دیباچہ

مرکز ِجماعتِ اسلامی اور ادارۂ ترجمان القرآن کو جو سوالات و استفسارات برابر موصول ہوتے رہتے ہیں، وہ اس اعتبار سے بڑی اہمیت رکھتے ہیں کہ وہ بیش تر ایسے مسائل سے متعلق ہوتے ہیں جو ایک طرف موجودہ افکار ونظریات اور دوسری طرف اسلامی اصول وعقائد اور اسلامی طریقہ فکر ونظر کے باہمی تصادم سے پیدا ہوئے ہیں۔ اسلام کو بحیثیت ایک نظام زندگی کے قائم کرنے کی جدوجہد دنیا کے مختلف حصوں میں جس رفتار سے بڑھتی جا رہی ہے اسی رفتار سے ان سوالات کی تعداد اور ان کی گوناگونی میں بھی برابر اضافہ ہو رہا ہے۔
ان سوالات کے جوابات آج عالم اسلامی میں جو لوگ دینے کی اہلیت وصلاحیت رکھتے ہیں ان میں غالباً مولانا سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی کا پایہ اس اعتبار سے بہت اونچا ہے کہ موجودہ زمانے کے ذہن کو اسلام اور اسلامی تعلیمات پرمطمئن کرنے کا اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک خاص سلیقہ عطا فرمایا ہے، اور ان کا یہ فضل وکمال جس طرح ان کی بلند پایہ تصنیفات میں نمایاں ہے، اسی طرح ان جوابات میں بھی نمایاں ہے جو ان کے قلم سے وقتاً فوقتاً ترجمان میں نکلتے رہے ہیں۔ ان کی افادیت کو سامنے رکھ کر ان کا ایک مجموعہ پہلے شائع کیا گیا تھا۔ اب یہ ایک دوسرا مجموعہ شائع کیا جا رہا ہے جو اہمیت وافادیت میں غالباً پہلے سے بھی کچھ بڑھ کر ہی ہے۔

امین احسن اصلاحی
۳۰؍اکتوبر۱۹۵۴ء

چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب:

سوال: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس احادیث کے لیے میرے دل میں احترام کا جذبہ کسی کٹر سے کٹر اہل حدیث سے کم نہیں۔اسی لیے ہر وقت دُعا مانگتا رہتا ہوں کہ خدا مجھے منکرین حدیث کے فتنے سے بچائے۔ لیکن چند احادیث کے متعلق ہمیشہ میرے دل میں شکوک وشبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔اُمید ہے کہ آںجناب ازراہِ کرم ان احادیث اور ان سے متعلق میرے شبہات کو ملاحظہ فرمائیں گے اور ان کی وضاحت کرکے میری پریشانی وبے اطمینانی رفع فرما دیں گے۔شکر گزار ہوں گا۔
اخلاقی لحاظ سے معیوب:
(۱) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے متعلق استفسار کیا گیا تو انھوں نے برتن منگوا کر اور پردہ لٹکا کر اپنے بھائی اور ایک غیر شخص کی موجودگی میں غسل فرمایا۔(بخاری،جلد اوّل صفحہ۳۹)
(۲) حضرت سبرہؓ کی روایت نکاح متعہ کے متعلق کہ ہم دو ساتھی بنی عامر کی کسی عورت کے پاس گئے اور اُسے اپنی خدمات پیش کیں۔ ( مسلم،جلد سوم،صفحہ۴۴۳)
(۳) حضرت جابررضی اللہ عنہ کی روایت کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے عہد میں مٹھی بھر آٹا دے کر عورتوں کو استعمال کرلیتے تھے اور اس حرکت سے ہمیں حضرت عمرؓ نے روکا۔(مسلم،جلد سوم،صفحہ ا۴۴)
(۴) حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے ذی الحجہ کی پانچویں تاریخ کو احرام توڑ کر خوب جماع کیا اورپانچویں دن کے بعد جب ہم عرفہ کے لیے روانہ ہوئے تو تقطر مذاکیرنا المنی۔ (مسلم، جلدسوم، صفحہ۲۷۳)
خلاف علم وعقل:
(۵) حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آفتاب کے متعلق بتایا کہ ڈوبنے کے بعد آفتاب عرش کے نیچے سجدے میں گر جاتا ہے اور صبح تک دوبارہ طلوع ہونے کی اجازت مانگتا رہتا ہے۔(بخاری،جلددوم،صفحہ۳۷)
(۶) حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ کی روایت کے مطابق ایک مرتبہ جہنم نے خدا سے دم گھٹنے کی شکایت کی ا ور سانس لینے کی اجازت مانگی۔اﷲ نے فرمایا تو سال میں دو سانس لے سکتی ہے۔چنانچہ انھی سے دونوںموسم(گرما وسرما) پیدا ہوئے۔(بخاری، جلد دوم، صفحہ۴۳ا)
(۷) مرد کا نطفہ سفید ہوتا ہے اور عورت کا زرد۔انزال کے بعد دونوں قسم کے نطفے مل جاتے ہیں۔ اگر یہ مرکب مائل بہ سفیدی ہو تو بچہ پیدا ہوتا ہے ورنہ بچی۔ (مسلم،جلد اوّل،صفحہ۴۶۸)
(۸) مجامعت کے وقت اگر مرد کا انزال عورت سے پہلے ہو تو بچہ باپ پر جاتا ہے ورنہ ماں پر۔
(بخاری،جلد دوم، صفحہ۴۹ا)
توہین انبیا:
(۹) حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ختنہ اسّی برس کی عمر میں ہوا تھا۔ (بخاری، جلد دوم،صفحہ۵۵ا)
(۱۰) حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ آج رات میں اپنی تمام بیویوں سے،جن کی تعداد ایک سو ایک یا ننانوے تھی،مجامعت کروں گا۔ ہر ایک بیوی سے ایک شہسوار پیدا ہوگا جو خدا کی راہ میں جہاد کرے گا۔ کسی نے کہا ان شاء اﷲ بھی ساتھ کہیے لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام نے پروا نہ کی۔چنانچہ وہ اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک کے سوا کوئی حاملہ نہ ہوئی۔
(بخاری،جلد دوم،صفحہ۹۳)
(۱۱) حضرت حذیفہؓ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھاد کے ایک ڈھیر کے قریب گئے اور میرے سامنے کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔( بخاری، جلد اوّل،صفحہ۳۶)
(۱۲) بخاری میں حضرت ابراہیم علیہ السلام (جنھیں قرآن نے صدیق نبی کا خطاب دیا ہے) کے تین جھوٹ کا ذکر ہے اور یہ تین جھوٹ بھی اس شدید نوعیت کے کہ ان کی وجہ سے وہ قیامت کے دن شفاعت کرنے سے شرمندہ ہوں گے۔ ( مسلم،جلد اوّل،صفحہ۳۷۲)ان میں سے دو واقعات کا ذکر تو قرآن نے بھی کیا ہے۔لیکن تیسرا واقعہ، یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایک زانی بادشاہ کے خوف سے اپنی بیوی کو بہن ظاہر کرنا، تو قرآن میں کہیں مذکور نہیں۔
خلاف انصاف:
(۱۳) ام شریکؓ کی روایت(بخاری جلد دوم،صفحہ۵۰۰) کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا تھا کیوں کہ یہ اُس آگ کو پھونکوں سے بھڑکاتی تھی جس میں ابراہیم علیہ السلام کو پھینکا گیا تھا۔سوال یہ ہے کہ ایک چھپکلی کی پھونکوں میں آگ بھڑکانے کی طاقت کہاں سے آگئی؟ اور پھر ایک چھپکلی کے جرم کے بدلے چھپکلیوں کی ساری نسل کو سزا دینا کہاں کا انصاف ہے؟
(۱۴) ایک روایت کے مطابق عورت،گدھا اور کتا سامنے سے گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
(مسلم،جلد دوم،صفحہ ااا)
متفرق:
(۱۵) اگر مکھی کسی پینے کی چیز میں گر جائے تو اُسے غوطہ دے کر نکالو، کیوں کہ اُس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفا۔ (بخاری، جلد دوم،صفحہ۴اا)
مندرجہ بالا احادیث میں سے اکثر بخاری شریف سے لی گئی ہیں، جو ہمارے عقیدے کے مطابق اصح الکتب بعد کتاب اﷲ ہے۔ براہِ کرم اُس کی بھی وضاحت کردیجیے کہ اصح الکتب کا مطلب آیا یہ ہے کہ بخاری بھی قرآن کی طرح حرفاً حرفاً صحیح اور غیر محرف ہے؟

جواب: آپ کے سوا ل کا جواب دینے سے پہلے یہ شکایت عرض ہے کہ آپ نے تمام احادیث کے حوالے بخاری ومسلم کی جلدوں اور صفحات کے نمبروں کی صورت میں دیے ہیں۔ حالاں کہ ان کتابوں کو دنیا کے بیسیوں مطابع نے مختلف سائزوں پر بارہا طبع کیا ہے، اور ضروری نہیں کہ ان کا جو ایڈیشن آپ کے پاس ہو، وہی دوسروں کے پاس بھی ہو۔ ایسی کتابوں کا حوالہ ہمیشہ ان کی ’’کتاب‘‘ اور باب کے عنوان سے دینا چاہیے تاکہ آسانی سے مطلوبہ حدیث تلاش کی جاسکے۔
آپ کے سوالات دیکھنے سے شبہ ہوتا ہے کہ غالباً آپ نے خود ان کتابوں کا بلاستیعاب مطالعہ نہیں فرمایا ہے بلکہ منکرین حدیث نے فتنہ پردازی کی غرض سے ’’قابل اعتراض‘‘ حدیثوں کی جو فہرستیں مرتب کر کرکے شائع کی ہیں، انھی میں سے کوئی فہرست آپ کی نگاہ سے گزری ہے، اور آپ نے زیادہ سے زیادہ بس اتنی تحقیق کی زحمت اُٹھائی ہے کہ اس فہرست کی حدیثوں کو بخاری و مسلم کے کسی نسخے میں نکا ل کر یہ اطمینا ن کرلیا ہے کہ یہ حدیثیں وہاں موجود ہیں۔ میرے اس شبہے کی بنیاد یہ ہے کہ آپ کی پیش کردہ اکثر احادیث ایسی ہیں جن پر آپ کو اپنے شبہات کا جواب خود اسی کتاب کے اسی باب میں مل جاتااگر آپ پورا باب پڑھنے کی تکلیف گوارا فرماتے۔ بلکہ بعض حدیثوں کے تو آپ نے پورے الفاظ تک نہیں پڑھے ہیں اور ان کا وہی غلط سلط مفہوم نقل کردیا ہے جو اس فتنہ پرداز گروہ نے اپنی طرف سے گھڑ کر بیان کیا ہے۔اس طریقے سے یہ لوگ کم سواد لوگوں کو تو دھوکا دے ہی رہے ہیں، مگریہ دیکھ کر سخت افسوس ہوتا ہے کہ آپ جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی اس آسانی کے ساتھ دھوکا کھا جاتے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ دنیا کے کسی علم وفن کے مسائل پر بھی آدمی اتنے سرسری مطالعے سے کوئی صحیح رائے قائم نہیں کرسکتا جسے آپ حدیث کے معاملے میں کافی سمجھ رہے ہیں؟جس طریقے سے آپ نے حدیث کی چند باتیں سیاق وسباق اور موضوع سے الگ کرکے، اور ان کا بالکل ایک سرسری مفہوم اخذ کرکے نقل کی ہیں،اس طریقے سے تو دنیا کے ہر علم وفن کی کتابوں سے اقتباسات نکال کر محض مضحکہ خیز بنانے کے لیے پیش کیے جاسکتے ہیں۔
اس مختصر تنبیہ کے بعد میں آپ کی پیش کردہ احادیث میں سے ہر ایک پر مفصل کلام کروںگا، تاکہ نہ صرف آپ کو، بلکہ منکرین حدیث کے فتنے سے دھوکا کھانے والے دوسرے اصحاب کو بھی تحقیق کا صحیح طریقہ معلوم ہوسکے۔
(۱)حضرت عائشہؓ کے غسل والی حدیث بخاری کتاب الغسل، باب الغسل بالصاع ونحوہ میں ہے۔اس میں ابو سلمہؓ بیان فرماتے ہیں کہ:’’ میں اور حضرت عائشہ کے بھائی حضرت عائشہؓ کے پاس گئے اور حضرت عائشہؓ کے بھائی نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی بابت دریافت کیا۔اس پر حضرت عائشہؓ نے ایک برتن منگایا جو قریب قریب ایک صاع کے برابر تھا اور انھوں نے غسل کیا اور اپنے سر پر پانی بہایا،اس حال میں کہ ہمارے اوران کے درمیان پردہ تھا۔‘‘
اس حدیث پر اعتراض کرنے والوں کی پہلی غلطی یہ ہے کہ وہ ابو سلمہؓ کا نام پڑھ کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ کوئی غیر شخص تھے،حالاں کہ وہ حضرت عائشہؓ کے رضاعی بھانجے تھے جنھیں حضرت ام کلثومؓ بنت ابی بکر صدیقؓ نے دودھ پلایا تھا۔پس دراصل یہ دونوں صاحب جو حضرت عائشہ ؓ سے مسئلہ پوچھنے گئے تھے،آپ کے محرم ہی تھے،ان میں سے کوئی غیر نہ تھا۔
پھر دوسری غلطی،بلکہ زیادتی وہ یہ کرتے ہیں کہ روایت میں تو صرف ’’حجاب‘‘ یعنی پردے کا ذکر ہے مگر یہ لوگ اپنی طرف سے اس میں یہ بات بڑھا لیتے ہیں کہ وہ پردہ باریک تھا، اور اس اضافے کے لیے وہ دلیل یہ دیتے ہیں کہ اگر باریک نہ ہوتا جس میں سے حضرت عائشہ ؓنہاتی ہوئی نظر آسکتیں تو پھر اُسے درمیان میں ڈال کر نہانے سے کیا فائدہ تھا؟حالاں کہ اگر انھیں یہ معلوم ہوتاکہ اُس وقت مسئلہ کیا درپیش تھا جس کی تحقیق کے لیے یہ دونوں صاحب اپنی خالہ اور بہن کے پاس گئے تھے،تو انھیں اپنے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا اور یہ سوچنے کی ضرورت بھی پیش نہ آتی کہ پردہ باریک ہونا چاہیے تھا۔
دراصل وہاں سوال یہ نہ تھا کہ غسل کا طریقہ کیا ہے،بلکہ بحث یہ چھڑ گئی تھی کہ غسل کے لیے کتنا پانی کافی ہوسکتاہے۔بعض لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ روایت پہنچی تھی کہ آپ ایک صاع بھر پانی سے غسل کرلیتے تھے۔اتنے پانی کو لوگ غسل کے لیے ناکافی سمجھتے تھے اور بنائے غلط فہمی یہ تھی کہ وہ غسل جنابت اور غسل بغرض صفائی بدن کا فرق نہیں سمجھ رہے تھے۔حضرت عائشہؓ نے ان کو تعلیم دینے کے لیے بیچ میں ایک پردہ ڈالا جس سے صرف ان کا سر اور چہرہ ان دونوں صاحبوں کو نظر آتا تھا اور پانی منگا کر اپنے اوپر بہایا۔ اس طریقے سے حضرت عائشہ ان کو دو باتیں بتانا چاہتی تھیں۔ ایک یہ کہ غسل جنابت کے لیے صرف جسم پر پانی بہانا کافی ہے۔دوسرے یہ کہ اس مقصد کے لیے صاع بھرپانی کفایت کرتا ہے۔
اس تشریح کے بعد آپ خود سوچیں کہ اس میں آخر قابل اعتراض کیا چیز ہے جس کی بِنا پر خواہ مخواہ ایک مستند حدیث کا انکار کرنے کی ضرورت پیش آئے اور پھر اُسے تما م حدیثوں کے غیر معتبر ہونے پر دلیل ٹھہرایا جائے؟
(۲،۳) حضرت سبرۃ الجہنی اور حضرت جابرؓ والی حدیثیں، مسلم،باب نکاح المتعہ میں موجود ہیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ معترضین نے صرف اعتراض کی خاطر حدیثیں تلاش کرنی شروع کیں اور اس سلسلے میں ان دونوں حدیثوں کو بھی اپنی فہرست میں ٹانک لیا۔ورنہ اگر وہ جاننے کی کوشش کرتے کہ متعہ کی حقیقت کیا ہے اوراس کے بارے میں فقہا کے درمیان کیا بحثیں پیدا ہوئی تھیں،اور ان بحثوں کا تصفیہ کرنے کے لیے محدثین نے کس مقصد کے لیے وہ تمام روایات اپنی کتابوں میں جمع کیں جو متعہ کے جواز اور حرمت کے متعلق ان کو مختلف سندوں سے پہنچی تھیں، تو شاید وہ ان احادیث پر نظر عنایت نہ فرماتے۔
اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلام سے قبل،زمانۂ جاہلیت میں نکاح کے جو طریقے رائج تھے،ان میں سے ایک ’’نکاح متعہ‘‘ بھی تھا۔یعنی یہ کہ کسی عورت کو کچھ معاوضہ دے کر ایک خاص مدت کے لیے اُس سے نکاح کرلیا جائے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ یہ تھا کہ جب تک اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو کسی چیز کی نہی کا حکم نہ مل جاتا تھا،آپؐ پہلے کے رائج شدہ طریقوں کو منسوخ نہ فرماتے تھے۔ بلکہ یا تو ان کے رواج پر سکوت فرماتے یا بوقت ضرورت ان کی اجازت بھی دے دیتے۔چنانچہ یہی صورت متعہ کے بارے میں بھی پیش آئی۔ابتدائً آپؐ نے اس کے رواج پر سکوت فرمایا، اور بعد میں کسی جنگ یا سفر کے موقع پر اگر لوگوں نے اپنی شہوانی ضرورت کی شدت ظاہر کی تو آپؐ نے اس کی اجازت بھی دے دی،کیوں کہ حکم نہی اُس وقت تک نہ آیا تھا۔ پھر جب حکم نہی آگیا تو آپؐ نے اُس کی قطعی ممانعت فرما دی۔ لیکن یہ حکم تمام لوگوں تک نہ پہنچ سکا اور اس کے بعد بھی کچھ لوگ ناواقفیت کی بنا پر متعہ کرتے رہے۔آخر کار حضرت عمرؓ نے اپنے دور میں اس حکم کی عام اشاعت کی اور پوری قوت کے ساتھ اس رواج کو بند کیا۔
اس مسئلے میں فقہا کے سامنے متعدد سوالات تحقیق طلب تھے۔مثلاًیہ کہ آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اس کی صریح اجازت بھی دی تھی؟ اور اگر دی تھی تو کس موقع پر؟ اور یہ کہ آپؐ نے اسے منع فرمایا ہے یا نہیں؟اور منع فرمایا ہے تو کب اورکن الفاظ میں؟اور یہ کہ آیا اس کی تحریم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا فعل ہے یا حضرت عمرؓ نے اپنی ذمہ داری پر اس رواج کو بند کیا؟یہ اور اس طرح کے متعدد سوالات تھے جن کی تحقیق کے لیے فقہا ومحدثین کو وہ تمام روایات جمع کرنے کی ضرورت پیش آئی جو اس مسئلے سے متعلق مختلف لوگوں کے پاس موجود تھیں۔اسی سلسلے میں امام مسلم نے وہ دو نوں روایات بھی نقل کیں جن کومعترضین نے اعتراض کے لیے چھانٹا ہے۔
ان میں سے ایک حضرت جابر بن عبداﷲ ؓ کی روایت ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر ؓ کے عہد میں متعہ کرتے تھے، پھر حضرت عمرؓ نے اپنے عہد میں اس کی ممانعت کردی۔دوسری حدیث سبرۃ الجہنی کی ہے جو بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی تھی۔ چنانچہ میں نے خود ایک چادر کے عوض ایک عورت سے متعہ کیا، مگر بعد میں اسی غزوے کے زمانے میں آپؐ نے اعلان فرمادیا کہ اﷲ تعالیٰ نے متعہ کو قیامت تک کے لیے حرام کردیا ہے۔ان کے علاوہ اور بہت سی احادیث مسلم اور دوسرے محدثین نے جمع کی ہیں جو اس مسئلے کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر محدثین یہ مواد جمع نہ کرتے تو اسلامی قانون کی تدوین کرنے والے آخر کس بنیاد پر متعہ کے جواز وعدم جواز کا فیصلہ کرتے؟
(۴)حضرت جابر ؓکی یہ روایت مسلم، کتاب الحج،بیان الاحرام میں ہے، جس میں قواعد احرام سے تعلق رکھنے والی روایات جمع کی گئی ہیں۔اس سلسلے میں امام مسلم نے حضرت جابرؓ کی بھی متعدد روایات نقل کی ہیں، جن میں وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ محض حج کی نیت کرکے مدینہ سے نکلے تھے۔جب۴ ذی الحجہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تو آپؐ نے فرمایا کہ تم میں سے جو لوگ ہدی نہیں لائے ہیں،وہ احرام کھول دیں اور اپنی بیویوں کے پاس جائیں۔یہ آپؐ کا حکم نہ تھا بلکہ مقصود یہ بتانا تھا کہ احرام کھول کر تم ایسا کرسکتے ہو۔چنانچہ ہم نے طواف کعبہ اور سعی بین الصفا والمروہ کرکے احرام کھول دیے اور اپنی بیویوں کے پاس گئے۔اس موقع پر جو لوگ احرام کھولتے ہوئے جھجک رہے تھے،انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا کہ میں تم سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہوں۔اگر میں اپنے ساتھ ہدی نہ لایا ہوتا تو میں بھی تمہارے ساتھ ہی احرام کھول دیتا۔اس پر وہ مطمئن ہوگئے اور سب نے ارشاد کی تعمیل کی۔
یہ واقعات حضرت جابرؓ نے جس غرض کے لیے بیا ن کیے تھے وہ یہ تھی کہ بعد میں بھی بہت سے لوگوں کے دلوں میں یہ شک باقی رہ گیا تھا کہ جو شخص احرام باندھ کر حج سے پہلے مکے پہنچا ہو،وہ آیا طواف وسعی کرنے کے بعد حلال ہوسکتا ہے یا نہیں،اور آیا اس کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ حج کا زمانہ آنے پر حرم ہی سے احرام کا آغاز کرے۔اسی شک کو دُور کرنے کے لیے حضرت جابرؓ نے یہ حدیث بیان کی تھی۔ اس حدیث کے اصل الفاظ میں یہ بات کہیں منقول نہیں ہے کہ’’ہم نے خوب جماع کیا اور جب ہم عرفہ کے لیے روانہ ہوئے تو ’’تقطر مذاکیرنا المنی‘‘ بلکہ وہاں توصحابہ کرامؓ کا یہ قول بطور استفہام و استعجاب مذکور ہے: ’’کیا ہمیں عورتوں کے پاس جانے اور پھر عرفہ کے لیے روانہ ہونے کا حکم ہے درآں حالے کہ ’’تقطر مذاکیرنا‘‘؟
(۵)حضرت ابو ذرؓ کی یہ حدیث بخاری کتاب بدء الخلق، باب صفت الشمس والقمر میں ہے۔اس کا جوخلاصہ آپ نے دیا ہے،وہ صحیح نہیں ہے۔اس کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ’’نبیؐ نے فرمایا: ’’جانتے ہو سورج غروب ہوکر جاتا کہاں ہے؟‘‘میںنے عرض کیا: ’’اﷲ اوراُس کا رسولؐ زیادہ جانتے ہیں۔‘‘فرمایا: ’’وہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اور اجازت مانگتا ہے۔(یعنی پھر مشرق سے طلوع ہونے کی)اور اُسے اجازت دے دی جاتی ہے۔ایک وقت آئے گا کہ وہ سجدہ کرے گا اور اجازت مانگے گا مگر اجازت نہ ملے گی اور حکم ہوگا کہ پلٹ جا اور وہ مغرب سے طلوع ہوگا۔پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی:وَالشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَــقَرٍّ لَّہَا۝۰ۭ ذٰلِكَ تَــقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِــيْمِo یٰسٓ 38:36
اس میں دراصل جو مضمون بیان کیا گیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ’’سورج ہر آن اﷲ تعالیٰ کے حکم کا تابع ہے،اُس کا طلوع بھی اﷲ ہی کے حکم سے ہوتا ہے اور اُس کا غروب بھی۔‘‘ سورج کا سجدہ کرنا ظاہر ہے کہ اس معنی میں نہیں ہے جس میں ہم نماز میں سجدہ کرتے ہیں، بلکہ اس معنی میں ہے جس میں قرآن دنیا کی ہر چیز کو خدا کے آگے سربسجود قرار دیتا ہے،یعنی کلیتاً تابع امر ربّ ہونا۔ پھر سورج کا مغرب بھی ایک نہیں ہے بلکہ قرآن کی رُو سے بہت سے مغرب ہیں،کیوں کہ وہ ہر آن ایک خطہ ٔ زمین میں غروب اور ہر آن دوسرے خطے میں طلوع ہوتا ہے۔اس لیے اجازت مانگ کر طلوع وغروب ہونے کا مطلب ہر آن امر الٰہی کے تحت ہونا ہے۔ رہا اس کا کسی وقت مغرب سے طلوع ہونا،تو یہ بھی کوئی بعید بات نہیں ہے۔ہر وقت اس امر کا امکان ہے کہ دنیا کا قانون جذب وکشش یکایک ایک پلٹی کھا جائے اور سیاروں کی رفتار بالکل اُلٹ جائے۔طبیعیات اور ہیئت کے ماہرین میں سے کوئی بھی اس قانون کو اٹل نہیں مانتا اور نہ اس میں تغیر واقع ہونے،یا اس کے بالکل درہم برہم ہوجانے کو ناممکن سمجھتا ہے۔
رہا یہ امر کہ اس حدیث میں طلوع وغروب کو سورج کی گردش کا نتیجہ سمجھا گیا ہے نہ کہ زمین کی گردش کا، تو اس پر اعتراض کرنے والے کو دو باتیں اچھی طرح جان لینی چاہییں۔ اوّل یہ کہ انبیا علیہم السلام طبیعیات اور ہیئت اور کیمیا کے مسائل بتانے کے لیے نہیں آئے تھے بلکہ عرفان حقیقت بخشنے اور فکر وعمل کی تصحیح کرنے کے لیے آئے تھے۔ان کاکام یہ بتانا نہ تھا کہ زمین حرکت کرتی ہے یا سورج، بلکہ یہ بتانا تھا کہ ایک ہی خدا زمین اور سورج کا مالک وفرماںروا ہے اور ہر چیز ہر آن اسی کی بندگی کررہی ہے۔دوسرے یہ کہ یہ بات حکمت تبلیغ کے بالکل خلاف ہے کہ مبلغ کے اپنے زمانے میں جو علم اشیا موجود ہو، اس کو چھوڑ کر وہ ہزارہا سال بعد کے علم اشیا کو تعلیم حقیقت کا ذریعہ بنائے۔ اسے جن حقائق کو ذہن نشین کرنا ہوتا ہے،ان کی تفہیم کے لیے اُس کو لامحالہ اپنے زمانے ہی کے مواد علمی سے کام لینا پڑتا ہے،ورنہ اگر وہ ان معلومات سے کام لے جو صدیوں بعدانسان کے علم میں آنے والی ہوں تو اُس کے معاصرین اُس کی اصل تعلیم کو چھوڑ کر اس بحث میںلگ جائیں کہ یہ شخص کس عالم کی باتیں کررہا ہے اور ان میں سے ایک شخص بھی اُس کی تبلیغ سے متاثر ہوکر نہ دے۔اب یہ آپ خود سوچ لیں کہ اگر کسی نبی کی تعلیم اُس کے معاصرین ہی کی سمجھ میں نہ آتی اور اُس کے عہد کے ہی لوگوں میں مقبول نہ ہوتی، تو وہ بعد کی نسلوں تک پہنچتی کیسے؟ اب سے ڈیڑھ ہزار برس پہلے اگر اوپر والی حدیث کا مضمون اس ڈھنگ سے بیان کیا جاتا کہ سننے والا طلوع وغروب کا سبب سورج کے بجائے زمین کی حرکت کو سمجھتا تو بے شک آج کے لوگ اُسے علم کا ایک معجزہ قرار دیتے،مگر آپ کا کیا خیال ہے کہ خود اُس زمانے کے لوگ اس معجزۂ علمی کا استقبال کس طرح کرتے؟اور پھر وہ اصل بات بھی کہاں تک ان کے دل ودماغ میں اُترتی جو اس مضمون میں بیان کرنی مقصود تھی؟اور جب کہ اس عہد کے لوگ ہی ایسے ’’علمی معجزات‘‘ کی بدولت ایمان لانے سے محروم رہ جاتے تو یہ معجزے آپ تک پہنچتے ہی کیا کہ آپ ان کی داد دیتے؟
(۶) حضرت ابو ہریرہؓ کی یہ روایت بخاری کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب الابراد بالظہر فی شدت الحر میں ہے۔اس کا خلاصہ بھی آپ نے صحیح بیا ن نہیں کیا ہے۔ اس کا صحیح ترجمہ یہ ہے: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرمی کا زورہو تو ظہر کی نماز ٹھنڈی کرکے پڑھو(یعنی دیر کرکے پڑھو جب کہ گرمی کی شدت میں کمی ہوجائے) کیوں کہ گرمی کی شدت جہنم کی پھونک سے ہے۔جہنم نے اپنے ربّ سے شکایت کی اور کہا کہ اے رب! میرے اجزا ایک دوسرے کو کھائے جاتے ہیں۔اس کے ربّ نے اُسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی۔ایک مرتبہ جاڑے میں اور دوسری مرتبہ گرمی میں۔گرمی کا سانس اس شدید ترین گرمی جیسا ہوتا ہے جو تم لوگ موسم گرما میں پاتے ہو،اور سردی کا سانس اس شدید ترین سردی جیسا ہوتا ہے جو تم موسم سرما میں پاتے ہو۔‘‘
اس حدیث پر اعتراض کرنے سے پہلے اس امرطبیعیات پر غورکرلیجیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مقصد اِ س بیان سے آخر کیا ہوسکتا تھا؟ کیا یہ آپ ایک عالم طبیعیات کی حیثیت سے موسمی تغیرات کے وجوہ بیان فرمانا چاہتے تھے؟یا یہ کہ آپ ایک نبی کی حیثیت سے گرمی کی تکلیف محسوس کرنے والوں کو جہنم کا تصور دلانا چاہتے تھے؟جس شخص نے بھی قرآن اور سیرت نبی پر کچھ غور کیا ہوگا،وہ بلا تأمُّل کہہ دے گا کہ آپؐ کی حیثیت پہلی نہ تھی،بلکہ دوسری تھی، اور گرمی کی شدت کے زمانے میں ظہر کی نماز ٹھنڈی پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے آپؐ نے جو کچھ فرمایا، اس سے آپؐ کامقصد دوزخ سے ڈرانا اور ان کاموں سے روکنا تھا جو آدمی کو دوزخ کا مستحق بناتے ہیں۔ اس لحاظ سے آپؐ کا یہ ارشاد قرآن کے اس ارشاد سے ملتا جلتا ہے جو غزوۂ تبوک کے موقع پر فرمایا گیا تھا کہ
وَقَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ۝۰ۭ قُلْ نَارُ جَہَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا۝۰ۭ التوبہ 81:9
’’انھوں نے کہا کہ اس شدید گرمی میں جہاد کے لیے نہ نکلو۔اے نبی!ان سے کہوکہ جہنم کی آگ اس گرمی سے زیادہ گرم ہے۔‘‘
جس طرح یہاں قرآن علم طبیعیات کا کوئی مسئلہ بیان نہیں کررہا ہے،اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی طبیعیات کا درس دینے کے لیے نہیں ہے۔ قرآن دنیا کی گرمی کا جہنم کی گرمی سے مقابلہ اس لیے کررہا ہے کہ پس منظر میں وہ لوگ موجود تھے جو اس گرمی سے گھبرا کر جہاد کے لیے نکلنے سے جی چرا رہے تھے۔اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی دنیا کی شدید گرمی اور شدید سردی کودوزخ کی محض دو پھونکوں کے برابر اس لیے بتا رہے ہیں کہ پس منظر میں وہ لوگ موجود تھے جو جاڑے میں صبح کی اورگرمی میں ظہر کی نماز کے لیے نکلنے سے گھبراتے تھے۔چنانچہ مسند احمد میں زیدؓ بن ثابت کی یہ روایت آئی ہے کہ
لم یکن یصلی صلٰوۃ اشد علی اصحاب رسول اللّٰہ ﷺ منہا
’’ظہر کی نماز سے بڑھ کر کوئی نماز اصحاب رسول اﷲ پر شاق نہ تھی۔‘‘
اوراس کا اندازہ ہر وہ شخص کرسکتا ہے جس نے گرمی کے زمانے میں عرب کی دوپہر کبھی دیکھی ہو۔
اس کے بعد اب حدیث کے اصل الفاظ کی طرف آئیے۔’’فان شدۃ الحرمن فیح جھنم‘‘
(گرمی کی شدت جہنم کی پھونک سے ہے۔)کے معنی لازماً یہی نہیں ہیں کہ دنیا میں گرمی جہنم کی پھونک کی وجہ سے ہوتی ہے، بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ جہنم کی پھونک کی قسم یا جنس سے ہے۔اس لیے کہ عربی زبان میں لفظ مِنْ بیان جنس کے لیے بکثرت استعمال ہوتا ہے اور خود قرآن مجید میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، جیسے:’’ما یفتح اللّٰہ للناس من رحمتہ مھما تاتنا بہ من آیۃ‘‘ اور فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ الحج 22:30
رہا آخری فقرہ، تو اس میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ دنیا میں گرمی اور جاڑے کے موسم دوزخ کی ان دو پھونکوں کے سبب سے آتے ہیں، بلکہ الفاظ یہ ہیں:
فاذن لھا بنفسین، نفس فی الشتاء ونفس فی الصیف اشد ما تجدون من الحرواشد ما تجدون من الزمہریر ۔
’’پس اس کے ربّ نے اس کو دو سانسوں کی اجازت دی،ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں،جو اس شدید ترین گرمی جیسا ہے جو تم پاتے ہو اور اس شدید ترین سردی جیسا ہے جو تم پاتے ہو۔‘‘
(۷،۸)یہ حدیثیں مسلم نے کتاب الحیض، باب صفۃ منی الرجل والمرأۃ میں، بخاری نے کتاب العلم، کتاب الغسل،کتاب الادب اور کتاب الانبیاء کے مختلف ابواب میں نقل کی ہیں۔ مگر آپ نے ان کا مفہوم بھی غلط نقل کیاہے۔ اصل بات جو مختلف روایتوں میں بیان ہوئی،وہ یہ ہے:
اُم سلیم نے آکر نبیؐ سے دریافت کیا کہ اگر عورت خواب میں وہ کچھ دیکھے جو مرد دیکھا کرتا ہے(یعنی اُس کو احتلام ہو) تو کیا کرے؟ آپؐ نے فرمایا غسل کرے۔ اس پر حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کیا’’عورت کو بھی یہ معاملہ پیش آتا ہے؟‘‘ان کا مطلب یہ تھا کہ کیا عورت کو بھی ا نزال اور احتلام ہوا کرتا ہے؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:
نعم فمن این یکون الشبہ ان ماء الرجل غلیظ ابیض وماء المرأۃ رقیق اصفر فمن ایھما علا اوسبق یکون منہ الشبہ ۔
’’ہاں،ورنہ آخر بچہ ماں کے مشابہ کیسے ہوجاتا ہے؟ مرد کا پانی گاڑھا سپیدی مائل ہوتا ہے اور عورت کاپانی پتلا زردی مائل۔پھر ان میں سے جو بھی غالب آجاتا ہے،یا جو بھی سبقت لے جاتا ہے،بچہ اُسی کے مشابہ ہوتا ہے۔‘‘
ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک خاتون کے سوال پر حضرت عائشہؓ نے بھی اسی طرح کے تعجب کا اظہارکیا تھا اور اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
وھل یکون الشبہ لابن قبل ذالک اذا علاماء ھا ماء الرجل اشبہ الولد اخوا لہ واذا علاماء الرجل ماء ھا اشبہ الولد اعمامہ۔
’’اور کیا بچے کا ماں کے مشابہ ہونا اس کے سوا کسی اور وجہ سے ہوتا ہے؟جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو بچہ اپنی ننھیال پر جاتا ہے، اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے تو بچہ ددھیال پر جاتا ہے۔‘‘
ایک اور روایت میں ہے کہ ایک یہودی عالم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اولادکے بارے میں سوال کیا تو آپؐ نے جواب میں فرمایا:
ماء الرجل ابیض وماء المرأۃ اصفر فاذا اجتمعوا فعلا منی الرجل منی المرأۃ اذکرا باذن اللّٰہ واذا اعلا منی الرجل انثا باذن اللّٰہ ۔
’’مرد کا پانی سفیدی مائل اور عورت کا پانی زردی مائل ہوتا ہے۔جب یہ دونوں ملتے ہیں اور مرد کی منی عورت کی منی پر غالب آتی ہے تو اﷲ کے حکم سے بیٹا ہوتا ہے، اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آتی ہے تو اﷲ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے۔‘‘
آپ نے خدا جانے کس لفظ کا مطلب یہ سمجھا کہ’’اگر یہ مرکب مائل بہ سفیدی ہو تو بچہ ہوتا ہے ورنہ بچی‘‘اور یہ کس عبارت کا ترجمہ آپ نے فرمایا ہے کہ’’اگر مجامعت کے وقت مرد کا انزال عورت سے پہلے ہو تو بچہ باپ پر جاتا ہے ورنہ ماں پر‘‘؟اصل مضمون جو ان احادیث میں بیان ہوا ہے اگر اُس کے خلاف علم وعقل کی کوئی شہادت موجود ہو توضرور پیش فرمائیں۔
(۹)اس معنی کی روایات بخاری کی کتاب الانبیاء،کتاب الاستیذان اورکتاب العقیقہ میں موجود ہیں، مگر ہر جگہ اختتن کے الفاظ ہیں، جو صریح طورپر اس مفہوم کے محتمل ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ختنے خود اپنے ہاتھ سے کرلیے۔ اور جب کہ یہ کام ایک شخص خود بھی کرسکتاہے توآخر کیوں یہ معنی لیے جائیں کہ۸۰برس کی عمر کے شخص نے جراح کو بلا کر یہ کام کرایا ہوگا۔ پھر مسندابی یعلی کی روایت میں اس کی جو تفصیل آئی ہے،وہ بالکل بات واضح کر دیتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ کام خود کرلیا تھا۔اس میں یہ بیان ہوا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اﷲ کی طرف سے حکم ہوا کہ ختنہ کرو تو انھوں نے ایک قدوم(بڑھئی کے کام کا ایک آلہ) لے کر ختنہ کرلیا۔اس سے ان کو سخت تکلیف ہوئی۔اﷲ کی طرف سے وحی آئی کہ ابراہیم! تم نے جلدی کی ورنہ ہم تمھیں خود اس کا آلہ بتادیتے۔انھوں نے عرض کیا:اے ربّ! میں نے پسند نہ کیا کہ تیرے حکم کی تعمیل میں دیر کروں۔ (فتح الباری،جلد۶،صفحہ۲۴۵)
(۰ا) اس مضمون کی احادیث بخاری کتاب الانبیاء، کتاب الجہاد اور کتاب الایمان والنذور میں موجود ہیں۔ان مختلف احادیث میں سے کسی میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی بیویوں کی تعداد۶۰، کسی میں۷۰،کسی میں ۹۰،کسی میں۹۹اور کسی میں۰۰ابیان کی گئی ہے اور سب کی سندیں مختلف ہیں۔اتنی مختلف سندوں سے جو بات محدثین کو پہنچی ہو،اُس کے متعلق یہ کہنا تو مشکل ہے کہ وہ بالکل ہی بے اصل ہوگی،لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کو سمجھنے میں حضرت ابو ہریرہؓ سے کوئی غلطی ہوئی ہے، یا وہ پوری بات سن نہیں سکے ہوں گے۔ممکن ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی بہت سی بیویاں تھیں جن کی تعداد یہودی ۶۰، ۷۰، ۹۰، ۹۹ اور ۱۰۰ تک بیان کرتے ہیں اور حضرت ابوہریرہؓ نے سمجھا ہو کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا بیان ہے۔اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے قول کو اس طرح بیان کیا ہو کہ’’میں اپنی بیویوں کے پاس جائوں گا اور ہر بیوی سے ایک مجاہد پیدا ہوگا‘‘ اور حضرت ابو ہریرہؓ یہ سمجھے ہوں کہ’’ایک رات میں جائوں گا۔‘‘ اس طرح کی غلط فہمیوںکی مثالیں متعدد روایات میں ملتی ہیں جن میں سے بعض کو دوسری روایتوں نے صاف کر دیا، اور بعض صاف ہونے سے رہ گئیں۔ زبانی روایتوں میں ایسا ہوجانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ اور اس طرح کی چند مثالوں کو لے کر پورے ذخیرۂ احادیث کو ساقط الاعتبار قرار دینا کسی معقول آدمی کا کام نہیں ہوسکتا۔
رہا ان شاء اﷲ کا معاملہ، تو یہ کسی روایت میں بھی نہیں کہا گیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جان بوجھ کر ان شاء اللہ کہنے سے احتراز کیا تھا۔اس لیے اس میں توہین انبیا کا کوئی پہلو نہیں ہے۔یہ الفاظ آپ نے آخر کس روایت میں دیکھے ہیں ’’کسی نے کہا،ان شاء اﷲ بھی ساتھ کہیے، لیکن آپ نے پروا نہ کی؟‘‘حدیث میں جو الفاظ آئے ہیں وہ یہ ہیںکہ:
فقال لہ صاحبہ ان شاء اللّٰہ فلم یقل
’’ان کے ساتھی نے ان سے کہا ان شاء اﷲ، مگر انھوں نے نہ کہا۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت سلیما ن علیہ السلام کے منہ سے یہ بات نکلی تو پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص نے خود کہا’’ان شاء اﷲ‘‘اور حضرت سلیمانعلیہ السلام نے اس کے کہہ دینے کو کافی سمجھ لیا اور اپنی زبان سے اس کا اعادہ نہ کیا۔
(۱۱)یہ حدیث بخاری کتاب الوضو کے متعدد ابواب میں آئی ہے،اورحدیث کی دوسری کتابوں میں بھی موجود ہے، مگر کسی میں بھی حضرت حذیفہؓ کے یہ الفاظ نہیں ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’میرے سامنے کھڑے ہوکر پیشاب کیا‘‘۔ کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ یہ الفاظ آپ کو کہاں ملے؟ان کے تو اصل الفاظ یہ ہیں کہ’’ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلے جارہے تھے کہ راستے میں آپؐ ایک کوڑے کے ڈھیر کی طرف گئے جو ایک دیوار کے پیچھے تھا اور آپؐ کھڑے ہوئے جیسے تم میں سے کوئی کھڑا ہوتا ہے اور آپؐ نے پیشاب کیا۔ میں ہٹ کر دُور جانے لگا تو مجھے آپؐ نے اشارہ کیا اور میں آپؐ کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔یہاں تک کہ آپؐ فارغ ہوگئے۔‘‘اس سے تویہ معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیوار اور ڈھیر کے درمیان کھڑے ہوکر پیشاب کیا تاکہ دونوں طرف سے پردہ رہے،اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو روک کر پیچھے کھڑا کیا۔ کیوں کہ اس صورت میں نظر آنے کا کوئی امکان نہیں رہتا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مستند روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ بیٹھ کر ہی پیشاب کرتے تھے۔مگر اس موقع پر آپؐ نے کسی عذر کی وجہ سے ایسا کیا تھا اور حضرت حذیفہؓ نے یہ روایت اس لیے بیان کی تھی کہ ان کے زمانے میں بعض لوگ کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کو قطعی ناجائز قرار دینے لگے تھے۔
(۲ا)یہ روایات بخاری کتاب احادیث الانبیاء اور مسلم باب اثبات الشفاعۃ میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری کتب حدیث میں بھی آئی ہیں۔ان سب روایات کی اسنادکو، ان کی کثرت طرق کو دیکھنے کے بعد اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں رہتا کہ حضرت ابو ہریرہؓ ہی ان کے راوی ہیں،کیوں کہ اتنے کثیر راویوں کے بارے میں، خصوصاً جب کہ ان میں سے اکثر وبیش تر ثقہ تھے،یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ انھوں نے ایک صحابی کا نام لے کر قصداً ایک غلط روایت تصنیف کی ہوگی۔رہے حضرت ابو ہریرہؓ ،تو ان پر ہم یہ شبہ تک نہیں کرسکتے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی غلط بات منسوب کریں گے۔لیکن ہمارے لیے ان راویوں کو جھوٹا ماننا جس قدر مشکل ہے،اُس سے بدرجہ ہا زیادہ مشکل یہ باور کرنا ہے کہ ایک نبی نے جھوٹ بولا ہوگا، یا نبیؐ نے معاذ اﷲ، ایک نبی پر دروغ گوئی کا جھوٹا الزام لگایا ہوگا۔اس لیے لامحالہ ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ اس معاملے میں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے جس کی بنا پر نبیؐ کا ارشادصحیح طورپر نقل نہیں ہوا۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابراہیمعلیہ السلام کے جو تین’’جھوٹ‘‘ اس روایت میں بیان ہوئے ہیں،ان میں سے دو تو قطعاً جھوٹ نہیں ہیں،اور تیسرا جھوٹ دراصل بنی اسرائیل کا جھوٹ ہے جو انھوں نے بائبل میں ایک جگہ نہیں،بلکہ دو مقامات پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کیا ہے۔
پہلے دو واقعات خود قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں،مگر نہ ان میں سے کسی کو اﷲ تعالیٰ نے جھوٹ قرار دیا اور نہ صورت واقعہ سے ان کے جھوٹ ہونے کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔پہلا واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کنبے قبیلے کے لوگ اپنے ایک مشرکانہ میلے کے لیے شہر سے باہر جانے لگے تو آپؑ یہ عذر کرکے پیچھے ٹھہر گئے کہ ’’ انِّیْ سَقِیْمٌ‘‘ (میں بیمار ہوں)۔ اس کو جھوٹ قرا ردینے کے لیے کسی مستند ذریعے سے یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس وقت بالکل تندرست تھے، کسی قسم کی شکایت ان کو نہ تھی۔ لیکن یہ بات نہ اﷲ نے بتائی نہ اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ پھر اُسے آخر کس بنا پر جھوٹ کہا جائے؟دوسرا واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلا م نے اپنی قوم کے بت خانے میں گھس کر بڑے بت کے سوا باقی سارے بت توڑ دیے تو قوم کے لوگوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر شبہ ظاہر کیا۔ چنانچہ وہ بلائے گئے اور ان سے پوچھا گیا کہ تم نے ہمارے خدائوں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے؟انھوں نے جواب دیا:
بَلْ فَعَلَہٗ۝۰ۤۖ كَبِيْرُہُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْہُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَo الانبیائ 63:21
’’بلکہ یہ فعل ان کے اس بڑے نے کیا ہے،ان زخمی بتوں سے پوچھ لواگر یہ بول سکتے ہیں‘‘
اس فقرے کے الفاظ خود بتارہے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ بات ایک جھوٹے بیان کی حیثیت سے نہیں بلکہ شرک کے خلاف ایک دلیل کی حیثیت سے فرمائی تھی۔ان کا مدعا دراصل پوچھنے والوں کو اس حقیقت پر متنبہ کرنا تھا کہ تمہارے یہ کیسے خدا ہیں جوبے چارے اپنی داستانِ مصیبت تک نہیں سنا سکتے،اور تمہارا یہ بڑا خدا کیسا ہے جس کے متعلق تم خود جانتے ہو کہ یہ کسی فعل پر قادر نہیں ہے۔اس بات کو تو کوئی معمولی سخن فہم آدمی بھی جھوٹ نہیں کہہ سکتا،کجا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بدگمانی کریں کہ آپؐ نے اسے جھوٹ قرار دیا ہوگا۔
رہا تیسرا’’ جھوٹ‘‘ تو وہ دراصل ان مہمل افسانوں میں سے ایک ہے جو بائبل میں انبیا علیہم السلام کے نام پر گھڑے گئے ہیں۔بائبل کی کتاب پیدایش میں یہ واقعہ ایک جگہ نہیں بلکہ دو جگہ بیان کیا گیا ہے۔پہلا واقعہ مصر کا ہے اور وہ بائبل کے الفاظ میں یہ ہے:
’’ اُس نے اپنی بیوی سارہ سے کہا کہ دیکھ میں جانتا ہوں کہ تو دیکھنے میں خوبصورت عورت ہے، اور یوں ہوگا کہ مصری تجھے دیکھ کر کہیں گے کہ یہ اس کی بیوی ہے،سو وہ مجھے تومار ڈالیں گے مگر تجھے زندہ رکھ لیں گے۔ سو تو یہ کہہ دینا کہ میں اس کی بہن ہوں…مصریوں نے اُس عورت کو دیکھا کہ وہ نہایت خوب صورت ہے…اور وہ عورت فرعون کے گھر میں پہنچائی گئی… پر خداوند نے فرعون اور اُس کے خاندان پر ابرام کی بیوی کے سبب سے بڑی بڑی بلائیں نازل کیں،تب فرعون نے ابرام کو بلا کر اُس سے کہا کہ تو نے یہ مجھ سے کیا کیا؟تو نے مجھے کیوں نہ بتایا کہ یہ تیری بیوی ہے؟تو نے یہ کیوں کہا کہ وہ میری بہن ہے؟اسی لیے میں نے اسے لیا کہ وہ میری بیوی بنے۔‘‘ (باب۱۲، آیات ۱۱تا۲۰)
لطف یہ ہے کہ خود بائبل ہی کے بیان کے مطابق اُس وقت حضرت سارہ کی عمر ۶۵سال تھی۔اس کے بعد دوسرا واقعہ فلسطین کے جنوبی علاقے کا بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے:
’’ابرہام نے اپنی بیوی سارہ کے حق میں کہا کہ وہ میری بہن ہے اور جرار کے بادشاہ ابی ملک نے سارہ کو بلوالیا۔لیکن رات کو خدا ابی ملک کے پاس خواب میں آیا اور اُسے کہا کہ دیکھ، تو اس عورت کے سبب سے جسے تو نے لیا،ہلاک ہوگا، کیوں کہ وہ شوہر والی ہے…اور ابی ملک نے ابرہام کو بلا کر اُس سے کہا کہ تو نے ہم سے یہ کیا کیا، اور مجھ سے تیرا کیا قصور ہوا کہ تو مجھ پر اور میری بادشاہی پر ایک گناہ عظیم لایا؟‘‘ (باب۲۰،آیات۲تا۶ا)
بائبل کے اپنے بیان کی رُو سے اُس وقت حضرت سارہ کی عمر۹۰سال تھی۔یہ دونوں قصے خود بتا رہے ہیں کہ یہ سراسر جھوٹے ہیں، اور ہم کسی طرح یہ باور نہیں کرسکتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی ہوگی۔
اب ایک شخص یہ سوال کرسکتا ہے کہ اگر یہ تینوں باتیں ازروئے درایت غلط ہیں تو اہل روایت نے ان احادیث کو اپنی کتابوں میں درج ہی کیوں کیا؟اس کا جواب یہ ہے کہ درایت کا تعلق احادیث کے نفس مضمون سے ہے،اور روایت کا تعلق تمام تر سند سے۔ اہل روایت نے جو خدمت اپنے ذمے لی تھی،وہ دراصل یہ تھی کہ قابل اعتماد ذرائع سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سے متعلق جتنا مواد ان کو بہم پہنچے،اُسے جمع کردیں۔ چنانچہ یہ خدمت انھوں نے انجام دے دی۔ اس کے بعد یہ کام اہل درایت کا ہے کہ وہ نفس مضمون پر غور کرکے ان روایات سے کام کی باتیں اخذ کریں۔اگر اہل روایت خود اپنی اپنی فہم کے مطابق درایت کا کام بھی کرتے اور مضامین پر تنقید کرکے ان ساری روایتوں کو ردّ کرتے جاتے، جن کے مضمون ان کی انفرادی رائے میں مناسب نہ ہوتے،توہم اس بہت سے مواد سے محروم رہ جاتے جو مجموعۂ احادیث مرتب کرنے والوں کے نزدیک کام کا نہ ہوتا اور دوسرے بہت سے لوگوں کے نزدیک کا م کا ہوتا۔ اس لیے یہ عین مناسب تھا کہ اہل روایت نے زیادہ تر تنقید اسناد تک اپنے کاموں کو محدور رکھا اور تنقید مضامین کی خدمت انجام دینے والوں کے لیے معتبر اسناد سے بہم پہنچایا ہوا مواد جمع کردیا۔
(۳ا) یہ حدیث بخاری، کتاب بدء الخلق،باب خیر مال المسلم غنم یتبع بہا شف الجبال اور کتاب احادیث الانبیاء،باب ما قال اللّٰہ تعالٰی واتخذاللّٰہ ابراہیم خلیلا میں آئی ہے۔ اس مضمون کی تمام احادیث کو جمع کرنے سے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ نبیؐ نے ’’وزغ‘‘(وزغ کے اصل معنی گرگٹ کے ہیں نہ کہ چھپکلی۔) کو موذی جانوروں میں سے قرار دیا تھا۔(حدیث میں آتا ہے کہ نبیؐ نے چند جانوروں کو فواسق (موذی) قرار دے کر فرمایا تھا کہ انھیں حرم میں اور حالت احرام میں مار دینے کی بھی اجازت ہے، بچھو، بائولا کتا اور چوہا بھی ان میں شامل ہے۔)اور بعض روایات کی رُو سے یہ بھی فرمایا تھا کہ دوسرے موذی جانوروں کی طرح اسے بھی مار دیا جائے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ کی صحیح ترین روایت جو بخاری میں آئی ہے،اُس میں وہ فرماتی ہیں:
ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال الوزغ الفویسق ولم اسمعہ امر بقتلہٖ ۔
’’نبیؐ نے وزغ کو فویسق(موذی) فرمایا۔ مگر میں نے نہیں سنا کہ آپؐ نے اُسے مار ڈالنے کا بھی حکم دیا ہو۔‘‘
دوسری ایک روایت جو مسند احمد اور ابن ماجہ میں حضرت عائشہؓ سے مروی ہے، اس میں مار دینے کا بھی ذکر ہے اور حضرت ابراہیمعلیہ السلام پر آگ پھونکنے کا بھی،مگر جیسا کہ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں لکھا ہے: والذی فی الصحیح اصح یعنی صحیح بخاری والی روایت ہی زیادہ صحیح ہے۔
پھر بخاری کی اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ وزعم سعد بن ابی وقاص اَن النبیﷺ امر بقتلہ۔ یعنی’’سعدؓ بن ابی وقاص کا دعویٰ یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے مارڈالنے کا حکم دیا۔‘‘ لیکن اس روایت میں یہ تصریح نہیں ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص سے یہ بات کس نے سنی۔ دار قطنی میں یہ روایت اس طرح ہے کہ عن ابن شھاب عن سعد بن ابی وقاص۔ مگر ابن شہاب نے حضرت سعدؓ کو نہیں دیکھا۔ اس لیے یہ روایت منقطع ہے۔
آخر میں اُم شریک کی روایت آتی ہے جس میں مار ڈالنے کے حکم کی بھی تصریح ہے اور اس وجہ کی بھی کہ یہ جانور حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ پھونکتا تھا۔ممکن ہے اس میں دو چیزیں خلط ملط ہوگئی ہوں۔ایک اس جانور کا موذی ہونا جو صحیح ترین روایت کی رُو سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔دوسرے اس کے بارے میں آگ پھونکنے کا وہ قصہ جو عوام میں مشہور تھا۔ تاہم اگر صحیح بات وہی ہو جو ام شریک والی روایت میں آئی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ گرگٹ کی پوری نسل کو اس لیے مارڈالا جائے کہ اس کے ایک فرد نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ بھڑکائی تھی۔بلکہ اس کامطلب یہ ہے کہ وہ ایک موذی جانور ہے اور اس کو دوسرے موذی جانوروں کی طرح انسان سے دشمنی ہے۔ چنانچہ سار ے جانوروں میں سے یہی وہ جانور تھا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو اس نے اُس آگ کو پھونکنے کی کوشش کی۔یہاں یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ گرگٹ کی پھونک میں آگ بھڑکانے کی طاقت کہاں سے آئی۔اس لیے کہ حدیث میں سرے سے یہ کہا ہی نہیں گیا ہے کہ وہ آگ اس کے بھڑکانے سے بھڑکی تھی۔
(۱۴)یہ روایت مسلم،کتاب الصلوٰۃ،باب سترۃ المصلّٰی میں ہے۔اس میں امام مسلم نے وہ پورا مواد جمع کیا ہے جو سترے کے مسئلے سے متعلق ان کو معتبرسندوں سے پہنچا تھا، اور اس کے سارے پہلو ہمارے سامنے رکھ دیے ہیں۔اس کی کسی ایک روایت کو لے کر کوئی نتیجہ نکال بیٹھنا صحیح نہیں ہے،بلکہ ساری روایتوں پر جامع نگاہ ڈالنے ہی سے آدمی صحیح نتیجہ اخذ کرسکتا ہے۔ اصل بات جو ان احادیث سے معلوم ہوتی ہے، یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازی کو اپنے آگے سترہ( سترہ اس چیز کو کہتے ہیں جسے کھلی جگہ پر نماز پڑھتے وقت ایک آدمی اس غرض سے سامنے رکھ لیتا ہے کہ وہ آگے سے گزرنے والوں کے اور اس نمازی کے درمیان آڑ کا کام دے۔
) رکھنے کا حکم دیا تھا اور اس کی وجہ سمجھاتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ اگر آدمی سترہ رکھے بغیر نماز کے لیے کسی کھلی جگہ کھڑا ہوجائے گا تو عورتیں،کتے،گدھے سب اُس کے سامنے سے گزریں گے۔اس بات کو سن کر بعض لوگ اس مسئلے کو یوں بیان کرنے لگے کہ عورت،کتے اور گدھے کے گزرنے سے نماز قطع ہوجاتی ہے۔ یہ باتیں جب حضرت عائشہ ؓکو پہنچیں تو انھوں نے فرمایا: ’’ان المرأۃ لدابۃ سوء(پھر تو عورت بڑی بُری جانور ہوئی)،عدلتمونا بالکلاب والحمر(تم لوگوںنے تو ہم کو گدھوں اور کتوں کے برابر کردیا)، ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یصلی من اللیل وانا معترضۃ بینہ وبین القبلۃ کاعتراض الجنازۃ(نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو رات کو نماز پڑھتے تھے اور میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح پڑی ہوتی تھی)۔
(۱۵) اس مضمون کی روایات بخاری نے کتاب بدء الخلق اور کتاب الطب میں نقل کی ہیں۔ نیز ابن ماجہ، نسائی،ابو دائود اور دار قطنی میں بھی یہ موجود ہیں۔بعض شارحین نے اس حدیث کے الفاظ کو ٹھیک ان کے لغوی معنی میں لیا ہے اور اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ فی الواقع مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں اس کا تریاق پایا جاتا ہے،اس لیے جب یہ کسی کھانے پینے کی چیز میں گر جائے تو اسے ڈبو کر نکالا جائے۔( جدید طبی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مکھی کے پروں میں ایک خاص قسم کے جراثیم ہوتے ہیں جن کو جراثیم کش یا جراثیم خور (Bacteriophge) کہا جاتا ہے۔ یہ مکھی کے جسم کے دوسرے جراثیم کو بآسانی ہلاک کر سکتے ہیں۔
) اور بعض نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ نبیؐ دراصل اس بے جا غرور کا علاج کرنا چاہتے تھے جس کی بنا پر بعض لوگ دودھ کے اس پیالے یا سالن کی اُس پوری رکابی سے ہاتھ اُٹھا لیتے ہیں جس میں مکھی گری ہو، اور پھریا تو اُسے پھینک دیتے ہیں،یا اپنے خادموں کو کھانے کے لیے دے دیتے ہیں۔اس طرح کے لوگوں کا غرور توڑ نے کے لیے آپؐ نے فرمایا کہ مکھی اگر تمہارے کھانے میں گر جائے تو اُسے ڈبو کر نکالو اور پھر اس کھانے کو کھائو۔اس کے ایک پر میں بیماری ہے، یعنی کبر وغرور کی بیماری جو اُسے دیکھ کر تمہارے نفس میں پیدا ہوتی ہے، اور دوسرے پر میں اس کا تریاق،یعنی اس کبرو غرور کا علاج جس کی وجہ سے تم ایسے کھانے کو پھینک دیتے ہو یا اپنے خادموں کو کھلاتے ہو۔ اس معنی کی تائید وہ احادیث بھی کرتی ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں تھوڑا سا کھانا چھوڑ کر اُٹھ جانے کو ناپسند فرمایا ہے اور حکم دیا ہے کہ اپنی رکابی کو صاف کرکے اُٹھو۔اس حکم کی وجہ بھی یہی ہے کہ جو شخص اس طرح برتن میں کچھ چھوڑ کر اُٹھتا ہے،وہ گویا یہ چاہتا ہے کہ یا تو اس بقیہ کھانے کو پھینک دیا جائے یا اُسے کوئی دوسرا کھائے۔
آخری سوال جو آپ نے بخاری کے’’اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ ہونے کے بارے میں کیا ہے،اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ یقینی ذریعے سے تو ہم کو کتاب اﷲ پہنچی ہے،کیوں کہ اسے ہزارہا آدمیوں نے بتواتر نقل کیا ہے۔مگر اس کے بعد جس کتاب کے مندرجات ہم کو معتبر ترین سندوں سے پہنچے ہیں، وہ بخاری ہے، کیوں کہ دوسری تمام کتابوں کی بہ نسبت اس کتاب کے مصنف نے سندوں کی جانچ پڑتال زیادہ کی ہے۔ یہ صحت کا حکم صرف اسناد سے متعلق ہے اور یقینا بالکل صحیح ہے۔ رہی مضامین کی تنقید بلحاظ درایت، تو اس کے متعلق میں اوپر اشارہ کرچکا ہوں کہ یہ کام اہل روایت کے فن سے بڑی حد تک غیر متعلق تھا،اس لیے یہ دعویٰ کرنا صحیح نہیں کہ بخاری میں جتنی احادیث درج ہیں،ان کے مضامین کو بھی جوں کا توں بلاتنقید قبول کرلینا چاہیے۔
اس سلسلے میں یہ بات بھی جان لینے کی ہے کہ کسی روایت کے سنداً صحیح ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا نفس مضمون بھی ہرلحاظ سے صحیح اور جوں کا توں قابل قبول ہو۔ ہم کو خود اپنی زندگی میں بارہا اس کا تجربہ ہوتا رہتا ہے کہ ایک شخص کی گفتگو کو جب سننے والے دوسروں کے سامنے نقل کرتے ہیں تو صحیح روایت کی کوشش کرنے کے باوجود ان کی نقل میں مختلف قسم کی کوتاہیاں رہ جاتی ہیں۔مثلاً کسی کو پوری بات یاد نہیں رہتی اور وہ اُس کا صرف ایک حصہ نقل کرتا ہے۔کسی کی سمجھ میں بات اچھی طرح نہیں آتی،اس لیے وہ ناقص مفہوم ادا کرتا ہے۔ کوئی دوران گفتگو میں کسی وقت پہنچتا ہے اور اس کو معلوم نہیں ہوتا کہ پہلے کیا بات ہورہی تھی۔اس طرح کے متعدد نقائص ہونے کی وجہ سے بسا اوقات نیک نیتی اورصداقت کے باوجود قائل کی بات اپنی صحیح صورت میں نقل نہیں ہوتی۔ اور ایسا ہی معاملہ حالات اور افعال کی رودادیں بیان کرنے میں بھی پیش آیا کرتا ہے۔کبھی ان نقائص کو دوسری روایتیں رفع کردیتی ہیں اور سب کو ملا کر دیکھنے سے پوری تصویر سامنے آجاتی ہے۔ اور کبھی ایک ہی روایت موجود ہوتی ہے(جسے اصطلاح علم حدیث میں غریب کہتے ہیں) اس لیے وہ نقص علم روایت کی مدد سے رفع نہیں کیا جاسکتا اور درایت سے کام لے کر یہ رائے قائم کرنی پڑتی ہے کہ اصل بات کیا ہوسکتی تھی، یا یہ کہ یہ بات اپنی موجودہ صورت میں قابل قبول ہے یا نہیں، یا یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج اور اندازِ گفتگو سے یہ چیز مناسبت رکھتی ہے یا نہیں۔اس حد تک حدیث میں تحقیق کرنے کی صلاحیت جن لوگوں میں نہ ہو،انھیں اوّل تو حدیث کی کتابیں پڑھنی ہی نہیں چاہییں،یا پڑھیں تو کم ازکم ان کو فیصلے صادر نہ کرنے چاہییں۔

(ترجمان القرآن،محرم وصفر۳۷۲اھ، اکتوبر ونومبر۹۵۲اء)

کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟

سوال: یہاں کیمبل پور میں ایک صاحب علم نے پچھلے ماہ رمضان میں ایک فتنہ کھڑا کیا تھا کہ رمضان کے بارے میں سورۂ بقرہ کی آیات بیک وقت نازل ہوئی تھیں اس لیے اﷲ نے شروع میں جو رعایت دی ہے کہ’’جو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں،اور پھر نہ رکھیں، تو وہ فدیہ ادا کریں‘‘،یہ ایک اٹل رعایت ہے اور اب بھی اس سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔اس کی حمایت میں ایک آیت۸۳ا کے آخری حصے کو پیش کیا گیا کہ اگر روزہ رکھو تو بہتر ہے اور نہ رکھو تو فدیہ ادا کردو۔ان کا کہنا تھاکہ آیت ۸۴ا پہلی آیات کے ساتھ ہی نازل ہوئی تھی،وہ پہلی آیات کی رعایت کو کیسے چھین سکتی ہے۔
آپ کی تفسیر کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ آیات۸۲او ۸۳ا تو جنگ بدر سے پہلے ۲ ہجری میں نازل ہوئیں اور آیت۸۴ا ایک سال بعد نازل ہوئی۔اگریہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ جائے تو پھر ان کے اس خیال کی تردید ہوسکتی ہے کہ آج بھی ایک تندرست ہٹا کٹا انسان فدیہ دے کر روزے کی فرضیت سے بچ سکتا ہے۔
مذکورۂ بالا صاحب اپنے آ پ کو علم حدیث کے استاد اور قرآن کے مفسر سمجھتے ہیں اور ہر دو کے متعلق اپنے افکار وخیالات دنیا کے سامنے پیش کرچکے ہیں۔آپ براہ مہربانی کچھ تکلیف گوارا کرکے ان کتب کا حوالہ دے دیں جن سے آپ کو ثبوت ملا ہو کہ آیات ۱۸۲ اور ۱۸۳ تو ۲ ہجری میں جنگ بدر سے پہلے نازل ہوئیں اور آیت۸۴ا ایک سال بعد نازل ہوئی۔اس طرح ہمارے پاس ایک سند ہوجائے گی اورہم انھیں اپنے فاسد خیالات کی نشرو اشاعت سے باز رکھنے کی کوشش کریں گے۔یہ اسلام کی ہی خدمت ہے۔اُمید ہے کہ آپ ضرور ہمیں اپنے افکار عالیہ سے مستفید فرمائیں گے۔

جواب: اس سوال میں جس فتنے کا ذکر کیا گیا ہے،اُس کا منشا تو خود اُس کے موضوع و مضمون ہی سے ظاہر ہے۔اس کے مصنف کا صاف مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ رمضان میں روزے رکھنے کی ’’مصیبت‘‘ سے خود بھی بچیں اور اپنے ہم مشرب ’’صاحب لوگوں‘‘کو بھی بچائیں۔عام فساق غنیمت ہیں کہ کھلی کھلی نافرمانی کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور جو نافرمانی کرنا چاہتے ہیں،اُسے بے محابا کر گزرتے ہیں۔ان میں کم ازکم یہ مکاری موجود نہیں ہے کہ خدا کی نافرمانی کرنے کے لیے خود خدا ہی کی کتاب کو حجت بنائیں۔ لیکن یہ نرالی قسم کے فساق وہ ہیں کہ اپنے فسق وفجور کے لیے قرآن کو آڑ بناتے ہیں، اور قرآن سے یہ خدمت لینے ہی کے لیے انھوں نے اس کا رشتہ حدیث سے توڑا ہے تاکہ اس کی آیات کو جیسے چاہیں معنی پہنائیں۔ان لوگوں کو آج کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔جس جس طرح چاہتے ہیں،خلق خدا کو خدا کی کتاب کا نام لے لے کرخدا کے دین سے پھیرتے ہیں۔ پہلے انھوں نے ’’دو قرآن‘‘ تصنیف کیے تھے۔پھر’’ دو اسلام‘‘وضع کیے۔ آگے چل کر یہ ’’دو خدا‘‘ بھی بناڈالیں تو کون ان کا ہاتھ پکڑ سکتا ہے۔
روزوں کے بارے میں قرآن سے جو غلط استدلال انھوں نے کیا ہے،اُس کی غلطی واضح کرنے کے لیے سب سے پہلے ہم خود قرآن کی شہادت پیش کرتے ہیں۔ زیر بحث آیات کالفظی ترجمہ یہ ہے:
’’اے لوگو!جوایمان لائے ہو،لکھ دیے گئے تم پر روزے جس طرح لکھے گئے تھے تم سے پہلے کے لوگوں پر،تاکہ تم پرہیز گاری کرو۔ روزہ رکھنا چند گنے چنے دنوں کا، پھرجو کوئی تم میں سے مریض ہو،یا سفرپر ہو،تو پورا ہونا چاہیے شمار دوسرے دنوں سے۔ اور جو لوگ اس کی(یعنی روزے کی) طاقت رکھتے ہوں،ان پر فدیہ ہے ایک مسکین کا کھانا۔پھرجو کوئی رضاکارانہ بجا لائے نیکی تو وہ بہتر ہے اسی کے لیے۔ اور یہ کہ تم روزہ رکھو، یہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر علم رکھتے ہو۔ ماہِ رمضان وہ ہے جس میں نازل کیا گیاقر آن، رہنما بنا کر انسانوں کے لیے، اور روشن آیات لیے ہوئے ہدایت اور تفریق حق وباطل کی۔ پس جو پائے تم میں سے اس مہینے کو، تو چاہیے کہ اس کے روزے رکھے۔اور جو مریض ہو یا سفر پر ہو،تو پورا ہونا چاہیے شمار دوسرے دنوں سے۔‘‘
(ملاحظہ فرمایئے سورۂ بقرہ،رکوع ۲۳، اوراصل سے مقابلہ کرکے خوب اطمینان کرلیجیے کہ اصل اور ترجمے میں معنی کے لحاظ سے کوئی فرق تو نہیں ہے)۔
اس عبارت کو جو شخص خالی الذہن ہوکر پڑھے گا،اُس کے دل میں لازماًپہلا سوال یہ پیدا ہوگا کہ اگر یہ پوری عبارت ایک ہی سلسلۂ تقریر کی ہے جو بیک وقت ارشاد ہوئی تھی، تو اس میں پہلے ہی یہ کیوں نہ کہہ دیا گیا کہ ماہ رمضان میں تم کو یہ نعمت دی گئی تھی اس لیے تم میں سے جو اس کو پائے،اُسے چاہیے کہ اس مہینے کے روزے رکھے؟آخر یہ کیا اندازِ بیان ہے کہ پہلے کہا’’روزہ رکھنا چند گنے چنے دنوں کا‘‘پھر تین چار فقروں میں روزوں کے متعلق بعض احکام بیان کیے،پھر بتایا گیا کہ وہ گنے چنے دن رمضان کے ہیںاور رمضان کو اس کام کے لیے اس وجہ سے منتخب کیا گیا ہے اور اس پورے مہینے کے روزے رکھنے چاہییں۔ ایک مربوط سلسلۂ تقریر میں شاید ایک اناڑی بھی اپنی بات یوں ادا نہ کرتا، بلکہ یوں کہتا کہ اگلی قوموں کی طرح تم پر بھی روزے فرض کیے گئے ہیں اور رمضان کے مہینے میں تم کو قرآن کی نعمت دی گئی ہے اس لیے یہ فرض روزے تم اس مہینے میں رکھو۔ اس کے بعد اس کو جو کچھ احکام بیان کرنے ہوتے وہ بیان کردیتا۔
دوسرا سوال ایک خالی الذہن ناظر کے دل میں یہ پیدا ہوگا کہ اس سلسلۂ عبارت میں جب پہلے یہ فقرہ آچکا تھا کہ ’’جو کوئی تم میں سے مریض ہو،یا سفرپر ہو، تو پورا ہونا چاہیے شمار دوسرے دنوں سے‘‘ تو اسی فقرے کو بعد میں پھر دہرانے کی کیا حاجت تھی؟اور اگر فی الواقع اس کا دہرانا ضروری تھا تو پھر یہ فقرہ بھی کیوں نہ دہرایا گیا کہ’’جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں،ان پر فدیہ ہے ایک مسکین کا کھانا‘‘۔ حقیقت میں ضرورت تو دونوں میں سے ایک کو بھی دہرانے کی نہ تھی۔لیکن ایک کو دہرانا اور دوسرے کو نہ دہرانا تو ایک معما سا محسوس ہوتا ہے۔
تیسرا سوال جو اُس کے دل میں کھٹکے گا وہ یہ ہے کہ’’ماہ رمضان وہ ہے‘‘ سے پہلے کی عبارت اور اس کے بعد کی عبارت کا مضمون ایک دوسرے سے صریحاً متنا قض نظر آتا ہے۔پہلا مضمون صاف طور پر یہ کہہ رہا ہے کہ جو شخص طاقت رکھنے کے باوجود روزہ نہ رکھے،وہ فدیہ دے دے،لیکن اگر وہ روزہ ہی رکھے تویہ اُسی کے حق میں اچھا ہے۔اس کے بالکل برعکس دوسرا مضمون یہ ظاہر کررہا ہے کہ جو شخص ماہ رمضان کو پائے وہ اس میں ضرور روزے رکھے اور اس لازمی حکم کو یہ بات مزید تقویت پہنچا رہی ہے کہ اس حکم کے بعد اس رعایت کا تو اعادہ کردیا گیا ہے جو پہلے مضمون میں مریض اور مسافر کو دی گئی تھی،مگر اس رعایت کو ساقط کردیا گیا جو اوپر روزے کی طاقت رکھنے والے کو دی گئی تھی۔ایک معمولی عقل وخرد رکھنے والے قانون ساز سے بھی یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ ایک ہی معاملے میں وہ بیک وقت دومختلف احکام دے تو پھر بھلا یہ فعل اﷲ تعالیٰ کے شایان شان کیسے ہوسکتا ہے؟
پہلے دو سوالات صرف سوالات ہی ہیں۔ لیکن یہ آخری سوال تو ایک سخت اعتراض ہے جو اس عبارت پر وارد ہوتا ہے،او رمیں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص حدیث سے مدد لیے بغیر اسے کیسے رفع کرسکتاہے۔جو لوگ حدیث کی مدد کے بغیر قرآن کو سمجھنے کے مدعی ہیں،اور حدیث کو احکام دین کا ماخذ اور قرآن کی مستند شرح ماننے سے انکار کرتے ہیں،ان سے پوچھیے کہ ان کے پاس ان سوالات اور اس اعتراض کا کیا جواب ہے؟
اب دیکھیے کہ حدیث کس طرح ہمیں قرآن مجید کے اس مقام کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ جن لوگوں کے سامنے قرآن کے یہ احکام نازل ہوئے تھے،ان کا بیان یہ ہے کہ اس عبارت کا ایک حصہ جو’’اے لوگو‘‘ سے شروع ہوکر’’اگر تم علم رکھتے ہو‘‘ پر ختم ہوتا ہے،ابتدائً نازل ہوا تھا، اور دوسرا حصہ اس کے ایک سال بعد نازل ہوا۔ پہلے سال روزے فرض کرتے وقت یہ رعایت رکھی گئی تھی کہ آدمی روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود اگر روزہ نہ رکھے تو فدیہ دے دے۔ مگر دوسرے سال اس رعایت کو منسوخ کردیا گیا۔البتہ مسافر اور مریض کے لیے سابق رعایت بحال رکھی گئی۔
اس بیان میں نہ صرف یہ کہ سارے اشکالات رفع ہوگئے،بلکہ یہ بات بھی سمجھ میں آگئی کہ دوسرے سال آخری اور قطعی حکم دیتے ہوئے یہ تمہید کیوں اُٹھائی گئی کہ یہ رمضان کامہینا وہ ہے جس میں تمھیں قرآن جیسی نعمت دی گئی ہے۔اب بات سمجھ میں آگئی کہ پہلے اﷲ کی اس نعمت کا احساس دلایا گیا، پھر حکم دیا گیا کہ اس نعمت کے شکریے میں تم کو اس مہینے کے روزے ضرور رکھنے چاہییں۔
محدثین ومفسرین نے یہ تشریح متعدد صحابہ اور تابعین سے نقل کی ہے۔ مثلاً امام احمدؒ بن حنبل،حضرت معاذ ؓ بن جبل سے ایک طویل تشریحی بیان نقل کرتے ہیں جس میں وہ فرماتے ہیں کہ نماز اور روزہ، دونوں کی موجودہ صورت بتدریج قائم کی گئی ہے۔نماز میں پہلے بیت المقدس کی طرف رُ خ کیا جاتا تھا۔پھر مکے کی طرف رُخ پھیرا گیا۔پہلے لوگ ایک دوسرے کو نماز کے وقت اطلاع دیتے تھے۔پھر اذان کا طریقہ مقرر کیا گیا۔پہلے طریقہ یہ تھا کہ اگر ایک شخص بیچ کے کسی مرحلے پر آکر جماعت میں شریک ہوتا تھا تو اپنی نماز کا چھوٹا ہوا حصہ ادا کرنے کے بعد امام کی پیروی شروع کرتا تھا۔پھر یہ طریقہ مقرر کیا گیا کہ جماعت میںجس مرحلے پر بھی آکر شریک ہو،امام کی پیروی میں نماز پڑھنی شروع کردو۔پھر امام کے سلام پھیر دینے کے بعد اُٹھ کر اپنی نماز پوری کرو۔ اسی طرح روزے کے احکام بھی بتدریج آئے ہیں۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ ؐہر مہینے تین دن کے روزے رکھتے تھے اور ایک روزہ محرم کی دسویں کو رکھا کرتے تھے۔ پھر اﷲ نے رمضان کے روزے فرض کیے،مگر یہ رعایت رکھی کہ جو روزہ نہ رکھے،وہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔اس کے بعد حکم آیا کہ رمضان کے روزے ضرور رکھے جائیں، اور تندرست مقیم آدمی کے لیے فدیے کی رعایت منسوخ کردی۔ پہلے لوگ افطار کے بعد اُس وقت تک کھا نا پینا،مباشرت کرنا جائزسمجھتے تھے جب تک سو نہ جائیں۔سونے کے بعد وہ سمجھتے تھے کہ دوسرے دن کا روز ہ شروع ہوگیا۔ اگرچہ اس باب میں کوئی صریح حکم نہ تھامگر لوگ ایسا ہی سمجھے ہوئے تھے۔بعد میں حکم آیا کہ ’’ اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمْ اِلٰی قَوْلِہٖ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ ‘‘ (ابن کثیر، جلدا،صفحہ۴ا۲)
اس مضمون کی تائید میں بخاری، مسلم، ابو دائود اور دوسرے محدثین نے متعدد روایات نقل کی ہیں جو حضرت عائشہ، حضرت عبداﷲ بن عمر، حضرت عبداﷲ بن مسعود اور حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔ مشہور مفسر ابن جریر طبری( متوفی۰ا۳ھ) نے پوری سند کے ساتھ جن صحابہ اور تابعین سے اس کی تائید میں روایات نقل کی ہیں،ان کے نام یہ ہیں:معاذؓ بن جبل، ابن عمرؓ، ابن عباسؓ، سلمہؓ بن اکوع، علقمہؒ، حسن بصریؒ،شعبیؒ، عطاؒء، زہریؒ۔ ان میں سے ایک روایت میں وہ حضرت معاذ بن جبل کی یہ تصریح نقل کرتے ہیں کہ پہلے چوں کہ اہل عرب روزوں کے عادی نہ تھے اور روزہ ان پر سخت گراں گزرتا تھا، اس لیے ان کو یہ رعایت دی گئی تھی کہ رمضان میں جس دن روزہ نہ رکھیں، اُس دن کسی مسکین کو کھانا کھلادیں۔ بعد میں تاکیدی حکم آگیا کہ پورے مہینے کے روزے رکھو، الا یہ کہ تم مریض ہو یا سفرپر ہو۔ ایک اور روایت میں وہ ابن عباسؓ کی یہ تصریح نقل کرتے ہیں کہ پہلے سال کے روزوں میں اﷲ تعالیٰ نے فدیے کی رخصت رکھی تھی،مگر دوسرے سال جو حکم آیااُس میں مریض ومسافر کی رعایت تو بحال تھی لیکن مقیم کے لیے فدیے کی رعایت کا ذکر نہ تھا، اس لیے یہ رعایت منسوخ ہوگئی۔
اس تشریح سے ہر شخص خود اندازہ کرسکتا ہے کہ جو لوگ حدیث سے بے نیاز ہوکر،بلکہ احادیث کو حقارت اور تضحیک کے ساتھ پھینک کر قرآن سے من مانے احکام نکال رہے ہیں،وہ کس طرح خود گمراہ ہورہے ہیں اور عام مسلمانوں کو گمراہ کررہے ہیں۔

( ترجمان القرآن،رجب شعبان ۳۷۱اھ، مطابق اپریل مئی۹۵۳ا)

منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض:

سوال: منکرین حدیث مسلم شریف کی ایک روایت پیش کرتے ہیں جس کا مضمون یہ ہے کہ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ام ولد ماریہ قبطیہ سے زنا کرنے کا الزام ایک شخص پر لگایا گیا۔ آپؐ نے حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ ملزم کو قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ جب حضرت علیؓ تلوار لے کر اُس شخص کو قتل کرنے گئے تو وہ غسل کررہا تھا۔ حضرت علیؓ نے دیکھا کہ وہ مخنث تھا۔آپ واپس چلے آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ سنادیا۔اس حدیث سے حسب ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:
۱۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محض الزام کی بنا پر، مقدمے کی کارروائی کیے بغیر اور ملزم کی صفائی سنے بغیر، اُس کے قتل کا حکم کیسے دیا؟حالاں کہ یہ اسلام کی مجموعی اسپرٹ اور ان احادیث کے خلاف ہے جن میں اسلام کا عدالتی نظام بیان ہوا ہے۔
۲۔ زنا کی سزا درّے ہے یا رجم( اگرچہ منکرین حدیث رجم کے قائل نہیں) پھر قتل کی سزا مذکورہ مقدمے میں کیوں دی؟
۳۔ حضرت علیؓ نے ملزم کو برہنہ کیوں دیکھا؟ حالاں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو برہنہ دیکھنے سے کئی احادیث میں منع فرمایا ہے۔
۴۔ حافظ ابن حجر، ابن جوزی، ملا علی قاری اور دوسرے ناقدین حدیث نے جرح وتعدیل کے جو اُصول بیان کیے ہیں، اس کسوٹی پر اس حدیث کا کیا مقام ہے؟اگر متقدمین اپنی پوری احتیاط کے باوجود بہ تقاضائے بشریت اس معاملے میں اس جگہ چوک گئے ہیں تو کیا متاخرین کو حق نہیں کہ وہ باوجود اہلیت کے اب اس نقص کو پوراکریں؟
۵۔ اس حدیث کے متن پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام نہیں ہے بلکہ کوئی راوی مقدمے کی کارروائی بیان کررہا ہے اور غالباً بعض تفصیلات کے متعلق اُس کو ذہول ہو گیا کہ وہ پوری کارروائی اپنے الفاظ میں بیان نہیں کرسکا۔

جواب: یہ منکرین حدیث دراصل جہل مرکب میں مبتلا ہیں۔جس چیز کو نہیں جانتے،اُسے جاننے والوں سے پوچھنے کے بجائے عالم بن کر فیصلے صادر کرتے ہیں اورپھر انھیں شائع کرکے عوام الناس کو گمراہ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ان کی گمراہ کن تحریریں اکثر ہماری نگاہ سے گزرتی رہتی ہیں اور ان کا کوئی اعتراض ایسا نہیں ہے جس کو دلائل سے ردّ نہ کیا جاسکتا ہو۔لیکن جس وجہ سے مجبوراًخاموشی اختیار کرنی پڑتی ہے وہ دراصل یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی بحث میں بالعموم بازاری غنڈوںکا سا طرز اختیار کرتے ہیں۔ان کے مضامین پڑھتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی شخص ایک غلاظت بھری جھاڑو ہاتھ میں لیے کھڑا ہو اور زبان کھولنے کے ساتھ ہی مخاطب کے منہ پر اُس جھاڑو کا ایک ہاتھ رسید کردے۔ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کے منہ لگنا کسی شریف آدمی کے بس کی بات نہیں ہے اور نہ اس قماش کے لوگ اس لائق سمجھے جاسکتے ہیں کہ ان سے کوئی علمی بحث کی جائے۔
بہرحال ہم اس کے لیے تیار ہیں کہ جن شریف آدمیوں کے دل میں ان فتنہ پردازوں کی تحریروں سے کوئی شبہ پیدا ہوجائے،ان کے شبہات رفع کرنے کی کوشش کریں، اگرچہ یہ بات ہماری توقعات کے خلاف ضرور ہے کہ شریف اور معقول لوگ ان کے بے ہودہ طرز کلام کو دیکھنے کے باوجود ان کی باتوں کو وزن دینے لگیں۔
جس واقعے کے متعلق آپ نے سوال کیا ہے،اُس کی اصلیت یہ ہے کہ حضرت ماریہ قبطیہؓ کے بارے میں مدینہ کے منافقین نے یہ افواہ اُڑا دی تھی کہ اپنے چچا زاد بھائی سے ان کا ناجائز تعلق ہے۔ رفتہ رفتہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں تک بھی پہنچی۔ آپؐ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ’’اذھب فان وجدتہ عند ماریۃ فاضرب عنقہ‘‘…’’جائو اگر تم اُس کو ماریہ کے پاس پائو تواُس کی گردن مار دو۔‘‘ بعید نہیں کہ کہنے والے نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا ہوکہ وہ وہاں موجود ہے،آپؐ کسی کو بھیج کر دیکھ لیں،اور اس پر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ اگر وہ وہاں کسی نامناسب حالت میں پایا جائے تو جان سے مار دو۔ اس حکم کے مطابق حضرت علیؓ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہ ایک حوض میں نہا رہاہے۔آپ ؓنے جاتے ہی اُسے ڈانٹا اور ہاتھ پکڑ کر حوض میں سے کھینچ لیا۔ ظاہر ہے کہ جو شخص پانی سے بھرے ہوئے حوض میں اُترا ہو،اُس کے بارے میں باہر سے دیکھنے والے کو بیک نظر معلوم نہیں ہوسکتا کہ وہ ننگا ہے یاستر ڈھانکے ہوئے ہے۔جب حضرت علیؓ نے اُس کو باہر کھینچا تو یکایک آپ ؓ کی نظر اُس کے ستر پر پڑی اور معلوم ہوا کہ وہ تو مقطوع الذکر ہے۔آپؓ نے اُسی وقت اُسے چھوڑ دیا اور آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقت حال بتادی۔
اب فرمایئے کہ اس واقعے پر کیا اعتراض ہے اور کس پہلو سے ہے؟یہ بات بھی میں عرض کردوں کہ سند کے لحاظ سے یہ روایت ضعیف نہیں ہے۔
بعض محدثین نے اس کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ اُس شخص کے مخنث ہونے کا حال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا اور آپؐ نے حضرت علیؓ کو قتل کا حکم دے کر صرف اس لیے بھیجا تھا کہ جب حضرت علیؓ یہ حکم اُسے سنائیں گے تو وہ اپنا راز خود کھول دے گا،اور اس طرح سب لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ ساری افواہیں بالکل بے بنیاد ہیں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر یہ بات نہ بھی ہو تب بھی واقعہ بجائے خود ناقابل اعتراض ہے۔ کیا کسی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اگر وہ اپنی آنکھوں سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی بے حرمتی ہوتے دیکھے، اور وہ بھی ایسی سخت بے حرمتی،تو وہ ایسے آدمی کو قتل کردے؟اپنی ماں،یا بیوی یا بہن کے ساتھ ایسا فعل ہوتے دیکھنا بھی دنیا میں ایک معقول وجہ اشتعال مانا جاتا ہے۔کجا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر ایسا معاملہ دیکھا جائے۔ تاہم جس شخص کو اس پر اعتراض ہو،اُس سے پوچھیے کہ اگر اُس کی بیوی کے متعلق ایسی گھنائونی خبر اُسے پہنچے تو اُس کا ردعمل کیا ہوگا؟

(ترجمان القرآن،جمادی الثانیہ ا۳۷اھ، مارچ۹۵۲اء)

مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل:

سوال: میری نظر سے’’ترجمان القرآن‘‘ کا ایک پرانا پرچہ گزرا تھا، جس میں انگلستان کے ایک طالب علم نے گوشت وغیرہ کھانے کے متعلق اپنی مشکلا ت پیش کی تھیں۔ جس کے جواب میں آںجناب نے فرمایا تھا کہ وہ یہودیوں کا ذبیحہ یامچھلی کا گوشت کھایا کرے۔ مجھے یہاں مؤخر الذکر معاملہ یعنی مچھلی غیر ذبح شدہ پر آپ سے کچھ عرض کرنا ہے۔ کیوں کہ غالباً آپ بھی جمہور مسلمانان کی طرح اس کا گوشت کھانا حلال خیال فرماتے ہیں۔
میرے خیال میں حلال وحرام کا فیصلہ بغیر اﷲ تعالیٰ کے کسی انسان کا حق نہیں ہے۔کیوں کہ اﷲ تعالیٰ کا حکم ہے کہ:
وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَي اللہِ الْكَذِبَ۝۰ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللہِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ o النحل116:16
لیکن قرآن کی رُو سے مچھلی غیر ذبح شدہ کی حرمت تو موجود ہے، کیوں کہ یہ بھی ایک حیوان ہے اور تمام حیوانات کو(بغیر سور،کتا،بلی وغیرہ مستثنیات)ذبح کرنے کاحکم صریحاًموجود ہے۔ مثلاً:
۱۔ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَۃُ…… ذٰلِكُمْ فِسْقٌ۝۰ۭ المائدہ5:3
مچھلی بھی ’’مَیْتَۃ‘‘ میں شامل ہے۔
۲۔ يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَہُمْ۝۰ۭ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ۝۰ۙ ………فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَيْہِ۝۰۠ المائدہ 4:5
یہاں تمام طیبات کو ذبح کرنے اور ان پر خدا کا نام لینے کی تصریح ہے۔مچھلی کی استثنا نہیں ہے۔
۳۔ فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللہِ عَلَيْہِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰيٰتِہٖ مُؤْمِنِيْنَo الانعام 118:6
یہ اثباتی پہلو ہے اسی امر کاکہ صرف خدا کے نام کا ذبح شدہ جانور کھایا کرو۔یہاں بھی مچھلی بغیرذبح شدہ کی استثنا نہیں ہے، بلکہ اسے خدا کا نام لے کر باقی حیوانات کی طرح ذبح کرنا چاہیے۔
۴۔ وَلَاتَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللہِ عَلَيْہِ وَاِنَّہٗ لَفِسْقٌ۝۰ۭ الانعام 121:6
یہ نہی کا پہلو ہے۔ یہاں تصریف آیات کے بہترین نمونے ہیں تاکہ اگر ایک طرح سے کوئی سمجھ نہ سکے تو دوسری طرح سمجھ جائے۔اثباتی اور نہی ہر دو پہلو قرآن مجید کے عام اسلوب کے مطابق اس معاملے میں بھی موجود ہیں۔ اور یہاں تو غیر ذبح شدہ حیوان کو کھانا فسق قرار دیا گیا ہے۔ یہاںپر بھی’’ الا السمک والجراد‘‘ کے الفاظ بھی نہیں ہیں۔لہٰذا غیر ذبح شدہ مچھلی کا گوشت کھانا قطعاًحرام ہے۔
اب عرض ہے کہ مچھلی غیر ذبح شدہ کی حلت اگر کہیں قرآن کریم میں ذکر کی گئی ہے تو مہربانی فرما کر مجھے بذریعہ’’ترجمان القرآن‘‘ مطلع فرمائیں۔ عام علمائے اسلام تو ’’ماوجدنا علیہ اٰبائَ نا‘‘کی دلیل پیش کرکے چھٹکارا حاصل کرلیتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ قرآن کے بیّن احکام کی موجودگی میں اس قسم کی دلیل ہرگز کام نہیں دے سکتی۔ اس میں شک نہیں کہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں مچھلی غیر ذبح شد ہ کو حلال قرار دیا گیا ہے۔ لیکن قرآن کے مقابلے میں قرآن کی دلیل پیش ہونی چاہیے۔ ہم ان احادیث کو بسرو چشم مان لیتے ہیں جو قرآن کے موافق ہوں،لیکن اگر کوئی حدیث قرآن کے صریح فرمان کے خلاف ہو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ حدیث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز نہیں فرمائی،بلکہ موضوع ہے، اور احادیث کو قرآن پر قاضی سمجھنا تو خارج از بحث ہے۔
لہٰذا چوں کہ بندہ آںجناب کے سامنے قرآن کے دلائل پیش کرتا ہے،اس لیے استدعا ہے کہ آپ بھی قرآن ہی سے دلائل پیش کریں۔چار دلائل کے مقابلے میں ایک دلیل بھی کافی سمجھی جائے گی۔

جواب: یہ تو خوشی کی بات ہے کہ آپ قرآن مجید میں تدبر فرماتے ہیں۔ مگر آپ کے سوال سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ تدبر کی غلط راہ پر پڑ گئے ہیں۔قرآن پر تدبر کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح وتبیین اور آپؐکے شاگرد صحابہؓ کی توضیحات اور ابتدا سے آج تک کے تمام علما وفقہا اور محدثین و مفسرین کی تحقیقات،اور اُمت کے متواتر تعامل،ہر چیز سے بے نیاز ہوکر بس مصحف کے الفاظ میںتدبر فرمائیں، اور جو کچھ اس سے آپ کی سمجھ میں آئے،اُس کے متعلق یہ سمجھ بیٹھیں کہ بس یہی حق ہے اور اس کے خلاف جو کچھ بھی کہیں پایا جاتا ہے،وہ رد کردینے کے لائق ہے۔ خواہ وہ احادیث وآثار میں ہویا فقہائے اُمت کی تحقیقات میں، یا اس پر اُمت کا متواتر عمل پایا جاتا ہو۔ معاف فرمایئے،یہ طریقہ اگر آپ اختیا ر فرمائیں گے تو قرآن سے ہدایت پانے کے بجائے گمراہی اخذ فرمائیں گے۔يُضِلُّ بِہٖ كَثِيْرًا۝۰ۙ وَّيَہْدِىْ بِہٖ كَثِيْرًا۝۰ۭ وَمَا يُضِلُّ بِہٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَo الَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَہْدَ اللہِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِہٖ ۝۰۠ وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللہُ بِہٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِى الْاَرْضِ۝۰ۭo البقرہ2:26-27 ({ اللہ اس کے ذریعے سے بہتوں کو گمراہی میں ڈالتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے، اور وہ اس کے ذریعے سے گمراہ نہیں کرتا مگر ان فاسق لوگوں کو جو اللہ کے عہد کو استوار ہو جانے کے بعد توڑتے ہیں اوران روابط کو کاٹتے ہیں جنھیں جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔) آپ برانہ مانیں۔آپ تدبر کا یہ طریقہ اختیار کرکے اﷲ تعالیٰ کی کتاب کا تعلق اُس کے نبی کی تبیین سے کاٹتے ہیں،حالاں کہ اﷲ تعالیٰ نے خود اس کو جوڑا ہے۔ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُـبَيِّنَ لَہُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوْا فِيْہِ۝۰ۙ النحل64:16 {اے نبی! ہم نے یہ کتاب تم پر اسی لیے نازل کی ہے کہ تم ان کے سامنے اس بات کی تشریح کرو جس میں وہ اختلاف کریں۔ )
اس لیے آپ اپنے آپ کواس خطرے میں ڈال رہے ہیں کہ کتاب اﷲ سے آپ کو ہدایت کے بجائے ضلالت ملے۔
کتاب اﷲ کو سمجھنے کے لیے احادیث وآثار اور سلف کی تحقیقات کی طرف رجوع کرنا ہرگز وہ فعل نہیں ہے جس پر ماوجدناعلیہ آبائَ نا کی پھبتی کسی جاسکتی ہو۔یہ قرآن کی آیات کو قرآن کی منشا کے خلاف استعمال کرنے کی ایک بدترین مثال ہے۔قرآن نے یہ بات جہاں بھی فرمائی ہے،ان لوگوں کی مذمت میں فرمائی ہے جو اپنے غیر ہدایت یافتہ آباو اجداد کے طریقے کی اندھی پیروی کررہے تھے۔ اس کو ان لوگوں پر چسپاں کرنا جو کتاب الٰہی کا علم رکھنے والے لوگوں کی طرف کتاب الٰہی کا منشا معلوم کرنے کے لیے رجوع کرتے ہیں، نہ صرف یہ کہ منطقی طور پر غلط ہے بلکہ خود قرآن کی تصریحات کے بھی خلاف ہے۔ اگر اس فعل کو آپ ماوجد ناعلیہ آباء نا کے تحت لاکر قابل مذمت ٹھہراتے ہیں توپھرقرآن کے ان ارشادات کاآخر آپ کے نزدیک کیا منشا ہے کہ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَہْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَo النحل16:43 ({ اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔ }) اور اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ ہَدَى اللہُ فَبِہُدٰىہُمُ اقْتَدِہْ۝۰ۭ الانعام6:90 (وہ لوگ تھے جن کو اللہ نے ہدایت دی تھی پس تم ان کی ہدایت کی پیروی کرو۔)
آپ کی یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ وہ ہر چیز جو قرآن سے زائد یا اس کے بیان سے مختلف حدیث میں نظر آئے،وہ لازماً قرآن کے خلاف ہے،اس لیے اسے رد کردینا چاہیے۔قرآن میں اگر کوئی حکم عموم کے انداز میں بیان ہوا ہو، اور حدیث یہ بتائے کہ اس حکم عام کا اطلاق کن خاص صورتوں پر ہوتا ہے،تو یہ قرآن کے حکم کی نفی نہیں ہے بلکہ اس کی تشریح ہے۔اس تشریح کو اگر آپ قرآن مجید کے خلاف ٹھہرا کر رد کردیں گے اور ہر حکم عام کو اُس کے عموم ہی پر رکھنے پر اصرار کریں گے تو اس سے بے شمار قباحتیں پیدا ہوں گی جن کی مثالیں آپ کے سامنے پیش کروں تو آپ خود مان جائیںگے کہ فی الواقع یہ اصرار غلط ہے۔
آپ اصرار کے ساتھ مطالبہ فرماتے ہیں کہ ذبح کے بغیر مچھلی کے حلال ہونے کی کوئی دلیل قرآن سے پیش کرو۔میں اس کا جواب عرض کرتا ہوں مگر ابتدا ہی میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ یہ جواب آپ کے اس مطالبے کو اُصولاً صحیح مان کر عرض نہیں کیا جارہا ہے، بلکہ آپ کو یہ بتانے کے لیے عرض کیا جارہا ہے کہ آپ کا مطالعۂ قرآن کس قدر سطحی ہے اور اس سطحی مطالعے پر اعتماد کرکے آپ کا حدیث،تفسیر،فقہ اور اُمت کے متواتر عمل،ہر چیز کو رد کردینے پر آمادہ ہوجانا کتنی بڑی جسارت ہے۔خدا کرے کہ میری اس تنبیہ کے بعد ہی آپ منکرین حدیث کے اُٹھائے ہوئے فتنے سے بچ جائیں اور تدبر فی القرآن کی صحیح روش اختیار کرلیں۔
پہلی بات تو اُصول تفسیر سے متعلق ہے جسے آپ کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے،اور وہ یہ ہے کہ قرآن مجید قانون کی زبان میں کلام نہیں کرتا،بلکہ اس کا اسلوب بیان خطیبانہ ہوتا ہے، اور خطیبانہ اسلوب بیان میں نہ ان چیزوں کی تصریح کی جاتی ہے جن کو مخاطب لوگ موقع ومحل سے خود سمجھ رہے ہوں اور نہ ان رعایتوں کو ملحوظ رکھا جاتا ہے جو قانون کی دفعات مرتب کرتے وقت نظر میں رکھی جاتی ہیں۔ کیوں کہ عام سامعین سے اس طرزِ کلام میں خطاب کرتے وقت یہ اندیشہ نہیں ہوتا کہ وہ الفاظ کو ان کی معروف حدود سے گھٹا یا بڑھا کر ان کے قانونی حدود پر منطبق کر بیٹھیں گے۔اس قاعدے کو سمجھنے کے بعد اگر آپ ان آیات پر غور کریں گے جن سے آپ نے’’ہر جانور کو ذبح کرنے‘‘اور ’’بلا ذبح کسی جانور کے حلال نہ ہونے‘‘کا قانونی کلیہ مستنبط کیا ہے تو آپ کو خود معلوم ہوجائے گا کہ وہاں موقع ومحل اور سیاق وسباق اور عرف عام سے یہ بات آپ ہی واضح تھی کہ کلام دراصل اَنعام اور خشکی کے دوسرے جانوروں سے متعلق ہے نہ کہ پانی کے جانوروں سے متعلق۔ نیز یہ بات چوں کہ عقل عام (common sense)سے تعلق رکھتی ہے کہ’’ذبح کے بغیر کسی جانور کو نہ کھانے‘‘ کا حکم عام سن کر کوئی معقول آدمی اسے مچھلیوں تک وسیع نہ سمجھے گا،اس لیے ایک غیر قانونی طرزِکلام میں اس امر کی ضرور ت نہ تھی کہ مچھلی کو اس سے مستثنیٰ کیا جاتا۔
اس کے بعد اب دیکھیے کہ قرآن میں خصوصیت کے ساتھ پانی کے جانوروں کے متعلق کیا حکم ملتا ہے۔سورہ مائدہ میں ارشاد ہوا ہے:
اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗ المائدہ5:96
’’تمہارے لیے حلال کیا گیا سمندر کا شکار اور اس کا طعام۔‘‘
یہاں دو چیزیں لائق غور ہیں:
اوّل یہ کہ ’’سمندر کا شکار حلال کیا گیا۔‘‘ شکار سے مراد یہاں فعل شکار نہیں بلکہ شکار کیا ہوا جانور ہی ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ محض فعل شکار کی تحلیل بے معنی ہے اگر اس کا کھانا حلا ل نہ ہو۔ اور جب اس شکار کے لیے کوئی خاص شرطِ تحلیل بیان نہیں کی گئی تو یہی بات سمجھی جائے گی کہ عام طور پر دنیا میں پانی کا شکار جس طرح استعمال کیا جاتا ہے،اسی طرح اس کے استعمال کو حلال کیا گیا ہے۔اب آپ تلاش کرکے بتایئے کہ دنیا میں کب کہاں مچھلیاں ذبح کی جاتی رہی ہیں کہ آپ صیدالبحر کے مفہوم میں عرف عام کے لحاظ سے شکار کی ہوئی مچھلیوں کے ذبح کو بھی شامل قرار دے سکیں؟یہ ظاہر ہے کہ جس چیز کو ذبح کیے بغیر کھانا دنیا بھر میں معروف ہو،اُس کے معاملے میں ذبح کے مشروط ہونے کی تو تصریح ضروری ہوگی مگر اُس کے مشروط نہ ہونے کی تصریح کی ضرورت نہیں ہے۔
دوم یہ کہ یہاں صید کے ساتھ ایک اور چیز کی تحلیل کا بھی ذکر ہے اور وہ ہے طعام البحر۔سوال یہ ہے کہ یہ طعام البحر کیا ہے؟آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ طَعَامہ کی ضمیر بحر کی طرف نہیں بلکہ صید کی طرف پھرتی ہے اور اس کا مطلب ہے سمندری شکار کو کھانا۔ کیوں کہ اگر یہ مطلب ہوتا تو طعامہ کے بجائے طَعْمُہٗ کہا جاتا۔اس لیے لا محالہ یہ ضمیر سمندر ہی کی طرف پھرتی ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صید البحر کے علاوہ طعام البحر بھی حلال ہے۔اس طعام البحر کی کوئی تفسیر آپ کرسکتے ہوں تو ضرور کریں۔مگر میں آپ کو یہ بتائے دیتا ہوں کہ حضرت ابو بکر ؓ، حضرت عمرؓا ور حضرت ابن عباسؓجیسے لوگوں نے اس کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ اس سے مراد وہ جانور ہے جسے شکار نہ کیا گیا ہو بلکہ جس کو سمندر نے ساحل پر لاڈالا ہو۔اور یہی بات خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی حضرت جابرؓ بن عبداللہ نے نقل کی ہے کہ ما القاہ البحر او جزر عنہ فکلوہ (ابو دائود)۔ ’’جسے سمندر نے پھینک دیا ہو یا جسے ساحل پر چھوڑ کر سمندرکا پانی ہٹ گیا ہو،اُسے کھا لو۔‘‘نیز اسی کی تفسیر یہ حدیث بھی ہے کہ ’’سمندری جانوروں کو اﷲ نے بنی آدم کے لیے ذبح کررکھا ہے۔‘‘(دارقطنی) اور یہ کہ’’سمندر کا مرا ہو احلال ہے۔‘‘(مؤطا وغیرہ)۔ آپ چاہیں تو ان ساری تفسیروں کو رد فرما دیں،مگر براہِ کرم یہ بھی ضرور بتا ئیں کہ آپ خود ’’صَیْدُ اْلَبحْرِ‘‘ کے ساتھ ’’وَطَعامُہ ٗ‘‘ کے حلال کیے جانے کا مطلب کیا سمجھتے ہیں!
مچھلی کے بارے میں ابن قیم نے زادالمعاد(جلد دوم، فصل فی سریۃ الخبط) میں ایک لطیف بحث کی ہے،براہِ کرم اس کو بھی ملاحظہ فرما لیجیے۔اس میں انھوں نے نقلی دلائل کے سوا عقلی دلائل سے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ مچھلی کو ذبح کرنے کی درحقیقت کوئی ضرورت نہیں ہے،اس لیے کہ محض پانی سے نکل آنا ہی اُس کے تزکیہ کے لیے کافی ہے۔

(ترجمان القرآن،محرم ۳۷۱اھ، اکتوبرا۹۵اء)

قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض:

سوال: (۱) اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا …الخ نسائ137:4 کی تشریح کے سلسلے میں ایک مرزائی دوست نے یہ اعتراض اُٹھایا ہے کہ سیّد ابو الاعلیٰ مودودی صاحب اپنی کتاب’’مرتد کی سزا اسلامی قانون میں‘‘ میں یہ لکھتے ہیں کہ جو ایک دفعہ اسلام لا کر اس سے پھر جائے،اسلام نے اُس کے قتل کا حکم دیا ہے۔لیکن قرآن میں دوسری دفعہ ایمان لانا مندرجۂ بالا آیت سے ثابت ہے۔براہ کرم یہ اشکال رفع فرمائیں۔
(۲) اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ …الخ ( النور26:24) کا مفہوم کیا ہے؟

جواب: آیت اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا النسائ 137:4 سے قتل مرتد کے مسئلے پر آپ کے قادیانی دوست نے جو اعتراض کیا ہے،وہ ان کی کم فہمی کا نتیجہ ہے۔انھیں معلوم نہیں کہ قتل مرتد کا حکم تو اُسی جگہ نافذ ہوسکتا ہے جہاں اسلامی حکومت موجود ہو،مگر مسلمان ان مقامات پر بھی پایا جاسکتا ہے جہاں نہ اسلام کی حکومت ہو،نہ ارتداد کی سزا دینی ممکن ہو۔اس لیے آیت مذکورہ سے یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن کی رُو سے تمام حالتوں میں کفر بعد الاسلام کے بار بار ارتکاب کا امکان ثابت ہوتا ہے جو قانون قتل مرتد ہونے کی صورت میں ناقابل تصور ہے۔پھر آپ کے ان قادیانی دوست کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ اسلامی قانون صدورِ ارتداد کے بعد فوراًہی مرتد کو قتل کردینے کا حکم نہیں دیتا، بلکہ اس کو اپنی غلطی محسوس کرنے اور توبہ کرنے کا موقع بھی دیتا ہے، اور اگر وہ توبہ کرلے تو اُسے معاف کردیتا ہے۔علاوہ بریں انھوں نے اس بات پر بھی غور نہیں کیاکہ یہ آیت ارتداد کی اخروی سزا بیان کررہی ہے،اور کسی جرم کا اخروی نتیجہ بیان کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اُس کے لیے کوئی دنیوی سزا نہ ہونی چاہیے۔جن گناہوں کی سزا قرآن میں بیان کی گئی ہے ان میں سے متعدد ایسے ہیں جن کی دنیوی سزا کے علاوہ اخروی سزا کا بھی ذکر کیا گیا ہے،مثلاً مسلمان کو عمداًقتل کرنا۔اس لیے کہ بکثرت حالات ایسے ہوسکتے ہیں اور رونما ہوتے رہتے ہیں جن میں ایک شخص ارتکاب جرم کرتا ہے اور دنیوی سزا سے بچا رہتا ہے۔اسی ارتداد کے معاملے میں دیکھیے کہ اس کی دنیوی سزا صرف اُس وقت دی جاسکتی ہے جب کہ آدمی کا ارتداد علانیہ ہو،حکومت کے نوٹس میں آجائے، او ر عدالت میں اس کا ثبوت بہم پہنچ جائے۔مگر بکثرت ارتداد ایسے بھی ہوسکتے ہیں جو مخفی طور پر واقع ہوں اور بار بار توبہ کرنے کے بعد آدمی پھر کفر میںمبتلا ہوتا رہے۔ لہٰذا دنیوی سزا تجویز کردینے کے باوجود اخروی سزا کا ذکر ضروری ہے،اور کسی مقام پر محض اخروی سزا مذکور ہونے کے معنی یہ ہرگزنہیں ہیں کہ اس جرم کے لیے دنیوی سزا نہیں ہے۔
اس سلسلے میں میرے لیے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ’’مرتد کی سزا‘‘کا نام سنتے ہی قادیانی حضرات آخر کیوں اس قدر پریشان ہوجاتے ہیں؟میں نے اپنی کتاب میں کہیں بھولے سے اشارہ تک ان کی طرف نہیں کیا ہے۔پھر بھی وہ اس پر اتنے مشتعل ہیں کہ گویا انھی کے لیے سزائے موت تجویزکی گئی ہے۔کیا وہ خود اپنے متعلق کسی شبہے میںپڑے ہوئے ہیں؟
آیت اَ لْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ سے مراد یہ ہے کہ بدکار مردوں کے لیے بدکار عورتیں ہی موزوں ہیں،اور بدکار عورتوں کے لیے بدکار مرد ہی موزوں ہیں۔ پرہیز گار اہل ایمان کا یہ کام نہیں ہے کہ ایسے لوگوں سے رشتے جوڑیں۔

(ترجمان القرآن،رجب، شعبان۱۳۷۱ھ، اپریل،مئی۹۵۲اء)

سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول:

سوال: معوذتین کی شان نزول کے متعلق بعض مفسرین نے حضور علیہ السلام پر یہودی لڑکیوں کے جادو کا اثر ہونا اور ان سورتوں کے پڑھنے سے اس کا زائل ہوجانا بحوالۂ احادیث تحریر فرمایا ہے۔یہ کہاں تک درست ہے؟نیز جادو کی حقیقت کیا ہے؟بعض اشخاص حضور علیہ السلام پر جادو کے اثر کو منصب نبوت کے خلاف سمجھتے ہیں؟

جواب: شان نزول کے بارے میں یہ بات پہلے ہی سمجھ لینے کی ہے کہ مفسرین جب کسی واقعے کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ آیت اس واقعے کے بارے میں نازل ہوئی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ جب واقعہ پیش آیااُسی وقت وہ آیت نازل ہوئی تھی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس واقعے سے اس آیت کا تعلق ہے۔
معوذتین کے متعلق یہ بات ثابت ہے کہ وہ مکے میں نازل ہوئی ہیں اور احادیث میں جادو کا جو واقعہ بیان ہوا ہے وہ مدینہ طیبہ کا ہے۔اس لیے یہ کہنا بداہتاً غلط ہے کہ جب جادو کا وہ واقعہ پیش آیا،اُس وقت یہ دونوں سورتیں نازل ہوئیں۔دراصل اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سورتوں کے پڑھنے کی ہدایت فرمائی گئی۔
جادو کی حقیقت اگر آپ سمجھنا چاہیں تو قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ پڑھیں۔ جادوگروں نے لاٹھیوں اور رسیوں کے جو سانپ بنائے تھے،وہ حقیقت میں سانپ نہیں بن گئے تھے،مگر اس مجمع نے جو وہاں موجود تھا یہی محسوس کیا کہ یہ لاٹھیاں اور رسیاں سانپوں میں تبدیل ہوگئی ہیں۔حتیٰ کہ خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آنکھیں بھی پیغمبر ہونے کے باوجود اس قدر مسحور ہوگئیں کہ انھوں نے بھی انھیں سانپ ہی دیکھا۔قرآن مجید کا بیان ہے کہ:
فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُوْٓا اَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْہَبُوْہُمْ الاعراف7:116
’’جب جادوگروں نے اپنے انچھر پھینکے تو لوگوں کی آنکھوں کو مسحور کر دیا اور انھیں مرعوب کردیا۔‘‘
قَالَ بَلْ اَلْقُوْا۝۰ۚ فَاِذَا حِبَالُہُمْ وَعِصِيُّہُمْ يُخَيَّلُ اِلَيْہِ مِنْ سِحْرِہِمْ اَنَّہَا تَسْعٰيo فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِہٖ خِيْفَۃً مُّوْسٰىo طٰہٰ66-67:20
’’پس یکایک ان کے جادو کی وجہ سے ان کی لاٹھیاں اور رسیاں موسیٰ کو دوڑتی ہوئی محسوس ہوئیں اور موسیٰ اپنے دل میںڈر گیا۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ جادو قلب ماہیت نہیں کرتا بلکہ ایک خاص قسم کا نفسیاتی اثر ڈال کر آدمی کے حواس کو متاثر کردیتا ہے۔نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جادو کی یہ تاثیر عام انسانوں پر ہی نہیں،انبیا پر بھی ہوسکتی ہے۔اگرچہ اس ذریعے سے کوئی جادوگر کسی نبی کو شکست نہیں دے سکتا،نہ اُس کے مشن کو فیل کرسکتا ہے،نہ اُسے اِ س حد تک متاثر کرسکتا ہے کہ وہ جادو کے زیر اثر آکر منصب نبوت کے خلاف کوئی کام کر جائے، لیکن بجائے خود یہ بات کہ ایک نبی پرجادو کا اثر ہوسکتا ہے،خود قرآن مجید سے ثابت ہے۔
احادیث میںنبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہونے کی جو روایات آئی ہیں،ان میں کوئی چیز بھی عقل،تجربے اور مشاہدے کے خلا ف نہیں ہے،اور نہ قرآن کی بتائی ہوئی اس حقیقت کے خلاف ہے جس کی میں نے اوپر تشریح کی ہے۔نبی اگر زخمی یا شہید ہوسکتا ہے تو اس کا جادو سے متاثر ہو جانا کون سی تعجب کی بات ہے؟روایات سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے و ہ صرف یہ ہے کہ چند روز تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ نسیان سا لاحق ہوگیا تھا اور وہ بھی تمام معاملات میں نہیں بلکہ بعض معالات میں جزوی طور پر۔

(ترجمان القرآن،رمضان شوال ا۳۷اھ، مئی،جون۹۵۲اء)

حدیث کے بعض احکام کو خلاف ِ قرآن سمجھنے کی غلطی:

سوال: قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ہم نماز کی تیاری کریں تو ہمیں وضو کرنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر نماز کے لیے ازسر نو وضو کرنا ضروری ہے،نماز پڑھ لینے کے بعد وضو کی میعاد ختم ہوجاتی ہے اور دوسری نماز کے لیے بہرحال الگ وضو کرنا لازمی ہے۔پھر یہ سمجھ میں نہیں آسکا کہ لو گ ایک وضو سے کئی کئی نمازیں کیوں پڑھتے ہیں۔اسی طرح قرآن میں وضو کے جو ارکان بیان ہوئے ہیں،ان میں کلی کرنے اور ناک میںپانی لینے کا ذکر نہیں ہے اور نہ کہیں ایسے افعال وعوارض کی فہرست دی گئی ہے جن سے وضو ٹوٹتا ہے۔اس صورت میں کلی وغیرہ کرنا اور بعض اُمور کو نواقض وضو قرار دینا کیا قرآنی تعلیمات کے خلاف نہیں ہے؟
صلوٰۃ قصر کے بارے میں بھی قرآن وضاحت کرتا ہے کہ صرف پُرخطر سفر جہاد میں ہی نمازمیں قصر کیا جاسکتا ہے۔کیا عام پرامن سفر میں قصر خلاف قرآن نہیں ہے؟

جواب: بلاشبہ وضو کے بارے میں قرآن مجید میں یہی حکم ہے کہ جب نماز کے لیے اُٹھو تو وضو کرو،مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ اس حکم کا منشا کیا ہے؟اسی طرح قرآن میں صرف منہ دھونے کا حکم ہے مگر آنحضرت ؐنے ہمیں منہ دھونے کا صحیح طریقہ اورمعنی بتائے کہ اس میں کلی کرنا اور ناک میںپانی دینا بھی شامل ہے۔قرآن میں صرف سر کے مسح کا حکم ہے، مگر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ سر کے مسح میں کان کا مسح بھی شامل ہے۔آپؐ نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ وضو شروع کرتے وقت پہلے ان ہاتھوں کو پاک کرلو جن سے تمھیں وضو کرنا ہے۔یہ باتیں قرآن میں نہیں بتائی گئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم قرآنی کی تشریح کرکے ہمیں یہ باتیں بتائی ہیں۔ قرآن کے ساتھ نبیؐ کے آنے کا مقصد یہی تھا کہ وہ کتاب کے منشا کو کھول کر ہمیں بتائے اور اس پر عمل کرکے بتائے۔ آیت وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْہِمْ النحل44:16 میں اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔یعنی اے نبی! ہم نے یہ ذکر لوگوں کے پاس براہِ راست بھیج دینے کے بجائے تمہاری طرف اس لیے نازل کیا ہے کہ تم لوگوں کے سامنے وضاحت کے ساتھ اس ہدایت کی تشریح کرو جو ان کی طرف بھیجی گئی ہے۔
اس بات کو اگر آپ اچھی طرح سمجھ لیں تو آپ کو اپنے اس سوال کا جواب سمجھنے میں بھی کوئی زحمت پیش نہ آئے گی کہ ایک ہی وضو سے ایک سے زائد نمازیں پڑھنا کیوں جائز ہے۔ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ ایک وضو کی مدت قیام کس قدر ہے اور کن چیزوں سے یہ مدت ختم ہوتی ہے۔اگر حضورؐیہ نہ بتاتے تو ایک شخص یہ غلطی کرسکتاتھا کہ تازہ وضو کے بعد پیشاب کرلیتا، یا کسی دوسرے ناقض وضو فعل کا صدور اس سے ہوجاتا اور وہ پھر بھی نماز کے لیے کھڑا ہوجاتا، یا مثلاًدوران نماز میں ریح خارج ہوجانے کے باوجود نماز پڑھ ڈالتا۔قرآن میںصرف یہ بتایا گیا ہے کہ نماز کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے،یہ نہیں بتایا گیا کہ وضو کب تک باقی رہتا ہے اور کن چیزوں سے ساقط ہوجاتا ہے۔کوئی شخص بطور خود یہ نہیں سمجھ سکتا تھا کہ ابھی ابھی جس شخص نے وضو کیا ہے،ریح خارج ہونے سے اُس کے وضو میںکیا قباحت واقع ہوجاتی ہے۔اب جب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر یہ بتادیا کہ وضو کو ساقط کرنے والے اسباب کیا ہیں تو اس سے خودبخود یہ بات نکل آئی کہ جب تک ان اسباب میں سے کوئی سبب رونما نہ ہو،وضو باقی رہے گا،خواہ اس پر کتنے ہی گھنٹے گزر جائیں۔ اور جب ان میں سے کوئی سبب رونما ہوجائے تو وضو باقی نہ رہے گا۔ خواہ آدمی نے ابھی ابھی تازہ وضو کیا ہو اور اُس کے اعضا بھی پوری طرح خشک نہ ہوئے ہوں۔
اگر ہم آپ کے اس استدلال کو مان لیں کہ قرآن میں چوں کہ حکم ان الفاظ میں آیا ہے کہ جب تم نماز کے لیے اُٹھو تو وضو کرو، اس لیے ہر نماز کے لیے تازہ وضوضروری ہے، تو اسی طرح کا استدلال کرکے ایک شخص یہ حکم لگا سکتا ہے کہ ہر مستطیع مسلمان کو ازروئے قرآن ہر سال حج کرنا چاہیے،اور یہ بھی دعویٰ کرسکتا ہے کہ عمر بھر میں ایک دفعہ زکوٰۃ دے کر آدمی قرآن کا حکم پورا کردیتاہے۔تشریح رسول سے بے نیاز ہوکر تو ہر شخص قرآن کی ہر آیت کی ایک نرالی تعبیر وتاویل کرسکتا ہے اور کسی کی رائے بھی کسی دوسرے شخص کے لیے حجت نہیں بن سکتی۔
قصر کے متعلق سوال کرنے میں بھی آپ وہی غلطی کررہے ہیں جو وضو کے معاملے میں آپ نے کی ہے۔قرآن کے منشا کی تعبیر میں قرآن لانے والے رسول کی توضیح وتشریح کو نظر انداز کردینا ایک بہت بڑی غلطی ہے جس کی بے شمار قباحتوں میں سے چند کی طرف میں اوپر اشارہ کرچکا ہوں۔قرآن صرف حالت خوف میں قصر کی صورت بتاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس حالت میں امام کے سوا دوسروں کے لیے صرف ایک رکعت بھی کفایت کرتی ہے۔اس حکم میں کہیں حالت امن کے قصر کی نفی نہیں ہے۔ یہ دوسرا حکم ہم کو نبی ؐکے ذریعے سے پہنچا ہے،اور وہ یہ ہے کہ سفر کی حالت میں صبح اور مغرب کے فرض تو پورے پڑھے جائیں، البتہ ظہر، عصر اورعشا کے فرضوں میں صرف دو دو رکعتیں پڑھ لی جائیں۔ اس قصر کو جو شخص خلاف قرآن کہتا ہے وہ دو بڑی غلطیاں کرتا ہے۔ایک یہ کہ وہ کسی حکم کے قرآن میں نہ ہونے اور خلاف قرآن ہونے کو ایک چیز سمجھتا ہے،حالاں کہ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔دوسرے یہ کہ وہ نبیؐ کے واسطے کو درمیان سے ہٹا کر براہ راست قرآن کو لینا چاہتا ہے، حالاں کہ قرآن اُس کے پاس براہ راست نہیں آیا، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے آیا ہے، اور خدا نے یہ واسطہ اسی لیے اختیار کیا ہے کہ نبیؐاسے قرآن کا منشا سمجھائے۔کیا وہ شخص یہ کہنا چاہتا ہے کہ خدا نے یہ واسطہ فضول ہی اختیار کیا؟

(ترجمان القرآن،جمادی الاولیٰ۳۷۲اھ، فروری۹۵۳اء)

قرآن میں چوری کی سزا:

سوال: اس خط کے ہمراہ ایک مضمون’’قرآن میں چور کی سزا‘‘ کے عنوان سے بھیج رہا ہوں۔اگر ممکن ہو تو آپ اسے اپنے ماہنامے میں شائع فرما دیں۔میرا مقصد یہ ہے کہ مختلف لوگ اس پر اظہار خیال کریں اور اکثریت اگر میرے ساتھ متفق ہو تو پھر زنا کے جرم کے بارے میں بھی اسی طرح کی تشریح کی جائے۔
مجلس دستور ساز پاکستان کے سامنے زنا اور چوری، دو فوج داری جرم ایسے ہیں جن کی شرعی سزا موجودہ رجحانات کے خلاف ہے۔میرے مضمون کا منشا یہ ہے کہ مجلس مذکورہ کے لیے یہ ممکن ہوجائے کہ وہ اپنے قانون کو ایک طرف قرآن کی سزائوں کے مطابق بناسکے اور دوسری طرف لوگوں کے خیالات کا لحاظ بھی رکھ سکے۔جہاں تک ہوسکے کسی جرم میں قید کی سزا نہ دی جائے اور بید،جرمانہ اور جلاوطنی وغیرہ سزائوں کو رواج دیا جائے تو یہ عین قرآن کے منشا کے مطابق ہوگا۔
نوٹ: جناب سائل کے محولا بالا مضمون کے چند ضروری اقتباس یہاں درج کیے جاتے ہیں۔ یہ اقتباس اخبار ’’پیغام صلح‘‘، مؤرخہ یکم نومبر۵۰ء کے تراشے سے لیے گئے ہیں جو خط کے ساتھ موصو ل ہوا تھا۔
’’اس آیت(سورۂ مائدہ:۳۸-۳۹) میں چوری کے جرم کی سزا بیان کی گئی ہے۔وہ یہ کہ چوروں کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔ السارق کے ساتھ السارقۃ کے لفظ سے تمام مفسرین نے یہی سمجھا ہے کہ اس سے مراد چور عورت ہے‘‘…’’سوال یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ جب کبھی نوع انسان کے لیے کسی انعام یا سزا کا ذکر کرتا ہے تو شاذ ونادر حالتوں کے سوا صرف مذکر کے لیے کرتا ہے اور مؤنث خود بخود اس میں شامل سمجھی جاتی ہے۔‘‘’’حقیقت یہ ہے کہ یہاں سارقہ سے مراد چور کا معین ومددگار ہے۔دنیا میں دو قسم کے آدمی ہیں:ایک وہ جو کام کررہے ہیں، اور دوسرے وہ جو ان کے مدد گار ہیں۔مرد اور عورت میں سے بالعموم مرد کام کرنے والاہوتا ہے اور عورت اُس کی مددگار ہوتی ہے،اس لیے مددگاروں کے لیے اﷲ تعالیٰ نے مؤنث کا صیغہ استعمال کیا ہے۔ قرآن مجید نے بالعموم جہاں کہیں کسی کام یا نتیجے میں مرد کے ساتھ عورت کا صیغہ استعمال کیا ہے وہاں ہمیشہ اس سے مراد اس کام میں معین ومددگار لی ہے،خواہ وہ عورت ہو یا مرد۔ فعل زنا میں مرد کا پہلا مددگار زانیہ ہوتی ہے،اور دوسرا مددگار وہ دلال ہوتے ہیں جو بیچ میں پیغام رساں بن کر اُسے وقوع میں لاتے ہیں اور تکمیل کراتے ہیں۔اسی لیے زانیہ کے لفظ میں وہ سب شامل ہیں۔اسی طرح چوری کا کام بالعموم انجام نہیںپاسکتا جب تک تاڑ بازی کرنے والے،چور کے پناہ دہندہ اور چوری کے مال کے چھپانے والے نہ ہوں۔اﷲ تعالیٰ نے سارقہ کے لفظ میں ان سب کو شامل کیا ہے،اور سب کے لیے ایک ہی سزا یعنی ہاتھ کاٹنا مقرر کی ہے‘‘… ’’یہ بات کہ یہاں سارقہ سے چور کے مددگار مراد ہیں، اس سے بھی ظاہر ہے کہ سارق اور سارقہ کے درمیان وائو کا لفظ لایا گیا ہے۔حالاں کہ اگر مراد چور عورت ہوتی تو وائو کے بجائے او کا لفظ ہوتا‘‘… دوسری بات جو یہاں قابل غور ہے،یہ ہے کہ اﷲ نے چوروں کو سچی توبہ کرنے کی مہلت دے کر سزا سے معاف فرمایا ہے،حالاں کہ اسلامی فقیہوں کی تعزیرات میں معافی کا کوئی ذکر نہیں۔‘‘ (اس موقع پر توبہ کے بارے میں چند احادیث نقل کی گئی ہیں)۔ ’’پس میری رائے میں قرآن کی رُو سے چور کو سچی توبہ کرنے کا ایک دفعہ موقع ملنا چاہیے۔اگر باوجود توبہ کے وہ پھر چوری کرے تو اُس کو ضرور سزا ملنی چاہیے‘‘…’’قرآن جب ایک طرف چور کی معافی کا ذکر کرتا ہے اور دوسری طرف ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا ہے تو اس کا منشا اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ چوری کے لیے کم سے کم سزا یعنی معافی سے لے کر زیادہ سے زیادہ سزا یعنی ہاتھ کاٹنا بتاتا ہے۔اس واسطے یہ کہنا کہ اسلام میں چوری کی سزا ہاتھ کاٹنے کے سوا کچھ نہیں، میرے نزدیک اُصول قرآن کی غلط تعبیر کرنا ہے‘‘… ’’قرآن کی رُو سے قاضی کو چور اور اُس کے مددگار وں کے بارے میں پورا اختیار حاصل ہے۔یہ ضروری نہیں کہ وہ ان کے ہاتھ کاٹ ڈالے۔وہ ان سے توبہ کراکے بالکل کورا بھی چھوڑ سکتا ہے اور بید،جرمانہ،قید کی سزا بھی دے سکتا ہے۔ انتہائی سزا ہاتھ کاٹنا ہے۔اس تشریح کے ساتھ اس چیخ پکار کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ قرآن کی سزائیں وحشیانہ سزائیں ہیں جو موجودہ متمدن دنیا میں قابل قبول نہیں۔‘‘

جواب: آپ نے چور کی سزا کے بارے میں جو استدلال فرمایا ہے،مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے۔سارقہ اور زانیہ سے مراد سرقہ اور زنا میں مدد کرنے والے لینا محض ایک تکلف ہے جس کے لیے عربی میں کوئی گنجایش نہیں ہے، اور اس طرح قرآنی الفاظ میں زبردستی ایک معنی پیدا کرنے کو میں جائز نہیں سمجھتا۔رہی یہ بات کہ سارق کے ساتھ سارقہ کی تصریح کرنے کی اﷲ تعالیٰ کو کیا ضرورت تھی؟ تو اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ ہاتھ کاٹنے کے معاملے میں سزا کی سختی کا تصور لوگوں کو ویسے ہی اچھا خاصا پریشان کرتا ہے،لیکن مرد کی بہ نسبت عورت کے حق میں یہ خیال اور بھی زیادہ پریشان کن ہوسکتاہے۔اس لیے صراحت کی گئی کہ مرد ہی نہیں، عورت بھی چور ہو تو اُس کو ضرور یہ سزا دی جائے۔یہی مصلحت زانی کے ساتھ زانیہ کی تصریح میں بھی ملحوظ رکھی گئی ہے۔
وائو عطف سے جو معنی آپ نے پیدا کرنے کی کوشش کی ہے،وہ بھی صحیح نہیں ہیں۔عربی زبان میں وائو عطف محض معیت ہی کے معنی میں نہیں آتا کہ آپ لازماً اس کے معنی یہ کریں کہ معطوف اور مطعوف علیہ دونوں پر ایک ساتھ حکم جاری ہو۔’’وائو‘‘ مطلق جمع کے لیے بھی آتا ہے اور اس سے مقصد یہ بتانا ہوتا ہے کہ جو حکم بیان کیا جارہا ہے،اُس میں معطوف اور معطوف علیہ دونوں یکساں ہیں۔اس صورت میں اس کا فائدہ قریب قریب وہی ہوتا ہے جو’’او‘‘کا ہے ،یعنی خواہ معطوف ہو یا معطوف علیہ،دونوں میں سے جو بھی ہواس کا حکم وہی ہوگا جو بیان کیا گیا ہے۔ اسی لیے تو آیت فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ۝۰ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ۝۰ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَلَّا تَعُوْلُوْاo النسائ 3:4 کا مطلب آپ یہ لیتے ہیں کہ دو دو یا تین تین یا چار چار،نہ کہ یہ سب ایک ساتھ۔لہٰذا اَلسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُکہنے کا مطلب یہ ہے کہ چور خواہ مرد ہویا عورت،دونوں پر یہی قطع ید کا حکم جاری ہوگا۔
چور کی توبہ کے معاملے میں آپ نے جو بحث فرمائی ہے،اس میں آپ یہ بھول گئے ہیں کہ آخر کون سا چور ہوگا جسے اگر سزا سے بچنے کی اُمید ہو تو وہ توبہ نہ کرلے گا؟اور آپ کس جگہ یہ حد مقررکریں گے کہ اتنی بار توبہ کرلینے پر بھی جو شخص چوری سے باز نہ آئے گا تو پھر اُس کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟
آپ کا یہ سوال بھی صحیح نہیں ہے کہ چوری اور زنا میں مدد کرنے والوں کے لیے قرآن میں کیا سزا مقرر کی گئی ہے؟ایک یہی معاملہ کیا،قرآن میں تو قانو ن تعزیرات کی دفعات کے بارے میں بھی سکوت کیا گیا ہے۔پھر کیا یہ ضروری ہے کہ ہم یا تو ہر جرم کی سزا قرآن ہی سے نکالیں،یا پھر قرآن کے ذکر کردہ جرائم اور سزائوں کے سوا کسی جرم پر سزا نہ دیں۔قرآن تو صرف حدود مقرر کرتا ہے۔باقی رہا تعزیرات کا معاملہ،تو شریعت میں یہ مسلم ہے کہ اس باب میں حسب ضرورت احکام مدون کیے جاسکتے ہیں۔

(ترجمان القرآن، صفر۳۷۰اھ، دسمبر ۹۵۰اء)

قرآن میں زنا کی سزا:

سوال: آ پ نے میرے مضمون’’قرآن میں چور کی سزا‘‘ پر جو اظہارخیال فرمایا ہے،اُس کے لیے شکریہ۔اب اسی قسم کا ایک اور مضمون’’ قرآن میں زنا کی سزا‘‘ کے عنوان سے بھیج رہا ہوں۔میری استدعا ہے کہ آپ اِ س پر بھی اظہار خیال فرمائیں۔ اگر خدا کو منظور ہوا تو جناب کی دونوں تنقیدوں کا یک جا جواب دوں گا۔
یہاں سرسری طور پر اس قدر گزارش کرنا ضروری ہے کہ آپ نے میری اس تشریح کے بارے میں نکتہ چینی نہیں فرمائی کہ قرآن نے جو سزا بیان کی ہے،وہ زیادہ سے زیادہ سزا ہے،اور کم سے کم سزا جج کی قوت تمیزی پر منحصر ہے۔ اور نہ اس بارے میں کچھ فرمایا کہ دنیا میں کسی جرم کی سزامجرم کو آخرت کی سزا سے محفوظ رکھتی ہے۔
نوٹ: مستفسر کے محولہ بالا مضمون کے چند ضروری اقتباسات درج ذیل ہیں، تاکہ ان کی روشنی میں جواب کو دیکھا جاسکے۔
’’ہم اپنے سابقہ مضمون (قرآن میں چور کی سزا) میں بتلاچکے ہیںکہ سارقہ سے مراد سرقہ کے تمام مددگار لوگ ہیں،خواہ وہ مؤنث ہوں یا مذکر، اور خود عورت اگر چور ہے تو وہ لفظ سارق میں بھی داخل ہے اور سارقہ بھی ہے۔یہاں بھی(آیت اَالزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ میں) وہی کیفیت ہے۔زانیہ میں فعل زنا کے تمام مددگار لوگ شامل ہیں،خواہ وہ دلال ہوں،دلالہ ہوں یا پیغام رساں ہوں،یا زانیوں کے لیے آسانیاں فراہم کرنے والے،یا زنا کے مفعول ہوں،وغیرہ وغیرہ…‘‘
’’چور کی سزا کو بیان کرتے ہوئے’’سارقہ‘‘ کو سارق کے بعد لایا گیا تھا،آخر کوئی وجہ ہونی چاہیے کہ یہاں زانیہ کو زانی سے پہلے لایا گیا۔ہمیں جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ چوری کے جرم میں بڑا مجرم چور ہوتا ہے اور اُس کے مددگار بعد میں،مگر زنا کی صورت میں زنا کے مددگار(یعنی زانیہ) زانی سے مقدم ہیں،کیوں کہ ان کی امداد اور رضا مندی کے بغیر فعل زنا واقع ہی نہیں ہوسکتا،اس واسطے اسے پہلے لایا گیا۔‘‘
’’قرآن نے زنا کی دو سزائیں بیان کی ہیں،ایک یہ کہ زانیوں کو۱۰۰کوڑے مارے جائیں اور دوسری یہ کہ ان کا مقاطعہ(بروئے آیت اَلزَّانِیْ لَایَنْکِحُ اِلاَّ زَانِیَۃً) کردیا جائے۔ یعنی ان کو مومنین کی جماعت سے علیحدہ کرکے یہ اجازت نہ دی جائے کہ وہ توبہ کیے بغیر مومنین کے اندر نکاح کریں‘‘… ’’قرآن میں دیگر احکام کی رو سے مومن کا مشرکہ کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور یہاں اس کے خلاف ہے۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں مشرک اور مشرکہ اپنے لغوی معنوں میں استعمال ہوئے ہیں، یعنی مشرکہ وہ عورت ہے جو اپنے خاوند کے ساتھ کسی دوسرے کو حظ اُٹھانے میں شریک کرے، اور مشرک وہ مرد ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر عورت کوحظ حاصل کرنے میں شریک کرے۔‘‘
’’پس زانیہ اور مشرکہ کے معنی میں فرق ہے۔مشرکہ شوہر دار زانیہ ہے اور زانیہ وہ مرد یا عورت ہے جو فعل زنا میں کسی دوسرے کی مدد کرے۔اپنے آپ کو مفعول بنانے سے یا کسی دوسری طرح۔اسی طرح زانی اور مشرک میں فرق ہے۔زانی عام ہے،خواہ اس کی بیوی ہو یا نہ ہو۔اور مشرک وہ زانی ہے جس کی بیوی ہو‘‘…’’ جو عالم صاحبان ہمارے اس قول کو نہیں مانتے وہ زانی کے لیے صرف ایک ہی سزا تجویز کریں گے،یعنی سو(۰۰ا) کوڑے۔ دوسری سزا مقاطعہ ان کے ہاں کوئی سزا نہ ہوگی‘‘… ظاہر ہے کہ یہ سو کوڑے انتہائی سزا ہے۔ہم نے اپنے مضمون (قرآن میں چور کی سزا) کے اندر لکھا تھا کہ چور کی سزا ہاتھ کاٹنا انتہائی سزا ہے،کم سے کم سزا جج کی قوت تمیزی پر منحصر ہے‘‘
’’یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اسلام کی تعزیرات کی کتاب یعنی قرآن مجید اس قاعدے کے خلاف سب مجرموں کے لیے ایک ہی سزا تجویز کرے اور سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکے،حالاں کہ ہر ایک مجرم کے حالات مختلف ہوتے ہیں جن پر جرم کی شدت اور خفت کا دارومدار ہوتا ہے‘‘…’’یہی وجہ ہے کہ خلفائے اربعہ اور خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کی انتہائی حالتوں میں ۰۰اکوڑوں کی سزا کو ناکافی خیال کرکے مجرمین کو رجم کی سزا دی،یعنی فتوائے موت صادر کیا۔‘‘
’’ہمارے زمانے میں رجم جائز ہے یا نہ؟ کم ازکم اتنا تو معلوم ہے کہ قرآن میں رجم کا کوئی ذکر نہیں۔اور جب حالت یہ ہے تو اُسے کیوں ایک منسوخ التلاوۃ اور قائم الحکم آیت کی بنا پر زیر بحث لایا جائے‘‘… البتہ عقل اس امر سے بغاوت کرتی ہے کہ بیٹی یا بھتیجی کے ساتھ زنا کرنے والے کو زندہ رہنے دیا جائے۔اس لیے اگر بعض مخصو ص حالتوں میں زانی کے خلاف موت کا فتویٰ صادر کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔ مگر وہ صرف فتوائے موت ہو،فتوائے رجم نہ ہو، کیوں کہ رجم آج کل کے تمدن کے خلاف ہے اور کوئی انسانی طبیعت رجم کو گوارا نہیں کرسکتی‘‘…’’ اس بات کو نظر انداز نہ کرنا چاہیے کہ زنا او رچوری کے جرموں کی سزا میں ایک بنیادی فرق ہے۔وہ یہ ہے کہ چور کو توبہ کرنے کا موقع سزا سے قبل دیا گیا ہے اور زانی کو سزا کے بعد دیا۔(آیت اِلَّا الَّذِیْنَ تَاُبْوا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ…الخ) یہاں ذالک کا اشارہ سزا کی طرف ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ زانی کسی صورت میں حد سے بری نہیں ہوسکتا مگر چو رتوبہ کرکے حد سے بری ہوسکتا ہے،بشرطیکہ قاضی قبول کرلے۔‘‘

جواب: عنایت نامہ مع مضمون’’قرآن میں زنا کی سزا‘‘ پہنچا۔ آپ کے پہلے مضمون اور اس دوسرے مضمون کو بغور پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں، (اور میرے اس اظہار خیال پر آپ برا نہ مانیں) کہ آپ آیات قرآن کی تاویل وتفسیر اور احکام شرعیہ کی تشریح میں وہ احتیاط ملحوظ نہیں رکھتے جو ایک خدا ترس آدمی کو ملحوظ رکھنی چاہیے۔اگر آپ میری نصیحت مانیں تو میں دو باتیں بطور اُصول کے آپ کو بتا دوں۔ایک یہ کہ آپ بطور خود اپنے نظریات قائم کرکے قرآن و سنت سے ان کے حق میں دلائل ڈھونڈنے کا طریقہ چھوڑ دیں اور اس کے بجائے قرآن و سنت سے جو تعلیم ملے اس کے مطابق نظریات قائم کیا کریں۔ دوسرے یہ کہ قرآن وسنت سے کسی مسئلے کا استنباط کرتے وقت سلف کے مجتہدین ومفسرین ومحدثین کی تشریحات کو سرے سے نظر انداز نہ کردیا کریں۔ آپ کو اختیار ہے کہ ان میں سے ایک کی رائے کو چھوڑ کر دوسرے کی رائے قبول کرلیں، لیکن ان میں سے کسی ایک کا آپ کے ساتھ رہنا اس سے بہتر ہے کہ آپ ان سب سے الگ اپنا مستقل مذہب بنائیں۔ تفرد صرف اس صورت میں جائز ہوسکتا ہے جب کہ آپ قرآن وسنت کے گہرے مطالعے سے اعلیٰ درجے کی محققانہ بصیرت بہم پہنچا چکے ہوں( جس کی علامات آپ کی تحریروں میں مجھے نظر نہیں آتیں)، اور جس مسئلے میں بھی آپ اپنی متفرد رائے ظاہر کریں،اس میں آپ کے دلائل نہایت مضبوط ہوں۔ان دو باتوں کو اگر آپ ملحوظ خاطر رکھیں گے تو مجھے امید ہے کہ اس طرح کی غلطیوں سے محفوظ رہیں گے جو میں نے آپ کے مضامین میں پائی ہیں۔
میرے لیے آپ کے مضامین پر مفصل تنقید کرنا تو مشکل ہے،البتہ جو نمایاں غلطیاں میں بیک نظر دیکھ سکا ہوں،انھیں بیان کیے دیتا ہوں:
(۱) آپ کا یہ قول ایک حد تک صحیح ہے کہ قرآن میں چوری اور زنا کی جو سزا بیان کی گئی ہے،وہ انتہائی سزا ہے،کم سے کم سزا جج کے اختیار تمیزی پر موقوف ہے۔لیکن اس سے بڑی غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے۔اس کے ساتھ اس بات کی تصریح بھی ضروری ہے کہ جب زنا کے لیے وہ شہادت بہم پہنچ جائے جو شرعاًضروری ہے،اور جب شرعی قواعد کے مطابق چوری کا جرم ثابت ہوجائے تو پھر چوری اور زنا کی وہی حد جاری کرنی پڑے گی جو قرآن میں مقرر کردی گئی ہے۔اس صورت میں حد سے کم سزا دینے کا جج کو اختیار نہیں۔البتہ کم تر درجے کی چوریاں کمتر درجے کی سزائوں کے قابل ہوں گی،اور ثبوت زنا کے بغیر اگر کمتر درجے کے فواحش شہادت یا قرائن سے ثابت ہوں گے تو ان پر کم تر درجے کی سزائیں دی جاسکیں گی۔
(۲) آپ نے اپنے اس مضمون میں بھی اپنی سابق غلطی کا اعادہ کیا ہے کہ الزانیۃ کے معنی’’فعل زنا کے مدد گار لوگ‘‘بیان کیے ہیں، اور اس سے مراد’’دلال،دلالہ،پیغام رساں اور زانی وزانیہ کے لیے آسانیاں بہم پہنچانے والے‘‘ لیے ہیں۔ قرآن صریح طور پر اس معنی سے ابا کرتا ہے۔جس آیت میں زانی وزانیہ کی سزا بیان کی گئی ہے،اُس میں الزانی سے پہلے الزانیہ کا ذکر ہے اور پھر دونوں کے لیے ایک ہی سزا بیان کی گئی ہے کہ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ۝۰۠ النور 2:24 (دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو)۔لیکن آپ نے اس پر بھی اپنی رائے کو قرآن کے مطابق بدلنے کے بجائے قرآن کے حکم کو اپنی رائے کے مطابق بدلنے کی کوشش فرمائی۔ یہ بڑی بے جا جسارت ہے جس سے پرہیز واجب تھا۔
(۳) مشرک اور مشرکہ کے جو معنی آپ نے بیان کیے ہیں(یعنی مشرکہ وہ عورت ہے جو اپنے خاوند کے ساتھ دوسرے کو حظ اُٹھانے میں شریک کرے اور مشرک وہ مرد ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر عورت کو حظ حاصل کرنے میں شریک کرے) یہ بالکل ہی ایک آزادانہ معنی آفرینی ہے جس کے لیے نہ لغت میں کوئی بنیاد پائی جاتی ہے،نہ اصطلاح میں،اور نہ کوئی قرینہ ہی ایسا موجود ہے جس کی بنا پر ایسے دوراز قیاس وگمان معنی لیے جاسکیں۔آیت اَلزَّانِیْ لَایَنْکِحُ اِلاَّ زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً…الخ میں لا ینکح سے مراد لا یلیق بہ ان ینکح ہے۔یعنی زانی ایک ایسا بدکار ہے کہ وہ کسی عفیفہ مومنہ سے نکاح کرنے کے لائق نہیں ہے،اس کے لیے اگر موزوں ہوسکتی ہے تو ایک بدکار یا مشرکہ عورت ہی ہوسکتی ہے،اور زانیہ ایک ایسی فاسقہ وفاجرہ ہے کہ وہ کسی باعصمت مومن کے لیے موزوں نہیں ہے،وہ اگر نکاح کے لائق ہے تو ایک بدکار یا مشرک مرد کے لیے ہوسکتی ہے۔اس سے مقصود فعل زنا کی قباحت و شناعت واضح کرنا ہے اور یہ بتانا ہے کہ صالح اہل ایمان کو معروف بالزنا مردوں اور عورتوں سے مناکحت کے تعلقات نہ قائم کرنے چاہییں۔
(۴) یہ ایک عجیب بات میں نے دیکھی کہ آپ خود تسلیم فرما رہے ہیں کہ خلفائے اربعہ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کی انتہائی حالتوںمیں(زانی محصن کی آپ تصریح نہیں کرتے)مجرمین کو رجم کی سزا دی ہے،مگر پھر بھی آپ یہ کہنے میں تامل نہیں کرتے کہ ’’رجم آج کل کے تمدن کے خلاف ہے اور کوئی انسانی طبیعت رجم کو گوارا نہیں کرسکتی۔‘‘ میں سمجھتا ہوں کہ اپنے ان الفاظ پر آپ خود اگر کبھی غورکریں گے تو آپ کو ندامت محسوس ہوگی۔کیا کوئی انسانی طبیعت رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم سے بھی زیادہ پاکیزہ اور رحیم وشفیق ہوسکتی ہے؟اور کیا ہم مسلمانوں کے لیے آج کل کا تمدن(ایٹم بم والا تمدن !)کوئی معیارِ حق ہے؟
یہ چند معروضات میں صرف اس لیے پیش کررہا ہوں کہ آپ نے خود مجھ کو اپنے مضامین پر تنقید کی دعوت دی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ آپ جب اتنا بڑا دل رکھتے ہیں کہ تنقید کی خود دعوت دیتے ہیں تو آپ ضرور میری ان باتوں کو ٹھنڈے دل سے پڑھیں گے اور اگر حق معلوم ہوں گی تو قبول کریں گے۔

(ترجمان القرآن، ربیع الاوّل، ربیع الآخر ۳۷۰اھ، جنوری،فروری ا۹۵اء)

سوالات متعلقہ ’’تفہیم القرآن‘‘

سوال: مندرجۂ ذیل استفسارات پر روشنی ڈالیں:
۱۔ آپ نے ’’تفہیم القرآن‘‘ میں ایک جگہ اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ طوفان نوح عام نہیں تھا۔لیکن ظاہری قرائن اس بات کے خلاف ہیں۔ اوّل کشتی کس لیے بنائی گئی تھی؟کیوں نہ حضرت نوح علیہ السلام کو ہجرت کرنے کا حکم دیاگیا؟دوم کشتی میں حیوانات میں سے ایک ایک جوڑا لینا بھی اس بات کا مؤید ہے کہ طوفان نہایت عام تھا۔حضرت نوح علیہ السلام کی بددعا میں بھی اس عمومیت کی طرف ایک ہلکا سا اشارہ ہے کہ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًاo نوح 71:26
۲۔ ثانیاً آپ نے خیال ظاہر کیا ہے کہ دنیا کی موجودہ انسانی نسل ان سب لوگوں کی ہے جو کہ حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔آپ نے ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ سے اس کی دلیل اخذ کی ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں،کیوں کہ نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کے تین بیٹے بھی کشتی میں سوار تھے۔ ظاہر ہے کہ اس جگہ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ سے مراد حضرت نوحؑ کے بیٹے ہیں نہ کہ کچھ اور لوگ۔دوسری جگہ اس کی تفسیر خود قرآن کے یہ الفاظ کرتے ہیں کہ وجعلنا ذریتہ ھم الباقین۔ کتنے کامل حصر کے الفا ظ ہیں!
۳۔ سورۂ یوسف کی تفسیر میں جناب نے لکھا ہے کہ زلیخا کو حضرت یوسف علیہ السلام نے نکاح میں نہیں لیا،کیوں کہ قرآن کریم سے اس عورت کا بد چلن ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن کیا حضرت لوط اور حضرت نوح علیہما السلام کی ازواج کافر نہ تھیں؟اگر تھیں تو کفر کیا بدچلنی سے زیادہ شدید نہیں ہے؟ علاوہ بریں حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عقد نکاح کے وقت تک زلیخا مسلمان ہوچکی تھیں اور سابقہ بدچلنی سے تائب ہوگئی تھیں۔

جواب: ۱۔ میں قطعیت کے ساتھ تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ طوفان نوح عالم گیر نہ تھا، لیکن میرا اندازہ تاریخ وآثار قدیمہ کے مطالعے کی بنا پر ہے کہ طوفان صرف اُس علاقے میں آیا تھا جہاں قوم نوح آباد تھی۔قرآن مجید سے اس کے خلاف یا موافق کوئی صریح بات نہیں ملتی۔
آپ کا یہ معارضہ کہ کشتی بنانے کا حکم کیوں دیا گیا،ہجرت کا حکم کیوں نہ دیا گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اُس وقت تک نسل آدم تمام روئے زمین پر نہ پھیلی تھی۔آباد دنیا اتنی ہی تھی جس میں قوم نوح آبا د تھی۔یہی آپ کے دوسرے معارضات کا بھی جواب ہے۔
۲۔ حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق یہ بات قرآن مجید سے ثابت ہے کہ ان پر ایمان لانے والے صرف ان کے گھر کے لوگ ہی نہ تھے بلکہ ان کی قوم کے دوسرے لوگ بھی تھے،اگرچہ تھوڑے تھے۔ نیز یہ کہ کشتی میں یہ سب اہل ایمان سوار کیے گئے تھے۔سورۂ ہود میں ہے: قُلْنَا احْمِلْ فِيْہَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَاَہْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْہِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ۝۰ۭ وَمَآ اٰمَنَ مَعَہٗٓ اِلَّا قَلِيْلٌo ہود40:11 (ہم نے اس سے کہا کہ اس کشتی میں سوار کر لے ہر چیز کا ایک ایک جوڑا، اور اپنے گھر والے (بجز اس کے جس کے بارے میں پہلے ممانعت کا حکم دے دیا گیا ہے) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور اس کے ساتھ تھوڑے ہی لوگ ایمان لائے تھے۔)ان لوگوں کے بارے میں یہ کہیں بھی نہیں کہا گیا کہ ان سب کی نسل ناپید ہوگئی۔
اس کے برعکس قرآن مجید دو جگہ تصریح کرتا ہے کہ بعد کی نسلیں انھی لوگوں کی اولاد تھیں جو حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی پر سوار کیے گئے تھے۔سورۂ بنی اسرائیل میں فرمایا: ذُرِّيَّــۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ اسرائیل 3:17 ( نسل ان لوگوں کی جن کو ہم نے سوار کیا تھا نوحؑ کے ساتھ۔) اور سورۂ مریم میں فرمایا: مِّنَ النَّبِيّٖنَ مِنْ ذُرِّيَّۃِ اٰدَمَ۝۰ۤ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ۝۰ۡوَّمِنْ مریم 58:19 ( ان نبیوں میں سے جو آدم کی نسل سے تھے اور ان لوگوں کی نسل سے جن کو ہم نے نوحؑ کے ساتھ سوار کیا تھا۔
) اس کے جواب میں آپ کا یہ ارشاد کہ سورۂ صٰفّٰت میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَہٗ ہُمُ الْبٰقِيْنَo الصافات77:37 اور یہ حصر پر دلالت کرتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں مقصود یہ ظاہر کرنا نہیں ہے کہ صرف حضرت نوحؑ کی اولاد ہی باقی رہی بلکہ یہ ظاہر کرنا ہے کہ جن لوگوں نے حضرت نوح علیہ السلام کو کرب عظیم میں مبتلا کیا تھا،وہ مٹ گئے اور باقی اس شخص کی ذریت ہی رہی،جس کو وہ مٹا دینا چاہتے تھے۔
۳۔ زلیخا سے حضرت یوسف علیہ السلام کے نکاح کا کوئی ثبوت نہ قرآ ن میں ہے نہ کسی حدیث صحیح میں اور نہ بنی اسرائیل کی معتبر روایات میں۔نیز قرآن مجید سے اس عورت کی توبہ کا بھی ثبوت نہیں ملتا۔پھرخواہ مخواہ اس قصے کی صحت پر اصرار کی کیا ضرورت ہے؟جس بدچلنی کا ارتکاب امرأۃ العزیز سے ہوا تھا،حضرت لوط اور حضرت نوح علیہما السلام کی بیویوں کے متعلق اس طرح کی کسی بدچلنی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔رہا آپ کا یہ ارشاد کہ کفر سے زیادہ بدچلنی اور کیا ہوسکتی ہے،تو آپ خود غور کریں گے تو آپ کو اس قول کی کمزوری معلوم ہوجائے گی۔ زنا اور اس کے مقدمات ایک ایسی بدچلنی ہیں جو بالاتفاق تمام عالم انسانی میں قبائح اور رذائل میں سے شمار ہوتی ہے۔اس سے ملوث ہونا اور بات ہے اور کفر وشرک میں مبتلا ہونا اور بات۔انبیا علیہم السلام کے آباواجداد اور بعض کے اہل بیت تک کفر وشرک میں مبتلا رہے ہیں،مگر بے عصمتی میں مبتلا نہیں رہے۔اعتقادی حیثیت سے کفر وشرک خواہ کتنے ہی اشد ہوں مگر اخلاقی حیثیت سے بے عصمتی بہت زیادہ پست اور دنی چیز ہے،جسے کفار ومشرکین تک بھی ذلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

سوال: ’’ مجھے علم نباتات میں کوئی مہارت نہیں، تاہم تفہیم القرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے چند سوالات پیدا ہوئے ہیں جنھیں اطمینان حاصل کرنے کے لیے پیش کرتا ہوں:
’’ترجمان القرآن‘‘، جلد۳۵، عدد۳،۴،صفحہ۴۳ا پر یہ حاشیہ درج ہے کہ
’’ایک ہی درخت ہے اور اس کا ہر پھل دوسرے پھل سے نوعیت میں متحد ہونے کے باوجود شکل،جسامت اور مزے میں مختلف ہے۔‘‘اور’’ ایک ہی جڑ ہے اور اس سے دو الگ تنے نکلتے ہیں جن کے پھل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔‘‘
’’مزے میں مختلف‘‘ ہونے کی یہ رائے جو آپ نے لکھی ہے،یہ مشاہدے کی بِنا پر ہے یا کتابی علم کی بِنا پر؟اگر واقعہ یہی ہے تو بہتر تھا کہ چند ایک درختوں کی مثالیں بھی دی جاتیں۔میرا تو خیال یہ ہے کہ ایک ہی درخت کے پھل کے مزے میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہوتا،البتہ درخت کے جس حصے کو سورج کی روشنی وافر ملتی ہے اس حصے کے پھل پہلے پختہ ہو جاتے ہیں۔ پھلوں کی شکلوں اور جسامت میں تو فرق ہوسکتا ہے مگر مزے میں فرق ہونا سمجھ میں نہیں آیا۔

جواب: ہر درخت کے پھلوں کی جسامت،رنگ اور مزے کا انحصار اُس غذا پر ہے جو ان کو جڑ کے توسط سے پہنچتی ہے، اور اس سردی گرمی پر ہے جو انھیں دھوپ، ہوا اور دوسرے شب وروز کے اثرات سے پہنچتی ہے۔یہ سب عوامل چوں کہ تمام پھلوں پر یکساں طریقے سے اثر انداز نہیں ہوتے، بلکہ ہر ایک پھل اور دوسرے پھل کے معاملے میں ان کے اثرات کچھ نہ کچھ متفاوت ہوتے ہیں،اس لیے جس طرح جسامت اور رنگ میں تھوڑا بہت تفاوت ضرور ہوتا ہے،اسی طرح مزے میں بھی کم وبیش تفاوت ہوا کرتا ہے،اگرچہ بہت زیادہ نمایاں نہیں ہوتا۔
اس کے علاوہ یہ ایک عالم گیر حقیقت ہے کہ کائنات میں کوئی دو چیزیں بھی ایسی نہیں ہیں جو جملہ حیثیات سے بالکل یکساں ہوں۔ہر شے کے اندر اﷲ تعالیٰ نے ایک ایسی انفرادیت رکھ دی ہے جس میں کوئی دوسری شے اس کی شریک نہیں ہے۔حد یہ ہے کہ ایک ہی آدمی کے جسم کے ایک ہاتھ کے نشانات دوسرے ہاتھ کے نشانات سے مختلف ہوتے ہیں،ایک ہی چہرے کا دایاں رخ بائیں رخ سے مختلف ہوتا ہے،ایک ہی سر کے دو بال بالکل یکساں نہیں ہوتے۔اس طرح صانع کامل واکمل نے یہ دکھایا ہے کہ اُس کی صناعی کمال درجے کی جدت طراز ہے۔اس حیرت انگیز شان خلاقی پر اگر آدمی کی نگاہ ہو تو اُسے یقین آجائے کہ اﷲ تعالیٰ اس بے پایاں کائنات کے ہر گوشے میں ہر وقت ہر چیز پر تصرف اور توجہ فرما رہا ہے، اور ہر آن اُس کا تخلیقی اور تدبیری کام عالم گیر پیمانے پر جاری ہے۔سخت نادان اور جاہل ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ خدا اس کارخانۂ ہستی کو حرکت میں لا کر کسی گوشے میں بے کار بیٹھ گیا ہے اور اب یہ کارخانہ ایک لگے بندھے قاعدے کے مطابق آپ سے آپ چل رہا ہے۔اگر ایسا ہوتا تو تخلیق میں بے پایاں تنوع اور صنعت میں یہ کمال درجے کا تجدد کیسے پایا جاسکتا۔

(ترجمان القرآن،جمادی الاولیٰ،جمادی الاخریٰ۳۷۰اھ، اپریل،مئی ۹۵۱اء)

چندتفسیری اور فقہی مسائل:

سوال: مندرجہ ذیل استفسارات کے جواب لکھنے کی تکلیف دے رہا ہوں:
(۱) آیت يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَاۗءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْہِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُہٗٓ اَلْفَ سَـنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَo السجدہ 5:32 کا مفہوم میری سمجھ میں نہیں آتا۔اس وقت میرے سامنے تفسیر کشاف ہے۔صاحب کشاف کی توجیہات سے مجھے اتفاق نہیں ہے،کیوںکہ قرآنی الفاظ ان توجیہات کی تصدیق نہیں کرتے۔ان پر تبصرہ لکھ کر آپ کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔آپ کے نزدیک اس آیت کا صحیح مطلب کیا ہے؟ لفظ یَعْرُجُ اِلَیْہِ کا لغوی مدلول پیش نظر رہنا چاہیے۔نیز یہ لفظ الامر قرآن کی اصطلاح میں کن کن معنوں میں مستعمل ہوتا ہے۔
(۲) مولانا ابو الکلام آزاد نے اپنی تفسیر ترجمان القرآن جلد دوم میں صفحہ۵۴۰ سے۵۴۴ تک وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـۃٍ مِّنْ طِيْنٍ o ثُمَّ جَعَلْنٰہُ نُطْفَۃً فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍo ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَـلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَـلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْــمًا۝۰ۤ ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ۝۰ۭ فَتَبٰرَكَ اللہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَo المومنون12-14:23 کی تشریح کرتے ہوئے علم الجنین کے جن مدارج ستہ کو قرآنی الفاظ کے ساتھ چسپاں کرلیا ہے،اس نے مجھے حیرت میں ڈال دیا ہے۔مولانا کے علم وفضل کی عظمت کے اعتراف کے باوجود مجھے اس بات کے اظہار کرنے میں کوئی تامل نہیں ہے کہ صحابہ کرامؓ وسلف صالحین میں سے کسی نے بھی ان مدارج ستہ کو بیان نہیں کیا ہے۔ممکن ہے میں غلط فہمی کی بِنا پر کہہ رہا ہوں،آپ اس مقام کا بغور مطالعہ کرکے اس’’تحقیق جدید‘‘ کے بارے میں اپنی رائے سے مطلع فرمائیں۔نیز اگر آپ کو مولانا کی اس تشریح سے اختلاف ہو تو پھر فرمایئے کہ آپ کے نزدیک اس آیت کا مطلب کیا ہے اور قدیم تفسیر پر مولانا نے جو اعتراضات کیے ہیں،آپ کے پاس ان کا کیا جوا ب ہے؟
(۳) مفردات القرآن( امام راغب) اور اساس البلاغۃ(زمخشری) کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟قرآن سمجھنے کے لیے اگر کوئی لغت کی مفید ومستند کتاب معلوم ہو تو مطلع فرمایئے۔
(۴) اسلامی شریعت میں مردوں کے لیے سو نے چاندی کا استعمال ممنوع ہے۔کیا سونے یا چاندی کا پان دان اس ممانعت کی زد میں آسکتا ہے؟ اور گھڑی کے بعض حصوں میں سونے کے استعمال کے متعلق آپ کی رائے کیا ہے؟
(۵) امریکن سوپ فیکٹری،رحیم یار خان کے انگریز منیجر نے صابن کے اجزائے ترکیبی پر بحث کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ یورپ سے آنے والے خوش بو دار سوپ میں چربی کا استعمال ناگزیر ہوتا ہے۔ہر قسم کے جانور کی چربی کو استعمال کیا جاتا ہے خواہ وہ خنزیر ہو یا گائے۔اس انکشاف جدید کے بعد میں نے لکس، حمام وغیرہ کا استعمال ترک کردیاہے۔اس مسئلے میں آپ کی رائے کیا ہے؟کیا آپ انگریزی خوش بودار سوپ استعمال کرتے ہیں؟

جواب: (۱) آیت یدبرالامر من السمآء الی الارض متشابہات کے قبیل سے ہے۔ اس کا مجمل مفہوم تو سمجھ میں آسکتا ہے،مگر تفصیلی مفہوم متعین کرنا مشکل ہے،کیوں کہ ہمارے پاس اس کے لیے کوئی ذریعۂ علم نہیں ہے۔مجملاً جو کچھ سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ زمین کی تدبیر صرف زمین ہی پر نہیں ہورہی ہے بلکہ وہ ہستی اس انتظام کو چلا رہی ہے جو سارے جہان وجود کی ناظم ومدبر ہے۔اس تدبیر کا سر رشتہ عالم بالا میں ہے جہاں زمین اور اُس کے مختلف النوع معاملات سے متعلق ایک منصوبہ تیار ہوتا ہے۔ کارکنان قضا وقدر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے پر مامور ہوتے ہیں، اور پھر وقتاً فوقتاً اس کے ہر مرحلے کی تکمیل پر اپنی رپورٹ اوپر بھیجتے یا پیش کرتے ہیں۔ اس منصوبے میں ایک ایک مرحلے کی اسکیم بسا اوقات ایک ایک ہزار سال اور پچاس پچاس ہزار سال کی ہوتی ہے۔ ہمارے لیے وہ ایک مدت دراز ہے مگر مدبر کائنات کے ہاں وہ گویا ایک دن کا کام ہے۔
یَعْرُجُ اِلَیْہِ کے لغوی مدلول کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کا مطلب میری سمجھ میں یہی آتا ہے کہ اس سے مراد کارکنان قضا وقدر کا اپنے کام کی رپورٹ لے کر پیشی خداوندی میں جانا ہے۔بالفاظ دیگر وہ کام جو پہلے اسکیم کی حیثیت سے ان کے سپرد کیا گیا تھا،پایۂ تکمیل کو پہنچنے پر روداد کی شکل میں اوپر (forward)کیا جاتا ہے۔
الامر سے مرا دایسے مواقع پر ’’کائنات کا انتظام‘‘ہوا کرتا ہے۔
(۲) آیت لقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین کی جو تشریح مولانا ابوالکلام نے کی ہے،اس کا بیش تر حصہ صحیح ہے۔ایسے معاملات میں قدیم مفسرین سے اختلاف کرنا قابل اعتراض نہیں ہے۔ظاہر ہے کہ علم الاشیاء کے متعلق انسان کی واقفیت جتنی بڑھے گی،قرآن کے اس طرح کے بیانا ت کا مطلب پہلے سے زیادہ صحیح طریقے سے سمجھ میں آتا چلا جائے گا۔ یہ کوئی احکام شرعیہ، یا اُمور اعتقادیہ نہیں ہیں جن میں سلف کا فہم زیادہ معتبر ہو۔ البتہ اس کا وہ حصہ لائق اعتماد نہیں ہے جس میں انھوں نے اس آیت کا رشتہ بھی ڈاروینی نظریۂ ارتقا سے جوڑ دیا ہے۔وہ ڈاروینیت کے دلائل سے اس قدر مرعوب ہیں کہ علم جنین کے جو حقائق دراصل اس نظریے کی تردید کررہے ہیں،انھی کو وہ اس کے شواہد میں شمار کرتے ہیں۔
(۳) مفردات امام راغب اور اساس البلاغہ قرآن کو سمجھنے میں ایک حد تک مدد تو ضرور دیتی ہیں لیکن بسا اوقات انسان ان سے غلط تاویلات کے رستے پر بھی پڑ جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن کی تاویل میں خود اپنا ایک مسلک رکھتے ہیں اور لغت کی تحقیق میں اپنے مسلک کے نظریات بھی داخل کردیتے ہیں۔ اس لیے جن لوگوں کا مبلغ علم انھی کتابوں تک محدود ہے وہ یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ ایک لفظ کی لغوی تشریح وہی کچھ ہے جو راغب اور زمخشری نے بیان کردی ہے۔ میرے نزدیک اس کے بجائے لسان العرب، تاج العروس، نہایہ ابن اثیر، قاموس، جمہرۂ ابن درید اور ابن جریر کی لغوی تحقیقات زیادہ قابل اعتما دہیں،کیوں کہ یہ لوگ لغت سے بحث کرتے ہیں، اپنے نظریات کو دخل نہیں دیتے۔
(۴) سونے چاندی کا صرف پہننا ہی ممنوع نہیں ہے بلکہ ان کے برتن استعمال کرنا بھی ممنوع ہے۔اس لیے ان کے پان دان کے جائزہونے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ رہی گھڑی،تو اُس کے اندر کسی پرزے میں سونا لگایا گیاہو تو وہ جائزہوسکتاہے،مگر باہر بطور زینت جو سونا چاندی استعمال کیا گیا ہو وہ جائز نہیں ہے۔
(۵) یہ امر تحقیق طلب ہے کہ حرام چیزیں کیمیاوی ترکیبات میں شامل ہوجانے کے بعد بھی آیا اپنی اصل کو باقی رکھتی ہیں یا نہیں؟اور اگر یہ اصل باقی نہیں رہتی بلکہ کیمیاوی ترکیب ان کی ماہیت تبدیل کرکے ان کو اور ان کے ساتھ ملنے والی دوسری اشیا کو بھی ایک نئی چیز بنا دیتی ہے،تو کیا وہ نئی چیز بھی اس بِنا پر حرام ہوگی کہ اُ س کے اجزائے ترکیبی میں ایک حرام شے شامل تھی؟ یہ ایک دقیق مسئلہ ہے جس کو حل کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ پہلے مجرد ترکیب، اختلاط،آمیزش اور امتزاج کی نوعیت اور کیمیاوی ترکیب وتحول کی نوعیت کافرق اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔نیز یہ بات بھی سمجھ لی جائے کہ کیمیاوی ترکیب کی انفرادی ماہیتوں میں جو تغیرات واقع ہوتے ہیں،وہ ان تغیرات سے اشبہ ہیں جو نباتات او رحیوانات کے جِرم میں اجزائے غذا کے داخل ہونے کے بعد واقع ہوا کرتے ہیں۔
مسئلے کے اِ س پہلو کو ذہن نشین کرلینے کے بعد پہلے ماہرین فن سے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ آیاصابن میں مجرد ترکیب واقع ہوتی ہے یا کیمیاوی ترکیب؟یعنی آیا اس کے اجزا کا اختلاط محض آمیزش کی نوعیت رکھتا ہے جس میں ایک ایک جز اپنی اصل باقی رکھتا ہو،یا یہ سب مل کر ایک کیمیاوی عمل کی بدولت اپنی ابتدائی ماہیت کھو دیتے ہیں اور ایک نئی چیز پیدا کردیتے ہیں؟
اس کے بعد علما کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ جو ترکیبات مؤخر الذکر نوعیت کی ہوں،ان میں حرام اجزا کی شمولیت کا کیا حکم ہے؟
اس تحقیق کی ضرورت خاص طور پر اس وجہ سے بہت شدید ہوگئی ہے کہ ہمارا ملک زیادہ تر خام اشیا پیدا کرکے بیچ دیتا ہے اور ہم ان کے بدلے میں ایسے ملکوں سے اپنی ضروریات کی بے شمار مصنوعات خرید رہے ہیں جہاں کے لوگ حلال وحرام کی تمیز سے قطعاًنا آشنا ہیں۔اب یہ بات وقتاًفوقتاً ہمارے علم میں آتی رہتی ہے کہ فلاں چیز جو باہر سے درآمد ہوتی ہے،اُس میں فلاں حرام شے استعمال کی جاتی ہے،اور اس طرح کی خبریںسن سن کر آئے دن ہماری زندگی تلخ ہوتی رہتی ہے کہ کہیں ہم گناہ میں تو مبتلا نہیں ہورہے ہیں۔اس کا علاج اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ پہلے اُصولی طور پر مختلف اقسام کے مرکبات کی شرعی حیثیت مشخص کی جائے اور پھر ہر ایک کا حکم واضح طور پر بتا دیا جائے۔
میں اس معاملے میں خود مذبذب ہوں اور قطعی رائے پر نہیںپہنچ سکا ہوں۔ البتہ اس پریشانی میں سب کے ساتھ شریک ہوں کہ وقتاًفوقتاً کسی نہ کسی چیز کے متعلق یہ اطلاع کانوں میں پڑجاتی ہے کہ اس میں کوئی حرام چیز شامل ہے۔اب آپ نے صابن کے متعلق خبر سنا کر ایک اور شک کا اضافہ کردیا۔

(ترجمان القرآن،رجب،شعبان ۳۷۱اھ، اپریل،مئی۹۵۲اء)

مسئلہ تقدیر:

سوال: مشکوٰۃ باب الایمان بالقدر میں ذیل کی متفق علیہ حدیث وارد ہے:
ان خلق احدکم یجمع فی بطن امہ… ثم یبعث اللّٰہ الیہ ملکا باربع کلمات فیکتب عملہ واجلہ ورزقہ وشقی اوسعید ثم ینفخ فیہ الروح…
’’یقینا تم میں سے ہر ایک کی تخلیق اُس کی ماں کے پیٹ میں ہوتی ہے… پھر اﷲتعالیٰ اُس کی طرف ایک فرشتے کو چار باتیں دے کر بھیجتا ہے۔چنانچہ وہ اس کے عمل، عمر،رزق اور شقاوت وسعادت کے بارے میں نوشتہ تیار کردیتا ہے اور پھر اس میں روح پھونک دیتا ہے۔‘‘
اب سوال ذہن میںیہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان سارے معاملات کا فیصلہ ماں کے پیٹ میں ہی ہوجاتا ہے تو پھر آزادی عمل اور ذمہ داریِ عمل کی کیا گنجایش باقی رہ جاتی ہے؟عام طور پر ایسی ہی احادیث سن لینے کے بعد لوگ ہاتھ پائوں توڑ کر بیٹھ رہتے ہیں۔

جواب: تقدیر کے مسئلے میں آپ کو جو اُلجھن ہے،اُسے چند لفظوں میں دُور کرنا مشکل ہے۔آپ اگر پوری طرح سمجھنا چاہیں تو میری کتاب’’مسئلہ جبر وقدر‘‘ ملاحظہ فرمایئے۔
حدیث کے بارے میں یہ بات آپ کے ذہن میں رہنی چاہیے کہ کسی مسئلے کے سارے پہلو کسی ایک ہی حدیث میں مذکور نہیں ہوتے،اس لیے جو شخص صرف ایک دو روایتوں کو لے کر ان سے کوئی نتیجہ نکالنا چاہے گا وہ غلط فہمیوں میں مبتلا ہوجائے گا۔ جو اُلجھن آپ کو ایک حدیث سے پیش آئی ہے،اُس سے بہت زیادہ اُلجھنیں اس صورت میں پیش آئیں گی جب کہ قرآن کی کسی آیت سے آپ کوئی بڑا مسئلہ حل کرنا چاہیں گے۔ اسی مسئلۂ تقدیر سے متعلق قرآن مجید کی کوئی آیت سراسر جبر کا پہلو پیش کرتی ہے اور کوئی دوسری آیت انسانی اختیار کی اہمیت ظاہر کرتی ہے۔ جبر اور اختیار،دونوں ہی بیک وقت انسانی زندگی کے ہر گوشے میں اس طرح پائے جاتے ہیں کہ اگر مجرد ایک کو الگ کرکے دیکھا جائے تو دوسرے کا کوئی مقام باقی رہتا نظر نہیں آتا۔حالاں کہ ایک کو دیکھنے کے ساتھ یہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ دوسری حقیقت کا جو مقام ہے،وہ بھی اپنی جگہ بحال رہے۔مسئلہ تقدیر کی ہر وہ تعبیر جو حقیقت کے ایک رُخ کو دوسرے رخ کی قطعی نفی کا ذریعہ بنا دے،وہ کسی صورت میں بھی صحیح نہیں ہوسکتی۔یہی وجہ ہے کہ اہل علم مسائل دین کے متعلق ایک جامع نظریہ قائم کرنے کے لیے یہ ضروری قرار دیتے ہیں کہ ایک مسئلے پر جتنی آیات واحادیث سے روشنی پڑتی ہو،ان سب کو نگاہ میں رکھا جائے۔
جس خاص حدیث کے بارے میں آپ نے اپنی اُلجھن بیان فرمائی ہے،اُس پر آپ اس پہلو سے غور فرمایئے کہ اﷲ تعالیٰ جو بے شمار مخلوق روزانہ پیدا فرما رہا ہے،اگر اُس کو ان میں سے ہر ہر چیز کے متعلق یہ معلوم نہ ہو کہ کس چیز کی کیااستعداد ہے، کس کا دنیا میں کیا کام ہے، اور کس کو نظام کائنات میں کس جگہ رہنا ہے اور کیا خدمت سرانجام دینی ہے،تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ(معاذ اﷲ) اس بے خبری کے ساتھ ایک دن بھی اس عظیم الشان کائنات کا انتظام چلا سکتا ہے؟ یہ بات آخر کس طرح باور کی جاسکتی ہے کہ دنیا کا خالق اور مدبر اپنی مخلوق کے حال اور مستقبل سے لا علم ہو؟یہ تک نہ جانتا ہو کہ کل اُس کی سلطنت میں کیا کچھ پیش آنے والا ہے اور اُس کو کسی کے اچھے یا برے ارادے کا صرف اُسی وقت علم ہو جب وہ اپناکام کر گزرے! یہ بات نہ صرف خلاف عقل ہے بلکہ اگر آپ اس کے نتائج پر غور کریں تو ان اُلجھنوں سے بہت زیادہ اُلجھنیں اِ س سے پیدا ہوتی ہیں جو پیشگی نوشتۂ تقدیر کی خبرسن کر آپ کے ذہن میں پیدا ہوئی ہیں۔پس یہ تو بہرحال ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اﷲ تعالیٰ جملہ ما کان وما یکون کا علم رکھتا ہے اور ہر متنفس کا مستقبل اُسے معلوم ہے۔اﷲ کا علم اﷲ کی قدرت کی نفی نہیں کرتا۔اﷲ کی قدرت نے ہر انسان کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ بھلائی اور برائی میں سے جس چیز کو چاہے انتخاب کرلے،اور اﷲ کا علم یہ جانتا ہے کہ کون شخص کیا کچھ انتخاب کرے گا۔غلطی سے اس ذات پاک کا علم منز ہ ہے اور عجز سے اُس کی قدرت منزہ۔
رہی یہ بات کہ لوگ عقیدۂ تقدیر کو غلط معنی میں لے رہے ہیں اور اس کے برے نتائج نکل رہے ہیں، تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ایک حقیقت کو اس کی وجہ سے بدل ڈالا جائے، نہ حقیقتیں اس بنیاد پر بدل سکتی ہیں کہ لوگ ان کے سمجھنے میں غلطی کررہے ہیں۔ غلطی حقیقت کی نہیں بلکہ لوگوںکی سمجھ کی ہے اور وہی اصلاح طلب ہے۔

(ترجمان القرآن،ذی الحجہ ا۳۷اھ، ستمبر۹۵۲اء)

انسان کے’’ فطرت‘‘پر پیدا ہونے کا مفہوم:

سوال: حدیث ’’کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ اوینصرانہ او یمجسانہ‘‘ کا کیا مطلب ہے؟اس سوال کا باعث آپ کی کتاب خطبات کی وہ عبارت ہے جس میں آپ نے خیال ظاہر کیا ہے کہ’’انسان ماں کے پیٹ سے اسلام لے کر نہیں آتا۔‘‘اس حدیث کا مطلب عموماً یہ لیا جاتا ہے کہ ہر بچہ مذہب اسلام پر پیدا ہوتا ہے،مگر آپ کی مذکورۂ بالا عبارت اس سے اِبا کرتی ہے۔آپ کی اس عبارت کو دیگر معترضین نے بھی بطور اعتراض لیا ہے۔مگر میں اس کا مطلب کسی اور سے سمجھنے یا خود نکالنے کے بجائے آپ ہی سے سمجھنا چاہتا ہوں۔ کیوں کہ متعدد بار ایسا ہوا ہے کہ معترض نے آپ پر اعتراض کردیا اور بادی النظر میں اس کا اعتراض معقول معلوم ہوا، مگر جب آپ کی طرف سے اس عبارت کا مفہوم بیان ہوا تو عقل سلیم نے آپ کے بیان کردہ مفہوم کی تصدیق کی۔

جواب: اس حدیث میں جو حقیقت بیان ہوئی ہے وہ دراصل یہ ہے کہ انسان خدا کے ہاں سے کفر یا شرک یا دہریت لے کر نہیں آتا، بلکہ وہ خالص فطرت لے کر آتا ہے جو خد اکے سوا اپنے کسی معبود کونہیں جانتی اور شرائع الٰہیہ کے فطری اُصولوں کے سوا کسی چیز سے مانوس نہیں ہوتی۔اگر اس فطرت پر آدمی برقرار رہے اور کوئی بگڑا ہوا ماحول اُسے مشرکانہ افکار واعمال اور گمراہانہ اخلاق واوصاف کی طرف نہ موڑے تو اُسے انبیا علیہم السلام کی پیش کردہ تعلیمات کو قبول کرنے میں ذرا تامل نہ ہو۔ وہ اس چیز کو اس طرح لے جیسے اس کی اپنی چیز تھی جو کسی نے لا کر اُسے دے دی۔
لیکن یہ حقیقت کا صرف ایک پہلو ہے۔دوسر ا پہلو یہ ہے کہ ’’اسلام‘‘ جس چیز کو کہتے ہیں وہ کسی آدمی کو خودبخود حاصل نہیں ہوجاتی بلکہ صرف انبیا علیہم السلام کے واسطے سے ہی ملتی ہے،اور ایک آدمی مسلم اسی وقت ہوتا ہے جب کہ انبیا کے پیش کردہ دین کو جان کر دل سے اُس کی تصدیق کرے، حتیٰ کہ اگر کوئی شخص سن شعور کو پہنچنے تک ٹھیک ٹھاک اسی فطرت پر قائم ہو جس پر اﷲ نے اُسے پیدا کیا تھا،تب بھی اُس کا مسلم ہونا اسی پر موقوف ہوگا کہ نبی کے واسطے سے اُس کودین ملے اور وہ اُسے قبول کرے۔ جو شخص اس بات کو نہیں مانتا ٰ،وہ دراصل یہ کہتا ہے کہ آدمی ماں کے پیٹ سے جو فطرت لے کر آتا ہے،وہی پورا کا پورا اسلام ہے اور وہی آدمی کے ہدایت یافتہ ہونے کے لیے کافی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کے معنی یہ ہیں کہ شرائع کا نزول اور انبیا کی آمد بالکل غیر ضروری ہے۔حالاں کہ قرآن جس بات کو بار بار وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے،وہ یہ ہے کہ انسان کو بہرحال خدا کی طرف سے ایک رہنمائی کی ضرورت ہے اور وہ ہر شخص کو براہ راست نہیں بلکہ انبیا علیہم السلام کے واسطے سے ہی مل سکتی ہے،اور اسی کا اتباع قبول کرنے پر آدمی کی نجات کا مدار ہے۔دیکھیے جس وقت کوئی اجتماعی ماحول سرے سے موجودنہ تھااور کسی یہودیت یا نصرانیت یا مجوسیت کا نام ونشان تک نہ تھا،اُس وقت اﷲتعالیٰ نے نوع انسانی کو خطاب کرکے فرمایا:
فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّـنِّىْ ھُدًى فَمَنْ تَبِــعَ ھُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ
البقرہ 38:2
’’پس اگر میری طرف سے تمہارے پاس رہنمائی آئے تو جو لوگ میری رہنمائی کی پیروی کریں گے،ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی جس فطرت کو اﷲ نے فجور اور تقویٰ کی ایک الہامی معرفت بخشی ہے،وہ اگر اپنی سلیم حالت میں بھی محفوظ ہو،پھر بھی وہ خود راستہ پالینے کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے وحی کی رہنمائی ناگزیر ہے۔فطرت کی صلاحیت زیادہ سے زیادہ بس اتنی ہی ہے کہ وحی کے ذریعے سے جب اُس کے سامنے راہ ِ حق پیش کی جائے تو وہ اُسے پہچان لیتی ہے اور اُس کی تصدیق کرتی ہے، مگر وحی کے بغیر خود راہ یاب ہوجانا اس کے بس میں نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر سلیم الفطرت آخر کون ہوسکتا ہے؟آپؐ کا حال یہ تھا کہ جب تک وحی نے رہنمائی نہ کی،آپؐ ٹھٹکے کھڑے تھے اور کچھ نہ جانتے تھے کہ راستہ کدھر ہے۔ وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی اور وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا۝۰ۭ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ شوریٰ 52:42
اس اسلام کے متعلق آخر کوئی صاحب علم وعقل آدمی یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ یہ مسلمان گھر میںپیدا ہونے والے ہر آدمی کو آپ سے آپ مل جاتا ہے اور اس کے حاصل ہونے کے لیے سرے سے کسی علم وشعور اور ارادی تصدیق کی حاجت ہی نہیں ہے؟

( ترجمان القرآن،محرم،صفر ۳۷۲اھ، اکتوبر،نومبر۹۵۲اء)

حروف مقطعات:

سوال: تفہیم القرآن میں آپ نے حروف مقطعات کی بحث میں لکھا ہے کہ دور نزول قرآن میں الفاظ کے قائم مقام ایسے حروف کا استعمال حسن بیان اور بلاغت زبان کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ نیز یہ کہ ان کے معنی ومفہوم بالکل معروف ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مخالفین اسلام کی طرف سے اس وقت ان کے استعمال پر کبھی اعتراض نہیں ہوا تھا۔آگے چل کر آپ فرماتے ہیں کہ ان حروف کی تشریح چنداں اہمیت نہیں رکھتی اور نہ ان کے سمجھنے پر ہدایت کا انحصار ہے۔ اس بارے میں میری حسب ذیل گزارشات ہیں:
اگر ان حروف کے معانی ابتدائی دور میں ایسے معروف تھے تو یہ کیوں کر ممکن ہوا کہ ان کا استعمال شعر وادب میں متروک ہوگیا اور دفعتاً ان کے معانی اذہان سے کلیتاً محو ہوگئے۔اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ اگر آج بلاد عربیہ میں چند ایسے الفاظ کا استعمال متروک ہوجائے جو قرآن میں بھی آئے ہیں تو کچھ عرصے کے بعد دنیائے اسلام میں قرآن کے ان الفاظ کا صحیح مفہوم متعین نہیں رہے گا۔پھر اس سے بھی عجیب تر آپ کا یہ استدلال ہے کہ چوں کہ ان حروف کے معانی کے تعین پر ہدایت و نجات کا مدار نہیں اس لیے ان کی تشریح وتوضیح کی ضرورت نہیں۔اس طرح تو قرآن کے بیش تر حصے کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس کا مطلب سمجھنے پر ہدایت کا انحصار نہیں،اور اُس حصے کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔اس نظریے کے تحت تو تجدد پسند حضرات سے کچھ بعید نہیںکہ وہ قرآن کے ایک حصے کو اہمیت دیں اور دوسرے حصے سے صرف نظر کرلیں۔براہ کرم آپ اپنے موقف کی دوبارہ وضاحت فرمائیں۔

جواب: آپ نے جو اعتراضات کیے ہیں،ان سے پہلے اگر آپ ان بحثوں کو پڑھ لیتے جو قدیم ترین تفسیروں سے لے کر آج تک کی تفسیروں میں حروف مقطعات پر کی گئی ہیں تو آپ کو میری بات سمجھنے میں زیادہ سہولت ہوتی۔بلکہ شاید ان بحثوں کو دیکھنے کے بعد آپ محسوس کرتے کہ اس مسئلے میں سب سے زیادہ اطمینان بخش وہی بات ہوسکتی ہے جو میں نے لکھی ہے۔
کسی زبان میں بعض اسالیب بیا ن کا متروک ہوجانا یا معروف نہ رہنا کوئی ایسا انوکھا واقعہ نہیں ہے کہ آپ کو یہ سن کر اس قدر تعجب ہوا۔ بلکہ اس کے برعکس یہ ایک عجیب بات ہے کہ قرآن کی بدولت تیرہ سو سال سے عربی زبان کے ادب میں اتناکم تغیر واقع ہوا ہے۔اتنی طویل مدت میں تو زبانیں بدل کر کچھ سے کچھ ہوجایا کرتی ہیں۔
حروف مقطعات زیادہ تر خطابت اور شعر میں استعمال ہوتے تھے اور ان کے کوئی ایسے متعین معنی نہ تھے کہ باقاعدہ لغت میں درج کیے جاتے۔ بلکہ یہ ایک اسلوب بیان تھا جس سے کثرتِ استعمال کی بنا پر بولنے والے اور سننے والے یکساں طور پر مانوس تھے۔اسی لیے جب رفتہ رفتہ زبان میں یہ اسلوب کم استعمال ہوتے ہوتے متروک ہوگیا تو لوگوں کے لیے اس کا سمجھنا مشکل ہوتا چلاگیا۔یہاں تک کہ تیسری چوتھی صدی کے مفسرین کو ان کے معنی متعین کرنے کے لیے لمبی چوڑی بحثیں کرنی پڑیں اور پھر بھی کوئی تسلی بخش بات نہ کہہ سکے۔
اسالیب بیان کے بتدریج متروک ہونے کی شان یہی ہوتی ہے کہ کوئی خاص تاریخ ان کے متروک ہونے کی بیان نہیں کی جاسکتی۔بس ایک مدت کے بعد محسوس ہونے لگتا ہے کہ لوگ ان کو سمجھنے سے قاصر ہورہے ہیں۔ جس زمانے میں یہ اسلوب مستعمل تھا،اُس زمانے میں اس کی تشریح کی کسی کو ضرورت پیش نہ آئی اور جب یہ مستعمل نہ رہا تو تشریح کی ضرورت بھی پیش آئی اور تشریحات کی بھی گئیں۔ مگر جیسا کہ میں اوپر کہہ چکا ہوں،یہ تشریحات اتنی مختلف تھیں کہ ان میں سے کوئی بھی تشفی بخش نہ ہوسکی۔
آپ کا یہ شبہ بھی صحیح نہیں ہے کہ اگر قرآن کے بعض الفاظ متروک الاستعمال ہوجائیں تو کیا ان کا مفہوم بھی متعین نہ رہے گا؟ الفاظ اور اسالیب بیان کو خلط ملط نہ کیجیے۔ الفا ظ کے سارے مادّے لغت میں ضبط کیے جاچکے ہیں اور ان کی جملہ تشقیقات،نیز محاورے میں ان کے استعمالات، سب کو اہل لغت نے وضاحت کے ساتھ لکھ دیا ہے۔اس لیے اب اگر عربی زبان میں ان کا استعمال عموماًنہ ہو،تب بھی کوئی نقصان واقع نہیں ہوتا۔ مگر اسالیب بیان کا معاملہ بہت مختلف ہے۔ان کے معانی کہیں ضبط کیے ہوئے نہیں ہوتے بلکہ استعمال ہی سے سمجھ میں آتے ہیں،اور استعمال متروک ہونے کے بعد کسی حد تک وہی لوگ ان کو سمجھ سکتے ہیں جو اس دور کے ادب کا کثرت سے مطالعہ کریں جس دور میں وہ اسالیب مستعمل تھے،یہاں تک کہ ان کا ذوق ان اسالیب سے مانوس ہوجائے۔
میں نے حروف مقطعات کے متعلق جو بات کہی ہے کہ ان کا مفہوم نہ سمجھنے سے کوئی بڑی قباحت واقع نہیں ہوتی،اسے آپ خواہ مخواہ کھینچ کر بہت دُور لے گئے ہیں۔میر امطلب صرف یہ ہے کہ یہ حروف چوں کہ خطیبانہ بلاغت کی شان رکھتے ہیں،اور ان میں کوئی خاص حکم یا کوئی خاص تعلیم ارشاد نہیں ہوئی ہے،اس لیے اگر آدمی ان کا مطلب نہ سمجھ سکے تو اس کا یہ نقصان نہیں ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے کسی حکم کو جاننے سے یا کسی تعلیم کا فائدہ اُٹھا نے سے محروم رہ گیا۔لہٰذا جب ان کے معنی متعین کرنے کے لیے کوئی اُصول ہاتھ نہیں آتا،اور کوئی مستند تشریح بھی نہیں ملتی، تو خواہ مخواہ تکلف سے معنی پیدا کرنے اورتیر تکے لڑانے کی ضرورت نہیں۔ان کی صحیح مراد خدا پر چھوڑیے اور کتاب کی ان آیات پر تدبر شروع کردیجیے جنھیں سمجھنے کے ذرائع ہمارے پاس ہیں۔

(ترجمان القرآن، ذی الحجہ ا۳۷اھ، مطابق ستمبر۹۵۲اء)

نسخ فی القرآن:

سوال: نسخ کے بارے میں مندرجۂ ذیل سوالات پر براہِ کرم روشنی ڈالیں:
(۱) قرآن میں نسخ کے بارے میں آپ کی تحقیق کیا ہے؟کیا کوئی آیت مصحف میں ایسی بھی ہے جس کی تلاوت تو کی جاتی ہو مگر اس کا حکم منسوخ ہو۔
(۲) کیاقرآن کی کوئی آیت ایسی بھی ہے جو منسوخ التلاوۃ ہو مگر اُس کا حکم باقی ہو؟محدثین وفقہا نے آیت رجم کو بطور مثال پیش کیا ہے۔
(۳) اُصول فقہ کی کتابوںمیں لکھا ہے کہ حدیث قرآن کو منسوخ کرسکتی ہے۔کیا یہ نظریہ ائمۂ فقہا سے ثابت ہے؟اگر ہے تو اس کا صحیح مفہوم کیا ہے؟

جواب: آپ کے سوالات تو مختصر ہیں مگر ان کے جواب کے لیے تفصیلی بحث کی ضرورت ہے جس کی فرصت مجھے حاصل نہیں ہے۔اس لیے مجمل جوابات پر ہی قناعت کرتاہوں:
(۱)قرآن میں نسخ دراصل تدریج فی الاحکام کی بنیاد پر ہے۔یہ نسخ ابدی نہیں ہے۔متعدد احکام منسوخہ ایسے ہیں کہ اگر معاشرے میں کبھی ہم کو پھر ان حالات سے سابقہ پیش آجائے جن میں وہ احکام دیے گئے تھے تو انھی احکام پر عمل ہوگا۔وہ منسوخ صرف اُسی صورت میں ہوتے ہیں جب کہ معاشرہ ان حالات سے گزر جائے اور بعد والے احکام کو نافذ کرنے کے حالات پیدا ہوجائیں۔
(۲)میرے نزدیک قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں ہے جو منسوخ التلاوۃہو اور بس اس کا حکم باقی ہو۔آیت رجم جس کا ذکر بعض روایات میں آیا ہے،دراصل ایک دوسری کتاب اﷲ یعنی تورات کی آیت تھی،نہ کہ قرآن کی۔ اس آیت کے نسخ سے مراد یہ ہے کہ جس کتاب میں یہ آیت تھی،اُس کتاب کو تو منسوخ کردیا گیا مگر اس کے رجم کے حکم کو باقی رکھا گیا۔
(۳)بلاشبہ فقہا کا ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ سنت قرآن کی ناسخ اور اس پر قاضی ہے،لیکن اس کا مطلب وہ نہیں ہے جو ظاہر الفاظ سے متبادر ہوتا ہے۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح سے قرآن مجید کا ایک خاص حکم عام ہوسکتاہے،بالکل اسی طرح آپ کی قولی یا عملی تشریح یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی خاص آیت کا حکم باقی نہیں رہا ہے۔اس مفہوم کے علاوہ اگر اس اُصول سے کوئی دوسرا مفہوم اخذ کیا گیاہے تو وہ صحیح نہیں ہے۔

(ترجمان القرآن، شعبان، رمضان۳۷۲اھ، مطابق مئی،جون۹۵۴اء)

گھر،گھوڑے اور عورت میں نحوست:

سوال: میں رہائش کے لیے ایک مکان خریدنا چاہتا ہوں۔ایک ایسا مکان فروخت ہورہاہے جس کا مالک بالکل لاوارث فوت ہوا ہے اور دُور کے رشتہ داروں کو وہ مکان میراث میں ملا ہے۔میںنے اس مکان کے خریدنے کا ارادہ کیا تو میرے گھر کے بعض افراد مزاحم ہوئے اور کہنے لگے کہ گھر منحوس ہے،اس میں رہنے والوں کی نسل نہیں بڑھتی حتیٰ کہ اصل مالک پر خاندان کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ گھر کے لوگوں نے ان احادیث کا بھی حوالہ دیا جن میں بعض گھروں،گھوڑوں اور عورتوں کے منحوس ہونے کا ذکر ہے۔ میں نے کتب احادیث میں اس سے متعلق روایتیں دیکھیںاور متعارف شروح وحواشی میں اس پر جو کچھ لکھا گیا ہے وہ بھی پڑھا، لیکن جزم ویقین کے ساتھ کوئی متعین توجیہ سمجھ میں نہ آسکی۔اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

ٰجواب: جن روایات کا آپ ذکرکررہے ہیں، وہ کتب حدیث میں وارد تو ہوئی ہیںمگر حضرت عائشہؓ کی ایک روایت سے ان کی حقیقت کچھ اور معلوم ہوتی ہے۔امام احمد نے اپنی مسند میں اس کو یوں نقل کیا ہے:
عن ابی حسان الاعرج ان رجلین دخل علی عائشۃ وقالا ان اباھریرۃ یحدث ان النبیﷺ کان یقول انما الطیرۃ فی المرأۃ والدابۃ والدار۔ فقالت والذی انزل الفرقان علی ابی القاسم ما ھکذا کان یقول ولکن کان یقول کان اہل الجاھلیۃ، یقولون الطیرۃ فی المرأۃ والدابۃ والدار، ثم قرأت عائشۃ ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی اَنفسکم الا فی کتاب من قبل ان نبرأھا ۔
’’ابو حسان اعرج سے روایت ہے کہ دو آدمی حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیںکہ نبیؐ فرمایا کرتے تھے کہ ’’بدشگونی تو صرف عورت اور گھوڑے اور گھر میں ہے۔‘‘اس پر حضرت عائشہؓ نے فرمایا: قسم ہے اُس ذات کی جس نے قرآن ابو القاسم(یعنی آنحضرت ؐ)پر نازل کیا ہے،آپؐ یوں نہیں فرمایا کرتے تھے بلکہ آپؐ یہ کہا کرتے تھے کہ اہل جاہلیت عورت،گھوڑے اور گھر میں نحوست و بدشگونی کے قائل تھے۔پھر حضرت عائشہ نے یہ آیت پڑھی:کوئی مصیبت زمین میں اور تمہار ے نفوس میں نہیں آتی مگر اُس کے رونما ہونے سے پہلے وہ ایک نوشتے میں لکھی ہوتی ہے۔‘‘
ام المومنین کی اس تشریح سے معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے جو روایت بیان کی ہے وہ غالباًصحیح الفاظ میں نقل نہیں ہوئی ہے۔تاہم اگر اس کو درست مان بھی لیا جائے تو اِ س کی ایک معقول توجیہ بھی ہوسکتی ہے۔
نحوست کا ایک مفہوم تو وہم پرستانہ ہے جسے اسلام سے کوئی علاقہ نہیں ہے۔ لیکن نحوست کا ایک دوسرا علمی مفہوم بھی ہے۔اس سے مراد کسی چیز کا ناموافق اور ناسازگار ہونا ہے۔یہ مفہوم معقول بھی ہے اور شریعت میں معتبر بھی۔چنانچہ حدیث میں مکان کے منحوس ہونے کا جہاں ذکر ہے وہاں مطلب یہ نہیں ہے کہ مکان میں کوئی ایسی وہمی چیز موجود ہے جو رہنے والوں کی قسمت بگاڑ دیتی ہے بلکہ اس کا مدعا یہ ہے کہ تجربے اور مشاہدے نے اس مکان کو سکونت کے لیے ناموافق ثابت کردیا ہے۔بسا اوقات کسی مرض کے متعد دمریض ایک مکان میں یکے بعد دیگرے رہتے چلے آتے ہیں یہاں تک کہ مرض کے زہریلے اثرات وہاں مستقل طور پر جاگزیں ہوجاتے ہیں۔ اب اگر تجربے سے معلوم ہوجائے کہ وہاں جو رہاوہ اس مرض خاص میں مبتلا ہوگیا، تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ مکان اب سکونت کے لیے ناموافق ہوگیا ہے۔خصوصیت کے ساتھ طاعون اور دق کے معاملے میں یہ بات بارہا تجربے سے ثابت ہوچکی ہے۔ احادیث میں بھی یہ حکم موجود ہے کہ جہاں طاعون پھیلا ہو،وہاں سے بھاگو بھی نہیں اور قصداًوہاں جائو بھی نہیں۔ایسا ہی معاملہ عورت اور گھوڑے کا بھی ہے۔ اگر متعدد آدمیوں کو ایک گھوڑے کی سواری ناموافق آئی ہو،یا متعدد آدمی ایک عورت سے یکے بعددیگرے نکاح کرکے خاص مرض کے شکار ہوئے ہوں تو یہی سمجھا جائے گا کہ اس عورت یا گھوڑے میں کوئی نامعلوم خرابی ہے۔
اب یہ دیکھنا آپ کا کام ہے کہ جس مکان کو آپ خریدنا چاہتے ہیں،اُس کی نحوست وہمی نوعیت کی ہے یا تجربی نوعیت کی۔

(ترجمان القرآن۔ربیع الثانی۳۷۲اھ، جنوری۹۵۳اء)

زکوٰۃ کی حقیقت اور اس کے اُصولی احکام:

سوال نامہ:
(۱) زکوٰۃ کی تعریف کیا ہے؟
(۲) کن کن لوگوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟اس سلسلے میںعورتوں،نابالغوں، قیدیوں، مسافروں،فاترالعقل افراد اور مستامنوں یعنی غیر ملک میں مقیم لوگوں کی حیثیت کیا ہے؟ وضاحت سے بیان کیجیے۔
(۳) زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے کتنی عمر کے شخص کو بالغ سمجھنا چاہیے؟
(۴) زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے عورت کے ذاتی استعمال کے زیور کی کیا حیثیت ہے؟
(۵) کیا کمپنیوں کو زکوٰۃادا کرنی چاہیے یا ہر حصے دار کو اپنے اپنے حصے کے مطابق فرداً فرداً زکوٰۃ ادا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟
(۶) کارخانوں اور دوسرے تجارتی اداروں پر زکوٰۃ کے واجب ہونے کی حدود بیان کیجیے۔
(۷) جن کمپنیوں کے حصص قابل انتقال ہیں، ان کے سلسلے میں تشخیص زکوٰۃ کے وقت کس پر زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہوگی؟حصص کے خریدنے والے پر یا فروخت کرنے والے پر؟
(۸) کن کن اثاثوں اور چیزوں پر اور موجودہ سماجی حالت کے پیش نظر کن کن حالات میں زکوٰۃواجب ہوتی ہے؟بالخصوص ان چیزوں کے بارے میں یا ان سے پیدا شدہ حالات میں کیا صورت ہوگی؟
(ا) نقدی، سونا،چاندی،زیورات او رجواہرات۔
(ب) دھات کے سکے(جن میں طلائی، نقرئی اور دوسری دھاتوں کے سکے شامل ہیں) اور کاغذی سکے۔
(ج) بینکوں میں بقایا امانت،بینک یا کسی دوسری جگہ حفاظت میں رکھی ہوئی چیزیں،لیے ہوئے قرضے،مرہونہ جائداد اور متنازعہ فیہ جائداد اور ایسی جائداد جو قابل ارجاعِ نالش ہو۔
(د) عطیات۔
(ر) بیمے کی پالیسیاں اور پراویڈنٹ فنڈ کی رقمیں۔
(و) مویشی، شیر خانے کی مصنوعات، زرعی پیدا وار مع اناج،سبزیاں،پھل اور پھول۔
(ز) معدنیات۔
(ح) برآمد شدہ فیتہ۔
(ط) آثار قدیمہ۔
(ی) جنگلی اور پالتو مکھی کا شہد۔
(ک) مچھلی، موتی اور پانی سے نکلنے والی دوسری چیزیں۔
(ل) پٹرول
(م) درآمد وبرآمد
(۹) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جن املا ک پر زکوٰۃ واجب تھی کیا خلفائے راشدین نے ان کی فہرست میں کوئی اضافہ فرمایا؟اگر کوئی اضافہ یا تبدیلی کی گئی تو کن اُصولوں پر؟
(۰ا) کیا نکل کے سکوں اور سونے چاندی کے سوا دوسری دھاتوں کے رائج الوقت سکوں پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟جو سکے رائج نہیں رہے یا جو خراب ہیں یا حکومت نے واپس لے لیے ہیں یا دوسرے ملکوں کے سکے ہیں،ان کا بھی اِ س سلسلے میںشمار ہونا چاہیے یا نہیں؟
(۱۱) مال ظاہر اور مال باطن کی تعریف کیا ہے؟اس سلسلے میں بینکوں میں جمع شدہ رقوم کی حیثیت کیا ہے؟
(۱۲) اغراض زکوٰۃ کے لیے مال نامی(نمو پذیر) کی حدود بیان کیجیے۔کیا صرف مالِ نامی پر زکوٰۃواجب ہوگی؟
(۱۳) جو مکان زیورات اور دوسری چیزیں کرائے پر دی جاتی ہیں،ان پر اور ٹیکسی گاڑی موٹر وغیرہ پر زکوٰۃ لگانے کے کیا قاعدے ہونے چاہییں؟
(۱۴) کس آدمی کے کن کن مملوکہ جانوروں پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہے؟ اس سلسلے میں بھینسوں، مرغیوں اور دوسرے پالتو اور شوقیہ پالے ہوئے جانوروں کی حیثیت کیا ہے؟ کیا ان پر زکوٰۃ نقدی کی شکل میںیاجنس کی صورت میں یا دونوں طرح دی جاسکتی ہے؟کسی آدمی کے مختلف مملوکہ جانوروں کی کتنی تعداد پر اور کن حالات میں ز کوٰۃ واجب ہونی چاہیے؟
(۱۵) جن مختلف سامانوں اور چیزوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ان پر زکوٰۃ کس شرح سے لی جائے؟
(۱۶) کیا خلفائے راشدین کے زمانے میں نقدی،سکوں،مویشیوں،سامان تجارت، زرعی پیداوار پر زکوٰۃ کی شرح میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے؟اگر ایسا ہوا تو سند کے ساتھ تفصیلی وجوہ بیان کیجیے۔
(۱۷) نقدی کی صورت میں اگر زکوٰۃ دو سو نقرئی درہم اور۲۰ طلائی مثقال پر واجب ہو تو یہ سکے کتنے پاکستان کے روپوں کے برابر ہوں گے؟اناج کی صورت میںصاع اور وسق پاکستان کے مختلف علاقوں اور صوبوں میں کن مروّجہ اوزان کے برابر ہوں گے؟
(۱۸) کیا موجودہ حالات کے پیش نظر نصاب( وہ کم ازکم سرمایہ جس پر زکوٰۃ واجب ہے)اور زکوٰۃ کی شرح میں کوئی تبدیلی ہوسکتی ہے؟اس مسئلے پر اپنے خیالات دلائل کے ساتھ پیش کیجیے۔
(۱۹) مختلف اثاثوں اور سامان پر کتنی مدت گزرنے کے بعد زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟
(۲۰) اگر ایک سال میں کئی فصلیں ہوں تو کیا سال میں صرف ایک بار زکوٰۃادا کرنی چاہیے یا ہر فصل پر؟
(۲۱) زکوٰۃ قمری سال کے حساب سے واجب ہونی چاہیے یا شمسی سال کے حساب سے؟ کیا زکوٰۃ کی تشخیص اور وصولی کے لیے کوئی مہینا مقرر ہونا چاہیے؟
(۲۲) زکوٰۃ کی رقم کن مصارف میں خرچ ہونی چاہیے؟
(۲۳) قرآن حکیم میں جن مختلف مصارف میں زکوٰۃخرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے،ان کی حدود بیان کیجیے۔ بالخصوص اصطلاح ’’ فی سبیل اﷲ‘‘ کے معنی اور مفہوم کی وضاحت کیجیے۔
(۲۴) کیا یہ لازمی ہے کہ زکوٰۃ کی رقم کا ایک حصہ ان مصارف میں سے ہر ایک مصرف پر خرچ کرنے کے لیے الگ رکھا جائے جن کا قرآن کریم میں ذکر آیا ہے یا زکوٰۃ کی پوری رقم قرآن مجید میں بتائے ہوئے تمام مصارف پر خرچ کرنے کے بجائے ان میں سے کسی ایک یا چند مصارف میں بھی خرچ کی جاسکتی ہے۔
(۲۵) مستحقین زکوٰۃ کے ہر طبقے میں کسی فرد کو کن حالات میں زکوٰۃ لینے کا حق پہنچتا ہے؟پاکستان کے مختلف حصوں میں جو حالات پائے جاتے ہیں،ان کی روشنی میں اس امر کی وضاحت کی جائے کہ سیدوں اور بنی ہاشم سے تعلق رکھنے والے دوسرے افراد کو زکوٰۃ لینے کا کہاں تک حق پہنچتا ہے؟
(۲۶) کیا زکوٰۃ صرف افراد کو دی جاسکتی ہے یا اداروں(مثلاً تعلیمی اداروں، یتیم خانوں اور محتاج خانوں وغیرہ )کو بھی دی جاسکتی ہے؟
(۲۷) کیا زکوٰۃ کی رقم میں سے مستحق غریبوں، مسکینوں،بیوائوں اور ان لوگوں کو جو اپاہج یا ضعیف ہونے کی وجہ سے روزی کمانے سے معذور ہوں،عمر بھر کی پنشن کے طور پر گزارا الائونس دیا جاسکتا ہے؟
(۲۸) کیا زکوٰۃ کو رفاہ عامہ کے کاموں مثلاً مسجدوں،ہسپتالوں،سڑکوں،پلوں،کنوئوں اور تالابوں وغیرہ کی تعمیر پر خرچ کیا جاسکتا ہے جس سے ہر آدمی بلا لحاظ مذہب وملت فائدہ اُٹھا سکے؟
(۲۹) کیا زکوٰۃ کی رقم کسی شخص کو قرض حسنہ یا قرضہ بلا سود کے طور پر دی جاسکتی ہے؟
(۳۰ ) کیا یہ ضروری ہے کہ زکوٰۃ جس علاقے سے وصول کی جائے،اُسی علاقے میں خرچ کی جائے یا اُس علاقے سے باہر یا پاکستان سے باہر تالیف قلوب کے لیے یا آفات ارضی وسماوی مثلا زلزلہ یا سیلاب وغیرہ کے مصیبت زدگان کی امداد پر بھی خرچ کی جاسکتی ہے؟اس سلسلے میں آپ کے نزدیک علاقے کی کیا تعریف ہوگی؟
(۳۱) کسی متوفی کے متروکہ سے زکوٰۃوصول کرنے کا کیا طریقہ ہونا چاہیے؟
(۳۲) ایسی کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں کہ لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی سے بچنے کے لیے حیلے نہ کرسکیں؟
(۳۳) زکوٰۃ کی تحصیل اور اُس کاانتظام مرکز کے ہاتھ میں ہونا چاہیے یا صوبوں کے ہاتھ میں؟اگر زکوٰۃ مرکز جمع کرے تو اُس میں سے صوبوں یا دوسرے علاقوں کا حصہ مقرر کرنے کے کیااُصول ہوں؟
(۳۴) آپ کی نظر میں زکوٰۃ کے نظم ونسق کو چلانے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟کیا زکوٰۃ جمع کرنے کے لیے کوئی الگ محکمہ قائم کیا جائے یا حکومت کے موجودہ محکموں سے ہی یہ کام لیا جائے؟
(۳۵) کیا کبھی زکوٰۃ کو سرکاری محصول قرار دیا گیا؟ یا وہ کوئی ایسا محصول ہے کہ حکومت محض اُس کی وصولی اور انتظام ہی کی ذمہ دار رہی ہو؟
(۳۶) کیا رسول اکرمؐ کے زمانے یا خلفائے راشدین کے دور حکومت میں اغراض عامہ کے کاموں کے لیے زکوٰۃ کے علاوہ بھی کوئی سرکاری محصول وصول کیا گیا؟ اگر کیا گیا تو وہ کون سا محصول تھا؟
(۳۷) اسلامی ملکوں میں زکوٰۃ کی وصولی او رانتظام کرنے کا کیا طریقہ رہا ہے اور اب کیا ہے؟
(۳۸) کیا زکوٰۃکی وصولی اور خرچ کا انتظام صرف حکومت کے پاس رہنا چاہیے یا کوئی مجلس اُمنا مقرر ہوکر اس کا انتظام حکومت اور عوام کی مشترکہ نگرانی میں ہونا چاہیے؟
(۳۹) زکوٰۃجمع کرنے اور اس کا انتظام کرنے کے لیے جو عملہ رکھا جائے اس کی تنخواہیں، الائونس،پنشن،پراویڈنٹ فنڈ اور شرائط ملازمت کیا ہونی چاہییں؟
جواب:( ہر جواب کو پڑھتے وقت سوال کو بھی نگاہ میں رکھیے۔ ) (۱)زکوٰۃ کے لغوی معنی طہارت اور نمو کے ہیں۔انھی دونوں صفتوں کے لحاظ سے اصطلاح میں’’زکوٰۃ‘‘اُس مالی عبادت کو کہتے ہیں جو ہر صاحب نصاب مسلمان پر اس لیے فرض کی گئی ہے کہ خدا اور بندوں کا حق ادا کرکے اُس کا مال پاک ہوجائے اور اُس کا نفس،نیز وہ سوسائٹی جس میں وہ رہتا ہے، بخل، خود غرضی، بغض وغیرہ جذبات ردّیہ سے پاک ہو اور اس میں محبت واحسان، فراخ دلی اور باہمی تعاون ومواساۃ کے اوصاف نشو ونما پائیں۔
فقہا نے زکوٰۃ کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں، مثلاً:
حق یجب فی المال۔ (المغنی لا بن قدامہ ج۲ ص۴۳۳)
’’وہ ایک حق ہے جو مال میں واجب ہوتا ہے۔‘‘
اعطاء جزء من النصاب الٰی فقیر ونحوہ غیر متصف بمانع شرعی یمنع من الصرف الیہ ۔ ( نیل الاوطار،ج ۴ص۹۸)
’’نصاب میںسے ایک جز کسی محتاج اور اُس کے مانند شخص کو دینا جو کسی ایسے مانع شرعی سے متصف نہ ہو جس کی بِنا پر اُسے زکوٰۃ نہ دی جاسکے۔‘‘
تملیک مال مخصوص لمستحقہ بشرائط مخصوصۃ ۔
(الفقہ علی المذاہب الاربعہ ج ا ص ۵۹۰)
’’ایک مخصوص مال کو مخصوص شرائط کے مطابق اُس کے مستحق کی ملک میں دینا۔‘‘
(۲) عاقل وبالغ مسلمان مرد وزن اگرصاحب نصاب ہوں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہے اور اس کی ادائیگی کے وہ خود ذمہ دار ہیں۔
نابالغ بچوں کے بارے میں اختلاف ہے۔ایک مسلک یہ ہے کہ یتیم پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔دوسرا مسلک یہ ہے کہ یتیم کے سن رشد کو پہنچنے پر اُس کا ولی اُس کا مال اُس کے حوالے کرتے وقت اُس کو زکوٰۃ کی تفصیل بتا دے،پھریہ اُس کا اپنا کام ہے کہ اپنے ایام یتیمی کی پوری زکوٰۃادا کرے۔ تیسرا مسلک یہ ہے کہ یتیم کا مال اگر کسی کاروبارمیں لگایا گیا ہے اور نفع دے رہا ہے تو اُس کا ولی اُس کی زکوٰۃ ادا کرے ورنہ نہیں۔چوتھا مسلک یہ ہے کہ یتیم کے مال کی زکوٰۃ واجب ہے اور اس کو ادا کرنا اُس کے ولی کے ذمے ہے۔ہمارے نزدیک یہی چوتھا مسلک زیادہ صحیح ہے۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے:
الا من ولی یتیما لہ مال فلیتجر لہ فیہ ولا یترکہ فتاکلہ الصدقۃ ۔
(ترمذی، دارقطنی،بیہقی،کتاب الاموال لابی عبید)
’’خبر دار جو شخص کسی ایسے یتیم کا ولی ہو جو مال رکھتا ہوتو اُسے چاہیے کہ اُس کے مال سے کوئی کاروبار کرے اور اُسے یونہی نہ رکھ چھوڑے کہ اُس کا سارا مال زکوٰۃ کھا جائے۔‘‘
اسی کے ہم معنی ایک حدیث امام شافعی نے مرسلاً اور ایک دوسری حدیث طبرانی اور ابوعبید نے مرفوعاً نقل کی ہے اور اُس کی تائید صحابہ وتابعین کے متعدد آثار و اقوال سے ہوتی ہے جو حضرت عمر، حضرت عائشہ، حضرت عبداﷲ بن عمر،حضرت علی، حضرت جابر بن عبداﷲرضی اللہ عنہم اور تابعین میں سے مجاہد، عطاء،حسن بن یزید،مالک بن انس اور زہری سے منقول ہیں۔
فاتر العقل لوگوں کے معاملے میں بھی اسی نوعیت کا اختلاف ہے جو اوپر مذکور ہوا ہے اوراس میں بھی ہمارے نزدیک قول راجح یہی ہے کہ مجنون کے مال میں زکوٰۃواجب ہے اور اس کا ادا کرنا مجنون کے ولی کے ذمے ہے۔اما م مالکؒ اور ابن شہاب زہری نے اس رائے کی تصریح کی ہے۔
قیدی پر بھی زکوٰۃواجب ہے۔ جو کوئی اُس کے پیچھے اُس کے کاروبار یا مال کا متولی ہو، وہ اُس کی طرف سے جہاں اُس کے دوسرے واجبات ادا کرے گا،زکوٰۃ بھی ادا کرے گا۔ ابن قدامہ اس کے متعلق اپنی کتاب’’المغنی‘‘ میں لکھتے ہیں:’’اگر مال کا مالک قید ہوجائے تو زکوٰۃاُس پر سے ساقط نہ ہو گی،خواہ قید اُس کے اور اُس کے مال کے درمیان حائل ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔کیوں کہ اپنے مال میں اس کا تصرف قانوناًنافذ ہوتا ہے۔اُس کی بیع،اُس کا ہبہ اور اُس کا مختار نامہ، سب کچھ قانوناً جائزہے۔‘‘ (جلد۲، صفحہ۴۴۶)
مسافر پر بھی زکوٰۃواجب ہے۔اس میں شک نہیں کہ وہ مسافر ہونے کی حیثیت سے زکوٰۃ کا مستحق ہے۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اگر وہ صاحب نصاب ہے تو زکوٰۃ کا فرض اُس پر سے ساقط ہوجائے گا۔اُس کا سفر اُسے زکوٰۃ کا مستحق بناتا ہے اور اُس کا مال دار ہونا اُس پر زکوٰۃ فرض کرتا ہے۔
پاکستان کا مسلمان باشندہ اگر کسی غیر ملک میں مقیم ہو تو اُس پر زکوٰۃ اس صورت میں عائد ہوگی جب کہ اُس کا مال یا جائداد یا کاروبار پاکستان میںبقدر نصاب موجود ہو۔ کسی مسلمان مملکت کا مسلمان باشندہ اگر پاکستان میں مقیم ہو اور یہاں اُس کے پاس مال یاجائداد یا کاروبار بقدر نصاب ہو تو اُس سے بھی زکوٰۃ وصول کی جائے گی۔رہا وہ مسلمان جو غیر مسلم حکومت کی رعایا ہواور پاکستان میں رہتا ہو، تو اُسے ادائے زکوٰۃ پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، الایہ کہ وہ بخوشی دینا چاہے۔اس لیے کہ اُس کی آئینی حیثیت اُس حکومت کی غیر مسلم رعایا سے مختلف نہیں ہے۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُہَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ الانفال8:72
(۳)زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے کسی عمر کی قید نہیں ہے۔جب تک کوئی یتیم سن رشد کونہ پہنچے،اُس کی زکوٰۃ ادا کرنا اُس کے ولی کے ذمے ہے۔ اور جب وہ سن رشد کو پہنچ کر اپنے مال میں خود تصرف کرنے لگے تو وہ اپنی زکوٰۃ خود ادا کرنے کا ذمہ دار ہے۔
(۴)زیور کی زکوٰۃ کے بارے میں کئی مسلک ہیں۔ایک مسلک یہ ہے کہ اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔اُسے عاریتاً دینا ہی اُس کی زکوٰۃ ہے۔یہ انس بن مالک،سعید بن مسیب،قتادہ اور شعبی کا قول ہے۔دوسرا مسلک یہ ہے کہ عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ زیور پرزکوٰۃ دے دینا کافی ہے۔ تیسرا مسلک یہ ہے کہ جو زیور عورت ہر وقت پہنے رہتی ہو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے اور جو زیادہ تر رکھا رہتا ہے،اُس پر زکوٰۃ واجب ہے۔چوتھا مسلک یہ ہے کہ ہر قسم کے زیور پر زکوٰۃ واجب ہے۔ ہمارے نزدیک یہی آخری قول صحیح ہے۔اوّل تو جن احادیث میں چاندی سونے پر زکوٰۃ کے واجب ہونے کا حکم بیان ہوا ہے،ان کے الفاظ عام ہیں۔مثلاً یہ کہ
فی رقۃ ربع العشر ولیس فی ما دون خمس اواق صدقۃ ۔
’’چاندی میں ڈھائی فی صدی زکوٰۃ ہے اور پانچ اوقیہ سے کم پر زکوٰۃ نہیں ہے۔‘‘
پھر متعدد احادیث وآثار میں تصریح ہے کہ زیورپر زکوٰۃواجب ہے۔چنانچہ ابو دائود، ترمذی اور نسائی میں قوی سند کے ساتھ یہ روایت آئی ہے کہ ایک عورت نبیؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اُس کے ساتھ اُس کی ایک لڑکی تھی جس کے ہاتھوںمیں سونے کے کنگن تھے۔آپؐ نے اُس سے پوچھا کہ تم اس کی زکوٰۃدیتی ہو؟اُس نے کہا: نہیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: ایسرُّکِ ان یسورک اللّٰہ بھما یوم القیامۃ سوارین من النار(کیا تجھے پسند ہے کہ خدا قیامت کے روز تجھے ان کے بدلے آگ کے کنگن پہنائے؟) نیز مؤطا، ابو دائود اور دارقطنی میں نبیؐ کا یہ ارشاد منقول ہے۔ما ادیت زکٰوتہ فلیس بکنز( جس زیور کی زکوٰۃ تو نے ادا کردی وہ کنزنہیں ہے)۔ابن حزم نے محلّٰی میں بیان کیاہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے گورنر ابوموسیٰ اشعریؓ کو جو فرمان بھیجا تھا، اُس میں یہ ہدایت بھی تھی مرنساء المسلمین یزکین عن حلیھن(مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنے زیوروں کی زکوٰۃ ادا کریں)۔ حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فتویٰ پوچھا گیا کہ زیور کا کیا حکم ہے، تو انھوں نے جواب دیا اذا بلغ مائتین ففیہ الزکٰوۃ(جب وہ دو سو درہم کی مقدار کو پہنچ جائے تو اس میں زکوٰۃ ہے)۔اسی مضمون کے اقوال صحابہ میں سے ابن عباسؓ، عبداﷲ بن عمروؓ بن عاص، اور حضرت عائشہؓ سے،تابعین میں سے سعید بن مسیب، سعید بن جبیر،عطاء، مجاہد، ابن سیرین اور زہری سے اور ائمۂ فقہ میں سے سفیان ثوری،ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب سے منقول ہیں۔
(۵)کمپنیوں کے بارے میں ہمار ا خیال یہ ہے کہ جو حصہ دار قدر نصاب سے کم حصے رکھتے ہوں،یا جو ایک سال سے کم مدت تک اپنے حصے کے مالک رہے ہوں،ان کو مستثنیٰ کرکے باقی تمام حصے داروں کی اکٹھی زکوٰۃ کمپنیوں سے وصول کی جانی چاہیے۔اس میں انتظامی سہولت بھی ہے اور اس طریقے میں کوئی بات ایسی بھی نہیں ہے جو اُصول شرع میں سے کسی اصل کے خلاف پڑتی ہو۔ ہماری یہ رائے امام مالکؒ، امام شافعیؒاور متعدد دوسرے فقہا کے مسلک کے مطابق ہے۔
(بدایۃ المجتہد، ج۱، ص ۲۲۵)
(۶)کارخانوں کی مشینوں اور آلات پر زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی۔صرف اُس مال کی قیمت پر جو آخر سال میں ان کے پاس خام یا مصنوع شکل میں،اور اُس نقد روپے پر جو ان کے خزانے میں موجود ہو،عائد ہوگی۔اسی طرح تاجروں کے فرنیچر،اسٹیشنری، دکان یا مکان اور اس نوعیت کی دوسری اشیا پر زکوٰۃ عائد نہ ہوگی۔صرف اُس مال کی قیمت پر جو ان کی دکان میں،اور اُس نقد روپے پر جوان کے خزانے میں ختم سال پر موجود ہو،عائد ہوگی۔( جو کاروبار اس نوعیت کے ہوں کہ ان کی زکوٰۃکا حساب اس طرح نہ لگایا جا سکے (مثلاً اخبار) ان کے کاروبار کی مالیت ان کی سالانہ آمدنی کے لحاظ سے رائج الوقت قاعدوں کے مطابق مشخص کی جائے اور اس پر زکوٰۃ عائد کی جائے۔) اس معاملے میں اُصول یہ ہے کہ ایک شخص اپنے کاروبار میں جن عوامل پیدائش سے کام لے رہا ہو وہ زکوٰۃسے مستثنیٰ ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ لیس فی الابل العوامل صدقۃ (کتاب الاموال) یعنی کوئی شخص جن اونٹوں سے آب پاشی کا کام لیتا ہو،ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔کیوں کہ ان کی زکوٰۃ اُس زرعی پیدا وار سے وصول کرلی جاتی ہے جو ان کے عمل سے حاصل کی گئی ہو۔اسی پر قیاس کرکے فقہا نے بالاتفاق دوسرے تمام آلاتِ پیدائش کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
(۷) کمپنیوں کے حو حصے قابل فروخت ہوں وہ جب سال کے دوران میں فروخت کردیے جائیں تو اس سال نہ ان کے بائع پر زکوٰۃواجب ہوگی اور نہ مشتری پر، کیوں کہ دونوں میں سے کسی کی ملکیت پر بھی سال نہ گزرے گا۔
(۸)شریعت میں جو اشیا محل زکوٰۃ ہیں وہ حسب ذیل ہیں:زرعی پیداوار فصل کٹنے کے بعد، سونا چاندی جب کہ وہ سال کے آغاز واختتام پر بقدر نصاب یا اس سے زائد موجود ہوں، اسی طرح نقد روپیا جو سونے چاندی کا قائم مقام ہو،مواشی جب کہ وہ افرایش نسل کے لیے پالے گئے ہوں اور سال کے آغاز واختتام پر وہ بقدر نصاب ہوں،اموال تجارت،جب کہ وہ سال کے آغاز واختتام پر بقدر نصاب ہوں،معادن ورِکاز۔
(الف) نقدی،سونے چاندی اور زیورات پر زکوٰۃہے۔ زیور کی زکوٰۃ میں صرف اُس سونے یاچاندی کے وزن کا اعتبار کیا جائے گا جو ان میں موجود ہو۔ جواہر خواہ زیور میں جڑے ہوئے ہوں یا کسی اور صورت میں ہوں،زکوٰۃسے مستثنیٰ ہیں۔البتہ اگر کوئی شخص جواہری تجارت کرتا ہو تو اُس پر وہی زکوٰۃعائد ہوگی جو دوسرے اموال تجارت پر ہے،یعنی ان کی قیمت کا ڈھائی فی صدی۔’’الفقہ علی المذاہب الاربعہ‘‘میں لکھا ہے:’’موتی،یاقوت اور دوسرے تمام جواہر پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے جب کہ وہ تجارت کے لیے نہ ہوں۔اس پر تمام مذاہب کا اتفاق ہے۔‘‘(جلدا، صفحہ۵۹۵)
(ب) دھات کے سکے اور کاغذی سکے محل زکوٰۃ ہیں،کیوں کہ ان کی قیمت ان کی دھات یا ان کے کاغذ کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اُس قوت خرید کی بِنا پر ہے جو قانوناًاُس کے اندر پیدا کردی گئی ہے،جس کی وجہ سے وہ سونے اور چاندی کے قائم مقام ہیں۔’’الفقہ علی المذاہب الاربعہ‘‘میں ہے:’’جمہور فقہا کی رائے یہ ہے کہ اوراق مالیہ پر زکوٰۃ ہے کیوں کہ وہ تعامل میں سونے اور چاندی کے قائم مقام ہیں اور ان کو بلا تکلف سونے اور چاندی سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔اسی لیے ائمہ میں سے تین ابو حنیفہؒ، مالکؒ اور شافعیؒ کا مذہب یہ ہے کہ ان پر زکوٰۃ ہے۔‘‘ ( جلد۱، صفحہ۶۰۵)
(ج) بینکوں میںجو امانتیں رکھی ہوں وہ محل زکوٰۃ ہیں۔دوسرے ادارے اگر رجسٹرڈ ہوں اور حکومت ان کے حساب کتاب کی پڑتال کرسکتی ہو،تو ان میں رکھی ہوئی امانتوں کا وہی حکم ہے جو بینک کی امانتوں کا ہے۔ اور اگر وہ رجسٹرڈ نہ ہوں،نہ ان کے حساب کتاب کی پڑتال کرنا حکومت کے لیے ممکن ہو، تو ان میں رکھی ہوئی امانتیں اموال باطنہ کی تعریف میں آتی ہیں،جن کی زکوٰۃ وصول کرنا حکومت کا کام نہیں ہے۔ان کے مالک خود ان کی زکوٰۃنکالنے کے ذمہ دار ہیں۔
لیے ہوئے قرضے اگر ذاتی حوائج کے لیے لیے گئے ہوں اور خرچ ہوجائیں تو ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔اگر قرض لینے والا سال بھر تک ان کو رکھے اور وہ بقدر نصاب ہوں تو ان پر زکوٰۃ ہے۔ اور اگر ان کو تجارت میں لگا لیا جائے تو وہ قرض لینے والے کا تجارتی سرمایہ شمار ہوں گے اور اس کی تجارتی زکوٰۃ وصول کرتے وقت اُس کے ایسے قرضوں کو مستثنیٰ نہ کیا جائے گا۔
دیے ہوئے قرضے اگر بآسانی واپس مل سکتے ہوں تو ان پر زکوٰۃواجب ہے۔بعض فقہا کے نزدیک ان کی زکوٰۃ سال بہ سال ادا کرنی ہو گی۔یہ حضرت عثمانؓ،ابن عمرؓ، جابر بن عبداﷲؓ، ابراہیم نخعی اور حسن بصریؒ کامسلک ہے۔ اور بعض کے نزدیک جب وہ قرضے وصول ہوں تو تمام گزشتہ سالوں کی زکوٰۃادا کرنی ہوگی۔یہ حضرت علیؓ،ابو ثورؒ، سفیان ثوری اور حنفیہ کا قول ہے۔اور اگر ان قرضوں کی واپسی مشتبہ ہو تو اس بارے میں ہمارے نزدیک قول راجح یہ ہے کہ جب رقم واپس ملے،اُس وقت صرف ایک سال کی زکوٰۃنکالی جائے۔یہ حضرت عمر بن عبدالعزیز،حسن، لیث، اوزاعی اور امام مالک کا قول ہے اور اس میں بیت المال اور صاحب مال،دونوں کے مفاد کی منصفانہ رعایت پائی جاتی ہے۔
مرہونہ جائدا د کی زکوٰۃ اُس شخص سے وصول کی جائے گی جس کے قبضے میں وہ ہو۔مثلاً مرہونہ زمین اگر مرتہن کے قبضے میں ہے تو اس کا عشر اُس سے وصول کیا جائے گا۔
متنازع فیہ جائداد کی زکوٰۃ دوران نزاع میں اُس شخص سے لی جائے گی جس کے قبضے میں وہ ہو، اور فیصلہ ہونے کے بعد اُس کی زکوٰۃ کا ذمہ دار وہ ہوگا جس کے حق میں فیصلہ ہو۔
قابل ارجاع نالش جائداد کا بھی وہی حکم ہے جو اوپر بیان ہوا۔وہ بالفعل جس شخص کے قبضے میں ہو اور جب تک رہے،اُس کی زکوٰۃ اسی کے ذمے رہے گی۔کیوں کہ جو شخص کسی چیز سے فائدہ اُٹھاتا ہے،اُس کے واجبات بھی اسی کو ادا کرنے ہوں گے۔
(د) عطیہ اگر بقدر نصاب ہو اور اس پر سال گزر جائے تو جس شخص کو وہ دیا گیا ہو،اُس سے زکوٰۃ لی جائے گی۔
(ہ) بیمہ اور پراویڈنٹ فنڈ اگر جبری ہوں تو ان کا حکم وہی ہے جو عسیر الحصول قرضوں اور امانتوں کا ہے۔یعنی جب ان کی رقم واپس مل جائے تو صرف ایک سال کی زکوٰۃ نکالنی ہوگی۔اور اگر وہ اختیاری ہوں تو ہمارے نزدیک ہر سال کے خاتمے پر جتنی رقم ایک شخص کے حساب میں بیمہ کمپنی یا پراویڈنٹ فنڈ میں جمع ہو،اُس پر زکوٰۃ وصول کی جانی چاہیے۔کیوں کہ اگر چہ یہ رقم اب اُس کے لیے قبل ازوقت قابل وصول نہیں ہے، لیکن اُس نے اپنے مال کو باختیار خود اس حالت میں ڈالا ہے، اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ وہ زکوٰۃ سے بچ جائے۔
(و) شیر خانہ( ڈیری فارم) کے مویشی عوامل کی تعریف میں آتے ہیں اس لیے ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔البتہ شیر خانے کی مصنوعات پر اسی طریقے سے زکوٰۃ عائد ہوگی جس طرح دوسرے کارخانوں پر۔
زرعی پیدا وار میں جو چیزیں ذخیرہ کرکے رکھنے کے قابل ہوں،ان پر عشر یا نصف عشر ہے، اور یہی حکم ان پھلوں کا بھی ہے جو ذخیرہ کرکے رکھے جاسکتے ہوں، جیسے خشک میوہ اور چھوہارے۔ جو زراعت بارانی زمینوں میں ہو اُس پر عشر واجب ہوگا، اور جس میں مصنوعی ذرائع سے آب پاشی کی جائے اُس پر نصف عشر۔
سبزی،ترکاری،پھول اور پھل جو ذخیرہ کرکے نہیں رکھے جاسکتے،ان پر عشر تو نہیں ہے لیکن اگر زمین دار انھیں مارکیٹ میں فروخت کرتا ہے تو اُس پر تجارتی زکوٰۃعائد ہوگی جب کہ وہ بقدر نصاب ہو۔اس معاملے میں نصاب وہی ہوگا جو تجارت میں معتبر ہے،یعنی اُس کاروبار کا تجارتی سرمایہ سال کے آغاز واختتام پر دو سو درہم یا اس سے زائد ہو۔
(ر) معدنیات کے بارے میں ہمارے نزدیک سب سے بہتر مسلک حنابلہ کا ہے۔ یعنی وہ تمام چیزیں جو زمین سے نکلتی ہیں،خواہ وہ دھات کی قسم سے ہوں یا مائعات( پٹرول،پارہ وغیرہ) کی قسم سے، ان سب پر ڈھائی فی صدی زکوٰۃ ہے جبکہ ان کی قیمت بقدر نصاب ہو اورجب کہ وہ پرائیویٹ ملکیت میں ہوں۔اس مسلک پر حضرت عمر بن عبدالعزیز کی حکومت میں عمل بھی تھا۔
(المغنی لابن قدامہ،جلد۲، صفحہ ا۵۸)
(ح) برآمد شدہ دفینہ(رکاز) کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ فی الرکاز الخمس یعنی اس میں خمس(۲۰فی صدی )لیا جائے گا۔
(ط) آثار قدیمہ،یعنی وہ قیمتی نوادر جو کسی نے بطور یادگار اپنے گھر میں رکھ چھوڑے ہوں، ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔البتہ اگر وہ بغرض تجارت ہوں تو ان پر تجارتی زکوٰۃ ہے۔
(ی) شہد کے بارے میں یہ بات مختلف فیہ ہے کہ آیا بجائے خود شہد کی ایک مقدار میں سے زکوٰۃ وصول کی جانی چاہیے یا اُس کی تجارت پر وہی زکوٰۃ عائد کی جائے جو تجارتی مال پر ہے۔حنفیہ اس بات کے قائل ہیں کہ شہد بجائے خود محل زکوٰۃہے، اور یہی مسلک احمد، اسحاق بن راہویہ،عمر بن عبدالعزیز،ابن عمرؓ اور ابن عباسؓ کا ہے،اور امام شافعی کا بھی ایک قول اس کے حق میں ہے۔ بخلاف اس کے امام مالک اور سفیان ثوری کہتے ہیں کہ شہد بجائے خود محل زکوٰۃ نہیں ہے۔ امام شافعی کا بھی مشہور قول یہی ہے۔ اور امام بخاری کہتے ہیں کہلیس فی زکٰوۃ العسل شیٔ یصح ’’شہد کی زکوٰۃ کے معاملے میں کوئی حدیث صحیح موجود نہیں ہے۔‘‘ ہمارے نزدیک بہتر یہ ہے کہ شہد کی تجارت پر زکوٰۃعائد کی جائے۔
(ک) مچھلی بجائے خود محل زکوٰۃنہیں ہے بلکہ اس کی تجارت پر وہی زکوٰۃ واجب ہے جو اموال تجارت پر عائد ہوتی ہے۔
موتی،عنبر اور دوسری وہ چیزیں جو سمندر سے نکلتی ہیں،وہ ہمارے نزدیک معدنیات کے حکم میں ہیں اور ان پر وہی زکوٰۃعائد ہونی چاہیے جو معدنیا ت میں بیان ہوچکی ہے۔یہ امام مالکؒ کا مذہب ہے اور اسی پر حضرت عمر بن عبدالعزیز کی حکومت کا عمل رہا ہے۔
(کتاب الاموال ص ۳۴۹،کتاب المغنی لابن قد امہ ،جلد۲،صفحہ۵۸۴)
(ل) پٹرول کا حکم اوپر معادن کے سلسلے میں گزر چکا ہے۔
(م) برآمد پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔درآمد پر جو محصول حضرت عمرؓ کے زمانے میں لیا جاتا تھا،اُس کی حیثیت زکوٰۃ کی نہ تھی،بلکہ وہ صرف جواب تھااُس محصول کا جو ہمسایہ حکومتیں اسلامی مملکت کے مال کی درآمد پر اپنے ملک میں وصول کرتی تھیں۔
(۹) خلافت راشدہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کے اموال زکوٰۃ کی فہرست میں کوئی ایسا اضافہ نہیں کیا گیا جو اپنی ایک مستقل بالذات نوعیت رکھتا ہو، بلکہ ایسی چیزوں کا اضافہ کیا گیا تھاجو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کیے ہوئے اموال زکوٰۃ میں سے کسی پر قیاس کی جا سکتی تھیں۔مثلاً حضرت عمر بن عبدالعزیز نے بھینس کو گائے پر قیاس کیا اور اس پر وہی زکوٰۃعائد کی جو گائے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کی تھی۔
(۰ا) ہر قسم کے سکوں پر زکوٰۃعائد ہوگی۔اوپر نمبر(۸)ضمن(ب) میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
جو سکے رائج نہیں ہیں،یا جو خراب ہیں،یا جو حکومت نے واپس لے لیے ہیں،ان میں اگر چاندی یا سوناموجودہو تو ان پر چاندی یا سونے کی اس مقدار کے لحاظ سے زکوٰۃ عائد ہوگی جو ان کے اندر پائی جاتی ہے۔
دوسرے ملکوں کے سکے اگر ہمارے ملک کے سکوں سے بآسانی تبدیل کیے جاسکتے ہیں تو ان کا حکم نقدی کا ہے۔اور اگر تبدیل نہ کیے جاسکتے ہوں تو ان پر صرف اس صورت میں زکوٰۃ عائد ہوگی جب کہ ان کے اندر بقدر نصاب سونا یا چاندی موجود ہو۔
(۱۱) مال ظاہر وہ ہے جس کا معائنہ اور تشخیص عاملین حکومت کرسکتے ہوں اور مال باطن وہ جو عاملین حکومت کے لیے قابل معائنہ وتشخیص نہ ہو۔بینکوں میں جمع شدہ رقوم مال ظاہر کی تعریف میںآتی ہیں۔
(۲ا) مالِ نامی وہ ہے جو یا تو طبعاً افزایش کے قابل ہو، یا جسے سعی وعمل سے بڑھایا جاسکے۔اس تعریف کی رو سے زکوٰۃ انھی اموال پر عائد کی گئی ہے جو نامی ہیں۔اور جمع شدہ روپے پر اس لیے عائد کی جاتی ہے کہ اس کے مالک نے اسے نمو سے روک رکھا ہے۔
(۳ا) جو اشیا کرائے پر دی جاتی ہیں،ان کی مالیت رائج الوقت قواعد کے مطابق ان کے منافع سے تشخیص کی جائے اور اس پر ڈھائی فی صدی زکوٰۃ لی جائے۔لیث بن سعد کہتے ہیں کہ’’میں نے دیکھا ہے کہ جو اونٹ کرائے پر چلائے جاتے ہیں،ان پر مدینے میں زکوٰۃ لی جاتی تھی۔‘‘
(کتاب الاموال،صفحہ۳۷۶)
(۴ا) مویشی(مثلاً اونٹ،گائے،بھینس،بکری اور جو ان کے مانند ہوں)اگر افزایش نسل کی غرض سے پالے جائیں اور بقدر نصاب یا اس سے زائد ہوں تو ان پر وہ زکوٰۃ عائد ہوگی جو شریعت میں مواشی کے لیے مقرر ہے(اس کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: سیرت النبی مصنفہ مولانا سیّد سلیمان ندوی،جلد۵، صفحہ۱۶۵تا۱۶۷)۔ اورا گر وہ تجارت کے لیے ہوں تو ان پر تجارتی زکوٰۃ ہے۔یعنی اگر ان کی قیمت بقدر نصاب (دو سو درہم) یا اس سے زائد ہو تو ان پر ڈھائی فی صدی زکوٰۃ لی جائے گی۔اور اگر ان سے زراعت یاحمل ونقل کا کام لیا جاتا ہو،یا کسی شخص نے ان کو ذاتی استعمال کے لیے پالا ہو، تو ان کی تعداد خواہ کتنی ہی ہو،ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔
مرغیاں اور دوسرے جانور اگر شوقیہ پالے جائیں تو و ہ زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہیں۔ اگر تجارت کے لیے ہوں تو ان پر تجارتی زکوٰۃ ہے۔ اور اگر انڈوں کی فروخت کے لیے مرغی خانہ قائم کیا جائے تو اُس کا وہی حکم ہے جو شیر خانہ اور دوسرے کارخانوں کا ہے۔
مویشی کی زکوٰۃنقدی کی صورت میں بھی وصول کی جاسکتی ہے اور خود مویشی بھی زکوٰۃ میں لیے جاسکتے ہیں۔اس پر حضرت علیؓ کا فتویٰ ہے۔ (کتاب الاموال،صفحہ۳۶۸)
(۵ا) جن مختلف سامانوں پر زکوٰۃ واجب ہے،ان کی شرح حسب ذیل ہے:
زرعی پیدا وار=۰افی صدی جب کہ وہ بارانی زمینوں سے حاصل ہو۔
زرعی پیداوار = ۵فی صدی جب کہ وہ مصنوعی آب پاشی سے حاصل ہو۔
نقدی اور سونا چاندی= ڈھائی فی صدی۔
اموال تجارت= ڈھائی فی صدی۔
مواشی= جیسا کہ اوپر بیان ہوا،اس کا تفصیلی نقشہ سیرۃالنبی جلد پنجم میں ملاحظہ ہو۔
معادن= ڈھائی فی صدی۔
رکاز = ۲۰فی صدی
کارخانوں کے اموال= ڈھائی فی صدی
(۶ا) خلفائے راشدین کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کیے ہوئے نصاب اور شرح زکوٰۃ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی،نہ اب اس کی کوئی ضرورت محسوس ہوتی ہے، اور ہمارا خیال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی آپؐ کی مقرر کردہ مقادیر میں ترمیم کرنے کا مجاز نہیں ہے۔
(۷ا) نقدی،چاندی، اموال تجارت،معادن،ارکازا ور کارخانوں کے اموال میں نصاب دو سو درہم ہے۔مولانا عبدالحی صاحب فرنگی محلّی کی تحقیق یہ ہے کہ دو سو درہم کی چاندی ہمارے ملک کے معیار ی وزن کے حساب سے ۳۶تولہ ۵ماشہ۴رتی ہوتی ہے۔ مگر مشہور ساڑھے باون تولہ چاندی ہے۔
۲۰طلائی مثقال کے متعلق مولانا عبدالحی صاحب کی تحقیق یہ ہے کہ وہ۵تولہ۲ماشہ۴رتی سونے کے برابر ہیں۔اور عام طور پر مشہور یہ ہے کہ ساڑھے سات تولے کے برابر۔
کتاب الاموال لابی عبید میں جو حساب لگایا گیا ہے،اُس کی رُو سے دس درہم کا وزن ۱۰-۳ ۸۲ جَوبنتا ہے اور وہ ۷ مثقال طلائی کے برابر ہے۔
(۱۸) اس کا جواب نمبر۶امیں گزر چکا ہے۔ البتہ سونے کے نصاب میں تبدیلی ممکن ہے، کیوں کہ اس کا نصاب ۲۰مثقال جس روایت میں آیا ہے،اُس کی سند بہت ضعیف ہے۔
(۱۹) معادِن،رکاز اور زرعی پید اوار کے سوا تمام صورتوں میں واجب زکوٰۃ کے لیے یہ شرط ہے کہ قدرنصاب یا اس سے زائد مال پر ایک سال گزر جائے۔معادن اور رکاز کے لیے سال گزرنے کی شرط نہیں ہے۔اور زرعی پیدا وار پر فصل کٹنے کے ساتھ ہی زکوٰۃ واجب ہوجائے گی،خواہ سال میں دو یا زائد فصلیں کاٹی جائیں۔ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ وَاٰتَوْا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ۔
(۲۰) اس کا جواب نمبر۹امیں گزر چکا ہے۔
(۲۱) چوں کہ آج کل تمام مالی معاملات اور حساب کتاب شمسی سال کے لحاظ سے ہورہے ہیں اس لیے زکوٰۃ کے معاملے میں بھی شمسی سال ہی استعمال کیا جائے تو مضائقہ نہیں ہے۔قمری سال کا وجوب اس معاملے میں کسی نص سے ثابت نہیں ہے۔
تحصیل زکوٰۃ کے لیے کوئی خاص مہینا شرعاًمقرر نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت جس تاریخ سے زکوٰۃ کی تحصیل کا انتظام شروع کرے،اُسی سے سال کا آغاز ٹھہرایا جاسکتا ہے۔
(۲۲و۲۳) قرآن مجید میں زکوٰۃ کے آٹھ مصرف بیان کیے گئے ہیں:فقرا،مساکین، عاملین زکوٰۃ، مؤلفۃ القلوب،رقاب،غارمین،فی سبیل اﷲ،ابن السبیل۔
فقیر سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اپنی بسر اوقات کے لیے دوسروں کا محتاج ہو۔یہ لفظ تمام حاجت مندوں کے لیے عام ہے، خواہ وہ بڑھاپے یا کسی جسمانی نقص کی وجہ سے مستقل طور پر محتاج اعانت ہوگئے ہوں،یا کسی عارضی سبب سے سردست مدد کے محتاج ہوںاور کچھ سہارا پاکر اپنے پائوں پر کھڑے ہوسکتے ہوں،جیسے یتیم بچے،بیوہ عورتیں،بے روزگار لوگ اور وہ لوگ جو کسی وقتی حادثے کاشکار ہو گئے ہوں۔
مسکین کی تشریح حدیث میں یہ آئی ہے کہ الذی لا یجد غنی یغنیہ ولا یفطن لہ فیتصدق علیہ ولا یقوم فیسأل الناس۔ ’’جو نہ اپنی حاجت بھر مال پاتا ہے،نہ پہچانا جاتا ہے کہ لوگ اُس کی مدد کریں،نہ کھڑے ہوکر لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہے۔‘‘اس لحاظ سے مسکین اُس شریف آدمی کو کہتے ہیں جو اپنی روزی کمانے کے لیے ہاتھ پائوں مارتا ہو مگر اپنی ضرورت کے قابل روزی نہ پاسکتا ہو۔ لوگ اُسے برسر روزگار پاکر اُس کی مدد نہیں کرتے اور وہ اپنی شرافت کی وجہ سے مدد مانگتا نہیںپھر سکتا۔
عاملین سے مراد وہ لوگ ہیں جو زکوٰۃ کی تحصیل، تقسیم اور اُس کے حساب کتاب کا انتظام کرتے ہوں۔وہ صاحب نصاب ہوں یا نہ ہوں، ہر حال میں وہ اس مد سے اپنے کام کی تنخواہ پائیں گے۔
مؤلفۃ القلوب سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اسلام اور اسلامی مملکت کے مفاد کی مخالفت سے روکنا، یا اس مفاد کی خدمت پر آمادہ کرنا مقصود ہو اور اس غرض کے لیے مال دے کر ان کی تالیف قلب کرنے کے سوا چارہ نہ ہو۔یہ لوگ کافر بھی ہوسکتے ہیں اور ایسے مسلمان بھی جن کاا سلام انھیں اسلامی مفاد کی خدمت پر اُبھارنے کے لیے کافی نہ ہو۔نیز یہ لوگ اسلامی مملکت کے باشندے بھی ہوسکتے ہیں اور کسی بیرونی مملکت کے بھی۔ اس قسم کے لوگ اگر صاحب نصاب بھی ہوں تو ان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے بشرطیکہ اسلامی حکومت اس کی ضرورت محسوس کرے۔ ہمیں اس خیال سے اتفاق نہیں ہے کہ مولفۃ القلوب کا حصہ ہمیشہ کے لیے ساقط ہوچکا ہے۔حضرت عمرؓ نے اس بارے میں جو رائے قائم کی تھی وہ ان کے اپنے زمانے کے لیے تھی نہ کہ آئندہ تمام زمانوں کے لیے۔
رقاب سے مراد غلام ہیں۔ غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے زکوٰۃ دینا اس مد میں شامل ہے۔اگر کسی زمانے میں غلام موجود نہ ہوں تو یہ مد ساقط رہے گی۔
غارمین سے مراد ایسے قرض دار لوگ ہیں جو اگر اپنا پورا قرض ادا کردیں تو ان کے پاس بقدر نصاب مال باقی نہ رہے۔ایسے لوگ کمانے والے بھی ہوسکتے ہیں اور بے روزگار بھی۔
فی سبیل اللّٰہ سے مراد جہاد فی سبیل اﷲ ہے،خواہ وہ تلوار سے ہو یا قلم وزبان سے، یا ہاتھ پائوں کی محنت اور دوڑ دھوپ سے۔سلف میں سے کسی نے بھی اس لفظ کو رفاہ عام کے معنی میں نہیں لیاہے۔ان کے نزدیک بالاتفاق اس کا مفہوم ان مساعی تک محدود ہے جو خد اکے دین کو قائم کرنے، اُس کی اشاعت کرنے اور اسلامی مملکت کا دفاع کرنے کے لیے کی جائیں۔
ابن السبیل یعنی مسافر۔ ایسا شخص خواہ اپنے گھرمیں غنی ہو،لیکن اگر حالت سفر میں وہ مدد کا حاجت مند ہو جائے تو زکوٰۃ سے اُس کی مدد کی جاسکتی ہے۔
(۲۴) یہ ضروری نہیں ہے کہ زکوٰۃ کی رقم ان تمام مصارف میں صرف کی جائے جو قرآن میں مقرر کیے گئے ہیں۔حکومت حسب موقع وضرورت ان میں سے جن جن مصارف میں جس جس قدر مناسب سمجھے خرچ کرسکتی ہے۔حتیٰ کہ اگر ضرورت پڑجائے تو ایک ہی مصرف میں ساری زکوٰۃ خرچ کی جاسکتی ہے۔
(۲۵) مستحقین زکوٰۃ میں سے فقیر اور مسکین اس صورت میں زکوٰۃ لے سکتا ہے جب کہ وہ صاحب نصاب نہ ہو۔عاملین اور مولفۃ القلوب صاحب نصاب ہوں تب بھی ان کو زکوٰۃکی مد سے دیا جاسکتا ہے۔غلام کا غلام ہونا بجائے خود اُسے اس بات کا مستحق بناتا ہے کہ اُ س کی آزادی پر زکوٰۃ صرف کی جائے۔قرض دار اس حالت میں زکوٰۃ لے سکتا ہے جب کہ وہ اپنا پورا قرض ادا کرکے صاحب نصاب نہ رہ سکتا ہو۔راہ ِخدا میں جہاد کرنے والے اگر بجائے خود صاحب نصاب بھی ہوں تو اس جہاد کے مصارف کے لیے انھیں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ابن السبیل ایسی صورت میں زکوٰۃ پاسکتاہے جب کہ حالت سفر میں وہ مدد کا محتاج ہو۔
بنی ہاشم پر زکوٰۃلینا حرام ہے۔مگر آج پاکستان میں یہ تحقیق کرنا بہت مشکل ہے کہ کون ہاشمی ہے اور کون نہیں ہے۔اس لیے حکومت تو ہر شخص کو زکوٰۃ دے گی جو اس کا حاجت مند نظر آئے۔یہ لینے والے کا اپنا کام ہے کہ اگر وہ اپنے ہاشمی ہونے کا یقین رکھتا ہو تو زکوٰۃ نہ لے۔
(۲۶) زکوٰۃ جب حکومت کے خزانے میں جمع ہوجائے تو وہ افراد اور اداروں سب کو دے سکتی ہے اور خود بھی زکوٰۃ سے ایسے ادارے قائم کرسکتی ہے جو مصارف زکوٰۃ سے متعلق ہوں۔
(۲۷) جو لوگ زکوٰۃ کے مستقل یا عارضی طور پر محتاج ہوں،ان کو مستقل طور پر یا عارضی طور پر وظائف دیے جاسکتے ہیں۔
(۲۸) مصارف زکوٰۃ کی مد فی سبیل اﷲ اتنی عام نہیں ہے کہ’’رفاہ عام‘‘ کی ہم معنی قرار پائے۔
(۲۹) زکوٰۃ کی مد سے قرض حسن دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، بلکہ موجودہ حالات میں حاجت مند لوگوں کو قرض دینے کے لیے بیت المال میں ایک مد مخصوص کردینا ہمارے نزدیک مستحسن ہے۔
(۳۰) عام حالات میں تو یہی مناسب ہے کہ ایک علاقے کی زکوٰۃ اسی علاقے کے حاجت مندوں پر صرف کی جائے۔حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں ایک مرتبہ رے کی زکوٰۃ کوفہ منتقل کردی گئی تو انھوں نے حکم دیا کہ وہ رے واپس کی جائے (کتاب الاموال،صفحہ۵۹۰)۔ البتہ اگر دوسرے کسی علاقے میں کوئی زیادہ شدید ضرورت پیش آجائے تو ایسے علاقوں کی زکوٰۃ، جہاں زکوٰۃ کے بقایا موجود ہوں،یا جہاں کی ضروریات کم تر درجے کی ہوں،ضرورت مند علاقے میں لے جا کر صَرف کی جاسکتی ہے۔ملک سے باہر بھی اگرکوئی بڑی مصیبت پیش آجائے تو انسانی ہم دردی اور تالیف قلوب کی خاطر زکوٰۃ بھیجی جاسکتی ہے،مگر اس امر کا لحاظ رکھنا چاہیے کہ خود ملک کے اندر جو حاجت مند ہیں،وہ محروم نہ رہ جائیں۔
علاقے سے مراد انتظامی حلقے ہیں۔اس سے مراد ضلع، قسمت اور صوبہ تینوں ہوسکتے ہیں۔ملک کے لحاظ سے ایک علاقہ صوبہ ہوگا۔صوبے کے لحاظ سے قسمت اور قسمت کے لحاظ سے ضلع۔
(۳۱) متوفی کے ترکے سے پہلے وہ قرضے ادا کیے جائیں گے جو ا س نے دوسرے لوگوں سے لیے ہوں،پھر زکوٰۃ کے بقایا، پھر وصیت، اور اُس کے بعد جو کچھ بچے گا،وہ وارثوں میں تقسیم ہوگا۔صاحب مال کی موت کی وجہ سے اُس کی زکوٰۃساقط نہیں ہوجاتی۔اُس نے چاہے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو،وہ اُس کے مال میں سے نکالی جائے گی۔عطاء،زہری، قتادہ،امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام محمدؒ، اسحاق بن راہویہ اور ابو ثور کی رائے قریب قریب یہی ہے۔بعض فقہا نے یہ رائے دی ہے کہ اگر صاحب مال نے زکوٰۃ کے لیے وصیت کی ہو تو وہ نکالی جائے گی ورنہ نہیں۔ مگر ہماری رائے میں اس کا تعلق صرف اموال باطنہ سے ہے،کیوں کہ اس میں اس امر کا احتمال ہے کہ صاحب مال نے اپنی موت سے پہلے زکوٰۃنکال دی ہو اور دوسروں کو اس کی خبر نہ ہو۔لیکن جب کہ اموال ظاہرہ کی زکوٰۃ وصول کرنے کا باقاعدہ انتظام حکومت کررہی ہو،تو ایسا کوئی احتمال باقی نہیں رہتا۔اس لیے زکوٰۃ کے بقایا اُس شخص کے ذمے بمنزلہ قرض ہوں گے۔ پہلے اُس کے مال میں سے افراد کا قرض وصول کیا جائے اور اس کے بعد خدا اور جماعت کا۔
(۳۲) زکوٰۃ سے بچنے کے حیلوں کا علاج تین طریقوں سے ہوسکتا ہے:
اوّل یہ کہ حکومت کا انتظام ایمان دار لوگوں کے ہاتھ میں ہو جو رشوتیں نہ کھائیں،زکوٰۃ کی تحصیل اور تقسیم میں جانب داری اور بددیانتی سے کام نہ لیں،اور نہ اموال زکوٰۃ کا بڑا حصہ اپنی تنخواہوں اور الائونسوں پر صرف کردیں۔محصلین کی دیانت لوگوں میں یہ اعتماد پیدا کرے گی کہ ان کی زکوٰۃ صحیح طریقے سے وصول اور صحیح مصارف میں صرف کی جائے گی، اس لیے وہ ادائے زکوٰۃ سے بچنے کی کوشش نہ کریں گے۔
دوم یہ کہ اجتماعی اخلاق کی اصلاح کی جائے اور لوگوں کی سیرت وکردار کو خداکی محبت اور اس کے خوف پر تعمیر کیا جائے۔حکومت کا کام صرف انتظام ملک اور دفاع ملک تک ہی محدود نہ رہے بلکہ وہ عوام کی تربیت کا فریضہ بھی انجام دے۔
سوم یہ کہ زکوٰۃ سے بچنے کی عام اور ممکن التصور صورتوں کے خلاف قوانین بنائے۔مثلاًجو شخص اپنے قابل زکوٰۃ اموال کو ختم سال سے پہلے کسی غیر معمولی مقدار میں اپنے کسی عزیز کے نام منتقل کرے،اُس پر مقدمہ چلایا جائے اور بار ثبوت اس پر ڈالا جائے کہ اُس نے یہ انتقالِ زکوٰۃ سے بچنے کے لیے نہیں کیا ہے۔
(۳۳) ہماری رائے میں زکوٰۃ کی تحصیل وتقسیم کا انتظام صوبوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے اور مرکز کو یہ اختیار ہونا چاہیے کہ ایک صوبے کی وافر زکوٰۃ دوسرے صوبوں میں بھجوا سکے جہاں کی زکوٰۃ معمولی یا غیر معمولی مقامی ضرورتوں کے لیے کافی نہ ہو رہی ہو۔نیز مرکز کو یہ بھی اختیا ر ہونا چاہیے کہ اگر زکوٰۃ کی مد سے کچھ ایسے ادارے قائم کرنے یا کچھ ایسے کام کرنے کی ضرورت پیش آئے جن کا تعلق ملک کے اندر اور باہر’’فی سبیل اﷲ‘‘ خدمات انجام دینے سے ہو،یا ملک کے باہر غیر معمولی مصائب کے موقع پر مددبھیجنے کی ضرورت ہو، تو وہ صوبوں سے ان کی زکوٰۃ کا ایک حصہ طلب کرسکے۔
(۳۴) اقسام ہمارے نزدیک زکوٰۃ کی تحصیل کے لیے کوئی الگ محکمہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مختلف اقسام کی زکوٰۃ وصول کرنا ایسے محکموں کے سپر د ہونا چاہیے جن کے فرائض اسی قسم کے دوسرے ٹیکس وصول کرنے سے متعلق ہیں۔ مثلا زرعی زکوٰۃ اور مواشی کی زکوٰۃ وصو ل کرنا محکمۂ مال کے سپر د ہو۔اموال تجارت کی زکوٰۃ انکم ٹیکس کا محکمہ وصول کرے۔ کارخانوں کی زکوٰۃ ایکسائز کا محکمہ۔ وعلیٰ ہذا القیاس۔ زکوٰۃ کی حفاظت سرکاری خزانے کے سپرد اور اس کا حساب اکائونٹنٹ جنرل کے محکمے کے سپر دہو۔
اگر ہماری سفارش کے مطابق زکوٰۃ کوصوبوں کے انتظا م میں دیا جائے اور تحصیل زکوٰۃ کے کسی شعبے کا کام کسی ایسے محکمے کے حوالے کرنا پڑے جو مرکزی محکمہ ہو، تو باہمی قرار داد سے یہ انتظام کیا جاسکتا ہے کہ تحصیل زکوٰۃ کی حد تک اس محکمے کے مصارف صوبہ ادا کردیا کرے۔
البتہ زکوٰۃ کی تقسیم اور مصارف زکوٰۃ میں اموال زکوٰۃ کو خرچ کرنے کے لیے ایک الگ محکمہ قائم ہونا ضروری ہے جسے کسی ایسے وزیر کے ماتحت رکھا جائے جو اوقاف اور دوسرے مذہبی اداروں کی نگرانی کا کام بھی کرتا ہو۔
(۳۵) یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ زکوٰۃ کوئی’’ٹیکس‘‘نہیں ہے بلکہ ایک مالی عبادت ہے۔ ’’ٹیکس‘‘ اور ’’عبادت‘‘ میں بنیادی تصور اور اخلاقی روح کے اعتبار سے زمین وآسمان کا فرق ہے۔ حکومت کے کارندوں اور زکوٰۃ دینے والوں میں اگر ’’عبادت‘‘ کے بجائے ’’ٹیکس‘‘ کی ذہنیت پیدا ہوجائے تو یہ ان اخلاقی وروحانی فوائد کو بالکل ہی ضائع کردے گی جو زکوٰۃ سے اصل مقصود ہیں، اور اجتماعی فوائد کو بھی بہت بڑی حد تک نقصان پہنچائے گی۔حکومت کے سپرد زکوٰۃ کی تحصیل وتقسیم کرنے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ یہ ایک سرکاری محصول ہے،بلکہ دراصل اس عبادت کا انتظام اس وجہ سے حکومت کے سپرد کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی تمام اجتماعی عبادات میں نظم پید اکرنا ایک اسلامی حکومت کا فریضہ ہے۔اقامت صلوٰۃ اور امارت حج بھی اسی طرح اسلامی حکومت کے فرائض میں سے ہے جس طرح تحصیل وتقسیم زکوٰۃ۔
(۳۶) حدیث میں اصول بیان کیا گیا ہے کہ’’ ان فی المال حقًّا سوی الزکٰوۃ ۔‘‘’’آدمی کے مال میں زکوٰۃ کے سوا اور بھی حق ہے۔‘‘ اس اصولی ارشاد کی موجودگی میں یہ سوال ہی پیدانھیں ہوتا کہ کیا ایک اسلامی حکومت زکوٰۃ کے سوا دوسرے محاصل عائد کرسکتی ہے۔پھر جب کہ قرآن میں زکوٰۃ کے لیے چند مخصوص مصارف معین کردیے گئے ہیں تو لامحالہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ان مصارف کے ماسوا جو دوسرے فرائض حکومت کے ذمے عائد ہوں،ان کو بجا لانے کے لیے وہ دوسرے محاصل پبلک پر عائد کرے۔نیز قرآن میں یہ اُصولی ہدایت بھی دی گئی ہے کہ وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ۝۰ۥۭ قُلِ الْعَفْوَ۝۰ۭ البقرہ 219:2 ’’تم سے پوچھتے ہیںکہ ہم کیا خرچ کریں،کہو عفو۔‘‘ عفو کا لفظ(economic surplus) کا ہم معنی ہے اور اس میں نشان دہی کی گئی ہے کہ ’’عفو‘‘ٹیکس کا صحیح محل ہے۔مزید برآں ایسے نظائر بھی موجود ہیں کہ خلفائے راشدین کے عہد میں دوسرے محاصل عائد کیے گئے ہیں۔مثلاًحضرت عمرؓ کے عہد میں محصول درآمد مقرر کیا گیا اور اس کا شمار ’’زکوٰۃ‘‘ میں نہیں بلکہ’’فے‘‘( حکومت کی عام آمدنیوں) میں تھا۔علاوہ بریں شریعت میںکوئی ایسی ہدایت موجود نہیں ہے جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکے کہ حکومت اجتماعی ضروریات کے لیے کوئی دوسرا ٹیکس نہیں لگا سکتی، اور اُصول یہ ہے کہ جس چیز سے منع نہ کیا گیا ہو،وہ مباح ہے۔ فقہائے اسلام سے بھی، جہاں تک ہم کو معلوم ہے، ایک غیر معروف شخصیت ضحاک بن مزاحم کے سوا کوئی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ’’نسخت الزکٰوۃ حق فی المال۔(زکوٰۃ نے مال میں ہر دوسرے حق کو منسوخ کردیا ہے)۔ضحا ک کی اس رائے کو کسی قابل ذکر فقیہ نے تسلیم نہیں کیا ہے۔
(المحلّٰی لابن حزم،جلد۲،صفحہ۵۸ا)
(۳۷) صدر اوّل میں حکومت کی طرف سے محصلین مقرر تھے جو اموال ظاہرہ کی زکوٰۃ ان مقامات پر خود ہی جا کر وصول کرتے تھے جہاں وہ اموال ہوں۔ زکوٰۃ جمع کرنے کے لیے الگ خزانے نہیں تھے بلکہ حکومت کے خزانۂ عامرہ ہی میں وہ جمع ہوتی تھی، البتہ اس کا حساب کتاب الگ رہتا تھا اور زکوٰۃ کی تقسیم حکومت کے وہ عمال کرتے تھے جن کے سپرد،دوسری سرکاری خدمات بھی ہوتی تھیں۔ تقسیم زکوٰۃ کے لیے کسی الگ محکمے کا وجود ہمارے علم میں نہیں ہے۔لیکن یہ ایسے انتظامی معاملات ہیں جن میں آج کے احوال وضروریات کے لحاظ سے ہم جس طرح مناسب سمجھیں عملی صورتیں اختیار کرسکتے ہیں۔
موجودہ مسلم حکومتوں کے متعلق ہمیں معلوم نہیں ہے کہ کسی نے زکوٰۃ کی تحصیل وتقسیم کا باقاعدہ انتظام کیا ہو۔
(۳۸) ہماری رائے میں زکوٰۃ کی تحصیل و تقسیم کا انتظام اسلامی حکومت ہی کو کرنا چاہیے۔
(۳۹) زکوٰۃ کی تحصیل وتقسیم کا انتظام کرنے والے عملے کی حیثیت تنخواہوں، الائونسوں، پنشنوں اور شرائط ملازمت کے لحاظ سے دوسرے سرکاری ملازمین سے مختلف نہ ہونی چاہیے۔ البتہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے معاملے میں حکومت کو اپنے طریق کار میں بنیادی تبدیلیاں کرنی چاہییں۔ موجودہ افراط وتفریط اگر بحال رہے تو نہ زکوٰۃ کی تحصیل صحیح طریقے سے ہوسکے گی اور نہ اُس کی تقسیم۔

(ترجمان القرآن، محرم۳۷۰اھ، نومبر۹۵۰اء)

کیا زکوٰۃ کے نصاب اور شرح کو بدلا جاسکتا ہے:

سوال: زکوٰۃ سے متعلق ایک صاحب نے فرمایا کہ شرح میں حالات اور زمانے کی مناسبت سے تبدیلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کے لحاظ سے ڈھائی فی صد شرح مناسب تصور فرمائی تھی، اب اگر اسلامی ریاست چاہے تو حالات کی مناسبت سے اُسے گھٹا یا بڑھا سکتی ہے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ قرآن پاک میں زکوٰۃ پر جابجا گفتگوآتی ہے لیکن شرح کا کہیں ذکرنہیں کیا گیا، اگر کوئی خاص شرح لازمی ہوتی تو اُسے ضرو ربیان کیا جاتا۔ اس کے برعکس میرا دعویٰ یہ تھا کہ حضورؐکے احکام ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہیں اور ہم ان میں تبدیلی کرنے کے مجازنہیں ہیں۔ رہی صاحب موصوف کی دلیل، تو وہ کل یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ نمازیں اتنی نہ ہوں بلکہ اتنی ہوں، اور یوں نہ پڑھی جائیں، یوں پڑھی جائیں جیسا کہ ان کے نزدیک حالات اور زمانے کا اقتضا ہو۔پھر تو رسول خدا کے احکام، احکام نہ ہوئے،کھیل ہوگئے۔ دوسری چیز جو میں نے کہی تھی،وہ یہ تھی کہ اگر اسلامی ریاست کو زیادہ ضروریات درپیش ہوں تو وہ حدیث ان فی المال حقًّا سوی الزکٰوۃ کی رو سے مزید رقوم وصول کرسکتی ہے۔خود یہی حدیث زکوٰۃ کی شرح کے مستقل ہونے پر اشارتاً دلالت بھی کرتی ہے۔ اگر زکوٰۃ کی شرح بدلی جاسکتی تو اس حدیث کی ضرورت ہی کیا تھی؟لیکن وہ صاحب اپنے مؤقف کی صداقت پر مصر ہیں۔براہِ کرم آپ ہی اس معاملے میں وضاحت فرمادیجیے۔

جواب: زکوٰۃ کے معاملے میں آپ نے جو استدلال کیا ہے،وہ بالکل درست ہے۔شارع کے مقررکردہ حدود اور مقادیر میں ردّ وبدل کرنے کے ہم مجاز نہیں ہیں۔یہ دروازہ اگر کھل جائے تو پھر ایک زکوٰۃ ہی کے نصاب اور شرح پر زد نہیں پڑتی،بلکہ نماز،روزہ، حج، نکاح،طلاق، وراثت وغیرہ کے بہت سے معاملات ایسے ہیں جن میں ترمیم وتنسیخ شروع ہوجائے گی اور یہ سلسلہ کہیں جاکر ختم نہ ہوسکے گا۔نیز یہ کہ اِ س دروازے کے کھلنے سے وہ توازن واعتدال ختم ہوجائے گا جو شارع نے فرد اور جماعت کے درمیان انصاف کے لیے قائم کردیا ہے۔اس کے بعد پھر افراد اور جماعت کے درمیان کھینچ تان شروع ہوجائے گی۔افراد چاہیں گے کہ نصاب اور شرح میں تبدیلی ان کے مفاد کے مطابق ہو اور جماعت چاہے گی کہ اس کے مفاد کے مطابق۔ انتخابات میں یہ چیز ایک مسئلہ بن جائے گی۔نصاب گھٹا کر اور شرح بڑھا کر اگر کوئی قانون بنایا گیا تو جن افراد کے مفاد پر اس کی زد پڑے گی وہ اسے اس خوش دلی کے ساتھ نہ دیں گے جو عبادت کی اصل روح ہے،بلکہ ٹیکس کی طرح چٹی سمجھ کر دیں گے اور حیلہ سازی (tactics)اور گریز (evasion) دونوں ہی کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ یہ بات جوا ب ہے کہ حکم خدا اور رسول سمجھ کر ہر شخص سر جھکا دیتا ہے اور عبادت کے جذبے سے بخوشی رقم نکالتا ہے،اس صورت میں کبھی باقی رہ ہی نہیں سکتی جب کہ پارلیمنٹ کی اکثریت اپنے حسب منشا کوئی نصاب اور کوئی شرح لوگوں پرمسلط کرتی رہے۔

کمپنیوں کے حصوں میں زکوٰۃ کا مسئلہ:

سوال: کسی مشترک کاروبار مثلاًکسی کمپنی کے حصص کی زکوٰۃ کا مسئلہ سمجھ میں نہیں آسکا۔حصہ بجائے خود توکوئی قیمتی چیز نہیں ہے، محض ایک کاغذ( ’’حصہ‘‘ کے متعلق سائل نے بہت ہی غلط تصور پیش کیا ہے۔ کاغذ کا ٹکڑا نہ حصہ ہوتا ہے نہ اصل اہمیت رکھتا ہے، بلکہ وہ ایک دستاویز ہوتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ فلاں شخص فلاں کاروبار میں اس تناسب سے حصہ دار ہے۔ اگر دو آدمی ایک دکان میں برابر کے شریک ہوں اور وہ اپنی شراکت کے لیے دستاویز لکھ کر رکھ لیں تو دستاویز ان کا اصل حصۂ شرکت نہیں ہو گی بلکہ ان کی حصہ داری کا ثبوت ہو گی۔ یہی صورت زیادہ حصہ داروں کے مشترک کاروبار کی ہے۔ یہ بھی غلط کہا گیا ہے کہ ’’حصہ بجائے خود تو کوئی قیمتی چیز نہیں ہے۔‘‘ حالانکہ دراصل حصہ ہی بجائے خود قیمتی چیز ہے۔ کیونکہ ’’حصہ‘‘ نام ہے کسی تناسب سے ایک کاروبار اور اس کے سرمائے اور متعلقہ املاک کے حقوق مالکانہ میں شریک ہونے کا، اور حصے کی قیمت دراصل انہی حقوق مالکانہ کی قیمت ہوتی ہے۔ حصہ کوئی خیالی وجود نہیں بلکہ ایک ٹھوس مادی حقیقت ہے۔ ) کا ٹکڑا ہے۔ صرف اس دستاویز کے ذریعے حصہ دار کمپنی کی املاک و جائداد مشترکہ میں شامل ہوکر بقدر اپنے حصے کے مالک یا حصہ دار قرار پاتا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ کمپنی کے املاک کیا اور کس نوعیت کے ہیں۔ اگر کمپنی کی جائداد تعمیرات(بلڈنگ) اراضیات اور مشینری پر مشتمل ہو تو حصہ دار کی شراکت بھی ایسے ہی املاک کی ہوگی جس پر آپ کے بیان کردہ اُصول کے ماتحت زکوٰۃ نہیں آتی۔ حصہ دار کے حصے کی مالیت تو ضرور ہے لیکن وہ اس تمام مالیت کا جزو ہے جو غیر منقولہ جائداد کی شکل میں کمپنی کو مجموعی حیثیت سے حاصل ہے۔پھر حصہ دار کے حصے پر زکوٰۃ کیوں عائد ہونی چاہیے؟

جواب: کمپنی کے جس حصے دار کے حصے کی مالیت بقدر نصاب ہے،اس کے متعلق یہ سمجھا جائے گا کہ وہ قدر نصاب کا مالک ہے۔اب اگر اُس نے اپنے اس روپے کو کمپنی کے کاروبار میںلگا رکھا ہے تو اُس سے اس کے حصے کی مالیت کے لحاظ سے انفرادی طور پر زکوٰۃ نہیں لی جائے گی بلکہ کمپنی سے تجارتی زکوٰۃ کے قواعد کے مطابق تمام ایسے حصہ داروں کی زکوٰۃ اکٹھی لے لی جائے گی جن کو زکوٰۃ ادا کرنے کے قابل قرار دیا گیا ہو۔کمپنی کی زکوٰۃ کا حساب لگانے میں مشینری، مکان، فرنیچر وغیر ہ عوامل پیدایش کو مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔ اس کے باقی ماندہ املاک جو اموال تجارت پر مشتمل ہوں اور اس کے خزانے کی رقم جو ختم سال پر موجود ہو، ان سب پر زکوٰۃ لے لی جائے گی۔ اور اگر کمپنی کا کاروبار اس نوعیت کا نہ ہو، تو اُس کی سالا نہ آمدنی کے لحاظ سے اُس کی مالی حیثیت مشخص کی جائے گی اور اُس پر زکوٰۃ لگا دی جائے گی۔

(ترجمان القرآن، ربیع الاوّل، ربیع الثانی۳۷۰اھ، جنوری،فروری ا۹۵اء)

مضاربت کی صورت میں زکوٰۃ:

سوال: دو آدمی شرکت میں کاروبار شروع کرتے ہیں۔شریک اوّل سرمایہ لگاتے ہیں اور محنت بھی کرتے ہیں۔ شریک ثانی صرف محنت کے شریک ہیں۔ منافع کی تقسیم اس طرح پرطے پاتی ہے کہ کل منافع کے تین حصے کیے جائیں گے، ایک حصہ سرمائے کا اور ایک ایک حصہ ہر دو شرکا کا ہوگا۔ اس کاروبار کی زکوٰۃ کے متعلق دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے جوابات سے مطلع فرمائیں:
(۱) اگر کاروبارکے مجموعی سرمائے سے یک جا زکوٰۃ نکالی جائے تو شریک ثانی کو یہ اعتراض ہے کہ کاروبار کا سرمایہ صرف صاحب سرمایہ کی ملکیت ہے اور اس پر اُسے علیحدہ منافع بھی ملتا ہے، لہٰذا سرمائے پر زکوٰۃ سرمایہ دار کو ہی دینی چاہیے۔کیا شریک ثانی کایہ اعتراض درست ہے؟
(ب) کاروبار میں نفع اور نقصان دونوں کا امکان ہے۔زکوٰۃ کا نفع ونقصان سے نہیں بلکہ سرمائے سے تعلق ہے۔ کاروبارمیں نقصان کی صورت میں بھی موجود سرمائے پر زکوٰۃ دی جائے گی۔ اگر نقصان کی صورت میں کاروبار سے زکوٰۃ نکالی جائے تو شریک ثانی کے حصے کی زکوٰۃ کی ایک تہائی رقم اُ س کے اگلے سال کے منافع سے نکالی جائے گی،جب کہ اگلے سال بھی زکوٰۃ کی رقم کا ایک تہائی حصہ اُسے دینا ہوگا۔ ایسی حالت میں شریک ثانی کے لیے یہ زکوٰۃ نہیں رہی بلکہ سرمایہ دار کے سرمائے کی زکوٰۃ کا ایک حصہ ادا کرنے کا ٹیکس ہوجاتا ہے۔کیا یہ صورت زکوٰۃ کے اصل مقصد کے منافی نہیں ہے؟

جواب: آپ کے دونوں سوالوں کے جوابات درج ذیل ہیں:
(۱)شریک ثانی کا اعتراض درست نہیں ہے۔زکوٰۃ صرف اُ س سرمائے پر نہیں لگتی ہے جس سے کاروبار شروع کیا گیا ہو، بلکہ کل کاروبار کی مالیت پر لگتی ہے۔صحیح طریقہ یہ ہے کہ پورے کاروبار سے پہلے زکوٰۃ نکال لی جائے،پھر منافع اسی نسبت سے فریقین کے درمیان تقسیم ہوجو ان کے درمیان طے ہو چکی ہو۔
(ب)اموال تجارت کی زکوٰۃ کا اُصول یہ ہے کہ کوئی مال تجارت اگراس قدر نصاب سے زائد ہو تو اس سے زکوٰۃنکالی جانی چاہیے۔ اب جو شخص صرف کام کا شریک ہے،اُس کی محنت نے بہرحال اس تجارت میں مالیت پیدا کرنے میں کچھ نہ کچھ حصہ لیا ہے۔یہ مالیت صرف ابتدائی سرمائے ہی کا نتیجہ نہیں ہے۔اس لیے اس زکوٰۃ کے دو حصے سرمایہ دار کو ادا کرنے چاہییں اور ایک حصہ شریک محنت کو ادا کرنا چاہیے۔

(ترجمان القرآن، ربیع الثانی۳۷۲اھ، جنوری۹۵۳اء)

دارالاسلام اور دارالکفر کے مسلمانوں میں وراثت ومناکحت کے تعلقات:

سوال: الجہاد فی الا سلام کے دوران مطالعہ میں ایک آیت وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُہَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ …الخ الانفال 72:8 نظر سے گزری۔اس کی تشریح کرتے ہوئے آپ نے تحریر فرمایا کہ ’’اِ س آیت میں آزاد مسلمان اور غلا م مسلمانوں کے تعلقات کو نہایت وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے۔ پہلے ما لکم من ولایتھم من شیْئٍ سے یہ بتایا گیا ہے کہ ’’جو مسلمان دارالکفر میں رہنا قبول کریں یا رہنے پر مجبور ہوں،ان سے دارالاسلام کے مسلمانوں کے تمدنی تعلقات نہیں رہ سکتے،نہ وہ باہم رشتہ قائم کرسکتے ہیں اور نہ انھیں ایک دوسرے کا ورثہ وترکہ مل سکتا ہے۔‘‘
اب عرض یہ ہے کہ ہندوستان وپاکستان’’دارالکفر‘‘ اور’’دارالاسلام‘‘ کی صور ت میں دو ملک وجود میں آگئے ہیں۔ہندوستانی مسلمانوں کی حالت بھی اظہر من الشمس ہے۔ان کی ذہنیتیں بھی بڑی حد تک بدل چکی ہیں، غرض یہ کہ ان سب لوازمات سے لیس ہوچکے ہیں جو ایک غلام قوم کے لیے از بس ضرور ی ہیں۔ بہتیرے رہنے پر مجبور ہیں اور بہت سے وہاں کی رہائش عمداً قبول کیے ہوئے ہیں۔بعض ہجرت کرکے اپنے دین وناموس کی حفاظت کی خاطر پاکستان چلے آئے ہیں۔ان میں اکثر ایسے بھی ہیں جن کے والدین ہندوستان ہی میں رہنا پسند کرتے ہیں اور مرتے دم تک اس کو چھوڑنے پر تیار نہیں مگر اولاد پاکستان چلی آئی ہے اور اب ہندوستان کی سکونت اختیار کرنے کے لیے کسی قیمت پر تیار نہیں۔اندریں حالات حسب ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:
(۱) ایسی حالت میں اولاد، والدین یا کسی اور رشتہ دار کے ورثہ وترکہ سے محروم رہے گی؟ اگر وہ ان کے انتقال پر اپنے حق وراثت کا دعویٰ کریں تو کس حد تک یہ دعویٰ جائز یا ناجائز ہوگا؟
(۲) موجودہ حالات کے پیش نظر کوئی پاکستانی(مہاجر یا اصلی باشندہ) ہندوستانی مسلمان لڑکی سے شادی کرسکتا ہے یا نہیں؟ کرنے کی صورت میں تعلقات جائزسمجھے جائیں گے یا ناجائز؟

جواب: جہاں تک مجھے علم ہے قرآن مجید کا منشا یہی ہے کہ دارالاسلام اور دارالکفر کے مسلمانوں میں وراثت اور شادی بیاہ کے تعلقات نہ ہوں۔رہا ان مہاجرین کا معاملہ جن کے ایسے رشتہ دار دارالکفر میں رہ گئے ہیںجن کے وہ وارث ہوسکتے ہیں، تو ان کے بارے میں بھی میرا خیال یہی ہے کہ نہ وہ ہندوستان میں اپنی میراث پاسکتے ہیں اور نہ ان کے ہندوستانی رشتہ دار پاکستا ن میں ان سے میراث پانے کا حق رکھتے ہیں۔ نکاح کے بارے میں،میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہجرت سے نکاح آپ ہی آپ تو نہیں ٹوٹ سکتا لیکن اگر زوجین میں سے ایک دارالاسلام میں ہجرت کرآیا ہے اور دوسرا ہجرت پر تیار نہ ہو تو عدالت میں اس بنیاد پر درخواست دی جاسکتی ہے اور ایسے زوجین کا نکاح فسخ کیا جاسکتا ہے۔ آئندہ شادی بیاہ کا تعلق پاکستانی اور ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان نہ ہونا چاہیے۔

(ترجمان القرآن،شعبان ۳۷۰اھ، جون ا۹۵اء)

مذکورۂ بالا مسئلے پر مولانا ظفر احمد صاحب عثمانی سے مراسلت

مولانا ظفر احمد صاحب کا مکتوب:
مکرمی مولانا سیّد ابوالاعلیٰ صاحب! زادت محاسنکم
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ!مجھے آپ سے غائبانہ محبت ہے جس کی شہادت خود آپ کا ضمیر دے گا اور میرا یہ طرز عمل بھی کہ میں گاہے گاہے تھانہ بھون اور ڈھاکا سے آپ کو ازخود لکھتا رہا ہوں۔یہ خط بھی اسی غائبانہ محبت کی بنا پر از خود لکھ رہا ہوں۔ مجھے یہ معلوم کرکے افسوس ہوا کہ آج کل بعض علما نے آپ کی تکفیر وتفسیق کے لیے فتویٰ نویسی شروع کردی ہے اور آپ کوجماعت اہل حق سے جدا سمجھ لیا ہے۔ اﷲ تعالیٰ آپ کو اہل حق سے الگ نہ کرے۔پھر کسی کے الگ کرنے کی پروا نہیں ؎
لکل شیٔ اذا فارقتہ عوض
و لیس للّٰہ ان فارقت من عوض
میں نے ترجمان القرآن میں ایک مخدوم زادہ بزرگ کا مضمون پڑھا۔افسوس ہے کہ انھوں نے تصور شیخ کی وہی تصویر پیش کی ہے جس کی بِنا پر محققین نے اس کی تعلیم موقوف کی تھی۔تصور شیخ کی حقیقت صرف اس قدر ہے کہ وصول الی اﷲ کے لیے قلب کو حب دنیا اور علائق ماسویٰ اﷲ سے پاک وصاف کرنا ضروری ہے۔اس کا ایک طریقہ تو یہ تھا کہ ہر چیز کی محبت کو ایک ایک کرکے الگ الگ نکالا جائے۔ یہ راستہ طویل بھی ہے اور بعض کے لیے دشوار بھی۔ اس لیے بعض محققین نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ ان سب پر کسی ایک کی محبت کو غالب کردیا جائے۔اس کے غلبے سے دوسری اشیا کی محبت مغلوب ومضمحل ہوکر معدوم یا کالعدم ہوجائے گی۔ پھر اس ایک کی محبت کا مغلوب کرنا یا نکالنا زیادہ دشوار نہ ہوگا۔ اس کے لیے محبت شیخ کو تجویز کیا گیا کہ اس سے طالب کو فی الجملہ محبت ہوتی ہی ہے، اور چوں کہ یہ محبت لوجہ اﷲ ہے اس لیے اس کا غلبہ محبت حق میں معین رہے گا،اس سے مانع نہ ہوگا۔جب غلبۂ حب شیخ سے دوسری اشیا کی محبت مغلوب ہوجائے تو حب شیخ کو مغلوب کرنے کے لیے تصور رسولؐ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے بعد فنا فی اﷲ کا راستہ شروع کردیا جاتا ہے۔ مگر جب کم فہموں نے تصور شیخ کا مطلب وہ سمجھ لیا جو ہمارے مخدوم زادہ بزرگ نے بیان فرمایا ہے تو محققین نے اس کی تعلیم موقوف کردی اور اس کو ماھذہ التماثیل التی انتم لھا عاکفون کا مصداق بتلایا۔ اس مسئلے میں آپ کے رسالے میں جو کچھ لکھا گیا ہے میں اُس کی تائید کرتا ہوں۔
لیکن اس کے ساتھ ہی میں دوسرے مسئلے میں اپنے مخدوم زادہ کی تصدیق کرتا ہوں کہ آپ اور آپ کی جماعت کے بعض افراد قرآن وحدیث سے براہ راست استنباط کرنا چاہتے ہیں، اور اس کی پروا نہیں کرتے کہ وہ استنباط فقہائے اُمت کے موافق ہے یا خلاف۔ اس کی تازہ مثال ترجمان القرآن جلد۳۶، عدد۲، بابت شعبان ۳۷۰اھ، مطابق جون ا۹۵ا ء میں ابھی ابھی میری نظر سے گزری۔ آپ نے دارالاسلام اور دارالکفر کے مسلمانوں کے تعلقات کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’جہاں تک مجھے علم ہے قرآن کا منشا یہی ہے کہ دارالاسلام اور دارالکفر کے مسلمانوں میں وراثت اور شادی بیاہ کے تعلقات نہ ہوں۔‘‘ پھر ان مہاجرین کے متعلق جن کے ایسے رشتہ دار دارالکفرمیںرہ گئے ہوں جن کے وہ وارث ہوسکتے ہیں،فرمایا ہے کہ’’ ان کے بارے میں بھی میرا خیال یہی ہے کہ نہ وہ ہندوستان میں میراث پاسکتے ہیں اور نہ ان کے ہندوستانی رشتہ دار پاکستان میں ان سے میراث پانے کا حق رکھتے ہیں۔‘‘الخ (صفحہ۱۲۵)
آپ کا یہ فتویٰ مذہب حنفی اور جملہ مذاہب اربعہ کے خلاف ہے اور جس آیت سے آپ نے استنباط کیا ہےاِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۭ الانفال 72:8 اس میں اگر ولایت کو بمعنی وراثت تسلیم کرلیا جائے،موالات کے معنی میں نہ لیا جائے،تو یہ حکم اُس وقت کا ہے جب کہ ابتدائے قدوم مدینہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین وانصار کے درمیان مواخات قائم کردی تھی جس کی بِنا پر مہاجرین انصار کے اور انصار مہاجرین کے وارث ہوتے تھے،جس کی دلیل اسی آیت کا یہ ٹکڑا ہے کہ: اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۭ الانفال 72:8 پھر جب مہاجرین وانصار کا باہم توارث سورۃ الاحزاب کی آیت: اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَاَزْوَاجُہٗٓ اُمَّہٰتُہُمْ۝۰ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللہِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُہٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰۗىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا۝۰ۭ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًاo الاحزاب 6:33 سے منسوخ ہوگیا تو اب یہ حکم باقی نہ رہا کہ مسلم مہاجر مسلم غیر مہاجر کا وارث نہ ہو،یا برعکس۔بلکہ آیت المواریث کے موافق توارث ہونے لگا۔
پھر آپ نے اس پر بھی غور نہ کیا کہ سورۂ الممتحنہ کی آیت وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَاسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقْتُمْ وَلْيَسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقُوْا۝۰ۭ الممتحنہ10:60 کے نزول سے پہلے تک غیر مسلم عورتیں صحابہ مہاجرین کے نکاح میں بدستور مکہ میں تھیں۔ اس آیت کے نزول کے بعد حضرت عمرؓ وغیرہ نے اپنی کافر عورتوں کو طلاق دے دی تو ان کا نکاح مکہ کے کافروں سے ہوا۔حالاں کہ مکہ اُس وقت صرف دارالکفر ہی نہ تھا بلکہ وہاں کے باشندے محارب بھی تھے جن سے غزوۂ حدیبیہ ۶ہجری میں چند سال کے لیے صلح کی گئی تھی۔ تو جس دارالکفر کے باشندے برسر جنگ نہ ہوں،وہاں کی مسلمان عورتوں سے شادی بیاہ کو اور وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ توارث کو آپ کس دلیل سے منع کرسکتے ہیں؟
آج ہندوستان جیسا دارالکفرہے ویسا ہی برطانیہ کی حکومت میں تھا، اور آج جیسا پاکستان دارالاسلام ہے ویسا ہی کسی وقت حیدر آباد بھی دارالاسلام تھا،بلکہ کچھ زیادہ کہ وہاں محکمۂ اُمور مذہبی قائم تھا جو اب تک پاکستان میں قائم نہیں ہوا۔تو کیا آپ اُس وقت ہندوستان کے اور حیدر آبادکے مسلمانوں میں باہم شادی بیاہ اور توارث کو ممنوع سمجھتے تھے؟یا اُس وقت اگر کوئی حاجی مہاجر ہوکر مکہ مدینہ میں رہ جاتا اور اُس کی موت کے وقت مکہ مدینہ میں اُس کا کوئی وارث نہ ہوتا تو آپ یہ فتویٰ دے سکتے تھے کہ اس کے ہندوستانی رشتہ داروں کو اس کا ترکہ نہ دیا جائے؟
اگر آپ یہ فتویٰ دیتے تو ساری دنیا آپ کی مخالفت کرتی۔حکومت حجاز کا تعامل ترکی کے زمانے میں بھی اور آج بھی یہی رہا ہے اور ہے کہ ایسے لوگوں کا ترکہ ہندوستان کی حکومت کے ذریعے سے ان کے ہندوستانی ورثا کو دے دیا جاتا تھا جب کہ ثبوت مل جاتا کہ اُس کے ورثا موجود ہیں۔کسی مذہب کے علما نے بھی حکومت حجاز کو یہ فتویٰ نہیں دیا کہ ان حاجیوں کا مال ہندوستانی ورثا کانھیں بلکہ حکومت کا حق ہے۔
اور اگر آیت انفال سے مراد ولایت بمعنی وراثت نہیں بلکہ بمعنی موالات ہے تو اس کا میراث ونکاح سے کوئی علاقہ نہ ہوگا،بلکہ موالات اور ترک موالات کا اس میں بیان ہوگا جس میں محاربین اور غیر محاربین کا فرق بھی ہوگا اور مستامن وغیرمستامن کا بھی۔جس کی تفصیل سورۂ الممتحنہ کی آیات لَا يَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ…الآیۃ الممتحنہ60:8 کے تحت مفسرین ومحدثین وفقہا نے بہت کچھ بیان کی ہے۔ملاحظہ ہو شرح السیر الکبیر للامام محمد بن الحسن الشیبانی۔
اخیر میں خیر خواہی کے ساتھ چند باتوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں:
(ا) قرآن مجید سے مسائل واحکام کا استنباط کرتے ہوئے کم ازکم احکام القرآن للرازی، احکام القرآن لابن العربی،تفسیر روح المعانی اور بیان القرآن لحکیم الامۃ التھانوی سے مراجعت ضرور کرلیا کریں۔
(ب) فتویٰ دینے سے پہلے فقہائے حنفیہ کی کتابوں اور اہل فتویٰ علما سے مراجعت فرما لیا کریں کیوں کہ فتویٰ نویسی محض کتابوں کے مطالعے سے نہیں آتی۔اس کے لیے اہل افتا کے پاس رہ کر مدتوں کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
(ج) ہم اور آپ مذہب حنفی کے سوا دوسرے مذاہب سے پوری طرح واقف نہیں ہیں،کیوں کہ یہاں دوسرے مذاہب کا درس دینے والے محقق علما موجود نہیں ہیں، اور محض کتابوں میں دوسرے ائمہ کے اقوال دیکھ لینے سے ان کے مذہب کا پورا علم نہیںہوسکتا۔آپ دیکھیں گے کہ ہماری کتابو ں میں بعض مسائل کے متعلق دوسرے ائمہ کا مذہب غلط لکھ دیا گیا ہے۔جیسا ان کی کتابوں میں ہمارا مذہب بعض مسائل میں غلط نقل ہوگیا ہے۔ حافظ ابوبکر بن ابی شیبہ جیسا محدث، جس کا وظیفہ ہی یہ ہے کہ ہر بات سند کے ساتھ کہے، اپنی مُصَنَّف کے باب الردعلیٰ ابی حنیفہ میں بہت سے مسائل امام صاحب کی طرف غلط منسوب کرگیا ہے جس کا کتب حنفیہ میں پتا بھی نہیں۔اس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جب تک کسی مذہب کو اُسی کے علما سے باقاعدہ نہ پڑھا جائے،اُس وقت تک اس سے پوری واقفیت نہیں ہوسکتی۔ بعض دفعہ مسئلہ صحیح نقل ہوتا ہے مگر اس میں جس قدر تفصیل وقیود اصل مذہب میں ہیں،وہ سب نقل نہیں کی جاتیں۔
چنانچہ امرأۃ المفقود کے مسئلے میں ہماری کتابوںمیں امام مالکؒ کا مذہب بہت مجمل بیان کیاگیا ہے۔جب اس مسئلے کی تحقیق علمائے مالکیہ سے کی گئی تو اس میں بڑی تفصیل معلوم ہوئی اور بہت سی قیود وشرائط کا علم ہوا جن کا ہمار ی کتابوں میں پتا بھی نہیں۔ملاحظہ ہو رسالہ الحیلۃ الناجزۃ لحکیم الامۃ التھانویؒ۔ پس کسی مسئلے میں مذہب حنفی کو چھوڑ کر یہ دعویٰ کرنا کہ ہم نے مذاہب اربعہ سے خروج نہیں کیا،اُس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک دوسرے مذاہب کے علما سے اس مسئلے میں مراجعت نہ کرلی جائے۔
(د) ’’نسبت صوفیہ غنیمتیست کبریٰ امار سوم ایشاں بہیچ نیر زد۔‘‘شاہ ولی اللہؒ صاحب کے اس قولے کو پیش نظر رکھ کر نسبت صوفیہ کے حاصل کرنے کی پور ی کوشش کی جائے، کیوں کہ اس کے بغیر درجہ احسان حاصل نہیں ہوتا جس پر کمال ایمان موقوف ہے۔ اور اس نسبت کے لیے رسوم صوفیہ یا ان کے اشغال مروّجہ کی اصلاًضرورت نہیں مگر اہل نسبت کی صحبت از بس ضروری ہے ؎
قال راہ بگذار مردِ حال شو
پیشِ مردے کاملے پامال شو
آپ کے قریب ہی …تشریف فرماہیں۔ گاہے گاہے ان کے پاس جاتے رہا کریں۔اُمید ہے کہ میری باتوں کو خیر خواہی پر محمول کیا جائے گا اور اسی نظر سے خط کو دیکھاجائے گا۔ والسلام
ظفراحمد
جواب
مکرمی ومحترمی مولانا ظفر احمد صاحب عثمانی زاد مجد کم!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ عنایت نامہ مورخہ ۲۵جولائی مجھے ذرا دیر سے ملا۔اسی لیے جواب بھی بتاخیر حاضر ہورہا ہے۔اس میں میری کوتاہی نہیں ہے۔
میں آپ کے اخلاص و محبت کا دل سے شکر گزار ہوں، اور مزید شکر گزاری کی موجب وہ علمی رہنمائی ہے جو آپ نے ازراہ کرم عنایت فرمائی ہے۔اﷲ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔
فتاویٰ کے بارے میں جناب نے بالکل سچ فرمایا۔میری بھی غایت تمنا بس یہی ہے کہ اﷲ کے دربار سے نہ دھتکارا جائوں،اس کے بعد مذہبی درباروں سے دھتکار دیے جانے کی مجھے پروا نہیں ہے۔
تصور شیخ کی جو تعبیر آپ نے پیش فرمائی ہے،اُس پر کسی اعتراض کی گنجایش نہیں۔تدبیر کی حد تک اسے مباح مانا جائے گااگر آدمی اسی نیت سے اس تدبیر کو اختیار کرے جو آپ نے بیان فرمائی ہے۔البتہ جو تعبیر حکیم عبدالرشیدصاحب نے پیش فرمائی تھی وہ تو سخت خطرناک تھی اور مولانا امین احسن صاحب نے جو گرفت کی تھی،اسی پر کی تھی۔
آپ کا یہ ارشاد بجا ہے کہ قرآن سے مسائل واحکام کا استنباط کرتے ہوئے جصاص اور ابن العربی کی احکام القرآن اور تفسیر روح المعانی اور بیان القرآن کا مطالعہ کرلیا جائے۔الحمد ﷲ کہ میں پہلے ہی اس مشورے پر عامل ہوں۔مولانا تھانوی کی بیان القرآن تومیرے پاس نہیں ہے، البتہ مقدم الذکرتینوں کتابیں موجود ہیں اور ہمیشہ آیات سے احکام معلوم کرنے میں تینوں کو بغور دیکھ لیتا ہوں۔ اورصرف انھی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ ابن کثیر، ابن جریر اور تفسیر کبیر سے بھی مراجعت کرلیتا ہوں تاکہ مسئلے کے تمام اطراف سامنے آجائیں۔ اس لیے آپ یہ خیال نہ فرمائیں کہ میں تحقیق ومطالعہ کے بغیر ہی اظہار رائے کردینے کا عادی ہوں۔البتہ ایک چیز ضرور ہے جس میں میراطریقہ آپ حضرات سے مختلف ہے، اور وہ یہ ہے کہ میں ان میں سے کسی کی تحقیق کو حرف آخر نہیں سمجھتا،اور جب میرا ان کے بیانات سے اطمینا ن نہیں ہوتا تو خود غور وفکر کرکے رائے قائم کرتا ہوں۔
فتویٰ دینے کی غلطی میں نے آج تک کبھی نہیں کی۔فتویٰ جو شخص بھی مجھ سے پوچھتا ہے، میں ہمیشہ اُس کو یہی جواب دیتا ہوں کہ مجھے منصب افتاحاصل نہیں ہے۔البتہ جو لوگ مسائل میںمیر ی تحقیق پوچھتے ہیں ان کو اپنے علم کے مطابق جواب دے دیتا ہوں اور جواب دیتے وقت فقہ کی مستند کتابوں سے مراجعت کرنے کا پورا التزام کرتا ہوں۔مطالعہ وتحقیق کے بغیر اظہار رائے سے میں نے ہمیشہ اجتناب کیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کبھی محض اظہار رائے پر اکتفا کرجاتا ہوں اور دلائل ومآخذ بیان کرنے کا موقع نہیں پاتا۔
آپ کا یہ ارشاد بھی بجا ہے کہ کتابوں میں بالعموم اپنے مذہب کے سوا دوسرے مذاہب کے اقوال ثبت کرنے میں احتیاط سے کام نہیں لیا گیا ہے۔اِ س چیز کو میں نے خود محسوس کیا ہے۔اس لیے میں مذہب حنفی کے سوا دوسرے مذاہب کے اقوال معلوم کرنے کے لیے صرف ان کتابوں پر اکتفا نہیں کرتا جو فقہائے حنفیہ نے لکھی ہیں،بلکہ خود ان مذاہب کی اصل کتابیں بھی دیکھ لیتا ہوں۔ مثلاً مذہب حنبلی کے لیے المغنی لابن قدامہ اور مذہب مالکی کے لیے المدونہ وغیرہ۔نیز میرا تجربہ ہے کہ مذاہب اربعہ کے اقوال کو’’الفقہ علی المذاہب الاربعہ‘‘ میں کافی احتیاط کے ساتھ ثبت کیا گیا ہے اور بدایۃ المجتہد بھی اس معاملے میں نسبتاً خاصی قابل اعتماد ہے۔شوکانی کو بھی میں نے اس معاملے میں خاصا محتاط پایا ہے،اگرچہ بعض مقامات پر انھوں نے مذہب کے نقل میں غلطیاںکی ہیں۔ بہرحال ایک مسئلے کی تحقیق میں بہت سے مراجع کی طرف رجوع کرنے سے قریب قریب صحیح واقفیت حاصل ہوتی ہے۔
صوفیہ کی صحبت سے میں نے اکثر استفادہ کیا ہے۔ایک مدت تک میرا طریقہ یہ رہا ہے کہ جس باخدا بزرگ کا بھی پتا چلا،ان سے ضرور جا کر ملا اور ان کی صحبت میںبیٹھا۔ میرا اپنا خاندان بھی اہل تصوف ہی میں سے ہے اورمیرے والد مرحوم تک بیعت وارشاد کا سلسلہ جاری رہا ہے۔تصوف کا تھوڑا بہت مطالعہ میں نے بھی کیا ہے اور متعد د صوفی بزرگوں سے توجہ لینے اور اشغال سیکھنے کی بھی کوشش کی ہے۔ اس لیے تصوف اور اہل تصوف کے بارے میں اپنے جن خیالات اور آرا کی بِنا پر میں بدنام ہوں،انھیں آپ ایک ایسے شخص کے خیالات اور آرا نہ سمجھیں جو اس کوچے سے بالکل نابلد ہے۔ میں نے تصوف کو بھی دیکھا ہے اور اہل تصوف کو بھی،اور اس کے اچھے اور برے پہلو دیکھ کر ہی ایک نتیجے پر پہنچا ہوں۔میں نہیںکہتا کہ جس نتیجے پر میں پہنچا ہوں،اُسے ہر شخص مان لے۔البتہ یہ ضرور عرض کرتا ہوں کہ میری رائے کو محض ایک سطحی رائے سمجھنے کی غلطی دوسرے لوگ بھی نہ کریں۔اب بھی مجھے کسی صاحب کمال سے استفادہ کرنے میں تامل نہیں ہے اور میری ہر رائے نظر ثانی کے قابل ہے۔لیکن میں اس کو کیا کروں کہ بہت سے لوگ جنھیں صاحب کمال کہا جاتا ہے،میں نے اپنے تجربے میں ان کو ناقص پایا ہے۔اﷲ تعالیٰ کسی صاحب کمال سے استفادہ کرنے کا موقع نصیب فرما دے۔
اب میں اس مسئلے کی طرف آتا ہوں جس پر آپ نے تفصیلی گرفت فرمائی ہے۔ میںنے اس پر جس اختصار کے ساتھ اظہار رائے کیا تھا،اُسے دیکھ کر شاید آپ نے یہ گمان فرمایا کہ میں اس مسئلے میں فقہا کے ارشادات سے ناواقف ہوں اور قرآن کی صرف ایک آیت دیکھ کر اظہار رائے کر بیٹھا ہوں۔ حالاں کہ معاملہ یہ نہیں ہے۔دراصل بات یہ ہے کہ دارالکفر کی مسلمان رعایا اور دارالاسلام کی حکومت اور مسلم رعایا کے باہمی تعلقات کامعاملہ نہایت سخت پیچیدہ ہے اور اس معاملے میں،میںنے فقہا کے بیانات کو بہت ناکافی پایا ہے۔متقدمین کو تو اس مسئلے سے کچھ زیادہ سابقہ پیش نہیں آیا تھا،اس لیے انھوں نے اس کے سارے اطراف کھول کر بیان نہیں کیے۔رہے متأخرین، تو ان کو اس سے سابقہ ضرور پیش آیا مگر وہ نہ تو متقدمین سے کچھ زیادہ مفصل رہنمائی پاسکے اور نہ خود ہی اجتہاد کی جرأت کرسکے۔ اب جو ہم اپنی آزادحکومت لے کر بیٹھے ہیں تو ہمیں پھر اس مسئلے سے سابقہ پیش آرہا ہے اور قدم قدم پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ پچھلی کتب فقہ اِ س معاملے میں ہماری پوری رہنمائی نہیں کرتیں۔ آپ خود ذرا ان احکام کو جمع فرمائیں جو اس مسئلے کے متعلق کتب فقہ میں ملتے ہیں، اورپھر دیکھیں کہ کیا وہ ہمارے اس وقت کے حالات میں تمام مسائل کا شافی جواب دیتے ہیں؟
دارالاسلام کی حکومت اور مسلم رعایا، اور دارالکفر کی مسلم رعایا کے باہمی تعلقات کا معاملہ محض قانونی نہیں ہے، بلکہ اس کے اندر سیاسی اور بین الاقوامی تعلقات کے مسائل بھی ساتھ ساتھ اُلجھے ہوئے ہیں۔ ایک مسلمان جو دارالاسلام کی رعایا ہے،اگر دارالکفر کے کسی شخص کا وارث ہو اور اُس کا مفاد اُس وراثت سے وابستہ ہوجائے تو ہوسکتا ہے کہ یہی وابستگی اُس کے لیے فتنہ بن جائے۔ایک لڑکی جو دارالکفر کی رعایا ہے اور جس کے اعزہ و اقربا سب دارالکفر میں رہتے ہیں اور وہاں اپنے مفادات رکھتے ہیں، اگر دارالاسلام میں بیاہی ہوئی آئے تو ہوسکتاہے کہ اُسے غیر مسلموں کی بہ نسبت زیادہ آسانی کے ساتھ جاسوسی کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ایک عورت جو ہجرت کرکے دارالاسلام میں آچکی ہے یا دارالاسلام ہی کی رہنے والی ہے،اُس کا شوہر اگر دارالکفر کا باشندہ ہو اور ہجرت کے لیے تیار نہ ہو،تو ظاہر ہے کہ ہم نہ اُس عورت کو اُس سے نفقہ دلوا سکتے ہیں،نہ ہماری کسی عدالت کا کوئی اختیار اُس شخص پر نافذ ہوتا ہے کہ ہم کسی حق کا استقرار کرسکیں۔ لامحالہ ہمیں اس عورت کو یا تو تمام حقوق سے محروم رکھنا پڑے گا،یا پھر اُسے دار الکفر بھیجنا پڑے گا۔اس طرح کی بہت سی پیچیدگیاں ان معاملات میں پائی جاتی ہیں جو نری قانونی نوعیت کی نہیں ہیں۔
پھر اس معاملے میں متعد د معاشی پیچیدگیاں بھی ہیں۔دارالکفر کی حکومت اپنے علاقے میں دارالاسلام کی رعایا کے حقوق مالکانہ ساقط کرسکتی ہے یا ان کو طرح طرح کی پابندیوں سے محدود کرسکتی ہے اور دارالاسلام کی طرف دولت کے منتقل ہونے کو روک سکتی ہے۔مگر ہم دارالاسلام میں دارالکفر کے ایک مسلمان کے حقوق وراثت شرعاً مان لینے کے بعد انھیں کیسے ساقط کرسکیں گے اور دارالاسلام کے ایک مسلمان کو اپنی دارالکفر میں رہنے والی بیوی کا نفقہ یا مہر ادا کرنے سے کس طرح روک سکیںگے؟اس طرح دولت کا یک طرفہ بہائو شروع ہوجائے گا جو دارالاسلام کے لیے مضر اور دارالکفر کے لیے مفید ہے۔خصوصاً ایسے حالات میں جب کہ دارالکفر میںکروڑوں مسلمان رعایا کی حیثیت سے آبا د ہوں اور دارالاسلام کے بے شمار مسلمانوں سے ان کے تعلقات ہوں،یہ نقصان ناقابل لحاظ بھی نہیں رہتا۔
میں اس پیچیدگی پر بہت غور کرتا رہا ہوں اور مجھے نہ کتب فقہ میں اس کا شافی حل مل سکا ہے اور نہ ان معاملات میںجو ابتدائً چند سال تک مدینہ طیبہ اور مکہ کے مسلمانوں کے درمیان رہے تھے۔اس لیے میں نے قرآن مجید سے اس کا حل معلوم کرنے کی کوشش کی اور میں نے یہ سمجھا کہ آیت الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُہَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُہَاجِرُوْا۝۰ۚ وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰي قَوْمٍؚبَيْنَكُمْ وَبَيْنَہُمْ مِّيْثَاقٌ۝۰ۭ الانفال 72:8 میں اس کا مکمل جواب موجود ہے۔ میں آ پ کو بتاتا ہوں کہ اس آیت سے کیا احکام مستنبط ہوتے ہیں اور کس طرح ہوتے ہیں۔
اس آیت میں سب سے اہم لفظ’’ولایت‘‘ ہے جس کے معنی کا تعین ضروری ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ اس کو مجرد وراثت یا کسی اور ایک معنی پر منحصر کرنے کی کون سی معقول وجہ ہے۔ عربی زبان میں اس لفظ کی پوری وسعت کو ملحوظ رکھا جائے تو یہ نصرت، سرپرستی، حمایت،نگہبانی اور قرابت کے مفہومات پر حاوی ہے۔ ان مفہومات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ’’ولایت‘‘ سے مراد ایک طرف تو وہ تعلق ہے جو ایک ریاست اور اُس کے شہریوں کے درمیان ہوتا ہے، اور دوسری طرف وہ تعلق جو ایک ریاست کے شہریوں میں باہم ہوتا ہے،اور اس کے حدود ان تمام اقسام کے روابط پر وسیع ہیں جن پر لغت کے اعتبار سے لفظ ولایت کا اطلاق ہوتا ہے۔قرآن مجید کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ دارالاسلام کی حکومت صرف دارالاسلام ہی کے مسلمانوں کی ولی ہو اور اس کو دارالکفر کے مسلمانوں کی ’’ولایت‘‘ سے سبک دوش کردیا جائے تاکہ وہ بین الاقوامی پیچیدگیوں میں مبتلا نہ ہو اور ایسے فرائض سے گراںبار بھی نہ ہو جنھیں ادا کرنا عملاًمحال ہے۔
اس کے ساتھ قرآن مجید کامنشا یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دارالاسلام کی مسلم رعایا اور دارالکفر کی مسلم رعایا کے درمیان بھی ولایت کے یہ تعلقات نہ ہوں،بلکہ ان روابط کو دارالاسلام ہی کے مسلمانوں تک ہی محدود رکھا جائے۔
ولایت کا یہ مفہوم اور منشا متعین ہوجانے کے بعد اس آیت سے جو ہدایات نکلتی ہیں،وہ یہ ہیں:
(۱) دارالکفر کی مسلم رعایا کی حمایت ونصرت،سرپرستی اور نگہبانی اورپشتیبانی دارالاسلام کی حکومت کے ذمے نہیں ہے۔ یہی مطلب اس حدیث کا بھی ہے جس میں حضورؐنے فرمایا ہے: انا بری من کل مسلم بین ظھرانی المشرکین۔(میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین کے درمیان رہتا ہو۔) البتہ اگر وہ دین کے معاملے میں مدد مانگیں تو بشرط طاقت اس کافر قوم کے خلاف ان کی مدد کی جاسکتی ہے جس سے ہمارا معاہدہ نہ ہو۔
(۲) دارالکفر کا کوئی مسلمان جو بدستور دارالکفر ہی کی رعایا بنا رہے،دارالاسلام میں آکر مسلمانوں کے ساتھ ان کے حقوق شہریت میں حصہ دار نہیں ہوسکتا،نہ یہ جائزہے کہ دارالاسلام کی حکومت میں اُسے کوئی ذمہ داری کا عہدہ دیا جائے۔ یہ حقوق اور یہ مناصب اُسے صرف اسی صورت میں مل سکتے ہیں جب کہ وہ ہجرت کرکے آجائے۔
(۳) دارالکفراور دارالاسلام کے مسلمان ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے،الا یہ کہ دونوں حکومتوں اور قوموں کے درمیان قابل اعتماد دوستانہ تعلقات ہوں: لَا يَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَيْہِمْ۝۰ۭ الممتحنہ60:8 (اللہ تمھیں اس سے نہیں روکتا کہ تم ان غیر مسلموں سے تعلقات رکھو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ہے یہ کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان سے انصاف کرو۔
) اور ان کے درمیان املا ک اور مواریث کے بارے میں مساویانہ معاہدات بھی ہوجائیں تاکہ دونوں کی رعایا ایک دوسرے کی مملکت میںجائیدادوں کی مالک ومتصرف ہوسکے۔ اس معاملے میں آپ نے واُولُوا الاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ سے جو معارضہ فرمایا ہے، وہ صحیح نہیں ہے۔اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ محض مواخات کی بِنا پر انصار اور مہاجرین ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے بلکہ وراثت رشتہ نسب ومصاہرت کی بنا پر ہوگی۔اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ یہ آیت دارالاسلام کے مسلمانوں کی میراث ان اولوالارحام کو پہنچانا چاہتی ہے جو دارالکفر میں رعایا کی حیثیت سے رہتے ہوں۔ اوریہ مطلب آخر کیسے نکالا جاسکتا ہے جب کہ قرآن صاف فیصلہ کرچکا ہے کہ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۭ الانفال 72:8 (جو لوگ ایمان لائے اور (دارالاسلام میں) ہجرت کرکے آ گئے… اور جنھوں نے مہاجرین کو (دارالاسلام میں) جگہ دی اور ان کی مدد کی، وہی ایک دوسرے کے ولی ہیں۔

(۴) دارالاسلام اور دارالکفرکے مسلمانوں کے درمیان جب ولایت کا تعلق نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ کفاء ت کا تعلق بدرجہ اَولیٰ نہیں ہے۔اس لیے کم ازکم جو بات کہی جاسکتی ہے،وہ یہ ہے کہ ان کے درمیان مناکحت پسندیدہ نہیں ہے۔ وہ باہم شادی بیاہ کریں تو نکاح منعقد تو ہوجائے گا،لیکن اچھا یہ ہے کہ وہ ایسا نہ کریں۔ اور اسلامی حکومت کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اس طرح کے رشتوں میں انتظامی احکام کے ذریعے سے رکاوٹیں ڈالے، اور بعض خاص حالات میں ان کو روک دے۔ نیز یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ جن کے درمیان پہلے نکاح ہوچکے تھے اب محض اختلاف دار کی بنا پر ٹوٹ گئے، لیکن اگر ایک منکوحہ عورت، جو دارالاسلام کی رہنے والی ہو، یا ہجرت کرکے دارالاسلام آچکی ہو،عدالت میں اس بِنا پر فسخ نکاح کی درخواست کرے کہ اُس کا شوہر دارالکفر کی رعایا ہے اور ہجرت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے تو یہ اس کی درخواست کو منظور کرنے کے لیے ایک معقول وجہ ہوگی۔اس لیے کہ اسلامی حکومت اس عورت کے معاملات کی تو متولی ہے اور اُس کے حقوق کی نگہداشت اس کا فرض ہے،مگر اس کا شوہر اس حکومت کی ولایت سے خارج ہے جس کی بِنا پر اس عورت کا کوئی حق بھی اُس سے وصول کرکے نہیں دلایا جاسکتا۔لہٰذا اگر یہ حکومت اُسے اُس شوہر کی قید نکاح سے نہ چھڑائے گی تو فرائض ولایت ادا کرنے میں قاصر رہے گی۔آپ غور فرمائیں تو یہ بات آپ کو بھی عجیب معلوم ہوگی کہ جس کے ہم ولی نہیں ہیں، اس کے حقوق کے تو ہم نگہبان بن کر بیٹھ جائیں مگر جس کے ہم ولی ہیں، اُس کا حق بھی نہ دلوائیں اور نہ دلوا سکیں۔
میرے نزدیک اس معاملے میں زیادہ سے زیادہ احتیاط کا تقاضا بس یہ ہے کہ جس عورت کے پاس نفقہ موجود ہو اور جس کے مبتلائے فتنہ ہو جانے کا بھی کوئی معقول احتمال نہ ہو،اُس کے لیے تو ایک مناسب مدتِ انتظار تجویز کردی جائے کہ اِ س مدت کے اندر اگر اُس کا شوہر ہجرت کرکے آ جائے تو وہ عورت اُسی کی ہوگی،ورنہ اس کے بعد نکاح فسخ ہوجائے گا اور عورت آزاد ہوگی کہ جہاں چاہے نکاح کرلے۔ لیکن جس عورت کے پاس نفقہ نہ ہو یا جس کے مبتلائے فتنہ ہونے کا معقول احتمال ہو،اُس کا نکاح بلا تاخیر فسخ کیا جانا چاہیے۔ہم دارالکفر کے کسی شخص کی خاطر دارالاسلام کی کسی عورت کو نہ تو بھوکا مار سکتے ہیں اور نہ اُسے قذف اور زنا کے خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
آیت لا تمسکوا بعصم الکوافرسے اس موقع پر آپ نے جو استدلال فرمایا ہے وہ بالکل بے محل ہے۔ہجرت کے موقع پر مہاجرین کے نکاح میں مکہ کی جو غیر مسلم عورتیں تھیں،ان کو اس لیے طلاق نہ دی گئی تھی کہ اُس وقت(یعنی ہجرت کے وقت۔) تک مشرکین ومشرکات کے ساتھ مناکحت کی حرمت کا حکم نہ آیا تھا۔اسی بنا پر وہ مسلمان عورتیں بھی مشرکین کے نکاح میں رہیں جو ہجرت کرکے مدینہ چلی گئی تھیں۔ پھر دونوں مملکتوں کے درمیان حالت جنگ قائم ہوگئی جس کی بِنا پر ایک مدت تک یہ طے ہونا مشکل تھا کہ مہاجرین اپنا خرچ کیا ہوا مال مشرکین سے لے کر اپنی مشرک بیویوں کو چھوڑ دیں، اور مشرکین کو ان کا خرچ کیا ہوا مال واپس دے کر ان کی مسلمان بیویوں کو ان کی قید نکاح سے آزاد کرالیا جائے۔اس لیے یہ معاملہ صلح حدیبیہ تک ٹلتا رہااور صلح کے بعد حکم آیا کہ وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَاسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقْتُمْ وَلْيَسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقُوْا۝۰ۭ الممتحنہ10:62 میں نہیں سمجھ سکا کہ اس معاملے سے آپ زیر بحث مسئلے میں کیا دلیل لاسکتے ہیں اور کیسے؟
آپ نے حیدر آباد اور حجاز اور ٹرکی کے تعامل سے جو استدلال فرمایا ہے وہ اس قابل نہ تھا کہ آپ جیسا ذی علم اُسے پیش کرتا۔حیدر آباد کی حکومت اپنے محکمۂ اُمورمذہبی کے باوجود دارالاسلام نہ تھی۔اس کی حیثیت تودارالکفر کے اندر ایک ذمی ریاست (protected state)کی تھی۔ہندوستان کے مسلمان بھی انگریز کے ذمی تھے اور نظام حیدر آباد بھی۔نظام کی حکومت نے اگر کچھ اسلامی طریقے جاری رکھے تھے تو وہ اُس کے بل بوتے پر نہ تھے بلکہ اس بنا پر تھے کہ انگریز نے اُسے ان کی اجازت دے رکھی تھی۔ باقی ماندہ پورے اسلام کو اگر نظام قائم کرنا چاہتا بھی تو نہ کرسکتا تھا،کیوں کہ انگریز اس کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ ایسی حکومت کو آخر کس بنا پر دارالاسلام کہا جاسکتا ہے؟بخلاف اس کے پاکستان میںپورے اسلام کے قیام کا دستوری اعلان ہوچکا ہے اور عملاًاس کے قیام میں اگر کوئی چیز مانع ہے تو وہ پاکستان کے اپنے ہی حکام کا تساہل ہے نہ کہ کسی غیر مسلم طاقت کا تسلّط۔ اس لیے پاکستان اور حیدر آباد کے درمیان سرے سے کوئی وجہ مماثلت موجود ہی نہیں ہے کہ ایک کے مسائل کو دوسرے کے مسائل پر قیاس کیا جاسکے۔ رہا ترکی اور حجاز کا معاملہ، توان ممالک کے علما کی جو رائے تھی،اُسی پر وہاں عمل ہوتا رہا۔کیا ضروری ہے کہ میں ان کی رائے سے اتفاق ہی کروں؟ آخر آپ کی اور اس ملک کے دوسرے متعدد علما کی رائے سے بھی تو میں اختلاف کرکے اپنی تحقیق پیش کرہی رہا ہوں۔آپ میری دلیل دیکھیے، نہ یہ کہ ترکی اور حجاز میں اس کے خلاف کیا عمل ہوتا رہا۔
میںجانتاہوں کہ میرے سارے استدلال کو یہ کہہ کر رد کیا جاسکتا ہے کہ بہرحال یہ قرآن وحدیث سے براہ راست استنباط ہے اور اس میں یہ پروا نہیں کی گئی ہے کہ یہ استنباط فقہائے اُمت کے موافق ہے یا مخالف۔لیکن اگر یہ کسی معقول اور صحیح استدلال کو رد کردینے کے لیے شرعاًکافی وجہ ہوسکتی ہے تو مجھے اس وجہ کے ماخذ سے مطلع فرمایا جائے ورنہ مجھے معاف فرمایا جائے اگر میں عرض کروں کہ تقلید جامد کی یہی وہ قسم ہے جو علمائے کرام کے طعنوں اور ملامتوں کے باوجود ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آسکی ہے۔والسلام
خاکسار ابوالا علیٰ

مولانا ظفر احمد صاحب کا دوسرا مکتوب:
مکرمی مولانا سیّد ابوالا علیٰ مودودی، دام فضلکم!
السلام علیکم و رحمۃ اﷲو برکاتہ!محبت نامہ میرے خط کے جواب میں موصو ل ہوا۔ بہت مسرت ہوئی اور دل سے دعائیں نکلیں۔میں خوش ہوں کہ میر ی خیر خواہانہ تحریر پر آپ نے خلوص ومحبت کی نظر ڈالی اور تفصیل کے ساتھ جواب لکھنے کی زحمت برداشت کی۔مجھے آپ سے ایسی ہی توقع تھی۔اب میں اختصار کے ساتھ چند باتیں اس خط کے متعلق اور عرض کرتا ہوں۔اُمید ہے ان کو بھی خیر خواہی پر محمول فرما کر نظر خلوص سے دیکھا جائے گا۔
آپ نے کتب( یہ معلوم کرکے تعجب ہوا کہ بیا ن القرآن آپ کے پاس نہیں۔ شاید اردو میں ہونے کی وجہ سے اسے قابل اعتنا نہیں سمجھا گیا۔ مگر دیکھنے سے معلوم ہو گا کہ بہت سی عربی تفاسیر سے اس کا درجہ بلند وبالا ہے۔ حضرت مولانا انور شاہ صاحبؒ کا تبحر علمی علماء عصر کو مسلم ہے۔ انھوں نے بیان القرآن کو دیکھ کر فرمایا کہ بیان القرآن کو دیکھ کر اردو کتابوں کے دیکھنے کا شوق پیدا ہو گیا ہے۔
) تفسیر کے متعلق فرمایا ہے کہ’’ میں ان میں سے کسی کی تحقیق کو بھی حرف آخر نہیں سمجھتا۔‘‘ تو ٹھیک اسی طرح اپنی کسی تحقیق کو بھی حرف آخر نہیں سمجھنا چاہیے۔ بلکہ ایسے مواقع پر صاف لکھ دینا چاہیے کہ عام مفسرین کے بیانات سے میرا اطمینان نہیں ہوا اس لیے غور وفکر کے بعد جو کچھ میںسمجھا ہوں،وہ یہ ہے، دوسرے علما سے بھی تحقیق کرلی جائے اور میری تحقیق کو فتویٰ نہ سمجھا جائے، کیوں کہ مجھے منصب افتا حاصل نہیں ہے۔‘‘
آپ نے تحریر فرمایا ہے: ’’نیز میرا تجربہ ہے کہ مذاہب اربعہ کے اقوال کو الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں کافی احتیاط کے ساتھ ثبت کیا گیا ہے‘‘الخ۔لیکن میراتجربہ یہ ہے کہ محض کتابیں دیکھ لینے سے دوسرے مذاہب سے پوری واقفیت حاصل نہیں ہوسکتی جب تک ان مذاہب کے علما سے اسی طرح ان کا فقہ نہ پڑھا جائے جس طرح ہم نے فقہ حنفی کو اپنے علما سے پڑھا ہے۔ کیوں کہ فقہی کتابوں میں بالعموم اپنے مذہب کے سوا دوسرے مذاہب کے اقوال نقل کرنے والے بھی ان کی کتابوں کو دیکھ کر ہی نقل کرتے تھے مگر پھر بھی ان سے بہت کچھ خطا ئیں ہوئی ہیں، جس کا سبب بظاہر یہی ہے کہ انہو ں نے باقاعدہ ان کے مذاہب کو نہ پڑھا تھا۔پھر ہم اور آپ کس شمار میں ہیں کہ صرف مطالعہ کتب سے ان مذاہب کو حاصل کرسکیں۔
میرا تجربہ ہے کہ المغنی لابن قدامہ میں بہت سے مسائل مذہب احمد کی طرف منسوب کیے گئے ہیں حالاں کہ علمائے حنابلہ کافتویٰ اس کے خلاف ہے۔
مجھے خوشی ہوئی کہ آپ کوچۂ تصوف سے نابلد نہیں ہیں اور آپ نے تصوف کو بھی دیکھا ہے اور اہل تصوف کو بھی۔مگر بہرحال الاحسان ان تعبد اللّٰہ کانک تراہ جس درجے کی طرف اشارہ ہے اُس کی تحصیل ضروری ہے۔اس کی ضرورت سے آپ انکار نہیں کرسکتے اور یقینا جب تک قرآن وحدیث دنیامیں موجود ہیں،دنیا محسنین سے خالی نہیں ہوسکتی،ان کی تلاش ضروری ہے۔ نہ معلوم آپ کے نزدیک معیار کمال کیا ہے؟صوفیہ کا اصلی کمال یہی نسبت احسان ہے۔اس کے متعلق شاہ ولی اللہ نے فرمایا ہے: ’’ نسبت صوفیہ غنیمتیست کبریٰ۔‘‘ اور اس کی علامت حدیث میں یہ ہے کہ اذا رأوا ذکر اللّٰہ اور یقینا ایسے لوگ اب بھی ہیں…مگر ان کے پاس خالی الذہن ہوکر جانا چاہیے، ناقد بن کر نہ جانا چاہیے کہ ناقدانہ نظر سے تو رسولؐ کے کمالات بھی مخفی ہوجاتے ہیں،ولی کس شمار میں ہے؟
دارالاسلام کی مسلمان رعایا اور دارالکفر کی مسلم رعایا کے باہمی تعلقات کے معاملے میں شرح السیر الکبیر للامام محمد بن الحسن الشیبانی کا مطالعہ ضروری ہے،وہ ان شاء اﷲ اس باب میں شافی کافی ہے۔آپ نے جو سیاسی اور بین الاقوامی اُلجھنیں اہل دارین کے توارث وتناکح میں بیان فرمائی ہیں،وہ تو دارالکفر کے مسلمانوں کی ہجرت میں بھی موجود ہیں، تو کیا ہجرت کو بھی اس خیال سے بند کردیا جائے گا کہ مبادا یہ لوگ جاسوس بن کر آتے ہوں؟ بالخصوص ہند و رعایائے پاکستان کی واپسی ہندوستان سے تو بالکل بند کردینی چاہیے کہ ان پر تو سو فی صدی جاسوسی کا شبہ ہے۔ بلکہ پاکستان سے باقی ماندہ ہندوئوں کو بھی نکال دینا چاہیے کہ ان پر مارآستین ہونے کا شبہ ہے۔ نیز پاکستان کے تاجروں کا ہندوستان مال لے کر جانا بھی روک دیا جائے۔اسی طرح وہاں کے تاجروں کا پاکستان آنا بھی۔مگر ظاہر ہے کہ ایسا نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہوسکتا ہے۔پھر توارث وتناکح ہی میں یہ احتمالات مانع کیوں بن گئے؟ ان پیچیدگیوں کا جو علاج قرآن نے بتلایا ہے يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَاۗءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْہُنَّ۝۰ۭ الممتحنہ10:60 وہی سب صورتوں میں بروئے کار لایا جائے گا۔حکومت کو ان لوگوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے جو پاکستان سے باہر جاتے آتے یا ہندوستان سے نکاح ووراثت کا تعلق رکھتے ہیں۔مگر نفس تناکح وتوارث کو ان احتمالات کی بِنا پر ممنوع نہیں کرسکتے جب کہ ہجرت اور تجارت کو بند نہیں کیا جاسکتا۔آپ کو معلوم ہوگا کہ تجارت کا دروازہ کھولنے سے پاکستان کا وہ مال بھی پاکستان سے باہر جارہا ہے جس کو حکومت پاکستان برآمد نہیں کرنا چاہتی۔ اور مسلم مہاجرین اور ہندو مراجعین میں بعضے پاکستان میں آکر جاسوسی بھی کرتے ہیں۔
آیت وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُہَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُہَاجِرُوْا۝۰ۚ الانفال 72:8 میں اُس وقت کا حکم ہے جب کہ ہجرت فرض اور شرط قبول اسلام تھی۔ حدیث انا بری من کل مسلم بین ظہرانی المشرکین بھی اُسی وقت کے متعلق ہے۔ اور اُس وقت کی حکومت مدینہ مہاجرین کی آباد کاری کی ذمہ داری تھی۔مگر آپ کی حکومت تو اس کی ذمہ داری نہیں لیتی بلکہ مہاجرین کی آمد کو روکنا چاہتی ہے، اور جو پاکستان آگئے ہیںان کو بھی ہندوستان واپس کرنا چاہتی ہے، اور جو ہندو یہاں سے چلے گئے ہیںان کو واپس بلانا چاہتی ہے۔ اس حالت میں جو مسلمان دارالکفر کی رعایا بنے ہوئے ہیں،مجبور ہیں۔ان پر اس آیت کے احکام چسپاں کرنا بڑی زیادتی ہے۔اسی لیے جب تک ہندوستان کے مسلمانوں پر ہجرت کوفرض نہ کیا جائے اور جب تک حکومت پاکستان ان چار کروڑ مسلمانوں کی آباد کاری کی ذمہ داری اپنے سر نہ لے لے،اُس وقت تک ان احکام کو ثابت نہیں کیا جاسکتا جو آپ اس آیت سے ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
جن مفسرین نے اس سے مسلمین دارالاسلام ودارالکفرکے مابین قطع توارث سمجھا ہے اور ولایت کو وراثت کے معنی میں لیا ہے،وہی اس آیت کو سورۂ احزاب کی آیت اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَاَزْوَاجُہٗٓ اُمَّہٰتُہُمْ۝۰ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللہِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُہٰجِرِيْنَ الاحزاب 6:33 سے منسوخ مانتے ہیں۔چوں کہ آپ نے بھی اس سے قطع توارث پر استدلا ل کیا ہے، اس لیے میں نے کہا تھا کہ پھر ان مفسرین کی طرح اس حکم کو سورۂ احزاب کی آیت سے منسوخ بھی ماننا چاہیے۔یہ تعارض میںنے پیدا نہیں کیا بلکہ حضرت ابن عباسؓ کا قول نقل کیا ہے۔
آپ تو دارالکفر کے مسلمانوں کو دارالاسلام میں حقوق شہریت اور ذمہ داری کے عہدے دینے سے انکار کرتے ہیں مگر حکومت پاکستان دارالکفرکے کفار کو پاکستان میں حقوق شہریت اور ذمہ داری کے عہدے دے رہی ہے۔غالباًابھی تک بہت سے انگریز بڑے بڑے عہدوں پر ہیں اور بہت سے ماہرین کو امریکا،لندن وغیرہ سے بلایا جارہا ہے۔ اور غالباً آپ بھی اس کو شرعاً ممنوع نہ کہیں گے،ورنہ پاکستان ترقی نہ کر سکے گا۔ پھر مسلم غیر مہاجر ہی کیوں خطا وار ہے؟
دارالکفر اور دارالاسلام کے مسلمانوں میں کفاء ت کی نفی کرنا نرالی تحقیق ہے۔ کیا ایک سیّد ہندوستان میں رہنے کی وجہ سے سیّد نہ رہے گا جلاہا بن جائے گا؟ آخر قطع ولایت سے(اگر تسلیم بھی کرلی جائے) نفی کفاء ت کیوں کر لازم آگئی؟
جو عورت مہاجرہ ہوکر دارالاسلام میں آجائے اور شوہر دارالکفر میں رہنے پر مصر ہو،اُس کے لیے اوّل شوہر سے طلاق حاصل کرنے کا حکم ہے۔اگر وہ طلاق نہ دے تو حاکم مرافعہ کے بعد طلاق واقع کرسکتاہے۔اس مسئلے کو آیت مذکورہ سے کوئی تعلق نہیں۔اس کے لیے دوسرے دلائل ہیں جن سے فقہا نے تعرض کیا ہے۔ ملاحظہ ہو الحیلۃ الناجزہ لحکیم الامۃ التھانوی۔
آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر استدلال کے لیے نہیں بلکہ آپ کو الزام دینے کے لیے لکھی تھی کہ آپ تو آیت والذین اٰمنوا ولم یھاجروا ما لکم من ولایتھم من شیٔ سے باہم مسلمانوں کے درمیان قطع ولایت کے قائل ہورہے ہیں حالاں کہ آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم مہاجر اور زوجہ کافرہ غیر مہاجرہ کے درمیان بھی قطع ولایت اس سے پہلے نہ ہوئی تھی،کیوں کہ نکاح بھی ولایت کے مفہوم میں داخل ہے۔ رہا یہ دعویٰ کہ اس آیت کے نزول تک مشرکین ومشرکات کے ساتھ مناکحت کی حرمت کا حکم نہ آیا تھا…الخ یہ محتاج دلیل ہے۔آیت وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ۝۰ۭ…وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا۝۰ۭ البقرہ 221:2 اِ س سے بہت پہلے نازل ہوچکی تھی۔ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ سورۂ بقرہ کی آیت سے ابتدائً نکاح مابین مسلم وکافرہ وبرعکس حرام ہوگیا،نکاح سابق کا انقطاع نہ ہوا تھا۔وہ سورۂ ممتحنہ کی آیت سے ہوا۔ سو یہ میرے مدعا کے لیے موید ہے کہ مسلم مہاجر اور کافرہ غیر مہاجرہ کے درمیان اُس وقت تک ولایت باقی تھی تو آپ مسلم و مسلمہ کے درمیان قطع ولایت کے کیسے قائل ہیں؟
میں پھر عرض کرتا ہوں کہ قرآن وحدیث سے براہ راست استنباط کو میںمنع نہیں کرتا، مگر اس کے لیے جس قدر وسعت نظر فی الحدیث اور معرفت ناسخ ومنسوخ ومعرفت اقوال فقہائے سابقین کی ضرورت ہے،یہ شرط ہم میں اور آپ میںمفقود ہے۔اس لیے یقینا ہم سے بڑی بڑی خطائوں کا ارتکاب ہوگا۔ سلامتی اسی میں ہے کہ جب کسی مسئلے میں فقہائے سابقین کا فیصلہ نہ ملے تو علمائے وقت سے مراجعت کی جائے۔شاید کسی سے کچھ مل جائے۔ یا کم ازکم اپنی تحقیق کو حرف آخر نہ سمجھا جائے اور صاف لکھ دیا جائے کہ اس مسئلے میں فقہائے سلف کے کلام میں کوئی جزئیہ نہیں ملا، میں نے قرآن وحدیث سے یہ سمجھا ہے،دوسرے علما سے بھی تحقیق کرلی جائے اور میری تحقیق کو فتویٰ نہ سمجھا جائے۔ والسلام
ظفر احمد عثمانی

جواب:
محترمی ومکرمی جناب مولاناظفر احمدصاحب عثمانی دام مجد کم!
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ!عنایت نامہ باعث سرفرازی ہوا۔
میں آپ کو اطمینان دلاتا ہوں کہ میں نے کبھی اپنی کسی تحقیق کو، دوسروں ہی کے لیے نہیںبلکہ خود اپنے لیے بھی، حرف آخر نہیں سمجھا۔ میری ہر رائے قابل نظر ثانی ہے۔جب کبھی مجھ پرخود مزید مطالعہ وتحقیق سے اپنی کوئی غلطی واضح ہوجاتی ہے،اُس کی اصلاح کرلیتا ہوں اور اُس کا اظہار بھی کردیتا ہوں۔ اور جب کبھی کسی کی تنقید سے،خواہ وہ کتنی ہی مخالفانہ و معاندانہ ہو،بدلائل میری کوئی غلطی مجھ پر ظاہر ہوجاتی ہے،اُس سے رجوع کرنے میں مجھے تامل نہیں ہوتا۔ اس بات کا بارہا اظہار کرچکا ہوں۔ کہ فقہی مسائل میں اپنی تحقیق سے جو کچھ بھی میں نے لکھا ہے،وہ کوئی فتویٰ نہیں ہے بلکہ ایک ا ظہاررائے ہے تاکہ اہل علم اس پر غور کریں۔ اگر میری تحقیق سے مطمئن ہوں تو قبول کریں،ورنہ دلیل سے اس کو رد کردیں۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ ہر علمی بحث یا ہر اظہار رائے کے ساتھ اس تصریح کا التزام مشکل ہے۔
مولانا تھانویؒ کی بیان القرآن سے میں نے کبھی کبھی استفادہ کیا ہے۔پٹھان کوٹ کے قیام کے زمانے میں وہ ہمارے کتب خانے میں موجود تھی۔مگر ہمارا جو ذخیرہ وہاں رہ گیا،اُس میں جہاں اور بہت سی کتابیں ضائع ہوئیں،وہاں ایک یہ کتاب بھی تھی۔اب رفتہ رفتہ اس نقصان کی تلافی کی جارہی ہے اور ازسر نو کتابیں جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔مجھے علم کے معاملے میںکوئی تعصب نہیں ہے۔متقدمین کی طرح معاصرین سے بھی استفادہ کرتا ہوں اور عربی کی طرح اُردو میں بھی کہیں علم موجود ہو تو اس سے فائدہ اُٹھا تا ہوں۔
مجھے آپ کی اس رائے سے جزوی اتفاق ہے کہ دوسرے مذاہب کی پوری واقفیت ان کے علما سے پڑھے بغیر نہیں ہوسکتی۔مگراس کے اس جز سے اتفاق نہیں ہے کہ اس طرح کی’’پوری واقفیت‘‘ کے بغیر سرے سے بحث وتحقیق ہی بند ہوجانی چاہیے۔ اگر یہ بات درست ہو تو آخر ہمارے مدارس دینیہ میں درس حدیث وفقہ کے موقع پر مذہب حنفی کو دوسرے مذاہب پر ترجیح دیتے ہوئے جو بحثیں کی جاتی ہیں،ان میں کیا وزن باقی رہ جاتا ہے؟نیزاسلام اور دوسرے ادیان، یا اسلامی قانون اور دوسرے قوانین کے تقابل پر ہم جو کچھ لکھتے اور بولتے رہتے ہیں،اُس کے لیے بھی کیا وجہ جواز باقی رہتی ہے جب کہ ہم نے ان کی کتابوں کو استادوں سے سبقاً سبقاً نہیںپڑھا ہے؟ میرے خیال میں صحیح یہ ہے کہ جتنی کچھ بھی تحقیق کتابوں کے ذریعے سے ممکن ہوکرنی چاہیے اور اصلاح کے لیے تنقید پر اعتماد کرنا چاہیے۔ آخر ہم مغربی علوم وفنون اور قوانین کے بارے میں بھی تو ان کی کتابوں ہی کو پڑھ کر کلام کرتے ہیں۔ ہر چیز کو سبقاً سبقاً تو نہیں پڑھتے۔ہماری تحریریں ہر طرح کے اہل علم تک پہنچتی ہیں اور جس معاملے میں بھی کوئی غلطی ہوتی ہے، کوئی نہ کوئی باخبر آدمی اس پر ٹوک دیتا ہے۔اس طرح تمام علمی مسائل میں حقائق کی تنقیح اور غلطیوں کی اصلاح ہوتی رہتی ہے اور علمی ترقی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔صرف ایک فقہ ہی کیوں ایسی چھوئی موئی ہوکہ اس میں بحث وتحقیق کا کام صرف اِ س اندیشے سے بند رکھا جائے کہ کہیں کسی مذہب فقہی کے بیان میں ہم سے غلطی سرزد نہ ہوجائے؟اس طرح کی احتیاط اگر متقدمین نے برتی ہوتی تو ہم تک ان کی وہ بیش قیمت تحقیقات کیسے پہنچتیں جن میں بے شمار مفید چیزوں کے ساتھ ساتھ آپ کے اپنے بیان کے مطابق غلطیاں بھی ہیں؟بحث وتحقیق میں احتیاط تو ضروری ہے مگر نہ اتنی احتیاط کہ یا تو سرے سے بحث وتحقیق ہی بند کردی جائے یا اس کے لیے ایسی شرطیں لگا دی جائیں جو پوری نہ ہوسکتی ہوں۔
درجۂ احسان کی اہمیت اور اُس کے حاصل کرنے کی ضرورت سے انکار کا کیا موقع ہے۔ میرے نزدیک تو وہی اصل میں مطلوب ہے۔اور میں اس سے بھی انکار نہیں کرتا کہ محسنین سے نہ خدا کی زمین پہلے خالی تھی اور نہ اب خالی ہے۔یہ لوگ جہاں بھی ہیں،خدا کی رحمت کا ایک نشان ہیں اور ان کی صحبت،معیت اور رفاقت ہمارے لیے سرمایۂ سعادت ہے۔ مگر طولِ بحث سے بچتے ہوئے میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ جہاں بالعموم ان لوگوں کے زیادہ پائے جانے کا گمان کیا جاتا ہے،وہاں یہ سب سے کم پائے جاتے ہیں،اور جن گوشوں کو’’اہل فن‘‘اتنا حقیر سمجھتے ہیں کہ احسان کی کوئی جھلک تک ان میں دیکھنے کی توقع نہیں رکھتے،وہیں یہ اکثر مل جاتے ہیں۔اہل فن میں جن شخصیتوں کو مُزکّٰی ہونے کی شہرت حاصل ہے،ان میں بہتوں کے ساتھ مجھے کسی نہ کسی طور پر سابقہ پیش آیا ہے اور میں نے ان کے اندر وہ کمزوریاں پائی ہیں جو معمولی انسانوں کے لیے بھی موزوں نہیں ہیں کجا کہ ماہرین تزکیۂ نفس کے لیے۔ اس کے برعکس غیر معروف لوگ، جودنیا کے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں اور جنھیں شاید کوئی مرتبہ بھی اہل فن کے ہاں نہیں مل سکتا،ان کے اندر ایسے ایسے بندۂ حق ملے ہیں جو خوف ِ خدا سے کانپنے والے اور اُس کی رضا جوئی کے لیے ہر فائدے کو قربان اور ہر نقصان کو گوارا کرنے والے ہیں اور جنھیں قبول حق اور ادائے حق سے نہ کوئی نفسانیت باز رکھ سکتی ہے اور نہ کوئی عصبیت۔
شرح السیر الکبیر بلاشبہ اسلام کے بین الاقوامی قانون پر ایک بہترین کتاب ہے۔میں نے اس کا مطالعہ کیا ہے۔ اور اس کے علاوہ مبسوط اور دوسری کتابوں کے بھی وہ ابواب پڑھے ہیں جو بین الاقوامی قانون سے تعلق رکھتے ہیں۔ان میں دارالکفر اور دارالاسلام کے تعلقات پر تو بہت اچھی روشنی ڈالی گئی ہے مگر افسوس ہے کہ دارالکفر کی مسلم رعایا اور دارالاسلام کے تعلقات کا پہلو ان سب میں بہت تشنہ ہے۔ میں آپ سے پھر گزارش کروں گا کہ اس خاص پہلو پر متقدمین کی کتابوں میں جو بحثیں ہیں،آپ ایک مرتبہ پھر ان کا جائزہ لے کر دیکھیں اور اُس وقت کے حالات پر ان کو منطبق کرنے کی کوشش فرمائیں۔مجھے توقع ہے کہ اس کے بعد آپ کو خود بھی ان کی تشنگی کا احساس ہوجائے گا۔اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ جو دور ہمارے ہاں فقہی اجتہاد کے لیے ممتاز رہا ہے،اُس میں سارے مسلمان دارالاسلام ہی کی رعایا تھے اور کم ہی ایسا اتفاق ہوا تھا کہ کوئی بڑی مسلم آبادی کفار کی رعیت بنی ہو۔بعد میں جب بڑی بڑی مسلم آبادیاںکفار کی رعیت بن گئیں تو اُس وقت اجتہاد کا دروازہ قریب قریب بند ہوچکا تھا۔ اس لیے ہمارے قانون کا یہ شعبہ بڑی حد تک تشنۂ تفصیل رہ گیا۔پھر موجودہ زمانے کی ہمہ گیر قومی جمہوری ریاست سے تو مسلمانوں کو پہلے کبھی سابقہ پیش ہی نہیں آیا تھا جس میں ریاست کی پوری آبادی کو ’’ایک قوم‘‘ فرض کرکے کافر اکثریت مسلمانوں پر اپنی تہذیب وتمدن اور قوانین حیات ہی کو نہیں بلکہ اپنے نظریات وتخیلات اور احساسات تک کو مسلط کردینے کی کوشش کرتی ہے۔اس طرح کی غیر مسلم قومی ریاست کا معاملہ تو اس دارالکفر کے معاملے سے بہت زیادہ پیچیدہ ہے جہاں مسلمانوں کو ایک’’ذمی قوم‘‘ کی سی پوزیشن دی گئی ہو، اور یہ معاملہ اس سے زیادہ گہری نظر چاہتا ہے جس سے آپ اسے دیکھ رہے ہیں۔
اس معاملے میں اصل تصفیہ طلب چیز یہ نہیں ہے کہ جاسوسی کے امکانات کہاں کہاں ہیں اور ان کو کس طرح بند کرنا چاہیے،بلکہ یہ ہے کہ وہ’’ولایت‘‘ جس کو دارالاسلام کی حکومت اور مسلم رعایا اور دارالکفر کی مسلم رعایا کے باہمی تعلقات سے ساقط کیا گیا ہے،کن معنوں میں ہے اور اس کے سقوط کے عملی اثرات ونتائج کیا ہیں۔ میں اس کے جو معنی اورحدو د بیان کررہا ہوں،اگر آپ کو اس سے اتفاق نہیں ہے تو آپ خود بیان فرمائیں کہ آپ اس کا کیا مطلب سمجھتے ہیں۔
آپ کا یہ معارضہ البتہ وزنی ہے کہ جب دارالاسلام نے اپنے دروازے مہاجرت کے لیے بند کررکھے ہوں تو وہ احکام موجودہ حالت پر کیسے منطبق ہوں گے جو ہجرت کی فرضیت کے زمانے میں دیے گئے تھے۔مگر میری طرف سے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ احکام تو بلاشبہ ہجرت کی فرضیت کے زمانے میں دیے گئے تھے لیکن ’’سقوط ولایت‘‘ ہجرت کی فرضیت پر موقوف نہیں ہے بلکہ مجرد اختلاف دارین اس کا مبنیٰ ہے۔اگر آپ میری بات کو نہیں مانتے،تو کیا آپ یہ فرماتے ہیں کہ جب دارالاسلام کی حکومت تمام کافر حکومتوں کی مسلم رعایا کو ہجرت کی دعوت نہ دے سکتی ہو تو اُس صورت میں وہ ان کی پوری مسلم رعایا کی ولی ہے؟اور کیا اس صورت میں دارالاسلام کے مسلمان بھی دارالکفر کے مسلمانوں کے ولی ہوں گے؟حالاں کہ معاملہ اس کے برعکس ہونا چاہیے۔جو دارالاسلام اتنا کمزور ہو کہ اپنے قریب ترین دارالکفر کی مسلم آبادی کو بھی پناہ نہ دے سکتا ہو،وہ اُس کی ولایت کا حق ادا کرنے سے بدرجۂ اولیٰ قاصر ہوگا۔ واقعہ یہ ہے کہ جو حقائق اور مصالح اس ولایت کے سقوط کے مقتضی ہیں،ان کا کوئی تعلق بھی ہجرت کے وجوب وعدم وجوب سے نہیں، ان کی بنیاد تو دراصل یہ ہے کہ جو مسلمان ایک غیر مسلم حکومت کے تابع امر ہیں،ان کی ولایت کا بار سنبھالنا مسلم حکومت کے لیے عملاً غیر ممکن ہے،اورمزید برآں اگر مسلم حکومت ان کی ولی بننے کی مدعی ہو،اور اس ولایت کا حق ادا کرنے کے لیے ہمسایہ غیر مسلم حکومتوں کے دائرۂ اقتدار میں مداخلت کرے،یا کم ازکم نظری حیثیت ہی سے اپنے لیے اِ س مداخلت کا حق محفوظ رکھے،تو یہ چیز اُس کو ان تمام غیر مسلم حکومتوں سے ایک دائمی آویزش میں مبتلا کردے گی جن کے تحت مسلمان آباد ہوں۔
آپ شاید یہ سمجھ رہے ہیں کہ ولایت کے اسقاط کا یہ حکم دارالکفر کے مسلمانوں کو محض ہجرت نہ کرنے کی سزا دینے کے لیے تھا۔اس لیے آپ کو یہ اعتراض ہے کہ جب ہم ان پر ہجرت کا راستہ نہیں کھول رہے ہیں تو ان کو یہ سزا کیوں دی جائے۔مگر جو بات میں نے اوپر عرض کی ہے،اُس پر اگر آپ غور فرمائیں گے تو مجھے اُمید ہے کہ آپ کا یہ اعتراض دور ہوجائے گا۔وجوب ہجرت کی صورت میں ہجرت نہ کرنے کی سزائیں دوسری ہیں جو قرآن مجید میں مختلف مقامات پر بیان کی گئی ہیں۔ان سزائوںکو ( جو صرف وجوب ہجرت کی صورت کے لیے مخصوص ہیں) بین الاقوامی قانون کی مستقل دفعات کے ساتھ(جن کا مبنیٰ مجرد اختلاف دار ہے، خواہ ہجرت ممکن اور واجب ہو یا نہ ہو)خلط ملط کردینے سے بڑی غلط فہمیاں لاحق ہوسکتی ہیں۔
بیرونی ممالک سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنا اور چیز ہے اور کسی کو حقوق شہریت دے کر ان تمام رازوں اور ذمہ داریوں میں شریک کرلینا جن میں صرف شہری ہی شریک ہوسکتے ہیں،بالکل ہی ایک دوسری چیز۔ضرورت کے وقت شریعت ہمیں باہر سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے سے نہیں روکتی۔مگر یہ بات، کم ازکم میرے علم میں تو،قرآن مجید کی دی ہوئی ہدایات کے بالکل خلاف ہے کہ جو شخص ایک غیر مسلم حکومت کی رعایا ہو،اور جس کے سارے مفادات دارالکفر سے وابستہ ہوں،اُس کو ہم اپنے ہاں سفیر اور وزیر اور سیکرٹری بنائیں۔
قطع ولایت سے مطلق کفاء ت کی نفی کا دعویٰ میں نے کب کیا تھا کہ اس سے دارالکفر کے کسی سیّد کا غیر سیّد ہوجانا لازم آئے۔میرا مدعا تو یہ تھا کہ مناکحت میں جس کفاء ت کا اعتبار کیا جاتا ہے،وہ صرف انھی لوگوں کے درمیان معتبر ہے جن کے درمیان موالات ہو۔جہاں سرے سے موالات ہی نہ ہو،وہاں کفاء ت اگر نسب یا دوسرے وجو ہ سے موجود بھی ہو تو وہ شادی بیاہ کے لیے کوئی موزوں بنیاد نہیں ہے۔اس لیے کہ مناکحت سے زوجین کے جو قانونی حقوق ایک دوسرے پر عائد ہوتے ہیں،ان کی بنیاد کفاء ت پر نہیں بلکہ ولایت پر قائم ہوتی ہے۔اگر ولایت نہ ہو تو ان کے حقوق کے استقرار میں کفاء ت کچھ بھی مددگار نہیں ہوتی۔دارالکفر کے ایک سیّد صاحب دارالاسلام کی ایک سیّدانی کے باعتبارِ نسب کفو ہی سہی،مگر یہ کفاء ت اس غریب کو مہر،نفقہ اور دوسرے حقوق زوجیت دلوانے میں آخر کیا مدد کرسکتی ہے؟
تاہم، جیسا کہ پہلے عرض کرچکا ہوں،میری اس تقریر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دارالاسلام اور دارالکفر کے مسلمانوں کے درمیان مناکحت حرام ہے، یا ان کے سابق نکاح اختلافِ دارین سے آپ ہی آپ ٹوٹ گئے ہیں،یا آئندہ ان کے درمیان نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ جو کچھ میں کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جن زوجین کے درمیان اختلاف دار واقع ہوچکا ہے،ان کی طرف سے اگر فسخ نکاح کی درخواست ہماری عدالت میں آئے تو وہ قابل لحاظ ہونی چاہیے، اور یہ کہ آئندہ اس طرح کے رشتے کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
(خاکسار:ابو الاعلیٰ)

(ترجمان القرآن، ذی قعدہ وذی الحجہ۳۷۰اھ، ستمبرا۹۵اء)

کیا بالغ عورت خود اپنا نکاح کرلینے کی مجازہے؟

سوال: علمائے احناف اور علمائے اہل حدیث کے درمیان نکاح بالغہ بلا ولی کے مسئلے میں عام طور پر اختلاف پایا جاتا ہے۔احناف اس کے قائل ہیں کہ بالغہ عورت اپنا نکاح اولیا کے اذن کے بغیر یا ان کی خواہش کے علی الرغم جہاں چاہے کرسکتی ہے اور اس نکاح پر اولیا کو اعتراض کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔اس کے برعکس اہل حدیث حضرات ایسے نکاح کو باطل اور کالعدم قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نکاح بلاولی کی صورت میں بلاتامل دوسرا نکاح کیا جاسکتا ہے۔فریقین کے دلائل، جہاں تک میرے سامنے ہیں، مختصراً پیش کرتا ہوں اور استدعا کرتا ہوں کہ آپ اس بارے میں اپنی تحقیق واضح فرمائیں۔

جواب: اس سوال کے ساتھ سائل نے پوری تفصیل کے ساتھ فریقین کے دلائل جمع کردیے ہیں، لہٰذا پہلے ہم ان دلائل کو یہاں نقل کردیتے ہیں:
(۱) حنفیہ کا استدلال حسب ذیل آیات اور احادیث سے ہے:
وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّعَشْرًا۝۰ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا فَعَلْنَ فِيْٓ اَنْفُسِہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۝۰ۭ البقرہ 234:2
’’تم میں سے جو لوگ مرجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دن روکے رکھیں،پھر جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو جو کچھ وہ اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے کریں،اُس کی تم پر کوئی ذمہ داری نہیں۔‘‘
فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَہٗ۝۰ۭ البقرہ 230:2
’’پھر اگر (تیسری بار شوہر نے بیوی کو) طلاق دے دی،تو وہ عورت اُس کے لیے حلال نہ ہوگی،الا یہ کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے۔‘‘
……فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ۝۰ۭ
البقرہ 232:2
’’…پھر تم ان عورتوں کو اس سے مت روکو کہ وہ اپنے زیر تجویز شوہروں سے نکاح کرلیں جب کہ وہ بھلے طریقے سے باہم رضا مند ہوجائیں۔‘‘
عن نافع ابن جبیر عن ابن عباس قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الایم احق بنفسھا من ولیہا والبکر تستامر واذنھا سکوتھا و فی روایۃ الثیب احق بنفسھا من ولیھا ۔ (نصب الرایہ،جلد۳،صفحہ۸۲ا)
’’ نافع ابن جبیر نے ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیوہ عورت اپنے ولی سے زیادہ خود اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کی حق دار ہے،اور کنواری کا مشورہ لیا جانا چاہیے اور اس کی اجازت اُس کی خاموشی ہے، اور ایک روایت میں ہے کہ شوہر دیدہ عورت اپنے ولی سے زیادہ اپنے نکاح کے معاملے میں حق دار ہے۔‘‘
عن ابی سلمۃ ابن عبدالرحمن قال جاء ت امرأۃ الٰی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقالت ان ابی انکحنی رجلا وانا کارہۃ فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لابیھا لا نکاح لک، اذہبی فانکحی من شئت(نصب الرایہ،جلد۳،صفحہ۸۲ا)
’’ابی سلمہ ابن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ میرے باپ نے میرا نکاح ایک مرد سے کردیا ہے اور میں اُسے ناپسند کرتی ہوں۔آپ نے باپ سے فرمایا کہ نکاح کا اختیار تمھیں نہیں ہے، اور لڑکی سے فرمایا کہ جائو جس سے تمہارا جی چاہے نکاح کرلو۔‘‘
روی من طریق مالک عن عبدالرحمٰن بن القاسم عن ابیہ عن عائشۃ انھا زوجت حفصۃ بنت عبدالرحمن من المنذر ابن زبیر و عبدالرحمن غائب بالشام۔ فلما قدم عبدالرحمٰن قال ومثلی یفتات علیہ؟ فکلمت عائشۃ المنذر ابن زبیر فقال ان ذالک بید عبدالرحمٰن فقال عبدالرحمٰن ما کنت لِاَرُدَّ امرًا قضیتہ فاستقرَّت حفصۃ عند المنذر ولم یکن ذالک طلاق (ایضاً)
’’ مالک نے عبدالرحمن سے،انھوں نے اپنے باپ سے، اور انھوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے حفصہ بنت عبدالرحمن کا منذر ابن زبیر سے نکاح کردیا۔اُس وقت عبدالرحمن شام میں تھے۔جب وہ واپس آئے تو کہنے لگے کہ کیا میری رائے کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے؟تب حضرت عائشہؓ نے منذر ابن زبیر سے بات کی۔انھوں نے کہا کہ فیصلہ عبدالرحمن کے ہاتھ میں ہے۔اس پر عبدالرحمن نے حضرت عائشہؓ سے کہا کہ جس معاملے کو آپ نے طے کردیا ہے،میں اُس کی تردید نہیں کرنا چاہتا۔چنانچہ حفصہ منذر کے پاس ہی رہیں اور یہ طلاق نہ تھی۔‘‘
اخرجہ ابوداود والنسائی…… عن ابن عباس قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لیس للولی مع الثیب امر ۔ (ایضاً)
’’ابو دائود اور نسائی نے ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شوہر دیدہ عورت پر ولی کو کچھ اختیار حاصل نہیں ہے۔‘‘
اخرجہ النسائی واحمد… عن عائشۃ قالت جاء ت فتاۃ الٰی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقالت یا رسول اللّٰہ ان ابی زوجنی ابن اخیہ لیرفع بی من خسیستہٖ قال فجعل الامر الیھا فقالت انی قد اجزت ما صنع ابی ولکن اردت ان تعلم النساء اَنَّ لیس الٰی الاباء من الامر شیٌٔ ۔
نسائی اور احمد نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ہے کہ ایک لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی: اے اﷲ کے رسول!میرے باپ نے اپنے بھتیجے کے ساتھ میرا بیاہ صرف اس لیے کردیا ہے کہ میرے ذریعے سے اُسے ذلت سے نکالے۔آپؐ نے نکاح (کی تنسیخ و استقرار) کا حق لڑکی کو دے دیا۔لڑکی نے کہا:میرے والد نے جو کچھ کیا ہے،میں اُسے جائز قرار دیتی ہوں،میری خواہش صرف یہ تھی کہ عورتیں جان لیں کہ باپوں کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔‘‘
(۲) اہل حدیث حضرات اپنی تائید میں مندرجہ ذیل احادیث پیش کرتے ہیں:
عن عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا قالت قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایما امراۃ نکحت بغیر اذن ولیہا فنکاحھا باطل… فان اشتجروا فالسلطان ولی من لا ولی لھا ۔ (بلوغ المرام)
’’حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے،اُس کا نکاح باطل ہے…پس اگر جھگڑا ہو تو جس عورت کا ولی نہ ہو تو سلطان اُس کا ولی ہے۔‘‘
عن ابی موسیٰ عن ابیہ قال قال رسول ا لا نکاح الا بولیٍّ ۔ (ایضاً)
’’ ابو موسیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ولی کے بغیر کوئی نکاح جائز نہیں ہے۔‘‘
عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا تُزَوِّجُ المرأۃ المرأۃ ولا تزوج المرأۃ نفسھا ۔ (سنن کبریٰ للبیہقی)
’’حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک عورت دوسری عورت کی(ولی بن کر) نکاح نہ کرے،اور نہ کوئی عورت خود اپنا نکاح کرے۔‘‘
قال عمر ابن الخطاب ایُّما امرأۃ لم ینکحھا الولی او الولاۃ فنکاحھا باطل (ایضاً)
’’ حضرت عمرؓ نے فرمایا: جس عورت کا نکاح ولی یا حکام نہ کریں،اُس کا نکاح باطل ہے۔‘‘
عن عکرمۃ ابن خالد قال جعلت امرأۃ ثیّب اَمْرَھَا بید رجل غیر ولی فانکحھا فبلغ ذالک عمر فجلد الناکح والمنکح ورد نکاحھا ۔ (ایضاً)
’’عکرمہ ابن خالد سے روایت ہے کہ ایک شوہر دید ہ عورت نے اپنا معاملہ ایک ایسے شخص کے سپرد کردیا جو اُس کا ولی نہ تھا، اور اُس شخص نے عورت کا نکا ح کردیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ِ اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے نکاح کرنے اور کرانے والوں کو کوڑوں کی سزا دی اور نکاح منسوخ کردیا‘‘
عن علی قال ایما امراۃ نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل لا نکاح الا باذن ولی ۔ (ایضاً)
’’حضرت علیؓ نے فرمایا: جس عورت نے بھی اپنے ولی کے اذن کے بغیر نکاح کیا،اُس کا نکاح باطل ہے۔بلا اجازت ولی کوئی نکاح نہیں۔‘‘
عن الشعبی ان عمر وعلیا رضی اللّٰہ عنھما وشریحا ومسروقا رحمھما اللّٰہ قالوا لا نکاح الا بولی ۔ (ایضاً)
’’اما م شعبی سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ،حضرت عمرؓ، شریح اور مسروق نے فرمایا کہ ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں ہے۔
ان دلائل پر ایک نگاہ ڈالنے سے ہی یہ محسوس ہوجاتا ہے کہ دونوں طرف کافی وزن ہے اور یہ کہنے کی گنجایش نہیں ہے کہ فریقین میں سے کسی کا مسلک بالکل غلط ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا شارع نے فی الواقع دو متضاد حکم دیے ہیں؟ یا ایک حکم دوسرے حکم کو منسوخ کرتاہے؟ یا دونوں حکموں کو ملا کر شارع کا منشا ٹھیک طور پر متحقق ہوسکتا ہے؟پہلی شق تو صریحاًباطل ہے، کیوںکہ شریعت کا پورا نظام شارع کی حکمت کاملہ پر دلالت کررہا ہے اور حکیم سے متضاد احکام کا صدور ممکن نہیں ہے۔دوسری شق بھی باطل ہے، کیوں کہ نسخ کا کوئی ثبوت یا قرینہ موجود نہیں ہے۔اب صرف تیسری ہی صورت باقی رہ جاتی ہے اور ہمیں اسی کی تحقیق کرنی چاہیے۔ میں دونوں طرف کے دلائل جمع کرکے شارع کا جو منشا سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے:
۱۔ نکاح کے معاملے میں اصل فریقین مرد اور عورت ہیں نہ کہ مرد اور اولیائے عورت۔ اسی بِنا پر ایجاب وقبول ناکح اور منکوحہ کے درمیان ہوتا ہے۔
۲۔ بالغہ عورت(باکرہ ہو یا ثیبہ) کا نکاح اُس کی رضا مندی کے بغیر یا اُس کی مرضی کے خلاف منعقد نہیں ہوسکتا،خواہ وہ نکاح کرنے والا باپ ہی کیوں نہ ہو۔ جس نکاح میں عورت کی طرف سے رضا نہ ہو،اس میں سرے سے ایجاب ہی موجود نہیں ہوتا کہ ایسا نکاح منعقد ہوسکے۔
۳۔ مگر شارع اس کو بھی جائز نہیں رکھتا کہ عورتیں اپنے نکاح کے معاملے میں بالکل ہی خود مختار ہوجائیں اور جس قسم کے مرد کو چاہیں،اپنے اولیا کی مرضی کے خلاف اپنے خاندان میں داماد کی حیثیت سے گھسا لائیں۔ اس لیے جہاں تک عورت کا تعلق ہے،شارع نے اس کے نکاح کے لیے اُس کی اپنی مرضی کے ساتھ اُس کے ولی کی مرضی کو بھی ضروری قرار دیا ہے۔نہ عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے ولی کی اجازت کے بغیر جہاں چاہے اپنا نکاح خود کرلے،اور نہ ولی کے لیے جائز ہے کہ عورت کی اجازت کے بغیر اُس کا نکاح جہاں چاہے کردے۔
۴۔ اگر کوئی ولی کسی عورت کا نکاح بطور خود کردے تو وہ عورت کی مرضی پر معلق ہوگا، وہ منظور کرے تو نکاح قائم رہے گا،نامنظور کرے تو معاملہ عدالت میں جانا چاہیے۔ عدالت تحقیق کرے گی کہ یہ نکاح عورت کو منظور ہے یا نہیں۔ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ عورت کو نکاح نامنظور ہے تو عدالت اُسے باطل قرار دے گی۔
۵۔ اگر کوئی عورت اپنے ولی کے بغیر اپنا نکاح خود کرلے تو اُس کا نکاح ولی کی اجازت پر معلق ہوگا۔ولی منظور کرلے تو نکاح برقرار رہے گا،نا منظور کرے تو یہ معاملہ بھی عدالت میں جانا چاہیے۔عدالت تحقیق کرے گی کہ ولی کے اعتراض و انکار کی بنیاد کیا ہے۔اگر وہ فی الواقع معقول وجوہ کی بِنا پر اُس مرد کے ساتھ اپنے گھر کی لڑکی کا جوڑ پسند نہیں کرتا تو یہ نکاح فسخ کیا جائے گا، اور اگر یہ ثابت ہوجائے کہ اس عورت کا نکاح کرنے میں اُس کا ولی دانستہ تساہل کرتا رہا، یا کسی ناجائز غرض سے اس کو ٹالتا رہا اور عورت نے تنگ آکر اپنا نکاح خود کرلیا، تو پھر ایسے ولی کو سئی الاختیار ٹھیرا دیا جائے گااور نکاح کو عدالت کی طرف سے سند جواز دے دی جائے گی۔ ھذا ما عندی واللّٰہ اعلم بالصواب۔

شادی بیاہ میں کفاء ت کا لحاظ:

سوال: ترجمان القرآن بابت ذی القعدہ و ذی الحجہ۳۷۰اھ میں آپ نے مولانا ظفر احمد صاحب عثمانی کے جواب میں ایک جگہ ایسے تسامح سے کام لیا ہے جو ناقابل برداشت ہے۔مولانا موصوف نے آپ سے دریافت کیا تھا کہ’’ کیا ایک سیّد ہندوستان میں رہنے کی وجہ سے سیّد نہ رہے گا بلکہ جلاہا بن جائے گا؟‘‘میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ آپ نے بھی جواب میں دبی زبان سے اس غیر اسلامی امتیاز کو یہ کہہ کر تسلیم کرلیا کہ’’دارالکفر کے ایک سیّد صاحب، دارالاسلام کی ایک سیّدانی کے باعتبار نسب کفو ہی سہی۔‘‘آپ کے الفاظ مبہم ہیں۔کیا آپ بھی مسئلۂ کفو کو اسلام میں جائزسمجھتے ہیں؟اگر جواب اثبات میں ہے تو آپ قرآن وحدیث سے استشہاد پیش فرما کر میرا اطمینان فرمائیں۔سمجھ میں نہیں آیا کہ دنیا کے کام کاج اور پیشوں کو انسانیت کی اونچ نیچ میں کیوں دخل ہو؟بنی نوع انسان سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔کیا حضرت دائود علیہ السلام نے اگر لوہے کا کام کیا ہے تو وہ لوہار ٹھیریں گے؟

جواب: آپ نے کفاء ت کے مسئلے پر جو اعتراض کیا ہے،اُس سے مجھے اتفاق نہیں ہے۔طرزِ تعبیر میں اختلاف ہوسکتا ہے،لیکن نفس مسئلۂ کفاء ت تو عقل اور نقل دونوں سے ہے۔تفصیلات سے قطع نظر، بجائے خود نکاح میں اس کے معتبر ہونے پر ائمۂ اربعہ کا اتفاق ہے۔
اس مسئلے کا ماخذ متعدداحادیث ہیں۔ مثلاً:
لا تنکحوا النساء الا الاکفاء (دار قطنی،بیہقی)
’’عورتوںکی شادیاں نہ کرو مگر ان لوگوں کے ساتھ جو کفو ہوں۔‘‘
یاعلی ثلاث لا تؤخرھا: الصلٰوۃ اذا اٰتت، والجنازۃ اذا حضرت، والایّم اذ وجدت کفأً ۔ (ترمذی،حاکم)
’’اے علیؓ! تین کام ہیں جن کو ٹالنا نہ چاہیے:ایک، نماز، جب کہ اس کا وقت آجائے۔ دوسرے، جنازہ جب کہ تیار ہوجائے۔ تیسرے، بن بیاہی عورت کا نکاح جب کہ اس کے لیے کفو مل جائے۔‘‘
تخیرّوا لنطفکم و انکحوا الاکفاء ۔
’’اپنی نسل پیدا کرنے کے لیے اچھی عورتیں تلاش کرو،اور اپنی عورتوں کے نکاح ایسے لوگوں سے کرو جو ان کے کفو ہوں۔‘‘
(یہ حدیث حضرت عائشہ، انس، عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہم سے متعدد طریقوں سے مروی ہے)۔
امام محمدؒ نے ’’کتاب الآثار‘‘میں حضرت عمرؓکا یہ قول بھی نقل کیا ہے:
لأمنعنّ فروج ذوات الاحساب الا من الاکفاء ۔
’’میں شریف گھرانوں کی عورتوں کے نکاح کفو کے سوا کہیں اور نہ کرنے دوں گا۔‘‘
یہ تو ہے اس مسئلے کی نقلی دلیل۔ رہی عقلی دلیل، تو عقل کا صریح تقاضا یہ ہے کہ کسی لڑکی کو کسی شخص کے نکاح میں دیتے وقت یہ دیکھا جائے کہ وہ شخص اُس کے جوڑ کا ہے یا نہیں۔اگر جوڑ کا نہ ہو تو یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ ان دونوں کا نباہ ہوسکے گا۔ نکاح سے مقصود تو عقلاً بھی اور نقلاً بھی یہی ہے کہ زوجین کے درمیان مودّت ورحمت ہو اور وہ ایک دوسرے کے پاس سکون حاصل کرسکیں۔ آپ خود سوچ لیں کہ بے جوڑنکاحوں سے اس مقصود کے حاصل ہونے کی کہاں تک توقع کی جاسکتی ہے؟اور کون سا معقول انسان ایسا ہے جو اپنے لڑکے یا لڑکی کا بیاہ کرنے میں جوڑ کا لحاظ نہ کرتا ہو۔ کیا آپ اسلامی مساوات کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ ہر مرد کا ہر عورت سے اور ہر عورت کا ہر مرد سے صرف اس بِنا پر نکاح کردیا جائے کہ دونوں مسلمان ہیں،بلا اس لحاظ کے کہ ان میں کوئی مناسبت پائی جاتی ہے یا نہیں؟
فقہا نے اِ س جوڑ کا مفہوم مشخص کرنے کی کوشش کی ہے اور ہر ایک نے اپنے اپنے طریقے پر یہ بتایا ہے کہ لڑکی اور لڑکے کے درمیان کن کن اُمور میں مماثلت ہونی چاہیے۔ ہم ان تفصیلات میں بعض فقہا سے اختلاف اور بعض سے اتفاق کرسکتے ہیں۔ مگر فی الجملہ عقل عام یہ تقاضا کرتی ہے کہ زندگی بھر کی شرکت ورفاقت کے لیے جن دو ہستیوں کا ایک دوسرے سے جوڑ ملایا جائے،ان کے درمیان اخلاق، دین،خاندان،معاشرتی طور طریق، معاشرتی عزت وحیثیت، مالی حالات، ساری ہی چیزوں کی مماثلت دیکھی جانی چاہیے۔ ان اُمور میں اگر پوری یکسانی نہ ہو تو کم ازکم اتنا تفاوت بھی نہ ہو کہ زوجین اس کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور رفاقت نہ کرسکیں۔یہ انسانی معاشرت کا ایک عملی مسئلہ ہے جس میں حکمت عملی کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔آدم کی ساری اولاد کے یکساں ہونے کا نظریہ آپ یہاں چلانا چاہیں گے تو لاکھوں گھر برباد کردیں گے۔ہاں اگر آپ یہ کہیں کہ محض نسل ونسب کی بِنا پر ذات پات اور اُونچ نیچ کا تصور ایک جاہلی تصور ہے، تو اس بات میں یقینا میں آپ سے اتفاق کروں گا۔ جن لوگوں نے کفاء ت کے فقہی مسئلے کو مسخ کرکے ہندوئوں کی طرح کچھ اونچی اور کچھ نیچی ذاتیں قرار دے رکھی ہیں،ان پر مجھے بھی ویسا ہی اعتراض ہے جیسا آپ کو ہے۔ ( ترجمان القرآن۔ذی الحجہ ا۳۷اھ، ستمبر۹۵۲اء)

نکاح شغار:

سوال: مسلمانوں میں عموماً رواج ہوگیا ہے کہ دو شخص باہم لڑکوں لڑکیوں کی شادی ادل بدل کے اُصول پر کرتے ہیں۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کئی اشخاص مل کر اس طرح کا ادل بدل کرتے ہیں۔مثلاًزید بکرکے لڑکے کے ساتھ،بکر عمر کے لڑکے کے ساتھ، اور عمر زید کے لڑکے کے ساتھ اپنی لڑکیوں کا نکاح کردیتے ہیں۔ان صورتوں میں عموماًمہر کی ایک ہی مقدار ہوتی ہے۔بعض علمائے دین اس طریقے کو شغار کہتے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ شغار کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے بلکہ حرام قرار دیا ہے۔
بحالات موجودہ ایک غریب آدمی یہ طریقہ اختیار کرنے پر مجبور بھی ہوتا ہے،کیوں کہ جس آسانی سے دوسرے لوگ اُس کی لڑکی کو قبول کرنے پر تیار ہوتے ہیں، اس آسانی سے اُس کے لڑکے کو رشتہ دینے پر تیار نہیں ہوتے۔
براہِ کرم اس مسئلے کی حقیقت واضح فرما ویں۔

جواب: عام طور پر ادلے بدلے کے نکاح کا جو طریقہ ہمارے ملک میں رائج ہے، وہ دراصل اُسی شغار کی تعریف میں آتا ہے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔شغار کی تین صورتیں ہیں اور وہ سب ناجائز ہیں:
ایک یہ کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو اِ س شرط پر اپنی لڑکی دے کہ وہ اس کو بدلے میں اپنی لڑکی دے گا اور ان میں سے ہر ایک لڑکی دوسری لڑکی کا مہر قرارپائے۔
دوسرے یہ کہ شرط تو وہی ادلے بدلے کی ہو مگر دونوں کے برابر برابر مہر (مثلاً۵۰،۵۰ہزار روپیا)مقرر کیے جائیں اور محض فرضی طور پر فریقین میں ان مساوی رقموں کا تبادلہ کرلیا جائے۔ دونوں لڑکیوں کو عملاً ایک پیسا بھی نہ ملے۔
تیسرے یہ کہ ادلے بدلے کا معاملہ فریقین میںصرف زبانی طورپر ہی طے نہ ہو بلکہ ایک لڑکی کے نکاح میں دوسری لڑکی کا نکاح شرط کے طور پر شامل ہو۔
ان تینوں صورتوں میں سے جو صورت بھی اختیار کی جائے گی،شریعت کے خلاف ہوگی۔ پہلی صورت کے ناجائزہونے پر تو تمام فقہا کا اتفاق ہے۔البتہ باقی دو صورتوں کے معاملے میں اختلاف واقع ہوا ہے۔لیکن مجھے دلائل شرعیہ کی بِنا پر یہ اطمینا ن حاصل ہے کہ یہ تینوں صورتیں شغارِ ممنوع کی تعریف میں آتی ہیں اور تینوں صورتوں میں اس معاشرتی فساد کے اسباب یکساں طور پر موجود ہیں جن کی وجہ سے شغار کو منع کیا گیا ہے۔
(ترجمان القرآن، رجب،شعبان ا۳۷اھ، اپریل،مئی۹۵۲اء)

منگنی کا شرعی حکم:

سوال: کیا شرعی لحاظ سے خطبہ نکاح کا حکم رکھتا ہے؟عوام اس کو ایجاب وقبول کا درجہ دیتے ہیں۔اگر لڑکی کے والدین ٹھیری ہوئی بات کو رد کردیں تو برادری میں ان کا مقاطعہ تک ہوجاتا ہے۔اس صورت میں اگر والدین اس لڑکی کا نکاح دوسری جگہ کردیں تو کیا یہ فعل درست ہوگا؟

جواب: منگنی محض قول وقرار ہے اس بات کا کہ آئندہ اس لڑکی کا نکاح فلاں شخص سے کیا جائے گا۔ یہ بجائے خود نکاح نہیں ہے۔البتہ فریقین کے درمیان ایک طرح کا عہد وپیمان ضرور ہے جس سے پھر جانا درست نہیں،الا یہ کہ اس کے لیے کوئی معقول وجہ موجود ہو۔ اگر منگنی کے بعد فریقین میں سے کسی ایک پر دوسرے کا کوئی ایسا عیب ظاہر ہو جو پہلے معلوم نہ تھایا چھپایا گیا تھا تو بلاشبہ اس قول وقرار کو ختم کیا جاسکتا ہے۔لیکن اس طرح کی کسی معقول وجہ کے بغیر یونہی اسے ختم کردینا، یا کسی غیر معقول وجہ کی بِنا پر اس سے پھر جاناہرگز جائزنہیں۔دوسری بد عہدیوں کی طرح یہ بھی ایک بدعہدی ہے جس پر انسان خدا کے ہاں جواب دہ ہوگا۔
(ترجمان القرآن،محرم،صفر۳۷۲اھ، اکتوبر،نومبر۹۵۲اء)

استمنا بالید کا شرعی حکم:

سوال: ایک شخص کا شباب عروج پر ہے۔نفسانی جذبات کا زور ہے۔اب ان جذبات کو قابو میں رکھنے کی چند ہی صورتیں ہوسکتی ہیں:
یہ کہ وہ نکاح کرے۔ مگر جس لڑکی سے اُس کی نسبت ہے وہ اتنی چھوٹی ہے کہ کم ازکم تین چار سال انتظار کرنا ہوگا۔
یہ کہ وہ اپنے خاندان سے باہر کہیں اور شادی کرلے۔مگر ایسا کرنے سے تمام خاندان ناراض ہوتاہے، بلکہ بعید نہیں کہ اُس کا اپنے خاندان سے رشتہ ہی کٹ جائے۔
یہ کہ وہ اس نیت سے کوئی عارضی نکاح کرلے کہ اپنی خاندانی منسوبہ سے شادی ہوجانے کے بعد پہلی بیوی کوطلاق دے دے گا۔مگر اس میں اورمتعہ میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔
یہ کہ اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنے کے لیے مسلسل روزے رکھے۔مگر وہ ایک محنت پیشہ آدمی ہے جسے تمام دن مشغول رہنا پڑتا ہے۔اتنی محنت روزوں کے ساتھ سخت مشکل ہے۔
آخری چارۂ کار یہ ہے کہ وہ زنا سے بچنے کے لیے اپنے ہاتھ سے کام لے۔کیا ایسے حالات میں وہ اس طریقے کو اختیا ر کرسکتا ہے؟

جواب: نکاح بالید، یعنی ہاتھ سے شہوت رفع کرنے کے بارے میں فقہائے اسلام کے تین مسلک ہیں:
۱۔ یہ کہ وہ مباح ہے اور زیادہ سے زیادہ اگر اس کے خلاف کچھ کہا جاسکتا ہے تو صرف اس قدر کہ مکارم اخلاق کے خلاف ہونے کی وجہ سے وہ ایک مکروہ اور ناپسندیدہ فعل ہے۔اس مسلک کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ کسی نص میں اس فعل کے حرام ہونے کی تصریح نہیں ہے اور اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ الانعام 119:6 (اﷲ نے جو کچھ تم پر حرام کیا ہے اُس کو وہ تمہارے لیے مفصل بیان کرچکا ہے)۔ لہٰذا جب محرمات کی تفصیل میں یہ مذکور نہیں ہے تو حلال ہے۔ابن حزم نے محلّی میں اس رائے کو پورے دلائل کے ساتھ بیان کیا ہے، اور سند کے ساتھ یہ بھی بتایا ہے کہ حسن بصری،عمرو بن دینار اور مجاہد اس کی اباحت کے قائل تھے، اور عطاء اس کو صرف مکروہ سمجھتے تھے(جلداا،صفحہ۹۳،۳۹۲)۔علامہ آلوسی نے روح المعانی میں امام احمد بن حنبلؒ کی یہ رائے نقل کی ہے کہ ’’یہ فعل عند الضرورت اسی طرح جائز ہے جیسے فصد اور پچھنے۔‘‘(جلد۸ا، صفحہ۰ا) لیکن مجھے فقہ حنبلی کی کسی مستند کتاب میں یہ فتویٰ نہیں ملا۔
۲۔ یہ کہ وہ حرام ہے۔ لیکن اگر زنا کے فتنے میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہو اور آدمی اس سے بچنے کے لیے اس طریقے سے شہوت کی تسکین کرلے تو اُمید ہے کہ اُسے عذاب نہ دیا جائے گا۔یہ رائے حنفیہ کی ہے۔چنانچہ ردالمحتار میں تصریح ہے کہ یہ فعل حرام اور مستلزمِ عذاب ہے،الا یہ کہ اگر زنا کے اندیشے سے کوئی اس کا ارتکاب کرے تو یُرجٰی اَلَّاوبال علیہ(باب الصوم اور باب الحدود)۔ اسی کے قریب علامہ آلوسی نے ابن ہمام کا قول نقل کیاہے( حوالۂ مذکور)، اور اسی سے ملتی جلتی رائے علامہ عابدین نے فقیہ ابوا للیث سے نقل کی ہے۔اس رائے کے حق میں کوئی خاص نص نہیں ہے،بلکہ یہ اسلام کے اُصو ل عامہ سے مستنبط کی گئی ہے،مثلاً حالت اضطرار میں حرام شے کے استعمال کی اجازت اور دو ناجائز کاموں کے ناگزیر ہوجانے کی صورت میںکم تر درجے کے ناجائز کو اختیارکرنے کا قاعدہ۔
۳۔ یہ کہ وہ قطعاًحرام ہے۔امام شافعی اور امام مالکؒ کی یہی رائے ہے،اور وہ سورۂ مومنون کی اس آیت سے استدلال کرتے ہیں:
وَالَّذِيْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَo اِلَّا عَلٰٓي اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَo فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْعٰدُوْنَo
المومنون23: 5-7
’’اور جو اپنی شرم گاہوںکی حفاظت کرتے ہیں، بجز اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کی ملک یمین میں ہوں،کہ(ان سے پرہیز نہ کرنے میں)وہ قابل ملامت نہیں ہیں۔ پھر جو اس کے ماسوا کوئی اور راہ(قضائے شہوت کی) تلاش کرے تو ایسے ہی لوگ زیادتی کرنے والے ہیں۔‘‘
اس آیت سے وہ استدلال کرتے ہیں کہ منکوحہ بیوی اور ملک یمین میں آئی ہوئی لونڈی کے سوا تسکینِ شہوت کی تمام صورتیں ازروئے قرآن حرام ہیں، خواہ وہ زنا ہو یا استمنا بالید، یا عملِ قوم لوط یا وطیِ بہائم، یا کچھ اور۔ پھر اسی کی تائید یہ احادیث بھی کرتی ہیں:
ناکح الید ملعون ۔
’’اپنے ہاتھ سے نکاح کرنے والا ملعون ہے۔‘‘
عذب اللّٰہ تعالٰی امۃ کانوا یعبثون بمذاکیرھم۔
’’اﷲ نے ایسے لوگوں کو عذاب دیا جو اپنے اعضائے جنسی سے کھیلتے تھے۔‘‘
یہ دونوں حدیثیں علامہ آلوسی نے روح المعانی میں نقل کی ہیں۔ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر میں ایک اور حدیث نقل کی ہے، مگر ساتھ ہی یہ تصریح بھی کردی ہے کہ یہ حدیث غریب ہے،نیز اس کی سند میں ایک راوی غیر معروف ہے۔
سبعۃ لا ینظر اللّٰہ الیھم یوم القیامہ ولا یزکیھم ولا یجمعھم مع العالمین ویدخلھم النار فی اول الداخلین الا ان یتوبوا ومن تاب تاب اللّٰہ علیہ ۔ الناکح یدہ، والفاعل والمفعول بہ، و مد من الخمر، والضارب والدیہ حتّٰی یستغیثا، والموذی جیرانہ حتّٰی یلعنوہ،والناکح حلیلۃ جارہ ۔
’’سات آدمی ہیں جن کی طرف اﷲ قیامت کے رو زنظر نہ فرمائے گا، اورنہ انھیں پاک کرے گا، اور انھیں دوسرے لوگوں کے ساتھ جمع کرے گا، اور سب سے پہلے دوزخ میں داخل ہونے والوں میں شامل کرے گا،الا یہ کہ وہ توبہ کرلیں، اور جو توبہ کرے اﷲ اُسے معاف کردیتا ہے:(ا)اپنے ہاتھ سے نکاح کرنے والا(۲)عمل قوم لوط کرنے والا(۳) یہ فعل کرانے والا(۴) عادی شراب خور(۵) اپنے والدین کو مارنے والا یہاں تک کہ وہ فریا دکریں(۶) اپنے ہمسایوں کو ستانے والا یہاں تک کہ وہ اس پر لعنت کریں(۷)اپنے ہمسائے کی بیوی سے بدکاری کرنے والا۔‘‘
ان مختلف مسلکوںاور ان کے دلائل پر نگاہ ڈالنے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ پہلا مسلک نہایت کمزور بلکہ غلط ہے۔ اس لیے کہ قرآن میں حرام چیزوں کی تفصیل بیان ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ سب حرام چیزوں کو نام بنام بیان کیا گیا ہو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں حرام وحلال کے کلی اُصول بیان کردیے گئے ہیں۔پس ہر و ہ چیز جو قرآن کے بیان کردہ کسی کلیے کے تحت آتی ہو،اُس پر وہی حکم جاری ہوگا جو کلیے میں ارشاد ہوا ہو،الایہ کہ اس کو مستثنیٰ قرار دینے کے لیے کوئی دلیل موجود ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ جب قرآن یہ عام قاعدہ بیان کرچکا ہے کہ بیویوں اور مملوکہ عورتوں کے سوا قضائے شہوت کے تمام طریقے عدوان ہیں،تو اس سے نکاح بالید کے مستثنیٰ ہونے کی آخر دلیل کیا ہے؟اس کے جواب میں بعض لوگوں نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ’’عرب میں اس فعل کا کوئی رواج نہ تھا، نہ کلام عرب میں اس کا کوئی ذکر ہے،لہٰذا فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ میں یہ داخل نہیں ہے۔‘‘ لیکن یہ دلیل دو وجوہ سے غلط ہے:ایک یہ کہ لغت عرب میں اس کے لیے جلد عمیرہ اورخَضْخَضَہْ کے الفاظ موجود ہیں اور زبان میں کسی لفظ کا موجود ہونا اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ اہل زبان اس تصور سے آشنا تھے۔دوسرے یہ کہ اگر عرب اس سے واقف نہ تھے تو خداتو انسانوں کے سب افعال سے واقف تھا۔اُس کے بیان کردہ کلیات صرف انھی جزئیات تک آخر کیسے محدود ہوجائیں گے جن سے اُس زمانے کے عرب واقف ہوں۔
ان دلائل کی بِنا پر صحیح مسلک یہی ہے کہ یہ فعل حرام ہے۔البتہ عقل یہ حکم لگاتی ہے کہ اس کی حرمت زنا، اور عمل قوم لوط، اور وطی بہائم کی بہ نسبت کم تر ہے۔اس لیے اگرکسی شخص کو ان گناہوں میں سے کسی ایک میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہو اور اُس سے بچنے کے لیے وہ اپنے جو ش طبع کی تسکین اس ذریعے سے کرلے تو اُس کے حق میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ’’شاید اﷲ تعالیٰ اُسے سزانہ دے۔‘‘
اب اس خاص شخص کا مسئلہ لیجیے جس کے بارے میں سوال کیا گیا ہے۔اس کوپہلے تو میں اﷲ تعالیٰ کی یہ نصیحت یاد دلائوں گا کہ
وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى يُغْنِيَہُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ۝۰ۭ النور33:24
پھر میں اُس سے صاف کہوں گا کہ تمہارے معاملے میں وہ حالت ہرگز موجود نہیں ہے جسے تم ایک حرام چیز کو حلال کرنے کے لیے معذرت کے طو رپر پیش کررہے ہو۔ تم محض اپنے خاندان کے خوف سے نکاح نہیں کرتے،حالاں کہ اس خاندان نے ایک جوان آدمی کو ایک کم سن لڑکی کے ساتھ منسوب کرکے اپنی نادانی کا پورا پورا ثبوت دے دیا ہے۔ اب اگر نکاح کے مواقع پاتے ہو مگر خاندان کی ناراضی سے ڈر کر نہیں کرتے تو خواہ تم کوئی سا گناہ بھی کرو،خدا کے ہاں ضرور ماخوذ ہوگے،کیوں کہ حقیقی مجبوری تمھیں کوئی نہیں ہے،حجتیں ڈھونڈنے کے بجائے سیدھی طرح فیصلہ کرو کہ خوف کا مستحق کون زیادہ ہے؟ خدا یا خاندان؟
(ترجمان القرآن،محرم،صفر ۳۷۲اھ، اکتوبر،نومبر۹۵۲اء)

کیا برقع ’’پردے‘‘کی غایت پوری کرتا ہے؟

سوال: احقر ایک مدت سے ذہنی اور قلبی طور پر آپ کی تحریک اقامت دین سے وابستہ ہے۔پردے کے مسئلے پر آپ کے افکار عالیہ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔لیکن آخر میں آپ نے مروجہ برقع کو بھی(Demond) کیا ہے۔ اس کے متعلق دو ایک باتیں دل میں کھٹکتی ہیں۔براہ مہربانی ان پر روشنی ڈال کر مشکور فرمائیں۔
پردے کی غایت صنفی میلان کی انتشار پسندی کو روکنا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ میلان ہر دو اصناف میں پایاجاتا ہے(گو دونوں میں فرق کی نوعیت سے انکار نہیں)۔ اسی وجہ سے پردے کی اصل روح…غض بصر… کا حکم مرد اور عورت دونوںکے لیے ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ برقع کی ’’دیوار‘‘ کے پیچھے عورتوں کی بہت بڑی اکثریت’’ نگاہ کے زنا‘‘ کی مرتکب ہوتی رہتی ہے۔اس کی وجہ ان کا یہ اطمینان(satisfaction) ہوتا ہے کہ ہم تو مردوں کو دیکھ رہی ہیں لیکن مرد ہمیں نہیں دیکھ رہے،اور نہ ہماری اس’’نظارہ بازی‘‘کا علم ہی کسی کو ہے۔سو اس طرح کی خواتین میں جوہر حیا…صنف نازک کا اصل جوہر…بہت کم ہوجاتا ہے۔
علاوہ ازیں برقع اوڑھ کر ایک اوسط معاشی وسائل کے کنبے کی عورتیں اپنے کام کاج بھی کماحقہ انجام نہیں دے سکتیں۔سفر ہی کو لیجیے، گاڑیوں اور بسوں وغیرہ میں چڑھنا اور اُترنا برقع پوش عورت کے لیے خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔
پردہ…’’مکمل پردہ‘‘… کی اہمیت ومعقولیت سے قطعاًانکار نہیں کیا جاسکتا،لیکن کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ مروجہ برقع کے بجائے اور کوئی موزوں تر طریقہ استعمال ہو۔ مثال کے طور پر آج سے چند سال پیشتر تک دیہات کی شریف عورتیں خود کو ایک چادر میں مستور کرتی تھیں۔ چادرمیں وہ یہ جرأت نہ کرسکتی تھیں کہ کسی مرد کو مسلسل دیکھیں اور ان کی آنکھوں میں شرم وحیا کا بہت اعلیٰ مظاہرہ ہوتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ برقع کی نسبت اُس چادر میں بہت اچھی طرح’’پردہ‘‘ ہوتا تھا۔
آپ کی مصروفیات کے علم کے باوجود آپ کو تکلیف دے رہا ہوں۔

جواب: آپ نے اپنے سوال میں کئی چیزوں کو خلط ملط کردیا ہے۔بہتر ہو کہ ایک ایک چیز کو آپ الگ الگ لیں اور پھر اس پر غور کرکے رائے قائم کریں۔
پہلی بات غور طلب یہ ہے کہ کیا غض بصر کی تلقین اور اخلاقی تربیت کے بغیر یہ ممکن ہے کہ کوئی عورت کسی غیر مرد کو گھور نے سے روکی جاسکے؟آپ برقع کی نقاب پر اعتراض کرتے ہیں کہ وہ صرف مرد کو عورت پر نگاہ ڈالنے سے روکتی ہے،عورت کو اس ناجائز نظر بازی سے نہیں روکتی۔مگر یہ عیب تو صرف نقاب میں نہیںہے،چادر میں بھی ہے۔شریعت اس کی اجازت دیتی ہے کہ عورت چادر سے منہ ڈھانک کر جب باہر نکلے تو اُسے راستہ دیکھنے کے لیے کم ازکم اتنی جگہ کھلی رکھنی چاہیے کہ اُس کی آنکھ سامنے دیکھ سکے۔ پھر یہ عیب چلمن میں بھی ہے جو آپ دروازوں اور کھڑکیوں پر ڈالتے ہیں۔ بلکہ یہ عیب ہر اُس چیز میں ہے جس سے کوئی عورت باہر جھانک سکتی ہو۔آپ خود بتائیں کہ ان منافذ کو آپ کیسے روک سکتے ہیں؟اور کیا فی الواقع شریعت کا بھی یہ مطالبہ ہے کہ ان سب منافذ کو روکا جائے؟ علاوہ ازیں اسی کتاب پردہ میںمیں نے وہ روایت نقل کی ہے جس میں لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت عائشہؓ کو حبشیوں کے کھیل کا تماشا دکھایا تھا۔وہاں میں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ مردوں کا عورتوں کو دیکھنا اور عورتوں کامردوں کو دیکھنا نہ شرعاًبالکل یکساں ہے اور نہ نفسیات کے اعتبار سے ان کی حیثیت برابر ہے۔
دوسری غورطلب بات یہ ہے کہ اگر برقع بجائے خود بھڑکیلا اورجاذب نظر نہ ہو،سادہ اور بے زینت ہو تو شرعاًاُس پر کس اعتراض کی گنجایش ہے؟کیا وہ شریعت کے کسی مطالبے کو پورا نہیں کرتا؟اگر کرتا ہے تو ہمارے پاس اس کے ناجائزہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔یہ الگ بات ہے کہ آپ کے نزدیک کوئی دوسری چیز اس سے بہتر طریقے پر شریعت کے منشا کو پورا کرتی ہو۔ایسی کوئی چیز آپ کی نگاہ میں ہے تو آپ اُسے تجویز کرسکتے ہیں۔مگر برقع کو ناجائز کہنا کسی طرح درست نہیں۔
برقع اوڑھ کر چلنے پھرنے اور بسوں وغیرہ پر چڑھنے کے سلسلے میں آپ جو مشکلات بیان کرتے ہیں،وہ جوازو عدم جواز کی بحث سے غیر متعلق ہیں۔آپ کے نزدیک چادر میں اس سے کم مشکلات ہیں یا کسی قسم کی مشکلات نہیں ہیں تو خواتین کو اس کی طرف توجہ دلائیں۔وہ تجربے سے اسے مناسب تر پائیں گی تو کیوں نہ اختیا رکریں گی۔ (ترجمان القرآن،شعبان ۳۷۰اھ، مطابق جون ا۹۵اء)
عورت اور سفر حج:
سوال: عورت کے محرم کے بغیر حج پر جانے کے بارے میں علمائے کرام کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔آپ براہِ کرم مختلف مذاہب کی تفصیل سے آگاہ فرمائیں اور یہ بھی بتائیں کہ آپ کے نزدیک قابل ترجیح مسلک کون سا ہے؟
جواب: عورت کے بلامحرم حج کرنے کا مسئلہ مختلف فیہ ہے۔اس معاملے میں چار مسلک پائے جاتے ہیں جنھیں مختصراً یہاں بیان کیے دیتا ہوں:
۱۔ عورت کو کسی حال میں شوہر یا محرم کے بغیر حج نہ کرنا چاہیے۔یہ مسلک ابراہیم نخعی، طائوس، شعبی اور حسن بصریؒ سے منقول ہے اور حنبلی مذہب کا یہی فتویٰ ہے۔
۲۔ اگر حج کا سفر تین شبانہ روز سے کم کا ہو تو عورت بلا محرم جاسکتی ہے، لیکن اگر تین دن یا اس سے زائد کا سفر ہو تو شوہر یامحرم کے بغیر نہیں جاسکتی۔امام ابو حنیفہؒ اور سفیان ثوریؒکا یہی مذہب ہے۔
۳۔ جو عورت شوہر یامحرم نہ رکھتی ہو وہ ایسے لوگوں کے ساتھ جاسکتی ہے جن کی اخلاقی حالت قابل اطمینان ہو۔یہ ابن سیرین، عطاء، زہری، قتادہ اور اوزاعی کا مسلک ہے اور امام مالکؒ اور امام شافعی کا بھی یہی مذہب ہے۔امام شافعی نے ’’ قابل اطمینان رفیقوں‘‘ کی مزید تشریح اس طرح کی ہے کہ اگر چند عورتیں بھروسے کے قابل ہوں اور وہ اپنے محرموں کے ساتھ جارہی ہوں تو ایک بے شوہر اور بے محرم عورت ان کے ساتھ جاسکتی ہے۔البتہ صرف ایک عورت کے ساتھ اُسے نہ جانا چاہیے۔
۴۔ ان سب کے خلاف ابن حزمؒ ظاہری کا مسلک یہ ہے کہ بے محرم عورت کو تنہا ہی حج کے لیے جانا چاہیے۔اگر وہ شوہر رکھتی ہو اور وہ اُسے نہ لے جائے تو شوہر گناہ گارہو گا، مگر عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ اُس کے بغیر حج کو چلی جائے۔
میں ان چاروں مسالک میں سے تیسرے مسلک کو ترجیح دیتا ہوں، کیوں کہ اس میں ایک دینی فریضے کو ادا کرنے کی گنجایش بھی ہے اور اس فتنے کا احتمال بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے حدیث میں عورت کے بلا محرم سفر کرنے کو منع کیا گیا ہے۔ (ترجمان القرآن، ذی الحجہ ا۳۷اھ،ستمبر ۹۵۲اء)

وراثت میں اخیافی بھائی بہنوں کا حصہ:

سوال: قدوری (کتاب الفرائض،باب الحجب) میں یہ عبارت درج ہے:
ان تترک المرأۃ زوجا واما او جدۃ واخوۃ من ام واخًا من ابٍ وامٍ فلزوج النصف وللام السدس ولاولاد الام الثلث ولا شیٔ لاخوۃ للأب والأم۔یعنی اگر ایک عورت کے وارثوں میں اس کا شوہر اور ماں یا دادی اور اخیافی(ماں شریک) بھائی اور سگا بھائی موجود ہوں تو شوہر کو آدھا حصہ، ماں کو چھٹا حصہ، او ر اخیافی بھائی بہنوں کو ایک تہائی حصہ ملے گا اور سگے بھائیوں کو کچھ نہ ملے گا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا یہ احناف کا مفتیٰ بہ قول ہے؟کیا یہ قرین انصاف ہے کہ برادر حقیقی تو محروم ہوجائے اور اخیافی بھائی وارث قرارپائے؟لفظ کلالہ کی قانونی تعریف بھی واضح فرمائیں۔ کیا والدہ اور دادی کے زندہ ہونے کے باوجود بھی ایک میت کو کلالہ قرار دیا جاسکتا ہے؟

جواب: قدوری سے جو مسئلہ آپ نے نقل کیا ہے،اس میں سلف کے مابین اختلاف ہے۔اگر کوئی عورت مر جائے اور پیچھے شوہر،ماں،سگے بھائی بہن اور اخیافی(یعنی ماں جائے) بھائی بہن چھوڑے، تو حضرت علی، ابو موسیٰ اشعری اور ابی ابن کعب رضی اﷲ عنہم کا فتویٰ یہ ہے کہ اس کی نصف میراث شوہر کو، ۶۔۱ ماں کو ۳۔۱ اخیافی بھائی بہنوں کو دیا جائے گا اور سگے بھائی بہنوں کو کچھ نہ ملے گا۔ اسی فتوے کو علمائے احناف نے لیا ہے اور یہی ان کا مفتیٰ بہ قول ہے۔بخلاف اس کے حضرت عثمانؓ اور حضرت زیدؓ بن ثابت کا یہ مذہب ہے کہ ۳۔۱ میراث سگے اور اخیافی بھائی بہنوں میں برابر برابر تقسیم کی جائے گی۔ حضرت عمرؓ پہلے قول اوّل کے قائل تھے مگر بعد میں انھوں نے قول ثانی اختیار کرلیا۔ ابن عباسؓ سے دو روایتیں مروی ہیں، مگر زیادہ معتبر روایت یہی ہے کہ وہ بھی قول ثانی کے قائل تھے۔اسی پر قاضی شریح نے فیصلہ کیا ہے اور امام شافعی، امام مالک اور سفیان ثوری رحمہم اللہ کا مذہب بھی یہی ہے۔حنفیہ کا استدلال یہ ہے کہ اخیافی بھائی بہن ذوی الفروض ہیں اور سگے بھائی عصبات ہیں، اور ذوی الفروض کا حق عصبات پر مقدم ہے، لہٰذا جب ذوی الفروض سے کچھ نہ بچے تو عصبات کو کوئی حق نہ پہنچے گا۔ دوسرے گروہ کا استدلال یہ ہے کہ ماں جائے ہونے میںجب سگے اور اخیافی بھائی بہن یکساں ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ برابر کے حصے دار نہ ہوں۔
کلالہ کے جو معنی حضرت ابو بکرؓ نے بیان فرمائے ہیں اور جنھیں حضرت عمرؓ نے بھی قبول کیا ہے وہ یہ ہیں: من لا ولد لہ ولا والد۔یعنی کلالہ وہ ہے جس کی نہ اولاد ہو اور نہ باپ۔ اس طرح ماں یا دادی کی موجودگی کسی میت کے کلالہ ہونے میں مانع نہیں ہے۔
(ترجمان القرآن۔ذی الحجہ ا۳۷اھ، ستمبر۹۵۲اء)

پوتے کی محرومیِ وراثت:

سوال: دادا کی زندگی میں اگر کسی کا باپ مر جائے تو پوتے کو وراثت میں سے کوئی حق نہیں پہنچتا۔ یہ مشہور شرعی مسئلہ ہے جس پر اِس وقت حکومت کی طرف سے عمل ہورہاہے۔اس بارے میں مختلف مسلک کیا ہیں اور آپ کس مسلک کو مزاج اسلامی سے قریب تر خیال فرماتے ہیں۔ اگر آپ کا مسلک بھی مذکورہ ہی ہے تو اس الزام سے بچنے کی کیا صورت ہے کہ اسلامی نظام جو یتیم کی دست گیری کا اس قدر مدعی ہے،ایک یتیم کو محض اس لیے دادا کی وراثت سے محروم قرار دیتا ہے کہ وہ اپنے باپ کو دادا کی وفات تک زندہ نہ رکھ سکا؟

جواب: فقہائے اسلام میں یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ دادا کی موجودگی میں جس پوتے کا باپ مر گیا ہو،وہ وارث نہیں ہوتا بلکہ وارث اس کے چچا ہوتے ہیں۔اگرچہ ابھی تک مجھے قرآن وحدیث میں کوئی ایسا صریح حکم نہیں ملا جسے فقہا کے اس متفقہ فیصلے کی بِنا قرار دیا جاسکے۔لیکن بجائے خود یہ بات کہ فقہائے اُمت سلف سے خلف تک اس پر متفق ہیں،اس کو اتنا قوی کردیتی ہے کہ اس کے خلاف کوئی رائے دینا مشکل ہے۔ویسے بھی یہ بات معقول معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ پوتا بہرحال اپنے باپ کے واسطے ہی سے دادا کے مال میں حق دار ہوسکتا ہے نہ کہ براہ راست خود۔ اسی طرح بہو اپنے شوہر کے واسطے سے خسر کے مال میں سے حصہ پاسکتی ہے نہ کہ براہ راست خود۔اگر ایک شخص کا بیٹا اس کی زندگی میں مرجائے اور وہ شادی شدہ نہ ہو، تو آپ خود مانیں گے کہ اس کا حصہ ساقط ہو جائے گا۔ یہ نہیں ہو گا کہ باپ کے مرنے پر اس کے ترکے میں سے اس کے فوت شدہ بیٹے کا حصہ بھی نکالا جائے، اور پھر اُس بیٹے کی میراث اُس کی ماں اور اُس کے بھائیوں وغیرہ کو پہنچائی جائے۔اسی طرح اگر اس فوت شدہ لڑکے کی کوئی بیوی موجود ہو تو آپ خود مانیں گے کہ وہ اپنے خسر کے ترکے میں سے حصہ پانے کی مستحق نہیں ہے۔قطع نظر اس سے کہ اُس کا نکاح ثانی ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔پھر آپ کو کیوں اصرار ہے کہ صرف اُس کا بیٹا موجود ہونے کی صورت میں اُس کا حصہ ساقط نہ ہو بلکہ وہ اس کے بیٹے کو پہنچے؟
رہا یتیم کی پرورش کا سوال، تو شریعت کی رو سے اُس کے چچا اُس کے ولی ہوتے ہیں،اور ان پر اُس کا حق ہے کہ وہ اُس کی پرورش کا انتظام کریں۔ نیز شریعت نے وصیت کا حکم اسی لیے دیا ہے کہ اگر کوئی مرنے والا اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو اور اُس کے خاندان میں کچھ لوگ مستحق موجود ہیں تو وہ ان کے حق میں وصیت کرے۔ ۳۔۱ حصۂ مال کی حد تک وہ وصیت کرسکتا ہے،اور اس میں یہ گنجایش موجود ہے کہ اگر وہ کوئی یتیم پوتا چھوڑ رہا ہے،یا کوئی بیوہ بہو چھوڑ رہا ہے جو بے سہارا ہو، یا کوئی بیوہ بھاوج یا غریب بھائی یا بیوہ بہن چھوڑ رہا ہے،تو ان کے لیے وصیت کر جائے۔ یہ گنجایش اسی لیے رکھی گئی ہے کہ قانونی وارثوں کے سوا خاندان میں جو لوگ مدد کے محتاج ہوں،ان کی مدد کا انتظام کیا جاسکے۔ (ترجمان القرآن۔جمادی الاخریٰ ا۳۷اھ، مارچ۹۵۲اء)

رمضان میں قیام اللیل:

سوال: براہِ کرم مندرجہ ذیل سوالات کے جواب عنایت فرمائیں:
(۱) علمائے کرام بالعموم یہ کہتے ہیں کہ تراویح اوّل وقت میں(عشا کی نماز کے بعد متصل) پڑھنا افضل ہے اور تراویح کی جماعت سنت مؤکدہ کفایہ ہے۔ یعنی اگر کسی محلے میں تراویح باجماعت نہ ادا کی جائے توا ہل محلہ گناہ گار ہوں گے، اور دو آدمیوں نے بھی مل کر مسجد میں تراویح پڑھ لی تو سب کے ذمے سے ترک جماعت کا گناہ ساقط ہوجائے گا۔کیا یہ صحیح ہے؟اگر یہ صحیح ہے تو حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے زمانے میں کیوں ایسا نہیں ہوا؟اور اُس زمانے کے مسلمانوں کے لیے کیا حکم ہوگا؟ کیا وہ سب تراویح باجماعت نہ پڑھنے کی وجہ سے گناہ گار تھے؟
(۲) کیا نماز تراویح اوّل وقت میں سونے سے پہلے پڑھنا ضروری ہے؟کیا سحری کے وقت تراویح پڑھنے والا فضیلت واولویت سے محروم ہوجائے گا؟اگر محروم ہوجائے گا تو حضرت سیّدنا حضرت عمر فاروقؓ کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے کہ التی تنامون عنھا افضل من التی تقومون؟
(۳) کیا رمضان میں نماز تہجد سے تراویح افضل ہے؟اگر ایک آدمی رمضان میں عشا پڑھ کر سو رہے اور تراویح پڑھے بغیر رات کو تہجد پڑھے(جب کہ تہجد کے لیے خود قرآن مجید میں صراحتاً ترغیب دلائی گئی ہے اور تراویح کو یہ مقام حاصل نہیں) تو اس کے لیے کوئی گناہ تو لازم نہ آئے گا؟واضح رہے کہ تراویح اور تہجد دونوں کو نبھانا مشکل ہے۔
(۴) کیا تراویح کے بعد وتر بھی جماعت سے پڑھنے چاہییں؟یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ تراویح سے پہلے وتر پڑھ لے اور رات کے آخری حصے میں تراویح ادا کرلے؟
(۵) تراویح کی تعداد رکعت کیا ہے؟کیاصحیح احادیث میں آٹھ،بیس،اڑ تیس یا چالیس رکعتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں؟
(۶) کیا کسی صحابی کو یہ حق حاصل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کو یہ کہہ کر رد کردیں کہ ’’ما زال بکم التی رأیت من صنیعکم خشیت ان یکتب علیکم ولو کتب علیکم ما قمتم بہ فصلوا ایھا الناس فی بیوتکم فان افضل صلٰوۃ المرء فی بیتہٖ الا الصلٰوۃ المکتوبۃ‘‘ تو وہ اُسے پھر باقاعدہ جماعت کے ساتھ مساجد میں جاری کرے؟

جواب: تراویح کے بارے میں جو کچھ مجھے معلوم ہے،اُس کا خلاصہ یہ ہے :
(۱) نبیؐ دوسرے زمانوں کی بہ نسبت رمضان کے زمانے میں قیام لیل کے لیے زیادہ ترغیب دیا کرتے تھے، جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیز آپؐ کو بہت محبوب تھی۔
(۲)صحیح روایات سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ رمضان المبارک میں تین رات نماز تراویح جماعت کے ساتھ پڑھائی اور پھر یہ فرما کر اُسے چھوڑ دیا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ تم پر فرض نہ ہوجائے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تراویح میں جماعت مسنون ہے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تراویح فرض کے درجے میں نہیں ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگ ایک پسندیدہ سنت کے طور پر تراویح پڑھتے رہیں،مگر بالکل فرض کی طرح لازم نہ سمجھ لیں۔
(۳) تمام روایات کو جمع کرنے سے جو چیزحقیقت سے قریب تر معلوم ہوتی ہے،وہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود جماعت کے ساتھ رمضان میں جو نماز پڑھائی،وہ اوّل وقت تھی نہ کہ آخر وقت میں،اور وہ آٹھ رکعتیں تھیں نہ کہ بیس(اگرچہ ایک روایت بیس کی بھی ہے مگر وہ آٹھ والی روایت کی بہ نسبت ضعیف ہے)، اوریہ کہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے بعد واپس جاکر اپنے طورپر مزید کچھ رکعتیں بھی پڑھتے تھے۔وہ مزید رکعتیں کتنی ہوتی تھیں؟اس بارے میں کوئی واضح بات نہیں ملتی۔ لیکن بعد میں جو حضرت عمرؓ نے۲۰ رکعتیں پڑھنے کاطریقہ رائج کیا اور تما م صحابہؓ نے اس سے اتفاق کیا،اس سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ وہ زائد رکعتیں ۱۲ہوتی تھیں۔
(۴) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر حضرت عمرؓ کے ابتدائی زمانے تک باقاعدہ ایک جماعت میں سب لوگوں کے تراویح پڑھنے کا طریقہ رائج نہ تھا،بلکہ لوگ یا تو اپنے اپنے گھروں میں پڑھتے تھے یا مسجد میں متفرق طور پر چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی شکل میں پڑھاکرتے تھے۔حضرت عمرؓ نے جو کچھ کیا وہ صرف یہ تھا کہ اسی تفرق کو دورکرکے سب لوگوں کو ایک جماعت کی شکل میں نماز پڑھنے کا حکم دے دیا۔ اس کے لیے حضرت عمرؓ کے پاس یہ حجت موجود تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تین بار جماعت کے ساتھ تراویح پڑھائی تھی۔اس لیے اس فعل کو بدعت نہیں کہا جاسکتا۔ اور چوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے کو یہ فرما کر بند کیا تھاکہ کہیں یہ فرض نہ ہوجائے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گزر جانے کے بعد اس امر کا اندیشہ باقی نہ رہا تھا کہ کسی کے فعل سے یہ چیز فرض قرار پاسکے گی، اس لیے حضرت عمرؓ نے ایک سنت اور مندوب چیز کی حیثیت سے اس کو جاری کردیا۔ یہ حضرت عمرؓ کے تفقہ کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے کہ انھوں نے شارع کے منشا کو ٹھیک ٹھیک سمجھا اور اُمت میں ایک صحیح طریقے کو رائج فرما دیا۔ صحابہ کرامؓ میں سے کسی کا اس پر اعتراض نہ کرنا، بلکہ بسروچشم اسے قبول کرلینا یہ ثابت کرتا ہے کہ شارع کے اس منشا کو بھی ٹھیک ٹھیک پورا کیا گیا کہ’’اسے فرض کے درجے میں نہ کردیا جائے۔‘‘چنانچہ کم ازکم ایک بار تو ان کا خود تراویح میں شریک نہ ہونا ثابت ہے جب کہ وہ عبدالرحمنؓ بن عبد کے ساتھ نکلے اور مسجد میں لوگوں کو تراویح پڑھتے دیکھ کر اظہار تحسین فرمایا۔
(۵) حضرت عمرؓ کے زمانے میں جب باقاعدہ جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا تو باتفاق صحابہ بیس رکعتیں پڑھی جاتی تھیں اور اسی کی پیروی حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے زمانے میں بھی ہوئی۔تینوں خلفا کا اس پر اتفاق اور پھر صحابہ کا اس میں اختلاف نہ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سے لوگ تراویح کی بیس ہی رکعتوں کے عادی تھے۔یہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ تینوں بیس ہی رکعت کے قائل ہیں،اور ایک قول امام مالکؒ کا بھی اسی کے حق میں ہے۔دائودظاہریؒ نے بھی اسی کو سنت ثابتہ تسلیم کیا ہے۔
(۶)حضرت عمر بن عبدالعزیز اور حضرت ابان بن عثمان نے۲۰ کے بجائے۳۶ رکعتیں پڑھنے کا جو طریقہ شروع کیا،اُس کی وجہ یہ نہ تھی کہ ان کی تحقیق خلفائے راشدین کی تحقیق کے خلاف تھی،بلکہ ان کے پیش نظر یہ تھا کہ مکہ سے باہر کے لوگ ثواب میں اہل مکہ کے برابر ہوجائیں۔اہل مکہ کا قاعدہ یہ تھا کہ وہ تراویح کی ہر چار رکعتوں کے بعد کعبے کا طواف کرتے تھے۔ان دونوں بزرگوں نے ہر طواف کے بدلے۴رکعتیں پڑھنی شروع کردیں۔ یہ طریقہ چوں کہ اہل مدینہ میں رائج تھا اور امام مالکؒ اہل مدینہ کے عمل کو سند سمجھتے تھے،اس لیے انھوں نے بعد میں۲۰ کے بجائے۳۶ کے حق میں فتویٰ دیا۔
(۷) علما جس بنا پر یہ کہتے ہیں کہ جس بستی یا محلے میں سرے سے نماز تراویح باجماعت ادا ہی نہ کی جائے، اس کے سب لوگ گناہ گار ہیں،وہ یہ ہے کہ تراویح ایک سنت الاسلام ہے جو عہد خلافت راشدہ سے تمام اُمت میں جاری ہے۔ ایسے ایک اسلامی طریقے کو چھوڑ دینا اور بستی کے سارے ہی مسلمانوں کا مل کر چھوڑ دینا، دین سے ایک عام بے پروائی کی علامت ہے، جس کو گوارا کرلیا جائے تو رفتہ رفتہ وہاں سے تمام اسلامی طریقوں کے مٹ جانے کا اندیشہ ہے۔اس پر جو معارضہ آپ نے کیا ہے،اُس کاجواب اوپر نمبر۴ میں گزر چکا ہے۔
(۸) اس امر میں اختلاف ہے کہ تراویح کے لیے افضل وقت کون سا ہے، عشا کا وقت یا تہجد کا؟ دلائل دونوں کے حق میں ہیں،مگر زیادہ تر رجحان آخر وقت ہی کی طرف ہے۔البتہ اوّل وقت کی ترجیح کے لیے یہ بات بہت وزنی ہے کہ مسلما ن بحیثیت مجموعی اوّل وقت ہی کی تراویح پڑھ سکتے ہیں۔آخر وقت اختیا رکرنے کی صورت میں امت کے سوادِ اعظم کا اس ثواب سے محروم رہ جانا ایک بڑا نقصان ہے۔اور اگر چند صلحا آخر وقت کی فضیلت سے مستفید ہونے کی خاطر اوّل وقت کی جماعت میں شریک نہ ہوں تو اس سے یہ اندیشہ ہے کہ عوا م الناس یا تو ان صلحا سے بدگمان ہوں، یا ان کی عدم شرکت کی وجہ سے خود ہی تراویح چھوڑ بیٹھیں۔ یا پھر ان صلحا کو اپنی تہجد خوانی کا ڈھونڈورا پیٹنے پر مجبور ہونا پڑے۔
ھذا ما عندی والعلم عند اللّٰہ وھواعلم بالصواب ۔
(ترجمان القرآن، رجب،شعبان ا۳۷اھ، اپریل،مئی۹۵۲اء)
……٭٭٭……

دعا میں بزرگوں کی حرمت وجاہ سے توسل:

سوال: میں نے ایک مرتبہ دریافت کیا تھا کہ بجاہ فلاں یا بحرمت فلاں کہہ کر خدا سے دعا کرنے کا کوئی شرعی ثبوت ہے یا نہیں؟آپ نے جواب دیا تھا کہ اگرچہ اہل تصوف کے ہاں یہ ایک عام معمول ہے لیکن قرآن وحدیث میں اس کی کوئی اصل معلوم نہیں ہوسکی۔میں اس سلسلے میں ایک آیت قرآنی اور ایک حدیت پیش کرتا ہوں۔سورۂ بقرۃ میں اہل کتاب کے بارے میں آیا ہے:
وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۝۰ۚۖ البقرہ 89:2
’’یعنی بعثت محمدی سے پہلے یہودی کفار کے مقابلے میں فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔‘‘
اس کی تفسیر میں امام راغبؒ نے مفردات میں فرمایا ہے:
ای یستنصرون اللّٰہ ببعثۃ محمد
’’یعنی بعثت محمدی کے ذریعے اﷲ سے مدد مانگتے تھے۔‘‘
وقیل کانوا یقولون انا لننصر بمحمد علیہ السلام علی عبدۃ الاوثان
’’اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہودی یوں کہتے تھے کہ ہم کو بت پرستوں کے مقابلے میں محمد علیہ السلام کے ذریعے سے نصرت بخشی جائے گی۔‘‘
وقیل یطلبون من اللّٰہ بذکرہ الظفر
’’اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذریعے اﷲ سے فتح مانگتے تھے۔‘‘
ترمذی شریف کے ابواب الدعوات میںایک حسن صحیح غریب حدیث مروی ہے کہ ایک نابینا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ اﷲ سے دعا کریں کہ وہ میری تکلیف کو دور کردے۔آپؐ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں دعا کروں، اور اگر صبر کرسکتے ہو توصبر کرو، صبر تمہارے لیے بہتر ہے۔اس نے عرض کیا: آپ دعا فرمائیں۔آپؐ نے اسے اچھی طرح وضو کرنے کا حکم دیا اور یہ دعا پڑھنے کی ہدایت فرمائی:
اللّٰھم انی اسئلک واتوجہ الیک بنبیِّک محمَّد نبی الرحمۃ۔ انی توجھت بک الٰی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضی لی۔ اللھم فشفعہ فیّ۔
’’خدایا! میں تیرے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نبی رحمت کے ذریعے سے تجھ سے دعا کرتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں۔میں نے اپنی اس حاجت کے لیے اے پروردگار تیری طرف توجہ کی ہے، تاکہ تو میری حاجت پوری کرے۔ پس اے اﷲ! میرے حق میں محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) کی شفاعت قبول فرما۔‘‘
کیا اس آیت اور اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوجاتا کہ دعا میں بحرمت سیّد المرسلینؐ یا بجاہ نبی ؐ بطفیل نبی ؐ یا ببر کت حضورؐ کہنا صحیح اور جائز ہے؟

جواب: آیت مذکورہ کا یہ مطلب میرے نزدیک صحیح نہیں ہے کہ یہودی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل آپؐ کے توسل سے کفار کے مقابلے میں فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔بلکہ اس کا صحیح مطلب وہ ہے جو امام راغبؒ کے پہلے دو اقوال سے بھی نکلتا ہے اور جس کی تائید معتبر روایات سے بھی ہوتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے یہودی ان پیشین گوئیوں کی بنا پر جو آپؐ کے متعلق ان کی کتابوں میں موجود تھیں، یہ دعائیں مانگا کرتے تھے کہ وہ نبی آئے اور پھر اس کی بدولت ہمیں کفار پر غلبہ حاصل ہو۔ چنا نچہ ابن ہشام کی روایت ہے کہ مکہ معظمہ میں حج کے موقع پر جب پہلی مرتبہ مدینہ کے چند لوگوں سے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی ملاقات ہوئی اور آپ ؐنے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تو وہ آپس میں کہنے لگے:
یا قوم تعلموا وَاللّٰہِ انہ لنبی الذی تَوَعَّدَکم بہ الیھود فلا تسبقنکم الیہ۔
(جلد۲،صفحہ۷۰)
’’لوگو!جان لو کہ بخدایہ وہی نبی ہے جس کی آمد کا خوف تم کو یہودی دلایا کرتے تھے۔پس ایسا نہ ہونے پائے کہ تم سے پہلے وہ اس کے پاس پہنچ جائیں۔‘‘
پھر آگے چل کر ابن ہشام اسی آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے انصار مدینہ کے بڑے بوڑھوں کا یہ قول نقل کرتے ہیں:
فینا واللّٰہ وفیھم نزلت ھذہ القصۃ۔کنا قد علوناھم ظھرا فی الجاھلیۃ ونحن اھل الشرک وھم اہل کتاب۔ فکانوا یقولون لنا ان نبیًا یبعث الآن نتبعہ قد اظل زمانہ۔ لقتلکم معہ قتل عاد وارم۔ فلما بعث اللّٰہ رسولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من قریش فاتبعناہ وکفروا بہ۔
’’یعنی یہ آیت ہمارے اور یہودیوں کے بارے میں ہی نازل ہوئی ہے۔جاہلیت میں ہم ان پر غالب ہوگئے تھے اور ہم اہل شرک تھے اور وہ اہل کتاب۔پس وہ ہم سے کہا کرتے تھے کہ عن قریب ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے جس کی آمد کا وقت آپہنچا ہے۔ہم اس کی قیادت میں تم کو اس طرح ماریں گے جیسے عاد ارم مارے گئے۔ مگر جب اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲؐکو قریش سے مبعوث کیا تو ہم نے آپ کی پیروی اختیا ر کرلی اور انھوں نے آپؐ کا انکار کردیا۔‘‘
رہی جامع ترمذی کی وہ حدیث جو آپ نے نقل فرمائی ہے، تو اس کا مضمون تو آپ ہی بتا رہا ہے کہ استدعا نبی سے کی گئی تھی کہ آپؐ دعا فرمائیںاور آپؐ نے ہدایت فرمائی کہ اچھا تو اﷲ تعالیٰ سے دعا کر کہ’’خدایا! میں تیرے نبیؐ کے واسطے سے تیرے حضور اپنی حاجت لے کر آیا ہوں۔تو میرے حق میں اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سفارش قبول کر۔‘‘اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ نبی صلی اﷲعلیہ وسلم نے خود بھی اس کے حق میں دعا فرمائی اور اس سے بھی فرمایا کہ میرے واسطے سے تو بھی اپنی حاجت طلب کر اور میری سفارش قبول کیے جانے کی بھی دعا مانگ۔ یہ تو دعا کی بالکل ایک فطری صورت ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ جیسے کوئی شخص مجھ سے کہے کہ فلاں حاکم کے پاس چل کر میری سفارش کرو اور میں سفارش کرنے کے ساتھ ساتھ اس شخص سے بھی کہوں کہ تو خود بھی حاکم سے عرض کر کہ میں انھیں سفارشی بنا کر لایا ہوں،آپ ان کی سفارش قبول کرکے میری حاجت پوری کردیں۔ یہ معاملہ اور ہے۔اس کے برعکس یہ ایک بالکل دوسرا طریق معاملہ ہے کہ کوئی شخص مجھ سے اجازت لیے بغیر خود ہی حاکم کے پاس پہنچ جائے اور اپنی جو حاجت بھی چاہے میرا واسطہ دے کر پیش کردے۔اس دوسری صورت کو آخر پہلی صورت پر کیسے قیاس کیا جاسکتا ہے؟ دلیل پہلی صورت کی پیش کرنا اور اس سے جواز دوسری صورت کا نکالنا کسی طرح درست نہیں۔ دوسری صورت کا جواز ثابت کرنے کے لیے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ایسا قول ملنا چاہیے جس میں آپؐ نے اپنے تمام نام لیوائوں کو عام اجازت مرحمت فرمائی ہو کہ جس کا جی چاہے اپنی حاجت میرا واسطہ دے کر اﷲ سے طلب کرلے۔
(ترجمان القرآن، جمادی الاولیٰ۳۷۲اھ،فروری۹۵۳اء)

قصاص اور دیت:

سوال: قصاص اور دیت کے بارے میں چنداستفسارات تحریر خدمت ہیں۔ان کے جوابات ارسال فرمائیں:
(الف)مقتول کے ورثا میں سے کوئی ایک وارث دیت لے کر یا بغیر دیت لیے اگر اپنا حق قاتل کو معاف کردے تو کیا سزائے موت معاف ہو سکتی ہے؟ اس میں اقلیت واکثریت کا کوئی لحاظ رکھا جاسکتا ہے یا نہیں؟مثلاً تین بیٹوں میں سے ایک نے قصاص معاف کردیا،باقی دو قصاص لینے پر مصر ہیں تو قاضی کو کیا شکل اختیا رکرنی ہوگی؟
(ب) اگر مقتول کے ورثا دیت لینے پر آمادہ ہیں لیکن قاتل اپنی عزت کے باعث مطلوبہ دیت کی ادائیگی سے قطعاً معذور ہے، تو کیا قاضی اس کے ورثا کودیت ادا کرنے پر مجبور کرسکتا ہے؟ اگر کرسکتا ہے تو کیا اس سے ورثا کو بے گناہ سزا نہیں مل رہی ہے؟
(ج) اگر قاتل کے ورثا ہی نہیں ہیں یا اگر ہیں تو وہ اتنے مفلس ہیں کہ دیت ادا کرنا چاہیں بھی تو نہیں ادا کرسکتے،تو کیا ایسی صورت میں قاتل کو قصاص یا دیت کے متبادل سزا(از قسم حبس ومشقّت وغیرہ) تجویز ہوسکتی ہے یا نہیں؟اگر نہیں تو کیا صورت اختیار کی جائے گی؟
(د) موجودہ قانون میں ہائی کورٹ میں اپیل کے بعدبھی اگر قاتل کو پھانسی کی سزا تجویزہوجائے تو پھر صدر حکومت یا گورنرجنرل کے سامنے رحم کی اپیل ہوتی ہے جس میں سزا کے تغیرکا امکان رہتا ہے۔اسلامی نقطۂ نظر سے یہ صورت کس حد تک جائز ہے؟

جواب: (۱)مقتول کے ورثا میں سے کوئی ایک بھی اگر قاتل کو اپناحق معاف کردے یا دیت لینا قبول کر لے تو قصاص لازماً ساقط ہوجائے گا اور باقی وارثوں کو دیت پر راضی ہونا پڑے گا۔ اس معاملے میں اکثریت واقلیت کا سوال اُٹھانا صحیح نہیں ہے۔سوال صرف یہ ہے کہ جس وارث نے عفو یا قبول دیت کے ذریعے سے قاتل کو زندہ رہنے کی اجازت دی ہے، اس کی اجازت آخر قصاص کی صورت میں کیسے نافذ ہوسکتی ہے؟مثال کے طور پر اگر تین وارثوں میں سے ایک نے قاتل کو معاف کردیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ مقتول کی جان کے ایک تہائی حصے کو زندہ رہنے کا حق حاصل ہوگیا۔اب کیایہ ممکن ہے کہ باقی دو وارثوں کے مطالبے پر صرف دو تہائی جان لی جاسکے اور ایک تہائی جان کو زندہ رہنے دیا جائے؟اگر یہ ممکن نہیں ہے تو لامحالہ باقی دو وارثوں کو قبول دیت پر مجبور ہونا پڑے گا۔یہی رائے ہے جو حضرت عبداﷲؓ بن مسعود نے اس طرح کے ایک مقدمے میں ظاہر کی تھی اور حضرت عمرؓ نے اسی پر فیصلہ فرمایا۔چنانچہ مبسوط میں ہے: قال ابن مسعود اری ھذا قد احیا بعض نفسہ فلیس للآخر ان یتلفہ فامضی عمر القضاء علی رأیہ (جلد۲۶،صفحہ۱۵۸) یعنی ابن مسعودؓ نے کہاکہ میرے نزدیک ایک وارث نے جب قاتل کی جان کے ایک حصے کو حق حیات بخش دیا تو دوسر ے کو اسے تلف کرنے کا حق نہ رہا۔اسی رائے پر حضرت عمرؓ نے فیصلہ فرما دیا۔
(ب) قاضی یقینا یہ حق رکھتا ہے کہ قاتل کے اولیا کو دیت ادا کرنے پر مجبور کرے۔حمل بن مالک والی روایت میں صاف مذکور ہے کہ نبیؐ نے اولیائے قاتل کو خطاب فرمایا: قُوْمُوْا فَدُوْا ’’اُٹھو اور دیت ادا کرو۔‘‘ اس حدیث سے یہ بات تو ثابت ہوجاتی ہے کہ دیت ادا کرنے کی ذمہ داری میں قاتل کے ساتھ اس کے اولیا بھی شریک ہیں۔ البتہ اس امر میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے کہ دیت ادا کرنے کے معاملے میں قاتل کے اولیا (یا عاقلہ) کن لوگوں کو قرار دیا جائے گا؟شافعیہ کے نزدیک’’عاقلہ‘‘ سے مراد ورثا یاعصبہ ہیں،اور حنفیہ کے نزدیک وہ تمام لوگ عاقلہ ہیں جو زندگی کے معاملات میں ایک شخص کے پشت پناہ اور سہارا بنتے ہوں،خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا ہم پیشہ برادری والے،یا وہ لوگ جو عہد وپیمان کی بنا پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کے پابند ہوں۔شافعیہ نے جو رائے دی ہے وہ صرف اس معاشرے کے لیے موزوں ہے جس میں قبائلی سسٹم رائج ہو۔ لیکن حنفیہ کی رائے ان معاشروں میں بھی چل سکتی ہے جن میں قبیلے کے بجائے دوسرے نسبی یا معاشی یا تمدنی روابط کی بنا پر لوگ ایک دوسرے کے پشت پناہ بنتے ہوں۔حنفیہ کی رائے کے مطابق ایک سیاسی پارٹی بھی اپنے ایک فرد کی عاقلہ بن سکتی ہے،کیوں کہ اس کے ارکان زندگی کے اہم معاملات میں ایک دوسرے کے حامی ومددگار ہوتے ہیں، اور بڑی حد تک ایک دوسرے کی ذمہ داریوں میں شریک سمجھے جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب معاشرے کی بنیادیں قبائلی نظام کی بہ نسبت زیادہ وسیع ہوگئیں تو حضرت عمرؓ نے ایک فوجی کی دیت کا ذمہ دار اس کے پورے لشکر کو ٹھیرایا۔ چنانچہ فتح القدیر میں ہے:
فانہٗ لمادون الداوین جعل العقل علٰی اھل الدیوان وکان ذٰلک بمحضرمن الصحابۃ رضی اللّٰہ عنھم من غیر نکیر منھم (جلد۸، صفحہ۴۲)
’’حضرت عمرؓ نے جب عسکری نظام قائم کیا تو دیت کو پورے اہل لشکر پر عائد کیا۔آپؓ کا یہ فعل صحابہؓ کی ایک مجلس میں انجام دیا گیا اور انھوں نے اس پر کوئی اعتراض نہ کیا۔‘‘
رہا آپ کا یہ سوال کہ اولیا یا عاقلہ پر دیت عائد کرنا گنہگار کی سزا بے گناہوں کو دینے کا ہم معنی تو نہیں ہے؟تو اس کا جواب آپ خود پالیتے اگر اس امر پر غور فرماتے کہ ایک شخص اجتماعی زندگی کے اندر رہتے ہوئے قتل جیسے اجتماع کش فعل کا ارتکاب بالعموم اپنے حمایتیوں کے بل بوتے پر ہی کیا کرتا ہے۔اگر وہ لوگ جن کی حمایت اور پشتیبانی پر وہ بھروسا رکھتا ہے،یہ جا ن لیں کہ اس کی ایسی حرکات کی ذمہ داری میں وہ بھی شریک ہوں گے،تو اسے قابو میں رکھنے کی خود کوشش کریں گے اور اسے ایسی چھوٹ نہ دیں گے کہ وہ دوسروں کی جانیں لیتا پھرے۔ کیا عجب ہے کہ دیت کے ذمہ دار اولیا کے لیے ’’عاقلہ‘‘ کا لفظ اسی رعایت سے اختیار کیا گیا ہو۔عقل کے معنی آپ جانتے ہی ہیں کہ روکنے اور باندھنے کے ہیں۔شاید ابتدائً اس لفظ کو اختیار کرنے میں یہی مناسبت پیش نظر رہی ہو کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا کام یہ ہے کہ آدمی کو قابو میں رکھیں اور ایسا بے قابو نہ ہونے دیں کہ وہ قتل وغارت کا ارتکاب کرنے لگے۔
(ج) اگر قاتل ایک لاوارث آدمی ہو یا اس کا قریب تر حلقۂ اولیا دیت ادا کرنے کے قابل نہ ہو تو اس صورت میں صحیح یہ ہے کہ اس کی دیت کا بوجھ وسیع تر حلقۂ اولیا پر ڈالا جائے،حتیٰ کہ بالآخر اس کا بوجھ ریاست کے خزانے پر پڑنا چاہیے۔کیوں کہ ایک شہری کاو سیع تر عاقلہ اس کی ریاست ہی ہے۔اس قول کا ماخذ وہ حدیث ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رئیس مملکت ہونے کی حیثیت سے فرمایا ہے:
من ترک کلاُّ فالیَّ ومن ترک مال فلورثتہ وانا وارث من لا وارث لہ اعقل لہ وارثہ۔ (ابو دائود، کتاب الفرائض)
’’یعنی اگر کوئی شخص بے سہارا اہل وعیال چھوڑے تو ان کی کفالت میرے ذمے ہے، اور اگر کوئی مال ودولت چھوڑے تو وہ اس کے ورثا کے لیے ہے،اور میں لاوارث کا وارث ہوں،اس کی طرف سے دیت بھی دوں گا اور اس کاورثہ بھی لوںگا۔‘‘
اس حدیث کی رُو سے ریاست ہر اس شہری کی وارث ہے جو لاوارث مرگیا ہو اور ہر اس شہری کی عاقلہ ہے جس کی دیت ادا کرنے والا کوئی نہ ہو۔خود عقل کی رو سے بھی ایسا ہی ہونا چاہیے، کیوں کہ ریاست ملک میں امن کی ذمہ دار ہے۔اگر وہ قتل کو روکنے میں ناکام رہی ہے تو مقتول کے وارثوں کے نقصان کی تلافی یا تو اسے قاتل کے وارثوں اور حامیوں سے کرانی چاہیے یا پھر خود کرنی چاہیے۔
دیت ادا نہ کرسکنے کی صورت میں قاتل کو کوئی متبادل سزا دینے کا ثبوت کتاب وسنت میں مجھے کہیں نہیں ملا،نہ اس بار ے میں سلف سے کوئی معتبر قول منقول ہوا ہے۔
(د) یہ بات اسلامی تصورِ عدل کے خلاف ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد کسی کو سزا کے معاف کرنے یا بدلنے کا اختیارحاصل ہو۔ عدالت اگر قانو ن کے مطابق فیصلہ کرنے میں غلطی کرے تو امیر یا صدر حکومت کی مدد کے لیے پریوی کونسل کی طرز کی ایک آخری عدالت مرافعہ قائم کی جاسکتی ہے جس کے مشورے سے وہ ان بے انصافیوں کا تدارک کرسکے جو نیچے کی عدالتوںکے فیصلوں میںپائی جاتی ہوں۔ مگرمجرد’’ رحم‘‘ کی بنا پر عدالت کے فیصلوں میں رد وبدل کرنا اسلامی نقطۂ نظر سے بالکل غلط ہے۔ یہ ان بادشاہوں کی نقالی ہے جو اپنے اندر کچھ شانِ خدائی رکھنے کے مدعی تھے یا دوسروں پر اس کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے۔ (ترجمان القرآن۔رمضان،شوال ا۳۷اھ، جون وجولائی۹۵۲اء)

قتل خطا اور اس کے احکام:

سوال: ایک پنساری نے غلطی سے ایک خریدار کو غلط دوا دے دی جس سے خریدار خود بھی ہلاک ہوگیا اور دو معصوم بچے(جن کو خریدار نے وہی دوا بے ضرر سمجھ کردے دی تھی)بھی ضائع ہوئے۔یہ غلطی پنساری سے بالکل نادانستہ ہوئی۔خون بہا اور خدا کے ہاں معافی کی اب کیاسبیل ہے؟نیز یہ کہ خوں بہا معاف کرنے کا کون مجاز ہے؟

جواب: اسلامی قانو ن میں قتل کی چار قسمیں ہیں۔عمد،خطا، شبہ عمد، اور وہ جو ان تینوں میں سے کسی کی تعریف میں نہ آتا ہو۔یہ فعل جس کا ارتکاب پنساری سے ہوا ہے،پہلی تین قسموں میں شمار نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ یہ عمد اور شبہ عمد تو بہرحال نہیں ہے،اور یہ قتل ِ خطا بھی نہیں ہے،اس لیے کہ قتل خطاکی تعریف یہ ہے کہ آدمی کسی قاتلانہ ہتھیار کو کسی دوسری چیز پر چلائے مگر غلطی سے وہ لگ جائے کسی انسان کو جسے وہ مارنا نہ چاہتا تھا۔اب ظاہر ہے کہ یہ فعل چوتھی قسم ہی میں آتا ہے جس میں سرے سے کسی کو ضرر پہنچانا مقصود ہی نہیں ہوتا،نہ کوئی ضرر رساں چیز جانتے بوجھتے استعمال ہی کی جاتی ہے،بلکہ بھولے سے یا غفلت سے موت واقع ہوجاتی ہے۔
لیکن فقہائے اسلام نے اس چوتھی قسم کا حکم بھی وہی قرار دیا ہے جو قرآن مجید میں قتل خطا کا حکم بیان فرمایا گیا ہے۔یعنی اگر مقتول اسلامی ریاست کا شہری ہو تو قاتل کو کفارہ بھی دینا ہوگا اور خوں بہا بھی۔ کفارہ تو خود قرآن مجید میں بتادیا گیا ہے کہ وہ ایک مومن غلام کو آزاد کرنا یا پے درپے دومہینے کے روزے رکھنا ہے۔رہا خوں بہا، تو اس کی کوئی مقدار قرآن میں نہیں بتائی گئی۔ مگر احادیث سے یہ بات بتواتر ثابت ہے کہ قتل خطا کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹ خون بہا مقرر فرمادیا تھا جن کی قیمت اس زمانے میں دس ہزار درہم کے برابر تھی۔(۰اہزاردرہم =۲۲سیر۲۔۱ ۱۲چھٹانک چاندی)
یہ خوں بہا کا معاملہ اس لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ قرآن مجیدمیں اس کا حکم دیا گیا ہے اور صاف ارشاد ہوا ہے کہ اﷲتعالیٰ سے قتل ِ خطاکی معافی حاصل کرنے کے لیے کفارے کے ساتھ اس کا ادا کرنا بھی ضروری ہے۔اب اگر ہمارا ملکی قانون قتل ِ خطا کی کوئی دوسری سزا دے،خواہ وہ قید ہو یا جرمانہ، تو یقینا وہ اس کفارے اور تاوان کا بدل نہیں ہوسکتی جو آخرت میں ایک مسلمان کو خدا کے حضور بری الذمہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔اس لیے ہم ذرا وضاحت کے ساتھ خوں بہا کے قاعدے کو یہاں بیان کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کو اس سے ٹھیک ٹھیک واقفیت ہوجائے۔
۱۔ خوں بہا ادا کرنے کی ذمہ داری شریعت نے صرف قاتل پر نہیں ڈالی ہے بلکہ اس کے ’’عاقلہ‘‘ کو اس کے ساتھ برابرکا شریک کیا ہے۔
۲۔ ’’عاقلہ‘‘ سے مراد فقہائے حنفیہ کی تحقیق کے مطابق ایک شخص کے اعوان و انصار ہیں۔اگر وہ شخص کسی سرکاری محکمے کا آدمی ہو تو اس محکمے کے تمام ملازم اس کے عاقلہ ہیں۔ورنہ بدرجۂ آخر خزانۂ سرکار اس کی دیت ادا کرے گا۔
۳۔ عاقلہ پر قتل ِ خطا کی دیت کا یہ بار اس لیے نہیں ڈالا گیا ہے کہ ایک شخص کے گناہ کی سزا سب کو دی جائے، بلکہ اس لیے ڈالا گیا ہے کہ ایک بھائی پر احیاناً جو بار گناہ آپڑا ہے،اس کی ذمہ داری ادا کرنے میں اس سے قریبی تعلق رکھنے والے سب لوگ اس کا ہاتھ بٹائیں، اور تنہا اس پر اتنا بوجھ نہ پڑ جائے کہ اس کی کمر توڑ دے۔ نیزجس خاندان کو اس کی غلطی کی وجہ سے جانی نقصان اُٹھاناپڑا ہے،اس کی تلافی بھی آسانی سے ہوجائے۔ یہ ایک طرح کا صدقہ یا فی سبیل اﷲ چندہ ہے جو ہر اس شخص کی مدد کے لیے اس کے وسیع حلقۂ اقارب سے حاصل کیا جاتا ہے جس سے کوئی مہلک غلطی سرزد ہوجائے۔ہم اس کو اخلاقی انشورنس سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔
۴۔ عاقلہ سے پورا خون بہا بیک وقت وصول نہیں کیا جائے گا بلکہ تین سال کی مدت میں تھوڑا تھوڑا کرکے لیا جائے گا۔اگر عاقلہ کی وسعت کو پیش ِ نظر رکھا جائے تو انداز ہ کیا جاسکتا ہے کہ فی کس دو تین آنے ماہوار سے زیادہ چندے کا بار کسی شخص پر نہیں پڑسکتا۔
۵۔ یہ چندہ صرف مردوں سے لیا جائے گا۔عاقلہ میں عورتیں شامل نہیں ہیں۔
۶۔ خون بہا لینے کے حق دار مقتول کے وارث ہوتے ہیں۔جس قاعدے سے میراث تقسیم ہوتی ہے،اسی قاعدے سے یہ رقم بھی وارثوں میں تقسیم کی جائے گی۔
۷۔ مقتول کے وارث ہی خون بہا معاف کرنے کے حق دار ہیں،اور یہ معافی قرآن کی زبان میں ان کی طرف سے قاتل پر صدقہ ہے۔
ان احکام پر اگر کوئی شخص غور کرے تو وہ بلا تامل یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ یہ طریقہ اخلاقی وتمدنی حیثیت سے موجودہ ملکی قانون کی بہ نسبت زیادہ افضل ہے۔ اس میں ایک طرف ۶۰روزوں کا کفارہ اس شخص کے دل کو پاک کرتا ہے جس کی غفلت یا غلطی سے ایک جان ضائع ہوئی۔دوسری طرف یہی کفارہ آس پاس کے سب لوگوں کو چوکنا کردیتا ہے تاکہ وہ ایسی غلطیوں اور غفلتوں میں مبتلا ہونے سے بچیں۔ اس میں ایک طرف خوں بہا ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ اس خاندان کے آنسو پونچھے جائیں جس کا ایک فرد قاتل کی غلطی کا شکار ہوا ہے۔ دوسری طرف اس خوں بہا کا بار عاقلہ پر ڈال کر اس کی ادائی کو آسان بنادیا گیا ہے۔ پھر یہ ادائے دیت کی مشترک ذمہ داری ایک طرف عاقلہ کو چوکناکرتی ہے کہ وہ اپنے افراد کی نگرانی کریں، تو دوسری طرف یہ ہر ہر فرد میں یہ احسا س بھی پیدا کرتی ہے کہ وہ ایک ہم درد اور شریکِ رنج وراحت برادری سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ ایسی برادری سے جس میں’’کسے رابا کسے کارے نباشد۔‘‘ ( ترجمان القرآن، ذی الحجہ ا۳۷اھ، ستمبر۹۵۲اء)

رشوت اور اضطرار:

سوال: (۱) حالت اضطرار کیا ہے؟ کیا اضطرار کے بھی حالات او رماحول کے لحاظ سے مختلف درجات ہیں؟
(۲) موجودہ حالات اور موجودہ ماحول میں کیا مسلمانوں کے لیے کسی صورت میں بھی رشوت جائز ہوسکتی ہے؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے رشوت کی ایک جامع تعریف بھی بیان کردیجیے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کس قسم کے معاملات رشوت کی تعریف میں آتے ہیں؟

جواب: اضطرار یہ ہے کہ آدمی کو شریعت کی مقرر کی ہوئی حدود سے کسی حد پر قائم رہنے میں ناقابل برداشت نقصان یا تکلیف لاحق ہو۔ اس معاملے میں آدمی اور آدمی کی قوت برداشت کے درمیان بھی فرق ہے اور حالات اور ماحول کے لحاظ سے بھی بہت کچھ فرق ہوسکتا ہے۔ اسی لیے اس امر کا فیصلہ کرنا کہ کون شخص کس وقت کن حالات میں مضطر ہے،خود اس شخص کا کام ہے جو اس حالت میں مبتلا ہو۔اسے خود ہی اﷲ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور آخرت کی جواب دہی کا احساس کرتے ہوئے یہ رائے قائم کرنی چاہیے کہ آیا وہ واقعی اس درجہ مجبور ہوگیا ہے کہ خدا کی کوئی حد توڑ دے؟
موجودہ حالات ہوں یا کسی اور قسم کے حالات، رشوت لینا تو بہرحال حرام ہے۔ البتہ رشوت دینا صرف اس صورت میں بربنائے اضطرار جائز ہوسکتا ہے جب کہ کسی شخص کو کسی ظالم سے اپنا جائز حق حاصل نہ ہورہا ہو اور اس حق کو چھوڑ دینا اس کو ناقابل ِ برداشت نقصان پہنچاتا ہو اور اوپر کوئی بااختیار حاکم بھی ایسا نہ ہو جس سے شکایت کرکے اپنا حق وصول کرنا ممکن ہو۔
رشوت کی تعریف یہ ہے کہ’’جو شخص کسی خدمت کا معاوضہ پاتا ہو، وہ اسی خدمت کے سلسلے میں ان لوگوں میں سے کسی نوعیت کا فائدہ حاصل کرے جن کے لیے یا جن کے ساتھ اس خدمت سے تعلق رکھنے والے معاملات انجام دینے کے لیے وہ مامور ہو،قطعِ نظر اس کے کہ وہ لوگ برضا ورغبت اسے وہ فائدہ پہنچائیں یا مجبوراً۔ جو عہدہ دار یا سرکاری ملازمین تحفے تحائف کو اس تعریف سے خارج ٹھیرانے کی کوشش کرتے ہیں،وہ غلطی پر ہیں۔ ہر وہ تحفہ ناجائز ہے جو کسی شخص کو ہرگز نہ ملتااگر وہ اس منصب پر نہ ہوتا۔البتہ جو تحفے آدمی کو خالص شخصی روابط کی بنا پر ملیں،خواہ وہ اس منصب پر ہو یا نہ ہو، وہ بلاشبہ جائز ہیں۔ (ترجمان القرآن،رمضان شوال ا۳۷اھ،جولائی۹۵۲اء)

دارالکفرمیں مسلمانوں کی مشکلات:

سوال: برطانیہ کے قیام کے دوران میں احکام شریعت کی پابندی میں مجھے مندرجہ ذیل دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ براہِ کرم صحیح رہنمائی فرما کر ممنون فرمائیں:
(۱) پہلی دقت طہار ت او ر نماز کے بارے میں ہے۔ مجھے سویرے نو بجے اپنے ہوٹل سے نکلنا پڑتا ہے۔اب اگر شہر میں گھومتے ہوئے رفع حاجت کی ضرورت پڑے تو ہر جگہ انگریزی طرز کے بیت الخلا بنے ہوئے ہیں،جہاں کھڑے ہوکر پیشاب کرنا پڑتا ہے۔اس سے کپڑوں پر چھینٹیں پڑنا لازمی ہے۔اجابت کے لیے صرف کاغذ میسر ہوتے ہیں۔ایک بجے ظہرکا وقت ہوجاتا ہے۔اس وقت پانی کسی عام جگہ دستیاب نہیں ہوسکتا اور قیام گاہ تک آنے جانے کے لیے زحمت کے علاوہ کم ازکم ایک شلنگ خرچ ہوجاتا ہے۔نماز کے لیے کوئی پاک جگہ بھی نہیں مل سکتی۔ہوٹل میں گو پانی اورلوٹا میسر ہیں مگر پتلون کی وجہ سے استنجا نہیں ہوسکتا،البتہ وضو کیا جاسکتا ہے۔مگر اس میں بھی یہ دقت ہے کہ پانی زمین پر نہ گرے۔ہاتھ دھونے سے لے کر سر کے مسح تک تو خیر باسن(انگریزی بیسن) میں کام ہوجاتا ہے۔لیکن پائوں دھونے کے لیے باسن پر رکھنے پڑتے ہیں جو یہاں کی معاشرت کے لحاظ سے انتہائی معیوب ہے۔
(۲) دوسری دشواری یہ ہے کہ یہاں لوگ عام طور پر کتے پالتے ہیں۔ملاقات کے وقت پہلے کتے ہی استقبال کرتے ہیں اور کپڑوں کو منہ لگاتے ہیں۔ انتہائی کوشش کے باوجود اس مصیبت سے بچنامحال ہے۔ کیا ایسی صورت میں جرابوں اور کپڑوں کو بار بار دھلوایا جائے؟
(۳) تیسری دقت یہ ہے کہ دفاتر میں عموماًعورتیں ملازم ہیں،تعارف کے وقت وہ مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھاتی ہیں۔ اگر ہم ہاتھ نہ ملائیں تو اسے وہ اپنی توہین سمجھتی ہیں۔اسی طرح راستوں میں بھی اتنی بھیڑ ہوتی ہے کہ اگر پیدل چلتے وقت ہم نگاہ نیچی رکھیں تو دھکا لگ جانے کا ہر وقت خطرہ رہتا ہے۔
(۴) چوتھی بات سینما سے متعلق دریافت طلب ہے۔یہاں بعض سینما ایسے ہیں جن میں صرف دنیا کی خبریں دکھائی جاتی ہیں یا دنیا کے بعض اہم واقعات پردۂ فلم پر دکھاتے ہیں۔مثلاً حال ہی میں کے،ایل،ایم کا جو جہاز گرا تھا،اس کے گرنے کی فلم دکھائی گئی تھی۔اسی طرح بعض اوقات کارٹون دکھائے جاتے ہیں اور ان میں ایسی شکلیں دکھائی جاتی ہیں جن کا دنیا میں کہیں وجود نہیں ہے۔ اس طرح کے معلوماتی فلم دیکھنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: آپ کے خط کو پڑھ کر ایک آدمی اندازہ کرسکتا ہے کہ دینی حس رکھنے والے مسلمان کو دارالکفر کے قیام میں کیسی کیسی زحمتوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور اس سے آدمی کی سمجھ میں یہ بات بھی آسکتی ہے کہ ہمارے فقہا نے مسلمانوں کے لیے دارالکفر میں رہنے اور شادی بیاہ کرنے کو کیوں مکروہ کہا تھا، اور کس لیے یہ شرط لگائی تھی کہ اگر کوئی شخص بضرورت وہاں جاکر رہے تو کم ازکم سال میں ایک مرتبہ ضرور واپس آئے۔ آپ نے جن مشکلات کا ذکر کیا ہے،ان کا حل مختصراًپیش کیا جاتا ہے:
(۱) جہاں بیٹھ کر پیشاب کرنا ممکن نہ ہو وہاں کھڑے ہوکر کرنے میں مضائقہ نہیں۔ اگر احتیاط برتی جائے تو کپڑے چھینٹوں سے بچائے جاسکتے ہیں۔اگر باہرکہیں رفع حاجت کے لیے پانی استعمال کرنا ممکن نہ ہو تو کاغذ استعمال کرلیں اور بعد میں قیام گاہ پر آکر پانی سے استنجا کریں۔ وضو اگر باہر کرنا پڑے اور پائوں دھونے ممکن نہ ہوں تو جرابوں پر یا جرابوں سمیت جوتے پر مسح کرلیں۔نماز پڑھنے کے لیے اس امر کے علم کی ضرورت نہیں ہے کہ جگہ پاک ہے،بلکہ ہر خشک جگہ کو پاک ہی سمجھنا چاہیے جب تک کہ اس کے ناپاک ہونے کا علم نہ ہو۔ اس لیے محض شک اور وہم کی بنا پر نما زقضا کرنا درست نہیں۔اگر طبیعت کا وہم دور نہ ہو تو اپنا ہی کوٹ اُتار کر کہیں بچھا لیجیے اور اس پر پڑھ لیجیے۔
(۲) کتوں سے اُس ملک میں بچنا سخت مشکل ہے۔ آپ اگر کوشش کے باوجود نہ بچ سکیں تو جس جگہ ان کا منہ لگ گیا ہو،وہاں وضو کرتے وقت رفع وسواس کے لیے بس پانی کے چھینٹے دے لیا کیجیے۔
(۳) عورتوں سے ملاقات کے وقت بہت شائستگی سے کہہ دیا کیجیے کہ ہماری تہذیب میں عورتوں سے ہاتھ ملانا معیوب ہے،اس لیے آپ برا نہ مانیںاگر میں ہاتھ نہ ملائوں۔ غض بصر کے معنی نگاہ نیچے کرنے کے نہیں بلکہ نگاہ بچانے کے ہیں۔ آپ خواہ مخواہ گھو ر کر کسی خاتون کو نہ دیکھیں۔ ایک نگاہ پڑ جائے تو دوسری بار نگاہ نہ ڈالیں۔نگاہ کو بچانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔صرف نظر کے زاویے کو تھوڑا سا بدل لینا کافی ہوجاتا ہے۔
(۴) جس سینما میں علمی یا واقعاتی فلم دکھائے گئے ہوں اس کے دیکھنے میں مضائقہ نہیں۔ہمارے ملک میں تو سینما ہائوس جانا بجائے خود ایک موضع تہمت ہے،اس لیے علمی اور واقعاتی فلم دیکھنے کے لیے بھی اس خرابات میں قدم نہیں رکھا جاسکتا۔انگلستان میں آپ چاہیں تو اس طرح کے فلم دیکھ لیں۔ ( ترجمان القرآن،رمضان،شوال ا۳۷اھ، جون،جولائی۹۵۲اء)

جرابوں پر مسح:

سوال: موزوں اور جرابوں پر مسح کے بار ے میں علما میں اختلاف پایا جاتا ہے۔میں آج کل تعلیم کے سلسلے میں سکاٹ لینڈ کے شمالی حصے میں مقیم ہوں۔یہاں جاڑے کے موسم میں سخت سردی پڑتی ہے اور اونی جراب کا ہر وقت پہننا ناگزیر ہے۔کیا ایسی جراب پر بھی مسح کیا جاسکتا ہے؟براہِ نوازش اپنی تحقیق احکام شریعت کی روشنی میں تحریر فرمائیں۔

جواب: جہاں تک چمڑے کے موزوں پر مسح کرنے کا تعلق ہے،اس کے جواز پر قریب قریب تمام اہل سنت کا اتفاق ہے۔ مگر سوتی اور اونی جرابوں کے معاملے میں عموماً ہمارے فقہا نے یہ شرط لگائی ہے کہ وہ موٹی ہوں اور شفاف نہ ہوں کہ ان کے نیچے سے پائوں کی جلد نظر آئے،اور وہ کسی قسم کی بندش کے بغیر خود قائم رہ سکیں۔
میںنے اپنی امکانی حد تک یہ تلاش کرنے کی کوشش کی کہ ان شرائط کا ماخذ کیا ہے، مگر سنت میں ایسی کوئی چیز نہ مل سکی۔سنت سے جو کچھ ثابت ہے،وہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جرابوں اور جوتو ں پر مسح فرمایا ہے۔ نسائی کے سوا کتب سنن میں اور مسند احمد میں مغیرہ ؓبن شعبہ کی روایت موجود ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور مَسَحَ عَلَی الجوربین والنعلین(اپنی جرابوں اور جوتوں پر مسح فرمایا)۔ ابو دائود کا بیان ہے کہ حضرت علی ؓ،عبداﷲؓ بن مسعود، براء بن عازب، انسؓ بن مالک، ابوامامہؓ، سہلؓ بن سعد اور عمروؓبن حریث نے جرابو ں پر مسح کیا ہے۔ نیزحضرت عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ فعل مروی ہے۔ بلکہ بیہقی نے ابن عباسؓ اور انسؓ بن مالک سے اور طحاوی نے اوس بن ابی اوس سے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ حضورؐ نے صرف جوتوں پر مسح فرمایا ہے۔اس میں جرابوں کا ذکر نہیں ہے۔ اور یہی عمل حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔ان مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف جراب اور صرف جوتے اور جرابیں پہنے ہوئے جوتے پر مسح کرنا بھی اسی طر ح جائز ہے جس طرح چمڑے کے موزوں پر مسح کرنا۔ ان روایات میں کہیں یہ نہیں ملتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فقہا کی تجویز کردہ شرائط میں سے کوئی شرط بیان فرمائی ہو، اور نہ یہی ذکر کسی جگہ ملتا ہے کہ جن جرابوں پر حضورؐنے اور مذکورۂ بالا صحابہ نے مسح فرمایا،کس قسم کی تھیں۔اس لیے میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ فقہا کی عائد کردہ ان شرائط کا کوئی ماخذ نہیں ہے۔ اور فقہا چوں کہ شارع نہیں ہیں،اس لیے ان کی شرطوں پر اگر کوئی عمل نہ کرے تو وہ گناہ گار نہیں ہوسکتا۔
امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کی رائے یہ ہے کہ جرابوں پر اس صورت میں آدمی مسح کرسکتا ہے جب کہ آدمی جوتے اوپر سے پہنے رہے۔لیکن اوپر جن صحابہ کے آثار نقل کیے گئے ہیں،ان میں سے کسی نے بھی اس شرط کی پابندی نہیں کی ہے۔
مسح علی الخفین پر غور کرکے میں نے جو کچھ سمجھا ہے،وہ یہ ہے کہ دراصل یہ تیمم کی طرح ایک سہولت ہے جو اہل ایمان کو ایسی حالتوں کے لیے دی گئی ہے جب کہ وہ کسی صورت سے پائوں ڈھانکے رکھنے پر مجبور ہوں اور بار بار پائوں دھونا ان کے لیے موجب نقصان یا وجہ مشقت ہو۔اس رعایت کی بنا اس مفروضے پر نہیں ہے کہ طہارت کے بعد موزے پہن لینے سے پائوں نجاست سے محفوظ رہیں گے،اس لیے ان کو دھونے کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ بلکہ اس کی بنا اﷲ کی رحمت ہے جو بندوں کو سہولت عطا کرنے کی مقتضی ہوئی۔لہٰذا ہر وہ چیز جو سردی سے یا راستے کے گرد وغبار سے بچنے کے لیے یا پائوں کے کسی زخم کی حفاظت کے لیے آدمی پہنے اور جس کے بار بار اُتارنے اور پھر پہننے میں آدمی کو زحمت ہو،اس پر مسح کیا جاسکتا ہے،خواہ وہ اونی جراب ہویا سوتی،چمڑے کا جوتا ہو یا کرمچ کا،یا کوئی کپڑا ہی ہو جو پائوں پر لپیٹ کر باندھ لیا گیا ہو۔
میں جب کبھی کسی کو وضو کے بعد مسح کے لیے پائوں کی طرف ہاتھ بڑھاتے دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ بندہ اپنے خدا سے کہہ رہا ہے کہ’’حکم ہو تو ابھی یہ موزے کھینچ لوں اور پائوں دھو ڈالوں، مگر چوں کہ سرکار ہی نے رخصت عطا فرما دی ہے،اس لیے مسح پر اکتفا کرتا ہوں۔‘‘ میرے نزدیک دراصل یہی معنی مسح علی الخفین وغیرہ کی حقیقی روح ہیں اور اس روح کے اعتبار سے وہ تمام چیزیں یکساں ہیں جنھیں ان ضروریات کے لیے آدمی پہنے جن کی رعایت ملحوظ رکھ کر مسح کی اجازت دی گئی ہے۔ (ترجمان القرآن۔رمضان،شوال ا۳۷اھ۔ جون،جولائی۹۵۲اء)

قطبین کے قریب مقامات میں نماز روزے کے اوقات:

سوال: میرا ایک لڑکا ٹریننگ کے سلسلے میں انگلستان گیا ہوا ہے،آج کل وہ ایک ایسی جگہ قیام رکھتا ہے جو قطب شمالی سے بہت قریب ہے۔وہ نمازوں اور روزوں کے اوقات کے لیے ایک اُصولی ضابطہ چاہتا ہے۔بارش، بادل اور دھند کی کثرت سے وہاں سور ج بالعموم بہت کم دکھائی دیتا ہے۔کبھی دن بہت بڑے ہوتے ہیں،کبھی بہت چھوٹے۔بعض حالات میں طلوع آفتاب اور غروب آفتاب میں بیس گھنٹے کا فصل ہو تا ہے۔ تو کیا ایسی صورت میں بیس گھنٹے یا اس سے زائد کا روزہ رکھنا ہوگا؟

جواب: جن ممالک میں چوبیس گھنٹے کے اندر طلوع وغروب ہوتا ہے،ان میں خواہ دن اور رات چھوٹے ہوں یا بڑے،نمازو ں اور روزوں کے اوقات انھی قاعدوں پر مقررکیے جائیں گے جو قرآن وحدیث میں بتائے گئے ہیں۔ یعنی فجر کی نماز طلوع آفتاب سے پہلے،ظہر کی نماز زوال آفتاب کے بعد، عصر کی نماز غروب آفتاب سے قبل، مغرب کی نماز غروب آفتاب کے بعد،اور عشا کی نماز کچھ رات گزرجانے پر۔اسی طرح روزہ بہرحال صبح صادق کے ظہور پر شروع ہوگا اور غروب آفتاب کے معاً بعد افطار کیا جائے گا۔ جہاں ظہر وعصر، یا مغرب وعشا میں فصل ممکن نہ ہو،وہاں جمع بین الصلوٰتین کرلیں۔
آپ کے صاحب زادے اپنی سہولت کے لیے انگلستان کی رصد گاہ سے دریافت کرلیں کہ ان کے علاقے میں آفتاب کے طلوع وغروب اور زوال کے اوقات کیا ہیں۔پھر ان اوقات کے لحاظ سے اپنی نمازوں کے اوقات مقرر کرلیں۔
روزے کے لیے وہاں کے دن کی بڑائی سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ابن بطوطہ نے روس کے شہر بلغار کے متعلق لکھا ہے کہ گرمی کے زمانے میں جب وہ وہاں پہنچا ہے تو رمضان کا مہینا تھا اور افطار کے وقت سے لے کر صبح صادق کے ظہور تک صرف دو گھنٹے کا وقت ملتا تھا۔اسی مختصر مدت میں وہاں کے مسلمان افطار بھی کرتے،کھانا بھی کھاتے،اور عشاکی نماز بھی پڑھ لیتے تھے۔ نماز عشاء سے فارغ ہوکر کچھ دیر نہ گزرتی تھی کہ صبح صادق ظاہر ہوجاتی اور پھر فجر کی نماز پڑھ لی جاتی تھی۔ (ترجمان القرآن۔ رمضان،شوال ا۳۷اھ۔ جون،جولائی۹۵۲اء)

برطانیہ میں ایک مسلمان طالب علم کی مشکلات:

سوال: یہاں آکر میں کچھ عجیب سی مشکلات میں مبتلا ہوگیا ہوں۔ سب سے زیادہ پریشانی کھانے کے معاملے میں پیش آرہی ہے۔اب تک گوشت سے پرہیز کیا ہے۔صرف سبزیوں پر گزارہ کررہا ہوں۔ سبزی بھی یہاں آپ جانتے ہیں صرف اُبلی ہوئی ملتی ہے اور وہ بھی زیادہ تر آلو۔ انڈا یوں بھی کم یاب ہے اور پھر اس پر راشن بندی ہے۔ہفتے میں دو تین انڈے مل سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عبداﷲ صاحب امام ووکنگ مسجد(لندن) سے ملا۔انھوں نے یہ بتایا کہ کلام پاک کی رُو سے ایک تو سو ر کا گوشت حرام ہے،دوسرے خون،تیسرے مردار اور چوتھے وہ جانور جو اﷲ کے سوا کسی دوسرے کے نام پر ذبح کیا جائے۔پھر انھوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں تک یہاں کے طریقہ ذبح کا تعلق ہے،اس سے شہ رگ کٹ جاتی ہے اور سارا خون نکل جاتا ہے۔ چوں کہ اس خون کا نکلنا طبی نقطۂ نظر سے ضروری ہے،لہٰذا اس کا یہاں خاص خیال رکھا جاتا ہے۔البتہ یہ ضرور صحیح ہے کہ گردن پوری طرح الگ کردی جاتی ہے،لیکن کلام پاک میں اس سلسلے میں کوئی ممانعت وارد نہیں۔ دوسرے یہ کہ یہاں جانور کسی کے نام پر ذبح نہیں کیے جاتے، بلکہ وہ تجارتی مال کی حیثیت سے سیکڑوں کی تعداد میں روزانہ ذبح ہوتے ہیں۔ اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اﷲ کا نام تو نہیں لیا جاتا لیکن کسی اور کا بھی نام نہیں لیاجاتا، پس وہ غیر اﷲ سے منسوب نہ ہونے کی وجہ سے کھایا جاسکتا ہے۔اس سلسلے میں ان سے بہت کچھ بحث رہی مگر طبیعت نہیں مانتی کہ یہ گوشت جائز ہوسکتاہے۔
پھر کھانے میں جو سوپ دیا جاتا ہے وہ کبھی کبھی توصرف سبزیوں سے بنا ہوا ہوتا ہے،مگر آج ہی اتفاق سے اس میں ایک ٹکڑا گوشت کا نکل آیا۔ شکایت کی تو معلوم ہوا کہ کبھی کبھی گوشت اور سبزی ملا کر بھی سوپ بنایا جاتا ہے۔ اب مشکل یہ ہے کہ جہاں سو دو سو آدمی اطمینان سے یہ سب کچھ کھا پی رہے ہوں وہاں دو چار آدمیوں کا لحاظ کون کرے گا؟ پھر مکھن،پنیر اور میٹھا کھانا بھی دستر خوانوں پر آتا ہے۔ ان چیزوں میں بھی حرام دودھ یا چربی کی آمیزش ہونے کے بارے میں قوی شبہ ہوتا ہے۔علاوہ بریں باورچی حرام کھانوں میں استعمال ہونے والے چمچے اُٹھا کر دوسرے کھانوں میں ڈالتے رہتے ہوںگے۔یہ کچھ عجیب پیچیدگی ہے جسے حل کرنے میں مشورہ مطلوب ہے۔
دوسری بات نمازوں کے متعلق دریافت طلب ہے۔صبح کی نماز کا وقت ۶بج کر۳۸منٹ تک رہتا ہے۔یہ تو اﷲ کے فضل وکرم سے ادا کرلیتا ہوں۔ ظہر کے لیے مشکل سے وقت ملتا ہے۔ساڑھے بارہ سے لے کر ڈیڑھ تک کھانے کے لیے وقت ملتاہے۔اسی ایک گھنٹے میں کلاس سے(mess) تک آنے جانے میں بھی وقت لگتا ہے اور اس میں وضو اور نماز کے لیے بھی وقت نکالتا ہوں۔ لیکن بہت ہی دقت ہوتی ہے۔عصر کے لیے سرے سے وقت ملتا ہی نہیں، کیوں کہ فرصت ساڑھے چار بجے ہوتی ہے اور ساڑھے چار بجے سے پانچبجے تک ناشتہ ہوتا ہے اور۴بج کر۴۸منٹ پر مغرب ہوجاتی ہے۔ناشتے کے فوراً بعد مغرب تو ادا کرلیتا ہوں،لیکن عصر رہ جاتی ہے۔ میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ ظہر اور عصر اور مغرب اور عشا کی نمازوں کو ملا کر پڑھنے کا کیا قاعدہ ہے۔ووکنگ مسجد کے امام صاحب بعض اوقات نمازوں کوملا کر پڑھتے ہیں۔
یہاں ہم بارہ طلبہ آئے ہوئے ہیں، جن میں سے مجھ سمیت کل پانچ لڑکے ایسے ہیں جو دین کا لحاظ رکھنا ضروری سمجھتے ہیں، اور بقیہ ایسے ہیں کہ ہم کو طرح طرح سے بے وقوف بناتے ہیں۔تاہم اﷲ کا شکر ہے کہ میں ان باتوں سے کبھی نہیں گھبراتا بلکہ صحیح بات معلوم کرکے اس پر عمل بھی کرنا چاہتا ہوں۔ان مسائل پر میں نے ہمیشہ اﷲ کو حاضرو ناظر جان کر غور کیا ہے اور اس سے ہمیشہ یہی توقع رکھی ہے کہ وہ مجھے ضرور صحیح راستے کی طرف ہدایت دے گا،مگر بشری کمزوریوں کی وجہ سے ڈرتا ہوں کہ کوئی غلط صورت نہ اختیار کر بیٹھوں۔اس لیے آپ سے یہ سوال کررہا ہوں۔

جواب: آ پ نے جن مسائل کے متعلق میری رائے دریافت کی ہے،ان کے بارے میں مختصراًعرض کرتا ہوں:
(۱) ذبیحے کی صحت کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ جانور کی شہ رگ کاٹ کر خون نکال دیا جائے۔ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس پر خدا کا نام لیا جائے۔قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ وَلَاتَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللہِ عَلَيْہِ الانعام 121:6 ’’جس پر خدا کا نام نہ لیا گیا ہو،اسے نہ کھائو۔‘‘ اب یہ ظاہر ہے کہ انگلستان میں جو جانور قتل کیے جاتے ہیں،ان پر خدا کا نام نہیں لیا جاتا، اس لیے ان کے حلال ہو نے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس میں شک نہیں کہ سورۂ مائدہ میں’’طعام اہل کتاب‘‘ کو ہمارے لیے جائز قرار دیا گیا ہے،مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو چیزیں خدا نے ہمارے لیے ناجائز ٹھیرائی ہیں،انھیں بھی ہم اہل کتاب کے ہاتھ سے لے کر کھا سکتے ہیں۔ اس بنا پر میرے لیے ڈاکٹر عبداﷲ صاحب کی رائے سے اتفاق کرنا تو ممکن نہیں ہے، البتہ آپ کو اپنی خوراک کے معاملے میں جو مشکل پیش آرہی ہے،اس کا حل ضروری ہے۔سو اس کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ غیر لحمی یا نباتی غذا(vegetarian diet) پر اکتفا کریں جس کا انتظام انگلستان میں ہوسکتا ہے۔ اور اگر گوشت کا کوئی ٹکڑا اس میں نکل آئے تو کھانے کے منتظم سے اس کی شکایت کرکے اس کا سدباب کرائیں۔دوسرے یہ کہ وہم کو دل سے نکال دیں۔ جو چیز آپ کے سامنے دستر خوان پر پیش ہو، اس میں اگر کوئی حرام شے موجود نہ ہو تو اسے اطمینان کے ساتھ کھا لیجیے اور اس اندیشے سے اپنے ذہن کوپریشان نہ کیجیے کہ اس میں کسی حرام کھانے کا چمچا ڈال دیا گیا ہوگا،یا اس میں کسی حرام جانور کی چربی شامل کردی گئی ہوگی۔ آپ کو اپنے عمل کی بنیاد علم اور یقین پر رکھنی چاہیے نہ کہ گمان اور اندیشے کی بنا پر۔آپ صرف اس غذا سے پرہیز کریں جس میںکسی حرام شے کے شمول کا آپ کو علم ہوجائے۔تیسرے یہ کہ جب کبھی گوشت کو دل چاہے تو مچھلی پکوالیں، یا یہودیوں کا ذبیحہ حاصل کریں جس کا ملنا انگلستان میں مشکل نہیں ہے۔
(۲) نمازوں کے بارے میں جس مشکل کا آپ نے ذکر کیا ہے،اس کا حل یہ ہے کہ ظہر کی نماز میں اگر سنتیں ادا کرنے کا وقت نہ مل سکے تو صرف فرض پڑھ لیا کریں،اور عصر کے لیے وقت ملنے کی اگرکوئی صورت ممکن نہ ہو تومغرب کے ساتھ قضا پڑھ لیا کریں۔دو وقت کی نمازوں کو ملا کر پڑھنے کے معاملے میں اختلاف ہے۔ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ ظہر او رمغرب کے آخری وقتوں میں عصر کو ظہر کے ساتھ اور عشا کو مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھا جاسکتا ہے،اور دوسرا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ ایک وقت کی نماز کے ساتھ دوسرے وقت کی نماز پیشگی بھی پڑھی جاسکتی ہے۔ لیکن اس بات کو قریب قریب تما م علمائے اہل سنت نے ناجائز قرار دیا ہے کہ کوئی شخص دو وقت کی نمازوں کو ملا کر پڑھنے کی عادت بنالے۔کیوں کہ اس طرح تو عملاًپانچ وقت کے تین وقت ہی بن کر رہ جاتے ہیں۔ لہٰذا آپ اس سے تو پرہیز کریں،البتہ جب کبھی عصر کی نماز پڑھنا ممکن نہ ہو،اسے قضا پڑھ لیا کریں۔
مجھے افسوس ہے کہ ہماری حکومت جن لوگوں کو تعلیم وتربیت کے لیے باہر بھیجتی ہے،ان کی مذہبی ضروریات کے لیے کوئی اہتمام نہیں کرتی۔اگر سرکاری طور پر اس کی فکر کی جاتی تو انگلستان میں ہمارے طلبہ کے لیے حلال غذا کا بھی انتظام ہوسکتا تھا اور نمازوں کے لیے بھی ان کو وقت دلوایا جاسکتا تھا۔ (ترجمان القرآن۔ صفر۳۷۰اھ۔ دسمبر۹۵۰اء)

اختیاراَہْوَنُ الْبَلِیَّتَیْن کا شرعی قاعدہ:

سوال: اختیار ’’اَہْوَنُ الْبَلِیَّتَیْن‘‘(دو بلائوں میں سے کم درجے کی بلا کو اختیار کرنے کا مسئلہ) ایک سلسلے میں مجھ کوعرصے سے کھٹک رہا ہے۔آج کل اس مسئلے کا استعمال کچھ اس طرح ہورہا ہے کہ وضاحت ضروری ہوگئی ہے۔
ہم مسلمانوں میں سے چوٹی کے حضرات(جیسے علمائے دیو بند،مولانا حسین احمد مدنی، اور مولانا ابوالکلام آزاد)کا جماعتِ اسلامی کے پیش کردہ نصب العین سے اختلاف ایک ایسا سوال ہے جس پر میں دل ہی دل میں برابر غور کرتا رہا ہوں۔ میرا خیال یہ ہوا کہ ان حضرات کی نگا ہ میں نصب العین کو ترک کرنا اہون ہوگا لہٰذا انھوں نے ترک کیا اور جماعتِ اسلامی کے نزدیک اس کا قبول کرنا اہون ہوگالہٰذا انھوں نے اسے اختیا ر کرلیا۔میں اسی سوچ بچار میںتھا کہ ترجمان القرآن میں مولانا مدنی کی ایک تحریر پڑھی جس میں واقعی یہ اقرار موجودتھا کہ اہون البلیتین کو انھوں نے اختیار فرمایا ہے۔ اس پر مجھ کو حیرت ہوئی۔پوری بات اور آگے چل کر کھلی جب ’’الانصاف‘‘(انڈیا) میں جمعیت کی پالیسی کے متعلق مولانا کا یہ بیا ن نظر سے گزرا کہ کانگریس اور کمیونسٹ جو دو بلیتین تھیں ان میں سے ہم نے اہون یعنی کانگریس کواختیار کیا ہے۔
میں یہ سمجھتا تھا کہ قرآن نے حالت اضطرار میں سؤر کا گوشت کھالینے کی اجازت جہاں دی ہے وہاں بلیتین سے مراد اس حرام کے ترک یا اختیار کی دومتبادل صورتیں ہیں۔یعنی یا تو آدمی سور کھا کر جان بچا لے یا نہ کھا کر مقام عزیمت پر فائزہونے کی فضیلت حاصل کرے۔ لیکن کیا اس سے یہ بھی مراد ہے کہ دو حرام چیزوں میں سے ایک کو اہون سمجھ کر منتخب کیاجائے۔ مثلاً ایک طرف سؤر کا گوشت ہو اور دوسری طر ف گدھ کا گوشت، تو کیا ایک فاقے سے مرنے والا یوں سوچے گا کہ سؤر کا گوشت زیادہ ثقیل ہے اور گدھ کا گوشت زود ہضم ہے لہٰذا اہون گدھ کا گوشت ہوا؟

جواب: اختیارِ اہون البلیتین سے مراد یہ ہے کہ جب دو ناجائز کاموں میں سے کسی ایک کا اختیار کرنا ناگزیر ہوجائے تو ان میں سے وہ اختیار کیا جائے جو کم تر درجے کا ناجائز کام ہو۔ اس میں شرط اول یہ ہے کہ خیر کی راہ بالکل بند ہو اور اسے اختیارکرنے کا قطعاً کوئی امکان نہ ہو۔ صرف اسی صورت میں آدمی کے لیے اہون البلیتین کو اختیار کرنا جائز ہوسکتا ہے،ورنہ خیر کی راہ کا کچھ بھی امکان ہو تو وہ شخص گناہ گار ہوگا جو محض اپنی کم ہمتی کی بنا پر اپنے آپ کو دو ناجائز کاموں میں سے کسی ایک میں مبتلا کردے۔ دوسری شر ط یہ ہے کہ دو ناجائز کاموں میں سے ایک کو اہون بس یوں ہی نہ ٹھیرالیا جائے بلکہ اُصول شریعت کے لحاظ سے دیکھا جائے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے کس بلا کو اہون اور کس کو اشد قرار دیا جاسکتا ہے۔ مثلاً میں آپ ہی کی دی ہوئی مثال کو لیتا ہوں۔فرض کیجیے کہ ایک شخص سخت بھوک میں مبتلا ہے اور موت سے بچنے کے لیے اس کے سامنے صرف دو غذائیں موجود ہیں،ایک سور کا گوشت،دوسرے گدھ کا گوشت۔اب اگر وہ اسلامی نقطہ نظر سے فیصلہ کرے تو لامحالہ گدھ کا گوشت اہون ہوگا۔کیوں کہ اس کے حرام ہونے کی صراحت قرآن مجید میں نہیں کی گئی ہے،بلکہ حدیث میں ایک اُصول بیان کیا گیا ہے جس کا اطلاق گدھ پر بھی ہوتا ہے۔یا مثلاًکوئی طاقت ور ظالم کسی بے گناہ کی جان کے درپے ہو اور وہ بے گنا ہ آپ کے پاس پناہ لے اور آپ کسی طرح لڑ کر اس بے گناہ کو نہ بچا سکتے ہوں۔ایسی صورت میں اگر وہ ظالم آکر آپ سے اس کا پتا پوچھے تو آپ کے لیے دو صورتیں ممکن ہوں گی:یا تو جھوٹ بول کر اس کی جان بچالیں، یا اس کا پتا بتا کر اسے قتل کے لیے پیش کردیں۔ظاہر ہے کہ اس صورت میں جھوٹ بولنا اہون ہے۔ کیوں کہ سچ بولنے سے ایک شدید تر برائی یعنی ’’قتل مظلوم‘‘ لازم آتی ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ اس جواب سے آپ کی تشفی ہوجائے گی۔ (ترجمان القرآن۔رجب،شعبان ا۳۷اھ۔اپریل،مئی۹۵۲اء)

پوسٹ مارٹم، شقِ صدر اور لفظ’’دل ‘‘کا قرآنی مفہوم:

سوال:(۱) اسلامی حکومت میں نعشوں کی چیر پھاڑ (post mortom) کی کیا صورت اختیار کی جائے گی؟اسلام تو لاشوں کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دیتا۔پوسٹ مارٹم دو قسم کے ہوتے ہیں:ایک (medico-legal) زیادہ تر تفتیش کے لیے، دوسرے علم الامراض کی(pathological) ضروریات کے لیے۔ ممکن ہے کہ اوّل الذکر کی کچھ زیادہ اہمیت اسلامی حکومت میں نہ ہو،لیکن مؤخر الذکر کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، کیوں کہ اس طریقے سے امراض کی تشخیص اور طبی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔
(۲) سنا گیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینۂ مبارک چاک کیا گیا تھا اور اس کو تمام آلائشوں سے پاک کیا گیا تھا،تاکہ نبوت کے تقاضے کو پورا کرسکیں اور معصومیت کی صفت پیدا ہوجائے۔د وسرے لفظوں میں آپ کا دل زیادہ روشن ہوجائے، اچھے اور پاکیزہ خیالات دل میں آئیں اور گناہ کے خیالات نہ آنے پائیں۔ یہ کہاں تک صحیح ہے؟
(۳) اسی کے ساتھ ساتھ خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ سے یہ خیال آتا ہے کہ گویا دل خیالات کی ایک جلوہ گاہ (agency) ہے۔شاید اس زمانے میں جالینوس کے نظریات کے تحت’’دل‘‘ کو سرچشمۂ افکار (originator of thought) سمجھا جاتا تھا،لیکن آج کل طبی تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ دل دوران خون کو جاری رکھنے والا ایک عضو ہے، اور ہر قسم کے خیالات اور حسیّات اور ارادوں اور جذبات کا مرکز دماغ ہے۔ اس تحقیق کی وجہ سے ہر اس موقع پر اُلجھن پیدا ہوتی ہے جہاں’’دل‘‘ سے کوئی ایسی چیز منسوب کی جاتی ہے جس کا تعلق حقیقت میں دماغ سے ہوتا ہے۔

جواب: (۱) پوسٹ مارٹم کے مسئلے پر میں اب تک کوئی قطعی رائے قائم نہیںکرسکا ہوں۔یہ بھی مانتا ہوں کہ بعض ضرورتیں ایسی ہیں جن کے لیے یہ ناگزیر ہے،مگراس کے باوجود طبیعت میں سخت کراہت پاتا ہوں، اور احکام شرعیہ میں بھی انتہائی ناگزیر صورت کے بغیر اس کے لیے کوئی گنجایش مجھے نظر نہیں آتی۔ بہرحال یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جسے ایک اسلامی حکومت میں اہل علم باہمی مشورے سے طے نہ کرسکتے ہوں۔
(۲)رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینۂ مبارک کے چاک کیے جانے کا معاملہ متشابہات کے قبیل سے ہے۔ اسے سمجھنا ہمارے بس میں نہیں ہے۔اس لیے اس پر کسی تحقیق کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔
(۳) ’’دل‘‘کا لفظ ادب کی زبان میں کبھی اس معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے جس میں یہ لفظ علم تشریح(anatomy) اور علم وظائف الاعضاء(physiology) میں استعمال ہوتا ہے۔ادب میں’’دماغ‘‘(reason)کی نمایندگی کرتا ہے اور اس کے برعکس ’’دل‘‘جذبات وحسیات اور خواہش اور ارادے کا مرکز مانا جاتا ہے۔ہم رات دن بولتے ہیں کہ میرا دل نہیں مانتا۔ میرے دل میں یہ خیال آیا، میرا دل یہ چاہتا ہے۔انگریزی میں(qualities of head and heart)کا فقرہ بکثرت استعمال کیا جاتا ہے۔یہ الفاظ بولتے وقت کوئی شخص بھی علم تشریح والا دل مراد نہیں لیتا ہے۔ممکن ہے کہ اس کا آغاز اُسی نظریے کے تحت ہوا ہو جو جالینوس کی طرف منسوب ہے۔ لیکن ادب میں جو الفاظ رائج ہوجاتے ہیں وہ بسا اوقات اپنے ابتدائی معنی کے تابع نہیں رہتے۔ (ترجمان القرآن۔رجب،شعبان ا۳۷اھ۔ اپریل،مئی۹۵۲اء)

پوسٹ مارٹم اور دوسرے طبی مسائل:

سوال: سابق خط کے جواب سے میری تشفی نہیں ہوئی۔آپ نے لکھا ہے کہ ’’پوسٹ مارٹم کی ضرورت بھی مسلم ہے اور احکام شرعیہ میں شدید ضرورت کے بغیر اس کی گنجایش بھی نظر نہیں آتی۔‘‘مگر مشکل یہ ہے کہ طبی نقطۂ نگاہ سے کم ازکم اس مریض کی لاش کا پوسٹ مارٹم تو ضرور ہونا چاہیے جس کے مرض کی تشخیص نہ ہوسکی ہو یا ہونے کے باوجود علاج بے کار ثابت ہوا ہو۔اسی طرح’’طبی قانونی‘‘(medico-legal) نقطۂ نظر سے بھی نوعیت جرم کی تشخیص کے لیے پوسٹ مارٹم لازمی ہے۔علاوہ ازیں اناٹومی، فزیالوجی اور آپریٹو سرجری کی تعلیم بھی جسد انسانی کے بغیر ناممکن ہے۔آپ واضح فرمائیں کہ ان صورتوں پر شرعاً شدید ضرورت کا اطلاق ہوسکتا ہے یا نہیں؟
آپ نے ایک جگہ تحریر کیا ہے کہ’’آج کل الکوہل کو ایک اچھا محلل ہونے کی حیثیت سے دوا سازی میں استعمال کیا جاتا ہے،لیکن جب فن دوا سازی کو مسلمان بنایا جائے گا تو الکوہل کے استعمال کو ترک کردیا جائے گا۔‘‘ لیکن کیمیاوی اصطلاح میں الکوہل کے لفظ کا اطلاق نشہ آور اجزا پر نہیں ہوتا، بلکہ یہ علم الکیمیا میں اشیا کے ایک خاص گروپ کا نام ہے، جس میں مسکرات کے علاوہ اور بہت سی چیزیں شامل ہیں،تو کیاپھر ان سب اشیا کا استعمال ناجائز ہوگا؟علاوہ ازیں الکوہل کا جسم پر خارجی استعمال بھی ہوتا ہے، کیوں کہ وہ صرف محلل ہی نہیں، جراثیم کش بھی ہے۔ کیا یہ استعمال بھی ممنوع ہے؟
’’تفہیم القرآن‘‘ میں آپ نے ایک مقام پر یہ بھی لکھا ہے کہ مسلمان اطبا دو ا سازی میں الکوہل کے بجائے شہداستعمال کرتے تھے۔نیز آپ نے وہاں یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ شہد کی مکھی کو خاص جڑی بوٹیوں سے رس حاصل کرنے کی تربیت دے کر اس سے دوا سازی میں مدد لی جاسکتی ہے۔ترقی فن کے موجودہ دورمیں آپ کا شہد کو الکوہل کا بدل تجویز کرنا اور شہد کی مکھی کی تربیت کا مشورہ دینا میر ی سمجھ میں نہیں آسکاہے۔
اب میں مختصراً چند سوالات عرض کرتا ہوں،جن کے جوابات کی ضرورت ہے:
(۱) کسی مریض کی جان بچانے کے لیے اس کے جسم میں خون داخل کرنا بعض علما کے نزدیک ناجائز ہے۔آپ کی رائے اس بارے میں کیا ہے؟
(۲) بعض دوائوں کے اجزا انسانی یا حیوانی پیشاب،خون یا گوشت سے حاصل کیے جاتے ہیں،اور بعض دوائیں وہیل مچھلی کے غدود سے نکالی جاتی ہیں۔ایسی دوائوں کا استعمال شرعاًجائز ہے یا نہیں؟
(۳) ڈاکٹر کے لیے فیس کا تعین یا اس کا مطالبہ جائز ہے یا اسے مریض کی مرضی پر چھوڑ دینا چاہیے؟
(۴) سائنس کے مختلف شعبوں کے مطالعہ کرنے کے سلسلے میں اسلام کیا رہنمائی دیتاہے؟
(۵) غذائوں اور دوائوں کی حلت وحرمت کے بارے میں شرعی احکام کیا ہیں؟
(۶) مسلم اطبا نے طب کو اسلام کا پابند بنانے کے سلسلے میں کیا خدمات سرانجام دی ہیں؟

جواب: (۱) پوسٹ مارٹم کے مسئلے میںجیساکہ پہلے بھی عرض کرچکا ہوں،مجھے خود بڑا خلجان ہے اور کوئی فیصلہ کن بات میرے لیے مشکل ہے۔ اس معاملے کے دو مختلف پہلو ہیں جن کے تقاضے ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں۔
ایک طرف شرعی احکام ہیں جو مرنے والے انسانوں کے جسم کا احترام کرنے اور ان کو عزت کے ساتھ دفن کردینے کی تاکید کرتے ہیں،اور اگر وہ مسلمان ہوں تو ان کی تجہیز وتکفین کرکے نمازجنازہ پڑھنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ان شرعی احکام کی تائید ان لطیف انسانی حسیات سے بھی ہوتی ہے جو(شاید ڈاکٹروں اور بالکل سائنٹسٹ قسم کے لوگوں کے سوا) سب ہی انسانوں میں موجود ہوتے ہیں۔کوئی آدمی خوشی سے یہ گوارا نہیں کرسکتا کہ اس کے باپ،بیٹے،بیوی،بہن اور ماں کی لاشیں ڈاکٹروں کے حوالے کی جائیں اور وہ ان کی چیر پھاڑ کریں۔ یا وہ میڈیکل کالج کے طالب علموں کو دے دی جائیں تاکہ وہ ان کے ایک ایک عضو کا تجزیہ کریں اور پھر ان کی ہڈیاں سکھا کر رکھ لیں۔ اسی طرح کوئی قوم بھی یہ گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ اس کے لیڈر او رپیشوا مرنے کے بعد پوسٹ مارٹم کے تختۂ مشق بنائے جائیں۔ ابھی حال میں گاندھی جی اور لیاقت علی خاں مرحوم گولی کے شکار ہوئے ہیں۔’’طبی قانونی‘‘نقطۂ نظر سے ضرور ی تھا کہ ان کا پوسٹ مارٹم کرکے سبب موت کی تشخیص کی جاتی۔مگر اس سے احتراز کیوں کیا گیا؟صرف اس لیے کہ قومی جذبات اپنے محترم لیڈروں کی لاشوں کا چیرنا پھاڑنا برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
دوسری طرف طبی اور قانونی اغراض کے لیے پوسٹ مارٹم کی ضرورت ہے۔طب کے مختلف شعبوں کی تعلیم اور طبی تحقیقات کی ترقی کے لیے اس کی ضرورت کا انکار نہیں کیا جاسکتا، اور ایک حد تک قانون بھی اس کا تقاضا کرتا ہے کہ قتل کے مقدمات میں سبب موت کا تعین کیا جائے۔
اب یہ ایک بڑاپیچیدہ سوال ہے کہ ان دونوں متصادم تقاضوں کے درمیان مصالحت کیسے کی جائے۔اس کا یہ حل تو میرے نزدیک سخت مکروہ ہے کہ امیروں اور غریبوں، بڑے لوگوں اور چھوٹے لوگوں،خاندان والوں اور لاوارثوں کی لاشوں کے بارے میں ہمارے پاس دو مختلف معیارِ اخلاق اور دو مختلف طرزِ عمل ہوں۔اس لیے لامحالہ اس کا کوئی اور ہی حل سوچنا پڑے گا۔ مگر وہ حل کیا ہو،اس باب میں میری قوتِ فیصلہ بالکل عاجز ہے۔یہ چیز کسی ایسی مجلس میں زیر بحث آنی چاہیے جس میں علمائے دین بھی شامل ہوں اور شعبۂ طب اور شعبۂ عدالت کے نمایندے بھی۔ ممکن ہے یہ لوگ سر جوڑ کر اس کا کوئی حل نکال لیں۔
(۲) الکوہل کے بارے میں مختصرگزارش یہ ہے کہ اس سے مراد وہ الکوہل نہیں ہے جو مختلف قدرتی اشیا میں بطور ایک جز کے موجود ہوتی ہے یا کسی خاص مرحلے پر ان کے اندر پیدا ہوجاتی ہے، بلکہ وہ الکوہل ہے، جو اشیا میں سے برآمد کرلی جاتی ہے اور ایک نشہ آورمادے کی حیثیت سے قابل استعمال ہوتی ہے یہ چیز چوں کہ اصل مادّۂ نشہ آور( امّ الخبائث کی والدہ) ہے، اس لیے اس کا اندرونی استعمال جائز نہیں ہے،قطع نظر اس سے کہ جس تناسب سے وہ کسی دوا میں ملائی جائے وہ بالفعل نشہ آورہو یانہ ہو۔البتہ اس کے بیرونی استعمال کو جائز رکھا جاسکتا ہے۔
کیا آپ اپنے فن کے نقطۂ نظر سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ کھانے اور پینے کی دوائوں میں کوئی دوسری چیز الکوہل کا بدل نہیں ہوسکتی؟اور یہ کہ اس کا استعمال بہرحال ناگزیر ہے؟میرے دوستوں میں متعدد ایسے ڈاکٹر ہیں جنھوں نے الکوہل کے بارے میں میرے نقطۂ نظر کی تائید کی ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ اس کے دوسرے بدل موجود ہیں۔بلکہ ان میں سے بعض نے تو اندرونی استعمال کی دوائوں میں اس سے کام لینا چھوڑ دیا ہے۔
(۳) شہد کے بارے میں میں نے تفہیم القرآن میں جو کچھ لکھا تھا،اس سے مقصود شہد اور الکوہل کا مقابلہ کرنا نہ تھا۔میرا مدعا یہ تھا کہ مسلمانوں کے ہاں فن طب کے رواج سے پہلے،جب یہ فن غیر مسلموں کے ہاتھ میں تھا،دوائوں کو محفوظ کرنے کے لیے حرام وحلا ل کی تمیز کیے بغیر ہر طرح کی چیزیں استعمال کی جاتی تھیں۔مگر جب یہ فن مسلمانوں کے پاس آیا تو انھوں نے حلال چیزوں کی طرف توجہ کی اور دوائوں کو ان کی مفید صورت میں برقرار رکھنے کے لیے ان کے پاس ایک اہم ذریعہ شہد تھا، جو خود بھی ایک مدت تک خراب نہیں ہوتا اور اپنے اندر دوسری چیزوں کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔ بعد میں جب یہ فن پھر ایسے لوگوں کے قبضے میں چلاگیا جو حرام وحلا ل کی تمیز سے واقف نہیں ہیں،تو پھرحرام چیزیں آزادی کے ساتھ استعمال ہونے لگیںجن میں سے ایک نمایاں چیز یہ الکوہل ہے۔
دوسری بات جس سے آپ اتفاق نہیں کرسکے ہیں، دو اسازی کے فن کی تمام تر ترقیات کے باوجود اس لائق ہے کہ اہل فن اس کی طرف توجہ کریں۔میرا خیال یہ نہیں ہے کہ سب تدابیر کو چھوڑکر صرف ایک شہد کی مکھی پر انحصار کرلیا جائے، بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ شہد کی مکھی بھی فن دوا سازی کی ایک اچھی خاصی خادم بن سکتی ہے۔
(۴)آدمی کی جان بچانے کے لیے اس کے جسم میں خون داخل کرنا میرے نزدیک تو جائز ہے۔ میں نہیں سمجھ سکا کہ اس کو حرام کہنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔غالباً اسے خون پینے اور خون کھانے پر قیاس کرکے کسی صاحب نے حرام کہا ہوگا۔ لیکن میرے نزدیک ان دونوں چیزوں میں فرق ہے۔ غذا کے طور پر خون پینا اور کھانا بلاشبہ حرام ہے مگر جان بچانے کے لیے مریض یا زخمی آدمی کے جسم میں خون داخل کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح حالت اضطرار میں مرداریا خنزیر کھانا۔
(۵) مختلف حیوانی دوائوں کے بارے میں جو سوالات آپ نے کیے ہیں،ان کا جواب یہ ہے کہ اُصولاً ہر وہ چیز حرام ہے جو مردار یا حرام جانور سے حاصل کی جائے،یا حلال جانور کی کسی ناپاک یا حرام چیز سے حاصل کی جائے، اور اُصولاً ایک حرام چیز کا استعمال صرف اسی صورت میںجائز ہوسکتا ہے جب کہ انسانی جان بچانے کے لیے ناگزیر ہو۔ ان دو اُصولوں کو مدنظر رکھ کر مسلمان اہل فن کو دوائوں کا جائزہ لینا چاہیے اور پھر خود رائے قائم کرنی چاہیے،کیوں کہ اپنے فن کو وہ آپ ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں۔مگرمصیبت یہ ہے کہ مسلمانوں میں اس وقت جو اہل فن پائے جاتے ہیں،وہ نہ محقق، موجد اور مکتشف ہیں اور نہ دوا سازی کی صنعت ہی ان کے ہاتھ میں ہے۔ان کی فن دانی اس سے آگے نہیں جاتی کہ دوسروں نے (اور یہ دوسرے وہ ہیں جو عملاً کسی کتاب الٰہی اور کسی شریعت نبوی کے پیرونہیں ہیں)جو کچھ اپنی تحقیق واکتشاف سے نکالا ہے،صرف اس سے واقف ہوجائیں،اور پھر وہی لوگ جو کچھ جس طرح بنا کر بھیج دیں، اسے یہ استعمال کرلیں۔ یہ بے چارے اس قابل بھی نہیں ہیں کہ انھوں نے اگر کسی مرض کی دوا حرام طریقے سے پیدا کی ہے تو یہ اپنی تحقیق سے اس کا کوئی دوسرا جائز بدل پیدا کرسکیں،یا محققانہ طریقے پر کم ازکم یہی کہہ سکیں کہ اس کا بدل نہیں مل سکتا اور اس کا استعمال فی الواقع ناگزیر ہے۔اس حالت میں ہم غیر فنی لوگ محض حلال وحرام کی بحث کرکے آخرکیامفیدخدمت کرسکتے ہیں؟
وہیل مچھلی جائز ہے۔اسی قسم کی۱یک مچھلی صحابۂ کرامؓ ایک جنگی سفر کے دوران میں کھا چکے ہیں اور نبیؐ نے اسے جائز رکھا ہے۔
(۶) ڈاکٹر کی فیس اُصولاًتو جائز ہے، مگر ڈاکٹروں نے بالعموم فیس کے معاملے میں ایسے طریقے اختیار کرنے شروع کردیے ہیں جو گناہ اورظلم اور سخت قساوت کی حد تک پہنچ جاتے ہیں۔اسی بنا پر ہماری یہ رائے ہے کہ تمام ڈاکٹروں کو حکومت کی طرف سے کافی وظیفے ملنے چاہییں اور انھیں مریضوں کا مفت علاج کرنا چاہیے۔
(۷) سائنس کے مختلف شعبوں کے مطالعے میں اسلام کی رہنمائی کیا ہے،اس سوال کا جواب ایک مفصل مضمون چاہتا ہے، مگر میں مختصراً آپ کو اس کے لیے چنداشارے دیتا ہوں:
سائنس کا جو شعبہ بھی آپ لیں،وہ بہرحال کائنات کے کسی ایک جز کی ماہیت اور خصوصیات کو اور ان قوانین فطرت کو جو اس میں کارفرما ہیں،مشاہدے اور تجربے کی مددسے معلوم کرنا چاہتا ہے۔اس تحقیق وتجسس میں دو چیزیںبنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ایک یہ کہ تحقیق کرنے والا انسان پہلے بحیثیت مجموعی پوری کائنات کا( جس کے کسی جز پر وہ اپنی توجہ مرکوز کررہا ہے)ایک صحیح وجامع تصور رکھتا ہو۔دوسرے یہ کہ وہ خود اپنی حقیقت اور حیثیت کو اور اپنے حدود کو ٹھیک ٹھیک سمجھتا ہو۔ ان دو چیزوں کے بغیر الگ الگ اجزا کی تحقیقات(جو بہرحال صر ف تجربے ومشاہدے میں آنے والے اُمور واقعیہ تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ کسی نہ کسی فلسفیانہ نظریے کی تشکیل بھی کرتی ہے)مشکل ہی سے کسی صحیح نتیجے پر انسان کو پہنچا سکتی ہے۔اس کا حاصل،عملی ایجادات سے قطع نظر، فلسفیانہ حیثیت سے اگر کچھ ہے تو یہ کہ ایسی تحقیقات ہمارے مجموعی تصور کائنات و انسان کو مکمل اور واضح کرنے کے بجائے اُلٹا ناقص اور مسخ ہی کرتی چلی جائیں گی۔
اسلام دراصل ہماری اسی ضرورت کوپورا کرتا ہے۔ وہ ہر قسم کی تحقیقات کے لیے جو نقطۂ آغاز ہم کو دیتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کو بے خدا فرض کرکے یا بہت سے خدائوں کی رزم گاہ سمجھ کر تحقیق کی ابتدا نہ کرو، بلکہ یہ سمجھتے ہوئے اسے دیکھنا شروع کرو کہ یہ ایک خالق کی تخلیق اور ایک قادر مطلق کی سلطنت اور ایک حکیم کی دانائی کا کرشمہ ہے۔ دوسرے یہ کہ اپنے آپ کو(اور فی الجملہ نوع انسانی کو) غیرمحکوم و غیر مسئول، یامجبور محض، یا مختار کل سمجھتے ہوئے مطالعے کی ابتدا نہ کرو، بلکہ اس حیثیت سے مطالعہ شروع کرو کہ تم سلطنت کائنات میں ایک ایسی رعیت ہو جس کی طرف کچھ اختیار منتقل کیا گیا ہے اور اس اختیار کے صحیح وغلط استعمال میں تم مسئول ہو۔
بس یہی ہر مطالعہ و تحقیق کے لیے ایک صحیح نقطۂ آغاز ہے۔رہے دوران تحقیق میں پیش آنے والے وہ بہت سے جزئیات جن سے انسان کو مختلف علمی شعبوں میں سابقہ پیش آتا ہے،تو ان میں اسلام اس کے سوا کسی بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ ہمارے اخذ کردہ نتائج ان حقائق سے نہ ٹکرائیں جن کی صراحت کتاب اﷲ میں پائی جاتی ہو۔ اگر بالفرض کسی جگہ بعض حقائق مشہودہ (observed facts) سے ہم کو ایسے نتائج نکلتے نظر آئیں جو تصریحات کتاب سے متصادم ہوتے ہوں، تو پھر ہمیں غور سے دیکھنا چاہیے کہ کہیں ہمارے مشاہدے، یا طریقۂ استنتاج میں تو کوئی غلطی نہیں ہے۔ یہ خیال رہے کہ تصادم اگر ہوسکتا ہے تو حقائق وواقعات او ر تصریحات کتاب میں نہیں بلکہ نتائج مستخرجہ اور تصریحات کتاب میں ہوسکتا ہے،اور اس صورت میں نظر ثانی کتاب پر نہیں بلکہ نتائج مستخرجہ پر ہونی چاہیے،کیوں کہ نتائج مستخرجہ حقائق مشہودہ کی طرح کوئی یقینی چیز نہیں ہیں۔
ان اُصولی باتوں کو سمجھنے کے بعد اب اپنی تحقیق کا راستہ تلاش کرنا آپ کا اپنا کام ہے۔
(۸) دوائوں اور غذائوں میں کیا چیزیں پاک ہیں اور کیا ناپاک، اس کو جاننے کے لیے آ پ کو کچھ نہ کچھ حدیث اور فقہ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ جہاں تک احکام قرآنی کا تعلق ہے،اس سلسلے میں آپ کو تفہیم القرآن سے کافی مدد مل جائے گی۔مگر پھر بھی حدیث اور فقہ کے مطالعے کی ضرورت باقی رہتی ہے، تاکہ آپ اُصولی احکام سے بھی واقف ہوجائیں اورجزوی مسائل سے بھی۔افسوس ہے کہ ہمارے ہاں اب تک میڈیکل کالج کی تعلیم میں شرعی احکام کی تعلیم شامل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ہے۔ آخر ہم کیسے اُس چیز کی ضرورت محسوس کرلیں جسے ہمارے استاد (انگریز) نے غیر ضروری سمجھا تھا!
(۹)مسلم حکما نے فن طب کو کس طرح مسلما ن بنایا تھا،اس مسئلے پر تفصیلی گفتگو تو کوئی صاحب علم طبیب ہی کرسکتا ہے۔میں اس کے متعلق صرف ایک مجمل بات ہی کہہ سکتا ہوں کہ ابتدائی دور کے مسلم حکما نے محض اندھے مقلدوں کی طرح اس فن کو غیرمسلم استادوں سے جوں کا توں نہیں لے لیا تھا، بلکہ اسے مشرف با سلام کیا تھا اور ان کا یہ کارنامہ محض نسخوں پر’’ہو الشافی‘‘لکھ دینے تک محدودنہ تھا۔انھوں نے فن طب میں جو کتابیں لکھیں ان کو دیکھیے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ خدا پرست لوگوں کی لکھی ہوئی کتابیں ہیں،جو خدا کی حمد اور رسول پر درود وسلام سے کلام کی ابتدا کرتے ہیں اور بیچ میں جگہ جگہ خدا کی حکمت اور قدرت اور اس کی شان تخلیق اور آفاق و انفس میں اس کی آیات کی طرف اشارے کرتے جاتے ہیں۔ان کی کتابوں کا حال موجودہ زمانے کی طبی کتابوں کا سا نہیں ہے، جن میں کہیں اشارے کنایے میں بھی خدا کا ذکر نہیں آتا۔اس سے فرق یہ واقع ہوتا ہے کہ پہلے ایک طالب علم کے ذہن میں تشریح بدن اور وظائف اعضا اور اسباب امراض اور خواص ادویہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ خدا پر یقین اور اس کے خالق اورحکیم اور مدبر ہونے پر اعتقاد بڑھتا جاتا تھا،اور اب یہی ساری چیزیں پڑھنے کے دوران میں ایک خالص مادہ پرستانہ نقطۂ نظر آپ سے آ پ پرورش پاتا چلا جاتا ہے۔الا یہ کہ کوئی طالب علم باہر کہیں سے ایمان باﷲ ساتھ لایا ہو اور یہاںاناٹومی اور فزیالوجی وغیرہ پڑھتے ہوئے وہ بطور خود آیات الٰہی کا مشاہدہ بھی کرتا رہے۔
قدیم زمانے میں ہمارے حکما نے یہ طریقہ مقرر کررکھا تھا کہ فن طب کی تعلیم علو م دینی کی تکمیل کے بعد دی جاتی تھی۔ایک طالب علم مدرسۂ طب میں آتا ہی اس وقت تھا جب وہ ملک کی عمومی ثانوی تعلیم سے فارغ ہوچکاہو، اور اس ثانوی تعلیم کا جزوِ لازم تعلیمِ دین ہوتا تھا۔اس لیے ہمارے ہاں کے طبیب نرے طبیب ہی نہ ہوتے تھے بلکہ عالم دین بھی ہوتے تھے۔اب معاملہ اس کے برعکس ہے کہ میڈیکل کالج کے درجۂ فراغ کو پہنچا ہوا ایک طالب علم حدود حلال وحرام کی ابتدائی معلومات تک نہیں رکھتا۔
مزید برآں ہمارے پرانے زمانے کے اطبا بالعموم زاہد وعابد لوگ ہوتے تھے،لالچ کے بغیر خدمت خلق کرتے تھے،فیس لینے سے اکثر اور دو افروشی سے کلیتاً اجتناب کرتے تھے، اور ان کی ذاتی زندگی بڑی پاکیزہ ہوتی تھی۔اس لیے طبی تعلیم کا سارا ماحول پاک اور دین دارانہ رہتا تھا اور استادوں کے عمد ہ اوصاف خود بخود شاگردوں میںسرا یت کرجاتے تھے،بغیر اس کے کہ طلبہ کو دین دار اور بااخلاق بنانے کے لیے کوئی مصنوعی کوشش کرنی پڑتی۔
اس کے ساتھ دوا سازی کے فن کی جو اصلاح ان لوگوں نے کی،اس کی طرف میں پہلے اشارہ کرچکا ہوں۔وہ لوگ حرام چیزوں کو صرف اسی صورت میں استعمال کرتے تھے جب کہ مریض کے لیے ان کا استعمال ناگزیر ہو۔ورنہ بالعموم انھوں نے اپنی دوائوں کو حرام اور ناپاک اجزا سے پاک رکھا تھا۔ (ترجمان القرآن۔ محرم، صفر۱۳۷۲ھ۔ اکتوبر، نومبر۱۹۵۲ء)

الکوہل کے مختلف مدارج واشکال کا حکم:

سوال: آپ نے ترجمان القرآن میں ایک جگہ الکوہل کے خواص رکھنے والی اشیا کی حلت وحرمت پر بحث کی ہے۔اس سلسلے میں بعض اُمور وضاحت طلب ہیں۔طبعی اور قدرتی اشیا میں الکوہل اس وقت پائی جاتی ہے جب کہ وہ تعفین و تخمیر کے منازل خاص طریق پر طے کرچکی ہوں۔بالفاظ دیگر جس شے سے الکوہل حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے،اسے اس قابل بنایا جاتا ہے کہ اس میں الکوہل پیدا ہوجائے۔جب تک اس میں یہ صلاحیت پیدا نہ ہوجائے،اس وقت تک اس میں الکوہل کا وجود ہی نہیں ہوتا۔ یہ بات دوسری ہے کہ بعض اشیا میں الکوہلک کی صلاحیت زیادہ ہے،،بعض میں کم اور بعض میں بالکل نہیں۔ جن اشیا سے شراب تیار کی جاتی ہے،ان میں یہ صلاحیت بدرجۂ اتم موجود ہوتی ہے۔اگر ایسی صلاحیت رکھنے والی قدرتی اشیا میں تخمیر وتعفین کی وجہ سے الکوہل یا سکر پیدا ہوجائے تو کیا وہ سب حرام ہوجائیں گی؟

جواب: جن چیزوں کو قصداً الکوہل پیدا کرنے کی خاطر سٹرایا جائے،ان کا استعمال تو الکوہلی کیفیات کے پیدا ہوجانے کے بعد ناجائز ہے۔البتہ جو چیزیں تعفین کے بعض مراحل سے خود بخود گزری ہوں،ان کا استعمال زیادہ سے زیادہ مکروہ ہوسکتا ہے۔مثلاًانگور اور گنڈیریاں جب سرخی مائل ہوجائیں تو ان میں الکوہل پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔مگر یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ اس حالت میں ان کو کھانا حرام ہے۔ہاں،اگر کوئی قدرتی چیز بگڑ کر اس حد کو پہنچ جائے کہ اسے کھا کر سکر لاحق ہوجاتا ہو تو پھر اس کا استعمال یقینا ناجائز ہوگا۔
(ترجمان القرآن۔شعبان، رمضان ۳۷۲اھ۔ مئی،جون۹۵۳اء)

حرام کو حلال کرنے کے لیے حیلہ سازی:

سوال: زید پر حکومت کی طرف سے ناجائز ٹیکس واجب الادا ہیں۔ وہ انھیں مجبوراًادا کرتا ہے۔زید نے اس نقصان کی تلافی کا یہ حیلہ سوچا ہے کہ اس کا جو روپیا بنک یا ڈاک خانے میں ہے،اس پر وہ سود وصول کرلے۔کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟

جواب: اس طرح کے بہانوں سے سود لینا جائز نہیں ہے،بلکہ دہرا گناہ ہے۔اگر بالفرض حکومت کا کوئی ٹیکس ناجائز نوعیت کا ہے اور آپ اسے بکراہت دیتے ہیں تو یہ ایک ایسا ظلم ہے جو حکومت آپ پر کررہی ہے۔لیکن جو سود آپ حکومت کے بنک یا ڈاک خانے سے وصول کریں گے وہ حکومت اپنی جیب سے نہیں لاتی،بلکہ لوگوں سے ٹیکس یا سودکی شکل میں حاصل کرتی ہے اور کچھ اپنے پاس رکھ کر بقیہ ان لوگوں کو دیتی ہے جو اس کے پاس اپنا سرمایہ جمع کراتے ہیں۔ یہ سود اس سے وصول کرکے آپ نے حکومت کو کیا سزا دی؟ یہ سزا تو آپ نے دوسرے شہریوں کو دی ہے۔یہ بالکل ایسا ہے جیسے ایک شخص نے اگر آپ کا مال چرا یا،آپ سزا دینے کے لیے نکلے، اور اس کے گھر میں دوسروں کا جو مال رکھا ہے،اس میں سے کچھ نکال لائے۔
(ترجمان القرآن۔شعبان، رمضان ۳۷۲اھ۔ مئی،جون۹۵۳اء)

اسلام اور سینما ٹو گرافی:

سوال: میں ایک طالب علم ہوں۔میں نے جماعتِ اسلامی کے لٹریچر کا وسیع مطالعہ کیا ہے۔خدا کے فضل سے مجھ میں نمایاں ذہنی وعملی انقلاب رونما ہوا ہے۔ مجھے ایک زمانے سے سینما ٹوگرافی سے گہری فنی دل چسپی ہے اور اس سلسلے میں کافی معلومات فراہم کی ہیں۔نظریات کی تبدیلی کے بعد میری دلی خواہش ہے کہ اگر شرعاً ممکن ہو تو اس فن سے دینی واخلاقی خدمت لی جائے۔آپ براہ نوازش مطلع فرمائیں کہ اس فن سے استفادے کی گنجایش اسلام میں ہے یا نہیں۔اگر جواب اثبات میں ہو توپھر یہ بھی واضح فرمائیں کہ عورت کا کردار پردۂ فلم پر دکھانے کی بھی کوئی جائز صورت ممکن ہے یا نہیں؟

جواب: میں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ یہ خیال ظاہر کرچکا ہوں کہ سینما بجائے خود جائز ہے، البتہ اس کا ناجائز استعمال اس کو ناجائز کردیتا ہے۔سینما کے پردے پر جو تصویر نظر آتی ہے،وہ دراصل ’’تصویر‘‘نہیں بلکہ پرچھائیں ہے،جس طرح آئینے میں نظر آیا کرتی ہے،اس لیے وہ حرام نہیں، رہا وہ عکس جو فلم کے اندر ہوتا ہے،تو وہ جب تک کاغذ یا کسی دوسری چیز پر چھاپ نہ لیا جائے،نہ اس پر تصویر کا اطلاق ہوتا ہے اور نہ وہ ان کاموں میں سے کسی کام کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جن سے باز نہ رہنے ہی کی خاطر شریعت میں تصویر کو حرام کیا گیا ہے۔ان وجوہ سے میرے نزدیک سینما بجائے خود مباح ہے۔
جہاں تک اس فن کو سیکھنے کا تعلق ہے،کوئی وجہ نہیں کہ آپ کو اس سے منع کیا جائے۔ آپ کا اس طرف میلان ہے تو آپ اسے سیکھ سکتے ہیں،بلکہ اگر مفید کاموں میں اسے استعمال کرنے کا اراد ہ ہوتو آپ اسے ضرور سیکھیں۔کیوں کہ یہ قدرت کی طاقتوں میں سے ایک بڑی طاقت ہے، اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ اسے بھی دوسری فطری طاقتوں کے ساتھ خدمت خلق اور مقاصد خیر کے لیے استعمال کیا جائے۔خدا نے جو چیز بھی دنیا میں پیدا کی ہے،انسان کی بھلائی کے لیے اور حق کی خدمت کے لیے پیدا کی ہے۔یہ ایک بدقسمتی ہوگی کہ شیطان کے بندے تو اسے شیطانی کاموں کے لیے خوب خوب استعمال کریں اور خدا کے بندے اسے خیر کے کاموں میں استعمال کرنے سے پرہیز کرتے رہیں۔
اب رہا فلم کو اسلامی اغراض اور مفید مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا سوال، تو اس میں شک نہیں کہ بظاہر ایسے معاشرتی،اخلاقی، اصلاحی اور تاریخی فلم بنانے میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی جو فواحش اور جنسی مہیجات،اور تعلیم جرائم سے پاک ہوں،اور جن کا اصل مقصد بھلائی کی تعلیم دینا ہو۔ لیکن غورسے دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ اس میں دو بڑی قباحتیں ہیں جن کا کوئی علاج ممکن نہیں ہے:
اوّل یہ کہ کوئی ایسا معاشرتی فلم بنانا سخت مشکل ہے جس میں عورت کا سرے سے کوئی پارٹ نہ ہو۔اب اگر عورت کا پارٹ رکھا جائے تو اس کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں: ایک یہ کہ اس میں عورت ہی ایکٹر ہو۔ دوسرے یہ کہ اس میں مرد کو عورت کا پارٹ دیا جائے۔شرعاً ان میں سے کوئی بھی جائز نہیں ہے۔
دوم یہ کہ کوئی معاشرتی ڈراما بہرحال ایکٹنگ کے بغیر نہیں بن سکتا۔ایکٹنگ میں ایک عظیم الشان اخلاقی خرابی یہ ہے کہ ایکٹر آئے دن مختلف سیرتوں اور کردارو ں کا سوانگ بھرتے بھرتے بالآخر اپنا انفرادی کیرکٹر بالکل نہیں تو بڑی حد تک کھو بیٹھتا ہے۔اس طرح چاہے ہم فلمی ڈراموں کو معاشرے کی اصلاح اور اسلامی حقائق کی تعلیم وتبلیغ ہی کے لیے کیوں نہ استعمال کریں، ہمیں بہرحال چند انسانوں کو اس بات کے لیے تیار کرنا پڑے گا کہ وہ ایکٹر بن کر اپنا انفرادی کیرکٹر کھو دیں۔یعنی دوسرے الفاظ میں اپنی شخصیت کی قربانی دیں۔میں نہیں سمجھتا کہ معاشرے کی بھلائی کے لیے،یا کسی دوسرے مقصد کے لیے، خواہ وہ کتنا ہی پاکیزہ اور بلند مقصد ہو،کسی انسان سے شخصیت کی قربانی کا مطالبہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔جان، مال،عیش، آرام،ہر چیز تو قربان کی جاسکتی ہے اورمقاصد عالیہ کے لیے کی جانی چاہیے،مگر یہ وہ قربانی ہے جس کا مطالبہ خود اﷲ تعالیٰ نے اپنے لیے بھی نہیں کیا ہے، کجا کہ کسی اور کے لیے اس کامطالبہ کیا جاسکے۔
ان وجوہ سے میرے نزدیک سینما کی طاقت کو فلمی ڈراموں کے لیے استعمال نہیںکیا جاسکتا۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ طاقت اور کس کام میں لائی جاسکتی ہے؟میرا جواب یہ ہے کہ ڈرامے کے سوا دوسری بہت سی چیزیں بھی ہیں جو فلم میں دکھائی جاسکتی ہیں، اور وہ ڈرامے کی بہ نسبت بہت زیادہ مفید ہیں۔ مثلاً:
ہم جغرافی فلموں کے ذریعے سے اپنے عوام کو زمین اور اس کے مختلف حصوں کے حالات سے اتنی وسیع واقفیت بہم پہنچا سکتے ہیں کہ گویا وہ دنیا بھر کی سیاحت کرآئے ہیں۔ اسی طرح ہم مختلف قوموں اور ملکوں کی زندگی کے بے شمار پہلو ان کو دکھا سکتے ہیں جن سے ان کو بہت سے سبق بھی حاصل ہوں گے اور ان کا نقطۂ نظر بھی وسیع ہوگا۔
ہم علم ہیئت کے حیرت انگیز حقائق اور مشاہدات ایسے دل چسپ طریقوں سے پیش کرسکتے ہیںکہ لوگ شہوانی فلموں کی دل چسپیاں بھول جائیں،اور پھر یہ فلم اتنے سبق آموز بھی ہوسکتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں پر توحید اور اﷲ کی ہیبت کا سکہ بیٹھ جائے۔
ہم سائنس کے مختلف شعبوں کو سینما کے پردے پر اس طرح پیش کرسکتے ہیں کہ عوام کو ان سے دل چسپی بھی ہو،اور ان کی سائنٹفک معلومات بھی ہمارے انڈر گریجویٹوں کے معیار تک بلند ہوجائیں۔
ہم صفائی۱ور حفظان صحت اور شہریت(civics) کی تعلیم بڑے دل چسپ انداز سے لوگوں کو دے سکتے ہیں جس سے ہمارے دیہاتی اور شہری عوام کی محض معلومات ہی وسیع نہ ہوں گی، بلکہ وہ دنیا میں انسانوں کی طرح جینے کا سبق بھی حاصل کریں گے۔اس سلسلے میں ہم دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کے مفید نمونے بھی لوگوں کو دکھا سکتے ہیں تاکہ وہ ان کے مطابق اپنے گھروں اور اپنی بستیوں اور اپنی اجتماعی زندگی کو درست کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔
ہم مختلف صنعتوں کے ڈھنگ، مختلف کارخانوں کے کام،مختلف اشیا کے بننے کی کیفیت، اور زراعت کے ترقی یافتہ طریقے سینما کے پردے پر دکھا سکتے ہیں، جن سے ہماری صنعت پیشہ اور زراعت پیشہ آبادی کے معیارِ علم اور معیارِ کارکردگی میں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے۔
ہم سینما سے تعلیم بالغاں کا کام بھی لے سکتے ہیں اور اس کام کو اتنا دل چسپ بنایا جاسکتا ہے کہ ان پڑھ عوام اس سے ذرا نہ اُکتائیں۔
ہم اپنے عوام کو فن جنگ کی، سول ڈیفنس کی،گوریلا وار فیئر کی،گلیوں اور کوچوں میں دفاعی جنگ لڑنے کی،اور ہوائی حملوں سے تحفظ کی ایسی تعلیم دے سکتے ہیں کہ وہ اپنے ملک کی حفاظت کے لیے بہترین طریقے پر تیار ہوسکیں۔نیز ہوائی اور بری اور بحری لڑائیوں کے حقیقی نقشے بھی ان کو دکھا سکتے ہیں تاکہ وہ جنگ کے عملی حالات سے پیشگی باخبر ہوجائیں۔
یہ،اور ایسے ہی بہت سے دوسرے مفید استعمالات سینما کے ہوسکتے ہیں۔مگر ان میں سے کوئی تجویز بھی اس وقت تک کام یاب نہیں ہوسکتی، جب تک کہ ابتداء ً حکومت کی طاقت اور اس کے ذرائع اس کی پشت پر نہ ہوں۔اس کے لیے اوّلین ضرورت یہ ہے کہ عشق بازی اور جرائم کی تعلیم دینے والے فلم یک لخت بند کردیے جائیں۔کیوں کہ جب تک اس شراب کی لت زبردستی لوگوں سے چھڑائی نہ جائے گی،کوئی مفید چیز ان کے منہ کو لگنی محال ہے۔دوسری اہم ضرورت یہ ہے کہ ابتدا میں مفید تعلیمی فلم حکومت کو خود اپنے سرمایے سے تیار کرانے ہوں گے اور ان کو عوام میں رواج دینے کی کوشش کرنی ہوگی،یہاں تک کہ جب کاروباری حیثیت سے یہ فلم کام یاب ہونے لگیں گے تب نجی سرمایہ اس صنعت کی طرف متوجہ ہوگا۔
(ترجمان القرآن۔ذی القعدہ ا۳۷اھ۔ مطابق اگست۹۵۲اء)

نذر ونیاز اور ایصالِ ثواب:

سوال: براہِ کرم مندرجۂ ذیل دو سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں:
(الف) نذر،نیاز اور فاتحہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
(ب) کیا ایک دکان دار کسی ایسے شخص کے ہاتھ بھی اپنا مال فروخت کرسکتا ہے،جس کے بارے میں اسے یقین ہو کہ اس کا ذریعۂ معاش کلیتاً معصیت فاحشہ کی تعریف میں آتا ہے؟

جواب: (الف) نیاز جو خالصتاً اﷲ تعالیٰ کے لیے کی جائے،بالکل جائز اور موجب اجر وثواب ہے۔ اور اگر کوئی انفاق فی سبیل اﷲ کھانے یا کپڑے یا عطیے کی صورت میں اس غرض کے لیے کیا جائے کہ اﷲ تعالیٰ اسے قبول فرما کر ہمارے کسی متوفی عزیز کی مغفرت فرما د ے یا اس انفاق کا ثواب اس عزیز کو بخش دے، تو بجائے خود اس فعل کو ناجائز نہیں کہا جاسکتا۔رہا اس کا اس عزیز کے لیے نافع ہونا، تو یہ اﷲ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے،وہ چاہے تو اس کے لیے نافع بنادے ورنہ وہ انفاق کرنے والے کے لیے تو بہرحال نافع ہوگا ہی۔ اگر تلاوت قرآن یا کوئی بدنی عبادت کرکے آدمی یہ دعا کرے کہ اس کا ثواب اس کے کسی متوفی عزیز کو پہنچ جائے تواس میں اختلاف ہے کہ آیا ایصال ثواب کی یہ شکل بھی درست ہے یا نہیں۔بعض ائمہ کے نزدیک یہ درست ہے اور بعض کے نزدیک درست نہیں ہے۔ میں متعدد شرعی دلائل کی بنا پر مؤخر الذکر مسلک ہی کو ترجیح دیتا ہوں۔
اگر کوئی مالی یا بدنی عبادت اﷲ تعالیٰ کے لیے کی جائے اور بزرگان دین میں سے کسی کو اس غرض کے لیے اس کا ثواب ایصال کیا جائے کہ وہ بزرگ اس ہدیے سے خوش ہوں اور اﷲ تعالیٰ کے ہاں ہدیہ بھیجنے والے کے سفارشی بن جائیں، تو یہ ایک ایسا مشتبہ فعل ہے جس میں جواز وعدم جواز بلکہ گناہ اور فتنے تک کی سرحدیںایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط ہوجاتی ہیں، اور میں کسی پرہیز گار آدمی کو یہ مشورہ نہ دوں گا کہ وہ اپنے آپ کو اس خطرے میں ڈالے۔
رہے وہ کھانے جو صریحاًکسی بزرگ کے نام پر پکائے جاتے ہیں،اور جن کے متعلق بالفاظ صریح یہ کہا جاتا ہے کہ یہ فلاں بزرگ کی نیاز ہے،اور جن کے متعلق پکانے والے کی نیت بھی یہی ہوتی ہے کہ یہ ایک نذرانہ ہے جو کسی بزرگ کی روح کو بھیجا جارہا ہے، اور جن سے متعلق ہمارے ہاں طرح طرح کے آداب مقرر ہیں اور ’بے حرمتی‘ کی مختلف شکلیں ممنوع قرار پائی ہیں اور ان نیازوں کی برکات اور فوائد کے متعلق گہرے عقائد پائے جاتے ہیں،تو مجھے ان کے حرام اور گناہ ہونے بلکہ عقیدۂ توحید کے خلاف ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔
(ب) اگر حرام ذریعۂ معاش رکھنے والا شخص کسی دکان دار سے کوئی چیز خریدنا چاہے تو دکان دار کے لیے اس کے بیچنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ دکان دار کے پاس جس راستے سے قیمت پہنچے گی،وہ حلال ہے۔گندگی اور حرمت پیسے میں نہیں بلکہ کسب معاش کے طریقے میں ہے۔جس شخص کے پاس حرام ذریعہ سے پیسا آیا ہے،وہ اسی کے لیے حرام ہے۔دوسرے شخص کو وہی پیسا اگر حلال راستے سے پہنچے تو اس کے حرام ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
(ترجمان القرآن۔ ذی القعدہ ا۳۷اھ۔ اگست۹۵۲اء)

سر کے بالوں کا جواز وعدم جواز:

سوال: آپ نے بعض استفسارات کے جواب میںفرمایا ہے کہ انگریزی طرز کے بالوں کو سر چڑھانا آپ پسند نہیں کرتے،کیوں کہ یہ غیر مسلم اقوام کی وضع ہے،تاہم آپ شرعاًاسے قابل اعتراض بھی نہیں سمجھتے۔ لیکن بعض علما اس وضع کو ناجائز خیال کرتے ہیں۔آپ اگر’ ترجمان‘ میں اپنی تحقیق کی وضاحت کردیں تو دوسرے لوگ بھی مستفید ہوسکیں گے۔

جواب: سر کے بالوں کے متعلق شریعت کا حکم اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ حدیث میں’’قزع‘‘کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔قزع کچھ بال مونڈنے اور کچھ رکھنے کو کہتے ہیں۔ یہی چیز ممنوع بالذات ہے اور اسی سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔باقی رہیں دوسری وضعیں، تو ان میں سے کسی کے عدم جواز کا ثبوت نہیں ہے،اس لیے وہ سب جائز ہیں، خواہ کوئی سارا سر مونڈ دے یا سارے سر کے بال کتروائے،یا کچھ کتروائے اور کچھ رکھے،یا نصف کان تک رکھے،یا کان کی لو تک رکھے،یا اس سے بھی نیچے تک،یہ سب اس لیے جائزہیں کہ اُصولاً جو کچھ ممنوع نہیں ہے وہ مباح ہے۔
بعض لوگ کچھ کترنے اور کچھ رکھنے کو بھی قزع کی تعریف میں لاتے ہیں،مگر یہ نہ اس لفظ کا صریح مدلول ہے اور نہ شارع نے بعینہٖ اس چیز کو منع کیا تھا۔اصل ممنوع کچھ مونڈنا اور کچھ رکھنا ہے،نہ کہ کچھ کتروانا اور کچھ رکھنا۔ اگر ایک شخص ایک کو دوسرے پر قیاس کرکے ممنوع سمجھے تو اپنے قیاس پر اسے خود ہی عمل کرنا چاہیے یا پھر اس شخص کو جو اس کے قیاس کی صحت کا قائل ہو۔دوسرے کسی شخص کو جو اس قیاس سے متفق نہ ہو،وہ نہ مجبور کرسکتا ہے کہ وہ اس کا قیاس تسلیم کرے، اور نہ اس بنا پر گناہ گار ٹھیرا سکتا ہے کہ اس نے حکم رسولؐ کے اس معنی کی پیروی کیوں نہ کی جو میں نے اپنے قیاس واستنباط سے بیان کیے تھے۔
بعض لوگ اس نوعیت کے بالوں کو تشبہ کی تعریف میں لاتے ہیں۔ مگر وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ تشبہ جس سے شارع نے منع فرمایا ہے،صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب کہ ایک شخص بحیثیت مجموعی اپنی وضع قطع کافروں کے مانندبنائے۔ غیر مسلموں کے فیشن،لباس، اوضاع میں سے بعض اجزا کو لے لینا تشبہ کی تعریف میں نہیں آتا۔ ورنہ آخر اس بات کی کیا توجیہ کی جائے گی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود رومی جبہ پہنا ہے،کسروانی قبا پہنی ہے، شلوار کو پسند کرکے خریدا ہے جو ایران سے عرب میں نئی نئی پہنچی تھی، اور حضرت عمرؓ نے بُرنس پہنی ہے جو مسیحی درویش پہنا کرتے تھے۔لہٰذا جزوی تشبہ کی بنا پر کسی کو گناہ گار ٹھیرانا یا فاسق قرار دینا زیادتی ہے۔ البتہ اگر بالوں کی یہ وضع اسی طرح ممنو ع ہوتی جس طرح بڑی بڑی مونچھوں کو مجوس کی وضع کہہ کر منع کردیا گیا تھا،تو البتہ اس طرح کے بال کتروانے کو گناہ قرار دیا جاسکتا تھا۔
یہاں میں یہ تصریح کردینا چاہتا ہوں کہ میں اُصولاً اس بات کا قائل ہوں،اور اس اُصول پر مجھے شدت کے ساتھ اصرار ہے کہ آدمی صرف حکم منصوص کی خلاف ورزی سے ہی گناہ گار قرار پاسکتا ہے۔قیاس واستنباط سے نکالے ہوئے احکام کی خلاف ورزی کسی کو گناہ گار نہیں بناتی، بجز اس شخص کے جو اس قیاس واستنباط کا قائل ہو۔اسی طرح مجھے اس بات پر بھی اصرار ہے کہ حرام صرف وہ ہے جسے خدا اور رسول ؐ نے بالفاظ صریح حرام کہا ہو،یا جس سے صاف الفاظ میں منع کیا ہو، یا جس میں مبتلا ہونے والے کو سزا کی وعید سنائی ہو،یا نصوص کے اشارات واقتضاء ات سے جن کی حرمت مستنبط ہونے پر اجماع ہو۔ رہیں وہ چیزیں جو قیاس واجتہاد سے حرام ٹھیرائی گئی ہوں اور جن میں دلائل شرعیہ کی بنا پر دو یا دو سے زیادہ اقوال کی گنجایش ہو،تو وہ مطلقاً حرام نہیں ہیں، بلکہ صرف اس شخص کے لیے حرام ہیں جو اس قیاس واجتہاد کو تسلیم کرے۔ میرے نزدیک اس حقیقت سے اغماض برتنا ان اہم اسباب میں سے ایک ہے جن کی بنا پر اُمت کے مختلف گروہوں نے ایک دوسرے کی تضلیل وتفسیق کی ہے۔ (ترجمان القرآن۔ذی الحجہ ا۳۷اھ۔ مطابق ستمبر۹۵۲اء)

مکانوں کے کرایوں میں بلیک مارکیٹنگ:

سوال: جس مکان میںمیں رہتا ہوں،وہ مجھ سے پہلے ایک کرایہ دار نے پینتالیس روپے ماہانہ کرائے پر مالک مکان سے اس شرط پر لیا تھا کہ دو ماہ کے نوٹس پر خالی کردیں گے۔ان کرایہ دار سے یہ مکان انھی شرائط پر میرے بھائی نے لیا اور میں بھی ان کے ساتھ رہنے لگا۔ دو ماہ کے بعدمیرے کہنے پر مالک مکان میرے نام سے رسید کاٹنے لگے۔آٹھ ماہ تک برابر ہم پینتالیس روپے ماہانہ ادا کرتے رہے اور اس دوران میں کرائے کی زیادتی ہمارے لیے سخت موجب تکلیف رہی اور کئی مرتبہ ارادہ کیا کہ رینٹ کنٹرولر کے یہاں درخواست دے کر کرایہ کم کرایا جائے،مگر اس صورت دلی اطمینان نہ ہوسکا۔ستمبر میں مالک مکان کو سفیدی وغیرہ کرانے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ تو کرایہ دار کے فرائض میں سے ہے۔آس پاس کے لوگوں نے انھیں قائل کرنے کی کوشش کی،لیکن انھوں نے اپنا سکوت توڑتے ہوئے کہا کہ دو ما ہ بعد جواب دوں گا (شاید مکان خالی کرانے کی دھمکی اس جواب میں مضمر تھی)۔اس پر کسی قدر تیز گفتگو ہوئی، جس کے نتیجے میںمیں نے رینٹ کنٹرولر کے یہاں کرایہ تشخیص کرنے کی درخواست دے دی۔وہاں سے سولہ روپے گیارہ آنے ماہوار کے حساب سے کرایہ مقررکردیا گیا۔مگر میرا ضمیر اس پر اب بھی مطمئن نہیں ہے۔
جن صاحب کے ذریعے یہ مکان حاصل ہوا تھا،ان کے اور ان کے عزیروں کے کہنے سننے سے میں نے یہ صورت منظور کرلی کہ پینتیس روپے ماہوار میں اس شرط پر دوں گا کہ میں مکان میں جب تک چاہوں رہوں،لیکن اگر کبھی مالک مکان نے مکان خالی کرایا تو پھر شروع سے کرایہ سولہ روپے گیارہ آنے کے حساب سے محسوب ہوگا اور زائد وصول شدہ رقم مالک مکان کو واپس کرنی ہوگی۔مالک مکان فی الحال اس شرط پر راضی نہیں ہے،لیکن ظاہر بات ہے کہ ان کو راضی ہونا پڑے گا۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے میرے لیے کون سی صورت صحیح ہوگی؟ کیا میں پینتالیس روپے ماہوار دیتا رہوں یا سولہ روپے گیارہ آنے ادا کیا کروں؟نیز کیا میرے لیے ضروری ہے کہ جب مالک مکان مکان خالی کرنے کا مطالبہ کرے تو لازماً خالی کردوں یا اس امر واقعہ کو جانتے ہوئے کہ اسے مکان کی خود ضرورت نہیں ہے،بلکہ محض کرایہ بڑھانے کے لیے دوسرے کرایہ دار کو دینا مطلوب ہے،میرے لیے جائزہے کہ میں مطالبے کی تعمیل سے انکار کردوں؟…واضح رہے کہ مکانوں کی غیر معمولی قلت کی بنا پر پینتالیس روپے کے بجائے پچاس روپے دینے والے کرائے دار بھی مل سکتے ہیں۔
مجھے صاف اور دو ٹو ک جواب دیا جائے۔جواب میں یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ میں مالک مکان کو نصیحت کروں یا اس کا ظلم اس پر واضح کروں،کیوں کہ یہ چیز بے کار ہوگی۔

جواب: موجودہ حالات میں بڑے شہروں کے مالک مکان مکانات کی قلت سے، اور لوگوں کی،خصوصاًمہاجرین کی حاجت مندی سے انتہائی ناجائز فائدے اُٹھانے پر تل گئے ہیں۔ ان کے ساتھ اگر کوئی شخص معاہدہ کرتا بھی ہے تو برضا ورغبت نہیں کرتا بلکہ اسی طرح کی مجبوری سے کرتا ہے جیسی سود پر قرض لینے والے حاجت مند کو لاحق ہوتی ہے۔ ایسے معاہدات کی کوئی اخلاقی قدر وقیمت نہیںہے،اور درحقیقت یہ معاہدے اس وجہ سے ہورہے ہیں کہ حکومت کی طرف سے انصاف قائم کرنے اور لوگوںکی ضروریات منصفانہ شرائط پر بہم پہنچانے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔اب اگر حکومت نے منصفانہ کرائے مقرر کرنے کا کوئی انتظام کیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ اور دوسرے لوگ اس سے فائدہ نہ اُٹھائیں۔ جس مکان کا کرایہ ازروئے انصاف سولہ روپے ہے، اگر ایک مالک مکان اس کا کرایہ پینتالیس یا پچاس روپے وصول کرتا ہے تو یقینا وہ لٹیراہے۔ وہ آخر کون سا اخلاقی حق رکھتا ہے کہ آپ پر اس کا احترام کرنا واجب ہو۔ کل جو شخص غلہ کی کمی کی وجہ سے بلیک مارکیٹنگ کرنے پر اُتر آئے اور اپنا دس روپے من خریدا ہوا غلہ اسّی روپے من کے حساب سے بیچنے لگے تو کیا اس کے بھی حقوق ملکیت کا احترام کیا جائے گا؟ اگر ہم حکومت کی مدد سے ایسے لوگوں کو مناسب شرح پر اپنا مال بیچنے پر مجبور کرسکتے ہیں توکیوںنہ کریں؟
(ترجمان القرآن۔ربیع الاول،ربیع الاخریٰ۳۷۰اھ۔ جنوری،فروری ا۹۵اء)

شکار کرنے اور شکار کھیلنے میں فرق:

سوال: امیر لوگ آج کل جس طرح شکار کھیلتے ہیں،اسے دیکھ کر دل بے قرار ہوتا ہے۔ سابق زمانہ میں تو شاید لوگ قوت لایموت کے لیے شکار کو ذریعہ بناتے ہوں گے۔مگر آج کل تو یہ ایک تفریح اور تماشا ہے۔بعض لوگ جنگل یا کسی کھیت میں جال لگا کر خرگوش پکڑتے ہیں،پھر ان کو بوریوں میں ڈال کر کسی میدان میں لے جاتے ہیں اور ان کے پیچھے کتے چھوڑتے ہیں۔ خرگوش کو کھلی جگہ میں کوئی جائے پناہ نہیں ملتی تو وہ دوڑ دوڑ کر ہار جاتا ہے اور کتے اسے پھاڑ ڈالتے ہیں۔اس پر خوب تفریح کی جاتی ہے۔یہ بھی دریافت طلب ہے کہ بندوق سے شکار کرنا کیسا ہے؟اس معاملے میں میرے سامنے پارۂ دوم کی یہ آیت ہے کہ وَاِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِي الْاَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيْہَا وَيُہْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ۝۰ۭ وَاللہُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَo البقرہ 205:2 کتب فقہ میں یہ مسئلہ جو درج ہے کہ تکبیر پڑھ کر شکار پر کتا چھوڑا جائے یا بندوق چلائی جائے تو شکاراگر زخمی ہوکر بغیر ذبح کیے مرجائے تو بھی وہ حلال ہے،اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟

جواب: شکار کھیلنا میرے نزدیک مکروہ ہے،البتہ شکار کرنا جائز ہے۔شکار کرنے اور کھیلنے میں فرق یہ ہے کہ جو شکار کھانے کے لیے کیا جائے، خواہ بہ ضرورت ہو یا بلا ضرورت،وہ جائزہے۔ اور جو شکار محض تفریحاً کیا جائے اور جس میں خواہ مخواہ جانوروںکی جانیں ہلاک کی جائیں،وہ اگر ناجائز نہیں تو مکروہ ضرور ہے۔
کسی جانور پر اگر شکار ی کتے یا دوسرے شکاری جانور کو اﷲ کا نام لے کر چھوڑاجائے اور وہ شکاری جانور کے حملے سے مرجائے تو اس کا کھانا ازروئے قرآن جائز ہے۔ اور اگر تیراﷲ کا نام لے کر چھوڑا جائے اور اس کی ضرب سے جانور مر جائے تو اس کا کھانا ازروئے حدیث جائز ہے۔ پہلی چیزکی دلیل سورۂ مائدہ کے پہلے رکوع میں موجود ہے اور دوسری چیز کی دلیل کے لیے حدیث کی کسی کتاب میں ’’کتاب الصید‘‘ نکال کر دیکھ لیجیے۔بندوق کے متعلق آپ نے جو کچھ لکھا ہے وہ کتب فقہ میں مذکور نہیں ہے۔ (ترجمان القرآن۔ رجب،شعبان ا۳۷اھ۔ اپریل،مئی۹۵۲اء)

اسلام کے ماخذ قانون اور تعبیر واجتہاد:

سوال: ڈاکٹر محمصانی، بیروت کے پروفیسر برائے قانون،جو حکومت پاکستان کی دعوت پر اس ملک میں تشریف لائے،انھوں نے اسلامی قانون پر کراچی میں ایک تقریر کی۔عرب ممالک میں قانونی ارتقا کے تین ادوار،خلافت دور عثمانی اور جدید زمانے کا تذکرہ کرکے انھوں نے اس پر بحث کی کہ زمانے کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق اسلامی قانون میں تبدیلی ممکن ہے یا نہیں۔ان کی بحث کا ماحصل یہ تھا کہ اسلامی قانون کے دو حصے ہیں:ایک خالص مذہبی،دوسرا معاشرتی۔ جہاں تک مذہبی قانون کا تعلق ہے،اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی، کیوں کہ وہ کبھی نہ بدلنے والے حقائق پر مشتمل ہے،مثلاً توحید،عبادات وغیرہ۔ معاشرتی قانون دو مآخذ پر مبنی ہے:ایک اجتہاد، اور دوسرے قرآن وحدیث۔اجتہاد ہر زمانے کی ضروریات کے مطابق بدلتا رہتا ہے اور بدلنا چاہیے۔ احادیث میں سب سے پہلے سوال صحیح وغیر صحیح کا ہے،پھر صحیح احادیث بھی دو قسم کی ہیں:لازمی(obligatory) اور اختیاری یا مشاورتی(permissive)۔ پس آخر کار بحث ان احکام کی رہ جاتی ہے جو یا تو قرآن پر یا صحیح لازمی احادیث پر مبنی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا ان دونوں چیزوں کے… الفاظ کو نہیں( کیوں کہ وہ علیٰ حالہٖ موجود ہیں اور تبدیل نہیں کیے جاسکتے)…سوسائٹی کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق نئی تعبیر(interpretation) دی جاسکتی ہے؟ڈاکٹر محمصانی نے کہا کہ اس بارے میں فقہا کے دو گروہ ہیں:(ا)اکثریت کی رائے یہ ہے کہ آیات قرآنی اور احادیث صحیح کو نئے معنی نہیں پہنائے جاسکتے۔(۲) اقلیت کا استدلال یہ ہے کہ قانون ایک معاشرتی عمرانی سائنس ہے، لہٰذا جیسے جیسے معاشرت وعمران میں تبدیلی ہوتی جائے، قانون کو بھی بدلنا چاہیے،ورنہ وہ زمانے سے اپنا رشتہ توڑ بیٹھے گا۔اسلام ترقی،تہذیب اور بہبود عامہ کا دین ہے اور اس کی یہ خصوصیات باقی نہیں رہتیںاگر ہم اس کے بارے میں قدامت کا رویہ اختیار کریں۔ اپنے اس دعوے کے ثبوت میں انھوں نے دو مثالیں بطور نمونہ پیش کیں اور بتایا کہ نہایت کثرت سے انھوں نے ایسی نظیریں اپنی کتاب …(Philosophy of Islamic Jurisprudance) میں دی ہیں۔
پہلی مثال یہ تھی کہ ایک حدیث صحیح میں گیہوں اور جو کو رقیق اشیا کے پیمانے سے ناپنے کا تذکرہ ہے۔ کیوں کہ اس زمانے میں یہی رواج تھا۔ بعد کو جب وزن کے حساب سے یہ چیزیں فروخت ہونے لگیں تو ایک شخص نے امام ابو یوسفؒ سے استفسار کیا۔انھوں نے کہا کہ وہ معاہدہ جو وزن کے پیمانے سے ہوا ہو،جائز ہے۔ اس سے پتا چلا کہ روا ج کے بدل جانے سے احادیث کی تعبیر یا اطلاق میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔
دوسری مثال جس کے ذریعے ڈاکٹر صاحب نے استدلال کیا کہ نہ صرف حدیث بلکہ قرآن کے الفاظ کو سوسائٹی کی ضروریات بد ل جانے پر نئی تعبیر دی جاسکتی ہے،یہ تھی کہ قرآن میں صدقات کے مصارف میں مؤلفۃ القلوب کا بھی ایک حصہ رکھا گیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب نو مسلموں کو صدقات میں سے کچھ دینے سے انکار کیا تو انھوں نے قرآن کی آیت سندمیں پیش کی کہ یہ تو ہمارا حق ہے جو قرآن نے مقرر کیا ہے،آپ اسے کیسے ختم کرسکتے ہیں؟حضرت عمرؓ نے جواباًکہا کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تھی،اس وقت اسلام کمزور تھا،اس لیے اس کی ضرورت تھی،اب اسلام خدا کے فضل سے قوی ہے،لہٰذااب ضرورت باقی نہیں رہی،پس میں تم کو یہ حصہ نہیں دوں گا۔
اس قسم کی مثالوں میں ایک معاملہ قطع ید کا بھی ہے۔حضرت عمرؓ نے ایک شخص کو جس نے بیت المال میں چوری کی تھی، اور دوسرے کو جس نے اپنے آقا کا مال چرایا تھا،قطع ید کی سزا نہیں دی، اس دلیل سے کہ ان کا اس مال میں حصہ تھا۔اسی طرح قحط کے زمانے میں آپ نے اس سزا کو موقوف کردیا۔
ڈاکٹر محمصانی نے دوران تقریر میں قانون کے چارمآخذ بتائے:قرآن،حدیث،اجماع اور قیاس۔میرے ذہن میں ان کی تقریر کے بعد مندرجہ ذیل سوالات پیدا ہوئے ہیں:
(۱) متذکرۂ بالا چار مآخذ کے علاوہ اور کون سی چیزیں ماخذ قانون ہیں؟ کیا علّت، دوسرے ممالک کے رواج، عرف، عادت، تعامل، سنن القبل، عموم بلویٰ، صاحب امر کی ہدایات، معاہدات وغیرہ کو مآخذ قانون بنایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ فقہا نے ان تمام کو مآخذ قانون کی فہرست میںتو نہیں لکھا لیکن دوران بحث میں ان تمام کاتذکرہ مآخذ قانون کی حیثیت سے کیا ہے، اور خلفائے راشدین کے عمل سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ مثلاًحضرت عمرؓ نے زراعت ومالیاتی قانون میں شامی،مصری اور ایرانی قانون کی پیروی کی،رجسٹر اور حسابات رکھنے کے طریقے ان سے اخذ کیے، غیر اسلامی حکومتوں کے تاجروں پر اتنا محصول عائد کیا جتنا کہ ان کی حکومتیں مسلمان تاجروں پر عائد کیا کرتی تھیں… تو کیا اس سے یہ اُصول مستنبط نہیں ہوتا کہ قرآن وحدیث کی مقرر کردہ حدود کے اندر دوسرے ممالک کے قانون سے استفادہ،اور نہ صرف استفادہ بلکہ اس کو بعینہٖ اخذ کیا جاسکتا ہے؟حضرت عمرؓ کا عمل تو کم ازکم یہی ثابت کرتا ہے۔ آج اگر اسلامی حکومت وجود میں آئے تو کیا وہ مغربی ممالک کی سیاسی،معاشرتی،ادبی، اقتصادی اور سائنٹفک ترقیات کو نظر انداز کرکے نئے سرے سے اپنی عمارت کی بنیاد نہ رکھے گی،محض اس غلط تصور اور تعصب کی بنا پر کہ جو کچھ مغرب سے آیا ہے،وہ غلط ہے؟کیایہ تصور بالکل اسی طرح غلط نہیں کہ جو کچھ مغرب سے آیا ہے، وہی صحیح ہے؟اگر یہ ایک انتہا ہے تو وہ دوسری انتہا ہے۔پھر کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ مغرب کی جو باتیں شریعت کے مزاج سے مطابقت رکھتی ہیں،ان کو بعینہٖ یا ان میں ادل بدل کرکے لے لیا جائے۔
(۲) بزرگان سلف اور ائمہ نے جو اجتہادات کیے،اگر ان مسائل میں کوئی تبدیلی واضافہ ممکن نہیں تو ان کو اختیار کرلیا جائے،ورنہ زمانہ کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ان کا اجتہاد کچھ مسائل میں اگر سازگار نہ رہا ہو تو آج کے فقہا از سر نو اجتہاد کریں جو دورحاضر کی ضروریات کے مطابق ہو۔
(۳) کیاقرآن وحدیث کے الفاظ کو تبدیل کیے بغیر سوسائٹی اور معاشرت کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ان دو ماخذ کے الفاظ کی تعبیر میں تبدیلی، اضافہ یا کمی کی جاسکتی ہے؟مثلاً جیسا کہ مولفۃ القلوب کی مثال سے ثابت ہوتا ہے۔ اس قسم کے مسائل آج بھی پیدا ہوسکتے ہیں،اگرچہ ان کی تعداد کم ہوگی۔ دوسرے الفاظ میں ان احکام ومسائل میں جو نصوص قرآنی یا احادیث لازمی پر مبنی ہیں،زمانے کی ضروریات اور ان احکام کی علت بدل جانے پر ایسے نئے احکام مستنبط کیے جاسکتے ہیں جو اسلام کی روح کے مطابق ہوں۔آخر فقہا ہی کا یہ متفق علیہ مسلک ہے کہ ہر حکم کی ایک علت ہے اور فلاح عامہ بہرحال مقدم ہے۔
مثلاً زکوٰۃ کا حکم قرآن شریف میں مذکور ہے لیکن زکوٰۃ کی کوئی شرح مذکور نہیں۔ احادیث میں جو شرح مذکور ہے وہ زمانے کی ضروریات کے مطابق تھی۔ اب ایک سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا زکوٰۃ کو ملک کے عام ریونیو یا ٹیکس کی حیثیت حاصل ہے(جب کہ حکومت اسلامی ہو؟)اگر ہے تو دوسرا سوال شرح کا ہے کہ آج کے مالیاتی تقاضے قدیم شرح سے پورے نہیں ہوسکتے۔
ان سوالات سے ہٹ کر ایک دریافت طلب امر یہ ہے کہ قرآن آیا ایک کوڈ ہے یا نہیں؟ بظاہر قانونی اعتبار سے قرآن ایک ترمیمی ضابطہ (amending code)کی حیثیت رکھتا ہے جس نے بہت سے ان رواجوں اور دستوروں کو قائم رکھا جو عرب میں جاری تھے،سب میں انقلاب پیدا نہیں کیا۔لہٰذا یہ کہنا کہ قرآن ایک مکمل کوڈ ہے،کس حد تک درست یا غلط ہے؟

جواب: آپ نے جن مسائل کے متعلق اظہار رائے کی فرمایش کی ہے، میں ان پر ’’حقوق الزوجین‘‘،’’سود حصہ اوّل‘‘، ’’تفہیمات‘‘اور’’اسلامی قانون‘‘ میں ایک حد تک مفصل بحث کرچکا ہوں۔آپ ان کتابوں کو ملاحظہ فرمائیں کہ کون سے پہلو تشنہ رہ گئے ہیں جن پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے۔باقی رہے آپ کے سوالات، تو ان کے متعلق مختصر طور پر اپنے خیالات عرض کیے دیتا ہوں:
(۱) علت، عرف،عادت،تعامل،سنن القبل، عموم بلویٰ،صاحب امر کی ہدایات، معاہدات اور ممالک غیر کے رواجات بجائے خود ماخذ قانون نہیں بن سکتے،بلکہ یہ سب اجماع اور قیاس کے ضمن ہی میں داخل ہوں گے۔ اور خود اجماع و قیاس بھی اصل ماخذ قانون نہیں ہیں بلکہ قرآن وسنت کے تابع ہیں۔ اجماع ہو یا قیاس،دونوں صرف اسی صورت میں صحیح ہوسکتے ہیں جب کہ استدلال کی بنا قرآن وسنت کے امرونہی یا اباحت پر رکھی گئی ہو۔ امرو نہی کے معاملے میں قیاس واجتہاد کو لامحالہ نصوص کا پابند ہونا پڑے گا،اور جس قیاس واجتہاد پر اجماع ہوجائے،یا جمہور متفق ہوجائیں،وہی ملک کا قانون بن جائے گا۔رہے مباحات، تو ان کے دائرے میں ہم بیرونی ممالک کے طریقوں سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں،اپنے ملک کے عرف ورواج کو بھی برقرار رکھ سکتے ہیں،عموم بلویٰ کا لحاظ بھی کرسکتے ہیں اور دوسرے مآخذ کی طرف بھی رجوع کرسکتے ہیں،بشرطیکہ جو قوانین بھی ہم بنائیں،وہ بحیثیت مجموعی اسلامی زندگی سے مطابقت رکھتے ہوں۔
(۲) بزرگان سلف کے اجتہادات نہ تو اٹل قانون قرار دیے جاسکتے ہیں اور نہ سب کے سب در یا برد کردینے کے لائق ہیں۔صحیح اور معتدل مسلک یہی ہے کہ ان میں رد و بدل کیا جاسکتا ہے، مگرصرف بقدر ضرورت اور اس شرط کے ساتھ کہ جو رد وبدل بھی کیا جائے تو دلائل شرعیہ کی بنا پر کیا جائے۔نیزنئی ضروریات کے لیے نیا اجتہاد بھی کیا جاسکتا ہے مگر اس کے لیے شرط یہی ہے کہ اس اجتہاد کا ماخذ کتاب اﷲ اور سنت رسول ؐاﷲ ہو اور یہ اجتہاد وہ لوگ کریں جو علم وبصیرت کے ساتھ جذبہ اتباع واطاعت بھی رکھتے ہوں۔رہے وہ لوگ جو زمانہ جدید کے رجحانات سے مغلوب ہوکر دین میں تحریف کرنا چاہتے ہیں، تو ان کے حق اجتہاد کو تسلیم کرنے سے ہمیں قطعی انکار ہے۔
(۳) اُصولی طور پر تو یہ بات صحیح ہے کہ احکام شرعیہ کے اجرا ونفاذ میں حالات کا لحاظ کرنا ضروری ہے،اور یہ بھی صحیح ہے کہ نصوص کے الفاظ کی تعبیر میں اختلاف کی کافی گنجایش ہے،لیکن بحث اس وقت پید اہوتی ہے جب اجمال کو چھوڑ کر ہم تفصیلات کی طرف آتے ہیں۔یہاں متعدد تفصیلات ہمارے سامنے ایسی آتی ہیں جن میں تغیر پسند اصحاب کی تجاویز ہم کو حد جواز سے متجاوز نظر آتی ہیں۔ مثلاًیہی زکوٰۃ کا معاملہ ہے جسے آپ نے مثال میں پیش کیا ہے۔ہمارے نزدیک زکوٰۃ کو ملک کے عام ریونیو یا ٹیکس کی حیثیت حاصل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مالی عبادت ہے،اور اس کے لیے شارع نے جو نصاب، شرح اور مصارف مقرر کیے ہیں،ان میں رد وبدل نہیں کیا جاسکتا۔ اور جن چیزوں پر زکوٰۃعائد کی گئی ہے،ان میں بھی کمی بیشی ممکن نہیں ہے،الا یہ کہ کسی چیز کو شارع کی مقرر کردہ اشیا پر قیاس کرلیاجائے۔ رہیں حکومت کی ضروریات، تو ہم اس بات کے قائل ہیںکہ ایک اسلامی حکومت جمہور کی خدمت کے جن جن کاموں کو اپنے ہاتھ میں لے،ان کی انجام دہی کے لیے و ہ جمہور پر ٹیکس لگا کر اپنے مصارف پورے کرسکتی ہے،بشرطیکہ ٹیکس انصاف کے ساتھ لگائے جائیں اور ایمان داری کے ساتھ ان کو خرچ کیا جائے۔
(۴) آپ کا آخری سوال کہ قرآن ایک ’’کوڈ‘‘ ہے یا نہیں،اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن ’’کوڈ‘‘نہیں بلکہ ’’کتاب ِہدایت‘‘ ہے جس میں سوسائٹی کی اصلاح وتنظیم کے لیے قانونی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔محض اس لیے کہ اس میں قانونی ہدایات بھی ہیں،اس کو ’’کوڈ‘‘کہہ دینا درست نہیں ہے۔اور’’مکمل کوڈ‘‘ کے لفظ سے اس کو تعبیر کرنا اور بھی زیادہ غلط ہے۔ جو بات صحیح طور پر کہی جاسکتی ہے،وہ صرف یہ ہے کہ قرآن ایک مکمل کتاب ہدایت ہے۔
(ترجمان القرآن۔صفر ۳۷۰ا ھ۔ دسمبر۹۵۰اء)
……٭٭٭……

قومی ملکیت:

سوال: چوں کہ جماعتِ اسلامی اور آپ ذاتی طور پر قومی ملکیت کے بارے میں ایک خاص طرز فکر رکھتے ہیں،اس لیے بعض شکوک پیش کررہا ہوں۔ توقع ہے کہ آپ ان کا ازالہ فرمائیں گے۔
موجودہ دور میں ذہن اشتراکیت سے ضرور متاثر ہیں اور محرومین(have not)اور منعمین(haves) کے درمیان طبقاتی کش مکش کا موجود ہونا قومی ملکیت کے نظریے کو اُبھار رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آپ اور جماعتِ اسلامی اراضیات اور صنعت وغیرہ کو قومیانے(nation alization) کے متعلق اس حتمی نتیجے پر کس طرح پہنچے ہیں کہ اسلام اس کے خلاف ہے؟ آپ بحیثیت داعی یا محقق کے اپنی رائے کا اظہار تو کرسکتے ہیں مگر آخری اورقطعی فیصلہ کا حق نہیں رکھتے۔یہ کام تو اسلامی حکومت کی مجلس شوریٰ کا ہوگا کہ وہ کتاب وسنت پر بحث کرکے کسی آخری نتیجے پر پہنچے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ قومی ملکیت کے متعلق اسلام کا نقطۂ نظر کیا ہے؟غالباًآپ کی رائے یہ ہے کہ اسلامی حکومت انفرادی حقوق ملکیت میں مداخلت کی مجاز نہیں ہے۔حالاں کہ میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ اسلامی لٹریچر اس متنازعہ مسئلے کو سرے سے چھوتا ہی نہیں۔
بلاشبہ یہ صحیح ہے کہ اسلام انفرادی حق ملکیت کو تسلیم کرتا ہے،مگر اس سے یہ اخذ کرلینا کہ اراضیات ودیگر املاک( صنعتی وکاروباری)کو قومی نہیں قرار دیا جاسکتا،سراسر ناانصافی ہے۔کسی حق کو تسلیم کرنا اور شے ہے اور کسی حق کے حصول کو لازمی قرار دینا اور چیزہے… رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم… کا جاگیریں اور پنشنیں دینا یہ ثابت نہیں کرتا کہ اسلامی حکومت پبلک کی ساری زمین کو اپنے چارج میں نہیں لے سکتی۔کسی امر کا بطور واقعہ(defacto) ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ قانونی طورپر(de-jure) بھی وہ واجب ہے۔غالباًآں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حکم ایسا ثابت نہیں کہ ہر شخص کو زمین یا کارخانے کا مالک ہونا چاہیے۔پھر جو چیز لازم نہیں، اس کا ترک کرنا ناجائز کیسے ہوا؟
خود قرآن میں ہے کہ’’جو کچھ زمین میں ہے وہ تم سب کا ہے‘‘اور حکومت اسلامی انتخابی ہونے کے لحاظ سے بحکم خداوندی ہم سب کی ہے۔اگر ایسی حکومت املاک کو ہم سب کے لیے اپنے تصرف میں کرلے تو امتناع یا تناقض کی بنا کہاں ملتی ہے؟انفرادی ملکیت کا معاملہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے قرآن میں ایک خاص دور کے حالات کے تحت غلام رکھنے کی اجازت دی گئی تھی، مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ضرو رغلام رکھے جائیں۔
میرامدعا یہ ہے کہ تسلیم حق،نفاذ حق کے مترادف نہیں۔جو حق فرضیت تک نہیں پہنچتا اور اختیاری ہے،اسے جمیع مسلمان اگر چاہیں تو چھوڑ سکتے ہیں۔میرے نزدیک مسئلہ یہ نہیں ہے کہ گزشتہ ادوار میں کون سا طریقہ نظام اراضی میں رائج تھا، بلکہ اصل بحث یہ ہے کہ ازروئے قرآن وسنت حکومت اسلامی کثرت رائے سے جمیع مسلمانان کی جمیع اراضیات اپنے تصرف میں لاکر بہتر طریق پر پیدا وار حاصل کرکے لوگوں میں بانٹ سکتی ہے۔ باقی رہا انفرادی ملکیت کا حق، تو وہ نہ کبھی پہلے دنیا یکسر ختم کرسکی،نہ آیندہ کرسکے گی۔
اگر افراد کو پورا پورا حق ملکیت دے دیا جائے تو پھر حکومت اپاہج ہوجائے۔ پھروہ غلے کا کنٹرول کرسکتی ہے،نہ لائسنس سسٹم رائج کرسکتی ہے، نہ تجارت پر نگرانی قائم کرسکتی ہے۔
قومی ملکیت کے لیے اکثریت کی مرضی معلوم کرنے کا ذریعہ اگر مجلس شوریٰ کافی نہ ہو تو استصواب عام(refrendum) بھی کیا جاسکتا ہے۔اب اگر پوری قوم کی مرضی یہ فیصلہ دے دے تو اسے خلاف اسلام کیسے کہا جاسکتا ہے؟

جواب: جوسوالات آپ نے چھیڑے ہیں،ان کا مفصل جواب تو ایک خط میں دینا مشکل ہے۔ لیکن اُمید ہے کہ یہ چند اشارات آپ کے لیے کافی ہوں گے:
آپ کا یہ خیال درست ہے کہ جن معاملات کا فیصلہ آیندہ اسلامی حکومت یا پارلیمنٹ کو کرنا ہے،ان کے بارے میں ہم ایک اقامت دین کی جدوجہد کرنے والی جماعت کی حیثیت سے کوئی پیشگی فیصلہ کردینے کا آئینی حق نہیں رکھتے،اور اگر ہم ایسا کوئی فیصلہ کر بھی دیں تو اس کا کوئی آئینی وزن نہیں ہے۔مگر کیا ہم ایک جماعت کی حیثیت سے یہ کہنے کا حق بھی نہیں رکھتے کہ فلاں تدبیر یا فلاں طریق کار ہمارے نزدیک غیر اسلامی ہے؟اور کیا ہم یہ فیصلہ کرنے کے بھی مجاز نہیں ہیں کہ فلاں تجویز جب کبھی زیر بحث آئے گی تو ہم اس کی مخالفت کریں گے؟اگر آپ مانتے ہیں کہ ہر شخص یا گروہ جس نے دینی مسائل میں رائے دینے کی استعداد بہم پہنچائی ہو،اس طرح کے فیصلے کرنے کا حق رکھتا ہے تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ نہیں کی ہے۔ہم خود جانتے ہیں کہ ایسے معاملات میں ہمارے فیصلے آیندہ اسلامی حکومت کی مجلس شوریٰ کو پابند کرنے والے نہیں ہیں۔
اب آپ اصل مسئلے کو لیجیے۔ قومی ملکیت کے بارے میں اُصولی طور پر دو سوال تصفیہ طلب ہیں:
ایک یہ کہ آیا تمام ذرائع پیداوار کو قومی ملکیت بنادینا اسلام کے فلسفۂ اجتماع (social philosophy) کی رو سے بھی اسی طرح مطلوب ہے جس طرح اشتراکیت کے فلسفۂ اجتماع کی رو سے ہے؟ یا اگر مطلوب نہیں تو کیا کم ازکم یہی کہا جاسکتا ہے کہ ایسا کرنا اسلامی فلسفۂ اجتماع کی مجموعی اسپرٹ سے مطابقت رکھتا ہے؟
دوسرے یہ کہ قومی ملکیت کی اسکیم کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر کیا یہ درست ہے کہ کوئی پارلیمنٹ ایک حکم کے ذریعے سے اراضی اور دوسرے ذرائع پیدا وار پر سے افراد کی ملکیت کو ساقط کرکے ان پر اجتماعی ملکیت قائم کردے؟یا یہ فیصلہ کردے کہ تمام افراد اپنی ایسی ملکیتیں حکومت کی مقررہ قیمتوں پر حکومت کے ہاتھ لازماًبیچ دیں۔
امرِ اوّل کے بارے میں آپ میری کتاب’’ملکیت زمین‘‘ کا آخری باب ملاحظہ فرمائیں۔ نیزمیری کتاب’’سود‘‘ کے حصہ دوم کو بھی دیکھ لیں۔نعیم صدیقی صاحب کا پمفلٹ’’قومی ملکیت‘‘ بھی نگاہ میں رہے تو بہتر ہے۔ان چیزوں کے ملاحظہ فرمانے کے بعدبھی اگر آپ کی رائے یہ ہو کہ ذرائع پیداوار کو بطور ایک مستقل پالیسی کے قومی ملکیت بنادینا اسلامی فلسفہ اجتماع کی رو سے مطلوب ہے یا اس سے مطابقت رکھتا ہے تو براہ کرم آپ اپنے دلائل ارشاد فرمائیں، اور ساتھ ہی ہمارے دلائل پر تنقید کرکے ان کی غلطی بھی واضح کردیں۔
امر دوم کے بارے میں ایک قانون دان کی حیثیت سے کیا آپ اس کا ثبوت دے سکتے ہیں کہ اسلامی شریعت تمام افراد کی نہیں بلکہ کسی ایک شخص ہی کی ذاتی ملکیت کو اس طرح ساقط کردینے یا اس کو اپنی املاک کی فروخت پر مجبور کرنے کی اجازت دیتی ہے؟خصوصاً جب کہ اسقاط یا اجبار ایک ایسے فلسفہ اجتماع پر مبنی ہو جو بہرحال قرآن وحدیث سے ماخوذنہیں ہے؟
(ترجمان القرآن۔ ذی الحجہ ۳۷۹اھ۔ اکتوبر۹۵۰اء)

ایک زمین داری میں رضا کارانہ طور پر اصلاحات کا آغاز:

سوال: میں ایک بڑ ی زمین داری کا مالک ہوں۔میں نے تہیہ کرلیا ہے کہ اپنے مزارعین سے شریعت محمدیؐ کے مطابق معاملہ کروں۔ اس مقصد کے لیے میں اپنے موجودہ طرز عمل کی تفصیلات تحریر کررہا ہوں۔ان کے بارے میں واضح فرمایئے کہ کیا کیا چیزیں غلط ہیں اور کیا کیا صحیح ہیں؟
(۱)میں نے ہر مزارع کو دس بارہ ایکٹر زمین فی ہل دے رکھی ہے۔بیگار مدت سے رائج تھی، لیکن میں نے بند کردی ہے۔صرف وسائل آب پاشی کی درستی مزارعین کے ذمے ہے۔
(۲)میں ہر پیداوارمیں سے ۳/۱حصہ لیتا ہوں۔ پانی کا محصول سرکاری (آبیانہ) کل مزارعین دیتے ہیں اور ملکیت کا محصول(ٹھیکہ یا مطالبۂ مال) میں ادا کرتا ہوں۔باقی محصول (زرعی ٹیکس کے سوا) بٹائی کے تناسب سے مشترکہ طور پر ادا کیے جاتے ہیں۔ خرابہ مزارعین کو نہیں دیا جاتا۔
(۳)تخم پختہ اجناس بذمہ مزارعان ہوتا ہے اور قیمتی اجناس کے تخم کا۳۔۱ حصہ میں دیتا ہوں۔
(۴) ۳سیر فی من( ۳۔۱ حصۂ پیدا وار کے علاوہ)کل پیدا وار میں سے جداگانہ طو رپر وصول کیا جاتا ہے اور کسی طرح کا لگان یا بیگار پہرہ وغیرہ کی خدمات نہیں لی جاتیں۔
(۵) میرے ملازمین کاشت بھی ہیں جن میں سے چند حصہ پر ہیں اور چند تنخواہ دار ہیں۔ حصہ داری پر کام کرنے والے میرے بیلوں کے ساتھ میری اراضی میں میرے منیجروں کی ہدایات کے تحت کام کرتے ہیں۔بیج میرا ہوتا ہے۔ بعد میں ملکیت کے طور پر ۳۔۱ حصہ بٹائی اور۳سیر فی من کل انبارمیں سے وصو ل کرتا ہوں۔بقیہ غلہ کا نصف بیلوں کے مصارف میں لیا جاتا ہے اور نصف کارکنوں کی کارکردگی کے حق میں دیا جاتا ہے۔
مثلاً الف،ب،ج میرے حصے دار ہیں اورد، میرے ملازم ہیں۔ان کے پاس میرے۵ جوڑی بیل کاشت کے لیے ہیں۔میں۵۰من غلے میں سے اپنی بٹائی لے کر۳حصے الف،ب،ج کو دوں گا،باقی ۵ حصے بیلوں کے اور دو حصے تنخوا ہ دار ملازموں کے میں لوں گا،کیوں کہ ان کی تنخواہ میرے ذمے ہے۔آبیانہ وغیرہ علاوہ ملکیتی لگان سرکاری کے مندرجہ بالا نسبت سے ادا ہوگا۔
(۶)میری ملکیت وراثتاً میرے پاس منتقل ہوئی ہے اور میرے آباو اجداد نے حکومت سے یادوسرے زمین داروں سے’’قیمتاً‘‘لی تھی۔میرے پاس کوئی سرکار ی جاگیر وغیرہ نہیں۔
براہِ کرم میرے معاملے پرتوجہ فرمائیں۔شاید اﷲ تعالیٰ دوسرے اہل زمین کو بھی دیکھا دیکھی توفیق اصلاح دے۔

جواب: اﷲ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے کہ آپ نے خود اپنی زمین داری کو رضا کارانہ طور پر شریعت کے مطابق درست کرنے کاارادہ فرمایا۔ کاش دوسرے زمین دار بھی اسی طرح اپنے معاملات کی اصلاح پر آمادہ ہوجائیں۔
آپ نے اپنے معاملات کی جو شکلیں بیان فرمائی ہیں،ان میں سے نمبرا،۲،۳ تو جائز ہیں، مگر نمبر ۴کا پہلا حصہ غلط ہے،اسے بدل دیجیے۔پیداوار میں سے ۳۔۱ حصہ کے علاوہ۳سیر فی من کل انبار میں سے وصو ل کرنا آپ کی پوری بٹائی کو ناجائزقرار دیتا ہے۔آپ صرف نسبت کے اعتبار سے اپنا حصہ لینے کے حق دار ہیں۔وزن کے اعتبار سے ایک متعین مقدار وصول کرنے کا آپ کو حق نہیں ہے۔
نمبر۵میں جو صورت معاملہ آپ نے بیان کی ہے،اس میں اجرت اور بٹائی کو خلط ملط کردیا گیاہے جس سے ظلم کی راہ نکل سکتی ہے۔ آپ کو چاہیے کہ اپنی اراضی کے جن قطعات کو اجرت دے کر کاشت کرانا ہوانھیں الگ رکھیں، اور جنھیں بٹائی پر دیناہو انھیں خالص بٹائی کے لیے مخصوص کردیں۔اجرت پر کام لینے کی صورت میں زمین کی ساری پید اوار خواہ کم ہو یا زیادہ، آپ کی ہوگی،اور آپ کے ملازم صرف اپنی اجرت کے مستحق ہوں گے۔ اور بٹائی پر زمین دینے کی صورت میں آپ کویا آپ کے منیجروں کو مزارعین کے کام میں دخل دینے کی کوئی ضرورت نہیں،آپ خواہ محض زمین مزارعوں کو دیں، یا ہل بیل اور بیج میں سے بھی کوئی چیز دیں،بہرحال آپ ایک طے شدہ نسبت کے مطابق پیداوار میں سے صرف اپنا حصہ لینے کے مجاز ہیں۔
نمبر۶ میں آپ نے اپنی زمین داری کی جو اصل بیان کی ہے،وہ اگر درست ہے تو آپ کی ملکیت شرعاً درست قرار پائے گی۔ اس صورت میں طریقۂ زمین داری کی اصلاح آپ کے ذمے ہے اور ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ اس وقت جو شرعی وارث موجود ہوں،ان کے حصے آپ انھیں تقسیم کردیں۔

سوال: دوبارہ متکلف ہوں کہ جو چند باتیں جناب کے نوازش نامے سے نہیں سمجھ سکا، ان کی مزید توضیح کی درخواست کروں:
(۱) اگر۳سیر فی من بٹائی کے علاوہ لینا درست نہیں ہے تو پھر دوسرا یہ راستہ ہے کہ بٹائی کی شرح تبدیل کروں۔ مثلاً ۳۔۱ کے بجائے ۵۔۲یا ۵۔۳ کی شرح قائم کی جاسکتی ہے،یا کوئی اور صورت جو شرعاً زیادہ مناسب ہو تحریر فرمائیں۔
حصہ داروں اور ملازمین کے رقبوں کو علیحدہ کرنے کے لیے میں نے آج ہی کہہ دیا ہے۔بہرحال بٹائی کے شرعی طریق یا تناسب سے مطلع فرمائیں۔
(۲) آپ نے فرمایا ہے کہ میرے ملازمین یا منیجروں کو مزارعین کے کام میں دخل دینے کا حق نہیں پہنچتا۔سوال یہ ہے کہ اگر ان کی نگرانی نہ کی جائے تو وہ مالک زمین کا حق مار کھائیں گے اور کماحقہ محنت نہ کریں گے۔ ملازمین کے مصارف کا بوجھ صرف مجھی پر ہوتا ہے، مزارعین کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔
(۳) آپ نے فرمایا ہے کہ میں اپنی ملکیت کو اس وقت شرعی وارثوں میں(جو موجود ہوں) تقسیم کردوں۔ اس سلسلے میں گزارش ہے کہ میرے باپ پر جو حصے ازروئے شریعت واجب الادا تھے تو یہ ان کے ذمے تھے۔میرے نام مرحوم والد نے اپنی زندگی میں ہر قسم کی ملکیت بروئے ہبہ منتقل کردی تھی اوریہ واقعہ ان کی فوتیدگی سے چھ سال قبل کا ہے۔اندریں حالات مجھ پر صرف میرے اپنے ہونے والے ورثا کا حق واجب ہوگا یا والد مرحوم کے پس ماندگان کا بھی؟ اگر والد مرحوم کے پس ماندگان کو میں ان کا حق ادا کرنا بھی چاہوں تو میرے دوسرے بھائی اس معاملے میں ساتھ نہ دیں گے اور میں اکیلا ان کے حقوق پورے کر ہی نہیں سکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ والد مرحوم کے ذمے داری سے متعلق تھا نہ کہ مجھ سے۔

جواب: (۱) بٹائی کایہ طریقہ اُصولاً صحیح ہے کہ پیداوار جو کچھ بھی ہو،اس میں سے مالک زمین اور کاشت کار متناسب طریق پر حصہ تقسیم کرلیں،مثلاً یہی کہ ۵۔۲ مالک کا اور ۵۔۳ کاشت کار کا۔ کاشت کا مگر اس معاملے میں انصاف کا تقاضا پورا کرنے کے لیے یہ لحاظ رکھنا چاہیے کہ ہر کاشت کار کو کم از کم آپ اتنی زمین کاشت کے لیے دیں جس کی پیداوار کا حصہ اس کی انسانی ضروریات کے لیے کافی ہو۔ نیز تناسب مقرر کرنے میں رواج سے قطع نظر کرکے انصاف کے ساتھ یہ دیکھیں کہ حاصل شدہ پیداوار کی تیاری میں آپ کا اور آپ کے کاشت کار کا واقعی کتنا حصہ ہے۔ اس معاملے میں کوئی عالم گیر ضابطہ تو بنایا نہیں جا سکتا، اس لیے کہ ہر علاقے کے زراعتی حالات مختلف ہوتے ہیں البتہ بادی النظر میں یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اگر آپ کی صرف زمین ہو اور بیج، ہل اور محنت سب کاشت کار کی ہو تو اس صورت میں ۵۔۲ اور ۵۔۳ کی نسبت مبنی بر انصاف نہیں ہے۔بہرحال یہ ضروری ہے کہ مالکان زمین اپنے معاملات کو صرف شرعی ضوابط کے مطابق درست کرنے ہی پر اکتفا نہ کریں بلکہ کھلے دل سے انصاف کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔
(۲) آپ کو اس بات کی نگرانی کرنے کا حق ضرور پہنچتا ہے کہ کاشت کار بٹائی سے پہلے مشترک غلے میں بے جا تصرف نہ کریں اور مزارع کی حیثیت سے اپنے فرائض بھی ٹھیک ٹھیک ادا کرتے رہیں۔لیکن اس نگرانی کو اس حد تک نہ بڑھنا چاہیے کہ مزارع کی حیثیت بالکل ملازم یا مزدور کی سی ہوکر رہ جائے،اور آپ کا نگران عملہ بالکل اپنے حکم کے تحت ان سے کام لینے لگے۔اُصولاً ایک مزارع آپ کا ملازم یا مزدور نہیں ہے بلکہ ایک شریک کاروبار کی حیثیت رکھتا ہے،اور یہی سمجھ کر اس سے معاملہ کرنا چاہیے۔مجھے مزارعین کی جو شکایات معلوم ہوئی ہیں،ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ زمین دار اور ان کے ملازمین ہر وقت ان کے سر پر سوار رہتے ہیں اور ان کے ہرکام میں مداخلت کرتے رہتے ہیں۔میرا مدعا اسی طریقے کی اصلاح ہے۔
(۳) وراثت کی تقسیم کا سوال ان موہوبہ اموال کے معاملے میں پیدا نہیں ہوتا جو کسی شخص نے اپنی زندگی میں (بشرطیکہ اندیشہ موت کی بنا پر نہ ہو) کسی کے دے دیے ہوں۔ لیکن جوترکہ متوفی نے چھوڑا ہو، وہ خواہ کم ہو یا زیادہ،اس کی تقسیم کا معاملہ وراثت کے قانون سے تعلق رکھتا ہے،اور اس معاملے میں کوئی ذمہ داری متوفی پر نہیں ہے۔ بلکہ یہ پس ماندگان کا کام ہے کہ وہ اس ترکہ کو شریعت کے مطابق تقسیم کریں۔بالفرض اگر دوسرے وارث ایسا کرنے پر راضی نہ ہوں تو آپ یہ کرسکتے ہیں کہ جو حصہ شرعاً آپ کو پہنچتا ہو،صرف اتنا ہی حصہ اپنے پاس رکھیں اور اس سے زائد جو کچھ ہو،اس کو متناسب طریقے سے ان وارثوں میں بانٹ دیں جو اپنے شرعی حصے سے محروم رہ گئے ہوں۔
ہبہ کے بارے میں بھی یہ اطمینا ن کرلینا چاہیے کہ آیا یہ ہبہ اس نیت سے تو نہ تھا کہ وراثت کو شریعت کے مطابق تقسیم ہونے سے روکا جائے۔
(ترجمان القرآن۔ذی الحجہ ۳۶۹اھ، اکتوبر۹۵۰اء)

سود اور زمین کے کرائے میں فرق:

سوال:روپے کے سود اور زمین کے کرائے میں کیا فرق ہے؟خاص کر اس صورت میں جب کہ دونوں سرمائے کے عناصر ترکیبی(units of capital) ہیں۔مثال کے طور پر یک صد روپیا پانچ روپے سالانہ کی شرح سود پر لگایا جائے تو ایک بیگھ زمین پانچ روپے سالانہ لگان پر، آخر ان دونوں میں کیا فرق ہے؟دونوں حالتوں میں یہ معاملہ مشتبہ ہے کہ فریق ثانی کو نفع ہوگا یا نقصان۔سرمایہ کار (lender)کو اس سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔صاحب زر یاصاحب زمین نفع ونقصان سے بالکل بے نیاز رہتا ہے۔

جواب: زمین کے کرائے کی جو شکل میرے نزدیک جائز ہے،اس کی تشریح میں مسئلۂ ملکیت زمین میں کرچکا ہوں۔اسے نگاہ میں رکھ کر سوچیے کہ اس میں اور سود میں کیا فرق ہے۔ کرایہ جن چیزوں کا لیا جاتا ہے،وہ ایسی چیزیں ہیں جو کرایہ دار کے استعمال سے کچھ نہ کچھ ٹوٹتی پھوٹتی یا خراب ہوتی ہیں اور جن کا اپنی اصلی حالت میں مالک کو واپس ملنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کلیہ کا اطلاق جس طرح فرنیچر، مکان،موٹر وغیرہ پر ہوتا ہے،اسی طرح زمین پر بھی ہوتا ہے، خواہ اسے لے کر کوئی شخص بھٹا لگائے،کوئی اسٹال لگائے، یا کسی اور طریقے سے استعمال کرے۔لیکن روپیا تو محض ایک قوت خرید کا نام ہے،اسے اگرکوئی شخص مستعار لے تو اس کے ٹوٹنے پھوٹنے یا گھسنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اسے قرض لینے والا جوں کا توں لوٹا سکتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص غلہ قرض لے تو جتنا غلہ لیا ہے،اتنا ہی وہ واپس دے سکتا ہے۔غلہ کی مقدار جو دراصل قرض لی گئی ہے،کوئی گھسنے یا خراب ہونے والی چیز نہیں ہے۔ (ترجمان القرآن۔ربیع الاول،ربیع الآخر ۳۷۰اھ۔ جنوری،فروری ا۹۵اء)

اسلام کے قانون اراضی پر چند سوالات:

سوال: ایک مقامی عالم نے جماعت کا منشور پڑھ کر دو سوالات کیے ہیں۔ان کا جواب عنایت فرمایا جائے:
(۱) زرعی اصلاحات کے سلسلہ میں جاگیروں کی واپسی میں واجبی حدود سے زائد واپس لینے کی دلیل بیان فرمائیں، جب کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے اور چابک کی جو لان گاہ تک کی زمین دی تھی۔
(۲) بے دخلی مزارعین کے سلسلہ میں یہ تو واضح ہے کہ فصل کی برداشت سے پہلے بے دخلی نہیں ہوسکتی۔لیکن اس کے علاوہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ بے دخلی روکی جائے۔اگر کوئی اور صورت ہو تو مع دلیل بیان کریں۔
ایک دوسرے عالم نے یہ سوال بھی کیا ہے کہ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جہان کی نعمتوں سے ہر فر د بشر کو منتفع ہونا چاہیے۔ اب انتفاع عامہ کے لیے اگر ملکیتوں کو نظام حکومت کے سپرد کردیا جائے تو یہ قرآن کا منشامعلوم ہوتا ہے۔

جواب: پہلے سوال کے سلسلے میں یہ بات اُصولی طور پر جان لینے کی ہے کہ حکومت کی عطا کردہ جاگیروں پر جاگیرداروں کے حقوق ملکیت اس طرح قائم نہیں ہوجاتے جس طرح کسی شخص کو اپنی زر خرید املاک یا موروثی ملکیتوں پر حاصل ہوتے ہیں۔جاگیروں کے معاملے میں حکومت کو ہر وقت نظر ثانی کرنے کا حق حاصل ہے اور کسی عطیہ کو نامناسب پاکر حکومت منسوخ بھی کرسکتی ہے اوراس میں ترمیم بھی کرسکتی ہے۔
اس کی کئی نظیریں احادیث و آثار میں موجود ہیں۔ابیض بن حمال ماذنی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مارب میں ایک ایسی زمین دی جس سے نمک نکلتا تھا۔بعد میں جب لوگوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو توجہ دلائی کہ وہ تو نمک کی بڑی کان ہے تو آپؐ نے اسے اجتماعی مفاد کے خلاف پاکر اپنا عطیہ منسوخ فرما دیا۔اس سے صرف یہی بات معلوم نہیں ہوتی کہ سرکاری عطایا پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے، بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کوحد اعتدال سے زیادہ دے دینا اجتماعی مفاد کے خلاف ہے،اور اگر ایسا عطیہ دیا جاچکا ہو تو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ یہی بات اس روایت سے معلوم ہوتی ہے جس میں ذکر آتا ہے کہ حضرت ابو بکرؓ نے حضرت طلحہ ؓ کو ایک زمین کے عطیہ کا فرمان لکھ کر دیا اور فرمایا کہ اس پر فلاں فلاں اصحاب کی شہادت ثبت کرا لو جن میں سے ایک حضرت عمر ؓ بھی تھے۔جب حضرت طلحہؓ،حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے تو آپؓ نے اس پر اپنی مہر لگانے سے انکار کردیا اور کہا:
’’اَھٰذا کلہٗ لک دون الناس؟‘‘
’’کیا اتنی ساری زمین دوسروں کو چھوڑ کر تنہا تم اکیلے کو دے دی جائے؟‘‘
(ملاحظہ ہو کتاب الاموال لابی عبید، صفحہ۷۶- ۲۷۵)

رہا حضرت زبیرؓ کا معاملہ، توجس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ زمین ان کو دی ہے،اس وقت بے حساب زمینیں غیر آباد پڑی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ کسی طرح ان کو آباد کیا جائے۔اس لیے آپؐ نے اس زمانہ میں بکثرت لوگوں کو افتادہ اراضی کے بڑے بڑے رقبے عطا فرمائے تھے۔
بے دخلی کے متعلق حکومت ایسا قانون بنانے کی مجاز ہے کہ کوئی مالک کسی مزارع کو معقول وجوہ کے بغیر بے دخل نہ کرسکے۔ اس کے ناجائز ہونے کی دلیل کیا ہے؟اگر کوئی نص اس میں مانع نہیں ہے تو پھر یہ اجازت امام کے ان اختیارات میں آپ سے آپ شامل ہے جو اسے لوگوں کے درمیان عدل قائم کرنے اور اجتماعی فتنوں کی روک تھام کرنے کے لیے مصالح عامہ کی خاطر دیے گئے ہیں۔اس وقت جب کہ ہماری آبادی کی بہت بڑی اکثریت کا مدار زندگی کلیتاًزمین پر ہے، مالکوں کو یہ کھلا ہوا اختیار دے دینا کسی طرح بھی مصلحت عامہ کے مطابق نہیں ہے کہ وہ جب جس کاشت کار کو چاہیں،بغیر کسی معقول وجہ کے اپنی زمین سے بے دخل کردیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کہیں کوئی کاشت کار اطمینان سے نہ بیٹھ سکے اور لاکھوں زراعت پیشہ لوگوں کی زندگی ہر وقت معلق رہے۔
قرآن کے مطالعے سے یہ عجیب وغریب نتیجہ جو اخذکیا گیا ہے کہ ملکیتوں کو نظام حکومت کے سپرد کردیا جائے، اس کے متعلق مجھے یہ معلوم کرکے بڑی مسرت ہوگی کہ آخر قرآن کے کون سے مقامات اس کے ماخذ ہیں؟احتیاطاً آپ میری کتاب’’مسئلۂ ملکیت زمین‘‘ کے پہلے دو باب ان عالم صاحب کی خدمت میں پیش فرما دیں تاکہ وہ ان باتوں کو نہ دہرائیں جن کا جواب پہلے دیا جاچکا ہے،یا اگر انھیں دہرائیں تو کم ازکم یہ بھی ساتھ ساتھ بتا دیں کہ میرے جواب کے کن پہلوئوں سے وہ مطمئن نہیں ہوئے۔ اس طرح میرا وقت بھی بچ جائے گا اور ان کا وقت بھی۔
(ترجمان القرآن۔شعبان ۳۷۰اھ۔ جون ا۹۵اء)

یہ طالبانِ قانو نِ شریعت:

سوال: میاں ممتاز دولتانہ اور دیگر وزرا کی حالیہ تقاریر سے متاثر ہوکر مالکان زمین اس بات پر آمادہ ہورہے ہیں کہ وہ اپنے حقوق کو محفوظ کرانے کے لیے شریعت کے قانون کے نفاذ کا مطالبہ کریں اور دوسری کسی ایسی ویسی اسکیم کو تسلیم نہ کریں جو ان کے حقوق کو سلب کرنے والی ہو۔چنانچہ کیمبل پور میں ایسے ہی لوگوں نے مل کر’’طالبان قانون شریعت‘‘ کے نام سے ایک انجمن کی بنیاد ڈالی ہے جو کیمبل پور کے ضلع میں اس مطالبہ کو اُٹھائے گی اور دوسرے اضلاع میں بھی اس کو حرکت میں لانے کی کوشش کرے گی…اس انجمن نے اس غرض کے تحت ایک ہینڈ بل بعنوان’’انجمن طالبان قانون شریعت کا مطالبہ‘‘ اور ایک اور مراسلہ بنام ممبران پنجاب اسمبلی طبع کرایا ہے____ موجودہ حالات میں ہمیں توقع ہے کہ یہ لوگ ہمارے نصب العین یعنی نفاذ قانون شریعت سے دل چسپی لیں۔اس بارے میں آپ ہمیں ہدایت فرمائیں کہ آیا ہم ان کے ساتھ مل کر کام کرسکتے ہیں؟

جواب: ایسے ’’طالبان قانون شریعت‘‘ کے ساتھ کسی تعاون اور اشتراک عمل کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا جو پوری شریعت کو ہڑپ کرجانے کے بعد کسی ایک مسئلہ میں شرعی قانون کے طالب بن کر اس لیے کھڑے ہورہے ہوں کہ اس مسئلے میں شریعت کا قانون ان کی خواہش نفس کے مطابق ہے۔ایسے لوگوں کو آپ صاف بتا دیجیے کہ ہمار اان کے ساتھ کوئی میل نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ وہ شریعت الٰہی کا نفاذ اورقیام نہیں چاہتے بلکہ اسے اپنے مفاد کے تحفظ کا آلۂ کار بنانا چاہتے ہیں۔ اگر وہ فی الواقع شریعت کے حامی اور طالب ہیں تو پوری شریعت کے قیام اور نفاذ کو اپنے پروگرام میں شامل کریں اور اپنی عملی زندگی اور خصوصاً اپنی زمین داری کے معاملات میں شریعت کی پیروی کر کے دکھائیں۔ اگر وہ ایساکردیں تو ان کے ساتھ تعاون اور اشتراک عمل کے مسئلے پر غور کیا جاسکتا ہے،ورنہ نہیں۔ (ترجمان القرآن۔ رمضان ۳۷۰اھ، جولائی ا ۹۵اء)

چند کاروباری مسائل:

سوال: ایک درآمد کنندہ(importer) غیر ممالک سے مال منگوانے کے لیے ۰افی صدی پر بینک میں لیٹر آف کریڈٹ کھولتا ہے، اور بعد میں اپنے اس بک کرائے ہوئے مال کو انھی شرائط کے مطابق جن شرائط پر اس نے خود مال بک کیا تھا،فروخت کردیتا ہے۔ یعنی دس فی صدی بیعانہ ے ساتھ۔
مذکورۂ بالا شرائط میں سے ایک اہم اور واضح شرط یہ بھی ہوتی ہے کہ اگر مال مذکور تحریر کردہ مدت کے اندر شپ(ship)نہ ہوسکا،یا کسی ہنگامی حالت کی وجہ سے سرے سے سودا ہی منسوخ ہوگیا تو خریدار کو بیعانہ واپس لے کر معاملہ ختم کرنا ہوگا۔(عملاًاسی طرح ہوتا ہے)
گویا مال شپ نہ ہونے کی صورت میں خریدار اس مال کے نفع نقصان کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ اگر مال بک ہوگیا تو مال کا بھگتان ہوتا ہے ورنہ دوسری صورت میں بیعانہ واپس اور سودا منسوخ۔ چاہے یہ سودا کئی جگہ پر فروخت ہوچکا ہو۔
اس طریق کار میں وہ کون سے نقائص اور خرابیاں ہیں جن کی بنا پر اسے شرعاًنادرست کہا جاتا ہے۔ اس قسم کا لاکھوں روپے کا کاروبار قریباًہر مہینے ہم کرتے ہیں اور اس اُلجھن میں پڑ گئے ہیں کہ یہ طریقہ درست بھی ہے یا نہیں۔ایک ’’صاحب علم‘‘ کی رائے اس کے حق میں بھی ہے۔

جواب: جس صورت معاملہ کو آپ دریافت کررہے ہیں،اس کی دو الگ الگ شکلیں ہیں اور دونوں کا حکم الگ ہے۔
ایک شکل یہ ہے کہ آپ نے ایک مال بینک کی معرفت بک کرایا اور بعد میں آپ کی اور ایک دوسرے تاجر کی باہمی قرار دا د سے وہ بکنگ اس کے نام منتقل ہوگئی۔یہ شکل اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ یہ بکنگ خواہ منافع کے ساتھ بیچی جائے یا محض ایک شخص سے دوسرے شخص کے نام منتقل ہو،بہرحال وہ ایک شخص کی طرف سے دوسرے شخص کی طرف پوری طرح منتقل ہو جائے۔ یعنی بینک میں لیٹر آف کریڈٹ شخص اوّل کے بجائے شخص ثانی کے نام پر کھل جائے، اور شخص اوّل کا اس مال کے سودے سے کوئی تعلق باقی نہ رہے،اس کی ہر چیز کا ضامن شخص ثانی ہی ہو،شخص اوّل کی کوئی ذمہ داری اس معاملہ کے ساتھ لگی نہ رہے۔
دوسری شکل یہ ہے کہ اس مال کو بک کرانے کے بعد قبل اس کے کہ وہ یہاں پہنچے اور آپ کے قبضہ میں آئے،آپ اسے اپنے مال کی حیثیت سے منافع پر دوسرے شخص کے ہاتھ بیچیں اور بیعانہ لے لیں۔ پھر دوسرا تیسرے کے ہاتھ، تیسرا چوتھے کے ہاتھ اسی غائب مال کو اپنا اپنا منافع لگا کر بیچتا اور بیعانہ لیتا چلا جائے۔اس شکل میں خواہ شپ منٹ نہ ہوسکنے یا سودا منسوخ ہوجانے پر ایک شخص بیعانہ واپس کردینے کا کفیل ہی کیوں نہ ہو، اور خواہ ہر ایک نے یہ وعدہ ہی کیوں نہ کرلیا ہو کہ سودے کی منسوخی کی صورت میں کوئی بھی نفع ونقصان کا مطالبہ نہ کرے گا،بہرحال یہ خرید وفروخت شرعاً ممنوع ہے۔ اس کے ممنوع ہونے کی نقلی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
’’لا تبع ما لیس عندک‘‘ (احمد،ترمذی،ابو دائود،نسائی ابن ماجہ)
’’کوئی ایسی چیز نہ بیچو جو فی الواقع تمہارے پاس موجود نہ ہو۔‘‘
’’اذا اشتریت شیئًا فلا تبعہ حتی تقبضہ ۔ (احمد)
’’جب تم کوئی چیز خریدو تو اسے اپنے قبضہ میں لینے سے پہلے آگے فروخت نہ کرو۔‘‘
’’نھٰی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان یُشتریٰ الطعام ثم یباع حتٰی یستوفی‘‘ ( احمد، مسلم)
’’نبیؐ نے اس بات سے منع فرمایا کہ ایک شخص غلہ خریدے اورپورا پورا ناپ تول کرلینے سے پہلے اسے آگے کو فروخت کردے۔‘‘
’’کانوا یتبایعون الطعام جزافاً باعلی السوق فنھاھم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان یبیعوہ حتٰی ینقلوہ۔‘‘ (بخاری،مسلم،ابو دائود)
’’لوگ غلے کے ڈھیر منڈی میں کھڑے کھڑے خریدتے اور وہیں بیچ دیتے تھے۔ حضورؐ نے حکم دیا کہ جب تک غلہ اس جگہ سے منتقل نہ کردیا جائے،آگے نہ بیچا جائے۔‘‘
ان احادیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک چیز کو خرید کر قبضے میں لیے بغیر بیچنا ممنوع ہے۔
اس کے ممنوع ہونے کی عقلی دلیل یہ ہے کہ اوّل تو اس طرح کی خرید وفروخت میں جھگڑے کے امکانات زیادہ ہیں۔دوسرے اس میں بغیر کسی حقیقی تمدنی خدمت کے ایک شخص سے دوسرا شخص ایک غائب چیز کو اپنا منافع لگا لگا کر بیچتا اور خریدتا چلا جاتا ہے،یہاں تک کہ صارفین (consumers) تک پہنچتے پہنچتے اس چیز کی قیمت چڑھ کر کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔یہ بہت سے بچولیوں کی منافع خوری، بغیر اس کے کہ وہ واقعی کوئی خدمت اس مال کے پیدا کرنے یا فراہم کرنے میں انجام دیں، خواہ مخواہ اشیا کی قیمتیں چڑھنے کی موجب بنتی ہے۔

سوال: حسب ذیل سوالات کے جواب مطلوب ہیں:
(۱) میری دکان بساط خانہ(general merchant) کی ہے۔جنرل مرچنٹ کے ہاں ہر قسم کے سودے فروخت ہوتے ہیں۔خاص کر پائوڈر، کریم، لپ اسٹک، نیل پالش، سینٹ،عطر،ریشمی بنیان، ٹوتھ برش، ٹوتھ پیسٹ، شیونگ سیٹ، سنگار دان، بچوں کے کھلونے، زیورات وغیرہ۔کیا متذکرۂ بالا چیزیں ناجائز ہیں یا ان کو فروخت کرنا ازروئے شریعت ممنوع ہے؟کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تمام چیزیں تعیش میں مدد دیتی ہیں، لہٰذا یہ مسرفانہ فعل ہے۔اس کو فروخت کرنے اور استعمال کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔کیا یہ درست ہے؟
(۲) کیا شریعت نے نفع کی مقدار مقرر کی ہے؟اگر ہے تو کیا؟اور اگر نہیں ہے تو کہاں تک نفع لیا جاسکتا ہے؟کیا دکان دار کو اس چیز کا اختیار ہے کہ وہ اپنی چیزمارکیٹ کے لحاظ سے یا کسی اور دام پر فروخت کرسکے؟(واضح رہے کہ بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن میں بہت کم نفع ہوتا ہے،یا خرید کی قیمت یا کچھ کم پر فروخت کرنی پڑتی ہیں)۔
(۳) موجودہ دور میں ہر کاروبار کو عورت کے اشتہار کے ساتھ شروع کیا جاتا ہے۔الحمد ﷲ کہ میں اس لعنت سے بچا ہوا ہوں،لیکن جو چیزیں ولایت سے آتی ہیں یا ملک وقوم کے لوگ تیار کرتے ہیں،ان پر عورت کی تصویر مختلف ہیئتوں(poses) میں نمایاں رہتی ہے۔لیبل کو پھاڑ دینے سے چیز کو فروخت کرنا مشکل بلکہ غیر ممکن ہے۔ ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟بعض دوست شکایت کرتے ہیں کہ تم تصویروں کی خرید وفروخت کرتے ہو اور یہ حرام ہے۔
(۴) کیا شریعت نے سودے کو ایک دام پر فروخت کرنے کی قید لگائی ہے؟اگر نہیں تو مول بھائو چکانا درست ہے؟
(۵) دکان پربے پردہ عورتیں آتی ہیں اور نیم نقاب پوش بھی۔اسلام کا حکم ہے کہ اگر عورت پر دوسری نظر پڑے تو انسان گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔یہاں ان سے گفتگو تک کرنی پڑتی ہے۔عورتوں کو دکان پر نہ آنے دیا جائے تو یہ بھی ٹھیک نہیں،کیوں کہ اس ماحول میں تو اکثریت ایسی عورتوں کی ہے جو مردوں کے بدلے شاپنگ کرتی ہیں۔
(۶) بالعموم ہر دکان دار دو قسم کے کھاتے رکھتا ہے۔ ایک تو اس کا نجی کھاتا ہوتا ہے، دوسرا سیل ٹیکس اور انکم ٹیکس کے افسران کو دکھانے کے لیے۔کیا یہ طریقہ درست ہے؟اگر نہیں تو تاجر کیا کرے؟ایک صاحب جن کا تعلق میرے بازار سے نہیں لیکن میں انھیں جانتا ہوں،انھوں نے ایک سال کا پورا حساب انکم ٹیکس کے افسرکے سامنے پیش کیا،ایک پیسے کی بھی انھوں نے چوری نہ کی تھی۔لیکن افسر نے ٹیکس کے علاوہ مزید بھاری رقم ان پر لاد دی، اور شبہ یہ ظاہر کیا کہ جو حساب اسے دکھایا گیا ہے،وہ صحیح نہیں ہے۔ ایسے حالات میں کیا کرنا چاہیے؟

جواب: آپ کے سوالات کے جوابات علی الترتیب درج ذیل ہیں:
(۱) بساط خانہ میں جو چیزیں آپ فروخت کرتے ہیں (جن کی کچھ فہرست بھی آپ نے دی ہے)ان میں سے کوئی چیز بھی فی نفسہٖ حرام نہیں ہے۔ان کا استعمال جائز بھی ہوسکتا ہے اور ناجائز بھی۔ دکان دار کی حیثیت سے آپ پر یہ دیکھنا فرض نہیں ہے کہ کون ان چیزوں کو کس طرح استعمال کرے گا۔آپ کے لیے صرف یہ بات کافی ہے کہ آپ کوئی حرام چیز فروخت نہ کریں۔ نہ بیع وشرا میں حرام طریقے استعما ل کریں۔
(۲) شریعت نے نفع کے لیے کوئی مقدار مقرر نہیں کی ہے۔یہ تو عرف اور انصاف کے معروف تصور پر مبنی ہے کہ کس تجارت میں کتنا منافع واجبی ہے اور کتنا ناواجب۔
(۳) جو چیزیں دکان دار کی حیثیت سے آپ باہر سے منگواتے ہیں یا ملک کے صناعوں سے خریدتے ہیں،ان پر اگر عورتوں کی تصاویر ہوں تو یہ چیز اس بات کے لیے کافی نہیں ہے کہ آپ پر ان چیزوں کی خرید وفروخت حرام ہوجائے۔ آپ قصداً یہ تصویریں ان اشیا پر خود نہیں لگاتے ہیں اور نہ آ پ کی فرمائش پر یہ کارخانو ں میں لگائی جاتی ہیں۔یہ تو ایک بلوائے عام ہے جس میں ہم سب مجبوراًمبتلا ہورہے ہیں۔معترضین کا یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ اس طرح آپ تصویروںکی خرید وفروخت کرتے ہیں۔دراصل آپ تصویریں خریدتے اور بیچتے نہیں ہیں بلکہ وہ چیزیں خریدتے اور بیچتے ہیں جن پر کارخانہ داروں نے دنیا کی بگڑی ہوئی ریت کی بنا پر تصویریں چپکا رکھی ہیں۔
(۴) سودے کوایک ہی دام پر بیچنا کوئی شرعی حکم نہیں ہے۔خریدار سے بات چیت کرکے آپ کم وبیش پر بھی فروخت کرسکتے ہیں۔مگر جھوٹ بولنا اور جھوٹی قسمیں کھانا جائزنہیں۔ خریدار کو یہ یقین دلانے کی کوشش نہ کیجیے کہ یہ مال اتنے کو خریداہے، درآں حالے کہ وہ اس سے کم میں آپ کو پڑا ہو،یا یہ کہ اس میں آپ کو کوئی نفع نہیں بچتا،درآں حالے کہ اس میں نفع بچتا ہو۔
(۵) عورتیں اگربے پردہ آپ کی دکان پر آئیں تو انھیں آنے سے روکنا یا ان کے ہاتھ مال بیچنے سے انکار کرنا آپ پر فرض نہیں ہے۔البتہ آپ کا فرض یہ ہے کہ غض بصر سے کام لیں،آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کریں،ان کے حسن وآرائش سے یا ان کی گفتگو سے لذت لینے کی کوشش نہ کریں، تقویٰ کی اسی ایک ذرا سی شق پر آپ عامل ہوجائیں تو ان شاء اﷲاپنی دکان پر بیٹھے بیٹھے آپ کو درجۂ ولایت حاصل ہوجائے گا۔تنہا یہی مجاہدہ بہت سے خانقاہی مجاہدوں پر بھاری ہے۔
(۶) اس بگڑے ہوئے ماحول میں جو شخص چور اور جعل ساز نہیں ہے،وہ بھی چور اور جعل ساز ہی فرض کیا جاتا ہے،کیوں کہ دنیا اب یہ باور کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ کوئی شخص کاروبار میں سچا اور ایمان دار بھی ہوسکتا ہے۔ایسے بگاڑ کی صورت میں جو لوگ سچائی اور ایمان داری کی راہ چلنے کا عزم کریں،انھیں اس کی سزا بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جھوٹے اور بددیانت لوگ تو رشوت دے کر اپنے جرائم کی پاداش سے بچ نکلتے ہیں، مگر سچے اور ایمان دار آدمی کے لیے یہاں دُہری سزا ہے،ایک سزا سچائی اور ایمان داری سے کام کرنے کی اور دوسری رشوت نہ دینے کی۔یہ سزائیں بھگتنے کی ہمت نہ ہو تو جس بگاڑمیں دنیا مبتلا ہے،آپ بھی اسی میں مبتلا ہوجایئے۔ دنیا اور آخرت میں سے ایک کو انتخاب کیے بغیر چارہ نہیں ہے۔ (ترجمان القرآن۔ رمضان ۳۷۰اھ۔ جولائی ا۹۵اء)

سوال: ہمیں کاروباری معلاما ت میں چند ایسی صورتوں سے سابقہ پڑتا ہے کہ جن کے بارے میں پوری طرح اطمینان نہیں ہوتا۔براہ کرم کتاب وسنت کے علم کی روشنی میں ان معاملات کی حقیقت واضح فرمائیں:
(۱) زمین دار یا دیہات کے بیوپاری کپاس کا وزن،نوعیت(quality)،جس مدت میں وہ مال پہنچا دیں گے،اور نرخ طے کرکے سودا کرجاتے ہیں۔کچھ پیشگی بھی دے دی جاتی ہے۔زبانی یا تحریری یہ سب کچھ طے ہوجاتا ہے۔مال نہیں دیکھا جاتا اور نہ یہ ممکن ہے۔ انھی شرائط پر ہم کارخانہ دار کو جتنا مال کپاس ہم نے خریدا ہوتا ہے،مقررہ مدت کے اندر ہم دینا طے کرلیتے ہیں مگر عموماًکارخانہ دار پیشگی نہیں دیتے۔
(۲) بعض اوقات جب کہ ہم نے کوئی مال خریدا ہو(یعنی کسی مال کا سودا ابھی نہیں کیا ہوتا) پیشگی ہی کارخانہ دار کے ساتھ مال کی کوالٹی،وزن،نرخ وغیرہ لکھ کر اور مدت طے کرکے سودا کرلیتے ہیں،بعد میں مال خرید کر بھگتان کردیتے ہیں۔ان دونوں صورتوں میں نرخ پہلے مقرر کرلیا جاتا ہے۔
(۳) کارخانہ دار کو مال بغیر نرخ مقرر کرنے کے سپلائی کرتے جاتے ہیں۔اس کے ساتھ طے کرلیتے ہیں کہ ہم دو صد یا ہزار من مال دیں گے اور ایک مدت مقرر کرلیتے ہیں کہ اس کے اندر اندر ہم نرخ مقرر کرلیں گے۔جس دن ہمیں نرخ اچھا معلوم دے،ہم اسی دن فکس کرلیتے ہیں۔بعض اوقات مال پہنچانے کے بعد ہم دو ماہ تک کا وقفہ بھی مقرر کرنے کے لیے لے لیتے ہیں۔کارخانہ دار مال کے پہنچنے پر ہمیں کچھ پیشگی یعنی حاضر نرخ کا۶۰یا۶۵فی صدی ادا کرتا رہتا ہے۔نرخ مقرر کرنے پر کل رقم ادا ہوجاتی ہے۔
(۴) اس طرح کے سودے کپاس اُترنے پر ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔بعض لوگ تو کپاس اُترنے سے دو چار ماہ پیش تر ہی ایسے سودے کرنے شروع کردیتے ہیں۔

جواب: آپ نے کپاس کے سودے کی جو صورتیں بیان کی ہیں،ان کے احکام الگ الگ نمبر وار بیان کیے جاتے ہیں:
صورت اوّل ودوم میں بیع سلم کی شرائط میں سے ایک اہم شرط نہیں پائی جاتی۔یعنی یہ کہ سودا طے کرکے ساتھ ہی قیمت پوری کی پوری پیشگی ادا ہو۔یہ بیع سلم کی صحت کے لیے ضروری ہے۔چوں کہ یہ شرط ان دونوں صورتوں میں مفقود ہے،اس لیے یہ معاملات بیع سلم کے حدود سے خارج ہیں۔مگر میرے نزدیک یہ معاملات اس بنا پر درست ہیں کہ دراصل یہ’’بیع‘‘ کے معاملات نہیں ہیں بلکہ معاہدے کے معاملات ہیں۔ یعنی فریقین آپس میں یہ معاہدہ کرتے ہیں کہ ایک فریق ایک وقت مقررہ پر،یا ایک مدت مقررہ کے اندر اس قسم کا اتنا مال اس نرخ پر دوسرے فریق کو مہیا کرے گا،اور دوسرا فریق یہ عہدکرتا ہے کہ وہ ان شرائط پر اسے خریدے گا۔اس قسم کا معاہدہ کرنا جائز ہے اور شرعاً اس میںکوئی قباحت نہیں معلوم ہوتی بشرطیکہ معاہدہ کرنے والے معاہدے ہی کی نیت کریں،یہ نہ سمجھیں کہ ایک فریق نے مال بیچا اور دوسرے نے خرید لیا۔
تیسری صورت میرے نزدیک صحیح نہیں ہے،کیوں کہ اس میں نرخ کے معاملے کو معلق رکھاجاتا ہے۔یہ چیز نہ صرف یہ کہ معاہدے کی صحت میں مانع ہے،بلکہ اس میں جھگڑے کے اسباب بھی موجود ہیں۔اس میں اس امر کا امکان ہے کہ فریقین میں سے ہر ایک نرخ مقرر کرنے کے معاملے کو ایسے وقت پر ٹالنے کی کوشش کرے جب کہ بازار کا بھائو اس کے مفاد کے لیے موزوں تر ہو۔ اس طرح ان کی کش مکش بآسانی نزاع کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔
کپاس اُترنے پر جو سودے کیے جاتے ہیں،ان کے معاملے میں تو صحیح صورت یہ ہے کہ سیدھی طرح بیع کا معاملہ کرلیا جائے۔یعنی بائع کے پاس جتنا مال موجود ہو،وہ اسے دکھا کر مقرر نرخ پرفروخت کردے اور مشتری مال کو دیکھ کر طے شدہ نرخ پر اسے خریدے اور اپنے قبضے میں لے لے۔ (ترجمان القرآن۔ ذی القعدہ،ذی الحجہ ۳۷۰اھ، ستمبرا۹۵اء)

کمیشن اور نیلام:

سوال: حسب ذیل سوالات کا جواب مطلوب ہے:
(۱) بعض ایجنٹ مال سپلائی کرتے وقت دکان دار سے کہتے ہیں کہ اگر مال فروخت کرکے ہمیں رقم دو گے تو۲۰فی صدی کمیشن ہم آپ کو دیں گے،اور اگر نقد قیمت مال کی ابھی دو گے تو ۲۵ فی صدی کمیشن ملے گا۔کیا اس طرز پر کمیشن کا لین دین جائز ہے؟
(۲) مسلمان نیلام کنندہ کے لیے کیا یہ جائز ہے کہ جب کوئی شخص بولی نہ چڑھائے اور وہ دیکھے کہ اس میں مجھے نقصان ہوگا تو وہ خود بولی دے کر مال کو اپنے قبضے میں یہ کہہ کر رکھ لے کہ یہ مال پھر دوسرے وقت میں نیلا م ہوگا؟نیزکیا وہ یہ بھی کرسکتا ہے کہ اپنے آدمی مقرر کردے کہ وہ قیمت بڑھانے کے لیے بولی بولتے رہیں،یہاں تک کہ اس کے حسب منشا مال کی قیمت موصول ہوسکے؟

جواب: نقد خریداری کی صورت میں زیادہ اور اُدھار کی صورت میں کم کمیشن دینامیرے علم میں ناجائز نہیں ہے۔ایجنٹ(یامالک) دکان داروں کو مال فراہم کرتے وقت جو کمیشن دیتا ہے، وہ دراصل اپنے منافع میں سے ایک حصہ اس کو ادا کرتا ہے۔اس حصے کو سودے کی نوعیت کے لحاظ سے کم وبیش ادا کرنے کا اسے حق ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس میں کوئی چیز سود سے مشابہ ہے۔البتہ اگر اُدھار کی مدت کے لحاظ سے کمیشن کی کمی کے درجے قائم کیے جائیں تو اس میں سودسے مشابہت پیدا ہوجاتی ہے۔
نیلام کرنے والے کے لیے یہ تو درست ہے کہ اگر کسی مال پر اتنی بولی نہیں آتی جس پر اپنا مال بیچنے کے لیے صاحب مال راضی ہو، تو وہ فروخت نہ کرے۔لیکن اس کے لیے دھوکے اور فریب سے کام لینامناسب نہیں ہے۔ اس کو کھلے بندوں یہ بات ظاہر کردینی چاہیے کہ دوسرے لوگوں کا جو مال وہ نیلام کے ذریعے سے فروخت کررہا ہے،یا خود اپنا خریدکیا ہوا جو مال وہ اس طریقے سے نکا ل رہا ہے،اس پر اگر کم سے کم مطلوبہ قیمت کی حد تک بولی نہ آئی تو وہ اس چیز کو فروخت نہ کرے گا۔خریداروں میں اپنے آدمی بٹھا کر ان سے بولی دلوانا یا خود خریدار بن کر بولی دینا فریب ہے۔ (ترجمان القرآن۔ ربیع الاول،ربیع الثانی ۳۷۰اھ۔ جنوری،فروری ا۹۵اء)

ملازمین کے حقوق:

سوال: یہاں کے ایک ادارے نے مجھ سے دریافت کیا ہے کہ ملازمین کے معاوضہ جات اور دیگر قواعد ملازمت کے بارے میں اسلامی نقطۂ نظر کیا ہے۔جہاں تک قرآن وحدیث اور کتب فقہ پر میری نظر ہے،اس بارے میں کوئی ضابطہ میری سمجھ میں نہیں آسکا۔اس لیے آپ کو تکلیف دے رہا ہوں کہ کتاب وسنت کی روشنی اور عہدِ خلافت ِ راشدہ اور بعد کے سلاطین صالحین کا تعامل اس بارے میں واضح فرمائیں۔ چند حل طلب سوالات جو اس ضمن میں ہوسکتے ہیں، وہ حسب ذیل ہیں:
(۱) سال بھر میں کتنی رخصتیں باتنخواہ لینے کا استحقاق ہر ملازم کے لیے ہے؟
(۲) اتفاقی رخصتیں باتنخواہ کس قدر لینے کا حق ہے؟
(۳) ایام بیماری کی تنخواہ ملے گی یا نہیں؟
(۴) ملازمین کی تنخواہ کس اُصول پر مقرر کی جائے؟
(۵) ملازم کے کنبہ کے افراد بڑھ جانے پر تنخواہ میں اضافہ ہونا چاہیے یا نہیں؟
(۶) رخصت حاصل کرنے کے لیے تحریری اجازت ضروری ہے یا نہیں؟
(۷) اعلیٰ وادنیٰ ملازمین حقوق میں برابر ہوں گے یا کچھ تفاوت ہوگا؟
جواب: آپ کا سوال کافی غور و خوض اور تفصیلی جواب چاہتا ہے مگر میں مجبوراً مختصر جواب پراکتفا کررہا ہوں۔
شریعت میں ملازمین اور مزدوروں کے حقوق کسی مفصل ضابطے کی شکل میں تو مذکور نہیں ہیں،مگر ایسے اُصول ہمیں یقینا دیے گئے ہیںجن کی روشنی میں ہم تفصیلی ضوابط مرتب کرسکتے ہیں۔ دورِ خلافت راشدہ میں ان اُصولوں کی بنا پر سرکار ی وغیر سرکاری ملازمین سے جو معاملہ ہوتا تھا،اس کی تفصیلات حدیث وتاریخ میں یک جا موجود نہیں ہیں،بلکہ مختلف ابواب وفصول میں بکھری ہوئی ہیں۔ان تفصیلات میں بھی آپ کے سوالات کا جواب شاید کم ہی ملے گا۔میں اس وقت عرف عام اور اسلام کے معروف تصور انصاف پر اعتماد کرتے ہوئے آپ کے سوالات کا مجمل جواب عرض کررہا ہوں۔
رخصتوں کے بارے میںیہ معروف طریقہ مناسب معلوم ہوتاہے کہ سال میں ایک ماہ کی رخصت حسب معمول ملنی چاہیے اور ناگہانی رخصتیں سال میں پندرہ دن کی بامعاوضہ ملنی چاہییں۔ اس سے زائد رخصتیں ایک متعین حد تک بلامعاوضہ دی جاسکتی ہیں۔
بیماری کے دنوںکا معاوضہ ہر ملازم کو پورا ملنا چاہیے، قطع نظر اس کے کہ بیماری کتنی طویل ہو۔کسی مستاجر(employer) کو اگر یہ منظور نہ ہو تو پھر اسے بیمار ملازم کے مصارفِ علاج برداشت کرنے چاہییں، یا اس کے علاج کا مفت انتظام کرنا چاہیے اور بیمار اور اس کے متعلقین کی ضروریات کا بقدر کفاف ذمہ دار ہونا چاہیے۔
ملازم کا معاوضہ مقرر کرنے میں چند اُمور کا لحاظ کرنا ہوگا۔مثلاً اس کے کام کی نوعیت کیا ہے،اس کی اپنی صلاحیت کیا ہے،اس نوعیت کے کام اور اس قابلیت کے آدمی کے لیے معروف ضروریات زندگی کیا ہیں اور اس خاص ملازم کی خانگی ذمہ داریاں کیا ہیں۔
عام مستاجر افراد وادارات کے بس کا تو یہ کام نہیں ہے کہ ملازم کے کنبے کے افراد جس تناسب سے بڑھتے جائیں، اس کی تنخواہ میں بھی اسی تناسب سے اضافہ کیا جاتا رہے۔ البتہ حکومت کو اس کی ذمہ داری لینی چاہیے یا پھر بڑے بڑے کاروباری اور صنعتی اداروں کو بھی اس کا پابند بنایا جاسکتاہے۔
رخصت کے لیے اجازت کا معاملہ بھی ایک طرح سے لین دین کے معاملات سے مشابہ ہے۔اس لیے اُصول تو یہی چاہتا ہے کہ تحریر ی درخواست اور تحریری اجازت کی پابندی ہو۔ البتہ پرائیویٹ ملازمت میں جہاں ایک شخص کا معاملہ ایک شخص سے ہی ہوتا ہے،وہاں زبانی اجازت کے استثنا کی گنجایش نکل سکتی ہے۔
معاوضوں میں تفاوت کے علاوہ دیگر جملہ حقوق میں اُصولاً اعلیٰ وادنیٰ ملازمین میں یکسانی ہونی چاہیے۔ (ترجمان القرآن۔ ربیع الثانی ۳۷۲اھ۔ جنوری۹۵۳اء)
……٭٭٭……

خاتم النّبیین کے بعد دعوائے نبوت:

سوال: ’’ترجمان القرآن‘‘(جنوری،فروری) کے صفحہ ۲۳۶ پر آپ نے لکھا ہے کہ’’میرا تجربہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کبھی جھوٹ کو فروغ نہیں دیتا۔میرا ہمیشہ سے یہ قاعدہ رہا ہے کہ…جن لوگوں کو میںصداقت ودیانت سے بے پروا اور خوف خدا سے خالی پاتا ہوں،ان کی باتوں کا کبھی جواب نہیں دیتا…خدا ہی ان سے بدلہ لے سکتا ہے …اور ان کا پردہ ان شاء اﷲ دنیا ہی میں فاش ہوگا۔‘‘
میں عرض کردوں کہ میں نے جماعت احمدیہ کے لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے اور ان کے کام سے دل چسپی ہے۔میر ے مندرجۂ ذیل استفسارات اسی ضمن میں ہیں:
۱۔ یہ صرف آپ ہی کا تجربہ نہیں،بلکہ قرآن حکیم میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے:’’اﷲ تعالیٰ کاذبوں سے محبت نہیں کرتا۔‘‘اور’’اﷲ کی لعنت ہے جھوٹوں پر۔‘‘اور پھر اس قسم کے جھوٹوں پر کہ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِo الحاقۃ69:44 ان کی سزا تو فوری گرفت اور وصال جہنم ہے لَاَخَذْنَا مِنْہُ بِالْيَمِيْنِo ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِيْنَo الحاقۃ69:45-46 اس صورت میں اگر مرزا صاحب جھوٹے تھے تو کیا وجہ ہے کہ
(ا) ابھی تک اﷲ تعالیٰ نے ان پر کوئی گرفت نہیں کی؟
(ب) ان کی جماعت بڑھ رہی ہے اور مرزا صاحب کے مشن کو، جو مسلمانوں کے نزدیک گمراہ کن ہے،تقویت پہنچ رہی ہے، اور اب تو اس جماعت کی جڑیں بیرونی ممالک میں مضبوط ہوگئی ہیں۔
(ج) مرزا صاحب کے پیغام کو ساٹھ سال ہوگئے ہیں۔ہم کب تک خدائی فیصلے کا انتظار کریں؟فی الحال تو وہ ترقی کررہے ہیں۔
(د) جو جماعتیں یا افراد اس گروہ کی مخالفت کررہے ہیں،وہ کیوں اسے ترک نہیں کردیتے اور معاملہ خدا پر نہیں چھوڑ دیتے؟
۲۔ صفحہ۲۴۲ پر آپ کی جماعت کے ایک جرمنی نژاد ہم درد نے برلن میں جماعت احمدیہ کے ساتھ تبلیغ اسلام میں تعاون کا ذکر کیا ہے۔اگر آپ بھی ان کی تبلیغ اسلام کو صحیح سمجھتے ہیں تو پاکستان میں ان کے ساتھ تعاون کیوں نہیں کرتے؟

جواب: آپ جس سرسری نظر سے ایک مدعی نبوت کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں،یہ طریقہ ایسے اہم معاملے پر رائے قائم کرنے کے لیے موزوں نہیں ہے۔ میں نے جو کچھ لکھا تھا،وہ تو سراسر ایک جھوٹے الزام کے بارے میں تھا جو بعض خود غرض لوگوں نے میرے اوپر لگایا تھا۔ اس بات کو آپ چسپاں کررہے ہیں ایک ایسے شخص کے معاملے پر جس نے فی الواقع نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔آپ کو سمجھنا چاہیے کہ ایک مدعی نبوت کے معاملے میں لامحالہ دو صورتوں میں سے ایک صورت پیش آتی ہے:اگر وہ سچا ہے تو اس کو نہ ماننے والا کافر،اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کو ماننے والا کافر۔ ایک ایسے نازک معاملے کا فیصلہ آپ صرف اتنی سی بات پر کرنا چاہتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ابھی تک ان پر کوئی گرفت نہیں کی، اور ان کی جماعت بڑھ رہی ہے، اور یہ کہ’’ہم کب تک خدائی فیصلہ کا انتظار کریں۔‘‘ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کربیٹھے اور اس کی جماعت ترقی کرتی نظر آئے اور آپ کی تجویز کردہ مدت انتظار کے اندر اس پر خدا کی طرف سے گرفت نہ ہو تو بس یہ باتیں اس کو نبی مان لینے کے لیے کافی ہیں؟ کیاآپ کے ذہن میں نبوت کو جانچنے کے یہی معیار ہیں؟
آیت وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِo الحاقۃ69:44 سے جو استدلال آپ نے کیا ہے،وہ بنیادی طور پر غلط ہے۔ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ محمدؐ ،جو حقیقت میں اﷲ کے نبی ہیں،اگر خدا کی وحی کے بغیر کوئی بات خود تصنیف کرکے خدا کے نام سے پیش کردیں تو ان کی رگ گلو کاٹ دی جائے گی۔اس سے یہ معنی نکالنا صحیح نہیں ہے کہ جو شخص حقیقت میں نبی نہ ہو اور غلط طور پر اپنے آپ کو نبی کی حیثیت سے پیش کرے، اس کی رگ گلو بھی کاٹی جائے گی۔
نیز اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے سچے اور جھوٹے نبی کی پہچان کے لیے یہ بات ایک معیار کے طور پر پیش نہیں کی ہے کہ جس مدعی نبوت کی رگ گلو نہ کاٹی جائے وہ سچا نبی ہے، اور جس کی رگ کاٹ دی جائے وہ جھوٹا مدعی۔ قرآن کی آیتوں میں تاویل کی یہ کھینچ تان،جو ظاہر ہے کہ آپ کی اپنی اپج کا نتیجہ نہیں ہے،بلکہ مرزا صاحب کی جماعت سے ہی آپ نے سیکھی ہے،بجائے خود اس بات کی علامت ہے کہ یہ جماعت خوف خدا سے کس قدر خالی ہے۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے،اس کی بات کو ان معیاروں پر نہیں جانچا جائے گا جو آپ نے پیش کیے ہیں،بلکہ اسے پورے اطمینان کے ساتھ اس بنیاد پر رد کردیا جائے گا کہ قرآن واحادیث صحیحہ اس معاملے میں قطعی ناطق ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔میں ان دلائل سے بھی واقف ہوں جو مرزا صاحب ا ور ان کے متبعین نے باب نبوت کے کھلے ہونے پر قائم کیے ہیں۔ مگر آپ سے صاف عر ض کرتا ہوں کہ ان دلائل سے اگر کوئی متاثر ہوسکتا ہے تو وہ صرف ایک بے علم یا کم علم آدمی ہی ہوسکتا ہے،ایک صاحب علم آدمی کو تو ان کے دلائل دیکھ کر صرف ان کے جہل ہی کا یقین حاصل ہوتا ہے۔
ترجمان القرآن میںجرمنی کا جو مکتوب شائع ہوا ہے،اس کی اشاعت کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی ہر بات ہمار ے نزدیک سچی ہے۔ ہمارا مدعا تو یہ تھا کہ ہمارے ملک کے مسلمانوں کو اپنے جرمن نو مسلم بھائیوں کی حالت سے آگاہ کیا جائے اور ان کی مدد پر اُکسایا جائے۔ وہ لوگ بے چارے نئے نئے مسلمان ہیں،ان کو کیا خبر کہ دنیائے اسلام میں کس قسم کے فتنے اُٹھ رہے ہیں۔ان کو تو اسلام کے نام سے جو چیز جہاں سے بھی ملے گی،وہ اس سے اپنی تشنگی بجھانے کی کوشش کریں گے۔یہ ہمارا کام ہے کہ انھیں اسلام کے متعلق صحیح لٹریچر فراہم کرکے دیں۔ورنہ اندیشہ ہے کہ وہ بے چارے ناواقفیت میں کسی فتنے کا شکار نہ ہوجائیں۔

سوال: آپ کا جواب ملا۔افسوس کہ وہ میری تشفی کے لیے کافی نہیں ہے۔
میں نے آپ ہی کی دی ہوئی حقیقت’’خدا تعالیٰ خود جھوٹے کو سزا دے گا‘‘ کی روشنی میں پوچھا تھا کہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی جو سب مسلمانوں کے نزدیک کاذب ہیں،ان پر کیوں خدا تعالیٰ کی گرفت نہیں ہوتی،اور یہ کہ خدا تعالیٰ کس طرح اپنے بندوں کو اتنے عرصے سے گمراہ ہوتے دیکھ رہا ہے؟
میں مرزا صاحب کی تصنیف کردہ تقریباً ۲۵ کتب تحقیقی نظر سے دیکھ چکا ہوں،اور اس کے بعد علمائے اسلام کی بعض کتب بھی ان کے رد میں دیکھی ہیں۔مجھے اعتراف ہے کہ میں نے آپ کی کوئی کتاب اس موضوع پر نہیں پڑھی۔ ویسے علما کی کتب کے متعلق میرا مجموعی تاثر یہ ہے کہ:
انھوں نے مرزا صاحب کی تحریروں میں تحریف کرکے غلط مطالب ان کی طرف منسوب کیے ہیں۔
جس موضوع پر انھوںنے قلم اُٹھایا ہے،اس پر انھیں عبور نہیں تھا۔
بعد میں میری خط وکتابت پر یہ لوگ عموماًخاموش رہے ہیں۔
مرزا صاحب کی کتب سے میں جو کچھ سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کی ذات اور اقوال یعنی ظاہر وباطن آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے عشق سے پُر ہے،میں اس بنیاد کو لے کر مرزا صاحب کے دعوے کی طرف بڑھا تھا، اور اب مجھ پر یہ ثابت ہوچکا ہے کہ:
(۱) مرزا صاحب کے دعاوی قرآن اور اقوال نبیؐ کے خلاف نہیں۔
(۲) مرزا صاحب کی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان گھٹانے کے لیے نہیں، بلکہ اگر موسوی فیضان سے قریہ قریہ نبی ہوسکتے ہیں تو مقام محمدؐی کے مطابق گائوں گائوں ایسے لوگ ہونے چاہییں جو بتائیں کہ ہم نے شریعت محمدؐیہ پر عمل کرکے مکالمہ الٰہیہ حاصل کیا ہے۔ خودمرزاصاحب نے فرمایا ہے کہ:
ایں چشمۂ رواں چوں بخلق خدا دہم
یک قطرۂ ز بحرِ کمال محمدؐ است
اب آپ نے پھر مجھے مرزاصاحب کے دعوے کو پرکھنے کی دعوت دی ہے، تو کیا آپ براہِ کرم قرآن کریم سے میری رہنمائی کے لیے مرزا صاحب کے کسی ایک دعوے کو جھوٹا ثابت کردیں گے؟

جواب: پچھلا خط آپ کی تشفی کے لیے کافی ہوجاتا،اگر آپ تشفی چاہتے۔ میں نے ’’ترجمان القرآن‘‘ میں جو کچھ لکھا تھا وہ تو ان لوگوں کے بارے میں تھا جو مجھ پر ایک جھوٹا بہتان لگا رہے ہیں،اور اس میں اﷲ تعالیٰ پر یہ اعتماد ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ ضرور جھوٹوں کو سزا دے گا۔مگر آپ اسے ایک مدعی نبوت کے دعوے کو جانچنے کے لیے معیار ٹھیرا رہے ہیں، اور معیار بھی اس شان کے ساتھ کہ اگر مدعی کو سزا ملتی ہوئی نظر نہ آئے تو ضرور وہ اپنے دعوے میں سچا ہے۔آپ خود سوچیں کہ میرے قول کو مجھ پر حجت بنانے کی یہ کوشش جو آپ نے فرمائی ہے،یہ آخر کہاں تک معقول ہے؟کیا میں نے اپنے خلاف بہتان لگانے والوں کے متعلق یہ بھی کہا تھا کہ اگر انھیں دنیا میں سب کی آنکھوں کے سامنے سزا نہ ملے تو ضرور مجھ پر ان کا بہتان سچا ہے؟کیا واقعی لوگوں کے صادق وکاذب اور راہ یاب وگمراہ ہونے کے لیے یہ کوئی صحیح معیار ہے کہ جسے دنیا میں سزا مل جائے وہ جھوٹا اور گمراہ،اور جسے سزا نہ ملے وہ سچا اور ہدایت یافتہ؟
آپ عجیب بات فرما رہے ہیں کہ مرزا صاحب کے دعوے کو ۶۰ سال گزر چکے ہیں،آخر کب تک کوئی انتظار کرے۔دعوائے نبوت کی صداقت کو پرکھنے کی یہ عجیب کسوٹی جو آپ نے تجویز فرمائی ہے،ذرا اس کی توضیح تو فرمایئے کہ ایک جھوٹے مدعی کو آپ کے نزدیک کس قسم کی سزا ملنی چاہیے؟اگر آپ کا خیال یہ ہے کہ غیب سے ایک ہاتھ بڑھے اور اس کی رگ گلو کاٹ دے، تو میں عرض کروں گا کہ یہ سزا تو مسیلمہ تک کو نہیں ملی جس نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اور اگر آپ کی مراد یہ ہے کہ جو مدعی نبوت انسانوں کے ہاتھ سے مارا جائے وہ جھوٹا ہے، تو ان انبیاکے متعلق آپ کیا فرمائیں گے جن کی نبوت کی تصدیق خود اﷲ تعالیٰ نے فرمائی ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی فرمادیا ہے کہ ان کی قوم نے انھیں قتل کردیا؟قرآن میں یہ آیات تو آپ کی نظر سے گزری ہی ہوں گی کہ
قُلْ قَدْ جَاۗءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِيْ بِالْبَيِّنٰتِ وَبِالَّذِيْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْھُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَo آل عمران3:183
اور
فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّيْثَاقَہُمْ وَكُفْرِہِمْ بِاٰيٰتِ اللہِ وَقَتْلِہِمُ الْاَنْۢبِيَاۗءَ بِغَيْرِ حَقٍّ
النساء4: 155
ان آیات کی روشنی میں آپ کو ایک مرتبہ پھر اپنے اندازِ فکر پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔نبی کا دعویٰ اس طرح کے معیاروں پر نہیں جانچا جاتا۔ دیکھنے کی چیز تویہ ہے کہ اس سے پہلے آئے ہوئے کلام الٰہی کی روشنی میں اس کا مقام کیا ہے؟ وہ چیز کیا لایا ہے؟ اوراس کی زندگی کیسی ہے؟ ان معیاروں پر کوئی شخص پورا نہ اُترتا ہو تو آپ سخت غلطی کریں گے اگر اس کے دعوے کو صرف اس بنا پر مان لیں گے کہ آپ کی آنکھوں نے اسے اس دنیا میں سزا ملتے نہیں دیکھا۔
جو تین معیار میں نے اوپر بیان کیے ہیں،ان میں سے مؤخر الذکر دو معیار ایسی صورت میں سرے سے قابل لحاظ ہی نہیں رہتے جب کہ پہلے ہی معیار سے کسی مدعی نبوت کا دعویٰ بخیریت نہ گزر سکے۔ جب قرآن اور احادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی نیا نبی نہیں آسکتا تو یہ دیکھنے کی کیا ضرورت باقی رہتی ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعوائے نبوت کرنے والا کیا لایا ہے اور کیسا انسان ہے۔ اگرچہ مرزا صاحب میرے نزدیک دوسرے اور تیسرے معیار کے لحاظ سے بھی مقام نبوت سے اس قدر فروتر ہیں کہ باب نبوت کھلا بھی ہوتا تو کم ازکم کوئی معقول آدمی تو ان پر نبوت کا گمان نہیں کرسکتا تھا، لیکن میں اس بحث کو قرآن وحدیث کے ناطق فیصلے کے بعد غیر ضروری بھی سمجھتا ہوں اور خداو رسول ؐکے مقابلے میں گستاخی بھی۔
یہ سوال کہ قرآن وحدیث سے باب نبوت کے قطعی طور پر بند ہونے کے دلائل کیاہیں،اس کا متحمل نہیں ہے کہ ایک خط میں اس کا جواب دیا جائے۔اگراﷲ تعالیٰ نے مجھے فرصت دی توان شاء اﷲ اس موضوع پر ایک مفصل مضمون لکھوں گا،ورنہ سورۂ احزاب کی تفسیر میں تو یہ بحث آنی ہی ہے۔
(ترجمان القرآن۔ رمضان ۳۷۰اھ۔ جولائی ا۹۵اء)

ختم نبوت کے خلاف قادیانیوں کی ایک اور دلیل:

سوال: تفہیم القرآن‘ سورۂ آل عمران صفحہ۲۶۸، ع،۹،آیت وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ…الخ آل عمران 81:3 کی تشریح کرتے ہوئے آپ نے حاشیہ نمبر۶۹ یوں درج کیا ہے کہ’’یہاں اتنی بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ حضرت محمدؐ سے پہلے ہر نبی سے یہی عہد لیا جاتارہا ہے اور اسی بنا پر ہر نبی نے اپنی اُمت کو بعد کے آنے والے نبی کی خبر دی ہے اور اس کا ساتھ دینے کی ہدایت کی ہے۔لیکن نہ قرآن میں،نہ حدیث میں،کہیں بھی اس امر کا پتا نہیں چلتا کہ حضرت محمدؐ سے ایسا عہد لیا گیا ہو،یا آپ ؐنے اپنی اُمت کو کسی بعد کے آنے والے نبی کی خبر دے کر اس پر ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہو۔‘‘
اس عبارت کا مطالعہ کرنے کے بعد دل میں یہ بات آئی کہ بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نہیں فرمایا،لیکن خود قرآن مجید میں سورۂ احزاب میں ایک میثاق کا ذکر یوں آتا ہے:
وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَہُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ ……الخ الاحزاب 7:33
یہاں لفظ ’’مِنْکَ‘‘ کے ذریعے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہے۔میثاق وہی ہے جس کا ذکر سورۂ آل عمران میں ہوچکا ہے۔ ہر دو سورتوں یعنی آل عمران اور الاحزاب کی مذکورۂ بالا آیات میں میثاق کے ذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہی میثاق جو دوسرے انبیا سے لیا گیا تھا، محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی لیا گیا ہے۔
دراصل یہ سوال احمدیوں کی ایک کتاب پڑھنے سے پیدا ہوا ہے جس میں ان دونوں سورتوں کی محولہ بالا آیات کی تفسیر ایک دوسرے کی مدد سے کی گئی ہے اور لفظ ’’منک‘‘ پر بڑی بحث درج ہے۔

جواب: آیت وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَہُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ ……الخ الاحزاب 7:33 سے قادیانی حضرات جو استدلال کرتے ہیں،وہ اگر مبنی براخلاص ہے تو ان کی جہالت پر استدلال کرتا ہے، اور اگر قصداًدھوکا دینے کی نیت سے ہے تو یہ ان کی ضلالت پر دال ہے۔ وہ ایک مضمون تو سورہ آل عمران کی آیت {وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النبیّٖن}سے لیتے ہیں جس میں انبیا اور ان کی اُمتوں سے کسی آنے والے نبی کی پیروی کا عہد لیا گیا ہے،اور دوسرا مضمون سورۂ احزاب کی مذکورہ بالا آیت سے لیتے ہیں جس میں دوسرے انبیا کے ساتھ نبیؐ سے بھی ایک عہدلیے جانے کا ذکر ہے۔ پھر دونوں کو جوڑ کر اس سے یہ تیسرا مضمون خود بنا ڈالتے ہیں کہ نبیؐ سے بھی کسی آنے والے نبی پر ایمان لانے اور اس کی تائید ونصرت کرنے کا عہد لیا گیا تھا۔ حالاں کہ جس آیت میں آنے والے نبی پر ایمان لانے کے میثاق کا ذکر ہے،اس میں اﷲ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ عہد ہم نے محمدؐ سے بھی لیا ہے،اورجس آیت میں محمدؐ سے ایک عہد لیے جانے کا ذکر ہے،اس میں کوئی تصریح اس امر کی نہیں ہے کہ یہ عہد کسی آنے والے نبی کی پیروی کا تھا۔اب سوال یہ ہے کہ آخر ان دو مختلف مضمونوں کو جوڑ کر ایک تیسرا مضمون جو قرآن میں کہیں نہ تھا، کس دلیل سے پیدا کرلیاگیا؟
اس کے لیے اگر ہوسکتی تھیں تو تین ہی دلیلیں ہوسکتی تھیں:
یا تو نبیؐ نے اس آیت کے نزول کے بعد صحابہ کو جمع کرکے اعلان فرمایا ہوتا کہ’’لوگو!اﷲ نے مجھ سے یہ عہد لیا ہے کہ میرے بعد جو نبی آئے،اس پر میں ایمان لائوں اور اس کی تائید ونصرت کروں،لہٰذا میرے متبع ہونے کی حیثیت سے تم بھی اس کا عہد کرو‘‘… مگر ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث کے پورے ذخیرے میں اس مضمون کا کہیں نام ونشان تک نہیں،بلکہ اُلٹی بکثرت روایات ایسی موجود ہیں جن سے یہ مضمون نکلتا ہے کہ حضورؐپر سلسلۂ نبوت ختم ہوگیا اور آپؐ کے بعد اب کوئی نبی پیدا ہونے والا نہیں ہے۔ کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے نبیؐ سے ایک ایسا اہم میثاق لیا گیا ہوتا اور آپ ؐ نے اسے یوں نظر انداز کردیا ہوتا، اور اُلٹی ایسی باتیں فرمائی ہوتیں جن سے حجت پکڑ کر آپؐ کی اُمت کا سواداعظم خدا کے کسی فرستادہ نبی پر ایمان لانے سے محروم رہ جاتا۔
دوسری دلیل اس مضمون کو پید اکرنے کے لیے یہ ہوسکتی تھی کہ قرآن میں انبیا اور ان کی اُمتوں سے بس ایک ہی میثاق لیے جانے کا ذکر ہوتا،یعنی یہ کہ بعد کے آنے والے نبی پر ایمان لانا۔ اس کے سوا کسی اور میثاق کا پورے قرآن میںکہیں ذکر ہی نہ ہوتا۔ اس صورت میںیہ استدلال کیا جاسکتا تھا کہ سورۂ احزاب والی آیت میثاق میں بھی لامحالہ یہی میثاق مراد ہوگا…لیکن اس دلیل کے لیے بھی کوئی گنجایش موجود نہیں ہے۔قرآن میں ایک نہیں بلکہ متعد د میثاقوں کا ذکر آیا ہے۔ مثلاً سورۂ بقرہ رکوع۰ا میں بنی اسرائیل سے اﷲ کی بندگی اور والدین سے حسن سلوک اور آپس کی خوں ریزی سے پرہیز وغیرہ کا میثاق لیا جاتا ہے۔سورۂ آل عمران رکوع ۹ا میں تمام اہل کتاب سے اس بات کا میثاق لیا جاتا ہے کہ خدا کی جو کتاب تمہارے حوالے کی گئی ہے،اس کی تعلیمات کو چھپائو گے نہیں بلکہ اس کی عام اشاعت کرو گے۔ سورۂ اعراف رکوع ا۲ میں بنی اسرائیل سے عہد لیا جاتا ہے کہ وہ اﷲ کے نام پر حق کے سوا کوئی بات نہ کہیں گے،اور اﷲ کی دی ہوئی کتاب کو مضبوط ہاتھوں سے تھامیں گے اور اس کی تعلیمات کو یاد رکھیں گے۔سورۂ مائدہ رکوع ۱ میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروئوں کو ایک میثاق یاد دلایا جاتا ہے جو انھوں نے اﷲ سے کیا تھا، اور وہ یہ ہے کہ’’تم اﷲ سے سمع وطاعت کا عہد کرچکے ہو۔‘‘اب سوال یہ ہے کہ اگر سورہ احزاب والی آیت میںمیثاق کے مضمون کی تصریح کے بغیر مجردمیثاق کا ذکر آیا تھا تو اس خلا کو ان بہت سے میثاقوں میں سے کسی ایک سے بھرنے کے بجائے بالخصوص سورۂ آل عمران رکوع۹ والے میثاق ہی سے کیوں بھرا جائے؟اس ترجیح کے لیے خود ایک دلیل درکار ہے جو کہیں موجود نہیں۔ اس کے جواب میں اگر کوئی یہ کہے کہ دونو ں جگہ چوں کہ نبیوں سے میثاق لینے کا ذکر ہے،اس لیے ایک آیت کی تشریح دوسری آیت سے کرلی گئی، تو میں عرض کروں گا کہ دوسرے جتنے میثاق بھی انبیا کی اُمتوں سے لیے گئے ہیں،وہ براہ راست کسی اُمت سے نہیں لیے گئے بلکہ انبیا کے واسطے ہی سے لیے گئے ہیں۔ اور آخر قرآن میں بصیرت رکھنے والا کون شخص اس بات سے ناواقف ہے کہ ہر نبی سے کتاب اﷲ کو مضبوط تھا منے اور اس کے احکام کی پیروی کرنے کاعہد لیا گیا ہے؟
تیسری دلیل یہ ہوسکتی تھی کہ سورۂ احزاب کا سیاق وسباق یہ بتا رہا ہوتا کہ یہاں میثاق سے مراد آنے والے نبی پر ایمان لانے کا میثاق ہی ہوسکتاہے۔لیکن یہاں معاملہ بالکل ہی برعکس ہے۔سیاق وسباق تو اُلٹا اس بات پر دلالت کررہا ہے کہ یہاں یہ معنی ہو ہی نہیں سکتے۔سورۂ احزاب شروع ہی اس فقرے سے ہوتی ہے کہ:’’اے نبی! اﷲ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں سے نہ دبو،اور جو وحی تمہارا رب بھیجتا ہے،اسی کے مطابق عمل کر و اور اﷲ پر بھروسا رکھو۔‘‘ اس کے بعد یہ حکم سنایا جاتا ہے کہ جاہلیت کے زمانے سے متبنّٰی بنانے کا جو طریقہ چلا آرہا ہے،اس کو اور اس سے تعلق رکھنے والے تمام اوہام اور رسموں کو توڑ ڈالو۔اس کے بعد فرمایا جاتا ہے کہ غیر خونی رشتوں میں صرف ایک ہی رشتہ ایسا ہے جو خونی رشتوں سے بھی بڑھ کر حرمت والا ہے،اور وہ ہے نبی اور مومنین کا رشتہ،جس کی بنا پر نبیؐ کی بیویاں ان کی مائوں کی طرح ان پر حرام ہیں،ورنہ باقی تمام معاملات میں رحمی اور خونی رشتے ہی اﷲ کی کتاب کی رو سے حرمت اور استحقاق وراثت کے لیے اولیٰ وانسب ہیں۔یہ احکام بیان فرمانے کے بعد اﷲ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ میثاق یاد دلاتا ہے جو اس نے تمام انبیا سے ہمیشہ لیا ہے اور ان کی طرح آپؐ سے بھی لیا ہے۔ اب ہر معقول آدمی خود ہی دیکھ سکتا ہے کہ اس سلسلۂ کلام میں آخر کس مناسبت سے ایک آنے والے نبی پر ایمان لانے کا میثاق یاد دلایا جاسکتا تھا؟یہاں توا گر یاد دلایا جاسکتا تھا تو وہی میثاق یاد دلایا جاسکتا تھاجو خدا کی کتاب کو مضبوط تھامنے اور اس کے احکام کو یاد رکھنے اور ان پر عمل کرنے اور دنیا پر ان کا اظہار کرنے کے لیے تمام انبیا سے لیا گیا ہے۔ پھر آگے چل کر ہم دیکھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نبی صلی ا ﷲ علیہ وسلم کو صاف صاف حکم دیتا ہے کہ آپ خود اپنے متبنّٰی زیدؓبن حارثہ کی مطلقہ بیوی سے نکاح کرکے جاہلیت کے اس وہم کو توڑ دیں جس کی بنا پر لوگ منہ بولے بیٹے کو بالکل صلبی بیٹے کی طرح سمجھتے تھے۔ اور جب کفار و منافقین اس پر اعتراضات کی بوچھاڑ کرتے ہیں تو اﷲ تعالیٰ ان کو علی الترتیب تین جواب دیتاہے:
(۱) اوّل تو محمدتم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں کہ اس کی مطلقہ بیوی ان پرحرام ہوتی۔
(۲) اور اگر تم یہ کہتے ہو کہ وہ ان کے لیے حلال تھی بھی تو اس سے نکاح کرناکیا ضرور تھا، تو یہ اس لیے ضروری تھا کہ وہ اﷲ کے رسول ہیں جس کاکام یہی ہے کہ جس چیز کو اﷲ مٹانا چاہتا ہے، اسے خود آگے بڑھ کر مٹائے۔
(۳) اور مزید برآں ان کو ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری تھا کہ وہ محض رسول ہی نہیں ہیں بلکہ خاتم النبیین ہیں،اگر وہ جاہلیت کی ان رسموںکو مٹا کر نہ جائیں گے تو پھر کوئی ایسا نبی آنے والا بھی نہیں ہے جو انھیں مٹائے۔
اس مضمون لاحق کو اگر کوئی شخص مضمون سابق کے ساتھ ملاکر پڑھے تو وہ چین کے ساتھ یہ کہہ دے گا کہ اس سیاق وسباق میں جو میثاق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد دلایا گیا ہے،اس سے مراد اور جو میثاق بھی ہو، بہرحال کسی آنے والے نبی پر ایمان لانے کا میثاق تو ہرگز نہیں ہوسکتا۔
دیکھ لیجیے،آیت زیر بحث سے قادیانیوں کے بیان کردہ معنی لینے کے لیے یہی تین دلیلیں ہوسکتی تھیں،اور یہاں ان میں سے ہر دلیل ان کے مدعا کے لیے غیر مفید، بلکہ اُلٹی ان کے مدعا کے خلاف ہے۔ اب اگر ان کے پاس کوئی چوتھی دلیل ہو تو وہ ان سے دریافت کیجیے، اور ان تینوں دلیلوں کا جواب بھی ان سے لیجیے۔ ورنہ یہ ماننے کے سوا چارہ نہیں کہ اس آیت سے جو معنی انھوں نے لیے ہیں، وہ یا تو جہالت کی بِنا پر نکالے ہیں،یا پھر خدا سے بے خوف ہوکر خلق خدا کو گمراہ کرنے کے لیے نکالے ہیں۔بہرحال ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر مرزا صاحب نبی تھے تو آخر کیامعاملہ ہے کہ ابھی ان کے صحابہ کا دور بھی ختم نہیں ہوا ہے اور ان کی ساری اُمت اس وقت تابعین اور تبع تابعین پر مشتمل ہے۔پھر بھی حال یہ ہے کہ کتاب اﷲ سے ان کی اُمت میں علی الاعلان ایسے غلط استدلال کیے جاتے ہیں اور پوری اُمت میں ایک آواز بھی اس جہالت یا ناخدا ترسی کے خلاف بلند نہیں ہوتی۔ (ترجما ن القرآن۔رمضان،شوال ا۳۷اھ، جون،جولائی۹۵۲اء)

اہل سنت اور اہل تَشَیُّع کا اختلاف:

سوال: میں نے ایک دین دار شیعہ عزیز کی وساطت سے مذہب شیعہ کی بکثرت کتب کا مطالعہ کیا ہے۔شیعہ سنی اختلافی مسائل میں سے جو اختلاف نماز کے بارے میں ہے،وہ میرے لیے خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔میں اپنے شکوک آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ تفصیلی جواب دے کر ان کا ازالہ فرمائیں۔
میرے شبہات نماز کی ہیئت قیام سے متعلق ہیں۔نماز اوّلین رکن اسلام ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ قیام میں ہاتھ باندھنے یا چھوڑ دینے کے بارے میں ائمۂ اربعہ کے مابین اختلاف ہے۔ اور پھر افسوس اس امر کا ہے کہ ارشاد نبوی ’’انی تارک فیکم الثقلین، کتاب اللّٰہ و عترتہ‘‘ کے باوجود ائمۂ اہل سنت نے رفع اختلاف کے لیے اہل بیت کی طرف رجوع نہیں کیا، حالاں کہ امام اعظمؒ اور امام مالکؒ،امام جعفر صادقؒ کے معاصر بھی تھے۔اس طرح رسولؐ کے گھر والوں کو چھوڑ کر دین کے سارے کام کو غیر اہل بیت پر منحصر کردیا گیا اور مسائل دین میں اہل بیت سے تمسک کرنا تو درکنار، ان سے احادیث تک نہیں روایت کی گئیں،حالاں کہ بقول ’’صاحب البیت ادریٰ بما فی البیت‘‘ دین کا اصل منبع ائمہ اہل بیت تھے۔ امام ابوحنیفہؒ و مالکؒ کا انحصار محض روایات پر تھا۔برعکس اس کے امام جعفر صادقؒ نے اپنے والد امام باقرؒ کو،انھوں نے زین العابدین کو اور انھوں نے حسینؓ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ وہ قیام میں کیسے کھڑے ہوتے تھے۔شنیدہ کے بودمانند دیدہ۔ائمۂ اہل بیت کی طرف اسی عدم رجوع کا نتیجہ ہے جو اہل سنت کے اختلافات کی شکل میں رونما ہوا ہے۔

جواب:آپ کا سوال تو صرف نماز کے بارے میں ہے، مگر آپ نے اس کے متعلق اپنی اُلجھن کی جن بنیادوں کا ذکر کیا ہے،وہ دُور تک پہنچی ہوئی ہیں۔اس لیے ان بنیادوں پر بحث کرنی ناگزیر ہے۔
آپ کی اُلجھن کا نقطۂ آغاز یہ حدیث ہے کہ ’’انی تارک فیکم الثقلین…الخ‘‘۔ اس کے متعلق آپ کو سب سے پہلے تو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ حدیث مختلف الفاظ میں مختلف سندوں سے روایت ہوئی ہے جن میں سے بعض ضعیف ہیں اور بعض قوی۔ سب سے زیادہ قوی سند سے اور تفصیل کے ساتھ جو روایت آئی ہے وہ حضرت زیدؓ بن ارقم سے مسلم میںمروی ہے۔ اس میں یہ بیان ہوا ہے کہ نبیؐ نے غدیر خم کے مقام پر تقریر کرتے ہوئے فرمایاکہ’’لوگو! میں ایک انسان ہوں،ہوسکتا ہے کہ اﷲ کا فرستادہ( قضا کا پیغام لے کر) جلدی ہی آجائے،او رمیں اس پر لبیک کہوں(یعنی دنیا سے رخصت ہوجائوں)میںتمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں۔ پہلی اس میں سے کتاب اﷲ ہے جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔پس تم کتاب اﷲ کو لواور اسے مضبوط تھامو۔‘‘اس سلسلے میں آپ ؐنے حاضرین کو کتاب اﷲ کی پیروی پر اُبھارااور اس کی طرف رغبت دلائی۔پھر فرمایا: ’’اور دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں۔ میں اپنے اہل بیت کے معاملے میں تم کو اﷲ کی یاد دلاتا ہوں۔‘‘ اس حدیث میں کوئی اشارہ اس طرف نہیں ہے کہ کتاب اﷲ کے بعد بس میرے اہل بیت ہی ہیں جن سے تمھیں اپنا دین سیکھنا چاہیے اور جن کی پیروی پرحصر کرنا چاہیے۔بلکہ اس سے معلوم ہوتاہے کہ ان دونوں چیزوں کو ثقلین( بھاری چیزیں) دو الگ الگ معنوں میں فرمایا گیا ہے۔کتاب اﷲ اس لیے بھاری چیز ہے کہ وہی ہدایت کا سرچشمہ ہے اور اسے چھوڑنا یا اس سے منحرف ہونا تباہی وضلالت کا موجب ہے۔ اور اہل بیت کو بھاری اس لیے فرمایا کہ ہمیشہ اکابر نوع انسانی کے اہل بیت ان کے پیروئوں کے لیے سخت وجہ آزمایش ثابت ہوئے ہیں۔ کسی نے ان کے حق میں افراط کی ہے اور غلو کرکے پیر زادوں کو معبود بنا ڈالا ہے۔ اورکسی نے ان کے حق میں تفریط کی ہے اوران پر ظلم وستم ڈھائے ہیں، تاکہ اُمت کو جو فطری عقیدت اپنے رہبر اور ہاد ی کے خاندان والوں سے ہوتی ہے،اس کو زبردستی دبایا جائے۔اسی غرض کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میں اپنے اہل بیت کے معاملہ میں تم کو خدا کی یاد دلاتا ہوں۔ یعنی ان کے معاملے میں خدا سے ڈرو اور افراط و تفریط کے پہلو اختیار کرنے سے بچو۔
دوسرے،اگر بالفرض مان لیا جائے کہ حضورؐ نے اپنی عترت یا اہل بیت(دونوں ہی الفاظ حدیث میں آئے ہیں) سے دین سیکھنے کا ہی حکم دیا ہے تو ان الفاظ کا مفہوم آخر صرف اولاد علیؓ تک ہی کیوں محدود کردیا گیا؟اس میں ازروئے قرآن ازواج نبی بھی داخل ہیں اور ان میں آلِ جعفر،آلِ عقیل، آلِ عباس اور تمام بنو ہاشم بھی داخل ہیں جن پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ حرام کیا۔
تیسرے یہ کہ حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہی نہیں فرمایا ہے کہ ترکت فیکم الثقلین…بلکہ یہ بھی فرمایا ہے کہ علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین‘‘ (میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت پر چلو)، او ریہ بھی فرمایا ہے کہ: ’’اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم‘‘ (میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں،ان میں سے جس کسی کی پیروی کرو گے ہدایت پائو گے)۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کو تولیا جائے اور دوسرے ارشادات کو چھوڑ دیا جائے؟ کیوں نہ اہل بیت سے بھی علم حاصل کیا جائے اور ان کے ساتھ خلفائے راشدین اور اصحاب نبی (رضی اللہ عنہم)سے بھی؟
چوتھے یہ کہ عقل بھی کسی طرح یہ باور نہیں کرسکتی کہ تیئس سال کے دوران میں جو عظیم الشان کام نبی نے سیکڑوں ہزاروں آدمیوںکی شرکت ورفاقت میں سرانجام دیا اور جسے لاکھوں آدمیوں نے اپنی آنکھوں سے ہوتے دیکھا،اس کے متعلق معلومات حاصل کرنے میں صرف آپ کے گھر والوں پر ہی حصر کرلیا جائے اور ان بہت سے دوسرے لوگوں کو نظر انداز کردیا جائے جو اس کام میں شریک ہوئے اور جنھوں نے اسے دیکھا۔ حالاں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے خواتین کو اگر موقع ملا ہے تو زیادہ تر آپ کی خانگی زندگی دیکھنے کا موقع ملا ہے، اور مردوں میں ایک حضرت علیؓ کے سوا کوئی دوسرا ایسا نہیں ہے جسے آپ کی رفاقت کا اتنا موقع ملا ہو جتنا حضرت ابوبکر، عمر، عثمان ،ابن مسعود رضی اللہ عنہم اور دوسرے بہت سے صحابہ کو ملا۔پھر آخر محض اہل بیت ہی پر حصر کرلینے کی کون سی معقول وجہ ہے؟
اس سوال کو رد کرنے کے لیے بالآ خر ایک گروہ کو یہ کہنا پڑا کہ گنتی کے چند آدمیوں کے سوا باقی تمام صحابہ، معاذ اﷲ، منافق تھے۔مگر یہ بات صرف وہی شخص کہہ سکتا ہے جو تعصب میں اندھا ہوچکا ہو۔ جسے نہ اس بات کی پروا ہو کہ تاریخ اس کی تمام خاک اندازیوں کے باوجودکس طرح اس کے قول کو جھٹلا رہی ہے، اور نہ اس امر کی پروا ہو کہ اس قول سے خود سرکار رسالت مآبؐ اور آپؐ کے مشن پر کیسا سخت حرف آتا ہے۔کون معقول آدمی یہ تصور کرسکتا ہے کہ نبیؐ نے ۲۳سال تک اپنے جن رفقا پر پورا اعتماد کیا اور جنھیں ساتھ لے کر عرب کی اصلاح کا اتنا بڑا کارنامہ انجام دیا وہ سب منافق تھے؟پھر کیا حضورؐ ان کے نفاق سے آخر وقت تک بے خبر رہے؟ اگر یہ سچ ہے تو حضورؐ کی مردم شناسی وفراست مشتبہ ہوئی جاتی ہے۔ اور اگر یہ غلط ہے، اور یقینا غلط ہے، تو آخر کیوں دین کا علم حاصل کرنے میں ان سب کی معلومات معتبر نہ ہوں؟
آپ کی اُلجھن کا دوسرا بڑا سبب یہ ہے کہ آپ کو کسی نے بالکل غلط باور کرادیا ہے کہ ائمۂ اہل سنت نے مسائل دین کی تحقیق میں نہ اہل بیت کی طرف رجوع کیا،نہ ان سے کوئی مسئلہ پوچھا اور نہ ان سے حدیث کی کوئی روایت لی۔ یہ غلطی حضرات اہل تَشَیُّع نے تو ضرور کی ہے کہ معلومات کے ایک ہی ذریعے( یعنی اہل بیت… جنھیں انھوں نے اہل بیت مانا) پر حصر کرلیا اور دوسرے تمام ذرائع کو چھوڑ دیا۔مگرائمۂ اہل سنت نے یہ غلطی نہیں کی۔ انھوں نے وہ علم بھی لیا ہے جو اہل بیت کے پاس تھا اور وہ بھی لیا جو دوسرے صحابۂ کرامؓ کے پاس تھا، او رپھر پوری چھان بین کے بعد اپنے اپنے طرزِ تحقیق کے مطابق فیصلہ کیا ہے کہ کس مسئلے میں کون سا طریقہ زیادہ صحیح اور معتبر ہے۔
مثال کے طور پر امام ابوحنیفہؒ ہی کو لیجیے۔وہ جہاں دوسرے صحابہ وتابعین سے علم حاصل کرتے ہیں وہاں امام محمد باقر، امام جعفر صادقؒ، حضرت زید بن علی بن حسینؓ اور محمد بن حنفیہ کے علم سے بھی استفادہ کرتے ہیں۔یہی حال دوسرے فقہا اور محدثین کا بھی ہے۔ حدیث کی کون سی کتاب ہے جس میں بزرگان اہل بیت کی روایات نہ پائی جاتی ہوں۔
لیکن یہ کہنا کہ نماز یا کوئی دوسری چیز صرف وہی لی جاتی جو امام جعفر صادقؒ کے پاس تھی،کیوں کہ انھوں نے امام محمد باقرؒ سے اور انھوں نے امام زین العابدینؒ سے، اور انھوں نے امام حسینؓ سے اور انھوں نے حضرت علیؓ سے اور انھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے لیا تھا،صحیح نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر اسی ذریعے پر حصر کیوں کیا جائے؟ دوسرے ہزاروں لوگ بھی تو موجود تھے جنھوں نے نمازیں پڑھتے ہوئے اور دوسرے دینی کام کرتے ہوئے سیکڑوں تابعین کو اور انھوں نے سیکڑوں صحابہ کو دیکھا تھا اور ان سب نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے یہی کام کرتے دیکھا تھا۔ آخر ان کو چھوڑنے اور صرف اہل بیت سے تمسک کرنے کی کیا وجہ ہے؟ صاحب البیت ادریٰ بما فیہ کوئی آیت قرآنی یا حدیث تو نہیں ہے کہ اس کی پیروی اختیار کرکے اس نبی کی زندگی کے بارے میں صرف اس کے گھر والوں کے علم پر انحصار کرلیا جائے جس کی زندگی کا ننانوے فی صدی حصہ گھر سے باہر ہزاروں لاکھوں آدمیوں کے سامنے گزرا ہے اور جس سے ہزارہا آدمیوں کو مختلف احوال ومعاملات میں کسی نہ کسی طور پر سابقہ پیش آیا ہے۔
آپ کی اُلجھن کی تیسری وجہ یہ ہے کہ آپ مسائل دینی میں اختلافات کو دیکھ کر گھبرا اُٹھے ہیں اور یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ یہ اختلافات نہ ہوتے اگر صرف اہل بیت کے علم پر اکتفا کرلیا جاتا۔حالاں کہ یہ دونوں ہی باتیں غلط ہیں۔ نہ اختلافات کوئی گھبرانے کی چیز ہیں اور نہ اہل بیت کے متبعین ہی اختلاف سے بچ سکے ہیں۔آ پ اگر حضرات شیعہ کے مختلف فرقوں کے عقائد اور ان کے فقہی مذاہب کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہو کہ ان کے ہاں اس سے زیادہ اختلافات ہیںجتنے اہل سنت میں پائے جاتے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک اپنے مسلک کا ماخذ اہل بیت ہی کے علم کو قرار دیتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ جس دین کو کروڑوں انسان اختیار کریں اور جس کے مآخذ کا ہزاروں لاکھوں انسان مطالعہ کرکے غور وفکر کریں،اس کی نصوص کی تعبیر اور احکام کی تفصیل اور جزئیات کی تحقیق میں کامل اتفاق کسی طرح ممکن ہی نہیں ہے۔اختلاف تو ایسی صورت میں فطرتاً پیدا ہوتا ہے اور اس کے رونما ہونے کو روکا نہیں جاسکتا۔ لیکن ان بے شماراختلافات کے اندر ایک جوہری وحدت ہوتی ہے،اور وہ ان اساسی عقائد واُصول اور ان بڑے بڑے احکام کی بنیاد پر ہوتی ہے جن میں سب متفق پائے جاتے ہیں۔اگر لوگ اصل اہمیت اس بِنائے وحدت کودیں اور جزوی اختلافات کو اپنی جگہ پر رکھیں تو کوئی قباحت واقع نہیں ہوتی۔ مگر جب لوگوں کے لیے اصل اہمیت ان جزوی اُمور کی ہوجاتی ہے جن میں وہ آپس میں مختلف ہیں،اور بِنائے وحدت کو وہ خفیف سمجھنے لگتے ہیں تو پھر تفرقہ رونما ہوتا ہے۔
مثلاًنماز ہی کو لیجیے جس کے بارے میں آپ دریافت کررہے ہیں۔ اس میں بِنائے وحدت یہ ہے کہ سب مسلمان اﷲ واحد ہی کی عباد ت کرتے ہیں،اس کے طریق ادا کا ماخذ اسی نماز کو مانتے ہیں جو نبیؐ نے سکھائی،پانچ وقت کی نماز فرض مانتے ہیں، ایک ہی قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں،وضو کو اس کے لیے شرط تسلیم کرتے ہیں،رکوع،سجدہ، قیام، قعدہ کو اس کی ہیئت کے اجزا مانتے ہیں،اور اس میں تلاوت قرآن اور اﷲ کا ذکر کرتے ہیں۔اس بِنائے وحدت کے بعد ان میں اختلافات کن چیزوں میں ہیں؟ہاتھ کہاں باندھے جائیں۔ باندھے جائیں یا کھولے جائیں۔ آمین زور سے کہی جائے یا آہستہ۔امام کے پیچھے فاتحہ پڑھیں یا نہ پڑھیں وغیرہ۔ ان جزوی اُمور میں جتنے بھی مختلف مذاہب ہیں،ان میں سے ہر ایک اپنے پاس یہ دلیل رکھتا ہے کہ اس کا طریقہ کسی نہ کسی سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے،اور وہ اپنی سند پیش کرتا ہے۔قطع نظر اس سے کہ کس کی سند ضعیف ہے او رکس کی قوی، دیکھنا یہ ہے کہ ہر ایک کے پاس آخر نبی اکرمؐ ہی کی سند تو ہے۔ کسی نے یہ تو نہیں کہا کہ میں حضورؐ کے سوا کسی اور کی سند پر یہ کام کرتا ہوں۔ پھر آخر کیا مضائقہ ہے اگر ہم ایک طریقے پر (جس پر بھی ہمارا اطمینان ہو)عمل کرتے ہوئے دوسرے کے طریقے کو بھی مبنی برحق سمجھیں اور بِنائے وحدت پر متفق رہیں؟
(ترجمان القرآن۔ رمضان،شوال ا۳۷اھ۔ جون،جولائی۹۵۲اء)

اختلاف کے جائز حدود:

سوال: تحریک کا ہم درد ہونے کی حیثیت سے اس کے لٹریچر اور جرائد واخبارات کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔اب تک بزرگان دیو بند اور دوسرے علما کی طرف سے جو فتوے شائع ہوتے رہے ہیں اور ان کے جو جوابات امیر جماعت ہند و امیر جماعت پاکستان ودیگر اراکین جماعت کی طرف سے دیے گئے ہیں، سب کو بالالتزام پڑھتا رہا ہوں۔اپنے بزرگوں کی اس حالت کو دیکھ کر بہت صدمہ ہوتا ہے مگر سوائے افسوس کے اور چارہ کوئی نظر نہیں آتا۔
ان فتووں کو دیکھ کر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ تکفیر وتفسیق کا معاملہ جماعتِ اسلامی اور بزرگان دیو بند ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے،بلکہ جب ہم اسلاف کرام و ائمۂ عظام کی سیرتوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم ان بزرگوں کی سیرتوں میں بھی اس مسئلے کو مختلف فیہ پاتے ہیں۔مثلاً ایک گروہ میں امام ابن تیمیہ، امام ابن حزم اَندلسی، امام ابن جوزی وغیر ہم اکابر ہیں۔دوسرے گروہ میں امام ابن عربی،امام غزالی اور امام ولی اﷲجیسے بزرگ ہیں۔ان میں سے پہلا گروہ کہتا ہے کہ لا الٰہ اِلا اللّٰہ کا مطلب ’’لا معبود الا اللّٰہ‘‘ ہے، دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اس کا مطلب ’’لا موجود الا اللّٰہ‘‘ہے۔ پہلا گروہ دوسرے گروہ کے اس عقیدے کو کفر والحاد کہتا ہے۔دوسرا گروہ اپنے اس عقیدے کو توحید کا اعلیٰ واکمل درجہ تصور کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ و ہ کلمہ جس کی تشریح کے لیے قرآن نازل کیا گیا،اسی کے متعلق علمائے اُمت وائمۂ وقت کا یہ اختلاف کیوں ہے؟
اُمید ہے کہ آپ اس مسئلے پر ترجمان القرآن میں مفصل بحث فرمائیں گے!

جواب: کسی مفصل بحث کے بجائے آپ کی تشفی کے لیے اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ قرآن مجید اپنے مدعا کو بغیر کسی ابہام کے صاف صاف بیا ن کرتا ہے،اور اس نے کسی ایسی حقیقت کو جس کا جاننا آدمی کی ہدایت کے لیے ضروری تھا،واضح کیے بغیر نہیں چھوڑا ہے۔ مگر اختلافا ت پیش آنے کے دو بڑے اسباب ہیں:
ایک یہ کہ جب لوگ کسی قرآنی حقیقت کی اپنے الفاظ میں تعبیر کرتے ہیں اور قرآن کی حدود سے آگے بڑھ کر اپنی تشریحات پیش کرتے ہیں تو رائے کے اختلافات، اور بسا اوقات سخت اختلافات کی گنجائشیں نکل آتی ہیں۔
دوسرے یہ کہ جب لوگ اپنے آپ کو ایسے سوالات کا جواب دینے کا مکلف سمجھتے ہیں جن کی تکلیف خدا و رسولؐ نے ان کو نہیں دی تھی تو جھگڑوں کا دروازہ کھل جاتا ہے۔
اس پر بھی بات نہ بڑھے اگر ایک شخص اپنے بیان پر اور دوسرا اس کی تردید پر قناعت کرے۔ لیکن پہلے بھی بارہا ایسا ہوا ہے اور آج بھی ہورہا ہے کہ ایک شخص اپنی بات کہنے پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ اسے عین قرآن کی بات اور اس کے منکر کو صراحتاً یا کنایتاً قرآن کا منکر ٹھیرادیتا ہے،اور دوسرا شخص اس کی تردید پر اکتفا نہیں کرتا،بلکہ اسے ضال ومضل،اور بسا اوقات کافر تک ٹھیرا دیتا ہے۔ پھر اس سے آگے بڑھ کر ہر ایک کے متبعین اپنے اپنے پیشوا کی بات کی پچ کرتے ہیں اور مزید تشدد برتنے لگتے ہیں۔ان طریقوں سے مختلف فرقوں کی بِنا پڑ جاتی ہے اور ہر ایک دوسرے سے نماز اور مسجد اور شادی بیاہ تک کے تعلقات توڑ لیتا ہے، اور اپنے مخصوص مسائل پر کفر وایمان کی بنا رکھ دیتا ہے۔
یہ ہے خرابی کا اصل سبب! ورنہ اگر نص کو نص کی جگہ رہنے دیا جائے اور تعبیر وتشریح واستنباط کو مثل نص نہ بنایا جائے،اور بحث کو صرف اختلاف رائے کی حد تک ہی رہنے دیا جائے تو اکثر خرابیاں سرے سے رونما نہ ہوں،اور نہ وہ سوالات پیدا ہوں جن پر آپ نے پریشانی کا اظہار کیا ہے۔
جن بزرگوں کے آپ نے نام لیے ہیںاور جن کے نام نہیں لیے ہیں، ان کے درمیان جن مسائل میں اختلافات اور شدید اختلافات ہوئے ہیں،ان میں سے اکثر مسائل پر میں بھی اپنی ایک رائے رکھتا ہوں،اور لامحالہ میری رائے ان میں سے بعض کے موافق اور بعض کے خلاف ہے۔ مگر میں صحیح کوصحیح اور غلط کو غلط کہنے پر ٹھیر جاتا ہوں،اس سے آگے بڑھ کر ان لوگوں پر کوئی حکم چسپاں نہیں کرتا جن کی رائے سے میں نے اختلاف کیا ہے، اور نہ بحث کا یہ طریقہ اختیار کرتا ہوں کہ’’میرے نزدیک فلاں شخص کی فلاں بات سے یہ لازم آتا ہے، اور یہ کفر یا فسق یا ضلالت ہے، لہٰذافلاں شخص ضال اور مضل یا کافر یا فاسق ہے‘‘۔ اس طرح کے حکم لگانے کو میں حق سے تجاوز سمجھتا ہوں،کیوں کہ ہماری منطق کی رو سے اگر کسی شخص کے کسی قول سے ایک بُری بات لازم آتی ہو تو ہم اسے یہ الزام نہیں دے سکتے کہ اس ’’لازم‘‘ کا بھی وہ التزام کرتا ہے،اس لیے اسے اس کا ملتزم ٹھیرا کر اس پر وہ حکم لگانا جو اس بری بات کے ملتزم ہی پر لگایا جاسکتا ہو،کسی طرح جائز نہیں۔
(ترجمان القرآن۔ رجب،شعبان ا۳۷اھ۔ اپریل،مئی۹۵۲اء)

شفاعت کا صحیح تصور:

سوال: کسی مولوی صاحب نے ایک اشتہار شائع کیا ہے جس میں آپ پر معتزلی اور خارجی ہونے کا فتویٰ لگایا ہے۔بِنائے فتویٰ یہ ہے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قیامت کے روز اُمت کے بارے میں شفاعت کے منکر ہیں۔ اس کا حوالہ ترجمان القرآن، جلد۲۶، عددا، ۲ صفحہ۳۰سے لیتے ہوئے آیت’’جنگ کرو اہل کتاب میں ان لوگوں کے خلاف جو اﷲ اور روز آخرت پر ایمان نہیں لاتے‘‘کے تشریحی نوٹ کا دیا ہے۔یہ نوٹ یوں ہے:’’وہاں کوئی سعی سفارش، کوئی فدیہ اورکسی بزرگ سے منتسب ہونا کام نہ آئے گا۔‘‘ اسی طرح تفہیمات سے بھی کوئی حوالہ اسی قسم کا اخذ کیاہے۔
براہِ کرم آپ بیان فرمائیں کہ اہل سنت کا عقیدہ شفاعت کے بارے میں کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمت کی شفاعت کس حیثیت سے کریں گے،نیز آیا وہ ساری اُمت کی طرف سے شفیع ہوں گے؟

جواب: خدا ان لوگوں کو نیک ہدایت دے جو دوسروں کی طرف غلط باتیں منسوب کرکے دنیا میں پھیلاتے ہیںاور ان کے اقوال کو ایسے معنی پہناتے ہیں جو قائل کے منشا کے خلاف ہوں۔ اگر الزام لگانے والے بزرگ کے دل میں خدا کا کچھ خوف ہو تا تو وہ اشتہار کی اشاعت سے پہلے مجھ سے لکھ کر پوچھ سکتے تھے کہ تیری ان عبارات کا منشا کیا ہے، اور شفاعت کے بارے میں تیرا عقیدہ کیا ہے۔میری جن عبارتوں کا انھوں نے حوالہ دیا ہے،ان میں سے ایک یہود ونصاریٰ کے غلط عقیدۂ شفاعت کی تردید میں ہے، اور اس کا اصل مقصد یہ بتانا ہے کہ اس غلط عقیدے کی وجہ سے کس طرح اہل کتاب کا ایمان بالیوم الآخر باطل ہوگیا ہے جس کی بنا پر قرآن میں ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ یوم آخر پر ایمان نہیں رکھتے۔ دوسری عبارت میں ان تعلیمات کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے جو نبیؐ نے اپنی دعوت رسالت کے آغاز میں مشرکین مکہ کو خطاب کرکے ارشاد فرمائی تھیں۔دونوں میں سے کسی مقام پر بھی اسلام کے عقیدۂ شفاعت کو بیان کرنے کا موقع نہ تھا۔آخر کافروں اور مشرکوں کے سلسلے میں اس شفاعت کا ذکر کیوں کیا جاتا جس کے مستحق صرف اہل ایمان ہیں؟کافروں اور مشرکوں کے معاملے میں جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ وہی کچھ ہے جو قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ
وَاتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِىْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَـيْــــًٔـا وَلَا يُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَۃٌ وَّلَا يُؤْخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَo البقرہ 48:2
رہا اسلامی عقیدۂ شفاعت، تو وہ قرآن و حدیث کی رو سے یہ ہے کہ قیامت کے روز اﷲ تعالیٰ کی عدالت میں شفاعت صرف وہ کرسکے گا جس کو اﷲ اجازت دے، اور صرف اسی شخص کے حق میں کرسکے گا جس کے لیے اﷲ اجازت دے۔ ملاحظہ ہو يَوْمَىِٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِيَ لَہٗ قَوْلًاo طٰہٰ20:109 ’’مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِـاِذْنِہٖ۝۰ۭ البقرہ2:255 اس قاعدے کے تحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخرت میں یقینا شفاعت فرمائیں گے،مگر یہ شفاعت اﷲ کے اذن سے ہوگی اور ان اہل ایمان کے حق میں ہوگی جو اپنی حدوسع تک نیک عمل کرنے کی کوشش کے باوجود کچھ گناہوں میں آلودہ ہوگئے ہوں۔ جان بوجھ کر خیانتیں اور بدکاریاں کرنے والے،اور کبھی خدا سے نہ ڈرنے والے لوگ حضور صلی اﷲعلیہ وسلم کی شفاعت کے مستحق نہیں ہیں۔چنانچہ حدیث میں حضو رصلی اﷲعلیہ وسلم کا ایک طویل خطبہ مروی ہے جس میں آپ جرم خیانت کی شدت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قیامت کے روز یہ خائن لوگ اس حالت میں آئیں گے کہ ان کی گردن پر ان کا خیانت سے حاصل کیا ہوا مال لدا ہوگا اور وہ مجھے پکاریں گے کہ ’’یا رسول اﷲ اغثنی ( یا رسول اﷲ ؐ میری مدد فرمایئے)مگر میں جواب دوں گا کہ ’’لا املک لک شیئا، قد ابلغتک‘‘(میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا،میں نے تجھ تک خدا کا پیغام پہنچا دیا تھا)۔ ملاحظہ ہو: مشکٰوۃ، باب قسمۃ الغنائم، الغلول فیھا۔
(ترجمان القرآن۔ محرم، ۳۷۰اھ، نومبر۹۵۰اء)

نماز کامسنون طریقہ:

سوال: میں پہلے نماز اداکرنے کی سعادت سے محروم تھا،لیکن الحمد ﷲ کہ اب نماز ادا کرتا ہوں۔مجھ کو اس بارے میں بڑی پریشانی درپیش ہے۔ میں جس بستی میں تعلیم پا رہا ہوں وہاں کے لوگ دیو بندی حنفی ہیں اور میرے گائوں کے لوگ اہل حدیث ہیں۔اب اگر میں نماز اہل حدیث کے طریقے پر ادا کرتا ہوں تو بستی کے لوگ مجھے وہابی کہہ کرپریشان کرتے ہیں، اور جب حنفی طریقے پر پڑھتا ہوں تو گائوں کے لوگ مقلد ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ چوں کہ مجھے آپ پر اعتماد ہے،لہٰذا اس معاملے میں آپ سے رہنمائی چاہتا ہوں۔
سوال یہ ہے کہ آخر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نماز ایک ہی طریقے پر پڑھی ہوگی، پھر یہ مختلف فرقوں کے مختلف طریقوں کا اسلام میںکیا مقام ہے؟میںمعلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کون سا فرقہ آنحضورؐ کے طریق پر نماز ادا کرتا ہے، اور میں کس کے مسلک پر رہوں۔ یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ خود آپ کس طریق پر نماز ادا کرتے ہیں۔
علاوہ بریں دیہات میں نمازجمعہ اداکرنی چاہیے یا نہیں؟

جواب: اہل حدیث، حنفی،مالکی،حنبلی اور شافعی حضرات جن جن طریقوں سے نماز پڑھتے ہیں،وہ سب طریقے نبیؐ سے ثابت ہیں، اور ہر ایک نے معتبر روایات ہی سے ان کو لیا ہے۔اسی بِنا پر ان میں سے کسی گروہ کے اکابر علما نے یہ نہیں کہا کہ ان کے طریقے کے سوا جو شخص کسی دوسرے طریقے پر نماز پڑھتا ہے،اس کی نماز نہیں ہوتی۔ یہ صرف بے علم لوگوں کا ہی کام ہے کہ وہ کسی شخص کو اپنے طریقے کے سوا دوسر ے طریقے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر اسے ملامت کرتے ہیں۔ تحقیق یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں ان سب طریقوں سے نماز پڑھی ہے۔ اختلاف اگر ہے تو صرف اس امر میں کہ آپؐ عموماً کس طریقے پر عمل فرماتے تھے۔جس گروہ کے نزدیک آپ کا جو طریقہ آپؐ کا معمول بہ طریقہ ثابت ہوا ہے،اس نے وہی طریقہ اختیارکرلیا ہے۔
میں خود حنفی طریقے پر نماز پڑھتا ہوں، مگر اہل حدیث، شافعی،مالکی،حنبلی سب کی نماز کو درست سمجھتا ہوں اور سب کے پیچھے پڑھ لیا کرتا ہوں۔
دیہات میں نماز جمعہ کا مسئلہ بہت اختلافی ہے۔حنفی اس کو جائز نہیں سمجھتے۔اہل حدیث جائز سمجھتے ہیں اور دوسرے فقہا کے مسلک بھی اس معاملے میں مختلف ہیں۔آپ کے سوال کا مختصر جواب غلط فہمی کا موجب ہوگا۔مفصل بحث میری کتاب’’تفہیمات‘‘ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیں۔
(ترجمان القرآن۔ربیع الاوّل،ربیع ا لآخر ۳۷۰اھ۔جنوری،فروری ا۹۵اء)
……٭٭٭……

’’خدا اندر قیاس مانہ گنجد‘‘

سوال: کچھ عرصہ ہوا، ایک دوست کے ساتھ میری بحث ہوئی۔سوال یہ تھا کہ خدا ہے یا نہیں؟اور ہے تو وہ کہاں سے آیا؟ہم دونوں اس معاملے میں علم نہیں رکھتے تھے،لیکن پھر بھی میں سوال کے پہلے جز کی حد تک اپنے مخاطب کو مطمئن کرنے میں کام یاب ہوگیا،لیکن دوسرے جز کا کوئی جواب مجھ سے بن نہیں آیا۔ چنانچہ اب یہ سوال خود مجھے پریشان کررہا ہے؟
ایک موقع پر میری نظر سے یہ بات گزری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ سوال کیا گیا تھا،اور آپ ؐ نے اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ کچھ باتیں انسان کے سوچنے اور سمجھنے سے باہر ہوتی ہیں،اور یہ سوال بھی انھی میں شامل ہے۔میں بہت کوشش کرتا ہوں کہ آنحضورؐ کے اس فرمودہ سے اطمینا ن حاصل کروں،لیکن کام یابی نہیں ہوتی۔ براہ کرم آپ میری مدد فرمائیں۔
میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ انسان کو صحیح معنوں میں انسان بننے کے لیے کن کن اُصولوں پر چلنا چاہیے؟

جواب: آپ کے ذہن کو جس سوال نے پریشان کررکھا ہے،اس کا حل تو کسی طرح ممکن نہیں ہے، البتہ آپ کی پریشانی کا حل ضرور ممکن ہے۔اور اس کی صورت یہ ہے کہ آپ اس قسم کے مسائل پر سوچنے کی تکلیف اُٹھانے سے پہلے اپنے علم کے حدود (limitations)کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ جب آپ یہ جان لیں گے کہ انسان کیا کچھ جان سکتا ہے اور کیا کچھ نہیں جان سکتا تو پھر آپ خواہ مخواہ ایسے اُمور کو جاننے کی کوشش میں نہ پڑیں گے جن کو جاننا آپ کے بس میں نہیں ہے۔خدا کی ہستی کے متعلق زیادہ سے زیادہ جو کچھ آدمی کے امکان میں ہے،وہ صرف اس قدر ہے کہ آثار کائنات پر غور کرکے ایک نتیجہ اخذ کرسکے کہ خدا ہے،اور اس کے کام شہادت دیتے ہیں کہ اس کے اندر یہ اور یہ صفات ہونی چاہییں۔یہ نتیجہ بھی ’’علم‘‘کی نوعیت نہیں رکھتا،بلکہ صرف ایک عقلی قیاس اور گمان غالب کی نوعیت رکھتا ہے۔اس قیاس اور گمان کو جو چیز پختہ کرتی ہے،وہ یقین اور ایمان ہے۔لیکن کوئی ذریعہ ہمارے پاس ایسا نہیں ہے جو اس کو’’علم‘‘ کی حد تک پہنچا سکے۔ اب آپ خود سوچ لیجیے کہ جب خدا کی ہستی کے بارے میں بھی ہم یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ہم کو اس کے ہونے کا’’علم‘‘حاصل ہے، تو آخر اس کی حقیقت کا تفصیلی علم کیوں کرممکن ہے۔ خدا کی ذات تو خیر بہت بلند وبرتر ہے،ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ ’’زندگی‘‘کی حقیقت اور اس کی اصل(origin) کیا ہے۔یہ توانائی(energy) جس کے متعلق ہمارے سائنس دان کہتے ہیں کہ اسی نے مادے کی شکل اختیار کی ہے اور اس سے یہ کائنات وجود میں آئی ہے،اس کی حقیقت ہمیں معلوم نہیں، اور نہ ہم یہ جانتے ہیں کہ یہ کہاں سے آئی اور کس طرح اس نے مادے کی گوناگوں شکلیں اختیار کیں۔ اس قسم کے معاملات میں ’’کیوں‘‘اور’’کیسے‘‘ کے سوالات پر غور کرنا اپنے ذہن کو اس کام کی تکلیف دینا ہے جن کے انجام دینے کی طاقت اور ذرائع اس کو حاصل ہی نہیں ہیں۔اس لیے یہ غور وفکر نہ پہلے کبھی انسان کو کسی نتیجے پر پہنچا سکا ہے نہ اب آپ کو پہنچا سکتا ہے۔اس کا حاصل بجز حیرانی کے اور کچھ نہیں۔ اس کے بجائے اپنے ذہن کو ان سوالات پر مرکوز کیجیے جن کا آپ کی زندگی سے تعلق ہے اور جن کا حل ممکن ہے۔ یہ سوال تو بے شک ہماری زندگی سے تعلق رکھتا ہے کہ خدا ہے یا نہیں، اور ہے تو اس کی صفات کیاہیں، اور اس کے ساتھ ہمارے تعلق کی نوعیت کیا ہے۔ اس معاملے میں کوئی نہ کوئی رائے اختیار کرنا ضروری ہے۔ کیوں کہ بغیر اس کے ہم خود اپنی زندگی کی راہ متعین نہیں کرسکتے۔ اور اس معاملے میں ایک رائے قائم کرنے کے لیے کافی ذرائع بھی ہمیں حاصل ہیں۔لیکن یہ سوال کہ ’’خدا کہاں سے آیا‘‘نہ ہماری زندگی کے مسائل سے کوئی تعلق رکھتا ہے اور نہ اس کے متعلق کسی نتیجے پر پہنچنے کے ذرائع ہم کو حاصل ہیں۔
آپ کادوسرا سوال کہ’’انسان کو انسان بننے کے لیے کن اُصولوں پر چلنا چاہیے‘‘، ایسا نہیں ہے کہ اس کا جواب ایک خط میں دیا جاسکے۔میں اپنی کتابوں میں اس کے مختلف پہلوئوں پر مفصل لکھ چکا ہوں۔آپ ان کو ملاحظہ فرمائیں۔ مثلاًاس کے لیے میرے مضامین’’سلامتی کا راستہ‘‘،’’اسلام اور جاہلیت‘‘’’اسلام کا اخلاقی نقطۂ نظر‘‘اور’’دین حق‘‘کا مطالعہ مفید رہے گا۔نیز رسالۂ ’’دینیات‘‘ سے بھی آپ کو اس معاملہ میں کافی رہنمائی حاصل ہوگی۔
(ترجمان القرآن۔ ذی الحجہ ۳۶۹اھ، اکتوبر۹۵۰اء)

ایمان اور عمل کا تعلق:

سوال: ائمۂ سلف میں اس مسئلے کے بارے میں بہت اختلاف رہا ہے کہ عمل صالح ایمان کا جز ہے یانھیں۔میں نے قرآن وحدیث وسیرت کا بھی مطالعہ کیا ہے،اپنی حد تک ائمہ کے اقوال واستدلال کو بھی دیکھا ہے اور اپنے اساتذہ اور بزرگوں سے بھی رجوع کیا ہے، لیکن اس سوال کا شافی جواب حاصل کرنے میں ناکام رہا ہوں۔مجھے معلوم ہے کہ بعض لوگوں نے محض اختلافات کو ہوا دینے کے لیے اس مسئلے کو چھیڑا ہے، لیکن میرا مقصد سوائے تحقیق واطمینان کے کچھ نہیں ہے۔

جواب: اعمال کے جزو ایمان ہونے یا نہ ہونے کی بحث کو خواہ مخواہ اُلجھا دیا گیا ہے،ورنہ بات بجائے خودصاف ہے۔اس میں ایک جہت وہ ہے جو امام ابو حنیفہؒ نے اختیار کی ہے اوروہ بجائے خود حق ہے۔مگر اعتراض کرنے والوں نے اس جہت کو نظر انداز کرکے دوسری جہت سے اس پر اعتراض کردیا۔ اسی طرح اس مسئلے کی ایک دوسری جہت وہ ہے جو امام بخاریؒ وغیر ہم نے اختیار کی اور وہ بھی برحق ہے،مگر رد کرنے والوں نے ایک مختلف جہت سے اس کو رد کرنا شروع کردیا۔
حقیقت یہ ہے کہ ایمان اپنی اصل کے اعتبار سے شہادت قلب اور تصدیق ذہنی کے سوا کچھ نہیں ہے۔عمل اس لفظ کے مفہوم میں بداہتاً شامل نہیں ہے۔آپ خود سوچیے کہ جب کوئی شخص کہتا کہ’’میں نے فلاں بات مان لی‘‘، یا ’’میں اس کا قائل ہو گیا‘‘،یا’’میں اس کی صداقت پر گواہ ہوں‘‘ تو سننے والا ان الفاظ سے کیا سمجھتا ہے؟کیا محض عقیدہ واظہار؟ یا اس کے ساتھ کوئی عمل بھی؟ظاہر ہے کہ یہ الفاظ صرف عقیدہ وخیال کے اظہار کے لیے بولے جاتے ہیں، اور سننے والا یہ الفاظ سن کر بس اتنا ہی سمجھتا ہے کہ آدمی کے خیالات میں تبدیلی آگئی ہے۔ایمان کی یہی حقیقت قرآن وحدیث سے بھی معلوم ہوتی ہے۔
اﷲ تعالیٰ اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ۝۰ۭ البقرہ2:285 ( ایمان لایا رسول اس چیز پر جو اس کی طرف اس کے رب کے پاس سے نازل ہوئی اور مومنین بھی ایمان لائے۔
)
کی تفسیر خود یوں فرماتا ہے کہ
كُلٌّ اٰمَنَ بِاللہِ وَمَلٰۗىِٕكَتِہٖ وَكُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ۝۰ۣ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ۝۰ۣ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۝۰ۤۡ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُo البقرہ2:285 ( سب ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر (انھوں نے کہا کہ) ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کو جدا نہیں کرتے اور کہا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اے رب ہمارے ہم تیری مغفرت چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف پلٹ کر جانا ہے۔

اس تفسیر کی رُوسے ایمان کی کوئی حقیقت مان لینے اور قائل ہوجانے کے سوا نہیں ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت جبریل علیہ السلام کے سوال فاخبرنی عن الایمانکے جواب میں فرماتے ہیں: اَنْ تؤمن باللّٰہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاخروتؤمن بالقدر خیرہٖ وشرہٖ ۔
یہ تفسیر نبوی بھی ایما ن کے معنی’’مان لینے‘‘ ہی کے بتا رہی ہے نہ کہ اس کے ساتھ کچھ کرنے کے بھی۔اسی بِنا پر یہ ایک متفق علیہ مسئلہ ہے کہ اگر کوئی شخص کلمۂ اسلام کا قائل ہوجانے کے بعد اچانک کسی حادثے کا شکار ہوجائے،قبل اس کے کہ وہ نماز پڑھے یا روزہ رکھے یا کوئی عمل اسلام پر کرسکے، تو وہ مومن مرے گا نہ کہ کافر۔
یہ اس مسئلے کی ایک جہت ہے، اور اس کے برحق ہونے میںکوئی کلام نہیں کیا جاسکتا۔ اب دوسری جہت لیجیے۔جب کوئی شخص کہتا ہے کہ میں فلاں بات کو مان گیا،تو آپ فطرتاً یہ توقع کرتے ہیں کہ اب اس کے عمل اور برتائو میں اس مان لینے کے آثار ونتائج ظاہر ہوں گے۔ ہر شخص کی عقل اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ایک بات کو مان لینے کے جو لازمی آثار ونتائج ہیں،وہ مان لینے والے کے عمل اور برتائومیں ظاہر ہوں۔ حتیٰ کہ اگر وہ ظاہر نہ ہوں، یا ایسے آثار ظاہر ہوں جو عقلاً نہ ماننے ہی کے آثار ہوسکتے ہوں،تو ہر دیکھنے والا یہی سمجھے گا کہ اس شخص نے درحقیقت وہ بات نہیں مانی ہے جس کے ماننے کا وہ دعویٰ کررہا ہے۔اور صرف اتنا ہی نہیں، بلکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں ماننے اور منوانے کا سارا کام جو کیا جاتا ہے،اس سے مقصود محض مان لینا اور منوالینا ہی نہیں ہوتا بلکہ منوانے والا اسی لیے کچھ باتیں منواتا ہے کہ اس کے بعد ماننے والا اس ماننے کے عملی تقاضے پورے کرے، اور ماننے والا جب ماننے کا اقرار واعلان کرتا ہے تو ہر صاحب عقل اس کا مطلب یہی لیتا ہے کہ وہ اب اس ماننے کے تقاضے پورے کرنا چاہتا ہے۔مثلاً اگر آپ کسی شخص کو شراب کی برائی کا قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اسی لیے کرتے ہیں کہ وہ عملاًشراب نوشی سے اجتناب کرے،نہ اس لیے کہ وہ بس شراب کی برائی کا قائل ہوجائے۔ اور جب وہ اس کا اقرار کرتا ہے کہ واقعی شراب بری چیزہے،تو ہر سننے والا اس کا مقصد یہی سمجھتا ہے اور یہی اس سے توقع رکھتاہے کہ وہ شراب سے اجتنا ب کرے گا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص اس اقرار کے بعد اسے شراب پیتے دیکھ لے تو فوراً یہ رائے قائم کرتا ہے کہ وہ اپنے اقرار سے پھر گیا۔یہی معاملہ اﷲ تعالیٰ کے دین کا بھی ہے۔اﷲ اور رسول نے لوگوں سے بعض حقیقتیں منوانے کی جو کوشش کی ہے،اس سے مقصودصرف یہی نہیں ہے کہ وہ بس انھیں مان لیں،بلکہ لازماًیہ بھی مقصود ہے کہ ان کے اخلاق میں،ان کے اعمال میں،اُن کے برتائو میں، اور ان کی پوری انفرادی واجتماعی زندگی میں وہ آثار ونتائج ظاہر ہوں جو اس مان لینے کے لازمی آثار ونتائج ہیں۔ اﷲ نے اپنے کلام پاک میں اور رسول اﷲؐ نے اپنے فرمودات میں صاف صاف ان آثار ونتائج کو بیان بھی کردیا ہے جو دعوت ایمان سے مطلوب ومقصود ہیں اورلازمۂ حیات کی حیثیت رکھتے ہیں۔پھر انھوں نے صرف ان آثار مطلوبہ کے بیان ہی پر اکتفا نہیں کیا ہے، بلکہ بعض آثار کے متعلق بالفاظ صریح یہ فرما دیا ہے کہ جن لوگوں میں وہ ظاہر نہ ہوں،یا ان کے برعکس آثار ظاہر ہوں،وہ مومن نہیں ہیں۔ قرآن اور حدیث دونوں اس کی مثالوں سے بھرے پڑے ہیں جن سے کوئی صاحب علم آدمی ناواقف نہیں ہے اور ان پر نگاہ ڈالنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور عمل کے درمیان ایک ایسا تعلق ہے جو منفک نہیں ہوسکتا۔چاہے اس کی یہ تعبیر لفظاً صحیح نہ ہو کہ’’عمل جزوایمان ہے‘‘مگر بہرحال لازمۂ ایمان تو ضرور ہے۔
بلاشبہ محتاط فقہا نے مجرد ترک عمل پر،جب کہ اس کے ساتھ کوئی صریح علامت کفر موجود نہ ہو، تکفیر سے احتراز کیا ہے۔مگر اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ کسی مدعی اسلام کا بے عمل ہونا( یعنی اس کا عملاً غیر مسلمانہ زندگی بسر کرنا)جس طرح اس بات کا احتمال رکھتا ہے کہ اس کا دل ایمان سے خالی ہو،اسی طرح اس بات کا بھی احتمال رکھتا ہے کہ وہ غفلت میںمبتلا ہو یا اس کی سیرت میں ضعف ہو۔ان دونوں احتمالات میں سے کسی ایک کو متعین کرناظاہر میں انسانوں کے لیے ممکن نہیں ہے جب تک کہ اس کا کوئی صریح ثبوت نہ مل جائے۔لہٰذا مجرد بے عملی کی بنا پر تکفیر کر بیٹھنا خلاف احتیاط ہے۔البتہ اﷲ تعالیٰ، جو علیم بذات الصدور ہے،اس بات کو جانتا ہے کہ کس شخص کی بے عملی عدم ایمان کی بنا پر ہے، اور کس کی بے عملی ضعف اخلاق یا غفلت کی بنا پر۔ جس شخص کی بے عملی درحقیقت ایمان کے فقدان پر مبنی ہوگی وہ کافر تو ضرور ہوگا، مگر اس کا معلوم کرنا صرف خداوند عالم الغیب کا کام ہے۔دنیا کے مفتی اس کو نہیں جان سکتے،الایہ کہ کوئی صریح قرینہ ایسا حکم لگانے کے لیے موجود ہو۔
یہ ہے اس معاملے کی اصل حقیقت۔جن لوگوں نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا ہے،وہ عجیب قسم کی افراط وتفریط میں مبتلا ہیں۔ کوئی تو بے عمل مسلمانوں کو بے تکلف کافر کہہ بیٹھتا ہے، حالاں کہ بے عملی کے دوسرے اسباب بھی ہوسکتے ہیں اور انھی کے ہونے کا بالعموم قوی احتما ل پایا جاتا ہے۔ اور کوئی تمام بے عمل مسلمانوں کو ایمان ہی کا نہیں بلکہ جنت کا مژدہ سنا رہا ہے،حالاں کہ یہ معصیت کی کھلی کھلی ہمت افزائی ہے جس کی جواب دہی سے ہر خدا ترس آدمی کو ڈرنا چاہیے۔
(ترجمان القرآن۔جمادی الاولیٰ ۳۷۲اھ۔ فروری۹۵۳ا)

ایک نوجوان کے چند سوالات:

سوال (۱) ہمیں یہ کیوں کر معلوم ہو کہ ہماری عبادت خامیوں سے پاک ہے یا نہیں اور اسے قبولیت کا درجہ حاصل ہورہا ہے یا نہیں؟… قرآن وحدیث کے بعض ارشادات جن کا مفہوم یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو روزے میں بھوک پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا،بہت سے لوگ اپنی نمازوں سے رکوع وسجودکے علاوہ کچھ نہیں پاتے،یا یہ کہ جو کوئی اپنے عابد سمجھے جانے پر خوش ہو تو نہ صرف اس کی عبادت ضائع ہوگئی بلکہ وہ شرک ہوگی،اور اس طرح سے دیگر تنبیہات جن میں عبادت کے لیے بے صلہ ہوجانے اور سزا دہی کی خبر دی گئی ہے،دل کو نااُمید ومایوس کرتی ہیں۔
اگر کوئی شخص اپنی عبادت کو معلوم شدہ نقائص سے پاک کرنے کی کوشش کرے اور اپنی دانست میں کر بھی لے پھر بھی ممکن ہے کہ اس کی عبادت میں کوئی ایسا نقص رہ جائے جس کا اسے علم نہ ہوسکے اور یہی نقص اس کی عبادت کو لاحاصل بنادے…اسلام کا مزاج اس قدر نازک ہے کہ اپنی بشریت کے ہوتے ہوئے اس کے مقتضیات کو پورا کرنا ناممکن سا نظر آتا ہے۔
(۲) توجہ اور حضور قلب کی کمی کیا نماز کو بے کار بنادیتی ہے؟نماز کو اس خامی سے کیوں کر پاک کیا جائے؟
نماز میں عربی زبان سے ناواقف ہونے کی وجہ سے نہایت بے حضوری قلب پیدا ہوتی ہے اور ہو نی بھی چاہیے۔ کیوں کہ ہم سوچتے ایک زبان میں ہیں اور نماز دوسری زبان میں پڑھتے ہیں۔اگر آیات کے مطالب سمجھ بھی لیے جائیں تب بھی ذہن اپنی زبان میں سوچنے سے باز نہیں رہتا۔
(۳) اﷲ تعالیٰ کی طرف سے صرف ان اُعمال کے صلے کا وعدہ کیا گیا ہے جن کا تمام مقصد اور تمام محرک صرف اُس کی خوش نودی ورضا کا حصول ہو۔ مثلاًاگر کسی کی غربت وبے کسی پر رحم کھا کر ہم اس کی مدد کریں اور مدد کرنے میں اس کو ممنون کرنے یا اس سے آئندہ کوئی کام نکالنے یا کچھ لینے کا خیال نہ ہو بلکہ صرف اﷲ کا واسطہ منظور ہو تو کیا یہ بھی شرک ہے؟کیوں کہ اس کے ساتھ سلوک کرنے کا ابتدائی محرک ہماری رقت قلب ہے۔جس طرح آپ کے نزدیک خدمت ملت میں اگر کہیں قومیت کا رنگ پیدا ہوجائے تو عبادت نہیں رہتی۔
(۴) ’’پردہ‘‘پڑھنے سے کافی تشفی ہوئی۔ لیکن اکثر مسائل ایسے ہیں جن کے بارے میں اُلجھائو رفع نہیں ہوتا۔
ایک ایسا شخص جسے اس کے موجودہ حالات اور معاشی وسائل نکاح کرنے کی اجازت نہ دیں وہ آج کل کے زمانے میں کیوں کر اپنی زندگی پاک بازی سے بسر کرے؟ میں نے اس کا جواب جس کسی سے بات کی،نفی میں پایا۔ ایک طرف موجودہ ماحول کی زہرناکیاں اور دوسری طرف چشم وگوش کی بھی حفاظت کا مطالبہ، ناممکن العمل معلوم ہوتا ہے۔ کہاں آنکھیں میچیے اور کہاں کانوں میں انگلیاں دیجیے؟ اور پھر یہ کہ برے خیالات کی آمد کو کیوں کر روکیے؟ اوّل تو ہم اپنے خیالات کی آمد ورفت پر کوئی اختیار نہیں رکھتے اور اگر اس کی کوشش بھی کی جائے تو ایک ذہنی خلفشار کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا جو اور خراب کُن ہے۔سیلف کنٹرول(self-control) جن سازگار حالات میں قابل عمل ہو صرف انھی حالات میں کارگر اور مفید ہوسکتا ہے۔ لیکن ایسے ماحول میں جہاں ہر طرف برانگیختگی کے فوج در فوج سامان ہوں،اپنے آپ سے لڑنا اپنی شخصیت کے لیے ہلاکت کو دعوت دینا ہے۔ایک صاحب جو میڈیکل سائنس میں اس سال ڈاکٹریٹ کی سند لے رہے ہیں، کہتے ہیں کہ اس صورت میں نکاح جو حاصل نہیں ہے،اس کے علاوہ نیچرل طریق پر تسکین خاطر حاصل کرنا ہی صرف اس ذہنی انتشار اور تذلیل نفس سے نجات دے سکتا ہے۔ نفسیات کے ماہرین بھی یہی نظریہ رکھتے ہیں۔
کیا آپ بتائیں گے کہ بحالت مجبوری مذکورہ بالا رائے پر عمل پیرا ہوجانا کس حد تک گناہ ہے، اور اگر یہ سراسرگناہ ہے تو پھر ان حالات میں صحیح راستہ کیا ہوگا جو معقول اور قابل عمل ہو؟ اُمید ہے کہ آپ ان مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے نفسیات انسانی کے حقائق کی پوری رعایت فرمائیں گے۔

جواب (۱) اسلام کا مزاج بلاشبہ بہت نازک ہے، مگر اﷲ تعالیٰ کسی انسان کو اس کی استطاعت سے زیادہ مکلف نہیںفرماتا۔ قرآن وحدیث میں جن چیزوں کے متعلق ذکر کیا گیا ہے کہ وہ عبادات کو باطل یا بے وزن کر دینے والی ہیں،ان کے ذکر سے دراصل عبادات کو مشکل بنانا مطلوب نہیں ہے بلکہ انسان کو ان خرابیوں پر متنبہ کرنا مقصود ہے تاکہ انسان اپنی عبادات کو اُن سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے،اور عبادات میں وہ روح پیدا کرنے کی طرف متوجہ ہو جو مقصود بالذات ہے۔ عبادات کی اصل روح تعلق باﷲ، اخلاص ﷲ اور تقویٰ واحسان ہے۔اس روح کو پیدا کرنے کی کوشش کیجیے،اور ریا سے،فسق سے،دانستہ نافرمانی سے بچیے۔ان ساری چیزوں کا محاسبہ کرنے کے لیے آپ کا اپنا نفس موجود ہے۔وہ خود ہی آپ کو بتا سکے گا کہ آپ کی نماز میں، آپ کے روزے میں،آپ کی زکوٰۃ اور حج میں کس قدر اﷲ کی رضا جوئی اور اس کی اطاعت کا جذبہ موجود ہے،اور ان عبادتوں کو آپ نے فسق ومعصیت اور ریا سے کس حدتک پاک رکھا ہے۔یہ محاسبہ اگر آپ خود کرتے رہیں تو ان شاء اﷲ آپ کی عبادتیں بتدریج خالص ہوتی جائیں گی اور جتنی جتنی وہ خالص ہوں گی،آپ کا نفس مطمئن ہوتا جائے گا۔ابتداء ً جو نقائص محسوس ہوں،ان کانتیجہ یہ نہ ہونا چاہیے کہ آپ مایوس ہوکر عبادت چھوڑ دیں،بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ آپ اخلاص کی پیہم کوشش کرتے جائیں۔خبردار رہیے کہ عبادت میں نقص کا احساس پیدا ہونے سے جو مایوسی کا جذبہ اُبھرتا ہے،اُسے دراصل شیطان اُبھارتا ہے اور اس لیے اُبھارتا ہے کہ آپ عبادت سے باز آجائیں۔ یہ شیطان کا وہ پوشیدہ حربہ ہے جس سے وہ طالبین خیر کو دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن ان کوششوں کے باوجود یہ معلوم کرنا بہرحال کسی انسان کے امکان میں نہیں ہے کہ اس کی عبادات کو قبولیت کا درجہ حاصل ہو رہا ہے کہ نہیں۔ اس کو جاننا اور اس کا فیصلہ کرنا صرف اس ہستی کا کام ہے جس کی عبادت آپ کررہے ہیں، اور جو ہماری اور آپ کی عبادتوں کے قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ہر وقت اس کے غضب سے ڈرتے رہیے اور اس کے فضل کے اُمید وار رہیے۔ مومن کا مقام بین الخوف والرجاء ہے۔ خوف اس کو مجبور کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ بہتر بندگی بجا لانے کی کوشش کرے۔ اور اُمید اس کی ڈھارس بندھاتی ہے کہ اس کا ربّ کسی کا اجر ضائع کرنے والا نہیں ہے۔
(۲) توجہ اور حضورِ قلب کی کمی نماز میں نقص ضرور پیدا کرتی ہے۔لیکن فرق ہے اس بے توجہی میں جو نادانستہ ہو اور اس میں جو دانستہ ہو۔ نادانستہ پر مواخذہ نہیں ہے بشرطیکہ انسان کو دوران نماز میں جب کبھی اپنی بے توجہی کا احساس ہوجائے،اسی وقت وہ خدا کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش کرے،اور اس معاملے میں غفلت سے کام نہ لے۔رہی دانستہ بے توجہی، بے دلی کے ساتھ نماز پڑھنا اور نماز میں قصداً دوسری باتیں سوچنا، تو بلاشبہ یہ نماز کو بے کار کردینے والی چیز ہے۔
عربی زبان سے ناواقفیت کی بنا پر جو بے حضوری کی کیفیت پیدا ہوتی ہے،اس کی تلافی جس حد تک ممکن ہو،نماز کے اذکار کا مفہوم ذہن نشین کرنے سے کرلیجیے۔اس کے بعد جو کمی رہ جائے، اس پر آپ عند اﷲ ماخوذ نہیں ہیں،کیوں کہ آپ حکم خدا و رسول کی تعمیل کررہے ہیں۔ اس بے حضوری پر آپ سے اگر مواخذہ ہوسکتا تھا تو اس صورت میں جب کہ خدا ورسولؐ نے آپ کو اپنی زبان میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہوتی ا ور پھر آپ عربی میں نماز پڑھتے۔
(۳) آپ کا تیسرا سوال واضح نہیں ہے۔اگر کسی کی غربت وبے کسی پر رحم کھا کر آپ صرف اﷲ واسطے اس کی مدد کریں تو یہ فعل ظاہر ہے کہ خالص رضائے الٰہی کے حصول کے لیے ہوگا۔اس کے شرک ہونے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟اور اس سے میرے قول کی نفی کیسے لازم آتی ہے؟اس کی ابتدائی محرک آپ کی رقت قلب ہی سہی، مگر رقت قلب کی تحریک پر جو کام آپ نے کیا،وہ تو اﷲ کا پسندیدہ کام ہی کیا،اور اس غرض کے لیے کیا کہ اﷲ اسے پسند فرمائے۔اسی طرح اگر آپ اپنی قوم کی کوئی خدمت اُس طریقے سے کریں جو اﷲ کا پسندیدہ طریقہ ہو،اور اس غرض کے لیے کریں کہ اﷲ اس خدمت سے خوش ہو،تو یہ عین عبادت ہے۔میں جس چیز کا مخالف ہوں وہ تو یہ ہے کہ قوم کی خاطر وہ کام کیے جائیں جو اﷲ کو پسند نہیں ہیں،اور ایسے طریقے سے کیے جائیں جو اﷲ کی بتائی ہوئی راہ کے خلاف ہیں۔
(۴) آپ کا یہ سوال ان اہم مسائل میں سے ہے جن کی بنا پر ہم موجودہ ناپاک ماحول کے خلاف اجتماعی جدوجہدکی ضرورت پر برسوں سے زور دے رہے ہیں۔بلاشبہ آ ج کل کے ماحول نے افراد کے لیے پاک باز رہنے کو سخت مشکل بنادیا ہے۔لیکن اس کا حل یہ نہیں ہے کہ اس ماحول کی خرابی کو حیلہ بنا کر افراد اپنے لیے اخلاقی بے قیدی کے جواز کی راہ نکالنے لگیں۔بلکہ اس کا صحیح حل یہ ہے کہ اس ماحول کی ناپاکی کا جتنا زیادہ شدید احساس آپ کے اندر پیدا ہو،اسی قدر زیادہ شدت کے ساتھ آپ اسے بدلنے کی جدوجہد میں حصہ لیں۔رہیں وہ مشکلات جو اس جدوجہد کے دوران میں ایک نوجوان کو اس ناپاک ماحول کے اندرپیش آتی ہیں،تو ان کاعلاج یہ ہے کہ جن ہیجان خیز چیزوں سے آپ بچ سکتے ہیں،ان سے بچیے،مثلاً سینما،فحش تصویریں، مخلو ط سوسائٹی، بے پردہ عورتوں کو دانستہ گھورنا یا ان کی صحبت میں بیٹھنا۔اس کے بعد جو اضطراری محرکات باقی رہ جاتے ہیں، وہ اتنے زیادہ اشتعال انگیز نہیں رہتے کہ آپ ان کی وجہ سے بندش تقویٰ کو توڑنے پر مجبور ہوجائیں۔ آپ کے ڈاکٹر دوست اور جن ماہرین نفسیات کا آپ ذکر کررہے ہیں،دراصل اس بات سے ناواقف ہیں کہ زنا انسانی تمدن واخلاق کے لیے کس قدر شدید مفسدومخرب چیز ہے۔اگر وہ اس چیز کی برائیوں سے واقف ہوں تو کسی انسان کو یہ مشورہ نہ دیں کہ وہ محض اپنے نفس کی تسکین کے لیے سوسائٹی کے خلاف اتنے سخت جرم کا ارتکاب کر گزرے۔ کیا یہ لوگ کسی شخص کو یہ مشورہ دینے کی جرأت کریں گے کہ جب کسی کے خلاف اس کا جذبہ انتقام ناقابل برداشت ہوجائے تو وہ اسے قتل کردے؟ اور جب کسی چیز کے حاصل کرنے کی خواہش اسے بہت ستائے تو وہ چوری کرڈالے؟اگر ایسے مشورے دینا وہ ناجائز سمجھتے ہیں تو جذبۂ شہوت کی تسکین کے لیے وہ زنا کا مشورہ دینے کی جرأت کیسے کرتے ہیں۔ حالاں کہ زنا کسی طرح بھی قتل اور چوری سے کم جرم نہیں ہے۔ آپ اس جرم کی شدت کو سمجھنے کے لیے ایک مرتبہ پھر میری کتاب’’پردہ‘‘ کے وہ حصے پڑھیے جن میںمیں نے زنا کے اجتماعی نقصانات پر بحث کی ہے۔
(ترجمان القرآن۔ربیع الاوّل،ربیع الآخر ۳۷۰اھ۔ جنوری،فروری ا۹۵اء)

مسلم سوسائٹی میں منافقین:

سوال: اسلام کے خلاف دو طاقتیں ابتدا ہی سے برسر پیکار چلی آرہی ہیں:ایک کفر اور دوسری نفاق۔ مگر کفر کی نسبت منافق زیادہ خطرناک دشمن ثابت ہوا ہے۔ کیوں کہ وہ مارآستین ہے جو ماتھے پر اُخوت اور اسلام دوستی کا لیبل لگا کر مسلمانوں کی بیخ کنی کرتا ہے۔غالباً یہی وجہ ہے کہ اگرچہ کافر اور منافق دونوں ہی بالآخر جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں، لیکن منافق کی سزا کچھ زیادہ ہی’’بامشقت‘‘ بتائی گئی ہے(بے شک منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔) (نساء۴:ا۲) اسی گروہ کے متعلق خدا تعالیٰ نے یوں دوٹوک فیصلہ کردیا ہے کہ’’اے پیغمبر! ان منافقوں کے حق میں تم خواہ دعائے مغفرت کرو یا نہ کرو(برابر ہے کیوں کہ) چاہے تم ستر مرتبہ ہی مغفرت کے لیے دعا کیوں نہ کرو، تب بھی اﷲ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔‘‘ (التوبہ۹:۱۰) کم وبیش ساٹھ مختلف علامات اور امتیازی نشانیاں منافقین کی اﷲ نے قرآن پاک میں بیان فرمائی ہیں،جن کی روشنی میں ہم پاکستان کے اندر بسنے والی اس قوم کو جب دیکھتے ہیں جو مسلمان کہلاتی ہے تو اکثریت بلامبالغہ منافقین کی نظر آتی ہے…گناہ گار مسلمان اس گروہ منافقین میں شامل نہیں… مگر گناہ گار مسلمان وہ ہے جس سے برائی کا فعل باقتضائے بشریت جب کبھی سرزد ہوجاتا ہے تو فوراً ہی خدا اور قیامت کا خیال اسے آجاتا ہے۔سچے دل سے توبہ اور پشیمانی کا اظہار کرتا ہے اور آیندہ کے لیے اپنی اصلاح کرلیتا ہے۔منافق اس کے خلاف اپنے برے کاموں پر واقعی نادم ہونے کے بجائے دانستہ کیے جاتا ہے۔
آپ کی نگاہ اور مطالعہ زیادہ وسیع ہے،براہ کرم آپ اپنی رائے بیان فرمایئے کہ موجودہ مدعیان اسلام میں منافقین اور گناہ گار اور متقی مسلمانوں کا تناسب اندازاًکیا ہے؟
دوسرا سوال گروہ منافقین کے ساتھ مسلمانوں کے طرز عمل کا ہے۔قرآن کریم کی رو سے یہ لوگ مسلمانوں کی جماعت سے خارج ہیں۔(اور یہ منافق قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیںکہ ہم تمہاری جماعت میں ہیں۔حالاں کہ وہ تم سے نہیں۔‘‘سورۂ توبہ) صرف یہی نہیں کہ ملت اسلامیہ سے خارج ہیں،بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں کے دشمن ہیں:(یہ منافق تمہارے دشمن ہیں،ان سے خبر دار رہو۔ المنافقون:۱)
چوں کہ یہ دشمن ہیں لہٰذا حکم ہوتا ہے کہ ان دشمنان دین سے کامل علیحدگی اختیار کرلو۔ان منافقوں میں سے اپنے ساتھی اور دوست نہ بنائو…’’اور ان میں سے کسی کو نہ اپنا دوست سمجھونہ مدد گار۔‘‘(النساء۴:۲ا)
اس بائیکاٹ میں یقینا یہ بات بھی شامل ہے کہ منافقوں سے رشتے ناتے نہ کیے جائیں۔ علیحدگی کی ایک اور صورت یہ بیان فرمائی ہے کہ ’’اے نبی!اﷲ سے ڈرو اور ان کافروں اور منافقوں کی کسی بات کی پیروی نہ کرو۔‘‘ (احزاب۳۳:۱) یعنی نہ تو نماز میں منافقوں کی پیروی کی جائے اور نہ ہی سیاسی قیادت قبول کی جائے وغیرہ۔ بائیکاٹ کا اظہار ایک اور طریقے سے بھی کرنا ضروری ہے۔ ’’اور ان منافقوں میں سے اگر کوئی مرجائے تو کبھی اس کی نماز جنازہ نہ پڑھو،اور نہ ہی اس کی قبر پر دعائے مغفرت کے لیے کھڑے ہو۔‘‘( توبہ۹:اا)
بحیثیت ایک مسلمان کے خود آپ کا طرز عمل اس علیحدگی کے بارے میں کیا ہے؟کیا مسلمانوںکو (جو اقلیت میں ہیں)منافقوں سے(جن کی اکثریت ہے) قطع تعلق کرلینا چاہیے یا کچھ اتمام حجت کی گنجایش ہے؟

جواب: یہ کہنا تو مشکل ہے کہ مسلمانوں میں اس وقت کتنے فی صدی کس کس قسم کے لوگ شامل ہیں،مگر میرا اندازہ اپنے مشاہدات وتجربات کی بنا پر یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت کو منافق ٹھیرانے میں آپ نے بہت مبالغے سے کام لیا ہے۔بلاشبہ مومنین وصالحین کی ہم میں بہت کمی ہے اور یہی ہمارے اخلاقی ومادی تنزل کی اصل وجہ ہے، لیکن ہم میں اکثریت منافقوں کی نہیں بلکہ ایسے لوگوں کی ہے جو یا تو اسلام سے ناواقف ہونے کی وجہ سے جاہلیت میں مبتلا ہیں،یا تربیت اور نظام دینی کے فقدان کی وجہ سے ضعیف الایمان ہوکر رہ گئے ہیں،اور اپنی گناہ گاری کا احساس رکھنے کے باوجود گناہ گارانہ زندگی سے بچنے پر قادر نہیں ہیں۔منافقین ہمارے اندر موجود تو ضرور ہیں مگر ان کی تعداد کم ہے اور وہ زیادہ تر عوام میں نہیں بلکہ اونچے طبقوں میں پائے جاتے ہیں۔ایک صحیح اسلامی نظام زندگی کے قیام کے بارے میں ہماری ساری اُمیدیں اسی چیز سے وابستہ ہیں کہ ہماری قوم کی عظیم اکثریت اسلام کے ساتھ منافقانہ تعلق نہیں رکھتی بلکہ حقیقت میں اس کی عقیدت مند ہے اورصرف تعلیم،تربیت اور دینی تنظیم کی محتاج ہے۔اس لیے ہم توقع رکھتے ہیں کہ اگر اس کمی کو پورا کرنے میں ہمارے صالح عناصر کام یاب ہوجائیں تو منافقین کی اقلیت آخر کارشکست کھا کر رہے گی اور یہاں ایک حقیقی اسلامی نظام اپنی اصل صورت اور روح کے ساتھ قائم ہوکر رہے گا۔ ان شاء اﷲ! ورنہ اگر کہیں خدا نخواستہ اس قوم کی اکثریت منافق ہوچکی ہو تو ہمیں اسلام کے احیا و اعادے کی تمام اُمیدوں سے ہاتھ دھو لینا پڑے گا۔ اس کے بعد تو اُمیدکی ایک کرن بھی باقی نہیں رہتی۔ (ترجمان القرآن۔جمادی الاولیٰ تارجب ۳۷۰اھ۔ مارچ تا مئی ا۹۵اء)

نیکی کی راہ میں مشکلات کیوں؟

سوال: آج سے ایک سال قبل دنیا کے جملہ افعال بد سے دوچار تھا،لیکن دنیا کی بہت سی آسانیاں مجھے حاصل تھیں۔میںنہ کسی کا مقروض تھا اور نہ منت کش۔ اور اب جب کہ میں ان تمام افعال بد سے تائب ہوکر بھلائی کی طرف رجوع کرچکا ہوں،دیکھتا ہوں کہ ساری فارغ البالی ختم ہوچکی ہے اور روٹی تک سے محروم ہوں۔سوال یہ ہے کہ اچھے اور نیک کام کرنے والوں کے لیے دنیا تنگ کیوں ہوجاتی ہے،اور اگر ایسا ہے تو لوگ آخر بھلائی کی طرف کاہے کو آئیں گے؟یہ حالت اگر میرے لیے آزمایش ہے کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑے، تویہ منزل میں کس طرح پوری کروں گا؟

جواب: آپ جس صورت حال سے دوچار ہیں،اس میں میری ہم دردی آپ کے ساتھ ہے اور میں آپ کا دل دکھانا نہیں چاہتا، لیکن آپ کی بات کا صحیح جواب یہ ہے کہ آپ فی الواقع آزمایش ہی میں مبتلا ہیں، او ر اس منزل سے بخیریت گزرنے کی صورت صرف یہ ہے کہ آپ خدا اورآخرت کے متعلق اپنے ایمان کو مضبوط کرکے صبر کے ساتھ نیکی کے راستے پر چلیں۔
آپ کو اس سلسلے میں جو اُلجھنیں پیش آرہی ہیں،ان کو رفع کرنے کے لیے میں صرف چند اشارات کرنے پر اکتفا کروں گا۔
بدی کی راہ آسان اور نیکی کی راہ مشکل ہونے کی جوکیفیت آپ اس وقت دیکھ رہے ہیں،اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارا موجودہ اخلاقی،تمدنی،معاشی اور سیاسی ماحول بگڑا ہوا ہے۔اس ماحول نے بکثرت ایسے اسباب پیدا کررکھے ہیں جو برے راستوں پر چلنے میں انسان کی مدد کرتے ہیں اور بھلائی کی راہ اختیار کرنے والوں کی قد م قدم پر مزاحمت کرتے ہیں۔اگر خدا کے صالح بندے مل کر اس کیفیت کو بدل دیں اور ایک صحیح نظام زندگی ان کی کوششوں سے قائم ہوجائے تو ان شاء اﷲ نیکی کی راہ بہت کچھ آسان اور بدی کی راہ بڑی حد تک مشکل ہوجائے گی۔ایسا وقت آنے تک لامحالہ ان سب لوگوں کو تکالیف ومصائب سے دوچار ہونا ہی پڑے گا جو اس برے ماحول میں راہ راست کو اپنے لیے منتخب کریں۔
تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ نیکی بجائے خود اپنے اندر دشواری کا ایک پہلو رکھتی ہے،اور اس کے برعکس بدی کی فطرت میں ایک پہلو آسانی کا مضمر ہے۔آپ بلندی پر چڑھنا چاہیں تو بہرحال اس کے لیے کسی نہ کسی حدتک محنت کرنی ہی پڑے گی،چاہے ماحول کتنا ہی ساز گار بنادیا جائے۔لیکن پستی کی طرف گرنے کے لیے کسی کوشش اور محنت کی ضرورت نہیں۔ ذرا اعصاب کی بندش ڈھیلی کرکے لڑھک جایئے،پھر تحت الثریٰ تک سارا راستہ بغیر کسی سعی ومحنت کے خود طے ہوجائے گا۔
آپ پوچھتے ہیں کہ اگر اچھے کام کرنے والوں کی زندگی تنگ ہوجاتی ہے تو دنیا ِاس طرف رخ ہی کیوں کرے گی؟لیکن میں پوچھتا ہوں کہ اگر اچھے کام کرنے والوں کو دنیا کی تمام سہولتیں اور آسائشیں بہم پہنچنے لگتیں اور برے کام کرنے والوں پر آفتیں ٹوٹ جایا کرتیں، تو پھر کون ایسا احمق تھاکہ برائی اختیار کرتا اور بھلائی سے منہ موڑتا۔پھر تو کام یابی آسان اور ناکامی دشوار ہوتی،جزا سستی اور سزا مہنگی ہوجاتی،انعام مفت ملتا اور عذاب پانے کے لیے محنت کرنی پڑتی۔
کیا اس کے بعد دنیا کی اس امتحان گاہ میں انسان کو بھیجنے کا کوئی فائدہ تھا؟ اور کیا اس کے بعد نیک انسانوں کی نیکی کسی قدر وقیمت کی مستحق قرار پاسکتی تھی؟جب کہ ان کو نیکی کے راستے طے کرنے کے لیے قالین بچھا کے دیے گئے ہوں؟درحقیقت اگر ایسا ہوتا تو جنت کے بجائے جہنم کی طرف جانے والے زیادہ قابل قدر ہوتے!
آپ کا یہ سوال ایک اور لحاظ سے بھی عجیب ہے۔آپ شاید یہ سمجھ رہے ہیں کہ لوگوں کے راہ راست پر آنے سے اﷲ تعالیٰ کی کوئی اپنی غرض اٹکی ہوئی ہے۔اس غلط فہمی کی بنا پر آپ پوچھتے ہیں کہ اگر راہ راست مشقتوں اور آزمائشوں سے بھری ہوئی ہے تو دنیا اس راہ پر آئے گی ہی کیوں؟ لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ راہ راست اختیار کرنے میں لوگوں کا اپنا فائدہ ہے نہ کہ خدا کا۔ اور اس کے خلاف چلنے میں لوگوں کا اپنا نقصان ہے نہ کہ خدا کا۔ خدا نے انسان کے سامنے دو صورتیں رکھ دی ہیں اور اسے اختیار دے دیا ہے کہ ان میں سے جسے چاہے انتخاب کرلے۔ ایک یہ کہ وہ اس زندگی کے چند روزہ مزوں کو ترجیح دے کر آخرت کا ابدی عذاب قبول کرلے۔ دوسری یہ کہ وہ آخرت کی بے پایاں راحت ومسرت کی خاطر ان تکلیفوں کو گوارا کرے جو دین واخلاق کے ضابطوں کی پابندی کرنے میں لامحالہ پیش آتی ہیں۔ لوگوں کا جی چاہے تو وہ پہلی صورت کو پسند کریں۔ اگر ساری دنیا مل کر بھی اپنے انتخاب میںیہ غلطی کر گزرے تو خدا کا کچھ نہ بگاڑے گی۔ خدا اس سے بے نیازہے کہ لوگوں کے صحیح انتخابِ راہ سے اس کا کوئی مفاد وابستہ ہو۔
(ترجمان القرآن۔محرم ۳۷۰اھ۔ نومبر۹۵۰اء)

تصوف اور تصور ِشیخ:

سوال: میں نے پورے اخلاص ودیانت کے ساتھ آپ کی دعوت کا مطالعہ کیا ہے۔ باوجود سلفی المشرب ہونے کے آپ کی تحریک اسلامی کا اپنے آپ کو ادنیٰ خادم اور ہم درد تصور کرتا ہوں، اور اپنی بساط بھر اسے پھیلانے کی جدوجہد کرتا ہوں۔ حال میں چند چیزیں تصوف اور تصورِ شیخ سے متعلق نظر سے گزریں جنھیں پڑھ کر میرے دل ودماغ میں چند شکوک پیدا ہوئے ہیں۔آپ عجمی بدعات کو مباح قرار دے رہے ہیں۔حالاں کہ اب تک کا سارا لٹریچر ان کے خلاف زبردست احتجاج رہا ہے۔جب کہ ہماری دعوت کا محور ہی فریضہ اقامت دین ہے تو اگر ہم نے خدا نخواستہ کسی بدعت کو انگیز کیا تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ساری بدعات کو تحریک میں گھس آنے کا موقع دے دیا گیا۔آپ براہ کرم میری ان معروضات پر غور کرکے بتایئے کہ کتاب وسنت کی روشنی میں تصوف اور تصورِ شیخ کے متعلق آپ کے کیا خیالات ہیں اور فی نفسہٖ یہ مسلک کیا ہے؟اُمید ہے کہ ’’ترجمان‘‘ میں پوری وضاحت کرکے مشکور فرمائیں گے۔

جواب: آپ کو میرے کسی ایک فقرے سے جو شبہات لاحق ہوگئے ہیں،وہ کبھی پیدا نہ ہوتے اگر اس مسئلے کے متعلق میرے دوسرے واضح بیانات آپ کی نگاہ میں ہوتے۔بہرحال اب میں واضح الفاظ میں آپ کے سوالات کا مختصر جواب عرض کیے دیتا ہوں:
(۱) تصوف کسی ایک چیز کا نام نہیں ہے۔بلکہ بہت سی مختلف چیزیں اس نام سے موسوم ہوگئی ہیں۔ جس تصوف کی ہم تصدیق کرتے ہیں وہ اور چیز ہے۔ جس تصوف کی ہم تردید کرتے ہیںوہ ایک دوسری چیز۔ اور جس تصوف کی ہم اصلاح چاہتے ہیں وہ ایک تیسری چیز۔
ایک تصوف وہ ہے جو اسلام کے ابتدائی دور کے صوفیہ میں پایا جاتا تھا۔مثلاً فضیل بن عیاض، ابراہیم بن ادھم، معروف کرخی وغیرہم رحمہم اللہ۔ اس کا کوئی الگ فلسفہ نہ تھا،اس کا کوئی الگ طریقہ نہ تھا۔ وہی افکار اور وہی اشغال و اعمال تھے جو کتاب وسنت سے ماخوذ تھے۔ اور ان سب کا وہی مقصود تھا جو اسلام کا مقصود ہے،یعنی اخلاص ﷲ اور توجہ الی اﷲ۔ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِــيَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِيْنَ لَہُ الدِّيْنَ۝۰ۥۙ حُنَفَاۗءَ البینۃ98:5 اس تصوف کی ہم تصدیق کرتے ہیں اور صرف تصدیق ہی نہیں کرتے بلکہ اس کو زندہ اور شائع کرنا چاہتے ہیں۔
دوسرا تصوف وہ ہے جس میں اشراقی اور رواقی اور زردشتی اور ویدانتی فلسفوں کی آمیزش ہوگئی ہے۔ جس میں عیسائی راہبوں اور ہندو جوگیوں کے طریقے شامل ہوگئے ہیں۔جس میں مشرکانہ تخیلات واعمال تک خلط ملط ہوگئے ہیں۔ جس میں شریعت اور طریقت اورمعرفت الگ الگ چیزیں…ایک دوسرے سے کم وبیش بے تعلق، بلکہ بسا اوقات باہم متضاد… بن گئی ہیں۔جس میں انسان کو خلیفۃ اللّٰہ فی الارض کے فرائض کی انجام دہی کے لیے تیار کرنے کے بجائے اس سے بالکل مختلف،دوسرے ہی کاموں کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ اس تصوف کی ہم تردید کرتے ہیں اور ہمارے نزدیک اس کو مٹانا خدا کے دین کو قائم کرنے کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا جاہلیت جدیدہ کو مٹانا۔
ان دونوں کے علاوہ ایک اور تصوف بھی ہے جس میں کچھ خصوصیات پہلی قسم کے تصوف کی اور کچھ خصوصیات دوسری قسم کے تصوف کی ملی جلی پائی جاتی ہیں۔ اس تصوف کے طریقوں کو متعد د ایسے بزرگوں نے مرتب کیا ہے جو صاحب علم تھے، نیک نیت تھے،مگر اپنے دور کی خصوصیات اور پچھلے ادوار کے اثرات سے بالکل محفوظ بھی نہ تھے۔انھوں نے اسلام کے اصلی تصوف کو سمجھنے اور اُس کے طریقوں کو جاہلی تصوف کی آلودگیوں سے پاک کرنے کی پوری کوشش کی۔لیکن اس کے باوجود اُن کے نظریات میں کچھ نہ کچھ اثر جاہلی فلسفۂ تصوف کے،اور ان کے اعمال واشغال میں کچھ نہ کچھ اثرات باہر سے لیے ہوئے اعمال واشغال کے باقی رہ گئے، جن کے بارے میں ان کو یہ اشتباہ پیش آیا کہ یہ چیزیں کتاب وسنت کی تعلیم سے متصادم نہیں ہیں، یا کم از کم تاویل سے انھیں غیر متصادم سمجھا جاسکتا ہے۔ علاوہ بریں اس تصوف کے مقاصد اور نتائج بھی اسلام کے مقصد اور اس کے مطلوبہ نتائج سے کم وبیش مختلف ہیں۔ نہ اس کا مقصد واضح طور پر انسان کو فرائض خلافت کی ادائیگی کے لیے تیار کرنا اور وہ چیز بنانا ہے جسے قرآن نے لِتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ کے الفاظ میں بیان کیا ہے، اور نہ اس کا نتیجہ ہی یہ ہوسکا ہے کہ اس کے ذریعے سے ایسے آدمی تیار ہوتے جو دین کے پور ے تصور کو سمجھتے اور اُس کی۱ قامت کی فکر انھیں لاحق ہوتی اور وہ اس کام کو انجام دینے کے اہل بھی ہوتے۔ اس تیسری قسم کے تصوف کی نہ ہم کلی تصدیق کرتے ہیں اور نہ کلی تردید۔ بلکہ اس کے پیروئوں اور حامیوں سے ہماری گزارش یہ ہے کہ براہ کرم بڑی بڑی شخصیتوں کی عقیدت کو اپنی جگہ رکھتے ہوئے آپ اس تصوف پر کتاب وسنت کی روشنی میں تنقیدی نگاہ ڈالیں اور اسے درست کرنے کی کوشش کریں۔ نیز جو شخص اس تصوف کی کسی چیز سے اس بنا پر اختلاف کرے کہ وہ اسے کتاب وسنت کے خلاف پاتا ہے،تو قطع نظر اس سے کہ آپ اس کی رائے سے موافقت کریں یا مخالفت، بہرحال اس کے حق تنقید کا انکار نہ فرمائیں اور اسے خواہ مخواہ نشانہ ملامت نہ بنانے لگیں۔
(۲) تصور شیخ کے بارے میں میرا موقف یہ ہے کہ اس پر دو حیثیتوں سے گفتگو کی جاسکتی ہے۔ایک بجائے خود ایک فعل ہونے کی حیثیت،دوسرے ایک ذریعۂ تقرب الی اﷲ ہونے کی حیثیت۔
پہلی حیثیت میں اس فعل کے صرف جائز یا ناجائزہونے کا سوال پیدا ہوتا ہے، اور اس کے فیصلے کا انحصار اس سوال پر ہے کہ آدمی کس نیت سے یہ فعل کرتا ہے۔ ایک نیت وہ ہے جس کی تشریح حکیم عبدالرشید محمود صاحب نے اپنے مضمون میں کی تھی۔اس نیت کالحاظ کرتے ہوئے اسے حرام کہنے کے سوا چارہ نہیں ہے۔دوسری نیت وہ ہے جس کی تشریح مولانا ظفر احمد صاحب نے کی۔اس نیت کا لحاظ کرتے ہوئے یہ مشکل ہے کہ کوئی فقیہ اسے ناجائز کہہ سکے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے میں کسی شخص کو کسی اجنبیہ کے حسن کا نظارہ کرتے ہوئے دیکھوں اور اس حرکت کی غرض دریافت کرنے پر وہ مجھے بتائے کہ میں اپنے ذوق جمال کو تسکین دے رہا ہوں۔ظاہر ہے کہ مجھے کہنا پڑے گا کہ تو یقینا ایک ناجائز کام کررہاہے۔دوسرے کویہی حرکت کرتے دیکھوں اور میرے پوچھنے پر وہ مجھے جواب دے کہ میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔اس صورت میں مجھے مجبوراً یہ کہنا پڑے گا کہ تیرا یہ فعل ناجائز نہیں ہے۔اس لیے کہ وہ اپنے فعل کی ایک ایسی وجہ بیان کررہا ہے جسے شرعاً میں غلط نہیں کہہ سکتا۔
اب رہی اس تصور شیخ کی دوسری حیثیت، تو مجھے اس امر میں نہ کبھی شک رہا ہے اور نہ آج شک ہے کہ اس حیثیت سے یہ فعل قطعی غلط ہے خواہ اس کی نسبت کیسے ہی بڑے لوگوں کی طرف کی گئی ہو۔میں کہتا ہوں کہ اﷲ سے تعلق پیدا کرنے اور بڑھانے کے ذرائع بتانے میں خود اﷲ اور اس کے رسولؐ نے ہرگز کوئی کوتاہی نہیں کی ہے۔ پھر کیوں ہم ان کے بتائے ہوئے ذرائع پر قناعت نہ کریں اور ایسے ذرائع ایجاد کرنے لگیں جو بجائے خود بھی مخدوش ہوں اور جن کے اندر ذرا سی بے احتیاطی آدمی کو قطعی اور صریح ضلالتوں کی طرف لے جاسکتی ہو؟
اس معاملے میں یہ بحث پیدا کرنا اُصولاً غلط ہے کہ جب دوسرے تمام معاملات میں ہم مقاصد شریعت کو حاصل کرنے کے لیے وہ ذرائع اختیا ر کرنے کے مجاز ہیں جو مباحات کے قبیل سے ہوں، تو آخر تزکیۂ نفس اور تقرب الی اﷲ کے معاملے میں ہم کیوں انھیں اختیا ر کرنے کے مجاز نہ ہوں؟ یہ استدلال اُصولاً اس لیے غلط ہے کہ دین کے دو شعبے ایک دوسرے سے الگ نوعیت رکھتے ہیں:ایک شعبہ تعلق با ﷲکا ہے، اور دوسرا شعبہ تعلق بالناس وغیرہ کا۔ پہلے شعبے کا اُصول یہ ہے کہ اس میں ہم کو انھی عبادات اور انھی طریقوں پر انحصار کرنا چاہیے جو اﷲ اور اس کے رسولؐ نے بتا دیے ہیں۔ اُن میں کوئی کمی کرنے،یا ان پر کسی نئی چیز کا اضافہ کرنے کا ہمیں حق نہیں ہے۔ کیوں کہ اﷲ کی معرفت اور اس کے ساتھ تعلق جوڑنے کے ذرائع کی معرفت کا ہمارے پاس کوئی دوسرا ذریعہ کتاب اﷲ وسنت رسول اﷲ ؐ کے سوانھیں ہے۔ اس معاملے میں جو کمی یا بیشی بھی کی جائے گی،وہ بدعت ہوگی، اور ہر بدعت ضلالت ہے۔یہاں یہ اُصول نہیں چل سکتا کہ جو کچھ ممنوع نہیں ہے وہ مباح ہے۔ یہاں تو قیاس سے بھی اگر کوئی مسئلہ نکالا جائے گا تو لازماًاس کا کوئی مبنیٰ کتاب وسنت میں موجود ہونا چاہیے۔ بخلاف اس کے دوسرے شعبے میں مباحات کا باب کھلا ہوا ہے۔ جو حکم دے دیا گیا ہے اس میں حکم کی اطاعت کیجیے، جو کچھ منع کیا گیا ہے اس سے رک جایئے، اور جس معاملے میں حکم نہیں دیا گیا ہے اُس میں اگر کسی ملتے جلتے معاملے پر کوئی حکم ملتا ہو تو اس پر قیاس کرلیجیے، یا قیاس کا بھی موقع نہ ہو تو اسلام کے اُصول عامہ کے تحت مباحات میں سے جس چیز اور جس طریقے کو نظام اسلامی کے مزاج سے مطابق پایئے، اسے قبول کرلیجیے۔اس شعبے میں یہ آزادی ہمیں اس لیے دی گئی ہے کہ دنیا اور انسان اور دنیوی معاملات کے متعلق مصلحت کو جاننے کے عقلی اور علمی ذرائع کم ازکم اس حد تک ہمیں ضرور حاصل ہیں کہ کتاب اﷲ وسنت رسول اﷲ ؐ کی رہنمائی سے مستفید ہونے کے بعد ہم خیر کوشر سے اور صحیح کو غلط سے ممیز کرسکتے ہیں۔ پس یہ آزادی صرف اسی شعبے تک محدود رہنی چاہیے۔اسے پہلے شعبے تک وسیع کرکے، اورجو کچھ ممنوع نہیں ہے اسے مباح سمجھ کر،تعلق باﷲ کے معاملے میں نئے نئے طریقے نکالنا یا دوسروں سے اخذ کرکے اختیار کرلینا بنیادی طور پر غلط ہے۔ اسی غلطی میں مبتلا ہوکر نصاریٰ نے رہبانیت اختیار کرلی تھی جس کی قرآن میں مذمت کی گئی۔ (ترجمان القرآن۔ جمادی الاولیٰ ا۳۷اھ۔ فروری۹۵۲اء)

فرد اور جماعت کی کش مکش:

سوال: فرد اور سوسائٹی کے باہمی تعلقات کی نسبت مندرجہ ذیل خیال اسلامی نقطۂ نظر سے کہاں تک صائب ہے؟
’’شہد کی مکھیوں،چیونٹیوں اور دیمک کے برعکس انسان معاشرے میں زندگی گزارنے کے لیے نہیں بنایا گیا ہے۔وہ زیادہ سے زیادہ حد تک ایک فرد ہے۔بدرجۂ آخر یوں سمجھ لیجیے کہ وہ گلوں میں بٹ کر جینے کی جبلت رکھتا ہے۔ یہی راز ہے فرد اور معاشرے کے غیر مختتم تصادم کا! کوئی مذہب عدم توافق کی اس گرہ کو کھولنے پر قادر نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ گرہ کھلنے والی ہے ہی نہیں! کیا خود قرآن نے نہیں کہا کہ ہم نے انسان کو احسن تقویم پر پیدا کیا۔ (التین۔۴)اور پھر اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی… کہ ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا (البلد۴)۔ میری رائے میں ان آیات کی بہترین تاویل یہ ہے کہ ایک مشین… نظام جسمانی… کی حیثیت سے آدمی اشرف المخلوقات ہے۔لیکن معاشر ے کا رکن ہونے کی حیثیت سے وہ معاشر ے کے ساتھ ہمہ وقت متصادم رہنے والا ہے۔‘‘

جواب: آپ نے جس خیا ل پر مجھ سے اظہار خیال کی فرمائش کی ہے،اس کے مصنف نے فرد اور جماعت کی کش مکش کے پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے،یا بالفاظ دیگر ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے صحیح رخ (approach) اختیار نہیں کیا ہے۔اس نے انسان کو حیوانات کی ایک قسم فرض کرکے یہ طے کرنے کی کوشش کی ہے کہ تنظیم پسند حیوانات اور گلہ پسند حیوانات کے درمیان انسان کا صحیح مقام کیا ہے۔حالاں کہ یہ زاویۂ فکر اس مسئلے کی طرف پیش قدمی کرنے کے لیے سرے سے کوئی نقطۂ آغاز ہی نہیں ہے۔حیوانات اور انسا ن کے درمیان بنیادی فر ق یہ ہے کہ حیوانات کوئی ذی اختیار مخلوق نہیں ہیں جو مشاہدات اور تجربات پر غور وفکر کرکے اپنی زندگی کا راستہ خود تجویز کرتے ہوں، بلکہ وہ سراسر جبلت کے تابع ہیں۔ شہد کی مکھیوں نے منظم ہیئت اجتماعی خود اختیار نہیں کی ہے،نہ پیہم تجربات سے بتدریج اس تنظیم کو ترقی دی ہے،بلکہ یہ تنظیم ان کی جبلت میں ودیعت کردی گئی ہے اور وہ جب سے وجود میں ہیں،یکسانی کے ساتھ اسی تنظیمی شکل میں رہتی چلی آرہی ہیں۔ یہی حال گلہ پسند،زوج پسند اور انفرادیت پسند حیوانات کا بھی ہے کہ ہر ایک اپنی جبلت کے مقرر کردہ راستے پر چلا جارہا ہے، اور ان میں سے کسی نوع نے بھی تجربے اور فکر کی بنیاد پر اپنے طریق حیات میں ذرّہ برابر کوئی رد وبدل نہیں کیا ہے۔ برعکس اس کے انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا ایک ایک فرد ذی ارادہ، ذی اختیار، صاحب فکر اور اخلاقی حیثیت سے شخصاً ذمہ دار واقع ہوا ہے۔ اس کی جبلت کا دائرۂ اثر بہت محدود رکھا گیا ہے۔اس کی فطرت میں چند دواعی اور میلانات ضرور رکھ دیے گئے ہیں۔ مگر ان کی نوعیت یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مخصوص راستہ تجویز کرتے ہوں اور انسان کو اسی خاص راستے پر چلنے کے لیے مجبور کرتے ہوں۔ بلکہ ان کی نوعیت یہ ہے کہ وہ صرف اپنے تقاضے انسان کی عقل وفکر کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر انسان اپنی عقل وفکر کی مدد سے ان تقاضوں کو پورا کرنے کی صورتیں تجویز کرتا ہے۔اس کے ساتھ انسان کو یہ قوت بھی ملی ہوئی ہے کہ وہ تجربات ومشاہدات کی مدد سے اپنی اختیار کرد ہ عملی صورتوں میں رد وبدل کرتا ہے، اور بتدریج ان کو درست کرنے اور ترقی دینے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان نے اپنی فطرت کے تقاضوں کو سمجھ سمجھ کر ایک جوڑے کی یک جائی معاشرت سے ابتدا کرکے بتدریج خاندان،قبیلے،قوم، منظم سوسائٹی،اسٹیٹ اور بین الاقوامی روابط تک اپنی زندگی کو ترقی دی، اور یہی وجہ ہے کہ مختلف زمانوں اور مختلف ممالک میں انسان نے اپنی اجتماعی زندگی کے لیے بہت سے مختلف نقشے اختیار کیے اور بارہا ان نقشوں کو وہ بدلتااور نئے سرے سے بناتا رہا ہے۔
انسان کی اس مخصوص حیثیت پر اگر آپ غائر نگاہ ڈالیں تو اُس گتھی کو سمجھنے کے لیے آپ کو کلید مل سکتی ہے جو فرد اور جماعت کی کش مکش کی شکل میں ہم اور آپ دیکھ رہے ہیں۔ اس گتھی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ایک طرف نوع انسانی کا ہرہر فر دا پنی ایک خود ی رکھتا ہے،جس میں تعقل ہے،ارادہ واختیار ہے،اور شخصی ذمہ داری کا احساس ہے۔دوسری طرف اس خودی کے حامل افراد ایک ایسی اجتماعی زندگی میں شریک ہونے پر مجبور ہوتے ہیں جس کا پورا نقشہ فطرت نے خود نہیں بنادیا ہے، بلکہ فطری داعیات کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں کے لوگوں نے مختلف طریقوں سے یہ نقشے خود بنائے ہیں،اور بتدریج اجتماعی تجربات اور مجموعی میلانات اور خارجی اثرات کے تحت ان نقشوں کی نشو ونما ہوتا رہا ہے۔اس طرح لاکھوں کروڑوں افراد کی جدا جدا خودیوں کا ایسی غیر جبلی اجتماعیت میں(جو بارہا اپنے بعض پہلوئوں میں خلاف فطرت بھی واقع ہوجاتی ہے)ٹھیک ٹھیک متوازن اور متناسب طور پر نصب ہونا اور اپنی موزوں جگہ پالینا نہایت مشکل ہوتا ہے اور اسی وجہ سے وہ کش مکش پیدا ہوتی ہے جو فرد اور جماعت کے درمیان ہر جگہ برپا ہے۔ کیوں کہ اس طریقے سے بنی ہوئی اور نشو ونما پائی ہوئی اجتماعیت میں افراد کی خودیاں بھی اپنی موزوں جگہ نہ پانے کی وجہ سے بے کلی محسوس کرتی ہیں،اور اجتماعی نظام بھی ان بے چین خودیوں کی انفرادی لکدکوب کے باعث مضطرب ہوتے رہتے ہیں۔ افراد کو ڈھیل ملتی ہے تو اجتماعی نظام درہم برہم ہونے لگتا ہے اور اجتماعی نظام زیادہ کس جاتا ہے تو افراد کی خودیاں یا تو مرجھانے لگتی ہیں یا بغاوت پر اُتر آتی ہیں۔
یہ من جملہ ان اہم اسباب کے ہے جن کی بنا پر انسان کے لیے وحی اور نبوت کی رہنمائی بڑی ناگزیر ثابت ہوتی ہے۔ ہزارہا برس کے تجربے نے ثابت کردیا ہے کہ اپنے فطری داعیات اور تقاضوں کو سمجھ کر انھیں پورا کرنے کے طریقے تجویز کرنے کے لیے انسان کو تعقل، تفکر اور استقرا واختیار کی جو طاقتیں ملی ہوئی ہیں،وہ اس کام میں مددگار تو ضرور ہیں مگر اس کے لیے کافی نہیں ہیں۔ ان طاقتوں کے بل بوتے پر انسان خود اپنے لیے ایک صحیح اور معتدل ومتوازن طریق زندگی نہیں بنا سکتا۔وہ اس بات کا محتاج ہے کہ اس کا خالق اسے قانون زندگی کے بنیادی اُصول دے، سعی وعمل کے حدود بتائے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان مابعد الطبیعیاتی حقائق کا ضروری علم دے جن کی واقفیت کے بغیر ایک صحیح طریق زندگی تجویز کرنا انسان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ انفرادیت اور اجتماعیت کے درمیان زیادہ سے زیادہ جو توازن ممکن ہے،اور افراد کی خودی کی تکمیل کے مواقع باقی رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مستحکم جو اجتماعی نظام بنایا جاسکتا ہے وہ وہی ہے، جس کے اُصول اور حدود اور ضروری فروع کی طرف اﷲ تعالیٰ نے انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے ہماری رہنمائی کی ہے۔
قرآن مجید کی جن دو آیتوں کا آپ نے حوالہ دیا ہے،ان کی تفسیر بھی میرے اوپر کے بیان سے اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے۔ بلکہ بات اور زیادہ کھل جائے اگر آپ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍo التین95:4 کے بعد یہ بھی پڑھیں کہ ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَo اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنo التین95:6-5
(ترجمان القرآن۔جمادی الاولیٰ تارجب ۳۷۰اھ، مارچ تا مئی ا۹۵اء)

اسلام میں غلامی کو قطعاً ممنوع کیوں نہ کردیا گیا؟

سوال: غلامی سے متعلق اسلام میں ضوابط ایسے مقرر کیے گئے ہیں جن سے شبہ ہوتا ہے کہ اس ادارے کو مستقل طور پر باقی رکھنا مقصود ہے،مگر دوسری طرف ایسے احکام بھی موجود ہیں جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو کوئی پسندیدہ چیز نہیں سمجھا گیا تھا،بلکہ غلاموں کی رہائی اور آزادی ہی محبوب ومرغوب تھی۔سوال یہ ہے کہ جب غلامی مکروہ اور آزادی مرغوب تھی تو اس طریقے کو قطعاً ممنوع کیوں نہیں کردیا گیا؟

جواب: غلامی کے بارے میں آپ نے جو سوال کیا ہے،اس کا جواب آپ کو بآسانی مل جاتا اگر آپ’’تفہیمات حصہ دوم‘‘ اور’’رسائل و’’مسائل جلد اوّل‘‘ میں میری تصریحات ملاحظہ فرمالیتے۔غلامی کو بالکل موقوف نہ کردینے کی وجہ یہ ہے کہ اسلا م نے اسے محض ایک جنگی ضرورت کی حیثیت سے باقی رکھا ہے،اور یہ ضرورت ہر ایسے موقع پر پیش آسکتی ہے جب کہ ہمارا کسی دشمن سے اسیران جنگ کے مبادلے یا فدیے پر معاہدہ نہ ہوسکے اور ہماری حکومت جنگی قیدیوں کو بلا فدیہ و بلا مبادلہ چھوڑ دینا ملکی مصالح کے خلاف سمجھے۔شاذ مواقع سے قطع نظر کرکے دیکھیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ دنیا میں اٹھارویں صدی عیسوی کے اختتام تک اسیران جنگ کے مبادلے کا طریقہ رائج نہ تھا،نہ اس امر کا کوئی امکان تھا کہ مسلمان حکومتیں دشمن کے جنگی قیدیوں کو چھوڑ کر اپنے جنگی قیدیوں کو بھی چھڑا سکتیں۔ اور اب اگر دنیا میں مبادلۂ اسیران جنگ کا طریقہ رائج ہوا ہے تووہ کسی مذہبی حکم کی بِنا پر نہیں بلکہ ایک مصلحت کی بنا پر ہے جسے کوئی قوم جب چاہے نظر انداز کرسکتی ہے۔آج یہ ناممکن نہیں ہے کہ ہمارا کسی ایسے ہٹ دھرم دشمن سے سابقہ پیش آجائے جو مبادلہ اسیران جنگ کی تجویز کو ٹھکرا دے اور ہمارے جنگی قیدیوں کو کسی شرط پر بھی چھوڑنے کے لیے راضی نہ ہو۔اب آپ خود سوچیں کہ اگر اسلام ہمیں بہرحال جنگی قیدیوں کی رہائی کا پابند کردیتا توکیا یہ حکم ہمارے لیے وجہ مصیبت نہ بن جاتا؟ کیا کوئی قوم بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس نقصان کی متحمل ہوسکتی ہے کہ ہر لڑائی میں اس کے آدمی دشمن کے پاس قید ہوتے رہیں اور وہ دشمن کے آدمیوں کو چھوڑتی چلی جائے؟اور کیا کوئی دشمن بھی ایسا بے وقوف ہوسکتا ہے کہ وہ ہم سے کبھی اسیران جنگ کے مبادلے کا معاہد ہ کرنے پر آمادہ ہو جب کہ اسے یہ اطمینان ہو کہ ہم بہرحال اپنے مذہبی احکام کی بنا پر اس کے آدمیوں کو چھوڑنے پر مجبور ہیں؟
اس سلسلے میں ایک سوال پر اور بھی غو رکرلیجیے۔کسی شخص کو عمر بھر جیل میں رکھنا یا اس سے جبری محنت لینا اور اسے موجودہ دور کے انسانی باڑوں (camps) میں رکھنا آخر کس دلیل کی بنا پر غلامی سے بہتر سمجھا جاسکتا ہے؟غلامی میں تو نسبتاً اس سے زیادہ آزادی حاصل رہتی ہے۔آدمی کو شادی بیاہ کا موقع بھی مل جاتا ہے۔ایک آدمی کو براہِ راست ایک آدمی سے واسطہ پڑتا ہے جس میں زیادہ انسانی سلوک کا امکان ہے۔ اور ایک غلام اپنے آقا کو خوش کرکے یا اُسے فدیہ دے کر آزادی بھی حاصل کرسکتا ہے۔پہلے ذرا اس سلوک کا مطالعہ کرلیجیے جو روس اورجرمنی میں دشمن کے جنگی قیدیوںہی کے ساتھ نہیں،خود اپنے ملک کے سیاسی’’مجرمین‘‘ کے ساتھ بھی کیا گیا ہے اور کیا جارہا ہے۔ پھر فیصلہ کیجیے کہ اگر کبھی کسی ایسے دشمن سے ہمیں سابقہ پیش آجائے اور وہ ہمارے جنگی قیدیوں کے ساتھ یہ سلوک کرنے لگے تو کیا اس کے جواب میں ہم کو بھی یہی وحشیا نہ سلوک کرنا چاہیے؟یا اس سے بہتر اور زیادہ مبنی بر انسانیت سلوک وہ ہے جو اسلام نے ہم کو غلاموں کے ساتھ کرنے کی اجازت اور ہدایت دی ہے۔ (ترجمان القرآن۔رمضان،شوال ا۳۷اھ۔جون،جولائی۹۵۲اء)

محرمات کی حرمت کے وجوہ:

سوال: چند روز سے رفقا کے درمیان محرمات کے سلسلے میں ایک مسئلہ زیر بحث ہے جو میں ذیل میں تحریر کرتا ہوں۔اُمید ہے کہ آپ ازراہِ کرم اس پر روشنی ڈال کر مشکور فرمائیں گے۔
مناکحت کے سلسلے میں ایک عورت اور دوسری عورت میںکیوں امتیاز کیا گیا ہے کہ بعض کو عقد میں لا یا جاسکتا ہے اور بعض محرمات کی فہرست میں آتی ہیں؟ اگرچہ ابتدائے انسانیت میں ایسی کوئی قید نظر نہیں آتی ہے جیسا کہ ہابیل اور قابیل کے قصے سے معلوم ہوتا ہے۔ اس میں کیا حکمت ہے؟ کیا اس قسم کی شادیاں حیاتیاتی مفاسد کا موجب بھی بن سکتی ہیں؟
اُمید ہے کہ آپ اس کا جواب ترجمان القرآن میں شائع فرما دیں گے تاکہ دیگر حضرات کے لیے بھی استفادے کا باعث ہو۔

جواب: محرمات کی فہرست میں جن عورتوں کو شامل کیا گیا ہے، ان کے حرام ہونے کی اصل وجہ حیاتیاتی حقائق نہیں ہیں بلکہ اخلاقی اور معاشرتی حقائق ہیں۔ آپ خود غور کریں کہ جس ماں کے شہوانی جذبات بھی اپنے بیٹے سے متعلق ہوسکتے ہوں، کیا وہ ان پاکیزہ ومطہر جذبات کے ساتھ بیٹے کو پال سکتی ہے جو ماں اور بیٹے کے تعلقات میں ہونے چاہییں؟ اور کیا بیٹا ہوش سنبھالنے کے بعد ماں کے ساتھ وہ معصومانہ بے تکلفی برت سکتا ہے جو ماں او ربیٹے کے درمیان اب ہوتی ہے؟
اور کیا ایک گھر میں باپ اور بیٹے کے درمیان رقابت اور حسد کے جذبات پیدا نہ ہوجائیں گے اگر ماں اور بیٹے کے درمیان ابدی حرمت کی دیوار حائل نہ ہو؟
ایسا ہی معاملہ بہن اور بھائی کا بھی ہے۔اگر ابدی حرمت ان کے درمیان قائم نہ ہوتی تو کیا یہ ممکن تھا کہ بھائی بہن ایک دوسرے کے ساتھ معصوم روابط اور شہوات سے پاک محبت اور شبہات سے بالاتر بے تکلفی برت سکتے؟کیا اس صورت میں بھی یہ ممکن ہوتا کہ والدین اپنے بیٹوں کو سن بلوغ کے قریب پہنچنے پر ایک دوسرے سے دور رکھنے کی کوشش نہ کرتے؟اور کیا کوئی شخص بھی کسی لڑکی سے شادی کرتے وقت یہ اطمینا ن کرسکتاتھا کہ وہ اپنے بھائیوں سے بچی ہوئی ہوگی؟
پھر اگر خسراور بہو کے درمیان اورساس اور داماد کے درمیان ابدی حرمت کی دیواریں حائل نہ کردی جاتیں تو کس طرح ممکن تھا کہ باپ اور بیٹے اور ماں اور بیٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ رقیبانہ کش مکش میں مبتلا ہونے اور ایک دوسرے کو شبہے کی نظر سے دیکھنے سے بچ جائیں؟
اس پہلو پر اگر آپ غور کریں تو آپ کی سمجھ میں آجائے گا کہ شریعت نے کن اہم اخلاقی ومعاشرتی مصلحتوں کی بنا پر اُن تمام مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے لیے حرام کردیا ہے جن کے درمیان ایک گھر،ایک خاندان اور ایک دائرۂ معاشرت کے اندر قریب ترین روابط اوربے تکلف روابط فطرتاًہوتے ہیں اور معاشرتی ضروریات کے لحاظ سے ہونے چاہییں۔ بیٹے اور بیٹیاں پل ہی نہیں سکتیں اگر ماں اور باپ دونوں اس طرف سے بالکل مطمئن نہ ہوں کہ ان میں سے کسی کا بھی کوئی شہوانی علاقہ اپنی اولاد کے ساتھ نہیں ہے۔ ایک ہی گھرمیں لڑکوں اور لڑکیوں کا پلنا غیر ممکن ہوجائے اگر بہن کے معاملے میں بھائیوں کے درمیان اور بھائی کے معاملے میں بہنوں کے درمیان شہوانی رقابتیں پیدا ہونے کا دروازہ قطعی طورپر بند نہ ہو۔ خالائیں اور پھوپھیاں اور چچا اور ماموں اگر شبہے سے بالاتر نہ کردیے جائیں تو بہن اپنی اولاد کو اپنے بھائی بہنوں سے اور بھائی اپنی اولاد کو اپنے بھائی بہنوں سے بچانے کی فکر میں لگ جائیں۔
( ترجمان القرآن۔ ذی القعدہ،ذی الحجہ ۳۷۰اھ۔ ستمبرا۹۵اء)

خنزیر اور درندوں کا گوشت حرام کیوں ہے؟

سوال: قرآن نے چند چیزیں حرام کیوں قرار دی ہیں؟طبی نقطۂ نگاہ سے یا کسی اور وجہ سے؟ ان میں کیا نقصانات ہیں؟خنزیر کو خاص طور پر نام لے کر کیوں شدت سے حرام قرار دیا گیا ہے؟کیا یہ سب سے زیادہ مضر حیوان ہے؟چیر نے پھاڑنے والے جانور اور خون وغیرہ کیوں حرام قرار دیے گئے ہیں؟

جواب: قرآن میں جن چیزوں کو کھانے سے منع کیا گیا ہے اُن کی حرمت میں ممکن ہے کہ ضمناً کچھ لحاظ ان کے طبی نقصانات کا بھی ہو،مگر اصل وجہ حرمت طبی نہیں بلکہ اخلاقی اور اعتقادی ہے۔بعض چیزیں اعتقادی بنیادوں پر حرام کی گئی ہیں جیسے مَا اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ (یعنی وہ جانور جسے اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔) اور بعض چیزیں اخلاقی نقصانات کی وجہ سے حرام کی گئی ہیں،جیسے خنزیر۔ ان چیزوں کے اخلاقی نقصانات کا ہمیں پورا علم نہیں ہے، مگر کسی حد تک اپنے مشاہدات کی بنا پر ہم ان کو جان سکتے ہیں۔مثلاً خنزیر کے متعلق دنیا کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اس کا گوشت نہایت بے حیائی پیدا کرنے والا ہے۔ جو قومیں اسے کثرت سے استعمال کرتی ہیں، ان کے اخلاقی حالات اس پر گواہ ہیں۔ دنیا میں شاید خنزیر ہی ایک ایسا جانور ہے جس کی ایک مادہ کے گردبہت سے نر جمع ہوجاتے ہیں اور باری باری سے ایک دوسرے کے سامنے اس کے ساتھ جفتی کرتے ہیں۔ اب آپ خود دیکھ لیں کہ بے حیائی کی یہ خاص نوعیت کن قوموں میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ جن قوموں کے آداب مجلس میں (etiquette) یہ چیز داخل ہو کہ مجلس میں ایک شخص کی بیوی لازماً دوسرے شخص کے پہلو میں بیٹھے، اور بال روم میں اپنی بیوی کے ساتھ خود ناچنا رشک وتنگ دلی کی علامت ہو اور اسے دوسروں کے ساتھ سینے سے سینہ ملاکر ناچنے کے لیے چھوڑ دینا فراخ دلی اور مروت کی دلیل سمجھی جائے،ان کے اس اخلاقی تخیل کا ماخذ اگر آپ تلاش کریں گے تو بعید نہیں کہ اس کا سراغ اس جانور کی جبلت ہی میں آپ کو مل جائے جس کا گوشت ان کے ہاں کثرت سے کھایاجاتا ہے۔اسی طرح درندہ جانوروں کے متعلق بھی ہم یہ قیاس کرسکتے ہیں کہ ان کا استعمال خون خواری پیدا کرنے والا ہے۔ بہتے ہوئے خون یا بہائے ہوئے خون کے استعمال سے بھی درندگی اور قساوت کا پیدا ہونا کچھ بعید از قیاس نہیں ہے۔ (ترجمان القرآن۔ ذی القعدہ،ذی الحجہ ۳۷۰اھ۔ ستمبرا۹۵اء)

کیا یہ تنابز بالا لقاب ہے؟

سوال: آپ کی جماعت کا دعویٰ ہے کہ وہ اقامت دین کے لیے کھڑی ہوئی ہے۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ آپ اور آپ کی جماعت ہمیشہ جماعت احمدیہ کو’’مرزائی جماعت‘‘یا’’قادیانی جماعت‘‘ کے نام سے موسوم کرتی ہے۔حالاں کہ یہ امر دیانت کے بالکل خلاف ہے کہ کسی کو ایسا نام دیا جائے جو اس نے اپنے لیے نہیں رکھا۔
مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے اپنی جماعت کا نام’’جماعت احمدیہ‘‘ رکھا ہے اور ان کی جماعت کے افراد بھی اپنے آپ کو’’احمدی‘‘ کہتے ہیں۔مگر ان کے مخالفین تعصب کی وجہ سے انھیں ’’مرزائی‘‘یا’’قادیانی‘‘ پکارتے ہیں۔کیا دین اسلام میں یہ جائز ہے؟اگریہ جائز ہے تو کیا آپ یہ پسند فرمائیں گے کہ آپ کی جماعت کے افراد کو’’مودودیے‘‘ کہا جائے۔اگر آپ یہ پسند نہیں فرماتے تو پھر آپ اور آپ کی جماعت دوسرو ں کے لیے ایسا کیوں پسند کرتی ہے؟
واضح رہے کہ آپ نے ترجمان القرآن جلد۳۵، ۳۶،عدد ۵،۶،ا کے صفحہ نمبر۴۶اپر تحریر فرمایا ہے:
’’میں اپنی حد تک یقین دلاتا ہوں کہ مجھے کبھی اپنی غلطی تسلیم کرنے میں نہ تامل ہوا ہے نہ آئندہ ہوگا،بشرطیکہ میری غلطی دلائل سے ثابت کی جائے نہ کہ سب وشتم سے‘‘

جواب: کسی جماعت کو اس کے معروف نام سے یاد کرنا،جب کہ فی الواقع اس میں توہین کا بھی کوئی پہلو نہ ہو، ناجائز نہیں ہے۔احمدی حضرات نے اپنا نام’’احمدی‘‘پسند کیا ہے،یعنی وہ اپنے آپ کو بانی سلسلہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ عرف عام میں ان کا نام’’قادیانی‘‘ رائج ہوچکا ہے۔( جہاں تک ہمیں معلوم ہے اس نام کے رواج پانے کی وجہ یہ ہے کہ جب مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب کی خلافت کے آغاز میں احمدی جماعت کے دو ٹکڑے ہو گئے تو قادیان والی جماعت ’’قادیانی‘‘ کے نام سے اور لاہور والی جماعت ’’لاہوری‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس وقت کسی کے ذہن میں بھی ان میں سے کسی جماعت کو برا نام دینے کا خیال نہ تھا۔
) یعنی عوام الناس ان کو بانی سلسلہ کے وطن کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس میں تذلیل وتحقیر کا کون سا پہلو ہے اور یہ خلاف دیانت کیوں ہے۔اگر یہ خلاف دیانت ہے تو وہ سارے ہی عرف ناجائز اور خلاف دیانت قرار پائیں گے جو لوگوںمیں رائج ہیں۔
جماعت اسلامی کے افراد کو ’’مودودیے‘‘کہنے پر ہمیں اس لیے اعتراض ہے کہ ہم اپنے مسلک اور نظام کو کسی شخص خاص کی طرف منسوب کرنے کو ناجائز سمجھتے ہیں۔’’مودودی‘‘ تو درکنار، ہم تو اس مسلک کو’’محمدؐی‘‘ کہنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔یہ تو’’اسلام‘‘ ہے جس کے موجد ہونے کا شرف کسی انسان کو حاصل نہیں۔ اس لیے اسے کسی انسان کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔اگر آپ ہمیں’’نوحیے‘‘یا’’ابراہیمیے‘‘ کہیں گے تب بھی ہمیں وہی اعتراض ہوگا جو’’مودودیے‘‘کہنے پر ہے۔بخلاف اس کے مرزا صاحب اور ان کے متبعین نے اپنے مسلک و جماعت کو خود ہی ایک شخص خاص کی طرف منسوب کیا ہے،اور عوام نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اس شخص کے بجائے اس کے وطن کی طرف انھیں منسوب کردیا۔یہ کوئی ایسی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔سلسلۂ چشتیہ بھی بانی سلسلہ کے بجائے ان کے وطن کی طرف منسوب ہوکر مشہور ہوا ہے۔یہی معاملہ سلسلۂ سہروردیہ،سنوسیہ، شطاریہ وغیرہ کے ساتھ بھی ہوچکا ہے۔ اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس میں ان سلسلوں کی توہین کا کوئی پہلو ہے۔ رہا لفظ ’’مرزائی‘‘تو البتہ اسے میں پسند نہیں کرتا اور میں نے خود کبھی اسے استعمال نہیں کیا۔الا یہ کہ کسی نے اپنے سوا ل میں یہ لفظ استعمال کرلیا ہو اور میں نے اس کا جواب دیتے ہوئے حکایتاً اسے استعمال کرلیا ہو۔
(ترجما ن القرآن۔ذی القعدہ،ذی الحجہ ۳۷۰اھ۔ ستمبر۹۵۱اء)

توبہ اور کفارہ:

سوال: میں نے ایسے ماحول میں پرورش پائی ہے جہاں اُٹھنے بیٹھنے کے آداب سے لے کر زندگی کے بڑے مسائل تک ہر بات میں شریعت کی پابندی ہوتی رہی ہے، اور میں اب کالج میں تعلیم پارہا ہوں۔ماحول کی اس اچانک تبدیلی سے میں عجیب کش مکش میں مبتلا ہوگیا ہوں۔بعض غیر اسلامی حرکات مجھ سے سرزد ہوگئی ہیں۔جب کبھی ایسی کوئی حرکت ہوئی،ضمیر نے ملامت کی اور اﷲ سے عفو کا طالب ہوا۔ مگر پھر برے اثرات ڈالنے والوں کے اصرار اور شیطانی غلبے سے اسی حرکت کا مرتکب ہوگیا۔اس طرح بار بار توبہ کرکے اسے توڑ چکا ہوں۔اب اگرچہ اپنی حد تک میں نے اپنی اصلاح کرلی ہے اور بظاہر توقع نہیں کہ میں پھر اس گناہ میں مبتلا ہوں گا،لیکن یہ خیال بار بار ستاتا ہے کہ کیا میرے وہ گناہ معاف ہوجائیں گے جو میں نے توبہ توڑ توڑ کر کیے ہیں؟نیز یہ بتائیں کہ توبہ توڑنے کا کفارہ کیا ہے؟اور یہ کہ توبہ شکنی کا علاج کیا ہے؟

جواب: گناہ کا علاج تو بہ واصلاح ہے۔توبہ کرکے آدمی خواہ کتنی ہی بار توڑ دے،اسے پھر توبہ کرنی چاہیے اور نئے سرے سے اصلاح کی کوشش کردینی چاہیے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی کسی پہاڑی راستے پر چلتے ہوئے بار بار پھسل جائے۔ظاہر ہے کہ اس کے اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کی صورت یہی ہے کہ وہ خواہ کتنی ہی بار پھسلے،ہر بار اسے گر کر پھر اُٹھنے اور اوپر چڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔جو شخص پھسل کر پھر نہ اُٹھے اور ہمت ہار کر وہیں پڑا رہ جائے جہاں وہ گرگیا ہے،وہ کبھی منزل مقصود پر نہیں پہنچ سکتا۔اسی طرح اخلاقی بلندی پر چڑھنے والا بھی اگر ہر لغزش پر سنبھل جائے اور راہ راست پر ثابت قدم رہنے کی کوشش جاری رکھے تو اﷲ تعالیٰ اس کی لغزشوں پر گرفت نہ فرمائے گا اور اس کو فائز المرام ہونے سے محروم نہ رکھے گا۔البتہ گناہ کرکے جو لوگ گناہ گاری کے مقام پر پڑے ہی رہ جائیں،وہ ضرور برا انجام دیکھیں گے۔
آپ کے قلب میں اپنی لغزشوں پر ندامت و شرمساری کا احساس تو ضرور رہنا چاہیے اور عمر بھر اپنے ربّ سے معافی بھی ضرور مانگتے رہنا چاہیے۔ لیکن یہ شرمساری کبھی آپ کو اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہ کرنے پائے۔ کیوں کہ اس طرح کی مایوسی اﷲ تعالیٰ سے بدگمانی ہے،اور اس میں یہ بھی خطرہ ہے کہ جب آدمی کو سزا سے بچنے کی اُمید نہ رہے تو شیطان اسے دھوکا دے کر بآسانی گناہوں کے چکر میں پھانس دے گا۔
توبہ کو مضبوط بنانے اور توبہ شکنی سے بچنے کے لیے ایک کارگر نسخہ یہ ہے کہ آدمی نفل نماز،نفل روزے اور صدقات نافلہ سے مدد لے۔یہ چیزیں گناہوں کا کفارہ بھی بنتی ہیں،اﷲ کی رحمت کو انسان کی طرف متوجہ بھی کرتی ہیں،اور انسان کے نفس کو اتنا طاقت ور بھی بنادیتی ہیں کہ وہ برے میلانات کا زیادہ اچھی طرح مقابلہ کرسکتا ہے۔
اگر توبہ کے ساتھ آدمی نے قسم بھی کھائی ہو اور پھر اسے توڑ دیا ہو تو اس کا کفارہ واجب ہے۔یعنی دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا کپڑے پہنانا،اور اس کی استطاعت نہ ہو تو تین دن کے روزے رکھنا۔ (ترجمان القرآن۔ رمضان،شوال ا۳۷اھ۔ جون،جولائی۹۵۲اء)

عورت اور عورت کا جنسی اختلاط:

سوال: ان دنوں زنانہ کالجوں کی مسموم فضا میں لڑکیوں کے اندر عجیب وبائیں پھیل رہی ہیں۔بالعموم دو لڑکیوں کی دوستی خلوص اور محبت کی حدوں سے گزر کر جنسی محبت کی صورت اختیار کرجاتی ہے۔ شرعاً یہ کس درجے کا گناہ ہے؟کبیرہ یا صغیرہ؟

جواب: مرد اور مرد کی جنسی محبت جتنا بڑا گناہ ہے،عورت اور عورت کی محبت بھی اتنا ہی بڑا گناہ ہے۔ اخلاقی حیثیت سے ان دونوں میں نہ نوعیت کا فرق ہے اور نہ درجے کا۔افسوس ہے کہ یہ نام نہاد ’’ادب لطیف‘‘ جو رسالوں اور افسانوں اور ناولوں کی شکل میں گھر گھر پہنچ رہا ہے، اور یہ فحش تصویریں اور فلم جنھیں آزادی کے ساتھ مردوں کی طرح عورتیں بھی دیکھ رہی ہیں،اور یہ عشق آموز گانے جو ریڈیو کی برکت سے بچے بچے کی زبان پر چڑھ رہے ہیں،اوریہ اختلاط مرد وزن جس کو روز بروز ہماری سوسائٹی میں فروغ نصیب ہورہا ہے،ان ساری چیزوں نے مل جل کر نوجوان مردوں کی طرح نوجوان لڑکیوں کو بھی غیر معمولی جذباتی ہیجان میں مبتلا کردیا ہے۔شہوانی جذبات کی ایک بھٹی ہے جو سینوں میں بھڑکا دی گئی ہے اور بہت سی دھونکنیاں ہر آن اسے زیادہ اور زیادہ بھڑکانے میں لگی ہوئی ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو بگاڑ اب تک زیادہ تر مردوں میں پایا جاتا تھا، وہ ایک وبا کی طرح شریف گھروں کی لڑکیوں اور درس گاہوں کی طالبات اور استانیوں میں بھی پھیلنا شروع ہوگیا ہے۔جن خواتین کو زنانہ درس گاہوں کے حالات قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے،ان کی اطلاع یہ ہے کہ آج لڑکیوں میں جو بے حیائی،بے باکی، جنسی مسائل پر کھلی کھلی گفتگو کرنے کی جرأت اور جنسی رجحانات…فطری اور غیر فطری،ہر دو طرح کے رجحانات… کے اظہار واعلان کی عام جسارت پائی جاتی ہے،چند سال پہلے تک اس کا تصور کرنا مشکل تھا۔اب لڑکیوں میں یہ چرچے عام ہورہے ہیں کہ کون سی صاحب زادی کس استانی کی منظور نظر ہیں،اور کون سی صاحب زادی کس دوسری صاحب زادی کے عشق میں مبتلا ہیں۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔
لطف یہ ہے کہ اس جہنم کی طرف جو لوگ اپنی قوم کو دھکیل رہے ہیں،وہ اپنی اب تک کی کوششوں کے نتائج سے بھی مطمئن نہیں ہیں۔انھیں حسرت یہ ہے کہ کاش ملا کی مخالفت ومزاحمت راہ میں حائل نہ ہوتی تو وہ ترقی کے مزید قدم ذرا جلدی اُٹھا سکتے!
(ترجمان القرآن۔ رمضان،شوال ا۳۷اھ۔ جون،جولائی۹۵۲اء)

ایک گم نام خط کا جواب:

سوال: میں نے ایک دوشیزہ کو لالچ دیا کہ میں اس سے شادی کروں گا۔پھر اس کے ساتھ خلاف اخلاق تعلقات رکھے۔میں نہایت دیانت داری سے اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اس لڑکی کے خاندان کی عام عورتیں زانیہ اور بدکار ہیں۔یہاں تک کہ اس کی ماں بھی۔ اب مجھے خوف ہے کہ اگر میں اس لڑکی سے شادی کرلوںتو وہ بھی بدچلن ثابت نہ ہو۔ ترجمان القرآن کے ذریعے سے مطلع کیجیے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟

جواب: یہ ایک گم نام خط ہے جو ہمیں حال میں وصول ہوا ہے۔عموماًگم نام خطوط جواب کے مستحق نہیں ہوا کرتے۔لیکن اس کا جواب اس لیے دیا جارہا ہے کہ ہماری بدقسمت سوسائٹی میں اس وقت بہت سے ایسے نوجوان موجود ہیں جن کے اندر سائل کی سی ذہنیت پائی جاتی ہے۔خود بدکار ہیں مگر شادی کے لیے کوئی ایسی لڑکی چاہتے ہیں جو عفیفہ ہو۔جس ظرف کو انھوں نے خود گندا کیا ہے،اسے دوسروں کے لیے چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے لیے کوئی ایسا ظرف تلاش کرتے ہیں جسے کسی نے گندا نہ کیا ہو۔
جناب سائل سے گزارش ہے کہ جس لڑکی کو آپ نے خود شادی سے پہلے خراب کیا ہے،اس کے لیے اب آپ سے زیادہ موزوں کون ہوسکتاہے؟اور وہ آپ سے زیادہ اور کس کے لیے موزوں ہوسکتی ہے؟ آپ کو اپنے لیے نیک چلن لڑکی کیوں درکار ہے جب کہ آپ خود بدچلن ہیں؟ جب اس لڑکی نے شادی سے پہلے اپنے جسم کو آپ کے حوالے کیا تھا،کیا اسی وقت آپ کو یہ معلوم نہ ہوگیا تھا کہ وہ بدچلن ہے؟ پھر آپ کو اب یہ اندیشہ کیوں لاحق ہوا کہ آگے چل کر وہ کہیں بدچلن ثابت نہ ہو؟کیا آپ کامطلب یہ ہے کہ آپ سے ملوث ہونا تو نیک نیتی ہے اور بدچلنی صرف دوسروں سے ملوث ہونے کا نام ہے؟ پھر اس کے خاندان کی عورتوں پر آپ کا اعتراض بھی عجیب ہے۔ وہ خواتین کرام جیسی کچھ بھی ہیں،اسی لیے ہیں کہ آپ جیسے معزز اصحاب سے ان کو سابقہ پیش آتا رہا ہے۔ آپ اگر اس راہ پر بعد میں آئے ہیں تو آخر اپنے پیش روئوں کے انجام دیے ہوئے کارناموں سے اس درجے نفرت کیوں ظاہر فرماتے ہیں؟بر انہ مانیے،آپ دانستہ یا نادانستہ ٹھیک اس خاندان میں پہنچ گئے ہیں جس کے لیے آپ موزوں تر ہیں اور جو آپ کے لیے موزوں تر ہے۔کسی دوسرے پاکیزہ خاندان کو خراب کرنے کے بجائے بہتر یہی ہے کہ آپ اُسی خاندان میں ٹھیر جائیں جس کو آپ جیسے لوگ پہلے خراب کرچکے ہیں اور جسے خراب کرنے میں آپ کا حصہ بھی شامل ہے۔
آخر میں محترم سائل کو قرآن کی دو آیتیں بھی سن لینی چاہییں۔پہلی آیت یہ ہے:
اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَۃً اَوْ مُشْرِكَۃً۝۰ۡوَّالزَّانِيَۃُ لَا يَنْكِحُہَآ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ۝۰ۚ وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَo النور24:3
’’زانی مرد نکاح نہیں کرتا مگر ایک زانیہ یا مشرکہ عورت سے،اور زانیہ عورت سے نکاح نہیں کیا کرتا مگر ایک زانی اور مشرک اور ایسا کرنا مومنین پر حرام ہے۔‘‘
اس آیت میں’نکاح نہیں کیا کرتا‘ سے مطلب یہ ہے کہ زانی مرد اس لائق نہیں ہے کہ اس کا نکاح زانیہ یا مشرکہ کے سوا کسی اور سے ہو،اور زانیہ عورت کے لیے اگر کوئی شخص موزوں ہے تو زانی یا مشرک مرد،نہ کہ کوئی مومن صالح۔ دوسری آیت یہ ہے:
اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ وَالْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ۝۰ۚ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيْنَ وَالطَّيِّبُوْنَ لِلطَّيِّبٰتِ۝۰ۚ النور 26:24
’’بدکار عورتیں بدکار مردوںکے لیے ہیں اور بدکار مرد بدکار عورتوں کے لیے،اورپاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے۔‘‘
(ترجمان القرآن۔ربیع الاوّل وربیع الثانی ۳۷۰اھ۔ جنوری،فروری ا۹۵اء)
……٭٭٭……

ریاست اور حکومت کا فرق:

سوال: پاکستان کے نظام حکومت کی شرعی پوزیشن( قرارداد مقاصد کے زیر اثر)جو کچھ قرارپائی ہے،اس کے بارے میں اور ریاست وحکومت میں آپ جو فرق کرتے ہیںاُس کے بارے میں میرے دل میں کھٹک ہے۔خود آپ ہی کے الفاظ نے اس مسئلے کو میرے لیے پیچیدہ بنا دیا ہے۔سٹیٹ کی تعریف آپ نے یوں کی ہے:
’’لفظ اسٹیٹ،جس کا مترادف ہماری زبان میں ریاست کا لفظ ہے،علم السیاست کی اصطلاح میں اس نظام کو کہتے ہیں جو ایک متعین رقبۂ زمین میں رہنے والی آبادی کو قاہرانہ طاقت سے ضبط میں رکھتا ہو۔‘‘ (سیاسی کش مکش حصہ دوم،صفحہ۰۰ا)
اگر اسٹیٹ سے مراد وہ نظام ہو جو قاہرانہ طاقت کے ذریعے نافذ ہو تو پھر سٹیٹ کی وفا داری کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ہم اس مروجہ نظام کے وفا دار ہیں جو اس وقت ۴۵ء کے ایکٹ کے نام سے ہم پر مسلط ہے۔کیا اس قسم کی تفریق قرونِ اولیٰ میں بھی پائی گئی ہے؟

جواب: ریاست اور حکومت کے فرق کو آپ مسجد اور متولی کی مثال سے بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ایک محلے کے مسلمان مل کر اگراپنی کسی عمارت کے متعلق فیصلہ کرلیں کہ اسے مسجد بنانا ہے اور اس غرض کے لیے اسے وقف کردیں تو وہ مسجد بن جائے گی۔اب اگر اس عمارت کی ساخت مسجد کے لیے مناسب نہیں ہے اور واقفین اسے مسجد کے طور پر تعمیر کرنے کا ارادہ کرچکے ہیں تو جب تک اس کے طرز تعمیر میں عملاًتغیر نہ ہو،وہ عمارت اپنی پہلی ہی ساخت پر رہے گی۔لیکن یہ صورت حال اس کو مسجد ہونے کے حکم سے خارج نہ کردے گی۔اس مسجد کا انتظام اہل محلہ جس متولی کے سپرد کردیں گے،وہ اس کے نظم ونسق کو عملاًچلائے گا۔اب اگر وہ اپنی خود رائی سے اہل محلہ کے منشا کے خلاف اس مسجد میں ایسے کام کرنے لگے جو مسجد میں نہ ہونا چاہییں، تویہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ یہاں چوں کہ مسجد کا سا کوئی کام نہیں ہورہا ہے،اس لیے یہ عمارت مسجد نہیں ہے۔ بلکہ زیادہ صحیح یہ کہنا ہوگا کہ چوں کہ یہ متولی اس عمارت میں آداب مسجد کے خلاف کام کررہا ہے اس لیے یا تو اسے درست کرنا چاہیے یا ہٹا دینا چاہیے۔
علیٰ ہذا القیاس جب اس ملک کے باشندوں نے اپنی آئینی زبان سے اس امر کا اعلان کردیا ہے کہ ان کی قومی ریاست الٰہی احکام وہدایات کے تابع ہوگی، تو یہ ایک اسلامی ریاست بن گئی اور اس کی وفا داری ہم پر فرض ہوگئی۔اگر اس کی ساخت ابھی تک۹۴۵اء کے نقشے پر ہے تو یہ چیز اس کو اسلامی ریاست ہونے سے خارج نہیں کردیتی۔ کیوں کہ ہم اس کی ساخت بدلنے کا فیصلہ کرچکے ہیں اور جب تک یہ فیصلہ عملی جامہ نہ پہنے، سابق ساخت کا برقرا ررہنا ایک عملی مجبوری ہے۔ مسجد کے متولی کی طرح اس ریاست کا انتظام کرنے والی حکومت اگر غلط طریقے سے انتظام کررہی ہے تو اس کی وجہ سے ریاست کو غیر اسلامی قرار دینے کے بجائے ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ یہ حکومت ایک اسلامی ریاست کے انتظام کے لیے موزوں نہیں ہے،لہٰذا اس کو درست کرنا چاہیے یا بدل دینا چاہیے۔ (ترجمان القرآن۔ذی الحجہ ۳۶۹اھ، اکتوبر۹۵۰اء)

قراردا د مقاصد کی تشریح:

سوال: مجلس دستور ساز پاکستان کی منظور کردہ قرار داد مقاصد متعلقہ پاکستان میں ایک شق حسب ذیل ہے:
’’جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طورپر زندگی کو اسلامی تعلیمات ومقتضیات کے مطابق جو قرآن مجید اور سنت رسول میں متعین ہیں،ترتیب دے سکیں۔‘‘
اس کام کا اصل تعلق تو دراصل حکومت کے انتظامی اُمور سے ہے کہ وہ اس کے لیے کیا کیا اقدام کرتی ہے۔قانونی طور پر حکومت کو مجبور کرنے نیز اس سلسلے میں غفلت یا عدم تعاون یا معاندانہ رویہ اختیار کرنے کی صورت میں دستور میں کیا کیا(provisions) ہونی چاہییں کہ یہ مقصد بروئے کار آجائے؟ نیز دستوری طور پر حکومت کو اس سلسلے میں غفلت برتنے، عدم تعاون یا معاندانہ رویہ اختیار کرنے کی صورت میں کس طرح سے روکا جاسکے؟اور ایک شہری کو حکومت کے خلاف عدلیہ کے سامنے اس بات کو لانے کے لیے کیا کیا تدابیر ہونی چاہییں؟

جواب: آپ کے سوالات کا جواب دینے سے پہلے ضروری ہے کہ ان دو بنیادی غلط فہمیوں کودورکردیا جائے جن پر یہ سوالات مبنی ہیں:
پہلی غلط فہمی جو آپ کے سوالات میں پائی جاتی ہے یہ ہے کہ آپ قرارداد مقاصد کو قابل تجزیہ چیز سمجھ رہے ہیں اور آپ کا گمان یہ ہے کہ اس کی مختلف شقوں کے کچھ الگ الگ تقاضے اور مطالبات ہیں جن کو پورا کرنے کے لیے زیر ترتیب دستور میں کچھ جدا جدا آئینی صورتیں تجویز کی جانی چاہییں۔ حالاں کہ دراصل یہ قرار داد ایک ناقابل تقسیم وحدت ہے جس کا بحیثیت مجموعی ایک مزاج اور ایک ہی منشا ہے اور وہی منشا اور مزاج اس کی ہر شق کا ہے۔اس کی کسی شق کو بھی صحیح طور پر جامہ عمل نہیں پہنایا جاسکتا جب تک کہ ہماری مملکت کا پورا دستور اس قرارداد کے منشا اور مزاج کے مطابق ڈھلا ہوا نہ ہو۔ اور اس کی ہر شق اپنا حق پاسکتی ہے اگر یہ پوری قرارداد اپنی اصلی روح کے ساتھ دستور مملکت کی شکل اختیا ر کرلے۔
دوسری غلط فہمی آپ کے سوالات میں یہ نظر آتی ہے کہ اگر پوری قرار داد کے معاملے میں نہیں تو کم ازکم قرار دادکی اس شق کے معاملے میں تو آپ صریحاً جو کچھ سوچ رہے ہیں محض ’’تحفظ‘‘ اور ’’تدارک‘‘ کے نقطۂ نظر سے سوچ رہے ہیں۔حالاں کہ ہمارے سامنے اصل سوال قرارداد مقاصد کو اس کے تمام اجزا سمیت نافذ کرنے کا ہے،نہ کہ اس سے یا اس کی کسی شق سے فرار کی روک تھام کرنے کا۔ قرارداد مقاصد ریاست پاکستان کو اُصولی ریاست(ideological state) کی حیثیت دے چکی ہے۔ اور اس نے قطعی طور پر وہ آئیڈیالوجی بھی متعین کردی ہے جس پر اس ریاست کی بنیاد قائم ہے۔اس کے بعد جو کام ہمیں کرنا ہے،وہ یہ ہے کہ ہم اپنی مملکت کا دستور اس طرح مرتب کریں کہ اس کے ماتحت جو حکومت بنے،اس کا سارا نظام اس آئیڈیالوجی کو نافذ کرنے والا ہو۔ یہ کام اگر ہم نے صحیح طور پر کرلیا تو قرارداد مقاصد کی ہر شق اسی بنیادی آئیڈیالوجی کے مطابق جامہ عمل پہن لے گی اور اس صورت میں کسی خاص شق کے لیے الگ تحفظات کی ضرورت نہ رہے گی۔بلکہ سب کے لیے وہی تحفظات کافی ہوں گے جو پورے دستور کی حفاظت کے لیے ہر دستور میں رکھے جاتے ہیں۔
ان غلط فہمیوں کے رفع ہوجانے کے بعد یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ محض شق(ج) کے لیے تحفظات تجویز کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔نہ اس طرز پر سوچنے سے ہم کسی صحیح نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔اس کے بجائے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم نے قرار داد مقاصد میں جس آئیڈیالوجی کو اپنی مملکت کی بنیادقرار دیا ہے وہ بجائے خود کیا ہے، اس کا اس قرار داد کی مختلف شقوں کے ساتھ کیا تعلق ہے، اور اس کو دستور میں ثبت کرنے کی صورت کیا ہے۔ اس چیز کو اگر اچھی طرح سمجھ کر زیر ترتیب دستور میں ٹھیک ٹھیک ثبت کردیا جائے تو قرارداد مقاصد کی دوسری شقوں کی طرح شق(ج) کے منشا کو بھی ہمارا سارا نظام حکومت بحیثیت مجموعی پورا کرے گا اور اس کے لیے الگ تدابیر (provisions)کی بہت کم ضرورت باقی رہے گی۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوسکا تو پھر خواہ آپ کتنے ہی تحفظات تجویز کریں اور تدارک کی کتنی ہی صورتیں رکھ دیں، نظام حکومت کی پوری مشین اس مقصد کے خلاف چلے گی جسے شق(ج) میں بیان کیا گیا ہے۔
(۱) قراردادمقاصد جس آئیڈیالوجی پر مبنی ہے،اس کا اقرار واعلان اس قرارداد کے دیباچے میں کردیا گیا ہے اور وہ حسب ذیل اجزائے ترکیبی پر مشتمل ہے:
اوّل یہ کہ ’’حاکمیت ساری کائنات پر صرف اﷲ وحدہ لاشریک کی ہے‘‘۔اس کے معنی یہ ہیں کہ خود پاکستان کی حاکمیت بھی اﷲ تعالیٰ ہی کے لیے خاص ہے۔کوئی خاندان، طبقہ،نسل،قوم یا باشندگان پاکستان کا مجموعہ اس حاکمیت کا حامل نہیں ہے۔
دوم یہ کہ ریاست پاکستان کو جو اقتدار حاصل ہے وہ اﷲ تعالیٰ کا تفویض کردہ ہے اور اس کی طرف سے ایک ’’مقدس امانت‘‘(sacred trust) کی حیثیت رکھتا ہے۔دوسرے الفاظ میں اس کے معنی یہ ہیںکہ یہ ریاست اپنے لیے مستقل بالذات اقتدار کی مدعی نہیں ہے بلکہ وہ اس مملکت میں اصل مقتدر اعلیٰ یعنی اﷲ رب العالمین کی نائب،خلیفہ اور امین کی حیثیت سے کام کرے گی۔
سوم یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے یہ اقتداراس ریاست کے حکمرانوں کو براہ راست نہیں سونپ دیا ہے، بلکہ’’پاکستان کے باشندوں کے ذریعے سے سونپا ہے‘‘۔ بالفاظ دیگر اس امانت اقتدار کے اور اس خلافت ونیابت کے اصل حامل جمہور پاکستان ہیں اور وہی اس اقتدار کو ان لوگوں کے حوالے کریں گے جنھیں وہ ریاست کا انتظام چلانے کے لیے پسند کریں۔ یہ چیز اسلامی جمہوریت کو ایک طرف مغربی طرز کی ڈیمو کریسی سے ممیز کردیتی ہے اور دوسری طرف پاپائی تھیو کریسی سے۔
چہارم یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے ریاست پاکستان کو اس کے باشندوں کے ذریعے سے جو اختیارات سونپے ہیں،وہ اس لیے سونپے ہیں کہ’’وہ اُن کو اس کی مقررکی ہوئی حدود کے اندر استعمال کرے‘‘۔اب یہ ظاہر ہے کہ ہم کو اﷲ کی مقرر کردہ حدود کا علم اس کی کتاب اور اس کے رسول ؐ کی ہدایت ہی سے حاصل ہوسکتاہے۔اس لیے لامحالہ اس فقرے کا منشا یہ ہے کہ ریاست پاکستان اپنے ان مفوضہ اختیارات کو قرآن وسنت کے مطابق حدود اﷲ کے اندر استعمال کرنے کی پابند ہوگی۔ ان حدود سے تجاوز کرنے کا اسے حق نہ ہوگا۔
یہ ہے وہ آئیڈیالوجی جس پر اپنی ریاست کی بنیاد رکھنے کا ہم فیصلہ کر چکے ہیں،لازم ہے کہ اسی پر ہمارے دستورکی بنا رکھی جائے اور اس کے ٹھیک ٹھیک ثبت کرنے کی صحیح آئینی صورت یہ ہے کہ زیر ترتیب دستور کی چار مستقل دفعات میں اس بنیادی عقیدے کے چاروں مذکورۂ بالا اجزا کو واضح اور غیر مشتبہ زبان میں بیان کردیا جائے۔
(۲) بنیادی عقیدے کی توضیح وتعیین کے بعد قرار داد مقاصد اس عملی نظام کی تشریح کرتی ہے جو اس عقیدے پر بنایا جائے گا۔یہ نظام تین بڑے اجزا پر مشتمل ہے:
ایک وہ جو عام ملکی معاملات سے متعلق ہے۔
دوسرا وہ جو ریاست کی مسلمان اکثریت سے متعلق ہے۔
تیسرا وہ جو ریاست کی غیر مسلم اقلیت سے متعلق ہے۔
قراردادِ مقاصد کے دیباچے نے یہ بات پہلے ہی طے کردی ہے کہ ان تینوں اجزا کے بارے میں جس قدر بھی دستوری تفصیلات مرتب کی جائیں گی،وہ لازماًاسی آئیڈیالوجی پر مبنی ہوں گی جو دیباچے میں بیان کی گئی ہے۔ ان میں سے کسی جز کے بارے میں بھی کوئی ایسی دستور سازی جائز نہ ہوگی جو اس اعلان کردہ بنیادی عقیدے کے خلاف ہو۔ جو لوگ دستور سازی کے کام میں کسی طور پر حصہ لے رہے ہوں،ان کا فرض ہے کہ اس بات کو پوری ایمان داری کے ساتھ ملحوظ رکھیںاورا پنے شرکائے کار کو اس راستے سے ہٹنے نہ دیں۔
(۳) عام ملکی معاملات کے بارے میں قرارداد مقاصد کی شق(ب)یہ طے کرتی ہے کہ دستور مملکت کی ترتیب میں’’جمہوریت،آزادی،مساوات، رواداری اور اجتماعی عدل وانصاف کے ان اُصولوں کی پوری طرح پیروی کی جائے گی جو اسلام نے ہم کو بتائے ہیں۔‘‘ نیز شق(د) یہ بھی طے کرتی ہے کہ زیر ترتیب دستورمیں باشندگان ملک کو چند بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی جن میں خاص طور پر یہ حقوق شامل ہوں گے:’’مرتبے اور مواقع کی یکساں مساوات، قانون کی نگاہ میں سب افراد کا یکساں ہونا، تمدنی ومعاشی اور سیاسی انصاف،خیال،بیان،عقیدہ،ایمان ، عبادت اور اجتماع کی ایسی آزادی جو قانون اور اخلاق عامہ کے تابع ہو۔‘‘
ان سب اُمور کے بارے میں یہ ضروری ہے کہ پہلے جمہوریت،آزادی، مساوات، رواداری اور اجتماعی عدل وانصاف کے اسلامی مفہومات کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے،پھر ان کو دستور کے مختلف ابواب اور دفعات میں حسب موقع ثبت کیا جائے۔یہ اصطلاحات دنیا کے بہت سے فکری نظاموں میں مشترک ہیں۔ مگر ہر ایک میں ان کے مفہومات دوسرے نظاموں سے الگ ہیں۔اشتراکی ان کو کسی معنی میں استعمال کرتا ہے،مغربی جمہوریتوں کے متبعین ان کے کچھ او رمعنی لیتے ہیں اور اسلام میں ان کے معنی کچھ اور ہیں۔ ہم کو ان کی مختلف تعبیرات میں سے لازماً وہ تعبیر اختیا رکرنی ہے جو خالص اسلامی ہو،اور ان تعبیرات سے بچنا ہے جو ہماری تعبیر کے خلاف دوسروں کے ہاں رائج ہیں۔ مثال کے طور پر اسلام میں دوسرے نظامات فکر کے برعکس جمہوریت مطلق العنان نہیں ہے بلکہ حدود اﷲ کی پابند ہے۔اس لیے ہماری پارلیمنٹ نہ تو کثرت رائے سے اور نہ بالاتفاق کوئی ایسا قانو ن بناسکتی ہے جو خدا اور رسول کے احکام سے ٹکراتا ہو۔قانو ن سازی کے معاملے میں اس کی آزادی صرف مباحات تک محدود رہے گی۔رہے وہ معاملات جن میں کسی نہ کسی طرح کے شرعی احکام موجود ہیں،تو ان میں وہ لازماً نصوص کتاب وسنت ہی سے مسائل کا استنباط کرنے پر مجبور ہو گی۔ ہمارے دستور کے باب قانون سازی کی اوّلین دفعہ میں اس مضمون کی تصریح ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ ایک خاص مدت بھی اس غرض کے لیے مقرر کی جانی چاہیے کہ اس کے اندر اندر انگریزی دور کے وہ تمام قوانین منسوخ یا تبدیل کردیے جائیں گے جو احکام خدا ورسول کے خلاف ہماری مملکت میں رائج ہیں۔
اسی طرح بنیادی حقوق کے معاملے میں بھی ہم کو دوسروں کی تقلید نہیں کرنی ہے، بلکہ اپنے شہریوں کو وہ حقوق دینے ہیں جو خدا اور رسولؐ کی شریعت نے ان کو دیے ہیں۔اور ان کے حقوق پر وہ پابندیاں عائد کرنی ہیں جو اسلامی قانون اور اسلامی نظام اخلاق نے ان پر عائد کی ہیں۔ جو آزادی اسلام اپنی مملکت کے شہریوں کو نہیں دیتا، وہ ہمارے دستورمیں ان کو ہرگز نہیں دی جاسکتی،خواہ تمام دنیا میں ان کو دی گئی ہو۔ اور جس آزادی سے اسلام نے ان کو بہرہ ور کیا ہو،ہم اسے سلب کرنے کی کوئی گنجایش اپنے دستور میں نہیں رکھ سکتے،خواہ دنیا کے دوسرے دستوروں میں ایسی گنجائشیں کتنی ہی فراخ دلی سے رکھ دی گئی ہوں۔مثلاً اسلام اپنی مملکت کے کسی مسلم شہری کو یہ آزادی نہیں دیتا کہ وہ اس ملک کے اندر رہتے ہوئے اپنادین تبدیل کرلے،یا ارکان دین کی بجا آوری سے انکار کرے، یا فواحش ومنکرات کا علانیہ مرتکب ہو اور احکام خدا و رسولؐ کی کھلے بندوں خلاف ورزی کرے۔ لہٰذا شخصی آزادی کی یہ تعبیر دوسرے دستوروں میں چاہے جیسی کچھ بھی پائی جاتی ہو، ہم کو اپنے دستور میں صا ف صاف اس آزادی کی نفی کرنی پڑے گی۔ بخلاف اس کے دنیا کے بعض دستوروں میں ایسی گنجائشیں رکھی گئی ہیں جن کی بنا پر حکومت ایک شہری کی آزادی اس کا جرم ثابت کیے بغیر اور اس کو صفائی کا موقع دیے بغیر سلب کرسکتی ہے۔لیکن اسلام کسی حال میں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے ہمارے دستور میں ایسی کوئی گنجایش نہیں رکھی جاسکتی۔
(۴) ریاست کے مسلم شہریوں کے معاملے میں قرار داد مقاصد کی شق(ج) یہ طے کرتی ہے کہ زیر ترتیب دستور میں’’مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو ان اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق،جوقرآن وسنت میں مذکور ہیں،منضبط کرسکیں۔‘‘اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دستور میں مسلمانو ں کی حد تک حکومت کے ذمے چند فرائض واضح طور پر عائد کیے جائیں تاکہ ان کی انجام دہی سے تغافل کرنے کی صورت میں اس سے مواخذہ کیا جاسکے۔ مثال کے طو رپر حکومت کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ:
وہ اس ملک میں ایسا نظام تعلیم رائج کرے جو الحاد وبے دینی کے رجحانات سے پاک ہو، جس کے ماتحت علم کے تمام شعبوں میں اسلامی آئیڈیالوجی کو بنیادی حیثیت حاصل ہو، اور جس میں مسلمانوں کے لیے قر