معاشیات اسلام

ریڈ مودودی ؒ   کی اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

دیباچہ

یہ میری ان تحریروں کا مجموعہ ہے جو پچھلے ۳۰۔۳۵ سال کے دوران میں مختلف مواقع پر میں نے اسلام کے معاشی اصول و احکام کی توضیح اور زندگی کے موجودہ مسائل پر ان کے انطباق کے بارے میں لکھی ہیں اور وقتاً فوقتاً شائع ہوتی رہی ہیں۔ ایک مدت سے میں یہ ضرورت محسوس کر رہا تھا کہ ان کو جمع کر کے ایک جگہ کتابی شکل میں مرتب کر دیا جائے تا کہ عام ناظرین کے سامنے بھی اسلامی نظامِ معیشت کی پوری تصویر آ جائے، اور اسلامیات و معاشیات کے طلبہ کے لیے بھی یہ ایک نصابی، یا امدادی کتاب کے طور پر کام آسکے ۔ مگر اپنی گوناگوں مصروفیات کے باعث میں آج تک اس کا موقع نہ پا سکا۔ میں پروفیسر خورشید احمد صاحب کا بہت شکر گزار ہوں کہ انہوں نے نہایت محنت اور توجہ کے ساتھ یہ مجموعہ ایسی خوبی کے ساتھ مرتب کر دیا ہے کہ میں خود بھی اس سے بہتر ترتیب نہ دے سکتا تھا۔ میں نے پوری کتاب پر نظرثانی کر کے اس میں ضروری اصلاحات اور اضافے کر دیئے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ اس مقصد کے لیے بہت مفید ثابت ہوگی جس کی خاطر خورشید صاحب نے یہ خدمت انجام دی ہے۔

14 ؍ ذی الحجہ 1388ھ ابو الاعلیٰ
3؍مارچ 1969ء لاہور

پیش لفظ

اس وقت پوری دنیا میں اضطراب اور بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔اس اضطراب کی تہ میں جو قوتیں کارفرما ہیں اور جن کی وجہ سے بے چینی میں برابر اضافہ ہو رہا ہے ان میں معاشی اسباب کو بڑا دخل ہے۔ اس لیے نہیں کہ انسانی زندگی میں فیصلہ کن حیثیت معاشی عوامل کو حاصل ہے ، بلکہ اس لیے کہ ان کو وہ مقام دیا گیا ہے جو فطرت کے در و بست میں انہیں حاصل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بگاڑ کے اسباب کی تلاش اور اس کے مداوا کی کوششیں صورت حال کو اور خراب اور پیچیدہ کرتی جا رہی ہیں۔ پہلے انسان کا خیال تھا کہ اصلی مسئلہ وسائل معاش کی قلت کا ہے اور اگر پیداوار کو بڑھا دیا جائے تو تمام خرابیاں دور ہو جائیں گی۔ لیکن جب پیداوار سو بلکہ کچھ چیزوں میں ہزار گنی تک زیادہ ہو گئی تب بھی بگاڑ کی کیفیت وہی رہی۔ ’’پیدا آوری معاشیات‘‘ (economics of production) سے توجہ معاشیاتِ تقسیم (economics of distribution) کی طرف مبذول ہوئی۔ لیکن سو سال تک دولت کی تقسیمِ نو (redistribution of wealth) کے تجربہ کے بعد بھی ہم وہیں ہیں جہاں سے سفر کا آغاز کیا تھا۔ مسائل قلت (scarctiy) نے معاشیاتِ خورد (micro economics) کو جنم دیا تھا۔ لیکن تجارتی چکر (trade cycle) اور کساد بازاری کی تباہ کاریوں نے اس نظامِ فکر کی چولیں ہلا دیں۔ ان نئے حالات نے معاشیاتِ کلاں (macro economics) کے لیے راہ ہموار کی۔ لیکن اب جو نئی افراطِ دولت (affluence) رونما ہوئی ہے اور وہ اپنے جلو میں جو نئے مسائل لائی ہے اس کی بناء پر یہ خوش حالی خود دردِ سر بنتی جا رہی ہے اور معاشیات کا طالب علم ایک بار پھر ایک نئی معاشیات کی تلاش میں ہے۔ ایک گھن چکر (vicious circle) ہے جس میں انسان گردش کر رہا ہے اور ہر دور اور ہر سطح پر اس کا حال یہ ہے کہ
ڈور کو سلجھا رہا ہے، اور سرا ملتا نہیں!
ہم آج کے انسان کو اس امر پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے بنیادی نقطۂ نظر کا از سر نو جائزہ لے۔ اصل خرابی سفر کے دوران میں پیش آنے والی دشواریوں کی بناء پر نہیں، سفر کے نقطۂ آغاز اور پھر سمتِ سفر میں ہے، یہ علمی جستجو اور عملی کاوش جس مقام سے شروع ہوتی ہے اسی جگہ غلطی واقع ہو رہی ہے اور وہی نظرثانی کی محتاج ہے۔ انسان نے اپنی حقیقت اور اپنے اصل مقام کو نظر انداز کر کے اپنے سارے افکار کے در ودیوار اٹھائے ہیں، اور چونکہ یہ بنیاد ہی غلط ہے اس لیے:
تاثریّا می رود دیوار کج
زیر نظر کتاب دراصل علم المعیشت (economic science) کی کتاب نہیں ہے بلکہ فلسفۂ معیشت (economic philosophy) کی ایک راہ کشا کتاب ہے۔ اس میں ان اولین امور سے بحث کی گئی ہے جنہیں ماہرینِ معاشیات بالعموم چھوڑ دیتے ہیں اور جن کے بارے میں غلط تصورات کے کارفرما ہونے کی وجہ سے وہ آگے کی شاہراہوں پر ہر قدم پر ٹھوکریں کھاتے چلے جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ الاقدم فالاقدم کا چرچا کرنے والے اس پر عمل بھی کریں اور ہر میدان علم میں کریں۔ تا کہ آگے کی منزلیں آسان ہوسکیں۔ معاشی فکر میں جن انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ان کا نقطۂ آغاز ایسی ہی کوششیں ہوسکتی ہیں اور اسی بنا پر ہم اسے ایک راہ کشا کتاب قرار دیتے ہیں۔
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اس دور کے سب سے نمایاں مسلمان مفکر ہیں۔ انہوں نے گزشتہ چالیس سال میں اسلامی نظامِ فکر و عمل کے کم و بیش ہر پہلو پر کلام کیا ہے اور بڑی بالغ نظری کے ساتھ دورِ حاضر کے مسائل اور اس کی الجھنوں کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو بلاکم و کاست بیان کیا ہے ۔ اس بارے میں اصل فیصلہ تو مستقبل ہی کرے گا، لیکن ہم جیسے طالب علموں کو نظر آتا ہے کہ مولانائے محترم کا سب سے اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کو ایک مکمل نظامِ فکر و عمل اور دین و دنیا کی فلاح کی ایک عالمگیر اصلاحی دعوت و تحریک کی حیثیت سے پیش کیا اور چالیس سال کی ہمہ وقت جدوجہد کے بعد اپنے مخالفین تک سے اس امر کا اعتراف کرالیا کہ زندگی کے ہر شعبے کے لیے اسلام اپنے مخصوص نقطۂ نظر سے بنیادی اور جامع ہدایات دیتا ہے اور ایک مسلمان… فرد کی حیثیت سے ہو یا قوم کی حیثیت سے… اسلام کے تقاضوں کو اسی وقت پورا کرسکتا ہے جب وہ ان ہدایات کی پابندی اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کرے۔
فطری بات ہے کہ جس شخص نے یہ کام انجام دیا ہو وہ معاشی مسائل سے تعرض کئے بغیر کیسے رہ سکتا ہے؟ اس دور کا سب سے بڑا فتنہ تو یہی فتنۂ معاش ہے! اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ترجمان القرآن کی اشاعت کے پہلے ہی سال (1933ء) مولانائے محترم ’’سود‘‘ اور ’’ضبطِ ولادت‘ ‘ کے مسائل سے نبرد آزما نظر آتے ہیں اور آج تک مختلف معاشی امور پر بحث و گفتگو کا سلسلہ جاری ہے۔ معاشی امور کے بارے میں مولانا کی چار کتابیں شائع بھی ہو چکی ہیں، یعنی … ’’سود‘‘ ، ’’اسلام اور جدید معاشی نظریات‘‘، ’’مسئلہ ملکیتِ زمین‘‘، ’’اسلام اور ضبطِ ولادت‘‘۔ ان کے علاوہ متعدد پمفلٹ، کتابچے، مضامین اور تقاریر ہیں جو مختلف اوقات میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ ان مستقل کتابوں کی تو اپنی اہمیت ہے اور وہ ان شاء اللہ اپنا کام ہمیشہ انجام دیتی رہیں گی۔ لیکن میں ایک مدت سے اس امر کی ضرورت محسوس کر رہا تھا کہ مولانا محترم کی تمام تحریرات کو سامنے رکھ کر ایک جامع کتاب ایسی مرتب کی جائے جس میں تمام بنیادی معاشی امور کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر بیک نظر معلوم کیا جاسکے اور معاشیات کے طلبہ اسلام کے نظمِ معیشت کے مختلف پہلوئوں کو ایک ہی نگاہ میں دیکھ سکیں۔ پھول کتنے ہی حسین ہوں اور چاروں طرف ہی کیوں نہ خنداں ہوں لیکن ان سے گلدستہ اسی وقت بنتا ہے جب گلچیں سارے باغ کا انتخاب ایک مختصر مجموعہ میں پیش کر دے! ضرورت کا یہ احساس تو ایک عرصہ سے تھا، لیکن مختلف وجوہ سے کام کا نقشہ بنانے کے باوجود میں اس کام کو زیادہ آگے نہ بڑھا سکا۔ اس زمانے میں جامعہ کراچی نے ایم ۔ اے۔ معاشیات کے طلبہ کے لیے ’’اسلامی معاشیات‘‘ کا ایک پرچہ داخلِ نصاب کر دیا ہے، اور اسی اثناء میں دانش گاہِ پنجاب نے بھی ایم۔ اے میں اسلامی معاشیات کی تدریس شروع کر دی ہے۔ یہ اقدام خواہ کتنی ہی تاخیر سے کیے گئے ہوں، لیکن نہایت خوش آئند اور حوصلہ افزاء ہیں ۔ اگر ارباب تعلیم نے اس نوعیت کا اقدام پاکستان کے قیام کے بعد ہی کر دیا ہوتا تو شاید آج ’’اسلامی معاشیات‘‘ پر فنی اعتبار سے بڑا قیمتی لٹریچر تیار ہو چکا ہوتا ۔ بہرحال ہم اس اقدام کی دل سے قدر کرتے ہیں اور اس چیز نے مجھے مجبور کیا کہ بلاتاخیر اپنی اس تجویز پر عمل کروں اور ایک ایسا مجموعہ مرتب کر دوں جس میں اسلامی معاشیات کے مختلف پہلوئوں پر مولانا محترم کی تمام ضروری تحریروں کا نچوڑ آجائے اور ایک ہی نظر میں اسلام کے نظمِ معیشت کی پوری تصویر دیکھی جاسکے۔
کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔پہلے حصے میں اسلام کے فلسفۂ معیشت سے بحث کی گئی ہے۔ ان مضامین میں دنیا کے مروجہ معاشی نظاموں پر تنقیدی نگاہ ڈالی گئی ہے اور معیشت کے میدان میں اسلام کے مخصوص نقطۂ نظر کی پوری وضاحت کی گئی ہے۔ نیز ان اصولوں کو بھی ضروری تشریح کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جو قرآن و سنت میں مرقوم ہیں۔ یہ حصہ ہمارے مستقبل کے کام کرنے والوں کے لیے نشانِ راہ کا کام دے گا۔ اب ضرورت اس کی ہے کہ معاشیات میں فنی مہارت رکھنے والے حضرات آگے بڑھیں اور ان اصولوں اور ان اقدار کی روشنی میں فنی زبان میں معاشیات کے مباحث کو پیش کریں ۔ ان مباحث کی حیثیت روشنی کے مینار کی ہے۔ لیکن یہ روشنی خود راہ نورد نہیں بن سکتی ۔ اس کی رہنمائی میں معاشیات کے مسلمان طالب علموں کو ان راہوں کو دریافت کرنا ہوگا جن کی طرف یہ اشارہ کر رہی ہے۔ اس چراغ سے ہزار نئے چراغ جلانے ہوں گے اور دوسروںکے لیے اپنے نقشِ پا راہبرانِ راہ کی حیثیت سے چھوڑنے ہوں گے۔ مولانائے محترم نے راستے کی نشان دہی کر دی ہے۔ اب یہ مسلمان معاشیّین کا کام ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اسے جادئہ وقت بنا دیں۔
دوسرے حصے میں ہم نے مصنف محترم کی ان تحریروں کو پیش کیا ہے جن کا تعلق ایک حیثیت سے اسلام کے فلسفۂ معیشت کے انطباق (application) سے ہے۔ اس سلسلے میں یہاں اسلام کے معاشی نظام کے صرف چند پہلوئوں سے بحث کی گئی ہے۔ لیکن ان چند مباحث ہی سے ہمارے سامنے متعین معاشی امور پر غور و فکر کی راہ کھلتی ہے ۔ ان مضامین میں ایک طرف تو وقت کے چند بنیادی معاشی مسائل… ملکیتِ زمین، سود، زکوٰۃ، عدلِ اجتماعی… پر اسلامی تعلیمات نہایت واضح اور دو ٹوک انداز میں ہمارے سامنے آتی ہیں۔اور دوسری طرف معاشیات کے طالب علموں کو یہ رہنمائی ملتی ہے کہ اسلام کے بنیادی تصور اور اس کے اساسی معاشی اصولوں کی روشنی میں متعین اور مخصوص مسائل کا مطالعہ کس طرح کیا جانا چاہیے، اور نام نہاد متجدّدین کے مقابلے میں، جو دراصل بدترین نقالی اور غیروں کی اندھی تقلید کے مرتکب ہو رہے ہیں، حقیقی تخلیقی اور اجتہادی رویہ کیا ہے۔ فکری آزادی کا یہ بڑا مسخ شدہ تصور ہے کہ آزادی اور اجتہاد نام ہے اپنے دین کی تعلیمات کو بدلنے اور مغرب کے ہر تصور کی کورانہ تقلید کرنے کا۔ یہ ’’فکری آزادی‘‘ نہیں، ذہنی غلامی ہے۔ اصل فکری آزادی یہ ہے کہ ہم دورِ جدید کے تمام نظریات کا مطالعہ کھلے ذہن اور تنقیدی نگاہ سے کریں اور خذما صفا و دع ما کدِر (جو صحیح ہے اسے اختیار کرلو اور جو غلط ہے اسے رد کر دو) کے اصول پر عمل کریں۔ نہ ہمیں اپنے ذہن کے دروازے بند کرلینے چاہئیں کہ کسی مفید علم سے فائدہ نہ اٹھائیں، اور نہ دل و دماغ پر غیروں کا ایسا تسلط ہونا چاہیے کہ ہم دیکھیں تو ان کی نظر سے، سوچیں تو ان کے ذہن سے اور بولیں تو ان کی زبان سے۔ کتاب کا دوسرا حصہ دراصل اسی تعمیری اور تخلیقی نقطۂ نظر کا ترجمان ہے اور معاشیات کے طالب علم اس کے مطالعہ سے یہ جان سکتے ہیں کہ متعین امور اور مسائل کے بارے میں کس طرح غور و فکر کیا جائے… اس حصے کی حیثیت بھی دراصل ایک روشن مثال کی سی ہے۔ ابھی آئندہ کام کرنے والوں کو بے شمار امور کے بارے میں نیا کام کرنا ہے اور ہمیں امید ہے کہ ان کی ان مساعی کے لیے یہ مجموعہ نشانِ راہ کا کام دے گا ۔ مولانا مودودی فنی اصطلاح میں ایک ماہرِ معاشیات (economist) نہیں ہیں۔ لیکن ان کا مقام اس سے بہت اونچا ہے کہ مخصوص علوم کے پیمانوں سے ان کے بارے میں گفتگو ہو۔ وہ ایک ایسے مفکر ہیں جنہوں نے خاص الٰہیات (theology) سے لے کر تقریباً تمام ہی عمرانی علوم (social sciences) کے میدانوں میں نہ صرف بالغ نظری کے ساتھ کلام کیا ہے بلکہ ان کی اساسی فکر (central core) کی، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، تشکیلِ نو کے خطوط بھی واضح کیے ہیں۔ معاشیات کے میدان میں بھی ان کا یہ مجموعہ یہی خدمت انجام دے رہا ہے۔ آگے اس پر کام کرنا ان لوگوں کے ذمے ہے جو اسلام پر پختہ یقین رکھتے ہیں ، علومِ عمرانی کے بارے میں صحیح نقطۂ نظر کے حامل ہیں، اور علم معاشیات میں فنی مہارت (technical competence) کے حامل ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ کتاب عام قارئین کے لیے بھی اپنے اندر بہت کچھ مواد رکھتی ہے اور معاشیات کے طالب علموں اور کل کے اسلامی معاشیین کے لیے بھی ایک سنگِ میل ہے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ ہماری جامعات میں اسلامی معاشیات کی تدریس میں یہ کتاب مفید خدمت انجام دے گی۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایک بات اس کتاب کے مآخذ کے بارے میں بھی عرض کر دی جائے۔ اس میں مولانا محترم کے مضامین اور تقاریر کے علاوہ تفہیم القرآن (۴جلد میں) سے وہ مباحث بھی شامل کرلئے گئے ہیں جو معاشی امور سے متعلق تھے۔ اسی طرح رسائل و مسائل (۴ جلد میں) سے بھی ان جوابات کو لے لیا گیا ہے جو ہماری بحثوں سے متعلق تھے اور ان پہلوئوں پر روشنی ڈالتے تھے جن کی مستقل اہمیت ہے ۔ ان کے علاوہ ہم نے مسئلہ ملکیت زمین اور سود پر متعلقہ کتابوں سے چند ضروری مباحث کے اخذ و تلخیص کا راستہ بھی اختیار کیا ہے۔ لیکن اس موجودہ شکل میں ان کی ترتیب ہماری قائم کردہ ہے۔ یہ اقتباسات اصل کتابوں کا بدل (substitute) نہیں ہوسکتے۔ البتہ یہ اس کتاب میں ہماری ضرورت کو ایک حد تک پورا کر دیتے ہیں۔ تفصیلی مطالعہ کے لیے ہم قارئین کو اصل کتابوں کی طرف رجوع کا مشورہ دیتے ہیں۔
یہ مواد مختلف مقامات سے لیا گیا ہے، مختلف اوقات میں یہ چیزیں لکھی گئی ہیں، اور ان کو لکھتے وقت مختلف قسم کے مخاطبین مصنف محترم کے سامنے رہے ہیں۔ ان تمام چیزوں کو یکجا کرنا اور پھر ان میں تسلسل کو باقی رکھنا ایک مشکل کام تھا۔ ہم نے اپنی حد تک کوشش کی ہے کہ سلسلۂ کلام منقطع نہ ہونے پائے۔ لیکن ہم قارئین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ مرتب کی ان دقتوں (limitations) کو سامنے رکھیں جو اس نوعیت کے کام میں ناگزیر ہیں۔ اسی طرح اس نوعیت کے مجموعے میں ایک حد تک تکرار کا پایا جانا بھی ناگزیر ہے۔ لیکن ہمیں توقع ہے کہ یہ تکرار بارِ خاطر نہیں ہوگی بلکہ تفہیم کا ذریعہ بنے گی اور بنیادی امور کو ذہن نشین کرنے کی باعث ہو گی۔ یہ چیز پہلے حصے ہی میں کچھ زیادہ ہے، اور اسی میںا س کی زیادہ ضرورت بھی ہے ۔ اس لیے ہم توقع رکھتے ہیں کہ یہ چیز ان شاء اللہ مفید ہی ہوگی۔
آخر میں ایک ذاتی معذرت بھی مجھے پیش کرنی ہے۔ میں نے اس کام کا بڑا حصہ اگست 1968ء تک مکمل کرلیاتھا اور صرف چند ہفتوں کی محنت باقی تھی کہ مجھے اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان آنا پڑا۔ ہوائی سفر کی مشکلات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان تمام ضروری چیزیں بھی اپنے ساتھ نہیں لاسکتا۔ میرا خیال تھا کہ میرے کاغذات مجھے جلد مل جائیں گے اور میں یہ کام فوراً مکمل کر کے بھیج دوں گا۔ لیکن بدقسمتی سے مسودات مجھے دسمبر میں ملے۔ نیز یہاں کے قیام کے اولین تین چار ماہ میں کچھ دوسری ذمہ داریوں کی وجہ سے بھی میں بے حد مصروف رہا اور یہ کام مؤخر ہوگیا۔ جنوری کا مہینہ میں نے کم و بیش اس کتاب پر صرف کیا اور الحمد للہ اب اسے پیش کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ خدا کرے کہ یہ بروقت زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر آجائے اور ہماری جامعات کے طلبہ اس سے اس سال فائدہ اٹھاسکیں۔
ادارئہ معارف اسلامی کراچی مولانا محترم کی تمام تحریروں کو از سرِ نو مرتب کرنے کے کام میں مصروف ہے۔ اس سے پہلے ’’مسلمان اور تحریک آزادیِ ہند‘‘ اور ’’اسلامی ریاست‘‘ کے موضوعات پر جامع تالیفات پیش کی جا چکی ہیں۔ اب ہمیں خوشی ہے کہ ہم اسلام کے نظامِ معیشت پر ایک مجموعہ پیش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے کی مزید کتابوں پر کام ہو رہا ہے اور ان شاء اللہ ایسے مجموعے برابر آتے رہیں گے۔
وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہِ ۔

14 ؍ذی القعدہ1388ھ خورشید احمد
2 ؍ فروری 1969ء لیسٹر، انگلستان

مقدمہ

(یہ مقدمہ مولانا محترم کی اس تقریر پر مشتمل ہے جو انہوں نے ریڈیو پاکستان، لاہور سے 2؍مارچ 1948ء کو ’’اسلام کے اقتصادی نظام‘‘ کے موضوع پر نشر فرمائی تھی ، اور موضوع کی مناسبت سے یہاں اسے اس کتاب کے مقدمہ کے طور پر شریکِ اشاعت کیا جا رہا ہے ۔ (مرتب)

انسان کی معاشی زندگی کو انصاف اور راستی پر قائم رکھنے کے لیے اسلام نے چند اصول اور چند حدود مقرر کر دیئے ہیں تا کہ دولت کی پیدائش ، استعمال اور گردش کا سارا نظام انھی خطوط کے اندر چلے جو اس کے لیے کھینچ دیئے گئے ہیں ۔ دولت کی پیداوار کے طریقے اور اس کی گردش کی صورتیں کیا ہوں؟ اسلام کو اس سوال سے کوئی بحث نہیں ہے۔ یہ چیزیں تو مختلف زمانوں میں تمدن کے نشوونما کے ساتھ ساتھ بنتی اور بدلتی رہتی ہیں۔ ان کا تعین انسانی حالات و ضروریات کے لحاظ سے خود بخود ہو جاتا ہے۔ اسلام جو کچھ چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ تمام زمانوں اور حالات میں انسان کے معاشی معاملات جو شکلیں بھی اختیار کریں ان میں یہ اصول مستقل طور پر قائم رہیں اور ان حدود کی لازماً پابندی کی جائے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے زمین اور اس کی سب چیزیں خدا نے نوع انسانی کے لیے بنائی ہیں، اس لیے ہر انسان کا یہ پیدائشی حق ہے کہ زمین سے اپنا رزق حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اس حق میں تمام انسان برابر کے شریک ہیں۔ کسی کو اس حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ نہ کسی کو اس معاملے میں دوسروں پر ترجیح ہی حاصل ہوسکتی ہے۔ کسی شخص یا نسل یا طبقے پر ایسی کوئی پابندی ازروئے شرع عائد نہیں ہوسکتی کہ وہ رزق کے وسائل میں سے بعض کو استعمال کرنے کا حقدار ہی نہ رہے، یا بعض پیشوں کا دروازہ اس کے لیے بند کر دیا جائے۔ اسی طرح ایسے امتیازات بھی شرعاً قائم نہیں ہوسکتے جن کی بنا پر کوئی ذریعۂ معاش یا وسیلۂ رزق کسی مخصوص طبقے یا نسل یا خاندان کا اجارہ بن کر رہ جائے۔ خدا کی بنائی ہوئی زمین پر اس کے پیدا کئے ہوئے وسائلِ رزق میں سے اپنا حصہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا سب انسانوں کا یکساں حق ہے اور اس کوشش کے مواقع سب کے لیے یکساں کھلے ہونے چاہئیں۔
قدرت کی جن نعمتوں کو تیار کرنے کا یا کارآمد بنانے میں کسی کی محنت و قابلیت کا کوئی دخل نہ ہو وہ سب انسانوں کے لیے مباحِ عام ہیں۔ ہر شخص کو حق ہے کہ اپنی ضرورت بھر ان سے فائدہ اٹھائے۔ دریائوں اور چشموں کا پانی، جنگل کی لکڑی، قدرتی درختوں کے پھل، خودرَو گھاس اور چارہ، ہوا اور پانی اور صحرا کے جانور،سطح زمین پر کھلی ہوئی کانیں، اس قسم کی چیزوں پر نہ تو کسی کی اجارہ داری قائم ہوسکتی ہے اور نہ ایسی پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں کہ بندگانِ خدا کچھ دیے بغیر ان سے اپنی ضرورتیں پوری نہ کرسکیں۔ ہاں جو لوگ تجارتی اغراض کے لیے بڑے پیمانے پر ان میں سے کسی چیز کو استعمال کرنا چاہیں ان پر ٹیکس لگایا جاسکتا ہے۔
خدا نے جو چیزیں انسان کے فائدے کے لیے بنائی ہیں، انہیں لے کر بیکار ڈال رکھنا صحیح نہیں ہے۔ یا تو ان سے خودفائدہ اٹھائو، ورنہ چھوڑ دو تا کہ دوسرے ان سے متمتع ہوں۔ اسی اصول کی بنا پر اسلامی قانون پر فیصلہ کرتا ہے کہ کوئی شخص حکومت کی عطا کردہ زمین کو تین سال سے زیادہ مدت تک افتادہ حالت میں نہیں رکھ سکتا۔ اگر وہ اس کو زراعت یا عمارت یا کسی دوسرے کام میں استعمال نہ کرے تو تین سال گزر جانے کے بعد وہ متروکہ زمین سمجھی جائے گی۔ کوئی دوسرا شخص اسے کام میں لے آئے تو اس پر دعویٰ نہ کیا جاسکے گا اور اسلامی حکومت کو بھی یہ اختیار ہوگا کہ اس زمین کو اس شخص سے لے کر کسی اور کو آبادکاری کے لیے دے دے۔
جو شخص براہِ راست قدرت کے خزانے میں سے کوئی چیز لے اور اپنی محنت و قابلیت سے اس کو کارآمد بنائے وہ اس چیز کا مالک ہے۔ مثلاً کسی افتادہ زمین کو، جس پر کسی کے حقوقِ ملکیت ثابت نہ ہوں، اگر کوئی شخص اپنے قبضے میں لے لے اور کسی مفید کام میں اسے استعمال کرنا شروع کر دے تو اس کو بے دخل نہیں کیا جاسکتا۔ اسلامی نظریے کے مطابق دنیا میں تمام مالکانہ حقوق کی ابتدا اسی طرح ہوئی ہے۔ پہلے پہل جب زمین پر انسانی آبادی شروع ہوئی تو سب چیزیں سب انسانوں کے لیے مباحِ عام تھیں۔ پھر جس جس شخص نے جس مباح چیز کو اپنے قبضے میں لے کر کسی طور پر کارآمد بنالیا وہ اس کا مالک ہوگیا، یعنی اسے یہ حق حاصل ہوگیا کہ اس کا استعمال اپنے لیے مخصوص رکھے اور دوسرے اسے استعمال کرنا چاہیں تو ان سے اس کا معاوضہ لے۔یہ چیز انسان کے سارے معاشی معاملات کی فطری بنیاد ہے اور اس بنیاد کو اپنی جگہ قائم رہنا چاہیے۔
جائز شرعی طریقوں سے جو مالکانہ حقوق کسی کو دنیا میں حاصل ہوں وہ بہرحال احترام کے مستحق ہیں۔ کلام اگر ہوسکتا ہے تو اس امر میں ہوسکتا ہے کہ کوئی ملکیت شرعاً صحیح ہے یا نہیں جو ملکیتیں ازروئے شرع ناجائز ہوں انہیں بے شک ختم ہو جانا چاہیے۔ مگر جو ملکیتیں شرعاً صحیح ہوں، کسی حکومت اور کسی مجلسِ قانون ساز کو یہ حق نہیں ہے کہ انہیں سلب کرلے، یا ان کے مالکوں کے شرعی حقوق میں کسی قسم کی کمی بیشی کرے۔ اجتماعی بہتری کا نام لے کر کوئی ایسا نظام قائم نہیں کیا جاسکتا جو شریعت کے دیئے ہوئے حقوق کو پامال کرنے والا ہو۔ جماعت کے مفاد کے لیے افراد کی ملکیتوں پر جو پابندیاں شریعت نے خود لگا دی ہیں ان میں کمی کرنا جتنا بڑا ظلم ہے اتنا ہی بڑا ظلم ان پر اضافہ کرنا بھی ہے۔ یہ بات اسلامی حکومت کے فرائض میں سے ہے کہ افراد کے شرعی حقوق کی حفاظت کرے اور ان سے جماعت کے وہ حقوق وصول کرے جو شریعت نے ان پر عائد کئے ہیں۔
خدا نے اپنی نعمتوں کی تقسیم میں مساوات ملحوظ نہیں رکھی ہے، بلکہ اپنی حکمت کی بنا پر بعض انسانوں کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ حسن، خوش آوازی، تندرستی، جسمانی طاقتیں، دماغی قابلیتیں، پیدائشی ماحول اور اسی طرح کی دوسری چیزیں سب انسانوں کو یکساں نہیں ملیں۔ ایسا ہی معاملہ رزق کا بھی ہے۔ خدا کی بنائی ہوئی فطرت خود اس بات کی متقاضی ہے کہ انسانوں کے درمیان رزق میں تفاوت ہو۔ لہٰذا وہ تمام تدبیریں اسلامی نقطہ نظر سے مقصد اور اصول میں غلط ہیں جو انسانوں کے درمیان ایک مصنوعی معاشی مساوات قائم کرنے کے لیے اختیار کی جائیں۔ اسلام جس مساوات کا قائل ہے وہ رزق میں مساوات نہیں بلکہ حصولِ رزق کی جدوجہد کے مواقع میں مساوات ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ سوسائٹی میں ایسی قانونی اور رواجی رکاوٹیں باقی نہ رہیں جن کی بنا پر کوئی شخص اپنی قوت و استعداد کے مطابق معاشی جدوجہد نہ کرسکتا ہو۔ اور ایسے امتیازات بھی قائم نہ رہیں جو بعض طبقوں، نسلوں اور خاندانوں کی پیدائش خوش نصیبی کو مستقل قانونی تحفظات میں تبدیل کر دیتے ہوں۔ یہ دونوں طریقے فطری نامساوات کی جگہ زبردستی ایک مصنوعی نامساوات قائم کرتے ہیں۔ اس لیے اسلام انہیں مٹا کر سوسائٹی کے معاشی نظام کو ایسی فطری حالت پر لے آنا چاہتا ہے جس میں ہر شخص کے لیے کوشش کے مواقع کھلے ہوں۔ مگر جو لوگ چاہتے ہیں کہ کوشش کے ذرائع اور نتائج میں بھی سب لوگوں کو زبردستی برابر کر دیا جائے، اسلام ان سے متفق نہیں ہے۔ کیونکہ وہ فطری نامساوات کو مصنوعی مساوات میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ فطرت سے قریب تر نظام صرف وہی ہوسکتا ہے جس میں ہر شخص معیشت کے میدان میں اپنی دوڑ کی ابتدا اسی مقام اور اسی حالت سے کرے جس پر خدا نے اسے پیدا کیا ہے۔ جو موٹر لیے ہوئے آیا ہے وہ موٹر ہی پر چلے، جو صرف دو پائوں لایا ہے وہ پیدل ہی چلے، اور جو لنگڑا پیدا ہوا ہے وہ لنگڑا کر ہی چلنا شروع کر دے۔ سوسائٹی کا قانون نہ تو ایسا ہونا چاہیے کہ وہ موٹر والے کا مستقل اجارہ موٹر پر قائم کر دے اور لنگڑے کے لیے موٹر کا حصول ناممکن بنا دے، اور نہ ایسا ہی ہونا چاہیے کہ سب کی دوڑ زبردستی ایک ہی مقام اور ایک ہی حالت میں شروع ہو اور آگے تک انہیں لازماً ایک دوسرے کے ساتھ باندھ رکھا جائے۔ برعکس اس کے قوانین ایسے ہونے چاہئیں جن میں اس امر کا کھلا امکان موجود رہے کہ جس نے اپنی دوڑ لنگڑا کر شروع کی تھی وہ اپنی محنت و قابلیت سے موٹر پاسکتا ہو تو ضرور پائے، اور جو ابتدا میں موٹر پر چلا تھا وہ بعد میں اپنی نااہلی سے لنگڑا ہو کر رہ جائے تو رہ جائے۔
اسلام صرف اتنا ہی نہیں چاہتا کہ اجتماعی زندگی میں یہ معاشی دوڑ کھلی اور بے لاگ ہو، بلکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس میدان میں دوڑنے والے ایک دوسرے کے لیے بے رحم اور بے درد نہ ہوں بلکہ ہمدرد اور مددگار ہوں۔ وہ ایک طرف اپنی اخلاق تعلیم سے لوگوں میں یہ ذہنیت پیدا کرتا ہے کہ اپنے درماندہ اور پسماندہ بھائیوں کو سہارا دیں۔ دوسری طرف وہ تقاضا کرتا ہے کہ سوسائٹی میں ایک مستقل ادارہ ایسا موجود رہے جو معذور اور بے وسیلہ لوگوں کی مدد کا ضامن ہو۔ جو لوگ معاشی دوڑ میں حصہ لینے کے قابل نہ ہوں وہ اس ادارے سے اپنا حصہ پائیں۔ جولوگ اتفاقاتِ زمانہ سے اس دوڑ میں گر پڑے ہوں انہیں یہ ادارہ اٹھا کر پھر چلنے کے قابل بنائے۔ اور جن لوگوں کو جدوجہد کے میدان میں اترنے کے لیے سہارے کی ضرورت ہو انہیں اس ادارے سے سہارا ملے۔ اس مقصد کے لیے اسلام نے اَزرُوئے قانون یہ طے کیا ہے کہ ملک کی تمام جمع شدہ دولت پر ڈھائی فیصدی سالانہ اور اسی طرح پورے تجارتی سرمائے پر بھی ڈھائی فیصدی سالانہ زکوٰۃ وصول کی جائے۔ تمام عشری زمینوں کی زرعی پیداوار کا دس فیصدی یا پانچ فیصدی حصہ لیا جائے۔ بعض معدنیات کی پیداوار کا بیس فیصدی حصہ لے لیا جائے۔ مویشیوں کی ایک خاص تعداد پر بھی ایک خاص تناسب سے سالانہ زکوٰۃ لگائی جائے اور یہ تمام سرمایہ غریبوں، یتیموں، بوڑھوں، معذوروں، بے روزگاروں، بیماروں اور دوسرے ہر طرح کے محتاجوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہ ایک ایسا اجتماعی انشورنس ہے جس کی موجودگی میں اسلامی سوسائٹی کے اندر کوئی شخص زندگی کی ناگزیر ضروریات سے کبھی محروم نہیں رہ سکتا۔ کوئی محنت کش آدمی کبھی اتنا مجبور نہیں ہوسکتا کہ فاقے کے ڈر سے خدمت کی وہی شرائط منظور کرلے جو کارخانہ دار یا زمیندار پیش کر رہا ہو۔ کسی شخص کی طاقت اس کم سے کم معیار سے کبھی نیچے نہیں گر سکتی جو معاشی جدوجہد میں حصہ لینے کے لیے ضروری ہے۔
فرد اور جماعت کے درمیان اسلام ایسا توازن قائم کرنا چاہتا ہے جس میں فرد کی شخصیت اور اس کی آزادی بھی برقرار رہے اور اجتماعی مفاد کے لیے اس کی آزادی نقصان دہ بھی نہ ہو، بلکہ لازمی طور پر مفید ہو ۔ اسلام کسی ایسی سیاسی یا معاشی تنظیم کو پسند نہیں کرتا جو فرد کو جماعت میں گم کر دے اور اس کے لیے وہ آزادی باقی نہ چھوڑے جو اس کی شخصیت کے صحیح نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ کسی ملک کے تمام ذرائع پیداوار کو قومی ملکیت بنا دینے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ملک کے تمام افراد جماعتی شکنجے میں جکڑ جائیں۔ اس حالت میں ان کی انفرادیت کا بقا و ارتقاء سخت مشکل بلکہ غیر ممکن ہے۔ انفرادیت کے لیے جس طرح سیاسی اور معاشی آزادی ضروری ہے اسی طرح معاشی آزادی بھی بہت بڑی حد تک ضروری ہے۔ اگر ہم آدمیت کا بالکل استیصال نہیں کر دینا چاہتے تو ہماری اجتماعی زندگی میں اتنی گنجائش ضرور رہنی چاہیے کہ ایک بندئہ خدا اپنی روزی آزادانہ پیدا کرکے اپنے ضمیر کا استقلال برقرار رکھ سکے اور اپنی ذہنی و اخلاقی قوتوں کو اپنے رجحانات کے مطابق نشوونما دے سکے۔ راتب بندی کا رزق، جس کی کنجیاں دوسروں کے ہاتھ میں ہوں، اگر فراواں بھی ہو تو خوشگوار نہیں۔ کیونکہ اس سے پرواز میں جو کوتاہی آتی ہے محض جسم کی فربہی اس کی تلافی کبھی نہیں کرسکتی۔
جس طرح اسلام ایسے نظام کو ناپسند کرتا ہے اسی طرح وہ ایسے اجتماعی نظام کو بھی پسند نہیں کرتا جو افراد کو معاشرت اور معیشت میں بے لگام آزادی دیتا ہے اور انہیں کھلی چھٹی دے دیتا ہے کہ اپنی خواہشات یا اپنے مفادکی خاطر جماعت کو جس طرح چاہیں نقصان پہنچائیں۔ ان دونوں انتہائوں کے درمیان اسلام نے جو متوسط راہ اختیار کی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے فرد کو جماعت کی خاطر چند حدود اور ذمے داریوں کا پابند بنایا جائے، پھر اسے اپنے معاملات میں آزاد چھوڑ دیا جائے۔ ان حدود اور ذمے داریوں کی ساری تفصیل بیان کرنے کا یہاں موقع نہیں ہے، میں ان کا صرف ایک مختصر سا نقشہ آپ کے سامنے پیش کروں گا۔
پہلے کسبِ معاش کو لیجئے۔ دولت کمانے کے ذرائع میں اسلام نے جتنی باریک بینی کے ساتھ جائز و ناجائز کی تفریق کی ہے دنیا کے کسی قانون نے نہیں کی۔ وہ چن چن کر ان تمام ذرائع کو حرام قرار دیتا ہے جن سے ایک شخص دوسرے اشخاص کو، یا بحیثیت مجموعی پوری سوسائٹی کو، اخلاقی یا مادی نقصان پہنچا کر اپنی روزی حاصل کرتا ہے۔شراب اور نشہ آور چیزوں کا بنانا اور بیچنا، فحش کاری اور رقص و سرود کا پیشہ، جوا، سٹہ، لاٹری، سود، قیاس اور دھوکے اور جھگڑے کے سودے، ایسے تجارتی طریقے جن میں ایک فریق کا فائدہ یقینی اور دوسرے کا مشتبہ ہو، ضرورت کی چیزوں کو روک کر ان کی قیمتیں چڑھانا، اور اسی طرح کے بہت سے وہ کاروبار جو اجتماعی طور پر ضرر رساں ہیں، اسلامی قانون میں قطعی طور پر حرام کر دیئے گئے ہیں۔ اس معاملے میں اگر آپ اسلام کے معاشی قانون کا جائزہ لیں تو حرام طریقوں کی ایک طویل فہرست آپ کے سامنے آئے گی اور ان میں بہت سے وہ طریقے آپ کو ملیں گے جنہیں استعمال کر کے ہی موجودہ سرمایہ داری نظام میں لوگ کروڑ پتی بنتے ہیں۔اسلام ان سب طریقوں کو ازروئے قانون بند کرتا ہے اور آدمی کو صرف ان طریقوں سے دولت کمانے کی آزادی دیتا ہے جن سے وہ دوسروں کی کوئی حقیقی اور مفید، خدمت انجام دے کر انصاف کے ساتھ اس کا معاوضہ حاصل کرے۔
حلال ذرائع سے کمائی ہوئی دولت پر اسلام آدمی کے حقوق ملکیت تسلیم کرتا ہے۔ مگر یہ حقوق بھی غیر محدود نہیں ہیں۔ وہ آدمی کو پابند کرتا ہے کہ اپنی حلال کمائی کو خرچ بھی جائز ذرائع سے جائز راستوں ہی میں کرے ۔ ایسی قیود لگا دی ہیں جن سے آدمی ایک ستھری اور پاکیزہ زندگی تو بسر کرسکتا ہے مگر عیاشیوں میں دولت اڑا نہیں سکتا، نہ شان و شوکت کے اظہار میں اس قدر حد سے گزر سکتا ہے کہ دوسروں پر اس کی خدائی کا سکہ جمنے لگے۔ بے جا خرچ کی بعض صورتوں کو تو اسلامی قانون میں صراحتاً ممنوع ٹھیرایا گیا ہے، اور بعض دوسری صورتوں کی اگرچہ صراحت نہیں ہے لیکن اسلامی حکومت کو یہ اختیارات حاصل ہیں کہ اپنی دولت میں نار و اتصرّفات کرنے سے لوگوں کو حکما ً روک دے۔
جائز اور معقول اخراجات سے جو دولت آدمی کے پاس بچے اسے وہ جمع بھی کرسکتا ہے اور مزید دولت پیدا کرنے میں بھی لگا سکتا ہے ۔ مگر ان دونوں حقوق پر پابندیاں ہیں۔ جمع کرنے کی صورت میں اسے نصاب سے زائد دولت پر ڈھائی فیصدی سالانہ زکوٰۃ دینی ہوگی۔ کاروبار میں لگانا چاہے تو صرف جائز کاروبار ہی میں لگا سکتا ہے۔ جائز کاروبار خواہ آدمی خود کرے یا کسی دوسرے کو اپنا سرمایۂ روپے، زمین یا آلات و اسباب کی صورت میں دے کر نفع و نقصان کا شریک ہو جائے، یہ دونوں صورتیں جائز ہیں۔ ان حدود کے اندر کام کر کے اگر کوئی شخص کروڑ پتی بھی بن جائے تو اسلام کی نگاہ میں یہ کوئی قابلِ اعتراض چیز نہیں ہے، بلکہ خدا کا انعام ہے۔ لیکن جماعتی مفاد کے لیے وہ اس پر دو شرطیں عائد کرتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اپنے تجارتی مال پر زکوٰۃ اور زرعی پیداوار پر عشر ادا کرے ۔ دوسرے یہ کہ وہ اپنی تجارت یا صنعت یا زراعت میں جن لوگوں کے ساتھ شرکت یا اجرت کا معاملہ کرے ان سے انصاف کرے۔ یہ انصاف اگر وہ خود نہ کرے گا تو اسلامی حکومت اسے انصاف پر مجبور کرے گی۔
پھر جو دولت ان جائز حدود کے اندر فراہم ہو اس کو بھی اسلام زیادہ دیر تک سمٹا نہیں رہتے دیتا بلکہ اپنے قانونِ وراثت کے ذریعے سے ہر پشت کے بعد دوسری پشت میں اسے پھیلا دیتا ہے۔ اس معاملے میں اسلامی قانون کا رُجحان دنیا کے تمام دوسرے قوانین کے رجحانات سے مختلف ہے۔ دوسرے قوانین کوشش کرتے ہیں کہ جو دولت ایک دفعہ سمٹ چکی ہے وہ پشت در پشت سمٹی رہے۔ برعکس اس کے اسلام ایسا قانون بناتا ہے کہ جو دولت ایک شخص نے اپنی زندگی میں فراہم کی ہو وہ اس کے مرتے ہی اس کے قریبی عزیزوں میں بانٹ دی جائے، قریبی عزیز نہ ہوں تو دور کے رشتہ دار بحصۂ رسدی اس کے وارث ہوں، اور اگر کوئی دور پرے کا رشتے دار بھی نہ ہو تو پھر پوری مسلم سوسائٹی اس کی حقدار ہے۔ یہ قانون کسی بڑی سرمایہ داری و زمین داری کو مستقل اور دائم نہیں رہنے دیتا۔ پچھلی ساری پابندیوں کے باوجود اگر دولت کے سمٹائو سے کوئی خرابی پیدا ہو بھی جائے تو یہ آخری ضرب اس کا ازالہ کر دیتی ہے۔
(بہ اجازت ریڈیو پاکستان)

انسان کا معاشی مسئلہ اور اس کا اسلامی حل

(یہ مقالہ 30؍اکتوبر 1941ء کو ’’انجمن اسلامی تاریخ و تمدن‘‘، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی دعوت پر اسٹریچی ہال میں پڑھا گیا تھا۔ (مرتب)

موجودہ زمانے میں ملکوں اور قوموں کے ، اور بحیثیت مجموعی دنیا کے معاشی مسائل کو جو اہمیت دی جا رہی ہے، شاید اس سے پہلے، کم از کم نمایاں طور پر، ان کو اتنی اہمیت کبھی نہیں دی گئی۔ ’’نمایاں طور پر‘‘ کا لفظ میں اس لیے استعمال کر رہا ہو ں کہ حقیقت میں تو انسان کی زندگی میں اس کی معاش جس قدر اہمیت رکھتی ہے اس کے لحاظ سے ہر زمانے میں، افراد، جماعتوں، قوموں، ملکوں اور تمام انسانوں نے اس کی طرف بہرحال توجہ کی ہے، لیکن آج اس توجہ کو جس چیز نے زیادہ نمایاں کر دیا ہے وہ معاشیات کے نام سے ایک باقاعدہ علم کا بڑی بڑی کتابوں، بھاری بھر کم اصطلاحوں، اور پُر شوکت اداروں کے ساتھ موجود ہونا، اور ساتھ ہی ضروریاتِ زندگی کی پیدائش، فراہمی اور اکتساب کے طریقوں کا پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے چلے جانا ہے۔ ان اسباب سے آج معاشی مسائل پر بحث و گفتگو اور عالمانہ تحقیق کا وہ زور شور ہے کہ اس کے آگے انسانی زندگی کے سارے مسائل دب کر رہ گئے ہیں۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جس چیز پر دنیا بھر کی توجہات اس طرح مرکوز ہوگئی ہیں وہ بجائے سلجھنے اور صاف ہونے کے اور زیادہ الجھتی اور معمّا بنتی چلی جاتی ہے۔ علم المعیشت کی موٹی موٹی اصطلاحوں نے اور ماہرین معاشیات کی عالمانہ موشگافیوں نے عام لوگوں کو اس قدر دہشت زدہ کر دیا ہے کہ وہ غریب ان اعلیٰ درجے کی فنی بحثوں کو سن کر اس طرح اپنے معاشی مسئلہ کی ہولناکی سے مرعوب اور اس کے حل کی تمام توقعات سے مایوس ہو جاتے ہیں جس طرح ایک بیمار کسی ڈاکٹر کی زبان سے اپنی بیماری کا کوئی موٹا سالاطینی نام سن کر ہول کھا جاتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ جب مجھے ایسی سخت بیماری لاحق ہو گئی ہے تو میری جان کا اب اللہ ہی حافظ ہے۔ حالانکہ ان اصطلاحوں اور فنی بحثوں کا غلاف اتار کر سیدھے سادھے فطری طریقے سے دیکھا جائے تو انسان کا معاشی مسئلہ بڑی آسانی سے سمجھ میں آسکتا ہے، اور اس مسئلہ کے حل کی مختلف صورتیں جو دنیا میں اختیار کی گئی ہیں ان کے مفید اور مضر پہلو بھی بغیر کسی دقت کے دیکھے جاسکتے ہیں ، اور اس کے حل کی صحیح فطری صورت جو کچھ ہوسکتی ہے اس کے سمجھنے میں بھی کوئی مشکل باقی نہیں رہتی۔

جُزو پرستی کا فتنہ

اصطلاحات کے چکر اور فنی پیچیدگیوں کے طلسمات نے اس مسئلے کو جس قدر الجھایا ہے اس پر مزید الجھن اس وجہ سے بھی پیدا ہوگئی ہے کہ انسان کے معاشی مسئلے کو جو دراصل انسانی زندگی کے عظیم تر مسئلے کا ایک جز تھا، مجموعہ سے الگ کر کے بجائے خود ایک مستقل مسئلے کی حیثیت سے دیکھا جانے لگا، اور رفتہ رفتہ یہ لَے اتنی بڑھی کہ معاشی مسئلے ہی کو پوری زندگی کامسئلہ سمجھ لیا گیا۔ یہ پہلی غلطی سے بھی زیادہ بڑی غلطی ہے جس کی وجہ سے اس گتھی کا سلجھنا محال ہوگیا ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی امراضِ جگر کا ماہر انسانی جسم کے مجموعی نظام سے الگ کر کے، اور اس نظام میں جگر کی جو حیثیت ہے اس کو نظر انداز کر کے جگر کو بس جگر ہونے کی حیثیت سے دیکھنا شروع کر دے ، اور پھر اس دیکھنے میں اتنا مستغرق ہو کہ آخر کار اسے پورا انسانی جسم بس ایک جگر ہی جگر نظر آنے لگے۔ آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ اگر انسانی صحت کے سارے مسائل کو صرف جگریات سے حل کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ مسائل کس قدر ناقابلِ حل ہو جائیں گے اور آدمی بیچارے کی جان کس قدر شدید خطرے میں مبتلا ہو کر رہے گی۔ بس اسی پر قیاس کر لیجئے کہ جب معاشیات کو انسانیت کے مجموعے میں سے نکال کر الگ کر لیا جائے اور پھر اس کو عین انسانیت قرار دے کر سارے مسائل زندگی اسی سے حل کئے جانے لگیں تو بجز سرگشتگی و حیرانی کے اور کیا حاصل ہوسکتا ہے۔
دورِ جدید کے فتنوں میں سے یہ ماہرینِ خصوصی (specialists) کا فتنہ بھی ایک بڑا فتنہ ہے۔ زندگی اور اس کے مسائل پر مجموعی نظر کم سے کم تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ انسان مختلف علوم و فنون کے یک چشم ماہرین کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر رہ گیا ہے۔ کوئی طبیعیات کا ماہر ہے تو وہ ساری کائنات کا معما صرف طبیعیات کے بل پر حل کرنے لگتا ہے۔ کسی کے دماغ پر نفسیات کا تسلط ہے تو وہ اپنے نفسیاتی تجربات و مشاہدات کے اعتماد پر پورا فلسفۂ حیات مرتب کرنا چاہتا ہے۔ کسی اللہ کے بندے کی نظر صنفیات پر جم کر رہ گئی ہے تو وہ کہتا ہے کہ پوری انسانی زندگی بس شہوانیت (sex) کے محور پر گھوم رہی ہے، حتیٰ کہ خدا کا خیال بھی انسان کے دماغ میں اسی رستے سے آیا ہے۔ اس طرح جو لوگ معاشیات میں مستغرق ہیں وہ انسان کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ معاش تیری زندگی کا اصل مسئلہ ہے اور باقی سارے مسائل اسی جڑ کی شاخیں ہیں۔ حالانکہ اصل حقیقت جو کچھ ہے وہ یہ ہے کہ یہ سب ایک کل کے مختلف پہلو ہیں۔ اس کل کے اندر ان سب کا ایک خاص مقام ہے اور اس مقام کے لحاظ ہی سے ان کی اہمیت بھی ہے۔ انسان ایک جسم رکھتا ہے جو قوانین طبیعی کے ماتحت ہے۔ اس لحاظ سے انسان طبیعیات کا موضوع بھی ہے۔ مگر وہ نرا جسم ہی نہیں ہے کہ صرف طبیعیات سے اس کے سارے مسائل حل کئے جاسکیں۔ انسان ایک ذی حیات ہستی ہے جس پر حیاتی قوانین جاری ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے وہ علم الحیات (siology) کا موضوع بھی ہے۔ مگر وہ نرا ذی حیات نہیں ہے کہ صرف حیاتیات یا حیوانات (zoology) ہی سے اس کی زندگی کا پورا قانون اخذ کیا جاسکے۔ انسان کو زندہ رہنے کے لیے غذا کی، پوشش کی اور مکان کی ضرورت بھی لاحق ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے معاشیات اس کی زندگی کے ایک اہم شعبے پر حاوی ہے۔ مگر وہ محض ایک کھانے، پہننے اور گھر بنا کر رہنے والا حیوان ہی نہیں ہے کہ تنہا معاشیات ہی پر اس کے فلسفۂ حیات کی بنا رکھ دی جائے ۔ انسان اپنی نوع کو باقی رکھنے کے لیے تناسل پر بھی مجبور ہے جس کے لیے اس کے اندر ایک زبردست صنفی میلان پایا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے صنفیات کا علم بھی اس کی زندگی کے ایک اہم پہلو سے تعلق رکھتا ہے۔ مگر وہ بالکل نسل کشی کا آلہ ہی نہیں ہے کہ بس صنفیات ہی کی عینک لگا کر اسے دیکھا جانے لگے۔ انسان ایک نفس رکھتا ہے جس میں شعور و ادراک کی مختلف قوتیں اور جذبات و خواہشات کی مختلف طاقتیں ہیں۔اس لحاظ سے نفسیات اس کے وجود کے ایک بڑے شعبے پر محیط ہے۔لیکن وہ از سرتاپا نفس ہی نفس نہیں ہے کہ نفسیات کے علم سے اس کی زندگی کی پوری اسکیم بنائی جاسکے۔ انسان ایک متمدن ہستی ہے جو عین اپنی فطرت کے لحاظ سے مجبور ہے کہ دوسرے انسانوں کے ساتھ مل کر رہے۔ اس لحاظ سے اس کی زندگی کے بہت سے پہلو عمرانیات کے تحت آتے ہیں، لیکن متمدن ہستی ہونا اس کا تمام وجود نہیں ہے کہ محض علومِ عمران کے ماہرین بیٹھ کر اس کے لیے مکمل نظامِ حیات وضع کرسکیں۔ انسان ایک ذی عقل ہستی ہے جس کے اندر محسوسات سے ماوراء معقولات کی طلب بھی پائی جاتی ہے اور وہ عقلی اطمینان چاہتا ہے۔ اس لحاظ سے علوم عقلیہ اس کے ایک خاص مطالبہ کو پورا کرتے ہیں۔ مگر وہ پورا کا پورا عقل ہی نہیں ہے کہ محض معقولات کے بل بوتے پر اس کے لیے ایک لائحہ زندگی بنایاجاسکے۔ انسان ایک اخلاقی و روحانی وجود ہے جس میں بھلے اور برے کا امتیاز اور محسوسات و معقولات دونوں سے ماوراء حقیقتوں تک پہنچنے کا داعیہ بھی پایا جاتا ہے ۔ اس لحاظ سے اخلاقیات و روحانیات اس کے ایک اور اہم مطالبہ کو پورا کرتے ہیں۔ مگر وہ از سر تاپا اخلاق اور روح ہی نہیں ہے کہ مجرد اخلاقیات و روحانیات سے اس کے لیے پورا نظامِ زندگی بنایا جاسکے۔ دراصل انسان بیک وقت یہ سب کچھ ہے، اور ان تمام حیثیتوں کے علاوہ اس کی ایک حیثیت یہ بھی ہے کہ اپنے تمام وجود اور اپنی زندگی کے سارے شعبوں سمیت وہ کائنات کے اس عظیم الشان نظام کا ایک جز ہے اور اس کی زندگی کا ضابطہ لازمی طور پر اس امر کا تعین چاہتا ہے کہ اس کائنات میں اس کی حیثیت کیا ہے اور اس کا جز ہونے کی حیثیت سے اس کو کس طرح کام کرنا چاہیے۔ نیز اس کے لیے یہ بھی ناگزیر ہے کہ وہ اپنے مقصدِ زندگی کا تعین کرے اور اسی کے لحاظ سے فیصلہ کرے کہ اسے کس لیے کام کرنا ہے۔ یہ آخری دونوں سوال انسانی زندگی کے بنیادی سوال ہیں۔ انھی پر ایک فلسفۂ حیات بنتا ہے، پھر اس فلسفہ حیات کے تحت تمام وہ علوم جو دنیا اور انسان سے تعلق رکھتے ہیں اپنے اپنے دائرے کی معلومات فراہم کرتے ہیں اور کم و بیش ان سب سے مل کر ایک لائحہ عمل بنتا ہے جس پر انسانی زندگی کا پورا کارخانہ چلتا ہے۔
اب یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ اگر آپ اپنی زندگی کے کسی مسئلے کو سمجھنا چاہیں تو اس کے لیے یہ کوئی صحیح طریقہ نہیں ہے کہ آپ خوردبین لگا کر صرف اسی ایک مسئلہ پر نظر کو محدود کر کے دیکھیں، یا اس خاص شعبۂ حیات کے لیے جس سے وہ مسئلہ تعلق رکھتا ہے ایک قسم کا تعصب لیے ہوئے پورے مجموعۂ حیات پر نظر ڈالیں ۔ بلکہ صحیح فہم و ادراک کے لیے آپ کو پورے مجموعے کے اندر رکھ کر اسے دیکھنا ہوگا اور غیر متعصبانہ نگاہ سے دیکھنا ہوگا۔ اسی طرح اگر آپ زندگی کے توازن میں کوئی بگاڑ پائیں اور اس کو درست کرنا چاہیں تو یہ اور بھی زیادہ خطرناک ہے کہ آپ کسی ایک مسئلۂ زندگی کو کل مسئلۂ زندگی قرار دے کر سارے کارخانے کو اسی ایک پرزے کے گرد گھما دیں۔ اس حرکت سے تو آپ اور زیادہ عدمِ توازن پیدا کر دیں گے۔ صحیح طریقۂ اصلاح یہ ہے کہ غیر متعصبانہ نگاہ سے پورے نظامِ زندگی کو اس کے بنیادی فلسفے سے لے کر شاخوں کی تفصیلات تک دیکھئے اور تحقیق کیجئے کہ خرابی کس جگہ اور کس نوعیت کی ہے۔
انسان کے معاشی مسئلے کو سمجھنے اور صحیح طور پر حل کرنے میں جو مشکل پیش آ رہی ہے اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ اس مسئلے کو بعض لوگ صرف معاشیات کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بعض اس کی اہمیت میںمبالغہ کر کے اسے کل مسئلۂ زندگی قرار دے رہے ہیں۔ اور بعض اس سے بھی تجاوز کر کے زندگی کا بنیادی فلسفہ اور اخلاق اور تمدن و معاشرت کا سارا نظام معاشی بنیاد پر ہی قائم کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ اگر معاشیات ہی کو اساس ٹھیرایا جائے تو انسان کا مقصدِ زندگی اس بیل کے مقصدِ زندگی سے کچھ بھی مختلف نہیں ٹھیرتا جس کی تمام سعی وجہد کی غایت یہ ہے کہ ہری ہری گھاس کھا کر خوش و خرم اور تنومند ہو جائے اور کائنات میں اس کی یہ حیثیت قرار پاتی ہے کہ وہ بس چراگاہِ عالم میں ایک آزاد چرندہ ہے۔ اسی طرح اخلاقیات، روحانیات، معقولات، عمرانیات، نفسیات اور تمام دوسرے علوم کے دائروں میں بھی معاشی نقطۂ نظر کے غالب آ جانے سے نہایت شدید عدمِ توازن کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ان شعبہ ہائے زندگی کے لیے معاشیات میں کوئی بنیاد اس کے سوا نہیں ہے کہ اخلاق و روحانیت نفس پرستی اور مادہ پرستی میں، اور معقولات ، ماکولات میں تبدیل ہو جائیں، عمرانیات کی ساری ترتیب حقائق عمرانی کے بجائے کاروباری اغراض پر قائم ہو او ر نفسیات میں انسان کا مطالعہ محض ایک معاشی حیوان کی حیثیت سے کیا جانے لگے۔ کیا اس سے بڑھ کر انسانیت پر کوئی اور ظلم ہوسکتا ہے؟

اصل معاشی مسئلہ

اب اگر ہم اصطلاحی اور فنی پیچیدگیوں سے بچ کر ایک سیدھے سادھے طریقے سے دیکھیں تو انسان کا معاشی مسئلہ ہم کو یہ نظر آتا ہے کہ تمدن کی رفتارِترقی کو قائم رکھتے ہوئے کس طرح تمام انسانوں کو ان کی ضروریاتِ زندگی بہم پہنچنے کا انتظام ہو، اور کس طرح سوسائٹی میں ہر شخص کو اپنی استعداد اور قابلیت کے مطابق ترقی کرنے اور اپنی شخصیت کو نشوونما دینے اور اپنے کمالِ لائق تک پہنچنے کے مواقع حاصل رہیں۔
قدیم ترین زمانے میں انسان کے لیے معاش کا مسئلہ قریب قریب اتنا ہی سہل تھا جتنا حیوانات کے لیے ہے ۔ خدا کی زمین پر بے شمار سامانِ زندگی پھیلا ہوا ہے۔ ہر مخلوق کے لیے جس قدر رزق کی ضرورت ہے وہ بافراط مہیا ہے۔ ہر ایک اپنا رزق تلاش کرنے کے لیے نکلتا ہے اور جا کر خزائن رزق میں سے حاصل کرلیتا ہے۔ کسی کو نہ اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور نہ اس کا رزق کسی دوسری مخلوق کے قبضے میں ہے۔ تقریباً یہی حالت انسان کی بھی تھی کہ گیا اور قدرتی رزق ، خواہ وہ پھلوں کی شکل میں ہو یا شکار کے جانوروں کی شکل میں ، حاصل کرلیا۔ قدرتی پیداوار سے بدن ڈھانکنے کا انتظام کرلیا۔ زمین میں جہاں موقع دیکھا سر چھپانے اور پڑ رہنے کی ایک جگہ بنالی۔
لیکن خدانے انسان کو اس لیے پیدا نہیں کیا تھا کہ وہ زیادہ مدت تک اسی حال میں رہے۔ اس نے انسان کے اندر ایسے فطری داعیات رکھے تھے کہ وہ انفرادیت چھوڑ کر اجتماعی زندگی اختیار کرے اور اپنی صنعت سے اپنے لیے ان ذرائع زندگی سے بہتر ذرائع پیدا کرلے جو قدرت نے مہیا کیے تھے۔ عورت اور مرد کے درمیان دائمی تعلق کی فطری خواہش، انسانی بچے کا طویل مدت تک ماں باپ کی پرورش کا محتاج ہونا، اپنی نسل کے ساتھ انسان کی گہری دلچسپی، اور خونی رشتوں کی محبت، یہ وہ چیزیں تھیں جو اسے اجتماعی زندگی پر مجبور کرنے کے لیے خود فطرت ہی نے اس کے اندر رکھ دی تھیں۔ اسی طرح انسان کا خود رو پیداوار پر قانع نہ ہونا اور زراعت سے اپنے لیے خود غلہ پیدا کرنا، پتوں سے جسم ڈھانکنے پر قائع نہ ہونا اور اپنی صنعت سے اپنے لیے لباس تیار کرنا، غاروں اور بھٹوں میں رہنے پر مطمئن نہ ہونا اور اپنے لیے خود مکان بنانا، اپنی ضروریات کے لیے جسمانی آلات پر اکتفا نہ کرنا اور پتھر، لکڑی، لوہے وغیرہ کے آلات ایجاد کرنا، یہ بھی فطرت ہی نے اس کے اندر ودیعت کیا تھا اور اس کا بھی لازمی نتیجہ یہی تھا کہ وہ رفتہ رفتہ متمدن ہو۔ پس اگر انسان متمدن ہوا تو اس نے کوئی جرم نہیں کیا۔ بلکہ عین اس کی فطرت کا تقاضا اور اس کے خالق کا منشاء یہی تھا۔
تمدن کی پیدائش کے ساتھ چند چیزیں ناگزیر تھیں:
ایک یہ کہ انسان کی ضروریاتِ زندگی بڑھیں اور ہر شخص خود اپنی تمام ضروریات فراہم نہ کرسکے بلکہ اس کی کچھ ضرورتیں دوسروں سے اور دوسروں کی اس سے متعلق ہوں۔
دوسرے یہ کہ ضروریاتِ زندگی کا مبادلہ (exchange) عمل میں آئے اور رفتہ رفتہ مبادلۂ اشیاء کا ایک واسطہ (medium of exchange) مقرر ہو جائے۔
تیسرے یہ کہ اشیائے ضروریات تیار کرنے کے آلات اور حمل و نقل کے وسائل میں اضافہ ہو اور جتنی نئی چیزیں انسان کے علم میں آئیں ان سب سے وہ فائدہ اٹھاتا چلا جائے۔
چوتھے یہ کہ آدمی کو اس امر کا اطمینان حاصل ہو کہ وہ چیزیں جن کو اس نے خود اپنی محنت سے حاصل کیا ہے، وہ آلات جن سے وہ کام کرتا ہے، وہ زمین جس پر اس نے گھر بنایا ہے، وہ جگہ جس میں وہ اپنے پیشے کا کام کرتا ہے، یہ سب اسی کے قبضے میں رہیں گی اور اس کے بعد ان لوگوں کی طرف منتقل ہوں گی جو دوسروں کی بہ نسبت اس سے قریب تر ہیں۔
اس طرح مختلف پیشوں کا پیدا ہونا، خرید و فروخت، اشیاء کی قیمتوں کا تعین، روپے کا معیار قیمت کی حیثیت سے جاری ہونا، بین الاقوامی لین دین اور درآمد برآمد تک نوبت پہنچنا، نئے نئے آلات و وسائل پیدائش (means of prduction) کا استعمال میں آنا، یہ سب عین مقتضائے فطرت تھا اور ان میں سے کوئی چیز بھی گناہ نہ تھی کہ اب اس سے توبہ کرنے کی ضرورت ہو۔
مزید برآں تمدن کے نشوونما کے ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ:
۱۔ مختلف انسانوں کی قوتوں اور قابلیتوں کے درمیان جو فرق خود فطرت نے رکھا ہے اس کی وجہ سے بعض انسانوں کو اپنی اصلی ضرورت سے زیادہ کمانے کا موقع مل جائے اور بعض اپنی ضرورت کے مطابق اور بعض اس سے کم کمائیں۔
۲۔ وراثت کے ذریعے سے بھی بعض کو زندگی کا آغاز کرنے کے لیے اچھے وسائل مل جائیں اور بعض کم وسائل کے ساتھ اور بعض بے وسیلہ کار زارِ حیات میں قدم رکھیں۔
۳۔ قدرتی اسباب سے ہر آبادی میں ایسے لوگ موجود رہیں جو کسبِ معاش کے کام میں حصہ لینے اور اسبابِ زندگی کے مبادلہ میں شریک ہونے کے قابل نہ ہوں، مثلاً بچے، بوڑھے، بیمار، معذور وغیرہ۔
۴۔ بعض انسان خدمت لینے والے اور بعض خدمت انجام دینے والے ہوں اور اس طرح آزادانہ صنعت و تجارت اور زراعت کے علاوہ نوکری اور مزدوری کی صورتیں بھی پیدا ہو جائیں۔
یہ سب بھی بجائے خود انسانی تمدن کے فطری مظاہر اور قدرتی پہلو ہیں۔ ان صورتوں کا رونما ہونا بھی اپنی جگہ کوئی برائی یا گناہ نہیں ہے کہ ا ن کے استیصال کی فکر کی جائے۔ تمدن کی خرابی کے دوسرے اسباب سے جو برائیاں پیدا ہوئی ہیں ان کے اصل سبب کو نہ پا کر بہت سے لوگ گھبرا اٹھتے ہیں اور کبھی شخصی ملکیت کو، کبھی روپے کو، کبھی مشین کو، کبھی انسانوں کی فطری نامساوات، اور کبھی خود تمدن ہی کو کوسنے لگتے ہیں۔ لیکن درحقیقت یہ غلط تشخیص اور غلط تجویزِ علاج ہے۔ انسانی فطرت کے تقاضے سے تمدن میں جو نشوونما ہوتا ہے اور اس نشوونما سے فطرتاً جو صورتیں رونما ہوتی ہیں، ان کو روکنے کی ہر کوشش نادانی ہے اور اس کے نتیجے میں فلاح کے بجائے تباہی و نقصان کا زیادہ امکان ہے۔ انسان کا اصل معاشی مسئلہ یہ نہیں ہے کہ تمدن کی ترقی کو کس طرح روکا جائے ، یا اس کے قدرتی مظاہر کو کس طرح بدلا جائے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ تمدن کے نشوونما کی فطری رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے اجتماعی ظلم و بے انصافی کو کیسے روکا جائے، اور فطرت کا یہ منشاء کہ ہر مخلوق کو اس کا رزق پہنچے، کیوں کر پورا کیا جائے، اور ان رکاوٹوں کو کس طرح دور کیا جائے جن کی بدولت بہت سے انسانوں کی قوتیں اور قابلیتیں محض وسائل کے فقدان کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہیں۔

معاشی انتظام کی خرابی کا اصل سبب

اب ہمیں دیکھنا چاہیے کہ خرابی کے اصل اسباب کیا ہیں، اور خرابی کی نوعیت کیا ہے۔
نظامِ معیشت کی خرابی کا نقطۂ آغاز خود غرضی کا حدِّ اعتدال سے بڑھ جانا ہے۔ پھر دوسرے رذائل اخلاق اور ایک فاسد نظامِ سیاست کی مدد سے یہ چیز بڑھتی اور پھیلتی ہے، یہاں تک کہ پورے معاشی نظام کو خراب کر کے زندگی کے باقی شعبوں میں بھی اپنا زہریلا اثر پھیلا دیتی ہے۔ ابھی میں بیان کر چکا ہوں کہ شخصی ملکیت اور بعض انسانوں کا بعض کی بہ نسبت بہتر معاشی حالت میں ہونا، یہ دونوں عین فطرت کے مقتضیات تھے اور بجائے خود ان میں کوئی خرابی نہ تھی۔ اگر انسان کی تمام اخلاقی صفات کو توازن کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملتا اور خارج میں بھی ایک ایسا نظام سیاست موجود ہوتا جو زور و قوت کے ساتھ عدل قائم رکھتا، تو ان سے کوئی خرابی پیدا نہ ہوسکتی تھی۔ لیکن جس چیز نے انہیں خرابیوں کی پیدائش کا ذریعہ بنا دیا وہ یہ تھی کہ جو لوگ فطری اسباب سے بہتر معاشی حیثیت رکھتے تھے وہ خود غرضی، تنگ نظری، بد اندیشی، بخل، حرص، بددیانتی اور نفس پرستی میں مبتلا ہو گئے۔ شیطان نے انہیں یہ سمجھایا کہ تمہاری اصلی ضرورت سے زائد جو وسائلِ معیشت تمہیں ملتے ہیں، اور جن پر تمہیں حقوقِ مالکانہ حاصل ہیں، ان کے صحیح و معقول مصرف صرف دو ہیں۔ ایک یہ کہ ان کو اپنی آسائش، آرائش، لطف، تفریح اور خوش باشی میں صرف کرو ۔ دوسرے یہ کہ ان کو مزید وسائل معیشت پر قبضہ کرنے کے لیے استعمال کرو، اور بن پڑے تو انھی کے ذریعے سے انسانوں کے خدا اور اَن داتا بھی بن جائو۔

نفس پرستی اور تعیش

پہلی شیطانی تعلیم کا نتیجہ یہ ہوا کہ دولت مندوں نے جماعت کے ان افراد کا حق ماننے سے انکار کر دیا جو دولت کی تقسیم میں حصہ پانے سے محروم رہ جاتے ہیں یا اپنی اصلی ضرورت سے کم حصہ پاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بالکل جائز سمجھا کہ ان لوگوں کو فاقہ کشی اور خستہ حالی میں چھوڑ دیا جائے۔ ان کی تنگ نظری نے یہ نہ دیکھا کہ اس رویّے کی وجہ سے انسانی جماعت کے بہت سے افراد جرائم پیشہ بنتے ہیں، جہالت اور دنائت اخلاق میں مبتلا ہوتے ہیں، جسمانی کمزوری اور امراض کا شکار ہوتے ہیں، ان کی ذہنی و جسمانی قوتیں نشوونما پانے اور انسانی تہذیب و تمدن کے ارتقاء میں اپنا حصہ ادا کرنے سے رہ جاتی ہیں، اور اس سے وہ سوسائٹی بحیثیت مجموعی نقصان اٹھاتی ہے جس کے وہ خود بھی ایک جز ہیں۔ اسی پر بس نہیں بلکہ ان دولت مندوں نے اپنی اصلی ضروریات پر بے شمار اور ضروریات کا اضافہ کیا اور بہت سے انسانوں کو، جن کی قابلیتیں تمدن و تہذیب کی بہتر خدمات کے لیے استعمال ہوسکتی تھیں، اپنے نفسِ شریر کی خود ساختہ ضرورتوں کے پورا کرنے میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ان کے لیے زنا ایک ضرورت تھی جس کی خاطر فاحشہ عورتوں اور قرمساقوں اور دیّوثوں کا ایک لشکر فراہم ہوا۔ ان کے لیے غنا بھی ایک ضرورت تھی جس کی خاطر گویوں، نچنیوں، سازندوں، اور آلاتِ موسیقی تیار کرنے والوں کی ایک اور فوج تیار کی گئی۔ ان کے لیے بے شمار قسم کی تفریحات بھی ضروری تھیں جن کی خاطر مسخروں، نقالوں، ایکٹروں اور ایکٹرسوں، داستان گوئوں، مصوروں اور نقاشوں اور بہت سے فضول پیشہ وروں کا ایک اور گروہ کثیر مہیا کیا گیا۔ان کے لیے شکار بھی ضروری تھا جس کی خاطر بہت سے انسان کوئی بھلا کام کرنے کے بجائے اس کام پر لگائے گئے کہ جنگلوں میں جانوروں کو ہانکتے پھریں۔ ان کے لیے سرور و نشاط اور خود رفتگی بھی ایک ضرورت تھی جس کی خاطر بہت سے انسان شراب، کوکین، افیون اور دوسرے مسکّرات کی فراہمی میں مشغول کیے گئے۔ غرض اس طرح ان شیطان کے بھائیوں نے صرف اتنے ہی پر اکتفا نہ کیا کہ بے رحمی کے ساتھ سوسائٹی کے ایک بڑے حصے کو اخلاقی و روحانی اور جسمانی تباہی میں مبتلا ہونے کے لیے چھوڑ دیا ہو، بلکہ مزید ظلم یہ کیا کہ ایک اور بڑے حصے کو صحیح اور مفید کاموں سے ہٹا کر بیہودہ، ذلیل اور نقصان دِہ کاموں میں لگا دیا، اور تمدن کی رفتار کو راہ راست سے ہٹا کر ایسے راستوں کی طرف پھیر دیا جو انسان کو تباہی کی طرف لے جانے والے ہیں۔ پھر معاملہ اسی پر ختم نہیں ہوگیا ۔ انسانی سرمایہ (human capital) کو ضائع کرنے کے ساتھ انہوں نے مادی سرمایہ کو بھی غلط طریقہ سے استعمال کیا۔ ان کو محلات، کوٹھیوں، گلستانوں، تفریح گاہوں، ناچ گھروں وغیرہ کی ضرورت لاحق ہوئی، حتیٰ کہ مرنے کے بعد زمین میں لیٹنے کے لیے بھی ان کم بختوں کو ایکڑوں زمین اور عالی شان عمارتوں کی حاجت درپیش ہوئی، اور اس طرح وہ زمین،وہ سامان تعمیر اور وہ انسانی محنت، جو بہت سے بندگانِ خدا کے لیے سکونت اور معیشت کا انتظام کرنے کے لیے کافی ہوسکتی تھی، ایک ایک عیاش آدمی کے مستقر اور مستودع پر صرف ہو گئی۔ ان کو زیوروں، نفیس لباسوں، اعلیٰ درجے کے آلات و ظروف، زینت و آرائش کے سامانوں، شان دار سواریوں اور نہ معلوم کن کن چیزوں کی ضرورت پیش آئی۔ حتیٰ کہ ان ظالموں کے دروازے بھی قیمتی پردوں کے بغیر ننگے رہے جاتے تھے، ان کی دیواریں بھی سینکڑوں اور ہزاروں روپے کی تصویروں سے مزین ہوئے بغیر نہ رہ سکتی تھیں، ان کے کمروں کی زمین بھی ہزاروں روپے کے قالین اوڑھنا چاہتی تھی، ان کے کتوں کو بھی مخمل کے گدے اور سونے کے پٹے درکار تھے۔ اس طرح وہ بہت سا مواد اور وہ کثیر انسانی عمل جو ہزارہا انسانوں کا تن ڈھانکنے اور پیٹ بھرنے کے کام آسکتا تھا، ایک ایک شخص کی نفس پرستی کے لیے وقف ہوگیا۔

سرمایہ پرستی

یہ تو شیطانی رہنمائی کے ایک حصے کا نتیجہ تھا۔دوسری رہنمائی کے نتائج اس سے بھی زیادہ خراب نکلے۔ یہ اصول کہ اپنی اصلی ضرورت سے زائد جو وسائل معیشت کسی انسان کے قبضے میں آگئے ہوں ان کو وہ جمع کرتا چلا جائے اور پھر مزید وسائل معیشت حاصل کرنے کے لیے استعمال کرے، اول تو بداہتہً غلط ہے۔ ظاہر ہے کہ خدا نے معیشت کے اسباب جو زمین پر پیدا کیے ہیں یہ مخلوق کی حقیقی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے پیدا کیے ہیں۔ تمہارے پاس خوش قسمتی سے اگر کچھ زیادہ اسباب آگئے ہیں تو یہ دوسروں کا حصہ تھا جو تم تک پہنچ گیا۔ اسے جمع کرنے کہاں چلے ہو؟ اپنے گرد و پیش دیکھو۔ جو لوگ سامانِ زیست میں سے اپنا حصہ حاصل کرنے کے قابل نظر نہیں آتے، یا اسے حاصل کرنے میں ناکام رہ گئے ہیں، یا جنہوں نے اپنی ضرورت سے کم پایا ہے، سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کا حصہ تمہارے پاس پہنچا ہے۔ وہ حاصل نہیں کرسکتے تو تم ان تک پہنچا دو ۔ یہ صحیح کام کرنے کے بجائے اگر تم ان اسباب کو اور زیادہ اسبابِ معاش حاصل کرنے کے لیے استعمال کرو گے تو یہ غلط کام ہو گا، کیوں کہ بہرحال وہ مزید اسباب جو تم حاصل کرو گے تمہاری ضرورت سے اور بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر ان کے حصول کی کوشش بجز اس کے کہ تمہاری حرص و ہوس کی تسکین کا ذریعہ ہو اور کیا مفید پہلو رکھتی ہے؟ حصولِ معاش کی سعی میں تم اپنے وقت، محنت اور قابلیت کا جتنا حصہ اپنی ضروریات زندگی فراہم کرنے کے لیے صرف کرتے ہو وہ تو صحیح اور معقول مصرف میں صرف ہوتا ہے ، مگر اس واقعی ضرورت سے زائد ان چیزوں کو اس کام میں صرف کرنے کے معنی یہ ہیں کہ تم معاشی حیوان بلکہ دولت پیدا کرنے کی مشین بن رہے ہو۔ حالانکہ تمہارے وقت و محنت اور ذہنی و جسمانی قوتوں کے لیے کسبِ معاش کے سوا اور زیادہ بہتر مصرف بھی ہیں۔ پس عقل اور فطرت کے لحاظ سے یہ اصول ہی سرے سے غلط ہے جو شیطان نے اپنے شاگردوں کو سکھایا ہے ۔ لیکن اس اصول پر جو عملی طریقے بنے ہیں وہ تو اس قدر قابلِ لعنت اور ان کے نتائج اتنے ہولناک ہیں کہ ان کا صحیح تخمینہ بھی مشکل ہے۔
زائد از ضرورت وسائل معیشت کو مزید وسائل قبضہ میں لانے کے لیے استعمال کرنے کی دو صورتیں ہیں:
ایک یہ کہ ان وسائل کو سود پر قرض دیا جائے۔
دوسرے یہ کہ انہیں تجارتی اور صنعتی کاموں میں لگایا جائے۔
یہ دونوں طریقے اپنی نوعیت میں کچھ ایک دوسرے سے مختلف ضرور ہیں، لیکن دونوں کے مشترک عمل کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سوسائٹی دو طبقوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ ایک وہ قلیل طبقہ جو اپنی ضرورت سے زیادہ وسائلِ معاش رکھتا ہے اور اپنے وسائل کو مزید وسائل کھینچنے کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ دوسرا وہ کثیر طبقہ جو اپنی ضرورت کے مطابق یا اس سے کم وسائل رکھتا ہے یا بالکل نہیں رکھتا۔ ان دونوں طبقوں کے مفاد نہ صرف یہ کہ ایک دوسرے کے خلاف ہوتے ہیں بلکہ لامحالہ ان کے درمیان کش مکش اور نزاع برپا ہوتی ہے، اور یوں انسان کا معاشی انتظام جس کو فطرت نے مبادلہ پر مبنی کیا تھا، محاربہ (antagomistic competition) پر قائم ہو کر رہ جاتا ہے۔

نظامِ محاربہ

پھر یہ محاربہ جتنا جتنا بڑھتا جاتا ہے، مال دار طبقہ تعداد میں کم اور نادار طبقہ زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ کیوں کہ اس محاربے کی نوعیت ہی کچھ اس قسم کی ہے کہ جو زیادہ مال دار ہے وہ اپنے مال کے زور سے کم مال دار لوگوں کے وسائل بھی کھینچ لیتا ہے اور اسے نادار طبقے میں دھکیل دیتا ہے۔ اس طرح زمین کے اسبابِ معاش روز بروز کم اور کم تر حصہ آبادی کے پاس سمٹتے چلے جاتے ہیں اور روز بروز زیادہ اور زیادہ حصۂ آبادی مفلس یا مال داروں کا دستِ نگر ہوتا جاتا ہے۔
ابتدائً یہ محاربہ چھوٹے پیمانے پر شروع ہوتا ہے۔ پھر بڑھتے بڑھتے یہ ملکوں اور قوموں تک پھیلتا ہے۔ یہاں تک کہ ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر بھی ہَلْ مِنْ مَزِیْد ہی کی صدا لگاتا ہے ۔ اس کی صورت یہ ہے کہ جب ایک ملک کا عام دستور یہ ہو جاتا ہے کہ جن لوگوں کے پاس اپنی ضرورت سے زائد مال ہو وہ اپنے فاضل مال کو نفع آور کاموں میں لگا دیں اور یہ دولت اشیائے ضرورت کی تیاری پر صرف ہو ، تو ان کی لگائی ہوئی پوری رقم کا فائدے سمیت وصول ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ جس قدر اشیاء ملک میں تیار ہوتی ہیں وہ سب کی سب اسی ملک میں خرید لی جائیں، مگر عملاً ایسا نہیں ہوتا اور درحقیقت ہو نہیں سکتا، کیونکہ ضرورت سے کم مال رکھنے والوں کی قوت خریداری کم ہوتی ہے، اس لیے وہ ضرورت مند ہونے کے باوجود ان چیزوں کو خرید نہیں سکتے اور ضرورت سے زیادہ مال رکھنے والے اس فکر میں ہوتے ہیں کہ جتنی آمدنی ہو اس میں سے ایک حصہ پس انداز کر کے مزید نفع آور کاموں میں لگائیں، اس لیے وہ اپنا سب مال خریداری پر صرف نہیں کرتے۔ اس طرح لازمی طور پر تیار کردہ مال کا ایک حصہ فروخت ہوئے بغیر رہ جاتا ہے، جس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ مال داروں کی لگائی ہوئی رقم کا ایک حصہ بازیافت ہونے سے رہ گیا اور یہ رقم ملک کی حرفت (industry) کے ذمے قرض رہی ۔ یہ صرف ایک چکر کا حال ہے۔ آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ایسے جتنے چکر ہوں گے ان میں سے ہر ایک میں مال دار طبقہ اپنی حاصل شدہ آمدنی کا ایک حصہ پھر نفع آور کاموں پر لگاتا چلا جائے گا، اور جو رقمیں بازیافت ہونے سے رہ جاتی ہیں ان کی مقدار ہر چکر میں بڑھتی چلی جائے گی، اور ملک کی حرفت پر ایسے قرض کا باردوگنا، چوگنا، ہزار گنا ہوتا چلا جائے گا، جس کو خود وہ ملک کبھی ادا نہیں کرسکتا۔ اس طرح ایک ملک کو دیوالیہ پن کا جو خطرہ لاحق ہوتا ہے اس سے بچنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں کہ جتنا مال ملک میں فروخت ہونے سے رہ جائے اسے دوسرے ملکوں میں لے جا کر فروخت کیا جائے، یعنی ایسے ملک تلاش کئے جائیں جن کی طرف یہ ملک اپنے دیوالیہ پن کو منتقل کر دے۔
یوں یہ محاربہ ملکی حدود سے گزر کر بین الاقوامی دائرے میں قدم رکھتا ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ کوئی ایک ملک ہی ایسا نہیں ہے جو اس شیطانی نظامِ معیشت پر چل رہا ہو، بلکہ دنیا کے اکثر ممالک کا یہی حال ہے کہ وہ اپنے آپ کو دیوالیہ پن سے بچانے کے لیے ، یا بالفاظ دیگر اپنے دیوالے کو کسی اور ملک پر ڈال دینے کے لیے مجبور ہوگئے ہیں۔ اس طرح بین الاقوامی مسابقت شروع ہو جاتی ہے اور وہ چند صورتیں اختیار کرتی ہے۔
اولاً، ہر ملک بین الاقوامی بازار میں اپنا مال بیچنے کے لیے کوشش کرتا ہے کہ کم سے کم لاگت پر زیادہ سے زیادہ مال تیار کرے۔ اس غرض سے کارکنوں کے معاوضے بہت کم رکھے جاتے ہیں اور اس معاشی کاروبار میں ملک کی عام آبادی اتنا کم حصہ پاتی ہے کہ اس کی اصلی ضروریات بھی پوری نہیں ہوتیں۔
ثانیاً، ہر ملک اپنے حدود میں اور اپنے حلقۂ اثر میں دوسرے ملک کا مال آنے پر بندشیں عائد کرتا ہے، اور خام پیداوار کے جتنے وسائل اس کے زیر اختیار ہیں ان پر بھی پہرے بٹھاتا ہے، تا کہ دوسرا ملک ان سے فائدہ نہ اٹھا سکے ۔ اس سے بین الاقوامی کش مکش پیدا ہوتی ہے جس کا انجام جنگ پر ہوتا ہے۔
ثالثا ً، ایسے ملک جو اس دیوالیہ پن کی مصیبت کو اپنے سر چپکے جانے سے روک نہیں سکتے، ان پر یہ لٹیرے ٹوٹ پڑتے ہیں اور صرف اپنے ملک کے بچے کھچے مال ہی کو ان میں فروخت کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ جس دولت کو خود اپنے ہاں نفع آور کاموں پر لگانے کی گنجائش نہیں ہوتی اسے بھی ان ممالک میں لے جا کر لگاتے ہیں۔ اس طرح آخر کار ان ممالک میں بھی وہی مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے جو ابتدائً خود روپیہ لگانے والے ملکوں میں پیدا ہوا تھا ۔ یعنی جس قدر روپیہ وہاں لگایا جاتا ہے وہ سارے کا سارا وصول نہیں ہوسکتا، اور اس روپے سے جتنی بھی آمدنی ہوتی ہے، اس کا ایک بڑا حصہ پھر مزید نفع آور کاموں میں لگا دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ ان ملکوں پر قرض کا بار اتنا بڑھتا چلا جاتا ہے کہ اگر خود ان ملکوں کوبیچ ڈالا جائے تب بھی کل لگائی ہوئی رقم بازیافت نہیں ہوسکتی ۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ چکر یونہی چلتا رہے تو بالآخر تمام دنیا دیوالیہ ہو جائے گی اور رُوئے زمین پر کوئی خطہ ایسا باقی نہ رہے گا جس کی طرف اس دیوالیہ پن کی مصیبت کو منتقل کیا جاسکے، حتیٰ کہ پھر ضرورت پیش آئے گی، کہ مشتری اور مریخ اور عطارد میں روپیہ لگانے اور زائد مال کو کھپانے کے لیے مارکیٹ تلاش کیے جائیں۔

چند سری نظام

اس عالمگیر محاربے میں بینکروں، آڑھتیوں اور صنعت و تجارت کے رئیسوں کی ایک مٹھی بھر جماعت تمام دنیا کے معاشی اسباب و وسائل پر اس طرح حاوی ہو گئی ہے کہ ساری نوعِ انسانی ان کے مقابلہ میں بالکل بے بس ہے۔ اب کسی شخص کے لیے یہ قریب قریب ناممکن ہوگیا ہے کہ اپنے ہاتھ پائوں کی محنت سے اور اپنے دماغ کی قابلیت سے کوئی آزادانہ کام کرسکے اور خدا کی زمین پر جو اسبابِ زندگی موجود ہیں ان میں سے خود کوئی حصہ حاصل کرسکے۔ چھوٹے تاجر، چھوٹے صنّاع، چھوٹے زراعت پیشہ کے لیے آج دنیا کے عرصۂ حیات میں ہاتھ پائوں مارنے کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔ سب کے سب مجبور ہیں کہ معاشی کاروبار کے ان بادشاہوں کے غلام اور نوکر اور مزدور بن کر رہیں، اور یہ لوگ کم سے کم سامانِ زیست کے معاوضے میں ان کے جسم و دماغ کی ساری قوتیں اور ان کا سارا وقت لے لیتے ہیں، جس کی وجہ سے پوری نوع انسانی بس ایک معاشی حیوان بن کر رہ گئی ہے۔ بہت کم خوش قسمت انسانوں کو اس معاشی کشمکش میں اتنی فرصت نصیب ہوتی ہے کہ اپنے اخلاقی، عقلی، روحانی ارتقاء کے لیے بھی کچھ کرسکیں، اور پیٹ بھرنے سے بالاتر بھی کسی مقصد کی طرف توجہ کرسکیں، اور اپنی شخصیت کے ان عناصر کو بھی نشوونما دے سکیں جو تلاشِ معاش کے سوا دوسری پاکیزہ تر اغراض کے لیے خدا نے ان کے اندر ودیعت کئے تھے۔ درحقیقت اس شیطانی نظام کی بدولت معاشی کشمکش اس قدر سخت ہو جاتی ہے کہ زندگی کے تمام دوسرے شعبے اس سے مائوف و معطل ہو جاتے ہیں۔
انسان کی مزید بدنصیبی یہ ہے کہ دنیا کے اخلاقی فلسفے، سیاسی نظامات اور قانونی اصول بھی اس شیطانی نظامِ معیشت سے متاثر ہوگئے ۔مشرق سے مغرب تک ہر طرف اخلاقی معلمین کفایت شعاری پر زور دے رہے ہیں۔ جتنا کمانا اتنا ہی خرچ کر دینا ایک حماقت اور اخلاقی عیب سمجھا جاتا ہے، اور ہر شخص کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ اپنی آمدنی میں سے کچھ نہ کچھ پس انداز کر کے بینک میں ڈیپازٹ رکھے، یا انشورنس پالیسی خریدے، یا کمپنیوں کے شیئرز حاصل کرے۔ گویا جو چیز انسانیت کو تباہ کرنے والی ہے وہی اخلاق کی نظر میں معیارِ خوبی بن گئی ہے ۔ رہی سیاسی طاقت تو وہ عملاً بالکل ہی ایک شیطانی نظام کے قبضے میں آ چکی ہے۔ وہ بجائے اس کے کہ اس ظلم سے انسان کو بچائے، ظلم کی آلۂ کار بنی ہوئی ہے اور ہر طرف حکومت کی گدیوں پر شیطان کے ایجنٹ بیٹھے نظر آتے ہیں ۔ اسی طرح دنیا کے قوانین بھی اسی نظام کے زیر اثر مرتب ہو رہے ہیں ۔ ان قوانین نے عملاً افراد کو پوری آزادی دے رکھی ہے کہ جس طرح چاہیں جماعت کے مفاد کے خلاف اپنی معاشی اغراض کے لیے جدوجہد کریں۔ روپیہ کمانے کے طریقوں میں جائز اور ناجائز کا امتیاز قریب قریب مفقود ہے۔ ہر وہ طریقہ جس سے کوئی شخص دوسروں کو لوٹ کر یا تباہ کر کے مال دار بن سکتا ہو، قانون کی نظر میں جائز ہے۔ شراب بنایئے اور بیچئے، بداخلاقی کے اڈے قائم کیجئے، شہوانی فلم بنایئے، فحش مضامین لکھیے، جذبات کو بھڑکانے والی تصویریں شائع کیجئے، سٹّے کا کاروبار پھیلایئے، سودخوری کے ادارے قائم کیجئے، قمار بازی کی نئی نئی صورتیں نکالیے، غرض جو چاہیے کیجئے، قانون نہ صرف آپ کو اس کی اجازت دے گا، بلکہ الٹی آپ کے حقوق کی حفاظت کرے گا۔ پھر جو دولت اس طریقے سے سمٹ کر ایک شخص کے پاس جمع ہو گئی ہو، قانون یہ چاہتا ہے کہ وہ اس کے مرنے کے بعد بھی ایک ہی جگہ سمٹی رہے۔ چنانچہ اولادِ اکبر کے وارث ہونے کا طریقہ (rule of primogeniture)، اور بعض قوانین میں متبنیٰ بنانے کا طریقہ، اور مشترک خاندان کا طریقہ (joint family system)، ان سب کی غرض یہی ہے کہ خزانے کا ایک سانپ جب مرے تو دوسرا سانپ اس پر بٹھا دیا جائے، اور اگر بدقسمتی سے اس سانپ نے کوئی سپولیا نہ چھوڑا ہو تو کہیں اور سے ایک سپولیا حاصل کیا جائے تاکہ دولت کے اس سمٹائو میں فرق نہ آنے پائے۔
یہ اسباب ہیں جن سے نوعِ انسانی کے لیے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے کہ خدا کی اس زمین پر ہر شخص کو سامانِ زیست بہم پہنچنے کا انتظام کس طرح کیا جائے اور ہر شخص کو اپنی استعداد کے مطابق ترقی کرنے اور اپنی شخصیت کو نشوونما دینے کے مواقع کیسے ملیں۔

اِشتراکیت کا تجویز کردہ حل

اس مسئلے کے حل کی ایک صورت اشتراکیت نے تجویز کی ہے، اور وہ یہ ہے کہ پیدائش دولت کے وسائل افراد کی ملکیت سے نکال کر جماعتی ملکیت بنا دیئے جائیں، اور ضروریات زندگی کو افراد پر تقسیم کرنے کا انتظام بھی جماعت ہی کے سپرد ہو۔ بظاہر یہ حل نہایت معقول نظر آتا ہے، لیکن اس کے عملی پہلوئوں پر آپ جس قدر غور کریں گے، اسی قدر آپ پر اس کے نقائص کھلتے چلے جائیں گے، یہاں تک کہ آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ آخرکار اس کے نتائج بھی اتنے ہی خراب ہیں جتنے اس بیماری کے نتائج ہیں جس کا علاج کرنے کے لیے اسے اختیار کیا گیا ہے۔

نیا طبقہ

یہ بالکل ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ وسائل پیدائش سے کام لینے اور پیداوار کو تقسیم کرنے کا انتظام خواہ نظری طور پر (theoratically) پوری جماعت کے حوالے کر دیا جائے، مگر عملاً یہ کام ایک مختصر سی ہیئتِ انتظامیہ (executive) ہی کے سپرد کرنا ہوگا۔ یہ مختصر گروہ ابتدائً جماعت (community) ہی کا منتخب کردہ سہی، لیکن جب تمام ذرائع معاش اس کے قبضے میں ہوں گے اور اسی کے ہاتھوں سے لوگوں تک پہنچ سکیں گے ، تو تمام آبادی اس کی مٹھی میں بے بس ہو جائے گی۔ اس کی رضا کے خلاف ملک میں کوئی دم تک نہ مار سکے گا۔ اس کے مقابلہ میں کوئی ایسی منظم طاقت ابھر ہی نہ سکے گی جو اس کو منصبِ اقتدار سے ہٹا سکے ۔ اس کی نظر کسی سے پھر جانے کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ قصور وار بندہ اس سرزمین میں زندگی بسر کرنے کے تمام وسائل سے محروم ہو جائے ، کیوں کہ سارے وسائل پر اس مختصر گروہ کا تسلط ہوگا۔ مزدور میں اتنا یارانہ ہوگا کہ اس کے انتظام سے ناراض ہو تو اسٹرائک کر دے، کیوں کہ وہاں بہت سے کارخانہ دار نہ ہوں گے کہ ایک کے در سے اٹھے تو دوسرے کے دروازے پر چلا جائے، بلکہ سارے ملک میں ایک ہی کارخانہ دار ہوگا، اور وہی حکمران بھی ہوگا ، اور اس کے خلاف کسی رائے عام کی ہمدردی بھی حاصل نہ کی جاسکے گی۔ اس طرح یہ صورت جس نتیجے پر جا کر ختم ہوگی وہ یہ ہے کہ تمام سرمایہ داروں کو کھا کر ایک بڑا سرمایہ دار، تمام کارخانہ داروں اور زمینداروں کو کھا کر ایک بڑا کارخانہ دار اور زمیندار لوگوں پر مسلط ہو جائے، اور وہی بیک وقت زار اور قیصر بھی ہو۔

نظامِ جبر

اول تو یہ اقتدار، اور ایسا مطلق اقتدار وہ چیز ہے جس کے نشے میں بہک کر ظالم و جابر بننے سے رک جانا انسان کے لیے بہت مشکل ہے، خصوصاً جبکہ وہ اپنے اوپر کسی خدا کا اور اس کے سامنے جواب دہی کا اعتقاد بھی نہ رکھتا ہو۔ تاہم اگر یہ مان لیا جائے کہ ایسے اقتدارِ مطلق پر قابض ہونے کے بعد بھی یہ مختصر گروہ آپے سے باہر نہ ہوگا اور عدل و انصاف ہی کے ساتھ کام کرے گا، تب بھی ایسے ایک نظام میں افراد کے لیے اپنی شخصیت کو نشوونما دینے کا کوئی موقع نہیں ہوسکتا ۔ انسانی شخصیت اپنے ارتقاء کے لیے سب سے بڑھ کر جس چیز کی محتاج ہے وہ یہ ہے کہ اسے آزدی حاصل ہو، کچھ وسائلِ کار اس کے اپنے ہاتھ میں ہوں جنھیں وہ اپنے اختیار سے استعمال کرسکے، اور ان وسائل پر اپنے رجحان کے مطابق کام کر کے اپنی مخفی قوتوں کو ابھارے اور چمکائے۔ مگر اشتراکی نظام میں اس کا کوئی امکان نہیں۔ اس میں وسائل افراد کے اختیار میں نہیں رہتے بلکہ جماعت کی ہیئت انتظامیہ کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں، اور وہ ہیئت انتظامیہ جماعتی مفاد کا جو تصور رکھتی ہے اسی کے مطابق ان وسائل کو استعمال کرتی ہے۔ افراد کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ اگر وہ ان وسائل سے استفادہ کرنا چاہیں تو اس نقشے کے مطابق کام کریں، بلکہ اسی نقشے کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالے جانے کے لیے ان منتظمین کے سپرد کر دیں، جو انہوں نے جماعتی مفاد کے لیے تجویز کیا ہے۔ یہ چیز عملاً سوسائٹی کے تمام افراد کو چند انسانوں کے قبضے میں اس طرح دے دیتی ہے کہ گویا وہ سب بے روح موادِ خام ہیں۔ اور جیسے چمڑے کے جوتے اور لوہے کے پرزے بنائے جاتے ہیں اس طرح وہ چند انسان مختار ہیں کہ ان سب سے انسانوں کو اپنے نقشہ کے مطابق ڈھالیں اور بنائیں۔

شخصیت کا قتل

انسانی تمدن و تہذیب کے لیے اس کا نقصان اس قدر زیادہ ہے کہ اگر بالفرض اس نظام کے تحت ضروریاتِ زندگی انصاف کے ساتھ تقسیم بھی ہوں تو اس کا فائدہ اس کے نقصان کے مقابلے میں ہیچ ہو جاتا ہے، تمدن و تہذیب کی ساری ترقی منحصر ہے اس پر کہ مختلف انسان جو مختلف قسم کی قوتیں اور قابلیتیں لے کر پیدا ہوتے ہیں ان کو پوری طرح نشوونما پانے اور پھر اپنا اپنا حصہ اس مشترک زندگی میں ادا کرنے کا موقع ملے۔ یہ بات ایسے نظام میں حاصل نہیں ہوسکتی جس کے اندر انسانوں کا پلاننگ (planning) کیا جاتا ہو۔ چند انسان، خواہ وہ کتنے ہی لائق اور کتنے ہی نیک اندیش ہوں، بہرحال اتنے علیم و خبیر نہیں ہوسکتے کہ لاکھوں اور کروڑوں آدمیوں کی خلقی قابلیتوں اور ان کے فطری رجحانات کا صحیح اندازہ کرسکیں اور پھر ان کے نشوونما کا ٹھیک ٹھیک راستہ معین کرسکیں۔ وہ اس میں علم کے اعتبار سے بھی غلطی کریں گے، اور جماعتی مفاد یا جماعتی ضروریات کے متعلق جو تخمینہ ان کے ذہن میں ہوگا اس کے لحاظ سے بھی یہ چاہیں گے کہ ان کے زیر اثر انسانوں کی جتنی آبادی ہو وہ ان کے نقشہ پر ڈھال دی جائے۔ اس سے تمدن کی گونا گونی ختم ہو کر ایک بے روح یکسانی میں تبدیل ہو جائے گی۔ اس سے تمدن کا فطری ارتقاء بند اور ایک طرح کا مصنوعی اور جعلی ارتقاء شروع ہو جائے گا۔ اس سے انسانی قوتیں ٹھٹھرتی چلی جائیں گی اور بالآخر ایک شدید ذہنی و اخلاقی انحطاط رونما ہوگا۔ انسان بہرحال چمن کی گھاس اور بیل بوٹے نہیں ہیں کہ ایک مالی انہیں کاٹ چھانٹ کر مرتب کرے اور وہ اسی کے نقشے پر بڑھتے اورگھٹتے رہیں۔ ہر آدمی اپنا ایک تشخص رکھتا ہے جو اپنی فطری رفتار پر بڑھنا چاہتا ہے۔ تم اس کی یہ آزادی سلب کرو گے تو وہ تمہارے نقشے پر نہیں بڑھے گا بلکہ بغاوت کرے گا یا مرجھا کر رہ جائے گا۔
اشتراکیت کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ معاش کے مسئلے کو مرکزی مسئلہ قرار دے کر پوری انسانی زندگی کو اس کے گرد گھما دیتی ہے۔ زندگی کے کسی مسئلے پر بھی اس کی نظر مجرد تحقیقی نظر نہیں ہے۔ بلکہ سارے مسائل کو وہ ایک گہرے معاشی تعصب کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ما بعد الطبیعیات، اخلاق، تاریخ، سائنس، علوم عمران، غرض ہر چیز اس کے دائرے میں معاشی نقطۂ نظر سے مغلوب و متاثر ہے اور اس یک رُخے پن کی وجہ سے زندگی کا پورا توازن بگڑ جاتا ہے۔

فاشزم کا حل

پس درحقیقت اشتراکی نظریہ انسان کے معاشی مسئلے کا کوئی صحیح فطری حل نہیں ہے بلکہ ایک غیر فطری مصنوعی حل ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا حل فاشزم اور نیشنل سوشلزم نے پیش کیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ وسائلِ معیشت پر شخصی تصرف تو باقی رہے، مگر جماعتی مفاد کی خاطر اس تصرف کو ریاست کے مضبوط کنٹرول میں رکھا جائے۔ لیکن عملاً اس کے نتائج بھی اشتراکی نظریے کے نتائج سے کچھ زیادہ مختلف نظر نہیں آتے ۔ اشتراکیت کی طرح یہ نظریہ بھی فرد کو جماعت میں گم کر دیتا ہے، اور اس کی شخصیت کے آزادانہ نشوونما کا کوئی موقع باقی نہیں چھوڑتا۔ مزید برآں جو ریاست اس شخصی تصرف کو قابو میں رکھتی ہے وہ اتنی ہی مستبد اور جابر و قاہر ہوتی ہے جتنی اشتراکی ریاست۔ ایک بڑے ملک کی تمام حرفت کو اپنے پنجۂ اقتدار میں رکھنے اور اپنے دیئے ہوئے نقشے پر کام کرنے کے لیے مجبور کرنا بڑی زبردست قوتِ قاہرہ چاہتا ہے، اور جس ریاست کے ہاتھ میں ایسی قاہرانہ طاقت ہو اس کے ہاتھ میں ملک کی آبادی کا بے بس ہو جانا اور حکمرانوں کا غلام بن کر رہ جانا بالکل یقینی ہے۔

اسلام کا حل

اب میں یہ بتائوں گا کہ اسلام کس طرح اس مسئلے کو حل کرتا ہے۔

بنیادی اصول

اسلام نے تمام مسائل حیات میں اس قاعدے کو ملحوظ رکھا ہے کہ زندگی کے جو اصول فطری ہیں ان کو جوں کا توں برقرار رکھا جائے ، اور فطرت کے راستے سے جہاں انحراف ہوا ہے وہیں سے اس کو موڑ کر فطرت کے راستے پر ڈال دیا جائے۔ دوسرا اہم قاعدہ جس پر اسلام کی تمام اجتماعی اصلاحات مبنی ہیں وہ یہ ہے کہ صرف خارجی طور پر نظامِ تمدن میں چند ضابطے جاری کرنے ہی پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ سب سے زیادہ زور اخلاق اور ذہنیت کی اصلاح پر صرف کیا جائے، تا کہ نفسِ انسانی میں خرابی کی جڑ کٹ جائے۔ تیسرا اساسی قاعدہ جس کا نشان آپ کو تمام اسلامی نظامِ شریعت میں ملے گا، یہ ہے کہ حکومت کے جبر اور قانون کے زور سے صرف وہیں کام لیا جائے جہاں ایسا کرنا ناگزیر ہو۔
ان تین قاعدوں کو ملحوظ رکھ کر اسلام زندگی کے معاشی شعبے میں ان تمام غیر فطری طریقوں کو زیادہ سے زیادہ اخلاقی اصلاح اور کم سے کم حکومتی مداخلت کے ذریعے سے مٹاتا ہے جو شیطانی اثر سے انسان نے اختیار کئے ہیں۔ یہ امر کہ انسان اپنی معاش کے لیے جدوجہد کرنے میں آزاد ہو، یہ بات کہ آدمی اپنی محنت سے جو کچھ حاصل کرے اس پر اسے حقوقِ مالکانہ حاصل ہوں، اور یہ کہ انسانوں کے درمیان ان کی قابلیتوں اور ان کے حالات کے لحاظ سے فرق و تفاوت ہو، ان سب چیزوں کو اسلام اس حد تک تسلیم کرتا ہے جس حد تک یہ منشائے فطرت کے مطابق ہیں۔ پھر وہ ان پر ایسی پابندیاں عائد کرتا ہے جو انہیں حدِ فطرت سے متجاوز اور ظلم و بے انصافی کا موجب نہ بننے دیں۔

حصولِ دولت

سب سے پہلے دولت کمانے کے سوال کو لیجئے۔ اسلام نے انسان کے اس حق کو تسلیم کیا ہے کہ خدا کی زمین میں وہ اپنی طبیعت کے رجحان اور اپنی استعداد و قابلیت کے مطابق خود اپنی زندگی کا سامان تلاش کرے۔ لیکن وہ اس کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنی معاش حاصل کرنے کے لیے اخلاق کو خراب کرنے والے یا تمدن کے نظام کو بگاڑنے والے ذرائع اختیار کرے۔ وہ کسبِ معاش کے ذرائع میں حرام اور حلال کی تمیز قائم کرتا ہے اور نہایت تفصیل کے ساتھ چن چن کر ایک ایک نقصان رساں طریقے کو حرام کر دیتا ہے۔ اس کے قانون میں شراب اور دوسری نشہ آور چیزیں نہ صرف بجائے خود حرام ہیں، بلکہ ان کا بنانا، بیچنا، خریدنا، رکھنا سب حرام ہے ۔ وہ زنا اور رقص و سرود اور اسی قسم کے دوسرے ذرائع کو بھی جائز ذرائع کسبِ معاش تسلیم نہیں کرتا ۔ وہ ایسے تمام وسائلِ معیشت کو بھی ناجائز ٹھیراتا ہے جن میں ایک شخص کا فائدہ دوسرے لوگوں کے یا سوسائٹی کے نقصان پر مبنی ہے۔ رشوت، چوری، جوا، اور سٹہ، دھوکے اور فریب کے کاروبار، اشیائے ضرورت کو اس غرض سے روک رکھنا کہ قیمتیں گراں ہوں، معاشی وسائل کو کسی ایک شخص یا چند اشخاص کا اجارہ قرار دینا کہ دوسروں کے لیے جدوجہد کا دائرہ تنگ ہو، ان سب طریقوں کو اس نے حرام ٹھیراتا ہے۔ نیز کاروبار کی ایسی تمام شکلوں کو اس نے چھانٹ چھانٹ کر ناجائز قرار دیا ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے نزاع (litigation) پیدا کرنے والی ہوں، یا جن میں نفع و نقصان بالکل بخت و اتفاق پر مبنی ہو، یا جن میں فریقین کے درمیان حقوق کا تعین نہ ہو۔ اگر آپ اسلام کے اس تجارتی قانون کا تفصیلی مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آج جن طریقوں سے لوگ کروڑ پتی اور ارب پتی بنتے ہیں، ان میں سے بیشتر طریقے وہ ہیں جن پر اسلام نے سخت قانونی بندشیں عائد کر دی ہیں ۔ وہ جن وسائل کسبِ معاش کو جائز ٹھیراتا ہے ان کے دائرے میں محدود رہ کر کام کیا جائے تو اشخاص کے لیے بے اندازہ دولت سمیٹتے چلے جانے کا بہت کم امکان ہے۔

حقوقِ ملکیت

اب دیکھئے۔ جائز ذرائع سے جو کچھ انسان حاصل کرے اس پر اسلام اس شخص کے حقوقِ ملکیت تو تسلیم کرتا ہے، مگر اس کے استعمال میں اسے بالکل آزاد نہیں چھوڑتا، بلکہ اس پر بھی متعدد طریقوں سے پابندیاں عائد کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کمائی ہوئی دولت کے استعمال کی تین ہی صورتیں ممکن ہیں۔ یا اس کو خرچ کیا جائے یا اسے مزید نفع آور کاموں پر لگایا جائے۔ یا اسے جمع کیا جائے۔ ان میں سے ایک ایک پر اسلام نے جو پابندیاں عائد کی ہیں ان کی مختصر کیفیت میں یہاں بیان کرتا ہوں۔

اصولِ صَرف

خرچ کرنے کے جتنے طریقے اخلاق کو نقصان پہنچانے والے ہیں یا جن سے سوسائٹی کو نقصان پہنچتا ہے وہ سب ممنوع ہیں۔ آپ جُوئے میں اپنی دولت نہیں اڑا سکتے۔ آپ شراب نہیں پی سکتے۔ آپ زنا نہیں کر سکتے، آپ گانے بجانے اورناچ رنگ اور عیاشی کی دوسری صورتوں میں اپنا روپیہ نہیں بہا سکتے۔ آپ ریشمی لباس نہیں پہن سکتے۔ آپ سونے اور جواہر کے زیورات یا برتن استعمال نہیں کرسکتے۔ آپ تصویروں سے اپنی دیواروں کو مزین نہیں کرسکتے۔ غرض یہ کہ اسلام نے ان تمام دروازوں کو بند کر دیا ہے جن سے انسان کی دولت کا بیشتر حصہ اس کی اپنی نفس پرستی پر صرف ہو جاتا ہے۔ وہ خرچ کی جن صورتوں کو جائز رکھتا ہے وہ اس قسم کی ہیں کہ آدمی بس ایک اوسط درجے کی شستہ اور پاکیزہ زندگی بسر کرلے۔ اس سے زائد اگر کچھ بچتا ہو تو اسے خرچ کرنے کا راستہ اس نے یہ تجویز کیا ہے کہ اسے نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ، رفاہِ عام میں، اور ان لوگوں کی امداد میں صرف کیا جائے جو معاشی دولت میں سے اپنی ضرورت کے مطابق حصہ پانے سے محروم رہ گئے ہیں۔ اسلام کے نزدیک بہترین طرزِ عمل یہ ہے کہ آدمی جو کچھ کمائے اسے اپنی جائز اور معقول ضرورتوں پر خرچ کرے اور پھر بھی جو بچ رہے اسے دوسروں کو دے دے تا کہ وہ اپنی ضرورتوں پر خرچ کریں، اس صفت کو اسلام نے بلند ترین اخلاق کے معیاروں میں داخل کیا ہے اور ایک آئیڈیل کی حیثیت سے اس کو اتنے زور کے ساتھ پیش کیا ہے کہ جب کبھی سوسائٹی پر اسلامی اخلاقیات کا اثر غالب ہوگا، اجتماعی زندگی میں وہ لوگ زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے جو کمائیں اور خرچ کر دیں، اور ان لوگوں کو اچھی نگاہ سے نہ دیکھا جائے گا جو دولت کو سمیٹ سمیٹ کر رکھنے کی کوشش کریں، یا کمائی ہوئی دولت کے بچے ہوئے حصے کو پھر کمانے کے کام میں لگانا شروع کر دیں۔

سرمایہ پرستی کا استیصال

تاہم مجرد اخلاقی تعلیم کے ذریعے سے، اور سوسائٹی کے اخلاقی اثر اور دبائو سے غیر معمولی حرص و طمع رکھنے والے لوگوں کی کمزوریوں کا بالکل استیصال نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے باوجود پھر بھی بہت سے ایسے لوگ باقی رہیں گے جو اپنی ضرورت سے زیادہ کمائی ہوئی دولت کو پھر مزید زائد از ضرورت دولت کمانے میں لگانا چاہئیں گے۔ اس لیے اسلام نے اس کے استعمال کے طریقوں پر چند قانونی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس بچی ہوئی دولت کے استعمال کا یہ طریقہ کہ اسے سود پر چلایا جائے اسلامی قانون میں قطعی حرام ہے۔ اگر آپ کسی کو اپنا مال قرض دیتے ہیں تو خواہ اس نے وہ قرض اپنی ضرورتوں پر خرچ کرنے کے لیے لیا ہو، یا وسیلہ معاش پیدا کرنے کے لئے، بہرحال آپ اس سے صرف اپنا اصل مال ہی واپس لینے کے حق دار ہیں ۔ اس طرح اسلام ظالمانہ سرمایہ داری کی کمر توڑ دیتا ہے، اور اس سب سے بڑے ہتھیار کو کند کر دیتا ہے جس کے ذریعے سے سرمایہ دار محض اپنے سرمایہ کے بل پر آس پاس کی معاشی دولت سمیٹتا چلا جاتا ہے۔ رہا فاضل دولت کے استعمال کا یہ طریقہ کہ اسے انسان خود اپنی تجارت یا صنعت و حرفت یا دوسرے کاروبار میں لگائے ، یا دوسروں کے ساتھ نفع و نقصان کا شریک ہو کر سرمایہ فراہم کرے، تو اسلام اسے جائز رکھتا ہے، اور اسے سے جو زائد از ضرورت دولت اشخاص کے پاس سمٹ جاتی ہے اس کا علاج دوسرے طریقوں سے کرتا ہے۔

تقسیم ِ دولت اور کفالتِ عامہ

اسلام نے زائد از ضرورت دولت کے جمع کرنے کو معیوب قرا ر دیا ہے۔ جیسا کہ ابھی میں کہہ چکا ہوں، اس کا مطالبہ یہ ہے کہ جو کچھ مال تمہارے پاس ہے یا تو اسے اپنی ضروریات خریدنے پر صرف کرو، یا کسی جائز کاروبار میں لگائو، یا دوسروں کو دو کہ وہ اس سے اپنی ضروریات خریدیں اور اس طرح پوری دولت برابر گردش میں آتی رہے۔ لیکن اگر تم ایسا نہیں کرتے اور جمع کرنے ہی پر اصرار کرتے ہو تو تمہاری اس جمع کردہ دولت میں اسے ازروئے قانون ½ 2 فیصدی سالانہ رقم نکلوالی جائے گی اور اسے ان لوگوں کی اعانت پر صرف کیا جائے گا جو معاشی جدوجہد میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہیں، یا سعی وجہد کرنے کے باوجود اپنا پورا حصہ پانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اسی چیز کا نام زکوٰۃ ہے اور اس کے انتظام کی صورت جو اسلام نے تجویز کی ہے وہ یہ ہے کہ اسے جماعت کے مشترک خزانہ میں جمع کیا جائے، اور خزانہ ان تمام لوگوں کی ضروریات کا کفیل بن جائے جو مدد کے حاجت مند ہیں، یہ دراصل سوسائٹی کے لیے انشورنس کی بہترین صورت ہے، اور ان تمام خرابیوں کا استیصال کرتی ہے جو اجتماعی امداد و معاونت کا کوئی باقاعدہ انتظام نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ سرمایہ داری نظام میں جو چیز انسان کو دولت جمع کرنے اور اسے نفع آور کاموں میں لگانے پر مجبور کرتی ہے، اور جس کی وجہ سے لائف انشورنس وغیرہ کی ضرورت پیش آتی ہے ، وہ یہ ہے کہ ہر شخص کی زندگی اس نظام میں اپنے ہی ذرائع پرمنحصر ہے۔ بوڑھا ہو جائے اور کچھ بچا کر نہ رکھا ہو تو بھوکا مر جائے۔ بال بچوں کے لیے کچھ چھوڑے بغیر مرے تو وہ دَربدر مارے مارے پھریں اور بھیک کا ٹکڑا تک نہ پاسکیں۔ بیمار ہو جائے اور کچھ بچا بچایا نہ رکھا ہو تو علاج تک نہ کراسکے۔ گھر جل جائے یا کاروبار میں نقصان ہو، یا کوئی اور آفت ناگہانی آجائے تو کسی طرف سے اس کو سہارا ملنے کی امید نہیں۔ اسی طرح سرمایہ داری نظام میں جو چیز محنت پیشہ لوگوں کو سرمایہ داروں کا زر خرید غلام بن جانے اور ان کی شرائط پر کام کرنے کے لیے مجبور کرتی ہے وہ بھی یہی ہے کہ جو کچھ اس کی محنت کا معاوضہ سرمایہ دار دیتا ہے اسے لینا اگر غریب آدمی قبول نہ کرے تو فاقہ کرے اور ننگا پھرے۔ سرمایہ دار کی بخشیش سے منہ موڑ کر اسے دو وقت کی روٹی میسر آنی مشکل ہے۔ پھر یہ لعنتِ کُبریٰ جو آج سرمایہ داری نظام کی بدولت دنیا پر مسلط ہے کہ ایک طرف لاکھوں کروڑوں انسان حاجت مند موجود ہیں اور دوسری طرف زمین کی پیداوار اور کارخانوں کی مصنوعات کے انبار لگے ہوئے ہیں مگر خریدے نہیں جاسکتے، حتیٰ کہ لاکھوں من گیہوں سمندر میں پھینکا جاتا ہے اور بھوکے انسانوں کے پیٹ تک نہیں پہنچتا، اس کا سبب بھی یہی ہے کہ حاجت مند انسانوں تک وسائل معیشت پہنچانے کا کوئی انتظام نہیں ہے ۔ ان سب کے اندر قوتِ خریداری پیدا کر دی جائے اور وہ اپنے حسبِ حاجت اشیاء خریدنے کے قابل ہو جائیں، تو صنعت، تجارت، زراعت، غرض ہر انسانی حرفت پھلتی پھولتی چلی جائے۔ اسلام زکوٰۃ اور بیت المال کے ذریعے سے ان ساری خرابیوں کا استیصال کرتا ہے۔ بیت المال ہر وقت آپ کی پشت پر ایک مددگار کی حیثیت سے موجود ہے۔ آپ کو فکرِ فردا کی ضرورت نہیں۔ جب آپ حاجت مند ہوں بیت المال میں جایئے اور اپنا حق لے آیئے، پھر بنک ڈیپازٹ اور انشورنس پالیسی کی کیا ضرورت؟ آپ اپنے بال بچوں کو چھوڑ کر باطمینانِ تمام دنیا سے رخصت ہوسکتے ہیں۔ آپ کے پیچھے جماعت کا خزانہ ان کا کفیل ہے۔ بیماری، بڑھاپے، آفاتِ ارضی و سماوی، ہر صورت حال میں بیت المال وہ دائمی مددگار ہے جس کی طرف آپ رجوع کرسکتے ہیں۔ سرمایہ دار آپ کو مجبور نہیں کرسکتا کہ آپ اسی کی شرائط پر کام کرنا قبول کریں۔ بیت المال کی موجودگی میں آپ کے لیے فاقے اور برہنگی اور بے سائیگی کا کوئی خطرہ نہیں۔ پھر یہ بیت المال سوسائٹی کے تمام ان لوگوں کو اشیائے ضرورت خریدنے کے قابل بنا دیتا ہے جو دولت پیدا کرنے کے بالکل ناقابل ہوں یا کم پیدا کر رہے ہوں۔ اس طرح مال کی تیاری اور اس کی کھپت کا توازن پیہم قائم رہتا ہے اور اس کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ آپ اپنے دیوالیہ پن کو دنیا بھر کے سر چپیکنے کے لیے دوڑتے پھریں اور آخر کار دوسرے سیاروں تک پہنچنے کی ضرورت پیش آئے۔
زکوٰۃ کے علاوہ دوسری تدبیر جو ایک سمٹی ہوئی دولت کو پھیلانے کے لیے اسلام نے اختیار کی ہے وہ قانونِ وراثت ہے۔ اسلام کے سوا دوسرے قوانین کا رجحان اس طرف ہے کہ جو دولت ایک شخص نے زندگی بھر سمیٹی ہے وہ اس کے مرنے کے بعد بھی سمٹی رہے۔ مگر اس کے برعکس اسلام یہ طریقہ اختیار کرتا ہے کہ جس دولت کو ایک شخص سمیٹ سمیٹ کر قید کرتا رہا ہے، اس کے مرتے ہی وہ پھیلا دی جائے۔ اسلامی قانون میں بیٹے، بیٹیاں، باپ، ماں، بیوی، بھائی، بہن سب ایک شخص کے وارث ہیں اور ایک ضابطے کے مطابق سب پر میراث تقسیم ہونی ضروری ہے۔ قریبی رشتے دار موجود نہ ہوں تو دور پرے کے رشتے دار تلاش کیے جائیں گے اور ان میں یہ دولت پھیلائی جائے گی۔ کوئی رشتے دار سرے سے موجود ہی نہ ہو، تب بھی آدمی کو متبنٰی بنانے کا حق نہیں ہے۔ اس صورت میں اس کی وارث پوری جماعت ہے۔ اس کی سمیٹی ہوئی تمام دولت بیت المال میں داخل کر دی جائے گی۔ اس طرح خواہ کوئی شخص کروڑوں اور اربوں کی دولت جمع کرلے، اس کے مرنے کے بعد دو تین پشتوں کے اندر وہ سب کی سب چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر پھیل جائے گی اور دولت کا ہر سمٹائو بتدریج پھیلائو میں تبدیل ہو کر رہے گا۔

سوچنے کی بات

یہ نظامِ معیشت جس کا نہایت مختصر سا نقشہ میں نے پیش کیا ہے اس پر غور کیجئے ۔ کیا یہ شخصی ملکیت کے ان تمام نقصانات کو دور نہیں کر دیتا جو شیطان کی غلط تعلیم کے سبب سے رونما ہوتے ہیں؟ پھر آخر اس کی کیا حاجت ہے کہ ہم اشتراکی نظریہ یا فاشزم اور نیشنل سوشلزم کے نظریات کو اختیار کر کے معاشی انتظام کے وہ مصنوعی طریقے استعمال کریں جو ایک خرابی کو دور نہیں کرتے بلکہ اس کی جگہ دوسری خرابی پیدا کر دیتے ہیں؟ یہاں میں نے اسلام کے پورے نظامِ معاشی کو بیان نہیں کیا ہے۔ زمین کے انتظام اور کاروباری نزاعات (trade disputes) کے تصفیہ اور صنعت و حرفت کے لیے سرمایہ کی فراہمی کی جو صورتیں اسلام کے اصول پر اختیار کی جاسکتی ہیں اور جن کے لیے قانونِ اسلام میں پوری گنجائش رکھی گئی ہے، انہیں اس مختصر مقالے میں پیش کرنا مشکل ہے۔ نیز اسلام نے جس طرح درآمد برآمد کے محصولات اور اندرونِ ملک میں اموالِ تجارت کی نقل و حرکت پر چنگی کی پابندیوں کو اڑا کر اشیائے ضرورت کے آزاد مبادلہ کا راستہ کھولا ہے اس کا ذکر بھی میں نہیں کرسکا ہوں۔ ان سب سے بڑھ کر مجھے یہ بیان کرنے کا موقع بھی نہیں ملا ہے کہ ملکی انتظام اور سول سروس اور فوج کے مصارف کو انتہائی ممکن حد تک گھٹا کر اور عدالت سے اسٹامپ ڈیوٹی کو قطعی طور پر ہٹا کر اسلام نے سوسائٹی پر سے جس عظیم الشان معاشی بوجھ کو ہلکا کیا ہے، اور ٹیکسوں کو انتظام کے حد سے بڑھے ہوئے مصارف میں کھپا دینے کے بجائے سوسائٹی کی آسائش اور بہتری پر صرف کرنے کے جو مواقع اس نے پیدا کئے ہیں، ان کی بدولت اسلام کا معاشی نظام انسان کے لیے کتنی بڑی رحمت بن جاتا ہے ۔ اگر تعصب کو چھوڑ دیا جائے اور آبا ؤ اجداد سے جو جاہلانہ تنگ نظری وراثت میں ملی ہے، یا غیر اسلامی نظامات کے دنیا پر غالب آجانے سے جو مرعوبیت دماغوں پر چھا گئی ہے، اسے دور کر کے آزاد تحقیق کی نگاہ سے اس نظام کا مطالعہ کیا جائے تو میں توقع کرتا ہوں کہ ایک بھی معقول و منصف مزاج آدمی ایسا نہ ملے گا جو انسان کی معاشی فلاح کے لیے اس نظام کو سب سے زیادہ مفید، صحیح اور معقول تسلیم نہ کرے۔ لیکن اگر کسی شخص کے ذہن میں یہ غلط فہمی ہو کہ اسلام کے پورے اعتقادی، اخلاقی، تمدنی مجموعہ میں سے صرف اس کے معاشی نظام کو لے کر کامیابی کے ساتھ چلایا جاسکتا ہے تو میں عرض کروں گا کہ براہِ کرم وہ اس غلط فہمی کو دل سے نکال دے۔ اس معاشی نظام کا گہرا ربط اسلام کے سیاسی، عدالتی و قانونی اور تمدنی و معاشرتی نظام کے ساتھ ہے۔ پھر ان سب چیزوں کی بنیاد اسلام کے نظامِ اخلاق پر قائم ہے اور وہ نظامِ اخلاق بھی اپنے آپ پر قائم نہیں ہے بلکہ اس کے قیام کا پورا انحصار اس پر ہے کہ آپ ایک عالم الغیب قادرِمطلق خدا پر ایمان لائیں اور اپنے آپ کو اس کے سامنے جواب دہ سمجھیں، موت کے بعد آخرت کی زندگی کو مانیں، اور آخرت میں عدالتِ الٰہی کے سامنے اپنے پورے کارنامۂ حیات کے جانچے جانے اور اس جانچ کے مطابق جزا و سزا پانے کا یقین رکھیں ، اور یہ تسلیم کریں کہ خدا کی طرف سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ضابطۂ اخلاق و قانون آپ تک پہنچایا ہے، جس کا ایک جز یہ معاشی نظام بھی ہے، وہ بے کم و کاست خدا ہی کی ہدایت پر مبنی ہے۔ اگر اس عقیدے اور نظامِ اخلاق اور اس پورے ضابطۂ حیات کو آپ جوں کا توں نہ لیں گے تو نرا اسلامی نظامِ معاشی ایک دن بھی اپنی صحیح اسپرٹ کے ساتھ نہ چل سکے گا اور نہ اس سے آپ کوئی معتدبہ فائدہ اٹھا سکیں گے۔

قرآن کی معاشی تعلیمات (۱) بنیادی حقائق

انسانی معیشت کے بارے میں اولین بنیادی حقیقت، جسے قرآن مجید بار بار زور دے کر بیان کرتا ہے ، یہ ہے کہ تمام وہ ذرائع و وسائل جن پر انسان کی معاش کا انحصار ہے، اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اسی نے ان کو اس طرح بنایا اور ایسے قوانینِ فطرت پر قائم کیا ہے کہ وہ انسان کے لیے نافع ہو رہے ہیں۔ اور اسی نے انسان کو ان سے انتفاع کا موقع دیا اور ان پر تصرف کا اختیار بخشا ہے:
ہُوَالَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِيْ مَنَاكِبِہَا وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖ۝۰ۭ وَاِلَيْہِ النُّشُوْرُo الملک15:67
وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو رام کر دیا، پس چلو اس (زمین) کی پہنائیوں میں اور کھائو اس (خدا ) کا رزق اور اسی کی طرف تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر واپس جانا ہے۔
وَہُوَالَّذِيْ مَدَّ الْاَرْضَ وَجَعَلَ فِيْہَا رَوَاسِيَ وَاَنْہٰرًا۝۰ۭ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيْہَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ الرّعد 3:13
اور وہی ہے جس نے زمین کوپھیلایا اور اس میںپہاڑ بنائے، دریا جاری کئے اور ہر طرح کے پھلوں کی دو دو قسمیں پیدا کیں۔
ھُوَالَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۝۰ۤ البقرہ29:2
وہی ہے جس نے تمہارے لیے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔
اَللہُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ۝۰ۚ وَسَخَّــرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِہٖ۝۰ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْہٰرَo وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ۝۰ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّہَارَo وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْہُ۝۰ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللہِ لَا تُحْصُوْہَا۝۰ۭ
ابراہیم32-34:14
’’اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے سے تمہارے رزق کے لیے پھل نکالے، اور تمہارے لیے کشتی کو مسخر کیا تا کہ وہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے، اور تمہارے لیے دریائوں کو مسخر کیا اور سورج اور چاند کو تمہارے مفاد میں ایک دستور پر قائم کیا کہ پیہم گردش کر رہے ہیں، اور دن اور رات کو تمہارے مفاد میں ایک قانون کا پابند کیا، اور وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا(۱)،اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے۔‘‘
وَلَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِي الْاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْہَا مَعَايِشَ۝۰ۭ الاعراف 10:7
’’ہم نے زمین میں تم کو اقتدار بخشا اور تمہارے لیے اس میں زندگی کے ذرائع فراہم کئے۔‘‘
اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَoۭ ءَ اَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَہٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَo الواقعہ 63,64:56
’’کیا تم نے غور کیا، یہ کھیتیاں جو تم بوتے ہو انہیں تم اگاتے ہو یا ان کے اگانے والے ہم ہیں؟‘‘

۲۔ جائز و ناجائز کے حدود مقرر کرنا اللہ ہی کا حق ہے

اسی بنیاد پر قرآن یہ اصول قائم کرتا ہے کہ انسان ان ذرائع کے اکتساب اور استعمال کے معاملے میں نہ تو آزاد ہونے کا حق رکھتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے خود حرام و حلال اور جائز و ناجائز کے حدود وضع کرلینے کا مجاز ہے، بلکہ یہ حق خدا کا ہے کہ اس کے لیے حدود مقرر کرے۔ وہ عرب کی ایک قدیم قوم، مدین کی اس بات پر مذمت کرتا ہے کہ وہ لوگ کمائی اور خرچ کے معاملے میں غیر محدود حقِ تصرف کے مدعی تھے:
قَالُوْا يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰۗؤُا۝۰ۭ ھود 87:11
انہوں نے کہا، اے شعیبؑ کیا تیری نماز تجھے یہی حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے ان معبودوں کو چھوڑ دیں جنہیں ہمارے باب دادا پوجتے تھے یا ہم اپنے اموال میں اپنی مرضی سے جو کچھ کرنا چاہیں وہ نہ کرسکیں؟
وہ اس بات کو ’’جھوٹ‘‘ قرار دیتا ہے کہ آدمی خود کسی چیز کو حرام اور کسی کو حلال کہے:
وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ النحل116:16
اور اپنی زبانوں سے یہ جھوٹے احکام نہ لگائو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام۔( ’’یعنی جس کی تمہیں احتیاج تھی اور جس کو تم نے زبانِ حال سے مانگا، خواہ زبانِ قال سے مانگا ہو یا نہ مانگا ہو۔‘‘ بیضاوی، انوار التنزیل، ج ۳، ص ۱۶۱، مصطفیٰ البابی، مصر، ۱۳۳۰ھ (۱۹۱۲ء)
وہ اس اختیار کو اللہ اور ( اس کے نائب کی حیثیت سے) اس کے رسولؐ کے لیے خاص کرتا ہے:
يَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہٰىہُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْہِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ الاعراف 157:7
وہ (رسولؐ) ان کو بھلائی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہے، پاک چیزیں ان کے لیے حلال اور ناپاک چیزیں ان پر حرام کرتا ہے، اور وہ بوجھ اور بندشیں ان پر سے اتارتا ہے جن سے وہ لدے اور جکڑے ہوئے تھے۔

۳۔ حدود اللہ کے اندر شخصی ملکیت کا اثبات

اللہ تعالیٰ کی بالاتر ملکیت کے ماتحت اور اس کی عائد کردہ حدود کے اندر قرآن شخصی ملکیت کا اثبات کرتا ہے:
لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ۝۰ۣ
النساء 29:4
ایک دوسرے کے مال ناجائز طریقوں سے نہ کھائو الاّ یہ کہ تمہارے درمیان تجارت ہو آپس کی رضا مندی سے۔
وَاَحَلَّ اللہُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا۝۰ۭ البقرہ 275:2
اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام کیا۔
وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ۝۰ۚ البقرہ 279:2
اور اگر تم سود لینے سے توبہ کرلو تو تمہیں اپنے رأس المال واپس لینے کا حق ہے۔
اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْہُ۝۰ۭ البقرہ 282:2
جب آپس میں کسی مقرر مدت کے لیے قرض کا معاملہ کرو تو اس کی دستاویز لکھ لو۔
وَاِنْ كُنْتُمْ عَلٰي سَفَرٍ وَّلَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِھٰنٌ مَّقْبُوْضَۃٌ۝۰ۭ البقرہ 283:2
اور اگر تم سفر میں ہو اور (قرض کی دستاویز لکھنے کے لیے) کاتب نہ پائو تو رہن بالقبض رکھو۔
لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ۝۰۠ وَلِلنِّسَاۗءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ النساء 7:4
مردوں کے لیے اس مال میں سے حصہ ہے جو والدین اور رشتے داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے اس مال میں سے حصہ ہے جو والدین اور رشتے داروں نے چھوڑا ہو۔
لَاتَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا النور 27:24
اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو۔
اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَہُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَيْدِيْنَآ اَنْعَامًا فَہُمْ لَہَا مٰلِكُوْنَo
یٰسٓ71:36
کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ان کے لیے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے مویشی پیدا کئے اور یہ ان کے مالک ہیں۔
وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَہُمَا المائدہ 37:5
اور چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔
وَاٰتُوْا حَقَّہٗ يَوْمَ حَصَادِہٖ۝۰ۡۖ الانعام141:6
اور فصل کاٹنے کے دن (زمین کی پیداوار میں سے) خدا کا حق ادا کرو۔
خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً التوبہ 109:3
اے نبی، ان کے اموال میں سے زکوٰۃ وصول کرو۔
وَاٰتُوا الْيَــتٰمٰٓى اَمْوَالَھُمْ … وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ اِلٰٓى اَمْوَالِكُمْ۝۰ۭ النساء 2:4
اور یتیموں کا مال ان کے حوالے کرو… اور ان کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جائو۔
وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاۗءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ۝۰ۭ
النساء 24:4
اور ان (حرام عورتوں) کے سوا(باقی عورتوں کے معاملے میں) یہ بات تمہارے لیے حلال کر دی گئی کہ تم انہیں اپنے اموال کے بدلے حاصل کرو، نکاح کرنے والے بن کر نہ کہ ناجائز تعلقات رکھنے والے بن کر۔
وَاٰتُوا النِّسَاۗءَ صَدُقٰتِہِنَّ نِحْلَۃٍ۝۰ۭ النساء 4:4
اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔
وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَـيْـــًٔـا۝۰ۭ النساء 20:4
اور اگر تم نے کسی عورت کو (نکاح کے وقت) ڈھیر سا مال بھی دیا ہو تو (طلاق دیتے وقت) اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو۔
مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ كَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ البقرہ261:2
جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے تو اس سے سات بالیں نکلیں۔
وَتُجَاہِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ۝۰ۭ الصف 11:61
اور یہ کہ تم اللہ کی راہ میں اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو۔
وَفِيْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِo الذاریٰت 19:51
اور ان کے مال میں حق ہے سائل (مدد مانگنے والے) اور محروم کے لئے۔
مذکورہ بالا احکام و ہدایات میں سے کسی کا تصور بھی شخصی ملکیت کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن لازماً ایک ایسی معیشت کا نقشہ پیش کرتا ہے جو اپنے تمام گوشوں میں افراد کے حقوقِ مالکانہ پر مبنی ہے۔ اس میں کہیں اس تصور کا شائبہ تک نہیں ملتا کہ اشیائے صرف (consumer goods) اور وسائل پیداوار (means of production) میں فرق کر کے صرف مقدم الذکر تک شخصی ملکیت کو محدود رکھا جائے اور موخر الذکر کو اجتماعی ملکیت بنا دیا جائے۔ اسی طرح اس میں محنت سے کمائی ہوئی دولت (earned income) اور بلا محنت کمائی ہوئی دولت (un earned income) کے درمیان بھی کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ مثلاً یہ ظاہر بات ہے کہ جو شخص ماں، باپ، اولاد، بیوی، شوہر یا بھائی بہن سے کوئی میراث پاتا ہے وہ اس کی محنت سے کمائی ہوئی دولت نہیں ہے، اور جسے زکوٰۃ دی جاتی ہے اس کے لیے بھی وہ اس کی محنت کی کمائی نہیں ہے۔ مزید برآں معیشت کے اس نقشے میں یہ تصور بھی کہیں نہیں پایا جاتا کہ یہ صرف ایک عارضی مرحلے کی حیثیت رکھتا ہے اور اصل مقصود کوئی ایسی منزل ہے جہاں شخصی ملکیت ختم کر کے اجتماعی ملکیت کا نظام قائم کر دیا جائے۔ اگر اس چیز کو قرآن میں مقصدِ اصلی کا مرتبہ حاصل ہوتا تو وہ صاف صاف اپنے اس مقصد کو بیان کرتا اور اس نظام کے متعلق احکام و ہدایات دیتا۔ محض یہ بات کہ قرآن نے ایک جگہ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰہِ (زمین خدا کی ہے) [الاعراف128:7] کہا ہے، یہ نتیجہ نکالنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ اس سے زمین کی انفرادی ملکیت کا ابطال اور قومی ملکیت کا اثبات مقصود ہے۔ قرآن تو یہ بھی کہتا ہے کہ لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ۝۰ۭ (آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اللہ کا ہے) [البقرہ284:2]۔ اس سے نہ یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ زمین و آسمان کی کوئی چیز بھی افراد کی ملکیت نہ ہو، اور نہ یہی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ یہ چیزیں قوم کی ملکیت ہوں۔ خد ا کی ملکیت اگر انسانی ملکیت کی نفی کرتی ہے تو پھر افراد اور اقوام سب ہی کی ملکیت کی نفی کر دیتی ہے۔ سورۂ حٰمٓ السجدہ کی آیت نمبر 10 ( وَقَدَّرَ فِيْہَآ اَقْوَاتَہَا فِيْٓ اَرْبَعَۃِ اَيَّامٍ۝۰ۭ سَوَاۗءً لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَo) سے بھی یہ استدلال درست نہیں ہے کہ ’’زمین کے وسائلِ غذا کو قرآن سب انسانوں میں برابری کے ساتھ تقسیم کرنا چاہتا ہے ، اور یہ مساوات اجتماعی ملکیت کے بغیر قائم نہیں ہوسکتی، اس لیے قرآن کا مقصود یہی نظام قائم کرنا ہے۔‘‘ بالفرض اگر اس آیت کا ترجمہ یہ مان بھی لیا جائے کہ ’’خدا نے زمین میں اس کے وسائل خوراک چار دن کے اندر ایک انداز سے رکھ دیئے سب مانگنے والوں کے لیے برابر برابر۔‘‘ (’’اس آیت میں بتاکید اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ لوگ محض اپنے خیالات اور خواہشات کی بنا پر حلال اور حرام کا فیصلہ کریں۔‘‘ بیضاوی، ج ۳، ص ۱۹۳۔
’’اس آیت کا ماحصل یہ ہے، جیسا کہ عسکری نے بیان کیا ہے ، کہ جس چیز کے حلال یا حرام ہونے کا حکم تم کو اللہ اور اس کے رسولؐ سے نہ پہنچے اسے حلال یا حرام نہ کہو ورنہ تم اللہ پر جھوٹ باندھنے والے ہو گے، کیوں کہ حلت اور حرمت کا مدار اللہ کے حکم کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘ آلُوسیؒ، روح المعانی، ج ۱۴، ص۲۲۶، ادارۃ الطباعۃ المنیریہ، مصر، ۱۳۴۵ھ۔) بھی ’’مانگنے والوں‘‘ سے مراد محض انسان لے لینا درست نہ ہوگا۔ مانگنے والے تو انسانوں کے علاوہ تمام انواع حیوانات بھی ہیں جن کے وسائل خوراک خدا نے اسی زمین میں رکھے ہیں۔ اگر اس آیت کی رو سے سب مانگنے والوں کا حصہ مساوی ہے تو یہ برابری کا استحقاق محض انسانوں کے لیے مخصوص ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اسی طرح قرآن کی ان آیات سے بھی، جن میں معاشرے کے کمزور افراد کی رزق رسانی پر زور دیا گیا ہے، یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اس مقصد کے لیے اجتماعی ملکیت کا نظام قائم کرنا چاہتا ہے۔ قرآن جہاں کہیں بھی اس ضرورت کا ذکر کرتا ہے وہاں لازماً اسے پورا کرنے کی ایک ہی صورت بیان کرتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ معاشرے کے خوش حال افراد اپنے غریب رشتے داروں اور یتامیٰ، مساکین، اور دوسرے محروم یا تنگ حال لوگوں پر محض خدا کی خوشنودی کے لیے خود بھی اپنے مال فراخ دلی کے ساتھ خرچ کریں اور ریاست بھی ان کے اموال سے ایک مقرر حصہ وصول کر کے اس کام میں صرف کرے۔ اس غرض کے لیے اس عملی صورت کے سوا کسی دوسری صورت کا کوئی تخیل قرآن میں قطعاً نہیں پایا جاتا۔
اس میں شک نہیں کہ کسی خاص چیز کو نجی انتظام کے بجائے اجتماعی انتظام میں لینے کی اگر ضرورت محسوس ہو تو ایسا کرنے میں قرآن کا کوئی حکم مانع بھی نہیں ہے۔ لیکن شخصی ملکیت کی کلی نفی اور اجتماعی ملکیت کے نظریے کو بطور ایک فلسفے اور نظام کے اختیار کرنا انسانی معیشت کے بارے میں قرآن کی اسکیم کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا، اور قرآن انسانی معاشرے کے لیے جو سیاسی نظام تجویز کرتا ہے اس کی رو سے یہ فیصلہ کرنا بھی کسی پارٹی کا کام نہیں ہے کہ کس چیز کو نجی ملکیت کے بجائے اجتماعی ملکیت میں لینے کی ضرورت ہے ، بلکہ اس کا فیصلہ معاشرے کی آزاد مرضی سے منتخب نمائندوں کی ایک مجلس شوریٰ ہی کرسکتی ہے۔(یہ ترجمہ بجائے خود صحیح نہیں ہے۔ اصل الفاظ ہیں، فِی اَرْبَعَۃِ اَیَّامٍ ط سَوَآئً لِلّسَّآئِلِیْنَ۔اس میں لفظ سَوَآئً کا تعلق زمخشری، بیضاوی، رازی، آلوسی، اور دوسرے مفسرین نے ایام سے مانا ہے اور مفہوم یہ قرار دیا ہے کہ ’’پورے چار دنوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ کام کیا۔‘‘ لِلسَّائلین کے ساتھ سوائً کا تعلق جن مفسرین نے مانا ہے وہ اس کا مطلب لیتے ہیں ’’سب مانگنے والوں کے لیے مہیا کئے ہوئے،‘ یا ’’سب مانگنے والوں کی مانگ کے مطابق۔‘‘ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورہ حٰم السجدہ، حاشیہ نمبر ۱۲۔)

۴۔معاشی مساوات کا غیر فطری تخیل

قرآن اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی فطرت کے ایک پہلو کی حیثیت سے پیش کرتا ہے کہ دوسری تمام چیزوں کی طرح انسانوں کے درمیان رزق اور وسائلِ زندگی میں بھی مساوات نہیں ہے۔ مختلف تمدنی نظاموں کی مصنوعی بے اعتدالیوں سے قطع نظر، جہاں تک بجائے خود اس فطری عدم مساوات کا تعلق ہے، اسے قرآن اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا اور اس کی تقسیم و تقدیر (dispensation) کا نتیجہ قرار دیتا ہے اور اس کی پوری اسکیم میں کہیں اس تخیل کا نشان نہیں ملتا کہ اس عدم مساوات کو مٹا کر کوئی ایسا نظام قائم کرنا مطلوب ہے جس میں سب انسانوں کو ذرائع معاش برابر ملیں:
وَہُوَالَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ۝۰ۭ الانعام165:6
اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تم کو زمین کے خلیفہ بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض کے اوپر بلند درجے دیے تا کہ جو کچھ بھی تم لوگوں کو اس نے دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔
اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰي بَعْضٍ۝۰ۭ وَلَلْاٰخِرَۃُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًاo بنی اسرائیل21:17
دیکھو، کس طرح ہم نے بعض لوگوں کو بعض پر فضیلت دی ہے اور آخرت تو درجات کے فرق اور تفضیل میں اور بھی زیادہ ہے۔
اَہُمْ يَــقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ۝۰ۭ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَہُمْ مَّعِيْشَتَہُمْ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا۝۰ۭ وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَo الزخرف32:43
کیا تیرے رب کی رحمت (یعنی نبوت) یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں؟ ہم نے دنیا کی زندگی میں ان کے درمیان کی معیشت تقسیم کی ہے اور ان میں سے بعض کو بعض پر بلند درجے دیئے ہیں تا کہ ان میں سے کچھ لوگ کچھ دوسرے لوگوں سے کا م لیں۔ اور تیرے رب کی رحمت (یعنی نبوت) تو اس مال و دولت سے بھی بہتر ہے جو یہ لوگ جمع کرتے ہیں۔(۱)
اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ۝۰ۭ اِنَّہٗ كَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًاo
بنی اسرائیل 30:17
درحقیقت تیرا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تُلا دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور ان پر نظر رکھتا ہے۔
لَہٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۚ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَقْدِرُ۝۰ۭ اِنَّہٗ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌo الشوریٰ 12:42
آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے قبضے میں ہیں، جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے، وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
قُلْ اِنَّ رَبِّيْ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَيَقْدِرُ لَہٗ۝۰ۭ سبا39:34
اے نبی، کہو کہ میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے نپا تلا کر دیتا ہے۔
قرآن ہدایت کرتا ہے کہ لوگوں کو یہ فطری عدمِ مساوات ٹھنڈے دل سے قبول کرنی چاہیے اور دوسروں کو جو فضیلت خدا نے بخشی ہو اس پر رشک و حسد نہ کرنا چاہیے:
وَلَاتَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللہُ بِہٖ بَعْضَكُمْ عَلٰي بَعْضٍ۝۰ۭ لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَـسَبُوْا۝۰ۭ وَلِلنِّسَاۗءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَـسَبْنَ۝۰ۭ وَسْـــَٔـلُوا اللہَ مِنْ فَضْلِہٖ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِـــيْمًاo النساء32:4
اور تمنا نہ کرو اس فضیلت کی جو اللہ نے تم میں سے کسی کو کسی پر عطا کی ہو۔ مردوں کے لیے حصہ ہے ان کی کمائی میں سے اور عورتوں کے لیے حصہ ہے ان کی کمائی میں سے۔ البتہ اللہ سے اس کا فضل مانگو، یقیناً اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
دو آیتیں جن سے آج کل کچھ لوگ یہ نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قرآن لوگوں کے درمیان رزق میں مساوات چاہتا ہے، حسب ذیل ہیں:
وَاللہُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰي بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ۝۰ۚ فَمَا الَّذِيْنَ فُضِّلُوْا بِرَاۗدِّيْ رِزْقِہِمْ عَلٰي مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُہُمْ فَہُمْ فِيْہِ سَوَاۗءٌ۝۰ۭ اَفَبِنِعْمَۃِ اللہِ يَجْحَدُوْنَo النحل71:16
اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، تو جن لوگوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ اپنا رزق اپنے غلاموں کی طرف پھیر دینے والے نہیں ہیں کہ وہ اور ان کے غلام اس میں برابر ہو جائیں۔ پھر کیا اللہ ہی کے احسان کا یہ لوگ انکار کرتے ہیں؟
ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ۝۰ۭ ہَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَاۗءَ فِيْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِيْہِ سَوَاۗءٌ تَخَافُوْنَہُمْ كَخِيْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ۝۰ۭ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَo الروم28:30
اللہ تمہیں خود تمہاری اپنی ہی ذات سے ایک مثال دیتا ہے۔ کیا تمہارے غلاموں میں سے کچھ غلام اس رزق میں جو ہم نے تمہیں دیا ہے تمہارے ایسے شریک ہیں کہ تم اور وہ اس میں برابر ہوں اور تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنے ہمسروں سے ڈرتے ہو؟ اسی طریقہ سے ہم نشانیاں کھول کر پیش کرتے ہیں عقل رکھنے والوں کے لیے۔
لیکن ان دونوں آیتوں کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں، اور جس سیاق و سباق میں یہ آئی ہیں اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں دراصل اصل معاشی عدمِ مساوات کو مذموم قرار دینے اور اس کو مٹا کر مساوات قائم کرنے کی کوئی تلقین نہیں کی گئی ہے، بلکہ اس امر واقع کو، جو انسانوں میں پایا جاتا ہے، شرک کے خلاف ایک دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔ یعنی استدلال یہ ہے کہ جب تم اللہ کے دیے ہوئے رزق میں اپنے غلاموں کو اپنے ساتھ برابر کا شریک بنانے کے لیے تیار نہیں ہو تو اللہ کے متعلق تم نے یہ کیسا تصور قائم کیا ہے کہ اس کی مخلوقات میں سے کوئی خدائی میں اس کا شریک ہے۔(قرآن کے تجویز کردہ سیاسی نظام کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو میری کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ کا پہلا باب)

۵۔ رہبانیت کے بجائے اعتدال اور پابندیِ حدود

قرآن اس حقیقت کو بھی بار بار زور دے کر بیان کرتا ہے کہ خدا نے دنیا میں اپنی نعمتیں اسی لیے پیدا کی ہیں کہ اس کے بندے ان سے متمتع ہوں۔ خدا کا منشا یہ ہرگز نہیں ہے اور نہیں ہوسکتا کہ انسان ان نعمتوں سے اجتناب کر کے رہبانیت اختیار کرے ۔ البتہ جو کچھ وہ چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ پاک اور ناپاک میں امتیاز کیا جائے، جائز اور ناجائز طریقوں میں فرق کیا جائے، تمتع اور انتفاع صرف حلال و طیب تک محدود رہے، اور اس میں بھی حدِّاعتدال سے تجاوز نہ ہو۔
ھُوَالَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۝۰ۤ البقرہ29:2
وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَۃَ اللہِ الَّتِيْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ۝۰ۭ الاعراف32:7
اے نبی، ان سے پوچھو، کس نے حرام کر دیا اللہ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی ہے اور رزق کی عمدہ چیزوں کو؟
وَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللہُ حَلٰلًا طَيِّبًا۝۰۠ وَّاتَّقُوا اللہَ الَّذِيْٓ اَنْتُمْ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَo
المائدہ 88:5
اور کھائو ان چیزوں میں سے جو اللہ نے تم کو بخشی ہیں حلال اور پاکیزہ، اور بچے رہو اس خدا کی ناراضی سے جس پر تم ایمان لائے ہو۔
خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ۝۰ۭ اِنَّہٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌo البقرہ168:2
لوگو، کھائو جو کچھ زمین میں ہے حلال اور پاک، اور شیطان کے طریقوں کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
كُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۝۰ۚ اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَo الاعراف31:7
کھائو اور پیو اور حد سے نہ گزرو، اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
وَرَہْبَانِيَّۃَۨ ابْتَدَعُوْہَا مَا كَتَبْنٰہَا عَلَيْہِمْ اِلَّا ابْتِغَاۗءَ رِضْوَانِ اللہِ فَمَا رَعَوْہَا حَقَّ رِعَايَــتِہَا۝۰ۚ الحدید27:57
اور رہبانیت انہوں نے (یعنی عیسیٰؑ ابن مریمؑ کے پیرووں نے) خود ایجاد کرلی۔ ہم نے وہ ان پر نہیں لکھی تھی، مگر صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش (ان پر لازم کی تھی) پس انہوں نے اس کا لحاظ نہ کیا جیسا کہ اس کا حق تھا۔

۶ ۔ کسبِ مال میں حرام و حلال کا امتیاز

اس غرض کے لیے قرآن یہ پابندی عائد کرتا ہے کہ دولت صرف حلال طریقوں سے حاصل کی جائے اور حرام طریقوں سے اجتناب کیا جائے:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ۝۰ۣ وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًاo النساء29:4
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھائو مگر یہ کہ تجارت ہو تمہاری آپس کی رضامندی سے،(یہ بات سورئہ النحل کو آیت ۷۱ سے ۷۶ تک اور سورئہ الروم کو آیت ۲۰ سے ۳۵ تک پڑھنے سے پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔ دونوں عبارتوں میں موضوعِ بحث دراصل شرک کا ابطال اور توحید کا اِثبات ہے۔ ان دونوں مقامات کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، صفحات ۵۵۴ تا ۵۵۸۔ جلد سوم، صفحات ۷۴۲ تا ۷۵۶۔) اور اپنے آپ کو (یا ایک دوسرے کو) ہلاک نہ کرو، اللہ تمہارے اوپر رحیم ہے۔‘‘

۷۔ کسبِ مال کے حرام طریقے

باطل طریقوں کی پوری تفصیل تو احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور قانونِ اسلامی کی کتابوں میں فقہاء نے بیان کی ہے، لیکن ان میں سے بعض جن کی صراحت قرآن میں کی گئی ہے، یہ ہیں:
(الف) وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِہَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo البقرہ188:2
اور آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھائواور نہ ان کو حکام کے سامنے پیش کرو تا کہ کھا جائو جانتے بوجھتے لوگوں کے مال گناہ کے ساتھ۔(۲)
(ب) فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ اَمَانَــتَہٗ وَلْيَتَّقِ اللہَ رَبَّہٗ۝۰ۭ
البقرہ 283:2
پس اگر تم میں سے ایک شخص دوسرے پر اعتماد کر کے کوئی امانت اس کے سپرد کرے تو جس پر اعتماد کیا گیا ہے اسے امانت ادا کرنی چاہیے اور اللہ، اپنے رب کے غضب سے ڈرنا چاہیے۔
(ج) وَمَنْ يَّغْلُلْ يَاْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝۰ۚ ثُمَّ تُوَفّٰي كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ
آل عمران 161:3
اور جو کوئی غلول (پبلک کے مال میں خیانت) کرے وہ اپنے خیانت کئے ہوئے مال سمیت قیامت کے روز حاضر ہوگا اور ہر ایک کو اس کی کمائی کا پورا بدلہ ملے گا۔
(د) وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَہُمَا المائدہ 38:5
چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔
اِنَّمَا جَزٰۗؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوْٓا اَوْ يُصَلَّبُوْٓا—– المائدہ33:5
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں(۱) ان کی جزا تو یہ ہے کہ قتل کئے جائیں یا صلیب دیے جائیں…
(ھ) اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا۝۰ۭ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًاo النساء10:4
جو لوگ یتیموں کے مال ظلم کے ساتھ کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں اور عنقریب وہ جہنم کی آگ میں جلیں گے۔
(و) وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَo الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَي النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَo وَاِذَا كَالُوْہُمْ اَوْ وَّزَنُوْہُمْ يُخْسِرُوْنَo المطففین 1_3:83
تباہی ہے ان کم تولنے والوں کے لیے جو دوسروں سے لیتے ہیں تو پورا پیمانہ بھر کے لیتے ہیں اور جب دوسروں کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔
(ز) اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَۃُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝۰ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ۝۰ۭ النور19:24
جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں میں فحش کی اشاعت ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک سزا ہے۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَہْوَالْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ —- اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِيْنٌo لقمان 6:31
اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو خریدتا ہے کلام دلفریب تا کہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دے… ایسے لوگوں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔(۲)
(ح) وَلَا تُكْرِہُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَي الْبِغَاۗءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۝۰ۭ النور33:24
اپنی لونڈیوں کو قحبہ گری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ بچنا چاہتی ہوں، محض اس لیے کہ تم دنیوی زندگی کے فائدے حاصل کرنا چاہتے ہو۔(۱)
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّہٗ كَانَ فَاحِشَۃً۝۰ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًاo بنی اسرائیل32:17
’’اور زنا کے قریب نہ پھٹکو، یہ بے حیائی اور برا چلن ہے۔‘‘
اَلزَّانِيَۃُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ۝۰۠ النور 2:24
’’زانی مرد اور زانیہ عورت دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔‘‘(۲)
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَo المائدہ90:5
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر (یا پانسے) تو گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو۔(۳)
(ی) وَاَحَلَّ اللہُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا۝۰ۭ البقرہ 275:2
’’اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام کیا۔‘‘(۱)
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَo فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ۝۰ۚ وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ۝۰ۚ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَo وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰى مَيْسَرَۃٍ۝۰ۭ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo البقرہ 278-280:2
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور جو سود وصول طلب رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو۔ لیکن اگر تم ایسا نہیں کرتے تو اللہ اور رسول کی طرف سے اعلان جنگ قبول کرو۔ اور اگر توبہ کرلو تو تمہیں اپنے اصل مال واپس لینے کا حق ہے۔ نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ اور اگر تمہارا قرض دار تنگ دست ہو تو اس کی آسودگی تک اسے مہلت دو۔ اور اگر معاف کر دو تو یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔(۲)
اس طرح قرآن نے حصولِ دولت کے جن طریقوں کو ممنوع ٹھیرایا ہے وہ مختصراً یہ ہیں:
(۱) دوسرے کا مال اس کی رضا کے بغیر اور بلاعوض لینا یا بالعوض اور برضا یا بلا عوض اور برضا اس طرح لینا کہ رضا مندی کسی دبائو یا دھوکے کا نتیجہ ہو (۲) رشوت ، (۳) غصب، (۴) خیانت، خواہ وہ افراد کے مال میں ہو یا پبلک کے مال میں، (۵) چوری اور ڈاکہ، (۶) مال یتیم میں بے جا تصرف (۷) ناپ تول میں کمی بیشی (۸) فحش پھیلانے والے ذرائع کا کاروبار (۹) گانے بجانے کا پیشہ (۱۰) قحبہ گری اور زنا کی آمدنی (۱۱) شراب کی صنعت اور اس کی بیع اور اس کی حمل و نقل (۱۲) جوا اور تمام وہ طریقے جن سے کچھ لوگوں کا مال کچھ دوسرے لوگوں کی طرف منتقل ہونا محض بخت و اتفاق پر مبنی ہو، (۱۳) بت گری، بت فروشی اور بت خانوں کی خدمات (۱۴) قسمت بتانے اور فال گیری وغیرہ کا کاروبار (۱۵) سود، خواہ اس کی شرح کم ہو یا زیادہ اور خواہ وہ شخصی ضروریات کے قرضوں پر ہو یا تجارتی و صنعتی اور زراعتی ضروریات کے قرضوں پر۔

۸۔ بخل اور اکتناز کی ممانعت

دولت حاصل کرنے کے غلط طریقوں کو حرام کرنے کے ساتھ قرآن مجید جائز طریقوں سے حاصل شدہ دولت کو بھی جمع کر کے روک رکھنے کی سخت مذمت کرتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے کہ بخل ایک بہت بڑی برائی ہے:
وَيْلٌ لِّكُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِۨo الَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَہٗoۙ يَحْسَبُ اَنَّ مَالَہٗٓ اَخْلَدَہٗoۚ كَلَّا لَيُنْۢبَذَنَّ فِي الْحُطَمَۃِo الہمزہ 1-4:104
بڑی خرابی ہے ہر اس شخص کے لیے جو عیب چین اور بدگو ہے، جس نے مال جمع کیا اور گن گن کر رکھا، وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس ہمیشہ رہے گا، ہر گز نہیں، وہ پھینکا جائے گا توڑ ڈالنے والی آگ میں۔
وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا يُنْفِقُوْنَہَا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ۝۰ۙ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍo التوبہ 34:9
اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں درد ناک سزا کی خبر دے دو۔
وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَo التغابن 16:64
اور جو دل کی تنگی (یا نفس کی بخیلی) سے محفوظ رہے، ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ ھُوَخَيْرًا لَّھُمْ۝۰ۭ بَلْ ھُوَشَرٌّ لَّھُمْ۝۰ۭ سَيُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝۰ۭ آل عمران180:3
اور جولوگ اللہ کے دیے ہوئے فضل کے معاملے میں بخل سے کام لیتے ہیں وہ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ یہ ان کے لیے اچھا ہے ۔ بلکہ یہ ان کے لیے بہت برا ہے۔ جس ما ل میں انہوں نے بخل کیا ہے اس کا طوق قیامت کے روز ان کے گلے میں ڈالا جائے گا۔( تجارت سے مراد ہے اشیاء اور خدمات کا تبادلہ بالعوض (الجصّاص، احکام القرآن، ج ۲ ص ۲۱۰، مطبعۃ البھیّہ، مصر ، ۱۳۴۷ھ۔ ابن العربی، احکام القرآن، ج۱، ص ۱۷۰، مطبع السعادۃ، مصر، ۱۳۳۱ھ)۔ آپس کی رضا مندی کی شرط خود بخود یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس تبادلہ میں کسی نوعیت کا دبائو نہ ہو، اور نہ کوئی دھوکا یا ایسی چال ہو جو اگر دوسرے فریق کے علم میں آجائے تو وہ اس پر راضی نہ ہو۔
)

۹۔ زر پرستی اور حرصِ مال کی مذمت

اس کے ساتھ قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ زرپرستی، دولتِ دنیا کی حرص و ہوس، اور خوشحالی پر فخر و غرور انسان کی گمراہی اور بالآخر اس کی تباہی کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب ہے:
اَلْہٰىكُمُ التَّكَاثُرُo حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَo كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَo التکاثر 1-3:102
تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹنے کی فکر نے مستغرق کر رکھا ہے، قبر میں جانے تک تم اسی فکر میں منہمک رہتے ہو، یہ ہرگز تمہارے لیے نافع نہیں ہے، جلدی ہی تم کو اس کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
وَكَمْ اَہْلَكْنَا مِنْ قَرْيَۃٍؚبَطِرَتْ مَعِيْشَتَہَا۝۰ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُہُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِہِمْ اِلَّا قَلِيْلًا۝۰ۭ وَكُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِيْنَo القصص58:28
کتنی ہی بستیوں کو ہم نے ہلاک کر دیا جو اپنی معیشت پر اترائیں، اب دیکھ لو ان کے گھروں کو، کم ہی کوئی ان کے بعد ان گھروں میں بسا ہے، اور ہم ہی ان کے وارث ہوئے۔
وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَۃٍ مِّنْ نَّذِيْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْہَآ۝۰ۙ اِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ كٰفِرُوْنَo
وَقَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّاَوْلَادًا۝۰ۙ وَّمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَo السبا34-35:34
ہم نے جس بستی میں بھی کوئی متنبہ کرنے والا بھیجا اس کے دولت مند لوگوں نے اس سے کہا کہ جو پیغامِ رسالت تم لے کر آئے ہو ہم اس کے منکر ہیں اور انہوں نے کہا کہ ہم تم سے زیادہ مال اولاد رکھتے ہیں اور ہم ہر گز عذاب پانے والے نہیں ہیں۔

۱۰ ۔ بے جا خرچ کی مذمت

دوسری طرف قرآن مجید اس بات کی بھی سخت مذمت کرتا ہے کہ انسان جائز طریقوں سے حاصل شدہ دولت کو ناجائز کاموں میں اڑائے، یا اپنے ہی عیش اور لطف و لذت پر اسے صرف کرتا چلا جائے اور اپنا معیارِ زندگی زیادہ سے زیادہ بلند کرنے کے سوا اپنی دولت کا کوئی اور مصرف اس کی نگاہ میں نہ ہو:
وَلَا تُسْرِفُوْا۝۰ۭ اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَo الانعام141:6
خرچ میں حد سے نہ گزرو، اللہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔
وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًاo اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ۝۰ۭ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِرَبِّہٖ كَفُوْرًاo بنی اسرائیل26,27:17
فضول خرچی نہ کرو، فضول خرچ لوگ شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔
وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۝۰ۚ اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَo الاعراف 31:7
کھائو اور پیو، مگر حد سے نہ گزرو، اللہ حد سے گزر جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
قرآن کی نگاہ میں انسان کے لیے صحیح رَوِش یہ ہے کہ وہ اپنی ذات پر اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے میں اعتدال سے کام لے۔ اس کے مال پر اس کی اپنی ذات کا اور اس کے متعلقین کا حق ہے جسے ادا کرنے میں اس کو بخل بھی نہ کرنا چاہیے، لیکن صرف یہی ایک حق نہیں ہے کہ وہ سب کچھ اسی پر لٹا دے اور کوئی دوسرا حق نہ پہچانے:
وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْہَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًاo بنی اسرائیل29:17
اور اپنا ہاتھ نہ تو اپنی گردن سے باندھ رکھ (کہ کچھ خرچ نہ کرے) اور نہ اسے بالکل ہی کھول دے کہ ملامت زدہ اور حسرت زدہ بن کر بیٹھا رہ جائے۔
وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَـقْتُرُوْا وَكَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًاo الفرقان 67:25
(اور اللہ کے نیک بندے وہ ہیں) جو خرچ میں نہ اسراف کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتے ہیں۔
وَابْتَغِ فِــيْمَآ اٰتٰىكَ اللہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَاَحْسِنْ كَـمَآ اَحْسَنَ اللہُ اِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْاَرْضِ۝۰ۭ القصص77:28
جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس کے ذریعہ سے آخرت کے گھر کی بہتری کے لیے کوشش کر اور اپنا دنیا کا حصہ بھی فراموش نہ کر، اور (خلقِ خدا کے ساتھ) احسان کر جس طرح خدا نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے، اور (اپنی دولت کے ذریعہ سے) زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش نہ کر۔

۱۱۔ دولت خرچ کرنے کے صحیح طریقے

معقول حد کے اندر اپنی ضروریات پر خرچ کرنے کے بعد آدمی کے پاس اس کی حلال طریقوں سے کمائی ہوئی دولت کا جو حصہ بچے اسے خود ان کاموں پر اس کو صرف کرنا چاہیے:
وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ۝۰ۥۭ قُلِ الْعَفْوَ۝۰ۭ البقرہ219:2
لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (راہِ خدا میں) وہ کیا خرچ کریں، کہو جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو۔
لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰۗىِٕكَۃِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ۝۰ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّہٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ۝۰ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ۝۰ۚ …….
البقرہ 177:2
نیکی اس چیز کا نام نہیں ہے کہ تم نے مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرلیا، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی ایمان لائے اللہ پر اور یوم آخرت پر اور ملائکہ اور کتاب اور نبیوں پر، اور مال دے اللہ کی محبت میں اپنے رشتے داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور مدد مانگنے والوں کو اور خرچ کرے غلامی سے لوگوں کی گردنیں چھڑانے میں…
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۝۰ۥۭ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِيْمٌo آل عمران92:3
تم نیکی کا مقام ہر گز نہ پاسکو گے جب تک کہ خرچ نہ کرو اپنے وہ مال جو تمہیں محبوب ہیں اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے وہ اللہ کو معلوم ہوگا۔
وَاعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْۢبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۙ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرَۨاo الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُوْنَ مَآ اٰتٰىھُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ۝۰ۭ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّہِيْنًاo وَالَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ رِئَاۗءَ النَّاسِ ..
النساء 36-38:4
اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور نیک سلوک کرو والدین کے ساتھ، رشتے داروں کے ساتھ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ، رشتے دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور ہم نشین دوست کے ساتھ، مسافر کے ساتھ اور ان غلاموں کے ساتھ جو تمہارے قبضے میں ہوں۔ درحقیقت اللہ اترانے والوں اور فخر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، جو خودبخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کی تلقین کرتے ہیں، اور اس فضل کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے انہیں بخشا ہے۔ ایسے ناشکروں کے لیے ہم نے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے اور وہ (لوگ بھی اللہ کو ناپسند ہیں) جو اپنے مال دکھاوے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔
لِلْفُقَرَاۗءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ ضَرْبًا فِي الْاَرْضِ۝۰ۡيَحْسَبُھُمُ الْجَاہِلُ اَغْنِيَاۗءَ مِنَ التَّعَفُّفِ۝۰ۚ تَعْرِفُھُمْ بِسِيْمٰھُمْ۝۰ۚ لَا يَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا۝۰ۭ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِيْمٌo البقرہ273:2
(راہِ خدا میں خرچ کے مستحق) وہ تنگ حال لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں ایسے گھر گئے ہیں کہ زمین میں اپنی روزی کمانے کے لیے دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے،(۱) ناواقف آدمی ان کی خودداری کی وجہ سے ان کو غنی سمجھتا ہے ، مگر تم ان کے چہروں سے ان کو پہچان سکتے ہو، وہ پیچھے پڑ کر لوگوں سے نہیں مانگتے۔ جو کچھ مال تم ان پر خرچ کرو گے اللہ کو اس کا علم ہوگا۔
وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّہٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًاo اِنَّمَا نُـطْعِمُكُمْ لِوَجْہِ اللہِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَاۗءً وَّلَا شُكُوْرًاo الدھر 8-9:76
(اور نیک لوگ) اللہ کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین اور یتیم اور قیدی کو اور کہتے ہیں کہ ہم محض اللہ کی خوشنودی کے لیے تمہیں کھلاتے ہیں، تم سے کسی بدلے یا شکریے کے خواہشمند نہیں ہیں۔
وَالَّذِيْنَ فِيْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌo لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِo المعارج24,25:70
(اور دوزخ کی آگ سے محفوظ) وہ لوگ ہیں جن کے مالوں میں ایک طے شدہ حصہ ہے مدد مانگنے والے اور محروم کے لیے (یعنی انہوں نے اپنے مال میں ان کا باقاعدہ حصہ مقرر کر رکھا ہے)۔
وَالَّذِيْنَ يَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْہُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِيْہِمْ خَيْرًا۝۰ۤۖ وَّاٰتُوْہُمْ مِّنْ مَّالِ اللہِ الَّذِيْٓ اٰتٰىكُمْ۝۰ۭ النور33:24
اور تمہارے غلاموں میں سے جو (فدیہ دے کر آزادی حاصل کرنے کا) معاہدہ کرنا چاہیں ان سے معاہدہ کرلو اگر تم ان کے اندر کوئی بھلائی پاتے ہو۔ اور (اس فدیہ کی ادائی کے لیے) ان کو اللہ کے اس مال میں سے دو جو اس نے تمہیں عطا کیا ہے۔
ان مصارف کو قرآن نہ صرف یہ کہ ایک بنیادی نیکی کہتا ہے بلکہ تاکیدًا وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ایسا نہ کرنے میں معاشرے کی مجموعی ہلاکت ہے:
وَاَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّہْلُكَۃِ۝۰ۚۖۛ وَاَحْسِنُوْا۝۰ۚۛ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَo البقرہ 195:2
خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو، اور احسان کرو، اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

۱۲۔ مالی کفّارے

اس عام اور رضا کارانہ انفاق فی سبیل اللہ کے علاوہ قرآن مجید بعض گناہوں یا کوتاہیوں کی تلافی کے لیے مالی کفارے بھی مقرر کرتا ہے۔ مثلاً جو شخص قسم کھا کر توڑ دے اس کے لیے حکم ہے کہ:
فَكَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰكِيْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَہْلِيْكُمْ اَوْ كِسْوَتُہُمْ اَوْ تَحْرِيْرُ رَقَبَۃٍ۝۰ۭ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰــثَۃِ اَيَّامٍ۝۰ۭ المائدہ 89:5
اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جیسا اوسط درجہ کا کھانا تم اپنے بال بچوں کو کھلاتے ہو، یا ان کو کپڑے دینا ہے، یا ایک غلام آزاد کرنا۔ مگر جو ایسا نہ کرسکتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے۔
اسی طرح جوشخص اپنی بیوی کو ماں بہن سے تشبیہہ دے کر اپنے لیے حرام کرلے پھر اس سے رجوع کرنا چاہے اس کے لیے حکم ہے:
فَتَحْرِيْرُ رَقَبَۃٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّـتَـمَاۗسَّا۝۰ۭ ……. فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَہْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ …… فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِـتِّيْنَ مِسْكِيْنًا۝۰ۭ المجادلہ 3,4:58
قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں (شوہر) ایک غلام آزاد کرے… اور جو غلام نہ پاتا ہو وہ مسلسل دو مہینے کے روزے رکھے… اور جو اس کی قدرت نہ رکھتا ہو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔
ایسے ہی کفارے حج کے سلسلے میں بھی بعض کوتاہیوں کے معاملے میں تجویز کیے گئے ہیں (البقرہ 196:2، المائدہ 95:5) اور ایسا ہی فدیہ روزوں کے معاملے میں مقرر کیا گیا ہے۔(البقرہ 184:2)

۱۳۔ انفاق کے مقبول ہونے کی لازمی شرائط

یہ راہِ خدا کا خرچ، جسے قرآن کبھی انفاق، کبھی انفاق فی سبیل اللہ، کبھی صدقہ اور کبھی زکوٰۃ کے الفاظ سے تعبیر کرتا ہے، محض ایک نیکی اور خیرات نہیں ہے بلکہ ایک عبادت اور اسلام کے پانچ ارکان… ایمان، نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج… میں سے تیسرا رکن ہے۔ قرآن مجید میں ۳۷ مقامات پر اس کا اور نماز کا ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے اور پورے زور کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں چیزیں لازمۂ اسلام اور مدارِ نجات ہیں۔(۱)وہ کہتا ہے کہ زکوٰۃ ہمیشہ سے اسلام کا رکن رہی ہے:
وَجَعَلْنٰہُمْ اَىِٕمَّۃً يَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْہِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوۃِ وَاِيْتَاۗءَ الزَّكٰوۃِ۝۰ۚ وَكَانُوْا لَنَا عٰبِدِيْنَo الانبیاء73:21
اور ان کو (یعنی ابراہیم، لوط، اسحاق اور یعقوب علیہم السلام کو) ہم نے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے اور ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کا اور نماز قائم کرنے کا اور زکوٰۃ دینے کا حکم بھیجا اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے۔
وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِــيَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِيْنَ لَہُ الدِّيْنَ۝۰ۥۙ حُنَفَاۗءَ وَيُقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَيُؤْتُوا الزَّكٰوۃَ وَذٰلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَۃِ o البینہ 5:98
اور اہل کتاب کو اس کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے، یکسو ہو کر، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی صحیح دین ہے۔
وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ۝۰ۡاِنَّہٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّاo وَكَانَ يَاْمُرُ اَہْلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّكٰوۃِ۝۰۠ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّہٖ مَرْضِيًّاo مریم54,55:19
اور ذکر کرو اس کتاب میں اسمٰعیل کا۔ وہ وعدہ کا سچا اور رسول نبی تھا اور وہ اپنے متعلقین کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا، اور اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ آدمی تھا۔
وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللہَ۝۰ۣ ….. وَّاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ۝۰ۭ البقرہ83:2
اور یاد کرو، ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو گے… اور یہ کہ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔
قَالَ اِنِّىْ عَبْدُ اللہِ۝۰ۣۭ اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ وَجَعَلَنِيْ نَبِيًّاo وَّجَعَلَنِيْ مُبٰرَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ۝۰۠ ‎وَاَوْصٰىنِيْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّكٰوۃِ مَا دُمْتُ حَيًّاo مریم30,31:19
(عیسیٰؑ ابن مریمؑ نے) کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے نبی بنایا اور مجھ کو برکت والا بنایا جہاں بھی میں رہوں، اور مجھے ہدایت دی کہ جب تک زندہ رہوں نماز اور زکوٰۃ کا پابند رہوں۔
اسی طرح یہ زکوٰۃ اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم میں بھی دین اسلام کا ایک رکن ہے۔ مسلم ملت میں کسی شخص کے شامل ہونے کے لیے جس طرح ایمان اور نماز ضروری ہے اسی طرح زکوٰۃ بھی ضروری ہے۔
مِلَّـۃَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰہِيْمَ۝۰ۭ ہُوَسَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ۰ۥۙ …… فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ وَاعْتَصِمُوْا بِاللہِ۝۰ۭ الحج78:22
(اللہ نے تمہارے لیے) تمہارے باپ ابراہیمؑ کا طریقہ مقرر کیا ہے، اسی نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے… پس نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کا دامن مضبوطی سے تھامے رہو۔
ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ۝۰ۚۖۛ فِيْہِ۝۰ۚۛھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَo الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَo البقرہ 2,3:2
یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں ۔ راہ بتانے والی ہے خدا سے ڈرنے والوں کو جو بے دیکھے ماننے والے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ ……. الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ يُنْفِقُوْنَo اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا۝۰ۭ الانفال 2-4:8
مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر ان کے سامنے کیا جاتا ہے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں… جو نماز قائم کرتے ہیں اور اس رزق میں سے خرچ کرتے ہیں جو ہم نے انہیں دیا ہے، یہی لوگ حقیقت میں مومن ہیں۔
اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَہُمْ رٰكِعُوْنَo المائدہ55:5
تمہارے رفیق تو اللہ اور اللہ کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں، جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ خدا کے سامنے جھکنے والے ہیں۔
فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۝۰ۭ التوبہ11:9
پس اگر (مشرکین اپنے شرک سے) توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہو جائیں گے۔
یہ زکوٰۃ صرف معاشرے کی بھلائی ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ خود زکوٰۃ دینے والوں کی اپنی روحانی ترقی اور ان کے اخلاق کی درستی اور ان کی فلاح و نجات کے لیے بھی ضروری ہے۔ یہ ایک ٹیکس نہیں ہے بلکہ نماز کی طرح ایک عبادت ہے ۔ انسان کی اصلاحِ نفس کے لیے قرآن جو دستور العمل دیتا ہے، یہ اس کا ایک لازمی جُز ہے:
خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْہِمْ بِہَا وَصَلِّ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّھُمْ۝۰ۭ التوبہ 103:9
(اے نبیؐ) ان کے اموال میں سے ایک صدقہ وصول کر کے انہیں پاک کر دو اور ان میں اوصافِ حمیدہ کو نشوونما دو، اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو، تمہاری دعا ان کے لیے باعثِ تسکین ہوگی۔
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ۥۭ آل عمران 92:3
تم نیکی کا مقام کبھی نہ پاسکو گے جب تک کہ اپنی محبوب چیزیں خرچ نہ کرو۔
وَاَنْفِقُوْا خَيْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ۝۰ۭ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَo
التغابن 16:64
اور خرچ کرو، یہ تمہارے اپنے ہی لیے بہتر ہے ، اور جو دل کی تنگی سے بچ گیا، ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

۱۵۔ لازمی زکوٰۃ اور اس کی شرح

قرآن نے اس تعلیم و ہدایت سے معاشرے کے افراد میں رضاکارانہ انفاق فی سبیل اللہ کی ایک عام روح پھونک دینے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت کی کہ آپ کم سے کم انفاق کی ایک حد مقرر کر کے ایک فریضہ کے طور پر اسلامی ریاست کی طرف سے اس کی تحصیل اور تقسیم کا انتظام کریں:
خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً التوبہ 103:9
(اے نبیؐ) ان کے اموال میں سے ایک صدقہ وصول کرو۔
یہ ’’ایک صدقہ‘‘ کا لفظ اس امر کی طرف اشارہ تھا کہ عام صدقات، جو فرداً فرداً بطور خود لوگ دیتے ہیں، ان کے علاوہ ایک خاص مقدارِ صدقہ ان پر فرض کر دی جائے، اور اس کا تعین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود کریں۔ چنانچہ اس حکم کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اقسام کی ملکیتوں کے بارے میں ایک کم سے کم حد مقرر فرما دی جس سے کم پر فرض زکوٰۃ عائد نہ ہوگی، پھر بقدر نصاب یا اس سے زائد ملکیتوں پر مختلف اموال کے معاملے میں زکوٰۃ کی حسبِ ذیل شرح مقرر فرمائی:(۱)
(۱) سونے چاندی اور زرِنقد کی صورت میں جو دولت جمع (۲)ہو اس پر 2½ فیصد سالانہ
(۲) زرعی پیداوار پر، جبکہ وہ بارانی زمینوں سے ہو۱۰ فیصد
(۳) زرعی پیداوار پر، جبکہ وہ مصنوعی آب پاشی سے ہو۵ فیصد
(۴) معدنیات پر جبکہ وہ نجی ملکیت میں ہوں اور، دفینوں پر۲۰ فیصد
(۵) مواشی پر، جو افزائشِ نسل اور فروخت کی غرض سے پالے جائیں۔ زکوٰۃ کی شرح بھیڑ، بکری، گائے، اونٹ وغیرہ جانوروں کے معاملے میں مختلف ہے جس کی تفصیل کتب فقہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
یہ مقدارِ زکوٰۃ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم سے اسی طرح مسلمانوں پر فرض کی ہے جس طرح روزانہ پانچ وقت کی چند رکعت نمازیں آپؐ نے اس کے حکم سے فرض کی ہیں۔ دینی فریضے اور لزوم کے اعتبار سے ان دونوں کی اہمیت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ قرآن مجید اس بات کو اسلامی حکومت کے بنیادی مقاصد میں شمار کرتا ہے کہ وہ نماز اور زکوٰۃ کا نظام قائم کرے:
اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ۝۰ۭ الحج 41:22
(یہ اہل ایمان، جن کو دفاعی جنگ کی اجازت دی جا رہی ہے، وہ لوگ ہیں) جنھیں اگر ہم نے زمین میں اقتدار بخشا تو یہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے، اور بدی سے روکیں گے۔
وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ ……. وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَo
النور 55,56:24
اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے یہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا… اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رسولؐ کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔
لیکن جیسا کہ اوپر کی آیات پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے ، فرض زکوٰۃ کی تحصیل اور تقسیم کا انتظام اگرچہ اسلامی حکومت کے فرائض میں شامل ہے، مگر اسلامی حکومت نہ ہونے کی صورت میں ، یا مسلم حکومت کے اس طرف سے غفلت برتنے کی صورت میں، مسلمانوں پر سے یہ فرض ساقط نہیں ہو جاتا، بالکل اسی طرح جس طرح نماز کا فرض ساقط نہیں ہوتا۔ کوئی اگر وصول کرنے اور تقسیم کرنے والا نہ ہو تو ہر صاحبِ نصاب مسلمان کو خود اپنے مال سے زکوٰۃ نکالنی اور تقسیم کرنی چاہیے۔

۱۶۔ اموالِ غنیمت کا خُمس

فرض زکوٰۃ عائد کرنے سے جو فنڈ فراہم ہوتا ہے اس پر قرآن نے ایک اور مد کا اضافہ بھی کیا ہے اور وہ ہے اموالِ غنیمت (spoils of war) کا ایک حصہ۔ قرآن نے یہ قاعدہ مقرر کیا ہے کہ ہر لڑائی میں جو غنیمت کا مال فوج کے ہاتھ آئے اسے سپاہی بطورِ خود نہ لوٹ لیں بلکہ سب کچھ لا کر اپنے کمانڈر کے حوالے کر دیں، اور کمانڈر اس کے پانچ حصے کر کے چار حصے ان سپاہیوں میں تقسیم کرے جنھوں نے معرکے میں حصہ لیا ہو، اور پانچواں حصہ الگ کر کے حکومت کے حوالے کر دے:
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۙ الانفال41:8
تم کو معلوم ہو کہ جو کچھ بھی غنیمت تم حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسولؐ اور قرابت داروں(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں غنیمت کے خمس میں سے ایک حصہ خود حضورؐ اپنی اور اپنے متعلقین کی ضروریات کے لیے لیتے تھے، کیوں کہ زکوٰۃ میں آپؐ کا اور آپؐ کے رشتے داروں کا کوئی حصہ نہ تھا۔ لیکن آپؐ کی وفات کے بعد اس امر میں اختلاف ہوا کہ رسولؐ اور قرابت داروں کا حصہ کس کو دیا جائے۔ بعض لوگوں کی رائے یہ تھی کہ یہ حصہ آنحضرتؐ کے لیے سربراہِ مملکت ہونے کی حیثیت سے تھا اور اب یہ آپؐ کے خلیفہ اور اس کے متعلقین کا حق ہے۔ بعض دوسرے لوگوں کی رائے تھی کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی آپؐ ہی کے متعلقین کا حق ہے۔ آخرکار اس بات پر اتفاق ہوا کہ وہ حصہ جو آنحضرتؐ اور ان کے متعلقین کے لیے تھا، اب اسلامی حکومت کی جنگی ضروریات کے لیے مخصوص کر دیا جائے۔ (الجصاص، ج ۳، ص ۷۵۔۷۷) اور یتامیٰ اور مسافر کے لیے ہے۔

۱۷۔ مصارفِ زکوٰۃ

ان دونوں مدات سے جو مال حاصل ہو وہ قرآن کی رو سے خزانہ عامہ (public exchequer) کا کوئی حصہ نہیں ہے جس کا مقصد زکوٰۃ دینے والوں سمیت تمام لوگوں کے لیے آسائشیں اور ضروری خدمات بہم پہنچانا ہوتا ہے، بلکہ قرآن نے اسے حسبِ ذیل مصارف کے لیے مخصوص کیا ہے:
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۭ فَرِيْضَۃً مِّنَ اللہِ۝۰ۭ
التوبہ 60:9
’’صدقات تو مخصوص ہیں فقراء ( فقر کے اصل معنی حاجت کے ہیں اور فقیر ہر وہ شخص ہے جو اپنی ضرورت سے کم معاش پانے کے باعث مدد کا محتاج ہو۔ (لسان العرب، ج ۵، ص ۶۰۔۶۱، بیروت، ۱۹۵۶ء)کے لیے اور مساکین ( حضرت عمرؓ کا قول ہے کہ مسکین وہ شخص ہے جو کما نہ سکتا ہو یا کمانے کا موقع نہ پاتا ہو۔ (الجصاص، ج ۳، ص ۱۵۱)۔ اس تعریف کی رو سے تمام وہ غریب بچے جو ابھی کمانے کے قابل نہ ہوئے ہوں، اور اپاہج اور بوڑھے جو کمانے کے قابل نہ رہے ہوں، اور بیروزگار یا بیمار جو عارضی طور پر کمانے کے موقع سے محروم ہوگئے ہوں، مسکین ہیں۔
)کے لیے اور ان لوگوں کے لیے جو صدقات کی تحصیل و تقسیم کا کام کریں، اور ان کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تین قسم کے لوگوں کو تالیفِ قلب کے لیے روپیہ دیا جاتا تھا۔ (۱) جو مخالفینِ اسلام کمزور مسلمانوں کو تکلیفیں دیتے یا اسلام کی عداوت میں سخت تھے انہیں روپیہ دے کر نرم رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کیا جاتا تھا۔ (۲) جو لوگ اپنی قوم یا قبیلے کے لوگوں کو اسلام قبول کرنے سے زبردستی روکتے تھے انہیں روپیہ دے کر اس روش سے باز آجانے پر آمادہ کیا جاتا تھا۔ (۳) جو لوگ نئے نئے اسلام میں داخل ہوتے تھے ان کی مالی مدد کی جاتی تھی تا کہ ان کا اضطراب رفع ہو اور وہ مطمئن ہو کر مسلمانوں کے گروہ میں رہیں۔ (الجصاص، ج ۳، ص ۱۵۲)۔
)ہو،نیز وہ صرف ہونے چاہئیں غلاموں کی گردنیں چھڑانے میں( اس سے مراد وہ مسلمان بھی ہیں جو لڑائیوں میں دشمنوں کے ہاتھ گرفتار ہو کر غلام بنا لئے جاتے تھے اور وہ غیر مسلم بھی جو مسلمانوں کے ہاں جنگ میں گرفتار ہو کر آتے اور فدیہ ادا کر کے رہائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ نیز وہ غلام بھی مراد ہیں جو پہلے سے غلام چلے آ رہے تھے۔
)، قرض داروں کی مدد میں، اللہ کی راہ میں( اللہ کی راہ سے مراد جہاد اور حج ہے۔ جہاں میں جانے والا رضاکار اگر اپنی ضروریات کی حد تک مال دار بھی ہو، تب بھی وہ زکوٰۃ لے سکتا ہے، کیونکہ جہاد کے لیے تیاری کرنے اور سفر وغیرہ کے مصارف بہم پہنچانے کے لیے آدمی کا ذاتی مال کافی نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح حج کے سفر میں اگر آدمی کا زادِ راہ ختم ہو جائے تو وہ بھی زکوٰۃ کا مستحق ہے۔ (الجصاص، ج ۳، ص ۵۷۔۱۵۶۔ نَیل الاَوطار، ج ۴، ص ۴۶۔۱۴۴) اور اور مسافروں کی خبر گیری میں( مسافر اپنے گھر پر چاہے مال دار بھی ہو، لیکن حالتِ سفر میں اگر وہ مدد کا محتاج ہو جائے تو اسے زکوٰۃ لینے کا حق پہنچتا ہے۔ (الجصاص، ج ۳، ص ۱۵۷)،اللہ کی طرف سے ایک فریضے کے طور پر۔‘‘

۱۸۔ تقسیم میراث کا قانون

کسی مرد یا عورت کی وفات پر اس کے متروکہ مال کے متعلق قرآن کا قانون یہ ہے کہ یہ مال اس کے والدین، اس کی اولاد، اور اس کی بیوی یا شوہر کے درمیان ایک مقرر نسبت کے ساتھ تقسیم کیا جائے۔ اور اگر والدین اور اولاد نہ ہو تو اس کے حقیقی اور علاتی اور اخیافی (یعنی صرف ماں شریک اور صرف باپ شریک) بھائی بہنوں کو حصہ دیا جائے۔ اس کے متعلق مفصل احکام سورئہ نساء میں بیان ہوئے ہیں( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قانون کی جو تشریح فرمائی ہے اس کی رو سے قریب ترین رشتہ داروں کی غیر موجودگی میں میراث قریب تر رشتے داروں کو پہنچے گی اور ان کی غیر موجودگی میں بدرجۂ آخر اسے ان لوگوں میں تقسیم کیا جائے گا جو غیروں کی بہ نسبت میت سے کوئی قرابت رکھتے ہوں۔ لیکن اگر کوئی رشتہ دار سرے سے موجود ہی نہ ہو تو پھر یہ مال اسلامی حکومت کے خزانہ میں داخل ہوگا۔ (نَیل الاَوطار، ج۶، ص ۴۷۔۵۶) (ملاحظہ ہو آیت ۷ تا ۱۲، اور آیت ۱۷۶) ۔ یہاں ہم بخوفِ طوالت انہیں نقل نہیں کرتے۔
اس معاملے میں قرآن نے جو اصول اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ جو مال ایک شخص کی زندگی میں یکجا مرتکز ہوگیا ہو وہ اس کے مرنے کے بعد مرتکز نہ رہنے دیا جائے بلکہ اس کے قرابت داروں میں پھیلا دیا جائے۔ یہ اصول توریثِ خلفِ اکبر primo geniture)) اور مشترک خاندانی جائیداد (joint family system) اور ایسے ہی دوسرے طریقوں کے برعکس ہے، جن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مرتکز شدہ دولت مرنے والے کے بعدبھی مرتکز ہی رہے۔
اسی طرح قرآن متبنٰی بنانے کے طریقے کو بھی رد کر دیتا ہے اور یہ قاعدہ مقرر کرتا ہے کہ جو لوگ واقعی رشتہ دار ہیں، میراث میں حق انہی کا ہے، کسی غیر آدمی کو بیٹا بنا کر مصنوعی طور پر وارث نہیں بنایا جاسکتا:
وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَاۗءَكُمْ اَبْنَاۗءَكُمْ۝۰ۭ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاہِكُمْ۝۰ۭ الاحزاب 4:33
اللہ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا بیٹا نہیں بنایا ہے، یہ تو ایک بات ہے جو تم بس اپنے منہ سے نکالتے ہو۔
وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللہِ الاحزاب 6:33
اور رشتہ دار ہی اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔
لیکن حقیقی وارث رشتہ داروں کے حقوق کی پوری طرح حفاظت کر دینے کے بعد قرآن ان کو یہ ہدایت کرتا ہے کہ تقسیمِ میراث کے موقع پر جو غیر وارث رشتہ دار آئیں ان کو بھی وہ اپنی خوشی سے کچھ نہ کچھ دیں:
وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ اُولُوا الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنُ فَارْزُقُوْھُمْ مِّنْہُ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاo وَلْيَخْشَ الَّذِيْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِھِمْ ذُرِّيَّۃً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَيْھِمْ۝۰۠ فَلْيَتَّقُوا اللہَ النساء 8,9:4
اور جب تقسیم کے موقع پر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین لوگ آئیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دو اور ان سے اچھی طرح بات کرو۔ لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ اپنے پیچھے کمزور اولاد چھوڑ رہے ہوتے تو انہیں کیسے کیسے اندیشے لاحق ہوتے، پس چاہیے کہ لوگ اللہ سے ڈریں۔

۱۹۔ وصیت کا قاعدہ

قرآن مجید وراثت کا قانون مقرر کرنے کے ساتھ آدمی کو یہ ہدایت بھی دیتا ہے کہ وہ مرنے سے پہلے اپنے ترکے کے بارے میں وصیت کر دے:
كُتِبَ عَلَيْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَيْرَۨا۝۰ۚۖ الْوَصِيَّۃُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ بِالْمَعْرُوْفِ۝۰ۚ حَقًّا عَلَي الْمُتَّقِيْنَo البقرہ180:2
تم پر لکھ دیا گیا کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے اور وہ کافی مال چھوڑ رہا ہو تو والدین اور رشتہ داروں کے لیے جائز طریقہ پر وصیت کر دے، یہ حق ہے پرہیز گاروں پر۔
اس حکم کا منشا یہ ہے کہ ایک تو مرنے والا خصوصیت کے ساتھ اپنے والدین کے حق میں اپنی اولاد کو حسن سلوک کی وصیت کر جائے، کیوں کہ ان سے بوڑھے دادا ، دادی کی خدمت کی توقع کم ہی کی جاسکتی ہے۔ دوسرے اس کے خاندان میں جو افراد ایسے ہوں جنھیں قانون کے مطابق میراث میں سے حصہ نہیں پہنچتا، مگر مرنے والا انہیں مدد کا مستحق سمجھتا ہو تو انہیں اپنے ترکے میں سے حصہ دینے کی وصیت کر دے۔ اس کے علاوہ ایک شخص اگر بہت مال چھوڑ رہا ہو تو وہ رفاہِ عام کے کاموں کے لیے بھی وصیت کرنے کا مجاز ہے۔ کیوں کہ مذکورہ بالا آیت کا منشا یہ نہیں ہے کہ وصیت کی اجازت صرف والدین اور رشتہ داروں تک ہی محدود رہے۔(نَیل الاوطار، ج ۶، ص ۳۲۔۳۳۔ اس معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح سے قرآن کا جو منشا معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کے لیے اپنے رشتے داروں کو غریب و محتاج چھوڑ کر رفاہِ عام پر خرچ کرنے کی وصیت کرنا پسندیدہ نہیں ہے ۔ نیل الاوطار میں بخاری، مسلم اور دوسری کتبِ حدیث سے آنحضرتؐ کے جو الفاظ نقل کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں کہ: ’’تیرا اپنے وارثوں کو خوشحال چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ تو انہیں اس حال میں چھوڑے کہ وہ محتاج ہوں اور لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلائیں۔‘‘)
وصیت اور میراث کے اس قانون سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ شخصی املاک کے ترکوں کے معاملے میں اسلامی اسکیم یہ ہے کہ دو تہائی تو لازماً قانونِ میراث کے مطابق تقسیم ہو، اور ایک تہائی مرنے والے کے اختیارِ تمیزی پر چھوڑ دیا جائے تا کہ وہ جس غرض کے لیے چاہے اسے صرف کرنے کی وصیت کردے، بشرطیکہ وہ جائز طریقے پر ہو، یعنی وہ کام بھی جائز ہو جس کے لیے وصیت کی گئی ہے اور اس میں کسی کی حق تلفی بھی نہ ہو۔(وصیت کے قانون کی تشریح کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حقِ وصیت پر تین حدود عائد کیے ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی زیادہ سے زیادہ اپنے ایک تہائی مال کی حد تک وصیت کے اختیارات استعمال کرسکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جن لوگوں کو اَز رُوئے قانون وراثت کا حصہ پہنچتا ہو ان کے لیے کوئی وصیت دوسرے وارثوں کی رضا مندی کے بغیر نہیں کی جاسکتی۔ تیسرے یہ کہ کسی وارث کو وراثت سے محروم کرنے یا اس کے حصے میں کمی کرنے کی وصیت نہیں کی جاسکتی (نیل الاوطار، ج ۶، ص ۳۱، ۳۵)

۲۰۔ نادان لوگوں کے مفاد کی حفاظت

جو لوگ خفیف العقل ہونے کی وجہ سے اپنی املاک میں صحیح تصرف نہ کرسکتے ہوں اور ان کو ضائع کر رہے ہوں، یا بجا طور پر اندیشہ ہو کہ ضائع کر دیں گے، ان کے بارے میں قرآن ہدایت کرتا ہے کہ ان کی املاک ان کے اختیار میں نہ دی جائیں، بلکہ وہ ان کے سرپرست یا قاضی کے انتظام میں رہیں، اور انہیں صرف اس وقت سونپی جائیں جب اس امر کا اطمینان ہو جائے کہ وہ اپنے معاملات کو ٹھیک طرح سنبھال سکیں گے:
وَلَا تُؤْتُوا السُّفَھَاۗءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِىْ جَعَلَ اللہُ لَكُمْ قِيٰـمًا وَّارْزُقُوْھُمْ فِيْھَا وَاكْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاo وَابْتَلُوا الْيَتٰمٰى حَتّٰٓي اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ۝۰ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْٓا اِلَيْھِمْ اَمْوَالَھُمْ۝۰ۚ النساء 5,6:4
اور اپنے اموال، جنھیں اللہ نے تمہارے لیے زندگی کے قیام کا ذریعہ بنایا ہے، نادان لوگوں کے حوالے نہ کرو۔ البتہ انہیں اس میں سے کھلائو اور پہنائو اور ان سے معقول بات کرو ۔ اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں اور تم ان میں ہوشمندی محسوس کرو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو۔
اس آیت میں ایک اہم نکتہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ شخصی املاک اگرچہ ان اشخاص ہی کی ملک ہیں جو ان پر قانوناً حقِ ملکیت رکھتے ہوں، لیکن وہ بالکلیہ انھی کی نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ اجتماعی مفاد بھی وابستہ ہے۔ اسی بنا پر قرآن اَمْوَالَہُمْ (ان کے مال) کہنے کے بجائے اَمْوَالَکُمْ (تمہارے مال) کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ اور اسی بنیاد پر وہ سرپرستوں اور قاضیوں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ جہاں شخصی املاک میں بے جا تصرف سے معاشرے کا اجتماعی نقصان کیا جا رہا ہو، یا ایسے نقصان کا معقول اندیشہ ہو، وہاں مالک کے حقِ ملکیت اور حقِ انتفاع کو برقرار رکھتے ہوئے اس کا حقِ تصرف اپنے ہاتھ میں لے لیں۔(ابن العربی، احکام القرآن، ج ۱، ص ۱۳۳۔ ابن کثیر، تفسیر القرآن، ج ۱، ص ۴۵۲۔ الجصّاص، احکام القرآن، ج ۲، ص ۷۲۔۷۳۔)

۲۱۔ سرکاری املاک میں اجتماعی مفاد کا لحاظ

جو جائیدادیں اور اموال اور آمدنیاں حکومت کی ملک ہوں، ان کے بارے میں قرآن ہدایت کرتا ہے کہ ان کا صَرف محض دولت مند طبقوں کے مفاد میں نہیں بلکہ عام لوگوں کے مفاد میں ہونا چاہیے، اور خصوصیت کے ساتھ ان کے صَرف میں معاشرے کے کمزور طبقات کی بھلائی کا زیادہ لحاظ رکھا جانا چاہیے:
مَآ اَفَاۗءَ اللہُ عَلٰي رَسُوْلِہٖ مِنْ اَہْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۙ كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَۃًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَاۗءِ مِنْكُمْ۝۰ۭ ……. لِلْفُقَرَاۗءِ الْمُہٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ ……. وَالَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِيْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ ……. وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِہِمْ الحشر 7-10:59
جو کچھ پھیر دے اللہ اپنے رسول کی طرف بستیوں کے لوگوں سے وہ اللہ کے لیے ہے اور رسول کے لئے(ابن العربی، احکام القرآن، ج ۱، ص ۱۳۳۔ ابن کثیر، تفسیر القرآن، ج ۱، ص ۴۵۲۔ الجصّاص، احکام القرآن، ج ۲، ص ۷۲۔۷۳۔
) اور قرابت داروں کے لیے( اس سے مراد اسلامی ریاست کے نظم و نسق اور دفاع کے مصارف ہیں۔ اسی مد سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خلفاء اپنا گزارہ لیتے تھے اور اپنے عمال (باستثناء عاملینِ زکوٰۃ) کی تنخواہیں بھی دیتے تھے۔ عاملینِ زکوٰۃ کی تنخواہیں خود مال زکوٰۃ میں سے دی جاتی تھیں۔
) اور یتامیٰ اور مساکین اور مسافر کے لئے، تا کہ یہ مال صرف تمہارے مال داروں ہی میں چکر نہ لگاتا رہے… نیز وہ ان غریب مہاجرین کے لیے بھی ہے جو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے نکال دیئے گئے ہیں… اور وہ ان انصار کا حق بھی ہے جو مہاجرین کے آنے سے پہلے ایمان کے ساتھ دارالاسلام میں مقیم تھے… اور اس میں بعد کے آنے والوں کا حق بھی ہے۔۔

۲۲۔ ٹیکس عائد کرنے کے متعلق اسلام کا اصولی ضابطہ

ٹیکس عائد کرنے کے بارے میں قرآن اس اصول کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ ٹیکسوں کا بار صرف ان لوگوں پر پڑنا چاہیے جو اپنی ضرورت سے زیادہ مال رکھتے ہیں، اور ان کی دولت کے بھی صرف اس حصے پر یہ بار ڈالا جانا چاہیے جو ان کی ضرورت سے زائد بچتا ہو:
وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ۰ۥۭ قُلِ الْعَفْوَ۝۰ۭ البقرہ 219:2
وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں، کہو جو کچھ تمہاری ضرورت سے بچے۔
اسلامی نظامِ معیشت کی خصوصیات
قرآن کے ان ۲۲ نکات میں انسان کی معاشی زندگی کے لیے جو اسکیم مرتب کی گئی ہے اس کے بنیادی اصول اور نمایاں خصائص یہ ہیں:
۱۔ یہ اسکیم معاشی انصاف ایسے طریقے سے قائم کرتی ہے جس سے ایک طرف ہر طرح کے معاشی ظلم اور بے جا استحصال کا سدِّباب بھی ہو، اور دوسری طرف معاشرے میں اخلاقی فضائل کا نشوونما بھی ہوسکے۔ قرآن کے پیش نظر ایسا معاشرہ بنانا نہیں ہے جس میں کوئی کسی کے ساتھ خود نیکی نہ کرسکے اور افراد کے ساتھ نیکی اور بھلائی کا یہ کام ایک اجتماعی مشن کے ذریعے سے ہوتا رہے، کیوں کہ اس طرح کے معاشرے میں اخلاقی فضائل کے نشوونما کا کوئی امکان نہیں رہتا۔ قرآن اس کے برعکس وہ معاشرہ بناتا ہے جس میں افراد ایک دوسرے کے ساتھ رضا کارانہ اور بے غرضانہ فیاضی، ہمدردی اور احسان کا برتائو کریں اور اس کی بدولت ان کے درمیان آپس کی محبت فروغ پائے۔ اس غرض کے لیے وہ زیادہ تر انحصار لوگوں کے اندر ایمان پیدا کرنے اور ان کو تعلیم و تربیت کے ذریعہ سے بہتر انسان بنانے کی تدبیروں پر کرتا ہے۔ پھر جو کسر باقی رہ جاتی ہے اس کو پورا کرنے کے لیے وہ ان جبری احکام سے کام لیتا ہے جو اجتماعی فلاح کے لیے ناگزیر ہیں۔ (نکات نمبر 8تا 13 اور 15 تا 19)
۲۔ اس میں معاشی اقدار کو اخلاقی اقدار سے الگ رکھنے کے بجائے دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے اور معیشت کے مسائل کو مجرد معاشی نقطۂ نظر سے لے کر حل کرنے کے بجائے انہیں اس مجموعی نظامِ حیات کے تناسب میں رکھ کر حل کیا گیا ہے جس کی عمارت اسلام نے کلیتًہ خدا پرستانہ تصورِ کائنات و فلسفۂ اخلاق پر استوار کی ہے۔ (نکات نمبر 1,2,4,5)
۳۔ اس میں زمین کے معاشی وسائل و ذرائع کو نوعِ انسانی پر خدا کا فضلِ عام قرار دیا گیا ہے ، جس کا تقاضا یہ ہے کہ شخصی، گروہی یا قومی اجارہ داریوں کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے اور اس کے بجائے خدا کی زمین پر بنی نوع انسان کو اکتسابِ رزق کے زیادہ سے زیادہ ممکن حد تک کھلے مواقع دیئے جائیں۔ (نکتہ 5)
۴۔ اس میں افراد کو شخصی ملکیت کا حق دیا گیا ہے مگر غیر محدود نہیں۔ فرد کے حقِ ملکیت پر دوسرے افراد اور معاشرے کے مفاد کی خاطر ضروری پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ یہ اسکیم ہر فرد کے مال میں اس کے اقربا، ہمسایوں، دوستوں، حاجت مند اور کم نصیب انسانوں، اور مجموعی طور پر پورے معاشرے کے حقوق بھی قائم کرتی ہے۔ ان حقوق میں سے بعض جبری طور پر قابل تنفیذ ہیں اور بعض کو سمجھنے اور ادا کرنے کے لیے خود افراد کو ذہنی و اخلاقی تربیت کے ذریعے سے تیار کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ (نکات 3,5,7-15,17,19)
۵۔ انسانی زندگی کے معاشی نظام کو چلانے کی فطری صورت اس اسکیم کی رو سے یہ ہے کہ افراد اسے آزادانہ سعی وجہد کے ذریعے سے چلائیں اور ترقی دیں۔ لیکن یہ آزادانہ سعی وجہد اس میں بے قید نہیں رکھی گئی ہے، بلکہ معاشرے کی اور خود ان افراد کی اپنی اخلاقی و تمدنی اور معاشی بھلائی کے لیے اسے بعض حدود سے محدود کیا گیا ہے۔ (نکات 6,7,15,22)
۶۔ اس میں عورت اور مرد دونوں کو ان کی کمائی ہوئی اور میراث یا دوسر ے جائز ذرائع سے پائی ہوئی دولت کا یکساں مالک قرار دیا گیا ہے اور دونوں صنفوں کو اپنے حق ملکیت سے متمتع ہونے کے یکساں حقوق دیئے گئے ہیں۔ (نکات 3,4,18)
۷۔ اس میں معاشی توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک طرف تو لوگوں کو بخیلی اور رہبانیت سے روک کر خدا کی نعمتوں کے استعمال پر ابھارا گیا ہے، اور دوسری طرف انہیں اسراف اور فضول خرچی اور عیاشی سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے ۔ (نکات 5,8-10)
۸۔ اس میں معاشی انصاف قائم کرنے کے لیے یہ انتظام کیاگیا ہے کہ دولت کا بہائو نہ تو غلط ذرائع سے کسی خاص سمت میں چل پڑے اور نہ جائز ذرائع سے آئی ہوئی دولت کہیں ایک جگہ سمٹ کر بے کار رکی رہ جائے۔ اس کے ساتھ وہ یہ انتظام بھی کرتی ہے کہ دولت زیادہ سے زیادہ استعمال اور گردش میں آئے اور اس کی گردش سے خصوصیت کے ساتھ ان عناصر کو حصہ ملے جو کسی نہ کسی وجہ سے اپنا مناسب حصہ پانے سے محروم رہ جاتے ہوں۔ (نکات 6-10,12,13,15,17-19,21)
۹۔ یہ اسکیم معاشی انصاف قائم کرنے کے لیے قانون اور ریاست کی مداخلت پر زیادہ انحصار نہیں کرتی ۔ چند ناگزیر تدابیر کو ریاست کی ذمہ داری قرار دینے کے بعد وہ اس مقصد کے لیے اپنی بقیہ تدابیر کا نفاذ افراد کی ذہنی و اخلاقی تربیت اور معاشرے کی اصلاح کے ذریعے سے کرتی ہے تا کہ آزاد سعی و جہد کی معیشت کے منطقی تقاضوں کو برقرار رکھتے ہوئے معاشی انصاف کا مقصد حاصل ہوسکے۔ (نکات 5-22)
۱۰۔ معاشرے کے مختلف عناصر میں طبقاتی کشمکش پیدا کرنے کے بجائے وہ اس کے اسباب کو ختم کر کے ان کے درمیان تعاون اور رفاقت کی روح پیدا کرتی ہے ۔
(نکات 4,6-12,15-17,21,22)
یہ اصول نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے عہد میں جس طرح عملاً ریاست اور معاشرے کے نظام میں نافذ کئے گئے تھے اس سے ہم کو احکام اور نظائر کی شکل میں بہت سی مزید تفصیلات حاصل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ بحث اس باب کے موضوع سے خارج ہے۔ اس کے متعلق حدیث، فقہ، تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں وسیع مواد موجود ہے جس کی طرف تفصیلات کے لیے رجوع کیا جاسکتا ہے

سرمایہ داری اور اسلام کافرق

اسلام نے اشتراکیت اور سرمایہ داری کے درمیان جو متوسط معاشی نظریہ اختیار کیا ہے اس پر ایک عملی نظام کی عمارت اٹھانے کے لیے وہ اخلاق اور قانون دونوں سے مدد لیتا ہے۔ اپنی اخلاقی تعلیم سے وہ جماعت اور اس کے ہر ہر فرد کی ذہنیت کو اپنے نظام کی رضاکارانہ اطاعت کے لیے تیار کرتا ہے۔ اور اپنے قانون کی طاقت سے وہ ان پر ایسی پابندیاں عائد کرتا ہے جو انہیں اس نظام کی بندش میں رہنے پر مجبور کریں اور اس کے حدود سے نکلنے نہ دیں۔ یہ اخلاقی اصول اور قانونی احکام اس نظمِ معیشت کے قوائم و ارکان ہیں اور اس کے مزاج کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ان پر ایک تفصیلی نظر ڈال لیں۔

۱۔ اکتساب مال کے ذرائع میں جائز اور ناجائز کی تفریق

سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ اسلام اپنے پیروئوں کو دولت کمانے کا عام لائسنس نہیں دیتا بلکہ کمائی کے طریقوں میں اجتماعی مفاد کے لحا ظ سے جائز اور ناجائز کا امتیاز قائم کرتا ہے۔ یہ امتیاز اس قاعدہ کلیہ پر مبنی ہے کہ دولت حاصل کرنے کے تمام وہ طریقے ناجائز ہیں جن میں ایک شخص کا فائدہ دوسرے شخص یا اشخاص کے نقصان پر ہو، اور ہر وہ طریقہ جائز ہے جس میں فوائد کا مبادلہ اشخاصِ متعلقہ کے درمیان منصفانہ طور پر ہو۔ قرآن مجید میں اس قاعدہ کلیہ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ۝۰ۣ وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًاo وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْہِ نَارًا۝۰ۭ النساء 29,30:4
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقوں سے نہ کھایا کرو بجز اس کے کہ تجارت ہو آپس کی رضا مندی سے اور تم خود اپنے آپ کو (یا آپس میں ایک دوسرے کو) ہلاک نہ کرو، اللہ تمہارے حال پر مہربان ہے۔ جو کوئی اپنی حد سے تجاوز کر کے ظلم کے ساتھ ایسا کرے گا اس کو ہم آگ میں جھونک دیں گے۔
اس آیت میں تجارت سے مراد ہے اشیاء اور خدمات کا تبادلہ بالعوض۔ آپس کی رضامندی کے ساتھ اسے مشروط کر کے تبادلے کی ان تمام صورتوں کو ناجائز کر دیا گیا ہے جن میں کسی نوعیت کا دبائو شامل ہو، یا کوئی دھوکا یا ایسی چال ہو جو اگر دوسرے فریق کے علم میں آجائے تو وہ اس پر راضی نہ ہو۔ پھر مزید تاکید کے لیے فرمایا گیا ہی لَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ۔ اس کے دو مفہوم ہیں اور دونوں ہی یہاں مراد ہیں۔ ایک یہ کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک نہ کرو۔ دوسرا یہ کہ تم خود اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنے فائدے کے لیے دوسرے کا نقصان کرتا ہے وہ گویا اس کا خون پیتا ہے اور مآل کار میں خود اپنی تباہی کا راستہ کھولتا ہے۔
اس اصولی حکم کے علاوہ مختلف مقامات پر قرآن مجید میں اکتسابِ مال کی جن صورتوں کو حرام کیا گیا ہے وہ یہ ہیں:
رشوت اور غصب (البقرہ 188:2)
خیانت، خواہ افراد کے مال میں ہو یا پبلک کے مال میں (البقرہ283:2، آل عمران 161:3)
چوری (المائدہ 38:5)
مالِ یتیم میں بے جا تصرف (النساء 10:4)
ناپ تول میں کمی (التطفیف 3:83)
فحش پھیلانے والے ذرائع کا کاروبار (النور 19:24)
قحبہ گری اور زنا کی آمدنی (النور 2,33:24)
شراب کی صنعت، اس کی بیع اور اس کا حمل و نقل (المائدہ 90:5)
جوا اور تمام وہ ذرائع جن سے کچھ لوگوں کا مال دوسرے لوگوں کی طرف منتقل ہونا محض بخت و اتفاق پر مبنی ہو (المائدہ 90:5)
بت گری، بت فروشی اور بت خانوں کی خدمات (المائدہ 90:5)
قسمت بتانے اور فال گیری کا کاروبار (المائدہ 90:5)
سود خوری (البقرہ 275,278-280، آلِ عمران 130:3)

۲۔ مال جمع کرنے کی ممانعت

دوسرا اہم حکم یہ ہے کہ جائز طریقوں سے جو دولت کمائی جائے اس کو جمع نہ کیا جائے، کیوں کہ اس سے دولت کی گردش رک جاتی ہے، اور تقسیم دولت میں توازن برقرار نہیں رہتا۔ دولت سمیٹ سمیٹ کر جمع کرنے والا نہ صرف خود بدترین اخلاقی امراض میں مبتلا ہوتا ہے بلکہ درحقیقت وہ پوری جماعت کے خلاف ایک شدید جرم کا ارتکاب کرتا ہے، اور اس کا نتیجہ آخر کار خود اس کے اپنے لیے بھی برا ہے ۔ اسی لیے قرآن مجید بخل اور قارونیت کا سخت مخالف ہے۔ وہ کہتا ہے:
وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ ھُوَخَيْرًا لَّھُمْ۝۰ۭ بَلْ ھُوَشَرٌّ لَّھُمْ۝۰ۭ آل عمران 180:3
جو لوگ اللہ کے دیے ہوئے فضل میں بخل کرتے ہیں وہ یہ گمان نہ کریں کہ یہ فعل ان کے لیے اچھا ہے، بلکہ درحقیقت یہ ان کے لیے برا ہے۔
وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا يُنْفِقُوْنَہَا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ۝۰ۙ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍo التوبہ 34:9
اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو عذابِ الیم کی خبر دے دو۔
یہ چیز سرمایہ داری کی بنیاد پر ضرب لگاتی ہے ۔ بچت کو جمع کرنا اور جمع شدہ دولت کو مزید دولت پیدا کرنے میں لگانا، یہی دراصل سرمایہ داری کی جڑ ہے۔ مگر اسلام سرے سے اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی اپنی ضرورت سے زائد دولت کو جمع کر کے رکھے۔

۳۔ خرچ کرنے کا حکم

جمع کرنے کے بجائے اسلام خرچ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ مگر خرچ کرنے سے اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ آپ عیش و آرام اور گلچھرے اڑانے میں دولت لٹائیں۔ بلکہ وہ خرچ کرنے کا حکم فی سبیل اللہ کی قید کے ساتھ دیتا ہے، یعنی آپ کے پاس اپنی ضروریات سے جو کچھ بچ جائے اس کو جماعت کی بھلائی کے کاموں میں خرچ کر دیں کہ یہی سبیل اللہ ہے:
وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ۝۰ۥۭ قُلِ الْعَفْوَ۝۰ۭ البقرہ 219:2
اور وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ کہو کہ جو ضرورت سے زائد ہو۔
وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْۢبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۙ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ۝۰ۭ النساء36:3
اور نیک سلوک کرو اپنے ماں باپ کے ساتھ اور اپنے رشتہ داروں اور نادار مسکینوں اور قرابت دار پڑوسیوں اور اجنبی ہمسایوں اور پاس بیٹھنے والے ساتھیوں اور مسافروں اور اپنے لونڈی غلاموں کے ساتھ۔
وَفِيْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِo الذّٰریٰت19:51
اور ان کے مالوں میں سائل اور نادار کا حق ہے۔
یہاںپہنچ کر اسلام کا نقطۂ نظر سرمایہ داری کے نقطۂ نظر سے بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔
سرمایہ دار سمجھتا ہے کہ خرچ کرنے سے مفلس ہو جائوں گا اور جمع کرنے سے مال دار بنوں گا۔ اسلام کہتا ہے خرچ کرنے سے برکت ہوگی، تیری دولت گھٹے گی نہیں بلکہ اور بڑھے گی:
اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاۗءِ۝۰ۚ وَاللہُ يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَفَضْلًا۝۰ۭ البقرہ 269:2
شیطان تم کو ناداری کا خوف دلاتا ہے اور (بخل جیسی) شرم ناک بات کا حکم دیتاہے، مگر اللہ تم سے بخشش اور مزید عطا کا وعدہ کرتا ہے۔
سرمایہ دار سمجھتا ہے کہ جو کچھ خرچ کردیا وہ کھویا گیا۔ اسلام کہتا ہے کہ نہیں، وہ کھویا نہیں گیا بلکہ اس کا بہتر فائدہ تمہاری طرف پھر پلٹ کر آئے گا:
وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ يُّوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَo البقرہ272:2
اور تم نیک کاموں میں جو کچھ خرچ کرو گے وہ تم کو پورا پورا واپس ملے گا اور تم پر ہر گز ظلم نہ ہوگا۔
وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَۃً يَّرْجُوْنَ تِجَارَۃً لَّنْ تَـبُوْرَo لِيُوَفِّيَہُمْ اُجُوْرَہُمْ وَيَزِيْدَہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ۝۰ۭ فاطر29-30:35
اور جن لوگوں نے ہمارے بخشے ہوئے رزق میں سے کھلے اور چھپے طریقے سے خرچ کیا، وہ ایک ایسی تجارت کی امید رکھتے ہیں جس میں گھاٹا ہر گز نہیں ہے۔ اللہ ان کے بدلے ان کو پورے پورے اجر دے گا بلکہ اپنے فضل سے کچھ زیادہ ہی عنایت کرے گا۔
سرمایہ دار سمجھتا ہے کہ دولت کو جمع کر کے اس کو سود پر چلانے سے دولت بڑھتی ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ نہیں، سود سے تو دولت گھٹ جاتی ہے ۔ دولت بڑھانے کا ذریعہ نیک کاموں میں اسے خرچ کرنا ہے:
يَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ۝۰ۭ البقرہ 276:2
اللہ سود کا مَٹھ مار دیتا ہے اور صدقات کو نشوونما دیتا ہے۔
وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللہِ۝۰ۚ وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوۃٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْہَ اللہِ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَo الروم39:30
اور یہ جو تم سود دیتے ہو تا کہ لوگوں کے اموال میں اضافہ ہو تو اللہ کے نزدیک وہ ہرگز نہیں بڑھتا۔ بڑھوتری تو ان اموال کو نصیب ہوتی ہے جو تم اللہ کے لیے زکوٰۃ میں دیتے ہو۔
یہ ایک نیا نظریہ ہے جو سرمایہ داری کے نظریے کی بالکل ضد ہے۔ خرچ کرنے سے دولت کا بڑھنا اور خرچ کیے ہوئے مال کا ضائع نہ ہونا بلکہ اس کا پورا پورا بدل کچھ زائد فائدے کے ساتھ واپس آنا، سود سے دولت میں اضافہ ہونے کے بجائے الٹا گھاٹا آنا، زکوٰۃ و صدقات سے دولت میں کمی واقع ہونے کے بجائے اضافہ ہونا، یہ ایسے نظریات ہیں جو بظاہر عجیب معلوم ہوتے ہیں۔ سننے والا سمجھتا ہے کہ شاید ان سب باتوں کا تعلق محض ثوابِ آخرت سے ہوگا۔ اس میں شک نہیں کہ ان باتوں کا تعلق ثوابِ آخرت سے بھی ہے، اور اسلام کی نگاہ میں اصلی اہمیت اسی کی ہے، لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس دنیا میں بھی معاشی حیثیت سے یہ نظریات ایک نہایت مضبوط بنیاد پر قائم ہیں۔ دولت کو جمع کرنے اور اس کو سود پر چلانے کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ دولت سمٹ سمٹ کر چند افراد کے پاس اکٹھی ہو جائے۔ جمہور کی قوت خرید (purchasing power) روز بروز گھٹتی چلی جائے۔ صنعت اور تجارت اور زراعت میں کساد بازاری رونما ہو۔ قوم کی معاشی زندگی تباہی کے سرے پر جا پہنچے۔ اور آخرکار خود سرمایہ دار افراد کے لیے بھی اپنی جمع شدہ دولت کو افزائش دولت کے کاموں میں لگانے کا کوئی موقع باقی نہ رہے۔( اسی بات کی طرف اشارہ ہے اس حدیث میں جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اِنَّ الرِّبٰوا وَاِنْ کَثْرَفَاِنَّ عَاقَبِتَہٗ تَصِیْرَ اِلٰی قَلٍّ (ابن ماجہ۔ بیہقی۔ احمد) یعنی ’’سود اگرچہ کتنا ہی زیادہ ہو مگر انجام کار وہ کمی کی طرف پلٹتا ہے۔‘‘ ) بخلاف اس کے خرچ کرنے اور زکوٰۃ و صدقات دینے کا مآل یہ ہے کہ قوم کے تمام افراد تک دولت پھیل جائے، ہر ہر شخص کو کافی قوتِ خرید حاصل ہو۔ صنعتیں پرورش پائیں، کھیتیاں سرسبز ہوں، تجارت کو خوب فروغ ہو، اور چاہے کوئی لکھ پتی اور کروڑ پتی نہ ہو، مگر سب خوش حال و فارغ البال ہوں۔ اس مآل اندیشانہ معاشی نظریے کی صداقت اگر دیکھنی ہو تو امریکہ کے موجودہ معاشی حالات کو دیکھئے( اشارہ ہے اس خوفناک کساد بازاری کی طرف جو اس کتاب کی تصنیف کے زمانے میں رونما تھی۔) جہاں سود ہی کی وجہ سے تقسیم ثروت کاتوازن بگڑ گیا ہے اور صنعت و تجارت کی کساد بازاری نے قوم کی معاشی زندگی کو تباہی کے سرے پر پہنچا دیا ہے۔ اس کے مقابلے میں ابتدائے عہدِ اسلامی کی حالت کو دیکھئے کہ جب اس معاشی نظریہ کو پوری شان کے ساتھ عملی جامہ پہنایا گیا تو چند سال کے اندر قوم کی خوش حالی اس مرتبے کو پہنچ گئی کہ لوگ زکوٰۃ کے مستحقین کو ڈھونڈتے پھرتے تھے اور مشکل ہی سے کوئی ایسا شخص ملتا تھا جو خود صاحبِ نصاب نہ ہو۔ ان دونوں حالتوں کا موازنہ کرنے سے معلوم ہو جائے گا کہ اللہ کس طرح سود کا مَٹھ مارتا ہے اور صدقات کو نشوونما دیتا ہے۔
پھر اسلام جو ذہنیت پیدا کرتا ہے وہ بھی سرمایہ دارانہ ذہنیت سے بالکل مختلف ہے۔ سرمایہ دار کے ذہن میں کسی طرح یہ تصور سما ہی نہیں سکتا کہ ایک شخص اپنا روپیہ دوسرے کو سود کے بغیر کیسے دے سکتا ہے۔ وہ قرض پر نہ صرف سود لیتا ہے بلکہ اپنے راس المال اور سود کی بازیافت کے لیے قرض دار کے کپڑے اور گھر کے برتن تک قرق کرالیتا ہے۔ مگر اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ حاجت مند کو صرف قرض ہی نہ دو بلکہ اگر وہ تنگ دست ہو تو اس پر تقاضے میں سختی بھی نہ کرو، حتیٰ کہ اگر اس میں دینے کی استطاعت نہ ہو تو معاف کر دو:
وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰى مَيْسَرَۃٍ۝۰ۭ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo البقرہ 280:2
اگر قرض دار تنگ دست ہو تو اس کی حالت درست ہونے تک اسے مہلت دے دو، اور اگر معاف کر دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ اس کا فائدہ تم سمجھ سکتے ہو اگر کچھ علم رکھتے ہو۔
سرمایہ داری میں امدادِ باہمی کے معنی یہ ہیں کہ آپ انجمن امدادِ باہمی کو پہلے روپیہ دے کر اس کے رکن بنیـے، پھر اگر کوئی ضرورت آپ کو پیش آئے گی تو انجمن آپ کو عام بازاری شرح سود سے کچھ کم پر قرض دے دے گی۔ اگر آپ کے پاس روپیہ نہیں ہے تو ’’امداد باہمی‘‘ سے آپ کچھ بھی امداد حاصل نہیں کرسکتے۔ برعکس اس کے اسلام کے ذہن میں امدادِ باہمی کا تصور یہ ہے کہ جو لوگ ذی استطاعت ہوں وہ ضرورت کے وقت اپنے کم استطاعت بھائیوں کو نہ صرف قرض دیں بلکہ قرض ادا کرنے میں بھی حسبتہً للہ ان کی مدد کریں۔ چنانچہ زکوٰۃ کے مصارف میں سے ایک مصرف وَالْغَارِمِیْن بھی ہے، یعنی قرض داروں کے قرض ادا کرنا۔
سرمایہ دار اگر نیک کاموں میں خرچ کرتا ہے تو محض نمائش کے لیے، کیوں کہ اس کم نظر کے نزدیک اس خرچ کا کم سے کم یہ معاوضہ تو اس کو حاصل ہونا ہی چاہیے کہ اس کا نام ہو جائے۔ اس کو مقبولیت عام حاصل ہو، اس کی دھاک اور ساکھ بیٹھ جائے۔ مگر اسلام کہتا ہے کہ خرچ کرنے میں نمائش ہر گز نہ ہونی چاہیے۔ خفیہ یا علانیہ جو کچھ بھی خرچ کرو، اس میں یہ مقصد پیش نظر ہی نہ رکھو کہ فوراً اس کا بدل تم کو کسی نہ کسی شکل میں مل جائے۔ بلکہ مآلِ کار پر نگاہ رکھو۔ اس دنیا سے لے کر آخرت تک جتنی دور تمہاری نظر جائے گی تم کو یہ خرچ پھلتا پھولتا اور منافع پر منافع پیدا کرتا ہی دکھائی دے گا۔ ’’جو شخص اپنے مال کو نمائش کے لیے خرچ کرتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان پر مٹی پڑی ہوئی تھی، اس مٹی پر بیج بویا گیا، مگر پانی کا ایک ریلہ آیا اور مٹی کو بہا لے گیا۔ اور جو شخص اپنی نیت کو درست رکھ کر اللہ کی خوشنودی کے لیے خرچ کرتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک عمدہ زمین میںباغ لگایا گیا، اگر بارش ہو گئی تو دو گنا پھل لایا اور اگر بارش نہ ہوئی تو محض ہلکی سی پھوار اس کے لیے کافی ہے۔‘‘ (البقرہ 264,265:2)
اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِىَ۝۰ۚ وَاِنْ تُخْفُوْھَا وَتُؤْتُوْھَا الْفُقَرَاۗءَ فَھُوَخَيْرٌ لَّكُمْ۝۰ۭ
البقرہ 271:2
اگر صدقات علانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے ۔ لیکن اگر چھپا کر دو اور غریب لوگوں تک پہنچائو تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
سرمایہ دار اگر نیک کام میں کچھ صرف بھی کرتا ہے تو بادلِ ناخواستہ، بدتر سے بدتر مال دیتا ہے اور پھر جس کو دیتا ہے اس کی آدھی جان اپنی زبان کے نشتروں سے نکال لیتا ہے۔ اسلام اس کے بالکل برعکس یہ سکھاتا ہے کہ اچھا مال خرچ کرو، اور خرچ کر کے احسان نہ جتائو، بلکہ اس کی خواہش بھی نہ رکھو کہ کوئی تمہارے سامنے احسان مندی کا اظہار کرے:
اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ۝۰۠ وَلَا تَـيَمَّمُوا الْخَبِيْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ البقرہ 267:2
تم نے جو کچھ کمایا ہے اور جو کچھ ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے اس میں سے عمدہ اموال کو راہِ خدا میں صرف کرو، نہ یہ کہ بدتر مال چھانٹ کر اس میں سے دینے لگو۔
لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰى۝۰ۙ البقرہ264:2
اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور اذیت پہنچا کر ملیامیٹ نہ کرلو۔
وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّہٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًاo اِنَّمَا نُـطْعِمُكُمْ لِوَجْہِ اللہِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَاۗءً وَّلَا شُكُوْرًاo الدھر 8,9:76
اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ کے لیے تم کو کھلاتے ہیں۔ ہم تم سے کسی جزاء اور شکریہ کے خواہشمند نہیں ہیں۔
چھوڑیئے اس سوال کو کہ اخلاقی نقطۂ نظر سے ان دونوں ذہنیتوں میں کتنا عظیم تفاوت ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ خالص معاشی نقطۂ نظر ہی سے دیکھ لیجئے کہ فائدے اور نقصان کے ان دونوں نظریوں میں سے کون سا نظریہ زیادہ محکم، اور دور رس نتائج کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے۔ پھر جب کہ منفعت و مضرت کے باب میں اسلام کا نظریہ وہ ہے جو آپ دیکھ چکے ہیں تو کیوں کر ممکن ہے کہ اسلام کسی شکل میں بھی سودی کاروبار کو جائز رکھے؟

۴۔ زکوٰۃ

جیسا کہ اوپر بیان ہوا، معاشیات میں اسلام جس مطمح نظر کو سامنے رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ دولت کسی جگہ جمع نہ ہونے پائے۔ وہ چاہتا ہے کہ جماعت کے جن افراد کو اپنی بہتر قابلیت یا خوش قسمتی کی بنا پر ان کی ضرورت سے زیادہ دولت میسر آگئی ہو وہ اس کو سمیٹ کر نہ رکھیں بلکہ خرچ کریں، اور ایسے مصارف میں خرچ کریں جن سے دولت کی گردش میں سوسائٹی کے کم نصیب افراد کو بھی کافی حصہ مل جائے۔ اس غرض کے لیے اسلام ایک طرف اپنی بلند اخلاقی تعلیم اور ترغیب و ترہیب کے نہایت موثر طریقوں سے فیاضی اور حقیقی امداد باہمی کی اسپرٹ پیدا کرتا ہے، تا کہ لوگ خود اپنے میلانِ طبع ہی سے دولت جمع کرنے کو برا سمجھیں اور اسے خرچ کر دینے کی طرف راغب ہوں۔ دوسری طرف وہ ایسا قانون بناتا ہے کہ جو لوگ فیاضی کی اس تعلیم کے باوجود اپنی افتادِ طبع کی وجہ سے روپیہ جوڑنے اور مال سمیٹنے کے خوگر ہوں، یا جن کے پاس کسی نہ کسی طور پر مال جمع ہو جائے، ان کے مال میں سے بھی کم از کم ایک حصہ سوسائٹی کی فلاح و بہبود کے لیے ضرور نکلوالیا جائے۔ اسی چیز کا نا م زکوٰۃ ہے، اور اسلام کے معاشی نظام میں اس کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ اس کو ارکانِ اسلام میں شامل کر دیا گیا ہے۔ نماز کے بعد سب سے زیادہ اسی کی تاکید کی گئی ہے اور صاف صاف کہہ دیا گیا ہے کہ جو شخص دولت جمع کرتا ہے اس کی دولت اس کے لیے حلال ہی نہیں ہوسکتی تاوقتیکہ وہ زکوٰۃ ادا نہ کرے:
خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْہِمْ بِہَا التوبہ103:9
اے نبی، ان کے اموال میں سے ایک صدقہ (یہ ’’ایک صدقہ‘‘ کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ اس سے مراد ایک خاص مقدارِ صدقہ ہے ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے وصول کرنے کا حکم دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ عام رضا کارانہ صدقات کے علاوہ یہ ایک واجب اور فرض صدقہ ہے جو لازماً مال دار لوگوں سے وصول کیا جائے گا۔ چنانچہ اس حکم کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اقسام کی دولتوں کے معاملے میں ایک مقدارِ نصاب مقرر کی جس سے کم دولت پر صدقہ واجبہ نہ لیا جائے گا۔ پھر بقدر نصاب یا اس سے زائد دولت پر مختلف چیزوں کے معاملے میں مختلف شرح سے زکوٰۃ عائد فرمائی۔ سونے اور چاندی اور زرِ نقد اور اموالِ تجارت پر یہ زکوٰۃ ½۲ فیصدی سالانہ ہے۔ زرعی پیداوار پر بارانی زمینوں کے معاملے میں ۱۰ فیصدی اور مصنوعی آب پاشی کی زمینوں میں ۵ فیصدی۔ معدنیات (جو نجی ملکیتوں میں ہوں) اور دفینوں پر ۲۰ فیصدی۔ اسی طرح مواشی پر بھی، جو افزائش نسل اور فروخت کے لیے ہوں، مختلف قسم کے جانوروں کے معاملہ میں مختلف شرحیں حضورؐ نے مقرر فرمائیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں۔)وصول کرو جو ان کو پاک کر دے اور ان کا تزکیہ کرے۔
آیت کے آخری الفاظ سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ مال دار آدمی کے پاس جو دولت جمع ہوتی ہے وہ اسلام کی نگاہ میں ایک ناپاکی ہے اور وہ پاک نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کا مالک اس میں سے ہر سال کم از کم ایک مقرر مقدار راہِ خدا میں نہ خرچ کر دے۔ یہ راہِ خدا کیا ہے؟ خدا کی ذات تو بے نیاز ہے، اس کو نہ تمہارا مال پہنچتا ہے نہ وہ اس کا حاجت مند ہے۔ اس کی راہ بس یہی ہے کہ تم خود اپنی قوم کے تنگ حال لوگوں کو خوشحال بنانے کی کوشش کرو اور ایسے مفید کاموں کو ترقی دو جن کا فائدہ ساری قوم کو حاصل ہوتا ہے:
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۭ التوبہ60:9
صدقات تو دراصل فقراء اور مساکین کے لیے ہیں(فقیر سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اپنی ضرورت سے کم معاش پانے کے باعث مدد کا محتاج ہو (لسان العرب، لفظ ’’فقر‘‘) اور مسکین کی تعریف حضرت عمرؓ نے یہ بیان کی ہے کہ وہ ایسا شخص ہے جو کما نہ سکتا ہو، یا کمانے کا موقع نہ پاتا ہو۔ اس تعریف کی رو سے وہ غریب بچے جو ابھی کمانے کے قابل نہ ہوئے ہوں، اور وہ اپاہج اور بوڑھے جو کمانے کے قابل نہ رہے ہوں، اور وہ بیروزگار یا بیمار یا آفت رسیدہ لوگ جو عارضی طور پر کمانے کے مواقع سے محروم رہ گئے ہوں، سب مساکین ہیں۔
) اور ان کارکنوں کے لیے جو صدقات کی تحصیل پر مقرر ہوں۔ اور ان لوگوں کے لیے جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو۔(اس میں وہ نو مسلم آجاتے ہیں جو کفر سے اسلام میں داخل ہونے کے باعث مشکلات میں مبتلا ہوگئے ہوں۔
)اور لوگوں کی گردنیں بندِاسیری سے چھڑانے کے لیے اور قرض داروں کے قرض ادا کرنے کے لیے۔ اور فی سبیل اللہ خرچ کرنے کے لئے۔ اور مسافروں کے لیے۔(مسافر اگر اپنے گھر پر دولت مند بھی ہو تو حالتِ سفر میں تنگی پیش آجانے پر وہ زکوٰۃ کا مستحق ہوتا ہے۔)
یہ مسلمانوں کی کوآپریٹو سوسائٹی ہے۔ یہ ان کی انشورنس کمپنی ہے۔ یہ ان کا پراویڈنٹ فنڈ ہے۔ یہ ان کے لیے بے کاروں کا سرمایۂ اعانت ہے۔ یہ ان کے معذوروں، اپاہجوں، بیماروں، یتیموں، بیوائوں اور بے روزگاروں کا ذریعہ پرورش ہے۔ یہ اس بات کی ضمانت ہے کہ مسلم معاشرے میں کوئی شخص ضروریاتِ زندگی سے محروم نہ رہے گا۔ اور ان سب سے بڑھ کر یہ وہ چیز ہے جو مسلمان کو فکر فردا سے بالکل بے نیاز کر دیتی ہے۔ اس کا سیدھا سادھا اصول یہ ہے کہ آج تم مال دار ہو تو دوسروں کی مدد کرو۔ کل تم نادار ہو گئے تو دوسرے تمہاری مدد کریں گے۔ تمہیں یہ فکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں کہ مفلس ہو گئے تو کیا بنے گا؟ مر گئے تو بیوی بچوں کا کیا حشر ہوگا؟ کوئی آفت ناگہانی آپڑی، بیمار ہو گئے، گھر میں آگ لگ گئی، سیلاب آگیا، دیوالہ نکل گیا، تو ان مصیبتوں سے مخلصی کی کیا سبیل ہو گی؟ سفر میں پیسہ پاس نہ رہا تو کیوں کر گزر بسر ہوگی؟ ان سب فکروں سے صرف زکوٰۃ تم کو ہمیشہ کے لیے بے فکر کر دیتی ہے۔ تمہارا کام بس اتنا ہے کہ اپنی پس انداز کی ہوئی دولت میں سے ایک حصہ دے کر اللہ کی انشورنس کمپنی میں اپنا بیمہ کرالو۔ اس وقت تم کو اس دولت کی ضرورت نہیں ہے، یہ ان کے کام آئے گی جو اس کے ضرورت مند ہیں۔ کل جب تم ضرورت مند ہوگے یا تمہاری اولاد ضرورت مند ہوگی تو نہ صرف تمہارا اپنا دیا ہوا مال بلکہ ضرورت ہو تو اس سے بھی زیادہ تم کو واپس مل جائے گا۔
یہاں پھر سرمایہ داری اور اسلام کے اصول و مناہج میں کلی تضاد نظر آتا ہے۔ سرمایہ داری کا اقتضاء یہ ہے کہ روپیہ جمع کیا جائے اور اس کو بڑھانے کے لیے سود لیا جائے تا کہ ان نالیوں کے ذریعہ سے آس پاس کے لوگوں کا روپیہ بھی سمٹ کر اس جھیل میں جمع ہو جائے۔ اسلام اس کے بالکل خلاف یہ حکم دیتا ہے کہ روپیہ اول تو روک کر نہ رکھا جائے، اور اگر رک گیا ہو تو اس تالاب میں سے زکوٰۃ کی نہریں نکال دی جائیں تا کہ جو کھیت سوکھے ہیں ان کو پانی پہنچے اور گرد و پیش کی ساری زمین شاداب ہو جائے۔ سرمایہ داری کے نظام میں دولت کا مبادلہ مقید ہے اور اسلام میں آزاد۔ سرمایہ داری کے تالاب سے پانی لینے کے لیے ناگزیر ہے کہ خاص آپ کا پانی پہلے سے زیادہ موجود ہو، ورنہ آپ ایک قطرۂ آب بھی وہاں سے نہیں لے سکتے… اس کے مقابلے میں اسلام کے خزانۂ آب کا قاعدہ یہ ہے کہ جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی ہو وہ اس میں لا کر ڈال دے اور جس کو پانی کی ضرورت ہو وہ اس میں سے لے لے۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں طریقے اپنی اصل اور طبیعت کے لحاظ سے ایک دوسرے کی پوری پوری ضد ہیں، اور ایک ہی نظم معیشت میں ان دونوں کو جمع کرنا درحقیقت اضداد کو جمع کرنا ہے جس کا تصور بھی کوئی عاقل نہیں کرسکتا۔

۵۔ قانونِ وراثت

اپنی ضروریات پر خرچ کرنے اور راہِ خدا میں دینے اور زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد بھی جو دولت کسی ایک جگہ سمٹ کر رہ گئی ہو، اس کو پھیلانے کے لیے پھر ایک تدبیر اسلام نے اختیار کی ہے اور وہ اس کا قانونِ وراثت ہے۔ اس قانون کا منشا یہ ہے کہ جو شخص مال چھوڑ کر مر جائے ، خواہ وہ زیادہ ہو یا کم، اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نزدیک و دور کے تمام رشتہ داروں میں ایک ضابطہ کے مطابق درجہ بدرجہ پھیلا دیا جائے۔ اور اگر کسی کا کوئی وارث نہ ہو یا نہ ملے تو بجائے اس کے کہ اسے متبنیٰ بنانے کا حق دیا جائے، اس کے مال کو مسلمانوں کے بیت المال میں داخل کر دینا چاہیے تا کہ اس سے پوری قوم فائدہ اٹھائے۔ تقسیم وراثت کا یہ قانون جیسا اسلام میں پایا جاتا ہے، کسی اور معاشی نظام میں نہیں پایا جاتا۔ دوسرے معاشی نظاموں کا میلان اس طرف ہے کہ جو دولت ایک شخص نے سمیٹ کر جمع کی ہے وہ اس کے بعد بھی ایک یا چند خاص اشخاص کے پاس سمٹی رہے۔( اولادِ اکبر کی جانشینی کا قانون (primogeniture) اور مشترک خاندان کا طریقہ (joint family system) اسی مقصد پر مبنی ہے۔) مگر اسلام دولت کے سمٹنے کو پسند ہی نہیں کرتا۔ وہ اس کو پھیلانا چاہتا ہے تا کہ دولت کی گردش میں آسانی ہو۔

۶۔ غنائم جنگ اور اموالِ مفتوحہ کی تقسیم

اس معاملے میں بھی اسلام نے وہی مقصد پیش نظر رکھا ہے۔ جنگ میں جو مالِ غنیمت فوجوں کے ہاتھ آئے اس کے متعلق یہ قانون بنایا گیا کہ اس کے پانچ حصے کئے جائیں۔ چار حصے فوج میں تقسیم کر دیئے جائیں اور ایک حصہ اس غرض کے لیے رکھ لیا جائے کہ عام قومی مصالح میں صرف ہو:
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۙ الانفال41:8
جان لو کہ جو کچھ تم کو غنیمت میں ہاتھ آئے اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسولؐ اور رسولؐ کے رشتہ داروں اور یتامیٰ اور مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔
اللہ اور رسولؐ کے حصہ سے مراد ان اجتماعی اغراض و مصالح کا حصہ ہے جن کی نگرانی اللہ اور رسولؐ کے تحت حکم اسلامی حکومت کے سپرد کی گئی ہے۔
رسولؐ کے رشتہ داروں کا حصہ اس لیے رکھا گیا تھا کہ زکوٰۃ میں ان کا حصہ نہ تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حصہ میں سے اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے تھے۔ بعد میں یہ حصہ بھی پہلی مد میں صرف کیا جانے لگا۔
اس کے بعد خمس میں تین طبقوں کا حصہ خصوصیت کے ساتھ رکھا گیا ہے۔
قوم کے یتیم بچے، تا کہ ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام ہو اور ان کو زندگی کی جدوجہد میں حصہ لینے کے قابل بنایا جائے۔
مساکین، جن میں بیوہ عورتیں، اپاہج، معذور، بیمار اور نادار سب شامل ہیں۔
ابن السبیل یعنی مسافر۔ اسلام نے اپنی اخلاقی تعلیم سے لوگوں میں مسافر نوازی کا میلان خاص طور پر پیدا کیا ہے اور اس کے ساتھ زکوٰۃ و صدقات اور غنائم جنگ میں بھی مسافروں کا حق رکھا ہے ۔ یہ وہ چیز ہے جس نے اسلامی ممالک میں تجارت، سیاحت، تعلیم اور مطالعہ و مشاہدۂ آثار و احوال کے لیے لوگوں کی نقل و حرکت میں بڑی آسانیاں پیدا کر دیں۔
جنگ کے نتیجے میں جو اراضی اور اموال اسلامی حکومت کے ہاتھ آئیں ان کے لیے یہ قانون بنایا گیا کہ ان کو بالکلیہ حکومت کے قبضے میں رکھا جائے:
مَآ اَفَاۗءَ اللہُ عَلٰي رَسُوْلِہٖ مِنْ اَہْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۙ كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَۃًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَاۗءِ مِنْكُمْ۝۰ۭ ……. لِلْفُقَرَاۗءِ الْمُہٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ ……. وَالَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِيْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ …….. وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِہِمْ الحشر 7-10:59
جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو بستیوں کے باشندوں سے فَے میں دلوایا ہے وہ اللہ اور اس کے رسولؐ اور رسولؐ کے رشتہ داروں اور یتامیٰ اور مساکین اور مسافروں کے لیے ہے تا کہ یہ مال صرف تمہارے دولت مندوں ہی کے درمیان چکر نہ لگاتا رہے… اور اس میں ان نادار مہاجرین کا بھی حصہ ہے جو اپنے گھربار اور جائیدادوں سے بے دخل کر کے نکال دیے گئے ہیں… اور ان لوگوں کا بھی حصہ ہے جو مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی دارالاسلام میں مقیم تھے… اور ان آئندہ نسلوں کا بھی حصہ ہے جو بعد میں آنے والی ہیں۔
اس آیت میں نہ صرف ان مصارف کی توضیح کی گئی ہے جن میں اموالِ فَے کو صرف کیا جائے گا، بلکہ صاف طور پر اس مقصد کی طرف بھی اشارہ کر دیا گیا ہے جس کو اسلام نے صرف اموالِ فَے کی تقسیم ہی میں نہیں بلکہ اپنے پورے معاشی نظام میں پیشِ نظر رکھا ہے، یعنی کَیْ لَایَکُوْنَ دُوْلَۃً بَیْنَ الْاَغْنِیَآئِ مِنْکُمْ (مال تمہارے مال داروں ہی میں چکر نہ لگاتا رہے)۔ یہ مضمون جس کو قرآن مجید نے ایک چھوٹے سے جامع فقرے میں بیان کر دیا ہے، اسلامی معاشیات کا سنگِ بنیاد ہے۔

۷۔اقتصاد کا حکم

ایک طرف اسلام نے دولت کو تمام افرادِ قوم میں گردش دینے اور مال داروں کے مال میں ناداروں کو حصہ دار بنانے کا انتظام کیا ہے، جیسا کہ آپ اوپر دیکھ چکے ہیں۔ دوسری طرف وہ ہر شخص کو اپنے خرچ میں اقتصاد اور کفایت شعاری ملحوظ رکھنے کا حکم دیتا ہے تا کہ افراد اپنے معاشی وسائل سے کام لینے میں افراط یا تفریط کی روش اختیار کر کے ثروت کے توازن کو نہ بگاڑ دیں۔ قرآن مجید کی جامع تعلیم اس باب میں یہ ہے کہ:
وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْہَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًاo بنی اسرائیل29:17
نہ اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے باندھے رکھ (کہ کھلے ہی نہیں) اور نہ اس کو بالکل ہی کھول دے کہ بعد میں حسرت زدہ بن کر بیٹھا رہ جائے۔
وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَـقْتُرُوْا وَكَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًاo
الفرقان 67:25
اللہ کے نیک بندے وہ ہیں کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل برتتے ہیں۔ بلکہ ان دونوں کے درمیان معتدل رہتے ہیں۔
اس تعلیم کا منشاء یہ ہے کہ ہر شخص جو کچھ خرچ کرے اپنے معاشی وسائل کی حد میں رہ کر خرچ کرے ۔ نہ اس قدر حد سے تجاوز کر جائے کہ اس کا خرچ اس کی آمدنی سے بڑھ جائے، یہاں تک کہ وہ اپنی فضول خرچیوں کے لیے ایک ایک کے آگے ہاتھ پھیلاتا پھرے، دوسروں کی کمائی پر ڈاکے مارے، حقیقی ضرورت کے بغیر لوگوں سے قرض لے اور پھر یا تو ان کے قرض مار کھائے یا قرضوں کا بھگتان بھگتنے میں اپنے تمام معاشی وسائل کو صرف کر کے اپنے آپ کو خود اپنے کیے کرتوتوں سے فقراء و مساکین کے زمرہ میں شامل کر دے۔ نہ ایسا بخیل بن جائے کہ اس کے معاشی وسائل جس قدر خرچ کرنے کی اس کو اجازت دیتے ہوں اتنا بھی نہ خرچ کرے۔ پھر اپنی حد کے اندر رہ کر خرچ کرنے کے بھی یہ معنی نہیں ہیں کہ اگر وہ اچھی آمدنی رکھتا ہے تو اپنی ساری کمائی صرف اپنے عیش و آرام اور تُزک و احتشام پر صرف کر دے، درآں حالیکہ اس کے عزیز، قریب، دوست، ہمسائے مصیبت کی زندگی بسر کر رہے ہوں۔ اس قسم کے خود غرضانہ خرچ کو بھی اسلام فضول خرچی ہی شمار کرتا ہے:
وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّہٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًاo اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ۝۰ۭ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِرَبِّہٖ كَفُوْرًاo
بنی اسرائیل 26,27:17
اور اپنے رشتہ دار کو اس کا حق دے اور مسکین اور مسافر کو۔ فضول خرچی نہ کر۔ فضول خرچ شیطانوں کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔
اسلام نے اس باب میں صرف اخلاقی تعلیم ہی دینے پر اکتفا نہیں کیا ہے، بلکہ اس نے بخل اور فضول خرچی کی انتہائی صورتوں کو روکنے کے لیے قوانین بھی بنائے ہیں، اور ایسے تمام طریقوں کا سدِّباب کرنے کی کوشش کی ہے جو تقسیمِ ثروت کے توازن کو بگاڑنے والے ہیں۔ وہ جوئے کو حرام قرار دیتا ہے۔ شراب اور زنا سے روکتا ہے۔ لہو و لعب کی بہت سی مسرفانہ عادتوں کو جن کا لازمی نتیجہ ضیاعِ وقت اور ضیاعِ مال ہے، ممنوع قرار دیتا ہے ۔ موسیقی کے فطری ذوق کو اس حد تک پہنچنے سے باز رکھتا ہے جہاں انسان کا انہماک دوسری اخلاقی و روحانی خرابیاں پیدا کرنے کے ساتھ معاشی زندگی میں بھی بدنظمی پیدا کرنے کا موجب ہوسکتا ہے اور فی الواقع ہو جاتا ہے۔ جمالیات کے طبعی رجحان کو بھی وہ حدود کا پابند بناتا ہے ۔ قیمتی ملبوسات، زر و جواہر کے زیورات، سونے چاندی کے ظروف اور تصاویر اور مجسموں کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو احکام مروی ہیں ان سب میں دوسرے مصالح کے ساتھ ایک بڑی مصلحت یہ بھی پیش نظر ہے کہ جو دولت تمہارے بہت سے غریب بھائیوں کی ناگزیر ضرورتیں پوری کرسکتی ہے، ان کو زندگی کے مایحتاج فراہم کر کے دے سکتی ہے، اسے محض اپنے جسم اور اپنے گھر کی تزئین و آرائش پر صرف کر دینا جمالیت نہیں، شقاوت اور بدترین خود غرضی ہے۔ غرض اخلاقی تعلیم اور قانونی احکام دونوں طریقوں سے اسلام نے انسان کو جس قسم کی زندگی بسر کرنے کی ہدایت کی ہے وہ ایسی سادہ زندگی ہے کہ اس میں انسان کی ضروریات اور خواہشات کا دائرہ اتنا وسیع ہی نہیں ہوسکتا کہ وہ ایک اوسط درجہ کی آمدنی میں گزربسر نہ کرسکتا ہو، اور اسے اپنے دائرہ سے پائوں نکال کر دوسروں کی کمائیوں میں حصہ لڑانے کی ضرورت پیش آئے ۔ یا اگر وہ اوسط سے زیادہ آمدنی رکھتا ہو تو اپنا تمام مال خود اپنی ذات پر خرچ کر دے، اور اپنے ان بھائیوں کی مدد نہ کرسکے جو اوسط سے کم آمدنی رکھتے ہوں۔

اسلامی نظامِ معیشت کے اُصول اور مقاصد( یہ تقریر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ انتظامات کی مجلس مذاکرہ میں 17؍ دسمبر 65ء کو کی گئی تھی (مرتب)

حضرات، مجھے چند خاص سوالات پر اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی ہے جنہیں میں سب سے پہلے آپ کو پڑھ کر سنا دیتا ہوں تا کہ آپ کو دائرۂ بحث کے حدود معلوم ہو جائیں۔
پہلا سوال یہ ہے کہ کیا اسلام نے کوئی معاشی نظام تجویز کیا ہے؟ اگر کیا ہے تو اس نظام کا کیا خاکہ ہے؟ اور اس خاکے میں زمین، محنت، سرمایہ اور تنظیم کا کیا مقام ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا زکوٰۃ اور صدقے کو معاشی بہبود کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے؟
تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم بلاسُود معاشی نظام رائج کرسکتے ہیں؟
اور چوتھا سوال یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک معاشی، سیاسی، معاشرتی اور مذہبی نظام کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
ان میں سے ایک ایک سوال ایسا ہے کہ اگر آدمی اس کی تفصیلات میں جائے تو ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے ۔ لیکن میں اس خیال سے کہ میرے مخاطب اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہیں جن کے لیے صرف اشارات کافی ہوسکتے ہیں، ان میں سے ہر سوال پر مختصر گفتگو کروں گا۔

اسلام کے معاشی نظام کی نوعیت

پہلے سوال کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ آیا اسلام نے کوئی معاشی نظام تجویزکیا ہے اور اگر کیا ہے تو اس نظام کا خاکہ کیا ہے؟ اور دوسرا حصہ یہ کہ اس خاکے میں زمین، محنت، سرمائے اور تنظیم کا کیا مقام ہے؟ سوال کے پہلے حصے کا جواب یہ ہے کہ اسلام نے یقیناً ایک معاشی نظام تجویز کیا ہے ۔ مگر اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ایک مفصل معاشی نظام اس نے ہر زمانے کے لیے بنا کر رکھ دیا ہے جس میں معاشی زندگی کے متعلق تمام تفصیلات طے کر دی گئی ہیں، بلکہ دراصل اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے ہمیں ایسے بنیادی اصول دیئے ہیں جن کی بنا پر ہم ہر زمانے کے لیے ایک معاشی نظام خود بنا سکتے ہیں۔ اسلام کا قاعدہ یہ ہے، اور قرآن و حدیث کو بغور پڑھنے سے وہ اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے، کہ زندگی کے ہر شعبے کے متعلق وہ ایک طرح سے حدود اربعہ (four corners) مقرر کر دیتا ہے اور ہمیں بتا دیتا ہے کہ یہ حدود ہیں جن میں تم اپنی زندگی کے اس شعبہ کی تشکیل کرو۔ ان حدود سے باہر تم نہیں جاسکتے، البتہ ان کے اندر تم اپنے حالات، ضروریات اور تجربات کے مطابق تفصیلات طے کرسکتے ہو۔ نجی زندگی کے معاملات سے لے کر تہذیب و تمدن کے تمام شعبوں تک اسلام نے انسان کی رہنمائی اسی طریقے پر کی ہے، اور یہی اس کا طریقِ رہنمائی ہمارے نظامِ معیشت کے بارے میں بھی ہے۔ یہاں بھی اس نے کچھ اصول ہم کو دے دیئے ہیں اور کچھ حدودِ اربعہ مقرر کر دیے ہیں تا کہ ان کے اندر ہم اپنے معاشی نظام کی صورت گری کریں۔ تفصیلات طے کرنے کا کام ہر زمانے کے لحاظ سے ہونا چاہیے اور ہوتا رہا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ انہی حدود اربعہ کے اندر ہمارے فقہاء نے اپنے زمانے میں معاشی نظام کے احکام بڑی تفصیل سے مرتب کیے تھے جو فقہ کی کتابوں میں ہمیں ملتے ہیں۔ فقہاء نے جو کچھ مرتب کیا ہے وہ ان اصولوں سے ماخوذ ہے جو اسلام نے دیئے ہیں اور ان حدود سے محدود ہے جو اس نے مقرر کر دی ہیں۔ ان تفصیلات میں سے جو چیزیں آج بھی ہماری ضروریات کے مطابق ہیں ان کو ہم جوں کا توں لے لیں گے، اور جو نئی ضروریات اب ہمیں لاحق ہیں ان کے لیے ہم مزید احکام کا استخراج کرسکتے ہیں۔ لیکن وہ لازماً اسلام کے دیئے ہوئے اصولوں سے ماخوذ ہونے چاہئیں اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں کے اندر رہنے چاہئیں۔

نظمِ معیشت کے مقاصد

اس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جب ہم کہتے ہیں کہ اسلام کا ایک معاشی نظام ہے تو اس کا مفہوم کیا ہوتا ہے۔ اب جو اصول اسلام نے ہم کو دیے ہیں ان کے بیان کرنے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ آپ ان مقاصد (objectives) کو اچھی طرح سمجھ لیں جنہیں اسلام کے معاشی نظام میں ملحوظ رکھا گیا ہے، کیوں کہ اس کے بغیر ان اصولوں کو نہ بخوبی سمجھا جاسکتا ہے، نہ حالات و ضروریات پر ان کا انطباق کیا جاسکتا ہے، اور نہ تفصیلی احکام کا استخراج ان کی حقیقی روح کے مطابق ہوسکتا ہے۔

(ا) انسانی آزادی

اولین چیز جو معیشت کے معاملے میں اسلام کے پیش نظر ہے وہ یہ ہے کہ انسان کی آزادی کو محفوظ رکھا جائے اور صرف اس حد تک اس پر پابندی عائد کی جائے جس حد تک نوعِ انسانی کی فلاح و بہبود کے لیے ناگزیر ہے ۔ اسلام انسان کی آزادی کو بہت بڑی اہمیت دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں ہر ہر شخص اپنی انفرادی حیثیت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے۔ یہ جواب دہی مشترک نہیں ہے، بلکہ ہر شخص فرداً فرداً ذمہ دار ہے اور اس کو فرداً فرداً اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ اس جوابدہی کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو اپنی شخصیت کا ارتقاء خود اپنے میلانات کے مطابق اپنی صلاحیتوں کے مطابق اور اپنے انتخاب کے مطابق کرنے کا زیادہ سے زیادہ موقع دیا جائے۔ اس لیے اسلام افراد کے لیے اخلاقی اور سیاسی آزادی کے ساتھ ان کی معاشی آزادی کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ اگر افراد کو معاشی آزادی حاصل نہ ہو تو ان کی اخلاقی اور سیاسی آزادی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ آپ خود اندازہ کرسکتے ہیں کہ جو آدمی اپنی معاش کے معاملے میں کسی دوسرے شخص یا ادارے یا حکومت کا دستِ نگر ہو وہ اگر اپنی کوئی آزادانہ رائے رکھتا بھی ہو تو وہ اپنی اس رائے پر عمل کرنے میں آزاد نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اسلام معاشی نظام کے لیے ہم کو ایسے اصول دیتا ہے جن سے فرد کے لیے اپنی روزی کمانے کے معاملے میں زیادہ سے زیادہ آزادی موجود رہے اور اس پر صرف اتنی پابندی عائد کی جائے جتنی حقیقت میں انسانی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے۔ اسی لیے اسلام سیاسی نظام بھی ایسا چاہتا ہے جس میں حکومت لوگوں کی آزاد مرضی سے بنے، لوگ اپنی مرضی سے اس کو بدلنے پر قادر ہوں، لوگوں کے، یا ان کے معتمد علیہ نمائندوں کے مشورے سے اس کا نظام چلایا جائے، لوگوں کو اس میں تنقید اور اظہار رائے کی پوری آزادی حاصل ہو، اور حکومت کو غیر محدود اختیارات حاصل نہ ہوں بلکہ وہ ان کے حدود کے اندر ہی رہ کر کام کرنے کی مجاز ہو جو قرآن اور سنت کے بالاتر قانون نے اس کے لیے مقرر کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام میں خدا کی طرف سے لوگوں کے بنیادی حقوق مستقل طور پر مقرر کر دیے گئے ہیں جنہیں سلب کرنے کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ افراد کی آزادی محفوظ رہے اور کوئی ایسا جابرانہ نظام مسلط نہ ہونے پائے جس میں انسانی شخصیت کا ارتقاء ٹھٹھر کر رہ جائے۔

(ب) اخلاقی اور مادی ترقی میں ہم آہنگی

دوسری بات یہ ہے کہ اسلام انسان کے اخلاقی نشوونما کو بنیادی اہمیت دیتا ہے اور اس مقصد کے لیے یہ ضروری ہے کہ معاشرے کے اجتماعی نظام میں فرد کو اختیاری حسنِ عمل کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع حاصل رہیں تا کہ انسانی زندگی میں فیاضی، ہمدردی، احسان اور دوسرے اخلاقی فضائل رو بعمل آسکیں۔ اسی بنا پر معاشی انصاف قائم کرنے کے لیے اسلام صرف قانون پر انحصار نہیں کرتا بلکہ اس معاملہ میں وہ سب سے بڑھ کر جس چیز کو اہمیت دیتا ہے وہ یہ ہے کہ ایمان، عبادات، تعلیم اور اخلاقی تربیت کے ذریعہ سے انسان کی داخلی اصلاح کی جائے، اس کے ذوق کو بدلا جائے، اس کے سوچنے کے انداز کو تبدیل کیا جائے اور اس کے اندر ایک مضبوط اخلاقی حِس (moral sence) پیدا کی جائے۔ جس سے وہ خود انصاف پر قائم رہے۔ ان ساری تدبیروں سے جب کام نہ چلے تو مسلمانوں کے معاشرے میں اتنی جان ہونی چاہیے کہ وہ اپنے اجتماعی دبائو سے آدمی کو حدود کا پابند رکھے۔ اس سے بھی جب کام نہ چلے تب اسلام قانون کی طاقت استعمال کرتا ہے تا کہ بزور انصاف قائم کیا جائے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے ہر وہ اجتماعی نظام غلط ہے جو انصاف کے قیام کے لیے صرف قانون کی طاقت پر انحصار کرے اور انسان کو اس طرح باندھ کر رکھ دے کہ وہ اپنے اختیار سے بھلائی کرنے پر سرے سے قادر ہی نہ رہے۔

(ج) تعاون و توافُق اور انصاف کا قیام

تیسری بات یہ ہے کہ اسلام انسانی وحدت و اخوت کا علمبردار اور تفرقہ و تصادم کا مخالف ہے، اس لیے وہ انسانی معاشرے کو طبقات میں تقسیم نہیں کرتا، اور فطری طور پر جو طبقات موجود ہیں ان کو طبقاتی نزاع (class struggle) کے بجائے ہمدردی اور تعاون کی راہ دکھاتا ہے۔ انسانی معاشرے کا آپ تجزیہ کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہاں دو قسم کے طبقات پائے جاتے ہیں۔ ایک قسم کے طبقات وہ جو مصنوعی طور پر ایک ظالمانہ سیاسی، معاشرتی اور معاشی نظام ناروا طریقے سے پیدا کر دیتے ہیں اور پھر زبردستی ان کو قائم رکھتے ہیں۔ مثلاً وہ طبقات جو برہمنیت نے پیدا کیے، یا وہ جو جاگیرداری نظام (feudal system) نے پیدا کیے، یا وہ جو مغرب کے سرمایہ داری نظام (western captalist system) نے پیدا کیے۔ اسلام نہ خود ایسے طبقات کو پیدا کرتا ہے اور نہ ان کو باقی رکھنا چاہتا ہے، بلکہ اپنی اصلاحی اور قانونی تدابیر سے ان کو ختم کر دیتا ہے۔ دوسری قسم کے طبقات وہ ہیں جو انسانی قابلیتوں کے فرق اور انسانی حالات کے فرق کی بنا پر فطرتاً پیدا ہوتے ہیں اور فطری طریقے پر ہی بدلتے رہتے ہیں۔ اسلام ایسے طبقات کو نہ زبردستی مٹاتا ہے، نہ ان کو مستقل طبقات میں تبدیل کرتا ہے ، اور نہ انہیں آپس میں لڑاتا ہے۔ بلکہ وہ اپنے اخلاقی، سیاسی، معاشرتی اور معاشی نظام کے ذریعے سے ان کے درمیان منصفانہ تعاون پیدا کرتا ہے، ان کو ایک دوسرے کا ہمدرد اور مددگار بناتا ہے، اور تمام لوگوں کے لیے مواقع کی یکسانی (equality of opportunities) بہم پہنچا کر ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے جن میں یہ طبقات فطری طریقے سے تحلیل اور تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

بنیادی اصول

یہ تین چیزیں ہیں جن کو آپ نگاہ میں رکھیں تب اس معاشی نظام کے اصول اپنی صحیح روح کے ساتھ آپ کی سمجھ میں آسکیں گے۔ اب اس معاشی نظام کے جو بڑے بڑے اصول ہیں وہ میں مختصر طور پر آپ سے بیان کرتا ہوں:

شخصی ملکیت اور اس کے حدود

اسلام چند خاص حدود کے اندر شخصی ملکیت کا اثبات کرتا ہے اور شخصی ملکیت کے معاملہ میں وہ ذرائعِ پیداوار (Means of production) اور اشیائے صرف (consumer goods) کے درمیان،یا محنت سے کمائی ہوئی آمدنی (earned income) اور محنت کے بغیر کمائی ہوئی آمدنی (un earned income) کے درمیان فرق نہیں کرتا ۔ وہ انسان کو ملکیت کا عام حق دیتا ہے، البتہ اس کو کچھ حدود سے محدود کر دیتا ہے ۔ اسلام میں یہ تصور موجود نہیں ہے کہ ذرائع پیداوار اور اشیائے صرف کے درمیان فرق کر کے ذرائع پیداوار کو شخصی ملکیت سے ساقط کر دیا جائے اور محض اشیائے صرف کی حد تک اس کو محدود کر دیا جائے۔ اسلامی نقطہ نظر سے ایک شخص جس طرح کپڑے اور برتن اور گھر کا فرنیچر رکھنے کا مجاز ہے اسی طرح وہ زمین اور مشین اور کارخانہ رکھنے کا بھی مجاز ہے۔ اسی طرح ایک شخص جس طرح اپنی براہِ راست محنت سے کمائی ہوئی دولت کا جائز مالک ہوسکتا ہے اسی طرح وہ اپنے باپ یا ماں یا بیوی یا شوہر کی چھوڑی ہوئی دولت کا بھی مالک ہوسکتا ہے، اور وہ مضاربت یا شرکت کے اصول پر ایک ایسی کمائی میں حصہ دار بھی بن سکتا ہے جو اس کے دیے ہوئے سرمائے پر کام کر کے ایک دوسرے شخص نے اپنی محنت سے حاصل کی ہو۔ اسلام ایک طرح کی ملکیت اور دوسری طرح کی ملکیت کے درمیان اس لحاظ سے فرق نہیں کرتا کہ یہ ذرائع پیداوار کی ملکیت ہے یا اشیائے صرف کی ملکیت، یا یہ محنت سے کمائی ہوئی دولت ہے یا بے محنت حاصل کی ہوئی دولت۔ بلکہ وہ اس لحاظ سے فرق کرتا ہے کہ یہ جائز ذرائع سے آئی ہے یا ناجائز ذرائع سے، اور اس کا استعمال آپ صحیح طریقے سے کرتے ہیں یا غلط طریقے سے۔ اسلام میں پوری معاشی زندگی کا نقشہ اس طرز پر بنایا گیا ہے کہ انسان کچھ حدود کے اندر اپنی معاش کمانے کے لیے آزاد رہے۔ ابھی ابھی میں آپ سے عرض کر چکا ہوں کہ اسلام کی نگاہ میں انسان کی آزادی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اور اس آزادی پر ہی وہ آدمیت کے نشوونما کی ساری عمارت تعمیر کرتا ہے۔ معاش کے ذرائع و وسائل میں شخصی ملکیت کا حق دینا انسان کو اسی آزادی کو محفوظ کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اگر شخصی ملکیت کا حق اس سے چھین لیا جائے اور تمام وسائلِ معاش پر اجتماعی ملکیت قائم کر دی جائے تو انفرادی آزادی لازماً ختم ہو جاتی ہے، کیوں کہ اس کے بعد تو معاشرے کے تمام افراد اس ادارے کے ملازم بن جاتے ہیں جس کے ہاتھ میں پوری مملکت کے وسائلِ معاش کا کنٹرول ہو۔

منصفانہ تقسیم

اسلامی نظامِ معیشت کا ایک اور اہم اصول یہ ہے کہ وہ دولت کی مساوی (equal) تقسیم کے بجائے منصفانہ (equitable) تقسیم چاہتا ہے۔ اس کے پیش نظر ہرگز یہ نہیں ہے کہ تمام انسانوں کے درمیان ذرائع زندگی کو برابر تقسیم کیا جائے۔ قرآن مجید کو جو شخص بھی پڑھے گا اس کو صاف معلوم ہو جائے گا کہ خدا کی اس کائنات میں کہیں بھی مساوی تقسیم نہیں پائی جاتی ۔ مساوی تقسیم ہے ہی غیر فطری چیز… کیا تمام انسانوں کو یکساں صحت دی گئی ہے؟ کیا تمام انسانوں کو یکساں ذہانت دی گئی ہے؟ کیا تمام انسانوں کا حافظہ یکساں ہیں؟ کیا تمام انسان حسن میں، طاقت میں، قابلیت میں برابر ہیں؟ کیا تمام انسان ایک ہی طرح کے حالاتِ پیدائش میں آنکھیں کھولتے ہیں اور دنیا میں کام کرنے کے لیے بھی سب کو ایک ہی طرح کے حالات ملتے ہیں؟ اگر ان ساری چیزوں میں مساوات نہیں ہے تو ذرائع پیداوار یا تقسیم دولت میں مساوات کے کیا معنی؟ یہ عملاً ممکن ہی نہیں ہے اور جہاں بھی مصنوعی طور پر اس کی کوشش کی جائے گی وہ لازماً ناکام بھی ہوگی اور غلط نتائج بھی پیدا کرے گی۔اسی لیے اسلام یہ نہیں کہتا کہ وسائلِ معیشت اور ثمراتِ معیشت کی مساوی تقسیم ہونی چاہیے بلکہ وہ کہتا ہے کہ منصفانہ تقسیم ہونی چاہیے اور اس انصاف کے لیے وہ چند قاعدے مقرر کرتا ہے۔
ان قواعد میں سب سے پہلا قاعدہ یہ ہے کہ دولت حاصل کرنے کے ذرائع میں اسلام نے حرام اور حلال کی تمیز قائم کی ہے ۔ ایک طرف وہ فرد کو یہ حق دیتا ہے کہ آزادانہ طریقے سے سعی وجہد کر کے اپنی معاش حاصل کرے اور جو کچھ کمائے وہ اس کی ملکیت ہے۔ دوسری طرف سعی وجہد کرنے کے طریقوں میں اس نے حرام اور حلال کی حدیں مقرر کر دی ہیں۔ اس کے ضابطہ کی رو سے ایک شخص حلال ذرائع سے اپنی روزی کمانے میں پوری طرح آزاد ہے، جس طرح چاہے کمائے اور جتنا چاہے کمائے۔ اس کمائی ہوئی دولت کا وہ جائز مالک ہے۔ کوئی اس کی جائز ملکیت کو محدود کرنے کا یا اس سے چھین لینے کا حق نہیں رکھتا۔ البتہ حرام ذرائع سے ایک حبہ حاصل کرنے کا بھی وہ مجاز نہیں ہے۔ اس کمائی سے اس کو بجبر روکا جائے گا۔ ایسی کمائی سے حاصل کی ہوئی دولت کا وہ جائز مالک نہیں ہے۔ اس کے جرم کی نوعیت کے لحاظ سے اس کو قید، جرمانے یا ضبطی ٔ مال کی سزا بھی دی جائے گی، اور ارتکابِ جرم سے اس کو روکنے کی تدابیر بھی اختیار کی جائیں گی۔
جن ذرائع کو اسلام میں حرام کر دیا گیا ہے وہ یہ ہیں: خیانت، رشوت، غصب، بیت المال میں غبن، سرقہ، ناپ تول میں کمی، فحش پھیلانے والے کاروبار، قحبہ گری (prostitution)، شراب اور دوسرے مسکرات کی صنعت و تجارت، سود، جوا، سٹہ، بیع کے وہ تمام طریقے جو دھوکے یا دبائو پر مبنی ہوں، یا جن سے جھگڑے اور فساد کو راہ ملتی ہو، یا جو انصاف اور مفادِ عامہ کے خلاف ہوں۔ ان ذرائع کو اسلام اَز رُوئے قانون روک دیتا ہے۔ ان کے علاوہ وہ احتکار (hoarding) کو ممنوع ٹھیراتا ہے اور ایسی اجارہ داریوں کو روکتا ہے جو کسی معقول وجہ کے بغیر دولت اور اسی کی پیدائش کے وسائل سے عام لوگوں کو استفادہ کے مواقع سے محروم کرتی ہوں۔
ان طریقوں کو چھوڑ کر جائز ذرائع سے جو دولت آدمی کمائے وہ اس کی حلال کمائی ہے۔ اس حلال دولت سے وہ خود بھی استفادہ کرسکتا ہے، ہبہ اور بخشش سے دوسروں کی طرف منتقل بھی کرسکتا ہے، مزید دولت کمانے کے لیے بھی استعمال کرسکتا ہے، اور اپنے وارثوں کے لیے میراث بھی چھوڑ سکتا ہے۔ اس جائز کمائی پر کوئی پابندی ایسی نہیں ہے جو اسے کسی حد پر جا کر مزید کمانے سے روک دیتی ہو۔ ایک شخص حلال ذرائع سے کروڑ پتی بن سکتا ہے تو اسلام اس کے راستے میں حائل نہیں ہے۔ جتنی ترقی بھی وہ معاشی حیثیت سے کرسکتا ہے، کرے، مگر جائز ذرائع سے کرے۔ اگرچہ جائز ذرائع سے کروڑ پتی بننا آسان کام نہیں ہے۔ غیر معمولی ہی کسی شخص پر اللہ کا فضل ہو جائے تو ہو جائے۔ ورنہ جائز ذرائع سے کروڑ پتی بن جانے کی گنجائش کم ہی ہوتی ہے۔ لیکن اسلام کسی کو باندھ کر نہیں رکھتا۔ حلال ذرائع سے وہ جتنا بھی کما سکتا ہو اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، کیوں کہ بے جا رکاوٹوں اور حد بندیوں سے انسان کے لیے محنت کرنے کا کوئی محرک (Incentive) باقی نہیں رہتا۔
اس کے بعد جو دولت آدمی کو حاصل ہوتی ہے اس کے استعمال پر پھر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں:
اس کے استعمال کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی اسے اپنی ذات پر خرچ کرے۔ اس خرچ پر اسلام ایسی پابندیاں عائد کرتا ہے جن سے وہ آدمی نے اپنے اخلاق اور معاشرے کے لیے کسی طرح نقصان دہ نہ ہوسکے۔وہ شراب نہیں پی سکتا۔ زنا نہیں کرسکتا۔ جوئے بازی میں اپنی دولت نہیں اڑا سکتا۔ عیاشی کی کوئی خلافِ اخلاق صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ سونے چاندی کے برتن استعمال نہیں کرسکتا۔ حتیٰ کہ اگر رہن سہن میں وہ بہت زیادہ شان و شوکت اختیار کرے تو اس پر بھی پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی اس کا کم و بیش کوئی حصہ بچالے اور اس کو روک رکھے۔ اسلام اس کو پسند نہیں کرتا۔ وہ چاہتا ہے کہ جو دولت بھی کسی کے پاس پہنچ گئی ہے وہ رک کر نہ رہ جائے بلکہ جائز طریقوں سے گردش میں آتی رہے۔ رکی ہوئی دولت پر ایک خاص قانون کے مطابق اسلام زکوٰۃ عائد کرتا ہے تا کہ اس کا ایک حصہ لازماً محروم طبقات اور اجتماعی خدمات کے لیے استعمال ہو۔ قرآن مجید میں آپ دیکھیں گے کہ جن افعال کی اس میں سخت مذمت کی گئی ہے ان میں سے ایک یہ کہ آدمی خزانے جمع کرنے کی کوشش کرے۔ وہ کہتا ہے کہ جو لوگ سونے اور چاندی کے ذخیرے جمع کرتے ہیں ان کا جمع کیا ہوا سونا اور چاند جہنم میں ان کو داغنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دولت خدا نے نوعِ انسانی کے فائدے کے لیے پیدا کی ہے۔ اسے بند کر کے رکھ لینے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ آپ جائز ذرائع سے کمایئے، اپنی ضروریات پر خرچ کیجئے اور پھر جو کچھ بچے اسے کسی نہ کسی طرح جائز طریقے سے گردش میں لایئے۔
اسی لیے اسلام احتکار کو بھی منع کرتا ہے۔احتکار کے معنی یہ ہیں کہ آپ اشیائے ضرورت کو قصداً روک کر رکھیں تا کہ بازار میں ان کی رسد کم ہو اور قیمتیں چڑھ جائیں۔ یہ حرکت اسلامی قانون میں حرام ہے۔ آدمی کو سیدھی طرح تجارت کرنی چاہیے۔ اگر آپ کے پاس کوئی مال بیچنے کے لیے موجود ہے اور بازار میں اس کی مانگ ہے تو کوئی معقول وجہ نہیں کہ آپ اسے فروخت کرنے سے انکار کریں۔ جان بوجھ کر اشیائے ضرورت کی قلت پیدا کرنے کے لیے فروخت سے انکار کر دینا آدمی کو تاجر کے بجائے لٹیرا بنا دیتا ہے۔
اسی بناء پر اسلام بے جا نوعیت کی اجارہ داریوں کا بھی مخالف ہے، کیوں کہ وہ وسائل معاش سے عام لوگوں کے استفادے میں مانع ہوتی ہیں۔ اسلام اس کو جائز نہیں رکھتا کہ کسبِ معیشت کے کچھ مواقع اور ذرائع بعض خاص اشخاص یا خاندانوں یا طبقوں کے لیے مخصوص کر دیئے جائیں اور دوسرے اگر اس میدان میں آنا چاہیں تو ان کے راستے میں رکاوٹ ڈال دی جائے۔ اجارہ داری اگر کسی نوعیت کی جائز ہے تو صرف وہ جو اجتماعی مفاد کے لیے بالکل ناگزیر ہو، ورنہ اصولاً اسلام یہ چاہتا ہے کہ جدوجہد کا میدان سب کے لیے کھلا رہے اور ہر شخص کو اس میں ہاتھ پائوں مارنے کے مواقع حاصل رہیں۔
بچی ہوئی دولت کو اگر کوئی شخص مزید دولت کمانے میں استعمال کرنا چاہے تو یہ استعمال صرف ان طریقوں سے ہوسکتا ہے جو کسبِ معیشت کے لیے اسلام میں حلال قرار دیئے گئے ہیں۔ حرام طریقے، جن کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں، اس غرض کے لیے استعمال نہیں کیے جاسکتے۔

اجتماعی حقوق

پھر اسلام انفرادی دولت پر جماعت کے حقوق عائد کرتا ہے اور مختلف طریقوں سے کرتا ہے۔ قرآن مجید میں آپ دیکھیں گے کہ ذوی القُربیٰ کے حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک آدمی کی کمائی پر اس کی اپنی ذات کے سوا اس کے رشتے داروں کا حق بھی ہے۔ معاشرے کے اندر ایک ایک آدمی کی یہ ذمہ داری ہے کہ اگر وہ اپنی ضرورت سے زائد دولت رکھتا ہے اور اس کے اپنے رشتہ داروں میں ایسے لوگ ہیں جن کو ضرورت سے کم دولت مل رہی ہے تو اس شخص کے اوپر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اپنی استطاعت کی حد تک ان کی مدد کرے۔ کسی قوم میں ایک ایک خاندان کے لوگ اپنی اس ذمے داری کو محسوس کریں تو بحیثیت مجموعی قوم کے بیشتر خاندانوں کو سنبھالنے کا انتظام ہوسکتا ہے اور کم ہی خاندان ایسے باقی رہ سکتے ہیں جو بیرونی امداد کے محتاج ہوں۔ اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ قرآن مجید حقوق العباد میں سب سے پہلے ماں، باپ اور رشتے داروں کے حق کا ذکر کرتا ہے۔
اسی طرح قرآن آدمی کی دولت پر اس کے ہمسایوں کا حق بھی عائد کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر محلے، ہر گلی اور ہر کوچے میں جو لوگ نسبتاً خوش حال ہوں وہ ان لوگوں کو سنبھالیں جو اسی محلے اور گلی اور کوچے میں نسبتاً بدحال اور دست گیری کے محتاج پائے جاتے ہوں۔
ان دو ذمہ داریوں کے بعد قرآن ہر کھاتے پیتے آدمی پر یہ ذمے داری بھی ڈالتا ہے کہ وہ اپنی حدِ وسع تک ہر اس شخص کی مدد کرے جو مدد مانگے یا مدد کا محتاج ہو۔ وَفِیْ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ للِّسَّائِلِ وَالْمَحْرُوْمِ، (لوگوں کے مالوں میں حق ہے سائل کا اور محروم کا)۔ سائل وہ ہے جو آپ کے پاس مدد مانگنے کے لیے آتا ہے۔ اس سے مراد یہ پیشہ ور بھیک منگے نہیں ہیں جنھوں نے بھیک کو ہی وسیلۂ معاش بنا رکھا ہے، بلکہ اس سے مراد ایسا شخص ہے جو واقعی حاجت مند ہو اور آپ سے آکر درخواست کرے کہ آپ اس کی مدد کریں۔ آپ یہ اطمینان ضرور کرلیں کہ یہ واقعی حاجت مند ہے۔ لیکن اگر معلوم ہوجائے کہ وہ حاجت مند ہے، اور آپ اپنی ضرورت سے زائد روپیہ بھی رکھتے ہیں جس سے اس کی مدد کرنا آپ کے لیے ممکن ہے، تو پھر آپ کو جاننا چاہیے کہ آپ کے مال میں اس کا بھی حق ہے۔ رہا محروم تو اس سے مراد وہ شخص ہے جو آپ کے پاس مدد مانگنے کے لیے تو نہیں آتا مگر آپ کو معلوم ہے کہ وہ اپنا رزق پانے سے یا پوری طرح پانے سے محروم رہ گیا ہے۔ یہ شخص بھی آپ کے مال میں حقدار ہے۔
ان حقوق کے علاوہ اسلام نے مسلمانوں کو انفاق فی سبیل اللہ کا عام حکم دے کر پورے معاشرے اور ریاست کا حق بھی ان کے مالوں میں قائم کر دیا ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان کو ایک فیاض، فراخ دل، حساس اور ہمدردِ خلائق ہستی ہونا چاہیے، اور اس کو کسی خود غرضانہ جذبے سے نہیں بلکہ محض اللہ کی خوشنودی کے لیے بھلائی کے ہر کام میں، دین اور معاشرے کی ہر ضرورت کو پورا کرنے میں کھلے دل سے اپنی دولت خرچ کرنی چاہیے۔ یہ ایک زبردست اخلاقی روح ہے جسے اسلام اپنی تعلیم اور تربیت سے اور اسلامی معاشرے کے اجتماعی ماحول سے ہر فرد مسلم میں پیدا کرتا ہے تا کہ وہ کسی جبر سے نہیں بلکہ اپنے دل کی رضا سے اجتماعی فلاح میں مددگار ہو۔

زکوٰۃ

اس رضاکارانہ انفاق کے بعد ایک چیز اور ہے جسے اسلام میں لازم کر دیا گیا ہے اور وہ ہے زکوٰۃ جو جمع شدہ سرمایوں پر، تجارتی اموال پر، کاروبار کی مختلف صورتوں پر، زرعی پیداوار پر ، اور مواشی پر اس غرض سے عائد کی جاتی ہے کہ اس سے ان لوگوں کو سہارا دیا جائے جو معاشی حیثیت سے پسماندہ رہ گئے ہوں۔ ان دونوں قسم کے انفاقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک نماز نفل ہے اور ایک فرض۔ نفل نماز آپ کو اختیار ہے جتنی چاہیں پڑھیں۔ جتنی زیادہ روحانی ترقی آپ کرنا چاہتے ہیں، جتنا کچھ اللہ سے قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں، اتنے ہی نوافل آپ اپنی مرضی سے ادا کیجئے۔ لیکن فرض نماز لازماً آپ کو پڑھنی ہی ہوگی۔ ایسا ہی معاملہ انفاق فی سبیل اللہ کا ہے کہ ایک قسم کا انفاق نفل ہے جو آپ اپنی خوشی سے کریں گے، دوسری قسم کا انفاق وہ ہے جو آپ پر فرض کر دیاگیا ہے اور وہ آپ کو لازماً کرنا ہوگا جب کہ آپ کی دولت ایک حدِّ مقرر سے زائد ہو۔
زکوٰۃ کے متعلق یہ غلط فہمی آپ کے ذہن میں نہیں رہنی چاہیے کہ یہ کوئی ٹیکس ہے۔ دراصل یہ ٹیکس نہیں ہے بلکہ عبادت ہے اور نماز کی طرح اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔ زکوٰۃ اور ٹیکس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ٹیکس وہ ہوتا ہے جو زبردستی کسی انسان پر عائد کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ بخوشی اس کو قبول کرے۔ اس کے عائد کرنے والوں کا کوئی شخص معتقد نہیں ہوتا۔ ان کے برحق ہونے پر ایمان نہیں لاتا۔ ان کے ڈالے ہوئے اس بار کو زبردستی کی چٹی سمجھتا ہے۔ اس پر ناک بھوں چڑھاتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے ہزار حیلے کرتا ہے ۔ اس کو ادا نہ کرنے کی تدبیریں نکالتا ہے اور اس سے اس کے ایمان میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پھر ان دونوں میں اصولی فرق یہ ہے کہ ٹیکس دراصل ان خدمات کے مصارف پورے کرنے کے لیے عائد کیا جاتا ہے جن کا فائدہ خود ٹیکس ادا کرنے والے کی طرف پلٹتا ہے۔ اس کے پیچھے بنیادی تصور یہ کار فرما ہے کہ آپ جن سہولتوں کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت کے ذریعہ سے وہ سہولتیں آپ کو بہم پہنچائی جائیں، ان کے لیے آپ اپنی دولت کے لحاظ سے متناسب چندہ دیں۔ یہ ٹیکس درحقیقت ایک طرح کا چندہ ہی ہے جو قانونی جبر کے تحت ان اجتماعی خدمات کے لیے آپ سے لیا جاتا ہے جن کے فوائد سے متمتع ہونے والوں میں آپ خود بھی شامل ہیں۔ زکوٰۃ اس کے برعکس ایک عبادت ہے بالکل اسی طرح جیسے نماز ایک عبادت ہے۔ کوئی پارلیمنٹ یا قانون ساز اسمبلی اس کی عائد کرنے والی نہیں ہے، بلکہ اسے خدا نے عائد کیا ہے جسے ایک مسلمان اپنا معبودِ برحق مانتا ہے۔ کوئی شخص اگر اپنے ایمان کو محفوظ رکھنا چاہتا ہو تو وہ زکوٰۃ سے بچنے یا اس میں خورد برد کرنے کی کبھی کوشش نہیں کرسکتا۔ بلکہ اگر کوئی خارجی طاقت اس سے حساب لینے اور زکوٰۃ وصول کرنے والی نہ بھی ہو تو ایک مومن اپنی زکوٰۃ کا حساب خود کر کے اپنی مرضی سے نکالے گا۔ پھر یہ زکوٰۃ سرے سے اس غرض کے لیے ہے ہی نہیں کہ ان اجتماعی ضروریات کو پورا کیا جائے جن سے متمتع ہونے میں آپ خود بھی شامل ہیں، بلکہ یہ صرف ان لوگوں کے لیے مخصوص کی گئی ہے جو کسی نہ کسی طرح سے دولت کی تقسیم میں اپنا حصہ پانے سے، یا پورا حصہ پانے سے محروم رہ گئے ہیں، اور کسی وجہ سے مدد کے محتاج ہیں، خواہ عارضی طور پر یا مستقل طور پر۔ اس طرح زکوٰۃ اپنی حقیقت، اپنے بنیادی اصول اور اپنی روح اور شکل کے اعتبار سے ٹیکس سے بالکل ایک مختلف چیز ہے۔ یہ آپ کے لیے سڑکیں اور ریلیں اور نہریں بنانے اور ملک کا نظم و نسق چلانے کے لیے نہیں ہے بلکہ چند مخصوص حق داروں کے حقوق ادا کرنے کے لیے خدا کی طرف سے ایک عبادت کے طور پر فرض کی گئی ہے، اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے، اور اس کا کوئی فائدہ اللہ کی خوشنودی اور آخرت کے اجر کے سوا آپ کی ذات کی طرف پلٹ کر نہیں آتا۔
بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی بھی ہے کہ اسلام میں زکوٰۃ اور خراج کے سوا کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ اِنَّ فِی الْمَالِ حقًّا سِویٰ الزَّکٰوۃِ۔ ’’لوگوں کے مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی ایک حق ہے۔‘‘ دراصل جن ٹیکسوں کو شریعت میں ناروا قرار دیا گیا ہے وہ قیصروں اور کسرائوں اور ان کے امراء کے لگائے ہوئے وہ ٹیکس تھے جنھیں بادشاہ اور امیر کی ذاتی ملک بنا لیا جاتا تھا اور جن کی آمد و خرچ کا حساب دینے کے وہ ذمہ دار نہ تھے ۔ رہے وہ ٹیکس جو شوریٰ کے طریقے پر چلنے والی حکومت لوگوں کی مرضی اور مشورے سے لگائے، جن کی آمدنی پبلک کے خزانے میں جمع ہو، جن کو خرچ بھی لوگوں کے مشورے سے کیا جائے، اور جن کا حساب دینے کی حکومت ذمہ دار ہو ۔ تو ایسے ٹیکس عائد کرنے پر شریعت میں قطعاً کوئی پابندی نہیں ہے۔ اگر معاشرے میں اسلامی حکومت کے قیام سے پہلے کوئی بے جا اونچ نیچ پیدا ہو چکی ہو، یا حرام طریقوں سے کمائی ہوئی دولت بعض طبقوں نے بے تحاشا فراہم کرلی ہو، تو ایک اسلامی حکومت ضبطی جائیداد کے طریقے اختیار کرنے کے بجائے ٹیکس عائد کر کے اس بیماری کا مداوا کرسکتی ہے اور دوسرے اسلامی قوانین کی مدد سے دولت کے اس ارتکاز کو ختم کرسکتی ہے۔ ضبطی جائیداد کا طریقہ استعمال کرنے کے لیے حکمرانوں کو ایسے جابرانہ اختیارات دینا ناگزیر ہو جاتا ہے جنھیں پا کر وہ کسی حد پر روکے نہیں جاسکتے اور ایک ظلم کی جگہ اس سے بدتر ظلم قائم ہو جاتا ہے۔

قانونِ وراثت

اس کے علاوہ اسلام نے ایک قانونِ میراث بھی بنا دیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ایک شخص کم یا زیادہ، جو کچھ بھی چھوڑ کر مرے اسے ایک مقرر ضابطہ کے مطابق زیادہ سے زیادہ وسیع دائرے میں پھیلا دیا جائے۔ سب سے پہلے ماں، باپ، اور بیوی بچے اس دولت کے حق دار ہیں ۔ پھر بھائی بہن۔ پھر قریب کے رشتے دار اور اگر کوئی شخص بالکل ہی لاوارث ہو تو پھر پوری قوم اس کی وارث ہے۔ بیت المال میں اس کا روپیہ داخل کر دیا جائے گا۔
یہ ہیں وہ اصول اور حدود جو اسلام نے ہماری معاشی زندگی کے لیے مقرر کر دیئے ہیں۔ ان حدود کے اندر آپ اپنا جو معاشی نظام بھی بنانا چاہیں بنالیں۔ تفصیلات طے کرنا ہر زمانے میں اپنی ضرورت کے مطابق ہمارا اپنا کام ہے ۔ ہمیں جس چیز کی پابندی کرنی ہوگی وہ یہ ہے کہ ہم نہ تو نظامِ سرمایہ داری کی طرح بے قید معیشت کی راہ اختیار کرسکتے ہیں اور نہ اشتراکیت کی طرح پورے وسائلِ معیشت کو اجتماعی کنٹرول میں لے سکتے ہیں ۔ ہمیں ایک پابندِ حدود آزاد معیشت کا نظام بنانا ہوگا جس میں انسان کے اخلاقی ارتقاء کا راستہ کھلا رہے۔ جس میں آدمی کو اجتماعی فلاح کی خدمت کے لیے ازروئے قانون مجبور کرنے کی کم سے کم ضرورت پیش آئے۔ جس میں غلط طریقوں سے غیر فطری طبقات نہ پیدا کیے جائیں اور فطری طبقات کے درمیان نزاع کے بجائے تعاون پیدا کیا جائے۔ اس معاشی نظام میں دولت کمانے کے وہ تمام ذرائع حرام رہیں گے جن کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔ کمائی کے وہ تمام ذرائع جائز رہیں گے جنھیں اسلام جائز رکھتا ہے ۔ جائز طریقوں سے حاصل کی ہوئی دولت پر ملکیت اور تصرف کے وہ تمام حقوق تسلیم کیے جائیں گے جو اسلام نے دیے ہیں۔ زکوٰۃ لازماً عائد کی جائے گی اور ان تمام لوگوں کو اسے ادا کرنا ہوگا جو بقدر نصاب دولت رکھتے ہوں۔ میراث قانونِ میراث کے مطابق تقسیم ہوگی اور ان حدود کے اندر افراد کو معاشی سعی و عمل کی پوری آزادی دی جائے گی۔ کوئی ایسا نظام نہیں بنایا جائے گا جو افراد کو کس کر رکھ دے اور ان کی انفرادی آزادی کو ختم کر دے۔ اس آزادانہ سعی و عمل میں اگر لوگ خود انصاف اور راست بازی پر قائم رہیں تو قانون خواہ مخواہ مداخلت نہ کرے گا۔ لیکن اگر وہ انصاف نہ کریں، یا جائز حدود سے تجاوز کرنے لگیں، یا بے جا نوعیت کی اجارہ داریاں قائم کرنے کی کوشش کریں تو قانون ان کی بنیادی آزادی کو سلب کرنے کے لیے نہیں بلکہ انہیں انصاف پر قائم رکھنے اور حدود سے تجاوز کو روکنے کے لیے یقیناً مداخلت کرے گا۔
یہاں تک میں نے پہلے حصے کا جواب دیا ہے۔ اب اسی سوال کے دوسرے حصے کو لیجیے جس میں یہ پوچھا گیا ہے کہ اس خاکے میں زمین ، محنت، سرمائے اور تنظیم کا کیا مقام ہے۔

محنت، سرمایہ اور تنظیم کا مقام

اس مقام کو سمجھنے کے لیے میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ اسلامی فقہ میں مزارعت اور مضاربت کا جو قانون بیان کیاگیا ہے اس کا مطالعہ کریں۔ موجودہ زمانے کے علم المعیشت میں زمین اور محنت اور سرمائے اور تنظیم کو جس طرح معاشی عوامل کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے، ہمارے متقدمین کی کتابوں میں اس انداز سے اس کو بیان نہیں کیا گیا، ورنہ اس موضوع پر الگ کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ہمارے ہاں یہ سب مسائل فقہ کے مختلف ابواب میں بیان کیے گئے ہیں اور ان کی زبان علم المعیشت کی موجودہ اصطلاحوں سے مختلف ہے۔ لیکن جو شخص بھی اصطلاحوں کا غلام نہیں بلکہ معاشیات کے اصل موضوع اور مسائل کا فہم رکھتا ہے وہ بآسانی یہ سمجھ سکتا ہے کہ اس فقہی زبان میں جو کچھ کہاگیا ہے اس کے اندر معاشی تصورات کیا ہیں۔ ہماری فقہ میں مزارعت اور مضاربت کا جو قانون بیان کیا گیا ہے وہ زمین، محنت، سرمائے اور تنظیم کے بارے میں اسلام کے طرزِ فکر کو پوری طرح واضح کر دیتا ہے۔ مزارعت یہ ہے کہ زمین ایک شخص کی ہے اور اس پر کاشت دوسرا شخص کرتا ہے ، اور یہ دونوں اس کے فوائد میں حصہ دار ہوتے ہیں۔ مضاربت یہ ہے کہ ایک آدمی کا روپیہ ہے اور دوسرا آدمی اس روپے سے کاروبار کرتاہے، اور یہ دونوں اس کے منافع میں حصہ دار ہیں۔ معاملات کی ان شکلوں میں جس طرح اسلام نے زمین اور سرمائے والے، اور اس پر کام کرنے والے کے حقوق تسلیم کئے ہیں اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے نقطۂ نظر سے زمین بھی ایک معاشی عامل ہے اور انسان کی محنت بھی۔ سرمایہ بھی ایک معاشی عامل ہے اور اس پر انسان کی محنت اور تنظیمی قابلیت بھی۔ یہ سب عوامل منافع میں حصہ داری کا استحقاق پیدا کرتے ہیں ۔ اسلام ابتدائی طور پر ان مختلف عوامل کے درمیان حصہ داری کا تعین عرف عا م پر چھوڑتا ہے تا کہ اگر معروف طریقے پر لوگ خود باہم انصاف کر رہے ہوں تو قانون مداخلت نہ کرے۔ لیکن اگر کسی معاملے میں انصاف نہ ہو رہا ہو تو یقیناً یہ قانون کا فریضہ ہے کہ اس میں انصاف کے حدود مقرر کرے۔ مثلاً اگر میں زمین کا مالک ہوں اور ایک شخص کو اپنی زمین بٹائی پر دیتا ہوں، یا کسی شخص سے مزدوری پر کاشت کا کام لیتا ہوں، یا کسی کو ٹھیکے پر دے دیتا ہوں ، اور اس کے ساتھ میری شرائط معروف طریقے پر انصا ف کے ساتھ طے ہوتی ہیں تو قانون کو مداخلت کرنے کا حق پہنچتا ہے۔ قانون اس کے لیے ضوابط مقرر کرسکتا ہے کہ مزارعت ان اصولوں پر ان قواعد کے مطابق ہونی چاہیے، تا کہ نہ زمین والے کا حق مارا جائے اور نہ محنت کرنے والے کا حق۔ اسی طرح کاروبار میں سرمایہ لگانے والوں اور محنت اور تنظیم کرنے والوں کے درمیان بھی جب تک انصاف کے ساتھ خود معاملات طے ہو رہے ہوں اور کوئی کسی کا حق نہ مار رہا ہو ، نہ کسی پر زیادتی کر رہا ہو، تو قانون مداخلت نہیں کرے گا۔ ہاں جب ان معاملا ت میں کسی طرح کی بھی بے انصافی آ جائے گی تو قانون کو نہ صرف یہ کہ دخل دینے کا حق ہے بلکہ یہ اس کا فریضہ ہے کہ ان کے لیے ایسے منصفانہ قواعد مقرر کرے جن کے مطابق سرمایہ، محنت اور تنظیم، سب کاروبار کے منافع میں انصاف کے ساتھ حصہ دار بن جائیں۔

زکوٰۃ اور معاشی بہبود

اب دوسرا سوال لیجئے ۔ پوچھا گیا ہے کہ کیا زکوٰۃ اور صدقے کو معاشی بہبود کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ زکوٰۃ اور صدقہ تو ہے ہی معاشی بہبود کے لیے۔ لیکن اس بات کو خوب سمجھ لیجئے کہ معاشی بہبود کا اگر تصور یہ ہو کہ بحیثیت مجموعی پورے ملک کی معاشی ترقی کے لیے زکوٰۃ کو استعمال کیا جائے تو یہ جائز نہیں ہے ۔ زکوٰۃ جیسا کہ میں پہلے آپ سے عرض کر چکا ہوں، دراصل اس غرض کے لیے ہے کہ معاشرے میں کوئی شخص اپنی لازمی ضروریاتِ زندگی… غذا، لباس، مکان، علاج اور بچوں کی تعلیم… سے محروم نہ رہنے پائے اور ہم اپنے معاشرے کے ان تمام لوگوں کی معاشی ضروریات فراہم کریں جو یا تو اپنی معاش کے لیے جدوجہد کرنے کے قابل ہی نہ ہوں، مثلاً یتیم بچے، بوڑھے اور معذور لوگ، یا عارضی طور پر بے روزگار ہو گئے ہوں، یا ذرائع کی کمی کے باعث اپنی روزی کمانے کی کوشش نہ کرسکتے ہوں اور کچھ مدد پا کر اپنے پائوں پر کھڑے ہوسکیں، یا کسی نقصان کے چکر میں آگئے ہوں۔ زکوٰۃ اس طرح کے لوگوں کی دست گیری کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ عام معاشی ترقی کے لیے آپ کو دوسرے ذرائع تلاش کرنے ہوں گے۔

غیر سُودی معیشت

تیسرا سوال یہ کیا گیا ہے کہ کیا ہم بلا سود معاشی نظام قائم کرسکتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یقیناً کرسکتے ہیں۔ پہلے صدیوں تک ایسا نظام قائم رہا ہے اور آج بھی اگر آپ اسے قائم کرنا چاہیں اور دوسروں کی اندھی پیروی سے نکل آئیں تو اس کا قائم کرنا مشکل نہیں ہے۔ اسلام کے آنے سے پہلے دنیا کا معاشی نظام اسی طرح سود پر چل رہا تھا جس طرح آج چل رہا ہے۔ اسلام نے اس کو بدلا اور سود کو حرام کر دیا۔ پہلے وہ عرب میں حرام ہوا۔ پھر جہاں جہاں اسلام کی حکومت پہنچتی گئی وہاں سود ممنوع ہوتا چلا گیا اور پورا معاشی نظام اس کے بغیر چلتا رہا۔ یہ نظام صدیوں چلا ہے۔ اب کوئی وجہ نہیں کہ وہ نہ چل سکے۔ اگر ہم میں اجتہاد کی قوت ہو اور ہم ایمانی طاقت بھی رکھتے ہوں اور یہ ارادہ بھی رکھتے ہوں کہ جس چیز کو خدا نے حرام کیا ہے اس کو ختم کریں تو یقیناً آج بھی ہم اسے ختم کر کے تمام مالی اور معاشی معاملات چلا سکتے ہیں۔ میں اپنی کتاب ’’سود‘‘ میں وضاحت کے ساتھ بتا چکا ہوں کہ درحقیقت اس میں کوئی بہت بڑی پیچیدگی نہیں ہے۔ مسئلے کی نوعیت بالکل صاف اور سادہ ہے۔ سرمائے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ قرض کی شکل میں آئے اور ایک متعین منافع لے، قطع نظر اس سے کہ اس روپے پر محنت کرنے والوں اور تنظیم کی خدمت انجام دینے والوں کو منافع حاصل ہو یا نہ ہو۔ سود میں اصل خرابی یہی ہے کہ ایک شخص یا ایک ادارہ اپنا سرمایہ صنعت یا تجارت یا زراعت کو قرض کی شکل میں دیتا ہے اور اس سے پیشگی اپنا ایک خاص منافع طے کرلیتا ہے۔ اس کو اس سے کوئی بحث نہیں کہ مدت مقررہ کے اندر اس کاروبار میں نقصان ہو رہا ہے یا نفع، اور نفع ہو رہا ہے تو کتنا ہو رہا ہے۔ وہ سال بسال یا ماہ بماہ اپنا طے شدہ منافع وصول کرتا چلا جاتا ہے اور اصل کی واپسی کا بھی حق دار رہتا ہے۔ اس کے لیے کوئی وجہ جواز پیش نہیں کی جاسکتی ۔ اس کے برعکس اسلام جو اصول پیش کرتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ قرض دیتے ہیں تو پھر قرض کی طرح دیجئے۔ صرف اپنا قرض واپس لینے کا حق رکھتے ہیں۔ اور اگر آپ منافع حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پھر سیدھی طرح شریک یا حصہ دار بن کر معاملہ کیجئے۔ اپنا روپیہ زراعت میں یا تجارت میں یا صنعت میں، جس میں بھی آپ لگانا چاہتے ہیں اس شرط پر لگایئے کہ اس میں جتنا بھی منافع ہوگا وہ ایک خاص تناسب سے آپ کے اور کام کرنے والوں کے درمیان تقسیم ہو جائے گا۔ یہ انصاف کا تقاضا بھی ہے اور اس طرح سے معاشی زندگی بھی پھل پھول سکتی ہے۔ کون سی دقت ہے سود کے طریقے کو ختم کر کے اس دوسرے طریقے کو رائج کرنے میں ؟ جو روپیہ اب قرض کے طور پر لگایا جاتا ہے وہ آئندہ سے شرکت کے اصول پر لگایا جائے۔ حساب جس طرح سود کا ہوسکتا ہے اسی طرح منافع کا بھی ہوسکتا ہے ۔ کوئی خاص مشکل اس میں نہیں ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ ہمارے اندر اجتہاد کی صلاحیت نہیں ہے بلکہ ہمیں اندھی تقلید کی عادت پڑی ہوئی ہے۔ جو پہلے سے ہوتا چلا آ رہا ہے وہی ہم آنکھیں بند کر کے چلائے جائیں گے۔ اجتہاد سے اپنے لیے کوئی راستہ نہ نکالیں گے۔ مولوی غریب کو طعنہ دیا جاتا ہے کہ وہ اندھی تقلید کرتا ہے اور اجتہاد سے کام نہیں لیتا، حالانکہ خود اندھے مقلد ہیں اور اجتہاد کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ بیماری لگی ہوئی نہ ہوتی تو اب تک یہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔

معاشی، سیاسی اور معاشرتی نظام کا تعلق

آخری سوال یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک معاشی، سیاسی، معاشرتی اور مذہبی نظام کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ جواب یہ ہے کہ بالکل ویسا ہی تعلق ہے جیسا جڑ سے تنے کا اور تنے سے شاخوں کا اور شاخوں سے پتوں کا ہوتا ہے۔ ایک ہی نظام ہے جو خداکی توحید اور رسولوں کی رسالت پر ایمان سے پیدا ہوتا ہے۔ اسی سے اخلاقی نظام بنتا ہے۔اسی سے عبادات کا نظام بنتا ہے جس کو آپ مذہبی نظام سے تعبیر کرتے ہیں۔ اسی سے معاشرتی نظام نکلتا ہے۔ اسی سے معاشی نظام نکلتا ہے۔ اسی سے سیاسی نظام نکلتا ہے ۔ یہ ساری چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ اگر آپ خدا اور اس کے رسولؐ پر ایمان رکھتے ہیں اور قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہیں تو آپ کو لامحالہ وہی اخلاقی اصول اختیار کرنے پڑیں گے جو اسلام نے سکھائے ہیں اور وہی سیاسی اصول اختیار کرنے پڑیں گے جو اسلام نے آپ کو دیئے ہیں۔ اسی کے اصولوں پر آپ کو اپنی معاشرت کی تشکیل کرنی ہوگی اور اسی کے اصولوں پر اپنی معیشت کا سارا کاروبار چلانا ہوگا۔ جس عقیدے کی بنا پر آپ نماز پڑھتے ہیں اسی عقیدے کی بنا پر آپ کو تجارت کرنی پڑے گی۔ جس دین کا ضابطہ آپ کے روزے اور حج کو منضبط کرتا ہے اسی دین کے ضابطے کی پابندی آپ کو اپنی عدالت میں بھی کرنی ہو گی اور اپنی منڈی میں بھی۔ اسلام میں مذہبی نظام، سیاسی نظام، معاشی نظام اور معاشرتی نظام الگ الگ نہیں ہیں بلکہ ایک ہی نظام کے مختلف شعبے اور اجزا ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ بھی ہیں اور ایک دوسرے سے طاقت بھی حاصل کرتے ہیں۔ اگر توحید و رسالت اور آخرت کا عقیدہ موجود نہ ہو اور اس سے پیدا ہونے والے اخلاق موجود نہ ہوں تو اسلام کا معاشی نظام کبھی قائم نہیں ہوسکتا اور قائم کیا بھی جائے تو چل نہیں سکتا۔ اس طرح اسلام کا سیاسی نظام بھی نہ قائم ہوسکتا ہے نہ چل سکتا ہے۔ اگر خدا اور رسولؐ اور آخرت پر عقیدہ اور قرآن پر ایمان نہ ہو، کیونکہ اسلام جو سیاسی نظام دیتا ہے اس کی بنا ہی اس عقیدے پر رکھی گئی ہے کہ خدا حاکمِ اعلیٰ ہے، رسول اس کا نمائندہ ہے، قرآن اس کا واجب الاطاعت فرمان ہے اور ہم کو آخر کار اپنے اعمال کی جواب دہی خدا کے سامنے کرنی ہے۔ پس یہ خیال کرنا ہی سرے سے غلط ہے کہ اسلام میں کوئی سیاسی یا معاشی نظام مذہبی اور اخلاقی نظام سے الگ اور بے تعلق بھی ہوسکتا ہے۔ جو شخص اسلام کو جانتا ہو اور جان کر اسے مانتا ہو وہ کبھی اس بات کا تصور تک نہیں کرسکتا کہ مسلمان ہوتے ہوئے اس کی سیاست اور معیشت ، یا اس کی زندگی کا کوئی شعبہ اس کے مذہب سے جدا ہوسکتا ہے، یا سیاست و معیشت اور عدالت و قانون میں اسلام سے آزاد ہو کر، یا اسلام کے سوا کوئی دوسرا نظام اختیار کر کے، صرف ’’مذہبی‘‘ امور میں اس کی پیروی کرنے کا نام بھی اسلامی زندگی ہے۔

معاشی زندگی کے چند بنیادی اصول (قرآن کی روشنی میں)

’’ہم نے اس کتاب کے مختلف ابواب میں تفہیم القرآن کے حواشی سے متعلقہ مباحث مناسب مقام پر شامل کر دیئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود چند نہایت اہم حواشی ایسے ہیں جو کسی خاص باب میں جگہ نہیں پاسکتے۔ ہم ان میں سے چند مباحث کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ یہاں پیش کر رہے ہیں۔ تسلسل کی خاطر چند مقامات پر جزوی ترمیم کی گئی ہے یا ایک آدھ جملہ کا اضافہ کیا گیا ہے۔‘‘

(۱) اسلامی معاشرے کی بنیادی قدریں(۱)

اِنَّ اللہَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى وَيَنْہٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ۝۰ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَo النحل90:16
اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم سبق لو۔
اس مختصر سے فقرے میں تین ایسی چیزوں کا حکم دیا گیا ہے جن پر پورے انسانی معاشرے کی درستی کا انحصار ہے۔
پہلی چیز عدل ہے جس کا تصور دو مستقل حقیقتوں سے مرکب ہے۔ ایک یہ کہ لوگوں کے درمیان حقوق میں توازن اور تناسب قائم ہو۔ دوسرے یہ کہ ہر ایک کو اس کا حق بے لاگ طریقہ سے دیا جائے۔ اردو زبان میں اس مفہوم کو لفظ ’’انصاف‘‘ سے ادا کیا جاتا ہے، مگر یہ لفظ غلط فہمی پیدا کرنے والا ہے۔ اس سے خواہ مخواہ یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان حقوق کی تقسیم نصف نصف کی بنیاد پر ہو، اور پھر اسی سے عدل کے معنی مساویانہ تقسیم حقوق کے سمجھ لیے گئے ہیں جو سراسر فطرت کے خلاف ہے۔ دراصل عدل جس چیز کا تقاضا کرتا ہے وہ توازن اور تناسب ہے نہ کہ برابری۔ بعض حیثیتوں سے تو عدل بے شک افرادِمعاشرہ میں مساوات چاہتا ہے ، مثلاً حقوقِ شہریت میں۔ مگر بعض دوسری حیثیتوں سے مساوات بالکل خلافِ عدل ہے، مثلاً والدین اور اولاد کے درمیان معاشرتی اور اخلاقی مساات، یا اعلیٰ درجے کی خدمات انجام دینے والوں اور کم تر درجے کی خدمات ادا کرنے والوں کے درمیان معاوضوں میں مساوات، پس اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے وہ حقوق میں مساوات نہیں بلکہ توازن اور تناسب ہے، اور اس حکم کا تقاضا ہی یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے اخلاقی، معاشرتی، معاشی، قانونی اور سیاسی و تمدنی حقوق پوری ایمان داری کے ساتھ ادا کیے جائیں۔
دوسری چیز احسان ہے جس سے مراد ہے نیک برتائو، فیاضانہ معاملہ، ہمدردانہ رویہ، رواداری، خوش خلقی ، باہمی مراعات، ایک دوسرے کا پاس و لحاظ، دوسرے کو اس کے حقوق سے کچھ زیادہ دینا، اور خود اپنے حق سے کچھ کم پر راضی ہو جانا ۔ یہ انصاف سے زائد ایک چیز ہے جس کی اہمیت اجتماعی زندگی میں عدل سے بھی زیاد ہ ہے۔ عدل اگر معاشرے کی اساس ہے تو احسان اس کا جمال و کمال ۔ عدل اگر معاشرے کو ناگواریوں اورتلخیوں سے بچاتا ہے تو احسان اس میں خوش گواریاں اور شیرینیاں پیدا کرتا ہے۔ کوئی معاشرہ صرف اس بنیاد پر کھڑا نہیں رہ سکتا کہ اس کا ہر فرد ہر وقت ناپ تول کر دیکھتا رہے کہ اس کا کیا حق ہے اور اسے وصول کر کے چھوڑے، اور دوسرے کا کتنا حق ہے اور اسے بس اتنا ہی دے دے۔ ایسے ایک ٹھنڈے اور کھرے معاشرے میں کش مکش تو نہ ہوگی مگر وہ محبت اور شکر گزاری اور عالی ظرفی اور ایثار اور اخلاص و خیر خواہی کی قدروں سے محروم رہے گا جو دراصل زندگی میں لطف و حلاوت پیدا کرنے والی اور اجتماعی محاسن کو نشوونما دینے والی قدریں ہیں۔
تیسری چیز جس کا اس آیت میں حکم دیاگیا ہے صلہ رحمی ہے جو رشتہ داروں کے معاملے میں احسان کی ایک خاص صورت متعین کرتی ہے۔ اس کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ آدمی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتائو کرے اور خوشی و غمی میں ان کا شریک حال ہو، اور جائز حدود کے اندر ان کا حامی و مددگار بنے۔ بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ ہر صاحب استطاعت شخص اپنے مال پر صرف اپنی ذات اور اپنے بال بچوں ہی کے حقوق نہ سمجھے بلکہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق بھی تسلیم کرے۔ شریعت الٰہی ہر خاندان کے خوش حال افراد کو اس امر کا ذمہ دار قرار دیتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کے لوگوں کو بھوکا ننگا نہ چھوڑیں۔ اس کی نگاہ میں ایک معاشرے کی اس سے بدتر کوئی حالت نہیں ہے کہ اس کے اندر ایک شخص عیش کر رہا ہو اور اسی کے خاندان میں اس کے اپنے بھائی بند روٹی کپڑے تک کے محتاج ہوں۔وہ خاندان کو معاشرے کا ایک اہم عنصرِ ترکیبی قرار دیتی ہے اور یہ اصول پیش کرتی ہے کہ ہر خاندان کے غریب افراد کا پہلا حق اپنے خاندان کے خوش حال افراد پر ہے، پھر دوسروں پر ان کے حقوق عائد ہوتے ہیں۔ یہی بات ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مختلف ارشادات میں وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ متعدد احادیث میں اس کی تصریح ہے کہ آدمی کے اولین حقدار اس کے والدین، اس کے بیوی بچے، اور اس کے بھائی بہن ہیں، پھر وہ جو ان کے بعدقریب تر ہوں، اور پھر وہ جو اُن کے بعد قریب تر ہوں۔ اور یہی اصول ہے جس کی بنا پر حضرت عمرؓ نے ایک یتیم بچے کے چچا زاد بھائیوں کو مجبور کیا کہ وہ اس کی پرورش کی ذمہ داری قبول کریں، اور ایک دوسرے یتیم کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اگر اس کا کوئی بعید ترین رشتہ دار بھی موجود ہوتا تو میں اس پر اس کی پرورش لازم کر دیتا… اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جس معاشرے کا ہر واحدہ (unit) اس طرح اپنے اپنے افراد کو سنبھال لے اس میں معاشی حیثیت سے کتنی خوش حالی، معاشرتی حیثیت سے کتنی حلاوت اور اخلاقی حیثیت سے کتنی پاکیزگی و بلندی پیدا ہو جائے گی۔
اوپر کی تین بھلائیوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ تین برائیوں سے روکتا ہے جو انفرادی حیثیت سے افراد کو اور اجتماعی حیثیت سے پورے معاشرے کو خراب کرنے والی ہیں۔
پہلی چیز فحشاء ہے جس کا اطلاق تمام بیہودہ اور شرمناک افعال پر ہوتا ہے۔ ہر وہ برائی جو اپنی ذات میں نہایت قبیح ہو فحش ہے۔ مثلاً بخل، زنا، برہنگی و عریانی، عملِ قومِ لوط، محرمات سے نکاح، چوری، شراب نوشی، بھیک مانگنا، گالیاں بکنا اور بدکلامی کرنا وغیرہ۔ اس طرح علی الاعلان برے کام کرنا اور برائیوں کو پھیلانا بھی فحش ہے۔ مثلاً جھوٹا پروپیگنڈا، تہمت تراشی، پوشیدہ جرائم کی تشہیر، بدکاریوں پر ابھارنے والے افسانے اور ڈرامے اور فلم، عورتوں کا بن سنور کر منظر عام پر آنا، علی الاعلان مردوں اور عورتوں کے درمیان اختلاط ہونا، اور اسٹیج پر عورتوں کا ناچنا اور تھرکنا اور ناز و ادا کی نمائش کرنا وغیرہ۔
دوسری چیز منکر ہے جس سے مراد ہر وہ برائی ہے جسے انسان بالعموم برا جانتے ہیں، ہمیشہ سے برا کہتے رہے ہیں، اور تمام شرائع الٰہیہ نے جس سے منع کیا ہے۔
تیسری چیز ’’بَغْی‘‘ ہے جس کے معنی ہیں اپنی حد سے تجاوز کرنا اور دوسرے کے حقوق پر دست درازی کرنا خواہ وہ حقوق خالق کے ہوں یا مخلوق کے۔
یہ وہ بنیادی قدریں ہیں جن پر اسلامی معاشرہ قائم ہوتا ہے، جن کی حفاظت فرد اور حکومت دونوں کی ذمّے داری ہے اور جن کے حصول کے لیے قانون اور اخلاق کی تمام قوتیں استعمال کی جاتی ہیں۔

(۲) اخلاقی اور معاشی ارتقاء کا اسلامی راستہ (۱)

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّہٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ لِّــلَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ وَجْہَ اللہِ۝۰ۡوَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَo الروم38:30
پس (اے مومن) رشتے دار کو اس کا حق دے اور مسکین و مسافر کو (اس کا حق)۔ یہ طریقہ بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہوں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔
اس آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ رشتہ دار، مسکین اور مسافر کو خیرات دے۔ ارشاد یہ ہوا ہے کہ یہ اس کا حق ہے جو تجھے دینا چاہیے اور حق ہی سمجھ کر تو اسے دے۔ اس کو دیتے ہوئے یہ خیال تیرے دل میں نہ آنے پائے کہ یہ کوئی احسان ہے جو تو اس پر کر رہا ہے اور تو کوئی بڑی ہستی ہے دان کرنے والی اور وہ کوئی حقیر مخلوق ہے تیرا دیا کھانے والی۔ بلکہ یہ بات اچھی طرح تیرے ذہن نشین رہے کہ مال کے مالک حقیقی نے اگر تجھے زیادہ دیا ہے اور دوسرے بندوں کو کم عطا فرمایا ہے تو یہ زائد مال ان دوسروں کا حق ہے جو تیری آزمائش کے لیے تیرے ہاتھ میں دیا گیا ہے تا کہ تیرا مالک دیکھے کہ تو ان کا حق پہچانتا اور پہنچاتا ہے یا نہیں۔
اس ارشادِ الٰہی اور اس کی اصلی روح پر جو شخص بھی غور کرے گا وہ یہ محسوس کیے بغیر نہ رہے گا کہ قرآن مجید انسان کے لیے اخلاقی اور روحانی ارتقاء کا جو راستہ تجویز کرتا ہے اس کے لیے ایک آزاد معاشرہ اور آزاد معیشت کی موجودگی ناگزیر ہے۔ یہ ارتقا کسی ایسے اجتماعی ماحول میں ممکن نہیں ہے جہاں لوگوں کے حقوق ملکیت ساقط کر دیے جائیں، ریاست تمام ذرائع کی مالک ہو جائے، اور افراد کے درمیان تقسیم رزق کا پورا کاروبار حکومت کی مشینری سنبھال لے، حتیٰ کہ نہ کوئی فرد اپنے اوپر کسی کا کوئی حق پہچان کر دے سکے، اور نہ کوئی دوسرا فرد کسی سے کچھ لے اور اس کے لیے اپنے دل میں کوئی جذبۂ خیر سگالی پرورش کرسکے۔ اس طرح کا خالص کمیونسٹ نظام تمدن و معیشت جسے آج کل ہمارے ملک میں ’’اسلامی سوشلزم‘‘ اور ’’قرآنی نظامِ ربوبیت‘‘ وغیرہ پُرفریب ناموں سے زبردستی قرآن کے سرمنڈھا جا رہا ہے، قرآن کی اپنی اسکیم کے بالکل خلاف ہے۔کیوں کہ اس میں انفرادی اخلاق کا نشوونما اور انفرادی سیرتوں کی تشکیل و ترقی کا دروازہ قطعاً بند ہو جاتا ہے۔ قرآن کی اسکیم تو اسی جگہ چل سکتی ہے جہاں افراد کچھ وسائلِ دولت کے مالک ہوں، ان پر آزادانہ تصرف کے اختیارات رکھتے ہوں، اور پھر اپنی رضا و رغبت سے خدا اور اس کے بندوں کے حقوق اخلاص سے ادا کریں۔ اسی قسم کے معاشرے میں یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ فرداً فرداً لوگوں میں ایک طرف ہمدردی، رحم و شفقت، ایثار و قربانی، اور حق شناسی و ادائے حقوق کے اعلیٰ اوصاف پیدا ہوں، اور دوسری طرف جن لوگوں کے ساتھ بھلائی کی جائے ان کے دلوں میں بھلائی کرنے والوں کے لیے خیر خواہی، شکر گزاری، محبت و اخلاص اور جزاء الاحسان بالاحسان کے پاکیزہ جذبات نشوونما پائیں۔ یہاں تک کہ وہ مثالی حالت پیدا ہو جائے جس میں بدی کا رکنا اور نیکی کا فروغ پانا کسی قوت جابرہ کی مداخلت پر موقوف نہ ہو، بلکہ لوگوں کی اپنی پاکیزگیِ نفس اور ان کے اپنے نیک ارادے اس ذمّے داری کو سنبھالیں۔

(۳) تصوّرِ رزق اور نظریۂ صَرف

وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ زَہْرَۃَ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۝۰ۥۙ لِنَفْتِنَہُمْ فِيْہِ۝۰ۭ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَّاَبْقٰيo طٰہٰ131:20
اور نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھو دنیوی زندگی کی اس شان و شوکت کو جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دے رکھی ہے۔ وہ تو ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہے، اور تیرے رب کا دیا ہوا رزقِ حلال ہی بہتر اور پائندہ تر ہے۔
رزق کا ترجمہ ہم نے ’’رزقِ حلال‘‘ کیا ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی حرام مال کو’’رزقِ رب‘‘ سے تعبیر نہیں فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہار ااور تمہارے ساتھی اہل ایمان کا یہ کام نہیں ہے کہ یہ فساق و فجار ناجائز طریقوں سے دولت سمیٹ سمیٹ کر اپنی زندگی میں جو ظاہری چمک دمک پیدا کر لیتے ہیں، اس کو تم لوگ رشک کی نگاہ سے دیکھو۔ یہ دولت اور یہ شان و شوکت تمہارے لیے ہر گز قابلِ رشک نہیں ہے۔ جو پاک رزق تم جائز ذرائع سے کماتے ہو وہ خواہ کتنا ہی تھوڑا ہو، راست باز اور ایمان دار آدمیوں کے لیے وہی بہتر ہے اور اس میں وہ بھلائی ہے جو دنیا سے آخرت تک برقرار رہنے والی ہے۔( تفہیم القرآن ، جلد سوم، ص ۱۳۹۔)
وَاللہُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۗءُ بِغَيْرِ حِسَابٍo النور38:24
اللہ جسے چاہتا ہے بے حسا ب دیتا ہے۔
وَيْكَاَنَّ اللہَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَيَقْدِرُ۝۰ۚ القصص82:28
’’افسوس ہم بھول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے۔‘‘
یعنی اللہ کی طرف سے رزق کی کشادگی و تنگی جو کچھ بھی ہوتی ہے اس کی مشیت کی بنا پر ہوتی ہے اور اس مشیت میں اس کی کچھ دوسری ہی مصلحتیں کارفرما ہوتی ہیں۔ کسی کو زیادہ رزق دینے کے معنی لازماً یہی نہیں ہیں کہ اللہ اس سے بہت خوش ہے اور اسے انعام دے رہا ہے۔ بسا اوقات ایک شخص اللہ کا نہایت مغضوب ہوتا ہے مگر وہ اسے بڑی دولت عطا کرتا چلا جاتا ہے ، یہاں تک کہ آخرکار یہی دولت اس کے اوپر اللہ کا سخت عذاب لے آتی ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی کا رزق تنگ ہے تو اس کے معنی لازماً یہی نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہے اور اسے سزا دے رہا ہے۔ اکثر نیک لوگوں پر تنگی اس کے باوجود رہتی ہے کہ وہ اللہ کے محبوب ہوتے ہیں۔بلکہ بارہا یہی تنگی ان کے لیے خدا کی رحمت ہوتی ہے۔ اس حقیقت کو نہ سمجھنے ہی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی ان لوگوں کی خوش حالی کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو دراصل خدا کے غضب کے مستحق ہوتے ہیں۔( تفہیم القرآن، جلد سوم، صفحات ۴۱۰، ۶۶۴۔)
الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ عَلٰي مَآ اَصَابَہُمْ وَالْمُقِيْمِي الصَّلٰوۃِ۝۰ۙ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ يُنْفِقُوْنَo الحج 35:22
جن کا حال یہ ہے کہ اللہ کا ذکر سنتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں ، جو مصیبت بھی ان پر آتی ہے اس پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
اس سے پہلے ہم اس امر کی تصریح کر چکے ہیں کہ اللہ نے کبھی حرام و ناپاک مال کو اپنا رزق نہیں فرمایا ہے۔ اس لیے آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو پاک رزق ہم نے انہیں بخشا ہے اور جو حلال کمائیاں ان کو عطا کی ہیں ان میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔ پھر خرچ سے مراد بھی ہر طرح کا خرچ نہیں ہے بلکہ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی جائز ضروریات پوری کرنا، رشتے داروں اور ہمسایوں اور حاجت مندوں کی مدد کرنا، رفاہِ عام کے کاموں میں حصہ لینا، اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے مالی ایثار کرنا مراد ہے۔ بے جا خرچ اور عیش و عشرت کے خرچ اور ریاکارانہ خرچ وہ چیز نہیں ہے جسے قرآن ’’انفاق‘‘ قرار دیتا ہے۔ بلکہ یہ اس کی اصطلاح میں اسراف اور تبذیر ہے۔ اسی طرح کنجوسی اور تنگ دلی کے ساتھ جو خرچ کیا جائے کہ آدمی اپنے اہل و عیال کو بھی تنگ رکھے، اور خود بھی اپنی حیثیت کے مطابق اپنی ضرورتیں پوری نہ کرے، اور خلق خدا کی مدد بھی اپنی استطاعت کے مطابق کرنے سے جی چرائے، تو اس صورت میں آدمی خرچ تو کچھ نہ کچھ کرتا ہی ہے مگر قرآن کی زبان میں اس خرچ کا نام بھی انفاق نہیں ہے۔ وہ اس کو ’’بخل‘‘ اور ’’شح نفس‘‘ کہتا ہے۔(تفہیم القرآن، جلد سوم، صفحہ ۲۲۶ )

(۴)اصولِ صرف

كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللہُ وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ۝۰ۭ اِنَّہٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌo
الانعام 142:6
کھائو ان چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں اور شیطان کی پیروی نہ کرو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ تین باتیں ذہن نشین کرانا چاہتا ہے۔ ایک یہ کہ باغ اور کھیت اور یہ جانور جو تم کو حاصل ہیں یہ سب اللہ کے بخشے ہوئے ہیں، کسی دوسرے کا اس بخشش میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس لیے بخشش کے شکریے میں بھی کسی کا کوئی حصہ نہیں ہوسکتا۔ دوسرے یہ کہ جب یہ چیزیں اللہ کی بخشش ہیں تو ان کے استعمال میں اللہ کے قانون کی ہی پیروی ہونی چاہیے، کسی دوسرے کو حق نہیں پہنچتا کہ ان کے استعمال پر اپنی طرف سے حدود مقرر کر دے۔ اللہ کے سوا کسی اور کی مقرر کردہ حدود کی پابندی کرنا اور اللہ کے سوا کسی اور کے آگے شکرِ نعمت کی نذر پیش کرنا ہی حد سے گزرنا ہے اور یہی شیطان کی پیروی ہے۔ تیسرے یہ کہ یہ سب چیزیں اللہ نے انسان کے کھانے پینے اور استعمال کرنے ہی کے لیے پیدا کی ہیں، اس لیے پیدا نہیں کی ہیں کہ انہیں خواہ مخواہ حرام کرلیا جائے۔ اپنے اوہام اور قیاسات کی بنا پر جو پابندیاں لوگوں نے خدا کے رزق اور اس کی بخشی ہوئی چیزوں کے استعمال پر عائد کرلی ہیں وہ منشاء الٰہی کے خلاف ہیں۔( تفہیم القرآن، جلد اول، صفحہ ۵۹۰)

(۵) اصولِ اعتدال

وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَـقْتُرُوْا وَكَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًاo وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللہِ اِلٰــہًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ۝۰ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًاo الفرقان67,68:25
جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ ان کا خرچ ان دونوں انتہائوں کے درمیان رہتا ہے۔ جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا۔
یعنی نہ تو ان کا یہ حال ہے کہ عیاشی اور قماربازی اور شراب نوشی اور یارباشی اور میلوں ٹھیلوں اور شادی بیاہ میں بے دریغ روپیہ خرچ کریں، اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنی شان دکھانے کے لیے غذا، مکان، لباس اور تزئین و آرائش پر دولت لٹائیں اور نہ ان کی کیفیت یہ ہے کہ ایک زرپرست آدمی کی طرح پیسہ جوڑ جوڑ کر رکھیں، نہ خود کھائیں اور نہ بال بچوں کی ضروریات اپنی استطاعت کے مطابق پوری کریں، اور نہ کسی راہِ خیر میں خوش دلی کے ساتھ کچھ دیں۔ عرب میں دونوں قسم کے نمونے کثرت سے پائے جاتے تھے۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جو خوب دل کھول کر خرچ کرتے تھے ، مگر ان کے ہر خرچ کا مقصود یا تو ذاتی عیش و تنعم تھا یا برادری میں ناک اونچی رکھنا اور اپنی فیاضی اور دولت مندی کے ڈنکے بجوانا۔ دوسری طرف وہ بخیل تھے جن کی کنجوسی مشہور تھی ۔ اعتدال کی روش بہت ہی کم لوگوں میں پائی جاتی تھی، اور ان کم لوگوں میں اس وقت سب سے نمایاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ تھے۔
اس موقع پر یہ جان لینا چاہیے کہ اسراف کیا چیز ہے اور بخل کیا چیز۔ اسلامی نقطۂ نظر سے اسراف تین چیزوں کا نام ہے:
۱۔ ایک ناجائز کاموں میں دولت صرف کرنا خواہ وہ ایک پیسہ ہی کیوں نہ ہو۔
۲۔ دوسرے جائز کاموں میں خرچ کرتے ہوئے حد سے تجاوز کر جانا خواہ اس لحاظ سے کہ آدمی اپنی استطاعت سے زیادہ خرچ کرے یا اس لحاظ سے کہ آدمی کو جو دولت اس کی ضرورت سے بہت زیادہ مل گئی ہو اسے وہ اپنے ہی عیش اور ٹھاٹ باٹھ میں صرف کرتا چلا جائے۔
۳۔ تیسرے نیکی کے کاموں میں خرچ کرنا مگر اللہ کے لیے نہیں ریا اور نمائش کے لیے۔
اس کے برعکس بخل کا اطلاق دو چیزوں پر ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ آدمی اپنی اور اپنے بال بچوں کی ضروریات پر اپنی مقدرت اور حیثیت کے مطابق خرچ نہ کرے۔ دوسرے یہ کہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں اس کے ہاتھ سے پیسہ نہ نکلے۔ ان دونوں انتہائوں کے درمیان اعتدال کی راہ اسلام کی راہ ہے جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مِنْ فِقْہِ الرَّجُلِ قَصْدُہٗ فِی مَعِیْشَتِہٖ ’’اپنی معیشت میں توسط اختیار کرنا آدمی کے فقیہ (دانا) ہونے کی علامتوں میں سے ہے۔‘‘ (احمد و طبرانی بروایت ابی الدرداءؓ)( تفہیم القرآن ، جلد اول، ص ۴۹۸۔۴۹۹۔)

(۶) معاشی دیانت اور انصاف

قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرُہٗ۝۰ۭ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ بَيِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْـيَاۗءَہُمْ وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِہَا۝۰ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَo الاعراف85:7
(حضرت شعیبؑ نے) کہا اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف رہنمائی آگئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پورے کرو لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو۔
وَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَىِٕنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّـخٰسِرُوْنَo
الاعراف 90:7
اس کی قوم کے سرداروں نے ، جو اس کی بات ماننے سے انکار کر چکے تھے، آپس میں کہا ’’اگر تم نے شعیبؑ کی پیروی قبول کرلی تو برباد ہو جائو گے۔
پہلی آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت شعیبؑ کی قوم میں دو بڑی خرابیاں پائی جاتی تھیں۔ ایک شرک۔ دوسرے تجارتی معاملات میں بددیانتی۔ انہی دونوں چیزوں کی اصلاح کے لیے حضرت شعیبؑ مبعوث ہوئے تھے۔ سردارانِ قومِ شعیبؑ نے ان کی بات کا جو جواب دیا اس پر سے سرسری طور پر نہ گزر جایئے۔ یہ ٹھیر کر بہت سوچنے کا مقام ہے۔ مَدْیَن کے سردار اور لیڈر دراصل یہ کہہ رہے تھے اور اسی بات کا اپنی قوم کو بھی یقین دلا رہے تھے ، کہ شعیب ؑ جس ایمان داری اور راست بازی کی دعوت دے رہا ہے، اور اخلاق و دیانت کے جن مستقل اصولوں کی پابندی کرانا چاہتا ہے، اگر ان کو مان لیا جائے تو ہم تباہ ہو جائیں گے۔ ہماری تجارت کیسے چل سکتی ہے اگر ہم بالکل ہی سچائی کے پابند ہو جائیں اور کھرے کھرے سودے کرنے لگیں؟اور ہم جو دنیا کی دو سب سے بڑی تجارتی شاہ راہوں کے چوراہے پر بستے ہیں اور مصر و عراق کی عظیم الشان متمدن سلطنتوں کی سرحد پر آباد ہیں ، اگر ہم قافلوں کو چھیڑنا بند کر دیں اور بے ضرر اور پرامن لوگ ہی بن کر رہ جائیں تو جو معاشی اور سیاسی فوائد ہمیں اپنی موجودہ جغرافی پوزیشن سے حاصل ہو رہے ہیں وہ سب ختم ہو جائیں گے اور آس پاس کی قوموں پر جو ہماری دھونس قائم ہے وہ باقی نہ رہے گی۔ یہ بات صرف قوم شعیبؑ کے سرداروں تک ہی محدود نہیں ہے۔ ہر زمانے میں بگڑے ہوئے لوگوں نے حق اور راستی و دیانت کی روش میں ایسے ہی خطرات محسوس کئے ہیں۔ ہر دور کے مفسدین کا یہی خیال رہا ہے کہ تجارت اور سیاست اور دوسرے دینی معاملات جھوٹ اور بے ایمانی اور بداخلاقی کے بغیر نہیں چل سکتے۔ ہر جگہ دعوتِ حق کے مقابلے میں جو زبردست عذرات پیش کیے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی رہا ہے کہ اگر دنیا کی چلتی ہوئی راہوں سے ہٹ کر اس دعوت کی پیروی کی جائے گی تو قوم تباہ ہو جائے گی۔(تفہیم القرآن، جلد دوم، صفحات ۵۵-۵۷۔)

ملکیت ِ زمین کا مسئلہ

[زمین کی ملکیت کا مسئلہ دورِ حاضر کے چند مہتم بالشان مسائل میں سے ایک ہے۔ اس پر اس قدر بحث و مباحثہ ہوا ہے کہ حقیقت اختلافات کے انبار تلے دب گئی ہے اور اس مسئلہ پر غور و فکر کا صحیح زاویہ مجروح و متاثر ہوا ہے۔ یا تو لوگ انفرادی ملکیت کی سرمایہ دارانہ شکل کی تائید کرتے ہیں، یا دوسری انتہا پر قومی ملکیت کے اشتراکی تصور کی۔ جو انفرادی ملکیت کی تائید کرتا ہے اس پر جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے ایجنٹ کی پھبتی کسی جاتی ہے، اور جو زمین داری و جاگیرداری کے موجود الوقت نظام کے مخالف ہیں وہ اس کی اصلاح کے لیے قومی ملکت کے سوا کسی دوسری متبادل شکل (alternate) کا تصور بھی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں… نقطۂ نظر کا یہی بگاڑ ہے جس کی وجہ سے بعض لوگوں کو اسلام کے تصورِ ملکیت کو سمجھنے میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔ مصنف محترم نے اس موضوع پر بہت کچھ لکھا ہے۔ ہم اس کے کچھ اقتباسات ایک نئی ترتیب سے پیش کر رہے ہیں تا کہ اسلام کا نقطۂ نظر واضح ہوسکے۔ اسلام کے تصورِ ملکیت پر اسلامی معیشت اور اسلامی نظام ہی کے پس منظر میں غور کیا جانا چاہیے، دوسرے نظاموں کے پس منظر میں نہیں۔
دوسری بنیادی بات یہ سامنے رہنی چاہیے کہ انفرادی ملکیت کا ادارہ سرمایہ داری نظام سے بہت پراناہے۔ نظامِ سرمایہ داری نے بلاشبہ اسے استعمال کیا اور اس کو ایک خاص شکل بھی دی اور جو بگاڑ اور فساد رونما ہوا ہے وہ نظامِ سرمایہ داری کی روح، اس کے بنیادی مقاصد، اور اس کے تصورات اور ادارات کی وجہ سے رونما ہوا ہے۔ لیکن اس مسئلے پر غور کرتے ہوئے انفرادی ملکیت، اور سرمایہ داری کے تحت اس کی بگڑی ہوئی شکل، کے درمیان اس خلطِ مبحث سے بچنا چاہیے جس میں اشتراکی اہلِ قلم لوگوں کو مبتلا کرتے ہیں۔ مرتب]

قرآن اور شخصی ملکیت (۱)

سب سے پہلے میں یہ قاعدہ کلیہ آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جب کسی رواجِ عام کے متعلق سکوت اختیار کیا جائے تو اس کو ہمیشہ رضا اور جواز ہی پر محمول کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر کسی جگہ لوگوں نے کسی زمین کو گزرگاہ بنا رکھا ہو، اور وہاں کوئی نوٹس اس فعل کی ممانعت کے لیے نہ لگایا گیا ہو، تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہاں راستہ چلنا جائز ہے۔اِس جواز کے لیے کسی اثباتی اجازت کا ہونا ضروری نہیں ہے، اس لیے کہ وہاں ممانعت کا نہ ہونا خود ہی اجازت کا مفہوم پیدا کر رہا ہے۔ اسی طرح زمین کی ملکیت کا مسئلہ بھی ہے ۔ اسلام سے پہلے ہزاروں سال سے دنیا میں یہ دستور جاری تھا۔قرآن نے اس کی ممانعت نہ کی۔ کوئی صریح حکم اس کے موقوف کرنے کے لیے نہ دیا۔ کوئی دوسرا قانون اس کی جگہ لینے کے لیے نہ بنایا۔ کہیں اشارۃً اس رواج کی مذمت تک نہ کی۔ اس کے معنی یہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پرانے دستور کو جائز رکھا، اور یہی معنی لے کر مسلمان نزولِ قرآن کے بعد سے اب تک زمین کو اسی طرح شخصی ملکیت بناتے رہے جس طرح اس سے پہلے وہ شخصی ملکیت بنائی جاتی رہی تھی۔ اب اگر کوئی اس کے عدمِ جواز کا قائل ہے تو اسے عدمِ جواز کا ثبوت دینا چاہیے، نہ یہ کہ وہ ہم سے جواز کا ثبوت مانگے۔
لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ قرآن نے پرانے دستور کو موقوف نہیں کیا، بلکہ اگر آپ قرآن کا غائر مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس نے ایجاباً اسے جائز تسلیم کیا ہے اور اسی کی بنیاد پر معیشت اور معاشرت کے متعلق احکام دیے ہیں۔
دیکھئے، زمین سے انسان کی دو ہی اغراض وابستہ ہیں۔ یا زراعت، یا سکونت ۔ قرآن ان دونوں اغراض کے لیے زمین کی شخصی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے۔ سورہ انعام میں ہے:
كُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ وَاٰتُوْا حَقَّہٗ يَوْمَ حَصَادِہٖ۝۰ۡۖ انعام141:6
اس کے پھلوں میں سے کھائو جب کہ وہ پھل لائے اور اس کی فصل کٹنے کے دن اس کا (یعنی خدا کا) حق ادا کرو۔
یہاں خدا کا حق ادا کرنے سے مراد زکوٰۃ و صدقہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر زمین اجتماعی ملکیت ہو تو نہ زکوٰۃ دینے کا سوال پیدا ہوتا ہے نہ لینے کا۔ یہ حکم صرف اسی بنیاد پر دیا جاسکتا تھا کہ کچھ لوگ زمین کے مالک ہوں اور وہ اس کی پیداوار میں سے خدا کا حق نکالیں، اور کچھ دوسرے لوگ زمین کے مالک نہ ہوں، اور ان کو پیداوار کا وہ حصہ دیا جائے جو خدا کے لیے نکالا گیا ہو ۔فرمایئے، یہ حکم دے کر قرآن نے ملکیت زمین کے پرانے نظام کی توثیق کی یا نہیں؟ اسی کی تائید ایک دوسری آیت سے ہوتی ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ۝۰۠ البقرہ 267:2
اے ایمان لانے والو، خرچ کرو اپنی پاک کمائیوں میں سے اور ان چیزوں میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی ہیں۔
یہاں زمین کی پیداوار میں سے خرچ کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس کے متعلق سب کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد زکوٰۃ و خیرات ہے۔ اس حکم کی بجا آوری وہی شخص کرے گا جو پیداوار کا مالک ہوگا، اور انہی لوگوں پر یہ انفاق کیا جائے گا جو صاحبِ مال و جائیداد نہیں ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید میں یہ بھی بتا دیاگیا ہے کہ خیرات کے مستحق کون ہیں۔ لِلْفُقَرَاۗءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ ضَرْبًا فِي الْاَرْضِ۝۰ۡيَحْسَبُھُمُ (البقرہ 273:2) اور اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ الخ (التوبہ 60:9) رہی دوسری غرض تو اس کے متعلق سورئہ نور میں ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَاتَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَلٰٓي اَہْلِہَا۝۰ۭ …….. فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِيْہَآ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْہَا حَتّٰى يُؤْذَنَ لَكُمْ۝۰ۚ
النور 27,28:24
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک کہ پوچھ نہ لو، اور جب داخل ہو تو اس گھر والوں کو سلام کرو… اور اگر وہاں کسی کو نہ پائو تو اندر نہ جائو تاوقتیکہ تم کو ایسا کرنے کی اجازت نہ دی گئی ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ قرآن سکونت کے لیے بھی زمین کے شخصی قبضہ و ملکیت کی توثیق کرتا ہے اور ایک مالک کے اس حق کا استقرار کرتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس کی اجازت کے بغیر اس کے حدود میں قدم نہ رکھے۔
اب حدیث کی طرف آیئے۔ اگر بحیثیتِ مجموعی اس مسئلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام ارشادات، اور آپؐ کے عہد کے عمل، اور زمانہ خلفائے راشدین کے عمل کو دیکھا جائے ، اور یہ دیکھا جائے کہ عہدِ نبوت سے قریب زمانہ کے ائمہ نے قرآن، حدیث، اور آثارِ صحابہؓ پر جامع نگاہ ڈال کر زمین کے بارے میں اسلام کا قانون کیا سمجھا تھا، تو اس امر میں قطعاً کسی شک کی گنجاش نہیں رہتی کہ اسلام صرف یہی نہیں کہ زمین کی شخصی ملکیت کو جائز رکھتا ہے، بلکہ وہ اس ملکیت پر کوئی مستقل حد بھی نہیں لگاتا(مسئلہ ملکیت زمین سے ماخوذ۔)، اور مالکِ زمین کو یہ حق دیتا ہے کہ جس زمین کو وہ خود کاشت نہ کرتا ہو، یا نہ کرسکتا ہو، اسے وہ دوسرے کو مزارعت یا کرایہ پر دے دے۔

(۲) دورِ رسالت اور خلافتِ راشدہ کے نظائر

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے عہد میں زمین کا انتظام کس طریقے پر کیا گیا تھا، اس کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ شریعت کی رو سے اسلامی حکومت کے زیرِ حکم آنے والی اراضی چار بڑی اقسام پر منقسم ہوتی ہیں:
(واضح رہے کہ یہ بات عمومی حالات کے بارے میں ہے۔ غیر معمولی حالات میں حکومت انصاف اور خدا اور اس کے بندوں کے حقوق کی خاطر کچھ پابندیاں لگا سکتی ہے جن کا ذکر فقہ کی کتابوں میں موجود ہے۔ اس طرح اگر ضرورت پیش آئے تو کسی خاص صنعت یا کسی خاص زمین کو دلیلِ شرعی سے قومی ملکیت میں بھی لیا جاسکتا ہے۔لیکن ملک کا مجموعی نظام انفرادی ملکیت کی بنیاد پر ہی مرتب و منظم ہونا چاہیے۔ میں نے جہاں تک اس مسئلے کا اسلام کی روشنی میں مطالعہ کیا ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ اسلام ذرائع پیداوار کو قومی ملکیت بنانے کا پروگرام بطور اصول کے اختیار نہیں کرتا۔ یہ چیز اسلام کے سارے اجتماعی نظام کے خلاف ہے ۔ اسلام کے نقطۂ نظر سے کسی ملک یا ریاست کے معاشی مسائل کا یہ صحیح حل نہیں ہے کہ سارے وسائل پیدائش کو قومی ملکیت بنا دیا جائے۔ البتہ کسی صنعتی یا تجارتی شعبے کے بارے میں اگر تجربے سے معلوم ہو کہ اسے شخصی تحویل میں رکھ کر فروغ دینا ممکن ہی نہیں ہے، تو ایسی صورت میں اسے ریاست کے کنٹرول میں لیا جاسکتا ہے۔) وہ جن کے مالک اسلام قبول کرلیں۔
(۲) وہ جن کے مالک اپنے دین ہی پر رہیں مگر ایک معاہدے کے ذریعہ سے اپنے آپ کو اسلامی حکومت کی تابعیت میں دے دیں۔
(۳) وہ جن کے مالک بزورِ شمشیر مغلوب ہوں۔
(۴) وہ جو کسی کی ملک میں نہ ہوں۔
ان میں سے ہر ایک کے متعلق آنحضرتؐ اور آپؐ کے خلفاءؓ نے کیا طرزِ عمل اختیار کیا تھا، اسے ہم الگ الگ بیان کریں گے۔

قسمِ اوّل کا حکم

پہلی قسم کی املاک کے معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس اصول پر عمل فرمایا وہ یہ تھا:
اِنَّ الْقَوْمَ اِذَا اَسْلَمُوْا اَحْرَزُوْا دِمَاءَ ھُمْ وَاَمُوَالَھُمْ۔
(ابوداؤد ، کتاب الخراج، باب فی اقطاع الارضین)
جب لوگ اسلام قبول کرلیں تو وہ اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کر لیتے ہیں۔
اِنَّہٗ مَنْ اَسْلَمَ عَلٰی شَیْءٍ فَھُوَلَہٗ (کتاب الاموال لابی عبید)
آدمی اسلام قبول کرتے وقت جن املاک کا مالک تھا وہ اسی کی ملک رہیں گی۔
یہ اصول جس طرح املاکِ منقولہ پر چسپاں ہوتا تھا اسی طرح غیر منقولہ پر بھی چسپاں ہوتا تھا، اور اس معاملے میں جو برتائو غیر زرعی جائیدادوں کے ساتھ تھا وہی زرعی جائیدادوں کے ساتھ بھی تھا۔ حدیث اور آثار کا پورا ذخیرہ اس پر شاہد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں کسی جگہ بھی اسلام قبول کرنے والوں کی املاک سے ذرہ برابر کوئی تعرض نہیں فرمایا۔ جو جس چیز کا مالک تھا اسی کا مالک رہنے دیا گیا۔ اس باب میں اسلامی قانون کی تشریح امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’جو لوگ اسلام قبول کرلیں ان کا خون حرام ہے۔ قبولِ اسلام کے وقت جن اموال کے وہ مالک ہوں وہ انھی کی ملک رہیں گے۔ اسی طرح ان کی زمینیں بھی انھی کی ملک رہیں گی اور وہ زمینیں عشری قرار دی جائیں گی۔ اس کی نظیر مدینہ ہے جس کے باشندوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور وہ اپنی زمینوں کے مالک رہے اور ان پر عشر لگا دیا گیا۔ ایسا ہی معاملہ طائف اور بحرین کے لوگوں سے بھی کیا گیا۔ اسی طرح بدویوں میں سے بھی جن جن لوگوں نے اسلام قبول کیا وہ اپنے اپنے چشموں اور اپنے اپنے علاقوں کے مالک تسلیم کئے گئے… ان کی زمین عشری زمین ہے ، وہ اس سے بے دخل نہیں کیے جاسکتے، اور انہیں اس پر بیع اور وراثت کے جملہ حقوق حاصل ہیں۔ بالکل اسی طرح جن علاقوں کے باشندے اسلام قبول کرلیں وہ اپنی املاک کے مالک رہیں گے۔‘‘ (کتاب الخراج: ص 35)
اسلامی قانونِ معیشت کے دوسرے جلیل القدر محقق امام ابو عبیدالقاسم بن سلام لکھتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خلفاءؓ سے جو آثار ہم تک پہنچے ہیں وہ اراضی کے بارے میں تین قسم کے احکام لائے ہیں۔ ایک قسم ان اراضی کی جن کے مالک اسلام قبول کرلیں، تو قبولِ اسلام کے وقت وہ جن اراضی کے مالک ہوں وہ انہی کی ملک رہیں گی اور وہ عشری زمینیں قرار پائیں گی۔ عشر کے سوا ان پر اور کچھ نہ لگے گا… ‘‘ (کتاب الاموال: ص55)
آگے چل کر پھر لکھتے ہیں:
’’جس علاقے کے باشندے اسلام لے آئے وہ اپنی زمینوں کے مالک رہے، جیسے مدینہ، طائف، یمن اور بحرین۔ اسی طرح مکہ اگرچہ بزورِ شمشیر فتح ہوا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باشندوں پر احسان کیا اور ان کی جانوں سے تعرض نہ کیا اور ان کے اموال کو غنیمت نہ ٹھیرایا… پس جب ان کے اموال ان کی ملک میں چھوڑ دیے گئے اور اس کے بعد وہ مسلمان ہوگئے تو ان کی املاک کا حکم بھی وہی ہوگیا، جو دوسرے مسلمان ہونے والے لوگوں کی املاک کا تھا، اور ان کی زمینیں بھی عشری قرار دی گئیں۔ (ص512)
علامہ ابن القیم رحمتہ اللہ علیہ زادالمعاد میں لکھتے ہیں:
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جو شخص اسلام لانے کے وقت جس چیز پر قابض تھا وہ اسی کے قبضے میں رہنے دی گئی۔ یہ نہیں دیکھا گیا کہ اسلام لانے سے پہلے وہ چیز کس ذریعہ سے اس کے قبضے میں آئی تھی۔ بلکہ وہ اس کے ہاتھ میں اسی طرح رہنے دی گئی جس طرح وہ پہلے سے چلی آ رہی تھی۔‘‘ (ج 2 ص 96)
یہ ایک ایسا قاعدہ کلیہ ہے جس میں استثناء کی کوئی ایک مثال بھی عہد نبوت اور عہدِ خلافت راشدہ کے نظائر میں نہیں ملتی۔ اسلام نے اپنے پیروئوں کی معاشی زندگی میں جو صلاحیتیں بھی جاری کیں آئندہ کے لیے کیں، مگر جو ملکیتیں پہلے سے لوگوں کے قبضے میں چلی آ رہی تھیں ان سے کوئی تعرض نہ کیا۔

قسمِ دوم کا حکم

دوسری قسم ان لوگوں کی تھی جنھوں نے اسلام تو قبول نہ کیا مگر مصالحانہ طریقے سے اسلامی حکومت کے تابع بن کر رہنا قبول کرلیا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں جو اصول نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقرر فرمایا وہ یہ تھا کہ جن شرائط پر بھی ان سے مصالحت ہوئی ہو انہیں بے کم و کاست پورا کیا جائے۔ چنانچہ حدیث میں آپؐ کا ارشاد ہے:
لَعَلَّکُمْ تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا یَیَظْھَرُوْنَ عَلَیْکُمْ فَیَتَّقُوْنَ بِاَمْوِالِھِمْ دُوْنَ اَنْفُسِھِمْ وَ اَبْنَآءِھِمْ فَتُصْالِحُوْنَھُمْ عَلٰی صُلْحٍ فَلَاتُصِیْبُوْا مِنْھُمْ فَوْقَ ذَالِکَ فَاِنَّہٗ لَا یَصْلُحُ ۔(ابو دائود۔ ابن ماجہ)
اگر کبھی ایسا ہو کہ کسی قوم سے تمہاری جنگ ہو، پھر وہ تمہارے سامنے آکر اپنی اور اپنے بال بچوں کی جانیں بچانے کے لیے اپنے مال دینے پر تیار ہو جائیں، اور تم ان سے صلح کرلو، تو ایسی صورت میں جس چیز پر ان سے تمہاری صلح ہو اس سے زائد کچھ نہ لینا کیونکہ وہ تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔
اَلَا مَنْ ظَلَمَ مُعَاھِدًا اَوِ انْتَقَصَہٗ اَوْ کَلَّفَہٗ فَوْقَ طَاقَتِہٖ اَوْ اَخَذَ مِنْہُ شَیْئًا بِغَیْرِ طِیْبِ نَفْسٍ فَاَنَاحَجِیْجُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (ابودائود)
خبردار رہو، جو شخص کسی معاہد ذمی پر ظلم کرے گا، یا ازروئے معاہدہ اس کے جو حقوق ہوں ان کے اندر کوئی کمی کرے گا، یا اس پر اس کی برداشت سے زیادہ بار ڈالے گا، یا اس سے اس کی رضا مندی کے بغیر کوئی چیز لے گا، اس کے خلاف میں خود قیامت کے روز مدعی بنوں گا۔
اسی اصول کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران، ایلہ، اذرعات، ہجر اور دوسرے جن جن علاقوں اور قبیلوں کے ساتھ صلح کی ان سب کو ان کی زمینوں اور جائیدادوں اور صنعتوں اور تجارتوں پر بدستور بحال رہنے دیا اور صرف وہ جزیہ و خراج ان سے وصول کرنے پر اکتفا فرمایا جس پر ان سے معاہدہ ہوا تھا۔ پھر اسی اصول پر خلفائے راشدین نے بھی عمل کیا۔ عراق، شام، الجزیرہ، مصر، ارمینیہ، غرض جہاں جہاں بھی کسی شہر اور کسی بستی کے لوگوں نے صلح کے طریقے پر اپنے آپ کو اسلامی حکومت کے حوالے کیا ان کی املاک بدستور ان کے قبضے میں رہنے دی گئیں اور ان سے مالِ صلح کے سوا کوئی چیز کبھی وصول نہ کی گئی۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں بعض اہم مصلحتوں کی بنا پر نجران کے باشندوں کو اندرونِ عرب سے شام و عراق کی طرف منتقل کیا بھی گیا تو ان میں سے جس جس کے پاس نجران میں جتنی زرعی اور سکنی جائیداد تھی اس کے بدلے میں نہ صرف اتنی ہی جائیداد اس کو دوسری جگہ دی گئی بلکہ حضرت عمرؓ نے اپنے شام و عراق کے گورنروں کے نام فرمانِ عام لکھا کہ جس کے علاقے میں بھی وہ جا کر آباد ہوں وہ فَلْیُوَسِّعْھُمْ مِنْ خَرِیْبِ الْاَرْضِ ’’فراخ دلی کے ساتھ اُفتادہ زمینوں میں سے ان کو دے۔ ‘‘ (کتاب الاموال لابی عبید، ص 189)
اس قاعدئہ کلیہ میں بھی کسی استثناء کی مثال عہدِ نبوت اور عہدِ خلافت راشدہ کے نظائر سے پیش نہیں کی جاسکتی۔ چنانچہ یہ بھی فقہاء اسلام کا متفق علیہ قانون ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں۔ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ اس کو اپنی ‘‘کتاب الخراج‘‘ میں ایک قانونی دفعہ کے طور پر اس طرح ثبت فرماتے ہیں:
’’غیر مسلموں میں سے جس قوم کے ساتھ اس بات پر امام کی صلح ہو جائے کہ وہ مطیع حکم ہو جائیں اور خراج ادا کریں تو وہ اہل ذمہ ہیں، ان کی اراضی اراضیِ خراج ہیں، ان سے بس وہی کچھ لیا جائے گا جس پر ان سے صلح ہوئی ہو، ان کے ساتھ عہد پورا کیا جائے گا اور ان پر کسی چیز کا اضافہ نہ کیا جائے گا۔‘‘ (ص 35)

قسم سوم کے احکام

رہے وہ لوگ جو آخر وقت تک مقابلہ کریں اور بزورِ شمشیر مغلوب ہوں، تو ان کے بارے میں تین مختلف طرزِ عمل ہم کو عہد نبوت و خلافتِ راشدہ میں ملتے ہیں:
ایک وہ طرزِ عمل جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں اختیار فرمایا، یعنی فتح کے بعد لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ کا اعلانِ عام اور مفتوحین کو جان و مال کی پوری معافی۔ اس صورت میں، جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے، اہلِ مکہ اپنی زمینوں اور جائیدادوں کے بدستور مالک رہے، اور اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی زمینیں عشری زمینیں قرار دے دی گئیں۔
دوسرا وہ طرزِ عمل جو آپؐ نے خیبر میں اختیار فرمایا، یعنی مفتوح علاقے کو مالِ غنیمت قرار دینا۔ اس صورت میں سابق مالکوں کی ملکیت ساقط کر دی گئی۔ ایک حصہ خدا اور رسولؐ کے حق میں لے لیا گیا، اور باقی زمین کو ان لوگوں پر تقسیم کر دیا گیا جو فتح خیبر کے موقع پر لشکر اسلام میں شامل تھے۔ یہ تقسیم شدہ زمینیں جن جن لوگوں کے حصے میں آئیں وہ ان کے مالک قرار پائے اور ان پر عشر لگا دیا گیا۔ (کتاب الاموال لابی عبید، ص 513)
تیسرا وہ طرزِ عمل جو حضرت عمرؓ نے ابتدائً شام اور عراق میں اختیار فرمایا اور بعد میں تمام مفتوح ممالک کا بندوبست اسی کے مطابق ہوا۔ وہ یہ تھا کہ آپ نے مفتوح علاقے کو فاتح فوج میں تقسیم کرنے کے بجائے اس کو تمام مسلمانوں کی اجتماعی ملکیت قرار دیا، اس کا انتظام مسلمانوں کی طرف سے نیابتہً اپنے ہاتھ میں لے لیا، اصل باشندوں کو حسبِ سابق ان کی زمینوں پر بحال رہنے دیا، ان کو ذمّی قرار دے کر ان پر جزیہ و خراج عائد کر دیا، اور اس جزیہ و خراج کا مصرف یہ قرار دیا کہ وہ عام مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر صَرف ہو، کیوں کہ بنیادی نظریے کے اعتبار سے وہی ان مفتوح علاقوں کے اصل مالک تھے۔
اس آخری صورت میں بظاہر ’’اجتماعی ملکیت ‘‘ کے تصور کا ایک دھندلا سا شائبہ پایا جاتا ہے، مگر جس طرح یہ پورا معاملہ طے ہوا تھا اس کی تفصیلات پر نظر ڈالنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس اجتماعی ملکیت کو اشتراکیت کے تصور سے دور کا تعلق بھی نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ جب مصر و شام اور عراق کے وسیع علاقے فتح ہوئے تو حضرت زبیرؓ اور حضرت بلالؓ اور ان کے ہم خیال لوگوں نے حضرت عمرؓ سے مطالبہ کیا کہ ان علاقوں کی تمام زمینیں اور جائیدادیں خیبر کی طرح فاتح فوج میں تقسیم کر دی جائیں لیکن حضرت عمرؓ نے اس سے انکار کیا اور حضرت علیؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت طلحہؓ اور حضرت معاذؓ بن جبل جیسے اکابر صحابہ نے اس معاملے میں ان کی تائید کی۔ اس کے وجوہ کیا تھے؟ اس پر وہ تقریریں روشنی ڈالتی ہیں جو اس موقع پر ہوئیں۔ حضرت معاذؓ نے کہا:
’’اگر آپ اسے تقسیم کریں گے تو خدا کی قسم اس کا نتیجہ وہ ہوگا جو آپ ہر گز پسند نہ کریں گے۔ بڑی بڑی زرخیز زمینوں کے ٹکڑے فوج میں تقسیم ہو جائیں گی۔ پھر یہ لوگ مرکھپ جائیں گے اور کسی کی وارث کوئی عورت ہوگی اور کسی کا وارث کوئی بچہ ہوگا۔ پھر جو دوسرے لوگ اسلام کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اٹھیں گے انہیں دینے کے لیے حکومت کے پاس کچھ نہ ہوگا۔ لہٰذا آپ وہ کام کیجئے جس میں آج کے لوگوں کے لیے بھی گنجائش ہو اور بعد والوں کے لیے بھی۔‘‘
حضرت علیؓ نے فرمایا:
’’ملک کی کاشت کار آبادی کو اس کے حال پر رہنے دیجئے تا کہ وہ سب مسلمانوں کے لیے معاشی قوت کا ذریعہ ہوں۔‘‘
حضرت عمرؓ نے فرمایا:
’’یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں اس زمین کو تم لوگوں پر تقسیم کر دوں اور بعد کے آنے والوں کو اس حال میں چھوڑ دوں کہ ان کا اس میں کچھ حصہ نہ ہو … آخر بعد کی نسلوں کے لیے کیا رہے گا؟… کیا تم لوگ چاہتے ہو کہ آئندہ آنے والوں کے لیے کچھ نہ رہے؟… اور مجھے یہ بھی اندیشہ ہے کہ اگر میں اسے تمہارے درمیان تقسیم کر دوں تو تم پانی پر آپس میں فساد کرنے لگو گے۔‘‘
اس بنیاد پر جو فیصلہ کیا گیا وہ یہ تھا کہ زمین اس کے سابق باشندوں ہی کے پاس رہنے دی جائے ، اور ان کو ذمّی بنا کر ان پر جزیہ و خراج لگا دیا جائے، اور یہ خراج مسلمانوں کی عام فلاح پر صرف ہو۔ اس فیصلے کی اطلاع حضرت عمرؓ نے اپنے عراق کے گورنر، حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کو جن الفاظ میں دی تھی وہ یہ ہیں:
فَانْظُرْ مَااَجْلَبُوْا بِہٖ عَلَیْکَ فِی الْعَسْکَرِ مِنْ کُرَاعٍ اَوْمَالِ فَاقْسَمْہُ بَیْنَ مَنْ حَضَرَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَاتْرُکِ الْاَرْضِیْنَ وَالْاَنْھَارَ لِعُمَّالِھَا لِیَکُوْنَ ذَالِکَ فِیْ اَعُطِیَّاتِ الْمُسْلِمِیْنَ، فَاِنَّا اِنْ قَسَمْنَا ھَا بَیْنَ مَنْ حَضَرَ لَمْ یَکُن لِّمَنْ بَعَدَھُمْ شَیءٌ ( اس پوری بحث کے لیے ملاحظہ ہو کتاب الخراج، ص 20,21 ، اور کتاب الاموال، ص 57,63۔ )
جو کچھ اموالِ منقولہ سپاہیوں نے دورانِ جنگ میں بطورِ غنیمت حاصل کیے ہیں اور لشکر میں جمع کرا دیئے ہیں انہیں تو انہی لوگوں میں تقسیم کر دو جو جنگ میں شریک ہوئے تھے۔ مگر نہروں اور زمینوں کو انہی لوگوں کے ہاتھ میں رہنے دو جو ان پر کام کرتے تھے تا کہ وہ مسلمانوں کی تنخواہوں کے لیے محفوظ رہیں۔ ورنہ اگر ہم ان کو بھی موجودہ لوگوں میں تقسیم کر دیں تو پھر بعد والوں کے لیے کچھ نہ رہے گا۔
اس نئے بندوبست کا اساسی نظریہ تو یہی تھا کہ اب ان مفتوحہ اراضی کے مالک مسلمان ہیں، اور سابق مالکوں کی اصل حیثیت صرف کاشتکارانہ ہے، اور حکومت مسلمانوں کے ایجنٹ کی حیثیت سے ان کے ساتھ معاملہ کر رہی ہے(اس نظریے کی توضیح اس واقعے سے ہوتی ہے کہ ایک مرتبہ عتبہ بن فرقد حضرت عمرؓ سے ملنے آئے اور ان کو اطلاع دی کہ میں نے فرات کے کنارے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا ہے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا کس سے؟ انہوں نے عرض کیا اس کے مالکوں سے، آپ نے مہاجرین و انصار کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اس کے مالک تو یہاں بیٹھے ہیں۔ (کتاب الاموال، ص 74) اور حضرت علیؓ کا وہ ارشاد بھی اس نظریے پر روشنی ڈالتا ہے کہ جب عراق کے پرانے زمین دارں میں سے ایک نے آکر آپ کے سامنے قبولِ اسلام کا اعلان کیا تو آپ نے فرمایا کہ اب جزیہ تو تجھ سے ساقط ہوگیا لیکن تیری زمین خراجی ہی رہے گی، کیوں کہ وہ ہماری ہے۔ (کتاب الاموال، ص 80)، لیکن عملاً ذمی بنا لینے کے بعد ان کو جو حقوق دیئے گئے وہ مالکانہ حقوق سے کچھ بھی مختلف نہ تھے۔ وہ انہی رقبوں پر قابض رہے جن پر پہلے قابض تھے۔ ان پر خراج کے سوا کوئی دوسری چیز حکومت یا مسلمانوں کی طرف سے عائد نہ کی گئی۔ اور ان کو اپنی زمینوں پر بیع اور رہن اور وراثت کے وہ تمام حقوق بدستور حاصل رہے جو پہلے حاصل تھے۔ اس معاملے کو امام ابو یوسفؒ ایک قانونی ضابطے کی شکل میں یوں بیان فرماتے ہیں:
جس سرزمین کو امام بزورِ شمشیر فتح کرے اس کے معاملہ میں وہ اختیار رکھتا ہے کہ اگر چاہے تو فاتح فوج میں اسے تقسیم کر دے۔ اس صورت میں وہ عشری زمین ہو جائے گی۔ لیکن اگر وہ تقسیم کرنا مناسب نہ سمجھے اور بہتر یہی خیال کرے کہ اسے اس کے پرانے باشندوں کے ہاتھوں میں رہنے دے، جیسا کہ حضرت عمرؓ نے عراق میں کیا، تو وہ ایسا کرنے کا بھی اختیار رکھتا ہے۔ اس صورت میں وہ زمین خراجی زمین ہوگی اور خراج لگ جانے کے بعد پھر امام کو یہ حق باقی نہ رہے گا کہ اس کے باشندوں سے اس کو چھین لے۔ وہ ان کی ملک ہوگی ، وہ اس کو وراثت میں ایک دوسرے کی طرف منتقل کریں گے، اس کی خرید و فروخت کرسکیں گے، ان پر خراج لگادیا جائے گا، اور ان کی طاقت سے زیادہ ان پر بوجھ نہ ڈالاجائے گا۔
(کتاب الخراج، ص 35,36)

قسمِ چہارم کے احکام

مذکورہ بالا تین قسمیں تو ان اراضی کی تھیں جو پہلے سے مختلف قسم کے لوگوں کی ملکیت میں تھیں اور اسلامی نظام قائم ہونے کے بعد یا تو ان کی پچھلی ملکیتوں ہی کی توثیق کر دی گئی، یا بعض حالات میں اگر رد و بدل کیا بھی گیا تو صرف ہاتھوں میں کیا گیا نہ کہ بجائے خود نظامِ ملکیت میں۔ اس کے بعد ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ جن زمینوں کا کوئی مالک نہ تھا، یا نہ رہا تھا، ان کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خلفاءؓ نے کیا طرزِ عمل اختیار فرمایا۔
اس نوعیت کی اراضی دو بڑی اصناف پر مشتمل تھیں:
ایک ’’موات‘‘ یعنی افتادہ زمینیں، خواہ وہ عادیُّ الارض ہوں (جن کے مالک مرکھپ گئے ہوں) یا جن کا کبھی کوئی مالک رہا ہی نہ ہو، یا جو جھاڑیوں اور دلدلوں اور سیلابوں کے نیچے آگئی ہوں۔
دوسری ’’خالصہ‘‘ زمینیں، یعنی جن کو سرکاری املاک قرار دیا گیا تھا۔ ان میں کئی طرح کی اراضی شامل تھیں۔ ایک وہ جن کے مالکوں نے خود ان سے دست بردار ہو کر حکومت کو اختیار دے دیا تھا کہ انہیں جس طرح چاہیں استعمال کرے۔( ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو انصار نے وہ تمام زمینیں جن تک ان کی آبپاشی کا پانی نہ پہنچتا تھا، آپؐ کے حوالے کر دیں تا کہ آپؐ ان سے جو چاہیں کام لیں۔ (کتا ب الاموال، ص ۲۸۲)دوسری وہ جن کے مالکوں کو اسلامی حکومت نے بے دخل کر کے خالصہ کرلیا تھا۔ مثلاً مضافاتِ مدینہ میں بنی نضیر کی زمینیں۔ تیسری وہ جو مفتوحہ علاقوں میں خالصہ قرار دی گئی تھیں۔ مثلاً وہ اراضی جو عراق میں کسریٰ اور اس کے اہلِ خاندان کے قبضے میں تھیں، یا جن کے مالک جنگ میں مارے گئے تھے یا بھاگ گئے تھے، اور حضرت عمرؓ نے ان کو خالصہ قرار دے دیا تھا۔(اس طرح کی اراضی کی دس اقسام امام ابو یوسف اور ابو عبید رحمہما اللہ نے اپنی کتابوں میں گنائی ہیں۔)
ان دونوں اقسام کا حکم ہم الگ الگ بیان کریں گے۔

حقوقِ ملکیت بربنائے آبادکاری

’’موات‘‘ کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدیم ترین اصول کی تجدید فرمائی جس سے دنیا میں ملکیت ِ زمین کا آغاز ہوا ہے۔ جب انسان نے اس کرئہ خاکی کو آباد کرنا شروع کیا تو اصول یہی تھا کہ جو جہاں رہ پڑا ہے وہ جگہ اسی کی ہے، اور جس جگہ کو کسی نے کسی طور پر کارآمد بنالیا ہے اس کے استعمال کا وہی زیادہ حق دار ہے۔ یہی قاعدہ تمام عطیاتِ فطرت پر انسان کے مالکانہ حقوق کی بنیاد ہے، اور اسی کی توثیق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر اپنے ارشادات میں فرمائی ہے۔ چنانچہ احادیث میں آتا ہے:
عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَمَّرَ اَرْضًا لَیْسَتْ لِاَحَدٍ فَھُوَ اَحَقُّ بِھَا۔ قَالَ عُرْوَۃُ قَضٰی بِہٖ عُمَرُ فِیْ خَلَافَتِہٖ ۔ (بخاری، احمد، نسائی)
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی ایسی زمین کو آباد کیا جو کسی دوسرے کی ملک نہ ہو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔ عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ اسی پر حضرت عمرؓ نے اپنے زمانۂ خلافت میں عملدرآمد کیا۔
عَنْ جَابِرٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اَحْیٰی اَرْضًا مَیْتَۃً فَھِیَ لَہٗ ۔
(احمد، ترمذی، نسائی، ابن حبان)
جابرؓ بن عبداللہ کی روایت ہے کہ جس کسی نے مردہ زمین کو زندہ کیا (یعنی بیکار پڑی ہوئی زمین کو کارآمد بنالیا) وہ زمین اسی کی ہے۔
عَنْ سَمُرَۃَ عَنِ النَّبِّیِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اَحَاطَ حَائِطًا عَلٰی اَرْضٍ فَھِیَ لَہٗ۔ (ابوداؤد)
سمرہؓ بن جندب سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی افتادہ زمین پر احاطہ کھینچ لیا وہ اسی کی ہے۔
عَنْ اَسْمَرَ بْنِ مُضَرَّسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَبَقَ اِلٰی مَاءٍ لَمْ یَسْبِقْہُ اِلَیْہِ  مُسْلِمٌ ۔ (ابوداؤد)
اَسْمر بن مضرس سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی ایسے کنویں کو پائے جس پر پہلے سے کوئی مسلمان قابض نہ ہو وہ کنواں اسی کا ہے۔
عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ اَشْھَدُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَضٰی اَنَّ الْاَرْضَ اَرْضُ اللہِ وَالْعِبَادَ عِبَادُ اللہِ وَ مَنْ اَحْیٰی مَوَاتًا فَھُوَاَ حَقُّ بِھَا، جَاءَنَا بِھٰذَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلَّذِیْنَ جَاءُوْا بِالصَّلوٰۃِ عَنْہُ۔ (ابوداؤد)
عروؒہ بن زبیر (تابعی) کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ زمین خدا کی ہے اور بندے بھی خدا کے ہیں، جو شخص کسی مردہ زمین کو زندہ کرلے وہی اس زمین کا زیادہ حقدار ہے۔ یہ قانون ہم تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے انہی بزرگوں کے ذریعے پہنچا ہے جن کے ذریعے سے پنجوقتہ نماز پہنچی ہے ۔ (یعنی صحابہ کرامؓ)۔
اس فطری اصول کی تجدید و توثیق کرنے کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دو ضابطے مقرر فرما دیے۔ ایک یہ کہ جو شخص دوسرے کی مملوکہ زمین کو آباد کرے وہ اس فعل آباد کاری کی بنا پر ملکیت کا حق دار نہ ہو جائے گا۔ دوسرے یہ کہ جو شخص خواہ مخواہ احاطہ کھینچ کر یا نشان لگا کر کسی زمین کو روک رکھے اور اس پر کوئی کام نہ کرے اس کا حق تین سال کے بعد ساقط ہو جائے گا۔ پہلے ضابطے کو آپؐ نے اس طرح بیان فرمایا ہے:
عَنْ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ اَحْیٰی اَرْضًا مَیْتَۃً فَھِیَ لَہٗ وَلَیْسَ لِعِرْقٍ ظالمٍ حَقٌّ (احمد، ابودائود، ترمذی)
سعید بن زید کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی نے کسی مردہ زمین کو زندہ کرلیا وہ اسی کی ہے، اور دوسرے کی زمین میں ناروا طور پر آباد کاری کرنے والے کے لیے کوئی حق نہیں ہے۔
دوسرے ضابطے کا ماخذ یہ روایات ہیں:
عَنْ طَاؤُسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَادِیُّ الْاَرْضِ لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوْلِ ثُمَّ لَکُمْ مِّنْ بَعْدُ فَمَنْ اَحْیَا اَرْضًا مَیْتَۃً فَھِیَ لَہٗ وَلَیْسَ لِمُحْتَجِرٍ حَقٌّ بَعْدَ ثَلٰثِ سِنِیْنَ (ابو یوسف، کتاب الخراج)
طائوس (تابعی) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غیر مملوکہ زمین جس کا کوئی ولی و وارث نہ ہو خدا اور رسولؐ کی ہے،پھر اس کے بعد وہ تمہارے لیے ہے۔ پس جو کوئی مردہ زمین کو زندہ کرلے وہ اسی کی ہے۔ اور بیکار روک کر رکھنے والے کے لیے تین سال کے بعد کوئی حق نہیں ہے۔
عَنْ سَالِمٍ بْنِ عَبْدِ اللہِ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ عَلَی الْمِنْبَرِ مَنْ اَحْیَا اَرْضًا مَیْتَۃً فَھِیَ لَہٗ وَ لَیْسَ لِمُحْتَجِرٍ حَقٌّ بَعْدَ ثَلٰثِ سِنِیْنَ وَذٰلِکَ اَنَّ رِجَالًا کَانُوْا یَحْتَجِرُوْنَ مِنْ الْاَرْضِ مَالَا یَعْمَلُوْنَ (ابو یوسف، کتاب الخراج)
سالم بن عبداللہؓ (حضرت عمرؓ کے پوتے) روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے برسرِ منبر فرمایا کہ جس نے کسی مُردہ زمین کو زندہ کیا وہ اسی کی ہے مگر خواہ مخواہ روک رکھنے والے کے لیے تین سال کے بعد کوئی حق نہیں ہے۔ یہ اعلان کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی تھی کہ بعض لوگ زمینوں کو یونہی روک رکھتے تھے اور ان پر کوئی کام نہ کرتے تھے۔
یہ مسئلہ فقہاء اسلام کے درمیان متفق علیہ ہے۔ اگر کوئی اختلاف ہے تو صرف اس امر میں ہے کہ آیا محض آباد کاری کا فعل کرلینے ہی سے کوئی شخص ارض موات کا مالک ہو جاتا ہے یا ثبوت ملکیت کے لیے حکومت کی منظور ی و اجازت ضروری ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اس کے لیے حکومت کی منظوری کو ضروری سمجھتے ہیں لیکن امام ابو یوسفؒ، امام محمدؒ، امام شافعیؒ اور امام احمدؒ بن حنبلؒ کی رائے یہ ہے کہ اس معاملہ میں احادیث بالکل صاف ہیں، لہٰذا آبادکار کا حقِ ملکیت حکومت کی اجازت اور منظوری پر موقوف نہیں ہے، وہ خدا اور رسولؐ کے دیے ہوئے حق کی بنا پر مالک ہو جائے گا، اس کے بعد یہ حکومت کا کام ہے کہ جب معاملہ اس کے سامنے آئے تو وہ اس حق کو تسلیم کرے اور نزاع کی صورت میں اس کا استقرار کرائے۔ امام مالکؒ بستی سے قریب کی زمینوں اور دور دراز کی افتادہ اراضی میں فرق کرتے ہیں۔ پہلی قسم کی زمینیں ان کے نزدیک اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ رہیں دوسری قسم کی زمینیں تو ان کے لیے امام کے عطیہ کی شرط نہیں۔ وہ محض احیاء سے آدمی کی مِلک ہو جاتی ہیں۔
اس معاملے میں حضرت عمرؓ اور حضرت عمرؒ بن عبدالعزیز، دونوں کا طرزِ عمل یہ تھا کہ اگر کوئی شخص کسی زمین کو افتادہ سمجھ کر آباد کرلیتا، اور بعد میں کوئی دوسرا شخص آکر ثابت کرتا کہ زمین اس کی تھی، تو اس کو اختیار دیا جاتا تھا کہ یا تو آبادکار کے عمل کا معاوضہ ادا کر کے اپنی زمین لے لے، یا زمین کی قیمت لے کر حقِ ملکیت اس کی طرف منتقل کر دے۔( تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ’’کتاب الخراج‘‘ لابی یوسف ص ۳۶۔۳۷، و ’’کتاب الاموال‘‘ لابی عبید ص ۲۸۵۔۲۸۹۔ شیخ علی متقی نے کنز العمال میں اس مسئلے پر تمام احادیث و آثار کو یکجا جمع کر دیا ہے۔ جو اصحاب اس کی پوری تفصیلات دیکھنا چاہیں وہ کتابِ مذکور کے جز دوم میں احیاء موات کی بحث ملاحظہ فرمائیں۔)

عطیۂ زمین من جانب سرکار

پھر ’’موات‘‘ اور ’’خالصہ‘‘ دونوں طرح کی زمینوں میں سے بکثرت قطعات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی لوگوں کو عطا فرمائے، اور آپؐ کے بعد خلفائے راشدینؓ بھی برابر اس طرح کے عطیے دیتے رہے۔ اس کی بہت سی نظیریں حدیث و آثار کے ذخیرے میں موجود ہیں جن میں سے چند یہاں نقل کی جاتی ہیں:
(۱) عروہؒ بن زبیرؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور حضرت عمرؓ بن خطاب کو چند زمینیں عطا کی تھیں ۔ پھر عثمانؓ کے زمانے میں حضرت زبیرؓ نے خاندانِ عمرؓ کے لوگوں سے ان کے حصے کی زمین خرید لی اور اس خریداری کی توثیق کے لیے حضرت عثمانؓ کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے کہا کہ عبدالرحمنؓ بن عوف کی شہادت یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ زمینیں ان کو اور عمرؓ بن خطاب کو عطا کی تھیں، سو میں نے خاندانِ عمرؓ سے ان کا حصہ خرید لیا ہے۔ اس پر حضرت عثمانؓ نے کہا کہ عبدالرحمنؓ سچی شہادت دینے والے آدمی ہیں خواہ وہ ان کے حق میں پڑتی ہو یا ان کے خلاف۔ (مسند امام احمدؒ)
(۲) علقمہ بن وائل اپنے والد (وائل بن حجر) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حضر موت میں ایک زمین کی عطا کی تھی ۔ (ابو دائود، ترمذی)
(۳) حضرت ابوبکرؓ کی صاحبزادی حضرت اسماءؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوہر حضرت زبیرؓ کو خیبر میں ایک زمین عطا فرمائی تھی جس میں کھجور کے درخت بھی تھے اور دوسرے درخت بھی۔ اس کے علاوہ عروہ بن زبیرؓ کا بیان ہے کہ آپؐ نے ان کو ایک نخلستان بنی نضیر کی زمینوں میں سے بھی دیا تھا۔ نیز عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک اور وسیع خطۂ زمین بھی آپؐ نے حضرت زبیرؓ کو دیا تھا اور اس کی صورت یہ تھی کہ آپؐ نے ان سے فرمایا گھوڑا دوڑائو، جہاں جا کر تمہارا گھوڑا ٹھیر جائے گا وہاں تک کی زمین تمہیں دے دی جائے گی۔ چنانچہ انہوں نے گھوڑا دوڑایا اور جب ایک جگہ جا کر گھوڑا ٹھیر گیا تو وہاں سے انہوں نے اپنا کوڑا آگے پھینک دیا۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا، اچھا ، جہاں ان کا کوڑا گرا ہے وہاں تک کی زمین انہیں دے دی جائے۔
(بخاری، احمد، ابودائود، کتاب الخراج لابی یوسف، کتاب الاموال لابی عبید)
(۴) عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپؐ نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ دونوں کو زمینیں عطا فرمائیں۔ (کتاب الخراج لابی یوسف)
(۵) ابوؓرافع بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خاندان والوں کو ایک زمین عطا کی تھی مگر وہ اسے آباد نہ کرسکے اور حضرت عمرؓ کے زمانے میں انہوں نے اسے 8 ہزار دینار میں فروخت کر دیا۔ (کتاب الخراج)
(۶) ابن سیرین کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار میں سے ایک صاحب سُلَیط کو ایک زمین عطا فرمائی۔ وہ اس کے انتظام کے لیے اکثر باہر جاتے رہتے اور بعد میں آکر انہیں معلوم ہوتا کہ ان کے پیچھے اتنا اتنا قرآن نازل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ یہ احکام دیے۔ اس سے ان کی بڑی دل شکنی ہوتی۔ آخرکار انہوں نے ایک روز آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یہ زمین میرے اور آپؐ کے درمیان حائل ہو گئی ہے، آپؐ اسے مجھ سے واپس لے لیں۔ چنانچہ وہ واپس لے لی گئی۔ بعد میں حضرت زبیرؓ نے اس کے لیے درخواست کی اور آپؐ نے وہ زمین ان کو دے دی۔
(کتاب الاموال)
(۷) بلالؓ بن حارث مزنی کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عقیق کی پوری زمین عطا فرمائی تھی۔ (کتاب الاموال)
(۸) عدیؓ بن حاتم کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرات بن حیات عِجلی کو یمامہ میں ایک زمین عطا کی تھی۔ (کتاب الاموال)
(۹) عرب کے مشہور طبیب حارث بن کلدہ کے بیٹے نافع نے حضرت عمرؓ سے درخواست کی کہ بصرہ کے علاقے میں ایک زمین ہے جو نہ تو اراضیِ خراج میں شامل ہے اور نہ مسلمانوں میں سے کسی کا مفاد اس سے وابستہ ہے۔ آپ وہ مجھے عطا کر دیں۔ میں اپنے گھوڑوں کے لیے اس میں چارے کی کاشت کروں گا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے گورنر ابو موسیٰ اشعریؓ کو فرمان لکھا کہ اگر اس زمین کی کیفیت وہی ہے جو نافع نے مجھ سے بیان کی ہے تو وہ ان کو دے دی جائے۔ (کتاب الاموال)
(۱۰) موسیٰ بن طلحہ کی روایت ہے کہ حضرت عثمانؓ نے اپنے زمانۂ خلافت میں زبیرؓ بن عوام، سعدؓ بن ابی وقاص، عبداللہؓ بن مسعود، اسامہؓ بن زید، خبابؓ بن ارت، عمارؓ بن یاسر اور سعد بن مالک رضی اللہ عنہم کو زمینیں عطا کی تھیں۔ (کتاب الخراج۔ کتاب الاموال)
(۱۱) عبداللہ بن حسنؓ کی روایت ہے کہ حضرت علیؓ کی درخواست پر حضرت عمرؓ نے ان کو ینبع کا علاقہ عطا کیا تھا۔ (کنز العمال)
(۱۲) امام ابو یوسفؒ متعدد معتبر حوالوں سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ان سب زمینوں کو خالصہ قرار دیا تھا جو کسریٰ اور آلِ کسریٰ نے چھوڑی تھیں، یا جن کے مالک بھاگ گئے تھے، یا جنگ میں مارے گئے تھے، یا جو دلدل اور سیلاب اور جھاڑیوں کے نیچے آگئی تھیں۔ پھر جن لوگوں کو بھی آپ زمینیں عطا کرتے تھے انہی اراضی میں سے کرتے تھے۔ (کتاب الخراج)

عطیۂ زمین کے بارے میں شرعی ضابطہ

یہ عطائے زمین کا طریقہ محض شاہانہ بخشش و انعام کی نوعیت نہ رکھتا تھا بلکہ اس کے چند قواعد تھے جو ہم کو احادیث و آثار میں ملتے ہیں۔
۱۔ پہلا قاعدہ یہ تھا کہ جو شخص زمین لے کر تین سال تک اس پر کچھ کام نہ کرے اس کا عطیہ منسوخ سمجھا جائے گا۔ اس کی نظیر میں امام ابو یوسفؒ یہ روایت لاتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ مزنیہ اور جہینہ کے لوگوں کو کچھ زمین دی تھی، مگر انہوں نے وہ بیکار رکھ چھوڑی۔ پھر کچھ اور لوگ آئے اور انہوں نے اسے آباد کرلیا۔ اس پر مزنیہ اور جہینہ کے لوگ حضرت عمرؓ کے زمانۂ خلافت میں دعویٰ لے کر آئے۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیااگر یہ میرا یا ابوبکرؓ کا عطیہ ہوتا تو میں اسے منسوخ کر دیتا۔ لیکن یہ عطیہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، اس لیے میں مجبور ہوں۔ البتہ قانون یہی ہے کہ مَنْ کَانَتْ لَہٗ اَرْضٌ ثُمَّ تَرَکَھَا ثَلٰثَ سِنِیْنَ فَلَمْ یُعَمِّرْھَا فَعَمَّرَھَا قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ فَھْمُ اَحَقُّ بِھَا ’’جس کے پاس ایک زمین ہو اور وہ اس کو تین برس تک بیکار ڈال رکھے اور آباد نہ کرے، پھر کچھ دوسرے لوگ آکر اسے آباد کرلیں تو وہی اس زمین کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘
۲۔ دوسرا قاعدہ یہ تھا کہ جو عطیہ صحیح طور پر استعمال میں نہ آ رہا ہو اس پر نظرثانی کی جاسکتی ہے۔ اس کی نظیر میں ابو عبید نے کتاب الاموال میں اور یحییٰ بن آدم نے الخراج میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو پوری وادیِ عقیق دے دی تھی۔ مگر وہ اس کے بڑے حصے کو آباد نہ کرسکے۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ نے اپنے زمانۂ خلافت میں ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ زمین تم کو اس لیے نہیں دی تھی کہ تم نہ خود اس کو استعمال کرو اور نہ دوسروں کو استعمال کرنے دو۔ اب تم اس میں سے بس اتنی رکھ لو جسے استعمال کرسکو۔ باقی ہمیں واپس کرو تا کہ ہم اس کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیں۔ بلال بن حارث نے اس سے انکار کیا۔ حضرت عمرؓ نے پھر اصرار کیا۔ آخر کار جتنا رقبہ ان کے زیر استعمال تھا اسے چھوڑ کر باقی پوری زمین آپ نے ان سے واپس لے لی اور دوسرے مسلمانوں میں اس کے قطعات بانٹ دیے۔
۳۔ تیسرا قاعدہ یہ تھا کہ حکومت صرف اراضی موات اور اراضی خالصہ ہی میں سے زمینیں عطا کرنے کی مجاز ہے۔ یہ حق اس کو نہیں ہے کہ ایک شخص کی زمین چھین کر دوسرے کو دے دے۔ یا اصل مالکانِ اراضی کے سر پر خواہ مخوا ہ ایک شخص کو جاگیردار یا زمین دار بنا کر مسلط کر دے اور اس کو مالکانہ حقوق عطا کر کے اصل مالکوں کی حیثیت اس کے ماتحت کاشت کاروں کی سی بنا دے۔
۴۔ چوتھا قاعدہ یہ تھا کہ حکومت زمینیں انھی لوگوں کو دے گی جنھوں نے فی الحقیقت اجتماعی مفاد کے لیے کوئی قابلِ قدر خدمت انجام دی ہو، یا جن سے اب اس نوعیت کی کوئی خدمت متعلق ہو، یا جن کو عطیہ دینا کسی نہ کسی طور پر اجتماعی مفاد کے لیے مناسب ہو۔ رہیں شاہانہ غلط بخشیاں جن سے ڈوم ڈھاڑیوں اور خوشامدی لوگوں کو نوازا گیا ہو، یا وہ عطیے جو ظالموں اور جابروں نے اجتماعی مفاد کے برعکس خدمات انجام دینے والوں کو دیے ہوں، تو وہ کسی طرح جائز عطا یا کی تعریف میں نہیں آتے۔

جاگیروں کے معاملے میں صحیح شرعی رویہ

موخر الذکر دونوں اصولوں کی بنیاد اس پور ے طرزِ عمل پر قائم ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خلفاء نے برتا تھا۔ اس کی تشریح امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب الخراج میں اس طرح فرماتے ہیں:
’’امام عادل کو حق ہے کہ جو مال کسی کی ملک نہ ہو اور جس کا کوئی وارث بھی نہ ہو اس میں سے ان لوگوں کو عطیے اور انعام دے جن کی اسلام میں خدمات ہوں… جس شخص کو وُلاۃِ مہدیین (راہِ راست پر چلنے والے فرمانروائوں) نے کوئی زمین عطا کی ہو اسے واپس لینے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ لیکن جو زمین کسی حاکم نے ایک سے چھینی اور دوسرے کو بخشی تو اس کی حیثیت اس مال کی سی ہے جو ایک سے غصب کیا گیا اور دوسرے کو عطا کر دیا گیا۔‘‘
کچھ دور آگے چل کر پھر لکھتے ہیں:
’’پس جن جن اقسام کی زمینوں کا ہم نے ذکر کیا ہے کہ امام ان کو عطا کرسکتا ہے ان میں سے جو زمین بھی عراق اور عرب اور الجبال اور دوسرے علاقوں میں ’’ولاۃ مہدیین‘‘ نے کسی کو دی ہے، بعد کے خلفاء کے لیے حلال نہیں ہے کہ اسے واپس لیں یا ان لوگوں کے قبضے سے نکالیں جن کے پاس ایسی زمینیں اس وقت موجود ہیں، خواہ وہ انہوں نے وراثت میں پائی ہوں یا وارثوں سے خریدی ہوں۔‘‘
آخر میں اس بحث کو ختم کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’پس یہ نظیریں ثابت کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی زمینیں عطا کی ہیں اور آپؐ کے بعد خلفاء بھی دیتے رہے ہیں۔ آنحضرتؐ نے جس کو بھی زمین دی یہ دیکھ کر دی کہ ایسا کرنے میں صلاح اور بہتری ہے ۔ مثلاً کسی نو مسلم کی تالیف قلب، یا زمین کی آبادی۔ اسی طرح خلفائِ راشدین نے بھی جس کو زمین دی یہ دیکھ کر دی کہ اس نے اسلام میں کوئی عمدہ خدمت انجام دی ہے، یا وہ اعدائے اسلام کے مقابلے میں کارآمد ہوسکتا ہے، یا یہ کہ ایسا کرنے میں بہتری ہے۔‘‘
(کتاب الخراج، ص ۳۲۔۳۵)
یہ تصریحات امام ابو یوسفؒ نے دراصل عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے اس سوال کے جواب میں فرمائی ہیں کہ جاگیروں کی شرعی حیثیت کیا ہے، اور ایک فرماں روا کہاں تک ایسا کرنے کا مجاز ہے؟ اس کا جو کچھ جواب امام صاحب نے دیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے عطائے زمین بجائے خود تو ایک جائز فعل ہے، مگر نہ سب زمین دینے والے یکساں ہیں اور نہ سب لینے والے۔ ایک عطیہ وہ ہے جو عادل، متدین، راست رو اور خدا ترس حکمرانوں نے دیا ہو۔ اعتدال کے ساتھ دیا ہو۔ دین اور ملت کے سچے خادموں کو، یا کم از کم مفید اور کارآمد لوگوں کو دیا ہو۔ کسی ایسی غرض کے لیے دیا ہو جس کا فائدہ بحیثیت مجموعی ملک اور ملت ہی کی طرف پلٹتا ہو۔ اور ایسے مال میں سے دیا ہو جس کے دینے کے وہ مجاز تھے۔ دوسرا عطیہ وہ ہے جو ظالموں اور جابروں اور نفس پرستوں نے دیا ہو۔ برے لوگوں کو دیا ہو۔ بری اغراض کے لیے دیا ہو۔ بے تحاشا دیا ہو۔ اور ایسے مال میں سے دیا ہو جس کے دینے کا ان کو حق نہ تھا۔ یہ دو مختلف طرح کے عطیے ہیں اور دونوں کا حکم یکساں نہیں ہے۔ پہلا عطیہ جائز ہے اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو برقرار رکھا جائے۔ دوسرا عطیہ ناجائز ہے اور انصاف چاہتا ہے کہ اسے منسوخ کیا جائے۔ بڑا ظالم ہے وہ جو دونوں طرح کے عطیوں کو ایک ہی لکڑی سے ہانک دے۔

حقوقِ ملکیت کا احترام

یہ شواہد و نظائر اس پورے دور کے عملدرآمد کا نقشہ پیش کرتے ہیں جس میں قرآن کے منشا کی تفسیر خود قرآن کے لانے والے نے اور اس کے براہ راست شاگردوں نے اپنے اقوال اور اعما ل میں کی تھی۔ اس نقشے کو دیکھنے کے بعد کسی شخص کے لیے اس طرح کا کوئی شبہ تک کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ زمین کے معاملے میں اسلام کے پیش نظریہ اصول تھا کہ اسے شخصی ملکیتوں سے نکال کر اجتماعی ملکیت بنا دیا جائے۔ اس کے بالکل برعکس اس نقشے سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ اسلام کی نگاہ میں زمین سے انتفاع کی فطری اور صحیح صورت صرف یہی ہے کہ وہ افراد کی ملکیت ہو۔ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محض اتنا ہی نہیں کیا کہ اکثر و بیشتر حالات میں سابق ملکیتوں ہی کو برقرار رکھا ، بلکہ جن صورتوں میں آپؐ نے پچھلی ملکیتیں منسوخ کیں ان میں بھی نئی انفرادی ملکیتیں پیدا کر دیں، اور آئندہ کے لیے غیر مملوکہ اراضی پر نئی ملکیتوں کے قیام کا دروازہ کھول دیا، اور خود سرکاری املاک کو بھی افراد میں تقسیم کر کے انہیں حقوق ملکیت عطا فرمائے۔ یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ سابق نظامِ ملکیت کو محض ایک ناگزیر برائی کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا تھا بلکہ ایک اصول برحق کی حیثیت سے اس کو باقی رکھا گیا اور آئندہ کے لیے اسی کو جاری کیا گیا۔
اس کا مزید ثبوت وہ احکام ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوق ملکیت کے احترام کے متعلق دیے ہیں۔ مسلم نے متعدد حوالوں سے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمرؓ کے بہنوئی سعید بن زید رضی اللہ عنہ پر ایک عورت نے مروان بن حکم کے زمانے میں دعویٰ دائر کیا کہ انہوں نے میری زمین کا ایک حصہ ہضم کرلیا ہے۔ اس کے جواب میں حضرت سعیدؓ نے مروان کی عدالت میں جو بیان دیا وہ یہ تھا کہ میں اس کی زمین کیسے چھین سکتا تھا جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے ہیں کہ مَنْ اَخَذَ شِبْرًا مِّنَ الْاَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَہٗ اِلٰی سَبْعِ اَرْضِیْنَ ’’جس شخص نے بالشت بھر زمین بھی ازراہِ ظلم لی اس کی گردن میں سات تہوں تک اسی زمین کو طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا۔‘‘ اسی مضمون کی احادیث مسلم نے حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت عائشہؓ سے بھی نقل کی ہیں۔
(مسلم، کتاب المساقاۃ والمزارعہ۔ باب تحریم الظلم وغضب الارض)
ابو دائود، نسائی اور ترمذی نے متعدد حوالوں سے یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَیْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ ’’دوسرے کی زمین میں بلااستحقاق آبادکاری کرنے والے کے لیے کوئی حق نہیں ہے۔‘‘
رافع بن خدیجؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: مَنْ زَرَعَ فِیْ اَرْضِ قَوْمٍ بِغَیْرِ اِذْنِھِمْ فَلَیْسَ لَہٗ مِنَ الزَّرْعِ شَیْءٌ وَلَہٗ نَفْقَتُہٗ’’جس نے دوسرے لوگوں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر کاشت کی وہ اس کھیتی پر تو کوئی حق نہیں رکھتا، البتہ اس کا خرچ اسے دلوا دیا جائے گا۔‘‘ (ابودائود، ابن ماجہ، ترمذی)
عروہ بن زبیر کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مقدمہ آیا جس میں ایک شخص نے ایک انصاری کی زمین میں کھجور کے درخت لگا دیے تھے۔ اس پر آنحضرتؐ نے فیصلہ دیا کہ وہ درخت اکھاڑ کر پھینک دیے جائیں اور زمین اصل مالک کے حوالے کی جائے۔ (ابو دائود)
یہ احکام کس چیز کی شہادت دیتے ہیں؟ کیا اس بات کی کہ زمین کی شخصی ملکیت کوئی برائی تھی جسے مٹانا مطلوب تھا مگر ناگزیر سمجھ کر مجبوراً اس کو برداشت کیا گیا ہے؟ یا اس بات کی کہ یہ سراسر ایک جائز و معقول حق تھا جس کا احترام افراد اور حکومت، دونوں پر فرض کر دیا گیا؟

(۳) اسلامی نظام اور انفرادی ملکیت

اب ذرا اس معاملے کو ایک دوسرے رخ سے بھی دیکھیے۔ اسلام کے احکام ایک دوسرے کی ضد اور ایک دوسرے سے متناقض و متصادم نہیں ہیں۔ اس کی ہدایات اور اس کے قوانین میں سے ہر چیز اس کے مجموعی نظام میں اس طرح ٹھیک بیٹھتی ہے کہ دوسرے تمام احکام و قوانین کے ساتھ اس کا جوڑ مل جاتا ہے۔ یہ وہ خوبی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس دین کے من جانب اللہ ہونے کا ایک نمایاں ثبوت قرار دیا ہے۔ لیکن اگر ہم یہ مان لیں کہ شریعت میں مزارعت( مزارعت، یعنی مالک زمین ایک شخص ہو اور اس میں کاشت دوسرا کرے، اور پیداوار میں فریقین حصے دار ہوں۔ اردو میں اسے بٹائی کہتے ہیں۔
) ناجائز ہے،اور یہ کہ شارع زمین کی ملکیت کو خود کاشتی کی حد تک محدود رکھنا چاہتا ہے، اور یہ کہ شارع آدمی کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ خود کاشتی کی حد سے زائد جتنی زمین اس کے پاس موجود ہو اسے یا تو دوسروں کو مفت دے دے یا بیکار ڈال رکھے، تو ذرا سا غور کرنے پر ہمیں علانیہ یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ احکام اسلام کے دوسرے اصولوں اور قوانین سے مناسبت نہیں رکھتے اور ان کو اسلامی نظام میں ٹھیک بٹھانے کے لیے دور دور تک اس نظام کی بہت سی چیزوں میں ترمیم ناگزیر ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر تناقُض کی چند نہایت صریح صورتیں ملاحظہ ہوں:
۱- اسلامی نظام میں ملکیت کے حقوق صرف ہٹّے کٹّے مردوں تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ عورتوں، بچوں، بیماروں اور بوڑھوں کو بھی یہ حقوق پہنچتے ہیں۔ اگر مزارعت ممنوع ہو تو ان سب کے لیے زرعی ملکیت بالکل بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔
۲- اسلامی قانونِ وراثت کی رو سے جس طرح ایک آدمی کی میراث اس کے مرنے پر بہت سے آدمیوں کے درمیان بٹ جاتی ہے، اسی طرح بسا اوقات بہت سے مرنے والوں کی میراث ایک آدمی کے پاس بھی جمع ہوسکتی ہے۔ اب یہ کتنی عجیب بات ہے کہ اسلام کا قانونِ وراثت تو بیسیوں اور سینکڑوں ایکڑ تک زمین ایک شخص کے پاس سمیٹ لائے، مگر اس کا قانونِ زراعت اس کے لیے ایک محدود رقبے کے سوا باقی تمام ملکیت سے انتفاع کو حرام کر دے۔
۳- اسلامی قانونِ بیع و شراء نے کسی نوعیت کی جائز اشیاء کے معاملے میں بھی انسان پر یہ پابندی عائد نہیں کی ہے کہ آدمی زیادہ سے زیادہ ایک مخصوص حد تک ان کو خرید سکتا ہے اور اس حد سے زیادہ کی خریداری کا مجاز نہ ہو۔ خرید و فروخت کا یہ غیر محدود حق جس طرح تمام جائز چیزوں کے معاملہ میں آدمی کو حاصل ہے اسی طرح زمین کے معاملے میں بھی حاصل ہے۔ لیکن یہ بات پھر نہایت عجیب معلوم ہوتی ہے کہ دیوانی قانون کی رُو سے تو ایک شخص جتنی چاہ زمین خرید سکے، مگر قانون زراعت کی رُو سے وہ ایک حد خاص سے زائد ملکیت کا نفع اٹھانے کا حق دار نہ ہو۔
۴- اسلام نے کسی نوع کی ملکیت پر بھی مقدار اور کمیت کے لحاظ سے کوئی حد نہیں لگائی ہے۔ جائز ذرائع سے جائز چیزوں کی ملکیت ، جبکہ اس سے تعلق رکھنے والے شرعی حقوق و واجبات ادا کئے جاتے رہیں، بلاحد و نہایت رکھی جاسکتی ہے۔ روپیہ، پیسہ، جانور، استعمالی اشیاء، مکانات، سواری، غرض کسی چیز کے معاملے میں بھی قانوناً ملکیت کی مقدار پر کوئی حد نہیں ہے۔ پھر آخر تنہا زرعی جائیداد میں وہ کون سی خصوصیت ہے جس کی بنا پر صرف اس کے معاملہ میں شریعت کا میلان یہ ہو کہ اس کے حقوق ملکیت کو مقدار کے لحاظ سے محدود کر دیا جائے، یا انتفاع کے مواقع سلب کر کے ایک حد خاص سے زائد ملکیت کو آدمی کے لیے عملاً بیکار کر دیا جائے؟
۵- اسلام نے احسان اور فیاضی کی تعلیم تو زندگی کے ہر معاملے میں دی ہے، لیکن واجبی حقوق وصول کرلینے کے بعد پھر کسی معاملے میں بھی ہم اس کا یہ طریقہ نہیں دیکھتے کہ وہ فیاضی کو آدمی پر فرض قرار دیتا ہو۔ مثلاً جو شخص زکوٰۃ ادا کرچکا ہے، اسلام اس کو یہ ترغیب تو ضرور دیتا ہے کہ وہ اپنا ضرورت سے زائد روپیہ حاجت مندلوگوں کو بخش دے، مگر وہ اس بخشش و سخاوت کو فرض نہیں کرتا اور نہ یہ کہتا ہے کہ حاجتمند کو قرض کی شکل میں روپیہ دینا، یا مضاربت(۱) کے اصول پر روپیہ دے کر اس کے کاروبار میں شریک ہو جانا حرام ہے، مدد صرف عطا اور بخشش ہی کی شکل میں ہونی چاہیے۔ اسی طرح مثلاً جس شخص کے پاس ضرورت سے زائد مکانات ہوں، یا ایک بڑا مکان اس کی ذاتی ضرورت سے زیادہ کی گنجائش رکھتا ہو، اسلام بہت پسند کرتا ہے کہ آدمی اپنے ایسے مکانات اور گنجائشوں سے ان لوگوں کو فائدہ اٹھانے کا مفت موقع دے دے جو گھر نہ رکھتے ہوں۔لیکن اس نے یہ نہیں کہا کہ یہ موقع لازماً مفت ہی دیا جانا چاہیے، کرایہ پر مکان دینا حرام ہے ۔ ایسا ہی معاملہ ضرورت سے زائد کپڑوں اور برتنوں اور سواریوں وغیرہ کا بھی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو فیاضانہ طریقے سے مفت دے دینا پسند تو ضرور کیا گیا ہے مگر فرض نہیں کیا گیا اور فروخت کرنے یا کرایہ پر دینے کو حرام نہیں ٹھیرایا گیا ۔ اب آخر زرعی زمین میں وہ کیا خصوصیت ہے جس کی بنا پر صرف اسی کے معاملے میں اسلام اپنے اس عام اصول کو بدل دے اور آدمی سے اس کی پیداوار پر زکوٰۃ وصول کر لینے کے بعد اسے اس بات پر بھی مجبور کرے کہ وہ اپنی ضرورت سے زائد زمین لازماً دوسروں کو مفت دے دے اور شرکت کے اصول پر ان سے معاملہ ہر گز نہ کرے؟
۶- اسلامی قانون نے تجارت، صنعت اور معاشی کاروبار کے تمام شعبوں میں آدمی کو اس بات کی کھلی اجازت دی ہے کہ وہ شرکت یا مضاربت کے اصول پر دوسروں کے ساتھ معاملات کرے۔ ایک شخص دوسرے کو اپنا روپیہ دے کر اس سے مضاربت کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ سرمایہ اور محنت میں شریک ہو کر مشترک کاروبار کرسکتا ہے۔ اس کو اپنا سرمایہ کسی عمارت کی شکل میں، کسی مشین یا انجن کی شکل میں، کسی موٹر یا کشتی یا جہاز کی شکل میں دے سکتا ہے اور یہ کہہ سکتا ہے کہ تو اس پر کام کر، اس کی آمدنی میں میرا اتنا حصہ ہے۔ لیکن آخر اس بات کے لیے کون سے معقول وجوہ ہیں کہ ایک شخص اپنا سرمایہ زمین کی شکل میں دوسرے کو دے کر یہ نہ کہہ سکے کہ تو اس میں کاشت کر، پیداوار میں تہائی یا چوتھائی یا نصف کا میں شریک ہوں؟

(۴) زرعی اراضی کی تحدید کا مسئلہ

سوال: ایک مقامی عالم نے جماعت کا منشور پڑھ کر دو سوالات کیے ہیں۔ ان کا جواب عنایت فرمایا جائے:
۱۔ زرعی اصلاحات کے سلسلے میں جاگیروں کی واپسی میں واجبی حدود سے زائد واپس لینے کی دلیل بیان فرمائیں، جب کہ حضرت زبیرؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے گھوڑے اور چابک کی جولانگاہ تک کی زمین دی تھی۔
۲۔ بے دخلی مزارعین کے سلسلے میں یہ تو واضح ہے کہ فصل کی برداشت سے پہلے بے دخل نہیں ہوسکتی۔ لیکن اس کے علاوہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ بے دخلی روکی جائے۔ اگر کوئی اور صورت ہو تو مع دلیل بیان کریں۔

جواب: پہلے سوال کے سلسلے میں یہ بات اصولی طور پر جان لینے کی ہے کہ حکومت کی عطا کردہ جاگیروں پر جاگیرداروں کے حقوق ملکیت اس طرح قائم نہ ہو جاتے جس طرح کسی شخص کو اپنی زر خرید املاک یا موروثی ملکیتوں پر حاصل ہوتے ہیں۔ جاگیروں کے معاملے میں حکومت کو ہر وقت نظرثانی کرنے کا حق حاصل ہے اور کسی عطیہ کو نامناسب پا کر حکومت منسوخ بھی کرسکتی ہے اور اس میں ترمیم بھی کر سکتی ہے۔
اس کی کئی نظیریں احادیث و آثار میں موجود ہیں۔ ابیض بن حَمّال مازنی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مارب میں ایک ایسی زمین دی جس سے نمک نکلتا تھا۔ بعد میں جب لوگوں نے حضورﷺ کو توجہ دلائی کہ وہ تو نمک کی بڑی کان ہے تو آپؐ نے اسے اجتماعی مفاد کے خلاف پا کر اپنا عطیہ منسوخ فرما دیا۔ اس سے صرف یہی بات معلوم نہیں ہوتی کہ سرکاری عطایا پر نظرثانی کی جاسکتی ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کو حدِّ اعتدال سے زیادہ دے دینا اجتماعی مفاد کے خلاف ہے اور اگر ایسا عطیہ دیا جاچکا ہو تو اس پرنظرثانی کرنی چاہیے۔ یہی بات اس روایت سے معلوم ہوتی ہے جس میں ذکر آتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت طلحہؓ کو ایک زمین کے عطیہ کا فرمان لکھ کر دیا اور فرمایا کہ اس پر فلاں فلاں اصحاب کی شہادت ثبت کرالو جن سے ایک حضرت عمرؓ بھی تھے۔ جب حضرت طلحہؓ حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے تو آپ نے اس پر اپنی مہر لگانے سے انکار کر دیا اور کہا اَھٰذَا کُلُّہٗ لَکَ دُوْنَ النَّاسِ؟ کیا اتنی ساری زمین دوسروں کو چھوڑ کر تنہا تم اکیلے کو دے دی جائے؟‘‘
(ملاحظہ ہو کتاب الاموال لابی عبید، ص ۷۶۔۲۷۵)
رہا حضرت زبیرؓ کا معاملہ، تو جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ زمین ان کو دی ہے اس وقت بے حساب زمینیں غیر آباد پڑی تھیں اور حضورؐ کے سامنے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ کسی طرح ان کو آباد کیا جائے۔ اس لیے آپؐ نے اس زمانے میں بکثرت لوگوں کو افتادہ اراضی کے بڑے بڑے رقبے عطا فرمائے تھے۔
بے دخلی کے متعلق حکومت ایسا قانون بنانے کی مجاز ہے کہ کوئی مالک کسی مزارع کو معقول وجوہ کے بغیر بے دخل نہ کرسکے۔ اس کے ناجائز ہونے کی دلیل کیا ہے؟ اگر کوئی نص اس میں مانع نہیں ہے تو پھر یہ اجازت امام کے ان اختیارات میں آپ سے آپ شامل ہے جو اسے لوگوں کے درمیان عدل قائم کرنے اور اجتماعی فتنوں کی روک تھام کرنے کے لیے مصالحِ عامہ کی خاطر دیے گئے ہیں۔ اس وقت جبکہ ہماری آبادی کی بہت بڑی اکثریت کا مدارِ زندگی کلیتاً زمین پر ہے، مالکوں کو یہ کھلا ہوا اختیار دے دینا کسی طرح بھی مصلحتِ عامہ کے مطابق نہیں ہے کہ وہ جب جس کاشت کار کو چاہیں بغیر کسی معقول وجہ کے اپنی زمین سے بے دخل کر دیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کہیں کوئی کاشت کار اطمینان سے نہ بیٹھ سکے اور لاکھوں زراعت پیشہ لوگوں کی زندگی ہر وقت معلق رہے۔ (ترجمان القرآن، جون ۵۱ء)

(۵) بٹائی ( ایک سوال کے جوا ب میں ترجمان القرآن، اکتوبر ۱۹۵۰ء۔) کا طریقہ اور اسلام کے اصول انصاف

– بٹائی کا یہ طریقہ اصولاً صحیح ہے کہ پیداوار جو کچھ بھی ہو اس میں سے مالک زمین اور کاشت کار متناسب طریق پر حصہ تقسیم کرلیں، مثلاً یہی کہ۵/۲ مالک کا اور ۵/۳ کاشت کار کا۔ مگر اس معاملے میں انصاف کا تقاضا پورا کرنے کے لیے یہ لحاظ رکھنا چاہیے کہ ہر کاشت کار کو کم از کم آپ اتنی زمین کاشت کے لیے دیں جس کی پیداوار کا حصہ اس کی انسانی ضروریات کے لیے کافی ہو۔ نیز تناسب مقرر کرنے میں رواج سے قطع نظر کر کے انصاف کے ساتھ یہ دیکھیں کہ حاصل شدہ پیداوار کی تیاری میں آپ کا اور آپ کے کاشت کار کا واقعی کتنا حصہ ہے۔ اس معاملے میں کوئی عالم گیر ضابطہ تو بنایا نہیں جاسکتا، اس لیے کہ ہر علاقے کے زراعتی حالات مختلف ہوتے ہیں۔ البتہ بادی النظر میں یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اگر آپ کی صرف زمین ہو، اور بیج، ہل اور محنت سب کاشتکار کی ہو تو اس صورت میں 2/5 اور 3/5 کی نسبت مبنی برانصاف نہیں ہے۔ بہرحال یہ ضروری ہے کہ مالکانِ زمین اپنے معاملات کو صرف شرعی ضوابط کے مطابق درست کرنے ہی پر اکتفا نہ کریں بلکہ کھلے دل سے انصاف کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔
۲- آپ کو اس بات کی نگرانی کرنے کا حق ضرور پہنچتا ہے کہ کاشت کاربٹائی سے پہلے مشترک غلے میں بے جا تصرف نہ کریں اور مزارع کی حیثیت سے اپنے فرائض بھی ٹھیک ٹھیک ادا کرتے رہیں۔ لیکن اس نگرانی کو اس حد تک نہ بڑھنا چاہیے کہ مزارع کی حیثیت بالکل ملازم یا مزدور کی سی ہو کر رہ جائے اور آپ کا نگران عملہ بالکل اپنے حکم کے تحت ان سے کام لینے لگے۔ اصولاً ایک مزارع آپ کا ملازم یا مزدور نہیں ہے بلکہ ایک شریک کاروبار کی حیثیت رکھتا ہے اور یہی سمجھ کر اس سے معاملہ کرنا چاہیے۔ مجھے مزارعین کی جو شکایات معلوم ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ زمیندار اور ان کے ملازمین ہر وقت ان کے سر پر سوار رہتے ہیں اور ان کے ہر کام میں مداخلت کرتے رہتے ہیں۔ میرا مدعا اسی طریقے کی اصلاح ہے۔

(۶)ملکیت پر تصرف کے حدود

وَلَا تُؤْتُوا السُّفَھَاۗءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِىْ جَعَلَ اللہُ لَكُمْ قِيٰـمًا وَّارْزُقُوْھُمْ فِيْھَا وَاكْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاo وَابْتَلُوا الْيَتٰمٰى حَتّٰٓي اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ۝۰ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْٓا اِلَيْھِمْ اَمْوَالَھُمْ۝۰ۚ وَلَا تَاْكُلُوْھَآ اِسْرَافًا وَّبِدَارًا اَنْ يَّكْبَرُوْا۝۰ۭ وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ۝۰ۚ وَمَنْ كَانَ فَقِيْرًا فَلْيَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْف۝۰ۭ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَيْھِمْ اَمْوَالَھُمْ فَاَشْہِدُوْا عَلَيْھِمْ۝۰ۭ وَكَفٰى بِاللہِ حَسِـيْبًاo النساء 5,6:4
اور اپنے وہ مال جنھیں اللہ نے تمہارے لیے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے نادان لوگوں کے حوالے نہ کرو البتہ انہیں کھانے اور پہننے کے لیے دو اور انہیں نیک ہدایت کرو۔ اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں۔ پھر اگر تم ان کے اندر اہلیت پائو تو ان کا مال ان کے حوالے کر دو۔ ایسا کبھی نہ کرنا کہ حد انصاف سے تجاوز کر کے اس خوف سے ان کے مال جلدی جلدی کھا جائو کہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے۔ یتیم کا جو سرپرست مال دار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے، اور جو غریب ہو وہ معروف طریقے سے کھائے۔ پھر جب ان کے مال ان کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ بنالو اور حساب کے لیے اللہ کافی ہے۔
یہ آیت وسیع معنی کی حامل ہیں۔ان میں امت کو یہ جامع ہدایت فرمائی گئی ہے کہ وہ مال جو ذریعۂ قیامِ زندگی ہے، بہرحال ایسے نادان لوگوں کے اختیار و تصرف میں نہ رہنا چاہیے جو اسے غلط طریقے سے استعمال کر کے نظامِ تمدن و معیشت اور بالآخر نظامِ اخلاق کو خراب کر دیں۔ حقوقِ ملکیت جو کسی شخص کو اپنی املاک پر حاصل ہیں اس قدر غیر محدود نہیں ہیں کہ وہ اگر ان حقوق کو صحیح طور پر استعمال کرنے کا اہل نہ ہو اور ان کے استعمال سے اجتماعی فساد برپا کر دے تب بھی اس کے وہ حقوق سلب نہ کیے جاسکیں۔ جہاں تک آدمی کی ضروریات زندگی کا تعلق ہے وہ تو ضرور پوری ہونی چاہئیں، لیکن جہاں تک حقوقِ مالکانہ کے آزادانہ استعمال کا تعلق ہے اس پر پابندی عائد ہونی چاہیے کہ یہ استعمال اخلاق و تمدن اور اجتماعی معیشت کے لیے صریحاً مضر نہ ہو۔ اس ہدایت کے مطابق چھوٹے پیمانہ پر ہر صاحبِ مال کو اس امر کا لحاظ رکھنا چاہیے کہ وہ اپنا مال جس کے حوالے کر رہا ہے وہ اس کے استعمال کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں ۔ اور بڑے پیمانے پر حکومت اسلامی کو اس امر کا انتظام کرنا چاہیے کہ جو لوگ اپنے اموال پر خود مالکانہ تصرف کے اہل نہ ہوں یا جو لوگ اپنی دولت کو بُرے طریقوں سے استعمال کر رہے ہوں، ان کی املاک کو وہ اپنے انتظام میں لے لے اور ان کی ضروریات زندگی کا بندوبست کر دے۔
ان آیات میں یہ تلقین بھی کی گئی ہے کہ جن نابالغوں کا مال ولی کی نگرانی میں دیا گیا ہو ان کے بارے میں اس امر پر نگاہ رکھی جائے کہ جب وہ سن بلوغ کے قریب پہنچ رہے ہوں تو ان کا عقلی نشوونما کیسا ہے اور ان میں اپنے معاملات کو خود اپنی ذمہ داری پر چلانے کی صلاحیت کس حد تک پیدا ہو رہی ہے۔ مال ان کے حوالے کرنے کے لیے دو شرطیں عائد کی گئی ہیں۔ ایک بلوغ اور دوسرے رُشد، یعنی مال کے صحیح استعمال کی صلاحیت۔ پہلی شرط کے متعلق تو فقہاء امت میں اتفاق ہے۔ دوسری شرط کے بارے میں امام ابوحنیفہ ؒ کی یہ رائے ہے اگر سن بلوغ کو پہنچنے پر یتیم میں رُشد نہ پایا جائے تو ولی کو زیادہ سے زیادہ سات سال اور انتظار کرنا چاہیے۔ پھر خواہ رُشد پایا جائے یا نہ پایا جائے اس کا مال اس کے حوالے کر دینا چاہیے۔ اور امام ابو یوسف، امام محمد اور امام شافعی رحمہم اللہ کی رائے یہ ہے کہ مال حوالے کیے جانے کے لیے بہرحال رشد کا پایا جانا ناگزیر ہے۔ غالباً مؤخر الذکر حضرات کی رائے کے مطابق یہ بات زیادہ قرین صواب ہوگی کہ اس معاملے میں قاضی شرع سے رجوع کیا جائے اور اگر قاضی پر یہ بات ثابت ہو جائے کہ اس میں رُشد نہیں پایا جاتا تو وہ اس کے معاملات کی نگرانی کے لیے خود کوئی مناسب انتظام کر دے۔( تفہیم القرآن، جلد اول، صفحات ۳۲۲۔ ۳۲۳۔)

مسئلۂ سود

[اس موضوع پر مولانا مودودی صاحب نے ایک مبسوط کتاب تحریر کی ہے جس میں عقلی ، تاریخی اور شرعی نقطۂ نظر سے مسئلۂ سود کے تمام ضروری پہلوئوں سے بحث کی ہے۔ جدید بنکاری کی تاریخ کا جائزہ لے کر یہ بتایا ہے کہ سود معاشی انتفاع و استحصال کا بدترین آلہ ہے۔ اس کتاب میں تجارتی سود اور غیر تجارتی سود کی تفریق کے باطل نظریے کی بھی مکمل تردید کی گئی ہے اور بلاسودی معیشت کا ایک ابتدائی خاکہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ معاشیات کے طالب علموں کے لیے اس کتاب کے تمام مباحث کا مطالعہ از بس ضروری ہے۔ ہم اس باب میں اصل کتاب کے چند مباحث اور تفہیم القرآن اور رسائل و مسائل سے ضروری مباحث پیش کر رہے ہیں لیکن مسئلے کی پوری تفہیم کے لیے اصل کتاب سے رجوع ضروری ہے۔ مرتب]

(۱) سود کے متعلق اسلامی احکام( ماخوذ از ’’سود‘‘۔)

سب سے پہلے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ قرآن اور سنت کی رُو سے ’’سود‘‘ کیا شے ہے، اس کے حدود کیا ہیں، اسلام میں اس کی حرمت کے جو احکام وارد ہوئے ہیں وہ کن کن معاملات سے متعلق ہیں، اور اسلام اس کو مٹا کر انسان کے معاشی معاملات کو کس قاعدہ پر چلانا چاہتا ہے۔

ربوٰا کا مفہوم

قرآن مجید میں سود کے لیے ’’ربوٰا‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مادہ ’ر ب و‘ ہے جس کے معنی میں زیادَت، نمُو، بڑھوتری، اور چڑھنے کا اعتبار ہے۔ رَبَا بڑھا اور زیادہ ہوا۔ رَبَا فُلَانُ الرَّابِیَۃَ وہ ٹیلے پر چڑھ گیا۔ رَبَا فُلَانُ السَّوِیْقَ: اس نے ستو پر پانی ڈالا اور ستو پھول گیا۔ رَبَافِیْ حِجْرِہٖ: اس نے فلاں کی آغوش میں نشوونما پایا۔ اَرْبَی الشَّیْیَٔ چیز کو بڑھایا۔ ربوۃ بلندی۔ رابیہ وہ زمین جو عام سطحِ ارض سے بلند ہو۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں اس مادے کے مشتقات آئے ہیں، سب جگہ زیادت اور علو اور نمو کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ مثلاً:
فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْہَا الْمَاۗءَ اہْتَزَّتْ وَرَبَتْ الحج 5:22
جب ہم نے اس پر پانی برسایا تو وہ لہلہا اٹھی اور برگ و بار لانے لگی۔
يَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ۝۰ۭ البقرہ 276:2
اللہ سود کا مٹھ مار دیتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔
فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا۝۰ۭ الرعد 17:13
جھاگ جو اوپر اٹھ آیا تھا اس کو سیلاب بہا لے گیا۔
فَاَخَذَہُمْ اَخْذَۃً رَّابِيَۃًo الحاقہ 10:69
اس نے ان کو پھر زیادہ سختی کے ساتھ پکڑا۔
اَنْ تَكُوْنَ اُمَّۃٌ ہِىَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّۃٍ۝۰ۭ النحل92:16
تا کہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ جائے۔
اٰوَيْنٰہُمَآ اِلٰى رَبْوَۃٍ المومنون50:23
ہم نے مریمؑ اور مسیحؑ کو ایک اونچی جگہ پر پناہ دی۔
اسی مادے سے ’’ربٰوا‘‘ ہے اور اس سے مراد مال کی زیادتی، اور اس کا اصل سے بڑھ جانا ہے۔ چنانچہ اس معنی کی تصریح بھی خود قرآن میں کر دی گئی ہے:
وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰٓوا …….. وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ۝۰ۚ
البقرہ 278,279:2
اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو… اور اگر تم توبہ کرلو تو تمہیں اپنے راس المال (یعنی اصل رقم) لینے کا حق ہے۔
وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللہِ۝۰ۚ الروم 39:30
اور جو سود تم نے دیا ہے تا کہ لوگوں کے اموال بڑھیں تو اللہ کے نزدیک اس سے مال نہیں بڑھتا۔
ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اصل رقم پر جو زیادتی بھی ہوگی وہ ’’ربٰو‘‘ کہلائے گی۔لیکن قرآن مجید نے مطلق ہر زیادتی کو حرام نہیں کیا ہے۔ زیادتی تو تجارت میں بھی ہوتی ہے۔ قرآن جس زیادتی کو حرام قرار دیتا ہے وہ ایک خاص قسم کی زیادتی ہے، اسی لیے وہ اس کو ’’الرِّبٰوا‘‘ کے نام سے یاد کرتا ہے۔ اہلِ عرب کی زبان میں اسلام سے پہلے بھی معاملے کی اس خاص نوعیت کو اسی اصطلاحی نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ مگر وہ ’’الربٰوا‘‘ کو بیع کی طرح جائز سمجھتے تھے جس طرح موجودہ جاہلیت میں سمجھا جاتا ہے۔ اسلام نے آکر بتایا کہ راس المال میں جو زیادتی بیع سے ہوتی ہے وہ اس زیادتی سے مختلف ہے جو ’’الرِّبٰوا‘‘ سے ہوا کرتی ہے ۔ پہلی قسم کی زیادتی حلال ہے اور دوسری قسم کی زیادتی حرام ہے۔
ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْٓا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا۝۰ۘ وَاَحَلَّ اللہُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا۝۰ۭ
البقرہ275:2
سود خواروں کا یہ حشر اس لیے ہوگا کہ انہوں نے کہا کہ بیع بھی ’’الرِّبٰوا‘‘ کے مانند ہے، حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال اور الربوٰا کو حرام کیا۔
چونکہ ’’الرِّبٰو‘‘ ایک خاص قسم کی زیادتی کا نام تھا، اور وہ معلوم و مشہور تھی، اس لیے قرآن مجید میں اس کی کوئی تشریح نہیں کی گئی ، اور صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا گیا کہ اللہ نے اس کو حرام کیا ہے، اسے چھوڑ دو۔

جاہلیت کا ربٰوا

زمانہ جاہلیت میں ’’الرِّبٰوا‘‘ کا اطلاق جس طرزِ معاملہ پر ہوتا تھا، اس کی متعدد صورتیں روایات میں آئی ہیں۔
قتادہؒ کہتے ہیں جاہلیت کا ربوٰا یہ تھا کہ ایک شخص، ایک شخص کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کرتا اور ادائے قیمت کے لیے ایک وقت مقررہ تک مہلت دیتا۔ اگر وہ مدت گزر جاتی اور قیمت ادا نہ ہوتی تو پھر وہ مزید مہلت دیتا اور قیمت میں اضافہ کر دیتا۔
مجاہدؒ کہتے ہیں جاہلیت کا ربوٰ یہ تھا کہ ایک شخص کسی سے قرض لیتا اور کہتا کہ اگر تو مجھے اتنی مہلت دے تو میں اتنا زیادہ دوں گا۔ (ابن جریر، جلد سوم ، ص ۶۲)
ابوبکر جصاص کی تحقیق یہ ہے کہ اہل جاہلیت ایک دوسرے سے قرض لیتے تو باہم یہ طے ہو جاتا کہ اتنی مدت میں اتنی رقم راس المال سے زیادہ ادا کی جائے گی۔ (احکام القرآن، جلد اول)۔
امام رازیؒ کی تحقیق میں اہل جاہلیت کا یہ دستور تھا کہ وہ ایک شخص کو ایک معین مدت کے لیے روپیہ دیتے اور اس سے ماہ بماہ ایک مقررہ رقم سود کے طور پر وصول کرتے رہتے۔ جب وہ مدت ختم ہو جاتی تو مدیون سے رأس المال کا مطالبہ کیا جاتا۔ اگر وہ ایسا نہ کرسکتا تو پھر ایک مزید مدت کے لیے مہلت دی جاتی اور سود میں اضافہ کر دیا جاتا۔
(تفسیر کبیر، جلد دوم، ص ۳۵۱)
کاروبار کی یہ صورتیں عرب میں رائج تھیں، انھی کو اہلِ عرب اپنی زبان میں ’’الربوٰا‘‘ کہتے تھے، اور یہی وہ چیز تھی جس کی تحریم کا حکم قرآن مجید میں نازل ہوا۔

بیع اور ربوٰا میں اصولی فرق

اب اس امر پر غور کیجئے کہ بیع اور ربوٰا میں اصولی فرق کیا ہے، ربوٰا کی خصوصیات کیا ہیں جن کی وجہ سے اس کی نوعیت بیع سے مختلف ہو جاتی ہے اور اسلام نے کس بنا پر اس کو منع کیا ہے۔
بیع کا اطلاق جس معاملے پر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ بائع ایک شے کو فروخت کے لیے پیش کرتا ہے، مشتری اور بائع کے درمیان اس شے کی ایک قیمت قرار پاتی ہے، اور اس قیمت کے معاوضے میں مشتری اس شے کو لے لیتا ہے۔ یہ معاملہ دو حال سے خالی نہیں ہوتا۔ یا تو بائع نے وہ چیز خود محنت کر کے اور اپنا مال اس پر صرف کر کے پیدا کی ہے، یا وہ اس کو کسی دوسرے سے خرید کر لایا ہے۔ دونوں صورتوں میں وہ اپنے رأس المال پر، جو اس نے خریدنے یا مہیا کرنے میں صرف کیا تھا، اپنے حق المحنت کا اضافہ کرتا ہے اور یہی اس کا منافع ہے۔
اس کے مقابلے میں ربوٰا یہ ہے کہ ایک شخص اپنا رأس المال ایک دوسرے شخص کو قرض دیتا ہے اور یہ شرط کرلیتا ہے کہ میں اتنی مدت میں اتنی رقم تجھ سے رأس المال پر زائد لوں گا۔ اس معاملہ میں راس المال کے مقابل راس المال ہے، اور مہلت کے مقابلے میں وہ زائد رقم ہے جس کی تعیین پہلے بطور ایک شرط کے کرلی جاتی ہے۔ اسی زائد رقم کا نام سود یا ربوٰا ہے جو کسی خاص مال یا شے کا معاوضہ نہیں بلکہ محض مہلت کا معاوضہ ہوتا ہے، اگر بیع میں بھی قیمت قرار پا چکی ہو، اور پھر مشتری سے یہ شرط کی جائے کہ ادائے قیمت میں مثلاً ایک مہینے کی دیر ہونے پر قیمت میں اتنا اضافہ کر دیا جائے گا اور مزید دیر لگنے پر قیمت اتنی اور بڑھ جائے گی تو یہ زیادت، سود کی تعریف میں آ جائے گی۔
پس سود کی تعریف یہ قرار پائی کہ قرض میں دیے ہوئے رأس المال پر جو زائد رقم مدت کے مقابلے میں شرط اور تعیین کے ساتھ لی جائے وہ ’’سود‘‘ ہے۔ رأس المال پر اضافہ، اضافہ کی تعیین مدت کے لحاظ سے کیا جانا، اور معاملے میں اس کا مشروط ہونا، یہ تین اجزائے ترکیبی ہیں جن سے سود بنتا ہے، اور ہر وہ معاملۂ قرض جس میں یہ تینوں اجزاء پائے جاتے ہوں، ایک سودی معاملہ ہے، قطع نظر اس سے کہ قرض کسی بار آور کام میں لگانے کے لیے لیاگیا ہو یا کوئی شخص ضرورت پوری کرنے کے لیے، اور اس قرض کا لینے والا آدمی غریب ہو یا امیر۔
بیع اور سود میں اصولی فرق یہ ہے کہ:
(۱) بیع میں مشتری اور بائع کے درمیان منافع کا مبادلہ برابری کے ساتھ ہوتا ہے، کیوں کہ مشتری اس چیز سے فائدہ اٹھاتا ہے جو اس نے بائع سے خریدی ہے، اور بائع اپنی اس محنت، ذہانت اور وقت کی اجرت لیتا ہے جس کو اس نے مشتری کے لیے وہ چیز مہیا کرنے میں صرف کیا ہے… بخلاف اس کے سودی لین دین میں منافع کا مبادلہ برابری کے ساتھ نہیں ہوتا۔ سود لینے والا تو مال کی ایک مقرر مقدار لے لیتا ہے جو اس کے لیے بالیقین نفع بخش ہے، لیکن اس کے مقابلے میں سود دینے والے کو صرف مہلت ملتی ہے جس کا نفع بخش ہونا یقینی نہیں۔ اگر قرض دار نے اپنی شخصی ضرورتوں پر خرچ کرنے کی غرض سے قرض لیا ہے تب تو مہلت اس کے لیے نافع نہیں بلکہ یقیناً نقصان دہ ہے۔ اور اگر اس نے یہ قرض تجارت یا زراعت یا صنعت و حرفت میں لگانے کی غرض سے لیا ہے تو مہلت میں جس طرح اس کے لیے نفع کا امکان ہے اسی طرح نقصان کا بھی امکان ہے۔ لیکن قرض خواہ بہرحال اس سے نفع کی ایک مقرر مقدار لے لیتا ہے، خواہ اس کو اپنے کاروبار میں فائدہ ہو یا نقصان۔ پس سود کا معاملہ یا تو ایک فریق کے فائدے اور دوسرے کے نقصان پر ہوتا ہے، یا ایک کے یقینی اور متعین فائدے اور دوسرے کے غیر یقینی اور غیر متعین فائدے پر۔
(۲) بیع و شراء میں بائع مشتری سے خواہ کتنا ہی زائد منافع لے، بہرحال وہ صرف ایک ہی مرتبہ لیتا ہے۔ لیکن سود کے معاملے میں رأس المال دینے والا مسلسل اپنے مال پر منافع وصول کرتا رہتا ہے اور وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ اس کا منافع بڑھتا چلا جاتا ہے۔ مدیون نے اس کے مال سے خواہ کتنا ہی فائدہ حاصل کیا ہو، بہرطور اس کا فائدہ ایک خاص حد تک ہی ہوگا۔ مگر اس کے معاوضے میں دائن جو نفع اٹھاتا ہے اس کے لیے کوئی حد نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اس کی تمام کمائی، اس کے تمام وسائلِ ثروت، اس کے تمام مایحتاج پر محیط ہو جائے اور پھر بھی اس کا سلسلہ ختم نہ ہو۔
(۳) بیع و شراء میں شے اور اس کی قیمت کا مبادلہ ہونے کے ساتھ ہی معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد مشتری کو کوئی چیز، بائع کو واپس دینی نہیں ہوتی لیکن سود کے معاملے میں مدیون رأس المال لے کر صرف کر چکتا ہے اور پھر اس کو وہ صرف شدہ چیز دوبارہ حاصل کر کے سود کے اضافے کے ساتھ واپس دینی پڑتی ہے۔
(۴) تجارت اور صنعت و حرفت اور زراعت میں انسان محنت اور ذہانت صَرف کرتا ہے اور اس کا فائدہ لیتا ہے۔ مگر سودی کاروبار میں وہ محض اپنا ضرورت سے زائد مال دے کر بلا کسی محنت و مشقت اور صَرفِ مال کے دوسروں کی کمائی میں شریک غالب بن جاتا ہے۔ اس کی حیثیت اصطلاحی ’’شریک‘‘ کی نہیں ہوتی جو نفع و نقصان دونوں میں شریک ہوتا ہے اور نفع میں جس کی شرکت نفع کے تناسب سے ہوتی ہے، بلکہ وہ ایسا شریک ہوتا ہے جو بلالحاظ نفع ونقصان اور بلالحاظ تناسب نفع، اپنے مقرر اور مشروط منافع کا دعوے دار ہوتا ہے۔

علتِ تحریم

یہ وجوہ ہیں جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام کیا ہے۔ ان وجوہ کے علاوہ حرمتِ سود کی دوسری وجوہ بھی ہیں ۔ وہ بخل، خود غرضی، شقاوت، بے رحمی اور زرپرستی کی صفات پیدا کرتا ہے۔ وہ قوم اور قوم میں عداوت ڈالتا ہے۔ وہ افراد قوم کے درمیان ہمدردی اور امدادِ باہمی کے تعلقات کو قطع کرتا ہے ۔ وہ لوگوں میں روپیہ جمع کرنے اور صرف اپنے ذاتی مفاد کی ترقی پر لگانے کا میلان پیدا کرتا ہے۔ وہ سوسائٹی میں دولت کی آزادانہ گردش کو روکتا ہے، بلکہ دولت کی گردش کا رخ الٹ کر ناداروں سے مال داروں کی طرف پھیر دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے جمہور کی دولت سمٹ کر ایک طبقے کے پاس اکٹھی ہوتی چلی جاتی ہے، اور یہ چیز آخرکار پوری سوسائٹی کے لیے بربادی کی موجب ہوتی ہے، جیسا کہ معاشیات میں بصیرت رکھنے والوں سے پوشیدہ نہیں ۔ سود کے یہ تمام اثرات، ناقابل انکار ہیں، اور جب یہ ناقابلِ انکار ہیں تو اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اسلام جس نقشے پر انسان کی اخلاقی تربیت، تمدنی شیرازہ بندی اور معاشی تنظیم کرنا چاہتا ہے اس کے ہر ہر جز سے سود کلی منافات رکھتا ہے، اور سودی کاروبار کی ادنیٰ سے ادنیٰ اور بظاہر معصوم سے معصوم صورت بھی اس پورے نقشے کو خراب کر دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں حق تعالیٰ نے اس قدر سخت الفاظ کے ساتھ سود کو بند کرنے کا حکم دیا کہ:
اتَّقُوا اللہَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَo فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ۝۰ۚ البقرہ 278,279:2
اللہ سے ڈرو اور جو سود تمہارا لوگوں پر باقی ہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان قبول کرو۔

حُرمتِ سود کی شدت

قرآن میں اور بھی بہت سے گناہوں کی ممانعت کا حکم آیا ہے، اور ان پر سخت وعیدیں بھی ہیں، لیکن اتنے سخت الفاظ کسی دوسرے گناہ کے بارے میں وارد نہیں ہوئے۔( ایک حدیث میں ہے کہ سود کا گناہ اپنی ماں کے ساتھ زنا کرنے سے ستر درجہ زیادہ ہے۔ (ابن ماجہ))اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی قلمرو میں سود کو روکنے کے لیے سخت کوشش فرمائی۔ آپؐ نے نجران کے عیسائیوں سے جو معاہدہ کیا اس میں صاف طور پر لکھ دیا کہ اگر تم سودی کاروبار کرو گے تو معاہدہ کالعدم ہو جائے گا اور ہم کو تم سے جنگ کرنی پڑے گی۔ بنو مغیرہ کے سودخور عرب میں مشہور تھے۔ فتح مکہ کے بعد حضورؐ نے ان کی تمام سودی رقمیں باطل کر دیں اور اپنے عاملِ مکہ کو لکھا کہ اگر وہ باز نہ آئیں تو ان سے جنگ کرو۔ خود حضورؐ کے چچا حضرت عباسؓ ایک بڑے مہاجن تھے۔ حجتہ الوداع میں آپؐ نے اعلان فرمایا کہ جاہلیت کے تمام سود ساقط کیے جاتے ہیں اور سب سے پہلے میں خود اپنے چچا عباسؓ کا سود ساقط کرتا ہوں۔ آپؐ نے یہاں تک فرما دیا کہ سود لینے والے اور دینے والے، اور اس کی دستاویز کے کاتب، اور اس پر گواہی دینے والے، سب پر اللہ کی لعنت!
ان تمام احکام کا منشا یہ نہ تھا کہ محض سود کی ایک خاص قسم یعنی یوژری (مہاجنی سود) کو بند کیا جائے اور اس کے سوا تمام اقسام کے سودوں کا دروازہ کھلا رہے۔ بلکہ ان سے اصل مقصد سرمایہ دارانہ اخلاق، سرمایہ دارانہ ذہنیت، سرمایہ دارانہ نظام تمدن اور سرمایہ دارانہ نظمِ معیشت کا کلی استیصال کر کے وہ نظام قائم کرنا تھا جس میں بخل کے بجائے فیاضی ہو، خود غرضی کے بجائے ہمدردی اور امداد باہمی ہو، سود کے بجائے زکوٰۃ ہو، بینک کی جگہ قومی بیت المال ہو، اور وہ حالات ہی سرے سے پیش نہ آئیں جن سے مقابلہ کرنے کے لیے نظامِ سرمایہ داری میں کوآپریٹو سوسائٹیوں اور انشورنس کمپنیوں اور پراویڈنٹ فنڈز وغیرہ کی ضرورت پیش آتی ہے اور آخر کار اشتراکیت کا غیر فطری پروگرام اختیار کرنا پڑتا ہے۔

(۲)سود کی ’’ضرورت‘‘… ایک عقلی تجزیہ( ماخوذ از ’سود‘۔)

اب تک ہم نے مسئلۂ زیر بحث کے بارے میں صرف قرآن و سنت کی تعلیمات پیش کی ہیں۔ اب ہم اس پر عقلی نقطۂ نظر سے گفتگو کرتے ہیں۔
سب سے پہلے جس بات کو طے ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ کیا فی الواقع سود ایک معقول چیز ہے؟ کیا درحقیقت عقل کی رو سے ایک شخص اپنے دیے ہوئے قرض پر سود کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہے؟ اور کیا انصاف یہی چاہتا ہے کہ جو شخص کسی سے قرض لے وہ اس کو اصل کے علاوہ کچھ نہ کچھ سود بھی دے؟ یہ اس بحث کا اولین سوال ہے اور اس کے طے ہونے سے آدھی سے زیادہ بحث آپ سے آپ طے ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ اگر سود ایک معقول چیز ہے تو پھر تحریم سود کے مقدمے میں کوئی جان باقی نہیں رہتی۔ اور اگر سود کو عقل و انصاف کی رُو سے درست ثابت نہیں کیا جاسکتا تو پھر یہ امر غور طلب ہو جاتا ہے کہ انسانی معاشرے میں اس نامعقول چیز کو باقی رکھنے پر آخر کیوں اصرار کیا جائے؟

(الف) خطرے اور ایثار کا معاوضہ

اس سوال کے جواب میں سب سے پہلے جس دلیل سے ہم کو سابقہ پیش آتا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص کسی دوسرے کو اپنا پس انداز کیا ہوا مال قرض دیتا ہے وہ خطرہ مول لیتا ہے، ایثار کرتا ہے، اپنی ضرورت روک کر دوسرے کی ضرورت پوری کرتا ہے، جس مال سے وہ خود فائدہ اٹھا سکتا تھا اسے دوسرے کے حوالے کرتا ہے۔ قرض لینے والے نے اگر قرض اس لیے لیا ہے کہ اپنی کوئی ذاتی ضرورت اس سے پوری کرے تو اسے اس مال کا کریہ ادا کرنا چاہیے، جس طرح وہ مکان یا فرنیچر یا سواری کا کرایہ ادا کرتا ہے۔ یہ کرایہ اس خطرے کا معاوضہ بھی ہوگا جو دائن نے اپنا مال اس کے حوالے کرنے میں برداشت کیا، اور اس امر کا معاوضہ بھی ہوگا کہ دائن نے اپنی محنت سے کمائی ہوئی دولت خود استعمال کرنے کے بجائے اس کو استعمال کرنے کے لیے دے دی، اور اگر مدیون نے یہ قرض کسی نفع آور کام میں لگانے کے لیے لیا ہے تو پھر تو دائن اس پر سود مانگنے کا بدرجہ اولیٰ مستحق ہے۔ جب مدیون اس کی دی ہوئی دولت سے فائدہ اٹھا رہا ہے تو آخر دائن اس فائدے میں سے کیوں نہ حصہ پائے؟
اس توجیہہ کا یہ حصہ بالکل درست ہے کہ قرض دینے والا اپنا مال دوسرے کے حوالے کرنے میں خطرہ بھی مول لیتا ہے اور ایثار بھی کرتا ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ کیسے نکل آیا کہ وہ اس خطرے اور ایثار کی قیمت پانچ یا دس فیصدی سالانہ یا ششماہی یا ماہوار کے حساب سے وصول کرنے کا حق رکھتا ہے؟ خطرے کی بنیاد پر جو حقوق معقول طریقہ سے اس کو پہنچتے ہیں وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہیں کہ وہ مدیون کی کوئی چیز رہن رکھ لے، یا اس کی کسی چیز کی کفالت پر قرض دے، یا اس سے کوئی ضامن طلب کرے، یا پھر سرے سے خطرہ ہی مول نہ لے اور قرض دینے سے انکار کر دے۔ مگر خطرہ نہ تو کوئی مالِ تجارت ہے جس کی کوئی قیمت ہو اور نہ کوئی مکان یا فرنیچر یا سواری ہے کہ اس کا کوئی کرایہ ہوسکے۔ رہا ایثار تو وہ اسی وقت تک ایثار ہے جب تک کہ وہ کاروبار نہ ہو۔ آدمی کو ایثار کرنا ہو تو پھر ایثار ہی کرے اور اس اخلاقی فعل کے اخلاقی فوائد پر راضی رہے۔ اور اگر وہ معاوضے کی بات کرتا ہے تو پھر ایثار کا ذکر نہ کرے بلکہ سیدھی طرح سوداگری کرے اور یہ بتائے کہ وہ قرض کے معاملے میں اصل رقم کے علاوہ ایک مزید رقم ماہوار یا سالانہ کے حساب سے جو وصول کرتا ہے اس کا آخر وہ کس بنیاد پر مستحق ہے؟
کیا یہ ہرجانہ ہے؟ مگر جو رقم اس نے قرض دی ہے وہ اس کی ضرورت سے زائد تھی ، اور اسے وہ خود استعمال بھی نہیں کر رہا تھا اس لیے یہاں فی الواقع کوئی ’’ہرج‘‘ واقع ہی نہیں ہوا کہ اپنے دیے ہوئے اس قرض پر وہ کوئی ’’ہرجانہ‘‘ لینے کا مستحق ہو۔
کیا یہ کرایہ ہے؟ مگر کرایہ تو ان چیزوں کا ہوا کرتا ہے جنہیں کرایہ دار کے لیے مہیا کرنے اور درست رکھنے پر آدمی اپنا وقت، محنت اور مال صرف کرتا ہے اور جو کرایہ دار کے استعمال سے خراب ہوتی ہیں، ٹوٹتی پھوٹتی ہیں اور اپنی قیمت کھوتی رہتی ہیں۔ یہ تعریف اشیائے استعمال، مثلاً مکان، فرنیچر اور سواری وغیرہ پر تو صادق آتی ہے، اور انھی کا کرایہ ایک معقول چیز ہے، لیکن اس تعریف کا اطلاق کسی طرح بھی نہ تو اشیائے صرف، مثلاً گیہوں اور پھل وغیرہ پر ہوتا ہے اور نہ روپے پر ہوتا ہے جو محض اشیاء اور خدمات خریدنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس لیے ان چیزوں کا کرایہ ایک بے معنی چیز ہے۔
زیادہ سے زیادہ ایک دائن جو کچھ کہہ سکتا ہے وہ یہ ہے کہ میں دوسرے شخص کو اپنے مال سے فائدہ اٹھانے کا موقع دے رہا ہوں، لہٰذا مجھے اس فائدے میں سے حصہ ملنا چاہیے۔ یہ البتہ ایک معقول بات ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جس فاقہ کش آدمی نے اپنے بھوکے بال بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے تم سے 50 روپے عاریتہ حاصل کیے ہیں، کیا واقعی وہ تمہارے دیے ہوئے غلے یا روپے سے ایسا ہی ’’فائدہ‘‘ اٹھا رہا ہے جس میں سے تم ایک چھٹانک فی سیر یا 2 روپے فی صد ماہوار کے حساب سے اپنا حصہ پانے کے مستحق ہو؟ فائدہ تو وہ بے شک اٹھا رہا ہے، اس استفادے کا موقع بلاشبہ تم نے ہی اسے دیا ہے، لیکن عقل، انصاف، معاشی علم، کاروباری اصول، آخر کس چیز کی رو سے اس فائدے اور اس موقع استفادہ کی یہ نوعیت قرار پاتی ہے کہ تم اس کی ایک مالی قیمت مشخص کرو اور قرض مانگنے والے کی مصیبت جتنی زیادہ سخت ہو اتنی ہی یہ قیمت بھی زیادہ ہو جائے، اور اس کی مصیبت زدگی کا زمانہ جتنا دراز ہوتا جائے تمہارے دیے ہوئے اس ’’موقعِ استفادہ‘‘ کی قیمت بھی مہینوں اور برسوں کے حساب سے اس پر بڑھتی اور چڑھتی چلی جائے؟ تم اگر اتنا بڑا دل نہیں رکھتے کہ ایک حاجت مند اور آفت رسیدہ انسان کو اپنی ضرورت سے زائد بچا ہوا مال عطا کردو، تو حد سے حد جو بات تمہارے لیے معقول ہوسکتی ہے وہ یہ ہے کہ اپنی رقم کی واپسی کا اطمینان کر کے اسے قرض دے دو۔ اور اگر تمہارے دل میں قرض دینے کی بھی گنجائش نہیں ہے تو بدرجۂ آخر یہ بھی ایک معقول بات ہو سکتی ہے کہ تم سرے سے اس کو کچھ نہ دو۔ مگر کاروبار اور تجارت کی یہ کون سی معقول صورت ہے کہ ایک شخص کی مصیبت اور تکلیف تمہارے لیے نفع اندوزی کا موقع ٹھیرے، بھوکے پیٹ اور جاں بلب مریض تمہارے لیے روپیہ لگانے (investment) کی جگہ قرار پائیں، اور انسانی مصائب جتنے بڑھیں اتنے ہی تمہارے نفع کے امکانات بھی بڑھتے چلے جائیں؟
’’فائدہ اٹھانے کا موقع دینا‘‘ اگر کسی صورت میں کوئی مالی قیمت رکھتا ہے تو وہ صرف وہ صورت ہے جب کہ روپیہ لینے والا اسے کسی کاروبار میں لگا رہا ہو۔ اس صورت میں روپیہ دینے والا یہ کہنے کا حق رکھتا ہے کہ مجھے اس فائدے میں سے حصہ ملنا چاہیے جو میرے روپے سے دوسرا شخص اٹھا رہا ہے۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ سرمایہ بجائے خود کوئی منافع پیدا کرنے کی قابلیت نہیں رکھتا، بلکہ وہ منافع صرف اس صورت میں پیدا کرتا ہے جب انسانی محنت و ذہانت اس پر کام کرے۔ پھر انسانی محنت و ذہانت بھی اس کے ساتھ لگتے ہی منافع پیدا کرنا نہیں شروع کر دیتی، بلکہ اس کے نفع آور ہونے میں ایک مدت درکار ہوتی ہے۔ مزید برآں اس کا نفع آور ہونا یقینی بھی نہیں ہے، اس میں نقصان اور دیوالہ کا بھی امکان ہے۔ اور نفع آور ہونے کی صورت میں بھی یہ پیشگی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کس وقت کتنا نفع پیدا کرے گی۔ اب یہ بات کس طرح معقول ہوسکتی ہے کہ روپیہ دینے والے کا منافع اسی وقت سے شروع ہو جائے جب کہ انسانی محنت و ذہانت نے اس روپے کو ابھی ہاتھ ہی لگایا ہو؟ اور اس کے منافع کی شرح اور مقدار بھی معین ہو، جبکہ سرمایہ کے ساتھ انسانی محنت کے ملنے سے نفع پیدا ہونا نہ تو یقینی ہے، اور نہ یہ معلوم ہے کہ اس سے فی الواقع کتنا نفع پیدا ہوگا۔
معقولیت کے ساتھ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص اپنا پس انداز کیا ہوا روپیہ کسی نفع آور کام میں لگانا چاہتا ہو اسے محنت کرنے والوں کے ساتھ شرکت کا معاملہ کرنا چاہیے اور نفع نقصان میں ایک طے شدہ تناسب کے مطابق حصے دار بن جانا چاہیے۔ نفع کمانے کا یہ آخر کون سا معقول طریقہ ہے کہ میں ایک شخص کا شریک بننے کے بجائے اسے سو روپے قرض دوں اور اس سے کہوں کہ چونکہ تو اس رقم سے فائدہ اٹھائے گا اس لیے تجھ پر میرا یہ حق ہے کہ مجھے مثلاً ایک روپیہ ماہوار اس وقت تک دیتا رہ جب تک میرے یہ روپے تیرے کاروبار میں استعمال ہو رہے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ جب تک اس سرمایہ کو استعمال کر کے اس کی محنت نے نفع پیدا کرنا نہ شروع کیا ہو اس وقت تک آخر وہ کون سا منافع موجود ہے جس میں سے حصہ مانگنے کا مجھے حق پہنچتا ہو؟ اگر وہ شخص کاروبار میں فائدے کے بجائے نقصان اٹھائے تو میں کس عقل و انصاف کی رو سے یہ ماہوار ’’منافع‘‘ اس سے وصول کرنے کا حق رکھتا ہوں؟ اور اگر اس کا منافع ایک روپیہ ماہوار سے کم رہے تو مجھے ایک روپیہ ماہوار لینے کا کیا حق ہے؟ اور اگر اس کا کل منافع ایک ہی روپیہ ہو تو کون سا انصاف یہ جائز رکھتا ہے کہ جس شخص نے مہینے بھر تک اپنا وقت، محنت، قابلیت اور ذاتی سرمایہ، سب کچھ صرف کیا وہ تو کچھ نہ پائے، اور میں جو صرف سو روپے اس کو دے کر الگ ہوگیا تھا، اس کا سارا منافع لے اڑوں؟ ایک بیل بھی اگر تیلی کے لیے دن بھر کولہو چلاتا ہے تو کم از کم اس سے چارہ مانگنے کا حق تو ضرور رکھتا ہے۔ مگر یہ سودی قرض ایک کاروباری آدمی کو وہ بیل بنا دیتا ہے جسے کولہو تو دن بھر میرے لیے چلانا چاہیے اور چارہ کہیں اور سے کھانا چاہیے۔
پھر اگر بالفرض ایک کاروباری آدمی کا منافع اس متعین رقم سے زائد بھی رہے جو قرض دینے والے نے سود کے طور پر اس کے ذمے لگائی ہو، تب بھی عقل، انصاف، اصولِ تجارت اور قانونِ معیشت، کسی چیز کی رو سے بھی اس بات کو معقول ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ تاجر، صناع، کاشت کار، اور دوسرے تمام وہ لوگ جو اصل عاملینِ پیدائش ہیں، جو سوسائٹی کی ضروریات تیار اور فراہم کرنے میں اپنے اوقات صرف کرتے ہیں، محنتیں برداشت کرتے ہیں، دماغ لڑاتے ہیں، اور اپنے جسم و ذہن کی ساری قوتیں کھپا دیتے ہیں، ان سب کا فائدہ تو مشتبہ اور غیر معین ہو مگر صرف اس ایک آدمی کا فائدہ یقینی اور معین ہو جس نے اپنی پس انداز کی ہوئی رقم قرض دے دی ہے۔ ان سب کے لیے تو نقصان کا خطرہ بھی ہو مگر اس کے لیے خالص نفع کی گارنٹی ہو۔ ان سب کے نفع کی شرح بازار کی قیمتوں کے ساتھ گرتی اور چڑھتی رہے، مگر یہ ایک اللہ کا بندہ جو نفع اپنے لیے طے کر چکا ہے وہ اسے جوں کا توں ماہ بماہ اور سال بسال ملتا رہے۔( اس مقام پر ایک شخص یہ اعتراض کرسکتا ہے کہ پھر تم زمین کے لگان کو کس طرح جائز ٹھیراتے ہو جب کہ اس کی پوزیشن بھی بعینہٖ سود کی سی ہے؟ مگر درحقیقت یہ اعتراض ان لوگوں پر وار دہوتا ہے جو زمین کے نقد لگان، مثلاً 60 روپیہ بیگھہ یا 50 روپیہ ایکڑ کے حساب سے پیشگی معیّن کرلینے کو جائز (باقی اگلے صفحہ پر)

(ب) ’’موقع‘‘ اور ’’مہلت‘‘ کا معاوضہ

اس تنقید سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بادی النظر میں سود کہ ایک معقول چیز قرار دینے کے لیے جو دلائل کافی سمجھ لیے جاتے ہیں، ذرا گہرائی میں جاتے ہی ان کی کمزوری کھلنی شروع ہو جاتی ہے۔ جہاں تک اس قرض کا تعلق ہے جو شخصی حاجات کے لیے لیا جاتا ہے، اس پر سود عائد ہونے کے لیے تو سرے سے کوئی عقلی دلیل موجود ہی نہیں ہے، حتیٰ کہ حامیانِ سود نے خود ہی اس کمزور مقدمے سے ہاتھ اٹھالیا ہے۔ رہا وہ قرض جو کاروباری اغراض کے لیے لیا جاتا ہے، تو اس کے بارے میں بھی حامیانِ سود کو اس پیچیدہ سوال سے سابقہ پیش آتا ہے کہ سود آخر کس چیز کی قیمت ہے؟ ایک دائن اپنے سرمایہ کے ساتھ مدیون کو وہ کون سی جوہری (substantial) چیز دیتا ہے جس کی ایک مالی قیمت، اور وہ بھی ماہ بماہ اور سال بسال ادا شدنی قیمت مانگنے کا اسے حق پہنچتا ہو؟ اس چیز کے مشخص کرنے میں حامیانِ سود کو خاصی پریشانی پیش آتی ہے۔
ایک گروہ نے کہا کہ وہ ’’فائدہ اٹھانے کا موقع‘‘ ہے۔ لیکن جیسا کہ اوپر کی تنقید سے آپ کو معلوم ہو چکا ہے، یہ ’’موقع‘‘ کسی متعین اور یقینی اور روز افزوں قیمت کا استحقاق پیدا نہیں کرتا، بلکہ صرف اس صورت میں ایک متناسب نفع کا استحقا ق پیدا کرتا ہے جب کہ فی الواقع روپیہ لینے والے کو نفع ہو۔
دوسرا گروہ تھوڑی سی پوزیشن تبدیل کر کے کہتا ہے کہ وہ چیز ’’مہلت‘‘ ہے جو دائن اپنے سرمایہ کے ساتھ اس کے استعمال کے لیے مدیون کو دیتا ہے۔ یہ مہلت بجائے خود اپنی ایک قیمت رکھتی ہے اور جس قدر یہ دراز ہوتی جائے اس کی قیمت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ جس رو ز آدمی روپیہ لے کر کام میں لگاتا ہے اس روز سے لے کر اس دن تک جب کہ اس سرمایہ کے ذریعے سے تیار کیا ہوا مال بازار میں پہنچے اور قیمت لائے، ایک ایک لمحہ کاروباری آدمی کے لیے قیمتی ہے۔ یہ مہلت اگر اسے نہ ملے اور بیچ ہی میں سرمایہ اس سے واپس لے لیا جائے تو سرے سے اس کا کاروبار چل ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا یہ وقت روپیہ لے کر لگانے والے کے لیے یقیناً ایک قیمت رکھتا ہے جس سے وہ فائدہ اٹھا رہا ہے، پھر کیوں نہ روپیہ دینے والا اس فائدہ میں سے حصہ لے؟ اور اس وقت کی کمی بیشی کے ساتھ مدیون کے لیے نفع کے امکانات بھی لامحالہ کم و بیش ہوتے ہیں، پھر کیوں نہ دائن وقت ہی کی درازی و کوتاہی کے لحاظ سے اس کی قیمت مشخص کرے؟
مگر یہاں پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر روپیہ دینے والے کو کس ذریعۂ علم سے یہ معلوم ہوگیا کہ جو شخص کام میں لگانے کے لیے اس سے روپیہ لے رہا ہے وہ ضرور نفع ہی حاصل کرے گا، نقصان سے دوچار نہ ہوگا؟ اور پھر یہ اس نے کیسے جانا کہ اس کا نفع بھی لازماً اس قدر فی صدی رہے گا لہٰذا ضرور اتنے فی صدی اس کو روپیہ دینے والے کا حصہ ادا کرنا چاہیے؟ اور پھر اس کے پاس یہ حساب لگانے کا آخر کیا ذریعہ ہے کہ وہ وقت جس کے دوران میں وہ مدیون کو اپنے روپے کے استعمال کی مہلت دے رہا ہے لازماً ہر مہینے اور ہر سال اتنا نفع لاتا رہے گا، لہٰذا ضرور اس کی ماہوار یا سالانہ قیمت یہ قرار پانی چاہیے؟ ان سوالات کا کوئی معقول جواب حامیانِ سود کے پاس نہیں ہے ، اس لیے بات پھر وہیں آ جاتی ہے کہ کاروباری معاملات میں اگر کوئی چیز معقول ہے تو وہ صرف نفع و نقصان کی شرکت اور متناسب حصہ داری ہے نہ کہ سود جو ایک متعین شرح کے ساتھ عائد کر دیا جائے۔

(ج) نفع آوری میں حصہ

ایک اور گروہ کہتا ہے کہ نفع آوری سرمایہ کی ذاتی صفت ہے، لہٰذا ایک شخص کا دوسرے کے فراہم کردہ سرمایہ کو استعمال کرنا بجائے خود اس امر کا استحقاق پیدا کرتا ہے کہ دائن سود مانگے اور مدیون ادا کرے۔ سرمایہ یہ قوت رکھتا ہے کہ اشیائے ضرورت کی تیاری و فراہمی میں مددگار ہو۔ سرمایہ کی مدد سے اتنا سامان تیار ہوتا ہے جتنا اس کی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ سرمایہ کی مدد شاملِ حال ہونے سے زیادہ مقدار میں زیادہ اچھا مال تیار ہوتا ہے اور اچھی قیمت دینے والی منڈیوں تک پہنچ سکتا ہے، ورنہ کم اور گھٹیا تیار ہوتا ہے اور ایسے مواقع پر نہیں پہنچ سکتا جہاں زیادہ قیمت مل سکے۔ یہ ثبوت ہے اس امر کا کہ نفع آوری ایک ایسی صفت ہے جو سرمایہ کی ذات میں ودیعت کر دی گئی ہے۔ لہٰذا مجرد اس کا استعمال ہی سود کا استحقاق پیدا کر دیتا ہے۔
لیکن اول تو یہ دعویٰ ہی بداہتاً غلط ہے کہ سرمایہ میں ’’نفع آوری‘‘ نام کی کوئی ذاتی صفت پائی جاتی ہے۔ یہ صفت تو اس میں صرف اس وقت پیدا ہوتی ہے جبکہ آدمی اسے لے کر کسی مثمر (نفع بخش) کام میں لگائے۔ صرف اسی صورت میں تم یہ کہہ سکتے ہو کہ روپیہ لینے والا چوں کہ اس سے ایک نافع کام لے رہا ہے اس لیے اسے نفع میں سے حصہ دینا چاہیے۔ مگر جو شخص بیماری میں علاج پر صرف کرنے کے لیے، یا کسی میت کی تجہیز و تکفین کے لیے روپیہ قرض لے رہاہے اس کے پاس یہ سرمایہ آخر کون سی معاشی قدر پیدا کرتا ہے جس میں حصہ بٹانے کا حق دائن کو پہنچتا ہو؟
پھر جو سرمایہ نفع آور کاموں میں لگایا جاتا ہے وہ بھی لازماً زیادہ قیمت ہی پیدا نہیں کرتا کہ یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ نفع بخشی اس کی ذاتی صفت ہے۔ بسا اوقات کسی کام میں زیادہ سرمایہ لگانے دینے سے نفع بڑھنے کے بجائے گھٹ جاتا ہے، یہاں تک کہ الٹے نقصان کی نوبت آ جاتی ہے۔ آج کل تجارتی دنیا پر تھوڑی تھوڑی مدت بعد جو بحرانی دورے (crisis) پڑتے رہتے ہیں ان کی وجہ یہی تو ہے کہ جب سرمایہ دار کاروبارو میں بے تحاشا سرمایہ لگاتے چلے جاتے ہیں اور پیداوار بڑھنی شروع ہوتی ہے تو قیمتیں گرنے لگتی ہیں اور افزونی مال کے ساتھ ارزانیِ قدر رفتہ رفتہ اس حد کو پہنچ جاتی ہے کہ سرمایہ لگانے سے کسی نفع کی توقع باقی نہیں رہتی۔
مزید برآں سرمایہ میں نفع آوری کی اگر کوئی صفت ہے بھی تو اس کا قوت سے فعل میں آنا بہت سی دوسری چیزوں پر منحصر ہے۔ مثلاً اس کے استعمال کرنے والوں کی محنت، قابلیت، ذہانت اور تجربہ کاری۔ دورانِ استعمال میں معاشی، تمدنی اور سیاسی حالات کی سازگاری، آفاتِ زمانہ سے محفوظیت، یہ اور ایسے ہی دوسرے امور نفع بخشی کی لازمی شرائط ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو بسا اوقات سرمایہ کی ساری نفع بخشی ختم ہو جاتی ہے بلکہ الٹی نقصان میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ مگر سودی کاروبار میں سرمایہ دینے والا نہ تو خود ان شرطوں کو پورا کرنے کی ذمے داری لیتا ہے، اور نہ یہی مانتا ہے کہ اگر ان میں سے کسی شرط کے مفقود ہو جانے سے اس کا سرمایہ نفع آور نہ ہوسکا تو وہ کوئی سود لینے کا حق دار نہ ہوگا۔ وہ تو اس بات کا مدعی ہے کہ اس کے سرمایہ کا استعمال بجائے خود ایک متعین شرح کے ساتھ سود کا استحقاق پیدا کرتا ہے خواہ فی الواقع کوئی ’’نفع آوری‘‘ اس سے ظہور میں آئی ہو یا نہ آئی ہو۔
بدرجۂ آخر اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ سرمایہ کی ذات ہی میں نفع بخشی موجود ہے جس کی بنا پر سرمایہ دینے والا نفع میں سے حصہ پانے کا مستحق ہے، تب بھی آخر وہ کون سا حساب ہے جس سے تعین کے ساتھ یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ آج کل سرمایہ کی نفع بخشی لازماً اس قدر ہے، لہٰذا جو لوگ سرمایہ لے کر استعمال کریں ان کو لازماً اس شرح سے سود ادا کرنا چاہیے؟ اور اگر یہ بھی تسلیم کرلیا جائے کہ زمانۂ حال کے لیے اس شرح کا تعین کسی حساب سے ممکن ہے تو ہم یہ سمجھنے سے تو بالکل ہی قاصر ہیں کہ جس سرمایہ دار نے 1949ء میں کسی کاروباری ادارے کو ۱۰ سال کے لئے، اور کسی دوسرے ادارے کو 20 سال کے لیے رائج الوقت شرح سود پر قرض دیا تھا، اس کے پاس یہ معلوم کرنے کا آخر کیا ذریعہ تھا کہ آئندہ دس اور بیس سال کے دوران میں سرمایہ کی نفع بخشی ضرور آج ہی کے معیا رپر قائم رہے گی؟ خصوصاً جب کہ 59ء میں بازار کی شرح سود 49ء سے بالکل مختلف ہو اور 69ء میں اس سے بھی زیادہ مختلف ہو جائے۔ تب کس دلیل سے اس شخص کو حق بجانب ٹھیرایا جائے گا جس نے ایک ادارے سے دس سال کے لیے اور دوسرے ادارے سے بیس سال کے لیے 49ء کی شرح کے مطابق سرمایہ کے متوقع منافع میں سے اپنا حصہ قطعی طور پر متعین کرالیا تھا؟

(د) معاوضۂ وقت

آخری توجیہہ میں ذرا زیادہ ذہانت صرف کی گئی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ:
انسان فطرۃً حاضر کے فائدے، لطف، لذت اور آسودگی کو دور دراز مستقبل کے فوائد و لذائذ پر ترجیح دیتا ہے۔ مستقبل جتنا دور ہو اسی قدر اس کے فوائد و لذائذ مشتبہ ہوتے ہیں اور اسی مناسبت سے آدمی کی نگاہ میں ان کی قیمت کم ہو جاتی ہے۔ اس ترجیحِ عاجلہ اور مرجوحیتِ آجلہ کے متعدد وجوہ ہیں۔ مثلاً:
۱۔ مستقبل کا تاریکی میں ہونا اور زندگی کا غیر یقینی ہونا، جس کی وجہ سے مستقبل کے فوائد مشتبہ بھی ہوتے ہیں اور ان کی کوئی تصویر بھی آدمی کی چشم تصور میں نہیں ہوتی۔ بخلاف اس کے آج جو نقد فائدہ حاصل ہو رہا ہے وہ یقینی بھی ہے اور اس کو آدمی بچشم سر دیکھ بھی رہا ہے۔
۲۔ جو شخص اس وقت حاجت مند ہے اس کی حاجت کا اس وقت پورا ہو جانا اس کے لیے اس سے بہت زیادہ قیمت رکھتا ہے کہ آئندہ کسی موقع پر اس کو وہ چیز ملے جس کا ممکن ہے کہ وہ اس وقت حاجت مند ہو اور ممکن ہے کہ نہ ہو۔
۳۔ جو مال اس وقت مل رہا ہے وہ بالفعل کار آمد اور قابلِ استعمال ہے، اس لحاظ سے وہ اس مال پر فوقیت رکھتا ہے جو آئندہ کسی وقت حاصل ہو گا۔
ان وجوہ سے حاضر کا نقد فائدہ مستقبل کے مشتبہ فائدے پر ترجیح رکھتا ہے۔ لہٰذا آج جو شخص ایک رقم قرض لے رہا ہے اس کی قیمت لازماً اس رقم سے زیادہ ہے جو وہ کل دائن کو ادا کرے گا، اور سود وہ قدرِ زائد ہے جو ادائیگی کے وقت اصل کے ساتھ شامل ہو کر اس کی قیمت کو اس رقم کے برابر کرتی ہے جو قرض دیتے وقت دائن نے اس کو دی تھی۔ مثال کے طورپر اس معاملے کو یوں سمجھئے کہ ایک شخص ساہوکار کے پاس آتا ہے اور اس سے سو روپے قرض مانگتا ہے۔ ساہوکار اس سے یہ بات طے کرتا ہے کہ آج جو سو روپے وہ اس کو دے رہا ہے ان کے بدلے میں وہ ایک سال بعد اس سے 103 روپے لے گا۔ اس معاملے میں دراصل حاضر کے 100 روپوں کا تبادلہ مستقبل کے103 روپوں سے ہو رہا ہے۔ تین روپے اس فرق کے برابر ہیں جو حاضر کے مال اور مستقبل کے مال کی نفسیاتی (نہ کہ معاشی) قیمت کے درمیان پایا جاتا ہے۔ جب تک یہ تین روپے ایک سال بعد کے سو روپوں کے ساتھ شامل نہ ہوں گے ان کی قیمت ان سو روپوں کے برابر نہ ہوگی جو قرض دیتے وقت دائن نے مدیون کو دیے تھے۔
یہ توجیہہ جس ہوشیاری کے ساتھ کی گئی ہے اس کی داد نہ دینا ظلم ہے۔ مگر درحقیقت اس میں حاضر اور مستقبل کی نفسیاتی قیمت کا جو فرق بیان کیا گیا ہے وہ ایک مغالطے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
کیا فی الواقع انسانی فطرت حاضر کو مستقبل کے مقابلے میں زیادہ اہم اور زیادہ قیمتی سمجھتی ہے؟ اگر یہ بات ہے تو کیا وجہ ہے کہ بیشتر لوگ اپنی ساری کمائی کو آج ہی خرچ کر ڈالنا مناسب نہیں سمجھتے بلکہ اس کے ایک حصے کو مستقبل کے لیے بچا رکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں؟ شاید آپ کو ایک فی صدی بھی ایسے آدمی نہ ملیں گے جو فکرِ فردا سے بے نیاز ہوں اور آج کے لطف و لذت پر اپنا سارا مال اڑا دینے کو ترجیح دیتے ہوں۔ کم از کم ۹۹ فیصدی انسانوں کا حال تو یہی ہے کہ وہ آج کی ضرورتوں کو روک کر کل کے لیے کچھ نہ کچھ سامان کر رکھنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ مستقبل میں پیش آنے والی بہت سی متوقع اور ممکن ضرورتیں اور اندیشناک صورتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا خیالی نقشہ آدمی کی نگاہ میں ان حالات کی بہ نسبت زیادہ بڑا اور اہم ہوتا ہے جن سے وہ اس وقت کسی نہ کسی طرح لشتم پشتم گزرے جا رہا ہے۔ پھر وہ ساری دوڑ دھوپ اور تگ و دو جو ایک انسان زمانۂ حال میں کرتا ہے اس سے مقصود آخر اس کے سوا کیا ہوتا ہے کہ اس کا مستقبل بہتر ہو؟ اپنی آج کی محنتوں کے سارے ثمرات آدمی اسی کوشش میں تو کھپاتا ہے کہ اس کے آنے والے ایامِ زندگی آج سے زیادہ اچھی طرح بسر ہوں۔ کوئی احمق سے احمق آدمی بھی بمشکل آپ کو ایسا مل سکے گا جو اس وقت پر اپنے حاضر کو خوش آئند بنانا پسند کرتا ہو کہ اس کا مستقبل خراب ہو جائے یا کم از کم آج سے زیادہ بدتر ہو ۔ جہالت و نادانی کی بنا پر آدمی ایسا کر جائے، یا کسی وقتی خواہش کے طوفان سے مغلوب ہو کر ایسا کر گزرے تو بات دوسری ہے، ورنہ سوچ سمجھ کر تو کوئی شخص بھی اس رویے کو صحیح و معقول قرار نہیں دیتا۔
پھر اگر تھوڑی دیر کے لیے اس دعوے کو جوں کا توں مان بھی لیا جائے کہ انسان حاضر کے اطمینان کی خاطر مستقبل کے نقصان کو گوارا کرنا درست سمجھتا ہے، تب بھی وہ استدلال ٹھیک نہیں بیٹھتا جس کی بنا اس دعوے پر رکھی گئی ہے۔ قرض لیتے وقت جو معاملہ دائن اور مدیون کے درمیان طے ہوا تھا اس میں آپ کے قول کے مطابق حاضر کے ۱۰۰ روپوں کی قیمت ایک سال بعد کے ۱۰۳ روپوں کے برابر تھی۔ لیکن اب جو ایک سال کے بعد مدیون اپنا قرض ادا کرنے گیا تو واقعی صورتِ معاملہ کیا ٹھیری؟ یہ کہ حاضر کے ۱۰۳ روپے ماضی کے سو روپوں کے برابر ہو گئے۔ اور اگر پہلے سال مدیون قرض ادا نہ کرسکا تو دوسرے سال کے خاتمے پر ماضی بعید کے سو روپوں کی قیمت حاضر کے 106 روپوں کے برابر ہو گئی۔ کیا فی الواقع ماضی اور حال میں قدر و قیمت کا یہی تناسب ہے؟ اور کیا یہ اصول بھی صحیح ہے کہ جتنا جتنا ماضی پرانا ہوتا جائے اس کی قیمت بھی حال کے مقابلے میں بڑھتی چلی جائے؟ کیا پہلے گزری ہوئی ضرورتوں کی آسودگی آپ کے لیے اتنی ہی قابل قدر ہے کہ جو روپیہ آپ کو ایک مدت دراز پہلے ملا تھا اور جس کو خرچ کر کے آپ کبھی کانسیاً منسیاً کر چکے ہیں، وہ آپ کے لیے زمانے کی ہر ساعت گزرنے پر حاضر کے روپے سے زیادہ قیمتی ہوتا چلا جائے؟ یہاں تک کہ اگر آپ کو سو روپے استعمال کیے ہوئے پچاس برس گزر چکے ہوں تو اب ان کی قیمت ڈھائی سو روپے کے برابر ہو جائے!

شرح سود کی ’’معقولیت‘‘

یہ ہے ان دلائل کی کل کائنات جو سود خوری کے وکیل اس کو عقل و انصاف کی رو سے ایک جائز و مناسب چیز ثابت کرنے کے لیے پیش کرتے ہیں۔ تنقید سے آپ کو معلوم ہوگیا کہ معقولیت سے اس ناپاک چیز کو دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔کسی وزنی دلیل سے بھی اس بات کی کوئی معقول وجہ پیش نہیں کی جاسکتی کہ سود کیوں لیا اور دیا جائے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جو چیز اس قدر غیر معقول تھی، مغرب کے علماء اور مفکرین نے اس کو بالکل بدیہیات و مسلمات میں شامل کرلیا، اور نفس سود کی معقولیت کو گویا ایک طے شدہ صداقت اور مانی ہوئی حقیقت فرض کر کے ساری گفتگو اس امر پر مرکوز کر دی کہ شرح سود ’’معقول‘‘ ہونی چاہیے۔ دورِ جدید کے مغربی لٹریچر میں یہ بحث تو آپ کو کم ہی ملے گی کہ سود بجائے خود لینے اور دینے کے لائق چیز ہے بھی یا نہیں، البتہ جو کچھ بھی رد و قدح آپ ان کے ہاں دیکھیں گے وہ زیادہ تر اس امر سے متعلق ہوگی کہ فلاں شرح سود ’’بیجا‘‘ اور ’’حد سے بڑھی ہوئی‘‘ ہے اس لیے قابلِ اعتراض ہے، اور فلاں شرح ’’معقول‘‘ ہے اس لیے قابلِ قبول ہے۔
مگر کیا فی الواقع کوئی شرحِ سود معقول بھی ہے؟ تھوڑی دیر کے لیے ہم اس سوال کو نظر انداز کیے دیتے ہیں کہ جس چیز کا بجائے خود معقول ہونا ثابت نہیں کیا جاسکتا اس کی شرح کے معقول یا نامعقول ہونے کی بحث پیدا ہی کہاں ہوتی ہے؟ اس سوال سے قطع نظر کر کے ہم صرف یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آخر وہ کون سی شرح سود ہے جس کو فطری اور معقول کہا جاتا ہے؟ اور ایک شرح کے لیے بے جا یا بجا ہونے کا آخر معیار کیا ہے؟ اور کیا درحقیقت دنیا کے سودی کاروبار میں شرحِ سود کا تعین کسی عقلی (rational) بنیاد پر ہو رہا ہے؟
اس سوال کی جب ہم تحقیق کرتے ہیں تو اولین حقیقت جو ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ ’’معقول شرح سود‘‘ نامی کوئی چیز دنیا میں کبھی نہیں پائی گئی ہے۔ مختلف شرحوں کو مختلف زمانوں میں معقول ٹھیرایا گیا ہے اور بعد میں وہی شرحیں نامعقول قرار دے دی گئی ہیں۔ بلکہ ایک ہی زمانے میں ایک جگہ معقول شرح کچھ ہے اور دوسری جگہ کچھ اور … قدیم ہندو دور میں کوتلیہ (koutilya)کی تصریح کے مطابق 15 سے 60 فیصدی سالانہ تک شرح سود بالکل معقول اور جائز سمجھی جاتی تھی، اور اگر خطرہ زیادہ ہو تو اس سے بھی زیادہ شرح ہوسکتی تھی۔ اٹھارویں صدی کے وسطِ آخر اور انیسویں صدی کے وسطِ اول میں ہندوستانی ریاستوں کے جو مالی معاملات ایک طرف دیسی ساہوکاروں سے اور دوسری طرف ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت سے ہوتے تھے ان میں بالعموم 48 فیصدی سالانہ شرح رائج تھی۔ 1914-18ء کی جنگ عظیم کے زمانے میں حکومت ہند نے 2½ فیصدی سالانہ سود پر جنگی قرضے حاصل کیے۔ 1920ء اور 1930ءکے درمیان کوآپریٹو سوسائیٹیوں میں عام شرحِ سود 12 سے 15 فیصدی تک رہی۔ 1930ء اور 1940ءکے دور میں ملک کی عدالتیں 9 فیصدی سالانہ کے قریب شرح کو معقول قرار دیتی رہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے لگ بھگ زمانے میں ریزرو بینک آف انڈیا کا ڈسکونٹ ریٹ 3 فیصدی سالانہ مقرر ہوا اور یہی شرح دورانِ جنگ میں بھی قائم رہی، بلکہ پونے تین فیصدی پر بھی حکومتِ ہند کو قرضے ملتے رہے۔
یہ تو ہے خود ہمارے اپنے برعظیم کا حال۔ ادھر یورپ کو دیکھیے تو وہاں بھی آپ کو کچھ ایسا ہی نقشہ نظر آئے گا۔ سولہویں صدی کے وسط میں انگلستان میں ۱۰ فیصدی شرح بالکل معقول قرار دی گئی تھی۔ 1920ء کے قریب زمانے میں یورپ کے بعض سنٹرل بینک آٹھ نو فیصدی شرح لگاتے تھے اور خود مجلسِ اقوام نے یورپ کی ریاستوں کو اپنی وساطت سے جو قرضے اس دور میں دلوائے تھے ان کی شرح بھی اسی کے لگ بھگ تھی۔ مگر آج یورپ اور امریکہ میں کسی کے سامنے اس شرح کا نام لیجیے تو وہ چیخ اٹھے گا کہ یہ شرح سود نہیں بلکہ لوٹ ہے۔ اب جدھر دیکھیے 2½ اور 3 فیصدی شرح کا چرچا ہے۔۴ فیصدی انتہائی شرح ہے اور بعض حالات میں ایک اور ½اور ¼فیصدی تک نوبت پہنچ جاتی ہے لیکن دوسری طرف غریب عوام کو سودی قرض دینے والے مہاجنوں کے لیے انگلستان میں 1927ء کے منی لینڈرس ایکٹ کی رو سے جو شرح جائز رکھی گئی ہے وہ 48 فیصدی سالانہ ہے، اور امریکہ کی عدالتیں سود خور مہاجنوں کو جس شرح سود کے مطابق سود دلوا رہی ہیں وہ ۳۰ سے شروع ہو کر 60 فیصدی سالانہ تک پہنچ جاتی ہے۔ بتایئے ان میں سے کس کا نام فطری اور معقول شرح سود ہے؟
اب ذرا آگے بڑھ کر اس مسئلے کا جائزہ لیجئے کہ کیا فی الحقیقت کوئی شرح سود فطری اور معقول ہو بھی سکتی ہے ؟ اس سوال پر جب آپ غور کریں گے تو آپ کی عقل خود بتا دے گی کہ شرح سود اگر معقول طور پر متعین ہوسکتی تھی تو صرف اس صورت میں جب کہ اس فائدے کی قیمت مشخص ہوتی (یا ہوسکتی ) جو ایک شخص کسی قرض لی ہوئی رقم سے حاصل کرتا ہے۔ مثلاً کہ یہ بات متعین ہو جاتی کہ ایک سال تک سو روپے کا استعمال ۲۵ روپے کے برابر فائدہ دیتا ہے تو البتہ یہ طے کیا جاسکتا تھا کہ اس فائدے میں سے 5 یا 2½ یا 1¼ روپیہ اس شخص کا فطری اور معقول حصہ ہے جس کی رقم دورانِ سال میں استعمال کی گئی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس طرح سے استعمال سرمایہ کا فائدہ نہ تو مشخص کیا گیا ہے، نہ کیا جاسکتا ہے ، اور نہ بازاری شرح سود کے تعین میں کبھی اس امر کا لحاظ کیا جاتا ہے کہ روپیہ قرض لینے والے کو اس سے کتنا فائدہ ہوگا، بلکہ کوئی فائدہ ہوگا بھی یا نہیں۔ عملاً جو کچھ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مہاجنی کاروبار میں تو قرض کی قیمت قرض مانگنے والے کی مجبوری کے لحاظ سے مشخص ہوتی ہے، اور تجارتی سودخوری کی منڈی میں شرح سود کا اتار چڑھائو کچھ دوسری بنیادوں پر ہوتا رہتا ہے جن کو عقل اور انصاف سے کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔

شرح سود کے وجوہ

مہاجنی کاروبار میں ایک مہاجن بالعموم یہ دیکھتا ہے کہ جو شخص اس سے قرض مانگنے آیا ہے وہ کس حد تک غریب ہے، کتنا مجبور ہے اور قرض نہ ملنے کی صورت میں کس قدر زیادہ مبتلائے اذیت ہوگا ۔ انہی چیزوں کے لحاظ سے وہ طے کرتا ہے کہ مجھے اس سے کتنا سود مانگنا چاہیے۔ اگر وہ کم غریب ہے ، کم رقم مانگ رہا ہے اور بہت زیادہ پریشان نہیں ہے تو شرح سود کم ہوگی۔ اس کے برعکس وہ جتنا زیادہ خستہ حال اور جس قدر زیادہ سخت حاجت مند ہوگا اتنی ہی شرح بڑھتی چلی جائے گی، حتیٰ کہ اگر کسی فاقہ کش آدمی کا بچہ بیماری کی حالت میں دم توڑ رہا ہو تو چار پانچ سو فیصدی شرح سود بھی اس کے معاملہ میں کچھ ’’بے جا‘‘ نہیں ہے۔ اس طرح کی صورت حال میں ’’فطری‘‘ شرح سود قریب قریب اسی معیار کے لحاظ سے مشخص ہوتی ہے جس معیار کے لحاظ سے 1947ء کے ہنگامہ قیامت میں امرتسر کے اسٹیشن پر ایک سکھ نے ایک مسلمان سے پانی کے ایک گلاس کی ’’فطری‘‘ قیمت 300 روپے وصول کی تھی، کیوں کہ اس کا بچہ پیاس سے مر رہا تھا اور پناہ گزینوں کی ٹرین سے کوئی مسلمان نیچے اتر کر خود پانی نہیںلے سکتا تھا۔
رہا دوسری قسم کا بازارِ مالیات، تو اس میں شرحِ سود کا تعین اور اس کا اتار چڑھائو جن بنیادوں پر ہوتا ہے ان کے بارے میں ماہرین معاشیات کے دو مسلک ہیں:
ایک گروہ کہتا ہے کہ طلب اور رسد کا قانون اس کی بنیاد ہے۔ جب روپیہ لگانے کے خواہش مند کم ہوتے ہیں اور قرض دینے کے قابل رقمیں زیادہ ہو جاتی ہیں تو سود کی شرح گرنے لگتی ہے، یہاں تک کہ جب وہ بہت زیادہ گر جاتی ہے تو لوگ اس موقع کو غنیمت سمجھ کر کاروبار میں لگانے کے لیے روپیہ قرض لینے پر بکثرت آمادہ ہونے لگے ہیں۔ پھر جب روپے کی مانگ بڑھنی شروع ہوتی ہے اور قابل قرض رقمیں کم ہونے لگتی ہیں تو شرح سود چڑھنی شروع ہو جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس حد کو پہنچ جاتی ہے کہ قرض کی مانگ رک جاتی ہے۔
غور کیجئے، اس کے معنی کیا ہیں؟ سرمایہ دار یہ نہیں کرتا کہ سیدھے اور معقول طریقے سے کاروباری آدمی کے ساتھ شرکت کا معاملہ طے کرے اور انصاف کے ساتھ اس کے واقعی منافع میں اپنا حصہ لگائے۔ اس کے بجائے وہ ایک اندازہ کرتا ہے کہ کاروبار میں اس شخص کو کم از کم اتنا فائدہ ہوگا، لہٰذا جو رقم میں اسے دے رہا ہوں اس پر مجھے اتنا سود ملنا چاہیے۔ دوسری طرف کاروباری آدمی بھی اندازہ کرتا ہے کہ جو روپیہ میں اس سے لے رہا ہوں وہ مجھے زیادہ سے زیادہ اتنا نفع دے سکتا ہے لہٰذا سود اس سے زیادہ نہ ہونا چاہیے۔ دونوں قیاس (speculation) سے کام لیتے ہیں۔ سرمایہ دار ہمیشہ کاروبار کے منافع کا مبالغہ آمیز تخمینہ کرتا ہے اور کاروبار ی آدمی نفع کی امیدوں کے ساتھ نقصان کے اندیشوں کو بھی سامنے رکھتا ہے۔ اس بنا پر دونوں کے درمیان تعاون کے بجائے ایک دائمی کشمکش برپا رہتی ہے۔ جب کاروباری آدمی نفع کی امید پر سرمایہ لگانا چاہتا ہے تو سرمایہ دار اپنے سرمایہ کی قیمت بڑھانی شروع کر دیتا ہے یہاں تک کہ اتنی بڑھا جاتا ہے کہ اس قدر شرح سود پر روپیہ لے کر کام میں لگانا کسی طرح نفع بخش نہیں رہتا۔ اس طرح آخر کار روپے کا کاروبار میں لگنا بند ہو جاتا ہے اور معاشی ترقی کی رفتار یکایک رک جاتی ہے۔ پھر جب کساد بازاری کا سخت دورہ پوری کاروباری دنیا پر پڑ جاتا ہے اور سرمایہ دار دیکھتا ہے کہ اس کی اپنی تباہی قریب آلگی ہے تو وہ شرحِ سود کو اس حد تک گرا دیتا ہے کہ کاروباری آدمیوں کو اس شرح پر روپیہ لے کر لگانے میں نفع کی امید ہو جاتی ہے اور صنعت و تجارت کے بازار میں پھر سرمایہ آنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگرمعقول شرائط پر سرمائے اور کاروبار کے درمیان حصے دارانہ تعاون ہوتا تو ایک ہموار طریقے سے دنیا کی معیشت کا نظام چل سکتا تھا۔ لیکن جب قانون نے سرمایہ دار کے لیے سود پر روپیہ چلانے کا راستہ کھول دیا تو سرمائے اور کاروبار کے باہمی تعلقات میں سٹے بازی اور جواری پن کی روح داخل ہو گئی اور شرحِ سود کی کمی و بیشی ایسے قمار بازانہ طریقوں پر ہونے لگی جن کی بدولت پوری دنیا کی معاشی زندگی ایک دائمی بحران میں مبتلا رہتی ہے۔
دوسرا گروہ شرح سود کی توجیہہ اس طرح کرتا ہے کہ جب سرمایہ دار روپے کو خود اپنے لیے قابل استعمال رکھنا زیادہ پسند کرتا ہے تووہ سود کی شرح بڑھا دیتا ہے ، اور جب اس کی یہ خواہش کم ہو جاتی ہے تو سود کی شرح بھی گھٹ جاتی ہے۔ رہا یہ سوال کہ سرمایہ دار نقد روپیہ اپنے پاس رکھنے کو کیوں ترجیح دیتا ہے؟ تو اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ اس کے متعدد وجوہ ہیں۔ کچھ نہ کچھ روپیہ اپنی ذاتی یا کاروباری ضرورتوں کے لیے رکھنا ضروری ہوتا ہے اور کچھ نہ کچھ ناگہانی حالات اور غیر متوقع ضروریات کے لیے بھی محفوظ رکھنا پڑتا ہے۔ مثلاً کسی ذاتی معاملے میں کوئی غیر معمولی خرچ ، یا کسی اچھے سودے کا موقع یکایک سامنے آ جانا ۔ ان دو وجوہ کے علاوہ تیسری وجہ، اور زیادہ اہم وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دار یہ پسند کرتا ہے کہ مستقبل میں کسی وقت قیمتیں گرنے یا شرح سود چڑھنے کی صورت میں فائدہ اٹھانے کے لیے اس کے پاس نقد روپیہ کافی موجود رہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان وجوہ کی بنا پر روپے کو اپنے لیے قابلِ استعمال رکھنے کی جو خواہش سرمایہ دار کے دل میں پیدا ہوتی ہے ، کیا وہ گھٹتی بڑھتی ہے کہ اس کا اثر شرحِ سود کے اتار چڑھائو کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے؟ اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ہاں، مختلف شخصی، اجتماعی، سیاسی اور معاشی اسباب سے کبھی یہ خواہش بڑھ جاتی ہے، اس لیے سرمایہ دار شرحِ سود بڑھا دیتا ہے اور کاروبار کی طرف سرمایہ آنا کم ہو جاتا ہے۔ اور کبھی اس خواہش میں کمی آ جاتی ہے اس لیے سرمایہ دار شرح سود گھٹا دیتا ہے اور اس کے گھٹنے کی وجہ سے لوگ تجارت و صنعت میں لگانے کے لیے زیادہ سرمایہ قرض لینے لگتے ہیں۔
اس خوش نما توجیہہ کے پیچھے ذرا جھانک کر دیکھیے کہ کیا چیز چھپی ہوئی ہے۔ جہاں تک خانگی ضروریات یا ذاتی کاروبار کی ضروریات کا تعلق ہے، ان کی بنا پر معمولی اور غیر معمولی سب طرح کے حالات میں، سرمایہ دار کی یہ خواہش کہ وہ سرمایہ کو اپنے لیے قابل استعمال رکھے، بمشکل اس کے پانچ فیصدی سرمائے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس لیے پہلی دونوں وجہوں کو خواہ مخواہ اہمیت دینا صحیح نہیں ہے۔ اپنا 95 فیصدی سرمایہ جس بنیاد پر وہ کبھی روکتا ہے اور کبھی بازارِ قرض کی طرف بہاتا ہے ، وہ دراصل تیسری وجہ ہے، اور اس کا تجزیہ کیجیے تو اس کے اندر سے اصل حقیقت یہ برآمد ہوگی کہ سرمایہ دار کمال درجہ خود غرضانہ ذہنیت کے ساتھ دنیا کے اور خود اپنے ملک اور قوم کے حالات کو دیکھتا رہتا ہے۔ ان حالات میں کبھی وہ کچھ مخصوص آثار دیکھتا ہے اور ان کی بنا پر چاہتا ہے کہ اس کے پاس وہ ہتھیار ہر وقت موجود رہے جس کے ذریعے سے وہ سوسائٹی کی مشکلات، آفات اور مصائب کا ناجائز فائدہ اٹھاسکے اور اس کی پریشانیوں میں اضافہ کر کے اپنی خوش حالی بڑھا سکے۔ اس لیے وہ سٹے بازی کی خاطر سرمایہ کو اپنے لیے روک لیتا ہے، شرح سود بڑھا دیتا ہے، تجارت و صنعت کی طرف سرمائے کا بہائو یک لخت بند کر دیتا ہے اور سوسائٹی پر اس بلائے عظیم کا دروازہ کھول دیتا ہے جس کا نام ’’کساد بازاری‘‘ (depression) ہے۔ پھر جب وہ دیکھتا ہے کہ اس راستے سے جو کچھ حرام خوری وہ کرسکتا تھا کر چکا، آگے مزید فائدے کا کوئی امکان باقی نہیں ہے، بلکہ نقصان کی سرحد قریب آلگی ہے، تو ’’سرمائے کو اپنے لیے قابل استعمال رکھنے کی خواہش‘‘ اس کے نفسِ خبیث میں کم ہو جاتی ہے اور وہ کم شرحِ سود کا لالچ دے کر کاروباری لوگوں کو صلائے عام دینے لگتا ہے کہ آئو، میرے پاس بہت سا روپیہ تمہارے لیے قابلِ استعمال پڑا ہے۔
شرح سود کی بس یہی دو توجیہات موجودہ زمانے کے ماہرین معاشیات نے کی ہیں، اور اپنی اپنی جگہ دونوں ہی صحیح ہیں ۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان میں سے جو وجہ بھی ہو، اس سے آخر ایک ’’معقول‘‘ اور ’’فطری‘‘ شرح کس طرح متعین ہوتی یا ہو سکتی ہے؟ یا تو ہمیں عقل اور معقولیت اور فطرت کے مفہومات بدلنے پڑیں گے ، یا پھر یہ ماننا پڑے گا کہ سود خود جس قدر نامعقول چیز ہے اس کی شرح بھی اتنے ہی نامعقول اسباب سے متعین ہوتی اور گھٹتی بڑھتی ہے۔

سود کا ’’معاشی فائدہ‘‘ اور اس کی ’’ضرورت‘‘

اس کے بعد سود کے وکلاء یہ بحث چھیڑ دیتے ہیں کہ سود ایک معاشی ضرورت ہے اور کچھ فوائد ایسے ہیں جو اس کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتے۔ اس دعوے کی تائید میں جو دلائل وہ دیتے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے:
۱۔ انسانی معیشت کا سارا کاروبار سرمائے کے اجتماع پر منحصر ہے، اور سرمائے کا جمع ہونا بغیر اس کے ممکن نہیں کہ لوگ اپنی ضروریات اور خواہشات پر پابندی عائد کریں اور اپنی ساری کی ساری آمدنیوں کو اپنی ذات پر خرچ نہ کرڈالیں بلکہ کچھ نہ کچھ پس انداز بھی کرتے رہا کریں۔ یہی ایک صورت ہے سرمایہ اکٹھا ہونے کی۔ لیکن آخر ایک آدمی کیوں اپنی ضروریات کو روکنے اور کفایت شعاری کرنے پر آمادہ ہو، اگر اسے اس ضبطِ نفس اور اس قربانی کا کوئی اجر نہ ملے؟ سود ہی تو وہ اجر ہے جس کی امید لوگوں کو روپیہ بچانے پر آمادہ کرتی ہے۔ تم اسے حرام کر دو گے تو سرے سے فاضل آمدنیوں کو محفوظ کرنے کا سلسلہ ہی بند ہو جائے گا جو سرمایہ کی بہم رسانی کا اصل ذریعہ ہے۔
۲۔ معاشی کاروبار کی طرف سرمائے کے بہائو کی آسان ترین صورت یہ ہے کہ لوگوں کے لیے اپنی جمع شدہ دولت کو سود پر چلانے کا دروازہ کھلا رہے۔ اس طرح سود ہی کا لالچ ان سے روپیہ جمع کراتا ہے، پھر سود ہی کا لالچ ان کو اس بات پر بھی آمادہ کرتا رہتا ہے کہ اپنی پس انداز کی ہوئی رقموں کو بیکار نہ ڈال رکھیں بلکہ کاروباری لوگوں کے حوالہ کر دیں اور ایک مقرر شرح کے مطابق سود وصول کرتے رہیں۔ اس دروازے کو بند کرنے کے معنی یہ ہیں کہ نہ صرف روپیہ جمع کرنے کا ایک اہم ترین محرک غائب ہو جائے بلکہ جو تھوڑا بہت سرمایہ جمع ہو وہ بھی کاروبار میں لگنے کے لیے حاصل نہ ہوسکے۔
۳۔ سود صرف یہی نہیں کرتا کہ سرمایہ جمع کراتا اور اسے کاروبار کی طرف کھینچ کر لاتا ہے، بلکہ وہی اس کے غیر مفید استعمال کو روکتا بھی ہے۔ اور شرح سود وہ چیز ہے جو بہترین طریقہ سے آپ ہی آپ اس امر کا انتظام کرتی رہتی ہے کہ سرمایہ کاروبار کی مختلف ممکن تجویزوں میں سے ان تجویزوں کی طرف جائے جو ان میں سب سے زیادہ بار آور ہوں۔ اس کے سوا کوئی تدبیر ایسی سمجھ میں نہیں آتی جو مختلف عملی تجویزوں میں سے نافع کو غیر نافع سے اور زیادہ نافع کو کم نافع سے ممیّز کرلے اور انفع کی طرف سرمائے کا رخ پھیرتی رہے۔ تم سود کو اڑا دو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اول تو لوگ بڑی بے پروائی سے سرمایہ استعمال کرنے لگیں گے، اور پھر بلالحاظِ نفع و نقصان، ہر طرح کے الٹے سیدھے کاموں میں اسے لگانا شروع کر دیں گے۔
۴۔ قرض وہ چیز ہے جو انسانی زندگی کی ناگزیر ضروریات میں سے ہے۔ افراد کو بھی اپنے ذاتی معاملات میں اس کی ضرورت پیش آتی ہے، کاروباری لوگوں کو بھی آئے دن اس کی حاجت رہتی ہے، اور حکومتوں کا کام بھی اس کے بغیر نہیں چل سکتا۔ اس کثرت سے اتنے بڑے پیمانے پر قرض کی بہم رسانی آخر نری خیرات کے بل پر کہاں تک ہوسکتی ہے؟ اگر تم صاحبِ سرمایہ لوگوں کو سود کا لالچ نہ دو گے اور اس امر کا اطمینان بہم نہ پہنچائو گے کہ ان کے راس المال کے ساتھ ان کا سود بھی ان کو ملتا رہے گا تو وہ بمشکل ہی قرض دینے پر آمادہ ہوں گے اور اس طرح قرضوں کی بہم رسانی رک جانے کا نہایت برا اثر پوری معاشی زندگی پر مترتب ہوگا۔ ایک غریب آدمی کو اپنے برے وقت پر مہاجن سے قرض مل تو جاتا ہے۔ سود کا لالچ نہ ہو تو اس کا مردہ بے کفن ہی پڑا رہ جائے اور کوئی اس کی طرف مدد کا ہاتھ نہ بڑھائے۔ ایک تاجر کو تنگ مواقع پر سودی قرض فوراً مل جاتا ہے اور اس کا کام چلتا رہتا ہے۔ یہ دروازہ بند ہو جائے تو نہ معلوم کتنی مرتبہ اس کا دیوالہ نکلنے کی نوبت آ جائے۔ ایسا ہی معاملہ حکومتوں کا بھی ہے کہ ان کی ضرورتیں سودی قرض ہی سے پوری ہوتی رہتی ہیں ، ورنہ کروڑوں روپے فراہم کرنے والے سخی داتا آخر انہیں روز روز کہاں مل سکتے ہیں؟

کیا سود فی الواقع ضروری اور مفید ہے؟

آیئے اب ہم ان میں سے ایک ایک ’’فائدے‘‘ اور ’’ضرورت‘‘ کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ آیا فی الحقیقت وہ کوئی فائدہ اور ضرورت ہے بھی یا یہ سب کچھ محض ایک شیطانی وسوسہ ہے۔
اولین غلط فہمی یہ ہے کہ معاشی زندگی کے لیے افراد کی کفایت شعاری اور زر اندوزی کو ایک ضروری اور مفید چیز سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ درحقیقت ساری معاشی ترقی و خوش حالی منحصر ہے اس پر کہ جماعت بحیثیتِ مجموعی جتنا کچھ سامانِ زیست پیدا کرتی جائے وہ جلدی جلدی فروخت ہوتا چلا جائے تا کہ پیداوار اور اس کی کھپت کا چکر توازن کے ساتھ اور تیز رفتاری کے ساتھ چلتا رہے۔ یہ بات صرف اسی صورت میں حاصل ہوسکتی ہے جب کہ لوگ بالعموم اس امر کے عادی ہوں کہ معاشی سعی و عمل کے دوران میں جتنی کچھ دولت ان کے حصہ میں آئے اسے صرف کرتے رہیں، اور اس قدر فراخ دل ہوں کہ اگر ان کے پاس ان کی ضرورت سے زیادہ دولت آگئی ہو تو اسے جماعت کے کم نصیب افراد کی طرف منتقل کر دیا کریں تا کہ وہ بھی بفراغت اپنے لیے ضروریات زندگی خرید سکیں۔ مگر تم اس کے برعکس لوگوں کو یہ سکھاتے ہو کہ جس کے پاس ضرورت سے زیادہ دولت پہنچی ہو وہ بھی کنجوسی برت کر (جسے تم ضبط نفس اور زہد اور قربانی وغیرہ الفاظ سے تعبیر کرتے ہو) اپنی مناسب ضروریات کا ایک اچھا خاصا حصہ پورا کرنے سے باز رہے، اور اس طرح ہر شخص زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے کی کوشش کرے۔ تمہارے نزدیک اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ سرمایہ اکٹھا ہو کر صنعت و تجارت کی ترقی کے لیے بہم پہنچ سکے گا۔ لیکن درحقیقت اس کا نقصان یہ ہوگا کہ جو مال اس وقت بازار میں موجود ہے اس کا ایک بڑا حصہ یونہی پڑا رہ جائے گا۔ کیوں کہ جن لوگوں کے اندر قوت خرید پہلے ہی کم تھی وہ تو استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے بہت سا مال خرید نہ سکے، اور جو بقدرِ ضرورت خرید سکتے تھے انہوں نے استطاعت کے باوجود پیداوار کا اچھا خاصا حصہ نہ خریدا، اور جن کے پاس ان کی ضرورت سے زیادہ قوت خریداری پہنچ گئی تھی انہوں نے اسے دوسروں کی طرف منتقل کرنے کے بجائے اپنے پاس روک کر رکھ لیا۔ اب اگر ہر معاشی چکر میں یہی ہوتا رہے کہ بقدر ضرورت اور زائد از ضرورت قوت خرید پانے والے لوگ اپنی اس قوت کے بڑے حصے کو نہ تو خود پیداوار کے خریدنے میں استعمال کریں نہ کم قوت خرید رکھنے والوں کو دیں، بلکہ اسے روکتے اور جمع کرتے چلے جائیں، تو اس کا حاصل یہ ہوگا کہ ہر چکر میں جماعت کی معاشی پیداوار کا معتدبہ حصہ فروخت سے رکتا چلا جائے گا۔ مال کی کھپت کم ہونے سے روزگار میں کمی واقع ہوگی، روزگار کی کمی آمدنیوں کی کمی پر منتج ہوگی، اور آمدنیوں کی کمی سے پھر اموالِ تجارت کی کھپت میں مزید کمی رونما ہوتی چلی جائے گی۔ اس طرح چند افراد کی زر اندوزی بہت سے افراد کی بدحالی کا سبب بنے گی اور آخر کار یہ چیز خود ان زر اندوز افراد کے لیے بھی وبال جان بن جائے گی، کیونکہ جس دولت کو وہ خریداری میں استعمال کرنے کے بجائے سمیٹ سمیٹ کر مزید پیداوار میں استعمال کریں گے آخر اس کے ذریعے سے تیار کی ہوئی پیداوار کھپے گی کہاں؟
اس حقیقت پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اصل معاشی ضرورت تو ان اسباب اور محرکات کو دور کرنا ہے جن کی بنا پر افراد اپنی آمدنیوں کو خرچ کرنے کے بجائے روک رکھنے اور جمع کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ساری جماعت کی معاشی فلاح یہ چاہتی ہے کہ ایک طرف اجتماعی طور پر ایسے انتظامات کر دیے جائیں جن کی بدولت ہر شخص کو اپنے برے وقت پر مالی مدد مل جایا کرے تا کہ لوگوں کو اپنی آمدنیاں جمع کرنے کی حاجت ہی نہ محسوس ہو، اور دوسری طرف جمع شدہ دولت پر زکوٰۃ عائد کی جائے تا کہ لوگوں کے اندر جمع کرنے کا میلان کم ہو، اور اس کے باوجود جو دولت رک جائے اس کا ایک حصہ بہرحال ان لوگوں تک پہنچتا رہے جنہوں نے گردشِ دولت میں سے کم حصہ پایا ہے۔ لیکن تم اس کے برعکس سود کا لالچ دے دے کر لوگوں کے طبعی بخل کو اور زیادہ اکساتے ہو، اور جو بخیل نہیں ہیں ان کو بھی یہ سکھاتے ہو کہ وہ خرچ کرنے کے بجائے مال جمع کریں۔
پھر اس غلط طریقے سے اجتماعی مفاد کے خلاف جو سرمایہ اکٹھا ہوتا ہے اس کو تم پیدائش دولت کے کاروبارکی طرف لاتے بھی ہو تو سود کے راستے سے لاتے ہو۔ یہ اجتماعی مفاد پر تمہارا دوسرا ظلم ہے۔ اگر یہ اکٹھی کی ہوئی دولت اس شرط پر کاروبار میں لگتی ہے کہ جتنا کچھ منافع کاروبار میں ہوگا اس میں سے سرمایہ دار کو تناسب کے مطابق حصہ مل جائے گا تب بھی چنداں مضائقہ نہ تھا۔ مگر تم اس کو اس شرط پر بازارِ مالیات میں لاتے ہو کہ کاروبار میں چاہے منافع ہو یا نہ ہو، اور چاہے کم منافع ہو یا زیادہ، بہرحال سرمایہ دار اس قدر فی صدی منافع ضرور پائے گا۔ اس طرح تم نے اجتماعی معیشت کو دوہرا نقصان پہنچایا۔ ایک نقصان وہ جو روپے کو خرچ نہ کرنے اور روک رکھنے سے پہنچا اور دوسرا یہ کہ جو روپیہ روکا گیا تھا وہ اجتماعی معیشت کی طرف پلٹا بھی تو حصہ داری کے اصول پر کاروبار میں شریک نہیں ہوا بلکہ قرض بن کر پورے معاشرے کی صنعت و تجارت پر لد گیا اور تمہارے قانون نے اس کو یقینی منافع کی ضمانت دے دی۔ اب تمہارے اس غلط نظام کی وجہ سے صورتِ حال یہ ہوگئی کہ معاشرے کے بکثرت افراد اس قوتِ خریداری کو جو انہیں حاصل ہوتی ہے، اجتماعی پیداوار کی خریداری میں صرف کرنے کے بجائے روک روک کر ایک سود طلب قرضے کی شکل میں معاشرے کے سر پر لادتے چلے جاتے ہیں۔ اور معاشرہ اس روز افزوں پیچیدگی میں مبتلا ہوگیا ہے کہ آخر وہ اس ہر لحظہ بڑھنے والے قرض و سود کو کس طرح ادا کرے جب کہ اس سرمائے سے تیار کیے ہوئے مال کی کھپت بازار میں مشکل ہے اور مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ لاکھوں کروڑوں آدمی اسے اس لیے نہیں خریدتے کہ ان کے پاس خریدنے کے لیے پیسہ نہیں۔ اور ہزارہا آدمی اس کو اس لیے نہیں خریدتے کہ وہ اپنی قوتِ خریداری کو مزید سود طلب قرض بنانے کے لیے روکتے چلے جا رہے ہیں۔
تم اس سود کا یہ فائدہ بتاتے ہو کہ اس کے دبائو کی وجہ سے کاروباری آدمی مجبور ہوتا ہے کہ سرمائے کے فضول استعمال سے بچے اور اس کو زیادہ سے زیادہ نفع بخش طریقے سے استعمال کرے۔ تم شرحِ سود کی یہ کرامت بیان کرتے ہو کہ وہ خاموشی کے ساتھ کاروبار کی ہدایت و رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی رہتی ہے اور یہ اسی کا فیضان ہے کہ سرمایہ اپنے بہائو کے لیے تمام ممکن راستوں میں سے اس کاروبار کے راستے کو چھانٹ لیتا ہے جو سب سے زیادہ نافع ہوتا ہے ۔ لیکن ذرا اپنی اس سخن سازی کے پردے کو ہٹا کر دیکھو کہ اس کے نیچے اصل حقیقت کیا چھپی ہوئی ہے۔ دراصل سود نے پہلی خدمت تو یہ انجام دی کہ ’’فائدے‘‘ اور ’’منفعت‘‘ کی تمام دوسری تفسیریں اس کے فیض سے متروک ہو گئیں اور ان الفاظ کا صرف ایک ہی مفہوم باقی رہ گیا ہے، یعنی ’’مالی فائدہ‘‘ اور ’’مادی منفعت‘‘۔ اس طرح سرمائے کو بڑی یکسوئی حاصل ہو گئی۔ پہلے وہ ان راستوں کی طرف بھی چلا جایا کرتا تھا جن میں مالی فائدے کے سوا کسی اور قسم کا فائدہ ہوتا تھا۔ مگر اب وہ سیدھا ان راستوں کا رخ کرتا ہے جدھر مالی فائدے کا یقین ہوتا ہے پھر دوسری خدمت وہ اپنی شرحِ خاص کے ذریعے سے یہ انجام دیتا ہے کہ سرمائے کے مفید استعمال کا معیار سوسائٹی کا فائدہ نہیں بلکہ صرف سرمایہ دار کا فائدہ بن جاتا ہے۔ شرح سود یہ طے کر دیتی ہے کہ سرمایہ اس کام میں صرف ہوگا جو مثلاً 6فی صدی سالانہ یا اس سے زیادہ منافع سرمایہ دار کو دے سکتا ہو۔ اس سے کم نفع دینے والا کوئی کام اس قابل نہیں ہے کہ اس پر مال صرف کیا جائے۔ اب فرض کیجیے کہ ایک اسکیم سرمایہ کے سامنے یہ آتی ہے کہ ایسے مکانات تعمیر کئے جائیں جو آرام دہ بھی ہوں اور جنہیں غریب لوگ کم کرایہ پر لے سکیں۔ اور دوسری اسکیم یہ آتی ہے کہ ایک شاندار سینما تعمیر کیا جائے۔ پہلی اسکیم 6 فیصدی سے کم منافع کی امید دلاتی ہے اور دوسری اسکیم اس سے زیادہ نفع دیتی نظر آتی ہے۔ دوسرے حالات میں تو اس کا امکان تھا کہ سرمایہ ’’نادانی‘‘ کے ساتھ پہلی اسکیم کی طرف بہہ جاتا، یا کم از کم ان دونوں کے درمیان متردد ہو کر استخارہ کرنے کی ضرورت محسوس کرتا۔ مگر یہ شرح سود کا فیض ہدایت ہے کہ وہ سرمایہ کو بلاتامل دوسری اسکیم کا راستہ دکھا دیتا ہے اور پہلی اسکیم کو اس طرح پیچھے پھینکتا ہے کہ سرمایہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔ اس پر مزید کرامت شرح سود میں یہ ہے کہ وہ کاروباری آدمی کو مجبور کر دیتی ہے کہ وہ ہر ممکن طریقہ سے ہاتھ پائوں مار کر اپنے منافع کو اس حد سے اوپر ہی اوپر رکھنے کی کوشش کرے جو سرمایہ دار نے کھینچ دی ہے، خواہ اس غرض کے لیے اس کو کیسے ہی غیر اخلاقی طریقے اختیار کرنے پڑیں۔ مثلاً اگر کسی شخص نے ایک فلم کمپنی قائم کی ہے اور جو سرمایہ اس میں لگا ہوا ہے اس کی شرح سود ۶ فیصدی سالانہ ہے تو اس کو لامحالہ وہ طریقے اختیار کرنے پڑیں گے جن سے اس کے کاروبار کا منافع ہر حال میں اس شرح سے زیادہ رہے۔ یہ بات اگر ایسے فلم تیار کرنے سے حاصل نہ ہوسکے جو اخلاقی حیثیت سے پاکیزہ اور علمی حیثیت سے مفید ہوں، تو وہ مجبور ہوگا کہ عریاں اور فحش کھیل تیار کرے اور ایسے ایسے طریقوں سے ان کا اشتہار دے جن سے عوام کے جذبات بھڑکیں اور وہ شہوانیت کے طوفان میں بہہ کر اس کے کھیل دیکھنے کے لیے جوق در جوق امنڈ آئیں۔
یہ ہے ان فوائد کی حقیقت جو تمہارے نزدیک سود سے حاصل ہوتے ہیں اور جن کے حصول کا کوئی ذریعہ سود کے سوا نہیں ہے۔ اب ذرا اس ضرورت کا جائزہ بھی لے لیجئے جو آپ کے نزدیک سود کے بغیر پوری نہیں ہوسکتی۔ بلاشبہ قرض انسانی زندگی کو ضروریات میں سے ہے۔ اس کی ضرورت افراد کو اپنی شخصی حاجات میں بھی پیش آتی ہے، صنعت اور تجارت اور زراعت وغیرہ معاشی کاموں میں بھی ہر وقت اس کی مانگ رہتی ہے اور حکومت سمیت تمام اجتماعی ادارے بھی اس کے حاجت مند رہتے ہیں۔ لیکن یہ کہنابالکل غلط ہے کہ سود کے بغیر قرض کی بہم رسانی غیر ممکن ہے۔ دراصل یہ صورتِ حال کہ افراد سے لے کر قوم تک کسی کو بھی ایک پیسہ بلا سود قرض نہیں ملتا، اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ آپ نے سود کو قانوناً جائز کر رکھا ہے۔ اس کو حرام کیجئے اور معیشت کے ساتھ اخلاق کا بھی وہ نظام اختیار کیجیے جو اسلام نے تجویز کیا ہے، پھر آپ دیکھیں گے کہ شخصی حاجات اور کاروبار اور اجتماعی ضروریات، ہر چیز کے لیے قرض بلا سود ملنا شروع ہو جائے گا، بلکہ عطیے تک ملنے لگیں گے۔ اسلام عملاً اس کا ثبوت دے چکا ہے۔ صدیوں مسلمان سوسائٹی سود کے بغیر بہترین طریقے پر اپنی معیشت کا سارا کام چلاتی رہی ہے۔ آپ کے اس منحوس دورِ سود خوری سے پہلے کبھی مسلمان سوسائٹی کا یہ حال نہیں رہا ہے کہ کسی مسلمان کا جنازہ اس لیے بے کفن پڑا رہ گیا ہو کہ اس کے وارث کو کہیں بلا سود قرض نہیں ملا، یا مسلمانوں کی صنعت و تجارت اور زراعت اس لیے بیٹھ گئی ہو کہ کاروباری ضروریات کے مطابق قرض حسن بہم پہنچنا غیر ممکن ثابت ہوا، یا مسلمان حکومتیں رفاہِ عام کے کاموں کے لیے اور جہاد کے لیے اس وجہ سے سرمایہ نہ پاسکی ہوں کہ ان کی قوم سود کے بغیر اپنی حکومت کو روپیہ دینے پر آمادہ نہ تھی۔ لہٰذا آپ کا یہ دعویٰ کہ قرض حسن ناقابل عمل ہے اور قرض و استقراض کی عمارت صرف سود ہی پر کھڑی ہوسکتی ہے، کسی منطقی تردید کا محتاج نہیں ہے۔ ہم اپنے صدیوں کے عمل سے اسے غلط ثابت کر چکے ہیں۔

(۳)سُود کے مفسدات

فَمَنْ جَاۗءَہٗ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ فَانْــتَہٰى فَلَہٗ مَا سَلَـفَ۝۰ۭ وَاَمْرُہٗٓ اِلَى اللہِ۝۰ۭ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ۝۰ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَo يَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ۝۰ۭ وَاللہُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍo البقرہ 275,276:2
لہٰذا جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سود خوری سے باز آجائے تو وہ جو کچھ پہلے کھا چکا سو کھا چکا، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے، اور جو اس کے حکم کے بعد پھر اس حرکت کا اعادہ کرے وہ جہنمی ہے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اللہ سود کا مَٹھ مار دیتا ہے اور صدقات کو نشوونما دیتا ہے، اور اللہ کسی ناشکرے بدعمل انسان کو پسند نہیں کرتا۔
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو کچھ سود خور نے پہلے کھالیا اسے اللہ معاف کر دے گا بلکہ ارشاد یہ فرمایا کہ اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اس فقرے سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’جو کھا چکا سو کھا چکا‘‘ کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو کھا چکا اسے معاف کر دیا گیا، بلکہ اس سے مخصوص قانونی رعایت مراد ہے۔ جو سود پہلے کھایا جا چکا ہے اس کو واپس دینے کا قانوناً مطالبہ نہیں کیا جائے گا، کیوں کہ اگر اس کا مطالبہ کیا جائے تو مقدمات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جائے جو کہیں جا کر ختم نہ ہو۔ مگر اخلاقی حیثیت سے اس مال کی نجاست بدستور باقی رہے گی جو کسی شخص نے سودی کاروبار سے سمیٹا ہو۔ اگر وہ حقیقت میں خدا سے ڈرنے والا ہوگا اور اس کا معاشی و اخلاقی نقطۂ نظر واقعی اسلام قبول کرنے سے تبدیل ہو چکا ہوگا تو وہ خود اپنی اس دولت کو جو حرام ذرائع سے آئی تھی اپنی ذات پر خرچ کرنے سے پرہیز کرے گا اور کوشش کرے گا کہ جہاں تک ان حقداروں کا پتہ چلایا جاسکتا ہے جن کا مال اس کے پاس ہے اس حد تک ان کا مال انہیں واپس کر دے اور جس حصۂ مال کے مستحقین کی تحقیق نہ ہوسکے اسے اجتماعی فلاح و بہبود پر صرف کرے۔ یہی عمل اسے خدا کی سزا سے بچا سکے گا۔ رہا وہ شخص جو پہلے کمائے ہوئے مال سے بدستور لطف اٹھاتا رہے تو بعید نہیں کہ وہ اپنی اس حرام خوری کی سزا پا کر رہے۔
اس آیت میں ایک ایسی صداقت بیان کی گئی ہے جو اخلاقی اور روحانی حیثیت سے بھی سراسر حق ہے اور معاشی اور تمدنی حیثیت سے بھی۔ اگرچہ بظاہر سود سے دولت بڑھتی نظر آتی ہے اور صدقات سے گھٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے لیکن درحقیقت معاملہ اس کے برعکس ہے۔ خدا کا قانونِ فطرت یہی ہے کہ سود اخلاقی و روحانی اور معاشی و تمدنی ترقی میں نہ صرف مانع ہوتا ہے بلکہ تنزل کا ذریعہ بنتا ہے اور اس کے برعکس صدقات سے (جن میں قرضِ حسن بھی شامل ہے) اخلاق و روحانیت اور تمدن و معیشت ہر چیز کو نشوونما نصیب ہوتا ہے۔
اخلاقی و روحانی حیثیت سے دیکھیے تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ سود دراصل خود غرضی، بخل، تنگ دلی اور سنگ دلی جیسی صفات کا نتیجہ ہے اور وہ انھی صفات کو انسان میں نشوونما بھی دیتا ہے۔ اس کے برعکس صدقات نتیجہ ہیں فیاضی، ہمدردی، فراخ دلی اور عالی ظرفی جیسی صفات کا، اور صدقات پر عمل کرتے رہنے سے یہی صفات انسان کے اندر پرورش پاتی ہیں۔ کون ہے جو اخلاقی صفات کے ان دونوں مجموعوں میں سے پہلے مجموعے کو بدترین اور دوسرے کو بہترین نہ مانتا ہو؟
تمدنی حیثیت سے دیکھیے تو بادنیٰ تامل یہ بات ہر شخص کی سمجھ میں آجائے گی کہ جس سوسائٹی میں افراد ایک دوسرے کے ساتھ خود غرضی کا معاملہ کریں، کوئی شخص اپنی ذاتی غرض اور ذاتی فائدے کے بغیر کسی کے کام نہ آئے، ایک آدمی کی حاجتمندی کو دوسرا آدمی اپنے لیے نفع اندوزی کا موقع سمجھے اور اس کا پورا فائدہ اٹھائے، اور مالدار طبقوں کا مفاد عامۃ الناس کے مفاد کی ضد ہو جائے، ایسی سوسائٹی کبھی مستحکم نہیں ہوسکتی۔ اس کے افراد میں آپس کی محبت کے بجائے باہمی بغض و حسد اور بے دردی و بے تعلقی نشوونما پائے گی۔ اس کے اجزاء ہمیشہ انتشار و پراگندگی کی طرف مائل رہیں گے۔ اور اگر دوسرے اسباب بھی اس صورت حال کے لیے مددگار ہو جائیں تو ایسی سوسائٹی کے اجزاء کا باہم متصادم ہو جانا بھی کچھ مشکل نہیں ہے۔ اس کے برعکس جس سوسائٹی کا اجتماعی نظام آپس کی ہمدردی پر مبنی ہو، جس کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ فیاضی کا معاملہ کریں، جس میں ہر شخص دوسرے کی حاجت کے موقع پر فراخ دلی کے ساتھ مدد کا ہاتھ بڑھائے، اور جس میں باوسیلہ لوگ بے وسیلہ لوگوں سے ہمدردانہ اعانت یا کم از کم منصفانہ تعاون کا طریقہ برتیں، ایسی سوسائٹی میں آپس کی محبت، خیر خواہی اور دلچسپی نشوونما پائے گی، اس کے اجزاء ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ اور ایک دوسرے کے پشتیبان ہوں گے، اس میں اندرونی نزاع و تصادم کو راہ پانے کا موقع نہ مل سکے گا، اس میں باہمی تعاون اور خیر خواہی کی وجہ سے ترقی کی رفتار پہلی سوسائٹی کی بہ نسبت بہت زیادہ تیز ہوگی۔
اب معاشی حیثیت سے دیکھیے۔ معاشیات کے نقطۂ نظر سے سودی قرض کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ قرض جو اپنی ذاتی ضروریات پر خرچ کرنے کے لیے مجبور اور حاجت مند لوگ لیتے ہیں ۔ دوسرا وہ قرض جو تجارت و صنعت و حرفت اور زراعت وغیرہ کے لیے کاموں پر لگانے کے لیے پیشہ ور لوگ لیتے ہیں ۔ ان میں سے پہلی قسم کے قرض کو تو ایک دنیا جانتی ہے کہ اس پر سود وصول کرنے کا طریقہ نہایت تباہ کن ہے۔ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جس میں مہاجن افراد اور مہاجنی ادارے اس ذریعے سے غریب مزدوروں، کاشتکاروں اور قلیل المعاش عوام کا خون نہ چوس رہے ہوں۔ سود کی وجہ سے اس قسم کا قرض ادا کرنا ان لوگوں کے لیے سخت مشکل بلکہ بسا اوقات ناممکن ہو جاتا ہے۔ پھر ایک قرض کو ادا کرنے کے لیے دوسرا اور تیسرا قرض لیتے چلے جاتے ہیں۔ اصل رقم سے کئی گنا سود دے چکنے پر بھی اصل رقم جوں کی توں موجود رہتی ہے۔ محنت پیشہ آدمی کی محنت کا بیشتر حصہ مہاجن لے جاتا ہے اور اس غریب کی اپنی کمائی میں سے اس کے پاس اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے بھی کافی روپیہ نہیں بچتا۔ یہ چیزیں رفتہ رفتہ اپنے کام سے کارکنوں کی دلچسپی ختم کر دیتی ہے، کیوں کہ جب ان کی محنت کا پھل دوسرا لے اڑے تو وہ کبھی دل لگا کر کام نہیں کرسکتے۔ پھر سودی قرض کے جال میں پھنسے ہوئے لوگوں کو ہر وقت کی فکر اور پریشانی اس قدر گھلا دیتی ہے اور تنگدستی کی وجہ سے ان کے لیے صحیح غذا اور علاج اس قدر مشکل ہو جاتا ہے کہ ان کی صحتیں کبھی درست نہیں رہ سکتیں۔ اسی سودی قرض کا حاصل یہ بھی ہوتا ہے کہ چند افراد تو لاکھوں آدمیوں کا خون چوس چوس کر موٹے ہوتے رہتے ہیں مگر بحیثیت مجموعی پوری قوم کی پیدائش دولت اپنے امکانی معیار کی نسبت بہت گھٹ جاتی ہے اور مآلِ کار میں خود وہ خون چوسنے والے افراد بھی اس کے نقصانات سے نہیں بچ سکتے۔ کیوں کہ ان کی اس خود غرضی سے غریب عوام کو جو تکلیفیں پہنچتی ہیں ان کی بدولت مال دار لوگوں کے خلاف غصے اور نفرت کا ایک طوفان دلوں میں اٹھتا اور گھٹتا رہتا ہے اور کسی انقلابی ہیجان کے موقع پر جب یہ آتش فشاں پھٹتا ہے تو ان ظالم مالداروں کو اپنے مال کے ساتھ اپنی جان اور آبرو تک سے ہاتھ دھونے پڑ جاتے ہیں۔
رہا دوسری قسم کا قرض جو کاروبار میں لگانے کے لیے لیا جاتا ہے تو اس پر ایک مقررہ شرح سود کے عائد ہونے سے بے شمار نقصانات پہنچتے ہیں۔ ان میں سے چند نمایاں ترین یہ ہیں:
۱۔ جو کام رائج الوقت شرح سود کے برابر نفع نہ لاسکتے ہوں، چاہے وہ ملک اور قوم کے لیے کتنے ہی ضروری اور مفید ہوں، ان پر لگانے کے لیے روپیہ نہیں ملتا، اور ملک کے تمام مالی وسائل کا بہائو ایسے کاموں کی طرف ہو جاتا ہے جو بازار کی شرح سود کے برابر یا اس سے زیادہ نفع لاسکتے ہوں، چاہے اجتماعی حیثیت سے ان کی ضرورت اور ان کا فائدہ بہت کم ہو یا کچھ بھی نہ ہو۔
۲۔ جن کاموں کے لیے سود پر سرمایہ ملتا ہے خواہ وہ تجارتی کام ہوں یا صنعتی یا زراعتی، ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس میں اس امر کی ضمانت موجود ہو کہ ہمیشہ تمام حالات میں اس کا منافع ایک مقررہ معیار، مثلاً پانچ چھ یا دس فیصدی تک یا اس سے اوپر اوپر ہی رہے گا اور کبھی اس سے نیچے نہیں گرے گا۔ اس کی ضمانت ہونا تو درکنار کسی کاروبار میں سرے سے اسی بات کی کوئی ضمانت موجود نہیں ہے کہ اس میں ضرور منافع ہی ہوگا، نقصان کبھی نہیں ہوگا۔ لہٰذا کسی کاروبار میں ایسے سرمائے کا لگنا جس میں سرمایہ دار کو ایک مقرر شرح کے مطابق منافع دینے کی ضمانت دی گئی ہو نقصان اور خطرے کے پہلوئوں سے کبھی خالی نہیں ہوسکتا۔
۳۔ چونکہ سرمایہ دینے والا نفع و نقصان میں شامل نہیں ہوتا، بلکہ صرف منافع اور وہ بھی ایک مقرر شرح منافع کی ضمانت پر روپیہ دیتا ہے، اس وجہ سے کاروبار کی بھلائی اور برائی سے اس کو کسی قسم کی دلچسپی نہیں ہوتی۔ وہ انتہائی خود غرضی کے ساتھ صرف اپنے منافع پر نگاہ رکھتا ہے، اور جب کبھی اسے ذرا اندیشہ لاحق ہو جاتا ہے کہ منڈی پر کساد بازاری کا حملہ ہونے والا ہے، تو وہ سب سے پہلے اپنا روپیہ کھینچنے کی فکر کرتا ہے۔ اس طرح کبھی تو محض اس کے خود غرضانہ اندیشوں کی بدولت دنیا پر کساد بازاری کا واقعی حملہ ہو جاتا ہے اور کبھی اگر دوسرے اسباب سے کساد بازاری آگئی ہو تو سرمایہ دار کی خود غرضی اس کو بڑھا کر انتہائی تباہ کن حد تک پہنچا دیتی ہے۔
سود کے یہ تین نقصانات تو ایسے صریح ہیں کہ کوئی شخص جو علمِ معیشت سے تھوڑا سا مس بھی رکھتا ہو ان کا انکار نہیں کرسکتا۔اس کے بعد یہ مانے بغیر کیا چارہ ہے کہ فی الواقع اللہ تعالیٰ کے قانونِ فطرت کی رُو سے سود معاشی دولت کو بڑھاتا نہیں گھٹاتا ہے۔
اب ایک نظر صدقات کے معاشی اثرات و نتائج کو بھی دیکھ لیجئے۔ اگر سوسائٹی کے خوش حال افراد کا طریق کار یہ ہو کہ اپنی حیثیت کے مطابق پوری فراخ دلی کے ساتھ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات خریدیں، پھر جو روپیہ ان کے پاس ان کی ضرورت سے زیادہ بچے اسے غریبوں میں بانٹ دیں تا کہ وہ بھی اپنی ضروریات خرید سکیں، پھر اس پر بھی جو روپیہ بچ جائے اسے یا تو کاروباری لوگوں کو بلاسود قرض دیں، یا شرکت کے اصول پر ان کے ساتھ نفع و نقصان میں حصے دار بن جائیں، یا حکومت کے پاس جمع کرا دیں کہ اجتماعی خدمات کے لیے ان کو استعمال کرے، تو ہر شخص تھوڑ ے سے غور و فکر ہی سے اندازہ کرسکتا ہے کہ ایسی سوسائٹی میں تجارت اور صنعت اور زراعت ہر چیز کو بے انتہا فروغ حاصل ہوگا ۔ اس کے علاوہ افراد کی خوش حالی کا معیار بلند ہوتا چلا جائے گا اور اس میں بحیثیت مجموعی دولت کی پیداوار اس سوسائٹی کی بہ نسبت بدرجہا زیادہ ہوگی جس کے اندر سود کا رواج ہو۔
پھر ایک پہلو اور بھی سامنے رہے۔ ظاہر ہے سود پر روپیہ وہی شخص چلا سکتا ہے جس کو دولت کی تقسیم میں اس کی حقیقی ضرورت سے زیادہ حصہ ملا ہو۔ یہ ضرورت سے زیادہ حصہ جو ایک شخص کو ملتا ہے قرآن کے نقطۂ نظر سے دراصل اللہ کا فضل ہے اور اللہ کے فضل کا صحیح شکریہ ہے کہ جس طرح اللہ نے اپنے بندے پر فضل فرمایا ہے اسی طرح بندہ بھی اللہ کے دوسرے بندوں پر فضل کرے۔( تفہیم القرآن، جلد اول، ص 213-216)

(۴)سود کے بغیر معاشی تعمیر

اب ہمیں اس سوال پر بحث کرنی ہے کہ کیا فی الواقع سود کو ساقط کر کے ایک ایسا نظامِ مالیات قائم کیا جاسکتا ہے جو موجودہ زمانے میں ایک ترقی پذیر معاشرے اور ریاست کی ضروریات کے لیے کافی ہو؟

چند غلط فہمیاں

اس سوال پر گفتگو شروع کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ بعض ایسی غلط فہمیوں کو صاف کر دیا جائے جو نہ صرف اس معاملے میں، بلکہ عملی اصلاح کے ہر معاملے میں لوگوں کے ذہنوں کو الجھایا کرتی ہیں۔
سب سے پہلی غلط فہمی تو وہی ہے جس کی بنا پر مذکورہ بالا سوال پیدا ہوا ہے۔ عقلی حیثیت سے سود ایک غلط چیز ہے اور نقلی حیثیت سے بھی خدا اور اس کے رسولؐ نے ہر قسم کے سود کو حرام کیا ہے۔ اس کے بعد لوگوں کا یہ پوچھنا کہ ’’کیا اس کے بغیر کام چل بھی سکتا ہے؟‘‘ اور کیا یہ قابل عمل بھی ہے؟‘‘ دوسرے الفاظ میں گویا یہ کہنا ہے کہ خدا کی اس خدائی میں کوئی غلطی ناگزیر بھی ہے ، اور کوئی راستی ناقابلِ عمل بھی پائی جاتی ہے۔ یہ دراصل فطرت اور اس کے نظام کے خلاف عدمِ اعتماد کا ووٹ ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم ایک ایسے فاسد نظامِ کائنات میں سانس لے رہے ہیں جس میں ہماری بعض حقیقی ضرورتیں غلطیوں اور بدکرداریوں سے وابستہ کر دی گئی ہیں اور بعض بھلائیوں کے دروازے جان بوجھ کر ہم پر بند کر دیئے گئے ہیں۔ یا اس سے بھی گزر کر یہ بات ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ فطرت خود اس قدر ٹیڑھی واقع ہوئی ہے کہ جو کچھ خود اس کے اپنے قوانین کی رو سے غلط ہے وہی اس کے نظام میں مفید اور ضروری اور قابل عمل ہے، اور جو کچھ اس کے قوانین کی رو سے صحیح ہے وہی اس کے نظام میں غیر مفید اور ناقابل عمل ہے۔
کیا واقعی ہماری عقل اور ہمارے علوم اور ہمارے تاریخی تجربات مزاجِ فطرت کو اسی بدگمانی کا مستحق ثابت کرتے ہیں؟ کیا یہ سچ ہے کہ فطرت بگاڑ کی حامی اور بنائو کی دشمن ہے۔ اگر یہ بات ہے تب تو ہمیں اشیاء کی صحت اور غلطی کے متعلق اپنی ساری بحثیں لپیٹ کر رکھ دینی چاہئیں اور سیدھی طرح زندگی سے استعفاء دے دینا چاہیے۔ کیوں کہ اس کے بعد تو ہمارے لیے امید کی ایک کرن بھی اس دنیا میں باقی نہیں رہتی ۔ لیکن اگر ہماری اور کائنات کی فطرت اس سُوءِ ظن کے لائق نہیں ہے تو پھر ہمیں یہ اندازِ فکر چھوڑ دینا چاہیے کہ ’’فلاں چیز ہے تو بری مگر کام اسی سے چلتا ہے‘‘ اور ’’فلاں چیز ہے تو برحق مگر چلنے والی چیز نہیں ہے۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں جو طریقہ بھی رواج پا جاتا ہے، انسانی معاملات اسی سے وابستہ ہو جاتے ہیں اور اس کو بدل کر کسی دوسرے طریقے کو رائج کرنا مشکل نظر آنے لگتا ہے۔ ہر رائج الوقت طریقے کا یہی حال ہے ، خواہ وہ طریقہ بجائے خود صحیح ہو یا غلط۔ دشواری جو کچھ بھی ہے تغیر میں ہے اور سہولت کی اصل وجہ رواج کے سوا کچھ نہیں ۔ مگر نادان لوگ اس سے دھوکا کھا کر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ جو غلطی رائج ہو چکی ہے انسانی معاملات بس اسی پر چل سکتے ہیں اور اس کے سوا دوسرا کوئی طریقہ قابلِ عمل ہی نہیں ہے۔
دوسری غلط فہمی اس معاملے میں یہ ہے کہ لوگ تغیر کی دشواری کے اصل اسباب کو نہیں سمجھتے اور خواہ مخواہ تجویزِ تغیر کے سر پر ناقابلِ عمل ہونے کا الزام تھوپنے لگتے ہیں۔ آپ انسانی سعی کے امکانات کا بہت ہی غلط اندازہ لگائیں گے اگر رائج الوقت نظام کے خلاف کسی تجویز کو بھی ناقابلِ عمل سمجھیں گے۔ جس دنیا میں انفرادی ملکیت کی کامل تنسیخ اور مکمل اجتماعی ملکیت کی ترویج جیسی انتہائی انقلاب انگیز تجویز تک عمل میں لا کر دکھا دی گئی ہو وہاں یہ کہنا کس قدر لغو ہے کہ سود کی تنسیخ اور زکوٰۃ کی تنظیم جیسی معتدل تجویزیں قابلِ عمل نہیں ہیں۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ رائج الوقت نظام کو بدل کر کسی دوسرے نقشے پر زندگی کی تعمیر کرنا ہر عمر و زید کے بس کا کام نہیں ہے۔ یہ کام صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں جن میں دو شرطیں پائی جاتی ہوں:
ایک یہ کہ وہ فی الحقیقت پرانے نظام سے منحرف ہو چکے ہوں اور سچے دل سے اس تجویز پر ایمان رکھتے ہوں جس کے مطابق نظامِ زندگی میں تغیر کرنا پیش نظر ہے۔
دوسرے یہ کہ ان میں تقلیدی ذہانت کے بجائے اجتہادی ذہانت پائی جاتی ہو۔ وہ محض اس واجبی سی ذہانت کے مالک نہ ہوں جو پرانے نظام کو اس کے اماموں کی طرح چلا لے جانے کے لیے کافی ہوتی ہے، بلکہ اس درجے کی ذہانت رکھتے ہوں، جو پامال راہوں کو چھوڑ کر نئی راہ بنانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔
یہ دو شرطیں جن لوگوں میں پائی جاتی ہوں وہ کمیونزم اور نازی ازم اور فاشزم جیسے سخت انقلابی مسلکوں کی تجاویز تک عمل میں لاسکتے ہیں۔ اور ان شرطوں کا جن میں فقدان ہو وہ اسلام کے تجویز کیے ہوئے انتہائی معتدل تغیرات کو بھی نافذ نہیں کرسکتے۔
ایک چھوٹی سی غلط فہمی اس معاملے میں اور بھی ہے۔ تعمیری تنقید اور اصلاحی تجویز کے جواب میں جب عمل کا نقشہ مانگا جاتا ہے تو کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کے نزدیک عمل کی جگہ شاید کاغذ ہے۔ حالانکہ عمل کاغذ پر نہیں زمین پر ہوا کرتا ہے۔ کاغذ پر کرنے کا اصل کام تو صرف یہ ہے کہ دلائل اور شواہد سے نظامِ حاضر کی غلطیاں اور ان کی مضرتیں واضح کر دی جائیں اور ان کی جگہ جو اصلاحی تجویزیں ہم عمل میں لانا چاہتے ہیں ان کی معقولیت ثابت کر دی جائے۔ اس کے بعد جو مسائل عمل سے تعلق رکھتے ہیں ان کے بارے میں کاغذ پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا جاسکتا کہ لوگوں کو ایک عام تصور اس امر کا دیا جائے کہ پرانے نظام کے غلط طریقوں کو کس طرح مٹایا جاسکتا ہے، اور ان کی جگہ نئی تجویزیں کیوں کر عمل میں لائی جاسکتی ہیں۔ رہا یہ سوال کہ اس شکست و ریخت کی تفصیلی صورت کیا ہوگی، اور اس کے جزوی مراحل کیا ہوں گے، اور ہر مرحلے میں پیش آنے والے مسائل کو حل کیسے کیا جائے گا، تو ان امور کو نہ تو کوئی شخص پیشگی جان سکتا ہے اور نہ ان کا کوئی جواب دے سکتا ہے۔ اگر آپ اس امر پر مطمئن ہوچکے ہوں کہ موجودہ نظام واقعی غلط ہے اور اصلاح کی تجویز بالکل معقول ہے تو عمل کی طرح قدم اٹھایئے اور زمامِ کار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دیجیے جو ایمان اور اجتہادی ذہانت رکھتے ہوں۔ پھر جو عملی مسئلہ جہاں پیدا ہوگا اسی جگہ وہ حل ہو جائے گا۔ زمین پر کرنے کا کام آخر کاغذ پر کر کے کیسے دکھایا جاسکتا ہے؟
اس توضیح کے بعد یہ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ اس باب میں جو کچھ ہم پیش کریں گے وہ غیر سودی مالیات کا کوئی تفصیلی نقشہ نہ ہوگا بلکہ اس چیز کا صرف ایک عام تصور ہوگا کہ سود کو اجتماعی مالیات سے خارج کرنے کی عملی صورت کیا ہوسکتی ہے اور وہ بڑے بڑے مسائل جو اخراجِ سود کا خیال کرتے ہی بادی النظر میں آدمی کے سامنے آجاتے ہیں، کس طرح حل کیے جاسکتے ہیں۔

اصلاح کی راہ میں پہلا قدم

اجتماعی معیشت اور نظامِ مالیات میں بے شمار خرابیاں صرف اس وجہ سے پیدا ہوئی ہیں کہ قانون نے سود کو جائز کر رکھا ہے ۔ ظاہر بات ہے کہ جب ایک آدمی کے لیے سود کا دروازہ کھلا ہوا ہے تو وہ اپنے ہمسائے کو قرضِ حسن کیوں دے؟ اور ایک کاروباری آدمی کے ساتھ نفع و نقصان کی شرکت کیوں اختیار کرے؟ اور اپنی قومی ضروریات کی تکمیل کے لیے مخلصانہ اعانت کا ہاتھ کیوں بڑھائے؟ اور کیوں نہ اپنا جمع کیا ہوا سرمایہ ساہوکار کے حوالے کر دے جس سے اس کو گھر بیٹھے ایک لگا بندھا منافع ملنے کی امید ہو؟ آپ انسانی فطرت کے برے میلانات کو ابھرنے اور کھل کھیلنے کی کھلی چھٹی دے دینے کے بعد یہ توقع نہیں کرسکتے کہ نرے وعظ و تلقین اور اخلاقی اپیلوں کے ذریعے ہی سے آپ ان کے نشوونما اور نقصانات کو روک سکیں گے۔ پھر یہاں تو معاملہ صرف اس حد تک بھی محدود نہیں ہے کہ آپ نے ایک برے میلان کو محض کھلی چھٹی دے رکھی ہو۔ اس سے آگے بڑھ کر آپ کا قانون تو الٹا اس کا مددگار بنا ہوا ہے اور حکومت خود اس برائی پر اجتماعی مالیات کے نظام کو پال اور چلا رہی ہے۔ اس حالت میں آخر یہ کس طرح ممکن ہے کہ کس قسم کی جزوی ترمیمات اور فروعی اصلاحات سے اس کی برائیوں کا سدباب کیا جاسکے؟ ان کا سدباب اگر ہوسکتا ہے تو صرف اس طرح کہ سب سے پہلے اس دروازے کو بند کیا جائے جس سے خرابی آ رہی ہے۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پہلے کوئی غیر سودی نظامِ مالیات بن کر تیار ہو لے پھر سود یا تو آپ سے آپ بند ہو جائے گا، یا اسے قانوناً بند کر دیا جائے گا، وہ درحقیقت گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنا چاہتے ہیں۔ جب تک سود اَز رُوئے قانون جاری ہے، جب تک عدالتیں سودی معاہدات کو تسلیم کر کے ان کو بزور نافذ کر رہی ہیں، جب تک ساہو کاروں کے لیے یہ دروازہ کھلا ہے کہ سود کا لالچ دے کر گھر گھر سے روپیہ اکٹھا کریں اور پھر آگے اسے سود پر چلائیں، اس وقت تک یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی غیر سودی نظام مالیات وجود میں آئے اور نشوونما پا سکے۔ لہٰذا اگر سود کی بندش اس امر پر موقوف ہے کہ پہلے ایسا کوئی مالی نظام پل کر جوان ہو لے جو موجودہ سودی نظام کی جگہ لے سکتا ہو، تو یقین رکھیے کہ اس طرح قیامت تک سود کے بند ہونے کی نوبت نہیں آسکتی۔ یہ کام تو جب کبھی کرنا ہو اسی طرح کرنا پڑے گا کہ اول قدم ہی پر سود کو ازروئے قانون بند کر دیا جائے۔ پھر خود بخود غیر سودی نظام مالیات پیدا ہو جائے گا اور ضرورت جو ایجاد کی ماں ہے، آپ سے آپ اس کے لیے ہر گوشے میں بڑھنے اور پھیلنے کا راستہ بناتی چلی جائے گی۔
سود نفسِ انسانی کی جن بری صفات کا نتیجہ ہے، ان کی جڑیں اس قدر گہری اور ان کے تقاضے اس قدر طاقت ور ہیں کہ ادھوری کارروائیوں اور ٹھنڈی ٹھنڈی تدبیروں سے کسی معاشرے میں اس بلا کا استیصال نہیں کیا جاسکتا۔ اس غرض کے لیے تو ضروری ہے کہ وہ ساری تدبیریں عمل میں لائی جائیں جو اسلام تجویز کرتا ہے اور اسی سرگرمی کے ساتھ اس کے خلاف نبرد آزمائی کی جائے جیسی کہ اسلام چاہتا ہے۔ اسلام سودی کاروبار کی محض اخلاقی مذمت پر اکتفا نہیں کرتا۔ بلکہ ایک طرف وہ اس کو مذہبی حیثیت سے حرام قرار دے کر اس کے خلاف شدید نفرت پیدا کرتا ہے۔ دوسری طرف جہاں جہاں اسلام کا سیاسی اقتدار اور حاکمانہ اثر و نفوذ قائم ہو وہاں وہ ملکی قانون کے ذریعے سے اس کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ تمام سودی معاہدوں کو کالعدم ٹھیراتا ہے۔ سود لینے اور دینے اور اس کی دستاویز لکھنے اور اس پر گواہ بننے کو فوجداری جرم قابل دست اندازی پولیس قرار دیتا ہے اور اگر کہیں یہ کاروبار معمولی سزائوں سے بند نہ ہو تو اس کے مرتکبین کو قتل اور ضبطی جائیداد تک کی سزائیں دیتا ہے۔ تیسری طرف وہ زکوٰۃ کو فرض قرار دے کر اور حکومت کے ذریعے سے اس کی تحصیل و تقسیم کا انتظام کر کے ایک دوسرے نظامِ مالیات کی داغ بیل ڈال دیتا ہے اور ان سب تدبیروں کے ساتھ وہ تعلیم و تربیت اور دعوت وتبلیغ کے ذریعے سے عامۃ الناس کی اصلاح بھی کرتا ہے تا کہ ان کے نفس میں وہ صفات اور رجحانات دب جائیں جو سود خوری کے موجب ہوتے ہیں اور اس کے برعکس وہ صفات اور جذبات ان کے اندر نشوونما پائیں جن سے معاشرے میں ہمدردانہ و فیاضانہ تعاون کی روح جاری و ساری ہوسکے۔

انسداد سود کے نتائج

جو کوئی فی الواقع سنجیدگی و اخلاص کے ساتھ سود کا انسداد کرنا چاہتا ہو اُسے یہ سب کچھ اسی طرح کرنا ہوگا۔ سود کی یہ قانونی بندش، جبکہ اس کے ساتھ زکوٰۃ کی تحصیل و تقسیم کا اجتماعی انتظام بھی ہو، مالیات کے نقطۂ نظر سے تین بڑے نتائج پر منتج ہوگی:
(۱) اس کا اولین اور سب سے اہم نتیجہ یہ ہوگا کہ اجتماعی سرمایہ کی موجودہ فساد انگیز صورت ایک صحیح اور صحت بخش صورت سے بدل جائے گی۔
موجودہ صورت میں تو سرمایہ اس طرح جمع ہوتا ہے کہ ہمارا اجتماعی نظام بخل اور جمعِ مال کے اس میلان کو ، جو ہر انسان کے اندر طبعاً تھوڑا بہت موجود ہے، اپنی مصنوعی تدبیروں سے انتہائی مبالغے کی حد تک بڑھا دیتا ہے۔ وہ اسے خوف اور لالچ ، دونوں ذرائع سے اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ اپنی آمدنی کا کم سے کم حصہ خرچ اور زیادہ سے زیادہ حصہ جمع کرے۔ وہ اسے خوف دلاتا ہے کہ جمع کر کیونکہ پورے معاشرے میں کوئی نہیں ہے جو تیرے برے وقت پر کام آئے۔ وہ اسے لالچ دیتا ہے کہ جمع کر کیوں کہ اس کا اجر تجھے سود کی شکل میں ملے گا۔ اس دوہری تحریک کی وجہ سے معاشرے کے وہ تمام افراد جو قدرِکفاف سے کچھ بھی زائد آمدنی رکھتے ہیں، خرچ روکنے اور جمع کرنے پر تل جاتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ منڈیوں میں اموالِ تجارت کی کھپت امکانی حد سے بہت کم ہوتی ہے۔ اور آمدنیاں جتنی کم ہوتی جاتی ہیں، صنعت و تجارت کی ترقی کے امکانات بھی اس کے مطابق کم اور اجتماعِ سرمایہ کے مواقع کم تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس طرح چند افراد کے اندوختوں کا بڑھنا اجتماعی معیشت کے گھٹنے کا موجب ہوتا ہے۔ ایک آدمی ایسے طریقے سے اپنی پس انداز کی ہوئی رقموں میں اضافہ کرتا ہے جس سے ہزار آدمی سرے سے کچھ کمانے ہی کے قابل نہیں رہتے کجا کہ کچھ پس انداز کرسکیں۔
اس کے برعکس جب سود بند کر دیا جائے گا اور زکوٰۃ کی تنظیم کر کے ریاست کی طرف سے معاشرے کے ہر فرد کو اس امر کا اطمینان بھی دلایا جائے گا کہ برے وقت پر اس کی دست گیری کا انتظام موجود ہے تو بخل و زراندوزی کے غیر فطری اسباب و محرکات ختم ہو جائیں گے۔ لوگ دل کھول کر خود بھی خرچ کریں گے اور نادار افراد کو بھی زکوٰۃ کے ذریعے سے اتنی قوتِ خریداری بہم پہنچا دیں گے کہ وہ خرچ کریں۔ اس سے صنعت و تجارت بڑھے گی۔ صنعت و تجارت کے بڑھنے سے روزگار بڑھے گا۔ روزگار بڑھنے سے آمدنیاں بڑھیں گی۔ ایسے ماحول میں اول تو صنعت و تجارت کا اپنا منافع ہی اتنا بڑھ جائے گا کہ اس کو خارجی سرمایہ کی اتنی احتیاج باقی نہ رہے گی جتنی اب ہوتی ہے۔ پھر جس حد تک بھی اسے سرمایہ کی حاجت ہوگی وہ موجودہ حالت کی بہ نسبت بہت زیادہ سہولت کے ساتھ بہم پہنچ سکے گا۔ کیوں کہ اس وقت پس انداز کر نے کا سلسلہ بالکل بند نہیں ہو جائے گا، جیسا کہ بعض لوگ گمان کرتے ہیں، بلکہ کچھ لوگ تو اپنی پیدائشی افتادِ طبع کی بنا پر ہی اندوختہ کرتے رہیں گے، اور بیشتر لوگ آمدنیوں کی کثرت اور معاشرے کی عام آسودگی کے باعث مجبوراً پس انداز کریں گے۔ اس وقت یہ پس اندازی کسی بخل یا خوف یا لالچ کی بنا پر نہ ہوگی، بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہوگی کہ جو لوگ اپنی ضرورت سے زیادہ کمائیں گے، اسلام کی جائز کی ہوئی مداتِ خرچ میں خوب دل کھول کر خرچ کرنے کے باوجود ان کے پاس بہت کچھ بچ رہے گا، اس بچی ہوئی دولت کو لینے والا کوئی محتاج آدمی بھی ان کو نہ ملے گا، اس لیے وہ اسے ڈال رکھیں گے اور بڑی اچھی شرائط پر اپنی حکومت کو، اپنے ملک کی صنعت و تجارت کو، اور ہمسایہ ملکوں تک کو سرمایہ دینے کے لیے آمادہ ہو جائیں گے۔
(۲) دوسرا نتیجہ یہ ہوگا کہ جمع شدہ سرمایہ رکنے کے بجائے چلنے کی طرف مائل رہے گا اور اجتماعی معیشت کی کھیتیوں کو ان کی حاجت کے مطابق اور ضرورت کے موقع پر برابر ملتا چلا جائے گا۔ موجودہ نظام میں سرمایہ کو کاروبار کی طرف جانے کے لیے جو چیز آمادہ کرتی ہے وہ سود کا لالچ ہے۔ مگر یہی چیز اس کے رکنے کا سبب بھی بنتی ہے۔ کیوں کہ سرمایہ اکثر اس انتظار میں ٹھیرا رہتا ہے کہ زیادہ شرحِ سود ملے تو وہ کام میں لگے۔ نیز یہی چیز سرمایہ کے مزاج کو کاروبار کے مزاج سے منحرف بھی کر دیتی ہے۔ جب کاروبار چاہتا ہے کہ سرمایہ آئے تو سرمایہ اکڑ جاتا ہے اور اپنی شرائط سخت کرتا چلا جاتا ہے اور جب معاملہ برعکس ہوتا ہے تو سرمایہ کاروبار کے پیچھے دوڑتا ہے اور ہلکی شرائط پر ہر اچھے برے کام میں لگنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ لیکن جب سود کا دروازہ ازروئے قانون بند ہو جائے گا اور تمام جمع شدہ رقمو ںپر الٹی زکوٰۃ ½۲ فی صدی سالانہ کے حساب سے لگنی شروع ہو گی، تو سرمایہ کی یہ بدمزاجی ختم ہو جائے گی۔ وہ خود اس بات کا خواہش مند ہوگا کہ معقول شرائط پر جلدی سے جلدی کسی کاروبار میں لگ جائے اور ٹھیرنے کے بجائے ہمیشہ کاروبار ہی میں لگا رہے۔
(۳) تیسرا نتیجہ یہ ہوگا کہ کاروباری مالیات اور مالیاتِ قرض کی مدیں بالکل الگ ہو جائیں گی۔موجودہ نظام میں تو سرمایہ کی بہم رسانی زیادہ تر، بلکہ قریب قریب تمام تر، ہوتی ہی صرف قرض کی صورت میں ہے۔ خواہ روپیہ لینے والا شخص یا ادارہ کسی نفع آور کام کے لیے یا غیر نفع آور کام کے لیے، اور خواہ کسی عارضی ضرورت کے لیے لے یا کسی طویل المدت منصوبے کے لیے، ہر صورت میں سرمایہ صرف ایک ہی شرط پر ملتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک مقررہ شرح سود پر اسے بطورِ قرض حاصل کیا جائے۔ لیکن جب سود ممنوع ہو جائے گا تو قرض کی مد صرف غیر نفع آور اغراض کے لیے، یا جہاں تک کاروبار کا تعلق ہے، عارضی ضروریات کے لیے مخصوص ہو جائے گی، اور اس کا انتظام قرضِ حسن کے اصول پر کرنا ہوگا۔ رہیں دوسری اغراض، خواہ وہ صنعت و تجارت وغیرہ سے متعلق ہوں یا حکومتوں اور پبلک اداروں کی نفع بخش تجویزوں سے متعلق، ان سب کے لیے سرمایہ کی فراہمی قرض کے بجائے حصے داری (profit sharing)کے اصول پر ہوگی۔
اب ہم اختصار کے ساتھ بتائیں گے کہ غیر سودی نظامِ مالیات میں یہ دونوں شعبے کس طرح کام کرسکتے ہیں۔

غیر سودی مالیات میں فراہمیِ قرض کی صورتیں

پہلے قرض کے شعبے کو لیجئے، کیوں کہ لوگ سب سے بڑھ کر جس شک میں مبتلا ہیں وہ یہی ہے کہ سود کے بند ہو جانے سے قرض ملنا ہی بند ہو جائے گا۔ لہٰذا پہلے ہم یہی دکھائیں گے کہ اس ناپاک رکاوٹ کے دور ہو جانے سے قرض کی فراہمی صرف یہی نہیں کہ بند نہ ہوگی، بلکہ موجودہ حالت سے زیادہ آسان ہوگی اور بدرجہا زیادہ بہتر صورت اختیار کرلے گی۔

شخصی حاجات کے لیے

موجودہ نظام میں شخصی حاجات کے لیے فراہمی قرض کی صرف ایک ہی صورت ہے، اور یہ وہ ہے کہ غریب آدمی مہاجن سے، اور صاحبِ جائیداد آدمی بینک سے سودی قرض حاصل کرے۔ دونوں صورتوں میں ہر طالبِ قرض کو ہر غرض کے لیے ہر مقدار میں روپیہ مل سکتا ہے اگر وہ مہاجن یا بینکر کو اصل و سود کے ملتے رہنے کا اطمینان دلاسکتا ہو، قطع نظر اس سے کہ وہ گناہ گاریوں کے لیے لینا چاہتا ہو، یا فضول خرچیوں کے لیے، یا حقیقی ضرورتوں کے لیے۔ بخلاف اس کے کوئی طالب ِ قرض کہیں سے ایک پیسہ نہیں پا سکتا اگر وہ اصل و سود کے ملنے کا اطمینان نہ دلا سکتا ہو، چاہے اس کے گھر ایک مُردہ لاش ہی بے گور و کفن کیوں نہ پڑی ہو۔ پھر موجودہ نظام میں کسی غریب کی مصیبت اور کسی امیر زادے کی آوارگی، دونوں ہی ساہوکار کے لیے کمائی کے بہترین مواقع ہیں اور اس خود غرضی کے ساتھ سنگ دلی کا یہ حال ہے کہ جو شخص سودی قرض کے جال میں پھنس چکا ہے اس کے ساتھ نہ سود کی تحصیل میں کوئی رعایت ہے نہ اصل کی بازیافت میں۔ کوئی یہ دیکھنے کے لیے دل ہی نہیں رکھتا کہ جس شخص سے ہم اصل و سود کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ کم بخت کس حال میں مبتلا ہے۔ یہ ہیں وہ ’’آسانیاں‘‘ جو مودہ نظام شخصی حاجات میں فراہمی قرض کے لیے بہم پہنچاتا ہے۔ اب دیکھیے کہ اسلام کا غیر سودی صدقاتی نظام اس چیز کا انتظام کس طرح کرے گا۔
اول تو اس نظام میں فضول خرچیوں اور گناہ گاریوں کے لیے قرض کا دروازہ بند ہو جائے گا، کیوں کہ وہاں سود کے لالچ سے بے جا قرض دینے والا کوئی نہ ہوگا ۔ اس حالت میں قرض کا سارا لین دین آپ سے آپ صرف معقول ضروریات تک محدود ہو جائے گا اور اتنی ہی رقمیں لی اور دی جائیں گی جو مختلف انفرادی حالات میں صریح طور پر مناسب نظر آئیں گی۔
پھر چونکہ اس نظام میں قرض لینے والے سے کسی نوعیت کا فائدہ اٹھانا قرض دینے والے کے لیے جائز نہ ہوگا اس لیے قرضوں کی واپسی زیادہ سے زیادہ آسان ہو جائے گی۔ کم سے کم آمدنی رکھنے والا بھی تھوڑی تھوڑی قسطیں دے کر بارِ قرض سے جلدی اور بآسانی سبکدوش ہوسکے گا۔ جو شخص کوئی زمین یا مکان یا اور کسی قسم کی جائیداد رہن رکھے گا اس کی آمدنی سود میں کھپنے کے بجائے اصل میں وضع ہوگی اور اس طرح جلدی سے جلدی رقم قرض کی بازیافت ہو جائے گی۔ اتنی آسانیوں کے باوجود اگر شاذ و نادر کسی معاملے میں کوئی قرض ادا ہونے سے رہ جائے گا تو بیت المال ہر آدمی کی پشت پر موجود ہوگا جو ادائیگی قرض میں اس کی مدد کرے گا اور بالفرض اگر مدیون کچھ چھوڑے بغیر مر جائے گا تب بھی بیت المال اس کا قرض ادا کرنے کا ذمے دار ہوگا۔ ان وجوہ سے خوش حال و ذی استطاعت لوگوں کے لیے اپنے کسی حاجت مند ہمسائے کی ضرورت کے موقع پراسے قرض دینا اتنا مشکل اور ناگوار کام نہ رہے گا جتنا اب موجودہ نظام میں ہے۔
اس پر بھی اگر کسی بندۂ خدا کو اس کے محلے یا بستی سے قرض نہ ملے گا، تو بیت المال کا دروازہ اس کے لیے کھلا ہوگا۔ وہ جائے گا اور وہاں سے بآسانی قرض حاصل کرلے گا۔ لیکن یہ واضح رہنا چاہیے کہ بیت المال سے استمداد ان اغراض کے لیے آخری چارئہ کار ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے شخصی حاجات میں ایک دوسرے کو قرض دینا معاشرے کے افراد کا اپنا فرض ہے اور ایک معاشرے کی صحت مندی کا معیار یہی ہے کہ اس کے افراد اپنی اس طرح کی اخلاقی ذمہ داریوں کو خود ہی محسوس اور ادا کرتے رہیں۔ اگر کسی بستی کا کوئی باشندہ اپنے ہمسایوں سے قرض نہیں پاتا اور مجبور ہو کربیت المال کی طرف رجوع کرتا ہے تو یہ صریحاً اس بات کی علامت ہے کہ اس بستی کی اخلاقی آب و ہوا بگڑی ہوئی ہے۔ اس لیے جس وقت اس قسم کا کوئی معاملہ بیت المال میں پہنچے گا تو وہاں صرف اس طالبِ قرض کی حاجت پوری کرنے ہی پر اکتفا نہ کیا جائے گا، بلکہ فوراً اخلاقی حفظانِ صحت کے محکمے کو اس ’’واردات‘‘ کی اطلاع دی جائے گی اور وہ اسی وقت اس بیمار بستی کی طرف توجہ کرے گا جس کے باشندے اپنے ایک ہمسائے کی ضرورت کے وقت اس کے کام نہ آئے۔ اس طرح کے کسی واقعہ کی اطلاع ایک صالح اخلاقی نظام میں وہی اضطراب پیدا کرے گی جو ہیضے یا طاعون کے کسی واقعے کی اطلاع ایک مادہ پرست نظام میں پیدا کیا کرتی ہے۔
شخصی حاجات کے لیے قرض فراہم کرنے کی ایک اور صورت بھی اسلامی نظام میں اختیار کی جاسکتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ تمام تجارتی کمپنیوں اور کاروباری اداروں پر ان کے ملازموں اور مزدوروں کے جو کم سے کم حقوق ازروئے قانون مقرر کیے جائیں ان میں سے ایک حق یہ بھی ہو کہ وہ ان کی غیر معمولی ضرورت کے مواقع پر ان کو قرض دیا کریں نیز حکومت خود بھی اپنے اوپر اپنے ملازموں کا یہ حق تسلیم کرے اور اس کو فیاضی کے ساتھ ادا کرے۔ یہ معاملہ حقیقت میں صرف اخلاقی نوعیت ہی نہیں رکھتا بلکہ اس کی معاشی و سیاسی اہمیت بھی اتنی ہی ہے جتنی اس کی اخلاقی اہمیت ہے۔ آپ اپنے ملازموں اور مزدوروں کے لیے غیر سودی قرض کی سہولت بہم پہنچائیں گے تو صرف ایک نیکی ہی نہیں کریں گے بلکہ ان اسباب میں سے ایک بڑے سبب کو دور کر دیں گے جو آپ کے کارکنوں کو فکر، پریشانی، خستہ حالی، جسمانی آزار اور مادی بربادی میں مبتلا کرتے ہیں ۔ ان بلائوں سے ان کی حفاظت کیجئے۔ ان کی آسودگی ان کی قوت کار بڑھائے گی اور ان کا اطمینان انہیں فساد انگیز فلسفوں سے بچائے گا۔ اس کا نفع بہی کھاتے کی رو سے چاہے کچھ نہ ہو، لیکن کسی کو عقل کی بینائی میسر ہو تو وہ بہ آسانی دیکھ سکتا ہے کہ مجموعی طور پر پورے معاشرے ہی کے لیے نہیں، بلکہ فرداً فرداً ایک ایک سرمایہ دار و کارخانہ دار کے لیے بھی اور ایک ایک معاشی و سیاسی ادارے کے لیے بھی اس کا نفع اس سود سے بہت زیادہ قیمتی ہوگا جو آج مادہ پرست نظام میں محض احمقانہ تنگ نظری کی بنا پر وصول کیا جا رہا ہے۔

کاروباری اغراض کے لیے

اس کے بعد ان قرضوں کا معاملہ لیجیے جو کاروباری لوگوں کو اپنی آئے دن کی ضروریات کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں ان مقاصد کے لیے یا تو بینکوں سے براہِ راست قلیل المدت قرضے (short term loans) حاصل کیے جاتے ہیں، یا پھر ہنڈیاں (bills of exchange) بھنائی جاتی ہیں،( یہ وہی چیز ہے جس کے لیے ہماری اسلامی فقہ میں ’’سفاتج‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جن تاجروں کا آپس میں بھی ایک دوسرے سے لین دین ہو اور بینک کے ساتھ بھی معاملہ ہو وہ نقد رقم ادا کیے بغیر بڑی مقدار میں ایک دوسرے سے مال قرض لے لیتے ہیں اور مہینہ، دو مہینے، چار مہینے کے لیے فریق ثانی کو ہنڈی لکھ کر دے دیتے ہیں۔ اگر فریق ثانی اس پر مدت مقررہ تک انتظار کرسکتا ہو تو انتظار کرتا ہے اور وقت آنے پر قرض ادا ہو جاتا ہے لیکن اگر دورانِ مدت میں اس کو روپے کی ضرورت پڑ جاتی ہے تو وہ اس ہنڈی کو اس بینک میں داخل کر دیتا ہے جس سے دونوں فریقوں کے لین دین ہو اور اس سے رقم حاصل کر کے اپنا کام چلا لیتا ہے۔ اسی چیز کا نام ہنڈی بھنانا ہے۔) اور دونوں صورتوں میں بینک ایک ہلکی سی شرح سود اس پر لگاتے ہیں۔ یہ تجارت کی ایک ایسی اہم ضرورت ہے جس کے بغیر کوئی کام آج نہیں چل سکتا۔ اس لیے جب کاروباری لوگ بندشِ سود کا نام سنتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے جو فکر لاحق ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ پھر روز مرہ کی ان ضروریات کے لیے قرض کیسے ملے گا؟ اگر بینک کو سود کا لالچ نہ ہو تو آخر وہ کیوں ہمیں قرض دے گا اور کیوں ہماری ہنڈیاں بھنائے گا؟
لیکن سوال یہ ہے کہ جس بینک کے پاس تمام رقومِ امانت (deposits) بلاسود جمع ہوں، اور جس کے پاس خود ان تاجروں کا بھی لاکھوں روپیہ بلا سود رکھا رہتا ہو، وہ آخر کیوں نہ ان کو بلاسود قرض دے اور کیوں نہ ان کی ہنڈیاں بھنائے؟ وہ اگر سیدھی طرح اس پر راضی نہ ہوگا تو تجارتی قانون کے ذریعے سے اس کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنے کھاتہ داروں (customers) کو یہ سہولت بہم پہنچائے ۔ اس کے فرائض میں یہ چیز شامل ہونی چاہیے۔
درحقیقت اس کام کے لیے خود تاجروںکی اپنی رکھوائی ہوئی رقمیں ہی کافی ہوسکتی ہیں۔ لیکن ضرورت پڑ جانے پر کوئی مضائقہ نہیں، اگر بینک اپنے دوسرے سرمایہ میں سے بھی تھوڑا بہت اس غرض کے لیے استعمال کرلے۔ بہرحال اصولاً یہ بات بالکل واجبی بھی ہے کہ جو سود لے نہیں رہا ہے وہ سود دے کیوں؟ اور اجتماعی معیشت کے نقطۂ نظر سے یہ مفید بھی ہے کہ تاجروں کو اپنی روز مرہ کی ضروریات کے لیے بلاسُود قرض ملتا رہے۔
رہا یہ سوال کہ اگر اس لین دین میں بینک کو سود نہ ملے تو وہ اپنے مصارف کیسے پورے کرے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب چالو کھاتوں (current accounts) کی ساری رقمیں بینک کے پاس بلاسود رہیں گی تو اس کے لیے انہی رقموں میں سے دست گرداں قرضے بلا سود دینا کوئی نقصان دہ معاملہ نہ رہے گا۔ کیوں کہ اس صورت میں حساب کتاب اور دفتر داری کے جو تھوڑے بہت مصارف بینک کو برداشت کرنے ہوں گے ان سے کچھ زیادہ ہی فوائد وہ ان رقموں سے حاصل کرلے گا جو اس کے پاس جمع ہوں گی۔ تاہم اگر بالفرض یہ طریقہ قابلِ عمل نہ ہو، تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ بینک اپنی اس طرح کی خدمات کے لیے ایک ماہوار یا ششماہی فیس اپنے تمام تجارت پیشہ کھاتہ داروں پر عائد کر دے جو اس مد کے مصارف پورے کرنے کے لیے کافی ہو۔ سود کی بہ نسبت یہ فیس ان لوگوں کو زیادہ سستی پڑے گی اس لیے وہ بخوشی اسے گوارا کرلیں گے۔

حکومتوں کی غیر نفع آورضروریات کے لیے

تیسری اہم مد ان قرضوں کی ہے جو حکومتوں کو کبھی وقتی حوادث کے لیے، اور کبھی غیر نفع آور ملکی ضروریات کے لیے، اور کبھی جنگ کے لیے لینے ہوتے ہیں۔ موجودہ نظامِ مالیات میں ان سب مقاصد کے لیے روپیہ تمام تر قرض، اور وہ بھی سودی قرض کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اسلامی نظامِ مالیات میں یہ عین ممکن ہوگا کہ ادھر حکومت کی طرف سے ضرورت کا اظہار ہو اور ادھر قوم کے افراد اور ادارے خود لا لا کر چندوں کے ڈھیر اس کے سامنے لگا دیں۔ اس لیے کہ سود کی بندش اور زکوٰۃ کی تنظیم لوگوں کو اس قدر آسودہ اور مطمئن کر دے گی کہ انہیں اپنے اندوختے (savings) اپنی حکومت کو یونہی دے دینے میں کوئی تامل نہ ہوگا۔ اس پر بھی اگر بقدرِ ضرورت روپیہ نہ ملے تو حکومت قرض مانگے گی اور لوگ دل کھول کر اسے قرضِ حسن دیں گے۔ لیکن اگر اس سے بھی ضروریات پوری نہ ہوسکیں، تو اسلامی حکومت اپنا کام چلانے کے لیے حسب ذیل طریقے اختیار کرسکتی ہے:
(۱) زکوٰۃ و خُمس کی رقمیں استعمال کرے۔
(۲) تمام بینکوں سے ان کی رقومِ امانت کا ایک مخصوص حصہ حکماً بطور قرض طلب کرلے جس کا اسے اتنا ہی حق پہنچتا ہے جتنا وہ افرادِ قوم سے لازمی فوجی خدمت (conscription) طلب کرنے اور لوگوں سے ان کی عمارتیں اور موٹریں اور دوسری چیزیں بزور حاصل کرنے (requisition) کا حق رکھتی ہے۔
(۳) بدرجۂ آخر وہ اپنی ضروریات کے مطابق نوٹ چھاپ کر بھی کام چلا سکتی ہے جو دراصل قوم ہی سے قرض لینے کی ایک دوسری صورت ہے۔ لیکن یہ محض ایک آخری چارۂ کار ہے جو بالکل ناگزیر حالات ہی میں اختیار کیا جاسکتا ہے کیوں کہ اس کی قباحتیں بہت زیادہ ہیں۔

بین الاقوامی ضروریات کے لیے

اب رہے بین الاقوامی قرضے، تو اس معاملہ میں یہ تو بالکل ظاہر ہی ہے کہ موجودہ سود خور دنیا میں ہم اپنی قومی ضرورت کے موقع پر کہیں سے ایک پیسہ بلاسود قرض پانے کی توقع نہیں کرسکتے۔ اس پہلو میں تو ہم کو تمام تر کوشش یہی کرنی ہوگی کہ ہم بیرونی قوموں سے کوئی قرض نہ لیں، کم از کم اس وقت تک تو ہر گز نہ لیں جب تک کہ ہم خود دوسروں کو اس امر کا نمونہ نہ دکھا دیں کہ ایک قوم اپنے ہمسایوں کو کس طرح بلاسود قرض دے سکتی ہے۔ رہا قرض دینے کا معاملہ تو جو بحث اس سے پہلے ہم کر چکے ہیں اس کے بعد شاید کسی صاحبِ نظر آدمی کو بھی یہ تسلیم کرنے میں تامل نہ ہوگا کہ اگر ایک دفعہ ہم نے ہمت کر کے اپنے ملک میں ایک صالح مالی نظام بندشِ سود اور تنظیم زکوٰۃ کی بنیاد پر قائم کرلیا تو یقیناً بہت جلدی ہماری مالی حالت اتنی اچھی ہو جائے گی کہ ہمیں نہ صرف خود باہر سے قرض لینے کی حاجت نہ ہوگی بلکہ ہم اپنے گرد و پیش کی حاجت مند قوموں کو بلاسود قرض دینے کے قابل ہو جائیں گے اور جس روز ہم یہ نمونہ دنیا کے سامنے پیش کریں گے وہ دن دور جدید کی تاریخ میں صرف مالی اور معاشی حیثیت ہی سے نہیں بلکہ سیاسی اور تمدنی اور اخلاقی حیثیت سے بھی ایک انقلاب انگیز دن ہوگا۔ اس وقت یہ امکان پیدا ہو جائے گا کہ ہمارا اور دوسری قوموں کا تمام لین دین غیر سودی بنیاد پر ہو۔ یہ بھی ممکن ہوگا کہ دنیا کی قومیں یکے بعد دیگرے باہم ایسے معاہدات طے کرنے شروع کر دیں کہ وہ ایک دوسر ے سے سود نہیں لیں گے اور بعید نہیں کہ وہ دن بھی ہم دیکھ سکیں جب بین الاقوامی رائے عام سود خوری کے خلاف بالاتفاق اسی نفرت کا اظہار کرنے لگے جس کا اظہار ۱۹۴۵ء میں بریٹن ووڈس کے معاملے پر انگلستان میں کیا گیا تھا۔یہ محض ایک خیالی پلائو نہیں ہے ، بلکہ فی الواقع آج بھی دنیا کے سوچنے والے دماغ پر سوچ رہے ہیں کہ بین الاقوامی قرضوں پر سود لگنے سے دنیا کی سیاست اور معیشت، دونوں پر نہایت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس طریقے کو چھوڑ کر اگر خوش حال ممالک اپنی فاضل دولت کے ذریعے سے خستہ حال اور آفت رسیدہ ممالک کو اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کے قابل بنانے کی مخلصانہ و ہمدردانہ کوشش کریں تو اس کا دوہرا فائدہ ہوگا۔ سیاسی و تمدنی حیثیت سے بین الاقوامی بدمزگی بڑھنے کے بجائے محبت اور دوستی بڑھے گی۔ اور معاشی حیثیت سے ایک خستہ حال دیوالیہ ملک کا خون چوسنے کی بہ نسبت ایک خوش حال اور مال دار ملک کے ساتھ کاروبار کرنا بدر جہا زیادہ نافع ثابت ہوگا۔ یہ حکمت کی باتیں سوچنے والے سوچ رہے ہیں اور کہنے والے کہہ رہے ہیں، لیکن ساری کسر بس اس بات کی ہے کہ دنیا میں کوئی حکیم قوم ایسی ہو جو پہلے اپنے گھر سے سود خوری کو مٹائے اور آگے بڑھ کر بین الاقوامی لین دین سے اس لعنت کو خارج کرنے کی عملاً ابتدا کر دے۔

نفع آور اغراض کے لیے سرمایہ کی بہم رسانی

مالیاتِ قرض کے بعد اب ایک نظریہ بھی دیکھ لیجیے کہ ہمارے پیشِ نظر نظام میں کاروباری مالیات کیا شکل اختیار کریں گے۔ اس سلسلے میں جیسا کہ ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں، سود کا انسداد لوگوں کے لیے یہ دروازہ تو قطعی بند کر دے گا کہ وہ محنت اور خطرہ (risk) دونوں چیزوں سے بچ کر اپنے سرمائے کو تحفظ اور متعین منافع کی ضمانت کے ساتھ کسی کام میں لگا سکیں۔ اور اسی طرح زکوٰۃ ان کے لیے اس دروازے کو بھی بند کر دے گی کہ وہ اپنا سرمایہ روک رکھیں اور اس پر مارِ زربن کر بیٹھ جائیں۔ مزید برآں ایک حقیقی اسلامی حکومت کی موجودگی میں لوگوں کے لیے عیاشیوں اور فضول خرچیوں کا دروازہ بھی کھلا نہ رہے گا کہ ان کی فاضل آمدنیاں ادھر بہہ نکلیں۔ اس کے بعد لامحالہ ان تمام لوگوں کو جو ضرورت سے زائد آمدنی رکھتے ہوں، تین راستوں میں سے کوئی ایک راستہ ہی اختیار کرنا پڑے گا۔
(۱) اگر وہ مزید آمدنی کے طالب نہ ہوں تو اپنی بچت کو رفاہِ عام کے کاموں میں صرف کریں ، خواہ اس کی صورت یہ ہو کہ وہ خود کسی کارِ خیر پر اسے وقف کریں، یا یہ ہو کر قومی اداروں کو چندے اور عطیے دیں، یا پھر یہ ہو کہ بے غرضانہ و مخلصانہ طریقے سے اسلامی حکومت کے حوالہ کر دیں تا کہ وہ اسے امور نافعہ اور ترقیاتِ عامہ اور اصلاحِ خلق کے کاموں پر صرف کرے۔ خصوصیت کے ساتھ آخری صورت کو لازماً ترجیح دی جائے گی اگر حکومت کا نظم و نسق ایسے کارکنوں کے ہاتھوں میں ہو جن کی دیانت اور فراست پر عموماً لوگوں کو بھروسہ ہو۔ اس طرح اجتماعی مصالح اور ترقی و بہبود کے کاموں کے لیے حکومت کو اور دوسرے اجتماعی اداروں کو سرمائے کی ایک کثیر مقدار ہمیشہ مفت ملتی رہے گی جس کا سود یا منافع تو درکنار، اصل ادا کرنے کے لیے بھی عوام الناس پر ٹیکسوں کا کوئی بار نہ پڑے گا۔
(۲) اگر وہ مزید آمدنی کے طالب تو نہ ہوں ، لیکن اپنی زائد از ضرورت دولت کو اپنے لیے محفوظ رکھنا چاہتے ہوں، تو اسے بینک میں جمع کرا دیں، اور بینک اس کو امانت میں رکھنے کے بجائے اپنے ذمہ قرض قرار دے۔ اس صورت میں بینک اس بات کا ضامن ہوگا کہ ان کی جمع کردہ رقم وہ رقم عند الطلب، یا طے شدہ وقت پر انہیں واپس کر دے۔ اور اس کے ساتھ بینک کو یہ حق ہوگا کہ قرض کی اس رقم کو کاروبار میں لگائے اور اس کا منافع حاصل کرے۔ اس منافع میں سے کوئی حصہ اسے کھاتہ داروں کو دینا نہ ہوگا، بلکہ وہ کلیتہً بینک کا اپنا منافع ہوگا۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تجارت بہت بڑی حد تک اسی اسلامی اصول کی رہین منت تھی۔ ان کی دیانت اور غیر معمولی ساکھ کی وجہ سے لوگ اپنا روپیہ ان کے پاس حفاظت کے لیے رکھواتے تھے، امام صاحب اس روپے کو امانت میں رکھنے کے بجائے قرض کے طور پر لیتے اور اسے اپنے تجارتی کاروبار میں استعمال کرتے تھے۔ ان کے سوانح نگاروں کا بیان ہے کہ ان کی وفات کے وقت جب حساب کیا گیا تو ان کی فرم میں ۵ کروڑ درہم کا سرمایہ اس قاعدے کے مطابق لوگوں کی رکھوائی رقوم کا لگا ہوا تھا۔ اسلامی اصول یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے پاس امانت رکھوائے تو امین اسے استعمال نہیں کرسکتا، مگر امانت ضائع ہو جائے تو اس پر کوئی ضمان عائد نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس اگر وہی مال قرض کے طور پر دیا جائے تو مدیون اسے استعمال کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کا حق دار ہے ، اور وقت پر قرض ادا کرنے کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے ۔ اسی قاعدے پر اب بھی بینک عمل کرسکتے ہیں۔
(۳) اور اگر وہ اپنی پس انداز کردہ رقموں کو کسی نفع آور کام میں لگانے کے خواہشمند ہوں تو ان کے لیے اس چیز کے حصول کاصرف ایک راستہ کھلا ہوگا۔ یہ کہ اپنی بچائی ہوئی رقموں کو نفع اور نقصان میں متناسب شرکت کے اصول پر نفع بخش کاموںمیں لگائیں، خواہ حکومت کے توسط سے ، یا بینکوں کے توسط سے ۔ خود لگانا چاہیں گے تو ان کو کسی کاروبار میں شرکت کی شرائط آپ طے کرنی ہوں گی جن میں از روئے قانون اس امر کا تعین ضروری ہوگا کہ فریقین کے درمیان نفع و نقصان کی تقسیم کس تناسب سے ہوگی۔ علیٰ ہذا القیاس مشترک سرمائے کی کمپنیوں میں بھی شرکت کی صورت صرف یہی ایک ہوگی کہ سیدھے سادھے حصے خرید لیے جائیں۔ بانڈ اور ڈبنچر اور اس طرح کی دوسری چیزیں، جن کے خریدار کو کمپنی سے ایک لگی بندھی آمدنی ملتی ہے، سرے سے موجود ہی نہ ہوں گی۔
حکومت کے توسط سے لگانا چاہیں گے تو انہیں امورِ نافعہ سے متعلق حکومت کی کسی اسکیم میں حصہ دار بننا ہوگا۔ مثال کے طور پر فرض کیجئے کہ حکومت برق آبی کی کوئی تجویز عمل میں لانا چاہتی ہے۔ وہ اس کااعلان کر کے پبلک کو اس میں شرکت کی دعوت دے گی۔ جو اشخاص ، یا ادارے، یا بینک اس میں سرمایہ دیں گے وہ حکومت کے ساتھ اس میں حصہ دار بن جائیں گے اور اس کے کاروباری منافع میں سے ایک طے شدہ تناسب کے مطابق حصہ پاتے رہیں گے۔ نقصان ہوگا تو اس کا بھی متناسب حصہ ان سب پر اور حکومت پر تقسیم ہو جائے گا۔ اور حکومت اس امر کی بھی حقدار ہوگی کہ ایک ترتیب کے ساتھ بتدریج لوگوں کے حصے خود خریدتی چلی جائے یہاں تک کہ چالیس پچاس سال میں برق آبی کا وہ پورا کام خالص سرکاری ملک بن جائے۔
مگر موجودہ نظام کی طرح اس نظام میں بھی سب سے زیادہ قابلِ عمل اور مفید تیسری صورت ہی ہوگی، یعنی یہ کہ لوگ بینکوں کے توسط سے اپنا سرمایہ نفع بخش کاموں میں لگائیں۔ اس لیے ہم اس کو ذرا زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کرنا چاہتے ہیں تا کہ لوگوں کے سامنے اس امر کی صاف تصویر آجائے کہ سود کو ساقط کرنے کے بعد بینکنگ کا کاروبار کس طرح چل سکتا ہے اور نفع کے طالب لوگ اس سے کس طرح متمتع ہوسکتے ہیں۔

بینکنگ کی اسلامی صورت

بینکنگ کے متعلق جو بحث ہم اپنی کتاب ’’سود‘‘ میں کر چکے ہیں اس سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ یہ کام سرے سے ہی غلط یا ناجائز نہیں ہے۔ دراصل بینکنگ بھی موجودہ، تہذیب کی پرورش کی ہوئی بہت سی چیزوں کی طرح ایک ایسی اہم اور مفید چیز ہے جس کو صرف ایک شیطانی عنصر کی شمولیت نے گندہ کر رکھا ہے۔ اول تو وہ بہت سی ایسی جائز خدمات انجام دیتا ہے جو موجودہ زمانے کی تمدنی زندگی اور کاروباری ضروریات کے لیے مفید بھی ہیں اور ناگزیر بھی۔ مثلاً رقموں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنا اور ادائیگی کا انتظام کرنا، بیرونی ممالک سے لین دین کی سہولتیں بہم پہنچانا، قیمتی اشیاء کی حفاظت کرنا، اعتماد نامے (letters of credit) ، سفری چک اور گشتی نوٹ جاری کرنا، کمپنیوں کے حصص کی فروخت کا انتظام کرنا، اور بہت سی وکیلانہ خدمات (agency services) جنہیں تھوڑے سے کمیشن پر بینک کے سپرد کر کے آج ایک مصروف آدمی بہت سے جھنجھٹوں سے خلاصی پالیتا ہے۔ یہ وہ کام ہیں جنہیں بہرحال جاری رہنا چاہیے اوران کے لیے ایک مستقل ادارے کا ہونا ضروری ہے۔ پھر یہ بات بھی بجائے خود تجارت ، صنعت، زراعت اور ہر شعبۂ تمدن و معیشت کے لیے نہایت مفید اور آج کے حالات کے لحاظ سے نہایت ضروری ہے کہ معاشرے کا فاضل سرمایہ بکھرا ہوا رہنے کے بجائے ایک مرکزی ذخیرہ (reservoir) میں مجتمع ہو اور وہاں سے زندگی کے ہر شعبے کو آسانی کے ساتھ ہر وقت ہر جگہ بہم پہنچ سکے۔ اس کے ساتھ عام افراد کے لیے بھی اس میں بڑی سہولت ہے کہ جو تھوڑا بہت سرمایہ ان کی ضرورت سے بچ رہتا ہے اسے وہ کسی نفع بخش کام میں لگانے کے مواقع الگ الگ بطور خود ڈھونڈتے پھرنے کے بجائے سب اس کو ایک مرکزی ذخیرے میں جمع کرا دیا کریں اور وہاں ایک قابل اطمینان طریقے سے اجتماعی طور پر ان سب کے سرمائے کو کام پر لگانے اور حاصل شدہ منافع کو ان پر تقسیم کرنے کا انتظام ہوتا رہے۔ ان سب پر مزید یہ کہ مستقل طور پر مالیات (finance) ہی کا کام کرتے رہنے کی وجہ سے بینک کے منتظمین اور کارکنوں کو اس شعبۂ فن میں ایک ایسی مہارت اور بصیرت حاصل ہو جاتی ہے جو تاجروں، صناعوں اور دوسرے معاشی کارکنوں کو نصیب نہیں ہوتی ۔ یہ ماہرانہ بصیرت بجائے خود ایک نہایت قیمتی چیز ہے اور بڑی مفید ثابت ہوسکتی ہے بشرطیکہ یہ محض ساہوکار کی خود غرضی کا ہتھیار بن کر نہ رہے بلکہ کاروباری لوگوں کے ساتھ تعاون میں استعمال ہو۔ لیکن بینکنگ کی ان ساری خوبیوں اور منفعتوں کو جس چیز نے الٹ کر پورے تمدن کے لیے برائیوں اور مضرتوں سے بدل دیا ہے وہ سود ہے اور اس کے ساتھ دوسری بنائے فاسد یہ بھی شامل ہو گئی ہے کہ سود کی کشش سے جو سرمایہ کھچ کھچ کر بینکوں میں مرتکز ہوتا ہے وہ عملاً چند خود غرض سرمایہ داروں کی دولت بن کر رہ جاتا ہے جسے وہ نہایت دشمنِ اجتماع (anti social) طریقوں سے استعمال کرتے ہیں۔ ان دو خرابیوں کو اگر دور کر دیا جائے تو بینکنگ ایک پاکیزہ کام بھی ہو جائے گا، تمدن کے لیے موجودہ حالت کی بہ نسبت بدرِ جہا زیادہ نافع بھی ہوگا اور عجب نہیں کہ خود ساہوکاروں کے لیے بھی سود خوری کی بہ نسبت یہ دوسرا پاکیزہ طریقِ کار مالی حیثیت سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو۔
جولوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ انسدادِ سود کے بعد بینکوں میں سرمایہ اکٹھا ہونا ہی بند ہو جائے گا وہ غلطی پر ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب سود ملنے کی توقع ہی نہ ہوگی تو لوگ کیوں اپنی فاضل آمدنیاں بینک میں رکھوائیں گے۔ حالانکہ اس وقت سود کی نہ سہی، نفع ملنے کی توقع تو ضرور ہوگی، اور چونکہ نفع کا امکان غیر متعین اور غیر محدود ہو گا، اس لیے عام شرح سود کی بہ نسبت کم نفع حاصل ہونے کا جس قدر امکان ہوگا اسی قدر اچھا خاصا زیادہ نفع ملنے کا امکان بھی ہوگا ۔ اس کے ساتھ بینک وہ تمام خدمات بدستور انجام دیتے رہیں گے جن کی خاطر اب لوگ بینکوں کی طرف رجوع کیا کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ بالکل ایک یقینی بات ہے کہ جس مقدار میں اب سرمایہ بینکوں کے پاس آتا ہے اسی مقدار میں انسداد سود کے بعد بھی آتا رہے گا، بلکہ اس وقت چونکہ ہر طرح کے کاروبار کو زیادہ فروغ حاصل ہوگا ، روزگار بڑھ جائے گا، اور آمدنیاں بھی بڑھ جائیں گی، اس لیے موجودہ حالت کی بہ نسبت کہیں بڑھ چڑھ کر فاضل آمدنیاں بینکوں میں جمع ہوں گی۔
اس جمع شدہ سرمایہ کا جس قدر حصہ چالو کھاتے یا عند الطلب کھاتے میں ہوگا اس کو تو بینک کسی نفع بخش کام میں نہ لگا سکیں گے، جس طرح اب بھی نہیں لگا سکتے ۔ اس لیے وہ زیادہ تر دو بڑے کاموں میں استعمال ہوگا۔ ایک روز مرہ کا نقد لین دین۔ دوسرے کاروباری لوگوں کو قلیل المدت قرضے بلا سود دینا، اور ہنڈیاں بلا سود بھُنانا۔
رہا وہ سرمایہ جو لمبی مدت کے لیے بینکوں میں رکھا جائے گا تو وہ لازماً دو ہی قسم کا ہوگا۔ ایک وہ جس کے مالک صرف اپنے مال کی حفاظت چاہتے ہوں۔ ایسے لوگوں کے مال کو بینک قرض کے طور پر لے کر خود کاروبار میں استعمال کرسکیں گے، جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ دوسرا وہ جس کے مالک اپنے مال کو بینکوں کے توسط سے کاروبار میں لگانا چاہتے ہوں۔ ان کے مال کو امانت میں رکھنے کے بجائے ہر بینک کو ان کے ساتھ ایک شراکت نامۂ عام طے کرنا ہوگا ۔ پھر بینک اس سرمایہ کو اپنے دوسرے سرمایوں سمیت مضاربت کے اصول پر تجارتی کاروبار میں، صنعتی اسکیموں میں، زراعتی کاموں میں، اور پبلک اداروں اور حکومتوں کے نفع آور کاموں میں لگا سکیں گے، اور اس سے بحیثیت مجموعی دو عظیم الشان فائدے ہوں گے۔ ایک یہ کہ ساہوکار کا مفاد کاروبار کے مفاد کے ساتھ متحد ہو جائے گا، اس لیے کاروبار کی ضرورت کے مطابق سرمایہ اس کی پشتیبانی کرتا رہے گا اور وہ اسباب قریب قریب ختم ہو جائیں گے جن کی بنا پر موجودہ سود خور دنیا میں کساد بازاری کے دورے پڑا کرتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ساہوکار کی مالیاتی بصیرت اور کاروباری لوگوں کی تجارتی و صنعتی بصیرت، جو آج باہم نبرد آزمائی کرتی رہتی ہیں، اس وقت ایک دوسرے کے ساتھ دستیاری اور تعاون کریں گے اور یہ سب ہی کے لیے مفید ہوگا۔ پھر جو منافع ان ذرائع سے بینکوں کو حاصل ہوں گے ان کو وہ اپنے انتظامی مصارف نکالنے کے بعد، ایک مقرر تناسب کے مطابق اپنے حصے داروں اور کھاتہ داروں میں تقسیم کر دیں گے۔ اس معاملے میں فرق صرف یہ ہوگا کہ بحالتِ موجودہ منافع (dividends) بینکوں کے حصے داروں میں تقسیم ہوتے ہیں اور کھاتہ داروں کو سود دے دیا جاتا ہے۔ اس وقت دونوں میں منافع ہی تقسیم ہوں گے۔ اب کھاتہ داروں کو ایک متعین شرح کے مطابق سود ملا کرتا ہے۔ اس وقت شرح کا تعین نہ ہوگا بلکہ جتنے بھی منافع ہوں گے، خواہ کم ہوں یا زیادہ، وہ سب ایک تناسب کے ساتھ تقسیم ہو جائیں گے۔ نقصان اور دیوالہ کا جتنا خطرہ اب ہے اتنا ہی اس وقت بھی ہوگا۔ اب خطرہ اور اس کے بالمقابل غیر محدود نفع کا امکان، دونوں صرف بینک کے حصہ داروں کے لیے مخصوص ہیں۔ اس وقت یہ دونوں چیزیں کھاتہ داروں اور حصہ داروں میں مشترک ہو جائیں گی۔
رہ گیا بینکنگ کا یہ نقصان کہ نفع کی کشش سے جو سرمایہ ان کے پاس اکٹھا ہوتا ہے اس کی مجتمع طاقت پر عملاً صرف چند ساہوکار قابض و متصرف ہوتے ہیں، تو اس کے تدارک کے لیے ہم کو یہ کرنا ہوگا کہ مرکزی ساہوکاری (central banking) کا سارا کام بیت المال یا اسٹیٹ بینک خود اپنے ہاتھ میں رکھے اور قوانین کے ذریعے سے تمام پرائیویٹ بینکوں پر حکومت کا اقتدار اور دخل و ضبط اس حد تک قائم کر دیا جائے کہ ساہوکار اپنی مالیاتی طاقت کا بیجا استعمال نہ کرسکیں۔
غیر سودی مالیات کا یہ مجمل نقشہ جو ہم نے پیش کیا ہے، کیا اسے دیکھنے کے بعد بھی اس شبہ کی کوئی گنجائش نہ رہ جاتی ہے کہ سود کا انسداد قابلِ عمل نہیں ہے؟

(۵) غیر مسلم ممالک سے اقتصادی اور صنعتی قرضے( ترجمان القرآن، بابت ماہ نومبر 1961ء سے ماخوذ۔)

سوال: کیا اسلامی حکومت موجودہ دور میں جب کہ ایک ملک دوسرے ملک سے قطع تعلق کر کے ترقی نہیں کرسکتا، غیر ممالک سے مطلق اقتصادی، فوجی، ٹیکنیکل امداد یا بین الاقوامی بینک سے شرح سود پرقرض لینا بالکل حرام قرار دے گی؟ پھر مادی، صنعتی، زراعتی و سائنسی ترقی وغیرہ کی جو عظیم خلیج مغربی ترقی یافتہ (advanced) ممالک اور مشرقی وسطیٰ بالخصوص اسلامی ممالک یا اس ایٹمی دور میں (have) اور (have not) کے درمیان حائل ہے کس طرح پُر ہوسکے گی؟ نیز کیا اندرونِ ملک تمام بینکنگ و انشورنس سسٹم ترک کرنے کا حکم دیا جائے گا؟ سود، پگڑی، منافع و ربح اور گڈول (good will) اور خرید و فروخت میں دلالی و کمیشن کے لیے کون سی اجتہادی راہ نکالی جاسکتی ہے؟ کیا اسلامی ممالک آپس میں سود، منافع، ربح وغیرہ پر کسی صورت میں قرض کا لین دین کرسکتے ہیں؟

جواب: اسلامی حکومت نے کسی دور میں بھی غیر مسلم ممالک سے قطع تعلق کی پالیسی اختیار نہیں کی اور نہ آج کرے گی۔ لیکن قرض کے معنی قرض مانگتے پھرنے کے نہیں ہیں اور وہ بھی ان کی شرائط پر۔ ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ یہ تعلق اس زمانے کے کم ہمت لوگوں نے ہی پیدا کیا ہے۔ اگر کسی ملک میں ایک صحیح اسلامی حکومت قائم ہو تو وہ مادی ترقی سے پہلے اپنی قوم کی اخلاقی حالت سدھارنے کی کوشش کرے گی۔اخلاقی حالت سدھرنے کے معنی یہ ہیں کہ قوم کے حکمران اور اس کی انتظامی مشینری کے کار پرداز اور قوم کے افراد ایمان دار ہوں۔ اپنے حقوق سے پہلے اپنے فرائض کو ملحوظ رکھنے اور سمجھنے والے ہوں۔ اور سب کے سامنے ایک بلند نصب العین ہو جس کے لیے جان و مال اور وقت اور محنتیں اور قابلیتیں سب کچھ قربان کرنے کے لیے وہ تیار ہوں۔ نیز یہ کہ حکمرانوں کو قوم پر اور قوم کو حکمرانوں پر پورا اعتماد ہو اور قوم ایمان داری کے ساتھ یہ سمجھے کہ اس کے سربراہ درحقیقت اس کی فلاح کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال اگر پیدا ہو جائے تو ایک قوم کو باہر سے سود پر قرض مانگنے کی صورت پیش نہیں آسکتی۔ ملک کے اندر جو ٹیکس لگائے جائیں گے، وہ سو فیصدی وصول ہوں گے اور سو فیصدی ہی وہ قوم کی ترقی پر صَرف ہوں گے۔ نہ ان کی وصول یابی میں بے ایمانی ہوگی اور نہ ان کے خرچ میں ہی بے ایمانی ہوگی۔ اس پر بھی اگر قرض کی ضرورت پیش آئے تو قوم خود سرمایہ کا ایک بڑا حصہ رضاکارانہ چندے کی صورت میں اور ایک اچھا خاصا حصہ غیر سودی قرض کی صورت میں اور ایک حصہ منافع میں شرکت کے لیے اصول پر فراہم کرنے کو تیار ہو جائے گی۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ پاکستان میں اگر اسلامی اصولوں کا تجربہ کیا جائے تو شاید بہت جلدی پاکستان دوسروں سے قرض لینے کے بجائے دوسروں کو قرض دینے کے لیے تیار ہو جائے گا۔
بالفرض اگر ہمیں بیرونی قوموں سے سود پر قرض لینے کی ناگزیر صورت پیش آہی جائے، یعنی ہمیں اپنی ضرورت کو پورا کرنا بھی لازم ہے اور اس کے لیے ملک میں سرمایہ بھی نہ مل سکے، تو مجبوراً دوسروں سے سود پر قرض لیا جاسکتا ہے لیکن ملک کے اندر سودی لین دین جاری رکھنے کا پھر بھی کوئی جواز نہیں۔ ملک میں سود بند کیا جاسکتا ہے اور پورا مالی نظام (financial system) سود کے بغیر چلایا جاسکتا ہے۔ میں اپنی کتاب ’’سود‘‘ میں یہ ثابت کر چکا ہوں کہ بینکنگ کا نظام سود کے بجائے منافع میں شرکت (profit sharing) کے اصول پر چلایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح انشورنس کے نظام میں ایسی ترمیمات کی جاسکتی ہیں جن سے انشورنس کے سارے فوائد غیر اسلامی طریقے اختیار کئے بغیر حاصل ہوسکیں۔ دلالی، منافع پگڑی، کمیشن یا گڈول (good will) وغیرہ کی علیحدہ علیحدہ شرعی پوزیشن ہے۔ جب اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آئے گا تو اس کا جائزہ لے کر یا تو سابق پوزیشن بحال رکھی جائے گی یا پھر ضروری اصلاحات کی جائیں گی۔ یہ کام لامحالہ ماہرین شریعت اور ماہرین مالیات کو مل جل کر کرنا ہوگا۔

(۱) زکوٰۃ کی حقیقت اور اس کے احکام( ’’خطبات‘‘ سے ماخوذ۔)

نماز کے بعد اسلام کا سب سے بڑا رکن زکوٰۃ ہے۔ عام طور پر چونکہ عبادات کے سلسلے میں نماز کے بعد روزے کا نام لیا جاتا ہے، اس لیے لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ نماز کے بعد روزے کا نمبر ہے۔ مگر قرآن سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں نماز کے بعد سب سے بڑھ کر زکوٰۃ کی اہمیت ہے۔ یہ دو بڑے ستون ہیں جن پر اسلام کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ ان کے ہٹنے کے بعد اسلام قائم نہیں رہ سکتا۔

زکوٰۃ کے معنی

زکوٰۃ کے معنی ہیں پاکی اور صفائی۔ اپنے مال میں سے ایک حصہ حاجتمندوں اور مسکینوں کے لیے نکالنے کو زکوٰۃ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس طرح آدمی کا مال، اور اس کے مال ساتھ خود آدمی کا نفس بھی پاک ہو جاتا ہے۔ جو شخص خدا کی بخشی ہوئی دولت میں سے خدا کے بندوں کا حق نہیں نکالتا اس کا مال ناپاک ہے اور مال کے ساتھ اس کا نفس بھی ناپاک ہے، کیوں کہ اس کے نفس میں احسان فراموشی بھری ہوئی ہے۔ اس کا دل اتنا تنگ ہے، اتنا خود غرض ہے، اتنا زر پرست ہے کہ جس خدا نے اس کو حقیقی ضروریات سے زیادہ دولت دے کر اس پر احسان کیا، اس کے احسان کا حق ادا کرتے ہوئے اس کا دل دکھتا ہے۔ ایسے شخص سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ دنیا میں کوئی نیکی بھی خدا کے واسطے کر سکے گا، کوئی قربانی بھی محض اپنے دین و ایمان کی خاطر برداشت کرے گا۔ لہٰذا ایسے شخص کا دل بھی ناپاک اور اس کا وہ مال بھی ناپاک جسے وہ اس طرح جمع کرے۔

سنّتِ انبیاءؑ

قدیم زمانے سے تمام انبیاء کی امتوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم لازمی طور پر دیا گیا ہے، اور دین اسلام کبھی کسی نبی کے زمانے میں بھی ان دو چیزوں سے خالی نہیں رہا۔ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی نسل کے انبیاء کا ذکر فرمانے کے بعد ارشاد ہوتا ہے:
وَجَعَلْنٰہُمْ اَىِٕمَّۃً يَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْہِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوۃِ وَاِيْتَاۗءَ الزَّكٰوۃِ۝۰ۚ وَكَانُوْا لَنَا عٰبِدِيْنَo الانبیاء73:22
ہم نے ان کو پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، اور ہم نے وحی کے ذریعے سے ان کو نیک کام کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی تعلیم دی اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے۔
سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کے متعلق ارشاد ہے:
وَكَانَ يَاْمُرُ اَہْلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّكٰوۃِ۝۰۠ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّہٖ مَرْضِيًّاo مریم 55:19
وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور وہ اللہ کے نزدیک برگزیدہ تھے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لیے دعا کی کہ خدایا ہمیں اس دنیا کی بھلائی بھی عطا کر اور آخرت کی بھلائی بھی۔ آپ کو معلوم ہے کہ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا؟ جواب میں ارشاد ہوا:
عَذَابِيْٓ اُصِيْبُ بِہٖ مَنْ اَشَاۗءُ۝۰ۚ وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ۝۰ۭ فَسَاَكْتُبُہَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَالَّذِيْنَ ہُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَo الاعراف 156:7
میں اپنے عذاب میں جسے چاہوں گا گھیر لوں گا، اور میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔مگر اس رحمت کو میں انھی لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو مجھ سے ڈریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور ہماری آیات پر ایمان لائیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آخری نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے۔ ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکوٰۃ کا ساتھ ساتھ حکم دیا:
وَّجَعَلَنِيْ مُبٰرَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ۝۰۠ ‎وَاَوْصٰىنِيْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّكٰوۃِ مَا دُمْتُ حَيًّاo
مریم 31:19
اللہ تعالیٰ نے مجھے برکت دی جہاں بھی میں ہوں اور مجھے ہدایت فرمائی کہ نماز پڑھوں اور زکوٰۃ دیتا رہوں جب تک زندہ رہوں۔
اس سے معلوم ہوگیا کہ دینِ اسلام ابتدا سے ہر نبی کے زمانے میں نماز اور زکوٰۃ کے ان دو بڑے ستونوں پر قائم ہوا ہے، اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خدا پر ایمان رکھنے والی کسی امت کو بھی ان دو فرضوں سے معاف کیا گیا ہو۔
اب دیکھیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں یہ دونوں فرض کس طرح ساتھ ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ قرآن مجید کھولتے ہی سب سے پہلے جن آیات پر آپ کی نظر پڑتی ہے وہ کیا ہیں؟ یہ کہ:
ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ۝۰ۚۖۛ فِيْہِ۝۰ۚۛھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَo الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَo البقرہ 2,3:2
یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ ان پرہیزگاروں کو دنیا میں زندگی کا سیدھا راستہ بتاتا ہے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔
پھر فرمایا:
اُولٰۗىِٕكَ عَلٰي ھُدًى مِّنْ رَّبِّہِمْ۝۰ۤوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَo البقرہ 5:2
ایسے ہی لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں اور فلاح ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے۔
یعنی جن میں ایمان نہیں اور جو نماز اور زکوٰۃ کے پابند نہیں وہ نہ ہدایت پر ہیں اور نہ انہیں فلاح نصیب ہوسکتی ہے۔
اس کے بعد اس سورئہ بقرہ کو پڑھتے جایئے، چند صفحوں کے بعد پھر حکم ہوتا ہے:
وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ وَارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَo البقرہ 43:2
نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو (یعنی جماعت کے ساتھ نماز پڑھو)
سورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کفار و مشرکین سے جنگ کا حکم دیا ہے اور مسلسل کئی رکوعوں تک جنگ ہی کے متعلق ہدایات دی ہیں۔ اس سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے:
فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۝۰ۭ توبہ 11:9
پھر اگر وہ کفر و شرک سے توبہ کرلیں، ایمان لے آئیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔
یعنی محض کفر و شرک سے توبہ کرنا اور ایمان کا اقرار کرلینا کافی نہیں ہے ۔ اس بات کا ثبوت کہ وہ واقعی کفر و شرک سے تائب ہوگئے ہیں اور حقیقت میں ایمان لائے ہیں، صرف اسی طرح مل سکتا ہے کہ وہ نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں۔ لہٰذا اگر وہ اپنے اس عمل سے اپنے ایمان کا ثبوت دے دیں تب تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں، ورنہ ان کو بھائی نہ سمجھو اور ان سے جنگ بند نہ کرو۔

(۲) اجتماعی زندگی میں زکوٰۃ کا مقام

قرآن مجید میں زکوٰۃ اور صدقات کے لیے جگہ جگہ انفاق فی سبیل اللہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، یعنی ’’خدا کی راہ میں خرچ کرنا۔‘‘ بعض بعض مقامات پر یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ جو کچھ تم راہ خدا میں صرف کرتے ہو یہ اللہ کے ذمہ قرضہ حسنہ ہے۔ گویا تم اللہ کو قرض دیتے ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارا قرض دار ہو جاتا ہے۔ بکثرت مقامات پر یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کی راہ میں جو کچھ تم دو گے اس کا بدلہ اللہ کے ذمہ ہے اور وہ صرف اتنا ہی تم کو واپس نہ کرے گا بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ دے گا۔ اس مضمون پر غور کیجئے۔ کیا زمین و آسمان کا مالک، نعوذ باللہ آپ کا محتاج ہے؟ کیا اس ذات پاک کو آپ سے قرض لینے کی ضرورت ہے؟ کیا وہ پادشاہوں کا پادشاہ، وہ بے حد و حساب خزانوں کا مالک، اپنے لیے آپ سے کچھ مانگتا ہے؟ معاذ اللہ، معاذ اللہ۔ اسی کی بخشش پر تو آپ پل رہے ہیں۔ اسی کا دیا ہوا رزق تو آپ کھاتے ہیں۔ آپ میں سے ہر امیر اور غریب کے پاس جو کچھ ہے سب اسی کا تو عطیہ ہے۔ آپ کے ایک فقیر سے لے کر ایک کروڑ پتی اور ارب پتی تک ہر شخص اس کے کرم کا محتاج ہے اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس کو کیا ضرورت کہ آپ سے قرض مانگے اور اپنی ذات کے لیے آپ کے آگے ہاتھ پھیلائے؟ دراصل یہ بھی اس کی شان کریمی ہے کہ وہ آپ سے خود آپ ہی کے فائدے کے لیے آپ ہی کی بھلائی کے لئے، آپ ہی کے کام میں خرچ کرنے کو فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ خرچ میری راہ میں ہے، مجھ پر قرض ہے، میرے ذمہ اس کا بدلہ ہے اور میں تمہارا احسان مانتا ہوں۔ تم اپنی قوم کے محتاجوں اور مسکینوں کو دو۔ اس کا بدلہ وہ غریب کہاں سے دیں گے، ان کی طرف سے میں دوں گا۔ تم اپنے غریب رشتہ داروں کی مدد کرو ۔ اس کا احسان ان پر نہیں مجھ پر ہے، میں تمہارے اس احسان کو اتاروں گا۔ تم اپنے یتیموں، اپنی بیوائوں، اپنے معذوروں، اپنے مسافروں، اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کو جو کچھ دو اسے میرے حساب میں لکھ لو۔ تمہارا مطالبہ ان کے ذمے نہیں، میرے ذمے ہے اور میں اس کو ادا کروں گا۔ تم اپنے پریشان حال بھائیوں کو قرض دو اور ان سے سود نہ مانگو ، ان کو تنگ نہ کرو، اگر وہ ادا کرنے کے قابل نہ ہوں تو ان کو سول جیل نہ بھجوائو، ان کے کپڑے اور گھر کے برتن قرق نہ کرائو۔ ان کے بال بچوں کوگھر سے بے گھر نہ کر دو۔ تمہارا قرض ان کے ذمے نہیں، میرے ذمہ ہے۔ اگر وہ اصل ادا کر دیں گے تو ان کی طرف سے سود میں ادا کروں گا اور اگر وہ اصل بھی ادا نہ کرسکیں گے تو میں اصل اور سود دونوں تمہیں دوں گا۔ اسی طرح اپنی جماعتی فلاح کے کاموں میں، اپنے ابنائے نوع کی بھلائی اور بہتری کے لیے، جو کچھ تم خرچ کرو گے، اس کا فائدہ اگرچہ تمہی کو ملے گا، مگر اس کا احسان مجھ پر ہوگا۔ میں اس کی پائی پائی منافع سمیت تمہیں واپس دوں گا۔
آپ جانتے ہیں کہ انسان کچھ اپنی فطرت ہی کے لحاظ سے ظلوم و جہول واقع ہوا ہے۔ اس کی نظر تنگ ہے۔ یہ زیادہ دور تک نہیں دیکھ سکتا۔ اس کا دل چھوٹا ہے ۔ زیادہ بڑے اور اونچے خیالات اس میں کم ہی سما سکتے ہیں۔ یہ خود غرض واقع ہوا ہے۔ اور اپنی غرض کا بھی کوئی وسیع تصور اس کے دماغ میں پیدا نہیں ہوتا۔ یہ جلد باز بھی ہے ۔ خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَـجَلٍ، یہ ہر چیز کا نتیجہ اور فائدہ جلدی دیکھنا چاہتا ہے اور اسی نتیجے کو نتیجہ اور اسی فائدے کو فائدہ سمجھتا ہے جو جلدی سے اس کے سامنے آجائے اور اس کو محسوس ہو جائے۔ دور رس نتائج تک اس کی نگاہ نہیں پہنچتی، اور بڑے پیمانے پر جو فائدے حاصل ہوتے ہیں جن فائدوں کا سلسلہ بہت دور تک چلتا ہے، ان کا ادراک تو اسے مشکل ہی سے ہوتا ہے۔ بلکہ بسا اوقات ہوتا ہی نہیں۔ یہ انسان کی فطری کمزوری ہے۔ اور اس کمزوری کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ہر چیز میں یہ اپنے ذائی فائدے کو دیکھتا ہے اور فائدہ بھی وہ جو بہت چھوٹے پیمانے پر ہو، جلدی سے حاصل ہو جائے اور اس کو محسوس ہو جائے ۔ یہ کہتا ہے کہ جو کچھ میں نے کمایا ہے، یا جو کچھ مجھے اپنے باپ دادا سے ملا ہے وہ میرا ہے، اس میں کسی کا حصہ نہیں ۔ اس کو میری ضروریات پر، میری خواہشات پر، میری آسائش اور میری لذتِ نفس ہی پر خرچ ہونا چاہیے، یا کسی ایسے کام میں خرچ ہونا چاہیے جس کا نفع جلدی سے محسوس صورت میں میرے پاس پلٹ آئے۔ میں روپیہ صرف کروں تو اس کے بدلے میں یا تو میرے پاس اس سے زیادہ روپیہ آنا چاہیے، یا میری آسائش میں مزید اضافہ ہونا چاہیے، یا کم از کم یہی ہو کہ میرا نام بڑھے، میری شہرت ہو، میری عزت بڑھے، مجھے کوئی خطاب ملے، اونچی کرسی ملے، لوگ میرے سامنے جھکیں، اور زبانوں پر میرا چرچا ہو ، اگر ان باتوں میں سے کچھ بھی مجھے حاصل نہیں ہوتا تو آخر میں کیوں اپنا مال اپنے ہاتھ سے دوں؟ قریب میں کوئی یتیم بھوکا مر رہا ہے یا آوارہ پھر رہا ہے تو میں کیوں اس کی خبر گیری کروں؟ اس کا حق اس کے باپ پر تھا، اسے اپنی اولاد کے لیے کچھ چھوڑ کر جانا چاہیے تھا، یا انشورنس کرانا چاہیے تھا۔ کوئی بیوہ اگر میرے محلے میں مصیبت کے دن کاٹ رہی ہے تو مجھے کیا؟ اس کے شوہر کو اس کی فکر کرنی چاہیے تھی۔ کوئی مسافر اگر بھٹکتا پھر رہا ہے تو مجھ سے کیا تعلق؟ وہ بیوقوف اپنا انتظام کیے بغیر گھر سے کیوں نکل کھڑا ہوا؟ کوئی شخص اگر پریشان حال ہے تو ہوا کرے، اسے بھی اللہ نے میری ہی طرح ہاتھ پائوں دیے ہیں، اپنی ضرورتیں اسے خود پوری کرنی چاہئیں، میں اس کی کیوں مدد کروں؟ میں اسے دوں گا تو قرض دوں گا اور اصل کے ساتھ سود بھی وصول کروں گا۔ کیونکہ میرا روپیہ کچھ بیکار تو ہے نہیں۔ میں اس سے مکان بنواتا، یا موٹر خریدنا، یا کسی نفع کے کام پر لگاتا ۔ یہ بھی اس سے کچھ نہ کچھ فائدہ ہی اٹھائے گا۔ پھر کیوں نہ میں اس فائدے میں سے اپنا حصہ وصول کروں؟
اس خود غرضانہ ذہنیت کے ساتھ اول تو روپے والا آدمی خزانے کا سانپ بن کر رہے گا۔ یا خرچ کرے گا تو اپنے ذاتی فائدے کے لیے کرے گا۔ جہاں اس کو اپنا فائدہ نظر نہ آئے گا وہاں ایک پیسہ بھی اس کی جیب سے نہ نکلے گا۔ اگر کسی غریب آدمی کی اس نے مدد کی بھی تو دراصل اس کی مدد نہ کرے گا، بلکہ اس کو لوٹے گا، اور جو کچھ اسے دے گا اس سے زیادہ وصول کرلے گا۔ اگر کسی مسکین کو کچھ دے گا تو اس پر ہزاروں احسان رکھ کر اس کی آدھی جان نکال لے گا اور اس کی اتنی تذلیل و تحقیر کرے گا کہ اس میں کوئی خود داری باقی نہ رہ سکے گی۔ اگر کسی قومی کام میں حصہ لے گا تو سب سے پہلے یہ دیکھ لے گا کہ اس میں میرا ذاتی فائدہ کس قدر ہے۔ جن کاموں میں اس کی اپنی ذات کا کوئی فائدہ نہ ہو وہ سب اس کی مدد سے محروم رہ جائیں گے۔
اس ذہنیت کے نتائج کیا ہیں؟ اس کے نتائج صرف اجتماعی زندگی ہی کے لیے مہلک نہیں ہیں بلکہ آخر کار خو داس شخص کے لیے بھی نقصان دہ ہیں جو تنگ نظری اور جہالت کی وجہ سے اس کو اپنے لیے فائدہ مند سمجھتا ہے۔ جب لوگوں میں یہ ذہنیت کام کر رہی ہو تو تھوڑے اشخاص کے پاس دولت سمٹ سمٹ کر اکٹھی ہوتی چلی جاتی ہے اور بے شمار اشخاص بے وسیلہ ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ دولتمند لوگ روپے کے زور سے روپیہ کھینچتے رہتے ہیں اور غریب لوگوں کی زندگی روز بروز تنگ ہوتی جاتی ہے۔ افلاس جس سوسائٹی میں عام ہو وہ طرح طرح کی خرابیوں میں مبتلا ہوتی ہے ۔ اس کی جسمانی صحت خراب ہوتی ہے۔ اس میں بیماریاں پھیلتی ہیں۔ اس میں کام کرنے اور دولت پیدا کرنے کی قوت کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس میں جہالت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس کے اخلاق گرنے لگتے ہیں۔ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جرائم کا ارتکاب کرنے لگتی ہے اور آخر کار یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ وہ لوٹ مار پر اتر آتی ہے۔ عام بلوے ہوتے ہیں۔ دولت مند لوگ قتل کیے جاتے ہیں، ان کے گھر بار لوٹے اور جلائے جاتے ہیں اور وہ اس طرح تباہ و برباد ہوتے ہیں کہ ان کا نام و نشان تک دنیا میں باقی نہیں رہتا۔
اگر آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوسکتا ہے کہ درحقیقت ہر شخص کی بھلائی اس جماعت کی بھلائی کے ساتھ وابستہ ہے جس کے دائرے میں وہ رہتا ہے۔ آپ کے پاس جو دولت ہے اگر آپ اس میں سے اپنے دوسرے بھائیوں کی مدد کریں گے تو یہ دولت چکر لگاتی ہوئی بہت سے فائدوں کے ساتھ پھر آپ کے پاس پلٹ آئے گی۔ اور اگر آپ تنگ نظری کے ساتھ اس کو اپنے پاس جمع رکھیں گے یا صرف اپنے ہی ذاتی فائدے پر خرچ کریں گے تو یہ بالآخر گھٹتی چلی جائے گی۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے ایک یتیم بچے کی پرورش کی اور اسے تعلیم دے کر اس قابل بنا دیا کہ وہ آپ کی جماعت کا ایک کمانے والا فرد بن جائے گا تو گویا آپ نے جماعت کی دولت میں اضافہ کیا، اور ظاہر ہے کہ جب جماعت کی دولت بڑھے گی تو آپ، جو جماعت کے ایک فرد ہیں، آپ کو بھی اس دولت میں سے بہرحال حصہ ملے گا،خواہ آپ کو کسی حساب سے یہ معلوم نہ ہوسکے کہ یہ حصہ آپ کو اس خاص یتیم کی قابلیت سے پہنچا ہے جس کی آپ نے مدد کی تھی۔ لیکن اگر آپ نے خود غرضی اور تنگ نظری سے کام لے کر یہ کہا کہ میں اس کی مدد کیوں کروں، اس کے باپ کوا س کے لیے کچھ نہ کچھ چھوڑنا چاہیے تھا، تو وہ آوارہ پھرے گا، ایک بیکار آدمی بن کر رہ جائے گا، اس میں یہ قابلیت ہی پیدا نہ ہوسکے گی کہ اپنی محنت سے جماعت کی دولت میں کوئی اضافہ کرسکے۔ بلکہ کچھ عجب نہیں کہ وہ جرائم پیشہ بن جائے اور ایک روز خود آپ کے گھر میں نقب لگائے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ آپ نے اپنی جماعت کے ایک شخص کو بیکار اور آوارہ اور جرائم پیشہ بنا کر اس کا ہی نہیں، خود اپنا بھی نقصان کیا۔ اس ایک مثال پر قیاس کر کے آپ ذرا وسیع نظر سے دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ جو شخص بے غرضی کے ساتھ جماعت کی بھلائی کے لیے روپیہ صرف کرتا ہے، اس کا روپیہ ظاہر میں تو اس کی جیب سے نکل جاتا ہے، مگر باہر وہ بڑھتا اور پھلتا پھولتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ آخر میں وہ بے شمار فائدوں کے ساتھ اسی کی جیب میں واپس آتا ہے جس سے وہ کبھی نکلا تھا۔ اور جو شخص خودغرضی اور تنگ نظری کے ساتھ روپے کو اپنے پاس روک رکھتا ہے اور جماعت کی بھلائی پر خرچ نہیں کرتا، وہ ظاہر میں تو اپنا روپیہ محفوظ رکھتا ہے، یا سود کھا کر اسے اور بڑھاتا ہے۔ مگر حقیقت میں اپنی حماقت سے اپنی دولت گھٹاتا ہے اور اپنے ہاتھوںاپنی بربادی کا سامان کرتا ہے۔ یہی راز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس طرح بیان فرمایا ہے کہ:
يَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ۝۰ۭ البقرہ 276:2
اللہ سود کا مَٹھ مار دیتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔
وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللہِ۝۰ۚ وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوۃٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْہَ اللہِ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَo الروم39:30
تم جو سود دیتے ہو اس غرض کے لیے کہ یہ لوگوں کی دولت بڑھائے دراصل اللہ کے نزدیک اس سے دولت نہیں بڑھتی، البتہ جو زکوٰۃ تم محض خدا کی رضا جوئی کے لیے دو، وہ دوگنی چوگنی ہوتی چلی جاتی ہے۔
لیکن اس راز کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے میں انسان کی تنگ نظری اور اس کی جہالت مانع ہے۔ یہ محسوسات کا بندہ ہے۔ جو روپیہ اس کی جیب میں ہے اس کو تو یہ دیکھ سکتا ہے کہ اس کی جیب میں ہے۔ جو روپیہ اس کے بہی کھاتے کی رو سے بڑھ رہا ہے، اس کو بھی یہ جانتا ہے کہ واقعی بڑھ رہا ہے ۔ مگر جو روپیہ اس کے پاس سے چلا جاتا ہے اس کو یہ نہیں دیکھ سکتا کہ وہ کہاں بڑھ رہا ہے، کس طرح بڑھ رہا ہے، کتنا بڑھ رہا ہے، اور کب اس کے پاس فائدوں اور منافع کے ساتھ واپس آتا ہے۔ یہ تو بس یہی سمجھتا ہے کہ اس قدر روپیہ میرے پاس سے گیا اور ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔
اس جہالت کے بند کو آج تک انسان اپنی عقل یا اپنی کوشش سے نہیں کھول سکا۔ تمام دنیا میں یہی حال ہے، ایک طرف سرمایہ داروں کی دنیا ہے جہاں سارے کام سود خوری پر چل رہے ہیں اور دولت کی کثرت کے باوجود روز بروز مصیبتوں اور پریشانیوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ دوسری طرف ایک ایسا گروہ پیدا ہو چکا ہے اور بڑھتا چلا جا رہا ہے جس کے دل میں غصے کی آگ بھڑک رہی ہے اور وہ سرمایہ داروں کے خزانوں پر ڈاکہ مارنے کے ساتھ انسانی تہذیب و تمدن کی ساری بساط بھی الٹ دینا چاہتا ہے۔
اس پیچیدگی کو اس حکیم و دانا ہستی نے حل کیا ہے جس کی کتاب پاک کا نام قرآن ہے۔ اس قفل کی کنجی ایمان باللہ اور ایمان بالیوم الآخر ہے۔ اگر آدمی خدا پر ایمان لے آئے اور یہ جان لے کہ زمین و آسمان کے خزانوں کا اصل مالک خدا ہے، اور انسانی معاملات کا انتظام اصل میں خدا ہی کے ہاتھ میں ہے، اور خدا کے پاس ایک ایک ذرے کا حساب ہے، اور انسان کی ساری بھلائیوں اور برائیوں کی آخری جزا و سزا ٹھیک ٹھیک حساب کے مطابق آخرت میں ملے گی، تو اس کے لیے یہ بالکل آسان ہو جاتا ہے کہ اپنی نظر پر بھروسہ کرنے کے بجائے خدا پر بھروسہ کرے اور اپنی دولت کو خدا کی ہدایت کے مطابق خرچ کرے، اور اس کے نفع و نقصان کو خدا پر چھوڑ دے۔ اس ایمان کے ساتھ وہ جو کچھ خرچ کرے گا وہ دراصل خدا کو دے گا۔ اس کا حساب کتاب بھی خدا کے بہی کھاتے میں لکھا جائے گا۔ خواہ دنیا میں کسی کو اس کے احسان کا علم ہو یا نہ ہو، مگر خدا کے علم میں وہ ضرور آئے گا۔ اور خواہ کوئی اس کا احسان مانے یا نہ مانے خدا اس کے احسان کو ضرور مانے اور جانے گا۔ اور خدا کا جب وہ وعدہ ہو چکا ہے کہ وہ اس کا بدلہ دے گا تو یقین ہے کہ وہ اس کا بدلہ ضرور دے گا، خواہ آخرت میں دے، یا دنیا اور آخرت دونوں میں دے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت کا یہ قاعدہ رکھا ہے کہ پہلے تو نیکی اور بھلائی کے کاموں کا ایک عام حکم دیا جاتا ہے تا کہ لوگ اپنی زندگی میں عموماً بھلائی کا طریقہ اختیار کریں۔ پھر اسی بھلائی کی ایک خاص صورت بھی تجویز کر دی جاتی ہے تا کہ اس کی خاص طور پر پابندی کی جائے۔
بس ایسا ہی معاملہ زکوٰۃ کا بھی ہے۔ یہاں بھی ایک حکم عام ہے اور ایک خاص، ایک طرف تو یہ ہے کہ بخل اور تنگ دلی سے بچو کہ یہ برائیوں کی جڑ اور بدیوں کی ماں ہے۔ اپنے اخلاق میں اللہ کا رنگ اختیار کرو جو ہر وقت بے حد و حساب مخلوق پر اپنے فیض کے دریا بہا رہا ہے، حالانکہ کسی کا اس پر کوئی حق اور دعویٰ نہیں ہے ۔ راہِ خدا میں جو کچھ خرچ کرسکتے ہو کرو۔ اپنی ضرورتوں سے جتنا بچا سکتے ہو بچائو اور اس سے خدا کے دوسرے ضرورت مند بندوں کی ضرورتیں پوری کرو۔ دین کی خدمت میں اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے میں جان اور مال سے کبھی دریغ نہ کرو۔ اگر خدا سے محبت رکھتے ہو تو مال کی محبت کو خدا کی محبت پر قربان کر دو۔ یہ تو ہے عام حکم اور اس کے ساتھ ہی خاص حکم یہ ہے کہ اس قدر مال اگر تمہارے پاس جمع ہو تو اس میں سے کم از کم اتنا خدا کی راہ میں ضرور صرف کرو، اور اتنی پیداوار تمہاری زمین میں ہو تو اس میں سے کم از کم اتنا حصہ تو ضرور خدا کی نذر کر دو۔ پھر جس طرح چند رکعت نماز فرض کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بس یہ رکعتیں پڑھتے وقت ہی خدا کو یاد کرو اور باقی سارے وقتوں میں اس کو بھول جائو، اسی طرح مال کی ایک چھوٹی سی مقدار راہِ خدا میں صرف کرنا جو فرض کیا گیا ہے، اس کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ جن لوگوں کے پاس اتنا مال ہو بس انہی کو راہِ خدا میں صرف کرنا چاہیے، اور جو اس سے کم مال رکھتے ہوں انہیں اپنی مٹھیاں بھینچ لینی چاہئیں۔ اور اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ مالدار لوگوں پر جتنی زکوٰۃ فرض کی گئی ہے بس وہ اتنا ہی خدا کی راہ میں صرف کریں، اور اس کے بعد کوئی ضرورت مند آئے تو اسے جھڑک دیں، یا دین کی خدمت کا کوئی موقع آئے تو کہہ دیں کہ ہم تو زکوٰۃ دے چکے، اب ہم سے ایک پائی کی بھی امید نہ رکھو۔ زکوٰۃ فرض کرنے کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ کم از کم اتنا مال تو ہر مال دار کو راہِ خدا میں دینا ہی پڑے گا اور اس سے زیادہ جس شخص سے جو کچھ بن آئے وہ اس کو صرف کرنا چاہیے۔

(۳)زکوٰۃ کا حکم

زکوٰۃ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تین جگہ الگ الگ احکام بیان فرمائے ہیں:
(۱) سورئہ بقرہ میں فرمایا:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ۝۰۠ البقرہ 267:2
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو پاک مال تم نے کمائے ہیں اور جو پیداوار ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی ہے اس میں سے راہِ خدا میں خرچ کرو۔
(۲) اور سورئہ انعام میں فرمایا کہ ہم نے تمہارے لیے زمین سے باغ اگائے اورکھیتیاں پیدا کی ہیں لہٰذا:
كُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ وَاٰتُوْا حَقَّہٗ يَوْمَ حَصَادِہٖ۝۰ۡۖ الانعام 141:6
اس کی پیداوار جب نکلے تو اس میں سے کھائو اور فصل کٹنے کے دن اللہ کا حق نکال دو۔
یہ دونوں آیتیں زمین کی پیداوار کے متعلق ہیں، اور فقہائے حنفیہ فرماتے ہیں کہ خودرَو پیداوار، مثلاً لکڑی اور گھاس اور پھونس کے سوا باقی جتنی چیزیں غلہ، ترکاری، پھلوں کی قسم سے نکلیں ان سب میں سے اللہ کا حق نکالنا چاہیے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جو پیداوار آسمانی بارش سے ہو اس میں اللہ کا حق دسواں حصہ ہے اور جو پیداوار انسان کی اپنی کوشش یعنی مصنوعی آبپاشی سے ہو اس میں اللہ کا حق بیسواں حصہ ہے اور یہ حصہ پیداوار کٹنے کے ساتھ ہی واجب ہو جاتا ہے۔
(۳) اس کے بعد سورئہ توبہ میں آتا ہے کہ:
وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا يُنْفِقُوْنَہَا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ۝۰ۙ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍo يَّوْمَ يُحْمٰي عَلَيْہَا فِيْ نَارِ جَہَنَّمَ فَتُكْوٰي بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنُوْبُہُمْ وَظُہُوْرُہُمْ۝۰ۭ ہٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَo التوبۃ 34,35:9
اور جو لوگ سونے اور چاندی کو جمع کر کے رکھتے ہیں اور اس میں سے راہِ خدا میں خرچ نہیں کرتے ان کو دردناک عذاب کی خبر دے دو ۔ اس دن کے عذاب کی جب ان کے اس سونے اور چاندی کو آگ میں تپایا جائے گا اور اس سے ان کی پیشانیوں اور ان کے پہلوئوں اور پیٹھوں پر داغا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ مال جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، اب اپنے ان خزانوں کا مزہ چکھو۔
پھر فرمایا:
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۭ فَرِيْضَۃً مِّنَ اللہِ۝۰ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌo التوبہ 60:9
صدقات (یعنی زکوٰۃ) تو فقراء کے لیے اور مساکین کے لیے اور ان لوگوں کے لیے جو زکوٰۃ وصول کرنے اور تقسیم کرنے پر مقرر ہوں اور ان کے لیے جن کی تالیفِ قلب منظور ہو اور گردنیں چھڑانے کے لیے اور قرض داروں کے لیے اور راہِ خدا میں اور مسافروں کے لیے ہیں اللہ کی طرف سے فرض کے طور پر اور اللہ بہتر جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
اس کے بعد فرمایا:
خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْہِمْ بِہَا التوبہ 103:9
ان کے مالوں میں سے ایک زکوٰۃ وصول کر کے ان کو پاک اور صاف کر دو۔
ان تینوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ جو مال جمع کیا جائے اور بڑھایا جائے اور اس میں سے راہِ خدا میں صرف نہ کیا جائے وہ ناپاک ہوتا ہے۔ اس کے پاک کرنے کی صورت صرف یہ ہے کہ اس میں سے خدا کا حق نکال کر اس کے بندوں کو دیا جائے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب سونا اور چاندی جمع کرنے والوں پر عذاب کی دھمکی آئی تو مسلمان سخت پریشان ہوئے۔ کیونکہ اس کے معنی تو یہ ہوتے تھے کہ ایک درہم بھی اپنے پاس نہ رکھو، سب خرچ کر ڈالو۔ آخرکار حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قوم کی پریشانی کا حال عرض کیا۔ آپؐ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کو تم پر اسی لیے فرض کیا ہے کہ باقی اموال تمہارے لیے پاک ہو جائیں۔ ایسی ہی روایت حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تو نے اپنے مال میں سے زکوٰۃ نکال دی تو جو حق تجھ پر واجب تھا وہ ادا ہوگیا۔
آیاتِ مذکورہ بالا میں تو صرف زمین کی پیداوار اور سونے اور چاندی کی زکوٰۃ کا حکم ملتا ہے، لیکن احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تجارتی مال، اونٹ، گائے اور بکریوں میں بھی زکوٰۃ ہے۔
چاندی کا نصاب دو سو درہم یعنی ½ 52تولہ کے قریب ہے۔ سونے کا نصاب 7½ تولہ ۔ اونٹ کا نصاب 5 اونٹ، بکریوں کا نصاب 40 بکریاں۔ گائے کا نصاب 30 گائیں، اور تجارتی مال کا نصاب52½ تولے چاندی کے بقدر مالیت ہے۔
جس شخص کے پاس اتنا مال موجود ہو اور اس پر سال گزر جائے تو اس میں سے چالیسواں حصہ زکوٰۃ کا نکالنا واجب ہے۔ چاندی اور سونے کے متعلق حنفیہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ دونوں الگ الگ بقدرِ نصاب نہ ہوں لیکن دونوں مل کر کسی ایک کے نصاب کی حد تک اس کی قیمت پہنچ جائے تو ان میں سے بھی زکوٰۃ نکالنی واجب ہے۔
سونا اور چاندی اگر زیور کی صورت میں ہوں تو حضرت عمرؓ اور حضرت ابن مسعودؓ کے نزدیک ان کی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہی قول لیا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عورتوں کے ہاتھ میں سونے کے کنگن دیکھے اور پوچھا کہ کیا تم ان کی زکوٰۃ نکالتی ہو؟ ایک نے عرض کیا کہ نہیں ۔ آپؐ نے فرمایا کیا تو اسے پسند کرے گی کہ قیامت کے روز اس کے بدلے آگ کے کنگن تجھے پہنائے جائیں؟ اسی طرح حضرت ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ میرے پاس سونے کی پازیب تھی۔ میں نے حضورؐ سے پوچھا کیا یہ کنز ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ اگر اس میں سونے کی مقدار نصاب زکوٰۃ تک پہنچتی ہے اور اس میں سے زکوٰۃ نکال دی گئی ہے تو یہ کنز نہیں ہے۔ ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سونا چاندی اگر زیور کی شکل میں ہوں تب بھی اسی طرح زکوٰۃ فرض ہے جس طرح نقد کی صورت میں ہونے پر ہے۔ البتہ جواہر اور نگینوں پر زکوٰۃ نہیں ہے۔

(۴)مصارفِ زکوٰۃ ( ماخوذ از ’’خطبات‘‘)

قرآن مجید میں زکوٰۃ کے آٹھ حق دار بیا ن کیے گئے ہیں جن کی تفصیل سورئہ توبہ آیت 60 میں اس طرح بیان کی گئی ہے:
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۭ فَرِيْضَۃً مِّنَ اللہِ۝۰ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌo التوبہ 60:9
یہ صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں اور ان کے لیے جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو۔ نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرض داروں کی مدد کرنے میں اور راہِ خدا میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں۔ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے۔
اس آیت میں زکوٰۃ کے مصارف کا بیان ہے۔ اس مد سے معاشرے کے جن لوگوں کی مدد مطلوب ہے یہاں ان کی صراحت کر دی گئی ہے۔ نیز جو دوسرے کام اس سے لیے جانے ہیں ان کی بھی وضاحت کر دی گئی ہے۔ اس طرح یہ آیت دراصل اسلامی ریاست کی معاشی اصلاح کی پالیسی کے مقاصد پر روشنی ڈالتی ہے۔ جن مدات کا اس میں ذکر ہے ان کی مختصر تشریح یہ ہے:
۱۔ فقیر سے مراد وہ شخص ہے جو اپنی معیشت کے لیے دوسرے کی مدد کا محتاج ہو۔ یہ لفظ تمام حاجت مندوں کے لیے عام ہے ، خواہ وہ جسمانی نقص یا بڑھاپے کی وجہ سے مستقل طور پر محتاجِ اعانت ہوگئے ہوں، یا کسی عارضی سبب سے سرِدست مدد کے محتاج ہوں اور اگر انہیں سہارا مل جائے تو آگے چل کر خود اپنے پائوں پر کھڑے ہوسکتے ہوں ۔ مثلاً یتیم بچے، بیوہ عورتیں، بیروزگار لوگ اور وہ لوگ جو وقتی حوادث کے شکار ہوگئے ہوں۔
۲۔ مسکین وہ سب لوگ ہیں جن میں مسکنت کا وصف پایا جاتا ہو۔ مسکنت کے لفظ میں عاجزی، درماندگی، بے چارگی اور ذلت کے مفہومات شامل ہیں۔ اس اعتبار سے مساکین وہ لوگ ہیں جو عام حاجت مندوں کی بہ نسبت زیادہ خستہ حال ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ کی تشریح کرتے ہوئے خصوصیت کے ساتھ ایسے لوگوں کو مستحق امداد ٹھیرایا ہے جو اپنی ضروریات کے مطابق ذرائع نہ پا رہے ہوں اور سخت تنگ حال ہوں، مگر نہ تو ان کی خود داری کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اجازت دیتی ہو اور نہ ان کی ظاہری پوزیشن ایسی ہو کہ کوئی انہیں حاجت مند سمجھ کر ان کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھائے۔ چنانچہ حدیث میں اس کی تشریح یوں آتی ہے کہ اَلمِسْکِیْنُ الَّذِیْ لَا یَجِدُ غِنٌی یُغْنِیْہِ وَلَا یُفْطَنُ لَہٗ فَیُتَصَدَّقُ عَلَیْہِ وَلَا یَقُوْمُ فَـیَسْئَالُ النَّاسَ ’’مسکین وہ ہے جو اپنی حاجت بھر مال نہیں پاتا، اور نہ پہچانا جاتا ہے کہ اس کی مدد کی جائے ، اور نہ کھڑا ہو کر لوگوں سے مانگتا ہے۔‘‘ گویا وہ ایک شریف آدمی ہے جو غریب ہو۔ یہ معاشرے کے نیک انسانوں کا کام ہے کہ وہ خود اپنے گردو پیش کے ایسے افراد کی خبر گیری کریں۔
۳۔ عاملین یعنی وہ لوگ جو صدقات وصول کرنے اور وصول شدہ مال کی حفاظت کرنے اور ان کا حساب کتاب لکھنے اور انہیں تقسیم کرنے میں حکومت کی طرف سے استعمال کیے جائیں۔ ایسے لوگ خواہ خود فقیر و مسکین نہ ہوں، ان کی تنخواہیں بہرحال صدقات ہی کی مد سے دی جائیں گی۔ یہ الفاظ اور سورئہ توبہ کی آیت ۱۰۳ کے الفاظ خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ زکوٰۃ کی جمع اور تقسیم کرنا اسلامی حکومت کے فرائض میں سے ہے۔
اس سلسلے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات اور اپنے خاندان پر زکوٰۃ کا مال حرام کر دیا تھا۔ چنانچہ آپؐ نے خود بھی صدقات کی تحصیل و تقسیم کا کام ہمیشہ بلامعاوضہ کیا اور دوسرے بنی ہاشم کے لیے بھی یہ قاعدہ مقرر کر دیا کہ اگر وہ اس خدمت کو بلامعاوضہ انجام دیں تو جائز ہے، لیکن معاوضہ لے کر اس شعبہ کی خدمت کرنا ان کے لیے جائز نہیں ہے۔ آپؐ کے خاندان کے لوگ اگر صاحبِ نصاب ہوں تو زکوٰۃ دینا ان پر فرض ہے۔ لیکن اگر وہ غریب و محتاج یا قرض دار یا مسافر ہوں تو زکوٰۃ لینا ان کے لیے حرام ہے۔ البتہ اس امر میں اختلاف ہے کہ خود بنی ہاشم کی زکوٰۃ بھی بنی ہاشم لے سکتے ہیں یا نہیں۔ امام ابو یوسفؒ کی رائے یہ ہے کہ لے سکتے ہیں۔ لیکن اکثر فقہاء اس کو بھی جائز نہیں رکھتے۔
۴۔ مؤلفہ القلوب وہ لوگ ہیں جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو۔ تالیفِ قلب کے معنی ہیں دل موہنا۔ اس حکم سے مقصود یہ ہے کہ جو لوگ اسلام کی مخالفت میں سرگرم ہوں اور مال دے کر ان کے جوش عداوت کو ٹھنڈا کیا جاسکتا ہو، یا جو لوگ کفار کے کیمپ میں ایسے ہوں کہ اگر مال سے انہیں توڑا جائے تو ٹوٹ کر مسلمانوں کے مددگار بن سکتے ہوں، یا جو لوگ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہوں اور ان کی سابقہ عداوت یا ان کی کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے اندیشہ ہو کہ اگر مال سے ان کی استمالت نہ کی گئی تو پھر کفر کی طرف پلٹ جائیں گے۔ ایسے لوگوں کو مستقل وظائف یا وقتی عطیے دے کر اسلام کا حامی و مددگار یا مطیع و فرماںبردار، یا کم از کم بے ضرر دشمن بنالیا جائے۔ اس مد پر غنائم اور دوسرے ذرائع آمدنی سے بھی مال خرچ کیا جاسکتا ہے اور اگر ضرورت ہو تو زکوٰۃ کی مد سے بھی۔ اور ایسے لوگوں کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ وہ فقیر اور مسکین یا مسافر ہوں تب ہی ان کی مدد زکوٰۃ سے کی جاسکتی ہے ، بلکہ وہ مالدار اور رئیس ہونے پر بھی زکوٰۃ دیے جانے کے مستحق ہیں۔
یہ امر تو متفق علیہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہت سے لوگوں کو تالیفِ قلب کے لیے وظیفے اور عطیے دیے جاتے تھے ۔ لیکن اس امر میں اختلاف ہوگیا ہے کہ آیا آپؐ کے بعد بھی یہ مد باقی رہی یا نہیں۔ امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب کی رائے یہ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے زمانے سے یہ مد ساقط ہو گئی ہے اور اب مولفۃ القلوب کو کچھ دینا جائز نہیں ہے ۔ امام شافعیؒ کی رائے یہ ہے کہ فاسق مسلمانوں کو تالیفِ قلب کے لیے زکوٰۃ کی مد سے دیا جاسکتا ہے مگر کفار کو نہیں۔ اور بعض دوسرے فقہاء کے نزدیک مؤلفۃ القلوب کا حصہ اب بھی باقی ہے اگر اس کی ضرورت ہو۔
حنفیہ کا استدلال اس واقعہ سے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس رضی اللہ عنہما حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئے اور انہوں نے ایک زمین آپ سے طلب کی۔ آپ نے ان کو عطیہ کا فرمان لکھ دیا۔ انہوں نے چاہا کہ مزید پختگی کے لیے دوسرے اعیان صحابہؓ بھی اس فرمان پر گواہیاں ثبت کر دیں۔ چنانچہ گواہیاں بھی ہو گئیں۔ مگر جب یہ لوگ حضرت عمرؓ کے پاس گواہی لینے گئے تو انہوں نے فرمان کو پڑھ کر اسے ان کی آنکھوں کے سامنے چاک کر دیا اور ان سے کہا کہ بیشک نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کی تالیف قلب کے لیے تمہیں دیا کرتے تھے، مگر وہ اسلام کی کمزوری کا زمانہ تھا۔ اب اللہ نے اسلام کو تم جیسے لوگوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ اس پر وہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس شکایت لے کر گئے اور ان کو طعنہ بھی دیا کہ خلیفہ آپ ہیں یا عمرؓ؟ لیکن نہ تو حضرت ابوبکرؓ ہی نے اس پر کوئی نوٹس لیا اور نہ دوسرے صحابہؓ میں سے ہی کسی نے حضرت عمرؓ کی اس رائے سے اختلاف کیا۔ اس سے حنفیہ یہ دلیل لاتے ہیں کہ جب مسلمان کثیر التعداد ہو گئے اور ان کو یہ طاقت حاصل ہو گئی کہ اپنے بل بوتے پر کھڑے ہوسکیں تو وہ سبب باقی نہیں رہا جس کی وجہ سے ابتدا میں مولقہ القلوب کا حصہ رکھا گیا تھا، اس لیے باجماعِ صحابہؓ یہ حصہ ساقط ہوگیا۔
اما م شافعیؒ کا استدلال یہ ہے کہ تالیفِ قلب کے لیے کفار کو مالِ زکوٰۃ دینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ثابت نہیں ہے ۔ جتنے واقعات حدیث میں ہمیں ملتے ہیں ان سب سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐنے کفار کو تالیفِ قلب کے لیے جو کچھ دیا وہ مالِ غنیمت سے دیا نہ کہ مالِ زکوٰۃ سے۔
ہمارے نزدیک حق یہ ہے کہ مولفۃ القلوب کا حصہ قیامت تک کے لیے ساقط ہو جانے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ بلاشبہ حضرت عمرؓ نے جو کچھ کہا وہ بالکل صحیح تھا۔ اگر اسلامی حکومت تالیفِ قلب کے لیے مال صرف کرنے کی ضرورت نہ سمجھتی ہو تو کسی نے اس پر فرض نہیں کیا ہے کہ ضرور ہی اس مد میں کچھ نہ کچھ صرف کرے۔ لیکن اگر کسی وقت اس کی ضرورت محسوس ہو تو اللہ نے اس کے لیے جو گنجائش رکھی ہے اسے باقی رہنا چاہیے۔ حضرت عمرؓ اور صحابہ کرامؓ کا اجماع جس امر پر ہوا تھا وہ صرف یہ تھا کہ ان کے زمانے میں جو حالات تھے ا ن میں تالیفِ قلب کے لیے کسی کو کچھ دینے کی وہ حضرات ضرورت محسوس نہ کرتے تھے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ صحابہؓ کے اجماع نے اس مد کو قیامت تک کے لیے ساقط کر دیا جو قرآن میں بعض اہم مصالح دینی کے لیے رکھی گئی تھی۔
رہی امام شافعیؒ کی رائے تو وہ اس حد تک تو صحیح معلوم ہوتی ہے کہ جب حکومت کے پاس دوسری مدات آمدنی سے کافی مال موجود ہو تو اسے تالیفِ قلب کی مد پر زکوٰۃ کا مال صرف نہ کرنا چاہیے۔ لیکن جب زکوٰۃ کے مال سے اس کام میں مدد لینے کی ضرورت پیش آجائے تو پھر یہ تفریق کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ فاسق پر اسے صرف کیا جائے اور کافروں پر نہ کیا جائے۔ اس لیے کہ قرآن میں مؤلفۃ القلوب کا جو حصہ رکھا گیا ہے وہ ان کے دعوائے ایمان کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ اس بنا پر ہے کہ اسلام کو اپنے مصالح کے لیے ان کی تالیفِ قلب مطلوب ہے، اور وہ اس قسم کے لوگ ہیں کہ ان کی تالیفِ قلب صرف مال ہی کے ذریعہ سے ہوسکتی ہے۔ یہ حاجت اور یہ صفت جہاں بھی پائی جائے وہاں امام مسلمین بشرطِ ضرورت زکوٰۃ کا مال صرف کرنے کا ازروئے قرآن مجاز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر اس مد سے کفار کو کچھ نہیں دیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ آپؐ کے پاس دوسری مدات کا مال موجود تھا۔ ورنہ اگر آپؐ کے نزدیک کفار پر اس مد کا مال صرف کرنا جائز نہ ہوتا تو آپؐ اس کی تشریح فرما دیتے۔
۵۔ فی الرقاب ، یعنی گردنیں چھڑانے میں زکوٰۃ صرف کرنا۔ گردنیں چھڑانے سے مراد یہ ہے کہ غلاموں کی آزادی میں زکوٰۃ کا مال صرف کیا جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ جس غلام نے اپنے مالک سے یہ معاہدہ کیا ہو کہ اگر میں اتنی رقم تمہیں ادا کر دوں تو تم مجھے آزاد کر دو، اسے آزادی کی قیمت ادا کرنے میں مدد دی جائے۔ دوسرے یہ کہ خود زکوٰۃ کی مد سے غلام خرید کر آزاد کیے جائیں۔ ان میں سے پہلی صورت پر تو سب فقہاء متفق ہیں۔ لیکن دوسری صورت کو حضرت علیؓ، سعیدؒ بن جبیر، لیث، ثوری ، ابراہیم نخعی، شعبی، محمد بن سیرین، حنفیہ اور شافعیہ ناجائز کہتے ہیں۔ اور ابن عباسؓ ، حسن بصری، مالک، احمد اور ابو ثور جائز قرار دیتے ہیں۔
۶۔ قرض دار، یعنی ایسے قرضدار جو اگر اپنے مال سے اپنا پورا قرض چکا دیں تو ان کے پاس قدرِ نصاب سے کم مال بچ سکتا ہو ۔ وہ خواہ کمانے والے ہوں یا بے روزگار، اور خواہ عرفِ عام میں فقیر سمجھے جاتے ہوں یا غنی، دونوں صورتوں میں ان کی اعانت زکوٰۃ کی مد سے کی جاسکتی ہے۔ مگر متعدد فقہاء کی رائے یہ ہے کہ جس شخص نے بداعمالیوں اور فضول خرچیوں میں اپنا مال اڑا کر اپنے آپ کو قرض داری میں مبتلا کیا ہو اس کی مدد نہ کی جائے جب تک وہ توبہ نہ کرے۔
۷۔ فی سبیل اللہ، یعنی راہِ خدا میں زکوٰۃ صرف کرنا۔راہِ خدا کا لفظ عام ہے۔ تمام وہ نیکی کے کام جن میں اللہ کی رضا ہو، اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اسی وجہ سے بعض لوگوں نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس حکم کی رو سے زکوٰۃ کا مال ہر قسم کے نیک کاموں میں صرف کیا جاسکتا ہے لیکن حق یہ ہے اور ائمہ سلف کی بڑی اکثریت اسی کی قائل ہے کہ یہاں فی سبیل اللہ سے مراد جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ یعنی وہ جدوجہد جس سے مقصود نظامِ کفر کو مٹانا اور اس کی جگہ نظامِ اسلامی کو قائم کرنا ہو۔ اس جدوجہد میں جو لوگ کام کریں ان کو سفر خرچ کے لیے، سواری کے لیے، آلات و اسلحہ اور سرو سامان کی فراہمی کے لیے زکوۃ سے مدد دی جاسکتی ہے، خواہ وہ بجائے خود کھاتے پیتے لوگ ہوں اور اپنی ذاتی ضروریات کے لیے ان کو مدد کی ضرورت نہ ہو۔اسی طرح جو لوگ رضاکارانہ اپنی تمام خدمات اور اپنا تمام وقت عارضی طور پر یا مستقل طور پر اس کام کے لیے دے دیں، ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی زکوٰۃ سے وقتی یا استمراری اعانتیں دی جاسکتی ہیں۔
یہاںیہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ائمہ سلف کے کلام میں بالعموم اس موقع پر غزو کا لفظ استعمال ہوا ہے جو قتال کا ہم معنی ہے۔ اس لیے لوگ یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ زکوٰۃ کے مصارف میں فی سبیل اللہ کی جو مدد رکھی گئی ہے، وہ صرف قتال کے لیے مخصوص ہے۔ لیکن درحقیقت جہاد فی سبیل اللہ قتال سے وسیع تر چیز کا نام ہے اور اس کا اطلاق ان تمام کوششوں پر ہوتا ہے جو کلمۂ کفر کو پست اور کلمۂ خدا کو بلند کرنے اور اللہ کے دین کو ایک نظامِ زندگی کی حیثیت سے قائم کرنے کے لیے کی جائیں، خواہ وہ دعوت و تبلیغ کے ابتدائی مرحلے میں ہوں یا قتال کے آخری مرحلے میں۔
۸۔ مسافر خواہ اپنے گھر میں غنی ہو، لیکن حالتِ سفر میں اگر وہ مدد کا محتاج ہو جائے تو اس کی مدد بھی زکوٰۃ کی مد سے کی جائے گی۔ یہاں بعض فقہاء نے یہ شرط لگائی ہے کہ جس شخص کا سفر معصیت کے لیے نہ ہو صرف وہی اس آیت کی رو سے مدد کا مستحق ہے ۔ مگر قرآن و حدیث میں ایسی کوئی شرط موجود نہیں ہے۔ اور دین کی اصولی تعلیمات سے ہم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص مدد کا محتاج ہو اس کی دست گیری کرنے میں اس کی گناہ گاری مانع نہ ہونی چاہیے۔ بلکہ فی الواقع گناہ گاروں اور اخلاقی پستی میں گرے ہوئے لوگوں کی اصلاح کا بہت بڑا ذریعہ یہ ہے کہ مصیبت کے وقت ان کو سہارا دیا جائے اور حسن سلوک سے ان کے نفس کو پاک کرنے کی کوشش کی جائے۔
اب(۱) یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ یہ آٹھ گروہ جو بیان ہوئے ہیں ان میں سے کس شخص کو کس حال میں زکوٰۃ دینی چاہیے اور کس حال میں نہ دینی چاہیے۔ اس کی بھی تھوڑی سی تفصیل یہاں درج کی جاتی ہے:
(۱) کوئی شخص اپنے باپ یا اپنے بیٹے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا شوہر اپنی بیوی کو اور بیوی اپنے شوہر کو بھی زکوٰۃ نہیں دے سکتی۔ اس میں فقہاء کا اتفاق ہے۔ بعض فقہاء یہ بھی فرماتے ہیں کہ ایسے قریبی عزیزوں کو زکوٰۃ نہیں دینی چاہیے جن کا نفقہ تم پر واجب ہو یا جو تمہارے شرعی وارث ہوں، البتہ دور کے عزیز زکوٰۃ کے حقدار ہیں، بلکہ دوسروں سے زیادہ حقدار ہیں۔ مگر امام اوزاعیؒ فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ نکال کر اپنے ہی عزیزوں کو نہ ڈھونڈتے پھرو۔
(۲) زکوٰۃ صرف مسلمان کا حق ہے ، غیر مسلم کا حق نہیں ہے۔ حدیث میں زکوٰۃ کی تعریف یہ آئی ہے کہ تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَاءِ کُمْ وَ تُرَدُّ فِیْ فُقَرَاءِکُمْ ’’یعنی وہ تمہارے مال داروں سے لی جائے گی اور تمہارے ہی فقیروں میں تقسیم کر دی جائے گی۔‘‘ البتہ غیر مسلم کو عام خیرات میں سے حصہ دیا جاسکتا ہے ، بلکہ عام خیرات میں یہ تمیز کرنا اچھا نہیں ہے کہ مسلمان کو دی جائے اور کوئی غیر مسلم مدد کا محتاج ہو تو اس سے ہاتھ روک لیا جائے۔
(۳) امام ابو حنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ ہر بستی کی زکوٰۃ اسی بستی کے غریبوں میں صرف ہونی چاہیے۔ ایک بستی سے دوسری بستی میں بھیجنا اچھا نہیں ہے، الا یہ کہ وہاں کوئی حقدار نہ ہو یا دوسری جگہ کوئی ایسی مصیبت آگئی ہو کہ دور و نزدیک کی بستیوں سے مدد پہنچنی ضروری ہو، جیسے سیلاب یا قحط وغیرہ۔ قریب قریب یہی رائے امام مالکؒ اور امام سفیان ثوریؒ کی بھی ہے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ زکوٰۃ بھیجنا ناجائز ہے۔
(۴) بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ جس شخص کے پاس دو وقت کے کھانے کا سامان ہو اسے زکوٰۃ نہ لینی چاہیے۔ بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ جس کے پاس ۱۰ روپے اور بعض فرماتے ہیں کہ جس کے پاس ½۱۲ روپے موجود ہوں اسے زکوٰۃ نہ لینی چاہیے۔ لیکن امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور تمام حنفیہ کی رائے یہ ہے کہ جس کے پاس پچاس روپے سے کم ہوں وہ زکوٰۃ لے سکتا ہے۔ اس میں مکان اور گھر کا سامان اور گھوڑا اور خادم شامل نہیں ہیں۔ یعنی یہ سب سامان رکھتے ہوئے بھی جو شخص پچاس روپے سے کم مال رکھتا ہو وہ زکوٰۃ لینے کا حق دار ہے۔ اس معاملے میں ایک چیز تو ہے قانون، اور دوسری چیز ہے درجۂ فضیلت۔ ان دونوں میں فرق ہے۔ درجۂ فضیلت تو یہ ہے کہ حضورؐ نے فرمایا جو شخص صبح و شام کی روٹی کا سامان رکھتا ہو وہ اگر سوال کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے تو اپنے حق میں آگ جمع کرتا ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ میں اس کو پسند کرتا ہوں کہ ایک شخص لکڑیاں کاٹے اور اپنا پیٹ بھرے بہ نسبت اس کے کہ سوال کے لیے ہاتھ پھیلاتا پھرے۔ تیسری حدیث میں ہے کہ جس کے پاس کھانے کو ہو یا جو کمانے کی طاقت رکھتا ہو اس کا یہ کام نہیں ہے کہ زکوٰۃ لے۔ لیکن یہ اولوا العزمی کی تعلیم ہے۔ رہا قانون تو اس میں ایک آخری حد بتانی ضروری ہے کہ کہاں تک آدمی زکوٰۃ لینے کا حقدار ہوسکتا ہے۔ سو وہ دوسری حدیثوں میں ملتا ہے۔ مثلاً آپؐ نے فرمایا کہ لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَاِنْ جَآءَ عَلَی الْفَرَسِ ۔ یعنی سائل کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار آیا ہو۔ ایک شخص نے حضورؐ سے عرض کیا کہ میرے پاس دس روپے ہیں، کیا میں مسکین ہوں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ ایک مرتبہ دو آدمیوں نے آکر حضورؐ سے زکوٰۃ مانگی۔ آپ ؐ نے نظر اٹھا کر انہیں غور سے دیکھا، پھر فرمایا، اگر تم لینا چاہتے ہو تو میں دے دوں گالیکن اس مال میں غنی اور کمانے کے قابل ہٹے کٹے لوگوں کا حصہ نہیں ہے۔ ان سب احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص بقدرِ نصاب مال سے کم رکھتا ہو وہ فقراء کے ذیل میں آ جاتا ہے اور اسے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ زکوٰۃ لینے کا حق دراصل اصلی حاجتمندوں ہی کو پہنچتا ہے۔
زکوٰۃ کے ضروری احکام میں نے بیان کر دیے ہیں۔ لیکن ان سب کے ساتھ ایک اہم اور ضروری چیز اور بھی ہے جس کی طرف آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں اور مسلمان آج کل اس کو بھول گئے ہیں۔ و ہ یہ ہے کہ اسلام میں تمام کام نظامِ جماعت کے ساتھ ہوتے ہیں۔ انفرادیت کو اسلام پسند نہیں کرتا۔ آپ مسجد سے دور ہوں اور الگ نماز پڑھ لیں تو ہو جائے گی، مگر شریعت تو یہی چاہتی ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں۔ اسی طرح نظامِ جماعت نہ ہو تو الگ الگ زکوٰۃ نکالنا اور خرچ کرنا بھی صحیح ہے، لیکن کوشش یہی ہونی چاہیے کہ زکوٰۃ کو ایک مرکز پر جمع کیا جائے تا کہ وہاں سے وہ ایک ضابطے کے ساتھ خرچ ہو۔ اسی چیز کی طرف قرآن مجید میں اشارہ فرمایا گیا ہے۔ مثلاً فرمایا: خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً تُطَھِّرُھُمْ وَ تُزَکِّیْھِمْ بِھَا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپؐ ان سے زکوٰۃ وصول کریں، مسلمانوں سے یہ نہیں فرمایا کہ تم زکوٰۃ نکال کر الگ الگ خرچ کردو۔ اسی طرح عاملین زکوٰۃ کا حق مقرر کرنے سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا امام اس کو باقاعدہ وصول کرے اور باقاعدہ خرچ کرے۔ اسی طرح نبیﷺ نے فرمایا: اُمِرْتُ اَنْ اٰخُذَ الصَّدَقَۃَ مِنْ اَغْنِیَاءِ کُمْ وَاَرُدَّھَا فِیْ فُقَرَاءِکُمْ۔ یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے مالداروں سے زکوٰۃ وصول کروں اور تمہارے فقراء میں تقسیم کر دوں۔ اسی طریقے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کا عمل بھی تھا۔ تمام زکوٰۃ حکومتِ اسلامی کے کارکن جمع کرتے تھے اور مرکز کی طرف سے اس کو تقسیم کیا جاتا تھا۔ آج اگر اسلامی حکومت نہیں ہے اور زکوٰۃ جمع کر کے باضابطہ تقسیم کرنے کا انتظام بھی نہیں ہے تو آپ علیحدہ علیحدہ اپنی زکوٰۃ نکال کر شرعی مصارف میں خرچ کرسکتے ہیں، مگر تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ زکوٰۃ جمع کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے ایک اجتماعی نظام بنانے کی فکر کریں، کیوں کہ اس کے بغیر زکوٰۃ کی فرضیت کے فوائد ادھورے رہ جاتے ہیں۔

(۵)زکوٰۃ کے اصولی احکام سوال نامہ ( ترجمان القرآن، محرم ۱۳۷۰ھ، نومبر ۱۹۵۰ء سے ماخوذ۔ (مرتب)

(۱) زکوٰۃ کی تعریف کیا ہے؟
(۲) کن کن لوگوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ اس سلسلے میں عورتوں، نابالغوں، قیدیوں، مسافروں، فاتر العقل افراد اور مستامنوں یعنی غیر ملک میں مقیم لوگوں کی حیثیت کیا ہے۔ وضاحت سے بیان کیجیے۔
(۳) زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے کتنی عمر کے شخص کو بالغ سمجھنا چاہیے؟
(۴) زکوٰ ۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے عورت کے ذاتی استعمال کے زیور کی کیا حیثیت ہے؟
(۵) کیا کمپنیوں کو زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے یا ہر حصے دار کو اپنے اپنے حصے کے مطابق فرداً فرداً زکوٰۃ ادا کرنے کا ذمے دار ٹھیرایا جائے؟
(۶) کارخانوں اور دوسرے تجارتی اداروں پر زکوٰۃ کے وجوب کی حدود بیان کیجئے۔
(۷) جن کمپنیوں کے حصص قابل انتقال ہیں، ان کے سلسلے میں تشخیصِ زکوٰۃ کے وقت کس پر زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہوگی؟ حصص کے خریدنے والے پر یا فروخت کرنے والے پر؟
(۸) کن کن اثاثوں اور چیزوں پر اور موجودہو سماجی حالت کے پیش نظر کن کن حالات میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ بالخصوص ان چیزوں کے بارے میں یا ان سے پیداشدہ حالات میں کیا صورت ہوگی؟
(الف) نقدی، سونا، چاندی، زیورات اور جواہرات۔
(ب) دھات کے سکے (جن میں طلائی، نقرئی اور دوسری دھاتوں کے سکے شامل ہیں) اور کاغذی سکے۔
(ج) بنکوں میں بقایا امانت، بینک یا کسی دوسری جگہ حفاظت میں رکھی ہوئی چیزیں، لیے ہوئے قرضے، مرہونہ جائیداد اور متنازع فیہ جائیداد اور ایسی جائیداد جو قابلِ ارجاعِ نالش ہو۔
(د) عطیات
(ہ) بیمے کی پالیسیاں اور پراویڈنٹ فنڈ کی رقمیں۔
(و) مویشی، شیرخانے کی مصنوعات، زرعی پیداوار مع اناج، سبزیاں، پھل اور پھول۔
(ز) معدنیات
(ح) برآمد شدہ دفینہ
(ط) آثارِ قدیمہ
(ی) جنگلی اور پالتو مکھی کا شہد
(ک) مچھلی، موتی اور پانی سے نکلنے والی دوسری چیزیں۔
(ل) پٹرول
(م) درآمد و برآمد
(۹) رسول اکرمؐ کے زمانے میں جن املاک پر زکوٰۃ واجب تھی کیا خلفائے راشدین نے ان کی فہرست میں کوئی اضافہ فرمایا؟ اگر کوئی اضافہ یا تبدیلی کی گئی تو کن اصولوں پر؟
(۱۰) کیا نکل کے سکوں اور سونے چاندی کے سوا دوسری دھاتوں کے رائج الوقت سکوں پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟ جو سکے رائج نہیں رہے یا جو خراب ہیں یا حکومت نے واپس لے لیے ہیں یا دوسرے ملکوں کے سکے ہیں ان کا بھی اس سلسلے میں شمار ہونا چاہیے یا نہیں؟
(۱۱) مالِ ظاہر اور مالِ باطن کی تعریف کیا ہے؟ اس سلسلے میں بینکوں میں جمع شدہ رقوم کی حیثیت کیا ہے؟
(۱۲) اغراضِ زکوٰۃ کے لیے مالِ نامی (نموپذیر) کی حدود بیان کیجئے۔ کیا صرف مالِ نامی پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟
(۱۳) جو مکان، زیورات اور دوسری چیزیں کرائے پر دی جاتی ہیں ان پر اور ٹیکسی، گاڑی، موٹر وغیرہ پر زکوٰۃ لگانے کے کیا قاعدے ہونے چاہئیں؟
(۱۴) کسی آدمی کے کن کن مملوکہ جانوروں پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہے؟ اس سلسلے میں بھینسوں، مرغیوں اور دوسرے پالتو اور شوقیہ پالے ہوئے جانوروں کی حیثیت کیا ہے؟ کیا ان پر زکوٰۃ نقدی کی شکل میں یا جنس کی صورت میں یا دونوں طرح دی جاسکتی ہے؟ کسی آدمی کے مختلف مملوکہ جانوروں کی کتنی تعداد پر اور کن حالات میں زکوٰۃ واجب ہونی چاہیے؟
(۱۵) جن مختلف سامانوں اور چیزوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ان پر زکوٰۃ کس شرح سے لی جائے؟
(۱۶) کیا خلفائے راشدین کے زمانے میں نقدی، سکوں، مویشیوں، سامانِ تجارت، زرعی پیداوار پر زکوٰۃ کی شرح میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے؟ اگر ایسا ہوا تو سند کے ساتھ تفصیلی وجوہ بیان کیجئے۔
(۱۷) نقدی کی صورت میں اگر زکوٰۃ دو سو نقرئی درہم اور ۲۰ طلائی مثقال پر واجب ہو تو یہ سکے کتنے پاکستان کے روپوں کے برابر ہوں گے؟ اناج کی صورت میں صاع اور وَسَق پاکستان کے مختلف علاقوں اور صوبوں میں کن مروجہ اوزان کے برابر ہوں گے؟
(۱۸) کیا موجودہ حالات کے پیش نظر نصاب (وہ کم از کم سرمایہ جس پر زکوٰۃ واجب ہے) اور زکوٰۃ کی شرح میں کوئی تبدیلی ہوسکتی ہے؟ اس مسئلے پر اپنے خیالات دلائل کے ساتھ پیش کیجئے۔
(۱۹) مختلف اثاثوں اور سامان پر کتنی مدت گزرنے کے بعد زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟
(۲۰) اگر ایک سال میں کئی فصلیں ہوں تو کیا سال میں صرف ایک بار زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے یا ہر فصل پر؟
(۲۱) زکوٰۃ قمری سال کے حساب سے واجب ہونی چاہیے، یا شمسی سال کے حساب سے؟ کیا زکوٰۃ کی تشخیص اور وصولی کے لیے کوئی مہینہ مقرر ہونا چاہیے؟
(۲۲) زکوٰۃ کی رقم کن مصارف میں خرچ ہونی چاہیے؟
(۲۳) قرآن مجید میں جن مختلف مصارف میں زکوٰۃ خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کی حدود بیان کیجئے۔ بالخصوص اصطلاح ’’فی سبیل اللہ‘‘ کے معنی اور مفہوم کی وضاحت کیجئے۔
(۲۴) کیا یہ لازمی ہے کہ زکوٰۃ کی رقم کا ایک حصہ ان مصارف میں سے ہر ایک مصرف پر خرچ کرنے کے لیے الگ رکھا جائے جن کا قرآن کریم میں ذکر آیا ہے یا زکوٰۃ کی پوری رقم قرآن مجید میں بتائے ہوئے تمام مصارف پر خرچ کرنے کے بجائے ان میں سے کسی ایک یا چند مصارف میں بھی خرچ کی جاسکتی ہے؟
(۲۵) مستحقین زکوٰۃ کے ہر طبقے میں کسی فرد کو کن حالات میں زکوٰۃ لینے کا حق پہنچتا ہے؟ پاکستان کے مختلف حصوں میں جو حالات پائے جاتے ہیں ان کی روشنی میں اس امر کی وضاحت کی جائے کہ سیّدوں اور بنی ہاشم سے تعلق رکھنے والے دوسرے افراد کو زکوٰۃ لینے کا کہاں تک حق پہنچتا ہے؟
(۲۶) کیا زکوٰۃ صرف افراد کو دی جاسکتی ہے یا اداروں (مثلاً تعلیمی اداروں، یتیم خانوں اور محتاج خانوں وغیرہ) کو بھی دی جاسکتی ہے؟
(۲۷) کیا زکوٰۃ کی رقم میں سے مستحق غریبوں، مسکینوں، بیوائوں اور ان لوگوں کو جو اپاہج یا ضعیف ہونے کی وجہ سے روزی کمانے سے معذور ہوں عمر بھر کی پنشن کے طور پر گزارہ الائونس دیا جاسکتا ہے؟
(۲۸) کیا زکوٰۃ کو رفاہِ عامہ کے کاموں مثلاً مسجدوں ، ہسپتالوں، سڑکوں، پلوں، کنوئوں اور تالابوں وغیرہ کی تعمیر پر خرچ کیا جاسکتا ہے جس سے ہر آدمی بلا لحاظ مذہب و ملت فائدہ اٹھا سکے؟
(۲۹) آیا زکوٰۃ کی رقم کسی شخص کو قرضِ حسنہ یا قرضہ بلا سود کے طور پر دی جاسکتی ہے؟
(۳۰) کیا یہ ضروری ہے کہ زکوٰۃ جس علاقے سے وصول کی جائے اسی علاقے میں خرچ کی جائے یا اس علاقے سے باہر یا پاکستان سے باہر تالیفِ قلوب کے لیے یا آفاتِ ارضی و سماوی مثلاً زلزلہ سیلاب وغیرہ کے مصیبت زدگان کی امداد پر بھی خرچ کی جاسکتی ہے؟ اس سلسلے میں آپ کے نزدیک علاقے کی کیا تعریف ہوگی؟
(۳۱) کسی متوفی کے متروکہ سے زکوٰۃ وصول کرنے کا کیا طریقہ ہونا چاہیے؟
(۳۲) ایسی کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں کہ لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی سے بچنے کے لیے حیلے نہ کرسکیں؟
(۳۳ ) زکوٰۃ کی تحصیل اور اس کا انتظام مرکز کے ہاتھ میں ہونا چاہیے یا صوبوں کے ہاتھ میں؟ اگر زکوٰۃ مرکز جمع کرے تو اس میں سے صوبوں یا دوسرے علاقوں کا حصہ مقرر کرنے کے کیا اصول ہوں؟
(۳۴) آپ کی نظر میں زکوٰۃ کے نظم و نسق کو چلانے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟ کیا زکوٰۃ جمع کرنے کے لیے کوئی الگ محکمہ قائم کیا جائے یا حکومت کے موجودہ محکموں سے ہی کام لیا جائے؟
(۳۵) کیا کبھی زکوٰۃ کو سرکاری محصول قرار دیا گیا؟ یا وہ کوئی ایسا محصول ہے کہ حکومت محض اس کی وصولی اور انتظام ہی کی ذمہ دار رہی ہو؟
(۳۶) کیا رسول اکرمؐ کے زمانے یا خلفائے راشدین کے دورِ حکومت میں اغراض عامہ کے کاموں کے لیے زکوٰۃ کے علاوہ بھی کوئی سرکاری محصول وصول کیا گیا۔ اگر کیا گیا تو وہ کون سا محصول تھا؟
(۳۷) اسلامی ملکوں میں زکوٰۃ کی وصولی اور انتظام کرنے کا کیا طریقہ رہا ہے اور اب کیا ہے؟
(۳۸) کیا زکوٰۃ کی وصولی اور خرچ کا انتظام صرف حکومت کے پاس رہنا چاہیے یا کوئی مجلس اُمنا مقرر ہو کر اس کا انتظام حکومت اور عوام کی مشترکہ نگرانی میں ہونا چاہیے؟
(۳۹) زکوٰۃ جمع کرنے اور اس کا انتظام کرنے کے لیے جو عملہ رکھا جائے اس کی تنخواہیں، الائونس، پنشن، پراویڈنٹ فنڈ اور شرائط ملازمت کیا ہونی چاہئیں؟
جواب ( ہر جواب کو پڑھتے وقت سوال کو بھی نگاہ میں رکھیے۔)
(۱) زکوٰۃ کے لُغوی معنی طہارت اور نمو کے ہیں۔ انہی دونوں صفتوں کے لحاظ سے اصطلاح میں ’’زکوٰۃ‘‘ اس مالی عبادت کو کہتے ہیں جو ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر اس لیے فرض کی گئی ہے کہ خدا اور بندوں کا حق ادا کر کے اس کا مال پاک ہو جائے اور اس کا نفس، نیز وہ سوسائٹی جس میں وہ رہتا ہے، بخل، خود غرضی، بغض وغیرہ جذبات ردیہ سے پاک ہو اور اس میں محبت و احسان ، فراخ دلی اور باہمی تعاون و مواساۃ کے اوصاف نشوونما پائیں۔
فقہاء نے زکوٰۃ کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں۔ مثلاً:
حَقٌّ یَجِبُ فِی الْمَالِ (المُغْنِی لابن قدامہ، ج2، ص 433)
وہ ایک حق ہے جو مال میں واجب ہوتا ہے۔
اِعْطَاءُ جُزْءٍ مِّنَ النَّصَابِ اِلٰی فَقِیْرٍ وَ نَحْوِہٖ غَیْرُ مُتَّصِفٍ بِمَانِعٍ شَرْعِیِّ یَمْنَعُ مِنَ الصَّرْفِ اِلَیْہِ۔ (نیل الاوطار، ج4، ص 98)
نصاب میں سے ایک جزء کسی محتاج اور اس کے مانند شخص کو دینا جو کسی ایسے مانع شرعی سے متصف نہ ہو جس کی بناء پر اسے زکوٰۃ نہ دی جاسکے۔
تَمْلِیْکُ مَالٍ مَخْصُوْصٍ لِمُسْتَحَقِّہٖ بِشَرَائِطَ مَخْصُوْصَۃٍ۔
(الفقہ علی المذاھب الاربعہ، ج1 ص590)
ایک مخصوص مال کو مخصوص شرائط کے مطابق اس کے مستحق کی ملک میں دینا۔
(۲) عاقل و بالغ مسلمان مرد و زن اگر صاحبِ نصاب ہوں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہے اور اس کی ادائیگی کے وہ خود ذمے دار ہیں۔
نابالغ بچوں کے بارے میں اختلاف ہے۔ ایک مسلک یہ ہے کہ یتیم پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ دوسرا مسلک یہ ہے کہ یتیم کے سنِ رُشد کو پہنچنے پر اس کا ولی اس کا مال اس کے حوالے کرتے وقت اس کو زکوٰۃ کی تفصیل بتا دے، پھر یہ اس کا اپنا کام ہے کہ اپنے ایام یتیمی کی پوری زکوٰۃ ادا کرے۔ تیسرا مسلک یہ ہے کہ یتیم کا مال اگر کسی کاروبار میں لگایا گیا ہے اور نفع دے رہا ہے تو اس کا ولی اس کی زکوٰۃ ادا کرے ورنہ نہیں ۔ چوتھا مسلک یہ ہے کہ یتیم کے مال کی زکوٰۃ واجب ہے اور اس کو ادا کرنا اس کے ولی کے ذمے ہے۔ ہمارے نزدیک یہی چوتھا مسلک زیادہ صحیح ہے۔ حدیث میں آیا ہے:
اَلَا مَنْ وَّلِیَ یَتِـیْماً لَّہُ مَالٌ فَلْیَتّجِرْ لَہٗ فِیْہِ وَلَا یَتْـرُکْہُ فَتَأَ کُلُہُ الصَّدَقَۃُ
(ترمذی، دارقطنی، بیہقی، کتاب الاموال، لابی عبید)
خبردار جو شخص کسی ایسے یتیم کا ولی ہو جو مال رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اس کے مال سے کوئی کاروبار کرے اور اسے یونہی نہ رکھ چھوڑے کہ اس کا سارا مال زکوٰۃ کھا جائے۔
اس کے ہم معنی ایک حدیث امام شافعیؒ نے مرسلاً اور ایک دوسری حدیث طبرانی اور ابوعبید نے مرفوعاً نقل کی ہے اور اس کی تائید صحابہ و تابعین کے متعدد آثار و اقوال سے ہوتی ہے جو حضرت عمر، حضرت عائشہ، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت علی، حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہم اور تابعین میں سے مجاہد، عطاء، حسن بن یزید، مالک بن اَنس اور زہری سے منقول ہیں۔
فاتر العقل لوگوں کے معاملے میں بھی اسی نوعیت کا اختلاف ہے جو اوپر مذکور ہوا ہے اور اس میں بھی ہمارے نزدیک قول راجح یہی ہے کہ مجنون کے مال میں زکوٰ ۃ واجب ہے اور اس کا ادا کرنا مجنون کے ولی کے ذمے ہے۔ امام مالکؒ اور ابن شہاب زہریؒ نے اس رائے کی تصریح کی ہے۔
قیدی پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ جو کوئی اس کے پیچھے اس کے کاروبار یا اس کے مال کا متولّی ہو وہ اس کی طرف سے جہاں اس کے دوسرے واجبات ادا کرے گا زکوٰۃ بھی ادا کرے گا۔ ابن قدامہ اس کے متعلق اپنی کتاب المغنی میں لکھتے ہیں: ’’اگر مال کا مالک قید ہو جائے تو زکوٰۃ اس پر سے ساقط نہ ہوگی، خواہ قید اس کے اور اس کے مال کے درمیان حائل ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ کیوں کہ اپنے مال میں اس کا تصرف قانوناً نافذ ہوتا ہے۔ اس کی بیع، اس کا ہبہ اور اس کا مختارنامہ، سب کچھ قانوناً جائز ہے۔‘‘ (ج 2، ص664)
مسافر پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ مسافر ہونے کی حیثیت سے زکوٰۃ کا مستحق ہے۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں کہ اگر وہ صاحبِ نصاب ہے تو زکوٰۃ کا فرض اس پر سے ساقط ہو جائے گا ۔ اس کا سفر اسے زکوٰۃ کا مستحق بناتا ہے اور اس کا مال دار ہونا اس پر زکوٰۃ فرض کرتا ہے۔
پاکستان کا مسلمان باشندہ اگر کسی غیر ملک میں مقیم ہو تو اس پر زکوٰۃ اس صورت میں عائد ہوگی جب کہ اس کا مال یا جائیداد یا کاروبار پاکستان میں بقدر نصاب موجود ہو۔ کسی مسلمان مملکت کا مسلمان باشندہ اگر پاکستان میں مقیم ہو اور یہاں اس کے پاس مال یا جائیداد یا کاروبار بقدر نصاب ہو تو اس سے بھی زکوٰۃ وصول کی جائے گی ۔ رہا وہ مسلمان جو کسی غیر مسلم حکومت کی رعایا ہو اور پاکستان میں رہتا ہو، تو اسے ادائے زکوٰۃ پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، اِلاّ یہ کہ وہ خود بخوشی دینا چاہیے۔ اس لیے اس کی آئینی حیثیت اس حکومت کی غیر مسلم رعایا سے مختلف نہیں ہے۔
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُھَاجِرُوْا مَا لَکُمْ مِّنْ وَّلَایَتِھِمْ مِّنْ شَیْئٍ الانفال 72:8
(۳) زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے کسی عمر کی قیدنہیں ہے۔ جب تک کوئی یتیم سنِ رُشد کو نہ پہنچے اس کی زکوٰۃ ادا کرنا اس کے ولی کے ذمے ہے۔ اور جب وہ سن رشد کو پہنچ کر اپنے مال میں خود تصرف کرنے لگے تو وہ اپنی زکوٰۃ خود ادا کرنے کا ذمہ دار ہے۔
(۴)زیور کی زکوٰۃ کے بارے میں کئی مسلک ہیں۔ ایک مسلک یہ ہے کہ اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ اسے عاریتاً دینا ہی اس کی زکوٰۃ ہے ۔ یہ انس بن مالکؓ، سعید بن مسیب، قتادہ اور شعبی کا قول ہے۔ دوسرا مسلک یہ ہے کہ عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ زیور پر زکوٰۃ دے دینا کافی ہے۔ تیسرا مسلک یہ ہے کہ جو زیور عورت ہر وقت پہنے رہتی ہو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے اور جو زیادہ تر رکھا رہتا ہے اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ چوتھا مسلک یہ ہے کہ ہرقسم کے زیور پر زکوٰۃ ہے۔ ہمارے نزدیک یہی آخری قول صحیح ہے۔ اول تو جن احادیث میں چاندی سونے پر زکوٰۃ کے وجوب کا حکم بیان ہوا ہے ان کے الفاظ عام ہیں۔ مثلاً یہ کہ فِیْ رِقَۃٍ رُبَعُ الْعُشْرِ وَلَیْسَ فِیْ مَادُوْنَ خَمْسِ اَوَاقٍ صَدَقَۃٌ(چاندی میں ½۲ فیصدی زکوٰۃ ہے اور پانچ اوقیہ سے کم پر زکوٰۃ نہیں ہے)۔ پھر متعدد احادیث و آثار میں تصریح ہے کہ زیور پر زکوٰۃ واجب ہے۔ چنانچہ ابودائود، ترمذی اور نسائی میں قوی سند کے ساتھ یہ روایت آئی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس کے ساتھ اس کی ایک لڑکی تھی جس کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے۔ آپؐ نے اس سے پوچھا کہ تم اس کی زکوٰۃ دیتی ہو؟ اس نے کہا نہیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: اَیَسُرُّکِ اَنْ یُّسَوِّرَکِ اللہُ بِھِمَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ سِوَارَیْنِ مِنَ النَّارِ۔ (کیا تجھے پسند ہے کہ خدا قیامت کے روز تجھے ان کے بدلے آگ کے کنگن پہنائے؟) نیز موطا، ابودائود اور دارقطنی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کایہ ارشا منقول ہے: مَا اَدَّیْتِ زَکٰوتَہٗ فَلَیْسَ بِکَنْزٍ (جس زیور کی زکوٰۃ تو نے ادا کردی وہ کنز نہیں ہے)۔ ابن حزم نے محلی میں بیان کیا ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو جو فرمان بھیجا تھا اس میں یہ ہدایت بھی تھی: مُرْنِسَاءَ الْمُسْلِمِیْنَ یُزَکِّیْنَ عَنْ حُلَیِّھِنَّ (مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنے زیوروں کی زکوٰۃ ادا کریں)۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے فتویٰ پوچھا گیا کہ زیور کا کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: اِذَا بَلَغَ مِأَتَیْنِ فَفِیْہِ الزَّکوٰۃُ (جب وہ دو سو درہم کی مقدار کو پہنچ جائے تو اس میں زکوٰۃ ہے)۔ اسی مضمون کے اقوال صحابہ میں سے ابن عباسؓ، عبداللہؓ بن عمروؓ بن عاص اور حضرت عائشہؓ سے ، تابعین میں سے سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، عطاء ،مجاہد، ابن سیرین اور زہری سے اور ائمہ فقہ میں سے سفیان ثوری، ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب سے منقول ہیں۔
(۵) کمپنیوں کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ جو حصے دار قدرِ نصاب سے کم حصے رکھتے ہوں، یا جو ایک سال سے کم مدت تک اپنے حصے کے مالک رہے ہوں ان کو مستثنیٰ کر کے باقی تمام حصے داروں کی اکٹھی زکوٰۃ کمپنیوں سے وصول کی جانی چاہیے۔ اس میں انتظامی سہولت بھی ہے اور اس طریقے میں کوئی بات ایسی بھی نہیں ہے جو اصولِ شرع میں سے کسی اصل کے خلاف پڑتی ہو۔ ہماری یہ رائے امام مالک، امام شافعی اور متعدد دوسرے فقہاء کے مسلک کے مطابق ہے۔ (بدایۃ المجتھد، ج 1، ص 225)
(۶) کارخانوں کی مشینوں اور آلات پر زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی۔ صرف اس مال کی قیمت پر جو آخر سال میں ان کے پاس خام یا مصنوع شکل میں، اور اس نقد روپے پر جو ان کے خزانے میں موجود ہو عائد ہوگی۔ اسی طرح تاجروں کے فرنیچر، اسٹیشنری، دکان یا مکان اور اس نوعیت کی دوسری اشیاء پر زکوٰۃ عائد نہ ہوگی۔ صرف اس فروختنی مال کی قیمت پر جو ان کی دکان میں، اور اس نقد روپے پر جوان کے خزانے میں ختم سال پر موجود ہو، عائد ہوگی۔( جو کاروبار اس نوعیت کے ہوں کہ ان کی زکوٰۃ کا حساب اس طرح نہ لگایا جاسکے (مثلاً اخبار) ان کے کاروبار کی مالیت ان کی سالانہ آمدنی کے لحاظ سے رائج الوقت قاعدوں کے مطابق مشخص کی جائے اور اس پر زکوٰۃ عائد کی جائے۔) اس معاملے میں اصول یہ ہے کہ ایک شخص اپنے کاروبار میں جن عوامل پیدائش سے کام لے رہا ہو وہ زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ: لَیْسَ فِی الْاِبِلِ الْعَوَامِلِ صَدَقَۃٌ (کتاب الاموال) یعنی کوئی شخص جن اونٹوں سے آبپاشی کا کام لیتا ہو ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ کیوں کہ ان کی زکوٰۃ اس زرعی پیداوار سے وصول کرلی جاتی ہے جو ان کے عمل سے حاصل کی گئی ہو۔ اسی پر قیاس کر کے فقہاء نے بالاتفاق دوسرے تمام آلاتِ پیدائش کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
(۷) کمپنیوں کے جو حصے قابل فروخت ہوں وہ جب سال کے دوران میں فروخت کر دیے جائیں تو اس سال نہ ان کے بائع پر زکوٰۃ واجب ہوگی اور نہ مشتری پر۔ کیوں کہ دونوں میں سے کسی کی ملکیت پر بھی سال نہ گزرے گا۔
(۸) شریعت میں جو اشیاء محل زکوٰۃ ہیں وہ حسبِ ذیل ہیں: زرعی پیداوار، فصل کٹنے کے بعد، سونا چاندی، جب کہ وہ سال کے آغاز و اختتام پر بقدرِ نصاب یا اس سے زائد موجود ہوں، اسی طرح نقد روپیہ جو سونے چاندی کا قائم مقام ہو ۔ مواشی جب کہ وہ افزائش نسل کے لیے پالے گئے ہوں اور سال کے آغاز و اختتام پر بقدر نصاب ہوں۔ معادن و رکاز۔
(ا) نقدی، سونے چاندی اور زیورات پر زکوٰۃ ہے۔ زیور کی زکوٰۃ میں صرف اس سونے یا چاندی کے وزون کا اعتبار کیا جائے گا جو ان میں موجود ہو۔ جواہر خواہ زیور میں جڑے ہوئے ہوں یا کسی اور صورت میں ہوں زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص جواہر کی تجارت کرتا ہو تو اس پر وہی زکوٰۃ عائد ہوگی جو دوسرے اموال تجارت پر ہے، یعنی ان کی قیمت کا ½۲ فیصدی۔ ’’الفقہ علی المذاہب الاربعہ‘‘ میں لکھا ہے: ’’موتی، یاقوت اور دوسرے تمام جواہر پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے جبکہ وہ تجارت کے لیے نہ ہوں، اس پر تمام مذاہب کا اتفاق ہے۔‘‘ (ج1، ص 595)
(ب) دھات کے سکے اور کاغذی سکے محلِ زکوٰۃ ہیں، کیوں کہ ان کی قیمت ان کی دھات یا ان کے کاغذ کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس قوتِ خرید کی بنا پر ہے جو قانوناً ان کے اندر پیدا کر دی گئی ہے، جس کی وجہ سے وہ سونے اور چاندی کے قائمقام ہیں۔ ’’الفقہ علی المذاہب الاربعہ‘‘ میں ہے: ’’جمہور فقہاء کی رائے یہ ہے کہ اوراقِ مالیہ پر زکوٰۃ ہے کیونکہ وہ تعامل میں سونے اور چاندی کے قائم مقام ہیں اور ان کو بلاتکلف سونے اور چاندی سے تبدیل کیاجاسکتا ہے۔ اسی لیے ائمہ میں سے تین ابوحنیفہؒ، مالکؒ اور شافعیؒ کا مذہب یہ ہے کہ ان پر زکوٰۃ ہے۔‘‘ (ج 1 ص 605)
(ج) بینکوں میں جو امانتیں رکھی ہوں وہ محلِ زکوٰۃ ہیں۔ دوسرے ادارے اگر رجسٹرڈ ہوں اور حکومت ان کے حساب کتاب کی پڑتال کرسکتی ہو، تو ان میں رکھی ہوئی امانتوں کا وہی حکم ہے جو بینک کی امانتوں کا ہے۔ اور اگر وہ رجسٹرڈ نہ ہوں، نہ ان کے حساب کتاب کی پڑتال کرنا حکومت کے لیے ممکن ہو، تو ان میں رکھی ہوئی امانتیں اموالِ باطنہ کی تعریف میں آتی ہیں، جن کی زکوٰۃ وصول کرنا حکومت کا کام نہیں ہے۔ ان کے مالک خود ان کی زکوٰۃ نکالنے کے ذمے دار ہیں۔
لیے ہوئے قرضے اگر ذاتی حوائج کے لیے لیے گئے ہوں اور خرچ ہو جائیں تو ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔ اگر قرض لینے والا سال بھر تک ان کو رکھے رہے اور وہ بقدر نصاب ہوں تو ان پر زکوٰۃ ہے اور اگر ان کو تجارت میں لگالیا جائے تو وہ قرض لینے والے کا تجارتی سرمایہ شمار ہوں گے اور ان کی تجارتی زکوٰۃ وصول کرتے وقت اس کے ایسے قرضوں کو مستثنیٰ نہ کیا جائے گا۔
دیئے ہوئے قرضے اگر بآسانی واپس مل سکتے ہوں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہے۔ بعض فقہاء کے نزدیک ان کی زکوٰۃ سال بہ سال ادا کرنی ہوگی۔ یہ حضرت عثمانؓ ، ابن عمرؓ، جابر ؓ بن عبداللہ، طائوسؒ، ابراہیم نخعیؒ اور حسن بصریؒ کا مسلک ہے۔ اور بعض کے نزدیک جب وہ قرضے وصول ہوں تو تمام گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔ یہ حضرت علیؓ، ابوثورؒ، سفیان ثوریؒ اور حنفیہ کا قول ہے۔ اور اگر ان قرضوں کی واپسی مشتبہ ہو تو اس بارے میں ہمارے نزدیک قول راجح یہ ہے کہ جب رقم واپس ملے اس وقت صرف ایک سال کی زکوٰۃ نکالی جائے۔ یہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ، حسنؒ، لیثؒ، اوزاعیؒ اور امام مالکؒ کا قول ہے اور اس میں بیت المال اور صاحب مال، دونوں کے مفاد کی منصفانہ رعایت پائی جاتی ہے۔
مرہونہ جائیداد کی زکوٰۃ اس شخص سے وصول کی جائے گی جس کے قبضے میں وہ ہو۔ مثلاً مرہونہ زمین اگر مرتہن کے قبضے میں ہے تو اس کا عشر اس سے وصول کیا جائے گا۔
متنازع فیہ جائیداد کی زکوٰۃ دورانِ نزاع میں اس شخص سے لی جائے گی جس کے قبضے میں وہ ہو اور فیصلہ ہونے کے بعد اس کی زکوٰۃ کا ذمہ دار وہ ہوگا جس کے حق میں فیصلہ ہو۔
قابل ارجاعِ نالش جائیداد کا بھی وہی حکم ہے جو اوپر بیان ہوا۔ وہ بالفعل جس شخص کے قبضے میں ہو اور جب تک رہے، اس کی زکوٰۃ اسی کے ذمے رہے گی۔ کیوں کہ جو شخص کسی چیز سے فائدہ اٹھاتا ہے اس کے واجبات بھی اسی کو ادا کرنے ہوں گے۔
(د) عطیہ اگر بقدر نصاب ہو اور اس پر سال گزر جائے تو جس شخص کو وہ دیا گیا ہو اس سے زکوٰۃ لی جائے گی۔
(ہ) بیمہ اور پراویڈنٹ فنڈ اگر جبری ہوں تو ان کا حکم وہی ہے جو عسیر الحصول قرضوں اور امانتوں کا ہے۔ یعنی جب ان کی رقم واپس مل جائے تو صرف ایک سال کی زکوٰۃ نکالنی ہوگی اور اگر وہ اختیاری ہوں تو ہمارے نزدیک ہر سال کے خاتمے پر جتنی رقم ایک شخص کے حساب میں بیمہ کمپنی یا پراویڈنٹ فنڈ میں جمع ہو اس پر زکوٰۃ وصول کی جانی چاہیے۔ کیوں کہ اگرچہ یہ رقم اب اس کے لیے قبل از وقت قابل وصول نہیں ہے، لیکن اس نے اپنے مال کو باختیار خود اس حالت میں ڈالا ہے، اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ وہ زکوٰۃ سے بچ جائے۔
(و) شیرخانہ (ڈیری فارم) کے مویشی عوامل کی تعریف میں آتے ہیں اس لیے ان پر زکوٰۃ نہیں ہے ۔ البتہ شیرخانے کی مصنوعات پر اسی طریقے سے زکوٰۃ عائد ہوگی جس طرح دوسرے کارخانوں پر۔
زرعی پیداوار میں جو چیزیں ذخیرہ کر کے رکھنے کے قابل ہوں ان پر عشر یا نصف عشر ہے۔ اور یہی حکم ان پھلوں کا بھی ہے جو ذخیرہ کر کے رکھے جاسکتے ہوں، جیسے خشک میوہ اور چھوہارے، جو زراعت بارانی زمینوں میں ہو اس پر عشر واجب ہوگا، اور جس میں مصنوعی ذرائع سے آب پاشی کی جائے اس پر نصف عشر۔
سبزی، ترکاری، پھول اور پھل جو ذخیرہ کر کے نہیں رکھے جاسکتے ان پر عشر تو نہیں ہے، لیکن اگر زمیندار انہیں مارکیٹ میں فروخت کرتا ہے تو اس پر تجارتی زکوٰۃ عائد ہوگی جبکہ وہ بقدر ِ نصاب ہو۔ اس معاملے میں نصاب وہی ہوگا جو تجارت میں معتبر ہے، یعنی اس کاروبار کا تجارتی سرمایہ سال کے آغاز و اختتام پر دو سو درہم یا اس سے زائد ہو۔
(ز) معدنیات کے بارے میں ہمارے نزدیک سب سے بہتر مسلک حنابلہ کا ہے۔ یعنی وہ تمام چیزیں جو زمین سے نکلتی ہیں، خواہ وہ دھات کی قسم سے ہوں، یا مائعات (پٹرول، پارہ وغیرہ کی قسم سے، ان سب پر ڈھائی فیصدی زکوٰۃ ہے جب کہ ان کی قیمت بقدرِ نصاب ہو اور جب کہ وہ پرائیویٹ ملکیت میں ہوں۔ اس مسلک پر حضرت عمرؒ بن عبدالعزیز کی حکومت میں عمل بھی تھا۔ (المغنی لابن قدامہ، ج2، ص581)
(ح) برآمد شدہ دفینہ (رِکاز) کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ فی الرکاز الخمس یعنی اس میں خمس (20 فیصدی) لیا جائے گا۔
(ط) آثار قدیمہ، یعنی وہ قیمتی نوادر جو کسی نے بطور یادگار اپنے گھر میں رکھ چھوڑے ہوں، ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔ البتہ اگر وہ بغرضِ تجارت ہوں تو ان پر تجارتی زکوٰۃ ہے۔
(ی) شہد کے بارے میں یہ بات مختلف فیہ ہے کہ