رسائل ومسائل (جلد سوم)

ریڈ مودودی ؒ   کی اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

عرضِ ناشر

رسائل و مسائل کے چار حصے شائع ہو کر قبولیت عام حاصل کر چکے ہیں۔ الحمد للہ۔
اس کتاب میں آپ کو عالم اسلام کے مایہ ناز عالم مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب کے قلم سے زندگی میں پیش آنے والے ایسے اکثر سوالات ومسائل کا تشفی بخش جواب ملے گا جو جدید تہذیب نے پیدا کیے ہیں اور جن کا حل دوسری کتب میں مشکل ہی سے مل سکتا ہے۔
فقہی احکام کو جدید حالات پر صحیح ترین شکل میں منطبق کرنے کی جو خداداد صلاحیت وبصیرت مولانا موصوف کو حاصل ہے اس کی یہ کتاب پوری طرح آئینہ دار ہے۔
ہمیں امید ہے کہ قارئین کے لیے یہ کتاب زندگی کے ہر ہر مرحلے پر ایک بہترین رہنما ثابت ہو گی اور اتنا ذخیرۂ علم فراہم کر دے گی کہ اس موضوع پر کسی دوسری کتاب کی ضرورت باقی نہ رہے۔

منیجنگ ڈائریکٹر
اسلامک پبلی کیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، لاہور

دیباچہ

پہلے کئی سال میں رسائل و مسائل کے عنوان سے ترجمان القرآن میں لوگوں کے جو سوالات اور مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب کے جو جوابات شائع ہوتے رہے ہیں ان کواب افادۂ عام کے لیے یک جا شائع کیا جا رہا ہے۔ ان میں مختلف تمدنی، سیاسی، معاشی، علمی اورمذہبی مسائل پر ناظرین کو بکثرت ایسے سوالات کے مختصر اور دو ٹوک جوابات مل جائیں گے جو عام طور پر لوگوں کے ذہن میں کھٹکتے ہیں۔ بعض سوالات اور جوابات اس مجموعے میں ایسے بھی ہیں جو بظاہر قصۂ ماضی معلوم ہوتے ہیں، لیکن بہرحال ان کی ایک تاریخی قدر وقیمت بھی ہے، اور علاوہ بریں ان میں بھی بہت سے ایسے اصولی مسائل کی توضیح ہو گئی ہے جن سے کبھی نہ کبھی کسی مسلمان آبادی کو سابقہ پیش آ سکتا ہے۔
ہر مضمون کے اختتام پر اس کی تاریخ اشاعت درج کر دی گئی ہے تاکہ لوگ اس کے تاریخی پس منظر کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ لیکن تاریخ اشاعت درج کرنے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اس مجموعے کا ہرمضمون ترجمان القرآن کے اس مضمون کی لفظ بلفظ نقل ہے جس کا حوالہ اس کے نیچے درج کیا گیا ہے۔ دراصل اس مواد کو ترتیب دیتے وقت جگہ جگہ عبارات میں ضروری اصلاحیں، ترمیمیں اور توضیحیں بھی کی گئی ہیں اور بعض مقامات پر اضافے بھی کر دیے گئے ہیں۔

مرتب
۳۰؍اکتوبر۱۹۶۴ء

تاویل قرآن کے صحیح اصول:

(امریکا کی ٹفٹس یونی ورسٹی(tufts university) کے ایک پروفیسر نے چند سوالات اس درخواست کے ساتھ بھیجے تھے کہ ان کا مفصل جواب دے کر ان مشکلات کو رفع کیا جائے جو انہیں فہم القرآن کے معاملے میں پیش آرہی ہیں۔یہ سوال نامہ اور اس کاجواب درج ذیل ہے)۔

سوال: اسلام کو سمجھنے کی کوشش میں جس مسئلے کو میں نے سب سے زیادہ پریشان کن پایا،وہ قرآن کی تاویل وتعبیر کا مسئلہ ہے۔ذیل کے سوالات میں نے اس غرض کے لیے مرتب کیے ہیں کہ اس معاملے میںمیرے ذہن کی اُلجھن کو دُور کیا جائے۔میں نے ایک مخصوص مسئلے کو اپنے سوالات کا محور صرف اس لیے بنایا ہے تاکہ تاویل قرآن کے اُصولوں کو جاننے کے ساتھ یہ بھی معلوم کرسکوں کہ مخصوص مسائل پر ان اُصولوں کا اطلاق کس طرح ہوتا ہے۔
قرآن کہتا ہے:’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے‘‘( بقرہ : ۲۵۶)۔ اس پر حسب ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:
(۱) کیا ایران میں بہائیوں کا استیصال اس آیت کے خلاف نہیں ہے؟ اگر نہیں ہے تو کیوں؟ کیا پاکستان میں قادیانیوںکے خلاف ہنگامے اس آیت کے خلاف نہ تھے؟ اگر نہ تھے تو کیوں؟
(۲) اکراہ کا مطلب کیا ہے؟ کیا یہ لفظ قہر (coercion) سے زیادہ وسیع نہیں ہے؟اگر موجودہ زمانے کی ایک ریاست میں مسلمانوں کو ٹیکس میں رعایات ملیں یا شہریت کے زیادہ فوائد حاصل ہوں تو کیا یہ بھی غیر مسلموں کے حق میں اکراہ نہ ہو گا؟یقینا ایک ایسا تاجر جو تھوڑے منافع پر کام کررہا ہو،اپنی روزی محفوظ رکھنے کے لیے ایسے حالات میں اسلام قبول کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔
(۳) کیا یہاں لفظ’’ دین‘‘اپنے عام وسیع تر معنوں کی بہ نسبت محدود تر معنوںمیں استعمال ہوا ہے؟
(۴) اس آیت کا ایک مفسر کہتا ہے کہ’’مسلمانو ںکو ہدایت کی جارہی ہے کہ جب ان کے ہاتھ میں اقتدار ہو تو انہیں اس اُصول کی پیروی کرنی چاہیے کہ دین میں جبر سے کام نہ لیا جائے۔‘‘ یہ مفسر اس آیت کے حکم کو صرف اس حالت کے لیے کیوں مخصو ص کرتا ہے جب کہ مسلمان اقتدار رکھتے ہوں؟کیا آپ اس تاویل سے اتفاق کرتے ہیں؟
(۵) اگر آپ کو بھی اس سے اتفاق ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اس وقت تک جبر سے کام لے سکتے ہیں جب تک انہیں اقتدار حاصل نہ ہوجائے؟
(۶) اگر ایک اسلامی ریاست میں ایک مرتدواجب القتل ہے تو پھر کیا یہ دین میں جبر کا استعمال نہیں ہے؟
قرآن مجید کہتا ہے: ’’وہی ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی۔اس کی کچھ آیات محکم ہیں اور وہی کتاب کی اصل وبنیاد ہیں۔دوسری متشابہات ہیں۔سو جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے ،وہ اس کتاب کی ان آیات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو متشابہ ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور ان کو معنی پہنائیں۔‘‘(آل عمران: ۷)
(۷) کیا یہ صحیح ہے کہ آیات محکمات سے مراد وہ آیات ہیں جن کے معنی صاف اور صریح ہیں؟ اور اس بِنا پر ان کی تاویل وتعبیر کی حاجت نہیں ہے؟اگر یہی بات ہے تو کیا یہ فرض کرلیا جائے گا کہ ان کے معنی سب لوگوں پر واضح ہیں ؟اور کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سب لوگ ایک ہی طرح سوچتے ہیں اور ایک ہی درجے کا تعقل رکھتے ہیں؟
(۸) کیا آیت لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ محکم ہے ؟اگر نہیں ہے تو چند ایسی آیتوں کی نشان دہی کیجیے جو قطعی طور پر صریح الدلالت ہیں؟
(۹) سورۂ نساء کی تیسری آیت جس میں تعددِ ازواج کی اجازت مذکور ہے،محکم ہے یا متشابہ؟ اگر وہ محکم ہے تو اس کے معنی میں اتنا اختلاف کیوں ہے اور اس کی۱ تنی مختلف تاویلیں کیوں کی جاتی ہیں؟اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہو کہ اس کے معنی بالکل صاف ہیں تو کیا اس کی کوئی ضرورت ہے کہ وہ حدیث کی طرف رجوع کرے؟(واضح رہے کہ میں بجائے خود تعدد ازواج کے مسئلے میںدل چسپی نہیں رکھتا،بلکہ یہاں زیر بحث قرآن کی تاویل کا مسئلہ ہے)۔
(۰ا) جب قرآن کی مختلف آیات ایک ہی موضوع سے متعلق ہوں اور ان کا مضمون ایک دوسرے سے مختلف پایا جائے تو ایک آدمی کس طرح فیصلہ کرے کہ ان میں سے کون سی آیت کس کی ناسخ ہے؟اگر یہ ثابت ہوجائے کہ ایک آیت بعد میں نازل ہوئی ہے تو کیا یہ بات اسے ناسخ قرار دینے کے لیے کافی ہے؟اگر یہ صحیح ہے تو کیا قرآن کو تاریخ نزول کی ترتیب کے لحاظ سے مرتب کرنا مفید نہ ہوگا؟
(۱۱) کیا ایک اسلامی ریاست میں افراد کو یہ حق ہوگا کہ ان میں سے ہر ایک آیات محکمات کے جو معنی خود سمجھتا ہو،ان کی پیروی کرے؟کیا اس کا یہ حق ہوگا کہ ان آیات کی کسی ایسی تعبیر کو ماننے سے انکار کردے جو اس کی ذاتی تعبیر سے مختلف ہو۔خواہ وہ حکومت کے مقرر کیے ہوئے کسی کمیشن ہی نے کیوں نہ کی ہو؟اگر ایسا نہیں ہے تو پھر سورۂ آل عمران کی آیت نمبر ۷ کا فائدہ کیا ہے؟
(۲ا) بائبل کی کتاب’’رسولوں کے اعمال‘‘(باب۰ا) میں ہے کہ تمام چارپایوں والے جانور حلال ہیں۔ بخلاف اس کے بائبل کا عہد نامہ قدیم اور قرآن،دونوں بعض جانوروں کو حرام قرار دیتے ہیں۔اگر یہ سب کتابیں خدا کی طرف سے بذریعہ وحی نازل ہوئی ہیں تو مسلمان ان کے اس اختلاف کی کیا توجیہ کرتے ہیں؟(واضح رہے کہ مجھے کسی خاص قسم کے گوشت کے کھانے یا نہ کھانے سے دل چسپی نہیں ہے بلکہ میں اس تضاد کو رفع کرانا چاہتا ہوں جو کتب آسمانی میں پایا جاتا ہے یا مجھے محسوس ہوتا ہے)۔
(۳ا) تبلیغ کے لیے اسلام کے جوش کو کس طرح حق بجانب ٹھیرایا جاسکتا ہے جب کہ قرآن کہتا ہے کہ مختلف اُمتوں کے لیے خدا نے مختلف طریقے مقرر کیے ہیں اور وہ سب طریقے خدا ہی کے ہیں؟
(۴ا) کیا عالم طبیعی کے متعلق انسان کا روز افزوں علم (بذریعہ طبیعات، کیمیا، ہیئت وغیرہ) انسان کو قرآن زیادہ اچھی طرح سمجھنے کے قابل بنا دیتا ہے؟
قرآن جگہ جگہ یہودی اور مسیحی کتب کوالہامی کتابوں کی حیثیت سے پیش کرتا ہے مگر بائبل کے بہت سے علما اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ کتابیں محض تاریخی دستاویزیں ہیں جن میں سے بعض کو ایک سے زیادہ مصنفوں نے تیار کیا ہے اور ان کے اندر الہامی ہونے کی شہادت کم ہی ملتی ہے۔اب کیا قرآن ان کتابوں کے معاملے میں وحی والہام کو کسی مخصوص معنی میں استعمال کرتا ہے؟کیا بائبل کے علما کی رائے غلط ہے؟یا ہم یہ فرض کریں کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں کی کتب مقدسہ میں کوئی تغیر ہوگیا ہے؟

قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ:

سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ آپ قرآن مجید کی تاویل وتعبیر کاصحیح طریقہ اچھی طرح سمجھ لیں۔ آپ جس آیت کے معنی سمجھنا چاہتے ہوں،پہلے عربی زبان کے لحاظ سے اس کے الفاظ اور ترکیب(construction) پر غور کریں، پھر اسے سیاق و سباق(context) میں رکھ کر دیکھیں،پھر اسی مضمون سے تعلق رکھنے والی جو دوسری آیات قرآن میں مختلف مقامات پر موجود ہیں، ان کو جمع کرکے دیکھیں کہ زیر بحث آیت کی ممکن تعبیرات میں سے کون سی تعبیر ان سے مطابقت رکھتی ہے اور کون سی تعبیر ان کے خلاف پڑتی ہے(اور یہ ظاہر ہے کہ ایک قائل کا کوئی قول اگر دو یا زائد تعبیرات کا متحمل ہو تو اس کی وہی تعبیر معتبر سمجھی جائے گی جو اسی مضمون کے متعلق اس کی دوسری تصریحات سے مطابقت رکھتی ہو)۔ اس حد تک قرآن کا مطلب خود قرآن سے معلوم کرنے کی کوشش جب آپ کرلیں تو اس کے بعد یہ بھی دیکھیے کہ جو شخص دراصل اس قرآن کو پیش کرنے والا تھا،اس کے قول اور عمل سے قرآن کی زیر بحث آیت کے مفہوم پر کیا روشنی پڑتی ہے،اور جو لوگ اس کے قریب ترین زمانے میں اس کے پیرو تھے، وہ اس آیت کا کیا مطلب سمجھتے تھے۔

آیت’’ لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …‘‘کے معنی:

اس اصولی توضیح کے بعد اب میں اس آیت کو لیتا ہوں جسے آپ نے مثال کے طور پر لیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔‘‘عربی زبان کے لحاظ سے’’دین میں ‘‘ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ایک’’ دین قبول کرنے یا اختیا رکرنے کے معاملے میں‘‘اور دوسرے ’’دین کے نظام میں‘‘۔ ان دو تعبیروں میں سے کون سی تعبیر قابل ترجیح ہے،اس کا فیصلہ محض اس آیت کے الفاظ سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے آپ کو سیاق وسباق کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔
جس سیاق وسباق میں یہ آیت آئی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی صفات کا ایک واضح تصور پیش کیا گیا ہے،جو مختلف اقسام کے شرک میں مبتلا ہونے والی تمام موجودالوقت مذہبی جماعتوں کے تصور الٰہ سے مختلف ہے، اور اس دین کا بنیادی عقیدہ ہے جس کی طرف قرآن دعوت دیتا ہے۔پھر کہا گیا ہے کہ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے، راہ راست گمراہی سے ممیز ہوچکی ہے،اب جوکوئی طاغوت کو چھوڑ کر اﷲ پر ایمان لائے، اس نے ایک ایسی رسی تھام لی جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور اﷲسب کچھ سننے اورجاننے والا ہے۔جو لوگ ایما ن لائیں،اﷲ ان کا سرپرست ہے، وہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔ اور جو لوگ کفر کریں،ان کے سرپرست طاغوت ہیں، وہ ان کو روشنی سے نکال کر تاریکیوں میں لے جاتے ہیں…‘‘اس سیاق وسباق میںخط کشیدہ فقرہ صاف طور پر یہ معنی دے رہا ہے کہ اﷲ کے متعلق مذکورۂ بالا عقیدہ کسی سے زبردستی نہیں منوایا جائے گا۔صحیح عقیدے کو غلط عقائد کے مقابلے میں پوری وضاحت سے پیش کردیا گیا ہے۔اب جو کوئی غلط عقائد کو چھوڑ کر اﷲ کو اس طرح مان لے گا جس طرح بتایا گیا ہے،وہ خود فائدہ اٹھائے گا، اور جو ماننے سے انکار کرے وہ آپ ہی نقصان میں رہے گا۔
اس کے بعد آپ پورے قرآن پر ایک نگاہ ڈالیے۔ یہاں آپ دیکھیں گے کہ متعدد جرائم کے لیے سزائیں تجویز کی گئی ہیں، بہت سی اخلاقی خرابیوں کو دبانے کا حکم دیا گیا ہے، بہت سی چیزوں کو ممنوع ٹھیرایا گیا ہے، متعدد چیزوں کو فرض ولازم قرار دیا گیا ہے، اور مسلمانوںکو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رسول اور اصحاب امر کی اطاعت کریں۔ ان سب احکام کو نافذ(enforce) کرنے کے لیے بہرحال کسی نہ کسی طرح کی قوت جابرہ(coercive power) کا استعمال ناگزیر ہے، خواہ وہ ریاست کی طاقت ہو یا سوسائٹی کے اخلاقی دبائو کی طاقت۔ اس سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے‘‘کہنے سے قرآن کا منشایہ ہرگز نہیں ہے کہ اسلامی نظام زندگی میں سرے سے جابرانہ قوت کے استعمال کا کوئی مقام ہی نہیں ہے۔بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ دین اسلام کو قبول کرنے کے معاملے میں جبر کا کوئی کام نہیں، جو قبول کرنا چاہے،وہ اپنی آزاد مرضی سے قبول کرے اور جوقبول نہ کرنا چاہے اسے کوئی زبردستی ایمان لانے پر مجبور نہ کرے گا۔
اس مضمون پر مزید روشنی رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم اور آپ سے براہِ راست تربیت پانے والے اصحاب کے طرز عمل سے پڑتی ہے۔ انہوں نے کبھی کسی غیر مسلم کو ایمان لانے پر مجبور نہیںکیا،مگر جو لوگ اسلام قبول کرکے مسلم سوسائٹی میں داخل ہوگئے، ان کو اسلامی احکام کی تعمیل پر ضرور مجبور کیا اور اس غرض کے لیے اخلاقی ومعاشرتی دبائو ہی سے نہیں،حکومت کی طاقت سے بھی کام لیا۔ ان کے زمانے میں بکثرت غیر مسلم اسلامی حکومت کی رعایا بنے۔انہیں عقیدے اور عبادت اور مذہبی رسوم ادا کرنے کی پوری آزادی دی گئی ،اور ان کے شخصی قانون(personal law) کو بحال رکھا گیا، مگر اسلامی حکومت کا اجتماعی قانون(public law) ان پر بھی اسی طرح نافذ کیا گیا جس طرح وہ مسلمانوں پر نافذکیا جاتا تھا۔
یہاں تک میں نے آیت کے اصل مفہوم کی تشریح کی ہے۔اب میں آپ کے سوالات کے نمبرا تا نمبر۶ کا الگ الگ جواب عرض کرتا ہوں۔

قادیانیوں کا معاملہ:

ایران میں بہائیوں کے ساتھ جو معاملہ ہوا،اس کے متعلق میرے پاس پوری معلومات نہیں ہیں، اس لیے میں اس پر کوئی اظہاررائے نہیں کرسکتا۔ لیکن پاکستان میں قادیانیوں کے معاملے پر آپ کا سوال سخت غلط فہمی پر مبنی معلوم ہوتا ہے۔یہاں کسی نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ قادیانیوں کو ملک سے نکال دیا جائے،یا مٹا دیا جائے، یا زبردستی قادیانیت چھوڑنے پر مجبور کیا جائے، یا حقوق شہریت سے محروم کردیا جائے۔ مطالبہ صرف یہ تھا اور ہے کہ جب وہ بنیادی عقیدے اور مذہبی اعمال اور معاشرتی نظام میں مسلمانوں سے خود الگ ہوچکے ہیں تو اس علیحدگی کو آئینی طور پر تسلیم کرلیا جائے اور انہیں بغیر کسی معقول وجہ کے مسلم سوسائٹی کا ایک حصہ نہ قرار دیا جائے۔ آپ خود غور کیجیے کہ یہ مطالبہ آخر کس منطق کی رو سے قرآن مجید کی زیر بحث آیت کے خلاف پڑتا ہے؟کیا دین میں جبر نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس گروہ کو تمام مسلمان دین سے خارج سمجھتے ہیں،اور جو خود بھی تمام مسلمانوں کو کافر قرار دے کر ان سے عملاًالگ ہوچکا ہے،اسے دین میں داخل تسلیم کرنے پر مسلمانوں کو مجبور کرنا چاہیے؟رہے وہ فسادات جو مارچ۹۵۳اء میں ہوئے تھے تو یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہے کہ وہ قادیانیوں کے خلاف تھے۔ ان کو قادیانیوں کے خلاف ہنگاموں(anti qadiani disturbance) کا نام بالکل غلط دیا گیا ہے، جس سے ناواقف حال لوگوں کو خواہ مخوہ یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ یہاں کے عام مسلمان شاید قادیانیوں کو قتل وغارت کرنے پر تل گئے ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ فسادات حکومت اور عوام کے درمیان اس کش مکش کی وجہ سے برپا ہوئے تھے کہ ایک طرف عوام قادیانیوں کے بارے میں مذکورۂ بالا مطالبہ تسلیم کرانے کے لیے حکومت پر دبائو ڈالنا چاہتے تھے اور دوسری طرف حکومت ان کے اس ایجی ٹیشن کو طاقت سے دبا دینا چاہتی تھی۔پس تصادم دراصل حکومت اور عوام کے درمیان ہوا تھا نہ کہ قادیانیوں اور عوام کے درمیان۔ قادیانیوں کی جان ومال پر عوام نے صرف اس وقت حملہ کیا جب انہیں یقین ہوگیا (اور اس یقین کے لیے اچھے خاصے وزنی وجوہ تھے) کہ فسادات کے دوران میں پولیس اور فوج کی وردیاں پہن کر بعض قادیانی مسلمانو ں کو قتل کرتے پھر رہے تھے۔
(ملاحظہ ہو تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ،صفحہ ۱۵۶)

مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ:

مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ٹیکس عائد کرنے کے معاملے میں کوئی امتیاز اسلامی قانون کے اندر نہیں ہے۔اس میں شک نہیں کہ ابتدائی اسلامی دور میں عملاًغیر مسلم تاجروں سے مسلمان تاجروں کی بہ نسبت زیادہ تجارتی محصول لیا جاتا تھا،مگر دراصل وہ کسی مستقل شرعی حکم کی بِنا پر نہ تھا،اور نہ اس سے مقصود غیر مسلم تاجروں کو اسلام لانے پر مجبور یا آمادہ کرنا تھا،بلکہ وہ ایک وقتی تدبیر تھی جو مسلمانوں کو تجارت کی طرف مائل کرنے کے لیے اختیار کی گئی تھی ،کیوں کہ اس وقت مسلمان اکثر وبیش تر فوجی اور سول خدمات میں لگ گئے تھے ،اور نومفتوح ممالک کی پوری معاشی زندگی(تجارت، صنعت وحرفت، زراعت وغیرہ) بالکل غیر مسلموں کے ہاتھوں میں تھی۔اس پر اگر آپ یہ اعتراض کریں کہ اس ترجیح کے نتیجے میں قلیل منافع پر کام کرنے والا تاجر(marginal businessman) اپنی روزی برقرار رکھنے کے لیے مسلمان ہونے پر مجبور ہوسکتا تھا، تو میں کہوں گا کہ آپ کا یہ قیاس صحیح نہیں ہے ۔کیوں کہ مسلمان ہوتے ہی اس پر زکوٰۃ عائد ہوجاتی جس کا بار جزیے اور محصول تجارت کے مجموعے سے زیاد ہ تھا۔ زکوٰۃ اس کے تمام تجارتی سرمائے اور گھر کے زیورات اور جمع شدہ رقم پر ڈھائی فی صدی سالانہ کے حساب سے لگتی۔بخلاف اس کے بڑے سے بڑے مال دار غیر مسلم کو بھی ۴۸ درہم (تقریباً ۳ ڈالر) سالانہ سے زیادہ جزیہ نہ دینا پڑتا تھا اور محصول تجارت میں اس کو مسلمان کی بہ نسبت حد سے حد صرف ۵۰ فی صدی زیادہ دینا ہو تاتھا۔
۳۔ اس سوال کا جواب میری ابتدائی تشریح میں گزر چکا ہے۔

اقتدار میں جبر:

جس مفسر کے قول کا حوالہ آپ نے دیا ہے،اس کا منشا یہ نہیںمعلوم ہوتا کہ جب تک مسلمان برسر اقتدار نہ ہوں ،وہ زبردستی اپنے دین میں لوگوں کو داخل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں البتہ جب وہ اقتدار حاصل کرلیں تو جبر کا استعمال چھوڑ دیں،بلکہ اس نے آیت کی یہ تفسیر غالباً اس مفروضے پر کی ہے کہ جبر کا سوال پیدا ہی اس وقت ہوتا ہے جب کہ کسی شخص یا گروہ کو کسی دوسرے شخص یا گروہ پر کسی نہ کسی طرح کا جابرانہ اثر واقتدار حاصل ہو،ورنہ ظاہر ہے کہ ایک غیر مقتدر آدمی سے یہ کہنا بے معنی ہے کہ تو جبر نہ کر۔ مجھے معاف کیجیے اگر میں یہ کہوں گا کہ آپ نے اس مفسر کے قول کا جو الٹا مطلب لیا ہے،وہ منطق کے لحاظ سے بھی درست نہیں ہے۔

مرتد کی سزا کا مسئلہ:

مرتد کے بارے میں اسلام کا قانون بظاہر اس آیت کے خلاف محسوس ہوتا ہے لیکن درحقیقت وہ اس کے خلاف نہیں ہے۔ آیت کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو اسلام میں داخل نہ ہوئے ہوں۔انھی کے متعلق یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ انہیں داخل ہونے پر مجبور نہ کیا جائے گا۔ اس کے برعکس مرتد کے بارے میں اسلامی قانون کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو اسلام میں داخل ہوکر پھر اس سے نکلنا چاہیں۔ ان لوگوں پر جبر کے استعمال کی اصل غرض یہ نہیں ہے کہ ان کو دین میں رکھا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی کو، جو ریاست کی بنیاد ہے، انتشار (disintegration) سے بچایا جائے۔ اسلامی قانون جس طرح ایک مسلمان کو اس کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اسلامی ریاست کے اندر رہتے ہوئے علانیہ اسلام کو چھوڑ دے،اسی طرح وہ ایک غیر مسلم ذمی کو بھی اس کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ ریاست کے حدود میں رہتے ہوئے اس کی وفا داری سے علانیہ انکار کردے۔ اور جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی ریاست بھی اپنے اجزائے ترکیبی کے انتشار کو گواراکرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔اس معاملے میں سب ہی’’داخل نہ ہونے والے‘‘اور’’ داخل ہوکر نکل جانے والے‘‘ کے درمیان فرق کرتے ہیں اور دونوں کے ساتھ ایک سا معاملہ کوئی بھی نہیں کرتا۔ کیا امریکی شہریت یا برطانوی قومیت اختیار نہ کرنے والے،اور اختیار کرکے چھوڑ دینے والے کی پوزیشن ایک ہے؟ کیا امریکی وفاق میں شامل نہ ہونے والی ریاست اور شامل ہوکر نکل جانے والی ریاست کے ساتھ آپ ایک ہی معاملہ اختیار کریں گے؟

محکمات اور متشابہات:

اب دوسری آیت کو لیجیے جو آپ نے سورۂ آل عمران سے نقل کی ہے۔اس کے متعلق جو سوالات آپ نے کیے ہیں،ان کا جواب طلب کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ آپ ’’آیات محکمات‘‘ اور’’آیات متشابہات‘‘ کا مفہوم اور ان کا باہمی فرق اچھی طرح سمجھ لیں۔ آیات متشابہات سے مراد وہ آیات ہیں جن میں انسانی حواس سے ماورا حقیقتوں کو بیان کیا گیا ہے۔یہ حقیقتیں چوں کہ براہِ راست انسان کے تجربے اور مشاہدے میں نہیں آئی ہیں،اور اس بِنا پر انسانی زبان میں ان کے لیے ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں جو انہی کے لیے وضع کیے گئے ہوں،اس لیے لامحالہ ان کو بیان کرنے میں وہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو انسان نے دراصل محسوس اشیا کے لیے وضع کیے ہیں۔مثلاً اﷲ تعالیٰ کے لیے زندگی، بینائی، سماعت،گویائی وغیرہ الفاظ کا استعمال، یا اس کے لیے عرش اور کرسی ثابت کرنا اور یہ کہنا کہ وہ آسمان میں ہے، یا یہ کہنا کہ وہ محبت کرتا ہے، یا غضب ناک ہوتا ہے۔اس طرح کے الفاظ اور اسالیب بیان حقیقت کا ایک مجمل تصور تو دے سکتے ہیں، اور وہی دینا مقصود بھی ہے، لیکن ان الفاظ اور بیانات کی مدد سے حقیقت کا پورا پورا تفصیلی تصور حاصل کرنا، اور ان ماورائے حواس حقائق کی پوری پوری کیفیت اور نوعیت (nature) معلوم کرلینا بہرحال ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے قرآن ان کی تاویل کی کوشش کرنے والوں کو غلط ذہنیت کا شکار قرا ردیتا ہے، کیوں کہ وہ الفاظ اس کے متحمل ہیں ہی نہیں کہ انسان ان کے معانی متعین کرسکے یا ان کی کوئی ایسی تعبیر کرسکے جس سے اصل حقیقت اس کے ادراک کی گرفت میں آجائے۔ اس کے برعکس آیات محکمات وہ آیات ہیں جو انسان اور کائنات سے تعلق رکھنے والے محسوس حقائق، اور تجربہ ومشاہدہ میں آنے والے مسائل و معاملات سے بحث کرتی ہیں، یا انسان کو وہ احکام اور ہدایات دیتی ہیں جن پر اسے عمل کرنا ہے۔ ان آیات میں چوں کہ وہ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو زیر بحث اشیا اور امور ہی کے لیے انسان زبانی میں وضع کیے گئے ہیں، اس لیے انسان ان کی تاویل وتعبیر کرسکتا ہے، ان کے معانی متعین کرنے کی کوشش ممکن بھی ہے او رجائز بھی، بلکہ وہ شریعت میں مطلوب ہے۔ کیوں کہ قرآن کے منشا کو سمجھنے اور اس سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے اس کی ضرورت ہے۔ البتہ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ یہ کوشش نیک نیتی کے ساتھ ہو، رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ہو،اور ان معقول طریقوں کے مطابق ہو جو دنیا میں کسی کلام کا حقیقی مفہوم و مراد معلوم کرنے کے لیے(نہ کہ اس کی اپنی خواہشات اور اپنے نظریات کے مطابق ڈھالنے کے لیے) استعمال کیے جاتے ہیں۔
اس تشریح کے بعد میں آپ کے بقیہ سوالات کا سلسلہ وار جواب دوں گا۔
۷۔ اس سوال کا جواب اوپر کی تشریح کے بعد غیر ضروری ہوجاتا ہے۔’’آیات محکمات‘‘ کا یہ مطلب ہے ہی نہیں کہ وہ ایسی آیات ہیں ’’جن کی تعبیر کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ اس کے برعکس قرآن مجید تو آیات متشابہات کی تاویل سے منع کرکے محکم آیات کی طرف انسان کی توجہ اسی غرض کے لیے پھیرتا ہے کہ غور وفکر اور بحث وتحقیق اور تاویل وتعبیر کی کوششوں کا صحیح رخ یہ آیات ہیں، نہ کہ آیات متشابہات۔
۸۔ آیت لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ یقینا آیات محکمات میں سے ہے۔اس لیے کہ ’’دین‘‘اور’’اکراہ‘‘ اور ’’دین میں اکراہ نہ ہونا‘‘، یہ سب وہ چیزیں ہیں جن کے معنی ہم لغت سے، قواعد زبان سے،سیاق وسباق سے،قرآن کے دوسرے بیانات سے،اور سنت،اجماع اور قیاس کی مدد سے متعین کرسکتے ہیں۔اسی طرح قرآن کی وہ تمام آیات محکم ہیں جن میں انسان سے کسی چیز کے ماننے یا کسی چیز کا انکار کرنے، یا کسی چیز پر عمل کرنے یا کسی چیز کو چھوڑ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ نیزوہ سب آیات محکم ہیں جو محسوس ومشہود اشیاکا ذکر کرتی ہیں یا ان امور و مسائل سے بحث کرتی ہیں جو انسان کے تجربے میں آتے ہیں۔

تعدد ازواج کا مسئلہ:

اوپر کی تشریح کے بعد یہ بات آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ سورۂ نساء کی آیت نمبر ۳ متشابہ نہیں بلکہ محکم ہے۔ آپ کا یہ سوال کہ ’’اگر یہ محکم ہے تو اس کی تعبیر میں اتنا اختلاف کیوں ہے‘‘متعدد غلط فہمیوں کا نتیجہ ہے۔ آپ کی پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ’’جو آیت محکم ہو ،اس میں تعبیرات کا اختلاف نہ ہونا چاہیے‘‘۔ اوریہ غلط فہمی آپ کو اس لیے ہوئی ہے کہ آپ محکم آیت کے معنی یہ سمجھے ہیں کہ وہ سرے سے محتاج تعبیر ہی نہیں ہوتی۔آپ کی دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ اس آیت کی تعبیر میں کچھ بہت اختلافات رونماہوئے ہیں اور بڑے وسیع اختلافات ہیں۔ حالاں کہ علمائے اسلام کے درمیان ۲ا سو برس تک اس آیت کا یہ مفہوم متفق علیہ رہا ہے کہ یہ ایک مرد کو ایک سے زائد بیویاں رکھنے کی اجازت دیتی ہے،اس کے لیے بیک وقت چار کی حد مقرر کرتی ہے، اس کے لیے عدل کی شرط لگاتی ہے، اور عدل سے مراد برتائو اور حقوق میں عدل ہے نہ کہ دلی لگائو میں برابری۔ اب رہیں وہ تعبیرات جو انیسویں صدی کے آخری دور سے بعض مسلمانوں نے کرنی شروع کردی ہیں،اور جن کی بِنا پر آپ کو یہ غلط فہمی لاحق ہوئی ہے کہ اس آیت کی تعبیر میں وسیع اختلافات رونما ہوگئے ہیں، تو میں یہ صاف کہوں گا کہ درحقیقت وہ تعبیرات نہیں بلکہ معنوی تحریفات ہیں جن کو قرآن کی جائزتفسیر کے حدود میں جگہ نہیں دی جا سکتی۔ یہ تعبیرات ایسے لوگوں نے کی ہیں جو قرآن سے نہیں بلکہ آپ لوگوں سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں اور پھر قرآن کومجبو رکرنا چاہتے ہیں کہ ضرور وہ اسی بات کو حق کہے جسے آپ لوگ حق کہتے ہیں۔ اس طرح کسی چیز کو معنی پہنانے کی کوشش میرے نزدیک منافقت اور بے ایمانی ہے۔ میں اگر ایمان داری کے ساتھ یہ سمجھتا کہ اس معاملے میں یا کسی معاملے میں بھی قرآن کا نقطۂ نظر غلط اور اہل مغرب کا نقطۂ نظر صحیح ہے تو صاف صاف قرآن کا انکار کرکے آپ حضرات کے نظریے پر ایمان لانے کا اعلان کردیتا، اور یہ کہنے میں ہرگز تامل نہ کرتا کہ میں مسلمان نہیں ہوں۔ یہی رویہ ہر مخلص اور راست باز آدمی کا ہونا چاہیے۔مگر مجھے افسوس ہے کہ آپ لوگ ہمارے اندر منافقین کی ہمت افزائی کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ وہ زندگی کے معاملات میں آپ کے ہم نوا ہیں۔آپ کو ان کی ہم نوائی اچھی معلوم ہوتی ہے اور وہ منافقت بری نہیںمعلوم ہوتی جو اس کے پیچھے کارفرما ہے۔

قرآن کی تاویل میں حدیث کی اہمیت:

آپ نے اس سوال کے ضمن میں ایک اور سوال یہ چھیڑ دیا ہے کہ اگر ایک شخص کسی آیت کا مطلب صاف محسوس کررہا ہو تو اسے حدیث کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟میں کہتا ہوں کہ ایک شخص خواہ قرآن کو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف سمجھتا ہو یا یہ سمجھتا ہو کہ یہ خدا کی کتاب ہے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسول ہیں، دونوں صورتو ں میں اس کا یہ دعویٰ کرنا غلط ہوگا کہ اسے قرآن کو سمجھنے کے لیے محمدؐ کی قولی وعملی تشریح سے مدد لینے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔اگر وہ اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف سمجھتا ہے تو اسے ماننا ہوگا کہ مصنف نے اس کی جو تشریح بھی کی ہو، وہی اس کا اصل مدعا ہے۔اور اگر وہ اسے خدا کا کلام مانتا ہے اور یہ تسلیم کرتا ہے کہ خدا ہی نے اسے اس کی تعلیم دینے کے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مامور کیا تھا،تب بھی اسے یہ ماننا پڑے گا کہ خدا کے کلام کا جو مفہوم محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا تھا، وہی اس کا مستند مفہوم ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ کوئی حدیث جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طر ف منسوب کی جاتی ہو، صحیح ہے یا نہیں، اور اس کے صحیح ہونے یا نہ ہونے کے دلائل کیا ہیں، مگر بجائے خود یہ بات ناقابل انکار ہے کہ قرآن کو سمجھنے میں ہم حدیث سے بے نیاز نہیں ہو سکتے۔

قرآ ن کی نزولی ترتیب غیر ضروری ہے:

اگر ایک ہی مسئلے میں قرآ ن کے اندر دو مختلف حکم پائے جاتے ہوں تو بعد کا حکم پہلے حکم کا ناسخ ماناجائے گا۔ مگر اس کے لیے سارے قرآن کو تاریخ نزول کے اعتبار سے مرتب کرنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ موجودہ ترتیب ہی میں مستند روایات کے ذریعے سے ہم کو معلوم ہوسکتا ہے کہ کون سا حکم پہلے نازل ہوا تھا اور کون سا بعد میں آیا ۔

انفرادی تاویل کا حق:

ایک اسلامی ریاست میں ہرصاحب علم قرآن کی تاویل کرنے کا مجاز ہوسکتا ہے،لیکن اس کی تاویل سب مسلمانوں کے لیے قانون نہیں ہوسکتی۔ قانون وہی تاویل ہوگی جو اہل علم کے اتفاق یا کثرت رائے سے اختیار کی جائے ،یا جس کے مطابق ایک عدالت مجاز فیصلہ دے۔انفرادی معاملات میں انفرادی تاویل بلاشبہ ہر صاحب علم کا حق ہے، مگر اجتماعی معاملات میں انفرادی تاویل کا حق کیسے دیا جاسکتا ہے؟

قرآن کس انجیل کی تصدیق کرتا ہے؟

’’نئے عہدنامے‘‘(new testament) کی کتاب اعمال(acts) تو درکنار، چاروں انجیلیں (Gopels) بھی الہامی کتابیں نہیں ہیں، نہ قرآن ان کتابوں کی تصدیق کرتا ہے۔ البتہ قرآن اس انجیل کی تصدیق کرتا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی۔ اب آپ یہ سوال کرسکتے ہیں کہ وہ انجیل کہاں ہے؟میں کہتا ہوں کہ اس انجیل کے منتشر اجزا زبانی روایات کے ذریعے سے نئے عہد نامے کی چاروں انجیلوں کے مصنّفین کو پہنچے تھے اور انہوں نے حضرت عیسیٰعلیہ السلام کے حالات بیان کرتے ہوئے اپنی کتابوں میں مختلف مقامات پر انہیں درج کیا ہے۔ ان کتابوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جو تقریریں اور امثال ملتی ہیں، وہ اسی انجیل کے متفرق اجزا ہیں اور ان میں آپ مشکل ہی سے کوئی بات ایسی پائیں گے جسے قرآن کے خلاف کہا جا سکے۔

تبلیغ اسلام کے لیے وجہ جواز:

آپ نے قرآن کی اس آیت کا حوالہ نہیں دیا ہے جس کا آپ ذکر کررہے ہیں۔لیکن اگر وہ آیت سورۂ حج کی آیت نمبر۶۷ ہے تو اس کا مطلب وہ نہیں ہے جو آپ نے سمجھا ہے ،بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ ہر نبی کی امت کے لیے اﷲ نے ایک طریقہ مقرر کیا تھا، اور اس زمانے میں وہی معتبر تھا۔ اسی طرح اب اس دور کے لوگوں کے لیے اﷲ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ایک طریقہ مقرر کیا ہے، اور اس دور میں یہی معتبر(valid) ہے۔ یہ ہے اس بات کی وجہ جواز کہ مسلمان اہل کتاب سمیت تمام غیر مسلموں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیں۔

قرآن فہمی میں علوم طبیعی کی واقفیت کا مقام:

اس میں شک نہیں کہ انسان کاعلم دنیا اور اس کے حقائق کے متعلق جتنا زیادہ بڑھے گا،اس کو قرآن میں اتنی ہی زیادہ بصیرت حاصل ہوگی۔ لیکن اس سے نہ تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے براہِ راست شاگردوں سے بھی زیادہ قرآن کو سمجھنے لگے گا،اورنہ یہی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ جو شخص بھی علم ہیئت، طبیعات اور کیمیا وغیرہ کے ذریعے سے دنیا کا خوب علم حاصل کرلے،وہ لازماً قرآن کو بہتر سمجھنے والا قرار پائے۔قرآن کے صحیح فہم کے لیے ہر چیز سے مقدم یہ شرط ہے کہ آدمی اس کو خدا کی کتاب مانے، اس کو سرچشمۂ ہدایت تسلیم کرے، ان ضروری علوم سے واقف ہو جو قرآن کو سمجھنے کے لیے درکار ہیں،اور پھر اپنا کافی وقت قرآن اور اسلامی نظام فکر وحیات پر غور وفکر کرنے میں صرف کرے۔لیکن اس کے باوجود کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ اس پیغمبر سے بھی بڑھ کر قرآن کو سمجھنے والا ہے جسے خود خدا نے اپنی کتاب کی تعلیم دینے کے لیے مقرر کیا تھا(یا آپ لوگوں کے نزدیک خود اس کتاب کا مصنف تھا)۔

قرآن کن کتب مقدسہ کی تصدیق کرتا ہے؟

قرآن مجید جن کتابوں کی تصدیق کرتا ہے ،وہ پرانا’’ عہد نامہ‘‘ اور’’نیا عہد نامہ‘‘ نہیں ہیں بلکہ تورات،زبور اور انجیل ہیں۔تورات کو یہودیوں نے ایک مستقل کتاب کی حیثیت سے نہیں رکھا بلکہ اس کے مختلف اجزا پرانے عہد نامہ کی پہلی پانچ کتابوں میںبنی اسرائیل کی تاریخ کے اندر شامل(incorporate) کردیے۔ آپ ان کتابوں میں سے اس تورات کے اجزا کو اس علامت کی مدد سے چھانٹ سکتے ہیں کہ جہاں جہاں کوئی عبارت اس طرح شروع ہوتی ہے کہ خداوند نے موسیٰ علیہ السلام سے یہ کہا ،یا خدا نے یہ حکم دیا، یا موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو خطاب کرکے یہ تقریر کی، وہاں غالباً اس تورات کا کوئی جز نقل کیا گیا ہے۔یہی صورت زبور کی بھی ہے کہ پرانے عہدنامے کی پوری کتاب ’’زبور‘‘(Psalms) نہیں بلکہ صرف زبور دائود (Psalms Of David) کی قرآن نے تصدیق کی ہے اور اس کے اجزاء کتاب زبور میں شامل پائے جاتے ہیں۔ ایسا ہی معاملہ انجیل کا بھی ہے کہ اس کو پیروان مسیح علیہ السلام نے ایک مستقل کتاب کی حیثیت سے محفوظ نہ رکھا بلکہ مسیح علیہ السلام کے سوانح نگاروں(متی، مرقس،لوقا،یوحناوغیرہ) نے اپنی اپنی کتابوں میں اس کے وہ حصے درج کردیے ہیں جو ان کو زبانی روایات کے ذریعے سے پہنچے تھے، اور انہیں اس علامت کی مدد سے چھانٹا جاسکتا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے یوں کہا،یا مسیح علیہ السلام نے یہ تمثیل دی،یا لوگوں کو خطاب کرکے یہ وعظ کہا۔آپ میری اس نشان دہی پر پرانے اور نئے عہدنامے میں تورات،زبور اور انجیل کے ان اجزا کو چھانٹ لیں اور پھر قرآن کا ان سے مقابلہ کرکے دیکھیں۔آپ کو خود معلوم ہوجائے گا کہ ان کی تعلیم اور قرآن کی تعلیم میں بہت کم اختلاف پایا جاتا ہے ،اور جو تھوڑا سا اختلاف ہے، اس کی بھی یہ معقول توجیہ کی جاسکتی ہے کہ قرآن اپنے اصل الفاظ میں ایک مستقل کتاب کی حیثیت سے موجود ہے،اور وہ تینوں کتابیں نہ اپنے اصل الفاظ میں محفوظ رکھی گئی ہیں( اگر اِس امر میں کسی کو شک ہو کہ یہ کتابیں اپنے اصل الفاظ میں محفوظ ہیں یانہیں، تو وہ مثال کے طور پر صرف پہاڑی کے وعظ کی عبارات متی اور لوقا کی انجیلوں میں سے نکال کر دیکھ لے۔ دونوں روایتوں میں اتنا اختلا ف پایا جاتا ہے کہ اس کی موجودگی میں مشکل ہی سے وحی کے اصل الفاظ محفوظ ہونے کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔) اور نہ انہیں ایک مستقل کتاب کی حیثیت سے باقی رہنے دیا گیا ہے۔میرے لیے یہ کہنا مشکل، ہے کہ آیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ تینوں کتابیں مستقل کتابوں کی حیثیت سے موجود تھیں یا نہیں، لیکن کم ازکم تورات کے متعلق یہ بات خود پرانے عہد نامے کے بیانات سے بھی( مثال کے طور پر ملاحظہ ہو:۲ -سلاطین با ب۲۲-۲۳
) اور ہمارے ہاں کی احادیث سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ یہودیوں کے ہاں یہ ایک مدت تک ایک مستقل کتاب کی حیثیت سے پائی جاتی تھی اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس کا ایک نسخہ مدینے کے یہودیوں کے پاس موجود تھا۔
( ترجمان القرآن،صفر۳۷۵اھ،اکتوبر ۹۵۵اء)

جن قوموں میں انبیا علیہم السلام مبعوث نہیں ہوئے ،ان کا معاملہ:

سوال: قرآن شریف کا مطالعہ کرتے وقت بعض ایسے قوی شبہات وشکوک طبیعت میں پیداہوجاتے ہیں جو ذہن کو کافی پریشان کردیتے ہیں۔ ایک تو نقص ایمان کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے کہ کہیں قرآن کی آیات پر نکتہ چینی واعتراض کرنے سے ایمان میں خلل نہ واقع ہوجائے،لیکن آیت کا صحیح مفہوم ومطلب نہ سمجھ میں آنے کے باعث شک میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔میں ان آیات کا مطلب سمجھنے کے لیے اُردو و عربی تفاسیر کا بغور مطالعہ کرتا ہوں لیکن طبیعت مطمئن نہیں ہوتی اور اضطراب دور نہیں ہوتا تو پھر گاہ بگاہ جناب کی طرف رجوع کرلیتا ہوں،مگر آپ کبھی مختصر جواب دے کر ٹال دیتے ہیں۔البتہ آپ کے مختصر جوابات بعض اوقات تسلی بخش ہوتے ہیں۔آج صبح کو میں حسب دستور تفسیر کا مطالعہ کررہا تھا،سورۂ یٰسین زیر مطالعہ تھی کہ مندرجہ ذیل آیت پر میں ٹھیر گیا:
لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَاۗؤُہُمْ فَہُمْ غٰفِلُوْنَo یٰسین36:6
’’ تاکہ تم ڈرائو ان لوگوں کو جن کے آبا و اجداد نہیں ڈرائے گئے تھے، پس وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘
اس کی تفسیر میں یہ الفاظ تحریر تھے:
لِاَ نَّ قُرَیْشًا لَمْ یَاتِھِمْ نَبِیٌّ قَبْلَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
’’کیونکہ قریش کی طرف نبیؐ سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا تھا۔‘‘
دریافت طلب امر یہ ہے کہ قبل از بعثت محمدؐ جب کہ سرزمین عرب میں کوئی نبی ورسول مبعوث نہیں ہوا تو پھر کیا یہ لوگ اصحاب الجنہ ہوں گے یا اصحاب النار یا اصحاب اعراف میں سے ہوں گے؟ اسی مضمون کی کچھ اور آیات بھی قرآن مجید میں موجود ہیں۔ عقل کا تقاضا تو یہ ہے کہ جن قوموں پر اتمام حجت نہیں ہوا،وہ بری الذمہ ہونی چاہییں،البتہ وہ لوگ جن کے کانوں تک پیغمبر اسلام کی دعوت پہنچ چکی ہو،پھر وہ ایمان سے منہ موڑیں،تو یہ لوگ واقعی معتوب ہونے چاہییں۔ ایک دوسری آیت اسی مقصد کی تائید کرتی ہے:
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًاo بنی اسرائیل17:15
’’ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ رسول نہ بھیج دیں۔‘‘
اسی طرح ایک اور الجھن بھی ہے، امید ہے کہ آپ اسے بھی حل فرما دیں گے۔ کیا دل اور عقل ایک ہی چیز ہیں یا ان دونوں کے وجود الگ الگ ہیں؟

جواب: قرآ ن مجید سے جو اُصولی بات معلوم ہوتی ہے،وہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے ہاں پکڑ اسی شخص اور گروہ کی ہوگی جسے دعوت حق پہنچی ہو۔ اب یہ بات کہ دعوت کس کو پہنچی اور کس کو نہیں پہنچی، اور کون بے خبر ہے اور کون باخبر،اسے اﷲ تعالیٰ خود ہی جانتا ہے اور وہی اس کا فیصلہ کرے گا۔یہ سوال ہم سے متعلق ہی نہیں ہے ،پھر ہم کیوں اس کا فیصلہ کرنے بیٹھ جائیں؟اﷲ کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا کہ کس کو کب، کہاں اور کس شکل میں دعوت پہنچی ہے، اور اس نے اگر اس دعوت کو قبول نہیں کیا ہے تو کیوں نہیں کیا ہے، اور کون ہے جسے دعوت کبھی کسی حد تک بھی نہیں پہنچی۔ نیز یہ بھی اﷲ ہی جانتا ہے اور وہی اس کافیصلہ کرنے والا ہے کہ کس سے کس بات کی باز پرس کرنی ہے اور کس بات کے لیے وہ مسئول نہیں ہے۔اس لیے ان سوالات کے حل کرنے میں ہمیں اپنے دماغ کو بلا وجہ پریشان نہیںکرنا چاہیے۔ہمیں تو دراصل فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ ہم تک دعوت پہنچ چکی ہے اور ہم کو اپنی جواب دہی لازماً کرنی ہوگی۔ نیز جن لوگوں کے متعلق ہمیں معلوم ہے کہ ان کو دعوت نہیں پہنچی ،ان کو پہنچانے کی ذمہ داری بھی ہم پر عائد ہوتی ہے۔
قرآن مجید جسے قلب یا فؤاد کہتا ہے،وہ بالکل عقل کا ہم معنی نہیں ہے بلکہ عقل اس کے مددگاروں میں سے ایک ہے۔ اصل میں فؤاد سے مراد وہ چیز ہے جو انسان کے اندر کسی چیز کے اخذ وترک کا فیصلہ کرتی ہے۔اس فیصلے میں حواس،علم، عقل، جذبات ،خواہشات سب اس کے مددگار ہیں۔
( ترجمان القرآن۔اگست ۹۵۹اء)

کیا آیت رجم قر آن کی آیت تھی؟

سوال: آپ نے رسائل ومسائل حصہ دوم میں’’ نسخ قرآن‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’آیتِ رجم توریت کی ہے،قرآن کی نہیں۔‘‘ میں حیران ہوں کہ آپ نے ایک ایسی بات کا انکشاف کیا ہے جو صاف تصریحات کے خلاف ہے۔ سلف سے خلف تک تمام علما ئے اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کی بعض آیات ایسی ہیں جن کی تلاوت تو منسوخ ہے لیکن حکم ان کا باقی ہے:
وَالنَّسْخُ قَدْ یَکُوْنُ فِی التِّلَاَ وَۃِ مَعَ بَقَائِ الْحُکُمِ
(احکام القرآن للجصاص، جلد اوّل، صفحہ ۶۷)
اب میں وہ دلائل عرض کروں گا جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ’’آیت رجم‘‘ جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پراتری اور وہ قرآن کی آیت تھی:
۱۔ حضرت ابو ہریرہؓ اور زید بن خالدؓ کی روایت میں ہے جب دو آدمی زنا کا کیس لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے فرمایا: ’’بخدا میں تمہارا فیصلہ کتاب اﷲ کے مطابق کروںگا۔‘‘ پھر آپ ؐ نے شادی شدہ زانیہ کے لیے رجم کی سزا تجویز کی۔(مؤطا امام مالک صحیح بخاری، باب الاعتراف بالزنا)۔ ظاہر ہے کہ کتاب اﷲ سے مراد قرآن مجید ہے۔
۲۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنی تقریر میں فرمایا: ’’اﷲ تعالیٰ نے جناب محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور ان پر کتاب اتاری۔ رجم کی آیت بھی اس کتاب میں تھی جسے اﷲ نے اُتارا۔ ہم نے اس(آیت رجم) کو پڑھا، سمجھا اور یاد رکھا۔ حضور ؐ نے رجم کی سزا دی اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی۔ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد مجھے ڈر لگتا ہے کہ کوئی یہ نہ کہہ دے کہ کتاب اﷲمیں تو رجم کی آیت نہیں ہے اور خدا کے نازل کردہ فریضے کو چھوڑنے کی وجہ سے لوگ گمراہی میں مبتلا ہو جائیں، حالاں کہ اﷲ کی کتاب میں رجم ثابت ہے۔‘‘
(بخاری،رجم الحبلٰی من الزنا اذا احصنت)
۳۔ سعید بن مسیب کی روایت ہے، حضرت عمرؓ نے فرمایا: خبردار، آیت رجم کا انکار کرکے ہلاکت میں نہ پڑنا کہ کوئی یہ کہہ دے کہ ہم زنا کی دونوں حدوںکو کتاب اﷲ میں نہیں پاتے۔ جناب رسول اﷲؐ نے رجم کی سزا دی اور ہم نے بھی یہ سزا دی۔ خدا کی قسم! اگر مجھے اس الزام کا اندیشہ نہ ہوتا کہ عمر بن الخطاب نے کتاب اﷲ میں زیادتی کی ہے تو میں یہ آیت (قرآن میں) لکھ دیتا: اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ اِذَا زَنَیَا فَاْرِجُمْو ھُمَا اَلْبَتَّۃَ (بوڑھا اور بوڑھی جب زنا کریں تو دونوں کو ضرور رجم کر دو)۔ بے شک یہ ایک ایسی آیت ہے جسے ہم نے پڑھا۔
(مؤطا امام مالک، با ب الزانی المحصن یرجم)
۴۔ علامہ آلوسیؒ اپنی مشہور تفسیر میں لکھا ہے: وَنَسْخُ الْاًیۃِ عَلٰی مَا ارْتَضَاہٗ بَعْضُ الْاُصُوْلِیّیْنَ ۔ بَیَانُ اِنْتِھَائِ التَّعَبُّدِ بِقَرْا ئْ تِھَا کَاَتۃٍ (اَلشَّیْخُ والشَّیْخَۃُ اِذَا زَنَیَا فَارْجِمُوْھُمَا نَکَالاً مِنَّ اللّٰہ وِاللّٰہُ عَزْیزْ حَکِیْمٌ)۔ (روح المعانی، جلد اوّل، صفحہ ۵ا۳)
احکام القرآن سے نسخ کا جو نظریہ میں نے نقل کیا ہے، وہ ذہن کو اُلجھن میں ضرور ڈالتا ہے کیونکہ جس آیت کا حکم باقی ہو ،اس کے منسوخ التلاوۃ قرا ر دینے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ مندرجہ بالا دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت رجم جناب رسول اﷲؐ پر نازل ہوئی اور وہ قرآن کی آیت ہے۔ لیکن وہ قرآن کے مجموعے میں نہیں پائی جاتی۔ کیوں؟ یہ ایک ناقابل حل معما ہے جس نے مجھے بے حد پریشان کررکھا ہے۔ امید ہے کہ آپ میری ان قرآنی الجھنوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ براہ عنایت ذرا تفصیل سے روشنی ڈالیے۔ اگر آپ میرے دلائل آپ کو اپیل کریں تو رسائل و مسائل کی مندرج عبارت کو آپ بدل دیں۔‘‘

جواب: بلاشبہ یہ بات متعدد روایات میں آئی ہے کہ آیت رجم قرآن کی آیت تھی۔ لیکن مجھے اس بات کو قبو ل کرنے سے جن وجوہ سے تأمل ہے،وہ یہ ہیں:
۱۔ جن روایات میں اس آیت کا ذکر آیا ہے،ان کوجمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت کے الفاظ میں نمایاں اختلاف ہے۔کسی میں… البتۃ کا لفظ ہے اور کسی میں نہیں ہے۔ کسی میں البتۃ پر آیت ختم ہوگئی ہے، کسی میں البتۃ کے بعد نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ کے الفاظ ہیں، اور کسی میں اس کے بجائے بِمَا قَضَیَا مِنَ اللَّذَّۃِ کے الفاظ۔ اگر یہ واقعی قرآن کی آیت تھی، لوگوں کو یاد تھی اور سزائے رجم کے حق میں نص کی حیثیت رکھتی تھی تو اس کے الفاظ نقل کرنے میں یہ اختلاف کیسا ہے؟
۲۔ سنت سے جو حکم بتواتر ِ معنی ثابت ہے وہ کچھ اور ہے اور آیت کے صریح الفاظ سے جو حکم نکلتا ہے وہ کچھ اور۔ سنت سے جو چیز ثابت ہے وہ تو یہ ہے کہ شادی شدہ مرد یا عورت جب زنا کا ارتکاب کرے تو اسے رجم کیا جائے خواہ وہ جوان ہو یا سن رسیدہ۔ بخلاف اس کے آیت سے جو حکم نکلتا ہے،وہ یہ ہے کہ بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت سے جب زنا کاصدور ہو تو اس کو رجم کیا جائے، خواہ وہ شادی شدہ ہو، یا نہ ہو۔ اس طرح یہ روایات سنت ثا بتہ قطعیہ کے خلاف پڑتی ہیں۔ اس مشکل کو رفع کرنے کے لیے بعض بزرگوں نے شیخ کو ثیب اور شیخہ کو ثیبہ کا ہم معنی قرار دینے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ قطعاً ایک من مانی تاویل ہے۔ عربی زبان کی لغت،محاورات،استعمالات، حتیٰ کہ استعارات وکنایات تک میں اس امر کی کوئی گنجایش نہیں ہے کہ شیخ اور شیخہ کے الفاظ سے ثیب اور ثیبہ مراد لیے جاسکیں۔
۳۔ خود آیت کے الفاظ اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ اِذَازَ نَیَا فَارْ جِمُوْ ھُمَا اَلْبَتَّۃَ قرآن کے معیار فصاحت سے اس قدر فرو تر ہیں کہ ذوق زبان یہ باور نہیں کرتا کہ اﷲتعالیٰ نے یہ الفاظ قرآ ن میں نازل فرمائے ہوں گے۔
۴۔ کوئی مرفوع روایت ایسی موجود نہیں ہے جو یہ بتاتی ہو کہ نبیؐ نے اس کی تلاوت منسوخ کرنے اور مصحف سے اس کو خارج کردینے یا اس میں درج نہ کرنے کا حکم دیا ہو۔
۵۔ یہودیوں کے ہاں زنا کا جو مقدمہ پیش ہوا تھا،اس کا فیصلہ کرتے ہوئے حضورؐ نے تورات منگوائی تھی اور اس کی آیت کو فیصلہ ٔ رجم کی بنا قرار دیا تھا۔ مسلم اور ابو دائود میں ہے کہ حضورؐ نے اس مقدمے میں رجم کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا: اَللّٰھُمَّ اِنّیْ اَوَّلُ مَنْ اَحْیَا اَمْرْکَ اِذَا اَمَاتُوْہٗ (خدایا! میں پہلا شخص ہوں جو تیرے حکم کو زندہ کررہا ہوںجب کہ انہوں نے اسے مردہ کردیا تھا)۔
۶۔ جس مقدمے میں حضورؐ نے یہ فرما کر رجم کا فیصلہ صادر کیا تھا کہ ’’بخدا میں تمہارا فیصلہ کتاب اﷲ کے مطابق کروں گا‘‘ اس میں کہیں یہ مذکور نہیں ہے کہ حضورؐ نے آیت اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ کا حوالہ دیا ہو اور فرمایا ہو کہ یہ ہے کتاب اﷲ کا فیصلہ، اور اس کی تلاوت اگرچہ منسوخ ہے مگر اس کا حکم باقی ہے۔ لہٰذا حضورؐکا مذکورۂ بالا ارشاد لازماً اسی آیت کی طرف اشارہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کی یہ تاویل بھی ممکن ہے کہ کتاب اﷲ کی رو سے چوں کہ آپؐ حاکم مجاز تھے، اس لیے آپؐ کا فیصلہ کتاب اﷲ ہی کا فیصلہ ہے۔ اور اس کی یہ تاویل بھی ممکن ہے کہ یہودیوں کے مقدمے میں آپ ؐ نے تورات کے مطابق رجم کا جو حکم دیا تھا، اس کی توثیق بعد میں اﷲ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں فرما دی تھی۔ براءؓ بن عازب کی روایت ہے کہ اسی مقدمے کے متعلق سورۂ مائدہ کی وہ آیات نازل ہوئیں جو یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِسے لے کر وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ المائدہ5:47 پر تمام ہوتی ہیں۔
(ملاحظہ ہو مسند احمد ،مسلم اور ابودائود)
۷۔ زنا بعد احصان کے لیے رجم کا قانون اپنے ثبوت کے لیے اس آیت کا محتاج نہیں ہے۔اسے ثابت کرنے کے لیے بجائے خود یہ بات ہی کافی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم بیان فرمایا اور متعدد مقدمات میں اس کے مطابق فیصلہ کیا۔ پھر آپ ؐ کے بعد خلفائے راشدینؓ اسی پر عمل کرتے رہے اور ان کے بعد تمام فقہااور محدثین اس پر متفق رہے۔ یہ چیز جب ایک قانون کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے تو پھر ایک ایسی منسوخ التلاوۃ آیت ثابت کرنے کی کیا ضرورت ہے جو اگر ثابت ہو بھی جائے تو اس قانون کے لیے حجت نہیں بن سکتی۔ اس لیے کہ یہ آیت رجم کی علت بڑھاپے میں زنا کے ارتکاب کو قرار دے رہی ہے اور جس قانون کے لیے اس کو حجت ٹھہرایا جاتا ہے، اس میں علتِ رجم شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کا ارتکاب کرنا ہے۔
۸۔ یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ اس آیت کی صرف تلاوت منسوخ ہوئی ہے اور اس کا حکم باقی رہ گیا ہے۔ کیوں کہ جو حکم باقی رہا ہے،وہ یہ نہیں ہے کہ بوڑھا اور بوڑھی اگر غیر شادی شدہ ہوں تو رجم کیے جائیں۔بلکہ باقی رہنے والا حکم اس کے بالکل برعکس یہ ہے کہ غیر شادی شدہ مجرم اگر بوڑھا بھی ہو تو کوڑوں کی سزا کا مستحق ہے اور شادی شدہ مجرم اگر جوان بھی ہو تو اسے رجم کرنا چاہیے۔
اس سلسلے میں علامہ ابن ہمام کی یہ رائے بھی قابل غور ہے جسے علامہ آلوسی نے روح المعانی(جلد ۸ا،صفحہ ا۷) میں نقل کیا ہے:
’’یہ کہنا کہ(زانی محصن کے حق میں سورۂ نور کی آیت اَلزَّانِیَۃُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ کے حکم کو) منسوخ کرنے والی چیز سنت قطعیہ ہے، زیادہ صحیح ہے، بہ نسبت اس کے کہ آیت مذکورہ (الشیخ والشیخۃ) کو اس کا ناسخ قرار دیا جائے۔اس لیے کہ یہ بات قطعی طورپر ثابت نہیں ہے کہ یہ آیت قرآن میں نازل ہوئی تھی پھر اس کی تلاوت منسوخ ہو گئی۔ اگر حضرت عمرؓ نے خطبے میں اس کا ذکر کیا اور لوگ خاموش رہے( جیسا کہ روایات میں بیان کیا جاتا ہے) تو یہ اس کاقطعی ثبوت نہیں ہے۔کیوں کہ اجماع سکوتی کا حجت ہونا مختلف فیہ ہے۔ اور وہ حجت ہو بھی تو ہم قطعیت کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے کہ تمام مجتہد صحابہؓ اس موقع پر موجود تھے۔ پھر اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ حضرت عمرؓ کی طرف اس روایت کی نسبت بھی ظنی ہے۔ اور یہی وجہ ہے ،و اﷲ اعلم،کہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ نے جب شراحہ کو جلد اور رجم کی سزا دی تو کہا کہ میں نے اس کو کتاب اﷲ کے مطابق کوڑے لگوائے ہیں اور سنت رسول اﷲؐ کے مطابق رجم کرایا ہے۔اس قول میں حضرت علی ؓ نے رجم کے لیے منسوخ التلاوت آ یت قرآنی کو حجت میں پیش نہیں فرمایا۔‘‘
رہا نسخ تلاوت مع بقاء الحکم کا مسئلہ، تو اس میں شک نہیں کہ علمائے اُصول نسخ کی اس قسم کا ذکر کرتے ہیں۔ مگر میں اعتراف کرتا ہوں کہ انتہائی غور کرنے پر بھی میں اس مسئلے کو نہیں سمجھ سکا ہوں۔ نسخ تلاوت کے لیے اگر موزوں ہوسکتی تھیں تو وہ آیتیں جن کا حکم منسوخ ہوچکا ہو نہ کہ کوئی ایسی آیت جس کا حکم باقی ہو۔ کوئی صاحب علم بزرگ اس مسئلے پر تشفی بخش بحث فرمائیں تو شکریے کے مستحق ہوں گے۔ (ترجمان القرآن۔ربیع الاوّل ۳۷۵اھ۔ نومبر۹۵۵اء)

نظریۂ نسخ آیت مع بقائے حکم پر استدراک:

(رسالہ ’’ترجمان القرآن‘‘ماہ نومبر ۹۵۵اء کے عنوان ’’رسائل و مسائل‘‘ کے تحت آیت رجم اور نظریۂ ’’نسخ آیت مع بقائے حکم‘‘ کے متعلق جو جواب تحریر کیا گیا تھا،اسے دیکھ کر ایک صاحب نے ذیل کا مکتوب ارسال فرمایا تھا،جو ان کے حسب ارشاد شائع کیا جارہا ہے۔)
’’جواب میں جو عقلی و نقلی مواد آپ نے پیش کیا ہے،وہ ایک سمجھ دار اور منصف مزاج آدمی کے لیے نہایت تسلی بخش ہے۔مگر چوں کہ آپ نے دیگر اصحاب علم سے بھی اس مسئلے پر مزید روشنی ڈالنے کا مطالبہ فرمایا ہے، اس لیے حسب الارشاد چند مختصر گزارشات درج ذیل ہیں:
(۱) نسخ آیت مع بقائے حکم کا نظریہ بعض اصولیوں کی انفرادی رائے ہے نہ کہ تمام اہل سنت کا متفقہ عقیدہ۔ جیسا کہ آپ کے پیش کردہ حوالے’’روح المعانی جلد اوّل، صفحہ ۵ا۳‘‘ سے ثابت ہوتا ہے۔ یعنی ’’ونسخ الآیۃ علی ما ارتضاہ بعض الاصولیین‘‘ …ا لخ۔ ا یسی صورت میں سائل کا یہ کہنا کہ ’’سلف سے خلف تک تمام علمائے اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآ ن کی بعض آیات ایسی ہیں جن کی تلاوت تو منسوخ ہے لیکن حکم ان کا باقی ہے‘‘ محض ایک دعویٰ بلا دلیل بلکہ غلط بیانی ہے۔ کیوں کہ بعض اصولیوں کے کسی خاص نظریے سے کل علمائے اہل سنت کا عقیدہ لازم نہیں آتا۔
(۲) رہی یہ بات کہ آیا بعض اصولیوں کا یہ نظریہ صحیح ہے یا غلط؟ سو واضح ہو کہ یہ نظریہ عقلاً ونقلاًباطل ہے۔
(الف) عقلاً تو اس لیے باطل ہے کہ جو چیز قرآن کا جز ہی نہ ہو،اس کو قرآنی حکم ماننا سراسر مہمل بلکہ ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ یہ ایسا ہی ایک بے بنیاد تخیل ہے جیسا کہ قرآن کے چالیس پارے ہونے کا۔
(ب) نقلاً اس لیے کہ اس نظریے سے تنقیص قرآن لازم آتی ہے۔کیوں کہ ایک باقی الحکم آیت کا قرآن میں نہ پایا جانا قرآن کے ناقص اور ادھورا ہونے کو مستلزم ہے۔ حالاں کہ قرآن مجید کی تنقیص بالاتفاق کفر اور آیت ’’ اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ المائدہ5:3‘‘ کے صریحاًخلاف ہے۔
۳۔ زنا کے متعلق شریعت کا حکم اور قانون یہ ہے کہ غیر شادی شدہ زانی یا زانیہ کو سوکوڑے لگائے جائیں خواہ وہ بوڑھے ہوں یا جوان، اور شادی شدہ زانی یا زانیہ کو سنگسار کیا جائے، خواہ وہ جوان ہوں یا بوڑھے۔ یہ ایک مشہور واجماعی قانون ہے جو سنت نبویؐ، سنت خلفائے راشدین اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ بلکہ غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کی سزا قرآن سے بھی ثابت ہے۔ کیوں کہ آیت ’’اَلزَّانِيَۃُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا النور 2:24…الخ‘‘ میں بدلیل سنت قطعیہ الف لام عہد خارجی ہے۔ جس سے مراد صرف غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ ہی ہیں۔ ایسے مشہور ومعروف اور اجماعی قانون شریعت کے مقابلے میں اوّل تو سائل کی پیش کردہ حضرت عمرؓ والی تقریر ہی درایتاً ساقط الاعتبار ہے،کیوں کہ حضرت عمرؓ جیسے اعلیٰ مجتہد شریعت کی طرف ایسے مشہورواجماعی قانون کی خلاف ورزی کا منسوب کرنا ہی بعید از قیاس ہے۔ اگر بالفرض اس نسبت کو صحیح تسلیم بھی کرلیا جائے تو ایک مشہور واجماعی قانون کے مقابلے میں حضرت عمرؓ کی یہ رائے ’’ان کی ایک انفرادی اور اجتہادی رائے قرار پائے گی، جو کسی غیر نبی کے بارے میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔‘‘
’’اَلْمُجْتَھِدُ یُخْطِیُٔ وَیُصِیْبُ‘‘
(ترجمان القرآن۔جمادی الاخریٰ ۳۷۵اھ، فروری۹۵۶اء)

متعہ کی بحث:

سوال: جناب نے سورہ مومنون کی تفسیر کرتے ہوئے متعہ کے متعلق حضرت ابن عباسؓ اور دیگر چند صحابہ وتابعین کے اقوال نقل کر کے ارشاد فرمایا کہ یہ سب حضرات اضطراری صورت میں متعہ کے قائل تھے۔ مگر تقریباً اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے حلت متعہ سے رجوع کرلیا تھا۔ میں حیران ہوں کہ حضرت ابن عباسؓ کا رجوع آپ کی نظر سے کیوں مخفی رہا۔ تمام مفسرین نے لکھا ہے کہ تمام صحابہ کرامؓ اور تابعین کا حرمت متعہ پر کامل اتفاق ہے۔ اس میں شک نہیں کہ آپ نے بھی متعہ کو حرام مانا ہے۔ لیکن اضطرار کی ایک فرضی اور خیالی صورت تحریر فرما کر اسے جائز ٹھیرا دیا ہے۔ امید ہے کہ آپ اپنی رائے پر نظر ثانی کریں گے۔یہ اہل سنت کا متفقہ مسئلہ ہے۔

جواب: اس مسئلے میں جو کچھ میں نے لکھا ہے ،اس کا مدعا دراصل یہ بتانا ہے کہ صحابہ وتابعین اور فقہا میں سے جو چند بزرگ جواز متعہ کے قائل ہوئے ہیں،ان کا منشا اس فعل کا مطلق جواز نہ تھا، بلکہ وہ اسے حرام سمجھتے ہوئے بحالت اضطرار جائز رکھتے تھے اور ان میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہ تھا کہ عام حالات میں متعہ کو نکاح کی طرح معمول بنایا جائے۔ اضطرار کی ایک فرضی مثال جو میں نے دی ہے، اس سے محض اضطراری حالات کا ایک تصور دلانا مقصود تھا،تاکہ ایک شخص یہ سمجھ سکے کہ شیعہ حضرات کو اگر قائلین جواز کا مسلک ہی اختیار کرنا ہے تو انہیں کس قسم کی مجبوریوں تک اسے محدو د رکھنا چاہیے۔ اس سے میں تو دراصل ان لوگوں کے خیال کی اصلاح کرنا چاہتا تھا جنہوں نے اضطرار کی شرط اڑا کر متعہ کو مطلقاًحلال ٹھہرا دیا ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ میرے طرز بیان سے آپ کی طرح بعض اصحاب کو یہ غلط فہمی لاحق ہوگئی کہ میں خود حالت اضطرار میں اس کو جائز قرار دے رہا ہوں، حالاں کہ میں اس کی قطعی حرمت کا قائل ہوں اور اب سے کئی سال پہلے رسائل ومسائل حصہ دوم(صفحہ ۲۰-۲۳) میں اس کی تصریح کرچکا ہوں۔ بہرحال آپ مطمئن رہیں کہ نظر ثانی کے موقع پر اس عبارت میں ایسی اصلاح کردی جائے گی کہ اس طرح کی کسی غلط فہمی کا امکان نہ رہے۔
یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ دوسری صدی ہجری کے آغاز تک متعہ کا مسئلہ مختلف فیہ تھا، اور اختلاف صرف اس امر میں تھا کہ آیا یہ قطعی حرام ہے یا اس کی حرمت مردار اور خنزیر کی سی ہے جو اضطرار کی حالت میں جواز سے بدل سکتی ہو۔ اکثریت پہلی بات کی قائل تھی اور ایک چھوٹی سی اقلیت دوسری بات کی۔ بعد میں اہل سنت کے تمام اہل علم اس پر متفق ہوگئے کہ یہ قطعی حرام ہے، اور جواز بحالت اضطرار کا مسلک ردّ کردیا گیا۔ اس کے برعکس شیعہ حضرات نے اس کے مطلق حلال ہونے کا عقیدہ اختیار کیا اور اضطرار کیامعنی، ضرورت تک کی شرط باقی نہ رہنے دی۔اس بحث میں جو بات میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ متعہ کی حرمت تو بہرحال ثابت ہے او رمطلق حلت کا خیال کسی طرح قابل قبول نہیں ہے،البتہ سلف کے ایک گروہ کی رائے میں اس کے جواز کی گنجایش اضطرار کی حالت کے لیے تھی لہٰذا متعہ کے قائلین اگر انہی کی رائے کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں کم ازکم اس حد سے تو تجاوز نہ کرنا چاہیے۔
آپ نے متعہ کے بارے میں ابن عباسؓ کے رجوع کا جو ذکر کیا ہے،اس کے متعلق گزارش ہے کہ اہل علم کے وہ اقوال میرے سامنے موجود ہیں جن میں ان کے رجوع کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ دعویٰ مختلف فیہ ہے۔اس باب میں جو روایات نقل کی گئی ہیں، ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ابن عباسؓ نے اپنی رائے کی غلطی مان لی تھی بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف مصلحتاً اس کے حق میں فتویٰ دینے سے پرہیز کرنے لگے تھے۔فتح الباری میں علامہ ابن حجر، ابن بطال کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ: روی اھل مکۃ والیمن عن ابن عباس اباحۃ المتعۃ، وروی عنہ الرجوع باسانید ضعیفۃ، واجازۃ المتعۃ عنہ اصح۔ ’’اہل مکہ ویمن نے ابن عباسؓ سے متعہ کی اباحت نقل کی ہے۔اگر چہ اس قول سے ان کے رجوع کی روایات بھی آئی ہیں مگر ان کی سندیں ضعیف ہیں اور زیادہ صحیح روایات یہ ہیں کہ وہ اس کو جائز رکھتے تھے۔‘‘ (جلد ۹،صفحہ ۳۸ا) علامہ ابن قیم اس معاملے میں اپنی تحقیق جس طرح بیان کرتے ہیں،اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مصلحتاً فتویٰ دینے سے ان کے اجتناب ہی کو ان کا رجوع سمجھا گیا ہے۔وہ کہتے ہیں:
فَلَمَّ تَوَسَّعَ فِیْھَا مَنْ تَوَسَّعَ لَمْ یَقِفْ عِنْدَ الضَّرْوْرَۃِ اَمْسَکَ اِبْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الْاِفْتَائِ بِحِلِّھَا وَرَجَعَ عَنْہٗ۔
’’جب لوگ اس معاملے میں توسع برتنے لگے اور ضرورت تک انہوں نے اسے محدود نہ رکھا تو ابن عباسؓ اس کی حلت کا فتویٰ دینے سے رک گئے اور اس سے رجوع کرلیا۔‘‘
(زاد المعاد،جلد دوم،صفحہ ۳۰)… (ترجمان القرآن۔ربیع الاوّل ۳۷۵اھ، نومبر۹۵۵اء)

تفہیم القرآن پر چند اعتراضات :

سوال: میں قرآن شریف کا چندتفسیروں کے ذریعے مطالعہ کررہا ہوں۔ پہلے جناب کی تفسیر تفہیم القرآن کا مطالعہ کرتا ہوں، پھر تفسیر جلالین، تفسیر خازن اور دیگر مختلف تفاسیر کا بھی مطالعہ کرتا ہوں۔ بعض مقامات پر آپ قدیم مفسرین سے کافی اختلاف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جس سے طبیعت میں شبہات پیدا ہوجاتے ہیں۔ میں چند اختلافی مقامات پیش کرتا ہوں۔ توقع ہے کہ آپ تسلی بخش جواب تحریر فرمائیں گے۔
(۱) تفہیم القرآن جلد اوّل میں حروف مقطعات کے متعلق آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ اس دَور کے اسالیب بیان میں اس طرح کے حروف مقطعات کا استعمال عام طور پر معروف تھا۔ خطیب اور شعرا دونوں اس اسلوب سے کام لیتے تھے۔ آپ کا یہ قول جمہور مفسرین کے خلاف ہے۔ تفسیر مدارک اور معالم میں ہے: اللّٰہ اعلم بمرادہ اشارۃً الٰی ما اختارہ جَمْہُورُ السَّلْفِ وَالْخَلْفِ اَنّ الحروفَ المُقَطَّعَۃَ من المتشابھاتِ التی لا یعلم تاویلُھا الا اللّٰہ کما قال الشعبیُ وجماعۃٌ الف لام میم وسائر حروف الھجاء فی اوائل السُّوَرِ منَ الْمتشابہ الذی اِستاثرَ اللّٰہ تعالٰی بِعلمِہٖ وھو سِٰرُّ القراٰن فنحن نؤمن بظاہرھا وکلُ العلم الی اللّٰہ وفائدۃُ ذکرھا طلبُ الایمانِ بھا قال ابوبکرِ الصدیق رضی اللہ عنہ فی کل کتاب سِرُوسِرُّ اللّٰہ تعالٰی فی القران اوائل السُّوَر۔ حضرت علیؓاور دیگر صحابہ کرامؓبھی اسی طرح فرماتے ہیں۔ آپ کے خیال کے مطابق اگر اس وقت حروف مقطعات کا استعمال ہوتا تو حضرت صدیق اکبر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما ضرور ان کا مطلب بیان فرماتے۔ عبارت مذکورۂ بالا سے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام سلف وخلف ان حروف کا علم اﷲ کے سپرد کرتے تھے۔جب صحابہؓ نے ان کا کوئی معنی متعین نہیں فرمایا تو معلوم ہوا کہ اس وقت بھی ادبا و شعرا ان حروف کو آپ کے خیال کے مطابق استعمال نہیں کرتے تھے۔ہاں البتہ بیضاوی نے ایک دل پسند بات لکھی ہے کہ حروف مقطعات میں مشرکین مکہ کو تحدی ہے کہ یہ وہی حروف ہیں جن سے تم اپنے کلام مرکب کرتے ہو اور انہی حروف سے یہ کتاب اﷲ بھی مرکب ہے۔ مگر اس کے باوجود تم ایسا کلام بنا کر نہیں لاسکتے۔
(۲) رفع مسیح الی السماء میں بھی آپ نے مفسرین سے اختلاف کیا اور رفع کے مفہوم کو ابہام میں ڈال دیا۔
(۳) اصحاب کہف کے متعلق جب کہ ان کے غار میں سونے کی مدت قرآن میں صریحاًمذکور ہے،آپ نے تاریخ پر اعتماد کرتے ہوئے تفاسیرقدیمہ بلکہ قرآن کے بھی خلاف لکھا ہے۔
(۴) وَظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامَ کی آپ نے جو تفسیر فرمائی ہے وہ بھی مفسرین کے خلاف ہے، بلکہ قرآن کے بھی خلاف ہے ۔کیوں کہ قرآن میں دوسری جگہ کَاَنَّہٗ ظُلَّۃٌ کے الفاظ نے آپ کی تفسیر کی واضح تردید کردی ہے۔
(۵) حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعۂ ہجرت جب کہ ان کی بیوی ان کے ساتھ تھی اور ایک ظالم بادشاہ نے بدفعلی کا ارادہ کیا اور اﷲ تعالیٰ نے اس ظالم کو اپنی قدرت قاہرہ کے ساتھ اس ارادے سے باز رکھا۔آپ نے یہاں بھی اختلاف کیا ہے اور اس واقعے کو لغو قرار دیا ہے۔
آپ ان مقامات پر نظر ثانی فرمائیں یا اپنے خیالات سے رجوع فرمائیں یا مسکت دلائل تحریر فرمایا کریں۔آپ کے مخالفین،خدا انہیں ہدایت دے،ہر وقت ایسے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔

جواب: آپ کے سوالات کے جوابات نمبر وار حسب ذیل ہیں:
(۱)حروف مقطعات کے معنی:
حروف مقطعات کے بارے میں جو کچھ میں نے لکھا ہے،اس کی بنیاد دو اُمور پر ہے:اوّل یہ کہ نزول قرآن کے زمانے میں کفار نے ہر طرح کے اعتراضات کیے،مگر یہ اعتراض کبھی نہیں کیا کہ اس قرآن میں یہ حروف کیسے ہیں جن کا کوئی مطلب ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ ظاہر ہے کہ ان کو یہ بات تو مطمئن نہیں کرسکتی تھی کہ یہ متشابہات ہیں جن کی تاویل اﷲ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ مومنین صحابہ تو اس پر مطمئن ہوسکتے تھے مگر کفار کیسے مطمئن ہوجاتے؟لامحالہ اس کی کوئی معقول وجہ ہو نی چاہیے کہ طرح طرح کے اعتراضات چھانٹنے والے لوگوں نے اس پر کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔
دوم یہ کہ عرب کے خطبات اور اشعار میں اس طرح کے حروف استعمال کرنے کی مثالیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلوب ان کے ہاں رائج تھا،اور میرے نزدیک ان حروف پر کفار کے معترض نہ ہونے کی وجہ یہی تھی۔اس میں شک نہیں کہ بعض صحابہ کرامؓ کے یہ اقوال روایات میں نقل ہوئے ہیں کہ ان حروف کی تاویل اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہے۔ مگر روایات ہی میں بعض دوسرے صحابہ ؓکے ایسے قوال بھی تو ملتے ہیں جن میں ان کی تاویل بیان کی گئی ہے۔ رہا بیضاوی کا وہ ارشاد جسے آپ نے دل پسند قرار دیا ہے،تو میرا اس سے اطمینان نہیں ہوا۔ آپ کا اطمینان اگر ہوگیاہو تو بہت اچھا ہے۔مطلوب تو بہرحال قلب کا اطمینان ہی ہے۔ میں آپ کو خواہ مخواہ بے اطمینانی میں مبتلا کرنے کی کوشش کیوں کروں۔

رفع مسیح علیہ السلام کی کیفیت:

رفع مسیح ؑ کے بارے میں جو کچھ میں نے کہا ہے،وہ صرف یہ ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ سیّدنا مسیح ؑکے جسد اًآسمان پر اٹھا لیے جانے کی تصریح نہیں کرتے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اس مفہوم کے متحمل بھی نہیں ہیں،بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ محض ان الفاظ کی بنا پر قطعیت کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قرآن مجید رفع الیٰ السماء کی تصریح کررہا ہے۔لہٰذا قرآن کی تفسیر میں ہم اتنی ہی بات کہنے پر اکتفا کریں گے جو اﷲ تعالیٰ نے فرمائی ہے۔یعنی اﷲ تعالیٰ نے ان کو ’’اٹھا لیا‘‘۔ اس کے مختلف معانی میں سے کسی ایک کی تعیین قرآن سے باہر جاکر تو کی جاسکتی ہے،مگر بہرحال اسے قرآن کی تصریح نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اس پر اگر آپ کو ابہام کی شکایت ہے تو میں عرض کروں گا کہ اس قصے کے بعض دوسرے اجزا بھی مبہم طریقے سے ہی بیان کیے گئے ہیں۔ مثلاًایک یہی امر کہ حضرت عیسیٰؑ جب دشمنوں کی قید میں تھے اور انہوں نے آپ کو صلیب دینے کا فیصلہ کیا تو آخر وہ کیا صورت پیش آئی کہ وہ آپ کی جگہ کسی اور کو صلیب دے بیٹھے اور اس شبہ میں رہے کہ ہم نے عیسیٰ بن مریمؑ کو صلیب دی ہے۔نہ صرف وہ بلکہ خود پیروان عیسیٰؑ بھی اسی شبے میں پڑ گئے۔ کیا شُبِہَ لَھُمْ کی کوئی تفصیلی کیفیت قرآن کو ان میں کہیں ملتی ہے؟ اب اگر ہم کسی بیرونی ذریعے سے اس کی کوئی تفصیل کریں تو ایسا کرسکتے ہیں۔مگر یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ تفصیل خود قرآن بیان کررہا ہے۔

(۳) اصحاب کہف کی مدت نوم:

اصحاب کہف کے زمانۂ نوم کی مدت کے بارے میں میرے بیان پر جو اعتراض آپ نے کیا ہے، اس کا جواب آپ کو تفہیم القرآن ہی میں مل جاتااگر آپ پورے قصے کی تفسیر اس میں دیکھ لیتے۔ یہ تو آپ نے بڑی سخت بات کہہ دی کہ قرآن صریحاً مدت کی تعیین کررہا ہے اور پھر بھی تم نے تاریخ پریقین کیا اور قرآن کی تصریح رد کردی۔کیا آپ ایسے شخص کو مسلمان مان سکتے ہیں جو قرآن کو چھوڑ کر تاریخ پر ایمان لائے؟میں تو ایک لمحے کے لیے بھی اسے کافر قرار دینے میں تامل نہ کروں گا۔ اب ذرا آپ سورۂ کہف کی اس آیت پر غور فرمایئے کہ وَلَبِثُوْا فِيْ كَہْفِہِمْ ثَلٰثَ مِائَۃٍ سِنِيْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًاo قُلِ اللہُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا۝۰ۚ الکہف 18:26-25 کیا یہ واقعی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مدت نوم کی تعیین ہے؟اگر ایسا ہوتا تو قُلِ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا کا فقرہ بے معنی ہوجاتا۔

رفع طور کی کیفیت:

آیت وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ کے متعلق آپ کا اعتراض میں سمجھ نہیں سکا۔ کَاَ نَّہٗ ظُلَّۃٌ کے حوالے سے تو ایسامعلوم ہوتا ہے کہ آپ اس آیت کی نہیں بلکہ وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ۝۰ۭ البقرہ93:2 کی تفسیر پر معترض ہیں۔ اگر بات یہی ہے تو براہِ کرم تفہیم القرآن جلد اوّل صفحہ نمبر ۸۳ اور جلد دوم صفحہ نمبر ۹۵ کے حواشی اچھی طرح پڑھ کر بتایئے کہ آپ کو کس چیز پر اعتراض ہے۔

(۵)حضرت ابراہیمؑ او رکذبات ثلاثہ:

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کذبات ثلاثہ کے مسئلے پر میں نے دو جگہ بحث کی ہے۔ایک رسائل ومسائل حصہ دوم صفحہ ۳۵ تا ۳۹۔دوسرے تفہیم القرآن ،بسلسلۂ تفسیر سورۂ انبیاء،حاشیہ نمبر ۶۰۔ ان دونوں مقامات پر میں نے وہ دلائل بھی بیان کردیے ہیں جن کی بِنا پر میں اس روایت کے مضمون کی صحت تسلیم کرنے میں متأمل ہوں۔ اگر میرے ان دلائل کو دیکھ کر آپ کا اطمینان ہوجائے تو اچھا ہے، اور نہ ہو تو جو کچھ آپ صحیح سمجھتے ہیں، اسی کو صحیح سمجھتے رہیں۔ اس طرح کے معاملات میں اگر اختلاف رہ جائے تو آخر مضائقہ کیا ہے۔ آپ کے نزدیک حدیث کا مضمون اس لیے قابل قبول ہے کہ وہ قابل اعتماد سندوں سے نقل ہوئی ہے اور بخاری، مسلم، نسائی اور متعدد دوسرے اکابر محدثین نے اسے نقل کیا ہے۔ میرے نزدیک وہ اس لیے قابل قبول نہیں ہے کہ اس میں ایک نبی کی طرف جھوٹ کی نسبت ہوتی ہے، اور یہ کوئی ایسی معمولی بات نہیں ہے کہ چند راویوں کی روایت پر اسے قبول کرلیا جائے۔ اس معاملے میں ،میں اس حد تک نہیں جاتا جہاں تک امام رازی ہیں۔ وہ تو کہتے ہیں کہ’’انبیا کی طرف جھوٹ کو منسوب کرنے سے بدرجہ ہابہتر یہ ہے کہ اس روایت کے راویوں کی طرف اسے منسوب کیا جائے۔‘‘ (تفسیر کبیر،جلد۶،صفحہ ۱۱۳) اور یہ کہ’’نبی اور راوی میں سے کسی ایک کی طرف جھوٹ کو منسوب کرنا پڑ جائے تو ضروری ہے کہ وہ نبی کے بجائے راوی کی طرف منسوب کیا جائے‘‘ ( تفسیر کبیر، جلد ۷،صفحہ ۱۴۵)۔ مگر میں اس روایت کے ثقہ راویوں میں سے کسی کے متعلق یہ نہیں کہتا کہ انہوں نے جھوٹی روایت نقل کی ہے،بلکہ صرف یہ کہتا ہوں کہ کسی نہ کسی مرحلے پر اس کو نقل کرنے میںکسی راوی سے بے احتیاطی ضرور ہوئی ہے۔اس لیے اسے نبیؐ کا قول قرار دینا مناسب نہیں ہے۔محض سند کے اعتماد پر ایک ایسے مضمون کو آنکھیں بند کرکے ہم کیسے مان لیں جس کی زد انبیا علیہم السلام کے اعتماد پر پڑتی ہے؟
میں ان دلائل سے بے خبر نہیں ہوں جو اس روایت کی حمایت میں اکابر محدثین نے پیش کیے ہیں، مگر میں نے ان کو تشفی بخش نہیں پایا ہے۔ جہاں تک فَعَلَہٗ کَبِیْرُھُمْ ھٰذَا اور اِنِّیْ سَقِیْمٌ کا تعلق ہے،ان دونوں کے متعلق تو تمام مفسرین ومحدثین اس پر متفق ہیں کہ یہ حقیقتاً جھوٹ کی تعریف میں نہیں آتے۔ آپ تفسیر کی جس کتاب میں چاہیں،ان آیات کی تفسیر نکال کر دیکھ لیں۔ اور ابن حجر، عینی، قسطلانی وغیرہ شارحین حدیث کی شرحیں بھی ملاحظہ فرما لیں۔ کسی نے بھی یہ نہیں مانا ہے کہ یہ دونوں قول فی الواقع جھوٹ تھے۔ رہا بیوی کو بہن قرار دینے کا معاملہ، تو یہ ایک ایسی بے ڈھب بات ہے کہ اسے بنانے کے لیے محدثین نے جتنی کوششیں بھی کی ہیں، وہ ناکام ہوئی ہیں۔ تھوڑی دیر کے لیے اس بحث کو جانے دیجیے کہ جس وقت کا یہ واقعہ بیان کیا جاتا ہے، اس وقت حضرت سارہ کی عمر کم ازکم ۶۵ برس تھی اور اس عمر کی خاتون پر کوئی شخص بھی فریفتہ نہیں ہو سکتا۔( اگرچہ یہ بائبل کی کتاب پیدائش کا بیان ہے کہ مصر کے سفر کے وقت حضرت سارہ کی یہ عمر تھی،لیکن قرآن وحدیث سے بھی اِسی کی تائید نکلتی ہے۔ایک طرف حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اِسی سفر کے موقع پر مصر کے بادشاہ نے حضرت ہاجرہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں نذر کیا اور اُن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔دوسری طرف قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل ؑجب والد ماجد کے ساتھ دوڑنے پھرنے کے قابل ہوگئے تو قربانی کا یادگار واقعہ پیش آیا اور اِس سے متصل زمانے ہی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت دی گئی،اور اِس بشارت پر حضرت سارہ کو سخت اچنبھا ہوا،کیونکہ وہ بہت بوڑھی(عجوزہ) تھیں۔اِن دونوں واقعات کے درمیان زیادہ سے زیادہ تیرہ سال کا فصل ہوسکتا ہے۔ اب کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ ایک عجوزہ خاتون صرف دس بارہ سال پہلے ایسی حسین نوجوان تھیں کہ مصر کا بادشاہ انہیں چھیننے کے لیے بے چین ہوگیا؟) سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بادشاہ حضرت سارہ کو حاصل کرنے کے درپے ہوا تو حضرت ابراہیمؑ نے آخر کس مصلحت سے کہا کہ یہ میری بہن ہیں؟ اس صورت حال میں بیو ی کو بہن کہہ کر آخرکیا فائدہ حاصل ہوسکتا تھا؟شارحین حدیث نے اس سوال کے جوجوابات دیے ہیں،وہ ذرا ملاحظہ ہوں:
۱۔ اس بادشاہ کے دین میں یہ بات تھی کہ صرف شوہر والی عورتوں ہی سے تعرض کیا جائے،اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیوی کو بہن اس اُمید پر کہا کہ وہ حضرت سارہ کو بے شوہر عورت سمجھ کر چھوڑ دے گا۔
۲۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیوی کو بہن اس لیے کہا کہ بادشاہ عورت کو چھوڑنے والا تو ہے نہیں،اب اگر میں یہ کہوں کہ میں اس کا شوہر ہوں تو جان بھی جائے گی اور بیوی بھی، اور اگر بہن کہوں گا تو صرف بیوی ہی جائے گی، جان بچ جائے گی۔
۳۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اندیشہ ہوا کہ سارہ کو بیوی بتائوں گا تو یہ بادشاہ مجھ سے زبردستی طلاق دلوا لے گا،اس لیے انہوں نے کہا کہ یہ میری بہن ہے۔
۴۔ اس بادشاہ کے دین میں یہ بات تھی کہ بھائی اپنی بہن کا شوہر ہونے کے لیے دوسروں کی بہ نسبت زیادہ حق دار ہے،اس لیے انہوں نے بیوی کو بہن اس اُمید پر بتایا کہ یہ سارہ کو میرے ہی لیے چھوڑ دے گا۔
(فتح الباری،جلد۶،صفحہ ۲۴۷۔ عینی جلد ۵ا،صفحہ ۲۴۹۔ قسطلانی جلد ۵، صفحہ ۲۸۰)
خدارا غور کیجیے کہ ان توجیہات نے بات بنائی ہے یاکچھ اور بگاڑ دی ہے؟آخر کس تاریخ سے یہ معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ دنیا میں کوئی دین ایسا بھی گزرا ہے جس میں بے شوہر عورت کو چھوڑ کر صرف شوہر دار عورت ہی سے تعرض کرنے کا قاعدہ مقرر ہو؟ اور یہ ایک نبی کی سیرت وشخصیت کا کیسا بلند تصور ہے کہ وہ جان بچانے کے لیے بیوی کی عصمت قربان کرنے پر راضی ہوجائے ؟ اور یہ کس قدر معقول بات ہے کہ زبردستی طلاق دلوائے جانے کے اندیشے سے بیوی کو بہن کہہ کر دوسرے کے حوالے کردیا جائے تاکہ وہ بے طلاق ہی اس سے استفادہ کرلے؟ اور یہ کتنی دل لگتی بات ہے کہ بادشاہ بھائی کو تو بہن کا شوہر ہونے کے لیے زیادہ حق دار مان لے گا مگر خود شوہر کو شوہر ہونے کے لیے حق دار نہ مانے گا؟ اس طرح کی لاطائل سخن سازیوں سے ایک مہمل بات کو ٹھیک بٹھانے کی کوشش کرنے سے کیا یہ مان لینا زیادہ بہتر نہیں ہے کہ نبیؐ نے ہرگز یہ بات نہ فرمائی ہوگی اور کسی غلط فہمی کی بِنا پر یہ قصہ غلط طریقے سے نقل ہوگیا ہے۔
بعض حضرات اس موقع پر یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگر اس طرح کے دلائل سے محدثین کی چھانی پھٹکی ہوئی ایک صحیح السند روایت کے مضمون کو مشکو ک ٹھہرادیا جائے تو پھر ساری ہی حدیثیں مشکوک قرار پاجائیں گی۔لیکن یہ خدشہ اس لیے بے بنیاد ہے کہ متن کی صحت میں شک ہر روایت کے معاملے میں نہیں ہوسکتا،بلکہ صرف کسی ایسی روایت ہی میں ہوسکتا ہے جس میں کوئی بہت ہی نامناسب بات نبیؐ کی طرف منسوب ہوئی ہو اور وہ کسی توجیہ سے بھی ٹھیک نہ بیٹھتی ہو۔اس طرح کی بعض روایتوں کے متن کو مشکوک ٹھہرانے سے آخر ساری روایتیں کیوں مشکو ک ہوجائیں گی؟ پھر یہ امر بھی غورطلب ہے کہ جن نامناسب باتوں کی کوئی معقول توجیہ ممکن نہ ہو، ان کا نبی ؐکی طرف منسوب ہونا زیادہ خطرناک ہے،یا یہ مان لینا کہ محدثین کی چھان پھٹک میں بعض کوتاہیاں رہ گئی ہیں، یا یہ کہ بعض ثقہ راویوں سے بھی نقل روایات میں کچھ غلطیاں ہوگئی ہیں؟ بتایئے، ایک صاحب ایمان آدمی ان دونوں باتوں میں سے کس بات کو قبول کرنا زیادہ پسندکرے گا؟
(ترجمان القرآن،ربیع الثانی ۳۷۵اھ،دسمبر۹۵۵اء)

چند مزید اعتراضات:

(ایک صاحب نے ایک طویل مکتوب کی شکل میں مدیر’’ترجمان‘‘ کی بعض تحریروں پر اعتراضات وارد کیے تھے۔مدیر’’ترجمان‘‘ نے ان کا مفصل جواب دیا ہے۔افادۂ عام کی خاطر سوالات وجوابات کو یہاں شائع کیا جارہا ہے۔)
راقم عریضہ کافی عرصے سے آپ کی تصنیفات کا یک جہتی سے مطالعہ کررہا ہے۔ چند شبہات ایسے واقع ہوئے کہ باوجود کافی حسن ظن کے دل میں بے حد خلجان پید اکررہے ہیں۔عمائدین جماعت سے بالمشافہہ کئی مرتبہ گفتگو ہوئی، لیکن بجائے ازالہ، اضافہ ہوتا رہا۔ انھی مخلصین کے مشورے سے یہ طے پایا کہ براہِ راست جناب سے استفادہ کیا جائے۔لہٰذا جناب کو تکلیف دی جاتی ہے کہ مسائل مندرجہ ذیل کا تشفی بخش جواب تحریر فرماکر ممنون فرماویں۔اگر مناسب خیال فرماویں تو ترجمان میں شائع فرمادیں تاکہ فائدہ عام ہوجائے۔
۱۔ تفہیم القرآن جلد ۲، صفحہ ۷۴ا۔’’اس مقام پر یہ جان لینا فائدے سے خالی نہ ہوگا کہ فتح مکہ کے بعد دور اسلامی کا پہلا حج ۸ہجری میں قدیم طریقے پر ہوا،پھر۹ ہجری میں دوسرا حج مسلمانوں نے اپنے طریقے پر کیا اور مشرکین نے اپنے طریقے پر، اس کے بعد تیسرا حج ۰ا ہجری میں خالص اسلامی طریقے پر ہوا۔‘‘
۸ ہجری میںکون سے صحابہ حج کو تشریف لے گئے؟حج کی فرضیت کس سنہ میں ہوئی؟حج کی فرضیت کے ساتھ احکام نہ تھے؟ حضورؐ نے عازمین حج کو کوئی ہدایات نہ دیں؟ ۹ ہجری میں صدیقؓ کی زیر قیادت اسلامی طریقے کو چھوڑ کر اپنے طریقے پر کیسے حج کیا؟ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو غیر اسلامی طریق پر حج کرنے میں کوئی تنبیہ نہ فرمائی؟ قدیم طریقے میں ننگے طواف ہوتا تھا۔ کیا صحابہؓ نے بھی ایسا کیا؟ ہر ایک جزے کا تفصیلی جواب تحریر فرماویں۔
۲۔ تفہیم القرآن جلد ۲ سورۂ یونس۔ جناب نے تحریر فرمایا ہے کہ ’’حضرت یونس علیہ السلام سے فریضۂ رسالت کی ادائیگی میں کچھ کوتاہیاں ہوگئی تھیں۔‘‘
کیا انبیا علیہم السلام معصوم نہیں ہوتے؟ خصوصاً فریضۂ رسالت میں انبیا سے کوتاہی کیسے ممکن ہے۔وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِo لَاَخَذْنَا مِنْہُ بِالْيَمِيْنِo ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِيْنَo الحاقۃ69:44-46 فریضۂ رسالت کی عدم کوتاہی میں تصریح نہیں ؟ اگر نبی سے فریضۂ رسالت میں بھی کوتاہی ہوسکتی ہے تو پھر دین خداوندی کا کیا بچ جاتا ہے؟کیا یہ مضمون موہم ہتک انبیا نہیں؟
۳۔ ترجمان اکتوبر نومبر ۵۵ء میں جناب نے تحریر فرمایا ہے کہ احکام منسوخہ پر اب بھی عمل جائز ہے، اگر معاشرے کو انھی ضروریات سے سابقہ ہوجائے۔ اگر احکام شارع نے منسوخ فرمائے ہیں تو پھر ان احکام کو مشروع کرنے والا کون سا شارع ہوگا؟اگرہر ذی علم کو اس ترمیم وتنسیخ کا حق دیا جائے جب کہ اعجاب کل ذی رأی برأیہ کا دور دورہ ہے تو کیا یہ تلعب بالدین نہ ہوگا؟ آیا احکام منسوخہ میں تعمیم ہے یا تخصیص؟محرمات اب پھر حلا ل ہوسکتے ہیں یا حلا ل شدہ احکام اب پھر منسوخ ہوسکتے ہیں؟ مہربانی فرما کر وسعت سے بحث فرماویں، کیوں کہ یہ بنیادی اُمور سے متعلق ہے۔
۴۔ ترجمان ربیع الاوّل ۷۵ھ:’’حضرت آدم علیہ السلام جس جنت میں تھے،وہ زمین پر تھی۔‘‘
اگر جنت زمین پر تھی تو اِھْبِطُوْا کیوں فرمایا؟ اخرجوا زیادہ مناسب نہ تھا؟ وَلَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰي حِيْنٍo الاعراف24:7 جب پہلے ہی زمین مستقر تھی تو دوبارہ استقرار کیا معنی؟ نیز جنت کا قرآنی تصور تو یہ ہے عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ۔ پھر اس کا تحقق فی الارض کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ عِنْدَہَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰىo اِذْ يَغْشَى السِّدْرَۃَ مَا يَغْشٰىo النجم53:15-16 کیا سدرۃالمنتہیٰ بھی زمین پر تھا؟ بالفرض اگر زمین پر جنت تھی تو اب کہاں ہے؟ کیوں نہ کسی طیارے سے ہم اڑ کر وہاں پہنچ جائیں؟ اگر اڑا دی گئی ہے تو کیوں اور کیا ثبوت؟
۵۔ تفہیمات جلد ۲، صفحہ ۴۳:’’یہ ایک لطیف نکتہ ہے کہ اﷲتعالیٰ نے بالارادہ ہر نبی سے کسی نہ کسی وقت حفاظت اٹھا کر ایک دو لغزشیں ہوجانے دیں۔‘‘
کیا انبیا تما م معاصی سے معصوم نہیں؟اگر نبی سے نبوت کے ہوتے ہوئے عصمت اُٹھ سکتی ہے تو اس کی نبوت و تعلیمات نبوت پر کیسے کامل اعتماد کیا جاسکتا ہے؟ہر اہم مقا م پر شبہ ہوسکتا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ وہی مقام ہو جہاں نبی سے عصمت اٹھ چکی ہو۔ اس کی کیسے حد بندی ہوگی؟ بالتفصیل بحث فرماویں۔ جزاکم اللّٰہ احسن الجزاء۔
۶۔ تفہیم القرآن جلد ا، صفحہ ا۴۲:’’پس جو چیز قرآن کی روح سے زیادہ مطا بقت رکھتی ہے، وہ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ اسلام کے رفع جسمانی کی تصریح سے بھی اجتناب کیا جائے اور موت کی تصریح سے بھی۔‘‘
کیا یہ مسئلہ قرآنی لحاظ سے مجمل ہے؟ مَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ میں اگر قتل جسم کی تصریح ہے تو اسی ایک جملہ کے ایک جز رَفَعَہٗ میں کون سا اجمال آگیا؟بصورت دیگر انتشارِ ضمائر لازم نہ آئے گا جو معیوب ہے؟یہاں رفع جسم سے کون سا قرینہ مانع ہے جب کہ احادیث رفع جسمانی ہی روایت کر رہی ہیں تو یہاں کیوں رفع جسم مراد نہ ہو؟ پھر اجماع اُمت بھی اس پر منعقد ہوچکا ہے تو کیا وجہ ہے کہ متفق علیہ مسئلے کو قرآن کی روح کے لحاظ سے مجمل کہہ کر مشتبہ بنایا جائے؟ پھر الفاظ بھی ایسے مؤکد کہ قرآن کی روح سے زیادہ مطابقت۔
۷۔ تفہیمات حصہ دوم صفحہ ۲۸۹۔ اقامت حدود میں وقت کے حالات اور ملزم کے حالات کا بھی لحاظ رکھا جاتا ہے۔زمانۂ جنگ میں حد موقوف رکھی جاتی ہے۔قحط کے زمانے میں چور کے ہاتھ نہیں کاٹے جاتے۔ مہربانی فرما کر اس مسئلے کو کتاب وسنت کی روشنی میں مدلل بیان فرماویں۔ حضرت سعد کا واقعہ حدود اﷲ کو توڑنے چھوڑنے کے لیے قطعاً ناکافی ہے۔ انہوں نے کتاب وسنت سے کوئی مستحکم دلیل بیان نہیں فرمائی ہے۔(عجیب بات یہ ہے کہ جو لوگ صحابہ پر تنقید کرنے کو ناجائز سمجھتے ہیں، وہ خود بے تکلف اُن پر تنقید کرتے ہیں۔کتاب وسنت کی دلیل کے بغیر حدود کے توڑنے چھوڑنے کا یہ الزام جو حضرت سعد پر لگایا گیا ہے،تنقید کی حد سے گزر کر طعن کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔)اسی طرح حضرت عمر ؓ کا حضرت حاطب ؓکے غلاموں کو چھوڑ دینا اور حاطبؓ سے عوض دلوانا بھی نوعیت جرم کی بدلی ہوئی کیفیت پر دلالت کرتا ہے،ورنہ مجرموں کو چھوڑ کر غیر مجرم انسان سے عوض دلوانا کیا معنی؟ یقینا حضرت عمرؓ کے ذہن میں جرم کی نوعیت کچھ سرقہ کی سی نہ ہوگی بلکہ غصب کی سی ہوگی جس کی ضمانت ان کے مولیٰ سے لی گئی۔مہربانی فرما کر اس مسئلے میں کتاب وسنت کے مستحکم دلائل بیان فرما کر مشکور کریں۔
۸۔ حضرت حوا کی پیدایش کے متعلق تفہیم القرآن جلدا، صفحہ ۹ا۳ میںجناب نے تصریح کی ہے کہ آدم علیہ السلام کی پسلی سے نہیں ہوئی۔ حدیث بخاری خلقت من ضلع آدم کا کیا جواب ہوگا؟
۹۔ تفہیم القرآن جلد اوّل، صفحہ ۸۳۔کوہ طور کے اٹھائے جانے میں جناب نے محققین مفسرین سے کیوں اختلاف فرمایا ہے؟ اس قول میں کیا قباحت ہے؟وَاِذْ نَـتَقْنَا الْجَــبَلَ فَوْقَہُمْ كَاَنَّہٗ ظُلَّـۃٌ الاعراف 171:7 میں لفظ نتق کس طرف اشارہ کررہا ہے؟ پھر ظُلَّۃٌ کیسے آپ کی تفسیر پر صادق آتا ہے نیز جب کہ تلمود اور بائبل کی روایات بھی اسی قول کی تصدیق کررہی ہیں۔ اسی طرح لفظ رفعنا اور پھر فوقکم کا صریح مفہوم بھی آپ کی تفسیر کا انکارکررہا ہے۔نیز اگر حقیقت رفع مقصود نہ تھی اورصرف تخیل رفع مقصود تھا تو اس کی تصریح سے کون سا امر مانع تھا جب کہ قرآن مجید کی عادۃ مستمرہ ایسی ہے کہ ایسے مقام پر صاف تصریح کردیتا ہے۔ الانفال اِذِالْتَقَيْتُمْ فِيْٓ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَّيُقَلِّلُكُمْ فِيْٓ اَعْيُنِہِمْ الانفال 44:8 جب حقیقت قلت وکثرت مقصود نہ تھی تو واشگاف الفاظ میں بیان فرما دیا۔اسی طرح آیت ہے يُخَيَّلُ اِلَيْہِ مِنْ سِحْرِہِمْ اَنَّہَا تَسْعٰيo طٰہٰ 66:20 جب اجماع اُمت بھی اس پر منعقد ہوچکا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ایک متفق علیہ مسئلے کو مجمل کہہ کر مشتبہ بنایا جاوے۔پھر الفاظ بھی ایسے مؤکد کہ قرآن کی روح سے زیادہ مطابقت۔
۰ا۔ رسائل ومسائل جلد اوّل، صفحہ ۶۷۔مہدی علیہ السلام پر بحث فرماتے ہوئے جناب نے تحریر فرمایا ہے کہ جو مسئلہ بھی دین میں ایسی نوعیت رکھتا ہو ،اس کا ثبوت لازماًقرآن ہی سے ملنا چاہیے۔ مجرد حدیث پر ایسی کسی چیز کی بنا نہیں رکھی جاسکتی جسے مدار کفر و ایمان قرار دیا جائے۔ احادیث چند انسانوں سے چند انسانوں تک پہنچتی ہوئی آئی ہیں جن سے حد سے حد اگر کوئی چیز ثابت ہوسکتی ہے تو گمان صحت نہ علم یقین۔ یہ قاعدۂ کلیہ جو آپ نے تحریر فرمایا ہے کیا اس سے خطرے میں نہیں پڑ جاتے؟کیا تعدد رکعات وسجود وصلوٰۃ کی ہیئت کذائیہ جو قرآن میں مصرح نہیں، ان کے انکار سے کفر لازم نہ آئے گا؟
۱۱۔ آیت رجم کے متعلق جناب نے جو بحث ترجمان میں فرمائی ہے،آپ نے اس کے ثبوت میں تامل فرمایا ہے۔حالاں کہ بخاری شریف میں نوکر اور سیدہ کے زناکے معاملے میں لڑکے کے والد کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عرض کرنا، انْشَدُکَ بِاللّٰہِ اِلا قَضَیْتُ بیننا بِکتابِ اللّٰہ اور حضورؐ کا فرمانا: والذی نفسی بیدہ لَاَقْضِیَنَّ بینکما بِکِتابِ اللّٰہ ان دونوں قسموں کے بعد کون سا اشتباہ رہ جاتا ہے؟کیا حضورؐ کی قسم ہمارے یقین کے لیے ناکافی ہے؟ یا بخاری کی احادیث کو غلط قرار دیا جاسکتا ہے؟ پھر فاروق اعظمؓ کے خطبہ فکان مما اَنْزلَ اللّٰہ آیۃَ الرَّجم فقرأناھا وَعَقَلْنْاھاوَوَعَیْنَاھا سے ہمیں یہ توقع ہوسکتی ہے کہ یوم الجمعہ مسجد میں فقہا صحابہ کی موجودگی میں کتاب اﷲ ورسول اﷲ پر افترا کرسکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر نعوذ باﷲ جو صحابہؓ موجود تھے،وہ سب حرارتِ ایمانی سے خالی ہوچکے تھے۔ ایک نے بھی نہ ٹوکا۔ جو ایک قمیص کے ٹکڑے پرحضرت عمرؓ کو اسی منبر پر ٹوک سکتے ہیں کتاب اﷲ پر افترا میں نہ ٹوک سکے۔ یا قرآن سے ایک قمیص کا ٹکڑا زیادہ قیمتی تھا؟ آپ کا یہ فرمانا کہ عمرؓ کے اس قول پر اجماع منعقد نہیں ہوا،اس لیے کہ سب صحابہؓکی موجودگی یقینی نہیں، کیا صحابہ صلوٰۃ جمعہ سے بھی غیر حاضری کرتے تھے؟ حضرت عبدالرحمانؓکا یہ فرمانا: فانھا دارُالھجرۃِ والسُّنَّۃِ فتخلص باھلِ الفِقْہ واشرفِ الناسِ صاف تصریح نہیں؟ ان دنوں فقہائے مدینہ طیبہ میں موجود تھے۔بالفرض اگر تمام موجود نہ تھے،کیا موجود حضرات نے غیر موجود حضرات سے اس مسئلے کی تصدیق یا تکذیب کسی نے نہ کرائی؟اگر واقعی صحابہ کا کتاب اﷲ کے ساتھ یہی تساہل وتغافل رہا ہے او رکتاب اﷲ میں کمی بیشی ہوتی رہی تو روا فض بالکل حق بجانب ہیں۔مہربانی فرما کر اس مسئلے کو کتاب وسنت سے مدلل بیان فرما ویں۔ حضورؐ کی قسم اور عمرؓ کا تشدیدی خطبہ، حدیث بخاری کے مقابل کوئی قوی دلیل چاہیے۔کسی مفسر ومجتہد کا قول مشکل سے مقابل ہوسکے گا۔
۱۲۔ ترجمان القرآن،ربیع الثانی ۷۵ھ میں جناب نے حضرت صدیقؓ کی بندش کفالت مسطح کو غیر اسلامی حمیت سے تعبیر فرمایا ہے۔کیا صدیقؓ کا نبوت سے صرف بیٹی ہی کا تعلق تھا؟ بالفرض اگر حضرت کے کسی دوسرے حرم پر یہ بہتان ہوتا تو کیا حضرت صدیقؓ کو غیرت نہ آتی؟ کیا وہاں اَلْحُبُّ للّٰہ وَالْبُغْضُ فِی اللّٰہِ کا جذبہ کارفرما نہ تھا؟ لایَاتِلِ اَولُوا الْفَضْلِ سے استدلال صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ کیوں کہ یہاں صرف کفالت کا کھولنا نہایت نرم لہجے میں مقصود تھا۔ چنانچہ لفظ اُولْوا الْفَضْلِ وَالسَّعَۃِ اور پھر الا تُحِبُّون اَن یَّغْفِرَ اللّٰہ لَکُمْ سے ان کے پاکیزہ جذبات سے معافی کی اپیل ہے۔اس میں عتاب کی بو بھی نہیں۔ اس کو وعید تصور کرنا ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔علاوہ ازیں یہاں کفالت کی طرف تعرض کیا گیا ہے۔بندش کفالت کے اصل محرکات کو نہیں چھیڑا گیا ،جس کو آپ نے غیر اسلامی حمیت سے تعبیر فرمایا ہے۔اگر یہ محرکات غیر اسلامی ہوتے تو اَنْ یُّوْتُوَا اُولِی الْقُرْبٰی کے بجائے انہی محرکات کا آپریشن ہوتا، واللّٰہ لَا یُسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ۔ منبع فساد کو چھوڑ کر شاخوں کا انسداد قرآن کی حکیمانہ شان سے بعید ہے۔کفالت تو ان الفاظ سے کھل گئی، لیکن یہ منبع فساد غیر اسلامی حمیت تو ان کے دل میں ویسے ہی مستحکم رہی۔ اسی طرح حضرت عمرؓ کے متعلق اسی ترجمان ربیع الاوّل ۷۵ھ میں جناب نے تحریر فرمایا ہے کہ غالباًیہی شخصی عظمت کا تخیل تھا جس نے اضطراری طور پر حضرت عمرؓ کو تھوڑی دیر کے لیے مغلوب کردیا۔ کیا نبی کی شخصیت اور اس کی عظمت کا تخیل اسلام میں ممنوع ہے؟ واللّٰہ لَا یْٔومِنُ اَحَدُکُمْ حَتیَّ اَکُونَ اَحَبَّ اِلَیہِ… الحدیث کا کیا معنی؟ باقی رہا قانونِ ربانی کے مقابلے میں نبوت پرستی یا شخصیت پرستی تو محبوب دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تو عمرؓ شخصیت پرست نہ تھے۔ بعد از انتقال یہ شخصیت پرستی کہاں سے ان کے دل میں گھس گئی؟ اساریٰ بدر،صلح حدیبیہ، مسئلہ حجاب،رئیس المنافقین کا جنازہ وغیرہ لاتعداد واقعات موجود ہیں۔صحابہ کرامؓ اور خلفائے راشدین مہدیین کے متعلق ہمیں کس حد تک سوء ظن جائز( صرف اِس حد تک کہ وہ ’’کتاب و سنت کی دلیل کے بغیر حدود اﷲ کو توڑتے چھوڑتے تھے‘‘۔)ہے؟ کیا ان حضرات کے افعال کی ان توجیہات کے علاوہ اور توجیہ ناممکن تھی؟ اللّٰہ اللّٰہ فِیْ اَصْحَابِیِ لَاتَتُخِذُ وِھُمْ غَرَضًا مِن بعدی فَمَنْ اَحَبَّھُمْ فَبِحُبِّی اَحَبَّھُمْ وَمَنْ اَبْغَضَھُمْ فَبِبُغْضِیْ اَبْغَضَھُمْ اور اَصْحَابِی کَالنَجُومِ بایھم اقتدیتم کا کیا مقصد ہوگا؟
۳ا۔ کیا آپ معصوم عن الخطا ہیں؟ اگر نہیں تو کیا آپ کے اجتہادات پر تنقید جائز ہے؟اگر آپ تنقید سے بالاتر نہیں تو تنقید کرنے والے علما پر کیوں طعن کیا جاتا ہے؟اگر اسلام کی تعلیمات کی تعبیر کا حق صرف جماعت کے علما کے لیے مخصوص کردیا جائے تو اسلامی علوم کو ترقی کے بجائے رکاوٹ نہ ہوگی؟آمرانہ رجحانات ترقی پذیر نہ ہوں گے؟کیا موجودہ اختلاف جب کہ دیانت داری پر مبنی ہو، اِخْتِلافُ اُمَّتِیْ رَحْعَۃٌ نہ ہوگا؟انہی اختلافات میں مختلف ذہنی صلاحیتوں کے جواہر منظر عام پر نہ آجائیں گے جن سے اُمت کو فائدہ پہنچتا رہا ہے اور رہے گا؟
۴ا۔ کیا صحابہ کرامؓ پر تنقید جائز ہے؟اگر جائزہے تو حدیث اللّٰہ اللّٰہ فی اصحابی اور اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم کا کیا جواب ہوگا؟

جواب: آپ کے سوالات کا جواب دینے سے پہلے یہ بات عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میری تحریروں کے متعلق جو شکو ک اورشبہات بعض لوگ جان بوجھ کر دلوں میں ڈال رہے ہیں،ان کو صاف کرنے کے لیے میری طرف رجوع کرنا تو بلاشبہ ایک درست طریقہ ہے،مگر تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے مناسب یہ ہے کہ پہلے خود بھی تحقیق کی کوشش کرلیا کریں،تاکہ جس اُلجھن کو وہ تھوڑا سا وقت صرف کرکے خود رفع کرسکتے ہوں، اس کے لیے خواہ مخواہ خط وکتابت کی زحمت میں نہ پڑیں۔ اصحاب فتنہ کے لیے تو اب کوئی کام کرنے کا اس کے سوا باقی نہیں رہا ہے کہ وہ میری تحریروں میں کیڑے چنتے پھریں اور جگہ جگہ انہیں پھیلا کر لوگوں کے دماغوں میں اُلجھنیںپیداکیا کریں۔مگر میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ سارے کام چھوڑچھاڑ کر بس ان اُلجھنوں ہی کو صاف کرنے میں لگا رہوں جو ان حضرات نے پیدا کی ہیں۔ آپ براہِ کرم خود غور کریں کہ ان حضرات کی انگیخت سے ۴ا سوالات تو تنہا آپ نے فرمائے ہیں۔ اور ایسے سوالات کرنے والے اکیلے آپ نہیں ہیں، پاکستان او ر ہندوستان کے ہر گوشے سے اس طرح کے سوالات آئے دن میرے پاس آتے رہتے ہیں۔کیوں کہ سارے برعظیم میں فتنہ پردازوں کا ایک پورا طائفہ ان سوالات کی فصل بونے میں لگا ہوا ہے۔اب کیا آپ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح یہ حضرات اپنی عمر عزیز اس فضول کام میں ضائع کر رہے ہیں، اسی طرح میں بھی ان کے پیدا کردہ سوالات کی جواب دہی میں اپنی عمر عزیز ضائع کر دوں؟
اب آپ کے سوالات کا جواب سلسلہ وار حاضر ہے:

فرضیت حج کی تاریخ:

اس عبارت کا منشا سمجھنے میں آپ کو کسی قسم کی دقت پیش نہ آتی اگر معترضین نے آپ کے دل کو شک وشبہ کی بیماری نہ لگا دی ہوتی،اور آپ خود بھی کچھ عقل سے کام لیتے۔عبارت یہ ہے کہ’’فتح مکہ کے بعد پہلا حج ۸ ہجری میں قدیم طریقے پر ہوا۔‘‘اس میں یہ کہاں لکھا ہے کہ صحابہ کرامؓ نے یہ حج قدیم طریقے پر کیا؟پھر وہ سوالات جو اس عبارت پر آپ نے کیے ہیں ،آخر کہاں سے پیدا ہوگئے؟آپ سیرت پاکؐ کے موضوع پر کوئی کتاب بھی اٹھا کر دیکھتے تو آپ کو معلوم ہوجاتا کہ مکہ معظمہ رمضان ۸ ہجری میں فتح ہوا۔ دوسرے ہی مہینے حنین اور طائف کے معرکے پیش آئے جن سے ذی القعدہ ۸ ہجری کے وسط میں حضورؐ فارغ ہوئے اور عمرہ کرکے حج کیے بغیر اپنے اصحاب کے ساتھ مدینے واپس تشریف لے گئے۔اس وقت یہ ممکن ہی نہ تھا کہ حج کے قدیم طریقے کو جو صدیوں سے زمانۂ جاہلیت میں رواج پاچکا تھا،اور جس کے مطابق حج کرنے کے لیے ہزاروںلاکھوں مشرکین مکہ میں جمع ہوچکے تھے یا عنقریب جمع ہونے والے تھے،یک لخت بدل ڈالا جاتا۔ اگر اس وقت ایساکیا جاتا تو حنین کے معرکے سے کئی گنا زیادہ شدید معرکہ مسجد الحرام کے حدود میں پیش آجاتا۔اس لیے اس سال جاہلیت کے طریقوں سے کوئی تعرض نہ کیا گیا اور حج جس طرح پہلے ہوتا تھا،اسی طرح ہونے دیا گیا۔(یہ صرف تاریخی واقعات سے میرا استنباط ہی نہیں ہے بلکہ نبی کریمؐ کے قدیم ترین سیرت نگار ابن ہشام نے اِس کی تصریح بھی کی ہے۔ وہ ۸ ہجری کے واقعات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: وحج الناس تلک السنۃ علٰی ما کانت العرب تحج علیہ ’’اِس سال لوگوں نے اسی طریقے پر حج کیا جس پر اہل عرب کیا کرتے تھے۔‘‘( جلد ۴،صفحہ ۴۴ا)
دوسرے سال ۹ ہجری میں آپؐ نے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کو حج کے موقع پر بھیجا اور اعلان کردیا کہ:
لَا یَحُجَّنَّ بعد عا مِنا ھذا مُشْرِکُ لا یُطْوفَنَّ بالبیتِ عُرْیانٌ۔
’’اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرنے پائے اور نہ کوئی شخص برہنہ طواف کرے۔‘‘
یہ اعلان قرآن مجید کے اس حکم کی بنیاد پر تھا کہ
اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا۝۰ۚ التوبہ 28:9
’’مشرکین تو نجس ہیں، لہٰذا اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آنے پائیں۔‘‘
تیسرے سال ۰ا ہجری میں اس حکم کی تعمیل کی گئی اور نبیؐ نے خود تشریف لے جاکر حج کے خالص اسلامی طریقے کو ہمیشہ کے لیے قائم فرما دیا۔
آپ کا یہ سوال کہ حج کس سال فرض ہوا؟اس کا جواب یہ ہے کہ محققین کے نزدیک وہ ۹ ہجری یا ۱۰ ہجری کے آغاز میں فرض ہوا ہے،اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ صحیحین میں بنی عبدالقیس کے وفد کی حاضری کا جو قصہ آیا ہے،اس میں نبیؐ نے ارکان اسلا م بیان کرتے ہوئے صرف چار ارکان کا ذکر فرمایا ہے،حج کا ذکر نہیں فرمایا۔یہ وفد بالاتفاق ۹ ہجری میں غزوۂ تبوک کے بعد حاضر ہوا تھا(زادالمعاد،جلد اوّل صفحہ ۲۴۶، جلد دوم صفحہ ۳۴-۳۹)۔لیکن چوں کہ اس سال جاہلیت کے رواج ’’نسی‘‘ کی وجہ سے حج ذی القعدہ میں پڑتا تھا، اور مشرکین کے ساتھ حج کرنا بھی نبیؐ کے شایان شان نہ تھا، اس لیے آپؐ خود حج کے لیے تشریف نہ لے گئے اور حضرت ابو بکرؓ و علیؓ کو بھیجا تاکہ جاہلیت کے طریقوں کی تنسیخ کا اعلان فرمادیں۔حج کے اسلامی حکام کی تشریح وتوضیح اور عملی تعلیم ۰ا ہجری میں حجۃ الوداع کے موقع پر ہی ہوئی ہے۔

فریضۂ رسالت اور حضرت یونس ؑ:

اس اعتراض کا جواب خود دینے کے بجائے میں قرآن ہی سے دلوانا زیادہ پسند کرتا ہوں۔ قرآن مجید میں چار مقامات پر حضرت یونس ؑ کا قصہ آیا ہے۔براہِ کرم ان سب کو پڑھ لیجیے۔
سورۂ یونس میں ہے :
فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَۃٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَہَآ اِيْمَانُہَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ۝۰ۭ لَمَّآ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنٰھُمْ اِلٰى حِيْنٍo یونس 98:10
’’ پس کیوں نہ ہوئی کوئی ایسی بستی جو(عذاب دیکھ کر)ایمان لائی ہو اور اس کا ایمان اس کے لیے نافع ہواہو؟ سوائے یونس کی قوم کے کہ جب وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوائی کا عذاب ہٹا دیا اور ان کو ایک وقت خاص تک سامان زندگی دیا۔‘‘
سورۂ انبیا میں ہے:
وَذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَيْہِ فَنَادٰي فِي الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ۝۰ۤۖ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِــمِيْنَo الانبیائ 87:21
’’ اور یاد کرو مچھلی والے( یونس ؑ )کو جب کہ وہ خفا ہوکر چل دیا اور سمجھا کہ(اس کے چلے جانے پر)ہم گرفت نہ کریں(شاہ عبدالقادر صاحب کا ترجمہ ہے: ’’پھر سمجھا کہ ہم نہ پکڑ سکیں گے۔‘‘مولانا اشرف علی صاحبؒ کا ترجمہ ہے: ’’اور انہوں نے یہ سمجھا کہ ہم ان پر (اس چلے جانے میں) کوئی داروگیر نہ کریں گے۔‘‘
)گے ۔پس وہ پکار اٹھا تاریکیوں میں کہ تیرے سوا کوئی خدا نہیں، تو بے عیب ہے، بے شک میں قصور وار ہوں۔‘‘
سورۂ صافات میں ہے:
وَاِنَّ يُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَo اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِo فَسَاہَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَo فَالْتَقَمَہُ الْحُوْتُ وَہُوَمُلِـيْمٌo فَلَوْلَآ اَنَّہٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِيْنَo لَـلَبِثَ فِيْ بَطْنِہٖٓ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَo الصافات:37:139-144
’’اور بے شک یونس رسولوں میں سے تھا۔جس وقت بھاگ گیا وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف، تو قرعہ ڈالنے میں(اہل کشتی کے ساتھ) شریک ہوا اور وہی ملزم ٹھہرا۔ پھر نگل لیا اس کو مچھلی نے اور وہ ملامت میں پڑا ہوا تھا۔اگر نہ ہوتا وہ تسبیح کرنے والوں میں سے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ ہی میں رہ جاتا۔‘‘
سورۂ قلم میں ہے:
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ۝۰ۘ اِذْ نَادٰى وَہُوَمَكْظُوْمٌo لَوْلَآ اَنْ تَدٰرَكَہٗ نِعْمَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَاۗءِ وَہُوَمَذْمُوْمٌo القلم68:48-49
’’پس اے محمد!صبر کے ساتھ اپنے ربّ کے حکم کا انتظار کرو اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جائو(مولانا اشرف علی صاحب کا ترجمہ ہے: ’’اور (تنگ دلی میں) مچھلی (کے پیٹ میں جانے) والے (پیغمبر یونس علیہ السلام) کی طرح نہ ہو جایئے‘‘) جب کہ اس نے پکارا اور وہ غم سے گھٹ رہا تھا۔اگر اس کے ربّ کے احسا ن نے اس کی دست گیری نہ کی ہوتی تو پھینک دیا جاتا چٹیل میدان میں اور وہ رہتا ملامت زدہ۔‘‘( شاہ رفیع الدین صاحب کا ترجمہ ہے: ’’اور وہ ہوتا ملامت کیا گیا۔‘‘)
یہ آیات صاف بتا رہی ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام سے کوئی نہ کوئی قصور ضرور سرزد ہوا تھاجس پر انہیں مچھلی کے پیٹ میں پہنچا یا گیا، اور وہ قصور بے صبری کی نوعیت کا تھا، اور لامحالہ وہ فریضۂ رسالت کی ادائیگی ہی کے سلسلے میں ہوا تھا۔ نیزان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم سے ناراض ہوکر اﷲ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اپنا مستقر رسالت چھوڑ گئے تھے۔ اسی وجہ سے ان کی قوم کے ساتھ اﷲ تعالیٰ نے وہ خاص رعایت فرمائی جو کبھی کسی قوم کے ساتھ نہ فرمائی گئی تھی، یعنی یہ کہ عذاب دیکھ لینے کے بعد جب وہ ایمان لے آئی تو اسے معاف کردیا گیا۔حالاں کہ اﷲ تعالیٰ کی یہ مستقل سنت ہے کہ عذاب آتے دیکھ کر ایمان لانا کسی کے لیے نافع نہیں ہوتا۔یہ اﷲ تعالیٰ کا اپنا ہی بیان ہے۔اس میں کسی قسم کی کمی وبیشی میں نے اپنی طرف سے نہیں کی ہے۔اب اس پر آپ کو یا کسی اور کو اعتراض ہو تو یہ اعتراض مجھ پر نہیں، قرآن اور اس کے بھیجنے والے خدا پر ہے،اور اس کا جواب اسی کے ذمے ہے۔آپ کا یہ ارشاد کہ’’کیا یہ مضمون موہم ہتک انبیا نہیں ہے‘‘، اس مفروضے پر مبنی معلوم ہوتا ہے کہ انبیا علیہم السلام کی عزت کا خیال آپ کو ان کے بھیجنے والے خدا سے بھی بڑھ کر ہے۔ اگر یہ بات نہیں ہے تو جو مضمون اﷲ نے خود اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے،اس کو موجب ہتک یا موہم ہتک قرار دینے کی اورکیا توجیہ آپ کرسکتے ہیں؟( اس مسئلے پر تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، تفسیر سورۂ صافات، حواشی نمبر ۷۸ تا ۸۵۔)

منسوخ احکام پر عمل:

اس مضمون کا حوالہ آپ نے غلط دیا ہے۔اوّل تو اکتوبر،نومبر ۵۵ء کا کوئی یک جائی نمبر شائع ہی نہیں ہوا تھا۔ دوسرے یہ مضمون نہ اکتوبر کے پرچے میں ہے،نہ نومبر کے پرچے میں۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص سے آپ نے یہ اعتراض سن کر اپنی فہرست میں درج فرما لیا ہے،اسے خود صحیح حوالہ معلوم نہ ہوگا۔دراصل یہ مضمون رسائل ومسائل حصہ دوم میں صفحہ ۱۱۵ پر درج ہے۔ وہاں اس شبہ کو رفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو نسخ کامسئلہ سن کر ایک عام آدمی کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔عام طورپر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ جن آیات کا حکم منسوخ ہوچکا ہے،ان کی قرآن میں اب کیا ضرورت ہے؟کیوں نہ ان کی تلاوت بھی منسوخ ہوگئی؟ اس کو رفع کرنے کے لیے میں نے قرآن میں ان احکام کے باقی رہنے کی حکمت یہ بتائی ہے کہ اگر معاشرے میں کبھی ہم کو پھر ان حالات سے سابقہ پیش آجائے جن میں وہ احکام دیے گئے تھے تو ہم ان پر عمل کرسکتے ہیں۔ مثلاً کسی ملک میں مسلمان اس طرح کے حالات سے دوچار ہوں جو مکی زندگی میں نبیؐ اور آپ کے اصحاب کو پیش آئے تھے، تو مکی دور کی تعلیم صبر وتحمل پر عمل کیا جائے گا نہ کہ مدنی دور کی تعلیم جہاد وقتال پر، حالاں کہ بیش تر مفسرین نے احکام قتال سے مکی دور کی ان آیات کو منسوخ قرار دیا ہے۔ اسی طرح اس حالت میں مسلمان ان بہت سے احکام وقوانین کی پابندی سے معاف رکھے جائیں گے جو مدنی دور میںنازل ہوئے اور جن پر عمل درآمد اسلامی حکومت کی موجودگی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ آپ کا یہ سوال کہ منسوخ شدہ احکام کو پھرسے مشروع کون سا شارع کرے گا، تنہا میری طرف راجع نہیں ہوتا بلکہ ان تمام علما کی طرف راجع ہوتا ہے جو ابھی چند سال پہلے تک انگریزی دور میں مکی آیات سے قومی طرز عمل کے لیے رہنمائی حاصل کرتے تھے اور مدنی دور کے احکام جنگ اور حدود اﷲ کے اجرا کو ملتوی قرار دیتے تھے۔

جنت کا محل وقوع:

آپ کے اس اعتراض کا جواب ترجمان القرآن کے اسی پرچے میں موجود ہے جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے۔اگر آپ نے ربیع الاوّل ۷۵ھ کا ترجمان خود ملاحظہ فرمایا تھا جیسا کہ آپ کے سوال سے معلوم ہوتا ہے، تو ضرور وہ جواب آپ کی نظر سے گزرا ہو گا۔ اس کے بعدیہ اعتراض دوبارہ کرنے کی کیا ضرورت باقی رہ گئی؟
اس سلسلے میں جو سوالات آپ نے کیے ہیں،اگرچہ ان سب کے جوابات ممکن ہیں،لیکن میں اس بحث کو غیر ضروری سمجھتا ہوں ،اس لیے قصداً انہیں نظر انداز کرتا ہوں۔( جن حضرات کو اِس بحث کی تفصیل سے دل چسپی ہو وہ براہ کرم خود ہی تفسیر روح المعانی (جلد ا،صفحہ ۴ا۲) اور تفسیر المنار (جلد ا، صفحہ ۲۷۷) میں اِس کو نکا ل کر دیکھ لیں۔ وہاں یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ اِ س مسئلے میں مفسرین کے کتنے اقوال ہیں اور یہ بھی کہ ہر قول کی دلیل کیا ہے۔
)آدم علیہ السلام جس جنت میں رکھے گئے تھے، اس کی جائے وقوع کا مسئلہ اسلام میں کوئی بنیادی تو درکنار، فروعی مسئلہ بھی نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص محض قرآن کو سمجھنے کی کوشش میں اس کے متعلق کسی خیال کا اظہار کرے تو زیادہ سے زیادہ اس سے اتنا ہی تعرض کیا جاسکتا ہے کہ اس کی رائے کو آپ پسند کریں تو قبول کرلیں، نہ پسند کریں تو رد کردیں۔مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر مسئلہ پہلے ردوکد اور بحث و مناظرہ کا موضوع بنتا ہے اور پھر یہی ردوکد اس کو ایک اعتقادی مسئلہ بنا کر رکھ دیتی ہے جس پر دو فریق ایک دوسرے کے مقابلے میں صف آرا ہوجاتے ہیں،اور جب تک فریقین کے نکاح نہ ٹوٹ جائیں،معاملہ ختم نہیں ہوتا۔ اس مصیبت سے نجات پانے کی صورت اس کے سوا کوئی نہیں ہے کہ پہلے ہی مرحلے پر سوال وجواب کا سلسلہ توڑ دیا جائے۔ آپ کا اطمینان جس بات پر نہیں ہوتا، اسے آپ قطعاً نہ مانیے، مگر بے فائدہ بحث کی آخر کیا ضرورت ہے۔

عصمت انبیا:

انبیا علیہم السلام کی عصمت بلاشبہ ایک بنیادی چیز ہے اور ہم،آپ،سب سے بڑھ کر ان کے بھیجنے والے خدا نے اس امر کا اہتمام فرمایا ہے کہ ان کا اعتماد قائم ہو۔لیکن اسی خدا نے اپنی کتاب پاک میں متعدد انبیا کی ایسی لغزشوں کا بھی ذکر کیا ہے جن پر گرفت یا تنبیہ کی گئی اور اس کے ساتھ وہی خدا اپنی کتاب میں ہم کو یہ اطمینان بھی دلاتا ہے کہ انبیا علیہم السلام کو کبھی کسی چھوٹی سے چھوٹی لغزش پر بھی قائم نہیں رہنے دیا گیا، بلکہ بروقت اس کی اصلاح کردی گئی۔( یہی بات علمائے اُصول نے بھی اپنی کتابوں میں بیان کی ہے کہ نبی سے لغزش اور رائے کی غلطی صادر ہوسکتی ہے،البتہ اِس کا لغزش اور غلطی پر قائم رہ جانا ممکن نہیں ہے ،کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے اِس کی اصلاح کا ذمہ لیا ہے۔ملاحظہ ہو اُصول السرخسی، جلد اوّل، ص ۳۱۸ ، جلد دوم، صفحہ ۵،۸۶،ا۹۔
) یہ حقیقت اگر آپ کے پیش نظر ہو تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان لغزشوں کے ذکر سے حضرات انبیا کے اعتماد میں ذرہ برابر بھی خلل واقع نہیں ہوتا، البتہ اس سے خدا اور بندے کا فرق اچھی طرح کھل جاتا ہے اور اس خطرے کا امکان باقی نہیں رہتا کہ ان برگزیدہ شخصیتوں کی طرف کوئی شخص الوہیت کی صفات منسوب کرنے لگے۔
اس اعتراض کا جواب دسمبر ۵۵ء کے ترجمان القرآن میں صفحہ ۲۸۰ پردیا جاچکا ہے۔

اقامت حدود میں احوال کا لحاظ:

اس بحث کو اگر آپ سمجھنا چاہتے ہیں تو علامہ ابن قیم رحمہ اللہکی کتاب اعلام الموقعین میں
فَصْلَ فِیْ تَغَیِرِّ الْفَتْویٰ وَ اِخْتِلَافِھا بِحَسْبِ تَغَیّرِ الْاَزْمِنَۃِ وَالْاَمْکِنَۃِ وَالْاَحْوَالِ وَالنِّیَّاتِ الْعَوائِدِ کو بغور ملاحظہ فرمائیں۔اس میں انہوں نے احادیث وآثار سے بکثرت مثالیں اس امر کے ثبوت میں جمع کی ہیں کہ واقعات وحوادث پر اسلامی احکام کو آنکھیں بند کرکے چسپاں نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے زمانے اور مقام اور اشخا ص متعلقہ کے انفرادی حالات اور دوسری بہت سی چیزوں کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔آپ نے میری پیش کردہ جن مثالوں پر گرفت فرمائی ہے، ان سب پر اور ان کے علاوہ متعدد دوسری مثالوں پر بھی علامہ موصوف نے مفصل بحث کی ہے۔

حضرت حوا کی پیدایش:

قرآن مجید میں کسی جگہ بھی یہ تصریح نہیں ہے کہ حضرت حوا کو آدم ؑ کی پسلی سے پیدا کیا گیا تھا۔زیادہ سے زیادہ اس خیال کی تائید میں جو چیز پیش کی جاسکتی ہے،وہ قرآن کا یہ ارشاد ہے:
خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا النسائ 1:4
اور (جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا ) الزمر39:6
لیکن ان دونوں آیتوں میں منھا کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ’’اسی نفس سے اس کا جوڑا بنایا‘‘ اور یہ بھی کہ ’’اِسی کی جنس سے اُس کا جوڑا بنایا‘‘۔ ان دونوں میں سے کسی معنی کو بھی ترجیح دینے کے لیے کوئی دلیل قرآن کی ان آیتوں میں نہیں ہے۔ بلکہ قرآن کی بعض دوسری آیتیں تو دوسرے معنی کی تائید کرتی ہیں۔مثلاً سورۂ روم میں فرمایا:
وَمِنْ اٰيٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا 21:30
اور سورۂ شوریٰ میں فرمایا:
جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا 42:11
یہی مضمون سورۂ نحل آیت ۷۲ میں بھی آیا ہے۔ظاہر ہے کہ ان تینوں آیتوں میں مِّنْ اَنْفُسِكُمْکے معنی مِنْ جِنْسِکُمْ ہی لیے جائیں گے، نہ یہ کہ تمام انسانوں کی بیویاں ان کی پسلیوں سے پیدا ہوئی ہیں۔اب اگر پہلے معنی کو ترجیح دینے کے لیے کوئی بنیاد مل سکتی ہے تو وہ حضرت ابو ہریرہؓ کی وہ روایات ہیں جو بخاری ومسلم نے نقل کی ہیں۔مگر ان کے الفاظ میں اختلاف ہے۔ایک روایت میں وہ نبیؐ کا ارشاد ان الفاظ میں نقل فرماتے ہیں کہ:
اَلَمَرْأَۃُ کَالضِّلْعِ اِنْ اَقَمْتَھَا کَسَرْتَھَا وَاِنْ اسْتَمْتَعْتَ بِھا اِسْتَمْتَعْتَ بِھَاَ وفِیْھَا عِوَجٌ۔
’’عورت پسلی کے مانند ہے، اگر تو اسے سیدھا کرے گا تو توڑ دے گا اور اگر اس سے فائدہ اٹھائے گا تو اس کے اندر کجی باقی رہتے ہوئے ہی فائدہ اٹھاسکے گا۔
اور دوسری روایت میں انہوں نے حضور ؐ کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:
اِسْتَوْ صُوْا بِالنِّسائِ خَیرً افَاِنَّھُنَّ خُلِقْنَ مِن ضِلَعٍ وان اَعْوَجَ شئیٌ الضِّلَعِ اَعْلَاہٗ ذَھَبْتَ تُقِیْمَہ کَسَرْتَہٗ وَاِنْ تَرَکْتَہ لَمْ یَزَلْ اَعْوَجَ فَاسْتَو صُوْا بِالنسائِ خَیْرًا۔
’’عورتوں کے معاملے میں بھلائی کی نصیحت قبول کرو، کیوں کہ وہ پسلی سے پیدا ہوئی ہیں، اور پسلی کا سب سے ٹیڑھا حصہ اس کا بالائی حصہ ہوتا ہے۔اگر تو اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کو توڑ دے گا اور اگر چھوڑ دے گا تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی۔ لہٰذا عورتوں کے معاملے میں بھلائی کی نصیحت قبو ل کرو۔‘‘
ان دونوں حدیثوں میں سے پہلی حدیث تو عورت کو پسلی سے محض تشبیہ دے رہی ہے۔اس میں سرے سے یہ ذکر ہی نہیں ہے کہ وہ پسلی سے پیدا ہوئی ہے۔البتہ دوسری حدیث میںپسلی سے پیدایش کی تصریح ہے۔لیکن یہ امر قابل غور ہے کہ اس میں حضرت حوا یا پہلی عورت یا ایک عورت کی نہیں بلکہ تمام عورتوں کی پیدایش پسلی ہی سے بیان کی گئی ہے۔( یہ الفاظ بخاری،کتاب النکاح والی روایت کے ہیں۔ دوسری روایت جو امام بخاری نے کتاب احادیث الانبیاء میں نقل کی ہے، اِس کے الفاظ ہیں: ’’ فان المراۃٔ خلقت من ضلع‘‘ کیوں کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے‘‘۔اِس صورت میں المرأۃ سے مراد ہر عورت،اور عورتوں کی پوری صنف ہوگی نہ کہ وہ ایک خاص عورت جو دنیا میں سب سے پہلے پیدا کی گئی۔ اِس سلسلے میں یہ بات حیرت انگیزہے کہ سائل نے بخاری کے حوالے سے خلقت من ضلع آدم کے الفاظ نقل کیے ہیں حالاں کہ بخاری میں کسی جگہ بھی یہ الفاظ نہیں آئے ہیں۔) کیا فی الواقع دنیا کی تمام عورتیں پسلیوں ہی سے پیدا ہوا کرتی ہیں؟اگر یہ بات نہیں ہے، اور ظاہر ہے کہ نہیں ہے، تو ماننا پڑے گا کہ یہاں خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ کے الفاظ اس معنی میں نہیں ہیں کہ وہ پسلی سے پیداکی گئی یا بنائی گئی ہیں، بلکہ اس معنی میں ہیں کہ ان کی ساخت میں پسلی کی سی کجی ہے۔ اس کی مثال قرآن مجید کی یہ ا ٓیت ہے کہ خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ۔ اس کے معنی بھی یہ نہیں ہیں کہ انسان جلد بازی سے پیدا کیا گیا ہے، بلکہ یہ ہیں کہ انسان کی سرشت میں جلد بازی ہے ۔
اس تشریح سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پسلی سے حضرت حوا کی پیدایش کا خیال قرآن ہی میں نہیں، حدیث میں بھی کسی مضبوط دلیل پر مبنی نہیں ہے۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ بنی اسرائیل سے یہ روایت نقل ہوکر مسلمانوں میں شائع ہوئی اور بڑے بڑے لوگو ں نے اسے نہ صرف قبول کیا بلکہ اپنی کتابوں میں بھی ثبت کر دیا۔ مگر کیا یہ صحیح ہے کہ اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سند کے بغیر محض بڑے لوگوں کے اقوال کی بِنا پر اسے ایک اسلامی عقیدہ ٹھیرا دیا جائے اور جو کوئی اس پر ایمان نہ لائے، اسے گمراہ قرار دیا جائے؟

رفع طور کی مزید تشریح:

رفع طور کے بارے میں جو کچھ میں نے تفہیم القرآن جلد اوّل میں صفحہ ۸۳ پر اور جلد دوم میں صفحہ ۹۵ پر ترجمہ وتشریح میں لکھا ہے،اس کو پھر غور سے پڑھیے۔ اس میںکہیں بھی پہاڑ کے اٹھائے جانے سے انکار نہیں ہے۔ صرف یہ کہا گیا ہے کہ اس اٹھائے جانے کی تفصیلی کیفیت متعین کرنا مشکل ہے۔پہاڑ کے اٹھائے جانے کی ایک صورت یہ ہے کہ پورا پہاڑ زمین سے نکال کر اوپر اٹھا لیا جائے۔دوسری صورت یہ ہے کہ پہاڑ کی جڑاُکھاڑ کر اسے ایک جانب اس طرح جھکا دیا جائے کہ وہ اپنے دامن میں کھڑے ہوئے لوگوں پر چھا جائے اور انہیں یوں محسوس ہو کہ گویا اب وہ ان پر اوندھ جائے گا۔ سورۂ بقرہ کے الفاظ رَفَعْنَا فَوْقَکُمْ سے پہلا مفہوم ذہن میں متبادر ہوتا ہے اور سورہ اعراف کے الفاظ وَاِذْ نَـتَقْنَا الْجَــبَلَ فَوْقَہُمْ كَاَنَّہٗ ظُلَّـۃٌ وَّظَنُّوْٓا اَنَّہٗ وَاقِعٌۢ بِہِمْ۝۰ۚ 171:7 دوسرے مفہوم کی طرف ذہن کو لے جاتے ہیں۔ نتق کے معنی کسی چیز کو اکھاڑنے او رجھڑ جھڑانے کے ہیں۔ قاموس میں ہے: نتقہٗ، زعزعہٗ، ونفصہٗ۔ مفردات امام راغب میں ہے: نتق الشیٔ جذبہ ونزعہ حتٰی یسترخی۔ اساس البلاغہ میں ہے: نتق البعیر الرحل، زعزعہٗ ونتق اللّٰہ الجبل رفعہٗ مزعزعًا فوقہم۔ اسی بِنا پر میر اخیال یہ ہے کہ واقعے کی ان دونوں ممکن صورتوں میں سے کسی ایک کی تعیین جزم کے ساتھ نہیں کی جاسکتی۔اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان دونو ں صورتوں کو یکساں ممکن تسلیم کرتا ہو اور کسی ایک کی تعیین میں توقف کرے تو وہ آخر کس جرم کا مرتکب ہے جس پر اتنی لے دے کی جائے؟ اس پر مزید قابل افسوس بات یہ ہے کہ لوگ جس چیز پر لے دے کرتے ہیں، اس کو میری اصل کتاب میں نکال کر دیکھنے کی زحمت بھی نہیں اٹھاتے اور محض سنی سنائی روایات پر گفتگو شروع کردیتے ہیں۔ آپ کا یہ فقرہ کہ’’کیا وجہ ہے ایک متفق علیہ مسئلے کو مجمل کہہ کر مشتبہ بنایا جاوے۔ پھر الفاظ بھی ایسے مؤکد کہ قرآن کی روح سے زیادہ مطابقت‘‘ صاف غمازی کررہا ہے کہ آپ نے تفہیم القرآن کی وہ عبارت خود نکال کر نہیں پڑھی جس پر آپ نے اس قدر شدت کے ساتھ گرفت فرمائی ہے۔ کیوں کہ اس میںکہیں یہ نہیں لکھا گیا ہے کہ یہ مجمل مفہوم جو میں بیان کررہا ہوں، یہ قرآن کی روح سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔اس غیر محتاط طریق گرفت کا مزید ثبوت یہ ہے کہ آپ اپنی تفسیر رفع کے حق میں بے تکلف بائبل کا حوالہ دے رہے ہیں۔ حالاں کہ اس واقعے کے متعلق بائبل کی عبارت میں نے تفہیم القرآن جلد دوم میں صفحہ۹۵ پر لفظ بہ لفظ نقل کردی ہے اور وہ آپ کے بیان کے بالکل خلاف ہے۔رہی تلمود، تو اگر وہ آپ کی نظر سے گزری ہو تو براہِ کرم اس کی عبارت کا حوالہ مجھے ضرور بھیج دیں۔

کیا خبر واحد وغیر متواتر مدار کفر وایمان ہے؟

آپ نے اس سوال میں بھی میر ی پوری بات نقل نہیں کی ہے بلکہ اس میں سے صرف ایک ٹکڑا نکال لیا ہے۔براہِ کرم میری پوری عبارت جو رسائل ومسائل جلد اوّل میں صفحہ ۶۶ سے ۶۸ تک ہے، بغور پڑھیے اور اس کے بعد فقہ حنفی کے نامور امام شمس الائمہ سرخسی کی حسب ذیل عبارات ملاحظہ فرمایئے جو انھوں نے اصول السرخسی میں اسی موضوع کے متعلق لکھی ہیں۔شاید کہ اس کے بعد آپ کو اطمینان ہوجائے کہ جو اُصولی بات میں نے لکھی ہے،وہ میر ی اپنی گھڑی ہوئی نہیں ہے بلکہ سلف سے مسلم چلی آرہی ہے۔امام موصوف خبر واحد کے متعلق لکھتے ہیں:
’’خبر واحد علم یقین کی موجب نہیں ہوتی،کیوں کہ اس میں راوی کی غلطی کا احتمال ہوتا ہے۔ البتہ وہ راوی کے ساتھ حسن ظن کی بِنا پر اور اس بِنا پر کہ اس کی عدالت کا حال معلوم ہونے کی وجہ سے اس کے صدق کا پہلو راجح ہوجاتا ہے، ایک ایسی دلیل ضرور قرارپاتی ہے جس کے مطابق عمل کرنا واجب ہوتا ہے۔پس اس قسم کی خبر کا حکم اس کی دلیل کی طاقت کے لحاظ سے ثابت ہے،اور وہ یہ ہے کہ اس کے انکار کرنے والے کی تکفیر نہیں کی جاسکتی، کیوں کہ اس کی دلیل موجب علم یقین نہیں ہے، اور اس کے مطابق عمل کرنا واجب ہوتا ہے، کیوں کہ اس کی دلیل موجب عمل ہے اور اس کا منکرا گر تاویل کی بنا پر انکار نہیں کرتا بلکہ بجائے خود خبر واحد ہی کو ماننے سے انکار کردیتا ہے تو اسے گمراہ قرار دیا جائے گا۔لیکن اگر وہ خبر واحد کے مطابق عمل کرنے کو واجب مانتے ہوئے تاویل کی بنا پر کسی خبرکو رد کردے تو اسے گمراہ نہیں قرار دیا جاسکتا۔‘‘ (جلد اوّل صفحہ ۲اا)
پھر وہ خبر متواتر کے متعلق فرماتے ہیں:
’’ اس کی تعریف یہ ہے کہ اسے اتنے کثیر التعداد لوگوں نے نقل کیا ہو کہ اتنے بہت سے آدمیوں اور مختلف علاقوں کے رہنے والے آدمیوں کے کسی جھوٹی بات پر متفق ہوجانے کا تصور نہ کیا جاسکتا ہو، اوران کی یہ کثرت ہمارے زمانے سے لے کر رسولؐ اﷲ تک متصلاً ہر دور میں پائی جاتی ہو۔ نمازوں کی تعداد اور نماز کی رکعات کی تعداد اور زکوٰۃ اور خون بہا کی مقداریں، اور ایسی ہی دوسری خبریں اس کی مثال ہیں… پس جب مختلف علاقوں کے رہنے والے راویوں کی کثرت تعداد کو دیکھتے ہوئے تہمت اختراع کی کوئی گنجایش باقی نہ رہی ہو تو اس طرح کی خبر گویا ایسی ہی ہے جیسے ہم خود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو سن رہے ہیں،اور یہ چیز جمہور فقہا کے نزدیک موجب علم یقین ہے۔‘‘ (جلد اوّل، صفحہ ۲۸۲ تا ۲۸۳)
اس کے بعد وہ اس خبر کو لیتے ہیں جو اپنی اصل کے اعتبار سے تو اخبار آحاد کی قسم میں داخل ہو، لیکن بہت سی روایتوں میں ایک مشترک معنی پائے جانے کی وجہ سے وہ مشترک معنی تواتر کے درجے میں آگیا ہو۔ اصطلاح میں ایسی خبر کو خبر مشہور کہا جاتا ہے۔اس کے بارے میں علما کے اختلافات کا ذکر کرنے کے بعد امام سرخسی جس قول کو ترجیح دیتے ہیں،وہ یہ ہے:
’’ عیسیٰ بن ابان رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ اس قسم کی خبریں تین اقسام پر منقسم ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جس کا انکار کرنے والے کو گمراہ کہا جاسکتا ہے، مگر کافر نہیں کہا جا سکتا۔ مثلاًوہ خبر جس کی روسے زانی محصن کی سزا رجم ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جس کے منکر کو گمراہ نہیں کہا جاسکتا البتہ خطا کار کہا جاسکتا ہے اور یہ اندیشہ ظاہر کیا جاسکتا ہے کہ وہ گناہ گار ہو، مثلاً مسح علی الخفین کی خبر، اور ایک ہی جنس کے دست بدست لین دین میں تفاضل کے حرام ہونے کی خبر۔ اور تیسری قسم وہ ہے جس کے منکر کے گناہ گار ہونے کا خطرہ تو نہیں ہے مگر اس کی رائے کو غلط ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ اور اس قسم میں باب احکام کی وہ بہت سی خبریں شامل ہیں جن کے قبول اور رد کرنے میں فقہا کے درمیان اختلافات ہیں۔‘‘ (جلد اوّل،صفحہ ۲۹۳)
اس بحث کو آپ غور سے دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ مدارکفر وایمان اگر ہوسکتے ہیں تو صرف وہ امور ہوسکتے ہیں جو کسی یقینی ذریعۂ علم سے ہم کو نبیؐ سے پہنچے ہوں اور وہ ذریعہ یا تو قرآن ہے یا پھر نقل متواتر، جس کی شرائط امام سرخسی نے واضح طور پر بیان کردی ہیں۔باقی جو چیزیں اخبار آحاد یا روایات مشہورہ سے نقل کی ہوئی ہوں،وہ اپنی اپنی دلیل کی قوت کے مطابق اہمیت رکھتی ہیں، مگر ان میں سے کسی کی بھی یہ اہمیت نہیں ہے کہ اسے ایمانیات میں داخل کردیا جائے اور اس کے نہ ماننے والے کو کافر ٹھہرایا جائے۔ مہدی علیہ السلام کے متعلق جو روایات احادیث میں آئی ہیں، ان کو اگر محدثانہ طریق پر جانچا جائے تو ان کا وہ مرتبہ بھی نہیں ٹھہرتا جو مسح علی الخفین اور ربوا لفضل کی روایات کا ہے۔

آیت رجم پر مزید بحث:

آپ کا یہ اعتراض میرے نزدیک سب سے زیادہ عجیب ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ترجمان القرآن ماہ نومبر ۵۵ء میں میری وہ بحث پوری طرح پڑھنے کی بھی ضرورت محسوس نہ کی جس پر آپ اعتراض فرما رہے ہیں۔بخاری کی جس حدیث کا آپ ذکر کررہے ہیں،اس کی تاویل میں نے پوری وضاحت کے ساتھ اپنے فقرہ نمبر ۶ میں کی ہے جو مذکورۂ بالا رسالے میںصفحہ ۵۸، ۵۹ پر درج ہے۔اس کو پڑھ کر دیکھیے، پھر بتایئے کہ اس اعتراض کی کوئی گنجایش باقی رہ جاتی ہے جو آپ نے کیا ہے؟ رہا فاروق اعظمؓ کی تقریر کا معاملہ، تو اس پر میں نے خود اپنی طرف سے ایک لفظ بھی نہیں لکھا ہے۔ہدایہ کے مشہور شارح علامہ ابن ہمام کی جو عبارت مشہور مفسر قرآن علامہ آلوسی نے ’’روح المعانی‘‘میں نقل کی تھی،اس کا صرف ترجمہ کردیا ہے۔ لیکن آپ کے نزدیک قصور وار پھر بھی میں ہی رہا۔ ان دونوں بزرگوں کو خطاب کرکے آپ نے کچھ نہ فرمایا۔ اس سلسلے میں آپ کے مزید اطمینان کے لیے عرض کرتا ہوں کہ اسی خطبے میں حضرت عمرؓ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ:
وَالرَّجُمْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ حَقٌّ عَلٰی مَنْ زَنٰی اِذَا اَحْصَنَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّسائِ اِذَا قَامَتِ الْبِیِنَّۃُ اَوْکَانَ الْحَمْلُ اَوِ الْاعْتِرافُ۔
’’کتاب اﷲ میں رجم حق ہے اس مرد وعورت پر جو احصان کے بعد زنا کرے جب کہ اس پر یا تو شہادت قائم ہوجائے یا حمل پایا جائے یا وہ خود اعتراف کرے۔‘‘
اس خطبے کا یہ ٹکڑا کہ حمل بجائے خود سزائے رجم کے لیے کافی ثبوت ہے،جمہور فقہا نے تسلیم نہیں کیا ہے۔علامہ شوکانی’’ نیل الاوطار ‘‘میں اس کے متعلق لکھتے ہیں:
’’ جمہور اس طرف گئے ہیں کہ مجرد حمل سے حد ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے یا تو شہادت زنا ہونی ضروری ہے یا پھر اعتراف ،اور اس رائے کے حق میں وہ ان احادیث سے استدلال کرتے ہیں جو شبہات میں حد جاری کرنے سے منع کرتی ہیں۔حاصل کلام یہ ہے کہ یہ حضرت عمرؓ کا قول ہے اور اس کی دلیل پر اتنا بڑا حکم ثابت نہیں ہوسکتا جو ہلاکت نفوس تک نوبت پہنچاتا ہو۔ رہی یہ بات کہ حضرت عمرؓ نے یہ مسئلہ صحابہ کرامؓ کے مجمع میں بیان کیا تھا اور اس پر کسی نے انکار نہ کیا، تو یہ استدلال صحیح نہیں ہے، کیوں کہ سامعین کے انکار نہ کرنے سے اجماع لازم نہیں آتا۔‘‘ (جلد ۷،صفحہ ۸۸)

صریح بہتان کا ایک نمونہ:

آپ کا یہ اعتراض دراصل اعتراض نہیں ہے بلکہ صریح بہتان ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات بھی آپ نے میری اصل تحریر پڑھے بغیر محض سنی سنائی تہمتوں پر یقین کرکے اپنے اعتراض نامے میں درج کردی۔ حضرت صدیق ؓ کی بندش کفالت مسطح کا قصہ ربیع الثانی ۷۵ھ کے ترجمان میں،جس کا آپ حوالہ دے رہے ہیں،سرے سے درج ہی نہیں ہے۔اس کا ذکر جمادی الاولیٰ ۷۵ھ کے ترجمان میں آیا ہے، اور اس کے اندر میں نے کہیں اشارتاً وکنایتاً بھی یہ بات نہیں لکھی ہے کہ حضرت صدیق ؓ کا یہ فعل غیر اسلامی حمیت پر مبنی تھا۔آپ مذکورہ بالا رسالے میںصفحہ ۳۰۷ کی پوری عبارت پڑھ کر بتائیں کہ یہ بات کہاں لکھی گئی ہے؟ پھر اس میں یہ کہاں لکھا گیا ہے کہ اس فعل پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عتاب ہوا اور وعید فرمائی گئی؟
اسی اعتراض کے سلسلے میں آپ ربیع الاوّل ۷۵ھ کے ترجمان کا حوالہ دے کر ایک اور عبارت کا ذکر فرماتے ہیں جو حضرت عمرؓ سے متعلق ہے، مگر ربیع الاوّل کا ترجمان اس قسم کے ہر لفظ سے خالی ہے۔براہِ کرم آپ پھر پڑھ کر بتایئے کہ یہ عبارت میری کس تحریر میں آپ کو ملی ہے۔ آپ تو صحابہ کرامؓ کی محبت کا ذکر فرماتے ہیں، مگر میرا خیال یہ ہے کہ سب سے پہلے آدمی کے دل میں خدا کا خوف ہونا چاہیے۔

ناروا تعصب:

میں نے کبھی نہ اپنے آپ کو معصوم عن الخطا سمجھا، نہ کہا۔ میںنہ صرف اپنے اوپر اور اپنی ہر بات پر تنقید کو جائزسمجھتا ہوں بلکہ خود اس کی دعوت دیتا ہوں اور اس کا خیر مقدم کرتا ہوں ۔آپ میری ہی نہیں، جماعت اسلامی کے کسی شخص کی بھی کسی عبارت کا ایک لفظ اس الزام کے ثبوت میںپیش نہیں کرسکتے کہ ہم اسلام کی تعبیر کا حق صرف اپنے لیے مخصو ص کرتے ہیں، یا اپنے آپ کو تنقید سے بالاتر سمجھتے ہیں۔لیکن اگر آپ برا نہ مانیں تو میں صاف کہوں کہ آپ نے اس نمبر میں جو کچھ لکھا ہے،وہ سراسر تعصب کی بِنا پر لکھا ہے۔ جو حضرات میرے اوپر طرح طرح کے بہتان لگاتے ہیں،میری عبارتوں کو توڑ مروڑ کر ان کو غلط معنی پہناتے ہیں، اور بدترین قسم کے جھوٹے الزامات لگا کر نہ صرف تضلیل وتکفیر کے فتوے جڑتے ہیں،بلکہ جگہ جگہ تقریروں اور اشتہاروں کے ذریعے سے میرے خلاف عوا م کو بھڑکاتے بھی پھرتے ہیں،وہ تو آپ کے نزدیک صرف ’’تنقید ‘‘ کرنے والے ہیں اور ان کا یہ فعل کسی درجے میں بھی آپ کو قابل اعتراض یا قابل شکایت نظر نہیں آتا۔البتہ ہزاروں زیادیتوں پر صبر کرنے کے بعد اگر کبھی جماعت اسلامی کے کسی شخص کی زبان وقلم سے کوئی ایک لفظ ان کی تردید میں نکل جاتا ہے تو وہ آپ کو طعن نظر آتا ہے اور اس کی آپ شکایت فرماتے ہیں۔
۱۴۔ تنقید کا لفظ جس معنی میں آپ نے اپنے اعتراض نمبر ۱۳ میں استعمال فرمایا ہے، اس معنی میں تو صحابہ کرامؓ کجا، کسی ادنیٰ سے ادنیٰ درجے کے انسان پر بھی تنقید کرنا میرے نزدیک سخت گناہ ہے۔ البتہ تنقید کے جو معنی اہل علم میں معلوم ومعروف ہیں،ان میں اﷲ تعالیٰ اور انبیا علیہم السلام کے سوا کسی انسان کو بھی میں تنقید سے بالا تر نہیں مانتا۔ کسی صحابی کا قول یا فعل بھی محض اپنے قائل وفاعل کی شخصیت کی بِنا پر حجت نہیں ہے بلکہ اس کی دلیل دیکھ کر رائے قائم کی جائے گی کہ آیا اسے قبول کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ دلیل کے لحاظ سے کسی بات کو جانچنے کا نام ہی تنقید ہے اور یہ تنقید مجھے نہیں معلوم کہ کس زمانے میں ناجائز رہی ہے۔ فقہ کے بکثرت مسائل میں مختلف صحابہ کے مختلف قولی اور عملی آثار پائے جاتے ہیں، اور ہم دیکھتے ہیں کہ تابعین اورتبع تابعین اور ائمۂ مجتہدین نے دلیل کی بِنا پر ان میں سے کسی کو قبول اور کسی کو رد کیا ہے۔آپ فقہ کی مبسوط کتابوں میں سے جس کو چاہیں اٹھا کر دیکھ لیں،آپ کو اس تنقیدکی ہزاروں مثالیں مل جائیں گی۔کیا وہ سب لو گ آپ کے نزدیک گناہ گار تھے جنہوں نے صحابہ کے مختلف اقوال وافعال میں اس طرح تنقیدی محاکمہ کیا؟ ’’اصحابی کالنجوم( واضح رہے کہ اس حدیث کی سند نہایت کمزور ہے۔) ‘‘ والی حدیث کا اگر آپ نے یہ مطلب لیا ہے کہ ہرصحابی کا ہرقول و فعل واجب الاتباع ہے تو سلف وخلف میں کوئی صاحب علم بھی مجھ کو اس کا قائل نہیں ملا۔ آپ کو ملا ہو تو اس کا نام مجھے بھی بتائیں۔ البتہ ساری اُمت اپنے دین کے ہر مسئلے میں بہرحال کسی نہ کسی صحابی کے ذریعے ہی سے رہنمائی حاصل کرتی رہی ہے، اور یہی اس حدیث کا منشا ہوسکتا ہے۔ ( ترجمان القرآن۔رمضان ۳۷۵اھ۔ مئی ۹۵۶اء)

کنیز کی تعریف اور اس کے حلال ہونے کی دلیل:

سوال: قرآن مجید نے کنیز کی کیا تعریف بیان کی ہے؟اور کنیز کے بلا نکاح حلال ہونے کی دلیل کیا ہے؟

جواب: قرآن میں کنیز کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ ’’وہ عورت جو زورِ بازو سے حاصل ہو‘‘ اور چوں کہ قرآن زور بازو کے استعمال کو صرف قتال فی سبیل اﷲ تک محدود رکھتا ہے اس لیے قرآن کی تعریف کی رو سے کنیز صرف وہ عورت ہے جو راہ خدا کی جنگ میں گرفتار ہوکر مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔
یہ تعریف اور ایسی عورت کے حلال ہونے کی دلیل ان آیات میں ہم کو ملتی ہے:
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ… وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَاۗءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ۝۰ۚ
النساء4: 23-24
’’حرام کی گئیں تمہارے لیے تمہاری مائیں… اور وہ عورتیں جو شادی شدہ ہوں ماسوا ان عورتوں کے جن کے مالک ہوئے تمہارے سیدھے ہاتھ۔‘‘
سیدھا ہاتھ عربی میں قدرت،غلبہ وقہر اور زور بازو کے مفہوم میں بولا جاتا ہے۔یہ بجائے خود کنیز کی مذکورۂ بالا تعریف کے حق میںکافی دلیل ہے۔اس پر مزید دلیل یہ ہے کہ وہ شادی شدہ عورت جس کو اس آیت میں حرمت کے حکم سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،بہرحال وہ عورت تو نہیں ہوسکتی جس کا نکاح دارالاسلام میں ہوا ہو، کیوں کہ آیت کا سیاق خود بتا رہا ہے کہ وہ ان محصنات میں شامل ہے جو حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ کے تحت آتی ہیں۔ اس لیے لامحالہ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ سے مراد وہی شادی شدہ عورتیں ہوں گی جن کے نکاح دارالحرب میں ہوئے ہوں اور پھر وہ جنگ میں گرفتار ہوکر آئی ہوں۔
رہی ان کے بلانکاح حلال ہونے کی دلیل، تو وہ یہ ہے کہ اوّل تو مذکورۂ بالا آیت میں جن شادی شدہ عورتوں کو حرام کیا گیا ہے،ان سے وہ عورتیں مستثنیٰ کردی گئی ہیں جو جنگ میں گرفتار ہوکر آئی ہوں۔ پھر اس کے بعد فرمایا:
اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاۗءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ۝۰ۭ
النساء4:24
’’اور حلا ل کیا گیا تمہارے لیے ان کے سوا دوسری عورتوں کو اس طور پر کہ تم ان کو اپنے اموال کے بدلے حاصل کرو قید نکاح میں لانے والے بن کر، نہ کہ آزاد شہوت رانی کرتے ہوئے۔‘‘
اس سے صاف معلوم ہوا کہ ملک یمین میں آئی ہوئی عورتوں کو مہر دے کر نکاح میں لانے کی ضرورت نہیں ہے،وہ اس کے بغیر ہی حلال ہیں۔
اس معنی پر یہ آیات بھی دلالت کرتی ہیں:
قَدْاَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَo الَّذِيْنَ ہُمْ فِيْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَo …وَالَّذِيْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَo اِلَّا عَلٰٓي اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَo المومنون23:1-6
’’فلاح پائی ایمان لانے والوں نے جو اپنی نماز میں خشوع برتتے ہیں… اور جو اپنی شرم گاہوں کو محفوظ رکھتے ہیں ،سوائے اپنی بیویوں یا اپنی لونڈیوں کے،کیوں کہ بیویوں اور لونڈیوں سے محفوظ نہ رکھنے پر وہ قابل ملامت نہیں ہیں۔‘‘
اس آیت میں اہل ایمان کے لیے دو قسم کی عورتوں سے تعلق شہوانی کو جائز ٹھیرایا گیا ہے۔ ایک ان کی ازواج۔ دوسرے مَا مَلَکَتْ اَ یْمَانُھُم۔ ازواج سے مراد تو ظاہر ہے کہ منکوحہ بیویاں ہیں۔ اب اگر مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ بھی منکوحہ بیویاں ہی ہوں تو ان کا ازواج سے الگ ذکر سراسر فضول ٹھیرتا ہے۔ لامحالہ اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ان سے محض ملک یمین کی بِنا پر تمتع جائز ہے۔
(ترجمان القرآن۔شوال ۳۷۵اھ، جون ۹۵۶اء)

تعدد ازواج اور لونڈیاں:

سوال: حسب ذیل آیت کی تفہیم کے لیے آپ کو تکلیف دے رہا ہوں:
وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ۝۰ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ۝۰ۭ النساء4:3
دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس آیت میں چار بیویاں کرنے کی اجازت صرف اس شخص کو ہے جو یتیم لڑکیوں کا ولی ہو اور اس کو اس امر کا اندیشہ ہو کہ وہ ان لڑکیوں کے متعلق انصاف نہ کر سکے گا؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ بیویوں کے متعلق تو تعداد کی قید ہے کہ زیادہ سے زیادہ چار بیویاں کی جاسکتی ہیں، لیکن لونڈیوں کے ساتھ تعلقات زن وشوئی قائم کرنے کے بارے میں ان کی تعداد کے متعلق کوئی تعین نہیں کیا گیا ہے۔اس کی کیا وجہ ہے؟ اگر اس کا جواب یہ ہو کہ جنگ کے زمانے میں جو عورتیں پکڑی ہوئی آئیں گی، ان کی تعداد کا تعین نہیں کیا جاسکتا،اس لیے لونڈیوں سے تمتع حاصل کرنے کے متعلق بھی تعداد کا تعین نہیں کیا گیا،تو میں یہ عرض کروں گا کہ بے شک یہ صحیح ہے اور اس لحاظ سے یہ تعین بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ایک مسلمان کے حصے میں کتنی لونڈیاں آئیں گی۔ہوسکتا ہے کہ ایک شخص کے حصے میں دس آئیں اور دوسرے کے حصے میں بیس۔ لیکن جہاں تک ان لونڈیوں سے تمتع کا تعلق ہے،اس کا تعین تو بہرحال ہوسکتا تھا کہ ایک شخص کے پاس لونڈیاں چاہے کتنی ہی ہوں ،وہ ان میں سے صرف ایک یا دو سے تمتع کرسکتاہے،جیسا کہ بیویوں کی صورت میں تحدید ہے۔
اس آزادی کے ہوتے ہوئے ایک شخص نہ صرف یہ کہ مال غنیمت میں حصے کے طور پر بہت سی لونڈیاں حاصل کرسکتا ہے ،بلکہ وہ ان کی جتنی تعداد چاہے خرید بھی سکتا ہے۔ایسی صورت میں ایک نفس پرست سرمایہ دار کے لیے کھلا ہوا موقع ہے کہ وہ جتنی لونڈیاں چاہے خریدے اور ہوس رانی کرتا رہے۔ لونڈیوں سے بلا تعین تعداد تمتع کرنے کی کھلی ہوئی اور عام اجازت دینے کی وجہ سے معاشرے کے اندر وہی خرابی داخل ہوجاتی ہے جس کو اسلام نے زنا کہہ کر سخت سزا کا مستوجب قرار دیا ہے۔ میرے خیال میں یہی سبب تھا کہ جوں جوں مسلمانوں کی سلطنتیں وسیع ہوئیں اور ان کی دولت میں اضافہ ہوا،مسلم سوسائٹی میں رجم کی سزا کے جاری ہونے کے باوجود ہوس رانی بڑھتی گئی۔ کوئی قانون ایسا نہ تھا جو اس خرابی کاانسداد کرتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہم خلفائے بنو اُمیہ اور بنوعباسیہ کے حرم میں لونڈیوں کے غول کے غول پھرتے دیکھتے ہیں اور پھر تاریخوں میں ان ذلیل سازشوں کا حال پڑھتے ہیں جو لونڈی غلاموں کے ذریعے پروان چڑھتی تھیں۔پس میری رائے یہ ہے کہ اگر لونڈیوں سے تمتع کرنے کی اجازت بھی بہ تعین تعداد ہوتی تو مسلم معاشرے میں وہ مفاسد اور نفس پرستیاں نہ پیدا ہوتیں جن کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ بہرحال ارشاد فرمایا جائے کہ شارع نے کن وجوہ ومصالح کی بِنا پر لونڈیوں سے تمتع کی اجازت دیتے ہوئے تعداد کا تعین نہیں کیا؟
اسی ضمن میں ایک تیسرا سوال یہ بھی ہے کہ اگر لونڈی مشرکہ ہو تو کیا اس کے ساتھ تمتع جائز ہے؟

جواب 🙁 اس طرح کے سوالات اور ان کے جوابات سے لوگ بسا اوقات یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید یہ مسائل حال یا مستقبل کے لیے زیر بحث آرہے ہیں۔ حالاں کہ دراصل ان سوالات کا تعلق اُس دور کے حالات سے ہے جب کہ دنیا میں اسیران جنگ کے تبادلے کا طریقہ رائج نہ ہوا تھا اور فدیے پر سمجھوتا کرنا بھی دشمن سلطنتوں کے لیے مشکل ہوتا تھا۔آج اِن مسائل پر بحث کرنے کی غرض یہ نہیں ہے کہ ہم اب لونڈیوں کی تجارت کا بازار کھولنا چاہتے ہیں بلکہ اِس کی غرض یہ بتانا ہے کہ جس دور میں اسیران جنگ کا تبادلہ اور فدیے کا معاملہ طے نہ ہوسکتا تھا،اس زمانے میں اسلام نے اِس پیچیدہ مسئلے کو کس طرح حل کیا تھا۔نیز اِس کی غرض اِن اعتراضات کو رفع کرنا ہے جو ناواقف لوگوں کی طرف سے اسلام کے اِس حل پر کیے جاتے ہیں۔ ہم نے جب کبھی اِس مسئلے سے بحث کی ہے،اِسی غرض کے لیے ہے۔ مگر افسوس ہے کہ فتنہ پرداز لوگ جان بوجھ کر اِسے یہ معنی پہناتے ہیں کہ ہم آج اِس زمانے میں بھی غلامی ہی کے طریقے کو جاری رکھنا چاہتے ہیں،خواہ اسیران جنگ کاتبادلہ اور فدیہ ممکن ہو یا نہ ہو۔ ہمیں معلوم ہے کہ وہ اِس قسم کی باتیں کسی غلط فہمی کی بِنا پر نہیں کہتے ہیں، اور ہم ان سے اتنی حیا داری کی توقع بھی نہیں رکھتے کہ وہ ہماری اِس تصریح کے بعد اپنی الزام تراشیوں سے بازآجائیں گے۔ تاہم یہ تصریح صرف اس لیے کی جارہی ہے کہ جو لوگ ان کی باتوں سے کسی غلط فہمی میں پڑ گئے ہیں،ان کی غلط فہمی دور ہوسکے۔
) آیت وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى النسائ 3:4 پر تفصیل کے ساتھ تفہیم القرآن میں نوٹ لکھ چکا ہوں۔اس کے اعادے کی حاجت نہیں۔ آپ اسے ملاحظہ فرمالیں۔جہاں تک خود اس آیت کی تفسیر کا تعلق ہے،اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں اور صحابہ وتابعین سے منقول ہیں۔ مثلاً ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اگر تم یتیموں کے ساتھ یوں انصاف نہیں کرسکتے تو ایسی عورتوں سے نکاح کرلو جن کے شوہر مرچکے ہیں اور چھوٹے چھوٹے یتیم بچے چھوڑ کر گئے ہیں۔یہ معنی اس لحاظ سے زیادہ دل کو لگتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں کہ یہ سورت جنگ احد کے بعد نازل ہوئی تھی،اور اس جنگ میں بہت سے مسلمان شہید ہوگئے تھے ۔لیکن یہ بات کہ اسلا م میں چار بیویوں سے نکاح کرنے کی اجازت ہے،اور یہ کہ بیک وقت چار سے زیادہ کی اجازت نہیں ہے،اور یہ کہ اس فرمان کا کوئی تعلق یتامیٰ کے معاملے سے نہیں ہے، محض اس آیت سے نہیں نکلتی بلکہ نبیؐ کی اس قولی وعملی تشریح سے معلوم ہوتی ہے جو آپؐ نے ان لوگوں کو جن کے نکاح میںچار سے زیادہ عورتیں تھیں،حکم دے دیا کہ وہ صرف چار رکھ لیں اور اس سے زائد جس قدر بھی ہوں، انہیں چھوڑ دیں۔ حالاں کہ ان کے ہاں یتامٰی کا کوئی معاملہ درپیش نہ تھا۔ نیز آپؐ کے عہد میں بکثرت صحابہ نے چار کی حد کے اندر متعدد نکاح کیے اور آپؐ نے کسی سے یہ نہ فرمایا کہ تمہارے لیے یتیم بچوں کی پرورش کا کوئی سوال نہیں ہے،اس لیے تم اس اجازت سے فائدہ اٹھا نے کا حق نہیں رکھتے۔ اسی بِنا پر صحابہؓ سے لے کر بعد کے ادوار تک اُمت کے تمام فقہا نے یہ سمجھا کہ یہ آیت نکاح کے لیے بیک وقت چار کی حد مقرر کرتی ہے جس سے تجاوز جائز نہیں کیا جا سکتا، اور یہ کہ چار کی اجازت عام ہے، اس کے ساتھ کوئی قید نہیں کہ یتامٰی کا کوئی معاملہ بھی درمیان میں ہو۔ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد نکاح کیے اور کسی میں یتیموں کے مسئلے کا دخل نہ تھا۔
لونڈیوں کے بارے میں آپ یہ جو تجویز پیش کرتے ہیں کہ ایک شخص کو لونڈیاں تو بلاقید تعداد رکھنے کی اجازت ہوتی مگر تمتع کے لیے ایک یا دو کی حد مقرر کردی جاتی، اس میں آپ نے صرف ایک ہی پہلو پر نگاہ رکھی ہے، دوسرے پہلوئوں پر غور نہیں فرمایا۔ تمتع کے لیے جو حد بھی مقرر کی جاتی، اس سے زائد بچی ہوئی عورتوں کے مسئلے کا کیا حل تھا؟کیا یہ کہ وہ مرد کی صحبت سے مستقل طور پر محروم کردی جاتیں؟یا یہ کہ انہیں گھر کے اندر اور اس کے باہر اپنی خواہشات نفس کی تسکین کے لیے ناجائز وسائل تلاش کرنے کی آزادی دے دی جاتی؟ یا یہ کہ ان کے نکاح لازماً دوسرے لوگوں سے کرنے پر مالکوں کو ازروئے قانون مجبور کیا جاتا اور قیدی عورتوں کو سنبھالنے کی ذمہ داری ڈالنے کے علاوہ ایک اور ذمہ داری ان پر یہ بھی ڈال دی جاتی کہ وہ ان کے لیے ایسے شوہر تلاش کرتے پھریں جو لونڈیوں کو نکاح میں لینے پر راضی ہوں؟
آپ کے تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ لونڈی سے تمتع کے لیے شریعت میں یہ قید نہیں ہے کہ وہ اہل کتاب میں سے ہو۔ اور یہ قید عقل کی رو سے بھی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ مصلحتیں آدھی سے زیادہ فوت ہوجاتیں جن کی بِنا پر اسیران جنگ کو (تبادلہ نہ ہوسکنے کی صورت میں) افراد کی ملکیت میں دینے کا طریقہ پسند کیا گیا تھا اور قیدی عورتوں سے ان کے مالکوں کو تمتع کی اجازت دی گئی تھی۔کیوں کہ اس صورت میں صرف وہ عورتیں مسلم سوسائٹی کے اندر جذب کی جاسکتی تھیں جو کسی اہل کتاب قوم میں سے گرفتار ہوکر آئی ہوں۔ غیر اہل کتاب سے جنگ پیش آنے کی صورت میں مسلمانوں کے لیے پھر یہ مسئلہ حل طلب رہ جاتا کہ ان میں سے جو عورتیں قید ہوں، ان کو دارالاسلام کے لیے فتنہ بننے سے کیسے بچایا جائے؟
(ترجمان القرآن۔شوال ۳۷۵اھ، جون ۹۵۶اء)

’’سبع سماوات‘‘اور’’رفع طور‘‘ کی صحیح تاویل:

سوال: آپ نے سورۂ بقرہ کے حاشیہ نمبر ۳۴ میں لکھا ہے کہ سات آسمانوں کی حقیقت کا تعین مشکل ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ سات آسمانوں سے انکار کر رہے ہیں۔ یا تو آپ سے اسی طرح کی غلطی ہوئی ہے جیسی غلطیاں دوسری تفاسیر میں موجود ہیں، یا پھر غلطی نہیں تو آپ یہ کیوں لکھتے ہیں کہ اس سے مراد یا یہ ہے یا وہ ہے۔آپ صاف طور پر کسی ایک مفہوم کا اقرار یا انکار کیو ں نہیں کرتے؟
اسی طرح سورۂ بقرہ کے حاشیہ نمبر ا۸ پر جو عبارت آپ نے لکھی ہے ،اس سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ طورکے اٹھائے جانے سے انکار کررہے ہیں۔اس کے متعلق بھی صراحت کریں کہ آپ کو یہ واقعہ تسلیم ہے یا نہیں؟

جواب: آپ کے پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر سات آسمانوں کی حقیقت کسی کو معلوم ہو تو وہ براہِ کرم اس کو ضرور بیان کرے۔میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ اس کی حقیقت متعین کرنا مشکل ہے، اور اگر کسی ایک زمانے کے’’علم ہیئت‘‘کی بِنا پر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ قرآن کا منشا بھی وہی ہے جو اس خاص زمانے کا علم ہیئت بیان کررہا ہے تو وہ سخت غلطی کرتا ہے۔ علم ہیئت کے نظریات ومشاہدات بدلتے رہتے ہیں۔ان میں سے کسی چیز کو قرآن کی طرف منسوب کردینا درست نہیں ہے۔ آپ حضرات اپنے مدرسوں میں جس علم ہیئت کو پڑھتے پڑھاتے رہے ہیں، اور جس کی بِنا پر قدیم مفسرین میں سے بہتوں نے آسمان کی حقیقت بیان کی ہے،اب اس کی بساط مدت ہوئی لپیٹی جاچکی ہے اور نئے مشاہدات نے اس علم کی دنیا ہی بدل دی ہے۔ان چیزوں پر اگر آپ لوگ آج اصرار کریں گے تو غلطی کریں گے، اور اگر ان کو قرآن کی طر ف منسوب کریں گے تو لوگوں کے ایمان بھی خطرے میں ڈالیں گے۔
سورۂ بقرہ کے حاشیہ نمبر ا۸ اور آیت نمبر ۸۳ کا ترجمہ پڑھ کر اگر آپ یہی سمجھے ہیں کہ میں طور کے اٹھائے جانے کا انکار کررہا ہوں تو اﷲ آپ کے فہم پر بھی رحم فرمائے اور میرے حال پر بھی۔ ذرا براہِ کرم وہ الفاظ پھر پڑھ کر دیکھیے جن سے آپ انکار کا مفہوم نکال رہے ہیں۔میں نے تو صرف یہ کہا ہے کہ اس کی تفصیلی کیفیت معلوم کرنا مشکل ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآ ن میں اسی ایک واقعے کو دو جگہ دو مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک جگہ رفع کا لفظ ہے جس کے معنی اٹھانے کے ہیں، اور دوسری جگہ نتق کا لفظ ہے جس کے معنی اکھاڑنے اور جھڑجھڑانے کے ہیں۔ اس لیے تعین کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آیا پہاڑ کو بالکل زمین سے اٹھا لیا گیا تھایا یہ اس کو جڑ سے اکھاڑ کر زمین پر رکھے رکھے ہی اس طرح ان کے سروں پر ہلایا گیا تھا کہ اس کے ان پر اوندھ جانے کا خطرہ تھا۔ (ترجمان القرآن۔ شوال ۳۷۵اھ، جون ۹۵۶اء)

حیات برزخ اور سماع موتیٰ:

سوال: تفہیم القرآن کا مطالعہ کررہا ہوں۔ الحمد ﷲ بہت اچھے طریقے سے مضامین قرآن مجید دل نشین ہوجاتے ہیں۔لیکن بعض مواقع پر کچھ اشکال محسوس ہوئے ہیں۔ ان کو پیش خدمت کیے دیتا ہوں، براہِ کرم ان کاحل تجویزفرما کر مرحمت فرمائیں۔ یہ چند معروضات اس لیے ارسال کررہا ہوں کہ میں نے آپ کی تصنیفات میں سے رسائل ومسائل حصہ اوّل ودوم اور تفہیمات حصہ اوّل و دوم کو بہ نظر غائر دیکھا ہے۔ ان میں آپ نے جن آیات اور احادیث پر قلم اٹھایا ہے،ان کے مفاہیم کو دلائل سے واضح فرمایا ہے۔بنا بریں میں امید کرتا ہوں کہ میری پیش کی ہوئی گزارشات کو بھی دلائل سے بیان فرما کر میری تشفی فرمائیں گے۔
۱۔ سورۂ یونس کی آیت فَكَفٰى بِاللہِ شَہِيْدًۢا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِيْنَo 10:29 کی تفسیر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:’’یعنی وہ تمام فرشتے اور وہ تمام جن وارواح، اسلاف واجداد، انبیا (علیہم السلام) اولیا، شہدا وغیرہ جن کو خدائی صفات میں شریک ٹھہرا کر وہ حقوق انہیں ادا کیے گئے جو دراصل خدا کے حقوق تھے،وہا ں اپنے پرستاروں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہمیں تو خبر تک نہ تھی کہ تم ہماری عبارت بجا لارہے ہو۔ تمہاری کوئی دعا، کوئی التجا، کوئی پکار او ر فریاد، کوئی نذرونیاز، کوئی چڑھاوے کی چیز، کوئی تعریف ومدح اور ہمارے نام کی جاپ اور کوئی سجدہ ریزی وآستانہ بوسی ودرگاہ گردی ہم تک نہیں پہنچی۔‘‘ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جتنے لوگ مرچکے ہیں ،خواہ وہ انبیا علیہم السلام ہوں یا اولیائے کرام ہوں، وغیرہ، ان کے مزاروں اور قبروں پر جاکر لوگ چیخیں چلائیں اور حاجات کے لیے پکاریں،وہ اس سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں اور کچھ نہیں سنتے، اور اس مضمون پر بہت سی آیات دلالت کرتی ہیں۔ مثلاً سورۂ نحل فَاَلْقَوْا اِلَيْہِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَ 16:86 میں بھی آپ نے تصریح فرمائی ہے۔ اور ’’اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی‘‘ ’’وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِي الْقُبُوْرِ‘‘ الفاطر22:35 اِنْ تَدْعُوْہُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَاءَكُمْ الفاطر 14:35 ’’وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَہٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ وَہُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕہِمْ غٰفِلُوْنَo الاحقاف 5:46 لیکن جب حدیث کی طرف نظر پڑتی ہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ مردے سنتے ہیں اور زیارت کرنے والے کو پہچان لیتے ہیں اور سلام کا جواب بھی دیتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر ذہن قلق واضطراب کا شکار ہوجاتا ہے اور کوئی صحیح مطلب برآری نہیں کرسکتا اور نہ کوئی صحیح تاویل سمجھ میں آتی ہے ۔ لہٰذا اس مضمون کی چند حدیثیں پیش خدمت کرتا ہوں،براہِ کرم ان حدیثوں کا مطلب بیان فرما کر عقدہ کشائی فرما ویں:
(۱) مقتولین بدر سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اَلَیْسَ قَدْ وَ جَدّتُمْ مَا وَعَدَکُمْ رَبُّکُمْ حَقًا فرمانا اور حضرت عمر ؓ کا یہ کہنا ’’یا رسول اللّٰہ! ما تکلم من اجساد لا ارواح لھا۔ اور حضورؐ کا ارشاد فرمانا مَا اَنْتُمْ بِاَسْمَعَ لِمَا اَقُولُ مِنْھُمْ صاف دلالت کرتاہے کہ مردے سنتے ہیں۔ اس حدیث کی تاویل جو حضرت عائشہ سے منقول ہے،اس کی رو سے حضرت عمرؓ کے سوال اور حضورؐ کے جواب میں کوئی مناسبت معلوم نہیں ہوتی۔
(۲) اخرج ابن عبدالبر وقال عبدالحق اسنادہ صحیح عن ابن عباس مرفوعًا، مَا مِنْ اَحَدٍیَمَّ بِقَبْرِ اَخِیْہِ الْمُوْمِنِ کَانَ یَعْرِفُہٗ فِی الدُّنْیا فَیُسَّلِّمُ عَلَیْہِ اِلَّا عَرَفَہ وَرَدَّ عَلَیْہ۔
(۳) فی الصحیحین من قولہ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ الْعَبْدَ اِذْا وُضِعَ فِیْ قَبَرِہٖ وَتَوَلّٰی عَنْہَ اَصْحَابُہ اَنْ یَّسْمَعَ قَرْعَ نِعَالِہِمْ۔
دوسری چیز جو قابل توضیح ہے وہ یہ ہے کہ سورہ نحل کی اس آیت : وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَـيْـــًٔـا وَّہُمْ يُخْلَقُوْنَo اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ۝۰ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَ۝۰ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَo النحل 20-21:16 کی تشریح کرتے ہوئے آپ نے فرمایا ہے کہ ’’یہاں جن بناوٹی معبودوں کی تردید کی جارہی ہے وہ فرشتے یا جن یا شیاطین یا لکڑی پتھر کی مورتیاں نہیں بلکہ اصحاب قبور ہیں۔‘‘ اور کچھ آگے چل کر تحریرفرماتے ہیں کہ ’’لامحالہ اس آیت میں وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ سے مراد انبیا،اولیا،شہدا، صالحین اور دوسرے غیر معمولی انسان ہی ہیں…الخ۔‘‘ اب عرض یہ ہے کہ سورہ بقرۃ میں اﷲ تعالیٰ نے شہدا کو موتیٰ کہنے کی نہی فرمائی ہے۔ ارشاد موجود ہے: وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ اَمْوَاتٌ۝۰ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَo البقرہ2:154 اسی سورت میں اﷲ تعالیٰ نے شہدا کو اموات غیر احیاء کیوں کہا؟ بظاہر آپ کی تشریح کے لحاظ سے ان دونوں آیتوں میں تضاد معلوم ہوتا ہے۔
’’اموات غیر احیاء‘‘ کے عموم میں آپ نے انبیا علیہم السلام کو بھی داخل کیا ہے، حالاں کہ بہت سی احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ انبیا علیہم السلام قبروں میں جسد عنصری کے ساتھ زندہ ہیں، وہ نمازیں بھی پڑھتے ہیں،سلام سنتے ہیں اور اس کا جواب بھی دیتے ہیں۔
(۱) اَلْاَنْبِیَائُ اَحْیائٌ فِیْ قُبُوْرِ ھِمْ یُصَلُّونَ۔
(۲) مَرْرْتُ بِمُوْسٰی وَھُوَقَائِمُ یَصُلّیِ فِیْ قَبَرہٖ۔
(۳) مَنْ صلّٰی عَلَّی عَنْدَ قَبَرِیْ سَمِعُتہُ وَمَنْ صَلّٰی عَلَّی نَائِیًا اُبْلغْتُہٗ۔
حتیٰ کہ بعض بزرگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ بعد از وفات حضورؐ کے ہونٹوں میں حرکت ہوئی اور جنازہ میں کلام فرمایا کہ بیراریس وما بیراریس سوف تعلمون۔ اور قبر میں کلام فرمایا جس کو بعض اصحاب نے سنا۔ یہ تو وفات کے فوری بعد کی بات تھی کہ روح نے جسم کوکلیتاً نہیں چھوڑا تھا لیکن بعد میں تاحشر بھی روح کا وہی تعلق بدن سے قائم رہے گا۔ خیر بزرگوں کے اقوال کو چھوڑیے۔ مذکورہ بالا حدیثیں آپ کی تفسیر کے خلاف پڑتی ہیں، براہِ کرم ان کی تشریح کیجیے۔

جواب: آپ نے جس اشکال کا ذکر کیاہے وہ بظاہر تو بہت پیچیدہ معلوم ہوتا ہے، لیکن تھوڑا سا غور کرنے پر ساری پیچیدگی رفع ہوجاتی ہے۔موت کے متعلق یہ بات تو عقل عام اور مشاہدے سے معلوم ومعروف ہے کہ وہ جسم اور روح کے درمیان اس تعلق کے انقطاع کا نام ہے جو عرف عام میں زندگی کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس معنی میں عام انسانوں کی طرح انبیا،اولیااور شہدا سب نے وفات پائی ہے، اور خودشریعت بھی ان کو دفن کرنے کی اجازت دیتی ہے، ان کا ترکہ تقسیم کرتی ہے (یاانبیا کے معاملے میں تقسیم ترکہ کو منع کرتی ہے)، ان کی بیوائوں کے نکاح ثانی کو جائز رکھتی ہے(یا انبیا کی حد تک اس کو حرام کرتی ہے،نہ اس بِنا پر کہ ان کے شوہرزندہ ہیں بلکہ اس بِنا پر کہ ان کی حیثیت اُمت کے لیے بمنزلۂ مادرہے) اور ان کے لیے موت یا قتل یا وفات کے الفاظ استعمال کرتی ہے۔اب لامحالہ جو زندگی ان کے لیے ثابت ہے وہ زندگی کے معروف معنی سے مختلف ہے۔اس حقیقت کو نگاہ میں رکھ کر جب آپ قرآن اور حدیث کے بیانات پر غورکریں گے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ اس زندگی سے مراد بہرحال برزخی زندگی ہی ہے،خواہ اس کے مدارج ہر ایک گروہ کے لیے کتنے ہی الگ ہوں، اور وہ موت جس کا ان کے حق میں انکار کیا گیا ہے،وہ موت بمعنی فنا اور عدم ہے نہ کہ موت بمعنی معروف۔
اس برزخی زندگی کی نوعیت، جیسا کہ میں نے اوپر اشارہ کیا، ہر ایک گروہ کے حق میں الگ ہے۔ ایک زندگی کفار وفجار کی ہے، مگر وہ حوالاتیوں کی سی زندگی ہے جس میں ان کے لیے عذاب ہی عذاب ہے۔ انعام و اکرام کا کوئی پہلو اس میں نہیں ہے۔ اﷲ تعالیٰ ان کو بھی سنواتا ہے مگر کوئی خوش خبری نہیںبلکہ اس طرح کی باتیں جیسی کہ مقتولین بدر کو نبیؐ کی زبان مبارک سے سنوائیں تاکہ ان کے الم میں اور اضافہ ہو۔ ان میں سے اگر کچھ لوگ دنیا میں پوجے جاتے ہوں تو اﷲ تعالیٰ اس کی سماعت کا کوئی موقع ان کو نہیں دیتا کہ اس سے وہ راحت پاسکیں۔ بخلاف اس کے انبیا اور اولیا اور شہدا وصالحین کی زندگی عالی قدر مہمانوں کی سی زندگی ہے جو فیصلۂ آخرت سے پہلے ہی میزبانی کے نعائم سے سرفراز ہورہے ہیں۔اﷲ تعالیٰ ان کے لیے راحت اور لطف کے سامان فراہم کررہا ہے اور تکلیف دینے والی ہر چیز سے ان کو محفوظ رکھ رہا ہے۔ انہیں جو کچھ سننے کا موقع دیا جاتا ہے ،وہ اہل دنیا کے سلام و درودہیں،نہ کہ وہ مشرکانہ باتیں جو جہلاء ان کے بارے میں کرتے ہیں ،کیوں کہ وہ ان کو رنج پہنچانے والی ہوں گی نہ کہ خوش کرنے والی۔ظاہر بات ہے کہ جن بزرگوں نے اپنی ساری عمر شرک کو مٹانے کی کوشش میں کھپا دی،وہ اگر یہ سنیں گے کہ آج خود انھی کو حاجت روائی ومشکل کشائی کے لیے پکارا جارہا ہے تو اس سے بڑھ کر ان کے لیے رنج دہ کوئی دوسری بات نہیں ہو سکتی۔ اس لیے اﷲ تعالیٰ یہ باتیں ان کو سنا کر ان کا عیش ہرگز منغض نہ فرمائے گا۔
اس تشریح کے بعد مجھے امید ہے کہ آپ کو آیات قرآنی اور حدیث نبویؐ کے درمیان کوئی تعارض محسوس نہ ہو گا۔ دونوں جگہ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف پہلو بیان ہوئے ہیں، مگر چوں کہ ان کی درمیانی کڑی کہیں تصریحات میں مذکور نہیں ہے اس لیے بظاہر ان میں تعارض نظر آتا ہے۔ تمام بیانات کو جمع کرکے بغور پڑھا جائے تو درمیانی کڑی انہی کے بین السطور سے مل جاتی ہے اور ظاہری تعارض رفع ہوجاتا ہے۔ (ترجمان القرآن۔ رجب ۳۷۵اھ، مارچ ۹۵۶اء)

قرآن مجید میں قراء توں کا اختلاف:

سوال: ذیل میں درج شدہ مسئلہ کے متعلق آپ کی رہنمائی چاہتا ہوں۔ اُمید ہے تفصیلی دلائل سے واضح فرمائیں گے۔
قرآن مجید کے بارے میں ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ بعینہٖ اسی صورت میں موجود ہے جس صورت میں حضور اکرمؐ پر نازل ہوا تھا۔ حتیٰ کہ اس میں ایک شوشے یا کسی زیر زبر کی بھی تبدیلی نہیں ہوئی… لیکن دوسری طرف بعض معتبر کتب میں یہ درج ہے کہ کسی خاص آیت کی قراء ت مختلف طریقوں سے مروی ہے جن میں اعراب کا فرق عام ہے۔ بلکہ بعض جگہ تو بعض عبارات کے اختلاف کا ذکر تک کیا گیا ہے۔
اگرپہلی بات صحیح ہو تو اختلاف قراء ت ایک مہمل سی بات نظر آتی ہے،لیکن اس صورت میں علما کا اختلاف قراء ت کی تائید کرنا سمجھ میں نہیں آتا۔ اور اگر دوسری بات کوصحیح مانا جائے تو قرآن کی صحت مجروح ہوتی نظر آتی ہے۔یہ بات تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اعراب کے فرق سے عربی کے معانی میںکتنا فرق ہوجاتا ہے۔
یہاں میں یہ عرض کردینا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ منکرین حدیث کی طرف میرا ذرہ بھر بھی میلان نہیں ہے، بلکہ صرف مسئلہ سمجھنے کے لیے آپ کی طرف رجوع کررہا ہوں۔

جواب: یہ بات اپنی جگہ بالکل صحیح ہے کہ قرآن مجید آج ٹھیک اسی صورت میں موجود ہے جس میں وہ نبیؐ پر نازل ہوا تھا،اور اس میں ذرّہ برابر کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے ۔لیکن یہ بات بھی اس کے ساتھ قطعی صحیح ہے کہ قرآن میں قراء توں کا اختلاف تھا، اور ہے۔ جن لوگوں نے اس مسئلے کا باقاعدہ علمی طریقے پر مطالعہ نہیں کیا ہے وہ محض سطحی نظر سے دیکھ کر بے تکلف فیصلہ کردیتے ہیں کہ یہ دونوں باتیں باہم متضاد ہیں اوران میں سے لازماً کوئی ایک ہی بات صحیح ہوسکتی ہے،یعنی اگر قرآن صحیح طورپر حضور ؐ سے نقل ہوا ہے تو اختلافات قراء ت کی بات غلط ہے، اور اگر اختلاف قراء ت صحیح ہے تو پھر معاذ اﷲ،قرآن ہم تک صحیح طریقے سے منتقل نہیں ہوا ہے۔حالاں کہ فیصلے صادر کرنے سے پہلے یہ لوگ کچھ علم حاصل کرنے کی کوشش کریں تو خود بھی غلط فہمی سے بچ جائیں اور دوسروں کو غلط فہمیوں میں مبتلا کرنے کا وبال بھی اپنے سر نہ لیں۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جس رسم الخط میں ابتدائً نبی ؐ نے وحی کی کتابت کرائی تھی اور جس میں حضرت ابو بکرؓنے پہلا مصحف مرتب کرایا اور حضرت عثمانؓنے جس کی نقل بعد میں شائع کرائی، اس کے اندر نہ صرف یہ کہ اعراب نہ تھے بلکہ نقطے بھی نہ تھے۔ کیوں کہ اس وقت تک یہ علامات ایجاد نہ ہوئی تھیں۔ اس رسم الخط میں پورے قرآن کی عبارت یوں لکھی گئی تھی:

اس طرز تحریر کی عبارتوں کو اہل زبان اٹکل سے پڑھ لیتے تھے اور بہرحال بامعنی بنا کر ہی پڑھا کرتے تھے۔ لیکن جہاں مفہوم کے اعتبار سے متشابہ الفاظ آجاتے یا زبان کے قواعد ومحاورہ کی رو سے ایک ہی لفظ کے کئی تلفظ یا اعراب ممکن ہوتے،وہا ں خود اہل زبان کو بھی بکثرت التباسات پیش آجاتے تھے اور یہ تعین کرنا مشکل ہوجاتا تھا کہ لکھنے والے کا اصل منشا کیا ہے۔مثلاًایک فقرہ اگر یوں لکھا ہو کہ  تو اسے رَبَّنَا بَاعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا بھی پڑھا جاسکتا تھا اور رَبُّنَا بَعَّدَ بَیْنَ اَسْفَارِنَا بھی۔ اسی طرح اگر ایک عبارت یوں لکھی ہو کہ الی العطام کیف  ھا تو اسے اُ نْظُرْ اِلَی الْعِظَامِ کَیْفَ نُنْشِزُھَا بھی پڑھا جاسکتا تھا اور کَیْفَ نَنْشُرُھَا بھی۔
یہ اختلافات تو اس رسم الخط کے پڑھنے میں اہل زبان کے درمیان ہوسکتے تھے۔لیکن ایک عربی تحریر اگر اسی رسم الخط میں غیر اہل زبان کو پڑھنی پڑ جاتی تو وہ اس میں ایسی سخت غلطیاں کر جاتے جو قائل کے منشا کے بالکل برعکس معنی دیتی تھیں۔مثلاً ایک دفعہ ایک عجمی نے آیت ’’ اَنَّ اللہَ بَرِيْۗءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ۥۙ وَرَسُوْلُہٗ۝۰ۭ‘‘التوبہ 3:9 میں لفظ ورَسُوْلُہ ٗ کا اعراب و رَسُوْلِہٖ پڑھا جس سے معنی یہ بن گئے کہ ’’اﷲ بری الذمہ ہے مشرکین سے اور اپنے رسول سے۔‘‘( معاذ اﷲ)
پھر یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قرآن میں اعراب لگانے کی ضرورت سب سے پہلے بصرے کے گورنر زیاد نے محسوس کی جو ۴۵ھ سے ۵۳ھ تک وہاں کا گورنر رہا تھا۔اس نے ابوالاسوددُئولی سے فرمایش کی کہ وہ اعراب کے لیے علامات تجویز کریں۔ اور انہوں نے یہ تجویز کیا کہ مفتوح حرف کے اوپر، مکسور حرف کے نیچے اور مضمون حرف کے بیچ میں ایک ایک نقطہ لگادیا جائے۔ اس کے بعد عبدالملک بن مروان( ۶۵ھ تا ۸۶ھ) کے عہد حکومت میں حجاج بن یوسف والی عراق نے دو علما کو اس کام پر مامور کیا کہ وہ قرآن کے متشابہ حروف میں تمیز کرنے کی کوئی صورت تجویزکریں ۔چنانچہ انہوں نے پہلی مرتبہ عربی زبان کے حروف میں بعض کو منقوط اور بعض کو غیر منقوط کرکے اور منقوط حروف کے اوپر یا نیچے ایک سے لے کر تین تک نقطے لگا کر فرق پیدا کیا اور ابو الاسود کے طریقے کو بدل کر اعراب کے لیے نقطوں کے بجائے زیر،زبر،پیش کی وہ حرکات پیش کیں جو آج مستعمل ہیں۔
ان دونوں تاریخی حقیقتوں کو نگاہ میں رکھ کر دیکھیے کہ اگر قرآن کی اشاعت کا دارو مدار صرف تحریر پر ہوتا تو جس رسم الخط میں اُمت کو یہ کتاب ملی تھی،اس کو پڑھنے میں تلفظ اور اعراب ہی کے نہیں، متشابہ حروف کے بھی کتنے بے شمار اختلافات ہوگئے ہوتے۔محض زبان اور اس کے قواعد کی بِنا پر خود اہل زبان بھی اگر نقطے اور اعراب لگانے بیٹھتے تو قرآن کی ایک ایک سطر میں بیسیوں اختلافات کی گنجایش نکل سکتی تھی اور کسی ذریعے سے یہ فیصلہ نہ کیا جاسکتاتھا کہ اصل عبارت جو نبیؐ پر نازل ہوئی تھی وہ کیا تھی۔ اس کا اندازہ آپ خود اس طرح کرسکتے ہیں کہ اردو زبان کی کوئی عبارت بے نقط لکھ کر دس بیس زبان دان اصحاب کے سامنے رکھ دیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے کسی کی قراء ت بھی کسی دوسر ے کی قراء ت کے مطابق نہ ہوگی۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن میںنقطے اور اعراب لگانے کا کام محض لغت اور قواعد زبان کی مہارت کے بل بوتے پر نہیں کیا جاسکتا تھا، کیوں کہ اس طرح ایک مصحف نہیں، بے شمار مصاحف تیار ہوجاتے جن میں الفاظ اور اعرابوں کے ان گنت اختلافات ہوتے اور کسی نسخے کے متعلق بھی یہ دعویٰ نہ کیا جاسکتا کہ یہ ٹھیک اس تنزیل کے مطابق ہے جو نبی ؐ پر نازل ہوئی تھی۔
اب وہ کیا چیز ہے جس کی بدولت آج دنیا بھر میں ہم قرآ ن کا ایک ہی متفق علیہ متن پارہے ہیں اور جس کی بدولت قراء توں کے اختلافات امکانی وسعتوں تک پھیلنے کے بجائے صرف چند متواتر یا مشہور اختلافات تک محدود رہ گئے؟ یہ اسی نعمت کا صدقہ ہے جس کی قدر گھٹانے اور جس پر سے اعتماد اٹھانے کے لیے منکرین حدیث ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں،یعنی روایت!
اوپر جن دو تاریخی حقیقتوں کا ذکر کیا گیا ہے،ان کے علاوہ ایک تیسری اہم ترین تاریخی حقیقت بھی ہے،اور وہ یہ ہے کہ قرآن کی اشاعت ابتدائً تحریر کی صورت میں نہیں بلکہ زبانی تلقین کی صورت میں ہوئی تھی۔ نبی ؐ نے قرآن کی عبارات کو کاتبان وحی سے لکھوا کر محفوظ تو ضرور کرادیا تھا، لیکن عوام میں اس کے پھیلنے کا اصل ذریعہ یہ تھا کہ لوگ براہِ راست حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قرآن کو سن کر یاد کرتے تھے اور پھرحضور صلی اللہ علیہ وسلمسے سیکھنے والے آگے دوسروں کو سکھاتے اور حفظ کراتے تھے۔اس طرح قرآن کا صحیح تلفظ اور صحیح اعراب،جو عین تنزیل کے مطابق تھا،ہزارہا آدمیوں کو حضورؐ سے معلوم ہوا اور پھر لاکھوں آدمیوں کو حضورؐ کے شاگردوں کی زبانی تعلیم سے حاصل ہوا۔ صحابہ کرامؓ میں ایک معتدبہ گروہ ایسے اصحاب کا تھا جنہوں نے پورا قرآن لفظ بلفظ حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور یاد کیا تھا۔ ہزارہا اصحاب ایسے تھے جو قرآن کے مختلف اجزا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کرچکے تھے۔اور ایک بہت بڑی تعداد ان صحابیوں کی تھی جنہوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں تو آپ سے صرف بعض اجزائے قرآن کی تعلیم حاصل کی تھی، مگر آپؐ کے بعد پورے قرآن کی قراء ت لفظ بلفظ ان اصحاب سے سیکھی جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو سیکھ چکے تھے۔یہی اصحاب وہ اصل ذریعہ تھے جن کی طرف بعد کی نسل نے قرآن کی صحیح قراء ت (reading) معلوم کرنے کے لیے رجوع کیا۔ اس قراء ت کا حصول محض لکھے ہوئے مصحف سے ممکن نہ تھا۔ یہ چیز صرف اسی طرح حاصل ہوسکتی تھی کہ مصحف مکتوب کو ان جیتے جاگتے مصاحف سے پڑھ کر اس کی اصل عبارت تک رسائی حاصل کی جائے۔
یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے قرآن کے جو مستند نسخے لکھوا کر مملکت کے مختلف مراکز میں رکھوائے تھے،ان کے سا تھ ایک ماہر قراء ت کوبھی مقرر کیاتھا تاکہ وہ ان نسخوں کو ٹھیک طریقے سے پڑھنا لوگوں کو سکھائے۔ مدینہ میں حضرت زیدؓ بن ثابت اس خدمت پر مامور تھے۔مکہ میں حضرت عبداﷲؓ بن سائب کو خاص طور پر اسی کام کے لیے بھیجا گیا تھا۔ شام میں مغیرہؓ بن شہاب ،کوفہ میں ابو عبدالرحمن السلمیؓ اور بصرہ میں عامرؓ بن عبدالقیس اس منصب پر مامور کیے گئے تھے۔ان کے علاوہ جہاں بھی جو صحابی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست یا آپؐ کے بعد قرا ء صحابہ سے قرآن کی پوری قراء ت سیکھے ہوئے تھے، ان کی طرف ہزارہا آدمی اس مقصد کے لیے رجوع کرتے تھے کہ قرآن کا صحیح تلفظ اور صحیح اعراب لفظ بلفظ ان سے سیکھیں۔
ان عام متعلّمین قرآن کے علاوہ تابعین وتبع تابعین کے عہد میں ایک گروہ ایسے بزرگوں کا بھی پیدا ہوگیا جنہوں نے خصوصیت کے ساتھ قراء ت قرآن میں اختصاص پیدا کیا۔یہ لوگ ایک ایک لفظ کے تلفظ، طریق ادا اور اعراب کو معلوم کرنے کے لیے سفر کرکر کے ایسے اساتذہ کے پاس پہنچے جو رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تر نسبت تلمذ رکھتے تھے، اور ہر ہر لفظ کی قراء ت کے متعلق یہ نوٹ کیا کہ اسے انہوں نے کس سے سیکھا ہے اور ان کے استاد نے کس سے سیکھا تھا۔ اسی مرحلے میں یہ بات تحقیق ہوئی کہ مختلف صحابیوں اور ان کے شاگردوں کی قراء ت میں کہاں کہاں اور کیا کیا اختلافات ہیں۔ ان میں سے کون سے اختلافات شاذ ہیں،کون سے مشہور ہیں، کون سے متواتر( شاذ سے مراد کسی لفظ کی وہ قراء ت ہے جو کسی ایک ذریعے سے معلوم ہوئی ہو۔ مشہور سے مراد وہ قراء ت جس کی روایت کرنے والے متعدد اصحاب ہوں۔ اور متواتر سے مراد وہ قراء ت جو کثیر التعداد اصحاب نے کثیر التعداد اصحاب سے سنی ہو اور نبیؐ سے بھی اِس کے سننے والے کثیر التعداد ہوں۔)ہیں،اور ہر ایک کی سند کیا ہے۔
پہلی صدی کے دور آخر سے لے کر دوسری صدی تک اس طرح کے ماہرین قراء ت کا ایک گروہ کثیر دنیائے اسلام میں موجود تھا، مگر ان میں سے خاص طور پر جن لوگوں کاکمالِ علم تمام اُمت میں تسلیم کیا گیا،وہ حسب ذیل سات اصحاب ہیں جو قرائے سبعہ کے نام سے مشہور ہیں:
(۱) نافع بن عبدالرحمن متوفی ۶۹اھ: یہ اپنے وقت میں مدینہ کے رئیس القراء مانے جاتے تھے۔ان کا سب سے زیادہ معتبر سلسلۂ تلمذیہ تھا کہ انہوں نے حضرت عبداﷲ بن عباسؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ سے پورا قرآن پڑھا، انہوں نے ابیؓ بن کعب سے اور انہوں نے رسول اﷲؐ سے۔
(۲) عبداﷲ بن کثیر: یہ مکہ کے امام قراء ت تھے۔۴۵ھ میں پیدا ہوئے اور ۲۰اھ میں وفات پائی۔ان کے خاص استاد عبدا ﷲ بن سائب مخزومی تھے جنہیں حضرت عثمانؓ نے قرآن کے سرکاری نسخے کے ساتھ تعلیم دینے کے لیے مکہ بھیجا تھا۔ اور عبداﷲ بن سائب وہ بزرگ تھے جنہوںنے حضرت عمرؓ اور حضرت اُبیؓ بن کعب سے پورا قرآن پڑھا تھا۔
(۳) ابو عمرو بن العلاء البصری: ۶۸ھ میں پیدا ہوئے اور ۵۵اھ میں وفات پائی۔ حرمین اور کوفہ وبصرہ کے کثیر التعداد ائمۂ قراء ت سے علم حاصل کیا۔ ان کے سب سے زیادہ معتبر سلسلۂ تلمذدو تھے۔ ایک مجاہد اور سعید بن جبیر کا سلسلہ جو حضرت عبداﷲ بن عباسؓ کے واسطے سے حضرت ابی بن کعبؓ تک پہنچتا تھا۔ دوسرا حسن بصریؒ کا سلسلہ جن کے استاذ ابو العالیہ تھے اور وہ حضرت عمرؓ بن الخطاب کے شاگرد تھے۔
(۴) عبداﷲ بن عامر: یہ اہل شام میں قراء ت کے امام مانے گئے۔ ۸ ہجری میں پیدا ہوئے اور ۱۱۸ھ میں وفا ت پائی۔ بڑے بڑے صحابہ ؓ سے قراء ت سیکھی تھی۔ ان کے خاص استاذ مغیرہ بن شہاب مخزومی تھے جنہوں نے حضرت عثمان سے قراء ت کا علم حاصل کیا تھا۔پھر حضرت عثمانؓ کے زمانے میںقرآن کا جوسرکاری نسخہ شام بھیجا گیا تھا ،اس کے ساتھ یہی مغیرہ بن شہاب تعلیم قراء ت پر مامور کرکے بھیجے گئے تھے۔
(۵) حمزہ بن حبیب الکوفی: ۸۰ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۵۷ھ میں وفات پائی۔ان کا خاص سلسلۂ سند عن الاعمش، عن یحییٰ بن وثاب،عن زَرّ بن حُبَیش،عن علیؓ وعثمانؓ وابن مسعودؓ ہے۔ اپنے وقت میں یہ کوفہ کے امام اہل قراء ت مانے جاتے تھے۔
(۶) علی الکسائی: یہ حمزہ کے بعد کوفہ کے امام قراء ت مانے گئے۔یہ بیک وقت نحو کے امام بھی تھے اور قراء ت کے امام بھی۔ان کی مجلس میں سیکڑوں آدمی اپنے اپنے مصاحف لے کر بیٹھ جاتے، اور یہ قرآن کے ایک ایک لفظ کا صحیح تلفظ ،طریق ادا اور اعراب بتاتے جاتے تھے۔۸۹اھ میں وفات پائی۔
(۷) عاصم بن ابی النجود:کوفہ کے شیخ القراء۔ ۲۷اھ میں وفات پائی۔ان کے معتبر ترین ذریعۂ علم قراء ت دو تھے۔ایک زر بن حبیش، جنہو ں نے حضرت علی ؓ و عبداﷲؓ بن مسعود سے قراء ت کا علم حاصل کیا تھا۔دوسرے عبداﷲ بن حبیب السلمی، جنہوں نے حضرت علیؓ، حضرت عثمانؓ،حضرت زیدؓ بن ثابت اور حضرت ابیؓ بن کعب سے قرآن کی تعلیم حاصل کی تھی اور بعد میں حضرت علیؓ نے ان کو امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کا معلم قراء ت مقرر کیا تھا۔ آج قرآن کا جو نسخہ ہمارے ہاتھوں میں ہے،وہ انہی عاصم بن ابی النجود کے مشہور ترین شاگرد حفص(۹۰ھ تا ۱۸۰ھ) کی روایت کے مطابق ہے۔
ان سات اصحاب کے علاوہ مزید جن اصحاب کی قراء توں نے شہرت حاصل کی وہ یہ ہیں:
ابو جعفر،یعقوب،خلف ،حسن بصری،ابن محیصن، یحییٰ الیزیدی اور الشنبوذی۔
ان قراء کے زمانے میں سیکڑوں ہزاروں آدمی ایسے موجود تھے جنہیں انہی ذرائع اور سندوں سے یہ قراء تیں پہنچی تھیں جن سے وہ ان کو پہنچی تھیں۔وہ بھی انہی استادوں کے شاگرد تھے جن کے یہ لوگ شاگرد تھے، اور ان سب کے پاس ہر ایک قراء ت کے لیے پورا سلسلۂ اسناد موجود تھا جو کسی صحابی کے واسطے سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا تھا۔ اس لیے ان میں سے کسی امام قراءت کے بارے میں بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اپنی قراءت کی روایت میں منفرد تھا۔ دراصل ہر ایک کی قراء ت کے بکثرت گواہ دنیائے اسلام کے ہر حصے میں پائے جاتے تھے۔ اسی وجہ سے ان اماموں کی قراء تیں اُمت میں مسلم مانی گئیں۔
مختلف قراء توں کو رد یا قبول کرنے کے لیے اہل فن کے درمیان جن شرائط پر قریب قریب مکمل اتفاق پایا جاتا ہے وہ یہ ہیں:
اوّل یہ کہ جو قراء ت بھی ہو،وہ مصحف عثمانی کے رسم الخط سے مطابقت رکھتی ہو۔ اس رسم الخط میں جس قراء ت کی گنجایش نہ ہو،وہ کسی حال میں قبول نہیں کی جائے گی۔ مثلاً مصحف عثمانی میں اگر لفظ  لکھا گیا ہے تو اس کی قراء ت بٰعِدْ اور بعَّدَ تو قبول کی جاسکتی ہے مگر بَعَّدْتَ قبول نہیں کی جاسکتی،کیوں کہ وہ مستند سرکاری متن کے خلاف پڑتی ہے۔
دوم یہ کہ قراء ت ایسی ہو جو لغت، محاورے اور قواعد زبان کے خلاف نہ ہو اور عبارت کے سیاق وسباق سے مناسبت رکھتی ہو۔
ان دونوں شرطوں کے ساتھ تیسری اہم ترین شرط یہ ہے کہ ایک قراء ت اسی صورت میں قابل قبول ہوگی جب کہ اس کی سند معتبر اور مسلسل واسطوں سے نبیؐ تک پہنچتی ہو۔ ورنہ محض یہ بات کہ ایک قراء ت کے لیے مصحف کے رسم الخط میں گنجایش ہے اور قواعد زبان کے لحاظ سے بھی ایک سیاق وسباق میں کوئی لفظ اس طرح پڑھا جاسکتا ہے،اس کو قبول کرلینے کے لیے کافی نہیں ہے۔ ہر قراء ت کے لیے اس امر کا ثبوت لازماً ہونا چاہیے کہ اس لفظ یا اس عبارت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح پڑھا تھا یا کسی صحابی کو اس طرح پڑھایا تھا۔ یہی آخری شرط وہ اصل نعمت ہے جس کی بدولت قرا ء توں کے وہ بے شمار ممکن اختلافات، جن کی گنجایش مصحف عثمانی کے رسم الخط اور زبان ومحاورہ میں نکل سکتی تھی، گھٹ کر چند مستند اختلافات تک محدود رہ گئے اور ہم کو یہ سعادت میسر آئی کہ قرآن جیسا نبیؐ نے پڑھایا تھا ویسا ہی آج ہم پڑھ سکیں۔
اب رہ گیا یہ سوال کہ معتبر قاریوں کے واسطے سے متواتر اور مشہور سندوںکے ساتھ جومختلف قراء تیں ہم تک پہنچی ہیں،ان کے اختلافات کی نوعیت کیا ہے؟ کیا فی الواقع حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی بعض الفاظ کو مختلف طریقوں سے پڑھا اور پڑھایا تھا یا ان میں سے کسی قراء ت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط نسبت دے دی گئی ہے؟اور کیایہ قراء تیں معنی کے لحاظ سے متضاد ہیں یا ان میں کوئی مطابقت پائی جاتی ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ فی الواقع حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے بعض الفاظ مختلف طریقوں سے پڑھے اور پڑھائے ہیں اور ان مختلف قراء توں میں درحقیقت تضاد نہیں ہے بلکہ غور کرنے سے ان میں بڑی گہری معنوی مناسبت اور افادیت پائی جاتی ہے۔
مثال کے طور پر  کی دو متواتر قراء تیں ہیں۔ عاصم، کسائی،خلف اور یعقوب نے کثیر التعداد صحابہ کی سند سے اس کو مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ روایت کیا ہے، اور دوسرے قاریوں نے بہت سے صحابہؓ سے اس کی قراء ت مَلِکِ یَوْمِ الدِّیْن نقل کی ہے۔ ایک قراء ت کی رو سے ترجمہ ہو گا ’’روز جزا کا مالک‘‘ اور دوسری قراء ت کا ترجمہ ’’روز ِجزاکا بادشاہ‘‘۔ غور کیجیے، کیا ان دونوں میں تضاد ہے؟ درحقیقت ان دو قراء توں نے مل کر تو معنی کو اور زیادہ وسعت دے دی اور مدعا کو پوری طرح نکھار دیا۔ سند سے قطع نظر، عقل بھی کہتی ہے کہ جبریل نے دونوں قراء توں کے ساتھ یہ لفظ حضورؐ کو سکھایا ہو گا اور حضورؐ اس لفظ کو کبھی ایک طرح اور کبھی دوسری طرح پڑھتے ہوں گے۔
ایک اور مثال آیت وضو کی ہے جس میں اَرْجُلُکُمْ کی دو متواتر قراء تیں منقول ہوئی ہیں۔نافع، عبداﷲ بن عامر، حفص، کسائی اور یعقوب کی قراء ت اَرْجُلَکُمْ ہے جس سے پائوں دھونے کاحکم ثابت ہوتا ہے، اور عبداﷲ بن کثیر،حمزہ بن حبیب، ابو عمرہ بن العلاء اور عاصم کی قراء ت اَرْجُلِکُمْ ہے جس سے پائوں پر مسح کرنے کا حکم نکلتا ہے۔ بظاہر ایک شخص محسوس کرے گا کہ یہ دونوں قراء تیں متضاد ہیں۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے معلوم ہوگیا کہ دراصل ان میں تضاد نہیں ہے بلکہ یہ دو مختلف حالتوں کے لیے دو الگ الگ احکام کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔بے وضو آدمی کو وضو کرنا ہو تو اسے پائوں دھونا چاہیے۔ باوضو اگر تجدید وضو کرے تو وہ صرف مسح پر اکتفا کرسکتا ہے۔ وضو کرکے اگر آدمی پائوں دھونے کے بعد موزے پہن چکا ہو تو پھر بحالت قیام ایک شب وروز تک اور بحالت سفر تین شب وروز تک وہ صرف موزوں پر مسح کر سکتا ہے۔ حکم کی یہ وسعت ان دو قراء توں کی بدولت ہی واضح ہوتی ہے۔
اسی طرح دوسرے جن جن مقامات پر بھی قرآن کی متواتر اور مشہور قراء توں میں اختلافات پائے جاتے ہیں، ان میں کسی جگہ بھی آپ تضاد اور تصادم نہ پائیں گے۔ہر قراء ت دوسری قراء ت کے ساتھ ایک نیا فائدہ دیتی ہے جو تھوڑے سے غور وفکر اور تحقیق سے آپ کو معلوم ہوسکتا ہے۔

تفسیر قرآن کے اختلافات:

سوال: قرآن پاک کی مختلف تفسیریں کیوں ہیں؟آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تفسیر بیان کی ہے ،وہ ہوبہو کیوں نہ لکھ لی گئی؟ کیا ضرورت ہے کہ لوگ اپنے اپنے علم کے اعتبار سے مختلف تفسیریں بیان کریں اور باہمی اختلافات کا ہنگامہ برپا رہے؟

جواب: قرآن پاک کا جو فہم، دین کے حقائق اور اس کے احکام جاننے کے لیے ضروری تھا، اس کی حد تک تونبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ارشادات اور اپنے عمل سے اس کی تفسیر فرما گئے ہیں۔ لیکن ایک حصہ لوگوں کے غور وخوض او رفکر وفہم کے لیے بھی چھوڑا گیا ہے تاکہ وہ خود بھی تدبر کریں۔اس حصے میں اختلافات کا واقع ہونا ایک فطری امر ہے۔اﷲ تعالیٰ کا منشا اگر یہ ہوتا کہ دنیا میں سرے سے کوئی اختلاف ہو ہی نہیں تو وہ تمام انسانوںکو خود ہی یکساں فہم عطا فرماتا، بلکہ عقل و فہم اور اختیار کی قوتیں عطا کرنے کی ضرورت نہ تھی، اور اس صورت میں آدمی کے لیے نہ کوشش کا کوئی میدان ہوتا نہ ترقی وتنزل کا کوئی امکان۔ (ترجمان القرآن ،اگست ۹۵۹اء)

کیا جنّ انسانوں ہی کی ایک قسم ہے؟

سوال: یہ بات غالباً آپ کے علم میں ہوگی کہ قرآن کے بعض نئے مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ قرآن میں جن وانس سے مراد دو الگ الگ قسم کی مخلوق نہیں ہے، بلکہ جنوں سے مراد دیہاتی اور انسانوں سے مراد شہری لوگ ہیں۔ آج کل ایک کتاب’’ابلیس وآدم‘‘زیر مطالعہ ہے۔اس میں دیگر جملہ دور ازکار تاویلات سے قطع نظر ایک جگہ استدلال قابل غور معلو م ہوا۔مصنف لکھتے ہیں: ’’سورۂ اعراف( ۷) کی آیت میں بنی آدم سے کہا گیا ہے کہ رسول تم میں سے (مِنْکُمْ) آئیں گے اور سورہ انعام(۶) کی آیت میں جن وانس کے گروہ سے کہا گیا ہے کہ رسول تم میں سے (مِنْکُمْ)آئے تھے۔ قرآن کریم میں جنات(آتشیں مخلوق) کے کسی رسول کا ذکر نہیں۔ تمام رسولوں کے متعلق حصر سے بیان کیا ہے کہ وہ انسان بنی آدم تھے اور انسانوں میں سے مرد۔ اس لیے جب’’گروہ جن وانس‘‘سے کہا گیا کہ تم میں سے(مِنْکُمْ) رسول آئے تھے، تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ’’گروہِ جن وانس‘‘ سے مقصود بنی آدم ہی کی دو جماعتیں ہیں۔ اس سے انسانوں سے الگ کوئی اور مخلوق مراد نہیں ہے۔‘‘ براہِ کرم واضح کریں کہ یہ استدلا ل کہاں تک صحیح ہے۔ اگر جن کوئی دوسری مخلوق ہے اور اس میں سے رسول نہیں مبعوث ہوئے تو پھر مِنْکُمْ کے خطاب میں وہ کیسے شریک ہوسکتے ہیں؟

جواب: جنوںکے بارے میں آیت اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ الزمر71:39 کی نقل کردہ تفسیر سے آپ کے ذہن میں جو اُلجھن پیدا ہوگئی ہے ،اس کو آپ خود حل کرسکتے ہیںاگر دو باتوں پر غور کریں:
اوّل یہ کہ اگر دو گروہوں کو ایک مجموعے کی حیثیت سے خطاب کیا جارہا ہو اورکوئی ایک چیز ان میں سے کسی ایک گروہ سے متعلق ہو، تو اس مجموعی خطاب کی صورت میں کیا اس چیز کو پورے مجموعے کی طرف منسوب کرنا غلط ہے؟ اگر کسی عبارت میں اسے مجموعے کی طرف منسوب کردیا گیا ہو تو کیا اس سے یہ استدلال کرنا صحیح ہوگا کہ یہ سرے سے دو گروہوں کا مجموعہ ہی نہیں ہے بلکہ ایک گروہ ہے؟ فرض کیجیے کہ ایک مدرسے میں کئی کلاسیں ہیں اور قصور ان میں سے ایک کلاس نے کیا ہے۔مگر ہیڈ ماسٹر تادیباً تما م کلاسوں کو اکٹھا کرکے ان سے خطاب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ’’اے مدرسے کے بچو!تم میں سے کچھ لڑکوں نے یہ قصور کیا ہے‘‘، تو کیا اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ اس مدرسے میں سرے سے کلاسیں ہیں ہی نہیں بلکہ ایک ہی کلاس پائی جاتی ہے ؟اگر یہ استدلال صحیح نہیں ہے تو نقل کردہ استدلال بھی صحیح نہیں ہے۔اﷲ تعالیٰ جن اور انس کے مجموعے کو خطاب فرما رہا ہے۔اس مجموعے میں سے ایک گروہ کے اندر انبیا آئے ہیں۔لیکن انبیا نے تبلیغ دین دونوں گروہوں میں کی ہے اور ان پر ایمان لانے کے لیے دونوں گروہ مکلف ہیں۔ اس لیے دونوں گروہوں سے مجموعی خطاب کرتے ہوئے یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ تم میں سے انبیا آئے ہیں۔ محض اس طرز خطاب سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ یہ دونوں گروہ الگ الگ نہیں ہیں بلکہ ایک ہی جنس سے تعلق رکھتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ جب قرآن مجید متعدد مقامات پر صاف صاف یہ بتا چکا ہے کہ جن اور انس دو بالکل الگ قسم کی مخلوق ہیں، تو پھر محض اَ لَمْ یَاْتِکُمْ سے یہ مفہوم نکالنا کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا کہ جن بھی انسانوں ہی میں سے ہیں۔ مثال کے طور پر حسب ذیل آیات کولیجیے:
(۱) وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍo وَالْجَاۗنَّ خَلَقْنٰہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِo الحجر 26-27:15
’’ہم نے انسان کو سڑے ہوئے گاڑے کی پختہ مٹی سے پیداکیا اور اس سے پہلے جنوں کو ہم نے آگ کی لپٹ سے پیداکیاتھا۔‘‘
(۲) خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِo وَخَلَقَ الْجَاۗنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍo
الرحمن55: 14-15
’’انسان کو ٹھیکرے کی طرح بجتی ہوئی پختہ مٹی سے پیدا کیا اور جنوں کو آگ کی لپٹ سے۔‘‘
(۳) وَجَعَلُوْا لِلہِ شُرَكَاۗءَ الْجِنَّ الانعام 100:6
’’اور لوگوں نے اﷲ کے لیے جن شریک ٹھیرا لیے۔‘‘
(۴) وَّاَنَّہٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ الجن 6:72
’’اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگو ں کی پناہ مانگا کرتے تھے۔‘‘
(۵) وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ۝۰ۭ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ الکہف 50:18
’’ اور جب ہم نے ملائکہ سے کہا کہ سجدہ کرو آدم کو، تو انہوں نے سجدہ کیا،مگر ابلیس نے نہ کیا۔ وہ جنوں میں سے تھا اور وہ اپنے ربّ کے حکم کی خلاف ورزی کر گیا۔‘‘
(۶) قَالَ اَنَا خَيْرٌ مِّنْہُ۝۰ۚ خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِيْنٍo الاعراف 12:7
’’اس نے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے۔‘‘
(۷) يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ كَـمَآ اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ….. اِنَّہٗ يَرٰىكُمْ ہُوَوَقَبِيْلُہٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَہُمْ۝۰ۭ الاعراف 27:7
’’ اے بنی آدم! شیطان ہرگز تمہیں اس طرح فتنے میں نہ ڈالنے پائے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا… وہ اور اس کا قبیلہ تم کو ایسی جگہ سے دیکھتا ہے جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔‘‘
(۸) يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً۝۰ۚ النسائ 1:4
’’اے انسانو! ڈرو اپنے اس رب سے جس نے تمہیں ایک متنفس سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور بہت سی عورتیں(دنیا میں) پھیلا دیں۔‘‘
(۹) وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اِنِّىْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍo فَاِذَا سَوَّيْتُہٗ وَنَفَخْتُ فِيْہِ مِنْ رُّوْحِيْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِيْنَo فَسَجَدَ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ كُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَo اِلَّآ اِبْلِيْسَ۝۰ۭ اَبٰٓى اَنْ يَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِيْنَo الحجر15:28-31
’’اور جب تیرے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں سڑی ہوئی مٹی کے پختہ گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔ تو جب میں اسے پورا پورا بنا دوں اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔ پس ملائکہ سب کے سب سجدہ ریز ہوگئے، بجز ابلیس کے کہ اس نے سجدہ کرنے والوںمیں شامل ہونے سے انکار کردیا۔‘‘
ان آیات سے چند باتیں بالکل واضح ہوجاتی ہیں:
اوّل یہ کہ انسان،بشر،الناس اور بنی آدم قرآن میں ہم معنی الفاظ ہیں۔ اولاد آدم کے سوا قرآن مجید کسی انسانی مخلوق کا قطعاًذکر نہیں کرتا۔ اس کی رو سے نہ کوئی انسان آدم سے پہلے موجود تھا اورنہ آدم کی اولاد کے ماسوا دنیا میں کبھی انسان پایا گیا ہے یا اب پایا جاتا ہے۔ یہ نوع آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی ہی سے پیدا ہوئی ہے اور اس کی تخلیق مٹی سے کی گئی ہے۔
دوم یہ کہ جن ایک دوسری نوع ہے جس کا مادۂ تخلیق ہی نوع انسانی سے مختلف ہے۔ نوع انسانی مٹی سے بنی ہے اور نوع جن آگ سے،یا آگ کی پھونک سے۔
سوم یہ کہ نوع جن نوع انسان کی تخلیق سے پہلے موجود تھی ۔اس نوع کے نمائندہ فرد کو نوع انسانی کے پہلے فرد کے آگے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور اس نے انکار کردیا تھا ۔اس کا استدلال یہ تھاکہ میں من حیث النوع اس سے افضل ہوں، کیوں کہ میں آگ سے پیداکیا گیا ہوں اور یہ مٹی سے بنایا گیا ہے۔
چہارم یہ کہ جن ایسی مخلوق ہے جو انسان کو دیکھ سکتی ہے مگر انسان اس کو نہیں دیکھ سکتا۔
پنجم یہ کہ مشرکین اپنی جہالت کی بِنا پر اس مخلوق کو خدا کا شریک ٹھہراتے اور اس کی پناہ مانگا کرتے تھے۔
کیا اتنی تصریحات کے بعد بھی یہ کہنے کی گنجایش باقی رہ جاتی ہے کہ محض اَ لَمْ یَاْتِکُمْ مِّنْکُمْ کا خطاب جنوں اور انسانوں کو ایک نوع قرار دینے کے لیے کافی دلیل ہے؟ آخر وہ کون سے دیہاتی یا جنگلی یا پہاڑی انسان ہیں جو اولادِ آدم سے خارج ہیں اور مٹی کے بجائے آگ سے پیداکیے گئے ہیں؟ جو آدم علیہ السلام کی پیدایش سے پہلے پائے جا تے تھے؟ جنہیں انسان نہیں دیکھ سکتا اور وہ انسان کو دیکھ سکتے ہیں؟جنہیںمشرک انسانوں نے کبھی اپنا معبود بنایا ہے اور اﷲ کا شریک ٹھہراکر ان سے تعوُّذکیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی بے تکی تاویلیں صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جو قرآن کی پیرو ی کرنے کے بجائے اس سے اپنے خیالات کی پیروی کرانا چاہتے ہیں۔ (ترجمان القرآن،فروری ۹۶۲اء)

سورۂ عنکبوت کی دو آیتوں کی تفسیر:

سوال: سورۂ عنکبوت میں دو آیتیں ایسی ملیں کہ جن کے معنی میری سمجھ میں نہیں آئے۔میرے پاس جو قرآن پاک کی تفسیر ہے ،اس میں بھی ان کی وضاحت نہیں ملی۔لہٰذا آپ کی دینی بصیرت سے امید قوی ہے کہ آپ ان کی تفصیل سے آگاہ فرما کر مشکور و ممنون فرمائیں گے۔
(۱) سورۂ عنکبوت آیت ۵۰ میں اس طرح ارشاد ہوتا ہے:
وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْہِ اٰيٰتٌ مِّنْ رَّبِّہٖ۝۰ۭ قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللہِ۝۰ۭ وَاِنَّمَآ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌo
’’اور کہتے ہیں( منکر) کہ کیوں نہ اتریں اس پر کوئی نشانیاں اس کے ربّ سے۔ (آپ) کہہ دیجیے کہ نشانیاں تو ہیں اختیارمیں اﷲ کے اور میں تو یہی سنا دینے والا ہوں کھول کر۔‘‘
مندرجۂ بالا آیت قرآنی سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو معجزات اﷲ تعالیٰ نے عطا نہیں فرمائے۔ معجزات حضورؐ کو عطا نہ کرنے کی جو وجوہات قرآن پاک میں درج ہیں وہ اپنی جگہ بالکل درست ہیں۔مگر کیا اس سے حضور رسالت مآبؐ کی شانِ مبارک میں فرق نہیں آتا کہ موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کو نشانیاں اور معجزات اﷲ تعالیٰ نے عطافرمائے کہ جن کی شہادت قرآن پاک خود دے رہا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بالکل جواب دے دیا؟
سیرت نبویہؐ میں حضور ؐ کے بہت سے معجزات درج ہیں۔مثلاًمعجزۂ شق القمر، تھوڑے سے تھوڑے کھانے سے جماعت کثیر کا سیر ہو جانا، کنکریوں کا کلمۂ شہادت پڑھنا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب بظاہر قرآنی شہادت کی بِنا پر غلط معلوم ہورہے ہیں۔
(۲) سورۂ عنکبوت آیت ۲۷ میں یوں ارشاد ہوتا ہے:
(وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالْكِتٰبَ …الخ )
’’اور دیا ہم نے ابراہیمؑ کواسحقؑ و یعقوبؑ اور رکھی اس کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب۔‘‘
یہاںحضرت اسماعیلؑ کو بالکل چھوڑ دیا۔ حالاں کہ وہ حضرت ابراہیم ؑکے سب سے بڑے صاحب زادے تھے اس لیے سب سے پہلے ان کا نام نامی آنا چاہیے تھا، جن کی نسل مبارک میں آگے چل کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے سرفراز ہوئے۔

(۱)معجزہ بطور دلیل نبوت:

جواب: قرآن مجید میں یہ بات متعدد مقامات پر بیان ہوئی ہے کہ کفار نبیصلی اللہ علیہ وسلم سے معجزے کا مطالبہ کرتے تھے اوراس مطالبے کاجواب بھی قرآن میں کئی جگہ دیا گیا ہے۔ان سب مقامات پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ نبیصلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کے سوا کوئی معجزہ دلیل نبوت کے طور پر نہیں دیا گیا۔ یہ مطلق معجزے کی نفی نہیں ہے بلکہ ایسے معجزے کی نفی ہے جس کو اﷲ اور اس کے رسولؐنے نبوت کی علامت اور حیثیت سے پیش کیا ہو، اور جسے دیکھ لینے کے بعد انکار کرنے سے عذاب لازم آتا ہو۔

(۲) حضرت اسحاق ؑ و حضرت اسماعیل ؑ:

حضرت ابراہیم ؑکو حضرت اسحاقؑ اور حضرت یعقوبؑ کے عطا کیے جانے کا ذکر بھی قرآن میں کئی جگہ آیا ہے۔ مثلاً سورۂ انعام آیت ۸۵، سورۂ مریم آیت۵۰ اور سورۂ انبیاء آیت۷۲۔ ان سب مقامات پر حضرت اسماعیل ؑکا ذکر نہ ہونے کی وجہ غالباً یہ ہے کہ یہ مواقع غیر معمولی انعام کی شان بیان کرنے کے ہیں اور یہ شان اولاد ابراہیمی کی اس شاخ میں پائی جاتی تھی جو حضرت اسحاقؑ سے چلی۔ حضرت اسماعیل ؑسے جو شاخ چلی اس نے ڈھائی ہزار سال بدویت کی زندگی میں گزار دیے۔ اس کے اندر کوئی قابل ذکر شخصیت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک پیدا نہ ہوئی۔ بخلاف اس کے حضرت اسحاقؑ سے جو شاخ چلی اس میں بکثرت انبیا پیدا ہوئے اور اس کے بڑے کارنامے تاریخ میں موجود تھے۔ (ترجمان القرآن۔ رجب ۱۳۷۵ھ۔ مطابق مارچ ۱۹۵۶ء)

چند متفرق سوالات:

سوال: (۱)قرآن کریم میں ’’حق ‘‘کی اصطلاح کن کن معنی میں استعمال ہوئی ہے؟اور وہ معنی ان مختلف آیات پر کس طرح چسپاںکیے جاسکتے ہیں جو تخلیق کائنات بالحق، کتاب بالحق، رسالت بالحق اور يُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ الانفال 8:8 کے تحت حق کی ہم آہنگی، تسلسل اور ارتقا پر روشنی ڈالتے ہیں؟
(۲) قرآن کریم میں کتاب کے ساتھ میزان اُتارنے کا جو دعویٰ کیا گیا ہے اس کا کیامطلب ہے؟ الہامی قانون کے ساتھ وہ کون سی ترازو اُتاری گئی ہے جس پر ہم اپنی سوسائٹی کے جواہر اور سنگ ریزوں کے وزن اور قیمت کا انداز ہ کرسکیں۔مفسرین کا یہ کہنا کہ انسانیت کے اخلاقی اعتدال کا نام میزان ہے،درست نہیں ہوسکتا۔ اوّل تو شخصی ضمیر کے اخلاقی احساسات سچائیوں کا صحیح وزن وقیمت متعین نہیں کرسکتے۔دوسرے یہ کہ میزان کے ساتھ کتاب اُتاری گئی ہے اور انسانی ضمیر کی میزان پیغمبروں اور کتابوں کے ساتھ نہیں اُتاری جاسکتی،وہ پہلے بھی تھی اور بعد کو بھی رہے گی۔
(۳) مذہب کا پروگرام اگر انسانی فطرت کے لیے کشش رکھتا تھا تو متقی لوگوں نے کسی بھی ملک وقوم میں بہتر سوسائٹی بنانے میں کیوں کامیابی حاصل نہیں کی۔اگر انسانیت کی پوری تاریخ میں بھی مذہب کام یاب نہیں ہوسکا تو آج کیوں کر اس سے امن وترقی کی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ یہ کہہ دینا کہ انسانی فطرت ہی میں خرابی مضمر تھی، مفید نہیں ہو سکتا۔ مذاہب حق کو زندہ کرنے اور باطل کو مٹانے کے لیے کام کرتے رہے مگر نتیجہ تھوڑے تھوڑے وقفے کو چھوڑکر ہمیشہ الٹا ہی نکلا اور تاریخ کے سیلاب کا رخ نہ بدلا،یا بالفاظ دیگر شیطان کی طاقت شکست نہ کھا سکی؟
(۴) پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ کیوں بند ہو گیا؟کیا انسانی شعور کو آج ان کی ضرورت باقی نہیں رہی؟

(۱)حق کے معانی اور استعمالات:

جواب: حق کا لفظ قرآن مجید میں تین معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ کہیں وہ حقیقت (Reality) کے معنی میں آیا ہے،کہیں استحقاق(Right) کے معنی میں،اور کہیںمقصدیت (Purposiveness) کے معنی میں ہے۔
تخلیق کائنات کے سلسلے میں جہاں کہیں یہ ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے زمین وآسمان کو بالحق پیدا کیا ہے، اس سے مقصود ایک طرف تو یہ بتانا ہوتا ہے کہ کائنات محض کھیل کے طور پر بے مقصد نہیں بنائی گئی ہے کہ کچھ مدت اس سے دل بہلا کر اسے یوں ہی بے نتیجہ ختم کردیا جائے۔ اور دوسری طرف یہ بتانا بھی پیش نظر ہوتا ہے کہ یہ کائنات اور اس کے ہنگامے بے حقیقت نہیں ہیں، جیسا کہ بعض فلسفیوں اور مذہبی گیانیوں کا تصور ہے،بلکہ یہ ایک سنجیدہ حقیقت ہے جس کے کسی پہلو کو محض کھیل نہیں سمجھنا چاہیے۔ نیز بعض مقامات پر اس ارشاد سے یہ بتانا بھی مقصود ہوتا ہے کہ یہ کائنات اور اس کا سارا نظام’’حق‘‘ پر مبنی ہے جس میں باطل کے لیے کوئی ثبات اور وزن نہیں ہے۔

(۲)نزول میزان کا مطلب:

’’میزان‘‘ سے مراد وہ توازن ذہنی اور وہ جانچنے اور تولنے کی صلاحیت اور صحیح وغلط کا موازنہ کرنے کی قوت ہے جو صرف انبیا علیہم السلام اور کتاب الٰہی اور طریقۂ انبیا سے حکمت وہدایت اخذ کرنے والوںمیں پیدا ہوتی ہے۔محض پیدایشی اعتدال فکر یا فلسفیانہ غوروخوض اور لادینی اخلاقی تعلیمات سے بظاہر جو توازن پیدا ہوتا ہے، وہ حقیقی توازن نہیں ہوتا، بلکہ اس میں بہت افراط وتفریط باقی رہ جاتی ہے۔ یہ چیز صرف ان لوگوںکو حاصل ہوتی ہے جو آیات الٰہی میں تدبر کرتے ہیں اور انبیا علیہم السلام کی زندگیوں کا غائر مطالعہ کرکے ان سے علم کی روشنی اور حکیمانہ بصیرت حاصل کرتے ہیں۔

کیا ’’دین حق‘ ‘ناکام رہا ہے؟

آپ کا یہ سوال جتنے مختصر لفظوں میں ہے،اتنے مختصر لفظوں میں اس کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم اگر محض اشارات سے آپ کی تشفی ہوسکے تو جواب یہ ہے کہ اوّل تو آپ لفظ مذہب کے نام سے جس چیز کو مراد لیتے ہیں، اس کا تعین کریں۔ اگر مذہب کا لفظ آپ جنس کے طور پر استعمال کررہے ہیں جس میں ہر قسم کے مذاہب شامل ہیں تو اس کی طرف سے جواب دہی کرنا میرا کام نہیں ہے۔ اور اگر مذہب سے آپ کی مراددین حق،یعنی وہ دین ہے جس کی تعلیم ابتدائے آفرینش سے انسان کی ہدایت کے لیے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے دی جاتی رہی ہے اور جس کا نام عربی زبان میں اسلام ہے ،تو وہ مجموعہ ہے ان اُصولوں کا جو کائنات کی واقعی حقیقتوں پر مبنی ہیں اور بجائے خود صحیح ہیں، خواہ انسان ان کو مانے یا نہ مانے۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے مثلاً حفظان صحت کے اُصول ہیں کہ وہ انسان کے جسم کی ساخت اور اس کے اعضا کی حقیقی فعلیت اور اس کے طبعی ماحول کی واقعی حقیقتوں پر مبنی ہیں۔ان اُصولوں کے مطابق کھانا پینا، سانس لینا ،آرام کرنا وغیرہ لازمی طور پر انسان کو تندرست رکھنے کے لیے ضروری ہے ۔اگر کوئی شخص یا ساری دنیا مل کر بھی ان اُصولوں کی خلاف ورزی کرے تو نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ حفظان صحت کے اُصول باطل ہیں، نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی پابند ی کرنا انسانی فطرت کا تقاضا نہیں ہے،نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ اُصول ٹوٹ گئے اور شکست کھا گئے،اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانوں کی اس خلاف ورزی نے ان اُصولوں کا کوئی نقصان کیا ہے۔بلکہ در حقیقت اگر انسان ان اُصولوں کے خلاف چلتے ہیں تو یہ ان کی ناکامی ہے اور نقصان ان کا اپنا ہے نہ کہ ان اُصولوں کا۔پس آپ جس چیز کو مذہب کی ناکامی کہہ رہے ہیں،وہ مذہب کی ناکامی نہیں،انسانوں کی ناکامی ہے۔مثال کے طور پرمذہب ہم کو امانت کی تعلیم دیتا ہے۔اب اگر تمام دنیا کے انسان مل کر بھی خیانت شروع کردیں اور امانتوں کو ضائع کرنے لگیں تو کیا آپ یہ کہیں گے کہ مذہب ناکام ہوا؟ مذہب کی ناکامی تو اس صورت میں ہوسکتی ہے جب کہ یا تو یہ ثابت ہوجائے کہ فطرت کائنات اور فطرت انسان امانت کی نہیں خیانت کی مقتضی ہے، یا یہ ثابت ہو جائے کہ انسانی زندگی کا حقیقی امن اور تمدن انسانی کا قابل اعتماد استقلال اور تہذیب کا تسلسل ارتقا امانت سے نہیں بلکہ خیانت سے قائم ہوتا ہے۔لیکن اگر یہ ثابت نہیں ہوتا اور نہیں ہوسکتا تو انسانوں کا امانت چھوڑ کر خیانت کواختیار کرنا اور اس سے اخلاقی، روحانی اور تمدنی نقصانات اٹھانا انسانوں کی ناکامی کا ثبوت ہے نہ کہ’’مذہب‘‘ یا دین کی ناکامی کا۔اسی طرح جتنے اُصول ’’دین‘‘ نے پیش کیے ہیںیا بالفاظ دیگر جن اُصولوں کے مجموعے کا نام ’’دین حق‘‘ہے ،ان کو جانچ کر دیکھیے کہ وہ حق ہیں یا نہیں؟ اگر وہ حق ہیں تو ان کی کامیابی وناکامی کا فیصلہ اس بِنا پر نہ کیجیے کہ انسانوں نے ان کی پابندی کی ہے یا نہیں۔انسانوں نے جب ان کی پیروی کی تو وہ خود کام یاب ہوئے اور اگر ان کی پیروی نہ کی تو وہ خود ناکام ہوئے۔

ختم نبوت کی صحیح توجیہ:

جو لوگ ختم نبوت کی یہ توجیہ کرتے ہیں کہ انسانی شعور کو اس کی ضرورت نہیں رہی ،وہ دراصل سلسلۂ نبوت کی توہین اور اس پر حملہ کرتے ہیں۔اس تعبیر کے معنی یہ ہیں کہ صرف ایک خاص شعوری حالت تک ہی اس ہدایت کی ضرورت ہے جونبی لاتے ہیں۔ اس کے بعد انسان نبوت کی رہنمائی سے بے نیاز ہوگیا ہے۔
جب تک انسانی تمدن اس حدپر نہیں پہنچا تھا کہ کسی نبی کا پیغام عام ہوسکے اور انسانوں کی کوئی ایسی اُمت تیار نہ ہوسکی تھی کہ نبی کے پیغام اور اس کی تعلیم اور اس کے اسوہ کو محفوظ رکھ سکے اور دنیا کے گوشے گوشے میں اسے پھیلا سکے، اس وقت تک سلسلۂ نبوت جاری رہا اور مختلف قوموں اور ملکوں میں نبی بھیجے جاتے رہے۔مگر جب ایک طرف تو تمدن اس حد تک ترقی کرگیا کہ ایک نبی کا پیغام عالم گیر ہوسکتا تھا اور دوسری طرف ہدایت حق قبول کرنے والوں کی ایک ایسی امت بھی بن گئی جو کتاب الٰہی کو اور کتاب کے لانے والے کی سیر ت اور اس کی مکمل عملی رہنمائی کو جوں کی توں محفوظ رکھنے کے قابل تھی تو نبوت کی خدمت پر کسی مزید آدمی کو مامور کرنے کی حاجت نہ رہی۔
(ترجمان القرآن۔ذی الحجہ ۳۷۳اھ، ستمبر۹۵۴اء)

ختم نبوت کے خلاف قادیانیوں کے دلائل:

سوال: قادیانی حضرات قرآن کی بعض آیات اور بعض احادیث سے ختم نبوت کے دلائل فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مثلاً وہ سورۂ اعراف کی آیت یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ… کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن کے نزول اور محمدؐ کی بعثت کے بعد اس آیت کا خطاب اُمت محمدیہ سے ہی ہوسکتا ہے۔ یہاں بنی آدم سے مراد یہی امت ہے اور اسی امت کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے کہ اگر ’’کبھی تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں۔‘‘ اس سے قادیانیوں کے بقو ل نہ صرف امتی انبیا بلکہ امتی رسولوں کا آنا ثابت ہوتا ہے۔ دوسری آیت سورۂ مومنون کی ہے جس میں آغاز یٰٓاَ یُّھَا الرُّسُلُ سے ہوتا ہے۔ اس سے بھی ان کے نزدیک رسول کی آمد ثابت ہوتی ہے۔اسی طرح قادیانی حدیث ’’ لَوْعَاشَ اِبْراہِیْمُ لَکَانَ نَبِیًّا‘‘ (اگر رسول اﷲؐ کے صاحب زادے ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے) سے بھی امکان نبوت کے حق میں استدلال کرتے ہیں۔ براہِ کرم ان دلائل کی حقیقت واضح فرمائیں۔

جواب: قادیانیوں کے جو دلائل آپ نے نقل کیے ہیں،وہ بھی ان کے اکثر دلائل کی طرح سراسر گمراہ کن مغالطہ آمیزی پر مبنی ہیں۔ آیت يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَـقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ۝۰ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُوْنَ الاعراف 35:7 کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کرکے جو نتیجہ نکالاجاتا ہے، وہ اس کے نتیجے کے برعکس ہے جو سلسلۂ کلام میں اسے رکھ کر دیکھنے سے نکلتا ہے۔نیز اس مضمون کی جو دوسری آیات قرآن مجیدمیں ہیں، وہ بھی قادیانیوں کی تفسیر سے مختلف ہیں۔علاوہ بریں قادیانیوں سے پہلے گزشتہ تیرہ سو برس میںکسی نے بھی مذکورہ بالا آیت کا یہ مطلب نہیں لیا ہے کہ نبی ؐکے بعد سلسلۂ نبوت جاری رہنے کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ذیل میں ان تینوں نکات کی الگ الگ توضیح کی جاتی ہے:
سورۂ اعراف میں یہ آیت دراصل قصۂ آدم وحوا کے سلسلے میں آئی ہے جو رکوع دوم کے آغاز سے رکوع چہارم کے وسط تک مسلسل بیان ہوا ہے۔پہلے رکوع دوم میں پورا قصہ بیان کیا گیا ہے، پھر رکوع سوم وچہارم میں ان نتائج پر تبصرہ کیا گیا ہے جو اس قصے سے نکلتے ہیں۔اس سیاق وسباق کو ذہن میں رکھ کر آیت کو پڑھا جائے توصاف معلوم ہوتا ہے کہ ’’ یٰبَنِیْ ٓ اٰدَمَ‘‘ کے الفاظ سے مخاطب کرکے جو بات کہی گئی ہے ،اس کا تعلق آغاز آفرینش کے وقت سے ہے نہ کہ نزول قرآن کے وقت سے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہے کہ آغاز آفرینش ہی میں اولادِ آدم کو اس بات پر کر دیا متنبہ کردیا گیا تھا کہ تمہاری نجات اس ہدایت کی پیروی پر موقوف ہے جو خدا کی طرف سے تم کو بھیجی جائے۔
اس مضمون کی آیات قرآن میں تین مقامات پر آئی ہیں اور تینوں مقامات پر قصۂ آدم وحوا کے سلسلے میں ہی اس کو وارد کیا گیا ہے۔ پہلی آیت بقرہ میں ہے(آیت نمبر ۳۸)، دوسری آیت سورہ اعراف میں ہے(آیت نمبر ۳۵)، اور تیسری آیت طہ میں( آیت نمبر ۲۳ا) ۔ان تینوں آیتوں کا مضمون بھی باہم مشابہ ہے اور موقع ومحل بھی مشابہ۔
مفسرین قرآن بھی دوسری آیتوں کی طرح سورۂ اعراف کی اس آیت کو بھی قصۂ آدم وحوا ہی سے متعلق قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ علامہ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے ضمن میں حضرت ابو سیار السلمی کا قول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اﷲ تعالیٰ نے یہاں حضرت آدمؑ اور ان کی ذریت کویک جا اور ایک ہی وقت میں خطاب کیا ہے۔‘‘امام رازی اپنی ’’تفسیر کبیر‘‘ میں اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ’ ’اگر خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہو، حالاں کہ وہ خاتم الانبیاء ہیں، تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اﷲ تعالیٰ یہاں اُمتوں کے بارے میں اپنی سنت بیان فرما رہا ہے۔‘‘علامہ آلوسی اپنی تفسیر’’ روح المعانی‘‘میں فرماتے ہیں کہ’’یہاں ہر قوم کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا ہے اسے حکایتاً بیان کیا جارہا ہے۔یہاں بنی آدم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت مراد لینا مستبعد اور ظاہر کے خلاف ہے، کیوں کہ یہاں جمع کا لفظ’’رسل‘‘ استعمال ہوا ہے۔‘‘علامہ آلوسیؒ کے ارشاد کے آخری حصے کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہاں خطاب اُمت محمدیہ سے ہو تو پھر اس اُمت کو یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ ’’کبھی تم میں رسل آئیں‘‘۔ کیوں کہ اس امت میں ایک سے زائد رسولوںکے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
آیت يٰٓاَيُّہَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا۝۰ۭ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌo المومنون23:51 کو بھی اگر اس کے سیاق وسباق سے الگ نہ کیا جائے تو اس سے وہ مطلب نہیں نکالا جاسکتا جو قادیانی حضرات نے نکالا ہے۔یہ آیت جس سلسلۂ کلام میں وار د ہوئی ہے وہ رکوع دوم سے مسلسل چلا آرہا ہے۔اس میں حضرت نوح ؑ سے لے کر حضرت عیسیٰ ابن مریمؑ تک مختلف زمانوں کے انبیا اور ان کی قوموں کا ذکر کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ ہر جگہ اور ہر زمانے میں انبیاؑ ایک ہی تعلیم دیتے رہے ہیں۔ ایک ہی ان سب کا طریقہ رہا ہے اور ایک ہی طرح سے ان سب پر اﷲ تعالیٰ کا فضل وکرم ہوتا رہا ہے۔اس کے برعکس گمراہ قومیں ہمیشہ خدا کے رستے کو چھوڑ کر غلط کاری میں مبتلا رہی ہیں۔اس سلسلۂ بیان میں یہ آیت اس معنی میں نہیںآئی ہے کہ’’اے رسولو! جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے ہو، پاک رزق کھائو اور نیک عمل کرو۔‘‘ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام رسولوں کو ،جو نوح علیہ السلام کے وقت سے اب تک آئے ہیں، اﷲ تعالیٰ نے یہی ہدایت فرمائی تھی کہ’’ پاک رزق کھائو اور نیک عمل کرو۔‘‘
اس آیت سے بھی مفسرین قرآن نے کبھی یہ مطلب نہیں لیا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انبیا کی آمد کا دروازہ کھولتی ہے۔ اگر کوئی مزید تحقیق واطمینا ن کرنا چاہے تو مختلف تفسیروں میں اس مقام کو دیکھ سکتا ہے ۔
حدیث لَوْ عَاشَ اِبَراھِیْمُ لَکَانَ نَبِیًا سے قادیانی حضرات جو استدلال کرتے ہیں وہ چار وجوہ سے غلط ہے:
اوّل یہ کہ جس روایت میں اسے خود نبیؐ کے قول کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے،اس کی سند ضعیف ہے اور محدثین میں سے کسی نے بھی اس کو قوی تسلیم نہیں کیا ہے۔
دوم یہ کہ نووی اور ابن عبدالبر جیسے اکابر محدثین اس مضمون کو بالکل ناقابل اعتبار قرار دیتے ہیں۔امام نوویؒ اپنی کتاب’’تہذیب الاسماء واللغات‘‘میں لکھتے ہیں:
اَمَّا مَا رُوِیَ عن بعضِ الْمتقدمین لوعاش ابراھیم لکان نبیا فَبِاطلٌ وجسارۃٌ علی الکلام علی المُغْیِبِاتِ وَمُجاَزَفَۃٌ وَھُجُوْمٌ َعلٰی عَظَیْمٍ۔
’’رہی وہ بات جو بعض متقدمین سے منقول ہے کہ’’اگر ابراہیم زندہ ہوتے تو نبی ہوتے‘‘ تو وہ باطل ہے اور غیب کی باتوں پر کلام کرنے کی بے جا جسارت ہے اور بے سوچے سمجھے ایک بڑی بات منہ سے نکال دینا ہے۔‘‘
علامہ ابن عبدالبر ’’تمہید‘‘ میں لکھتے ہیں:
لَا اَدْرِیْ مَا ھٰذا فَقَدْ وُ لِدَنُوْحٌ علی السلام غَیْرَ نبیٍ وَلَوْ یلدِ النبُی الاْنبِیائَ لَکَانَ کُلُّ اَحْدٍ نَبِیّاً لِاَنَّھُمْ مِنْ نُوْحٍ عَلَیہِ السَّلَامُ۔
’’میں نہیں جانتا کہ یہ کیا مضمون ہے۔نوحؑ کے ہاں غیر نبی اولاد ہوچکی ہے۔حالاں کہ اگر نبی کا بیٹا نبی ہی ہونا ضروری ہوتا تو آج سب نبی ہوتے۔کیوں کہ سب کے سب نوحؑ کی اولاد ہیں۔‘‘
سوم یہ کہ اکثر روایات میں اسے نبیؐ کے بجائے بعض صحابیوں کے قول کی حیثیت سے نقل کیا گیا ہے اور وہ اس کے ساتھ یہ تصریح بھی کردیتے ہیں کہ نبیؐ کے بعد چوں کہ کوئی نبی نہیں، اس لیے اﷲ تعالیٰ نے آپ کے صاحب زادے کو اٹھا لیا۔مثال کے طور پر بخاری کی روایت یہ ہے:
عن اسماعیل بن ابی خالد قال قلت لعبداللّٰہ بن ابی اوفی رأیت ابراھیم بن النبی قال مات صغیرًا ولو قضی ان یکون بعد محمد نبی عاش ابنہ ولکن لا نبی بعدھ ۔ (بخاری،کتاب الادب،باب من سمی باسماء الانبیاء)
’’ اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے عبد بن ابی اوفیٰ (صحابی) سے پوچھا کہ آپ نے نبی ؐ کے صاحب زادے ابراہیم کو دیکھا ہے؟انہوں نے کہا وہ بچپن ہی میں مر گئے۔اگر اﷲ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہوتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہو تو آپؐ کا صاحب زادہ زندہ رہتا، مگر حضورؐ کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہے۔‘‘
اس سے ملتی جلتی روایت حضرت انس ؓ سے بھی منقول ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
ولو بقی لکان نبیا لکن لم یبق لان نبیکم آخر الانبیاء۔
( تفسیر روح المعانی،جلد ۲۲، صفحہ۳)
’’اگر وہ زندہ رہ جاتے تو نبی ہوتے، مگر وہ زندہ نہ رہے، کیوں کہ تمہارے نبی آخری نبی ہیں۔‘‘
چہارم یہ کہ اگر بالفرض صحابہ کرامؓ کی یہ تصریحات بھی نہ ہوتیں، اور محدثین کے وہ اقوال بھی موجود نہ ہوتے جن میں اس روایت کو جو نبیؐ کے قول کی حیثیت سے منقول ہوئی ہے، ضعیف اور ناقابل اعتبار قرار دیا گیا ہے، تب بھی وہ کسی طرح قابل قبول نہ ہوتی،کیوں کہ یہ بات علم حدیث کے مسلمہ اُصولوں میں سے ہے کہ اگر کسی ایک روایت سے کوئی ایسا مضمون نکلتا ہو جو بکثرت صحیح احادیث کے خلاف پڑتا ہو تو اسے قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اب ایک طرف وہ کثیر التعداد صحیح اور قوی السند احادیث ہیں جن میں صاف صاف تصریح کی گئی ہے کہ نبیؐ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہوچکاہے اور دوسری طرف یہ اکیلی روایت ہے جو باب نبوت کے کھلے ہونے کا امکان ظاہر کرتی ہے ۔آخر کس طرح جائز ہے کہ اس ایک روایت کے مقابلے میں ان سب روایتوں کو ساقط کردیا جائے؟ (ترجمان القرآن۔نومبر ۹۵۴اء)

مسئلہ ختم نبوت:

سوال: اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ یہ ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اﷲ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپؐ کے بعد کوئی نیا نبی آنے والا نہیں ہے۔ تاہم مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اور قادیانی جماعت کی بعض باتیں مجھے اچھی معلوم ہوتی ہیں۔
مثلاًمرزا صاحب کا چہرہ میر ی نظرمیں معصوم اور بچوں جیسا دکھائی دیتا ہے۔کیا ایک جھوٹے نبی اور چالاک آدمی کا چہرہ ایسا ہوسکتا ہے؟ان کی پیشین گوئیاں بھی سوائے آسمانی نکاح اور اسی طرح کی چند ایک خبروں کے بڑی حد تک پوری ہوئیں۔ ان کی جماعت بھی روز بروز ترقی پر ہے اور اس میں اپنے مزعومات کے لیے بڑا جوش اور ایثارپایا جاتا ہے۔
یہ ساری چیزیں خلجان میں ڈالتی ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے اطمینان قلب کی خاطر اس مسئلے کی ایسی وضاحت کردیں جس سے تردّد اور پریشانی رفع ہوجائے اور حق وباطل کے مابین واضح امتیاز قائم ہوجائے ۔

جواب: آپ نے مرزاغلام احمد صاحب کے معاملے میں خلجان کے جو وجوہ بیان کیے ہیں،ان کو درحقیقت کوئی بنیادی اہمیت حاصل نہیں ہے اور نہ ایک مدعی نبوت کا دعویٰ ان بنیادوں پر کبھی جانچا جاسکتا ہے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر اس سے بھی زیادہ قوی وجوہ ان کے دعوے کو قابل غور سمجھنے کے لیے موجود ہوتے تب بھی وہ التفات کامستحق نہ تھا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید اور حدیث،دونوں کی رو سے نبوت کا معاملہ دین میں اساسی حیثیت رکھتا ہے ۔یعنی اس پر آدمی کے کفر وایمان کا مدار اور آخرت میں اس کی فلاح وخسران کا انحصار ہے۔ اگر آدمی ایک سچے نبی کو نہ مانے تو کافر، اور جھوٹے نبی کو مان لے تو کافر۔ اس طرح کی اہمیت اور نزاکت رکھنے والے کسی معاملے کو بھی اﷲ اور اس کے رسولؐ نے مبہم اور پیچیدہ اور مشکوک نہیں رکھا ہے، بلکہ صاف اور واضح طریقے سے رہنمائی دی ہے تاکہ انسان کا دین وایمان خطرے میں نہ پڑے اور اُ س کے گمراہ ہونے کی ذمہ داری اﷲ اور اس کے رسولؐ پر عائد نہ ہو۔ اب دیکھیے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کبھی کسی نبی کے زمانے میں یہ نہیں کہا گیا کہ نبوت کا سلسلہ بند ہوگیا ہے اور اب کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ اس کے معنی یہ تھے کہ انبیا کی آمد کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہوا تھا، کوئی شخص اس بنیاد پر کسی مدعی نبوت کا انکار کردینے میں حق بجانب نہ تھا کہ اب کسی نبی کے آنے کا امکان ہی نہیں ہے۔پھر اس زمانے میں انبیا علیہم السلام اپنے بعد آنے والے نبیوں کی آمد کے لیے پیش گوئی بھی کرتے رہتے تھے اور اپنے پیرووں سے عہد لیتے تھے کہ بعد میں جو نبی آئیں،ان کی بھی وہ پیروی کریں گے۔ یہ چیز اور بھی اس بات کو مؤکد کردیتی تھی کہ جو شخص نبی کی حیثیت سے اپنے آپ کو پیش کرے، اسے بلا تامل ردّ نہ کردیا جائے بلکہ اس کی دعوت اور شخصیت اور اس کے کام اور احوال کو بنظر غائر دیکھ کر جاننے کی کوشش کی جائے کہ آیا وہ واقعی نبی ہے یا جھوٹا مدعی نبوت ہے۔ لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد یہ معاملہ بالکل اُلٹ ہوگیا۔ اب صرف یہی نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی نبی کی آمد کی پیش گوئی نہیں کی اور نہ اپنی اُمت سے اس کے اتباع کا عہد لیا،بلکہ اس کے برعکس قرآن میں اعلان کیا گیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہیں، اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلمسے ایک دو نہیں بلکہ متعدد حدیثیں نہایت واضح اور غیر مبہم الفاظ میں بکثرت مستند ومعتبر واسطوں سے اُمت کو ملیں کہ اب نبوت کا دروازہ بند ہے،اب کوئی نبی آنے والا نہیں ،اب جو مدعی نبوت اُٹھیں گے، وہ دجّال ہوں گے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اب اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نگاہ میں لوگوں کے کفر وایمان کا معاملہ اتنا نازک اور اہم نہیں رہا؟کیا حضورؐ سے پہلے ہی کے مومنین اس کے مستحق تھے کہ انہیں کفر کے خطرے میں مبتلا ہونے سے بچانے کے لیے اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول واضح طور پر باب نبوت کے مفتوح ہونے اور انبیا کی آمد کے متعلق خبریں دینے کا اہتمام فرماتے رہے، مگر اب ہمیں انہوں نے جان بوجھ کر اس خطرے میںمبتلا کیا ہے کہ ایک طرف تو نبی کے آنے کا امکان بھی ہو جس کے ماننے یا نہ ماننے پر ہمارے کافر یا مومن ہونے کا انحصار ہے، اور دوسری طرف اﷲ اور اس کے رسول نے صرف اتنے پر ہی اکتفا نہ کیا ہو کہ ہمیں اس کی آمد سے آگاہ نہ کیا بلکہ اس سے گزر کرپے دَرپے وہ ایسی باتیں ارشاد فرماتے چلے گئے جن کی بناپر ہم باب نبوت کو بند سمجھیں اور مدعی نبوت کو ماننے سے انکار کردیں؟ کیا آپ کی عقل میں یہ بات آتی ہے کہ اﷲ اور اس کے نبیؐ واقعی ہم سے ایسی دھوکا بازی کرسکتے ہیں؟
خاتم النّبیین کے معنی کی جو تاویل بھی قادیانی چاہیں کرتے رہیں، مگر کم ازکم ایک بات سے تو کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اس کے معنی سلسلۂ نبوت کو ختم کرنے والے کے بھی ہوسکتے ہیں اور اُمت کے ننانوے لاکھ ننانوے ہزار …نو سو ننانوے فی کروڑ علما اور عوام اس کے یہی معنی لیتے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نبوت جیسے نازک معاملے میں، جس پر مسلمانوں کے کفر وایمان کا مدار ہے، کیا اﷲ میاں کو ایسی ہی زبان استعمال کرنی چاہیے تھی جس سے چند قادیانیوں کے سوا ساری اُمت یہی سمجھے کہ اب کوئی نبی آنے والا نہیں ہے؟اور نبی ؐکے اپنے ارشادات تو کسی تاویل کی گنجایش بھی نہیں چھوڑتے۔ان میں تو صاف صاف مختلف طریقوں سے اس بات کو کھول کر ہی کہہ دیا گیا ہے۔( مثال کے طور پر اِس ارشاد ہی کو لے لیجیے جس میں سلسلۂ نبوت کو ایک قصر سے تشبیہ دی گئی ہے،ہر نبی کو عمارت کی ایک اینٹ قرار دیا گیا ہے اور آخر میں فرمایا گیا ہے کہ اِس عمارت میں اب صرف ایک اینٹ کی گنجایش تھی اور وہ ’’آخری اینٹ میں ہوں‘‘۔
)کیا اﷲ کے رسو ل کو ہم سے ایسی ہی دشمنی تھی کہ نبی تو آپؐ کے بعد آنے والا ہو اور آپؐ ہمیں الٹی یہ ہدایت دے جائیں کہ ہم اسے نہ مانیں اور کافرہوکر جہنم میں جائیں؟
ان امور پر اگر آپ غور کریں تو آپ کو اطمینان ہوجائے گا کہ فی الواقع نبوت کا دروازہ بند ہے اور اب کسی نبی کے آنے کا امکان نہیں ہے۔اس صورت میں کوئی شخص چاہے کیسی ہی بھولی بھالی دل موہنے والی صورت رکھتا ہو اور خواہ اس کی پیشین گوئیاں سوفی صد درست ہوں اور خواہ اس کے کارنامے کیسے ہی ہوں،ہم اس کے دعوائے نبوت کو قابل غور بھی نہیں سمجھتے، کیوں کہ یہ چیزیں غور طلب اسی صورت میں ہوسکتی تھیں جب کہ نبی کی آمد کا امکان ہوتا۔ ہم تو پورے اطمینان کے ساتھ ہر مدعی نبوت کے دعوے کو سنتے ہی اس کی تکذیب کریں گے اور اس کے دلائل نبوت پر سرے سے کوئی توجہ نہ دیں گے۔ یہ اگر کفر بھی ہو تو ہم پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ،کیوں کہ ہمارے پاس قیامت کے روز اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے قرآن اور ارشادات رسول صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں۔ (ترجمان القرآن،دسمبر ۹۵۹اء)

قادیانیوں کی غلط تاویلات:

سوال:قادیانی مبلغ اپنا انتہائی زور اجرائے نبوت کے ثبوت پر صرف کرتے ہیں۔اس سلسلے میں وہ مندرجہ ذیل دو آیتیں خصوصی طور پر پیش کرتے ہیں اور انھی پر اپنے دعوے کی بنیاد رکھتے ہیں:
(۱) وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ۝۰ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًاo النسائ 69:4
’’ اور جو اﷲ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اﷲ نے انعام فرمایا ہے۔ یعنی انبیا اور صدیقین اور شہدا اور صالحین، کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں۔‘‘
اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ان آیات میں بالترتیب چار چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے۔انبیا اور صدیقین اور شہدا اور صالحین۔ ان کی دانست میں ان میں سے تین درجے یعنی صدیقین، شہدا اورصالحین تو امت محمدیہ کومل چکے ہیں، لیکن چوتھا درجہ نبی ہونا باقی تھا،اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ملا ہے۔ان کا کہنا یہ ہے کہ اگرمعیت کا مطلب یہ ہے کہ اُمت محمدیہ کے لوگ قیامت کے دن صرف مذکورہ گروہ کی رفاقت میں ہوں گے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ امت محمدیہ میں کوئی صالح، شہید اور صدیق ہے ہی نہیں۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر جب آیت میں چار مراتب (گروہوں) کا ذکر کیا گیا ہے تو پھر گروہ انبیا کے امت میں موجود ہونے کو کس دلیل کی بِنا پر مستثنیٰ کیا جاتا ہے۔
۲۔ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَـقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ۝۰ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُوْنَo الاعراف 35:7
’’اے بنی آدم! اگر تمہارے پاس میرے رسول آئیں جو تم پر میری آیات پڑھیں،پس جو ڈرااور اصلاح کرلی ،ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘
اس آیت سے وہ یہ استدلا ل کرتے ہیں کہ اس آیت میں خطاب تمام نوع انسانی سے ہے، اور نزو ل کے لحاظ سے یہ آیت نبی اکرمؐ پر نازل ہوئی ہے ۔ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر اجرائے نبوت مقصود نہ ہوتا تو پھر نبیؐ پر یہ آیت کیوں نازل ہوتی۔ نیز یہ کہ اس میں مضارع کا صیغہ (یَاْتِیَنَّکُمْ) مع نون ثقیلہ استعمال کیا گیا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ’’بالضرور تمہار ے پاس میرے نبی آئیں گے۔‘‘ اس سے ثابت ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری میں نبی آسکتا ہے۔
آپ سے استدعا ہے کہ اس مسئلے پر اپنے رسالے میں مدلل بحث فرمائیں، تاکہ یہ افادۂ عام کا موجب ہو۔

جواب: جب کسی مسئلے کا فیصلہ اﷲاور اس کے رسول نے بالکل صاف اورصریح نصوص میںکردیا ہو تو پھر اسی مسئلے میں ان نصوص کو چھوڑکر دوسری آیات واحادیث سے، جو دراصل اس خاص مسئلے کا فیصلہ کرنے کے لیے وارد نہیں ہوئی ہیں، اپنے مطلب کے معنی نکالنا اور نصوص قطعیہ کے بالکل خلاف عقیدہ یا عمل اختیار کرلینا درحقیقت انتہائی گمراہی ،بلکہ خدا اور رسول کے خلاف بدترین بغاوت ہے۔ جو شخص علانیہ اﷲ اور اس کے فرمان کے خلاف کوئی مسلک اختیار کرتاہے وہ تو کم تر درجے کی بغاوت کرتا ہے۔ مگر یہ بہت زیادہ بڑے درجے کی بغاوت ہے کہ آدمی اﷲ اور رسول کے فیصلے کے خلاف خود اﷲ اور رسول ہی کے ارشادات کو توڑ مروڑ کر استعمال کرنے لگے ۔یہ کام جو لوگ کرتے ہیں ان کے متعلق ہم کسی طرح بھی یہ فرض نہیں کرسکتے کہ وہ سچے دل سے اﷲ اور اس کے رسول کو مانتے ہیں۔
یہ سوال کہ سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں یا نہیں؟اور آپ کے بعد کوئی نبی آسکتا ہے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ کرنے کے لیے ہم آیت ’’وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ ‘‘ اور آیت ’’یٰبَنِیْ اٰدَمَ‘‘ اور ایسی ہی دوسری آیتوں کی طرف صرف اسی صورت میں رجوع کرسکتے تھے جب کہ اﷲ اور اس کے رسول نے خاص طور پر اسی سوال کا جواب کسی خاص نص میں نہ دے دیا ہوتا۔ مگر جب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آیت خاتم النّبیین میں اور نبی ؐ کی طرف سے بکثرت احادیث صحیحہ میں ہم کو خاص طور پر اسی سوال کا واضح جو اب مل چکا ہے تو آیت وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ اور یٰبَنِیْٓ آدَمَ اور ایسی ہی دوسری آیات کی طرف رجوع کرنا، اور پھر ان سے نصوص قطعیہ صریحہ کے خلاف مطالب نکالنا صرف اسی شخص کا کام ہوسکتا ہے جو خدا سے بالکل بے خوف ہوچکا ہو اور جسے یہ بھی یقین نہ ہو کہ کبھی مر کر خدا کے سامنے جواب دہی بھی کرنی ہوگی۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے تعزیرات پاکستان کی ایک خاص دفعہ میں ایک فعل کو بالفاظ صریح جرم قرار دیا گیا ہو او رکوئی شخص اس دفعہ کو چھوڑ کر قانون کی دوسری غیر متعلقہ دفعات کا جائزہ اس غرض سے لیتا پھرے کہ کہیں سے کوئی اشارہ اور کہیں سے کوئی نکتہ نکال کر اور پھر انہیں جوڑجاڑ کر اسی فعل کو جائزثابت کر دے جسے قانون کی ایک صریح دفعہ جرم قرار دے رہی ہے۔ اس طرح کا استدلال اگر دنیا کی پولیس اور عدالت کے سامنے نہیں چل سکتا توآخر یہ خدا کے ہاںکیسے چل جائے گا؟
پھر جن آیات سے یہ لو گ استدلال کرتے ہیں بجائے خود ان کو پڑھ کر دیکھا جائے تو آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ ان میں سے وہ مضمون آخر کہاں نکلتا ہے جو یہ لوگ زبردستی ان سے نچوڑنا چاہتے ہیں۔
پہلی آیت جو آپ نے نقل کی ہے ،اس میں جو بات فرمائی گئی ہے ،وہ صرف یہ ہے کہ اﷲاور رسولؐ کی اطاعت کرنے والے انبیاو صدیقین اور شہدا وصالحین کے ساتھ ہوں گے۔ اس سے یہ مضمون کیسے نکل آیا کہ جو لوگ اﷲ اور رسول کی اطاعت کریں گے وہ یا تو نبی ہوجائیںگے یاصدیق یا شہید یا صالح۔ پھر ذرا سورۂ حدید کی آیت ۱۹ ملاحظہ فرمائیے، اس میں ارشاد ہوا ہے کہ
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرُسُلِہٖٓ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الصِّدِّيْقُوْنَ۝۰ۤۖ وَالشُّہَدَاۗءُ عِنْدَ رَبِّہِمْ۝۰ۭ
الحدید57: 19
’’اور جو لوگ ایمان لائے اﷲاور اس کے رسولوں پر،وہی صدیقین اور شہدا ہیں اپنے رب کے نزدیک۔‘‘
اس سے صاف ظاہر ہوگیا کہ ایمان کے نتیجے میں جو دولت کسی کو مل سکتی ہے وہ صرف صدیق اور شہید ہوجانے کی ہے۔ رہے انبیا تو ان کی معیت نصیب ہوجانا ہی اہل ایمان کے لیے کافی ہے۔ کسی عمل کے انعام میں کسی شخص کا نبی ہوجانا ممکن نہیں ہے۔ اسی بِنا پر سورۂ نساء کی آیت میں فرمایا کہ اﷲ اور رسول کی اطاعت کرنے والے انبیا اور صدیقین وشہدا کے ساتھ ہوں گے۔ اور سورۂ حدید کی آیت میں فرمایا کہ اﷲ اور رسول پر ایمان لانے والے خود صدیق اور شہدا بن جائیں گے۔
دوسری آیت ایک سلسلۂ بیان سے تعلق رکھتی ہے،جو سورۂ اعراف میں آیت ۱۱ سے ۳۶ تک مسلسل چل رہا ہے۔اس سیاق وسباق میں رکھ کر اسے دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ بنی آدم سے یہ خطاب آغاز تخلیق انسانی میںکیا گیا تھا، اوریہ مضمون قرآ ن مجیدمیں صرف اسی مقام پر بیان نہیں ہوا ہے بلکہ سورۂ بقرہ آیت ۳۸،۳۹ میں بھی قریب قریب اسی طرز پر آیا ہے۔اس کو پڑھ کر یہ مطلب کیسے نکالا جاسکتا ہے کہ ان آیات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انبیا کے آنے کا ذکر ہے۔ اس میں تو اس وقت کا قصہ بیان کیاجارہا ہے جب حضرت آدم اور ان کی بیوی کو جنت سے نکال کر زمین پر لایا گیا تھا۔(ترجمان القرآن،مئی ۹۶۲اء)

صحابہ کرامؓ بعض اختلافات کے باوجود رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ تھے:

سوال: مجھے چند روز قبل فضائل صحابہ کے موضوع پر اظہار خیال کا موقع ملا۔میں نے حسب توفیق ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ۝۰ۭ وَالَّذِيْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَہُمْ الفتح48:29 کی تشریح کی۔ بعد میں ایک صاحب نے سوال کیا کہ قرآن شریف تو صحابہ (رضی اللہ عنہم) کی یہ صفت بیان کررہا ہے لیکن واقعات کی تصویر اس کے برعکس ہے۔جنگ جمل وصفین میں دونوں طرف اکابر صحابہ (رضی اللہ عنہم) موجود تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ بھی ایک فریق کے ہمراہ تھیں۔ ان واقعات کی روشنی میں رُحَمَائُ بَیْنَھُمْ کی صحیح توجیہ کیا ہوسکتی ہے؟ میں نے حتی الوسع اس معاملے پر غور کیا۔ بعض کتب دینیہ اور ذی علم احباب سے بھی رجوع کیا مگر کلی اطمینان نہ ہوسکا۔ آپ براہِ کرم ان واقعات کو نگاہ میں رکھتے ہوئے ا رشاد قرآنی کی صحیح تاویل وتوجیہ بیان کریں جس سے یہ اشکال رفع ہوجائے۔

جواب : آپ کے عنایت نامے کا جواب افسوس ہے کہ بڑی تاخیر سے دے رہا ہوں ۔اس مہینے شدید مصروفیت رہی، اس لیے خطوط پڑھنے تک کا وقت نہ ملا، جواب دیناتو درکنار۔ امید ہے کہ میری مشکلات کو نگاہ میں رکھ کر اس تاخیر پر درگزر فرمائیں گے۔
آیت اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ پر جس شبہہ کا اظہار محترم سائل نے کیا ہے، وہ دو مفروضوں پر مبنی ہے، اور دونوں ہی خلاف حقیقت ہیں۔ ان کا پہلا مفروضہ یہ ہے کہ کسی شخص یا گروہ کی تعریف میں جب کوئی بات کہی جائے تو لازماًاسے اس معنی میں لینا چاہیے کہ اس شخص یا اس گروہ میں کبھی کوئی جزوی امر بھی اس کے خلاف نہ پایا جائے۔ حالاں کہ انسانوں کی تعریف جب بھی کی جاتی ہے، ان کے غالب حال کے لحاظ سے کی جاتی ہے، اور کبھی کبھار کوئی چیز اس کے خلاف نظر آئے تو وہ کلی حکم میں قادح نہیں سمجھی جاتی۔ ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دنیا کا سب سے زیادہ اتقٰی اور اصلح گروہ قرار دیتے ہیں۔ یہ حکم ان کی مجموعی سیرت کے لحاظ سے ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس گروہ میں کبھی بشریت کے تقاضوں سے جزی کمزوریوں کا سرے سے ظہور ہی نہیں ہوتا تھا۔ آخر اس زمانے میں بھی کسی کو زنا اور کسی کو چوری کی سزا اور کسی کو قذف کی سزا تو دی ہی گئی تھی، اور صحابیت کا شرف ان سزا یافتہ لوگوں کو بھی حاصل تھا ،کیوں کہ ایمان کے بعد جس شخص کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسر ہوئی، وہ بہرحال صحابی ہے، اور ان قصوروں کی بِنا پر بہرحال نہ صفت ایمان ان سے سلب ہوئی تھی نہ صفت صحابیت۔ مگر کیا یہ بات کہ کبھی اس معاشرے میں زنا اور چوری اور قذف کے گناہوں کا صدور بھی ہوگیا تھا،اس مجموعی حکم میں قادح ہوسکتی ہے کہ وہ معاشرہ صلاح وتقویٰ میں اس بلند ترین مرتبے پر پہنچا ہوا تھا جس پر کبھی کوئی انسانی معاشرہ نہیں پہنچا؟ اسی طرح رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ کی صفت صحابہ کرام رضی اللہ عنہمکی مجموعی سیرت اور ان کے غالب حال کے لحاظ سے ہے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ کسی انسانی معاشرے میں آپس کی محبت والفت، باہمی ہم دردی و خیراندیشی، اور ایک دوسرے کے حقوق کالحاظ اور مرتبے کا احترام اس درجے کا نہیں پایا جاتا اور نہ پایا گیا ہے، جیسا صحابہ کرام رضی اللہ عنہمکے معاشرے میں نظر آتا ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان کے اندر یہ صفت انتہائی ممکن کمال تک پہنچی ہوئی نظر آتی ہے جس کا کسی انسانی معاشرے کے حق میں تصور کیا جاسکتا ہے۔لیکن انسان جب تک انسان ہیں،ان کے اندر بہرحال کبھی نہ کبھی اختلافات بھی پیدا ہوسکتے ہیں اور وہ اختلافات لڑائی جھگڑے کی صورت بھی اختیار کرسکتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی انسان ہی تھے۔عالم بالا سے کوئی فوق البشر مخلوق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ومعیت کے لیے اُتر کر نہیں آئی تھی ۔ایک دوسرے کے ساتھ رہن سہن،لین دین اور اجتماعی زندگی کے معاملات کرتے ہوئے لامحالہ بتقاضائے بشریت ان میں اختلافات بھی ہوجاتے تھے، اور بعض اوقات یہ اختلافات شدید نوعیت بھی اختیار کرگئے ہیں۔ لیکن ان جزوی واقعات سے اس کلی حکم میںکوئی فرق واقع نہیں ہوتا کہ ان کی امتیازی صفت رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ تھی۔کیوں کہ ان کا غالب حال یہی تھا۔
دوسرا مفروضہ جو ان کے اس شبہہ کے پیچھے کام کررہا ہے،یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہممیں کبھی جو اختلافات رونما ہوئے ہیں، وہ اس نوعیت کے تھے کہ ان سے رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ کی صفت بالکل ہی سلب ہو گئی تھی۔ حالاں کہ ان اختلافات کی جو تاریخ ہم تک پہنچی تھی، وہ اس بات پر گواہ ہے کہ یہ مقدس انسان جب آپس میں لڑ بھی جاتے تھے تو ان کی اس لڑائی میں بھی رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ ہونے کی ایک انوکھی شان پائی جاتی تھی۔ بے شک وہ جنگ جمل وصفین میں ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہوئے ہیں۔ مگر کیا دنیا کی کسی خانہ جنگی میں آپ فریقین کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے ہوئے بھی ایک دوسرے کا وہ احترام ملحوظ رکھتے دیکھتے ہیں جو ان بزرگوں کی لڑائی میں نظر آتا ہے۔وہ نیک نیتی کے ساتھ اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتے ہوئے لڑے تھے۔نفسانی عداوتوں اور اغراض کی خاطر نہیں لڑے تھے۔ انہیں افسوس تھا کہ دوسرا فریق ان کی پوزیشن غلط سمجھ رہا ہے اور خود غلط پوزیشن اختیار کرتے ہوئے بھی اپنی غلطی محسوس نہیں کررہا ہے۔ وہ ایک دوسرے کو فنا کردینے پر تلے ہوئے نہیں تھے بلکہ اپنی دانست میں دوسرے فریق کو راستی پر لانا چاہتے تھے۔ ان میں سے کسی نے کسی کے ایمان سے انکار نہیں کیا، اس کے اسلامی حقوق سے انکار نہیں کیا، بلکہ اس کی فضیلت اور اس کی اسلامی خدمات کا انکار بھی نہیں کیا۔ انہوں نے ایک دوسرے کو ذلیل ورسوا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ لڑنے میں انہوں نے لڑائی کا حق ضرور ادا کیا، مگر لڑ کر گرجانے والے کے لیے وہ سراپا رحم وشفقت تھے،اور گرفتار ہوجانے والے پر مقدمہ چلانا اور اس کو سزا دینایا اس کو ذلیل وخوار کرنا تو درکنار ،قید رکھنا اور کسی درجے میں بھی نشانۂ عتاب بنانا تک انہوں نے گوارا نہ کیا۔ذرا دیکھیے،عین موقع پر جب کہ جنگ جمل میں دونوں فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہوئی ہیں، حضرت علیؓ،حضرت زبیرؓ کو پکارتے ہیں اور وہ ان سے ملنے کے لیے نکل آتے ہیں۔ دونوں میں سے کسی کو بھی دوسرے سے یہ اندیشہ نہیں ہوتا کہ وہ اس پر اچانک حملہ کردے گا۔ صفوں کے درمیان ایک دوسرے سے بغل گیر ہوکر روتے ہیں۔ دونوں طرف کی فوجیں یہ دیکھ کر حیران رہ جاتی ہیں کہ یہ ایک دوسرے سے لڑنے آئے تھے اور اب گلے مل کر رو رہے ہیں۔ دونوں تنہائی میں بات کرکے اپنی اپنی فوجوں کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ حضرت علیؓ کی فوج والے ان سے پوچھتے ہیں کہ امیر المومنین! آپ عین لڑائی کے موقع پر ننگے سر ایک شخص سے تنہا ملنے چلے گئے؟جواب میں فرماتے ہیں: جانتے ہو وہ شخص کون تھا؟ وہ صفیہ ،عمۂ رسول اﷲ کا بیٹا تھا۔ میں نے اس کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بات یاد دلائی۔ اس نے کہا: کاش! یہ بات مجھے پہلے یاد آجاتی تو میں آپ کے مقابلے میں لڑنے نہ آتا۔ لوگ اس پر کہتے ہیں الحمد ﷲ، اے امیر المومنین!یہ رسولؐ اﷲ کے شہسوار اور حواری ہیں، ہم کو انھی کا سب سے زیادہ خوف تھا۔ دوسری طرف حضرت زبیرؓ پلٹ کر اپنی فوج میں جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شرک اور اسلام میں جب کبھی کسی لڑائی میں شریک ہوا ہوں،مجھے اس میں بصیرت حاصل تھی،مگر اس لڑائی میں نہ میری رائے میرا ساتھ دیتی ہے نہ بصیرت۔ اور یہ کہہ کر وہ فوج سے نکل جاتے ہیں۔اسی طرح حضرت علیؓ اور حضرت طلحہؓ کی بھی دونوں صفوں کے درمیان تنہا ملاقات ہوتی ہے اور دونوں ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لڑائی شروع ہوتی ہے تو حضرت علیؓ اپنی فوج میں اعلان کرتے ہیں کہ خبر دار، کسی کا تعاقب کرکے نہ مارنا، کسی زخمی پر ہاتھ نہ اٹھانا، ان کے لشکر کامال تم لے سکتے ہو مگر ان شہدا کے گھروں پر ان کے جو مال ہیں،وہ ان کے وارثوں کا حق ہے، اور ان کی عورتوںکے لیے عدت ہے۔ایک شخص کہتا ہے کہ جب ان کے لشکر کے مال ہمارے لیے حلال ہیں تو ان کی عورتیں کیوں نہ حلال ہوں؟حضرت علیؓ بگڑ کر فرماتے ہیں کہ تم میں سے کون اپنی ماں عائشہ ؓکو اپنے حصے میں لینے کے لیے تیار ہے؟ لوگ پکار اٹھتے ہیں: استغفراﷲ۔ جنگ کے بعد مقتولوں پر سے حضرت علیؓ کا گزر ہوتا ہے۔ حضرت طلحہؓ کے بیٹے محمد کی لاش پر نظر پڑتی ہے۔ بے اختیار فرماتے ہیں:
رَحِمَکَ اللّٰہُ یَامُحَمَّدٌ۔ لَقَدْ فِی کُنْتَ فِی الْعِبَادَۃُ مُجْتَھِدًا اُنَآئَ اللَّیْلِ قَوَّا مًا وَ فِی الْحَرِّ صَوَّامًا۔
’’خدا کی رحمت ہو تم پر اے محمد!تم بڑے عبادت گزار ،راتوں کو کھڑے رہنے والے اور سخت گرمیوں میں روزے رکھنے والے تھے۔‘‘
حضرت زبیرؓ کا قاتل انعام کی اُمید پر حاضر ہوتا ہے تو اس کو دوزخ کی بشارت دیتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ کے ہودے کے پاس پہنچتے ہیں تو اس سے زیادہ کچھ نہیں کہتے کہ ’’اے ہودے والی!اﷲ نے آپ کو گھرمیں بیٹھنے کا حکم دیا تھا اور آپ لڑنے نکل آئیں۔‘‘ پھر بڑے احترام کے ساتھ ان کو مدینہ روانہ کردیتے ہیں، اور وہ اس حسن سلوک پر ان کو دعا دیتی ہیں کہ جزی اللّٰہ ابن ابی طالب الجنۃ۔ حضرت طلحہ کے بیٹے موسیٰ حضرت علیؓ سے ملنے آتے ہیں تو آپ انہیں بٹھا کر فرماتے ہیں:مجھے اُمید ہے کہ میں اور تمہارے باپ ان لوگوں میںسے ہوں گے جن کے متعلق اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ’’ہم ان کے دلوں سے باہمی کدورت نکال دیں گے اور وہ جنت میں بھائی بھائی کی حیثیت سے آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔‘‘ایک شخص پوچھتا ہے آپ کے پاس یہ کون آیا تھا؟فرماتے ہیں: یہ میرا بھتیجا تھا۔وہ عرض کرتا ہے کہ اگر یہ آپ کا اب بھی بھتیجا ہے تو ہم تو پھر بدبخت ہی ہوئے۔اس پر ناراض ہوکر حضرت علیؓ فرماتے ہیں: وَیْحَکَ اَنَّ اللّٰہ قَدْ اِطَّلَعَ عَلٰی اَھْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ۔
دیکھیے،یہ شان تھی ان لوگوں کی آپس کی لڑائی کی۔وہ تلوار بھی ایک دوسرے پر اٹھا کر رحماء بینھم ہی رہتے تھے۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی قدر،عزت، محبت،اسلامی حقوق کی مراعات،اس شدید خانہ جنگی کی حالت میں بھی جوں کی توں برقرار رہی۔اس میں یک سر مو فرق نہ آیا۔بعد کے لوگ کسی کے حامی بن کر ان میں سے کسی کو گالیاں دیں تو یہ ان کی اپنی بدتمیزی ہے ،مگر وہ لوگ آپس کی عداوت میں نہیں لڑے تھے اور لڑ کر بھی ایک دوسرے کے دشمن نہ ہوئے تھے۔ (ترجمان القرآن،ذوالحجہ ۳۷۶اھ،ستمبر ۹۵۷اء)

کیا مشرکین کے بچے جنت میں جائیں گے؟

سوال: میں ایک ۸ا سالہ سندھی نوجوان ہوں۔اس وقت میٹرک میں ہوتے ہوئے ایک عربی مدرسے میں دو سال سے دینی تعلیم بھی حاصل کررہا ہوں۔ہمارے ہاں عربی تعلیم کانظام کچھ اس طرز کا ہے کہ ابتدا ہی میں میرے اندر اس تعلیم سے نفرت اور بیزاری پیدا ہوگئی اور ایک سال کے اندر اندراسی عربی تعلیم نے مجھے ’’لامذہب‘‘ بنا کے رکھ دیا۔لیکن چوں کہ میرے اندر صراط مستقیم پانے کی دلی تمنا تھی اس لیے میں ہمیشہ بارگا ہِ الٰہی کے حضور میں دعا کرتا رہا کہ وہ مجھے’’ راہ ِراست‘‘ پر لے آئے۔اﷲ تعالیٰ نے انتہائی کرم فرمائی کی کہ مجھے ایمان ایسی دولت پھر سے عطا ہوئی۔ چنانچہ میں اب اسی کے فضل وکرم سے دل وجان سے مسلمان ہوں،قومیت سے سخت متنفر اور نظریۂ انسانیت کا پیروکار۔ اس ایک سال کے عرصے میں ،میں نے’’ مسند ومنبر‘‘ دونوں کو دیکھالیکن کہیں سے اطمینان قلبی نصیب نہیں ہوا۔اور اگر کہیں سے یہ نعمت میسر آئی تو پھر اسی کتاب الٰہی کے مطالعے سے جسے لوگ قرآن حکیم کہتے ہیں۔
یوں تو اب میں اسلام کو اپنا دین مان چکا ہوں لیکن پھر بھی مطالعے کے دوران میں بعض احادیث اور فقہی مسائل ایسے آتے ہیں جو بسا اوقات مجھے پریشان کرتے ہیں۔ آج ہی کی بات ہے کہ مدرسے میں مشکوٰۃکا درس ہورہا تھا۔جب اس حدیث پر پہنچا جو باب الایمان بالقدر میں ہے کہ:
عن ابن مسعود قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اَلْوَ ائِدَۃُ وَالْمَوْئُ وْدَۃ فِی النَّارِ۔
’’لڑکی کو زندہ گاڑنے والی اور وہ لڑکی جو زندہ گاڑی گئی،دونوں جہنم میں جائیں گی۔‘‘
تو میں نے استاذ مکرم سے صرف یہ کہا کہ حضور یہ حدیث میر ی سمجھ میں نہیں آئی۔انہوں نے جواب دیا کہ تمہاری سمجھ ہے ہی کیا کہ تم اسے سمجھ سکو، تمہیں تو بس آمنا وصدقنا ہی کہنا چاہیے۔ میں نے عرض کیا کہ یہ صحیح ہے کہ میری سمجھ ناقص ہے لیکن میں اتناتو سمجھ سکتا ہوں کہ حضور اکرمؐ کے دہن مبارک سے ایسے ناانصافی کے الفاظ نہیں نکل سکتے۔اگر آپؐ نے یہ حدیث فرمائی ہے تو اس کا مفہوم یہ نہیں ہوسکتا جو کہ بظاہر ترجمے سے معلوم ہوتا ہے،اور اگر اس کا مفہوم یہی ہے توپھر یہ حدیث حضور سرور کائناتؐ کی نہیں ہوسکتی۔ میرے یہ الفاظ کہنے تھے کہ میرے لیے مصیبت پیدا ہوگئی۔ مجھے محض اس وجہ سے مدرسے سے خارج کردیا گیا اور کہا گیا کہ تم منکر حدیث ہو۔ حالاں کہ میں منکرین حدیث کے مسلک کو صحیح نہیں سمجھتا اور اسے گمراہ کن خیال کرتا ہوں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں احادیث کو سمجھنے کا حق بھی پہنچتا ہے یا نہیں؟ ہم بلا سوچے سمجھے کس طرح اس قسم کی احادیث پر آمنا وصدقنا کہنا شروع کردیں حالاں کہ بعض محدثین نے اس کی اسناد کو بھی ضعیف قرار دیا ہے۔براہِ کرم اس حدیث کی وضاحت فرما کر میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب: یہ معلوم کرکے بڑا افسوس ہوا کہ آپ کو صرف اس قصور پرمدرسے سے نکا ل دیا گیا کہ درس حدیث کے دوران میں ایک حدیث کے مضمون پر آپ کو شک لاحق ہوا تھا اور پڑھانے والے مولوی صاحب آپ کا شک رفع کرنے سے عاجز تھے۔قصور تو اصل میں ان مولوی صاحب کا تھا جو اس چیز کی تعلیم دینے بیٹھ گئے تھے جس کی مشکلات کو حل کرنے کی قابلیت ان میں نہ تھی۔ لیکن افسوس کہ اس کی سزا آپ کو دے دی گئی۔ایسی ہی حرکات سے ہمارے ہاں کے بعض علمائے کرام اچھے خاصے صحیح الفکر اور سلیم الطبع لوگوں کو گمراہیوں کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
آپ کو جس حدیث کے مضمون نے پریشانی میں ڈالا ہے وہ دراصل ایک بڑے مسئلے کے فروع میں سے ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ بچے جو سن رشدکو پہنچنے اور کسی مذہب حق یا مذہب باطل کو بالارادہ اختیار کرنے سے پہلے ہی مر گئے،ان کا انجام کیا ہوگا؟ اس مسئلے پر روشنی ڈالنے والی بہت سی احادیث پائی جاتی ہیں،مگر ان میں بڑا اختلاف ہے۔بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب جنت میں جائیں گے۔بعض کہتی ہیں کہ کفار ومشرکین کے بچے دوزخ میں اور اہل ایمان کے بچے جنت میں جائیں گے۔ اور بعض سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ ان کے معاملے کا فیصلہ اپنے اس علم کے لحاظ سے کرے گا کہ وہ کیا کرنے والے تھے ،یعنی جوان ہوکر وہ مومن صالح بنتے یا کچھ۔ اور انہی مختلف المعنی احادیث میں سے ایک وہ حدیث بھی ہے جس کا آپ نے ذکر کیاہے۔وہ ان احادیث کے سلسلے میں آتی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیںکہ کفار ومشرکین کے بچے جہنم میں جائیں گے، یا بالفاظ دیگر، بچوں کے ساتھ آخرت میں وہی معاملہ کیا جائے گا جس کے مستحق ان کے والدین ہوں گے۔
جب احادیث میں اس طرح کا کھلا کھلا اختلاف واقع ہوجائے اور ان کو جمع کرکے کوئی ایسا مفہوم تلاش کرنا مشکل ہو جس میں سب کے درمیان مطابقت پیدا ہوسکے،تو پھریہ دیکھنا ضروری ہوجاتا ہے کہ ان میں سے کون سی سند کے لحاظ سے زیادہ قوی اور معنی کے لحاظ سے قرآن اور دین کے اصول عامہ کے مطابق ہیں۔ جو احادیث ایسی ہوں ان کو دوسری تمام احادیث پر ترجیح دی جائے گی اور انہی کو قبول کیا جائے گا۔
علمائے محققین نے اس قاعدے کے مطابق ان مختلف احادیث کو جانچ کر مسئلۂ زیر بحث میں جس چیز کو مذہب صحیح قراردیا ہے،وہ یہ ہے کہ ایسے تمام بچے جنت میں جائیں گے، کیوں کہ اسی مضمون کی احادیث زیادہ قوی ہیں،قرآن کے مطابق ہیں، اور دین کے اُصول عامہ بھی انہی کی تائیدکرتے ہیں۔ چنانچہ امام نووی’’ شرح مسلم ‘‘ میں اس مسئلے پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ رہے مشرکین کے بچے ،تو ان کے بارے میں تین مذہب ہیں۔اکثر لوگ کہتے ہیں کہ وہ بھی اپنے آباو اجداد کے ساتھ جہنم میں جائیں گے۔ ایک گروہ ان کے معاملے میں توقف کرتا ہے۔ اور تیسرا مذہب یہ ہے کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں۔ یہی مذہب صحیح ہے، اسی کو محققین نے اختیار کیا ہے، اور اس کی تائید بہت سی چیزوں سے ہوتی ہے۔ مثلاًبخاری کی وہ حدیث جس میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں حضرت ابراہیمؑ کو جنت میں دیکھا اور ان کے اردگرد لوگوں کے بچے تھے۔صحابہ کرامؓ نے پوچھا:کیا اِ ن میں مشرکین کے بچے بھی تھے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں مشرکین کے بچے بھی تھے۔اور اﷲ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًاo بنی اسرائیل 15:17 ’’ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ کوئی رسول نہ بھیج دیں۔‘‘ اور یہ بات متفق علیہ ہے کہ بچے پر کوئی ذمہ داری نہیں اور نہ رسول کا قول اس پر لازم ہوتا ہے جب تک کہ وہ بالغ نہ ہوجائے۔‘‘ (کتاب القدر،باب معنی کل مولود یولد علی الفطرۃ)
جہاں تک قرآن مجید کا تعلق ہے وہ اگرچہ اس کی صراحت نہیں کرتا کہ غیر مکلف انسان سب کے سب جنت میں جائیں گے، مگر اس معاملے میں وہ صاف فیصلہ دیتا ہے کہ جہنم میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو انبیا علیہم السلام کی دعوت سے منہ موڑ کر شیطان کا اتباع کریں۔
لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَي اللہِ حُجَّــۃٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ۝۰ۭ النساء4:165
لَاَمْلَــــَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْہُمْ اَجْمَعِيْنَo صٓ38:85
كُلَّمَآ اُلْقِيَ فِيْہَا فَوْجٌ سَاَلَہُمْ خَزَنَــتُہَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَذِيْرٌo قَالُوْا بَلٰي قَدْ جَاۗءَنَا نَذِيْرٌ الملک67:8-9
لَا يُكَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا۝۰ۭ لَہَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْہَا مَااكْتَسَبَتْ۝۰ۭ
البقرہ2: 286
یہ اور بہت سی دوسری آیات اس معاملے میں بالکل صاف ہیں۔
اب رہ گئیں احادیث،تو ان میں بکثرت ایسی صحیح روایات موجود ہیں جو یا تو اس کی صراحت کرتی ہیں کہ بچے جنت میںجائیں گے، یا اس پردلالت کرتی ہیں کہ وہ عذاب آخرت سے محفوظ رہیں گے۔ان میں سب سے زیادہ مشہور وہ روایت ہے جو صحیحین میں کئی طریقوں سے آئی ہے کہ:
مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ اِلاَّ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرۃِ فَاَبَوَاہٌ یُھَوِّدَانِہٖ وَیُنَصِّرَانِہٖ وَیُمَجِّسَانِہٖ کَمَا تَنْتِجُ الْبَھِیْمَۃُ بِھیمۃً جمعائ ھَلْ تَحِسُّوْنَ فِیْھا مِنْ جَدْعَائ۔
’’کوئی بچہ ایسا نہیں ہے جو فطرت پر پیدا نہ ہوتا ہو۔بعد میں اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی، مجوسی بنالیتے ہیں۔اس کی مثال ایسی ہے کہ جانور کے پیٹ سے صحیح وسالم جانور پیدا ہوتا ہے۔کیا ان میں سے کسی کو تم کن کٹا پاتے ہو؟( یعنی ان کے کان تو بعد میںجاہل لوگ اپنی رسموںکی وجہ سے کاٹتے ہیں)۔‘‘
اس حدیث میں فطرت پر پیدا ہونے سے مراد اسلام پر پیدا ہونا ہے،کیوں کہ یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت کو اس کے بالمقابل بیان کیا گیا ہے۔ نیز اس کی بعض روایتوں میں علی فطرۃ الاسلام اور علی ھٰذہ الملۃ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں جو بات کو بالکل واضح کردیتے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ خود بخود نکلتا ہے کہ بچہ خواہ کافر ماں باپ ہی کاکیوں نہ ہو، اپنے والدین کے مذہب پر نہیں بلکہ اس فطری مذہب پر پیدا ہوتا ہے جس کے متعلق قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ فِطْرَتَ اللہِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْہَا۝۰ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللہِ۝۰ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ الروم30:30 وہ ماں کے پیٹ سے کفرلے کرنہیں آتا ،بلکہ کفر، شرک، دہریت، جو کچھ بھی اس کو لاحق ہوتی ہے، بعد میں اپنے ماحول سے لاحق ہوتی ہے۔ اب اگر وہ اس عمر کو نہ پہنچا ہو جس میں یہ بیرونی اثرات اس پر پڑیں اور وہ ان کو قبول کرکے کافر یا مشرک یا دہریہ بنے، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی اس صحیح فطرت پر دنیا سے رخصت ہوگیا جو کفر اور معصیت سے پاک ہے،کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس دارالعذاب میں بھیجا جائے جو صرف کافروں اور فاسقوں ہی کے لیے بنایا گیا ہے۔
اسی مضمون سے ملتی جلتی حدیث وہ ہے جس میں نبیؐ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ
اِنی خَلَقْتُ عِبْادِیْ حُنَفَآئَ کَلَّھُمْ وَاِنَّھُمْ اَتَتْھُمُ الشَّیَاطِیْنُ فَاجْتَالَتْھُمْ عَنْ دِیْنْھِمْ۔ (مسلم)
’’میں نے اپنے سب بندوں کو حنیف پیدا کیا۔بعد میں شیاطین آئے اور انہیں ان کے دین سے ہٹا لے گئے۔‘‘
اس حدیث کی بعض رواتیوں میں حنفاء مسلمین کے الفاظ ہیں۔یعنی اﷲ نے ان کو مسلم حنیف پیدا فرمایا تھا۔اس سے بھی یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جو انسان شیطانی گمراہیوں کو اخذ اور اختیار کرنے سے پہلے مرجائیں،وہ اسی حنیف کے عالم میں مرتے ہیں جو ان کا پیدایشی دین ہے اور ان کے عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔
اس کے بعد وہ احادیث ملاحظہ ہوں جن میں صراحت ہے کہ کافر ومومن سب کے بچے جنت میں جائیں گے۔ اس معنی میں سب سے زیادہ معتبر وہ حدیث ہے جو اما م بخاری ؒ نے کتاب التعبیر اور کتاب الجنائز میں حضرت سمرہ ؓبن جندب سے نقل کی ہے۔اس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز صبح کی نماز کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک طویل خواب سنایا ،جو آپؐ نے رات کے وقت دیکھا تھا۔اس خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب اور ثواب کے بہت سے مناظر دکھائے گئے تھے،اور ایک جگہ جنت میں آپؐ کی ملاقات ایک طویل القامت بزرگ سے ہوئی تھی جن کے گردو پیش بہت سے بچے(اولاد الناس) تھے۔سیر کرانے والے فرشتے(جبریل ؑ) نے آپؐ کو بتایا کہ یہ بزرگ ابراہیم ؑ ہیں۔ وَاَمَّا اْلوِلْدَانِ الَّذِیْنَ حَوْلَہٗ فَکُلُّ مَوْلُوْدٍمَاتَ عَلَی الْفِطْرَۃ۔ ’’رہے یہ بچے جو ان کے گردو پیش ہیں تو ان میں ہر وہ بچہ شامل ہے جو فطرت پر مرا ہے۔‘‘ اس کی تشریح چاہتے ہوئے حاضرین میں سے ایک صاحب نے سوال کیا: واولاد المشرکین؟ ’’کیا ان میں مشرکین کے بچے بھی شامل تھے؟‘‘ حضورؐ نے فرمایا: واولاد المشرکین۔ ’’ہاں مشرکین کے بچے بھی۔‘‘
اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو مسند احمد میں خنسا ء بنت معاویہ بن حریم سے مروی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میری پھوپھی نے رسولؐ اﷲ سے پوچھا: ’’من فی الجنۃ؟ جنتی کون ہے؟‘‘ حضورؐ نے فرمایا: اَلنَّبِیُّ فِی الْجَنَّۃِ وَالشَّھِیْدُ فِی الْجَنَّۃِ وَالْمَوْلُوْدُفِی الْجَنَّۃِ۔
’’نبی جنتی ہے، شہید جنتی ہے، بچہ جنتی ہے۔‘‘
بعض علما نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قرآن مجید میں جن کو غِلْمَانٌاور وِلْدَانٌ مُخَلَّدُوْنَ (ہمیشہ حالت طفلی ہی میں رہنے والے لڑکے) کہا گیا ہے وہ یہی بچے ہوں گے۔ یہ بات بہت قرین قیاس معلوم ہوتی ہے اور بعید نہیں کہ اس کی صورت یہ ہو کہ جن بچوں کے والدین جنتی نہ ہوں،وہ اہل جنت کے دائمی و ابدی خادم بنادیے جائیں ،واﷲ اعلم بالصواب۔
اس بات کو اصل قرار دینے کے بعد دوسری تمام احادیث کی یا تو اس کے مطابق تاویل کی جائے گی، یا پھر ان کے بارے میں توقف کیاجائے گا۔ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی جگہ صحیح ہوں مگران کے کوئی ایسے معنی ہوں جو روایت کردہ الفاظ سے پوری طرح ظاہر نہ ہورہے ہوں۔
(ترجمان القرآن۔ ذی الحجہ ۳۷۶اھ، ستمبر۷ ۹۵اء)

فرعون موسیٰ ایک تھا یا دو؟

سوال: میں تفسیر قرآن کے سلسلے میں اپنا ایک شبہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ترجمان جنوری ا۹۶اء میں سورۂ قصص کی تفسیر کرتے ہوئے جناب نے میرے خیال میں اسلاف مفسرین کے خلاف حضرت موسیٰ ؑ کے بالمقابل ایک کے بجائے دو فرعون قرار دیے ہیں، حالاں کہ قرآن کے متعلقہ مقامات کا مطالعہ کرنے سے فرعون سے مراد ایک ہی شخصیت معلوم ہوتی ہے۔ جس فرعون کی طرف حضرت موسیٰ ؑبھیجے گئے،یہ وہی فرعون ہے جو انکارِ دعوت کے بعد غرق ہوا۔اسی طرح فرعون کی بیوی کا حضرت موسیٰ ؑکو پرورش کرنا بھی قرآن میں مذکور ہے، اور پھر انہی خاتون کے اسلام لانے پر ان کا فرعون کے ہاتھوں ستایا جانا بھی معلوم ہوتاہے۔ کیوں کہ انہوں نے فرعون سے نجات پانے کے لیے دعا مانگی تھی۔
میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے کس بِنا پر غرق ہونے والے فرعون کو اس فرعون سے جدا سمجھا ہے جس کے گھر میں حضرت موسیٰ ؑپالے گئے تھے؟

جواب: ’’فرعون‘‘ مصر کے بادشاہوں کا ایک خاندانی لقب تھا۔ فرعونِ موسیٰ کے بارے میں بنی اسرائیل کی متفقہ روایات یہ ہیں کہ وہ دو تھے۔ جدید تاریخی تحقیقات بھی اسی کی تائید کرتی ہیں۔ اور عقل بھی اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ دو ہوں۔ کیوں کہ حضرت موسیٰ ؑپچاس سال کی عمر میں نبی ہو کر فرعون کے دربار میں پہنچے ہیں اور تیس سال کی کش مکش کے بعد آخر کار فرعون غرق ہوا ہے اور بنی اسرائیل ملک سے نکلے ہیں۔ گویا اس وقت حضرت موسیٰ ؑکی عمر ۸۰ برس تھی۔ا ب یہ بات کم ہی قرین قیاس ہے کہ یہ وہی فرعون ہوجس کے گھر میں حضرت موسیٰ ؑنومولود کی حیثیت سے پہنچے تھے اور جس کی بیوی نے ان کو متبنّٰی بنایا تھا۔ مؤخر الذکر خیال کی تائید میں جو آیتیں پیش کی جاتی ہیں، وہ اس باب میںصریح الدلالت نہیں ہیں۔ مثلاًان میں سے ایک آیت وہ ہے جس میں فرعون کا قول منقول ہوا ہے کہ اَ لَمْ نُرَبِّکَ فِیْنَا وَلِیْدً ا ’’ کیاہم نے تجھے بچہ سا اپنے گھر میں نہیں پالا تھا؟‘‘ لیکن کیا باپ کے ہاں پرورش پائے ہوئے آدمی سے بیٹایہ بات نہیں کہہ سکتا کہ تجھے ہم نے اپنے ہاںپالا ہے؟ اسی طرح سورۂ قصص میں جس امرأۃ فرعون کا ذکر ہے،بعض کے خیال میں وہ لازماً وہی ہونی چاہیے جس کا ذکر سورۂ تحریم میں آیا ہے۔ لیکن ان دونوں کے دو الگ شخصیتیں ہونے میں آخر کیا چیز مانع ہے؟قرآن مجید میں ایسی کوئی صراحت نہیں ہے کہ فرعون کی جو بیوی حضرت موسیٰ ؑپر ایمان لائیں، وہ وہی تھیں جن کے سامنے حضرت موسیٰ ؑٹوکری میں تیرتے ہوئے شیر خوار بچے کی حیثیت سے پہنچے تھے اور جنہوں نے ان کو قتل سے بچا کر بیٹا بنا لیا تھا۔
(ترجمان القرآن،فروری ا۱۹۶ء)

نبی کریمؐ کے ’’اُمی‘‘ ہونے کا صحیح مفہوم:

سوال: ’’ ترجمان القرآن‘‘ ماہ اکتوبر ۶۰ء میں سورۂ عنکبوت کے تفسیری حاشیے نمبر ا۹ کے مطالعے کے دوران میں چند باتیں ذہن میں اُبھریں جو حاضر خدمت ہیں۔اس سیاق وسباق میں لفظ’’اُمی‘‘کا مطلب جو کچھ میں سمجھا ہوں وہ یہ کہ نبیؐ بعثت سے پہلے اُمی اور ناخواندہ تھے۔لیکن بعد میں آپ کے خواندہ ہوجانے اور لکھ پڑھ سکنے کی نفی نہیں۔ یہ البتہ یقینا ممکن ہے کہ نبوت کے بعد آپ کے خواندہ بن جانے میں انسانی کوشش یا اکتساب کو دخل نہ ہو بلکہ معجزانہ طور پر اﷲ تعالیٰ نے خود معلم بن کر آپ کو پڑھنا لکھنا سکھادیا ہو۔ میری اس تشریح کے بارے میں آپ کا خیال کیا ہے؟میرے خیال میں تو الفاظ میں بڑی گنجایش ہے جس سے میرے مطلب کی تائید ہوتی ہے۔

جواب: میں نے جو بات صحیح سمجھی تھی وہ اپنے پورے دلائل کے ساتھ تفہیم القرآن کی اس بحث میں لکھ دی ہے جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے۔اگر میری اس بحث سے آپ کا اطمینان نہیں ہوا تو جو کچھ آپ صحیح سمجھتے ہیں،وہی سمجھتے رہیں۔میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ قرآن مجید کے الفاظ ’’اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ‘‘ پر اگر مناسب سمجھیں تو اور تھوڑا سا غور کرلیجیے۔ اﷲ تعالیٰ اس فقرے میں اپنے نبی کو مخاطب کرکے فرما رہا ہے کہ اگر ایسا ہوتا(یعنی تم پڑھے لکھے ہوتے) تو باطل پرستوں کے لیے تمہاری نبوت میں شک کرنے کی کوئی گنجایش ہوسکتی تھی۔ دوسرے الفاظ میں اس فقرے کاصاف مطلب یہ ہے کہ اب تو ان کے لیے شک کی ادنیٰ سی گنجایش بھی نہیں ہے،کیوںکہ تم ان پڑھ ہو۔یہ استدلال بالکل بے معنی ہوگیا ہوتا اگر آپ کے قول کے مطابق نبی بناتے ہی اﷲ میاں نے حضورؐ کو بطور معجزہ خواندہ بنادیا ہوتا۔کیا اس صورت میں شک کی گنجایش ختم ہوجاتی؟اس صورت میں تو کفار مکہ یہ کہہ سکتے تھے کہ تم نے آج تک ہم سے چھپایا،اب معلوم ہوا کہ تم خفیہ لکھناپڑھنا سیکھ گئے تھے اور چپکے ہی چپکے کتابیں پڑھ کر یہ معلومات جمع کرتے رہے تھے۔
پھر یہ بھی سوچ لیجیے کہ یہ آیت نبوت کے پانچ چھ سال بعد آئی ہے۔ظاہر ہے کہ اس وقت تو حضورؐ کواﷲ تعالیٰ نے پڑھنا لکھنا نہ سکھایا ہوگا۔ اس کے بعد آخر کس تاریخ کو یہ معجزہ پیش آیا؟اور کیا مصلحت تھی کہ نبی بناتے ہی حضورؐ کو خواندہ نہ بنادیا گیا،اور اس کے بعد کوئی تاریخ اس معجزے کے لیے مقرر کی گئی؟ ان اُمور کی طرف میں صرف آپ کو غور وفکر کے لیے توجہ دلا رہا ہوں۔ خواہ مخواہ بحث کو طول دینا مقصود نہیں ہے۔ (ترجمان القرآن۔ فروری ا۹۶اء)

یہود کی ذلت ومسکنت:

سوال: میرے ذہن میں د و سوال بار بار اُٹھتے ہیں۔ایک یہ کہ ’’َ وَضُرِبَتْ عَلَيْہِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْكَنَۃُ‘‘ البقرہ2:61 جو یہود کے بارے میں نازل ہوا ہے اس کا مفہوم کیا ہے؟ اگر اس کا مطلب وہی ہے جو معروف ہے تو فلسطین میں یہود کی سلطنت کے کیا معنی؟ میری سمجھ میں اس کی تفسیر انشراحی کیفیت کے ساتھ نہ آسکی۔ اگر اس کے معنی یہ لیے جائیں کہ نزول قرآن پاک کے زمانے میں یہود ایسے ہی تھے تو پھر مفسرین نے دائمی ذلت ومسکنت میںکیوں بحثیں فرمائی ہیں۔ بہرحال یہود کے موجودہ اقتدار وتسلط کو دیکھ کر ذلت ومسکنت کا واضح مفہوم سمجھ میں نہیں آیا۔

جواب: ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ کے بارے میں میرا بھی یہی عقیدہ ہے کہ یہ تاقیامت ہے۔اس میں فلسطین کی موجودہ اسرائیلی حکومت بن جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اوّل تو آیت تمام یہودی ملت کے بارے میں بحیثیت مجموعی ایک حکم لگاتی ہے،اس کے ایک ایک فرد پر یا افراد کے چھوٹے چھوٹے مجموعوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔دوسرے یہ اس کیفیت کا بیان ہے جو اﷲ تعالیٰ کا فیصلہ صادر ہونے کے بعد سے قیامت تک ان پر من حیث المجموع دنیا بھر میںطاری رہے گی۔اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس طویل مدت کے دوران میں کبھی کسی مختصر مدت کے لیے بھی زمین کے کسی گوشے میں انہیں قوت واقتدارنصیب نہ ہو۔ دراصل اس آیت کو سمجھنے کے لیے یہودی قوم کی اس تاریخ سے واقف ہونا ضروری ہے جو حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد سے آج تک گزری ہے۔ اس تاریخ کو،اور ان کی موجودہ حالت کو جو بحیثیت مجموعی دنیا میں آج بھی پائی جاتی ہے ،بغور دیکھا جائے تو قرآن مجید کے ان ارشادات کی پوری تصدیق ہوجاتی ہے:
وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْہِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ مَنْ يَّسُوْمُہُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ۝۰ۭ
الاعراف7:167
’’ اور جب اعلان کردیا تیرے رب نے کہ وہ قیامت تک ان پر کسی نہ کسی ایسے شخص کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سخت عذاب دے گا۔‘‘
ضُرِبَتْ عَلَيْہِمُ الذِّلَّـۃُ اَيْنَ مَا ثُـقِفُوْٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ
آل عمران3: 112
’’ان پر ذلت تھوپ دی گئی جہاں بھی وہ پائے جائیں بجز اس کے کہ کہیں ان کو اﷲ کی طرف سے اور انسانوں کی طرف سے تحفظ کی ضمانت مل جائے۔ ‘‘
پوری تاریخ یہی بتاتی ہے کہ وقتاًفوقتاً دنیا کے کسی گوشے میں کوئی نہ کوئی طاقت ایسی اُٹھتی رہی ہے جو یہودیوں کو خوب مارتی کھدیڑتی رہی، اور جہاں کہیں بھی وہ بخیریت رہے ہیں، اپنے بل بوتے پر نہیں بلکہ اﷲ کے دیے ہوئے مواقع کی بنا پر کسی دوسرے ہی انسانی گروہ کی حمایت میں آجانے کی وجہ سے رہے ہیں۔ موجودہ یہودی ریاست بھی برطانیہ اور امریکا کی حمایت ہی میں قائم ہوئی ہے اور باقی ہے۔ یہ حمایت جس وقت بھی ہٹے گی،اس ریاست کا حشر دنیا دیکھ لے گی۔ میرا خیال یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس قوم کو فنا نہیں کرنا چاہتا بلکہ نمونہ عبرت بنا کر باقی رکھنا چاہتا ہے۔اگر اس پر مسلسل عذاب کا کوڑا ہی برستا رہتا تو یہ کبھی کی فنا ہو چکی ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے اس کے باقی رہنے کا یہ انتظام کردیا ہے کہ کہیں وہ پیٹی جاتی ہے تو کہیں اسے پناہ بھی مل جاتی ہے۔اس طرح ڈھائی ہزار برس سے لَا یَمُوْتُ فِیْھَا وَلَا یَحْیٰی کے مصداق اس دنیا میں جیے جا رہی ہے۔ (ترجمان القرآن۔اپریل ۹۶۲اء)

حضرت مسیح ؑکی بن باپ کے پیدایش:

سوال: لوگوں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ان کا طریق استدلال یہ ہے کہ جب فرشتے نے حضرت مریم علیہا السلام کو خوش خبری سنائی کہ ایک پاکیزہ لڑکا تیرے بطن سے پیدا ہو گا، تو انہوں نے جواب دیا کہ میری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی اور نہ میں بدکار ہوں۔ جب یہ فرشتہ نازل ہوا اس وقت اگر حضرت مریم علیہا السلام کو کنواری مان لیا جائے اور بعد میں یوسف نجار سے ان کی شادی ہوگئی ہو اور اس کے بعدحضرت مسیحؑ کی پیدایش ہو تو کیا خدائی وعدہ سچا ثابت نہیں ہوگا؟
ان کا دوسرا استدلال یہ ہے کہ خدا اپنی سنت نہیں بدلتا اور اس کے لیے وہ قرآن مجید کی ایک آیت پیش کرتے ہیں: ’’وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللہِ تَبْدِيْلًا ‘‘o الفتح 23:48 وہ کہتے ہیں کہ لڑکے کی پیدایش ایک عورت اور ایک مرد کے ملاپ کا نتیجہ ہے ۔کیوں کہ ازل سے یہ سنت اﷲہے اور یہ اب تک قائم ہے۔
براہِ کرم واضح کریں کہ یہ استدلا ل کہاں تک درست ہے۔اگر وقت کی کمی کے باعث طویل جواب لکھنا آپ مناسب نہ سمجھیں تو کتابوں کا حوالہ ہی ہمارے لیے کافی ہوگا۔

جواب: میں نے اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں سورۂ آل عمران اور سورۂ مریم کی تفسیر کرتے ہوئے تفصیل کے ساتھ حضرت عیسیٰ ؑ کے بے باپ پیدا ہونے کے دلائل دیے ہیں، ان کو ملاحظہ فرما لیجیے۔ اس کے بعد آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ حضرت مسیح ؑ کی معجزانہ ولادت کے منکرین کا استدلال کہاں تک درست ہے؟
یہ کہنا کہ اﷲ اپنی سنت نہیں بدلتا،اپنی جگہ صحیح ہے، مگر اﷲ کی سنت کیا ہے اور کیا نہیں ہے،اس کافیصلہ کرنے والے ہم نہیں بلکہ اﷲ خود ہی ہے۔ جس چیز کو خدا نے خود اپنی سنت کہا ہو، اس کے خلاف تو کچھ نہیں ہوسکتا، مگر جسے ہم اس کی سنت قرار دے لیں، اس کے خلاف تو بہت کچھ ہو سکتاہے، کیوں کہ اﷲ نے اس کی پابندی کا کوئی ذمہ نہیں لیا ہے۔ آخر اﷲ نے یہ کب کہا ہے کہ مرد کے بغیر عورت کے ہاں بچہ پیدا ہونا میر ی سنت کے خلاف ہے، یا میری سنت یہ ہے کہ عورت کے ہاں صرف مرد کے ملاپ ہی سے بچہ پیدا ہو سکتا ہے۔ بنی نوع انسان کے اوّلین فرد اور اس کے جوڑے کی پیدایش آخر کس مرد اور عورت کے ملاپ کا نتیجہ تھی؟اﷲ نے خود فرمایا ہے کہ ہم نے حضرت آدمؑ کو مٹی سے پیدا کیا اور ان کے جوڑے کو ان سے پیدا کیا۔ اگر اس جوڑے کی پیدایش سنت اﷲ کے خلاف نہیں تو حضرت مسیحؑ کی بغیر والد کے پیدایش کیوں سنت اﷲ کے خلاف ہے؟ قرآن مجید میںاﷲ تعالیٰ نے خود بھی مسیحؑ کی پیدایش کو آدمؑ کی پیدایش سے تشبیہ دی ہے: ’’اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللہِ كَمَثَلِ اٰدَمَ۝۰ۭ خَلَقَہٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ كُنْ فَيَكُوْنُo آل عمران59:3 ’’درحقیقت عیسیٰ ؑ کی مثال اﷲ تعالیٰ کے نزدیک آدم جیسی ہے جسے اﷲ نے مٹی سے بنایا،پھر فرمایا کہ ہوجا اور بس وہ ہو گیا۔‘‘ (ترجمان القرآن ،فروری ۹۶۳اء)

تعدد ازواج پرپابندی:

سوال: میں آپ سے ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں،وہ یہ کہ اگر اسلامی ریاست میں عورتوں کی تعداد مردوں سے کم ہو تو کیا حکومت اس بِنا پر تعدد ازواج پر پابندی عائد کرسکتی ہے؟
اس سوال کی ضرورت میں نے اس لیے محسوس کی ہے کہ میرا اندازہ یہ ہے کہ قرآن مجید نے جہاں تعدد ازواج کی اجازت دی ہے وہاں ہنگامی صورت حال پیش نظر تھی۔اس زمانے میں سال ہا سال کے مسلسل جہاد کے بعد بہت سی عورتیں بیوہ ہوگئی تھیں اور بچے بے آسرا اور یتیم رہ گئے تھے۔اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے یہ اجازت دی گئی تھی، تاکہ بیوائوں اور یتیم بچوں کو سوسائٹی میں جذب کیا جاسکے اور ان کی کفالت کی شائستہ صورت پیدا ہوسکے۔

جواب: آپ کے پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ کسی سوسائٹی میں عورتوں کی تعداد کا مردوں سے اتنا کم ہونا کہ اس سے ایک معاشرتی مسئلہ پیدا ہوجائے،ایک شاذ ونادر واقعہ ہے۔ عموماً تعداد مردوں ہی کی کم ہوتی رہتی ہے۔ عورتوں کی تعداد کم ہونے کے وجوہ وہ نہیں ہیں جو مردوں کی تعداد کم ہونے کے ہیں۔ عورتیں اگر کم ہوں گی تو اس وجہ سے کہ صنف اناث کی پیدایش ہی صنف ذکور سے کم ہو۔ اور ایسا ہونا اوّل تو شاذ ونادر ہے۔ اور اگر ہو بھی تو عورتوں کی اتنی کم پیدایش نہیں ہوتی کہ اس کی وجہ سے ایک معاشرتی مسئلہ پیدا ہو اور اسے حل کرنے کے لیے قوانین کی ضرورت پیش آئے۔ بیوہ اور مطلقہ عورتوںکی شادی کے رواج سے یہ مسئلہ خود ہی حل ہوجاتا ہے۔
دوسری بات جو آپ نے لکھی ہے ،وہ قرآن کے صحیح مطالعے پر مبنی نہیں ہے۔اسلام کے کسی دور میں بھی تعدد ازواج ممنوع نہ تھا اور کوئی خاص وقت ایسا نہیں آیا کہ اس ممانعت کو کسی مصلحت کی بِنا پر رفع کرکے یہ فعل جائز کیا گیا ہو۔دراصل تعدد ازواج ہر زمانے میں تمام انبیا کی شریعتوں میں جائز رہا ہے اور عرب جاہلیت کی سوسائٹی میں بھی یہ جائز اور رائج تھا۔نبیؐ کی بعثت کے بعد صحابہ کرامؓ بھی اور خود نبیؐ بھی اس پر عامل تھے۔قرآن میں کوئی آیت ایسی نہیںہے جس سے یہ شبہ کیا جاسکتا ہو کہ اس آیت کے نزول سے پہلے تعدد ازواج ناجائز تھا اور اس آیت نے آکر اسے جائز کیا۔ آپ کے علم میں ایسی کوئی آیت ہو تو اس کا حوالہ دیں۔
……………………

سوال نمبر۲: آپ مجھے معاف فرمائیں اگر میں یہ عرض کروں کہ آپ کے جواب سے تشفی نہیں ہوئی۔ میری گزارش صرف اتنی تھی کہ اگر کسی معاشرے میں عورتوں کی تعداد مردوں سے کم ہوجائے تو کیا اس صورت میں حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک سے زیادہ شادیوں پر پابندی عائد کرسکے؟ آپ نے فرمایا کہ ایسا شاذ ونادر ہی ہوسکتا ہے۔لیکن میرا سوال بھی اسی شاذ صورت حال سے تعلق رکھتا ہے۔آپ کو معلوم ہوگا کہ اس وقت پاکستان میں(مردم شماری کی رو سے) عورتیں مردوں کے مقابلے میں کم ہیں۔اب کیا حکومت کوئی ایسا قانون بنا سکتی ہے کہ جب تک یہ صورت حال قائم رہے،ایک سے زیادہ شادیوں کی ممانعت ہوجائے؟
میں نے عرض یہ کیا تھا کہ تعدد ازواج کی اجازت کا مطلب غالباً یہ ہے کہ اس زمانے میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعوت حق میں مصروف تھے تو سال ہا سال کے جہاد کی وجہ سے بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں کا مسئلہ حل کرنا پڑا، اور اس کی صورت یہ تجویز کی گئی کہ ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دے دی جائے ۔ جس مقام پر یہ اجازت دی گئی ہے ،اس سے قبل جہاد وقتال ہی کا ذکر آیا ہے۔ اس طرح میں نے( غلط یا صحیح) یہ استنباط کیا ہے کہ یہ اجازت مخصوص حالات کے لیے ہی ہوسکتی ہے۔ اگر یہ استنباط غلط بھی ہے اورجیسا کہ آپ نے فرمایا ہے کہ یہ قرآن کے صحیح مطالعے پر مبنی نہیں تو اس سے ہٹ کر بھی یہی کچھ سوچا جاسکتا ہے کہ دو دو ،تین تین،اور چار چار نکاح اسی صورت میں کیے جاسکتے ہیں جب کہ معاشرے میں عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہو۔ اگر ان کی تعداد مقابلتاً زیادہ نہ ہو یا مردوں کے مساوی ہو تو اس جواز سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے؟

جواب: پاکستان کی مردم شماری میں عورتوں کی تعدادکا مردوں سے کم پایا جانا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ فی الواقع ہمارے ہاں عورتوں کی تعداد مردو ںسے کم ہے۔ بلکہ اس میں ہمارے ہاں کے رسم ورواج کا بڑ ادخل ہے جس کی بِنا پر لوگ اپنے گھر کی عورتوں کا اندراج کرانے سے پرہیز کرتے ہیں۔تاہم اگر کروڑوں کی آبادی میں چند لاکھ کا فرق ہو بھی تو اس سے کوئی ایسا معاشرتی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا جس کے لیے تعدد ازواج پر پابندی عائد کرنے کی ضرورت پیش آئے۔یہ مسئلہ بیوہ اور مطلقہ عورتوں کے نکاح ثانی سے حل ہوجاتا ہے اور بالفرض اگر کوئی بہت ہی غیر معمولی کمی واقع ہوجائے تو عارضی طور پر کچھ مدت کے لیے پابندی عائد کرنا بھی جائز ہوسکتا ہے بشرطیکہ اس پابندی کا اصل محرک یہی مسئلہ ہو۔ لیکن اس بات کو چھپانے کی آخر کیا ضرورت ہے کہ ہمارے ہاں تعدد ازواج پر پابندی عائد کرنے کی ضرورت دراصل اس بِنا پر محسوس نہیں کی گئی ہے بلکہ اس کا اصل محرک یہ مغربی تخیل ہے کہ تعدد ازواج بجائے خود ایک بُرائی ہے اور ازروئے قانون یک زوجی ہی کو رواج دینا مطلوب ہے۔ یہ محرک ہمارے نزدیک سخت قابل اعتراض ہے اور اس کی جڑ کاٹنا ہم ضروری سمجھتے ہیں۔
میں نے پہلے بھی لکھا تھا اور اب پھر اس کا اعادہ کرتا ہوں کہ قرآن میں کوئی آیت تعدد ازواج کی اجازت دینے کے لیے نہیں آئی ہے۔تعدد ازواج پہلے سے جائز چلا آرہا تھا اور سورۃنساء کی آیت نمبر ۳ کے نزول سے پہلے خود نبیؐ کے گھر میں تین ازواج مطہرات موجود تھیں۔ نیز صحابہ کرامؓ میں بھی بہت سے اصحاب تھے جن کے ہاں ایک سے زیادہ بیویاں تھیں۔ سورۂ نساء کی مذکورہ آیت اس جائز فعل کی اجازت دینے کے لیے نہیں آئی تھی بلکہ اس غرض کے لیے آئی تھی کہ جنگ احد میں بہت سے صحابہ کے شہید ہوجانے اور بہت سے بچوں کے یتیم ہوجانے سے فوری طور پر جو معاشرتی مسئلہ پیدا ہوا تھا،اسے حل کرنے کی صورت مسلمانوں کو یہ بتائی گئی کہ اگر تم یتیموں کے ساتھ ویسے انصاف نہیں کرسکتے تو دو دو،تین تین، چار چار عورتوں سے نکاح کرکے ان یتیموں کو اپنی سرپرستی میں لے لو۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تعدد ازواج صرف ایسے ہی مسائل پیش آنے کی صورت میں جائز ہے۔آخر تیرہ چودہ سو برس سے ہمارے معاشرے میں یہ طریقہ رائج ہے۔اس سے پہلے کب یہ سوال پیدا ہوا تھا کہ تعدد ازواج کی اجازت مخصوص حالات کے ساتھ مشروط ہے؟یہ طرزِ فکر ہمارے ہاں مغرب کے غلبے سے پیدا ہوا ہے۔ (ترجمان القرآن۔ مئی ۹۶۳اء)

احادیث دجال اور بعض اقوال رسول ؐکا مبنی بروحی نہ ہونا:

سوال: آپ نے تفہیمات حصہ اوّل،صفحہ ا۲۲ پر سورۂ نجم کی ابتدائی آیات مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰىo وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰىo اِنْ ہُوَاِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰىo النجم53:2-4 کی تشریح کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے:
’’ان آیات میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کی بِنا پر نطق رسول کو صرف قرآن کے ساتھ مخصوص کیا جاسکتا ہو۔ ہر وہ بات جس پر نطق رسول کا ۱طلاق کیا جاسکتا ہے، آیات مذکورہ کی بِنا پر وحی ہوگی۔‘‘
پھر رسائل ومسائل پر دجال کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آپ نے فرمایا ہے:
’’دجال کے متعلق جتنی احادیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں، ان کے مضمون پر مجموعی نظر ڈالنے سے یہ بات صاف واضح ہوجاتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اﷲ کی طرف سے اس معاملے میں جو علم ملا تھا،وہ صرف اس حد تک تھا کہ ایک بڑا دجال ظاہر ہونے والا ہے اور اس کی یہ اوریہ صفات ہوں گی اور وہ ان ان خصوصیات کا حامل ہوگا۔لیکن یہ آپ کو نہیں بتایا گیا کہ وہ کب ظاہر ہوگا،کہاں ظاہر ہوگا،اور یہ کہ آیا وہ آپؐ کے عہد میںپیدا ہوچکا ہے یا آپؐ کے بعد کسی بعید زمانے میںپیدا ہونے والا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ظہور دجال اور صفات وخصوصیات دجال کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ارشادات ہیں ، ان میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ علم وحی پر مبنی ہیں۔بخلاف اس کے ظہور دجال کے زمانہ ومقام کے بارے میں روایات باہم متعارض ہیں جن میں تطبیق کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے، کیوں کہ وہ علم وحی پر مبنی نہیں ہیں۔‘‘
اسی سلسلے میں آگے چل کر آپ فرماتے ہیں:
’’یہ تردّد اوّل تو خود ظاہر کرتا ہے کہ یہ باتیں آپ نے علم وحی کی بِنا پر نہیں فرمائی تھیں بلکہ اپنے گمان کی بِنا پر فرمائی تھیں۔‘‘
آپ کی مندرجہ بالا تحریروں سے صاف واضح ہے کہ یہ باہم متناقض ہیں۔ پہلی تحریر میں تو آپ نے فرمایا ہے کہ ہر وہ بات جس پر نطق رسول کا اطلاق کیا جاسکتا ہے علم وحی پر مبنی ہو گی۔ لیکن دوسری تحریروں میں آپ بتاتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ارشادات ایسے بھی ہیں جو علم وحی پر مبنی نہیں ہیں۔ مثلاً ظہور دجال کے زمانہ ومقام کے بارے میں آپ کے ارشادات۔ حالاں کہ ان ارشادات پر نطق رسول کا اطلاق کیا جاسکتا ہے۔
نیز مندرجۂ ذیل سوالات بھی جواب طلب ہیں:
(۱) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے جن ارشادات کی تائید قرآن میں موجود نہیں، ان کے بارے میں یہ فیصلہ کیسے کیا جاسکتا ہے کہ وہ علم وحی پر مبنی ہیں یا نہیں۔اگر آپ کا یہ جواب ہو، جیسا کہ آپ کی مندرجہ بالا تحریر سے ظاہر ہے کہ جو ارشادات نبویؐ باہم متعارض نہیں ہیں،وہ مبنی بر علم وحی ہیں اور جو باہم متعارض ہیں وہ مبنی برعلم وحی نہیں ہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ کتب احادیث میں ایسی کئی متعارض احادیث ہیں جن کے بارے میں ائمۂ امت کا عقیدہ ہے کہ وہ علم وحی پر مبنی ہیں اور جن سے انہوں نے مسائل کا استنباط بھی کیا ہے۔ ان کے بارے میں آپ کا کیا فیصلہ ہے؟
(۲) آپ کایہ قول کہ’’آپ( رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) کا گمان وہ چیز نہیں جس کے صحیح نہ ثابت ہونے سے آپؐ کی نبوت پر حرف آتا ہو‘‘ میرے نزدیک قابل قبول نہیں۔ کیوں کہ غلط گمانوں میں اُلجھنا ایک فلسفی کا کام تو ہوسکتا ہے لیکن نبی کا منصب اس سے بدرجہ ہا اعلیٰ،بلند اور پاک ہے۔ اگر ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ رسول کریمؐ کا فلاں گمان غلط تھا تو گویا ہم نے مان لیا کہ آپؐ فلاں موقع پر ہدایت خداوندی حاصل نہ کرکے گمراہ ہوگئے۔ اور لہٰذا آپ ؐ آیت مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰى کے صحیح مصداق نہ تھے۔

جواب: میں نے آیت ’’وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی‘‘ کا جو مفہوم تفہیمات حصہ اوّل میں بیان کیا ہے، اس کی پوری تفصیل آپ نے دیکھنے کی زحمت نہیں اٹھائی اور صرف ایک فقرے پر اکتفا فرما لیا۔ اسی وجہ سے آپ کو اس میں اورمیری بعد کی ایک تحریر میں تناقض محسوس ہوا۔ براہِ کرم اسی کتاب کے صفحات ۸۵ تا ۸۹،۲۲۰تا۲۲۲، ۲۳۸ تا ۲۴۰ اور ۲۵۸ تا ۲۵۹ بغور ملاحظہ فرمالیجیے۔ آپ کے سامنے میرا پورا مدعا آجائے گا۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ میرے نزدیک نبیؐ کے تمام اقوال وافعال میں وحی خفی کی کارفرمائی کس معنی میں تھی اور یہ بھی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی بعض باتوں کے وحی پر مبنی ہونے اور بعض کے نہ ہونے کا مطلب کیا ہے۔
اس کے بعد ضرورت تونہیں رہتی کہ آپ کے ان سوالات کا جواب دیا جائے جو آپ نے آخر میں کیے ہیں ،لیکن میں صرف اس لیے ان کا جواب حاضر کیے دیتا ہوں کہ پھر کوئی اُلجھن باقی نہ رہ جائے۔
(۱) میں نے اپنی تحریر میں یہ کہیں نہیں کہا کہ ارشادات نبویؐ کے مبنی بروحی ہونے یا نہ ہونے کے لیے تعارض کا عدم اور وجود کوئی واحد یا حتمی قرینہ ہے، اور نہ میری تحریر کا منشا یہ ہے کہ جن اقوال مبارکہ میں کسی طرح کا تعارض یا اختلاف نظر آئے ،میں ان کے مبنی بر وحی ہونے کا انکار کرتا ہوں۔ بعض اوقات ایسے ارشادات میں بھی بظاہر اختلاف نظر آتا ہے جن کا دیگر قرائن کی بِنا پر مبنی بر وحی ہونا واضح ہوتا ہے۔ مگر ایسی صورت میں اختلاف کو تاویل و تطبیق سے بآسانی رفع کیا جا سکتا ہے یا ان میں سے ایک کا ناسخ اور دوسرے کا منسوخ ہونا ثابت ہو جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ بعض روایات میں تعارض کا وجود مطلقاً نہ ہو مگر دوسرے قرائن ان کا علیٰ سبیل الرائے ہونا بالکل واضح کردیں۔ میں نے جو بات کہی ہے وہ صرف اتنی ہے کہ مبنی بروحی ارشادات ناقابل توجیہ تعارض سے پاک ہوتے ہیں اور جو ارشادات وحی پر مبنی نہیں ہوتے ،ان میں من جملہ دیگر قرائن کے بعض اوقات ایک قرینہ تعارض کا بھی پایا جاتا ہے۔
(۲) یہ امر کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات ظن یا ذاتی رائے پر مبنی ہے اور کون سی اﷲ تعالیٰ کے دیے ہوئے علم پر، اس کا اظہار بسا اوقات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تصریحات سے ہوجاتا ہے، اور بسا اوقات دوسرے قرائن اس پر دلالت کرتے ہیں۔ مثلاً یہی احادیث جو دجال کے متعلق وارد ہوئی ہیں، ان میں یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ہی تصریحات سے معلوم ہوتی ہے کہ آپ کو اس کے مقام ،زمانے اور شخصیت کے متعلق اﷲ تعالیٰ کی طرف سے علم نہیں دیا گیا تھا۔ ابن صیاد کے متعلق آپ کو اتنا قوی شبہ تھا کہ حضرت عمرؓ نے آپ کی موجودگی میں قسم کھا کر اسے دجال قرار دیا اور آپؐ نے اس کی تردید نہ کی ،مگر جب انہوں نے اس کے قتل کی اجازت مانگی تو آپؐ نے فرمایا:
’’ان یکنہ فلن تسلط علیہ وان لم یکنہ فلا خیرلک فی قتلہ‘‘
’’اگر یہ وہی ہے تو تم اس پر قابو نہ پاسکو گے اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو اس کے قتل میںتمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں۔ ‘‘(مسلم،ذکر ابن صیاد)
ایک اور حدیث میں حضورؐ نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
ان یخرج وانا فیکم فانا حجیجہ دونکم ان یخرج ولست فیکم فامرؤٌ حجیج نفسہ واللّٰہ خلیفتی علی کل مسلم
’’ اگر وہ میری موجودگی میں نکلے تو تمہاری طرف سے میں اس کا مقابلہ کروں گا،اور اگر وہ ایسے زمانے میں نکلے جب میں تمہارے درمیان موجود نہ ہوں تو ہر آدمی اپنی طرف سے خود ہی اس کا مقابلہ کرے اور اﷲ میرے پیچھے ہر مسلم کا نگہبان ہے۔‘‘ (مسلم، ذکر الدجال)
تمیم داری نے اپنے ایک بحری سفر میں دجال سے اپنی ملاقات کا قصہ جب آپؐ کو سنایا تواس کی بھی آپؐ نے تصدیق یا تکذیب نہیں فرمائی بلکہ یہ فرمایاکہ:
اعجبنی حدیث تمیم انہ وافق الذی کنت احدثکم عنہ
’’مجھے تمیم کا بیان پسند آیا،وہ موافقت رکھتا ہے اس بات سے جو میں دجال کے متعلق تم سے بیان کرتا تھا۔‘‘
پھر آپؐ نے اس پر مزید اضافہ کرتے ہوئے فرمایا:
الا انہ فی بحر الشام اوبحر الیمن، لا بل من قبل المشرق۔
’’ مگر وہ بحر شام یا بحر یمن میں ہے۔نہیں بلکہ وہ مشرق کی جانب ہے۔‘‘ (مسلم،قصۃ الجساسہ)
یہ سب روایات اپنا مفہوم خود واضح کررہی ہیں۔
(۳) دوسرے سوال میں آپ نے ایک بڑی سخت بات کہی ہے ۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ ایسی بات کہنے سے پہلے کتاب وسنت سے اس کی تحقیق کرلیتے۔ قرآن مجید حضرت یونس ؑ کے متعلق کہتا ہے:
وَذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَيْہِ الانبیاء21:87
’’اورمچھلی والا جب کہ وہ غصے میں آ کر چلاگیا اور اس نے گمان کیا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریںگے۔‘‘
یہاں ایک نبی کے لیے اﷲ تعالیٰ خود ظن کا لفظ استعمال کررہا ہے اور یہ بھی اﷲ تعالیٰ ہی نے قرآن مجید میں بتادیا ہے کہ ان کا یہ ظن صحیح نہ تھا۔
صحیح مسلم میں کتاب الفضائل کے تحت ایک مستقل باب ہے جس کا عنوان ہے: باب وجوب امتثال ما قالہ شرعًا دون ما ذکرہ صلی اللہ علیہ وسلم من معایش الدنیا علی سبیل الرأی۔ ’’ با ب اس امر کے بیان میں کہ نبیؐ نے شرعی طریقے پر جو کچھ فرمایا ہو، اس کا امتثال واجب ہے نہ کہ اس بات کا جسے آپ نے دنیوی معاملات میں اپنی رائے کے طور پر بیان کیا ہو۔‘‘ اس باب میں امام موصوف حضرت طلحہؓ، حضرت رافع ؓ بن خدیج، حضرت عائشہؓ اور حضرت انسؓ کے حوالے سے یہ قصہ نقل کرتے ہیں کہ جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم مدینے تشریف لائے تو آپؐ نے دیکھا کہ اہل مدینہ مادہ کھجور میں نر کھجور کا پیوند لگاتے ہیں۔
آپؐ نے فرمایا: ما اظنی یغنی ذالک شیئًا۔’’میں نہیں سمجھتا کہ اس کا کوئی فائدہ ہے۔‘‘
لعلکم لو لم تفعلوا کان خیرًا۔ ’’اگر تم ایسا نہ کرو تو شاید اچھا ہو۔‘‘
لوگو ںنے سنا تو ایسا کرنا چھوڑ دیا،مگر اس سال پھل اچھا نہ آیا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا:
ان کان ینفعکم ذالک فلیصنعوہ فانی انما ظننت ظنا فلا تواخذونی بالظن ولٰکن اذا حدثتکم عن اللّٰہ شیئًا فخذوا بہ ۔ انی لم اکذب علی اللّٰہ ۔
’’اگر لوگوں کو یہ کام نفع دیتا ہے تو وہ ضرور اسے کریں۔میں نے توظن کی بنا پر ایک بات کہی تھی۔تم ظن پر مجھ سے مواخذہ نہ کرو۔ البتہ جب میں اﷲ کی طرف سے کوئی بات تم سے کہوں تو اسے لے لو کیوں کہ میں اﷲ پر کبھی جھوٹ نہیں بولا ہوں۔‘‘
یہ اﷲ کے رسول کی اپنی تصریح ہے،اور اوپر اﷲ تعالیٰ کی تصریح بھی آپ دیکھ چکے ہیں۔اب آپ خود فیصلہ فرمائیں کہ آپ کا نظریہ صحیح ہے یا اﷲ اور اس کے رسول کا بیان؟
( ترجمان القرآن۔جمادی الاولیٰ ۳۷۵اھ،جنوری ۹۵۶اء)

حدیث اور توہین صحابہ:

سوال: بخاری( کتاب الانبیاء) میں حضرت ابن عباسؓ کی روایت کا ایک حصہ یہ ہے:
وان اُناسا من اصحابی یوخذ بہم ذات الشمال فاقول اصحابی اصحابی فیقول انہم لم یزالوا مرتدین علٰی اعقابہم منذ فارقتھم فاقول ما قال العبد الصالح وکنت علیہم شھیدًا ما دمت فیھم (الی قولہ) الحکیم۔
’’جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا کہ قیامت کے دن ’’میرے بعض اصحاب‘‘کو بائیں طرف سے گرفتارکیا جائے گا تو میں کہوں گا(انھیں کچھ نہ کہو) یہ تو میرے اصحاب ہیں،یہ تو میرے اصحاب ہیں۔ جواب ملے گا کہ تیری وفات کے بعد یہ لوگ الٹی چال چلے۔ اس کے بعد میں حضرت عیسیٰؐ کی طرح کہوں گا کہ خداوندا! جب تک میں ان میں موجود رہا،ان کے اعمال کا نگران رہا لیکن جب تو نے مجھے وفات دی تو تو ہی ان کا رقیب تھا۔‘‘
اس روایت سے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توہین اور تحقیر مترشح ہوتی ہے۔کیا یہ روایت صحیح ہے؟
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسولؐ اﷲ کے صحابہ کرام میںسے کچھ تعدادایسے لوگوں کی بھی ہے جنہیں مجرم کی حیثیت سے فرشتے قیامت کے دن بائیں طرف سے گرفتار کریں گے اور یہ کہ انہوں نے دنیاکی زندگی میں سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپؐ کے طریقے کو چھوڑ کر غلط روش اختیار کی۔
اصحاب سے مراد جناب کے صحابہؓ ہی ہیں،اس کے قرائن یہ ہیں :
(ا) لفظ اصحاب خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جنہوں نے آپ کی زندگی میں ایمان کے ساتھ آپ سے تعاون کیا اور آپ کی رفاقت اختیار کی،انہیں اصحاب کا لقب دیا گیا۔
(۲) ایک روایت میں خود حضورؐ نے تصریح فرمائی ہے کہ(اے جماعت صحابہ!) تم میرے اصحاب ہو اور جو اہل ایمان تمہارے بعد آنے والے ہیں،ہمارے اخوان ہیں۔
(۳) حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعینکی فضیلت، بزرگی اور منقبت کے سلسلے میں جو روایات آئی ہیں،ان میں بھی اصحاب کا اطلاق صحابہ کرام پر ہے ۔
(۴) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے احتجاج پر فرشتے جواباً عرض کریں گے کہ ’’آپ کے جدا ہوجانے کے بعد ان لوگوں نے آپ کے طریقے کو چھوڑ دیا اور اپنی طرف سے نئے طریقے ایجاد کرلیے۔ حدیث ’’لا تدری ما احدثوا بعد ک‘‘(مشکوٰۃ) کے الفاظ اس پر شاہد ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ جب تک آپؐ زندہ رہے تو یہ لوگ آپ کے وفادار ساتھی کی طرح آپؐ کے دین کے پیرو کار رہے، لیکن جوں ہی آپ نے اس عالم ناسوت کو چھوڑا تو انہوں نے پھر دین میں رخنے ڈالنے شروع کیے۔
(۵) پھر آنجناب حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح معذرت فرمائیں گے۔
ان قرآنی الفاظ سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ معاملہ حضور ؐ کے اصحاب کا ہے۔

جواب: امام بخاریؒ نے یہ حدیث کتاب الانبیاء میں دو جگہ ابن عباسؓ کے حوالے سے روایت کی ہے۔ ایک باب قول اللہ تعالیٰ ’’واتخذ اللّٰہ ابراھیم خلیلًا‘‘میں، دوسرے باب ’’واذکر فی الکتاب مریم‘‘ میں۔ اس کے علاوہ اسی مضمون کی متعدد احادیث انہوں نے کتاب الرقاق باب فی الحوض میں انس بن مالک، سہل بن سعد، ابو سعید خدری اور ابوہریرہؓ سے نقل کی ہیں۔ ان سب کو جمع کرنے سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں:
(۱) یہ معاملہ ان لوگوں سے متعلق ہے جو نبیؐ کے عہد میں اصحاب کے زمرے میں شمار ہوتے تھے مگر آپؐ کے بعد مرتد ہوگئے۔چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ انہم لن یزالوا مرتدین علی اعقابہم منذ فارقتھم (یہ آپ کے جدا ہونے کے بعد اُلٹے پلٹ گئے تھے اور پلٹے رہے،یعنی مرتد ہونے کے بعد پھر انہوں نے توبہ نہ کی)۔ دوسری روایت میں ہے کہ انہم ارتدوا علی اعقابہم القہقریٰ،اوعلی ادبارھم القہقریٰ (وہ اُلٹے پھر گئے تھے، یعنی جس کفر سے آئے تھے،اسی کی طرف واپس چلے گئے)۔
(۲) یہ معاملہ ان لوگوں سے بھی متعلق ہے جنہوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلمکے عہد میں اسلام تو قبول کرلیا تھا مگر بعد میں بُری روش اختیار کرلی۔ چنانچہ متعدد روایات میں ہے کہ لا تدری ما احدثوا بعدک اور اِنَّکَ لا علم لک بما احدثوا بعدک۔ (آپ نہیں جانتے کہ آپؐ کے بعد انہوں نے کیا کچھ کیا)۔
دونوں صورتوں میں معاملہ بعض اصحاب سے متعلق ہے نہ کہ تمام اصحاب سے۔ ظاہر ہے کہ حضورؐ کے زمانے میں جن لاکھوں آدمیوں نے اسلام قبول کیا تھا،وہ آپ کے اصحاب میں شمار ہوتے تھے۔ مگر انہی میںسے کچھ لوگ وہ بھی تھے جنہوں نے فتنۂ ارتدادمیں حصہ لیا اور اسی حالت میں جان دے دی۔ اور یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ ان میں کچھ لوگ ایسے ہوں جنہوں نے منافقانہ اسلام قبول کیا ہو اور اپنے نفاق کو چھپائے رکھاہو۔ اپنے اصحاب میں ایسے لوگوں کی موجودگی کا امکان فرض کرکے اگر آپؐ نے کچھ باتیں بطور تنبیہ ارشاد فرمائی ہوں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے اور اس سے تمام صحابہ پر کوئی حرف نہیں آتا۔مذکورۂ بالا احادیث دراصل اسی تنبیہ کے قبیل سے ہیں اور ان سے مقصود یہ بتانا ہے کہ جو لوگ اپنے ایمان کی حفاظت نہ کریں گے یا کبائر میں مبتلا ہوں گے،انہیں آخرت میں محض شرفِ صحبت خدا کی گرفت سے نہ بچا سکے گا۔
(ترجمان القرآن۔ جمادی الاخریٰ ۳۷۵اھ،فروری ۹۵۶اء)

حدیث ’’اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ…‘‘کی علمی تحقیق:

سوال: میرے ایک دوست نے جو دینی شغف رکھتے ہیں،حال ہی میں شیعیت اختیا ر کرلی ہے۔ انہوں نے اہل سنت کے مسلک پر چند اعتراضات کیے ہیں جو درج ذیل ہیں۔ اُمید ہے کہ آپ ان کے تشفی بخش جوابات دے کر ممنون فرمائیں گے:
(۱) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ’’ اَ نَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا، فَمَنْ اَ رَادَ الْمَدِیْنَۃَ فَلْیَاْتِ الْبَابَ‘‘ کامفہوم کیا ہے؟
(۲) کیا اس حدیث سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ علم…دینی علم… کے حصول کا واحد اور سب سے معتبر ذریعہ صرف حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ذات گرمی ہے اور اس کے سوا جن دوسرے ذرائع سے علم دین حاصل کیا گیاہے، وہ ناقص ہیں اور اس وجہ سے ان کی دین کے اندر کوئی اہمیت نہیں؟

جواب: احادیث سے استناد کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے روایت کے اعتبار سے دیکھا جائے کہ وہ کہاں تک قابل اعتمادذرائع سے مروی ہوئی ہیں۔پھر اُ ن کے معنی پر غور کیا جائے اور یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ بشرط صحت، ان کا صحیح مدعا کیا ہوسکتاہے۔کسی حدیث کا کوئی ایسا مفہوم لے لینا جو حضورؐ کے دوسرے بہت سے ارشادات سے ٹکراتا ہو، یا جس سے بہت سی قباحتیں لازم آتی ہوں،کسی طرح درست نہیں ہوسکتا۔اس کے بجائے اس کا اگر کوئی ایسا مفہوم ہوسکتا ہو جو آنحضورؐ کے دوسرے ارشادات سے مطابقت بھی رکھتا ہو اور ہر قباحت سے بھی خالی ہو،تو ایک ذی فہم آدمی کے لیے وہی قابل قبول ہونا چاہیے۔
اس قاعدے کو نگاہ میں رکھ کر پہلے ہمیں دیکھنا چاہیے کہ حدیث ’’ اَ نَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا‘‘ کا بلحاظ روایت کیا مقام ہے۔صحاح میں سے اس کو صرف ترمذی نے لیا ہے اور اس میں ’’انا مدینۃ العلم‘‘کے بجائے یہ الفاظ ہیں: ’’ انا دارالحکمۃ وعلی بابھا(میں حکمت کا گھر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہے)۔ راوی اس کے خود حضرت علیؓ ہیں۔امام ترمذیؒ اس کو نقل کرنے کے بعد اس کی روایتی حیثیت پر جو تبصرہ کرتے ہیں،وہ یہ ہے:
ھذا حدیث غریب منکر۔ رویٰ بعضہم ھذا الحدیث عن شریک ولم یذکروا فیہ عن الصنابحی ۔ ولا نعرف ھذا الحدیث عن احد من الثقات غیر شریک ۔
’’یہ حدیث غریب اور منکر ہے۔بعض راویوں نے اسے صرف شریک( تابعی) سے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں صنابحی کا ذکر نہیں کیا ہے۔ہم نہیں جانتے کہ شریک کے سوا ثقات میںسے کسی نے بھی اس کو روایت کیا ہو۔‘‘
غریب، اصطلاح علم حدیث میں اس روایت کو کہتے ہیں جس کا مدار سند کے کسی مرحلے میں صرف ایک راوی پر رہ جائے۔ اور منکر اس روایت کو کہتے ہیں جونری غریب ہی نہ ہو بلکہ اس کا راوی بھی ضعیف ہو۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ سند کے لحاظ سے ترمذی کی اس روایت کا پایہ کیا ہے اور اس پر سارے دین کی بِنا رکھ دینا کہاں تک درست ہوسکتاہے۔
ترمذی کے بعداس مضمون کی روایات کا سارا دارومدار حاکم کی مستدرک پر رہ جاتا ہے جو بجائے خود ہی حدیث کی معتبر کتابوں میں شمار نہیں ہوتی۔اس میں وہ ابن عباسؓ اور جابرؓ بن عبداﷲ سے دو روایتیں مختلف الفاظ میں نقل کرتے ہیں۔ ابن عباسؓ والی روایت کے الفاظ ہیں:
انا مدینۃ العلم وعلی بابھا فمن اراد المدینۃ فلیات الباب ۔
’’ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے ۔پس جو شخص شہر میں آنا چاہے وہ اس کے دروازے سے آئے۔‘‘
اور جابرؓ بن عبداﷲ والی روایت میں آخری فقرہ یہ ہے:
فمن اراد العلم فلیات الباب ۔
’’ جو علم حاصل کرنا چاہے،اسے دروازے پر آنا چاہیے۔‘‘
حاکم نے ان دونوں حدیثوں کے صحیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن علم حدیث کے بڑے بڑے ناقدین کی رائے میں نہ صرف یہ دونوں، بلکہ اس مضمون کی ساری روایات ساقط الاعتبار ہیں۔ ابن عباسؓوالی روایت کے متعلق حافظ ذہبیؒ کہتے ہیں کہ صحیح ہونا تو درکنار، یہ تو موضوع ہے، اور جابرؓ بن عبداﷲ والی روایت پر وہ یہ رائے دیتے ہیں:
العجب من الحاکم وجرأتہٖ فی تصحیحہٖ ھذا وامثالہٖ من البواطیل، واحمد ھٰذا دجال کذاب ۔
’’حاکم پر سخت تعجب ہے کہ کس جرأت کے ساتھ وہ اس روایت اور ایسی ہی دوسری باطل روایتوں کو صحیح کہہ دیتا ہے۔ یہ احمد( یعنی احمد بن عبداﷲ بن یزید الحرانی جس کی سند سے یہ روایت حاکم نے نقل کی ہے) دجال اور سخت جھوٹا ہے۔‘‘
یحییٰ بن معین اس حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ لا اصل لہٗ (اس کی کوئی اصلیت نہیں ہے)۔ امام بخاریؒ کی رائے ہے کہ انہ منکر ولیس لہٗ وجہ صحیح (یہ منکر روایت ہے اور اس کی نقل کا کوئی طریقہ بھی صحیح نہیں ہے)۔ نووی او رجزری اس کو موضوع کہتے ہیں۔ ابن دقیق العید کے نزدیک بھی یہ ثابت نہیں ہے۔ ابن جوزیؒ نے مفصل بحث کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ انا مدینۃ العلم والی روایت جتنے طریقوں سے بھی مروی ہوئی ہے ،سب کے سب موضوع ہیں۔
لائق غور بات یہ ہے کہ جس حدیث کا سند کے اعتبار سے یہ حال ہو،اس پر اتنے بڑے فیصلے کی بِنا رکھ دینا کہاں تک درست ہوسکتا ہے کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین کے احکام صرف حضرت علیؓ کے واسطے سے حاصل کریں گے اور دوسرے صحابہ کو حصول علم کا ذریعہ سرے سے مانیں گے ہی نہیں؟ظاہر ہے کہ یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہے۔قرآن مجید کے بعد ہمارے لیے ہدایت ورہنمائی کا سرچشمہ اگر کوئی ہے تو وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے، اورصحابہ کرامؓ وہ ذریعہ ہیں جن کے واسطے سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے مختلف معاملات میں کیا رہنمائی فرمائی ہے۔ اب اگر ہم اس حدیث پر اعتماد کرکے اس علم کے لیے صرف ایک سیّدنا علی ابن ابی طالب پر انحصار کر لیں، تو لامحالہ ہمیں علم کے اس بہت بڑے حصے سے محروم ہونا پڑے گا جو دوسرے صحابہ کے ذریعے سے منقول ہوا ہے۔ کیا عقل یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ اتنا بڑا فیصلہ کرنے کے لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہم کو اس حدیث کی بہ نسبت بہت زیادہ قوی اور مستند ومعتبر ذریعے سے پہنچنا چاہیے تھا؟ بلکہ اسے تو بہت سی صحیح اور مضبوط سندوں سے مروی ہونا چاہیے تھا، یہاں تک کہ اس کی صحت میں کسی شک کی گنجایش باقی نہ رہتی۔
اب دیکھیے کہ اگر اس حدیث کا وہی مفہوم لیا جائے جو اس کے ظاہر الفاظ سے مترشح ہوتا ہے تو وہ نبیؐ کے بکثرت ارشادات سے اور آپؐ کی زندگی بھر کے عمل سے کس طرح ٹکراتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے صحابہؓ کو اپنی حیات طیبہ میں فوج کا ا فسر بنا کر مہمات پر بھیجا۔ مملکت اسلامیہ کے مختلف علاقوں پر عامل مقرر کیا۔ تحصیل صدقات کے منصب پر مامور کیا۔ نماز پڑھانے کی خدمت سپرد کی۔ تعلیم اور تبلیغ کے لیے اطراف ونواحی میں روانہ کیا۔ یہ تاریخی حقائق ہیں جن سے انکار کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب خدمات کیا علم دین کے بغیر ہی انجام دی جاتی تھیں؟یا یہ سارے صحابہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں بلکہ حضرت علیؓ کے شاگرد تھے؟اگر یہ دونوں باتیں غلط ہیں تو پھر صحیح بات صرف یہی ہوسکتی ہے کہ ان صحابہؓ نے ’’مدینۃ العلم‘‘ یا ’’دارالحکمۃ‘‘سے براہِ راست علم وحکمت کی تعلیم حاصل کی تھی اور یہ سب بھی حضرت علیؓ کی طرح شہر علم اور دار حکمت کے دروازے تھے۔
پھر جس شخص نے بھی سیرت پاک کا کبھی مطالعہ کیا ہے،وہ جانتا ہے کہ نبوت کے منصب پر سرفراز ہونے کے بعد سے حیات دنیوی کی آخری ساعت تک حضورؐ براہِ راست خود دین کی تعلیم و تبلیغ فرماتے رہے۔ اور جو لوگ بھی دین کے متعلق کچھ پوچھنا چاہتے تھے وہ بلا واسطہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے پوچھتے اور جواب حاصل کرتے رہے۔ کیا کبھی ایسا ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی طرف سے جو احکام پہنچے ہوں، وہ آپؐ نے صرف حضرت علیؓ کو بتائے ہوں اور دنیا تک انہیں پہنچانے کی خدمت تنہا حضرت علیؓ نے انجام دی ہو؟ یا کوئی شخص حضورؐ سے دین کی کوئی بات پوچھنے کے لیے حاضر ہوا ہو اور آپؐ نے فرمایا ہوکہ علیؓ سے جا کر پوچھو،یا علیؓ کے توسط سے میرے پاس آئو؟ اگر نبوت کی ۲۳ سالہ زندگی میں کبھی ایسا نہیں ہوا تو آخر اس قول کا کیا مطلب ہوسکتاہے کہ ’’مدینۃ العلم‘‘کا صرف ایک دروازہ ہے اور وہ حضرت علیؓ ہیں؟
خود حاکم جنہو ںنے اس حدیث کو بڑے زور سے صحیح قرار دیا ہے،اپنی مستدرک میں ہزاروں حدیثیں دوسرے صحابہ سے نقل کرتے ہیں،اور ان میں بکثرت احادیث ایسی ہیں جن کی ہم معنی کوئی حدیث حضرت علیؓ سے ان کی کتاب میں منقول نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر حاکم کے نزدیک یہ حدیث صحیح تھی اور مدینۃ العلم تک پہنچنے کا دروازہ صرف ایک ہی تھا تو یہ دوسرے بہت سے دروازے کہاں سے پیدا ہوگئے اور وہ کیوں ان پر گئے؟
حضرت علی ؓ کا اپنا دعویٰ بھی یہ نہ تھا کہ انہیں حضورؐ نے کوئی ایسا علم دیا تھا جو دوسروں کو نہ دیا ہو۔ بخاری، مسلم اور مسند احمد میں صحیح سندوں کے ساتھ یہ روایت آئی ہے کہ حضرت علیؓ نے بار بار برسر عام ان لوگوں کے خیال کی تردید فرمائی تھی جو ایسا سمجھتے تھے۔ آپؓ نے اپنی تلوار کے پر تلے سے ایک کاغذ کا ٹکڑا نکال کر لوگوں کو دکھادیا تھا کہ اس کے سوا کوئی خاص چیز ایسی نہیں ہے جو میں نے حضورؐ سے سن کر ثبت کی ہو۔ اور اس پرزے میں صرف چار پانچ فقہی احکام تھے۔مسند احمد میں ۱۳ مختلف سندوں سے حضرت علیؓ کا یہ ارشاد منقول ہوا ہے۔ان سب روایتوں کو جمع کرنے سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت ممدو ح نے متعدد مواقع پر عوام کی اس غلط فہمی کو خود رفع فرمایا تھا کہ نبیؐ اپنے داماد کو راز میں دین کے کچھ اسرار تعلیم فرما گئے ہیں جو دوسروں کو آپؐ نے نہیں بتائے۔بہت سے لوگوں نے آںجناب کی اپنی زبان سے اس باطل خیال کی تردید سنی اور یہ تردید اتنی مختلف سندوں سے محدثین کو پہنچی کہ اس کی صحت میں مشکل ہی سے شک کیا جاسکتا ہے۔( ملاحظہ ہو مسند احمد (مطبوعہ دارالمعارف، مصر) احادیث نمبر ۵۹۹، ۵ا۶، ۷۸۲، ۷۹۸، ۸۵۸، ۸۷۴، ۹۵۴، ۹۵۹، ٰ۹۶۲، ۹۹۳، ۰۳۷ا، ۲۹۷ا، ۳۰۶ا۔)
اس کے بعد جب ہم ان بہت سی صحیح احادیث کو دیکھتے ہیں جو دوسرے صحابہ ؓ کے متعلق نبیؐ نے ارشاد فرمائی ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ حدیث ان سب کے خلاف ہے۔ مسند احمد اور ترمذی کی روایت ہے کہ حضورؐ نے زیدؓ بن ثابت کے متعلق فرمایا: اَفْرَضُھُمْ یعنی صحابہ میں علم میراث کے وہ سب سے بڑے ماہر ہیں۔ معاذؓ بن جبل کے متعلق فرمایا: اَعْلَمُھُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ۔ ’’حلال وحرام کو وہ سب سے زیادہ جانتے ہیں۔‘‘ اُبیؓ بن کعب کے متعلق فرمایا: اَقْرَؤُھُم’’قرآن کے سب سے بڑے قاری وہ ہیں۔‘‘ مسند احمد میں خود حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲؐ نے فرمایا:
لو کنت مؤمّرًا احدًا من امتی من غیر مشورۃ لامرت علیہم ابن ام عبد ۔
’’اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو بلا مشورہ امیر بنانے والا ہوتا تو ابن ام عبد( عبداﷲؓ بن مسعود) کو بناتا۔‘‘
ترمذی میں حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا اَدْرِیْ مَا بَقَائِیْ فِیْکُمْ فَا قْتَدُوا بِاللَّذَیْنِ مِن بعدِی ابوبکرٍ و عُمَرُ۔
’’میں نہیں جانتا کہ میں کب تک تمہارے درمیان رہوں گا۔ تم میرے بعد ان دو آدمیوں کی پیروی کرنا،ابو بکر اور عمر۔‘‘
حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:
ما من نبی اِلاَّ وَلَہٗ وَ زِیْرانِ من اھلِ السمائِ وَوزِیْرَانِ مِنْ اھلِ الْاَرْضِ، فَاَمَّا وَزَیْرامِنْ اَھْلِ السمائِ فجبریلُ ومِیکائیلُ وَامَّا وَزَیْرَایَ مِنْ اَھْلِ الْارضِ فابوبکرٍ وَعُمَرُ۔
’’ ہر نبی کے لیے دو وزیر آسمان والوں میں سے اور دو وزیر زمین والوں میں سے ہوئے ہیں۔ میرے آسمانی وزیر جبریل و میکائیل ہیں اور زمینی وزیر ابو بکرؓ اور عمر ؓ۔‘‘
ترمذی ہی میں عقبہؓ بن عامر کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لوکان بعدی نبی لکان عمر ۔
’’ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔‘‘
بخاری ومسلم میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ روایت کرتے ہیں کہ سرکار نے حضرت عمرؓ کو خطاب کرکے فرمایا:
یا ابْنَ الْخطابِ وَالَّذِیم نَفْسِیَ بِیَدِہ ما لَقِیَکَ الشَّیْطانُ سَالِکاً فجَاقَطُّ اِلاَّ سَلَکَ فجًّاغیرَفَجِّکَ۔
’’خطاب کے بیٹے!قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے،جس راستے پر بھی شیطان کی تجھ سے مڈبھیڑ ہوجاتی ہے، اس کو چھوڑ کر وہ کسی ایسے راستے پر چلا جاتا ہے جہاں تو اس کے سامنے نہ ہو۔‘‘
ابو دائود میں حضرت ابو ذرؓنبیؐ کا یہ ارشاد روایت کرتے ہیں کہ
اِنَّ اللّٰہَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ یَقُوْلُ بہٖ۔
’’اﷲ نے حق عمر کی زبان پر رکھ دیا ہے، اسی کے مطابق وہ بات کرتاہے۔‘‘
بخاری ومسلم میں ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز حضور صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:
’’رات میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کیے جارہے ہیں اور وہ چھوٹے بڑے کرتے پہنے ہوئے ہیں۔ کسی کا کرتا سینے تک ہے، کسی کا زیادہ نیچے تک، اور عمر میرے سامنے پیش کیے گئے تو ان کا کرتا زمین پر گھسٹ رہا تھا۔ حاضرین نے پوچھا کہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کیا تاویل فرمائی؟ ارشاد ہوا کہ کرتے سے مراد دین ہے۔
یہ روایات تو دوسرے صحابہ کی ہیں۔ خود حضرت علیؓ سے جو نہایت صحیح اور معتبر روایتیں کتب حدیث میں وار د ہوئی ہیں وہ ملاحظہ ہوں:
بخاری میں حضرت علیؓ کے صاحب زادے محمد بن حنفیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد ماجد سے پوچھا: ’’نبیؐ کے بعد سب سے بہتر کون ہے؟ فرمایا :ابوبکرؓ۔میں نے عرض کیا کہ پھر کون؟ فرمایا: عمرؓ۔ اس کے بعد مجھے اندیشہ ہوا کہ میں پھر یہی سوال کروں گا تو کہہ دیں گے، عثمانؓ۔ اس لیے میں نے پوچھا: ان کے بعد کیا آپ ہیں؟ فرمایا : ’’ما اَنَا اِلاَّ رَجَلٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ’’میں کچھ نہیں ہوں مگر بس مسلمانوں میں سے ایک آدمی۔‘‘
یہ جواب ٹھیک اس بلند اور پاکیزہ سیرت کے مطابق ہے جو سیّدنا علیؓ کی تھی۔ ان جیسے عالی ظرف انسان کا یہی مقام تھا کہ اپنے مرتبے کی فضیلت بیان کرنے سے اجتناب فرماتے اور اپنی ذات کو عا م مسلمانوں کی صف ہی میں رکھتے۔
مسند احمد میں امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی روایت ہے (اور یہ روایت ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے) کہ ان کے والد سیّدنا علیؓ نے بیان کیا:
کُنْتُ عِنْدَ النبیِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فَاَقْبَلَ اَبُوبَکْرٍ وَ عُمَرُ فقال یا علُّی ھٰذانِ سَیّدا کَھُوْلِ اَھْلِ الْجنۃِ وشَبَا بِھا بَعْدَا النَّبِیّیْنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔
’’میں نبیؐ کے پاس بیٹھا تھا، اتنے میں ابوبکر ؓ وعمرؓ سامنے سے آتے نظر آئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے علیؓ! یہ دونوں پیغمبروں کے بعد تمام سن رسیدہ اور جوان اہل جنت کے سردار ہیں۔‘‘ (مسند احمد،حدیث نمبر ۶۰۲)
ایک اور حدیث جو مسند احمد، بزار اور طبرانی میں حضرت علیؓ سے بسند صحیح منقول ہوئی ہے،یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ حضورؐ کے بعد کون امیر ہوگا؟آپؐ نے جواب میں فرمایا:
اِنْ تُؤمَّرُوْا ابابکر تَجِدُوہ اَمینًا زاھدًا فِی الدُّنْیا رَاغِبًا اِلَی الآخرۃِ وَاِنْ تؤمَروا عُمَرَ تَجِدُوْہٗ قویًا اَمینًا لَایَخَافُ فِی اللّٰہ لَوْمَۃَ لَا ئِمٍ، وان تُؤَمِّرُوْا عَلِیًا ولا اراکم فاعلین، تَجِدُوْہٗ ھَادیًا مَھْدیًّا یَا خُذُبِکُمُ الطَّرِیَق الْمُسْتَقِیٰمَ۔
’’اگر تم ابوبکر کو امیر بنائو گے تو اسے امین، دنیا کے معاملے میں زاہد اور آخرت کی طرف راغب پائو گے۔ اور اگر عمر کو امیر بنائو گے تو اسے طاقت ور، امین اور اﷲ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہ کرنے والا پائو گے۔ اور اگر علی کو امیر بنائو گے، اور میں نہیں سمجھتا کہ تم ایسا کرو گے، تو اسے ہادی ومہدی پائو گے، جو تم کو سیدھے راستے پر چلائے گا۔‘‘
(مسند احمد، حدیث نمبر۸۵۹)
اسی مسند احمد میں ۲۶ صحیح سندوں سے یہ واقعہ بیان ہوا ہے کہ حضرت علیؓ نے ایک تقریر میں برسر منبر صاف صاف فرمایا کہ نبیؐ کے بعد امت کے بہترین آدمی ابوبکر ؓ ہیں اور ان کے بعد عمرؓ۔ ان روایات میں سے اکثر کے تمام راوی ثقہ ہیں اور کسی پر کوئی جرح نہیں ہے۔ ۲۳ روایتیں فن حدیث کے لحاظ سے صحیح اور ۲ حسن ہیں۔ صرف ایک ضعیف ہے۔ان میں سے ۲ا کے راوی حضرت ابو حجیفہؓ صحابی ہیں جو حضرت علیؓ کے دور حکومت میں پولیس اور بیت المال کے افسر تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے دوران تقریر میں سوال کیا کہ جانتے ہو،نبیؐ کے بعداس اُمت کا سب سے بہتر انسان کون ہے؟میں نے عرض کیا :امیر المومنین وہ آپ ہیں۔ فرمایا:نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے بہترین انسان ابوبکرؓ ہیں اور ان کے بعد عمرؓ۔
ایک اور راوی عبد خیر ہمدانی ہیں جن تک ۳ا روایتوں کا سلسلہ پہنچتا ہے ۔ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ نے حضرت علیؓ کا یہ ارشاد خود ان کی زبان سے سنا ہے ؟تو انہوں نے کہا: میرے کان بہرے ہوجائیں اگر میں نے اس کو خود ان کی زبان سے نہ سنا ہو۔
ایک اور راوی ابراہیم نخعی ہیں جو کہتے ہیں کہ علقمہ نے کوفے کی مسجد کے منبر پر ہاتھ مار کر کہا کہ اس منبر پر میں نے حضرت علیؓ کوخطبے میں یہ فرماتے سنا ہے کہ
خیْرُ النّاسِ کَانَ بَعْدَ رَسُولِ اللہﷺ ابوبکرٍ ؓ ثم عمرُ ؓ۔(ان روایات کے لیے ملاحظہ ہو مسند احمد، احادیث نمبر ۸۳۳ تا ۸۳۷،۸۷۱، ۸۷۸ تا ۸۸۰، ۹۰۹، ۹۲۲، ۹۳۲ تا۹۳۴، ۱۰۳۰، تا ۱۰۳۲، ۱۰۴۰، ۱۰۵۱، ۱۰۵۲، ۱۰۵۴،۱۰۵۵،۱۰۵۹،۱۰۶۰۔)
بیہقی اور مسند احمد میں حضرت علیؓ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ:
ما کنانَبْعَدُ اَنّ السَّکِیْنَۃَ تَنْطِقُ عَلٰی لِسانِ عُمَرَ۔
’’ہم لوگ اس بات کو بعید نہیں سمجھتے تھے کہ سکینت عمرؓ کی زبان سے بولتی ہو۔‘‘
بخاری ومسلم اور مسند احمد میں ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ جب حضرت عمرؓ کا انتقال ہوگیا اور آپؓ کو غسل دینے کے لیے تختے پر لا کر رکھا گیا تو چاروں طرف لوگ کھڑے ہوئے ان کے حق میں دعائے خیر کررہے تھے۔ اتنے میں ایک شخص پیچھے سے میرے شانے پر کہنی ٹیک کر جھکا اور کہنے لگا: ’’اﷲ تم پر رحمت فرمائے،تمہارے سوا کوئی ایسا نہیں ہے جس کے متعلق میرے دل میں یہ تمنا ہو کہ میں اس کا سانامۂ اعمال لے کر اپنے اﷲ کے حضور حاضر ہوں۔ میں اُمیدرکھتا ہوں کہ اﷲ تم کو ضرور اپنے دونوں رفیقوں(یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق ؓ ) کے ساتھ ہی رکھے گا۔ کیوں کہ میں اکثر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے سنا کرتا تھا کہ فلاں جگہ میں اور ابو بکرؓ وعمرؓ تھے۔ فلاں کام میں نے اور ابو بکر ؓ اور عمرؓ نے کیا۔فلاں جگہ میں اورابوبکرؓ و عمرؓ گئے۔ فلاں جگہ سے میں اور ابوبکرؓ و عمرؓ نکلے۔‘‘ ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ علیؓ بن ابی طالب تھے۔
اب غور طلب بات یہ ہے کہ حدیث انا مدینۃ العلم اگر صحیح ہے اور وہی کچھ اس کا مطلب ہے جو اس سے لیا جاتا ہے تو آخر اتنی کثیر التعداد احادیث کے متعلق کیا کہا جائے گا جو دوسرے صحابہ کرام ؓکے متعلق اس سے بہت زیادہ قوی اور معتبر سندوں کے ساتھ وارد ہوئی ہیں؟کس دلیل سے اس کمزور اور نہایت مشتبہ سند کی حدیث کے مقابلے میں ان سب کو جھٹلایا جائے گا؟اور اگر انہیں جھٹلایانہیں جاسکتا تو ان کی کیا ایسی تاویل کی جائے گی جس سے حضرت علیؓ مدینۃ العلم کے باب واحد بھی رہیں اور پھر دوسرے صحابہؓ کے متعلق نبیؐ کے اور خود حضرت علیؓ کے یہ ارشادات بھی سچے قرار پائیں؟ میں عرض کرتا ہوں کہ اوّل تو سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شان میں صحیح اور معتبر حدیثوں کی کمی نہیں ہے کہ خواہ مخواہ ایک ایسی حدیث ان کے حق میں لانے کی کوشش کی جائے جو سند کے لحاظ سے ضعیف کے مرتبے سے بھی گری ہوئی ہے ۔تاہم اگر کسی کو اس کی صحت پر اصرار ہی ہو تو اس کا یہ حصہ بالکل غلط ہے کہ’’جس کو اس شہر میں آنا ہو،وہ اس دروازے سے آئے۔‘‘کیوں کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے بہت سے ارشادات اور آپؐ کے زندگی بھر کے عمل کے خلاف ہے،اور حضرت علیؓ کے اپنے ارشادات سے بھی ٹکراتا ہے۔زیادہ سے زیادہ اس کے پہلے حصے یعنی انا مدینۃ العلم وعلی بابھاکو صحیح مانا جاسکتا ہے، اور وہ بھی اس معنی میں نہیں کہ اس شہر کا صرف ایک ہی دروازہ ہے اور وہ علیؓ ہے۔بلکہ اس معنی میں کہ اس شہر کے دروازوں میں سے ایک دروازہ علیؓ ہے، یہ معنی حق بھی ہیں اور حضورؐ کے دوسرے اقوال اور آپؐ کے عمل سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔
(ترجمان القرآن۔ذی قعدہ ۳۷۶اھ، اگست ۹۵۷اء)

چند احادیث کے اشکالات کی توضیح:

سوال: ایک عرصے سے دو تین چیزیں میرے دماغ پر بوجھ بن رہی ہیں۔اس لیے مجھے آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔
(۱) بخاری شریف کی تیسری حدیث میں نزول وحی اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیات کا ذکر ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول وحی کی ابتدا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اضطراب طاری ہوگیا تھا۔ دریافت طلب یہ امر ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام گھبرائے کیوں تھے؟ یہ بات کہ یہ رسالت کی ذمہ داریوں کے احساس کا نتیجہ تھا، دل کو مطمئن نہیں کرتی، ورنہ‘ وَرَقہ کے پاس لے جانے کے کوئی معنی نہیں بنتے۔ بعض لوگوں کا یہ اشتباہ کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اس وقت اپنی رسالت کا کماحقہ وضوح نہیں ہوا تھا،کچھ بامعنی بات نہیں معلوم ہوتی۔ اگر یہ صحیح ہے تو جن کے پاس آپ یہ معاملہ لے کر گئے تھے کیا وہ ان کیفیات کے پس منظر کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ جانتے تھے۔ ورقہ کے یہ الفاظ ’’ھٰذا النَّامُوسُ الَّذِیْ اَنْزَلَ اللّٰہ عَلٰی مُوْسٰی ‘‘ اس امر کے مؤید ہیں کہ واقعی حضورصلی اللہ علیہ وسلم پراپنی رسالت کا کماحقہ وضوح نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد صورتِ حال مزید مخدوش ہوجاتی ہے۔ صحیح صورتِ حال کیا ہے؟
(۲) باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ، حدیث نمبر ۱۲۶۶ میں صحابہ کی ارادت مندی اور عقیدت کاذکر کرتے ہوئے عروہ ذکر کرتے ہیں: فَوَاللّٰہِ مَا تَنْخَمُ رَسُولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نَخَامَۃً اِلاً وَقَعَتْ فِیْ کَفِ رَجُلٍ مِنْھُمْ فَدَلَکَ بِھا وَجْھَہٗ وَجَلَدَہ۔ نخامہ کھنکارکو بھی کہتے ہیں اور جو غلیظ مواد ناک سے نکلتا ہے اس کو بھی۔ ان میں سے جو بھی ہو، بہرحال قابل غور ہے۔ کیا حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے نخامہ کی یہ کیفیت نہیں ہوتی تھی جو عام طور پر ہوتی ہے؟یافرط عقیدت کی وجہ سے صحابہ کو اسے چہرے اور جسم پر مل لینے میں اجنبیت نہیں محسوس ہوتی تھی؟ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نفاست پسندی اس میں حائل کیوں نہ ہوئی؟
(۳) باب استعمال فضل وضوء الناس حدیث نمبر ۵۵ا میں آتا ہے: دعا النبی صلی اللہ علیہ وسلم بقدح فیہ مائ فغسل یدیہ ووجھہ فیہ ومَجَّ فیہ ثم قال لھما اِشْرَ بَاوَاَفْرَ غا عَلٰی وُجُو ھِکُمَا وَنَحُوْرِ کُمْا۔ پانی کے برتن میں ہاتھ دھونا،پھر اس میں کلی کرنا، اور ان سب کے بعد لوگوں سے کہنا کہ اسے پیو اور اس سے منہ دھوئو۔یہ سب کچھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نفاست پسندی کے عام کلیہ کے مخالف معلوم ہوتا ہے ۔پھر صحابہ کا اس سلسلے میں بے خود ہوکر اس کو استعمال کرنا اور بھی عجیب معلوم ہوتا ہے ۔اس کی وضاحت مطلوب ہے۔
(۴) اقبال مرحوم کو پاکستان میں قبول عام حاصل ہے، بالخصوص جدید طبقے میں، اور اسی طبقے میں پرویزی حضرات بھی گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ اس لیے یہ لوگ مشہور کررہے ہیں کہ اقبال بھی منکر حدیث تھا۔ صحیح صورتِ حال کیا ہے؟ انگریزی خطبات میں مرحوم نے جن مآخذ کا ذکر کیا ہے، ان میں حدیث کا بھی ذکر کیا ہے۔ لیکن اس کی تفصیل اور توضیح میں جن نکات کا مرحوم نے ذکر کیا ہے، ان سے مرحوم کا اپنا نظریہ منکرین حدیث کی حوصلہ افزائی کا موجب سا بن گیا ہے۔

جواب: آپ نے جو سوالات کیے ہیں،ان کامختصر جواب حاضر خدمت ہے۔

(۱)ابتدائے نزول وحی:

نزول وحی کی کیفیت کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے پہلے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ نبیؐ کو اچانک اس صورت حال سے سابقہ پیش آیا تھا۔ آپ کو اس سے پہلے کبھی یہ گمان بھی نہ گزرا تھا کہ آپ ؐ نبی بنائے جانے والے ہیں۔نہ اس کی کوئی خواہش آپ کے دل کے کسی گوشے میں موجود تھی۔ نہ اس کے لیے آپ پہلے سے کوئی تیاری کررہے تھے اور اس کے متوقع تھے کہ ایک فرشتہ اوپر سے پیغام لے کر آئے گا۔آپؐ خلوت میں بیٹھ بیٹھ کر مراقبہ اور عبادت ضرور فرماتے تھے لیکن نبی بنائے جانے کا کوئی تصور آپؐ کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ تھا۔ اس حالت میں جب یکایک غار حرا کی اس تنہائی میں فرشتہ آیا تو آپؐ کے اوپر فطرتاً اس سے پہلے عظیم اور غیر معمولی تجربے سے وہی گھبراہٹ طاری ہوئی جو لامحالہ ایک بشر پر طاری ہونی ہی چاہیے،قطع نظر اس سے کہ وہ کیسا ہی عظیم الشان بشر ہو۔ یہ گھبراہٹ بسیط نہیں بلکہ مرکب نوعیت کی تھی۔ طرح طرح کے سوالات حضورصلی اللہ علیہ وسلمکے ذہن میں پیدا ہورہے تھے جنہوں نے طبع مبارک کو سخت خلجان میں مبتلا کردیا تھا۔ کیا واقعی میں نبی ہی بنایاگیا ہوں؟ کہیں مجھے کسی سخت آزمایش میں تو نہیں ڈال دیا گیا ہے؟ یہ بار عظیم آخر میں کیسے اٹھائوں گا؟ لوگوں سے کیسے کہوں کہ میں تمہاری طرف نبی مقرر ہوا ہوں؟ لوگ میری بات کیسے مان لیں گے؟آج تک جس معاشرے میں عزت کے ساتھ رہا ہوں، اب لوگ میرا مذاق اڑائیں گے اور مجھے دیوانہ کہیں گے۔ اس جاہلیت کے ماحول سے آخر میں کیسے لڑ سکوں گا؟ غرض اس طرح کے نہ معلوم کتنے سوالات ہوں گے جو آپؐ کو پریشان کررہے ہوں گے۔اسی وجہ سے آپؐ گھرپہنچے تو کانپ رہے تھے۔ جاتے ہی فرمایا کہ مجھے اڑھا دو، مجھے اڑھا دو۔ گھر والوں نے آپ کو اڑھا دیا۔ کچھ دیر کے بعد جب ذرا دل ٹھیرا تو سیدہ خدیجہؓ کو سارا واقعہ سنایا اور فرمایا: ’’لَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِی۔ ’’مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔‘‘ انہوں نے آپؐ کو اطمینا ن دلایا کہ
کَلاَّ وَ اللّٰہِ مَا یُخْزِیْکَ اللّٰہُ اَبدًا۔ اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحْمَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتُقْرِی الضَّیْفَ وَ تُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ۔
’’ ہرگز نہیں، خدا کی قسم! آپؐ کو اﷲ کبھی رنج نہ دے گا۔آپؐ تو رشتہ داروں کے کام آتے ہیں،بے کسوں کی مدد کرتے ہیں، نادار کی دست گیری کرتے ہیں،مہمان کی تواضع کرتے ہیں اور تمام نیک کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔‘‘
پھر وہ ورقہ بن نوفل کے پاس آپؐ کو لے گئیں،کیوں کہ وہ اہل کتاب میں سے تھے اور انبیاے سابقین کے حالات سے باخبر تھے۔ انہوں نے حضورؐ سے کیفیت سن کر بلاتامل تصدیق کی کہ ’’یہ وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰ ؑ پر آیا تھا۔‘‘ اس لیے کہ وہ بچپن سے لے کر جوانی تک آپؐ کی انتہائی پاکیزہ سیرت سے خوب واقف تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ یہاں پہلے سے نبوت کے دعوے کی کسی تیاری کا شائبہ تک نہیں پایا گیا ہے۔ ان دونوں باتوں کو جب انہوں نے اس واقعہ سے ملایا کہ یکایک غیب سے ایک ہستی آکر ایسے شخص کو ان حالات میں وہ پیغام دیتی ہے جو عین تعلیمات انبیا کے مطابق ہے تو یہ ضرور سچی نبوت ہے۔
یہ سارا قصہ ایسا فطری اور معقول ہے کہ اس صورت حال میں یہی کچھ ہونا چاہیے تھا۔ اس پر شکوک کا پیدا ہونا تو درکنار،میرے نزدیک تو یہ رسول اﷲ ؐ کے نبی صادق ہونے کے اہم ترین دلائل میں سے ایک ہے۔اگر یہ معاملہ اس طرح پیش نہ آتا اور آپؐ یکایک حرا سے آتے ہی بڑے اطمینان کے ساتھ فرشتے کی آمد کا واقعہ مجمع عام میں سنا کر اپنی نبوت کا دعویٰ پیش فرماتے تو ایک آدمی یہ شک کرسکتا تھا کہ حضرت پہلے سے اپنے آپ کو نبوت کا اہل سمجھے بیٹھے تھے اور دور ایک غار میں بیٹھ بیٹھ کر اس کا انتظار کررہے تھے کہ کب کوئی کشف والہام ہوتا ہے۔آخر شدت مراقبہ نے ذہن کے سامنے ایک فرشتے کا نقشہ پیش کرہی دیا اور کانوںمیں آوازیںبھی آنے لگیں۔معاذ اﷲ۔ لیکن خدا کے فضل سے وہاں نبوت کا ارادہ اور اس کی خواہش اور کوشش تو درکنار،جب بالفعل وہ مل گئی تب بھی چند ساعتوں تک عالم حیرت ہی طاری رہا۔ دوسرے الفاظ میں یو ں سمجھیے کہ بے نظیر شخصیت کے مالک ہونے پر بھی وہ ذات عجب وخود پسندی سے اس درجے خالی تھی کہ جب نبوت کے منصب عظیم پر یکایک مامور کردیے گئے اس وقت بھی کافی دیر تک یہ اطمینان نہ ہوتا تھا کہ دنیا کے کروڑوں انسانوں میں سے تنہا ایک میں ہی اس قابل ہوں کہ اس منصب کے لیے ربّ کائنات کی نگاہ انتخاب میرے اوپر پڑے۔

(۲)آنحضورؐکے لعاب سے حصول برکت:

دوسرے نمبرپر آپ نے جس واقعے پر تعجب کا اظہار کیا ہے وہ درحقیقت کسی تعجب کا محل نہیں ہے۔ بس ذرا اس امر پر غور کرلیجیے کہ معاملہ ایک نبی کا ہے اور ان لوگوں کا ہے جو سچے دل سے مان چکے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں اور اپنے درمیان اس عظیم المرتبت ہستی کو موجود پا رہے تھے۔ اس مرتبے کی ہستیوں کا جو زبردست اثر ان لوگوں پر ہوسکتا ہے جنہیں یقین ہو کہ ہمارے سامنے وہ شخص موجود ہے جسے اﷲ سے مکالمے کا شرف حاصل ہوتا ہے، اس کا اندازہ آپ بخوبی کرسکتے ہیں اگر تھوڑی دیر کے لیے خود اپنے آپ کو ان لوگوں کی جگہ فرض کرلیں۔ یہ انبیا علیہم السلام کا غیر معمولی اثر ہی تو تھا جس کی بدولت ان کے معتقدین میں سے بکثرت لوگ حد پر نہ رک سکے اور غلو کرکے انہیں خدا اور ابن اﷲ اور اوتار اور نہ معلوم کیا کیا بنا بیٹھے۔ نبیؐ نے اس معاملے میں لوگوں کو حد اعتدال پر قائم رکھنے کے لیے جو کوششیں فرمائیں، وہ سب کو معلوم ہیں۔ مگر اس کے ساتھ آپؐ نے انسانی فطرت کی رعایت بھی ملحوظ رکھی اور حد اعتدال کے اندر جہاں تک شدت عقیدت کو جانے کی اجازت دی جاسکتی تھی، وہاں تک جانے سے لوگوں کو نہیں روکا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی وقت لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوک زمین پر نہ گرنے دیا اور آگے بڑھ کر اسے ہاتھوں پر لینے اور اپنے منہ اور جسم پر مل لینے کی کوشش کی تو آپؐ نے منع نہ فرمایا۔ رہی یہ بات کہ خود لوگوں کو گھن کیوں نہ آتی تھی، تو میں کہوں گا کہ عام انسانوں کے تھوک سے ضرور گھن آسکتی ہے، مگر جس منہ پر خدا کاکلام اترتا ہو، اس کے تھوک سے گھن آنا تو درکنار،اہل ایمان کی نگاہ میںتو عطر کی بھی اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔
(۳) تیسرے واقعے کی نوعیت بھی وہی ہے جو اوپر کے واقعے کی ہے ۔لیکن اس کی پوری تفصیل جو بخاری، کتاب المغازی ،باب غزوۃ الطائف میں آئی ہے،اگر نگاہ میں رہے تو وہ بات زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے جو اوپر میں نے بیان کی ہے۔ قصہ یہ ہے کہ حضورؐ نے غزوہ حنین کے غنائم برسر موقع تقسیم کرنے کے بجائے جعرانہ پہنچ کر تقسیم کرنے کا فیصلہ فرمایا تھا اور اس وجہ سے بعض نئے نئے ایمان لائے ہوئے لوگ بڑے بے صبرہورہے تھے۔جب آپؐ جعرانہ پہنچے تو ایک بدو نے آکر اپنے حصے کا مطالبہ کیا۔حضورؐ نے فرمایا:’’ تجھے بشار ت ہو‘‘(یعنی اس بات کی بشارت کہ عن قریب حصے تقسیم ہوں گے اور اب تک جو تو نے صبر کیا ،اس کا اجر ملے گا)۔اس نے تڑخ کر کہا:’’آپ کی یہ بشارتیں میں بہت سن چکا ہوں۔‘‘حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ اور حضرت بلالؓ اس وقت حاضر تھے۔ حضورؐ نے ان کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا : ’’اس نے میری بشارت رد کردی۔تم دونوں اسے قبو ل کرو۔‘‘ دونوں نے عرض کیا:’’ہم نے قبول کی۔‘‘ پھر آپؐ نے ایک پیالہ بھر پانی منگوایا۔ اس میں ہاتھ اورمنہ دھویا اور کلی کی۔ پھر دونوں صاحبوں سے فرمایا: تم اسے پی لو اور اپنے منہ اور سینے پر ڈالو اور بشارت لو۔ چنانچہ دونوں نے ایسا ہی کیا۔ پردے کے پیچھے ام المومنین حضرت ام سلمہؓ بیٹھی تھیں۔ انہوں نے پکارکر دونوں صاحبوں سے کہا: کچھ اپنی ماں کے لیے بھی بچا لینا۔ یہ سن کر انہوں نے تھوڑا سا پانی بچالیا اور انہیں بھی دیا۔
اس قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دراصل اس بدو کو یہ سبق دینا چاہتے تھے کہ ایمان کا دعویٰ کرنے کے باوجود اس نے جو اس بے بہا بشارت کو رد کیا ہے یہ کیسی ناشکری اور بدبختی ہے، اور سچے اہل ایمان کا اپنے نبی کے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے ۔حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی روایت کا انداز اور پھر ام سلمہ ؓ کا اس پانی میں سے اپنا حصہ طلب کرنا صاف بتاتا ہے کہ یہ حضرات اس مبارک پانی کو لے کر پینے اور منہ اور سینے پر ملنے میں کراہت محسوس کرنا تو درکنار، اسے اپنے لیے آب حیات سمجھتے تھے، اس کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر مسابقت کرتے تھے، اور انہیں فخر تھا کہ یہ نعمت انہیں نصیب ہوئی۔
(۴) ’’اقبال اور حدیث‘‘ والے سوال کے بارے میں، میں صرف اتنا ہی کہنا کافی سمجھتا ہوں کہ ہمارے لیے اس مسئلے کی سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں ہے کہ حدیث کے متعلق اقبا ل مرحوم کا نظریہ کیا تھا اورکیا نہ تھا۔ اگر ہمارے پاس اس معاملے میں صاف اور واضح نصوص اور خلفائے راشدین سے لے کر آج تک کے تمام علمائے اُمت کا متفقہ طرز عمل نہ ہوتا تو شاید ہم اس کے محتاج ہوتے کہ حدیث کے متعلق علامہ اقبال کا نظریہ معلوم کرتے۔ لیکن ان حجتوں کی موجودگی میں یہ چیز تلاش کرنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔(ترجمان القرآن۔ اگست ۹۶۰اء)

قرآن وحدیث کا باہمی تعلق:

سوال: رسائل ومسائل حصہ دوم ،صفحہ ۶۲۔۶۳ پیراگراف اوّل میں آپ نے لکھا ہے:
’’قرآن میں اگر کوئی حکم عموم کے انداز میں بیان ہوا ہو اور حدیث یہ بتائے کہ اس حکم عام کا اطلاق کن خاص صورتوں پر ہوگا تو یہ قرآن کے حکم کی نفی نہیں ہے بلکہ اس کی تشریح ہے۔اس تشریح کو اگر آپ قرآن کے خلاف ٹھہرا کر رد کردیںگے تو اس سے بے شمار قباحتیں پیدا ہوں گی جن کی مثالیں آپ کے سامنے پیش کروں تو آپ خود مان جائیں گے کہ فی الواقع یہ اصرار غلطی ہے۔‘‘
اگر آپ اس عبارت کے آخر میں چند مثالیں اس امر کی پیش فرماتے تو مستفسر کو مزید تشفی ہوجاتی۔ مجھے چند ایسی امثلہ کی ضرورت ہے جس سے ایک منکر حدیث مان جائے کہ ایساکرنے سے (تشریح کو قرآن کے خلاف ٹھیرانے سے) فی الواقع قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔ بہتر ہوگا اگر آپ چار امثلہ مہیا فرمادیں۔
میں اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ حدیث قرآ ن کی وضاحت کرتی ہے مگرمیں کسی حکم کے قرآن میں نہ ہونے اور خلاف قرآن ہونے میں تمیز نہیں کرسکتا۔ازراہ کرم آپ چار امثلہ ایسی پیش فرما دیں جس سے میرے لیے دونوں باتوں(خط کشیدہ) کا فرق پوری طرح واضح ہوجائے؟

جواب:حدیث قرآن کی جس طرح تشریح کرتی ہے ،اس کی بہت سی مثالوں میں سے چند یہ ہیں:
قرآن کہتا ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹا جائے۔ اس میں چوری کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ اگر آپ کا اپنا بچہ ایک پیسا آپ کی جیب سے نکال لے تو وہ بھی چور قرار دیا جاسکتا ہے۔ ہاتھ کی بھی کوئی حد نہیں بتائی گئی ہے۔ سیدھا یا بایاں؟ کلائی کے پاس سے، یا شانے کے پاس سے، یا کہنی کے پاس سے؟ ان سب اُمور کے متعلق سارے تعینات حدیث میں کیے گئے ہیں۔ انہیں آپ نظر انداز کردیں تو انداز ہ کرلیجیے کہ حکم کی تعمیل میں کیسی کچھ زیادتیاں ہوسکتی ہیں۔
قرآن حج کی فرضیت کا عام حکم دیتاہے اور یہ صراحت نہیں کرتا کہ آیا ہر سال ہر مستطیع مسلمان پر حج فرض ہے یا عمر میں ایک مرتبہ اداکرنا کافی ہے۔ مؤخر الذ کر بات صرف حدیث سے معلوم ہوتی ہے۔ اگر اسے آپ قبول نہ کریں تو قرآنی حکم کے عموم کا تقاضا یہ ہے کہ ہر سال ہر مستطیع مسلمان حج کے لیے جائے۔
قرآن چند اقسام کی عورتوں کو حرام قرار دینے کے بعد کہتا ہے کہ ان کے ماسوا دوسری عورتوں سے نکاح کرنا تمہارے لیے حلال ہے۔ ان حرام کی ہوئی عورتوںمیں محرمات ابدیہ کے علاوہ صرف سالی کا ذکر ہے جب کہ اس کی بہن آدمی کے نکاح میں زندہ موجود ہو۔ عورت کی خالہ اور پھوپھی کا ذکر نہیں ہے۔یہ بات حدیث سے معلوم ہوتی ہے کہ عورت کی اپنی بہن کی طرح اس کے باپ کی بہن اور اس کی ماں کی بہن بھی اس کے ساتھ ایک شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہوسکتیں۔ اس تشریح کو نظر انداز کردیا جائے تو آدمی حکم کے عموم سے غلط فائدہ اٹھا کر وہی خرابی برپا کرسکتاہے جس سے روکنے کے لیے شریعت نے جمع بین الاختین کو حرام کیا ہے۔
قرآن سونے اور چاندی کے جمع کر رکھنے پر سخت وعید کرتا ہے ۔سورۂ توبہ کی آیت ۳۵۔۳۶ کے الفاظ ملاحظہ فرمالیں۔اس کے عموم میں اتنی گنجایش بھی نہیں ہے کہ آپ سونے یا چاندی کا ایک تار بھی اپنے گھر میں رکھ سکیں۔ یہ حدیث ہی ہے جس نے اس کے منشا کی توضیح وتشریح کی ہے۔
قرآن میں کسی حکم کا نہ ہونا اور حدیث میں ہونا صرف یہ معنی رکھتا ہے کہ حدیث قرآن سے زائد ایک حکم بیان کرتی ہے، نہ یہ کہ حدیث قرآن کے مخالف حکم دے رہی ہے۔ مثلاًنماز کی رکعات اور اس میں پڑھی جانے والی عبارات اور نماز کی دوسری تفصیلات قرآن میں نہیں ہیں۔ حج کے تمام مناسک قرآن میں بیان نہیں ہوئے ہیں۔زکوٰۃ کا نصاب اور اس کی شرحیں اور دوسری تفصیلات قرآن میںنہیں ہیں۔ اذان کے الفاظ قرآن میں نہیں ہیں۔اس طرح کے جتنے زائد احکام ہم کو حدیث سے ملتے ہیں، وہ قرآن سے زائد ضرور ہیں مگر اس کے خلاف نہیںہیں۔ قرآن کے خلاف ہونا یہ ہے کہ قرآن ایک چیز کا حکم دے اور حدیث اس سے منع کرے۔ یا اس کے برعکس قرآن منع کرے اور حدیث اس کا حکم دے۔ ایسی کوئی مثال کسی صحیح حدیث میں نہیں پائی جاتی۔ (ترجمان القرآن۔فروری ا۹۶اء)

احادیث کی تاویل کا صحیح طریقہ:

سوال: ایک مضمون میں ذیل کی حدیث نقل ہوئی ہے:
’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، اگر تم لوگوں نے گناہ نہ کیا تو تم لوگوں کو اﷲ تعالیٰ اٹھا لے گا اور ایک دوسری قوم لے آئے گا جو گنا ہ کرے گی اور مغفرت چاہے گی، پس اﷲ اس کو بخش دے گا۔‘‘
ناچیز کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ حدیث شاید موضوع ہوگی جو بداعمالیوں کا جواز پیدا کرنے کے لیے بنا لی گئی ہوگی۔بظاہر اس میں جتنی اہمیت استغفار کی ہے ،اس سے کہیں زیادہ گنا ہ کی تحریص معلوم ہوتی ہے۔کیا یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی کوئی معقول توجیہ ممکن ہے؟

جواب: کسی حدیث کو رد کرنے کایہ طریقہ صحیح نہیں ہے کہ آدمی اس کے مضمون پر تھوڑا سا غور کرے اور اگر بات سمجھ میں نہ آئے یا اس کا کوئی غلط مفہوم ذہن میں پیدا ہوجائے تو بے تکلف یہ فیصلہ کردے کہ حدیث گھڑی ہوئی ہے، اور ایک نظریہ یہ بھی ساتھ ساتھ قائم کرلے کہ فلاں فلاں وجوہ سے یہ گھڑی گئی ہو گی۔ اس طریقے سے احادیث پرکھی جانے لگیں تو نہ معلوم کتنی صحیح حدیثوں کو دریا برد کرڈالا جائے گا۔ حدیثوں کو پرکھنے کے لیے علم حدیث کی گہری واقفیت ضرور ی ہے اور اس کے بعد دوسری ضروری چیز یہ ہے کہ آدمی میں بات کے مغز کو پہنچنے کی عمدہ صلاحیت ہو۔اس طرح جب روایت اور درایت میں صحیح توازن قائم ہوجائے تب انسان اس قابل ہوسکتا ہے کہ احادیث کو جانچ کران کی صحت وسقم اور ان کے مضمون کی معنوی حیثیت کے متعلق کوئی رائے قائم کرے۔
جس حدیث کے متعلق آپ نے تنقیدکی ہے وہ مسلم، ترمذی اور مسند احمد میںمتعدد طریقوں سے منقول ہوئی ہے اور روایت کے اعتبار سے اس پر کوئی وزنی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ رہا اس کا مضمون، تو اس موضوع سے متعلق جو دوسری احادیث وارد ہوئی ہیں،ان سب کے ساتھ ملا کر اسے پڑھاجائے تو اس کا یہ مطلب نہیں نکلتا کہ آدمی کو جان بوجھ کر گناہ کرنا چاہیے اور پھر توبہ کر لینی چاہیے۔ بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ انسان جب تک انسان ہے ،بالکل بے خطا اور بے گناہ نہیں ہوسکتا ۔انسان کی اصل خوبی یہ نہیں ہے کہ اس سے کبھی گناہ سرزد ہی نہ ہو، بلکہ اس کی اصل خوبی یہ ہے کہ جب بھی اس سے گناہ سرزد ہوجائے،وہ نادم ہو اور اپنے خدا سے معافی مانگے۔اس مضمون کو ذہن نشین کرنے کے لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اﷲ کو بے گنا ہ مخلوق ہی پیداکرنی ہوتی تو انسانوں کے بجائے کوئی اور مخلوق پیدا کرتا۔ انسان کو تو خدا نے نیکی اور گناہ دونوںکی صلاحیت واستعداد کے ساتھ پیداکیا ہے، اور اس نوعیت کی مخلوق سے بے گناہی مطلوب نہیں ہوسکتی۔ اس کے لیے تو بڑے سے بڑا مقام یہی ہوسکتا ہے کہ بتقاضائے بشریت جب بھی اس سے قصور سرزد ہو، اس پر اصرار نہ کرے بلکہ نادم ہوکر استغفار کرے۔
(ترجمان القرآن۔نومبر ۹۶۲اء)

زکوٰۃ اور مسئلۂ تملیک:

سوال: علمائے حنفیہ بالعموم ادائیگی زکوٰۃ کے لیے تملیک شخصی کو لازم قرار دیتے ہیں۔اس لیے ان کا فتویٰ یہ ہے کہ حیلۂ تملیک کے بغیررفاہِ عام کے اداروں مثلاً مدارس اور شفا خانوں وغیرہ کے اجتماعی مصارف میں زکوٰۃدینا صحیح نہیں۔ اس پر ایک مستفسر نے بعض اشکالات وسوالات علمائے کرام کی خدمت میں پیش کیے تھے جو ترجمان القرآن محرم ۳۷۴اھ میں بھی شائع ہوئے تھے۔ سائل کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ فقہ حنفی میں تملیک کی جو شرط لگائی جاتی ہے اور اس کی بِنا پر جو فروعی احکام بیان کیے جاتے ہیں ،وہ صرف اسی صورت میں قابل عمل ہیں جب کہ لوگ انفرادی طور پر زکوٰۃ نکال کر انفرادی طور پر ہی اسے خرچ کریں۔ لیکن اجتماعی طور پر مثلاً اسلامی حکومت کے ذریعے سے اگر زکوٰۃ کی وصولی وصرف کا انتظام کیا جائے تو شرط تملیک اپنے جزوی احکام کے ساتھ ایک دن بھی نہیں چل سکتی۔کیوں کہ زکوٰۃ کے نظام کو وسیع اور مستحکم کرتے ہوئے زکوٰۃ کی تقسیم وتنظیم،حمل ونقل اور متعلقہ ساز وسامان کی فراہمی میں بے شمار شکلیں ایسی پیدا ہوں گی جن میں شرط تملیک کی پابندی محال ہوگی۔ ان سوالات کا جو جواب دیا گیا تھا وہ درج ذیل ہے:
جس فتوے پر یہ سوالات کئے گئے ہیں،میرے نزدیک وہ آیت ’’اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآئِ… الخ‘‘ کی اس تاویل کے اعتبار سے بھی صحیح نہیں ہے جو حنفیہ نے اختیار فرمائی ہے۔اس مطلب کو سمجھنے کے لیے آیت کے الفاظ پر ایک نگاہ ڈال لیں۔اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ
التوبۃ9: 60
’’صدقات تو فقرا کے لیے ہیں اور مساکین کے لیے،اور ان لوگوں کے لیے جو ان پر کام کرنے والے ہوں ،اور ان کے لیے جن کی تالیف قلب مقصود ہو…الخ‘‘

جواب: دیکھیے یہاں لام کا عمل صرف فقرائ ہی پر نہیں ہورہا ہے بلکہ مساکین ،عاملین علیہا اور مؤلفۃ قلوبہم پر بھی ہورہا ہے۔یہ لام تملیک کے لیے ہے تو،اور استحقاق یا اختصاص یا کسی اور معنی کے لیے ہے تو، بہرصورت جس معنی میں بھی یہ فقرائ سے متعلق ہوگا،اسی معنی میں باقی تینوں سے بھی متعلق ہوگا۔ اب اگر حنفی تاویل کے لحاظ سے وہ تملیک کا مقتضی ہے تو زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کا مال ان چاروں میں سے جس کے حوالے بھی کردیا جائے گا تملیک کا تقاضا پورا ہوجائے گا۔آگے تملیک در تملیک کا حکم کہاں سے نکالا جاتا ہے؟کیا فقیر یا مسکین کی ملک میں زکوٰۃ کا مال پہنچ جانے کے بعد اس کے تصرفات پر کوئی پابندی ہے؟ اگرنہیں تو عاملین علیہا کے ہاتھ میں مال پہنچ جانے کے بعد، جب کہ لام تملیک کا تقاضا پورا ہوچکا، پھر مزید تملیک کی پابندی لگانے کے لیے کیا دلیل ہے؟
لام کو اگر تملیک ہی کے معنی میں لیا جائے تو ایک شخص جب زکوٰۃ و صدقات واجبہ کے اموال عاملین علیہا کے سپرد کردیتا ہے تو گویا وہ انہیں اس کا مالک بنادیتاہے،اور یہ اسی طرح ان کی ملک بن جاتے ہیں جس طرح فے اور غنیمت کے اموال حکومت کی ملک بنتے ہیں۔پھر ان پر یہ لازم نہیں رہتا کہ وہ ان اموال کو آگے جن مستحقین پر بھی صرف کریں، بصورت تملیک ہی کریں۔ بلکہ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ باقی ماندہ سات مصارف زکوٰۃ میں اس کو جس طرح مناسب اور ضروری سمجھیں صرف کریں۔ لا م تملیک کے زور سے ان پر کوئی قید نہیں لگائی جاسکتی۔البتہ جو قید لگائی جاسکتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ جو شخص بھی زکوٰۃ کی تحصیل وصرف کے سلسلے میں کوئی عمل کرے، وہ بس اس عمل کی اجرت لے لے۔ باقی مال اسے دوسرے مستحقین زکوٰۃ پر صرف کرنا ہوگا۔اس لیے کہ یہ لوگ عاملین علیہا ہونے کی حیثیت سے ان اموال کے مالک بنائے جاتے ہیں نہ کہ بجائے خود مستحق ہونے کی حیثیت سے۔’’عاملین علیہا‘‘کا لفظ خود اس وجہ کو ظاہر کردیتاہے جس کے لیے زکوٰۃ ان کے حوالے کی جاتی ہے ۔اور پھر یہی لفظ یہ بھی طے کردیتا ہے کہ وہ عامل ہونے کی حیثیت سے اس مال کا کتنا حصہ جائز طور پر اپنے ذاتی تصرف میں لانے کا حق رکھتے ہیں۔
اس تشریح کے بعد اس حدیث پر نگاہ ڈالیے جو امام احمدؒ نے حضرت انس ؓبن مالک سے روایت کی ہے۔ اس میں حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبیؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ’’اِذَا اَدَّیْتٌ الزَّکٰوۃَ اِلٰی رَسُوْلِکَ فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْھَا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ؟‘‘ ’’جب میں نے آپ ؐ کے بھیجے ہوئے عامل کو زکوٰۃ ادا کردی تو میں اﷲ اور اس کے رسول ؐ کے سامنے اپنے فرض سے بری الذمہ ہوگیا نا؟‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:
نَعَمْ، اِذَا اَ دَّیْتَھَا اِلٰی رَسُوْلِیْ فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْھَا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَلَکَ اَجْرُھَا وَاِثْمُھَا عَلٰی مَنْ بَدَّلَھَا ۔
’’ہاں! جب تو نے اسے میرے فرستادہ عامل کے حوالے کردیا تو تو اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے آگے اپنے فرض سے بری الذمہ ہوگیا۔اس کااجر تیرے لیے ہے اور جو اس میں ناجائز تصرف کرے، اس کا گناہ اسی پر ہے۔‘‘
اس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ زکوٰۃ دینے والا اپنی زکوٰۃ عاملین علیہا کے سپرد کرکے بری۱ لذمہ ہوجاتا ہے۔بالفاظ دیگر لام تملیک کا تقاضا جس طرح کسی فقیر یامسکین کو زکوٰۃدینے سے پورا ہوتا ہے، اسی طرح عاملین علیہا کو دے دینے سے بھی پورا ہوجاتا ہے۔اب یہ فتویٰ کس بنیاد پر دیا جاتا ہے کہ عاملین علیہا اگر آگے تملیک ہی کے طریقے پر اموال زکوٰۃ کو صرف کرتے ہوں تو انہیں زکوٰۃ دو ورنہ نہیں؟ زکوٰۃدینے والوں پر یہ دیکھنا کس نے فرض کیا ہے کہ عاملین کس طریقے پر عمل کرتے ہیں؟ان کا فرض صرف یہ ہے کہ زکوٰۃ کے مستحقین کو، یا ان کے لیے کام کرنے والے عاملین کو اپنے اموال زکوٰۃ کا مالک بنادیں۔ عاملین کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جاسکتی ہے ،وہ یہ کہ جس شخص کو اس حیثیت سے زکوٰۃ دی جارہی ہو ،اس کے بارے میں زکوٰۃدینے والا یہ اطمینان کرلے کہ وہ واقعی’’عامل‘‘ ہے یا نہیں؟ حکومت اسلامی موجود ہو اور اس نے عاملین زکوٰۃمقرر کیے ہوں تو ان کے پا س حکومت کی طرف سے تحصیل زکوٰۃ کا پروانہ موجود ہونا ہی اس ا طمینان کے لیے کافی ہے۔ لیکن اگر یہ صورت نہ ہواور مسلمانوں کو کسی اجتماعی تنظیم نے بطور خود زکوٰۃ کی تحصیل و صرف کا بندوبست کیا ہو تو اس کے بارے میں بس یہ تحقیق کرلینا چاہیے کہ وہ واقعی مستحقین زکوٰۃ پر اس مال کو صرف کرتی ہے، اور ’’عمل‘‘ کے مصارف اسی حد تک لیتی ہے جنہیں جائز ومعقول کہا جاسکے۔ تحقیق سے ان باتوں کا اطمینان ہوجائے تو اس کو زکوٰۃ دینے والا یقینا فرض سے سبک دوش ہوجائے گا۔ کوئی شرعی دلیل مجھے ایسی نظر نہیں آتی جس کی بِنا پر زکوٰۃدینے والوں کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ عاملین علیہا کو زکوٰۃ دینے سے پہلے یہ بھی تحقیق کریں کہ وہ اموال زکوٰۃ کو بطریق تملیک صرف کرتے ہیں یا نہیں؟
اب یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ ’’عاملین علیہا ‘‘کے الفاظ جو قرآن میں ارشاد فرمائے گئے ہیں، ان کا اطلاق کن لوگوں پر ہوتا ہے۔ لوگ اسے صرف ان کارندوں تک محدود سمجھتے ہیں جن کو حکومت اسلامی اس کام کے لیے مقرر کرے۔لیکن قرآ ن کے الفاظ عام ہیں جن کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوسکتا ہے جو زکوٰۃ کی تحصیل وتقسیم کے سلسلے میں’’عمل‘‘کرے۔اس عام کو خاص کرنے والی کوئی دلیل میرے علم میں نہیں ہے۔ اگر حکومت اسلامی موجود نہ ہو،یا ہو مگر اس فرض سے غافل ہو ،اور مسلمانوں میںکوئی گروہ یہ’’عمل‘‘ کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہو، تو آخر کس دلیل سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ نہیں تم’’ عاملین علیہا‘‘نہیں ہو؟ میرے نزدیک تو یہ اﷲ کی رحمتوں میں سے ایک رحمت ہے کہ اس نے عاملین حکومت کے لیے خاص کرنے کے بجائے اپنا حکم ایسے عام الفاظ میں دیا ہے جن میں یہ گنجایش پائی جاتی ہے کہ اسلامی حکومت کی غیر موجودگی، یا غافل حکمرانوں کی موجودگی میں مسلمان بطور خود بھی زکوٰۃ کی تحصیل وتقسیم کے لیے مختلف انتظامات کرسکیں۔ اگر اﷲ تعالیٰ کے اس عام حکم کو عام ہی رہنے دیا جائے تو غریب طلبہ کی تعلیم، یتیموں کی پرورش، بوڑھوں اور معذوروں اور اپاہجوں کی نگہداشت ،نادار مریضوں کے علاج،اور ایسے ہی دوسرے کاموں کے لیے جو ادارے قائم ہوں،ان سب کے منتظمین بالکل بجا طور پر ’’عاملین علیہا‘‘ کی تعریف میں آئیں گے اور ان کو زکوٰۃ لینے اور حسب ضرورت صرف کرنے کے اختیار ات حاصل ہوجائیں گے، اور ان حیلہ بازیوں کی کوئی حاجت باقی نہ رہے گی جو آج کل ہمارے عربی مدرسوں کے مہتمم حضرات زکوٰۃوصول کرنے کے لیے کیا کرتے ہیں۔اسی طرح ایسے ادارے قائم کرنے کی بھی گنجایش نکل آئے گی جو خاص طور پر تحصیل وصرف زکوٰۃ ہی کے لیے قائم ہوں۔ان کے منتظمین بھی’’عاملین علیہا‘‘ قرار پائیں گے، اور صرف زکوٰۃ کے معاملے میں ان کے ہاتھ بھی تملیک کے فتوے سے باندھنے کی ضرورت نہ رہے گی۔
میرے نزدیک اگر قرآن کے الفاظ کی عمومیت نگاہ میں رکھی جائے تو صرف مذکورہ بالا عاملین ہی پر ان کا اطلاق نہیں ہوتا بلکہ دوسرے بہت سے کارکن بھی اس تعریف میں آتے ہیں۔ مثلاً:
ایک یتیم کا ولی، ایک بیماریا اپاہج کی خبر گیری کرنے والا،اور ایک بے کس بوڑھے کا نگہبان بھی ’’عامل ‘‘ہے۔ اسے زکوٰۃ وصول کرکے ان لوگوں کی ضروریات پر خرچ کا حق ہے، اور اس میں سے معروف طریقے پر اپنے عمل کی اجرت بھی وہ چاہے تو لے سکتا ہے۔
زکوٰۃ کی رقم اگر ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے کی ضرورت پیش آئے تو اس میں سے ڈاک خانے یا بینک کی اجرت دی جاسکتی ہے۔کیوں کہ اس خدمت کو انجام دینے کی حد تک وہ بھی ’’عاملین علیہا‘‘ ہوں گے۔
زکوٰۃ وصول کرنے ،زکوٰۃ کے اموال ایک جگہ سے دوسری جگہ حسب ضرورت لے جانے،یا مستحقین زکوٰۃ کی مختلف ضروریات پوری کرنے کے لیے ریل، بس،ٹرک، تانگے،ٹھیلے وغیرہ جو استعمال کیے جائیں،ان کے کرائے مال زکوٰۃ سے دیے جا سکتے ہیں۔ کیوں کہ یہ خدمات انجام دیتے وقت یہ سب ’’عاملین علیہا‘‘ میں ہی شمار ہوں گے۔
مستحقین زکوٰۃ کی خدمت کے لیے جس قدر بھی ملازم اور مزدور استعمال کیے جائیں گے،ان سب کی تنخواہیں اور اجرتیں زکوٰۃ کی مدسے دی جاسکتی ہیں، کیوں کہ وہ’’ عاملین علیہا‘‘ میں داخل ہیں۔قطع نظر اس سے کہ کوئی ریلوے اسٹیشن پر زکوٰۃ کے غلے کی بوریاں ڈھوئے، یا کوئی غریب مریضوں کی خدمت کے لیے گاڑی چلائے ،یا کوئی یتیم بچوں کی نگہداشت کرے۔
اب رہ جاتا ہے یہ سوال کہ آیا عاملین علیہا کے تصرفات پر کوئی ایسی پابندی ہے کہ وہ مستحقین زکوٰۃ کی خدمت کے لیے عمارات نہ بنوا سکیں اورا شیائے ضرورت مثلاً گاڑیاں،دوائیں، آلات، کپڑے وغیرہ نہ خرید سکیں؟ میں کہتا ہوں کہ حنفی تاویل آیت کے لحاظ سے یہ پابندی صرف زکوٰۃ ادا کرنے والے پر عائد ہوتی ہے۔وہ خود بلاشبہ ان تصرفات میں سے کوئی تصرف نہیں کر سکتا۔ اس کا کام صرف یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے فرمان کی رو سے زکوٰۃ’’ جن کے لیے‘‘ ہے، ان کی یا ان میں سے کسی کی ملک میں دے دے۔ رہے عاملین علیہا، تو ان پر اس طرح کی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ وہ تمام مستحقین زکوٰۃ کے لیے بمنزلۂ ولی یا وکیل ہیں اور اصل مستحق اس مال میں جتنے تصرفات کرسکتا ہے، وہ سب تصرفات اس کے ولی یا وکیل ہونے کی حیثیت سے یہ بھی کرسکتے ہیں۔وہ جب فقرائ ومساکین کی ضروریات کے لیے کوئی عمارت بنائیں یا کوئی گاڑی خریدیں،تو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے بہت سے فقیروں اور مسکینوں نے، جن کو فرداً فرداًزکوٰۃ ملی تھی،باہم مل کر ایک عمارت بنوالی،یا ایک سواری خرید لی۔ جس طرح ان کے اس تصرف پر کوئی پابند ی نہیں ہے،اسی طرح ان کے وکیل یا ولی پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔عاملین علیہا کو زکوٰۃدینے کا طریقہ اﷲ تعالیٰ نے اسی لیے مقررکیا ہے، اور اﷲ کے رسولؐ نے اسی لیے ان کے ہاتھ میں زکوٰۃ دے دینے والے کو فرض سے سبک دوش قرار دیا ہے کہ انہیں یہ مال دے دینا گویا تمام مستحقین کو دے دینا ہے۔ وہ انہی کی طرف سے اسے وصول کرتے ہیں اور انہی کے نائب و سرپرست بن کر اسے صرف کرتے ہیں۔ آپ ان کے تصرفات پر اس حیثیت سے ضرور اعتراض کرسکتے ہیں کہ تم نے فلاں خرچ بلا ضرورت کیا،یا فلاں چیز پر ضرورت سے زیادہ خرچ کردیا،یا اپنے عمل کی اجرت معقول حد سے زیادہ لے لی،یا کسی عامل کو معقول شرح سے زیادہ اجرت دے دی۔ لیکن کوئی قاعدۂ شرعی میرے علم میں ایسا نہیں ہے جس کی بِنا پر ان کو اس بات کا پابند کیا جاسکے کہ فلاں فلاں قسم کے تصرفات تم کرسکتے ہو اور فلاں فلاں قسم کے نہیں کر سکتے۔ قواعد شریعت انہیں ہر اس کام کی اجازت دیتے ہیں جس کی مستحقین زکوٰۃ کے لیے ضرورت ہو۔
خلاصۂ بحث یہ ہے کہ اس معاملے میں اصل حل طلب سوالات صرف دو ہیں:
ایک یہ کہ اگر زکوٰۃدینے والوں اور زکوٰۃ کا استحقاق رکھنے والوں کی رضا مندی سے چند غیر سرکاری آدمی زکوٰۃ پر کام کریں تو آیا وہ قرآن کے ارشاد کے مطابق عاملین علیہا کی تعریف میں آتے ہیں یا نہیں؟
دوسرے یہ کہ عاملین علیہا کے ہاتھ میں زکوٰۃ دے دینے کے بعد ان کے تصرفات پر پھر تملیک کی قید عائد کرنے کے لیے کیا دلیل ہے؟
علمائے کرام کو انہی دو سوالات پر غور کرکے کوئی فیصلہ دینا چاہیے۔
(ترجمان القرآن ۔ربیع الاوّل ۳۷۴اھ، دسمبر ۹۵۴اء)

توأم متحد الجسم لڑکیوں کا نکاح:

(ذیل میں جس سوال کا جواب درج کیا جارہا ہے ،اس کی بنیاد پر کئی سال سے ایک گروہ مصنف کے خلاف یہ پروپیگنڈا کررہا ہے کہ اس نے جمع بین الاختین کو حلال کردیا ہے۔ اب ہر شخص اسے خود پڑھ کر رائے قائم کرسکتا ہے کہ اس افترا کی حقیقت کیا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ دو بھائیوں یا دو بہنوں کا متحد الجسم ہونا کوئی ناممکن واقعہ نہیں ہے۔ دسمبر ۹۵۲اء کے ریڈرز ڈائجسٹ میں سیام کے متحد الجسم بھائیوں کا قصہ ملاحظہ فرمالیا جائے)۔

سوال:مندرجۂ ذیل سطور بغرض جواب ارسال ہیں۔ کسی ملاقاتی کے ذریعے بھیج کر ممنون فرمائیں۔
بہاول پور میں دو توأم لڑکیاں متحد الجسم ہیں۔ یعنی جس وقت وہ پیدا ہوئیںتو ان کے کندھے، پہلو، کولھے کی ہڈی تک آپس میں جڑے ہوئے تھے اور کسی طرح سے ان کو جدا نہیں کیا جاسکتا تھا۔اپنی پیدایش سے اب جوان ہونے تک وہ ایک ساتھ چلتی پھرتی ہیں۔ان کو بھوک ایک ہی وقت لگتی ہے۔پیشاب پاخانہ کی حاجت ایک ہی وقت ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر ان میں سے کسی ایک کو کوئی عارضہ لاحق ہو تو دوسری بھی اسی مرض میں مبتلا ہوجاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان کا نکاح ایک مرد سے ہوسکتاہے یا نہیں۔ نیز اگر دونوں بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں آسکتی ہیں تو اس کے لیے شرعی دلیل کیا ہے؟
مقامی علما نہ ایک مرد سے نکاح کی اجازت دیتے ہیں اور نہ دو سے۔ایک مرد سے ان دونوں کا نکاح قرآن کی اس آیت کی رو سے درست نہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ دو حقیقی بہنیں بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں نہیں آسکتیں۔ وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ۝۰ۭ النساء4:23 اس حکم کو بنیاد بنا کر اگر دو مردوں کے نکاح میں ان دومتحد الجسم عورتوں کو دے دیا گیا تو مندرجہ ذیل دشواریاں ایسی ہیں جن کو دیکھ کر علما نے سکوت اختیا ر کرلیا ہے۔ مثلاً:
(۱) اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ایک مرد اپنی منکوحہ نامزد بیو ی تک ہی اپنے صنفی تعلقات کو محدود کرسکے گا اور دوسری متحد الجسم عورت سے جو اس کے نکاح میں نہیں ہے،تعرض نہ کرے گا۔
(۲) یہ دوسری عورت جو اپنی بہن سے متحد الجسم ہونے کے ساتھ متحد المزاج بھی ہے زوجی تعلق کے وقت متاثر نہ ہو گی۔
(۳) دومردوں سے ایسا نکاح جس میں دونوں عورتیں (صنفی تعلقات کے وقت) متاثر ہوتی ہوں، ان کی حیا مجروح ہوتی ہو، ان میں رقیبانہ جذبات پیدا ہوتے ہوں، کیا نکاح کی اس روح کے منافی نہیں جس میں بتایا گیا ہے: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّۃً الروم30:21 وَّجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِيَسْكُنَ اِلَيْہَا الاعراف7:189
(۴) نکاح کا ایک بڑا مقصد افزایش نسل ہے اور والدین اور مولود میں شفقت بھی ہے۔دو مردوں کا یہ نکاح اس تعلق پر کلھاڑ ا چلاتا ہے۔ اور بھی مفاسد ہیں جن کے بیان کو یہاں نظر انداز کیا جاتا ہے۔
براہِ کرم شریعت کی روشنی میں اس سوال کو حل کیجیے تاکہ یہ تذبذب دور ہو،ان عورتوں کے والدین ان کا نکاح کرسکیں، اور اس فتنے کا سد باب ہو جو جوان ہونے کی وجہ سے ان کو لاحق ہے۔

جواب: ان دونوں لڑکیوں کے معاملے میں چار صورتیں ممکن ہیں:
(۱) ایک یہ کہ دونوں کا نکاح دو الگ شخصوں سے ہو۔
(۲) دوسری یہ کہ ان میں سے کسی ایک کا نکاح ایک شخص سے کیا جائے اور دوسری محروم رکھی جائے۔
(۳) تیسری یہ کہ دونوں کا نکاح ایک ہی شخص سے کر دیا جائے۔
(۴) چوتھی یہ کہ دونوں ہمیشہ نکاح سے محروم رہیں۔
ان میں سے پہلی دو صورتیں تو ایسی صریح ناجائز، غیر معقول اور ناقابل عمل ہیں کہ ان کے خلاف کسی استدلا ل کی حاجت نہیں ۔اب رہ جاتی ہیں آخری دو صورتیں۔یہ دونوں قابل عمل ہیں۔ مگر ایک صورت کے متعلق مقامی علما کہتے ہیں کہ یہ چوں کہ جمع بین الاختین کی صورت ہے جسے قرآن میں حرام قرار دیا گیا ہے،اس لیے لامحالہ آخری صورت پر ہی عمل کرنا ہوگا۔ بظاہر علما کی یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے، کیوں کہ دونوں لڑکیاں توأم بہنیں ہیں اور قرآن کا یہ حکم صاف اور صریح ہے کہ دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔لیکن اس پر دو سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ ان لڑکیوں کو دائمی تجرد پر مجبور کیا جائے اور یہ ہمیشہ کے لیے نکاح سے محروم رہیں؟اور کیا قرآن کا یہ حکم واقعی اس مخصوص اور نادر صورت حال کے لیے ہے جس میں یہ دونوں لڑکیاں پیدایشی طور پر مبتلا ہیں؟
میرا خیال یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمان اس مخصوص حالت کے لیے نہیں ہے بلکہ اس عام حالت کے لیے ہے جس میں دو بہنوں کے الگ الگ مستقل وجود جمع ہوتے ہیں، اور وہ ایک شخص کے جمع کرنے سے ہی بیک وقت ایک نکاح میں جمع ہوسکتی ہیں ورنہ نہیں۔ اﷲ تعالیٰ کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ عام حالات کے لیے حکم بیان کرتا ہے،اور مخصوص، شاذ اور نادر الوقوع یا عسیر الوقوع حالات کو چھوڑ دیتا ہے۔ اس طرح کے حالات سے اگر سابقہ پیش آجائے تو تفقہ کا تقاضا یہ ہے کہ عام حکم کو ان پر جوں کا توں چسپاں کرنے کے بجائے صورت حکم کو چھوڑ کر مقصد حکم کومناسب طریقے سے پورا کیا جائے۔
اس کی نظیر یہ ہے کہ شارع نے روزے کے لیے بہ الفاظ صریح یہ حکم دیا ہے کہ طلوع فجر کے ساتھ اس کو شروع کیا جائے اور رات کا آغاز ہوتے ہی افطار کرلیا جائے۔ وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۝۰۠ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ۝۰ۚ البقرہ2:187 یہ حکم زمین کے ان علاقوں کے لیے ہے جن میں رات دن کا اُلٹ پھیر چوبیس گھنٹے کے اندر پورا ہوجاتاہے، اورحکم کو اس شکل میں بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ زمین کی آبادی کا بیش تر حصہ انہی علاقوں میں ر ہتا ہے۔ اب ایک شخص سخت غلطی کرے گااگر اس حکم کو ان مخصوص حالات پر جوںکا توں چسپاں کردے گا جو قطب شمالی کے قریب علاقوں میںپائے جاتے ہیں،جہاں رات اور دن کا طول کئی کئی مہینوں تک ممتد ہوجاتا ہے۔ ایسے علاقوں کے لیے یہ کہنا کہ وہاں بھی طلوع فجر کے ساتھ روزہ شروع کیاجائے اور رات آنے پر کھولا جائے،یا یہ کہ وہاں سرے سے روزہ رکھا ہی نہ جائے، کسی طرح صحیح نہ ہو گا۔ تفقہ کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے مقامات پر صورت حکم کو چھوڑکر کسی دوسری مناسب صورت سے حکم کا منشا پور اکیا جائے۔ مثلاً یہ کہ روزوں کے لیے ایسے اوقات مقرر کر لیے جائیں جو زمین کی بیش تر آبادی کے اوقات صوم سے ملتے جلتے ہوں۔
یہی صورت میرے نزدیک ان دو لڑکیوں کے معاملے میں بھی اختیار کرنی چاہیے جن کے جسم آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے نکاح دو الگ شخصوں سے کرنے یا سرے سے نکاح ہی نہ کرنے کی تجویزیں غلط ہیں۔ ان کے بجائے یہ ہونا چاہیے کہ ان تجمعوا بین الاختین کے ظاہر کو چھوڑ کر صرف اس کے منشا کو پورا کیا جائے۔ حکم کا منشا یہ ہے کہ دو بہنوں کو سوکناپے کی رقابت میں مبتلا کرنے سے پرہیز کیا جائے۔یہاں چوں کہ ایسی صورت حال درپیش ہے کہ دونوں کا نکاح یا تو ایک ہی شخص سے ہوسکتا ہے یا پھر کسی سے نہیں ہوسکتا،اس لیے یہ فیصلہ انہی دونوں بہنوں پر چھوڑ دیا جائے کہ آیا وہ بیک وقت ایک شخص کے نکاح میں جانے پر راضی ہیں یا دائمی تجرد کو ترجیح دیتی ہیں۔اگر وہ پہلی صورت کو خود قبو ل کرلیں تو ان کا نکاح کسی ایسے شخص سے کردیا جائے جو انہیں پسند کرے۔ اور اگر وہ دوسری صورت ہی کو ترجیح دیں توپھر اس ظلم کی ذمہ داری سے ہم بھی بری ہیں اور خداکا قانون بھی۔
اعتراض کیا جاسکتاہے کہ بالفرض یہ دونوں ایک شخص کے نکاح میں دے دی جائیں، اور بعد میں وہ ان میں سے کسی ایک کو طلاق دے دے تو کیا ہوگا۔ میں کہتا ہوں کہ اس صورت میں دونوں اس سے جدا ہوجائیں گی۔ ایک اس لیے کہ اسے طلاق دی گئی، اور دوسری اس لیے کہ وہ اس سے کوئی تمتع نہیں کرسکتا جب تک کہ خلوتِ اجنبیہ کے جرم کا ارتکاب نہ کرے۔ یہی نہیں بلکہ وہ اسے اپنے گھر پر بھی نہیں رکھ سکتا، کیوں کہ مطلقہ لڑکی کو اپنے گھر رہنے پر مجبو رکرنے کا اسے حق نہیں ہے اور غیر مطلقہ لڑکی اس کے گھر اس وقت تک نہیں رہ سکتی جب تک کہ مطلقہ لڑکی بھی اس کے ساتھ نہ ہو۔ لہٰذ ا جب وہ ان میں سے ایک کو طلاق دے گا تو دوسری کو خلع کے مطالبے کاجائز حق حاصل ہوجائے گا۔ اگر وہ خلع نہ دے تو عدالت کا فرض ہے کہ اسے خلع پر مجبور کرے۔یہ لڑکیاں اپنی پیدایش ہی کی وجہ سے ایسی ہیں کہ کوئی شخص نہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے اور نہ کسی ایک کو طلاق دے سکتا ہے۔ان کا نکاح بھی ایک ساتھ ہوگا اورطلاق بھی۔ ھذا ما عندی واﷲ اعلم بالصواب۔(ترجمان القرآن،صفر ۳۷۴اھ، جنوری ۹۵۴اء)

طلاق قبل از نکاح:

سوال: میرے ایک غیر شادی شدہ دوست نے کسی وقتی جذبے کے تحت ایک مرتبہ یہ کہہ دیا تھا کہ ’’اگر میں کسی عورت سے بھی شادی کروں تو اس پر تین طلاق ہے۔‘‘اب وہ اپنے اس قول پر سخت نادم ہے اور چاہتا ہے کہ شادی کرے۔علما یہ کہتے ہیں کہ جوں ہی وہ شادی کرے گا،عورت پر طلاق واقع ہوجائے گی۔ اس لیے عمر بھر اب شادی کی کوشش کرنا اس کے لیے ایک بے کار اور عبث فعل ہے۔براہِ کرم بتائیں کہ اس مصیبت خیز اُلجھن سے نکلنے کا کوئی رستہ ہے یا نہیں؟

جواب: بلاشبہ فقہائے حنفیہ کی رائے یہی ہے کہ ایسی صورت میں جس عورت سے بھی اس کا نکاح ہو گا، اس پر طلاق وارد ہوجائے گی۔ لیکن تما م ائمہ وفقہا کا اس بارے میں اتفاق نہیں ہے۔ امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒکی رائے یہ ہے کہ طلاق کا حق نکاح کے بعد پیدا ہوتا ہے نہ کہ نکاح سے پہلے۔اگرکسی شخص نے یہ کہا ہو کہ وہ آیندہ جس عورت سے بھی نکاح کرے،اس کو طلاق ہے تو یہ ایک لغواور غیر مؤثر بات ہے۔اس سے کوئی قانونی حکم ثابت نہیں ہوتا۔یہی رائے حضرت علیؓ، حضرت معاذؓ بن جبل، حضرت جابرؓ بن عبداﷲ ، حضرت ابن عباسؓ، اور حضرت عائشہؓ سے بھی منقول ہے۔ اور اس رائے کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے کہ لَا طَلَاقَ اِلَّا مِنْ بَعْدِ نِکَاحٍ (طلاق نہیں ہے مگر نکاح کے بعد)۔ امام مالکؒ کی رائے یہ ہے کہ اگر کسی خاص عورت یا خاص قبیلے یا خاص خاندان کی عورتوں کے بارے میں کوئی شخص ایسی بات کہے تب تو طلاق لازم آجائے گی، لیکن مطلقاً تمام عورتوں کے بارے میں یہ بات کہی جائے تو طلاق واقع نہ ہو گی۔ کیوں کہ پہلی صورت میں تو یہ امکان باقی رہتا ہے کہ مرد اس عورت یا اس قبیلے کی عورت کے سوا دوسری عورتوں سے نکاح کر سکے۔ لیکن دوسری صورت میں ترک سنت کی قباحت لازم آتی ہے، اوریہ ایک حلال چیز کو اپنے اوپرمطلقاً حرام کرلینے کا ہم معنی ہے۔ اس مسئلے پرمزید تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سورۂ احزاب صفحہ ۷۳
( ترجمان القرآن۔جمادی الاولیٰ ۳۷۵اھ، جنوری ۹۵۶اء)

قزع اور تشبہ بالکفار:

سوال: آپ نے رسائل ومسائل میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا تھا کہ آپ کے نزدیک انگریزی طرز کے بال شرعاًممنوع نہیں ہیں۔ آپ نے لکھا تھا کہ جو چیز ممنوع ہے وہ یا تو فعل قزع ہے یا وضع میں تشبہ بالکفار ہے،اور انگریزی طرز کے بال ان دونوں کے تحت نہیں آتے۔ مگر آپ کا جواب بہت مختصر تھا اور اس میں آپ نے اپنے حق میں دلائل کی وضاحت نہیں کی۔ خصوصاً قزع کی جو تعریف آپ نے بتائی ہے ،اس کی تائید میں آپ نے کسی متعین حدیث یا اقوال صحابہ وائمہ میں سے کسی قول کو نقل نہیں کیا۔ اسی طرح عہد نبوی میں غیر مسلموں کے اجزائے لباس کے اختیار کیے جانے کا آپ نے ذکر تو کیا ہے لیکن وہاں بھی آپ نے کوئی حوالہ پیش نہیں کیا۔ بہتر یہ ہوگا کہ آپ متعلقہ حوالہ جات کو بھی ترجمان میں نقل کردیں تاکہ بات زیادہ صاف ہوجائے۔
آپ کی توضیح کے مطابق اس طرز کے بال رکھنا حرام تو نہیں لیکن آپ کا ذوق انہیںپسند بھی نہیں کرتا۔ کیا جو وضع اہل دین کے نزدیک ناپسندیدہ ہو مگر حرمت کے درجے میں نہ ہو، اس کی روک تھام کے لیے کوئی عملی تدابیر اختیار نہیں کی جا سکتیں؟

جواب: کسی چیز کو شرعی حیثیت سے ناجائز کہنے کے لیے دو امور میں سے ایک کا پایا جانا ضروری ہے۔ یا تو بعینہٖ اس چیز کے متعلق کوئی حکم کلام شارع میں موجود ہو، یا شارع کی دی ہوئی کسی اصولی ہدایت کے تحت وہ ناجائز قرار پاتی ہو۔ اگر ان دونوں امور میں سے کوئی بھی نہ ہو تو ایسی چیز کو ناجائز نہیں کہا جاسکتا خوا وہ کسی شخص یا کسی گروہ کے مذاق پر کتنی ہی گراں ہو۔اس قاعدۂ کلیہ کے تحت جب ہم تحقیق کرتے ہیں کہ انگریزی طرز کے بالوں کی شرعی حیثیت کیا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ مذکورۂ بالا وجوہِ تحریم میں سے کوئی بھی یہاں نہیں پائی جاتی۔سر کے بالوں کے متعلق نص صریح میں جس چیز کی ممانعت وارد ہوئی ہے،وہ قزع ہے، اور قزع کی جو تعریف ائمۂ حدیث وفقہ نے بیان کی ہے وہ یہ ہے :
اَنْ یُّحَلَقَ بَعْضُ رَأسِ الصَّبِیِّ وَیُتْرَکُ بَعْضٌ۔ ( نافع مولیٰ ابن عمر،صحیح مسلم)
’’یہ کہ بچے کے سر کا کچھ حصہ مونڈا جائے اور کچھ حصہ چھوڑدیا جائے۔‘‘
اِذا حُلِقَ الصبیُ وَتُرِکَ ھٰھنا شَعْرۃً ھٰھنا وھٰھنا وَاَشارَ اِلٰی نَاصِیَتِہٖ وَجَانِبَیْ رَأسِہٖ …..وَلٰکِنَّ الْقَزْعَ اَن یُتْرَکَ بنا صِیَتِہٖ شعرٌ وَلَیْسَ فی رأسِہ غَیرُہ وکذٰلک شُقَّ رَأسُہ ھٰذا وھٰذا۔ (عمر بن نافع، صحیح بخاری)
’’جب کہ بچے کا سر اس طرح مونڈا جائے کہ صرف پیشانی پر اور سر کے دونوں جانب بال چھوڑ دیے جائیں۔(پھر دوبارہ پوچھنے پر مزید تشریح کی کہ)… مگر قزع یہ ہے کہ پیشانی کے بال چھوڑ کر باقی سارا سر مونڈ دیا جائے، اور اسی طرح یہ کہ سر کے ان ان حصوں کو چھوڑ کر باقی سر مونڈ دیا جائے ۔‘‘
ابودائود کی روایت میں یہ تشریح خود نبیؐ کے ارشاد سے مستنبط ہوتی ہے۔ اس میں ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ نبیؐ نے ایک بچے کو دیکھا جس کے سر کا کچھ حصہ منڈا ہوا تھا اور کچھ حصے پر بال چھوڑ دیے گئے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فعل سے منع کیا اور فرمایا: اِحْلِقُوْ کَلَّہٗ اواُتْرُکُوْا کُلَّۃٗ ’’یاتو پورا مونڈ دو یا پورے سر کے بال چھوڑ دو۔‘‘
اس سے یہ بات متعین ہوگئی کہ شریعت میں جو چیز بعینہٖ ممنوع ہے،وہ کچھ مونڈنا اور کچھ رکھنا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس کا اطلاق ان بالوں پر نہیں ہوتا جو آج کل انگریزی بالوں کے نام سے مشہور ہیں۔
اب رہ گیا دوسرا امر کہ شارع کی کسی اصولی ہدایت کے تحت ان بالوں کو ناجائز قرار دیا جائے، تو وہ اصولی ہدایت صرف نہی تشبہ والی ہدایت ہوسکتی ہے جس کے اس معاملے پر منطبق ہونے کا دعویٰ کرنا ممکن ہے۔ لیکن اس معاملے میں تحقیق طلب امر یہ ہے کہ تشبہ سے مراد کیا ہے؟آیا تشبہ مجموعی وضع وہیئت ہی میں ہوتا ہے یا جزوی طور پر بھی ہوسکتا ہے؟ اس سوال کی تحقیق میں جب ہم حدیث پر نگاہ ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نبیؐ جزوی طور پر غیر مسلم قوموں کی کوئی چیز لے کر اپنی وضع ومعاشرت میں شامل کرلینے کو ناجائز نہیں سمجھتے تھے۔مثال کے طور پر شلوار ایران کی چیز تھی جو عرب پہنچ کر سراویل کے نام سے موسوم ہوئی او رنبیؐ نے اس کے استعمال کو نہ صرف جائز رکھا بلکہ خود بھی استعمال فرمایا۔
چنانچہ بخاری میں ابن عباس ؓکی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مَنْ لَّمْ یَجِدْ اِزارً فَلْسْ سَرَاوِیلَ (جس کو تَہمَت نہ ملے وہ شلوار پہن لے)۔ اور معتبر روایات سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شلوار خود بھی خریدی تھی اور آپؐ کے زمانے میں آپؐ کی اجازت سے مسلمان بھی اس کوپہنتے تھے۔(فتح الباری، کتاب اللباس،باب السراویل وزاد المعاد ،فصل فی ذکر سراویلہ ونعلہٖ وغیر ذالک۔
) اسی طرح بُرنُس کے استعمال کو آپؐ نے نہ صرف جائز رکھا تھا بلکہ ایک صحابی کوخود تحفتاً دی تھی، اور قرن اول کے قراء میں اس کا استعمال عام تھا، حالاں کہ یہ عیسائی راہبوں کی ٹوپی تھی۔ اسی بِنا پر سلف میں سے بعض حضرات نے اس کے استعمال کو مکروہ بھی سمجھا تھا۔ لیکن امام مالکؒ نے اس کے اس خیال کی صاف صاف تردید فرمائی۔( فتح الباری، کتاب اللباس،باب البرانس ۔)
اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں ایسے جبے بھی استعمال فرمائے ہیں جو غیر مسلم قوموں سے درآمد ہوئے تھے۔چنانچہ معتبر احادیث سے آپؐ کا جبۂ شامیہ، جبۂ رومیہ اور جبۂ کسروانیہ پہننا ثابت ہوتا ہے۔ حالاں کہ جبۂ شامیہ یہودیوں کے لباس کا جز تھا،جبۂ رومیہ کیتھولک عیسائیوں کا لباس تھا اور جبۂ کسروانیہ ایرانی فیشن کی چیز تھی۔ ان تمام روایات سے یہ بات ناقابل انکار طور پر ثابت ہوتی ہے کہ غیر مسلم قوموں کے تمدن،معاشرت اور وضع و ہیئت میں سے متفرق اجزا لے کر(بشرطیکہ ان میں سے کوئی چیز بذات خودحرام نہ ہو) اپنی معاشرت میں داخل کرلینا تشبہ نہیں ہے۔ بلکہ تشبہ کا اطلاق صرف اس چیز پر ہوسکتا ہے کہ کوئی مسلمان اپنے آپ کو بحیثیت مجموعی کسی غیر مسلم قوم کی وضع و ہیئت میں ڈھال لے،حتیٰ کہ اسے دیکھ کر ایک ناواقف آدمی یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ مسلمان ہے۔ اب یہ صاف ظاہر ہے کہ جو شخص اپنی مجموعی وضع مسلمانوں کی سی معروف وضع رکھتا ہو اور اس میں صرف انگریز ی بال اس کے سر پر ہوں تو اسے تشبہ کا الزام نہیں دیا جاسکتا۔
بلاشبہ میرے اپنے مذاق پر بھی اب یہ بال گراں ہیں اور اسی لیے میں نے ان کو چھوڑ دیاہے۔لیکن یہ بات خوب ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ حدود حلا ل وحرام اور چیز ہیں،اور وہ مذاق اور چیز ہے جو اسلامی ذہنیت کی نشو ونما سے اُبھرتا ہے۔ان دونوں چیزوں کو خلط ملط نہیں کیا جاسکتا۔ہم ایک اسلامی نظام میں جس چیز کو ضابطے کے طور پر حکماً نافذ کرسکتے ہیں ،وہ صرف حدود حلال وحرام ہیں۔
رہا وہ مذاق جو اسلامی ذہنیت کے ارتقا سے ہم میں پیدا ہوتا ہے، تو اوّل تو ضروری نہیں ہے کہ وہ تمام اہل ایمان میں متفق علیہ ہو۔دوسرا اگر وہ متفق علیہ بھی ہو تب بھی ہمیں اس کو’’شریعت‘‘ قرار دینے کا حق نہیں ہے۔ شریعت تو صرف ان احکام کا نام ہے جو کتاب وسنت میں منصوص ہوں۔منصوصات سے ماورا جو اجتہادی یا ذوقی امور ہوں،ان کو رائج کرنے کے لیے استدلال، تعلیم ،تربیت وغیرہ کے ذرائع استعمال کیے جاسکتے ہیں مگر ان کا حکم نہیں دیا جاسکتا۔
( ترجمان القرآن۔ ذی القعدہ ۳۷۵اھ، جولائی ۹۵۶اء)

عدت خلع:

سوال: آپ کی تصنیف’’تفہیم القرآن‘‘ جلدا وّل، سورۂ بقرہ ،صفحہ ۷۶ا میں لکھا ہوا ہے کہ ’’خلع کی صورت میں عدت صرف ایک حیض ہے۔دراصل یہ عدت ہے ہی نہیں بلکہ یہ حکم محض استبرائے رحم کے لیے دیا گیا ہے۔‘‘الخ
اب قابل دریافت امر یہ ہے کہ آپ نے اس مسئلے کی سند وغیرہ نہیں لکھی۔ حالاں کہ یہ قول مفہوم الآیہ اور اقوا لِ محققین اور قول النبیؐ کے بھی خلاف ہے۔
۱۔ فِی الْفَتْحِ رَوٰی عبدُالرَّزاقِ مَرْ فُوْعًا اَلْخُلْعُ تَطْلِیْقَۃٌ۔
۲۔ وروی الدارقطنی وابن عدی انہ جَعَلَ النبیﷺ اُلْخُلْعُ تَطْلِیْقَۃٌ۔
۳۔ وروی مالک عن ابن عمرؓ عِدَّۃُ الْمُخْتَلِعَۃِ عِدَّۃُ الْمُطَلَّۃِ۔
ایک ابودائود کی روایت ہے کہ عِدَّتُھَا حَیْضَۃٌ ، لیکن یہ قول تصرف من الرواۃ پرمحمول کیا گیا ہے اور نص کے بھی خلاف ہے کہ نص میں ہے: وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْٓئٍ ط
مہربانی فرما کر احادیث نبویہ میں تطبیق دیتے ہوئے، نص کو اپنے اطلاق پر رکھتے ہوئے اور محدثین کے اقوال کو دیکھتے ہوئے مسئلے کی پوری تحقیق مدلل بحوالۂ کتب معتبرہ تحریر فرمائیں تاکہ باعث اطمینان ہوسکے۔

جواب: مختلعہ کی عدت کے مسئلے میں اختلاف ہے۔ فقہا کی ایک کثیر جماعت اسے مطلقہ کی عدت کے مانند قرار دیتی ہے، اور ایک معتدبہ جماعت اسے ایک حیض تک محدود رکھتی ہے۔ اس دوسرے مسلک کی تائید میں متعدد احادیث ہیں۔ نسائی اور طبرانی نے ربیع بنت معوذ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی کے مقدمۂ خلع میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اَنْ تَتَرَبَّصْنَ حَیْضَۃً واحِدَۃً وَتَلْحَقَ بِاَھْلِھَا۔
ابودائود اور ترمذی نے ابن عباسؓ کی روایت نقل کی ہے کہ انہی زوجۂ ثابت بن قیس کو حضورؐ نے حکم دیاکہ تَعْتَدُّ بِحَیْضَۃٍ۔
نیز ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے ربیع بنت معوذ کی ایک اور روایت بھی اسی مضمون کی نقل کی ہے۔ابن ابی شیبہ نے ابن عمرؓ کے حوالے سے حضرت عثمانؓ کا بھی ایک فیصلہ اسی مضمون پر مشتمل نقل کیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ پہلے ابن عمر رضی اللہ عنہما مختلعہ کی عدت کے معاملے میں تین حیض کے قائل تھے، حضرت عثمانؓ کے اس فیصلے کے بعد انہوں نے اپنی رائے بدل دی اور ایک حیض کا فتویٰ دینے لگے۔ اسی طرح ابن ابی شیبہ نے ابن عباسؓ کا یہ فتویٰ نقل کیا ہے کہ عدتھا حیضۃ۔ ابن ماجہ نے رُبَیِعّ بنت معوذ بن عفراء کے حوالے سے حضرت عثمانؓ کے مذکورۂ بالا فیصلے کی جو روایت نقل کی ہے، اس میں حضرت عثمانؓ کا یہ قول بھی موجود ہے کہ اِنَّمَا اَتْبَعُ فِیْ ذٰالِکَ قَضَائَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم۔
امید ہے کہ ان حوالوں سے آپ کا اطمینان ہوجائے گا۔
(ترجمان القرآن،محرم،صفر ۳۶۷اھ، اکتوبر ۹۵۶اء)

انگریزی میںنماز:

سوال: میں اکیس سال کا ایک انگریز مسلمان ہوں۔ ایک سال قبل جب کہ میں سومالی لینڈ میں ایک فوجی افسر تھا،اس وقت اسلام جیسی عظیم نعمت سے سرفراز ہوا۔ میرا سوال اسلام کی سرکاری زبان سے متعلق ہے۔ اس سے پیشتر جب میں مسیحیت کا پیرو تھا، اس وقت میں اپنی عبادت اور کتاب مقدس اپنی مادری زبان(انگریزی) میں پڑھا کرتا۔ اب جب کہ میں دائرۂ اسلام میں آچکا ہوں، تو مجھے نماز اور قرآن کریم دونوں عربی زبان میں پڑھنے پڑتے ہیں۔ اس تبدیلی سے مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ میں عربی کی پابندی کی وجہ سے، خواہ اس میں کتنا ہی حسن کیوں نہ ہو، بہت بڑی روحانیت سے محروم کردیا گیا ہوں۔
میں آپ کا انتہائی سپاس گزار ہوں گا اگر آپ میری اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا میں نماز انگریزی میں ادا کرسکتا ہوں؟ اس مسئلے پر شرح صدر حاصل کرنے کے لیے براہِ کرم مجھے ان قدیم ائمۂ اسلام کے نام بتائیں جنہوں نے اس مسئلے پر اظہار خیال کیا ہو۔
اگرچہ یہ میر ی ذاتی اُلجھن ہے لیکن میں یہ بات قدرے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ چیز خصوصاً یورپ میں بہت سے غیر مسلموں کے اسلام قبول کرنے کے راستے میں حائل ہے۔ لندن میں میرے بعض دوستوں نے مجھے یہ مشورہ دیا ہے کہ میں اس معاملے میں جناب کی طرف رجوع کروں۔ مجھے امید ہے کہ جناب کی رہنمائی میرے لیے انتہائی قیمتی ہوگی۔

جواب: مجھے آپ کے قبول اسلام کی خبر سن کر قلبی مسرت ہوئی۔میں اﷲ تعا لیٰ کا شکر ادا کرتاہوں کہ اس نے ہمارے ایک بھائی کو نور ِ ہدایت سے نوازا ہے، اور دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو دین حق میں مزید ہدایت اور استقامت عطا فرمائے۔ آپ کو دین کے احکام اور مسائل سمجھنے میں مدد دینے کی خدمت جس حد تک بھی انجام دے سکتا ہوں ،اس کے لیے ہر وقت بخوشی حاضر ہوں۔آپ جب چاہیں میری خدمات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
نماز کی زبان کے بارے میں آپ نے جو سوال کیا ہے،اس کا جواب یہ ہے کہ نماز صرف عربی زبان ہی میں اداکی جاسکتی ہے۔ کیوں کہ نماز کا سب سے اہم جز قرآن کی تلاوت ہے جو عربی زبان میں نازل ہوا ہے ،اور اس کا ترجمہ خواہ کتنا ہی صحیح ہو،بہرحال قرآن نہیں ہے،نہ اس پر کلام اﷲ کا اطلا ق ہوسکتا ہے۔دوسری جو چیزیں نماز میں پڑھی جاتی ہیں،وہ سب نبیؐ نے مقرر کی ہیں او رجن الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعلیم دی ہے ،انہی میں ان کو پڑھنا چاہیے۔ دوسری زبان کے الفاظ اوّل تو ان کے صحیح معنی ادا نہیں کرتے،اور کسی حد تک وہ ادا کریں بھی تو بہرحال وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے الفاظ کے قائم مقام نہیں ہوسکتے۔یہی وجہ ہے کہ شروع سے آج تک کے تمام فقہائے اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ نماز عربی زبان ہی میں ادا کی جانی چاہیے۔ نہ قرآن کے اصل الفاظ کی جگہ ان کا ترجمہ پڑھا جاسکتا ہے اور نہ نبیؐ کے بتائے ہوئے الفاظ کو دوسرے الفاظ سے بدلا جاسکتا ہے۔
البتہ اس امر میں اختلاف ہے کہ جو غیر عرب انسان نیا نیا مسلمان ہو اور فوراً ہی عربی زبان میں قرآن اور دوسرے اذکارِ صلوٰۃ پڑھنے کے قابل نہ ہو سکے وہ کیا کرے؟ امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ (امام ابوحنیفہؒ کے دو فاضل شاگردوں) کی رائے یہ ہے کہ ایسا شخص اپنی زبان میں ترجمہ پڑھ سکتا ہے، مگر اسے جلدی سے جلدی کوشش کرنی چاہیے کہ عربی زبان میں نماز پڑھنے کے قابل ہوجائے۔ اما م ابو حنیفہؒپہلے اس بات کے قائل تھے کہ عربی زبان کے تلفظ کی قدرت رکھنے والے شخص کے لیے بھی غیر عربی میں نماز پڑھنا جائز ہے ،مگر بعد میں انہوں نے اپنی رائے سے رجوع کرلیا اور وہی رائے اختیار کی جو ان کے دو جلیل القدر شاگردوں ،امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ نے ظاہر کی ہے۔لیکن امام شافعیؒ کی رائے یہ ہے کہ نماز کسی حال میں بھی عربی کے سوا دوسری زبان میں ادا نہیں کی جاسکتی ۔جو شخص عربی تلفظ پر قادر نہ ہو ،وہ نماز میں سبحان اﷲ اور الحمد ﷲ جیسے مختصر الفاظ پڑھتا رہے اور اس امر کی کوشش کرے کہ جلدی سے جلدی عربی میں نماز ادا کرنے کی قدرت اسے حاصل ہوجائے( آپ اس مسئلے کی تحقیق کرنا چاہیں تو ہدایہ کی مشہور شرح فتح القدیر جلد اول،صفحہ ۹۹ا-ا۲۰،امام سرخسی کی المبسوط جلد اوّل صفحہ ۳۷، اور بزدَوِی کی کشف الاسرار صفحہ نمبر ۲۵ ملاحظہ فرمائیں)۔
ایک ایسی زبان میں نما زپڑھنا جس کو آدمی نہ سمجھتا ہو اور جن کے صرف الفاظ ہی وہ زبان سے ادا کررہا ہو، بظاہر عجیب معلوم ہوتا ہے اور سرسری نگاہ میں آدمی اس کو کچھ غیر فطری سا محسوس کرتا ہے۔ لیکن آپ ذرا گہری نگاہ سے دیکھیں تو اس کی عظیم مصلحتیں آپ کے سامنے واضح ہوجائیں گی۔
ایک مذہب کے اپنی اصلی شکل او رروح کے ساتھ برقرار رہنے کا انحصار زیادہ تر اس بات پر ہے کہ اس کی تعلیم اپنے اصل الفاظ میں محفوظ رہے۔ایک زبان کا ترجمہ دوسری زبان میں کبھی اصل کا قائم مقام نہیں ہوسکتا ۔نہ اصل کی پوری روح اور اس کی کامل معنویت دوسری زبان میں منتقل کی جاسکتی ہے۔ترجمہ ہر شخص اپنی فہم کے مطابق کرے گا اور دو مترجموں کے ترجمے کبھی متفق نہ ہوسکیں گے۔ یہ معاملہ تو انسانی تصنیفوں کے ترجمے میں ہم آئے دن دیکھتے ہیں۔اب یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا کے کلام اورپیغمبرانہ الفاظ کو پوری روح اور معنویت کے ساتھ دوسری زبان میں منتقل کیا جاسکے اور یہ کہا جا سکے کہ یہ ترجمہ اصل کا قائم مقام ہے۔
دنیا کے مذاہب کو بگاڑنے میں ایک بہت بڑا دخل اس چیز کا ہے کہ ان کی ساری بنیادی کتابیں اپنی اصل زبان میں محفوظ نہیں رہیں اور ان کے پیروئوں کا سارا انحصار مختلف زبانوں کے مختلف ترجموں پر ہوگیا جن میں باہم کوئی موافقت نہیں ہے اور جن کے اندر آئے دن ترمیمیں ہوتی رہتی ہیں۔مسلمانوں کی یہ بڑی خوش قسمتی ہے کہ ان کے مذہب کا مدار جس کتاب پر اور جس پیغمبر کی ہدایات پر ہے وہ کتاب بھی اپنی اصل زبان میں موجود ہے اور اس پیغمبر کی تعلیمات بھی اسی زبان میں محفوظ ہیں جس میں وہ دی گئی تھیں۔ اب یہ ہماری طرف سے بڑی نادانی ہوگی کہ ہم اس نعمت کی قدر نہ کریں اور اپنے مذہب کا مدار بھی ترجموں ہی پر رکھنے کا دروازہ کھول دیں۔ سب سے بڑی طاقت جو ہمیں قرآن اور تعلیم پیغمبر سے وابستہ رکھتی ہے،یہی نماز ہے جسے ہم روزانہ پانچ وقت پڑھتے ہیں۔اس کی زبان بدل دینے کے بعد مشکل ہی سے اپنے دین کے اصلی سرچشموں سے ہمارا رشتہ قائم رہ سکے گا۔
ایک مذہب کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ چیز بھی نہایت ضروری ہے کہ اس کی عبادات اپنی اصلی شکل پر قائم رہیں اور لوگ ان کے اندر اپنے حسب منشا ردّ وبدل کرلینے میں آزاد نہ ہوں۔ مذہب کا سب سے اہم حصہ اس کی عبادات ہوتی ہیں۔ انہی کے اتباع اور احترام اور التزام سے بقیہ تعلیمات دین کو قوت نافذہ حاصل ہوتی ہے۔ اور خود ان عبادات کو جو چیز پیرو ان مذہب کے لیے مقدس ومحترم اور واجب الا تباع بناتی ہے وہ یہ یقین ہے کہ ان کا ہر جز اور ہر لفظ اس اقتدار اعلیٰ کا مقرر کردہ ہے جس پر وہ ایمان لائے ہیں۔یہ یقین ایسی صورت میں ختم ہوجائے گا جب کہ عبادت کی شکلیں اور ان کے الفاظ مقرر کرنے میں لوگوں کی اپنی رائے اور مرضی کا دخل شروع ہوجائے، اور اس کے متزلزل ہوتے ہی پورے دین کے مسخ ہونے اور اس کے احکام کی پیروی سے لوگوں کے آزاد ہونے کا راستہ کھل جائے گا۔
تیسری اہم بات یہ ہے کہ تمام دنیا میں ہر قوم اور ہر ملک کے لیے اور ہر زبان بولنے والوں کے لیے اذان اور نماز کی ایک ہی زبان ہونا وہ عظیم الشان قوت رابطہ ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک ملت اور عالم گیر برادری بناتی ہے۔آپ خواہ اس کرۂ زمین کے کسی گوشے میں چلے جائیں، اذان کی آواز سنتے ہی محسوس کرلیں گے کہ یہاں آپ کی ملت کا کوئی شخص یا گروہ ہے اور وہ نماز کے لیے بلارہا ہے۔ نماز کے لیے آپ جہاں بھی جائیں گے وہی ایک جانی پہچانی آواز سنیں گے خواہ آپ لندن میں ہوں یا نائیجیریا میں یا انڈونیشیا میں۔ اپنے ساتھی مسلمانوں کی زبان کا ایک لفظ بھی چاہے آپ نہ جانتے ہوں،مگر نماز میں نہ آپ ان کے لیے اجنبی ہوں گے نہ وہ آپ کے لیے۔ اس کے بجائے اگر نمازہر ایک اپنی مادری زبان میں پڑھنے لگے اور اذان بھی ہر جگہ مقامی زبان ہی میں دی جانے لگے تو یہ عالم گیر برادری بے شمار چھوٹے چھوٹے ٹکڑوںمیںتقسیم ہوجائے گی۔ براعظم ہندو پاکستان میں تین سو سے زائد زبانیں ہیں۔ صرف اسی سرزمین میں ایک مسلم ملت کے اتنے ہی ٹکڑے ہوجائیں گے جتنی یہاں زبانیں ہیں، اور ایک مسلما ن اپنے علاقے سے باہر نکل کر نہ اذان کو پہچان سکے گا ،نہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھ سکے گا۔یہی کیفیت دنیا کے دوسرے خطوں میں پیش آئے گی۔ اور پھر حج کے موقع پر تو شاید منارۂ بابل کی سی حالت رونما ہو۔یہ دراصل مسلمانوں میں اسی(nationalisation of the church) کی ابتداہوگی جس میں مسیحی دنیا مبتلا ہوکر نبرد آزما قومیّتوں میں بٹ گئی ہے۔ کیا آپ کو اس نعمت کا احساس نہیں ہے کہ قوم پرستی،نسل پرستی،رنگ پرستی اور زبان پرستی سے پارہ پارہ ہوجانے والی انسانیت کے لیے اسلام نے عالم گیر وحدت کا یہ کتنا بڑا ذریعہ پیدا کیا ہے جو دنیا بھر کے لیے عربی اذان،عربی نماز، عربی کلمہ اور عربی زبان کی چند معروف اور مشترک مذہبی اصطلاحات کی شکل میں آپ کو نظر آرہا ہے؟اسی’’ سرکاری زبان‘‘ کی بدولت ہی تو مسلما ن ہر جگہ مسلمان کو پہچانتا اور اس کے ساتھ اس طرح مل جاتا ہے جیسے ازل سے ان دونوں کی روحوں میں کوئی قریبی رشتہ ہو۔
جہاں تک نماز کو سمجھ کر پڑھنے کی ضرورت کا تعلق ہے،اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔مگر یہ ضرورت اس بڑے نقصان کو،جس کا میں اوپر ذکر کرچکا ہوں،انگیز کیے بغیر بھی پوری کی جاسکتی ہے۔نماز کے لیے قرآن کی چند سورتیں کافی ہیں، اور قرآن کے سوا باقی تمام اذکار جو نماز میں پڑھے جاتے ہیں،صرف چند فقروں پر مشتمل ہیں۔ان کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا ترجمہ بآسانی ذہن نشین کیا جاسکتا ہے، اور اس طرح وہ ضرورت پوری ہوجاتی ہے جسے آپ بجا طورپر’’روحانی قدر‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ (ترجمان القرآن۔محرم وصفر ۳۷۷اھ، اکتوبر ونومبر ۹۵۷اء)

چھوٹے ہوئے فرائض شرعیہ کی قضا:

سوال: ایک مولانا نے ایک جگہ لکھا ہے: ’’قضا نمازیں جلد سے جلد ادا کرنا لازم ہیں… جب تک فرض ذمہ پر باقی رہتا ہے کوئی نفل قبول نہیں کیا جاتا۔‘‘
اس اصول کی عقلی حیثیت کسی دلیل کی محتاج نہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ شریعت ہمارے کسی عقلی اصول کو تسلیم کرکے اس پر اپنے مسائل کی بنیاد رکھے۔ ادھر ہم مسلمانوں کی غالب اکثریت کا یہ حال ہے کہ ہر شخص پر ایک زمانہ تھوڑا یا بہت جاہلیت کا گزر چکا ہے جس میں نہ نماز کا خیال نہ روزے کی پروا، اس لیے قضا نمازوں کے لازم فی الذمہ ہونے سے بہت ہی کم لوگ خالی ہیں۔
اب اس مسئلے سے حسب ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:
کیا واقعی جب تک کوئی فرض نماز باقی فی الذمہ ہے نوافل(جن میں سنن رواتب بھی داخل ہیں) مقبو ل نہ ہوں گے؟
جو لوگ اس حالت میں کہ(قضا نمازیں ان کے ذمے ہیں) ہر نماز کے ساتھ سنتیں اور نفلیں پڑھتے ہیں،ان کی سنتوں اور نفلوں کا کیا ہوگا؟ کیا وہ ضائع کی جائیں گی یا قضا نمازوں میں محسوب ہوں گی؟
یہ اصول تو عام اور ہمہ گیر ہے، یقینا نمازوں کے ساتھ اس کی خصوصیت کی کوئی وجہ نہیں، تو کیا روزوں اور دیگر فرائض شرعیہ میں بھی یہی اصول جاری ہے؟
خصوصیت کے ساتھ زکوٰۃ کے متعلق وضاحت فرمائیں۔ اکثر لوگوں کی یہ حالت ہے کہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے لیکن نفل صدقات دیتے رہتے ہیں۔ مثلاًکبھی کوئی چیز پکوا کر فقرا کو تقسیم کردی۔ کسی نیک کام میں چندہ دے دیا۔ سائلوں کو پیسے دے دیے۔ اسی طرح زمین دار اور کاشت کار حضرات عشر ادا نہیں کرتے لیکن برداشت ِ فصل کے موقع پر جمع شدہ سائلین کو کچھ دے دیتے ہیں اور سارا سال گداگروں کو ان کے گھر والوں کی طرف سے مٹھی آٹا اور غلہ دیا جاتا رہتا ہے، اس طرح دیتے وقت نہ ان کی نیت عشر اور زکوٰۃ کی ہوتی ہے نہ انہوں نے عشر اور زکوٰۃ کا کوئی حساب کر رکھا ہوتا ہے۔
اس طرح کے اخراجات کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا وہ سب دیا دلایا ضائع جارہا ہے یا عنداﷲ عشر اور زکوٰۃ میں محسوب ہورہا ہے؟
اس اصول پر کہ(جب تک فرض ذمہ پر باقی رہتا ہے کوئی نفل قبول نہیں کیا جاتا)دلیل کی حیثیت سے جو قولہ تعالیٰ اِلَيْہِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُہٗ۝۰ۭ الفاطر10:35 کا ذکر کیا جاتا ہے وہ کہاں تک صحیح ہے؟ کیا کسی حدیث میں عمل صالح کی تفسیر فرائض اور الکلم الطیب کی نفلی اذکار کے ساتھ وارد ہوئی ہے؟

جواب: آپ کے تمام سوالات جس وجہ سے پیدا ہوئے ہیں،وہ صرف یہ ہے کہ ایک صحیح مسئلہ ذرا غلط طریقے سے بیان کردیا گیا ہے۔ کسی عمل کا قبول کرنا یا نہ کرنا انسانوں کے اختیار میں نہیں ہے، خداوند عالم کے اختیار میں ہے۔ اگر کسی کے ذمے فرضوں کی قضا لازم ہو اور فرض کی قضا ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاص کی بِنا پر وہ سنن ونوافل بھی ادا کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ اﷲ تعالیٰ اس کے اس خلوص کو رد فرما دے۔ ہاں، اگر فرض کی قضا سے غافل رہ کر یہ کام کرے تو امید نہیں کہ یہ فعل اﷲ کے ہاں مقبول ہو گا، کیوں کہ فرض کی قضا بمنزلۂ قرض ہے،اور قرض ادا کرنے سے غفلت برت کر خیرات کرنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔
البتہ جن لوگوں نے اپنی زندگی میں ایک زمانہ حالتِ جاہلیت میں گزار دیا ہو اور اس میں بے شمار نمازیں چھوڑ دی ہوں، ان کے لیے پچھلی قضا بھی ادا کرنا اور سنن ونوافل بھی پڑھنا مشکل ہے۔ اس میں اندیشہ ہے کہ اکثر کسل کی بِنا پر وہ قضاادا کرنے سے رہ جائیں گے۔ اس کے برعکس اس میں بڑی سہولت ہے کہ ہر وقت کی فرض نماز کے ساتھ جتنی سنتیں بالعموم پڑھی جاتی ہیں، ان کو سنت کی نیت سے پڑھنے کے بجائے آدمی پچھلے چھوٹے ہوئے فرائض کی قضا کے طور پر پڑھتا رہے، یہاں تک کہ اس امر کا گمان غالب ہوجائے کہ پچھلی سب قضائیں ادا ہوچکی ہیں۔ اس طرح آدمی بغیر کسی دقت کے بآسانی اس فرض سے سبک دوش ہوسکتا ہے۔
آپ پڑھی ہوئی نمازوں کے ضائع ہونے یا نہ ہونے کا قصہ چھوڑیں، اب جب کہ یہ مسئلہ آپ کو معلوم ہوگیا ہے تو آیندہ تمام سنتیں اور نوافل پچھلے چھوٹے ہوئے فرضوں کی نیت کرکے پڑھنا شروع کردیں۔
چھوٹی ہوئی نمازوں ہی کی طرح قضا روزوں کا معاملہ بھی ہے۔جس کے فرض روزے چھوٹ گئے ہوں وہ نفل روزے رکھنے کے بجائے فرض کی نیت سے پچھلی قضا کیوں نہ ادا کرے۔
یہی معاملہ زکوٰۃ کا بھی ہے۔ آپ خود سوچیے، آخر یہ کس طرح صحیح ہوسکتا ہے کہ جس کے ذمے فرض زکوٰۃ واحب ہو وہ اسے تو ادا نہ کرے او ریوں خیرات کرتا پھرے۔ آخر کیوں نہیںوہ اسی طرح خیرات کو زکوٰۃ کا حساب لگا کر ادا کرتا؟ضائع کرنے یا قبول کرلینے کے اختیارات تو اﷲکو ہیں، مگر جو بات ہماری اور آپ کی عقل میں آجاتی ہے کہ فریضے سے غفلت برت کر نوافل ادا کرنے میں کوئی معقولیت نہیں ہے،کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اﷲ میاں کی سمجھ میں اتنی بات بھی نہ آئے گی؟ اگر وہ پوچھیں کہ جو کچھ میں نے لازم کیا تھا،وہ توتو نے ادا نہیںکیا اور اپنی خوشی سے یہ سب کچھ دے دیا تو آخر کسی کے پاس اس کا کیا جواب ہوگا؟
آپ نے جس آیت کا حوالہ دیا ہے ،اس کے متعلق میرے علم میں کوئی صحیح حدیث ایسی نہیں ہے جس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ الکلم الطیب سے مراد نفلی اذکار اور عمل صالح سے مرادفرائض ہیں۔جن صاحب نے یہ استدلال پیش کیا ہے ،آپ انہی سے دریافت کریں۔ ممکن ہے کہ ان کے علم میں ایسی کوئی حدیث ہو۔ البتہ یہ ابن عباسؓ کی تفسیر ہے کہ الکلم الطیب سے مراد اﷲ کا ذکر ہے اور عمل صالح سے مراد فرائض ہیں۔ اوریہ بھی انھی کی رائے ہے کہ جو فرائض ادا کرے،اس کا عمل اس کے ذکر اﷲ کو لے کر اوپر صعود کرے گا، مگر جو محض ذکر کرے اور فرائض ادا نہ کرے ،اس کا ذکر رد کردیا جائے گا۔ (ترجمان القرآن۔ فروری ۹۵۹اء)

سوال: گزشتہ’’ ترجمان القرآن‘‘ کے رسائل ومسائل میں ایک سوال کے جواب میں چھوٹی ہوئی نمازوں اور دیگر فرائض شرعیہ کی قضا کے بارے میں آپ نے لکھا ہے:’’ان کی قضا کا آسان طریقہ یہ ہے کہ فرض نمازوں کے بعد جو سنتیں عموماًپڑھی جاتی ہیں، انہیں چھوٹے ہوئے فرضوں کی قضا کی نیت کرکے پڑھا جائے تو اس طرح آسانی سے آدمی اس قرض سے سبک دوش ہوسکتا ہے۔‘‘
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا فی الواقع اس طرح سے چھوٹے ہوئے فرائض کی قضا لازماًہر اس شخص کو دینی پڑے گی جس نے اپنی زندگی کا کچھ حصہ جاہلیت کی حالت میں گزارا ہے؟ ظاہر ہے کہ سائل کا منشا ان فرائض شرعیہ کی قضا کے متعلق تو دریافت کرنے کا نہیں ہے جو کسی شرعی عذر کی بِنا پر آدمی سے چھوٹ جاتے ہیں بلکہ ان فرائض سے ہے جن سے وہ دیدہ دانستہ اور محض بے عملی کی وجہ سے ایک مدت (پانچ، دس، بیس، تیس سال) تک غفلت اور بے پروائی برتتا رہا ہے۔ اب اگر وہ پورے عزم واستقلال کے ساتھ اپنی سابقہ زندگی سے تائب ہوکر آیندہ اپنی زندگی کو شریعت کے مطابق بسر کرنے کا عہد کرتا ہے اور فرائض شرعیہ کی پوری پوری پابند ی کرتا ہے، تو کیا سابقہ زندگی کے متروکہ فرائض کی قضا بھی اسے لازماً دینی ہوگی؟کیا توبہ اس کے سابقہ گناہوں کی تلافی نہیں کرسکے گی؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر توبہ کا مصرف کیا ہے؟ سورۂ مریم کی ان آیات سے تو صاف طور پر یہ واضح ہوتا ہے کہ فَخَــلَفَ مِنْۢ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّـبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّاo اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًـا فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَــنَّۃَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ شَـيْــــًٔاo مریم 19:59-60 یہی نہیں بلکہ قرآن پاک کی اکثر دوسری آیات اور احادیث نبویہؐ سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ ’’اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لاَّ ذَنْبَ لَہٗ‘‘ ان آیات واحادیث کی روشنی میں آپ کے ارشادات کی کیا توجیہ ہوگی؟
آپ نے ان فرائض شرعیہ کی قضا کے متعلق جو طریقہ تجویزکیا ہے ،اگر انسان اس پر عمل کرنا چاہے تو اس میں بھی کئی طرح کی اُلجھنیں پید اہوتی ہیں۔ سنتیں پڑھنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ فرضوں کی بجا آوری میں آدمی سے جو کوتاہیاں ہوجاتی ہیں ان کی تلافی سنتیں اور نوافل پوری کرسکیں۔اب اگر سابقہ زندگی کی چھوٹی ہوئی فرض نمازوں کی قضا دیتے ہوئے سنتیں اور نوافل پڑھنے کا موقع آدمی نہ پاسکے تو اس کی تمام نمازیں ادھوری رہ جائیں گی۔ یہی معاملہ روزوں اور زکوٰۃ وغیرہ کا بھی ہے ۔ظاہر ہے کہ جس شخص نے بلوغت کے بعد اپنی عمر کے بیس پچیس سال حالت جاہلیت میں گزارے ہیں وہ اگر آپ کے تجویز کردہ طریقے کے مطابق ان کی قضا دینا بھی چاہے تو نہ وہ اس سے کماحقہٗ عہد ہ برآ ہو سکتا ہے اور نہ وہ اس پر مطمئن ہی ہو سکے گا۔ اور پھر یہ بھی تو معلوم نہیں کہ اس کی بقیہ زندگی کتنی رہ گئی ہے؟
میرے خیال میں اس مسئلے کا تعلق قریب قریب ہر مسلمان سے ہے۔اس لیے کہ مسلمانوں کی موجودہ حالت کے پیش نظر عوام تو ایک طرف رہے،بڑے بڑے دین دار گھرانوں کی نئی نسلیں بھی اسی بے عملی میں مبتلا ہیں۔ اب اگر کوئی شخص اپنی زندگی اسلامی سانچے میں ڈھالنے کا عزم کرے تو آپ کے اس جواب سے اس پر بددلی اور مایوسی طاری ہوسکتی ہے۔براہِ کرم اس کی مزید وضاحت فرما کر مشکور فرماویں۔
اس سلسلے میں ایک سوال میں اپنے متعلق بھی آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں، اور وہ یہ ہے کہ میری اہلیہ ۵۰ء میں تپ دق میں مبتلا ہوگئی تھی ۔چوں کہ وہ ایک دین دار گھرانے سے تعلق رکھتی ہے، اس لیے بچپن ہی سے صوم وصلوٰۃ کی پابندی کرتی رہی ہے۔ تقریباًسات سال تک اس مرض میں مبتلا رہنے کے بعد اب دو تین سال سے رو بصحت ہے اور اپنے آپ کو اس قابل سمجھتی ہے کہ رمضان کے روزے رکھ سکے گی۔اگر میں اسے اس سے روکوں تو اندیشہ ہے کہ کہیں عند اﷲ معتوب نہ ہوجائوں، اور اگر اسے اس کی اجازت دے دوں تو ظاہر ہے کہ اس موذی مرض میں مبتلا ہوجانا یقینی ہوگا۔واضح رہے کہ اس مرض میں مبتلا ہوجانے کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھا کہ میرے منع کرنے کے باوجود شدید گرمی کے ایام میں حالت حمل اور حالت رضاع میں بھی وہ رمضان کے روزے رکھتی رہی ہے اور اسی وجہ سے بے حد کمزور ہوکر وہ اس بیماری میں مبتلا ہوگئی۔ اب اس کا کہنا یہ ہے کہ تمام زندگی میں اس سعادت سے محروم رہوں تو خدا کو کیا جواب دوں گی اور ان کی قضا دینے سے کس طرح عہدہ برآ ہوسکوں گی؟ کیا فدیۂ طعام مسکین ساری زندگی کے روزوں کی تلافی کرسکتا ہے ؟اور اگر مرد کسی وجہ سے دو وقت اپنی بیوی کی طرف سے کسی مسکین کو کھانا نہ کھلا سکے یا اس سے کوتاہی ہوجائے تو اس کا مؤاخذہ مرد کو ہوگا؟… براہِ کرم اس کی وضاحت فرما ویں۔

جواب: پہلے سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ پہلے میں خود بھی یہی خیال رکھتا تھا کہ جاہلیت کی حالت میں جو نمازیں قصداً یا غفلت سے چھوڑ ی گئی ہیں،ان کے لیے صرف تو بہ کافی ہے اور ان کی قضا واجب نہیں۔ لیکن تحقیق کے بعد یہ معلوم ہوا کہ اگر آدمی کافر نہ تھا ،صرف جہالت اور غفلت کی بِنا پر تارکِ نماز رہا،تو اس کے لیے صرف توبہ کافی نہیںبلکہ پچھلی نمازوں کی قضا بھی کرنی چاہیے۔ ابن تیمیہؒ نے اس مسئلے پر بحث کرتے ہوئے یہ اصولی بات بیان کی ہے کہ توبہ کے ساتھ سابق کی تلافی اور آیندہ کے لیے اصلاح دونوں چیزوں کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی گناہ ایسا ہو جس کی تلافی کے امکانات ہی نہ ہوں تو بات دوسری ہے۔اس صورت میں توبہ اور ندامت وشرمساری کافی ہوسکتی ہے۔ لیکن جن گناہوں کی تلافی ممکن ہو ،ان پر توبہ کے ساتھ تلافی کیے بغیر کام نہیں چل سکتا۔مثلاً کسی کا قرض آپ کے ذمے تھا اور آپ نے مدتوں اسے ادا نہ کیا، تو اب اس گناہ کی معافی صرف توبہ سے نہیں ہوسکتی بلکہ وہ قرض ادا کرنا بھی اس کے ساتھ ناگزیر ہے۔
رہا یہ سوال کہ سنتیں فرائض کے نقائص میں جو جبر کسرکاکام کرتی ہیں،یہ تو قضائے فوائت کی صورت میں نہ ہوسکے گا،تو اس کا جواب یہ ہے کہ قضائے فوائت کا ثواب ان شاء اﷲ یہ کسر پوری کردے گا۔ آدمی کا پچھلے گناہ پر نادم ہوکر اس کی تلافی کے لیے کوشش کرنا اپنے اندر ایک زائد ثواب رکھتا ہے۔
بقیہ عمر کتنی رہ گئی ہے ،اس کی تو آدمی کو خبر نہیں ہوسکتی، لیکن جس وقت بھی آدمی تلافی مافات شروع کردے ،اﷲ تعالیٰ اس کی قدر فرمائے گا، اور اگر تمام مافات کی تلافی کرنے سے پہلے اس کی اجل آجائے تو امید ہے کہ اﷲ کے ہاں اس کی یہ کوشش اتنی مقبول ہوگی کہ اﷲ تعالیٰ خود ہی اس کے مافات کو معاف فرمادے گا۔
آپ کی اہلیہ کے معاملے کا جواب یہ ہے کہ اگر طبیب کی رائے یہ ہو کہ اب روزے رکھنا ان کے لیے مہلک ہوگا تو وہ روزے نہ رکھیں اور رمضان کے زمانے میں ایک مسکین کو کھانا کھلاتی رہیں۔آپ کو اگر ان کی زندگی عزیز ہے تو یہ ایثار آپ کو خود ہی کرنا چاہیے کہ انہیں ایک مسکین کے کھانے کا خرچ دیتے رہیں۔اگر آپ ایسا نہ کریں گے تو چاہے گناہ گار نہ ہوں،لیکن اس صورت حال میں آپ کو بیوی کی جان خطرے میں ڈالنی ہوگی۔ (ترجمان القرآن۔مارچ ۹۵۹اء)

ضبط ولادت:

سوال: آج کل ضبط ولادت کو خاندانی منصوبہ بندی کے عنوان جدید کے تحت مقبول بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے حق میں معاشی دلائل کے علاوہ بعض لوگوں کی طرف سے مذہبی دلائل بھی فراہم کیے جارہے ہیں ۔ مثلاً یہ کہا جارہا ہے کہ حدیث میں عزل کی اجازت ہے اور برتھ کنٹرول کو اس پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔علاوہ ازیں اب حکومت کی طرف سے مردوں کو بانجھ بنانے کی سہولتیں بھی بہم پہنچائی جارہی ہیں۔چنانچہ بعض ایسے ٹیکے ایجاد ہورہے ہیں جن سے مرد کا جوہر حیات اس قابل نہیں رہتا کہ وہ افزایش نسل کا ذریعہ بن سکے لیکن جنسی لذت برقرار رہتی ہے۔بعض لوگوں کے نزدیک یہ طریقہ بھی شرعاً قابل اعتراض نہیں ،اور نہ یہ قتل اولاد یا اسقاط حمل ہی کے ضمن میں آسکتا ہے۔
براہِ کرام اس بارے میں بتائیں کہ آپ کے نزدیک اسلام اس طرز عمل کی اجازت دیتا ہے یا نہیں؟

جواب: ضبط ولادت کے موضوع پر میں اب سے کئی سال پہلے ایک کتاب ’’اسلام اور ضبط ولادت‘‘ لکھ چکا ہوں جس میں دینی،معاشی اور معاشرتی نقطۂ نظر سے اس مسئلے کے سارے پہلوئوں پر بحث موجود ہے ۔اب اس کا جدید ایڈیشن بھی شائع ہوچکا ہے۔
آپ کے سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ عزل کے متعلق جو کچھ آ نحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا اور اس کے جواب میں جوکچھ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا اس کا تعلق صرف انفرادی ضروریات اور استثنائی حالات سے تھا۔ ضبط ولادت کی کوئی عام دعوت و تحریک ہرگز پیش نظر نہ تھی۔ نہ ایسی کسی تحریک کا مخصوص فلسفہ تھا جو عوام میں پھیلا یا جارہا ہو،نہ ایسی تدابیر وسیع پیمانے پر ہر مرد وعورت کو بتائی جارہی تھیں کہ وہ باہم مباشرت کرنے کے باوجود استقرار حمل کو روک سکیں، اور نہ حمل کو روکنے والی دوائیں اور آلات ہر کس وناکس کی دست رس تک پہنچائے جارہے تھے۔ عزل کی اجازت میں جو چند روایات مروی ہیں ان کی حقیقت بس یہ ہے کہ کسی اﷲ کے بندے نے اپنے ذاتی حالات یا مجبوریاں بیان کیں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سامنے رکھ کر کوئی مناسب جواب دے دیا۔اس طرح کے جو جوابات نبیؐ سے حدیث میںمنقول ہیں ،ان سے اگر عزل کا جواز نکلتا بھی ہے تو وہ ہرگز ضبط ولادت کی اس عام تحریک کے حق میں استعمال نہیں کیا جاسکتا جس کی پشت پر ایک باقاعدہ خالص مادّہ پرستانہ اور اباحیت پسندانہ فلسفہ کارفرما ہے۔ ایسی کوئی تحریک اگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھتی تو مجھے یقین ہے کہ آپ اس پر لعنت بھیجتے اور اس کے خلاف ویسا ہی جہاد کرتے جیسا شرک وبت پرستی کے خلاف آپؐ نے کیا۔ میں ہر اس شخص کو جو عزل کے متعلق آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا غلط استعمال کرکے انہیں موجودہ تحریک کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے، خدا سے ڈراتا ہوں اور مشورہ دیتا ہوں کہ وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں اس جسارت سے باز رہے۔ مغرب کی بے خدا تہذیب وفکر کی پیروی اگر کسی کو کرنی ہو تو سیدھی طرح اسے دین مغرب سمجھ کر ہی اختیار کرے۔ آخر وہ اسے عین خدا و رسول کی تعلیم قرار دے کر خدا کا مزید غضب مول لینے کی کوشش کیوں کرتا ہے۔
اسلام جس طرح ضبط ولادت کی عمومی تحریک کو روا نہیں رکھتا، اسی طرح وہ قصداًبانجھ بننے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ یہ کہنا کہ جان بوجھ کر اپنے آپ کو بانجھ کرلینا کوئی ناجائز کام نہیںہے،اتنا ہی غلط ہے جتنا یہ کہنا غلط ہے کہ آدمی کا خودکشی کرلینا جائز ہے۔ دراصل اس قسم کی باتیں وہ لوگ کرتے ہیں جن کے نزدیک آدمی اپنے جسم اور اس کی قوتوں کا خود مالک ہے اور اپنے جسم اور اس کی قوتوں کے ساتھ جو کچھ بھی کرنا چاہے،کرلینے کا حق رکھتا ہے۔ اسی غلط خیال کی وجہ سے جاپانی خودکشی کو جائز سمجھتے ہیں۔اسی غلط خیال کی وجہ سے بعض جوگی اپنے ہاتھ یا پائوں یا زبان بے کار کرلیتے ہیں۔لیکن جو شخص اپنے آپ کو خدا کا مملوک سمجھتا ہواور یہ سمجھتا ہو کہ یہ جسم اور اس کی قوتیں خدا کا عطیہ اور اس کی امانت ہیں،اس کے نزدیک اپنے آپ کو بانجھ کرلینا ویسا ہی گناہ ہے جیسا کسی دوسرے انسان کو زبردستی بانجھ کردینایاکسی کی بینائی ضائع کردینا گناہ ہے۔ (ترجمان القرآن،اپریل۹۶۰اء)

ضبط ولادت اور وصیۃ العینین:

سوال: دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے آج اسلام کیا حل پیش کرتا ہے؟برتھ کنٹرول(پیدایش روکنے ) کے لیے دوائوںکا استعمال،فیملی پلاننگ وغیرہ کو کیا آج بھی غیر شرعی قرار دے کر ممنوع قرار دیا جائے گا؟کیا ایک مسلمان زندگی میں اپنی آنکھیں عطیہ کرسکتا ہے کہ موت کے بعد کسی مریض کے لیے استعمال ہوسکیں؟ کیا یہ قربانی گناہ تو نہ ہو گی اور قیامت میں یہ شخص اندھا تو نہ اٹھے گا؟

جواب: دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے اسلام صرف ایک ہی حل پیش کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا نے اپنے رزق کے جو ذرائع پیدا کیے ہیں،ان کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے اور استعمال کرنے کی کوشش کی جائے، اور جو ذرائع اب تک مخفی ہیں،ان کو دریافت کرنے کی پیہم سعی کی جاتی رہے۔ آبادی روکنے کی ہر کوشش خواہ وہ قتل اولاد ہو یا اسقاط حمل،غلط اور بے حد تباہ کن ہے۔ضبط ولادت کی تحریک کے چار نتائج ایسے ہیں جن کو رونما ہونے سے کسی طرح نہیںروکا جاسکتا:
(۱) زنا کی کثرت۔
(۲) انسان کے اندر خود غرضی اور اپنا معیار زندگی بڑھانے کی خواہش کا اس حد تک ترقی کرجانا کہ اسے اپنے بوڑھے ماں باپ اور اپنے یتیم بھائیوں اور اپنے دوسرے محتاج امداد رشتہ داروں کا وجود بھی ناگوار گزرنے لگے۔ کیوں کہ جو آدمی اپنی روٹی میں خود اپنی اولاد کو شریک کرنے کے لیے تیارنہ ہو ،وہ دوسروں کوبھلا کیسے شریک کرسکے گا؟
(۳) آبادی کے اضافے کا کم سے کم مطلوب معیار بھی جو ایک قوم کو زندہ رکھنے کے لیے ناگزیر ہے، برقرار نہ رہنا۔ اس لیے کہ جب یہ فیصلہ کرنے والے افراد ہوں گے کہ وہ کتنے بچے پیدا کریں اور کتنے نہ کریں،اور اس فیصلے کا مدار اس بات پر ہوگا کہ وہ اپنے معیار زندگی کو نئے بچوں کی آمد کی وجہ سے گرنے نہ دیں، تو بالا ٓخر وہ اتنے بچے بھی پیدا کرنے کے لیے تیار نہ ہوں گے جتنے ایک قوم کو اپنی قومی آبادی برقرار رکھنے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔اس طرح کے حالات میں کبھی کبھی نوبت یہ بھی آجاتی ہے کہ شرح پیدایش شرح اموات سے کم تر ہوجاتی ہے۔چنانچہ یہ نتیجہ فرانس دیکھ چکا ہے ،حتیٰ کہ اس کو’’بچے زیادہ پیدا کرو‘‘ کی تحریک چلانی پڑی اور انعامات کے ذریعے سے اس کی ہمت افزائی کرنے کی ضرورت پیش آگئی۔
(۴) قومی دفاع کا کمزور ہوجانا۔ یہ نتیجہ خصوصی طورپر ایک ایسی قوم کے لیے بے حد خطرناک ہے جو اپنے سے کئی گنا زیادہ دشمن آبادی میں گھری ہوئی ہے،پاکستان کے تعلقات ہندوستان اور افغانستان کے ساتھ جیسے کچھ ہیں،سب کومعلوم ہے، اور امریکا کی دوستی نے کمیونسٹ ممالک سے بھی اس کے تعلقات خراب کردیے ہیں۔بحیثیت مجموعی ہندوستان، چین،روس اور افغانستان کی آبادی ہم سے تیرہ گنا ہے۔ ان حالات میں لڑنے کے قابل افرادکی تعداد گھٹانا جیسی کچھ عقل مندی ہے ،اسے ایک صاحب عقل آدمی خود سوچ سکتا ہے۔
آنکھوں کے عطیے کا معاملہ صرف آنکھوں تک ہی محدود نہیں رہتا۔بہت سے دوسرے اعضا بھی مریضوںکے کام آسکتے ہیںاور ان کے دوسر ے مفید استعمال بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ دروازہ اگر کھول دیا جائے تو مسلمان کا قبر میں دفن ہونا مشکل ہوجائے گا۔اس کا سارا جسم ہی چندے میں تقسیم ہوکر رہے گا۔ اسلامی نظریہ یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے جسم کا مالک نہیں ہے۔اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ مرنے سے پہلے اپنے جسم کو تقسیم کرنے یا چندے میں دینے کی وصیت کردے۔جسم اس وقت تک اس کے تصرف میں ہے جب تک وہ اس کے جسم میں خود رہتا ہے۔ اس کے نکل جانے کے بعد اس جسم پر اس کا کوئی حق نہیں ہے کہ اس کے معاملے میں اس کی وصیت نافذ ہو۔اسلامی احکام کی رو سے یہ زندہ انسانوں کا فرض ہے کہ اس کا جسم احترام کے ساتھ دفن کردیں۔
اسلام نے انسانی لاش کی حرمت کا جو حکم دیا ہے وہ دراصل انسانی جان کی حرمت کا ایک لازمہ ہے۔ ایک دفعہ اگر انسانی لاش کا احترام ختم ہوجائے تو بات صرف اس حد تک محدود نہ رہے گی کہ مردہ انسانوں کے بعض کارآمد اجزا زندہ انسانوں کے علاج میں استعمال کیے جانے لگیں، بلکہ رفتہ رفتہ انسانی جسم کی چربی سے صابن بھی بننے لگیں گے (جیسے کہ فی الواقع جنگ عظیم نمبر ۲کے زمانے میں جرمنوں نے بنائے تھے)۔انسانی کھال کو اُتار کر اس کو دباغت دینے کی کوشش کی جائے گی تاکہ اس کے جوتے یا سوٹ کیس یا منی پرس بنائے جا سکیں۔ (چنانچہ یہ تجربہ بھی چند سال قبل مدراس کی ایک ٹینری کرچکی ہے)۔ انسان کی ہڈیوں اور آنتوں اور دوسری چیزوں کو استعمال کرنے کی بھی فکر کی جائے گی، حتیٰ کہ اس کے بعد ایک مرتبہ انسان پھراس دور وحشت کی طرف پلٹ جائے گا جب آدمی آدمی کا گوشت کھاتا تھا ۔میں نہیں سمجھتا کہ اگر ایک دفعہ مردہ انسان کے اعضا نکال کر علاج میں استعمال کرنا جائز قرار دے دیا جائے تو پھرکس جگہ حد بندی کرکے آپ اسی جسم کے دوسرے ’’مفید‘‘استعمالات کو روک سکیں گے اور کس منطق سے اس بندش کو معقول ثابت کریں گے۔ (ترجمان القرآن۔ جنوری ۹۶۲اء)

کفارۂ جرم اور مسئلۂ کفاء ت:

سوال: (۱) کیا اگر کسی گناہ(مثلاً زنا) کی شرعی سزا ایک شخص کو اسلامی حکومت کی جانب سے مل جائے تو وہ آخرت میں اس گناہ کی سزا سے بری ہوجائے گا یا کہ نہیں؟
(۲) کیا حدیث یا قرآن میں کوئی اصولی ہدایت اس امر کی موجود ہے کہ ہر شخص اپنی قوم(ذات) میں ہی شادی کرے۔واضح رہے کہ میں کفاء ت کا اس معنی میں تو قائل ہوں کہ فریقین میں مناسبت ہونی چاہیے،غیر ضروری معیار کا فرق نہیں ہونا چاہیے۔

جواب: (۱) شرعی سزا جاری ہونے کے بعد آخرت میں آدمی کی معافی اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب کہ آدمی نے اس کے ساتھ خدا سے توبہ بھی کی ہو اور اپنے نفس کی اصلاح کرلی ہو۔لیکن اگر بالفرض ایک شخص نے چوری کی اور اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا،مگر اس نے اپنے گناہ پر اپنے خدا کے سامنے کوئی اعتراف ندامت نہ کیا، کوئی توبہ نہ کی،چوری چھوڑ دینے کا کوئی فیصلہ نہ کیا،بلکہ اُلٹا اپنے دل میں اس شریعت ہی کو کوستا رہا جس نے اس کا ہاتھ کٹوایاہے،تو خدا کے ہاں اس کے معاف کردیے جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
(۲) قرآن یا حدیث میں ایسا کوئی حکم نہیں ہے کہ ہرشخص اپنی قوم میں ہی شادی کرے۔ بلکہ نبیؐ اور صحابہ کرام ؓ کا عمل اس کے خلاف پایا جاتا ہے۔ (ترجمان القرآن۔فروری ا۹۶اء)

ایصال ثواب:

سوال: مندرجۂ ذیل امور میں آپ کی رہنمائی درکار ہے۔مجھے امیدہے کہ حسب معمول واضح جواب عنایت فرماویں گے:
(۱) رسائل ومسائل حصہ دوم میں’’نذر ونیاز اور ایصال ثواب‘‘ کے عنوان کے تحت جو جواب آپ نے رقم فرمایا ہے ،اس سے یہ متبادر ہوتا ہے کہ آپ اس امر کے قائل ہیں کہ مالی عبادت سے ایصال ثواب ہوسکتاہے مگر بدنی عبادت سے نہیں، اور پھر آپ مالی انفاق کے بھی متوفی عزیز کے لیے نافع ہونے کو اﷲ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف قرا ردے رہے ہیں۔ کیا آپ کے استدلال کی وجہ یہ ہے کہ اس امر کی بابت کوئی صراحت قرآن وحدیث میں نہیں ہے کہ بدنی عبادت میں ایصال ثواب ممکن ہے؟ یا کوئی اور سبب ہے؟
آپ خودایصال ثواب کرنے والے کے لیے تو انفاق کوبہرحال نافع قرار دے رہے ہیں مگر متوفی عزیز کے لیے نافع ہونے کو اﷲ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف قرار دے رہے ہیں۔اس تفریق کی اصل وجہ کیا ہے؟
(۲) کیا ہر شخص ہر دوسرے متوفی شخص کو(خواہ متوفی اس کا عزیز ہو یا نہ ہو،یا متوفی نے بالواسطہ یا بلاواسطہ اس کی تربیت میں حصہ لیا ہو یا نہ ) مالی انفاق کا ثواب پہنچا سکتا ہے یا کہ اس کے لیے آپ کے نزدیک چند قیود وشرائط ہیں؟ازراہ کرم اپنی رائے تحریر فرما ویں۔

جواب: آپ کے سوالات کے مختصر جوابات نمبر وار درج ذیل ہیں:
(۱) دراصل تو قرآن وحدیث سے عام قاعدہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص کا اپنا عمل ہی اس کے لیے مفید ہے،ایک شخص کا عمل دوسرے کے لیے آخرت میں مفید نہ ہوگا۔ لیکن بعض احادیث سے یہ استثنائی صورت بھی معلوم ہوتی ہے کہ ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے۔اس طرح کی جتنی احادیث بھی ہمیں ملی ہیں ،ان سب میں کسی خالص بدنی عبادت کا ذکر نہیں ہے بلکہ ایسی عبادت کا ذکر ہے جو یا تو صرف مالی عبادت ہے جیسے صدقہ،یا مالی وبدنی عبادت ملی جلی ہے،جیسے حج۔ اسی بِنا پر فقہا میں اختلاف ہوا ہے۔ ایک گروہ اسے مالی اور بدنی عبادات دونوں میں جار ی کرتا ہے اور دوسرا گروہ اس کو ان عبادات کے لیے مخصوص کرتا ہے جو یا تو خالص مالی عبادات ہیں یا جن میں بدنی عبادت،مالی عبادت کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔میرے نزدیک یہ دوسرا مسلک اس لیے مرجح ہے کہ قاعدۂ کلیہ میں اگر کوئی استثنا کسی حکم سے نکلتا ہو تو اس استثنا کو اسی حد تک محدود رکھنا چاہیے جس حد تک وہ حکم سے نکلتا ہے۔اسے عام کرنا میری رائے میں درست نہیں ہے۔لیکن اگر کوئی شخص پہلے گروہ کے مسلک پر عمل کرتا ہے تو اسے ملامت نہیں کی جاسکتی۔کیوں کہ شریعت میں اس کی گنجایش بھی پائی جاتی ہے ۔زیادہ سے زیادہ اختلاف صرف ترجیح کا ہے۔
رہی یہ بات کہ ایصال ثواب کا میت کے لیے نافع ہونا یا نہ ہونا اﷲ کی مرضی پر موقوف ہے،تو اس کا سبب دراصل یہ ہے کہ ایصال ثواب کی نوعیت محض ایک دعا کی ہے۔ یعنی ہم اﷲ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ یہ نیک عمل جو ہم نے تیری رضا کے لیے کیا ہے، اس کا ثواب فلاں مرحوم کو دیا جائے۔اس دعا کی حیثیت ہماری دوسری دعائوں سے مختلف نہیں ہے۔ اور ہماری سب دعائیں اﷲ کی مرضی پر موقوف ہیں۔وہ مختار ہے کہ جس دعا کو چاہے قبول فرمائے اور جسے چاہے قبول نہ فرمائے۔ ہوسکتا ہے کہ ہم کسی ایسے شخص کے لیے ایصال ثواب کریں جو اﷲ کی نگاہ میں مومن ہی نہ ہو، یا سخت مجرم ہو اور اﷲ اسے کسی ثواب کا مستحق نہ سمجھے۔
ایصال ثواب کرنے والے نے اگرواقعی کوئی نیک عمل کیا ہوتواس کااجر بہرحال ضائع نہ ہوگا۔اﷲ تعالیٰ اگر متوفی کو ثواب نہ پہنچائے گا تو نیکی کرنے والے کے حساب میں اس کا اجر ضرور شامل کرے گا۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے آپ کسی شخص کے نام منی آرڈر بھیجیں۔اگر وہ منی آرڈر اس کو نہ دیا گیا ہو تو لازماًآپ کی رقم آپ کو واپس ملے گی۔ یا مثلاً آپ جیل میںکسی قیدی کو کھانا بھیجیں۔اگرحکومت یہ مناسب نہیں سمجھتی کہ ایک ظالم مجرم کو نفیس کھانے کھلائے جائیں تو وہ آپ کا بھیجا ہوا کھانا پھینک نہیں دے گی،بلکہ آپ کو واپس کردے گی۔
(۲) ایصال ثواب ہر ایک کے لیے کیا جاسکتا ہے،خواہ متوفی سے کوئی قرابت ہو یا نہ ہو اور خواہ متوفی کا کوئی حصہ آدمی کی تربیت میں ہو یا نہ ہو۔ جس طرح دعا ہرایک شخص کے لیے کی جاسکتی ہے، اسی طرح ایصال ثواب بھی ہر ایک کے لیے کیا جاسکتا ہے۔ (ترجمان القرآن۔فروری ا۹۶اء)

اذان اور نماز کی دعائوں کے متعلق چند شبہات:

سوال: ایک دن میں صبح کی اذان سن رہا تھا کہ ذہن میں عجیب وغریب سوالات اُبھرنے لگے اور شکو ک وشبہات کا ایک طوفان دل میں برپا ہوگیا… اذان سے ذہن نماز کی طرف منتقل ہوا، اورجب سوچنا شروع کیا تو نماز کی عجیب صورت سامنے آئی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ نماز کس طرح پڑھوں اور کیا پڑھوں؟
ایک مسلمان کو ماں کی گود ہی میں جو اوّلین درس ملتا ہے،وہ یہ ہے: ’’اﷲ ہی لائق عبادت ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں‘‘… پھر
(۱) اذان بلاوا ہے خالصتاً اﷲکی عبادت کے لیے جس میں اس کا کوئی شریک نہیں، تو اشھد ان لا الٰہ الا اللّٰہ کے ساتھ ہی اشھد ان محمد رسول اللّٰہ کے کیا معنی؟
(۲) نماز میں سورۂ فاتحہ، اخلا ص یا کوئی اور سورت جو ہم پڑھتے ہیں،ان میں صرف اﷲ ہی کی حمدو ثنااور عظمت وبزرگی کا بیان ہے۔ اسی طرح رکوع وسجود میں اسی کی تسبیح وتحلیل بیان ہوتی ہے۔ لیکن جیسے ہی ہم تشہد کے لیے بیٹھتے ہیں تو حضور سرورکائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر شروع ہوجاتا ہے۔ جیسے کہ تشہد اور دونوں درود شریف وغیرہ۔ کیا اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کی عبادت میں شریک نہیں ہو جاتے؟
(۳) دونوں درود شریف جو ہم پڑھتے ہیں،ظاہر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نہیں پڑھتے ہوں گے۔ کیوں کہ ہم توپڑھتے ہیں: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی الِ مُحَمَّدٍ (اے اﷲ! رحمت فرما محمدؐ پر اور محمدؐ کی آل پر) یہ دونوں درود شریف درحقیقت دعائیں ہیں اور اسی طرح تشہد اور دعا رَبِّ اجْعَلْنِیْ بھی۔عبادت نام دعائوں کا نہیں بلکہ اس خالق ارض وسماکی حمد وثنا بیان کرنے کا نام ہے، تو کیا یہ زیادہ مناسب نہیں کہ عبادت کے اختتام پر دعائیں مانگی جائیں، بہ نسبت اس کے کہ عین عبادت میں دعائیں مانگنی شروع کردی جائیں؟میرا خیال ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود تشہد اور درود شریف وغیر ہ نہیں پڑھتے ہوں گے، کیوں کہ آپ ؐ سے یہ بعید ہے کہ عین نماز میں آپؐ اپنے لیے دعا ئیں مانگنے لگتے۔پھر ذرا تشہد پر غور فرمایئے۔ظاہر ہے کہ درود کی طرح اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشہد بھی پڑھتے تھے تو وہ بھی الگ ہوگا۔ کیوں کہ ’’اے نبی! تم پر سلام اور خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں‘‘ کی جگہ آپؐ پڑھتے ہوں گے: ’’مجھ پر سلام اور خداکی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔‘‘
(۴) اﷲ کی جو عبادت ہم بجا لاتے ہیں،اس کا نام الصلوٰۃ یعنی نماز ہے۔پھر یہ فرض ،سنت، وتر،نفل کیا چیز ہیں اور یہ پڑھ کر ہم کس کی عبادت کرتے ہیں۔جاتے تو ہم ہیں اﷲ کی عبادت بجا لانے اور پڑھنے لگتے ہیں نماز سنت،جس کی نیت بھی یوں باندھتے ہیں: دو رکعت نماز سنت،سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی، وغیرہ وغیرہ۔ کیا اس طرح بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کااﷲ کی عبادت میں شریک ہوجانا ثابت نہیں ہوتا؟
(۵) نماز کے آخر میں جو سلام ہم پھیرتے ہیں،اس کا مخاطب کون ہے؟
(۶) کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی روزانہ پانچ نمازیں بجا لاتے تھے ؟اور اتنی ہی رکعتیں پڑھتے تھے جتنی ہم پڑھتے ہیں؟اس سوال کی قدرے میں نے تحقیق کی لیکن کوئی مستند حوالہ فی الحال ایسا نہیں ملا کہ اس سوال کا جواب ہوتا۔ بخلاف اس کے بخاری شریف میں یہ حدیث نظر آئی کہ نبیؐ نے ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں۔اسی طرح مؤطا کتا ب الصلوٰۃ میں یہ لکھا دیکھا کہ رات دن کی نماز دو دو رکعت ہے۔ یہ دونوں حدیثیں دو دو رکعت نماز ثابت کرتی ہیں۔
ان خیالات وشکو ک نے ذہن کو پراگندہ کررکھا ہے اور اکثر مجھے یقین سا ہونے لگتا ہے کہ ہماری موجودہ نماز وہ نہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہو گی۔ خدارا میری اُلجھن کو دور فرمایے اور مجھے گمراہ ہونے سے بچایے۔مجھے نما ز چھوٹ جانے کا خطرہ ہے۔

جواب: آپ کے دل میں اگر وساوس پیدا ہوا کریں تو ان کی وجہ سے نماز ترک نہ کردیا کریں،بلکہ نماز پڑھتے رہیں اورا پنے وساوس کے متعلق کسی جاننے والے سے پوچھ کر اپنا اطمینان کرلیا کریں۔
جو سوالات آپ نے کیے ہیں،ان کے جوابات یہ ہیں:
(۱) اذان میں محمدؐ کے رسو ل ہونے کی شہادت دی جاتی ہے نہ کہ خدا ہونے کی۔ پھر آپ کے دل میں یہ شبہ کیوں پیدا ہوا کہ رسالت کی شہادت دینے سے عبادت میں شرک واقع ہوجائے گا؟رسالت کی شہادت تو اس لیے دی جاتی ہے کہ ہم خدا کی عبادت اس عقیدے اور طریقے کے مطابق کررہے ہیں جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا ہے۔ ہم نے خود اپنی فکر سے یہ طریقہ اور عقیدہ ایجاد نہیں کرلیا ہے۔
(۲) تشہد کی پوری عبارت پرآپ غور کریں۔پہلے آپ اﷲ تعالیٰ کے حضور اپنا سلام پیش کرتے ہیں۔پھر رسول ؐ کے لیے رحمت وبرکت کی دعا کرتے ہیں۔پھر اپنے حق میں اور تمام نیک بندوں کے حق میں سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔ پھر اﷲ کی وحدانیت اور محمدؐ کی رسالت کی شہادت دیتے ہیں۔ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں جو دراصل اﷲ ہی سے اس امر کی دعا ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی نوازشات کی بارش فرمائے۔پھر اﷲ سے اپنے حق میں اور اپنے والدین کے حق میں بخشش کی دعا کرتے ہیں۔ ان سارے مضامین کو آپ خود دیکھیں۔ ان میں کیا چیز ہے جسے آپ شرک کہہ سکتے ہیں؟ یہ تو ساری دعائیں اﷲ تعالیٰ ہی سے ہیں۔ کیا اﷲ سے دعا کرنا شرک ہے؟ اور کیا اﷲ کے رسول کو رسول ماننا بھی شرک ہے؟
(۳) یہ غلط فہمی آپ کو کہاں سے ہوگئی کہ عبادت صرف اﷲ کی حمد وثنا کرنے کا نام ہے اور اﷲ سے دعا کرنا عبادت نہیں ہے۔دعا تو رُوح عبادت ہے۔قرآن میں جگہ جگہ ان مشرکین کو جو غیر اﷲ سے دعائیں مانگتے ہیں،غیر اﷲ کی عبادت کرنے والا قرار دیا گیا ہے، حتیٰ کہ اکثر مقامات پر یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کہنے کے بجائے یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور حکم دیا گیا ہے کہ اﷲ ہی سے دعا مانگو۔
یہ تشہد جو ہم پڑھتے ہیں ،یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو سکھایا تھا اور انہیں ہدایت فرمائی تھی کہ تم یہ پڑھا کرو،اس لیے ہم کو نماز میں یہی پڑھنا چاہیے۔رہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا تشہد، تو اس کے متعلق احادیث میں کوئی صراحت نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود کیا پڑھتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ آپؐ کے تشہد میں الفاظ کچھ مختلف ہوتے ہوں، اور یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی یہی تشہد پڑھتے ہوں۔ اگر ہم نماز میں اپنے لیے دعا کرتے ہیں تو آخر آپ کو اس پر کیا اعتراض ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز میں اپنے لیے دعا فرماتے ہوں؟ اسی طرح اگر ہم حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کی شہادت نماز میں دیتے ہیں تو اس میں آخر کیا خرابی ہے کہ نبیؐ بھی اپنی نبوت کی شہادت دیتے ہوں؟
(۴) فرض نماز کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی وہ عبادت جو اس کے عائد کردہ فریضۂ صلوٰۃ کو ادا کرنے کے لیے کم سے کم لازم ہے۔جس کے بغیر حکم کی تعمیل سے ہم قاصر رہ جائیں گے۔ سنت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی وہ عبادت جو فرض کے علاوہ نبیؐ ہمیشہ ادا کیا کرتے تھے اور جس کی آپؐ نے ہمیں تاکید کی ہے۔ نفل سے مراد ہے خدا کی وہ عبادت جو ہم اپنی خوشی سے کرتے ہیں۔جسے ہم پر نہ لازم کیا گیا ہے اور نہ جس کی تاکید کی گئی ہے۔ اب فرمایئے کہ اس میں شرک کہاں سے آگیا؟’’سنت رسول اللہ کی ‘‘کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھی جارہی ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ نماز ہے جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فرض سے زائد پڑھا کرتے تھے اور آپؐ کے اتباع میں ہم بھی پڑھتے ہیں۔
(۵) کسی عمل کو ختم کرنے کے لیے آخر اس کی کوئی صورت ہونی چاہیے۔نماز ختم کرنے کی صورت یہ ہے کہ آپ جو قبلہ رو بیٹھ کر عبادت کررہے تھے، اب دونوں طرف منہ پھیر کر اس عمل کو ختم کردیں۔اب منہ پھیرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ چپکے سے منہ پھیر دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ خدا سے تمام خلق کے لیے سلامتی کی دعا کرتے ہوئے منہ پھیریں۔آپ کو ان میں سے کون سی صورت پسند ہے؟
(۶) جن احادیث کا آپ نے حوالہ دیا ہے وہ ابتدائی دور کی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل جب کہ نمازکے احکام بتدریج مکمل ہوچکے تھے، یہی تھا کہ آپؐ پانچوں وقت وہی رکعتیں پڑھتے تھے جو اب تمام مسلمانوں میں رائج ہیں۔ یہ چیز دوسری متعدد احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ حضرت عمرؓ کا جو قول آپ نے نقل کیا ہے وہ نوافل سے متعلق ہے۔
(ترجمان القرآن۔فروری ا۹۶اء)
زکوٰۃ اور ٹیکس میں فرق:
سوال: موجودہ آزاد تمدنی دَور میں بھی کیا غربا ومساکین کے لیے امرا ورؤسا سے زکوٰۃ فنڈ جبراً وصول کیا جانا مناسب ہوگا جب کہ وہ دیگر کئی ٹیکسوں کے علاوہ انکم ٹیکس بھی ادا کرتے ہوں ؟
جواب: زکوٰۃ کے متعلق پہلی بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ یہ ٹیکس نہیں ہے بلکہ ایک عبادت اور رکن اسلام ہے،جس طرح نماز،روزہ اور حج ارکان اسلام ہیں۔جس شخص نے بھی کبھی قرآن مجید کو آنکھیں کھول کر پڑھا ہے ،وہ دیکھ سکتا ہے کہ قرآن بالعموم نماز اور زکوٰۃ کا ایک ساتھ ذکر کرتا ہے اور اسے اس دین کا ایک رکن قرا ر دیتا ہے جو ہر زمانے میں انبیائے کرام کا دین رہا ہے۔اس لیے اس کو ٹیکس سمجھنا اور ٹیکس کی طرح اس سے معاملہ کرنا پہلی بنیادی غلطی ہے۔ ایک اسلامی حکومت جس طرح اپنے ملازموں سے دفتری کام اور دوسری خدمات لے کر یہ نہیں کہہ سکتی کہ اب نماز کی ضرورت باقی نہیں، کیوں کہ انہوں نے سرکاری ڈیوٹی دے دی ہے، اسی طرح وہ لوگوں سے ٹیکس لے کر یہ نہیں کہہ سکتی کہ اب زکوٰۃ کی ضرورت نہیں، کیوں کہ ٹیکس لے لیا گیا ہے۔اسلامی حکومت کو اپنے نظام الاوقات لازماًاس طرح مقرر کرنے ہوں گے تاکہ اس کے ملازمین نماز وقت پر ادا کرسکیں۔ اسی طرح اس کو اپنے ٹیکسیشن کے نظام میں زکوٰۃ کی جگہ نکالنے کے لیے مناسب ترمیمات کرنی ہوں گی۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ حکومت کے موجودہ ٹیکسوں میں کوئی ٹیکس ان مقاصد کے لیے اس طرح استعمال نہیں ہوتا ہے جن کے لیے قرآن میں زکوٰۃ فرض کی گئی ہے اور جس طرح اس کے تقسیم کرنے کا حکم ہے۔ (ترجمان القرآن،دسمبر ا۹۶اء)

اجتہاد کے حدود:

سوال: میرے ایک جرمن نومسلم دوست ہیں جن سے میرا رابطۂ مراسلت قائم ہے۔وہ مجھ سے اپنے بعض علمی وعملی اشکالات بیان کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ حال ہی میں ان کا ایک خط آیا ہے جس میں انہوں نے دریافت کیا ہے کہ فقہی احکام میں ’’اجتہاد‘‘ کے اصول کے تحت کہاں تک تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ان کا خیال ہے کہ اسلام کے بہت سے تفصیلی احکام فقہا کے اخذ کردہ اور مرتب کردہ ہیں اور نبیؐ کی وفات کے بعد بعض خاص جغرافیائی اور تمدنی حالات کی پیداوار ہیں۔ کئی صدیوں تک تو اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھا گیا تھا مگر اس کے بعد اصولاً ضرورت اجتہاد کو تسلیم کرنے کے باوجود عملاًاسے بند کر دیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کل کے زمانے میں بالخصوص یورپ کے مسلمانوں کو بعض احکام کی تعمیل میں دشواری پیش آتی ہے ۔مثال کے طور پر وہ وضو کے مسئلے کو لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وضو میں ہر مرتبہ پائوں دھونا اہل یورپ کو مشکل اور غیر ضروری معلوم ہوتا ہے۔ان کا خیال ہے کہ وہاں لوگ ہمیشہ جراب اور بند جوتے استعمال کرتے ہیں،اس لیے پائوں کے گرد آلود یا ناپاک ہونے کی نوبت کم ہی آتی ہے۔ سردیوں میں پائوں دھونا آسان بھی نہیں ہوتا۔یہی معاملہ منہ دھونے کا ہے۔یورپ کے شہروں میں بالعموم مٹی نہیں اُڑتی اورپسینہ بھی برائے نام آتا ہے اس لیے ان کے نزدیک منہ اور پائوں کا دن میں ایک مرتبہ دھونا کافی ہونا چاہیے۔
آپ براہِ کرم میرے دوست کے خیالات پر صحیح اسلامی نقطۂ نظر سے تنقید کریں اور اس کا جو پہلو اصلاح طلب ہو، واضح فرمائیں، تاکہ میں انہیں اطمینان بخش جواب دے سکوں۔

جواب: آپ کے جرمن دوست نے اپنے سوالات کا آغاز تو اس بات سے کیا ہے کہ فقہا کے بیان کردہ احکام میں حالات کے لحاظ سے کہاں تک ترمیم کی جاسکتی ہے، لیکن آگے چل کر جہاں وہ ایک متعین مثال پیش کرتے ہیں،وہاں فقہا کے بیان کردہ احکام میں نہیں بلکہ خود قرآن کی نصوص میں ترمیم کا سوال پیدا ہوجاتا ہے۔وضو میں منہ،کہنیوں تک ہاتھ اور ٹخنوں تک پائوں دھونے اور سر پر مسح کرنے کا حکم تو قرآن میں دیا گیا ہے۔ ( المائدہ :آیت ۶)
پھر منہ او رپائوں دھونے کے حکم کی جو وجہ آپ کے دوست نے سمجھی ہے ،وہ بھی صحیح نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حکم محض گرد صاف کرنے کے لیے دیا گیا ہے، اور جہاں گردوغبار نہ ہو،وہاں اس پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔حالاں کہ اس کی اصل وجہ یہ ہے ہی نہیں۔دراصل اﷲ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اس کی عبادت کے قابل ہونے اور قابل نہ ہونے کی حالت کے درمیان فرق کیا جائے تاکہ آدمی جب اس کی عبادت کرنے کا ارادہ کرے تو وہ اپنے جسم اور لباس کا جائزہ لے کر دیکھے کہ آیا میں خدا کے حضور حاضر ہونے کے قابل ہوں یا نہیں ،اور جانے سے پہلے اپنے آپ کو پاک صاف کرکے اہتمام کے ساتھ جائے ۔اس طرح عبادت کی اہمیت دل میں جاگزین ہوتی ہے اور آدمی اسے اپنے عام معمولی کاموں سے ایک مختلف اور بالاتر نوعیت کا کام سمجھ کر بجا لاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں پانی نہ ملے، وہاں تیمم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔حالاں کہ تیمم سے بظاہر کوئی صفائی بھی نہیں ہوتی۔
علاوہ بریں وضو میں جس صفائی کا حکم دیا گیاہے ،اس سے ایک ضمنی مقصد یہ بھی ہے کہ پنج وقتہ نماز کی وجہ سے آدمی کو پاک رہنے کی عادت پڑ جائے۔ گندگی لازماً صرف مٹی اور گردو غبار کی وجہسے ہی نہیں ہوتی۔آدمی کے مسامات سے ہر وقت کچھ نہ کچھ فضلات خارج ہوتے رہتے ہیں۔ اگر اسے دھویا نہ جاتا رہے تو یہ مادّے جسم کی سطح پر جم جم کر بو پید اکردیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ صاحب لوگوں کے منہ سے بھی بو آتی ہے،ان کے بدن میں بھی ایک طرح کی سڑاند ہوتی ہے، اور ان کے پائوں تو سخت بودار ہوتے ہیں، یہاں تک کہ ان کے جوتوں اور جرابوں میں بھی تعفن پیدا ہوجاتا ہے۔اسلام اس کو پسند نہیں کرتا کہ اس کے پیرو کسی حیثیت سے بھی نفرت انگیز حالت میں رہیں۔یورپ کے لوگ اس بدبو کو دبانے کے لیے عطریات اور لونڈر استعمال کرتے ہیں۔ حالاں کہ بدبو کو اوپری خوشبوئوں سے دبانا کوئی پاکیزگی و طہارت نہیں ہے۔
جاڑے کے زمانے میں یا سرد علاقوں میں پائوں دھونے کی زحمت سے بچانے کے لیے شریعت نے پہلے ہی یہ آسانی رکھ دی ہے کہ آدمی ایک دفعہ وضو میں پائوں دھونے کے بعد موزے پہن لے۔پھر ۲۴ گھنٹے تک مقیم کے لیے اور ۷۲ گھنٹے تک مسافر کے لیے پائوں دھونے کی حاجت نہیں ہے،بشرطیکہ اس دوران میں وہ موزے نہ اُتارے۔
ان جرمن دوست کو کہیے کہ حالات و ضروریات کے لحاظ سے اسلام کے فروعی احکام میں ضروری رد وبدل تو ہوسکتا ہے،لیکن اس طرح کا ردو بدل کرنے کے لیے شریعت کی گہری واقفیت درکا رہے۔ہر شخص کو سطحی طور پر یہ اختیارات نہیں دیے جاسکتے۔ (ترجمان القرآن، اگست ۹۶۲اء)

بیمہ کا جواز وعدم جواز:

سوال: انشورنس کے مسئلے میں مجھے تردد لاحق ہے،اور صحیح طور پر سمجھ میں نہیں آسکا کہ آیا بیمہ کرانا اسلامی نقطۂ نظر سے جائز ہے یا ناجائز؟اگر بیمے کا موجودہ کاروبارناجائز ہو تو پھر اسے جائز بنانے کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں۔اگر موجودہ حالات میں ہم اسے ترک کردیں تو اس کے نتیجے میں معاشرے کے افراد بہت سے فوائد سے محروم ہوجائیں گے۔دنیا بھر میں یہ کاروبار جاری ہے۔ہر قوم وسیع پیمانے پر انشورنس کی تنظیم کرچکی ہے اور اس سے مستفید ہورہی ہے۔مگر ہمارے ہاں ابھی تک اس بارے میں تامل اور تذبذب پایا جاتا ہے۔آپ اگر اس معاملے میں صحیح صورت حال تک رہنمائی کریں تو ممنون ہوں گا۔

جواب: انشورنس کے بارے میں شرع اسلامی کی رو سے تین اصولی اعتراضات ہیں جن کی بِنا پر اسے جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔
اوّل کہ یہ انشورنس کمپنیاں جو روپیا پریمیم (premium)کی شکل میں وصول کرتی ہیں،اس کے بہت بڑے حصے کو سودی کاموں میں لگا کر فائدہ حاصل کرتی ہیں اور اس ناجائز کاروبار میں وہ لوگ آپ سے آپ حصہ دار بن جاتے ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں اپنے آپ کو یا اپنی کسی چیز کو ان کے پاس انشور کراتے ہیں۔
دوم یہ کہ موت یا حوادث یا نقصان کی صورت میں جو رقم دینے کی ذمہ داری کمپنیاں اپنے ذمے لیتی ہیں،اس کے اندر قمارکا اصول پایا جاتا ہے۔
سوم یہ کہ ایک آدمی کے مرجانے کی صورت میں جو رقم ادا کی جاتی ہے،اسلامی شریعت کی رو سے اس کی حیثیت مرنے والے کے ترکے کی ہے جسے شرعی وارثوں میں تقسیم ہونا چاہیے۔مگر یہ رقم ترکے کی حیثیت میں تقسیم نہیں کی جاتی بلکہ اس شخص یاان اشخاص کو مل جاتی ہے جن کے لیے پالیسی ہولڈر نے وصیت کی ہو۔حالاں کہ وارث کے حق میں شرعاً وصیت ہی نہیں کی جاسکتی۔
رہا یہ سوال کہ انشورنس کے کاروبار کو اسلامی اصول پر کس طرح چلایا جاسکتا ہے، تو اس کا جواب اتنا آسان نہیں جتنایہ سوال آسان ہے۔اس کے لیے ضرورت ہے کہ ماہرین کی ایک مجلس جو اسلامی اصول کو بھی جانتی ہو اور انشورنس کے معاملات کو بھی سمجھتی ہو،اس پورے مسئلے کا جائزہ لے اور انشورنس کے کاروبار میں ایسی اصلاحات تجویزکرے جن سے کاروبار چل بھی سکتا ہو اور شریعت کے اصولوں کی خلاف ورزی بھی نہ ہو۔ جب تک یہ نہیں ہوتا تو ہمیں کم ازکم یہ تسلیم تو کرنا چاہیے کہ ہم ایک غلط کام کررہے ہیں۔غلطی کا احساس بھی اگر ہم میں باقی نہ رہے تو پھر اصلاح کی کوشش کا کوئی سوال ہی نہیں رہتا۔
بے شک موجودہ زمانے میں انشورنس کی بڑی اہمیت ہے،اور ساری دنیا میں اس کا چلن ہے مگر نہ اس دلیل سے کوئی چیز حلال ہوسکتی ہے اور نہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے وہ سب حلال ہے یا اسے اس بنا پر حلا ل ہونا چاہیے کہ دنیا میں اس کا چلن ہوگیاہے۔ایک مسلمان قوم ہونے کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم جائز وناجائز میں فرق کریں اور اپنے معاملات کو جائز طریقوں سے چلانے پر اصرار کریں۔ (ترجمان القرآن۔اگست ۹۶۲اء)

عائلی قوانین اور قانون شریعت:

سوال: کیا عائلی قوانین کے نفاذ کے بعد کوئی شخص اگر شریعت کے مطابق کسی قسم کی طلاق دے تو وہ واقع ہوجائے گی؟متذکرۂ صدر قوانین کی روسے تو طلاق کے نافذ ہونے کے لیے کچھ خاص شرائط عائد کردی گئی ہیں؟

جواب: کسی حکومت کے قوانین سے نہ تو شریعت میں کوئی ترمیم ہوسکتی ہے اور نہ وہ شریعت کے قائم مقام بن سکتے ہیں۔اس لیے جو طلاق شرعی قواعد کی رو سے دے دی گئی ہو وہ عند اﷲ اور عند المسلمین نافذ ہوجائے گی خواہ ان قوانین کی رو سے وہ نافذ نہ ہو۔ او رجو طلاق شرعاً قابل نفاذ نہیں ہے وہ ہرگز نافذ نہ ہو گی،خواہ یہ قوانین اس کو نافذ قرار دیں۔اب مسلمانو ں کو خود سوچ لینا چاہیے کہ وہ اپنے نکاح وطلاق کے معاملات خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مطابق طے کرنا چاہتے ہیں یا ان عائلی قوانین کے مطابق۔(ترجمان القرآن۔مئی ۹۶۲اء)

چند متفرق فقہی مسائل:

سوال: چند حل طلب مسائل پیش خدمت ہیں۔امیدہے کہ ان میں آپ صحیح رہنمائی کریں گے۔
(۱) اب تک تجارتی حصص پر زکوٰۃ کے متعلق آپ کی جو تحریریں میری نظر سے گزری ہیں، ان میں یہ فرض کیا گیا ہے کہ اسلامی ریاست یا کم ازکم تحصیل زکوٰۃ کا ایک مرکزی نظام موجودہے۔ اور مسئلہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کس مرحلے پر اور کس سے وصول کی جائے گی۔جب تک کوئی مرکزی نظم زکوٰۃ قائم نہ ہو،اس وقت تک حصص پر زکوٰۃ کی کیا صورت ہوگی؟ اس وقت بہت سے لوگوں کے پاس تجارتی حصے ہیں،وہ ان پر کس شرح سے زکوٰۃ ادا کریں؟
میں نے اپنے حصص کو روپے کا نعم البدل قیاس کرتے ہوئے ان کی مالیت پر ڈھائی فی صد نکالنا چاہا تھا لیکن حصص کی سالانہ آمدنی ٹیکس کٹ کٹا کر جتنی ملتی ہے ،وہ پوری ان کی زکوٰۃ میں چلی جاتی ہے۔ بعض حصص سے آمدنی اتنی کم ہوتی ہے کہ اُلٹا جیب سے زکوٰۃ ادا کرنی پڑتی ہے ۔یہ صورت قطعاً غیر تشفی بخش ہے۔
(۲) ترجمان، جلد۵، عدد امیں قطبین میں اوقات سحر وافطار پر ڈاکٹر حمید اﷲ کا مضمون شائع کیا گیا ہے۔اسی بحث کو زیادہ تفصیل سے ڈاکٹر صاحب نے اپنی کتاب انٹروڈکشن ٹو اسلام میں پیش کیا ہے۔ پہلی دفعہ میں نے سرسری نظر سے مضمون دیکھا تو اچھا لگا۔ لیکن دوبارہ غور سے پڑھنے پر سخت قابل اعتراض محسوس ہوا۔
ڈاکٹر صاحب کا استدلال یہ ہے کہ خط استوا سے قطبین کی طرف جائیں تو دن اور رات کا تفاوت بڑھتا چلا جاتا ہے۔۴۵ درجے عرض البلد تک تو یہ تفاوت قابل برداشت ہوتا ہے لیکن اس سے آگے نہیں۔ لہٰذا اس عرض البلد سے آگے تمام مسلمان ۴۵درجے کے اوقات طلوع وغروب کے مطابق نماز روزے کا اہتمام کریں۔
اگر اس تجویز کو مان لیا جائے توکینیڈا، امریکا کے شمالی حصے،سارے یورپ،ماسوا اسپین اور اٹلی کے، نیز تقریباًپورے روس کے مسلمانوں کو اپنے مقام کے طلوع وغروب کے حساب سے ارکان دین ادا کرنے کے بجائے گھڑی کے حساب سے سارے کام کرنے چاہییں۔میری اطلاع ہے کہ پیرس مسجد کی اقتدا میں پیرس کے مسلمان رمضان میں یہی کرتے ہیں۔ وہ ریڈیو مراکش لگائے رکھتے ہیں اور جیسے ہی مراکش میں افطار کی اذان ہوتی ہے،وہ افطار کرلیتے ہیں چاہے سور ج سر پر کھڑا ہو۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟
میں نے لندن کا سب سے طویل روزہ دیکھا ہے۔سحر سے افطار تک تقریباً ۱۷ گھنٹے بنے تھے۔ لیکن پنجاب کے تیرہ چودہ گھنٹے کے روزے زیادہ مشکل معلوم ہوتے ہیں۔اتنے طویل روزے کے باوجود افطارکے وقت پیاس بالکل نہ ہوتی تھی۔ بھوک ضرور لگتی تھی، لیکن اس سے طبیعت اتنی نڈھال نہ ہوتی تھی جتنی اپنے ہاں ہوتی ہے۔ آخر یورپ کے مسلمانو ں کے لیے کیوں کر جائز ہے کہ وہ مقامی طلوع وغروب کو نظر انداز کرکے مراکش کی پیروی کریں؟
میرے ایک شناسا نے ڈاکٹر حمید اﷲسے لکھ کر پوچھا تھا کہ ۴۵ عرض البلد انہوں نے کیوںکر تجویزکیا۔ جواب ملا کہ صحابہ ؓ یہیں تک گئے تھے،اس لیے اسے حد کے طور پر لیا ہے۔
اس مسئلے پر آپ کی کیا رائے ہے؟رسائل ومسائل میں آپ کے جواب نظر سے گزرے ہیں لیکن وہ بہت عمومی قسم کے ہیں۔یہاں ڈاکٹرصاحب نے اتنی تفصیل میں جاکر معمولی اور غیر معمولی منطقوں کی حدود کا مسئلہ کھڑا کردیا ہے۔لندن میں یہ سوال اس لیے اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ یورپین نو مسلم سورج کے بجائے گھڑی کے مطابق عبادات قائم کرنا چاہتے ہیں بلکہ ان کا بس چلے تو جمعے کی نماز اتوار کو ادا کریں۔یہ تجویز کئی دفعہ میرے سامنے آئی ہے۔
(۳) یہاں لندن میں ایک مسلمان طالب علم ایک جرمن لڑکی سے شادی کرنا چاہتے تھے۔وہ مسلمان بننے پر آمادہ نہ ہوئی۔ لہٰذا میں نے شادی رکوانے کی کوشش کی۔صاحب زادے کو سمجھایا کہ وہ کیوں کر برداشت کرے گا کہ اس کے گھر میں سور کا گوشت کھایا جائے اور شراب پی جائے۔ لڑکی غیر مسلم ہوئی تو ہمارے محرمات کا خیال نہیں کرے گی اور گھر بربادہوجائے گا۔لڑکے کی سمجھ میں بات آگئی اور وہ کچھ متذبذب ہو گیا۔ انہی دنوں اسلامک سنٹر کے مصری ڈائریکٹر سے ملاقات ہوئی۔ ان صاحب نے ڈاکٹر آ ر بری کے ساتھ مل کر ایک کتاب شائع کرائی ہے اور اب جامعۂ ازہر کی کلیہ ٔشریعہ کے صدر ہوکرواپس مصر گئے ہیں۔ انہوں نے اس لڑکے سے کہاکہ اگر اس کی بیوی عیسائی رہتی ہے تو اسے کوئی حق نہیں کہ لڑکی کو شراب،سور وغیرہ سے روکے۔جو چیز اس کے مذہب میں جائز ہے،اسے کرنے کی اسلام نے اسے آزادی دی ہے۔مسلمان شوہر مداخلت کرکے گناہ گار ہوگا۔
کیا یہ رائے درست ہے؟ کیا آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے معاہدۂ نجران سے یہ استنباط نہیں کیا جاسکتا کہ کسی مسلمان کی اہل کتاب بیو ی کو اسلام کے متعین کردہ کبائر کی اجازت نہیں؟
(۴) یہی مصری صاحب بغیر مہر کے نکاح کے قائل تھے،کیا یہ درست ہے؟کیا بغیر مہر کے نکاح جائزہے؟
(۵) میرے بعض عراقی دوست جو کئی سالوں سے لندن میںمقیم ہیں،اب تک نماز قصر کرکے پڑھتے ہیں۔کہتے ہیں کہ مسافرت کی حد نہ قرآن میں آئی ہے اور نہ حدیث میں،فقہا کی اپنی اختراع ہے لہٰذا ہم نہیں مانتے۔جب تک اپنے وطن سے باہر ہیں،مسافر ہیں۔قصر کریں گے،چاہے ساری عمر لندن میں گزر جائے۔ان کو کس طرح مطمئن کروں کہ ان کی روش غلط ہے۔
(۶) یہی حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ روزے کی قضا تو ہے لیکن نماز کی نہیں۔بعد میں روزہ رکھنے کا حکم قرآن میں ہے۔ لیکن جو نماز ایک دفعہ کھو گئی،وہ ہمیشہ کے لیے گئی۔ قرآن میں کہیں قضا نماز کا ذکر نہیں نہ ہی حدیث میں اس کے متعلق کچھ ہے۔کیا یہ درست ہے؟
(۷) حصص کے سلسلے میں ایک سوال اور ذہن میں آیا ہے۔اب تک دوسروں نے اور آپ نے بھی یہ کہا ہے کہ خریدنے کے بعد سال پورا ہونے پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔عام طور پر لوگ سال بھر تک ایک ہی حصہ نہیں رکھتے۔کبھی قیمت گرنے لگتی ہے تو بیچ دیتے ہیں ۔کبھی دوسرے حصص زیادہ نفع بخش نظر آنے لگتے ہیں تو اپنا بیچ کر دوسرے خرید لیے جاتے ہیں، وغیرہ۔ ہمارے ہاں ممکن ہے کہ ابھی یہ بات عام نہ ہو لیکن یہاں یہی ہوتا ہے۔کیا ایسی صورت میں بھی کسی ایک کمپنی کے حصے پر سال پورا ہونے پر ہی زکوٰۃ عائد ہوگی؟کیا اس طرح آدمی زکوٰۃ سے مستقلاً مستثنیٰ ہوجائے گا؟زکوٰۃ ادا کرنے کی نیت کے باوجود زکوٰۃ کا موقع نہ آئے گا؟

جواب: آپ کے سوالات کا مختصرجواب یہ ہے:
تجارتی حصص کی زکوٰۃ:
(۱۔۷) تجارتی حصص کی زکوٰۃ اس اصول پر نہیں نکالی جائے گی کہ گویا حصے کی رقم آپ کے پاس جمع ہے اور آپ جمع شدہ روپے کی زکوٰۃ نکال رہے ہیں۔ بلکہ ان کی زکوٰۃ تجارتی مال کی زکوٰۃ کے اصول پر نکالی جائے گی۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ کاروبار شروع ہونے کی تاریخ پر جب ایک سال گزر جائے تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کے پاس تجارتی مال(stock in trade) کس قدر موجود ہے اور وہ کس مالیت کا ہے اور نقد روپیا(cash in hand) کتنا ہے۔دونوں کے مجموعے پر ڈھائی فی صدی کے حساب سے زکوٰۃ نکالی جائے گی۔اسی قاعدے پر دیکھا جائے گا کہ کمپنی یا کمپنیوں میں آپ کے جو حصے ہیں،اس وقت بازاری قیمت کے لحاظ سے ان کی قیمت کیا ہے۔سال کے دوران میں آدمی نے خواہ کتنی ہی مرتبہ پہلا حصہ فروخت کیا ہو اور دوسرا خریدا ہو،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پہلا حصہ جب آپ نے خریدا،اس وقت سے سال شمار کیا جائے گا اور سال کے خاتمے پر آپ کے حصوں کی جو بازاری قیمت ہو،اس کے لحاظ سے زکوٰۃ کا تعین کیا جائے گا۔اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آپ کے پاس نقد کس قدر موجود ہے۔دونوں کے مجموعے پر ۴۰۔ ۱ کی شرح سے زکوٰۃ نکالی جائے گی۔
رہی یہ بات کہ ٹیکس لگ کر آپ کی بقیہ آمدنی اتنی کم رہ جاتی ہے کہ زکوٰۃ دینے کی صورت میں وہ پوری کی پوری زکوٰۃ ہی میں چلی جاتی ہے تو اس کا میرے پاس کوئی علاج نہیں ۔یہ تو ایسی حکومتوں کے ماتحت رہنے کی سزا ہے جو ٹیکس عائد کرتے وقت سرے سے زکوٰۃ کا کوئی لحاظ ہی نہیں کرتیں۔ یہ سزا ہمیں لازماً اس وقت تک بھگتنی ہوگی جب تک اس حکومت کا نظام ہم نہ بد ل دیں جس میں ہم رہتے ہیں۔

تجارتی حصص کی زکوٰۃ:

(۱۔۷) تجارتی حصص کی زکوٰۃ اس اصول پر نہیں نکالی جائے گی کہ گویا حصے کی رقم آپ کے پاس جمع ہے اور آپ جمع شدہ روپے کی زکوٰۃ نکال رہے ہیں۔ بلکہ ان کی زکوٰۃ تجارتی مال کی زکوٰۃ کے اصول پر نکالی جائے گی۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ کاروبار شروع ہونے کی تاریخ پر جب ایک سال گزر جائے تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کے پاس تجارتی مال(stock in trade) کس قدر موجود ہے اور وہ کس مالیت کا ہے اور نقد روپیا(cash in hand) کتنا ہے۔دونوں کے مجموعے پر ڈھائی فی صدی کے حساب سے زکوٰۃ نکالی جائے گی۔اسی قاعدے پر دیکھا جائے گا کہ کمپنی یا کمپنیوں میں آپ کے جو حصے ہیں،اس وقت بازاری قیمت کے لحاظ سے ان کی قیمت کیا ہے۔سال کے دوران میں آدمی نے خواہ کتنی ہی مرتبہ پہلا حصہ فروخت کیا ہو اور دوسرا خریدا ہو،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پہلا حصہ جب آپ نے خریدا،اس وقت سے سال شمار کیا جائے گا اور سال کے خاتمے پر آپ کے حصوں کی جو بازاری قیمت ہو،اس کے لحاظ سے زکوٰۃ کا تعین کیا جائے گا۔اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آپ کے پاس نقد کس قدر موجود ہے۔دونوں کے مجموعے پر ۴۰۔ ۱ کی شرح سے زکوٰۃ نکالی جائے گی۔
رہی یہ بات کہ ٹیکس لگ کر آپ کی بقیہ آمدنی اتنی کم رہ جاتی ہے کہ زکوٰۃ دینے کی صورت میں وہ پوری کی پوری زکوٰۃ ہی میں چلی جاتی ہے تو اس کا میرے پاس کوئی علاج نہیں ۔یہ تو ایسی حکومتوں کے ماتحت رہنے کی سزا ہے جو ٹیکس عائد کرتے وقت سرے سے زکوٰۃ کا کوئی لحاظ ہی نہیں کرتیں۔ یہ سزا ہمیں لازماً اس وقت تک بھگتنی ہوگی جب تک اس حکومت کا نظام ہم نہ بد ل دیں جس میں ہم رہتے ہیں۔

قطبین میں نماز:

(۲) قطبین کے قریب علاقوں کے اوقاتِ عبادت کے معاملے میں مجھے ڈاکٹر حمید اﷲ صاحب کے اجتہاد سے قطعاً اتفاق نہیں ہے۔میرے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں رات اور دن کا اُلٹ پھیر۲۴ گھنٹے کے اندر ہوجاتا ہے ان میں روزہ ونماز کے اوقات اسی قاعدے پر ہونے چاہییں جو خط استوا سے قریب تر مقامات کے لیے ہے،خواہ رات دو ہی گھنٹے کی ہو یا دن دو ہی گھنٹے کا رہ جائے۔البتہ اس کے آگے جہاں رات اور دن ۲۴ گھنٹوں سے متجاوز ہوجاتے ہیں،وہاں گھڑیوں کے حساب سے اوقات مقرر کیے جانے چاہییں، اور ایسے مقامات پر تعین اوقات مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ کے معیار پر کیا جانا چاہیے۔

منکوحہ کتابیہ کے لیے آزادیِ عمل کے حدود:

(۳) اہل کتاب کی جن عورتوں سے مسلمانوں کونکاح کی اجازت دی گئی ہے،ان کے بارے میں قرآن مجید دو شرطیں لگاتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ محصنات(پاک دامن) ہوں، دوسرے یہ کہ ان سے نکاح کرکے ایک مسلمان خود اپنے ایمان کو خطرے میں نہ ڈال بیٹھے(ملاحظہ ہو سورۂ مائدہ،آیت نمبر ۵)۔ ان شرائط کی رو سے فاسق وفاجر کتابیات کے ساتھ شادی جائز نہیں ہے، اور یہ دیکھنا ایک مسلمان کا فرض ہے کہ جس عورت سے وہ شادی کررہا ہے،وہ اس کے گھر میں، اس کے خاندان میں،اور اس کے بچوں میں ایسے افعال رائج کرنے کی موجب نہ بنے جو اسلام میں حرام ہیں۔بلاشبہ وہ اسے مذہب ترک پر مجبور نہیں کرسکتا۔اس کو چرچ جانے سے نہیں روک سکتا۔مگر اسے شادی سے پہلے ہی یہ شرط طے کرلینی چاہیے کہ وہ اس کی زوجیت میں آنے کے بعد شراب، سور کے گوشت اور دوسری حرام چیزوں سے اجتناب کرے گی۔ ایسی شرط پہلے ہی طے کرلینے کا اسے حق بھی ہے اور ایسا کرنا اس کا فرض بھی ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ دین کے معاملے میں سخت تساہل کرنے والا آدمی ہے۔اس کے بعد اگر اس کی اپنی اولاد ان حرام افعال میں مبتلا ہو(اور ظاہر ہے کہ اولاد کا ماں سے متاثر نہ ہونا متوقع نہیں ہو سکتا) تو اس کی ذمہ داری میں وہ بھی شریک ہو گا۔

نکاح بلا مہر:

(۴) نکاح بلا مہر ہوسکتا ہے، لیکن اسلامی فقہ کی رو سے اس طرح کے نکاح میں مہر مثل آپ سے آپ لازم آجاتا ہے۔

نماز کی قصر وقضا:

(۵) افسوس ہے کہ عرب ممالک کے نوجوان نہ تو خود دین کا کافی علم رکھتے ہیں اور نہ وہ فقہائے مجتہدین میں سے کسی کا اتباع ہی کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے آئے دن ان کے عجیب عجیب اجتہادات سننے میں آتے رہتے ہیں۔مسافر کے معاملے میں امام شافعیؒ ،امام احمدؒ، اور ایک روایت کی رو سے امام مالکؒ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ جو شخص کسی مقام پر چار دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کا ارادہ رکھتا ہو،اسے پوری نماز پڑھنی چاہیے۔حضرت ابن عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کا مسلک یہ ہے کہ دس دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت مسافر کو مقیم بنادیتی ہے۔ امام اوزاعیؒ بارہ دن کی اور امام ابو حنیفہؒ پندرہ دن کی حد مقرر کرتے ہیں۔ علمائے اسلام میں سے کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ اپنے شہر سے باہر نکل کر کسی دوسرے مقام پر کوئی شخص چاہے مہینوں اور برسوں رہے مگر وہ مسافر ہی رہے گا اور قصر کرتا رہے گا۔البتہ فقہا یہ ضرور کہتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی کسی مقام پر اس طرح رکا ہوا ہو کہ ہر وقت اس کے کوچ کرجانے کا امکان ہو اور ٹھہرنے کی نیت نہ ہو، تو خواہ وہاں اسے مہینوں رکا رہ جانا پڑے، وہ قصرکرسکتا ہے۔ انہی وجوہ سے نبیؐ نے تبوک میں پندرہ دن اور فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں اٹھارہ دن قصر فرمایا۔(مسند احمد، ابودائود) اور انہی وجوہ سے صحابہ کرام کا لشکر آذر بیجان کی مہم میں دو مہینے قصر کرتا رہا۔(مسند احمد)
(۶) یہ بات بھی سخت حیرت انگیز ہے کہ یہ لوگ نماز کی قضا کے قائل نہیں ہیں۔ حالاں کہ یہ چیز بکثرت احادیث سے ثابت ہے اور تمام فقہائے اسلام بالاتفاق اس کے قائل ہیں۔ پوری اسلامی تاریخ میں کوئی ایک قابل ذکر فقیہ بھی اس کا قائل نہیں ہوا ہے کہ روزے کی قضاتو واجب ہے مگر نماز کی قضا واجب نہیں۔ بخاری، مسلم ،نسائی، ابودائود، ابن ماجہ ،ترمذی اور مسند احمد میں متعدد احادیث حضرت انسؓ، حضرت ابو ہریرہؓ، اور ابو قتادہ انصاریؓ سے مروی ہیں جن میں نبیؐ نے فرمایا کہ جس نماز کو انسان بھول جائے یا سوتا رہ جائے اور نماز کا وقت نکل گیا ہو،تو جس وقت بھی اسے یاد آئے یا وہ بیدار ہو اسے وہ چھوٹی ہوئی نماز پڑھ لینی چاہیے۔
یہ تو ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قولی حکم۔ رہاآپؐ کا اپنا فعل،تو ابو سعید خدریؓ، جابر بن عبداﷲؓ اور عمران بن حصین سے متعدد واقعات مسند احمد، بخاری، مسلم اور نسائی میں منقو ل ہیں جن میں وہ بتاتے ہیں کہ نبیؐ اور صحابہ ؓ نے چھوٹی ہوئی نمازیں ادا کی ہیں ۔ایک سفر میں رات بھر چل کر آخروقت میں قافلے نے پڑائو کیا اور اُترتے ہی سب پر نیند غالب ہوگئی۔یہاں تک کہ جب سورج نکل آیا تو اس کی گرمی سے لوگ بیدار ہوئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراًاذان دلوائی اور جماعت کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی۔ غزوۂ خندق میں ایک روز عصر کی نماز قضا ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کے وقت ادا کی۔ اور ایک اور دن اسی غزوہ میں ظہر، عصر اور مغرب کی نمازیں قضا ہوئیں اور ایسے وقت یہ تینوں نمازیں ادا کی گئیں جب کہ عشا کا وقت شروع ہورہا تھا۔اس کے بعد یہ کہنے کی کیا گنجایش رہ جاتی ہے کہ جو نماز چھوٹ گئی،وہ معاف ہے؟

تجارتی حصص اور کرائے پر دی جانے والی اشیا کی زکوٰۃ:

سوالنمبر۱: تجارتی حصص کی زکوٰۃ کے بارے میں جولائی ۶۲ء اور نومبر ۵۰، جلد۳۵، عدد ا کے ترجمان القرآن میں آپ کی تحریریں سامنے ہیں۔
اصول کا تقاضا یہ ہے کہ شرکت پر دیے ہوئے سرمائے کی زکوٰۃ صرف ایک بار وصول کی جائے ۔اس اصول کے مطابق اگر آپ کی نومبر ۵۰ء کی تحریر کے مطابق کمپنی سے زکوٰۃ یک جا وصول کرلی جائے تو پھر افراد سے ان کے مملوکہ تجارتی حصص پر نہیں وصول کرنا چاہیے۔ یہ بات بھی محل نظر ہے کہ ’’ جو حصہ دار قدر نصاب سے کم حصے رکھتے ہوں یا جو ایک سال سے کم اپنے حصے کے مالک رہے ہوں…‘‘ ان کو مستثنیٰ کرکے کمپنی سے حصص پر زکوٰۃ لی جائے۔اکثر اوقات اس کا پتا لگانا مشکل ہے کہ جو حصہ دار ایک مخصوص کمپنی میں نصاب سے کم قیمت کے حصے کا مالک ہے ،وہ خود صاحب نصاب ہے کہ نہیں۔
مسئلے کا ایک او رپہلو قابل توجہ ہے۔افراد سے ان کے مملوکہ حصص پر زکوٰۃ لینے اور کمپنی کے جملہ حصص پر زکوٰۃ لینے کے معاشی اثرات بالکل مختلف ہوں گے۔ کمپنی کے لیے یہ ممکن ہو گا کہ وہ سالانہ زکوٰۃ کی رقم کو اپنی لاگت کا ایک مستقل جز سمجھ کر اسی حساب سے اپنے مال کی قیمت بڑھانے کی کوشش کرے۔کیوں کہ ضروری نہیں کہ پوری زکوٰۃ نفع ہی سے ادا کرنا ہمیشہ ممکن ہو یا ہمیشہ زکوٰۃ دینے کے بعد بھی حصہ داروں کو دینے کے لیے کچھ نفع بچ رہے۔ افراد سے زکوٰۃلی جائے تو قیمتوں پر یہ اثر نہیں مرتب ہوگا۔
اسی ترجمان کے صفحہ ۲۲ پرکرایے پر دی جانے والی اشیا کے قابل زکوٰۃ ہونے کی رائے ظاہر کی گئی ہے۔ اگر یہ رائے صحیح ہے تو اس اصول کا اطلاق کرایے پر چلائی جانے والی ٹیکسی، ٹرک اور بسوں کی مالیت پر بھی ہونا چاہیے۔اسی طرح جو شخص متعدد مکانات اور دکانوں کا مالک ہو او ر ان کو کرایے پر اٹھاتا ہو، اس سے بھی مکانات کی جملہ مالیت کا ڈھائی فی صد ٹیکس وصول کرنا چاہیے۔مجھے ان دونوں شکلوں میں زکوٰۃ کے وجوب کا دو وجہوں سے شبہ ہے۔ پہلی وجہ یہ کہ سلف سے آج تک کرایے پر دیے جانے والے مکانات کی جملہ مالیت پر زکوٰۃ واجب ہونے کی رائے یا اس پر عمل سننے میں نہیں آیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کتاب الاموال صفحہ ۳۷۶ کی لیث بن سعد کی جو روایت آپ نے دلیل کے طور پر پیش کی ہے،اس سے یہاں استدلال صحیح نہیں معلوم ہوتا۔کرایے کے اونٹوں کا کرایہ پر چلانا وجوب زکوٰۃ کا سبب نہیں ہے بلکہ وجوب زکوٰۃ کی بِنا ان کا اونٹ ہونا ہے۔امید ہے کہ اس مسئلے پر مزید روشی ڈال کر یہ کھٹک دور کریں گے۔

جواب: زکوٰۃ کے متعلق نومبر ۵۰ء کے ترجمان میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ حکومت کے سوال نامے کا جواب تھا۔اس میںجواب اس مفروضے پر دیا گیا تھا کہ سرکاری طور پر کمپنیوں سے زکوٰۃ وصول کی جائے گی۔جولائی ۶۲ء کے ترجمان میں ایک سوال کا جواب اس مفروضے پر دیا گیا ہے کہ کمپنی زکوٰۃ نہیں نکالے گی بلکہ ایک حصہ دار اپنی زکوٰۃ خود نکالے گا۔اس فرق کو نگاہ میں رکھ کر آپ دونوں جوابات کو پڑھیں۔ کمپنی جب زکوٰۃ نکال دے گی تو ایک ایک حصہ دار کی الگ الگ زکوٰۃنکلنے کا پھر کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔البتہ کمپنی کے لیے یہ مشکل ہے کہ ایک ایک حصہ دار کے متعلق یہ تحقیق کرے کہ وہ بجائے خودصاحب زکوٰۃ ہے کہ نہیں۔یہ تو ایسے حصہ داروں کا اپنا کام ہے کہ وہ کمپنی کو اپنے صاحب نصاب نہ ہونے کی اطلاع دیں،تاکہ ان کے ذمے کی زکوٰۃ محسوب نہ ہو۔
تحصیل زکوٰۃ اگر سرکاری انتظام میں ہو تو محصل زکوٰۃ سے یہ بات نہیں چھپ سکتی کہ کمپنی نے اپنی نکالی ہوئی زکوٰۃ کو اپنے کاروباری مصرف میں شمار کرکے قیمتیں بڑھائی ہیں ۔اس چیزکی روک تھام سرکاری طور پر ہوسکتی ہے۔لیکن اگر سرکاری انتظام نہ ہو تو اس صورت میں صرف وہی کمپنی بطور خود اپنی زکوٰۃ نکالے گی جس کے چلانے والوں میں کوئی دینی حس موجود ہو گی۔ایسے لوگوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایک ہاتھ سے زکوٰۃ نکال کر دوسرے ہاتھ سے اس کو وصول کرنے کی تدبیریں اختیار کریں گے۔ اور بالفرض اگر وہ ایسا کریں تو دوسرے سال ان پر زکوٰۃ زیادہ لگ جائے گی۔ پھر قیمتیں بڑھائیں گے توزکوٰۃ کے حساب میں مزید اضافہ ہوگا۔ یہاں تک کہ آخر کار قیمتیں بڑھانا ممکن نہ رہے گا۔
کرایے پر دی جانے والی اشیا کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا تھا،وہ مختصر تھا۔اس لیے بات واضح نہ ہوسکی۔میرا مدعا یہ ہے کہ جو لوگ فرنیچر یا موٹریں یا ایسی ہی دوسری چیزیں کرائے پر چلانے کا کاروبار کرتے ہیں ،ان کے کاروبارکی مالیت اس منافع کے لحاظ سے مشخص کرنی چاہیے جو اس کاروبارمیں ان کو حاصل ہوتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس فرنیچر یا ان موٹروں کی قیمت پر زکوٰۃ محسوب کی جائے جسے وہ کرائے پر چلاتے ہیں۔کیوں کہ یہ تو وہ آلات ہیں جن سے وہ کام کرتے ہیں اور آلات کی قیمت پر زکوٰۃ نہیں لگتی۔دراصل اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک کاروبار جو منافع دے رہا ہو،اس کی بِنا پر یہ رائے قائم کی جائے گی کہ اس قدر منافع دینے والے کاروبارکی مالیت کیا قرارپانی چاہیے۔رہے کرایے کے مکانات، تو ان کے بارے میں مجھے بھی اس بِنا پر تامل ہے کہ سلف سے ان پر زکوٰۃ لگائے جانے کا ثبوت نہیں ملتا۔
’’الابل العوامل‘‘(کام کرنے والے اونٹوں) پر زکوٰۃ نہ لگنے کی وجہ وہی ہے جو میں نے پہلے بیان کی ہے کہ ایک آدمی جن آلات یا حیوانات کے ذریعے سے کام کرتا ہے،ان پر زکوٰۃ نہیں لگتی۔ مثلاًہل چلانے والے بیل یا باربرداری کے جانور۔ ان پر زکوٰۃ مواشی عائد نہ ہو گی۔ اسی طرح ڈیری فارم کے جانوروں پر زکوٰۃ مواشی عائد نہ ہوگی۔ ان کی زکوٰۃ تو اس پیداوار پر زکوٰۃلگنے کی صورت میں وصول ہوجاتی ہے جو ان کے ذریعے سے حاصل کی گئی ہو۔کرایے پر چلائے جانے والے اونٹوں پر بھی عوامل کا اطلاق ہوتا ہے۔اس لیے ان پر زکوٰۃمواشی عائد نہ ہونی چاہیے اور نہ ان کی مالیت پر زکوٰۃ لگنی چاہیے۔ بلکہ اس کرایے کے کاروبارکی جو(goodwill) مشخص ہو، اس پر زکوٰۃ لگنی چاہیے۔ (ترجمان القرآن۔ فروری ۹۶۳اء)
سوال نمبر۲: تجارتی حصص کی زکوٰۃ سے متعلق آپ کی وضاحت کے بعد بھی ایک مسئلہ حل طلب رہ جاتا ہے۔ وہ یہ کہ تحصیل زکوٰۃ کے اعتبار سے ان دو شکلوں کو برابر کی متبادل شکلوںکی حیثیت نہیں دی جاسکتی کہ حصہ داروں سے حصص کے بازاری نرخ کے مطابق زکوٰۃ وصول کرلی جائے یا کمپنی سے تجارت کی زکوٰۃ کے اصول پر زکوٰۃ وصول کی جائے۔ دونوں شکلوں میں وصول کی جانے والی زکوٰۃ میں مقدار کے اعتبار سے زبردست فرق ہونالازم ہے۔
حساب زکوٰۃ میں اس تفاوت کے پیش نظر ضروری ہے کہ یہ بات متعین کردی جائے کہ زکوٰۃ دونوں طریقوں میں سے کس طریقے سے وصول کی جائے گی۔
کرایے پر چلائی جانے والی اشیاء کی زکوٰۃ کا مسئلہ بھی واضح نہیں ہوا۔آپ نے جو شکل تجویز فرمائی ہے یعنی کاروبار کی (goodwill) اور منافع کی بنیاد پر اس کی مجموعی مالیت کا اندازہ لگایا جائے، اس پر متعدد اعتراض وارد ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اس طرح قابل زکوٰۃ مال کا حساب کم سے کم ان اشیا کی مجموعی قیمت کے برابر اور بعض اوقات اس سے زیادہ آئے گا۔ کیوں کہ اگر کاروباری ادارہ پرانا اور اچھا ہے تو (goodwill) کی مالیت خاصی ہوگی۔ دوسرا یہ کہ اس شکل کو اختیار کرنے کی شرعی دلیل کیا ہے؟سلف سے اس طرح کی کوئی شکل منقول نہیں جب کہ کشتیوں، سواری کے جانوروں، مکانات، دکانوں وغیرہ کو کرایے پر چلانے کا رواج قدیم ہے۔ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ شریعت نے بعض واضح مصالح کے پیش نظر مال ظاہر اور مال باطن کے درمیان فرق کیا ہے اور مال باطن کی مقدار کا اعلان صاحب مال کے اوپر چھوڑ دیا ہے۔ اگر محصل زکوٰۃ اور اس شخص کے درمیان اختلاف ہوتا ہے جو کرایے پر چلانے کا کاروبارکرتا ہے تو فیصلہ کیسے ہوگا؟
امید ہے کہ مسئلے کے ان پہلوئوں پر غور فرما کر اپنی رائے سے مطلع فرمائیں گے۔
جواب: کمپنیوں کی زکوٰۃ کے معاملے میں دو ہی شکلیں ممکن ہیں۔یا تو اسلامی حکومت موجود ہوگی اور تحصیل کا باقاعدہ انتظام کرے گی،یا کوئی اجتماعی انتظام نہ ہوگا اور احساس فرض رکھنے والے افراد کو خود اپنی زکوٰۃ نکالنی ہوگی۔ پہلی صورت میں کمپنی کے سارے حسابات دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا، اور جن اثاثوں پر زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی ،ان کو حساب سے ساقط کردیا جائے گا۔لیکن دوسری صورت میں منفرد حصہ داروں کے لیے اس طرح کے حسابات معلوم کرنا مشکل ہے۔ وہ تو لامحالہ اپنے لگائے ہوئے سرمایے کی ہی زکوٰۃنکالیں گے۔
کرایے پر چلانے کے کاروبار کی زکوٰۃ کا معاملہ اچھا خاصا پیچیدہ ہے۔اس میں متعدد اصولی مشکلات کو میں خود بھی محسوس کرتا ہوں اور اس باب میں احادیث وآثار سے بھی کوئی واضح رہنمائی نہیں ملتی۔اس میں بڑ ی مشکل یہ ہے کہ جس سامان کو کرایے پرچلایا جاتا ہے،وہ مال تجارت کی تعریف میں نہیں آتا،بلکہ آلات پیدایش سے اشبہ ہے۔اس لیے اس کی قیمت پر زکوٰۃ عائد کرنا درست نہیں معلوم ہوتا۔ اس کو خارج کرنے کے بعد اس کاروبارمیں ختم سال پر بجز’’نقد موجود‘‘(cash in hand) یابینک بیلنس کے کوئی چیز بھی نہیں ہوتی جس پر زکوٰۃ عائد ہو۔حالاں کہ کاروبار لاکھوں کا ہوتا ہے۔ بلکہ اب تو اس نوعیت کے کاروبار بہت بڑے پیمانے پر چل رہے ہیں۔ان وجوہ سے میں نے کاروبار کی مالیت کا ایک فارمولا سوچا ہے۔لیکن یہ بالکل اجتہادی چیز ہے اور اس پر دوسرے اہل علم کو بھی غور کرنا چاہیے۔
مال ظاہر اور مال باطن میں فرق کرتے ہوئے آپ نے جو اعتراض کیا ہے، وہ کچھ زیادہ وزنی نہیں ہے۔اگر کسی مال کے مال باطن ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہو ،یا مال باطن کا جواعلان صاحب مال نے کیا ہو،اسے محصل تسلیم نہ کررہا ہو،تو ان دونوں صورتوں کا فیصلہ ایک غیر جانب دار عدالت کرسکتی ہے۔یہ کوئی ایسی پیچیدگی نہیں ہے جسے حل نہ کیا جاسکتا ہو۔
(ترجمان القرآن۔فروری ۹۶۳اء)

انعامی بانڈز:

سوال: آج کل حکومت کی طرف سے امدادی قرضوں کے تمسکات جو انعامی بانڈز کی شکل میں جاری کیے گئے ہیں،ان میں شرکت کرنا اور ان پر متوقع انعام حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ قمار نہیں۔ کیوں کہ ہر شخص کی قرض کی اصل رقم بہرحال محفوظ ہے جو بعد میں ملے گی۔اس پر کوئی متعین شرح سے اضافہ بھی بانڈز ہولڈر کو نہیں ملتا جسے سود قرار دیا جائے۔ براہِ کرم اس کاروبار کی شرعی حیثیت کو واضح کیا جائے۔کیوں کہ بہت سے لوگ اس معاملے میں خلجان کا شکار ہیں۔

جواب: انعامی بانڈز کے معاملے میں صحیح صورت واقعہ یہ ہے کہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ بانڈز بھی اسی نوعیت کے قرضے ہیں جو حکومت اپنے مختلف کاموں میں لگانے کے لیے لوگوں سے لیتی ہے اور ان پر سود ادا کرتی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ پہلے ہر وثیقہ دار کو اس کی دی ہوئی رقم پر فرداً فرداً سود دیا جاتا تھا،مگر اب جملہ رقم کا سود جمع کرکے اسے چند وثیقہ داروں کو بڑے بڑے ’’انعامات‘‘ کی شکل میں دیا جاتا ہے ،اور اس امر کا فیصلہ کہ یہ’’انعامات‘‘کن کو دیے جائیں، قرعہ اندازی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے۔پہلے ہر وثیقہ دار کو سود کا لالچ دے کراس سے قرض لیا جاتا تھا۔اب اس کے بجائے ہر ایک کو یہ لالچ دیا جاتا ہے کہ شاید ہزاروں روپے کا’’انعام‘‘ تیرے ہی نام نکل آئے،اس لیے قسمت آزمائی کرلے۔
یہ صورت واقعہ صاف بتاتی ہے کہ اس میں سود بھی ہے اور روح قمار بھی۔ جو شخص یہ وثائق خریدتا ہے وہ اوّلاً اپنا روپیہ جان بوجھ کر ایسے کام میں قرضے کے طور پر دیتا ہے جس میں سود لگایا جاتا ہے۔ ثانیاً جس کے نام پر ’’انعام‘‘نکلتا ہے،اسے دراصل وہ سود اکٹھا ہوکر ملتا ہے جو عام سودی معاملات میں فرداًفرداً ایک ایک وثیقہ دار کو دیا جاتا تھا۔ثالثاً جو شخص بھی یہ وثیقے خریدتا ہے ،وہ مجرد قرض نہیں دیتا بلکہ اس لالچ میں قرض دیتا ہے کہ اسے اصل سے زائد’’انعام‘‘ملے گا، اور یہی لالچ دے کر قرض لینے والا اس کو قرض دینے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس لیے اس میں نیت سودی لین دین ہی کی ہوتی ہے۔رابعاً جمع شدہ سود کی وہ رقم جو بصورت’’انعام‘‘ دی جاتی ہے،اس کا کسی وثیقہ دار کو ملنا اسی طریقے پر ہوتا ہے جس پر لاٹری میں لوگوں کے نام ’’انعامات‘‘ نکلا کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ لاٹری میں انعام پانے والے کے سوا تمام باقی لوگوں کے ٹکٹوں کی رقم ماری جاتی ہے اور سب کے ٹکٹوں کا روپیہ ایک انعام دار کو مل جاتا ہے ۔ لیکن یہاں انعام پانے والوں کے سوا باقی سب وثیقہ داروں کی اصل رقم قرض نہیں ماری جاتی بلکہ صرف وہ سود، جو سودی کاروبار کے عام قاعدے کے مطابق ہر دائن کو اس کی دی ہوئی رقم قرض پر ملا کرتا ہے، انھیں نہیں ملتا،بلکہ قرعے کے ذریعے سے نام نکل آنے کا اتفاقی حادثہ ان سب کے حصوں کا سود ایک یا چند آدمیوں تک اس کے پہنچنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس بِنا پر یہ بعینہٖ قمار تو نہیں ہے مگر اس میں روح قمار ضرور موجود ہے۔
(ترجمان القرآن۔جنوری ۹۶۳اء)
……٭٭٭……

بعض فقہی و اعتقادی اختلافات اور ان کی نوعیت :

سوال: چندمتفرق امور کے بارے میں سوالات ارسال ہیں،مختصر جوابات دے کر مطمئن فرمائیں:
(ا) شیطان اور نفس امارہ کے حملوں سے بچنے کے لیے کون کون سے شرعی اصول وضوابط اختیار کیے جائیں تاکہ حلاوت ایمان نصیب ہو اور کفر وعصیان سے دل بیزار ہو۔ کیا اورادو وظائف بھی اس مقصد کے حصول میں معاون ہوسکتے ہیں؟
(ب) اگر حیات طیبۂ نبویہ کے واقعات کو ماخذ دین کی حیثیت حاصل ہے اور ان سے تشریعی احکام کا انتزاع ناگزیر ہے تو ان کی کتابت وتدوین عہد نبویؐ میں کیوں نہیں ہوئی:
(ج) یہ بات مشہور ہے او رکتب متداولہ نیز ابن حزم کی اجتہاد وقیاس کے خلاف یورش سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ وہ امام دائود ظاہریؒ اوران کے اتباع،اجتہاد، استنباط، قیاس او ر استحسان کے شدیدمخالف ہیں۔ لیکن خود ابن حزم ہی کی کتابوں سے یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ وہ خود بھی اجتہاد کے عادی ہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ حقیقت الامر کیا ہے؟کیا یہ کوئی تعبیر کا فرق ہے یا سچ مچ وہ اجتہاد کے قائل نہیں ہیں؟ اور اگر نہیں ہیں تو ان کے اپنے اجتہاد کی توجیہ اورپس منظر کیا ہے؟
(د) اہل تشیع کی کتب حدیث اوران کے مؤلفین کا کیا پایہ ہے؟
(ہ) سب سے پہلے حجیت حدیث کا انکار کس نے کیا ہے،اس کی نوعیت وعلت کیاتھی؟

جواب: آپ کے ارشاد کے بموجب مجمل جوابات حاضر ہیں۔
(ا) نفس امارہ سے بچنے کے لیے ایک ہی کارگر ہتھیار ہے اور وہ ہے خوف ِ خدا کے استحضار کے ساتھ محاسبۂ نفس اور ادووظائف اس میں مدد گار ہوسکتے ہیں مگر دو شرطیں لازم ہیں: ایک یہ کہ ذکر کے ساتھ فکر بھی ہو، دوسرے یہ کہ ابتداع سے پرہیز کرکے ان اذکار و ادعیہ پر قناعت کی جائے جو قرآن یا احادیث صحیحہ میں وارد ہیں۔
(ب) احادیث کے منضبط نہ کیے جانے کی وجہ سمجھنے کے لیے اس وقت کے ماحول کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے ۔اس وقت لکھنے پڑھنے والے کم تھے اور سامان کتابت اور بھی زیادہ کم یاب تھا۔ آپ کو معلوم ہے کہ قرآن مجید کو محفوظ کرنے کے لیے بھی کھجور کے پتے، جھلیاں، تختیاں وغیرہ استعمال کی جاتی تھیں۔اب یہ آخر کس طرح ممکن تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر وقت ایک کاتب کاغذ قلم لیے لگا رہتا اور تمام حرکات وسکنات قلم بند کرتا رہتا۔ ویسے بھی یہ بات کچھ غیر فطری ہے کہ ایک آدمی کے ساتھ سفر وحضر میں او رخلوت وجلوت میں کاتبین لگے رہیں اور ہر تقریر، گفتگو، فعل، ترک فعل، سکوت وغیرہ کو لکھتے رہیں۔ اور ظاہر ہے کہ جب کتابت کا اصول لازم کردیا جاتا تو پھر آنحضورصلی اللہ علیہ وسلمکے بعض اعمال واقوال کو اس سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جاسکتا تھا اور انہیں بتمام و کمال احاطۂ تحریر میںلانا قطعاًمحال اور عملاًناممکن تھا۔ آپؐ کا قول وفعل بلاشبہ شک وشبہ حجت ہے اور اسے ہونا ہی چاہیے۔ لیکن حجت ہونے کے ساتھ آخر یہ کب ضروری ہے کہ ہر چیز ہر وقت فوراً لکھ ہی لی جائے۔جب یہ ثابت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل کا حجت ہونا صحابہ کرامؓ کے ذہن نشین تھا تو یہ بات عین تقاضائے عقل وفطرت ہے کہ انہوں نے ہر بات کو غور سے دیکھا اور سنا ہوگا،آپس کے معاملات میں وہ ان اقوال و افعال سے سند لاتے ہوں گے اور ہر معاملے میں یہ خیال رکھتے ہوں گے کہ کیا کچھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور کیا کچھ ثابت نہیں ہے۔ یہ سنت نبوی کی حفاظت کا فطری راستہ تھا اور یہی اُمت نے اختیار کیا۔
قرآن تو ایک قابل کتابت چیز تھا اور مختصر تھا،اس لیے لکھ لیا گیا۔مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تیئس سالہ زندگی کے احوال اور حرکات وسکنات کو اور اس ماحول کو جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کام سرانجام دیے،عالم واقعہ میں آتے ہی عالم تحریر میں نہیں لایا جاسکتا تھا۔مجرد ظہور کے وقت تو یہ سارے امور ذہنوں اور حافظوں میں ہی محفوظ کیے جاسکتے تھے اور دیکھنے والوں سے سننے والوں تک زبانی ہی پہنچائے جاسکتے تھے۔چنانچہ یہ عمل پورے استیعاب، تواتر اور تسلسل کے ساتھ جاری رہا۔ حتیٰ کہ باقاعدہ اورمفصل تدوین وکتابت کے لیے جملہ ساز وسامان اور آسانیاں مہیا ہوگئیں اور سنت کا یہ عظیم الشان ذخیرہ سینوں سے سفینوں میں منتقل ہوگیا۔
(ج) اجتہاد واستنباط اور قیاس واستحسان ایک ایسی چیز ہے جس سے کسی طرح مفر نہیں ہے۔ جو شخص بھی محدود احکام منصوصہ کو غیر محدوداحوال انسانی پرمنطبق کرنے کی کوشش کرے گا ،اسے لامحالہ ان چیزوں سے کام لینا پڑے گا۔ اصل اختلاف ان چیزوں کے بالفعل استعمال میں نہیں ہے بلکہ استعمال کی کثرت وقلت میں ہے۔ یا پھر ان الفاظ واصطلاحات میں ہے جن سے ان معانی کو تعبیر کیا جاتا ہے۔ایک شخص کی تعبیر پر دوسرا شخص قدح کرتا ہے،اور لوگوںمیں مشہور ہوجاتا ہے کہ وہ سرے سے اس چیز کا قائل ہی نہیں۔ ایک شخص استکثار پر عملاً یا قولاً زور دیتا ہے اور دوسرا اس پر کچھ اس شان سے معترض ہوتا ہے کہ گویا اس کا اعتراض کثرت استعمال پر نہیں بلکہ نفس شے کے استعمال پر ہے۔ان اشارات کو نگاہ میں رکھ کر آپ نہ صرف امام دائود ظاہریؒ اور ابن حزم کے مسلک کو سمجھ سکتے ہیں بلکہ ان اختلافات کی حقیقت کو بھی پا سکتے ہیں جو مثلاًا ہل الرائے اور اہل الحدیث میں قیاس ورائے کے استعمال پر، اور امام مالکؒ اور امام شافعیؒ میںاستحسان و مصالح مرسلہ کے مسئلے پر ہوئے ہیں۔
(د) اہل تَشَیُّع کی فقہ وحدیث کا وسیع مطالعہ کیے بغیر اس کے بارے میں کوئی تفصیلی اورمحققانہ رائے قائم کرنا مشکل ہے۔فی الجملہ جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ یہ کہ ہمارے اور ان کے ذخیرۂ حدیث میں بنیادی اختلاف یہ ہے کہ وہ صحابہ کی عظیم اکثریت کو چھوڑ کر صرف اہل بیت کی روایات پر اعتماد کرتے ہیں، اور اہل بیت کے بارے میں بھی ان کانقطۂ نظر محدود ہے۔ لیکن ہم اہل سنت، اہل بیت اور جملہ صحابہ کی روایات لیتے ہیں۔ نیزا ن کے راویوں میں بڑی تعداد ایسے غالی حضرات کی ہے جو اپنے خیالات میں نہایت متشدد تھے اور انہوں نے واقعات کو اپنے مخصوص رجحانات میں رنگ دیا ہے۔
(ہ) غالباًحجیت حدیث کے اوّلین منکرین خوارج اور معتزلہ ہیں۔خوارج نے اس لیے حدیث کا انکار کیا کہ ان کے مسلک کی اکثر باتیں حدیث کے خلاف پڑتی تھیں، اور معتزلہ نے اس لیے انکارکیا کہ دوسرے مذاہب اور فلسفیانہ مسالک کے لوگوں سے بحثیں کرکرکے انہوں نے اسلام اور اس کے معتقدات کی حقانیت کا اثبات جن دلائل پر موقوف سمجھ لیا تھا،ان میں سے اکثر حدیث سے ٹکراتے تھے۔ اسی طرح مناظروں کے بعد انہوں نے عقائد کی جو شکل بنائی تھی،وہ بھی احادیث سے مطابق نہ تھی، اور بعض حدیث سے ثابت شدہ چیزوں کو عقلی مناظروں میں صحیح ثابت کرنے کی انہیں کوئی راہ نہ ملتی تھی۔یہ دشواری اپنے عقلی مزعومات کی بِنا پر انہیں بعض آیات قرآنی کے بارے میں بھی پیش آتی تھی۔لیکن قرآن کا انکار ناممکن تھا،اس لیے آیات کی تو عجیب وغریب اور دل چسپ تاویلیں کی گئیں اور احادیث کا سرے سے انکارکردیا گیا۔
(ترجمان القرآن۔جمادی الثانی ۳۷۳اھ، مارچ ۹۵۴اء)

منصب تجدید اور وحی وکشف:

سوال: رسالہ ترجمان القرآن بابت ماہ جنوری وفروری ا۹۵اء کے صفحہ ۲۲۶ پر ایک سوال کے جواب کے دوران میں تحریر فرمایا گیا ہے کہ:
’’پچھلے زمانے کے بعض بزرگوں نے بلاشبہ اپنے متعلق کشف و الہام کے طریقے سے خبر دی ہے کہ وہ اپنے زمانے کے مجد د ہیں۔لیکن انہو ںنے اس معنی میں کوئی دعویٰ نہیں کیا کہ ان کو مجدد تسلیم کرنا ضروری ہے اور جو ان کو نہ مانے وہ گمراہ ہے۔‘‘
یہ بات درست نہیں معلوم ہوتی ،کیوں کہ حضرت شاہ ولی اﷲ دہلویؒ نے’’تفہیمات الٰہیہ‘‘ میں بڑے زور کے ساتھ یہ دعویٰ فرمایا ہے کہ مجھے اﷲ تعالیٰ نے مطلع فرمایا ہے کہ تو اس زمانے کا امام ہے۔ چاہیے کہ لوگ تیری پیروی کو ذریعۂ نجات سمجھیں۔ شاہ صاحب کی کتاب’’تفہیمات‘‘ کااصل حوالہ مع ترجمہ درج ذیل ہے:
قد منَّ اللّٰہ سبحانہ علیَّ وعلٰی اہل زمانی بان منحنی طریقا من السلوک ہی اقرب الطرق وہی مرکبۃ من خمس قرباتٍ اعنی الایمان الحقیقیّ وقرب النوافل وقرب الوجوب و قرب الفرائض وقرب الملکوت وجعل ھذہ الطریقۃ غایۃ من ارادھا اتاہ اللّٰہ تعالی ۔ فھمنی ربی جل جلالہ انا جعلنٰک امام ھذہ الطریقۃ و اوصلنٰک ذروۃ سنامھا وسددنا طرق الوصول الٰی حقیقۃ القرب کلھا الیوم غیر طریقۃ واحدۃ وھو محبتک والانقیاد لک فالسماء لیس علٰی من عاداک بسمائٍ ولیست الارض علیہ بارضٍ فاھل المغرب واھل المشرق کلہم رعیتک وانت سلطٰنھم علموا اولم یعلموا فان عملوا فَازُوْا وان جَھِلُوا خَابُوْا ۔ ( عسل مصفٰی، جلد اوّل، صفحہ ۷۵۔ ۷۴ا)
’’ اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر اور میرے زمانے کے لوگوں پر یہ احسان کیا کہ اس نے مجھے ایک ایسا طریقۂ سلوک عطا کیا ہے کہ جو سب طریقوں سے قریب تر ہے، اور اس میں پانچ قسم کے قرب کے ذریعے ہیں۔ یعنی ایک تو ایمان حقیقی کا، دوسرا قرب نوافل کا،تیسرا قرب وجوب، چوتھا قرب فرائض اور پانچواں قرب ملکوت۔ اور اس کو ایسا عمدہ غایت بنایا ہے کہ جو کوئی بھی اس کا ارادہ کرے گا، وہ مراد کو پہنچے گا۔ اور میرے رب نے مجھے مطلع فرمایا ہے کہ ہم نے تجھے اس طریقے کا امام مقرر کیا ہے اور اس کی اعلیٰ بلندی پر پہنچایا ہے، اور ہم نے آج کے روز سے باقی سب طریقوں کو حقیقت قرب تک پہنچنے سے مسدود کردیا ہے،بجز اس طریقے کے جو تجھے دیا گیا اور وہ ایک ہی طریقہ ہے جو کھلا رکھا گیا ہے۔لوگوں کو چاہیے کہ تجھ سے محبت کریں اور تیری فرما ںبرداری کو ذریعۂ نجات سمجھیں، اور اب آسمانی برکات اس شخص پر نہیں ہوں گی جو تیرے ساتھ بغض اور عداوت رکھے گا اور نہ وہ ارضی برکات کا مورد ہوگا، اور مغرب او ر مشرق کے لوگ تیری رعیت کردیے گئے ہیں اور تو ان کا بادشاہ مقرر کیا گیا ہے،خواہ وہ لوگ تیر ی حقیقت سے واقف ہوں یا نہ ہوں۔اگر واقف ہوں گے تو فائز المرام ہوں گے اور اگر بے خبر رہیں گے تو خسارہ اور ٹوٹا پائیں گے۔‘‘
کیا جناب شاہ صاحب کا یہ دعویٰ درست تھا یا نہیں؟اگر ان کا دعویٰ درست تھا تو پھر ’’ترجمان‘‘ کی مذکورۂ بالا عبارت درست نہیں ہے۔
اس عبارت کے بعد’’ترجمان‘‘میں لکھا گیا ہے کہ:
’’ دعویٰ کرکے اس کے ماننے کی دعوت دینا اور اسے منوانے کی کوشش کرنا سرے سے کسی مجدد کا منصب ہی نہیں۔‘‘
نیز یہ کہ:
’’جو شخص یہ حرکت کرتا ہے وہ خود اپنے اس فعل ہی سے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ فی الواقع مجدد نہیں۔‘‘
ان ارشادات کی بنیاد قرآن کریم ہے یا احادیث نبویہ ؐ،یا اپنے اجتہاد کی بِنا پر یہ فتویٰ دیا گیا ہے؟
رسالہ مذکورہ کے اسی صفحے پر فقرہ نمبر ۶ کے ماتحت لکھا گیا ہے کہ:
’’ کشف والہام وحی کی طرح کوئی یقینی چیز نہیں۔اس میں وہ کیفیت نہیں ہوتی کہ صاحب کشف والہام کو آفتاب روشن کی طرح یہ معلوم ہو کہ یہ کشف والہام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہورہا ہے۔‘‘
اگر اُمت محمدیہ کے کاملین کے الہام وکشوف کی یہ حقیقت ہے تو پھر ان کے خیر امت ہونے کی حالت معلوم شد۔ حالاں کہ پہلی اُمتوں میں عورتیں وحی یقینی سے مشرف ہوتی رہی ہیں، اور خدا کے ایسے بندے بھی ہوتے رہے ہیں جن کے کشف والہام کا یہ عالم تھا کہ ایک اولوالعزم نبی کو بھی سوال کرکے ندامت اٹھانی پڑی۔
مگر سبحان اﷲ! اُمت محمدیہ کے کاملین کے کشوف والہام عجیب قسم کے تھے کہ ان کو خود بھی یقین نہ تھا کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں یا نہیں۔ پھر اﷲ تعالیٰ کو ان کو اس قسم کے الہامات وکشوف دکھانے کی ضرورت کیا پڑگئی جن سے نہ کوئی دینی فائدہ متصور تھا اور نہ ہی صاحب کشف والہام کے لیے وہ موجب ازدیادِ ایمان بلکہ اُلٹا موجب تردّد ہونے کے سبب ایک قسم کی مصیبت تھے۔

جواب: آپ کے خط سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے وحی والہام کے مختلف مفہومات کو گڈ مڈ کردیا ہے۔ ایک قسم کی وحی وہ ہے جسے وحی جبلی یا طبیعی کہا جاسکتا ہے، جس کے ذریعے سے اﷲ تعالیٰ ہر مخلوق کو اس کے کرنے کا کام سکھاتا ہے۔یہ وحی انسانوں سے بڑھ کر جانوروں پر اور شاید ان سے بھی بڑھ کر نباتات وجمادات پر ہوتی ہے ۔دوسری قسم وہ ہے جسے وحی جزئی کہا جاسکتا ہے۔جس کے ذریعے سے کسی خاص موقع پر اﷲ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو امور زندگی میں کسی امر کے متعلق کوئی علم یا کوئی ہدایت دیتا ہے یا کوئی تدبیر سجھا دیتا ہے۔یہ وحی آئے دن عام انسانوں پر ہوتی رہتی ہے۔ دنیا میں بڑی بڑی ایجادیں اسی وحی کی بدولت ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے اہم علمی انکشافات اسی وحی کے ذریعے سے ہوئے ہیں۔بڑے بڑے اہم تاریخی واقعات میں اسی وحی کی کارفرمائی نظر آتی ہے جب کہ کسی شخص کو کسی اہم موقع پر کوئی خاص تدبیر بلا غور وفکر اچانک سوجھ گئی اور اس نے تاریخ کی رفتار پر ایک فیصلہ کن اثر ڈال دیا۔ایسی ہی وحی حضرت موسیٰؑ کی والدہ پر بھی ہوئی تھی ۔ان دونوں قسموں کی وحیوں سے بالکل مختلف نوعیت کی وحی وہ ہے جس میں اﷲتعالیٰ اپنے کسی بندے کو حقائق غیبیہ پر مطلع فرماتا ہے اور اسے نظام زندگی کے متعلق ہدایت بخشتا ہے، تاکہ وہ اس علم اور اس ہدایت کو عام انسانوں تک پہنچائے اور انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ یہ وحی انبیا علیہم السلام کے لیے خاص ہے۔ قرآن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس نوعیت کا علم ،خواہ اس کا نام القا رکھیے،الہام رکھیے، کشف رکھیے یا اصطلاحاً اسے وحی سے تعبیر کیجیے، انبیا ورسل کے سوا کسی کو نہیں دیا جاتا۔اور یہ علم صرف انبیا ہی کو اس طور پر دیا جاتا ہے کہ انہیں اس کے من جانب اﷲ ہونے اور شیطان کی در اندازی سے بالکل محفوظ ہونے اور خود اپنے ذاتی خیالات،تصورات اور خواہشات کی آلائشوں سے بھی پاک ہونے کا پورا یقین ہوتا ہے۔ نیز یہی علم حجت شرعی ہے۔اس کی پابندی ہر انسان پر فرض ہے اور اس کے دوسرے انسانوں تک پہنچانے اور اس پر ایمان کی دعوت سب بندگان خدا کو دینے پر انبیا علیہم السلام مامور ہوتے ہیں۔ اور پھر یہی وہ وحی ہے کہ جس پر ایمان لانا لازمۂ نجات اور جس سے روگردانی کرنا قطعی طور پر موجب خسران ہوتا ہے۔
انبیا علیہم السلام کے سوا دوسرے انسانوں کو اگر اس تیسری قسم کے علم کاکوئی جز نصیب بھی ہوتا ہے تو وہ ایسے دھندلے اشارے کی حد تک ہوتا ہے جسے ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے وحی نبوت کی روشنی سے مدد لینا( یعنی کتاب وسنت پر پیش کر کے اس کی صحت وعدم صحت کو جانچنا اور بصورت صحت اس کا منشا متعین کرنا) ضروری ہے۔ جو شخص اپنے الہام کو ایک مستقل بالذات ذریعۂ ہدایت سمجھے اور وحی نبوت کی کسوٹی پر اس کو پرکھے بغیر اس پر خود عمل کرے اور دوسروں کو اس کی پیروی کی دعوت دے ،اس کے ایسے طرز عمل کو ازروئے شریعت کوئی سند جواز نہیں دی جاسکتی۔قرآن میں اس حقیقت کو متعد دمقامات پر صاف صاف بیان کیا گیا ہے،خصوصاًسورۂ جن کی آخری آیات میں توبالکل ہی کھول کر فرمادیا گیا ہے کہ:
عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْہِرُ عَلٰي غَيْبِہٖٓ اَحَدًاo اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّہٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ رَصَدًاo لِّيَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَيْہِمْ وَاَحْصٰى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًاo الجن72:26-28
اگر ہم غور کریں تو یہ بات بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اُمت کے صالح ومصلح آدمیوں کو نبی کا سا کشف والہام نہ دینے اور اس سے کم تر ایک طرح کا تابعانہ کشف والہام دینے میں کیا مصلحت ہے۔ پہلی چیز عطا نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہی چیز نبی اور امتی کے درمیان بنائے فرق ہے ،اسے دور کیسے کیا جاسکتا ہے۔ اور دوسری چیز دینے کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ نبی کے بعد اس کے کام کو جاری رکھنے کی کوشش کریں،وہ اس بات کے محتاج ہوتے ہیں کہ دین میں ان کو حکیمانہ بصیرت اور اقامت دین کی سعی میں ان کوصحیح رہنمائی اﷲ کی طرف سے حاصل ہو۔ یہ چیز غیر شعوری طور پر تو ہر مخلص اور صحیح الفکر خادم دین کو بخشی جاتی ہے، لیکن اگر کسی کو شعوری طور پر بھی دے دی جائے تو یہ اﷲ کا انعام ہے۔
قرآن کی رو سے یہ حیثیت صرف ایک نبی ہی کو حاصل ہوتی ہے کہ وہ امر تشریعی سے مامور من اﷲ ہوتا ہے اور خلق کو یہ دعوت دینے کا مجاز ہوتا ہے کہ وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کی اطاعت کریں،حتیٰ کہ جو اس پر ایمان نہ لائے،وہ خدا کو ماننے کے باوجود کافر ہوتا ہے۔ یہ حیثیت نبی کے سوا کسی کو بھی نظام دین میں حاصل نہیں ہے۔اگر کوئی اس حیثیت کا مدعی ہو تو ثبوت اسے پیش کرنا چاہیے نہ کہ ہم اس کے دعوے کی نفی کا ثبوت پیش کریں۔وہ بتائے کہ قرآن وحدیث میںکہاں نبی کے سوا کسی کا یہ منصب مقرر کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے اس منصب پر مامور کیے جانے کا دعویٰ کرے اور اپنے اس دعوے کو ماننے کی لوگوں کو دعوت دے اور جو اس کا دعویٰ تسلیم نہ کرے ،وہ مجرد اس بنا پر کافر اور جہنمی ہو کہ اس نے مدعی کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا؟
اگر کوئی شخص حدیث ’’مَنْ یُّجَدِدُّلَھَا دِیْنَھَا ‘ ‘کا حوالہ دے یا ان احادیث کو پیش کرے جو مہدی کی آمد کے متعلق ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان میں کہیں بھی مجدد یامہدی کے منصب کی وہ حیثیت بیان نہیں کی گئی ہے جس کا یہاں ذکر ہورہا ہے۔آخر ان میں کہاں یہ لکھا ہے کہ یہ لوگ اپنے مجدد اور مہدی ہونے کا دعویٰ کریں گے، اور جو ان کے دعوے کو مانے گا وہی مسلمان رہے گا،باقی سب کافر ہوجائیں گے۔
یہاں یہ بحث چھیڑنا بھی خلط مبحث ہے کہ جو شخص تجدید واحیائے دین اور اقامت دین کا برحق کام کررہا ہو ،اس کا ساتھ نہ دینا یا اس کی مخالفت کرنا کس طرح موجب نجات ہوسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس طرح کا کام جہاں اور جب بھی ہوتا ہے وہ فارق بین الحق والباطل بن جاتا ہے اور آدمی کے حق پرست ہونے کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ ایسے کام کا ساتھ دے۔ لیکن اس فرق وامتیاز کی بنیاددراصل یہ ہوتی ہے کہ دین کی تجدیدو اقامت میں سعی کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے،نہ یہ کہ کسی مدعی کے دعوے کو ماننا ایمان کا تقاضا ہوتا ہے اور مجرد اس بِنا پر ایک مسلما ن نجات سے محروم ہوجاتا ہے کہ اس نے اس شخص کے دعوائے مجددیت یا مہدویت کو نہیں مانا۔
اب شاہ ولی اﷲصاحب اور مجدد سرہندی رحہما للہ کے دعووں کو لیجیے۔ ان دونوں بزرگوں کے تجدیدی اور اصلاحی کارناموں کے اعتراف کے باوجود یہ کہے بغیر چارہ نہیں ہے کہ ان کا اپنے مجدد ہونے کی خود تصریح کرنا اور بار بار کشف والہام کے حوالے سے اپنی باتوں کو پیش کرنا ان کے شایان شان نہ تھا۔ ان کے اسی ادعا نے بعد کے بہت سے کم ظرفوں کو طرح طرح کے دعوے کرنے اور امت میں نئے نئے فتنے اٹھانے کی جرأت دلائی۔ کوئی شخص اگر تجدید کے لیے کسی قسم کی خدمت انجام دینے کی توفیق پاتا ہو تو اسے چاہیے کہ خدمت انجام دے اور یہ فیصلہ اﷲ پر چھوڑے کہ اس کا کیا مقام اس کے ہاں قرار پاتا ہے۔ آدمی کا اصل مقام وہ ہے جو آخرت میں اس کی نیت وعمل کو دیکھ کر اور اپنے فضل سے اس کو قبول کرکے اﷲ تعالیٰ اسے دے، نہ کہ وہ جس کا وہ خود دعویٰ کرے یا لوگ اسے دیں۔ اپنے لیے خود القاب وخطابات تجویز کرنا اور دعووں کے ساتھ انہیں بیان کرنا اور اپنے مقامات کا ذکر زبان پر لانا کوئی اچھا کام نہیں ہے۔بعد کے ادوار میں صوفیانہ ذوق نے تو اسے اتنا گوارا کیا کہ خوش گوار بنا دیا۔ حتیٰ کہ بڑے بڑے لوگوں کو بھی اس فعل میں کوئی قباحت محسوس نہ ہوئی۔ مگر صحابہ کرام اور تابعین وتبع تابعین وائمۂ مجتہدین کے دور میں یہ چیز بالکل ناپید نظر آتی ہے۔
ہم شاہ صاحب اور مجدد صاحب کے کام کی بے حد قدر کرتے ہیں،اور ہمارے دل میں ان کی عزت ان کے کسی معتقدسے کم نہیں ہے۔ مگر ان کے جن کاموں پر ہمیں کبھی شرح صدر حاصل نہیں ہوا،ان میں سے ایک یہ ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان کی کسی بات کو بھی اس بِنا پرکبھی نہیںمانا کہ وہ اسے کشف والہام کی بِنا پر فرما رہے ہیں، بلکہ جو بات بھی مانی ہے اس وجہ سے مانی ہے کہ اس کی دلیل مضبوط ہے ،یا بات بجائے خود معقول ومنقول کے لحاظ سے درست معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح ہم نے ان کو جو مجدد مانا ہے تو یہ ایک رائے ہے،جو ان کا کام دیکھ کر ہم نے قائم کی ہے نہ کہ ایک عقیدہ ہے جو ان کے دعووں کی بنا پر اختیار کر لیا گیا ہے۔
(ترجمان القرآن۔ذی الحجہ ۳۷۳اھ، ستمبر ۹۵۴اء)

تقلید اور اتباع:

سوال: کتاب’’جائزہ‘‘ صفحہ ۵۵ پر ایک سوال کے جواب میں یہ عبارت آپ کی طرف منسوب ہے:’’میرے نزدیک صاحب علم آدمی کے لیے تقلید ناجائز اور گناہ بلکہ اس سے بھی کوئی شدید تر چیز ہے۔‘‘ اب غور کیجیے کہ مثلاً حضرت سیّد عبدالقادر جیلانی، حضرت امام غزالیؒ،حضرت مجدد الف ثانیؒ ،حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒاور حضرت مولانا اشرف علیؒ سب مقلدین ہیں، تو کیا آپ کی عبارت کے سیاق وسباق سے ایسے لوگ مستثنیٰ ہیں یا نہیں، یا آپ کے نزدیک یہ حضرات صاحب علم نہ تھے؟امید ہے کہ آپ اپنے منصفانہ انداز میں اپنے قلم سے جواب تحریر فرمائیں گے۔

جواب: آپ کو شاید معلوم نہیں ہے کہ’’جائزہ‘‘ میری تصنیف نہیں ہے اور نہ میرے مشورے ہی سے لکھی گئی ہے۔اس میں شک نہیں کہ جو فقرہ اس میں نقل کیا گیا ہے وہ میرا ہی ہے۔ لیکن ایک فقرہ جومیری کسی عبارت سے کسی بحث کے سلسلے میں نقل کردیا گیا ہو،وہ مسئلہ تقلید کے بار ے میں میرے مسلک کی پوری ترجمانی کے لیے کافی نہیں ہے۔ آپ جیسے ذی علم بزرگ سے یہ بات پوشیدہ نہ ہونی چاہیے کہ کسی شخص کامسلک اس طرح کے فقروں سے اخذ کرنا درست نہیں ہے۔ خصوصاً جب کہ وہ شخص اپنے مسلک کو تفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں میں دوسرے مقامات پر بیان کرچکا ہو۔ اگر اس طرح سے دوسروں کی عبارتوں میں میرا ایک ایک فقرہ دیکھ کر مجھ سے سوالات کیے جانے لگیں تو میری ساری عمر جواب دہی میں صرف ہوجائے۔
آپ نے چوں کہ زحمت اٹھا کر مجھ سے سوال فرمایا ہے، اس لیے مختصر جواب حاضر ہے:
میں تقلید اور اتباع میں فرق کرتا ہوں۔اگرچہ آج کل علمائ تقلید کو مجرد پیروی کے معنی میں بولنے لگے ہیں، مگر قدیم زمانے کے علمائ تقلید اور اتباع میں فرق کیا کرتے تھے۔ تقلید کے معنی ہیں دلائل سے قطع نظر کرتے ہوئے کسی شخص کے قول وفعل کی پیروی کرنا، اور اتباع سے مراد ہے کسی شخص کے طریقے کو بربنائے دلیل پسند کرکے اس کی پیروی کرنا۔ پہلی چیز عامی کے لیے ہے اور دوسری عالم کے لیے ہے۔ عالم کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ کسی امام کی پیروی کی قسم کھالے اور اگر کسی مسئلے میں اس امام کے مسلک کو اپنے علم کی حد تک کتاب وسنت سے اوفق اور اقرب نہ پائے تب بھی اس کی پیرو ی کرتا رہے۔خود ائمۂ مجتہدین نے اس کی بار بار تلقین کی ہے کہ کسی صاحب علم کے لیے ان کے قول کی پیروی اس وقت تک جائز نہیں جب تک اسے یہ نہ معلوم ہوجائے کہ کتاب وسنت سے اس کے حق میں دلیل کیا ہے۔ ( ابن عابدین کے حاشیہ البحر الرائق صفحہ ۲۹۳ اور رسم المفتی صفحہ ۲۹ پر امام ابو حنیفہؒ کا یہ قول منقول ہے: لا یحل لاحد ان یاخذ بقولنا ما لم یعلم من این اخذناہ(کسی کے لیے ہمارے قول کو لینا جائز نہیں ہے جب تک اسے یہ معلوم نہ ہو کہ ہم نے اُسے کہاں سے اخذ کیا ہے)البتہ عالم کے لیے یہ بالکل جائز ہے کہ اگر وہ کسی امام کے مسلک کو دلائل شرعیہ کی بِنا پر درست پاتا ہو تو اس کا اتباع کرے۔
آپ نے جن بزرگوں کا ذکرفرمایا ہے،ان میں سے اکثر کی کتابوں میں،میں نے یہی بات پائی ہے کہ وہ جس امام کی پیروی بھی کرتے ہیں،دلائل شرعیہ کی بنا پر مطمئن ہوکر کیا کرتے ہیں اور اپنے اس اتباع کے حق میں دلائل پیش فرماتے ہیں۔ باقی بزرگ جو کسی خاص مسلک کی پیروی کرتے ہیں،میں ان کے متعلق بھی یہی حسن ظن رکھتا ہوں کہ وہ بھی اسی طرز کا اتباع کرتے ہوں گے۔ (ترجمان القرآن۔محرم،صفر ۳۷۶اھ، اکتوبر ۹۵۶اء)

بدعت اور اس کے متعلقات:

سوال: کیا ’’بدعت‘‘ کی دو قسمیں ہیں:(۱) حسنہ اور (۲) سیئہ؟ بعض صاحبان حضرت عمر فاروق ؓ کے قول’’ نعمۃ البدعۃ‘‘ سے بدعت کے ’’حسنہ‘‘ہونے پر دلیل لاتے ہیں۔ حدیث شریف میں کس قسم کی’’بدعت‘‘ کو ضلالت کہا گیا ہے؟

بدعت کی تعریف و اقسام:

جواب: شرعی اصطلاح میں جس چیز کو بدعت کہتے ہیں،اس کی کوئی قسم حسنہ نہیں ہے،بلکہ ہر بدعت سیئہ اور ضلالہ ہی ہے۔جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کُلُّ بِدْعَۃٌ ضَلَالَۃٌ ۔ البتہ لغوی اعتبار سے محض نئی بات کے معنی میں بدعت حسنہ بھی ہوسکتی ہے اور سیئہ بھی۔ سیّدنا عمر فاروق ؓ نے نماز تراویح باجماعت کے بار ے میں نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ کے الفاظ جو فرمائے تھے، ان میں بدعت سے مراد اصطلاحی بدعت نہیں بلکہ لغوی بدعت ہی ہو سکتی ہے۔ اس لیے اسے بدعت کی ایک قسم ’’حسنہ‘‘ قرار دینے کے لیے دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے پہلے بدعت کا شرعی مفہوم سمجھ لینا چاہیے۔ پھر یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا نماز تراویح باجماعت کا طریقہ رائج کرنا اس مفہوم کے اعتبار سے بدعت کی تعریف میں آتا بھی ہے؟
عربی زبان میں بدعت کا لفظ قریب قریب اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے جس میں لفظ ’’جدت‘‘ ہم اردو میں استعمال کرتے ہیں۔یعنی ایک نئی بات جو پہلے نہ ہوئی ہو یا جس کی کوئی مثال موجود نہ ہو۔ لیکن شریعت میں یہ لفظ اس وسیع مفہو م میں استعمال نہیں ہوتا۔ نہ اس مفہوم میں ہر نئی چیز یا ہر نئے کام اور طریقے کو گمراہی قرار دیا گیا ہے۔شرعی اصطلاح میں بدعت سے مراد یہ ہے کہ جن مسائل ومعاملات کو دین اسلام نے اپنے دائرے میں لیا ہے،ان میں کوئی ایسا طرز فکر یا طرز عمل اختیار کرنا جس کے لیے دین کے اصلی مآخذ میںکوئی دلیل وحجت موجود نہ ہو۔ اس تعریف کی رو سے وہ مسائل ومعاملات یا مسائل و معاملات کے وہ پہلو جن سے دین نفیاً یا اثباتاً کوئی تعرض نہیں کرتا، جن کے متعلق صاحب شریعت نے خود فرمادیا کہ اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِاُمُوْرِ دُنْیَاکُمْ، بدعت وسنت کی بحث سے خود بخود خارج ہوجاتے ہیں۔ کسی چیز کے بدعت ہونے یا نہ ہونے کا سوال صرف انہی امور میں پیدا ہوتا ہے جن میں انسان کی رہنمائی کرنا دین نے اپنے ذمے لیا ہے اور جن میں اﷲ اور اس کے رسول نے احکام دیے ہیں یا اصولی ہدایات عطا فرمائی ہیں،خواہ وہ عقائد اور خیالات وتصورات کے باب سے تعلق رکھتے ہوں یا اخلاق سے،یا عبادات اور مذہبی رسوم سے، یا معاشرت،تمدن، سیاست،معیشت اور دوسری ان چیزوں سے جنہیں عام طور پر دنیوی معاملات سے موسوم کیا جاتا ہے۔ان امور میں جب کوئی ایسی بات کی جائے گی جس کے ماخذ کا حوالہ خدا کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی تعلیم وہدایت میں نہ دیا جاسکتا ہو، یا جس کے حق میں دین کے ان مآخذ اصلیہ سے کوئی معقول دلیل نہ پیش کی جاسکتی ہو، تو وہ بدعت ہوگی،اور اگر وہ کتاب وسنت کی تعلیمات کے خلاف پڑتی ہو تو اس پر محض بدعت کا نہیں بلکہ فسق اور معصیت کا اطلاق ہوگا۔
بدعت کے شرعی مفہوم کی اس تشریح کے بعدیہ بات محتاج کلام نہیں رہتی کہ اس کے معنی میں جو چیز بدعت ہو، اس کے حسنہ ہونے کا تصور ہی نہیںکیا جاسکتا۔وہ تو لازماً سیئہ ہی ہو گی اور اس کو سیئہ ہی ہونا چاہیے۔ کیوں کہ دین نام ہے اس نظام کا جو خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وہدایت پر مبنی ہو۔ اور اس نظام میں بہرحال ایسی کوئی چیز داخل نہیں ہوسکتی جو اس تعلیم و ہدایت پر مبنی نہ ہو۔ ایسی کوئی چیز جب بھی اس میں داخل ہوگی، اس نظام کے مزاج اور اس کی ترکیب کو بگاڑ دے گی۔ پھر کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ کوئی بگاڑنے والی چیز حسنہ بھی ہو۔
اب دیکھیے کہ حضرت عمرؓ نے جس چیز کو’’اچھی بدعت‘‘کہا تھا کیا وہ واقعی اسی معنی میں بدعت تھی جس میں کوئی شے اصطلاح شرع میں بدعت قرار پاسکتی ہے؟
جہاں تک نفس تراویح کا تعلق ہے،یعنی رمضان میں نماز عشا کے بعد قیام لیل، وہ تو صرف جائزہی نہیں ،مندوب اور مسنون بھی ہے۔کیوں کہ نبیؐ نے اس کی ترغیب دی ہے، اس کو دوسرے دنوں کے قیام لیل سے زیادہ اہمیت دی ہے اور خود اس پر عمل فرمایا ہے۔ جہاں تک اس کے جماعت کے ساتھ پڑھنے کا تعلق ہے، اس پر بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں عمل ہوا ہے اورآپؐ نے اسے جائز رکھا ہے۔چنانچہ مسند احمد میں حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ مسجد نبوی میں مختلف مقامات پر مختلف لوگ رمضان میں رات کے وقت نماز پڑھتے تھے۔ جس کو جتنا قرآن یاد ہوتا،وہ اتنا ہی پڑھتا، اور کسی کے ساتھ ایک،کسی کے ساتھ پانچ، کسی کے ساتھ سات یا کم وبیش مقتدی کھڑے ہوجاتے تھے۔ پھر جہاں تک ایک جماعت میں سب کو جمع کرکے ایک امام کے پیچھے تراویح پڑھنے کا تعلق ہے،اس پر بھی نبیؐ نے خود کئی مرتبہ عمل فرمایا ہے۔ ترمذی ، ابودائود اور دوسری کتب سنن میں حضرت ابو ذرؓ ایک رمضان کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ مہینہ ختم ہونے میں سات دن باقی تھے کہ رات کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو نما ز پڑھائی یہاں تک کہ ایک تہائی شب گزرگئی، پھر ایک دن چھوڑ کر ایک روز سحری کے وقت تک پڑھاتے رہے۔
بخاری اور مسلم میں حضرت عائشہؓ ایک اور رمضان کا حال بیان فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین دن مسلسل نماز تراویح پڑھائی۔ پھر تیسرے یا چوتھے روز جب لوگ جمع ہوئے توآپؐ نماز پڑھانے کے لیے نہ نکلے، اور بعد میں اس کی وجہ یہ بیان کی کہ کہیں یہ فرض نہ قرار دے دی جائے۔
اس سے معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ تو مسنون تھا۔اب جس چیز کو نئی بات کہا جاسکتا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے اس طریقے کو ہمیشہ کے لیے جاری کردیا۔ اس چیز کو بدعت اس لیے نہیںکہا جاسکتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ جماعت کے ساتھ تراویح نہ پڑھانے کی وجہ صرف یہ بیان فرمائی تھی کہ کہیں یہ لوگوں پر فرض نہ قرار دے دی جائے۔یہ وجہ خود اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ آپؐ کے نزدیک یہ طریقہ رائج ہونا اور تمام حیثیتوں سے تو پسندیدہ تھا،البتہ فرض قرار پاجانے کا اندیشہ اس میں مانع تھا کہ آپؐ اسے رائج فرمائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس اندیشے کے لیے کوئی گنجایش باقی نہ رہی۔ کیوں کہ کسی دوسرے شخص کا عمل کسی چیز کے شریعت میں فرض ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ اس لیے حضرت عمرؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس منشا کو پورا کردیا جو آپؐ کی اس توجیہ میں مضمر تھا۔ یعنی یہ کہ یہ طریقہ رائج تو ہو مگر مشروع اور مسنون طریقے کی حیثیت سے، نہ کہ فرض کی حیثیت سے۔ اس پر بعض لوگوں کو جب بدعت ہونے کا شبہ ہوا تو حضرت عمرؓ نے یہ کہہ کر اسے رد کردیا کہ’’یہ اچھی بدعت ہے۔‘‘ یعنی یہ نئی بات تو ہے مگر اس نوعیت کی نئی بات نہیں ہے جسے شریعت میں مذموم قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام صحابہ ؓ نے بالاتفاق اس طریقے کے رواج کو قبول کیا اور ان کے بعد ساری اُمت اس پر عمل کرتی رہی۔ورنہ کون یہ تصور کر سکتا ہے کہ شرعی اصطلاح میںجس چیز کو بدعت کہتے ہیں، اسے رائج کرنے کا ارادہ حضرت عمرؓ کے دل میں پیدا ہوتا اور صحابہ ؓ کی پوری جماعت بھی آنکھیں بند کرکے اسے قبول کر لیتی۔

مقبولیت دعا کے لیے قبروں پر چلہ کشی:

سوال(۲): مشائخ وصوفیہ کے بعض تذکروں میں یہ ذکر ملتا ہے کہ فلاں صاحب نے فلاں بزرگ کی قبر پر مراقبہ اور چلہ کیا؟ اور یہ بھی کہ فلاں بزرگ کا یہ قول اور تجربہ ہے کہ فلاں قبر پر اﷲ سے دعا مانگنا قبولیت کا سبب ہوتا ہے؟اس کی دین میں کیا اصل ہے؟

جواب: اوّل تو دین میں اصل چیز کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲ ہے،نہ کہ بزرگوں کے اقوال وافعال۔ دوسرے خود بزرگوں کے اقوال وافعال کے متعلق جو مواد تذکروں میں ملتاہے، وہ بھی ایسا مستندنہیں ہے کہ اس کی بِنا پر یہ اطمینان کیا جاسکے کہ واقعی ان بزرگوں کے اقوال وافعال وہی تھے جو ان کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔ ایسی چیزوں کو ماخذ مان کر ان کی پیروی کرنا میرے نزدیک سخت بے احتیاطی ہے۔ محفوظ طریقہ وہی ہے جو ہمیں قرآن وحدیث سے ملتا ہے،جس کے دورِ صحابہ ؓ اور دورِ تابعین میں رائج ہونے کا ثبوت ملتا ہے، اور جس کو اُمت کے محدثین اور فقہا نے منقّح اور مدوّن کرکے رکھ دیا ہے۔لہٰذا جو شخص دین کی یقینی اور قابل اعتماد راہ پر چلنا چاہتا ہو،اس کو اس محفوظ طریقے سے تجاوز کا کبھی خیال بھی نہیںکرنا چاہیے۔کیوں کہ باہر جو کچھ ہے، وہ کم ازکم خطرے سے تو خالی نہیں ہے۔اب اسی معاملے کو لیجیے جس کے متعلق آپ سوال کررہے ہیں۔ جن تذکروں میں یہ ذکر ملتا ہے کہ فلاں فلاں بزرگوں نے یہ کام کیا تھا،ان کی روایات کا حدیث کی کسی ضعیف سے ضعیف روایت کے مقابلے میں بھی آخر کیاپایہ ہے؟کس سند کی بِنا پر یہ اعتماد یا گمان غالب ہوسکتا ہے کہ ان بزرگوں نے واقعی ایسا کیا تھا؟فرض کیجیے کہ حقیقت میں انہوںنے ایسا نہ کیا ہو۔ اس صورت میں ان بے سند روایات کی پیروی کرکے ہم آخرت میں کس چیز کا سہارا لے کر جواب دہی کرسکیں گے؟ اگر عاقبت کی ہمیںفکر ہو اور ہم خود اپنی خیر چاہتے ہوں تو یہ کام کرنے سے پہلے ہم کو دین کے محفوظ طریقے کی طرف رجوع کرکے اطمینان کرلینا چاہیے کہ وہاں کسب فیض یا قبولیت دعا کے لیے یہ راستہ بتایا گیا ہے یا نہیں؟ صحابہؓ نے خود نبیؐ کے مزار مبارک پر کبھی چلہ کھینچا یا مراقبہ کیا؟تابعین نے کبھی کسی صحابی کی قبر پر یہ کام کیا؟ فقہا و محدثین میںسے کسی نے اس کو مشروع طریقہ بتایا؟ سب سے بڑھ کر خود اﷲ میاں نے قرآن میں کہیں یہ تعلیم دی کہ قبروںپر حصول فیض یا استجابت دعا کے لیے جائو؟ یا اللہ کے رسولؐ نے اس طریق کار کی طرف کوئی اشارہ کیا؟ ان ذرائع سے اس کا کوئی ثبوت ملتا ہو تو اطمینان کے ساتھ یہ کام کیا جاسکتا ہے، ور نہ یہ بالکل غلط نہ سہی، مشتبہ توماننا ہی پڑے گا۔ ایسامشتبہ کام کرکے کیا میں یہ خطرہ مول نہ لوں گا کہ شاید آخرت میں وہ غلط ثابت ہو اور میں اﷲ تعالیٰ کو اس سوال کا کوئی جواب نہ دے سکوں کہ جب دین کی حقیقی راہ معلوم کرنے کے قابل اعتماد ذرائع موجود تھے تو میں مشتبہ ذرائع کی طرف کیوں گیا؟

اصحاب قبور سے درخواست دعا:

سوال( ۳): کسی بزرگ کی قبر پر جاکر اس طرح کہنا کہ’’اے ولی اﷲ!آپ ہمارے لیے اﷲ سے دعا کریں‘‘کیا درست ہے؟

جواب: کسی بزرگ سے اپنے حق میں دعائے خیر کی درخواست کرنا بجائے خود کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ہے۔آدمی خود بھی اﷲ سے دعا مانگ سکتا ہے،اور دوسروں سے بھی کہہ سکتا ہے کہ میرے لیے دعا کرو۔ لیکن وفات یافتہ بزرگوں کی قبروں پر جاکر یہ درخواست پیش کرنا معاملے کی نوعیت کو بالکل ہی بدل دیتا ہے۔قبر پر یہ بات کہنے کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اپنے دل میں،یا چپکے چپکے ایسا کہیں۔اس کے معنی یہ ہوں گے کہ آپ ان بزرگوں کی سماعت کی شان وہی کچھ سمجھ رہے ہیں جو اﷲ کی ہے کہ:
وَاَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْہَرُوْا بِہٖ۝۰ۭ اِنَّہٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِo المک67:13
’’تم اپنی بات آہستہ سے کہو یا زور سے،وہ تو دلوں کا حال بھی جانتا ہے۔‘‘
دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ زور زور سے ان ولی اﷲ کو پکار کر یہ بات کہیں ۔اس صورت میں اعتقاد کی خرابی تو لازم نہ آئے گی مگر یہ اندھیرے میں تیر چلا نا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ آپ پکار رہے ہوں اور وہ نہ سن رہے ہوں۔کیوں کہ سماع موتیٰ کا مسئلہ مختلف فیہ ہے۔یہ بھی ہوسکتاہے کہ ان کا سماع تو ممکن ہو، مگر ان کی روح اس وقت وہاں تشریف نہ رکھتی ہو،اور آپ خواہ مخواہ خالی مکان پر آوازیں دے رہے ہوں۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی روح تشریف فرما تو ہو مگر وہ اپنے ربّ کی طرف مشغول ہوں،اور آپ اپنی غرض کے لیے چیخ چیخ کر ان کو اُلٹی اذیت دیں۔دنیا میں کسی نیک آدمی سے دعا کرانے کے لیے آپ جاتے ہیں تو مہذب طریقے سے پہلے ملاقات ہوتی ہے پھر آپ عرض مدعا کرتے ہیں۔یہ تو نہیں کرتے کہ مکان کے باہر کھڑے ہوکر بس چیخنا شروع کردیا۔کچھ پتا نہیں کہ اندر ہیں یا نہیں ہیں۔ ہیں تو آرام میںہیں یا کسی کام میں مشغول ہیں،یا آپ کی بات سننے کے لیے خالی بیٹھے ہیں۔
اب غور کیجیے کہ وفات یافتہ بزرگو ں کے معاملے میںجب ہمارے لیے ان کے احوال معلوم کرنے اور ان سے بالمشافہہ ملاقات کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے تو ان کے مکانوں پر جاکر اندھادھند چیخ پکار شروع کردینا آخر کس معقول آدمی کا کام ہوسکتا ہے۔دعا کروانے کا یہ طریقہ اگر قرآن وحدیث میںسکھایا گیا ہوتا،یا اس کا کوئی ثبوت موجود ہوتا کہ صحابہؓ کے عہد میں یہ رائج تھا، تب تو بات صاف تھی ۔بڑے اطمینان کے ساتھ یہ کام کیا جاسکتا تھا۔لیکن جب وہاں اس کا کوئی پتہ نشان نہیں ملتا تو آخر ایسا طریقہ کیوں اختیار کیا جائے جس کی ایک صورت توصریحاً صفات الٰہی کے تصور سے ٹکراتی ہے ،اور دوسری صورت علانیہ غیر معقول نظر آتی ہے۔

بزرگوں کی حرمت وجاہ سے توسل:

سوال(۴): یہ جو دعائوں میں’’بجاہ فلاں ‘‘اور ’’بحرمت فلاں‘‘ کا اضافہ ملتا ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ سنت رسولؐ کیا بتاتی ہے؟ صحابہؓ کا کیا معمول رہا ہے؟ اور اس طرح (بجاہ… بحرمت) دعا مانگنے سے کوئی دینی قباحت تو لازم نہیں آتی؟

جواب: دعا میں اﷲ تعالیٰ کو کسی جاہ وحرمت کا واسطہ دینا وہ طریقہ نہیںہے جو اﷲ اور اس کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو سکھایا ہے۔ قرآن تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اس تخیل سے بالکل خالی ہے۔ حدیث میں بھی اس کی کوئی بنیاد میرے علم میں نہیں ہے۔صحابہ کرامؓ میں سے بھی کسی کے متعلق میںنہیں جانتا کہ انہوں نے دعا میں یہ طریقہ خود اختیار کیا ہو یا دوسروں کو اس کی تعلیم دی ہو۔ معلوم نہیں کہ مسلمانوں میں یہ تخیل کہاں سے آگیا کہ ربّ العالمین کے حضور دعا مانگتے وقت اسے کسی بندے کی جاہ وحرمت کا حوالہ دیں یا اس سے یہ عرض کریں کہ اپنے فلاں بندے کے طفیل میری حاجت پوری کردے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ایسا کرنا ممنوع ہے۔میں صرف دو باتیں کہتا ہوں:
ایک یہ کہ ایسا کرنا اس طریقے کے مطابق نہیں ہے جو ربّ العالمین نے خود ہمیں دعا مانگنے کے لیے سکھایا ہے۔ او ر اس طریق دعا سے بھی مطابقت نہیں رکھتا جو نبی ؐنے اپنے براہِ راست شاگردوں کو بتایا تھا۔ اس لیے اس سے اجتناب ہی کرنا چاہیے۔ کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیا علیہم السلام آخر یہی بتانے کے لیے تو آئے تھے کہ خدا اور بندوں کے درمیان ربط وتعلق کی صحیح صورت کیا ہے، اور جب انہوں نے اس کی یہ صورت نہ خود اختیار کی، نہ کسی کو سکھائی، تو جو شخص بھی اسے اختیار کرے گا ،وہ معتبر چیز کو چھوڑ کر غیر معتبر چیز کو اختیار کرے گا۔
دوسری بات میں یہ کہتا ہوں کہ مجھے تو اس طریق دعا میں بڑی کراہیت محسوس ہوتی ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس کے معنی سے صرف نظر کرلے اور اس میں کراہیت کا وہ پہلو محسوس نہ کرے جو مجھے نظر آتا ہے۔میں جب اس طرزِ دعا کے مضمرات پر غورکرتا ہوں تو میرے سامنے کچھ ایسی تصویر آتی ہے کہ جیسے ایک بہت بڑی سخی داتا ہستی ہے ،جس کے دروازے سے ہر کہ ومہ کی حاجتیں پوری ہوتی ہیں،جس کا فیض عام ہے،جس کا دربار کھلا ہے،جس سے ہر مانگنے والا مانگ سکتا ہے،اور کسی پر اس کی عطا وبخشش بند نہیں ہے۔ ایسی ہستی کے حضور ایک شخص آتا ہے اور اس سے سیدھی طرح یہ نہیں کہتا کہ اے کریم ورحیم! میری مدد کر، بلکہ یہ کہتا ہے کہ اپنے فلاں دوست کی خاطر میری حاجت پوری کردے۔ مانگنے کے اس اندازمیںیہ بدگمانی پوشیدہ ہے کہ وہ اپنی صفت رحم وکرم کی وجہ سے کسی کی دست گیری کرنے والا نہیں ہے بلکہ اپنے دوستوں اور چہیتوں اور مقربوںکی خاطر احسان کردیا کرتا ہے۔ان کا واسطہ نہ دیا جائے تو گویا آپ اس کے ہاں سے کچھ پانے کی امید نہیں رکھتے۔ اور بجاہ فلاں کہہ کر مانگنے میں تو معاملہ بدگمانی سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔اس کے معنی تو یہ ہیں کہ گویا آپ اس پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ میں فلاں بڑے آدمی کا متوسل آیا ہوں، میری درخواست کو کسی بے وسیلہ آدمی کی سی درخواست سمجھ کر نہ ٹال دیجیے گا۔ اگر یہ اس طرز دعا کے مضمرات نہ ہوں تو مجھے سمجھا دیا جائے۔ بڑی خوشی ہوگی کہ میرے دل کی کھٹک اس معاملے میں نکل جائے گی۔ لیکن اگر اس کے واقعی مضمرات یہی ہوں تومیں نہیں سمجھتا کہ جو شخص اﷲ تعالیٰ کی صفات کاملہ کا صحیح تصور رکھتا ہو،وہ ایسا طرز دعا اختیا ر کرنے کا خیال بھی کیسے کرسکتا ہے۔
اسی طرح کے مضمرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے فقہا نے بھی اس طریق دعا کو مکروہ قرار دیا ہے۔چنانچہ فقہ حنفی کی مشہورکتاب ہدایہ میں یہ قول موجود ہے:
ویکرہ ان یقول الرجل فی دعائہ بحق فلان او بحق انبیاء ک و رسلک لانہ لا حق للمخلوق علی الخالق ۔(کتاب الکراہیۃ، مسائل متفرقہ)
’’ اور یہ مکروہ ہے کہ آدمی اپنی دعا میں بحق فلاں یا بحق انبیا و رسل کہے،کیوں کہ مخلوق کا خالق پر کوئی حق نہیں ہے۔‘‘ (’’فاران‘‘، توحید نمبر) ( ترجمان القرآن۔ محرم،صفر ۳۷۷اھ، اکتوبر،نومبر ۹۵۷اء)

ائمۂ اربعہ اور اہل بیت:

سوال: ترجمان القرآن ستمبر ۹۵۶اء میں ایک سوال کے جواب میں آپ نے لکھا ہے کہ:
’’ائمۂ اربعہ نے ان تمام اہل علم سے استفادہ کیا ہے جوان کے عہد میں موجود تھے اور جن سے استفادہ کرنا ان کے لیے ممکن تھا۔صرف اہل بیت سے علمی استفادہ کرنے کا طریقہ خود اہل بیت نے بھی اختیار نہ کیا۔وہ جس جس کے پاس علم پاتے تھے،اس سے استفادہ کرتے تھے۔یہی ہر اس شخص کا طریقہ ہونا چاہیے جو کسی طرح کے تعصب میں مبتلا نہ ہو۔‘‘
میر ے ناقص مطالعے میں آج تک یہ بات نہیں آئی اور نہ کبھی کسی سے ایسا سنا ہے۔آپ اس کے ثبوت میں چند معتبر کتب کے حوالے دیں تاکہ مدعا زیادہ واضح ہوجائے۔
مزید سوال صحیح بخاری، کتاب الفتن،باب الاستخلاف کی ایک حدیث سے متعلق ہے۔ حدیث یہ ہے :
عن جابر بن سمرۃ قال سَمِعْتُ النبیَ ﷺ یَقُوْلُ یَکُوْنَ اِثْنَاءَ عَشَرَ اَمِیْرًا فَقَالَ کَلِمَۃً لَمْ اَسْمَعْھا۔ فَقَالَ اَبِیْ اِنَّہٗ قَالَ کلّہُّمْ مِنْ قُرَیْشٍ ۔
اس حدیث میں جن بارہ امرا کا ذکر ہے وہ کون لوگ ہیں؟ اہل تَشَیُّع میں سے اثناعشری حضرات ان سے مراد اپنے بارہ امام لیتے ہیں۔کیا ان کا یہ استدلال آپ کے نزدیک صحیح ہے؟

جواب: حضرات شیعہ کی کتب حدیث پر تو میری اتنی نگاہ نہیں ہے کہ میں ان کے بارے میں یقین کے ساتھ کوئی بات کہہ سکوں،مگر اہل سنت کی کتب حدیث میں بکثرت روایات ایسی موجود ہیں جو بزرگان اہل بیت نے غیر اہل بیت، صحابہ ؓ یا تابعین یا تبع تابعین سے روایت کی ہیں۔مثلاًبخاری ومسلم میں متعد داحادیث امام جعفر صادقؒ نے محمد بن منکدر اور عطاء بن ابی رباح سے روایت کی ہیں۔امام محمد الباقر نے بہت سی احادیث جابر بن عبدا ﷲ، ابو مرہ مولیٰ عقیل بن ابی طالب، عبداﷲ بن ابی رافع، سعید بن مسیب، اوریزید بن ہارون سے روایت کی ہیں۔ امام زین العابدین نے بہت سی احادیث حضرت صفیہ ام المومنین، مسور بن مخرمہ، سعید بن مرجانہ، عمر بن عثمان اور دوسرے اصحاب سے روایت کی ہیں۔ خود حضرت علیؓ نے ایک روایت مقداد بن اسود سے نقل کی ہے جو مسلم میں ملتی ہے۔ یہ تو صرف بخاری ومسلم کی روایات ہیں۔ دوسری کتب کا استقصا کیا جائے تو مزید احادیث اسی نوعیت کی ملیں گی۔بہرحال یہ امر واقع ہے کہ بزرگان اہل بیت نے علم کے معاملے میں کبھی نہ تعصب برتا ہے اور نہ خاندانی فخر وغرور سے کام لیا ہے۔
بخاری کی جس حدیث کے بارے میںآپ نے سوال کیا ہے،یہ حدیث کتا ب الفتن میں نہیں بلکہ کتاب الاحکام میں ہے، اور اس کا اندراج باب الاستخلاف میں نہیں بلکہ اس کے بعد کے ایک باب میں ہے جو بلا ترجمہ درج ہوا ہے،یعنی اس پر کوئی عنوان نہیں ہے۔بخاری میں یہ روایت بہت مختصر ہے۔ لیکن مسلم، ابودائود، ترمذی اور طبرانی وغیرہ میں اسی مضمون کی متعدد روایات موجود ہیں جو پوری تفصیل بیان کرتی ہیں اور ان سے اصل مفہوم کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ بارہ خلفا یا امرا (الفاظ مختلف ہیں) کے دور تک اسلام زبردست اور طاقت ور رہے گا،امت ایک نظام میں مجتمع رہے گی اور کسی کی عداوت ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔مسلمانوں کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف امرا پر اس پیشین گوئی کا اطلاق کیا جاسکتا ہے، اور بعض لوگوں نے اس کی کوشش بھی کی ہے۔ لیکن بہرحال ان تفصیلات سے یہ بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ ان بارہ امرا یا خلفا سے مراد ائمۂ اثنا عشرنہیں ہوسکتے کیوں کہ ان کے ہاتھ میں حکومت نہیں رہی۔ (ترجمان القرآن۔ربیع الاوّل، ۳۷۶اھ، نومبر ۹۵۶اء)

شیعہ ،سنی تنازعات:

سوال: جماعت اسلامی پاکستان ایک نہایت عظیم اور بلند مقصدلے کر اٹھی ہے۔ہماری دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ جماعت اسلامی کو کام یابی دے تاکہ پاکستان میں اسلامی دستور کا بول بالا ہو۔
جس چیز کی طرف ہم آپ کی توجہ مبذول کرا رہے ہیں وہ بھی اسلام کے لیے ایک نہایت ہی بنیادی چیز ہے اورمقام افسوس ہے کہ آپ اور آپ کی جماعت نے اس طرف کوئی توجہ نہیں کی، اور اسی وجہ سے یہ معاملہ آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے ۔امید ہے کہ آپ خندہ پیشانی سے غور فرما کر جواب دیں گے۔
موجودہ دور کچھ اس قسم کا گزر رہا ہے کہ شیعہ فرقہ انتہائی طورپر منظم ہے اور وہ متفقہ طور پر ہر جگہ اپنی تقریروں، تحریروں اور پمفلٹوں کے ذریعے صحابہ کرامؓ پر زہراُگل رہا ہے جن میں ان کے وزرا بھی ہماری غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، اور ہمارے لیڈران کرام اور علمائ حضرات آپس کی کش مکش میں اسلام کی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں۔
یہ لوگ مذہبی آزادی کی آڑ میں ہر جگہ نئے نئے لائسنس عزا داری لے کر اوران لائسنسوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کھلے بندوں علانیہ تبرّا کررہے ہیں۔اگر کوئی اعتراض کرے تو اسے گورنمنٹ کی مخالفت کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ ان کے پاس لائسنس ہوتے ہیں۔گویا حکومت لائسنس کی آڑ میں تبرا کروارہی ہے، اور لائسنسوں ہی کی وجہ سے گورنمنٹ خود ان کی نگہداشت بھی کرتی ہے۔
حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ ان کا ہر فرد اپنے فرقے کی ترقی کے لیے جائز وناجائز طریقے سے اپنے خاص عقائد کو پھیلانے کے لیے پوری جدوجہد سے کام لے رہا ہے اور تمام شیعہ پریس بھی تبرا بازی پر مشتمل مضامین شائع کررہا ہے اور ان کے علمائ ہر جگہ عزا داری کی آڑ لے کر’’قتل حسین درسقیفہ‘‘ کے عنوا ن پر تقریریں کررہے ہیں۔ ہمارے بے علم عوام ان کی تقریریں سن سن کر گمراہ ہورہے ہیں اور شیعہ مذہب سیل رواں کی طرح ملک کے مختلف حصوں میں پھیلتا چلا جارہا ہے۔
اب اس کے بعد ہماری یہ حالت ہے کہ اگر کوئی مٹھی بھر علمائ کی جماعت یا کوئی ادارہ ناموس ِ صحابہؓ کی مدافعت کی خاطر میدان عمل میں نکلے تو اس کاکام کچھ تو جماعت اسلامی کی تنقید کی نظر ہوجاتاہے اور کچھ نقصان گورنمنٹ کی طرف سے بھی ہوتا ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ لوگوں کی مخالفت سے گورنمنٹ بھی یہ سمجھتی ہے کہ یہ ملاّ فرقہ وارانہ فساد کو ہوا دے رہے ہیں، اور اسی وجہ سے وہ حضرات زبان بندیوں اور پابندیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ المنیر جلد ۸، شمارہ ۳۶ ،۱۷ ستمبر سہ روزہ’’دعوت‘‘ لاہور کی ضمانت طلبی پر صرف صحافت کے معیار کو قائم رکھتے ہوئے ہم دردی کا اظہار کرتا ہے اور بعد میں اس طرح سے تنقید کرتاہے کہ ’’یہ طریقۂ کار اسلامی نقطۂ نظر سے ہمارے نزدیک زیادہ مفیدنہیں ہے اور ہمارا دینی مسلک اس موضوع میں معاصر سے مختلف ہے۔‘‘
اتنے گندے ماحول میں آپ خود ہی اندازہ کریں،کیااس تنقید سے شیعہ پروپیگنڈے کی حوصلہ افزائی نہیں ہوئی۔ حالاں کہ اپنے مضمون میں المنیر نے خود بھی یہ اعتراف کیا ہے کہ ’’عزاداری تبرا بازی میں بدل چکی ہے۔‘‘
ہم آپ سے مؤدّبانہ سوال کرتے ہیں کہ ہمارے علمائے کرام،سیاسی لیڈر، ادارے،اخبار اور خصوصاًآں نجناب اور جماعت اسلامی کیوں خاموش ہیں؟کیوں نہیں کوئی باہمی اور متفق صورت اختیار کی جاتی؟ کیا اسلامی قانون میں کوئی تبرا کرنے کی گنجایش ہے؟ اکثر مقامات میں عشرۂ محرم میں کھلی جگہ پر تبرا بازی کی گئی ہے اور یہ نوحے برسر عام لائوڈ اسپیکر پر پڑھے گئے ہیں:
آقا کے چھوڑ جنازے کو کیوں بھاگے یار سقیفہ کو
کیوں چھوڑ دیا جنازے کو قرآن کے حافظ یاروں نے
کیوں یاروں نے من بعد نبی اس گھر پر آ گستاخی کی
کیوں کھایا آل نبی کا حق قرآن کے دعوے داروں نے
جس کے گھر سے فیض اٹھاون اس دے گھر نوں آگ لگاون
کیوں دنیا حق نوں بھل گئی ہے، کیوں آل نبی دی رل گئی اے
گئے یار سقیفہ جس دَم، کیا مشورہ مل کر باہم
کرو اپنی حکومت مستحکم…
وغیرہ، وغیرہ۔یہ نوحہ جات چھپے ہوئے ہیں۔
اس کی اطلاع جب بروقت ایس ڈی او صاحب اور ڈی ایس صاحب کو دی تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ ہم اپنی ڈائری میں لکھ رہے ہیں، ان کے پاس لائسنس عزا داری ہے، ہمیں قصور وار ٹھہرایا کہ تم جلوس میں گڑبڑکرنا چاہتے ہو اور ہمارے نام درج کر لیے۔ اس کے بعد حسب دستور عصر کی اذان وقت مقررہ پر لائوڈ اسپیکر پر دی گئی تو شیعہ کے مبلغ اعظم محمد اسماعیل گوجروی نے دوران تقریر میں ہماری اذان کو یزیدی اذان سے تشبیہ دی اور کہا یہ وہی اذانیں ہیں جو کوفہ میں ہور ہی تھیں جب کہ حسینؓ کا قافلہ اسی طرح لٹا جارہا تھا ۔اور بعد میں حضرت عائشہ صدیقہؓ پر ناجائز حملے کرنے شروع کردیے جو کہ بیان کرنے ہی نامناسب ہیں۔ پھر تقریر میں باغ فدک، خلافت اور حدیث قرطاس کے مضمون بیان کرنے شروع کیے۔
عالی جاہ! ہندوستان میں اگر مذہبی را ہ نما کتاب چھپے جس میں نبی کریمؐ اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کی توہین ہو تو جناب اور آپ کی جماعت او ر دوسری جماعتیں اور دیگرعلمائ آپ کے کہنے کہانے پرمتفقہ ریزولیشن پاس کرکے اس کے ضبط کرنے کے لیے غیر حکومت میں پوری جدوجہد کرتے ہیں اور بفضل خدا کام یاب بھی ہوجاتے ہیں۔کیا اس کتاب میںکسی اور عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی توہین ہے اور شیعہ کسی اور عائشہ کی توہین کرتے ہیں؟

جواب: آپ نے جو واقعات لکھے ہیں،وہ واقعی بہت افسوس ناک ہیں۔شیعہ حضرات کا یہ حق تو تسلیم کیا جاسکتا ہے اور کیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے مذہبی مراسم اپنے طریقے پرا دا کریں ،مگریہ حق کسی طرح بھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ دوسرے لوگ جن بزرگوں کو اپنا مقتدا وپیشوا مانتے ہیں،ان کے خلاف وہ برسر عام زبان طعن دراز کریں، یا دوسروں کے مذہبی شعائر پر علانیہ حملے کریں۔ان کے عقیدے میں اگر تاریخ اسلام کی بعض شخصیتیں قابل اعتراض ہیں تو وہ ایسا عقیدہ رکھ سکتے ہیں، اپنے گھر وںمیں بیٹھ کر وہ ان کو جو چاہیں کہیں، ہمیں ان سے تعرض کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن کھلے بندوں بازاروں میں یاپبلک مقامات پر انہیں دوسروں کے مذہبی پیشوائوں پر تو درکنار، کسی کے باپ کو بھی گالی دینے کا حق نہیں ہے، اور دنیا کے کسی آئین انصاف کی رو سے وہ اسے اپنا حق ثابت نہیں کر سکتے۔ اس معاملے میں اگر حکومت کوئی تساہل کرتی ہے تو یہ اس کی سخت غلطی ہے، اور اس تساہل کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ یہاں فرقوں کی باہمی کش مکش دبنے کے بجائے اور زیادہ بھڑک اٹھے۔ دشنام طرازی کا لائسنس دینا اورپھر لوگوں کو دشنام سننے کے لیے اس بِنا پر مجبور کرنا کہ اس کا لائسنس دیا جاچکا ہے، حماقت بھی ہے اور زیادتی بھی۔ حکومت کی یہ سخت غلطی ہے کہ وہ شیعہ حضرات کے مراسم عزا داری اور اس سلسلے کے جلسوں اور جلوسوں کے لیے معقول اور منصفانہ حدو د مقرر نہیں کرتی اور پھر جب بے قید لائسنسوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی بدولت جھگڑے رونما ہوتے ہیں تو فرقہ وارانہ کش مکش کا رونا روتی ہے۔ اس معاملے میں سنیوں اور شیعوں کی پوزیشن میں ایک بنیادی فرق ہے جسے ملحوظ خاطر رکھ کرہی فریقین کے درمیان انصاف قائم کیا جاسکتا ہے۔ وہ یہ کہ شیعہ جن کو بزرگ مانتے ہیں وہ سنیوں کے بھی بزرگ ہیں اورسنیوں کی طرف سے ان پر کسی طعن وتشنیع کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس سنیوں کے عقیدے میں جن لوگوں کو بزرگی کا مقام حاصل ہے،ان کے ایک بڑے حصے کو شیعہ نہ صرف برا سمجھتے ہیں بلکہ انہیں بر ا کہنا بھی اپنے مذہب کا ایک لازمی جز قرا ردیتے ہیں۔ اس لیے حدود مقرر کرنے کا سوال صرف شیعوں کے معاملے میں پیدا ہوتا ہے۔ انہیں اس بات کا پابند کیا جانا چاہیے کہ بدگوئی اگر ان کے مذہب کاکوئی جزو لازم ہے تو اسے اپنے گھر تک محدود رکھیں۔پبلک میں آکر دوسروں کے بزرگوں کی برائی کرنا کسی طرح بھی ان کا حق نہیں مانا جاسکتا۔
میرا خیال یہ ہے کہ اس معاملے کو اگر معقول طریقے سے اٹھایا جائے تو خود شیعوں میں سے بھی تمام انصاف پسند لوگ اس کی تائید کریں گے اور ان کے شر پسند طبقے کی بات نہ چل سکے گی۔ حکومت کو بھی بآسانی اس بات کا قائل کیا جاسکے گا کہ شیعہ حضرات کو ان کے مذہبی مراسم کی ادائیگی کے معاملے میں، جہاں تک کہ پبلک میں ان کے ادا کرنے کا تعلق ہے، حدود کا پابند بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ حدود بھی گفت وشنید سے طے ہوسکتے ہیں۔ اس مسئلے کو کسی ایجی ٹیشن کی بنیاد بنانے کے بجائے اس طریقے سے حل کرنا زیادہ مناسب ہے۔میں اپنی حد تک اس خدمت کی انجام دہی کے لیے جو کچھ کرسکتا ہوں،اس میں ان شاء اﷲ دریغ نہ کروں گا۔
(ترجمان القرآن، ربیع الاوّل ۳۷۶اھ، نومبر ۹۵۶اء)

حضرت ابو بکرؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کی باہمی رنجیدگی:

سوال: ایک شیعہ عالم نے مجھ سے فرمایا کہ حضرت فاطمہؓ ،حضرت صدیق اکبرؓ سے تادم مرگ ناراض رہیں اور انہیں بدعا دیتی رہیں۔ انہوںنے اس امر کے ثبوت میں الامامۃ والسیاستہ کے حوالے دیے ہیں جو ابن قتیبہ کی تصنیف ہے۔انہوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ابن قتیبہ کو سنی علمائ مستند مانتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے مولانا شبلی کی الفاروق میں سے ایک عبارت دکھائی ہے جس میں اس مصنف کو نام ور اور قابل اعتماد قرار دیا گیا ہے۔ نیز شیعہ عالم نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ آپ نے بھی اپنے رسالہ’’اسلامی دستور کی تدوین‘‘ میں الامامۃ والسیاستہ میں سے ایک خط نقل کیا ہے جو ام المومنین حضرت ام سلمہؓ نے حضرت عائشہؓ کو لکھا تھا۔ براہِ کرم حضرت فاطمہ ؓ کی ناراضگی کی حقیقت واضح کریں۔ نیز اس امر سے بھی مطلع کریں کہ ابن قتیبہ کی کتا ب کا علمی پایہ کیا ہے اور وہ کس حد تک قابل اعتبار ہے؟

جواب: ابن قتیبہ تو بلاشبہ ایک محقق شخص تھے، لیکن ان کی جس تصنیف کا حوالہ شیعہ عالم نے دیا ہے، اس میں بعض چیزیں ایسی موجود ہیں جو عقلاًقابل قبول نہیں ہیں۔ خصوصاً حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کی سیرت کا جو نقشہ انہوں نے نبیؐ کے وصا ل کے بعد کا کھینچا ہے، وہ ایسا ہے کہ اگر اسے صحیح مان لیا جائے تو ان دونوں برگزیدہ ہستیوں کے بارے میں عقیدت تو درکنار، اچھی رائے کا برقرار رہنا بھی محال ہو جاتا ہے۔ اس کتاب کے صفحہ ۱۲ کا مضمون آپ خود ملاحظہ فرمالیجیے اور خود ہی رائے قائم کیجیے کہ آیا ایسی روایات قابل قبول ہوسکتی ہیں۔ قبول کرنا تو ایک طرف، میں تو اسے اس قابل بھی نہیں سمجھ سکتا کہ اسے نقل کرکے آپ کے سامنے پیش کروں۔ اسی طرح کی چیزیں دیکھ کر بعض اہل علم نے یہ رائے قائم کی ہے کہ یہ کتاب یا تو ابن قتیبہ کی ہے ہی نہیں یا کم ازکم اس میں بعض چیزیں ضرور الحاقی ہیں۔ میں نے جس خط کا حوالہ دیا ہے، وہ ابن عبدربہ نے عقد الفرید میں بھی نقل کیا ہے۔ اس لیے میرا انحصار صرف الامامۃ والسیاستہ پر نہیں ہے۔
مسئلہ خلافت سے قطع نظر جہاں تک حضرت فاطمہؓ کے دعوائے میراث کا تعلق ہے، اس کے لیے ابن قتیبہ کی الامامۃ کی طرف رجوع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ا س کی تفصیلات تو صحیح بخاری اور دوسری کتب حدیث میں موجود ہیں۔ ان کتابوں کی مستند روایات سے یہ بات صاف طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ حضرت فاطمہؓ میراث کے معاملے میں حضرت ابوبکرؓ سے ناراض تو ضرور ہوئی تھیں، مگر حضرت ابو بکرؓ نے جس بِنا پر حضرت فاطمہ ؓ کے دعوے کو قبول کرنے سے انکارکیا تھا، وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد تھا کہ انبیا علیہم السلام کی میراث ان کے وارثوں میں تقسیم نہیں ہوتی بلکہ ان کا ترکہ صدقہ ہے۔ یہ بات ابن قتیبہ کے ہاں بھی مذکور ہے اور کسی جگہ بھی یہ مذکور نہیں ہے، کہ حضرت ابوبکرصدیق ؓ کا نقل کردہ فرما ن نبویؐ صحیح نہ تھا یا حضرت فاطمہ ؓ کو اس کی صحت سے انکار تھا۔ اب آپ خود غو رکرلیجیے کہ حضرت ابوبکرؓ کو نبی کریمؐ کے ارشاد کی تعمیل کرنا واجب تھا یا اس کو نظر انداز کرکے حضرت فاطمہؓ کی رضا مندی حاصل کرنا ضروری تھا؟ ہم تو اس بات کا بھی تصور نہیں کر سکتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول سننے کے بعد اسے قبول کرنے کی بجائے حضرت فاطمہ ؓ اس طرح غضب ناک ہوئی ہوں گی جس طرح غضب ناک ہونے کا نقشہ ابن قتیبہ نے کھینچا ہے۔ اگر وہ رنجیدہ ہوئی تھیں اور اس کا انہوں نے کسی شکل میں اظہار بھی کیا تھا تو اس کی زیادہ سے زیادہ بہتر تاویل یہی کی جاسکتی ہے کہ و ہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو کسی اور معنی میں لیتی ہوں گی، اور حضرت ابو بکرؓ نے جو مفہوم اس کا سمجھا تھا، اس سے انہیں اتفاق نہ ہو گا۔ یہ تاویل اس واقعے کی نہ کی جائے تو پھر اس الزام سے حضرت فاطمۃ الزہر ا ؓکو نہیں بچایا جاسکتا کہ وہ مال کی محبت اتنی زیادہ رکھتی تھیں کہ خود اپنے والد ماجد اور اﷲکے رسولؐ کے قول کی انہوں نے پروا نہ کی۔ کیا سیدۃ النساء کے متعلق کوئی مسلمان ایسی بری رائے رکھنے کے لیے تیار ہے؟ خلفائے راشدین اور اہل بیت کے باہمی تعلقات کی ایسی تصویر ہمارے لیے آخر کس طرح قابل قبول ہوسکتی ہے جو فریقین میں سے کسی کی بھی شان اور عظمت میں اضافے کا موجب نہیں ہوسکتی۔
ہمارے ہاں اس امر میں بھی روایات مختلف ہیں کہ آیا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس واقعے کے بعد آخر وقت تک ناراض رہیں یا بعد میں راضی ہوگئیں۔ بعض روایات میں یہ ہے کہ ان کی رنجش آخری وقت تک رہی، اور بعض میں یہ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ بعدمیں خود ان سے ملنے کے لیے تشریف لے گئے اور انہیں راضی کرلیا۔یہی بات میرے نزدیک قرین صواب ہے۔
(ترجمان القرآن۔ شعبان،رمضان ۳۷۶اھ، جون ۹۵۷اء)

رسول اﷲؐ کی میراث کا مسئلہ:

سوال: باغ فد ک کے مسئلے پر آپ کی تحقیق کیا ہے ؟اس کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے جیسے حضرت سیّدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا پر ظلم کیا گیا۔ کیا آںحضورؐ کی میراث میں سے حضرت فاطمہ ؓ کا حق نہ دینا خلیفۂ اوّل ودوم کے لیے درست تھا؟

جواب: باغ فدک کے مسئلے پر بحث کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا سرکار رسالت مآبؐ کے پاس آپ کی وفات کے وقت کوئی ذاتی جائداد تھی بھی کہ اس میں میراث جاری ہوتی؟یہ بات سب کو معلوم ہے کہ نبوت کے منصب پر سرفراز ہونے کے بعد حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا تمام وقت دعوتِ حق کے کام پر صرف ہونے لگا تھا اور کاروبار تجارت بند ہوچکا تھا۔مکہ معظمہ میں جب تک قیام رہا، اس اثاثے پر گزر بسر ہوتی رہی جو آپ ؐ کے اور حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا کے پاس پہلے کا بچا بچایا موجود تھا۔ ہجرت فرمائی تو گویا دامن جھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے او رمدینہ طیبہ پہنچ کر آپ بالکل بے سروسامان تھے۔ ابتدائی زمانہ انتہائی عسرت اور تنگ دستی کے ساتھ گزرا۔ پھر جب غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو اﷲ تعالیٰ نے اموال غنیمت میں سے پانچواں حصہ نکالنے کا حکم دیا، اور رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حق عطا فرمایا کہ جس قدر مناسب سمجھیں اور ضرورت محسوس فرمائیں، اپنی ذات پر اور اپنے قرابت داروں کی حاجات پر صَرف کرنے کے لیے اس حصے میں سے لے لیا کریں، باقی اﷲ کے کام میں اور یتامٰی، مساکین اور مسافروں کی خبر گیری میںصَرف فرمائیں۔
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ الانفال8:41
یہ پہلا ذریعۂ معاش تھا جو آپؐ کو عطا کیا گیا۔
اس کے بعد ہجرت کے چوتھے سال اﷲ تعالیٰ نے مدینہ کے یہودی قبیلے بنی النضیر پر آپؐ کو فتح عطا فرمائی اور وہ اپنی جائدادیں چھوڑ کر شہر سے چلے گئے۔اس وقت یہ آیت نازل ہوئی:
وَمَآ اَفَاۗءَ اللہُ عَلٰي رَسُوْلِہٖ مِنْہُمْ فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَيْہِ مِنْ خَيْلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰكِنَّ اللہَ يُسَلِّطُ رُسُلَہٗ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ۝۰ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۝۶ [٥٩:٦] مَآ اَفَاۗءَ اللہُ عَلٰي رَسُوْلِہٖ مِنْ اَہْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۙ كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَۃًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَاۗءِ مِنْكُمْ۝۰ۭ الحشر59:6-7
’’اور جو کچھ دلوایا اﷲ نے ان سے اپنے رسو ل کو، نہیں دوڑائے اس پر تم نے گھوڑے اور اونٹ، مگر اﷲ مسلط کردیتا ہے اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے، اور اﷲ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ جو کچھ دلوادے اﷲ( اس طریقے پر) اپنے رسول کو بستیوں کے لوگوں سے تو وہ اﷲ کے لیے ہے اور رسول کے لیے اور قرابت داروں اور یتامٰی اور مساکین اور مسافروں کے لیے تاکہ یہ مال تمہارے دولت مندوں ہی کے درمیان نہ گردش کرتا رہے۔‘‘
اس آیت کی رو سے اﷲ تعالیٰ نے ان تمام اموال،جائدادوں اور علاقوں کو جو براہِ راست جنگی کارروائی کے ذریعے سے فتح نہ ہوئے ہوں بلکہ اسلامی حکومت کے رعب اور دبدبے سے مسخر ہوجائیں،غنیمت سے الگ کرکے حکومت کی ملک قرار دے دیا اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حق عطا فرمایا کہ وہ اپنی اور اپنے قرابت داروں کی ضروریات کے لیے اس سرکاری مال میں سے جس قدر مناسب سمجھیں لے لیں۔
ان احکام کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینۂ طیبہ میں بنی النضیر کے چھوڑے ہوئے باغوں میں سے چند نخلستان،خیبر میں سے کچھ اراضی ،اور فدک میں سے کچھ اراضی اپنے لیے مخصوص کرلی تھی۔ اس جائداد کی آمدنی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اور اپنے اہل واعیال کی ضروریات پوری کرتے تھے، اپنے قرابت داروں کی مدد فرماتے تھے، اور جو کچھ بچتا تھا، اسے اﷲ کی راہ میں صرف فرما دیتے تھے۔
غور کیا جائے تو صاف سمجھ میں آجاتا ہے کہ ان دونوں ذرائع(غنیمت اور فے) سے جو کچھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا،اس کی نوعیت یہ نہیں تھی کہ آپؐ نے اپنے ذاتی کاروبار سے کوئی جائداد پیدا کی ہو اور وہ آپؐ کے بعد بھی آپؐ کی ملک رہے اور آپؐ کے وارثوں میںتقسیم ہو،بلکہ اس کی نوعیت یہ تھی کہ آپؐ اسلامی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے اپنا سارا وقت سرکاری کام پر صرف فرماتے تھے اور اپنا کوئی ذاتی ذریعۂ معاش نہ رکھتے تھے،اس لیے آپؐ کو یہ حق عطا فرمایا گیا کہ حکومت کی املاک میں سے اتنی جائداد اپنے تصرف میں رکھیںجس سے آپؐ کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ ظاہر ہے کہ اﷲ کے رسولؐ نے نبوت کا یہ کار ِعظیم اپنے لیے جائدادیں اور جاگیریں پیدا کرنے کے لیے تو نہیں کیا تھا۔ یہ تو ایک خدمت تھی جو خالص اﷲ کے لیے آپؐ انجام دے رہے تھے اور اس کا اجر اﷲ ہی کے ذمے تھا۔ریاست کے مال میں آپ کا حصہ بس اتنا تھا کہ آپؐ اپنے نفس کے اور اپنے اہل وعیال اور حاجت مند قرابت داروں کے حقوق ادا کرسکیں۔یہ حصہ آپؐ کی حیات طیبہ تک ہی باقی رہ سکتا تھا۔آپؐ کی وفات کے بعد اس کو ذاتی املاک کی طرح وارثوں میں تقسیم کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔اس بات کو حضور ؐ نے خود اپنی زندگی ہی میں صاف کردیا تھا:
لَا تَقْتَسِمُ وَرَثَتِیْ دِیْنا رًا وَلَا دِرْھَمًا، مَاتَرُکْتُ بَعْدَ نَفَقَۃِ نِسَائِیْ وَمُؤنَۃَ عَامِلِیْ فَھُوَصَدَقَۃٌ۔ (بخاری،مسلم،مؤطا،مسند احمد)
’’میرے وارث کوئی دینار ودرہم آپس میں تقسیم نہ کریں۔ میں نے جو کچھ چھوڑا ہے،میری بیویوں کا نفقہ اور میرے عامل کا حق الخدمت ادا کرنے کے بعد وہ سب صدقہ ہے۔‘‘
لَا نُوْرَثُ مَا تَرَ کْنَا فَھُوْ صَدَقَۃٌ اِنَّمَا یَاکُلُ اٰل مُحَمَّدٍ مِيْ ھٰذا المالِ لیسَ لَھُمْ اَن یَّزِیْدُوْا عَلَی الْمَاکَلِ۔ (بخاری،مسند احمد،مسلم)
’’ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا،جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے۔محمدؐ کے گھر والے تو اس مال میں سے بس کھالیتے ہیں۔کھانے بھر سے زیادہ لینے کا انہیںحق نہیں ہے۔‘‘
اِن اللّٰہ عزوجل اِذا اَطْعَمَ نَبِیًا طَعْمَۃً ثُمَّ قَبَضَہٗ جَعَلَہٗ لِلَّذِیْ یَقُوْمُ بَعْدَہٗ۔
(مسند احمد، مرویات ابوبکر صدیق ؓ)
’’اﷲ عزو جل کسی نبی کو بسر اوقات کے لیے جو کچھ دیتا ہے وہ اس کی وفات کے بعد اس شخص کے حوالے کردیتا ہے جو اس کا جانشین ہو۔‘‘
اس مال کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایات کچھ خفیہ نہ تھیں بلکہ تمام جلیل القدر صحابہ ؓ ان کو جانتے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمر ؓہی تنہا ان کے راوی نہیں ہیں۔ حضرت علی ؓ، حضرت عباسؓ، حضرت عبدالرحمانؓ بن عوف، حضرت سعدؓ بن ابی وقاص، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت ابو ہریرہ ؓاور تمام ازواجِ مطہراتؓ کی یہ شہادت نہایت مستند روایات سے ہم تک پہنچی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکے کی یہی نوعیت بیان فرمائی تھی۔ اس فرمان مبارک کے ہوتے ہوئے کون شخص یہ تصور کرسکتا ہے کہ حضورؐ کے خلفا آپؐ کی چھوڑی ہوئی جائداد کے معاملے میں کوئی دوسرا فیصلہ کرنے کے مجاز ہوسکتے تھے۔
اب دیکھیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مطالبۂ میراث کس طرح اٹھا اور آپؐ کے خلفا نے اس پر اپنے اپنے زمانوں میں کیا کارروائی کی۔ شرعی قاعدے کے مطابق میراث کامطالبہ کرنے کے حق دار تین فریق ہوسکتے ہیں۔ایک سیّدہ حضرت فاطمۃالزہراہؓ، بیٹی کی حیثیت سے، دوسرے حضرت عباس ؓ چچا کی حیثیت سے ،تیسرے جملہ ازواج مطہراتؓ بیویوں کی حیثیت سے۔ ان میں سے پہلے دو فریقوں یعنی سیّدہ فاطمہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت ابو بکرؓ کے خلیفہ مقرر ہونے کے فوراً بعد خیبر، فدک اور مدینہ طیبہ کی اس تمام جائداد کے متعلق، جو حضورؐ کے تصرف میں تھی، اپنا دعویٰ پیش کیا۔ اور بعض روایات کے مطابق حضرت فاطمہ ؓ نے استدلا ل کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ جب تمہاری وفات کے بعد تمہارا ترکہ تمہارے اہل وعیال ہی میں تقسیم ہونا ہے تو آخرمیرے باپ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی وفات کے بعد ان کے ترکے میںسے مجھے کیوں میراث نہ ملے؟ اس کے جواب میں حضرت ابوبکرؓنے جو کچھ فرمایا،وہ یہ تھا:
اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہ قال لا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ وقالَ لَسْتُ تارِ کًا شیئًا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ یَعْمَلُ بِہٖ اِلاِ عَمِلْتُ بِہٖ فَانِّیْ اخشی اِنْ تَرَکْتُ شَیئًا مِنْ اَمْرِہٖ اَنْ اَزِیْغَ۔ (بخاری،کتاب فرض الخمس، مسند احمد،مرویات ابو بکر صدیق ؓ)
’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہماری وراثت جاری نہیں ہوتی، جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے۔ پھر حضرت ابو بکرؓ نے کہا کہ میں کوئی ایسا کام نہ رہنے دوں گا جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے اورمیں وہ نہ کروں، کیوں کہ مجھے ڈر ہے کہ اگرمیں نے آپؐ کے اوامر میں سے کسی کو بھی چھوڑ دیا تو گمراہ ہوجائوں گا۔‘‘
وَلٰکِنْ اَعُوْلُ مَنْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَعُوْلُہٗ وَاُنْفِقُ عَلٰی مَنْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہﷺ یُنْفِقُ۔ (ترمذی، کتاب السیر،باب ماجا ء فی ترکۃ النبیؐ۔ مسند احمد، مرویات ابو بکر صدیق ؓ)
’’مگر میں ان سب لوگوں کی عیال داری کروں گا جن کی عیال داری رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، اور ان سب لوگوں پر خرچ کروں گا جن پر حضورؐ خرچ فرمایا کرتے تھے۔‘‘
وَاللّٰہِ لَقَر اَبۃُ رَسُوْلِ اللّٰہ اَحَبُّ اِلَیَّ اَنْ اَصِلَ مِنْ قَرَاَبِتیْ۔
(بخاری، کتاب المغازی،باب حدیث بنی النضیر)
’’خدا کی قسم! میرے لیے اپنے رشتہ داروں سے صلۂ رحمی کرنے کی بہ نسبت رسول اﷲؐ کے رشتہ داروں سے صلۂ رحمی کرنا زیادہ محبوب ہے۔‘‘
جناب سیّدہؓ اور حضرت عباس ؓ سے حضرت ابوبکر ؓ کی اس گفتگو کے متعلق جتنی مستند روایات ہم تک پہنچی ہیں،ان میں سے کسی میں بھی یہ بات کہیں اشارتاً یا کنایتاً بھی مذکور نہیں ہے کہ جناب سیدہ ؓ یا حضرت عباس ؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی یہ بات سن کرجواب میں فرمایا ہو کہ آپ نبیؐ کی طرف ایک غلط بات منسوب کررہے ہیں۔ اور ظاہر بات ہے کہ جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس فرمان کی نسبت صحیح تھی تو پھر خلیفۂ رسول کے لیے واجب العمل قانون اس کے سوا اور کوئی نہ ہوسکتا تھا جو رسول پاکؐ سے ثابت تھا۔ آخر اس فرمان کی زدصرف جناب سیدہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما ہی کے مفاد پر تو نہ پڑتی تھی۔خو د خلیفہ کی اپنی صاحب زادی حضرت عائشہ ؓ کا مفاد بھی اسی کی لپیٹ میں آجاتا تھا۔ کیوں کہ وہ بھی اس کی بِنا پر اپنے شوہر کی میراث سے محروم ہوتی تھیں۔ خلیفۂ برحق نے آخر انہی کو اس قانون سے کب مستثنیٰ کیا؟(اِس واقعے کی تفصیل اور مستند روایات کے لیے ملاحظہ ہو:
بخاری: کتاب فرض الخمس۔کتاب فضائل اصحاب النبیؐ۔کتاب المغازی۔کتاب الفرائض۔
مسلم: کتاب الجہاد، باب حکم الفیٔ۔
نسائی: کتاب قسم الفیٔ
ترمذی: کتاب السیر، باب ماجاء فی ترکۃ النبیؐ۔
مسند احمد: مرویات ابی بکر صدیق رضی اﷲ عنہ۔)
اب رہ گیا تیسرا فریق، یعنی ازواج مطہرات کا گروہ،تو اس نے بھی ارادہ کیا تھا کہ حضرت عثمانؓ کو اپنا نمائندہ بناکر حضرت ابوبکرؓ کے پاس بھیجے اور حضورؐ کے ترکے میں سے اپنے آٹھویں حصے کا مطالبہ کرے۔مگر حضرت عائشہ ؓ نے اس کی مخالفت کی اور تمام ازواج مطہرات کو خطاب کرکے فرمایا:
اَلَا تَتَّقِیْنَ اللّٰہَ اَلَمْ تَعْلَمْنَ اَنَّ النَّبِیّ کَانَ یَقُوْلُ لَانُوْرَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ (یُرِیْدُ بِذَالِکَ نَفْسَہ) اِنَّمَا یَأکُلُ اٰلُ مُحَمَّدٍ فِیْ ھَذذا الْمَالِ۔
’’کیا آپ اﷲؐ سے نہیں ڈرتیں ؟کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ ہماری وراثت جاری نہیں ہوتی۔ جو کچھ ہم نے چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے۔محمدؐ کے اہل وعیال تو بس اس مال میں سے کھا سکتے ہیں۔‘‘
حضرت عائشہ ؓ کی یہ بات سن کر سب ازواج مطہرات اپنے دعوے سے دست بردار ہوگئیں۔(ری: کتاب المغازی،باب حدیث بنی النضیر۔کتاب الفرائض،باب قول النبیؐ ، لانورث… مسلم: کتاب الجہاد، باب حکم الفئی مؤطا: باب ماجاء فی ترکۃ النبیؐ)
ایک بات اس سلسلے میں یہ کہی جاتی ہے کہ فدک کے متعلق نبیؐ نے اپنی زندگی میں یہ فیصلہ کردیا تھا کہ وہ حضرت فاطمہ ؓ کو دیا جائے گا۔جناب سیّدہ نے حضرت ابوبکرؓ سے خاص طورپر اسی کا مطالبہ کیا تھا اور شہادت میں حضرت علیؓ اور ام ایمن کو پیش کیا تھا۔لیکن حضرت ابوبکرؓ نے ان کی شہادت قبول نہ کی اور فدک کی جائدادان کے حوالے کرنے سے انکارکردیا۔
مگریہ قصہ حدیث کی مستند روایات میں سے کسی میں بھی مذکور نہیں ہے۔البتہ بلاذری اور ابن سعد نے اسے نقل کیاہے اور ان کے بیان میں بھی کافی اضطراب ہے۔ ابن سعد کی روایت یہ ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے یہ بات خود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی تھی بلکہ ام ایمن سے سنی تھی اور ان ہی کو شہادت میں پیش کردیا۔بخلاف اس کے بلا ذُری کی روایت یہ ہے کہ جناب سیّدہ نے خود یہ دعویٰ کیا تھا کہ میرے والدؐ نے فدک مجھے دیا ہے۔پھر ایک روایت کی رو سے انہوں نے حضرت علیؓاور ام ایمن کو شہادت میں پیش کیا، اور دوسری روایت کی رو سے ام ایمن اور رباح(نبیؐ کے آزاد کردہ غلام) کو۔(طبقات ابن سعد،ذکر میراث النبیؐ ۔فتوح البلدان للبلاذری ،ذکر فدک۔
)
یہ تو ہے اس قصے کی حیثیت باعتبار روایت۔ اب قانونی حیثیت سے دیکھیے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل یا تو ہبہ ہوسکتا تھا یا وصیت۔ اگر کہا جائے کہ ہبہ تھا، تو وہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی ہی میں فدک کا قبضہ حضرت فاطمہ ؓ کودے دیا ہوتا۔ورنہ محض زبان سے کسی چیز کو کسی کے لیے نام زد کردینااور یہ نیت کرنا کہ وہ چیز مالک کے مرنے کے بعد معطیٰ لہ کو ملے گی،ہبہ نہیں بلکہ وصیت ہے۔اب اگر کہاجائے کہ یہ وصیت تھی، تو قرآن مجید میں میراث کا قانون نازل ہوجانے کے بعد آں حضرتؐ خود یہ اعلان فرما چکے تھے کہ ’’لَا وَصِیَّۃَ لَوَارِتٍ‘‘ ‘‘ ’’اب ترکے کی تقسیم کے معاملے میں کسی وارث کے حق میں وصیت نہیںکی جاسکتی۔‘‘پھر یہ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہی اعلان کردہ قانون کے خلاف دوسرے وارثوں کو چھوڑ کر ایک خاص وارث کے حق میںکوئی وصیت فرمائی ہوگی۔
علاوہ بریں ہبہ یا وصیت کے سوال کو نظر انداز کرکے صرف اس شہادت ہی کو دیکھا جائے جو اس دعوے کے ثبوت میں پیش کی گئی تھی تو وہ صریح قرآنی قانون شہادت کے لحاظ سے ناکافی تھی۔ قرآن کی رو سے یا تو دو مردوں کی شہادت معتبر ہے یا ایک مرد اور دو عورتوںکی شہادت۔ جناب سیّدہ(اگر یہ قصہ درست مانا جائے) صرف ایک عورت، یا ایک مرد اور ایک عورت کی گواہی لائی تھیں۔ اس صورت میں قانون کے خلاف فیصلہ کیسے کیا جاسکتا تھا؟ کیا شخصیتوںکو دیکھ کر شہادت کا شرعی نصاب بد ل دیا جاتا؟
اس کے بعد یہ مسئلہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں دوبارہ اٹھا۔ان کی خلافت پر دو سال گزر چکے تھے کہ حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما نے ان کے سامنے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکے کا مسئلہ پیش کیا،اور انہوں نے خیبر وفدک کو مستثنیٰ کرکے مدینے والی جائدا د دونوں صاحبوں کی تولیت میں اس شرط پر دے دی کہ وہ اس کی آمدنی انہی مصارف میںصرف کریں گے جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات طیبہ میں صرف فرماتے تھے۔(بخاری، کتاب فرض الخمس وکتاب المغازی۔مسند احمد،مرویات ابو بکر صدیق ؓ۔ مسلم،کتاب الجہاد، باب حکم الفئی
)لیکن اس کے بعد حضرت علیؓ اورحضرت عباسؓ کے درمیان اس جائداد کے انتظام پر نزاع واقع ہوگئی اور وہ اس قضیے کو لے کر حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے۔ اس کانہایت مفصل قصہ مالکؓ بن اوس بن حدثان کے حوالے سے تمام معتبرکتب حدیث میں روایت ہوا ہے۔
حضرت مالک ؓ کہتے ہیں کہ میںحضرت عمرؓ کے پاس بیٹھا تھاکہ ان کے حاجب نے آکر عرض کیا کہ عثمانؓ بن عفان، عبدالرحمنؓ بن عوف، زبیرؓ بن العوام اور سعدؓ بن ابی وقاص حاضری کی اجازت طلب کرتے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے اجازت دے دی اور وہ تشریف لے آئے۔اس کے تھوڑی دیر بعد وہ پھر آیا اور اطلاع دی کہ عباسؓ بن عبدالمطلب اور علی ؓبن ابی طالب تشریف لائے ہیں اور وہ بھی اجازت کے طالب ہیں۔ حضرت عمرؓ کے اجازت دینے پر دونوں صاحب اندر تشریف لے آئے اور سلام کے بعدبیٹھتے ہی حضرت عباسؓ نے کہا کہ اے امیر المومنین!میرے اور اس کے(اپنے بھتیجے حضرت علیؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا) مقدمے کا فیصلہ فرما دیجیے۔اس کے ساتھ چچا نے بھتیجے کے حق میں کچھ سخت سست الفاظ بھی استعمال کیے۔دوسرے حاضرین نے کہا: واقعی امیر المومنین!ان کا قضیہ بہت طول کھینچ گیا ہے،آپ انہیں اس جھگڑے سے نجات دلایئے۔ حضرت عمرؓ نے کہا ٹھہریے،میں آپ صاحبوں کو اس خدا کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوںجس کے حکم سے زمین وآسمان قائم ہیں،کیا آپ جانتے ہیں کہ رسولؐ اﷲنے فرمایا تھا: ’’ہماری وراثت جاری نہیں ہوتی، جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے؟‘‘چاروں صاحبوںنے کہا:ہاں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا تھا۔ پھر حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓاور حضرت عباسؓ کو اسی طرح اﷲ کا واسطہ دے کر پوچھا:کیا آپ دونوں صاحب جانتے ہیں کہ حضورؐنے ایسا اور ایسا فرمایا تھا؟ دونوں نے جواب دیا: جی ہاں، واقعی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔حضرت عمرؓ نے کہا:اچھا اب میں آپ لوگوںکو اس معاملے کی حقیقت بتاتا ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے فے کے معاملے میں اپنے رسولؐ کو وہ مخصوص اختیارات عطا فرمائے تھے جو کسی دوسرے کو عطا نہیں فرمائے۔ پھرسورہ حشرکی آیت ’’وَمَا اَفَآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ ‘‘آخر تک تلاوت کرکے حضرت عمرؓ نے فرمایا:س آیت کی رو سے یہ اموال فے خالصتاً رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھے۔مگر خدا کی قسم!حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لوگوں کو چھوڑکر ان سب کو اپنے لیے نہیں سمیٹ لیا اور نہ ان کے معاملے میں کوئی خود غرضی برتی، بلکہ انہیں آپ ہی لوگوں میں تقسیم کردیا، یہاں تک کہ تین جائدادیں(مدینہ، فدک اور خیبر والی )بچ گئیں۔ ان جائدادوں میں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنا اور اپنے اہل وعیال کا سال بھر کا نفقہ لے لیتے تھے اور باقی ساری آمدنی انہی کاموں میں صرف فرماتے تھے جن میں اﷲ کا مال صرف کیا جاتا ہے۔ یہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ان اموال کے معاملے میں زندگی بھر رہا ہے۔میں آپ لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ یہ بات آپ سب لوگوں کے علم میں ہے؟ چاروں صاحبوںنے جواب دیا: جی ہاں۔ پھرحضرت عباسؓاور حضرت علیؓ سے مخاطب ہوکر کہا: میں آپ دونوں کو بھی اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں ،آپ یہ بات جانتے ہیں؟انہوںنے جواب دیا :جی ہاں ہم جانتے ہیں۔اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے کہا:پھر اﷲ نے اپنے نبیؐ کو اٹھا لیا اور ابوبکرؓ نے یہ کہہ کر کہ اب میں رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کا ولی ہوں، ان اموال کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور ان کے معاملے میں اسی طریقے پر عمل کیا جس طرح رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔ اﷲ جانتا ہے کہ اس میں ابوبکر ؓ بالکل سچے تھے اور ٹھیک ٹھیک حق کے تابع تھے۔پھر اﷲ نے ابوبکرؓ کو بھی اٹھا لیا اور میں ان کا ولی ہوا۔ میں نے اپنی امارت کے پہلے دو سال تک اموال کو اپنے ہاتھ میںلے کر اسی طرح عمل کیا جس طرح رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکرؓ کرتے تھے۔اﷲ جانتاہے کہ میں بھی اس میں سچا اور تابع حق تھا۔پھر(حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ سے مخاطب ہوکر فرمایا:) آپ دونوں صاحب میرے پاس آئے اور آپ نے مجھ سے اس جائداد کے معاملے میں گفتگو کی۔اس وقت آپ دونوں کے درمیان اتفاق تھا۔اے عباس! آپ نے مجھ سے اپنے بھتیجے کی میراث طلب کی، اور اے علی! آپ نے مجھ سے اپنی بیوی کے واسطے سے ان کے والد کی میراث مانگی۔میں نے آپ سے کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: لَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ لہٰذا اگر آپ چاہیں تو میں اس شرط پر یہ جائداد آپ کے حوالے کرسکتا ہوں کہ آپ اس میں اسی طرح عمل کریں جس طرح رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد ابو بکرؓ عمل کرتے رہے اور خلیفہ ہونے کے بعد سے میں عمل کررہا ہوں ۔لیکن اگریہ شرط آپ کو منظور نہ ہو تو مجھ سے اس معاملے میں بات نہ کیجیے۔ پھر حضرت عمرؓ نے چاروں صاحبوں کو خدا کا واسطہ دے کر پوچھا: کیوں حضرات! میں نے اسی شرط پر یہ جائداد ان دونوں اصحاب کے حوالے کی تھی؟انہوں نے کہا: ہاں۔پھر حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کو بھی اسی طرح خدا کا واسطہ دے کرپوچھا کہ اس جائداد کو حوالے کرتے وقت میری یہی شرط تھی؟انہوں نے بھی اسے تسلیم کیا۔اس کے بعد حضرت عمرؓ نے کہا:اب آپ چاہتے ہیں کہ میں اس سے مختلف کوئی فیصلہ کردوں۔ اس خدا کی قسم جس کے حکم سے زمین وآسمان قائم ہیں،میں کوئی دوسرا فیصلہ نہیں کروں گا،اگر آپ اس شرط پر عمل نہیں کرسکتے تو یہ جائداد میرے حوالے کردیجیے،میں اس کا انتظام کرلوں گا۔(بخاری:کتاب فرض الخمس، کتاب المغازی، کتاب النفقات، کتاب الفرائض،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔
مسلم:کتاب الجہاد۔
ترمذی: کتاب السیر،باب ماجاء فی ترکۃ النبی صلی اﷲ علیہ وسلم۔
ابو دائود: کتاب الخراج والفئی،باب صفایا رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم۔
مسند احمد: مرویات عمر فاروقؓ۔

یہ ہے اس معاملے کی پوری تاریخ جو حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمر ؓ کے زمانے میں پیش آئی۔ اسے دیکھ کر ہر شخص خود رائے قائم کرسکتا ہے کہ اس معاملے میں جو کچھ کیا گیا، وہ ظلم تھا یا عدل اور حق؟ اس کے ساتھ دو باتیں اور بھی ہیں جو صحیح رائے قائم کرنے کے لیے نگاہ میں رہنی چاہییں:
اوّل یہ کہ اصل بحث صرف یہ تھی کہ اس جائداد کو نبیؐ کے بعدمیراث میں تقسیم کیا جاسکتا ہے یا نہیں،یہ بحث نہ تھی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل وعیال اور قرابت داروں کو بیت المال سے نفقہ پانے کا حق ہے یا نہیں؟ تاریخ گوا ہ ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمرؓ نے خود اپنی ذات اور اپنے خاندان والوں سے بدرجہ ہازیادہ ان حضرات کی خدمت کی۔ان کے حق کو ہر دوسرے حق پر مقدم رکھا، اور جو وظائف ان کے لیے جاری کیے ،وہ خیبر اور فدک اور مدینۂ طیبہ کی جائدادوں کے محاصل سے کہیں بڑھ کر تھے۔
دوسری بات جو اس سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے، بلکہ اس مسئلے میں فیصلہ کن ہے،وہ یہ ہے کہ خود سیّدنا حضرت علیؓ جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے بھی اس جائداد کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث قرار دے کر وارثوںمیں تقسیم نہیںکیا بلکہ اسے بدستور وقف فی سبیل اﷲ ہی رہنے دیا۔
سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی میراث ہی تھی تو حضرت علیؓ کے لیے اپنے زمانہ اقتدار میں وارثوں کو اس سے محروم رکھنا کیسے جائز ہوگیا؟اسے ظلم ہی کہنے کو کسی کاجی چاہتا ہو تو پھر اسے اتنا انصاف تو کرنا ہی چاہیے کہ جس جس نے اس کا ارتکاب کیا ہے،ان سب کو ظالم کہے۔ایک ہی فعل پر کسی کے حق میں ایک فیصلہ اور کسی دوسرے کے حق میں دوسرا فیصلہ کرنا حق پرست آدمی کا کام نہیں ہے۔(ترجمان القرآن۔نومبر ۹۵۸اء)

واقعۂ قرطاس کی تحقیق:

سوال: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت مشہور واقعہ قرطاس کی اصل نوعیت کیا ہے؟حضرت عمرؓ کا اس معاملے میں کیا مؤقف ہے؟

جواب: اس واقعے کے متعلق امام بخاریؒ نے کتاب العلم، کتاب الجزیہ اور کتاب المغازی میں، امام مسلمؒ نے کتاب الوصیۃ میں، اور امام احمدؒ نے مسند ابن عباس میں متعدد روایات مختلف سندوں سے نقل کی ہیں جن کا سلسلہ ابن عباسؓ پر تمام ہوتا ہے۔ کسی دوسرے صحابی سے اس باب میں کوئی صریح روایت منقول نہیں ہوئی ہے۔خلاصہ ان سب روایات کا یہ ہے کہ وفات سے چار روز پہلے جمعرات کے دن حضور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم پر مرض کی شدید تکلیف طاری تھی اور آخری وقت قریب معلوم ہورہا تھا۔اس حالت میں آپؐ نے حاضرین سے فرمایا کہ لکھنے کا سامان لائو،میں تمہیں ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔اس وقت گھرمیں بہت سے لوگ جمع تھے۔حضرت عمر ؓ نے کہا رسولؐ اﷲ اس وقت سخت تکلیف میں ہیں،ہمارے پاس قرآن موجود ہے،اﷲکی کتاب ہمارے لیے کافی ہے۔اس پر اختلاف ہوگیا۔بعض لوگوںنے کہا:نہیں، سامان کتابت لے آنا چاہیے تاکہ حضورؐ وہ چیز لکھوا دیں جس کے بعد ہم گمراہ نہ ہوسکیں۔ اور بعض اصحاب نے حضرت عمر ؓ کے خیال کی تائید کی۔ کچھ اور لوگوں نے کہا کہ حضورؐ سے پھر دریافت کرلو،آپؐواقعی کچھ لکھوانا چاہتے ہیں یا یہ بات آپؐ نے غلبۂ مرض کی وجہ سے گھبراہٹ میں فرمائی ہے۔( اصل الفاظ ہیں: مَا شَانُہٗ اَھَجَرَ اِسْتَفْھَمُوْہُ۔ بعض لوگوں نے غلطی سے اَھْجَرَ سمجھ لیا ہے۔ حالاں کہ تمام معتبر روایات میں اَھَجَرَ آیا ہے، یعنی اِس میں ہمزہ استفہام کا ہے۔ اور ھَجَرَ یَھْجُرُ کے معنی ہیں وہ باتیں جو مریض غلبۂ مرض کی حالت میں گھبراہٹ کی وجہ سے یا بے حواسی کے عالم میں کرتا ہے۔
نیز یہ قول کسی روایت میں بھی حضرت عمرؓ کی طرف منسوب نہیں کیا گیا ہے بلکہ قالوا کے ساتھ منقول ہوا ہے۔ یعنی جو لوگ وہاں موجود تھے، ان میں سے بعض نے یہ کہا۔
) اس طرح بعض لوگ آپس میں بحث کرنے لگے اور بعض حضورؐ سے آپؐ کا مدعا پوچھنے میںلگ گئے۔ اس پرحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ذَرونِیْ فَالَّذِیْ اَنَا فِیْہِ خَیْرٌ مِّمَّا تَدْ عُوْنِیْ اِلَیْہِ۔ قُوْمُوْا عَنِّیْ وَلَاَ یْنَبَغِیْ عِنْدِیْ التَّنَازُعَ۔
’’مجھے میرے حال پر چھوڑ دو،میں جس حالت میں ہوں،وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو۔میرے پاس سے اٹھ جائو،میرے پاس جھگڑا کرنا ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
اس کے بعد حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضورؐ نے تین باتوں کی وصیت فرمائی۔ایک یہ کہ مشرکین کو جزیرۂ عرب سے نکال دو۔دوسری یہ کہ جو وفود باہر سے آئیں،ان کی اسی طرح خاطر داری کرنا جس طرح میں کرتاتھا ۔اور تیسری بات یاتو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زبان سے ادا نہ ہوئی،یا راوی سے فراموش ہوگئی۔روایات اس باب میں بھی واضح نہیں ہیں کہ ابن عباسؓ نے اس کو فراموش کیا یا بیچ کے کسی راوی نے۔
یہ ہے کل کائنات اس قصے کی۔اگر کوئی سیدھے طریقے سے بات سمجھنا چاہے تو اصل صورت معاملہ کے سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی۔ اپنے محبوب ترین پیشوا اور رہبر کو دنیا سے رخصت ہوتے دیکھ کر سب لوگوں پر اضطراب کا عالم طاری تھا۔مرض شد ت پکڑ چکا تھا۔سب کی آنکھوں کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سخت کرب کی حالت میں مبتلا تھے۔ابن عباسؓ کا اپناحال یہ تھا کہ اس واقعے کے سال ہا سال بعد ایک روز شاگردوں کے سامنے ان کی زبان پر جمعرات کا لفظ آیا اور یکایک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ شاگردوں نے پوچھا: جمعرات کا کیا قصہ ہے جسے یاد کرکے آپ یوں بد حال ہوئے جا رہے ہیں۔ فرمایا: وہ دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سخت تکلیف کا تھا (اِشْتَدَّ بِالنَّبِیِّ ﷺ وَجْعَہٗ )۔ اس سے انداز ہ کیا جاسکتا ہے کہ عین اس وقت جب کہ حضورؐ پر یہ حالت طاری تھی، آپ کے جاں نثار خادموں پر کیا گزر رہی ہو گی۔ اس حالت میں قلم دوات منگوانے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشافرمایا اور غرض یہ بیان فرمائی کہ ایسی کوئی چیز لکھوا دیں جس سے اُمت بعد میں گمراہ نہ ہونے پائے۔ مرض کی شدت میں ممکن ہے کہ بات صاف بھی زبان مبارک سے ادا نہ ہوئی ہو۔ اسی وجہ سے حاضرین کو شبہ ہوا کہ گھبراہٹ میں آپؐ نے کچھ فرمایا ہے جسے پھر پوچھ کر تحقیق کرنا چاہیے۔ حضرت عمرؓ نے اس موقع پر جو کچھ کہا، اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ ’’حضورؐاس وقت سخت تکلیف میں مبتلا ہیں،اس حالت میں آپؐاُمت کے لیے فکرمند ہورہے اور کچھ لکھوانے کی زحمت اٹھانا چاہتے ہیں، تاکہ لوگ آپؐ کے بعد گمراہ نہ ہونے پائیں۔ لیکن اس وقت آپؐ کو یہ زحمت دینی مناسب نہیں ہے، اُمت کی ہدایت کے لیے قرآن موجود ہے، ان شاء اﷲ وہی گمراہی سے بچانے کے لیے کافی ہو گا۔‘‘ ممکن ہے اس کے ساتھ حضرت عمرؓ کو یہ بھی اندیشہ ہوا ہو کہ اگر تحریر لکھواتے لکھواتے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا وقت آن پورا ہوا ا ور بات اُدھوری رہ گئی تو کہیں وہ اُلٹی فتنے ہی کی موجب نہ بن جائے۔ بہرحال یہ بالکل فطری امر تھا کہ اس موقع پر کوئی علم اور ہدایت کی حرص میں اس بات کا طالب ہوا کہ حضورؐ سے ضرورکچھ لکھوا لیا جائے، اور کسی نے محبت کی وجہ سے بھی اور دور اندیشی کی بِنا پر بھی آپؐ کو یہ زحمت دینا مناسب نہ سمجھا، اور کوئی اس شک میں پڑ گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم واقعی کچھ لکھواناہی چاہتے ہیں یا شدت مرض کی وجہ سے گھبراہٹ میں کچھ فرما رہے ہیں۔ ان تینوں قسم کے لوگوں میں سے کسی کی بات بھی ایسے موقع پر نہ تو خلاف توقع ہی تھی اور نہ اسے نامناسب ہی کہا جاسکتا ہے۔
اب رہ گئی یہ بات کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لکھوانا چاہتے تھے،آیا اس کی نوعیت عام نصائح کی سی تھی یا کسی ایسے اہم حکم کی جسے ثبت کرادینا اُمت کی ہدایت کے لیے ضروری تھا، تو اس کا فیصلہ بعد کے واقعات نے خود ہی کردیا۔حضورؐ اس واقعے کے بعد بھی چار دن تک زندہ رہے۔ ان دنوں میں مرض کی شدت کا حال بھی یکساں نہیں رہا اور اس زمانے میں وہی سب لوگ آپؐ کے پاس بیٹھے بھی نہیں رہے جو جمعرات کے دن اس وقت خاص پر موجود تھے، بلکہ اس مدت میں آپؐ کو مسجد نبوی میں تشریف لے جانے اور جماعت صحابہ ؓ سے خطاب کرنے کا موقع بھی ملا تھا۔ اگر واقعی کوئی اہم حکم ایسا ہوتا جسے ضبط تحریر میں لانا ضروری تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں میں کسی وقت بھی اپنے کاتبوں میں سے،یا خود اہل بیت میں سے کسی کو بلا کر اسے لکھوا سکتے تھے، یا زبانی ارشادفرما سکتے تھے۔اس سے حضرت عمرؓ کے اس موقف کی صحت بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ انہوں نے ٹھیک سمجھا تھا کہ شدت مرض میںاُمت کی فلاح کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فکر مند ہورہے ہیں اور کچھ نصائح لکھوانا چاہتے ہیں،کسی بنیادی مسئلے کا فیصلہ لکھوانا اس حالت میں پیش نظر نہیں ہے۔ اس لیے اس تکلیف اور کرب کے عالم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ زحمت دینا ٹھیک نہیں، ہمیں قلم دوات لانے کے بجائے حضورؐ کویہ اطمینان دلانا چاہیے کہ آپؐ ہمارے لیے پریشان نہ ہوں،آپؐ اپنی اُمت کو وہ کتابِ ہدایت دے کر جارہے ہیں جو ان شاء اﷲاسے کبھی گمراہ نہ ہونے دے گی۔
آخر میں حضرت علیؓ کی بھی ایک روایت ملاحظہ فرمالی جائے،جسے مسند احمد میں نقل کیا گیا ہے۔ اس میں حضرت علیؓ فرماتے ہیں:
اَمَرَنِی اَنْ اتِیْہِ بِطَبقٍ یَکْتُبُ فِیْہِ مَا لَاتَضِلُّ اُمَّۃٌ بَعْدِہٖ قَالَ فَخَشَیْتُ اَنْ تَفُوْتَنِیْ نَفْسُہٗ قَالَ قُلْتُ اِنِّی اَحْفَظُ وَاَعِیْ قَالَ اُوْصِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ وَمَامَلَکَت اَیْمَانُکُمْ۔
’’مجھے نبیؐ نے حکم دیا کہ شانے کی ایک ہڈی لے آئوں تاکہ آپؐاس میں ایک ایسی چیز لکھ دیں جس سے آپؐ کی اُمت آپؐ کے بعد گمراہ نہ ہونے پائے۔ مجھ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں اس کے لاتے لاتے آپؐ کی وفات نہ ہوجائے۔ اس لیے میں نے عرض کیا:آپؐ فرمائیں،میں یاد رکھوں گا۔ اس پر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں وصیت کرتا ہوں نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کرنے کی اور ان غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی جو تمہاری ملک میں ہوں۔‘‘ (ترجمان القرآن۔نومبر ۹۵۸اء)

ابوجہل کی بیٹی کو حضرت علیؓ کا پیغام نکاح:

سوال: اسلام میں جب چار شادیوں کی اجازت ہے تو حضرت فاطمہؓ کی زندگی میں جب علی کرم اللہ وجہہ نے دوسری شادی کرنی چاہی تو رسول ؐاﷲ نے آپ ؓ کو کیوں روک دیا؟ابوجہل کی بیٹی کے خانوادۂ اہل بیت میں آجانے سے اگر کوئی خطرہ تھا تو کیا حضرت ام حبیبہؓ بنت ابی سفیان کے حرم رسالت میں داخل ہونے سے وہی خطرہ نہ تھا؟

جواب: اس واقعے کو امام زین العابدین علی بن حسین ؓ اور ابومُلَیکہ نے حضرت مِسْوَر بن مخرمہ سے روایت کیا ہے، اور اس کی تائید حضرت عبداﷲ بن زبیر کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے۔ نیزابوحنظلہ اور سوید بن غفلہ کی مرسل روایات بھی اس کی موید ہیں۔اما م بخاریؒ نے کتاب فرض الخمس، کتاب فضائل اصحاب النبیؐ اور کتاب النکاح میں، مسلم نے کتاب فضائل الصحابہ میں، ابودائود نے کتاب النکاح میں، ابن ماجہ نے بھی کتاب النکاح میں، ترمذی نے کتاب المناقب میں اور حاکم نے کتاب معرفۃ الصحابہ میں متعدد سندوں سے ان روایات کو نقل کیا ہے۔
تفصیل اس قصے کی یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب ابوجہل کا خاندان مسلمان ہوگیا تو حضرت علیؓ نے اس کی بیٹی سے(جس کا نام کسی نے جویریہ، کسی نے غوراء اور کسی نے جمیلہ بیان کیا ہے) نکاح کرنا چاہا۔لڑکی کے خاندان والوں نے کہا کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی پر بیٹی نہ دیں گے جب تک آپؐ سے پوچھ نہ لیں۔ چنانچہ انہوں نے اس کا ذکر حضورؐ سے کیا۔ ایک روایت کی رو سے خود حضرت علیؓ نے بھی اشارتاًکنایتاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی۔ اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ نے بھی ان باتوں کا چرچا سن لیا اور جاکر اپنے والد ماجد کی خدمت میں عرض کیا کہ ’’آپؐ کی قوم کے لوگ سمجھتے ہیں کہ آپؐ کوا پنی بیٹیوں کی پروا نہیں ہے۔دیکھیے، یہ علی اب ابوجہل کی بیٹی سے شادی کرنے والے ہیں۔‘‘ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبے میں فرمایا:
ان بنی ھشام بن المغیرۃ استأذنونی ان ینکحوا ابنتھم علی بن ابی طالب فلا اٰذن ثم لا اٰذن ثم لا اٰذن الا ان یرید ابن ابی طالب ان یطلق ابنتی وینکح ابنتہم فانما ھی بضعۃ منی یریبنی ما رابہا ویوذینی ما اذاھا ۔
’’بنی ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اس بات کی اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی علی بن ابی طالب کے نکاح میں دیں۔ میں اس کی اجازت نہیں دیتا،نہیں دیتا، نہیں دیتا، الا یہ کہ ابو طالب کا بیٹا میری لڑکی کو طلاق دے کر ان کی لڑکی سے نکاح کرلے۔میری لڑکی میرا ٹکڑا ہے ۔جو کچھ اسے ناگوار ہوگاوہ مجھے ناگوار ہوگا،اور جو چیز اسے تکلیف دے گی وہ مجھے تکلیف دے گی۔‘‘
وانی لست احرم حلالا ولا احل حراما ولٰکن واللّٰہ لا تجتمع بنت رسول اللّٰہ وبنت عدو اللّٰہ ابدًا
’’میں حلال کو حرام اور حرام کوحلال نہیں کرتا، مگر خدا کی قسم، اﷲ کے رسول کی بیٹی اور اﷲ کے رسول کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتی۔‘‘
(وفی روایۃ) ان فاطمۃ منی وانا اتخوف ان تفتن فی دینھا ۔
(ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا:) ’’فاطمہ مجھ سے ہے اور میں ڈرتا ہوں کہ وہ کہیں اپنے دین کے معاملے میں فتنے میں نہ پڑ جائے۔‘‘
اس واقعے پر آدمی کو یہ شبہ لاحق ہوسکتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی بہت سی شادیاں کیں اور عام لوگوں کو بھی چار تک بیویاں بیک وقت رکھنے کی اجازت دی۔ مگر خود اپنی بیٹی پر ایک سوکن کا آنا بھی آپؐ نے گوارا نہ کیا۔ سوکن کے آنے سے جو اذیت آپؐ کی بیٹی کو،اور بیٹی کی خاطرخود آپؐ کو ہوسکتی تھی،وہی اذیت دوسری عورتوں اوران کے ماں باپ کو بھی تو لاحق ہوتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آپؐ نے اپنے حق میں تو اسے برداشت نہ کیا اور دوسروں کے حق میں اسے جائز رکھا۔
بظاہر یہ ایک سخت اعتراض ہے اور معاملے کی سادہ صورت دیکھ کر آدمی بڑی اُلجھن میں پڑ جاتا ہے۔ لیکن تھوڑا سا غور کیا جائے تو اس کی حقیقت سمجھ میں آجاتی ہے۔ یہ بات ناقابل انکار ہے کہ ایک عورت کا شوہر اگر دوسری بیوی لے آئے تو اس عورت کو فطرتاًیہ ناگوار ہوتا ہے اور اس کے ماں باپ ، بھائی بہن اور دوسرے رشتہ داروں کو بھی اس سے اذیت ہوتی ہے۔شریعت نے ایک سے زیادہ نکاحوں کی اجازت اس مفروضے پر نہیں دی ہے کہ یہ چیز اس عورت کو اور اس کے رشتے داروں کو ناگوار نہیں ہوتی جس پر سوکن آئے۔ بلکہ اس امر واقعہ کو جانتے ہوئے شریعت نے اسے اس لیے حلال کیا ہے کہ دوسری اہم تراور معاشرتی مصلحتیں اس کو جائز کرنے کی متقاضی ہیں۔ شریعت یہ بھی جانتی ہے کہ سوکنیں بہرحال سہیلیاں اور شوہر شریک بہنیں بن کر نہیں رہ سکتیں۔ ان کے درمیان کچھ نہ کچھ کش مکش اور چپقلش ضرور ہوگی اور خانگی زندگی تلخیوں سے محفوظ نہ رہ سکے گی۔ لیکن یہ انفرادی قباحتیں اس عظیم تر اجتماعی قباحت سے کم تر ہیں جو یک زوجی کو بطور قانون لازم کرنے سے پورے معاشرے میں پیدا ہوتی ہے۔اسی وجہ سے شریعت نے تعدد ازواج کو حلال قرار دیا ہے۔
اب دیکھیے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں کیا پیچیدگی واقع ہوتی ہے۔شرعاً آپؐ کی بیٹی پر بھی سوکن لانا آپؐ کے داماد کے لیے حلال تھا۔ اسی لیے حضرت علیؓ نے ایسا کرنے کا ارادہ کیا۔ اور اسی وجہ سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ نہیں فرمایا کہ ان کے لیے یہ فعل حرام ہے۔ بلکہ آپؐ نے خود تصریح فرمائی کہ میں حلال کو حرام نہیں کرتا۔ لیکن یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ہی شخصیت میں دو مختلف حیثیتیں جمع تھیں۔ ایک حیثیت میں آپؐ انسان تھے اور فطرتاً یہ ممکن نہ تھا کہ آپؐ کی صاحب زادی کے گھر میں سوکن آنے سے جو تلخی پیدا ہو، اس کا تھوڑا یا بہت اثر آپؐ کی طبیعت پر نہ پڑے۔ دوسری حیثیت میں آپؐ اﷲ کے رسول تھے، اور رسول کی حیثیت سے آپؐ کا مقام یہ تھا کہ آپؐ کے ساتھ اگر کسی شخص کے تعلقات خراب ہوجائیں اور کوئی شخص آپ کے لیے موجب اذیت ہو جائے تو اس کے دین وایمان کی بھی خیر نہ تھی۔ اسی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو بھی اور بنی ہشام بن مغیرہ کو بھی اس کام سے روک دیا۔کیوں کہ اگرچہ شرعاً یہ حلال تھا مگر اس کے کرنے سے یہ اندیشہ تھا کہ یہ چیز حضرت علی ؓ اور ان کی دوسری بیوی اور اس کے خاندان والوں کے ایمان اور ان کی عاقبت کو خطرے میں ڈال دے گی۔
ایک اوربات جس کا حضورؐ نے اپنے خطبے میں ذکر فرمایا، وہ یہ تھی کہ بنی ہشام بن مغیرہ اسلام اور رسولؐ اﷲ کے بدترین دشمن رہ چکے تھے اور فتح مکہ کے بعد تازہ تازہ مسلمان ہوئے تھے۔ خود اس لڑکی کے باپ ابوجہل کے متعلق تو سب کو معلوم ہے کہ حضورؐ کی دشمنی میں وہ تمام کفار سے بازی لے گیا تھا۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ جنگ بدر میں وہ مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا اور اس کا خاندان برسوں اس کے جذبۂ انتقام میں تڑپتا رہا۔ اب اگرچہ یہ لو گ اسلام قبول کرچکے تھے، لیکن یہ تحقیق ہوناابھی باقی تھا کہ یہ قبول اسلام واقعی پورے اخلاص اور قلوب کی مکمل تبدیلی کا ثمرہ ہے یا محض شکست کا نتیجہ۔ اس حالت میں اس خاندان کی لڑکی، اور وہ بھی خاص ابوجہل کی بیٹی کا اس گھر میں سوکن بن کر پہنچ جانا، جہاں رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی ملکۂ بیت تھیں،بڑے فتنوں کا سبب بن سکتا تھا۔ ان لوگوں کی تالیف قلب تو کی جاسکتی تھی اور کی بھی گئی، لیکن اسلام کے ساتھ ان کے تعلق کا حال جب تک ٹھیک ٹھیک معلوم نہ ہوجائے،انہیں عین خاندان رسالت میں گھسا لانا اور خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی کے بالمقابل لاکھڑا کرنا سخت نامناسب اور پُرخطر تھا۔ اس وجہ سے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رشتے کو ناپسند کیا اور علی الاعلان کہا کہ خدا کے رسول کی بیٹی اور خدا کے دشمن کی بیٹی ایک گھر میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ نیز اس بات کی طرف بھی آپؐ نے اشارہ فرمادیا کہ اس سے فاطمہؓ کے فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک شخص کو اپنے بیاہ شادی کے معاملے میں( اگرچہ وہ بجائے خود حلال ہی سہی ) ایسی آزادی نہیں دی جاسکتی جس سے ایک پوری ملت کے لیے فتنہ وشر کا خطرہ پیدا ہوجائے۔
بے شک یہاں یہ اعتراض اٹھ سکتا ہے کہ ابوجہل کے خاندان سے ابوسفیان کا خاندان اسلام کی عداوت میں کچھ کم نہ تھا، پھر اگر ابوجہل کے خاندان کی لڑکی کا خانوادۂ رسالت میں آنا موجب فتنہ ہوسکتاتھا تو ابو سفیان کی صاحب زادی(حضرت ام حبیبہؓ) کا خود نبیؐ کی ازواج مطہرات میں شامل ہوجانا کیوں خطرے سے خالی تھا؟ لیکن دونوں کے حالات کا فرق نگاہ میں ہو تو یہ اعتراض آپ سے آپ ختم ہوجاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ابو جہل کی لڑکی اور ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کا سرے سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ابوجہل کی لڑکی اور اس کے چچا اور بھائی،سب کے سب فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے۔ ان کے بارے میں یہ امتحان ہونا ابھی باقی تھا کہ ان کا ایمان کس حد تک اخلاص پر مبنی ہے اور کہاں تک اس میں شکست خوردگی کا اثر ہے۔ بخلاف اس کے حضرت ام حبیبہ ؓ اس بڑے سے بڑے امتحان سے گزر کر، جو اکابر صحابہ میں سے بھی کم ہی کسی کو پیش آیا تھا، اپنے کمال اخلاص اور اپنی صداقت ایمانی کا پورا ثبوت دے چکی تھیں۔ انہوں نے دین کی خاطر وہ قربانیاں کی تھیں جن کی نظیر مشکل ہی سے کہیں اور نظر آسکتی ہے۔ ذرا غور کیجیے، ابوسفیان کی بیٹی،ہند بنت عتبہ(مشہور ہند جگر خوار) کی لخت جگر، جس کی پھوپھی وہ عورت تھی جسے قرآن میں ’’حما لۃ الحطب ‘‘کاخطاب دیا گیا ہے، جس کا نانا عتبہ بن ربیعہ نبیؐ کا بدترین دشمن تھا۔ اس خاندان سے اور اس ماحول سے نکل کر وہ حضرت عمرؓ اور حضرت حمزہؓ سے بھی پہلے ایمان لاتی ہیں، اپنے شوہر کو مسلمان کرتی ہیں، خاندان والوں کے ظلم وستم سے تنگ آکر مہاجرین حبشہ کے ساتھ ہجرت کرجاتی ہیں۔ حبش جاکر شوہر عیسائی ہوجاتا ہے اور وہ دین کی خاطر اس کو بھی چھوڑ دیتی ہیں۔ غریب الوطنی کی حالت میں تن تنہا ایک چھوٹی سی بچی کے ساتھ رہ جاتی ہیں اور ان کے عزم ایمانی میں ذرّہ برابر تزلزل نہیں آتا۔ کئی برس اس حالت میں جب گزر جاتے ہیں اور ایک بے سہارا خاتون دیار غیر میں ہر طرح کے مصائب جھیل کر یہ ثابت کردیتی ہے کہ دین کو جس پائے کا خلوص، جس مرتبے کی سیرت اور جس درجے کا کردار مطلوب ہے، وہ سب یہاں موجود ہے، تب نبی ؐ کی نگاہ انتخاب ان پر پڑتی ہے اور آپ حبش ہی میں ان کو نکاح کا پیغام بھیجتے ہیں۔ غزوۂ خیبر کے بعد وہ حبش سے واپس آ کر حرم نبوی میں داخل ہوتی ہیں۔ اس کے تھوڑی ہی مدت بعد قریش صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں اور ان کو اندیشہ ہوتا ہے کہ نبیؐ اب مکے پر چڑھائی کردیں گے۔ اس موقع پر ابو سفیان صلح کی بات چیت کے لیے مدینے آتا ہے اور اس امید پر بیٹی کے ہاں پہنچتا ہے کہ اس کے ذریعے سے صلح کی شرائط طے کرنے میں سہولت ہو گی۔ برسوں کی جدائی کے بعد پہلی مرتبہ باپ سے بیٹی کو ملنے کا موقع ملتا ہے، مگر جب وہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کے فرش پر بیٹھنے کاارادہ کرتا ہے تو بیٹی فوراًیہ کہہ کر فرش اٹھا لیتی ہے کہ رسول ؐ کے فرش پر ایک دشمن اسلام نہیں بیٹھ سکتا۔ ایسی خاتون کا خانوادۂ رسالت میں داخل ہونا تو ہیرے کا ہار میں ٹھیک اپنی جگہ پالینا تھا۔ اس سے کسی فتنے کے رونماہونے کا کوئی بعید ترین امکان کیا، وہم بھی نہ ہوسکتا تھا۔ البتہ اس لڑکی کا اس خاندان میں آنا ضرور فتنے کا کے امکانات اپنے اندر رکھتا تھا جسے اور جس کے خاندان کو صرف فتح نے اسلام میں داخل کیا تھا اور اسلام میں آئے ہوئے جس کو ابھی صرف چند مہینے ہی ہوئے تھے۔ اسی کے بارے میں یہ سوال پیدا ہوسکتا تھا کہ اسلام اور نبیؐ کی عداوت کے اثرات سے اس کا اور اس کے خاندان والوں کا دل پوری طرح پا ک ہوا ہے یا نہیں۔ ( ترجمان القرآن۔نومبر ۹۵۸اء)

کیا صحابہ ؓآنحضورؐکی تجہیز وتکفین چھوڑ کر فکر خلافت میں لگے رہے؟

سوال: صحابہ کرامؓ اور خاص طور پر حضرت ابوبکر ؓ وحضرت عمرؓ پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ رسولؐ اﷲ کے کفن دفن میں شریک نہ ہوئے اور خلافت وبیعت کے مسئلے میں اُلجھے رہے۔ حضورؐ کے غسل اور کفن دفن میں شریک ہونا کتنی بڑی سعادت تھی اور خود محبت رسولؐ کا کیا تقاضا تھا؟

جواب: یہ قصہ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ بے گور وکفن پڑا تھا اور صحابۂ کرامؓ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین کی فکر چھوڑ کر خلافت کی فکر میں پڑ گئے ،درحقیقت بالکل ہی بے سروپا داستان ہے۔ اصل واقعات یہ ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پیر کے روز شام کے قریب ہوئی۔بخاری ومسلم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص انس بن مالکؓ نے ’’آخریوم‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس سے یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ سانحۂ عظیم عصر ومغرب کے درمیان پیش آیا تھا۔ فطری بات ہے کہ اس سے پوری جماعت اہل ایمان کے ہوش پراگندہ ہوجانے چاہییں تھے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ حضرت عمرؓ کوتو یہی یقین نہ آتا تھا کہ سرور عالمؐ واقعی وفات پا گئے ہیں۔حضرت ابوبکرؓ نے آکرجب تقریر کی تو لوگوں کو پوری طرح یقین ہوا کہ وہ ناگزیر بات جو پیش آنی تھی، پیش آچکی ہے۔ اتنے میں رات آ گئی۔ یہ ممکن اور مناسب نہ تھا کہ راتوں رات تجہیز وتکفین کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کردیا جاتا۔ کیوں کہ جنازے میں شرکت کی سعادت سے محروم رہ جانا ان ہزاروں مسلمانوں کو ناگوارہوتا جو مدینۂ طیبہ اور اس کی نواحی بستیوں میں رہتے تھے۔ لازماً ان کو شکایت ہوتی کہ آپ لوگوں نے ہمیں آخری دیدار اور نماز جنازہ کا موقع بھی نہ دیا۔ اس لیے رات بہرحال گزارنی تھی۔اس رات صحابہ ؓ کے مختلف گروہ اپنی اپنی جگہ جمع ہوکر سوچ رہے تھے کہ اب کیا ہوگا۔ازواج مطہرات حضرت عائشہؓ کے ہاں گریہ وزاری میں مشغول تھیں جہاں حضورؐ نے وفات پائی تھی۔حضرت علیؓ،حضرت زبیرؓ، حضرت طلحہؓ، اور دوسرے قرابت داران رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام سیّدہ حضرت فاطمۃ الزہراءؓ کے گھر میں جمع تھے۔ مہاجرین کی ایک اچھی خاصی تعداد حضرت ابوبکرؓ کے پاس غمگین ومتفکر بیٹھی تھی۔ انصار کے مختلف گروہ اپنے اپنے قبیلوں کی چوپالوں( سقیفہ کے اصل معنی چوپال ہی کے ہیں) میں اکٹھے ہورہے تھے۔ اتنے میں کسی نے آکر خبر دی کہ بنی ساعدہ کی چوپال میں انصار کا ایک بڑا گروہ جمع ہے اور وہاں رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی کا مسئلہ چھڑ گیا ہے۔ حضرات ابوبکر ؓ، عمرؓ اور ابوعبیدہؓ بن الجراح، جو حضورؐ کے بعد مسلمانوں کی جماعت میں ’’بڑے‘‘ (senior) سمجھے اور مانے جاتے تھے،یہ خبر سن کر فکر مند ہوئے کہ ابھی سردار ملت کی آنکھ بند ہوئی ہے، ساری امت اس وقت بے سر ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی بڑا فتنہ کھڑا ہوجائے اور جماعت کا نظم ازسر نو قائم ہونے سے پہلے ہی بدنظمی اپنے قدم جمالے۔ اس لیے یہ تینوں حضرات فوراً برسر موقع پہنچ گئے اور راتوں رات انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی کے مسئلے کو، جو ایک فتنہ خیز صورت میں طے ہوا چاہتا تھا،اس صحیح شکل میں سلجھا لیا جس کے صحیح ہونے پر تاریخ اپنی مہر تصدیق ثبت کرچکی ہے۔یہ سارا واقعہ اسی رات کا ہے جس کی شام کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تھی۔ رات کو بہرحال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین نہیں کرنی تھی جس کی مصلحت اوپر بیان کی جاچکی ہے۔اسی رات خلافت کا مسئلہ طے کیا گیا۔ صبح سویرے مسجد نبوی میں حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کا اعلان ہوا۔ مہاجرین وانصار سب نے اسے قبول کرکے جماعت کا نظام بحال کردیا اور اس کے بعد بلاتاخیر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین کا کام شروع ہوگیا۔
یہ کہنا بالکل ہی خلاف واقعہ ہے کہ صحابہ کرامؓ اپنی خلافت کی فکر میں لگے رہے اور حضورؐ کی تجہیز وتکفین بس آپ کے اہل بیت نے کی ۔یہ تجہیز وتکفین کسی نے بھی پیر اور منگل کی درمیانی شب میں نہ کی تھی۔ اس کا آغاز منگل کی صبح کو اس وقت ہوا ہے جب کہ حضرت ابوبکرؓ کی بیعت ہوچکی تھی۔ اور یہ کام حضرت عائشہؓ کے حجرے میں ہوا ہے جس کا ایک دروازہ اسی مسجد نبوی میں کھلتا تھا جہاں مدینہ طیبہ کے سارے صحابہ جمع تھے، جہاں گردو نواح کے لوگ وفات کی خبر سن سن کر چلے آرہے تھے، اور جہا ں حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پربیعت کی گئی تھی۔ جن لوگوں کو کبھی مسجد نبوی کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے اور جنہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ حجرۂ حضرت عائشہ (جس میں سرکار مدفون ہیں) اور مسجد نبوی کا مکانی تعلق کیا ہے، وہ یہ بات سن کر ہنس دیں گے کہ صحابہ مسجد نبوی میں اپنی خلافت کی فکر میں لگے ہوئے تھے اور بے چارے اہل بیت حجرۂ عائشہ ؓ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین کررہے تھے۔غلط بات تصنیف کرنی بھی ہو تو اس کے لیے بھی کم ازکم کچھ سلیقہ تو چاہیے ۔
یہ بات کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل وکفن صرف آپؐ کے اہل بیت نے دیا،یہ بھی خلاف واقعہ ہے۔اس خدمت کو انجام دینے والے حضرت علیؓ، حضرت عباسؓ، فضل بن عباسؓ، قثم بن عباسؓ، اسامہ بن زید ؓاور شُقرانؓ(حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ) تھے، اور انہوں نے اس خیال سے حجرے کا دروازہ بند رکھا تھا کہ لوگوں کا ہجوم باہر زیارت کے لیے بے چین کھڑا تھا۔ اگر دروازہ کھلا رہنے دیا جاتا تو اندیشہ تھا کہ زیادہ لوگ اندر آجائیںگے اور کام کرنا مشکل ہوجائے گا۔ پھر بھی انصار نے جب شور مچایا کہ ہمیں بھی تو اس سعادت میں حصہ ملنا چاہیے، تو ان میں سے ایک صاحب(اوس بن خولی) کو اندر بلا لیا گیا۔ کفن پہنانے کے بعد سوال پیدا ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قبر کہاں تیار کی جائے۔حضرت ابوبکر ؓ نے حدیث پیش کی کہ مَا قُبِضَ نَبِیٌّ اِلَّا دُفِنَ حَیْثُ یُقْبَضُ(نبی کا انتقال جہاں ہوتا ہے ،وہیں اس کو دفن کیا جاتا ہے)او ر اسی پر فیصلہ ہوا کہ حجرۂ عائشہ ؓ ہی میں آپؐ کے لیے قبر تیار کی جائے۔ حضرت ابو طلحہ زیدؓ بن سہل انصاری نے قبر کھودی۔ پھر لوگوں نے گروہ در گروہ اندر جاکر نماز جنازہ پڑھنی شروع کی اوررات تک مسلسل یہ سلسلہ چلتا رہا، حتیٰ کہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو نصف شب کے قریب دفن کی نوبت آئی۔معلوم نہیں کہ اس پوری مدت میں آخر وہ کون سا وقت تھا جب صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت بے یارومددگار آپ ؐ کے جسد اطہر کو لیے بیٹھے رہے اور صحابۂ کرامؓ اپنی خلافت کی فکر میں مشغول رہے؟ (ترجمان القرآن۔ نومبر ۹۵۸اء)

اہل سنت اور اہل تَشیُّع کے بعض اختلافی مسائل:

سوال: مندرجہ ذیل سوالات کا جواب دے کر مشکور فرماویں۔ یہ دراصل میرے ایک شیعہ دوست کے اعتراضات ہیں:
(۱) آیت وضو(پارہ ۶۔ رکوع ۲) میں فَاغْسِلُوْا اور وَامْسَحُوْا دو فعل استعمال ہوئے ہیں۔ پہلے سے چہرے اور کہنیوں تک دھونے کا حکم ہے، اور دوسرے سے پیروں اور سر کے مسح کرنے کا حکم ہے۔ سمجھنا یہ مقصودہے کہ اہل سنت پیر دھوتے ہیں،پیروں کا مسح کیوں نہیں کرتے؟ یہ بات کہاں سے ظاہر ہوتی ہے کہ پیر وضو کے آخر میں دھوئے جائیں۔جواب مفصل اور واضح ہونا چاہیے۔
(۲) آیۂ تطہیر میں حضرت علی ؓ شامل ہیں یا نہیں؟اگر ہیں تو فدک کی جائداد مانگتے وقت وہ حق پر تھے یا نہیں؟میں یہ سمجھتا ہوں کہ آیۂ تطہیر میں شامل ہونے کی وجہ سے حضرت علیؓکی طرف سے کسی وقت بھی ایسی بات یعنی مطالبۂ فدک کا گمان نہیں ہوسکتا۔وضاحتاً دو صورتیں پیدا ہیں۔ ایک فدک کا مانگنا، دوسرے فدک کا نہ دیا جانا… ایسی صورت میں صرف ایک ہی چیز درست ہوسکتی ہے۔ یا تومانگنا،یا نہ دیا جانا۔اس میں کون سی چیز صحیح ہے۔ترجمان القرآن بابت ماہ نومبر ۵۸ء میں حضرت علیؓ کی طرف آپ نے یہ کئی جگہ اشارہ کیا ہے کہ حضرت علیؓ کو علم تھا کہ رسولؐ کی میراث نہیں ہوتی، پھر بھی انہوں نے حضرت عمرؓ کے زمانے میں اس کا مطالبہ کیا، یہ کہاں تک درست ہوسکتا ہے؟
(۳) جب معاملۂ خلافت پہلی مرتبہ حضرت ابو بکرؓ کے حق میں مسجد نبوی میں طے ہوا تو کیا اس وقت حضرت علیؓ موجود تھے؟اگر نہیں تو ان کو بلایا گیا یا نہیں؟ کیا کبھی حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کی؟اور کس وقت؟ یہ بھی لکھئے کہ حضرت علیؓ کو کیوں نہ بلایا گیا؟

جواب: آیت وضو(سورۂ مائدہ، رکوع دوم) کے متعلق شیعوں اور سنیوں کے درمیان یہ اختلاف بہت پرانا ہے کہ آیا اس میں پائوں دھونے کا حکم دیا گیا ہے یا ان پر صرف مسح کرنے کا۔ آپ کے دوست کو یہ غلط فہمی ہے کہ قرآن میں صاف پیروں کے مسح کرنے کا حکم ہے اور اہل سنت نے محض حدیث کی بنیاد پر دھونے کا مسلک اختیار کرلیا ہے۔ اگر صاف حکم یہی موجود ہوتا تو پھر کس کی مجال تھی کہ اس کے خلاف عمل کرتا۔ اصل مختلف فیہ سوال تو یہی ہے کہ قرآن فی الواقع دونوں فعلوں میں سے کس کا حکم دیتا ہے اور اس کا حقیقی منشا کیا ہے۔
آیت کے الفاظ یہ ہیں:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ۝۰ۭ المائدہ5:6
’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو جب تم اٹھو نماز کے لیے تو دھوئو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک اور مسح کرو اپنے سروں پر اور اپنے پائوں ٹخنوں تک۔‘‘
اس میں لفظ وَاَ رْجُلکُمْ کی دو قراء تیں متواتر ہیں۔ نافع،ابن عامر،حفص،کسائی اور یعقوب کی قراء ت وَاَ رْجُلَکُمْ (بفتح لام) ہے، اور ابن کثیر، حمزہ، ابو عمرو اور عاصم کی قراء ت وَاَرْجُلِکُمْ (بکسر لام)۔ ان میں سے کسی قراء ت کی حیثیت بھی یہ نہیں ہے کہ بعد میں کسی وقت بیٹھ کر نحویوں نے اپنے اپنے فہم اور منشا کے مطابق الفاظ قرآنی پر خود اعراب لگادیے ہوں،بلکہ یہ دونوں قراء تیں متواتر طریقے سے منقول ہوئی ہیں۔ اب اگر پہلی قراء ت اختیار کی جائے تو وَاَرْجُلَکُمْ کا تعلق فَاغْسِلُوْاکے حکم سے جڑتا ہے اور معنی یہ ہوجاتے ہیں: ’’ اور دھوئو اپنے پائوں ٹخنوں تک‘‘۔ اور اگر دوسری قراء ت قبول کی جائے تو اس کا تعلق وَامْسَحُوْا بِرُئُ وْسِکُمْ سے قائم ہوتا ہے اور معنی یہ نکلتے ہیں: ’’اور مسح کرو اپنے پائوں پر ٹخنوں تک‘‘۔
یہ صریح اختلاف ہے جو ان دو مشہور ومعروف اور متواتر قراء توں کی وجہ سے آیت کے معنی میں واقع ہوجاتا ہے ۔اس تعارض کو رفع کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ دونوں قراء توں کو کسی ایک ہی مفہوم (غسل یامسح) پر محمول کیا جائے۔لیکن اس کی جتنی کوششیں بھی کی گئی ہیں، وہ ہمیں کسی قطعی نتیجے پر نہیں پہنچاتیں۔ کیوں کہ جتنے وزنی دلائل کے ساتھ ان کو غسل پر محمول کیا جاسکتا ہے قریب قریب اتنے ہی وزنی دلائل مسح پر محمول کرنے کے حق میں بھی ہیں۔دوسری صورت یہ ہے کہ محض قواعد زبان کی بِنا پر ان میں سے کسی ایک معنی کو ترجیح دی جائے۔لیکن یہ صورت بھی مفید طلب نہیں،کیوں کہ دلائل ترجیح دونوں پہلوئوں میں قریب قریب برابر ہیں۔ اب آخر اس کے سوا کیا چارہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرامؓ کے عمل کو دیکھا جائے۔
ظاہر ہے کہ وضو کا حکم کہیں خلا میں تو نہیں دیا گیا تھا اور نہ وہ محض قرآن کے مصحف پر لکھا ہوا ہمیں مل گیا ہے۔یہ تو ایک ایسے فعل کا حکم ہے جو پنج وقتہ نمازوں کے موقع پر عمل کرنے کے لیے دیا گیا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود اس پر ہر روز کئی کئی بار عمل فرماتے تھے اور آپ کے متبعین، مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے سب روزانہ اس حکم کی تعمیل اس طریقے پر کرتے تھے جو انہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور عمل سے سیکھا تھا۔آخر ہم کیوں نہ یہ دیکھیں کہ قرآن کے اس حکم پر ہزارہا صحابہ ؓ نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو، اور بعد کے بے شمار مسلمانوں نے صحابہ ؓ کو کس طرح عمل کرتے دیکھا؟قرآن کے الفاظ سے جو بات واضح نہ ہوتی ہو،اسے سمجھنے کے لیے اس ذریعہ سے زیادہ معتبر ذریعہ اور کون سا ہوسکتا ہے۔
اس ذریعۂ علم کی طرف جب ہم رجوع کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ صحابہ کی اتنی کثیر تعداد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پائوں دھونے کے قول اور عمل کو نقل کرتی ہے،اور تابعین کی اس سے بھی زیادہ تعداد صحابہ سے اس کو روایت کرتی ہے کہ اس خبر کی صحت میں شک کرنے کی کوئی گنجایش نہیں رہتی۔ یہ درست ہے کہ کچھ تھوڑی سی روایات مسح کے حق میں بھی ہیں، لیکن ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا عمل مسح کا تھا، بلکہ دو تین صحابیوں کی اپنی رائے یہ تھی کہ قرآن صرف مسح کا حکم دیتا ہے۔ نیز ان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ اگر وضو سے ہوتے اور پھر نماز کے وقت تجدید وضو کرنا چاہتے تو صرف مسح پر اکتفا کرتے تھے۔ دوسری طرف متعدد مستندروایات خود اہل تَشَیُّع کے ہاں ایسی ملتی ہیں جن سے پائوں دھونے کا حکم اور عمل ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً محمدبن نعمان کی روایت ابو عبداﷲؓ سے جس کو کلبی اور ابوجعفر طوسی نے بھی صحیح سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اس میں وہ فرماتے ہیں کہ ’’اگر تم سر کا مسح بھول جائو اور پائوں دھو بیٹھو تو پھر سر کا مسح کرو اور دوبارہ پائوں دھو لو۔‘‘ اسی طرح محمد بن حسن الصفار حضرت زید بن علی سے، وہ اپنے والد امام زین العابدین سے،وہ اپنے والد اما م حسین سے، اور وہ اپنے والد سیدنا علی ؓسے ان کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ’’میں وضو کرنے بیٹھا،سامنے سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں جب پائوں دھونے لگا تو آپؐ نے فرمایا:’’اے علی!انگلیوں کے درمیان خلال کرلو۔‘‘ الشرف الرضی نے ’’نہج البلاغہ‘‘ میں حضرت علیؓ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کی جو کیفیت نقل کی ہے ،اس میں بھی وہ پائوں دھونے ہی کا ذکر فرماتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ روایات کا وزن تمام تر غسل قدمین کے حق میں ہے اور محض مسح کی تائید بہت ہی کم اور سنداً ومعناً کمزور روایتیں کرتی ہیں۔
اب عقل کے لحاظ سے دیکھیے تو پائوں دھونے ہی کا عمل زیادہ معقول اور قرآن کے منشا سے قریب تر محسوس ہوتا ہے۔ وضو میں جتنے اعضا کی صفائی کا حکم دیا گیا ہے، ان میں سب سے زیادہ گندگی اور میل کچیل لگنے کا امکان اگر کسی عضو کو ہے تو وہ پائوں ہی ہیں ۔ اور سب سے کم جس حصۂ جسم کے آلودہ ہونے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، وہ سر ہے۔ یہ عجیب بات ہوگی کہ دوسرے سب اعضا کو تو دھونے کا حکم ہو اور پائوں مسح کے حکم میں سر کے ساتھ شامل کیے جائیں۔ پھر پائوں پر مسح اگر وضو کے آخر میں کیا جائے تو لامحالہ گیلے ہاتھ ہی پھیرنے ہوں گے۔ اس صورت میں پائوں پر جو گرد وغبار یا میل کچیل موجود ہوگا،وہ گیلے ہاتھ پھیرنے سے اور بھی زیادہ گندا ہوجائے گا۔علاوہ بریں اگر آدمی پائوں پر صرف مسح کرے تو آیت کے دو متحمل معنوں میں سے ایک(یعنی غسل قدمین) لازماً چھوٹ جاتا ہے اور صرف ایک ہی مفہوم کی تعمیل ہوتی ہے۔ لیکن اگر آدمی پائوں دھوئے بھی اور اچھی طرح ہاتھوں سے مل کر ان کو صاف بھی کر دے تو آیت کے دونوں مفہوموں پر بدرجۂ اتم عمل ہوجاتا ہے،کیوں کہ اس صورت میں غسل اور مسح دونوں جمع ہوجاتے ہیں۔
البتہ مسح کے حکم پر عمل رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت میں کیا ہے جب کہ آپؐ موزے پہنے ہوئے تھے۔یہ آیت کے دوسرے مفہوم سے بھی مطابقت رکھتا ہے،بکثرت روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے اور سراسر معقول بھی۔ مگر تعجب ہے کہ شیعہ حضرات اسے نہیں مانتے، حالاں کہ یہ ان کے اپنے مسلک سے بھی قریب تر ہے۔
(۲) آیۂ تطہیر میں بلاشبہ حضرت علیؓ شامل ہیں،اور خدا نخواستہ کوئی مومن بھی ان کے رجس(اخلاقی واعتقادی گندگی) میں مبتلا ہونے کا قائل نہیں، بلکہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کے اس مقدمے میں آخر رجس اور طہارت کی بحث پیدا ہونے کاکیا محل ہے۔ نیک نیتی کے ساتھ بھی تو ایک حکم کا منشا سمجھنے اور ایک معاملۂ خاص پر اس کو منطبق کرنے میں ان کے اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمررضی اللہ عنہم کے درمیان اختلاف ہوسکتا تھا۔اس سے لازماًیہی معنی کیوں نکالے جائیں کہ انہوں نے دانستہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میراث رسول کا مطالبہ کیا؟
بہرحال اس معاملے میں دو واقعے ناقابل انکار ہیں۔ ایک یہ کہ اہل بیت کی طرف سے میراث کامطالبہ ہوا،اور اس مطالبے میں سیدہ فاطمہؓ ،حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ تینوں شامل ہیں۔ دوسر ے یہ کہ جب پانچ سال تک حضرت علیؓ خود خلیفہ تھے اور حجاز( جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام متروکہ جائداد واقع تھی)پوری طرح ان کے تحت اختیار تھا، اس وقت انہوں نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تقسیم نہیں کی۔ اب ان دونوں واقعات کی جو توجیہ آپ کے دوست کرنا چاہیں، کر لیں۔ ہم اس کی جو توجیہ کرتے ہیں، اس میں رجس کے کسی شائبے کی گنجایش نہیں پائی جاتی۔ ہمارے نزدیک ابتدائً یہ مطالبہ کسی غلط فہمی کی وجہ سے اٹھا تھا(اورغلط فہمی قطعاًکوئی اخلاقی یا اعتقادی گندگی نہیں ہے)، بعد میں جب حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے پوری طرح اس معاملے کی حقیقت واضح کر دی، تو حضرات اہل بیتؓ بھی مطمئن ہوگئے، ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ حضرت علیؓ اپنے زمانۂ خلافت میں شیخین کے فیصلے کو ناجائز سمجھتے اور پھر بھی اس کو بدل کر حق داروں تک ان کا حق پہنچانے سے احتراز کرتے۔ ہم حضرت علیؓ کو اس سے بالا تر مانتے ہیں کہ وہ ایک چیزکو باطل سمجھتے ہوں اور پھر قصداً اس پر قائم رہیں، اور ایک چیز کو نہ صرف اپنا بلکہ دوسرے حق داروں کا بھی حق جانتے ہوں اور پھر بھی اسے ادا نہ کریں۔یہ بلاشبہ رجس ہے جس کے ادنیٰ غبار سے بھی ہم اہل بیت اطہار کے دامن کو آلودہ نہیں مان سکتے۔
(۳) آپ کے دوست کا تیسرا سوال واقعات سے بے خبری پر مبنی ہے۔ معاملۂ خلافت مسجد نبوی میں نہیں بلکہ سقیفہ بنی ساعدہ میں اس رات طے ہوا تھا جس کی شام کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا۔ اس وقت مہاجرین و انصار میں سے کوئی بھی وہاں بلایا ہوا نہیں گیا تھا۔ دراصل انصار کا ایک بڑا گروہ اس جگہ جمع ہوگیا تھا اور خلافت کے مسئلے کو طے کرنا چاہتا تھا۔جوںہی کہ ان کے اس اجتماع اور ارادے کی اطلاع حضرت ابو بکرؓ ، حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ کو ہوئی، وہ فوراًوہاں پہنچ گئے اور ایک فتنۂ عظیم کا دروازہ بند کرنے کے لیے انہوں نے اسی وقت انصار کی اس جماعت کو سمجھا بجھا کر اس مسئلے کا ایک ایسا فیصلہ تسلیم کرالیا جس میں اُمت کی خیر تھی۔ وہ وقت آدمی بھیج بھیج کر لوگوں کو گھروں سے بلانے کا نہ تھا۔اگر یہ تینوں حضرات ذرا سی تاخیر بھی کر گئے ہوتے تو وہاں مسلمانوں کے درمیان ایک بڑی خانہ جنگی کی بنا پڑ گئی ہوتی، جو بعد کے فتنۂ ارتداد میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے مہلک ثابت ہوتی۔اس حالت میں کوئی صاحب عقل آدمی یہ تجویز لے کر نہیں اٹھ سکتا تھا کہ صاحبو، دو چار روز اس معاملے کو ملتوی رکھو،کل رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین سے فارغ ہوکر ایک کانفرنس کا اعلان کریں گے او رپھر اس میں یہ مسئلہ طے کرلیا جائے گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین کون ہو۔اس طرح کی تجویز پیش کرنے کے معنی یہ ہوتے کہ ایک طرف تو سرکار رسالت مآبؐ کے وفات پا جانے کی خبر عرب کے مختلف حصوں میں اس تصریح کے ساتھ پھیلتی کہ کوئی شخص آپؐ کی جگہ اُمت کا کام سنبھالنے کے لیے مقرر نہیں ہوا ہے، اور یہ چیز ان عناصر کی ہمتیں کئی گنازیادہ بڑھا دیتی جو اسلام کے خلاف بغاوت برپا کردینے کے لیے موقع کے منتظر بیٹھے تھے۔ اور دوسری طرف مجوزہ کانفرنس کے انعقاد سے پہلے انصار کے درمیان یہ رائے پختہ ہوچکی ہوتی کہ خلیفہ یا تو کوئی انصاری ہونا چاہیے ،یا پھر ایک امیر انصار میں سے اورایک مہاجرین میں سے ہونا چاہیے۔ حضرت عمرؓ کی بصیرت اس غلطی کے نتائج کواچھی طرح سمجھ رہی تھی،اس لیے انہوں نے وہیں اسی وقت مسئلے کا تصفیہ کرالینا ضروری سمجھا تاکہ کسی فتنے کو پرورش پانے کا موقع نہ ملے،اور بلا تاخیر اس شخص کی خلافت پر بیعت کرالی جسے تمام عرب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست راست کی حیثیت سے جانتا تھا،جس کے متعلق دوست اور دشمن ،سب ہی یہ رائے رکھتے تھے کہ مسلمانوں میں حضور اکرمؐ کے بعد اگر دوسرے درجے کی کوئی شخصیت ہے تو اسی کی ہے۔
دوسرے روز صبح کو مسجد نبوی میں جو اجتماع ہوا، وہ بیعت عام کے لیے تھا، نہ کہ مسئلۂ خلافت کا تصفیہ کرنے کے لیے، جیسا کہ آپ کے دوست سمجھ رہے ہیں۔ اس وقت خلافت کے اس مسئلے کو جو رات بڑی مشکل سے طے ہوا تھا،ازسر نو بحث کے لیے کھولنے کے کوئی معنی ہی نہ تھے۔ یہ اگر بحث کے لیے کھل سکتا تھا تو اسی طرح کہ عام مسلمان رات کی قرارداد کو قبول کرنے سے انکار کردیتے۔لیکن جب انہیں اس فیصلے سے مطلع کیا گیا تو سب نے اسے بخوشی قبول کرلیا او ربیعت کے لیے ٹوٹ پڑے۔سوال یہ ہے کہ اس قبول عام کی صورت میں آخر کیوں اسے نئے سرے سے ایک تصفیہ طلب مسئلہ بنا کر بحث کے لیے سامنے رکھا جاتا؟
اس اجتماع میں کوئی بھی گھر سے نہیں بلایا گیا تھا۔سارے لوگ دور دور سے آکر اس لیے اکٹھے ہوئے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی خبر سن کر لامحالہ انہیں اسی مسجد نبوی کا رخ کرنا تھا جس سے متصل حجرۂ عائشہؓ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد اطہر آرام فرما تھا۔ آپ کے دوست کے دل میں آخر حضرت علیؓ ہی کے متعلق یہ سوال کیسے پیدا ہوا کہ انہیں وہاں بلایا گیا تھا یا نہیں؟ کیا وہاں اور سب لوگ گھروں سے آدمی بھیج بھیج کر منگوائے گئے تھے؟ اور کیا آپ کے دوست کا خیال یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دوسرے ہی روز حضرت علی ؓصبح کی نماز میں بھی شریک نہ ہوئے اور دن بھر اس مقام سے بھی غائب رہے جہاں سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین اور قبر مبارک کی تیاری کا کام ہورہا تھا؟
آپ کے دوست کا آخری سوال کہ کیا حضرت علیؓ نے کبھی حضرت ابو بکرؓ کی بیعت کی؟ تو اس کا جواب ہے کہ ممدوح نے اسی روز سب مسلمانوں کے ساتھ بیعت کی تھی۔ طبری نے سعیدؓ بن زید کے حوالے سے، بیہقی نے ابو سعید خدری ؓکے حوالے سے، اور موسیٰ بن عقبہ صاحب المغازی نے عبدالرحمانؓ بن عوف کے حوالے سے عمدہ سند کے ساتھ یہ روایات نقل کی ہیں۔ اس کے بعد آںجناب سیّدہ فاطمہؓ کے پاس خاطر سے چھ مہینے خانہ نشین رہے اور پھر ان کی وفات کے بعد دوبارہ تجدید بیعت کرکے کاروبار خلافت میں ویسی ہی دل چسپی لینی شروع کی جیسی ان کے شایان شان تھی۔ طبری نے اپنی تاریخ میں اور علامہ ابن عبدالبر نے الاستیعاب میں یہ واقعہ بھی نقل کیا ہے کہ جب حضرت ابوبکرؓ کی بیعت ہوچکی تو ابو سفیان نے آکر ان سے کہا کہ:’’یہ کیا غضب ہوگیا ؟قریش کے سب سے چھوٹے قبیلے کا آدمی کیسے خلیفہ بنا دیا گیا؟ اے علی! اگر تم چاہو تو خدا کی قسم! میں اس وادی کو سواروں اور پیادوں سے بھر دوں۔‘‘ اس پر انہوں نے جو جواب دیا، وہ سننے کے قابل ہے۔فرمایا: ’’اے ابو سفیان!تم ساری عمر اسلام اور اہل اسلام سے دشمنی کرتے رہے، مگر تمہاری دشمنی سے نہ اسلام کا کچھ بگڑ سکا اور نہ اہل اسلام کا۔ ہم ابو بکرؓ کو اس منصب کا اہل سمجھتے ہیں۔‘‘ (ترجمان القرآن۔فروری ۹۵۹اء)

کیا حضرت علی ؓ مخالفین کے بالمقابل برسر حق تھے؟