں ہوتا تھا۔ یہی طریقہ رسول اللّٰہﷺ کا تھا اور اسی کو حضور ﷺ کے جانشینوں نے قائم رکھا۔ اسی کا نام اتباعِ سُنّت رسول اللّٰہﷺ ہے۔
اگر فرض کر لیا جائے کہ جیسا کہ آپ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ جو کچھ کرتے تھے، وحی کی رو سے کرتے تھے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ خدا کو اپنی طرف سے بھیجی ہوئی ایک قسم کی وحی پر (نعوذ باللّٰہ) تسلی نہ ہوئی۔ چنانچہ دوسری قسم کی وحی کا نزول شروع ہو گیا۔ یہ دو رنگی وحی آخر کیوں؟ پہلے آنے والے نبیوں پر جب وحی نازل ہوئی تو اس میں نزولِ قرآن کی طرف اشارہ تھا۔ تو کیا اس اللّٰہ کے لیے جو ہر چیز پر قادر ہے، یہ بڑا مشکل تھا کہ دوسری قسم کی وحی جس کا آپ ذکر کرتے ہیں، اس کا قرآن میں اشارہ کر دیتا۔ مجھے تو قرآن میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی۔ اگر آپ کسی آیت کی طرف اشارہ فرما سکیں، مشکور ہوں گا۔ والسلام
مخلص… عبدالودود

جواب

محترمی ومکرمی، السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ
عنایت نامہ مورخہ ۱۷؍ اگست ۱۹۶۰ ء ملا۔ اس تازہ عنایت نامے میں آپ نے اپنے پیش کردہ ابتدائی چار سوالات میں سے پہلے سوال پر بحث رکھتے ہوئے نبوت اور سُنّت کے متعلق اپنے جن خیالات کا اظہار فرمایا ہے، ان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آپ کا تصور نبوت ہی بنیادی طور پر غلط ہے۔ ظاہر ہے کہ جب بنیاد ہی میں غلطی موجود ہو تو بعد کے ان سوالات پر جو اسی بنیاد سے اٹھتے ہیں، بحث کرکے ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے تھے۔ اسی لیے میں نے عرض کیا تھا کہ آپ میرے جواب پر مزید سوالات اُٹھانے کے بجائے ان اصل مسائل پر گفتگو فرمائیں جو میں نے اپنے جواب میں بیان کیے ہیں۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری اس گزارش کو قبول کرکے اوّلین بنیادی سوال پر اپنے خیالات ظاہر فرمائے ہیں۔ اب میں آپ کی، اور ان دوسرے لوگوں کی جو اس غلط فہمی میں گرفتار ہیں، کچھ خدمت انجام دے سکوں گا۔
نبوت اور سُنّت کا جو تصور آپ نے بیان کیا ہے وہ قرآن مجید کے نہایت ناقص مطالعے کا نتیجہ ہے اور غضب یہ ہے کہ آپ نے اس ناقص مطالعے پراتنا اعتماد کر لیا کہ پہلی صدی سے آج تک اس بارے میں ساری امت کے علما اور عوام کا بالاتفاق جو عقیدہ اورعمل رہا ہے اسے آپ غلط سمجھ بیٹھے ہیں اور اپنے نزدیک یہ خیال کر لیا ہے کہ پونے چودہ سو سال کی طویل مدت میں تمام مسلمان نبی ﷺ کے منصب کو سمجھنے میں ٹھوکر کھا گئے ہیں، ان کے تمام علمائے قانون نے سُنّت کو مآخذ قانون ماننے میں غلطی کی ہے، اور ان کی تمام سلطنتیں اپنا قانونی نظام اس بنیاد پر قائم کرنے میں غلط فہمی کا شکار ہو گئی ہیں۔ آپ کے ان خیالات پر تفصیلی گفتگو تو میں آگے کی سطور میں کروں گا، لیکن اس گفتگو کا آغاز کرنے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ آپ ٹھنڈے دل سے اپنے دینی علم کی مقدار کا خود جائزہ لیں اور خود ہی سوچیں کہ وہ علم جو آپ نے اس بارے میں حاصل کیا ہے کیا وہ اتنے بڑے زعم کے لیے کافی ہے؟ قرآن تنہا آپ ہی نے تو نہیں پڑھا ہے، کروڑوں مسلمان ہر زمانے میں اور دُنیا کے ہر حصے میں اس کو پڑھتے رہے ہیں اور بے شمار ایسے لوگ بھی اِسلامی تاریخ میں گزرے ہیں اور آج بھی پائے جاتے ہیں جن کے لیے قرآن کا مطالعہ ان کے بہت سے مشاغل میں سے ایک ضمنی مشغلہ نہیں رہا ہے، بلکہ انھوں نے اپنی عمریں اس کے ایک ایک لفظ پر غور کرنے اور اس کے مضمرات سمجھنے اور ان سے نتائج اخذ کرنے میں صرف کر دی ہیں۔ آخر آپ کو یہ غلط فہمی کیسے لاحق ہو گئی کہ نبوت جیسے بنیادی مسئلے میں یہ سب لوگ قرآن کا منشا بالکل الٹا سمجھ بیٹھے ہیں اور صحیح منشا صرف آپ پر اور آ پ جیسے چند اصحاب پر اب منکشف ہوا ہے۔ پوری تاریخ اِسلام میں آپ کسی ایک قابل ذکر عالم کا بھی نام نہیں لے سکتے جس نے قرآن سے منصبِ نبوت کا وہ تصور اخذ کیا ہو جو آپ بیان کر رہے ہیں اور سُنّت کی وہ حیثیت قرار دی ہو جو آپ قرار دے رہے ہیں۔ اگر ایسے کسی عالم کا حوالہ آپ دے سکتے ہیں تو براہ کرم اس کا نام لیجیے۔

۱۔ منصب ِنبوّت اور اس کے فرائض

آپ کی عقل وضمیر سے یہ مخلصانہ اپیل کرنے کے بعد اب میں آپ کے پیش کردہ خیالات کے متعلق کچھ عرض کروں گا۔ آپ کی ساری بحث دس نکات پر مشتمل ہے۔ ان میں سے پہلا نکتہ خود آپ کے الفاظ میں یہ ہے:
مجھے آپ سے سو فی صدی اتفاق ہے کہ حضور ﷺ معلم بھی تھے، حاکم بھی تھے، قاضی بھی تھے، سپہ سالار بھی۔ آپ نے افراد کی تربیت کی اور تربیت یافتہ افراد کو ایک منظم جماعت کی شکل دی اور پھر ایک ریاست قائم کی۔
یہ سو فی صدی اتفاق جس کا آپ ذکر فرما رہے ہیں، دراصل ایک فی صدی، بلکہ فی ہزار ایک بھی نہیں ہے، اس لیے کہ آپ نے حضورﷺ کو محض معلم، حاکم، قاضی وغیرہ مانا ہے، مامور من اللّٰہ کی لازمی صفت کے ساتھ نہیں مانا ہے۔ حالانکہ سارا فرق اسی صفت کے ماننے اور نہ ماننے سے واقع ہوتا ہے۔ آگے چل کر آپ نے خود یہ بات واضح کر دی ہے کہ آپ کے نزدیک نبیﷺ کے یہ سارے کام رسولﷺ کی حیثیت میں نہیں، بلکہ ایک عام انسان کی حیثیت میں تھے اور اسی وجہ سے اس حیثیت میں حضورﷺ نے جو کام کیا ہے اسے آپ وہ سُنّت نہیں مانتے جو مآخذ قانون ہو۔ دوسرے الفاظ میں آں حضورﷺ آپ کے نزدیک ایک معلم تھے مگر خدا کے مقرر کردہ نہیں، بلکہ جیسے دُنیا میں اور استاد ہوتے ہیں ویسے ہی ایک حضور ﷺ بھی تھے۔ اسی طرح آپﷺ قاضی تھے، مگر خدا نے آپﷺ کو اپنی طرف سے قاضی مقرر نہیں کیا تھا بلکہ دُنیا کے عام ججوں اور مجسٹریٹوں کی طرح ایک جج یا مجسٹریٹ آپﷺ بھی تھے۔ یہی پوزیشن حاکم اور مُزکّی اور قائد وراہ نُما کے معاملے میں بھی آپ نے اختیار کی ہے کہ ان میں سے کوئی منصب بھی آپ کے خیال میں نبی ﷺ کو مامور من اللّٰہ ہونے کی حیثیت سے حاصل نہ تھا۔
پہلا سوال یہ ہے کہ پھر یہ مناصب حضور ﷺ کو حاصل کیسے ہوئے۔ کیا مکہ میں اِسلام قبول کرنے والوں نے باختیارِ خود آپﷺ کو اپنا لیڈر منتخب کیا تھا اور اس قیادت کے منصب سے وہ آپﷺ کو ہٹا دینے کے بھی مجاز تھے؟ کیا مدینہ پہنچ کر جب اِسلامی ریاست کی بِنا ڈالی گئی اس وقت انصار ومہاجرین نے کوئی مجلس مشاورت منعقد کر کے یہ طے کیا تھا کہ محمدﷺ ہماری اس ریاست کے صدر اور قاضی اور افواج کے قائد اعلیٰ ہوں گے؟ کیا حضورﷺ کی موجودگی میں کوئی دوسرا مسلمان بھی ان مناصب کے لیے منتخب ہو سکتا تھا؟ اور کیا مسلمان اس کے مجاز تھے کہ آپﷺ سے یہ سب مناصب، یا ان میں سے کوئی منصب واپس لے کر باہمی مشورے سے کسی اور کو سونپ دیتے؟ پھر کیا یہ بھی واقعہ ہے کہ مدینے کی اس ریاست کے لیے قرآن کے تحت تفصیلی قوانین اور ضابطے بنانے کی غرض سے کوئی لیجسلیچر (legislator)حضور ﷺ کے زمانے میں قائم کی گئی تھی جس میں آپﷺ صحابہؓکے مشورے سے قرآن کا منشا معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہوں اور اس مجلس کی رائے سے قرآن کا جو مفہوم متعین ہوتا ہو، اس کے مطابق ملکی قوانین بنائے جاتے ہوں؟ اگر ان سوالات کا جواب اثبات میں ہے تو براہ کرم! اس کا کوئی تاریخی ثبوت ارشاد فرمائیں اور اگر نفی میں ہے اور یقینا نفی میں ہے تو کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نبیﷺ خود راہ نُما، فرماں روا، قاضی، شارع اور قائد ِاعلیٰ بن بیٹھے تھے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ حضور ﷺ کی جو حیثیت آپ قرار دے رہے ہیں، کیا قرآن بھی آپﷺ کی وہ حیثیت قرار دیتا ہے؟ اس سلسلے میں ذرا قرآن کھول کر دیکھیے کہ وہ کیا کہتا ہے۔
رسولﷺ بحیثیت ِمعلم ومربی
اس کتاب پاک میں چار مقامات پر نبی ﷺکے منصبِ رسالت کی یہ تفصیل بیان کی گئی ہے:
۱۔ وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْلُ۝۰ۭ …رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ۝۰ۭ
البقرہ 127-129:2
اور یاد کرو جب کہ ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ اس گھر (کعبہ) کی بنیادیں اُٹھا رہے تھے (انھوں نے دعا کی) …اے ہمارے پروردگار! ان لوگوں میں خود انھی کے اندر سے ایک رسول مبعوث فرما، جو انھیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔
۲۔ كَـمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَo البقرہ 151:2
جس طرح ہم نے تمھارے اندر خود تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تم کو ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور تمھارا تزکیہ کرتا ہے اور تم کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمھیں وہ باتیں سکھاتا ہے جوتم نہیں جانتے تھے۔
۳۔ لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ آل عمران 164:3
اللّٰہ نے ایمان لانے والوں پر احسان فرمایا جب ان کے اندر خود انھی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو انھیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے او ر ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے۔
۴۔ ہُوَالَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْہِمْ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۤ الجمعہ 2:62
وہی ہے جس نے امیوں کے درمیان خود انھی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو ان کو اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے۔
ان آیات میں بار بار جس بات کو بتا کیددہرایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو صرف آیات قرآن سنا دینے کے لیے نہیں بھیجا تھا، بلکہ اس کے ساتھ بعثت کے تین مقصد اور بھی تھے:
i ایک یہ کہ آپ لوگوں کو کتاب کی تعلیم دیں۔
ii دوسرے یہ کہ اس کتاب کے منشا کے مطابق کام کرنے کی حکمت سکھائیں۔
iii اور تیسرے یہ کہ آپ افراد کا بھی اور ان کی اجتماعی ہیئت کا بھی تزکیہ کریں، یعنی اپنی تربیت سے ان کی انفرادی اور اجتماعی خرابیوں کو دور کریں اور ان کے اندر اچھے اوصاف اور بہتر نظام اجتماعی کو نشوونما دیں۔
ظاہر ہے کہ کتاب اور حکمت کی تعلیم صرف قرآن کے الفاظ سنا دینے سے زائد ہی کوئی چیز تھی ورنہ اُس کا الگ ذکر کرنا بے معنی تھا۔ اسی طرح افراد اور معاشرے کی تربیت کے لیے آپ جو تدابیر بھی اختیار فرماتے تھے، وہ بھی قرآن کے الفاظ پڑھ کر سنا دینے سے زائد ہی کچھ تھیں، ورنہ تربیت کی اس الگ خدمت کا ذکر کرنے کے کوئی معنی نہ تھے۔ اب فرمائیے کہ قرآن پہنچانے کے علاوہ یہ معلم اورمربی کے مناصب جو حضورﷺ کو حاصل تھے، ان پرآپﷺ خود فائزہوبیٹھے تھے یا اللّٰہ تعالیٰ نے آپﷺ کو ان پر مامور فرمایا تھا؟ کیا قرآن کی ان صاف اور مکرر تصریحات کے بعد اس کتاب پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص یہ کہنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ یہ دونوں مناصب رسالت کے اجزا نہ تھے اور آں حضرتﷺ ان مناصب کے فرائض اور خدمات بحیثیت رسول نہیں بلکہ اپنی پرائیویٹ حیثیت میں انجام دیتے تھے؟ اگر نہیں کَہہ سکتا تو بتائیے کہ قرآن کے الفاظ سنانے سے زائد جو باتیں حضورﷺ نے تعلیمِ کتاب وحکمت کے سلسلے میں فرمائیں اور اپنے قول وعمل سے افراد اور معاشرے کی جو تربیت حضورﷺ نے کی اسے من جانب اللّٰہ ماننے اور سند تسلیم کرنے سے انکار خود رسالت کا انکار نہیں تو اور کیا ہے؟
رسولﷺ بحیثیت شارح کتاب اللّٰہ
سورۂ نحل میں اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْہِمْ النحل 44:16
اور (اے نبیﷺ!) یہ ذکر ہم نے تمھاری طرف اس لیے نازل کیا ہے کہ تم لوگوں کے لیے واضح کر دو اُس تعلیم کو جو اُن کی طرف اتاری گئی ہے۔
اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبیﷺ کے سپرد یہ خدمت کی گئی تھی کہ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ جو احکام وہدایات دے، ان کی آپﷺ توضیح وتشریح فرمائیں۔ ایک موٹی سی عقل کا آدمی بھی کم از کم اتنی بات تو سمجھ سکتا ہے کہ کسی کتاب کی توضیح وتشریح محض اس کتاب کے الفاظ پڑھ کر سنا دینے سے نہیں ہو جاتی، بلکہ تشریح کرنے والا اس کے الفاظ سے زائد کچھ کہتا ہے تاکہ سننے والا کتاب کا مطلب پوری طرح سمجھ جائے، اور اگر کتاب کی کوئی بات کسی عملی مسئلے سے متعلق ہو تو شارح عملی مظاہرہ (practical demonstration)کرکے بتاتا ہے کہ مصنف کا منشا اس طرح عمل کرنا ہے۔ یہ نہ ہو تو کتاب کے الفاظ کا مطلب ومدعا پوچھنے والے کو پھر کتاب کے الفاظ ہی سنا دینا کسی طفل مکتب کے نزدیک بھی تشریح وتوضیح قرار نہیں پا سکتا۔ اب فرمائیے کہ اس آیت کی رو سے نبیﷺ قرآن کے شارح اپنی ذاتی حیثیت میں تھے، یا خدا نے آپﷺ کو شارح مقرر کیا تھا؟ یہاں تو اللّٰہ تعالیٰ اپنے رسول پر کتاب نازل کرنے کا مقصد ہی یہ بیان کر رہا ہے کہ رسول اپنے قول اور عمل سے اس کا مطلب واضح کرے۔ پھر کس طرح یہ ممکن ہے کہ شارحِ قرآن کی حیثیت سے آپﷺ کے منصب کو رسالت کے منصب سے الگ قرار دیا جائے اور آپ کے پہنچائے ہوئے الفاظ قرآن کو لے کر آپﷺ کی شرح وتفسیر قبول کرنے سے انکار کر دیا جائے؟ کیا یہ انکار خود رسالت کا انکار نہ ہو گا۔

رسولﷺ بحیثیت پیشوا ونمونۂ تقلید
سورۂ آل عمران میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ …… قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَo آل عمران 31-32:3
(اے نبیﷺ) کہو کہ اگر تم اللّٰہ سے مَحبّت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللّٰہ تم سے مَحبّت کرے گا… کہو کہ اطاعت کرو اللّٰہ اور رسولﷺ کی، پھر اگر وہ منہ موڑتے ہیں تو اللّٰہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔
اور سورۂ احزاب میں فرماتا ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ
الاحزاب 21:33
تمھارے لیے اللّٰہ کے رسول میں ایک نمونۂ تقلید ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللّٰہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو۔
ان دونوں آیتوں میں خود اللّٰہ تعالیٰ اپنے رسولﷺ کو پیشوا مقرر کر رہا ہے، ان کی پیروی کا حکم دے رہا ہے، ان کی زندگی کو نمونۂ تقلید قرار دے رہا ہے، اور صاف فرما رہا ہے کہ یہ روش اختیار نہ کرو گے تو مجھ سے کوئی امید نہ رکھو، میری مَحبّت اس کے بغیر تمھیں حاصل نہیں ہو سکتی، بلکہ اس سے منہ موڑنا کفر ہے۔ اب فرمائیے کہ حضورﷺ راہ نُما اور لیڈر خود بن بیٹھے تھے؟ یا مسلمانوں نے آپﷺ کو منتخب کیا تھا؟ یا اللّٰہ نے اس منصب پر آپﷺ کو مامور کیا تھا؟ اگر قرآن کے یہ الفاظ بالکل غیرمشتبہ طریقے سے آں حضورﷺ کو مامور من اللّٰہ راہ نُما وپیشوا قرار دے رہے ہیں، تو پھر آپﷺ کی پیروی اور آپﷺ کے نمونۂ زندگی کی تقلید سے انکار کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اس کے جوا ب میں یہ کہنا سراسر لغو ہے کہ اس سے مراد قرآن کی پیروی ہے۔ اگر یہ مراد ہوتی تو فَاتَّبِعُوا الْقُرْآنَ فرمایا جاتا نہ کہ فَاتَّبِعُوْنِیْ اور اس صورت میں رسول اللّٰہﷺ کی زندگی کو اسوۂ حسنہ کہنے کے تو کوئی معنی ہی نہ تھے۔
رسولﷺ بحیثیت شارع
سورۂ اعراف میں اللّٰہ تعالیٰ نبی ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:
۱۔ يَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہٰىہُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْہِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ
الاعراف 157:7
وہ ان کو معروف کا حکم دیتا ہے اور منکر سے ان کو روکتا ہے اور ان کے لیے پاک چیزوں کو حلال کرتا ہے اور ان پر ناپاک چیزوں کو حرام کرتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ اور بندھن اتار دیتا ہے، جو ان پر چڑھے ہوئے تھے۔
اس آیت کے الفاظ اس امر میں بالکل صریح ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو تشریعی اختیارات (legislative powers) عطا کیے ہیں۔ اللّٰہ کی طرف سے امر ونہی اور تحلیل وتحریم صرف وہی نہیں ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہے، بلکہ جو کچھ نبی ﷺ نے حرام یا حلال قرار دیا ہے اور جس چیز کا حضورﷺ نے حکم دیا ہے یا جس سے منع کیا ہے، وہ بھی اللّٰہ کے دیے ہوئے اختیارات سے ہے، اس لیے وہ بھی قانون خداوندی کا ایک حصہ ہے۔ یہی بات سورۂ حشر میں اسی صراحت کے ساتھ ارشاد ہوئی ہے:
۲۔ وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ۝۰ۤ وَمَا نَہٰىكُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا۝۰ۚ وَاتَّقُوا اللہَ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ شَدِيْدُ الْعِقَابِo الحشر 7:59
جو کچھ رسول تمھیں دے اسے لے لو اور جس سے منع کر دے، اس سے رک جائو اور اللّٰہ سے ڈرو، اللّٰہ سخت سزا دینے والا ہے۔
ان دونوں آیتوں میں سے کسی کی یہ تاویل نہیں کی جا سکتی کہ ان میں قرآن کے امر ونہی اور قرآن کی تحلیل وتحریم کا ذکر ہے۔ یہ تاویل نہیں بلکہ اللّٰہ کے کلام میں ترمیم ہو گی۔ اللّٰہ نے تو یہاں امر ونہی اور تحلیل وتحریم کو رسول کا فعل قرار دیا ہے نہ کہ قرآن کا۔ پھر کیا کوئی شخص اللّٰہ تعالیٰ سے یہ کہنا چاہتا ہے کہ آپ سے بیان میں غلطی ہو گئی، آپ بھولے سے قرآن کے بجائے رسول کا نام لے گئے؟
رسولﷺ بحیثیت ِقاضی
قرآن میں ایک جگہ نہیں، بکثرت مقامات پر اللّٰہ تعالیٰ اس امرکی تصریح فرماتا ہے کہ اس نے نبیﷺ کو قاضی مقرر کیا ہے، مثال کے طور پر چند آیات ملاحظہ ہوں:
۱۔ اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰىكَ اللہُ۝۰ۭ
النسائ 105:4
(اے نبیﷺ!) ہم نے تمھاری طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے، تاکہ تم لوگوں کے درمیان اللّٰہ کی دکھائی ہوئی روشنی میں فیصلہ کرو۔
۲۔ وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ مِنْ كِتٰبٍ۝۰ۚ وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ الشوریٰ 15:42
اور (اے نبیﷺ!) کہو کہ میں ایمان لایا ہوں اس کتاب پر جو اللّٰہ نے نازل کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمھارے درمیان عدل کروں۔
۳۔ اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَى اللہِ وَرَسُوْلِہٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَہُمْ اَنْ يَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۝۰ۭ النور 51:24
ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ بلائے جائیں اللّٰہ اور اس کے رسول کی طرف، تاکہ رسول(ﷺ) ان کے درمیان فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا۔
۴۔ وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللہُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ رَاَيْتَ الْمُنٰفِقِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاo النسائ 61:4
اور جب ان کو کہا جاتا ہے کہ آئو اللّٰہ کی نازل کردہ کتاب اور رسول کی طرف تو تم دیکھتے ہو منافقوں کو کہ وہ تم سے کنی کتراتے ہیں۔
۵۔ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًاo النسائ 65:4
پس (اے نبیﷺ!) تیرے رب کی قسم، وہ ہرگز مومن نہ ہوں گے جب تک کہ وہ اپنے جھگڑوں میں تجھے فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ تو کرے اس کی طرف سے اپنے دل میں کوئی تنگی تک محسوس نہ کریں، بلکہ اسے بسر وچشم قبول کر لیں۔
یہ تمام آیتیں اس امر میں بالکل صریح ہیں کہ نبی ﷺ خود ساختہ یا مسلمانوں کے مقرر کیے ہوئے جج نہیں، بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے جج تھے۔ تیسری آیت یہ بتا رہی ہے کہ آپ کے جج ہونے کی حیثیت رسالت کی حیثیت سے الگ نہیں تھی، بلکہ رسول ہی کی حیثیت میں آپ جج بھی تھے اور ایک مومن کا ایمان بالرسالت اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ آپ کی اس حیثیت کے آگے بھی سمع وطاعت کا رویہ نہ اختیار کر لے۔ چوتھی آیت میں مَا اَنْزَل اللّٰہ (قرآن) اور رسول دونوں کا الگ الگ ذکر کیا گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فیصلہ حاصل کرنے کے لیے دو مستقل مرجع ہیں، ایک: قرآن قانون کی حیثیت سے۔ دوسرے: رسولﷺ جج کی حیثیت سے، اور ان دونوں سے منہ موڑنا منافق کا کام ہے، نہ کہ مومن کا۔ آخری آیت میں بالکل بے لاگ طریقے سے کہہ دیا گیا ہے کہ رسولﷺ کو جو شخص جج کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتا وہ مومن ہی نہیں ہے، حتّٰی کہ اگر رسولﷺ کے دیے ہوئے فیصلے پر کوئی شخص اپنے دل میں بھی تنگی محسوس کرے تو اس کا ایمان ختم ہوجاتا ہے۔ کیا قرآن کی ان تصریحات کے بعد بھی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آں حضور ﷺ رسول کی حیثیت سے قاضی نہ تھے، بلکہ دُنیا کے عام ججوں اور مجسٹریٹوں کی طر ح آپﷺ بھی ایک جج یا مجسٹریٹ تھے، اس لیے ان کے فیصلوں کی طرح حضورﷺ کے فیصلے بھی مآخذ قانون نہیں بن سکتے؟ کیا دُنیا کے کسی جج کی یہ حیثیت ہو سکتی ہے کہ اس کا فیصلہ اگر کوئی نہ مانے، یا اس پر تنقید کرے، یا اپنے دل میں بھی اسے غلط سمجھے تو اس کا ایمان سلب ہو جائے؟
رسولﷺ بحیثیت حاکم وفرماںروا
قرآن مجید اسی صراحت اور تکرار کے ساتھ بکثرت مقامات پر یہ بات بھی کہتا ہے کہ نبی ﷺ، اللّٰہ کی طرف سے مقرر کیے ہوئے حاکم وفرماں روا تھے، اور آپﷺ کو یہ منصب بھی رسول ہی کی حیثیت سے عطا ہوا تھا:
۱۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۭ النسائ 64:4
ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا، مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللّٰہ کے اِذن (sanction) سے۔
۲۔ مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۝۰ۚ النسائ 80:4
جو رسولﷺ کی اطاعت کرے اس نے اللّٰہ کی اطاعت کی۔
۳۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللہَ۝۰ۭ الفتح 10:48
(اے نبیﷺ!) یقینا جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللّٰہ سے بیعت کرتے ہیں۔
۴۔ يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَكُمْo
محمد 33:47
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اطاعت کرو اللّٰہ کی اور اطاعت کرو رسولﷺ کی اور اپنے اعمال کو باطل نہ کر لو۔
۵۔ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَى اللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَہُمُ الْخِـيَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ۝۰ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًاo
الاحزاب 33: 36
اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب کسی معاملہ کا فیصلہ اللّٰہ اور اس کا رسولﷺ کر دے تو پھر ان کے لیے اپنے اس معاملے میں خود کوئی فیصلہ کر لینے کا اختیار باقی رہ جائے اور جو شخص اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کرے وہ کھلی گم راہی میں پڑ گیا۔
۶۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ النسائ 59:4
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! اطاعت کرو اللّٰہ کی اور اطاعت کرو رسولﷺ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے اولی الامر ہوں، پھر اگر تمھارے درمیان نزاع ہو جائے تو اس کو پھیر دو اللّٰہ اور رسول کی طرف اگر تم ایمان رکھتے ہو، اللّٰہ اور روزِ آخر پر۔
یہ آیات صاف بتا رہی ہیں کہ رسول کوئی ایسا حاکم نہیں ہے جو خود اپنی قائم کردہ ریاست کا سربراہ بن بیٹھا ہو، یا جسے لوگوں نے منتخب کرکے سربراہ بنایا ہو، بلکہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے مامور کیا ہوا فرماں روا ہے۔ اس کی فرماں روائی اس کے منصبِ رسالت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ اس کا رسول ہونا ہی اللّٰہ کی طرف سے اس کا حاکم مُطاع ہونا ہے۔ اس کی اطاعت عین اللّٰہ کی اطاعت ہے۔ اس سے بیعت دراصل اللّٰہ سے بیعت ہے۔ اس کی اطاعت نہ کرنے کے معنی اللّٰہ کی نافرمانی کے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی کا کوئی عمل بھی اللّٰہ کے ہاں مقبول نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں اہل ایمان کو (جن میں ظاہر ہے کہ پوری امت اور اس کے حکمران اور اس کے ’’مرکزِ ملت‘‘ سب شامل ہیں) قطعًا یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جس معاملے کا فیصلہ وہ کر چکا ہو، اس میں وہ خود کوئی فیصلہ کریں۔
ان تمام تصریحات سے بڑھ کر صاف اور قطعی تصریح آخری آیت کرتی ہے جس میں یکے بعد دیگرے تین اطاعتوں کا حکم دیا گیا ہے:
۱۔سب سے پہلے اللّٰہ کی اطاعت۔
۲۔اس کے بعد رسولﷺ کی اطاعت۔
۳۔پھر تیسرے درجے میں اولی الامر (یعنی آپ کے ’’مرکزِ ملت‘‘) کی اطاعت۔
اس سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوئی کہ رسول اولی الامر میں شامل نہیں ہے، بلکہ ان سے الگ اور بالاتر ہے اور اس کا درجہ خدا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ دوسری بات جو اس آیت سے معلوم ہوئی وہ یہ کہ اولی الامر سے نزاع ہو سکتی ہے مگر رسول سے نزاع نہیں ہو سکتی۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ نزاعات میں فیصلے کے لیے مرجع دو ہیں، ایک: اللّٰہ، دوسرا: اس کے بعد اللّٰہ کا رسولﷺ۔ ظاہر ہے کہ اگر مرجع صرف اللّٰہ ہوتا تو صراحت کے ساتھ رسول کا الگ ذکر محض بے معنی ہوتا۔ پھر جب کہ اللّٰہ کی طرف رجوع کرنے سے مراد کتاب اللّٰہ کی طرف رجوع کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے تو رسول کی طرف رجوع کرنے کا مطلب بھی اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا کہ عہدِ رسالت میں خود ذاتِ رسولﷺ کی طرف اور اس عہد کے بعد سُنّتِ رسولؐ کی طرف رجوع کیا جائے۔({ FR 6804 })
سُنّت کے مآخذِ قانون ہونے پر اُمّت کا اجماع
اب اگر آپ واقعی قرآن کو مانتے ہیں، اور اس کتاب مقدس کا نام لے کر خود اپنے من گھڑت نظریات کے معتقد بنے ہوئے نہیں ہیں، تو دیکھ لیجیے کہ قرآن مجید صاف وصریح اور قطعًا غیر مشتبہ الفاظ میں رسول اللّٰہﷺ کو خدا کی طرف سے مقرر کیا ہوا معلم، مربی، پیشوا، راہ نُما، شارح کلام اللّٰہ، شارع (law giver)، قاضی اور حاکم وفرماں روا قرار دے رہا ہے، اور حضور ﷺ کے یہ تمام مناصب اس کتاب پاک کی رو سے منصب رسالت کے اجزائے لاینفک ہیں۔ کلام الٰہی کی یہی تصریحات ہیں جن کی بِنا پر صحابہ کرامؓ کے دور سے لے کر آج تک تمام مسلمانوں نے بالاتفاق یہ مانا ہے کہ مذکورہ بالا تمام حیثیات میں حضورﷺ نے جو کام کیا ہے وہ قرآن کے بعد دوسرا ماخذ قانون (source of law) ہے جب تک کوئی شخص انتہائی برخود غلط نہ ہو، وہ اس پندار میں مبتلا نہیں ہو سکتا کہ تمام دُنیا کے مسلمان اور ہر زمانے کے سارے مسلمان قرآن پاک کی ان آیات کو سمجھنے میں غلطی کر گئے ہیں اور ٹھیک مطلب بس اس نے سمجھا ہے کہ حضورﷺ صرف قرآن پڑھ کر سنا دینے کی حد تک رسولﷺ تھے، اور اس کے بعد آپﷺ کی حیثیت ایک عام مسلمان کی تھی۔ آخر اس کے ہاتھ وہ کون سی نرالی لغت آ گئی ہے جس کی مدد سے قرآن کے الفاظ کا وہ مطلب اس نے سمجھا جو پوری امت کی سمجھ میں کبھی نہ آیا۔

۲۔ رسول پاکﷺ کے تشریعی اختیارات

دوسرا نکتہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا ہے:
لیکن اس بات پر آپ سے اتفاق نہیں ہے کہ۲۳ سالہ پیغمبرانہ زندگی میں حضورﷺ نے جو کچھ کیا تھا، یہ وہ سُنّت ہے جو قرآن کے ساتھ مل کر حاکم اعلیٰ کے قانون برتر کی تشکیل وتکمیل کرتی ہے۔ بے شک حضورﷺنے حاکمِ اعلیٰ کے قانون کے مطابق معاشرے کی تشکیل تو فرمائی لیکن یہ کہ کتاب اللّٰہ کا قانون (نعوذ باللّٰہ) نامکمل تھا اور جو کچھ حضورﷺ نے عملًا کیا اس سے اس قانون کی تکمیل ہوئی، میرے لیے ناقابل فہم ہے۔
اسی سلسلے میں آگے چل کر آپ پھر فرماتے ہیں:
نہ معلوم آپ کن وجوہات کی بِنا پر کتاب اللّٰہ کے قانون کو نامکمل قرار دیتے ہیں۔ کم از کم میرے لیے تو یہ تصور بھی جسم میں کپکپی پیدا کر دیتا ہے۔ کیا آپ قرآن کریم سے کوئی ایسی آیت پیش فرمائیں گے جس سے معلوم ہو کہ قرآن کا قانون نامکمل ہے۔
ان فقروں میں آپ نے جو کچھ فرمایا ہے، یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے جو علم قانون کے ایک مُسلم قاعدے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے آپ کو لاحق ہوئی ہے۔ دُنیا بھر میں یہ قاعدہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ قانون سازی کا اختیار اعلیٰ جس کو حاصل ہو وہ اگر ایک مجمل حکم دے کر، یاایک عمل کا حکم دے کر، یا ایک اصول طے کرکے اپنے ماتحت کسی شخص، یا ادارے کو اس کی تفصیلات کے بارے میں قواعد وضوابط مرتب کرنے کے اختیارات تفویض کر دے تو اس کے مرتب کردہ قواعد وضوابط قانون سے الگ کوئی چیز نہیں ہوتے، بلکہ اسی قانون کا ایک حصہ ہوتے ہیں۔ قانون ساز کا اپنا منشا یہ ہوتا ہے کہ جس عمل کا حکم بھی میں نے دیا ہے، ذیلی قواعد (bye laws) بنا کر اس پر عمل درآمد کا طریقہ (procedure) مقرر کر دیا جائے، جو اصول اس نے طے کیا ہے اس کے مطابق مفصل قوانین بنائے جائیں، اور جو مجمل ہدایت اس نے دی ہے اس کے منشا کو تفصیلی شکل میں واضح کر دیا جائے۔ اسی غرض کے لیے وہ خود اپنے ماتحت شخص، یا اشخاص، یا اداروں کو قواعد وضوابط مرتب کرنے کا مجاز کرتا ہے۔ یہ ذیلی قواعد بلاشبہ اصل ابتدائی قانون کے ساتھ مل کر اس کی تشکیل وتکمیل کرتے ہیں، مگر اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ قانون ساز نے غلطی سے ناقص قانون بنایا تھا، اور کسی دوسرے نے آ کر اس کا نقص دور کیا، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ قانون ساز نے اپنے قانون کا بنیادی حصہ خود بیان کیا اور تفصیلی حصہ اپنے مقرر کیے ہوئے ایک شخص یا ادارے کے ذریعے سے مرتب کرا دیا۔
حضورﷺ کے تشریعی کام کی نوعیت
اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی قانون سازی میں یہی قاعدہ استعمال فرمایا ہے۔ اس نے قرآن میں مجمل احکام اور ہدایات دے کر، یا کچھ اصول بیان کرکے، یا اپنی پسند وناپسند کا اظہار کرکے، یہ کام اپنے رسولﷺ کے سپرد کیا کہ وہ نہ صرف لفظی طور پر اس قانون کی تفصیلی شکل مرتب کریں بلکہ عملًا اسے برت کر اور اس کے مطابق کام کر کے بھی دکھا دیں۔ یہ تفویضِ اختیارات کا فرمان خود قانون کے متن (یعنی قرآن مجید) میں موجود ہے:
وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْہِمْ النحل 44:16
اور (اے نبیﷺ!) ہم نے یہ ذکر تمھاری طرف اس لیے نازل کیا ہے کہ تم لوگوں کے لیے واضح کر دو اس تعلیم کو جو ان کی طرف اتاری گئی ہے۔
اس صریح فرمانِ تفویض کے بعد آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ رسول اللّٰہﷺ کا قولی اور عملی بیان، قرآن کے قانون سے الگ کوئی چیز ہے۔ یہ درحقیقت قرآن ہی کی رو سے اس کے قانون کا ایک حصہ ہے۔ اس کو چیلنج کرنے کے معنی خود قرآن کو اور خدا کے پروانۂ تفویض کوچیلنج کرنے کے ہیں۔
اس تشریعی کام کی چند مثالیں
یہ اگرچہ آپ کے نکتے کا پورا جواب ہے، لیکن میں مزید تفہیم کی خاطر چند مثالیں دیتا ہوں جن سے آپ سمجھ سکیں گے کہ قرآن اور نبی کی شرح وبیان کے درمیان کس قسم کا تعلق ہے:
۱۔ قرآن مجید میں اللّٰہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا کہ وہ پاکیزگی کو پسند کرتا ہے: وَاللہُ يُحِبُّ الْمُطَّہِّرِيْنَo التوبہ 108:9 اور نبی ﷺ کو ہدایت کی کہ اپنے لباس کو پاک رکھیں۔ وَثِيَابَكَ فَطَہِرْo المدثر4:74 حضور ﷺ نے اس منشا پر عمل درآمد کے لیے استنجا اور طہارتِ جسم ولباس کے متعلق مفصل ہدایات دیں اور ان پر خود عمل کرکے بتایا۔
۲۔ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اگر تم کو جنابت لاحق ہو گئی تو پاک ہوئے بغیر نماز نہ پڑھو (النساء:۴:۴۳، المائدہ۵:۶)۔ نبی ﷺ نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ جنابت سے کیا مراد ہے۔ اس کا اطلاق کن حالتوں پر ہوتا ہے اور کن حالتوں پر نہیں ہوتا اور اس سے پاک ہونے کا طریقہ کیا ہے۔
۳۔ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنا منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لو، سر پر مسح کرو اور پائوں دھودو، یا ان پر مسح کرو، (المائدہ۵:۶) نبی ﷺ نے بتایا کہ منہ دھونے کے حکم میں کلی کرنا اور ناک صاف کرنا بھی شامل ہے۔ کان سر کا ایک حصہ ہیں اور سر کے ساتھ ان پر بھی مسح کرنا چاہیے۔ پائوں میں موزے ہوں تو مسح کیا جائے اور موزے نہ ہوں تو ان کو دھونا چاہیے۔ اس کے ساتھ آپ نے تفصیل کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ وضو کن حالات میں ٹوٹ جاتا ہے اور کن حالات میں باقی رہتا ہے۔
۴۔ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روزہ رکھنے والا رات کو اس وقت تک کھا پی سکتا ہے جب تک فجر کے وقت کالا تاگا سفید تاگے سے ممیز نہ ہو جائے:حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۝۰۠ البقرہ 187:2 نبی ﷺ نے بتایا کہ اس سے مراد تاریکیِ شب کے مقابلے میں سپیدۂ صبح کا نمایاں ہونا ہے۔
۵۔ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ نے کھانے پینے کی چیزوں میں بعض اشیا کے حرام اور بعض کے حلال ہونے کی تصریح کرنے کے بعد باقی اشیا کے متعلق یہ عام ہدایت فرمائی کہ تمھارے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کی گئی ہیں(المائدہ ۵:۴) نبی ﷺ نے اپنے قول اور عمل سے اس کی تفصیل بتائی کہ پاک چیزیں کیا ہیں جنھیں ہم کھا سکتے ہیں اور ناپاک چیزیں کون سی ہیں جن سے ہم کو بچنا چاہیے۔
۶۔ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ نے وراثت کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر میت کی نرینہ اولاد کوئی نہ ہوا ور ایک لڑکی ہو تو وہ نصف ترکہ پائے گی اور دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو ان کو ترکے کا دو تہائی حصہ ملے گا(النساء۴:۱۱)۔ اس میں یہ بات واضح نہ تھی کہ اگر دو لڑکیاں ہوں تو وہ کتنا حصہ پائیں گی۔ نبی ﷺ نے توضیح فرمائی کہ دو لڑکیوں کا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا دو سے زائد لڑکیوں کا مقرر کیا گیا ہے۔
۷۔ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ نے دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا (النساء۴:۲۳) نبی ﷺ نے بتایا کہ پھوپھی، بھتیجی اور خالہ بھانجی کو جمع کرنا بھی اسی حکم میں داخل ہے۔
۸۔ (قرآن ({ FR 6805 })مردوں کو اجازت دیتا ہے کہ دو دو،تین تین، چار چار عورتوں سے نکاح کر لیں (النساء۴:۳) یہ الفاظ اس معاملے میں قطعًا واضح نہیں ہیں کہ ایک مرد بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتا۔ حکم کے اس منشا کی وضاحت نبی ﷺ نے فرمائی اور جن لوگوں کے نکاح میں چار سے زیادہ بیویاں تھیں ان کو آپ نے حکم دیا کہ زائد بیویوں کو طلاق دے دیں۔
۹۔ قرآن حج کی فرضیت کا عام حکم دیتا ہے اور یہ صراحت نہیں کرتا کہ اس فریضہ کو انجام دینے کے لیے آیا ہر مسلمان کو ہر سال حج کرنا چاہیے یا عمر میں ایک بار کافی ہے، یا ایک سے زیادہ مرتبہ جانا چاہیے (آل عمران۳:۹۷)۔ یہ نبی ﷺ ہی کی تشریح ہے جس سے ہم کو معلوم ہوا کہ عمر میں صرف ایک مرتبہ حج کرکے آدمی فریضۂ حج سے سبک دوش ہو جاتا ہے۔
۱۰۔ قرآن سونے اور چاندی کے جمع کرنے پر سخت وعید فرماتا ہے۔ سورۂ توبہ کی آیت ۳۴ کے الفاظ ملاحظہ فرما لیجیے۔ اس کے عموم میں اتنی گنجائش بھی نظر نہیں آتی کہ آپ روز مرہ کے خرچ سے زائد ایک پیسہ بھی اپنے پاس رکھ سکیں، یا آپ کے گھر کی خواتین کے پاس سونے یا چاندی کا ایک تار بھی زیور کے طور پر رہ سکے۔ یہ نبی ﷺ ہی ہیں جنھوں نے بتایا کہ سونے اور چاندی کا نصاب کیا ہے اور بقدر نصاب یا اس سے زیادہ سونا چاندی رکھنے والا آدمی اگر اس پر ڈھائی فی صدی کے حساب سے زکوٰۃ ادا کر دے تو وہ قرآن مجید کی اس وعید کا مستحق نہیں رہتا۔)
ان چند مثالوں سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اللّٰہ تعالیٰ کے تفویض کردہ تشریعی اختیارات کو استعمال کرکے، قرآن کے احکام وہدایات اور اشارات ومضمرات کی کس طرح شرح وتفسیر فرمائی ہے۔ یہ چیز چوں کہ خود قرآن میں دیے ہوئے فرمانِ تفویض پر مبنی تھی اس لیے یہ قرآن سے الگ کوئی مستقل بالذات نہیں ہے، بلکہ قرآن کے قانون ہی کا ایک حصہ ہے۔

۳۔ سُنّت اور اتباع سُنّت کا مفہوم

تیسرا نکتہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ سُنّتِ رسولﷺ کا اتباع یہ ہے کہ جو کام حضورﷺ نے کیا، وہی ہم کریں، نہ یہ کہ جس طرح حضورؐ نے کیا اسی طرح ہم بھی کریں۔ اگر حضورﷺ نے مَااَنْزَلَ اللّٰہُ کو دوسروں تک پہنچایا تو امت کا بھی فریضہ ہے کہ مَااَنْزَلَ اللّٰہُ کو دوسروں تک پہنچائے…‘‘({ FR 6806 })
سُنّت اور اس کے اتباع کا یہ مفہوم جو آپ نے متعین کیا ہے، اس کے متعلق میں صرف اتنا کہنا کافی سمجھتا ہوں کہ یہ خود اس مَااَنْزَلَ اللّٰہ ُکے مطابق نہیں ہے جس کے اتباع کو آپ واجب مانتے ہیں۔ مَااَنْزَلَ اللّٰہ ُکی رُو سے تو سُنّت کا اتباع یہ ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے اللّٰہ کے مقرر کیے ہوئے معلم، مربی، شارع، قاضی، حاکم وفرماں روا اور شارحِ قرآن ہونے کی حیثیت سے جو کچھ فرمایا اور عمل کرکے دکھایا ہے، اسے آپ سُنّتِ رسولﷺ مانیں اور اس کا اتباع کریں۔ اس کے دلائل میں اوپر بیان کر چکا ہوں، اس لیے انھیں دہرانے کی حاجت نہیں ہے۔
اس سلسلے میں آپ نے مسواک والی بات جو لکھی ہے اس کا سیدھا سادا جواب یہ ہے کہ سنجیدہ علمی مباحث میں اس قسم کی مہمل باتوں کو بطور نظیر لا کر کسی مسئلے کا تصفیہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر نقطۂ نظر کے حامیوں میں کچھ نہ کچھ لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو اپنی غیر معقول باتوں سے اپنے نقطۂ نظر کو مضحکہ انگیز بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کی باتوں سے استدلال کرکے، بجائے خود اس نقطۂ نظر کی تردید کرنے کی کوشش اگر آپ کریں گے تو اس کے معنی اس کے سوا کچھ نہ ہوں گے کہ وزنی دلائل کا مقابلہ کرنے سے پہلو تہی کرکے آپ صرف کم زور باتیں زور آزمائی کے لیے تلاش کرتے ہیں۔
اسی طرح آپ کی یہ دلیل بھی بہت کم زور ہے کہ اتباع سُنّت کے معنی آج کے ایٹمی دور میں تیروں سے لڑنے کے ہیں کیوں کہ حضور ﷺکے زمانے میں تیروں ہی سے جنگ کی جاتی تھی۔ آخر آپ سے کس نے کہا ہے کہ اتباع سُنّت کے معنی یہ ہیں؟ اتباعِ سُنّت کے یہ معنی اہل علم نے کبھی نہیں لیے ہیں کہ ہم جہاد میں وہی اسلحہ استعمال کریں جو حضورﷺ کے زمانے میں استعمال ہوتے تھے بلکہ ہمیشہ اس کے معنی یہی سمجھے گئے ہیں کہ ہم جنگ میں ان مقاصد، ان اخلاقی اصولوں اور ان شرعی ضابطوں کو ملحوظ رکھیں جن کی ہدایت نبی ﷺ نے اپنے قول اور عمل سے دی ہے اور ان اغراض کے لیے لڑنے اور وہ کارروائیاں کرنے سے باز رہیں جن سے آپﷺ نے منع فرمایا ہے۔

۴۔رسولﷺ پاک کس وحی کے اتباع پر مامور تھے، اور ہم کس کے اتباع پر مامور ہیں؟

آپ کا چوتھا نکتہ آپ کے اپنے الفاظ میں یہ ہے کہ:
ان تمام اعمال میں جو حضور ﷺ نے ۲۳ سالہ پیغمبرانہ زندگی میں کیے وہ اسی مَااَنْزَلَ اللّٰہُ کا، جو کتاب اللّٰہ میں موجود ہے، اتباع کرتے تھے اور امت کو بھی یہی حکم ملا کہ اسی کا ابتاع کرے۔ جہاں اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْالاعراف 3:7 کہہ کر امت کے افراد کو تلقین کی وہاں یہ بھی اعلان ہوا کہ حضور ﷺ بھی اسی کا اتباع کرتے ہیں۔ قُلْ اِتَّبِعْ مَا یُوْحٰی اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ۔
اس عبارت میں آپ نے دو آیتیں نقل کی ہیں اور دونوں نہ صرف یہ کہ غلط نقل کی ہیں، بلکہ نقل میں بھی ایسی غلطیاں کی ہیں جو عربی زبان کی شدبد کا علم رکھنے والا بھی نہیں کر سکتا۔
پہلی آیت دراصل یہ ہے:
اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ الاعراف 3:7
یعنی پیروی کرو اس کی جو تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔
آپ کے نقل کردہ الفاظ کا ترجمہ یہ ہو گا کہ:
پیروی کرو اس کی جو اللّٰہ نے تمھارے رب کی جانب سے نازل کیا ہے۔
دوسری آیت کے اصل الفاظ قرآن مجید میں یہ ہیں :
قُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِــعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ۝۰ۚ الاعراف 203:7
کہو کہ میں تو اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب کی جانب سے بھیجی جاتی ہے۔
آپ نے جو الفاظ نقل کیے ہیں ان کا ترجمہ یہ ہے:
کہو کہ پیروی کر اس وحی کی جو میری طرف میرے رب کی جانب سے بھیجی جاتی ہے۔
مَیں نے ان غلطیوں پر آپ کو صرف اس لیے متنبہ کیا ہے کہ آپ کسی وقت ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ ایک طرف قرآن سے آپ کی واقفیت کا یہ حال ہے اور دوسری طرف آپ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ ساری امت کے اہل علم وتحقیق قرآن کو غلط سمجھے ہیں اور آپ نے اس کو صحیح سمجھا ہے۔
اب رہا اصل مسئلہ، تو اس میں آپ نے دو باتیں کہی ہیں اور دونوں غلط ہیں۔ ایک بات آپ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللّٰہ ﷺ پر صرف وہی وحی آتی تھی جو قرآن میں موجود ہے اور حضورﷺ کو صرف اسی کی پیروی کا حکم تھا حالانکہ خود قرآن سے یہ ثابت ہے کہ حضور ﷺپر قرآن کے علاوہ بھی وحی کے ذریعے سے احکام نازل ہوتے تھے اور آپﷺ ان دونوں قسم کی وحیوں کا اتباع کرنے پر مامور تھے۔({ FR 6807 })دوسری بات آپ یہ فرماتے ہیں کہ امت کو صرف قرآن کی پیروی کا حکم ہے حالانکہ قرآن یہ کہتا ہے کہ امت کو رسول پاکﷺ کی پیروی کا حکم بھی ہے:
۱۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ آل عمران 31:3
اے نبی(ﷺ) کہہ دو کہ اگر تم اللّٰہ سے مَحبّت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللّٰہ تم سے مَحبّت فرمائے گا۔
۲۔ وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ۝۰ۭ فَسَاَكْتُبُہَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَالَّذِيْنَ ہُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَo اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَہٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِي التَّوْرٰىۃِ وَالْاِنْجِيْلِ الاعراف 156-157:7
میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے اور اس رحمت کو میں ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقوٰی اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں، جو پیروی کرتے ہیں اس رسول نبی اُمّی(ﷺ) کی جس کا ذکر وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔
۳۔ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِىْ كُنْتَ عَلَيْہَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰي عَقِبَيْہِ۝۰ۭ البقرہ 143:2
اور ہم نے وہ قبلہ جس پر اب تک تم تھے اسی لیے مقرر کیا تھا تاکہ یہ دیکھیں کہ کون رسول(ﷺ) کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پائوں پھر جاتا ہے۔
ان آیات میں رسول(ﷺ) کی پیروی کرنے کے حکم کو تاویل کے خراد پر چڑھا کر یہ معنی نہیں پہنائے جا سکتے کہ اس سے مراد دراصل قرآن کی پیروی ہے جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں، اگر واقعی مقصود یہی ہوتا کہ لوگ رسول کی نہیں، بلکہ قرآن کی پیروی کریں تو آخر کیا وجہ ہے کہ آیت نمبر ۱ میں اللّٰہ تعالیٰ نے فَاتَّبِعُوْاکِتَابَ اللّٰہِ کہنے کی بجائے فَاتَّبِعُوْنِیْ کے الفاظ استعمال فرمائے؟ کیا آپ کی رائے میں یہاں اللّٰہ تعالیٰ سے چوک ہو گئی ہے؟
پھر آیت نمبر۲ میں تو اس تاویل کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے کیوں کہ اس میں آیاتِ خداوندی پر ایمان لانے کا ذکر الگ ہے اور نبی اُمّی ﷺ کے اتباع کا ذکر الگ۔
ان سب سے زیادہ کھلی ہوئی آیت نمبر ۳ ہے جو ایسی ہر تاویل کی جڑ کاٹ دیتی ہے اور ساتھ ساتھ آپ کے اس مفروضے کا بھی قلع قمع کر دیتی ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ پر قرآن کے سوا اور کسی صورت میں وحی نہیں آتی تھی۔ مسجد حرام کو قبلہ قرار دینے سے پہلے مسلمانوں کا جو قبلہ تھا، اسے قبلہ بنانے کا کوئی حکم قرآن میں نہیں آیا ہے۔ اگر آیا ہو تو آپ اس کا حوالہ دے دیں۔ یہ واقعہ ناقابل انکار ہے کہ وہ قبلہ آغاز اِسلام میں نبی ﷺ نے مقرر کیا تھا اور تقریباً ۱۴ سال تک اسی کی طرف حضور ﷺ اور صحابہ کرامؓ نماز ادا کرتے رہے۔ ۱۴ سال کے بعد اللّٰہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ کی اس آیت میں حضورﷺ کے اس فعل کی توثیق فرمائی، اور یہ اعلان فرمایا کہ یہ قبلہ ہمارا مقرر کیا ہوا تھا اور اسے ہم نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے سے اس لیے مقرر کیا تھا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اس سے منہ موڑتا ہے۔ یہ ایک طرف اس امر کا صریح ثبوت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ پر قرآن کے علاوہ بھی وحی کے ذریعے سے احکام نازل ہوتے تھے اور دوسری طرف یہی آیت پوری صراحت کے ساتھ یہ بتاتی ہے کہ مسلمان رسول اللّٰہ ﷺ کے ان احکام کا اتباع کرنے پر بھی مامور ہیں جو قرآن میں مذکور نہ ہوں، حتّٰی کہ اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں مسلمانوں کے ایمان بالرسالت کی آزمائش ہی اس طریقے سے ہوتی ہے کہ رسولﷺ کے ذریعے سے جو حکم دیا جائے، اسے وہ مانتے ہیں یا نہیں؟ اب آپ اور آپ کے ہم خیال حضرات خود سوچ لیں کہ اپنے آپ کو کس خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اگر آپ کے دل میں واقعی خدا کا اتنا خوف ہے کہ اس کی ہدایت کے خلاف طرز عمل کا تصور کرنے سے بھی آپ کے جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے تو میری گزارش ہے کہ بحث ومناظرے کے جذبے سے اپنے ذہن کو پاک کرکے اوپر کی چند سطروں کو مکرر پڑھیں۔ خدا کرے کہ آپ کے جسم پر کپکپی طاری ہو، اور آپ اس گم راہی سے بچ نکلیں جس میں محض اپنے ناقص مطالعے کی وجہ سے پڑ گئے ہیں۔

۵۔ مرکزِ ملّت

پانچواں نکتہ آپ یہ ارشاد فرماتے ہیں:
چوں کہ دین کا تقاضا یہ تھا کہ کتاب پر عمل اجتماعی شکل میں ہو، اور یہ ہو نہیں سکتا کہ ایک شخص قرآن پر اپنی سمجھ کے مطابق عمل کرے اور دوسرا اپنی سمجھ کے مطابق، اس لیے نظام کو قائم رکھنے کے لیے ایک زندہ شخصیت کی ضرورت ہے اور مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ جہاں اجتماعی نظام کے قیام کا سوال ہو، وہاں پہنچانے والے کا مقام بہت آگے ہوتا ہے، کیوں کہ پیغام اس نے اس لیے پہنچایا کہ وحی اس کے سوا کسی اور کو نہیں ملتی۔ چنانچہ قرآن نے اسی لیے واضح کر دیا کہ مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ النسائ 80:4
چنانچہ حضور ﷺ مرکزِ ملت بھی تھے اور سُنّت رسول اللّٰہﷺ پر عمل یہی ہے کہ حضورﷺ کے بعد بھی اسی طرح مرکزیت کو قائم رکھا جائے۔ چنانچہ اسی نکتے کو قرآن کریم نے ان الفاظ میں واضح کر دیا کہ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ۝۰ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ۝۰ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓى اَعْقَابِكُمْ۝۰ۭ ({ FR 6808 }) آل عمران 144:3
اس نکتے کو آپ نے اچھی طرح کھول کر بیان نہیں فرمایا ہے۔ آپ کے مجموعی اشارات کی مدد سے آپ کا جو مدعا سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ محض اجتماعی نظام قائم کرنے کی خاطر، اپنے زمانے میں رسول کے علاوہ ’’مرکزِ ملت‘‘ بھی بنائے گئے تھے۔ آپﷺ کی رسول ہونے کی حیثیت تو دائمی تھی، مگر ’’مرکزِ ملت‘‘ ہونے کی حیثیت صرف اس وقت تک تھی جب تک آپﷺ کی زندہ شخصیت نظام جماعت چلا رہی تھی۔ پھر جب آپﷺ کی وفات ہو گئی تو آپﷺ کے بعد جس زندہ شخصیت کو نظام قائم رکھنے کے لیے سربراہ بنایا گیا اور اب بنایا جائے وہ اپنے زمانے کے لیے ویسا ہی ’’مرکزِ ملت‘‘ تھا اور ہو گا جیسے حضورﷺ اپنے زمانے کے لیے تھے۔ اب سُنّتِ رسولﷺ کی پیروی بس یہی ہے کہ ہم نظامِ قائم رکھنے کے لیے یکے بعد دیگرے تسلسل کے ساتھ ’’مرکزِ ملت‘‘ قائم کرتے رہیں۔ اس معاملے میں بعد کے مرکزانِ ملت پر اگر حضورﷺ کو کوئی فوقیت ہے تو صرف یہ کہ قرآن پہنچانے والے کی حیثیت سے آپﷺ کا مقام بہت آگے ہے۔
چند اصولی سوالات
آپ کے کلام کی یہ تفسیر جو میں نے کی ہے، یہ اگر صحیح نہیں ہے تو آپ تصحیح فرما دیں۔ صاحب کلام ہونے کی حیثیت سے آپ کی اپنی تفسیر صحیح تر ہو گی۔ لیکن اگر میں نے آپ کا مطلب ٹھیک سمجھا ہے، تو اس پر چند سوالات پیدا ہوتے ہیں:
اوّل یہ کہ ’’مرکزِ ملت‘‘ سے آپ کی مراد کیا ہے؟ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں رسول اللّٰہ ﷺ کے فرائضِ رسالت کی جو تفصیل بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ آ پ اللّٰہ کی کتاب پہنچانے والے ہیں۔ اس کتاب کی تشریح وتوضیح کرنے والے ہیں، اس کے مطابق کام کرنے کی حکمت سکھانے والے ہیں، افراد اورجماعت کا تزکیہ کرنے والے ہیں، مسلمانوں کے لیے نمونۂ تقلید ہیں، وہ راہ نُما ہیں جس کی پیروی خدا کے حکم سے واجب ہے، امر ونہی اور تحلیل وتحریم کے اختیارات رکھنے والے شارع (law giver) ہیں، قاضی ہیں، اور حاکم مُطاع ہیں۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ تمام مناصب حضورﷺ کو رسول ہونے کی حیثیت سے حاصل تھے اور منصبِ رسالت پر آپﷺ کے مامور ہونے کا مطلب ہی یہ تھا کہ آپﷺ ان مناصب پر اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے مامور کیے گئے ہیں۔ اس باب میں قرآن کے واضح ارشادات میں پہلے نقل کر چکا ہوں جنھیں دہرانے کی حاجت نہیں۔ اب چوں کہ ’’مرکزِ ملت‘‘ قرآن کی نہیں بلکہ آپ لوگوں کی اپنی بنائی ہوئی اصطلاح ہے، اس لیے براہِ کرم آپ یہ بتائیں کہ ’’مرکزِ ملت‘‘ کا منصب ان مناصب کے ماسوا کچھ ہے؟ یا انھی مناصب کا مجموعہ ہے؟ یا ان میں سے بعض مناصب اس میں شامل ہیں اور بعض نہیں ہیں؟ اگر وہ ان کے ماسوا کچھ ہے تو وہ کیا ہے اور حضورﷺ کے اس منصب کا علم آپ کو کس ذریعے سے حاصل ہوا ہے؟ اگر وہ انھی مناصب کا مجموعہ ہے تو آپ اس کو رسالت سے الگ کیسے قرار دیتے ہیں؟ اور اگر ان میں سے بعض مناصب ’’مرکزِ ملت‘‘ کے ہیں اور بعض منصب رسالت کے تو وہ کون کون سے مناصب ہیں جو مرکزِ ملت کے منصب میں شامل ہیں اور ان کو کس دلیل سے آپ منصبِ رسالت سے الگ کرتے ہیں؟
دوسرا سوال ’’مرکزِ ملت‘‘ کے تقرر کا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس تقرر کی تین ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ کسی شخص کو اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں کے لیے مرکزِ ملت مقرر کرے۔ دوسری یہ کہ مسلمان اپنی مرضی سے اس کو منتخب کریں۔ تیسری یہ کہ وہ طاقت سے مسلط ہو کر زبردستی مرکزِ ملت بن جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ ’’مرکزِ ملت‘‘ سے خواہ کچھ بھی مراد ہو، اس منصب پر حضور ﷺ کا تقرر ان تینوں صورتوں میں سے آخر کس صورت پر ہوا تھا؟ کیا یہ تقرر اللّٰہ نے کیا تھا؟ یا مسلمانوں نے آپ کو اس منصب کے لیے منتخب کیا تھا؟ یا حضور ﷺ خود ’’مرکزِ ملت‘‘ بن گئے تھے؟ ان میں سے جو شق بھی آپ اختیار کرتے ہیں اس کی تصریح ہونی چاہیے اور اسی طرح یہ تصریح بھی ہونی چاہیے کہ حضور ﷺ کے بعد جو بھی ’’مرکزِ ملت‘‘ بنے گا وہ خداوند عالم کی طرف سے نامزد اور مامور کیا ہوا ہو گا؟ یا مسلمان اس کو مرکز بنائیں گے؟ یا وہ خود اپنے زور سے مرکز بن جائے گا؟ اگر دونوں کے طریق تقرر میں آپ کے نزدیک کوئی فرق نہیں ہے تو صاف صاف یہ بات کہہ دیجیے تاکہ آپ کا موقف مبہم نہ رہے اور اگر فرق ہے تو بتائیے کہ وہ کیا فرق ہے اور اس فرق سے دونوں قسم کے مرکزوں کی حیثیت اور اختیارات میں بھی کوئی بنیادی فرق واقع ہوتا ہے یا نہیں؟
تیسرا سوال یہ ہے کہ ’’پہنچانے والے کا مقام بہت آگے ہوتا ہے‘‘ فرما کر آپ نے ازراہ کرم رسول اللّٰہ ﷺ کو دوسرے ’’مرکزانِ ملت‘‘ پر جو فوقیت عطا فرمائی ہے یہ محض درجے اور مرتبے کی فوقیت ہے، یا آپ کے نزدیک دونوں کے منصبوں کی نوعیت میں بھی کوئی فرق ہے؟ زیادہ واضح الفاظ میں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آیا آپ کے خیال میں وہ سب اختیارات جو رسول اللّٰہ ﷺ کو ’’مرکزِ ملت‘‘ کی حیثیت سے حاصل تھے، آپﷺ کے بعد ’’مرکزِ ملت‘‘ بننے والے کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں؟ اور کیا باعتبار اختیارات دونوں مساوی حیثیت رکھتے ہیں؟ اور کیا دوسروں پر حضور ﷺ کو فوقیت بس اتنی ہی ہے کہ آپﷺ بعد والے مرکز کی بہ نسبت کچھ زیادہ احترام کے مستحق ہیں کیوں کہ آپﷺ نے قرآن پہنچایا ہے؟
اگر یہ آپ کا خیال ہے تو بتائیے کہ حضور ﷺ کے بعد بننے والے یا بنائے جانے والے مرکز کی حیثیت بھی کیا یہی ہے کہ اس کے فیصلے سے سرتابی کرنا تو درکنار، اس کے خلاف دل میں تنگی محسوس کرنے سے بھی آدمی کا ایمان سلب ہو جائے؟ کیا اس کی حیثیت بھی یہی ہے کہ جب وہ کسی معاملے میں اپنا فیصلہ دے دے تو مسلمانوں کو اس سے مختلف کوئی رائے رکھنے کا حق باقی نہ رہے؟ کیا اس کا مقام بھی یہی ہے کہ اس کے ساتھ مسلمان کوئی نزاع نہیں کر سکتے اور اس کے فرمان کو بے چون وچرا تسلیم کر لینے کے سوا امت کے لیے کوئی چارۂ کار نہیں ہے، اگر وہ مومن رہنا چاہتی ہو؟ کیا وہ زندہ شخصیت یا شخصیتیں جو ’’مرکز ملت‘‘ بنیں یا بنائی جائیں، اسوۂ حسنہ بھی ہیں کہ مسلمان ان کی زندگیوں کو دیکھیں اور پورے اطمینان کے ساتھ اپنے آپ کو بھی ان کے مطابق ڈھالتے چلے جائیں؟ کیا وہ بھی ہمارے تزکیے اور تعلیم کتاب وحکمت اور تشریح مَااَنْزَلَ اللّٰہُ کے لیے ’’مبعوث‘‘ بنے ہوئے ہیں کہ مستند ہو اُن کا فرمایا ہوا؟
کیا ہی اچھا ہو کہ آپ ان سوالات پر ذرا تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالیں تاکہ اس ’’مرکزِ ملت‘‘ کی ٹھیک ٹھیک پوزیشن سب کے سامنے آ جائے جس کا ہم بہت دنوں سے چرچا سن رہے ہیں۔

۶۔ کیا حضورﷺ صرف قرآن پہنچانے کی حد تک نبی تھے؟

آپ کا چھٹا نکتہ آپ کے اپنے الفاظ میں یہ ہے:
آپ کا اگلا سوال یہ ہے کہ جو کام حضورﷺ نے ۲۳ سالہ پیغمبرانہ زندگی میں سرانجام دیے اُن میں آں حضرت ﷺ کی پوزیشن کیا تھی؟ میرا جواب یہ ہے کہ حضور ﷺ نے جو کچھ کرکے دکھایا، وہ ایک بشر کی حیثیت سے لیکن مَااَنْزَلَ اللّٰہُ کے مطابق کرکے دکھایا۔ میرا یہ جواب کہ حضور ﷺ کے فرائضِ رسالت کی سرانجام دہی ایک بشر کی حیثیت سے تھی، میرے اپنے ذہن کی پیداوار نہیں بلکہ خود کتاب اللّٰہ سے اس کا ثبوت ملتا ہے، حضور ﷺ نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ۔
اس عبارت میں آپ نے میرے جس سوال کا جواب دیا ہے وہ دراصل یہ تھا کہ اس پیغمبرانہ زندگی میں حضور ﷺ نے قرآن پہنچانے کے سوا دوسرے جو کام کیے تھے وہ آیا نبی ہونے کی حیثیت میں کیے تھے جن میں آپ قرآن مجید کی طرح اللّٰہ تعالیٰ کی مرضی کی نمایندگی کرتے تھے، یا ان کاموں میں آپﷺ کی حیثیت محض ایک عام مسلمان کی سی تھی؟ اس کا جواب آپ یہ دیتے ہیں کہ یہ کام حضور ﷺ نے بشر کی حیثیت سے کیے تھے لیکن مَااَنْزَلَ اللّٰہ کے مطابق کیے تھے۔ دوسرے الفاظ میں آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آں حضور ﷺ صرف قرآن پہنچا دینے کی حد تک نبیﷺ تھے، اس کے بعد ایک قائد وراہ نُما، ایک معلم، ایک مربی، ایک مقنن، ایک جج اور ایک فرماں روا ہونے کی حیثیت میں آپﷺ نے جو کچھ بھی کیا اس میں آپﷺ کا مقام ایک نبی کا نہیں، بلکہ ایک ایسے عام انسان کا تھا جو قرآن کے مطابق عمل کرتاہو۔ آپ دعوٰی کرتے ہیں کہ قرآن نے حضور ﷺ کی یہی حیثیت بیان کی ہے لیکن اس سے پہلے قرآن کی جو صریح آیات میں نے نقل کی ہیں ان کو پڑھنے کے بعد کوئی ذی فہم آدمی یہ نہیں مان سکتا کہ قرآن نے واقعی حضور ﷺ کو یہ حیثیت دی ہے۔
آپ قرآن سے یہ ادھوری بات نقل کر رہے ہیں کہ حضور ﷺ بار بار اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ فرماتے تھے۔ پوری بات جو قرآن نے کہی ہے وہ یہ ہے کہ محمد ﷺ ایک ایسے بشر ہیں جسے رسول بنایا گیا ہے۔قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ ہَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًاo بنی اسرائیل 93:17 اور حضورﷺ ایک ایسے بشر ہیں جس پر خدا کی طرف سے وحی آتی ہےقُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ الکہف 110:18
کیا آپ ایک عام بشر اور رسالت ووحی پانے والے بشر کی پوزیشن میں کوئی فرق نہیں سمجھتے؟ جو بشر خدا کا رسول ہو وہ تو لامحالہ خدا کا نمایندہ ہے، اور جس بشر کے پاس وحی آتی ہو، وہ خدا کی براہِ راست ہدایت کے تحت کام کرتا ہے۔ اس کی حیثیت اور ایک عام بشر کی حیثیت یکساں کیسے ہو سکتی ہے۔
آپ جب یہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ کے مطابق کام کرتے تھے تو آپ کا مطلب مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ سے صرف قرآن ہوتا ہے۔ اس لیے آپ لفظاً ایک حق بات مگر معنًا ایک باطل بات کہتے ہیں۔ بلاشبہ حضور ﷺ مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ کے مطابق کام کرتے تھے، مگر آپ کے اوپر صرف وہی وحی نازل نہیں ہوتی تھی جو قرآن میں پائی جاتی ہے، بلکہ اس کے علاوہ بھی آپ کو وحی کے ذریعے سے احکام ملتے تھے۔ اس کا ایک ثبوت میں آپ کے چوتھے نکتے کا جواب دیتے ہوئے پیش کر چکا ہوں۔ مزید ثبوت ان شاء اللہ آپ کے دسویں نکتے کی بحث میں دوں گا۔

۷۔ حضورﷺ کی اجتہادی لغزشوں سے غلط استدلال

ساتواں نکتہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا ہے:
قرآن کی آیات سے واضح ہے کہ حضور ﷺ نظام مملکت کی سرانجام دہی میں ایک بشرکی حیثیت رکھتے تھے اور کبھی کبھی آں حضرت ﷺ سے اجتہادی غلطیاں بھی ہو جاتی تھیں۔ قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَآ اَضِلُّ عَلٰي نَفْسِيْ۝۰ۚ وَاِنِ اہْتَدَيْتُ فَبِمَا يُوْحِيْٓ ({ FR 6809 }) اِلَيَّ رَبِّيْ۝۰ۭ اِنَّہٗ سَمِيْعٌ قَرِيْبٌo سبا 50:34 ({ FR 6810 }) اگر یہ اجتہادی غلطیاں ایسی ہوتیں جن کا اثر دین کے اہم گوشے پر پڑتا تو خدا کی طرف سے اس کی تادیب بھی آ جاتی جیسے کہ ایک جنگ کے موقع پر بعض لوگوں نے پیچھے رہنے کی اجازت چاہی اور حضور ﷺ نے دے دی۔ اس پر اللّٰہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی: عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ لِمَا({ FR 6811 }) اَذِنَتْ لَھُمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَتَعْلَمَ الْکَاذِبِیْنَ التوبہ 43:9
اسی طرح سورۂ تحریم میں تادیب آ گئی یَااَیُّھَا النَّبِیْ ({ FR 6812 }) لِمَ ُتحَرِّمَ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ التحریم 1:66 اسی طرح سورۂ عبس میں ہے عَبَسَ وَتَوَلّٰی اَنْ جَائَ ہُ الْاَعْمٰی وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّہُ یَزَکّٰی اَوْیَذْکَرُ فَتَنَفَعَہُ الذِّکْرَ({ FR 6813 }) اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰی فَاَنْتَ لَہٗ تَصَدَّیْ وَمَا عَلَیْکَ اَلَّا یَتَزَکّٰی({ FR 6814 }) وَاَمَّا مَنْ جَائَ کَ یَسْعٰی وَھُوَ یَخْشٰی فَاَنْتَ عَنْہُ تَلَھّٰی۔ عبس 1-10:80
یہ دیکھ کر سخت افسوس ہوتا ہے کہ کس قدر سرسری مطالعے کی بِنا پر لوگ کتنے بڑے اور نازک مسائل کے متعلق رائے قائم کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ کیا آپ کا خیال یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے ایک رسول بھی بھیجا اور پھر خود ہی اس کا اعتبار کھونے اور اسے غلط کاروگم راہ ثابت کرنے کے لیے یہ آیات بھی قرآن میں نازل کر دیں تاکہ کہیں لوگ اطمینان کے ساتھ اس کی پیروی نہ کرنے لگیں؟ کاش! آپ نے قرآن کا آپریشن کرنے سے پہلے، ان آیات پر اتنا ہی غور کر لیا ہوتا جتنا اپنے کسی مریض کی ایکسرے رپورٹ پر غور کرتے ہیں۔
پہلی آیت قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ سے آپ یہ استدلال کرنا چاہتے ہیں کہ خود قرآن کی رُو سے رسول اللّٰہ ﷺ کبھی کبھی گم راہ بھی ہو جاتے تھے اور آپ کی زندگی دراصل ضلالت وہدایت کا مجموعہ تھی (معاذ اللّٰہ)
یہ استدلال کرتے وقت آپ نے کچھ نہ دیکھا کہ یہ آیت کس سیاق وسباق میں آئی ہے۔ سورۂ سبا میں اللّٰہ تعالیٰ پہلے کفارِ مکہ کا یہ الزام نقل فرماتا ہے کہ وہ نبی ﷺ کے متعلق کہتے تھے: اَفْتَرٰى عَلَي اللہِ كَذِبًا اَمْ بِہٖ جِنَّۃٌ۝۰ۭ سبا 8:34 ’’یہ شخص یا تو اللّٰہ پر جان بوجھ کر بہتان گھڑتا ہے، یا یہ مجنون ہے۔‘‘ پھر اس کا جواب دیتے ہوئے آیات ۳۶ تا ۵۰ میں الزام نمبر ۲ کے متعلق فرماتا ہے کہ تم لوگ فردًا فردًا بھی اور اجتماعی طور پر بھی ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر خالصتاً للہ غور کرو، تمھارا دل خود گواہی دے گا کہ یہ شخص جو تمھیں اِسلام کی تعلیم دے رہا ہے، اس میں جنون کی کوئی بات نہیں۔ اس کے بعد ان کے پہلے الزام (یعنی ’’یہ شخص اللّٰہ پر جان بوجھ کر بہتان گھڑتا ہے۔‘‘) کے جواب میں اللّٰہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ اے نبیﷺ ان سے کہو: اِنَّ رَبِّيْ يَقْذِفُ بِالْحَـقِّ۝۰ۚ سبا 48:34 درحقیقت یہ سچا کلام میرا رب القا فرما رہا ہے۔ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَآ اَضِلُّ عَلٰي نَفْسِيْ۝۰ۚ سبا 50:34 ’’اگر میں گم راہ ہو گیا ہوں (جیسا کہ تم الزام لگا رہے ہو) تو میری اس گم راہی کا وبال مجھ پر ہے۔‘‘ وَاِنِ اہْتَدَيْتُ فَبِمَا يُوْحِيْٓ اِلَيَّ رَبِّيْ سبا 50:34 ’’اور اگر میں راہِ راست پر ہوں تو اس وحی کی بِنا پر ہوں جو میرا رب مجھ پر نازل کرتا ہے۔‘‘ اِنَّہٗ سَمِيْعٌ قَرِيْبٌo سبا 50:34 ’’وہ سب کچھ سننے والا اور قریب ہے۔‘‘ یعنی اس سے پوشیدہ نہیں ہے کہ میں گم راہ ہوں، یا اس کی طرف سے ہدایت یافتہ۔
اس سیاق وسباق میں جو بات کہی گئی ہے اس کا آپ یہ مطلب لے رہے ہیں کہ گویا اللّٰہ تعالیٰ نے کفار مکہ کے سامنے اپنے رسول سے یہ اعتراف کروا دیا کہ واقعی میں کبھی گم راہ بھی ہو جاتا ہوں، مگر کبھی سیدھے راستے پر بھی چل لیتا ہوں۔ سبحان اللّٰہ، کیا خوب قرآن فہمی ہے۔
دوسری آیات جو آپ نے پیش فرمائی ہیں ان سے آپ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے فیصلوں میں بہت سی غلطیاں کی تھیں جن میں سے اللّٰہ تعالیٰ نے بطور نمونہ یہ دوچار غلطیاں پکڑ کر بتا دیں تاکہ لوگ ہوشیار ہو جائیں حالانکہ دراصل ان سے نتیجہ بالکل برعکس نکلتا ہے۔ ان سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ سے اپنی پوری پیغمبرانہ زندگی میں بس وہی چند لغزشیں ہوئی ہیں جن کی اللّٰہ تعالیٰ نے فورًا اصلاح فرما دی، اور اب ہم پورے اطمینان کے ساتھ اس پوری سُنّت کی پیروی کر سکتے ہیں جو آپ سے ثابت ہے، کیوں کہ اگر اس میں کوئی اور لغزش ہوتی تو اللّٰہ تعالیٰ اس کو بھی برقرار نہ رہنے دیتا جس طرح ان لغزشوں کو اس نے برقرار نہیں رہنے دیا۔
پھر آپ نے کچھ تو سوچا ہوتا کہ وہ لغزشیں ہیں کیا جن پر اللّٰہ نے ان آیات میں اپنے نبیﷺ کو ٹوکا ہے۔ جنگ میں فوجی خدمت سے استثنا کی درخواست پر کسی کو مستثنیٰ کر دینا، کسی حلال چیز کو نہ کھانے کا عہد کر لینا، ایک صحبت میں چند اہم شخصیتوں کو دین کی دعوت دیتے ہوئے بظاہر ایک غیراہم شخصیت کی طرف توجہ نہ کرنا، کیا یہ ایسے ہی بڑے معاملات ہیں، جن کا دین کے اہم گوشوں پر اثر پڑتا ہے؟ کون سا ایسا لیڈر، یا فرماں روا، یا آپ کی اصطلاحِ خاص میں ’’مرکزِ ملت‘‘ ہے جس کی زندگی میں بار بار اس طرح کے، بلکہ اس سے بہت زیادہ بڑے معاملات نہ پیش آتے ہوں؟ پھر کیا ان لغزشوں کی تصحیح کے لیے ہمیشہ آسمان ہی سے وحی اترا کرتی ہے؟ آخر وہ کیا خاص وجہ ہے کہ اتنی معمولی لغزشیں جب رسول پاکﷺ سے صادر ہوئیں تو فورًا ان کی اصلاح کے لیے وحی آ گئی اور اسے کتاب میںثبت کر دیا گیا؟ آپ اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو آپ کو معلوم ہو جاتا کہ رسالت کے منصب کو سمجھنے میں آپ نے کتنی بڑی ٹھوکر کھائی ہے۔ کوئی رئیس، یا لیڈر یا مرکزِ ملت اللّٰہ تعالیٰ کا نمایندہ نہیں ہوتا، اس کا مقرر کیا ہوا شارع (law giver)اور اس کا معمور کیا ہوا نمونۂ تقلید نہیں ہوتا، اس لیے اس کی کوئی بڑی سے بڑی غلطی بھی قانون اِسلامی پر اثر انداز نہیں ہو سکتی، کیوں کہ اس سے خدا کی شریعت کے اصول نہیں بدل سکتے لیکن رسول پاکﷺ چوں کہ خدا کے اپنے اعلان کی رو سے دُنیا کے سامنے مرضاتِ الٰہی کی نمایندگی کرتے تھے اور خدا نے خود اہل ایمان کو حکم دیا تھا کہ تم ان کی اطاعت اور ان کا اتباع کرو، جو کچھ یہ حلال کہیں اسے حلال مانو اور جو کچھ یہ حرام قرار دیں، اسے حرام مان لو، اس لیے ان کے قول وعمل میں یہ چھوٹی لغزشیں بھی بہت بڑی تھیں، کیوں کہ وہ ایک معمولی بشر کی لغزشیں نہ تھیں، بلکہ اس شارع مجاز کی لغزشیں تھیں جس کی ایک ایک حرکت اور سکون سے قانون بن رہا تھا۔ اسی لیے اللّٰہ تعالیٰ نے یہ بات اپنے ذمے لی تھی کہ اپنے رسولﷺ کو ٹھیک راستے پر قائم رکھے گا، ان کو غلطیوں سے محفوظ کر دے گا، اور ان سے ذرا سی چوک بھی ہو جائے تو وحی کے ذریعے سے اس کی اصلاح فرما دے گا۔

۸۔ موہوم خطرات

آٹھویں نکتے میں آپ فرماتے ہیں کہ:
اگر حضورﷺ نے یہ سارا کام بشر (یعنی ایک عام غیر معصوم بشر)کی حیثیت سے نہیں، بلکہ نبیﷺ کی حیثیت سے کیا ہوتا تو اس سے لازمًا دو نتائج پیدا ہوتے۔ ایک یہ کہ حضور ﷺ کے بعد اس کام کو جاری رکھنا غیر ممکن تصور کیا جاتا اور لوگ سمجھتے کہ جو نظامِ زندگی حضورﷺ نے قائم کرکے چلا دیا اسے قائم کرنا اور چلانا عام انسانوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ دوسرا نتیجہ اس کا یہ ہوتا کہ اس کام کو چلانے کے لیے لوگ حضور ﷺ کے بعد بھی نبیوں کے آنے کی ضرورت محسوس کرتے۔ ان دونوں خطرات سے بچنے کی واحد صورت آپ کے نزدیک یہ ہے کہ تبلیغ قرآن کے ماسوا حضور ﷺ کے باقی پورے کارنامۂ زندگی کو رسول اللّٰہ ﷺ کا نہیں، بلکہ ایک غیر نبی انسان کا کارنامہ مانا جائے۔ اسی سلسلے میں آپ یہ بھی دعوٰی کرتے ہیں کہ اسے رسول کا کارنامہ سمجھنا ختم نبوت کے عقیدے کی بھی نفی کرتا ہے کیوں کہ اگر حضور ﷺ نے یہ سارا کام وحی کی راہ نُمائی میں کیا ہے تو پھر ویسا ہی کام کرنے کے لیے ہمیشہ وحی آنے کی ضرورت رہے گی، ورنہ دین قائم نہ ہو گا۔
یہ آپ نے جو کچھ فرمایا ہے، قرآن اور اس کے نزول کی تاریخ سے آنکھیں بند کرکے اپنے ہی مفروضات کی دُنیا میں گھوم پھر کر سوچا اور فرما دیا ہے۔ آپ کی ان باتوں سے مجھے شبہ ہوتا ہے کہ آپ کی نگاہ سے قرآن کی بس وہی آیتیں گزری ہیں جو مخالفین سُنّت نے اپنے لٹریچر میں ایک مخصوص نظریہ ثابت کرنے کے لیے نقل کی ہیں اور انھی کو ایک خاص ترتیب سے جوڑ جاڑ کر ان لوگوں نے جو نتائج نکال لیے ہیں، ان پر آپ ایمان لے آئے ہیں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی اور آپ نے ایک مرتبہ بھی پورا قرآن سمجھ کر پڑھا ہوتا تو آپ کو معلوم ہو جاتا کہ جو خطرات آپ کے نزدیک سیرت پاک کو سُنّت رسولﷺ ماننے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، وہی سب خطرات قرآن کو وحی الٰہی ماننے سے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ قرآن خود اس بات پر شاہد ہے کہ یہ پوری کتاب ایک ہی وقت میں بطور ایک کتاب آئین کے نازل نہیں ہو گئی تھی بلکہ یہ ان وحیوں کا مجموعہ ہے جو ایک تحریک کی راہ نُمائی کے لیے ۲۳ سال تک تحریک کے ہر ہر مرحلے میں ہر اہم موقع پر اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی رہی ہیں۔ اس کو پڑھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سے ایک برگزیدہ انسان اِسلامی تحریک کی قیادت کے لیے مبعوث ہوا ہے اور قدم قدم پر خدا کی وحی اس کی راہ نُمائی کر رہی ہے۔ مخالفین اس پر اعتراضات کی بوچھاڑ کرتے ہیں اور جواب ان کا آسمان سے آتا ہے۔ طرح طرح کی مزاحمتیں راستے میں حائل ہوتی ہیں اور تدبیر اوپر سے بتائی جاتی ہے کہ یہ مزاحمت اس طرح سے دور کرو اور اس مخالفت کا یوں مقابلہ کرو۔ پیرووں کو طرح طرح کی مشکلات سے سابقہ پیش آتا ہے اور ان کا حل اوپر سے بتایا جاتا ہے کہ تمھاری فلاں مشکل یوں دور ہو سکتی ہے اور فلاں مشکل یوں رفع ہو سکتی ہے۔ پھر یہ تحریک جب ترقی کرتے ہوئے ایک ریاست کے مرحلے میں داخل ہوتی ہے تو جدید معاشرے کی تشکیل اور ریاست کی تعمیر کے مسائل سے لے کر منافقین اور یہود اور کفار عرب سے کشمکش تک جتنے معاملات بھی دس سال کی مدت میں پیش آتے ہیں، ان سب میں وحی اس معاشرے کے معمار اوراس ریاست کے فرماں روا اور اس فوج کے سپہ سالار کی راہ نُمائی کرتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس تعمیر اور کشمکش کے ہر مرحلے میں جو مسائل پیش آتے ہیں ان کو حل کرنے کے لیے آسمان سے ہدایات آتی ہیں بلکہ کوئی جنگ پیش آتی ہے تو اس پر لوگوںکو ابھارنے کے لیے سپہ سالار کو خطبہ آسمان سے ملتا ہے۔ تحریک کے کارکن کہیں کم زوری دکھاتے ہیں تو ان کی فہمائش کے لیے تقریر آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ نبیﷺ کی بیوی پر دشمن تہمت رکھتے ہیں تو اس کی صفائی آسمان سے آتی ہے۔ منافقین مسجد ضرار بناتے ہیں تو اس کے توڑنے کا حکم وحی کے ذریعے سے دیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ جنگ پر جانے سے جی چراتے ہیں تو ان کے معاملے کا فیصلہ براہِ راست اللّٰہ تعالیٰ کرکے بھیجتا ہے۔ کوئی شخص دشمن کو جاسوسی کا خط لکھ کر بھیجتا ہے تو اس سے نمٹنے کے لیے بھی اللّٰہ تعالیٰ خود توجہ فرماتا ہے۔
اگر واقعی آپ کے نزدیک یہ بات مایوس کن ہے کہ دین کو قائم کرنے کے لیے جو اولین تحریک اٹھے اس کی راہ نُمائی وحی کے ذریعے سے ہو تو یہ مایوسی کا سبب تو خود قرآن میں موجود ہے۔ ایک شخص آپ کا نقطہ نظر اختیار کرنے کے بعد تو کہہ سکتا ہے کہ جس دین کو قائم کرنے کے لیے جدوجہد کے پہلے قدم سے لے کر کامیابی کی آخری منزل تک ہر ضرورت اور ہر نازک موقع پر قائد تحریک کی راہ نُمائی کے لیے خدا کی آیات اترتی رہی ہوں اسے اب کیسے قائم کیا جا سکتا ہے۔ جب تک کہ اسی طرح نظام دین کے قیام کے لیے سعی وجہد کرنے والے ’’مرکزِ ملت‘‘ کی مدد کے لیے بھی آیات الٰہی نازل ہونے کا سلسلہ نہ شروع ہو۔ اس نقطہ نظر سے تو اللّٰہ تعالیٰ کے لیے صحیح طریق کار یہ تھا کہ نبی ﷺ کے تقرر کی پہلی تاریخ کو ایک مکمل کتاب آئین آپ کے ہاتھ میں دے دی جاتی جس میں اللّٰہ تعالیٰ انسانی زندگی کے مسائل کے متعلق اپنی تمام ہدایات بیک وقت آپ کو دے دیتا۔ پھر ختم نبوت کا اعلان کرکے فورًا ہی حضور ﷺ کی اپنی نبوت بھی ختم کر دی جاتی۔ اس کے بعد یہ محمد رسول اللّٰہﷺ کا نہیں بلکہ محمدبن عبداللّٰہﷺ کا کام تھا کہ غیر نبی ہونے کی حیثیت سے اس کتاب آئین کو لے کر جدوجہد کرتے اور مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ کے مطابق ایک معاشرہ اور ریاست قائم کر دکھاتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کو بروقت صحیح مشورہ نہ مل سکا اور وہ اپنا نامناسب طریقہ اختیار کر گئے جو مستقبل میں قیامِ دین کے امکان سے ہمیشہ کے لیے مایوس کر دینے والا تھا۔
غضب تو یہ ہے کہ وہ اس مصلحت کو اس وقت بھی نہ سمجھے جب انھوں نے ختم نبوت کا اعلان فرمایا۔ یہ اعلان سورۂ احزاب میں کیا گیا ہے جو اس زمانے سے متصل نازل ہوئی ہے جب کہ حضرت زیدؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی اور پھر ان کی مطلقہ سے نبی ﷺ نے بحکم الٰہی نکاح کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد کئی سال تک حضورﷺ ’’مرکزِ ملت‘‘ رہے اور ختم نبوت کا اعلان ہو جانے کے باوجود نہ حضور ﷺ کی نبوت ختم کی گئی اور نہ وحی کے ذریعے سے آپ کی راہ نُمائی کرنے کا سلسلہ بند کیا گیا۔
آپ کو اللّٰہ تعالیٰ کی اسکیم سے اتفاق ہو یا اختلاف، بہرحال قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ ان کی اسکیم ابتدا ہی سے یہ نہیں تھی کہ نوع انسانی کے ہاتھ میں ایک کتاب تھما دی جائے اور اس سے کہا جائے کہ اس کو دیکھ دیکھ کر اِسلامی نظام زندگی خود بنا لے۔ اگر یہی ان کی اسکیم ہوتی تو ایک بشر کا انتخاب کرکے چپکے سے کتاب اس کے حوالے کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس کے لیے تو اچھا طریقہ یہ ہوتا کہ ایک کتاب چھاپ کر اللّٰہ تعالیٰ تمام انسانوں تک براہِ راست بھیج دیتے اور دیباچے میں یہ ہدایت لکھ دیتے کہ میری اس کتاب کو پڑھو اور نظام حق برپا کر لو لیکن انھوں نے یہ طریقہ پسند نہیں کیا۔ اس کے بجائے جو طریقہ انھوں نے اختیار کیا وہ یہ تھا کہ ایک بشر کو رسول بنا کر اُٹھایا اور اس کے ذریعے سے اصلاح وانقلاب کی ایک تحریک اٹھوائی۔
اس تحریک میں اصل عامل کتاب نہ تھی بلکہ وہ زندہ انسان تھا جسے تحریک کی قیادت پر مامور کیا گیا تھا۔ اس انسان کے ہاتھوں سے اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی نگرانی وہدایت میں ایک مکمل نظامِ فکر واخلاق، نظام تہذیب وتمدن، نظام عدل وقانون اور نظام معیشت وسیاست بنوا کر اور چلوا کر ہمیشہ کے لیے ایک روشن نمونہ (اسوۂ حسنہ) دُنیا کے سامنے قائم کر دیا تاکہ جو انسان بھی اپنی فلاح چاہتے ہوں وہ اس نمونے کو دیکھ کر اس کے مطابق اپنا نظام زندگی بنانے کی کوشش کریں۔ نمونے کا ناقص رہ جانا لازمًا ہدایت کے نقص کو مستلزم ہوتا۔ اس لیے اللّٰہ تعالیٰ نے یہ نمونے کی چیز براہ راست اپنی ہدایات کے تحت بنوائی۔ اس کے معمار کو نقشۂ تعمیر بھی دیا اوراس کا مطلب بھی خود سمجھایا۔ اس کی تعمیر کی حکمت بھی سکھائی اور عمارت کا ایک ایک گوشہ بناتے وقت اس کی نگرانی بھی کی۔ تعمیر کے دوران میں وحی جلی کے ذریعے سے بھی اس کو راہ نُمائی دی اور وحی خفی کے ذریعے سے بھی۔ کہیں کوئی اینٹ رکھنے میں اس سے ذرا سی چوک بھی ہو گئی توفورًا ٹوک کر اس کی اصلاح کر دی تاکہ جس عمارت کو ہمیشہ کے لیے نمونہ بننا ہے اس میں کوئی ادنیٰ سی خامی بھی نہ رہ جائے۔ پھر جب اس معمار نے اپنے آقا کی ٹھیک ٹھیک مرضی کے مطابق یہ کارِ تعمیر پورا کر دیا تب دُنیا میں اعلان کیا گیا کہ
اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا۝۰ۭ المائدہ 3:5
آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے۔
تاریخ اِسلام گواہ ہے کہ اس طریقِ کار نے حقیقتاً امت میں کوئی مایوسی پیدا نہیں کی ہے۔ رسول اللّٰہ ﷺ کے بعد جب وحی الٰہی کا دروازہ بند ہو گیا تو کیا خلفائے راشدین نے پے درپے اٹھ کر وحی کے بغیر اس نمونے کی عمارت کو قائم رکھنے اور آگے اسی نمونے پر وسعت دینے کی کوشش نہیں کی؟ کیا عمر بن عبدالعزیز ؒنے اسے انھی بنیادوں پر از سر نو تازہ کرنے کی کوشش نہیں کی؟ کیا وقتاً فوقتاً صالح فرماں روا اور مصلحین امت بھی اس نمونے کی پیروی کرنے کے لیے دُنیا کے مختلف گوشوں میں نہیں اٹھتے رہے؟ ان میں سے آخر کس نے یہ کہا ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ تو وحی کی راہ نُمائی میں یہ کام کر گئے، اب یہ ہمارے بس کا روگ نہیں ہے؟ حقیقت میں اللّٰہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے تاریخ انسانی میں اپنے رسولﷺ کے عملی کارنامے سے روشنی کا ایک مینار کھڑا کر دیا ہے، جو صدیوں سے انسان کو صحیح نظامِ زندگی کا نقشہ دکھا رہا ہے اور قیامت تک دکھاتا رہے گا۔ آپ کا جی چاہے تو اس کے شکر گزار ہوں، اور جی چاہے تو اس کی روشنی سے آنکھیں بند کر لیں۔

۹۔ خلفائے راشدین پر بہتان

آ پ کا نکتہ نمبر ۹ یہ ہے:
حضرات خلفائے کرام اچھی طرح سمجھتے تھے کہ وحی الکتاب کے اندر محفوظ ہے اور اس کے بعد حضور ﷺ جو کچھ کرتے تھے، باہمی مشاورت سے کرتے تھے۔ اس لیے حضور ﷺ کی وفات کے بعد نظام میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ سلطنت کی وسعت کے ساتھ تقاضے بڑھتے گئے اس لیے آئے دن نئے نئے امور سامنے آتے تھے جن کے تصفیے کے لیے اگرکوئی پہلا فیصلہ مل جاتا جس میں تبدیلی کی ضرورت نہ ہوتی تو اسے علیٰ حالہٖ قائم رکھتے تھے۔ اگر اس میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی تو باہمی مشاورت سے تبدیلی کر لیتے اور اگر نئے فیصلے کی ضرورت ہوتی تو باہمی مشاورت سے نیا فیصلہ کر لیتے۔ یہ سب کچھ قرآن کی روشنی میں ہوتا تھا۔ یہی طریقہ رسول اللّٰہﷺ کا تھا، اور اسی کو حضور ﷺ کے جانشینوں نے قائم رکھا۔ اسی کا نام اتباع رسولﷺ تھا۔
اس عبارت میں آپ نے پے درپے متعدد غلط باتیں فرمائی ہیں۔ آپ کی پہلی غلط بیانی یہ ہے کہ رسول اللّٰہﷺ جوکچھ کرتے تھے، باہمی مشاورت سے کرتے تھے، حالانکہ مشاورت حضورﷺ نے صرف تدابیر کے معاملے میں کی ہے اور وہ بھی ان تدابیر کے معاملے میں جن کے اختیار کرنے کا حکم آپ کو وحی سے نہیں ملا ہے۔ قرآن کی تعبیر وتفسیر، اور اس کے کسی لفظ یا فقرے کا منشا مشخص کرنے میں حضور ﷺ نے کبھی کسی سے مشورہ نہیں لیا۔ اس معاملے میں آپ کی اپنی ہی شرح قطعی ناطق تھی۔ اسی طرح آپﷺ کے پورے عہد ِرسالت میں کبھی یہ طے کرنے کے لیے کوئی مشاورت نہیں ہوئی کہ لوگوں کے لیے کس چیز کو فرض وواجب، کس چیز کو حلال وجائز اور کس چیز کو ممنوع وحرام ٹھہرایا جائے اور معاشرے میں کیا قاعدے اور ضابطے مقرر کیے جائیں۔ حضور ﷺ کی حیات طیبہ میں تنہا آپﷺ کی زبان اور آپ کی عملی زندگی ہی لیجسلیچر(legislature) تھی۔کوئی مومن یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ ان معاملات میں وہ حضور ﷺ کے سامنے زبان کھولنے کا مجاز ہے۔ کیا آپ کوئی مثال ایسی پیش کر سکتے ہیں کہ عہدِ رسالت میں قرآن کے کسی حکم کی تعبیر مشورے سے کی گئی ہو، یا کوئی قانون مشورے سے بنایا گیا ہو؟ بہت سی نہیں، صرف ایک مثال ہی آپ پیش فرما دیں۔
دوسری خلافِ واقعہ بات آپ یہ فرما رہے ہیں کہ خلفائے راشدین صرف قرآن کو منبع ہدایت سمجھتے تھے اور رسول اللّٰہ ﷺ کے قول وعمل کو واجب الاتباع مآخذ قانون نہیں سمجھتے تھے۔ یہ ان بزرگوں پر آپ کا سخت بہتان ہے جس کے ثبوت میں نہ آپ اُن کا کوئی قول پیش کر سکتے ہیں، نہ عمل۔ اگر اس کا کوئی ثبوت آپ کے پاس ہے تو وہ سامنے لائیے۔ ان کے طرز عمل کی جو شہادتیں ان کے زمانے سے متصل لوگوں نے دی ہیں وہ تو یہ ہیں:
اتباعِ سنت اور خلفائے راشدین
۱۔ ابن سیرین (۳۳ھ۔ ۱۱۰ھ) کہتے ہیں کہ:
ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے سامنے جب کوئی معاملہ پیش ہوتا اور وہ نہ کتاب اللّٰہ میں سے اس کے لیے کوئی حکم پاتے، نہ سُنّت میں اس کی کوئی نظیر ملتی تب وہ اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرتے اور فرماتے یہ میری رائے ہے، اگر صحیح ہے تو اللّٰہ کا فضل ہے۔
(ابن القیم، اعلام الموقعین، ج۱، ص ۵۴)
۲۔میمون بن مہران کہتے ہیں:
ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا طریقہ یہ تھا کہ اگر کسی معاملے کا فیصلہ انھیں کرنا ہوتا تو پہلے کتاب اللّٰہ میں دیکھتے، اگر وہاں اس کا حکم نہ ملتا تو سُنّتِ رسول اللّٰہ ﷺ میں تلاش کرتے۔ اگر وہاں حکم مل جاتا تو اس کے مطابق فیصلہ کرتے اور اگر انھیں اس مسئلے میں سُنّت کا علم نہ ہوتا تو لوگوں سے پوچھتے تھے کہ کیا تم میں سے کسی کو معلوم ہے کہ اس طرح کے کسی معاملے میں رسول اللّٰہ ﷺ نے کوئی فیصلہ فرمایا ہے۔
(کتاب مذکور، ص ۶۲)
۳۔ علامہ ابن قیم ؒنے پوری تحقیق کے بعد اپنا نتیجہ ٔتحقیق یہ بیان کیا ہے کہ لَایُحْفَظُ لِلصَّدِیّقِ خِلاَفَ نَصٍّ وَاحِدٍ اَبَدًا۔’’ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی زندگی میں نص کی خلاف ورزی کی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔ (کتاب مذکور، ج۴، ص ۱۲۰)
۴۔ مشہور واقعہ ہے کہ ایک دادی اپنے پوتے کی میراث کا مطالبہ لے کر آئی جس کی ماں مر چکی تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں کتاب اللّٰہ میں کوئی حکم نہیں پاتا جس کی رو سے تجھ کو ماں کا حصہ پہنچتا ہو۔ پھر انھوں نے لوگوں سے پوچھا کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے تو اس معاملے میں کوئی حکم نہیں دیا ہے۔ اس پر مغیرہ ؓبن شعبہ اور محمد بن مسلمہؓ نے اٹھ کر شہادت دی کہ حضور ﷺ نے دادی کو چھٹا حصہ (یعنی حصہ مادری) دلوایا ہے۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓنے اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا۔ (بخاری ومسلم)
۵۔ مؤطا میں یہ واقعہ مذکور ہے حضرت ابوبکرؓ نے اپنی صاحب زادی حضرت عائشہؓ کو اپنی زندگی میں کچھ مال دینے کے لیے کہا تھا، مگر انھیں یہ یاد نہیں تھا کہ یہ مال ان کے حوالے کر دیا گیا تھا یا نہیں۔ وفات کے وقت آپ نے ان سے فرمایا کہ اگر وہ مال تم لے چکی ہو، تب تو وہ تمھارے پاس رہے گا (کیوں کہ وہ ہبہ ہو گیا)، لیکن اگر ابھی تک تم نے اسے قبضے میں نہیں لیا ہے تو اب و ہ میرے سب وارثوں میں تقسیم ہو گا (کیوں کہ اس کی حیثیت ہبہ کی نہیں بلکہ وصیت کی ہے اور حدیث لَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ کی رو سے وارث کے حق میں کوئی وصیت میت کے ترکے میں نافذ نہیں ہو سکتی تھی)۔ اس طرح کی بکثرت مثالیں خلیفۂ اول کی زندگی میں ملتی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ رسول اللّٰہ ﷺ کے طریقے سے بال برابر ہٹنا بھی جائز نہ رکھتے تھے۔
۶۔ کون نہیں جانتا کہ خلیفہ ہونے کے بعد حضرت ابوبکرؓ کا اولین اعلان یہ تھا کہ اَطِیْعُوْ نِیْ مَااَطَعْتُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ‘ فَاِنْ عَصَیْتُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ‘ فَلاَ طَاعَۃَ لِیْ عَلَیْکُمْ’’میری اطاعت کرو جب تک میں اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرتا رہوں،({ FR 6815 }) لیکن اگر میں اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کروں تو میری کوئی اطاعت تم پر نہیں ہے۔‘‘ کس کو معلوم نہیں کہ انھوں نے حضورﷺ کی وفات کے بعد جیشِ اُسامہؓ کو صرف اس لیے بھیجنے پر اصرار کیا کہ جس کام کا فیصلہ حضور ﷺ اپنی زندگی میں کر چکے تھے، اسے بدل دینے کا وہ اپنے آپ کو مجاز نہ سمجھتے تھے۔ صحابہ کرام نے جب ان خطرات کی طرف توجہ دلائی جن کا طوفان عرب میں اٹھتا نظر آ رہا تھا اور اس حالت میں شام کی طرف فوج بھیج دینے کو نامناسب قرار دیا، تو حضرت ابوبکرؓ کا جواب یہ تھا کہ لَوْ خَطَفَتْنِیْ الْکِلَابُ وَالذِّئَابُ لَمْ اَرُدَّقضائً قَضٰی بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔’’اگر کتے اور بھیڑئیے بھی مجھے اچک لے جائیں تو میں اس فیصلہ کو نہ بدلوں گا جو رسول اللّٰہ ﷺ نے کر دیا تھا۔‘‘ حضرت عمرؓ نے خواہش ظاہر کی کہ کم از کم اسامہؓ ہی کو اس لشکر کی قیادت سے ہٹا دیں کیوں کہ بڑے بڑے صحابہ اس نوجوان لڑکے کی ماتحتی میں رہنے سے خوش نہیں ہیں تو حضرت ابوبکرؓ نے ان کی ڈاڑھی پکڑ کر فرمایا:
ثَکِلَتْکَ اُمُّکَ وَعَدَمَتْکَ یَاابْنَ الْخَطَّابِ اِسْتَعْمَلَہ‘ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتَأْ مُرُ نِیْ اَنْ اُنَزِّعَہ‘۔
خطاب کے بیٹے! تیری ماں تجھے روئے اور تجھے کھودے، رسول اللّٰہ ﷺ نے اس کو مقرر کیا اور تو مجھ سے کہتا ہے کہ میں اسے ہٹا دوں۔
اس موقع پر لشکر کو روانہ کرتے ہوئے جو تقریر انھوں نے کی اس میں فرمایا:
اِنَّمَا اَنَامُتَّبِعٌ لَسْتُ بِمُبْتَدِعٍ۔
میں تو پیروی کرنے والا ہوں۔ نیا راستہ نکالنے والا نہیں ہوں۔
۷۔ پھر کس سے یہ واقعہ پوشیدہ ہے کہ حضرت فاطمہؓ اور حضرت عباسؓ کے مطالبہ میراث کو ابوبکر صدیق ؓ نے حدیث رسول اللّٰہﷺ ہی کی بنیاد پر قبول کرنے سے انکار کیا تھا اور اس ’’قصور‘‘ پر وہ آج تک گالیاں کھا رہے ہیں۔
۸۔ مانعین زکوٰۃ کے خلاف جب وہ جہاد کا فیصلہ کر رہے تھے تو حضرت عمرؓ جیسے شخص کو اس کی صحت میں اس لیے تامل تھا کہ جو لوگ کلمہ لاالٰہ الا اللّٰہ کے قائل ہیں ان کے خلاف تلوار کیسے اُٹھائی جا سکتی ہے، مگر اس کا جو جواب انھوں نے دیا، وہ یہ تھا کہ وَاللّٰہِ لَوْمَنَعُوْنِیْ عِقَالاً کَانُوْا یُؤَدُّوْنَہ‘ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُھُمْ عَلٰی مَنْعِہٖ۔’’خدا کی قسم! اگر وہ اونٹ باندھنے کی ایک رسی بھی اس زکوٰۃ میں سے روکیں گے جو وہ رسول اللّٰہ ﷺ کے زمانے میں دیتے تھے تو میں اس پر ان سے لڑوں گا۔‘‘ یہ قول اور یہ عمل تھا اس شخص کا جس نے حضور ﷺ کے بعد سب سے پہلے زمام کار سنبھالی تھی اور آپ کہتے ہیں کہ خلفائے کرام اپنے آپ کو رسول اللّٰہ ﷺ کے فیصلے بدلنے کا مجاز سمجھتے تھے۔
۸۔حضرت ابوبکرؓ کے بعد حضرت عمرؓ کا مسلک اس معاملے میں جو کچھ تھا، اسے وہ خود قاضی شریح کے نام اپنے خط میں اس طرح بیان فرماتے ہیں:
اگر تم کوئی حکم کتاب اللّٰہ میں پائو تو اس کے مطابق فیصلہ کر دو اور اس کی موجودگی میں کسی دوسری چیز کی طرف توجہ نہ کرو اور اگر کوئی ایسا معاملہ آئے جس کا حکم کتاب اللّٰہ میں نہ ہو تو رسول اللّٰہﷺ کی سُنّت میں جو حکم ملے اس پر فیصلہ کرو، اور اگر معاملہ ایسا ہو جس کا حکم نہ کتاب اللّٰہ میں ہو اور نہ سُنّت رسول اللّٰہﷺ میں، تو اس کا فیصلہ اس قانون کے مطابق کرو جس پر اجماع ہو چکا ہو لیکن اگر کسی معاملے میں کتاب اللّٰہ اور سُنّت رسول اللّٰہﷺ دونوں خاموش ہوں اور تم سے پہلے اس کے متعلق کوئی اجماعی فیصلہ بھی نہ ہوا ہو تو تمھیں اختیار ہے کہ یا تو پیش قدمی کرکے اپنی اجتہادی رائے سے فیصلہ کر دو، یا پھر ٹھہر کر انتظار کرو({ FR 6816 }) اور میرے نزدیک تمھارا انتظار کرنا زیادہ بہتر ہے۔ (اعلام الموقّعین، ج۱، ص ۶۱۔۶۲)
یہ حضرت عمرؓ کا اپنا لکھا ہوا سرکاری ہدایت نامہ ہے، جو انھوں نے خلیفۂ وقت کی حیثیت سے ضابطۂ عدالت کے متعلق کوفہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجا تھا۔ اس کے بعد کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ ان کے مسلک کی کوئی دوسری ترجمانی کرے۔
۹۔(حضرت({ FR 6817 }) عمرؓ کے بعد تیسرے خلیفہ حضرت عثمانؓ ہیں۔ بیعت کے بعد اولین خطبہ جو انھوں نے دیا، اس میں وہ علی الاعلان تمام مسلمانوں کومخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
خبردار رہو! میں پیروی کرنے والا ہوں، نئی راہ نکالنے والا نہیں ہوں۔ میرے اوپر کتاب اللّٰہ اور سُنّت نبی ﷺ کی پابندی کے بعد تمھارے تین حق ہیں جن کی میں ذمہ داری لیتا ہوں۔ ایک یہ کہ میرے پیش رو خلفا کے زمانے میں تمھارے اتفاق واجتماع سے جو فیصلے اور طریقے طے ہو چکے ہیں، ان کی پیروی کروں گا۔ دوسرے یہ کہ جو امور اب اہلِ خیر کے اجتماع واتفاق سے طے ہوں گے ان پر عمل درآمد کروں گا۔ تیسرے یہ کہ تمھارے اوپر دست درازی کرنے سے باز رہوں گا جب تک کہ تم ازروئے قانون مواخذے کے مستوجب نہ ہو جائو۔ (تاریخ طبری، ج۳، ص ۴۴۶)
۱۰۔ چوتھے خلیفہ حضرت علیؓ ہیں۔ انھوں نے خلیفہ ہونے کے بعد اہل مصر سے بیعت لینے کے لیے، اپنے گورنر حضرت قیس بن سعد بن عبادہ کے ہاتھ جو سرکاری فرمان بھیجا تھا اُس میں وہ فرماتے ہیں:
خبردار رہو! ہمارے اوپر تمھارا یہ حق ہے کہ ہم اللّٰہ عزوجل کی کتاب اور اس کے رسولﷺ کی سُنّت کے مطابق عمل کریں اور تم پر وہ حق قائم کریں جو کتاب وسُنّت کی رو سے حق ہو، اور رسول اللّٰہ ﷺ کی سُنّت کو جاری کریں اور تمھاری بے خبری کی حالت میں بھی تمھارے ساتھ خیر خواہی کرتے رہیں۔‘‘ (تاریخ طبری، ج۳، ص ۵۵۰)
یہ چاروں خلفا راشدین کے اپنے بیانات ہیں۔ آپ کن ’’حضرات خلفا کرام‘‘ کا ذکر فرما رہے ہیں جو اپنے آپ کو سُنّت رسول اللّٰہﷺ کی پابندی سے آزاد سمجھتے تھے؟ اور ان کا یہ مسلک آپ کو کن ذرائع سے معلوم ہوا ہے؟)
آپ کا یہ خیال بھی محض ایک دعوٰی بلا ثبوت ہے کہ خلفائے راشدین قرآن مجید کے احکام کو تو قطعی واجب الاطاعت مانتے تھے، مگر رسول اللّٰہ ﷺ کے فیصلوں میں جن کو وہ باقی رکھنا مناسب سمجھتے تھے، انھیں باقی رکھتے تھے اور جنھیں بدلنے کی ضرورت سمجھتے تھے انھیں بدل کر باہمی مشاورت سے نئے فیصلے کر لیتے تھے۔ آپ اس کی کوئی نظیر پیش فرمائیں کہ خلافتِ راشدہ کے پورے دور میں نبی ﷺ کا کوئی فیصلہ بدلا گیا ہو، یا کسی خلیفہؓ یا صحابی ؓنے یہ خیال ظاہر کیا ہو کہ ہم حضور ﷺ کے فیصلے حسبِ ضرورت بدل لینے کے مجاز ہیں۔

۱۰۔ کیا حضورﷺ پر قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی؟

اب صرف آپ کا آخری نکتہ باقی ہے جسے آپ ان الفاظ میں پیش فرماتے ہیں:
اگر فرض کر لیا جائے، جیسا کہ آپ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ جو کچھ کرتے تھے، وحی کی رو سے کرتے تھے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ خدا کو اپنی طرف سے بھیجی ہوئی ایک قسم کی وحی پر (نعوذ باللّٰہ) تسلی نہ ہوئی، چنانچہ دوسری قسم کی وحی کا نزول شروع ہو گیا۔ یہ دو رنگی وحی آخر کیوں؟ پہلے آنے والے نبیوں پر جب وحی نازل ہوئی تو اس میں نزولِ قرآن کی طرف اشارہ تھا تو کیا اس اللّٰہ کے لیے جو ہر چیز پر قادر ہے، یہ بڑا مشکل تھا کہ دوسری قسم کی وحی، جس کا آپ ذکر کرتے ہیں، اس کا قرآن میں اشارہ کر دیتا۔ مجھے تو قرآن میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی۔ اگر آپ کسی آیت کی طرف اشارہ فرما سکیں تو مشکور ہوں گا۔
یہ تسلی کی بات بھی خوب ہے۔ گویا آپ کی رائے میں اللّٰہ تعالیٰ بندوں کی ہدایت کے لیے نہیں، بلکہ اپنی تسلی کے لیے وحی نازل فرماتے تھے، اور ان کی تسلی کے لیے بس ایک قسم کی وحی کافی ہونی چاہیے تھی۔آپ تو ’’دو رنگی وحی‘‘ پر ہی حیران ہیں، مگر آنکھیں کھول کر آپ نے قرآن پڑھا ہوتا تو آپ کو معلوم ہوتا کہ یہ کتاب ’’سہ رنگی وحی‘‘ کا ذکر کرتی ہے جن میں سے صرف ایک ’’رنگ‘‘ کی وحی قرآن میں جمع کی گئی ہے:
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَہُ اللہُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَاۗئِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِـاِذْنِہٖ مَا يَشَاۗءُ۝۰ۭ اِنَّہٗ عَلِيٌّ حَكِيْمٌo الشوریٰ51:42
کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اُس سے رُوبروبات کرے۔ اُس کی بات یا تو وحی (اشارے) کے طور پر ہوتی ہے، یا پردے کے پیچھے سے، یا پھر وہ کوئی پیغام بر (فرشتہ) بھیجتا ہے اور وہ اُس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتاہے وحی کرتا ہے، وہ برتر ہے اور حکیم ہے۔
یہاں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے کسی بشر پر احکام وہدایات نازل ہونے کی تین صورتیں بتائی گئی ہیں۔ ایک براہ راست وحی (یعنی القا والہام) دوسرے پردے کے پیچھے سے کلام، تیسرے اللّٰہ کے پیغام بر (فرشتے) کے ذریعے سے وحی۔ قرآن مجید میں جو وحیاں جمع کی گئی ہیں وہ ان میں سے صرف تیسری قسم کی ہیں۔ اس کی تصریح اللّٰہ تعالیٰ نے خود ہی فرما دی ہے۔
۱۔ قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِـاِذْنِ اللہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْہِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَo ………فَاِنَّ اللہَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِيْنَo البقرہ97-98:2
(اے نبی!) ان سے کہو کہ جو کوئی جبریل سے عداوت رکھتا ہو، اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ جبریل نے اللہ ہی کے اِذن سے یہ قرآن تمہارے دل پر نازل کیا ہے جو پہلے آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتا ہے اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور کامیابی کی بشارت بن کر آیا ہے۔
(اگر جبریل سے ان کی عداوت کا سبب یہی ہے تو کہہ دو کہ) جو اللہ اور اُس کے فرشتوں اور اُس کے رسولوں اور جبریل و میکائیل کے دشمن ہیں، اللہ اُن کے کافروں کا دشمن ہے)
۲۔ وَاِنَّہٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَo نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُo عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَo الشعرائ 192-194:26
یہ رب العالمین کی نازل کردہ کتاب ہے۔ اسے لے کر روح الامین اترا ہے، تیرے قلب پر، تاکہ تو متنبہ کرنے والوں میں سے ہو۔
اس سے معلوم ہو گیا کہ قرآن صرف ایک قسم کی وحیوں پر مشتمل ہے۔ رسول کو ہدایات ملنے کی باقی دو صورتیں جن کا ذکر سورۂ شورٰی والی آیت میں کیا گیا ہے وہ ان کے علاوہ ہیں۔ اب خود قرآن ہی ہمیں بتاتا ہے کہ ان صورتوں سے بھی نبی ﷺ کو ہدایات ملتی تھیں:
۱۔ جیسا کہ میں آپ کے چوتھے نکتے بر بحث کرتے ہوئے بتا چکا ہوں، سورۂ بقرہ کی آیات ۱۴۳۔۱۴۴ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسجد حرام کے قبلہ بنائے جانے سے پہلے نبی ﷺ اور مسلمان کسی اور قبلے کی طرف رخ کرکے نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے تحویل قبلہ کا حکم دیتے ہوئے اس بات کی توثیق فرمائی کہ وہ پہلا قبلہ جس کی طرف رخ کیا جاتا تھا، وہ بھی ہمارا ہی مقرر کیا ہوا تھا۔ لیکن قرآن میں وہ آیت کہیں نہیں ملتی جس میں اس قبلے کی طرف رخ کرنے کا ابتدائی حکم ارشاد فرمایا گیا ہو۔ سوال یہ ہے کہ اگر حضور ﷺ پر قرآن کے علاوہ اور کوئی وحی نہیں آتی تھی تو وہ حکم حضور ﷺ کو کس ذریعے سے ملا؟ کیا یہ اس بات کا صریح ثبوت نہیں ہے کہ حضور ﷺ کو ایسے احکام بھی ملتے تھے جو قرآن میں درج نہیں ہیں؟
۲۔ رسول اللّٰہﷺ مدینہ میں خواب دیکھتے ہیں کہ آپ ﷺ مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں اور بیت اللّٰہ کا طواف کیا ہے۔ آپﷺ اس کی خبر صحابہ کرامؓ کو دیتے ہیں اور ۱۴ سو صحابیوں کو لے کر عمرہ ادا کرنے کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ کفار مکہ آپﷺ کو حدیبیہ کے مقام پر روک لیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں صلح حدیبیہ واقع ہوتی ہے۔ بعض صحابی اس پر خلجان میں پڑ جاتے ہیں اور حضرت عمرؓ ان کی ترجمانی کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ یارسول اللّٰہﷺ!کیا آپ نے ہمیں خبر نہ دی تھی کہ ہم مکہ میں داخل ہوں گے اور طواف کریں گے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’کیا میں نے یہ کہا تھا کہ اسی سفر میں ایسا ہو گا؟ اس پر اللّٰہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
لَـقَدْ صَدَقَ اللہُ رَسُوْلَہُ الرُّءْيَا بِالْحَقِّ۝۰ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَاۗءَ اللہُ اٰمِنِيْنَ۝۰ۙ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَمُقَصِّرِيْنَ۝۰ۙ لَا تَخَافُوْنَ۝۰ۭ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَــعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِيْبًاo الفتح 48:27
اللّٰہ نے اپنے رسول کو یقینا سچا خواب دکھایا تھا۔ تم ضرور مسجد حرام میں ان شاء اللّٰہ داخل ہو گے۔ امن کے ساتھ، سرمونڈتے ہوئے اور بال تراشتے ہوئے، بغیر اس کے کہ تمھیں کسی قسم کا خوف ہو، اللّٰہ کو علم تھا اس بات کا جسے تم نہ جانتے تھے۔ اس لیے اس سے پہلے اس نے یہ قریب کی فتح (یعنی صلح حدیبیہ) عطا کر دی۔
اس سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کو خواب کے ذریعے سے مکہ میں داخل ہونے کا یہ طریقہ بتایا گیا تھا کہ آپ اپنے ساتھیوں کو لے کر مکہ کی طرف جائیں۔ کفار روکیں گے، آخر کار صلح ہو گی جس کے ذریعے سے دوسرے سال عمرے کا موقع بھی ملے گا اور آیندہ کی فتوحات کا راستہ بھی کھل جائے گا۔ کیا یہ قرآن کے علاوہ دوسرے طریقوں سے ہدایات ملنے کا کھلا ثبوت نہیں ہے؟
۳۔ نبی ﷺ اپنی بیویوں میں سے ایک بیوی کو راز میں ایک بات بتاتے ہیں۔ وہ اس کا ذکر دوسروں سے کر دیتی ہیں۔ حضور ﷺ اس پر باز پرس کرتے ہیں تو وہ پوچھتی ہیں کہ آپ کو یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ میں نے یہ بات دوسروں سے کہہ دی ہے۔ حضورﷺ جواب دیتے ہیں کہ مجھے علیم وخبیر نے خبر دی ہے۔
وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِيْثًا۝۰ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِہٖ وَاَظْہَرَہُ اللہُ عَلَيْہِ عَرَّفَ بَعْضَہٗ وَاَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ۝۰ۚ فَلَمَّا نَبَّاَہَا بِہٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ ہٰذَا۝۰ۭ قَالَ نَبَّاَنِيَ الْعَلِيْمُ الْخَبِيْرُo التحریم 3:66
اور جب کہ نبیﷺ نے اپنی ایک بیوی سے راز میں ایک بات کہی اور اس بیوی نے اس کی (دوسروں کو) خبر دے دی، اور اللّٰہ نے نبی کو اس پر مطلع کر دیا تو نبی نے اس بیوی کو اس کے قصور کا ایک حصہ تو جتا دیا اور دوسرے حصے سے درگزر کیا۔ پس جب نبی نے اس بیوی کو اس کا قصور جتایا تو اس نے پوچھا آپ کو کس نے اس کی خبر دی؟ نبیﷺ نے کہا مجھے علیم وخبیر خدا نے بتایا۔
فرمائیے کہ قرآن میں وہ آیت کہاں ہے جس کے ذریعے سے اللّٰہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو یہ اطلاع دی تھی کہ تمھاری بیوی نے تمھاری راز کی بات دوسروں سے کہہ دی ہے؟ اگر نہیں ہے تو ثابت ہوا یا نہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ قرآن کے علاوہ بھی نبی ﷺ کے پاس پیغامات بھیجتا تھا؟
۴۔ نبی ﷺ کے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ اپنی بیوی کو طلاق دیتے ہیں اور اس کے بعد حضور ﷺ ان کی مطلقہ بیوی سے نکاح کر لیتے ہیں اس پر منافقین اور مخالفین حضورﷺ کے خلاف پروپیگنڈے کا ایک شدید طوفان اُٹھا کھڑا کرتے ہیں اور اعتراضات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔ ان اعتراضات کا جواب اللّٰہ تعالیٰ سورۂ احزاب کے ایک پورے رکوع میں دیتا ہے اور اس سلسلے میں لوگوں کو بتاتا ہے کہ ہمارے نبیﷺ نے یہ نکاح خود نہیں کیا ہے، بلکہ ہمارے حکم سے کیا ہے:
فَلَمَّا قَضٰى زَيْدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَہَا لِكَيْ لَا يَكُوْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ حَرَجٌ فِيْٓ اَزْوَاجِ اَدْعِيَاۗىِٕہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا۝۰ۭ الاحزاب 37:33
پھر جب زید کا اس سے جی بھر گیا تو ہم نے اس (خاتون) کا نکاح تم سے کر دیا، تاکہ اہلِ ایمان کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہ رہے جب کہ وہ ان سے جی بھر چکے ہوں (یعنی انھیں طلاق دے چکے ہوں)
یہ آیت تو گزرے ہوئے واقعے کا بیان ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس واقعے سے پہلے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے نبی ﷺ کو جو حکم دیا گیا تھا کہ تم زید کی مطلقہ بیوی سے نکاح کر لو وہ قرآن میں کس جگہ ہے؟
۵۔ نبی ﷺ بنی نضیر کی مسلسل بدعہدیوں سے تنگ آ کر، مدینہ سے متصل ان کی بستیوں پر چڑھائی کر دیتے ہیں اور دورانِ محاصرہ میں اِسلامی فوج گردوپیش کے باغات کے بہت سے درخت کاٹ ڈالتی ہے، تاکہ حملہ کرنے کے لیے راستہ صاف ہو۔ اس پر مخالفین شور مچاتے ہیں کہ باغوں کو اجاڑ کر اور ہرے بھرے ثمردار درختوں کو کاٹ کر مسلمانوں نے فساد فی الارض برپا کیا ہے۔ جواب میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّيْنَۃٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْہَا قَاۗىِٕمَۃً عَلٰٓي اُصُوْلِہَا فَبِـاِذْنِ اللہِ الحشر 5:59
کھجوروں کے درخت تم نے کاٹے اور جو کھڑے رہنے دیے، یہ دونوں کام اللّٰہ کی اجازت سے تھے۔
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ اجازت قرآن مجید کی کس آیت میں نازل ہوئی تھی؟
۶۔ جنگ بدر کے خاتمے پر جب مالِ غنیمت کی تقسیم کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت سورۂ انفال نازل ہوتی ہے اور پوری جنگ پر تبصرہ کیا جاتا ہے۔ اس تبصرے کا آغاز اللّٰہ تعالیٰ اس وقت سے کرتا ہے جب کہ نبی ﷺ جنگ کے لیے گھر سے نکلے تھے، اور اس سلسلے میں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللہُ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ اَنَّہَا لَكُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَۃِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَيُرِيْدُ اللہُ اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِہٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَo الانفال 7:8
اور جب کہ اللّٰہ تعالیٰ تم سے وعدہ فرما رہا تھا کہ دو گروہوں (یعنی تجارتی قافلے اور قریش کے لشکر) میں سے ایک تمھارے ہاتھ آئے گا، اور تم چاہتے تھے کہ بے زور گروہ (یعنی تجارتی قافلہ) تمھیں ملے، حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ اپنے کلمات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی کمر توڑ دے۔
اب کیا آپ پورے قرآن میں کسی آیت کی نشان دہی فرما سکتے ہیں جس میں اللّٰہ تعالیٰ کا یہ وعدہ نازل ہوا کہ اے لوگو! جومدینہ سے بدر کی طرف جا رہے ہو، ہم دو گروہوں میں سے ایک پر تمھیں قابو عطا فرما ویں گے۔؟
۷۔ اسی جنگِ بدر پر تبصرے کے سلسلے میں آگے چل کر ارشاد ہوتا ہے:
اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَۃِ مُرْدِفِيْنَo الانفال 9:8
جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے، تو اس نے تمھاری فریاد کے جواب میں فرمایا میں تمھاری مدد کے لیے لگاتار ایک ہزار فرشتے بھیجنے والا ہوں۔
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کی فریاد کا یہ جواب قرآن مجید کی کس آیت میں نازل ہوا تھا؟
آپ صرف ایک مثال چاہتے تھے۔ میں نے آپ کے سامنے قرآن مجید سے سات مثالیں پیش کر دی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کے پاس قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی۔ اس کے بعد آگے کسی بحث کا سلسلہ چلنے سے پہلے میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ حق کے آگے جھکنے کے لیے تیار بھی ہیں یا نہیں۔
خاکسار
ابوالاعلیٰ
(ترجمان القرآن، اکتوبر ونومبر ۱۹۶۰ء)

سُنّت کے متعلق چند مزید سوالات

صفحاتِ گزشتہ میں ڈاکٹر عبدالودود صاحب اور مصنف کی جو مراسلت ناظرین کے سامنے آچکی ہے، اس کے سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کا ایک اور خط وصول ہوا جسے مصنف کے جواب سمیت ذیل میں درج کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کا خط
محترم مولانا! السلام علیکم
میرے خط مورخہ ۱۷؍اگست کا جواب آپ کی طرف سے ترجمان القرآن ماہ اکتوبر ونومبر کی اشاعتوں میں آ چکا ہے۔ اکتوبر کے ترجمان میں شائع شدہ جواب کا بقیہ حصہ بھی بذریعہ ڈاک موصول ہو گیا تھا۔ اس جواب کے آخر میں آپ نے فرمایا ہے کہ آگے کسی بحث کا سلسلہ چلنے سے پہلے آپ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا میں حق کے آگے جھکنے کے لیے تیار بھی ہوں یا نہیں۔
محترم! ایک سچے مسلمان کی طرح میں ہر وقت حق کے آگے جھکنے پر تیار ہوں لیکن جہاں حق موجود ہی نہ ہو بلکہ کسی بت کے آگے جھکنا مقصود ہو تو کم از کم میں ایسا نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ شخصیت پرستی میرا مسلک نہیں۔ میں بار بار آپ کو تکلیف اس لیے دیتا ہوں کہ مسئلۂ زیر بحث صاف ہو جائے اور ایک ہی ملک میں بسنے والے اور ایک ہی منزل مقصود کی طرف بڑھنے والے الگ الگ راستے اختیار نہ کریں اور آپ ہیں کہ لفاظی اور جذبات کا مرکب پیش کرنے میں سارا زورِ قلم اس لیے صرف کر رہے ہیں کہ میں جھک جائوں۔ آپ نے اتنا طویل جواب لکھنے میں یقینا بڑی زحمت اُٹھائی لیکن میری بدنصیبی ملاحظہ فرمائیے کہ اس سے اور الجھنیں پیدا ہو گئیں۔
آپ نے یہ درست فرمایا کہ میرے لیے قرآن کا مطالعہ میرے بہت سے مشاغل میں سے ایک ہے اور آپ نے اپنی عمر اس کے ایک ایک لفظ پر غور کرنے اور اس کے مضمرات کو سمجھنے میں صرف کی ہے لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ آپ کی یہ عمر بھر کی محنت اپنی ذات کے لیے ہو تو ہو لیکن عام مسلمانوں کے لیے کچھ مفید ثابت نہیں ہو سکی۔ آپ کے خط میں بہت سے ابہامات ہیں۔ کئی باتیں قرآن کے خلاف ہیں۔ کئی باتیں ایسی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آپ قرآن کا مطلب صحیح طور پر نہیں سمجھتے۔ ان کے لیے بڑا تفصیلی جواب درکار ہے جسے میں ان شاء اللّٰہ العزیز اولین فراغت میں مکمل کر سکوں گا لیکن اس سلسلے میں دو ایک باتیں ایسی ہیں جن کی وضاحت نہایت ضروری ہے۔ اس وقت میں صرف انھی کو پیش کرنا چاہتا ہوں۔
میں سمجھتا ہوں کہ ساری بحث سمٹ سمٹا کر یہاں آ جاتی ہے کہ رسول اللّٰہﷺ پر جو وحی خدا کی طرف سے نازل ہوئی وہ سب کچھ قرآن کے اندر ہے یا باہر کہیں اور بھی۔ آپ کا دعوٰی ہے کہ وحی کا ایک حصہ قرآن کے علاوہ اور بھی ہے۔ اس ضمن میں حسب ذیل امور وضاحت طلب ہیں:
۱۔ جہاں تک ایمان لانے اور اطاعت کرنے کا تعلق ہے کیا وحی کے دونوں حصے یکساں حیثیت رکھتے ہیں؟
۲۔ قرآن نے جہاں مَااُنْزِلَ اِلَیْکَ کہا ہے، کیا اس سے مراد صرف قرآن ہے یا وحی کا مذکورہ صدر حصہ بھی؟
۳۔ وحی کا یہ دوسرا حصہ کہا ںہے؟ کیا قرآن کی طرح اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی خدا نے لی ہوئی ہے؟
۴۔ قرآن کے ایک لفظ کی جگہ عربی کا دوسرا لفظ جو اس کے مرادف المعنی ہو، رکھ دیا جائے تو کیا اس لفظ کو ’’وحی مُنَزَّل مَنِ اللّٰہ‘‘ سمجھ لیا جائے گا؟ کیا وحی کے مذکورہ بالا دوسرے حصے کی بھی یہی کیفیت ہے؟
۵۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نبوت پانے کے بعد اپنی زندگی کے آخری سانس تک جو کچھ کیا وہ خدا کی طرف سے وحی تھا۔ کیا آپ ان کے ہمنوا ہیں؟ اگر نہیں تو اس باب میں آپ کا عقیدہ کیا ہے؟
۶۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ حضور ﷺ کے بعض ارشادات وحی الٰہی تھے اور بعض وحی نہیں تھے تو کیا آپ فرمائیں گے کہ حضور ﷺ کے جو ارشادات وحی تھے، ان کا مجموعہ کہاں ہے؟ نیز آپ کے جو ارشادات وحی نہیں تھے، مسلمانوں کے لیے ایمان واطاعت کے اعتبار سے ان کی حیثیت کیا ہے؟
۷۔ اگر کوئی شخص قرآن کریم کی کسی آیت کے متعلق یہ کہہ دے کہ وہ ’’منزل من اللّٰہ‘‘ نہیں ہے تو آپ اس سے متفق ہوں گے کہ وہ دائرہ ٔاِسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص احادیث کے موجودہ مجموعوں میں سے کسی حدیث کے متعلق یہ کہے کہ وہ خدا کی وحی نہیں تو کیا وہ بھی اسی طرح دائرۂ اِسلام سے خارج ہو جائے گا؟
۸۔ رسول اللّٰہ ﷺ نے دین کے احکام کی بجا آوری کے لیے جو صورتیں تجویز فرمائی ہیں کیا کسی زمانے کی مصلحتوں کے لحاظ سے ان کی جزئیات میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ کیا اس قسم کا ردوبدل قرآن کے احکام کی جزئیات میں بھی کیا جا سکتا ہے؟
والسلام
مخلص: عبدالودود

جواب

محترمی ومکرمی، السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ!
عنایت نامہ مورخہ ۵؍نومبر ۱۹۶۰ء کو ملا۔ کچھ خرابیٔ صحت اور کچھ مصروفیت کے باعث جواب ذرا تاخیر سے دے رہا ہوں اور اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔
آپ نے حسبِ سابق پھر وہی طریقہ اختیار کیا ہے کہ ایک بحث کو صاف کرنے سے پہلو بچا کر آگے کچھ نئے سوالات چھیڑ دیے۔ حالانکہ آپ کو نئے مسائل سامنے لانے سے پہلے یہ بتانا چاہیے تھا کہ پچھلے خط میں آپ کے دس نکات پر جو بحث میں نے کی تھی اس میں سے کیا چیز آپ مانتے ہیں اور کیا نہیں مانتے، اور جس چیز کو نہیں مانتے اسے رد کرنے کے لیے آپ کے پاس کیا دلیل ہے۔ اسی طرح آپ کو میرے ان واضح اور متعین سوالات کا بھی کوئی جواب دینا چاہیے تھا کہ جو میں نے اس خط میں آپ سے کیے تھے لیکن سوالات کا سامنا کرنے سے گریز کرکے اب آپ کچھ اور سوالات لے آئے ہیں اور مجھ سے چاہتے ہیں کہ میں ان کا جواب دوں، یہ آخر کیاطرزِ بحث ہے؟
میرے پچھلے خط پر آپ کا تبصرہ کچھ عجیب ہی سا ہے۔ تمام اہم نکات جو اس میں زیر بحث آئے تھے، اور بنیادی سوالات جن پر اس میں روشنی ڈالی گئی تھی، ان سب کو چھوڑ کر سب سے پہلے آپ کی نظر میرے آخری فقرے پر پڑتی ہے اور اس کے جواب میں آپ فرماتے ہیں کہ ’’میں حق کے آگے تو جھکنے پر تیار ہوں لیکن بت کے آگے میں نہیں جھک سکتا اور شخصیت پرستی میرا مسلک نہیں ہے۔‘‘ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سا ’’بت‘‘ ہے جس کے آگے جھکنے کے لیے آپ سے کہا گیا تھا؟ اور کس ’’شخصیت پرستی‘‘ کی آپ کو دعوت دی گئی تھی؟ میں نے تو صریح آیات قرآنی سے یہ ثابت کیا تھا کہ رسول اللّٰہ ﷺ اللّٰہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حاکم، شارع، قاضی اورمعلم وراہ نُما ہیں اور اللّٰہ ہی کے حکم کی بِنا پر آپ کی اطاعت اور آپ کا اتباع ایک مومن پر واجب ہے۔ اسی حق کے مقابلے میں جھکنے کے لیے میں نے آپ سے عرض کیا تھا۔ اس پر آپ کا مذکورۂ بالا ارشاد یہ شبہ پیدا کرتا ہے کہ شاید محمدﷺکی اطاعت اور پیروی ہی وہ ’’بت‘‘ ہے جس کے آگے جھکنے سے آپ کو انکار ہے، اور یہ وہ ’’شخصیت پرستی‘‘ ہے جس سے آپ گریزاں ہیں۔ اگر میرا یہ شبہ صحیح ہے تو میں عرض کروں گا کہ دراصل آپ شخصیت پرستی نہیں خدا پرستی سے انکار کر رہے ہیں، اور ایک بہت بڑا بت آپ کے اپنے نفس میں چھپا ہوا ہے جس کے آگے آپ سجدہ ریز ہیں، جہاں سراطاعت خم کرنے کا خدا نے حکم دیا ہو، وہاں جھک جانا بت کے آگے جھکنا نہیں، خدا کے آگے جھکنا ہے، اور یہ شخصیت پرستی نہیں بلکہ خدا پرستی ہے، البتہ اس سے جو شخص انکار کرتا ہے وہ دراصل حکم خدا کے آگے جھکنے کے بجائے اپنے بت نفس کے آگے جھکتا ہے۔
پھر آپ میرے سارے دلائل کو اس طرح چٹکیوں میں اڑانے کی کوشش فرماتے ہیں کہ تم نے ’’لفاظی اور جذبات کا مرکب پیش کرنے میں سارا زور قلم صرف کیا ہے۔‘‘ یہ رائے آپ چاہیں تو بخوشی رکھ سکتے ہیں، لیکن اس کا فیصلہ اب وہ ہزاروں ناظرین کریں گے جن کی نظر سے یہ مراسلت گزر رہی ہے۔ میں نے دلائل پیش کیے ہیں یا محض لفاظی کی ہے اور آپ ہٹ دھرمی کا اظہار فرما رہے ہیں یا حق پرستی کا۔
پھر آپ اپنی اس بدنصیبی پر افسوس کرتے ہیں کہ میرے جوابات سے آپ کی الجھنیں اور بڑھ گئی ہیں۔ مجھے بھی اس کا افسوس ہے مگر ان الجھنوں کا منبع کہیں باہر نہیں، آپ کے اندر ہی موجود ہے۔ آپ نے یہ مراسلت واقعی ’’بات سمجھنے کے لیے‘‘ کی ہوتی تو سیدھی بات سیدھی طرح آپ کی سمجھ میں آ جاتی، لیکن آپ کی تو اسکیم ہی کچھ اور تھی۔ آپ نے اپنے ابتدائی سوالات میرے پاس بھیجنے کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے علما کے پاس بھی اس امید پر بھیجے تھے({ FR 6818 }) کہ ان سے مختلف جوابات حاصل ہوں گے اور پھر ان کا ایک مجموعہ شائع کرکے یہ پروپیگنڈا کیا جا سکے گا کہ علما سُنّت سُنّت تو کرتے ہیں مگر دو عالم بھی سُنّت کے بارے میں ایک متفقہ رائے نہیں رکھتے۔ وہی ٹیکنیک جس کا ایک شاہ کار ہمیں منیر رپورٹ میں ملتا ہے۔ اب میرے جوابات سے آپ کی یہ اسکیم آپ ہی کے اوپر الٹ پڑی ہے اس لیے آپ کو سمجھانے کی جتنی کوشش بھی میں کرتا ہوں آپ کی الجھن بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس نوعیت کی الجھن کا آخر میں کیا علاج کر سکتا ہوں۔ اس کا علاج تو آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ حق بات سمجھنے اور ماننے کی مخلصانہ خواہش اپنے اندر پیدا کیجیے اور ایک مسلکِ خاص کے حق میں پروپیگنڈا کرنے کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کی فکر چھوڑ دیجیے۔ اس کے بعد ان شاء اللّٰہ ہر معقول بات بآسانی آپ کی سمجھ میں آنے لگے گی۔
پھر آپ میری طرف یہ غلط دعوٰی منسوب کرتے ہیں کہ ’’میں نے اپنی عمر قرآن کے ایک ایک لفظ پر غور کرنے اور اس کے مضمرات کو سمجھنے میں صرف کی ہے۔‘‘ حالانکہ میں نے اپنے متعلق یہ دعوٰی کبھی نہیں کیا۔ میں نے تو اپنے پچھلے خط میں جو کچھ کہا تھا وہ یہ تھا کہ اِسلامی تاریخ میں بے شمار ایسے لوگ گزرے ہیں اور آج بھی پائے جاتے ہیں جنھوں نے اپنی عمریں اس کام میں صَرف کر دی ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ آپ نے کیسے نکال لیا ہے کہ میں اپنے حق میں یہ دعوٰی کر رہا ہوں۔
اتنی غیر متعلق باتیں کر چکنے کے بعد، آپ میرے خط کے اصل مبحث کے متعلق صرف اتنی مختصر سی بات ارشاد فرمانے پر اکتفا کرتے ہیں کہ : ’’آپ کے خط میں بہت سے ابہامات ہیں۔ کئی باتیں قرآن کے خلاف ہیں۔ کئی باتیں ایسی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آپ قرآن کا مطلب صحیح طور پر نہیں سمجھتے۔‘‘ سوال یہ ہے کہ اس سے زیادہ مبہم بات بھی کوئی ہو سکتی ہے؟ آخر آپ نے کچھ تو بتایا ہوتا کہ میرے اس خط میں کیا ابہامات تھے، کیا چیزیں قرآن کے خلاف تھیں اور قرآن کی کن آیات کا مطلب میں ٹھیک نہیں سمجھا۔ ان ساری باتوں کو تو آیندہ کسی فرصت کے لیے آپ نے اُٹھا کر رکھ دیا اور اپنا آج کا وقت کچھ نئے سوالات تصنیف کرنے میں صَرف فرما دیا۔ حالانکہ یہ وقت پچھلے سوالات پر گفتگو کرنے میں استعمال ہونا چاہیے تھا۔
اگر اس مراسلت سے میرے پیشِ نظر صرف آپ کو ’’بات سمجھانا‘‘ ہوتا تو آپ کی طرف سے ’’بات سمجھنے‘‘ کی کوشش کا یہ نمونہ دیکھ کر میں آیندہ کے لیے معذرت ہی کر دیتا۔ لیکن دراصل میں آپ کے ذریعے سے دوسرے بہت سے ’’مریضوں‘‘ کے علاج کی فکر کر رہا ہوں جن کے ذہن اسی طرح کے سوالات چھیڑ چھیڑ کر پراگندہ کیے جا رہے ہیں۔ اس لیے میں ان شاء اللّٰہ آپ کے ان تازہ سوالات کا جواب بھی دوں گا، اور ایسے ہی سوالات آپ اور چھیڑیں گے تو ان کا جواب بھی دوں گا، تاکہ جن لوگوں کے اندر اس گم راہی کے لیے ابھی تک ضد پیدا نہیں ہوئی ہے، وہ سُنّت کے مسئلے کا ہر پہلو اچھی طرح سمجھ لیں اور ان کو گم راہ کرنا آسان نہ رہے۔

وحی پر ایمان کی وجہ

آپ کا پہلا سوال یہ ہے کہ :
جہاں تک ایمان لانے اور اطاعت کرنے کا تعلق ہے کیا وحی کے دونوں حصے یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔
اس سوال کا صحیح جواب آدمی کی سمجھ میں اچھی طرح نہیں آ سکتا جب تک کہ وہ پہلے یہ نہ سمجھ لے کہ وحی پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے کی اصل بنیاد کیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ وحی خواہ وہ کسی نوعیت کی بھی ہو، براہ راست ہمارے پاس نہیں آئی ہے کہ ہم بجائے خود اس کے مُنَزَّلْ من اللّٰہ ہونے کو جانیں اور اس کی اطاعت کریں۔ وہ تو ہمیں رسولﷺ کے ذریعے سے ملی ہے اور رسولﷺ ہی نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ ہدایت میرے پاس خدا کی طرف سے آئی ہے۔ قبل اس کے کہ ہم وحی پر (یعنی اس کے من جانب اللّٰہ ہونے پر) ایمان لائیں، ہم رسولﷺ پر ایمان لاتے ہیں اور اس کو اللّٰہ تعالیٰ کا سچا نمایندہ تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے بعد ہی یہ نوبت آ سکتی ہے کہ ہم رسولﷺ کے بیان پر اعتماد کرکے اس وحی کو خدا کی بھیجی ہوئی وحی مانیں اور اس کی اطاعت کریں۔ پس اصل چیز وحی پر ایمان نہیں بلکہ رسولﷺ پر ایمان اور اس کی تصدیق ہے اور اسی کی تصدیق کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم نے وحی کو وحی خداوندی مانا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس بات کو یوں سمجھیے کہ رسولﷺ کی رسالت پر ہمارے ایمان کی وجہ قرآن نہیں ہے، بلکہ اس کے برعکس قرآن پر ہمارے ایمان کی وجہ رسولﷺ کی رسالت پر ایمان ہے۔ واقعات کی ترتیب یہ نہیں ہے کہ پہلے قرآن ہمارے پاس آیا اور اس نے محمد رسول اللّٰہ (ﷺ) سے ہمارا تعارف کرایا ہو، اور اس کے بیان کو صحیح جان کر ہم نے حضور ﷺ کو خدا کا رسول تسلیم کیا ہو، بلکہ صحیح ترتیب واقعات یہ ہے کہ پہلے محمد ﷺ نے آکر رسالت کا دعوٰی پیش کیا، پھر جس نے بھی ان کو رسول برحق مانا اس نے ان کی اس بات کو بھی برحق مان لیا کہ یہ قرآن جو وہ پیش فرما رہے ہیں، یہ کلام محمدﷺ نہیں بلکہ کلام اللّٰہ ہے۔
یہ ایک ایسی بدیہی پوزیشن ہے کہ جس سے کوئی معقول آدمی انکار نہیں کر سکتا۔ اس پوزیشن کو اگر آپ مانتے ہیں تو اپنی جگہ خود غور کیجیے کہ جس رسولﷺ کے اعتماد پر ہم نے قرآن کو وحی مانا ہے وہی رسولﷺ اگر ہم سے یہ کہے کہ مجھے قرآن کے علاوہ بھی خدا کی طرف سے ہدایات اور احکام بذریعہ وحی ملتے ہیں، تو اس کی تصدیق نہ کرنے کی آخر کیا وجہ ہے؟ اور آخر رسولﷺ کے ذریعے سے آنے والی ایک وحی اور دوسری وحی میں فرق کیوں ہو؟ جب ایمان بالرسالت ہی وحی پر ایمان کی اصل بنیاد ہے تو اطاعت کرنے والے کے لیے اس سے کیا فرق واقع ہوتا ہے کہ رسولﷺ نے خدا کا ایک حکم قرآن کی کسی آیت کی شکل میں ہمیں پہنچایا ہے، یا اپنے کسی فرمان یا عمل کی شکل میں؟ مثال کے طور پر پانچ وقت کی نماز بہرحال ہم پر فرض ہے اور امت اس کو فرض مانتی ہے باوجودیکہ قرآن کی کسی آیت میں یہ حکم نہیں آیا کہ ’’اے مسلمانو! تم پر پانچ وقت کی نماز فرض کی گئی ہے۔‘‘ سوال یہ ہے کہ اگر قرآن میں بھی یہ حکم آ جاتا تو اس کی فرضیت اور اس کی تاکید میں کیا اضافہ ہو جاتا؟ اس وقت بھی یہ ویسی ہی فرض ہوتی جیسی اب رسول اللّٰہ ﷺ کے ارشاد سے فرض ہے۔

مَااَنْزَلَ اللّٰہُ سے کیا چیز مراد ہے؟

آپ کا دوسرا سوال یہ ہے کہ:
قرآن نے جہاں مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ کہا ہے کیا اس سے مراد صرف قرآن ہے یا وحی کا مذکورۂ صدر حصہ بھی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاںنازل کرنے کے ساتھ کتاب یا ذکر یا فرقان وغیرہ کی تصریح کی گئی ہے، صرف اسی جگہ مَااَنْزَلَ اللّٰہُ سے مراد قرآن ہے۔ رہے وہ مقامات جہاں کوئی قرینہ ان الفاظ کو قرآن کے لیے مخصوص نہ کر رہا ہو، وہاں یہ الفاظ ان تمام ہدایات وتعلیمات پر حاوی ہیں جو نبی ﷺ سے ہم کو ملی ہیں، خواوہ وہ آیاتِ قرآنی کی صورت میں ہوں، یا کسی اور صورت میں۔ اس کی دلیل خود قرآن مجید ہی میں موجود ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے نبی ﷺ پر صرف قرآن ہی نازل نہیں ہوا ہے بلکہ کچھ اور چیزیں بھی نازل ہوئی ہیں۔ سورۂ نساء میں ارشاد ہوا ہے:
٭ وَاَنْزَلَ اللہُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ۝۰ۭ النسائ 113:4
اور اللّٰہ نے تیرے اوپر نازل کی کتاب اور حکمت اور تجھے سکھایا وہ کچھ جو تو نہ جانتا تھا۔
یہی مضمون سورۂ بقرہ میں بھی ہے:
٭ وَّاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَيْكُمْ وَمَآ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَالْحِكْمَۃِ يَعِظُكُمْ بِہٖ۝۰ۭ البقرہ 231:2
اور یاد رکھو اپنے اوپر اللّٰہ کے احسان کو، اور اس کتاب اور حکمت کو جو اس نے تم پر نازل کی ہے۔ اللّٰہ تمھیں اس کا پاس رکھنے کی نصیحت فرماتا ہے۔
اسی بات کو سورۂ احزاب میں دہرایا گیا ہے جہاں نبی ﷺ کے گھر کی خواتین کو نصیحت فرمائی گئی ہے کہ:
٭ وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلٰى فِيْ بُيُوْتِكُنَّ مِنْ اٰيٰتِ اللہِ وَالْحِكْمَۃِ۝۰ۭ الاحزاب 34:33
اور یاد رکھو کہ تمھارے گھروں میں (لوگوں کو) اللّٰہ کی آیات اور حکمت کی ان باتوں کو جو سنائی جاتی ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ نبی ﷺ پر کتاب کے علاوہ ایک چیز ’’حکمت‘‘ بھی نازل کی گئی تھی جس کی تعلیم آپ لوگوں کو دیتے تھے۔ اس کا مطلب آخر اس کے سوا کیا ہے کہ جس دانائی کے ساتھ آں حضور ﷺ قرآن مجید کی اسکیم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام کرتے اور قیادت وراہ نُمائی کے فرائض انجام دیتے تھے، وہ محض آپ کی آزادانہ ذاتی قوتِ فیصلہ (private judgement) نہ تھی بلکہ یہ چیز بھی اللّٰہ نے آپ پر نازل کی تھی۔ نیز یہ کوئی ایسی چیز تھی جسے آپ خود ہی استعمال نہ کرتے تھے بلکہ لوگوں کو سکھاتے بھی تھے (یُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ) اور ظاہر ہے کہ یہ سکھانے کا عمل یا تو قول کی صورت میں ہو سکتا تھا، یا فعل کی صورت میں۔ اس لیے امت کو آں حضرتﷺ کے ذریعے سے اللّٰہ تعالیٰ کی نازل کردہ دو چیزیں ملی تھیں۔ ایک: کتاب۔ دوسری: حکمت، حضورﷺ کے اقوال میں بھی اور افعال کی صورت میں بھی۔
پھر قرآن مجید ایک اور چیز کا ذکر بھی کرتا ہے جو اللّٰہ نے کتاب کے ساتھ نازل کی ہے:
۱۔ اَللہُ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِيْزَانَ۝۰ۭ الشوریٰ17:42
اللّٰہ ہی ہے جس نے نازل کی کتاب حق کے ساتھ اور میزان۔
۲۔ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۝۰ۚ الحدید 25:57
ہم نے اپنے رسولوں کو روشن نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔
یہ میزان جو کتاب کے ساتھ نازل کی گئی ہے، ظاہر ہے کہ وہ ترازو تو نہیں ہے جو ہر بنیے کی دکان پر رکھی ہوئی مل جاتی ہے بلکہ اس سے مراد کوئی ایسی چیز ہی ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق انسانی زندگی میں توازن قائم کرتی ہے، اس کے بگاڑ کو درست کرتی ہے اور افراط وتفریط کو دور کرکے انسانی اخلاق ومعاملات کو عدل پر لاتی ہے۔ کتاب کے ساتھ اس چیز کو انبیا پر ’’نازل‘‘ کرنے کے صاف معنی یہ ہیں کہ انبیا کو اللّٰہ تعالیٰ نے بطورِ خاص اپنے پاس سے وہ راہ نُمائی کی صلاحیت عطا فرمائی تھی جس سے انھوں نے کتاب اللّٰہ کے منشا کے مطابق افراد اور معاشرے اور ریاست میں نظامِ عدل قائم کیا۔ یہ کام ان کی ذاتی قوتِ اجتہاد اور رائے پر منحصر نہ تھا، بلکہ اللّٰہ کی نازل کردہ میزان سے تول تول کر وہ فیصلہ کرتے تھے کہ حیات انسانی کے مرکب میں کس جز کا کیا وزن ہونا چاہیے۔پھر قرآن ایک تیسری چیز کی بھی خبر دیتا ہے جو کتاب کے علاوہ نازل کی گئی تھی:
٭ فَاٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالنُّوْرِ الَّذِيْٓ اَنْزَلْنَا۝۰ۭ التغابن 8:64
پس ایمان لائو اللّٰہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے۔
٭ فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ۝۰ۙ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَo الاعراف 157:7
پس جو لوگ ایمان لائیں اس رسولﷺ پر اور اس کی تعظیم وتکریم کریں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کے پیچھے چلیں جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ وہی فلاح پانے والے ہیں۔
٭ قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌo يَّہْدِيْ بِہِ اللہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ سُـبُلَ السَّلٰمِ المائدہ 15-16:5
تمھارے پاس آ گیا ہے اللّٰہ کی طرف سے نور اور کتاب مبین جس کے ذریعے سے اللّٰہ تعالیٰ ہر اس شخص کو جو اس کی مرضی کی پیروی کرنے والا ہے، سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے۔
ان آیات میں جس نور کا ذکر کیا گیا ہے وہ کتاب سے الگ ایک چیز تھا، جیسا کہ تیسری آیت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں اور یہ نور بھی اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسولﷺ پر نازل کیا گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد وہ علم ودانش اور بصیرت وفراست ہی ہو سکتی ہے جو اللّٰہ نے حضور ﷺ کو عطا فرمائی تھی۔ جس سے آپﷺ نے زندگی کی راہوں میں صحیح اور غلط کا فرق واضح فرمایا، جس کی مدد سے زندگی کے مسائل حل کیے، اور جس کی روشنی میں کام کرکے آپﷺ نے اخلاق و روحانیت، تہذیب وتمدن، معیشت ومعاشرت اور قانون وسیاست کی دُنیا میں انقلاب عظیم برپا کر دیا۔ یہ کسی پرائیویٹ آدمی کا کام نہ تھا، جس نے بس خدا کی کتاب پڑھ پڑھ کر اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق جدوجہد کر ڈالی ہو، بلکہ یہ خدا کے اس نمایندے کا کام تھا جس نے کتاب کے ساتھ براہ راست خدا ہی سے علم اور بصیرت کی روشنی بھی پائی تھی۔
ان تصریحات کے بعد یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن جب ہمیں دوسری سب چیزوں کو چھوڑ کر صرف مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ کی پیروی کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس سے مراد محض قرآن ہی کی پیروی نہیں ہوتی، بلکہ اس حکمت اور اس نور اور اس میزان کی پیروی بھی ہوتی ہے جو قرآن کے ساتھ نبی ﷺ پر نازل کی گئی تھی اور جس کا ظہور لامحالہ حضور ﷺ کی سیرت وکردار اور حضورﷺ کے اقوال وافعال ہی میں ہو سکتا تھا۔ اسی لیے قرآن کہیں یہ کہتا ہے کہ ما انزل اللّٰہ کی پیروی کرو،مثلاً: الاعراف ۷:۳ میں، اور کہیں یہ ہدایت کرتا ہے کہ محمد ﷺ کی پیروی کرو،(مثلاً: آل عمران۳:۳۱۔۳۲۔۱۳۲، اور الاعراف ۷:۱۵۸ میں)۔اگر یہ دو مختلف چیزیں ہوتیں تو ظاہر ہے کہ قرآن کی ہدایات متضاد ہو جاتیں۔

سُنّت کہاں ہے؟

آپ کا تیسرا سوال یہ ہے:
وحی کا یہ دوسرا حصہ کہاں ہے؟ کیا قرآن کی طرح اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی خدا نے لی ہوئی ہے؟
اس سوال کے دو حصے الگ الگ ہیں۔ پہلا حصہ یہ ہے کہ ’’وحی کا یہ دوسرا حصہ کہاں ہے؟‘‘ بعینہٖ یہ سوال آپ پہلے مجھ سے کر چکے ہیں اور میں اس کا مفصل جواب دے چکا ہوں، مگر آپ اسے پھر اس طرح دوہرا رہے ہیں کہ گویا آپ کو سرے سے کوئی جواب ملا ہی نہیں۔ براہِ کرم اپنا اولین خط اُٹھا کر دیکھیے جس میں سوال نمبر ۲ کا مضمون وہی تھا جو آپ کے اس تازہ سوال کا ہے۔ اس کے بعد میرا دوسرا خط ملاحظہ فرمائیے جس میں، میں نے آپ کو اس کا تفصیل سے جواب دیا ہے۔({ FR 6819 }) اب آپ کا اسی سوال کو پھر پیش کرنا اور میرے پہلے جواب کو بالکل نظر انداز کر دینا یہ معنی رکھتا ہے کہ یا تو آپ اپنے ہی خیالات میں گم رہتے ہیں اور دوسرے کی کوئی بات آپ کے ذہن تک پہنچنے کا راستہ ہی نہیں پاتی، یا پھر آپ یہ بحث محض برائے بحث فرما رہے ہیں۔
کیا سُنّت کی حفاظت بھی خدا نے کی ہے؟
رہاآپ کے سوال کا دوسرا حصہ تو اس کا جواب سننے سے پہلے ذرا اس بات پر غور کر لیجیے کہ قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری جو اللّٰہ تعالیٰ نے لی تھی، اس کو انھوں نے براہ راست عملی جامہ پہنایا، یا انسانوں کے ذریعے سے اس کو عملی جامہ پہنوایا؟ ظاہر ہے آپ اس کا کوئی جواب اس کے سوا نہیں دے سکتے کہ اس حفاظت کے لیے انسان ہی ذریعے بنائے گئے اور عملًا یہ حفاظت اس طرح ہوئی کہ حضور ﷺ سے جو قرآن لوگوں کو ملا تھا اس کو اسی زمانے میں ہزاروں آدمیوں نے لفظ بلفظ یاد کر لیا، پھر ہزاروں سے لاکھوں، اور لاکھوں سے کروڑوں اس کو نسلًا بعد نسلٍ لیتے اور یاد کرتے چلے گئے، حتّٰی کہ یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں رہا کہ قرآن کا کوئی لفظ دُنیا سے محو ہو جائے، یا اس میں کسی وقت کوئی ردوبدل ہو اور وہ فورًا نوٹس میں نہ آ جائے۔ یہ حفاظت کا غیر معمولی انتظام آج تک دُنیا کی کسی دوسری کتاب کے لیے نہیں ہو سکا اور یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اللّٰہ تعالیٰ ہی کا کیا ہوا انتظام ہے۔
اچھا، اب ملاحظہ فرمائیے کہ جس رسولﷺ کو ہمیشہ کے لیے اور تمام دُنیا کے لیے رسول بنایا گیا تھا اور جس کے بعد نبوت کا دروازہ بند کر دینے کا بھی اعلان کر دیا گیا تھا، اس کے کارنامۂ حیات کو بھی اللّٰہ تعالیٰ نے ایسا محفوظ فرمایا کہ آج تک تاریخ انسانی میں گزرے ہوئے کسی نبی، کسی پیشوا، کسی لیڈر اور راہ نُما اور کسی بادشاہ یا فاتح کا کارنامہ اس طرح محفوظ نہیں رہا ہے اور یہ حفاظت بھی انھی ذرائع سے ہوئی ہے جن ذرائع سے قرآن کی حفاظت ہوئی ہے، ختم نبوت کا اعلان بجائے خود یہ معنی رکھتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے مقرر کیے ہوئے آخری رسولﷺ کی راہ نُمائی اور اس کے نقوشِ قدم کو قیامت تک زندہ رکھنے کی ذمہ داری لے لی ہے تاکہ اس کی زندگی ہمیشہ انسان کی راہ نُمائی کرتی رہے اور اس کے بعد کسی نئے رسول کے آنے کی ضرورت باقی نہ رہے۔ اب آپ خود دیکھ لیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے فی الواقع جریدۂ عالم پر ان نقوش کو کیسا ثبت کیا ہے کہ آج کوئی طاقت انھیں مٹا نہیں سکتی۔ کیا آپ کو نظر نہیں آتا کہ یہ وضو، یہ پنج وقتہ نماز، یہ اذان، یہ مساجد کی نماز باجماعت، یہ عیدین کی نمازیں، یہ حج کے مناسک، یہ بقر عید کی قربانی، یہ زکوٰۃ کی شرحیں،یہ ختنہ، یہ نکاح وطلاق ووراثت کے قاعدے، یہ حرام وحلال کے ضابطے اور اِسلامی تہذیب وتمدن کے دوسرے بہت سے اصول اور طور طریقے جس روز نبی ﷺ نے شروع کیے اسی روز سے وہ مسلم معاشرے میں ٹھیک اسی طرح رائج ہو گئے جس طرح قرآن کی آیتیں زبانوں پر چڑھ گئیں، اور پھر ہزاروں سے لاکھوں اور لاکھوں سے کروڑوں مسلمان دُنیا کے ہر گوشے میں نسلًا بعد نسلٍ ان کی اسی طرح پیروی کرتے چلے آ رہے ہیں جس طرح ان کی ایک نسل سے دوسری نسلٍ قرآن لیتی چلی آ رہی ہے۔ ہماری تہذیب کا بنیادی ڈھانچہ رسول پاکﷺ کی جن سنتوں پر قائم ہے، ان کے صحیح ہونے کا ثبوت بعینہٖ وہی ہے جو قرآن پاک کے محفوظ ہونے کا ثبوت ہے۔ اس کو جو شخص چیلنج کرتا ہے وہ دراصل قرآن کی صحت کو چیلنج کرنے کا راستہ اِسلام کے دشمنوں کو دکھاتا ہے۔
پھر دیکھیے کہ رسول اللّٰہ ﷺ کی زندگی اور آپ کے عہد کی سوسائٹی کا کیسا مفصل نقشہ، کیسی جزئی تفصیلات کے ساتھ، کیسے مستند ریکارڈ کی صورت میں آج ہم کو مل رہا ہے۔ ایک ایک واقعہ اور ایک ایک قول وفعل کی سند موجود ہے، جس کو جانچ کر ہر وقت معلوم کیا جا سکتا ہے کہ روایت کہاں تک قابل اعتماد ہے۔ صرف ایک انسان کے حالات معلوم کرنے کی خاطر اس دور کے کم وبیش ۶ لاکھ انسانوں کے حالات مرتب کر دیے گئے تاکہ ہر وہ شخص جس نے کوئی روایت اس انسان عظیمؐ کا نام لے کر بیان کی ہے اس کی شخصیت کو پرکھ کر رائے قائم کی جا سکے کہ ہم اس کے بیان پر کہاں تک بھروسہ کر سکتے ہیں۔ تاریخی تنقید کا ایک وسیع علم انتہائی باریک بینی کے ساتھ صرف اس مقصد کے لیے مدوّن ہو گیا کہ اس ایک فرد فرید کی طرف جو بات بھی منسوب ہو اسے ہر پہلو سے جانچ پڑتال کر کے صحت کا اطمینان کر لیا جائے۔ کیا دُنیا کی پوری تاریخ میں کوئی اور مثال بھی ایسی ملتی ہے کہ کسی ایک شخص کے حالات محفوظ کرنے کے لیے انسانی ہاتھوں سے یہ اہتمام عمل میں آیا ہو؟ اگر نہیں ملتی اور نہیں مل سکتی، تو کیا یہ اس بات کا صریح ثبوت نہیں ہے کہ اس اہتمام کے پیچھے بھی وہی خدائی تدبیر کار فرما ہے جو قرآن کی حفاظت میں کار فرما رہی ہے؟

وحی سے مراد کیا چیز ہے؟

آپ کا چوتھا سوال یہ ہے:
قرآن کے لفظ کی جگہ عربی کا دوسرا لفظ جو اس کے مرادفُ المعنیٰ ہو، رکھ دیا جائے تو کیا اس لفظ کو ’’وحی منزل من اللّٰہ‘‘ سمجھ لیا جائے گا؟ کیا وحی کے مذکورۂ بالا دوسرے حصے کی بھی یہی کیفیت ہے؟
یہ ایسا مہمل سوال آپ نے کیا ہے کہ میں کسی پڑھے لکھے آدمی سے اس کی توقع نہ رکھتا تھا۔ آخر یہ کس نے آپ سے کہہ دیا کہ رسول اللّٰہ ﷺ قرآن کے شارح اس معنی میں ہیں کہ آپ نے تفسیر بیضاوی یا جلالین کی طرح کی کوئی تفسیر لکھی تھی جس میں قرآن کے عربی الفاظ کی تشریح میں کچھ دوسرے مترادف عربی الفاظ درج کر دیے تھے اور ان تفسیری فقروں کو اب کوئی شخص وحی منزل من اللّٰہ کہہ رہا ہے۔ جو بات آپ سے بار بار کہی جا رہی ہے، وہ یہ ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے پیغمبر کی حیثیت سے جو کچھ بھی کیا اور کہا ہے وہ بربنائے وحی ہے۔ آپ کا پورا پیغمبرانہ کارنامہ اپنی پرائیویٹ حیثیت میں نہ تھا، بلکہ خدا کے نمایندۂ مجاز ہونے کی حیثیت میں تھا۔ اس حیثیت میں آپ کوئی کام بھی خدا کی مرضی کے خلاف یا اس کے بغیر نہ کر سکتے تھے۔ ایک معلم، ایک مربی، ایک مصلح اخلاق، ایک معمار تہذیب وتمدن، ایک قاضی، ایک مقنن، ایک مدبر، ایک سپہ سالار، ایک حکم ران کی حیثیت میں آپ نے جتنا کام بھی کیا وہ سب دراصل خدا کے رسول ﷺہونے کی حیثیت میں آپ کا کام تھا۔ اس میں خدا کی وحی آپ کی راہ نُمائی اور نگرانی کرتی تھی، اور کہیں ذرا سی چوک بھی ہو جاتی تو خدا کی وحی بروقت اس کی اصلاح کر دیتی تھی۔ اس وحی کو اگر آپ اس معنی میں لیتے ہیں کہ قرآن کے الفاظ کی تشریح میں کچھ عربی زبان کے مترادف الفاظ نازل ہو جاتے تھے تو میں سوائے اس کے اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ ’’بریں عقل ودانش بباید گریست ۔‘‘({ FR 6820 })
آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وحی لازمًا الفاظ کی صورت ہی میں نہیں ہوتی۔ وہ ایک خیال کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے جو دل میں ڈالا جائے۔ وہ ذہن وفکر کے لیے ایک راہ نُمائی بھی ہو سکتی ہے۔ وہ ایک معاملے کا صحیح فہم بخشنے اور ایک مسئلے کا ٹھیک حل، یا ایک موقع کے لیے مناسب تدبیر سجھانے کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے۔ وہ محض ایک روشنی بھی ہو سکتی ہے جس میں آدمی اپنا راستہ صاف دیکھ لے۔ وہ ایک سچا خواب بھی ہو سکتی ہے اور وہ پردے کے پیچھے سے ایک آواز یا فر شتے کے ذریعے سے آیا ہوا ایک پیغام بھی ہو سکتی ہے۔ عربی زبان میں لفظی وحی کے معنی ’’اشارۂ لطیف‘‘ کے ہیں۔ انگریزی میں اس سے قریب تر لفظ (inspiration) ہے۔ اگر آپ عربی نہیں جانتے تو انگریزی زبان ہی کی کسی لغت میں اس لفظ کی تشریح دیکھ لیں۔ اس کے بعد آپ کو خود معلوم ہو جائے گا کہ لفظ کے مقابلے میں مترادف لفظ رکھنے کا یہ عجیب وغریب تصور، جسے آپ وحی کے معنی میں لے رہے ہیں، کیسا طفلانہ تصور ہے۔
کیا نبی اکرمﷺ کی پوری زندگی وحی پر مبنی تھی؟
آپ کا پانچواں سوال یہ ہے:
بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبی اکرم (ﷺ) نے نبوت پانے کے بعد اپنی زندگی کے آخری سانس تک جو کچھ کیا وہ خدا کی طرف سے وحی تھا۔ کیا آپ ان کے ہم نوا ہیں؟ اگر نہیں تو اس بات میں آپ کا عقیدہ کیا ہے؟
اس سوال کا جواب سوال نمبر ۴ میں آ گیا ہے اور وہ عقیدہ جو میں نے اوپر بیان کیا ہے وہ بعض لوگوں کا نہیں، بلکہ آغاز اِسلام سے آج تک تمام مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے۔

محض تکرارِ سوال

آپ کا چھٹا سوال یہ ہے:
’’اگر آپ سمجھتے ہیں کہ حضورﷺ کے بعض ارشادات وحی الٰہی تھے اور بعض وحی نہ تھے تو آپ فرمائیں گے کہ حضورﷺ کے جو ارشادات وحی تھے، ان کا مجموعہ کہاں ہے؟ نیز آپ کے جو ارشادات وحی نہیں تھے، مسلمانوں کے لیے ایمان وطاعت کے اعتبار سے ان کی حیثیت کیا ہے؟‘‘
اس سوال کے پہلے حصے میں آپ نے اپنے سوال نمبر۳ کو پھر دہرا دیا ہے اور اس کا جواب وہی ہے جو اوپر اسی سوال کا دیا جا چکا ہے۔ دوسرے حصے میں آپ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے جو اس سے پہلے اپنے خط نمبر۲ میں آپ بیان فرما چکے ہیں اور میں اس کا جواب عرض کر چکا ہوں۔شبہ ہوتا ہے کہ آپ میرے جوابات کو غور سے پڑھتے بھی نہیں ہیں اور ایک ہی طرح کے سوالات کو دہراتے چلے جاتے ہیں۔

ایمان وکفر کا مدار

آپ کا ساتواں سوال یہ ہے:
’’اگر کوئی شخص قرآن کریم کی کسی آیت کے متعلق یہ کہہ دے کہ وہ ’’منزل من اللّٰہ‘‘ نہیں ہے تو آپ اس سے متفق ہوں گے کہ وہ دائرۂ اِسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص احادیث کے موجودہ مجموعوں میں سے کسی حدیث کے متعلق یہ کہے کہ وہ خدا کی وحی نہیں تو کیا وہ بھی اسی طرح دائرۂ اِسلام سے خارج ہوجائے گا؟‘‘
اس کا جواب یہ ہے کہ احادیث کے موجودہ مجموعوں سے جن سنتوں کی شہادت ملتی ہے ان کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک قسم کی سنتیں وہ ہیں جن کے سُنّت ہونے پر امت شروع سے آج تک متفق رہی ہے، یعنی بالفاظ دیگر وہ متواتر سُنّتیں ہیں اور امت کا ان پر اجماع ہے۔ ان میں سے کسی کو ماننے سے جو شخص بھی انکار کرے گا وہ اسی طرح دائرۂ اِسلام سے خارج ہو جائے گا جس طرح قرآن کی کسی آیت کا انکار کرنے والا خارج از اِسلام ہو گا۔ دوسری قسم کی سنتیں وہ ہیں جن کے ثبوت میں اختلاف ہے یا ہو سکتا ہے۔ اس قسم کی سنتوں میں سے کسی کے متعلق اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میری تحقیق میں فلاں سُنّت ثابت نہیں ہے اس لیے میں اسے قبول نہیں کرتا تو اس قول سے اس کے ایمان پر قطعًا کوئی آنچ نہ آئے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم علمی حیثیت سے اس کی رائے کو صحیح سمجھیں یا غلط، لیکن اگر وہ یہ کہے کہ یہ واقعی سُنّت رسولﷺ ہو بھی تو میں اس کی اطاعت کا پابند نہیں ہوں تو اس کے خارج از اِسلام ہونے میں قطعًا کوئی شبہ نہیں، کیوں کہ وہ رسولﷺ کی حیثیت حکم رانی (authority) کو چیلنج کرتا ہے جس کی کوئی گنجائش دائرۂ اِسلام میں نہیں ہے۔

کیا احکامِ سُنّت میں رد وبدل ہو سکتا ہے؟

آپ کا آٹھواں سوال یہ ہے:
رسول اللّٰہ (ﷺ) نے دین کے احکام کی بجا آوری کے لیے جو صورتیں تجویز فرمائی ہیں کیا کسی زمانے کی مصلحتوں کے لحاظ سے ان کی جزئیات میں ردّوبدل کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ کیا اس قسم کا ردوبدل قرآن کی جزئیات میں بھی کیا جا سکتا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ قرآنی احکام کے جزئیات ہوں، یا ثابت شدہ سُنّت رسول ﷺ کے کسی حکم کی جزئیات، دونوں کے اندر صرف اسی صورت میں اور اسی حد تک ردوبدل ہو سکتا ہے جب اور جس حد تک حکم کے الفاظ کسی رد وبدل کی گنجائش دیتے ہوں، یا کوئی دوسری نص ایسی ملتی ہو جو کسی مخصوص حالت کے لیے کس خاص قسم کے احکام میں ردوبدل کی اجازت دیتی ہو۔ اس کے ماسوا کوئی مومن اپنے آپ کو کسی حال میں بھی خدا اور رسولﷺ کے احکام میں ردوبدل کر لینے کا مختار ومجاز تصور نہیں کر سکتا، البتہ ان لوگوں کا معاملہ دوسرا ہے جو اِسلام سے نکل کر مسلمان رہنا چاہتے ہیں۔ ان کا طریق کار یہی ہے کہ پہلے رسول کو آئین وقانون سے بے دخل کرکے ’’قرآن بلا محمدﷺ‘‘ کی پیروی کا نرالا مسلک ایجاد کریں، پھر قرآن سے پیچھا چھڑانے کے لیے اس کی ایسی من مانی تاویلات شروع کر دیں جنھیں دیکھ کر شیطان بھی اعتراف کمال پر مجبور ہو جائے۔
خاکسار
ابو الاعلیٰ

باب سوم : اعتراضات اور جوابات

پچھلی مراسلت کے بعد ڈاکٹر عبدالودود صاحب کا جو طویل خط وصول ہوا تھا، اسے رسالہ ترجمان القرآن کے منصب رسالت نمبر میں شائع کیاجا چکا ہے۔ اب یہ بالکل غیر ضروری ہے کہ اس لمبی چوڑی بحث کو، جو بکثرت فضولیات سے بھری ہوئی ہے، یہاں نقل کیا جائے۔ اس لیے فائدۂ عام کی خاطر صاحب موصوف کی غیر متعلق باتوں کو چھوڑ کر صرف ان کے اصل اعتراضات کو یہاں خلاصۃً درج کیا جا رہا ہے اور ساتھ ساتھ ہر اعتراض کا جواب بھی دیا جا رہا ہے تاکہ ناظرین پوری طرح منکرین حدیث کے حربوں سے آگاہ ہو جائیں اور انھیں یہ بھی معلوم ہوجائے کہ یہ حربے کس قدر کم زور ہیں۔

۱۔ بزمِ طلوع اِسلام سے تعلق؟

اعتراض:’’آپ نے خط وکتابت کی ابتدا میں مجھے بزم طلوع اِسلام کا نمایاں فرد قرار دیا تھا۔ اس پر میں نے آپ کو لکھا تھا کہ میں بزم طلوع اِسلام کا اہم فرد تو درکنار اس کا ابتدائی یا معمولی رکن تک نہیں اور تاکیدًا لکھا تھا کہ آپ اس وضاحت کو شائع کریں۔ آپ نے اسے شائع نہ کیا، بلکہ شائع شدہ خط وکتابت میں اس کا اشارہ تک نہ کیا، حالانکہ دیانت کا تقاضا تھا کہ آپ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے اور معذرت چاہتے۔
جواب:ڈاکٹر صاحب کی اس شکایت کا جواب خود طلوع اِسلام کے صفحات میں کسی اور کی زبانی نہیں بلکہ جناب پرویز صاحب کی زبان سے سننا زیادہ بہتر ہو گا۔ ۸،۹،۱۰/ اپریل ۱۹۶۰ء کو لاہور میں طلوع اِسلام کنونشن کی چوتھی سالانہ کانفرنس ہوئی تھی۔ اس میں ڈاکٹر عبدالودود صاحب کی تقریر سے پہلے پرویز صاحب نے ان کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا:
ڈاکٹر صاحب کی رفاقت ہمارے لیے باعث فخر ہے…… اور ان کا سب سے بڑا احسان ہم پر یہ ہے کہ یہ میرے درسِ قرآن اور تاریخی کلاس کے ہر لیکچر کا ایک ایک حرف ضبطِ تحریر میں لے آئے ہیں۔ یہ کام بڑی صبر آزما مشقت کا طالب تھا جسے یہ اس حُسنِ مسرت سے سرانجام دے رہے ہیں۔ (طلوع اِسلام، مئی، جون ۱۹۶۰ء، ص ۲۵)
اب اگر ڈاکٹر صاحب یہ فرماتے ہیں کہ بزم طلوع اِسلام کا ابتدائی رکن بھی نہیں ہوں تو یہ ایسی ہی بات ہے جیسے گاندھی جی فرماتے تھے کہ میں کانگرس کا چار آنے والا ممبر بھی نہیں ہوں۔ ہر شخص جو طلوع اِسلام کی تبلیغ سے واقف ہے، اس مراسلت کو پڑھ کر خود ہی دیکھ سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی زبان سے طلوع اِسلام ہی بول رہا ہے یا کوئی اور۔

۲۔ کیا گشتی سوال نامے کا مقصد علمی تحقیق تھا؟

اعتراض: آپ لکھتے ہیں کہ
آپ نے یہ مراسلت واقعی بات سمجھنے کے لیے کی ہوتی تو سیدھی بات سیدھی طرح آپ کی سمجھ میں آ جاتی لیکن آ پ کی تو سکیم ہی کچھ اور تھی۔ آپ نے اپنے ابتدائی سوالات میرے پاس بھیجنے کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے علما کے پاس بھی اس امید پر بھیجے تھے کہ ان سے مختلف جوابات حاصل ہوں گے اور پھر ان کا مجموعہ شائع کرکے یہ پروپیگنڈہ کیا جا سکے گا کہ علما سُنّت سُنّت تو کرتے ہیں مگر دو عالم بھی سُنّت کے بارے میں ایک متفقہ رائے نہیں رکھتے۔ (ترجمان القرآن، دسمبر ۱۹۶۰ء)
کیا میں آپ سے پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کو میری اس ’’سکیم‘‘ کا علم کیسے ہوا؟ کیا آپ کے پاس اس کا کوئی ثبوت ہے کہ میری نیت وہی تھی جسے آپ میری طرف منسوب کر رہے ہیں؟
جواب:آدمی کی نیت کا براہ راست علم تو اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، البتہ انسان جس چیز سے کسی شخص کی نیت کا اندازہ کر سکتے ہیں وہ اس شخص کا عمل، اور ان لوگوں کا مجموعی طرز عمل ہے جن کے ساتھ مل کر وہ کام کر رہا ہو۔ ڈاکٹر صاحب مخالفینِ سُنّت کے جس گروہ سے تعاون کر رہے ہیں وہ ایڑی چوٹی کا زور یہ ثابت کرنے کے لیے لگا رہا ہے کہ سُنّت ایک مشتبہ اور مختلف فیہ چیز ہے۔ اس غرض کے لیے جس طرز کا پروپیگنڈہ ان لوگوں کی طرف سے ہو رہا ہے اس پر طلوع اِسلام کے صفحات اور اس ادارے کی مطبوعات شاہد ہیں۔ ان کاموں کو دیکھ کر یہ رائے بمشکل ہی قائم کی جا سکتی ہے کہ اسی گروہ کے ایک ممتاز فرد جناب ڈاکٹر عبدالودود صاحب کی طرف سے علما کرام کے نام جو گشتی سوالنامہ بھیجا گیا تھا، وہ خالص علمی تحقیق کی خاطر تھا۔

۳۔ رسولﷺ کی حیثیت ِ شخصی و حیثیتِ نبویﷺ

اعتراض:اپنی کتاب تفہیمات میں آپ نے یہ فرمایا تھا کہ قرآن میں کہیں کوئی خفیف سے خفیف اشارہ بھی ایسا نہیں ملتا جس کی بِنا پر حضور(ﷺ)کی رسالت کی حیثیت میں کوئی فرق کیا گیا ہو اور اب آپ فرماتے ہیں کہ جو کچھ حضورﷺ نے رسول کی حیثیت سے کیا تھا وہ سُنّت واجب الاتباع ہے، اور جو کچھ آپ نے شخصی حیثیت سے کیا تھا وہ واجب الاتباع سُنّت نہیں۔ اس طرح آپ دو متضاد باتیں کہتے ہیں۔
جواب: اسی مراسلت کے سلسلے میں ڈاکٹر صاحب اس بحث کو پہلے چھیڑ چکے ہیں اور ان کو اس کا جواب دیا جا چکا ہے (ملاحظہ ہو، کتاب ہذا: حضورﷺ کی شخصیت حیثیت اور پیغمبرانہ حیثیت کافرق)۔ میں نے ان سے عرض کیا تھا کہ اگر وہ اس مسئلے کو سمجھنا چاہتے ہیں تو میرا مضمون رسول کی حیثیت شخصی اور حیثیت نبویﷺ مندرجہ ترجمان القرآن، دسمبر ۱۹۵۹ء ملاحظہ فرما لیں، جس میں پوری وضاحت کے ساتھ اس مسئلے کی حقیقت بیان کی گئی ہے، مگر معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اسے پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں فرمائی۔ چوں کہ یہ مسئلہ بھی ان مسائل میں سے ہے جن کے بارے میں منکرینِ حدیث لوگوں کے ذہن میں طرح طرح کی غلط فہمیاں ڈالتے رہتے ہیں اس لیے یہاں اس مضمون کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے رسول اللّٰہ ﷺ کی اطاعت کا جو حکم دیا ہے وہ آپ کے کسی ذاتی استحقاق کی بِنا پر نہیں ہے، بلکہ اس بِنا پر ہے کہ آپﷺ کو اس نے اپنا رسول بنایا ہے۔ اس لحاظ سے باعتبار نظریہ تو آپ کی شخصی حیثیت اور پیغمبرانہ حیثیت میں یقینا فرق ہے، لیکن عملًا چوں کہ ایک ہی ذات میں شخصی حیثیت اور پیغمبرانہ حیثیت دونوں جمع ہیں، اور ہم کو آپﷺ کی اطاعت کا مطلق حکم دیا گیاہے، اس لیے ہم بطور خود یہ فیصلہ کر لینے کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم حضورﷺ کی فلاں بات مانیں گے کیوں کہ وہ بحیثیت رسولﷺ آپ نے کی یا کہی ہے، اور فلاں بات نہ مانیں گے کیوں کہ وہ آپﷺ کی شخصی حیثیت سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ کام خود حضور ﷺ ہی کا تھا کہ شخصی نوعیت کے معاملات میں آپﷺ نہ صرف لوگوں کو آزادی عطا فرماتے تھے بلکہ آزادی برتنے کی تربیت بھی دیتے تھے اور جو معاملات رسالت سے تعلق رکھتے تھے ان میں آپﷺ بے چون وچرا اطاعت کراتے تھے۔ اس معاملے میں ہم کو جو کچھ بھی آزادی حاصل ہے۔ وہ رسول پاک ﷺ کی دی ہوئی آزادی ہے جس کے اصول اور حدود حضور ﷺ نے خود بتا دئیے ہیں۔ یہ ہماری خود مختارانہ آزادی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں بات واضح کرنے کے لیے مَیں نے عرض کیا تھا:
جو معاملات بظاہر بالکل شخصی معاملات ہیں، مثلاً: ایک انسان کا کھانا، پینا، کپڑے پہننا، نکاح کرنا، بیوی بچوں کے ساتھ رہنا، گھر کا کام کاج کرنا، غسل اور طہارت اور رفعِ حاجت وغیرہ۔ وہ بھی نبی ﷺ کی ذات میں خالص نجی نوعیت کے معاملات نہیں ہیں بلکہ انھی میں شرعی حدود اور طریقوں اور آداب کی تعلیم بھی ساتھ ساتھ شامل ہے… مثلاً: حضور ﷺ کے لباس اور آپ کے کھانے پینے کے معاملے کو لیجیے۔ اس کا ایک پہلو تو یہ تھا کہ آپﷺ ایک خاص وضع قطع کا لباس پہنتے تھے جو عرب میں اس وقت پہنا جاتا تھا اور جس کے انتخاب میں آپﷺ کے شخصی ذوق کا دخل بھی تھا۔ اسی طرح آپﷺ وہی کھانے کھاتے تھے جیسے آپ کے عہد میں اہل عرب کے گھروں میں پکتے تھے اور ان کے انتخاب میں بھی آپﷺ کے اپنے ذوق کا دخل تھا۔ دوسرا پہلو یہ تھا کہ اسی کھانے اور پہننے میں آپﷺ اپنے عمل اور قول سے شریعت کے حدود اور اِسلامی آداب کی تعلیم دیتے تھے۔ اب یہ بات خود حضور ﷺ ہی کے سکھائے ہوئے اصول شریعت سے ہم کو معلوم ہوتی ہے کہ ان میں سے پہلی چیز آپﷺ کی شخصی حیثیت سے تعلق رکھتی تھی اور دوسری چیز حیثیت نبویہ سے۔ اس لیے کہ شریعت نے جس کی تعلیم دینے کے لیے آپﷺ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے مامور کیے گئے تھے، انسانی زندگی کے اس معاملے کو اپنے دائرۂ عمل میں نہیں لیا ہے کہ لوگ اپنے لباس کس تراش خراش اور وضع قطع پر سلوائیں اور اپنے کھانے کس طرح پکائیں، البتہ اس نے یہ چیز اپنے دائرۂ عمل میں لی ہے کہ کھانے اور پہننے کے معاملے میں حرام اور حلال، اور جائز اور ناجائز کے حدود معین کرے اور لوگوں کو ان آداب کی تعلیم دے جو اہل ایمان کے اخلاق وتہذیب سے مناسبت رکھتے ہیں۔
اس مضمون کو ختم کرتے ہوئے آخری بات جو میں نے لکھی تھی، وہ یہ ہے:
حضور ﷺ کی شخصی اور نبوی حیثیتوں میں حقیقت کے اعتبار سے جو بھی فرق ہے وہ عند اللّٰہ اور عندالرسول ہے، اور ہمیں اس سے اس لیے آگاہ کیا گیا ہے کہ ہم کہیں عقیدے کی گم راہی میں مبتلا ہو کر محمد بن عبداللّٰہ کو اللّٰہﷺ کے بجائے مُطاع حقیقی نہ سمجھ بیٹھیں، لیکن امت کے لیے تو عملًا آپ کی ایک ہی حیثیت ہے اور وہ ہے رسول ہونے کی حیثیت۔ حتّٰی کہ محمد بن عبداللّٰہﷺ کے مقابلے میں اگر ہم کو آزادی حاصل بھی ہوتی ہے تو وہ محمد رسول اللّٰہﷺ کے عطا کرنے سے ہوتی ہے اور محمد رسول اللّٰہﷺ ہی اس کے حدود متعیّن کرتے ہیں اور اس آزادی کے استعمال کی تربیت بھی ہم کو محمد رسول اللّٰہﷺ ہی نے دی ہے۔
ان عبارات کو جو شخص بھی ہٹ دھرمی سے پاک ہو کر پڑھے گا وہ خود رائے قائم کر لے گا کہ منکرینِ حدیث جس الجھن میں پڑے ہوئے ہیں، اس کا اصل سرچشمہ میری عبارت میں ہے، یا ان کے اپنے ذہن میں۔

۴۔ تعلیماتِ سنّت میں فرقِ مراتب

اعتراض: جن باتوں کے متعلق آپ تسلیم کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے انھیں بحیثیت رسولﷺ ارشاد فرمایا یا کیا تھا، ان کے اتباع میں بھی پہلے آپ نے فرق کیا ہے۔ چنانچہ آپ نے تفہیمات حصہ اوّل، ص ۲۷۹ پر لکھا ہے:
جو امور براہِ راست دین اور شریعت سے تعلق رکھتے ہیں ان میں تو حضور ﷺ کے ارشادات کی اطاعت اور آپ کے عمل کی پیروی طابق النعل بالنعل کرنی ضروری ہے۔ مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور طہارت وغیرہ مسائل۔ ان میں جو کچھ آپﷺ نے حکم دیا ہے اور جس طرح خود عمل کرکے بتایا ہے اس کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرنی لازم ہے۔ رہے وہ امور جو براہِ راست دین سے تعلق نہیں رکھتے، مثلاً: تمدنی، معاشی اور سیاسی معاملات اور معاشرے کے جزئیات تو ان میں بعض چیزیں ایسی ہیں جن کا حضورﷺ نے حکم دیا ہے یا جن سے بچنے کی حضورﷺ نے تاکید فرمائی ہے۔ بعض ایسی ہیں جن میں حضورﷺ نے حکمت اور نصیحت کی باتیں ارشاد فرمائی ہیں اور بعض ایسی ہیں جن میں حضورﷺ کے طرز عمل سے ہمیں مکارمِ اخلاق اور تقوٰی وپاکیزگی کا سبق ملتا ہے اور ہم آپ کے طریقے کو دیکھ کر یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ عمل کے مختلف طریقوں میں سے کون سا طریقہ روح اِسلامی سے مطابقت رکھتا ہے۔‘‘
لیکن اب آپ کا موقف یہ ہے کہ اس طرح کی تفریق صحیح نہیں ہے۔
جواب: اس عبارت میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ سُنّت سے جو تعلیمات ہم کو ملتی ہیں وہ سب ایک ہی درجے اور مرتبے کی نہیں ہیں، بلکہ ان کے درمیان فرق مراتب ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح خود قرآن مجید کی تعلیمات میں بھی فرق مراتب ہے۔ ہدایت کے ان دونوں سرچشموں سے جو کچھ ہمیں ملا ہے وہ سب ایک ہی درجے میں فرض وواجب نہیں ہے۔ نہ ہر حکم کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ اس کے الفاظ کو جوں کا توں ہر حال میں نافذ کیا جائے۔ مثال کے طور پر خود قرآن میں دیکھیے کہ ایک طرف اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَفرمایا گیا ہے جو یقینا فرض وواجب ہے لیکن اسی طرح کے صیغہ امر میں فرمایا فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ۝۰ۚ النسائ 3:4 اور وَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا۝۰ۭ المائدہ 2:5 یہ دونوں ارشادات صیغہ امر میں ہونے کے باوجود صرف اباحت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اگر بحث کی خاطر یہ گفتگو نہ کر رہے ہوتے تو ان کے لیے بات کو سمجھنا اس قدر مشکل نہ تھا۔تفہیمات کے جس مضمون (رسالت اور اس کے احکام) سے یہ عبارت انھوں نے نقل کی ہے اس کو نکال کر پڑھیے۔ اس میں اس عبارت سے متصل ہی یہ فقرے موجود ہیں:
پس اگر کوئی شخص نیک نیتی کے ساتھ حضورﷺ کا اتباع کرنا چاہے اور اسی غرض سے آپﷺ کی سُنّت کا مطالعہ کرے تو اس کے لیے یہ معلوم کرنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ کن امور میں آپ کا اتباع طابق النعل بالنعل ہونا چاہیے اور کن امور میں آپ کے ارشادات اور اعمال سے اصول اخذ کرکے قوانین وضع کرنے چاہییں اور کن امور میں آپ کی سُنّت سے اخلاق وحکمت اور خیر وصلاح کے عام اصول مستنبط کرنے چاہییں۔
مَیں ناظرین سے گزارش کروں گا کہ اگر وہ میری یہ کتاب فراہم کر سکیں تو اس پورے مضمون کو ملاحظہ فرمائیں، تاکہ منکرین حدیث کے ذہن کی وہ اصل کیفیت ان کے سامنے بے نقاب ہو جائے جس کے زیر اثر انھوں نے ٹھیک اسی مضمون میں اپنی الجھن کا سامان تلاش کیا ہے جو ان کی بیش تر الجھنوں کو رفع کر سکتا تھا، البتہ اس مضمون کو پڑھتے وقت یہ بات ملحوظ رکھیں کہ اس میں جن پرویز صاحب کا ذکر ہے وہ ۱۹۳۵ء کے پرویز صاحب ہیں نہ کہ آج کے۔ اس وقت وہ گم راہی کے بالکل ابتدائی سرے پر تھے اور آج معاملہ فی ضلالٍ بعید سے گزر کر ضلالت کی پیشوائی تک پہنچ چکا ہے۔

۵۔ علمی تحقیق یا جھگڑالو پن؟

اعتراض: ایک طرف آپ تفہیمات میں فرماتے ہیں کہ نماز روزہ وغیرہ ایسے امور ہیں جن کا تعلق براہِ راست دین اور شریعت سے ہے لیکن تمدنی، معاشی اور سیاسی معاملات کا تعلق براہ راست دین سے نہیں ہے اور دوسری طرف آپ کا دعوٰی یہ ہے کہ ’’اقامت دین سے مراد ہی اِسلام کے مطابق تمدنی، معاشی، سیاسی نظام قائم کرنا ہے۔‘‘ حیرت ہے کہ اگر ان امور کا تعلق براہ راست دین سے نہیں تو پھر اقامت دین سے مراد ان امور سے متعلق نظام قائم کرنا کیسے ہو گا۔ اس کے بعد اس حقیقت پر غور کیجیے کہ آئین مملکت میں جن امور سے بحث ہو گی ان کا تعلق ملک کے تمدنی، معاشی، معاشرتی مسائل سے ہو گا۔ اگر ان امور کا تعلق براہ راست دین سے نہیں تو پھر آئین مملکت کے دینی یا غیر دینی ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ نیز اگر ان امور میں سُنّت رسول اللّٰہﷺ کا اتباع اس نوعیت کا نہیں جس نوعیت کا اتباع ان امور میں ضروری ہے جو (بقول آپ کے، براہ راست دین سے متعلق ہیں، مثلاً نماز روزہ وغیرہ) تو پھر ان کے متعلق یہ سوال بھی کیا اہمیت رکھے گا کہ یہ سُنّت کے مطابق ہیں یا نہیں۔
جواب: میری کتاب تفہیمات کی عبارت میں بعض امور کے دین سے براہِ راست متعلق ہونے اور بعض کے براہِ راست متعلق نہ ہونے کا جو ذکر آیا ہے اسے پورے مضمون سے الگ نکال کر ڈاکٹر صاحب یہ غلط معنی پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ میں سیاسی وتمدنی اور معاشی مسائل کو دین سے قطعًا غیر متعلق قرار دے رہا ہوں۔ حالانکہ وہاں جن امور کو میں نے دین سے ’’براہِ راست‘‘ متعلق قرار دیا ہے ان سے میری مراد وہ عبادات ہیں جنھیں شارع نے ’’ارکان اِسلام‘‘ کی حیثیت دی ہے، یعنی نماز، روزہ اور حج وزکوٰۃ۔ دوسری طرف جن امور کو میں نے کہا ہے کہ وہ دین سے ’’براہ راست‘‘ متعلق نہیں ہیں ان سے مقصود ارکان اِسلام کے ماسوا دوسرے امور ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ دین سے بالکل غیر متعلق ہیں۔ اگر وہ واقعی غیر متعلق ہوتے تو ان کے متعلق قرآن وسُنّت میں شرعی احکام پائے ہی کیوں جاتے۔
ڈاکٹر صاحب میری جس عبارت سے یہ نتائج نکال رہے ہیں، اس کے صرف دو فقروں (دین سے ’’براہِ راست تعلق ہے‘‘ اور ’’براہِ راست تعلق نہیں ہے۔‘‘) کو انھوں نے پکڑ لیا ہے اور انھی پر اپنے تخیلات کی ساری عمارت تعمیر کرنی شروع کر دی ہے۔ حالانکہ خود اس عبارت میں ان کے ان نتائج کی تردید موجود ہے۔ اس میں صاف صاف یہ بتایا گیا ہے کہ دوسری قسم کے معاملات میں مختلف مدارج کی تعلیمات ہم کو حضورﷺ سے ملی ہیں۔ ’’ان میں بعض چیزیں ایسی ہیں جن کا حضور ﷺ نے حکم دیا ہے یا جن سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے، بعض ایسی ہیں…‘‘ کیا ان فقروں سے یہ مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ جن کاموں کا حضور ﷺ نے حکم دیا ہے یا جن سے منع فرمایا ہے، ان کے بارے میں حضور ﷺ کے فرمان کی خلاف ورزی کرنا جائز ہے؟ یا حضور ﷺ کی دوسری ہدایات نظر انداز کی جا سکتی ہیں۔
رہے وہ الفاظ جن سے آج ڈاکٹر صاحب ناروا فائدہ اُٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں تو یہ بات قابل ذکر ہے کہ اب سے بہت پہلے میں نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ کوئی فتنہ پرداز انھیں غلط معنی پہنا سکتا ہے۔ چنانچہ تفہیمات حصہ اول کے پانچویں اڈیشن (ستمبر ۱۹۴۹ء) کو ملاحظہ فرمائیے۔ اس میں ان کے بجائے یہ الفاظ لکھے گئے ہیں: ’’جو امور فرائض وواجبات اور تقالیدِ شرعیہ کی نوعیت رکھتے ہیں… رہے وہ امور جو اِسلامی زندگی کی عام ہدایات سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘ یہ اصلاح میں نے اسی لیے کی تھی کہ تمدنی ومعاشی اور سیاسی معاملات کو دین سے غیر متعلق سمجھنے کا خیال، جو میرے سابق الفاظ سے نکالا جا سکتا تھا، رفع ہو جائے۔ مزید برآں ایک مضمون کا پورا مدعا صرف اس کے دو فقروں سے تو اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ اس پورے مضمون کو کوئی شخص پڑھے تو اس پر واضح ہو جائے کہ اس کا مدعا اس مطلب کے بالکل خلاف ہے جو ڈاکٹر صاحب اس کے دو فقروں سے نکال رہے ہیں۔ تحقیق کی خاطر جو شخص بحث کرتا ہے وہ آدمی کی پوری بات سن کر اس کے مجموعی مفہوم پر کلام کیا کرتا ہے۔ کہیںسے ایک دو لفظ پکڑ کر ان کو متھنا محض جھگڑالو پن ہے۔

۶۔ رسولﷺ کی دونوں حیثیتوں میں امتیاز کا اصول اور طریقہ

اعتراض: اگر حضور ﷺ کی پیغمبرانہ حیثیت اور شخصی حیثیت میں فرق کیا جائے تو لازمًا اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان میں فرق کون کرے گا؟ اگر آیندہ اس کے لیے امت کو اہل علم کی طرف رجوع کرنا ہو گا تو اہل علم میں باہمی سخت اختلافات ہیں۔ ان میں سے کس کی تحقیق کو صحیح مانا جائے اور کسے غلط؟ یہ پوزیشن کس قدر کم زور ہے۔ اس کا خود آپ کو بھی اعتراف ہے۔ چنانچہ آپ نے لکھا ہے:
احادیث چند انسانوں سے چند انسانوں تک پہنچتی ہوئی آئی ہیں جن سے حد سے حد اگر کوئی چیز حاصل ہوتی ہے تو وہ گمانِ صحت ہے نہ کہ علم یقین، اور ظاہر ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس خطرے میں ڈالنا ہرگز پسند نہیں کر سکتا کہ جو امور اس کے دین میں اس قدر اہم ہوں کہ ان سے کفر اور ایمان کا فرق واقع ہوتا ہو، انھیں صرف چند انسانوں کی روایت پر منحصر کر دیا جائے۔ ایسے امور کی تو نوعیت ہی اس امر کی متقاضی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ان کو صاف صاف اپنی کتاب میں بیان فرمائے۔ اللّٰہ کا رسول انھیں اپنے پیغمبرانہ مشن کا اصل کام سمجھتے ہوئے ان کی تبلیغ عام کرے اور و ہ بالکل غیر مشتبہ طریقے سے ہر مسلمان تک پہنچا دیے گئے ہوں۔ (رسائل ومسائل حصہ اوّل :ص ۴۰)
جواب: دراصل یہ سوال نافہمی پر مبنی ہے کہ آں حضور ﷺ کی حیثیتِ نبوی اور حیثیتِ شخصی میں فرق کون کرے گا؟ نبی ﷺ نے جو اصولِ شریعت ہم کو دیے ہیں ان کی بِنا پر یہ معلوم کرنا کچھ بھی مشکل نہیں ہے کہ حضور ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں سے کیا چیز حضور ﷺ کی شخصی حیثیت سے تعلق رکھتی ہے اور کیا چیز آپ کی نبوی حیثیت سے متعلق ہے، بشرطیکہ جو شخص اس بارے میں رائے قائم کرنے بیٹھے، اس نے قرآن اور سُنّت اور فقہ اِسلامی کے اصول وفروع کا مطالعہ کرنے میں، اپنی زندگی کا کوئی حصہ صرف کیا ہو۔ یہ کام بہرحال عامیوں کے کرنے کا نہیں ہے۔ رہے اہل علم کے اختلافات، تو معلوم ہونا چاہیے کہ اہل علم جب کبھی کسی چیز کو سُنّت قرار دینے یا نہ قرار دینے میں اختلاف کریں گے، لامحالہ ان میں سے ہر ایک اپنی دلیل دے گا۔ یوں ہی اٹھ کر ایک دعوٰی نہیں کر دے گا۔ اسے یہ بتانا ہو گا کہ اصولِ شریعت میں سے کس قاعدے یا ضابطے کی بِنا پر وہ کسی چیز کو سُنّت قرار دے رہا ہے یا اس کے سُنّت ہونے سے انکار کر رہا ہے۔ اس صورت میں جو وزنی بات ہو گی وہی ٹھیر سکے گی اور جو بات بھی ٹھیرے گی اس کے متعلق سب اہل علم کو معلوم ہو گا کہ وہ کن دلائل کی بِنا پر ٹھیری ہے۔ اس نوعیت کے اختلافات اگر باقی بھی رہ جائیں تو وہ کوئی گھبرانے کے قابل چیزیں نہیں ہیں۔ انھیں خواہ مخواہ ایک ہوا بنانے کی کوشش کیوں کی جاتی ہے۔
رہی میری وہ عبارت جو رسائل ومسائل سے نقل کی گئی ہے، تو اس کا مفہوم اس کے الفاظ ہی سے ظاہر ہے۔ تعجب ہے کہ اسے سمجھنے کی ذرہ برابر کوشش نہیں کی گئی اور خلطِ مبحث کے لیے اسے یہاں نقل کر دیا گیا۔ اس عبارت میں تو بحث اس بات پر کی گئی ہے کہ جن عقائد پر کسی شخص کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا مدار ہے، ان کے ثبوت کے لیے محض اخبارِ آحاد کافی نہیں ہیں۔ ان کے لیے یا تو قرآن سے ثبوت ملنا چاہیے، یا متواتر روایات سے، یا کم از کم ایسی روایات سے جو متواتر المعنی ہوں، یعنی بکثرت مختلف راویوں کے بیانات متفقہ طور پر یہ بتاتے ہیں کہ حضور ﷺ فلاں عقیدے کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ جزئی وفروعی احکام کے ثبوت کے لیے تو اخبارِ آحاد بھی کافی ہو سکتے ہیں جب کہ وہ صحیح سند سے مروی ہوں، لیکن کفر وایمان کا فیصلہ کرنے والے امور کے لیے بہت زیادہ قوی شہادت کی ضرورت ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ قتل کے مقدمے میں ایک شخص کو پھانسی پر چڑھا دینے کے لیے بہت زیادہ مضبوط قرائن وشواہد درکار ہوتے ہیں۔ بخلاف اس کے کہ ایک کم درجے کے معاملے کا فیصلہ کم تر درجے کی شہادتوں پر بھی کیا جا سکتا ہے۔

۷۔ قرآن کی طرح احادیث بھی کیوں نہ لکھوائی گئیں؟

اعتراض: اگر وحی منزَّل من اللّٰہ کی دو قسمیں تھیں۔ ایک وحی متلو یا وحی جلی اور دوسری وحی غیر متلو یا وحی خفی، تو کیا یہ چیز رسول اللّٰہ ﷺ کے فریضۂ رسالت میں داخل نہ تھی کہ حضورﷺ وحی کے اس دوسرے حصے کو بھی خود مرتب فرما کر محفوظ شکل میں امت کو دے کر جاتے جس طرح حضور ﷺ نے وحی کے پہلے حصے (قرآن) کو امت کو دیا تھا۔
جواب: منکرین حدیث یہ سوال عموماً بڑے زور شور سے اُٹھاتے ہیں اور اپنے خیال میں اسے بڑا لاجواب سوال سمجھتے ہیں۔ ان کا تصور یہ ہے کہ قرآن چوں کہ لکھوایا گیا تھا اس لیے وہ محفوظ ہے اور حدیث چوں کہ حضور ﷺ نے خود لکھوا کر مرتب نہیں کر دی اس لیے وہ غیرمحفوظ ہے لیکن میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اگر حضورﷺ نے قرآن مجید کو محض لکھوا کر چھوڑ دیا ہوتا اور ہزاروں آدمیوں نے اسے یاد کر کے بعد کی نسلوں کو زبانی نہ پہنچایا ہوتا تو کیا محض وہ لکھی ہوئی دستاویز بعد کے لوگوں کے لیے اس بات کا قطعی ثبوت ہو سکتی تھی کہ یہ وہی قرآن ہے جو حضورﷺ نے لکھوایا تھا؟ وہ تو خود محتاجِ ثبوت ہوتی، کیوں کہ جب تک کچھ لوگ اس بات کی شہادت دینے والے نہ ہوتے کہ یہ کتاب ہمارے سامنے نبی ﷺ نے لکھوائی تھی، اس وقت تک اس لکھی ہوئی کتاب کا معتبر ہونا مشتبہ رہتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تحریر پر کسی چیز کے معتبر ہونے کا دارومدار نہیں ہے، بلکہ وہ اسی وقت معتبر ہوتی ہے جب کہ زندہ انسان اس کے شاہد ہوں۔ اب اگر فرض کیجیے کہ کسی معاملے کے متعلق تحریر موجود نہیں ہے مگر زندہ انسان اس کے شاہد موجود ہیں، تو کسی قانون دان سے پوچھ لیجیے کیا ان زندہ انسانوں کی شہادت ساقط الاعتبار ہو گی جب تک کہ تائید میں ایک دستاویز نہ پیش کی جائے؟ شاید آپ کو قانون کا علم رکھنے والا ایک شخص بھی ایسا نہ ملے گا جو اس سوال کا جواب اثبات میں دے۔ آج نبی ﷺ کا لکھوایا ہوا قرآن مجید دُنیا میں کہیں موجود نہیں ہے، مگر اس سے قرآن کے مستند ومعتبر ہونے پر ذرّہ برابر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیوں کہ متواتر اور مسلسل زبانی روایت سے اس کا معتبر ہونا ثابت ہے۔ خود یہ بات کہ حضور ﷺ نے قرآن لکھوایا تھا، روایات ہی کی بِنا پر تسلیم کی جا رہی ہے، ورنہ اصل دستاویز اس دعوے کے ثبوت میں پیش نہیں کی جا سکتی، اور وہ کہیں مل بھی جائے تو یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ یہ وہی صحیفے ہیں جو حضور ﷺ نے لکھوائے تھے۔ لہٰذا تحریر پر جتنا زور یہ حضرات دیتے ہیں وہ بالکل غلط ہے۔ نبی ﷺ نے اپنی سنتوں پر قائم کیا ہوا ایک پورا معاشرہ چھوڑا تھا جس کی زندگی کے ہر پہلو پر آپ کی تعلیم وہدایات کا ٹھپا لگا ہوا تھا۔ اس معاشرے میں آپﷺ کی باتیں سنے ہوئے، آپﷺ کے کام دیکھے ہوئے اور آپﷺ کے زیر ہدایات تربیت پائے ہوئے ہزاروں لوگ موجود تھے۔ اس معاشرے نے بعد کی نسلوں تک وہ سارے نقوش منتقل کیے اور ان سے وہ نسلًا بعد نسلٍ ہم کو پہنچے۔ دُنیا کے کسی مُسَلّم اصولِ شہادت کی رو سے بھی یہ شہادت رد نہیں کی جا سکتی۔ پھر یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ یہ نقوش کاغذ پر ثبت نہیں کیے گئے۔ انھیں ثبت کرنے کا سلسلہ حضورﷺ کے زمانے میں شروع ہوچکا تھا۔ پہلی صدی ہجری میں اس کا خاص اہتمام کیا گیا اور دوسری صدی کے محدثین زندہ شہادتوں اور تحریری شہادتوں، دونوں کی مدد سے اس پورے نقشے کو ضبط تحریر میں لے آئے۔

۸۔ دجل وفریب کا ایک نمونہ

اعتراض: وحی کا دوسرا حصہ، جس کی حفاظت کے متعلق آپ اب فرماتے ہیں کہ ’’اس اہتمام کے پیچھے بھی وہی خدائی تدبیر کار فرما ہے، جو قرآن کی حفاظت میں کار فرما رہی ہے اور اس کو جو شخص چیلنج کرتا ہے وہ دراصل قرآن کی صحت کو چیلنج کرنے کا راستہ اِسلام کے دشمنوں کو دکھاتا ہے۔‘‘ اس کی کیفیت کیا ہے؟ اس کے متعلق مجھ سے نہیں، خود اپنے ہی الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے۔ آپ نے رسائل ومسائل ص ۲۷۰ پر لکھا ہے:
قولِ رسول اور وہ روایات جو حدیث کی کتابوں میں ملتی ہیں، لازمًا ایک ہی چیز نہیں۔ اور نہ ان روایات کو استناد کے لحاظ سے آیات قرآنی کا ہم پلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ آیات قرآنی کے منزَّل من اللّٰہ ہونے میں تو کسی شک کی گنجائش ہی نہیں۔ بخلاف اس کے روایات میں اس شک کی گنجائش موجود ہے کہ جس قول یا فعل کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہ واقعی حضور ﷺ کا ہے یا نہیں۔
جواب: ذرا اس دیانت کو ملاحظہ فرمایا جائے کہ اس کے بعد کے فقرے دانستہ چھوڑ دیے گئے ہیں جن اصحاب کے پاس رسائل ومسائل حصہ اول موجود ہو وہ نکال کر دیکھ لیں، اس فقرے کے بعد متصلاً یہ عبارت موجود ہے:
جو سنتیں تواتر کے ساتھ نبی ﷺسے ہم تک منتقل ہوئی ہیں، یا جو روایات محدثین کی مسلمہ شرائط تواتر پر پوری اترتی ہیں، وہ یقینا ناقابل انکار حجت ہیں لیکن غیر متواتر روایات سے علم یقین حاصل نہیں ہوتا بلکہ ظنِ غالب حاصل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے علمائے اصول میں یہ بات متفق علیہ ہے کہ غیر متواتر روایات احکام کی مآخذ تو ہو سکتی ہیں لیکن ایمانیات (یعنی جن سے کفر وایمان کا فرق واقع ہوتا ہے) کی مآخذ نہیں ہو سکتیں۔
یہ اخلاقی جسارت واقعی قابلِ داد ہے کہ مجھے خود میری ہی عبارتوں سے دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے۔

۹۔ حدیث میں کیا چیز مشکوک ہے اور کیا مشکوک نہیں ہے

اعتراض: قرآن کے متعلق تو اللّٰہ تعالیٰ نے شروع میں ہی یہ کہہ دیا کہ ذَالِکَ الْکِتٰبُ لَارَیْبَ فِیْہ ِکہ اس کتاب میں شک وشبہے کی گنجائش نہیں اور وحی کے دوسرے حصے کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں اس شک کی گنجائش موجود ہے کہ جس قول یا فعل کو حضور ﷺ کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہ واقعی حضور ﷺ کا ہے یا نہیں؟ کیا خدا کی حفاظت اسی کا نام ہے؟
جواب: واقعہ یہ ہے کہ منکرین حدیث نے علوم حدیث کا سرسری مطالعہ تک نہیں کیا ہے اس لیے وہ بار بار ان مسائل پر الجھتے ہیں جنھیں ایک اوسط درجے کا مطالعہ رکھنے والا آدمی بھی الجھن کے بغیر صاف صاف سمجھتا ہے۔ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے، انھیں سمجھانا تو میرے بس میں نہیں ہے، کیوں کہ ان میں سمجھنے کی خواہش کا فقدان نظر آتا ہے۔ لیکن عام ناظرین کی تفہیم کے لیے میں عرض کرتا ہوں کہ دو باتوں کو اگر آدمی اچھی طرح جان لے تو اس کے ذہن میں کوئی الجھن پیدا نہیں ہو سکتی:
ایک یہ کہ وحی کی دو بڑی قسمیں ہیں۔
ایک: وہ جو اللّٰہ تعالیٰ کے اپنے الفاظ میں نبی ﷺ کے پاس بھیجی گئی تھی تاکہ آپﷺ انھی الفاظ میں اسے خلق تک پہنچا دیں۔ اس کا نام وحی متلو ہے، اور اس نوعیت کی تمام وحیوں کو اس کتاب پاک میں جمع کر دیا گیا ہے جسے قرآن کے نام سے ساری دُنیا جانتی ہے۔
دوسری قسم کی وحی وہ ہے: جو رسول اللّٰہ ﷺ کی راہ نُمائی کے لیے نازل کی جاتی تھی تاکہ اس کی روشنی میں آپﷺ خلق کی راہ نُمائی فرمائیں۔ اِسلامی نظامِ حیات کی تعمیر فرمائیں، اور اِسلامی تحریک کی قیادت کے فرائض انجام دیں۔ یہ وحی لوگوں کو لفظاً لفظاً پہنچانے کے لیے نہ تھی، بلکہ اس کے اثرات حضور ﷺ کے اقوال وافعال میں بے شمار مختلف صورتوں سے ظاہر ہوتے تھے اور حضور ﷺ کی پوری سیرت پاک اس کے نور کا مظہر تھی۔ یہی چیز ہے جسے سُنّت بھی کہا جاتا ہے اور وحی غیر متلو بھی، یعنی ’’وہ وحی جو تلاوت کے لیے نہیں ہے۔‘‘
دُوسری بات یہ کہ دین کا علم جن ذرائع سے ہمیں ملا ہے ان کی ترتیب اس طرح ہے:
٭ سب سے پہلے قرآن۔
٭ پھر وہ سنتیں جو تواتر عملی کے ساتھ حضورﷺ سے منتقل ہوئی ہیں، یعنی جن پر شروع سے آج تک امت میں مسلسل عمل ہوتا رہا ہے۔
٭ پھر آپﷺ کے وہ احکام اور آپﷺ کی وہ تعلیمات وہدایات جو متواتر یا مشہور روایات کے ذریعہ سے ہم تک پہنچی ہیں۔
٭ پھر وہ اخبارِ آحاد جن کی سند بھی قابل اعتماد ہے، جو قرآن اور متواترات سے بھی مطابقت رکھتی ہیں اور باہم ایک دوسرے کی تائید وتشریح بھی کرتی ہیں۔ پھر وہ اخبار آحاد جو سند کے اعتبار سے بھی صحیح ہیں اور کسی قابل اعتماد چیز سے متصادم بھی نہیں ہیں۔
ان ذرائع سے جو کچھ بھی ہم کو رسول اللّٰہ ﷺ سے پہنچا ہے وہ شک وشبہے سے بالاتر ہے۔ اس کے بعد وہ مرحلہ آتا ہے جہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوئی قول یا فعل جو حضور ﷺ کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہ واقعی حضور ﷺ کا قول وفعل ہے یا نہیں۔ یہ سوال دراصل ان روایات کے بارے میں پیدا ہوتا ہے:
۱۔ جن کی سند تو قوی ہے مگر ان کا مضمون کسی زیادہ معتبر چیز سے متصادم نظر آتا ہے۔
۲۔ جن کی سند قوی ہے مگر وہ باہم متصادم ہیں اور ان کا تصادم رفع کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔
۳۔ جن کی سند قوی ہے مگر وہ منفرد روایتیں ہیں اور معنی کے لحاظ سے ان کے اندر کچھ غرابت محسوس ہوتی ہے۔
۴۔ جن کی سند میں کسی نوعیت کی کم زوری ہے مگر معنی میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی۔
۵۔ جن کی سند میں بھی کلام کی گنجائش ہے اور معنی میں بھی۔
اب اگر کوئی بحث ان دوسری قسم کی روایات میں پیدا ہو تو اسے یہ دعوٰی کرنے کے لیے دلیل نہیں بنایا جا سکتا کہ پہلی قسم کے ذرائع سے جو کچھ ہمیں نبی ﷺ سے پہنچا ہے وہ بھی مشکوک ہے۔ مزید برآں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ دین میں جو چیزیں اہمیت رکھتی ہیں وہ سب ہمیں پہلی قسم کے ذرائع سے ملی ہیں اور دوسرے ذرائع سے آنے والی روایات اکثر وبیش تر محض جزوی وفروعی معاملات سے متعلق ہیں جن میں ایک مسلک یا دوسرا مسلک اختیار کر لینے سے درحقیقت کوئی بڑا فرق واقع نہیں ہوتا۔ ایک شخص اگر تحقیق کرکے ان میں سے کسی روایت کو سُنّت کی حیثیت سے تسلیم کرے، اور دوسرا تحقیق کرکے اسے سُنّت نہ مانے تو دونوں ہی رسول اللّٰہ ﷺ کے پیرو مانے جائیں گے، البتہ ان لوگوں کو حضور ﷺ کا پیرو نہیں مانا جا سکتا جو کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کا قول وفعل اگر ثابت بھی ہو کہ حضورﷺ کا قول وفعل ہے، تب بھی وہ ہمارے لیے آئین وقانون نہیں ہے۔

۱۰۔ ایک اور فریب

اعتراض:احادیث کے ’’طریقِ حفاظت‘‘ کی کم زوری کے تو آپ خود بھی قائل ہیں جب آپ لکھتے ہیں:
بادی النظر میں یہ بات بالکل صحیح معلوم ہوتی ہے کہ ایسی فعلی اور قولی احادیث کو تواتر کا درجہ حاصل ہونا چاہیے جن کے دیکھنے اور سننے والے بکثرت ہوں۔ ان میں اختلاف نہ پایا جانا چاہیے لیکن ہر شخص بادنیٰ تامل یہ سمجھ سکتا ہے کہ جس واقعے کو بکثرت لوگوں نے دیکھا ہو یا جس تقریر کو بکثرت لوگوں نے سنا ہو اس کو نقل کرنے یا اس کے مطابق عمل کرنے میں سب لوگ اس قدر متفق نہیں ہو سکتے کہ ان کے درمیان یک سرِمُوفرق نہ پایا جائے… مثال کے طور پر آج میں ایک تقریر کرتا ہوں اور کئی ہزار آدمی اس کو سنتے ہیں۔ جلسہ ختم ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی (مہینوں اور برسوں بعد نہیں بلکہ چند ہی گھنٹے بعد) لوگوں سے پوچھ لیجیے کہ مقرر نے کیا کہا؟ آپ دیکھیں گے کہ تقریرکا مضمون نقل کرنے میں سب کا بیان یکساں نہ ہو گا۔ کوئی کسی ٹکڑے کو بیان کرے گا، کوئی کسی ٹکڑے کو۔ کوئی کسی جملے کو لفظ بلفظ نقل کرے گا، کوئی اس مفہوم کو جو اس کی سمجھ میں آیا ہے اپنے الفاظ میں بیان کردے گا۔ کوئی زیادہ فہیم آدمی ہو گا اور تقریر کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر اس کا صحیح ملخص بیان کرے گا۔ کسی کی سمجھ زیادہ اچھی نہ ہو گی اور وہ مطلب کو اپنے الفاظ میں اچھی طرح ادا نہ کر سکے گا۔ کسی کا حافظہ اچھا ہو گا اور تقریر کے اکثر حصے لفظ بلفظ نقل کر دے گا۔ کسی کی یاد اچھی نہ ہو گی اور وہ نقل وروایت میں غلطیاں کرے گا۔ (تفہیمات، ج اول، ص ۳۳۰)
جواب: اوّل تو اس اقتباس کے عین وسط میں لکیر لگا کرایک فقرہ چھوڑ دیا گیا ہے اور ہر شخص اس کو پڑھ کر خود دیکھ سکتا ہے کہ کتنی نیک نیتی کے ساتھ اسے چھوڑا گیا ہے۔ وہ فقرہ یہ ہے:
اس واقعے یا اس تقریر کے اہم اجزا میں تو سب کے درمیان ضرور اتفاق ہو گا مگر فروعی امور میں بہت کچھ اختلاف بھی پایا جائے گا اور یہ اختلاف ہرگز اس بات کی دلیل نہ ہو گا کہ وہ واقعہ سرے سے پیش ہی نہ آیا۔
پھر اس اقتباس کے بعد کی پوری بحث چوں کہ ڈاکٹر صاحب کے شبہات کا جواب تھی اور ان سے الجھن رفع ہو سکتی تھی اس لیے ڈاکٹر صاحب نے اسے چھوڑ دیا، کیوں کہ انھیں تو الجھن ہی کی تلاش ہے۔ ایک مضمون میں سے جتنے فقرے الجھنے اور الجھانے کے لیے مل سکتے ہیں انھیںلے لیتے ہیں، اور جہاں سے بات سلجھنے کا خطرہ ہوتا ہے، صاف کترا کر نکل جاتے ہیں اور لطف یہ ہے کہ یہ دھوکا ایک مصنف کی کتاب سے خود مصنف کو دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میں ناظرین سے گزارش کروں گا کہ اگر تفہیمات حصہ اول انھیں بہم پہنچ جائے تو اس میں سے ’’حدیث کے متعلق چند سوالات‘‘ کے زیر عنوان وہ پورا مضمون نکال کر ملاحظہ فرمائیں جس سے یہ عبارت نقل کی گئی ہے۔ تاہم مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس عبارت کے فورًا بعد جو فقرے میں نے لکھے تھے وہ یہاں بھی نقل کر دئیے جائیں، تاکہ جنھیں اصل کتاب نہ مل سکے وہ بھی ڈاکٹر صاحب کے کرتب کی داد دے سکیں۔ وہ فقرے یہ ہیں:
اب اگر کوئی شخص اس اختلاف کو دیکھ کر یہ کہہ دے کہ میں نے سرے سے کوئی تقریر ہی نہیں کی، یا جو تقریر کی وہ از سر تاپا غلط نقل کی گئی تو یہ صحیح نہ ہو گا۔ بخلاف اس کے اگر تقریرکے متعلق تمام اخبارِ آحاد کو جمع کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس امر میں سب کے درمیان اتفاق ہے کہ میں نے تقریر کی، فلاں جگہ کی، فلاں وقت کی۔ بہت سے آدمی موجود تھے اور تقریر کا موضوع یہ تھا۔ پھر تقریر کے جن جن حصوں کے متعلق زیادہ سے زیادہ اتفاق لفظاً یامعنًا پایا جائے گا، وہ زیادہ مستند سمجھے جائیں گے اور ان سب کو ملا کر تقریر کا ایک مستند مجموعہ تیار کر لیا جائے گا اور جن حصوں کے بیان میں ہر راوی منفرد ہو گا وہ نسبتاً کم معتبر ہوں گے مگر ان کو موضوع اور غلط کہہ دینا صحیح نہ ہو گا۔ تاوقتیکہ وہ تقریر کی پوری اسپرٹ کے خلاف نہ ہوں، یا کوئی اور بات ان میں ایسی نہ ہو جس کی وجہ سے ان کی صحت مشتبہ ہو جائے، مثلاً تقریر کے معتبر حصوں سے مختلف ہونا، یا مقرر کے خیالات اور انداز بیان اور افتاد مزاج کے متعلق جو صحیح معلومات لوگوں کے پاس پہلے سے موجود ہیں ان کے خلاف ہونا۔

۱۱۔ کیا امت میں کوئی چیز بھی متفق علیہ نہیں ہے؟

اعتراض:آپ فرماتے ہیں کہ سُنّت کے محفوظ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وضو، پنج وقتہ نماز، اذان، عیدین کی نمازیں، نکاح وطلاق ووراثت کے قاعدے وغیرہ مسلم معاشرے میں ٹھیک اسی طرح رائج ہیں جس طرح قرآن کی آیتیں زبانوں پر چڑھی ہوں۔ کیا آپ فرمائیں گے کہ نماز اور اذان، نکاح اور طلاق اور وراثت وغیرہ میں تمام امت ایک ہی طریقے پر عمل کر رہی ہے؟‘‘
جواب: نماز اور اذان اور نکاح وطلاق اور وراثت وغیرہ امور کے متعلق جتنی چیزوں پر امت میں اتفاق ہے ان کو ایک طرف جمع کر لیجیے، اور دوسری طرف وہ چیزیں نوٹ کر لیجیے جن میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ آپ کو خود معلوم ہو جائے گا کہ اتفاق کس قدر زیادہ ہے اور اختلاف کس قدر کم۔ بنیادی امور قریب قریب سب متفق علیہ ہیں اور اختلاف زیادہ تر جزئیات میں ہے لیکن چوں کہ بحث اتفاقی امور میں نہیں بلکہ ہمیشہ اختلافی امور میں ہوتی ہے، اس لیے بحثوں نے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے جس کی وجہ سے کم علم لوگوں کو یہ غلط فہمی لاحق ہوتی ہے کہ امت میں کوئی چیز بھی متفق علیہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر نماز ہی کو لے لیجیے۔ تمام دُنیا کے مسلمان ان امور پر پوری طرح متفق ہیں کہ پانچ وقت کی نماز فرض ہے۔ اس کے اوقات یہ ہیں ۔ اس کے لیے جسم اور لباس پاک ہونا چاہیے۔ اس کے لیے باوضو ہونا چاہیے۔ اس کو قبلہ رخ پڑھنا چاہیے۔ اس میں قیام اور رکوع اور سجدہ اور قعود اس ترتیب سے ہونا چاہیے۔ ہر وقت کی اتنی اتنی رکعتیں فرض ہیں۔ نماز کی ابتدا تکبیر تحریمہ سے ہونی چاہیے۔ نماز میں بحالتِ قیام فلاں چیزیں، بحالت رکوع فلاں، بحالتِ سجود فلاں اور بحالتِ قعود فلاں چیزیں پڑھنی چاہییں۔ غرض یہ کہ بحیثیت مجموعی نماز کا پورا بنیادی ڈھانچہ متفق علیہ ہے۔ اختلاف صرف اس طرح کے معاملات میں ہے کہ ہاتھ باندھا جائے یا چھوڑا جائے، باندھا جائے تو سینے پر یا ناف پر، امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھی جائے یا نہیں، سورۂ فاتحہ کے بعد آمین زور سے کہی جائے یا آہستہ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان چھوٹے چھوٹے اختلافات کو بنیاد بنا کر یہ دعوٰی کرنا صحیح ہو گا کہ نماز کے معاملے میں امت سرے سے کسی متفق علیہ طریقہ پر ہے ہی نہیں؟ اذان میں اس کے سوا کوئی اختلاف نہیں کہ شیعہ حَیَّ عَلٰی خَیْرِ الْعَمْلِ کہتے ہیں اور سنی نہیں کہتے۔ باقی اذان کے تمام کلمات اور متعلقہ مسائل بالکل متفق علیہ ہیں۔ کیا اس ذرا سے اختلاف کو اس بات کی دلیل بنایا جا سکتا ہے کہ اذان بجائے خود مختلف فیہ ہے؟

۱۲۔ سُنّت نے اختلافات کم کیے ہیں یا بڑھائے ہیں؟

اعتراض:اگر آپ یہ کہیں کہ حدیث پر مبنی اختلافات جزئیات کے معمولی اختلافات ہیں، ان سے دین پر کوئی اثر نہیں پڑتا تو میں پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ جن جزئیات کو (بقول آپ کے) خدا کی وحی نے متعین کیا ہو کیا ان میں ذرا سا اختلاف بھی معصیت کا موجب نہیں ہو جاتا۔ مثلاً اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن میں مندرج وحی کے ذریعے حکم دیا کہ وضو میں اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھویا کرو۔ اگر کوئی شخص یا فرقہ اپنے ہاتھ صرف پنجوں تک دھوئے تو کیا آپ کے نزدیک یہ بھی اسی طرح حکم خداوندی کی تعمیل ہو گی جس طرح اس شخص یا فرقے کا عمل جو کہنیوں تک ہاتھ دھوئے، ارشادِ باری تعالیٰ کی تعمیل کہلائے گا؟
جواب: یہ محض ایک سطحی مغالطہ ہے۔ نص کی کھلی کھلی خلاف ورزی کا نام اختلاف نہیں ہے، بلکہ اختلاف اس چیز کا نام ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان یہ بات مختلف فیہ ہو کہ حکم شرعی کیا ہے ۔ اس کی صحیح مثال خود قرآن ہی سے حاضرہے۔ قرآن کی آیت تیمم میں یہ فرمایا گیا ہے کہفَامْسَحُوْا بِوُجُوْہِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْہُ۝۰ۭ ُ المائدہ6:5 ’’اس مٹی سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پرمسح کر لو۔‘‘
اب دیکھیے۔ ایک شخص ’’ہاتھ‘‘ سے مراد پہنچے تک لیتا ہے اور اسی پر مسح کرتا ہے۔ دوسرا کہنی تک لیتا ہے اور وہاں تک ہاتھ پھیرتا ہے اور تیسرا خیال کرتا ہے کہ لفظ ہاتھ کا اطلاق تو شانے تک پورے ہاتھ پر ہوتا ہے اس لیے وہ مسح میں اسے بھی شامل کر لیتا ہے۔ بتائیے اس اختلاف کی گنجائش قرآن کے الفاظ میں ہے یا نہیں؟ پھر کیا یہ اختلاف معصیت کا موجب ہو جاتا ہے؟
منکرین حدیث کچھ عقل سے کام لیتے تو وہ خود دیکھ سکتے تھے کہ سُنّت نے اختلافات کے دائرے کو بہت محدود کر دیا ہے۔ ورنہ اگر سُنّت نہ ہوتی تو قرآن مجید سے احکام اخذ کرنے میں اتنے اختلافات ہوتے کہ دو مسلمان بھی مل کر کوئی اجتماعی عمل نہ کر سکتے۔ مثلاً قرآن بار بار صلوٰۃ کا حکم دیتا ہے۔ اگر سُنّت اس کی شکل اور طریقہ مقرر نہ کر دیتی تو لوگ ہرگز یہ طے نہ کر سکتے کہ اس حکم کی تعمیل کیسے کریں۔ قرآن زکوٰۃ کا حکم دیتا ہے۔ اگر سُنّت نے اس کی تشریح نہ کر دی ہوتی تو کبھی اس امر میں اتفاق نہ ہو سکتا کہ یہ فریضہ کس طرح بجا لایا جائے۔ ایسا ہی معاملہ قرآن کی اکثر وبیش تر ہدایات واحکام کا ہے کہ خدا کی طرف سے ایک بااختیار معلم (ﷺ) نے ان پر عمل درآمد کی شکل بتا کر اور عملًا دکھا کر اختلافات کا سدّباب کر دیا ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہوتی اور امت صرف قرآن کو لے کر لغت کی مدد سے کوئی نظام زندگی بنانا چاہتی تو بنیادی امور میں بھی اس حد تک اتفاق رائے حاصل نہ ہو سکتا کہ کوئی مشترک تمدن بن جاتا۔ یہ سُنّت ہی کا طفیل ہے کہ تمام امکانی اختلافات سمٹ کر دُنیائے اِسلام میں آج صرف آٹھ فرقے پائے جاتے ہیں اور ان میں بھی بڑے فرقے صرف پانچ ہیں جن کے اندر کروڑوں مسلمان ایک ایک فقہ پر مجتمع ہو گئے ہیں۔({ FR 6821 }) اسی اجتماع کی بدولت ان کا ایک نظام زندگی بن اور چل رہا ہے لیکن منکرین حدیث سُنّت کے خلاف جو کھیل کھیل رہے ہیں اس میں اگر وہ کامیاب ہو جائیں تو اس کا نتیجہ یہ نہیں ہو گا کہ قرآن کی تفسیر وتعبیر پر سب متفق ہو جائیں گے بلکہ یہ ہو گا کہ جن امور میں آج اتفاق ہے وہ سب بھی اختلافی بن کر رہ جائیں گے۔

۱۳۔ منکرینِ سُنّت اور منکرینِ ختم نبوت میں مماثلت کے وجوہ

اعتراض: آپ فرماتے ہیں کہ ’’اگر سُنّت کے متن میں اس قدر اختلافات ہیں تو قرآن کی تعبیر میں بھی تو بے شمار اختلافات ہو سکتے ہیں اور ہوئے ہیں۔ اگر قرآن کی تعبیر میں اختلافات اسے آئین کی بنیاد قرار دینے میں مانع نہیں تو سُنّت کے متن کا اختلاف اس امر میں کیسے مانع ہو سکتا ہے۔‘‘ آپ کی یہ دلیل بعینہٖ اسی طرح ہے جس طرح جب مرزائی حضرات سے کہا جائے کہ مرزا صاحب کے کردار میں فلاں نقص پایا جاتا ہے تو وہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ (معاذ اللّٰہ، معاذ اللّٰہ) رسول اللّٰہﷺ کی فلاں بات بھی ایسی نہیں تھی؟
جواب: یہ تشبیہ بنیادی طور پر غلط ہے اس لیے کہ جھوٹے نبی اور سچے نبی میں درحقیت کوئی مشابہت نہیں ہے۔ سچے نبی اور اس کی لائی ہوئی کتاب کے درمیان جو ربط وتعلق ہوتا ہے وہ نہ جھوٹے نبی اور سچے نبی کے درمیان ہو سکتا ہے اور نہ اس کے اور کتاب اللّٰہ کے درمیان۔
ڈاکٹر صاحب کی یہ تشبیہ دراصل خود اُن پر اور اُن کے گروہ پر صادق آتی ہے جس طرح مرزائی حضرات ایک جعلی نبی کی نبوت ثابت کرنے کے لیے رسول اللّٰہ ﷺ کو درمیان میں لاتے ہیں، اسی طرح منکرین حدیث رسولﷺ کی سُنّت اور کتاب اللّٰہ کا تعلق کاٹ پھینکنے کے لیے کتاب اللّٰہ کو استعمال کرتے ہیں جس طرح مرزائیوں نے تمام امت کے متفقہ عقیدۂ ختم نبوت کے خلاف ایک نئی نبوت کا فتنہ کھڑا کیا، اسی طرح منکرینِ حدیث نے سُنّت کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرکے ایک دوسرا فتنہ کھڑا کر دیا۔ حالانکہ خلفائے راشدین کے عہد سے آج تک تمام دُنیا کے مسلمان ہر زمانے میں اس بات پر متفق رہے ہیں کہ قرآن کے بعد سُنّت دوسرا مآخذِ قانون ہے، حتّٰی کہ غیر مسلم ماہرین قانون بھی بالاتفاق اس کو تسلیم کرتے ہیں، جس طرح مرزائی ختم نبوت کی غلط تاویل کرکے ایک نیا نبی سامنے لے آتے ہیں، اسی طرح منکرین حدیث اتباع سُنّت کی غلط تعبیر کرکے یہ راستہ نکالتے ہیں کہ رسول اللّٰہ ﷺ کی ساری ہدایات وتعلیمات کا دفتر لپیٹ کر رکھ دیا جائے اور کسی ’’مرکزِ ملت‘‘ کو ہر زمانے میں امت کے درمیان وہی حیثیت حاصل ہوتی رہے جو رسول اللّٰہ ﷺ کو حاصل تھی۔ مرزائی اپنے نبی کی نبوت کا راستہ صاف کرنے کے لیے ذاتِ رسول اللّٰہﷺ میں نقص نکالتے ہیں اور منکرین حدیث اپنے مرکزِ ملت کے لیے راستہ بنانے کی خاطر سُنّت رسولﷺ کی عیب چینی کرتے ہیں۔
رہا وہ اعتراض جو میرے استدلال پر ڈاکٹر صاحب نے کیا ہے، تو و ہ درحقیقت بالکل بے بنیاد ہے، میرا استدلال یہ نہیں ہے کہ آپ سُنّت میں جو عیب نکال رہے ہیں وہ قرآن میں بھی موجود ہے، بلکہ اس کے برعکس میرا استدلال یہ ہے کہ تعبیر و تحقیق کے اختلافات کی گنجائش ہونا سرے سے کسی آئین وقانون کے لیے عیب ونقص ہی نہیں ہے۔ لہٰذا اس گنجائش کی بِنا پر نہ قرآن کو اساسِ قانون بنانے سے انکار کیا جا سکتا ہے نہ سُنّت کو۔

۱۴۔ کیا آئین کی بنیاد وہی چیز ہو سکتی ہے جس میں اختلاف ممکن نہ ہو؟

اعتراض: متن اور اس کی تعبیرات دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ قرآن کریم کے متن میں کسی ایک حرف کے متعلق بھی شک و شبہے کی گنجائش نہیں۔ باقی رہیں اس کی تعبیرات، سو وہ انسانی فعل ہے جو کسی دوسرے کے لیے دین کی سند اور حجت نہیں ہو سکتا۔ اس کے برعکس احادیث کی تعبیرات میں نہیں ان کے متن میں ہی اختلاف ہے۔ اس اختلاف کی موجودگی میں سُنّت کو آئین اِسلامی کا مآخذ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟‘‘
جواب: اصل قابلِ غور سوال تو یہی ہے کہ اگر کتاب کے الفاظ متفق علیہ ہوں لیکن تعبیرات میں اختلاف ہو تو وہ آئین کی بنیاد کیسے بنے گی؟ ڈاکٹر صاحب خود فرما رہے ہیں کہ ’’تعبیر ایک انسانی فعل ہے جو کسی دوسرے کے لیے حجت اور سند نہیں ہو سکتا۔‘‘ اس صورت میں تو لامحالہ صرف الفاظ حجت اور سند رہ جاتے ہیں، اور معنی میں اختلاف ہو جانے کے بعد ان کا حجت وسند ہونا لاحاصل ہوتا ہے، کیوں کہ عملًا جو چیز نافذ ہوتی ہے وہ کتاب کے الفاظ نہیں، بلکہ اس کے وہ معنی ہوتے ہیں جنھیں کسی شخص نے الفاظ سے سمجھا ہو۔ اسی لیے میں نے اپنے دوسرے خط میں ان سے عرض کیا تھا کہ پہلے آپ اپنے اس نقطۂ نظر کو بدلیں کہ ’’آئین کی بنیاد صرف وہی چیز بن سکتی ہے جس میں اختلاف نہ ہو سکے۔‘‘ اس کے بعد جس طرح یہ بات طے ہو سکتی ہے کہ قرآن مجید بجائے خود اساسِ آئین ہو اور اس کی مختلف تعبیرات میں سے وہ تعبیر نافذ ہو جو کسی بااختیار ادارے کے نزدیک اقرب الی الصواب قرار پائے۔ اسی طرح یہ بات بھی طے ہو سکتی ہے کہ سُنّت کو بجائے خود اساس آئین مان لیا جائے اور معاملات میں عملًا وہ سُنّت نافذ ہو جو کسی بااختیار ادارے کی تحقیق میں سُنّت ثابتہ قرار پائے۔ قرآن کے الفاظ کو اساس آئین ماننے کا فائدہ یہ ہو گا کہ تعبیر کے اختلافات کا سارا چکر صرف الفاظ قرآن کے حدود میں گھوم سکے گا، ان کے دائرے سے باہر نہ جا سکے گا۔ اسی طرح ’’سُنّت‘‘ کو اساس آئین ماننے کا فائدہ یہ ہو گا کہ ہمیں اپنے عمل کے لیے انھی ہدایات وتعلیمات کی طرف رجوع کرنا پڑے گا جو رسول اللّٰہ ﷺ سے ماثور ہیں اور ہم کوئی آزادانہ قانون سازی اس وقت تک نہ کر سکیں گے جب تک تحقیق سے ہمیں یہ معلوم نہ ہو جائے کہ فلاں مسئلے میں کوئی سُنّت ثابت نہیں ہے۔ یہ سیدھی سی بات سمجھنے میں آخر کیا دقت ہے۔

۱۵۔ قرآن اور سُنّت دونوں کے معاملے میں رفعِ اختلاف کی صورت ایک ہی ہے

اعتراض: قرآن کے متن سے احکام اخذ کرنے میں اختلاف اس وقت پیدا ہوا جب دین ایک اجتماعی نظام کی جگہ انفرادی چیز بن گیا۔ جب تک دین کا اجتماعی نظام قائم رہا، اس وقت تک اس بات میں امت میں کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوا۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ یا حضرت عمرؓ کے زمانے میں امت کے افراد قرآن کے کسی حکم پر مختلف طریقوں سے عمل پیرا تھے؟ پھر اس قسم کا نظام قائم ہو گا تو پھر تعبیرات کے یہ اختلافات باقی نہیں رہیں گے۔ یہ اسی صورت میں ممکن تھا کہ قرآن کے الفاظ محفوظ رہتے، اگر قرآن کے الفاظ محفوظ نہ ہوتے اور مختلف فرقوں کے پاس احادیث کی طرح قرآن کے بھی الگ الگ مجموعے ہوتے تو امت میں وحدت عملی کا امکان ہی باقی نہ رہتا۔ تاوقتیکہ کوئی دوسرا رسول آ کر وحی کے الفاظ کو محفوظ طور پر انسانوں تک پہنچا دیتا۔
جواب: کسی معاملے کو سمجھے بغیر اس پر تقریر جھاڑنے کی یہ دل چسپ مثال ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے زمانے میں بھی لوگ قرآن مجید کی آیات میں غور وخوض کرتے تھے اور ان کے درمیان فہم وتعبیر کا اختلاف ہوتا تھا مگر اس وقت خلیفۂ راشد اور مجلسِ شورٰی کا بااختیار ادارہ ایسا موجود تھا جسے اقتدار بھی حاصل تھا اور امت کو اس کے علم وتقوٰی پر اعتماد بھی تھا۔ اس ادارے میں بحث وتمحیص کے بعد قرآن کے کسی حکم کی جس تعبیر کے حق میں جمہوری طریقے پر فیصلہ ہو جاتا تھا وہی قانون کی حیثیت سے نافذ ہو جاتی تھی۔ اسی طرح رسول اللّٰہ ﷺ کی سنتوں کے بارے میں بھی اس وقت باقاعدہ تحقیق کی جاتی تھی اور جب یہ اطمینان ہو جاتا تھا کہ کسی مسئلے میں حضور ﷺ نے یہ فیصلہ دیا تھا یا اس طرح عمل کیا تھا، تو اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا جاتا تھا۔ آج بھی اگر ایسا کوئی ادارہ موجود ہو تو وہ جس طرح قرآن کی تعبیرات میں سے وہ تعبیر اختیار کرنے کی کوشش کرے گا جو زیادہ سے زیادہ اقرب الی الصواب ہو، اسی طرح وہ احادیث کے مجموعوں میں سے ان سنتوں کو تلاش کر لے گا، جن کا زیادہ سے زیادہ اطمینان بخش ثبوت مل سکے۔

۱۶۔ ایک دل چسپ مغالطہ

اعتراض: آپ فرماتے ہیں کہ برطانیہ کا آئین تحریری شکل میں موجود نہیں۔ پھر بھی ان کا کام کیسے چل رہا ہے۔ کیا آپ کو اس کا بھی کچھ علم ہے کہ برطانیہ کے آئین میں نت نئے دن کتنی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ان کے ہاں کی پارلیمانی اکثریت جو تبدیلی چاہے، کر سکتی ہے۔ کیا دین کی بھی آپ کے نزدیک یہی حیثیت ہے؟ اگر دین کے آئین کے تحریری نہ ہونے سے کچھ فرق نہیں پڑتا تھا تو قرآن کریم کو کیوں تحریر میں لایا گیا اور اس تحریر کی حفاظت کا ذمہ خدا نے کیوں لیا؟
جواب: یہ ایک اور دل چسپ مغالطہ ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا تھا نہ کہ اس تحریر کی حفاظت کا جو نبی ﷺ نے اپنے زمانے میں کاتبانِ وحی سے لکھوائی تھی۔ قرآن تو یقینا خدا کے وعدے کے مطابق محفوظ ہے مگر کیا وہ اصل تحریر بھی محفوظ ہے جو حضورﷺ نے لکھوائی تھی؟ اگر وہ منکرین حدیث کے علم میں کہیں ہے تو ضرور اس کی نشاندہی فرمائیں۔ لطیفہ یہ ہے کہ تمام منکرین حدیث بار بار قرآن کے لکھے جانے اورحدیث کے نہ لکھے جانے پر اپنے دلائل کا دارومدار رکھتے ہیں، لیکن یہ بات کہ حضورﷺ اپنے زمانے میں کاتبان وحی سے ہر نازل شدہ وحی کو لکھوا لیتے تھے، اور اس تحریر سے نقل کرکے حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں قرآن کو ایک مصحف کی شکل میں لکھا گیا اور بعد میں اسی کی نقلیں حضرت عثمانؓنے شائع کیں۔ یہ سب کچھ محض حدیث کی روایات ہی سے دُنیا کو معلوم ہوا ہے۔ قرآن میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے، نہ حدیث کی روایات کے سوا اس کی کوئی دوسری شہادت دُنیا میں کہیں موجود ہے۔ اب اگر حدیث کی روایات سرے سے قابل اعتماد ہی نہیں ہیں تو پھر کس دلیل سے آپ دُنیا کو یہ یقین دلائیں گے کہ فی الواقع قرآن حضورﷺ ہی کے زمانے میں لکھا گیا تھا؟

۱۷۔ شخصی قانون اور ملکی قانون میں تفریق کیوں؟

اعتراض: آپ فرماتے ہیں کہ سُننِ ثابتہ کے اختلاف کو برقرار رکھتے ہوئے (پاکستان میں صحیح اِسلامی آئین کے مطابق) قانون سازی کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ:
شخصی قانون (پرسنل لا) کی حد تک ہر ایک گروہ کے لیے احکام قرآن کی وہی تعبیر اور سنن ثابتہ کا وہی مجموعہ معتبر ہو، جسے وہ مانتا ہے اور ملکی قانون (پبلک لا) کی تعبیر قرآن اور ان سنن ثابتہ کے مطابق ہو، جس پر اکثریت اتفاق کرے۔
کیا میں یہ پوچھنے کی جرأت کر سکتا ہوں کہ شخصی قانون اور ملکی قانون کا یہ فرق رسول اللّٰہﷺ یا حضورﷺ کے خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی تھا؟ اور کیا قرآن کریم سے اس تفریق کی کوئی سند مل سکتی ہے؟
جواب: یہ سوالات صرف اس بِنا پر پیدا ہوئے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نہ تو شخصی قانون اور ملکی قانون کے معنی اور حدود کو سمجھے ہیں اور نہ اس عملی مسئلے پر انھوں نے کچھ غور کیا ہے جو پاکستان میں ہمیں درپیش ہے۔ شخصی قانون سے مراد وہ قوانین ہیں جو لوگوں کی خانگی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں، جیسے نکاح وطلاق اور وراثت اور ملکی قانون سے مراد وہ قوانین ہیں جو ملک کے عام نظم وضبط کے لیے درکار ہیں، مثلاً فوجداری اور دیوانی قانون۔ پہلی قسم کے بارے میں یہ ممکن ہے کہ ایک مملکت میں اگر مختلف گروہ موجود ہوں تو ان میں سے ہر ایک کے حق میں اس قانون کو نافذ کیا جائے جس کا وہ خود قائل ہو تاکہ اسے اپنی خانگی زندگی کے محفوظ ہونے کا اطمینان حاصل ہو جائے لیکن دوسری قسم کے قوانین میں الگ الگ گروہوں کا لحاظ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ لامحالہ سب کے سب یکساں ہی ہونے چاہییں۔ قرآن مجید کے عہد میں مسلمان تو ایک ہی گروہ تھے لیکن مملکت اِسلامیہ میں یہودی، عیسائی اور مجوسی بھی شامل تھے جن کے شخصی قوانین مسلمانوں سے مختلف تھے۔ قرآن نے ان کے لیے جزیہ دے کر مملکت اِسلامیہ میں رہنے کی جو گنجائش نکالی تھی اس کے معنی یہی تھے کہ ان کے مذہب اور ان کے شخصی قانون میں مداخلت نہ کی جائے گی، البتہ اِسلام کا ملکی قانون ان پر بھی اسی طرح نافذ ہو گا جس طرح مسلمانوں پر ہو گا۔ چنانچہ اسی قاعدے پر نبی ﷺ اور خلفائے راشدین کی حکومت نے عمل کیا۔
اب پاکستان میں ہم جس زمانے میں سانس لے رہے ہیں وہ نزول قرآن کا زمانہ نہیں ہے، بلکہ اس سے ۱۴ سو سال بعد کا زمانہ ہے۔ ان پچھلی صدیوں میں مسلمانوں کے اندر متعدد فرقے بن چکے ہیں اور ان کو بنے اور جمے ہوئے صدیاں گزر چکی ہیں۔ ان کے درمیان قرآن کی تعبیر میں بھی اختلافات ہیں اور سُنّتوں کی تحقیق میں بھی۔ اگر ہم ان مختلف فرقوں کو یہ اطمینان دلادیں کہ ان کے مذہبی اور خانگی معاملات انھی کی مُسلَّمہ فقہ پر قائم رہیں گے اور صرف ملکی معاملات میں ان کو اکثریت کا فیصلہ ماننا ہو گا تو وہ بے کھٹکے ایک مشترک ملکی نظام اِسلامی اصولوں پربنانے کے لیے تیار ہو جائیں گے لیکن اگر کوئی ’’مرکزِ ملت‘‘ صاحب قرآن کا نام لے کر ان کے مذہبی عقائد وعبادات اور ان کے خانگی معاملات میں زبردستی مداخلت کرنے پر اتر آئیں اور ان سارے فرقوں کو توڑ ڈالنا چاہیں، تو یہ ایک سخت خونریزی کے بغیر ممکن نہ ہو گا۔ بلاشبہ یہ ایک مثالی حالت ہو گی کہ مسلمان پھر ایک ہی جماعت کی حیثیت اختیار کر لیں جس میں امت مسلمہ کے لیے تمام قوانین کھلے اور آزادانہ بحث ومباحثے سے طے ہو سکیں لیکن یہ مثالی حالت نہ پہلے ڈنڈے کے زور سے پیدا ہوئی تھی، نہ آج اسے ڈنڈے کے زور سے پیدا کیا جا سکتا ہے۔

۱۸۔ حیثیت ِرسول ﷺ کے بارے میں فیصلہ کن بات سے گریز

اعتراض: آپ نے ترجمان القرآن کے متعدد اوراق اس بحث میں ضائع کر دیے کہ حضور ﷺ کو اِسلامی ریاست کا صدر یا مسلمانوں کا لیڈر یا قاضی اور جج کس نے بنایا تھا۔ خدا نے یا مسلمانوں نے انتخاب کے ذریعے؟ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس بحث سے بالآخر آپ کا مقصد کیا تھا؟ رسول اللّٰہ ﷺ نے قرآن کریم کی ہدایات کے مطابق ایک اِسلامی مملکت قائم کی۔ ایک بچہ بھی اس بات کو سمجھ لے گا کہ اس مملکت کا اولین سربراہ اور مسلمانوں کا راہ نُما اور تمام معاملات کے فیصلے کرنے کی آخری اتھارٹی جس کے فیصلوں کی کہیں اپیل نہ ہو سکے۔ رسول اللّٰہ ﷺ کے سوا اور کون ہو سکتا تھا؟
جواب: جس سوال کو ایک فضول اورلایعنی سوال قرار دے کر اس کا سامنا کرنے سے اس طرح گریز کیا جا رہا ہے وہ دراصل اس بحث کا ایک فیصلہ کن سوال ہے۔ اگر نبی ﷺ اللّٰہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرماں روا، قاضی اور راہ نُما تھے تو یہ ماننے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ حضورﷺ کے فیصلے اور آپﷺ کی تعلیمات و ہدایات اور آپﷺ کے احکام من جانب اللّٰہ تھے اور اس بِنا پر لازمًا وہ اِسلام میں سند وحجت ہیں۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص حضورﷺ کی ان چیزوں کو سند وحجت نہیں مانتا تو اسے دو باتوں میں سے ایک بات لامحالہ کہنی پڑے گی۔ یا تو وہ یہ کہے کہ حضور ﷺ خود فرماں روا اور قاضی اور راہ نُما بن بیٹھے تھے یا پھر یہ کہے کہ مسلمانوں نے آپﷺ کو ان مناصب کے لیے اپنی مرضی سے منتخب کیا تھا اور وہ حضور ﷺ کی موجودگی میں آپ کے بجائے کسی اور کو بھی منتخب کر لینے کے مجاز تھے اور ان کو یہ بھی حق تھا کہ آپ کو معزول کر دیتے۔ منکرینِ حدیث پہلی بات ماننا نہیں چاہتے، کیوں کہ اس کو مان لیں تو ان کے مسلک کی جڑ کٹ جاتی ہے لیکن دوسری دونوں باتوں میں سے کسی بات کو بھی صاف صاف کہہ دینے کی ان میں ہمت نہیں ہے کیوں کہ اس کے بعد اس دامِ فریب کا تار تار الگ ہو جائے گا جس میں وہ مسلمانوں کو پھانسنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے یہ حضرات اس سوال سے بچ کر بھاگ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ناظرین! براہ کرم اس کتاب میں ’’مرکزِ ملت‘‘ کی بحث ملاحظہ فرما لیں اور پھر دیکھیں کہ میرے اُٹھائے ہوئے سوالات سے بچ کر کس طرح راہِ گریز اختیار کی جا رہی ہے۔

۱۹۔ کیا کسی غیر نبی کو نبی کی تمام حیثیات حاصل ہو سکتی ہیں

اعتراض: نزول قرآن کے وقت دُنیا میں مذہب اور سیاست دو الگ الگ شعبے بن گئے تھے۔ مذہبی امور میں مذہبی پیشوائوں کی اطاعت ہوتی تھی اور سیاسی یا دُنیاوی امور میں حکومت کی۔ قرآن نے اس ثنویت کو مٹایا اور مسلمانوں سے کہا کہ رسول اللّٰہﷺ تمھارے مذہبی راہ نُما ہی نہیں، سیاسی اور تمدنی امور میں تمھارے سربراہ بھی ہیں، اس لیے ان تمام امور میں آپﷺ ہی کی اطاعت کی جائے گی۔ رسول اللّٰہ ﷺ کے بعد یہ تمام مناصب (یعنی خدا سے وحی پانے کے علاوہ دیگر مناصب) حضور ﷺ کے سچے جانشین (خلیفۃ الرسول) کی طرف منتقل ہو گئے اور اب خدا اور رسول ﷺ کی اطاعت کے معنی اس نظام کی اطاعت ہو گئے جسے عام طور پر خلافت علیٰ منہاج نبوت کی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی کو میں نے ’’مرکزِ ملت‘‘ کی اصطلاح سے تعبیر کیا تھا جس کا آپ مذاق اڑا رہے ہیں۔
جواب: اس دعوے کی دلیل کیا ہے کہ حامل وحی ہونے کے سوا باقی جتنی حیثیات بھی نبیﷺ کو اِسلامی نظام میں حاصل تھیں وہ سب آپﷺ کے بعد خلیفہ یا ’’مرکزِ ملت‘‘ کو منتقل ہوگئیں؟ کیا قرآن میں یہ بات کہی گئی ہے؟ یا رسول اللّٰہﷺ نے اس کی تصریح کی ہے؟ یا خلفائے راشدین نے کبھی یہ دعوٰی کیا ہے کہ ہم کو یہ حیثیت حاصل ہے؟ کیا عہد رسالت ﷺ سے لے کر آج تک علمائے امت میں سے کسی قابل ذکر آدمی کا مسلک یہ رہا ہے؟ قرآن مجید جو کچھ کہتا ہے وہ اس کتاب میں (منصبِ نبوت اور اُس کے فرائض، کے عنوان سے) پیش کر چکا ہوں۔ نبی ﷺ کے کسی ارشاد کو یہ لوگ مانتے نہیں، ورنہ میں بکثرت مستند ومعتبر احادیث پیش کرتا جن سے اس دعوے کی قطعی تردید ہو جاتی ہے۔ خلفائے راشدین کے متعلق منکرین حدیث کا دعوٰی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس حیثیت پر فائز سمجھتے تھے، مگر میں نے اسی کتاب (میں ’’اتباعِ سنت اور خلفائے راشدین‘‘ کے عنوان سے) حضرات ابوبکر وعمر اور عثمان وعلی رضی اللّٰہ عنہم کے اپنے اقوال پیش کر دیے ہیں جن سے یہ جھوٹا الزام ان پر ثابت نہیں ہوتا۔ اب یہ اصحاب کم از کم یہی بتا دیں کہ پچھلی چودہ صدیوں میں کب کس عالم دین نے یہ بات کہی ہے۔

۲۰۔ اِسلامی نظام کے امیر اور منکرینِ حدیث کے مرکزِ ملت میں عظیم فرق

اعتراض: یہ جو میں نے کہا ہے کہ ’’خدا اور رسول‘‘ سے مراد اِسلامی نظام ہے تو یہ میری اختراع نہیں۔ اس کے مجرم آپ بھی ہیں۔ آپ نے اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں سورۂ مائدہ کی آیت اِنَّمَا جَزٰۗؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللہَ المائدہ 33:5 کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے:
خدا اور رسولﷺ سے لڑنے کا مطلب اس نظامِ صالح کے خلاف جنگ کرنا ہے جو اِسلام کی حکومت نے ملک میں قائم کر رکھا ہو… ایسا نظام جب کسی سرزمین میں قائم ہو جاتا ہے تو اس کو خراب کرنے کی سعی کرنا… دراصل خدا اور اس کے رسولﷺ کے خلاف جنگ ہے۔ (ج ا، ص ۳۶۵)
جواب: یہاں پھر میرے سامنے میری ہی عبارت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی جسارت کی گئی ہے، اصل عبارت یہ ہے:
ایسا نظام جب کسی سرزمین میں قائم ہو جائے تو اس کو خراب کرنے کی سعی کرنا، قطع نظر اس سے کہ وہ چھوٹے پیمانے پر قتل وغارت اور رہزنی وڈکیتی کی حد تک ہو یا بڑے پیمانے پر اس نظامِ صالح کو الٹنے اور اس کی جگہ کوئی فاسد نظام قائم کر دینے کے لیے ہو، دراصل خدا اور رسولﷺ کے خلاف جنگ ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے تعزیرات ہند میں ہر اس شخص کو جو ہندستان کی برطانوی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے، بادشاہ کے خلاف لڑائی (waging war against the king) کا مجرم قرار دیا گیا۔ چاہے اس کی کارروائی ملک کے کسی دور دراز گوشے میں ایک معمولی سپاہی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اور بادشاہ اس کی دسترس سے کتنا ہی دور ہو۔
اب ایک معمولی سمجھ بوجھ کا آدمی بھی خود دیکھ سکتا ہے کہ بادشاہ کی نمایندگی کرنے والے سپاہی کے خلاف جنگ کو بادشاہ کے خلاف جنگ قرار دینے، اور سپاہی کو خود بادشاہ قرار دے دینے میں کتنا بڑا فرق ہے۔ ایسا ہی عظیم فرق ان دو باتوں میں ہے کہ ایک شخص اللّٰہ اور رسولﷺ کے نظام مطلوب کو چلانے والی حکومت کے خلاف کارروائی کو اللّٰہ اور رسول کے خلاف کارروائی قرار دے اور دوسرا شخص دعوٰی کرے کہ یہ حکومت خود اللّٰہ اور رسولﷺ ہے۔
اس فرق کی نزاکت پوری طرح سمجھ میں نہیں آ سکتی جب تک آپ ان دونوں کے نتائج پر تھوڑا سا غور نہ کر لیں۔ فرض کیجیے کہ اِسلامی حکومت کسی وقت ایک غلط حکم دے بیٹھتی ہے جو قرآن اور سُنّت کے خلاف پڑتا ہے۔ اس صورت حال میں میری تعبیر کے مطابق تو عام مسلمانوں کو اٹھ کر یہ کہنے کا حق پہنچتا ہے کہ ’’آپ اپنا حکم واپس لیجیے کیوں کہ آپ نے اللّٰہ اور رسولﷺ کے فرمان کی خلاف ورزی کی ہے۔ اللّٰہ نے قرآن میں یہ فرمایا ہے، رسول اللّٰہ ﷺ کی سُنّت سے یہ ثابت ہے، اور آپ اس سے ہٹ کر یہ حکم دے رہے ہیں، لہٰذا آپ اس معاملے میں اللّٰہ اور رسولﷺ کی صحیح نمایندگی نہیں کرتے‘‘ مگر منکرین حدیث کی تعبیر کے مطابق اِسلامی حکومت خود ہی اللّٰہ اور رسولﷺ ہے۔ لہٰذا مسلمان اس کے کسی حکم کے خلاف بھی یہ استدلال لانے کا حق نہیں رکھتے۔ جس وقت وہ یہ استدلال کریں گے اسی وقت حکومت یہ کہہ کر ان کا منہ بند کر دے گی کہ اللّٰہ اور رسولﷺ تو ہم خود ہیں، جو کچھ ہم کہیں اور کریں، وہی قرآن بھی ہے اور سُنّت بھی۔
منکرینِ حدیث دعوٰی کرتے ہیں کہ قرآن میں جہاں جہاں ’’اللّٰہ اور رسول‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ وہاں اس سے مراد اِسلامی حکومت ہے۔ میں ناظرین سے عرض کروں گا کہ ذرا قرآن کھول کر وہ آیتیں نکال لیجیے جن میں اللّٰہ اور رسولﷺ کے الفاظ ساتھ ساتھ آئے ہیں اور خود دیکھ لیجیے کہ یہاں ان سے حکومت مراد لینے کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔ مثال کے طور پر حسب ذیل آیات ملاحظہ ہوں:
۱۔ قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَo
آل عمران 32:3
اے نبیﷺ! ان سے کہو کہ اطاعت کرو اللّٰہ اور رسولﷺ کی۔ پھر اگر وہ اس سے منہ موڑیں تو اللّٰہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔
۲۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ النسائ 136:4
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! (سچے دل سے) ایمان لائو اللّٰہ اور رسولﷺ پر
۳۔ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا الحجرات 15:49
مومن تو اصل میں وہ ہیں جو ایمان لائے اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺپر، پھر شک میں نہ پڑے۔
۴۔ وَمَنْ لَّمْ يُؤْمِنْۢ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ فَاِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ سَعِيْرًاo الفتح 13:48
اور جو ایمان نہ لائے اللّٰہ اور اس کے رسولؐ پر، تو ایسے کافروںکے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے۔
۵۔ اِنَّ اللہَ لَعَنَ الْكٰفِرِيْنَ وَاَعَدَّ لَہُمْ سَعِيْرًاo خٰلِدِيْنَ فِيْہَآ اَبَدًا۝۰ۚ لَا يَجِدُوْنَ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًاo يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْہُہُمْ فِي النَّارِ يَقُوْلُوْنَ يٰلَيْتَنَآ اَطَعْنَا اللہَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَاo الاحزاب 64-66:33
یقینا اللّٰہ نے لعنت کی کافروں پر اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر دی جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اس روز کوئی حامی ومددگار نہ پائیں گے جب ان کے چہرے آگ پر پلٹائے جائیں گے، اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش! ہم نے اللّٰہ کی اطاعت کی ہوتی اور رسولﷺ کی اطاعت کی ہوتی۔
۶۔ وَمَا مَنَعَہُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْہُمْ نَفَقٰتُہُمْ اِلَّآ اَنَّہُمْ كَفَرُوْا بِاللہِ وَبِرَسُوْلِہٖ
التوبہ 54:9
ان کے انفاق کو قبول ہونے سے کسی چیز نے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ انھوں نے کفر کیا، اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ سے۔
۷۔ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّۃً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللہُ لَہُمْ۝۰ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ كَفَرُوْا بِاللہِ
التوبہ 80:9
اے نبیﷺ! اگر تم ان کے لیے ستر بار مغفرت کی دعا کرو تو اللّٰہ انھیں نہ بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ انھوں نے اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ سے کفر کیا ہے۔
۸۔ وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰي قَبْرِہٖ۝۰ۭ اِنَّہُمْ كَفَرُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَاتُوْا وَہُمْ فٰسِقُوْنَo التوبہ 84:9
اور ان میں سے کوئی مر جائے، اس کی نماز جنازہ ہرگز نہ پڑھو اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہو۔ انھوں نے اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ سے کفر کیا ہے اور وہ فاسق مرے ہیں۔
۹۔ يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَكُمْo
محمد 47: 33
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللّٰہ اور رسولﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل نہ کر لو۔
۱۰۔ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْہَآ اَبَدًاo الجن 23:72
اور جو کوئی اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کرے اس کے لیے جہنم کی آگ ہے۔ ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
۱۱۔اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّہٗ مَنْ يُّحَادِدِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاَنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدًا فِيْہَا۝۰ۭ
التوبہ 63:9
کیا انھیں معلوم نہیں ہے کہ جو کوئی اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی مخالفت کرے اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔
۱۲۔ وَاللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَحَقُّ اَنْ يُّرْضُوْہُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَo التوبہ 62:9
اللّٰہ اور اس کا رسولﷺ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ وہ اس کو راضی کریں اگر وہ مومن ہیں۔
ان آیات کو جو شخص بھی بغور پڑھے گا اُسے معلوم ہو جائے گا کہ اگر اللّٰہ اور رسولﷺ کے معنی کہیں حکومت کے ہو جائیں تو دین اِسلام کا حلیہ بگڑ کر رہ جاتا ہے اور ایک ایسی بدترین ڈکٹیٹرشپ قائم ہو جاتی ہے جس کے سامنے فرعون اور چنگیز اور ہٹلر اور مسولینی اور اسٹالین کی آمریتیں ہیچ ہو کر رہ جائیں۔ اس کے معنی تو یہ ہیں کہ حکومت ہی مسلمانوں کا دین وایمان ہو۔ اس کو ماننے والا مسلمان رہے اور اس سے روگردانی کرنے والا کافر ہو جائے۔ اس کی نافرمانی کرنے والا دُنیا ہی میں جیل نہ جائے بلکہ آخرت میں بھی دائمی جہنم کی سزا بھگتے۔ اس سے اختلاف کرکے آدمی ابدی عذاب میں مبتلا ہو۔ اس کو راضی کرنا شرط ایمان قرار پائے اور جو شخص اس کی اطاعت سے منہ موڑے، اس کی نماز، روز، زکوٰۃ، اور ساری نیکیاں برباد ہو جائیں، بلکہ مسلمانوں کے لیے اس کی نماز جنازہ بھی جائز نہ ہو اور اس کے لیے دعائے مغفرت تک نہ کی جا سکے۔ ایسی حکومت سے آخر دُنیا کی کسی آمریت کو کیا نسبت ہو سکتی ہے۔
پھر ذرا اس پہلو پر غور کیجیے کہ بنی امیہ کے بعد سے آج تک ساری دُنیائے اِسلام کبھی ایک دن کے لیے بھی ایک حکومت میں جمع نہیں ہوئی ہے اور آج بھی مسلم ممالک میں بہت سی حکومتیں قائم ہیں۔ اب کیا انڈونیشیا، ملایا، پاکستان، ایران، ترکی، عرب، مصر، لیبیا، تونس اور مراکش میں سے ہر ایک کے ’’اللّٰہ اور رسولﷺ‘‘ الگ الگ ہوں گے؟ یا کسی ایک ملک کے ’’اللّٰہ اور رسولﷺ‘‘ زبردستی اپنی آمریت دوسرے ملکوں پر مسلط کریں گے؟ یا اِسلام اس وقت تک پورا کا پورا معطل رہے گا جب تک پوری دُنیائے اِسلام متفق ہو کر ایک ’’اللّٰہ اور رسولﷺ‘‘ کا انتخاب نہ کر لے؟

۲۱۔ عہد رسالت میں مشاورت کے حدود کیا تھے؟

اعتراض: اگر بحیثیت صدر ریاست رسول اللّٰہ ﷺ کا ہر حکم وحی پر مبنی ہوتا تھا تو پھر آپ کو مشورے کا حکم کیوں دیا گیا تھا؟ آپ نے زیر نظر خط وکتابت میں اس سلسلے میں یہ لکھا ہے کہ حضورﷺ نے اپنی ۲۳ سالہ نبوت کی زندگی میں جو کچھ کہا، یا کیا وہ سب وحی کی بِنا پر تھا اور اب آپ ’’تدابیر‘‘ کو اس سے خارج کر رہے ہیں۔
جواب: جن معاملات میں بھی اللّٰہ تعالیٰ وحی متلو یا غیرمتلو کے ذریعے سے حضورﷺکی راہ نُمائی نہ کرتا تھا ان میں اللّٰہ تعالیٰ ہی کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق حضور یہ سمجھتے تھے کہ اسے انسانی رائے پر چھوڑ دیا گیا ہے، اور ایسے معاملات میں آپ اپنے اصحاب سے مشورہ کرکے فیصلے فرماتے تھے۔ اس سے مقصود یہ تھا کہ حضورﷺ کے ذریعے سے لوگوں کو اِسلامی طریق مشاورت کی تربیت دے دی جائے۔ مسلمانوں کو اس طرح کی تربیت دینا خود فرائض رسالت ہی کا ایک حصہ تھا۔

۲۲۔ اذان کا طریقہ مشورے سے طے ہوا تھا یا الہام سے؟

اعتراض: آپ نے لکھا ہے کہ ’’کیا آپ کوئی ایسی مثال پیش کر سکتے ہیں کہ عہد رسالت میں قرآن کے کسی حصے کی تعبیر مشورے سے کی گئی ہو، یا کوئی قانون مشورے سے بنایا گیا ہو؟ بہت سی نہیں صرف ایک مثال ہی آپ پیش فرما دیں۔‘‘ اس کی ایک مثال تو ہمیں مشکوٰۃ شریف میں ملتی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن میں نماز کے لیے آواز دینے کا حکم دیا۔ لیکن خود اس دعوت کے طریق کو متعین نہیں کیا۔ اس کا تعین حضورﷺ نے صحابہؓ کے مشورے سے کیا اور اپنی رائے کے خلاف کیا کیوں کہ آپﷺ نے پہلے ناقوس بجانے کا حکم دیا تھا۔ فرمائیے! اذان دین کے احکام میں داخل ہے یا نہیں؟‘‘
جواب: کیا قرآن کی کسی آیت کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جس میں نماز کے لیے آواز دینے کا حکم دیا گیا ہو؟ قرآن مجید میں تو نماز کی منادی کا ذکر صرف دو آیتوں میں آیا ہے۔ سورۂ مائدہ آیت ۵۸ میں فرمایا گیا ہے کہ ’’جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو یہ اہل کتاب اور کفار اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔‘‘ اور سورۂ جمعہ آیت ۹ میں ارشاد ہوا ہے۔ ’’جب جمعہ کے روز نماز کے لیے پکارا جائے تو اللّٰہ کے ذکر کی طرف دوڑو۔‘‘ ان دونوں آیتوں میں نماز کی منادی کا ذکر ایک رائج شدہ نظام کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔ ہم کو قرآن میں وہ آیت کہیں نہیں ملتی جس میں حکم دیا گیا ہو کہ نمازکی منادی کرو۔
جہاں تک مشکوٰۃ کے حوالے کا تعلق ہے، معلوم ہوتا ہے وہ مشکوٰۃ پڑھ کر نہیں دیا گیا بلکہ صرف سنی سنائی بات یہاں نقل کر دی گئی ہے۔ مشکوٰۃ کی کتاب الصلوٰۃ میں باب الاذان نکال کر دیکھیے۔ اس میں جو احادیث جمع کی گئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ طیبہ میں جب نماز باجماعت کا باقاعدہ نظام قائم کیا گیا تو اول اول اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ہدایت اس بارے میں نہیں آئی تھی کہ نماز کے لیے لوگوں کو کس طرح جمع کیا جائے۔ حضورﷺ نے صحابہ کرامؓ کو جمع کرکے مشورہ کیا۔ بعض لوگوں نے رائے دی کہ آگ جلائی جائے تاکہ اس کا دھواں بلند ہوتے دیکھ کر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ نماز کھڑی ہو رہی ہے۔ بعض دوسرے لوگوں نے ناقوس بجانے کی رائے دی لیکن کچھ اور لوگوں نے کہا پہلا طریقہ یہود کا اور دوسرا نصارٰی کا ہے۔ ابھی اس معاملے میں کوئی آخری فیصلہ نہ ہوا تھا اور اسے سوچا جا رہا تھا کہ حضرت عبداللّٰہ بن زید انصاریؓ نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص ناقوس لیے جا رہا ہے۔ انھوں نے اس سے کہا: اے بندۂ خدا! یہ ناقوس بیچتا ہے؟ اس نے پوچھا: اس کا کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا: نماز کے لیے لوگوں کو بلائیں گے۔ اس نے کہا: میں اس سے اچھا طریقہ تمھیں بتاتا ہوں۔ چنانچہ اس نے اذان کے الفاظ انھیں بتائے۔ صبح ہوئی تو حضرت عبداللّٰہ نے آ کر حضورﷺکو اپنا خواب سنایا۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ یہ سچا خواب ہے، اٹھو اور بلالؓ کو ایک ایک لفظ بتاتے جائو، یہ بلند آواز سے پکارتے جائیں گے۔ جب اذان کی آواز بلند ہوئی تو حضرت عمرؓ دوڑتے ہوئے آئے اور عرض کیا کہ خدا کی قسم! آج میں نے بھی یہی خواب دیکھا ہے۔ حضورﷺنے فرمایا فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔
یہ ہے مشکوٰۃ کی احادیث درباب اذان کا خلاصہ۔ اس سے جو کچھ ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ نماز کے لیے اذان دینے کا طریقہ مشورے سے نہیں طے ہوا، بلکہ الہام سے ہوا ہے، اور یہ الہام بصورتِ خواب حضرت عبداللّٰہؓ بن زید اور حضرت عمرؓ پر ہوا تھا ،لیکن مشکوٰۃ کے علاوہ دوسری کتب حدیث میں جو روایات آئی ہیں ان سب کو اگر جمع کیا جائے تو ان سے ثابت ہوتا ہے کہ جس روز ان صحابیوں کو خواب میں اذان کی ہدایت ملی اُسی روز خود نبیﷺ کے پاس بھی بذریعہ وحی یہ حکم آ گیا تھا۔ فتح الباری میں علامہ ابن حجر نے ان روایات کو جمع کر دیاہے۔

۲۳۔ حضورﷺ کے عدالتی فیصلے سند وحجت ہیں یا نہیں؟

اعتراض: آپ کے دعوے کے مطابق حضورﷺ کا ہر فیصلہ وحی پر مبنی ہونا چاہیے، لیکن آپ کو خود اس کا اعتراف ہے کہ آپ کے یہ فیصلے وحی پر مبنی نہیں ہوتے تھے۔ چنانچہ آپ نے تفہیم القرآن، ج ا، ص ۱۴۸ پر یہ حدیث نقل کی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا:
میں بہرحال ایک انسان ہی تو ہوں، ہو سکتا ہے کہ تم ایک مقدمہ میرے پاس لائو اور تم میں سے ایک فریق دوسرے کی نسبت زیادہ چرب زبان ہو، اور اُس کے دلائل سن کر میں اس کے حق میں فیصلہ کر دوں، مگر یہ سمجھ لو کہ اگر اس طرح اپنے کسی بھائی کے حق میں سے کوئی چیز تم نے میرے فیصلے کے ذریعے سے حاصل کی تو دراصل تم دوزخ کا ایک ٹکڑا حاصل کرو گے۔
حضور ﷺکے فیصلوں کی یہی امکانی غلطیاں تھیں جن کے متعلق قرآن کریم نے حضورﷺ کی زبان مبارک سے کہلوایا تھا کہ ’’اگر میں غلطی کرتا ہوں تو وہ میری اپنی وجہ سے ہوتی ہے، اگرمیں سیدھے راستے پر ہوں تو وہ وحی کی بِنا پر ہوتا ہے۔‘‘({ FR 6822 })
جواب: یہ سخن فہمی کے فقدان کی ایک اور دل چسپ مثال ہے۔ جو شخص قانونی مسائل سے سرسری واقفیت ہی رکھتا ہو، وہ بھی اس بات کو جانتا ہے کہ ہر مقدمے کے فیصلے میں دو چیزیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ ایک: واقعاتِ مقدمہ (facts of the case) جو شہادتوں اور قرائن سے متحقق ہوتے ہیں ۔ دوسرے: ان واقعات پر قانون کا انطباق، یعنی یہ طے کرنا کہ جو واقعات روداد مقدمہ سے معلوم ہوئے ہیں ان کے لحاظ سے اس مقدمے میں قانونی حکم کیا ہے۔ نبی ﷺ نے اس حدیث میں جو کچھ فرمایا ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ میں قانون کو واقعات مقدمہ پر منطبق کرنے میں غلطی کر سکتا ہوں، بلکہ آپ کے ارشاد کا صاف مطلب یہ ہے کہ تم غلط روداد پیش کرکے حقیقت کے خلاف واقعات مقدمہ ثابت کر دو گے تو میں انھی پر قانون کو منطبق کر دوں گا اور خدا کے ہاں اس کی ذمہ داری تم پر ہو گی۔ اس لیے کہ جج کا کام اسی روداد پر فیصلہ کرنا ہے جو فریقین کے بیانات اور شہادتوں سے اس کے سامنے آئے۔ کسی دوسرے خارجی ذریعے سے اس کو حقیقت حال معلوم بھی ہو تو وہ اپنی ذاتی معلومات پر فیصلے کی بِنا نہیں رکھ سکتا بلکہ اصول انصاف کی رو سے اس کو روداد مقدمہ ہی پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ لہٰذا غلط روداد پر جو فیصلہ ہو گا وہ جج کی غلطی نہیں ہے، بلکہ اس فریق کی غلطی ہے جس نے خلافِ حقیقت واقعات ثابت کرکے اپنے حق میں فیصلہ کرایا۔ اس سے وہ بات کہاں نکل آئی جو ڈاکٹر صاحب نکالنا چاہتے ہیں؟ آخر میں دعوٰی کس نے کیا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہر مقدمے میں نبی ﷺ کوبذریعہ وحی واقعاتِ مقدمہ بتایا کرتا تھا؟ اصل دعوٰی تو یہ ہے کہ حضورﷺقانون کی تعبیر اور حقائق پر ان کے انطباق میں غلطی نہیں کر سکتے تھے، کیوں کہ آپ مامور من اللّٰہ قاضی تھے، اللّٰہ کی دی ہوئی روشنی اس کام میں آپ کی راہ نُمائی کرتی تھی، اور اس بِنا پر آپ کے فیصلے سند اور حجت ہیں۔ اس دعوے کے خلاف کسی کے پاس کوئی دلیل ہو تو وہ سامنے لائے۔
اوپر جس حدیث سے ڈاکٹر صاحب نے استدلال فرمایا ہے اس میں کہیں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ ’’میں فیصلے میں غلطی کر سکتا ہوں۔‘‘ علم قانون میں بھی یہ بات پوری طرح مُسَلَّم ہے کہ اگر عدالت کے سامنے کوئی شخص شہادتوں سے خلافِ واقعہ بات کو واقعی ثابت کر دے اور جج ان کو تسلیم کرکے ٹھیک ٹھیک قانون کے مطابق فیصلہ دے دے تو وہ فیصلہ بجائے خود غلط نہیں ہو گا لیکن ڈاکٹر صاحب اسے فیصلے کی غلطی قرار دے رہے ہیں۔

 

۲۴۔ کج بحثی کا ایک عجیب نمونہ

اعتراض: آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ حضورﷺ سے صرف چند لغزشیں ہوئی تھیں۔ یعنی آپ کا خیال یہ ہے کہ اگر حضورﷺ سے زیادہ لغزشیں ہوتیں تو یہ بات قابلِ اعتراض تھی لیکن چند لغزشیں قابل اعتراض نہیں۔
جواب:کس قدر نفیس خلاصہ ہے جو میری تحریر سے نکال کر خود میرے ہی سامنے پیش کیا جا رہا ہے جس عبارت کا یہ خلاصہ نکالا گیا ہے وہ لفظ بلفظ یہ ہے:
دوسری آیات جو آپ نے پیش فرمائی ہیں ان سے آپ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ نبیﷺ نے اپنے فیصلوں میں بہت سی غلطیاں کی تھیں جن میں سے اللّٰہ تعالیٰ نے بطور نمونہ یہ دوچار غلطیاں پکڑ کر بتا دیں تاکہ لوگ ہوشیار ہو جائیں، حالانکہ دراصل ان سے نتیجہ بالکل برعکس نکلتا ہے۔ ان سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ سے اپنی پوری پیغمبرانہ زندگی میں بس وہی چند لغزشیں ہوئی ہیں جن کی اللّٰہ تعالیٰ نے فورًا اصلاح فرما دی، اور اب ہم پورے اطمینان کے ساتھ اس پوری سُنّت کی پیروی کر سکتے ہیں جو آپﷺ سے ثابت ہے، کیوں کہ اگر اس میں کوئی اور لغزش ہوتی تو اللّٰہ تعالیٰ اس کو بھی برقرار نہ رہنے دیتا جس طرح ان لغزشوں کو اس نے برقرار نہیں رہنے دیا۔
اس کا خلاصہ یہ نکالا گیا ہے کہ ’’حضورﷺ سے زیادہ لغزشیں ہوتیں تو یہ بات قابل اعتراض تھی، لیکن چند لغزشیں قابل اعتراض نہیں ہیں۔‘‘ یہ طرز بحث جن لوگوں کا ہے ان کے بارے میں کس طرح آدمی یہ حسنِ ظن رکھ سکتا ہے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ بات سمجھنے کے لیے گفتگو کرتے ہیں۔

۲۵۔ کیا اللہ تعالیٰ بھی غلطی کرسکتا ہے؟

اعتراض: اگر حضورﷺ کی ہر بات وحی پر مبنی ہوتی تھی تو حضورﷺ کی ایک لغزش بھی دین کے سارے نظام کو درہم برہم کرنے کے لیے کافی تھی۔ اس لیے کہ وہ غلطی کسی انسان کی غلطی نہیں تھی بلکہ (معاذ اللّٰہ) وحی کی غلطی تھی۔ خود خدا کی غلطی تھی اور اگر (معاذ اللّٰہ) خدا بھی غلطی کر سکتا ہے تو ایسے خدا پر ایمان کے کیا معنی ہو سکتے ہیں؟
جواب: یہ ایک مغالطے کے سوا اور کیا ہے۔ آخر یہ کس نے کہا کہ وحی کے ذریعے سے اللّٰہ تعالیٰ نے پہلے غلط راہ نُمائی کی تھی، اس بِنا پر حضورﷺ سے لغزش ہوئی۔ اصل بات جس کو ہٹ دھرمی کے بغیر بآسانی سمجھا جا سکتا ہے، یہ ہے کہ حضورﷺ کی ایک لغزش بھی چوں کہ دین کے سارے نظام کو درہم برہم کر دینے کے لیے کافی تھی، اس لیے اللّٰہ تعالیٰ نے یہ کام اپنے ذمے لیا تھا کہ نبوت کے فرائض کی بجا آوری میں وہ خود آپ کی راہ نُمائی ونگرانی کرے گا، اور اگر کسی وقت بتقاضائے بشریت آپ سے کوئی لغزش ہو جائے تو فورًا اس کی اصلاح فرما دے گا، تاکہ دین کے نظام میں کوئی خامی باقی نہ رہ سکے۔

۲۶۔حضورﷺ کے ذاتی خیال اور بربنائے وحی کہی ہوئی بات میں واضح امتیاز تھا

اعتراض:آپ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے اپنی نبوت کی پوری زندگی میں جو کچھ کیا، یا فرمایا وہ وحی کی بِنا پر تھا لیکن دجال سے متعلق احادیث کے سلسلے میں آپ کا ارشاد ہے:
ان امور کے متعلق جو مختلف باتیں حضورﷺ سے احادیث میں منقول ہیں، وہ دراصل آپ کے قیاسات ہیں جن کے بارے میں آپ خود شک میں تھے۔
(رسائل ومسائل)
اور اس کے بعد آپ خود ہی اس کا اعتراف کر لیتے ہیں کہ:
حضور کا یہ تردد تو خود ظاہر کرتا ہے کہ یہ باتیں آپﷺ نے علم وحی کی بِنا پر نہیں فرمائی تھیں بلکہ اپنے گمان کی بِنا پر فرمائی تھیں۔‘‘ (رسائل ومسائل)
جواب: میری جن عبارات کا یہاں سہارا لیا جا رہا ہے ان کو نقل کرنے میں پھر وہی کرتب دکھایا گیا ہے کہ سیاق وسباق سے الگ کرکے ایک فقرہ کہیں سے اور ایک کہیں سے نکال کر اپنا مطلب برآمد کر لیا گیا۔ دراصل جو بات ۱س مقام پر میں نے کہی ہے وہ یہ ہے کہ دجال کے متعلق حضور ﷺ کو وحی کے ذریعے سے جو علم دیا گیا تھا وہ صرف اس حد تک تھا کہ وہ آئے گا اور ان ان صفات کا حامل ہو گا۔ انھی باتوں کو حضورﷺ نے خبر کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ وہ کب اور کہاں آئے گا تو اس کے متعلق جو کچھ آپ نے بیان فرمایا ہے وہ خبر کے انداز میں نہیں، بلکہ قیاس وگمان کے انداز میں فرمایا ہے۔ مثال کے طور پر ابن صیاد کے متعلق آپ نے شبہ ظاہر فرمایا کہ شاید یہ دجال ہو۔ لیکن جب حضرت عمرؓ نے اسے قتل کرنا چاہا تو حضورﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ دجال ہے تو اس کے قتل کرنے والے تم نہیں ہو، اور اگر یہ دجال نہیں ہے تو تمھیں ایک ذمی کو قتل کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ ’’اگر دجال میری زندگی میں آ گیا تو میں حجت سے اس کا مقابلہ کروں گا، ورنہ میرے بعد میرا رب تو ہر مومن کا حامی وناصر ہے ہی۔
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ وحی کے ذریعے سے ملے ہوئے علم کو ایک انداز میں بیان فرماتے تھے اور جن باتوں کا علم آپﷺ کو وحی کے ذریعے سے نہیں دیا جاتا تھا ان کا ذکر بالکل مختلف انداز میں کرتے تھے۔ آپﷺ کا طرز بیان ہی اس فرق کو واضح کر دیتا تھا، لیکن جہاں صحابہؓ کو اس فرق کے سمجھنے میں کوئی مشکل پیش آتی تھی وہاں وہ خود آپ سے پوچھ لیتے تھے کہ یہ بات آپﷺ اپنی رائے سے فرما رہے ہیں یا اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے۔ اس کی متعدد مثالیں میں نے تفہیمات حصہ اول کے مضمون آزادی کا اِسلامی تصور میں پیش کی ہیں۔

۲۷۔ کیا صحابہؓ اس بات کے قائل تھے کہ حضورﷺ کے فیصلے بدلے جا سکتے ہیں؟

اعتراض: میں نے لکھا تھا کہ کئی ایسے فیصلے جو رسول اللّٰہ ﷺ کے زمانے میں ہوئے لیکن حضورﷺ کے بعد جب تغیراتِ حالات کا تقاضا ہوا تو خلفائے راشدین نے ان فیصلوں کو بدل دیا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ یہ ان بزرگوں پر سخت بہتان ہے جس کے ثبوت میں آپ نہ ان کا کوئی قول پیش کر سکتے ہیں، نہ عمل۔ آپ یہ معلوم کرکے متعجب ہوں گے کہ اس باب میں خود آپ نے ایک ہی صفحہ آگے چل کر اس امر کا بین ثبوت پیش کر دیا ہے کہ صحابہؓ کبار حضورﷺ کے فیصلے کو تغیر حالات کے مطابق قابل ترمیم سمجھتے تھے۔ سنیے کہ آپ نے کیا لکھا ہے:
کس کو معلوم نہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضورﷺ کی وفات کے بعد جیشِ اسامہؓ کو بھیجنے پر صرف اس لیے اصرار کیا کہ جس کام کا فیصلہ حضورﷺ اپنی زندگی میں کر چکے تھے، اسے بدل دینے کا وہ اپنے آپ کو مجاز نہ سمجھتے تھے۔ صحابہ کرامؓ نے جب ان خطرات کی طرف توجہ دلائی جن کا طوفان عرب میں اٹھتا ہوا نظر آ رہا تھا اور اس حالت میں شام کی طرف فوج بھیج دینے کو نامناسب قرار دیا تو حضرت ابوبکرؓ کا جواب یہ تھا کہ اگر کتے اور بھیڑئیے بھی مجھے اچک لے جائیں تو میں اس فیصلے کو نہ بدلوں گا جو رسول اللّٰہﷺ نے کر دیا تھا۔ (ترجمان، نومبر ۱۹۶۰ء، ص ۱۱۳)
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے سوا باقی تمام صحابہؓ اس بات کو جائز سمجھتے تھے کہ حالات کے تغیر کے ساتھ، رسول اللّٰہﷺ کے فیصلے کو بدلا جا سکتا ہے۔
پھر آپ نے لکھا ہے:
حضرت عمرؓ نے خواہش ظاہر کی کہ کم از کم اسامہؓ کو ہی اس لشکر کی قیادت سے ہٹا دیں، کیوں کہ بڑے بڑے صحابہؓ اس نوجوان لڑکے کی ماتحتی میں رہنے سے خوش نہیں ہیں تو حضرت ابوبکرؓ نے ان کی ڈاڑھی پکڑ کر فرمایا کہ خطاب کے بیٹے! تیری ماں تجھے روئے اور تجھے کھو دے، رسول اللّٰہﷺ نے اس کو مقرر کیا اور تو کہتا ہے کہ میں اسے ہٹا دوں۔ (ایضاً)
اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ اس کے قائل تھے کہ تغیر حالات سے حضورﷺ کے فیصلے بدلے جا سکتے ہیں، بلکہ اس واقعے میں تغیر حالات کا بھی سوال نہیں تھا۔ حضرت عمرؓ اسے اس لیے بدلناچاہتے تھے کہ اس سے صحابہؓ خوش نہیں تھے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ (ایک حضرت ابوبکرؓ کے سوا) صحابہؓ میں سے کوئی بھی اس بات کو نہیں سمجھتا تھا کہ رسول اللّٰہﷺ کے فیصلے کسی حالت میں بھی بدلے نہیں جا سکتے؟
جواب: یہ ایک اور مثال ہے اس بات کی کہ منکرین حدیث ہر عبارت میں صرف اپنا مطلب تلاش کرتے ہیں۔ اوپر حضرت ابوبکرؓ کے جو دو واقعات نقل کیے گئے ہیں ان کو پھر پڑھ کر دیکھ لیجیے۔ کیا ان میں یہ بات بھی کہیں مذکور ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے جب رسول اللّٰہﷺ کے فیصلے کو بدلنے سے انکار کیا تو حضرت عمرؓ نے، یا صحابہ کرامؓ میں سے کسی نے یہ کہا ہو کہ ’’اے حضور مرکزِ ملت! آپ ازروئے شرع نبی ﷺ کے فیصلوں کے پابند نہیں ہیں، بلکہ انھیں بدل دینے کا پورا اختیار رکھتے ہیں۔ اگر آپ کی اپنی رائے یہی ہے کہ اس وقت جیش اسامہؓ کو جانا چاہیے اور اسامہؓ ہی اس کے قائد ہوں تو بات دوسری ہے۔ آپ اس پر عمل فرمائیں کیوں کہ آپ ’’اللّٰہ اوررسولﷺ‘‘ ہیں لیکن یہ استدلال نہ فرمائیے کہ یہ رسول اللّٰہ ﷺ کا فیصلہ ہے اس لیے اسے نہیں بدلا جا سکتا۔ حضورﷺ اپنے زمانے کے مرکزِ ملت تھے اور آپ اپنے زمانے کے مرکزِ ملت ہیں۔ آج آپ کے اختیارات وہی ہیں جو کل حضورﷺ کو حاصل تھے۔‘‘ یہ بات اگر حضرت عمرؓ یا دوسرے صحابہؓ نے کی ہوتی تو بلاشبہ منکرین حدیث کی بات بن جاتی۔ لیکن اس کے برعکس وہاں معاملہ یہ پیش آیا کہ جس وقت حضرت ابوبکرؓ نے حضورﷺکے فیصلے کا حوالہ دیا اسی وقت حضرت عمرؓ نے بھی اور صحابہؓ نے بھی سر اطاعت جھکا دیا۔ جیش اسامہؓ روانہ ہوا۔ اسامہؓ ہی اس کے قائد رہے اور بڑے بڑے جلیل القدر صحابہؓ ان کی قیادت میں راضی خوشی چلے گئے۔ اس سے زیادہ سے زیادہ جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ حضورﷺ کے بعد بعض حضرات کو یہ غلط فہمی لاحق ہوئی تھی کہ آپﷺ کے انتظامی فیصلوں میں حسب ضرورت رد وبدل کیا جا سکتا ہے، لیکن اس وقت دین کے فہم میں جو شخص سب سے بڑھا ہوا تھا اس کے متنبہ کرنے پر سب نے اپنی غلطی محسوس کر لی اور سر تسلیم خم کر دیا۔ یہ طرز عمل بہت افسوسناک ہے کہ محض اپنی بات بنانے کی خاطر صحابہ کرامؓ کے ان تاثرات کا تو سہارا لیا جائے جن کا اظہار فقط بحث کے دوران ہوا۔ لیکن اس اجتماعی فیصلے سے آنکھیں بند کر لی جائیں جس پر بحث کے بعد آخر کار سب کا اتفاق ہو گیا ہو۔ دُنیا بھر کا مسلّم قاعدہ تو یہ ہے کہ ایک بحث کے بعد جو بات متفق علیہ طور پر طے ہو، وہی طے شدہ فیصلہ قابل حجت ہے نہ کہ وہ آرا جو اثنائے بحث میں سامنے آئی ہوں۔

۲۸۔ مسئلہ طلاق ثلاثہ میں حضرت عمرؓ کے فیصلے کی اصل نوعیت

اعتراض: آپ فرماتے ہیں کہ میں کوئی مثال پیش کروں کہ رسول اللّٰہ ﷺ کے زمانے کے کسی فیصلے کو خلفائے راشدین نے بدلا ہو۔ اس سے تو آپ بھی انکار نہیں کریں گے کہ نبی اکرمﷺ کے زمانے میں ایک مجلس میں دی ہوئی تین طلاقوں کو ایک شمار کرکے طلاق رجعی قرار دیا جاتا تھا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے زمانے میں اسے تین شمار کرکے طلاق مغلظہ قرار دے دیا اور فقہ کی رو سے امت آج تک اسی پر عمل کر رہی ہے۔
جواب: اس معاملے میں صحیح پوزیشن یہ ہے کہ حضورﷺ کے زمانے میں بھی تین طلاق تین ہی سمجھی جاتی تھیں اور متعدد مقامات پر حضورﷺ نے ان کو تین ہی شمار کرکے فیصلہ دیا ہے لیکن جو شخص تین مرتبہ طلاق کا الگ الگ تلفظ کرتا تھا اس کی طرف سے اگر یہ عذر پیش کیا جاتا کہ اس کی نیت ایک ہی طلاق کی تھی اور باقی دو مرتبہ اس نے یہ لفظ محض تاکیداً استعمال کیا تھا۔ اس کے عذر کو حضورﷺ قبول فرما لیتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے اپنے عہد میں جو کچھ کیا، وہ صرف یہ ہے کہ جب لوگ کثرت سے تین طلاقیں دے کر ایک طلاق کی نیت کا عذر پیش کرنے لگے تو انھوں نے فرمایا کہ اب یہ طلاق کا معاملہ کھیل بنتا جا رہا ہے اس لیے ہم اس عذر کو قبول نہیں کریں گے اور تین طلاقوں کو تین ہی کی حیثیت سے نافذ کر دیں گے۔ اس کو تمام صحابہؓ نے بالاتفاق قبول کیا اور بعد میں تابعین وائمہ مجتہدین بھی اس پر متفق رہے۔ ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ حضرت عمرؓ نے عہد رسالت کے قانون میں یہ کوئی ترمیم کی ہے۔ اس لیے کہ نیت کے عذر کو قبول کرنا قانون نہیں ہے بلکہ اس کا انحصار قاضی کی اس رائے پر ہے کہ جو شخص اپنی نیت بیان کر رہا ہے، وہ صادق القول ہے۔ حضورﷺ کے زمانے میں اس طرح کا عذر مدینہ طیبہ کے اکا دکا جانے پہچانے آدمیوں نے کیا تھا۔ اس لیے حضورﷺ نے ان کو راست باز آدمی سمجھ کر ان کی بات قبول کر لی۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایران سے مصر تک اور یمن سے شام تک پھیلی ہوئی سلطنت کے ہر شخص کا یہ عذر عدالتوں میں لازمًا قابل تسلیم نہیں ہو سکتا تھا، خصوصاً جب کہ بکثرت لوگوں نے تین طلاق دے کر ایک طلاق کی نیت کا دعوٰی کرنا شروع کر دیا ہو۔

۲۹۔ مؤلفۃ القلوب کے بارے میں حضرت عمرؓ کے استدلال کی نوعیت

اعتراض: حضورﷺ کے زمانے میں مؤلفۃ القلوب کو صدقات کی مد سے امداد دی جاتی تھی۔ حضرت عمرؓ نے اپنے زمانے میں اسے ختم کر دیا۔
جواب: اسے اگر کوئی شخص فیصلوں میں رد وبدل کی مثال سمجھتا ہے تو اسے دعویٰ یہ کرنا چاہیے کہ حضورﷺ کے نہیں، بلکہ خود اللّٰہ تعالیٰ کے فیصلوں میں بھی مرکزِ ملت صاحب ردّ وبدل کر سکتے ہیں۔ اس لیے کہ صدقات میں مؤلفۃ القلوب کا حصہ حضورﷺ نے کسی حدیث میں نہیں، بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے خود قرآن میں مقرر فرمایا ہے۔(ملاحظہ ہو: سورۂ توبہ آیت:۶۰)
ڈوبتے وقت تنکے کا سہارا لینے کی کیفیت اگر منکرین حدیث پر طاری نہ ہو، اور وہ اس معاملے کی حقیقت سمجھنا چاہیں تو خود لفظ ’’مؤلفۃ القلوب‘‘ پر تھوڑا سا غور کرکے اسے خود سمجھ سکتے ہیں۔ یہ لفظ آپ ہی اپنا مفہوم ظاہر کر رہا ہے کہ صدقات میں سے ان لوگوں کو بھی روپیہ دیا جا سکتا ہے جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو۔ حضرت عمرؓ کا استدلال یہ تھا کہ حضورﷺ کے زمانے میں اِسلامی حکومت کو تالیفِ قلب کے لیے مال دینے کی ضرورت تھی اس لیے حضورﷺ اس مد سے لوگوں کو دیا کرتے تھے۔ اب ہماری حکومت اتنی طاقتور ہو گئی ہے کہ ہمیں اس غرض کے لیے کسی کو روپیہ دینے کی حاجت نہیں ہے۔ لہٰذا ہم اس مد میں کوئی روپیہ صَرف نہیں کریں گے۔ کیا اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے نبی ﷺ کے عہد کا کوئی فیصلہ بدل ڈالا؟ کیا واقعی حضورﷺ کا فیصلہ یہی تھا کہ تالیفِ قلب کی حاجت ہو یا نہ ہو، بہرحال کچھ لوگوں کو ضرور مؤلفۃ القلوب قرار دیا جائے اور صدقات میں سے ہمیشہ ہمیشہ ان کا حصہ نکالا جاتا رہے؟ کیا خود قرآن مجید میں اللّٰہ تعالیٰ نے بھی یہ لازم قرار دیا ہے کہ صدقات کا ایک حصہ تالیفِ قلب کی مد پر ہر حال میں ضرور ہی خرچ کیا جائے؟

۳۰۔ کیا مفتوحہ اراضی کے بارے میں حضرت عمرؓ کا فیصلہ حکم رسولﷺ کے خلاف تھا؟

اعتراض: نبی اکرم ﷺکے زمانے میں مفتوحہ زمینیں مجاہدین میں تقسیم کر دی گئی تھیں۔ لیکن حضرت عمرؓنے اپنے عہد میں اس سسٹم کو ختم کر دیا۔
جواب: نبی اکرم ﷺ نے یہ فیصلہ کبھی نہیں فرمایا تھا کہ مفتوحہ زمینیں ہمیشہ مجاہدین میں تقسیم کی جاتی رہیں۔ اگر ایسا کوئی حکم حضورﷺ نے دیا ہوتا اور حضرت عمرؓ نے اس کے خلاف عمل کیا ہوتا تو آپ کہہ سکتے تھے کہ انھوں نے حضورﷺ کا فیصلہ بدل دیا، یا پھر یہ دعویٰ اس صورت میں کیا جا سکتا تھا جب کہ حضرت عمرؓ نے انھی زمینوں کو مجاہدین سے واپس لے لیا ہوتا جنھیں حضورﷺ نے اپنے عہد میں تقسیم کیا تھا لیکن ان دونوں میں سے کوئی بات بھی پیش نہیں آئی۔
اصل صورتِ معاملہ یہ ہے کہ مفتوحہ زمینوں کو لازمًا مجاہدین ہی میں تقسیم کر دینا سرے سے کوئی اِسلامی قانون تھا ہی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے مفتوحہ اراضی کے معاملے میں حسب موقع وضرورت مختلف مواقع پر مختلف فیصلے فرمائے تھے۔ بنی نضیر، بنی قریظہ، خیبر، فدک، وادی القریٰ، مکہ اور طائف کی مفتوحہ اراضی میں سے ہر ایک کا بندوبست عہد رسالت میں الگ الگ طریقوں سے کیا گیا تھا اور ایسا کوئی ضابطہ نہیں بنایا گیا تھا کہ آیندہ ایسی اراضی کا بندوبست لازمًا فلاں طریقے یا طریقوں ہی پر کیا جائے۔ اس لیے حضرت عمرؓ نے اپنے عہد میں صحابہؓ کے مشورے سے اراضیِ مفتوحہ کا بندوبست کیا۔ اسے حضورﷺ کے فیصلوں میں رد وبدل کی مثال نہیں قرار دیا جا سکتا۔

۳۱۔ وظائف کی تقسیم کے معاملے میں حضرت عمرؓ کا فیصلہ

اعتراض: رسول اللّٰہﷺ نے لوگوں کے وظائف مساوی مقرر فرمائے تھے لیکن حضرت عمرؓ نے انھیں خدمات کی نسبت سے بدل دیا۔ یہ اور اس قسم کی کئی اور مثالیں ملتی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اکرم ﷺکے فیصلے تغیر حالات کے مطابق خلافت راشدہ میں بدلے گئے تھے۔
جواب: اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حضورﷺ نے مساوی وظائف مقرر فرمائے تھے؟ تاریخ کی رو سے تو یہ حضرت ابوبکرؓ کا فعل تھا۔ اس لیے اسے اگر کسی چیز کی مثال قرار دیا جا سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ ایک خلیفہ اپنے سے پہلے خلیفہ کے فیصلوں میں ردّوبدل کرنے کا مجاز ہے۔مَیں عرض کرتا ہوں کہ تمام منکرین حدیث مل کر اس طرح کی مثالوں کی ایک مکمل فہرست پیش فرما دیں۔ میں ان شاء اللّٰہ ثابت کر دوں گا کہ ان میں سے ایک بھی اس امر کی مثال نہیں ہے کہ خلافتِ راشدہ کے دور میں حضورﷺ کے فیصلے بدلے گئے تھے۔

۳۲۔ کیا قرآن کے معاشی احکام عبوری دور کے لیے ہیں؟

اعتراض: آپ نے میری اس بات کا بھی مذاق اڑایا ہے کہ قرآن کے جو احکام بعض شرائط سے مشروط ہوں جب وہ شرائط باقی نہ رہیں تو وہ احکام اس وقت تک ملتوی ہو جاتے ہیں جب تک ویسے ہی حالات پیدا نہ ہو جائیں۔ انھیں ’’عبوری دور‘‘ کے احکام سے تعبیر کیا گیا ہے ۔
صدقات کی مد سے مولفۃ القلوب کو امداد دینے کا حکم قرآن کریم میں موجود ہے۔ حضرت عمرؓ اس مد کو یہ کہہ کر ختم کر دیتے ہیں کہ یہ حکم اس عبوری دور تک تھا، جب تک نظام کو اس قسم کی تالیف قلوب کی ضرورت تھی۔ اب وہ ضرورت باقی نہیں رہی، اس لیے اس حکم پر عمل کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ یہی منشا ہوتا ہے ان لوگوں کا جو قرآن کے اس قسم کے احکام کو ’’عبوری دور کے احکام‘‘ کہتے ہیں۔
جواب: اس سخن سازی سے درحقیقت بات نہیں بنتی۔ منکرین حدیث شخصی ملکیت کے بارے میں پورا پورا کمیونسٹ نقطۂ نظر اختیار کرتے ہیں اور اس کا نام انھوں نے ’’قرآنی نظامِ ربوبیت‘‘ رکھا ہے۔ اس کے متعلق جب ان سے کہا جاتا ہے کہ قرآن مجید میں معاشی نظام کے متعلق جتنے بھی احکام صراحتاً یا اشارۃً وکنایۃً آئے ہیں وہ سب شخصی ملکیت کا اثبات کرتے ہیں اور کوئی ایک حکم بھی ہمیں ایسا نہیں ملتا جو شخصی ملکیت کی نفی پر مبنی ہو، یا اسے ختم کرنے کا منشا ظاہر کرتا ہو، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ وہ سب احکام عبوری دور کے لیے ہیں۔ بالفاظ دیگر جب یہ عبوری دور ختم ہو جائے گا اور ان حضرات کا تصنیف کردہ نظام ربوبیت قائم ہو جائے گا تو یہ سب احکام منسوخ ہو جائیں گے۔ جناب پرویز صاحب صاف الفاظ میں فرماتے ہیں:
(سوال کیا جاتا ہے) کہ اگر قرآن کا نظام معاشی اسی قسم کا ہے تو پھر اس نے صدقہ، خیرات، وراثت وغیرہ سے متعلق احکام کیوں دئیے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن اس نظام کو یک لخت نہیں لے آنا چاہتا۔ بتدریج قائم کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا صدقہ، خیرات، وراثت وغیرہ کے احکام اس عبوری دور سے متعلق ہیں جس میں ہنوز نظام اپنی آخری شکل میں قائم نہ ہوا۔ (ملاحظہ ہو: بین الاقوامی مجلس مذاکرہ میں پیش کردہ مقالہ: اِسلامی نظام میں معاشیات)، لیکن یہ حضرات قرآن میں کہیں یہ نہیں دکھا سکتے کہ ان کے بیان کردہ نظام ربوبیت کا کوئی نقشہ اللّٰہ تعالیٰ نے پیش کیا ہو اور اس کے متعلق احکام دئیے ہوں اور یہ ارشاد فرمایا ہو کہ ہمارا اصل مقصد تو یہی نظام ربوبیت قائم کرنا ہے، البتہ صدقہ وخیرات اور وراثت وغیرہ کے احکام ہم اس وقت تک کے لیے دے رہے ہیں، جب تک یہ نظام قائم نہ ہو جائے۔ یہ سب کچھ ان حضرات نے خود گھڑ لیا ہے اور اس کے مقابلے میں قرآن کے واضح اور قطعی احکام کو یہ عبوری دور کے احکام قرار دے کر صاف اڑا دینا چاہتے ہیں۔ اس معاملے کو آخر کیا نسبت ہے اس بات سے جو حضرت عمرؓ نے مولفتہ القلوب کے بارے میں فرمائی تھی۔ اس کا منشا تو صرف یہ تھا کہ جب تک ہمیں تالیف قلب کے لیے ان لوگوں کو روپیہ دینے کی ضرورت تھی، ہم دیتے تھے۔ اب اس کی حاجت نہیں ہے، اس لیے اب ہم انھیں نہیں دیں گے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے قرآن میں فقرا ومساکین کو صدقہ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس حکم کے مطابق ہم ایک شخص کو اسی وقت تک زکوٰۃ دیں گے جب تک وہ فقیر ومسکین رہے۔ جب اس کی یہ حالت نہ رہے گی تو ہم اسے دینا بند کر دیں گے۔ اس بات میں اور پرویز صاحب کے نظریہ ’’عبوری دور‘‘ میں کوئی دور کی مناسبت بھی نہیں ہے۔

۳۳۔ ’’عبوری دور‘‘ کا غلط مفہوم

اعتراض: اس کے تو آپ خود بھی قائل ہیں کہ شریعت کا ایک حتمی فیصلہ بھی حالات کے سازگار ہونے تک ملتوی رکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً: آئین پاکستان کے سلسلے میں آپ نے کہا تھا کہ:
ایک اِسلامی ریاست کے نظام کو چلانے میں غیر مسلموں کی شرکت شرعاً اور عقلاً دونوں طورپر صحیح نہیں لیکن سردست ایک عارضی بندوبست کی حیثیت سے ہم اس کو جائز اور مناسب سمجھتے ہیں کہ ان کو ملک کی پارلیمنٹ میں نمایندگی دی جائے۔
(ترجمان القرآن، ستمبر ۱۹۵۲ء ص۴۳۰۔۴۳۱)
جواب: یہ معاملہ بھی منکرین حدیث کے نظریے سے بالکل مختلف ہے۔ غیر مسلموں کے متعلق تو ہمیں مثبت طور پر معلوم ہے کہ اِسلام اپنا نظام حکومت چلانے کی ذمہ داری میں انھیں شریک نہیں کرتا۔ اس لیے ہمارا یہ فرض ہے کہ اس پالیسی کو نافذ کریں، اور جب تک ہم اسے نافذ کرنے پر قادر نہیں ہوتے اس وقت تک مجبوراً جو کچھ بھی کریں ایک عارضی انتظام کی حیثیت سے کریں۔ بخلاف اس کے منکرین حدیث ایک نظام ربوبیت خود تصنیف کرتے ہیں جس کے متعلق قرآن کا کوئی ایک مثبت حکم بھی وہ نہیں دکھا سکتے، اور شخصی ملکیت کے اثبات پر جو واضح اور قطعی احکام قرآن میں ہیں ان کو وہ عبوری دور کے احکام قرار دیتے ہیں۔ ان دونوں باتوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ ہمارے نزدیک ’’عبوری دور‘‘ کی تعریف یہ ہے کہ قرآن کے ایک حکم یا اس کے دئیے ہوئے کسی قاعدے اور اصول پر عمل کرنے میں، اگر کچھ موانع موجود ہیں تو ان کو دور کرنے تک عارضی طور پر جو کچھ بھی ہم مجبورًاکریں گے وہ عبوری دور کا انتظام ہو گا۔ اس کے برعکس منکرین حدیث کے نزدیک ان کے اپنے تصنیف کردہ اصولوں پر عمل درآمد کرنے کے لیے جب تک فضا سازگار نہ ہو، اس وقت تک وہ قرآن کے دیے ہوئے احکام او اس کے مقرر کیے ہوئے اصولوں پر محض ایک عارضی انتظام کی حیثیت سے عمل کریں گے۔

۳۴۔ حضورﷺکیا صرف شارح قرآن ہی ہیں یا شارع بھی؟

اعتراض: ایک سوال یہ بھی سامنے آیا تھا کہ سُنّت قرآنی احکام واصول کی تشریح ہے یا وہ قرآنی احکام کی فہرست میں اضافہ بھی کرتی ہے؟ صحیح بات یہ ہے کہ قرآن نے جن باتوں کا اصولی طور پر حکم دیا، سُنّت نے ان کی جزئیات متعین کر دیں۔ یہ نہیں کہ کچھ احکام قرآن نے دئیے اور اس فہرست میں سُنّت نے مزید احکام کا اضافہ کر دیا۔ اگر ایسی صورت ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ قرآنی احکام نے جو فہرست دی وہ ناتمام تھی، سُنّت نے مزید اضافے سے اس فہرست کی تکمیل کردی۔ لیکن آپ نے جہاں ایک جگہ پہلی صورت بیان کی ہے دوسرے مقام پر دوسری شکل بھی بیان کر دی ہے حالانکہ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔
آپ تھوڑی سی سوجھ بوجھ رکھنے والے انسان سے بھی پوچھیے کہ (بقول آپ کے) رسول اللّٰہﷺ کا یہ ارشاد کہ پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کو جمع کرنا بھی حرام ہے، قرآن کے حکم (یعنی دو بہنوں کو جمع کرنا حرام ہے) کی توضیح وتشریح ہے یا محرمات کی قرآنی فہرست میں اضافہ ہے۔ ہر سمجھ دار شخص (بشرطیکہ وہ آپ کی طرح ضدی نہ ہو، یا تجاہل عارفانہ نہ کرتا ہو) یہ کہہ دے گا کہ یہ فہرست میں اضافہ ہے۔ اس سے یہ اہم سوال سامنے آتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے جہاں قرآنی فہرست میں پھوپھیوں، خالائوں، بھانجیوں، رضاعی مائوں اور بہنوں، بیویوں کی مائوں اور بیٹوں کی بیویوں حتّٰی کہ پالی ہوئی لڑکیوں تک کا ذکر کر دیا ہے، اور یہ بھی کہہ دیا کہ دو بہنوں کو اکٹھا نہیں کرنا چاہیے، وہاں کیا اللّٰہ تعالیٰ کو (معاذ اللّٰہ) یہ کہنا نہیں آتا تھا کہ پھوپھی، بھتیجی اور خالہ بھانجی کو بھی اکٹھا نہیں کیا جا سکتا۔
جواب: اس ساری تقریر کا جواب یہ ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ شارح قرآن بھی تھے اور خدا کے مقرر کردہ شارع بھی۔ ان کا منصب یہ بھی تھا کہلِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْہِمْ النحل 44:16 لوگوں کے لیے خدا کے نازل کردہ احکام کی تشریح کریں‘‘ اور یہ بھی کہ يُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْہِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ الاعراف 157:7 ’’پاک چیزیں لوگوں کے لیے حلال کریں اور ناپاک چیزوں کو ان پرحرام کر دیں‘‘ اس لیے حضور ﷺ جس طرح قرآن کے قانون کی تشریح کرنے کے مجاز تھے اور آپ کی تشریح سند وحجت تھی، اسی طرح آپ تشریع کے بھی مجاز تھے اور آپ کی تشریع سند وحجت تھی۔ ان دونوں باتوں میں قطعًا کوئی تضاد نہیں ہے۔
رہا پھوپھی اور خالہ کا معاملہ، تو منکرین حدیث اگر کج بحثی کی بیماری میں مبتلا نہ ہوتے تو ان کی سمجھ میں یہ بات آسانی سے آ سکتی تھی کہ قرآن نے جب ایک عورت کو اس کی بہن کے ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا تو اس سے مقصود مَحبّت کے اس تعلق کی حفاظت کرنا تھا جو بہن اور بہن کے درمیان فطرتاً ہوتا ہے اور عملًا ہونا چاہیے۔ نبی ﷺ نے بتایا کہ یہی علّت باپ کی بہن اور ماں کی بہن کے معاملے میں بھی پائی جاتی ہے۔ لہٰذا پھوپھی اور بھتیجی کو، اور خالہ اور بھانجی کو بھی نکاح میں جمع کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ یہ خواہ تشریح تعبیر ہو، یا استنباط یا تشریع۔ بہرحال خدا کے رسولﷺ کا حکم ہے اور آغاز اِسلام سے آج تک تمام امت نے بالاتفاق اسے قانون تسلیم کیا ہے۔ خوارج کے ایک فرقے کے سوا کسی نے اس سے اختلاف نہیں کیا اور اس فرقے کا استدلال بعینہٖ وہی تھا جو منکرین حدیث کا ہے کہ یہ حکم چوں کہ قرآن میں نہیں ہے، لہٰذا ہم اسے نہیں مانتے۔
دوسری بحثیں جو ڈاکٹر صاحب نے اس سلسلے میں اُٹھائی ہیں، وہ سب قلتِ علم اور قلتِ فہم کا نتیجہ ہیں۔ شریعت کے اہم اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک معاملے میں جو چیز علت حکم ہو رہی ہو وہی اگر کسی دوسرے معاملے میں پائی جائے تو اس پر بھی وہی حکم جاری ہو گا مثلاً: قرآن میں صرف شراب (خمر) کو حرام کیا گیا تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ اس میں علت حکم اس کا نشہ آور ہونا ہے، اس لیے ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ اب صرف ایک کم علم اورنادان آدمی ہی یہ سوال اُٹھا سکتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا منشا اگر یہ تھا تو کیا قرآن میں بھنگ، چرس، تاڑی وغیرہ تمام مسکرات کی فہرست نہیں دی جا سکتی تھی؟

۳۵۔ بصیرت رسولﷺ کے خداداد ہونے کا مفہوم

اعتراض: ساری بحث کا مدار اس سوال پر ہے کہ کیا رسول اللّٰہ ﷺ پر جو وحی نازل ہوتی تھی وہ ساری کی ساری قرآن کریم میں درج ہو گئی ہے، یا قرآن میں صرف وحی کا ایک حصہ داخل ہوا ہے اور دوسرا حصہ درج نہیں ہوا۔ آپ کا جواب یہ ہے کہ وحی کی دو (بلکہ کئی) قسمیں تھیں۔ ان میں سے صرف ایک قسم کی وحی قرآن میں درج ہوئی ہے۔ باقی اقسام کی وحییں قرآن میں درج نہیں ہوئی ہیں۔ میں آپ کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آپ نے تفہیمات جلد اوّل میں یہ لکھا ہے:
اس میں شک نہیں کہ اصولی قانون قرآن ہی ہے مگر یہ قانون ہمارے پاس بلاواسطہ نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ رسول خدا کے واسطے سے بھیجا گیا ہے اور رسول کو درمیانی واسطہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ وہ اصولی قانون کو اپنی اور اپنی امت کی عملی زندگی میں نافذ کرکے ایک نمونہ پیش کر دیں اور اپنی خداداد بصیرت سے ہمارے لیے وہ طریقے متعین کر دیں جن کے مطابق ہمیں اس اصولی قانون کو اپنی اجتماعی زندگی اور انفرادی برتائو میں نافذ کرنا چاہیے۔({ FR 6823 }) (ص ۲۳۷)
وحی کی خصوصیت یہ ہے اور اسی خصوصیت کی بِنا پر وہ منزّل من اللّٰہ کہلاتی ہے کہ اس میں اس فرد کی بصیرت کو کوئی دخل نہیں ہوتا جس پر وہ وحی بھیجی جاتی ہے۔ جس ’’وحی‘‘ کی رو سے رسول اللّٰہ ﷺ نے قرآن کے اصولی قانون کے عملی طریقے متعین فرمائے تھے، اگر وہ واقعی وحی منزّل من اللّٰہ تھی تو اس میں حضورﷺ کی بصیرت کو کوئی دخل نہیں ہو سکتا تھا اور اگر حضورﷺ نے اپنی بصیرت سے تجویز فرمایا تھا تو وہ وحی نہیں تھی۔ رسول کی اپنی بصیرت کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو وہ خدا کی وحی نہیں ہو سکتی۔ ممکن ہے آپ یہ کہہ دیں کہ میں نے ’’خدا داد بصیرت‘‘ کہا ہے اور انسانی بصیرت اور خداداد بصیرت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ اگر آپ کا یہ جواب ہے تو میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کو جو بصیرت ملی ہے، وہ خداداد ہے، یا کسی اور کی عطا کردہ؟ ہر انسانی بصیرت خداداد ہی ہوتی ہے۔
جواب: یہاں ڈاکٹر صاحب نے لفظ وحی کے معنی سمجھنے میں پھر وہی غلطی کی ہے جس پر میں نے اپنے آخری خط میں ان کو متنبہ کر دیا تھا۔ (ملاحظہ ہو کتاب ہذا میں عنوان: وحی سے مراد کیا چیز ہے؟)
یہ منکرین حدیث کے بے نظیر اوصاف میں سے ایک نمایاں وصف ہے کہ آپ ان کی ایک غلطی کو دس مرتبہ بھی مدلل طریقے سے غلط ثابت کر دیں، پھر بھی وہ اپنی بات دہراتے چلے جائیں گے اور آپ کی بات کا قطعًا کوئی نوٹس نہ لیں گے۔
’’خداداد بصیرت‘‘ سے میری مراد کوئی پیدائشی وصف نہیں ہے جس طرح ہر شخص کو کوئی نہ کوئی پیدائشی وصف ملا کرتا ہے بلکہ اس سے مراد وہی وہبی بصیرت ہے جو نبوت کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ نے فرائض نبوت ادا کرنے کے لیے حضور ﷺ کو عطا فرمائی تھی، جس کی بِنا پر حضورﷺ قرآن کے مقاصد کی ان گہرائیوں تک پہنچتے تھے جن تک کوئی غیر نبی نہیں پہنچ سکتا، جس کی روشنی میں آپ اِسلام کی راہ راست پر خود چلتے تھے اور دوسروں کے لیے نشانات راہ واضح کر دیتے تھے۔ یہ بصیرت لازمۂ نبوت تھی جو کتاب کے ساتھ ساتھ حضورﷺ کو عطا کی گئی تھی تاکہ آپ کتاب کا اصل منشا بھی بتائیں اور معاملات زندگی میں لوگوں کی راہ نُمائی بھی کریں۔ اس بصیرت سے غیر انبیا کی بصیرت کو آخر کیا نسبت ہے؟غیر نبی کو جو بصیرت بھی اللّٰہ سے ملتی ہے، خواہ وہ قانونی بصیرت ہو یا طبی بصیرت یا کاریگری وصَنَّاعی اور دوسرے علوم وفنون کی بصیرت، وہ اپنی نوعیت میں اس نور علم وحکمت اور اس کمال فہم وادراک سے بالکل مختلف ہے جو نبی کو کار نبوت انجام دینے کے لیے عطا کیا جاتا ہے۔ پہلی چیز خواہ کتنی ہی اونچے درجے کی ہو، بہرحال کوئی یقینی ذریعہ علم نہیں ہے کیوں کہ اس بصیرت کے ذریعے سے ایک غیر نبی جن نتائج پر بھی پہنچتا ہے ان کے متعلق وہ قطعًا نہیں جانتا کہ یہ نتائج وہ خدا کی راہ نُمائی سے اخذ کر رہا ہے یا اپنی ذاتی فکر سے۔ اس کے برعکس دوسری چیز اسی طرح یقینی ذریعۂ علم ہے جس طرح نبی پر نازل ہونے والی کتاب یقینی ذریعۂ علم ہے۔ اس لیے کہ نبی کو پورے شعور کے ساتھ یہ علم ہوتا ہے کہ یہ راہ نُمائی خدا کی طرف سے ہو رہی ہے لیکن منکرین حدیث کو نبی کی ذات سے جو سخت عناد ہے، اس کی وجہ سے نبی کے ہر فضل وشرف کا ذکر انھیں سیخ پا کر دیتا ہے اور وہ یہ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ نبی میں اور عام دانش مند انسانوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اسے اگر کوئی امتیاز حاصل ہے تو وہ صرف یہ کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی ڈاک بندوں تک پہنچانے کے لیے اس کو نامہ بر مقرر کر دیا تھا۔

۳۶۔ وحی کی اقسام ازروئے قرآن

اعتراض: آپ نے وحی خداوندی کی مختلف اقسام کے ثبوت میں سورۃ الشورٰی کی آیت ۵۱ پیش فرمائی ہے اس کا ترجمہ آپ نے یہ کیا ہے:
کسی بشر کے لیے یہ نہیں ہے کہ اللّٰہ اس سے گفتگو کرے مگر وحی کے طریقے پر یا پردے کے پیچھے سے، یا اس طرح کہ ایک پیغام بر بھیجے اور وہ اللّٰہ کے اذن سے وحی کرے جو کچھ اللّٰہ چاہتا ہو، وہ برتر اور حکیم ہے۔
اول تو آپ نے (میری قرآنی بصیرت کے مطابق) اس آیت کے آخری حصے کے معنی ہی نہیں سمجھے۔ میں اس آیت سے یہ سمجھتا ہوں کہ اس میں اللّٰہ تعالیٰ صرف انبیائے کرام سے ہم کلام ہونے کے طریقوں کے متعلق بیان نہیں کر رہا بلکہ اس میں بتایا یہ گیا ہے کہ اس کا ہر بشر کے ساتھ بات کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ انسانوں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک حضرات انبیائے کرام اور دوسرے غیر نبی انسان۔ اس آیت کے پہلے دو حصوں میں حضرات انبیائے کرام سے کلام کرنے کے دو طریقوں کا ذکر ہے۔ ایک طریقے کو وحی سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے مطلب ہے قلبِ نبویﷺ پر وحی کا نزول جو حضرت جبریل کی وساطت سے ہوتا تھا اور دوسرا طریقہ تھا براہ راست خدا کی آواز جو پردے کے پیچھے سے سنائی دیتی تھی اور اس کا خصوصی ذکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تذکرے میں ملتا ہے۔ اس کے متعلق قرآن کریم میں وضاحت سے ہے کہ وَكَلَّمَ اللہُ مُوْسٰى تَكْلِــيْمًاo النسائ 164:4 اور دوسرے مقام پر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی خواہش ظاہر کی کہ جو ذات مجھ سے یوں پس پردہ کلام کرتی ہے میں اسے بے نقاب دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس حصے کا یہ مفہوم لینا کہ انبیائے کرام کو خوابوں کے ذریعے وحی ملا کرتی تھی، کسی طرح بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ آیت کے تیسرے حصے میں یہ بتایا گیا ہے کہ عام انسانوں سے خدا کا بات کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ان کی طرف رسول بھیجتا ہے۔ اس رسول کی طرف خدا وحی کرتا ہے اور رسول اس وحی کو عام انسانوں تک پہنچاتا ہے۔ بالفاظِ دیگر ہم جب قرآن کریم پڑھتے ہیں تو خدا ہم سے باتیں کر رہا ہوتا ہے۔
جواب: قرآنی بصیرت کا جو نمونہ یہاں پیش فرمایا گیا ہے اس کا طول وعرض معلوم کرنے کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن مجید میں سورۂ شورٰی کا پانچواں رکوع نکال کر دیکھ لیجیے۔ جس آیت کے یہ معنی ڈاکٹر صاحب بیان فرما رہے ہیں، ٹھیک اس کے بعد والی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا۝۰ۭ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ وَلٰكِنْ جَعَلْنٰہُ نُوْرًا نَّہْدِيْ بِہٖ مَنْ نَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِنَا۝۰ۭ وَاِنَّكَ لَـــتَہْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍo الشوری 52:42
اور اسی طرح (اے نبیؐ) ہم نے وحی کی تمھاری طرف اپنے فرمان کی روح، تم کو پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے، مگر ہم نے اس کو ایک نور بنا دیا جس کے ذریعے سے ہم راہ نُمائی کرتے ہیں جس کی چاہتے ہیں اپنے بندوں میں سے، اور یقینا تم راہ نُمائی کرتے ہو راہ راست کی طرف۔
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سابقہ آیت کا کوئی حصہ بھی عام انسانوں تک خدا کی باتیں پہنچنے کی صورت بیان نہیں کر رہا ہے، بلکہ اس میں صرف وہ طریقے بتائے گئے ہیں جن سے اللّٰہ تعالیٰ اپنے نبی تک اپنی بات پہنچاتا ہے۔ فرمان خداوندی پہنچنے کے جن تین طریقوں کا اس میں ذکر کیا گیا ہے انھی کی طرف اس آیت میں وَکَذٰلِکَ (اور اسی طرح) کا لفظ اشارہ کر رہا ہے یعنی اللّٰہ تعالیٰ رسول اللّٰہ ﷺ سے فرما رہا ہے کہ انھی تین طریقوں سے ہم نے اپنے فرمان کی روح تمھاری طرف وحی کی ہے۔ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَاسے مراد جبریل امین نہیں لیے جا سکتے، کیوں کہ اگر وہ مراد ہوتے تو اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ کہنے کے بجائے اَرْسَلْنَا اِلَیْک فرمایا جاتا۔ اس لیے ’’فرمان کی روح‘‘ سے مراد وہ تمام ہدایات ہیں جو مذکورہ تین طریقوں سے حضورﷺ پر وحی کی گئیں۔ پھر آخری دو فقروں میں واقعات کی ترتیب یہ بتائی گئی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کی راہ نُمائی اس نور سے کر دی جو ’’روح فرمان‘‘ کی شکل میں اس کے پاس بھیجا گیا، اور اب وہ بندہ صراط مستقیم کی طرف لوگوں کی راہ نُمائی کر رہا ہے۔
تاہم اگر سیاق وسباق کو نظر انداز کرکے صرف اسی ایک آیت پر نگاہ مرکوز کر لی جائے جس کی تفسیر ڈاکٹر صاحب فرما رہے ہیں تب بھی اس کا وہ مطلب نہیں نکلتا جو انھوں نے اس سے نکالنے کی کوشش کی ہے۔ وہ آیت کے تیسرے حصے کا مطلب یہ بیان فرماتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ عام انسانوں کی طرف رسول بھیجتا ہے، رسول کی طرف خدا وحی کرتا ہے اور رسول اس وحی کو عام انسانوں تک پہنچاتا ہے۔ حالانکہ آیت کے الفاظ یہ ہیں: اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِـاِذْنِہٖ مَا يَشَاۗءُ۝۰ۭ الشوریٰ 51:42 (یا بھیجے ایک پیغام بر پھر وہ وحی کرے اس کے حکم سے جو وہ چاہے)۔ اس فقرے میں اگر ’’رسول‘‘ سے مراد فرشتے کے بجائے بشر رسول لیا جائے تو اس کے معنی یہ بن جائیں گے کہ رسول عام انسانوں پر وحی کرتا ہے۔ کیا واقعی عام انسانوں پر انبیا علیہم السلام وحی کیا کرتے تھے؟ وحی کے تو معنی ہی اشارۂ لطیف اور کلام خفی کے ہیں۔ یہ لفظ نہ تو ازروئے لغت اس تبلیغ کے لیے استعمال ہوسکتا ہے جو انبیا علیہم السلام خلقِ خدا کے درمیان علانیہ کرتے تھے اور نہ قرآن ہی میں کہیں اسے اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ یہاں تو رسول کا لفظ صاف طور پر اس فرشتے کے لیے استعمال ہوا ہے جوانبیا کے پاس وحی لاتا تھا۔ اسی کی پیغام بری کو وحی کرنے کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے اور کیا جا سکتا ہے۔

۳۷۔ وحی غیرمتلو پر ایمان، ایمان بالرسول کا جُز ہے

اعتراض: جو وحی انبیائے کرام کو ملتی تھی اس کی مختلف قسموں کا ذکر قرآن میں کہیں نہیں آیا۔ نہ ہی قرآن میں کہیں یہ ذکر آیا ہے کہ قرآن صرف ایک قسم کی وحی کا مجموعہ ہے اور باقی اقسام کی وحییں جو رسول اللّٰہ کو دی گئی تھیں وہ کہیں اور درج ہیں۔ اس کے برعکس رسول اللّٰہﷺ کی زبان مبارک سے خود قرآن کریم میں یہ کہلوایا گیا ہے کہ وَاُوْحِيَ اِلَيَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ الانعام 19:6 ’’میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا۔‘‘ کیا قرآن میں کسی ایک جگہ بھی درج ہے کہ میری طرف قرآن وحی کیا گیا اور اس کے علاوہ اور وحی بھی ملی ہے جو اس میں درج نہیں۔ اصل یہ ہے کہ آپ وحی کی اہمیت کو سمجھے ہی نہیں۔ وحی پرایمان لانے سے ایک شخص مومن ہو سکتا ہے اور یہ ایمان تمام وکمال وحی پر ایمان لانا ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ وحی کے ایک حصے پر ایمان لایا جائے اور دوسرے حصے پر ایمان نہ لایا جائے۔
جواب: اس بات کا ثبوت اس سے پہلے اسی مراسلت کے سلسلے میں دیا جا چکا ہے کہ قرآن کے علاوہ بھی حضورﷺ پر وحی کے ذریعے سے احکام نازل ہوتے تھے (ملاحظہ ہو، کتاب ہذا میں عنوان: کیا حضورﷺ پر قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی؟)۔ رہا یہ سوال کہ اس دوسری قسم کی وحی پر ایمان لانے کا حکم کہاں دیا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس پر ایمان لانا دراصل ایمان بالرسالت کا ایک لازمی جزو ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے علاوہ اپنے رسول پر ایمان لانے کا جو حکم دیا ہے وہ خود اس بات کا مقتضی ہے کہ رسول جو ہدایت وتعلیم بھی دیں اس پر ایمان لایا جائے، کیوں کہ وہ من جانب اللّٰہ ہے۔مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۝۰ۚ النساء80:4 ’’جس نے رسولﷺ کی اطاعت کی اس نے اللّٰہ کی اطاعت کی۔‘‘ وَاِنْ تُطِيْعُوْہُ تَہْتَدُوْاالنور54:24 ’’اگر تم اس کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پائو گے۔‘‘اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ ہَدَى اللہُ فَبِہُدٰىہُمُ اقْتَدِہْ۝۰ۭ الانعام90:6 ’’یہ انبیا وہ لوگ ہیں جن کو اللّٰہ نے ہدایت دی ہے، پس تم ان کی ہدایت کی پیروی کرو‘‘۔
شاید ڈاکٹر صاحب کو معلوم نہیں ہے کہ متعدد انبیا ایسے گزرے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں کی گئی۔ کتاب تو کبھی نبی کے بغیر نہیں آئی، لیکن نبی کتاب کے بغیر بھی آئے ہیں اور لوگ ان کی تعلیم وہدایت پر ایمان لانے اور اس کا اتباع کرنے پر اسی طرح مامور تھے جس طرح کتاب اللّٰہ پر ایمان لانے اور اس کا اتباع کرنے کا انھیں حکم دیا گیا تھا۔ خود کتاب لانے والے انبیا(علیھم السلام) پر بھی اول روز ہی سے وحی متلو نازل ہونا کچھ ضروری نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات کا نزول اس وقت شروع ہوا جب وہ فرعون کے غرق ہو جانے کے بعد بنی اسرائیل کو لے کر طور کے دامن میں پہنچے۔ (ملاحظہ ہو: سورۂ اعراف رکوع ۱۶۔۱۷، آیات ۱۴۲۔۱۵۱، سورۂ قصص آیات ۴۰۔ ۴۳)
زمانۂ قیام مصر میں ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی تھی، لیکن اس کے باوجود فرعون اور مصر کا ہر باشندہ ان باتوں پر ایمان لانے کے لیے مامور تھا جنھیں وہ اللّٰہ کی طرف سے پیش کرتے تھے، حتّٰی کہ انھی پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے وہ اپنے لشکروں سمیت مستحق عذاب ہوا۔
منکرین حدیث کو اگر اس چیز کے ماننے سے انکار ہے تو میں ان سے پوچھتا ہوں کہ قرآن کی موجودہ ترتیب کے من جانب اللّٰہ ہونے پر آپ ایمان رکھتے ہیں یا نہیں؟ قرآن میں خود اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ یہ کتاب پاک بیک وقت ایک مرتب کتاب کی شکل میں نازل نہیں ہوئی ہے، بلکہ اسے مختلف اوقات میں بتدریج تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا گیا ہے (بنی اسرائیل۱۷: ۱۰۶، الفرقان۲۵:۳۲)۔ دوسری طرف قرآن ہی میں یہ صراحت بھی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اسے مرتب کرکے پڑھوا دینے کا ذمہ خود لیا تھا۔ اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗo فَاِذَا قَرَاْنٰہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗo القیامہ 17-18:75 اس سے قطعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کی موجودہ ترتیب براہ راست اللّٰہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت ہوئی ہے، نبیﷺ نے اسے اپنی مرضی سے خود مرتب نہیں کر لیا ہے۔ اب کیا کسی شخص کو قرآن میں کہیں یہ حکم ملتا ہے کہ اس کی سورتوں کو اس ترتیب کے ساتھ پڑھا جائے اور اس کی متفرق آیتوں کو کہاں کس سیاق وسباق میں رکھا جائے؟ اگر قرآن میں اس طرح کی کوئی ہدایت نہیں ہے، اور ظاہر ہے کہ نہیں ہے، تو لامحالہ کچھ خارج از قرآن ہدایات ہی حضورﷺ کو اللّٰہ تعالیٰ سے ملی ہوں گی جن کے تحت آپ نے یہ کتاب پاک اس ترتیب سے خود پڑھی اور صحابہ کرامؓ کو پڑھوائی۔ مزید برآں اسی سورۂ قیامہ میں اللّٰہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَہٗo القیامہ 19:75 ’’پھر اس کا مطلب سمجھانا بھی ہمارے ذمے ہے۔‘‘ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کے احکام وتعلیمات کی جو تشریح وتعبیر حضورﷺ اپنے قول وعمل سے کرتے تھے وہ آپ کے اپنے ذہن کی پیداوار نہ تھی، بلکہ جو ذات پاک آپ پر قرآن نازل کرتی تھی وہی آپ کو اس کا مطلب بھی سمجھاتی تھی اور اس کے وضاحت طلب امور کی وضاحت بھی کرتی تھی۔ اسے ماننے سے کوئی ایسا شخص انکار کیسے کر سکتا ہے جو قرآن پر ایمان رکھتا ہو۔

۳۸۔ کیا وحی غیر متلو بھی جبریل ہی لاتے تھے؟

اعتراض: آپ نے لکھا ہے کہ قرآن کریم میں صرف وہی وحی درج ہے جو حضرت جبریل کی وساطت سے حضورﷺ پر نازل ہوئی تھی۔ پہلے تو یہ فرمائیے کہ آپ کو یہ کہاں سے معلوم ہو گیا کہ رسول اللّٰہ کی طرف کوئی وحی حضرت جبریل کی وساطت کے بغیر بھی آتی تھی؟ دوسرے غالباً آپ کو اس کا علم نہیں کہ جس وحی کو آپ جبریل کی وساطت کے بغیر وحی کہتے ہیں (یعنی حدیث) اس کے متعلق حدیث کو وحی ماننے والوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اسے بھی جبریل لے کر اسی طرح نازل ہوتے تھے جس طرح قرآن کو لے کر ہوتے تھے (ملاحظہ فرمائیے جامع بیان العلم) اس لیے آپ کا یہ بیان خود آپ کے گروہ کے نزدیک بھی قابل قبول نہیں۔
جواب: یہ عجیب مرض ہے کہ جس بات کا ماخذ بار بار بتایا جا چکا ہے اسی کے متعلق پوچھا جاتا ہے کہ اس کا مآخذ کیا ہے۔ سورۂ شورٰی کی آیت ۵۱ جس پر ابھی ڈاکٹر صاحب خود بحث کر آئے ہیں اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ انبیا پر وحی جبریل کی وساطت کے بغیر بھی نازل ہوتی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے جامع بیان العلم کی شکل بھی نہیں دیکھی ہے اور یوں ہی کہیں سے اس کا حوالہ نقل کر دیا ہے۔ اس کتاب میں تو حسان بن عطیہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ کَانَ الْوَحْیُ یَنْزِلُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیَحْضُرُہ‘ جِبْرِیْلُ بالسنۃ الَّتِیْ تُفْسِرُ ذَالِکَ۔ یعنی رسول اللّٰہ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی اور جبریل آ کر اس کی توضیح کرتے اور اس پر عمل کا طریقہ بتاتے تھے‘‘۔ اس سے یہ مطلب کہاں نکلا کہ ہر وحی جبریل ہی لاتے تھے؟ اس سے تو صرف یہ بات نکلتی ہے کہ جبریل قرآن کے سوا دوسری وحیاں بھی لاتے تھے۔ جبریل بھی لاتے‘ اور جبریل ہی لاتے کا فرق سمجھنا کوئی بڑا مشکل کام نہیں ہے۔

۳۹۔ کتاب اور حکمت ایک ہی چیز یا الگ الگ

اعتراض: آپ نے یہ دلیل دی ہے کہ خدا نے ’’کتاب وحکمت‘‘ دونوں کو منزّل من اللّٰہ کہا ہے۔ کتاب سے مراد قرآن ہے اور حکمت سے مراد سُنّت یا حدیث۔ آپ کی اس قرآن دانی پر جس قدر بھی ماتم کیا جائے، کم ہے۔ بندہ نواز، کتاب وحکمت میں واو عطف کی نہیں (جس کے معنی ’’اور‘‘ ہوتے ہیں‘) یہ وائو تفسیری ہوتی ہے۔ اس کا ثبوت خود قرآن میں موجود ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن کو خود حکیم (حکمت والا) کہا ہے۔ يٰسۗo وَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِo یٰسین 1-2:36 دوسری جگہ الکتٰب کو الحکیم کہا ہے۔ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ لقمان 2:31
جواب: منکرین حدیث اس غلط فہمی میں ہیں کہ حرف وائو کے معنی لینے میں آدمی کو پوری آزادی ہے، جہاں چاہے اسے عاطفہ قرار دے لے اور جہاں چاہے تفسیری کہہ دے، لیکن انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ عربی زبان ہی میں نہیں، کسی زبان کے ادب میں بھی الفاظ کے معنی متعین کرنے کا معاملہ اس طرح الل ٹپ نہیں ہے۔ وائو کو تفسیری صرف اسی صورت میں قرار دیا جا سکتا ہے جب کہ دو لفظ جن کے درمیان یہ حرف آیا ہو، باہم مترادف المعنی ہوں، یا قرینے سے یہ معلوم ہو رہا ہو کہ قائل انھیں مترادف قرار دینا چاہتا ہے۔ یہی اردو زبان میں لفظ ’’اور‘‘ کے استعمال کا طریقہ ہے کہ اسے تفسیری صرف اسی وقت قرار دیا جا سکتا ہے جب کہ وہ دو ہم معنی الفاظ کے درمیان آئے۔ جیسے کوئی شخص کہے ’’یہ جھوٹ اور افترا ہے۔‘‘ لیکن جہاں یہ صورت نہ ہو وہاں وائو کا استعمال یا تو دو الگ الگ چیزوں کو جمع کرنے کے لیے ہو گا، یا عام کو خاص پر، یا خاص کو عام پر عطف کرنے کے لیے ہو گا۔ ایسے مقامات پر وائو کے تفسیری ہونے کا دعوٰی بالکل مہمل ہے۔
اب دیکھیے! جہاں تک عربی زبان کا تعلق ہے اس کی رو سے تو ظاہر ہی ہے کہ کتاب اور حکمت مترادف الفاظ نہیںہیں، بلکہ دونوں دو الگ معنوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ رہا قرآن، تو اس کے استعمالات سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حکمت کو وہ کتاب کا ہم معنی قرار دیتا ہے۔ سورۂ نحل میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃِ 125:16 ’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت کے ساتھ دعوت دو‘‘ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ساتھ دعوت دو؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق سورۂ زخرف میں فرمایا: قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَۃِ 63:43 ’’اس نے کہا میں تمھارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں‘‘ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کتاب لے کر آیا ہوں؟ سورۂ بقرہ میں ارشاد ہوا ہےوَمَنْ يُّؤْتَ الْحِكْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيْرًا۝۰ۭ269:2 ’’جسے حکمت دی گئی اسے بڑی دولت دے دی گئی۔‘‘کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے کتاب دی گئی؟ سورۂ لقمان میں حکیم لقمان کے متعلق فرمایا: وَلَقَدْ اٰتَيْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَۃَ 12:31 ’’ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی‘‘ کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ کتاب عطا کی تھی؟
دراصل قرآن میں کہیں بھی کتاب بول کر حکمت مراد نہیں لی گئی ہے اور نہ حکمت بول کر کتاب مراد لی گئی ہے۔ کتاب کا لفظ جہاں بھی آیا ہے، آیات الٰہی کے مجموعے کے لیے آیا ہے اور حکمت کا لفظ جہاں بھی آیا ہے، اس دانائی کے معنی میں آیا ہے جس سے انسان حقائق کے سمجھنے اور فکر وعمل میں صحیح رویہ اختیار کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ یہ چیز کتاب میں بھی ہو سکتی ہے، کتاب کے باہر بھی ہو سکتی ہے، اور کتاب کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے۔ کتاب کے لیے جہاں ’’حکیم‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اس کے معنی یہ تو ضرور ہیں کہ کتاب کے اندر حکمت ہے، مگر یہ معنی نہیں ہیں کہ کتاب خود حکمت ہے یا حکمت صرف کتاب میں ہے اور اس کے باہر کوئی حکمت نہیں ہے۔
لہٰذا رسول اللّٰہ ﷺ پرکتاب اور حکمت نازل ہونے کا یہ مطلب لینا درست نہیں ہو گا کہ حضورﷺ پر صرف کتاب نازل کی گئی، بلکہ اس کے صحیح معنی یہ ہوں گے کہ آپ پر کتاب کے ساتھ وہ دانائی بھی نازل کی گئی جس سے آپ اس کتاب کا منشا ٹھیک ٹھیک سمجھیں اور انسانی زندگی میں اس کو بہترین طریقے سے نافذ کرکے دکھا دیں۔ اسی طرح یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ کے معنی یہ ہرگز نہیں ہیں کہ آپ صرف کتاب کے الفاظ پڑھوا دیں، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ لوگوں کو کتاب کا مطلب سمجھائیں اور انھیں اس دانش مندی کی تعلیم وتربیت دیں جس سے لوگ دُنیا کے نظامِ زندگی کو کتاب اللّٰہ کے منشا کے مطابق ڈھالنے کے قابل ہو جائیں۔

۴۰۔ لفظ تلاوت کے معنی

اعتراض: قرآن ہی کے حکمت ہونے کے تمام دلائل سے بڑھ کر وہ دلیل ہے جو سورۂ احزاب کی اس آیت میں موجود ہے جسے آپ نے خود درج کیا ہے اور جس کے متعلق آپ نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ آپ کیا فرما رہے ہیں۔ وہ آیت ہے وَاذْکُرْنَ مَایُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیَاتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ 33:34 آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس وحی کو جو قرآن میں درج ہے آپ وحی متلو اور خارج از قرآن وحی کو وحی غیر متلو قرار دیا کرتے ہیں۔ اس آیت میں حکمت کو بھی ’’ما یُتْلٰی‘‘کہا گیا ہے۔ لہٰذا حکمت سے مراد وحی متلو ہے،وحی غیر متلو نہیں۔ دوسرے مقامات میں قرآن کو متلو کہا گیا ہے۔ مثلاً سورہ کہف میں ہے وَاتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ 27:18 دوسری جگہ ہے وَاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ… اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْآنَ 92:27 علاوہ ازیں قرآن کے متعدد مقامات میں یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیَاتِہٖ کے الفاظ آئے ہیں۔ احادیث کی تلاوت کا ذکر کہیں نہیں آیا۔ اس لیے سورۂ احزاب میں جس حکمت کی تلاوت کا ذکر ہے اس سے مراد قرآن ہی ہے۔
جواب: یہ استدلال بھی بے علمی اور کم فہمی پر مبنی ہے۔ لفظ تلاوت کو ایک اصطلاح کے طور پر صرف ’’تلاوت کتاب اللّٰہ‘‘ کے معنی میں مخصوص کرنا، بعد کے اہل علم کا فعل ہے جس کی بِنا پروحی متلو اور وحی غیر متلو کی اصطلاحات وضع کی گئی ہیں۔ قرآن میں تلاوت کا لفظ مجرد پڑھنے کے معنی میں آیا ہے، اصطلاح کے طور اسے صرف آیات کتاب کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ اگر اس میں کچھ شک ہو تو سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۱۰۲ ملاحظہ فرما لیں:
وَاتَّبَعُوْا مَاتَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰی مُلْکِ سُلَیْمٰنَ
اور انھوں نے پیروی کی اس چیز کی جسے شیاطین تلاوت کیا کرتے تھے سلیمان کی بادشاہی کے دور میں۔

۴۱۔ کتاب کے ساتھ میزان کے نزول کا مطلب

سوال: آپ فرماتے ہیں:
پھر قرآن مجید ایک اور چیز کا بھی ذکر کرتا ہے جو اللّٰہ نے کتاب کے ساتھ نازل کی ہے، اور وہ ہے المیزان یعنی راہ نُمائی کی صلاحیت۔ ظاہر ہے کہ یہ تیسری چیز نہ رسول اللّٰہﷺ کے اقوال میں شامل ہے نہ افعال میں۔ بالفاظ دیگر جس طرح رسول اللّٰہ کے اقوال اور افعال قرآن سے الگ تھے اسی طرح حضور ﷺ کے اقوال وافعال اس آسمانی راہ نُمائی سے بھی الگ تھے جسے المیزان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنْ۔
حیرت ہے کہ آپ نے سورۂ حدید کی آیت ۲۵ کا اتنا ہی حصہ کیوں نقل فرمایا، جس میں کتاب اور میزان کا ذکر ہے اور اس ٹکڑے کا ذکر کیوں نہ کیا جس میں کہا گیا ہے: وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ (اور ہم نے لوہا بھی نازل کیا)اس سے تو ظاہر ہے کہ کتاب اور میزان کے ساتھ چوتھی چیز الحدید بھی اسی طرح منزّل من اللّٰہ ہے۔
جواب: اگر یہ بحث محض برائے بحث نہ ہوتی تو یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہ تھا کہ رسول اللّٰہ ﷺ کی سیرت پاک اور آپﷺ کے اقوال وافعال میں ہر معقول آدمی کو خدا کی عطا کردہ حکمت اور میزان عدل کے آثار صاف نظرآتے ہیں۔ یہاں یہ بحث پیدا کرنا کہ جب حکمت حضورﷺ کے اقوال وافعال پر مشتمل تھی تو یہ میزان آپ کے اقوال وافعال سے باہر ہونی چاہیے درحقیقت کج بحثی کی بد ترین مثال ہے۔ ایک شخص کے اقوال وافعال میں بیک وقت دانش مندی بھی پائی جا سکتی ہے اور توازن بھی۔ کیا ان دونوں چیزوں میں کوئی ایسا تضاد ہے کہ ایک چیز موجود ہو تو دوسری اس کے ساتھ موجود نہ ہو سکے؟ انھی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ منکرین حدیث کس درجہ کج فہم اور کج بحث واقع ہوئے ہیں۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ میزان سے میری مراد محض راہ نُمائی کی عام صلاحیت نہیں، بلکہ وہ صلاحیت ہے جس سے نبی ﷺ نے کتاب اللّٰہ کے منشا کے مطابق افراد اور معاشرے اور ریاست میں نظام عدل قائم کیا۔
رہا الحدید والا اعتراض، تو ناظرین براہ کرم خود سورۂ حدید کی آیت ۲۵ کو پڑھ کر دیکھ لیں۔ اس میں کتاب اور میزان کے متعلق تو فرمایا گیا ہے اَنْزَلْنَا مَعَھُمْ (ہم نے یہ دونوں چیزیں انبیا ﷺ کے ساتھ نازل کیں)۔ لیکن حدید کے متعلق صرف یہ فرمایاکہ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ (اور ہم نے لوہا اتارا)۔ اس لیے اس کا شمار ان چیزوں میں نہیں کیا جا سکتا جو خصوصیت کے ساتھ انبیاﷺ کو دی گئی ہیں۔ ’’لوہا‘‘ تو عادل اور ظالم سب استعمال کرتے ہیں۔ یہ خصائص انبیا ﷺ میں سے نہیں ہے، البتہ ان کی اصل خصوصیت یہ ہے کہ وہ اس طاقت کو کتاب اور میزان کا تابع رکھ کر استعمال کرتے ہیں۔ رہا لوہے کا مُنَزّل مِنَ اللّٰہ ہونا، تو منکرین حدیث کے لیے یہ بڑی عجیب بات ہے مگر قرآن کے صاف الفاظ یہی ہیں کہ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ ’’ہم نے لوہا اتارا۔‘‘

۴۲۔ ایک اور کج بحثی

اعتراض: آگے چل کر آپ فرماتے ہیں ’’پھر قرآن ایک تیسری چیز کی بھی خبر دیتا ہے جو کتاب کے علاوہ نازل کی گئی تھی۔‘‘ اس کے لیے آپ نے حسب ذیل تین آیات درج فرمائی ہیں:
۱۔ فَاٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالنُّوْرِ الَّذِيْٓ اَنْزَلْنَا۝۰ۭ التغابن64:8
پس ایمان لائو اللّٰہ اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے۔
۲۔ فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ۝۰ۙ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَo الاعراف157:7
پس جو لوگ ایمان لائیں اس رسول(ﷺ) پر اور اس کی تعظیم وتکریم کریں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کے پیچھے چلیں جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ وہی فلاح پانے والے ہیں۔
۳۔ قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌo يَّہْدِيْ بِہِ اللہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ سُـبُلَ السَّلٰمِ المائدہ 15-16:5
تمھارے پاس آ گیا ہے نور اور کتاب مبین، جس کے ذریعے سے اللّٰہ تعالیٰ ہر اس شخص کو جو اس کی مرضی کی پیروی کرنے والا ہے، سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے۔
پہلی آیت میں اللّٰہ اور رسول اور النور پر ایمان لانے کا حکم ہے۔ کیا آپ کے خیال کے مطابق اللّٰہ اور رسول کے علاوہ ایمان لانے کا حکم نہ کتاب پر ہے نہ حکمت پر، نہ میزان پر بلکہ صرف چوتھی چیز پر ہے جسے آپ کتاب وحکمت ومیزان سے الگ قرار دیتے ہیں۔ دوسری آیت میں رسول اللّٰہ پر ایمان لانے کا ذکر ہے اور النور کے اتباع کا حکم یعنی اس میں کتاب اور حکمت کے اتباع کا حکم نہیں۔ یعنی آپ کے اس استدلال کے مطابق اگر کوئی شخص قرآن پر ایمان نہیں لاتا، صرف النور پر ایمان لاتا ہے اوروہ قرآن کا اتباع بھی نہیں کرتا صرف النور کا اتباع کرتا ہے وہ مومنین اور مفلحین کے زمرے میں داخل ہو گا۔ یہ النور کیا ہے؟ اس کی وضاحت میں آپ فرماتے ہیں: ’’اس سے مراد وہ علم ودانش اور وہ بصیرت وفراست ہی ہو سکتی ہے جو اللّٰہ نے حضورﷺ کو عطا فرمائی تھی۔‘‘ چلو قرآن پر ایمان لانے اوراس کا اتباع کرنے سے تو چھٹی پائی، بلکہ حضورﷺ کے اقوال وافعال کی اطاعت سے بھی، کیوں کہ ان آیات میں صرف النور کا ذکر ہے۔
جواب: یہ کج بحثی کی ایک اور دل چسپ مثال ہے۔ منکرین حدیث نے کبھی سوچ سمجھ کر قرآن پڑھا ہوتا تو انھیں اس کتاب کے اندازِ بیان کا پتہ لگا ہوتا۔ قرآن مختلف مقامات پر موقع ومحل کی مناسبت سے اپنی تعلیم کے مختلف اجزا کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ مثلاً کہیں وہ صرف ایمان باللّٰہ کے نتیجے میں جنت کی بشارت دیتا ہے۔ کہیں صرف آخرت کے اقرار وانکار کو مدارِ فلاح وخسران بتاتا ہے۔ کہیں خدا اور یوم آخر پر ایمان کا ثمرہ یہ بتاتا ہے کہ لَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ۔کہیں صرف رسول پر ایمان لانے کو موجب فلاح ٹھیراتا ہے۔ اسی طرح اعمال میں کبھی کسی چیز کو نجات کا ذریعہ قرار دیتا ہے اور کبھی کسی دوسری چیز کو۔ اب کیا یہ ساری آیات ایک دوسرے سے اسی طرح ٹکرائی جائیں گی اور ان سے یہ نتیجہ برآمد کیا جائے گا کہ ان میں تضاد ہے؟ حالانکہ ذرا سی عقل بھی یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ ان تمام مقامات پر قرآن نے ایک بڑی حقیقت کے مختلف پہلوئوں کو حسب موقع الگ الگ نمایاں کرکے پیش کیا ہے اور ان پہلوئوں میں سے کوئی کسی دوسرے پہلو کی نفی نہیں کرتا۔ جو شخص بھی رسول اللّٰہ ﷺ پر ایمان لائے گا اور اس روشنی کے پیچھے چلنا قبول کر لے گا جسے رسول پاکﷺ لائے ہیں وہ آپ سے آپ قرآن کو بھی مانے گا اور حضورﷺ کی سکھائی ہوئی حکمت ودانش سے بھی بہرہ مند ہونے کی کوشش کرے گا۔ قرآن کا انکار کرنے والے کے متعلق یہ تصور ہی کیسے کیا جا سکتا ہے کہ وہ نور رسالت کا متبع ہے۔

۴۳۔ تحویلِ قبلہ والی آیت میں کون سا قبلہ مراد ہے؟

اعتراض: آپ نے تحویل قبلہ والی آیت اور اس کا ترجمہ یوں لکھا ہے: وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِىْ كُنْتَ عَلَيْہَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰي عَقِبَيْہِ۝۰ۭ
البقرہ 143:2
اور ہم نے وہ قبلہ جس پر اب تک تم تھے، اسی لیے مقرر کیا تھا تاکہ یہ دیکھیں کہ کون رسولﷺ کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پائوں پھر جاتا ہے۔
اس کے متعلق آپ لکھتے ہیں کہ:
مسجد حرام کو قبلہ قرار دینے سے پہلے مسلمانوں کا جو قبلہ تھا اُسے قبلہ بنانے کا کوئی حکم قرآن میں نہیں آیا۔ اگر آیا ہو تو آپ اُس کا حوالہ دے دیں۔‘‘
اگر اس کے متعلق خدا کی طرف سے کوئی حکم آیا ہوتا تو ضرور قرآن میں ہوتا لیکن جب حکم آیا ہی نہیں تھا تو میں اس کا حوالہ قرآن سے کیسے دوں؟ آپ نے پہلے یہ فرض کر لیا ہے کہ پہلے قبلے کو خدا نے مقرر کیا تھا اور اس کے بعد آپ اس آیت کا ترجمہ اسی مفروضے کے مطابق کرتے ہیں۔ اس آیت میں کُنْتَ کے معنی ’’تو تھا‘‘ نہیں۔ اس کے معنی ہیں ’’تو ہے‘‘ یعنی ’’ہم نے وہ قبلہ جس پر تو ہے اس لیے مقرر کیا تاکہ یہ دیکھیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پائوں پھر جاتا ہے۔‘‘ ان معانی کی تائید خود قرآن سے ہوتی ہے۔‘‘
جواب: اس آیت میں کُنْتَ کے معنی ’’تو ہے‘‘ صرف اس بنیاد پر کر ڈالے گئے ہیں کہ عربی زبان میں کَانَ کبھی کبھی ’’تھا‘‘ کے بجائے ’’ہے‘‘ کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے۔ لیکن جس شخص نے بھی سورۂ بقرہ کا وہ پورا رکوع کبھی سمجھ کر پڑھا ہو جس میں یہ آیت وارد ہوئی ہے، وہ یہاں کُنْتَ کے معنی ’’تو ہے‘‘ ہرگز نہیں لے سکتا، کیوں کہ مضمون ماسبق ومابعد یہ معنی لینے میں مانع ہے۔ رکوع کی ابتدا اس آیت سے ہوتی ہے: سَیَقُوْلُ السُّفَھَائُ مِنَ النَّاسِ مَاوَلّٰھُمْ عَنْ قِبْلَتِھِمُ الَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْھَا البقرہ 142:2 ’’نادان لوگ ضرور کہیں گے کہ کس چیز نے پھیر دیا، ان کو ان کے اس قبلے سے جس پر یہ تھے۔‘‘یہاں کَانُوْا کا ترجمہ ’’یہ ہیں‘‘ کسی طرح بھی نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ ’’کس چیز نے پھیر دیا‘‘ کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ پہلے مسلمان کسی اور قبلے کی طرف رخ کرتے تھے، اب اسے چھوڑ کر دوسرے قبلے کی طرف رخ پھیرنے والے ہیں، اور اسی بِنا پر مخالفین کی طرف سے اس اعتراض کا موقع پیدا ہو رہا ہے کہ اپنے پہلے قبلے سے کیوں پھر گئے۔ اس کے بعد اللّٰہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ اگر مخالفین یہ اعتراض کریں تو اس کا جواب کیا ہے۔ اس سلسلے میں دوسری باتوں کے ساتھ یہ فقرہ ارشاد فرمایا جاتا ہے: وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَا اِلَّا… ’’اور ہم نے وہ قبلہ جس پر تم تھے، نہیں مقرر کیا گیا مگر اس لیے کہ…‘‘ یہاں کُنْتَ عَلَیْھَا سے مراد بعینہٖ وہی چیز ہے جس کے متعلق اوپر کی آیت میں کَانُوْا عَلَیْھَا فرمایا گیا ہے۔ اس کے معنی ’’تو ہے‘‘ کسی طرح بھی نہیں لیے جا سکتے۔ سابقہ آیت قطعی طور پر اس کے معنی ’’تو تھا‘‘ متعین کر دیتی ہے۔ اس کے بعدتیسری آیت میں تحویل قبلہ کا حکم اس طرح دیا جاتا ہے: قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْہِكَ فِي السَّمَاۗءِ۝۰ۚ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَۃً تَرْضٰىھَا۝۰۠ فَوَلِّ وَجْہَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۝۰ۭ البقرہ 144:2 ’’ہم دیکھ رہے ہیں تمھارے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا۔ پس ہم پھیرے دیتے ہیں تم کو اس قبلے کی طرف جسے تم چاہتے ہو، اب موڑ دو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف۔‘‘ ان الفاظ سے صاف نقشہ نگاہ کے سامنے یہ آتا ہے کہ پہلے مسجد حرام کے سوا کسی اورقبلے کی طرف رخ کرنے کا حکم تھا۔ رسول اللّٰہ ﷺ یہ چاہتے تھے کہ اب وہ قبلہ بدل دیا جائے۔ اس لیے آپ بار بار آسمان کی طرف منہ اُٹھاتے تھے کہ کب تبدیلیٔ قبلہ کا حکم آتا ہے۔ اس حالت میں فرمان آ گیا کہ لو اب ہم اس قبلے کی طرف تمھیں پھیرے دیتے ہیں جسے تم قبلہ بنانا چاہتے ہو۔ پھیر دو اپنا رخ مسجد حرام کی طرف۔ اس سیاق وسباق میں آیت وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَا الخ کو رکھ کر دیکھا جائے تو ان الٹی سیدھی تاویلات کی کوئی گنجائش نہیں رہتی، جو ڈاکٹر صاحب نے یہاں پیش فرمائی ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ صاف فرما رہا ہے کہ مسجد حرام سے پہلے جو قبلہ تھا، وہ بھی ہمارا ہی مقرر کیا ہوا تھا اور ہم نے اسے اس لیے مقرر کیا تھا کہ یہ دیکھیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اس سے روگردانی کرتا ہے۔

۴۴۔ قبلے کے معاملے میں رسولﷺ کی پیروی کرنے یا نہ کرنے کا سوال کیسے پیدا ہوتا تھا؟

اعتراض: اگر تسلیم کیا جائے کہ پہلا قبلہ خدا نے مقرر کیا تھا تو اس ٹکڑے کے کچھ معنی ہی نہیں بنتے کہ ’’ہم نے یہ اس لیے کیا تھا تاکہ یہ دیکھیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پائوں پھر جاتا ہے۔‘‘ اس لیے کہ پہلے قبلے کے تعین کے وقت کسی کا الٹے پائوں پھر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ حضورﷺ ایک قبلے کی طرف رخ کرتے تھے۔ جو شخص حضورﷺ کے ساتھ شریک ہوتا تھا وہ بھی اسی طرف رخ کر لیتا تھا۔ ’’الٹے پائوں پھرنے‘‘ کا سوال اس وقت پیدا ہوا جب اس قبلے میں تبدیلی کی گئی۔ اس وقت اس کے پرکھنے کا موقع آیا کہ کون اسی پہلے قبلے کو زیادہ عزیز رکھتا ہے اور کون رسولﷺ کے اتباع میں (جس نے بحکم خداوندی یہ تبدیلی کی ہے)نئے قبلے کی طرف رخ کرتا ہے۔
جواب: یہ محض قلت فہم اور قلت علم کا کرشمہ ہے۔ منکرین حدیث کو یہ معلوم نہیں ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں کعبہ تمام اہل عرب کے لیے مقدس ترین تیرتھ({ FR 7140 }) کی حیثیت رکھتا تھا۔ اِسلام میں ابتدائً جب اس کے بجائے بیت المقدس کو قبلہ بنایا گیا تھا تو یہ عربوں کے لیے سخت آزمائش کا موقع تھا۔ ان کے لیے اپنے مرکزی معبد کو چھوڑ کر یہودیوں کے معبد کو قبلہ بنانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ اسی کی طرف آیت زیر بحث کا یہ فقرہ اشارہ کرتا ہے کہ وَاِنْ كَانَتْ لَكَبِيْرَۃً اِلَّا عَلَي الَّذِيْنَ ھَدَى اللہُ۝۰ۭ وَمَا كَانَ اللہُ لِـيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ۝۰ۭ البقرہ143:2 ’’اگرچہ وہ قبلہ سخت گراں تھا، مگر ان لوگوں پر نہیں، جنھیں اللّٰہ نے ہدایت بخشی تھی، اور اللّٰہ تمھارے اس ایمان کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔‘‘ ان الفاظ سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس قبلے کے معاملے میں الٹے پھر جانے کا سوال کیوں پیدا ہوتا تھا۔ مزید برآں یہی الفاظ اس حقیقت کو بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جو حکم قرآن میں نہیں آیا تھا، بلکہ رسول پاکﷺ کے ذریعے سے پہنچایا گیا تھا، اسی کے ذریعے سے لوگوں کے ایمان کی آزمائش کی گئی تھی۔ اس حکم کی پیروی جن لوگوں نے کی، انھی کے متعلق اللّٰہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ہم تمھارے اس ایمان کو ضائع کرنے والے نہیں ہیں۔ کیا اب بھی اس امر میں کسی شک کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ غیر از قرآن بھی رسول کے پاس کوئی حکم بذریعہ وحی آ سکتا ہے اور اس پر بھی ایمان کا مطالبہ ہے؟

۴۵۔ نبی پر خود ساختہ قبلہ بنانے کا الزام

اعتراض: یہ بات کہ اس نئے قبلے کا حکم ہی خدا کی طرف سے آیا تھا، پہلے قبلے کا نہیں، دو ہی آیات کے بعد قرآن نے واضح کر دی، جہاں کہا ہے کہ: وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ۝۰ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِـمِيْنَo البقرہ 145:2 یعنی اگر تو العلم آ جانے کے بعد ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع کرے گا تو تُو اس وقت بے شک ظالموں میں سے ہو جائے گا۔ اس سے صاف واضح ہے کہ العلم (یعنی وحی خداوندی) نئے قبلے کے لیے آئی تھی۔ اگر پہلا قبلہ بھی العلم کے مطابق مقرر ہوتا تو یہاں یہ کبھی نہ کہا جاتا کہ العلم کے آنے کے بعد تم پہلے قبلے کی طرف رخ نہ کرنا۔
جواب: مجھے شکایت تھی کہ منکرین حدیث میری عبارتوں کو توڑ مروڑ کر میرے ہی سامنے پیش فرماتے ہیں، مگر اب کیا اس کی شکایت کی جائے۔ جو لوگ اللّٰہ تعالیٰ کی آیات کو توڑ مروڑ کر ان کے من مانے مطلب نکالنے میں اس قدر بے باک ہوں ان کے سامنے ماوشما کی کیا ہستی ہے۔ جس آیت کا آخری ٹکڑا نقل کرکے اس سے یہ مطلب نچوڑا جا رہا ہے اس پوری آیت اور اس سے پہلے کی آیت کے آخری فقرے کو ملا کر پڑھیئے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ منکرین حدیث قرآن مجید کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔ بیت المقدس کو چھوڑ کر جب مسجد حرام کو قبلہ بنایا گیا تو یہودیوں کے لیے اسی طرح طعن وتشنیع کا موقع پیدا ہو گیا جس طرح قبلۂ سابق پر اہل عرب کے لیے پیدا ہوا تھا۔اس سلسلے میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَيَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَـقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ۝۰ۭ وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَo وَلَىِٕنْ اَتَيْتَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَۃٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ۝۰ۚ وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــــعٍ قِبْلَتَہُمْ۝۰ۚ وَمَا بَعْضُہُمْ بِتَابِـــعٍ قِبْلَۃَ بَعْضٍ۝۰ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ۝۰ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِـمِيْنَo
البقرہ 144-145:2
اہل کتاب خوب جانتے ہیں کہ یہ (یعنی مسجد حرام کو قبلہ بنانا) حق ہے، ان کے رب کی طرف سے، اور جو کچھ و ہ کرتے ہیں اللّٰہ اس سے غافل نہیں ہے۔ تم خواہ کوئی نشانی ان اہل کتاب کے پاس لے آئو، یہ تمھارے قبلے کی پیروی نہ کریں گے اور تم ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو، اور نہ ان میں سے کوئی کسی کے قبلے کی پیروی کرنے والا ہے اور اگر تم نے وہ علم آ جانے کے بعد جو تمھارے پاس آیا ہے ان کی خواہشات کا اتباع کیا تو تم ظالموں میں سے ہو گے۔
اس سیاق وسباق میں جو بات کہی گئی ہے اس سے یہ مطلب آخر کیسے نکل آیا کہ پہلا قبلہ ’’العلم‘‘ کے مطابق مقرر نہیں کیا گیا تھا اور صرف یہ دوسرا قبلہ ہی اس کے مطابق مقرر کیا گیا ہے۔ اس میں تو صرف یہ کہا گیا ہے کہ جب خدا کا حکم بیت المقدس کو چھوڑ کر مسجد حرام کو قبلہ بنانے کے لیے آ گیا ہے تو اب اس العلم کے آ جانے کے بعد محض یہودیوں کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر سابق قبلے کی طرف رخ کرنا ظلم ہو گا۔ کسی منطق کی رو سے بھی اس کو یہ معنی نہیں پہنائے جا سکتے کہ پہلے جس قبلے کی طرف رخ کیا تھا وہ حضورﷺ کا خود ساختہ تھا۔ خصوصاً جب کہ اس سے پہلے کی آیتوں میں وہ کچھ تصریحات موجود ہوں جو نمبر ۴۳،۴۴ میںابھی نقل کی جا چکی ہیں۔({ FR 6824 }) نبی اکرم ﷺ پر خود ساختہ قبلہ بنانے کا الزام رکھنا ایک بدترین قسم کی جسارت ہے۔

۴۶۔ لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّؤْیَا کا مطلب

اعتراض: دوسری آیت آپ نے یہ پیش کی ہے :لَـقَدْ صَدَقَ اللہُ رَسُوْلَہُ الرُّءْيَا بِالْحَقِّ۝۰ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَاۗءَ اللہُ اٰمِنِيْنَ۝۰ۙ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَمُقَصِّرِيْنَ۝۰ۙ لَا تَخَافُوْنَ۝۰ۭ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَــعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِيْبًاo الفتح 27:48 اور اس کا ترجمہ کیا ہے ’’اللّٰہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا…‘‘ اوّل تو فرمائیے کہ آپ نے صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّؤْیَا کا ترجمہ ’’اللّٰہ نے سچا خواب دکھایا‘‘ کس قاعدے کی رو سے کیا ہے؟ صَدَقَ الرُّؤْیَا کے معنی ’’اس نے سچا خواب دکھایا‘‘ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس کے معنی ہیں ’’خواب کو سچا کر دکھایا۔‘‘ جیسے لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ وَعْدَہ ’’اللّٰہ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا۔‘‘ آپ نے خود اس کا ترجمہ ’’پورا کر دیا‘‘ کیے ہیں۔ یہ نہیں کیے کہ اللّٰہ نے تم سے سچا وعدہ کیا۔
جواب: صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّوْیَا کے معنی ’’اللّٰہ نے رسول کا خواب سچا کر دکھایا۔‘‘ کسی طرح بھی نہیں ہو سکتے۔ یہ بات کہنی ہوتی تو صَدَقَ اللّٰہُ رُؤْیَا الرَّسُوْلِ کہا جاتا نہ کہ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّوْیَا۔اس فقرے میں صدق کے دو مفعول ہیں۔ ایک: رسولﷺ جسے خوا ب دکھایا گیا۔ دوسرا خواب جو سچا تھا، یا جس میں سچی بات بتائی گئی تھی۔ اس لیے لامحالہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اللّٰہ نے اپنے رسولﷺ کو سچا خواب دکھایا، یا اس کو خواب میں سچی بات بتائی۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے عربی میں کوئی کہے صَدَقَنِیَ الْحَدِیْثَ۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اس نے مجھ سے سچی بات کہی، نہ یہ کہ اس نے جو بات مجھ سے کہی اسے سچا کر دکھایا۔
مزید برآں اگر اس فقرے کے وہ معنی لے بھی لیے جائیں جو ڈاکٹر صاحب لینا چاہتے ہیں تو اس کے بعد والا فقرہ قطعًا بے معنی ہو جاتا ہے۔ جس میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے لَتَدْخُلَنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ’’تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہو گے۔‘‘ یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ خواب میں جوبات دکھائی گئی تھی وہ ابھی پوری نہیں ہوئی ہے، اس کی سچائی ثابت ہونے سے پہلے جن لوگوں کو رسول کے خواب کی صداقت میں شبہ پیدا ہوا ہے ان کو اللّٰہ تعالیٰ یقین دلا رہا ہے کہ ہم نے سچا خواب دکھایا ہے، یہ خواب پورا ہو کر رہے گا۔ اگر ان آیات کے نزول سے پہلے وہ خواب سچا کر دکھایا گیا ہوتا تو اللّٰہ تعالیٰ لَتَدْخُلَنَّ ’’تم ضرور داخل ہو گے‘‘ کہنے کے بجائے قَدْ دَخَلْتُمْ ’’تم داخل ہو چکے ہو‘‘ فرماتااور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے، پوری سورۂ فتح جس کی ایک آیت پر یہاں کلام کیا جا رہا ہے، اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ یہ صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی ہے جب کہ مسلمان عمرہ سے روک دئیے گئے تھے اور مسجد حرام میں داخل ہونے کا واقعہ ابھی پیش نہیں آیا تھا۔ لہٰذا اس سیاق وسباق میں اس آیت کا یہ مطلب لیا ہی نہیں جا سکتا کہ اس وقت خواب پور اہو چکا تھا۔

۴۷۔ کیا وحی خواب کی صورت میں بھی ہوتی ہے؟

اعتراض: آپ نے اپنے ترجمے کی رو سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضورؐ کا یہ خواب بھی از قبیلِ وحی تھا۔ خواب کو وحی قرار دینا، وحی کی حقیقت سے بے خبری کی دلیل ہے۔
جواب: سورۃ ا لصّٰٓفّٰت کی آیت201-105 ڈاکٹر صاحب کے اس دعوے کی قطعی تردید کر دیتی ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے صاحب زادے سے فرماتے ہیں : یَا بُنَیَّ اِنِّیْ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیْ اَذْبَحُکَ۔ ’’بیٹا! مَیں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔‘‘ صاحب زادے جواب میں عرض کرتے ہیں کہ یَااَبَتِ افْعَلْ مَاتُؤْمَرُ ’’ابا جان! جو کچھ آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے کر گزرئیے۔‘‘ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ صاحب زادے نے اپنے پیغمبر باپ کے خواب کو محض خواب نہیں سمجھا، بلکہ اللّٰہ کا حکم سمجھا جو خواب میں دیا گیا تھا۔ اگر صاحب زادے نے یہ بات غلط سمجھی تھی تو اللّٰہ تعالیٰ اس کی تصریح فرما دیتا کہ ہم پیغمبروں کو خواب میں احکام نہیں دیا کرتے۔ لیکن اس کے برعکس اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا :
يّٰٓــاِبْرٰہِيْمُo قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْيَا۝۰ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِـنِيْنَo
الصفٰت 104-105:37
اے ابراہیم! تم نے خواب سچا کر دکھایا، ہم محسنوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں۔

۴۸۔ بے معنی اعتراضات اور الزامات

اعتراض: آپ نے لکھا ہے:
رسول اللّٰہ ﷺ مدینے میں خواب دیکھتے ہیں کہ آپ مکہ میں داخل ہوئے ہیں اور بیت اللّٰہ کا طواف کیا ہے۔ آپ اس کی خبر صحابہ کرامؓ کو دیتے ہیں اور پھر عمرہ ادا کرنے کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ کفار مکہ آپ کو حدیبیہ کے مقام پر روک لیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں صلح حدیبیہ واقع ہو جاتی ہے۔ بعض صحابہ اس خلجان میں پڑ جاتے ہیں اور حضرت عمرؓ ان کی ترجمانی کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ یارسول اللّٰہﷺ! کیا آپ نے ہمیں خبر نہ دی تھی کہ ہم مکہ میں داخل ہوں گے اور طواف کریں گے؟ آپ ﷺنے فرمایا: کیا میں نے یہ کہا تھا کہ اس سفر میں ایسا ہو گا؟
آپ کی اس بیان کردہ تشریح پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ (معاذ اللّٰہ)خود حضورﷺ کو اپنی وحی کا مفہوم سمجھنے میں غلطی لگ گئی تھی۔
جواب: معلوم نہیں یہ اعتراض کس جگہ سے پیدا ہو گیا کہ ’’خود حضورﷺ کو وحی کا مفہوم سمجھنے میں غلطی لگ گئی تھی۔‘‘ جو عبارت اوپر نقل کی گئی ہے اس سے تو صرف یہ مطلب نکلتا ہے کہ حضورﷺ کا خواب سن کر لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ اسی سفر میں عمرہ ہو گا اور جب وہ نہ ہو سکا تو لوگ خلجان میں پڑ گئے۔

۴۹۔ کیا آنحضورﷺ نے صحابہؓ کو دھوکا دیا تھا؟

اعتراض: جو واقعہ آپ نے شروع سے آخر تک لکھا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ (۱)رسول اللّٰہﷺ کو شروع ہی سے اللّٰہ کی طرف سے اطلاع مل گئی تھی کہ آپ اس سال روکے جائیں گے اور اگلے سال مکہ میں داخلہ ہو گا۔ (۲) رسول اللّٰہﷺ نے اس کی اطلاع صحابہؓ میں سے کسی کو نہ دی بلکہ انھیں یہ غلط تاثر دیا کہ مکہ میں داخلہ اسی سفر میں ہو گا، جبھی تو صحابہؓ خلجان میں پڑ گئے اور حضرت عمرؓ جیسے قریبی صحابی کو یہ کہنا پڑا کہ آپﷺ نے تو ہم سے کہا تھا کہ ہم مکہ میں داخل ہوں گے اور طواف کریں گے۔ کیا اس سے حضورﷺ پر یہ الزام نہیں آتا کہ آپ نے صحابہؓ کو دھوکا دیا؟
جواب: یہ بات کہاں سے نکل آئی کہ حضورﷺ نے یہ تاثر دیا تھا؟ وہ تو بعض لوگوں نے بطور خود سمجھ لیا تھا کہ عمرہ اسی سال ہو جائے گا۔ اوپر میری جو عبارت ڈاکٹر صاحب نے خود نقل کی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ جب حضورﷺ سے عرض کیا گیا کہ:کیا آپﷺ نے ہمیں خبر نہ دی تھی کہ ہم مکہ میں داخل ہوں گے اور طواف کریں گے تو حضورﷺ نے ان کو جواب دیا :کیا میں نے یہ کہا تھا کہ اسی سفر میں ایسا ہو گا۔ ظاہر ہے کہ اگر حضورﷺ نے واقعی لوگوں کو خود یہ تاثر دیا ہوتا کہ اسی سفر میں عمرہ ہو گا تو حضورﷺ ان کے جواب میں یہ بات کیسے فرما سکتے تھے؟
اس موقع پر ناظرین اس کتاب کا صفحہ۰۲ ۱۔۱۰۳ نکال کر پورا واقعہ خود دیکھ لیں کہ اصل بات کیا تھی اور اسے توڑ مروڑ کر کیا بنایا جا رہا ہے۔ رسول اللّٰہ ﷺ خواب میں دیکھتے ہیں کہ آپ مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں اور بیت اللّٰہ کا طواف کیا ہے۔ یہ خواب آپ جوں کا توں صحابہؓ کو سنا دیتے ہیں اور ان کو ساتھ لے کر عمرہ کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ اس موقع پر نہ تو حضورﷺ یہ تصریح کرتے ہیں کہ عمرہ اسی سال ہو گا اور نہ یہی فرماتے ہیں کہ اس سال نہیں ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ اس پر ’’غلط تاثر دینے‘‘ یا دھوکا دینے کا الزام کیسے عائد ہو سکتا ہے۔ فرض کیجیے کہ ایک سپہ سالار کو حکومت بالادست ایک مہم پر فوج لے جانے کا حکم دیتی ہے۔ سپہ سالار کو معلوم ہے کہ یہ مہم اس سفر میں نہیں، بلکہ اس کے بعد ایک اور سفر میں پوری ہو گی اور یہ مہم اصل مقصد کے لیے راستہ صاف کرنے کی خاطر بھیجی جا رہی ہے۔ لیکن سپہ سالار فوج پر اس کو ظاہر نہیں کرتا اور اسے صرف اتنا بتاتا ہے کہ مجھے یہ مہم انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ کیا اس کو یہ معنی پہنائے جا سکتے ہیں کہ اس نے فوج کو دھوکا دیا؟ کیا ایک سپہ سالار کے لیے واقعی یہ ضروری ہے کہ حکومت عالیہ کے پیش نظر جو اسکیم ہے وہ پوری کی پوری فوج پر پہلے ہی کھول دے اور اس بات کی کوئی پرواہ نہ کرے کہ اس کے ظاہر ہو جانے سے فوج کے عزم پر کیا اثر پڑے گا؟ اگر سپہ سالار فوج سے نہ یہ کہے کہ یہ مہم اسی سفر میں پوری کی جائے گی اور نہ یہی کہے کہ اس سفر میں پوری نہیں کی جائے گی تو اسے آخر کس قانون کی رو سے جھوٹ قرار دیا جائے گا۔

۵۰۔ کیا آنحضورﷺ اپنے خواب سے متعلق متردد تھے؟

اعتراض: جب اللّٰہ تعالیٰ نے حضورﷺکو پہلے ہی بتا رکھا تھا کہ یہ معاملہ آخر تک یوں ہو گا تو پھر صحابہؓ کے دریافت کرنے پر اللّٰہ تعالیٰ کو یہ کہنے کی ضرورت کیا پڑی تھی کہ ’’اللّٰہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا تھا، تم مسجد حرام میں ان شاء اللّٰہ ضرور داخل ہو گے۔‘‘ اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ (معاذ اللّٰہ) خود حضورﷺ کو تردّد ہو گیا تھا کہ معلوم نہیں خدا نے مجھے سچا خواب دکھایا تھا یا یوں ہی کہہ دیا تھا کہ مکے چلے جائو، تم مسجد حرام میں داخل ہو جائو گے اور اس تردّد کو دُور کرنے کے لیے خدا کو بارِ دیگر یہ یقین دلانا پڑا کہ آپ متردد نہ ہو جائیے۔ ہم نے سچا خواب دکھایا تھا۔ آپ ضرور مسجد حرام میں داخل ہوں گے۔
جواب: اعتراض کے شوق میں ڈاکٹر صاحب کو یہ ہوش بھی نہ رہا کہ ’’تم مسجد حرام میں ضرور داخل ہو گے‘‘ کا خطاب رسول اللّٰہ ﷺ سے نہیں، بلکہ مسلمانوں سے ہے۔ لَتَدْخُلُنَّ صیغۂ جمع ہے۔صلح حدیبیہ کے موقع پر جو صحابہ حضورﷺ کے ساتھ آئے تھے ان کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اپنے رسولﷺ کو سچا خواب دکھایا تھا، تم لوگ ضرور مسجدحرام میں داخل ہو گے۔

۵۱۔دروغ گویم بر رُوئے تو

اعتراض:آپ کے بیان سے حضورﷺ پر جھوٹ کا جو الزام آتا ہے یہ آپ کے لیے کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ آپ تو اپنے جھوٹوں کے جواز میں یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ’’ ایسے مواقع پر (معاذ اللّٰہ، معاذ اللّٰہ) حضورﷺ نے بھی جھوٹ بولنے کی نہ صرف اجازت دی تھی بلکہ اسے واجب قرار دیا تھا۔
جواب: یہ ’’دروغ گویم برروئے تُو‘‘({ FR 6825 }) کا مصداق ہے۔ منکرینِ حدیث جھوٹے پروپیگنڈے میں اب اس درجہ بے باک ہو چکے ہیں کہ ایک شخص کو مخاطب کرکے اس پر رُو دَر رُو جھوٹا الزام لگانے سے بھی نہیں چوکتے۔ کیا یہ لوگ میری کوئی عبارت اس بات کے ثبوت میں پیش کر سکتے ہیں کہ ’’ایسے مواقع پر خود حضورﷺ نے بھی جھوٹ بولنے کی نہ صرف اجازت دی تھی بلکہ اسے واجب قرار دیا تھا۔‘‘ دراصل میں نے اپنے ایک مضمون میں جو بات کہی ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ ’’ایسے مواقع پر‘‘ جھوٹ جائز یا واجب ہے، بلکہ یہ ہے کہ جہاں سچائی کسی بڑے ظلم میں مددگار ہوتی ہو، اور اس ظلم کو دفع کرنے کے لیے خلاف واقعہ بات کہنے کے سوا چارہ نہ ہو، وہاں سچ بولنا گناہ ہو جاتا ہے اور ناگزیر ضرورت کی حد تک خلاف واقعہ بات کہنا بعض حالات میں جائز اور بعض حالات میں واجب ہوتا ہے۔ میں نے اس کی ایک مثال بھی اسی مضمون میں دی تھی۔ فرض کیجیے کہ اِسلامی فوج کی کفار سے جنگ ہو رہی ہے اور آپ دشمن کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتے ہیں، اگر دشمن آپ سے معلوم کرنا چاہے کہ آپ کی فوج کہاں کہاں کس کس تعداد میں ہے اور آپ کے میگزین کس کس جگہ واقع ہیں، اور ایسے ہی دوسرے فوجی راز وہ دریافت کرے تو فرمائیے کہ اس وقت آپ سچ بول کر دشمن کو تمام اطلاعات صحیح صحیح بہم پہنچا دیں گے؟ ڈاکٹر صاحب اگر اس پر معترض ہیں تو وہ اب اس سوال کا سامنا کریں اور اس کا صاف صاف جوا ب عنایت فرما دیں۔

۵۲۔ رُو در رُو بہتان

اعتراض: آپ نے تو یہاں تک دردیدہ دہنی سے کام لیا ہے کہ یہ کہتے ہوئے بھی نہ شرمائے کہ جب تک حکومت حاصل نہیں ہوئی تھی اس وقت تک حضورﷺ مساواتِ انسانی کا سبق دیتے رہے اور جب حکومت حاصل ہو گئی تو اس وعظ وتلقین کو (خاکم بدہن) بالائے طاق رکھ کر حضورﷺ نے حکومت کو اپنے خاندان میں محدود کر لیا۔
جواب: یہ رُو دَر رُو بہتان کی ایک اور مثال ہے۔ میرے جس مضمون کا حلیہ بگاڑ کر میرے ہی سامنے پیش کیا جا رہا ہے اس میں یہ بات کہی گئی تھی کہ اِسلام کے اصولوں کو عملی جامہ پہنانے میں اندھا دھند طریقوں سے کام نہیں لیا جا سکتا، بلکہ کسی اصول کو کسی معاملے پر منطبق کرتے ہوئے یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ آیا اس کو نافذ کرنے کے لیے حالات سازگار ہیں یا نہیں۔ اگر حالات سازگار نہ ہوں تو پہلے انھیں سازگار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، پھر اسے نافذ کرنا چاہیے۔ اس کی مثال میں یہ بتایا گیا تھا کہ اگرچہ اِسلام کے اصولِ مساوات کا یہ تقاضا تھا کہ دوسرے تمام مناصب کی طرح خلیفہ کے انتخاب میں بھی صرف اہلیت کو پیش نظر رکھا جاتا اور اس بات کا کوئی لحاظ نہ کیا جاتا کہ اہل آدمی کس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے لیکن نبی ﷺ نے جب دیکھا کہ عرب کے حالات خلافت کے معاملے میں اس قاعدے کو نافذ کرنے کے لیے اس وقت سازگار نہیں ہیں، اور ایک غیر قریشی کو خلیفہ بنا دینے سے آغاز ہی میں اِسلامی خلافت کے ناکام ہو جانے کا اندیشہ ہے تو آپ نے ہدایت فرما دی کہ خلیفہ قریش میں سے ہو۔ اس بات کو جو معنی ڈاکٹر صاحب نے پہنائے ہیں، انھیں ہر شخص خود دیکھ سکتا ہے۔

۵۳۔ نَبَّأَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ کا مطلب

اعتراض: سورۂ تحریم کی آیت آپ نے یوں پیش کی ہے:
نبی ﷺ اپنی بیویوں میں سے ایک بیوی کو راز میں ایک بات بتاتے ہیں۔ وہ اس کا ذکر دُوسروں سے کر دیتی ہیں۔ حضورﷺ اس پر باز پُرس کرتے ہیں تو وہ پوچھتی ہیں کہ آپﷺ کو یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ مَیں نے یہ بات دُوسروں سے کہہ دی ہے۔ حضورﷺ جواب دیتے ہیں کہ : نَبَّأنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْر ’’مجھے علیم وخبیر نے خبر دی ہے۔‘‘
اس کے بعد آپ پوچھتے ہیں:
’’فرمائیے کہ قرآن میں وہ آیت کہاں ہے جس کے ذریعے سے اللّٰہ تعالیٰ نے نبیﷺ کو یہ اطلاع دی تھی کہ تمھاری بیوی نے تمھاری راز کی بات دوسروں سے کہہ دی ہے؟ اگر نہیں ہے تو ثابت ہوا یا نہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ قرآن کے علاوہ بھی نبیﷺ کے پاس پیغامات بھیجتا تھا۔‘‘
پہلے تو یہ فرمائیے کہ حضورﷺنے جب کہا کہ مجھے ’’علیم وخبیر‘‘ نے خبر دی ہے تو اس سے کیسے ثابت ہو گیا کہ حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ مجھے خدا نے خبر دی ہے۔ کیا اس سے یہ مفہوم نہیں کہ حضورﷺ کو اس نے خبر دی جسے اس راز کی علم وآگہی ہو گئی تھی۔ تاہم میں تسلیم کیے لیتا ہوں کہ العلیم الخبیر سے مراد اللّٰہ تعالیٰ ہی ہیں لیکن اس سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ خدا نے یہ اطلاع بذریعۂ وحی دی تھی؟ جس شخص نے قرآن کریم کو ذرا بھی بہ نگاہِ تَعَمُّق پڑھا ہے، اس سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں کہ جب کسی کے علم کو خدا اپنی طرف منسوب کرتا ہے اس سے مراد (بالضرور) وحی کے ذریعے علم دینا نہیں ہوتا۔ مثلاً سورہ مائدہ میں ہے:’’وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَھُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ 4:5 اور جو تم شکاری جانوروں کو سکھاتے ہو تو انھیں اس علم کے ذریعے سکھاتے ہو، جو اللّٰہ نے تمھیں سکھایا ہے۔‘‘ فرمائیے کیا یہاں ’’عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ‘‘ سے یہ مراد ہے کہ اللّٰہ شکاری جانوروں کو سدھانے والوں کو بذریعہ وحی سکھاتا ہے کہ تم ان جانوروں کو اس طرح سدھائو؟ یا، عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ عَلَّمَ بِالْقَلْمْ القدر 4-5:97 کے یہ معنی ہیں کہ اللّٰہ ہر انسان کو بذریعہ وحی یہ کچھ سکھاتا ہے جسے وہ نہیں جانتا اور خود قلم ہاتھ میں لے کر سکھاتا ہے۔
جس طرح ان آیات میں اللّٰہ کے علم یا حکم دینے سے مراد علم وحکم بذریعہ وحی نہیں، اسی طرح ’’نَبَّأَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ‘‘ میں بذریعہ وحی اطلاع دینا مراد نہیں۔ حضورﷺ نے اس بات کا علم اس طرح حاصل کیا تھا جس طرح ایسے حالات میں علم حاصل کیا جاتا ہے۔
جواب: اس کتاب ( میں عنوان: کیا حضورﷺ پر قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی) نکال کر دیکھیے۔ سورۂ تحریم کی جس آیت پر یہ تقریر فرمائی جا رہی ہے، وہاں وہ پوری نقل کر دی گئی ہے۔ اس میں یہ صراحت موجود ہے کہ اَظْھَرَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ ’’اللّٰہ نے نبی کو اس پر مطلع کر دیا‘‘ اس لیے نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ’’مجھے علیم وخبیر نے بتایا‘‘ سے مراد لامحالہ اللّٰہ تعالیٰ ہی ہو سکتا ہے، کوئی دوسرا مخبر نہیں ہو سکتا۔ مزید برآں العلیم الخبیر کے الفاظ اللّٰہ کے سوا کسی کے لیے استعمال بھی نہیں ہو سکتے۔ اگر اللّٰہ کے سوا خبر دینے والا کوئی اور ہوتا تو حضور ﷺ ’’نَبَّانِیْ خَبِیْرٌ‘‘ (ایک باخبر نے مجھے بتایا) ، فرماتے۔
اگر نبی ﷺ کو عام انسانی ذرائع سے اس بات کی اطلاع ہوئی ہوتی تو محض اتنا سا واقعہ کہ بیوی نے آپ کا راز کسی اور سے کہہ دیا اور کسی مخبر نے آپ کو اس کی اطلاع دے دی۔ سرے سے قرآن میں قابل ذکر ہی نہ ہوتا، نہ اس بات کو اس طرح بیان کیا جاتا کہ ’’اللّٰہ نے نبی کو اس پر مطلع کر دیا‘‘ اور ’’مجھے العلیم الخبیر نے بتایا۔‘‘ قرآن مجید میں اس واقعے کو اس شان سے بیان کرنے کا تو مقصد ہی لوگوں کو اس بات پر متنبہ کرنا تھا کہ تمھارا معاملہ کسی عام انسان سے نہیں، بلکہ اس رسولﷺ سے ہے جس کی پشت پر اللّٰہ تعالیٰ کی طاقت ہے۔

۵۴۔ حضرت زینبؓ کا نکاح اللّٰہ کے حکم سے ہوا تھا یا نہیں؟

اعتراض: آپ پوچھتے ہیں کہ اللّٰہ نے نبی اکرم ﷺ کو جو حکم دیا تھا کہ تم زید کی بیوی سے نکاح کر لو تو وہ قرآن میں کہاں ہے؟ پہلے تو یہ دیکھیے کہ آپ نے لکھا ہے کہ حضورﷺ نے وہ نکاح ’’خدا کے حکم‘‘ سے کیا تھا۔ حالانکہ آیت میں فقط یہ ہے کہ زَوَّجْنٰکَھَا جس کا ترجمہ آپ نے بھی یہ کیا ہے کہ ’’ہم نے اس خاتون کا نکاح تم سے کر دیا۔
جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں قرآن کریم کا انداز یہ ہے کہ جو باتیں خدا کے بتائے ہوئے قاعدے اور قانون کے مطابق کی جائیں۔ انھیں خدا اپنی طرف منسوب کرتا ہے، خواہ وہ کسی کے ہاتھوں سرزد ہوں، جیسے (مثلاً) سورۂ انفال میں مقتولین جنگ کے متعلق ہے۔ فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَھُمْ 17:8 ’’انھیں تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللّٰہ نے قتل کیا۔‘‘ حالانکہ ظاہر ہے کہ یہ قتل جماعتِ مومنین کے ہاتھوں ہی سرزد ہوا تھا۔ یہی مطلب زَوَّجْنٰکَھَا سے ہے یعنی حضورﷺ نے وہ نکاح خدا کے قانون کے مطابق کیا۔ وہ قانون یہ تھا کہ تم پر حرام ہیں۔ حَلَائِلُ اَبْنَائِ کُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ 23:4 ’’تمھارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمھارے صلب سے ہوں‘‘ اور چوں کہ منہ بولا بیٹا صلبی نہیں ہوتا اس لیے اس کی بیوی سے نکاح حرام نہیں، جائز ہے۔ حضورﷺ نے خدا کے اس حکم کے مطابق حضرت زید کی مطلقہ بیوی سے نکاح کیا تھا۔
جواب: منکرینِ حدیث کے پیش نظر تو قرآن سے صرف اپنا مطلب نکالنا ہوتا ہے لیکن اس بحث کو جو لوگ سمجھنا چاہتے ہوں ان سے میں عرض کروں گا کہ براہِ کرم سورۂ احزاب کی پہلی چار آیتیں بغور پڑھیے، پھر پانچویں رکوع کی وہ آیتیں دیکھیے جن میں حضرت زیدؓ کی مطلقہ بیوی سے حضورﷺ کے نکاح کا ذکر ہے۔ پہلی چار آیتوں میں فرمایا گیا ہے کہ اے نبی! کافروں اور منافقوں سے نہ دبو اور اللّٰہ کے بھروسے پر اس وحی کی پیروی کرو جو تم پر کی جا رہی ہے، منہ بولے بیٹے ہرگز اصلی بیٹے نہیں ہیں، یہ صرف ایک قول ہے جو تم لوگ منہ سے نکال دیتے ہو۔ اس ارشاد باری تعالیٰ سے یہ اشارہ تو صاف ملتا ہے کہ جس وحی کا ذکر آیت نمبر ۲ میں کیا گیا ہے وہ منہ بولے بیٹوں کے معاملے سے تعلق رکھتی تھی، لیکن اس میں کوئی صراحت اس امر کی نہیں ہے کہ اس رسم کو توڑنے کے لیے حضورﷺ کو خود اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کے بعد آیات نمبر ۳۷۔۳۹ کے یہ فقرے ملاحظہ ہوں:
فَلَمَّا قَضٰى زَيْدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَہَا لِكَيْ لَا يَكُوْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ حَرَجٌ فِيْٓ اَزْوَاجِ اَدْعِيَاۗىِٕہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا۝۰ۭ وَكَانَ اَمْرُ اللہِ مَفْعُوْلًاo مَا كَانَ عَلَي النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيْمَا فَرَضَ اللہُ لَہٗ۝۰ۭ سُـنَّۃَ اللہِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ۝۰ۭ وَكَانَ اَمْرُ اللہِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَۨاo الَّذِيْنَ يُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللہِ وَيَخْشَوْنَہٗ وَلَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللہَ۝۰ۭ وَكَفٰى بِاللہِ حَسِيْبًاo الاحزاب 37-39:33
پھر جب زید کا اس سے جی بھر گیا تو ہم نے اس خاتون کا نکاح تم سے کر دیا تاکہ اہل ایمان کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی ٗبیویوں سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہ رہے جب کہ وہ ان سے جی بھر چکے ہوں اور اللّٰہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی تھا۔ نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللّٰہ نے اس کے لیے فرض کر دیا ہو۔ اللّٰہ کا یہی طریقہ ان لوگوں کے لیے بھی مقرر تھا جو پہلے گزر چکے ہیں۔ اللّٰہ کا حکم ( ان پیغمبروں کے لیے) ایک جچا تلا فیصلہ ہے، جو اللّٰہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور اس کے سوا کسی سے ڈرتے نہیں، اور حساب لینے کے لیے اللّٰہ کافی ہے۔
اس پوری عبارت پر اور خصوصًا خط کشیدہ فقروں پر غور کیجیے۔ کیا یہ مضمون اور یہ اندازِ بیان یہی بتا رہا ہے کہ ایک کام نبی ﷺ نے اللّٰہ کے قانون کے مطابق کیا تھا، اس لیے اللّٰہ نے اسے اپنی طرف منسوب کر دیا؟ یا یہ صاف طور پر اس بات کی صراحت کر رہا ہے کہ اس نکاح کے لیے اللّٰہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی حکم دیا تھا اور اس متعین مقصد کے لیے دیا تھا کہ منہ بولے بیٹوں کی بیویاں حقیقی بہوئوں کی طرح حرام نہ رہیں؟ عام لوگوں کے لیے تو ایسے بیٹوں کی مطلقہ بیویوں سے نکاح صرف جائز تھا مگر نبی ﷺ کے لیے اس کو فرض کیا گیا تھا اور یہ فرض اس فریضۂ رسالت کا ایک حصہ تھا جسے ادا کرنے کے لیے حضورﷺ مامور تھے۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب کی تقریر ملاحظہ کیجیے اور خود اندازہ کیجیے کہ یہ لوگ واقعی قرآن کے پیرو ہیں، یا قرآن کو اپنے نظریات کا پَیرو بنانا چاہتے ہیں۔

۵۵۔ بِاِذْنِ اللّٰہِ سے مراد قاعدۂ جاریہ ہے یا حکمِ الٰہی؟

اعتراض: پانچویں آیت آپ نے یہ پیش کی ہے کہ حضورﷺ نے جب بنی نضیر کے خلاف فوج کشی کی تو اس وقت گرد وپیش کے بہت سے درخت کاٹ ڈالے، تاکہ حملہ کرنے کے لیے راستہ صاف ہو۔ اس پر اللّٰہ نے کہا کہ مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْتَرَکْتُمُوْھَا قَآئِمَۃً عَلٰی اُصُوْلِھَا فَبِاِذْنِ اللّٰہِ 5:59 ’’کھجوروں کے درخت جو تم نے کاٹے اور جو کھڑے رہنے دیے یہ دونوں کام اللّٰہ کی اجازت سے تھے۔
اس پر آپ پوچھتے ہیں کہ:
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ اجازت قرآن کریم کی کس آیت میں نازل ہوئی تھی؟
سورۂ حج کی اس آیت میں جس میں کہا گیا ہے کہ اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا 39:22 ’’ان لوگوں کو جن کے خلاف اعلان جنگ کیا جاتا ہے، جنگ کی اجازت دی جاتی ہے، کیوں کہ ان پر ظلم کیا گیا ہے۔‘‘ اس آیت میں جماعت مومنین کو ظالمین کے خلاف جنگ کی اجازت دی گئی اور یہ ظاہر ہے کہ جنگ کی اس اصولی اجازت میں ہر اُس بات کی اجازت شامل ہے جو (قاعدے اور قانون کی رُو سے) جنگ کے لیے ضروری ہو۔ جو بات خدا کے مقرر کردہ قاعدے کی رو سے اور قانون کے مطابق ہو، قرآن اُسے باذن اللّٰہ سے تعبیر کرتا ہے۔ مثلاً : وَمَآ اَصَابَکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰہِ آل عمران 166:3 ’’اور جو کچھ تمھیں اس دن مصیبت پہنچی جب دو گروہ آمنے سامنے ہوئے تھے تو وہ باذن اللّٰہ تھا۔‘‘ خواہ وہ قانون خارجی کائنات میں ہی کیوں نہ کار فرما ہو۔
جواب: یہ ساری بحث یہاں میرے استدلال کا مرکزی نکتہ چھوڑ کر کی گئی ہے۔ میں نے یہ لکھا تھا کہ جب مسلمانوں نے یہ کام کیا تو مخالفین نے شور مچا دیا کہ باغوں کو اجاڑ کر اور ہرے بھرے ثمردار درختوں کو کاٹ کر ان لوگوں نے فساد فی الارض برپا کیا ہے (ملاحظہ ہو عنوان: کیا حضورﷺ پر قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی؟ کے تحت ذیلی عنوان نمبر۵)۔ یہ میرے استدلال کی اصل بنیاد تھی جسے ڈاکٹر صاحب نے قصدًادرمیان سے ہٹا کراپنی بحث کا راستہ صاف کرنے کی کوشش کی ہے۔ میرا استدلال یہ تھا کہ یہود اور منافقین نے مسلمانوں پر ایک متعین الزام لگایا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ یہ مصلح بن کر اٹھے ہیں اور اس بات کا دعوٰی کرتے ہیں کہ ہم فساد فی الارض کو مٹانے والے ہیں، مگر لو دیکھ لو کہ یہ کیسا فساد فی الارض برپا کر رہے ہیں۔ اس کا جواب جب اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے یہ دیا گیا کہ مسلمانوں نے یہ کام ہماری اجازت سے کیا ہے، تو لامحالہ یہ ان کے اعتراض کا جواب اسی صورت میں قرار پا سکتا ہے جب کہ خاص طور پر اسی کام کی اجازت اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہو۔ جنگ کے عام قاعدے جو دُنیا میں رائج تھے، وہ بنائے جواب نہیں ہو سکتے تھے، کیوں کہ دُنیا کے جنگی رواجات تو اس زمانے میں زیادہ تر وحشیانہ وظالمانہ تھے اور مسلمان خود ان کو فساد فی الارض قرار دیتے تھے۔ معترضین کے جواب میں ان کا سہارا کیسے لیا جا سکتا تھا۔ رہے قوانینِ فطرت، تو ان کا حوالہ تو یہاں صر یحًامضحکہ انگیز ہی ہوتا۔ کسی شخص کی عقل ٹھکانے ہو تو وہ کبھی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ اس موقع پر جب مخالفین نے مسلمانوں کو فساد فی الارض کا مجرم ٹھہرایا ہو گا تو اللّٰہ تعالیٰ نے جواب میں یہ فرمایا ہو گا کہ میاں! قوانینِ فطرت یہی ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے قرآن مجید سے جو چند مثالیں یہاں پیش کی ہیں، ان سے جو کچھ ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ منکرینِ سُنّت قرآن کے فہم سے بالکل کورے ہیں۔ آیاتِ قرآنی کے موقع ومحل اورسیاق وسباق اور پس منظر سے آنکھیں بند کرکے، بے تکلف ایک موقع کی آیات کے معنی بالکل مختلف مواقع کی آیات سے متعین کر ڈالتے ہیں

۵۶۔ ایک اور خانہ ساز تاویل

اعتراض: چھٹی آیت آپ نے یہ پیش کی ہے:
وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللہُ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ اَنَّہَا لَكُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَۃِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَيُرِيْدُ اللہُ اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِہٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ الانفال 7:8
اور جب کہ اللّٰہ تعالیٰ تم سے وعدہ فرما رہا تھا کہ دو گروہوں (یعنی تجارتی قافلے اور قریش کے لشکر) میں سے ایک تمھارے ہاتھ آئے گا اور تم چاہتے تھے کہ بے زور گروہ (یعنی تجارتی قافلہ) تمھیں ملے، حالانکہ اللّٰہ چاہتا تھا کہ اپنے کلمات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی کمر توڑ دے۔
اس کے بعد آپ دریافت فرماتے ہیں کہ:
کیا آپ پورے قرآن میں کسی آیت کی نشان دہی فرما سکتے ہیں جس میں اللّٰہ تعالیٰ کا یہ وعدہ نازل ہوا ہو کہ: اے لوگو جو مدینہ سے بدر کی طرف جا رہے ہو! ہم دو گروہوں میں سے ایک پر تمھیں قابو عطا فرمائیں گے؟
اصولی طور پر یہ وہی کلّی وعدہ تھا جس کے مطابق خدا نے جماعت مومنین سے کہہ رکھا تھا کہ انھیں استخلاف فی الارض عطا کرے گا۔ خدا اور رسولﷺ کامیاب رہیں گے۔ غلبہ وتسلط حزب اللّٰہ کا ہو گا۔ مومن اعلَون ہوں گے۔ خدا کافروں کو مومنوں پر کبھی کامیابی نہیں دے گا۔ مجاہدین مخالفین کے اموال واملاک تک کے مالک ہوں گے، وغیرہ وغیرہ، اور اس خاص واقعے میں یہ ’’وعدہ‘‘ پیش افتادہ حالات (circumstances) دلا رہے تھے جن کی وضاحت قرآن کریم نے یہ کہہ کر دی ہے کہ: وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ تَکُوْنُ لَکُمْ الانفال 7:8 یعنی ان میں سے ایک گروہ بغیر ہتھیاروں کے تھا اور اس پر غلبہ پا لینا یقینی نظر آتا تھا۔
مَیں یہ پہلے وضاحت سے بتا چکا ہوں کہ جو باتیں طبعی قوانین کے مطابق ہوں، خدا انھیں بھی اپنی طرف منسوب کر سکتا ہے۔ یہ ’’اللّٰہ کا وعدہ‘‘ بھی اسی قبیل سے تھا یعنی حالات بتا رہے تھے کہ ان دونوں میں سے ایک گروہ پر قابو پا لینا یقینی ہے۔
جواب: یہاں پھر سیاق وسباق اور موقع ومحل کو نظر انداز کرکے سخن سازی کی کوشش کی گئی ہے۔ ذکر ایک خاص موقع کا ہے۔ ایک طرف مکہ سے کفار کا لشکر بڑے سازوسامان کے ساتھ آ رہا تھا اور اس کی فوجی طاقت مسلمانوں سے بہت زیادہ تھی۔ دوسری طرف شام سے قریش کا تجارتی قافلہ آرہا تھا جس کے ساتھ بہت سا مال تھا اور فوجی طاقت برائے نام تھی۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس موقع پر ہم نے مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ ان دونوں میں سے ایک پر تم کو غلبہ حاصل ہوجائے گا اور مسلمانوں کے دلوں میں یہ خواہش پیدا ہو رہی تھی کہ تجارتی قافلے پر ہمیں غلبہ حاصل ہو جائے۔ یہ ایک صاف اور صریح وعدہ تھا جو دو متعین چیزوں میں سے ایک کے بارے میں کیا گیا تھا مگر ڈاکٹر صاحب اس کی دو تاویلیں کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے مراد اِسْتِخلَاف فِی الارض اور اَنْتُمُ الْاَعُلَوْن والا وعدۂ عام ہے، حالانکہ اگر وہ مراد ہوتا تو دونوں پر ہی غلبے کا وعدہ ہونا چاہیے تھا، نہ کہ دو میں سے ایک پر۔ دوسری تاویل وہ یہ کرتے ہیں کہ اس وقت حالات بتا رہے تھے کہ دونوں میں سے ایک گروہ پر قابو پا لینا یقینی ہے، اور حالات کی اسی نشان دہی کو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ قرار دیا ہے۔ حالانکہ بدر کی فتح سے پہلے جو حالات تھے وہ یہ بتا رہے تھے کہ تجارتی قافلے پر قابو پا لینا تو یقینی ہے لیکن لشکر قریش پر قابو پانا سخت مشکل ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ اسی آیت سے پہلے والی آیت میں خود فرما رہا ہے کہ اس لشکر کے مقابلے پر جاتے ہوئے مسلمانوں کی کیفیت یہ ہو رہی تھی کہكَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَہُمْ يَنْظُرُوْنَo الانفال6:8 ’’گویا وہ آنکھوں دیکھتے موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں۔‘‘کیا یہی وہ حالات تھے جو بتا رہے تھے کہ لشکرِ قریش پر بھی قابو پا لینا اسی طرح یقینی ہے جس طرح قافلے پر قابو پانا؟ اسی طرح کی سخن سازیوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ منکرین حدیث کا یہ گروہ قرآن سے اپنے نظریات نہیں بناتا، بلکہ قرآن پر اپنے نظریات ٹھونستا ہے، خواہ اس کے الفاظ کتنا ہی ان سے انکار کر رہے ہوں۔

۵۷۔ سوال از آسمان وجواب از ریسماں

اعتراض: آخر کی آیت آپ نے یہ پیش کی ہے کہ:
اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَۃِ مُرْدِفِيْنَ
الانفال 9:8
جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمھاری فریاد کے جواب میں فرمایا: میں تمھاری مدد کے لیے لگاتار ایک ہزار فرشتے بھیجنے والا ہوں۔
اس کے بعد آپ پوچھتے ہیں:کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کی فریاد کا یہ جواب قرآن کی کس آیت میں نازل ہوا تھا؟
کیا میں آپ سے پوچھ سکتا ہوں کہ جب اللّٰہ نے کہا کہ اُجِيْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ۝۰ۙ البقرہ 186:2 ’’میں ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں، جب وہ مجھے پکارتا ہے‘‘ تو خدا کی طرف سے پکارنے والے کی پکار کا جواب کس نوشتے کے ذریعے ملتا ہے؟ جس طریق سے ہر پکار نے والے کو خدا کی طرف سے اس کی پکار کا جواب ملتا ہے اسی طریق سے جماعت مومنین کو ان کی پکار کا جواب ملا تھا۔ لیکن جواب ان لوگوں کو کس طرح نظر آ جائے جو خدا کی ہر بات کو کاغذ پر تحریر شدہ مانگیں۔
جواب: سوال از آسمان وجواب از ریسماں۔ میرا سوال یہ تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی فریاد کے جواب میں ایک ہزار فرشتے بھیجنے کے جس صریح اور قطعی وعدے کا ذکر اس آیت میں کیا ہے وہ قرآن کی کس آیت میں نازل ہوا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ جس طریقے سے ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب اللّٰہ کے ہاں سے ملا کرتا ہے اسی طریقے سے جنگ بدر کے موقع پر مسلمانوں کی پکار کا جواب بھی ملا تھا۔ کیا ہر پکارنے والے کو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا ہی واضح جواب ملا کرتا ہے کہ تیری مدد کے لیے اتنے ہزار فرشتے بھیجے جا رہے ہیں؟ اور کیا تعداد کے اس قطعی تعین کے ساتھ صاف الفاظ میں اس جواب کا ذکر کتاب اللّٰہ میں بھی لکھا ہوا مل جاتا ہے؟
یہاں یہ عجیب اور دل چسپ بات بھی لائق ملاحظہ ہے کہ ہم پر ’’خد اکی ہر بات کو کاغذ پر تحریر شدہ مانگنے‘‘ کا الزام وہ لوگ عائد کر رہے ہیں، جنھیں اصرار ہے کہ جو وحی لکھی گئی ہو، ہم صرف اسی کو مانیں گے۔

۵۸۔ وحی بِلا الفاظ کی حقیقت ونوعیت

اعتراض: آپ نے آگے چل کر لکھا ہے کہ ’’وحی لازمًا الفاظ کی صورت میں ہی نہیں ہوتی، وہ ایک خیال کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے جو دل میں ڈال دیا جائے۔‘‘ آپ کا دعوٰی تو ہمہ دانی کا ہے اور معلوم اتنا بھی نہیں کہ یہ بات ممکنات میں سے نہیں کہ کسی شخص کے دل میں ایک خیال آئے اور اس کے لیے الفاظ نہ ہوں۔ نہ کوئی خیال الفاظ کے بغیر پیدا ہو سکتا ہے اور نہ کوئی لفظ بلاخیال کے وجود میں آ سکتا ہے۔ ارباب علم سے پوچھیے کہ ’’وحی بلا الفاظ‘‘ کی ’’مہمل ترکیب‘‘ کا مطلب کیا ہے؟‘‘
جواب: منکرین حدیث کو یہ معلوم نہیں ہے کہ خیال اور جامۂ الفاظ دونوں اپنی حقیقت میں بھی مختلف ہیں اور ان کا وقوع بھی ایک ساتھ نہیں ہوتا، چاہے انسانی ذہن کسی خیال کو جامۂ الفاظ پہنانے میں ایک سیکنڈ کا ہزارواں حصہ ہی وقت لے، لیکن بہرحال خیال کے ذہن میں آنے اور ذہن کے اس کو جامۂ الفاظ پہنانے میں ترتیب زمانی ضرور ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص یہ دعوٰی کرے کہ انسان کے ذہن میں خیال لازمًا لفظ ہی کے ساتھ آتا ہے تو وہ اس کی کیا توجیہہ کرے گا کہ ایک ہی خیال انگریز کے ذہن میں انگریزی، عرب کے ذہن میں عربی اور ہمارے ذہن میں اردو الفاظ کے ساتھ کیوں آتا ہے؟ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ انسانی ذہن میں پہلے ایک خیال اپنی مجرد صورت میں آتا ہے، پھر ذہن اس کا ترجمہ اپنی زبان میں کرتا ہے۔ یہ عمل عام طور پر تو بہت تیزی کے ساتھ ہوتا ہے، لیکن جن لوگوں کو سوچ کر بولنے یا لکھنے کا کبھی موقع ملا ہے، وہ جانتے ہیں کہ بسا اوقات ذہن میں ایک تخیل گھوم رہا ہوتا ہے اور ذہن کو اس کے لیے جامۂ الفاظ تلاش کرنے میں خاصی کاوش کرنی پڑتی ہے۔ اس لیے یہ بات صرف ایک اناڑی ہی کہہ سکتا ہے کہ خیال الفاظ ہی کی صورت میں آتا ہے یا خیال اور الفاظ لازمًا ایک ساتھ آتے ہیں۔ وحی کی بہت سی صورتوں میں سے ایک صورت یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے مجرد ایک خیال نبی کے دل میں ڈالا جاتا ہے اور نبی خود اس کو اپنے الفاظ کا جامہ پہناتا ہے اس طرح کی وحی کے غیر متلو ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں نہ تو الفاظ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے القا ہوتے ہیں اور نہ نبی اس بات پر مامور ہوتا ہے کہ خاص الفاظ میں اسے لوگوں تک پہنچائے۔

۵۹۔ وحی متلو اور غیر متلو کا فرق

اعتراض: آپ کہتے ہیں کہ ’’عربی زبان میں وحی کے معنی اشارۂ لطیف کے ہیں۔‘‘ سوال ’’وحی‘‘ کے لغوی معنی کے متعلق نہیں، سوال اس اصطلاحی ’’وحی‘‘ کے متعلق ہے جو اللّٰہ کی طرف سے حضرات انبیائے کرام کو ملتی تھی۔ کیا اس وحی کے محض ’’لطیف اشارات‘‘ خدا کی طرف سے ہوتے تھے، یا الفاظ بھی منزل من اللّٰہ ہوتے تھے؟ اگر محض لطیف اشارات ہی ہوتے تھے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن کریم کے الفاظ حضورﷺ کے اپنے تھے۔‘‘
جواب: اس کا جواب اس کتاب میں ( بہ عنوان: وحی کی اقسام از رُوئے قرآن) موجود ہے جس کے ایک دو فقرے لے کر ڈاکٹر صاحب یہ بحث فرما رہے ہیں۔ قرآن کریم میں معنی اور لفظ دونوں اللّٰہ تعالیٰ کے ہیں اور نبی ﷺ پر اس کو اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ آپﷺ اسے انھی الفاظ میں لوگوں تک پہنچائیں۔ اسی لیے اس کو وحی متلو کہا جاتا ہے۔ وحی کی دوسری قسم یعنی غیر متلو اپنی نوعیت وکیفیت اور مقصد میں اس سے بالکل مختلف ہے، وہ رسول اللّٰہﷺ کی راہ نُمائی کے لیے آتی تھی اور لوگوں تک وہ اللّٰہ تعالیٰ کے الفاظ میں نہیں بلکہ حضورﷺ کے ارشادات، فیصلوں اور کاموں کی صورت میں پہنچتی تھی۔ اگر ایک شخص یہ تسلیم کرتا ہو کہ نبی کے پاس پہلی قسم کی وحی آ سکتی ہے تو آخر اسے یہ ماننے میں کیا چیز مانع ہے کہ اسی نبی کے پاس دوسری چیز بھی آ سکتی ہے؟ اگر قرآن کا معجزانہ کلام ہمیں یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ یہ اللّٰہ ہی کا کلام ہو سکتا ہے تو کیا رسول پاکﷺ کی معجزانہ زندگی اور آپ کے معجزانہ کارنامے ہمیں یہ یقین نہیں دلاتے کہ یہ بھی خدا ہی کی راہ نُمائی کا نتیجہ ہیں؟

۶۰۔ سُنّتِ ثابتہ سے انکار، اطاعتِ رسولﷺ سے انکار ہے

اعتراض: آپ فرماتے ہیں کہ ’’احادیث کے موجودہ مجموعوں میں سے جن سُنّتوں کی شہادت ملتی ہے، ان کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک قسم کی سُنّتیں وہ ہیں جن کے سُنّت ہونے پر امت شروع سے آج تک متفق رہی ہے۔ یعنی بالفاظ دیگر وہ متواتر سُنّتیں ہیں اور امت کا ان پر اجماع ہے۔ ان میں سے کسی کو ماننے سے جو شخص بھی انکار کرے گا وہ اسی طرح دائرۂ اِسلام سے خارج ہو جائے گا جس طرح قرآن کی کسی آیت کا انکار کرنے والا خارج از اِسلام ہو گا۔
دوسری قسم کی سنتیں وہ ہیں جن کے ثبوت میں اختلاف ہے یا ہو سکتا ہے ۔ا س قسم کی سنتوں میں سے کسی کے متعلق اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میری تحقیق کے مطابق فلاں سُنّت ثابت نہیں ہے، اس لیے میں اسے قبول نہیں کرتا تو اس قول سے اس کے ایمان پر قطعًا کوئی آنچ نہ آئے گی۔
کیا آپ بتائیں گے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے کس مقام پر یہ کہا ہے کہ جو شخص ان متواتر سنتوں کے ماننے سے انکار کرے گا جن پر امت کا اجماع ہے، وہ کافر ہو جائے گا اور جو ایسی سنتوں سے انکار کرے گا جن میں اختلاف ہے، اس کے ایمان پر حرف نہیں آئے گا؟
جواب: اللّٰہ تعالیٰ نے رسول اللّٰہ ﷺ کی پیروی واطاعت کو مدارِ کفر واِسلام قرار دیا ہے، لہٰذا جہاں یقینی طور پر معلوم ہو کہ حضورﷺ نے فلاں چیز کا حکم دیا ہے، یا فلاں چیز سے روکا ہے، یا فلاں معاملے میں یہ ہدایت دی ہے وہاں تو اتباع واطاعت سے انکار لازمًا موجب کفر ہو گا، لیکن جہاں حضورﷺ سے کسی حکم کا یقینی ثبوت نہ ملتا ہو، وہاں کم تر درجے کی شہادتوں کو قبول کرنے یا نہ کرنے میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی شہادت کو کم زور پا کر یہ کہتا ہے کہ اس حکم کا ثبوت حضورﷺ سے نہیں ملتا، اس لیے میں اس کی پیروی نہیں کرتا تو اس کی یہ رائے بجائے خود غلط ہو یا صحیح، بہرحال یہ موجب کفر نہیں ہے۔ بخلاف اس کے اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ حکم حضورﷺ ہی کا ہو، تب بھی میرے لیے سند وحجت نہیں، اُس کے کافر ہونے میں قطعًا شک نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک سیدھی اور صاف بات ہے جسے سمجھنے میں کسی معقول آدمی کو الجھن پیش نہیں آ سکتی۔
٭…٭…٭…٭…٭

باب چہارم: عدالتِ عالیہ مغربی پاکستان کا ایک اہم فیصلہ

ترجمہ : از ملک غلام علی صاحب
جناب جسٹس محمد شفیع صاحب، جج مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے جس فیصلے کے بیش تر حصے کا ترجمہ ذیل میں دیا جا رہا ہے، یہ دراصل ایک اپیل کا فیصلہ ہے جس میں اصل مسئلہ زیر بحث یہ تھا کہ ایک بیوہ اپنی نابالغ اولاد کی موجودگی میں، اگر ایسے مرد سے نکاح ثانی کر لے جو اولاد کے لیے غیر محرم ہو، تو ایسی صورت میں آیا، اس بیوہ کے لیے اس اولاد کی حضانت کا حق باقی رہتا ہے یا نہیں؟ اس امر متنازعہ فیہ کا فیصلہ کرتے ہوئے فاضل جج نے بڑی تفصیل کے ساتھ ان اصولی مسائل پر بھی اپنے خیالات کا اظہار فرمایا ہے کہ اِسلام میں قانون کا تصور، اور قانون سازی کا طریق کیا ہے، قرآن کے ساتھ حدیث کو بھی مسلمانوں کے لیے ماخذ قانون تسلیم کیا جا سکتا ہے یا نہیں، اور بالخصوص پاکستان کے مسلمانوں کی اکثریت کہاں تک فقہ حنفی کے قواعد وضوابط کی پابند سمجھی جا سکتی ہے؟ اس لحاظ سے یہ فیصلہ اِسلامی قانون کے اساسی اور اہم ترین مسائل کو اپنے دائرۂ بحث میں لے آیا ہے۔
اس فیصلے کے جو حصے اصل مقدمے سے متعلق ہیں ان کو چھوڑ کر صرف اس کے اصولی مباحث کا ترجمہ یہاں دیا جا رہا ہے۔ بعض مقامات پر فیصلے میں جو قرآنی آیات نقل کی گئی ہیں انھیں معہ ترجمہ درج کرنے کے بجائے صرف سورۃ اور آیات کا نمبر دے دیا گیا ہے۔ یہ ترجمہ پی۔ ایل۔ ڈی ۱۹۶۰ء لاہور (ص ۱۱۴۲تا ۱۱۷۹) کے مطبوعہ متن کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔ اصل اور مکمل فیصلہ وہیں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ (غلام علی)
۴۔ بالفرض اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ ولی کا تقرر ضروری تھا اور گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ نمبر ۱۷ کا اطلاق اس مقدمے پر ہوتا تھا، تب ایک بڑا فیصلہ طلب سوال جو ہمارے سامنے آتا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ قانون کیا ہے جس کا ایک نابالغ پابند ہے۔ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ نابالغان اور ان کے والدین مسلمان ہیں اور مسلم لا کے تابع ہیں۔ لیکن اس سوال کا جواب آسان نہیں ہے کہ ولایت نابالغ کے معاملے میں کون سا قانون ہے جس کی پابندی لازم ہے۔ تقریباً تمام کی تمام کتابیں، جن میں سے بعض انتہائی مشہور ومعروف اور قابل احترام قانون دانوں اور ججوں کی تصانیف ہیں، ایسے قواعد وضوابط پر مشتمل ہیں، جن کی پابندی نابالغان کی ذات اور جائیداد کی ولایت کے معاملے میں، ایک عرصۂ دراز سے ہندو پاکستان میں کی جا رہی ہے۔ درحقیقت ہندستان کی جملہ عدالتیں بشمول سپریم کورٹ، برطانوی عہد قبل تقسیم سے لے کر اب تک ان قواعد کی سختی سے پابندی کرتی رہی ہیں۔ اس امر کا امکان موجود ہے کہ برطانوی حکومت سے پہلے کے قاضی اور ماہرین قانون بھی ان قواعد وضوابط کی پیروی کرتے رہے ہوں اور بعد میں بھی ان کی پابندی کی جاتی رہی ہو، کیوں کہ مسلمان قانون دان یہ نہیں چاہتے تھے کہ انگریز یا دوسرے غیر مسلم اپنے مقصد کے مطابق قرآن پاک کی تفسیر وتعبیر کریں اور قوانین بنائیں۔ فتاوٰی عالمگیری کو مسلم قانون سے تعلق رکھنے والے تمام معاملات میں جو اہمیت حاصل ہے، وہ اس حقیقت کی صاف نشاندہی کرتی ہے لیکن اب حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ یہ قواعد وضوابط مختصراً درج ذیل ہیں:
(اس کے بعد پیرا گراف۴ کے بقیہ حصے اور پیراگراف ۵، ۶ میں فاضل جج نے مسئلہ حضانت کے بارے میں حنفی، شافعی اور شیعہ فقہ کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں)
۷۔ جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں، اصل تصفیہ طلب سوال یہ ہے کہ کیا کسی درجے کی قطعیت کے ساتھ ان قواعد کو اِسلامی قانون کہا جا سکتا ہے۔ جسے وہی لزوم کا مرتبہ حاصل ہو جو ایک کتاب آئین میں درج شدہ قانون کو حاصل ہوتا ہے؟ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ آیا یہ وہی قانون ہے جس کی پابندی گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ نمبر ۱۷ کے منشا کے مطابق ایک مسلم نابالغ پر واجب ہے؟
۸۔ مسلمان کے عقیدے کی رو سے، قطع نظر اس کے کہ وہ کس فرقے سے تعلق رکھتا ہے، جو قانون اس کی زندگی کے ہرشعبے میں حکم ران ہونا چاہیے، خواہ وہ اس کی زندگی کا مذہبی شعبہ ہو یا سیاسی، یا معاشرتی یا معاشی، وہ صرف خدا کا قانون ہے۔ اللّٰہ ہی حاکم اعلیٰ ہے، علیم وحکیم ہے اور قادر مطلق ہے۔ اِسلام میں خدا اور بندے کے مابین تعلق سادہ اور بلاواسطہ ہے۔ کوئی پیشوا، امام، پیر یا کوئی دوسرا شخص (خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ، قبر میں ہو یا قبر سے باہر ہو) اس تعلق کے مابین وسیلہ بن کر حائل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے ہاں پیشہ ورانہ پیشوائوں کا کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جواپنی لعنت کی دھمکی دے کر اور خدا کے غضب کا اجارہ دار بن کر، اپنے مزعومات کو تحکمانہ انداز میں ہم پر ٹھونسے۔ قرآن نے جو حدود مقرر کر دئیے ہیں، ان کے اندر مسلمانوں کو سوچنے اور عمل کرنے کی پوری آزادی ہے۔ اِسلام میں ذہنی اور روحانی حریت کی فضا موجود ہے۔ چوں کہ قانون انسانی آزادی پر پابندیاں عائد کرنے والی طاقت ہے اس لیے خدا نے قانون سازی کے اختیارات پوری طرح اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔ اِسلام میں کسی شخص کو اس طرح کام کرنے کا اختیار نہیں ہے گویا کہ وہ دوسروں سے بالاتر ہے۔ قرآن انفرادیت پسندی کو ختم کر دینا چاہتا ہے۔ اِسلام نے عالمگیر اخوت اور کامل مساوات کا سبق دے کر اپنے اخلاقی نظام کے اندر انسان پر سے انسان کے تفوق اور برتری کو بالکلیہ ختم کر دیا ہے‘خواہ وہ برتری علمی دائرے میں ہو یا زندگی کے دوسرے دوائر میں۔ دُنیا بھر کے مسلمان نہیں تو کم از کم ایک ملک کے مسلمانوں کا ایک ہی لڑی میں پرویا جانا ضروری ہے۔ اِسلامی ریاست میں ایسے شخص کا وجود ناممکن ہے جو مطلق العنانی اور شہنشاہانہ اختیارات کا مدعی ہو۔ ایک اِسلامی ریاست کے صدر کا کام بھی صحیح معنوں میں یہ ہے کہ وہ اللّٰہ کے احکام وفرامین پر عمل درآمد کرے۔ قرآن، بلکہ اِسلام اس تصور سے قطعًاناآشنا ہے کہ ایک آدمی تمام مسلمانوں کے لیے قانون وضع کرے۔ قرآن مجید بتکرار اور باصرار اس امر کا اعلان کرتا ہے کہ اللّٰہ اور صرف اللّٰہ ہی دُنیا وآخرت کا بادشاہ ہے اور اس کے احکام آخری اور قطعی ہیں۔ سورۃ:۶ آیت:۵۷، سورۃ۱۲ آیت ۴۰ اور ۶۷ میں فرمایا گیا ہے کہ حکم ران صرف اللّٰہ ہے۔ اسی طرح سورہ ۴۰: آیت ۱۲ میں فرمایا گیا ہے:
فَالْحُكْمُ لِلہِ الْعَلِيِّ الْكَبِيْرِo
پس فیصلہ اللّٰہ کے لیے ہے جو برتر اور بزرگ ہے۔
یہ بات سورۃ ۵۹:۲۳۔۲۴ سے بھی واضح ہے کہ حاکم اعلیٰ اللّٰہ کی ذات ہے:
ہُوَاللہُ الَّذِيْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۝۰ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَيْمِنُ الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ۝۰ۭ سُبْحٰنَ اللہِ عَمَّا يُشْرِكُوْنَo ہُوَاللہُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَہُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى۝۰ۭ يُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۚ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُo
وہی اللّٰہ ہے کہ نہیں کوئی الٰہ سوا اُس کے، پادشاہ ہے، پاک ہے، سلامتی والا ہے، امن دینے والا ہے، نگہبان ہے، زبردست ہے، غالب ہے اور بڑائی والا ہے۔ پاک ہے اس سے جسے وہ شریک کرتے ہیں۔ وہی اللّٰہ ہے، خالق ہے، بنانے والا ہے، صورت گری کرتا ہے، اس کے لیے ہیں بہت اچھے نام۔ پاکیزگی بیان کرتی ہے اس کی ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اوروہ زبردست دانا ہے
۹۔ نبی ﷺ اور ان کے چاروں خلفا کا عمل اس بات کی واضح شہادت فراہم کرتا ہے کہ بادشاہت اِسلام کے قطعًا منافی ہے، ورنہ ان کے لیے اس سے آسان تر بات کوئی نہیں تھی کہ وہ مسلمان قوم کے بادشاہ ہونے کا اعلان کر دیتے۔ اگر وہ ایسا کر دیتے تو ان کے دعوے کو فورًا تسلیم کر لیا جاتا، کیوں کہ ان کی صلاحیت، دیانت اور استقامت شک وشبہے سے بالاتر تھی۔ یہ بات بھی پورے اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ وہ نہ یہ یقین رکھتے تھے اور نہ اس کا اعلان ہی کرتے تھے کہ وہ اِسلامی دُنیا کے خود مختار اور مطلق العنان فرماں روا ہیں۔ وہ جو کام بھی کرتے تھے، دوسرے مسلمانوں کے باہمی مشورے سے کرتے تھے۔ تمام مسلمان ایک ہی برادری میں شریک تھے جو اُن کے یا دوسرے لفظوں میں اِسلامی عقیدے کا لازمی تقاضا تھا، اس عقیدے کا عین مزاج یہ تھا کہ انسان پر سے انسان کی فوقیت کا خاتمہ ہو گیا اور اجتماعی فکر اور اجتماعی عمل کے لیے دروازہ کھل گیا۔ نہ کوئی حاکم تھا، نہ کوئی محکوم، نہ کوئی پروہت تھا نہ کوئی پیر۔ ہر شخص امام بن سکتا تھا مگر اس کے ساتھ ساتھ اسے ان لوگوں کی پیروی کرنی پڑتی تھی جو تقوٰی یا کسی دوسرے لحاظ سے اس پر فایق تھے۔ امیر معاویہؓ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اخوت اِسلام پر ایک کاری ضرب لگائی اور اپنے لڑکے کو ریاست کا جانشین نامزد کرکے پوری قوم کو اپنے خاندان کے عوض میں گرو کر دیا۔ ہمارے جمہوریت پسند رسول کی وفات کے جلد ہی بعد اِسلام کی لائی ہوئی جمہوریت کو امپیریلزم میں تبدیل کر دیا گیا۔ معاویہؓ نے نسلی خلافت کا آغاز کرکے اِسلام کی جڑ پر تیشہ رکھ دیا۔ محمد رسول اللّٰہﷺ اگرچہ اپنے بعض قرابت داروں سے بڑی مَحبّت رکھتے تھے، لیکن انھوں نے ان میں سے کسی کو بھی اپنے بعد امت مسلمہ کا سربراہ مقرر نہیں کیا۔ ہمیشہ آپﷺ کی روش نمایاں طورپر جمہوری رہی۔ معاویہ کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے نے ان کے حسبِ منشا خلافت پر غاصبانہ قبضہ جما لیا اور خود نبی کے نواسے نے یزید کی اس خلاف ورزیِٔ قرآن کا سد باب کرنے کے لیے اپنی اور اپنے عزیزوں کی جانوں کو قربان کر دیا۔ یہ بنو امیہ کا پراپیگنڈہ تھا کہ امام حسینؓ نے اپنی جان اس لیے دی تاکہ وہ خلافت کے حق کو اہل بیت کے لیے محفوظ کر سکیں۔ یہ پراپیگنڈہ بالکل جھوٹا تھا اور یہ عجیب بات ہے کہ شیعہ حضرات بھی اس پراپیگنڈے کا ارتکاب کیے جا رہے ہیں۔ بد قسمتی سے امام حسینؓ کو کامیابی حاصل نہ ہو سکی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بادشاہت اور استبداد مسلمانوں کے اندر ایک مُسلَّم قاعدے کی حیثیت اختیار کر گئے۔ اس کے بعد مسلمانوں کے لیے اپنے امیر کے انتخاب میں کوئی اختیار باقی نہ رہا اور اپنے معاملات کے کنٹرول میں ان کا کوئی دخل نہ رہا۔ معاویہ نے جس کام کا آغاز کیا اس کا شاید کوئی فوری خراب نتیجہ برآمد نہ ہوا، لیکن آخر کار اس نے مسلم سوسائٹی کے صحت مندانہ ارتقا اور نشوونما کو ناگزیر طور پر متاثر کیا اور آج اقوام عالم کی برادری میں اس کی حیثیت ثانوی بن کر رہ گئی ہے۔
۱۰۔ قرآن مجید کی رو سے مسلمانوں کا امیر صرف وہ شخص ہو سکتا ہے جو علمی اور جسمانی حیثیت سے اس منصب کے لیے موزوں ہو۔ اس سے صاف طور پر امارت کی نسلی بنیاد کی نفی ہو جاتی ہے۔ اس معاملے میں مندرجہ ذیل آیات کا نقل کرنا مفید ہو گا:
وَقَالَ لَہُمْ نَبِيُّہُمْ اِنَّ اللہَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا۝۰ۭ قَالُوْٓا اَنّٰى يَكُوْنُ لَہُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْہُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ۝۰ۭ قَالَ اِنَّ اللہَ اصْطَفٰىہُ عَلَيْكُمْ وَزَادَہٗ بَسْطَۃً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ۝۰ۭ وَاللہُ يُؤْتِيْ مُلْكَہٗ مَنْ يَّشَاۗءُ۝۰ۭ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌo البقرہ 274:2
ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اللّٰہ نے طالوت کو تمھارے لیے بادشاہ مقرر کیا ہے۔ وہ بولے: ہم پر بادشاہ بننے کا وہ کیسے حقدار ہو گیا حالانکہ اس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں۔ وہ تو کوئی بڑا مالدار آدمی نہیں ہے۔ نبی نے کہا: اللّٰہ نے تمھارے مقابلے میں اس کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغی اور جسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں اور اللّٰہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے اور اللّٰہ بڑی وسعت رکھتا ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے۔
۱۱۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے اِسلامی قانون کے ٹھیک ٹھیک مطابق قانون سازی اللّٰہ اور صرف اللّٰہ کے لیے مخصوص ہے۔ آدم سے لے کر اب تک اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے قوانین اپنے انبیا اور رسولوں کے ذریعے سے نافذ فرمائے ہیں۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ اللّٰہ کی حکمت بالغہ اس امر کی مقتضی ہوئی کہ لوگوں کو آخری شریعت عطا کی جائے۔ یہ قانون شریعت انسانوں کی طرف محمد (ﷺ) پر وحی کی شکل میں نازل ہوا۔ یہ وحی لکھ لی گئی یا زبانی یاد کر لی گئی اور بعد میں اسے ایک کتاب کی شکل میں جمع کر دیا گیا جو قرآن مجید کے نام سے معروف ہے۔ اس کے بعد نسل انسانی کے تمام مردوں، عورتوں اور بچوں کو معاملات کا تصفیہ ان احکام کی روشنی میں کیا جانا تھا، جو اللّٰہ نے قرآن میں ارشاد فرمائے۔ یہی احکام بتاتے ہیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے، کیا پسندیدہ ہے اور کیا غیر پسندیدہ ہے، کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ہے، کیا مستحب ہے اور کیا مکروہ ہے۔ غرض قرآن مجید مسلم معاشرے کی ایک لازمی بنیاد ہے۔ یہ وہ مرکز ومحور ہے جس کے گرد پورا اِسلامی قانون گردش کرتا ہے۔
۱۱۔ (الف) یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ انسانوں پر مشتمل سوسائٹی ایک نہایت پیچیدہ شے ہے۔ اگرچہ فطرت ابدی وازلی ارادے کے اظہار کا نام ہے اور یہ ایک ابدی قانون کے تابع ہے لیکن انسانی احوال وکوائف ہر زمانے اور ہرمقام کے لحاظ سے یکساں نہیں ہیں۔ شخصیات اور مادی حالات کا اجتماع مستقبل کے واقعات کے لیے کوئی نمونہ نہیں رکھتا۔ انسان کے ہزار گونہ معاملات ہیں جن میں ہزار گونہ حالات وکوائف سے سابقہ پیش آتا ہے۔ اللّٰہ کی مشیت یہ ہے کہ ہر بچہ جودُنیا میں آئے، اپنے ساتھ خیالات کی ایک نئی دُنیا لائے۔ ہر طلوع ہونے والا دن نئے اور غیر متوقع تغیرات کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ اس دُنیا میں چوں کہ انسانی حالات اور مسائل بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اس بدلتی ہوئی دُنیا کے اندر مستقل، ناقابل تغیر وتبدل احکام وقوانین نہیں چل سکتے۔ قرآن مجید بھی اس عام قاعدے سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے مختلف معاملات میں چند وسیع اور عام قاعدے انسانی ہدایت کے لیے دے دئیے ہیں۔ یہ ہمیں مجرد قواعد کا ایک کامل ترین نظام اور خیر وصلاح پر مبنی ایک ضابطۂ اخلاق دیتا ہے۔ بعض خاص معاملات (مثلاً وراثت) میں یہ زیادہ واضح اور مفصل ہے۔ بعض امور ایسے ہیں جن کا ذکر تمثیل وتلمیح کے انداز میں کیا گیا ہے۔ بعض معاملات ایسے ہیں جن میں قرآن نے مکمل سکوت اختیار کیا ہے تاکہ ان معاملات میں انسان اپنا طرز عمل زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق متعین کرے۔ قرآن مجید میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ نہایت سادہ زبان میں نازل کیا گیا ہے، تاکہ ہر ایک اسے سمجھ سکے۔ بعض آیات جن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے ان کا یہاں نقل کر دینا مفید ثابت ہو گا۔
اس کے بعد فاضل جج نے سورہ۲: آیت ۲۴۲، سورہ۶: آیت۹۹، سورہ۶: آیت ۱۰۶، سورہ ۶:۱۲۷، سورہ۱۱: آیت۱، سورہ۱۲: آیت۲، سورہ ۱۵: آیت۱‘سورہ۱۷: آیت ۸۹، سورہ ۱۷: آیت ۱۰۶، سورہ ۳۹: آیت۲۸، سورہ ۵۴: آیت ۱۷، سورہ ۵۴: آیت ۲۲، سورہ ۵۷: آیت ۹، سورہ ۵۷: آیت ۱۷، سورہ ۵۷: آیت ۲۵، سورہ۳۰: آیت ۵۸، سورہ ۴۱:۴۴ نقل کی ہیں، اور ان کا ترجمہ بھی ساتھ دیا ہے۔
پس یہ امر بالکل واضح ہے کہ قرآن کا پڑھنا اور سمجھنا ایک دو آدمیوں کا مخصوص حق نہیں ہے۔ قرآن سادہ اور آسان زبان میں ہے جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے، تاکہ تمام مسلمان اگر چاہیں تو اسے سمجھ سکیں اور اس کے مطابق عمل کر سکیں۔ یہ ایک ایسا حق ہے جو ہر مسلمان کو دیا گیا ہے اور کوئی شخص، خواہ وہ کتنا ہی فاضل یا عالی مقام کیوں نہ ہو، وہ مسلمان سے قرآن پڑھنے اور سمجھنے کا حق نہیں چھین سکتا۔قرآن مجید کو سمجھتے ہوئے ایک آدمی پرانے زمانے کے لائق مفسرین کی تفاسیر سے قیمتی امداد حاصل کر سکتا ہے لیکن اس معاملے کو بس یہیں تک رہنا چاہیے۔ ان تفسیروں کو اپنے موضوع پر حرف آخر نہیں قرار دیا جا سکتا۔ قرآن مجید کا پڑھنا اور سمجھنا خود اس امر کو متضمن ہے کہ آدمی اس کی تعبیر کرے اور اس کی تعبیر کرنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آدمی اس کو وقت کے حالات پر اور دُنیا کی بدلتی ہوئی ضرورت پر منطبق کرے۔ اس مقدس کتاب کی جو تعبیریں قدیم مفسرین، مثلاً: امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ وغیرہ نے کی ہیں، جن کا تمام مسلمان اور میں خود بھی انتہائی احترام کرتا ہوں، وہ آج کے زمانے میں جوں کی توں نہیں مانی جا سکتیں۔ ان کی تعبیرات کو درحقیقت دوسرے بہت سے فضلائ نے بھی تسلیم نہیں کیا ہے جن میں ان کے اپنے شاگرد بھی شامل ہیں۔ قرآن مجید کے مختلف ارشادات کا جو غائر مطالعہ ان حضرات نے کیا تھا، وہ ہم پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ ان گرد وپیش کے حالات اور واقعات سے متاثر ہوئے ہیں جو اس زمانے میں ماحول پر طاری تھے۔ وہ ان مسائل کے بارے میں ایک خاص نتیجے تک پہنچے ہیں جو اُن کے اپنے ملک یا زمانے میں درپیش تھے۔ آج سے بارہ یا تیرہ سو برس پہلے کے مفسرین کے اقوال کو حرفِ آخر مان لیا جائے تو اِسلامی سوسائٹی ایک آہنی قفس میں بند ہو کر رہ جائے گی اور زمانے کے ساتھ ساتھ نشوونما کا اسے موقع نہیں ملے گا۔ یہ پھر ایک ابدی اورعالم گیر دین نہیں رہے گا، بلکہ جس زمان ومکان میں اس کا نزول ہوا تھا، یہ اسی تک محدود رہے گا، جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے۔ اگر قرآن کوئی لگے بندھے ضوابط مقرر نہیں کرتا تو امام ابو حنیفہ وغیرہ کی تشریحات کوبھی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ بالواسطہ اسی نتیجے کا باعث بنیں۔
بدقسمتی سے حالاتِ جدیدہ کی روشنی میں قرآن مجید کی تفسیرکا دروازہ چند صدیوں سے بالکل بند کر دیا گیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مسلمان مذہبی جمود، تہذیبی انحطاط، سیاسی پژمردگی اور معاشی زوال کا شکار ہو چکے ہیں۔ سائنٹیفک ریسرچ اور ترقی جو ایک زمانے میں مسلمانوں کا اجارہ تھی وہ دوسروں کے ہاتھوں میں جا چکی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان ہمیشہ کی نیند سو گئے ہیں۔ اس صورت حال کا خاتمہ لازمی ہے۔ مسلمانوں کو بیدار ہو کر زمانے کے ساتھ چلنا ہو گا۔ اجتماعی، معاشی اور سیاسی حیثیت سے جو بے حسی اور بے عملی مسلمانوں کو اپنی گرفت میں لے چکی ہے اس سے نجات حاصل کرنی پڑے گی۔ قرآن مجید کے عام اصولوںکو سوسائٹی کے بدلتے ہوئے تقاضوں پر منطبق کرنے کے لیے ان کی ایسی معقول اور دانش مندانہ تعبیر کرنی ہو گی کہ لوگ اپنی تقدیر اور اپنے خیالات اور اخلاقی تصورات کی تشکیل اس کے مطابق کر سکیں اور اپنے ملک اور زمانے کے لیے موزوں طریقے پر کام کر سکیں۔ دوسرے انسانوں کی طرح مسلمان بھی عقل اور ذہانت رکھتے ہیں اور یہ طاقت استعمال کرنے ہی کے لیے دی گئی ہے، بیکار ضائع ہونے کے لیے نہیں ہے۔ دُنیا کے مختلف حصوں میں عوام کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اس بات پر غور وخوض اور تحقیق کریں کہ نصوصِ قرآنی کا مدعا اور مفہوم عند اللّٰہ کیا ہے اور اسے اپنے مخصوص احوال پر کس طرح چسپاں کیا جا سکتا ہے۔ پس تمام مسلمانوں کو قرآن پڑھنا، سمجھنا اور اس کی تعبیر کرنا ہو گا۔
٭ وَمِنْہُمْ مَّنْ يَّسْتَمِــــعُ اِلَيْكَ۝۰ۚ حَتّٰٓي اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا۝۰ۣ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللہُ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ وَاتَّبَعُوْٓا اَہْوَاۗءَہُمْo محمد 16:47
اور ان میں سے وہ ہیں جو تمھاری بات بہ تکلف سنتے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ تمھارے پاس سے نکل جاتے ہیں تو وہ ان لوگوں سے جنھیں علم دیا گیا ہے، کہتے ہیں ’’کیا کہا ہے اس نے ابھی؟‘‘ یہی لوگ ہیں جن کے دل پر اللّٰہ نے ٹھپا لگا دیا ہے اور انھوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے۔
٭ ہُوَالَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْہِمْ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۤ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍo الجمعہ 62:2
وہی ہے جس نے پیدا کیا اُمیوں میں ایک رسول ان میں سے جو تلاوت کرتا ہے ان پر اس کی آیات اور انھیں پاک کرتا ہے اور سکھاتا ہے انھیں کتاب اور حکمت، حالانکہ وہ پہلے یقینا کھلی ہوئی گم راہی میں تھے۔
لوگوں پر لازم ہے کہ وہ قرآن میں تدبر کریں اور اپنے دلوں پر قفل نہ لگا دیں۔
٭ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِہٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ ص ٓ29:38
یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تم پر نازل کی ہے، برکت والی ہے، تاکہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقلمند نصیحت حاصل کریں۔
لوگوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ قرآن میں غور وفکر کریں اوراسے سمجھنے کی کوشش کریں جس طرح دُنیا میں دیگر مقاصد کے حصول کی خاطر سخت جدوجہد کی ضرورت ہے، اسی طرح قرآن کو سمجھنے اور اس کے مدعا کو پانے کی سخت کوشش ہی کا نام اجتہاد ہے۔
٭ وَمَنْ جَاہَدَ فَاِنَّمَا يُجَاہِدُ لِنَفْسِہٖ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَo العنکبوت29:6
جو کوئی سخت جدوجہد کرتا ہے، وہ اپنی جان کے لیے جدوجہد کرتا ہے، یقینا اللّٰہ بے نیاز ہے جہان والوں سے۔
دوبارہ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ لوگ قرآن مجید کا مکمل اور صحیح علم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
٭ حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰيٰتِيْ وَلَمْ تُحِيْطُوْا بِہَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَo النمل 84:27
یہاں تک کہ جب وہ آ جائیں گے وہ کہے گا: کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا، حالانکہ تم نے علم سے ان کا احاطہ نہیں کیا، یا تم کیا کر رہے تھے؟
٭ وَجَاہِدُوْا فِي اللہِ حَقَّ جِہَادِہٖ۝۰ۭ ہُوَاجْتَبٰىكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ۝۰ۭ مِلَّـۃَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰہِيْمَ۝۰ۭ ہُوَسَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ۝۰ۥۙ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ ھٰذَا لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِيْدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ۝۰ۚۖ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ وَاعْتَصِمُوْا بِاللہِ۝۰ۭ ہُوَمَوْلٰىكُمْ۝۰ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُo الحج 78:22
اور سخت کوشش کرو اللّٰہ (کی راہ) میں جیسا کہ اس کے لیے کوشش کا حق ہے۔ اس نے تمھیں چنا ہے اور نہیں بنائی تم پر دین کے معاملے میں تنگی، طریقہ تمھارے باپ ابراہیمؑکا، اس نے نام رکھا تمھارا مسلمین پہلے اور اس میں، تاکہ رسول تم پر گواہ بنے اورتم لوگوں پر گواہ بنو، پس نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللّٰہ کو مضبوط پکڑو، وہ تمھارا حامی ونگہبان ہے۔ پس کیا ہی اچھا حامی اور کیا ہی اچھا مددگار ہے۔
٭ فَتَعٰلَى اللہُ الْمَلِكُ الْحَقُّ۝۰ۚ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰٓى اِلَيْكَ وَحْيُہٗ۝۰ۡوَقُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًاo طٰہٰ 114:20
پس بہت بلند وبرتر ہے اللّٰہ، بادشاہ حقیقی اور نہ جلدی کرو قرآن کے ساتھ قبل اس کے کہ پوری ہو جائے تمھاری طرف وحی اس کی اور کہو: اے رب میرے! بڑھا مجھے علم میں۔
یہ تمام آیات اس امر کی وضاحت کرتی ہیں کہ تمام مسلمانوں سے، نہ کہ ان کے کسی خاص طبقے سے، یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ قرآن کا علم حاصل کریں، اسے اچھی طرح سمجھیں اور اس کی تعبیر کریں۔ تشریح وتعبیر کے لیے چند مُسلَّم اصولوں کی پابندی لازم ہے۔ ان اصولوں میں سے چند ایک یہ ہو سکتے ہیں:
۱۔ قرآن مجید کے بعض احکام اہم اور بنیادی ہیں، ان کی خلاف ورزی ہرگز نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ان پر جوں کا توں عمل کرنا چاہیے۔
۲۔ کچھ اور آیات ایسی ہیں جن کی نوعیت ہدایات کی ہے اور جن کی پیروی کرنا کم وبیش ضروری ہے۔
۳۔ جہاں الفاظ بالکل سادہ اور واضح ہوں، جو متعین اور غیر مبہم مفہوم پر دلالت کرتے ہوں، وہاں الفاظ کے وہی معانی مراد لینے چاہییں جو لغت اور گرامر کی رو سے صحیح اور متبادر ہوں۔ دوسرے لفظوں میں اس مقدس کتاب کے الفاظ کے ساتھ کسی طرح کی کھینچ تان روا نہیں ہے۔
۴۔ اس بات کو تسلیم کیا جانا چاہیے کہ قرآن مجید کا کوئی حصہ بے معنی، متناقض یا زائد از ضرورت نہیں ہے۔
۵۔ سیاق وسباق سے الگ کرکے کوئی معنی نہیں نکالنے چاہییں۔
۶ شانِ نزول کے مطابق یعنی نزولِ قرآن کے وقت جو حالات درپیش تھے، ان کے پس منظر میں رکھ کر قرآن کے معانی کی تشریح کرنا خطرناک ہے۔
۷۔ قرآن کی تعبیر معقول (rational) ہونی چاہیے۔ اس سے مدعا یہ ہے کہ اسے گردوپیش کے احوال سے متاثر ہونے والے انسانی رویے سے متطابق ہونا چاہیے۔ یہ امر قابل لحاظ ہے کہ نئے اور غیر متوقع حالات ہمیشہ رونما ہوتے رہتے ہیں۔ سوسائٹی کی ضروریات میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے، اور تشریح ان حالات ومقتضیات کی روشنی میں کی جانی ضروری ہے۔
۱۱۔ زمان ومکان کے اختلاف کی بِنا پر جو مختلف صورتیں پیدا ہوتی ہیں، ان میں مشابہت وعدم مشابہت کا باہمی موازنہ ہونا چاہیے۔ تقابل کرتے ہوئے ہمیں حالات ودرجات کی رعایت کوملحوظ رکھنا چاہیے اور بعید وقریب کے حقائق کو جانچتے ہوئے ماضی سے حال کی جانب اس طرح پیش قدمی کرنی چاہیے کہ مفروضات وقیاسات اور غیر مطلق اور قابل ترک اعتقادات سب ہماری نگاہ کے سامنے رہیں۔
۱۲۔ بدقسمتی سے اس دُنیا میں کم از کم خلافتِ راشدہ کے بعد، کوئی ایسی صحیح اِسلامی ریاست وجود میں نہیں آئی جس میں لوگوں نے پورے شعور وارادے اور باہمی تعاون کے ساتھ قرآن مجید کی تعبیر کا کام کیا ہو۔ قرآن مجید کے مقرر کردہ اصول ابدی ہیں، لیکن ان کا انطباق ابدی نہیں ہے کیوں کہ انطباق ایسے حقائق و مقاصد کا مرہونِ منت ہے جو مسلسل تغیر پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ اب اگر قرآن مجید کی ایک خاص نص کی ایک سے زائد تعبیرات ممکن ہوں اور ہر مسلمان کو اس بات کا حق دے دیا جائے کہ وہ اپنے فہم وذوق کے مطابق تشریح کر دے، تو اس کے نتیجے میں بے شمار تعبیرات وجود میں آ کر ایک بدنظمی کا موجب بن جائیں گی۔ اسی طرح جن معاملات میں قرآن مجید ساکت ہے، ان میں بھی اگر ہر شخص کو اس کے نقطہ نظر کے موافق ایک ضابطہ بنانے کا اختیار دے دیا جائے تو ایک پراگندہ اور غیر مربوط سوسائٹی پیدا ہو جائے گی۔ ہر دوسری سوسائٹی کی طرح اِسلامی سوسائٹی بھی کم سے کم زحمت دہی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ افراد کو زیادہ سے زیادہ راحت ومسرت پیش کرتی ہے۔ اس لیے غلبہ اکثریت ہی کی رائے کو حاصل ہو گا۔
۱۳۔ ایک آدمی یا چند آدمی فطرتاًعقل اور قوت میں ناقص ہوتے ہیں کوئی شخص خواہ کتنا ہی طاقت وَر اور ذہین ہو، اس کے کامل ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ایک اعلیٰ درجے کا حساس اور صاحب نظر انسان بھی اپنے مشاہدے میں آنے والے جملہ امور کی اہمیت کا کماحقہٗ اندازہ نہیں کر سکتا۔ لاکھوں کروڑوں آدمی جو اجتماعی زندگی ایک نظم کے ساتھ بسر کر رہے ہیں، اپنی اجتماعی حیثیت میں افراد کی بہ نسبت زیادہ عقل اور طاقت رکھتے ہیں۔ ان کی قوت مشاہدہ اور قوتِ متخیلہ مقابلتاً بہتر اور برتر ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی رو سے بھی کتاب اللّٰہ کی تعبیر اور حالات پر اس کے عام اصولوں کا انطباق ایک آدمی یاچند آدمیوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا، بلکہ یہ کام مسلمانوں کے باہمی مشورے سے ہونا چاہیے۔
۱۔ وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّہِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ۝۰۠ وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰى بَيْنَہُمْ۝۰۠ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ يُنْفِقُوْنَo الشوریٰ38:42
وہ جنھوں نے اپنے رب کے بلاوے کا جواب دیا اور نماز قائم کی اور ان کا کام باہمی مشورے سے ہوتا ہے اور جو کچھ ہم نے انھیں عطا کیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔
۲۔ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا۝۰۠ وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا۝۰ۚ وَكُنْتُمْ عَلٰي شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْھَا۝۰ۭ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللہُ لَكُمْ اٰيٰتِہٖ لَعَلَّكُمْ تَھْتَدُوْنَo آل عمران 103:3
اور اللّٰہ کی رسی کو مضبوط تھامو سب، اور تفرقہ مت پیدا کرو اور یاد کرو اللّٰہ کی نعمت کو جو تم پر ہوئی جب تھے تم دشمن، پس اس نے تمھارے دلوں کو جوڑ دیا اور ہو گئے تم اس کے فضل سے بھائی بھائی اور تھے تم آگ کے گڑھے کے کنارے، پس بچایا اس نے تم کو اس سے، اس طرح واضح کرتا ہے اللّٰہ تمھارے لیے اپنی آیات، شاید کہ تم ہدایت پائو۔
اور بہت سی آیات میں بھی مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ قرآن مجید کو سمجھنے کی اور اس کی آیات پر غور وفکر کرنے کی کوشش کریں اور اس سے مراد یہ ہے کہ یہ کام انفرادی طور پر نہیں، بلکہ اجتماعی طور پر سرانجام دیا جانا چاہیے۔
۱۴۔ اس سیاق وسباق کے اندر یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ ’’قانون‘‘ کے لفظ کے معنی کیا ہیں؟ میری رائے میں قانون سے مراد وہ ضابطہ ہے جس کے متعلق لوگوں کی اکثریت یہ خیال کرتی ہے کہ ان کے معاملات اس کے مطابق ہونے چاہییں۔
۱۵۔ ابتدا میں نسلِ انسانی کی تعداد بہت قلیل اور منتشر تھی اور ان میں سے ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کر سکتا تھا۔ بعد میں جب انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور انھیں گروہوں کی شکل میں بسنے کی ضرورت پیش آئی، اس وقت ان کے لیے ایک مشترک ضابطۂ اخلاق کی حاجت بھی رونما ہوئی۔ مثال کے طور پر پچاس آدمیوں کی ایک جماعت میں قتل کا ارتکاب کیا گیا۔ اکثریت کے خیال کے مطابق یہ ایک غلط اورناجائز کام تھا۔ چند افراد کے نزدیک شاید ایسا نہیں تھا۔ چوں کہ اکثریت کے پاس طاقت تھی، اس لیے انھوں نے اپنی مرضی کو اقلیت پر بہ جبر نافذ کر دیا اور اسی کو قانون کا درجہ حاصل ہو گیا، گویا کہ ان پچاس آدمیوں میں سے کوئی بھی قتل کا مرتکب نہیں ہو گا۔ یہ استدلال آج کل کے حالات کے لحاظ سے بھی صحیح ہے۔ کئی کروڑ باشندوں کے ایک ملک میں باشندوں کی اکثریت کو قرآن کی ان آیات کی جن کے اندر دو یا زائد تعبیروں کی گنجائش ہو، ایسی تعبیر کرنی چاہیے جو ان کے حالات کے لیے موزوں ترین ہو اور اسی طرح قرآن کے عام اصولوں کو حالات موجودہ پر منطبق کرنا چاہیے تاکہ فکر وعمل میں یکسانی ووحدت پیدا ہو سکے۔ اسی طرح یہ اکثریت کا کام ہے کہ ان مسائل ومعاملات میں جن پر قرآن ساکت ہے، کوئی قانون بنائے۔
اس کے بعد جو سوال بحث طلب ہے وہ یہ ہے کہ کروڑوں انسان قرآن مجید کی تعبیر وانطباق اور مسکوت عنہا معاملات میں قانون سازی کے حق کو کس طرح استعمال کریں گے؟ ایک ملک کے حالات کو دیکھ کر اس امر کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ وہاں کے باشندوں کے لیے اپنے نمایندوں کو منتخب کرنے کی بہترین صورت کیا ہے، جنھیں وہ اعتماد کے ساتھ اپنے اختیارات اور اظہار رائے کے حقوق تفویض کر سکیں۔ وہ فرد واحد کو بھی اپنا نمایندہ منتخب کر سکتے ہیں۔ لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایک شخص کو مختار مطلق بنا دینے کے نتائج ہمیشہ مہلک ثابت ہوئے ہیں۔ اقتدار کا نشہ فرد، جماعت اور قانون کی حکم رانی میں اختلال اور بگاڑ کا موجب ہوتا ہے اور جہاں اقتدار بلاقید اورمطلق ہو، وہاں یہ سہ گونہ فساد بھی اپنی آخری حد کو پہنچ جاتا ہے۔ ایک ملک کی تاریخ میں ایسے حالات پیش آ سکتے ہیں جو ایک شخص کو مجبور کر دیں کہ وہ اصلاحِ احوال اورملک کو تباہی سے بچانے کی خاطر عنان اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لے، لیکن یہ ایک ہنگامی صورت ہے جو جمہوریت کو بحال کرنے اور اختیارات کی امانت کو عوام کی طرف لوٹانے کے لیے قطعی طور پر جائز ہے۔ اس لیے صحیح اِسلامی قانون کے مطابق اس امر کی بڑی اہمیت ہے کہ اختیارات متعدد افراد کے اندر منقسم ہوں تاکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے روک تھام اور احتساب کا باعث ہو، اور سب مل جل کر پوری قوم کی راہ نُمائی کے لیے قوانین و ضوابط وضع کر سکیں۔ حالات کا قدرتی اقتضا یہ ہے کہ یہ جملہ بااختیار افراد عوام الناس کے سامنے مسئول اور جواب دہ ہوں۔ صرف اسی صورت میں ہی ایک منظم طریق کار کے ساتھ کسی پروگرام کو کامیابی کے مراحل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اِسلام میں سارے مسلمان اقتدار کے یکساں طور پر حامل ہیں اور ان پر صرف اللّٰہ کی بالادستی ہے ان کے فیصلے آزاد شہریوں کی حیثیت سے اجتماعی اور مشترک طور پر کیے جاتے ہیں، اسی کا نام اجماع ہے۔
اجتہاد قانون کا ایک مُسَلّم مآخذ ہے۔ اس سے مراد کسی مشتبہ یا مشکل قانونی مسئلے میں رائے قائم کرنے کے لیے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر مصروف کار کرنا ہے۔ امام ابوحنیفہؒ نے بڑے وسیع پیمانے پراجتہاد کا استعمال کیا ہے۔اجتہاد کی جن مختلف صورتوں کو امام ابوحنیفہؒ اور دوسرے فقہا کام میں لائے ہیں وہ یہ ہیں: قیاس، استحسان، استصلاح اور استدلال۔ مسلمان فقیہ فرد واحد یا چند افراد کے لیے اجتہاد کو خطرناک سمجھتے تھے۔ اس لیے وہ اس بات کو قابل ترجیح خیال کرتے تھے کہ کسی خاص قانونی مسئلے میں فقہا اور مجتہدین کے اجماع یا کثرت رائے سے فیصلہ ہو۔ قدیم زمانے میں تو شاید یہ درست تھا کہ اجتہاد کو چند فقہا تک محدود کر دیا جائے، کیوں کہ لوگوں میں آزادانہ اور عمومیت کے ساتھ علم نہیں پھیلایا جاتا تھا لیکن موجودہ زمانے میں یہ فریضہ باشندوں کے نمایندوں کو انجام دینا چاہیے، کیوں کہ جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں، قرآن مجید کا پڑھنا اور سمجھنا اور اس کے عام اصولوں کو حالات پر منطبق کرنا ایک یا دو اشخاص کا مخصوص استحقاق نہیں ہے بلکہ تمام مسلمانوں کا حق اور فرض ہے اوریہ کام ان لوگوں کو انجام دینا چاہیے جنھیں تمام مسلمانوں نے اس مقصد کے لیے منتخب کیا ہو۔ لہٰذا یہ بات آپ سے آپ لازم آتی ہے کہ جن معاملات میں قرآن مجید کا حکم واضح ہو‘وہ مسلمانوں کے لیے قانون کا درجہ رکھتا ہے اور جہاں تک قرآن مجید کی تعبیر اور اس کے کلیات کو جزئیات پر چسپاں کرنے کا تعلق ہے، ان میں جو کچھ عوام کے منتخب نمایندے طے کریں گے، اسے بھی قانون کا درجہ حاصل ہو گا۔
۱۶۔ اوپر جو نقطۂ نظر بیان کیا گیا ہے اسے چند مثالوں سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ میں پہلے قرآن مجید کی سورۂ نسا کی تیسری آیت کو لوں گا، جسے اکثر غلط استعمال کیا گیا ہے:
وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ۝۰ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ۝۰ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَلَّا تَعُوْلُوْاo النسائ 3:4
اور اگر تم ڈرو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہیں کرو گے تو نکاح کرو جو تمھیں پسند ہوں، عورتوں سے دو دو، تین تین، چار چار۔ پھر اگر تم ڈرو کہ تم عدل نہیں کر سکو گے تو ایک ہی سہی یا جن کے مالک ہیں تمھارے سیدھے ہاتھ۔ اس سے اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ تم بے انصافی نہ کرو گے۔
جیسا کہ میں اپنے فیصلے کے ابتدائی حصے میں بیان کر چکا ہوں، قرآن مجید کے کسی حکم کا کوئی جز بھی فضول یا بے معنی نہ سمجھا جانا چاہیے۔ لوگوں کے منتخب نمایندوں کا کام ہے کہ وہ اس بارے میں ایک قانون بنائیں کہ آیا ایک مسلمان ایک سے زائد بیویاں کر سکتا ہے یا نہیں اور اگر کر سکتا ہے تو کن حالات میں اور کن شرائط کے ساتھ۔ از راہِ قیاس ایسی شادی کو یتیموں کے فائدے کے لیے ہونا چاہیے۔
۱۷ ۔بہرکیف اس آیت سے صرف جواز ثابت ہوتا ہے نہ کہ لزوم اور میری دانست میں ریاست اس اجازت کو محدود کر سکتی ہے۔ اگر پچاس آدمیوں کی جماعت میں سے اکثریت یہ قانون بنا سکتی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی قتل کا ارتکاب نہیں کرے گا، تو اس مثال پر قیاس کرتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر ایک مسلمان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ کہے کہ میں ایک سے زیادہ بیویاں نہیں کروں گا، کیوں کہ میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا تو آٹھ کروڑ مسلمانوں کی اکثریت بھی ساری قوم کے لیے یہ قانون بنا سکتی ہے کہ قوم کی معاشی، تمدنی یا سیاسی حالت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ اس کا کوئی فرد ایک سے زیادہ بیویاں کرے۔ اس آیت کو قرآن مجید کی دو دوسری آیات کے ساتھ ملا کر پڑھنا چاہیے۔ پہلی آیت سورہ ۲۴ کی آیت ۳۳ ہے جس میں یہ طے کیا گیا ہے کہ جو لوگ شادی کرنے کے ذرائع نہ رکھتے ہوں، ان کو شادی نہ کرنی چاہیے۔ اگر ذرائع کی کمی کے باعث ایک شخص کو ایک بیوی کرنے سے روکا جا سکتا ہے تو انھی وجوہ یا ایسے ہی وجوہ کی بِنا پر اسے ایک سے زیادہ بیویاں کرنے سے روک دیا جانا چاہیے۔ شادی بیوی اور بچوں کے وجود پر متضمن ہے۔ اگر خاندان کی عدمِ کفالت کی صورت میں ایک شخص کے لیے نکاح ممنوع ہو سکتا ہے تو اسے اس امر پر بھی مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ اتنے ہی بچے پیدا کرے، جتنے پال سکے۔ اگر وہ خود تحدیدِ نسل نہ کر سکے تو ریاست کو اس کے لیے یہ کام کرنا چاہیے۔ اس اصول کا وسیع پیمانے پر اطلاق کرتے ہوئے، مثلاً اگر کسی ملک کی غذائی حالت خراب ہو اور برتھ کنٹرول کی حاجت ہو تو ریاست کے لیے یہ قانون بنانا بالکل جائز ہو گا کہ کوئی شخص ایک سے زائد بیویاں نہ رکھے اور ایک بھی صرف اس صورت میں رکھے جب کہ وہ اپنے کنبے کی ضروریات فراہم کر سکتا ہو اور بچے بھی ایک خاص حد تک رکھے۔ مزید برآں آیت مذکورۂ بالا میں خاص طور پر یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر ایک مسلمان ڈرتا ہوکہ وہ دو بیویوں کے درمیان عدل نہیں کر سکے گا، تو وہ صرف ایک بیوی سے شادی کرے۔ آگے سورۃ ۴، آیت ۱۲۹ میں اللّٰہ نے یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ بیویوں کے درمیان عدل کرنا انسانی ہستیوں کے بس میں نہیں ہے۔
وَلَنْ تَسْتَطِيْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَيْنَ النِّسَاۗءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيْلُوْا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوْھَا كَالْمُعَلَّقَۃِ۝۰ۭ وَاِنْ تُصْلِحُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللہَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًاo
النسائ 129:4
تم ہرگز یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ عدل کر سکو، عورتوں کے درمیان، خواہ تم اس کے کیسے ہی خواہش مند ہو۔ پس ایک سے کامل بے رخی اختیار نہ کرو کہ اسے ایسا چھوڑو جیسے وہ لٹکی ہوئی ہو اور اگر تم اصلاح کرو اور بچو (برائی سے) تو یقینا اللّٰہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔
یہ ریاست کا کام ہے کہ ان دونوں آیتوں میں تطبیق دینے کے لیے ایک قانون بنائے اور ایک سے زیادہ بیویاں کرنے پر پابندیاں عاید کر دے۔
۱۸ ۔ ریاست یہ کہہ سکتی ہے کہ دو بیویاں کرنے کی صورت میں چوں کہ سالہا سال کے تجربات سے یہ بات ظاہر ہو چکی ہے، اور قرآن میں بھی یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ دونوں بیویوں کے ساتھ یکساں برتائو ناممکن ہے، لہٰذا یہ طریقہ ہمیشہ کے لیے ختم کیا جاتا ہے۔ یہ تین آیات عام اصول بیان کرتی ہیں۔ ان عام اصولوں کا انطباق ریاست کو اپنی نگرانی میں کرنا چاہیے۔ ریاست لوگوں کو ایک سے زیادہ شادی کرکے اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو تباہ کرنے سے بچا سکتی ہے۔ قومی اور ملکی مفاد کا تقاضا یہ ہے کہ جب کبھی ضرورت محسوس ہو، شادی پر پابندی عائد کر دی جائے۔
۱۹۔ چور ی کے معاملے میں سورہ ۵، آیت ۳۸ میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ چور مردوں اور چور عورتوں کے ہاتھ کاٹ ڈالے جائیں۔ یہ اللّٰہ کی طرف سے ان کے جرم کی عبرت ناک سزا ہے۔ اسی سورہ کی آیت ۳۹ یہ بتاتی ہے :’’جو کوئی اپنے ظلم کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کر لے، تو یقینا اللّٰہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔‘‘ پس عام اصول یہ ہے کہ چوری کی زیادہ سے زیادہ سزا قطعِ ید ہے، لیکن یہ طے کرنا ریاست کا کام ہے کہ چوری کیا ہے اور کون سی چوری کی کیا سزا ہے؟ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ریاست کو لوگوں کے لیے قرآنی احکام پر مبنی قواعد وضوابط بنانے کا اختیار حاصل ہے۔ یہ اختیارات بہت وسیع ہیں اور منظم عملی پروگرام نافذ کرنے کے لیے ان کا آزادانہ استعمال ہونا چاہیے۔
۲۰۔ ہندو پاکستان میں جتنی کتابیں بھی قانونی لحاظ سے مستند تسلیم کی جاتی ہیں، ان میں اولاد صغار کے متعلق بیان کردہ اصول قرآن مجید پر مبنی نہیں ہیں۔ اس مقدس کتاب میں جو احکام نابالغ بچوں سے متعلق ہیں ان میں سے چند یہاں نقل کیے جا رہے ہیں:
۱۔ وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَۃَ۝۰ۭ وَعَلَي الْمَوْلُوْدِ لَہٗ رِزْقُہُنَّ وَكِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۝۰ۭ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَہَا۝۰ۚ لَا تُضَاۗرَّ وَالِدَۃٌۢ بِوَلَدِھَا وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖ۝۰ۤ وَعَلَي الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ۝۰ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْہُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْہِمَا۝۰ۭ وَاِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّآ اٰتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ۝۰ۭ وَاتَّقُوا اللہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌo البقرہ 233:2
اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال اس کے لیے جو رضاعت کو پورا کرنا چاہے اور باپ کے ذمّے ہے ان (مائوں) کا کھانا اور کپڑا معروف طریق پر۔ کسی جان کو تکلیف نہ دی جائے مگر اس کی طاقت کے مطابق۔ نہ والدہ کو ضرر پہنچایا جائے اس کے بچے کی وجہ سے اور نہ والد کو، اور وارث کے ذمّے بھی اسی کی مانند ہے۔ پس اگر دونوں دودھ چھڑانا چاہیں باہمی رضامندی اور مشورے سے تو کوئی گناہ نہیں ان پر اور اگر تم چاہو کہ دوسری عورت سے دودھ پلائو اپنے بچوں کو تو کوئی گناہ نہیں تم پر، جب کہ تم نے جو کچھ طے کیا ہے وہ معروف طریقے پر حوالے کر دو، اور اللّٰہ سے ڈرو اور جان لو اللّٰہ جو کچھ تم کرتے ہو، اسے دیکھنے والا ہے۔
۲۔ اَسْكِنُوْہُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَلَا تُضَاۗرُّوْہُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْہِنَّ۝۰ۭ وَاِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَيْہِنَّ حَتّٰى يَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۝۰ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ۝۰ۚ وَاْتَمِرُوْا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ۝۰ۚ وَاِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَہٗٓ اُخْرٰىo الطلاق 6:65
ٹھہرائو انھیں جہاں تم ٹھہرے ہو اپنے وسائل کے مطابق اور انھیں نقصان نہ پہنچائو تاکہ ان پر تنگی کرو اور اگر حمل والی ہوں تو ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وضع حمل ہو جائے۔ پھر اگر وہ تمھارے لیے دودھ پلائیں تو دو انھیں ان کے معاوضے اور مشورہ کر لو آپس میں معروف کے مطابق اور اگر باہمی اختلاف ہو تو دوسری عورت اسے دودھ پلائے۔
ان آیات کی رو سے مائوں کو پورے دو سال تک بچوں کو دودھ پلانا ہو گا۔ باپ کو سارے اخراجات برداشت کرنے ہوں گے جن میں نظر بظاہر بچے اور والدہ دونوں کے اخراجات شامل ہیں۔ اس سے شیعہ قانون کی تائید ہوتی ہے جس کی رو سے لڑکے کے معاملے میں والدہ کا حق حضانت دو سال ہے۔ لیکن حضانت کے مسئلے میں لڑکے اور لڑکی کے مابین جو تمیز قائم کی جاتی ہے، اس کے حق میں مجھے قرآن سے کوئی وجہ جواز فراہم نہیں ہو سکی۔ قرآن مجید والدین میں سے ہر دو پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ بچے کی پرورش کریں۔ بچے سے محروم نہ والد کو کیا جا سکتا ہے اور نہ والدہ کو۔ بہرکیف قرآن مجید میں ایسی کوئی ہدایت نہیں کہ ایک عورت طلاق پا کر اگر دوسری شادی کر لے تو پہلا شوہر اس سے اپنا بچہ لے سکتا ہے۔ اگر محض اس بِنا پر کہ اس نے دوسری شادی کر لی ہے، وہ بچے سے محروم ہو سکتی ہے تو میں کوئی وجہ نہیں سمجھتا کہ ایک مرد دوسری شادی کر لینے کی صورت میں کیوں نہ اپنے بچے سے محروم ہو۔ سوتیلی ماں اگر سوتیلے باپ سے زیادہ نہیں تو کم از کم اس کے برابر تکلیف دہ اور خطرناک ضرور ہے۔ بہرحال نابالغوں کے متعلق قانون بنانا ریاست کا کام ہے کیوں کہ قرآن اس بارے میں قطعًا ساکت ہے۔ گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کے بارے میں یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ نابالغان کے معاملات اس کے تابع ہیں۔ پاکستان کی اِسلامی ریاست کے وجود میں آنے کے بعد، ملک کے منتخب نمایندوں نے اس قانون کو منظور کر لیا تھا لیکن اس قانون میں بھی اس بارے میں کوئی واضح اور متعین ضابطہ نہیں ہے کہ والدہ کے نکاح ثانی کے بعد نابالغ بچے کا حقِ حضانت کسے حاصل ہو گا۔ قرآن اور اس ایکٹ دونوں کے مطابق واحد قابل لحاظ امر بچے کی فلاح وبہبود ہے۔ اگر بچے کی فلاح وبہبود کا تقاضا یہ ہو کہ بچہ والدہ کے پاس رہے، تو والدہ کے نکاحِ ثانی کے باوجود بچہ اسی کی تحویل میں رہنا چاہیے۔ ہر مقدمے کا فیصلہ اس کے خاص حالات وکوائف کی بِنا پر ہو گا۔
۲۱۔ قرآن کے علاوہ حدیث یا سُنّت کو بھی مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نے اِسلامی قانون کا ایک اتنا ہی اہم مآخذ سمجھ لیا ہے۔ متعین مفہوم کے مطابق حدیث سے مراد محمد رسول اللّٰہﷺ کا قول ہے۔ لیکن عام طور پر حدیث سے مراد رسولﷺ کا قول وعمل لیا جاتا ہے جسے آپ نے پسند یا ناپسند فرمایا، یا ناپسند نہیں فرمایا۔ اِسلامی قانون کامآخذ ہونے کی حیثیت سے حدیث کی قدر وقیمت کیا ہے۔ اس کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ہمیں یہ معلوم کرنا چاہیے کہ رسول پاکﷺ کا مرتبہ ومقام اِسلامی دُنیا میں کیا ہے؟ میں اس فیصلے کے ابتدائی حصے میں یہ بتا چکا ہوں کہ اِسلام ایک خدائی دین ہے۔ یہ اپنی سند خدا اور صرف خدا ہی سے حاصل کرتا ہے۔ اگر یہ اِسلام کا صحیح تصور ہے تو اس سے لازمًا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نبی کے اقوال واعمال اور کردار کو خدا کی طرف سے آئی ہوئی وحی کی سی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔ زیادہ سے زیادہ ان سے یہ معلوم کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے کہ مخصوص حالات میں قرآن کی تعبیر کس طرح کی گئی تھی، یا ایک خاص معاملے میں قرآن کے عام اصولوں کو خاص واقعات پر کس طرح منطبق کیا گیا تھا۔ کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ محمد رسول اللّٰہﷺ ایک کامل انسان تھے۔ نہ کوئی شخص یہ دعوٰی کر سکتا ہے کہ محمد رسول اللّٰہﷺ جس عزت وتکریم کے مستحق ہیں یا جس عزت وتکریم کا ہم ان کے لیے اظہار کرنا چاہتے ہیں، اس کے اظہار کی قوت وقابلیت وہ رکھتا ہے لیکن باایں ہمہ وہ خدا نہ تھے، نہ خدا سمجھے جا سکتے ہیں۔ دوسرے تمام رسولوں کی طرح وہ بھی انسان ہی ہیں۔ (اس کے بعد فاضل جج نے سورہ ۱۲: آیت ۱۰۹، سورہ ۱۴: آیت ۱۰۔۱۱، سورہ۳: آیت ۱۴۴، سورہ ۷: آیت ۱۸۸، سورہ ۴۱: آیت ۶، سورہ ۵۱: آیت ۵۱ مع ترجمہ نقل کی ہیں۔ ان میں نبی ﷺ کی بشریت کا ذکر ہے۔ اس کے بعد فاضل جج فرماتے ہیں:
ان کو اللّٰہ کے احکام کی پابندی اسی طرح کرنی پڑتی تھی جس طرح ہمیں کرنی پڑتی ہے، بلکہ شاید ان کی ذمہ داریاں قرآن مجید کی رو سے ہماری ذمہ داریوں کی بہ نسبت کہیں زیادہ تھیں۔ وہ مسلمانوں کو اس سے زیادہ کچھ نہیں دے سکتے تھے جتنا کچھ کہ ان پر نازل ہوا تھا۔
يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ۝۰ۭ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ۝۰ۭ وَاللہُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَo
المائدہ 67:5
اے رسول! پہنچا دو جو کچھ نازل کیا گیا ہے تمھاری طرف تمھارے رب کی طرف سے، اور اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تم نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللّٰہ تمھیں بچائے گا لوگوں سے یقینا اللّٰہ نہیں ہدایت دیتا کافروں کی قوم کو۔
۲۲۔ میرے لیے اس بات پر زور دینے کی خاطر قرآن مجید کی آیات نقل کرتے جانا غیرضروری ہے کہ محمد رسول اللّٰہﷺ اگرچہ بڑے عالی مرتبہ انسان تھے مگر ان کو خدا کے بعد دوسرا درجہ ہی دیا جا سکتا ہے۔ انسان ہونے کی حیثیت سے، ماسوا اس وحی کے جو ان کے پاس خدا کی طرف سے آئی تھی، وہ خود اپنے بھی کچھ خیالات رکھتے تھے اور اپنے ان خیالات کے زیر اثر وہ کام کرتے تھے۔ یہ صحیح ہے کہ محمد رسول اللّٰہﷺ نے کوئی گناہ نہیں کیا، مگر وہ غلطیاں تو کر سکتے تھے اور یہ حقیقت خود قرآن میں تسلیم کی گئی ہے:
لِّيَغْفِرَ لَكَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَيْكَ وَيَہْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًاo الفتح 2:48
تاکہ اللّٰہ بخش دے تیری اگلی پچھلی خطائوں کو اور اپنی نعمت تمام کرے تم پر اور راہ نمائی کرے تمھاری سیدھے راستے کی طرف۔
ایک سے زیادہ مقامات پر قرآن میں یہ بیان ہوا ہے کہ محمد رسول اللّٰہﷺ دُنیا کے لیے ایک بہت اچھا نمونہ ہیں، مگر اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایک آدمی کو ویسا ہی ایمان دار، ویسا ہی راست باز، ویسا ہی سرگرم اور ویسا ہی دیندار اور متقی ہونا چاہیے جیسے وہ تھے، نہ کہ ہم بھی بعینہٖ اسی طرح سوچیں اور عمل کریں جس طرح وہ سوچتے اور عمل کرتے تھے، کیوں کہ یہ تو غیر فطری بات ہو گی اور ایسا کرنا انسان کے بس میں نہیں ہے اور اگر ہم ایسا کرنے کی کوشش کریں تو زندگی بالکل ہی مشکل ہو جائے گی۔
۲۳۔ یہ بھی صحیح ہے کہ قرآن پاک اس کی تاکید کرتا ہے کہ محمد رسول اللّٰہﷺ کی اطاعت کی جائے مگر اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جہاں انھوں نے ہم کو ایک خاص کام ایک خاص طرح کرنے کا حکم دیا ہے، ہم وہ کام اسی طرح کریں۔ اطاعت تو ایک حکم ہی کی ہو سکتی ہے۔ جہاں کوئی حکم نہ ہو، وہاں نہ اطاعت ہو سکتی ہے نہ عدم اطاعت۔ قرآن کے ان ارشادات سے یہ مطلب اخذ کرنا بہت مشکل ہے کہ ہم ٹھیک وہی کچھ کریں جو رسولﷺ نے کیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ایک فرد واحد کے زمانۂ حیات کا تجربہ واقعات کی ایک محدود تعداد سے زیادہ کے لیے نظائر فراہم نہیں کر سکتا، اگرچہ وہ فرد واحد نبی ہی کیوں نہ ہو اور یہ بات پورے زور کے ساتھ کہی جانی چاہیے کہ اِسلام نے نبی کو کبھی خدا نہیں سمجھا ہے۔ یہ بالکل واضح بات ہے کہ قرآن اور حدیث میں جوہری اور حقیقی فرق ہے۔ جہاں تک ان سوالات کا تعلق ہے کہ ایک قوم کے لیے خاص معاملات میں ضابطہ ٔ اخلاق کیا ہو، اور ایک خاص مقدمے کا فیصلہ کس طرح ہو، انھیں انصاف اور موجودہ حالات کے تقاضوں ہی کے مطابق طے کیا جا سکتا ہے۔
٭ اِنَّ اللہَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا۝۰ۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِہٖ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًاo
النسائ 58:4
یقینا اللّٰہ تمھیںحکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں اور جب تم فیصلہ کرو لوگوں کے درمیان تو فیصلہ کرو عدل کے ساتھ۔ یقینا اللّٰہ بہت اچھی بات کی نصیحت کرتا ہے تمھیں۔ اللّٰہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔
٭ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ۝۰ۭ فَاِنْ جَاۗءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَہُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْہُمْ۝۰ۚ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْہُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا۝۰ۭ وَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَہُمْ بِالْقِسْطِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَo المائدہ 42:5
بہت جھوٹ سننے والے اور حرام خور ہیں، پس اگر تمھارے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کرو، یا اعراض کرو، ان سے اور اگر تم ان سے منہ پھیر لو تو تمھارا کچھ بگاڑ نہیں لیں گے اور اگر تم فیصلہ کرو تو فیصلہ کرو اُن کے درمیان عدل سے۔ اللّٰہ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
٭ فَلِذٰلِكَ فَادْعُ۝۰ۚ وَاسْتَقِمْ كَـمَآ اُمِرْتَ۝۰ۚ وَلَا تَتَّبِـعْ اَہْوَاۗءَہُمْ۝۰ۭ وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ مِنْ كِتٰبٍ۝۰ۚ وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ۝۰ۭ اَللہُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ۝۰ۭ لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ۝۰ۭ لَا حُجَّۃَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ۝۰ۭ اَللہُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا۝۰ۚ وَاِلَيْہِ الْمَصِيْرُo
الشوریٰ42: 15
پس اس طرف بلائو اور سیدھے رہو جس طرح تمھیں حکم دیا گیا ہے اور مت پیروی کرو ان کی خواہشات کی اور کہو ایمان لایا میں اس پر جو کچھ اللّٰہ نے نازل کیا کتاب سے اور حکم دیا گیا ہے مجھے کہ میں عدل کروں تمھارے مابین۔ اللّٰہ رب ہے ہمارا اور تمھارا۔ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال ہیں۔ ہمارے اور تمھارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ اللّٰہ جمع کرے گا ہمیں اور اسی کی طرف پلٹنا ہے۔
انفرادی اور قومی معاملات کا تصفیہ کرنے کے لیے ہم زمان ومکان کے اختلافات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
۲۴۔ کوئی مستند شہادت ایسی موجود نہیں ہے جس سے معلوم ہو کہ خلفائے اربعہ محمد رسول اللّٰہ ﷺکے اقوال وافعال اور کردار کو کیا اہمیت دیتے تھے؟ لیکن بحث کی خاطر اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ افراد کے معاملات اور قومی اہمیت رکھنے والے مسائل کا فیصلہ کرنے میں حدیث کا بڑے وسیع پیمانے پر استعمال کرتے تھے، تو وہ ایسا کرنے میں حق بجانب تھے کیوں کہ وہ ہماری بہ نسبت بلحاظ زمانہ بھی اور بلحاظ مقام بھی محمد رسول اللّٰہﷺ سے قریب تر تھے۔ مگر ابوحنیفہؒ نے جو ۸۰ھ میں پیدا ہوئے اور ستّر سال بعد فوت ہوئے، تقریباً ۱۷ یا ۱۸ حدیثیں ان مسائل کا فیصلہ کرنے میں استعمال کیں جو ان کے سامنے پیش کیے گئے۔ غالباً اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ رسول اللّٰہﷺ کے زمانے سے اس قدر قریب نہیں تھے جتنے پہلے چار خلفائ تھے۔ انھوں نے اپنے تمام فیصلوں کی بنیاد قرآن کی مکتوب ہدایات پر رکھی اورمتن قرآن کے الفاظ کے پیچھے ان محرکات کو تلاش کرنے کی کوشش کی جو ان ہدایات کے موجب تھے۔ وہ استدلال واستنباط کی بڑی قوت رکھتے تھے۔ انھوں نے عملی حقائق کی روشنی میں قیاس کی بنیاد پر قانون کے اصول ونظریات مرتب کیے۔ اگر ابوحنیفہؒ یہ حق رکھتے تھے کہ حدیث کی مدد کے بغیر قرآن کی تعبیر موجود الوقت حالات کی روشنی میں کریں تو دوسرے مسلمانوں کو یہ حق دینے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن مجید کی تفسیر اور مقدمات کے فیصلے میں ابوحنیفہؒ کے اقوال کو حرفِ آخر ان کے شاگردوں اور پیروئوں نے بھی نہ مانا۔ وہ بہرحال ایک انسان تھے اور غلطی کر سکتے تھے۔ اسی وجہ سے فرد واحد کی رائے پر انحصار صحیح نہیں ہے۔ ایک قوم کے لیے صرف ان آرا وقوانین کی پابندی لازمی ہو سکتی ہے جو اس کے منتخب نمایندوں نے بالاجماع طے کیے ہوں۔ ابوحنیفہؒ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ سوسائٹی کو جن قواعد وقوانین کی حاجت ہے وہ سب نہیں، بلکہ ان میں سے چند ایک ہی قرآن میں موجود ہیں۔ اس کے برعکس بعد میں آنے والوں میں سے بعض کی رائے یہ تھی کہ ہر مستنبط قانون قرآن میں مضمر تھا اور ان کے استنباط کی حیثیت سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ جو کچھ قرآن کے اندر مخفی تھا اسے وہ منظر عام پر لے آئے ہیں۔
میں اس معاملے میں جو بڑا متنازعہ فیہ ہے، اپنی کوئی رائے ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔ آج کل جب کہ ہم ایک منظم اور منضبط دُنیا میں جی رہے ہیں اور ہر طرح کی حکیمانہ تحقیق کی سہولتیں ہمیں حاصل ہیں، یہ ٹھیک وقت ہے کہ ہم حدیث کے مآخذِ قانون ہونے کی حیثیت کا جائزہ لیں، نیز اس مسئلے پر بھی غور کریں کہ آیا امام ابوحنیفہؒ یا ان جیسے دیگر عالی مرتبت فقہا کے اقوال کی پابندی ہم پر لازم ہے یا حاضر وواقعی حالات کی روشنی میں ہمارے لیے بھی قیاس واستنباط کا حق بحال کیا جا سکتا ہے؟
۲۵۔ تمام فقہائے اِسلام اس بات کو بالاتفاق مانتے ہیں کہ جیسے جیسے زمانہ گزرتا گیا، جعلی حدیثوں کا ایک جمِ غفیر اِسلامی قوانین کا ایک جائز ومُسلَّم مآخذ بنتا چلا گیا۔ جھوٹی حدیثیں خود محمد رسول اللّٰہﷺ کے زمانے میں ظاہر ہونی شروع ہو گئی تھیں۔ جھوٹی اور غلط حدیثیں اتنی بڑھ گئی تھیں کہ حضرت عمرؓ نے اپنی خلافت کے دور میں روایت حدیث پر پابندیاں لگا دیں، بلکہ اس کی ممانعت کر دی۔ امام بخاریؒ نے چھ لاکھ حدیثوں میں سے صرف نو ہزار کو صحیح احادیث کی حیثیت سے منتخب کیا۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص اس بات سے انکار کرے گا کہ جس طرح قرآن کو محفوظ کیا گیا اس طرح کی کوئی کوشش رسول اللّٰہﷺ کے اپنے عہد میں احادیث کو محفوظ کرنے کے لیے نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس جو شہادت موجود ہے وہ یہ ہے کہ محمد رسول اللّٰہﷺ نے سختی کے ساتھ احادیث کو محفوظ کرنے سے منع کیا تھا۔اگر مسلم کی روایات صحیح ہیں تو محمد رسول اللّٰہﷺ نے پوری قطعیت کے ساتھ لوگوں کو اس بات سے منع کر دیا تھا کہ وہ ان کے اقوال اور افعال کو لکھیں۔ انھوں نے حکم دیا تھا کہ جس کسی نے ان کی احادیث کو محفوظ کر رکھا ہو، وہ انھیں فورًا ضائع کر دے: لَا تَکْتُبُوْا عَنِّیْ وَمَنْ کَتَبَ عَنِّیْ غَیْرَ الْقُرْآنِ فَلْیَمْحُہ‘ وَ حَدِّثُوْا وَلَاحَرَجَ۔اسی حدیث یا ایسی ہی ایک حدیث کا ترجمہ مولانا محمد علی نے اپنی کتاب دینِ اِسلام کے ایڈیشن ۱۹۲۶ء میں ص ۶۲ پر ان الفاظ میں دیا ہے:
روایت ہے کہ ابوہریرہؓ نے کہاکہ: رسول خداﷺ ہمارے پاس آئے اس حال میں کہ ہم حدیث لکھ رہے تھے۔ انھوں نے پوچھا: تم لوگ کیا لکھ رہے ہو؟ ہم نے کہا: حدیث، جو ہم آپؐ سے سنتے ہیں۔ انھوں نے فرمایا: یہ کیا! اللّٰہ کی کتاب کے سوا ایک اور کتاب؟
اس امر کی بھی کوئی شہادت موجود نہیں ہے کہ محمد رسول اللّٰہﷺ کے فورًا بعد جو چار خلیفہ ہوئے ان کے زمانے میں احادیث محفوظ یا مرتب کی گئی ہوں۔ اس امرِ واقعہ کا کیا مطلب لیا جانا چاہیے؟ یہ گہری تحقیقات کا طالب ہے۔ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ محمد رسول اللّٰہﷺ اور ان کے بعد آنے والے چاروں خلفا نے احادیث کو محفوظ کرنے کی کوشش اس لیے نہیں کی کہ یہ احادیث عام انطباق کے لیے نہیں تھیں؟ مسلمانوں کی بڑی اکثریت نے قرآن کو حفظ کر لیا۔ وہ جس وقت وحی آتی تھی ، اس کے فورًا بعد کتابت کا جو سامان بھی میسر آتا تھا اس پر لکھ لیا جاتا تھا اور اس غرض کے لیے رسول کریمﷺ نے متعدد تعلیم یافتہ اصحاب کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں۔ لیکن جہاں تک احادیث کا تعلق ہے وہ نہ یاد کی گئیں، نہ محفوظ کی گئیں۔ وہ ان لوگوں کے ذہنوں میں چھپی پڑی رہیں جو اتفاقاً کبھی دوسروں کے سامنے ان کا ذکر کرنے کے بعد مر گئے، یہاں تک کہ رسولﷺ کی وفات کے چند سو برس بعد ان کو جمع اور مرتب کیا گیا۔ میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ یہ معلوم کرنے کے لیے ایک مکمل اور منظم ریسرچ کی جائے کہ عربوں کے حیرت انگیز حافظے اور زبردست قوت یادداشت کے باوجود آیا احادیث کو موجودہ شکل میں قابل اعتماد اور صحیح تسلیم کیا جا سکتا ہے؟
یہ اعتراف کیا جاتا ہے کہ بعد میں پہلی مرتبہ رسول اللّٰہﷺ کے تقریباً ایک سو سال بعد احادیث کو جمع کیا گیا مگر ان کا ریکارڈ اب قابل حصول نہیں ہے۔ اس کے بعد ان کو حسب ذیل اصحاب نے جمع کیا: امام بخاری (متوفی ۲۵۶ھ)، امام مسلم (متوفی ۲۶۱ھ)، ابودائود (متوفی ۲۷۵ھ)، جامع ترمذی (متوفی ۲۷۹ھ)، سنن نسائی (متوفی ۳۰۳ھ)، سنن ابن ماجہ (متوفی ۲۸۳ھ)، سنن الدریبی (متوفی ۱۸۱ھ)، بیہقی (ولادت ۳۸۴ھ)، امام احمد (پیدائش ۱۶۴ھ)۔
شیعہ حضرات جن جامعین حدیث کے مجموعوں کو مستند سمجھتے ہیں وہ یہ ہیں: ابوجعفر(۳۲۹ھ)، شیخ علی (۳۸۱ھ)، شیخ ابوجعفر محمد بن علی بن حسین (۴۶۶ھ)، سید الرضی (۴۰۶ھ)، ظاہر ہے کہ یہ مجموعے امام بخاری وغیرہ کے مجموعوں سے بھی بعد میں مرتب کیے گئے۔ ایسی بہت کم احادیث ہیں جن میں یہ جامعین حدیث متفق ہوں۔ کیا یہ چیز احادیث کو انتہائی مشکوک نہیں بنا دیتی کہ ان پر اعتماد کیاجا سکے؟ جن لوگوں کو تحقیقات کا کام سپرد کیا گیا ہو وہ ضرور اس بات پر نگاہ رکھیں گے کہ ہزار در ہزار جعلی حدیثیں پھیلائی گئی ہیں تاکہ اِسلام اور محمد رسول اللّٰہﷺ کو بدنام کیا جائے۔ انھیں اس بات کو بھی نگاہ میں رکھنا ہو گا کہ عربوں کا حافظہ خواہ کتنا ہی قوی ہو، کیا صرف حافظے سے نقل کی ہوئی باتیں قابل اعتماد سمجھی جا سکتی ہیں؟ آخر آج کے عربوں کا حافظہ بھی تو ویسا ہی ہے جیسے تیرہ سو برس پہلے ان کا حافظہ رہا ہو گا۔({ FR 6827 }) آج کل عربوں کا حافظہ جیسا کچھ ہے وہ ہمیں یہ رائے قائم کرنے کے لیے ایک اہم سراغ کا کام دے سکتا ہے کہ جو روایات ہم تک پہنچی ہیں کیا ان کے صحیح اور حقیقی ہونے پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ عربوں کے مبالغے نے، اور جن راویوں کے ذریعے سے یہ روایات ہم تک پہنچی ہیں، ان کے اپنے معتقدات اور تعصبات نے بھی ضرور بڑی حد تک نقل روایت کو مسخ کیا ہو گا۔ جب الفاظ ایک ذہن سے دوسرے ذہن تک پہنچتے ہیں، وہ ذہن خواہ عرب کا ہو یا کسی اور کا، بہرحال ان الفاظ میں ایسے تغیرات ہو جاتے ہیں جو ہر ذہن کی اپنی ساخت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ہر ذہن ان کو اپنے طرز پرموڑتا توڑتا ہے، اور جب کہ الفاظ بہت سے ذہنوں سے گزر کر آئے ہوں تو ایک شخص تصور کر سکتا ہے کہ ان میں کتنا بڑا تغیر ہو جائے گا۔ ہمیں اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے کہ فطرت انسانی ہر جگہ یکساں ہے۔ اللّٰہ نے انسان کو ناقص بنایا ہے اور بشری مشاہدہ انتہائی خام اور کم زور ہے۔
۲۶ ۔ ایک شخص اگر حدیث کے مجموعوں کا مطالعہ کرے تو ان میں کم از کم بعض حدیثیں ایسی بھی موجود ہیں جنھیں داخلی شہادت کی بِنا پر صحیح ماننا مشکل ہے۔({ FR 6828 })
(i) عَنْ عَطَائَ اَنَّہ‘ قَالَ دَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ فَقُلْتُ اَخْبِرِیْنَا بِاَعْجَبِ مَارَأَیْتِ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلعم فَبَکَتْ وَقَالَتْ وَاَیْ شَاْنُہ‘ لَمْ یَکُنْ عَجَبًا۔ اَتَانِیْ فِیْ لَیْلَۃٍ فَدَخَلَ مَعِیَ فِیْ فِرَاشِیْ (اَوْقَاَلَتْ فِیْ لِحَافِیْ) حَتّٰی مَسَّ جَلَدِیْ جَلَدَہ‘ ثُمَّ قَالَ یَاابْنَۃَ اَبِیْ بَکْرٍ ذَرِیْنِیْ اَتَعْبُدُ لِرَبِّیْ قُلْتُ اِنّیْ اُحِبُّ قُرْبَکَ لٰکِنْ اُوْثِرُ ھَوَاکَ فَاَذِنْتُ لَہ‘ فَقَامَ اِلٰی قِرْبَۃِ مَائٍ فَتَوَضَّأَ فَلَمْ یُکْثِرْ صَبَّ الْمَائِ ثُمَّ قَامَ یُصَلِّیْ فَبَکٰی حَتیّٰ سَاَلَتْ دُمُوْعُہ‘ عَلٰی صَدْرِہٖ ثُمَّ رَکَعَ فَبَکٰی ثُمَّ سَجَدَ فَبَکٰی ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہ‘ فَبَکٰی فَلَمْ یَزَلْ کَذَالِکَ یَبْکِیْ حَتّٰی جَائَ بِلَالٌ فَاَذَّنَہ‘ بِالصَّلٰوۃِ فقُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَا یُبْکِیْکَ وَقَدَ غَفَرَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ قَالَ اَفَلاَ اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا۔
عطا سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا: میں حضرت عائشہؓ کے پاس گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے نبی ﷺ کی جو سب سے زیادہ پسندیدہ اور عجیب بات دیکھی ہو، وہ بتائیں۔ حضرت عائشہؓ رو دیں اور فرمایا: آں حضورﷺ کی کون سی حالت عجیب اور خوش کن نہیں تھی۔({ FR 6829 }) ایک رات آپﷺ تشریف لائے اورمیرے ساتھ میرے بستر یا لحاف میں داخل ہو گئے حتّٰی کہ میرے بدن نے آپﷺ کے بدن کو چھو لیا۔ پھر فرمایا: اے ابوبکر کی بیٹی! مجھے اپنے رب کی عبادت کرنے دو۔({ FR 6830 }) میں نے عرض کیا: مجھے آپؐ کا قرب پسند ہے لیکن میں آپؐ کی خواہش کو قابل ترجیح سمجھتی ہوں۔ پس میں نے آپﷺ کو اجازت دے دی۔ آپﷺ پانی کے ایک مشکیزے کے پاس تشریف لے گئے۔ پھر آپﷺ نے وضو کیا اور زیادہ پانی نہیں بہایا۔ پھر آپﷺ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور اتنے روئے کہ آپﷺ کے آنسو آپﷺ کے سینہ مبارک پر بہہ نکلے۔ پھر آپﷺ نے روتے ہوئے رکوع کیا، پھر روتے ہوئے سجدہ کیا، پھر روتے ہوئے سر اُٹھایا۔ آپﷺ مسلسل اسی طرح روتے رہے، یہاں تک کہ بلال آئے اور انھوں نے نماز (کا وقت ہو جانے) کی خبر دی۔ میں نے عرض کیا: اے اللّٰہ کے رسولﷺ! آپ کیوں روتے ہیں، حالانکہ اللّٰہ نے آپﷺ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے۔ آں حضورﷺ نے فرمایا: تو کیا میں ایک شکر گزار بندہ نہ بنوں؟
(ii) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَبِلُّ بَعْضَ اَزْوَاجِہٖ ثُمَّ یُصَلِّیْ وَلَایَتَوَضَّأُ۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: نبی ﷺ اپنی کسی بیوی کا بوسہ لیتے اور پھر وضو کیے بغیر نماز پڑھ لیتے تھے۔
(iii) عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَاَلتْ قَالَتْ اُمُّ سُلَیْمٍ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ لَایَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ فَھَلْ عَلَی الْمَرْأَۃِ مِنْ غُسْلٍ اِذَا احْتَلَمَتْ قَالَ نَعَمْ اِذَا رَأَتِ الْمَائَ فَغَطَتْ اُمُّ سَلَمَۃَ وَجْھَھَا وَقَالَتْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَوَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَۃُ قاَلَ نَعَمْ تَرِبَتْ یَمِیْنُکِ فَبِمَ یُشْبِھُہَا وَلَدُھَا (متفق علیہ) وَزَادَ مُسْلِمٌ بِرِوَایَۃِ اُمِّ سُلَیْمٍ اِنَّ مَائَ الرَّجُلِ غَلِیْظٌ اَبْیَضَ وَمَائُ الْمَرْأَۃِ رَقِیْقٌ اَصْفَرَ فَمِنْ اَیِھِّمَا عَلاَاَوْسَبَقَ یَکُوْنُ مِنْہُ الشِّبْہُ۔
حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ ام سلیم نے کہا: اے اللّٰہ کے رسولﷺ! اللّٰہ حق (بات) سے شرم روا نہیں رکھتا۔ پس کیا عورت پر غسل ہے جب اسے احتلام ہو؟ آں حضورﷺ نے فرمایا: ہاں، جب وہ پانی دیکھے (یعنی جب کہ فی الواقع خواب میں اسے انزال ہو گیا ہو)۔ حضرت ام سلمہؓ نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور کہا: اے اللّٰہ کے رسولﷺ! کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں، تیرا سیدھا ہاتھ خاک آلود ہو، آخر اس کا بچہ اس سے کیسے مشابہ ہوتا ہے۔ مسلم نے ام سلیم کی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ مرد کا مادہ گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پتلا اور پیلا۔ پس ان میں سے جو بھی غلبہ حاصل کرے اُسی سے مشابہت ہوتی ہے۔
(iv) عَنْ مُعَاذَۃَ قَاَلَتْ قَاَلَتْ عَائِشَۃُ کُنْتُ اَغْتَسِلُ اَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ (صلعم) مِنْ اِنَا ئٍ وَاحِدٍ بَیْنِیْ وَبَیْنَہ‘ فَیُبَادِرُنِیْ حَتّٰی اَقُوْلَ دَعْ لِیْ قَاَلتْ وَھُمَا جُنُبَانِ۔
معاذہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ نے بتایا کہ میں اور رسول اللّٰہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے جو میرے اور آپﷺ کے درمیان ہوتا تھا۔ آپﷺ مجھ سے زیادہ جلدی کرتے تھے یہاں تک کہ میں کہتی تھی میرے لیے (پانی) چھوڑ دیں۔ انھوں نے بیان کیا کہ وہ اس وقت دونوں حالت جنابت میں ہوتے تھے۔
(v) عنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُوْلْ اللّٰہِ صلعم عَنِ الرَّجُلِ یَجِدُ الْبلَلَ وَلَا یَذْکُرُ اِحْتِلاَ مًا قَالَ یَغْتَسِلُ وَعَنِ الرَّجُلِ الَّذِیْ یَرٰی اِنَّہ‘ قَدِ احْتَلَمَ وَلَا یَجِدُ بَلَلاً قَالَ لَا غُسْلَ عَلَیْہِ قَالَتْ اُمُّ سُلَیْمٍ ھَلْ عَلَی الْمَرْأَۃِ تَرٰی ذَالِکٰ غُسْلاً قَالَ نَعَمْ اِنَّ النِّسَائَ شَقَائِقُ الرِّجَالِ۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللّٰہ ﷺ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو تری دیکھے لیکن احتلام اسے یاد نہ ہو۔ آپﷺ نے فرمایا: وہ غسل کرے اور ایسے شخص کے بارے میں (بھی پوچھا گیا) جسے احتلام یاد ہو، لیکن وہ تری نہ پائے۔ آپﷺ نے فرمایا: اس پر غسل نہیں ہے۔ ام سلیم نے کہا: اگر عورت اس طرح (رطوبت) دیکھے، تو اس پر بھی غسل ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں، عورتیں مردوں کا آدھا حصہ ہیں۔
(vi) عَنْھاَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلْ اللّٰہِ صلعم اِذَا جَاوَزَ الخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ فَعَلْتُہ‘ اَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا۔
انھی سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا جب شرم گاہوں کے اگلے حصے باہم متجاوز ہوجائیں تو غسل واجب ہے۔ میں نے اور رسول اللّٰہ ﷺ نے ایسا کیا اور غسل کیا۔
(vii) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ ثُمَّ یَسْتَدْ فِیُٔ بِیُ قَبْلَ اَنْ اَغْتَسِلَ۔
حضرت عائشہ سے روایت ہے انھوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ غسل جنابت کر لینے کے بعد (سردی دور کرنے کے لیے)مجھ سے گرمی حاصل کرتے تھے، قبل اس کے کہ میں غسل کروں۔
(viii) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کُنْتُ اَغْتَسِلُ اَنَا وَالنَّبِیُّ صلعم مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ وَکِلَانَا جُنُبٌ وَکَانَ یَاْمُرُنِیْ فَاَتَّزِرُ فَیُبَاشِرُنِیْ وَاَنَا حَائِضٌ وَیُخْرِجُ رَأْسَہ‘ اِلَیَّ وَھُوْ مُعْتَکِفٌ فَاُغْسِلُہ‘ وَاَنَا حَائِضٌ۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ اور میں ایک ہی برتن سے نہاتے تھے، درآں حالیکہ ہم دونوں جنبی ہوتے تھے اور آپ مجھے بحالتِ حیض ازارباندھنے کا حکم دیتے تھے اور مجھ سے بغل گیر ہوتے تھے اور آپ اعتکاف کی حالت میں اپنا سر (مسجد سے) باہر کرتے تھے اور میں حیض کی حالت میں اسے دھوتی تھی۔
(ix) عَنْ عَائِشَۃَ کُنْتُ اَشْرِبُ وَاَنَا حَائِضٌ ثُمَّ اُنَا وِلُہُ النَّبِیَّ صلعم فَیَضَعُ فَاہُ عَلٰی مَوْضَعِ فِیَّ فَیَشْرِبُ وَاَتَعَرَّ قُ الْعَرَقَ وَاَنَا حَائِضٌ ثُمَّ اُنَاوِ لُہُ النَّبِیَّ صلعم فَیَضَعُ فَاہُ عَلٰی مَوضَعِ فِیَّ۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں حیض کی حالت میں برتن سے پانی پیتی تھی اور پھر اسے نبیﷺ کی جانب بڑھا دیتی تھی۔ پس آپﷺ وہاں سے منہ رکھتے تھے جہاں میں نے منہ رکھا ہوتا تھا اور آپﷺ پیتے تھے اور میں بحالت حیض ہڈی پر سے گوشت کھاتی تھی اور پھر اسے نبیﷺ کو دے دیتی تھی اور آپ اس جگہ اپنا منہ رکھتے تھے جہاں میں نے رکھا ہوتا تھا۔
(x) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَت کُنْتُ اِذَا حَضَتُّ نَزَلْتُ عَنِ الْمِثَالِ عَلَی الْحَصِیْرَ فَلَمْ نَقْرُبَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلعم وَلَمْ نَدُنْ مِنْہ‘ حَتّٰی نَطْھُرَ۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: جب میں حائضہ ہوتی تو میں بستر چھوڑ کر چٹائی پر لیٹتی تھی پس ہم رسول اللّٰہ ﷺ سے مقاربت نہیں کرتے تھے جب تک کہ پاکیزگی حاصل نہیں کر لیتے تھے۔ ({ FR 6831 })
عَنْھَا قَالَتْ قَالَ لِیَ النَّبِیُّ صعلم نَاوِلِیْنِی الْخُمْرَۃَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَقُلْتْ اِنِّیْ حَائِضٌ فَقَالَ اِنَّ حَیْضَتَکِ لَیْسَتْ فِیْ یَدِکِ۔
انھی سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی اُٹھا کر دے دو۔ میں نے عرض کیا کہ میں حیض کی حالت میں ہوں۔ آپ نے فرمایا: حیض (کا اثر)تمھارے ہاتھ میں تو نہیں ہے (یعنی تم ہاتھ بڑھا کر مسجد سے چٹائی لے سکتی ہو)۔
۲۷۔ مذکورۂ بالا بیش تر احادیث میں جو مضامین بیان کیے گئے ہیں، ان کی روایت حضرت عائشہؓ صدیقہ اور حضرت ام سلمہؓ کی طرف منسوب ہیں۔ میں یہ باور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ یہ دونوں ازواج جو ہر لحاظ سے کامل تھیں،انھوں نے اسی عریانی کے ساتھ اپنی ان پرائیویٹ باتوں کو ظاہر کر دیا ہو گا جو ان کے اور محمد رسول اللّٰہﷺ کے درمیان میاں بیوی کی صورت میں ہوئی ہوں گی۔
۲۸۔ میں اپنے آپ کو یہ یقین کرنے کے ناقابل پاتا ہوں کہ محمد رسول اللّٰہﷺ نے یہ باتیں کہی ہوں گی کہ دوزخ میں اکثریت عورتوں پر مشتمل ہو گی اور جنت کی اکثریت غربا پر مشتمل ہو گی۔
(i) عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُمْتُ عَلٰی بَابِ الْجَنَّۃِ فَکَانَ عَامَّۃٌ مَنْ دَخَلَھَا الْمَسَاکِیْنُ وَاَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوْسُوْنَ غَیْرَاَنّ({ FR 6832 }) اَصْحَابَ النَّارِ قَدْ اُمِرَ بِھِمْ اِلَی النَّارِ وَقُمْتُ عَلٰی بَابِ النَّارِ فَاِذَا عَامَّۃٌ مَنْ دَخَلَھَا النِّسَائُ۔
اسامہ بن زید سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا اور (میں نے دیکھا) کہ اکثریت جو اس میں داخل ہو رہی تھی، وہ مساکین کی تھی اور دولت مند لوگ روک لیے گئے، سوائے اس کے کہ جو لوگ آگ کے لائق تھے انھیں آگ میں ڈالے جانے کا حکم دے دیا گیا، اور میں آگ کے دروازے پر کھڑا ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں داخل ہونے والی بالعموم عورتیں تھیں۔
(ii) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِطَّلَعْتُ فِی الْجَنَّۃِ فَرَأَیْتُ اَکْثَرَ اَھْلِھَا الْفُقَرَائَ وَاطَّلَعْتُ فِی النَّارِ فَرَاَیْتُ اَکْثَرَ اَھْلِھَا النِّسَائَ۔
ابنِ عباس سے روایت ہے اُنھوں نے کہا رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: مَیں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس میں اکثریت فقرا کی ہے اور میں نے دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو اس میں اکثریت عورتوں کی ہے۔
۲۹۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو دولت کمانے سے بالواسطہ طریق پر منع کر دیا گیا ہے، کیوں کہ اگر وہ دولت حاصل کریں گے تو ان کے جنت میں داخلے کے امکانات کم ہو جائیں گے؟ اگر سارے مسلمان غریب ہو جائیں تو ان کا کیا بنے گا؟ کیا ان کا کلی طور پر خاتمہ نہیں ہو جائے گا؟ کیا اس طرح زندگی کے ہر میدان میں ان کی ترقی رک نہیں جائے گی؟ مزید برآں کیا یہ قابل یقین ہے کہ محمد رسول اللّٰہﷺ نے وہ بات فرمائی ہو گی جو حدیث بخاری کے صفحہ ۸۵۲ پر روایت نمبر ۷۴/۶۰۲ میں عبداللّٰہ بن قیس سے مروی ہے کہ ’’مسلمان جنت میں ان عورتوں سے مباشرت کریں گے جو ایک خیمے کے مختلف گوشوں میں بیٹھی ہوں گی۔‘‘ حدیثوں اور قرآن مجید کی پرانی تفسیروں نے اِسلام کا دائرہ بہت تنگ کر دیا ہے اور اس کی وسعت بہت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ کیا ہمیں ان حالات کو برقرار رہنے دینا چاہیے؟
۳۰ ۔ بحث کی خاطر اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ جو احادیث محدثین نے جمع کی ہیں وہ صحیح ہیں، تب بھی اس امر کی شہادت موجود ہے کہ اگر ان احادیث کا تعلق دین سے نہ ہو تو رسول اللّٰہﷺ انھیں حرف آخر کا درجہ نہیں دینا چاہتے تھے۔ مسلم میں یہ حدیث روایت کی گئی ہے:
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِیْنَۃَ وَھُمْ یُاَبِّرُوْنَ النَّخْلَ فَقَالَ مَاتَصْنَعُوْنَ قَالُوْا کُنَّا نَصْنَعُہ‘ قَالَ لَعَلَّکُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوْا کَانَ خَیْرًا۔ فَتَرَ کُوْہُ فَنَقَصَتْ فَذَکَرُوْا ذَالِکَ لَہ‘ فَقَالَ اَنَا بَشَرٌ اِذَا اَمُرْتُکُمْ بِشَیْئٍ مِنْ اَمْرِ دِیْنِکُمْ فَخُذُوْا بِہٖ وَاِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَیْئٍ مِنْ رَأْیٖ فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ۔
رافع ؓبن خدیج سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مدینے تشریف لائے تو آپﷺ نے دیکھا کہ مدینے کے لوگ کھجوروں میں پیوند لگاتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم لوگ یہ کیا کرتے ہو؟ انھوں نے جواب دیا: ہم پہلے سے ایسا کرتے آئے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: شاید تم ایسا نہ کرتے تو بہتر ہوتا۔ پس لوگوں نے یہ عمل چھوڑ دیا اور پیداوار کم ہوئی۔ انھوں نے آں حضورﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپﷺ نے فرمایا: میں انسان ہوں، جب میں تمھارے دین کے معاملے میں تمھیں کوئی حکم دوں تو اس کی پیروی کرو اور جب اپنی رائے سے کچھ کہوں تو میں بس ایک بشر ہی ہوں۔
اس کے علاوہ ایک سے زائد احادیث میں محمد رسول اللّٰہﷺ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ صرف قرآن ہی وہ ایک کتاب ہے جو تمام شعبہ ہائے زندگی میں مسلمانوں کی راہ نُما ہونی چاہیے۔
۳۱۔ یہ بات کہ محدثین خود اپنی جمع کردہ احادیث کی صحت پر مطمئن نہ تھے۔ صرف اسی ایک امر واقعہ سے واضح ہو جاتی ہے کہ وہ مسلمانوں سے یہ نہیں کہتے کہ ہماری جمع کردہ احادیث کو صحیح مان لو بلکہ یہ کہتے ہیں کہ انھیں ہمارے معیار صحت پر جانچ کر اپنا اطمینان کر لو۔ اگر انھیں ان احادیث کی صحت کا یقین ہوتا تو یہ جانچنے کا سوال بالکل غیر ضروری تھا۔
۳۲۔ بعض احادیث ایسی ہیں جو انسان کی توجہ اس دُنیا سے ہٹا دیتی ہیں۔ روحانیت ایک اچھی چیز ہے لیکن اِسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم اسے بیہودہ انتہا تک پہنچا دیں۔ بنیادی طور پر اللّٰہ نے ہمیں انسان بنایا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہم اسی حیثیت سے زندگی بسر کریں۔ اگر وہ چاہتا کہ ہم روحانی مخلوق یا فرشتے بن جائیں، تو اس کے لیے اس سے زیادہ آسان بات کوئی اور نہیں تھی کہ وہ ہمیں ایسا ہی بنا دیتا۔ حقیقی اِسلامی قانون کے مطابق مسلمانوں کو اپنی توانائیاں اس مقصد کے لیے صرف کرنی چاہییں کہ وہ زندگی کو مفید تر، حسین تر اور مکمل طور پر پُرلطف بنا سکیں۔
۳۳۔ اگر ہم احادیث کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اکثر احادیث مختصر اور بے ربط ہیں جنھیں سیاق وسباق اور موقع ومحل سے الگ کرکے بیان کر دیا گیا ہے۔ ان کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا اور ان کا صحیح مفہوم ومدعا مشخص کرنا ممکن نہیں ہے جب تک ان کا سیاق وسباق سامنے نہ ہو اور وہ حالات معلوم نہ ہوں جن میں رسول پاکﷺ نے کوئی بات کہی ہے یا کوئی کام کیا ہے۔ بہرحال احادیث کی بالکل نئے سرے سے پوری چھان بین اور تحقیق کی ضرورت ہے۔ یہ کہا گیا ہے اور بجا طور پر کہا گیا ہے کہ حدیث قرآن کے احکام کو منسوخ نہیں کر سکتی، مگر کم از کم ایک مسئلے میں تو احادیث نے قرآن پاک میں ترمیم کر دی ہے اور وہ وصیت کا مسئلہ ہے۔ احادیث کے بارے میں پورا غور وتامل کرنے کے بعد میں یہ رائے قائم کرنے پر مجبور ہوں کہ انھیں اپنی موجودہ شکل میں قرآن کے برابر درجہ نہیں دینا چاہیے اور نہ ہی ان کے اطلاق کو عام خیال کرنا چاہیے۔ میں اس بات کے حق میں نہیں ہوں کہ مختلف محدثین کی جمع کردہ احادیث کو اِسلامی قانون کے سرچشموں میں سے ایک سرچشمہ تسلیم کیا جائے جب تک ان کی دوبارہ جانچ پڑتال نہ کر لی جائے اور یہ پڑتال بھی کسی تنگ نظری اور تعصب پر مبنی نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان تمام قواعد وشرائط کو بھی از سر نو استعمال کیا جانا چاہیے جنھیں امام بخاری وغیرہ نے بے شمار جھوٹی، موضوع اور جعلی حدیثوں میں سے صحیح احادیث کو الگ کرنے کے لیے مقرر کیا تھا۔ نیز ان معیارات کو بھی کام میں لانا چاہیے جو نئے حقائق وتجربات نے ہمارے لیے فراہم کیے ہیں۔ میری یہ بھی رائے ہے کہ حقائق موجودہ کی روشنی میں قیاس و استدلال کے نازک اور لطیف طریقوں کو عمل میں لاتے ہوئے ججوں اور عوام کے منتخب نمایندوں کو قرآن پاک کی تفسیر کرنی چاہیے۔ ابوحنیفہؒ اور اس طرح کے دوسرے فقہا نے جو فیصلے کیے ہیں اور جو بعض کتابوں میں مذکور ہیں انھیں نظائر کی حیثیت میں وہی درجۂ استناد دیا جانا چاہیے جو عام عدالتی فیصلوں کو حاصل ہوتا ہے۔ قرآن مجید کے اندر مندرج قانون جامد نہیں، بلکہ متحرک ومنظم ہے۔ قرآن مجید کی تعبیر کو اس انسانی طرز عمل سے ہم آہنگ ہونا چاہیے جو حالات حاضرہ سے متاثر اور مختلف عناصر سے متعین ہوتا ہے۔ ابوحنیفہؒ کی طرح دنیوی معاملات کی تحقیقات میں عقل کو استعمال میں لانا چاہیے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق برعظیم ہندوپاکستان کے مسلمانوں کا قانون وسیع تغیرات کا محتاج ہے اور اسے ملک کے موجودہ حالات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔
(اس کے بعد پیرا نمبر ۳۴ سے لے کر آخری پیرا گراف نمبر ۴۱ تک فاضل جج نے اپیل کے اصل تصفیہ طلب مسئلہ، یعنی مسئلۂ حضانت پر بحث کی ہے اور یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اگر جامعینِ احادیث کی روایات کو صحیح اور قرآن کی طرح واجب الاتباع تسلیم کر بھی لیا جائے، تب بھی ان سے حضانت کے معاملے میں مسلمانوں کے مروج شخصی قانون کی تائید نہیں ہوتی۔ اگرچہ فیصلے کا یہ حصہ بھی بہت غور طلب اور لائقِ توجہ ہے۔ تاہم یہ چوں کہ اصل موضوع فیصلہ سے تعلق رکھتا ہے اور اسے زیر بحث لانا مقصود نہیں ہے، اس لیے اس کا ترجمہ نہیں کیا جا رہا ہے، اس حصے کو اصل انگریزی فیصلے میں ملاحظہ کیا جا سکتاہے۔)
٭…٭…٭…٭…٭

باب پنجم: تبصرہ

از:ابو الاعلیٰ مودودی
کچھ مدت سے ہمارے بعض حاکمانِ عدالت کی تقریروں اور تحریروں میں سُنّت کی صحت پر شکوک کے اظہار اور اس کو اِسلامی قانون کی بنیاد تسلیم کرنے سے انکار کا رجحان بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ حتّٰی کہ بعض عدالتی فیصلوں تک میں یہ خیالات نمایاں ہونے لگے تھے۔ مثال کے طور پر اب سے تین چار سال قبل مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے ایک فیصلے میں لکھا گیا تھا:
اصل مشکل سے سابقہ، حدیث کے معاملے میں پیش آتا ہے جو سُنّت یا عمل رسولﷺ کی خبر دیتی ہے۔ اول تو یہ امر واقعہ ہے کہ کسی خاص مسئلے سے متعلق ایک حدیث کی صحت مختلف فیہ ہونے سے کم ہی محفوظ ہوتی ہے‘پھر مزید برآں چند معاملا ت میں تو نبیﷺ کی ثابت شدہ سُنّت سے بھی بعض خلفائے راشدین اور خصوصاً حضرت عمرؓ نے انحراف کیا ہے۔ اس کی متعدد مثالیں اردو کے ایک عمدہ رسالے میں جمع کی گئی ہیں، جس کو ادارۂ طلوع اِسلام کراچی نے اِسلام میں قانون سازی کے اصول کے نام سے شائع کیا ہے اور میں نے اس سے بہت زیادہ فائدہ اُٹھایا ہے… یہاں میرے لیے یہ کہنا ضروری نہیں ہے کہ سُنّت کے مبنی بروحی ہونے کی دلیل کچھ مضبوط نہیں ہے۔(پی۔ ایل۔ڈی، نومبر ۱۹۵۷ء، ص ۱۳۔۱۰۱۲)
یہ رجحان بڑھتے بڑھتے اب جسٹس محمد شفیع صاحب کے زیر تبصرہ فیصلے میں ایک قطعی واضح اور انتہائی صورت تک پہنچ گیا ہے اور منکرینِ حدیث کا گروہ اس کا پورا پورا فائدہ اُٹھا رہا ہے۔ اس لیے ہم ناگزیر سمجھتے ہیں کہ تفصیل کے ساتھ اس فیصلے کا علمی جائزہ لیا جائے اورملک کے حکام عدالت اورقانون دان اصحاب کو اس طرز فکر کی کم زوریوں سے آگاہ کر دیا جائے۔ جس مقدمے میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے، اس کے واقعات سے ہمیں قطعًا کوئی بحث نہیں ہے، اور اس میں جو حکم فاضل جج نے صادر کیا ہے، اس پربھی ہم کوئی گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔ ہماری بحث صرف ان اصولی مسائل تک محدود ہے جو اس فیصلے میں قرآن اور سُنّت اور فقہ کی پوزیشن کے متعلق چھیڑے گئے ہیں۔

دو اصولی سوالات

اس سلسلے میں قبل اس کے کہ ہم اصل فیصلے پر تبصرہ شروع کریں، دو اصولی سوالات ہمارے سامنے آتے ہیں:
۱۔ پہلا سوال عدالت کے اختیارات سے تعلق رکھتا ہے۔ اِسلامی قانون سے متعلق چودہ صدیوں سے یہ بات تمام دُنیا کے مسلمانوں میں مسلّم چلی آ رہی ہے کہ قرآن کے بعد اس کا دوسرا ماخذ سُنّت رسولﷺ ہے۔ ان طویل صدیوں کے دوران میں اس قانون پر جس قابل ذکر مصنف نے بھی کچھ لکھا ہے، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، اس نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ مسلمانوں کے اندر کسی ایسے مذہبِ فکر (school of thought) کسی ایسے فقیہ (jurist) کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا جس کی پیروی مسلمانوں کی کسی قابل لحاظ تعداد نے اختیار کی ہو، اور وہ سُنّت کے مآخذ قانون ہونے کا انکار کرتا ہو۔ متحدہ ہندستان میں جو اینگلو محمڈن لا رائج رہا ہے، اس کے اصولوں میں بھی ہمیشہ یہ چیز مسلّم رہی ہے اور ہمارے علم میں آج تک کسی مجلس قانون ساز کا بھی کوئی ایسا فیصلہ نہیں آیا ہے جس کی رو سے اِسلامی قانون کے اصولوں میں یہ بنیادی ردوبدل کیا گیا ہو۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت حال میں کوئی منفرد جج، یا کوئی ہائی کورٹ، بلکہ خود سپریم کورٹ بھی قانون میں یہ اصولی تبدیلی کر دینے کا مجاز ہے؟ جہاں تک ہمیں معلوم ہے عدالت کوئی مستقل بالذات قانون ساز ادارہ نہیں ہے۔ جن اصولوں پر ہمارے ملک کا نظام عدل وآئین مبنی ہے۔ اس کی رو سے عدالتیں اس قانون پر کام کرنے کی پابند ہیں جو ان کو قانون ساز ادارے کی طرف سے دیا جائے۔ وہ قانون کی تعبیر ضرور کر سکتی ہیں اور اس نظام میں ان کی تعبیر کو بلاشبہ قانونی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن ہمارے علم میں آج تک یہ بات نہیں آئی ہے کہ انھیں بجائے خود قانون یا اس کے مُسلَّمہ اصولوں میں ردوبدل کر دینے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ یہ اختیار عدالتوں کو کب اور کہاں سے حاصل ہوا ہے؟
۲۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ قانون میں اس طرح کی اصولی تبدیلی کا مجاز آخر ہے کون؟ اس وقت تک مملکتِ پاکستان کے متعلق دعوٰی یہی ہے کہ یہ مملکت جمہوریت کے اصول پر قائم ہوئی ہے اور جمہوریت کے کوئی معنی نہیں ہیں اگر اس میں باشندوں کی اکثریت کا منشا حکم ران نہ ہو۔ اب اگر پاکستان کے مسلمان باشندوں سے کوئی استصواب عام کرایا جائے تو ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ان کی ۹ ہزار ۹سو۹۹فی دس ہزار سے بھی زیادہ اکثریت اس عقیدے کا اظہار کرے گی کہ قرآن کے بعد سُنّتِ رسولﷺ اِسلامی قانون کی لازمی بنیاد ہے، اور وہ لوگ شاید پوری طرح دس ہزار میں ایک بھی نہ ہوں گے جو اس سے اختلاف رکھتے ہیں۔ یہ صورتِ حال جب تک موجود ہے، کیا اِسلامی قانون کے مآخذ میں سے سُنّت کا اسقاط کر دینا کسی حاکم عدالت کے اختیار میں ہے؟ یا کوئی حکومت ایسا کر سکتی ہے؟ یا کوئی قانون ساز ادارہ اس کا مجاز ہے؟ ان سوالات کا جواب اثبات میں دیا جا سکتا تھا اگر یہاں کسی خاص طبقے کی آمریت قائم ہوتی۔ لیکن جمہوری اصول پر ہم نہیں کہہ سکتے کہ کوئی شخص ان کا جواب اثبات میں کیسے دے سکتا ہے۔ جس وقت تک یہاں جمہوریت کی قطعی نفی نہیں ہو جاتی، کسی ذی اختیار شخص کو اپنے اختیارات اپنی ذاتی آرا کے مطابق استعمال کرنے کا حق نہیں ہے، بلکہ وہ انھیں اس قانون ہی کے مطابق استعمال کر سکتا ہے جو یہاں اکثریت کی مرضی سے نافذ ہے۔ حکام میں سے جو اصحاب اپنے کچھ زیادہ پُرزور خیالات رکھتے ہوں، ان کے لیے سیدھا راستہ یہ کھلا ہوا ہے کہ مستعفی ہو کر اپنی پوری علمی قابلیت عامہ مسلمین کا عقیدہ تبدیل کرنے میں صرف کریں لیکن جب تک وہ کسی بااختیار منصب پر فائز ہیں، وہ اس تبدیلی کے لیے اپنے اختیارات استعمال نہیں کر سکتے۔ یہ جمہوریت کا کھلا ہوا منطقی تقاضا ہے۔ اس سے انکار کے لیے کسی کے پاس اگر کچھ دلائل ہوں تو ہم انھیں معلوم کرنا چاہتے ہیں۔
مذکورۂ بالا دونوں اصولی مسائل کے متعلق جو نقطہ نظر ہم نے اوپر پیش کیا ہے، اس کو اگر درست تسلیم کیا جائے تو عدالت کا پورا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے ہم یہ گزارش کریں گے کہ فاضل جج کے لیے اپنے ان مخصوص خیالات کو اپنے ایک عدالتی فیصلے میں بیان کرنا مناسب نہ تھا۔ وہ ان کو اپنی شخصی حیثیت میں ایک مضمون کے طور پر تحریر فرماتے اور کسی رسالے میں شائع کرا دیتے تو چنداں قابل اعتراض نہ ہوتا۔ اس صورت میں زیادہ آزادی کے ساتھ ان پر بحث ہو سکتی تھی بغیر اس کے کہ احترامِ عدالت کسی کے لیے آزادیِ ٔتنقید میں مانع ہو۔

فقہ حنفی کی اصل حیثیت

اب ہم اس فیصلے کے اصولی مباحث پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں جیسا کہ اس کے مطالعے سے ناظرین کے سامنے آ چکا ہے۔ یہ حضانت کے ایک مقدمے کا فیصلہ ہے۔ اس سلسلے میں حضانت کے متعلق فقہ حنفی کے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے فاضل جج یہ فرماتے ہیں کہ انگریزی حکومت کے دور میں پریوی کونسل تک تمام عدالتیں ان قواعد کی پوری پابندی کرتی رہی ہیں، اور اس کی وجہ ان کی رائے میں یہ ہے کہ:
مسلمان قانون دان یہ نہیں چاہتے تھے کہ انگریز یا دوسرے غیر مسلم اپنے مقصد کے مطابق قرآن پاک کی تفسیر وتعبیر کریں اور قوانین بنائیں۔ مسلم قانون سے تعلق رکھنے والے تمام معاملات میں فتاوائے عالمگیری کو جو اہمیت دی گئی ہے وہ اسی حقیقت کی صاف نشاندہی کرتی ہے لیکن اب حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ (پیرا گراف نمبر۴)
پھر حضانت کے حنفی قانون کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد وہ دوبارہ یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ:
کیا کسی درجے کی قطعیت کے ساتھ ان قواعد کو اِسلامی قانون کہا جا سکتا ہے جسے وہی لزوم کا مرتبہ حاصل ہو جو ایک کتابِ آئین میں درج شدہ قانون کو حاصل ہوتا ہے؟
(پیرا گراف ۷)
ہمارے خیال میں یہ رائے ظاہر کرتے وقت فاضل جج کی نگاہ ان تمام اسباب پر نہیں تھی جن کی بِنا پر حنفی قانون نہ صرف انگریزی دور میں اور نہ صرف ہمارے ملک میں، بلکہ تیسری صدی ہجری سے دُنیائے اِسلام کے ایک بڑے حصے میں اِسلامی قانون مانا جاتا رہا ہے۔ انھوں نے اس کے ایک بہت ہی خفیف سے جزوی سبب کا نوٹس لیا ہے، اور اسی بِنا پر ان کا یہ ارشاد بھی صحیح صورت واقعہ کی ترجمانی نہیں کرتا کہ ’’اب حالات بالکل بدل چکے ہیں۔
اِسلامی قانون کی تاریخ سے جو لوگ واقف ہیں ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ خلافت راشدہ کی جگہ شاہی طرز حکومت قائم ہو جانے سے اِسلامی نظام قانون میں ایک بڑا خلا رونما ہو گیا تھا جو ایک صدی سے زیادہ مدت تک موجود رہا۔ خلافت راشدہ میں ’’شورٰی‘‘ ٹھیک وہی کام کرتی تھی جو موجودہ زمانے میں ایک مجلس قانون ساز کا کام ہوتا ہے۔ مسلم مملکت میں جو جو مسائل بھی ایسے پیش آتے تھے جن پر ایک واضح قانونی حکم کی ضرورت ہوتی تھی، خلیفہ کی مجلسِ شورٰی ان پرکتاب اللّٰہ اور سُنّت رسول اللّٰہﷺ کی روشنی میں اجتماعی فکر واجتہاد سے کام لے کر فیصلے کرتی تھی اور وہی فیصلے پوری مملکت میں قانون کی حیثیت سے نافذ ہوتے تھے۔ قرآن مجید کے کسی فرمان کی تعبیر میں اختلاف ہو، یا سُنّت رسولﷺ کی تحقیق میں، یا کسی نئے پیش آمدہ مسئلے پر اصول شریعت کی تطبیق میں‘مجلسِ شورٰی کے سامنے ایسا ہر اختلاف ہر وقت پیش ہو جاتا تھا اور اجماع یا کثرت رائے سے اس کا جو فیصلہ بھی ہو جاتا، وہ قانون بن جاتا تھا۔ خلافتِ راشدہ کی اس مجلس کو یہ حیثیت محض سیاسی طاقت کے بَل پر حاصل نہ تھی، بلکہ اس کی اصل وجہ وہ اعتماد تھا جو عام مسلمان خلیفہ اور اس کے اہلِ شورٰی کی خدا ترسی، دیانت، خلوص اور علم دین پر رکھتے تھے۔
جب یہ نظام باقی نہ رہا اور شاہی حکومتوں نے اس کی جگہ لے لی تو فرماں روا اگرچہ مسلمان تھے اور ا ن کے اعیانِ حکومت اور اہلِ دربار بھی مسلمان ہی تھے، لیکن ان میں سے کوئی بھی یہ جرأت نہ کر سکا کہ مسائل ومعاملات میں خلفائے راشدینؓ کی طرح فیصلے دیتا، کیوں کہ وہ خود جانتے تھے کہ انھیں عام مسلمانوں کا اعتماد حاصل نہیں ہے اور ان کے فیصلے قانون اِسلام کا جز نہیں بن سکتے۔ وہ اگر خلفائے راشدینؓ کی شورٰی کے مانند عام مسلمانوں کے معتمد اہلِ علم وتقوٰی کی ایک مجلس بناتے اور اس کو وہی آئینی حیثیت دیتے جو اس شورٰی کو حاصل تھی، تو ان کی بادشاہی نہ چل سکتی تھی اور اگر وہ اپنے مطلب کے لوگوں کی مجلسِ شورٰی بنا کر فیصلے صادر کرنے شروع کر دیتے تو مسلمان ان کے فیصلوں کو شرعی فیصلے ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ ایسے فیصلے طاقت کے ذریعے سے مسلط کیے جا سکتے تھے، لیکن انھیں مسلط کرنے والی طاقت جب بھی ہٹتی وہ فیصلے اسی جگہ پھینک دئیے جاتے جہاں ان کے نافذ کرنے والے گئے تھے۔ ان کا ایک مستقل جزوِ شریعت بن کر رہنا کسی طرح ممکن نہ تھا۔
اس حالت میں اِسلامی نظامِ قانون کے اندر ایک خلا پیدا ہو گیا۔ خلافتِ راشدہ کے زمانے میں مسائل ومعاملات کے جو فیصلے اجماعی طور پر ہو گئے تھے، وہ تو پوری مملکت کا قانون رہے، لیکن اس کے بعد پیش آنے والے مسائل ومعاملات میں ایسا کوئی ادارہ موجود نہ رہا جو قرآن کی تعبیر اور سُنّت کی تحقیق اور قوت اجتہادیہ کے استعمال سے ایک فیصلہ دیتا اور وہ مملکت کا قانون قرار پاتا۔ اس دور میں مختلف قاضی اور مفتی اپنے اپنے طور پر جو فتوے دیتے رہے، وہ ان کے دائرۂ اثر واختیار میں نافذ ہوتے رہے۔ ان متفرق فتاوٰی اور فیصلوں سے مملکت میں ایک قانونی طوائف الملوکی پیدا ہو گئی۔ کوئی ایک قانون نہ رہا جو یکسانی کے ساتھ تمام عدالتوں میں نافذ ہوتا اور جس کے مطابق تمام انتظامی محکمے کام کرتے۔ منصور عباسی کے عہد میں ابن المقفع نے اس طوائف الملوکی کو شدت کے ساتھ محسوس کیا، اور خلیفہ کو مشورہ دیا کہ وہ خود اس خلا کو بھرنے کی کوشش کرے لیکن خلیفہ اپنی حیثیت کو خود جانتا تھا۔ وہ کم از کم اتنا برخود غلط نہ تھا جتنے آج کل کے ڈکٹیٹر حضرات ہیں۔ اسے معلوم تھا کہ جو قانون اس کی صدارت میں اس کے نامزد کیے ہوئے لوگوں کے ہاتھوں بنیں گے اور اس کے امضا (sanction) سے نافذ ہوں گے انھیں کتنے مسلمان شریعت کے احکام مان لیں گے۔
قریب قریب ایک صدی اس حالت پر گزر چکی تھی کہ امام ابوحنیفہؒ اس خلا کو بھرنے کے لیے آگے بڑھے۔ انھوں نے کسی سیاسی طاقت اور کسی آئینی حیثیت کے بغیر اپنے تربیت کردہ شاگردوں کی ایک غیر سرکاری مجلس قانون ساز (private legislature) بنائی۔اس میں قرآن کے احکام کی تعبیر، سنتوں کی تحقیق، سلف کے اجماعی فیصلوں کی تلاش وجستجو، صحابہ وتابعین اور تبع تابعین کے فتاوٰی کی جانچ پڑتال اور معاملات ومسائل پر اصول شریعت کی تطبیق کا کام بڑے وسیع پیمانے پر کیا گیا اور پچیس تیس سال کی مدت میں اِسلام کا پورا قانون مدون کرکے رکھ دیا گیا۔ یہ قانون کسی بادشاہ کی رضا سے مدون نہیں کیا گیا تھا۔ کوئی طاقت اس کی پشت پر نہیں تھی جس کے زور سے یہ نافذ ہوتا۔ لیکن پچاس برس بھی نہ گزرے تھے کہ یہ سلطنت عباسیہ کا قانون بن گیا۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اس کو ان لوگوں نے مرتب کیا تھا جن کے متعلق عام مسلمانوں کو یہ اعتماد تھا کہ وہ عالم بھی ہیں اور متقی ومحتاط بھی، وہ قرآن اور سُنّت کو ٹھیک ٹھیک سمجھتے اور جانتے ہیں، صحیح اِسلامی ذہن رکھتے ہیں، غیر اِسلامی افکار ونظریات سے متاثر نہیں ہیں اور اِسلامی قانون کی تدوین میں اپنے یا کسی کے ذاتی مفادات، رجحانات یا خواہشات کو ذرہ برابر دخل دینے والے نہیں ہیں۔ مسلمان ان پر پورا اطمینان رکھتے تھے کہ یہ تحقیق واجتہاد کے بعد شریعت کا جو حکم بھی بیان کریں گے، ان میں بشری غلطی تو ہو سکتی ہے، مگر بے ڈھب اور بے لگام اجتہاد یا اِسلام میں غیر اِسلام کی آمیزش کا ان سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس خالص اخلاقی طاقت کا یہ کرشمہ تھا کہ پہلے بلاد مشرق کے عام مسلمانوں نے آپ سے آپ اس کو اِسلام کا قانون مان لیا اور اپنے معاملات میں بطور خود اس کی پیروی شروع کر دی۔ پھر سلطنت عباسیہ کو اسے تسلیم کرکے ملک کا قانون قرار دینا پڑا۔ اس کے بعد وہی قانون اپنی اسی طاقت سے مغرب میں ترکی سلطنت کا اورمشرق میں ہندستان کی مسلم حکومت کا قانون بنا۔({ FR 7018 })
بعد کی بہت سی صدیوں میں یہ قانون اسی مقام پر کھڑا نہیں رہا۔ جہاں امام ابوحنیفہؒ نے اسے چھوڑا تھا، بلکہ ہر صدی میں اس کے اندر بہت سی ترمیمات بھی ہوئی ہیں اور بہت سے نئے مسائل کے فیصلے بھی اس میں ہوتے رہے ہیں، جیسا کہ کتب ظاہر الروا یۃ اور بعد کی کتب فتاوٰی کے تقابل سے معلوم ہو سکتا ہے لیکن یہ بعد کا سارا کام بھی حکومت کے ایوانوں سے باہر مدرسوں اور دارالافتائوں میں ہی ہوتا رہا، کیوں کہ مسلمان بادشاہوں اور ان کے مسلمان امرا وحکام کے علم و تقوٰی پر مسلمان عوام کوئی اعتماد نہ رکھتے تھے، انھیں صرف خدا ترس علما پر ہی اعتماد تھا اس لیے انھی کے فتوے اس قانون کے جز بنتے رہے اور انھی کے ہاتھوں اس کا ارتقا ہوتا رہا۔ ایک دو مثالوں کو چھوڑ کر اس پورے زمانے میں کسی بددماغ سے بددماغ بادشاہ کو بھی اپنے متعلق یہ غلط فہمی نہیں ہوئی کہ میں ایک قانون بنائوں گا اور مسلمان اسے شریعت مان لیں گے۔ اورنگ زیب جیسے پرہیز گار فرماں روا نے بھی وقت کے نامور علما ہی کو جمع کیا۔ جنھیں مسلمان دینی حیثیت سے بھروسے کے قابل سمجھتے تھے، اور ان کے ذریعے سے اس نے فقہا حنفیہ ہی کے فتاوٰی کا مجموعہ مرتب کرا کے اس کو قانون قرار دیا۔اس بحث سے تین باتیں بخوبی واضح ہو جاتی ہیں:
٭ ایک یہ کہ فقہ حنفی، جو انگریزوں کی آمد سے صدیوں پہلے سے مشرقی مسلمان مملکتوں کا قانون تھی اور جسے آ کر انگریز بھی اپنے پورے دور میں کم از کم پرسنل لا کی حد تک مسلمانوں کا قانون تسلیم کرتے رہے، دراصل مسلمانوں کی عام رضا اور پسند سے قانون قرار پائی تھی۔ اس کو کسی سیاسی طاقت نے نافذ (enforce) نہیں کیا تھا بلکہ ان ممالک کے جمہور مسلمین اسی کو اِسلامی قانون مان کر اس کی پیروی کرتے تھے اور حکومتوں نے اسے اس لیے قانون مانا کہ ان ملکوں کے عام مسلمان اس کے سوا کسی دوسری چیز کی پیروی قلب وضمیر کے اطمینان کے ساتھ نہ کر سکتے تھے۔
٭ دوسرے یہ کہ مسلمان جس طرح انگریزی دور میں اپنا دین اور اپنی شریعت انگریزوں اور دوسرے غیر مسلموں کے ہاتھ میں دینے کے لیے تیار نہ تھے، اسی طرح وہ بنی امیہ کے زمانے سے لے کر آج تک کبھی ایسے مسلمانوں کے ہاتھ میں بھی انھیں دینے کے لیے تیار نہیں رہے ہیں جن کے علم دین اور تقوٰی اور احتیاط پر ان کو اطمینان نہ ہو۔
٭ تیسرے یہ کہ اب حالات بالکل کیا معنی، بالجز بھی نہیں بدلے ہیں۔ انگریزوں کی جگہ بس مسلمانوں کا کرسی نشین ہو جانا بجائے خود اپنے اندر کوئی جوہری فرق نہیں رکھتا۔ خلافت راشدہ کے بعد جو خلا پیدا ہوا تھا، مسلمان حکومتوں کی حد تک وہ اب بھی جوں کا توں باقی ہے، اور وہ اس وقت تک باقی رہے گا جب تک ہمارا نظام تعلیم ایسے خدا ترس فقیہہ پیدا نہ کرنے لگے جن کے علم وتقوٰی پر مسلمان اعتماد کر سکیں، اور ہمارا نظام سیاست ایسا نہ بن جائے کہ اس طرح کے معتمد علیہ اصحاب ہی ملک میں قانون سازی کے منصب پر فائز ہونے لگیں۔ اگر اس ملک میں ہمیں قوم کے ضمیر اور قانون کے درمیان تضاد اور تصادم پیدا کرنا نہیں ہے تو جب تک یہ خلا واقعی صحیح طریقے سے بھر نہ جائے، اسے خام مواد سے بھرنے کی کوشش نہ کرنی چاہیے۔

فاضل جج کے بنیادی تصورات

اس کے بعد پیرا گراف ص ۲۶۱ تک فاضل جج نے اِسلامی قانون کے متعلق اپنے کچھ تصورات بیان فرمائے ہیں جو علی الترتیب حسب ذیل ہیں:
۱۔ اِسلام کی رو سے جو قانون ایک مسلمان پر اس کی زندگی کے ہر شعبے میں حکم ران ہونا چاہیے، خواہ وہ اس کی زندگی کا مذہبی شعبہ ہو یا سیاسی، یا معاشرتی یا معاشی، وہ صرف خدا کا قانون ہے۔
۲۔ قرآن نے جو حدود مقرر کر دیے ہیں ان کے اندر مسلمانوں کو سوچنے اورعمل کرنے کی پوری آزادی ہے۔
۳۔ چوں کہ قانون انسانی آزادی پر پابندی عائد کرنے والی طاقت ہے اس لیے خدا نے قانون سازی کے اختیارات پوری طرح اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔ اِسلام میں کسی شخص کو اس طرح کام کرنے کا اختیار نہیں ہے کہ گویا وہ دوسروں سے بالاتر ہے۔
۴۔ رسول اللّٰہ ﷺ اور خلفائے راشدین کا طرز عمل یہ تھا کہ جو کچھ وہ کرتے تھے مسلمانوں کے مشورے سے کرتے تھے۔ اِسلام کا عقیدہ عین اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک انسان کی دوسرے انسانوں پر برتری کی نفی کرتا ہے، وہ اجتماعی فکر اور اجتماعی عمل کی راہ دکھاتا ہے۔
۵۔ اس دُنیا میں چوں کہ انسانی حالات اور مسائل بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اس بدلتی ہوئی دُنیا کے اندر مستقل، ناقابل تغیر وتبدل احکام وقوانین نہیں چل سکتے۔ خود قرآن بھی اس عام قاعدے سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے مختلف معاملات میں چند وسیع اور عام قاعدے انسانی ہدایت کے لیے دے دئیے ہیں۔
۶۔ قرآن سادہ اور آسان زبان میں ہے جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔ اس کا پڑھنا اور سمجھنا ایک دو آدمیوں کا مخصوص حق نہیں ہے۔ تمام مسلمان اگر چاہیں تو اسے سمجھ سکتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کر سکتے ہیں۔ یہ حق تمام مسلمانوں کو دیا گیا ہے اور کوئی اسے ان سے سلب نہیں کر سکتا، خواہ وہ کیسا ہی عالی مرتبہ اور کیسا ہی فاضل کیوں نہ ہو۔
۷۔ قرآن کوپڑھنے اور سمجھنے میں یہ بات خود متضمن ہے کہ آدمی اس کی تعبیر کرے اور اس کی تعبیر کرنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آدمی اس کو وقت کے حالات پر اور دُنیا کی بدلتی ہوئی ضروریات پر منطبق کرے۔
۸۔ امام ابوحنیفہؒ، امام شافعیؒ، امام مالکؒ اور قدیم زمانے کے دوسرے مفسرین نے قرآن کی جو تعبیریں کی تھیں وہ آج کے زمانے میں جوں کی توں نہیں مانی جا سکتیں۔ سوسائٹی کے بدلتے ہوئے حالات پر قرآن کے عام اصولوں کو منطبق کرنے کے لیے ان کی دانش مندانہ تعبیر کرنی ہو گی، اور ایسے طریقے سے تعبیر کرنی ہو گی کہ لوگ اپنی تقدیر اور اپنے خیالات اور اخلاقی تصورات کی تشکیل اس کے مطابق کر سکیں اور اپنے ملک اور زمانے کے لیے موزوں ترین طریقے پر کام کر سکیں۔ دوسرے انسانوں کی طرح مسلمان بھی عقل اور ذہانت رکھتے ہیں اور یہ طاقت استعمال کرنے ہی کے لیے دی گئی ہے۔ تمام مسلمانوں کو قرآن پڑھنا اور اس کی تعبیر کرنا ہو گا۔
۹۔ قرآن کو سمجھنے اور اس کے مدعا کو پانے کی سخت کوشش ہی کا نام اجتہاد ہے۔ قرآن سب مسلمانوں سے، نہ کہ ان کے کسی خاص طبقے سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ اس کا علم حاصل کریں، اسے اچھی طرح سمجھیں اور اس کی تعبیر کریں۔
۱۰۔ اگر ہر شخص انفرادی طور پر بطور خود قرآن کی تعبیر کرے تو بے شمار مختلف تعبیرات وجود میں آ جائیں گی جن سے سخت بدنظمی کی حالت پیدا ہو جائے گی۔ اسی طرح جن معاملات میںقرآن ساکت ہے، اگر ان کے بارے میں ہر شخص کو ایک قاعدہ بنا لینے اور ایک طرز عمل طے کر لینے کا اختیار ہو تو ایک پراگندہ اور غیر مربوط سوسائٹی پیدا ہو جائے گی۔ اس لیے لوگوں کی زیادہ سے زیادہ بڑی تعداد کی رائے کو نافذ ہونا چاہیے۔
۱۱۔ ایک آدمی یا چند آدمی فطرتًاعقل اور قوت میں ناقص ہوتے ہیں۔ کوئی شخص خواہ کتنا ہی طاقتور اور ذہین ہو، اس کے کامل ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ لاکھوں کروڑوں آدمی، جو اجتماعی زندگی ایک نظم کے ساتھ بسر کر رہے ہیں، اپنی اجتماعی ہیئت میں افراد کی بہ نسبت زیادہ عقل اور طاقت رکھتے ہیں۔ قرآن کی رو سے بھی کتاب اللّٰہ کی تعبیر اور حالات پر اس کے عام اصولوں کا انطباق ایک آدمی یا چند آدمیوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا، بلکہ یہ کام مسلمانوں کے باہمی مشورے سے ہونا چاہیے۔
۱۲۔ قانون سے مراد وہ ضابطہ ہے جس کے متعلق لوگوں کی اکثریت یہ خیال کرتی ہو کہ لوگوں کے معاملات اس کے مطابق چلنے چاہییں۔ کئی کروڑ باشندوں کے ایک ملک میں باشندوں کی اکثریت کو قرآن کی ان آیات کی، جن کے اندر دو یا زائد تعبیروں کی گنجائش ہو، ایک ایسی تعبیر کرنی چاہیے جو ان کے حالات کے لیے موزوں ترین ہو اور اسی طرح انھیں قرآن کے عام اصولوں کو حالات موجودہ پر منطبق کرنا چاہیے تاکہ فکر وعمل میں یکسانی ووحدت پیدا ہو سکے۔ اسی طرح یہ اکثریت کا کام ہے کہ ان مسائل ومعاملات میں، جن پر قرآن ساکت ہے، کوئی قانون بنائے۔
۱۳۔ قدیم زمانے میں تو شاید یہ درست تھا کہ اجتہاد کو چند فقہا تک محدود کر دیا جائے کیوں کہ لوگوں میں آزادانہ اور عمومیت کے ساتھ علم نہیں پھیلایا جاتا تھا۔ لیکن موجودہ زمانے میں یہ فریضہ باشندوں کے نمایندوں کو انجام دینا چاہیے کیوں کہ قرآن کا پڑھنا اور سمجھنا اور اس کے عام اصولوں کو حالات پر منطبق کرنا ایک یا دو اشخاص کا مخصوص استحقاق نہیں ہے، بلکہ تمام مسلمانوں کا فرض اور حق ہے اور یہ کام ان لوگوں کو انجام دینا چاہیے جنھیں عام مسلمانوں نے اس مقصد کے لیے منتخب کیا ہو۔

تصوراتِ مذکورہ پر تنقید

اوپر کے تیرہ فقروں میں ہم نے اپنی حد تک پوری کوشش کی ہے کہ فاضل جج کے تمام بنیادی نظریات کا ایک صحیح خلاصہ بیان کر دیں۔ ان کی زبان اور سلسلہ وار ترتیب میں بھی ہم نے موصوف کی اپنی زبان اور منطقی ترتیب کو ملحوظ رکھا ہے، تا کہ ناظرین کے سامنے ان خیالات کی صحیح صورت آ جائے جن پر آگے وہ اپنے فیصلے کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ ان بنیادی نظریات میں چند باتیں قابل غور اور لائق تنقید ہیں:
اولاً: فاضل جج کی نگاہ میں خدا کے قانون سے مراد صرف وہ قانون ہے جو قرآن میں بیان ہوا ہے۔ سُنّت جو احکام وہدایات دیتی ہے، انھیںوہ خدا کے قانون میں شمارنہیں کرتے۔ اوپر کے فقروں میں یہ بات مخفی ہے، لیکن آگے چل کر اپنے فیصلے میں وہ اس کی صراحت کرتے ہیں اور اسی مقام پر ہم اس نقطۂ نظر کی غلطی واضح کریں گے۔
ثانیاً: وہ جب کہتے ہیں کہ کسی انسان کو بھی دوسرے انسانوں پر برتری حاصل نہیں ہے، اور یہ کہ قرآن کو سمجھنا اور اس کی تعبیر کرنا چند انسانوں کا مخصوص حق نہیں ہے تو اس میں وہ نبیﷺ کو بھی شامل سمجھتے ہیں۔ یہ چیز بھی مذکورۂ بالا فقرات میں نمایاں نہیں ہے لیکن آگے چل کر اس کی تصریح انھوں نے خود کر دی ہے، لہٰذا ان کا یہ قاعدہ ٔ کلیہ بھی محتاجِ تنقید ہے۔
ثالثاً: انھوں نے رسول اللّٰہ ﷺ اور خلفائے راشدین کو ایک درجے میں رکھ کر یہ فرمایا ہے کہ ’’جو کچھ وہ کرتے تھے مسلمانوں کے مشورے سے کرتے تھے۔‘‘ یہ بات قطعًا خلاف واقعہ ہے۔ رسولﷺ کی حیثیت اپنی نوعیت میں خلفائے راشدین سمیت تمام امرا مسلمین کی حیثیت سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ حضورﷺ کو ان کے زمرے میں رکھنا خود اس قرآن کے خلاف ہے جسے فاضل جج نے خدا کا قانون تسلیم کیا ہے۔ پھر ان کا یہ دعوٰی بھی صحیح نہیں ہے کہ خلفائے راشدین کی طرح حضورﷺ بھی جو کچھ کرتے تھے مسلمانوں کے مشورے سے کرتے تھے۔ جن امور میں حضورﷺ کو خدا کی طرف سے ہدایت ملتی تھی، ان میں آپ کا کام صرف حکم دینا اور مسلمانوں کا کام صرف اطاعت کرنا تھا۔ ان کے اندر مشورے کا کیا سوال، کسی مسلمان کو بولنے کا حق بھی نہ تھا اور خدا کی ہدایات حضورؐ کے پاس لازمًا صرف قرآنی آیات ہی کی شکل میں نہیں آتی تھیں، بلکہ وہ وحی غیر متلو کی شکل میں بھی آتی تھیں۔
رابعاً: فاضل جج نے عام مسلمانوں کے حق اجتہاد پر زور دینے کے بعد خود اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ایک منظم معاشرے میں انفرادی اجتہاد نہیں چل سکتا۔ قانون صرف وہی اجتہاد بنے گا جو اکثریت کے نمایندوں نے کیا ہو۔ سوال یہ ہے کہ اکثریت کا چند آدمیوں کو منتخب کرکے اجتہاد کا اختیار دینا، اور اس کا چند آدمیوں پراعتماد کرکے ان کے اجتہاد کو قبول کر لینا، ان دونوں میں آخر اصولاً کیا فرق ہے؟ اس ملک کی عظیم اکثریت نے اگر فقہائے حنفیہ پر اعتماد کرکے ان کی تعبیر قرآن وسُنّت اور ان کے اجتہاد کو اِسلامی قانون مانا ہے تو فاضل جج خود اپنے بیان کردہ اصول کی رو سے اس پر کیا اعتراض کر سکتے ہیں اور کیسے کر سکتے ہیں؟ ان پر تو مسلمانوں کے اعتماد کا یہ حال رہا ہے کہ جب اس قانون کو نافذ کرنے والی کوئی طاقت نہ رہی تھی اور غیر مسلم برسر اقتدار آ چکے تھے، اس وقت بھی مسلمان اپنے گھروں میں اور اپنی شخصی ومعاشرتی زندگی کے معاملات میں ان کے بیان کردہ قانون ہی کی پیروی کرتے رہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ عام مسلمان کسی جبر کے بغیر خلوص دل کے ساتھ اور قلب وضمیر کے پورے اطمینان کے ساتھ اس کو صحیح قانون سمجھتے ہیں۔ کیا دُنیا کی کسی پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کو اس قدر زبردست جمہوری تائید حاصل ہونے کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے؟ اس کے مقابلے میں کسی ایک شخص کا، خواہ وہ ایک فاضل جج ہی کیوں نہ ہو، یہ استدلال کیا وزن رکھتا ہے کہ ان فقہا کی تعبیریں آج کے زمانے میں نہیں مانی جا سکتیں؟ جسٹس محمد شفیع صاحب خود فرماتے ہیں کہ قانون وہ ہے جسے اکثریت مانے۔ سو اکثریت اس قانون کو مان رہی ہے۔ آخر کس دلیل سے ان کی انفرادی رائے اسے رد کر سکتی ہے؟
خامسًا: فاضل جج ایک طرف خود تسلیم کرتے ہیں کہ قانون بنانا اور اس میں ردوبدل کرنا اکثریت کے نمایندوں کا کام ہے، افراد کا کام نہیں ہے، خواہ وہ بجائے خود کیسے ہی طاقتور اور ذہین ہوں، لیکن دوسری طرف انھوں نے خود ہی اکثریت کے تسلیم کردہ اصول قانون میں ترمیم بھی کی ہے، اور حضانت کے متعلق اکثریت کے مُسَلّمہ قانون کو رد بھی کیا ہے۔ اگر یہ تضاد نہیں ہے تو ہمیں یہ معلوم کرکے بڑی مسرت ہو گی کہ ان دونوں باتوں میں کس طرح تطبیق دی جا سکتی ہے۔

اجتہاد کے چند نمونے

اس کے بعد پیراگراف ص ۲۵۶ میں فاضل جج نے خود قرآن مجید کی بعض آیات کی تعبیر کرکے اپنے اجتہاد کے چند نمونے پیش فرمائے ہیں جن سے وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس زمانے میں قوتِ اجتہادیہ کو استعمال کرکے قرآن سے کس طرح احکام نکالے جانے چاہییں۔
تعددِ ازواج کے مسئلے میں فاضل جج کا اجتہاد
اس سلسلے میں وہ سب سے پہلے سورۂ نسا کی تیسری آیت:۳ وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ۝۰ۚ کو لیتے ہیں جس کے متعلق ان کا ارشاد ہے کہ ’’اسے اکثر غلط استعمال کیا گیا ہے۔‘‘ اس آیت پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے وہ پہلی بات یہ فرماتے ہیں :
قرآن پاک کے کسی حکم کا کوئی جز بھی فضول یا بے معنی نہ سمجھا جانا چاہیے۔
لیکن اس کے فورًا ہی بعد دوسرا فقرہ یہ ارشاد فرماتے ہیں:
یہ لوگوں کے منتخب نمایندوں کا کام ہے کہ وہ اس بارے میں ایک قانون بنائیں کہ آیا ایک مسلمان ایک سے زیادہ بیویاں کر سکتا ہے، اور اگر کر سکتا ہے تو کن حالات میں اور کن شرائط کے ساتھ۔

اس اجتہاد کی پہلی غلطی

تعجب ہے کہ فاضل جج کو اپنے ان دونوں فقروں میں تضاد کیوں نہ محسوس ہوا۔ پہلے فقرے میں جو اصولی بات انھوں نے خود بیان فرمائی ہے اس کی رُو سے زیرِ بحث آیت کا کوئی لفظ زائد از ضرورت یا بے معنی نہیں ہے۔ اب دیکھیے!آیت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ اس کے مخاطب افراد مسلمین ہیں۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ ’’اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ یتیموں کے معاملے میں تم انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورتیں تمھیں پسند آئیں ان سے نکاح کر لو، دو دو سے، تین تین سے، اور چار چار سے، لیکن اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی سہی…‘‘
ظاہر ہے کہ عورتوں کو پسند کرنا، ان سے نکاح کرنا اور اپنی بیویوں سے عدل کرنا یا نہ کرنا افراد کا کام ہے نہ کہ پوری قوم یا سوسائٹی کا۔ لہٰذا باقی تمام فقرے بھی جو بصیغۂ جمع مخاطب ارشاد ہوئے ہیں، ان کا خطاب بھی لامحالہ افراد ہی سے ماننا پڑے گا۔ اس طرح یہ پوری آیت اول سے لے کر آخر تک دراصل افراد کو ان کی انفرادی حیثیت میں مخاطب کر رہی ہے، اور یہ بات انھی کی مرضی پر چھوڑ رہی ہے کہ اگر عدل کر سکیں تو چار کی حد تک جتنی عورتوں کو پسند کریں، ان سے نکاح کر لیں، اور اگر یہ خطرہ محسوس کریں کہ عدل نہ کر سکیں گے تو ایک ہی پر اکتفا کریں۔ سوال یہ ہے کہ جب تک فَانْکِحُوْا مَاطَابَ لَکُمْاور فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا کے صیغہ خطاب کو فضول اور بے معنی نہ سمجھ لیا جائے، اس آیت کے ڈھانچے میں نمایندگانِ قوم کس راستے سے داخل ہو سکتے ہیں؟ آیت کا کون سا لفظ ان کے لیے مداخلت کا دروازہ کھولتا ہے؟ اور مداخلت بھی اس حد تک کہ وہی اس امر کا فیصلہ بھی کریں کہ ایک مسلمان دوسری بیوی کر بھی سکتا ہے یا نہیں، حالانکہ کر سکنے کا مجاز اسے اللّٰہ تعالیٰ نے خود بالفاظ صریح کر دیا ہے، اور پھر ’’کر سکنے‘‘ کا فیصلہ کرنے کے بعد وہی یہ بھی طے کریں کہ ’’کن حالات میں اور کن شرائط کے مطابق کر سکتا ہے۔‘‘ حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ نے یہ چیز فرد کے اپنے انفرادی فیصلے پر چھوڑی ہے کہ اگر وہ عدل کی طاقت اپنے اندر پاتا ہو تو ایک سے زائد کرے ورنہ ایک ہی پراکتفا کرے۔

دوسری غلطی

دوسری بات وہ یہ فرماتے ہیں کہ ’’از راہ قیاس ایسی شادی کو (یعنی ایک سے زائد بیویوں کے ساتھ شادی کو )یتیموں کے فائدے کے لیے ہونا چاہیے۔‘‘ وہی عام غلطی ہے جو اس آیت کا مطلب لینے میں جدید زمانے کے بعض لوگ کر رہے ہیں۔ ان کاخیال یہ ہے کہ آیت میں چوں کہ یتامیٰ کے ساتھ انصاف کا ذکر آ گیا ہے، اس لیے لامحالہ ایک سے زائد بیویاں کرنے کے معاملے میں کسی نہ کسی طرح یتامیٰ کا معاملہ بطور ایک لازمی شرط کے شامل ہونا چاہیے۔ حالانکہ اگر اس بات کو ایک قاعدہ کلیہ بنا لیا جائے کہ قرآن میں کسی خاص موقع پر جو حکم دیا گیا ہو، اور اس موقع کا ذکر بھی ساتھ ساتھ کر دیا گیا ہو، وہ حکم صرف اسی موقع کے لیے خاص ہو گا، تو اس سے بڑی قباحتیں لازم آئیں گی، مثلاً عرب کے لوگ اپنی لونڈیوں کو پیشہ کمانے پر زبردستی مجبور کرتے تھے۔ قرآن نے اس کی ممانعت ان الفاظ میں فرمائی کہ
وَلَا تُكْرِہُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَي الْبِغَاۗءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا النور 33:24
اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو اگر وہ بچی رہنا چاہتی ہوں۔
کیا یہاں از راہِ قیاس یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ حکم صرف لونڈیوں سے متعلق ہے، اور یہ کہ لونڈی اگر خود بدکار رہنا چاہتی ہو تو اس سے پیشہ کرایا جا سکتا ہے؟
دراصل اس طرح کی قیود کا واقعاتی پس منظر جب تک نگاہ میں نہ ہو، آدمی قرآن مجید کی ایسی آیات کو، جن میں کوئی حکم بیان کرتے ہوئے کسی خاص حالت کا ذکر کیا گیا ہے، ٹھیک نہیں سمجھ سکتا۔ آیت وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی کا واقعاتی پس منظر یہ ہے کہ عرب میں اور قدیم زمانے کی پوری سوسائٹی میں، صدہا برس سے تعدد ازواج مطلقًا مباح تھا۔ اس کے لیے کوئی نئی اجازت دینے کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہ تھی، کیوں کہ قرآن کا کسی رواج عام سے منع نہ کرنا خود ہی اس رواج کی اجازت کا ہم معنی تھا۔ اس لیے فی الحقیقت یہ آیت تعدّد ازواج کی اجازت دینے کے لیے نازل نہیں ہوئی تھی، بلکہ جنگ احد کے بعد جو بہت سی عورتیں کئی کئی بچوں کے ساتھ بیوہ رہ گئی تھیں، ان کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے نازل ہوئی تھی۔ اس میں مسلمانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی تھی کہ اگر شہدائے احد کے یتیم بچوں کے ساتھ تم یوں انصاف نہیں کر سکتے تو تمھارے لیے ایک سے زائد بیویاں کرنے کا دروازہ پہلے ہی کھلا ہوا ہے، ان کی بیوہ عورتوں میں سے جو تمھیں پسند ہوں ان کے ساتھ نکاح کر لو، تاکہ ان کے بچے تمھارے اپنے بچے بن جائیں اور تمھیں ان کے مفاد سے ذاتی دل چسپی پیدا ہو جائے۔ اس سے یہ نتیجہ کسی منطق کی رو سے بھی نہیں نکالا جا سکتا کہ تعدّد ازواج صرف اسی حالت میں جائز ہے جب کہ یتیم بچوں کی پرورش کا مسئلہ درپیش ہو۔ اس آیت نے اگر کوئی نیا قانون بنایا ہے تو وہ تعدد ازواج کی اجازت دینا نہیں ہے، کیوں کہ اس کی اجازت تو پہلے ہی تھی اور معاشرے میں ہزاروں برس سے اس کا رواج موجود تھا، بلکہ دراصل اس میں جو نیا قانون دیا گیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ بیویوں کی تعداد پر چار کی قید لگا دی گئی ہے جو پہلے نہ تھی۔

تیسری غلطی

تیسری بات فاضل جج یہ فرماتے ہیں کہ ’’اگر ایک مسلمان یہ کہہ سکتا ہے کہ میں ایک سے زیادہ بیویاں نہیں کروں گا کیوں کہ میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا، تو ۸ کروڑ مسلمانوں کی اکثریت بھی ساری قوم کے لیے یہ قانون بنا سکتی ہے کہ قوم کی معاشی، تمدنی اور سیاسی حالت اس کی اجازت نہیں دیتی کہ اس کا کوئی فرد ایک سے زیادہ بیویاں کرے۔‘‘ اس عجیب طرز استدلال کے متعلق ہم عرض کریں گے کہ ایک مسلمان جب یہ کہتا ہے کہ وہ ایک سے زیادہ بیویاں نہ کرے گا تو وہ اس آزادی کو استعمال کرتا ہے جو اس کی خانگی زندگی کے بارے میں خدا نے اسے دی ہے۔ وہ اس آزادی کو شادی نہ کرنے کے بارے میں بھی استعمال کر سکتا ہے۔ ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنے میں بھی استعمال کر سکتا ہے، بیوی مر جائے تو دوسری شادی کرنے یا نہ کرنے میں بھی استعمال کر سکتا ہے، اور کسی وقت اس کی رائے بدل جائے تو ایک سے زائد بیویاں کرنے کا فیصلہ بھی کر سکتا ہے لیکن جب قوم تمام افراد کے بارے میں کوئی مستقل قانون بنا دے گی تو فرد سے اس کی وہ آزادی سلب کر لے گی جو خدا نے اسے دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسی قیاس پر کیا قوم کسی وقت یہ فیصلہ کرنے کی بھی مجاز ہے کہ اس کے آدھے افراد شادی کریں اور آدھے نہ کریں؟ یا جس کی بیوی یا شوہر مر جائے وہ نکاح ثانی نہ کرے؟ ہر آزادی جو افراد کو دی گئی ہے اسے بنائے استدلال بنا کر قوم کو یہ آزادی دینا کہ وہ افراد سے ان کی آزادی سلب کرے، ایک منطقی مغالطہ تو ہو سکتا ہے، مگر ہمیں یہ نہیں معلوم کہ قانون میں یہ طرز استدلال کب سے مقبول ہوا ہے۔
تاہم تھوڑی دیر کے لیے ہم یہ مانے لیتے ہیں کہ آٹھ کروڑ مسلمانوں کی اکثریت، مثلاً: ان میں ۴ کروڑ ایک ہزار مل کر ایسا کوئی فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آٹھ کروڑ مسلمانوں میں سے صرف چند ہزار مل کر اپنی ذاتی رائے سے اس طرح کا کوئی قانون تجویز کریں اور اکثریت کی رائے کے خلاف اسے مسلط کر دیں تو فاضل جج کے بیان کردہ اصول کی رو سے اس کا کیا جواز ہو گا؟ آٹھ کروڑ مسلمانوں کی آبادی میں سے ایک لاکھ، بلکہ پچاس ہزار کا بھی نقطہ نظر یہ نہیں ہے کہ قوم کی معاشی، تمدنی اور سیاسی حالت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ ایک مسلمان کے لیے ایک سے زائد بیویاں رکھنا تو قانوناً ممنوع ہو، البتہ اس کا ’’گرل فرینڈس‘‘ سے آزادانہ تعلق، یا طوائفوں سے ربط وضبط، یا مستقل داشتہ رکھنا ازروئے قانون جائز رہے۔ خود وہ عورتیں بھی، جن کے لیے سوکن کا تصور ہی تکلیف دہ ہے، کم ہی ایسی ہوں گی جن کے نزدیک ایک عورت سے ان کے شوہر کا نکاح ہو جائے تو ان کی زندگی ستی سے بدتر ہو جائے گی، لیکن اسی عورت سے ان کے شوہر کا ناجائز تعلق رہے تو ان کی زندگی جنت کا نمونہ بنی رہے گی۔

چوتھی غلطی

پھر فاضل جج فرماتے ہیں:
اس آیت کو قرآن کی دوسری دو آیتوں کے ساتھ ملا کر پڑھنا چاہیے۔ ان میں سے پہلی آیت سورۂ نور نمبر ۳۳ ہے جس میں طے کیا گیا ہے کہ جو لوگ شادی کرنے کے ذرائع نہ رکھتے ہوں، ان کو شادی نہ کرنی چاہیے۔ اگر ذرائع کی کمی کے باعث ایک شخص کو ایک بیوی کرنے سے روکا جا سکتا ہے تو انھی وجوہ یا ایسے ہی وجوہ کی بِنا پر اسے ایک سے زیادہ بیویاں کرنے سے روک دیا جانا چاہیے۔
یہاں پھر موصوف نے خود اپنے بیان کردہ اصول کو توڑ دیا ہے۔ آیت کے اصل الفاظ یہ ہیں:
وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى يُغْنِيَہُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ۝۰ۭ النور 33:24
اور عفت مآبی سے کام لیں وہ لوگ جو نکاح کا موقع نہیں پاتے یہاں تک کہ اللّٰہ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے۔
ان الفاظ میں یہ مفہوم کہاں سے نکلتا ہے کہ ایسے لوگوں کو نکاح نہ کرنا چاہیے؟ اگر قرآن کی کسی آیت کے الفاظ کو ’’فضول اور بے معنی‘‘ سمجھنا درست نہیں ہے تو نکاح سے منع کر دینے کا تصور اس آیت میں کسی طرح داخل نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں تو صرف یہ کہا گیا ہے کہ جب تک اللّٰہ نکاح کے ذرائع فراہم نہ کر دے اس وقت تک مجرد لوگ عفت مآب بن کر رہیں۔ بدکاریاں کرکے نفس کی تسکین نہ کرتے پھریں۔ تاہم اگر کسی نہ کسی طرح نکاح سے منع کر دینے کا مفہوم ان الفاظ میں داخل کر بھی دیا جائے، پھر بھی اس کا روئے سخن فرد کی طرف ہے، نہ کہ قوم یا ریاست کی طرف۔ یہ بات فرد کی اپنی صوابدید پر چھوڑ دی گئی ہے کہ کب وہ اپنے آپ کو شادی کر لینے کے قابل پاتا ہے اورکب نہیں پاتا، اور اسی کو یہ ہدایت کی گئی ہے (اگر فی الواقع ایسی کوئی ہدایت کی بھی گئی ہے) کہ جب تک وہ نکاح کے ذرائع نہ پائے، نکاح نہ کرے۔ اس میں ریاست کو یہ حق کہاں دیا گیا ہے کہ وہ فرد کے اس ذاتی معاملے میں دخل دے اور یہ قانون بنا دے کہ کوئی شخص اس وقت تک نکاح نہ کرنے پائے جب تک وہ ایک عدالت کے سامنے اپنے آپ کو ایک بیوی اور گنتی کے چند بچوں کی (جن کی تعدا د مقرر کر دینے کا حق بھی فاضل جج کی رائے میں یہی آیت ریاست کو عطا کرتی ہے) پرورش کے قابل ثابت نہ کر دے؟ آیت کے الفاظ اگر ’’فضول اور بے معنی‘‘ نہیں ہیں تو اس معاملے میں ریاست کی قانون سازی کا جواز ہمیں بتایا جائے کہ اس کے کس لفظ سے نکلتا ہے؟ اور اگر نہیں نکلتا تو اس آیت کی بنیاد پر مزید پیش قدمی کرکے ایک سے زائد بیویوں اور مقررہ تعداد سے زائد بچوں کے معاملے میں ریاست کو قانون بنانے کا حق کیسے دیا جا سکتا ہے؟

پانچویں غلطی

دوسری آیت جسے سورۂ نسا کی آیت نمبر ۳ کے ساتھ ملا کر پڑھنے اور اس سے ایک حکم نکالنے کی فاضل جج نے کوشش فرمائی ہے وہ سورۂ نسا کی آیت ۱۲۹ ہے۔ اس کا صرف حوالہ دینے پر انھوں نے اکتفا نہیں فرمایا ہے، بلکہ اس کے الفاظ انھوں نے خود نقل کر دیے ہیں، اور وہ یہ ہیں:
وَلَنْ تَسْتَطِيْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَيْنَ النِّسَاۗءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيْلُوْا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوْھَا كَالْمُعَلَّقَۃِ۝۰ۭ وَاِنْ تُصْلِحُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللہَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًاo
النسائ 129:4
اور تم ہرگز یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ عدل کرو عورتوں (یعنی بیویوں) کے درمیان، خواہ تم اس کے کیسے ہی خواہش مند ہو۔ لہٰذا (ایک بیو ی کی طرف) بالکل نہ جھک پڑو کہ (دوسری کو) معلق چھوڑ دو، اور اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللّٰہ سے ڈرتے رہو تو اللّٰہ یقینا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔
ان الفاظ کی بنیاد پر فاضل جج پہلے تو یہ فرماتے ہیں کہ ’’اللّٰہ تعالیٰ نے یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ بیویوں کے درمیان عدل کرنا انسانی ہستیوں کے بس میں نہیں ہے۔‘‘ پھر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ’’یہ ریاست کا کام ہے کہ ان دونوں آیتوں میں تطبیق دینے کے لیے ایک قانون بنائے، اور ایک سے زیادہ بیویاں کرنے پر پابندیاں عائد کر دے۔ وہ کہہ سکتی ہے کہ دوبیویاں کرنے کی صورت میں چوں کہ سالہا سال کے تجربات سے یہ بات ظاہر ہو چکی ہے اور قرآن میں بھی یہ تسلیم کیا گیا ہے، کہ دونوں بیویوں کے ساتھ یکساں برتائو نہیں ہو سکتا، لہٰذا یہ طریقہ ہمیشہ کے لیے ختم کیا جاتا ہے۔‘‘
ہمیں سخت حیرت ہے کہ اس آیت میں سے اتنا بڑا مضمون کس طرح اور کہاں سے نکل آیا۔ اس میں اللّٰہ تعالیٰ نے یہ تو ضرور فرمایا ہے کہ انسان دو یا زائد بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل اگر کرنا چاہے بھی تو نہیں کر سکتا، مگر کیا اس بنیاد پر اس نے تعدّد ازواج کی وہ اجازت واپس لے لی جو عدل کی شرط کے ساتھ اس نے خود ہی سورۂ نسا کی آیت نمبر ۳ میں دی تھی؟ آیت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ اس فطری حقیقت کو صریح لفظوں میں بیان کرنے کے بعد اللّٰہ تعالیٰ دو یا زائد بیویوں کے شوہر سے صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایک بیوی کی طرف اس طرح ہمہ تن نہ مائل ہو جائے کہ دوسری بیوی یا بیویوں کو معلق چھوڑ دے۔ بالفاظ دیگر پورا پورا عدل نہ کر سکنے کا حاصل قرآن کی رو سے یہ نہیں ہے کہ تعدد ازواج کی اجازت ہی سرے سے منسوخ ہو جائے بلکہ اس کے برعکس اس کا حاصل صرف یہ ہے کہ شوہر ازدواجی تعلق کے لیے ایک بیوی کو مخصوص کر لینے سے پرہیز کرے اور ربط وتعلق سب بیویوں سے رکھے خواہ اس کا دلی میلان ایک ہی کی طرف ہو۔ یہ حکم ریاست کو مداخلت کا موقع صرف اس صورت میں دیتا ہے جب کہ ایک شوہر نے اپنی دوسری بیوی یا بیویوں کو معلق کرکے رکھ دیا ہو۔ اسی صورت میں وہ بے انصافی واقع ہو گی جس کے ساتھ تعددِ ازواج کی اجازت سے فائدہ نہیں اُٹھایا جا سکتا لیکن کسی منطق کی رو سے بھی اس آیت کے الفاظ اور اس کی ترکیب اور فحویٰ سے یہ گنجائش نہیں نکالی جا سکتی کہ معلق نہ رکھنے کی صورت میں ایک ہی شخص کے لیے تعدّد ازواج کو ازروئے قانون ممنوع ٹھہرایا جا سکے، کجا کہ اس میں سے اتنا بڑا مضمون نکال لیا جائے کہ ریاست تمام لوگوں کے لیے ایک سے زائد بیویاں رکھنے کو مستقل طور پر ممنوع ٹھہرا دے۔ قرآن کی جتنی آیتوں کو بھی آدمی چاہے، ملا کر پڑھے، لیکن قرآن کے الفاظ میں قرآن ہی کا مفہوم پڑھنا چاہیے، کوئی دوسرا مفہوم کہیں سے لا کر قرآن پڑھنا اور پھر یہ کہنا کہ یہ مفہوم قرآن سے نکل رہا ہے، کسی طرح بھی درست طریقِ مطالعہ نہیں ہے کجا کہ اسے درست طریق اجتہاد مان لیا جائے۔
آگے بڑھنے سے پہلے ہم فاضل جج کو، اور ان کا سا طرز فکر رکھنے والے دوسرے حضرات کو بھی، ایک سوال پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ قرآن مجید کی جن آیات پر وہ کلام فرما رہے ہیں، ان کو نازل ہوئے ۱۳۷۸ سال گزر چکے ہیں۔({ FR 7019 }) اس پوری مدت میں مسلم معاشرہ دُنیا کے ایک بڑے حصے میں مسلسل موجود رہا ہے۔ آج کسی ایسی معاشی یا تمدنی یا سیاسی حالت کی نشاندہی نہیں کی جا سکتی جو پہلے کسی دور میں بھی مسلم معاشرے کو پیش نہ آئی ہو لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ پچھلی صدی کے نصف آخر سے پہلے پوری دُنیائے اِسلام میں کبھی یہ تخیل پیدا نہ ہوا کہ تعدّد ازواج کو روکنے یا اس پر سخت پابندیاں لگانے کی ضرورت ہے؟ کیا اس کی کوئی معقول توجیہہ اس کے سوا کی جا سکتی ہے کہ اب ہمارے ہاں یہ تخیل ان مغربی قوموں کے غلبے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے جو ایک سے زائد بیوی رکھنے کو ایک قبیح وشنیع فعل، اور خارج از نکاح تعلقات کو (بشرط تراضی طرفین) حلال وطیب، یا کم از کم قابل درگزر سمجھتی ہیں؟ جن کے ہاں داشتہ رکھنے کا طریقہ قریب قریب مُسلَّم ہو چکا ہے مگر اسی داشتہ سے نکاح کر لینا حرام ہے؟ اگر صداقت کے ساتھ فی الواقع اس کے سوا اس تخیل کے پیدا ہونے کی کوئی توجیہہ نہیں کی جا سکتی تو ہم پوچھتے ہیں کہ اس طرح خارجی اثرات سے متاثر ہو کر قرآنی آیات کی تعبیریں کرنا کیا کوئی صحیح طریقِ اجتہاد ہے؟ اور کیا عام مسلمانوں کے ضمیر کو ایسے اجتہاد پرمطمئن کیا جا سکتا ہے؟

دوسرا اجتہاد۔ حدِّ سرقہ کے بارے میں

اس کے بعد فاضل جج نے سورۂ مائدہ کی آیت ۳۸۔۳۹ کو لیا ہے اور اس میں بطور نمونہ یہ اجتہاد کرکے بتایا ہے کہ اس مقام پر قرآن نے چوری کی انتہائی سزا قطعِ ید بتائی ہے۔ حالانکہ قرآن اس جرم کی انتہائی سزا (maximum punishment) نہیں بلکہ ایک ہی سزا (only punishment) قطعِ ید قرار دے رہا ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں:
وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَہُمَا جَزَاۗءًۢ بِمَا كَسَـبَا نَكَالًا مِّنَ اللہِ۝۰ۭ
المائدہ 38:5
اور چور مرد اور چورعورت، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو ان کے کیے کرتوت کے بدلے میں عبرت ناک سزا کے طور پر اللّٰہ کی طرف سے۔
اگر قرآن فضول اور بے معنی الفاظ استعمال نہیں کرتا ہے تو اس جملے میں ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ چور مرد اور چور عورت کے لیے بالفاظِ صریح ایک ہی سزا بیان کی گئی ہے، اور وہ ہاتھ کاٹ دینا ہے۔ اس میں ’’انتہائی سزا‘‘ کا تصور کس راستے سے داخل ہو سکتا ہے؟

تیسرا اجتہاد۔ حضانت کے مسئلے میں

آخری نمونۂ اجتہاد فاضل جج نے ایسے بچوں کی حضانت کے مسئلے میں کرکے بتایا ہے جن کی مائیں اپنے شوہروں سے جدا ہو چکی ہیں۔ اس معاملے میں وہ سورۂ بقرہ کی آیت ۲۳۳ اور سورۂ طلاق کی آیت ۶ نقل کرکے حسب ذیل دو باتیں ارشاد فرماتے ہیں اور دونوں قرآنی الفاظ کے حدود سے صریحاً خارج ہیں:
پہلی بات وہ یہ فرماتے ہیں کہ ’’ان آیات کی روسے مائوں کو پورے دو سال اپنے بچوں کو دودھ پلانا ہو گا۔‘‘ حالانکہ جو آیات انھوں نے نقل کی ہیں ان کی رو سے پورے دو سال تو درکنار، بجائے خود دودھ پلانا بھی لازم نہیں کیا گیا ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیت میں فرمایا گیا ہے۔ وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَۃَ۝۰ۭالبقرہ 233:2’’اور مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلائیں پورے دو سال اس شخص کے لیے جو رضاعت پوری کرانا چاہتا ہو‘‘ اور سورۂ طلاق والی آیت میں فرمایا گیا ہے: فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ۝۰ۚ الطلاق 65:6 َّ ’’پھر اگر وہ تمھارے لیے بچے کو دودھ پلائیں تو ان کی اجرت انھیں دو۔‘‘
دوسری بات وہ یہ فرماتے ہیں کہ: ’’قرآن میں ایسی کوئی ہدایت نہیں ہے کہ ایک عورت اگر طلاق پا کر دوسری شادی کر لے تو پہلا شوہر اس سے اپنا بچہ لے سکتا ہے۔ اگر محض اس بِنا پر کہ اس نے دوسری شادی کر لی ہے وہ بچے سے محروم ہو سکتی ہے تو میں کوئی وجہ نہیں سمجھتا کہ ایک مرد دوسری شادی کر لینے کی صورت میں کیوں نہ اپنے بچے سے محروم ہو۔‘‘
یہ بات ارشاد فرماتے وقت فاضل جج کو غالباً یہ خیال نہ رہا کہ چند سطر اوپر جو آیات انھوں نے خود نقل کی ہیں، ان میں بچے کو باپ کا قرار دیا گیا ہے اوراول سے لے کر آخر تک ان میں سارے احکام اسی بنیاد پر دیے گئے ہیں کہ بچہ باپ کا ہے۔ عَلَی الْمَوْلُوْدِ لَہٗ رِزْقُھُنَّ وَکِسْوَتُھُنَّ ’’جس کا بچہ ہے اس کے ذمے (دودھ پلانے والی ماں کے) کھانے کپڑے کا خرچ ہے۔‘‘ وَاِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ البقرہ 233:2 ’’اور اگر تم (کسی دوسری عورت سے) اپنے بچے کو دودھ پلوانا چاہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔‘‘ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ الطلاق 6:65 ’’پھر اگر وہ تمھارے لیے بچے کو دودھ پلائیں تو ان کی اجرت ان کو دو۔‘‘ ہائی کورٹ کے ایک فاضل جج سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی کہ قرآن کے یہ الفاظ بچے کے معاملے میں باپ اورماں کی پوزیشن کے درمیان کیا فرق ظاہر کر رہے ہیں۔
بنیادی غلطی
ان تینوں مسائل میں فاضل جج نے اس انداز میں بحث کی ہے کہ گویا قرآن خلا میں سفر کرتا ہوا سیدھا ہمارے پاس پہنچ گیا ہے۔ مسلم معاشرے کا کوئی ماضی نہیں ہے جس میں اس کتاب کے احکام سمجھنے سمجھانے اور اس پر عمل کرنے کا کوئی کام کبھی ہوا ہو، اور جس سے ہمیں کسی قسم کے کوئی نظائر کہیں ملتے ہوں۔ کوئی نبی نہ تھا جس پر یہ قرآن اترا ہو، اور اس نے اس کے کسی حکم کا مطلب بیان کیا ہو، یا اس پر عمل کرکے بتایا ہو۔ کوئی خلفا، کوئی صحابہ، کوئی تابعین، کوئی فقہا، کوئی قاضی اور حکام عدالت اس امت میں نہیں گزرے ہیں۔ ہمیں پہلی مرتبہ ہی ان مسائل سے سابقہ پیش آ گیا ہے کہ یہ قرآن جو تعدد ازواج کی اجازت دیتا ہے، یا چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا مقرر کرتا ہے، یا بچوں کی حضانت کے متعلق کچھ ہدایات دیتا ہے، ان پر ہم کیا قواعد وضوابط بنائیں۔ اس طرح کے تمام معاملات میں تیرہ چودہ سو برس کا اِسلامی معاشرہ ہمارے لیے گویا معدوم محض ہے۔ سب کچھ ہمیں قرآن ہاتھ میں لے کر نئے سرے سے کرنا ہے، اور وہ بھی اس طرح جس کے چند نمونے اوپر ہمارے سامنے آتے ہیں۔

سُنّت کے متعلق فاضل جج کا نقطۂ نظر

یہ اندازِ بحث محض اتفاقی نہیں ہے بلکہ پیرا گراف ۲۱ سے جو بحث شروع ہوتی ہے اس کو پڑھ کر معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ فاضل جج کی سوچی سمجھی رائے کا نتیجہ ہے۔ یہ چوں کہ ان کے فیصلے کا اہم ترین حصہ ہے، اس لیے ہم اس کے ایک ایک نکتے کو نمبروار نقل کرکے ساتھ ساتھ اس پر تنقید کرتے چلے جائیں گے تاکہ ہر نکتے کی بحث صاف ہوتی چلی جائے۔
سُنّت کے بارے میں امت کا رویہ
وہ فرماتے ہیں کہ:
قرآن کے علاوہ حدیث یا سُنّت کو بھی مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نے اِسلامی قانون کا ایک اتنا ہی اہم مآخذ سمجھ لیا ہے۔ (پیرا گراف:۲۱)
کوئی شخص جس نے اِسلامی قانون اور اس کی تاریخ کا کچھ مطالعہ کیا ہو یہ ہرگز تسلیم نہیں کر سکتا کہ اس فقرے میں صحیح صورت واقعہ بیان کی گئی ہے۔ صحیح صورت واقعہ یہ ہے کہ عہد رسالت سے لے کر آج تک پوری امت، تمام دُنیائے اِسلام میں سُنّت رسولﷺ کو قرآن کے بعد قانونًا بنیادی ماخذ، اور حدیث کو سُنّت کے معلوم کرنے کا ذریعہ مانتی چلی آ رہی ہے اور آج بھی مان رہی ہے۔ جیسا کہ ہم اس کتاب کے مقدمے میں بیان کرچکے ہیں، تاریخ اِسلام میں پہلی مرتبہ ایک مختصر سا گروہ دوسری صدی ہجری میں ظاہر ہوا تھا، جس نے اس کا انکار کیا تھا، اور اس کی تعداد مسلمانوں میں بڑے مبالغے کے ساتھ بھی بیان کی جائے تو دس ہزار میں ایک سے زیادہ نہ تھی۔ تیسری صدی کے آخر تک پہنچتے پہنچتے یہ گروہ ناپید ہو گیا، کیوں کہ سُنّت کے ماخذ قانون ہونے کے حق میں ایسے مضبوط علمی دلائل وشواہد موجودتھے کہ اس گمراہانہ خیال کا زیادہ دیر تک ٹھہرنا ممکن نہ تھا۔ پھر ۹ صدیوں تک دُنیائے اِسلام اس طرح کے کسی گروہ کے وجود سے بالکل خالی رہی، حتّٰی کہ اِسلامی تاریخ میں کسی ایک شخص کا ذکر بھی نہیں ملتا جس نے یہ خیال ظاہر کیا ہو۔ اب اس طرزِ خیال کے لوگ از سر نو پچھلی صدی سے ظاہر ہونے شروع ہوئے ہیں لیکن اگر دیکھا جائے کہ ایسے افراد کے پَیرودنیائے اِسلام میں کتنے ہیں، تو ان کا اوسط ایک لاکھ میں ایک سے زیادہ نہ نکلے گا۔ کیا اس امرِ واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کرنا کہ ’’مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نے سُنّت کو ماخذ قانون سمجھ لیا ہے‘‘ حقیقت کی صحیح ترجمانی ہے؟ اس کے بجائے یہ کہنا صحیح تر ہو گا کہ ’’مسلمانوں کی ایک بالکل ناقابل لحاظ تعداد سُنّت کے مآخذ ہونے سے انکار کرنے لگی ہے۔‘‘
فاضل جج کے نزدیک دین میں نبی کی حیثیت
اس کے بعد فاضل جج نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ دین میں نبی کی حیثیت کیا ہے۔ اس سوال پر بحث کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں:
اِسلامی قانون کا مآخذ ہونے کی حیثیت سے حدیث کی قدروقیمت کیا ہے، اس کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ہمیں یہ معلوم کرنا چاہیے کہ اِسلامی دُنیا میں رسول