سانحہ مسجد اقصٰی

ریڈ مودودی ؒ   کی اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔

کل اور آج

کسی گھر پر ڈا کو قبضہ کر لیں تو مزاحمت اور واگزاری کی کوشش تمام اہل خانہ کا حق اور فرض ہوتا ہے۔ لیکن فلسطین اور کشمیر پر یہ منطق مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ نہ صرف مزاحمت چھوڑ دیں، بلکہ دل سے بھی تسلیم کرلیں کہ یہ گھر اب ڈاکووں کا ہو گیا۔ بعض نا خلف افراد خانہ کو گھر کا ایک آدھ کمرہ یا صرف راہداری دے کر یہ منوایا جا رہا ہے کہ بس یہی پورا گھر ہے۔ باقی سب غیر کی ملکیت ہے۔ ڈاکو اور ان کے سرپرست پورے کنبے میں سے صرف انھی با ضمیر افراد کو جینے کا حق دے رہے ہیں، باقی سب دہشت گرد ہیں (صدر بش نے اُردن میں اپنی تقریر میں محمود عباس کو صاحب ضمیر قائد کا لقب دیا ہے)۔ اب ابھی با ضمیروں کو اپنے بھائی بندوں کے قتل عام پر لگایا جا رہا ہے۔ پوری دنیا اس عدل عالمی پر تحسین کے ڈونگرے برسا رہی ہے۔ مظلوم گھرانے کے باقی تمام عزیز و اقارب سے بھی یہ گردان شروع کروا دی گئی ہے کہ جب گھر کے اصل مالکوں نے ڈاکو کو مالک تسلیم کر لیا ہے تو ہم کیوں نہ کریں۔ انھیں یہ بھی یاد نہیں کہ معاملہ کسی عام گھر کا نہیں، محبوب کائنات (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جائے امامت و معراج کا ہے جو خانہ خدا سے پہلے دنیا بھر میں پھیلی مسلم اُمت کا قبلہ تھا۔ اسے مفاد کے چند بندوں کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑا جا سکتا ہے؟
پوری دنیا میں ایک ہی راگ الاپا جارہا ہے کہ مسئلہ فلسطین حل ہو گیا۔ راگ الاپنے والے سب سے بہتر طور پر جانتے ہیں کہ روڈ میپ اور امن معاہدے صہیونی دفاعی اقدامات کا ایک حصہ ہیں۔ صہیونی افواج ہر ہتھکنڈہ استعمال کرلینے کے باوجود ستمبر ۲۰۰۰ ء میں شروع ہونے والی دوسری تحریک انتفاضہ کو کچلنے میں ناکام رہیں تو اب خود فلسطینیوں کو یہ ہدف دے دیا گیا ہے۔ بہائی مذہب رکھنے والے محمود عباس (ابو مازن) صرف اسی لیے تمام تعریفوں کے لائق” قرار دیے جارہے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کی عسکری سرگرمیوں کے مخالف ہیں۔
امریکی صدر کے حالیہ دورہ مصر و اردن کے دوران ابو مازن نے خود شارون سے بھی دو فلسطینی دہشت گردی کی مذمت کی اس سے بڑھ کر پوری انسانی تاریخ میں یہودیوں پر توڑے جانے والے مظالم پر دکھ کا اظہار کیا اور اپنا اصل ہدف اس امر کو قرار دیا کہ وہ شدت پسندی، دہشت گردی کرنے والوں اور یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلانے والوں یعنی یہودیوں کے قبضے اور ان کے مظالم کا ذکر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ اپنی پوری تقریر میں انھوں نے فلسطینیوں کے حق آزادی لاکھوں کی تعداد میں بے گھر فلسطینی مہاجرین کی واپسی یا مسجد اقصیٰ کی بازیابی کی طرف اوٹی اشارہ نہیں کیا۔ عجیب اتفاق ہے کہ ابو مازن شارون معاہدہ ۲۰۰۰ء میں شروع ہونے والی دوسری تحریک انتفاضہ کو کچلنے میں ناکامی اور عراق پر امریکی قبضے کے بعد ہوا ہے۔ اس سے پہلے یاسر عرفات را بن معاہدہ ۸۷ء میں شروع ہونے والی پہلی تحریک انتفاضہ کو کچلنے میں ناکامی اور عراق کو تباہ کرنے کے بعد ہوا تھا۔ تب یاسر عرفات امن کے نوبل انعام کے حق دار ٹھہرے تھے ۔ اب ابو مازن کو آنکھ کا تارا قرار دیا جا رہا ہے۔
ستمبر ۲۰۰۰ء میں دوسری تحریک انتفاضہ کا آغاز اس وقت ہوا تھا، جب عرفات رابن معاہدے کے منطقی ہدف کو پورا کرتے ہوئے آرییل شارون نے مسجد اقصیٰ میں گھسنا چاہا تھا۔ مسجد اقصیٰ کو شہید کر کے وہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا قدیم صہیونی خواہش ہے۔ فلسطین میں گھسنے کے لیے عثمانی خلیفہ سے اجازت حاصل کرنے کی کوشش بھی اسی بنیاد پر کی گئی تھی کہ یہودیوں کو وہاں عبادت کی اجازت دی جائے۔ برطانوی استبداد کی چھتری تلے فلسطین  میں قدم جمانے سے لے کر امریکی سر پرستی میں لاکھوں فلسطینی عوام سے ان کی شناخت اور سایہ سب کرنے کے تمام مراحل میں یہودیوں کی اصل توجہ مسجد اقصیٰ پر رہی۔ اقصیٰ کو جلانے کی کوشش، نمازیوں پر فائرنگ کے لاتعداد واقعات آثار قدیمہ کی تلاش میں مسجد اقصیٰ کی بنیاد میں کھوکھلی کرنا تیسرے ہزارے کو ہیکل سلیمانی کا تعمیر کا خدائی عہد قرار دینا اور اب چالیس سال سے کم عمر کے تمام مسلمانوں کا مسجد اقصیٰ میں داخلہ ممنوع قرار دے دینا سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
سیکڑوں صہیونی تنظیمیں اور ادارے ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے مالی وقتی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اس دوران میں نام نہاد امن معاہد نے عالم اسلام سے اسرائیل کے تعلقات نئے مشرق وسطی کا نقشہ سب بظاہر تنازعے کا حل ہیں لیکن عملاً یہ سب کچھ اسی وسیع تر صہیونی ریاست کی تکمیل کی جانب قدم ہیں جن کا ذکر ہزاروں صہیونی وصیلیبی کتب میں کیا جا چکا ہے۔ تب برطانیہ نے ان تمام صہیونی منصوبوں پر عمل کیا، اب یہ ذمہ داری امریکا نے اپنے سر لی ہے۔ تب جمعیت اقوام نے صہیونی قبضہ جائز قرار دیا اب اقوام متحدہ اس قبضے کو مستحکم کر رہی ہے۔ جب عرب حکمرانوں کو عرب و عجم کا حکمران بنانے کا دھوکا دیا گیا اور اب خود فلسطین میں کئی سراب گزیدہ دستیاب ہیں۔
۱۹۶۹ء میں اسیر مسجد اقصیٰ کو جلا کر شہید کرنے کی مذموم کوشش کے وقت بانی جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اس پورے صہیونی منصوبے کا احاطہ کیا تھا۔ یہ تقریر آج کے حالات پر بھی اسی طرح منطبق ہوتی ہے جس طرح آج سے ۳۴ سال پہلے تھی۔ مسلم اُمت کے لیے راستہ اب بھی وہی ہے جس کی طرف مولانا مرحوم نے اشارہ کیا اور جو ہمیشہ سے رب کائنات کی سنت ہے یعنی: ایمان، علم اتحاد تقویٰ جہاد فی سبیل اللہ ۔
عبد الغفار عزیز 
(مرحوم)

مسجد اقصیٰ میں آتشزدنی

مسجد اقصیٰ میں آتشزدنی کی دلخراش خبر ہر مسلمان کے قلب و روح پر بجلی بن کے گری ہے اور صرف پاکستان ہی کے مسلمان نہیں بلکہ ساری دنیا کے مسلمان اس پر تڑپ اٹھے ہیں۔ اس وقت بار بار لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ایک طوفان کی طرح اُٹھ رہا ہے کہ آخر اس مصیبت کا علاج کیا ہے؟ یہ ہماری تاریخ کے نازک ترین لمحات میں سے ایک لمحہ ہے۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ یہ منحوس لمحہ ہماری زندگی میں پیش آیا۔
اب سوا ارب مسلمان دنیا میں موجود ہیں اور پھر بھی یہودیوں کی یہ ہمت ہوئی کہ ہماری تین مقدس ترین مسجدوں میں سے ایک کو آگ لگا دیں، اس مسجد کو پھونک ڈالیں جسے اسلام میں قبلہ اول ہونے کا شرف حاصل ہے، جس کی طرف رُخ کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے ۱۴ برس تک نماز پڑھی ہے ، اور جس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم معراج پر تشریف لے گئے تھے۔ اس سے بڑی مصیبت امت مسلمہ کے لیے اور کیا ہوسکتی ہے۔ جس مسلمان کے دل میں دین کی ادنیٰ رمق بھی باقی ہے وہ سوچ رہا ہے کہ یہاں تک نوبت پہنچ جانے کے بعد بھی اگر ہم نے کچھ نہ کیا تو دنیا میں اس امت کی کیا آبر و باقی رہ جائے گی اور اس کے بعد ہمیں نہ معلوم اور کیسی ذلتوں سے سابقہ پیش آئے گا۔
اس نازک موقع پر یہ ضروری ہے کہ ہم پہلے اس معاملے کی پوری نوعیت کو اچھی طرح سمجھ لیں ، کیونکہ اسے سمجھے بغیر ہم صحیح طور پر یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ ہمیں مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے ۔

اس مجرم کا اصل محرک کیا ہے :

اسرائیل نے اس واقعے کے بعد مسلمانوں کی آنکھوں میں خاک جھونکنے کی پے ور پے کوششیں کی ہیں اور اس کے لیے بڑے اوچھے طریقے اختیار کیے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہا گیا کہ بجلی کے تاروں میں خرابی واقع ہونے سے اتفاقا ًآگ لگ گئی ۔ لیکن پھر خود ہی ان مجرموں نے یہ محسوس کر لیا کہ یہ بات چلنے والی نہیں ہے۔ اتنی بڑی عمارت میں محض بجلی کے تاروں کی خرابی سے ایسی خوفناک آتش زدگی آخر کیسے ہوسکتی ہے؟
اس کے بعد نہایت ڈھٹائی اور سخت بے حیائی کے ساتھ یہ جھوٹ گھڑا گیا کہ عربوں نے خود آگ لگائی ہے۔ اس طرح کے جھوٹ کا ہم کو پہلے ہی کافی تجربہ ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ کس قماش کے لوگ ایسے جھوٹ گھڑا کرتے ہیں۔ ابھی تھوڑی ہی مدت پہلے اسی لاہور میں ہمارے دفتر پر حملہ کر کے قرآن جلایا گیا اور اُلٹا ہم پر ہی یہ بہتان لگا دیا گیا کہ قرآن انہوں نے خود جلایا ہے۔ جس فلسفے کے تحت یہ جھوٹ گھڑا گیا تھا اس فلسفے کے اصل مصنف یہودی ہی ہیں ۔ وہ یہودی دماغ ہی تھا جس نے اخلاق کا یہ اصول تصنیف کیا تھا کہ جس طریقے سے بھی مقصد براری ہو سکے وہ برحق ہے۔
یہودیوں کو بہت جلدی یہ محسوس ہو گیا کہ یہ دروغ بے فروغ بھی کارگر نہ ہو گا۔ اب ایک آسٹریلین نوجوان کو انہوں نے پکڑ لیا ہے اور دنیا کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ اس دیوانے نے کسی جنون کے دورے میں یہ حرکت کر ڈالی ہے ورنہ مسجد اقصیٰ کو منہدم کرنے کا کوئی منصو بہ اسرائیل کے پیش نظر نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس نو جوان پر مقدمہ چلا کر اور اپنے ایک خود ساختہ کمیشن کے ذریعہ سے تحقیقات کراکے وہ اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کریں، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ اس مسئلے کی پوری تاریخ بیان کر دوں جس سے آپ کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ ایک بڑا طویل المیعاد منصوبہ ہے جو صدیوں سے چلا آرہا ہے اور اسی کے تحت یہ کارروائی بطور تمہید کی گئی ہے۔

یہودی عزائم کی تاریخ :

بیت المقدس اور فلسطین کے متعلق آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تقریبا تیرہ سو برس قبل مسیح میں بنی اسرائیل اس علاقے میں داخل ہوئے تھے اور وہ صدیوں کی مسلسل کشمکش کے بعد بالآخر اس پر قابض ہو گئے تھے۔ قدیم باشندے دوسرے لوگ تھے جن کے قبائل اور اقوام کے نام خود بائبل میں تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں، اور بائبل ہی کی تصریحات سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے ان قوموں کا قتل عام کر کے اس سرزمین پر اسی طرح قبضہ کیا تھا جس طرح فرنگیوں نے سرخ ہندیوں (Red Indians) کو فنا کر کے امریکا پر قبضہ کیا۔ ان کا دعویٰ یہ تھا کہ خدا نے یہ ملک ان کی میراث میں دے دیا ہے، اس لیے انہیں حق پہنچتا ہے کہ اس کے اصل باشندوں کو بے دخل کر کے ، بلکہ ان کی نسل کو مٹا کر اس پر قابض ہو جائیں۔ اس کے بعد آٹھویں صدی قبل مسیح میں اسیر یا نے شمالی فلسطین پر قبضہ کر کے اسرائیلیوں کا بالکل قلع قمع کر دیا اور ان کی جگہ دوسری قوموں کو لا بسایا جو زیادہ تر عربی النسل تھیں۔
پھر چھٹی صدی قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے جنوبی فلسطین پر قبضہ کر کے تمام یہودیوں کو جلا وطن کر دیا، بیت المقدس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ہیکل سلیمانی (Temple of Solomon) کو، جسے دسویں قبل مسیح میں حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کرایا تھا، اس طرح پیوند خاک کر دیا کہ اس کی ایک دیوار بھی اپنی جگہ قائم نہ رہی۔ ایک طویل مدت کی جلا وطنی کے بعد ایرانیوں کے دور حکومت میں یہودیوں کو پھر سے جنوبی فلسطین میں آکر آباد ہونے کا موقع ملا اور انہوں نے بیت المقدس میں دوبارہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی ۔ لیکن یہ دوسرا وقفہ بھی تین چار سو برس سے زیادہ دراز نہ ہوا۔
۷۰ عیسوی میں یہودیوں نے رومی سلطنت کے خلاف بغاوت کی جس کی پاداش میں بیت المقدس کے شہر اور ہیکل سلیمانی کو بالکل مسمار کر دیا گیا، اور پھر ایک دوسری بغاوت کو کچل کر ۱۳۵ عیسوی میں رومیوں نے پورے فلسطین سے یہودیوں کو نکال باہر کیا۔ اس دوسرے اخراج کے بعد جنوبی فلسطین میں بھی اُسی طرح عربی النسل قبائل آباد ہو گئے جس طرح شمالی فلسطین میں وہ آٹھ سو برس پہلے آباد ہوئے تھے۔ اسلام کی آمد سے پہلے یہ پورا علاقہ عربی قوموں سے آباد تھا، بیت المقدس میں یہودیوں کا داخلہ تک رومیوں نے قانوناً ممنوع کر رکھا تھا اور فلسطین میں بھی یہودی آبادی قریب قریب بالکل ناپید تھی۔
اس تاریخ سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ:
(1) یہودی ابتداً نسل کشی (Genocide) کے مرتکب ہو کر فلسطین پر زبر دستی قابض ہوئے تھے۔
(۲) شمالی فلسطین میں صرف چار پانچ سو برس تک وہ آبادر ہے۔
(۳) جنوبی فلسطین میں ان کے قیام کی مدت زیادہ سے زیادہ آٹھ نو سو برس رہی ۔
(۴) عرب شمالی فلسطین میں ڈھائی ہزار سال سے اور جنوبی فلسطین میں تقریباً دو ہزار سال سے آباد چلے آ رہے ہیں۔
لیکن اس کے باوجود یہودیوں کا آج بھی یہ دعویٰ ہے کہ فلسطین ان کے باپ دادا کی میراث ہے جو خدا نے انہیں عطا فرمائی ہے اور انہیں حق پہنچتا ہے کہ اس میراث کو بزور طاقت حاصل کر کے اس علاقے کے قدیم باشندوں کو اسی طرح نکال باہر کر یں اور خود ان کی جگہ بس جائیں جس طرح تیرہ سو برس قبل مسیح میں انہوں نے کیا تھا۔
دو ہزار برس سے دنیا بھر کے یہودی ہفتے میں چار مرتبہ یہ دعائیں مانگتے رہے ہیں کہ بیت المقدس پھر ہمارے ہاتھ آئے اور ہم ہیکل سلیمانی کو پھر تعمیر کریں۔ ہر یہودی گھر میں مذہبی تقریبات کے موقع پر اس تاریخ کا پورا ڈراما کھیلا جاتا رہا ہے کہ ہم مصر سے کس طرح نکلے اور فلسطین میں کس طرح سے آباد ہوئے اور کیسے بابل والے ہم کو لے گئے اور ہم کس طرح سے فلسطین سے نکالے گئے اور تتر بتر ہوئے۔ اس طرح یہودیوں کے بچے بچے کے دماغ میں یہ بات ۲۰ صدیوں سے بٹھائی جارہی ہے کہ فلسطین تمہارا ہے اور تمہیں واپس ملنا ہے اور تمہارا مقصد زندگی یہ ہے کہ تم بیت المقدس میں ہیکل سلیمانی کو پھر تعمیر کرو۔ بارہویں صدی عیسوی کے مشہور یہودی فلسفی موسیٰ بن میمون (Maimonides) نے اپنی کتاب شریعت یہود (The Code of Jewish Law) میں صاف صاف لکھا ہے کہ ہر یہودی نسل کا یہ فرض ہے کہ وہ بیت المقدس میں ہیکل سلیمانی کو از سر نو تعمیر کرے۔“
مشہور فری میسن تحریک بھی ، جس کے متعلق ہمارے ملک کے اخبارات میں قریب قریب سارے ہی حقائق اب شائع ہو چکے ہیں، اصلاً ایک یہودی تحریک ہے اور اس میں بھی ہیکل سلیمانی کی تعمیر نو کو مقصود قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ پوری فری میسن تحریک کا مرکزی تصور یہی ہے اور تمام فری میسن لاجوں میں اس کا باقاعدہ ڈراما ہوتا ہے کہ کس طرح سے ہیکل سلیمانی کو دوبارہ تعمیر کرنا ہے۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ میں آگ لگنا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔ صدیوں سے یہودی قوم کی زندگی کا نصب العین یہی رہا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کو تعمیر کرے، اور اب بیت المقدس پر ان کا قبضہ ہو جانے کے بعد ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے اس نصب العین کو پو را کرنے سے باز رہ جائیں۔

یہودیوں کی احسان فراموشی :

آگے بڑھنے سے پہلے میں ایک بات کی اور وضاحت کر دینا ضروری سمجھتا ہوں ۔ ہیکل سلیمانی کے متعلق یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ اسے ۷۰ عیسوی میں بالکل مسمار کر دیا گیا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب بیت المقدس فتح ہوا اس وقت یہاں یہودیوں کا کوئی معبد نہ تھا بلکہ کھنڈر پڑے ہوئے تھے۔ اس لیے مسجد اقصی اور قبۂ صخرہ کی تعمیر کے بارے میں کوئی یہودی یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ ان کے کسی معبد کوتوڑ کر مسلمانوں نے یہ مساجد بنائی تھیں۔ یہ بات بھی تاریخ سے ثابت ہے کہ رومیوں کے زمانے میں فلسطین یہودیوں سے خالی کر لیا گیا تھا اور بیت المقدس میں تو ان کا داخلہ بھی ممنوع تھا۔ یہ مسلمانوں کی شرافت تھی کہ انہوں نے پھر انہیں وہاں رہنے اور بسنے کی اجازت دی ۔ تاریخ اس بات پر بھی شاہد ہے کہ پچھلی تیرہ چودہ صدیوں میں یہودیوں کو اگر کہیں امن نصیب ہوا ہے تو وہ صرف مسلمان ملک تھے ، ورنہ دنیا کے ہر حصے میں جہاں بھی عیسائیوں کی حکومت رہی وہاں وہ ظلم و ستم کا نشانہ ہی بنتے رہے۔ یہودیوں کے اپنے مؤرخین اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی تاریخ کا سب سے زیادہ شاندار دور وہ تھا جب وہ اندلس میں مسلمانوں کی رعایا کی حیثیت سے آباد تھے۔ یہ دیوار گریہ جس کو آج یہودی اپنی سب سے بڑی مقدس یادگار سمجھتے ہیں ، یہ بھی مسلمانوں ہی کی عنایت سے انہیں ملی تھی ۔ بمبئی سے اسرائیل حکومت کا ایک سرکاری بلیٹن (News from Israel) شائع ہوتا ہے اس کی جولائی ۱۹۶۷ ء کی اشاعت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ دیوار گر یہ پہلے ملبے اور کوڑے کرکٹ میں دبی ہوئی تھی اور اس کا کوئی نشان تک لوگوں کو معلوم نہ تھا ۔ ۶ اویں صدی عیسوی میں سلطان سلیم عثمانی کو اتفاقاً اس کے وجود کا علم ہوا اور اس نے اس جگہ کو صاف کر کے یہودیوں کو اس کی زیارت کی اجازت عطا کی۔ لیکن یہودی ایک ایسی احسان فرموش قوم ہے کہ وہ مسلمانوں کی شرافت فیاضی اور حسن سلوک کا بدلہ آج اس شکل میں ان کو دے رہی ہے۔

یہودیوں کی منصوبہ بندی :

اب میں مختصر طور پر آپ کو بتاؤں گا کہ ان ظالموں نے کس طرح با قاعدہ منصوبہ بندی کر کے فلسطین اور بیت المقدس پر قبضہ کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ سب سے پہلے ان کے ہاں ایک تحریک شروع ہوئی کہ مختلف علاقوں سے یہودی ہجرت کر کر کے فلسطین میں جا کر آباد ہوں اور وہاں زمینیں خریدنی شروع کریں۔ چنانچہ ۱۸۸۰ء سے اس مہاجرت کا سلسلہ شروع ہوا اور زیادہ تر مشرقی یورپ سے یہودی خاندان وہاں منتقل ہونے لگے۔ اس کے بعد مشہور یہودی لیڈر تھیوڈور ہرتزل نے ۱۸۹۷ء میں صہیونی تحریک Zionist Movement کا باقاعدہ آغاز کیا اور اس میں اس بات کو مقصود قرار دیا گیا کہ فلسطین پر دوبارہ قبضہ حاصل کیا جائے اور بیکل سلیمانی کی تعمیر کی جائے۔ یہودی سرمایہ داروں نے اس فرض کے لیے بڑے پیمانے پر مالی امداد فراہم کی کہ فلسطین منتقل ہونے والے یہودی خاندان نے وہاں زمینیں خریدیں اور منظم طریقے سے اپنی بستیاں بسائیں۔
پھر ۱۹۰۱ء میں ہر تزل نے سلطان عبد الحمید خاں ( سلطان ترکی ) کو با قاعدہ یہ پیغام بھجوایا کہ یہودی ترکی کے تمام قرضے ادا کرنے کو تیار ہیں ، آپ فلسطین کو یہو دیوں کو قومی وطن بنانے کی اجازت دے دیں ۔ مگر سلطان عبد الحمید خاں نے اس پیغام پر تھوک دیا اور صاف کہہ دیا کہ جب تک میں زندہ ہوں اور جب تک ترکی سلطنت موجود ہے اس ” وقت تک اس کا کوئی امکان نہیں ہے کہ فلسطین یہودیوں کے حوالے کیا جائے ۔ تمہاری ساری دولت پر میں تھوکتا ہوں“۔ جس شخص کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا گیا تھا اس کا نام تھا حا خام قر ہ صو آفندی ۔ یہ سالونیکا کا یہودی باشندہ تھا اور ان یہودی خاندانوں میں سے تھا جو اسپین سے نکالے جانے کے بعد ترکی میں آباد ہوئے تھے۔ ترکی رعایا ہونے کے باوجود اس نے یہ جرات کی کہ سلطان ترکی کے دربار میں پہنچ کر فلسطین کو یہودیوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ پیش کرے۔ اسی پر بس نہیں ، بلکہ سلطان عبد الحمید خاں کا جواب سُن کر ہر تنزل کی طرف سے ان کو صاف صاف یہ دھمکی دے دی گئی کہ تم اس کا بُرا نتیجہ دیکھو گے۔
چنانچہ اس کے بعد فوراً ہی سلطان عبد الحمید کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازشیں شروع ہو گئیں جن میں فری میسن، دو نمہ(یہ وہ یہودی تھے جنہوں نے ریا کارانہ اسلام قبول کر رکھا تھا۔ ترک ان کو دونمہ کہتے ہیں) اور وہ مسلمان نوجوان شریک تھے جو مغربی تعلیم کے زیر اثر آکر ترکی قوم پرستی کے علمبردار بن گئے تھے۔ ان لوگوں نے ترکی فوج میں اپنے اثرات پھیلائے اور سات سال کے اندر ان کی سازشیں پختہ ہو کر اس منزل پر پہنچ گئیں کہ سُلطان عبد الحمید کو معزول کر دیں ۔ اس موقع پر جو انتہائی عبرتناک واقعہ پیش آیا وہ یہ تھا کہ ۱۹۰۸ ء میں جو تین آدمی سلطان کی معزولی کا پروانہ لے کر اُن کے پاس گئے تھے اُن میں دو ترک تھے اور تیسرا وہی حاخام قرہ صو آفندی تھا جس کے ہاتھ ہر تزل نے فلسطین کو یہودیوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ سلطان کے پاس بھیجا تھا۔ مسلمانوں کی بے غیرتی کا اس سے اندازہ کیجیے کہ اپنے سلطان کی معزولی کا پروانہ بھیجتے بھی ہیں تو ایک ایسے یہودی کے ہاتھ جو سات ہی برس پہلے اسی سلطان کے پاس فلسطین کی حوالگی کا مطالبہ لے کر گیا تھا اور اس سے سخت جواب سن کر آیا تھا۔ ذرا تصور کیجیے کہ سلطان کے دل پر کیا گزری ہو گی جب وہی یہودی ان کی معزولی کا پروانہ لیے ہوئے ان کے سامنے کھڑا تھا۔

ترکی اور عربی قوم پرستی کا تصادم :

اسی زمانے میں ایک دوسری سازش بھی زوروشور سے چل رہی تھی جس کا مقصد تر کی سلطنت کے ٹکڑے اُڑانا تھا اور اس سازش میں بھی مغربی سیاست کا روں کے ساتھ ساتھ یہودی دماغ ابتدا سے کارفرما رہا۔ ایک طرف ترکوں میں یہ تحریک اٹھائی گئی کہ وہ سلطنت کی بنیاد اسلامی اخوت کے بجائے تر کی قوم پرستی پر رکھیں ، حالانکہ ترکی سلطنت میں صرف ترک ہی آباد نہیں تھے بلکہ عرب اور گرد اور دوسری نسلوں کے مسلمان بھی تھے۔ ایسی سلطنت کو صرف ترکی قوم کی سلطنت قرار دینے کے صاف معنی یہ تھے کہ تمام غیر ترک مسلمانوں کی ہمدردیاں اس کے ساتھ ختم ہو جائیں ۔ دوسری طرف عربوں کو عربی قومیت کا سبق پڑھایا گیا اور ان کے دماغ میں یہ بات بٹھائی گئی کہ وہ ترکوں کی غلامی سے آزاد ہونے کی جدوجہد کریں۔ عربوں میں اس عرب قوم پرستی کا فتنہ اٹھانے والے عیسائی عرب تھے، بیروت اس کا مرکز تھا، اور بیروت کی امریکن یو نیورسٹی اس کو فروغ دینے کا ذریعہ بنی ہوئی تھی۔ اس طرح ترکوں اور عربوں میں بیک وقت دو متضاد قسم کی قوم پرستیاں ابھاری دی گئیں اور ان کو یہاں تک بھڑکایا گیا کہ ۱۹۱۴ء میں جب پہلی جنگ عظیم برپا ہوئی تو ترک اور عرب ایک دوسرے کے رفیق ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے دشمن اور خون کے پیاسے بن کر آمنے سامنے کھڑے ہو گئے ۔

جنگ عظیم اول اور اعلان بالفور :

پہلی جنگ عظیم میں ابتداء یہودیوں نے حکومت جرمنی سے معاملہ کرنا چاہا تھا، کیونکہ جرمنی میں اُس وقت یہودیوں کا اتنا ہی زور تھا جتنا آج امریکا میں ہے۔ انہوں نے قیصر ولیم سے یہ وعدہ لینے کی کوشش کی کہ وہ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنا دے گا۔ لیکن جس وجہ سے یہودی اس پر یہ اعتماد نہیں کر سکتے تھے کہ وہ ایسا کرے گا وہ یہ تھی کہ ترکی حکومت اس وقت جنگ میں جرمنی کی حلیف تھی۔ یہودیوں کو یقین نہیں آتا تھا کہ قیصر ولیم ہم سے یہ وعدہ پورا کر سکے گا۔ اس موقع پر ڈاکٹر وائر مین ( Dr. Weizman) آگے بڑھا اور اس نے انگلستان کی حکومت کو یہ یقین دلایا کہ جنگ میں تمام دنیا کے یہودیوں کا سرمایہ اور تمام دنیا کے یہودیوں کا دماغ اور ان کی ساری قوت و قابلیت انگلستان اور فرانس کے ساتھ آسکتی ہے اگر آپ ہم کو یہ یقین دلا دیں کہ آپ فتحیاب ہو کر فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنا دیں گے۔
ڈاکٹر وائزمین ہی اس وقت یہودیوں کے قومی وطن کی تحریک کا علمبردار تھا۔ آخر کار اس نے ۱۹۱۷ء میں انگریزی حکومت سے وہ مشہور پروانہ حاصل کر لیا جو اعلان بالفور کے نام سے مشہور ہے۔ یہ انگریزوں کی بددیانتی کا شاہکار ہے کہ ایک طرف وہ عربوں کو یقین دلا ر ہے تھے کہ ہم عربوں کی خود مختار ریاست بنائیں گے اور اس غرض کے لیے انہوں نے شریف حسین کو تحریری وعدہ دے دیا تھا اور اسی وعدے کی بنیاد پر عربوں نے ترکوں سے بغاوت کر کے فلسطین اور عراق اور شام پر انگلستان کا قبضہ کرا دیا تھا۔ دوسری طرف وہی انگریز یہودیوں کو با قاعدہ یہ تحریر دے رہے تھے کہ ہم فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنائیں گے۔ یہ اتنی بڑی بے ایمانی تھی کہ جب تک انگریزی قوم دنیا میں موجود ہے وہ اپنی تاریخ پر سے اس کلنک کے ٹیکے کو نہ مٹا سکے گی۔
پھر ذرا غور کیجیے کہ فلسطین کو یہود کا قومی وطن بنانے کے آخر معنی کیا تھے؟ کیا فلسطین کوئی خالی پڑی ہوئی زمین تھی جس پر کسی قوم کو آباد کر دینے کا وعدہ کیا جا رہا تھا ؟ وہاں دو ڈھائی ہزار برس سے ایک قوم آباد چلی آرہی تھی ۔ اعلان بالفور کے وقت وہاں یہودیوں کی آبادی پوری ۵ فیصدی بھی نہ تھی۔ ایسے ملک کے متعلق سلطنت برطانیہ کا وزیر خارجہ یہ تحریری وعدہ دے رہا تھا کہ ایک قوم کے وطن میں ایک دوسری قوم کا وطن بنایا جائے گا جو دنیا بھر میں 19 سو برس سے بکھری ہوئی تھی۔ اس کا صاف مطلب گویا یہ وعدہ کرنا تھا کہ ہم تمہیں موقع دیں گے کہ جس وطن پر ہم نے خود عربوں کی مدد سے قبضہ کیا ہے اس سے تم انھی عربوں کو نکال باہر کرو اور ان کی جگہ دنیا کے گوشے گوشے سے اپنے افراد کو لا کر بسا دو ۔ یہ ایک ایسا ظلم تھا جس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ اس زخم پر نمک پاشی یہ ہے کہ لارڈ بالفور نے اپنے اس خط کے متعلق اپنی ڈائری میں یہ الفاظ لکھے تھے :
ہمیں فلسطین کے متعلق کوئی فیصلہ کرتے ہوئے وہاں کے موجودہ باشندوں سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صیہونیت ہمارے لیے ان سات لاکھ عربوں کی خواہشات اور تعصبات سے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے جو اُس قدیم سرزمین میں اس وقت آباد ہیں۔
بالفور کی ڈائری کے یہ الفاظ آج بھی برطانوی پالیسی کی دستاویزات (Documents of British Policy) کی جلد دوم میں ثبت ہیں ۔

مجلس اقوام کی کارگزاری:

فلسطین پر انگریزوں کے قبضے اور لارڈ بالفور کے اعلان سے یہودیوں کے طو یل المیعاد منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا۔ ۱۸۸۰ء سے شروع ہو کر ۱۹۱۷ء تک اس مرحلے کی تکمیل میں ۳۷ سال صرف ہوئے۔ اس کے بعد اس منصوبے کا دوسرا دور شروع ہوا جس میں مجلس اقوام (League of Nations) اور اس کی اصل کار فرما دو بڑی طاقتوں، برطانیہ اور فرانس نے بالکل اس طرح کام کیا گویا وہ آزاد سلطنتیں نہیں ہیں بلکہ محض صہیونی تحریک کی ایجنٹ ہیں۔ ۱۹۲۲ء میں مجلس اقوام نے فیصلہ کیا کہ فلسطین کو انگریزوں کے آنے انتداب Mandate( انتداب کا مطلب یہ ہے کہ ایک حکومت بطور خود کسی ملک کی فرمانروائی نہیں کر رہی ہے بلکہ مجلس اقوام کی طرف سے اس کے سپر د کام کیا گیا ہے کہ وہ وہاں خاص شرائط کے تحت فرمانروائی کرے۔
۱۹۱۷ء میں یہودی آبادی صرف ۵۶ ہزار تھی۔ پانچ سال کے اندروہ بڑھ کر ۸۳ ہزار کے قریب پہنچ گئی) میں دے دیا جائے۔ اس موقع پر فلسطین میں جو مردم شماری کرائی گئی تھی اس میں مسلمان عرب ۶۶۰۶۴۱ ، عیسائی عرب ۷۱۴۶۴، اور یہودی ۸۲۷۹۰ تھے، اور یہودیوں کی اتنی آبادی بھی اس وجہ سے تھی کہ وہ دھڑا دھڑ وہاں جا کر آباد ہور ہے تھے۔۔ اس پر بھی مجلس اقوام نے برطانیہ کو انتداب کا پروانہ دیتے ہوئے پوری بے شرمی کے ساتھ یہ ہدایت کی کہ اُس کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے کے لیے یہ طرح کی آسانیاں فراہم کرے صہیونی تنظیم کو سرکاری طور پر باقاعدہ تسلیم کر کے اسے نظم و نسق میں شریک کرے اور اس کے مشورے اور تعاون سے یہودی قومی وطن کی تجویز کو عملی جامہ پہنائے۔ اس کے ساتھ وہاں کے قدیم اور اصل باشندوں کے لیے صرف اتنی ہدایت پر اکتفا کیا گیا کہ ان کے مذہبی اور مدنی (Civil) حقوق کا تحفظ کیا جائے ۔ سیاسی حقوق کا اس میں سرے سے کوئی ذکر نہ تھا۔
یہ تھا اس مجلس اقوام کا انصاف جسے دنیا میں امن قائم کرنے کا نام لے کر وجود میں لا یا گیا تھا۔ اس نے یہودیوں کو باہر سے لا کر بسانے والوں کو تو سیاسی اقتدار میں شریک کر دیا، اور ملک کے اصل باشندوں کو اس کا مستحق بھی نہ سمجھا کہ ان کے سیاسی حقوق کا برائے نام بھی تذکرہ کر دیا جاتا۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اُس وقت دُنیا کی بڑی بڑی حکومتوں اور مجلس اقوام میں یہودیوں نے کتنے اثرات پیدا کر لیے تھے جن کی بدولت فلسطین کو انگریزوں کے انتداب میں دیتے ہوئے یہ ہدایات جاری کی گئی تھیں۔

انگریزی انتداب کا کارنامہ:

یہ انتداب حاصل کرنے کے بعد یہودیوں کو فلسطین میں لا کر بسانے کا با قاعدہ سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ فلسطین کا پہلا برطانوی ہائی کمشنر سر ہر برٹ سیمویل خود ایک یہودی تھا۔ صہیونی تنظیم کو عملاً حکومت کے نظم ونسق میں شریک کیا گیا اور اس کے سپر دنہ صرف تعلیم اور زراعت کے محکمے کیے گئے بلکہ بیرونی ممالک سے لوگوں کے داخلے ، سفر اور قومیت کے معاملات بھی اس کے حوالے کر دئیے گئے ۔ ایسے قوانین بنائے گئے جن کے ذریعہ سے باہر کے یہودیوں کو فلسطین میں آکر زمینیں حاصل کرنے کی پوری سہولتیں دی گئیں۔ مزید براں اُن کو زمینیں کاشت کرنے کے لیے قرضوں اور تقادی اور دوسری سہولتوں سے بھی نوازا گیا۔ عربوں پر بھاری ٹیکس لگائے گئے اور ٹیکسوں کے بقایا پرہر بہانے عدالتوں نے زمینیں ضبط کرنے کی ڈگریاں دینی شروع کر دیں۔
ضبط شدہ زمینیں یہودیوں کے ہاتھ فروخت کی گئیں اور سرکاری زمینوں کے بھی بڑے بڑے رقبے یہودی نو آباد کاروں کو کہیں مفت اور کہیں برائے نام پٹے پر دے دیے گئے۔ بعض مقامات پر کسی نہ کسی بہانے پورے پورے گاؤں صاف کر دیے گئے اور وہاں یہودی بستیاں بسائی گئیں ۔ ایک علاقے میں تو ۸ ہزار – عرب کا شتکاروں اور زراعتی کارکنوں کو ۵۰ ہزار ایکڑ زمین سے حکماً بے دخل کر دیا گیا اور ان کو فی کس تین پونڈ دس شلنگ دے کر چلتا کر دیا گیا۔ ان تدبیروں سے ۱۷ سال کے اندر یہودی آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ۔ ۱۹۲۲ء میں وہ۸۲ ہزار سے کچھ زائد تھے ۔ ۱۹۳۹ء میں ان کی تعداد ساڑھے چار لاکھ تک پہنچ گئی ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ انگریز فلسطین میں صرف صیہونیت کی خدمت انجام دیتے رہے اور ان کے ضمیر نے ایک دن بھی ان کو یہ احساس نہ دلایا کہ کسی ملک کی حکومت پر اس کے اصل باشندوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں جن کی نگہداشت کرنا اس کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
جنگ عظیم دوم کے زمانے میں معاملہ اس سے بہت آگے بڑھ گیا۔ ہٹلر کے مظالم سے بھاگنے والے یہودی ہر قانونی اور غیر قانونی طریقے سے بے تحاشا فلسطین میں داخل ہونے لگے۔ صہیونی ایجنسی نے ان کو ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں ملک کے اندر گھسانا شروع کیا، اورمسلح تنظیمیں قائم کیں جنہوں نے ہر طرف مار دھاڑ کر کے عربوں کو بھگانے اور یہودیوں کو ان کی جگہ بسانے میں سفا کی کی حد کر دی۔ انگریزی انتداب کی ناک کے نیچے یہودیوں کو ہر طرح کے ہتھیار پہنچ رہے تھے اور وہ عربوں پر چھاپے ماررہے تھے۔ مگر قانون صرف عربوں کے لیے تھا جو انہیں ہتھیار رکھنے اور ظلم کے جواب میں مدافعت کرنے سے روک رہا تھا۔ البتہ برطانوی حکومت جان بچا کر بھاگنے والے عربوں کو نقل مکانی کی سہولتیں فراہم کرنے میں بڑی فراخ دل تھی۔ اس طرح ۱۹۱۷ء سے ۱۹۴۷ء تک ۳۰ سال کے اندر یہودی منصوبے کا دوسرا مرحلہ مکمل ہوا جس میں وہ اس قابل ہو گئے کہ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے کے بجائے فلسطین میں ان کی قومی ریاست قائم کر دیں۔

’’قومی وطن‘‘ سے ’’قومی ریاست‘‘ تک :

۱۹۴۷ء میں برطانوی حکومت نے فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ میں پیش کر دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مجلس اقوام ( لیگ آف نیشنز ) نے صہیونیت کی جو خدمت ہمارے سپرد کی تھی وہ ہم انجام دے چکے ہیں۔ اب آگے کا کام اُس آنجہانی مجلس کی نئی جانشین اقوام متحدہ انجام دے۔ اب ملاحظہ کیجیے کہ یہ دوسری مجلس جو دنیا میں امن و انصاف کے قیام کی علمبردار بن کر اٹھی تھی اس نے فلسطین میں کیا انصاف قائم کیا۔
نومبر ۱۹۴۷ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو یہودیوں اور عربوں کے درمیان تقسیم کرنے کا فیصلہ صادر کر دیا۔ یہ فیصلہ ہوا کس طرح؟ اس کے حق میں ۳۳ ووٹ اور اس کے خلاف ۱۳ ووٹ تھے۔ دس ملکوں نے کوئی ووٹ نہیں دیا۔ یہ کم سے کم اکثریت تھی جس سے جنرل اسمبلی میں کوئی ریزولیوشن پاس ہوسکتا تھا۔ چند روز پہلے تک اس تجویز کے حق میں اتنی اکثریت بھی نہ تھی ۔ صرف ۳۰ ملک اس کے حق میں تھے۔ آخر کار امریکا نے غیر معمولی دباؤ ڈال کر ہائٹی ، فلپائن اور لائبیریا کو مجبور کر کے اس کی تائید کرائی ۔
یہ بات خود امریکن کانگریس کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ یہ تین ووٹ زبر دستی حاصل کیے گئے تھے اور جیمز فور یسٹال اپنی ڈائری میں لکھتا ہے کہ اس معاملہ میں دوسری قوموں پر دباؤ ڈالنے اور ان کو ووٹ دینے پر مجبور کرنے کے لیے جو طریقے استعمال کیے گئے وہ شرمناک کارروائی (Scandal) کی حد تک پہنچے ہوئے تھے۔
تقسیم کی جو تجویز ان ہتھکنڈوں سے پاس کرائی گئی اس کی رو سے فلسطین کا ۵۵ فی صدی رقبہ ۳۳ فیصدی یہودی آبادی کو اور ۴۵ فی صدی رقبہ ۲۷ فی صدی عرب آبادی کو دیا گیا ، حالانکہ اُس وقت تک فلسطین کی زمین کا صرف 4 فی صدی حصہ یہودیوں کے قبضے میں آیا تھا۔ یہ تھا اقوام متحدہ کا انصاف ! لیکن یہودی اس بندر بانٹ سے بھی راضی نہ ہوئے اور انہوں نے مار دھاڑ کر کے عربوں کو نکالنا اور ملک کے زیادہ سے زیادہ حصے پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں جو مظالم عربوں پر کیے گئے ، آرنلڈ ٹائن بی ان کے متعلق اپنی کتاب A study of History میں کہتا ہے کہ وہ کسی طرح بھی ان مظالم سے کم نہ تھے جو نازیوں نے خود یہودیوں پر کیے تھے۔
دیر یاسین میں ۹ -اپریل ۴۸ ، کے قتل عام کا خاص طور پر اس نے ذکر کیا ہے جس میں عرب عورتوں، بچوں اور مردوں کو بے دریغ موت کے گھاٹ اتارا گیا، عرب عورتوں اور لڑکیوں کا بر ہنہ جلوس سڑکوں پر نکالا گیا اور یہودی موٹروں پر لاؤڈ اسپیکر لگا کہ جگہ جگہ یہ اعلان کرتے پھرے کہ ہم نے دیر یا سین کی عرب آبادی کے ساتھ یہ اور یہ کیا ہے، اگر تم نہیں چاہتے کہ تمہارے ساتھ بھی یہی کچھ ہو تو یہاں سے نکل جاؤ“۔ ہر شخص سوچ سکتا ہے کہ کیا یہ کسی ایسی قوم کا کارنامہ ہو سکتا ہے جس میں رمق برابر بھی شرافت و انسانیت موجود ہو؟
ان حالات کے دوران میں ۴ امئی ۴۸ ء کو معین اُس وقت جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی فلسطین کے مسئلے پر پھر بحث کر رہی تھی، یہودی ایجنسی نے رات کے دس بجے اسرائیلی ریاست کے قیام کا باقاعدہ اعلان کر دیا اور سب سے پہلے امریکا اور روس نے آگے بڑھ کر اس کو تسلیم کیا، حالانکہ اس وقت تک اقوام متحدہ نے یہودیوں کو فلسطین میں اپنی قومی ریاست قائم کرنے کا مجاز نہ کیا تھا۔ اس اعلان کے وقت تک ۶ لاکھ سے زیادہ عرب گھر سے بے گھر کیے جاچکے تھے ، اور اقوام متحدہ کی تجویز کے بالکل خلاف یروشلم (بیت المقدس) کے آدھے سے زیادہ حصے پر اسرائیل قبضہ کر چکا تھا۔
ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان ہونے کے بعد گر دو پیش کی عرب ریاستوں نے بے سہارا غریب آبادی کو مار دھاڑ اور لوٹ مار سے بچانے کے لیے مداخلت کی اور ان کی فوجیں فلسطین میں داخل ہو گئیں۔ لیکن یہودی اُس وقت تک اتنے طاقت ور ہو چکے تھے کہ یہ سب ریاستیں مل کر بھی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ بلکہ جب نومبر ۴۸ ، میں اقوام متحدہ نے جنگ بندی کا فیصلہ کیا اس وقت فلسطین کے رقبے کا ۷۷ فیصدی سے بھی کچھ زیادہ حصہ یہودیوں کے قبضہ میں جاچکا تھا۔
سوال یہ ہے کہ یہودیوں کو اتنی جنگی طاقت کس نے فراہم کر دی تھی کہ پانچ عرب ریاستوں کی متحدہ طاقت بھی ان کا مقابلہ نہ کر سکی؟ اس طاقت کے فراہم کرنے میں سرمایہ داری نظام اور اشترا کی نظام دونوں شریک تھے اور سب سے زیادہ ہتھیار اس جنگ کے لیے چیکوسلووا کیا سے آئے تھے جو آج خود ظلم و ستم کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ میں بھی جو بحثیں اس زمانے میں ہوئیں ان کا ریکارڈ شاہد ہے کہ یہودیوں کی حمایت اور عربوں کی مخالفت میں مغربی سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکی نظام، دونوں کے علمبر دار ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کر رہے تھے ، اور یہ کہنا مشکل تھا کہ ان میں سے کون یہودیوں کا زیادہ حامی ہے۔

یہودی منصوبے کا تیسرا مرحلہ:

اس کے بعد یہودی منصوبے کا تیسرا مرحلہ شروع ہوا جو ۱۹ سال کے اندر جون ۶۷ ، کی جنگ میں بیت المقدس اور پورے باقی ماندہ فلسطین اور پورے جزیرہ نمائے سینا اور سرحد شام کی بالائی پہاڑیوں پر اسرائیل کے قبضے سے تکمیل تک پہنچا۔
نومبر ۴۸ء میں اسرائیلی ریاست کا رقبہ ۷۹۹۳ مربع میل تھا۔ جون ۶۷ ء کی جنگ میں اس کے اندر ۲۷ ہزار مربع میل کا اضافہ ہو گیا اور ۱۵ لاکھ عرب یہودیوں کے غلام بن گئے۔ اس مرحلے میں اسرائیل کے منصوبے کی کامیابی کی اصل وجہ یہ ہے کہ سب سے بڑھ کر امریکا اس کا حامی و مددگار اور پشت پناہ بنا رہا۔ برطانیہ اور فرانس اور دوسرے مغربی ممالک بھی اپنی اپنی حد تک اس کی تائید وحمایت کا پورا حق ادا کرتے رہے۔ روس اور اس کا مشرقی بلاک بھی کم از کم ۵۵ ء تک علانیہ اس کا حامی رہا اور بعد میں اس نے اگر اپنی پالیسی بدلی بھی تو وہ عرب ملکوں کے لیے مفید ہونے کے بجائے اسرائیلی ہی کے لیے مفید ثابت ہوئی۔
۵۵ء میں جب عرب ممالک اس بات سے بالکل مایوس ہو گئے کہ امریکا اور دو سرے مغربی ملکوں سے ان کو اسرائیل کے مقابلے میں اپنی حفاظت کے لیے ہتھیار مل سکیں گے تو انہیں مجبوراًاشترا کی بلاک کی طرف رجوع کرنا پڑا اور اس بلاک کے ملکوں نے اس لالچ میں ان کو ہتھیار دینے شروع کیے کہ اس طرح انہیں عرب ممالک میں اشتراکیت پھیلانے اور ان کو اپنے کرہ اثر میں لانے کا موقع مل جائے گا۔ اس کے نتیجے میں یہ تو نہ ہو سکا کہ عرب ممالک اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جاتے ، البتہ یہ ضرور ہوا کہ روس کو مصر و شام سے یمن تک اور عراق سے الجزائر تک اپنے اثرات پھیلانے کا موقع حاصل ہو گیا اور عرب ملکوں میں رجعت پسندی اور ترقی پسندی کی کشمکش اتنی بڑھی کہ اسرائیل سے نمٹنے کے بجائے وہ آپس ہی میں ایک دوسرے سے الجھ کر رہ گئے۔
۱۹ برس کی اس مدت میں امریکا نے اسرائیل کو ایک ارب ۶۰ کروڑ ڈالر کی مالی امداددی۔ مغربی جرمنی سے اس کو ۸۲ کروڑ ۲۰ لاکھ ڈالر کا تاوان دلوایا گیا۔ اور دنیا بھر کے یہودیوں نے دو ارب ڈالر سے زیادہ چندے دے کر اس کی مالی پوزیشن مضبوط کی ۔ جنگی حیثیت سے اس کو زفرق تا بقدم اس قدر مسلح کر دیا گیا کہ جون ۶۷ء کی جنگ سے پہلے ہی امریکی ماہرین کا یہ اندازہ تھا کہ وہ صرف چار پانچ دن کے اندر اپنے گروہ پیش کی تمام عرب ریاستوں کو پیٹ لے گا۔ سیاسی حیثیت سے ہر موقع پر امریکا اور اس کے ساتھ اس کی پشت پناہی کرتے رہے اور انہی کی حمایت کی وجہ سے اقوام متحدہ اس کی پے در پے زیادتیوں کا کوئی تدارک نہ کرسکی۔ نومبر ۴۷ ء سے ۵۷ ء تک اقوام متحدہ کے ۲۸ ریزولیوشن وہ اُس کے منہ پر مار چکا تھا۔
ستمبر ۴۸ ء سے نومبر ۶۶ ء تک کے مرتبہ اقوام متحدہ نے اس کے خلاف مذمت کی قرار داد یںپاس کیں مگر اس کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔ اس کی بے باکی کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ جون ۶۷ ء کی جنگ کے بعد جب جنرل اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے والا تھا اُس وقت اسرائیل کے وزیر اعظم لیوی اشکول نے علی الاعلان یہ کہا کہ اگر اقوام متحدہ کے ۱۲۲ ممبروں میں سے ۱۲۱ بھی فیصلہ دے دیں اور تنہا اسرائیل کا اپنا ووٹ ہی ہمارے حق میں رہ جائے ، تب بھی ہم اپنے مفتوحہ علاقوں سے نہ نکلیں گے“۔ یہ سب کچھ اسی وجہ سے ہے کہ امریکا اور اس کے ساتھیوں کی حمایت کے بل پر اسرائیل تمام دنیا کی رائے کو ٹھوکر پر مارتا ہے اور اقوام متحدہ اس کے مقابلے میں قطعی بے بس ہے۔
امریکا کی دلچسپی اسرائیل کے ساتھ کتنی بڑھی ہوئی ہے، اس کو جاننے کے لیے آپ ذرا اس رویے پر ایک نگاہ ڈال لیں جو جون ۶۷ ء کی جنگ کے موقع پر اس نے اختیار کیا تھا۔ جنگ سے ایک ہفتہ پہلے امریکی فوج کے جائنٹ چیفس آف اسٹاف کے صدر جنرل وہیلر نے صدر جانسن کو اطمینان دلایا تھا کہ اگر اسرائیل بڑھ کر پہلے ایک کامیاب ہوائی حملہ کر دے تو پھر زیادہ سے زیادہ تین چار دن کے اندر وہ عربوں کو مارے گا۔ لیکن اس رپورٹ پر بھی جانسن صاحب پوری طرح مطمئن نہ ہو سکے اور انہوں نے سی آئی اے کے چیف رچرڈ ہیلیمس (Helms) سے رپورٹ طلب کی۔ جب اس نے بھی وہیلر کے اندازوں کی توثیق کر دی تو جانسن صاحب نے روس سے رجوع کر کے یہ اطمینان حاصل کیا کہ وہ عربوں کی مدد کے لیے عملاً کوئی مداخلت نہ کر ے گا۔ اس کے بعد کہیں جا کر اسرائیل پر وحی (اس لفظ پر چونکتے نہیں ۔ شیاطین بھی اپنے اولیاء پر ”وحی“ کیا کرتے ہیں)نازل ہوئی کہ اب عرب ملکوں پر حملہ کر دینے کا مناسب موقع آگیا ہے۔ اس پر بھی امریکا کا چھٹا بحری بیڑہ مصر و اسرائیل کے سواحل کے قریب اپنی پوری طاقت کے ساتھ مستعد کھڑا تھا تا کہ بوقت ضرورت کام آ سکے۔
انگریزوں کی اسرائیل نوازی کا حال یہ تھا کہ ان کا ایک طیارہ بردار بحری جہاز مالٹا میں اور دوسرا عدن میں ایک منٹ کے نوٹس پر اسرائیل کی مدد پر حرکت کرنے کے لیے تیار کھڑا تھا۔ جنگ کے بعد لندن سنڈے ٹائمز نے ایک کتاب شائع کی جس کا نام تھا the holy war june 67۔ اس کا جو باب بیت المقدس پر یہودی قبضے کے بیان میں ہے اس کا عنوان رکھا گیا ہے (Back After 896 Years) یعنی ۸۹۶ برس کے بعد واپسی۔
اب یہ ظاہر ہے کہ ۸۹۶ سال پہلے بیت المقدس پر سے صلیبی عیسائیوں کا قبضہ اٹھا تھا نہ کہ یہودیوں کا۔ اس کے صاف معنی یہ نہیں کہ اسرائیل کے ساتھ انگریزوں کی ہمدردی میں صلیبی جذبہ کام کر رہا تھا اور اس لڑائی کو وہ صلیبی جنگوں ہی کا ایک حصہ سمجھتے تھے۔
روس کی عرب دوستی کا حال یہ تھا کہ جس صبح کو مصر کے ہوائی اڈوں پر اسرائیل کا حملہ ہونے والا تھا اس کی رات کو روس نے صدر ناصر کو اطمینان دلایا تھا کہ کوئی حملہ ہونے والا نہیں ہے۔ یہ ویسی ہی یقین دہانی تھی جیسی ستمبر ۶۵ء میں ہم کو کرائی گئی تھی کہ ہندوستان بین الاقوامی سرحد پار نہ کرے گا! عربوں کے ساتھ روس کے رویے پر یوگوسلاویہ کے ایک ڈپلومیٹ کا یہ تبصرہ بڑا سبق آموز ہے کہ ایک بڑی طاقت جب تمہارا ساتھ چھوڑتی ہے تو وہ تم کو پیراشوٹ کے بغیر ہوائی جہاز سے گرا دیتی ہے“۔
یہ ہیں وہ اسباب جن کی وجہ سے یہودیوں کا تیسرا منصوبہ بھی کامیاب ہو گیا اور بیت المقدس سمیت پورا فلسطین جزیرہ نمائے سینا سمیت ان کے ہاتھ آ گیا۔

یہودیوں کا چوتھا منصوبہ:

اب در حقیقت جس چیز سے دنیائے اسلام کو سابقہ در پیش ہے وہ یہودیوں کا چوتھا اور آخری منصوبہ ہے جس کے لیے وہ دو ہزار سال سے بے تاب تھے اور جس کی خاطر وہ ۹۰سال سے با قاعدہ ایک اسکیم کے مطابق کام کرتے رہے ہیں۔
اس منصوبے کے اہم ترین اجزا دو ہیں۔ ایک یہ کہ مسجد اقصی اور قبۂ صخرہ کو ڈھا کر ہیکل سلیمانی پھر سے تعمیر کیا جائے ، کیونکہ اس کی تعمیر ان دونوں مقامات مقدسہ کو ڈھائے بغیر نہیں ہو سکتی۔ دوسرے یہ کہ اُس پورے علاقے پر قبضہ کیا جائے جسے اسرائیل اپنی میراث سمجھتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس منصوبے کے ان دونوں اجزا کو ہر مسلمان اچھی طرح سمجھ لے۔ جہاں تک پہلے جزو کا تعلق ہے اسرائیل اسے عملی جامہ پہنانے پر اسی وقت قادر ہو چکا تھا جب بیت المقدس پر اس کا قبضہ ہوا تھا۔ لیکن دو وجوہ سے وہ اب تک اس کام میں تامل کرتا رہا ہے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ اسے اور اس کے سر پرست امریکا کو دنیائے اسلام کے شدید رد عمل کا اندیشہ ہے۔ دوسرے یہ کہ خود یہودیوں کے اندر مذہبی بنیاد پر اس مسئلے میں اختلاف بر پا ہے۔
ان کے ایک گروہ کا عقیدہ یہ ہے کہ ہیکل کی تعمیر نو مسیح ہی آکر کرے گا، جب تک وہ نہ آجائے ہمیں انتظار کرنا چاہیے(واضح رہے کہ مسلمان اور عیسائی تو حضرت عیسی علیہ السلام کو مسیح مانتے ہیں، مگر یہودی ان کا انکار کرتے ہیں اور وہ ابھی تک مسیح (Promised Messiahy) کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کا یہ مسیح موعود وہی ہے جسے حدیث میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے مسیح دجال قرار دیا ہے)۔ یہ ان کے قدامت پسند گروہ کا خیال ہے۔
دوسرا گر وہ جو جدت پسند ہے، اور جس کے ہاتھ میں دراصل اس وقت اسرائیل کے اقتدار کی باگیں ہیں، کہتا ہے کہ قدیم بیت المقدس اور دیوار گریہ پر قبضہ ہو جانے کے بعد ہم دور مسیحائی (Messianic Era) میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہی بات یہودی فوج کے چیف ربی ( جس طرح ہماری فوج کے ساتھ پیش امام ہوتے ہیں اسی طرح یہودی فوج کے ساتھ ربی ہوتے ہیں اور ان کے چیف ربی کو اسرائیلی فوج میں بریگیڈ جنرل کا رینک حاصل ہے)نے تو رات ہاتھ میں لے کر اُس روز کہہ دی تھی جب بیت المقدس کی فتح کے بعد وہ دیوار گریہ کے سامنے کھڑا تھا۔ اس کے الفاظ یہ تھے کہ آج ہم ملت یہود کے لیے دورِ مسیحائی میں داخل ہو رہے ہیں۔
انہی دو وجوہ سے مسجد اقصیٰ کو یک لخت ڈھا دینے کے بجائے تمہید کے طور پر اس کو آگ لگائی گئی ہے تا کہ ایک طرف دنیائے اسلام کا رد عمل دیکھ لیا جائے اور دوسری طرف یہودی قوم کو آخری کارروائی کے لیے بتدریج تیار کیا جائے۔ دوسرا جز و اِس منصوبے کا یہ ہے کہ میراث کے ملک پر قبضہ کیا جائے۔ یہ میراث کا ملک کیا ہے ؟ اسرائیل کی پارلیمنٹ کی پیشانی پر یہ الفاظ کندہ ہیں:
اے اسرائیل، تیری سرحدیں نبیل سے فرات تک ہیں۔
دنیا میں صرف ایک اسرائیل ہی ایسا ملک ہے جس نے کھلم کھلا دوسری قوموں کے ملک پر قبضہ کرنے کا ارادہ معین اپنی پارلیمنٹ کی عمارت پر ثبت کر رکھا ہے۔ کسی دوسرے ملک نے اس طرح علا نیہ اپنی جارحیت کے ارادوں کا اظہار نہیں کیا ہے۔اس منصوبے کی جو تفصیل صہیونی تحریک کے شائع کردہ نقشے میں دی گئی ہے اس کی رُو سے اسرائیل جن علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ان میں دریائے نیل تک مصر، پورا اُر دن، پورا شام، پور البنان، عراق کا بڑا حصہ ، ترکی کا جنوبی علاقہ ، اور جگر تھام کر سُنیے کہ مدینہ منورہ تک حجاز کا پورا بالائی علاقہ شامل ہے۔ اگر دُنیائے عرب اسی طرح کمزور رہی جیسی آج ہے، اور خدانخواستہ دنیائے اسلام کا رد عمل بھی مسجد اقصیٰ کی آتش زدگی پر کچھ زیادہ مؤثر ثابت نہ ہوسکا، تو پھر خاکم بدہن ایک دن ہمیں وہ بھی دیکھنا پڑے گا جب یہ دشمنانِ اسلام اپنے ان ناپاک ارادوں کو پورا کرنے کے لیے پیش قدمی کر بیٹھیں گے۔

پس چہ باید کرد؟ :

حضرات ، اتنی تفصیل میں نے اس لیے بیان کی ہے کہ پیش نظر مسئلے کی پوری نوعیت ، نزاکت اور اہمیت اچھی طرح سمجھ لی جائے ۔ جو کچھ میں نے عرض کیا ہے، اس سے چند باتیں بخوبی واضح ہو جاتی ہیں:
اوّل یہ کہ یہودی آج تک اپنے منصوبوں میں اس بنا پر کامیاب ہوتے رہے ہیں کہ دنیا کی بڑی طاقتیں ان کی حامی و مددگار بنی رہی ہیں اور اُن کی اس روش میں آئندہ بھی کسی تغیر کے امکانات نظر نہیں آتے ۔ خصوصاً امریکا کی پشت پناہی جب تک اسے حاصل ہے، وہ کسی بڑے سے بڑے جُرم کے ارتکاب سے بھی باز نہیں رہ سکتا۔
دوم یہ کہ اشتراکی بلاک سے کوئی امید وابستہ کرنا بالکل غلط ہے۔ وہ اسرائیل کا ہاتھ پکڑنے کے لیے قطعاً کوئی خطرہ مول نہ لے گا۔ زیادہ سے زیادہ آپ اس سے ہتھیار لے سکتے ہیں، اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ اشتر کیت کا قلادہ اپنی گردن میں ڈالیں اور اسلام کو دیس نکالا دے دیں۔
سوم یہ کہ اقوام متحدہ ریزولیوشن پاس کرنے سے بڑھ کر کچھ نہیں کر سکتی ۔ اس میں یہ دم خم نہیں ہے کہ اسرائیل کوکسی مجرمانہ اقدام سے روک سکے۔
چہارم یہ کہ عرب ممالک کی طاقت اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے قطعی ناکافی ہے۔ پچھلے ۲۲ سال کے تجربات نے یہ بات پوری طرح ثابت کر دی ہے۔
ان حقائق کے سامنے آجانے کے بعد نہ صرف مسجد اقصیٰ ، بلکہ مدینہ منورہ کو بھی آنے والے خطرات سے بچانے کی صرف ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کی طاقت ، اس یہودی خطرے کا مقابلہ کرنے اور اسلام کے مقاماتِ مقدسہ کو مستقل طور پر محفوظ کر دینے کے لیے مجتمع کی جائے۔ اب تک یہ غلطی کی گئی ہے کہ فلسطین کے مسئلے کو ایک عرب مسئلہ بنائے رکھا گیا۔ دنیا کے مسلمان ایک مدت سے کہتے رہے کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کا مسئلہ ہے مگر بعض عرب لیڈروں کو اس پر اصرار رہا کہ نہیں، یہ محض ایک عرب مسئلہ ہے۔
خدا کا شکر ہے کہ اب مسجد اقصیٰ کے سانحے سے ان کی آنکھیں بھی کھل گئی ہیں اور ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ صہیونیت کی عظیم بین الاقوامی سازش کا مقابلہ، جبکہ دنیا کی بڑی طاقتوں کی پوری تائید و حمایت بھی اس کو حاصل ہے، تنہا عربوں کے بس کا روگ نہیں ہے۔ دنیا میں اگر ایک کروڑ ڈیڑھ کروڑیہودی ایک طاقت ہیں توڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان بھی ایک طاقت ہیں(یہ تازہ اعدادوشمار ۲۰۲۳ء میں جاری کیے گئے ہیں)، اور ان کی ۴۹ حکومتیں اس وقت انڈونیشیا سے مرا کو اور مغربی افریقہ تک موجود ہیں۔ ان سب کے سر براہ اگر سر جوڑ کر بیٹھیں ، اور روئے زمین کے ہر گوشے میں بسنے والے مسلمان ان کی پشت پر جان و مال کی بازی لگا دینے کے لیے تیار ہو جائیں تو اس مسئلے کو حل کر لینا، ان شاء اللہ کچھ زیادہ مشکل نہ ہوگا۔
اس سلسلے میں جو عالمی کانفرنس بھی ہو اس کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اصل مسئلہ محض مسجد اقصیٰ کی حفاظت کا نہیں ہے۔ مسجد اقصیٰ محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک بیت المقدس یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ اور خود بیت المقدس بھی محفوظ نہیں ہو سکتا جب تک یہودیوں کے غاصبانہ تسلط سے فلسطین پر یہودی قابض ہیں۔ اس لیے اصل مسئلہ تسلط سے آزاد کرانے کا ہے۔ اور اس کا سیدھا اور صاف حل یہ ہے کہ اعلان بالفور سے پہلے جو یہودی فلسطین میں آباد تھے صرف وہی وہاں رہنے کا حق رکھتے ہیں، باقی جتنے یہودی ۱۹۱۷ء کے بعد سے اب تک وہاں باہر سے آئے اور لائے گئے ہیں انہیں واپس جانا چاہیے۔ ان لوگوں نے سازش اور جبر ظلم کے ذریعہ سے ایک دوسری قوم کے وطن کو زبردستی اپنا قومی وطن بنایا، پھر اسے قومی ریاست میں تبدیل کیا ، اور اس کے بعد تو سیع کے جارحانہ منصوبے بنا کر آس پاس کے علاقوں پر قبضہ کرنے کا نہ صرف عملاً ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر دیا، بلکہ اپنی پارلیمنٹ کی پیشانی پر علانیہ یہ لکھ دیا کہ کس کس ملک کو وہ اپنی اس جارحیت کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔
ایسی کھلی جارح ریاست کا وجود بجائے خود ایک جرم اور بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہے۔ اور عالم اسلامی کے لیے اس سے بھی بڑھ کر وہ اس بنا پر خطرہ ہے کہ اس کے ان جارحانہ ارادوں کا ہدف مسلمانوں کے مقاماتِ مقدسہ ہیں۔ اب اس ریاست کا وجود برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اس کوختم ہونا چاہیے۔
فلسطین کے اصل باشندوں کی ایک جمہوری ریاست بننی چاہیے جس میں ملک کے پرانے یہودی باشندوں کو بھی عرب مسلمانوں اور عیسائیوں کی طرح شہری حقوق حاصل ہوں۔ اور باہر سے آئے ہوئے ان غاصبوں کو نکل جانا چاہیے جو ز بر دستی اس ملک کو قومی وطن اور پھر قومی ریاست بنانے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس کے سوا فلسطین کے مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔ رہا امریکا ، جو اپنا ضمیر یہودیوں کے ہاتھ رہن رکھ کر، اور تمام اخلاقی اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر ان غاصبوں کی حمایت کر رہا ہے، تو اب وقت آ گیا ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان اس کو صاف صاف خبر دار کر دیں کہ اس کی یہ روش اگر اسی طرح جاری رہی تو رُوئے زمین پر ایک مسلمان بھی وہ ایسا نہ پائے گا جس کے دل میں اُس کے لیے کوئی ادنی درجہ کا بھی جذبہ خیر سگالی باقی رہ جائے۔
اب وہ خود فیصلہ کر لے کہ اسے یہودیوں کی حمایت میں کہاں تک جانا ہے۔

٭ ٭