اسلامی ریاست

اسلام ایک کامل دین اور مکمل دستور حیات ہے اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زور دیتا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اُصول وضع کرتا ہے جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے اسلام کا نظامِ سیاست وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے۔ اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے۔ اسلام کا جس طرح اپنا نظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنا نظامِ سیاست وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ ماوردی کہتے ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔
اسلام نے اپنی پوری تاریخ میں ریاست کی اہمیت کوکبھی بھی نظر انداز نہیں کیا۔انبیاء کرامؑ وقت کی اجتماعی قوت کواسلام کےتابع کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ ان کی دعوت کا مرکزی تخیل ہی یہ تھا کہ اقتدار صرف اللہ تعالیٰ کےلیے خالص ہو جائے اور شرک اپنی ہر جلی اور خفی شکل میں ختم کردیا جائے ۔قرآن کےمطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ،حضرت موسی، حضرت داؤد، اور نبی کریم ﷺ نے باقاعدہ اسلامی ریاست قائم بھی کی اور اسے معیاری شکل میں چلایا بھی۔اسلامی فکر میں دین اورسیاست کی دوری کاکوئی تصور نہیں پایا جاتا اور کا اسی کانتیجہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ اپنی ریاست کواسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ یہ جدوجہد ان کے دین وایمان کاتقاضا ہے۔قرآن پاک اور احادیث نبویہ میں جس طرح اخلاق اور حسنِ کردار کی تعلیمات موجود ہیں۔اسی طرح معاشرت،تمدن اور سیاست کے بارے میں واضح احکامات بھی موجود ہیں۔
زیر نظر کتاب’’اسلامی ریاست‘‘مفکرِ اسلام مولا نا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی کی تصنیف ہے ۔جس میں انھوں نے بیک وقت ان دونوں ضرورتوں کو پورا کرنے کی کما حقہ کوشش کی ہے ۔ ایک طرف انھوں نے اسلام کےپورے نظام حیات کودینی اور عقلی دلائل کےساتھ اسلام کی اصل تعلیمات کودورحاضر کی زبان میں پیش کیاہے ۔ ان کی تحریرات کےمطالعہ سے قاری کوزندگی کے بارے میں اسلام کے نقظہ نظر کا کلی علم حاصل ہوتا ہے اوروہ پوری تصویر کو بیک نظر دیکھ سکتا ہے۔انھوں نےہر مرعوبیت سے بالا تر ہوکر دورحاضرکے ہر فتنہ کا مقابلہ کیا اور اسلام کے نظام زندگی کی برتری اورفوقیت کوثابت کیا ہے۔پھر یہ بھی بتایا ہےکہ اس نظام کودور حاضر میں کیسے قائم کیا جاسکتا ہے اور آج کے اداروں کوکس طرح اسلام کے سانچوں میں ڈھالا جاسکتاہے ۔انھوں نے اسلامی ریاست کے ہمہ پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئےدور جدید کے تقاضوں کوسامنے رکھ کر اسلامی ریاست کا مکمل نقشہ پیش کیاہے ۔کتاب ہذا دراصل مولانامودودی کے منتشر رسائل ومضامین کامجموعہ ہے جسے پروفیسر خورشید احمد صاحب (مدیر ماہنامہ ترجمان القرآن)نے بڑے حسن ترتیب سے مرتب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف ومرتب کی اشاعتِ اسلام کےلیے کی جانے والی تمام کاوشوں کو قبول فرماے۔آمین

دیباچہ

از: مصنف
پچھلے بیس پچیس سال کے دوران میں، مجھے اسلام کے سیاسی نظام پر بہت کچھ لکھنے اور کہنے کا موقع ملا ہے۔ میں نے اس موضوع پر اور اس کے بہت سے متعلقات پر اصولی و نظری بحثیں بھی کی ہیں، اور اس امر پر بھی اچھی خاصی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے کہ اس زمانے میں عملاً ایک اسلامی ریاست کس نقشے پر بن سکتی ہے۔ یہ مضامین اس طویل مدت کے دوران میں مختلف مواقع پر مختلف مناسبتوں سے لکھے گئے ہیں، یا تقریر کی صورت میں بیان کیے گئے ہیں، اور مختلف صورتوں میں طبع بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن ایک مدت تک ان کو یکجا ایک کتابی شکل میں مرتب نہیں کیا جاسکا تھا۔
چند سال پہلے جناب خورشید احمد صاحب نے میرے متعدد مضامین کو’’اسلامی ریاست‘‘ کے عنوان سے مرتب کیا تھا، لیکن اس وقت سارا مواد استعمال نہ کیا جاسکا تھا۔ نیز اس مجموعے میں نظری مباحث اور پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد کے سلسلے کے مضامین یکجا کردیے تھے۔ اب ادارہ معارف اسلامی ( کراچی) کے زیر اہتمام جناب خورشید احمد صاحب نے اس موضوع سے متعلق میرے تمام مضامین کو دو حصوں میں مرتب کر دیا ہے۔
٭ پہلے حصے میں اسلامی ریاست کے تمام نظری مباحث سمو دیے ہیں۔
٭ اور دوسرے حصے میں پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد کے سلسلے کے سب مضامین یکجا کر دیے ہیں۔
اب ایک قاری کے سامنے بیک وقت اسلام کے سیاسی نظریے اور اس کے نظام ریاست کی پوری تصویر آجاتی ہے۔ اس سے پہلے اس تصویر کا ایک ایک رخ تو مختلف اوقات میں دکھایا جاتا رہا تھا، مگر ایک ہی مرقع میں پوری تصویر سامنے نہیں آسکی تھی۔ یہی اس مجموعے کا اصل فائدہ ہے۔
میں نے اس پوری کتاب پر از سرِ نو نظر ثانی کرلی ہے اور ترتیب میں بھی میرا مشورہ شامل رہا ہے۔ مجھے توقع ہے کہ اپنی موجودہ صورت میں یہ کتاب، نہ صرف عام ناظرین کے لیے مفید ثابت ہوگی، بلکہ خاص طور پر اسلامیات اور علمِ سیاست کے طالب علم اسے اپنے لیے بہت فائدہ مند پائیں گے۔

خاکسار
ابو الاعلیٰ
لاہور
/۶شوال المکرم ۱۳۸۶ھ
مطابق۱۸ /جنوری ۱۹۶۷ء

مقدمہ

از: مرتب
انسان نے اپنی اجتماعی زندگی کی ترتیب و تہذیب کے لیے جو ادارے قائم کیے ہیں ان میں ریاست کا ادارہ سب سے اہم اور بنیادی ہے۔ ریاست وہ ہیئت ِ سیاسی ہے جس کے ذریعے ایک ملک کے باشندے ایک باقاعدہ حکومت کی شکل میں اپنا اجتماعی نظم قائم کرتے ہیں اور اسے قوت قاہرہ اور قوت نافذہ کا امین قرار دیتے ہیں۔ انسان نے اپنی تہذیبی زندگی کے آغاز سفر ہی میں اس ادارے کی ضرورت کو محسوس کرلیا تھا اور پوری انسانی تاریخ، ریاست کے قیام و استحکام‘ اس کی تنظیم و تہذیب اور اس کے فروغ و ارتقا کی تاریخ ہے۔
دورِ جدید میں عملی طریقوں کی ترقی اور اجتماعی زندگی میں نت نئی پیچیدگیوں کے راہ پا جانے کی وجہ سے ریاست کا دائرۂ کار برابر بڑھ رہا ہے۔ اب دنیا کے تقریباً تمام ہی ممالک میں ریاست کاکام محض امن و امان اور نظم و ضبط قائم رکھنا ہی نہیں، بلکہ اجتماعی عدل اور سماجی فلاح کا قیام بھی ہے۔ آج ریاست نے ایک مثبت کردار (role)اختیار کر لیا ہے اور وہ زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہی ہے۔
۱ ۔ ریاست اور اسلام
اسلام نے اپنی پوری تاریخ میں ریاست کی اہمیت کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا۔ انبیاء کرام علیہم السلام وقت کی اجتماعی قوت کو اسلام کے تابع کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ ان کی دعوت کا مرکزی تخیل ہی یہ تھا کہ اقتدار خدا اور صرف خدا کے لیے خالص ہو جائے اور شرک اپنی ہر جلی اور خفی شکل میں ختم کر دیا جائے۔ ان میں سے ہر ایک کی پکار یہی تھی کہ:
۱۔ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ الاعراف7:65
اے برادران قوم! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی الٰہ ۱؎ نہیں ہے۔
اور ان میں سے ہر ایک نے خدا کے نمائندہ کی حیثیت سے اپنی قوم سے مطالبہ کیا کہ:
۲۔ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ الشعرآء26:163
اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
خدا کے ان فرستادہ بندوں نے زندگی کے ہر شعبے کی اصلاح کے لیے جدوجہد کی، تاکہ خدا کی زمین پر خدا کا دین قائم ہو، اور اسی کا قانون جاری و ساری ہو۔ ان کی یہ جدوجہد پوری زندگی کی اصلاح کے لیے تھی اور ریاست کی اصلاح ان ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ تھا۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ ، حضرت موسیٰ ؑ،حضرت دائود ؑ، حضرت سلیمان ؑ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ اسلامی ریاست قائم بھی کی اور اسے معیاری شکل میں چلایا بھی۔ بائبل اور تلمود کے مطالعے سے دوسرے انبیائے بنی اسرائیل کے بارے میں بھی اس کی شہادت ملتی ہے کہ انھوں نے ریاست کے ادارے کی اصلاح کی کوشش کی اور غلط قیادت پر بھرپور تنقید کی۔
فکر اسلامی میں ریاست کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ وہ خالقِ ارض و سماوات اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا سکھاتا ہے کہ:
وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا
بنی اسرائیل17: 80
اور دعا کرو: اے پروردگار!مجھ کو جہاں بھی تو داخل کر‘ سچائی کے ساتھ داخل فرما اورجہاں سے بھی نکال، سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے۔
یہ آیت ہجرت نبوی سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی۔ اس تاریخی پس منظر سے اس کی اہمیت اور بھی واضح ہو جاتی ہے اور اس سے ریاست کے ادارے کی اہمیت بالکل روشن ہو جاتی ہے اور اس آیت کا مفہوم مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی صاحب کے الفاظ میں یہ ہے کہ:
یا تو مجھے خود اقتدار عطا کر، یا کسی حکومت کو میرا مددگار بنا دے، تاکہ اس کی طاقت سے میں دنیا کے اس بگاڑ کو درست کر سکوں‘ فواحش اور معاصی کے اس سیلاب کو روک سکوں اور تیرے قانونِ عدل کو جاری کرسکوں۔ یہی تفسیر ہے اس آیت کی جو حسن بصریؒ اور قتادہؒ نے کی ہے اور اسی کو ابن جریرؒ اور ابن کثیرؒ جیسے جلیل القدر مفسرین نے اختیار کیا ہے اور اسی کی تائید یہ حدیث کرتی ہے کہ: اِنَّ اللّٰہَ لَیَزَعُ بِالسُّلْطَانِ مَالاَ یَزَعُ بِالْقُرْآنِ۔۲؎
یعنی ’’اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سدباب کردیتا ہے جن کا سدباب قرآن سے نہیں کرتا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے‘ وہ صرف وعظ و تذکیر سے نہیں ہوسکتی‘ بلکہ اس کو عمل میں لانے کے لیے سیاسی طاقت بھی درکار ہے۔ پھر جب کہ یہ دعا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو خود سکھائی ہے تو اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اقامت دین اور نفاذ شریعت اور اجرائے حدود اللہ کے لیے حکومت چاہنا اور اس کے حصول کی کوشش کرنا نہ صرف جائز، بلکہ مطلوب و مندوب ہے اور وہ لوگ غلطی پر ہیں جو اسے دنیا پرستی یا دنیا طلبی سے تعبیر کرتے ہیں۔ دنیا پرستی اگر ہے تو یہ کہ کوئی شخص اپنے لیے حکومت کا طالب ہو۔ رہا خدا کے دین کے لیے حکومت کا طالب ہونا تو یہ دنیا پرستی نہیں‘ بلکہ خدا پرستی کا عین تقاضا ہے۔ (تفہیم القرآن‘ ج۲‘ص ۶۳۸)
اس پر مزید روشنی مندرجہ ذیل آیات و احادیث سے پڑتی ہے:
۱۔ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ ۔ الحدید57:25
ہم نے اپنے رسول واضح نشانیاں دے کر بھیجے ہیں اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (عدل) اتاری ہے، تاکہ انسان انصاف پر قائم ہوں اور ہم نے اتارا لوہا (ریاست کی قوت و جبروت) جس میں سخت قوت ہے اور لوگوں کے لیے بہت فوائد ہیں۔
۲۔ ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ
الصّف61: 9
وہی ہے (ذات باری تعالیٰ) جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کر دے، خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔
۳۔ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ المائدہ5:44
اور وہ جو خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی کافر ہیں۔
اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلْاِسْلَامُ وَالسُّلْطَانُ اَخَوَانِ تَوَامَانِ لَایَصْلَحُ وَاحِدٌ مِّنْھُمَا اِلاَّ بِصَاحِبٍ فَالْاِسْلَامُ اَسٌّ وَالسُّلْطَانُ حَارِسٌ وَمَالَالِاَسٍّ لَہ‘ لَیَھْدِ مُ وَمَا لَاحَارِسٌ لَہ‘ ضَائِعٌ۔ (کنزالعمال)
اسلام اورحکومت و ریاست دو جڑواں بھائی ہیں۔ دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے بغیر درست نہیں ہوسکتا۔ پس اسلام کی مثال ایک عمارت کی ہے اور حکومت گویا اس کی نگہبان ہے، جس عمارت کی بنیاد نہ ہو، وہ گر جاتی ہے اور جس کا نگہبان نہ ہو، وہ لوٹ لیا جاتا ہے۔
اسلامی فکر میں دین اور سیاست کی دُوئی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ اپنی ریاست کو اسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ یہ جدوجہد ان کے دین و ایمان کا تقاضا ہے۔ وہ قرآنِ پاک اور احادیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جس طرح اخلاق اور حسن کردار کی تعلیمات پاتے ہیں، اسی طرح معاشرت‘ تمدن‘ معیشت اور سیاست کے بارے میں واضح احکام بھی پاتے ہیں۔ اس دوسرے حصے پر عمل کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی ریاست ہو، اور اگر اس حصے پر عمل نہ کیا جائے تو شریعت کا ایک حصہ معطل ہو کر رہ جاتا ہے اور قرآن کے تصور کا معاشرہ وجود میں نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہائے امت نے متفقہ طور پر نصب امامت کو فرض قرار دیا ہے اور اس بارے میں کوتاہی ایک دینی حکم کی بجا آوری میں کوتاہی ہے۔ علامہ ابن حزم اپنی کتاب ’’الفصل بین الملل و النحل‘‘ میں لکھتے ہیں:
اِتَّفَقَ جَمِیْعُ اَھْلِ السُّنَّۃِ وَجَمِیْعُ الْمَرجِیْئَۃِ وَجَمِیْعُ الشِّیْعَۃِ وَجَمِیْعُ الْخَوَارِجِ عَلٰی وُجُوْبِ الْاِمَامَۃِ وَاَنَّ الِاْمَامَۃَ وَاجِبٌ عَلَیْھَا الْاِ نْقَیَادُ لِاِمَامٍ عَادِلٍ یُقِیْمُ اَحْکَامَ اللّٰہِ وَ یَسُوْ سُھُمْ بِاَحْکَامِ الشَّرِیْعَۃِ الَّتِیْ اَتٰی بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔ ۳؎
کل اہل سنت‘ مرجیہ‘ شیعہ اور خوارج سب کا اتفاق ہے کہ نصب امام واجب ہے اور یہ کہ امت پر ایسے امام عادل کی اطاعت واجب ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام قائم کرے اور ان احکامِ شریعت کے مطابق ان کا سیاسی نظام قائم کرے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں۔
اور شاہ ولی اللہؒ لکھتے ہیں:
مسلمانوں پر جامع شرائط خلیفہ کا مقرر کرنا واجب بالکفایہ ہے اور یہ حکم قیامت تک کے لیے ہے۔۴؎
یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر پوری امت کا اجماع ہے۔ عملاً صحابہ کرامؓ نے نصب امام کو کتنی اہمیت دی تھی‘ اس کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ وصال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جسد مطہر کی تجہیز و تدفین سے بھی پہلے امام کا انتخاب عمل میں آیا‘ جس نے آپؐ کے قائم کیے ہوئے نظام کو تھام لیا اور پھر پوری شانِ مرکزیت کے ساتھ سارے کام انجام دیے۔ اسلام مادی اقتدار چاہتا ہے اور اس کے بغیر وہ اپنا مشن پورا نہیں کرسکتا۔ یہ اقتدار بجائے خود مقصود نہیں ہے لیکن دعوت کی تکمیل اور اصلاحِ انسانیت کے عظیم کام کی انجام دہی کے لیے ناگزیر ذریعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے قرآن نے اس نکتے کو واضح کر دیا کہ اسلام کا مادی اقتدار اس کے روحانی اقتدار کا ذریعہ ہے اور اس کے نتیجے میں نیکیوں کا قیام اور برائیوں کا استیصال واقع ہوتا ہے:
اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَ لِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ الحج22:41
یہ مسلمان وہ ہیں کہ اگر ہم نے انھیں زمین میں صاحب اقتدار کر دیا (یعنی ان کا حکم چلنے لگا) تو وہ نماز قائم کریں گے‘ ادائے زکوٰۃ میں سرگرم ہوں گے‘ نیکیوں کا حکم دیں گے‘ برائیوں سے روکیں گے اور تمام باتوں کا انجامِ کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔
ہماری اب تک کی بحث سے یہ نتائج نکلتے ہیں:
۱۔ ریاست کا ادارہ انسانی سماج کی ایک بنیادی ضرورت ہے اور اس کے بغیر منظم اجتماعی زندگی کا تصور مشکل ہے۔
۲۔ اسلام انسان کی پوری زندگی کے لیے ہدایت ہے اور اس نے اجتماعی زندگی کے لیے بھی واضح رہنمائی دی ہے۔
۳۔ اسلام دین و سیاست میں کسی تفریق کا روادار نہیں۔ وہ پوری زندگی کو خدا کے قانون کے تابع کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے سیاست کو بھی اسلامی اصولوں پر مرتب کرتا ہے اور ریاست کو اسلام کے قیام اور اس کے استحکام کے لیے استعمال کرتا ہے۔
۴۔ یہ روش دنیا اور آخرت دونوں میں عتاب الٰہی کی موجب ہے کہ کچھ احکامِ الٰہی کو تو تسلیم کیا جائے اور کچھ دوسرے احکام سے صرفِ نظر اور روگردانی اختیار کی جائے‘ خواہ خواہش اور نفس کی اندرونی وحشت کی بنا پر، یا کسی بیرونی دبائو یا مرعوبیت کی وجہ سے۔
۵۔ دین اور ریاست و حکومت کا اتنا قریبی تعلق ہے اور یہ ایک دوسرے سے اس طرح وابستہ ہیں کہ اگر ریاست و حکومت اسلام کے بغیر ہوں تو ظلم اور بے انصافی کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں’چنگیزی‘ رونما ہوتی ہے اور اگر اسلام، ریاست و حکومت کے بغیر ہو تو اس کا ایک حصہ معطل ہو کر رہ جاتا ہے اور خدا کا دین حکمرانی اور غلبے کے بجائے غلامی اور مغلوبیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ریاست کو اسلامی بنیادوں پر قائم کیا جائے۔ حکومت اسلام کی پابند ہو، اور اس کے قیام کے لیے سرگرمِ عمل رہے۔
۲۔دور جدید اور اسلامی ریاست
یہ تو ہے مسئلے کا دینی پہلو، لیکن اگر ہم دور حاضر کے تجربات کی روشنی میں اس پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی ریاست کا قیام وقت کی سب سے بڑی ضرورت بھی ہے۔ مغرب میں لادینی ریاست کا تخیل ایک خاص پس منظر کی پیداوار ہے۔ وہاں پاپائی نظام نے جو شکل اختیار کرلی تھی اور مذہب کے نام پر بادشاہوں سے گٹھ جوڑ کے ذریعے جن مظالم کو سند جواز دی گئی انھوں نے ایک ردعمل پیدا کیا۔ عیسائیت کی مخالفت میں اتنی بے اعتدالی پیدا ہوئی کہ خود مذہب ہی کے خلاف بغاوت کر دی گئی اور اس بغاوت کا سیاسی مظہر لادینی ریاست تھی۔
سیکولرزم کی تحریک کا باقاعدہ آغاز ۱۸۳۲ء میں ہوا، جب جیکب ہولیک ] ۱۷۸۱ء۔ ۱۸۳۲ء[ نے سیاست کو مذہب سے پاک رکھنے کی یہ تحریک قائم کی۔ اس تحریک کی سربراہی اہل فکر و سیاست کے ہاتھوں میں رہی اور بہت جلد اس مسلک کو سیاسی قبولیت حاصل ہوگئی۔ مختصراً اس تحریک کا مقصد یہ تھا کہ مذہب کا دائرہ انفرادی زندگی تک محدود رہنا چاہیے اور اسے اجتماعی اور سیاسی زندگی میں کوئی مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ شروع میں بات صرف مذہب کے معاملے میں غیر جانب داری اور فرد کی کامل آزادی کی تھی، لیکن بعد میں اس تحریک کا ایک حصہ مذہب کی مخالفت اور جارحانہ مادیت اور اشتراکیت کا داعی بن گیا۔
مغرب میں لادینی ریاست کے جو اثرات رونما ہوئے ہیں وہ یہ ہیں:
۱۔ سیکولرزم نے تشکیک اور ذہنی پراگندگی کو پیدا کیا ہے۔ کوئی ایک نصب العین انسان کے سامنے نہیں رہا اور ایک قسم کی بے عقیدگی پھیل گئی ہے۔ یہ اسی ذہنی انتشار اور فکری تَشَتُّت ہی کا نتیجہ ہے کہ اشتراکیت اور فسطائیت جیسی تحریکوں نے جنم لیا اور انسان کو مادہ پرستی کی انتہا کی طرف لے گئیں۔ اشتراکیت کا مشہور نقاد آر۔ این کریوہنٹ لکھتا ہے:
’’اشتراکیت غربت و افلاس اور خراب سماجی حالات کی پیداوار نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کی اصلی کشش نچلے افلاس زدہ طبقات کے مقابلے میں، اچھی تنخواہ والے مزدوروں اور تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ کارکنوں کے لیے ہے۔ یہ اس امر کا نتیجہ بھی نہیں ہے کہ عوام میں اب سرمایہ دارانہ نظام کی خباثتوں اور بے انصافیوں کا شعور پیدا ہوگیا ہے اور نہ ہی یہ نظام پیداوار کی اکتا دینے والی یکسانی اور عدم تنوع کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے اور آخری تجزیہ ہمیں اسی نتیجے تک لاتا ہے کہ اشتراکیت ان نظریات کے مجموعے کا نام ہے جنھوں نے ہماری زندگی کے اس خلا کو پُر کیا ہے جسے منظم مذہب کے انہدام نے پیدا کیا تھا اور جو زندگی پر لادینیت کے غلبے کا لازمی نتیجہ تھا، اور اس نظام فکر و عمل کا مقابلہ اگر کیا جاسکتا ہے تو ایک دوسرے ہمہ گیر نظام حیات ہی سے کیا جاسکتا ہے جو کچھ دوسرے اصولوں کا علم بردار ہو‘‘۔۵؎
اور جو حضرات اشتراکیت کی طرف نہیں گئے‘ وہ ذہنی بے اطمینانی‘ روحانی اضطراب‘ جذباتی تَلَوُّن اور بے عقیدگی کا شکار ہوئے ہیں۔
۲۔ فرد کے سامنے نیا نصب العین صرف ذاتی اغراض و خواہشات کی تکمیل رہ گیا اور قومی پیمانے پر مصلحت اور موقع پرستی نے انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ظلم سے بھر دیا اور کوئی مستقل ضابطۂ اخلاق، ملکی اور قومی زندگی کے لیے باقی نہ رہا۔ نتیجتاً اس صدی نے دو ایسی ہولناک عالمی جنگوں کا مشاہدہ کیا جن میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد انسانیت کی پوری تاریخ کی تمام جنگوں کے مجموعی مقتولین و مجروحین کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔
۳۔ اس کے عام اخلاقی اثرات بھی تباہ کن تھے۔ مستقل مزاجی‘ پامردی‘ جرأت‘ اور سب سے بڑھ کر نیکی اور بدی میں تمیز کا مادہ ختم ہونے لگا اور افادیت‘ مصلحت بینی اور ابن الوقتی انفرادی اور اجتماعی اخلاق کی بنیاد بن گئے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں سماجی اور معاشرتی برائیاں رونما ہوئیں جو معاشرے کو سکون و اطمینان سے محروم کیے ہوئے ہیں۔
۴۔ تجربے نے بتایا ہے کہ اگر خالص مادی فائدہ پیشِ نظر ہو اور کوئی اعلیٰ اخلاقی اور روحانی نظام موجود نہ ہو‘ تو محض مادی فائدہ بھی انسان کو حاصل نہیں ہوتا ہے۔
آرنلڈ ٹائن بی سیکولرزم کے نتائج کا جائزہ لے کر کھلے الفاظ میں اس کی ناکامی کا اعتراف کرتا ہے:
’’یہ اب واضح ہوگیا ہے کہ اگر صرف دنیاوی خوشی کو مقصد زیست بنا دیا جائے گا تو اس میں فرد کی مادی خوش حالی اور دنیاوی سکون کا حصول بھی ناممکن ہے۔ ہاں یہ قابلِ فہم ہے کہ اگر سیکولرزم سے بلند و بالا کوئی روحانی مقصد سامنے رکھا جائے تو ایک ضمنی نتیجے کی حیثیت سے انسان کو دنیاوی خوشی بھی حاصل ہو جائے۔۶؎ ‘
۵۔ پھر حقیقت یہ ہے کہ سیکولرزم عملاً ناکام ہی نہیں ہوا ہے، بلکہ تاریخ اب سیکولرزم سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ اگر گہری نگاہ سے دیکھا جائے تو سیکولرزم آج ایک دقیانوسی اور ازکارِ رفتہ تصور ہے اور گردشِ ایام کے اس کی طرف لوٹنے کا کوئی امکان نہیں۔ سیکولرزم کچھ خاص تاریخی عوامل کی پیداوار تھا اور ایک مخصوص فضا ہی میں وہ کام کرسکتا ہے۔ اگر وہ عوامل موجود نہ ہوں تو اس کا قائم رہنا ممکن نہیں ہے۔
سیکولرزم، جیسا کہ ہم نے اوپر کہا: اس نظام کو کہتے ہیں جس میں سیاسی اور ریاستی معاملات میں مذہب کو کوئی دخل نہ ہو۔ لیکن اگر مزید تجزیہ کیا جائے تو بات یہاں آجاتی ہے کہ یہ مذہبی اور نظریاتی غیر جانب داری کا داعی ہے۔ انیسویں صدی کی سیاسی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیکولرزم‘ انفرادیت‘ قومیت اور معاشی امور میں مکمل آزادی اور ریاست کی عدمِ مداخلت سیاست کے بنیادی تصورات تھے، اور یہ تمام تصورات ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ سیکولرزم اس وقت کامیاب ہوسکتا ہے جب ریاست صرف ایک دفاعی ادارہ (پولیس اسٹیٹ) ہو۔ یعنی اس کی ذمے داری محض نظم و نسق کو قائم رکھنا اور ملک کو بیرونی حملے اور اندرونی بدامنی سے بچانا ہو۔ ایسے ہی نظام ریاست میں فرد کو پوری پوری آزادی دی جاسکتی ہے کہ وہ جس طرح چاہے زندگی گزارے اور صرف اسی صورت میں حکومت (کم از کم نظری حد تک) مذہبی اور نظریاتی غیر جانب داری کو روا رکھ سکتی ہے اور یہی تصور انیسویں صدی میں تھا لیکن آج ریاست کا تصور بدل گیا ہے۔ آج ریاست محض ایک عظیم الشان بت نہیں۔ آج یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک خاص دائرے کو چھوڑ کر ملک میں جو کچھ بھی ہوتا رہے‘ ریاست عدمِ مداخلت پر کار بند رہے گی۔ آج اس کے وظائف نہایت عظیم اور اس کا دائرۂ کار نہایت وسیع ہے۔ وہ زندگی کے ہر شعبے کی صورت گری کرتی ہے اور اپنی پالیسی کے ذریعے سے اس کی ضابطہ بندی کرتی ہے۔ یہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ جہالت کو ختم کرے اور علم کی شمعیں روشن کرے، غربت کو ختم کرے اور دولت کی منصفانہ تقسیم کی کوشش کرے، سماجی برائیوں کا قلع قمع کرے اور شہریوں کی اخلاقی اور معاشرتی تعلیم کا بندوبست کرے، بیماریوں کا علاج‘ مظلوموں کی فریاد رسی‘ مجبوروں کی مدد و استعانت کا اہتمام کرے۔ مختصراً، آج کی ریاست ایک فلاحی ریاست ہے اور اس کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ نظریاتی غیر جانب داری برت سکے۔ اسے کچھ نہ کچھ اقدار کوتو ماننا ہوگا‘ کسی نہ کسی نظریے کو قبول کرنا ہوگا‘ خیر و شر اور فلاح و خسران کے کسی نہ کسی معیار کو اختیار کرنا ہوگا، اور اس کی روشنی میں اپنی پوری پالیسی کو ترتیب دینا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی ریاست ایک نظریاتی ریاست بنتی جا رہی ہے اور وہ بنیادیں جن پر سیکولرزم کا نظامِ فکر قائم تھا‘ تاریخی یادوں کی حیثیت سے تو ضرور موجود ہیں لیکن دنیائے حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں۔ جن بنیادوں پر یہ قلعہ تعمیر ہوا تھا وہ گر چکی ہیں اور محض تمنائوں کے ذریعے اس خلا کو پر نہیں کیا جاسکتا۔ آج کی دنیا میں سیکولرزم کے لیے کوئی گنجایش نہیں‘ تاریخ اسے بہت پیچھے چھوڑ آئی ہے۔ آج کی ضرورت نظریاتی ریاست ہے جو سیکولرزم کی عین ضد ہے اور جسے اسلام قائم کرنے کا داعی ہے۔
۳۔عالمِ اسلام میں اسلامی ریاست کی جدوجہد
اس پس منظر میں جب ہم قدرت کے اس انتظام پر غور کرتے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد، مسلمان ممالک برسوں کی غلامی کے بعد پھر آزادی سے ہمکنار ہو رہے ہیں اور ان میں سے تقریباً ہر ملک میں اسلامی نظام اور اسلامی ریاست کے قیام کی تحریک زور پکڑ رہی ہے تو ہمیں فطرت کا یہ اشارہ صاف محسوس ہوتا ہے کہ گویا جدید تہذیب کے زوال سے جو خلا رونما ہو رہا ہے، اُسے پُر کرنے کابندوبست کیا جارہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انیسویں صدی میں مسلمان ممالک ایک ایک کرکے مغربی استعمار کے چنگل میں چلے گئے، اور صرف دو تین ہی ملک ایسے رہ گئے جو سیاسی غلامی کی تاریک رات سے محفوظ رہے۔ بیسویں صدی میں حالات نے کروٹ لی اور خصوصیت سے دوسری عالمگیر جنگ کے بعد مسلمان ممالک کی آزادی کا رجحان رونما ہوا۔ اس وقت ۳۴ آزاد مسلمان ملک موجود ہیں۷؎ جو اپنے سیاسی اور تمدنی مستقبل کو خود تعمیر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
سیاسی آزادی کے ساتھ ہی بہت سے اہم مسائل رونما ہوگئے ہیں۔ جب تک مسلمان استعماری طاقتوں کے غلام تھے‘ ان کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ اپنی اجتماعی زندگی کی صورت گری اسلام کے اصولوں کے مطابق کرسکیں۔ ان کا دین زندگی کا ایک مکمل ضابطہ فراہم کرتا ہے اور وہ اس وقت تک اپنے ایمان کے تقاضوں کو پورا نہیں کرسکتے جب تک انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں میں خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو جاری و ساری نہ کرلیں۔ فطری طور پر آزادی کے فوراً بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ اب مجموعی نظامِ حیات کو اور خصوصیت سے ریاست اور قانون کو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ یہی وہ احساس ہے جو اسلامی نظامِ حیات اور اسلامی ریاست کے قیام کے عوامی مطالبے کی پُشت پر کار فرما ہے۔
تاریخ کے وسیع ترپس منظر میں یہ تحریک بڑی حوصلہ افزا ہے اور اس سے مستقبل کی بہترین امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں لیکن غور و فکر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آخر ایک مسلمان ملک میں اسلامی ریاست کے مطالبے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی ____ اسے تو فطری طور پر اسلامی ریاست ہی ہونا چاہیے اور اس کی ساری قوتیں اسی مقصد کے لیے صرف ہونی چاہییں کہ وہ اسلام کے معیار سے مطابقت پیدا کرے ____ لیکن بدقسمتی سے اصل صورت حال یہ نہیں ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دور استعمار میں جو تعلیمی انقلاب آیا اس نے خود مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقے کو اسلام سے دور کر دیا۔ ان میں سے ایک عظیم اکثریت کی معلومات اسلام کے بارے میں نہ ہونے کے برابر ہیں اور ان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کے ذہنوں کو اتنا مسموم کر دیا گیا ہے کہ وہ اسلام کے بارے میں چند در چند غلط فہمیوں کا شکار ہوگیا ہے۔ وہ اسلامی تعلیمات سے بدظن ہے اور ان کو مغرب کے پیدا کردہ تعصبات کی عینک سے دیکھتا ہے۔ یہ گروہ آج کے دور میں اسلام کو ازکارِ رفتہ سمجھتا ہے اور مغرب کی اندھی تقلید اس کا دین و ایمان بن چکی ہے۔ یہ طبقہ خود اپنے ملک کے لوگوں کے جذبات و احساسات سے برسرپیکار ہے اور آگے بڑھتے ہوئے قدموں کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ہے۔ ایک طرف غفلت اور جہالت ہے اور دوسری طرف سُو ئے ظن اور عداوت اور یہی چیزیں اسلامی ریاست کے فروغ کی راہ میں اہم ترین رکاوٹیں ہیں۔
ہماری نگاہ میں ان رکاوٹوں کو دور کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایک طرف اسلامی تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ وسیع پیمانے پر پھیلایا جائے اور عوام کی ذہنی اور فکری تربیت ہو، اور دوسری طرف زندگی کے تمام شعبوں میں ایک ایسی قیادت کو ابھار کر اوپر لایا جائے جو مسلمانوں کے سوادِ اعظم کے جذبات و احساسات کو سمجھتی ہو‘ اسلام پر پکا یقین رکھتی ہو اور زندگی کے تمام شعبوں میں اسے جاری و ساری کرنے کا داعیہ رکھتی ہو۔ یہی وہ صورت ہے جس میں قوم کی صلاحیتیں اور قوتیں باہم کشمکش کے بجائے مثبت تعمیر میں صرف ہوں گی اور اس طرح برسوں کی منزلیں مہینوں میں طے ہوسکیں گی۔
۴۔ کچھ اس کتاب کے بار ے میں
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ ہی یہ ہے کہ انھوں نے بیک وقت ان دونوں ضرورتوں کو پورا کرنے کی کماحقہ کوشش کی ہے۔ ایک طرف انھوں نے اسلام کے پورے نظامِ حیات کو دینی اور عقلی دلائل کے ساتھ پیش کیا ہے اور اسلام کی اصل تعلیمات کو دورِ حاضر کی زبان میں پیش کیا ہے۔ ان کی تحریرات کے مطالعے سے قاری کو زندگی کے بارے میں اسلام کے نقطۂ نظر کا کلی علم حاصل ہوتا ہے اور وہ پوری تصویر کو بیک نظر دیکھ سکتا ہے۔ انھوں نے ہر مرعوبیت سے بالا ہو کر دور حاضر کے ہر فتنے کا مقابلہ کیا ہے اور اسلام کے نظام زندگی کی برتری اور فوقیت کو ثابت کیا ہے۔ پھر سب سے بڑھ کر اسلامی نظام کی محض نظری تشریح و توضیح ہی نہیں کی ہے، بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ اس نظام کو دور حاضر میں کیسے قائم کیا جاسکتا اور آج کے اداروں کو کس طرح اسلام کے سانچوں میں ڈھالا جاسکتا ہے۔
ویسے تو مولانا مودودی صاحب نے یہ کام زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں کیا ہے لیکن اسلامی ریاست کے تصور اور اس کے نظام کار کی تشریح و توضیح ان کا خاص میدان رہی ہے۔ انھوں نے جس اعتماد اور یقین کے ساتھ‘ جس بالغ نظری کے ساتھ‘ جس وسعت فکر اور گہرائی کے ساتھ اور جس شرح و بسط کے ساتھ اسلامی ریاست کے ہمہ پہلوئوں کی وضاحت کی ہے‘ اس میں دور حاضر میں ان کا کوئی شریک اور مد مقابل نہیں۔ بلاشبہہ وہ اس پہلو سے عرب و عجم میں منفرد ہیں۔ موصوف نے دور جدید کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر اسلامی ریاست کا مکمل نقشہ پیش کیا ہے اور اجتہادی بصیرت کے ساتھ پیش کیا ہے اور تمام عملی مسائل کا لحاظ رکھتے ہوئے پیش کیا ہے ____ اور یہی ان کا امتیازی کارنامہ ہے۔
اسلامی ریاست کے بارے میں مولانا کے یہ مضامین و مقالات منتشر تھے۔ ان میں سے کچھ مختصر پمفلٹوں کی شکل میں شائع ہو کر مقبول ہو چکے ہیں‘ لیکن تمام مضامین ایک جگہ کتابی شکل میں پیش نہیں کیے جاسکے تھے۔ میں نے جس وقت اسلامی قانون اور اسلامی ریاست کے موضوعات پر مولانا کی تحریرات کا انتخاب انگریزی میں ’اسلامک لا اینڈ کانسٹی ٹیوشن‘ (Islamic Law & Constitution)کے نام سے پیش کیا تھا‘ اسی وقت اس ضرورت کا احساس بھی پیدا ہوا تھا کہ یہ مجموعہ اردو میں بھی شائع ہونا چاہیے لیکن مولانا اپنی بڑھتی ہوئی مصروفیات کے باعث خود یہ کام نہ کرسکے۔ پھر جب میں نے انگریزی کتاب کا دوسرا نظر ثانی شدہ ایڈیشن تیار کیا تو یہ احساس دوبارہ تازہ ہوگیا اور چند احباب کے اصرار پر مولانا کے ارشاد کے مطابق میں نے اردو کتاب کی ترتیب کاکام بھی شروع کر دیا۔ تمام مواد جمع کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ اسلامی ریاست اور اسلامی قانون کے موضوعات پر الگ الگ کتابیں تیار کرنی ہوں گی۔ ایک ہی کتاب دونوں قسم کے مقالات کی متحمل نہ ہوسکے گی۔ اس لیے ۱۳۸۰ھ (مطابق ۱۹۶۰ء) میں‘ میں نے ’اسلامی ریاست‘ کے نام سے مولانا کے اہم مضامین کو مرتب کیا اور اللہ کا شکر ہے کہ یہ کتاب بڑی مقبول ہوئی۔ اہل علم نے اسے بہت پسند کیا اور یونی ورسٹیوں میں اسے نصاب میں شامل کیا گیا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ کتاب کئی پہلوئوں سے نامکمل تھی اور میرے اصل منصوبے کے مطابق نہ تھی‘ لیکن چونکہ اس وقت کام کرنے کی وہ سہولتیں موجود نہ تھیں جو کام کی تکمیل کے لیے درکار تھیں، اس لیے اس حالت میں کتاب کو طباعت کے لیے بھیج دیا گیا۔ اب الحمد للہ ادارہ معارف اسلامی ] کراچی [ میں مولانا محترم کی تمام تحریرات جمع کرلی گئی ہیں اور یہاں مولانا کی تمام نگارشات کو نئی ترتیب کے ساتھ لانے کاکام کیا جارہا ہے۔ کئی مہینے کی محنت کے بعد ہم اپنی پہلی پیش کش ’’اسلامی ریاست: فلسفہ، نظام کار اور اصول حکمرانی‘‘ پیش کر رہے ہیں۔
اس کتاب میں حتی الوسع مولانا مودودی صاحب کی ان تمام تحریرات کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ جمع کیا گیا جو اسلامی ریاست سے متعلق ہیں۔ کتاب کے پہلے ایڈیشن میں نظری مباحث اور پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد کے سلسلے کی تحریرات گڈمڈ تھیں‘ اب ان کو بھی الگ الگ کر دیا گیا ہے۔ اس کتاب میں صرف نظری اور علمی مباحث ہیں۔ پاکستان کے سلسلے کی نگارشات کو ان شاء اللہ الگ مرتب کیا جائے گا۔
اس کتاب میں ماہنامہ ترجمان القرآن کے پرانے فائلوں سے وہ مضامین بھی لے لیے گئے ہیں جو اب تک کتابی شکل میں نہیں آئے تھے، البتہ ہم نے اس بات کا خیال رکھا ہے کہ پرانی تحریرات میں سے صرف ان حصوں کو شامل کیا جائے جو موضوع زیر نظر سے متعلق ہیں۔ رہیں وہ بحثیں جو وقتی نوعیت کی تھیں، یا جن کا تعلق مخصوص شخصیات اور ان کے اس وقت کے نظریات سے تھا‘ ان کو حذف کر دیا گیا ہے۔ چونکہ ہمارے پیش نظر ان بحثوں اور اختلافات کو زندہ کرنا نہیں ہے‘ اس لیے وہ چیزیں اب غیر ضروری تھیں، البتہ ہم نے ان تمام حصوں کو محفوظ کرلیا ہے جن میں اصولی مباحث تھے اور اس طرح وہ اپنی دائمی قدر و قیمت رکھتے ہیں۔ ماہنامہ ترجمان القرآن کے فائلوں کے علاوہ ہم نے تفہیم القرآن کوبھی بغور پڑھا ہے اور اس کے حواشی میں کی ہوئی علمِ سیاست کی تمام اہم بحثوں کو بھی نکال لیا ہے اور انھیں دو مستقل مقالات کی شکل میں مرتب کر دیا ہے۔ اس طرح یہ دونوں مقالے اپنی موجودہ شکل میں پہلی مرتبہ زیور طباعت سے آراستہ ہو رہے ہیں اور ان سے قارئین کو اندازہ ہوگا کہ تفہیم القرآن میں کتنی ضمنی بحثیں آگئی ہیں جن کے منتشر ہونے کی وجہ سے ان سے بیک نظر استفادہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔
مرتب نے اس بات کی پوری کوشش کی ہے کہ مولانا کی تحریرات کو زیادہ سے زیادہ حسنِ ترتیب اور منطقی ربط کے ساتھ پیش کرے۔ اسے اس سلسلے میں کچھ حذف و اضافے سے بھی کام لینا پڑا ہے۔ اس کے لیے مولانا کی تحریر میں ذرا سی تبدیلی بھی ایک بڑا ہی مشکل اور شاق کام تھا۔ لیکن ایسے مضامین کو جو تقریباً ۲۵ سال کے عرصے میں مختلف نوعیت کی ضرورتوں کے پیش نظر لکھے گئے ہوں اور جن میں لکھتے وقت کسی کتابی ترتیب کو سامنے نہ رکھا گیا ہو‘ کتابی شکل میں لاتے وقت کچھ تبدیلیاں ناگزیر تھیں۔ حق تو یہ تھا کہ یہ کام مولانا محترم خود انجام دیتے، لیکن ان کی مصروفیات نے انھیں اجازت نہ دی اور حالات تقاضا کر رہے تھے کہ یہ قیمتی تحریرات مرتب شکل میں اہل علم کے سامنے آجائیں۔
مجھے اپنی علمی بے بضاعتی کا پورا پورا احساس ہے اور شاید میں یہ کام کبھی نہ کر پاتا اگر خود مولانا کی حوصلہ افزائی مہمیز کاکام نہ کرتی۔ میں ان کا ممنون ہوں کہ انھوں نے مجھ پر اتنا اعتماد فرمایا اور یہ اہم خدمت میرے سپرد کی۔
میرے لیے اس کتاب کی تیاری ایک بہت بڑی سعادت کی حیثیت رکھتی ہے اور مجھے خوشی ہے کہ مولانا نے ہر قدم پر میری رہنمائی کی ہے اور اپنے مشوروں سے مجھے نوازتے رہے ہیں۔ اب اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ میں اس ذمے داری کو کس حد تک ادا کرسکا ہوں۔ اگر میں اس میں کچھ بھی کامیاب رہا ہوں تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کام میں جو بھی کوتاہی رہی ہے‘ اس کا بار میرے اوپر ہے۔ وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلاَّ بِاللّٰہِ۔

خورشید احمد
ادارہ معارف اسلامی‘ کراچی
/۲۷ صفر‘ ۱۳۸۶ھ
مئی ۱۹۶۶ء

باب اول:

 

اسلام کے سیاسی نظام کے مطالعے میں جو سوال سب سے پہلے ہمارے سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کا تصور مذہب کیا ہے اور وہ سیاست‘ اقتدار اور اجتماعی امورِ حیات کے بارے میں کیا نقطۂ نظر پیش کرتا ہے۔ مذہب کے محدود تصور کی وجہ سے اس بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوگئی ہیں اور مذہبی اور سیاسی دونوں ہی حلقوں کے بہت سے لوگ اس بارے میں فکری انتشار میں مبتلا ہیں۔ اس لیے ہم اسلام کے فلسفۂ سیاست کے بارے میں سب سے پہلے اس بحث کو پیش کررہے ہیں۔
دورِ جدید کی اسلامی فکر میں مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مخصوص کارنامہ ہے کہ انھوں نے تفریق دین و سیاست پر ایک کاری ضرب لگائی ہے اور اسلام کے جامع اور انقلابی تصور کو آئینے کی طرح صاف کرکے پیش کیا ہے۔ ہم اس بات کو مولانا موصوف کی مختلف تحریرات سے مرتب کررہے ہیں۔ اس میں مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ اول اور ماہنامہ ترجمان القرآن کے فائلوں میں پائی جانے والی بہت سی بحثوں سے ضروری حصے لیے گئے ہیں، اور مرتب نے ان موتیوں کو ایک لڑی میں پرو کر زیر نظر مضمون کی شکل دی ہے۔(مرتب )

دین و سیاست

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے دنیا میں مذہب کا عام تصور یہ تھا کہ: زندگی کے بہت سے شعبوں میں سے یہ بھی ایک شعبہ ہے‘ یا دوسرے الفاظ میں یہ انسان کی دنیوی زندگی کے ساتھ ایک ضمیمے کی حیثیت رکھتا ہے تاکہ بعد کی زندگی میں نجات کے لیے ایک سرٹیفکیٹ کے طور پر کام آئے۔ اس کا تعلق کلیتہً صرف اس رشتے سے ہے جو انسان اور اس کے معبود کے درمیان ہے۔ جس شخص کو نجات کے بلند مرتبے حاصل کرنے ہوں اس کے لیے ضروری ہے کہ دنیوی زندگی کے تمام دوسرے شعبوں سے بے تعلق ہو کر صرف اسی ایک شعبے کا ہو جائے، مگر جس کو اتنے بڑے مراتب مطلوب نہ ہوں، بلکہ نجات مطلوب ہو‘ اور اس کے ساتھ یہ خواہش بھی ہو کہ معبود اُس پر نظر عنایت رکھے اور اس کو دنیوی معاملات میں برکت عطا کرتا رہے‘ اس کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ اپنی دنیوی زندگی کے ساتھ اس ضمیمے کو بھی لگائے رکھے۔ دنیا کے سارے کام اپنے ڈھنگ پر چلتے رہیں اور ان کے ساتھ چند مذہبی رسموں کو ادا کرکے معبود کو بھی خوش کیا جاتا رہے۔ انسان کا تعلق خود اپنے نفس سے‘ اپنے ابنائے نوع سے‘ اپنے گرد وپیش کی ساری دنیا سے ایک الگ چیز ہے‘ اور اس کا تعلق اپنے معبود سے ایک دوسری چیز‘ ان دونوں کے درمیان کوئی ربط نہیں۔
یہ جاہلیت کا تصور تھا اور اس کی بنیاد پر کسی انسانی تہذیب و تمدن کی عمارت قائم نہ ہوسکتی تھی۔ تہذیب و تمدن کے معنی انسان کی پوری زندگی کے ہیں‘ اور جو چیز انسان کی زندگی کا محض ایک ضمیمہ ہو‘ اس پر پوری زندگی کی عمارت‘ ظاہر ہے کہ کسی طرح قائم نہیں ہوسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ہر جگہ مذہب اور تہذیب و تمدن ہمیشہ ایک دوسرے سے الگ رہے۔ ان دونوں نے ایک دوسرے پر تھوڑا یا بہت اثر ضرور ڈالا‘ مگر یہ اثر اس قسم کا تھا جو مختلف اور متضاد چیزوں کے یکجا ہونے سے مترتب ہوتا ہے۔ اس لیے یہ اثر کہیں بھی مفید نظر نہیں آتا۔ مذہب نے تہذیب و تمدن پر جب اثر ڈالا تو اس میں رہبانیت‘ مادی علائق سے نفرت‘ لذاتِ دنیوی سے کراہت‘ عالم اسباب سے بے تعلقی‘ انسانی تعلقات میں انفرادیت‘ تنافر اور تعصب کے عناصر داخل کر دیے۔ یہ اثر کسی معنی میں بھی ترقی پرور نہ تھا، بلکہ دنیوی ترقی کی راہ میں انسان کے لیے ایک سنگِ گراں تھا۔ دوسری طرف تہذیب و تمدن نے جس کی بنیاد سراسر مادیت اور خواہشاتِ نفس کے اتباع پر قائم تھی‘ مذہب پر جب کبھی اثر ڈالا اس کو گندہ کر دیا۔ اس نے مذہب میں نفس پرستی کی ساری نجاستیں داخل کر دیں‘ اور اس سے ہمیشہ یہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کی کہ ہر اس گندی اور بد سے بدتر چیز کو جسے نفس حاصل کرنا چاہے‘ مذہبی تقدس کا جامہ پہنا دیا جائے‘ تاکہ نہ خود اپنا ضمیر ملامت کرے‘ نہ کوئی دوسرا اس کے خلاف کچھ کہہ سکے۔ اسی چیز کا اثر ہے کہ بعض مذاہب کی عبادتوں تک میں ہم کو لذت پرستی اور بے حیائی کے ایسے طریقے ملتے ہیں جن کو مذہبی دائرے کے باہر خود ان مذاہب کے پیرو بھی بداخلاقی سے تعبیر کرنے پر مجبور ہیں۔
مذہب اور تہذیب کے اس تعامل سے قطع نظر کرکے دیکھا جائے تو یہ حقیقت بالکل نمایاں نظر آتی ہے‘ کہ دنیا میں ہر جگہ تہذیب و تمدن کی عمارت غیر مذہبی اور غیر اخلاقی دیواروں پر قائم ہوئی ہے۔سچے مذہبی لوگ اپنی نجات کی فکر میں دنیا سے الگ رہے اور دنیا کے معاملات کو دنیا والوں نے اپنی خواہشاتِ نفس اور اپنے ناقص تجربات کی بنا پر‘ جن کو ہر زمانے میں کامل سمجھا گیا اور ہر زمانۂ مابعد میں ناقص ہی ثابت ہوئے‘ جس طرح چاہا چلایا اور اس کے ساتھ اگر ضرورت سمجھی تو اپنے معبود کو خوش کرنے کے لیے کچھ مذہبی رسمیں بھی ادا کرلیں۔ مذہب چونکہ ان کے لیے محض زندگی کا ایک ضمیمہ تھا، اس لیے اگر وہ ساتھ رہا بھی تو محض ایک ضمیمے ہی کی حیثیت سے رہا۔ ہر قسم کے سیاسی ظلم و ستم‘ ہر قسم کی معاشی بے انصافیوں‘ ہر قسم کی معاشرتی بے اعتدالیوں اور ہر قسم کی تمدنی کج راہیوں کے ساتھ یہ ضمیمہ منسلک ہوسکتا تھا۔ اس نے ٹھگی اور قزاقی کا بھی ساتھ دیا، جہاں سوزی اور غارت گری کا بھی‘ سود خوری اور قارونیت کا بھی‘ فحش کاری اور قحبہ گری کا بھی۔

۱۔مذہب کا اسلامی تصور

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس غرض کے لیے بھیجے گئے وہ اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ مذہب کے اس جاہلی تصور کو مٹا کر ایک عقلی و فکری تصور پیش کریں اور صرف پیش ہی نہ کریں بلکہ اسی کی اساس پر تہذیب و تمدن کا ایک مکمل نظام قائم کر کے اور کامیابی کے ساتھ چلا کر دکھا دیں۔ آپؐ نے بتایا کہ مذہب قطعاً بے معنی ہے، اگر وہ انسان کی زندگی کا محض ایک شعبہ یا ضمیمہ ہے۔ ایسی چیز کو دین و مذہب کے نام سے موسوم کرنا ہی غلط ہے۔ حقیقت میں دین وہ ہے جو زندگی کا ایک جز نہیں بلکہ تمام زندگی ہو‘ زندگی کی روح اور اس کی قوتِ محرکہ ہو۔ فہم و شعور اور فکر و نظر ہو‘ صحیح و غلط میں امتیاز کرنے والی کسوٹی ہو‘ زندگی کے ہر میدان میں ہر ہر قدم پر راہ راست اور راہ کج کے درمیان فرق کرکے دکھائے‘ راہ کج سے بچائے‘ راہ راست پر استقامت اور پیش قدمی کی طاقت بخشے‘ اور زندگی کے اس لامتناہی سفر میں‘ جو دنیا سے لے کر آخرت تک مسلسل چلا جارہا ہے‘ انسان کو ہر مرحلے سے کامیابی و سعادت کے ساتھ گزارے۔
اسی مذہب کا نام اسلام ہے۔ یہ زندگی کا ضمیمہ بننے کے لیے نہیں آیا ہے‘ بلکہ اس کے آنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے اگر اس کو بھی پرانے جاہلی تصور کے ماتحت ایک ضمیمۂ زندگی قرار دیا جائے۔ یہ جس قدر خدا اور انسان کے تعلق سے بحث کرتا ہے‘ اسی قدر انسان اور انسان کے تعلق سے بھی کرتا ہے اور اسی قدر انسان اور ساری کائنات کے تعلق سے بھی۔ اس کے آنے کا اصل مقصد انسان کو اسی حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ تعلقات کے یہ شعبے الگ الگ اور ایک دوسرے سے مختلف و بیگانہ نہیں ہیں‘ بلکہ ایک مجموعے کے مربوط اور مرتب اجزا ہیں اور ان کی صحیح ترکیب ہی پر انسان کی فلاح کا مدار ہے۔ انسان اور کائنات کا تعلق درست نہیں ہوسکتا جب تک کہ انسان اور خالق کائنات کا تعلق درست نہ ہو۔ پس یہ دونوں تعلق ایک دوسرے کی تکمیل و تصحیح کرتے ہیں۔ دونوں مل کر ایک کامیاب زندگی بناتے ہیں، اور مذہب کا اصل کام اسی کامیاب زندگی کے لیے انسان کو ذہنی و عملی حیثیت سے تیار کرنا ہے۔ جو مذہب یہ کام نہیں کرتا وہ مذہب ہی نہیں ہے اور جو اس کام کو انجام دیتا ہے وہی اسلام ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ:
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ آل عمران3:19
اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔
مذہب اور تہذیب
اسلام ایک خاص طریق فکر (attitude of mind)اور پوری زندگی کے متعلق ایک خاص نقطۂ نظر (outlook of life)ہے۔ پھر وہ ایک خاص طرز عمل ہے جس کا راستہ اسی طریق فکر اور اسی نظریۂ زندگی سے متعین ہوتا ہے۔ اس طریق فکر اور طرز عمل سے جو ہیئت حاصل ہوتی ہے وہی مذہب اسلام ہے‘ وہی تہذیب اسلامی ہے۔ یہاں مذہب اور تہذیب و تمدن الگ الگ چیزیں نہیں ہیں، بلکہ سب مل کر ایک مجموعہ بناتے ہیں۔ وہی ایک طریق فکر اور نظریۂ حیات ہے جو زندگی کے ہر مسئلے کا تصفیہ کرتا ہے۔ انسان پر خدا کے کیا حقوق ہیں۔ خود اس کے اپنے نفس کے کیا حقوق ہیں۔ ماں باپ کے‘ بیوی بچوں کے‘ عزیزوں اور قرابت داروں کے‘ پڑوسیوں اور معاملہ داروں کے‘ ہم مذہبوں اور غیر مذہب والوں کے‘ دشمنوں اور دوستوں کے‘ ساری نوع انسانی کے‘ حتیٰ کہ کائنات کی ہر چیز اور قوت کے کیا حقوق ہیں؟ وہ ان تمام حقوق کے درمیان کامل توازن اور عدل قائم کرتا ہے اور ایک شخص کا مسلمان ہونا ہی اس امر کی کافی ضمانت ہے کہ وہ ان تمام حقوق کو پورے انصاف کے ساتھ ادا کرے گا، بغیر اس کے کہ ظلم کی راہ سے ایک حق کو دوسرے حق پر قربان کرے۔پھر یہی طریق فکر اور نظریۂ حیات انسان کی زندگی کا ایک بلند اخلاقی نصب العین اور ایک پاکیزہ روحانی منتہائے نظر معین کرتا ہے اور زندگی کی تمام سعی و جہد کو‘ خواہ وہ کسی میدان میں ہو‘ ایسے راستوں پر ڈالنا چاہتا ہے جو ہر طرف سے اسی ایک مرکز کی طرف راجع ہوں۔
یہ مرکز ایک فیصلہ کن چیز ہے۔ اسی کے لحاظ سے ہر شے کی قدر (value)متعین کی جاتی ہے۔ اسی معیار پر ہر شے کو پرکھا جاتا ہے۔ جو شے اس مرکزی مقصد تک پہنچنے میں مددگار ہوتی ہے اسے اختیار کرلیا جاتا ہے اور جو شے سَدِّراہ ہوتی ہے‘ اسے رد کر دیا جاتا ہے۔ فرد کی زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے معاملات سے لے کر جماعت کی زندگی کے بڑے سے بڑے معاملات تک‘ یہ معیار یکساں کار فرما ہے۔ وہ اس کا بھی فیصلہ کرتا ہے کہ ایک شخص کو اکل و شرب میں‘ لباس میں‘ صنعتی تعلقات میں‘ لین دین میں‘ بات چیت میں‘ غرض زندگی کے ہر معاملے میں کن حدود کو ملحوظ رکھنا چاہیے تاکہ وہ مرکز مقصود کی طرف جانے والی سیدھی راہ پر قائم رہے اور ٹیڑھے راستوں پر نہ پڑ جائے۔ اس کا بھی فیصلہ کرتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں افراد کے باہمی روابط کن اصولوں پر مرتب کیے جائیں جن سے معاشرت‘ معیشت‘ سیاست‘ غرض ہر شعبۂ زندگی کا ارتقا ایسے راستوں پر ہو جو اصل منزل مقصود کی طرف جانے والے ہوں‘ اور وہ راہیں نہ اختیار کرے جو اس سے دور ہٹانے والی ہوں۔ اس کا بھی فیصلہ کرتا ہے کہ زمین و آسمان کی جن قوتوں پر انسان کو دسترس حاصل ہو، اور جو چیزیں اس کے لیے مسخر کی جائیں‘ ان کو وہ کن طریقوں سے استعمال کرے‘ تاکہ وہ اس کے مقصد کی خادم بن جائیں‘ اور کن طریقوں سے اجتناب کرے، تاکہ وہ اس کی کامیابی میں مانع نہ ہوں۔ اس کا بھی فیصلہ کرتا ہے کہ اسلامی جماعت کے لوگوں کو غیر اسلامی جماعتوں کے ساتھ دوستی میں اوردشمنی میں‘ جنگ میں اور صلح میں‘ اشتراکِ اغراض میں اور اختلافِ مقاصد میں‘ غلبے کی حالت میں اور مغلوبی کے دور میں‘ علوم و فنون کے اکتساب میں‘ اور تہذیب و تمدن کے لین دین میں کن اصولوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے، تاکہ خارجی تعلقات کے ان مختلف پہلوئوں میں وہ اپنے مقصد کی راہ سے ہٹنے نہ پائیں‘ بلکہ جہاں تک ممکن ہو‘ بنی نوع انسان کے ان نادان اور گمراہ افراد سے بھی طوعاًو کرہاً شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر اس مقصد کی خدمت لے لیں جو اصل فطرت کے اعتبار سے ان کا بھی ویسا ہی مقصد ہے جیسا کہ پیروانِ اسلام کا ہے۔
غرض وہ ایک ہی نقطۂ نظر ہے جو مسجد سے لے کر بازار اور میدانِ کارزار تک‘ طریقِ عبادت سے لے کر ریڈیو اور ہوائی جہاز کے طریق استعمال تک‘ غسل و وضو اور طہارت و استنجا کے جزوی مسائل سے لے کر اجتماعیات‘ معاشیات‘ سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے بڑے سے بڑے مسائل تک‘ مکتب کی ابتدائی تعلیم سے لے کر آثار فطرت کے انتہائی مشاہدات اور قوانین طبعی کی بلند ترین تحقیقات تک‘ زندگی کی تمام مساعی اور فکر و عمل کے تمام شعبوں کو ایک ایسی وحدت بناتا ہے جس کے اجزا میں ایک مقصدی ترتیب اور ایک ارادی ربط پایا جاتا ہے‘ اور ان سب کو ایک مشین کے پرزوں کی طرح اس طرح جوڑتا ہے کہ ان کی حرکت اور تعامل سے ایک ہی نتیجہ برآمد ہو۔
مذہب کی دنیا میں یہ ایک انقلابی تصور تھا‘ اور جاہلیت کے خمیر سے بنے ہوئے دماغوں کی گرفت میں یہ تصور کبھی پوری طرح نہ آسکا۔ آج دنیا علم و عقل کے اعتبار سے چھٹی صدی عیسوی کے مقابلے میں کس قدر آگے بڑھ چکی ہے مگر آج بھی اتنی قدامت پرستی اور تاریک خیالی موجود ہے کہ یورپ کی شہرہ آفاق یونی ورسٹیوں میں اعلیٰ درجے کی تعلیم پائے ہوئے لوگ بھی اس انقلاب انگیز تصور کے ادراک سے اسی طرح عاجز ہیں جس طرح قدیم جاہلیت کے اَن پڑھ اور کودَن لوگ تھے۔ ہزاروں برس سے مذہب کا جو غلط تصور وراثت میں منتقل ہوتا چلا آرہا ہے‘ اس کی گرفت دماغوں پر ابھی تک مضبوط جمی ہوئی ہے۔ عقلی تنقید اور علمی تحقیق کی بہترین تربیت سے بھی اس کے بند نہیں کھلتے۔ خانقاہوں اور مسجدوں کے تاریک حجروں میں رہنے والے اگر مذہبیت کے معنی گوشۂ عزلت میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے کے سمجھیں اور دین داری کو عبادت کے دائرے میں محدود دخیال کریں تو جائے تعجب نہیں‘ کہ وہ تو ہیں ہی ’تاریک خیال‘۔ جاہل عوام اگر مذہب کو باجے‘ تعزیے اور گائے کے سوالات میں محدود سمجھیں تو یہ بھی مقامِ حیرت نہیں کہ وہ تو ہیں ہی جاہل، مگر یہ ہمارے پروردگانِ نور علم کو کیا ہوا کہ ان کے دماغوں سے بھی قدامت پرستی کی ظلمت دور نہیں ہوتی؟ وہ بھی مذہب اسلام کو انھی معنوں میں ایک مذہب سمجھتے ہیں جن میں ایک غیر مسلم قدیم جاہلی تصور کے تحت سمجھتا ہے۔
ہماری سیاست میں جاہلی تصوّرِ مذہب کے اثرات
فہم و ادراک کے اس تصور کی وجہ سے مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقے کا ایک بڑا حصہ نہ صرف خود غلط روش پر چل رہا ہے‘ بلکہ دنیا کے سامنے اسلام اور اس کی تہذیب و تمدن کی نہایت غلط نمائندگی کر رہا ہے۔ مسلم جماعت کے اصلی مسائل جن کے حل پر اس کی حیات و ممات کا مدار ہے‘ سرے سے ان لوگوں کی سمجھ ہی میں نہیں آتے، اور یہ ضمنی غیر متعلق مسائل کو اصل مسائل سمجھ کر عجیب عجیب طریقوں سے ان کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ مذہب کا پرانا محدود تصور ہی ہے جو مختلف شکلوں میں ظہور کر رہا ہے۔
کوئی صاحب فرماتے ہیں کہ میں پہلے ہندستانی ۱؎ ہوں‘ پھر مسلمان اور یہ کہتے وقت ان کے ذہن میں مذہب کا یہ تصور ہوتا ہے کہ اسلام جغرافی تقسیم قبول کرسکتا ہے۔ ترکی اسلام‘ ایرانی اسلام‘ مصری اسلام‘ ہندستانی اسلام اور پھر پنجابی‘ بنگالی‘ دکنی اور مدراسی اسلام الگ الگ ہوسکتے ہیں۔ ہر جگہ مسلمان اپنے اپنے مقامی حالات کے لحاظ سے ایک الگ طریق ِ فکر اختیار کرسکتا ہے۔ زندگی کا ایک جداگانہ نقطۂ نظر اور نصب العین قبول کرسکتا ہے۔ ان تمام سیاسی‘ معاشی اور اجتماعی نظاموں میں جذب ہوسکتا ہے، جو مختلف قوموں نے مختلف اصولوں پر قائم کیے ہیں اور پھر بھی وہ مسلمان رہ سکتا ہے۔ اس لیے کہ اسلام ایک ’مذہبی ضمیمہ‘ ہے جو دنیوی زندگی کے ہر ڈھنگ اور ہر طریقے کے ساتھ چسپاں ہوسکتا ہے۔
ایک دوسرے صاحب فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو دین اور دنیا کے معاملات میں واضح امتیاز کرنا چاہیے۔ دین کا تعلق ان معاملات سے ہے جو انسان اور خدا کے درمیان ہیں‘ یعنی اعتقادات اور عبادات۔ ان کی حد تک مسلمان اپنی راہ پر چل سکتے ہیں‘ اور کوئی ان کو اس راہ سے نہ ہٹانا چاہتا ہے‘ نہ ہٹا سکتا ہے۔ رہے دنیوی معاملات تو ان میں دین کو دخل دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جس طرح دنیا کے دوسرے لوگ ان کو انجام دیتے ہیں‘ اسی طرح مسلمانوں کو بھی انجام دینا چاہیے۔
ایک تیسرے صاحب کا ارشاد ہے کہ اپنے مذہبی‘ تمدنی اور لسانی حقوق کے لیے مسلمانوں کو بلاشبہ ایک الگ نظام کی ضرورت ہے، مگر سیاسی اور معاشی اغراض کے لیے ان کو الگ جماعت بندی کی ضرورت نہیں۔ ان معاملات میں مسلم اور غیر مسلم کی تفریق بالکل غیر حقیقی اور مصنوعی ہے۔ یہاں مسلمانوں کے مختلف طبقوں کو اپنے اپنے مفاد اور اپنی اپنی اغراض کے لحاظ سے ان مختلف جماعتوں میں شامل ہونا چاہیے جو غیر مذہبی اصولوں پر سیاسی و معاشی مسائل کو حل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔
ایک اور صاحب جو مسلم قوم کے تنِ مُردہ میں جان ڈالنے کے لیے اٹھے ہیں‘ ان کا خیال یہ ہے کہ اصل چیز ایمان باللہ اور اعتقاد یوم آخر اور اتباع کتاب و سنت نہیں ہے‘ بلکہ عناصر کی تسخیر اور قوانین طبعی کی دریافت اور نظم و ضبط کی طاقت سے ان عناصر مسخرہ و قوانین معلومہ کو استعمال کرنا ہے‘ تاکہ نتیجے میں عُلُوّ اور تَمَکُّن فِی الْاَرْضْ حاصل ہو۔ یہ صاحب مادی ترقی کو مقصود بالذات قرار دیتے ہیں، اس لیے جو وسائل اس ترقی میں مددگار ہوں‘ وہی ان کے نزدیک اصلی اہمیت رکھتے ہیں۔ باقی رہا وہ ذہن جو علم و عقل کی تہہ میں کام کرتا ہے‘ اور جو اپنے طریق فکر اور زاویۂ نظر کے لحاظ سے وسائل ترقی کے استعمال کا مقصد اور تہذیب و تمدن کے ارتقا کا راستہ اور تمکن فی الارض کا مدعا متعین کرتا ہے‘ سو وہ ان کی نگاہ میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا ____ وہ ذہن چاہے جاپانی ذہن ہو‘ یا جرمن‘ یا اطالوی یا فاروقی یا خالدی‘ ان کو اس سے کوئی بحث نہیں‘ ان کے نزدیک یہ سب یکساں ’اسلامی‘ ذہن ہیں، کیونکہ ان سب کے عمل کا نتیجہ ان کو ایک ہی نظر آتا ہے‘ یعنی عُلُوّ اور تَمَکُّن فِی الْاَرْضْ۔ ان کی نگاہ میں جس کو ’زمین کی وراثت‘ حاصل ہے، وہی ’صالح‘ ہے، اگرچہ وہ ابراہیم ؑ کے مقابلے میں نمرود ہی کیوں نہ ہو۔ جو غالب اور بالادست ہے‘ وہی ’مومن‘ ہے اگرچہ وہ مسیح ؑ کے مقابلے میں بت پرست رومی فرماں رواہی کیوں نہ ہو۔
ایک بڑا گروہ جو مسلمانوں کے قومی حقوق کی حفاظت کے لیے اٹھا ہے، اس کے نزدیک اسلام اور اس کی تہذیب کی حفاظت صرف اس چیز کا نام ہے کہ ان کے مذہب اور’پرسنل لا‘ کی حفاظت کا اطمینان دلایا جائے‘ ان کی زبان کو اپنے رسم الخط سمیت ایک سرکاری زبان تسلیم کرلیا جائے‘ اور جن لوگوں کی شخصیت پر اسلام کا لیبل لگا ہوا ہو، صرف انھی کو مسلمانوں کی نمائندگی کا حق حاصل ہو۔ انتخابی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں متناسب نمائندگی ان کے نزدیک سب سے بڑی اہمیت رکھتی ہے، اور اگر یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ خالص اسلامی مسائل میں کوئی تصفیہ اس وقت تک نہ ہوگا جب تک خود مسلمان نمائندوں کی غالب اکثریت اس کو قبول نہ کرے‘ تو اُن کے نزدیک گویا اسلامی حقوق کا پورا پورا تحفظ ہوگیا۔
دیکھا آپ نے! شکلیں کس قدر مختلف ہیں‘ مگر حقیقت ان سب میں ایک ہے۔ یہ سب مختلف مظاہر ہیں‘ اسی جاہلی تصور مذہب کے جو اسلامی تصورِ مذہب کے خلاف ہر زمانے میں نت نئی شکلوں کے ساتھ بغاوت کرتا رہا ہے۔
اگر یہ لوگ اچھی طرح سمجھ لیں کہ مسلم کسے کہتے ہیں اور حقیقی معنی میں اسلامی جماعت کا اطلاق کس گروہ پر ہوتا ہے‘ تو ان کی تمام غلط فہمیاں دور ہوسکتی ہیں۔ قانونی حیثیت سے ہر وہ شخص ’مسلم‘ ہے‘ جو کلمہ طیبہ کا زبانی اقرار کرے اور ضروریاتِ دین کا منکر نہ ہو‘ لیکن اس معنی میں جو شخص ’مسلم‘ ہے‘ اس کی حیثیت اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہے۔ ہم اس کو کافر نہیں کہہ سکتے‘ نہ وہ حقوق دینے سے انکار کرسکتے ہیں جو مجرد اقرار اسلام سے اس کو مسلم سوسائٹی میں حاصل ہوتے ہیں۔ یہ اصل اسلام نہیں ہے، بلکہ اسلام کی سرحد میں داخل ہونے کا پروانہ ہے۔ اصل اسلام یہ ہے کہ تمھارا ذہن اسلام کے سانچے میں ڈھل جائے۔ تمھارا طریق فکر وہی ہو‘ جو قرآن کا طریقِ فکر ہے ____ زندگی اور اس کے تمام معاملات پر تمھاری نظر وہی ہو‘ جو قرآن کی نظر ہے۔ تم اشیاء کی قدریں (values)اسی معیار کے مطابق معین کرو‘ جو قرآن نے اختیار کیا ہے۔ تمھاراانفرادی و اجتماعی نصب العین وہی ہو‘ جو قرآن نے پیش کیا ہے____ تم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں مختلف طریقوں کو چھوڑ کر ایک طریقہ اسی معیار انتخاب کی بنا پر انتخاب کرو‘ جو قرآن اور طریقِ محمدیؐ کی ہدایت سے تم کو ملا ہے۔ اگر تمھارا ذہن اس چیز کو قبول کرتا ہے اور تم اپنے نفسیات کو قرآنی نفسیات کے ساتھ محدود کرلیتے ہو‘ تو پھر زندگی کے کسی معاملے میں بھی تمھاراراستہ اُس راستے سے الگ نہیں ہوسکتا جسے قرآن ’’سبیل المؤمنین‘‘ کہتا ہے۔
قرآنی ذہن
اسلامی ذہن یا قرآنی ذہن ____ کہ حقیقت میں ایک ہی چیز ہیں ____ جس نظریۂ زندگی کے تحت چند اعتقادات پر ایمان لاتا ہے، چند عبادات تجویز کرتا ہے‘ چند شعائر (جو عام اصطلاح میں ’’مذہبی شعائر‘‘ کہے جاتے ہیں) اختیار کرتا ہے، ٹھیک اسی نظریے کے تحت وہ کھانے کی چیزوں میں‘ پہننے کے سامان میں‘ لباس کی وضعوں میں‘ معاشرت کے طریقوں میں‘ تجارتی لین دین میں‘ معاشی بندوبست میں‘ سیاست کے اصولوں میں‘ تمدن و تہذیب کے مختلف مظاہر میں‘ مادی وسائل اور قوانین طبعی کے علم کو استعمال کرنے کے مختلف طریقوں میں‘ بعض کو رد کرتا ہے اور بعض کو اختیار کرتا ہے۔ یہاں چونکہ نقطۂ نظر ایک ہے‘ طریق فکر ایک ہے‘ نصب العین ایک ہے، ترک واختیار کا معیار ایک ہے، اس لیے زندگی بسر کرنے کے طریقے‘ سعی و جہد کے راستے‘ معاملات دنیا کی انجام دہی کے اصول الگ نہیں ہوسکتے۔ جزئیات میں عمل کی شکلیں الگ ہوسکتی ہیں‘ احکام کی تعبیروں اور فروعات پر اصول کے انطباق میں تھوڑا بہت اختلاف ہوسکتا ہے‘ ایک ہی ذہن کی کارفرمائی مختلف مظاہر اختیار کرسکتی ہے‘ لیکن یہ اختلاف عوارض کا اختلاف ہے‘ جوہری اختلاف ہرگز نہیں ہے۔ جس بنیاد پر اسلام میں زندگی کی پوری اسکیم مرتب کی گئی ہے‘ اور اس کے تمام شعبوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے وہ کسی قسم کا اختلاف قبول نہیں کرتی۔ آپ خواہ پاکستانی ہوں‘ یا ترکی یا مصری، اگر آپ مسلمان ہیں تو یہی اسکیم اپنی اسی اسپرٹ کے ساتھ آپ کو اختیار کرنی پڑے گی اور اس اسکیم کو رد کر دینا پڑے گا جو اپنی اسپرٹ اور اپنے اصولوں کے لحاظ سے اس کے خلاف ہو۔
یہاں آپ ’مذہبی‘ اور’دنیوی‘ شعبوں کو ایک دوسرے سے الگ کر ہی نہیں سکتے۔ اسلام کی نگاہ میں دنیا اور آخرت دونوں ایک ہی مسلسل زندگی کے دو مرحلے ہیں۔ پہلا مرحلہ سعی و عمل کا ہے‘ اور دوسرا مرحلہ نتائج کا ____ آپ زندگی کے پہلے مرحلے میں دنیا کو جس طرح برتیں گے، دوسرے مرحلے میں ویسے ہی نتائج ظاہر ہوں گے____ اسلام کا مقصد آپ کے ذہن اور آپ کے عمل کو اس طرح تیار کرنا ہے‘ کہ زندگی کے اس ابتدائی مرحلے میں آپ دنیا کو صحیح طریقے سے برتیں تاکہ دوسرے مرحلے میں صحیح نتائج حاصل ہوں۔ پس یہاں پوری دنیوی زندگی ’مذہبی‘ زندگی ہے‘ اور اس میں اعتقادات و عبادات سے لے کر تمدن و معاشرت اور سیاست و معیشت کے اصول و فروع تک ہر چیز ایک معنوی اور مقصدی ربط کے ساتھ مربوط ہے۔ اگر آپ اپنے سیاسی و معاشی معاملات کو اسلام کی تجویز کردہ اسکیم کے بجائے کسی اور اسکیم کے مطابق منظم کرنا چاہتے ہیں تو یہ جزوی ارتداد ہے‘ جو آخر کار کُلّیْ ارتداد پر منتہی ہوتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ اسلامی تعلیمات کا تجزیہ کرکے بعض کو رد اور بعض کو قبول کرتے ہیں۔ آپ معتقدات دین اور عبادات دینی کو قبول کرتے ہیں‘ مگر اس نظامِ زندگی کو ترک کر دیتے ہیں جس کی عمارت انھی عبادات کی بنیاد پر اٹھائی گئی ہے۔ اول تو یہ تجزیہ ہی اسلام کی رُو سے غلط ہے اور کوئی مسلمان جو حقیقت میں اسلام پر ایمان رکھتا ہو‘ اس کا ارادہ نہیں کر سکتا‘ کیونکہ یہ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ۲؎ کا مصداق ہے۔ پھر اگر آپ نے یہ تجزیہ کرکے دائرۂ اسلام میں رہنے کا عزم کیا بھی تو آپ اس دائرے میں زیادہ مدت تک نہ رہ سکیں گے کیونکہ نظامِ زندگی سے بے تعلق ہونے کے بعد معتقدات دین اور عبادات دینی سب بے معنی ہو جاتے ہیں، ان کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ غیر اسلامی اصول حیات پر ایمان لانے کے بعد اس قرآن پر ایمان قائم ہی نہیں رہ سکتا، جو قدم قدم پر ان اصول حیات کی تکذیب کرتا ہے۔
بخلاف اس کے اگر آپ اس اسکیم کے مطابق اپنی سیاسی و معاشی زندگی کے معاملات کو منظم کرنا چاہتے ہیں جو اسلام نے تجویز کی ہے تو آپ کو الگ پارٹیوں میں منقسم ہونے کی کوئی ضرورت نہیں‘ ایک ہی پارٹی ____ حزب اللہ ____ ان سب کاموں کے لیے کافی ہے‘ کیونکہ یہاں سرمایہ دار اور مزدور‘ زمین دار اور کاشت کار‘ راعی اور رعیت کے مفاد میں تنازع نہیں ہے‘ بلکہ ان کے درمیان موافقت اور اشتراکِ عمل پیدا کرنے والے اصول موجود ہیں، کیوں نہ آپ ان اصولوں کے مطابق اپنی قوم کے مختلف طبقات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کریں؟ جن کے پاس یہ اصول موجود نہیں ہیں‘ وہ اگر مجبورًاتنازع طبقات (class war)کی آگ میں کودتے ہیں‘ تو آپ کیوں ان کے پیچھے جائیں۔
اسی طرح اگر آپ مادی ترقی چاہتے ہیں، عُلُوّاور تَمَکُّن فی الارض چاہتے ہیں تو اسلام خود اس باب میں آپ کی مدد کرتا ہے، مگر وہ چاہتا ہے کہ آپ فرعونی و نمرودی علو اور ابراہیمی ؑ و موسوی ؑ علو میں امتیاز کریں۔ ایک تمکن وہ ہے جو جاپان اور انگلستان کو حاصل ہے۔ دوسرا وہ تھا جو صحابہ کرامؓ اور قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے حاصل کیا تھا۔ تمکن دونوں ہیں‘ اور دونوں تسخیر عناصر‘ استعمالِ اسباب اور قوانین طبعی کے علم اور ان سے استفادہ کرنے ہی کے نتائج ہیں‘ مگر زمین و آسمان کا فرق ہے، دونوں گروہوں کے مقاصد اور نقطۂ نظر میں۔ آپ نتائج کے ظاہری اور نہایت سطحی تماثل کو دیکھتے ہیں مگر ان کے درمیان جو روحی و اخلاقی بُعد ____ بُعد المشرقین ____ ہے اس کو نہیں دیکھتے۔ دنیا پرستوں کی ترقی اور ان کا تمکن اس تسخیر عناصر اور استعمال اسباب کا نتیجہ ہے جس کی تہہ میں زندگی کا حیوانی نصب العین کام کر رہا ہے۔ بخلاف اس کے قرآن جس علو اور تمکن فی الارض کا وعدہ کرتا ہے وہ بھی اگرچہ تسخیرِ عناصر اور استعمالِ اسباب سے ہی حاصل ہوسکتا ہے‘ مگر اس کی تہہ میں زندگی کا بلند ترین اخلاقی و روحانی نصب العین ہونا چاہیے جس کا تحقق ہو نہیں سکتا، جب تک کہ ایمان باللہ اور اعتقاد یوم آخر پوری طرح مستحکم نہ ہو‘ اور جب تک کہ زندگی کی ساری جدوجہد اس آہنی فریم کے اندر کسی ہوئی نہ ہو جس کی گرفت کو مضبوط کرنے کے لیے صوم و صلوٰۃ اور حج و زکوٰۃ کو آپ پر فرض کیا گیا ہے ____ وہی ’ارکانِ اسلام‘ جن کو آپ مولوی کے غلط مذہب کی ایجاد قرار دیتے ہیں۔

۲۔ اسلامی ریاست کیوں؟

ہم یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے‘ اگر وہ بحیثیت مسلمان زندگی گزارنا چاہتے ہیں،اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں کہ وہ اپنی پوری زندگی کو خدا کی اطاعت میں دیں اور اپنے انفرادی اور اجتماعی تمام معاملات کا فیصلہ خدا کے قانون اور اس کی شریعت کے مطابق کریں۔ اسلام اس بات کو گوارا کرنے کے لیے قطعاً تیار نہیں کہ آپ ایمان کا اعلان تو کریں اللہ رب العالمین پر اور زندگی کے معاملات طے کریں غیر الٰہی قانون کے مطابق۔ یہ وہ سب سے بڑا تناقض ہے جس کا تصور کیا جاسکتا ہے اور اسلام اس کو گوارا کرنے کے لیے نہیں‘ اس تناقض کو مٹانے کے لیے آیا ہے، اور اسلامی ریاست اور اسلامی دستور کے مطالبے کی پشت پر دراصل یہی احساس کار فرما ہے کہ اگر مسلمان خدا کے قانون کی پیروی نہیں کرتا تو اس کا دعویِ اسلام ہی مشتبہ ہو جاتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس پر پورا قرآن دلیل ہے۔۳؎
۱۔ قرآن کی رو سے اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے۔ خلق اسی کی ہے، لہٰذا فطرتاً امر کا حق (right of rule) بھی صرف اسی کو پہنچتا ہے۔ اس کے ملک (dominion)میں اس کی خلق پر‘ خود اس کے سوا کسی دوسرے کا امر جاری ہونا اور حکم چلنا بنیادی طور پر غلط ہے۔ صحیح راستہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ اس کے خلیفہ اور نائب کی حیثیت میں اس کے قانونِ شرعی کے مطابق حکمرانی ہو اور فیصلے کیے جائیں۔
۱۔ قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ آل عمران3: 26
کہو: اے اللہ‘ مالک الملک! تو جس کو چاہے ملک دے اور جس سے چاہے چھین لے۔
۲۔ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ۔ فاطر35:13
وہ ہے اللہ‘ تمھارارب، ملک اسی کا ہے۔
۳۔ لَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ ۔ بنی اسرائیل17:111
بادشاہی میں کوئی اس کا شریک (partner)نہیں۔
۴۔ فَالْحُکْمُ لِلّٰہِ الْعَلِیِّ الْکَبِیْرِ ۔ المومن40:12
لہٰذا حکم اللہ بزرگ و برتر کے لیے خاص ہے۔
۵۔ وَّ لَا یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖٓ اَحَدًا ۔ الکہف18:26
اور وہ اپنے حکم میں کسی کو حصے دار نہیں بناتا۔
۶۔ اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ ۔ اعراف7:54
خبردار! خلق اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے۔
۷۔ یَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْئٍ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَکُلَّہٗ لِلّٰہِ ۔ آل عمران3:154
لوگ پوچھتے ہیں کیا امر میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہے؟ کہہ دو کہ امر سارا اللہ کے لیے مخصوص ہے۔
اس اصل الاصول کی بنا پر قانون سازی کا حق انسان سے سلب کرلیا گیا ہے، کیونکہ انسان مخلوق اور رعیت ہے‘ بندہ اور محکوم ہے‘ اور اس کاکام صرف اس قانون کی پیروی کرنا ہے جو مالک الملک نے بنایا ہو، البتہ قانون الٰہی کی حدود کے اندر استنباط و اجتہاد سے تفصیلاتِ فقہی مرتب کرنے کا معاملہ دوسرا ہے جس کی اجازت ہے۔ نیز جن امور میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی صریح حکم نہ دیا ہو‘ ان میں روح شریعت اور مزاج اسلام کو ملحوظ رکھتے ہوئے‘ قانون بنانے کا حق اہل ایمان کو حاصل ہے، کیونکہ ایسے امور میں کسی صریح حکم کا نہ ہونا بجائے خود یہ معنی رکھتا ہے کہ ان کے متعلق ضوابط و احکام مقرر کرنے کا قانونی حق اہل ایمان کو دے دیا گیا ہے۔ لیکن جو بنیادی بات سامنے رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے قانون کو چھوڑ کر جو شخص یا ادارہ خود کوئی قانون بناتا ہے، یا کسی دوسرے کے بنائے ہوئے قانون کو تسلیم کرکے اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے وہ طاغوت و باغی اور خارج از اطاعتِ حق ہے‘ اور اس سے فیصلہ چاہنے والا اور اس کے فیصلے پر عمل کرنے والا بھی بغاوت کا مجرم ہے:
۱۔ وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّ ھٰذَا حَرَامٌ ۔ النحل16:116
اور تم اپنی زبانوں سے جن چیزوں کا ذکر کرتے ہو‘ ان کے متعلق جھوٹ گھڑ کر یہ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال (lawfull)ہے اور یہ حرام (unlawfull)ہے۔
۲۔ اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ ۔ الاعراف7:3
جو کچھ تمھارے رب کی طرف سے تمھاری طرف اتارا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا دوسرے اولیا (اپنے ٹھیرائے ہوئے کارسازوں) کی پیروی نہ کرو۔
۳۔ وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ المائدہ5:45
اور جو اس قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو ایسے تمام لوگ کافر ہیں۔
۴۔ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْابِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْٓا اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ ۔ النساء4:60
اے نبیؐ! کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں اس ہدایت پر ایمان لانے کا جو تم پر اور تم سے پہلے کے انبیاء پر اتاری گئی ہے، اور پھر چاہتے ہیں کہ اپنے معاملے کا فیصلہ طاغوت سے کرائیں حالانکہ انھیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ طاغوت سے کفر کریں (یعنی اس کے حکم کو تسلیم نہ کریں)۔
خداوند ِ عالم کی زمین پر صحیح حکومت اور عدالت صرف وہ ہے‘ جو اس قانون کی بنیاد پر قائم ہو‘ جو اس نے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجا ہے‘ اسی کا نام خلافت ہے] ارشاد ہوتا ہے:[
۱۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ۔ النساء4:64
اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ حکم الٰہی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے۔
۲۔ اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَا اَرٰ کَ اللّٰہُ ۔ النساء4: 64
اے نبیؐ! ہم نے تمھاری طرف کتاب برحق نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اسی روشنی کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تمھیں دکھائی ہے۔
۳۔ وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاۗءَہُمْ وَاحْذَرْہُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللہُ اِلَيْكَ۝۰ۭ۔ المائدہ5:49
اور یہ کہ تم ان کے درمیان حکومت کرو اس ہدایت کے مطابق جو اللہ نے اتاری ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو اور ہوشیار رہو کہ وہ تمھیں فتنے میں مبتلا کرکے اس ہدایت کے کسی جز سے نہ پھیر دیں جو اللہ نے تمھاری طرف نازل کی ہے۔
۴۔ اَفَحُکْمَ الْجَاھِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ ۔ المائدہ5:50
کیا یہ لوگ جاہلیت کی حکومت چاہتے ہیں؟
۵۔ یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعِ الْہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ۔ ص38:26
اے دائود! ہم نے تم کو خلیفہ مقرر کیا ہے۔ لہٰذا تم حق کے ساتھ لوگوں کے درمیان حکومت کرو اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو کہ اللہ کے راستے سے وہ تم کو بھٹکا لے جائے گی۔
اس کے برعکس ہر وہ حکومت اور ہر وہ عدالت باغیانہ ہے جو خداوند عالم کی طرف سے اس کے پیغمبروں کے لائے ہوئے قانون کے بجائے کسی دوسری بنیاد پر قائم ہو۔ بلالحاظ اس کے کہ تفصیلات میں ایسی حکومتوں اور عدالتوں کی نوعیتیں باہم کتنی ہی مختلف ہوں۔ ان کے تمام افعال بے اصل‘ بے وزن اور باطل ہیں۔ ان کے حکم اور فیصلے کے لیے سرے سے کوئی جائز بنیاد ہی نہیں ہے۔ حقیقی مالک الملک نے جب انھیں سلطان (charter)عطا ہی نہیں کیا تو وہ جائز حکومتیں اور عدالتیں کس طرح ہوسکتی ہیں۔۴؎ وہ تو جو کچھ کرتی ہیںخدا کے قانون کی رو سے سب کا سب کالعدم ہے۔ اہل ایمان (یعنی خدا کی وفادار رعایا) ان کے وجود کو بطور ایک خارجی واقعے (defacto) کے تسلیم کرسکتے ہیں، مگر بطور ایک جائز وسیلہ انتظام و فصل قضایا (dejure)کے تسلیم نہیں کرسکتے۔ ان کاکام اپنے اصل فرماںروا (اللہ) کے باغیوں کی اطاعت کرنا اور ان سے اپنے معاملات کا فیصلہ چاہنا نہیں ہے اور جو ایسا کریں‘ ادّعائے اسلام و ایمان کے باوجود‘ وفاداروں کے زمرے سے خارج ہیں۔ یہ بات صریح عقل کے خلاف ہے کہ کوئی حکومت ایک گروہ کو باغی بھی قرار دے اور پھر اپنی رعایا پر ان باغیوں کے اقتدار کو جائز بھی تسلیم کرے اور اپنی رعایا کو ان کا حکم ماننے کی اجازت دے دے:
۱۔ قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا o اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا o اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَ لِقَآئِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا ۔ الکہف18:103-105
اے نبیؐ! ان سے کہو: کیا میں تمھیں بتائوں کہ اپنے اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ ناکام و نامراد کون ہیں؟ وہ یہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی پوری سعی بھٹک گئی (یعنی انسانی کوششوں کے فطری مقصودرضائے الٰہی سے ہٹ کر دوسرے مقاصد کی راہ میں صرف ہوئی) اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم خوب کام کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے احکام ماننے سے انکار کیا اور اس کی ملاقات (یعنی اس کے سامنے حاضر ہو کر حساب دینے) کا عقیدہ قبول نہ کیا۔ اس لیے ان کے سب اعمال حبط (کالعدم) ہوگئے اور قیامت کے روز ہم انھیں کوئی وزن نہ دیں گے۔
۲۔ تِلْکَ عَادٌ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَہٗ وَ اتَّبَعُوْٓا اَمْرَ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ ۔ ھود11:59
یہ عاد ہیں جنھوں نے اپنے رب کے احکام ماننے سے انکار کیا اور اس کے رسولوں کی اطاعت نہ کی اور ہر جبار دشمنِ حق کے امر کا اتباع کیا۔
۳۔ وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَ مَلَاْئِہٖ فَاتَّبَعُوْٓا اَمْرَ فِرْعَوْنَ وَ مَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ ۔ ھود11:96-97
اور ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات اور واضح روشن سلطان کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان ریاست کے پاس بھیجا مگر ان لوگوں نے (ہمارے فرستادہ شخص کے بجائے) فرعون کے امر کی پیروی کی حالانکہ فرعون کا امر درست نہ تھا۔ (یعنی مالک الملک کے سلطان پر مبنی نہ تھا)
۴۔ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَ اتَّبَعَ ھَوٰہُ وَ کَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا ۔ الکہف18:28
اور تو کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے (یعنی اس حقیقت کے شعور و ادراک سے کہ ہم اس کے رب ہیں) غافل کر دیا ہے‘ جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی کی اور جس کا امر حق سے ہٹا ہوا ہے۔
۵۔ قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا۔ الاعراف7:33
اے نبیؐ! کہہ دو کہ میرے رب نے حرام کیا ہے فحش کاموں کو خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور معصیت کو‘ اور حق کے بغیر ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کو‘ اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ (حاکمیت اور الوہیت میں) ان کو شریک کرو جن کے لیے اللہ نے کوئی سلطان نازل نہیں کیا ہے۔
۶۔ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اَسْمَآئً سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ ۔ یوسف12:40
تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی بندگی کرتے ہو‘ وہ تو محض نام ہیں، جو تم نے اور تمھارے اگلوں نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے کوئی سلطان نازل نہیں کیا ہے۔ حکم صرف اللہ کے لیے خاص ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔
۷۔ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرُّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَاتَوَلّٰی وَ نُصْلِہٖ جَھَنَّمَ وَ سَآئَ ت مَصِیْرًا۔ النساء4:115
اور جو کوئی رسولؐ سے جھگڑا کرے در آں حالیکہ راہ راست اس کو دکھا دی گئی‘ اور ایمان داروں کا راستہ چھوڑ کر دوسری راہ چلنے لگے‘ اس کو ہم اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود مڑ گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
۸۔ فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَھُمْ ۔ النساء4:65
پس تیرے رب کی قسم وہ ہرگز مومن نہ ہوں گے جب تک کہ اے نبی! تجھ کو اپنے باہمی اختلاف میں فیصلہ کرنے والا نہ تسلیم کریں۔
۹۔ وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًا۔ النساء4:61
اور جب ان سے کہا گیا کہ آئو اس حکم کی طرف جو اللہ نے اتارا ہے اور آئو رسولؐ کی طرف تو تونے منافقین کو دیکھا کہ وہ تمھاری طرف آنے سے کتراتے ہیں۔
۱۰۔ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا ۔ النساء4:141
اور اللہ نے کافروں (یعنی اپنی سلطنت کے باغیوں) کے لیے اہلِ ایمان (یعنی اپنی وفادار رعایا) پر کوئی راہ نہیں رکھی ہے۔
یہ قرآن کے محکمات ہیں۔ ان میں کچھ بھی متشابہ نہیں ہے اور یہی وہ مرکزی عقیدہ ہے جس پر اسلام کے نظام فکر‘ نظام اخلاق اور نظام تمدن کی بنیاد رکھی گئی ہے اور مسلمان اپنے ایمان کے تقاضے پورے نہیں کرسکتے جب تک وہ اسلامی معاشرہ اور اسلامی حکومت قائم نہ کرلیں۔ خدا کے قانون کی بالادستی قائم کیے بغیر بحیثیت مسلمان زندگی نہیں گزار سکتے، اس لیے ان کے دین و ایمان کا تقاضا ہے کہ خلافت الٰہی کا نظام قائم ہو، اور زندگی کے تمام معاملات خدا کے قانون کے مطابق طے ہوں۔ انبیائے کرام علیہم السلام اس مقصد کے لیے مبعوث کیے گئے کہ خدا کی حاکمیت کا نظام قائم کریں۔ اس لیے دیکھیے کہ ہجرت سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ دعا منگوائی جاتی ہے:
وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا ۔
بنی اسرائیل17: 80
اور دعا کر کہ پروردگار! مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مدد گار بنا دے۔
یعنی یا تو مجھے خود اقتدار عطا کر، یا کسی حکومت کو میرا مددگار بنا دے، تاکہ اس کی طاقت سے میں دنیا کے اس بگاڑ کو درست کرسکوں‘ فواحش اور معاصی کے اس سیلاب کو روک سکوں‘ اور تیرے قانونِ عدل کو جاری کرسکوں۔ یہی تفسیر ہے اس آیت کی جو حسن بصریؒ اور قتادہؒ نے کی ہے‘ اور اس کو ابن جریرؒ اور ابن کثیرؒ جیسے جلیل القدر مفسرین نے اختیار کیا ہے اور اسی کی تائید یہ حدیث کرتی ہے کہ:
اِنَّ اللّٰہَ لَیَزَعُ بِالسُّلْطَانِ مَالَایَزَعُ بِالْقُرَآنِ۔ (تفسیر ابن کثیر، ج۳، ص ۵۹۔ البدایہ و النہایۃ، ج۲، ص۱۰۔تفسیر فتح القدیر للشوکانی ج۳، ص ۳۵۶، ص ۲۵۶۔ کنزالعُمال حدیث ۱۴۲۸۴)
یعنی اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سدباب کر دیتا ہے جن کا سدباب قرآن سے نہیں کرتا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے‘وہ صرف وعظ و تذکیر سے نہیں ہوسکتی، بلکہ اس کو عمل میں لانے کے لیے سیاسی طاقت بھی درکار ہے۔ پھر جب کہ یہ دعا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خود سکھائی ہے‘ تو اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اقامت دین اور نفاذ شریعت اور اجرائے حدود اللہ کے لیے حکومت چاہنا اور اس کے حصول کی کوشش کرنا نہ صرف جائز، بلکہ مطلوب و مندوب ہے‘ اور وہ لوگ غلطی پر ہیں جو اسے دنیا پرستی یا دنیا طلبی سے تعبیر کرتے ہیں۔ دنیا پرستی اگر ہے تو یہ کہ کوئی شخص اپنے لیے حکومت کا طالب ہو۔ رہا خدا کے دین کے لیے حکومت کا طالب ہونا تو یہ دنیا پرستی نہیں، بلکہ خدا پرستی ہی کا عین تقاضا ہے۔۵؎

۳۔ اسلام اور اقتدار

اوپر کی بحث سے اسلامی ریاست کی ضرورت واضح ہو چکی ہے، لیکن چونکہ مختلف وجوہ سے دین و سیاست کی تفریق کے شیطانی فلسفے نے خود مسلمانوں کے ذہن و فکر کو بھی متاثر کیا ہے اور وہ طرح طرح کی تاویلیں کرکے اس تفریق کے لیے گنجایش پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے اب ہم یہ دیکھیں گے کہ اسلام کس قسم کا انقلاب برپا کرنا چاہتا ہے اور اس بارے میں جو غلط تاویلات کی جارہی ہیں‘ ان کی حقیقت کیا ہے۔
تفہیم القرآن۶؎ میں آیت وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ فَاِنِ انْتَھَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیْنَ۷ ؎ البقرہ2:193کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا گیا تھا کہ:
باز آ جانے سے مراد کافروں کا اپنے کفر و شرک سے باز آجانا نہیں بلکہ فتنے سے باز آجانا ہے۔ کافر‘ مشرک‘ دہریے‘ ہر ایک کو اختیار ہے کہ اپنا جو عقیدہ رکھتا ہے رکھے اور جس کی چاہے عبادت کرے‘ یا کسی کی نہ کرے۔ اس گمراہی سے اس کو نکالنے کے لیے ہم اسے فہمائش اور نصیحت تو کریں گے، مگر اس سے لڑیں گے نہیں، لیکن اسے یہ حق ہرگز نہیں ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کے قانون کے بجائے اپنے باطل قوانین جاری کرے اور اللہ کے بندوں کو غیر از اللہ کسی کا بندہ بنائے۔ یہ فتنہ بزور شمشیر مٹایا جائے گا اور مومن کی تلوار اس وقت تک نیام میں نہ جائے گی جب تک کفار اپنی روش سے باز نہ آجائیں۔
اس تفسیر کے خط کشیدہ فقرے پر ناظرین ترجمان القرآن میں سے ایک صاحب علم بزرگ نے حسب ذیل اعتراض کیا:
(الف) اس کے معنی یہ ہیں کہ اسلام جو امن اور سلامتی کا حامی اور مؤید ہے‘ دوسروں کے مذہب میں مداخلت اور اس بنا پر لڑائی روا رکھتا ہے‘ حالانکہ یہ امرلَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ البقرہ2:256 کے مخالف ہے۔
(ب) مخالفین کو اپنے اپنے مذہب اور عقائد پر قائم رہنے کی آزادی لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ الکافرون109:6 سے بھی ظاہر ہے۔ جو کوئی اپنے عقائد میں آزاد ہو گا اُسے ان کی اشاعت اور تبلیغ میں بھی آزادی ہونی چاہیے، کیونکہ وہ انھی عقائد کو برحق سمجھتا ہے۔ قرآنی مفہوم سے اسی آزادی کا پتہ چلتا ہے اور باہمی مناظرات کا ثبوت بھی ملتا ہے‘ مثلاً: لَا تُجَادِلُوْٓا اَھْلَ الْکِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ العنکبوت29:46 غیر مذاہب کے عبادت خانے اور طریق عبادت اسلامی مداخلت سے محفوظ رہے ہیں۔ حتٰی کہ مسجد نبویؐ میں اہلِ کتاب کو اپنے طریق پر عبادت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے عزیز مصر کی ملازمت اختیار کی جس کا عقیدہ اور عمل مشرکانہ تھا۔ ہاں اپنے طور پر امن کے ساتھ تبلیغ کرتے رہے جیسا کہ یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ئَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ۔ یوسف12:39 سے ظاہر ہے۔ اسی طرح دوسروں کو بھی اپنے خیالات کی اشاعت کا حق پہنچتا ہے۔
(ج) زیر خط عبارت کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلمان کہیں بھی مخلوط آبادی میں امن سے زندگی نہیں گزار سکتے۔ غیر مسلم تمدنی اور معاشرتی امور میں بھی، کیوں ان کے ساتھ تعاون باہمی اور رواداری سے کام لیں، جب کہ ان کا سیاسی اور اساسی عقیدہ ہی سدراہ ہو؟ ایسے مسلمان اگر ترکی اور ایران میں بھی آباد ہوں تو بقول آپ کے وہاں بھی انھیں عَلَمِ جہاد بلند کرنا ہوگا کیونکہ ان ممالک میں حدود اور قوانین ِ اسلامی نافذ نہیں۔ اس زمانے میں عالمگیر سیاست اس نہج پر مدون ہے کہ کوئی جماعت غیر معروف طریقوں سے غیر مسلموں کے ساتھ تعاون و تعامل باہمی سے کام نہیں لے سکتی‘ کیونکہ آپ کا فرمودہ استدلال کسی اشتراکِ عمل کے لیے مانع ہوگا۔ اگر اسلامی جماعت اپنے عقائد کی اشاعت کا حق رکھتی ہے تو اسے غیر مسلموں کو بھی‘ خصوصاً جب کہ وہ حکمران ہوں‘ وہی حق دینا ہوگا۔ ہرچہ برخود نہ پسندی بردیگراں پسند۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے اہل کتاب کے ساتھ جو تعامل باہمی کے معاہدے کیے تھے، کیا وہ معاہدے ایسی ہی شرائط پر مبنی تھے؟ مکی زندگی کے ابتدائی مراحل آپ کے استدلال کے مؤید نہیں۔ بالفاظ دیگر ایسی جماعت کا وجود ہی کسی غیر مسلم حکومت کے لیے کھلا چیلنج ہے کہ جونہی اسے قوت ملی وہ اس کے قوانین اور اس کے نظام حکومت کو مٹانے کے لیے تلوار ہاتھ میں لے لے گی۔ کون اس کو برداشت کرے گا؟
اس اعتراض کا مختصر جواب تو چند جملوں میں بھی دیا جاسکتا ہے‘ لیکن درحقیقت یہ اعتراض اپنی پُشت پر غلط فہمیوں کا ایک بڑا انبار رکھتا ہے‘ اور وہ غلط فہمیاں امت میں بڑی کثرت سے پھیلی ہوئی ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی وجہ سے مسلمان بالعموم اپنے دین کے بنیادی تقاضوں تک کو سمجھنے سے قاصر ہو رہے ہیں‘ اس لیے یہاں اس پرذرا تفصیل سے بحث کی جاتی ہے۔
اسلام کا مشن
یہ بحث تو بعد میں ہوتی رہے گی کہ اسلام امن اور سلامتی کا مؤید کس معنی میں ہے اور لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِالبقرہ2:256 اور لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ الکٰفرون109:6کا کیا مطلب ہے اور یہ کہ حضرت یوسف علیہ السلام نبوت کرنے آئے تھے یا تلاشِ روزگار میں نکلے تھے۔ ان سب باتوں سے پہلے اس سوال کا تصفیہ ہونا چاہیے کہ فی الواقع اسلام کا مشن اس دنیا میں ہے کیا؟ کیا وہ جباروں کی سواری کے لیے انسانوں کو سُدھانے آیا ہے، تاکہ جبار جب دنیا میں خدائی کرنے اٹھے تو اسلام کے پیروئوں کو اپنا اطاعت گزار خادم پائے؟ کیا اس نے دنیابھر کی حکومتوں اور سلطنتوں کے لیے پر امن رعیت فراہم کرنے کا اجارہ لیا ہے کہ ہر حکومت کو‘ خواہ اس کا نظام کسی نوعیت کا ہو‘ اپنی مشینری چلانے کے لیے اسلام کے کارخانے سے ہر قسم کے ڈھلے ڈھلائے پرزے حاصل ہو جایا کریں؟ کیا اس کاکام بس یہی ہے کہ چند عقائد اور چند اصولِ اخلاق کی تعلیم دے کر آدمیوں میں اتنی لچک اور اتنی نرمی پیدا کر دے کہ وہ ہر نظامِ تمدن میں‘ خواہ وہ کسی قسم کا تمدن ہو‘ باآسانی کھپ سکیں؟
اگر معاملہ حقیقت میں یہی ہے تو اسلام‘ بودھ مذہب اور سینٹ پال کی بنائی ہوئی مسیحیت سے کچھ بہت زیادہ مختلف چیز نہیں ہے اور اس کے بعد یہ سمجھنا ہمارے لیے مشکل ہے کہ ایسے مذہب کی کتاب میں قَاتِلُوْھُمْالانفال8:39 جیسا خوف ناک لفظ سرے سے آیا ہی کیوں؟ اسے تو اپنے پیرووں کو جنگ اور جہاد کا حکم دینے کے بجائے اپنے مخالفین سے یہ کہنا چاہیے تھا کہ:
ہم غریبوں کو آخر کیوں مارتے ہو؟ ہم نہ نظامِ حکومت میں کوئی انقلاب کرنا چاہیں، نہ نظامِ تمدن میں کسی ترمیم و تنسیخ کی دعوت دیں۔ اقتدار کسی کا بھی ہو‘ اس کے ماتحت پر امن باشندوں کی حیثیت سے رہنا ہمارا مسلک اور حکومت وقت کی وفاداری ہمارا دین و ایمان‘ پھر ہم سے تمھیں پرخاش کی کیا وجہ؟ رہا ہمارا مذہبی عقیدہ اور ہمارا پوجا پاٹ کا نظام تو اس سے تمھارا کیا بگڑتا ہے؟ تمھارا کون سا تمدنی ادارہ اور کون سا مفاد ایسا ہے جس پر ہمارے عقیدے یا ہماری پوجا کی ضرب پڑتی ہو؟
یہ جواب اگر اچھے معقول پیرائے میں دیا جاتا اور عملاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے پیر و وفادارانہ خدمات بھی انجام دیتے رہتے تو مشرکینِ مکہ ہمارے انگریز آقائوں ۸؎ کے مقابلے میں کچھ ایسے زیادہ نامعقول نہ تھے کہ مسجدوں میں اذان و نماز کی آزادی اور تبلیغی انجمنوں کے قیام کی اجازت نہ دیتے،لیکن اگر حقیقت یہ نہیں ہے، بلکہ اسلام خود اپنا ایک نظام زندگی رکھتا ہے جس میں عقائد‘ اخلاق اور عبادات کے ساتھ انفرادی طرز عمل اور اجتماعی زندگی کے تمام معاملات سے متعلق احکام و قوانین بھی ہیں‘ اور اگر اسلام کی دعوت اپنے اس پورے نظام کی طرف ہے‘ اور اگر اس کا دعویٰ یہ ہے کہ اس کا اپنا نظام ہی برحق ہے اور اسی میں انسان کی فلاح ہے اور اس کے سوا ہر دوسرا نظام باطل ہے‘ تو ان باتوں کے ساتھ یہ قطعی ناگزیر ہے کہ اسلام زمین میں اپنے نظام کو غالب اور دوسرے نظامات کو مغلوب کرنے کا بھی تقاضا کرے۔ ایک نظام زندگی کو حق اور صدق ہونے کی حیثیت سے پیش کرنا اور پھر عملاً اس کی اقامت کی دعوت نہ دینا، سراسر ایک مہمل بات ہے، اور اس سے بھی زیادہ مہمل بات یہ ہے کہ دوسرے نظامات کو باطل بھی کہا جائے اور پھر ان کے غلبے کو برداشت بھی کیا جائے۔ مزید برآں یہ بات بداہتہً محال ہے کہ ایک نظام زندگی کی پیروی کسی دوسرے نظام زندگی کے ماتحت رہتے ہوئے کی جاسکے۔ اس لیے وہ صرف ایک فاتر العقل ہی ہو سکتا ہے جو ایک ہی وقت میں اپنے پیش کردہ نظام کی پیروی کا مطالبہ بھی کرے اور ساتھ ہی دوسرے نظامات کے اندر پر امن وفادارانہ زندگی بسر کرنے کی تعلیم بھی دے۔
پس اسلام کا اپنے مخصوص نظام زندگی کی طرف دعوت دینا، عین اپنی فطرت میں اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ دوسرے نظامات کو ہٹا کر ان کی جگہ اپنے نظام کی اقامت کا مطالبہ کرے اور اس مقصد کے لیے اپنے پیروئوں کو جدوجہد کی ان تمام صورتوں کے اختیار کرنے کا حکم دے جن سے یہ مقصد حاصل ہوا کرتا ہے اور مدعیان اتباع کے ایمان و عدم ایمان کا نشان امتیاز اسی سوال کو قرار دے کہ آیا وہ اس جدوجہد میں جان و مال کی بازی لگاتے ہیں، یا باطل نظامات کے ماتحت جینے پر راضی ہوتے ہیں؟ قرآن اور حدیث دونوں کو اٹھا کر دیکھ لیجیے، آپ کو صاف نظر آ جائے گا____ بشرطیکہ دل میں کوئی چور نہ ہو ____ کہ اسلام کا اصل موقف یہی ہے نہ کہ وہ جو آپ بیان فرما رہے ہیں۔
پھر جب حقیقت یہ ہے اور ہم اسلام کی حقیقت کو جان کر اس پر ایمان لائے ہیں تو یقیناً ہمارے وجود کو ہر غیر اسلامی حکومت کے لیے کھلا چیلنج ہونا ہی چاہیے۔ کوئی اس کو برداشت کرے یا نہ کرے‘ غیر مسلموں کے ساتھ تعاون و تعامل ہوسکے یا نہ ہوسکے۔ بہرحال اگر ہم اپنے ایمان میں صادق ہیں تو ہمارا کام یہی ہے کہ جہاں بھی اللہ کا قانون شرعی نافذ نہیں ہے‘ وہاں ہم اس کے نفاذ کے لیے جدوجہد کریں۔ ہمارا مسلمان ہونا اس شرط کے ساتھ مشروط نہیں ہے کہ جو لوگ اللہ سے پھرے ہوئے ہیں وہ ہماری اس جدوجہد کو برداشت بھی کریں، اور غیر مسلموں کے ساتھ تعاون و تعامل بھی ہمارے لیے کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس نظام زندگی پر ہم ایمان لائے ہیں اس کے قیام کی جدوجہد صرف اس لیے چھوڑ دیں کہ غیر مسلموں کے ساتھ تعاون و تعامل اس صورت میں نہ ہوسکے گا۔ اسلام بے شک امن اور سلامتی کا حامی اور مؤید ہے‘ مگر اس کی نگاہ میں حقیقی امن اور سلامتی وہی ہے جو حدود اللہ کی اقامت سے حاصل ہوتی ہے۔ جس کسی نے امن اور سلامتی کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ شیطانی نظامات کے زیر سایہ اطمینان کے ساتھ سارے کاروبار چلتے رہیں اور مسلمان کی نکسیر تک نہ پھوٹے‘ اس نے اسلام کا نقطۂ نظر بالکل نہیں سمجھا۔ اسے اچھی طرح معلوم ہوجانا چاہیے کہ اسلام ایسے امن اور ایسی سلامتی کا ہرگز حامی اور مؤید نہیں ہے۔ اسے دوسروں کا قائم کردہ امن نہیں، بلکہ اپنا قائم کردہ امن مطلوب ہے اور اسی میں وہ انسان کی سلامتی دیکھتا ہے۔
رہا لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ البقرہ2:256 تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اسلام اپنے عقائد زبردستی کسی سے نہیں منواتا کیونکہ یہ بزور منوانے کی چیز نہیں ہے۔ اسی طرح وہ اپنی عبادات بھی‘ جن کا لازمی تعلق اس کے عقائد سے ہے‘ زبردستی کسی پر مسلط نہیں کرتا‘ کیونکہ ایمانِ صحیح کے بغیر یہ عبادات محض بے معنی ہیں۔ ان دونوں امور میں وہ ہر ایک کو آزادی دینے کے لیے تیار ہے، لیکن وہ اس بات کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ قوانین تمدن‘ جن پر اسٹیٹ کا نظام قائم ہوتا ہے‘ خدا کے سوا کسی اور کے بنائے ہوئے ہوں‘ اور خدا کی زمین پر اس کے باغی اس کو نافذ کریں اور مسلمان ان کے تابع ہو کر رہیں۔ اس معاملے میں بہرحال ایک فریق کو دوسرے فریق کے’مذہب‘ میں مداخلت کرنی ہی پڑے گی۔ اگر مسلمان ’مذہب کفر‘ میں مداخلت نہ کریں گے تو کافر’مذہبِ اسلام‘ میں مداخلت کرکے رہیں گے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی زندگی کے بہت بڑے حصے پر مذہب کفر جاری ہوگا۔ لہٰذا بجائے اس کے کہ یہ مداخلت کفار کی طرف سے ہو‘ اسلام یہ تقاضا کرتا ہے کہ مسلمان آگے بڑھ کر نظام زندگی پر قبضہ کریں اور پھر جہاں تک مذہبی عقائد اور عبادات کا تعلق ہے‘ غیر مسلموں کے ساتھ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْن کے اصول پر عمل کریں۔
رواداری کا غلط تصور اور اس کا جائزہ
اب ہم ان دلائل پر ایک نظر ڈالنا چاہتے ہیں جن کا سہارا جناب معترض نے لیا ہے اور جن پر اس طرز خیال کے لوگ بالعموم اعتماد کیا کرتے ہیں۔
٭ ان کی پہلی دلیل یہ ہے کہ جب تم ’فتنے‘ سے مراد کفر کا غلبہ اور کفار کی بالادستی لیتے ہو‘ اورجہاد و قتال کی غایت یہ قرار دیتے ہو کہ تمھاری اس تفسیر کے مطابق جس چیز کا نام ’’فتنہ‘‘ ہے وہ مٹ جائے اور اس کی جگہ ’اللہ کا دین‘ قائم ہو‘ تو اس سے یہ ماننا لازم آتا ہے کہ اسلام دو بالکل متضاد حیثیتیں اختیار کر رہا ہے۔ ایک طرف کہتا ہے لَآاِکْرَاہَ فِی الدِّیْنَ دین میں کوئی جبر و اکراہ نہیں ہے۔ دوسری طرف غیر مسلموں کا یہ حق تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے کہ وہ اپنے نظریے و مسلک کے مطابق حکومت کا نظام چلائیں‘ اور ان کے قوانین کا اجرا موقوف کر کے زبردستی ان پر ’اللہ کے دین‘ کو مسلط کرنا چاہتا ہے۔ ایک طرف لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِکہہ کر غیر مذاہب کے پیرووں کو اپنے مذہب و عقائد پر قائم رہنے کی آزادی دیتا ہے۔ دوسری طرف ان سے ٹھیک اس بات پر لڑائی چھیڑتا ہے کہ وہ اپنے عقیدے اور اپنے اصولوں کے مطابق معاملاتِ دنیا کا انتظام کیوں کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اسلام ہرگز اس تضاد کا حامل نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا تمھاری تفسیر صحیح نہیں ہے۔
٭ دوسری دلیل یہ ہے کہ اگر غیر اسلامی حکومت کا نفس وجود اسلام کی نگاہ میں فتنہ ہوتا اور اس کو مٹانے پر مسلمان مامور ہوتے تو کس طرح ممکن تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام مصر کی غیر اسلامی حکومت میں وزارت کا عہدہ طلب کرتے اور اپنی وزارت کے دور میں مصر کے شاہی قوانین کے پابند رہ کر کام کرتے جیسا کہ آیت مَا کَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ یوسف12:76 سے ظاہر ہے۔
٭ تیسری دلیل یہ ہے کہ اگر تمھاری اس تفسیر کو صحیح مان لیا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اسلام دنیا میں ایک کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ چھیڑتا ہے اور اپنے پیرووں پر جارحانہ جنگ کا ایک ایسا فرض عائد کرتا ہے جس کی وجہ سے مسلمان دنیا میں کہیں امن کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اس تفسیر کی رُو سے تو ہم پر لازم ہو جاتا ہے کہ نہ صرف تمام غیر مسلم حکومتوں کے خلاف، بلکہ ان مسلمان حکومتوں کے خلاف بھی علمِ جہاد بلند کریں جن میں اسلامی حدود و قوانین نافذ نہیں ہیں، اور جب یہ ہمارا نظریہ اور یہ ہمارا دینی فریضہ ہو تو کس طرح ممکن ہے کہ غیر مسلم ہم کو اپنا پُرامن ہمسایہ سمجھ کر بہ اطمینان ہمارے ساتھ معاملت کرسکیں اور غیر مسلم حکومتیں اپنے حدود عمل میں ہمارے وجود کو برداشت کرسکیں۔
دلائل کا تجزیہ
۱۔ ان دلائل میں سے پہلی دلیل ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ کسی شخص کا بجائے خود ایک عقیدے کو ماننا اور اپنی زندگی میں ایک خاص طریقے کی پیروی کرنا اور چیز ہے‘ اور اس کا اپنے نظریات کے مطابق اجتماعی زندگی کے لیے ایک نظام بنانا اور اس نظام کو بزور ایک ملک کے باشندوں پر جاری کر دینا ۹؎ بالکل ایک دوسری چیز۔ معترضین ان دونوں چیزوں کو ایک سمجھتے ہیں اور ان کے فرق کو نظر انداز کرکے لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ اور لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْن وغیرہ آیات کو ان کے مجموعے پر چسپاں کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ان آیات کا تعلق صرف امر اوّل سے ہے۔ بلاشبہہ ہم کسی غیر مسلم کو مجبور نہ کریں گے کہ وہ اپنا عقیدہ چھوڑ کر اسلامی عقیدہ قبول کرے، یا اپنی مذہبی عبادات ترک کرکے نماز روزے کی پابندی اختیار کرلے، لیکن ہم اس کا یہ حق کسی طرح تسلیم نہیں کرسکتے کہ وہ اخلاق‘ تعلیم‘ تمدن‘ معاشرت‘ معیشت‘ قانون اور سیاست وغیرہ اجتماعی امور کے متعلق اپنے نظریات کو حاکمانہ قوت کے ساتھ بہ جبر ہم پر مسلط کردے۔ دوسروں کو ان کے مسلک پر چلنے دینا بے شک رواداری ہے، مگر یہ کوئی رواداری نہیں ہے کہ اپنے مسلک کے خلاف ہم اپنے اوپر دوسروں کے مسلک کا تسلط برداشت کرلیں۔ ملک کی حکومت جس فلسفۂ زندگی پر مبنی ہوگی‘ لامحالہ تمام قوانین اور پوری انتظامی پالیسی اور سارا کاروبار معیشت اسی فلسفے کے نظریات پر چلے گا اور ایسی حکومت کے تحت رہتے ہوئے یہ کسی طرح ممکن ہی نہ ہوگا کہ ہم اپنی زندگی کا نظام اپنے مذہب و مسلک کے اصولوں پر چلا سکیں۔ ہم خواہ راضی ہوں یا نہ ہوں‘ بہرحال مذہب مخالف کے پیرو اپنے سیاسی غلبے کی بدولت اپنے نظریات کو زبردستی ہماری پوری زندگی میں نافذ کرکے چھوڑیں گے۔ اس معاملے میں رواداری برتنے کے معنی یہ ہیں کہ اگر وہ زنا کو حلال سمجھتے ہوں اور لوگوں کو اس کی عام اجازت دیتے ہوں تو ان کی حکومت میں بے بس رعیت کی حیثیت سے رہتے ہوئے خود ہماری سوسائٹی میں زنا پھیلتی چلی جائے اور ہم اسے گوارا کریں۔ اگر وہ سود کو جائز سمجھتے ہوں اور خود ان کی حکومت سودی لین دین کرتی ہو تو ملک کا انتظام ان کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے ہمارا کوئی بڑے سے بڑا زاہد و متقی تک سود کے غبار سے نہ بچ سکے اور ہم ایک دیا سلائی اور روٹی کا ایک ٹکڑا بھی نہ خرید سکیں جب تک کہ اس کی قیمت میں سے سود کا ایک حصہ بالواسطہ ٹیکسوں کی شکل میں ہماری جیب سے نہ نکل جائے۔ اگر وہ دہریت و الحاد کے نظریات پر اعتقاد رکھتے ہوں تو ملک کی عمومی تعلیم کا پورا نظام انھی نظریات اور اسی ذہنیت اور اسی ملحدانہ اخلاق پر تعمیر ہو جائے اور باشندگانِ ملک کے لیے ترقی و خوش حالی کے تمام دروازے اس ایک جہنم کے دروازے کے سوا بند ہو جائیں اور ہمارا کوئی بڑے سے بڑا خدا پرست بھی اپنی نسل کو اس الحاد اور ملحدانہ اخلاق کے اثرات سے نہ بچاسکے۔ اگر وہ خدا کے قوانین کو منسوخ کرکے خود قوانین بنائیں اور ملک کا نظامِ تمدن اپنے خود ساختہ قوانین پر قائم کریں تو ہماری معاشی و معاشرتی اور تمدنی زندگی کا ایک بڑا حصہ مجبوراً اس قانون کی پابندی سے آزاد ہو جائے جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں اور اس قانون پر چلنے لگے جس پر ہمارا ایمان نہیں ہے۔ کوئی ہمیں بتائے کہ آخر یہ رواداری کی کون سی قسم ہے؟ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْن کا یہ مطلب آخر کس عقل کی رُو سے صحیح ہوسکتا ہے کہ دوسروں کی طرف سے دین میں جو اِکْرَاہ ہو‘ اسے ہم برداشت کرلیں؟
ریاست کی ضرورت
یہ ظاہر ہے کہ اجتماعی زندگی کے نظام کو قائم کرنے کے لیے بہرحال ایک قوتِ قاہرہ (coercive power)کی ضرورت ہے جسے ’اسٹیٹ‘ یا ریاست کہتے ہیں ____ اس ضرورت کا انکار انار کی پر اعتقاد رکھنے والوں کے سوا آج تک کسی نے نہیں کیا، یا پھر اشتراکی تصوف میں ایک ایسے مقام کا تصور کیا گیا ہے جہاں پہنچ کر انسان کی حیاتِ اجتماعی ریاست کی ضرورت سے بے نیاز ہو جائے گی۱۰؎ لیکن یہ صرف عالمِ خیال کی باتیں ہیں جن کی تائید میں کوئی تجربہ یا مشاہدہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔ عملی زندگی کا تجربہ اور انسانی فطرت کا علم یہی بتاتا ہے کہ تمدن کا قیام ایک قوتِ قاہرہ کا یقیناً محتاج ہے ____ پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ قوت‘ جو اپنے قہر و غلبے سے نظامِ تمدن کو قائم رکھتی ہے‘ بجائے خود کسی نہ کسی نظریے اور کسی نہ کسی اجتماعی مسلک کی قائل ہوتی ہے۔ اسی نظریے و مسلک کے مطابق وہ اپنے لیے ایک لائحہ عمل بناتی ہے۔ اسی لائحہ عمل کو وہ قاہرانہ طاقت کے ساتھ اجتماعی زندگی میں نافذ کرتی ہے، اور تمدنی شکل کے بننے اور بگڑنے میں اس قہر کی نوعیت اور اس لائحہ عمل کی اصولی و تفصیلی صورت کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ صرف اجتماعی زندگی ہی نہیں‘ انفرادی زندگی بھی بڑی حد تک طوعاً و کرھاً اس سانچے میں ڈھل کر ہی رہتی ہے جسے اسٹیٹ اپنے قہر و تسلط سے بنا دیتا ہے۔ جو لوگ کسی ریاست کے دائرے میں رہتے ہوں وہ چاہے اس کے بنیادی نظریے اور اس کے تفصیلی لائحہ عمل پر ایمان نہ رکھتے ہوں اور کسی طرح اس پر راضی نہ ہوں‘ لیکن انھیں چار و ناچار اپنے عقیدے و مسلک کے ۹۰ فی صدی حصے سے دست بردار ہو کر ریاست کے عقیدے و مسلک پر چلنا پڑتا ہے اور باقی ۱۰ فی صدی میں بھی ان کے عقیدے و مسلک کی گرفت روز بروز ڈھیلی ہی ہوتی جاتی ہے۔
ریاست کی اس نوعیت کو ملحوظ رکھنے اور یہ سمجھ لینے کے بعد کہ اجتماعی زندگی کے لیے ریاست بہرحال ہے ناگریز۔ ایک صاحب فکر و نظر آدمی کے لیے اس حقیقت کا ادراک کچھ مشکل نہیں رہتا کہ جو گروہ آج کل کے محدود معنوں میں محض ایک ’مذہب‘ کا معتقد نہ ہو، بلکہ ایک ہمہ گیر نظام زندگی‘ یعنی ’دین‘ پر اعتقاد رکھتا ہو،وہ اگر اپنے اعتقاد میں سچا ہے اور اپنے اعتقاد کے خلاف زندگی گزارنا نہیں چاہتا تو اس کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ آگے بڑھ کر خود اس قوتِ قاہرہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے جو نظمِ اجتماعی کی صورت گری کرتی ہے اور اپنے زور سے اس کو قائم رکھتی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے گا تو دوسرے اس قوت پر قبضہ کریں گے اور پھر یہ گروہ مجبور ہوگا کہ اجتماعی و انفرادی زندگی کے کم از کم ۹۰ فی صدی امور میں اپنے ’دین‘ کے بجائے ان کے ’دین‘پر چلے۔ متمدن زندگی میں یہ’اکراہ‘ لامحالہ ہم میں سے کسی ایک کو کرنا ہی پڑے گا۔ اگر ہم نہ کریں گے تو کفار کریں گے۔ لہٰذا بجائے اس کے کہ کفار اس دائرے میں ہم پر اِکْرَاہ کریں اور ہمیں جہنم کی طرف گھسیٹ کر لے جائیں‘ یہ زیادہ بہتر ہے کہ ہم ان پر اِکْرَاہ کریں اور انھیں اس مقام کے قریب لاکھڑا کریں جہاں اگر وہ چاہیں تو ان کو بَہ آسانی جنت کا راستہ مل سکتا ہے۔
یہ اس معاملے کا ایک پہلو ہے اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ زمین کا مالک اللہ ہے۔ اس کی زمین پر رہنے اور اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے اور اس کی ملکیت میں تصرف کرنے کا حق صرف اس کو پہنچتا ہے جو اس کا مطیعِ فرمان ہو، اور اس کے قانون فطری و شرعی کا اتباع کرے۔ جو ایسا نہیں کرتا وہ ظالم ہے، غاصب ہے‘ باغی ہے۔ اس کی یہ نافرمانی صرف خلافِ حق ہی نہیں، بلکہ زمین کے انتظام میں فساد اور اہلِ زمین کے لیے فتنے کی موجب بھی ہے۔ لہٰذا حق تو یہ ہے کہ جو لوگ اللہ سے پھرے ہوئے ہیں اور اس کے قانون فطری و شرعی کی پیروی سے منحرف ہیں‘ ان کو زمین میں جینے کا حق بھی نہ ہونا چاہیے، لیکن یہ اللہ کی بہت بڑی عنایت اور اس کا انتہائی حلم ہے کہ وہ ان کو نہ صرف جینے کی مہلت دیتا ہے‘ بلکہ ان کو ان کے کفر‘ شرک‘ دہریت اور الحاد پر اس حد تک قائم رہنے کا اختیار بھی دیتا ہے جہاں تک ان کی بغاوت اللہ کے دوسرے بندوں کے لیے فتنہ و فساد کی موجب نہ ہوسکے، البتہ وہ اس بات کو ہرگز جائز نہیں رکھتا کہ یہ لوگ اس کے قانون شرعی کو منسوخ کرکے اپنے خود ساختہ قوانین پر اس کی زمین کا نظم و نسق چلائیں اور اس کی زمین کو فساد سے بھر دیں۔ اس لیے وہ اپنے قانون شرعی پر ایمان لانے والوں کو حکم دیتا ہے کہ کفار کو دین حق پر ایمان لانے کے لیے تو مجبور نہ کرو‘ لیکن غلبۂ کفر و کفار کے فتنے کو پوری طاقت سے مٹانے کی کوشش کرو، یہاں تک کہ زمین کا انتظام عملاً میرے ’دین‘ پر قائم ہو جائے اور جو میرے دین کو نہیں مانتے وہ ’اکابر‘ نہیں بلکہ ’اصاغر‘ بن کر رہیں: حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صَاغِرُوْنَ۔۱۱؎
حضرت یوسف علیہ السلام اور اقتدارِ حکومت
۲۔ان حقائق کو ذہن نشین کر لینے کے بعد دوسری دلیل کا زور آپ سے آپ ختم ہو جاتا ہے۔ اگر حضرت یوسف علیہ السلام فی الواقع اللہ کے فرستادہ پیغمبر تھے تو یقیناً ان کی زندگی کا مشن اس ایک مشن کے سوا کچھ اور نہ ہوسکتا تھا جو ہر رسولِ برحق کا مشن رہا ہے‘ یعنی اللہ کے دین کو ہر دوسرے دین پر غالب کر دیں۔ یہ ایک اصولی حقیقت ہے جسے تمام پیغمبروں کی سیرتوں کے مختلف واقعات کی تعبیر و تفسیر میں ہم کو ایک قاعدے کلیے کے طور پر ملحوظ رکھنا ہوگا، ورنہ اگر ہم یہ مان لیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام اپنی حکومت میں ملک مصر پر اللہ کے دین کی جگہ بادشاہ کا دین نافذ کرتے تھے تب تو پھر یوسف صدیق اور سرسکندر و فضل الحق۱۲؎ میں کوئی اصولی فرق باقی نہیں رہتا۔ افسوس ہے کہ اس معاملے میں لوگ حقیقت سے بہت دور چلے گئے۔ انھوں نے دراصل قصۂ یوسف علیہ السلام کو نہیں سمجھا ہے۔ وہ گمان کرتے ہیں کہ یوسف علیہ السلام نے اپنے وقت کے بادشاہ سے جو کہا تھا کہ اِجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَائِنِ الْاَرْضِ۱۳؎ تو یہ ان کی طرف سے محض ملازمت کی ایک درخواست تھی جو دربار شاہی میں قبول ہوگئی اور ان کو وہ منصب مل گیا جو اکبر کے ہاں ٹوڈرمل کا منصب تھا۔ حالانکہ وہاں صورت حال کچھ اور ہی تھی۔
سیدنا حضرت یوسف علیہ السلام نے ابتداء ً دین حق کی اقامت کے لیے وہی راستہ اختیار فرمایا تھا جو انبیاء علیہم السلام اختیار فرماتے رہے ہیں‘ یعنی پہلے دعوت عام‘ پھر جو لوگ اس دعوت کو قبول کریں ان کی تربیت و تنظیم‘ پھر انھیں ساتھ لے کر اقامت دین کے لیے مجاہدہ۔ چنانچہ انھوں نے اپنی اس دعوت کا سلسلہ جیل ہی میں شروع کر دیا تھا جس کے مواعظ میں سے ایک بے نظیر وعظ سورۂ یوسف کے پانچویں رکوع میں نقل کیا گیا ہے، لیکن آگے چل کر ان کے سامنے یکایک ایک ایسا موقع آگیا جس سے وہ اپنے مقصود تک مختصر راستے سے پہنچ سکتے تھے۔ انھوں نے دیکھا کہ عزیز مصر کی بیوی اور اس کی سہیلیوں کے معاملے میں جس پاکیزہ اور مضبوط سیرت کا اظہار ان سے ہوا تھا‘ اور پھر تعبیر خواب کے معاملے میں جس بصیرت کا ثبوت انھوں نے دیا تھا اس کی وجہ سے بادشاہِ مصر ان کا اس حدتک معتقد ہو چکا تھا کہ اگر وہ اس وقت حکمرانی کے کامل اختیارات اس سے طلب کریں تو وہ بلاتامل پیش کر دے گا۔ اس لیے انھوں نے تحریک عمومی کی راہ سے اپنا مشن پورا کرنے کے بجائے اقتدار حکومت پر فوراً قبضہ کرکے دین حق قائم کر دینے کو زیادہ قریب کا راستہ پایا اور بادشاہ سے مطالبہ کر دیا کہ اِجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ یوسف12:55
زمین مصر کے تمام وسائل و ذرائع میرے اختیار میں دے۔
یہ محض وزیر مالیات کے منصب کا مطالبہ نہیں تھا‘ جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں‘ بلکہ یہ اختیار کلی کا مطالبہ تھا اور اس کے نتیجے میں سیدنا یوسف علیہ السلام کو جو پوزیشن حاصل ہوئی وہ قریب قریب وہی پوزیشن تھی جو اس وقت اٹلی میں مسولینی کو حاصل ہے۱۴؎ اس فرق کے ساتھ کہ اٹلی کا بادشاہ مسولینی کا معتقد نہیں‘ بلکہ محض اس کی پارٹی کے اثر سے مجبور ہے‘ اور مصر میں بادشاہ خود حضرت یوسف ؑ کا مرید ہو چکا تھا۔۱۵؎
حضرت یوسف علیہ السلام کے اقتدار کی شہادت اللہ تعالیٰ خود دیتا ہے :
کَذٰلِکَ مَکَّنَّالِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ یَتَبَوَّاُ مِنْھَا حَیْثُ یَشَآئُ یوسف12:56
اس طرح ہم نے یوسفؐ کو اس سرزمین میں اقتدار بخشا۔ وہ اس کے جس حصے کو چاہتا‘ اپنی جگہ بنا سکتا تھا‘‘۔ یعنی پورا ملک اس کے قابو میں تھا۔
پھر اس کی مزید شہادت ہمیں سورۂ مائدہ میں ملتی ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں:
یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآئَ وَ جَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا وَّ اٰتٰکُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ المائدہ5:20
اے میری قوم کے لوگو! یاد کرو اللہ کے اس احسان کو جو اس نے تم پر کیا کہ تم میں انبیاء پیدا کیے تھے‘ تم کو حکمران قوم بنایا تھا اور تمھیں وہ کچھ دیا تھا جو دنیا میں کسی کو نہیں دیا گیا۔
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو مصر میں جو اقتدار حاصل ہوا تھا‘ اس کی وجہ سے وہاں آخر کار مکمل انقلاب رونما ہوا‘ فراعنہ کے بجائے بنی اسرائیل حکمران ہوئے اور ان کو وہ عروج نصیب ہوا جو ان کی ہمسرقوموں میں کسی کو حاصل نہ تھا۔
پھر جو مذہبی اثر حضرت یوسف علیہ اسلام نے مصر میں چھوڑا اس کی شہادت ہم کو سورۂ مومن میں ملتی ہے۔ وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہم عصر فرعون کو خطاب کر کے قبطی قوم کا ایک صاحب ایمان شخص کہتا ہے:
وَلَقَدْ جَآئَکُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَکٍّ مِّمَّا جَآئَکُمْ بِہٖ حَتّٰی اذَا ہَلَکَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ مِنْم بَعْدِہٖ رَسُوْلًا المؤمن40:34
تمھارے پاس یوسف (علیہ السلام) روشن نشانیاں لے کر آئے تھے‘ مگر پہلے تو تم اس چیز کی طرف سے شک میں رہے جسے وہ لائے تھے اور جب وہ انتقال فرما گئے تو تم نے کہا کہ اب اللہ کوئی رسول نہ بھیجے گا۔ (یعنی تم نے کہا کہ اس پائے کا شخص اب نہیں آسکتا۔)
حضرت یوسف علیہ السلام کے معاملے میں یہ حقیقت جاننے کے بعد کون اس سے یہ استدلال کرنے کی جرأت کرسکتا ہے کہ غیر اسلامی نظام حکومت کا پُرزہ بننا برحق ہے کیونکہ ایک نبی ِ برحق ایسا کر چکا ہے۔ رہی آیت مَاکَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ ۱۶؎ جس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام فرعونی قوانین کی پابندی کرتے تھے‘ تو اگرچہ اس آیت کے مفہوم و معنی میں بہت کچھ کلام کی گنجائش ہے‘ لیکن اس کا جو مفہوم بیان کیا جاتا ہے، اگر اسی کو تسلیم کرلیا جائے‘ تب بھی زیادہ سے زیادہ جو کچھ اس سے ثابت ہوتا ہے‘ وہ صرف اس قدر ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے دور حکومت میں جس موقع پر یہ معاملہ پیش آیا (اور قرائن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابتدائی دور ہی کا واقعہ تھا کیونکہ آنجناب کے عزیز مصر ہونے کے چند ہی سال بعد وہ مشہور ہفت سالہ قحط شروع ہوا جس میں آپ کے بھائیوں کو غلہ حاصل کرنے کے لیے مصر آنا پڑا تھا) اس وقت تک مصر میں فوجداری قانون وہی رائج تھا جو پہلے سے چلا آرہا تھا۔ ظاہر ہے کہ ایک ملک کے نظام تمدن کو آنِ واحد میں نہیں بدلا جاسکتا۔ یہ کام بہرحال تدریج ہی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی عرب کے نظام تمدن کو بدلتے بدلتے دس سال لگ گئے تھے۔ وراثت کا قانون ۳ھ یا ۴ھ میں بدلا گیا۔ نکاح و طلاق کے قوانین ہجرت کے بعد پانچ چھ سال میں مکمل طور پر نافذ کیے گئے۔ فوج داری قوانین کی تکمیل میں پورے آٹھ سال لگ گئے۔ ملک کا معاشی نظم بتدریج ۹ سال میں بدلا گیا۔ شراب کا قطعی انسداد ۸ھ میں ہوا اور سود کی کلی ممانعت ۹ھ میں کی گئی۔ اسی طرح اگر حضرت یوسف علیہ السلام نے بھی ملک کے قوانین بدلنے میں تدریج سے کام لیا ہو، اور ایک خاص وقت تک ان کے زمانۂ حکومت میں سابق قوانین جاری رہے ہوں تو کیا اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ ایک پیغمبر خدا کے سوا دوسروں کے جاہلی قوانین کو جائز سمجھ کر ان کی پابندی کرتا تھا۔
۳۔ رہی تیسری دلیل تو اسے دراصل دلیل کے بجائے عذر کہنا چاہیے۔ اس عذر کا جواب ہم پہلے دے چکے ہیں۔ لہٰذا یہاں صرف ایک حدیث سنانے پر اکتفا کرتے ہیں جسے ابودائود نے نقل کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وَالْجِھَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِی اللّٰہُ اَنْ یُّقَاتِلَ اٰخِرُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ الدَّجَّالَ لَایُبْطِلُہ‘ جَوْرُ جَائِرٍ وَلَا عَدْلُ عَادِلٍ (ابودائود‘ باب فی الغزو مع ائمۃ الجور ،مشکوۃ کتاب الکبائر و علامات النفاق)
اور جہاد میری بعثت کے وقت سے اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب کہ اس امت کا آخری گروہ دجال سے جنگ کرے گا۔ نہ کسی ظالم کا ظلم اسے باطل کرسکتا ہے اور نہ کسی عادل کا عدل۔
یعنی جہاد کو نہ اس عذر کی بنا پر بند کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت بڑے جبابرہ ہم پر مسلط ہیں، نہ اس بات کو جہاد نہ کرنے کے لیے بہانہ بنایا جاسکتا ہے کہ حکومت اگرچہ کفار کی ہے مگر ہم کو امن نصیب ہے اور ہمارے ساتھ انصاف ہو رہا ہے، اور نہ مسلمانوں کے لیے یہ جائز ہے کہ اگر ان کے اپنے ملک میں عدل کا دور دورہ ہو تو وہ مطمئن ہو کر بیٹھ رہیں اور باہر کی دنیا میں جو ظلم و فساد برپا ہو‘ اس کی طرف سے آنکھیں بند کرلیں۔

۴۔ دین و سیاست کی تفریق کا باطل نظریہ اورقصۂ یوسف ؑ سے غلط استدلال

ناظرین ترجمان القرآن میں سے ایک صاحب لکھتے ۱۷؎ ہیں سورۂ یوسف سے متعلق آپ کے فہم قرآنی سے مستفیض ہونا چاہتا ہوں۔ قرآن کریم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو تَمَکُّنْ فِی الْاَرْضَ عطا فرمایا گیا اور وہ دائرۂ حکومت میں ایک ممتاز حیثیت سے شریک ہوگئے، لیکن ظاہر ہے کہ آپ رسولؑ تھے‘ اس لیے فریضۂ رسالت کی سرانجام دہی بھی آپ کے لیے ضروری تھی۔ دربار فرعون کے مرد مومن نے اپنی تقریر میں اس کی طرف اشارہ بھی کیا ہے کہ حضرت یوسف ؑ کی نبوت پر قوم فرعون ایمان نہیں لائی تھی اور یہ بھی کہ آپ اپنی وفات تک ڈھیل دیتے رہے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنی نبوت کو پیش کیا لیکن فرعون اور اس کی قوم اس پر ایمان نہ لائی۔ اس کے باوجود حضرت یوسف ؑ ان کی حکومت میں شریک کار رہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کا ایک برگزیدہ رسول ایک غیر خدائی نظام حکومت کا شریک کار کس طرح رہا‘ درآں حالیکہ وہ اس قوم کے سامنے اپنی نبوت بھی پیش کر چکے تھے اور اس قوم نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا۔ ایسے منکرین دعوت اسلامی کے خلاف یا تو حضرت یوسف علیہ السلام کو جہاد کرنا چاہیے تھا، یا برسبیل تنزل وہاں سے ہجرت لازم تھی، لیکن آپؑ نے نہ تو ہجرت ہی فرمائی اور نہ ان کے خلاف جہاد ہی کیا‘ بلکہ ان کے خلاف تبریٰ و بیزاری کا اعلان بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ کیا آپ اس گتھی کو سلجھائیں گے؟
بنی اسرائیل کی تاریخ کا وہ دور جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے گزرا ہے‘ قریب قریب بالکل تاریکی میں ہے۔ ۱۸؎ اس لیے قرآن کے اشارات کی تفصیل معلوم کرنا مشکل ہے۔ تاہم قرآن مجید نے اپنے مجمل اشارات سے اس امر میں کوئی شک باقی نہیں رہنے دیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی حیثیت مصر میں غیر خدائی نظام حکومت کے شریک کار کی نہ تھی‘ بلکہ مختار کل کی تھی‘ اور انھوں نے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لی ہی اس شرط کے ساتھ تھی کہ کل اختیارات ان کے ہاتھ میں ہوں۔ اس آیت کو بغور پڑھیے:
قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ وَ کَذٰلِکَ مَکَّنَّالِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ یَتَبَوَّاُ مِنْھَا حَیْثُ یَشَآئُ یوسف12:55-56
یوسف علیہ السلام نے کہا: مجھے ملک کے خزانوں پر حاکم بنا دے‘ یقیناً میں حفاظت کرنے والا ہوں اور علم رکھتا ہوں اور اس طرح ہم نے یوسف ؑ کو اس سرزمین میں اقتدار عطا کیا۔ وہ وہاں جس جگہ بھی چاہتا‘ اپنی جگہ بنا سکتا تھا۔
خط کشیدہ الفاظ صاف ظاہر کر رہے ہیں کہ مطالبہ کلی اختیارات کا تھا اور ملے بھی کلی اختیارات ہی۔ خَزَائِنِ الْاَرْضْ کا لفظ دیکھ کر بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ یہ جگہ شاید فنانس منسٹریا ریونیو ممبر کی تھی‘ حالانکہ دراصل اس سے مراد ملک کے جملہ وسائل (resources) ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا مطالبہ یہ تھا کہ سلطنت ِ مصر کے تمام وسائل میرے ہاتھ میں دیے جائیں اور اس کے نتیجے میں جو اختیارات انھیں ملے وہ ایسے تھے کہ پھر ساری سرزمین مصر ان کی تھی۔ یَتَبَوَّاُ مِنْھَا حَیْثُ یَشَآئُ کو بھی لوگوں نے بہت ہی محدود معنوں میں لے لیا ہے۔ ان کے نزدیک اس کا مفہوم بس اتنا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ہر جگہ مکان بنا لینے یا قیام کرنے کے مجاز تھے۔ حالانکہ درحقیقت اس فقرے سے یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ اس سرزمین پر حضرت یوسف علیہ السلام کا اقتدار ویسا ہی تھا جیسا ایک زمین کے مالک کو اپنی زمین پر حاصل ہوتا ہے۔
اب رہا یہ سوال کہ اس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو جو اقتدار حاصل ہوا‘ اس کے ذریعے سے انھوں نے ملک کے نظام تہذیب و تمدن و اخلاق و سیاست کو اصول اسلام کے مطابق تبدیل کرنے کی کیا کوشش کی اور اس میں کس قدر کامیابی ہوئی‘ تو اس کے متعلق کوئی تفصیل ہمیں تاریخ سے نہیں ملتی، البتہ سورۂ مائدہ کے ایک اشارے سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ مصر میں حضرت یوسف علیہ السلام کا اقتدار محض ایک فرد واحد کا عارضی اقتدار نہ تھا ،بلکہ آپ کے بعد ایک مدت دراز تک آپ ہی کے جانشین‘ جو یقیناً مسلمان ہی تھے‘ مصر پر حکمران رہے۔ انھیں وہ عظمت و شوکت حاصل ہوئی جو اس دور میں دنیا کی کسی قوم کو حاصل نہ تھی۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں:
وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآئَ وَ جَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا وَّ اٰتٰکُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۔ المائدہ5:20
یاد کرو جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو! اپنے اوپر اللہ کے احسان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں انبیاء پیدا کیے اور تم کو فرماں روا بنایا اور تمھیں وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا۔
اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اس اسلامی غلبے و تسلط کا لازمی اثر ملک کی پوری زندگی پر مرتب ہوا ہوگا۔
سورۂ مومن کی جس آیت سے آپ نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قبطی قوم نے حضرت یوسف علیہ السلام کو ماننے سے انکار کر دیا تھا‘ دراصل اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا۔ میں ایسا سمجھا ہوں کہ وہاں ہندستان کی سی صورت پیش آئی تھی کہ ملک کی آبادی کے معتدبہ حصے نے اسلام قبول کیا اور بڑی اکثریت اپنے شرک پر قائم رہی۔ ۱۹؎ پھر جس حصے نے اسلام قبول کیا وہی ایک مدت تک برسر اقتدار رہا‘ مگر رفتہ رفتہ اخلاقی و اعتقادی انحطاط نے اس کو غلامی اور گمراہی کی پستیوں میں گرا دیا۔ حتٰی کہ غلو اور اشخاص پرستی کے فتنے میں پڑ کر عملاً اس میں اور دوسرے مشرکین میں کوئی خاص فرق باقی نہ رہا۔ اسی چیز کی طرف مومن آل فرعون نے اشارہ کیا ہے:
وَلَقَدْ جَآئَکُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَکٍّ مِّمَّا جَآئَکُمْ بِہٖ o حَتّٰی اِذَا ہَلَکَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ مِنْم بَعْدِہٖ رَسُوْلًا۔ المومن40:34
اس سے پہلے یوسف ؑ تم لوگوں کے پاس صریح نشانیاں لے کر آئے تھے‘ مگر تم اس چیز میں برابر شک کرتے رہے جسے وہ لائے تھے‘ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا کہ اب ان کے بعد اللہ کسی رسول کو ہرگز نہ بھیجے گا۔
خط کشیدہ دو فقروں میں سے پہلا فقرہ بتاتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں ملک کی بیش تر آبادی آپ کی نبوت کے متعلق شک میں رہی‘ جیسا کہ اکثر انبیاء کے ساتھ ہوا ہے، اور دوسرے فقرے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنجناب کے بعد جو لوگ آپ کے معتقد ہوئے وہ آپ کی شخصیت کے گرویدہ ہو کر غلو میں مبتلا ہوگئے اور کہنے لگے کہ اب کوئی رسول نہیں آسکتا اور اسی بنا پر انھوں نے بعد کے آنے والے کو ماننے سے انکار کر دیا، جیسا کہ آگے چل کر یہودیوں اور عیسائیوں نے کیا۔ درآں حالیکہ حضرت یوسف ؑ یا حضرت موسیٰ ؑ یا حضرت عیسیٰ ؑ میں سے کسی کے بعد بھی اللہ کی طرف سے ختم نبوت کا اعلان نہ ہوا تھا۔
بہرحال اس آیت کے یہ معنی نہیں نکالے جاسکتے کہ حضرت یوسف علیہ السلام پر ملک میں کوئی بھی ایمان نہیں لایا تھا بلکہ دوسرے اشارات کی مدد سے قیاس یہی ہوتا ہے کہ ملک میں اہل ایمان کا ایک گروہ پیدا ہوگیا تھا جس نے بنی اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک مدت تک اسلامی نظام حکومت کو قائم رکھا اور بعد میں بتدریج مائل بَہ انحطاط (degenerate)ہوتا چلا گیا۔

۵۔ تفریق دین و سیاست کا دفاع اور اس کا جائزہ

گذشتہ مضمون’سورۂ یوسف کے متعلق چند سوالات‘ کی اشاعت کے کچھ مدت بعد ایک مشہور بزرگ نے (جن کا اب انتقال ہو چکا ہے اور جو خان بہادر کا خطاب رکھتے تھے‘ یو پی میں کلکٹر اور ہندستان کی ایک ریاست میں دیوان رہ چکے تھے) اس پر ایک مفصل تنقید لکھی۔ چونکہ مولانا مودودی صاحب کے جواب کو سمجھنا بغیر اس کے ممکن نہیں کہ صاحب موصوف کی تنقید ناظرین کے سامنے ہو‘ اس لیے ہم پہلے اس کے متعلقہ حصے یہاں نقل کرتے ہیں‘ پھر مصنف کا جواب نقل کریں گے۔۲۰؎
مستفسر نے جو بات دریافت کی تھی اور جو بات دراصل بحث طلب ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ آیا یوسف علیہ السلام ایک غیر اسلامی نظام حکومت کے رکن اور شریک کار بنے ہیں یا نہیں؟ اور اگر بنے تو حضرت یوسف علیہ السلام کا ایسا کرنا اسلامی نقطۂ نظر سے جائز ہے یا نہیں؟ مولانا مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ ’’حضرت یوسف علیہ السلام کی حیثیت مصر میں غیر خدائی نظام حکومت کے شریک کار کی نہ تھی‘‘ اور تعجب ہے کہ اپنی اس رائے کی تائید میں کلام پاک کی وہی آیت قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَائِنِ الْاَرْضِ پیش کرتے ہیں جو دراصل اس کے ضد کو ثابت کرتی ہے۔
آیت مذکور کا لفظی ترجمہ شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ کے الفاظ میں یہ ہے کہ:
’’یوسف ؑ نے کہا مجھ کو مقرر کر ملک کے خزانوں پر‘ میں نگہبان ہوں، خوب جاننے والا اور یوں قدرت دی ہم نے یوسفؑ کو اس زمین میں، جگہ پکڑتا تھا اس میں جہاں چاہتا۔‘‘
اب دیکھیے کہ حضرت یوسف علیہ السلام فرعونِ مصر سے خواہش کرتے ہیں کہ تو مجھ کو ملک کے خزانوں پر مقرر کر دے۔ فرعون آپ کا مطالبہ منظور کرتا ہے اور آپ فرعون کے محکمہ مال کے افسر مقرر ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ آپ فرعون کے نظام حکومت کے ایک رکن یا شریک کار بن جاتے ہیں۔ مولانا مودودی صاحب اس بدیہی نتیجے سے بچنے کی ناکام کوشش کرتے ہیںجب کہ وہ فرماتے ہیں کہ: مطالبہ کلی اختیارات کا تھا اور ملے بھی کلی اختیارات۔
……اول تو کلی اختیارات کا لفظ کلامِ پاک میں ہے نہیں۔ یہ لفظ مولانا اپنی طرف سے کلام پاک کی عبارت پر بڑھانا چاہتے ہیں، تاکہ کلام پاک مولانا کے ذاتی نظریوں کا تابع ہوجائے نہ یہ کہ مولانا اپنے ذاتی نظریوں کی اصلاح مفہوم قرآنی کے مطابق کرلیں۔ اسی جیسی ذہنیت کے متعلق غالباً اقبال مرحوم نے کہا تھا: ’’خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں‘‘ لیکن اس کلی کے لفظ کے ناجائز اضافے سے بھی مولانا کے اجتہاد یا نظریے کی تائید نہیں ہوتی۔ یہ تسلیم کرتے ہوئے بھی کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے کلی اختیاراتِ مال کا مطالبہ کیا تھا اور کلی اختیارات ہی ملے تھے‘ لیکن وہ اختیارات فرعون مصر ہی سے تو مانگے گئے تھے اور فرعون مصر ہی نے تو وہ اختیارات عطا کیے تھے۔ اس لیے باوجود ان کلی اختیارات کے حضرت یوسف علیہ السلام کی حیثیت اس وقت کے نظام حکومت میں ایک رکن یا ایک شریک کار سے زائد کی نہیں ہوسکتی۔
اسی طرح مولانا مودودی صاحب کا یہ فرمانا کہ:حضرت یوسف علیہ السلام کا مطالبہ یہ تھا کہ سلطنت مصر کے تمام وسائل میرے اختیار میں دے دیے جائیں اور اس کے نتیجے میں جو اختیارات ان کو ملے وہ ایسے تھے کہ پھر ساری زمین ِ مصراُن کی تھی‘ بالکل خلافِ واقعہ ہے۔ یہ مان بھی لیا جاوے کہ یوسف علیہ السلام نے مال کے جملہ اختیارات کا مطالبہ کیا تھا اور مال کے جملہ اختیارات آپ کو تفویض ہوگئے تھے‘ تاہم سلطنت میں مال کے علاوہ بہت سے دیگر محکمے ہوتے ہیں‘ مثلاً: پولیس‘ فوج‘ عدالت۔ ان میں سے نہ کسی کا مطالبہ یوسف علیہ السلام کی طرف سے کیا گیا، نہ یہ محکمے آپ کے سپرد کیے گئے، تو پھر مولانا مودودی کا یہ کہنا کہ ’جو اختیارات انھیں ملے وہ ایسے تھے کہ پھر ساری زمین ِ مصراُن کی تھی‘ بالکل بے بنیاد ہے۔اس لیے یوسف علیہ السلام کی حیثیت مصر کے خزائن پر متصرف ہونے کے بعد بھی سلطنت کے ایک رکن یا شریک کار کی رہتی ہے جب تک کہ کسی ذریعے سے یہ ثابت نہ ہو کہ فرعونِ مصر اپنی سلطنت اور حکومت سے دست بردار ہو گیا تھا اور حضرت یوسف علیہ السلام اس کی جگہ مصر کے بادشاہ اور ملک بن گئے تھے۔ سو یہ تاریخ سے ثابت ہے‘ نہ کلام پاک سے‘ بلکہ کلام پاک سے بصراحت اس کی تردید ہوتی ہے۔ آیت زیر بحث سے عین ماقبل یہ آیت ہے:
وَ قَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہٖٓ اَسْتَخْلِصْہُ لِنَفْسِیْ فَلَمَّا کَلَّمَہٗ قَالَ اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ۔
یوسف12: 54
انھیں میرے پاس لے آئو کہ میں انھیں اپنے لیے چن لوں۔ پھر جب اس سے (یوسف علیہ السلام سے) بات کی‘ کہا: بے شک آپ ہمارے یہاں معزز معتمد ہیں۔
ان ہر دو آیات سے بالکل واضح ہے کہ فرعون مصر نے یوسف علیہ السلام کو اپنی سلطنت کا معزز اور معتمد رکن اور اپنا مشیر خاص بنایا۔ ان آیات میں اس بات کا شائبہ بھی نہیں کہ فرعون مصر اپنی سلطنت، یا اپنے اختیارات سے دست بردار ہوگیا تھا۔ نیز ایک مابعد کی آیت سے بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خزائن مصر پر متصرف ہونے کے عرصہ بعد تک فرعون مصر کی سلطنت قائم تھی اور فرعون مصر کا دین ہی ملک پر جاری تھا، کیونکہ جب برادرانِ یوسف دوسری مرتبہ غلے کی بھرتی کرنے آئے اور اپنے ساتھ حضرت یوسف علیہ السلام کی خواہش کے مطابق حضرت یوسف علیہ السلام کے حقیقی بھائی بنیامین کو بھی لائے اور حضرت یوسف ؑ نے اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس رکھااور بنیامین پر ظاہر بھی کر دیا کہ وہ ان کا حقیقی بھائی ہے، مگر اپنے دوسرے بھائیوں پر اس امر کو ظاہر نہیں کیا اور چونکہ حضرت یوسف ؑ بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے اس لیے دوسرے بھائیوں پر اس امر کے ظاہر کیے بغیر کہ بنیامین ان کا بھائی ہے اس کی یہ تدبیر کی کہ جب برادرانِ یوسف کے واسطے ان کا اسباب تیار کیا گیا تو بنیامین کے اسباب میں ایک پانی پینے کا پیالہ رکھوا دیا اور جب قافلہ روانہ ہونے لگا تو موذن یا پکارنے والے نے پکار کر کہا کہ اے قافلے والو!تم البتہ چور ہو۔ برادران یوسف ؑ نے اس سے انکار کیا تو پکارنے والے نے کہا کہ کیا سزا ہے اس کی اگر تم جھوٹے نکلے؟ برادران یوسف ؑ نے کہا: اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں ہاتھ آوے، وہی اس کے بدلے میں جاوے۔ ہم یہی سزا دیتے ہیں ظالموں کو۔ اس کے بعد تلاشی لی گئی اور پیالہ بنیامین کے اسباب میں سے برآمد ہوا۔ چنانچہ بنیامین پیالے کے بدلے میں روک لیے گئے۔ اس موقع پر ارشاد خداوندی ہے:
مَا کَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ۔ یوسف12:76
جس کا لفظی ترجمہ ہے:
وہ (یعنی یوسف ؑ) ہرگز نہ لے سکتا تھا اپنے بھائی کو دین میں اس بادشاہ کے مگر جو چاہے اللہ۔
خط کشیدہ عبارت صاف بتاتی ہے کہ مصر کا ملکی قانون اس وقت تک ملک مصر میں جاری تھا اور اس قانون کے مطابق حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائی بنیامین کو چوری کے الزام میں اپنے بھائیوں سے لے نہیں سکتے تھے‘ مگر خداوند عالم نے خود ان کے بھائیوں کے منہ سے کہلوا دیا کہ چوری کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں سے چوری کا مال ہاتھ آوے‘ وہی اس کے بدلے میں جاوے۔ چنانچہ اس آیت کریمہ کی جو تفسیر مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی ؒنے کی ہے وہ یہ ہے کہ:
یعنی بھائیوں کی زبان سے آپ ہی نکلا کہ جس کے پاس سے مال نکلے اس کو غلام بنا لو۔ اس پر پکڑے گئے، ورنہ حکومت مصر کا قانون یہ نہ تھا۔ اگر ایسی تدبیر نہ کی جاتی کہ وہ اپنے اقرار میں بندھ جاویں تو ملکی قانون کے مطابق کوئی صورت بنیامین کو روک لینے کی نہ تھی۔
اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ملک مصر کی وزارت پر متمکن ہونے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے تبلیغ کاکام نہیں کیا، یا اپنی رسالت کے اعلان سے گریز کیا۔ برخلاف اس کے صاحب ممدوح نے اس وقت جب کہ آپ سجن یا جیل میں تھے، اسی وقت وحدانیت کی تبلیغ شروع کر دی تھی۔ چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے ساتھی قیدیوں سے فرماتے ہیں:
یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ئَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ o مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اَسْمَآئً سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ ۔ یوسف12:39-40
اسی طرح وزارت کے عہدے پر متمکن ہونے کے بعد بھی حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی تبلیغ کاکام ضرورجاری رکھا ہوگا۔ البتہ جو بات ان آیات سے بلاشک و شبہہ ثابت ہوتی ہے‘ وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ایک غیر اسلامی نظام حکومت کے رکن خود اپنی خواہش اور درخواست پر بنے اور حضرت یوسفؑ کے اس حکومت کے رکن بننے کے بعد بھی ملک میں غیر اسلامی نظام حکومت اور غیر اسلامی قانون ہی نافذ رہا اور یوسف علیہ السلام کے اس عمل پر بجائے اس کے کہ خداوند عالم کی طرف سے کوئی سرزنش کی جاوے یوسف علیہ السلام کے اس عمل کو ایک طرح سراہا جاتا ہے کیونکہ یوسف علیہ السلام کے اس تَمَکُّن فی الارض کو انعام خداوندی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:
وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّالِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ یَتَبَوَّاُ مِنْھَا حَیْثُ یَشَآئُ یوسف12:56
جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمان تو مسلمان انبیاء تک کے لیے غیر اسلامی نظام حکومت کارکن بننا جائز ہے اور جائز ہی نہیں، بلکہ بعض صورتوں میں بطور فرض کفایہ کے واجب ہے‘ کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کا خود خواہش کرکے مصر کے خزائن پر متصرف ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ایسا کرنے کو یوسف علیہ السلام اپنے لیے جائز ہی نہیں بلکہ اپنے اوپر واجب خیال فرماتے تھے، ورنہ وہ فرعون سے ایسی خواہش کبھی نہ فرماتے اور نہ ایسی خواہش کرتے وقت وہ اپنے حفیظ و علیم ہونے کا اظہار کرتے، کیونکہ اگرآپ کے نزدیک ملک مصر کا وزیر بننا آپ پر لازم اور واجب نہیں تھا تو آپ کا اپنے آپ کو حفیظ اور علیم بتانا، بے جا مدح سرائی اور خود ستائی میں داخل ہوتا ہے۔
(اس کے بعد موصوف نے اپنے بیان کی تائید میں چند حوالے پیش کیے ہیں اور کچھ عقلی دلائل بھی فراہم کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ نیز ہجرت حبشہ سے بھی استدلال کیا ہے۔ چونکہ ان کے دلائل کا جوہر اوپر آگیا ہے، اس لیے ہم بخوف طوالت باقی حصہ حذف کر رہے ہیں۔)
جواب
ہم جناب خان بہادر صاحب کے بہت شکر گزار ہیں کہ انھوں نے اس مسئلے کو چھیڑ کر پھر ایک مرتبہ ہمیں اپنا نقطۂ نظر صاف صاف پیش کرنے کا موقع بہم پہنچا دیا۔ ہم اس بحث میں اپنا وقت صرف اس امید پر صرف کر رہے ہیں کہ بہت سے طالبین حق کو اس سلسلے میں اکثر گمراہ کن دلائل کا جواب مل جائے گا جو اطاعت غیر اللہ، یا بالفاظ دیگر اسلام لغیر اللہ کو جائز قرار دینے اور نظام کفر کی بندگی کو مباح، بلکہ فرض کفایہ ٹھیرانے کے حق میں پیش کیے جاتے ہیں۔
قصۂ یوسف علیہ السلام کے زیر نظر پہلو پر ہم اس سے پہلے دو مرتبہ بحث کر چکے ہیں۔ پہلی بحث زیادہ مفصل و مدلل تھی اور دوسری مجمل و مختصر، لیکن خان بہادر صاحب نے نہ معلوم کیوں پہلی کو چھوڑ کر دوسری کو مدارِ گفتگو بنا لیا۔ حالانکہ جو اعتراضات انھوں نے اپنے مضمون میں درج فرمائے ہیں‘ ان میں سے اکثر کا‘ بلکہ شاید سب ہی کا جواب ہماری پہلی بحث میں انھیں مل جاتا۔۲۱؎ بہرحال یہ عدم التفات خواہ کسی وجہ سے ہو‘ ہمارے لیے اس میں خیر ہی کا پہلو نکل آیا کہ جن باتوں کو بار بار چھیڑ کر ہمارے لیے واضح کرنا مشکل تھا انھیں دوسروں کے چھیڑنے پر بیان کرنے کا ہمیں موقع مل گیا۔
کیا اسلام میں تناقض ہے؟
دنیا میں ایک معقول آدمی سے جن چیزوں کی توقع کی جاتی ہے غالباً ان میں سب سے پہلی چیز یہی ہوتی ہے کہ اس کی باتوں میں تناقض نہ ہو۔ ایک معمولی عقل کا گنوار آدمی بھی جب کسی شخص کو ایسی باتیں کرتے دیکھتا ہے جو ایک دوسرے کے خلاف پڑتی ہوں تو فوراً ٹوک دیتا ہے، کیوں کہ اس کی نہایت موٹی عقل بھی متناقض باتوں کی غیر معقولیت کو برداشت نہیں کرسکتی، لیکن یہ عجیب ماجرا ہے کہ جن باتوں کی توقع کسی گھٹیا سے گھٹیا، مگر ذی عقل انسان سے نہیں کی جاسکتی ان کی توقع اس اللہ سے کی جاتی ہے جو خود عقل کا خالق اور تمام حکمت کا مالک ہے اور اس سے بھی عجیب تر ماجرا یہ ہے کہ اللہ سے اس انتہائی نامعقولیت کی توقع رکھنے والے‘ بلکہ اس کا مطالبہ کرنے والے کوئی جاہل‘ کو دن لوگ نہیں ہیں، بلکہ وہ ذی علم لوگ ہیں جو دنیا بھر کو علم و عقل کے درس دیتے ہیں اور وہ فاضل اصحاب ہیں جن کی عقلیں اپنی دنیا کے معاملات چلانے میں خوب لڑتی ہیں۔ یہ ہوش مند حضرات اپنے خدا سے چاہتے ہیں، اور یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ اس کی باتوں میں تناقض ہو۔ یعنی وہ یہ بھی کہے کہ میں بادشاہ زمین و آسمان ہوں اور پھر اپنی زمین کے کسی گوشے پر کسی اور کی بادشاہی تسلیم بھی کرے۔ وہ یہ بھی کہے کہ لوگو! تم سب میرے احکام کی اطاعت کرو‘ پھر لوگوں کو یہ اجازت بھی دے‘ بلکہ اس کو فرض تک قرار دے دے کہ ان حاکموں کی اطاعت بجا لائیں جو اس کے حکم کی سند کے بغیر‘ اور اکثر حالات میں اس کے حکم کے خلاف احکام دیتے ہیں۔ وہ انسانوں کے لیے خود ایک قانون بھی بنائے اور یہ اعلان کرے کہ میرا یہی قانون ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے‘ باطل ہے‘ اور پھر اس کے ساتھ دوسرے قوانین کے نفاذ کو بھی جائز رکھے اور انھی انسانوں کو جن کے لیے اس نے قانون بنایا ہے یہ ’حق‘ بھی دے کہ چاہیں خود اپنے لیے قانون بنائیں اور چاہیں دوسروں کے قوانین کی پیروی کرتے رہیں۔ وہ اپنے پیغمبروں کو خاص اسی غرض کے لیے مبعوث بھی کرے کہ زمین کے باشندوں کو اس کا دین قبول کرنے کی دعوت دیں اور پھر انھی پیغمبروں کو یا ان میں سے کسی کو اس بات کی اجازت بھی دے (بلکہ خان بہادر صاحب کے بقول اس خدمت پر سراہے بھی) کہ اس دین کے سوا کسی اور دین کے نظام میں کارکن و خدمت گزار بن جائیں اور اسے کامیابی کے ساتھ چلانے میں اپنی قابلیتیں صرف کر دیں۔ وہ ساری دنیا کے باشندوں میں سے چھانٹ کر ایک امت خاص اس مقصد کے لیے بنائے کہ اس معروف کا حکم دے جسے اس نے معروف قرار دیا ہے اور اس منکر کو مٹائے جسے اس نے منکر ٹھیرایا ہے‘ اور پھر اسی امت کے لیے اس بات کو حلال، بلکہ اس کے بعض ’برگزیدہ‘ افراد کے لیے فرض کفایہ ٹھیرا دے کہ ان منکرات کو قائم کرنے اور رواج دینے میں حصہ لیں جنھیں اس کے باغی معروف ٹھیرا چکے ہیں اور ان معروفات کو مٹانے اور دبانے میں آلہ کار بنیں جو اس کے نافرمانوں کی نگاہ میں منکر قرار پا چکے ہیں۔
یہ ایسی صریح متناقض باتیں ہیں جن کے تناقض کو سمجھنے کے لیے کسی گہرے غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے لیکن عجیب بات ہے کہ جو لوگ تفسیریں لکھنے اور فقہ و معقولات کا درس دینے کی قابلیت رکھتے ہیں‘ اور جو اتنی عقل رکھتے ہیں کہ کلکٹری اور دیوانی جیسے بڑے بڑے مناصب کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں‘ انھیں یا تو ان باتوں میں کوئی تناقض نظر نہیں آتا‘ یا پھر خداوند عالم کے متعلق ان کی رائے اتنی بری ہے کہ وہ اس سے ان بے عقلیوں اور نادانیوں کی توقع رکھتے ہیں جنھیں ایک جاہل گنوار بھی اپنی چوپال کے کسی رفیق میں پاکر صبر نہیں کرسکتا۔
خان بہادر صاحب اپنے اسی مضمون میں ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں:
ایک بعد کی آیت سے بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ کے خزائن مصر پر متصرف ہونے کے بعد تک فرعون مصر کی سلطنت قائم تھی اور فرعون مصر کا دین ہی ملک میں جاری تھا۔
مَا کَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ یوسف12:76
(ہرگز نہ لے سکتا تھا اپنے بھائی کو دین میں اس بادشاہ کے مگر جو چاہے اللہ)یہ عبارت صاف بتاتی ہے کہ مصر کا ملکی قانون اس وقت تک مصر میں جاری تھا۔
دین کا مفہوم
ان الفاظ کو تحریر کرتے وقت صاحب موصوف جس بات کو ثابت کرنے کی دھن میں لگے ہوئے تھے اس نے شاید انھیں اتنی مہلت نہ دی کہ کچھ دیر ٹھیر کر اس صریح تناقض پر غور کرلیتے جو ان کی مزعومہ تفسیر کے لحاظ سے یہاں قرآن کے بیان میں پیدا ہو جاتا ہے۔ براہ کرم، اب وہ ہمارے ہی توجہ دلانے سے غور فرمائیں۔ یہاں خود ان کی اپنی نقل کردہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے مصر کے ملکی قانون کو جو فرعون مصر کی حاکمیت کی بنیاد پر تھا ’دین الملک‘ (بادشاہ کا دین) کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ دین صرف اس پوجا پاٹ ہی کا نام نہیں ہے جو مندروں اور معبدوں میں کی جاتی ہے‘ بلکہ اس قانون کا نام بھی ہے جس کے مطابق پولیس مجرموں کو پکڑتی ہے‘ جس کے تحت عدالت معاملات دیوانی و فوج داری کا فیصلہ کرتی ہے‘ جس کی پیروی میں ملک کا انتظام چلایا جاتا ہے اور جس پر تمدن کا سارا نظام قائم ہوتا ہے۔ زندگی کے یہ سارے شعبے بحیثیت مجموعی جس طریقے پر چلتے ہیں‘ اسی کا نام قرآن کی اصطلاح میں ’دین‘ ہے اور چونکہ ملک مصر میں وہ طریقہ فرعون کی مشیت سے ماخوذ اور اس کے اقتدار اعلیٰ پر مبنی تھا‘ اس لیے قرآن اس کو ’دین الملک‘ کہہ رہا ہے۔ اسی سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ’دین اللہ‘ بھی صرف اسی چیز کا نام نہیں ہے جو مسجدوں اور نماز روزے تک محدود ہو‘ بلکہ اس سے مراد بھی اس پوری شریعت کی پابندی ہے جو اللہ کی رضا سے ماخوذ اور اس کی حاکمیت پر مبنی ہو اور اجتماعی زندگی کے تمام پہلوئوں کو اپنی گرفت میں لے لے۔ اب سوال یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نبی ہونے کی حیثیت سے کس کام کے لیے مبعوث فرمائے گئے تھے؟ ’دین اللہ‘ کی دعوت دینے کے لیے یا ’دین الملک‘کو فروغ دینے کے لیے؟ اگر خان بہادر صاحب کی تاویل اور ان حضرات کی تفسیر‘ جن کے بڑے بڑے نام لے کر خان بہادر صاحب ہم کو مرعوب کرنا چاہتے ہیں‘ مان لی جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو اپنے نبی کو اس بات پر مامور فرمایا کہ اس کی مخلوق کو‘ اور خصوصاً اس مخلوق کو جو مصر میں رہتی تھی‘ ’دین اللہ‘ اختیار کرنے کی دعوت دے‘ اور دوسری طرف وہی نبی خود اللہ تعالیٰ کی ہدایت و نگرانی میں ’دین الملک‘ کے قیام و استحکام کی خدمت انجام دینے لگا، اور لطف یہ ہے کہ اللہ میاں اس صریح متناقض طرز عمل کا تناقض تو کیا محسوس فرماتے‘ الٹا اس نبی کے اس فعل کو‘ خان بہادر صاحب کے اپنے الفاظ میں سراہنے لگے اور نظامِ کفر میں اپنے نبی کے بعہدۂ وزارت فائز ہو جانے کو ’انعام خداوندی‘ سے تعبیر فرمانے لگے۔گویا کہ اللہ میاں کا حال بھی معاذ اللہ ہمارے زمانے کے ان دین دار بزرگوں کا سا ہے جو خود تو پیشانی پر سیاہ گٹا لیے ہوئے مصلے پر سجدہ گردانی فرما رہے ہوتے ہیں مگر صاحب زادے جب ایم۔ اے پاس کرکے نیم انگریز بنے ہوئے آبکاری کی انسپکٹری پر فائز ہو جاتے ہیں تو وہی دین مجسم بزرگ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ان کے خاندان کو اپنی نعمت سے نواز دیا۔
آگے چل کر خان بہادر صاحب پھر فرماتے ہیں:
’’اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ملک مصر کی وزارت پر متمکن ہونے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے تبلیغ حق کاکام نہیں کیا‘ یا اپنی رسالت کے اعلان سے گریز کیا۔ برخلاف اس کے صاحب ممدوح نے اس وقت جب کہ آپ جیل میں تھے‘ اسی وقت وحدانیت کی تبلیغ شروع کر دی تھی… البتہ جو بات آیات سے بلاشک و شبہ ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ایک غیر اسلامی نظام حکومت کے رکن خود اپنی خواہش اور درخواست پر بنے اور حضرت یوسف علیہ السلام کے اس حکومت کے رکن بننے کے بعد بھی ملک میں غیر اسلامی نظام حکومت اور غیر اسلامی قانون ہی نافذ رہا۔‘‘
یہاں پھر کھلا ہوا تناقض پایا جاتا ہے جس کی طرف صاحب موصوف نے اپنے مدعا کی دُھن میں توجہ نہیں فرمائی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے آخر یہ کس قسم کی وحدانیت کی تبلیغ فرمائی تھی؟ اگر اس ’وحدانیت‘ کے معنی یہ تھے کہ وہ پوجا جو معبد میں کی جاتی ہے اور وہ اطاعت قانون جس پر سوسائٹی کا نظم اور ملک کا انتظام قائم ہوتا ہے‘ ایک ہی خدا کے لیے ہو‘ یعنی پوری زندگی دین اللہ کی تابع ہو جائے‘ تو خان بہادر صاحب کی تاویل کے لحاظ سے حضرت یوسف ؑ نے نوکری کرکے خود اپنی اس تبلیغ ِ حق کے خلاف عمل کیا، اور اگر یہ تبلیغ اس بات کی تھی کہ معبد میں’’دین ُ اللہ‘‘ جاری ہو اور ملک اور سوسائٹی کا سارا انتظام ’دین الملک‘ پر بدستور چلتا رہے، تو ظاہر ہے کہ یہ وحدانیت کی نہیں، بلکہ ثنویت اور دو عملی کی تبلیغ تھی۔
پھر مزید سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی رسالت کا اعلان آخر کس معنی میں کیا تھا؟ اگر انھوں نے بادشاہ سمیت تمام لوگوں سے کہا تھا کہ میں مالک زمین و آسمان کا نمائندہ ہوں، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘ جیسا کہ تمام انبیاء علیھم السلام کہتے رہے ہیں: کہ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ الشعراء26:108
تو اس اعلان کے ساتھ ان کا غیر مسلم بادشاہ کی آقائی تسلیم کرنا اور اس کی اطاعت میں اسلامی نظام کے بجائے، غیر اسلامی نظام کی خدمت انجام دینا کسی طرح مطابقت نہیں رکھتا، اور اگر انھوں نے یہ کہا تھا کہ لوگو! میں ہوں تو بادشاہِ ارض و سما کا نمائندہ‘ مگر میرا مسلک یہ ہے کہ بادشاہ مصر کی اطاعت کروں اور تم کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ اسی کی اطاعت کرو‘ تو صرف یہی نہیں کہ یہ ایک صریح متناقض بات کا اعلان تھا جس کا استقبال سنجیدگی کے بجائے قہقہے سے ہونا چاہیے تھا اور ایسا اعلان کرنے والے کو ایوان وزارت کے بجائے پاگل خانے میں جگہ ملنی چاہیے تھی‘ بلکہ آج بھی ایسی کتاب ہرگز ایمان لائے جانے کے قابل نہیں رہتی جو ایک طرف تو خود ہی یہ قاعدہ کلیہ بیان کرتی ہے کہ خدا نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لیے بھیجا ہے کہ اذنِ خداوندی کے تحت وہ مطاع بن کر رہے۔(وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ) النساء4:64‘ اور دوسری طرف وہی کتاب ایک ایسے شخص کو رسول بھی قرار دیتی ہے جو مطاع بن کر نہیں بلکہ غیر اللہ کا مطیع بن کر رہا اور دوسرے بندگانِ خدا کو بھی اذنِ خداوندی کے تحت اپنا نہیں، بلکہ اسی غیر خدا کا مطیع بناتا رہا۔ قرآن اپنے من جانب اللہ ہونے کے ثبوت میں خود یہ معیار پیش کرتا ہے کہ وَ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا النساء4:82
یعنی اگر یہ کتاب، اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتی تو لوگ اس میں بہت کچھ اختلافِ بیان پاتے‘ لیکن اگر ہم خان بہادر صاحب اور ان کے طرز خیال کے لوگوں کی تاویلات تسلیم کرلیں تو قرآن کے بیانات میں یہاں ایسے کھلے ہوئے تناقضات پائے جائیں گے جن سے قرآن آپ اپنے ہی پیش کردہ معیار کی رو سے اللہ کے سوا کسی اور کا کلام قرار پائے گا بلکہ وہ ’اور‘ بھی جس کی تصنیف اسے سمجھا جائے گا بہرحال کوئی صحیح الدماغ انسان تو نہ ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ خان بہادر صاحب جس طرز خیال کی نمائندگی فرما رہے ہیں وہ اپنے پیچھے اخلاقی انحطاط کی ایک طویل اور درد ناک تاریخ رکھتا ہے۔
تفریقِ دین و سیاست کا تاریخی اور نفسیاتی جائزہ
مسلمان جب اپنے اصل مقصد کو بھول کر اور اپنے حقیقی مشن کو چھوڑ کر دنیا پرستی میں مبتلا ہوگئے اور دین داری کے معنی ان کی نگاہ میں صرف یہ رہ گئے کہ عبادات اور معاشرت میں چند شرعی طور طریقوں کی پابندی کی جاتی رہے‘ خواہ مقاصد ِ زندگی وہی ہوں جو دنیا پرستوں کے ہوتے ہیں‘ خواہ نظام اجتماعی کی زمامِ کار صالحین کے ہاتھ میں ہو یا فجار کے ہاتھ میں‘ اور خواہ اجتماعی امامت اپنے اصول اور نصب العین کے اعتبار سے اسلامی ہو یا غیر اسلامی‘ تو اس غفلت کی سزا اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں اس شکل میں دی گئی کہ ان کی بڑی بڑی آبادیاں پے درپے کفار کی تابع فرمان ہوتی چلی گئیں، لیکن انھوں نے اور ان کے علما نے اسے سزا سمجھنے اور اس اصلی قصور کی‘ جس کی پاداش میں یہ سزا ملی تھی‘ تلافی کرنے کے بجائے الٹا یہ سوچنا شروع کر دیا کہ نظامِ کفر میں ’اسلامی زندگی‘ کیسے بسر کی جائے۔ چنانچہ ’اضطرار‘ کے بہانے سے اس شرعی اور اسلامی زندگی کا ایک نیا نقشہ مرتب کیا گیا جو غیر شرعی اور غیر اسلامی نظام کے اندر بسر کی جاسکے۔
اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید سزائوں کا سلسلہ شروع ہوا تاکہ انھیں آزمایا جائے کہ یہ سنبھل کر پلٹتے ہیں یا اپنی ضلالت میں بعید سے بعید تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اضطرار جسے ابتداء ً صرف ایک ہی اضطرار سمجھا گیا تھا‘ اللہ کی سنت کے مطابق آگے بڑھا اور اس نے دائمی‘ روز افزوں اور غیر متناہی اضطراروں کی شکل اختیار کرلی۔ ہر نئے اضطرار نے مطالبہ کیا کہ جو حدود تم نے کفر کے اندر اسلام اور کفر کے ماتحت اسلامی زندگی کے لیے تجویز کیے ہیں انھیں سکیڑو اور سکیڑتے چلے جائو، مگر یہ جتنے عذاب اللہ کی طرف سے آئے ان میں سے کسی نے بھی مسلمانوں کی آنکھیں نہ کھولیں اور انھوں نے مستقل طور پر یہ قاعدہ ہی طے کرلیا کہ واقعی ہر اضطرار کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اسلامی زندگی کے حدود سکیڑتے رہیں اور تسلط کفر کی حدوں کو پھیلنے دیں۔
پھر اس ’اضطرار‘کے تصور نے بھی انھیں ستانا شروع کیا، کیونکہ اضطرار کے نیچے حرمت کا تصور لازماً موجود رہتا ہے۔ کوئی صاحب عقل آدمی اس صریح بات کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جب آپ محض مضطر ہونے کی وجہ سے سور کا گوشت کھائیں گے تو بہرحال سور آپ کی نگاہ میں حرام تو ضرور ہی رہے گا اور جب اسے آپ فی الاصل حرام سمجھتے ہوئے مجبوراًکھائیں گے تو ناممکن ہے کہ آپ کے دل میں نفرت و کراہت نہ ہو،ٗ ناممکن ہے کہ آپ اس سے لذت لیں‘ شوق سے کھائیں‘ زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے اور پیٹ بھر کر کھانے کی کوشش کریں اور اس کے کباب اور قورمہ اور پلائو پکوانے کی فکر کریں۔ ایسے ہی اجتناب اور تنفر کا جذبہ ان تمام معاملات میں ناگزیر طور پر پیدا ہوتا ہے جنھیں آپ حقیقت کے اعتبار سے حرام سمجھتے ہوں اور صرف اضطرار کی وجہ سے اپنے لیے عارضی طور پر جائز کرلیں، مگر ایک پوری قوم کا اپنی زندگی کے سارے تمدنی‘ معاشی‘ سیاسی معاملات میں دائماً اس طرح رہنا کہ اس پر اضطرار کی شرعی و نفسیاتی کیفیت طاری رہے‘ اور وہ حاضر الوقت نظام زندگی سے نفرت و کراہیت کے ساتھ ہمہ گیر اجتناب کرتی رہے‘ اور صرف اس حد تک اس سے تعلق رکھے جس حد تک ایسا تعلق جینے کے لیے ناگزیر ہو‘ عملاً محال ہے۔ ایسی حالت کو ایک قلیل مدت سے زیادہ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ بہت جلدی طبائع اس سے تھک جاتی ہیں۔ چنانچہ یہ تھکاوٹ بھی مسلمانوں میں ٹھیک اپنے وقت پر پیدا ہوئی لیکن پہلے سے دینی انحطاط جس تسلسل کے ساتھ بڑھتا چلا آرہا تھا اس نے ان تھکنے والوں کے ذہن کو اس طرف متوجہ نہ ہونے دیا کہ اپنے اُس غلط نظریے پر نظر ثانی کرتے جو ’نظام کفر میں اسلامی زندگی‘ کے امکان کے متعلق انھوں نے ابتداء ً قائم کیا تھا اور اس حالتِ اضطرار کو ختم کرنے کی تدبیریں سوچتے جس کی وجہ سے وہ ہر طرف ہر شعبۂ زندگی میں حرمتوں سے محصور اور خبائث میں مبتلا ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔ اس کے برعکس دینی انحطاط کی سابق رفتار انھیں جس رخ پر بڑھا لے گئی وہ یہ تھا کہ سرے سے ’اضطرار‘ کے بہانے ہی کو ختم کر دیں‘ تاکہ جو حرمتیں نظامِ کفر میں ترقیات اور آسائشوں کے دروازے ان پر بند کیے ہوئے ہیں وہ ٹوٹ جائیں اور اباحت و حلت میں تبدیل ہو کر رہیں۔
اس غرض کے لیے دین کا ایک نیا نظریہ قائم کیا گیا۔ وہ نظریہ یہ تھا کہ دین کا تعلق صرف عقائد و عبادات اور چند معاشرتی امور مثل نکاح و طلاق وغیرہ سے ہے۔ اگر ان معاملات میں کوئی نظامِ حکومت مسلمانوں کو امن دینے کا ذمہ لے لے تو اسلامی زندگی کا اصل مدعا حاصل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد دارالکفر، دارالامن ہے۔ اس کی وفاداری و اطاعت لازم ہے‘ اس کے تحت سارے تمدنی معاملات (جو اس نئے نظریے کے مطابق ’’دنیا بمقابلہ دین‘‘ کے زیر عنوان آجاتے ہیں) انھی قوانین کے مطابق چلنے چاہییں جو کافرانہ اصولوں پر بنائے گئے ہوں‘ اور اس کی قانونی و انتظامی مشین کو چلانے میں‘ بلکہ اس کے تحفظ اور اس کی توسیع کے لیے جان کی قربانیاں تک دینے میں بھی کوئی ’مضائقہ‘ نہیں ہے۔لیکن یہ معاملہ صرف ’عدم مضائقہ‘ یا اباحت و حلت پر بھی نہ رکا۔ دارالکفرمیں مسلمانوں کی ضروریات نے جلد ہی انھیں مجبور کرنا شروع کیا کہ اپنی نئی نسلوں کو خدمت کفر کا شوق دلانے کی کوشش کریں، تاکہ ان نقصانات کی تلافی ہو جو اول اول کچھ مدت کے ’’مضائقے‘‘ نے انھیں پہنچایا تھا۔ اس لیے ایک آخری دلیل یہ تصنیف کی گئی کہ مسلمانوں کی ترقی و فلاح اور بعض حالات میں ان کی زندگی کا انحصار ہی اس بات پر ہے کہ وہ نظامِ کفر کے عدالتی‘ تشریعی‘ انتظامی‘ فوجی‘ صنعتی‘ غرض تمام شعبوں میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں‘ ورنہ امت کے وفات پا جانے یا کم از کم ترقی کی دوڑ میں غیر مسلموں سے پیچھے رہ جانے کا اندیشہ ہے۔ اس دلیل نے بہ یک جنبشِ قلم اسی چیز کو جو کل تک صرف مباح کے مقام پر تھی‘ فرض کے درجے پر پہنچا دیا اور واجب ہوگیا کہ اگر ساری قوم نہیں تو اس میں سے ایک طبقہ تو اس فرض کے انجام دینے کے لیے ضرور نکلتا ہی رہے‘ گویا حکم الٰہی یوں قرار پایا کہ:
فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَائِفَۃٌ لِیَتَفَقَّھُوْا فِی الْکُفْرِ وَلِیُضِلُّوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یُضِلُّوْنَ اور وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الشَّرِّ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْکَرِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ ‘
دین میں یہی وہ عظیم الشان ترمیم تھی جس کی بدولت بڑے بڑے متقی و دین دارحضرات تسبیحوں کو گردش دیتے ہوئے وکالت اور منصفی کے پیشوں میں داخل ہوئے‘ تاکہ جس قانون پر وہ ایمان نہیں رکھتے اس کے مطابق وہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کریں اور کرائیں، اور جس قانون پر ایمان رکھتے ہیں اس کی تلاوت صرف اپنے گھروں میں کرتے رہیں۔ اسی ترمیم کی بدولت بڑے بڑے صلحا و اتقیا کے بچے نئی درس گاہوں میں داخل ہوئے اور وہاں سے بے دینی و مادہ پرستی اور بداخلاقی کے سبق لے لے کر نکلے اور پھر اس نظامِ کفر کے صرف عملی حیثیت ہی سے نہیں بلکہ اکثر حالات میں اخلاقی اور اعتقادی حیثیت سے بھی خدمت گزار بن گئے جو ان کے اسلاف کی غفلتوں اور کمزوریوں کی بدولت ان پر ابتداء ً محض اوپر سے مسلط ہوا تھا۔ پھر اسی ترمیم نے یہاں تک نوبت پہنچائی کہ مردوں سے گزر کر جاہلیت اور ضلالت اور بداخلاقی کا طوفان عورتوں تک پہنچا۔ وہی ’فرض کفایہ‘ جسے ادا کرنے کے لیے پہلے مرد اٹھے تھے‘ عورتوں پر بھی عائد ہوگیا‘ اور ان بے چاریوں کو بھی آخر اس ’دینی خدمت‘ کی بجا آوری کے لیے نکلنا پڑا۔ نہ نکلتیں تو خطرہ تھا کہ کہیں غیر مسلم ان سے بازی نہ لے جائیں۔۲۲؎
کہیں یہ گمان نہ کر لیجیے گا کہ دین میں یہ ترمیم آج کچھ نئی ہوئی ہے۔ درحقیقت اس کی بنا آج سے صدیوں پہلے پڑ چکی تھی‘ جبکہ تاتار کے کفار مسلمانوں پر مسلط ہوئے تھے۔ صرف یہی نہیں کہ ’نظام کفر میں اسلامی زندگی‘ کا نقشہ پہلی مرتبہ اسی دور کے علما نے مرتب کیا تھا‘ بلکہ اسی زمانے میں بڑے بڑے علما و صلحا نے خود نظامِ کفر کی خدمت گزاری اختیار فرمائی تھی اور ان میں بکثرت لوگ وہ تھے جن کی کتابیں پڑھ پڑھ کر آج ہمارے مدارس عربیہ میں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین تیار ہوتے ہیں۔ اسی قدامت کی وجہ سے یہ غلطی اب ایک مقدس غلطی بن چکی ہے اور کوئی تعجب نہیں ہے اگر ہمارے زمانے کے فقیہ اور محدث اور مفسر سب اس میں مبتلا نظر آتے ہیں، لیکن یہ ظاہر ہے کہ غلط بات نہ اس دلیل سے صحیح ہوسکتی ہے کہ وہ پہلے سے ہوتی چلی آ رہی ہے اور نہ اس کو صحیح ثابت کرنے کے لیے یہی دلیل کافی ہے کہ بڑے بڑے لوگ اس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ حق کا اثبات اگر ہوسکتا ہے تو اللہ کی کتاب اور رسولوں کی سنت ہی سے ہوسکتا ہے۔
اس پورے انحطاط کے دوران میں‘ جو ابتدائی اضطرار کی بنا پر اسلام ’زیر سایہ کفر‘ کے نظریے سے شروع ہوا‘ پھر رفتہ رفتہ ’نظام کفر کی خدمت جائز ____ مستحب ____ فرض کفایہ ‘ کے نظریے تک پہنچا اور بالآخر گرتے گرتے اس انتہائی ذلیل نقطۂ نظر کی پستیوں میں جاگرا کہ ’معمولی آزادی دینے والے حکمرانوں کی وفاداری عین مقتضائے دین ہے۔‘ مسلمانوں کی کوشش برابر یہی رہی کہ اپنے تنزل کے ہر مرحلے میں نیچے اور زیادہ نیچے اترنے کے لیے دلیل بہرحال انھیں اللہ کے دین ہی سے ملنی چاہیے۔ یہ مطالبہ بظاہر تو ان کے زعم میں اس فارمولے پر مبنی تھا کہ’خدا کا دین چونکہ ہماری تمام ضرورتوں کا ضامن ہے، اس لیے جو ضرورتیں اب پیش آرہی ہیں ان کو پورا کرنے کے لیے بھی اسی دین سے ہم کو رہنمائی ملنی چاہیے‘ لیکن دراصل اس ظاہر فارمولے کے باطن میں جو حقیقی فارمولا چھپا ہوا تھا اور جس پر فی الواقع یہ لوگ کام کر رہے تھے وہ یہ تھا کہ جب ہم نے اس دین پر یہ احسان کیا ہے کہ اس کو اپنے ایمان سے سرفراز کیا تو اس کے بدلے میں کم سے کم جو فرض اس دین پر عائد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ ہمارے آگے چلنے کے بجائے ہمارے پیچھے چلنا شروع کردے۔ یعنی اب ہمارا اور اس کا تعلق یہ نہ ہو کہ ہم اسے اپنے اوپر اور خدا کی زمین پر قائم کرنے کی سعی کریں اور اس سعی کے سلسلے میں جو جو ضرورتیں ہم کو پیش آتی جائیں یہ انھیں پورا کرنے کی ضمانت لیتا جائے‘ بلکہ تعلق کی صورت اب یہ ہونی چاہیے کہ ہم اس کی اقامت کاکام‘ حتیٰ کہ اُس کا خیال تک چھوڑ کر اپنے نفس کی پیروی میں جس جس وادی کی خاک چھانتے پھریں اس میں یہ ہمارے ساتھ ساتھ گردش کرتا رہے اور جن جن ادیانِ باطلہ کے ہم تابع فرمان بنتے جائیں ،ان کے ماتحت ساری غلامانہ حیثیتیں یہ بھی اختیار کرتا چلا جائے اور اس کے منشاء کے خلاف جو جو طرز زندگی ہم قبول کریں ان میں پیش آنے والی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کا یہ ضامن ہو۔
چنانچہ اسی غلط نقطۂ نظر کو لیے ہوئے ان لوگوں نے قرآن و سنت میں رہنمائی تلاش کرنی شروع کی اور حاصل یہ ہوا کہ پورے قرآن میں اگر کسی چیز پر جاکر ان کی نگاہ ٹھیری تو وہ سورہ عنکبوت تھی‘ نہ بقرہ‘ نہ آل عمران‘ نہ انفال‘ نہ توبہ‘ بلکہ سورہ یوسف تھی۔ اور اس کے بھی صرف وہ مقامات جن سے خان بہادر صاحب استدلال فرما رہے ہیں۔ اسی طرح پوری سیرت نبوی میں بھی اگر کوئی چیز ان کو قابلِ اتباع ملی تو وہ نہ مکے کی تپتی ہوئی ریت تھی‘ نہ طائف کی سنگ باری‘ نہ بدر و احد کے میدان‘ بلکہ صرف یہ واقعہ کہ مسلمانوں کی ایک جماعت ہجرت کرکے حبش گئی تھی اور وہاں ایک عیسائی بادشاہ کے ماتحت چند سال رعایا بن کر رہی، لیکن جو شخص مطلب جُو ذہنیت نہ رکھتا ہو بلکہ طالب حق ہو اس کے لیے یہ سوال غایت درجہ اہمیت رکھتا ہے کہ درحقیقت یوسف علیہ السلام کے زیر بحث واقعات سے بھی کیا وہی نتیجہ نکلتا ہے‘ جو یہ حضرات نکالنا چاہتے ہیں؟ اور اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ وہی نتیجہ نکلتا ہے‘ یعنی یہ کہ ایک نبی نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت ایک نظامِ کفر کی خدمت اور غیر الٰہی قانون (دین الملک) کے اجراء و نفاذ کی ذمے داری اسی غرض کے لیے قبول کی تھی کہ ایسا کرنا فی نفسہٖ مقصود تھا‘ یہ کہ مسلمانوں نے مکہ سے حبش کی طرف اسی بنیاد پر ہجرت کی تھی کہ ایک مسلم جماعت کے لیے ایک غیر مسلم نظام تمدن و سیاست بالکل ایک موزوں جائے قیام ہے، بشرطیکہ وہ مسجد میں اپنے منشا کے مطابق پوجا کرلینے کی اور اپنے سینے میں کچھ عقائد رکھ لینے اور زبان سے ان کے پھاگ اڑا لینے کی اس کو اجازت دے دے‘ تو اس کے بعد کچھ مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں جو اوپر کے سوال سے بدرجہا زیادہ اہم اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ بات مان لینے کے بعد تو یہی امر تحقیق طلب ہو جاتا ہے کہ:
۱۔ اللہ تعالیٰ نے جو دین انبیاء علیہم السلام کے ذریعے سے نوع انسانی کے لیے بھیجا آیا وہ صرف عبادت گاہ کے لیے تھا یا پوری انسانی زندگی کے لیے؟
۲۔ اور جو انبیاء اس دین کو لے کر آئے وہ سارے کے سارے ایک ہی مقصد کے لیے آئے تھے اور ایک ہی ان کا مشن تھا، یا مختلف مقاصداور مختلف مشنوں کے لیے‘ جن میں سے بعض مشن بعض کی ضد پڑتے ہوں؟
۳۔ اور یہ کہ انسان سے اللہ تعالیٰ کا مطالبہ فی الواقع کیا ہے؟ ____ اپنی پوری زندگی میں اس کی بندگی کرے اور اسی کے قانون کی متابعت میں کام کرے، یا صرف پوجا اس کی کرتا رہے اور باقی اپنے سارے معاملات جن طریقوں پر چاہے چلائے؟
ان سوالات کا ایک جواب یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ نے جو دین بھیجا ہے اُس کا تعلق صرف اس محدود زندگی سے ہے جو آج کل کے تصور کے لحاظ سے ’مذہبی‘ کہلاتی ہے، مگر یہ مان لینے کے بعد قرآن میں اور دوسری کتب آسمانی میں تمدن‘ معاشرت‘ معیشت‘ سیاست‘ قانون دیوانی و فوج داری‘ ضوابط شہادت و عدالت اور مسائل صلح و جنگ وغیرہ کے متعلق جو ہدایات دی گئی ہیں وہ سب بے معنی قرار پاتی ہیں، یا پھر ان کی حیثیت احکام کی نہیں، بلکہ سفارشات کی رہ جاتی ہے جن پر عمل ہو جائے تو اچھا اور نہ ہو تو اللہ میاں کو کوئی خاص شکایت نہ ہوگی۔
اسی طرح دوسرے سوال کا جواب بھی یہ ہوسکتا ہے اور ہوسکتا کیا معنی‘ آج کل عام طور پر نبوت کا تصور یہی ہے کہ مختلف انبیاء مختلف مشن لے کر آئے ہیں، حتیٰ کہ ایک نبی کا مقصد بعثت اگر یہ رہا ہے کہ نظامِ کفر کو توڑنے کے لیے لڑے اور اس کی جگہ نظامِ اسلامی کو زمین پر حکمران ہونے کی حیثیت سے قائم کرے تو دوسرے نبی کا مقصد بعثت اس کے برعکس یہ رہا ہے کہ نظامِ کفر کے اندر نہ صرف یہ کہ محدود قسم کی مذہبی و اخلاقی اصلاح پر اکتفا کرے‘ بلکہ اس نظامِ کفر کا مطیع و وفادار بن کر رہے اور موقع ملے تو اس کو چلانے اور فروغ دینے کے لیے خود اپنی خدمات پیش کر دے، مگر یہ بات نہ تو قرآن کے بیان کے مطابق ہے جو پورے زور کے ساتھ یہ تصور پیش کرتا ہے کہ سارے انبیاء ؑ کا مقصد بعثت ایک ہی تھا اور نہ عقل یہ باور کرنے کے لیے تیار ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایسی متضاد اور باہم متصادم حرکات کا ظہور ہوسکتا ہے۔ شاید کوئی معقول آدمی بھی اس خدا کوایک حکیم خدا ماننے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا جو انسانوں کی طرف اپنے پیغمبر کبھی کسی مقصد کے لیے بھیجے اور کبھی اس کے بالکل برعکس کسی دوسرے مقصد کے لیے۔
یہ الگ بات ہے کہ ایک نبی نظام اسلامی کو قائم کرنے کی جدوجہد میں کامیابی کے آخری مرحلوں پر پہنچ جائے‘ دوسرا نبی بیچ کے کسی مرحلے میں یا ابتدائی مرحلے ہی میں آخر وقت تک کام کرتا رہے اور کوئی تیسرا نبی دعوت و تبلیغ یا جنگ کے بجائے کسی درمیانی صورت کو اپنے مخصوص حالات میں قابل عمل پا کر اسے اختیار کرلے، اور ان اشکال کے اختلاف کے باوجود مقصد سب کا ایک ہی ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے نظام زندگی کو مکمل طور پر دنیا میں قائم کرنے کی سعی کرنا‘ لیکن اس اختلافِ اشکال کو یہ معنی پہنانا کہ انبیاء کے مقاصد بعثت ہی سرے سے مختلف و متضاد تھے‘ اللہ پر ایسا بہتان لگانا ہے جس سے بدتر بہتان شاید کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔
اس طرح تیسرے سوال کا جواب یہ بھی ہوسکتا ہے اور آج کل کے مسلمان بالعموم یہی سمجھتے ہیں کہ انسان سے اللہ تعالیٰ کا مطالبہ صرف اتنا ہی ہے کہ وہ اس کی پوجا کرلیا کرے اور کچھ مسائل غسل و طہارت اور چند مخصوص حدودِ حلال و حرام کی پابندی کرلے۔ اس سے آگے نہ اللہ کا کوئی مطالبہ ہے اور نہ اس سے کچھ بحث کہ آدمی زندگی کے وسیع تر معاملات میں اپنے نفس کے قوانین کی پیروی کرتا ہے، یا ان شیاطینِ جن و انس کے احکام کی جو اس کی وسیع زمین پر مسلط ہوگئے، مگر یہ جواب موجودہ زمانے کے دنیا پرستوں کے لیے خواہ کتنا ہی اطمینان بخش ہو اور خواہ ’الَدِّیْنُ یُسْرٌ‘ اور وَ مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ الحج22:78 کا یہ منشا قرار دے کر وہ اپنے لیے اس سے کتنی ہی سہولتیں پیدا کر لیں‘ بہرحال یہ تصور عبدیت و بندگی کے تصور کی قطعی نفی ہے۔ بندگی کا شاید اس سے زیادہ مضحکہ انگیز مفہوم کوئی اور نہیں ہوسکتا کہ بندہ چوبیس گھنٹوں میں سے دو گھنٹوں کے لیے بندہ ہو اور باقی اوقات میں آزاد‘ یا صرف آقا کو سلامی دے دینے پر اس کی بندگی ختم ہوجائے اور پھر سارے کام اسے اپنے، یا دوسروں کے منشا کے مطابق کرتے رہنے کی آزادی حاصل ہو۔ پھر وہ اللہ تو ہرگز اللہ مانے جانے کے قابل نہیں ہے جو ایک طرف اپنے آپ کو انسان کا خالق اور رب بھی کہتا ہو، اور دوسری طرف پورے انسان کو چھوڑ کر صرف اس کے ایک نہایت ہی قلیل اور غیر اہم جز تک اپنی آقائی و فرماں روائی کو اور اس کی بندگی و غلامی کو محدود رکھنے پر راضی ہو جائے۔ کوئی باپ اپنے بیٹے پر اپنی پدرانہ حیثیت کو‘ کوئی شوہر اپنی بیوی پر شوہرانہ حیثیت کو‘ کوئی حاکم اپنی مملکت اور اپنی رعایا پر اپنی حاکمانہ حیثیت کو اس حد تک محدود کرنے پر راضی نہیں ہوتا کہ چند مراسم اطاعت و وفاداری ادا ہو جانے کے بعد پدریت اور شوہریت اور حاکمیت کا مقتضا پورا ہو جائے اور پھر بیٹے کو اختیار ہو کہ جس جس کو چاہے اپنا باپ بناتا پھرے اور عورت کو اختیار ہو کہ جس جس کے لیے مناسب سمجھے وجۂ سکون بنتی پھرے‘ اور رعایا کو اختیار ہو کہ جس جس کے قانون کی چاہے پیروی کرے‘ جس کو چاہے ٹیکس دے اور جس کے احکام کی چاہے اطاعت کرتی رہے، مگر یہ اللہ آخر کیسا اللہ ہے کہ جو انسان سارے کا سارا اس کی مخلوق اور اسی کا پروردہ ہے اور اسی کے بل پر قائم و موجود ہے‘ اس پر وہ اپنی آقائی کو محدود کر لینے اور اس سے بندگی کی چند رسمی باتیں قبول کرکے اسے خود مختار، یا ہر ایک کی غلامی کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دینے پر راضی رہے؟
دین اور نبوت اور تقاضائے عبدیت کے یہ تصورات اگر صحیح نہیں ہیں‘ اگر فی الواقع اللہ کا بھیجا ہوا دین انسان کی ساری اجتماعی و انفرادی زندگی سے تعلق رکھتا ہے‘ اگر اللہ کا مطالبہ اپنے بندوں سے یہی ہے کہ وہ ہر حیثیت سے اس کے قانون کے پیرو اور اس کی ہدایت کے متبع ہو کر رہیں اور اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو اسی غرض سے بھیجا تھا کہ وہ اس برحق نظام زندگی کو قائم کرنے کی دعوت دیں اور اسی کی اقامت کے لیے سعی کریں جو خدائے واحد کی اطاعت پر مبنی ہو‘ تو کسی معقول آدمی کے لیے یہ تسلیم کرنا سخت مشکل ہے کہ سارے نبیوں میں سے تنہا ایک حضرت یوسف علیہ السلام ہی ایسے انوکھی قسم کے نبی تھے جن کے سپرد دین اللہ کو قائم کرنے کی سعی کے بجائے یہ خدمت کی گئی تھی کہ دین ِ الملک کے تحت وزارت مال کی نوکری کریں اور اسی طرح کوئی معقول آدمی ان دو متضاد باتوں کو بھی باہم منطبق نہیں کرسکتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف تو عرب کے غیر اسلامی نظام میں دین حق کی اقامت کے لیے جدوجہد بھی فرما رہے تھے اور دوسری طرف آپؐ کے نزدیک حبش کا غیر اسلامی نظام اس درجہ برحق بھی تھا کہ ایک مسلم جماعت کے لیے وہ ایک مناسب جائے قیام ہو سکتا تھا۔ جو لوگ دین کو ایک معقول و متناسب نظام فکر کی حیثیت سے نہیں دیکھتے‘ بلکہ اس کو منتشر اور ایک دوسرے سے بے تعلق اجزا کا مجموعہ سمجھتے ہیں‘ ان کے لیے تویہ بہت آسان ہے کہ انبیاء کے حالات زندگی‘ قرآن کی تعلیمات اور دین کے احکام و اوامر کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہر ایک کی ایسی تاویلیں اور تفسیریں کریں جن سے ایک جز دوسرے جز سے اور ایک پہلو دوسرے پہلو سے صریح تناقض کا رنگ اختیار کرلے، لیکن اس دین کو ایک حکیم کے بنائے ہوئے مرتب و مربوط اور متناسب نظام کی حیثیت سے دیکھنے والوں کے لیے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ اس کے ہر پہلو اور ہر جز کی وہی تفسیر و تاویل اختیار کریں جو کلی نظام کے مزاج سے مناسبت رکھتی ہو اور کسی ایسی تعبیر کو‘ خواہ وہ کیسے ہی بڑے علما کی طرف سے پیش کی گئی ہو‘ قبول نہ کریں جس سے اس دین کے اندر تناقض اور اس کی تعلیمات اور انبیاء علیہم السلام کے کاموں کے درمیان تصادم لازم آتا ہو۔
اب ہم سورۂ یوسف کے زیر بحث مقامات اور ہجرت حبشہ کے واقعات سے براہ راست بحث کریں گے۔
قصۂ یوسف علیہ السلام سے غلط استدلال
حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ جس طریقے سے سورۂ یوسف میں بیان ہوا ہے اس پر غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ آنجناب قبل اس کے کہ نبوت سے سرفراز ہوتے، اپنے بھائیوں کی غداری اور ایک تجارتی قافلے کی خیانت کی بدولت عزیز مصر کے مملوک ہو چکے تھے۔ اس مملوکیت کے زمانے میں‘ یا اس کے بعد جب کہ آپ قید کیے جاچکے تھے‘ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت کا منصب عطا کیا گیا ____ اغلب یہی ہے کہ یہ سرفرازی قید ہی کے زمانے میں ہوئی ہوگی‘ کیونکہ قید ہونے سے پہلے آپ کے کلام کا انداز پیغمبرانہ شان کا نہیں‘ بلکہ صرف ایک مرد صالح کا سا نظر آتا ہے ____ اس حالت میں جب آپ نبوت سے سرفراز ہوئے تو آپ نے معاً اپنی پیغمبرانہ دعوت کی ابتدا کر دی اور ساتھ کے قیدیوں ہی کو اس چیز کی طرف بلانا شروع کر دیا جس کے لیے آپ مامور ہوئے تھے۔ اس دعوت کا خلاصہ سورۂ یوسف (رکوع ۵ آیات: ۳۶۔۴۲ ) میں بیان ہوا ہے جس کا مطالعہ کرکے آج بھی ہر شخص یہ دیکھ سکتا ہے کہ ان کا بلاوا ’ئَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ‘ کی بندگی کی طرف نہیں تھا‘ بلکہ ایک رب کی بندگی کی طرف تھا اور وہ بار بار اہل مصر پر یہ واضح کرتے رہے تھے کہ جس بادشاہ کو تم نے رب بنا رکھا ہے وہ میرا رب نہیں ہے‘ بلکہ میرا رب اللہ ہے اور جس ملت کی میں پیروی کرتا ہوں وہ اللہ ہی کی بندگی سے عبارت ہے۔ یہ تبلیغ جو وہ قید خانے میں کر رہے تھے‘ اس کے دوران میں یکایک یہ صورت حال پیش آئی کہ دیانت وتقویٰ اور حکمت و بصیرت کے جو غیر معمولی نشانات ان کی ذات سے ظاہر ہوئے تھے‘ فرماں روائے مصر اُن سے متاثر ہوگیا اور اس حد تک متاثر ہوا کہ انھیں یہ توقع ہوگئی کہ اگر وہ سلطنت کے پورے اختیارات اس سے مانگیں تو وہ انھیں دینے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔ اب یوسف علیہ السلام کے سامنے دو راستے تھے:
٭ ایک راستہ یہ کہ وہ اسلامی انقلاب کے لیے دعوت عام‘ جدوجہد‘ کشمکش اور جنگ کے طویل عمل ہی کو اختیار کریں‘ جو عام حالات میں اختیار کرنا پڑتا ہے۔
٭ دوسرا راستہ یہ کہ وہ اس موقع کو جو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ان کے ہاتھ آگیا تھا‘ استعمال کریں اور عقیدت مند بادشاہ سے جو اختیارات مل رہے تھے‘ انھیں لے کر ملک کے نظام فکر و اخلاق اور نظام تمدن و سیاست کو بدلنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ نے جو بصیرت اُن کو عطا کی تھی اس کی بنا پر انھوں نے پہلے راستے کی بہ نسبت دوسرے راستے کو اپنے مقصد کے لیے مفید تر اور اپنی منزل مقصود سے قریب تر سمجھا اور اسے اختیار کرلیا۔
یہ غیر اسلامی نظام کی نوکری نہیں تھی جو پیٹ پالنے کے لیے‘ یا ذاتی جاہ و منزلت کے لیے‘ یا نظامِ فاسد کے جزوی مصالح کے لیے کی گئی ہو‘ بلکہ یہ ایک تدبیر تھی جو اسی ایک مقصد کے لیے اختیار کی گئی تھی جس کے لیے تمام انبیاء علیہم السلام کی طرح حضرت یوسف علیہ السلام بھی مبعوث ہوئے تھے۔ جن لوگوں نے اسے محض نوکری سمجھا ہے اور یہ خیال کیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے نظام اسلامی کے قیام کے لیے اس کو ذریعہ ہونے کی حیثیت سے نہیں، بلکہ اس غرض کے لیے حاصل کیا تھا کہ کافرانہ نظام بدستور قائم رہے اور وہ اس کے تحت بس فائنانس منسٹر کی خدمت انجام دیتے رہیں‘ ان کے نزدیک حضرت یوسف علیہ السلام کا مرتبہ موجودہ حکومتوں اور ریاستوں کے تنخواہ دار ملازموں سے کچھ بھی بلند نہیں ہے۔ حتیٰ کہ اتنا بلند بھی نہیں جتنا ہمارے اس ملک میں کانگریسی وزارتوں کا مقام ثابت ہوا ہے۔ جن کا طرز عمل تمام ملک دیکھ چکا ہے کہ جب تک انھیں اپنے مقصد (آزادی ملک) کے لیے وزارت کے مفید ہونے کا یقین نہ ہوگیا‘ انھوں نے اور ان کے کسی گرے پڑے شخص نے بھی وزارت قبول کرنے کا خیال تک نہ کیا اور پھر جب وزارتیں قبول کیں تو یہ دیکھ کر کہ فی الواقع جوہر اقتدار (substance of power)ان کی طرف منتقل نہیں کیا گیا ہے‘ انھوں نے تمام وزارتوں کو لات مار دی۔
یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ اختیارات بادشاہ سے مانگے گئے تھے، یا اس سے چھینے گئے تھے‘ اور نہ یہ بات کوئی اہمیت رکھتی ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے برسراقتدار آتے ہی بادشاہ معزول کر دیا گیا، یا تخت ِ سلطنت پر قائم رہا۔ اصل اہمیت جو چیز رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے جو منصب طلب کیا تھا وہ آیا کافرانہ نظام کو چلانے کے لیے اور اس کی ملازمت قبول کرنے کی خاطر کیا تھا، یا اپنے مقصد ِ بعثت یعنی نظام اسلامی کو قائم کرنے کی خاطر۔ دوسری چیز جو اہمیت رکھتی ہے وہ یہ کہ آیا فی الواقع ان کو ایسے اختیارات ملے تھے یا نہیں، جن سے وہ ملک کے نظام میں تبدیلی کرنے کے قابل ہوسکتے؟ ہمارے نزدیک دین اور نبوت کے پورے تصور کا تقاضا یہ ہے کہ ہم حضرت یوسف علیہ السلام کے مطالبے ’اِجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ یوسف12:55 کا مقصد نظام اسلامی کا قیام سمجھیں اور یہ سمجھیں کہ خزائن الارض کے مطالبے سے حضرت یوسف علیہ السلام کا مدعا یہ تھا کہ ملک کے تمام ذرائع و وسائل (resources)ان کے ہاتھ میں دیے جائیں۔
خان بہادر صاحب خواہ مخواہ خزائن کے لفظ کو مالیات کے معنی میں لے رہے ہیں۔ حالانکہ قرآن میں کہیں بھی یہ لفظ مالیات کے معنوں میں نہیں آیا ہے۔ قرآنی تعلیمات کا تَتَبُّعْ کرنے سے یہ بات واضح ہوسکتی ہے کہ اس لفظ کا مفہوم وہی ہے جو ’ذرائع و وسائل‘ کا مفہوم۲۳؎ ہے‘ اور ظاہر بات یہ ہے کہ کسی شخص کے ہاتھ میں کسی ملک کے تمام ذرائع و وسائل کا ہونا اور اس کا ملک کے تمام سپید و سیاہ پر متصرف ہو جانا‘ دونوں بالکل ہم معنی ہیں۔ اسی بات کی تصدیق بائبل سے بھی ہوتی ہے جس میں بصراحت یہ بیان ہوا ہے کہ فرعون مصر صرف برائے نام بادشاہ رہا ورنہ تمام ملک عملاً حضرت یوسف علیہ السلام کے زیر نگیں ہوگیا۔۲۴؎
اب رہا یہ دعویٰ کہ حضرت یوسف ؑ کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد بھی ملک میں سکہ تو دین الملک ہی کا رواں رہا، جیسا کہ آیت ’ مَا کَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ‘ سے ظاہر ہوتا ہے‘ تو اس کے متعلق پہلی بات تو یہ ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ عام طور پر اس آیت کا جو ترجمہ کیا جاتا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ مترجمین اس کا مفہوم یہ لیتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام دین الملک کے تحت اپنے بھائی کو نہیں پکڑ سکتے تھے۔ حالانکہ اس کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ یوسف ؑ کاکام یہ نہ تھا‘ یا یوسف ؑ کے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ اپنے بھائی کو دین الملک کے تحت پکڑتا۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی اس محاورے کا مفہوم عدم قدرت نہیں‘ بلکہ عدم موزونیت و عدم مناسبت ہی ہے۔ مثلاً: مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ آل عمران3:179 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تم کو غیب پر مطلع نہیں کرسکتا‘ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ تمھیں غیب پر مطلع کرے۔ اسی طرح مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْالبقرہ 2:143 ، مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْالتوبۃ9:70 اور مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ آل عمران3:179 میں اللہ تعالیٰ کی عدمِ قدرت کا ذکر نہیں ہے‘بلکہ یہ ذکر ہے کہ ظلم اور اضاعتِ ایمان اور مومنین و منافقین کو خلط ملط چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ کا طریقہ نہیں ہے اور خود سورۂ یوسف میں اس آیت سے پہلے ایک مقام پر جو ارشاد ہوا ہے‘ مَا کَانَ لَنَآ اَنْ نُّشْرِکَ بِاللّٰہِ مِنْ شَیْئٍیوسف12:38تو اس کے معنی بھی یہ نہیں ہیں کہ ہم خدا کے ساتھ کسی کو شریک کرنے پر قادر نہیں ہیں‘ بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ’’ہم لوگوں کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کریں‘‘ پس آیت زیر بحث کو بھی یہ معنی پہنانا صحیح نہیں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام دین الملک پر عمل کرنا چاہتے تھے مگر اس کے تحت اپنے بھائی کو گرفتار نہیں کرسکتے تھے‘ بلکہ قرآنی استعمالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کا صحیح مطلب یہی ہے کہ دین الملک کے تحت اپنے بھائی کو گرفتار کرنا یوسف علیہ السلام کے شایانِ شان نہیں تھا۔ البتہ اس آیت سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے صاحب اقتدار ہونے کے باوجود غیر اسلامی قانون تعزیرات کم از کم سات آٹھ برس بعد تک (جب کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی وہاں پہنچے تھے) ملک میں نافذ تھا، لیکن اس کے متعلق اس سے پہلے بھی ہم یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ ایک ملک کے نظامِ تمدن کو ایک رات کے اندر کلی طور پر تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور اسلامی انقلاب کا یہ تصور صحیح نہیں ہے کہ اقتدار ہاتھ میں آتے ہی جاہلیت کے تمام قوانین و رسوم کو یک لخت بدل ڈالا جائے۔ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی ملک کے نظام تمدن کو کلی طور پر تبدیل کرنے میں پورے دس برس لگے تھے۔ لہٰذا حضرت یوسف علیہ السلام کے دور حکومت میں چند سال تک غیر اسلامی قانون تعزیرات، یا اس کے ساتھ کچھ دوسرے غیر اسلامی قوانین بھی جاری رہے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے پیش نظر خدائی قوانین کا اجرا سرے سے تھا ہی نہیں اور وہ کافرانہ قوانین ہی ملک میں برقرار رکھنا چاہتے تھے۔
ہجرتِ حبشہ سے غلط استدلال
اب بحث ختم کرنے سے پہلے ذرا ایک نظر ہجرتِ حبشہ کے مسئلے پر بھی ڈال لیجیے۔
اس معاملے کو جس انداز سے پیش کیا جاتا ہے‘ وہ یہ ہے کہ حبش میں ایک غیر مسلم حکومت قائم تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی ایک جماعت کو وہاں بھیج دیا، تاکہ اس کی رعیت بن کر رہیں۔پھر صحابہ کرام وہاں غیر مسلم بادشاہ کے وفادار بن کر رہے کیونکہ انھیں اس کے ماتحت عقیدے اور پوجا کی آزادی حاصل تھی‘ اور جب ایک ہمسایہ بادشاہ نے اس کے ملک پر حملہ کیا تو انھوں نے اس کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگیں۔ لیکن یہ واقعات کی بالکل غلط نقشہ کشی ہے۔
٭ اول تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو حبش بھیجا تھا اُسی وقت آپؐ کو اس امر کا اندازہ تھا کہ نجاشی صالحین نصاریٰ میں سے ہے۔ چنانچہ حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ آپؐ نے مہاجرین سے اُس کی مملکت کے متعلق فرمایا تھا: وَھِیَ اَرْضُ صِدْقٍ (سیرت ابن ہشام،ج۱،ص۳۲۱)۔ (وہ ایک اچھی سرزمین ہے)
٭ دوسرے‘ مہاجرین کو وہاں بھیجنے کی غرض یہ نہ تھی کہ وہاں کی رعایا بن کر رہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کو ہجرت کا مشورہ دیتے وقت یہ فرمایا تھا کہ :
لَوْخَرَجْتُمْ اِلٰی اَرْضِ الْحَبَشَۃِ … حَتّٰی یَجْعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ فَرْجًا وَمَخْرَجًا۔ (سیرت ابن ہشام، ج۱، ص ۳۲۱)
کاش تم لوگ حبش کی طرف چلے جاتے یہاں تک کہ اللہ تمھارے لیے کوئی صورت نکالے۔
اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت پیشِ نظر صرف یہ چیز تھی کہ جو مسلمان کشمکش کے اس مرحلے میں اپنی قوت برداشت سے زیادہ مصائب کے شکار ہو رہے تھے ان کو آپ نے عارضی طور پر ایک ایسی جگہ بھیج دیا جہاں اس قسم کے مصائب کی توقع نہ تھی اور مقصود یہ تھا کہ بعد میں جب حالات سازگار ہو جائیں تو یہ لوگ وہاں سے واپس آجائیں۔ اس کو نظیر بنا کر یہ نتیجہ نکالنا آخر کس طرح صحیح ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کو اگر کسی غیر مسلم حکومت میں عقیدے اور پوجا کی آزادی حاصل ہو تو یہ اس کے تحت ان کے وفادار رعیت بن کر رہ پڑنے کے لیے کافی ہے اور اس کے آگے کچھ اور مطلوب نہیں ہے۔
۳۔ پھر جب مہاجرین وہاں پہنچے اور کفار مکہ نے نجاشی سے ان کو واپس مانگنے کے لیے اپنا وفد روانہ کیا اور حضرت جعفرؓ اور نجاشی کے درمیان مکالمہ ہوا تو محدثین اور اہلِ سیرت کی متفقہ روایت کے مطابق نجاشی نے نہ صرف یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اس عقیدے کی تصدیق کی جو قرآن میں بیان ہوا ہے‘ بلکہ مزید برآں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار بھی کیا۔ اس کے بعد نجاشی کے مسلمان ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے؟ امام احمد نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے (جو اس واقعے کے عینی شاہد ہیں) نجاشی کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ اس نے کہا:
مَرْحَبًا بِکُمْ وَلِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِہٖ اَشْھَدُ اَنَّہ‘ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَاَنَّہُ الَّذِیْ نَجِدُ فِی الْاِنْجِیْلِ وَاَنَّہُ الرَّسُوْلُ الَّذِیْ بَشَّرَ بِہٖ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ۔ (سیرت ابن ہشام، ج۳، ص۲۷۷)
خوش آمدید ہو تمھارے لیے اور ان کے لیے جن کے پاس سے تم آئے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور وہی ہیں جن کا ذکر ہم انجیل میں پاتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہی ہیں جن کی بشارت حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑ نے دی ہے۔
کیا یہ الفاظ کسی غیر مسلم کے ہوسکتے ہیں۔ بیہقی میں خود عمرو بن عاص سے (جو مہاجرین کو واپس لانے کے لیے کفار مکہ کی طرف سے حبش بھیجے گئے تھے) یہ الفاظ مروی ہیں کہ انھوں نے آکر اہلِ مکہ کو جو رپورٹ دی وہ یہ تھی کہ : اِنَّ اَصْحَمَۃَ یَزْعُمُ اَنَّ صَاحِبَکُمْ نَبِیٌّ (ایضاً)۔ اصحمہ نجاشی بیان کرتا ہے کہ تمھارا ساتھی نبی ہے۔
کیا کوئی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کرکے بھی غیر مسلم قرار پاسکتا ہے۔
ابن ہشام نے اپنی سیرت نبوی میں حضرت عمرو بن عاص کے قبول اسلام کا جو قصہ لکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوّل اوّل نجاشی ہی کی تبلیغ نے ان کے دل میں ایمان پیدا کیا تھا اور صلح حدیبیہ سے پہلے وہ نجاشی کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کر چکے تھے۔ اس موقع پر جو الفاظ اس نے حضرت عمرو بن عاص سے کہے تھے وہ یہ تھے کہ:
اَطِعْنِیْ وَاتَّبِعْہُ فَاِنَّہ‘ وَاللّٰہِ لَعَلَی الْحَقِّ وَلَیَظْھَرَنَّ عَلٰی مَنْ خَالَفَہ‘ کَمَا ظَھَرَ مُوْسٰی عَلٰی فِرْعَوْنَ وَجُنُوْدِہٖ۔ (ایضاً)
میری بات مانو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی قبول کرلو‘ کیونکہ وہ حق پر ہیں اور وہ اسی طرح اپنے مخالفین پر غالب آکر رہیں گے جس طرح موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کے لشکروں پر غالب آئے تھے۔
علامہ ابن عبدالبر نے استیعاب میں وہ خطبہ نقل کیا ہے جو نجاشی نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنھا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غائبانہ نکاح پڑھاتے ہوئے دیا تھا۔ اس میں صاف طور پر یہ الفاظ موجود ہیں:
اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَاَنَّہُ الَّذِیْ بَشَّرَبِہٖ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ۔
میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جن کی آمد کی خبر عیسیٰ ابن مریم نے دی تھی۔
ان سب سے بڑھ کر مستند و معتبر وہ روایت ہے جو بخاری و مسلم میں آئی ہے کہ نجاشی کی وفات کی خبر پاکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی اور فرمایا:
مَاتَ الْیَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ فَقُوْ مُوْا فَصَلُّوْا عَلٰی اَخِیْکُمْ اَصْحَمَۃَ۔ (بخاری، باب موت النجاشی)
آج ایک مرد صالح نے وفات پائی ہے‘ اٹھو اور اپنے بھائی اصحمہ کی نماز جنازہ پڑھو۔
اس کے بعد تو سرے سے اس استدلال کی بنا ہی منہدم ہو جاتی ہے جو ہجرتِ حبشہ کے واقعے سے کیا جاتا ہے۔۲۵؎


باب ۱

مسلمانوں کا سیاسی نظام کیا ہو؟ ہر مسلمان کی یہ دلی خواہش تھی اور ہے کہ اس کا اجتماعی نظام اسلام کی بنیادوں پر قائم ہو، لیکن آج کی دنیا میں مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اسلام سے محبت تو کرتے ہیں، مگر اس کا صحیح فہم نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اسلام کے لیے جان دینے کو تو تیار رہتے ہیں، مگر اسلام کے مطابق جینا نہیں جانتے۔
مسلمانوں کے ذہن کی اس حالت کو محسوس کرکے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اسلامی نظام حیات کے بنیادی خدوخال کو مناسب تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے ایک مقالہ ’’انٹرکالجیٹ مسلم برادر ہڈ لاہور‘‘ کے اجتماع منعقدہ اکتوبر ۱۹۳۹ء میں پڑھا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان ابھی تک اپنا کوئی واضح قومی مقصد متعین نہیں کرسکے تھے۔ مولاناؒ نے اپنے اس مقالے میں ملتِ اسلامیہ کو بتایا کہ اسلامی ریاست کی بنیادیں کیا ہیں۔ یہ ریاست کن مقاصد کے لیے قائم ہوتی ہے اور اس کے اساسی اصول کون کون سے ہیں۔
آئندہ صفحات میں یہی مقالہ نظرثانی کے بعد دیا جارہا ہے۔ تکرار سے بچنے کے لیے اصل مقالے کا وہ حصہ حذف کر دیا گیا ہے جس میں عملی پہلو کی طرف اشارے کیے گئے تھے، کیونکہ آئندہ ابواب میں مصنف محترم کی دوسری چیزیں پیش کی جا رہی ہیں جن میں وہ مباحث زیادہ تفصیل کے ساتھ آگئے ہیں۔(مرتب)

اسلام کا سیاسی نظریہ

ہندستان میں مسلمانوں کی جدید سیاسی بیداری اپنے جلو میں نت نئے مسائل لائی۔ ان میں سب سے زیادہ اہم یہ تھا کہ مستقبل میں

اسلام کے متعلق اس قسم کے فقرے آپ اکثر سنتے رہتے ہیں کہ یہ :
٭ ایک جمہوری نظام ہے۔
٭ اسلام آمریت کا حامی ہے۔
٭ اسلام سوشلزم کا علم بردار ہے، وغیرہ۔
پچھلی صدی کے آخر ی دور سے اس قسم کے فقروں کا بار بار اعادہ کیا جارہا ہے، مگر جو لوگ ان کو زبان سے نکالتے ہیں‘ مجھے یقین ہے کہ ان میں سے ایک فی ہزار بھی ایسے نہیں ہیں جنھوں نے اس دین کا باقاعدہ مطالعہ کیا ہو اور یہ سمجھنے کی کوشش کی ہو کہ اسلام کا نظام حیات کیا ہے اور اس میں جمہوریت کس حیثیت سے ہے اور کس نوعیت کی ہے‘ یا عدل اجتماعی اور سیاسی استحکام کے لیے اس نے کیا اصول وضع کیے ہیں۔
ان میں سے بعض لوگ تو اسلامی نظام جماعت کی چند ظاہری شکلوں کو دیکھ کر اس پر جمہوریت، یا آمریت، یا سوشلزم کا نام چسپاں کر دیتے ہیں اور اکثر ایسے ہیں جن کی ذہنیت کچھ اس طور پر بنی ہے کہ دنیا میں (اور خصوصاً عالمی قیادت پرفائز طاقتوں اور اپنے ممالک کے برسراقتدار لوگوں میں) جو چیز مقبول عام ہو، اس کو کسی نہ کسی طرح اسلام میں موجود ثابت کر دینا، ان کے نزدیک اس مذہب کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ شاید وہ اسلام کو اس یتیم بچے کی طرح سمجھتے ہیں جو ہلاکت سے بس اس طرح بچ سکتا ہے کہ کسی بااثر شخص کی سرپرستی اس کو حاصل ہوجائے، یا پھر غالباً ان کا خیال یہ ہے کہ ہماری عزت محض مسلمان ہونے کی حیثیت سے قائم نہیں ہوسکتی‘ بلکہ صرف اسی طرح قائم ہو سکتی ہے کہ ہم اپنے مسلک میں دنیا کے کسی چلتے ہوئے مسلک کے اصولوں کی جھلک دکھا دیں۔ اسی ذہنیت کا نتیجہ ہے کہ جب دنیا میں اشتراکیت کا غلغلہ بلند ہوا تو مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے پکارنا شروع کیا کہ اشتراکیت تو محض اسلام ہی کا ایک جدید ایڈیشن ہے، اور جب ڈکٹیٹر شپ کا آوازہ اٹھا تو کچھ دوسرے لوگوں نے اطاعت امیر‘ اطاعت امیر کی صدائیں بلند کرنی شروع کر دیں اور کہنے لگے کہ یہاں سارا نظامِ جماعت‘ ڈکٹیٹر شپ ہی پر قائم ہے۔ غرض اسلام کا نظریۂ سیاسی اس زمانے میں ایک چیستان‘ ایک چوں چوں کا مربہ بن کر رہ گیا ہے جس میں سے ہر وہ چیز نکال کر دکھا دی جاتی ہے جس کا بازار میں چلن ہو۔
ضرورت ہے کہ باقاعدہ علمی طریقے سے اس امر کی تحقیق کی جائے کہ فی الواقع اسلام کا سیاسی نظریہ ہے کیا۔ اس طرح نہ صرف ان پراگندہ خیالیوں کا خاتمہ ہو جائے گا جو ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں اور نہ صرف ان لوگوں کا منہ بند ہو جائے گا جنھوں نے حال میں علی الاعلان یہ لکھ کر اپنی جہالت کا ثبوت دیا تھا کہ:
’اسلام سرے سے کوئی سیاسی و تمدنی نظام تجویز ہی نہیں کرتا‘ بلکہ درحقیقت تاریکیوں میں بھٹکنے والی دنیا کے سامنے ایک ایسی روشنی نمودار ہو جائے گی جس کی وہ سخت حاجت مند ہے‘ اگرچہ اپنی اس حاجت مندی کا شعور نہیں رکھتی۔‘

۱۔بنیادی مُقدّمات

سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لیجیے کہ اسلام محض چند منتشر خیالات اور منتشر طریق ہائے عمل کا مجموعہ نہیں ہے جس میں اِدھر اُدھرسے مختلف چیزیں لاکر جمع کر دی گئی ہوں‘ بلکہ یہ ایک باضابطہ نظام ہے جس کی بنیاد چند مضبوط اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ اس کے بڑے بڑے ارکان سے لے کر چھوٹے چھوٹے جزئیات تک ہر چیز اس کے بنیادی اصولوں کے ساتھ ایک منطقی ربط رکھتی ہے۔ انسانی زندگی کے تمام مختلف شعبوں کے متعلق اس نے جتنے قاعدے اور ضابطے مقرر کیے ہیں ان سب کی روح اور ان کا جو ہر اس کے اصول اوّلیہ ہی سے ماخوذ ہے۔ ان اصول اوّلیہ سے پوری اسلامی زندگی اپنی مختلف شاخوں کے ساتھ بالکل اسی طرح نکلتی ہے جس طرح درخت میں آپ دیکھتے ہیں کہ بیج سے جڑیں‘ اور جڑوں سے تنا‘ اورتنے سے شاخیں اور شاخوں سے پتیاں پھوٹتی ہیں اور خوب پھیل جانے کے باوجود اس کی ایک ایک پتی اپنی جڑ کے ساتھ مربوط رہتی ہے۔ پس آپ اسلامی زندگی کے جس شعبے کوبھی سمجھنا چاہیں آپ کے لیے ناگزیر ہے کہ اس کی جڑ کی طرف رجوع کریں‘ کیونکہ اس کے بغیر آپ اس کی روح کو نہیں پاسکتے۔
انبیاء علیہم السلام کا مشن
اسلام کے متعلق دو باتیں قریب قریب ہر مسلمان کو معلوم ہیں:
ایک یہ کہ اسلام تمام انبیاء علیہم السلام کا مشن ہے۔ یہ صرف محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن ہی نہیں ہے، بلکہ انسانی تاریخ کے قدیم ترین دور سے جتنے انبیاء ؑ بھی اللہ کی طرف سے آئے ہیں، ان سب کا یہی مشن تھا۔
دوسری یہ کہ اللہ کی طرف سے جتنے انبیاء علیھم السلام بھی دنیا میں آئے ہیں ان کی آمد کا مقصدِ وحید خدائے واحد کی خدائی منوانا اور صرف اسی ایک کی عبادت کرانا تھا۔
جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ان کے لیے بظاہر یہ دونوں باتیں بالکل پیش پا اُفتادہ حقیقتیں ہیں۔ ہر مسلمان ان کو سن کر کہے گا کہ یہ معلوم و معروف باتیں ہیں جنھیں ایک دیہاتی مسلمان بھی جانتا ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ اس اجمال کا پردہ اٹھا کر ذرا آپ گہرائی میں اتریں۔ سب کچھ اسی پردے کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ تجسس کی نگاہ ڈال کر اچھی طرح دیکھیے کہ ایک اللہ کی خدائی منوانے سے مقصد کیا تھا؟ صرف اسی کی عبادت کرانے کا مطلب کیا تھا؟ اور آخر اس میں ایسی کون سی بات تھی کہ جہاں کسی اللہ کے بندے نے مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ۲۶؎ کا اعلان کیا اور ساری طاغوتی طاقتیں جھاڑ کا کانٹا بن کر اس کو چمٹ گئیں؟ اگر بات صرف اتنی ہی تھی جتنی آج کل سمجھی جاتی ہے کہ مسجد میں خدائے واحد کے سامنے سجدہ کرلو اور پھر باہر نکل کر حکومت ِ وقت (جو بھی وقت کی حکومت ہو) کی غیر مشروط وفاداری اور اطاعت میں لگ جائو تو کس کا سر پھرا تھا کہ اتنی سی بات کے لیے خواہ مخواہ اپنی وفادار رعایا کی مذہبی آزادی میں مداخلت کرتا۔
آئیے! ہم تحقیق کرکے دیکھیں کہ اللہ کے بارے میں انبیاء علیہم السلام کا اور دنیا کی دوسری طاقتوں کا اصل جھگڑا کس بات پر تھا۔
قرآن میں ایک جگہ نہیں بکثرت مقامات پر یہ بات صاف کر دی گئی ہے کہ کفار و مشرکین‘ جن سے انبیاء کی لڑائی تھی، اللہ کی ہستی کے منکر نہ تھے۔ ان سب کو تسلیم تھا کہ اللہ ہے اور وہی زمین و آسمان کا خالق اور خود ان کفار و مشرکین کا خالق بھی ہے، کائنات کا سارا انتظام اسی کے اشارے سے ہو رہا ہے، وہی پانی برساتا ہے، وہی ہوائوں کو گردش دیتا ہے، اسی کے ہاتھ میں سورج اور چاند اور زمین سب کچھ ہیں:
قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِيْہَآ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo سَيَقُوْلُوْنَ لِلہِ۝۰ۭ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَo قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِo سَيَقُوْلُوْنَ لِلہِ۝۰ۭ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَo قُلْ مَنْۢ بِيَدِہٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّہُوَيُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْہِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo سَيَقُوْلُوْنَ لِلہِ۝۰ۭ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ o المومنون 84-89:23
ان سے پوچھو کہ زمین اور جو کچھ زمین میں ہے وہ کس کا ہے‘ بتائو اگر تم جانتے ہو؟ وہ کہیں گے: اللہ کا ہے۔ کہو: پھر تم غور نہیں کرتے؟ ان سے پوچھو: ساتوں آسمانوں کا رب اور عرشِ عظیم کا رب کون ہے؟ وہ کہیں گے: اللہ۔ کہو: پھر تم اس سے ڈرتے نہیں؟ ان سے پوچھو: وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے اور وہ سب کو پناہ دیتا ہے مگر کوئی اس کے مقابلے میں کسی کو پناہ نہیں دے سکتا؟ بتائو اگر تم جانتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ اللہ۔ کہو: پھر تم کس دھوکے میں ڈال دیے گئے ہو؟
٭ وَ لَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ العنکبوت29:61
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ اور کس نے سورج اور چاند کو تابع فرمان بنا رکھا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ پھر آخر یہ کدھر بھٹکائے جارہے ہیں؟
٭ وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ مِنْ م بَعْدِ مَوْتِھَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ط
العنکبوت29: 63
اور اگر تم ان سے یہ پوچھو کہ کس نے آسمان سے پانی اتارا اور کس نے مری ہوئی زمین کو روئیدگی بخشی؟ وہ ضرور کہیں گے اللہ نے۔
وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ فَاَنّٰی یُؤْ فَکُوْنَ o الزخرف43:87
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ تم کو کس نے پیدا کیا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ پھر آخر یہ کدھر بھٹکائے جارہے ہیں؟
ان آیات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ کے ہونے میں اور اس کے خالق ہونے اور مالک ارض و سما ہونے میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ لوگ ان باتوں کو خود ہی مانتے تھے۔ لہٰذا ظاہر ہے کہ انھی باتوں کو منوانے کے لیے تو انبیاء کے آنے کی ضرورت تھی ہی نہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ انبیاء علیھم السلام کی آمد کس لیے تھی اور جھگڑا کس چیز کا تھا؟
قرآن کہتا ہے کہ سارا جھگڑا اس بات پر تھا کہ انبیاء کہتے تھے‘ جو تمھارااور زمین و آسمان کا خالق ہے وہی تمھارارب اور الٰہ بھی ہے‘ اس کے سوا کسی کو الٰہ اور رب نہ مانو، مگر دنیا اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہ تھی۔
آئیے! ذرا پھر تجسس کریں کہ اس جھگڑے کی تہہ میں کیا ہے؟ الٰہ سے کیا مراد ہے؟ رب کسے کہتے ہیں؟ انبیاء کو کیوں اصرار تھا کہ صرف اللہ ہی کو الٰہ اور رب مانو؟ اور دنیا کیوں اس بات پر لڑنے کھڑی ہو جاتی تھی؟
الٰہ اور رب کا مفہوم
الٰہ کے معنی آپ سب جانتے ہیں کہ معبود کے ہیں، مگر معاف کیجیے گا معبود کے معنی آپ بھول گئے ہیں۔ معبود کا مادہ عبد ہے۔ عبد بندے اور غلام کو کہتے ہیں۔ عبادت کے معنی: محض پوجا کے نہیں ہیں‘ بلکہ بندہ اور غلام‘ جو زندگی غلامی اور بندگی کی حالت میں بسر کرتا ہے‘ وہ پوری کی پوری سراسر عبادت ہے۔ خدمت کے لیے کھڑا ہونا‘ احترام میں ہاتھ باندھنا، اعتراف بندگی میں سرجھکانا‘ جذبۂ وفاداری سے سرشار ہونا‘ فرماں برداری میں دوڑ دھوپ اور سعی وجہد کرنا‘ جس کام کا اشارہ ہو اُسے بجا لانا‘ جو کچھ آقا طلب کرے اسے پیش کر دینا‘ اس کی طاقت و جبروت کے آگے ذلت اور عاجزی اختیار کرنا‘ جو قانون وہ بنائے اس کی اطاعت کرنا‘ جس کے خلاف وہ حکم دے اُس پر چڑھ دوڑنا‘ جہاں اُس کا فرمان ہو سر تک کٹوا دینا۔ یہ عبادت کا اصل مفہوم ہے اور آدمی کا معبود حقیقت میں وہی ہے جس کی عبادت وہ اس طرح کرتا ہے۔
اور ’رب‘ کا مفہوم کیا ہے؟ عربی زبان میں رب کے اصلی معنی: پرورش کرنے والے کے ہیں، اور چونکہ دنیا میں پرورش کرنے والے ہی کی اطاعت و فرماں برداری کی جاتی ہے، لہٰذا رب کے معنی مالک اور آقا کے بھی ہوئے۔ چنانچہ عربی محاورے میں مال کے مالک کو رَبُّ المال اور صاحب خانہ کو رَبُّ الدَّار کہتے ہیں۔ آدمی جس کو اپنا رازق اور اپنا مربی سمجھے‘ جس سے نوازش اور سرفرازی کی امید رکھے‘ جس سے عزت اور ترقی اور امن کا متوقع ہو‘ جس کی نگاہِ لطف کے پھر جانے سے اپنی زندگی برباد ہو جانے کا خوف کرے‘ جس کو اپنا آقا اور مالک قرار دے اور جس کی فرماں برداری اور اطاعت کرے وہی اس کا رب۲۷؎ہے۔
ان دونوں لفظوں کے معنی پر نگاہ رکھیے اورپھر غور سے دیکھیے‘ انسان کے مقابلے میں یہ دعویٰ لے کر کون کھڑا ہوسکتا ہے کہ میں تیرا الٰہ ہوں اور میں تیرا رب ہوں‘ میری بندگی و عبادت کر؟ کیا درخت؟ پتھر؟ دریا؟ جانور؟ سورج؟ چاند؟ تارے؟ کسی میں بھی یہ یارا ہے کہ وہ انسان کے سامنے آکر یہ دعویٰ پیش کرسکے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ وہ صرف انسان ہی ہے جو انسان کے مقابلے میں خدائی کا دعویٰ لے کر اٹھتا ہے اور اٹھ سکتا ہے۔ خدائی کی ہوس انسان ہی کے سر میں سما سکتی ہے۔ انسان ہی کی حد سے بڑھی ہوئی خواہشِ اقتدار یا خواہشِ انتفاع اسے اس بات پر ابھارتی ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کا الٰہ بنے‘ ان سے اپنی بندگی کرائے‘ ان کے سر اپنے آگے جھکوائے‘ ان پر اپنا حکم چلائے‘ ان کو اپنی خواہشات کے حصول کا آلہ بنائے۔ یہ الٰہ بننے کی لذت ایسی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی لذیذ چیز انسان آج تک دریافت نہیں کرسکا۔ جس کو کچھ طاقت یا دولت یا چالاکی یا ہوشیاری یا کسی نوع کا کچھ زور حاصل ہے وہ یہی چاہتا ہے کہ اپنے فطری اور جائز حدود سے آگے بڑھے‘ پھیل جائے اور آس پاس کے انسانوں پر‘ جو اس کے مقابلے میں ضعیف یا مفلس یا بیوقوف یا کسی حیثیت سے بھی کمزور ہوں‘ اپنی خدائی کا سکہ جما دے۔
اس قسم کی ہوسِ خداوندی رکھنے والے لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں اور دو مختلف راستے اختیار کرتے ہیں۔(الف) راست دعوے دار، (ب) بالواسطہ دعوے دار
(ا) راست دعوے دار
ایک قسم ان لوگوں کی ہے جن میں زیادہ جرأت ہوتی ہے، یا جن کے پاس خدائی کے ٹھاٹھ جمانے کے کافی ذرائع ہوتے ہیں۔ وہ براہ راست اپنی خدائی کا دعویٰ پیش کر دیتے ہیں۔ مثلاً: ایک وہ فرعون تھا جس نے اپنی بادشاہی اور اپنے لشکروں کے بل بوتے پر مصر کے باشندوں سے کہہ دیا کہ اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی النٰزعٰت79:24 میں تمھارا سب سے اونچا رب ہوں،اور مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْالقصص28:38میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمھارا اور بھی کوئی الٰہ ہے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کے سامنے اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ پیش کیا اور اس سے کہا کہ تو خود بھی الٰہ العالمین کی بندگی اختیار کر‘ تو اس نے کہا کہ میں تم کو جیل بھیج دینے کی قدرت رکھتا ہوں، لہٰذا تم مجھ کو الٰہ تسلیم کرو۔
لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰـھًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّکَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ الشعرائ26:29
اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمھیں قید کردوں گا‘‘۔
اسی طرح ایک وہ بادشاہ تھا جس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بحث ہوئی تھی۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر جن الفاظ کے ساتھ آیا ہے، انھیں ذرا غور سے پڑھیے:
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰھٖمَ فِیْ رَبِّہٖٓ اَنْ اٰتٰہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ اِذْ قَالَ اِبْرٰھٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ قَالَ اِبْرٰھٖمُ فَاِنَّ اللّٰہَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِھَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُھِتَ الَّذِیْ کَفَرَط البقرہ2: 258
تو نے نہیں دیکھا اُس شخص کو جس نے ابراہیم علیہ السلام سے بحث کی اس بارے میں کہ ابراہیم علیہ السلام کا رب کون ہے اور یہ بحث اس نے اس لیے کی کہ اللہ نے اس کو حکومت دے رکھی تھی۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے تو اس نے جواب دیا کہ زندگی اور موت تو میرے ہاتھ میں ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے کہا: اچھا اللہ تو سورج کو مشرق کی طرف سے لاتا ہے‘ تو ذرا مغرب کی طرف سے نکال لا۔یہ سن کر وہ کافر ہکا بکا رہ گیا۔
غور کیجیے! وہ کافر ہکا بکا کیوں رہ گیا؟ اس لیے کہ وہ اللہ کے وجود کا منکر نہ تھا۔ وہ اس بات کا بھی قائل تھا کہ کائنات کا فرماں روا اللہ ہی ہے۔ سورج کو وہی نکالتا اور وہی غروب کرتا ہے۔ جھگڑا اس بات میں نہ تھا کہ کائنات کا مالک کون ہے، بلکہ اس بات میں تھا کہ انسانوں کا اور خصوصاً سرزمین عراق کے باشندوں کا مالک کون ہے۔ وہ اللہ ہونے کا دعویٰ نہیں رکھتا تھا، بلکہ اس بات کا دعویٰ رکھتا تھا کہ سلطنت عراق کے باشندوں کا رب میں ہوں اور یہ دعویٰ اس بنا پر تھا کہ حکومت اس کے ہاتھ میں تھی۔ لوگوں کی جانوں پر وہ قابض و متصرف تھا۔ اپنے آپ میں یہ قدرت پاتا تھا کہ جسے چاہے پھانسی پر لٹکا دے‘ اور جس کی چاہے جان بخشی کر دے۔ یہ سمجھتا تھا کہ میری زبان قانون ہے اور میرا حکم ساری رعایا پر چلتا ہے، اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اس کا مطالبہ یہ تھا کہ تم مجھے رب تسلیم کرو‘ میری بندگی اور عبادت کرو، مگر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میں تو اسی کو رب مانوں گا اور اسی کی بندگی و عبادت کروں گا جو زمین و آسمان کا رب ہے اور جس کی عبادت یہ سورج کر رہا ہے تو وہ حیران رہ گیا اور اس لیے حیران رہ گیا کہ ایسے شخص کو کیوں کر قابو میں لائوں۔۲۸؎
یہ خدائی جس کا دعویٰ فرعون اور نمرود نے کیا تھا‘ کچھ انھی دو آدمیوں تک محدود نہ تھی۔ دنیا میں ہر جگہ فرماں روائوں کا یہی دعویٰ تھا اور یہی دعویٰ ہے۔ ایران میں بادشاہ کے لیے خدا اور خداوند کے الفاظ مستعمل تھے اور ان کے سامنے پور ے مراسم عبودیت بجا لائے جاتے تھے۔ حالانکہ کوئی ایرانی ان کو خدائے خدائیگاں (یعنی اللہ) نہیں سمجھتا تھا اور نہ وہ خود اس کے مدعی تھے، اسی طرح ہندستان میں فرماںروا خاندان اپنا نسب دیوتائوں سے ملاتے تھے ____ چنانچہ سورج بنسی اور چندر بنسی آج تک مشہور ہیں ____ راجہ کو اَن داتا یعنی رازق کہا جاتا تھا اور اس کے سامنے سجدے کیے جاتے تھے، حالانکہ پر میشور اور پرماتما ہونے کا دعویٰ نہ کسی راجہ کو تھا اور نہ پرجا ہی ایسا سمجھتی تھی۔ ایسا ہی حال دنیا کے دوسرے ممالک کا بھی تھا اور آج بھی ہے۔ بعض جگہ فرماںروائوں کے لیے الٰہ اور رب کے ہم معنی الفاظ اب بھی صریحًابولے جاتے ہیں، مگر جہاں یہ نہیں بولے جاتے وہاں اسپرٹ وہی ہے جو ان الفاظ کے مفہوم میں پوشیدہ ہے۔ اس نوع کے دعوائے خداوندی کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی صاف الفاظ میں الٰہ اور رب ہونے ہی کا دعویٰ کرے، نہیں‘ وہ سب لوگ جو انسانوں پر اس اقتدار‘ اس فرماںروائی و حکمرانی‘ اس آقائی و خداوندی کو قائم کرتے ہیں جیسے فرعون اور نمرود نے قائم کیا تھا‘ دراصل وہ الٰہ اور رب کے معنی و مفہوم کا دعویٰ کرتے ہیں‘ چاہے الفاظ کا دعویٰ نہ کریں اور وہ سب لوگ جو ان کی اطاعت و بندگی کرتے ہیں وہ بہرحال ان کے الٰہ و رب ہونے کو تسلیم کرتے ہیں‘ چاہے زبان سے یہ الفاظ نہ کہیں۔
(ب) بالواسطہ دعوے دار
غرض ایک قسم تو انسانوں کی وہ ہے جو براہ راست اپنی الہٰیت اور ربوبیت کا دعویٰ کرتی ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جس کے پاس اتنی طاقت نہیں ہوتی‘ اتنے ذرائع نہیں ہوتے کہ خود ایسا دعویٰ لے کر اٹھیں اور اسے منوالیں‘ البتہ چالاکی اور فریب کاری کے ہتھیار ہوتے ہیں جن سے وہ عام انسانوں کے دل و دماغ پر جادو کرسکتے ہیں۔ سو ان ذرائع سے کام لے کر وہ کسی روح‘ کسی دیوتا‘ کسی بت‘ کسی قبر‘ کسی سیارے یا کسی درخت کو الٰہ بنا دیتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ تمھیں نفع اور ضرر پہنچانے پر قادر ہیں۔ یہ تمھاری حاجت روائی کرسکتے ہیں۔ یہ تمھارے ولی اور محافظ اور مدد گار ہیں۔ ان کو خوش نہ کرو گے تو یہ تمھیں قحط اور بیماریوں اور مصیبتوں میں مبتلا کر دیں گے۔ انھیں خوش کرکے حاجتیں طلب کرو گے تو یہ تمھاری مدد کو پہنچیں گے‘ مگر انھیں خوش کرنے اور ان کو تمھارے حال پر متوجہ کرنے کے طریقے ہم کو معلوم ہیں۔ ان تک پہنچنے کا ذریعہ ہم ہی بن سکتے ہیں، لہٰذا ہماری بزرگی تسلیم کرو‘ ہمیں خوش کرو اور ہمارے ہاتھ میں اپنی جان‘ مال‘ آبرو سب کچھ دے دو۔ بہت سے بیوقوف انسان اس جال میں پھنس جاتے ہیں اور یوں جھوٹے خدائوں کی آڑ میں ان پروہتوں اور پجاریوں اور مجاوروں کی خداوندی قائم ہوتی ہے۔
اسی نوع میں کچھ دوسرے لوگ ہیں جو کہانت اور نجوم اور فال گیری اور تعویذ گنڈوں اور منتروں کے وسیلے اختیار کرتے ہیں۔ کچھ اور لوگ ہیں جو اللہ کی بندگی کا اقرار تو کرتے ہیں‘ مگر کہتے ہیں کہ تم براہ راست اللہ تک نہیں پہنچ سکتے‘ اس کی بارگاہ تک پہنچنے کا ذریعہ ہم ہیں۔ عبادت کے مراسم ہمارے ہی واسطے سے ادا ہوں گے اور تمھاری پیدائش سے لے کر موت تک ہر مذہبی رسم ہمارے ہاتھوں سے انجام پائے گی۔ کچھ دوسرے لوگ ہیں جو اللہ کی کتاب کے حامل بن جاتے ہیں‘ عام لوگوں کو اس کے علم سے محروم کر دیتے ہیں اور خود اپنے زعم میں خدا کی زبان بن کر حلال و حرام کے احکام دینے شروع کر دیتے ہیں۔ یوں ان کی زبان قانون بن جاتی ہے اور وہ انسانوں کو خدا کے بجائے خود اپنے حکم کا تابع بنا لیتے ہیں۔ یہی اصل ہے اس برہمنیت اور پایائیت کی جو مختلف ناموں اور مختلف صورتوں سے قدیم ترین زمانے سے آج تک دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیلی ہوئی ہے اور جس کی بدولت بعض خاندانوں‘ نسلوں یا طبقوں نے عام انسانوں پر اپنی سیادت کا سکہ جما رکھا ہے۔
فتنے کی جڑ
اس نظر سے جب آپ دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ دنیا میں فتنے کی اصل جڑ اور فساد کا اصلی سرچشمہ انسان پر انسان کی خدائی ہے‘ خواہ وہ بالواسطہ ہو یا بلا واسطہ۔ اسی سے خرابی کی ابتدا ہوئی اور اسی سے آج بھی بِس کے زہریلے چشمے پھوٹ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو خیر انسان کی فطرت کے سارے راز ہی جانتا ہے‘ مگر اب تو ہزارہا برس کے تجربے سے خود ہم پر بھی یہ حقیقت پوری طرح منکشف ہو چکی ہے کہ انسان کسی نہ کسی کو الٰہ اور رب مانے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ گویا کہ اس کی زندگی محال ہے اگر کوئی اس کا الٰہ اور رب نہ ہو۔ اگر اللہ کو نہ مانے گا تب بھی اسے الٰہ اور رب سے چھٹکارا نہیں ہے، بلکہ اس صورت میں بہت سے الٰہ اور ارباب اس کی گردن پر مسلط ہو جائیں گے۔ آج بھی آپ جدھر نگاہ ڈالیں گے یہی نظر آئے گا کہ کہیں ایک قوم دوسری قوم کی الٰہ ہے، کہیں ایک طبقہ دوسرے طبقوں کا الٰہ ہے، کہیں ایک پارٹی نے الہٰیت و ربوبیت کے مقام پر قبضہ کر رکھا ہے، کہیں قومی ریاست خدائی کے مقام پر براجمان ہے اور کہیں کوئی ڈکٹیٹر مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِی القصص28:38کی منادی کر رہا ہے۔ انسان کسی ایک جگہ بھی الٰہ کے بغیر نہ رہا۔
پھر انسان پر انسان کی خدائی قائم ہونے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ وہی جو ایک کم ظرف آدمی کو پولیس کمشنر بنا دینے، یا ایک جاہل کو وزیراعظم بنا دینے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اول تو خدائی کا نشہ ہی کچھ ایسا ہے کہ آدمی اس شراب کو پی کر کبھی اپنے قابو میں رہ نہیں سکتا اور بالفرض اگر وہ قابو میں رہ بھی جائے تو خدائی کے فرائض انجام دینے کے لیے جس علم کی ضرورت ہے اور جس بے لوثی و بے غرضی اور بے نیازی کی حاجت ہے وہ انسان کہاں سے لائے گا؟ یہی وجہ ہے کہ جہاں جہاں انسانوں پر انسانوں کی الہٰیت و ربوبیت قائم ہوئی وہاں ظلم‘ طغیان‘ ناجائز انتفاع‘ بے اعتدالی اور ناہمواری نے کسی نہ کسی صورت سے راہ پا ہی لی۔ انسانی روح اپنی فطری آزادی سے محروم ہو کر ہی رہی۔ انسان کے دل و دماغ پر‘ اس کی پیدائشی قوتوں اور صلاحیتوں پر ایسی بندشیں عائد ہو کر ہی رہیں‘ جنھوں نے انسانی شخصیت کے نشو و ارتقا کو روک دیا۔ کس قدر سچ فرمایا اُس صادق و مصدوق علیہ و علیٰ آلہ الصلوۃ و السلام نے:
قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِنِّیْ خَلَقْتُ عِبَادِیْ حُنَفَائَ کُلَّھُمْ وَاِنَّھُمْ اَتَتْھُمُ الشَّیَاطِیْنُ فَاجْتَالَتْھُمْ عَنْ دِیْنھِمِ وَ حَرَّمَتْ عَلَیْھِمْ مَا اَحْلَلْتُ لَھُمْ۔ (مسلم)
اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو صحیح فطرت پر پیدا کیا تھا، پھر شیطانوں نے ان کو آن گھیرا‘ انھیں فطرت کی راہ راست سے بھٹکا لے گئے اور جو کچھ میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا اُن شیطانوں نے ان کو اس سے محروم کرکے رکھ دیا۔
یہی وہ چیز ہے جو انسان کے سارے مصائب‘ اس کی ساری تباہیوں‘ اس کی تمام محرومیوں کی اصل جڑ ہے، یہی اس کی ترقی میں اصل رکاوٹ ہے، یہی وہ روگ ہے جو اس کے اخلاق اور اس کی روحانیت کو‘ اس کی علمی و فکری قوتوں کو‘ اس کے تمدن اور اس کی معاشرت کو‘ اس کی سیاست اور اس کی معیشت کو اور قصہ مختصر اس کی انسانیت کو تپ دق کی طرح کھا گیا ہے۔ قدیم ترین زمانے سے کھا رہا ہے اور آج تک کھائے چلا جاتا ہے۔ اس روگ کا علاج بجز اس کے کچھ ہے ہی نہیں کہ انسان سارے ارباب اور تمام الہٰوں کا انکار کرکے صرف اللہ کو اپنا الٰہ اور صرف رب العالمین کو اپنا رب قرار دے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ اس کی نجات کے لیے نہیں ہے کیونکہ ملحد اور دہریہ بن کر بھی تو وہ الہٰوں اور ارباب سے چھٹکارا نہیں پاسکتا۔
انبیاء علیہم السلام کا اصل اصلاحی کام
یہی وہ بنیادی اصلاح تھی جو انبیاء علیہم السلام نے انسانی زندگی میں کی۔ وہ دراصل انسان پر انسان کی خدائی تھی جس کو مٹانے کے لیے یہ لوگ آئے۔ ان کا اصلی مشن یہ تھا کہ انسان کو اس ظلم سے‘ ان جھوٹے خدائوں کی بندگی سے‘ اس طغیان اور ناجائز انتفاع سے نجات دلائیں۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ جو انسان انسانیت کی حد سے آگے بڑھ گئے ہیں انھیں دھکیل کر پھر اس حد میں واپس پہنچائیں۔ جو اس حد سے نیچے گرا دیے گئے ہیں انھیں ابھار کر اس حد تک اٹھا لائیں اور سب کو ایک ایسے عادلانہ نظام زندگی کا پابند بنا دیں جس میں کوئی انسان نہ کسی دوسرے انسان کا عبد ہو نہ معبود‘ بلکہ سب ایک اللہ کے بندے بن جائیں۔ ابتدا سے جتنے نبی دنیا میں آئے ان سب کا ایک ہی پیام تھا اور وہ یہ تھا:
یٰـقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ۔ المومنون23:23
لوگو! اللہ کی بندگی کرو‘ اس کے سوا کوئی تمھارا الٰہ نہیں ہے۔
یہی حضرت نوح ؑ نے کہا، یہی حضرت ہود علیہ السلام نے کہا۔ یہی حضرت صالح ؑ نے کہا۔ یہی حضرت شعیب علیہ السلام نے کہااور اسی کا اعلان محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے:
۱۔ اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌ وَّمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ o رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا۔
ص38: 66
میں بس ایک متنبہ کرنے والا ہوں۔ کوئی الٰہ نہیں ہے بجز اس ایک اللہ کے، جو سب پر غالب ہے‘ جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور ہر اس چیز کا جو آسمان و زمین کے درمیان ہے۔
۲۔ اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ …… وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍم بِاَمْرِہٖ اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ ۔ الاعراف7:54
یقیناً تمھارا رب وہی اللہ ہے جس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو …… اور سورج اور چاند اور تاروں کو۔ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ خبردار! خلق بھی اسی کی ہے اور حکومت بھی اسی کی۔
۳۔ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ فَاعْبُدُوْہُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْلٌ۔
الانعام6: 102
وہی ایک اللہ تمھارا رب ہے‘ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے‘ ہر چیز کا خالق‘ لہٰذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔
۴۔ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَآئَ ۔ البینۃ98:5
لوگو ں کو کوئی حکم نہیں دیا گیا بجز اس کے کہ اللہ کی بندگی کریں‘ اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرکے‘ یک سو ہو کر۔
۵۔ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ۔ آل عمران3:64
آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے، یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی ہم بندگی نہ کریں اور خدائی میں کسی کو اس کا شریک نہ قرار دیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا اپنا رب نہ بنائے۔
یہی وہ منادی تھی جس نے انسان کی روح اور اس کی عقل و فکر اور اس کی ذہنی و مادی قوتوں کو غلامی کی ان بندشوں سے رہا کر دیا جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔ یہ انسان کے لیے حقیقی آزادی کا چارٹر تھا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کارنامے کے متعلق قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ:
وَ یَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ ۔ الاعراف7:157
یعنی یہ نبی ان پر سے وہ بوجھ اتار تا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور ان بندھنوں کو کاٹتا ہے جن میں وہ کسے ہوئے تھے۔

۲۔ نظریۂ سیاسی کے اوّلین اصول

انبیاء علیہم السلام نے انسانی زندگی کے لیے جو نظام مرتب کیا اس کا مرکز و محور‘ اس کی روح اور اس کا جوہر یہی عقیدہ ہے اور اسی پر اسلام کے نظریۂ سیاسی کی بنیاد بھی قائم ہے۔ اسلامی سیاست کا سنگ بنیاد یہ قاعدہ ہے کہ حکم دینے اور قانون بنانے کے اختیارات تمام انسانوں سے فردًا فردًا اور مُجتمعًا سلب کر لیے جائیں‘ کسی شخص کا یہ حق تسلیم نہ کیا جائے کہ وہ حکم دے اور دوسرے اس کی اطاعت کریں‘ وہ قانون بنائے اور دوسرے اس کی پابندی کریں۔ یہ اختیار صرف اللہ کو ہے:
۱۔ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ۔ یوسف12:40
حکم سوائے اللہ کے کسی اور کا نہیں۔ اس کا فرمان ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو۔ یہی صحیح دین ہے۔
۲۔ یَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْئٍ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَکُلَّہٗ لِلّٰہِ ۔ آل عمران3: 154
وہ پوچھتے ہیں کہ اختیارات میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہے؟ کہو کہ اختیارات تو سارے اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔
۳۔ وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّ ھٰذَا حَرَامٌ ۔ النحل16:116
اپنی زبانوں سے یونہی غلط سلط نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام۔
۴۔ وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ ۔ المائدہ5:44
جو خدا کی نازل کی ہوئی شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی دراصل کافر ہیں۔
اس نظریے کے مطابق حاکمیت (sovereignty)صرف خدا کی ہے۔ قانون ساز (law giver) صرف خدا ہے۔ ۲۹؎ کوئی انسان خواہ وہ نبی ؑہی کیوں نہ ہو‘ بذات خود حکم دینے اور منع کرنے کا حق دار نہیں۔ نبی خود بھی اللہ کے حکم ہی کا پیرو ہے۔
اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ ۔ الانعام6:50
میں تو صرف اس حکم کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کیا جاتا ہے ۔
عام انسان نبی کی اطاعت پر صرف اس لیے مامور ہیں کہ وہ اپنا حکم نہیں، بلکہ خدا کا حکم بیان کرتا ہے:
۱۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ۔ النسائ4:64
ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن (sanction)کے تحت اس کی اطاعت کی جائے۔
۲۔ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحُکْمَ وَ النُّبَوَّۃَ ۔ الانعام6:89
یہ (نبی) وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے اپنی کتاب دی، حکم (authority)سے سرفراز کیا اور نبوت عطا کی۔
۳۔ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَہُ اللّٰہُ الْکِتٰبَ وَ الْحُکْمَ وَ النُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ کُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ لٰکِنْ کُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ۔ آل عمران3: 79
کسی بشر کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ تو اسے کتاب اور حکم اور نبوت سے سرفراز کرے اور وہ لوگوں سے یہ کہے کہ تم خدا کے بجائے میرے بندے بن جائو، بلکہ وہ تو یہی کہے گا کہ تم ربانی بنو۔
پس اسلامی اسٹیٹ کی ابتدائی خصوصیات جو قرآن کی مذکورہ بالا تصریحات سے نکلتی ہیں یہ ہیں:
۱۔ کوئی شخص‘ خاندان‘ طبقہ یا گروہ، بلکہ اسٹیٹ کی ساری آبادی مل کر بھی حاکمیت کی مالک نہیں ہے۔ حاکم اعلیٰ (sovereign) صرف اللہ ہے‘ اور باقی سب محض رعیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔
۲۔ قانون سازی کے اختیارات بھی خدا کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہیں۔ سارے مسلمان مل کر بھی نہ اپنے لیے کوئی قانون بنا سکتے ہیں اور نہ اللہ کے بنائے ہوئے کسی قانون میں ترمیم کرسکتے ہیں۔۳۰؎
۳۔ اسلامی اسٹیٹ بہرحال اس قانون پر قائم ہوگا جو اللہ کی طرف سے اس کے نبی ؑنے دیا ہے، اور اس اسٹیٹ کو چلانے والی گورنمنٹ صرف اس حال میں اور اس حیثیت سے اطاعت کی مستحق ہوگی کہ وہ خدا کے قانون کو نافذ کرنے والی ہو۔

۳۔ اسلامی ریاست کی نوعیت

ایک شخص بیک نظر ان خصوصیات کو دیکھ کر سمجھ سکتا ہے کہ یہ مغربی طرز کی لادینی جمہوریت (secular democracy)نہیں ہے۔ اس لیے کہ فلسفیانہ نقطۂ نظر سے جمہوریت تو نام ہی اس طرز حکومت کا ہے جس میں ملک کے عام باشندوں کو حاکمیت اعلیٰ حاصل ہو۔ انھی کی رائے سے قوانین بنیں اور صرف انھی کی رائے سے قوانین میں تغیر و تبدل ہو۔ جس قانون کو وہ چاہیں نافذ ہو، اور جسے وہ نہ چاہیں وہ کتاب آئین میں سے محو کر دیا جائے۔ یہ بات اسلام میں نہیں ہے۔ یہاں ایک بالاتر بنیادی قانون خود اللہ تعالیٰ اپنے رسول ؑ کے ذریعے سے دیتا ہے جس کی اطاعت ریاست اور قوم کو کرنی پڑتی ہے۔ لہٰذا اس معنی میں اسے جمہوریت نہیں کہا جاسکتا۔ اس کے لیے زیادہ صحیح نام ’الٰہی حکومت‘ ہے جس کو انگریزی میں theocracyکہتے ہیں، مگر یورپ جس تھیاکریسی سے واقف ہے اسلامی تھیاکریسی اس سے بالکل مختلف ہے۔ یورپ اس تھیاکریسی سے واقف ہے جس میں ایک مخصوص مذہبی طبقہ (priest-class)اللہ کے نام سے خود اپنے بنائے ہوئے قوانین نافذ کرتا ہے،۳۱؎ اور عملاً اپنی خدائی عام باشندوں پر مسلط کر دیتا ہے۔ ایسی حکومت کو تو الٰہی حکومت کے بجائے شیطانی حکومت کہنا زیادہ موزوں ہوگا۔ بخلاف اس کے اسلام جس تھیاکریسی کو پیش کرتا ہے وہ کسی مخصوص مذہبی طبقے کے ہاتھ میں نہیں ہوتی‘ بلکہ عام مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور یہ عام مسلمان اسے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق چلاتے ہیں۔ اگر مجھے ایک نئی اصطلاح وضع کرنے کی اجازت دی جائے تو میں اس طرز حکومت کو (theo-democracy)یعنی ’الٰہی جمہوری حکومت‘ کے نام سے موسوم کروں گا، کیونکہ اس میں خدا کے اقتدار اعلیٰ (paramountcy) کے تحت مسلمانوں کو ایک محدود عمومی حاکمیت (limited popular sovereignty)عطا کی گئی ہے۔ اس میں انتظامیہ (executive) اور مقننہ (legislature)مسلمانوں کی رائے سے بنے گی۔ مسلمان ہی اس کو معزول کرنے کے مختار ہوں گے۔ سارے انتظامی معاملات اور تمام وہ مسائل جن کے متعلق اللہ کی شریعت میں کوئی صریح حکم موجود نہیں ہے‘ مسلمانوں کے اجماع سے طے ہوں گے اور الٰہی قانون جہاں تعبیر طلب ہوگا وہاں کوئی مخصوص طبقہ یا نسل نہیں، بلکہ عام مسلمانوں میں سے ہر وہ شخص اس کی تعبیر کا مستحق ہوگا جس نے اجتہاد کی قابلیت بہم پہنچائی ہو۔ اس لحاظ سے یہ ڈیمو کریسی ہے، مگر جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے‘ جہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم موجود ہو‘ وہاں مسلمانوں کے کسی امیر کو‘ کسی مقننہ کو‘ کسی مجتہد اور عالم دین کو، بلکہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو مل کر بھی اس حکم میں یک سرِمُوترمیم کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس لحاظ سے یہ تھیاکریسی ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے میں اس امر کی تھوڑی سی تشریح کر دینا چاہتا ہوں کہ اسلام میں ڈیموکریسی پر یہ حدود و قیود کیوں عائد کیے گئے ہیں‘ اور ان حدود و قیود کی نوعیت کیا ہے۔ اعتراض کرنے والا اعتراض کرسکتا ہے کہ اس طرح تو اللہ نے انسانی عقل و روح کی آزادی سلب کرلی‘ حالانکہ ابھی تم یہ ثابت کر رہے تھے کہ اللہ کی الہٰیت انسان کو عقل و فکر اور جسم و جان کی آزادی عطا کرتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قانون سازی کا اختیار اللہ نے اپنے ہاتھ میں انسان کی فطری آزادی سلب کرنے کے لیے نہیں‘ بلکہ اس کو محفوظ کرنے کے لیے لیا ہے۔ اس کا مقصد انسان کو بے راہ ہونے اور اپنے پائوں پر آپ کلہاڑی مارنے سے بچانا ہے۔
یہ مغرب کی نام نہاد لادینی جمہوریت‘ جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس میں عمومی حاکمیت (popular sovereignty)ہوتی ہے‘ اس کا ذرا تجزیہ کرکے دیکھیے۔ جن لوگوں سے مل کر کوئی اسٹیٹ بنتا ہے وہ سب کے سب نہ تو خود قانون بناتے ہیں اور نہ خود اس کو نافذ کرتے ہیں۔ انھیں اپنی حاکمیت چند مخصوص لوگوں کے سپرد کرنی پڑتی ہے، تاکہ ان کی طرف سے وہ قانون بنائیں اور اسے نافذ کریں۔ اسی غرض سے انتخاب کا ایک نظام مقرر کیا جاتا ہے اور چونکہ سوسائٹی اخلاق اور امانت و دیانت کی نعمتوں سے محروم ہے اور ان تصورات کو کوئی اہمیت بھی نہیں دیتی‘ اس لیے اس انتخاب میں زیادہ تر وہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو عوام کو اپنی دولت‘ اپنے علم‘ اپنی چالاکی اور اپنے جھوٹے پروپیگنڈے کے زور سے بیوقوف بنا سکتے ہیں۔ پھر یہ خود عوام کے ووٹ ہی سے ان کے الٰہ بن جاتے ہیں۔ عوام کے فائدے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے شخصی اور طبقاتی فائدے کے لیے قوانین بناتے ہیں اور اسی طاقت سے جو عوام نے ان کو دی ہے‘ ان قوانین کو عوام پر نافذ کرتے ہیں۔ یہی مصیبت امریکہ میں ہے‘ یہی انگلستان میں ہے اور یہی ان سب ممالک میں ہے جن کو جمہوریت کی جنت ہونے کا دعویٰ ہے۔
پھر اس پہلو کو نظر انداز کرکے اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ وہاں عام لوگوں ہی کی مرضی سے قانون بنتے ہیں‘ تب بھی تجربے سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ عام لوگ خودبھی اپنے مفاد کو نہیں سمجھ سکتے۔ انسان کی یہ فطری کمزوری ہے کہ یہ اپنی زندگی کے اکثر معاملات میں حقیقت کے بعض پہلوئوں کو دیکھتا ہے اور بعض کو نہیں دیکھتا۔ اس کا فیصلہ (judgement)عموماًیک طرفہ ہوتا ہے۔ اس پر جذبات اور خواہشات کا اتنا غلبہ ہوتا ہے کہ خالص عقلی اور علمی حیثیت سے بے لاگ رائے بہت کم قائم کرسکتا ہے، بلکہ بسا اوقات عقلی اور علمی حیثیت سے جو بات اس پر روشن ہو جاتی ہے اس کو بھی یہ جذبات و خواہشات کے مقابلے میں رد کر دیتا ہے۔ اس کے ثبوت میں بہت سی مثالیں میرے سامنے ہیں مگر طوالت سے بچنے کے لیے میں صرف امریکہ کے قانون منع شراب (prohibition law)کی مثال پیش کروں گا۔ علمی اور عقلی حیثیت سے یہ بات ثابت ہوچکی تھی کہ شراب صحت کے لیے مضر ہے‘ عقلی و ذہنی قوتوں پر برا اثر ڈالتی ہے اور انسانی تمدن میں فساد پیدا کرتی ہے۔ انھی حقائق کو تسلیم کرکے امریکہ کی رائے عام اس بات کے لیے راضی ہوئی تھی کہ منع شراب کا قانون پاس کیا جائے۔ چنانچہ عوام کے ووٹ ہی سے یہ قانون پاس ہوا تھا ۳۲؎مگر جب وہ نافذ کیا گیا تو انھی عوام نے جن کے ووٹ سے وہ پاس ہوا تھا اس کے خلاف بغاوت کی۔ بدتر سے بدتر قسم کی شرابیں ناجائز طور پر بنائیں اور پیں۔ پہلے سے کئی گنا زیادہ شراب کا استعمال ہوا۔ جرائم میں اور زیادہ اضافہ ہوگیا۔ آخر کار انھی عوام کے ووٹوں سے وہ شراب جو حرام کی گئی تھی‘ حلال کر دی گئی۔۳۳؎
یہ حرمت کا فتویٰ حلت سے جو بدلا گیا اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ علمی و عقلی حیثیت سے اب شراب کا استعمال مفید ثابت ہوگیا تھا، بلکہ صرف یہ وجہ تھی کہ عوام اپنی جاہلانہ خواہشات کے بندے بنے ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنی حاکمیت اپنے نفس کے شیطان کی طرف منتقل کر دی تھی۔ اپنی خواہش کو اپنا الٰہ بنا لیا تھا اور اس الٰہ کی بندگی میں وہ اس قانون کو بدلنے پر مصر تھے جسے انھوں نے خود ہی علمی اور عقلی حیثیت سے صحیح تسلیم کرکے پاس کیا تھا۔ اس قسم کے اور بہت سے تجربات ہیں جن سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ انسان خود اپنا واضعِ قانون (legislator)بننے کی پوری اہلیت نہیں رکھتا۔ اگر اس کو دوسرے الہٰوں کی بندگی سے رہائی مل بھی جائے تو وہ اپنی جاہلانہ خواہشات کا بندہ بن جائے گا اور اپنے نفس کے شیطان کو الٰہ بنا لے گا۔ لہٰذا وہ اس کا محتاج ہے کہ اس کی آزادی پر خوداُس کے اپنے مفاد میں مناسب حدیں لگا دی جائیں۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے وہ قیود عاید کی ہیں جن کو اسلام کی اصطلاح میں ’حدود اللہ‘ (divine limits)کہا جاتا ہے۔ یہ حدود زندگی کے ہر شعبے میں چند اصول‘ چند ضوابط اور چند قطعی احکام پر مشتمل ہیں جو اس شعبے کے اعتدال و توازن کو برقرار رکھنے کے لیے لگائی گئی ہیں۔ ان کا منشا یہ ہے کہ یہ تمھاری آزادی کی آخری حدیں ہیں‘ ان کے اندر رہ کر تم اپنے برتائو کے لیے ضمنی اور فروعی ضوابط (regulations)بنا سکتے ہو‘ مگر ان حدود سے تجاوز کرنے کی تمھیں اجازت نہیں ہے۔ ان سے تجاوز کرو گے تو تمھاری اپنی زندگی کا نظام فاسد و مختل ( خراب) ہو جائے گا۔
مثال کے طور پر انسان کی معاشی زندگی کو لیجیے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے شخصی ملکیت کا حق‘ زکوٰۃ کی فرضیت‘ سود کی حرمت‘ جوئے اور سٹے کی ممانعت‘ وراثت کا قانون اور دولت کمانے‘ جمع کرنے اور خرچ کرنے پر پابندیاں عائد کرکے چند سرحدی نشانات لگا دیے ہیں۔ اگر انسان ان نشانات کو برقرار رکھے اور ان کے اندر رہ کر اپنے معاملات کی تنظیم کرے تو ایک طرف شخصی آزادی (personal liberty)بھی محفوظ رہتی ہے اور دوسری طرف طبقاتی جنگ (class war)اور ایک طبقے پر دوسرے طبقے کے تسلط کی وہ حالت بھی پیدا نہیں ہوسکتی جو ظالمانہ سرمایہ داری سے شروع ہو کر مزدوروں کی ڈکٹیٹر شپ پر منتہی ہوتی ہے۔
اسی طرح عائلی زندگی (family life)میں اللہ تعالیٰ نے حجاب شرعی‘ مرد کی قوامیت‘ شوہر‘ بیوی‘ بچوں اور والدین کے حقوق و فرائض‘ طلاق اور خلع کے احکام‘ تعدّد ازواج کی مشروط اجازت‘ زنا اور قذف کی سزائیں مقرر کرکے ایسی حدیں کھڑی کر دی ہیں کہ اگر انسان ان کی ٹھیک ٹھیک نگہداشت کرے اور ان کے اندر رہ کر اپنی خانگی زندگی کو منضبط کرے تو نہ گھر ظلم و ستم کی دوزخ بن سکتے ہیں اور نہ ان گھروں سے عورتوں کی شیطانی آزادی کا وہ طوفان اٹھ سکتا ہے جو آج پوری انسانی تہذیب کو غارت کر دینے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ اسی طرح انسانی تمدن و معاشرت کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے قصاص کا قانون‘ چوری کے لیے ہاتھ کاٹنے کی سزا‘ شراب کی حرمت‘ جسمانی ستر کے حدود‘ اور ایسے چند مستقل قاعدے مقرر کرکے فساد کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دیے ہیں۔
میرے لیے اتنا موقع نہیں ہے کہ میں حدود اللہ کی ایک مکمل فہرست آپ کے سامنے پیش کرکے تفصیل کے ساتھ بتائوں کہ انسانی زندگی میں توازن و اعتدال قائم کرنے کے لیے ان میں سے ایک ایک حد کس قدر ضروری ہے۔ یہاں میں صرف یہ بات آپ کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے ایک ایسا مستقل ناقابلِ تغیر و تبدل دستور (constitution) بنا کر انسان کو دے دیا ہے جو اس کی روح آزادی کو سلب اور اس کی عقل و فکر کو معطل نہیں کرتا‘ بلکہ اس کے لیے ایک صاف‘ واضح اور سیدھا راستہ مقرر کر دیتا ہے، تاکہ وہ اپنی جہالت اور اپنی کمزوریوں کے سبب سے تباہی کی بھول بھلیوں میں بھٹک نہ جائے‘ اس کی قوتیں غلط راستوں میں ضائع نہ ہوں‘ اور وہ اپنی حقیقی فلاح و ترقی کی راہ پر سیدھا بڑھتا چلا جائے۔ اگر آپ کو کسی پہاڑی مقام پر جانے کا اتفاق ہوا ہے تو آپ نے دیکھا ہو گا کہ پُر پیچ پہاڑی راستوں میں‘ جن کے ایک طرف عمیق غار اور دوسری طرف بلند چٹانیں ہوتی ہیں‘ سڑک کے کناروں کو ایسی رکاوٹوں سے محفوظ کر دیا جاتا ہے کہ مسافر غلطی سے کھڈ کی طرف نہ چلا جائے۔ کیا ان رکاوٹوں کا مقصد راہ رَو کی آزادی سلب کرنا ہے؟ نہیں! دراصل ان سے مقصد یہ ہے کہ اس کو ہلاکت سے محفوظ رکھا جائے اور ہر پیچ‘ ہر موڑ اور ہر امکانی خطرے کے موقع پر اسے بتایا جائے کہ تیرا راستہ اِدھر نہیں اُدھر ہے‘ تجھے اِس رخ پر نہیں اُس رخ پر مڑنا چاہیے‘ تاکہ تو بسلامت اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ سکے۔ بس یہی مقصد ان حدود کا بھی ہے جو خدا نے اپنے دستور میں مقرر کی ہیں۔ یہ حدیں انسان کے لیے زندگی کے سفر کا صحیح رخ مُعَیّن کرتی ہیں اور ہر پر پیچ مقام‘ ہر موڑ اور ہر دوراہے پر اسے بتاتی ہیں کہ سلامتی کا راستہ اس طرف ہے‘ تجھے ان سمتوں پر نہیں، بلکہ اس سمت پر پیش قدمی کرنی چاہیے۔
اللہ کا مقرر کیا ہوا یہ دستور ناقابل تغیر و تبدل ہے۔ آپ اگر چاہیں تو بعض مغربیت زدہ مسلمان ملکوں کی طرح اس دستور کے خلاف بغاوت کرسکتے ہیں، مگر اس کو بدل نہیں سکتے۔ یہ قیامت تک کے لیے اٹل دستور ہے۔ اسلامی ریاست جب بنے گی اسی دستور پر بنے گی۔ جب تک قرآن اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں باقی ہے‘ اس دستور کی ایک دفعہ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہٹائی جاسکتی۔ جس کو مسلمان رہنا ہو وہ اس کی پابندی پر مجبور ہے۔
اسلامی ریاست کا مقصد
اس دستور کی حدود کے اندر جو ریاست بنے اس کے لیے ایک مقصد بھی خدا نے متعین کر دیا ہے اور اس کی تشریح قرآن میں متعدد مقامات پر کی گئی ہے۔ مثلاً فرمایا:
لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ الحدید57: 25
ہم نے اپنے رسولوں کو واضح ہدایات کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان اتاری تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں اور ہم نے لوہا اتارا جس میں زبردست طاقت ہے اور لوگوں کے لیے فائدے ہیں۔
اس آیت میں لوہے سے مراد سیاسی قوت یا قوت قاہرہ (coercive power)ہے اور رسولوںؑ کاکام یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی واضح ہدایات اور اپنی کتاب میں جو میزان ان کو دی ہے‘ یعنی جس ٹھیک ٹھیک متوازن (well balanced)نظام زندگی کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی ہے‘ اس کے مطابق اجتماعی عدل (social justice)قائم کریں۔ دوسری جگہ فرمایا:
اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ۔ الحج22:41
یہ وہ لوگ ہیں جن کو اگر ہم زمین میں تَمکُّن و حکومت عطا کریں تو یہ نماز قائم کریں گے‘ زکوٰۃ دیں گے‘ نیکی کا حکم کریں گے اور بدی سے روکیں گے۔
ایک اور جگہ فرمایا:
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ ۔
آل عمران3: 110
تم وہ بہترین جماعت ہو جسے نوعِ انسانی کے لیے نکالا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

۴۔ اسلامی ریاست کی خصوصیات

(الف) ایجابی اور ہمہ گیر ریاست
ان آیات پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن جس ریاست کا تخیل پیش کررہا ہے‘ اس کا مقصد سلبی (negative)نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایجابی (positive)مقصد اپنے سامنے رکھتی ہے۔ اس کا مدعا صرف یہی نہیں ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے پر زیادتی کرنے سے روکے‘ ان کی آزادی کی حفاظت کرے اور مملکت کو بیرونی حملوں سے بچائے‘ بلکہ اس کا مدعا اجتماعی عدل کے اس متوازن نظام کو رائج کرنا ہے جو اللہ کی کتاب پیش کرتی ہے۔ اس کا مقصد بدی کی ان تمام صورتوں کو مٹانا اور نیکی کی ان تمام شکلوں کو قائم کرنا ہے جن کو اللہ نے اپنی واضح ہدایت میں بیان کیا ہے۔ اس کام میں حسب موقع و محل سیاسی طاقت بھی استعمال کی جائے گی‘ تبلیغ و تلقین سے بھی کام لیا جائے گا‘ تعلیم و تربیت کے ذرائع بھی کام میں لائے جائیں گے اور جماعتی اثر اور رائے عام کے دبائو کو بھی استعمال کیا جائے گا۔
اس نوعیت کی ریاست ظاہر ہے کہ اپنے عمل کے دائرے کو محدود نہیں کرسکتی۔ یہ ہمہ گیر ریاست ہے۔ اس کا دائرۂ عمل پوری انسانی زندگی پر محیط ہے۔ یہ تمدن کے ہر شعبے کو اپنے مخصوص اخلاقی نظریے اور اصلاحی پروگرام کے مطابق ڈھالنا چاہتی ہے۔ اس کے مقابلے میں کوئی شخص اپنے کسی معاملے کو پرائیویٹ اور شخصی نہیں کہہ سکتا۔ اس لحاظ سے یہ ریاست فاشستی اور اشتراکی حکومتوں سے یک گونہ مماثلت رکھتی ہے، مگر آگے چل کر آپ دیکھیں گے کہ اس ہمہ گیریت کے باوجود اس میں موجودہ زمانے کی کلی (totalitarion)اور استبدادی (authoritarion) ریاستوں کا سا رنگ نہیں ہے۔ اس میں شخصی آزادی سلب نہیں کی جاتی اور نہ اس میں آمریت (dictatorship)پائی جاتی ہے۔ اس معاملے میں جو کمال درجے کا اعتدال اسلامی نظام حکومت میں قائم کیا گیا ہے‘ اور حق و باطل کے درمیان جیسی نازک اور باریک سرحدیں قائم کی گئی ہیں‘ انھیں دیکھ کر ایک صاحب بصیرت آدمی کا دل گواہی دینے لگتا ہے کہ ایسا متوازن نظام حقیقت میں خدائے حکیم و خبیر ہی وضع کرسکتا ہے۔
(ب)جماعتی اور اصولی ریاست
دوسری بات جو اسلامی ریاست کے دستور اور اس کے مقصد اور اس کی اصلاحی نوعیت پر غور کرنے سے خود بخود واضح ہو جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ایسی ریاست کو صرف وہ لوگ چلا سکتے ہیں، جو اس کے دستور پر ایمان رکھتے ہوں‘ جنھوں نے اس کے مقصد کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہو‘ جو اس کے اصلاحی پروگرام سے نہ صرف پوری طرح متفق ہوں‘ نہ صرف اس میں کامل عقیدہ رکھتے ہوں، بلکہ اس کی اسپرٹ کو اچھی طرح سمجھتے بھی ہوں اور اس کی تفصیلات سے بھی واقف ہوں۔ اسلام نے اس بات میں کوئی جغرافی‘ لونی یا لسانی قید نہیں رکھی ہے۔ وہ تمام انسانوں کے سامنے اپنے دستور‘ اپنے مقصد اور اپنے اصلاحی پروگرام کو پیش کرتا ہے۔ جو شخص بھی اسے قبول کرلے‘ خواہ وہ کسی نسل‘ کسی ملک‘ کسی قوم سے تعلق رکھتا ہو‘ وہ اس جماعت میں شریک ہوسکتا ہے جو اس ریاست کو چلانے کے لیے بنائی گئی ہے، اور جو اسے قبول نہ کرے اسے ریاست کے کام میں دخیل نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ریاست کے حدود میں ذمی (protected citizen)کی حیثیت سے رہ سکتا ہے۔ اس کے لیے اسلام کے قانون میں معین حقوق اور مراعات موجود ہیں۔ اس کی جان و مال اور عزت کی پوری حفاظت کی جائے گی۔ لیکن بہرحال اس کو حکومت میں شریک کی حیثیت نہ دی جائے گی‘ کیونکہ یہ ایک اصولی ریاست ہے جس کے نظم و نسق کو وہی لوگ چلا سکتے ہیں جو اس کے اصولوں کو مانتے ہوں۔۳۴؎
یہاں بھی اسلامی ریاست اور کمیونسٹ اسٹیٹ میں یک گونہ مماثلت پائی جاتی ہے، لیکن دوسرے مسلکوں پر اعتقاد رکھنے والوں کے ساتھ جو برتائو اشتراکی جماعت کا اسٹیٹ کرتا ہے اس کو اس برتائو سے کوئی نسبت نہیں جو اسلامی ریاست کرتی ہے۔ اسلام میں وہ صورت نہیں جو کمیونسٹ حکومت میں ہے کہ غلبہ و اقتدار حاصل کرتے ہی اپنے تمدنی اصولوں کو دوسروں پر بہ جبر مسلط کر دیا جائے‘ جایدادیں ضبط کی جائیں‘ قتل و خون کا بازار گرم ہو اور ہزاروں لاکھوں آدمیوں کو پکڑ کر زمین کے جہنم‘ سائبیریا کی طرف پیک کر دیا جائے۔ اسلام نے غیر مسلموں کے لیے جو فیاضانہ برتائو اپنی ریاست میں اختیار کیا ہے اور اس بارے میں عدل و ظلم اور راستی و ناراستی کے درمیان جو ایک خط امتیاز کھینچا ہے اسے دیکھ کر ہر انصاف پسند آدمی بیک نظر معلوم کرسکتا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو مصلح آتے ہیں وہ کس طرح کام کرتے ہیں اور زمین میں جو مصنوعی اور جعلی مصلحین اٹھ کھڑے ہوتے ہیں‘ ان کا طریق کار کیا ہوتا ہے۔

۵۔ نظریۂ خلافت اور اس کے سیاسی مضمرات

اب میں آپ کے سامنے اسلامی ریاست کی ترکیب اور اس کے طرز عمل کی تھوڑی سی تشریح کروں گا۔ یہ بات میں آپ سے عرض کرچکا ہوں کہ اسلام میں اصلی حاکم اللہ ہے۔ اس اصل الاصول کو پیش نظر رکھ کر جب آپ اس سوال پر غور کریں گے کہ زمین میں جو لوگ خدا کے قانون کو نافذ کرنے کے لیے اٹھیں ان کی حیثیت کیا ہونی چاہیے تو آپ کا ذہن خود بخود پکارے گا کہ وہ اصلی حاکم کے نائب قرار پانے چاہییں۔ ٹھیک ٹھیک یہی حیثیت اسلام نے بھی ان کو دی ہے۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے:
وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ۔ النور24:55
جو تم میں سے ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا اسی طرح جس طرح ان سے پہلے اس نے دوسروں کو خلیفہ بنایا تھا۔
یہ آیت اسلام کے نظریۂ ریاست (theory of state)پر نہایت صاف روشنی ڈالتی ہے۔ اس میں دو بنیادی نکات بیان کیے گئے ہیں:
٭ پہلا نکتہ یہ ہے کہ اسلام حاکمیت کے بجائے خلافت (vicegerency) کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ چونکہ اس کے نظریے کے مطابق حاکمیت اللہ کی ہے، لہٰذا جو کوئی اسلامی دستور کے تحت زمین پر حکمران ہو اُسے لامحالہ حاکم اعلیٰ کا خلیفہ (vicegerent)ہونا چاہیے جو محض تفویض کردہ اختیارات (delegated powers) استعمال کرنے کا مجاز ہوگا۔
٭ دوسری کانٹے کی بات اس آیت میں یہ ہے کہ خلیفہ بنانے کا وعدہ تمام مومنوں سے کیا گیا ہے۔ یہ نہیں کہا کہ ان میں سے کسی کو خلیفہ بنائوں گا۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ سب مومن خلافت کے حامل ہیں۔ خدا کی طرف سے جو خلافت مومنوں کو عطا ہوتی ہے، وہ عمومی خلافت (popular vicegerency)ہے۔ کسی شخص یا خاندان یا نسل یا طبقے کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ ہر مومن اپنی جگہ اللہ کا خلیفہ ہے۔ خلیفہ ہونے کی حیثیت سے فردًا فردًاہر ایک اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔ (کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ ۳۵؎ ) اور ایک خلیفہ دوسرے خلیفہ کے مقابلے میں کسی حیثیت سے فروتر نہیں ہے۔
اسلامی جمہوریت کی حیثیت
یہ ہے اسلام میں جمہوریت کی اصل بنیاد۔ عمومی خلافت کے اس تصور کا تجزیہ کرنے سے حسب ذیل نتائج نکلتے ہیں:
۱۔ ایسی سوسائٹی جس میں ہر شخص خلیفہ ہو، اور خلافت میں برابر کا شریک ہو‘ طبقات کی تقسیم اور پیدائشی یا معاشرتی امتیازات کو اپنے اندر راہ نہیں دے سکتی۔ اس میں تمام افراد مساوی الحیثیت اور مساوی المرتبہ ہوں گے۔ فضیلت جو کچھ بھی ہوگی شخصی قابلیت اور سیرت کے اعتبار سے ہوگی۔ یہی بات ہے جس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار بہ تصریح بیان فرمایا ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپؐ نے فرمایا:
یٰاَیُّھَا النَّاسُ الَاَ اِنَّ رَبُّکُمْ وَاحِدٌ لَافَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِاَسْوَدٍ عَلٰی اَحْمَرَ وَلَا لِاَ حْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقَاکُمْ۔
(روح المعانی، بحوالہ بیہقی و ابن مردویہ‘ ج ۲۶،ص۱۴۸)
لوگو! سن رکھو‘ تمھارارب ایک ہے۔ عربی کو عجمی پر، یا عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں‘ نہ کالے کو گورے پر، یا گورے کو کالے پر کوئی فضیلت ہے۔ فضیلت اگر ہے تو تقویٰ کی بنا پر ہے۔ درحقیقت تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہے۔
فتح مکہ کے بعد جب تمام عرب اسلامی ریاست کے دائرے میں آگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے خاندان والوں کو‘ جو عرب میں برہمنوں کی سی حیثیت رکھتے تھے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنْکُمْ عَیْبَۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ وَتَکَبُّرَھَا یٰاَیُّھَا النَّاسُ اَلنَّاسُ رَجُلَانِ بَرٌّ تَقِیٌّ کَرِیْمٌ عَلَی اللّٰہِ وَفَاجِرٌ شَقِیٌّ ھَیِّنٌ عَلَی اللّٰہِ اَلنَّاسُ کُلُّھُمْ بَنُوْ آٰدَمَ وَ خَلَقَ اللّٰہُ آٰدَمَ مِنْ تُرَابٍ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی یٰاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّاخَلَقْنٰکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی…الایۃ۔ (بخاری، کتاب الاحکام)
شکر ہے اس اللہ کا جس نے جاہلیت کا عیب اور تکبر تم سے دور کر دیا۔ لوگو‘ انسان دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو نیک اور پرہیزگار ہو‘ وہ اللہ کے نزدیک معزز ہے۔ دوسرا وہ جو بداعمال اور شقی ہو‘ وہ اللہ کے نزدیک فرومایہ ہے۔ اصل کے اعتبار سے سب انسان اولاد آدم ہیں اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’لوگو! ہم نے تم کو ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے۔‘‘
۲۔ ایسی سوسائٹی میں کسی فرد یا کسی گروہ افراد کے لیے اس کی پیدائش، یا اس کے معاشرتی مرتبے (social status) یا اس کے پیشے کے اعتبار سے اس قسم کی رکاوٹیں (disabilities) نہیں ہوسکتیں جو اس کی ذاتی قابلیتوں کے نشوونما اور اس کی شخصیت کے ارتقا میں کسی طرح بھی مانع ہوں۔ اس کو سوسائٹی کے تمام دوسرے افراد کی طرح ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہونے چاہییں۔ اس کے لیے راستہ کھلا ہوا ہونا چاہیے کہ اپنی قوت و استعداد کے لحاظ سے جہاں تک بڑھ سکتا ہے بڑھتا چلا جائے‘ بغیر اس کے کہ دوسروں کے اسی طور پر بڑھنے میں مانع ہو۔ یہ چیز اسلام میں بدرجۂ اَتم پائی جاتی ہے۔ غلام اور غلام زادے فوجوں کے سپہ سالار اور صوبوں کے گورنر بنائے گئے اور بڑے بڑے اونچے گھرانوں کے شیوخ نے ان کی ماتحتی کی۔ چمار جوتیاں گانٹھتے گانٹھتے اٹھے اور امامت کی مسند پر بیٹھ گئے۔ جولا ہے اور بَزَّاز ٭ مفتی اور قاضی اور فقیہ بنے اور آج ان کے نام اسلام کے بزرگوں کی فہرست میں ہیں۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اِسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا وَلَوْ اِسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌّ (بخاری، کتاب الاحکام، مشکوٰۃ ۳۴۹۳) سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تمھارا سردار ایک حبشی ہی کیوں نہ بنا دیا جائے۔
۳۔ایسی سوسائٹی میں کسی شخص یا گروہ (group) کی ڈکٹیٹر شپ کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ اس لیے کہ یہاں ہر شخص خلیفہ ہے‘ کسی شخص یا گروہ کو حق نہیں ہے کہ عام مسلمانوں سے ان کی خلافت کو سلب کرکے خود حاکم مطلق بن جائے۔ یہاں جو شخص حکمران بنایا جاتا ہے اس کی اصلی حیثیت یہ ہے کہ تمام مسلمان یا اصطلاحی الفاظ میں‘ تمام خلفا اپنی رضامندی سے اپنی خلافت کو انتظامی اغراض کے لیے اس کی ذات میں مرکوز (concentrate)کر دیتے ہیں۔ وہ ایک طرف خدا کے سامنے جواب دہ ہے اور دوسری طرف ان عام خلفا کے سامنے جنھوں نے اپنی خلافت اس کو تفویض کی ہے۔ اب اگر وہ غیر ذمہ دار مطاع مطلق یعنی آمر (dictator)بنتا ہے تو خلیفہ کے بجائے غاصب کی حیثیت اختیار کرتا ہے، کیونکہ آمریت دراصل عمومی خلافت کی نفی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اسلامی ریاست ایک ہمہ گیر ریاست ہے اور زندگی کے تمام شعبوں پر اس کا دائرہ وسیع ہے‘ مگر اس کلیت اور ہمہ گیری کی بنیاد یہ ہے کہ خدا کا وہ قانون ہمہ گیر ہے جسے اسلامی حکومت کو نافذ کرنا ہے۔ خدا نے زندگی کے ہر شعبے کے متعلق جو ہدایات دی ہیں وہ یقیناً پوری ہمہ گیری کے ساتھ نافذ کی جائیں گی، مگر ان ہدایات سے ہٹ کر اسلامی حکومت خود ضابطہ بندی (regimentation) کی پالیسی اختیار نہیں کرسکتی۔ وہ لوگوں کو مجبور نہیں کرسکتی کہ فلاں پیشہ کریں اور فلاں پیشہ نہ کریں‘ فلاں فن سیکھیں اور فلاں نہ سیکھیں‘ اپنے بچوں کو فلاں قسم کی تعلیم دلوائیں اور فلاں قسم کی نہ دلوائیں، اپنے سر پر فلاں قسم کی ٹوپی پہنیں‘ اپنی زبان کے لیے فلاں رسم الخط اختیار کریں‘ اپنی عورتوں کو فلاں قسم کا لباس پہنائیں۔ یہ خداوندانہ اختیارات جو روس اور جرمنی اور اٹلی میں ڈکٹیٹروں نے اپنے ہاتھ میں لے لیے اور جن کو اتاترک نے ترکی میں استعمال کیا‘ اسلام نے اپنے نظام میں امیر کو ہرگز عطا نہیں کیے ہیں۔ علاوہ بریں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اسلام میں ہر فرد شخصی طور پر خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔ یہ شخصی جواب دہی (personal accountability) ایسی ہے جس میں کوئی دوسرا شخص اس کے ساتھ شریک نہیں۔ لہٰذا اس کو قانون کی حدود کے اندر پوری آزادی ہونی چاہیے کہ اپنے لیے جو راستہ چاہے اختیار کرے اور جدھر اس کا میلان ہو‘ اپنی قوتوں کو اسی طرف بڑھنے کے لیے استعمال کرے۔ اگر امیر اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالے گا تو وہ خود اس ظلم کے لیے اللہ کے ہاں پکڑا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپؐ کے خلفائے راشدین کی حکومت میں ضابطہ بندی (regimentation) کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔
۴۔ ایسی سوسائٹی میں ہر عاقل و بالغ مسلمان کو‘ خواہ وہ مرد ہو یا عورت‘ رائے دہی کاحق حاصل ہونا چاہیے‘ اس لیے کہ وہ خلافت کا حامل ہے۔ اللہ نے اس خلافت کو کسی خاص معیارِ لیاقت یا کسی معیار ثروت سے مشروط نہیں کیا ہے‘ بلکہ صرف ایمان و عمل ِ صالح سے مشروط کیا ہے۔ لہٰذا رائے دہی میں ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے ساتھ مساوی حیثیت رکھتا ہے۔
ایک طرف اسلام نے یہ کمال درجے کی جمہوریت قائم کی ہے۔ دوسری طرف ایسی انفرادیت (individualism) کا سدباب کر دیا ہے جو اجتماعیت کی نفی کرتی ہو۔ یہاں افراد و جماعت کا تعلق اس طرح قائم کیا گیا ہے کہ نہ فرد کی شخصیت جماعت میں گم ہو جائے‘ جس طرح کمیونزم اور فاشزم کے نظام اجتماعی میں ہو جاتی ہے اور نہ فرد اپنی حد سے اتنا بڑھ جائے کہ جماعت کے لیے نقصان دہ ہو‘ جیسا کہ مغربی جمہوریتوں کا حال ہے۔ اسلام میں فرد کا مقصد حیات وہی ہے جو جماعت کا مقصد حیات ہے۔ یعنی قانونِ الٰہی کا نفاذ اور رضائے الٰہی کا حصول۔ مزید برآں اسلام میں فرد کے حقوق پوری طرح تسلیم کرنے کے بعد اس پر جماعت کے لیے مخصوص فرائض بھی عائد کر دیے گئے ہیں۔ اس طرح انفرادیت اور اجتماعیت میں ایسی موافقت پیدا ہوگئی ہے کہ فرد کو اپنی قوتوں کے نشوونما کا پورا موقع بھی ملتا ہے اور پھر وہ اپنی ان ترقی یافتہ قوتوں کے ساتھ اجتماعی فلاح و بہبود میں مددگار بھی بن جاتا ہے۔ یہ ایک مستقل بحث ہے جس پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کا یہاں موقع نہیں۔ اس کی طرف اشارہ کرنے سے میرا مقصد صرف ان غلط فہمیوں کا سدباب کرنا تھا جو اسلامی جمہوریت کی مذکورہ بالا تشریح سے پیدا ہوسکتی تھیں۔


باب۳ قرآن کا فلسفہ ٔ سیاست

قرآن کریم اللہ کی وہ آخری کتاب ہے جس میں خالقِ ارض و سما نے زندگی کے تمام بنیادی مسائل کے متعلق اپنی ہدایت مکمل ترین شکل میں انسان کو دے دی ہے اور ہمیشہ کے لیے یہ اصول بھی ارشاد فرما دیا ہے کہ جو اس ہدایت کو دانتوں سے پکڑے گا اور اس پر عمل پیرا ہوگا وہی کامیاب و کامران ہے:
فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَo وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ البقرہ2:38-39
تو جنھوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے اور جنھوں نے اس کو قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ دوزخ میں جانے والے ہیں اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
یہ قرآن زندگی کے ہر شعبے کے متعلق بنیادی ہدایت دیتا ہے۔ اس کا اصل موضوع انسان کی ہدایت ہے اور مہد سے لحد تک ____ بلکہ لحد کے بعد کی زندگی ____ کے لیے بھی یہ واضح رہنمائی دیتا ہے۔ کوئی وجہ نہ تھی کہ بنیادی سیاسی مسائل کے متعلق خدا کی یہ کتاب خاموش رہتی۔ قرآن‘ دین اور دنیا کی تقسیم کو ایک فتنہ قرار دیتا ہے اور اپنے ماننے والوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً البقرہ2:208 (داخل ہو جائو اسلام میں پورے کے پورے۔)
زیر نظر مقالے میں قرآن کے سیاسی تصورات کو مرتب کیا گیا ہے۔
تفہیم القرآن مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی وہ تاریخی تفسیر ہے جس میں دور حاضر کے مسائل اور مسلمانوں کے جدید ذہن کو سامنے رکھ کر قرآن پاک کے حقیقی مطالب کی تشریح و توضیح بڑے دل نشین انداز میں کی گئی ہے۔ یہ تفسیر ۶ جلدوں پر مشتمل ہے۔ راقم نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ اس تفسیر سے ان تمام مباحث کو منتخب کرکے تین مقالوں میں منسلک کر دے جو سیاسی نظام کے متعلق ہیں۔ کتاب کے پہلے حصے میں ہم قرآن کا فلسفۂ سیاست کے عنوان سے ان مباحث کو پیش کر رہے ہیں جو فلسفۂ سیاست کے بنیادی امور سے متعلق ہیں۔ بعد کے حصوں میں ان سے متعلقہ حصے مقالے کی شکل میں پیش کیے جائیں گے۔ (مرتب)

 

۱۔علم سیاست کے بنیادی سوال

علم سیاست کا اصل موضوع: فرد اور ریاست کے باہم تعلق کا مسئلہ ہے۔ اس علم کے چند بنیادی سوال یہ ہیں:
۱۔ ریاست کی ضرورت کیا ہے؟
۲۔ ریاست میں حاکمیت اعلیٰ کس کو حاصل ہو؟
۳۔ اطاعت اور وفاداری کا اصول کیا ہو؟
۴۔ حکومت کا مقصد اور اس کے بنیادی وظائف کیا ہوں؟
مندرجہ ذیل صفحات میں ان سوالات کے جواب قرآن پاک سے دیے جارہے ہیں اور چونکہ قرآن کے سیاسی تصورات کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ کائنات میں انسان کے مقام اور اس کے پورے تصور زندگی کے متعلق قرآن نے جو نقطۂ نظر دیا ہے وہ سامنے رہے۔ اس لیے پہلے اسلام کے تصورِ حیات کے متعلق چند بنیادی باتیں دی جارہی ہیں اور اس کے بعد قرآن کے سیاسی تصورات کو پیش کیا جارہا ہے۔

۲۔ چند بنیادی حقیقتیں

سب سے پہلے ناظر کو قرآن کی اصل سے واقف ہونا چاہیے۔ وہ خواہ اس پر ایمان لائے، یا نہ لائے‘ مگر اس کتاب کو سمجھنے کے لیے اسے نقطۂ آغاز کے طور پر اس کی وہی اصل قبول کرنی ہوگی جو خود اس نے اور اس کے پیش کرنے والے (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) نے بیان کی ہے اور وہ یہ ہے:
۱۔ خداوندِ عالم نے‘ جو ساری کائنات کا خالق اور مالک اور فرماں روا ہے‘ اپنی بے پایاں مملکت کے اس حصے میں‘ جسے زمین کہتے ہیں‘ انسان کو پیدا کیا۔ اسے جاننے اور سوچنے اور سمجھنے کی قوتیں دیں۔ بھلائی اور برائی کی تمیز دی۔ انتخاب اور ارادے کی آزادی عطا کی۔ تصرف کے اختیارات بخشے اور فی الجملہ ایک طرح کی خود اختیاری (autonomy) دے کر اسے زمین میں اپنا خلیفہ بنایا۔
۲۔ اس منصب پر انسان کو مقرر کرتے وقت خداوند ِ عالم نے اچھی طرح اس کے کان کھول کر یہ بات اس کے ذہن نشین کر دی تھی کہ تمھارا اور سارے جہان کا مالک‘ معبود اور حاکم میں ہوں۔ میری اس سلطنت میں نہ تم خود مختار ہو‘ نہ کسی دوسرے کے بندے ہو‘ اور نہ میرے سوا کوئی تمھاری اطاعت و بندگی اور پرستش کا مستحق ہے۔ دنیا کی یہ زندگی جس میں تمھیں اختیارات دے کر بھیجا جارہا ہے دراصل تمھارے لیے ایک امتحان کی مدت ہے جس کے بعد تمھیں میرے پاس آنا ہوگا اور میں تمھارے کام کی جانچ کرکے فیصلہ کروں گا کہ تم میں سے کون امتحان میں کامیاب رہا ہے اور کون ناکام۔ تمھارے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ مجھے اپنا واحد معبود اور حاکم تسلیم کرو‘ جو ہدایت میں بھیجوں اس کے مطابق دنیا میں کام کرو اور دنیا کو دار الامتحان سمجھتے ہوئے، اس شعور کے ساتھ زندگی بسر کرو کہ تمھارا اصل مقصد میرے آخری فیصلے میں کامیاب ہونا ہے۔ اس کے برعکس تمھارے لیے ہر وہ رویہ غلط ہے جو اس سے مختلف ہو۔ اگر پہلا رویہ اختیار کرو گے (جسے اختیار کرنے کے لیے تم آزاد ہو) تو تمھیں دنیا میں امن و اطمینان حاصل ہوگا اور جب میرے پاس پلٹ کر آئو گے تو میں تمھیں ابدی راحت و مسرت کا وہ گھردوں گا جس کا نام جنت ہے، اور اگر دوسرے کسی رویے پر چلو گے (جس پر چلنے کے لیے بھی تم کو آزادی ہے) تو دنیا میں تم کو فساد اور بے چینی کا مزا چکھنا ہوگا اور دنیا سے گزر کر عالم آخرت میں جب آئو گے‘ تو ابدی رنج و مصیبت کے اس گڑھے میں پھینک دیے جائو گے جس کا نام دوزخ ہے۔
۳۔ یہ فہمائش] نصیحت[ کرکے مالک کائنات نے نوع انسانی کو زمین میں جگہ دی اور اس نوع کے اوّلین افراد (آدم و حواعلیہما السلام) کو وہ ہدایت بھی دے دی جس کے مطابق انھیں اور ان کی اولاد کو زمین میں کام کرنا تھا۔ یہ اوّلین انسان جہالت اور تاریکی کی حالت میں پیدا نہیں ہوئے تھے، بلکہ اللہ نے زمین پر ان کی زندگی کا آغاز پوری روشنی میں کیا تھا۔ وہ حقیقت سے واقف تھے۔ انھیں ان کا قانون حیات بتا دیا گیا تھا۔ ان کا طریق زندگی اللہ کی اطاعت (یعنی اسلام) تھا اور وہ اپنی اولاد کو یہی بات سکھا کر گئے کہ وہ اللہ کےمطیع (مسلم) بن کر رہیں۔ لیکن بعد کی صدیوں میں رفتہ رفتہ انسان اس صحیح طریق زندگی (دین) سے منحرف ہو کر مختلف قسم کے غلط رویوں کی طرف چل پڑے۔ انھوں نے غفلت سے اس کو گم بھی کیا اور شرارت سے اس کو مسخ بھی کر ڈالا۔ انھوں نے اللہ کے ساتھ زمین و آسمان کی مختلف انسانی اور غیر انسانی‘ خیالی اور مادی ہستیوں کو خدائی میں شریک ٹھیرا لیا۔ انھوں نے اللہ کے دیے ہوئے علم حقیقت (العلم) میں طرح طرح کے اوہام اور نظریوں اور فلسفوں کی آمیزش کرکے بے شمار مذاہب پیدا کرلیے۔ انھوں نے خدا کے مقرر کیے ہوئے عادلانہ اصولِ اخلاق و تمدن (شریعت) کو چھوڑ کر، یا بگاڑ کر اپنی خواہشات نفس اور اپنے تعصبات کے مطابق ایسے قوانینِ زندگی گھڑ لیے جن سے اللہ کی زمین ظلم سے بھر گئی۔
۴۔ اللہ نے جو محدود خود اختیاری انسان کو دی تھی اس کے ساتھ یہ بات مطابقت نہ رکھتی تھی کہ وہ اپنی تخلیقی مداخلت سے کام لے کر ان بگڑے ہوئے انسانوں کو زبردستی صحیح رویے کی طرف موڑ دیتا، اور اس نے دنیا میں کام کرنے کے لیے جو مہلت اس نوع کے لیے اور اس کی مختلف قوموں کے لیے مقرر کی تھی اس کے ساتھ یہ بات بھی مطابقت نہ رکھتی تھی کہ اس بغاوت کے رونما ہوتے ہی وہ انسانوں کو ہلاک کر دیتا۔ پھر جو کام ابتدائے آفرینش سے اس نے اپنے ذمے لیا تھا وہ یہ تھا کہ انسان کی خود اختیاری کو برقرار رکھتے ہوئے‘ اس کی مہلت عمل کے دوران میں‘ اس کی رہنمائی کا انتظام وہ کرتا رہے گا۔ چنانچہ اپنی اس خود عائد کردہ ذمے داری کو ادا کرنے کے لیے اس نے انسانوں ہی میں سے ایسے آدمیوں کو استعمال کرنا شروع کیا جو اس پر ایمان رکھنے والے اور اس کی رضا کی پیروی کرنے والے تھے، اس نے ا ن کو اپنانمائندہ بنایا۔ اپنے پیغامات ان کے پاس بھیجے۔ ان کوعلمِ حقیقت بخشا۔ انھیں صحیح قانون حیات عطا کیا اور انھیں اس کام پر مامور کیا کہ بنی آدم کو اسی راہ راست کی طرف پلٹنے کی دعوت دیں جس سے وہ ہٹ گئے تھے۔
۵۔ یہ پیغمبر مختلف قوموں اور ملکوں میں اٹھتے رہے۔ ہزار ہا برس تک ان کی آمد کا سلسلہ چلتا رہا۔ ہزارہا کی تعداد میں وہ مبعوث ہوئے۔ ان سب کا ایک ہی دین تھا‘ یعنی وہ صحیح رویہ جو اوّل روز ہی انسان کو بتا دیا گیا تھا۔ وہ سب ایک ہی ہدایت کے پیرو تھے‘ یعنی اخلاق و تمدن کے وہ ازلی و ابدی اصول جو آغاز ہی میں انسان کے لیے تجویز کر دیے گئے تھے اور ان سب کا ایک ہی مشن تھا‘ یعنی یہ کہ اس دین اور اس ہدایت کی طرف اپنے ابنائے نوع کو دعوت دیں۔ پھر جو لوگ اس دعوت کو قبول کرلیں ان کو منظم کرکے ایک ایسی امت بنائیں جو خود اللہ کے قانون کی پابند ہو اور دنیا میں قانونِ الٰہی کی اطاعت قائم کرنے اور اس قانون کی خلاف ورزی روکنے کے لیے جدوجہد کرے۔ ان پیغمبروں نے اپنے اپنے دور میں اپنے اس مشن کو پوری خوبی کے ساتھ ادا کیا‘ مگر ہمیشہ یہ ہوتا رہا کہ انسانوں کی ایک کثیر تعداد تو ان کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ ہی نہ ہوئی اور جنھوں نے اسے قبول کرکے امت مسلمہ کی حیثیت اختیار کی وہ رفتہ رفتہ خود بگڑتے چلے گئے حتیٰ کہ ان میں سے بعض امتیں ہدایت الٰہی کو بالکل ہی گم کر بیٹھیں اور بعض نے اللہ کے ارشادات کو اپنی تحریفات اور آمیزشوں سے مسخ کر دیا۔
۶۔ آخر کار خداوند عالم نے سرزمین عرب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی کام کے لیے مبعوث کیا جس کے لیے پچھلے انبیاء (علیھم السلام) آتے رہے تھے۔ ان کے مخاطب عام انسان بھی تھے اور پچھلے انبیاء ؑ کے بگڑے ہوئے پیرو بھی۔ سب کو صحیح رویے کی طرف دعوت دینا‘ سب کو از سر نو خدا کی ہدایت پہنچا دینا اورجو اس دعوت و ہدایت کو قبول کریں‘ انھیں ایک ایسی امت بنا دینا ان کاکام تھا جو ایک طرف خود اپنی زندگی کا نظام اللہ کی ہدایت پر قائم کرے اور دوسری طرف دنیا کی اصلاح کے لیے جدوجہد کرے ____ اسی دعوت اور ہدایت کی کتاب یہ قرآن ہے جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی۔۳۶؎

۳۔اسلامی تصورِ حیات

قرآن اس دنیا میں انسان کے صحیح مقام اور زندگی کے متعلق اس کے پورے نظریے کو ایک آیت میں بیان کرتا ہے:
اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰۃِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ وَ مَنْ اَوْفٰی بِعَھْدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖ وَ ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ التوبۃ9:111
حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور مارتے مرتے ہیں۔ ان سے (جنت کا وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے‘ تورات اور انجیل اور قرآن میں، اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو؟ پس خوشیاں منائو اپنے سودے پر جو تم نے اللہ سے چکا لیا ہے۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
یہاں ایمان کے اس معاملے کو جو اللہ اور بندے کے درمیان طے ہوتا ہے بیع سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایمان محض ایک مابعد الطبیعیاتی عقیدہ نہیں ہے بلکہ فی الواقع وہ ایک معاہدہ ہے جس کی رو سے بندہ اپنا نفس اور اپنا مال اللہ کے ہاتھ فروخت کر دیتا ہے اور اس کے معاوضے میںاللہ کی طرف سے اس وعدے کو قبول کرلیتا ہے کہ مرنے کے بعد دوسری زندگی میں وہ اسے جنت عطا کرے گا۔ اس اہم مضمون کے مضمرات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس بَیع کی حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیا جائے۔
جہاں تک اصل حقیقت کا تعلق ہے‘ اس کے لحاظ سے تو انسان کی جان و مال کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے‘ کیونکہ وہی اس کا اور ان ساری چیزوں کا خالق ہے جو اس کے پاس ہیں اور اسی نے وہ سب کچھ اسے بخشا ہے جس پر وہ تصرُّف کر رہا ہے۔ لہٰذا اس حیثیت سے تو خریدو فروخت کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ نہ انسان کا اپنا کچھ ہے کہ وہ اسے بیچے‘ نہ کوئی چیز اللہ کی ملکیت سے خارج ہے کہ وہ اسے خریدے، لیکن ایک چیز انسان کے اندر ایسی بھی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کلیتاً اس کے حوالے کر دیا ہے اور وہ ہے اس کا اختیار‘ یعنی اس کا اپنے انتخاب و ارادے میں آزاد ہونا (free will and freedom of choice)۔اس اختیار کی بنا پر حقیقت نفس الامری تو نہیں بدلتی مگر انسان کو اس امر کی خود مختاری حاصل ہو جاتی ہے کہ چاہے تو حقیقت کو تسلیم کرے، ورنہ انکار کر دے۔ بالفاظ دیگر اس اختیار کے معنی یہ نہیں ہیں کہ انسان فی الحقیقت اپنے نفس کا اور اپنے ذہن و جسم کی قوتوں کا اور ان اقتدارات کا جو اسے دنیا میں حاصل ہیں‘ مالک ہوگیا ہے اور اسے یہ حق مل گیا ہے کہ ان چیزوں کو جس طرح چاہے استعمال کرے، بلکہ اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ اسے اس امر کی آزادی دے دی گئی ہے کہ اللہ کی طرف سے کسی جبر کے بغیر وہ خود ہی اپنی ذات پر اور اپنی ہر چیز پر اللہ کے حقوق مالکانہ کو تسلیم کرنا چاہے تو کرے، ورنہ آپ ہی اپنا مالک بن بیٹھے اور اپنے زعم میں یہ خیال کرلے کہ وہ اللہ سے بے نیاز ہو کر اپنے حدود اختیار میں اپنے حسب منشا تصرّف کرنے کا حق رکھتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے بیع کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ دراصل یہ بیع اس معنی میں نہیں ہے کہ جو چیز انسان کی ہے اللہ اُسے خریدنا چاہتا ہے، بلکہ اس معاملے کی صحیح نوعیت یہ ہے کہ جو چیز خدا کی ہے اور جسے اس نے امانت کے طور پر انسان کے حوالے کیا ہے اور جس میں امین رہنے یا خائن بن جانے کی آزادی اس نے انسان کو دے رکھی ہے‘ اس کے بارے میں وہ انسان سے مطالبہ کرتا ہے کہ تو برضا و رغبت (نہ کہ بہ مجبوری) میری چیز کو میری ہی چیز مان لے اور زندگی بھر اس میں خود مختار مالک کی حیثیت سے نہیں، بلکہ امین ہونے کی حیثیت سے تصرف کرنا قبول کر لے اور خیانت کی جو آزادی تجھے میں نے دی ہے اس سے خود بخود دست بردار ہو جا۔ اس طرح اگر تو دنیا کی موجودہ عارضی زندگی میں اپنی خود مختاری کو (جو تیری حاصل کردہ نہیں، بلکہ میری عطا کردہ ہے) میرے ہاتھ فروخت کر دے گا تو میں تجھے بعد کی جاودانی زندگی میں اس کی قیمت بصورت جنت ادا کروں گا۔ جو انسان اللہ کے ساتھ بیع کا یہ معاملہ طے کرلے‘ وہ مومن ہے اور ایمان دراصل اسی بیع کا دوسرا نام ہے اور جو شخص اس سے انکار کر دے، یا اقرار کرنے کے باوجود ایسا رویہ اختیار کرے جو بیع نہ کرنے کی صورت ہی میں اختیار کیا جاسکتا ہے‘ وہ کافر ہے اور اس بیع ہی سے گریز کا اصطلاحی نام کفر ہے۔
بیع کی اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد اب اس کے تضمّنات کا تجزیہ کیجیے:
۱۔ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو بہت بڑی آزمائشوں میں ڈالا ہے۔ پہلی آزمائش اس امر کی کہ آزاد چھوڑ دیے جانے پر اتنی شرافت دکھاتا ہے یا نہیں کہ مالک ہی کو مالک سمجھے اور نمک حرامی و بغاوت پر نہ اتر آئے۔ دوسری آزمائش اس امر کی کہ یہ اپنےاللہ پر اتنا اعتماد کرتا ہے یا نہیں کہ جو قیمت آج نقد نہیں مل رہی ہے، بلکہ مرنے کے بعد دوسری زندگی میں ملے گی‘ جس کے ادا کرنے کا اللہ کی طرف سے وعدہ ہے‘ اس کے عوض اپنی آج کی خود مختاری اور اس کے مزے بیچ دینے پر بخوشی راضی ہو جائے۔
۲۔ دنیا میں جس فقہی قانون پر اسلامی سوسائٹی بنتی ہے اُس کی رُو سے تو ایمان بس چند عقائد کے اقرار کا نام ہے جس کے بعد کوئی قاضیِ شرع کسی کے غیر مومن یا خارج از ملت ہونے کا حکم نہیں لگا سکتا جب تک اس امر کا کوئی صریح ثبوت اسے نہ مل جائے کہ وہ اپنے اقرار میں جھوٹا ہے، لیکن اللہ کے ہاں جو ایمان معتبر ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ خیال اور عمل دونوں میں اپنی آزادی و خود مختاری کو اللہ کے ہاتھ بیچ دے اور اس کے حق میں اپنے ادّعائے ملکیت سے کلیتاً دست بردار ہو جائے۔ پس اگر کوئی شخص کلمۂ اسلام کا اقرار کرتا ہو، اور صوم و صلوٰۃ وغیرہ احکام کا بھی پابند ہو، لیکن اپنے جسم و جان کا‘ اپنے دل و دماغ اور بدن کی قوتوں کا‘ اپنے مال اور وسائل و ذرائع کا اور اپنے قبضہ و اختیار کی ساری چیزوں کا مالک اپنے آپ ہی کو سمجھتا ہو، اور ان میں اپنے حسبِ منشا تصرف کرنے کی آزادی اپنے لیے محفوظ رکھتا ہو‘ تو ہوسکتا ہے کہ دنیا میں وہ مومن سمجھا جاتا رہے‘ مگر اللہ کے ہاں یقیناً وہ غیر مومن ہی قرار پائے گا، کیونکہ اس نے اللہ کے ساتھ وہ بیع کا معاملہ سرے سے کیا ہی نہیں جو قرآن کی رُو سے ایمان کی اصل حقیقت ہے۔ جہاں اللہ کی مرضی ہو وہاں جان و مال کھپانے سے دریغ کرنا اور جہاں اس کی مرضی نہ ہو وہاں جان و مال کھپانا‘ یہ دونوں طرز عمل ایسے ہیں جو اس بات کا قطعی فیصلہ کر دیتے ہیں کہ مُدعیِ ایمان نے یا تو جان و مال کو اللہ کے ہاتھ بیچا نہیں ہے، یا بیع کا معاہدہ کر لینے کے بعد بھی وہ بیچی ہوئی چیز کو بدستور اپنی سمجھ رہا ہے۔
۳۔ ایمان کی یہ حقیقت اسلامی رویۂ زندگی اور کافرانہ رویۂ زندگی کو شروع سے آخر تک بالکل ایک دوسرے سے جدا کر دیتی ہے۔ مسلم جو صحیح معنی میں اللہ پر ایمان لایا ہو‘ اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کی مرضی کا تابع بن کر کام کرتا ہے اور اس کے رویّے میں کسی جگہ بھی خود مختاری کا رنگ نہیں آنے پاتا، اِلاَّیہ کہ عارضی طور پر کسی وقت اس پر غفلت طاری ہو جائے اور وہ اللہ کے ساتھ اپنے معاہدۂ بیع کو بھول کر کوئی خود مختارانہ حرکت کر بیٹھے۔ اسی طرح جو گروہ اہلِ ایمان سے مرکب ہو، وہ اجتماعی طور پر بھی کوئی پالیسی‘ کوئی سیاست‘ کوئی طرز تمدن و تہذیب‘ کوئی طریق معیشت و معاشرت اور کوئی بین الاقوامی رویہ اللہ کی مرضی اور اس کے قانونِ شرعی کی پابندی سے آزاد ہو کر اختیار نہیں کرسکتا اور اگر کسی عارضی غفلت کی بنا پر اختیار کر بھی جائے تو جس وقت اسے تَنَبُّہ ہوگا اسی وقت وہ آزادی کا رویہ چھوڑ کر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئے گا۔ اللہ سے آزاد ہو کر کام کرنا اور اپنے نفس و متعلقات نفس کے بارے میں خود یہ فیصلہ کرنا کہ ہم کیا کریں اور کیا نہ کریں، بہرحال ایک کافرانہ رویۂ زندگی ہے۔ خواہ اس پر چلنے والے لوگ ’مسلمان‘ کے نام سے موسوم ہوں یا ’غیر مسلم‘ کے نام سے۔
۴۔ اس بیع کی رُو سے اللہ کی جس مرضی کا اتباع آدمی پر لازم آتا ہے وہ آدمی کی اپنی تجویز کردہ مرضی نہیں، بلکہ وہ مرضی ہے جو اللہ خود بتائے۔ اپنے آپ کسی چیز کو اللہ کی مرضی ٹھیرا لینا اور اس کا اتباع کرنا اللہ کی مرضی کا اتباع نہیں‘ بلکہ اپنی ہی مرضی کا اتباع ہے اور یہ معاہدۂ بیع کے قطعی خلاف ہے۔ اللہ کے ساتھ اپنے معاہدۂ بیع پر صرف وہی شخص اور وہی گروہ قائم سمجھا جائے گا جو اپنا پورا رویۂ زندگی اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبر علیہ السلام کی ہدایت سے اخذ کرتا ہو۔
یہ اس بیع کے تضمنات ہیں اور ان کو سمجھ لینے کے بعد یہ بات بھی خود بخود سمجھ میں آجاتی ہے کہ اس خرید و فروخت کے معاملے میں قیمت (یعنی جنت) کو موجودہ دنیوی زندگی کے خاتمے پر کیوں مؤخر کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جنت صرف اس اقرار کا معاوضہ نہیں ہے کہ ’’بائع نے اپنا نفس و مال اللہ کے ہاتھ بیچ دیا‘‘ بلکہ وہ اس عمل کا معاوضہ ہے کہ ’’بائع اپنی دنیوی زندگی میں اس بیچی ہوئی چیز پر خود مختارانہ تصرف چھوڑ دے اور اللہ کا امین بن کر اس کی مرضی کے مطابق تصرف کرے۔‘‘ لہٰذا یہ فروخت مکمل ہی اُس وقت ہوگی جب کہ بائع کی دنیوی زندگی ختم ہو جائے اور فی الواقع یہ ثابت ہو کہ اس نے معاہدۂ بیع کرنے کے بعد سے اپنی دنیوی زندگی کے آخری لمحے تک بیع کی شرائط پوری کی ہیں۔ اس سے پہلے وہ اَزرُوئے انصاف قیمت پانے کا مستحق نہیں ہوسکتا۔
ان امور کی توضیح کے ساتھ یہ بھی جان لینا چاہیے کہ اس سلسلۂ بیان میں یہ مضمون کس مناسبت سے آیا ہے۔ اوپر سے جو سلسلۂ تقریر چل رہا تھا اس میں ان لوگوں کا ذکر تھا جنھوں نے ایمان لانے کا اقرار کیا تھا‘ مگر جب امتحان کا نازک موقع آیا تو ان میں سے بعض نے تساہل کی بنا پر‘ بعض نے اخلاص کی کمی کی وجہ سے اور بعض نے قطعی منافقت کی راہ سے اللہ اور اس کے دین کی خاطر اپنے وقت‘ اپنے مال‘ اپنے مفاد اور اپنی جان کو قربان کرنے میں دریغ کیا۔ لہٰذا ان مختلف اشخاص اور طبقوں کے رویے پر تنقید کرنے کے بعد اب ان کو صاف صاف بتایا جارہا ہے کہ وہ ایمان جسے قبول کرنے کا تم نے اقرار کیا ہے‘ محض یہ مان لینے کانام نہیں ہے کہ اللہ ہے اور وہ ایک ہی ہے‘ بلکہ دراصل وہ اس امر کا اقرار ہے کہ اللہ ہی تمھارے نفس اور تمھارے مال کا مالک ہے۔ پس یہ اقرار کرنے کے بعد اگر تم اس نفس و مال کو اللہ کے حکم پر قربان کرنے سے جی چراتے ہو اور دوسری طرف اپنے نفس کی قوتوں کو اور اپنے ذرائع کو اللہ کے منشا کے خلاف استعمال کرتے ہو‘ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تم اپنے اقرار میں جھوٹے ہو۔ سچے اہلِ ایمان صرف وہ لوگ ہیں جو واقعی اپنا نفس و مال اللہ کے ہاتھ بیچ چکے ہیں اور اسی کو ان چیزوں کا مالک سمجھتے ہیں۔ جہاں اس کا حکم ہوتا ہے وہاں انھیں بے دریغ قربان کرتے ہیں اور جہاں اس کا حکم نہیں ہوتا وہاں نفس کی طاقتوں کا کوئی ادنیٰ ساجز اور مالی ذرائع کا کوئی ذرا سا حصہ بھی خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
اس امر پر بہت اعتراضات کیے گئے ہیں کہ جس وعدے کا یہاں ذکر ہے وہ تورات اور انجیل میں موجود نہیں ہے، مگر جہاں تک انجیل کا تعلق ہے یہ اعتراضات بے بنیاد ہیں۔ جو اناجیل اس وقت دنیا میں موجود ہیں، ان میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعدد اقوال ہم کو ایسے ملتے ہیں جو اس آیت کے ہم معنی ہیں‘ مثلاً:
۱۔ مبارک ہیں وہ جو راست بازی کے سبب ستائے گئے ہیں‘ کیونکہ آسمان کی بادشاہت انھی کی ہے۔ (متی ۵:۱۰)
۲۔ جوکوئی اپنی جان بچاتا ہے اسے کھوئے گا اور جو کوئی میرے سبب اپنی جان کھوتا ہے اسے بچائے گا۔ (متی۱۰: ۳۹)
۳۔ جس کسی نے گھروں‘ یا بھائیوں‘ یا بہنوں‘ یا باپ‘ یا ماں‘ یا بچوں‘ یا کھیتوں کو میرے نام کی خاطر چھوڑ دیا ہے اس کو سوگنا ملے گا اور ہمیشہ کی زندگی کا وارث ہوگا۔ (متی۱۹: ۲۹)
البتہ تورات جس صورت میں اس وقت موجود ہے اس میں بلاشبہ یہ مضمون نہیں پایا جاتا اور یہی مضمون کیا‘ وہ تو حیات بعد الموت اور یوم الحساب اور اخروی جزا و سزا کے تصور ہی سے خالی ہے۔ حالانکہ یہ عقیدہ ہمیشہ سے دین حق کا جزو لَایَنْفک رہا ہے۔ لیکن موجودہ تورات میں اس مضمون کے نہ پائے جانے سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہے کہ واقعی تورات اس سے خالی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہود اپنے زمانۂ تنزل میں کچھ ایسے مادہ پرست اور دنیا کی خوش حالی کے بھوکے ہوگئے تھے کہ ان کے نزدیک نعمت اور انعام کے کوئی معنی اس کے سوا نہ رہے تھے کہ وہ اسی دنیا میں حاصل ہو۔ اسی لیے کتاب الٰہی میں بندگی و اطاعت کے بدلے جن جن انعامات کے وعدے ان سے کیے گئے تھے ان سب کو وہ دنیا ہی میں اتار لائے اور جنت کی ہر تعریف کو انھوں نے فلسطین کی سرزمین پر چسپاں کر دیا جس کے وہ امیدوار تھے۔ مثال کے طور پر تورات میں متعدد مقامات پر ہم کو یہ مضمون ملتا ہے:
۱۔ سن اے اسرائیل! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے۔ تو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت کر۔ (استثناء۶: ۴‘۵)
اور یہ کہ:
۲۔ کیا وہ تمھارا باپ نہیں جس نے تم کو خریدا ہے؟ اسی نے تم کو بنایا اور قیام بخشا۔ (استثناء ۳۲:۶)
لیکن اس تعلق باللہ کی جو جزا بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ تم اس ملک کے مالک ہو جائو گے جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے‘ یعنی فلسطین۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ توراۃ جس صورت میں اس وقت پائی جاتی ہے اول تو پوری نہیں ہے اور پھر وہ خالص کلام الٰہی پر بھی مشتمل نہیں ہے، بلکہ اس میں بہت سا تفسیری کلام اللہ کے کلام کے ساتھ ساتھ شامل کر دیا گیا ہے۔ اس کے اندر یہودیوں کی قومی روایات‘ ان کے نسلی تعصبات‘ ان کے اوہام‘ ان کی آرزوئوں اور تمنائوں‘ ان کی غلط فہمیوں اور ان کے فقہی اجتہادات کا ایک معتدبہ حصہ ایک ہی سلسلۂ عبارت میں کلام الٰہی کے ساتھ کچھ اس طرح رَل مِل گیا ہے کہ اکثر مقامات پر اصل کلام کو ان زوائد سے ممیز کرنا قطعاً غیر ممکن ہو جاتا ہے۔۳۷؎

۴۔ دین اور قانونِ حق

اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِا ئَۃَ جَلْدَۃٍ وَّلاَ تَاْخُذْکُمْ بِہِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ۔ النور24:2
زانی عورت اور زانی مرد دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو، اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو‘ اگر تم اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔
اوّلین چیز جو اس آیت میں قابلِ توجہ ہے وہ یہ کہ یہاں فوج داری قانون کو ’دین اللّٰہ‘ فرمایا جارہا ہے۔ معلوم ہوا کہ صرف نماز اور روزہ اور حج و زکوٰۃ ہی دین نہیں ہیں بلکہ مملکت کا قانون بھی دین ہے۔ دین کو قائم کرنے کا مطلب صرف نماز ہی قائم کرنا نہیں ہے بلکہ اللہ کا قانون اور نظام شریعت قائم کرنا بھی ہے۔ جہاں یہ چیز قائم نہ ہو، وہاں نماز اگر قائم ہو بھی تو گویا ادھورا دین قائم ہوا۔ جہاں اس کو رد کرکے دوسرا کوئی قانون اختیار کیا جائے وہاں کچھ اور نہیں خود دینُ اللہ ردّ کر دیا گیا۔۳۸؎

۵۔حکومت کی ضرورت اور اہمیت

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا ۔
بنی اسرائیل17:80
اور دعا کرو کہ پروردگار!مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنادے۔
یعنی یا تو مجھے خود اقتدار عطا کر، یا کسی حکومت کو میرا مددگار بنا دے، تاکہ اس کی طاقت سے میں دنیا کے اس بگاڑ کو درست کر سکوں‘ فواحش اور معاصی کے اس سیلاب کو روک سکوں‘ اور تیرے قانونِ عدل کو جاری کرسکوں۔ یہی تفسیر ہے اس آیت کی جو حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے اور اسی کو ابن جریرؒ اور ابن کثیرؒ جیسے جلیل القدر مفسرین نے اختیار کیا ہے اور اسی کی تائید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث کرتی ہے کہ:
اِنَّ اللّٰہَ لَیَزَعُ بِالسُّلْطَانِ مَالَایَزَعُ بِالْقُرْاٰنِ۔ ۳۹؎
یعنی اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سدباب کر دیتا ہے جن کا سدباب قرآن سے نہیں کرتا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے وہ صرف وعظ و تذکیر سے نہیں ہوسکتی‘ بلکہ اس کو عمل میں لانے کے لیے سیاسی طاقت بھی درکار ہے۔ پھر جب کہ یہ دعا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو خود سکھائی ہے تو اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اقامت دین اور نفاذ شریعت اور اجرائے حدود اللہ کے لیے حکومت چاہنا اور اس کے حصول کی کوشش کرنا نہ صرف جائز بلکہ مطلوب و مندوب ہے اور وہ لوگ غلطی پر ہیں جو اِسے دنیا پرستی یا دنیا طلبی سے تعبیر کرتے ہیں۔ دنیا پرستی اگر ہے تو یہ کہ کوئی شخص اپنے لیے حکومت کا طالب ہو، رہا خدا کے دین کے لیے حکومت کا طالب ہونا، تو یہ دنیا پرستی نہیں، بلکہ خدا پرستی ہی کا عین تقاضا ہے۔۴۰؎
یہی چیز ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام کے اُسوہ میں نظر آتی ہے۔ جس اخلاقی اور اصلاحی انقلاب کے وہ داعی تھے اس کے لیے اقتدار کی قوت ناگزیر تھی۔ جب حالات نے اس کا موقع فراہم کیا تو آپ نے اس سے فائدہ اٹھایا اور اسلامی حکومت قائم کی۔ قرآن میں اس کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے:
وَ قَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہٖٓ اَسْتَخْلِصْہُ لِنَفْسِیْ فَلَمَّا کَلَّمَہٗ قَالَ اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ o قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ ۔ یوسف12:54-55
بادشاہ نے کہا:انھیں میرے پاس لائو تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کرلوں۔ جب یوسفؑ نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا:اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر بھروسہ ہے۔ یوسفؑ نے کہا:ملک کے خزانے میرے سپرد کیجیے‘ میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں۔
اس سے پہلے اس سورۃ میں جو مضامین گزر چکے ہیں ان کی روشنی میں دیکھا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ یہ کوئی نوکری کی درخواست نہیں تھی جو نعوذ باللہ کسی ’طالب جاہ‘ نے وقت کے بادشاہ کا اشارہ پاتے ہی جھٹ سے پیش کر دی ہو۔ درحقیقت یہ اس انقلاب کا دروازہ کھولنے کے لیے آخری ضرب تھی جو حضرت یوسف علیہ السلام کی اخلاقی طاقت سے پچھلے دس بارہ سال کے اندر نشوو نما پاکر ظہور کے لیے تیار ہو چکا تھا اور اب جس کا فتح باب صرف ایک ٹھونکے ہی کا محتاج تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلامآزمائشوں کے ایک طویل سلسلے سے گزر کر آرہے تھے اور یہ آزمائشیں کسی گمنامی کے گوشے میں پیش نہیں آئی تھیں‘ بلکہ بادشاہ سے لے کر عام شہریوں تک مصر کا بچہ بچہ ان سے واقف تھا۔ ان آزمائشوں میں انھوں نے ثابت کر دیا تھا کہ وہ امانت‘ راست بازی‘ حلم‘ ضبطِ نفس‘ عالی ظرفی‘ ذہانت و فراست اور معاملہ فہمی میں کم از کم اپنے زمانے کے لوگوں کے درمیان تو اپنا نظیر نہیں رکھتے۔ ان کی شخصیت کے یہ اوصاف اس طرح کھل چکے تھے کہ کسی کو ان سے انکار کی مجال نہ رہی تھی۔ زبانیں ان کی شہادت دے چکی تھیں۔ دل اُن سے مسخر ہو چکے تھے۔ خود بادشاہ ان کے آگے ہتھیار ڈال چکا تھا۔ ان کا ’حفیظ‘ اور ’علیم‘ہونا اب محض ایک دعویٰ نہ تھا ‘بلکہ ایک ثابت شدہ واقعہ تھا جس پر سب ایمان لاچکے تھے۔ اب اگر کچھ کسر باقی تھی تو وہ صرف اتنی کہ حضرت یوسف علیہ السلام خود حکومت کے ان اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لینے پر رضامندی ظاہر کریں جن کے لیے بادشاہ اور اس کے اعیان سلطنت اپنی جگہ بخوبی جان چکے تھے کہ ان سے زیادہ موزوں آدمی اور کوئی نہیں ہے۔ چنانچہ یہی وہ کسر تھی جو انھوں نے اپنے اس فقرے سے پوری کر دی۔ ان کی زبان سے اس مطالبے کے نکلتے ہی بادشاہ اور اس کی کونسل نے جس طرح اسے بسر و چشم قبول کیا‘ وہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ پھل اتنا پک چکا تھا کہ اب ٹوٹنے کے لیے ایک اشارے ہی کا منتظر تھا۔ (تلمود کا بیان ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو حکومت کے اختیارات سونپنے کا فیصلہ تنہا بادشاہ ہی نے نہیں کیا تھا‘ بلکہ پوری شاہی کونسل نے بالاتفاق اس کے حق میں رائے دی تھی)
یہ اختیارات جو حضرت یوسف علیہ السلام نے مانگے اور ان کو سونپے گئے‘ ان کی نوعیت کیا تھی؟ ناواقف لوگ یہاں ’خزائن ارض‘ کے الفاظ اور آگے چل کر غلے کی تقسیم کا ذکر دیکھ کر قیاس کرتے ہیں کہ شاید یہ افسر خزانہ‘ یا افسر مال‘ یا قحط کمشنر یا وزیر مالیات یا وزیر غذائیات قسم کا کوئی عہدہ ہوگا لیکن قرآن‘ بائبل اور تلمود کی متفقہ شہادت ہے کہ درحقیقت حضرت یوسف علیہ السلام سلطنت مصر کے مختار کل (رومی اصطلاح میں ڈکٹیٹر) بنائے گئے تھے اور ملک کا سیاہ و سپید سب کچھ ان کے اختیار میں دے دیا گیا تھا۔ قرآن کہتا ہے کہ جب حضرت یعقوب علیہ السلام مصر پہنچے ہیں تو اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام تخت نشین تھے۔ (وَ رَفَعَ اَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ ۔یوسف 12:100) حضرت یوسف ؑ کی اپنی زبان سے نکلا ہوا یہ فقرہ قرآن میں منقول ہے کہ:اے میرے رب! تو نے مجھے بادشاہی عطا کی۔ ( رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ ۔ یوسف12:101)پیالے کی چوری کے موقع پر سرکاری ملازم حضرت یوسف علیہ السلام کے پیالے کو بادشاہ کا پیالہ کہتے ہیں (قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِکِ ۔ یوسف12:72)اور اللہ تعالیٰ مصر پر ان کے اقتدار کی کیفیت یہ بیان کرتا ہے کہ ساری سرزمین مصر اُن کی تھی (یَتَبَوَّاُ مِنْھَا حَیْثُ یَشَآئُ۔یوسف 12:56)۔ رہی بائیبل تو وہ شہادت دیتی ہے کہ فرعون نے یوسف ؑ سے کہا:
سو‘ تو میرے گھر کا مختار ہوگا اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ تر ہوں گا…… دیکھ! میں تجھے سارے ملک ِ مصر کا حاکم بناتا ہوں…… اور تیرے حکم کے بغیر کوئی آدمی اس سارے ملک مصر میں اپنا ہاتھ یا پائوں نہ ہلائے گا اور فرعون نے یوسف علیہ السلام کا نام ضغنات فعینح (دنیا کا نجات دہندہ) رکھا۔ (پیدائش ۴۱: ۳۹۔۴۵)
اور تلمود کہتی ہے کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے مصر سے واپس جاکر اپنے والد سے حاکمِ مصر (یوسف علیہ السلام) کی تعریف کرتے ہوئے بیان کیا:
اپنے ملک کے باشندوں پر اس کا اقتدار سب سے بالا ہے۔ اس کے حکم پر وہ نکلتے اور اس کے حکم پر وہ داخل ہوتے ہیں۔ اس کی زبان سارے ملک پر فرماں روائی کرتی ہے، کسی معاملے میں فرعون کے اذن کی ضرورت نہیں ہوتی۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ اختیارات کس غرض کے لیے مانگے تھے؟ انھوں نے اپنی خدمات اس لیے پیش کی تھیں کہ ایک کافر حکومت کے نظام کو اس کے کافرانہ اصول و قوانین ہی پر چلائیں؟ یا ان کے پیش نظر یہ تھا کہ حکومت کا اقتدار اپنے ہاتھ میں لے کر ملک کے نظامِ تمدن و اخلاق و سیاست کو اسلام کے مطابق ڈھال دیں؟ اس سوال کا بہترین جواب وہ ہے جو علامہ زمخشری نے اپنی تفسیر ’کشاف‘ میں دیا ہے‘ وہ لکھتے ہیں:
حضرت یوسف علیہ السلام نے اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ یوسف12:55جو فرمایا تو اس سے ان کی غرض صرف یہ تھی کہ ان کو اللہ تعالیٰ کے احکام جاری کرنے اور حق قائم کرنے اور عدل پھیلانے کا موقع مل جائے اور وہ اس کام کو انجام دینے کی طاقت حاصل کریں جس کے لیے انبیاء (علیہم السلام) بھیجے جاتے ہیں۔ انھوں نے بادشاہی کی محبت اور دنیا کے لالچ میں یہ مطالبہ نہیں کیا تھا‘ بلکہ یہ جانتے ہوئے کیا تھا کہ کوئی دوسرا شخص ان کے سوا ایسا نہیں ہے جو اس کام کو انجام دے سکے۔
اور سچ یہ ہے کہ یہ سوال دراصل ایک اور سوال پیدا کرتا ہے جو اس سے بھی زیادہ اہم اور بنیادی سوال ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام آیا پیغمبر بھی تھے یا نہیں؟ اگر پیغمبر تھے تو کیا قرآن میں ہم کو پیغمبری کا یہ تصور ملتا ہے کہ اسلام کا داعی خود نظامِ کفر کو کافرانہ اصولوں پر چلانے کے لیے اپنی خدمات پیش کرے؟ بلکہ یہ سوال اس پر بھی ختم نہیں ہوتا‘ اس سے بھی زیادہ نازک اور سخت ایک دوسرے سوال پر جاکر ٹھیرتا ہے‘ یعنی یہ کہ حضرت یوسف علیہ السلام ایک راست باز آدمی بھی تھے یا نہیں؟ اگر راست باز تھے تو کیا ایک راست باز انسان کا یہی کام ہے کہ قید خانے میں تو وہ اپنی پیغمبرانہ دعوت کا آغاز اس سوال سے کرے کہ ’’بہت سے رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے‘‘ اور بار بار اہل مصر پر بھی واضح کر دے کہ تمھارے ان بہت سے متفرق خود ساختہ خدائوں میں سے ایک یہ شاہ مصر بھی ہے اور صاف صاف اپنے مشن کا بنیادی عقیدہ یہ بیان کرے کہ ’’فرماں روائی کا اقتدار خدائے واحد کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے’مگر جب عملی آزمائش کا وقت آئے تو وہی شخص خود اس نظام حکومت کا خادم‘ بلکہ ناظم اور محافظ اور پشت پناہ تک بن جائے جو شاہ مصر کی ربوبیت میں چل رہا تھا اور جس کا بنیادی نظریہ ’’فرماں روائی کے اختیارات خدا کے لیے نہیں بلکہ بادشاہ کے لیے ہیں‘ تھا؟
حقیقت یہ ہے کہ اس مقام کی تفسیر میں دور انحطاط کے مسلمانوں نے کچھ اسی ذہنیت کا اظہار کیا ہے جو کبھی یہودیوں کی خصوصیت تھی۔ یہ یہودیوں کا حال تھا کہ جب وہ ذہنی و اخلاقی پستی میں مبتلا ہوئے تو پچھلی تاریخ میں جن جن بزرگوں کی سیرتیں ان کو بلندی پر چڑھنے کا سبق دیتی تھیں‘ ان سب کو وہ نیچے گرا کر اپنے مرتبے پر اتار لائے تاکہ اپنے لیے اور زیادہ نیچے گرنے کا بہانہ پیدا کریں۔ افسوس کہ یہی کچھ مسلمانوں نے بھی کیا۔ انھیں کافر حکومتوں کی چاکری کرنی تھی‘ مگر اس پستی میں گرتے ہوئے اسلام اور اس کے علم برداروں کی بلندی دیکھ کر انھیں شرم آئی‘ لہٰذا اس شرم کو مٹانے اور اپنے ضمیر کو راضی کرنے کے لیے یہ اپنے ساتھ اس جلیل القدر پیغمبر کو بھی خدمت کفر کی گہرائی میں لے گرے جس کی زندگی دراصل انھیں یہ سبق دے رہی تھی کہ اگر کسی ملک میں ایک اور صرف ایک مرد مومن بھی خالص اسلامی اخلاق اور ایمانی فراست و حکمت کا حامل ہو تو وہ تن تنہا مجرد اپنے اخلاق اور اپنی حکمت کے زور سے اسلامی انقلاب برپا کرسکتا ہے اور یہ کہ مومن کی اخلاقی طاقت (بشرطیکہ وہ اس کا استعمال جانتا ہو، اور اسے استعمال کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہو) فوج اور اسلحہ اور سروسامان کے بغیر بھی ملک فتح کرسکتی ہے اور سلطنتوں کو مسخر کرلیتی ہے۔۴۱؎

۶۔ تصور حاکمیت و خلافت

اسلام کا تصور حاکمیت بہت صاف اور واضح ہے۔ خدا اس کائنات کا خالق ہے اور وہی اس کا حاکمِ اعلیٰ بھی۔ اقتدار اعلیٰ صرف اسی کا حصہ ہے۔ انسان کی حیثیت حاکمِ اعلیٰ کے خلیفہ اور نمائندے کی ہے اور سیاسی نظام کو اسی حاکم اعلیٰ کے قانون کے تابع ہونا چاہیے۔ خلیفہ کاکام حاکم اعلیٰ کے قانون کو اس کے اصل منشا کے مطابق نافذ کرنا ہے اور نظام سیاسی کو اس کی ہدایات کے مطابق چلانا ہے:
یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ئَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ o مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اَسْمَآئً سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ۔ یوسف12:39-40
اے زنداں کے ساتھیو! تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں، یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے؟ اس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو، وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمھارے آبائو اجداد نے رکھ لیے ہیں‘ اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ فرماںروائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے‘ مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
یہ حضرت یوسف علیہ السلام کی تقریر کا ایک حصہ ہے اور توحید اور حاکمیت الٰہی پر بہترین تقریروں میں سے ہے۔ اس میں حضرت یوسف علیہ السلام دین کے اس نقطۂ آغاز کو پیش کرتے ہیں جہاں سے اہلِ حق کا راستہ اہلِ باطل کے راستے سے جدا ہوتا ہے‘ یعنی توحید اور شرک کا فرق۔ پھر اس فرق کو وہ ایسے معقول طریقے سے واضح کرتے ہیں کہ عقل عام رکھنے والا کوئی شخص اسے محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ خصوصیت کے ساتھ جو لوگ اس وقت ان سے مخاطب تھے ان کے دل و دماغ میں تو تیر کی طرح یہ بات اتر گئی ہوگی‘ کیونکہ وہ نوکر پیشہ غلام تھے اور اپنے دل کی گہرائیوں میں اس بات کو خوب محسوس کرسکتے تھے کہ ایک آقا کا غلام ہونا بہتر ہے یا بہت سے آقائوں کا‘ اور سارے جہاں کے آقا کی بندگی بہتر ہے یا بندوں کی بندگی۔ پھر وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ اپنا دین چھوڑو اور میرے دین میں آجائو‘ بلکہ ایک عجیب انداز میں ان سے کہتے ہیں کہ دیکھو! اللہ کا یہ کتنا بڑا فضل ہے کہ اس نے اپنے سوا ہم کو کسی کا بندہ نہیں بنایا، مگر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور خواہ مخواہ خود گھڑ گھڑ کر اپنے رب بناتے اور ان کی بندگی کرتے ہیں۔ پھر وہ اپنے مخاطبوں کے دین پر تنقید بھی کرتے ہیں‘ مگر نہایت معقولیت کے ساتھ اور دل آزاری کے ہر شائبے کے بغیر، بس اتنا کہنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ یہ معبود جن میں سے کسی کو تم اَن داتا‘ کسی کو خداوند نعمت‘ کسی کو مالک زمین اور کسی کو رب دولت یا خود مختار صحت و مرض وغیرہ کہتے ہو‘ یہ سب خالی خولی نام ہی ہیں‘ ان ناموں کے پیچھے کوئی حقیقی ان داتائی و خداوندی اور مالکیت و ربوبیت موجود نہیں ہے۔ اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے جسے تم بھی کائنات کا خالق و رب تسلیم کرتے ہو، اور اس نے ان میں سے کسی کے لیے بھی خداوندی اور معبودیت کی کوئی سند نہیں اتاری ہے۔ اس نے تو فرماںروائی کے سارے حقوق اور اختیارات اپنے ہی لیے مخصوص رکھے ہیں اور اس کا حکم ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔۴۲؎
(الف) وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰٓاَیُّھَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ ۔ القصص28:38
اور فرعون نے کہا: اے اہلِ دربار! میں تو اپنے سوا تمھارے کسی الٰہ کو نہیں جانتا۔
اس قول سے فرعون کا مطلب ظاہر ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ میں ہی تمھارا اور زمین و آسمان کا خالق ہوں‘ کیونکہ ایسی بات صرف ایک پاگل ہی کے منہ سے نکل سکتی تھی۔ اسی طرح اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ہے کیونکہ اہل مصر کے مذہب میں بہت سے معبودوں کی پرستش ہوتی تھی اور خود فرعون کو جس بنا پر معبودیت کا مرتبہ دیا گیا تھا وہ بھی صرف یہ تھی کہ اسے سورج دیوتا کا اوتار مانا جاتا تھا۔ سب سے بڑی شہادت قرآن مجید کی موجود ہے کہ فرعون خود بہت سے دیوتائوں کا پرستار تھا۔ (الاعراف۷:۱۲۷)
اس لحاظ سے اگر غور کیا جائے تو فرعون کی پوزیشن اُن ریاستوں کی پوزیشن سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے جو خدا کے پیغمبر کی لائی ہوئی شریعت سے آزاد و خود مختار ہو کر اپنی سیاسی اور قانونی حاکمیت کی مدعی ہیں۔ وہ خواہ سرچشمۂ قانون اور صاحب امر و نہی کسی بادشاہ کو مانیں یا قوم کی مرضی کو‘ بہرحال جب تک وہ یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ ملک میں خدا اور اس کے رسول ؑ کا نہیں، بلکہ ہمارا حکم چلے گا، اس وقت تک ان کے اور فرعون کے موقف میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ بے شعور لوگ فرعون پر لعنت بھیجتے رہیں اور ان ریاستوں کو سندِ جواز عطا کرتے رہیں۔ حقائق کی سمجھ بوجھ رکھنے والا آدمی تو معنی اور روح کو دیکھے گا نہ کہ الفاظ اور اصطلاحات کو۔ آخر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ فرعون نے اپنے لیے ’اِلٰہ‘کا لفظ استعمال کیا تھا اور یہ اسی معنی میں ’حاکمیت‘ کی اصطلاح استعمال کرتی ہیں۔۴۳؎
(ج) الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ وَخَلَقَ کُلَّ شَیْئٍ فَقَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًا ۔ الفرقان25:2
وہ جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ہے‘ جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے‘ جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی۔
یہاں لفظ ملک استعمال ہوا ہے جو عربی زبان میں بادشاہی‘ اقتدار اعلیٰ اور حاکمیت (sovereignty) کے لیے بولا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی ساری کائنات کا مختار مطلق ہے اور فرماںروائی کے اختیارات میں ذرہ برابر بھی کسی کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ یہ چیز آپ سے آپ اس بات کو مستلزم ہے کہ پھر معبود بھی اس کے سوا کوئی نہیں ہے، اس لیے کہ انسان جس کو بھی معبود بناتا ہے یہ سمجھ کر بناتا ہے کہ اس کے پاس کوئی طاقت ہے جس کی وجہ سے وہ ہمیں کسی قسم کا نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے اور ہماری قسمتوں پر اچھا یا برا اثر ڈال سکتا ہے۔ بے زور اور بے اثر ہستیوں کو ملجا و ماویٰ بنانے کے لیے کوئی احمق سے احمق انسان بھی کبھی تیار نہیں ہوسکتا۔ اب اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ جَلَّ شَاْنُہ‘ کے سوا اس کائنات میں کسی کے پاس بھی کوئی زور نہیں ہے تو پھر نہ کوئی گردن اس کے سوا کسی کے آگے اظہار عجز و نیاز کے لیے جھکے گی‘ نہ کوئی ہاتھ اس کے سوا کسی کے آگے نذر پیش کرنے کے لیے بڑھے گا‘ نہ کوئی زبان اس کے سوا کسی کی حمد کے ترانے گائے گی، یا دعا و التجا کے لیے کھلے گی اور نہ دنیا کے کسی نادان سے نادان آدمی سے بھی کبھی یہ حماقت سرزد ہوسکے گی کہ وہ اپنے حقیقی خدا کے سوا کسی اور کی اطاعت و بندگی بجا لائے‘ یا کسی کو بذات خود حکم چلانے کا حق دار مانے۔ اس مضمون کو مزید تقویت اوپر کے اس فقرے سے پہنچتی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور اسی کے لیے ہے۔۴۴؎
لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ البقرہ2:284
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے۔ تم اپنے دل کی باتیں خواہ ظاہر کرو، خواہ چھپائو۔ اللہ بہرحال ان کا حساب تم سے لے لے گا۔ پھر اسے اختیار ہے جسے چاہے معاف کردے اور جسے چاہے سزا دے، وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی اولین بنیاد خدا کی حاکمیت کا عقیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا مالک زمین و آسمان ہونا اور ان تمام چیزوں کا جو آسمان و زمین میں ہیں‘ اللہ ہی کی مِلک ہونا‘ دراصل یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جس کی بنا پر انسان کے لیے کوئی دوسرا طرز عمل اس کے سوا جائز اور صحیح نہیں ہوسکتا کہ وہ اللہ کے آگے سر اطاعت جھکا دے۔ پھر اس آیت میں جواب دہی کے تصور اور انفرادی ذمے داری کے اصول کو بیان کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ ہر انسان فردًا فردًا اللہ کے سامنے ذمے دار اور جواب دہ ہے۔ دوسرے یہ کہ جس بادشاہ زمین و آسمان کے سامنے جواب دہ ہے‘ وہ غیب و شہادت کا علم رکھنے والا ہے حتیٰ کہ دلوں کے چھپے ہوئے ارادے اور خیالات تک اس سے پوشیدہ نہیں ہیں اور آخر میں اللہ کے اختیار مطلق کا بیان ہے۔ اس کو کسی قانون نے باندھ نہیں رکھا ہے کہ اس کے مطابق عمل کرنے پر وہ مجبور ہو، بلکہ وہ مالک مختار ہے۔ سزا دینے اور معاف کرنے کے کلی اختیارات اس کو حاصل ہیں۔۴۵؎
(ھ) وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَ لِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ وَ جِئْتُکُمْ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوْنِ o اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ۔
آل عمران 50-51:3
اور میں اس تعلیم و ہدایت کی تصدیق کرنے والا بن کر آیا ہوں جو تورات میں سے اس وقت میرے زمانے میں موجود ہے اور اس لیے آیا ہوں کہ تمھارے لیے بعض ان چیزوں کو حلال کردوں جو تم پر حرام کر دی گئی تھیں اور میں تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں‘ لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اللہ میرا رب بھی ہے اور تمھارا رب بھی۔ لہٰذا تم اسی کی بندگی اختیار کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء علیہم السلام کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت کے بھی بنیادی نکات یہی تین تھے:
۱۔ ایک یہ کہ اقتدار اعلیٰ‘ جس کے مقابلے میں بندگی کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور جس کی اطاعت پر اخلاق و تمدن کا پورا نظام قائم ہوتا ہے‘ صرف اللہ کے لیے مختص تسلیم کیا جائے۔
۲۔ دوسرے یہ کہ اس مقتدر اعلیٰ کے نمائندے کی حیثیت سے نبی کے حکم کی اطاعت کی جائے۔
۳۔ تیسرے یہ کہ انسانی زندگی کو حلت و حرمت اور جواز و عدم جواز کی پابندیوں سے جکڑنے والا قانون و ضابطہ صرف اللہ کا ہو، اور دوسروں کے عاید کردہ قوانین منسوخ کر دیے جائیں۔
پس درحقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کے مشن میں یک سرِمُو فرق نہیں ہے۔ جن لوگوں نے مختلف پیغمبروں کے مختلف مشن قرار دیے ہیں اور ان کے درمیان مقصد و نوعیت کے اعتبار سے فرق کیا ہے انھوں نے سخت غلطی کی ہے۔ مالک الملک کی طرف سے اس کی رعیت کی طرف جو شخص بھی مامور ہو کر آئے گا اس کے آنے کا مقصد، اس کے سوا اور کچھ ہوسکتا ہی نہیں کہ وہ رعایا کونافرمانی اور خود مختاری سے روکے اور شرک سے (یعنی اس بات سے کہ وہ اقتدار اعلیٰ میں کسی حیثیت سے دوسروں کو مالک الملک کے ساتھ شریک ٹھیرائیں اور اپنی وفاداریوں اور عبادت گزاریوں کو ان میں منقسم کریں) منع کرے اور اصل مالک کی خالص بندگی و اطاعت اور پرستاری و وفاداری کی طرف دعوت دے۔
افسوس ہے کہ موجودہ اناجیل میں مسیح علیہ السلام کے مشن کو اس وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا جس طرح اوپر قرآن میں پیش کیا گیا ہے۔ تاہم منتشر طور پر اشارات کی شکل میں وہ تینوں بنیادی نکات ہمیں ان کے اندر ملتے ہیں جو اوپر بیان ہوئے ہیں۔ مثلاً: یہ بات کہ مسیح علیہ السلام صرف اللہ کی بندگی کے قائل تھے ان کے اس ارشاد سے صاف ظاہر ہوتی ہے:
تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر۔ (متی۴:۱۰)
اور صرف یہی نہیں کہ وہ اس کے قائل تھے، بلکہ ان کی ساری کوششوں کا مقصود یہ تھا کہ زمین پر خدا کے امر شرعی کی اسی طرح اطاعت ہو جس طرح آسمان پر اس کے امر تکوینی کی اطاعت ہورہی ہے:
تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔ (متی۶:۱۰)
پھر یہ بات کہ مسیح علیہ السلام اپنے آپ کو نبی اور آسمانی بادشاہت کے نمائندے کی حیثیت سے پیش کرتے تھے اور اسی حیثیت سے لوگوں کو اپنی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے، ان کے متعدد اقوال سے معلوم ہوتی ہے۔ انھوں نے جب اپنے وطن ناصرہ سے اپنی دعوت کا آغاز کیا تو ان کے اپنے ہی بھائی بند اور اہلِ شہران کی مخالفت کے لیے کھڑے ہوگئے۔ اس پر متی‘ مرقس اور لوقا تینوں کی متفقہ روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا: نبی اپنے وطن میں مقبول نہیں ہوتا، اور جب یروشلم میں ان کے قتل کی سازشیں ہونے لگیں اور لوگوں نے ان کو مشورہ دیا کہ آپ کہیں اور چلے جائیں تو انھوں نے جواب دیا:
ممکن نہیں کہ نبی یروشلم سے باہر ہلاک ہو۔ (لوقا ۱۳:۲۳)
آخری مرتبہ جب وہ یروشلم میں داخل ہو رہے تھے تو ان کے شاگردوں نے بلند آواز سے کہنا شروع کیا:
’مبارک ہے وہ بادشاہ جو خداوند کے نام سے آتا ہے۔‘
اس پر یہودی علما ناراض ہوئے اور انھوں نے حضرت مسیح سے کہا کہ آپ اپنے شاگردوں کو چپ کرائیں۔ اس پر آپ نے فرمایا: ’اگر یہ چپ رہیں گے تو پتھر پکار اٹھیں گے۔ (لوقا ۱۹:۳۸۔۴۰)
ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا:
اے محنت اٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو! سب میرے پاس آئو‘ میں تم کو آرام دوں گا۔ میرا جوا اپنے اوپر اٹھالو… میرا جوا ملائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا۔ (متی۱۱:۲۸۔۳۰)
پھر یہ بات کہ مسیح علیہ السلام انسانی ساخت کے قوانین کے بجائے خدائی قانون کی اطاعت کرانا چاہتے تھے متی اور مرقس کی اس روایت سے صاف طور پر مترشح ہوتی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہودی علما نے اعتراض کیا کہ آپ کے شاگرد بزرگوں کی روایات کے خلاف ہاتھ دھوئے بغیر کھانا کیوں کھالیتے ہیں۔ اس پر حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ تم ریاکاروں کی حالت وہی ہے جس پر یسعیاہ نبی کی زبان سے یہ طعنہ دیا گیا ہے کہ ’’یہ امت زبان سے تو میری تعظیم کرتی ہے مگر ان کے دل مجھ سے دور ہیں‘ کیونکہ یہ انسانی احکام کی تعلیم دیتے ہیں۔‘‘ تم لوگ خدا کے حکم کو تو باطل کرتے ہو اور اپنے گھڑے ہوئے قوانین کو برقرار رکھتے ہو۔ خدا نے توراۃ میں حکم دیا تھا کہ ماں باپ کی عزت کرو اور جو کوئی ماں باپ کو برا کہے وہ جان سے مارا جائے، مگر تم کہتے ہو کہ جو شخص اپنی ماں یا باپ سے یہ کہہ دے کہ میری جو خدمات تمھارے کام آسکتی تھیں انھیں میں خدا کی نذر کر چکا ہوں‘ اس کے لیے بالکل جائز ہے کہ پھر ماں یاباپ کی کوئی خدمت نہ کرے۔ (متی ۱۵:۳۔۹۔مرقس ۷:۵۔۱۳)۴۶؎
اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَ یَطْلُبُہٗ حَثِیْثًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍم بِاَمْرِہٖ اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ الاعراف7:54
درحقیقت تمھارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا‘ پھر اپنے تخت سلطنت پر متمکن ہوا۔ جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے۔ جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کیے۔ سب اس کے فرمان کے تابع ہیں۔ خبردار رہو! اسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے۔ بڑا بابرکت ہے اللہ‘ سارے جہانوں کا مالک اور پروردگار۔
خدا کے استوا عَلَی الْعَرش (تختِ سلطنت پر متمکن ہونے) کی تفصیلی کیفیت کو سمجھنا ہمارے لیے مشکل ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق کے بعد کسی مقام کو اپنی اس لامحدود سلطنت کا مرکز قرار دے کر اپنی تجلیات کو وہاں مرتکز فرما دیا ہو، اور اسی کا نام عرش ہو جہاں سے سارے عالم پر وجود اور قوت کا فیضان بھی ہو رہا ہے اور تدبیر امر بھی فرمائی جارہی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ عرش سے مراد اقتدار فرماں روائی ہو، اور اس پر متمکن ہو جانے سے مراد یہ ہو کہ اللہ نے کائنات کو پیدا کرکے اس کی زمام سلطنت اپنے ہاتھ میں لی۔ بہرحال اِستوا علی العرش کا تفصیلی مفہوم خواہ کچھ بھی ہو‘ قرآن میں اس کے ذکر کا اصل مقصد یہ ذہن نشین کرانا ہے کہ اللہ تعالیٰ محض خالق کائنات ہی نہیں ہے بلکہ مدبر کائنات بھی ہے۔ وہ دنیا کو وجود میں لانے کے بعد اس سے بے تعلق ہو کر کہیں بیٹھ نہیں گیا ہے، بلکہ عملاً وہی سارے جہان کے جزو کل پر فرماںروائی کر رہا ہے۔ سلطانی و حکمرانی کے تمام اختیارات بالفعل اس کے ہاتھ میں ہیں‘ ہر چیز اس کے امر کی تابع ہے‘ ذرہ ذرہ اس کے فرمان کا مطیع ہے اور موجودات کی قسمتیں دائماً اس کے حکم سے وابستہ ہیں۔ اس طرح قرآن اس بنیادی غلط فہمی کی جڑ کاٹنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے انسان کبھی شرک کی گمراہی میں مبتلا ہوا ہے اور کبھی خود مختاری و خود سری کی ضلالت میں۔ خدا کو کائنات کے انتظام سے عملاً بے تعلق سمجھ لینے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آدمی یا تو اپنی قسمت کو دوسروں سے وابستہ سمجھے اور ان کے آگے سرجھکا دے، یا پھر اپنی قسمت کا مالک خود اپنے آپ کو سمجھے اور خود مختار بن بیٹھے۔
یہاں ایک بات اور قابل توجہ ہے۔ قرآن مجید میں خدا اور خلق کے تعلق کو واضح کرنے کے لیے انسانی زبان میں سے زیادہ تر وہ الفاظ‘ مصطلحات‘ استعارے اور انداز بیان انتخاب کیے گئے ہیں جو سلطنت و بادشاہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ طرز بیان قرآن میں اس قدر نمایاں ہے کہ کوئی شخص جو سمجھ کر قرآن کو پڑھتا ہو اسے محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ بعض کم فہم ناقدین کے معکوس دماغوں نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ کتاب جس عہد کی ’تصنیف‘ ہے، اس زمانے میں انسان کے ذہن پر شاہی نظام کا تسلط تھا اس لیے مصنف نے (جس سے مراد ان ظالموں کے نزدیک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں) خدا کو بادشاہ کے رنگ میں پیش کیا۔ حالانکہ دراصل قرآن جس دائمی و ابدی حقیقت کو پیش کر رہا ہے وہ اس کے برعکس ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں میں پادشاہی صرف ایک ذات کی ہے اور حاکمیت (sovereignty)جس شے کا نام ہے وہ اسی ذات کے لیے خاص ہے اور یہ نظام کائنات ایک کامل مرکزی نظام ہے جس میں تمام اختیارات کو وہی ایک ذات استعمال کر رہی ہے، لہٰذا اس نظام میں جو شخص یا گروہ اپنی یا کسی اور کی جزوی یا کلی حاکمیت کا مدعی ہے وہ محض فریب میں مبتلا ہے۔ نیز یہ کہ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے انسان کے لیے اس کے سوا کوئی دوسرا رویہ صحیح نہیں ہوسکتا کہ اسی ایک ذات کو مذہبی معنوں میں واحد معبود بھی مانے اور سیاسی و تمدنی معنوں میں واحد سلطان (sovereign)بھی تسلیم کرے۔
لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ الاعراف7:54 کے الفاظ سے اسی مضمون کی مزید تشریح کی گئی ہے جو ’’استوا علی العرش‘‘ کے الفاظ میں مجملاً بیان کیا گیا تھا۔ یعنی یہ کہ خدا محض خالق ہی نہیں آمر اور حاکم بھی ہے۔ اس نے اپنی خلق کو پیدا کرکے نہ تو دوسروں کے حوالے کر دیا ہے کہ وہ اس میں حکم چلائیں اور نہ پوری خلق کو یا اس کے کسی حصے کو خود مختار بنا دیا ہے کہ جس طرح چاہے خود کام کرے، بلکہ عملاً تمام کائنات کی تدبیر خدا کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ لیل و نہار کی گردش آپ سے آپ نہیں ہو رہی ہے بلکہ خدا کے حکم سے ہو رہی ہے‘ جب چاہے اسے روک دے اور جب چاہے اس کے نظام کو تبدیل کر دے۔ سورج اور چاند اور تارے خود کسی طاقت کے مالک نہیں ہیں، بلکہ خدا کے ہاتھ میں بالکل مسخر ہیں اور مجبور غلاموں کی طرح بس وہی کام کیے جا رہے ہیں جو خدا ان سے لے رہا ہے۔۴۷؎
(ز) اِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ المائدہ5:1
بے شک اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔
یعنی اللہ حاکم مطلق ہے۔ اسے پورا اختیار ہے کہ جو چاہے حکم دے۔ بندوں کو اس کے احکام میں چون و چرا کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اگرچہ اس کے تمام احکام حکمت و مصلحت پر مبنی ہیں، لیکن بندۂ مسلم اس کے حکم کی اطاعت اس حیثیت سے نہیں کرتا کہ وہ اسے مناسب پاتا ہے یا مبنی برمصلحت سمجھتا ہے، بلکہ صرف اس بنا پر کرتا ہے کہ یہ مالک کا حکم ہے۔ جو چیز اس نے حرام کردی ہے وہ صرف اس لیے حرام ہے کہ اس نے حرام کی ہے اور اسی طرح جو اس نے حلال کر دی ہے وہ بھی کسی دوسری بنیاد پر نہیں، بلکہ صرف اس بنیاد پر حلال ہے کہ جو خدا ان ساری چیزوں کا مالک ہے، وہ اپنے غلاموں کو اس چیز کے استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ لہٰذا قرآن پورے زور کے ساتھ یہ اصول قائم کرتا ہے کہ اشیا کی حرمت و حلت کے لیے مالک کی اجازت و عدم اجازت کے سوا کسی اور بنیاد کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں اور اسی طرح بندے کے لیے کسی کام کے جائز ہونے یا نہ ہونے کا مدار بھی اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ خدا جس کو جائز رکھے وہ جائز ہے اور جسے ناجائز قرار دے وہ ناجائز۔۴۸؎
(ک) وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَي اللہِ الْكَذِبَ۝۰ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللہِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَo النحل116:16
اور یہ جو تمھاری زبانیں جھوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ چیز حلال ہے اور وہ حرام‘ تو اس طرح کے حکم لگا کر اللہ پر جھوٹ نہ باندھا کرو۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹے افترا باندھتے ہیں وہ ہرگز فلاح نہیں پایا کرتے۔
یہ آیت صاف تصریح کرتی ہے کہ خدا کے سوا تحلیل و تحریم کا حق کسی کو بھی نہیں‘ یا بالفاظ دیگر قانون ساز صرف اللہ ہے۔ دوسرا جو شخص بھی جائز اور ناجائز کا فیصلہ کرنے کی جرأت کرے گا وہ اپنی حد سے تجاوز کرے گا‘ الایہ کہ وہ قانون الٰہی کو سند مان کر اس کے فرامین سے استنباط کرتے ہوئے یہ کہے کہ فلاں چیز یا فلا ں فعل جائز ہے اور فلاں ناجائز۔
اس خود مختارانہ تحلیل و تحریم کو اللہ پر جھوٹ اور افترا اس لیے فرمایا گیا کہ جو شخص اس طرح کے احکام لگاتا ہے‘ اس کا یہ فعل دو حال سے خالی نہیں ہوسکتا:
۱۔ یا وہ اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ جسے وہ کتاب الٰہی کی سند سے بے نیاز ہو کر جائز و ناجائز کہہ رہا ہے اسے خدا نے جائز یا ناجائز ٹھیرایا ہے۔
۲۔ یا اس کا دعویٰ یہ ہے کہ اللہ نے تحلیل وتحریم کے اختیارات سے دست بردار ہو کر انسان کو خود اپنی زندگی کی شریعت بنانے کے لیے آزاد چھوڑ دیا ہے۔
ان میں سے جو دعویٰ بھی وہ کرے وہ لامحالہ جھوٹ اور اللہ پر افترا ہے۔ ۴۹؎
(ل) قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللہُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَــعَلْتُمْ مِّنْہُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا۝۰ۭ قُلْ اٰۗللہُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَي اللہِ تَفْتَرُوْنَo یونس59:10
اے نبی! ان سے کہو: تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمھارے لیے اتارا تھا اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھیرا لیا‘ ان سے پوچھو اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی؟ یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟۔
اردو زبان میں رزق کا اطلاق صرف کھانے پینے کی چیزوں پر ہوتا ہے، اسی وجہ سے لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہاں گرفت صرف اس قانون سازی پر کی گئی ہے جو دستر خوان کی چھوٹی سی دنیا میں‘ مذہبی اوہام یا رسم و رواج کی بنیاد پر لوگوں نے کر ڈالی ہے۔ اس غلط فہمی میں جہلاء یا عوام ہی نہیں‘ علما تک مبتلا ہیں۔ حالانکہ عربی زبان میں رزق محض خوراک تک محدود نہیں ہے بلکہ عطا اور بخشش اور نصیب کے معنوں میں عام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی دنیا میں انسان کو دیا ہے وہ سب اس کا رزق ہے حتیٰ کہ اولاد تک رزق ہے۔ اسماء الرجال کی کتابوں میں بکثرت راویوں کے نام رزق اور رزیق اور رزق اللہ ملتے ہیں جس کے معنی تقریباً وہی ہیں جو اردو میں اللہ دیے کے معنی ہیں۔ مشہور دعا ہے: اَللّٰھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَہ‘ یعنی ہم پر حق واضح کر اور ہمیں اس کے اتباع کی توفیق دے۔محاورے میں بولا جاتا ہے رُزِقَ عِلْمًا ‘ فلاں شخص کو علم دیا گیا۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر حاملہ کے پیٹ میں ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور وہ پیدا ہونے والے کا رزق اور اس کی مدت عمر اور اس کاکام لکھ دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں رزق سے مراد صرف وہ خوراک ہی نہیں ہے جو اس بچے کو آئندہ ملنے والی ہے بلکہ وہ سب کچھ ہے جو اسے دنیا میں دیا جائے گا۔ خود قرآن میں ہے: وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ البقرہ 3:2 جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ پس رزق کو محض دستر خوان کی سرحدوں تک محدود سمجھنا اور یہ خیال کرنا کہ اللہ تعالیٰ کو صرف ان پابندیوں اور آزادیوں پر اعتراض ہے جو کھانے پینے کی چیزوں کے معاملے میں لوگوں نے بطور خود اختیار کرلی ہیں‘ سخت غلطی ہے اور یہ کوئی معمولی غلطی نہیں ہے۔ اس کی بدولت خدا کے دین کی ایک بہت بڑی اصولی تعلیم لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئی ہے۔ یہ اسی غلطی کا تو نتیجہ ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں میں حلت و حرمت اور جواز و عدم جواز کا معاملہ تو ایک دینی معاملہ سمجھا جاتا ہے لیکن تمدن کے وسیع تر معاملات میں اگر یہ اصول طے کرلیا جائے کہ انسان خود اپنے لیے حدود مقرر کرنے کا حق رکھتا ہے اور اسی بنا پر خدا اور اس کی کتاب سے بے نیاز ہو کر قانون سازی کی جانے لگے تو عامی تو درکنار علمائے دین و مفتیان شرع متین اور مفسرینِ قرآن و شیوخِ حدیث تک کو یہ احساس نہیں ہوتا کو یہ چیز بھی دین سے اسی طرح ٹکراتی ہے جس طرح ماکولات و مشروبات میں شریعت ِ الٰہی سے بے نیاز ہو کر جائز و ناجائز کے حدود بطور خود مقرر کرلینا۔
پھر فرمایا جارہا ہے کہ تمھیں کچھ احساس بھی ہے کہ یہ کتنا سخت باغیانہ جرم ہے جو تم کر رہے ہو۔ رزق اللہ کا ہے اور تم خود اللہ کے ہو‘ پھر یہ حق آخر تمھیں کہاں سے حاصل ہوگیا کہ اللہ کی املاک میں اپنے تصرف‘ استعمال اور انتفاع کے لیے خود حد بندیاں مقرر کرو؟ کوئی نوکر اگر یہ دعویٰ کرے کہ آقا کے مال میں اپنے تصرف اور اختیارات کی حدیں اسے خود مقرر کرلینے کا حق ہے اور اس معاملے میںآقا کے کچھ بولنے کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں‘ تو اس کے متعلق تمھاری کیا رائے ہے؟ تمھارا اپنا ملازم اگر تمھارے گھر میں اور تمھارے گھر کی سب چیزوں میں اپنے عمل اور استعمال کے لیے اس آزادی و خود مختاری کا دعویٰ کرے تو تم اس کے ساتھ کیا معاملہ کرو گے؟ ____ اس نوکر کا معاملہ تودوسرا ہی ہے جو سرے سے نہیں مانتا کہ وہ کسی کا نوکر ہے اور کوئی اس کا آقابھی ہے اور یہ کسی اور کا مال ہے جو اس کے تصرف میں ہے۔ اس بدمعاش غاصب کی پوزیشن یہاں زیر بحث نہیں ہے۔ یہاں سوال اس نوکر کی پوزیشن کا ہے جو خود مان رہا ہے کہ وہ کسی کا نوکر ہے اور یہ بھی مانتا ہے کہ مال اسی کا ہے جس کا وہ نوکر ہے اور پھر کہتا ہے کہ اس مال میں اپنے تصرف کے حقوق مقرر کرلینے کا حق مجھے آپ ہی حاصل ہے اور آقا سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
آخر میں یہ بات بھی واضح کر دی گئی ہے کہ تمھاری یہ پوزیشن صرف اسی صورت میں صحیح ہوسکتی تھی کہ آقا نے خود تم کو مجاز کر دیا ہو تا،کہ میرے مال میں تم جس طرح چاہو تصرف کرو‘ اپنے عمل اور استعمال کے حدود‘ قوانین‘ ضوابط سب کچھ بنالینے کے جملہ حقوق میں نے تمھیں سونپے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا تمھارے پاس واقعی اس کی کوئی سند ہے کہ آقا نے تم کو یہ اختیارات دے دیے ہیں، یا تم بغیر کسی سند کے یہ دعویٰ کر رہے ہو کہ وہ تمام حقوق تمھیں سونپ چکا ہے۔ اگر پہلی صورت ہے تو براہ کرم وہ سند دکھائو، ورنہ بصورت دیگر یہ کھلی بات ہے کہ تم بغاوت پر جھوٹ اور افترا پردازی کا مزید جرم کر رہے ہو۔ ۵۰؎
(ج) وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَo ……… الظٰلِمُوْنَ … …الْفٰسِقُوْنَ
المائدہ 47-45-44:5
اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں…… ظالم ہیں…… فاسق ہیں۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے حق میں جو خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تین حکم ثابت کیے ہیں:
ایک یہ کہ وہ کافر ہیں‘ دوسرے یہ کہ وہ ظالم ہیں‘ تیسرے یہ کہ وہ فاسق ہیں۔
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو انسان خدا کے حکم اور اس کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کر اپنے، یا دوسرے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر فیصلہ کرتا ہے‘ وہ دراصل تین بڑے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے:
٭ اولاً ،اس کا یہ فعل حکمِ خداوندی کے انکار کا ہم معنی ہے اور یہ کفر ہے۔
٭ ثانیاً، اس کا یہ فعل عدل و انصاف کے خلاف ہے‘ کیونکہ ٹھیک ٹھیک عدل کے مطابق جو حکم ہوسکتا تھا وہ تو خدا نے دیا تھا‘ اس لیے جب خدا کے حکم سے ہٹ کر اس نے فیصلہ کیا تو ظلم کیا۔
٭ تیسرے یہ کہ، بندہ ہونے کے باوجود جب اس نے اپنے مالک کے قانون سے منحرف ہو کر اپنا یا کسی دوسرے کا قانون نافذ کیا تو درحقیقت بندگی و اطاعت کے دائرے سے باہر قدم نکالا اور یہی فسق ہے۔
یہ کفر اور ظلم اور فسق اپنی نوعیت کے اعتبار سے لازماً انحراف از حکم خداوندی کی عین حقیقت میں داخل ہیں۔ ممکن نہیں ہے کہ جہاں وہ انحراف موجود ہو، وہاں یہ تینوں چیزیں موجود نہ ہوں، البتہ جس طرح انحراف کے درجات و مراتب میں فرق ہے اسی طرح ان تینوں چیزوں کے مراتب میں بھی فرق ہے۔ جو شخص حکم الٰہی کے خلاف اس بنا پر فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اللہ کے حکم کو غلط اور اپنے یا کسی دوسرے انسان کے حکم کو صحیح سمجھتا ہے وہ مکمل کافر اور ظالم اور فاسق ہے، اور جو اعتقاداًحکمِ الٰہی کو برحق سمجھتا ہے مگر عملاً اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ اگرچہ خارج از ملت تو نہیں ہے مگر اپنے ایمان کو کفر‘ ظلم اور فسق سے مخلوط کر رہا ہے۔ اسی طرح جس نے تمام معاملات میں حکمِ الٰہی سے انحراف اختیار کرلیا ہے وہ تمام معاملات میں کافر‘ ظالم اور فاسق ہے اور جو بعض معاملات میں مطیع اور بعض میں منحرف ہے، اس کی زندگی میں ایمان و اسلام اور کفر و ظلم و فسق کی آمیزش ٹھیک ٹھیک اسی تناسب کے ساتھ ہے جس تناسب کے ساتھ اس نے اطاعت اور انحراف کو ملا رکھا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے ان آیات کو اہل کتاب کے ساتھ مخصوص قرار دینے کی کوشش کی ہے، مگر کلامِ الٰہی کے الفاظ میں اس تاویل کے لیے کوئی گنجایش موجود نہیں۔ اس تاویل کا بہترین جواب وہ ہے جو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیا ہے۔ ان سے کسی نے کہا کہ یہ تینوں آیتیں تو بنی اسرائیل کے حق میں ہیں۔ کہنے والے کا مطلب یہ تھا کہ یہودیوں میں سے جس نے خدا کے نازل کردہ حکم کے خلاف فیصلہ کیا ہو وہی کافر‘ وہی ظالم اور وہی فاسق ہے۔ اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
نِعْمَ الْاِخْوَۃُ لَکُمْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ اَنْ کَانَتْ لَھُمْ کُلَّ مُرَّۃٍ وَلَکُمْ کُلَّ حُلْوَۃٍ کَلاَّ وَاللّٰہِ لَتَسْلُکُنَّ طَرِیْقَھُمْ قَدْرَ الشِّرَاکِ۔
کتنے اچھے بھائی ہیں تمھارے لیے یہ بنی اسرائیل کہ کڑوا کڑوا سب ان کے لیے ہے اور میٹھا میٹھا سب تمھارے لیے! ہرگز نہیں‘ خدا کی قسم تم انھی کے طریقے پر قدم بہ قدم چلو گے۔۵۱؎
حاکمیت الٰہی کا یہی اصل الاصول ہے جس پر قرآن میں جگہ جگہ گفتگو کی گئی ہے۔ خدا کے سوا جس کو بھی مختار مطلق مانا جائے گا اس کی حیثیت قرآن کی اصطلاح میں طاغوت کی ہے اور یہ بندگیِ الٰہی کی ضد ہے۔
(ت) فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰى۝۰ۤ لَاانْفِصَامَ لَہَا۝۰ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌo البقرہ 256:2
اب جو کوئی طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آیا‘ اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔
طاغوت لغت کے اعتبار سے ہر اُس شخص کو کہا جائے گا جو اپنی جائز حد سے تجاوز کرگیا ہو۔ قرآن کی اصطلاح میں طاغوت سے مراد وہ بندہ ہے جو بندگی کی حد سے تجاوز کرکے خود آقائی و خداوندی کا دم بھرے اور خدا کے بندوں سے اپنی بندگی کرائے۔ خدا کے مقابلے میں ایک بندے کی سرکشی کے تین مرتبے ہیں:
٭ پہلا مرتبہ یہ ہے کہ بندہ اصولاً اس کی فرماں برداری ہی کو حق مانے مگر عملاً اس کے احکام کی خلاف ورزی کرے۔ اس کا نام فسق ہے۔
٭ دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ اس کی فرماں برداری سے اصولاً منحرف ہو کر یا تو خود مختار بن جائے یا اس کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے لگے‘ یہ کفر ہے۔
٭ تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ مالک سے باغی ہو کر اس کے ملک اور اس کی رعیت میں خود اپنا حکم چلانے لگے۔ اس آخری مرتبے پر جو بندہ پہنچ جائے اسی کا نام طاغوت ہے اور کوئی شخص صحیح معنوں میں اللہ کا مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اس طاغوت کا منکر نہ ہو۔۵۲؎
ایک دوسری آیت پر غور کیجیے:
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَحَاكَمُوْٓا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ يَّكْفُرُوْا بِہٖ۝۰ۭ۔ النسائ 60:4
اے نبیؐ! تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس کتاب پر جو تمھاری طرف نازل کی گئی اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیںمگر چاہتے ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے طاغوت کی طرف رجوع کریں حالانکہ انھیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
یہاں صریح طور پر’طاغوت‘ سے مراد وہ حاکم ہے جو قانونِ الٰہی کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہو، اور وہ نظامِ عدالت ہے جو نہ تو اللہ کے اقتدار اعلیٰ کا مطیع ہو اور نہ اللہ کی کتاب کو آخری سند مانتا ہو۔ لہٰذا یہ آیت اس معنی میں بالکل صاف ہے کہ جو عدالت ’طاغوت‘ کی حیثیت رکھتی ہو اس کے پاس اپنے معاملات فیصلے کے لیے لے جانا ایمان کے منافی ہے اور خدا اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ آدمی ایسی عدالت کو جائز عدالت تسلیم کرنے سے انکار کردے۔ قرآن کی رُو سے اللہ پر ایمان اور طاغوت سے کفر دونوں لازم و ملزوم ہیں اور خدا اور طاغوت دونوں کے آگے بیک وقت جھکنا عین منافقت ہے۔۵۳؎
مندرجہ بالا بحث سے قرآن کا تصور حاکمیت واضح ہو جاتا ہے۔ اس تصور کے لحاظ سے حاکمیت میں انسان کا سرے سے کوئی حصہ نہیں ہوسکتا۔ اسی بنا پر قرآن انسان کو زمین پر خدا کا خلیفہ اور نائب قرار دیتا ہے اور اس نائب کا اصل مشن یہ بتاتا ہے کہ وہ دنیا میں اپنے مالک کے حکم کے مطابق کام کرے۔ اسی چیز کی طرف اس آیت میں اشارہ ہوا ہے:
وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَۃً۝۰ۭ۔ البقرہ2:30
جب کہ تمھارے رب نے فرشتوں سے کہا:میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔
خلیفہ اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی کی ملک میں اس کے تفویض کردہ اختیارات اس کے نائب کی حیثیت سے استعمال کرے۔ وہ مالک نہیں ہوتا‘ بلکہ اصل مالک کا نائب ہوتا ہے۔ اس کے اختیارات ذاتی نہیں ہوتے‘ بلکہ مالک کے عطا کردہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے منشا کے مطابق کام کرنے کا حق نہیں رکھتا‘ بلکہ اس کاکام مالک کے منشا کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ اگر وہ خود اپنے آپ کو مالک سمجھ بیٹھے اور تفویض کردہ اختیارات کو من مانے طریقے سے استعمال کرنے لگے، یا اصل مالک کے سوا کسی اور کو مالک تسلیم کرکے اس کے منشا کی پیروی اور اس کے احکام کی تعمیل کرنے لگے‘ تو یہ سب غداری اور بغاوت کے افعال ہوں گے۔۵۴؎

۷۔ اصول اطاعت ووفاداری

مندرجہ بالا تصورِ حاکمیت و خلافت کا فطری اور منطقی تقاضا یہ ہے کہ اطاعت اور وفاداری کا مرجع بھی خالق اور اس کی ہدایات ہوں اور ریاست میں باقی تمام وفاداریاں اسی بنیادی وفاداری کی تابع ہوں۔ اس اصول کی وضاحت قرآن نے اس طرح کی ہے:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًاo
النساء: 59:4
اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں‘ پھر اگر تمھارے درمیان کسی معاملے میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسولؐ کی طرف پھیر دو‘ اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔
یہ آیت اسلام کے پورے مذہبی‘ تمدنی اور سیاسی نظام کی بنیاد اور اسلامی ریاست کے دستور کی اولین دفعہ ہے۔ اس میں حسب ذیل اصول مستقل طور پر قائم کر دیے گئے ہیں:
۱۔ اسلامی نظام میں اصل مطاع اللہ تعالیٰ ہے۔ ایک مسلمان سب سے پہلے بندۂ خدا ہے‘ باقی جو کچھ بھی ہے اس کے بعد ہے۔ مسلمان کی انفرادی زندگی اور مسلمانوں کے اجتماعی نظام‘ دونوں کا مرکز و محور خدا کی فرماں برداری اور وفاداری ہے۔ دوسری اطاعتیں اور وفاداریاں صرف اس صورت میں قبول کی جائیں گی کہ وہ خدا کی اطاعت اور وفاداری کی مدمقابل نہ ہوں‘ بلکہ اس کے تحت اور اس کی تابع ہوں، ورنہ ہر وہ حلقۂ اطاعت توڑ کر پھینک دیا جائے گا جو اس اصلی اور بنیادی اطاعت کا حریف ہو۔ یہی بات ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ: لَاطَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ(مشکوٰۃ،حدیث ۳۵۲۵)’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کے لیے کوئی اطاعت نہیں ہے‘۔
۲۔ اسلامی نظام کی دوسری بنیاد رسول ؑ کی اطاعت ہے۔ یہ کوئی مستقل بالذات اطاعت نہیں ہے بلکہ اللہ کی اطاعت کی واحد عملی صورت ہے۔ رسول ؑ اس لیے مطاع ہے کہ وہی ایک مستند ذریعہ ہے جس سے ہم تک خدا کے احکام اور فرامین پہنچتے ہیں۔ ہم خدا کی اطاعت صرف اسی طریقے سے کرسکتے ہیں کہ رسول کی اطاعت کریں۔ کوئی اطاعت خدا اور رسول کی سند کے بغیر معتبر نہیں ہے اور رسول کی پیروی سے منہ موڑنا خدا کے خلاف بغاوت ہے۔ اسی مضمون کو یہ حدیث واضح کرتی ہے: مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ(مشکوٰۃ، حدیث۳۴۹۱ )
جس نے میری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی‘‘ اور یہی بات خود قرآن میں پوری وضاحت کے ساتھ آگے آرہی ہے۔
۳۔ مذکورہ بالا دونوں اطاعتوں کے بعد اور ان کے ماتحت تیسری اطاعت جو اسلامی نظام میں مسلمانوں پر واجب ہے وہ ان’اولی الامر‘ کی اطاعت ہے جو خود مسلمانوں میں سے ہوں۔ ’اولی الامر‘ کے مفہوم میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کے سربراہ کار ہوں‘ خواہ وہ ذہنی و فکری رہنمائی کرنے والے علما ہوں، یا سیاسی رہنمائی کرنے والے لیڈر‘ یا ملکی انتظام کرنے والے حکام‘ یا عدالتی فیصلے کرنے والے جج یا تمدنی و معاشرتی امور میں قبیلوں اور بستیوں اور محلوں کی سربراہی کرنے والے شیوخ اور سردار۔ غرض جو جس حیثیت سے بھی مسلمانوں کا صاحب امر ہے وہ اطاعت کا مستحق ہے اور اس سے نزاع کرکے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں خلل ڈالنا درست نہیں ہے‘ بشرطیکہ وہ خود مسلمانوں کے گروہ میں سے ہو اور وہ خدا و رسولؐ کا مطیع ہو۔ یہ دونوں شرطیں اس اطاعت کے لیے لازمی شرطیں ہیں اور یہ نہ صرف آیت مذکورۂ صدر میں صاف طور پر درج ہیں، بلکہ حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پوری شرح و بسط کے ساتھ بیان فرما دیا ہے۔ مثلاً حسب ذیل احادیث ملاحظہ ہوں:
۱۔ اَلسَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ عَلَی الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ فِیْ مَا اَحَبَّ وَکَرِہَ مَالَمْ یُؤْمَرْ بِمَعْصِیَۃٍ فَاِذَا اُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَۃَ۔ (بخاری و مسلم)
مسلمان کو لازم ہے کہ اپنے اولی الامر کی بات سنے اور مانے خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند‘ تاوقتیکہ اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے اور جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر اسے نہ کچھ سننا چاہیے نہ ماننا چاہیے۔
۲۔ لاَ طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃٍ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔ (بخاری و مسلم)
خدا اور رسول کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت جو کچھ بھی ہے ’معروف‘ میں ہے۔
یَکُوْنُ عَلَیْکُمْ اُمَرَائِ تَعْرِفُوْنَ وَتُنْکِرُوْنَ فَمَنْ اَنْکَرَ فَقَدْ بَرِیَٔ وَمَنْ کَرِہَ فَقَدْ سَلِمَ وَلٰکِنْ مَنْ رَضِیَ وَتَابَعَ فَقَالُوْا اَفَلاَ نُقَاتِلُھُمْ قَالَ لَا مَاصَلُّوْا۔۵۵؎
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر ایسے لوگ بھی حکومت کریں گے جن کی بعض باتوں کو تم معروف پائو گے اور بعض کو منکر۔ تو جس نے ان کے منکرات پر اظہار ناراضی کیا وہ بری الذمہ ہوا، اور جس نے ان کو ناپسند کیا وہ بھی بچ گیا، مگر جو ان پر راضی ہوا اور پیروی کرنے لگا وہ ماخوذ ہوگا۔ صحابہؓ نے پوچھا: پھر جب ایسے حکام کا دور آئے تو کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپؐ نے فرمایا :نہیں جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔(یعنی ترک نماز وہ علامت ہوگی جس سے صریح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ وہ اللہ اور رسول کی اطاعت سے باہر ہوگئے ہیں اور پھر ان کے خلاف جدوجہد کرنا درست ہوگا۔)
۴۔ شِرَار اَئِمَّتِکُمُ الَّذِیْنَ تَبْغُضُوْنَھُمْ وَیَبْغُضُوْنَکُمْ وَتَلْعَنُوْنَھُمْ وَیَلْعَنُوْنَکُمْ قُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَفَلاَ نُنَابِذُھُمْ عِنْدَذٰلِکَ قَالَ لَامَا اَقَامُوْا فِیْکُمُ الصَّلوٰۃَ لَامَا اَقَامُوْا فِیْکُمُ الصَّلٰوۃَ۔
(مسلم۔ مشکوۃ۳۵۰۰)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمھارے بدترین سردار وہ ہیں جو تمھارے لیے مبغوض ہوں اور تم ان کے لیے مبغوض ہو۔ تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا:یارسولؐ اللہ! جب یہ صورت ہو تو کیا ہم ان کے مقابلے پر نہ اٹھیں؟ فرمایا:’نہیں‘ جب تک وہ تمھارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں‘ نہیں‘ جب تک وہ تمھارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں۔
اس حدیث میں اوپر والی شرط کو واضح کر دیا گیا ہے۔ اوپر کی حدیث سے گمان ہوسکتا تھا کہ اگر وہ اپنی انفرادی زندگی میں نماز کے پابند ہوں تو ان کے خلاف بغاوت نہیں کی جاسکتی، لیکن یہ حدیث بتاتی ہے کہ نماز پڑھنے سے مراد دراصل مسلمانوں کی جماعتی زندگی میں نماز کا نظام قائم کرنا ہے۔ یعنی صرف یہی کافی نہیں ہے کہ وہ لوگ خود پابند نماز ہوں‘ بلکہ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے تحت جو نظامِ حکومت چل رہا ہو وہ کم از کم اقامت ِ صلوٰۃ کا انتظام کرے۔ یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ ان کی حکومت اپنی اصلی نوعیت کے اعتبار سے ایک اسلامی حکومت ہے ورنہ اگر یہ بھی نہ ہو تو پھر اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ حکومت اسلام سے منحرف ہو چکی ہے اور اسے الٹ پھینکنے کی سعی مسلمانوں کے لیے جائز ہو جائے گی۔ اسی بات کو ایک اور روایت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے من جملہ اور باتوں کے ایک اس امر کا عہد بھی لیا کہ:
اَنْ لاَّ نُنَازِعَ الْاَمْرَ اَھْلَہ‘ اِلاَّ اَنْ تَرَوْا کُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ فِیْہِ بُرْھَانٌ۔
(بخاری، مسلم۔ مشکوٰۃ ۳۴۹۶)
یعنی یہ کہ ہم اپنے سرداروں اور حکام سے نزاع نہ کریں گے‘ الایہ کہ ہم ان کے کاموں میں کھلا کفر دیکھیں جس کی موجودگی میں ان کے خلاف ہمارے پاس خدا کے حضور پیش کرنے کے لیے دلیل موجود ہو۔
۴۔ چوتھی بات جو آیت زیر بحث میں ایک مستقل اور قطعی اصول کے طور پر طے کر دی گئی ہے یہ ہے کہ اسلامی نظام میں خدا کا حکم اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بنیادی قانون اور آخری سند (final authority)کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان یا حکومت اور رعایا کے درمیان جس مسئلے میں بھی نزاع واقع ہوگی اُس میں فیصلے کے لیے قرآن اور سنت کی طرف رجوع کیا جائے گا اور جو فیصلہ وہاں سے حاصل ہوگا اس کے سامنے سب سرِتسلیم خم کردیں گے۔ اس طرح تمام مسائل زندگی میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سند اور مرجع اور حرفِ آخر تسلیم کرنا اسلامی نظام کی وہ لازمی خصوصیت ہے جو اسے کافرانہ نظامِ زندگی سے ممیز کرتی ہے۔ جس نظام میں یہ چیز نہ پائی جائے وہ بالیقین ایک غیر اسلامی نظام ہے۔
اس موقع پر بعض لوگ یہ شُبہ پیش کرتے ہیں کہ تمام مسائل زندگی کے فیصلے کے لیے کتاب اللہ و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کیسے رجوع کیا جاسکتا ہے جب کہ میونسپلٹی اور ریلوے اور ڈاک خانے کے قواعد و ضوابط اور ایسے ہی بے شمار معاملات کے احکام سرے سے وہاں موجود ہی نہیں ہیں۔ لیکن درحقیقت یہ شُبہ اصول دین کو نہ سمجھنے سے پیدا ہوتا ہے۔ مسلمان کو جو چیز کافر سے ممیز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ کافر مطلق آزادی کا مدعی ہے اور مسلمان فی الاصل بندہ ہونے کے بعد صرف اس دائرے میں آزادی سے متمتع ہوتا ہے جو اس کے رب نے اسے دی ہے۔ کافر اپنے سارے معاملات کا فیصلہ خود اپنے بنائے ہوئے اصول اور قوانین و ضوابط کے مطابق کرتا ہے اور سرے سے کسی خدائی سند کا اپنے آپ کو حاجت مند سمجھتا ہی نہیں۔ اس کے برعکس مسلمان پر ہر معاملے میں سب سے پہلے خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتا ہے‘ پھر اگر وہاں سے کوئی حکم ملے تو وہ اس کی پیروی کرتا ہے اور اگر کوئی حکم نہ ملے تو وہ صرف اسی صورت میں آزادیِ عمل برتتا ہے اور اس کی یہ آزادی عمل اس حجت پر مبنی ہوتی ہے کہ اس معاملے میں شارع کا حکم نہ دینا اس کی طرف سے آزادی عمل عطا کیے جانے کی دلیل ہے۔
۵۔ پھر اس آیت کی رُو سے مسلمان اپنے اولی الامر سے نزاع کا حق رکھتے ہیں اور نزاع کی صورت میں فیصلہ جس چیز پر چھوڑا جائے گا وہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہوگی۔ یہ آخری سند جس کے حق میں بھی فیصلہ دے اسے ماننا پڑے گا خواہ فیصلہ اولی الامر کے حق میں ہو، یا رعایا کے حق میں۔ اب یہ ظاہر ہے کہ اس حکم کا تقاضا پورا کرنے کے لیے کوئی ادارہ ایسا ہونا چاہیے جس کے پاس نزاع لے جائی جائے اور جس کاکام یہ ہو کہ کتاب اللہ و سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اس نزاع کا فیصلہ کرے۔ یہ ادارہ خواہ کوئی مجلسِ علما ہو، یا سپریم کورٹ یا کوئی اور‘ اس کے تعین کی کسی خاص شکل پر شریعت نے ہمیں مجبور نہیں کر دیا ہے، مگر بہرحال ایسا کوئی ادارہ مملکت میں ہونا چاہیے اور اس کی یہ حیثیت خاص ہونی چاہیے کہ انتظامیہ اور مقننہ اور عدلیہ کے احکام اور فیصلوں کے خلاف ____ اس کے پاس مرافعہ کیا جاسکے اور اس کا بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ کتاب و سنت کی ہدایات کے مطابق وہ حق اور باطل کا فیصلہ کرے۔
مزید برآں قرآنِ مجید چونکہ محض کتابِ آئین ہی نہیں ہے، بلکہ کتاب تعلیم و تلقین اور صحیفۂ وعظ و ارشاد بھی ہے‘ اس لیے پہلے فقرے میں جو قانونی اصول بیان کیے گئے تھے‘ اب اس دوسرے فقرے میں ان کی حکمت و مصلحت سمجھائی جارہی ہے۔ اس میں دوباتیں ارشاد ہوئی ہیں:
٭ ایک یہ کہ مذکورہ بالا چاروں اصولوں کی پیروی کرنا ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ مسلمان ہونے کا دعویٰ اور ان اصولوں سے انحراف‘ یہ دونوں چیزیں ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں۔
٭ دوسرے یہ کہ ان اصولوں پر اپنے نظام زندگی کو تعمیر کرنے ہی میں مسلمانوں کی بہتری بھی ہے۔
صرف یہی ایک چیز ان کو دنیا میں صراط مستقیم پر قائم رکھ سکتی ہے اور اسی سے ان کی عاقبت بھی درست ہوسکتی ہے۔ یہ نصیحت ٹھیک اس تقریر کے خاتمے پر ارشاد ہوئی ہے جس میں یہودیوں کی اخلاقی و دینی حالت پر تبصرہ کیا جارہا تھا۔ اس طرح ایک نہایت لطیف طریقے سے مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تمھاری پیش رَو امت دین کے ان بنیادی اصولوں سے منحرف ہو کر جس پستی میں گر چکی ہے اس سے عبرت حاصل کرو۔ جب کوئی گروہ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی ہدایت کو پسِ پُشت ڈال دیتا ہے‘ اور ایسے سرداروں اور رہنمائوں کے پیچھے لگ جاتا ہے جو خدا اور رسول کے مطیع فرمان نہ ہوں اور اپنے مذہبی پیشوائوں اور سیاسی حاکموں سے کتاب و سنت کی سند پوچھے بغیر ان کی اطاعت کرنے لگتا ہے تو وہ ان خرابیوں میں مبتلا ہونے سے کسی طرح بچ نہیں سکتا جن میں بنی اسرائیل مبتلا ہوئے۔ (تفہیم القرآن، ج ا، ص ۳۶۳۔۳۶۷)


باب ۴

اسلام کے سیاسی نظریے ہی میں نہیں، اُس کے پورے نظام حیات میں انسان کے خلیفۃ اللہ ہونے کو ایک مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ پچھلے ابواب میں اسلام کے سیاسی فلسفے پر جو گفتگو کی گئی ہے اس میں بھی اس تصور کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ اس لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ لغت اور قرآن کے استعمالات کی روشنی میں اس لفظ کے معنی کی پوری پوری تحقیق کی جائے۔ یہ ضرورت اس لیے اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ایک گروہ اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ لوگوں کو باور کرائے کہ خلافت کے معنی نیابت نہیں، بلکہ جانشینی ہے اور قرآن میں اس لفظ سے مراد: انسان کو اختیارات کی تفویض اور دنیا کے انصرام کے لیے حقِ نیابت نہیں، بلکہ زمین پر انسان کی آمد سے پہلے جو مخلوق یہاں بستی تھی اس کی جانشینی ہے۔ یہ استدلال منکرینِ حدیث کی طرف سے خاص طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اس گروہ کے ایک سرخیل نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ آدم علیہ السلام کو جو خلافت، اللہ تعالیٰ نے عطا کی تھی وہ اس معنی میں نہ تھی کہ اللہ نے ان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنایا تھا‘ بلکہ اس معنی میں تھی کہ ان کو اپنے سے پہلے ساکنانِ زمین کا جانشین بنایا گیا تھا۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ خلافت کے معنی صرف جانشینی کے ہیں‘ اس لیے خلافتِ الٰہیہ کا تصور بے معنی ہے۔ اس نادر استدلال کو متجددین‘ منکرین حدیث اور لادینیت کے علم بردار بار بار پیش کرتے رہے ہیں اور چونکہ اب بھی کبھی کبھی یہ آوازیں سنائی دیتی ہیں اس لیے اس مسئلے کا صاف ہو جانا بہت ضروری ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ترجمان القرآن میں اس طرزِ استدلال پر گرفت کی تھی۔ ایک دوسرے اہلِ قلم نے مولانا کے جواب پر تعاقب کیا‘ جس کے جواب میں مولانا مودودیؒ نے یہ مضمون لکھا جو ماہنامہ ترجمان القرآن کے ذی القعدہ ۱۳۵۲ھ، مطابق فروری ۱۹۳۵ء کے شمارے میں شائع ہوا۔ (مرتب)

معنی ٔ خلافت

خلافت کی بحث میں سب سے پہلے ہم کو لغت عرب کی طرف رجوع کرکے یہ تحقیق کرنا چاہیے کہ کیا فی الواقع عربی زبان میں اس لفظ کے معنی صرف ’جانشینی‘ ہی کے ہیں، یا اس کے معنی نیابت کے بھی آتے ہیں۔
لغوی بحث
امام راغب اصفہانی اپنی مفردات میں لکھتے ہیں:
وَالْخِلاَ فَۃُ نِیَابَۃٌ عَنِ الْغَیْرِ اَمَّا لِغَیْبَۃِ الْمَنُوْبِ عَنْہُ وَاَمَّا لِمَوْتِہٖ وَاَمَّالِعَجْزِہٖ وَاَمَّالِتَشْرِیْفِ الْمُسْتَخْلِفِ۔
خلافت کسی دوسرے کی نیابت ہے‘ خواہ منوب عنہ‘ کے غائب ہونے کی وجہ سے ہو، یا اس کی موت کے سبب سے ہو، یا اس کے عجز کے سبب سے، یا اس شخص کو بزرگی عطا کرنے کے لیے جسے خلیفہ بنایا گیا ہے۔
لین (lane)نے اپنی مشہور لغت مدالقاموس (arabic english lexicon) میں لفظ خلیفہ کے معنی: successor کے علاوہ vicegerent کے بھی لکھے ہیں۔
خلافت کے لیے ضروری نہیں ہے کہ منوب عنہ مر جائے یا موجود نہ ہو۔ امام راغب لکھتے ہیں:
خَلَفَ فُلاَنٌ فُلاَ نًا قَامَ بِالْاَمْرِعَنْہُ اَمَّا مَعَہ‘ وَاِمَّا بَعْدَہٗ۔
فلاں شخص فلاں شخص کا خلیفہ ہوا، یعنی اس کی طرف سے کار پرداز ہوا، خواہ اس کے ساتھ یا اس کے بعد۔
اس مادے سے جو ابواب مشتق ہوئے ہیں ان کی خاصیتوں سے اس کے معنی میں بھی تغیر واقع ہوتا ہے۔
خَلَفَ خِلاَفَۃً کے معنی: خلیفہ ہونے، یا بعد میں آنے، یا پیچھے رہنے کے ہیں۔ خَلَفَہ‘ خِلَافَۃً کَانَ خَلِیْفَتَہ‘ وَبَقِیَ بَعْدَہ‘ وَجَائَ بَعْدَہ‘۔ (تاج العروس)۔قرآن مجید میں ہے: فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ الاعراف169:7 یعنی ان کے بعد ایسے ناخلف آئے، یا ان کے جانشین ہوئے جو کتاب کے وارث ہوئے۔ وَقَالَ مُوْسٰي لِاَخِيْہِ ہٰرُوْنَ اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ الاعراف142:7 اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ تم میری قوم کے اندر میرے بعد میرے جانشین یا نائب ہو۔ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِيْ مِنْۢ بَعْدِيْ۔ الاعراف 150:7 موسیٰ نے کہا کہ میرے بعد تم نے میری بہت بری نیابت کی۔ وَلَوْ نَشَاۗءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰۗىِٕكَۃً فِي الْاَرْضِ يَخْلُفُوْنَo الزخرف60:43 اگر ہم چاہیں تو زمین میں تم میں سے ملائکہ پیدا کریں جو تمھاری جگہ آباد ہوں۔
تَخَلُّفْ کے معنی: پیچھے رہ جانے کے ہیں۔ مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَۃِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللہِ۔ التوبہ120:9 مدینہ کے باشندوں اور گرد و نواح کے بدویوں کو یہ ہرگز زیبا نہ تھا کہ اللہ کے رسولؐ کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہتے۔
اَخْلَفَ کے معنی: کھوئی ہوئی چیز واپس دینے‘ یا دلانے‘ یا اس کا بدل عطا کرنے کے ہیں۔ اَخْلَفَ اللّٰہُ لَکَ وَعَلَیْکَ خَیْرًا اَیْ اَبْدَلَکَ بِمَا ذَھَبَ عَنْکَ وَعَوَّضَکَ عَنْہُ (نہایہ ابن اثیر) چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَہُوَيُخْلِفُہٗ وَہُوَخَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ سبا39:34 جو تم خرچ کرو گے اللہ اس کا نعم البدل تم کو دے گا اور وہ بہترین رازق ہے۔ حدیث میں ہے:فَکَفَّلَ اللّٰہُ لِلْغَازِیْ اَنْ یُّخْلِفَ نَفَقَتَہ‘ ۔ اللہ نے غازی کے لیے ذمہ لیا ہے کہ جو کچھ وہ خرچ کرے گا‘ اللہ اس کا بدل عطا کرے گا۔
خَلَّفَ اور اِسْتَخْلَفَ کے معنی: اپنا خلیفہ بنانے کے ہیں:یُقَالُ خَلَّفَ فُلاَنًا اِذْجَعَلَہ‘ خَلِیْفَتَہ‘ کَاَسْتَخْلَفَہ‘۔ (تاج العروس)
اِسْتَخْلَفَ کہہ کر اگر منوب عنہ کی تصریح نہ کی گئی ہو تو معنی یہ ہوں گے کہ اپنا خلیفہ بنایا: اِسْتَخْلَفَ فُلاَ نًا اَیْ جَعَلَہ‘ خَلِیْفَۃً لَہ‘۔اور اگر منوب عنہ کی تصریح ہو تو پھر معنی یہ ہوں گے کہ اس شخص کا جانشین بنایا جس کا ذکر کیا گیا ہے‘ اِسْتَخْلَفَ فُلاَ نًا مِنْ فُلاَنٍ اَیْ جَعَلَہ‘ مَکَانَہ‘ (اقرب الموارد)۔ پس جہاں قرآن مجید نے محض استخلاف کا ذکر کیا ہے اور مستخلف لہ کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا مثلاً: لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ كَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ النور55:24 ایسے مقامات پر استخلاف کے معنی یہی ہوں گے کہ اللہ نے اپنا خلیفہ بنایا، اور جہاں مستخلف لہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہاں معنی یہ ہوں گے کہ دوسرے کی جگہ یا دوسرے کے بعد خلیفہ بنایا، لیکن واضح رہے کہ جب کبھی پچھلے نائب کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا نائب مقرر کرنے کا ذکر کیا جائے گا تو اس میں دونوں مفہوم شامل ہوں گے۔ یعنی اس کا مفہوم یہ بھی ہو گا کہ حاکم اعلیٰ نے فلاں شخص کو فلاں شخص کی جگہ مقرر کیا اور یہ بھی کہ اس نے فلاں شخص کے بعد فلاں شخص کو اپنا نائب مقرر کیا۔ مثلاً: اگر کہا جائے کہ ’ اِسْتَخْلَفَ الْمَلِکُ اللَّوْرَدَ اَرُوْنَ بَعْدَ اللَّوْرَدَ رِیْدِنْکَ فِی وِلاَیَۃِ ھِنْد‘ تو اس کے یہ معنی بھی ہوں گے کہ بادشاہ نے لارڈارون کو لارڈریڈنگ کے بعد اس کی جگہ ہندستان کا وائسرائے بنایا اور یہ بھی ہوں گے کہ اس نے ارون کو ریڈنگ کے بعد ہندستان کی ولایت میں اپنا وائسرائے مقرر کیا۔ ان دونوں مفہوموں میں کوئی تضاد و تناقض نہیں ہے کہ بیک وقت صادق نہ آسکیں۔ پس اِنْ يَّشَاْ يُذْہِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا يَشَاۗءُ الانعام133:6 کا یہ مفہوم بھی ہے کہ خدا تمھاری جگہ دوسروں کو دے دے گا اور یہ بھی کہ خدا تمھاری جگہ دوسروں کو اپنا خلیفہ بنا لے گا۔ جہاں تک لغت کا تعلق ہے کوئی امر ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں مفہوم لینے میں مانع نہیں ہے۔
جَعَلَہ‘ خَلِیْفَۃً کے معنی: صرف خلیفہ بنانے کے ہیں۔ خلیفہ کے معنی خواہ نائب کے ہوں یا جانشین کے‘ دونوں صورتوں میں اس کا مفہوم ایک اضافی مفہوم ہے اور اس کا اتمام بغیر اس کے نہیں ہوسکتا کہ کوئی مستخلف لہ اور منوب عنہ بھی ہو‘ عام اس سے مقدر ہو یا مذکور۔ پس جس جگہ جَعَلَ خَلِیْفَۃً کے ساتھ قرآن مجید نے مستخلف لہ کی تصریح کر دی ہے وہاں تو مفہوم واضح ہے۔ مثلاً: وَاذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ الاعراف69:7 اور وَاذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ الاعراف74:7 اور ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰۗىِٕفَ فِي الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِہِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ یونس14:10 لیکن جہاں مستخلف کی طرف قطعاً کوئی اشارہ نہیں ہے، وہاں ایک مستخلف لہ مقدر ماننا پڑے گا‘ مثلاً: يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَۃً فِي الْاَرْضِص26:38 اوروَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ النمل62:27 اور وَہُوَالَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ الانعام 165:6 اور اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَۃً البقرہ 30:2
اس طرح کی تمام آیات کے بارے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان میں انسان یا انسانوں کو کس کا خلیفہ بنانے کا ذکر ہے؟
اگر آپ کہتے ہیں کہ پچھلی مخلوقات یا گذشتہ اقوام‘ یا شاہانِ پیشین کا خلیفہ‘ تو قطع نظر اس سے کہ یہ ایک تکلف ہے، بعض آیتوں میں یہ معنی کھپتے ہی نہیں۔ مثال کے طور پر وَیَجْعَلُکُمْ خُلَفَائَ الْاَرْضِ میں خلفا کو زمین کی طرف مضاف کیا گیا ہے جس کا لفظی ترجمہ: زمین کے خلفا ہے۔ اس سے یہ معنی نکالنے کی کہاں گنجایش ہے کہ زمین پر پہلے جو لوگ متمکن تھے ان کے خلفاء؟ پھر اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً کے معنی اگر یہ لیے جائیں کہ:میں پچھلے ساکنینِ ارض کا ایک خلیفہ بنانے والا ہوں تو یہ سوال پیدا ہوگا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہیں ان ساکنینِ ارض کا ذکر کیا ہے جن کی خلافت انسان کے سپرد کی گئی ہے؟ اگر کیا ہے تو حوالہ پیش کیجیے۔ اگر نہیں کیا تو فرمائیے کہ ایسی صورت میں محض زبان اور ادب کے نقطۂ نظر سے اس فقرے کا یہ مفہوم زیادہ اقرب الی الفہم ہے کہ’میں پچھلے مجہول الحال ساکنینِ ارض کا ایک خلیفہ بنانے والا ہوں‘ یا یہ کہ میں زمین میں اپنا ایک نائب مقرر کرنے والا ہوں؟ اگر سامع صرف عربی جانتا ہو، اور ان عقلی مقدمات سے ناآشنائے محض ہو جنھیں مولانا …… نے ترتیب دے کر ایک نتیجہ اخذ کیا ہے‘ تو اس فقرے کو سن کر وہ ان دونوں معنوں میں سے کون سے معنی مراد لے گا؟

خلافت میں فرماں روائی کا مفہوم
اس لغوی تحقیق کے بعد میں آپ کو دعوت دوں گا کہ آپ خلافت کے اس مفہوم پر غور کیجیے جس کو خود آپ نے اور مولانا …… نے مراد لیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ:
خلافت فی الارض سے مراد: زمین کی سلطنت و حکومت کی جانشینی ہے۔
مولانا…… اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً کا ترجمہ ’’میں زمین میں ایک بادشاہ بنانے والا ہوں‘ کرتے ہیں اور اس پر نوٹ لکھتے ہیں:
حضرت آدمؑ اپنے سے پہلے ساکنانِ زمین کے بجائے بادشاہ بنائے گئے تھے۔
غور فرمائیے کہ خلافت کے معنی تو محض جان نشینی یا قائم مقامی‘ یا بعد میں آنے کے ہیں۔ پھر اس میں بادشاہی اور فرماںروائی کا مفہوم کہاں سے آگیا؟ اگر نفسِ خلافت اس مفہوم سے خالی ہے اور یقیناً خالی ہے تو اس میں یہ مفہوم اس اعتبار ہی سے آ سکتا ہے کہ خلیفہ کو خلافت کسی فرماںروا اور کسی سلطان سے ملی ہو۔ پھر جب انسان کو وہ خلافت ملی جس میں خود آپ کے اعتراف کے مطابق سلطنت و فرماںروائی کی جھلک ہے تو لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ انسان جس کا خلیفہ ہوا وہ کوئی فرماںروا تھا۔ اب فرمائیے کہ کیا قرآن سے علمی تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان سے پہلے زمین پر کوئی ایسی مخلوق تھی جس میں فرماںروائی کی شان تھی؟ فرماںروائی کے لیے علم‘ حکمت‘ اختیار‘ ارادہ‘ قدرت وغیرہ صفات کا ہونا ضروری ہے‘ کیونکہ ان کے بغیر زمین اور اس کی موجودات پر فرماںروائی نہیں ہوسکتی۔ علمی تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ اس کرۂ خاکی پر انسان سے پہلے کوئی مخلوق ایسی موجود نہ تھی جو ان صفات سے متصف ہوتی۔ اسی کی تصدیق قرآن بھی کرتا ہے۔ وہ ہم کو بتاتا ہے کہ انسان سے پہلے خدا کی جو مخلوق سب سے افضل تھی یعنی ملا ئکہ جن کو عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ الانبیاء 26:21 کہا گیا ہے،اس کا بھی یہ حال تھا کہ وہ علم اشیاء سے بے خبر تھی ۔
ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَي الْمَلٰۗىِٕكَۃِ۝۰ۙ فَقَالَ اَنْۢبِــُٔـوْنِىْ بِاَسْمَاۗءِ ھٰٓؤُلَاۗءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَo قَالُوْا سُبْحٰــنَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا البقرہ31-32:2 اور ارادہ و اختیار کی آزادی سے بالکل محروم تھی۔ لَّا يَعْصُوْنَ اللہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَo التحریم66:6 دوسری مخلوق جن تھے‘ سو اُن کے متعلق کوئی بات قرآن مجید نے ایسی بیان نہیں کی جس سے معلوم ہوتا ہو کہ ان کو زمین کی فرماںروائی حاصل تھی۔ رہے حیوانات و نباتات و جمادات‘ تو ان کا حال آپ جانتے ہیں۔ پھر آخر وہ کون سی مخلوق تھی جس کی خلافت‘ زمین کی فرماںروائی کے اعزاز کے ساتھ انسان کو حاصل ہوئی؟
تاہم اگر مان لیا جائے کہ یہ پرانے ساکنینِ ارض ہی کی خلافت ہے اور وہ ساکنینِ ارض انسان سے پہلے زمین کے فرماںروا تھے‘ تو کیا وہ بالاصالت فرماںروا تھے‘ یا ان کی فرماںروائی بھی نائبانہ تھی؟ پہلی شق تو آپ اختیار نہیں کرسکتے‘ کیونکہ اسلامی عقیدے کی رُو سے بالاصل اور بالذات فرماںروا صرف حق تعالیٰ ہے اور اس کے سوا سب کی فرماںروائی محض عطائی ہے۔ اب رہی دوسری شق تو اس کو اختیار کرنے کی صورت میں یا تو آپ کو خلافت درخلافت کا ایک لامتناہی سلسلہ ماننا پڑے گا‘ یا پھر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ فرماںروائی کی شان خواہ یکے بعد دیگرے کتنے ہی خلفا کو ملی ہو‘ بہرحال اس کا سرچشمہ وہی ذاتِ حق تعالیٰ ہے اور خلافت میں بادشاہی کی جھلک اسی وقت آسکتی ہے جب کہ وہ خلافتِ الٰہی ہو۔
قرآنی اشارات
اب میں آپ کو ان قرآنی اشارات کی طرف توجہ دلائوں گا جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو جس خلافت سے سرفراز کیا گیا ہے وہ دراصل خلافت ِ الٰہی ہے۔ قرآنِ مجید کا بیان ہے کہ خدا نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا: لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍالتین95:4 اس کو اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا:قَالَ يٰٓـاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ۝۰ۭ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِيْنَo صٓ75:38 اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی ‘ثُمَّ سَوّٰىہُ وَنَفَخَ فِيْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ السجدہ 9:32 اس کو علم کی نعمت سے سرفراز کیا: وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاۗءَ كُلَّہَا البقرہ31:2 زمین و آسمان کی ساری چیزوں کواُس کے حق میں مسخر کر دیا: وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْہُ۝۰ۭ الجاثیہ13:45
ان صفات کے ساتھ جب انسان کی تخلیق پایۂ تکمیل کو پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ اس کے آگے سجدہ کریں۔ یہ حکم سورہ ص کے آخر میں جس انداز سے بیان کیا گیا ہے وہ خاص طور پر قابلِ غور ہے:
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اِنِّىْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِيْنٍo فَاِذَا سَوَّيْتُہٗ وَنَفَخْتُ فِيْہِ مِنْ رُّوْحِيْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِيْنَo فَسَجَدَ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ كُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَo اِلَّآ اِبْلِيْسَ۝۰ۭ اِسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَo قَالَ يٰٓـاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ۝۰ۭ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِيْنَo قَالَ اَنَا خَيْرٌ مِّنْہُ۝۰ۭ خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِيْنٍo قَالَ فَاخْرُجْ مِنْہَا فَاِنَّكَ رَجِيْمٌ o ص 71-77:38
جبکہ تیرے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں‘ پس جب میں اس کو پورا بنالوں اور اس کے اندر اپنی رُوح سے کچھ پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔ چنانچہ تمام ملائکہ نے سجدہ کیا‘ مگر ابلیس نے نہ کیا۔ وہ گھمنڈ میں پڑ گیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابلیس کس چیز نے تجھے اس ہستی کو سجدہ کرنے سے منع کیا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے؟ تو نے اپنے آپ کو بڑا سمجھ لیا ہے یا واقعی تو کچھ بڑے لوگوں میں سے ہے۔ اس نے کہا: میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے بنایا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اچھا تو یہاں سے تُو نکل جا، تُو مردود ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو سجدہ کرنے کا جو حکم دیا گیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ نے اس کو اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا تھا۔ یعنی وہ قدرت اور صنعت الٰہی کا مظہرِ اتم تھا اور اس کے اندر خود اپنی طرف سے ایک خاص روح پھونکی تھی اور ایک محدود پیمانے پر اس میں وہ صفات پیدا کردی تھیں جو بدرجہ فوق التمام خود باری تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں۔ اس شان اور ان صفات پر انسان کو پیدا کرنے کے بعد اعلان کیا گیا کہ ہم اس کو زمین میں خلیفہ بنانے والے ہیں‘ جیسا کہ سورہ بقرہ کے چوتھے رکوع میں ارشاد ہوا ہے۔ فرشتوں نے اس معاملے میں کچھ اپنے شکوک پیش کیے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے انسان کی سب سے افضل صفت یعنی علم کا مظاہرہ کرایا۔ اس طرح جب خلافت کے لیے انسان کی اہلیت ثابت کر دی گئی تو فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ اس کی خلافت تسلیم کرو اور علامتِ تسلیم کے طور پر اسے سجدہ کرو۔ تمام فرشتوں نے اسے تسلیم کیا اور سربسجود ہوگئے‘ مگر شیطان نے اس کی خلافت ماننے سے انکار کیا‘ اس لیے اس کو راندہ ٔدرگاہ کر دیا گیا۔
یہ تمام اشارات کیا ظاہر کر رہے ہیں؟ تمام مخلوقات پر انسان کی فضیلت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ عام مقابلے میں اس کی فضیلت ثابت کی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ ہماری صفات کا مظہرِ اَتم ہے۔ ہم نے اس میں اپنی طرف سے ایک خاص روح پھونکی ہے۔ حکم ہوتا ہے اور وہ بھی کس کو؟ فرشتوں کو کہ اس کو سجدہ کرو۔ ان سب باتوں کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم اس کو خلیفہ بنانے والے ہیں۔ ان تیاریوں کے ساتھ جس خلیفہ کی خلافت کا اعلان کیا گیا‘ کیا وہ محض پرانے ساکنینِ ارض ہی کا خلیفہ تھا؟ اگر صرف بات اتنی ہی تھی کہ پرانے بسنے والوں کی جگہ کسی دوسرے کو بسایا جارہا تھا تو اس کے لیے فرشتوں کے سامنے اس کی خلافت کا اعلان کرنے اور یوں اس کی فضیلت کا مظاہرہ کرانے کی کیا ضرورت تھی؟ اور پھر ملائکہ کو یہ حکم کیوں دیا گیا کہ اس کرۂ خاکی کے نو آباد کار کو جو فقط دوسرے لوگوں کی جگہ لینے کے لیے جارہا تھا‘ سجدہ کریں؟
خلافت ِالٰہی سے مراد کیا ہے؟
دوسری بات جو قرآن مجید میں ایک اور موقع پر ارشاد ہوئی ہے‘ خلافت ِالٰہی کے مفہوم پر صاف روشنی ڈالتی ہے۔ فرمایا:
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُ۝۰ۭ اِنَّہٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًاo الاحزاب72:33
ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تھا، مگر انھوں نے اس کا بار اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے‘ اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بے شک وہ ظالم اور انجام سے بے خبر نکلا۔
اس آیت میں بار امانت سے مراد اختیار (freedom of choice)اور ذمے داری و جواب دہی (responsibility)ہے اور ارشاد الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں میں اس بار کو اٹھانے کی تاب نہ تھی۔ انسان سے پہلے کوئی مخلوق ایسی نہ تھی جو یہ پوزیشن قبول کرسکتی۔ آخر کار انسان آیا اور اس نے یہ بار اٹھا لیا۔ اس بیان سے متعدد نکات نکلتے ہیں:
۱۔ انسان سے پہلے زمین و آسمان میں کوئی مخلوق بار امانت کی حامل نہیں تھی۔ انسان پہلی مخلوق ہے جس نے یہ بار اٹھایا ہے۔ لہٰذا منصب امانت میں وہ کسی مخلوق کا جانشین (successor) نہیں ہے۔
۲۔ جس چیز کو سورۂ بقرہ میں خلافت کہا گیا ہے وہی چیز یہاں امانت کے لفظ سے تعبیر کی گئی ہے، کیونکہ وہاں فرشتوں پر ثابت کیا گیا تھا کہ تم خلافت کے اہل نہیں ہو‘ اس کا اہل انسان ہے اور یہاں فرمایا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی کوئی مخلوق ہماری امانت کا بار اٹھانے کی اہل نہ تھی‘ صرف انسان اس کا متحمل ہوا۔
۳۔ خلافت کے مفہوم کو امانت کا لفظ واضح کر دیتا ہے، اور یہ دونوں لفظ نظام عالم میں انسان کی صحیح حیثیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ انسان زمین کافرماںروا ہے، مگر اس کی فرماںروائی بالاصالت نہیں ہے بلکہ تفویض کردہ (delegated)ہے۔ لہٰذا اللہ نے اس کے اختیاراتِ مفوضہ (delegated power)کو امانت سے تعبیر کیا ہے‘ اور اس حیثیت سے کہ وہ اس کی طرف سے ان اختیارات مفوضہ کو استعمال کرتا ہے، اسے خلیفہ (vicegerent)کہا ہے۔ اس تشریح کے مطابق خلیفہ کے معنی یہ ہوئے کہ وہ شخص جو کسی کے بخشے ہوئے اختیارات کو استعمال کرے۔(person excercising delegated powers)



باب ۵

تقسیم ملک سے پہلے متحدہ ہندستان کے سیاسی مباحث میں سب سے اہم مسئلہ قومیت کا تصور رہا ہے۔ مسلمان ہمیشہ سے اپنا جداگانہ تصور قومیت رکھتے ہیں اور انھوں نے کبھی غیر مسلموں کے ساتھ مل کر ایک قوم بن جانے کا تصور قبول نہیں کیا ہے لیکن بیسویں صدی میں مغربی اثرات اور ہندو سیاست کی وجہ سے متحدہ قومیت کا فتنہ ابھرا اور اس کے بڑے دور رَس اثرات تعلیم یافتہ طبقے پر پڑے۔ علامہ اقبالؒ ، مولانا مودودی ؒاوردوسرے مفکرین نے اس چیلنج کا جواب دیا اور متحدہ قومیت کے تصور پر شدید ترین تنقید کی۔ یہ اسی بروقت فکری رہنمائی کا نتیجہ تھا کہ مسلمان متحدہ قومیت کے فتنے سے بچ گئے اور دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان کی تحریک برپا ہوئی۔
مولانا مودودیؒ کی تحریرات نے اس بیداری کے پیدا کرنے میں خصوصی حصہ اداکیا۔ ہم اس مجموعے کے موضوع کی مناسبت سے مولانا کے دو مضامین اس میں شامل کر رہے ہیں۔ یہ مضامین ماہنامہ ترجمان القرآن بابت ماہ نومبر و دسمبر ۱۹۳۳ء و بابت جون ۱۹۳۹ء سے لیے جارہے ہیں۔ اس سے پہلے یہ مضامین دوسرے مضامین کے ساتھ کتابی شکل میں بھی شائع ہو چکے ہیں اور بلاشبہہ لاکھوں افراد کے ذہنوں کو متاثر کر چکے ہیں۔ (مرتب)

۱۔اسلامی تصور قومیت

وحشت ۵۶؎ سے مدنیت کی طرف انسان کا پہلا قدم اٹھتے ہی ضروری ہو جاتا ہے کہ کثرت میں وحدت کی ایک شان پیدا ہو، اور مشترک اغراض و مصالح کے لیے متعدد افراد آپس میں مل کر تعاون اور اشتراکِ عمل کریں۔ تمدن کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس اجتماعی وحدت کا دائرہ بھی وسیع ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس میں داخل ہو جاتی ہے۔ اسی مجموعۂ افراد کا نام ’قوم‘ ہے۔ اگرچہ لفظ ’قوم‘ اور’قومیت‘ اپنے مخصوص اصطلاحی معنوں میں حدیث العہد ہیں، مگر جس معنی پر ان کا اطلاق ہوتا ہے وہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود تمدن قدیم ہے۔ ’قوم‘ اور ’قومیت‘ جس ہیئت کا نام ہے وہ بابل‘ مصر‘ روم اور یونان میں بھی ویسی ہی تھی جیسی آج فرانس‘ انگلستان‘ جرمنی اور اٹلی میں ہے۔
قومیت کے غیر منفک لوازم
اس میں شک نہیں کہ قومیت کی ابتدا ایک معصوم جذبے سے ہوتی ہے‘ یعنی اس کا مقصد اول یہ ہوتا ہے کہ ایک خاص گروہ کے لوگ اپنے مشترک مفاد و مصالح کے لیے عمل کریں اور اجتماعی ضروریات کے لیے ایک ’قوم‘ بن کر رہیں، لیکن جب ان میں ’قومیت‘ پیدا ہو جاتی ہے تو لازم طور پر ’عصبیت‘ کا رنگ اس میں آجاتا ہے اور جتنی جتنی ’’قومیت‘‘ شدید ہوتی جاتی ہے اسی قدر ’عصبیت‘ میں بھی شدت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ جب کبھی ایک قوم اپنے مفاد کی خدمت اور اپنے مصالح کی حفاظت کے لیے اپنے آپ کو ایک رشتۂ اتحاد میں منسلک کرے گی، یا بالفاظ دیگر‘ اپنے گرد’قومیت‘ کا حصار چن لے گی تو لازماً وہ اس حصار کے اندر والوں اور باہر والوں کے درمیان اپنے اور غیر کا امتیاز کرے گی۔ اپنے کو ہر معاملے میں غیر پر ترجیح دے گی۔ غیر کے مقابلے میں اپنے کی حمایت کرے گی۔ جب کبھی دونوں کے مفاد و مصالح میں اختلاف واقع ہوگا تو وہ اپنے کے مفاد کی حفاظت کرے گی اور اس پر غیر کے مفاد کو قربان کردے گی۔ انھی وجوہ سے ان میں صلح بھی ہوگی اور جنگ بھی، مگر رزم اور بزم دونوں میں قومیت کی حد فاصل دونوں گروہوں کے درمیان قائم رہے گی۔ اسی چیز کا نام عصبیت و حمیت ہے اور قومیت کی یہ وہ لازمی خصوصیت ہے جو اس کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔
قومیت کے عناصرِ ترکیبی
قومیت کا قیام وحدت و اشتراک کی کسی ایک جہت سے ہوتا ہے‘ خواہ وہ کوئی جہت ہو۔ البتہ شرط یہ ہے کہ اس میں ایسی زبردست قوت رابطہ و ضابطہ ہونی چاہیے کہ اجسام کے تعدد اور نفوس کے تکثر کے باوجود وہ لوگوں کو ایک کلمہ‘ ایک خیال‘ ایک مقصد اور ایک عمل پر جمع کر دے اور قوم کے مختلف کثیر التعداد اجزا کو قومیت کے تعلق سے اس طرح بستہ و پیوستہ کر دے کہ وہ سب ایک ٹھوس چٹان بن جائیں اور افرادِ قوم کے دل و دماغ پر اتنا تسلط و غلبہ حاصل کرے کہ قومی مفاد کے معاملے میں وہ سب متحد ہوں اور ہر قربانی کے لیے آمادہ رہیں۔
یوں تو اشتراک اور وحدت کی جہتیں بہت سی ہونی ممکن ہیں‘ لیکن آغاز عہد تاریخ سے آج تک دنیا میں جتنی قومیتیں بنی ہیں ان سب کی تعمیر بجز ایک اسلامی قومیت کے‘ حسب ذیل اشتراکات میں سے کسی ایک قسم کے اشتراک پر ہوئی ہے اور اس عنصر کے ساتھ چند دوسرے اشتراکات بھی بطور مددگار کے شریک ہوگئے ہیں:
۱۔ اشتراکِ نسل‘ جس کو ’نسلیت‘کہتے ہیں۔
۲۔ اشتراکِ مرزبوم‘ جس کو’وطنیت‘ کہتے ہیں۔
۳۔ اشتراکِ زبان‘ جو وحدت خیال کا ایک زبردست ذریعہ ہونے کی وجہ سے قومیت کی تعمیر میں خاص حصہ لیتا ہے۔
۴۔ اشتراکِ رنگ‘ جو ایک رنگ کے لوگوں میں یک جنسی کا احساس پیدا کرتا ہے اور پھر یہی احساس ترقی کرکے ان کو دوسرے رنگ کے لوگوں سے احتراز و اجتناب پر آمادہ کر دیتا ہے۔
۵۔ معاشی اغراض کا اشتراک‘ جو ایک معاشی نظام کے لوگوں کو دوسرے معاشی نظام والوں کے مقابلے میں ممتاز کرتا ہے اور جس کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنے معاشی حقوق و منافع کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔
۶۔ نظام حکومت کا اشتراک‘ جو ایک سلطنت کی رعایا کو مشترک نظم و نسق کے رشتے میں منسلک کرتا ہے اور دوسری سلطنت کی رعایا کے مقابلے میں حدود فاصلہ قائم کر دیتا ہے۔
قدیم ترین عہد سے لے کر آج بیسیویں صدی کے روشن زمانے تک‘ جتنی قومیتوں کے عناصرِ اصلیہ کا آپ تجسس کریں گے‘ ان سب میں آپ کو یہی مذکورہ بالا عناصر ملیں گے۔اب سے دو تین ہزار برس پہلے یونانیت‘ رومیت‘ اسرائیلیت‘ ایرانیت وغیرہ بھی انھی بنیادوں پر قائم تھیں جن پر آج جرمنیت‘ اطالویت‘ فرانسیسیت‘ انگریزیت‘ امریکنیت‘ روسیت اور جاپانیت وغیرہ قائم ہیں۔
یہ بالکل صحیح ہے کہ یہ بنیادیں جن پر دنیا کی مختلف قومیتیں تعمیر کی گئی ہیں انھوں نے بڑی قوت کے ساتھ جماعتوں کی شیرازہ بندی کی ہے‘ مگر اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی ناقابلِ انکار ہے کہ اس قسم کی قومیتیں بنی نوع انسان کے لیے ایک شدید مصیبت ہیں۔ انھوں نے عالمِ انسانی کو سیکڑوں ہزاروں حصوں میں تقسیم کر دیا ہے اور حصے بھی ایسے کہ ایک حصہ فنا کیا جاسکتا ہے، مگر دوسرے حصے میں کسی طرح تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ ایک نسل دوسری نسل میں نہیں بدل سکتی۔ ایک وطن دوسرا وطن نہیں بن سکتا۔ ایک زبان کے بولنے والے دوسری زبان کے بولنے والے نہیں بن سکتے۔ ایک رنگ دوسرا رنگ نہیں بن سکتا۔ ایک قوم کی معاشی اغراض بعینہٖ دوسری قوم کی اغراض نہیں بن سکتیں۔ ایک سلطنت کبھی دوسری سلطنت نہیں بن سکتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ جو قومیتیں ان بنیادوں پر تعمیر ہوتی ہیں‘ ان کے درمیان مصالحت کی کوئی سبیل نہیں نکل سکتی۔ قومی عصبیت کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے خلاف مسابقت‘ مزاحمت اور منافست ] مقابلے[ کی ایک دائمی کشمکش میں مبتلا رہتی ہیں۔ ایک دوسرے کو پامال کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ آپس میں لڑ لڑ کر فنا ہو جاتی ہیں اور پھر انھی بنیادوں پر دوسری قومیتیں ایسے ہی ہنگامے برپا کرنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ یہ دنیا میں فساد‘ بدامنی اور شرارت کا ایک مستقل سرچشمہ ہے‘ خدا کی سب سے بڑی لعنت ہے‘ شیطان کا سب سے زیادہ کامیاب حربہ ہے جس سے وہ اپنے ازلی دشمن کا شکار کرتا ہے۔
عصبیت ِ جاہلیہ
اس قسم کی قومیت کا فطری اقتضا یہ ہے کہ وہ انسان میں جاہلانہ عصبیت پیدا کرے۔ وہ ایک قوم کو دوسری قوم سے مخالفت اور نفرت برتنے پر صرف اس لیے آمادہ کرتی ہے کہ وہ دوسری قوم کیوں ہے؟ اسے حق‘ صداقت‘ دیانت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ صرف یہ بات کہ ایک شخص کالا ہے‘ گورے کی نظر میں اسے حقیر بنا دیتی ہے۔ صرف اتنی سی بات کہ ایک انسان ایشیائی ہے‘ فرنگی کی نفرتوں اور جابرانہ دراز دستیوں اور حق تلفیوں کو اس کے لیے وقف کر دیتی ہے۔ آئن سٹائن جیسے فاضل کا اسرائیلی ہونا اس کے لیے کافی ہے کہ جرمن اس سے نفرت کرے۔ تشکیدی ۵۷؎ کا محض سیاہ فام حبشی ہونا‘اس کو جائز کر دیتا ہے کہ یورپین کو سزا دینے کے جرم میں اس کی ریاست چھین لی جائے۔ امریکہ کے مہذب باشندوں کے لیے یہ قطعاً جائز ہے کہ وہ حبشیوں کو پکڑ کر زندہ جلا دیں کیونکہ وہ حبشی ہیں۔ ان کو اپنے محلوں میں نہ رہنے دیں‘ عام سڑکوں پر نہ چلنے دیں‘ تعلیمی اداروں میں تعلیم نہ پانے دیں اور ووٹ تک سے محروم رکھیں۔ جرمن کا جرمن ہونا اور فرانسیسی کا فرانسیسی ہونا اس بات کے لیے کافی ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے نفرت کریں، اور دونوں کو ایک دوسرے کے محاسن یکسر معائب نظر آئیں۔ سرحد کے آزاد افغانیوں کا افغانی ہونا اور دمشق کے باشندوں کا عرب ہونا‘ انگریز اور فرانسیسی کو اس کا پورا حق بخش دیتا ہے کہ وہ ان کے سروں پر طیاروں سے بم برسائیں اور ان کی آبادیوں کا قتل عام کریں‘ خواہ یورپ کے مہذب شہریوں پر اس قسم کی گولہ باری کتنی ہی وحشیانہ حرکت سمجھی جاتی ہو۔ غرض یہ جنسی امتیاز وہ چیز ہے جو انسان کو حق اور انصاف سے اندھا بنا دیتی ہے اور اس کی وجہ سے عالمگیر اصول اخلاق و شرافت بھی قومیتوں کے قالب میں ڈھل کر کہیں ظلم اور کہیں عدل‘ کہیں سچ اور کہیں جھوٹ‘ کہیں کمینگی اور کہیں شرافت بن جاتے ہیں۔
کیا انسان کے لیے اس سے زیادہ غیر معقول ذہنیت اور کوئی ہوسکتی ہے کہ وہ نالائق‘ بدکار اور شریر آدمی کو ایک لائق‘ صالح اور نیک نفس آدمی پر صرف اس لیے ترجیح دے کہ پہلا ایک نسل میں پیدا ہوا ہے اور دوسرا کسی اور نسل میں؟ پہلا سپید ہے اور دوسرا سیاہ؟ پہلا ایک پہاڑ کے مغرب میں پیدا ہوا ہے اور دوسرا اس کے مشرق میں؟ پہلا ایک زبان بولتا ہے اور دوسرا کوئی اور زبان۔ پہلا ایک سلطنت کی رعایا ہے اور دوسرا کسی اور سلطنت کی؟ کیا جلد کے رنگ کو روح کی صفائی و کدورت میں بھی کوئی دخل ہے؟ کیا عقل اس کو باور کرتی ہے کہ اخلاق و اوصاف انسانی کے صلاح و فساد سے پہاڑوں اور دریائوں کا کوئی تعلق ہے‘ کیا کوئی صحیح الدماغ انسان یہ تسلیم کرسکتا ہے کہ مشرق میں جو چیز حق ہو، وہ مغرب میں باطل ہو جائے؟ کیا کسی قلب سلیم میں اس چیز کے تصور کی گنجائش نکل سکتی ہے کہ نیکی‘ شرافت اور جو ہر انسانیت کو رگو ں کے خون‘ زبان کی بولی‘ مولدو مسکن کی خاک کے معیار پر جانچا جائے؟ یقیناً عقل ان سوالات کا جواب نفی میں دے گی، مگر نسلیّت‘ وطنیت اور اس کے بہن بھائی نہایت بے باکی کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہاں ایسا ہی ہے۔
قومیت کے عناصر پر ایک عقلی تنقید
تھوڑی دیر کے لیے اس پہلو سے قطع نظر کر لیجیے۔ یہ جتنے اشتراکات آج قومیت کی بنیاد بنے ہوئے ہیں ان کو خود ان کی ذاتی حیثیت سے دیکھیے اور غور کیجیے کہ آیا یہ بجائے خود کوئی مضبوط عقلی بنیاد بھی رکھتے ہیں یا ان کی حقیقت محض سراب تخیل کی ہے۔
۱۔ نسلیت کیا ہے؟ محض خون کا اشتراک۔ اس کا نقطۂ آغاز ماں اور باپ کا نطفہ ہے جس سے چند انسانوں میں خونی رشتہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی نطفہ پھیل کر خاندان بنتا ہے‘ پھر قبیلہ‘ پھر نسل۔ اس آخری حد یعنی نسل تک پہنچتے پہنچتے انسان اپنے اس باپ سے جس کو اس نے اپنی نسل کا مورث اعلیٰ قرار دیا ہے‘ اتنا دور ہو جاتا ہے کہ اس کی موروثیت محض ایک خیالی چیز بن جاتی ہے۔ نام نہاد ’نسل‘ کے اس دریا میں بیرونی خون کے بہت سے ندی نالے آکر مل جاتے ہیں اور کوئی صاحبِ عقل و علم انسان یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ یہ دریا خالص اسی پانی کا ہے جو اپنے اصلی سرچشمے سے نکلا تھا۔ پھر اگر اس خلط ملط کے باوجود خون کے اشتراک کی بنا پر انسان ایک ’نسل‘ کو اپنے لیے مادہ ٔاتحاد قرار دے سکتا ہے‘ تو کیوں نہ اس خون کے اشتراک کو بنائے وحدت قرار دیا جائے جو تمام انسانوں کوان کے پہلے باپ اور پہلی ماں سے ملاتا ہے اور کیوں نہ تمام انسانوں کو ایک ہی نسل اور ایک ہی اصل کی طرف منسوب کیا جائے؟ آج جن لوگوں کو مختلف نسلوں کا بانی و مورث قرار دے لیا گیا ہے ان سب کا نسب اوپر جاکر کہیں نہ کہیں ایک دوسرے سے مل جاتا ہے اور آخر میں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ سب ایک اصل سے ہیں۔ پھر یہ آریت اور سامیت کی تقسیم کیسی؟
۲۔ مرزبوم کے اشتراک کی حقیقت اس سے زیادہ موہوم ہے۔ انسان جس جگہ پیدا ہوتا ہے اس کا رقبہ یقیناً ایک گز مربع سے زیادہ نہیں ہوتا۔ اس رقبے کو اگر وہ اپنا وطن قرار دے تو شاید وہ کسی ملک کو اپنا وطن نہیں کہہ سکتا۔ لیکن وہ اس چھوٹے سے رقبے کے گرد میلوں اور کوسوں اور بسا اوقات سیکڑوں اور ہزاروں میل تک ایک سرحدی خط کھینچ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ وہاں تک میرا وطن ہے اور اس سے باہر جو کچھ ہے اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ یہ محض اس کی نظر کی تنگی ہے‘ ورنہ کوئی چیز اسے تمام رُوئے زمین کو اپنا وطن کہنے سے مانع نہیں ہے۔ جس دلیل کی بنا پر ایک مربع گز کا وطن پھیل کر ہزاروں مربع گز بن سکتا ہے‘ اسی دلیل کی بنا پر وہ پھیل کر پورا کرۂ ارضی بھی بن سکتا ہے۔ اگر آدمی اپنے زاویۂ نظر کو تنگ نہ کرے تو وہ دیکھ سکتا ہے کہ یہ دریا اور پہاڑ اور سمندر وغیرہ جن کو اس نے محض اپنے خیال میں حدودِ فاصل قرار دے کر ایک زمین اور دوسری زمین کے درمیان فرق کیا ہے‘ سب کے سب ایک ہی زمین کے اجزا ہیں۔ پھر کس بنا پر اس نے دریائوں اور پہاڑوں اور سمندروں کو یہ حق دے دیا کہ وہ اسے ایک خاص خطے میں قید کر دیں؟ وہ کیوں نہیں کہتا کہ میں زمین کا باشندہ ہوں‘ سارا کرۂ زمین میرا وطن ہے‘ جتنے انسان ربع مسکون ۵۸؎ میں آباد ہیں ‘ میرے ہم وطن ہیں‘ اس پورے سیارے پر میں وہی پیدائشی حقوق رکھتا ہوں‘ جو اس گز بھر زمین پر مجھے حاصل ہیں جہاں میں پیدا ہوا ہوں؟
۳۔ اشتراکِ زبان کا فائدہ صرف اس قدر ہے کہ جو لوگ ایک زبان بولتے ہیں وہ باہمی تفاہم اور تبادلۂ خیالات کے زیادہ مواقع رکھتے ہیں۔ اس سے اجنبیت کا پردہ بڑی حد تک اٹھ جاتا ہے‘ اور ایک زبان بولنے والے اپنے آپ کو ایک دوسرے کے قریب تر محسوس کرتے ہیں، مگر ادائے خیال کے وسیلے کا مشترک ہونا خود خیال کے اشتراک کو مستلزم نہیں ہے۔ ایک ہی خیال دس مختلف زبانوں میں ادا ہوسکتا ہے اور ان سب کے بولنے والوں کا اس خیال میں متحد ہو جانا ناممکن ہے۔ بخلاف اس کے دس مختلف خیالات ایک زبان میں ادا ہوسکتے ہیں اور کچھ بعید نہیں کہ اس ایک ہی زبان کے بولنے والے، ان مختلف خیالات کے معتقد ہو کر باہم مختلف ہو جائیں۔ لہٰذا وحدتِ خیال جو حقیقتاً قومیت کی جان ہے‘ اشتراکِ زبان کی محتاج نہیں ہے اور نہ اشتراکِ زبان کے ساتھ وحدثِ خیال ضروری ہے۔ پھر ایک بڑا سوال یہ ہے کہ آدمی کی آدمیت اور اس کے ذاتی حسن و قبح میں اس کی زبان کو کیا دخل ہے؟ ایک جرمن بولنے والے شخص کو ایک فرنچ بولنے والے کے مقابلے میں کیا محض اس بنا پر ترجیح دی جاسکتی ہے کہ وہ جرمن زبان بولتا ہے؟ دیکھنے کی چیز اس کا جوہر ذاتی ہے نہ کہ اس کی زبان۔ زیادہ سے زیادہ اگر کچھ کہا جاسکتا ہے تو وہ صرف یہ کہ ایک ملک کے انتظامی معاملات اور عام کاروبار میں وہی شخص مفید ہو سکتا ہے جو اس ملک کی زبان جانتا ہو، مگر انسانیت کی تقسیم اور قومی امتیاز کے لیے یہ کوئی صحیح بنیاد نہیں ہے۔
۴۔انسانی جماعتوں میں رنگ کا امتیاز سب سے زیادہ لغو اور مہمل چیز ہے۔ رنگ محض جسم کی صفت ہے‘ مگر انسان کے انسان ہونے کا شرف اس کے جسم کی بنا پر نہیں‘ اس کی روح‘ اس کے نفسِ ناطقہ کی بنا پر ہے‘ جس کا کوئی رنگ نہیں ہے۔ پھر انسان اور انسان میں زردی اور سرخی‘ سیاہی اور سپیدی کا امتیاز کیسا؟ ہم کالی گائے اور سپید گائے کے دودھ میں کوئی فرق نہیں کرتے اس لیے کہ مقصود اس کا دودھ ہے نہ کہ اس کا رنگ۔ لیکن عقل کی بے راہ روی کا بُرا ہو کہ اس نے ہم کو انسان کی نفسی صفات سے قطع نظر کرکے اس کی جلد کے رنگ کی طرف متوجہ کر دیا۔
۵۔ معاشی اغراض کا اشتراک انسانی خود غرضی کا ایک ناجائز بچہ ہے۔ قدرت نے اس کو ہرگز پیدا نہیں کیا۔ آدمی کا بچہ کام کرنے کی قوتیں ماں کے پیٹ سے لے کر پیدا ہوتا ہے۔ جدوجہد کے لیے اسے ایک وسیع میدان ملتا ہے اور زندگی کے بے شمار وسائل اس کا استقبال کرتے ہیں، مگر وہ اپنی معیشت کے لیے صرف اس کو کافی نہیں سمجھتا کہ اس کے لیے رزق کے دروازے کھلیں‘ بلکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ دوسروں کے لیے وہ بند ہو جائیں۔ اسی خود غرضی میں انسانوں کی کسی بڑی جماعت کے مشترک ہو جانے سے وہ وحدت پیدا ہوتی ہے جو انھیں ایک قوم بننے میں مدد دیتی ہے۔ بظاہر وہ سمجھتے ہیں کہ انسان نے معاشی اغراض کا ایک حلقہ قائم کرکے اپنے حقوق و مفاد کا تحفظ کرلیا۔ لیکن جب اس طرح بہت سی جماعتیں اپنے گرد اسی قسم کے حصار کھینچ لیتی ہیں تو انسان پر اس کے اپنے ہاتھوں سے عرصۂ حیات تنگ ہو جاتا ہے۔ اس کی اپنی خود غرضی اس کے لیے پائوں کی بیڑی اور ہاتھ کی ہتھکڑی بن جاتی ہے۔ دوسروں کے لیے رزق کے دروازے بند کرنے کی کوشش میں وہ خود اپنے رزق کی کنجیاں گم کردیتا ہے۔ آج ہماری آنکھوں کے سامنے یہ منظر موجود ہے کہ یورپ‘ امریکہ اور جاپان کی سلطنتیں اسی کا خمیازہ بھگت رہی ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ان معاشی قلعوں کو کس طرح مسمار کریں جن کو انھوں نے خود ہی حفاظت کا بہترین وسیلہ سمجھ کر تعمیر کیا تھا۔ کیا اس کے بعد بھی ہم یہ نہ سمجھیں گے کہ کسبِ معیشت کے لیے حلقوںکی تقسیم اور ان کی بنا پر قومی امتیازات کا قیام ایک غیر عاقلانہ فعل ہے؟ خدا کی وسیع زمین پر انسان کو اپنے رب کا فضل تلاش کرنے کی آزادی دینے میں آخر کون سی قباحت ہے؟
۶۔نظام حکومت کا اشتراک بجائے خود ایک ناپایدار اور ضعیف البنیان چیز ہے اور اس کی بنا پر ہرگز کسی مستحکم قومیت کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔ ایک سلطنت کی رعایا کو اس کی وفاداری کے رشتے میں منسلک کرکے ایک قوم بنا دینے کا خیال کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ سلطنت جب تک غالب و قاہر رہتی ہے‘ رعایا اس کے قانون کی گرفت میں بندھی رہتی ہے۔ یہ گرفت جہاں ڈھیلی ہوئی مختلف عناصر منتشر ہو گئے۔ سلطنت ِ مغلیہ میں مرکزی طاقت کے کمزور ہونے کے بعد کوئی چیز ہندستان کے مختلف علاقوں کو اپنی الگ الگ سیاسی قومیتیں بنا لینے سے نہ روک سکی۔ یہی حشر سلطنت ِعثمانیہ کا ہوا۔ آخری دور میں جو ان ترک نے عثمانی قومیت کا قصر تعمیر کرنے کے لیے بہت کچھ زور لگایا، مگر ایک ٹھیس لگتے ہی سب اینٹ پتھر جدا ہوگئے۔ تازہ ترین مثال آسٹریا‘ ہنگری کی ہے۔ تاریخ سے بہت سی مثالیں اور بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔ ان کو دیکھنے کے بعد جو لوگ سیاسی قومیتوں کی تعمیر ممکن سمجھتے ہیں وہ محض اپنے تخیل کی شادابی کے لیے مبارک باد کے مستحق ہیں۔
اس تنقید سے یہ بات واضح ہوگئی کہ نسلِ انسانی میں یہ جتنی تفریقیں کی گئی ہیں، ان کے لیے کوئی عقلی بنیاد نہیں ہے۔ یہ صرف حسی اور مادی تفریقیں ہیں جن کا ہر دائرہ زاویۂ نظر کی ہر وسعت پرٹوٹ جاتا ہے۔ ان کا قیام و بقا جہالت کی تاریکی‘ نگاہ کی محدودیت اور دل کی تنگی پر منحصر ہے۔ علم و عرفان کی روشنی جس قدرپھیلتی ہے‘ بصیرت کی رسائی جس قدر بڑھتی ہے‘ قلب میں جتنی جتنی وسعت پیدا ہوتی جاتی ہے‘ یہ مادی اور حسی پردے اٹھتے چلے جاتے ہیں‘ یہاں تک کہ نسلیت کو انسانیت کے لیے اور وطنیت کو آفاقیت کے لیے جگہ خالی کرنی پڑتی ہے۔ اختلاف رنگ و زبان میں جو ہر انسانی کی وحدت جلوہ گر ہوتی ہے۔ خدا کی زمین میں خدا کے سب بندوں کی معاشی اغراض مشترک پائی جاتی ہیں۔ سیاسی نظامات کے دائرے محض چند سائے نظر آتے ہیں جو آفتاب ِاقبال کی گردش سے رُوئے زمین پر چلتے پھرتے اور گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں۔
اسلام کا وسیع نظریہ
ٹھیک یہی بات ہے جو اسلام کہتا ہے۔ اس نے انسان اور انسان کے درمیان کسی مادی اور حسی فرق کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ سب انسان ایک ہی اصل سے ہیں:
خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً النسائ4:1
خدا نے تم کو ایک ہی جان سے پیدا کیا۔ پھر اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور دونوں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو (دنیا میں) پھیلا دیا۔
تمھارے درمیان مرزبوم اور مولد و مدفن کا اختلاف کوئی جوہری چیز نہیں ہے۔ اصل میں تم سب ایک ہی ہو۔
وَہُوَالَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّمُسْـتَوْدَعٌ۝۰ۭ الانعام98:6
اور وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا۔ پھر ہر ایک کا ایک ٹھکانہ ہے اور ایک جگہ اس کے سپرد خاک ہونے کی ہے۔
اس کے بعد نسل اور خاندان کے اختلاف کی بھی یہ حقیقت بتلا دی کہ:
يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا۝۰ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰىكُمْ۝۰ۭ الحجرات13:49
لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تم کو گروہ اور قبائل بنا دیا تاکہ تم آپس میں پہچانے جائو، مگر درحقیقت معزز تو تم میں وہی ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔
یعنی یہ شعوب و قبائل کا اختلاف محض تعارف کے لیے ہے‘ آپس کے بغض، ایک دوسرے پر تفاخر‘ ایک دوسرے سے جھگڑنے کے لیے نہیں ہے۔ اس اختلاف میں انسانی اصل کی وحدت کو نہ بھول جائو۔ تم میں اگر کوئی حقیقی تفریق ہے تو وہ اخلاق و اعمال کی نیکی اور بدی کی بنا پر ہے۔
پھر فرمایا کہ یہ گروہوں کی تفریق اور جماعتوں کا اختلاف خدا کا عذاب ہے جو تم کو آپس کی دشمنی کا مزہ چکھاتا ہے:
اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ۝۰ۭ الانعام65:6
یا تو تم کو گروہ گروہ بنا دے اور تمھیں ایک دوسرے کی قوت کا مزہ چکھائے۔
اس گروہ بندی کو اس نے مِن جملہ ان جرائم کے قرار دیا ہے جن کی بنا پر فرعون لعنت و عذاب کا مستحق ہوا۔
اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْاَرْضِ وَجَعَلَ اَہْلَہَا شِيَعًا القصص 4:28
فرعون نے زمین پر تکبر کیا اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا۔۵۹؎
پھر کہا: زمین خدا کی ہے‘ اس نے نوعِ انسانی کو اس میں اپنی خلافت سے سرفراز کیا ہے‘ اس کی سب چیزوں کو انسان کے لیے مسخر کیا ہے۔ کچھ ضروری نہیں کہ انسان ایک خطے کا بندہ بن کر رہ جائے۔ یہ وسیع زمین اس کے لیے کھلی ہوئی ہے‘ ایک جگہ اس کے لیے تنگ ہو تو دوسری جگہ چلا جائے‘ جہاں جائے گا خدا کی نعمتیں موجود پائے گا:
اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَۃً۝۰ۭ البقرہ30:2
(آدم کی تخلیق کے وقت خدا نے فرمایا کہ) میں زمین میں ایک خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ الحج65:22
کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے تمھارے لیے ان چیزوں کو مسخر کر دیا ہے جو زمین میں ہیں۔
اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللہِ وَاسِعَۃً فَتُھَاجِرُوْا فِيْھَا۝۰ۭ النساء97:4
کیا اللہ کی زمین وسیع اور کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرکے چلے جاتے۔
وَمَنْ يُّھَاجِرْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ يَجِدْ فِي الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِيْرًا وَّسَعَۃً۝۰ۭ النساء100:4
جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں وافر جگہ اور کشائش پائے گا۔
آپ پورے قرآن کو دیکھ جائیے۔ اس میں ایک لفظ بھی آپ کو نسلیت یا وطنیت کی تائید میں نہ ملے گا۔ اس کی دعوت کا خطاب پوری نوع انسانی سے ہے۔ تمام رُوئے زمین کی انسانی مخلوق کو وہ خیر و صلاح کی طرف بلاتا ہے۔ اس میں نہ کسی قوم کی تخصیص ہے اورنہ کسی سرزمین کی۔ اس نے اگر کسی زمین کے ساتھ خاص تعلق پیدا کیا ہے تو وہ صرف مکہ کی زمین ہے‘ لیکن اس کے متعلق بھی صاف کہہ دیا کہ سَوَاۗءَۨ الْعَاكِفُ فِيْہِ وَالْبَادِ ط الحج25:22 یعنی مکہ کے اصلی باشندے اور باہر والے سب مسلمان برابر ہیں، ۶۰؎ اور جو مشرکین وہاں کے اصلی باشندے تھے، ان کے متعلق کہا کہ وہ نجس ہیں‘ ان کو وہاں سے نکال باہر کرو: اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلاَ یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ بَعْدَ عَا مِھِمْ ھٰذَا۔ التوبہ 28:9 مشرکین ناپاک ہیں لہٰذا اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں۔
اس تصریح کے بعد اسلام میں وطنیت کا کلی استیصال ہو جاتا ہے اور درحقیقت ایک مسلمان یہی کہہ سکتا ہے کہ:
ہر ملک ملکِ ماست کہ ملک خدائے ماست
عصبیت اور اسلام کی دشمنی
اسلام جب ظاہر ہوا تو اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی نسل و وطن کے تعصبات و امتیازات تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی قوم ان تعصبات میں سب سے پیش پیش تھی۔ خاندانوں کے مفاخر اور نسبی و ذاتی و جاہتوں کے تخیّلات، ان کے اور اسلام کے درمیان شدت کے ساتھ حائل تھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ قرآن اگر خدا کی طرف سے اترتا تو مکہ یا طائف کے کسی بڑے آدمی پر اترتا: وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ۔۶۱؎ الزخرف31:43 ابوجہل سمجھتاتھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم رسالت کا دعویٰ کرکے اپنے خاندانی مفاخر میں ایک اور فخر کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا قول تھا کہ:
ہم سے اور بنو عبدمناف سے مقابلہ تھا۔ ہم شہسواری میں ان کے حریف تھے۔ کھانے اور کھلانے میں‘ عطا اور بخشش میں ان کے برابر تھے۔ اب وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں وحی آنی شروع ہوئی ہے۔ خدا کی قسم! ہم تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تصدیق نہ کریں گے۔
یہ صرف ابوجہل ہی کے خیالات نہ تھے، بلکہ تمام مشرکین قریش کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش کردہ دین کا یہی عیب تھا کہ:
مذہب او قاطع ملک و نسب
از قریش و منکر از فضل عرب
در نگاہ او یکے بالا و پست
با غلام خویش بریک خواں نشست
قدرِ احرارِ عرب نشناختہ
با کلفتان حبش در ساختہ
احمراں با اسوداں آمیختند
آبروئے دودمانے ریختند ۶۲؎
اسی بنا پر قریش کے تمام خاندان بنی ہاشم سے بگڑ گئے اور بنی ہاشم نے بھی اسی قومی عصبیت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کی‘ حالانکہ ان میں سے اکثر مسلمان نہ تھے۔ شعب ابی طالب میں بنی ہاشم کو اسی لیے محصور کیا گیا اور تمام قریش نے اسی وجہ سے ان سے مقاطعہ کرلیا۔ جن مسلمانوں کے خاندان کمزور تھے ان کو شدید مظالم سے تنگ آکر حبش کی جانب ہجرت کرنی پڑی اور جن کے خاندان طاقت وَر تھے وہ اپنی حق پرستی کی بنا پر نہیں، بلکہ خاندانی طاقت کی بنا پر قریش کے ظلم و ستم سے ایک حد تک محفوظ رہے۔
عرب کے یہودی، انبیائے بنی اسرائیل (علیھم السلام)کی پیشین گوئیوں کی بنا پر مدتوں سے ایک نبی کے منتظر تھے۔ انھی کی دی ہوئی خبروں کا نتیجہ تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت شائع ہوئی تو مدینہ کے بہت سے باشندے مسلمان ہوگئے، مگر خود یہودیوں کو جس چیز نے آپؐ کی تصدیق سے روکا وہ یہی نسلی عصبیت تھی۔ ان کو اس پر اعتراض تھا کہ آنے والا نبی‘ بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل میں کیوں آیا؟ اس تعصب نے ان کو یہاں تک مدہوش کر دیا کہ وہ موحدین کو چھوڑ کر مشرکین کے ساتھی ہوگئے۔
یہی حال نصاریٰ کا تھا۔ آنے والے نبی کے وہ بھی منتظر تھے مگر ان کو توقع تھی کہ وہ شام میں پیدا ہوگا۔ عرب کے کسی نبی کے ماننے کے لیے وہ تیار نہ تھے۔ ہرقل کے پاس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان پہنچا تو اس نے قریش کے تاجروں سے کہا کہ:
مجھے معلوم تھا کہ ایک نبی ابھی اور آنے والا ہے، مگر یہ امید نہ تھی کہ وہ تم میں سے ہوگا۔
مقوقس مصر کے پاس جب دعوت نامہ اسلام پہنچا تو اس نے بھی یہی کہا کہ:
ابھی ایک نبی آنا باقی ہے‘ یہ مجھے معلوم ہے مگر مجھے امید تھی کہ وہ شام میں آئے گا۔
اسی تعصب کا دور دورہ عجم میں بھی تھا۔ خسرو پرویز کے پاس جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نامۂ مبارک پہنچا تو کس چیز نے اس کو غضب ناک کیا؟ یہی کہ ’ایک غلام قوم کا فرد اور پادشاہِ عجم کو اس طرح مخاطب کرے‘۔ وہ عرب کی قوم کو ذلیل سمجھتا تھا۔ اپنا ماتحت خیال کرتا تھا۔ یہ بات ماننے کے لیے وہ کسی طرح تیار نہ تھا کہ ایسی قوم میں کوئی حق کی طرف بلانے والا پیدا ہوگا۔
اسلام کے خلاف اس کے دشمن یہودیوں کے پاس سب سے بڑا کار گر حربہ یہی تھا کہ مسلمانوں میں قبائلی عصبیت پیدا کریں۔ اسی بنیاد پر مدینہ کے منافقین سے ان کی سازباز تھی۔ ایک مرتبہ انھوں نے جنگِ بُعَاث کا ذکر چھیڑ کر انصار کے دونوں قبیلوں ( اوس اور خزرج) میں عصبیت کی ایک ایسی آگ بھڑکائی کہ تلواریں کھنچنے کی نوبت آگئی۔ اسی پر یہ آیت نازل ہوئی کہ:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِيْعُوْا فَرِيْقًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ يَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ كٰفِرِيْنَo
آل عمران 100:3
مسلمانو! اگر تم اہل کتاب کے ایک گروہ کی بات مانو گے تو وہ تم کو ایمان سے کفر کی طرف پھیر دیں گے۔
یہی نسل و وطن کا تعصب تھا جس نے مدینہ میں قریش کے نبی کو حکمران دیکھ کر اور مہاجرین کو انصار کے باغوں اور نخلستانوں میں چلتے پھرتے دیکھ کر مدینہ کے منافقین کو آتشِ زیرِ پا کر رکھا تھا۔ عبداللہ بن اُبی رئیس المنافقین کہا کرتا تھا کہ:
یہ قریش کے فقیر ہمارے ملک میں آکر پھل پھول گئے ہیں۔ ان کی مثل ایسی ہے کہ کتے کو کھلا پلا کر موٹا کر، تاکہ تجھی کو پھاڑ کھائے۔
وہ انصار سے کہتا تھا کہ ’تم نے ان کو اپنے سر چڑھا لیا ہے۔ اپنے ملک میں جگہ دی۔ اپنے اموال میں ان کو حصہ دیا۔ خدا کی قسم آج تم ان سے ہاتھ روک لو تو یہ چلتے پھرتے نظر آئیں گے‘۔ ان کی ان باتوں کا جواب قرآن مجید میں اس طرح دیا گیا ہے:
ہُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰي مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا۝۰ۭ وَلِلہِ خَزَاۗىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَفْقَہُوْنَo يَقُوْلُوْنَ لَىِٕنْ رَّجَعْنَآ اِلَى الْمَدِيْنَۃِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْہَا الْاَذَلَّ۝۰ۭ وَلِلہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَo المنافقون 7-8:63
یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر کچھ خرچ نہ کرو تاکہ یہ تتر بتر ہو جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانوں کا مالک اللہ ہے مگر منافقین اس کو نہیں سمجھتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم (میدان جنگ سے) مدینہ کی طرف واپس ہوئے تو جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو وہاں سے نکال دے گا۔ حالانکہ عزت دراصل اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کی ہے مگر منافقین اس بات کو نہیں جانتے۔
یہی عصبیت کا جوش تھا جس نے عبداللہ بن اُبیّ سے حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگوائی اور خزرج والوں کی حمایت نے اس دشمن خدا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کیے کی سزا پانے سے بچالیا۔ ۶۳؎
عصبیت کے خلاف اسلام کا جہاد
اس بیان سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ کفر و شرک کی جہالت کے بعد اسلام کی دعوت حق کا اگر کوئی سب سے بڑا دشمن تھا تو وہ یہی نسل و وطن کا شیطان تھا اور یہی وجہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ۲۳ سالہ حیات نبویہ میں ضلالتِ کفر کے بعد سب سے زیادہ جس چیز کو مٹانے کے لیے جہاد کیا وہ یہی عصبیتِ جاہلیہ تھی۔ آپ احادیث و سِیَر کی کتابوں کو اٹھا کر دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح خون اور خاک‘ رنگ اور زبان‘ پستی اور بلندی کی تفریقوں کو مٹایا‘ انسان اور انسان کے درمیان غیر فطری امتیازات کی تمام سنگین دیواروں کو مسمار کیا اور انسان ہونے کی حیثیت سے تمام بنی آدم کو یکساں قرار دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم یہ تھی:
٭ لَیْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلَی الْعَصَبِیَّۃِ لَیْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا اِلَی الْعَصَبِیَّۃِ لَیْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَی الْعَصَبِیَّۃِ۔ (سنن ابی دائود، ۵۱۲۱)
جس نے عصبیت پر جان دی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جس نے عصبیت کی طرف بلایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جس نے عصبیت پر جنگ کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
آپؐ فرماتے تھے:
٭ لَیْسَ لِاَحَدٍ فَضْلٌ عَلٰی اَحَدٍ اِلاَّ بِدِیْنٍ وَ تَقْوٰی اَلنَّاسُ کُلُّھُمْ بَنُوْ آٰدَمَ وَ آٰدَمُ مِنْ تُرَابٍ۔
(مسند احمد تفہیم الاحادیث ششم، ص ۴۱۸)
پرہیزگاری اور دین داری کے سوا کسی اور چیز کی بنا پر ایک شخص کو دوسرے شخص پر فضیلت نہیں ہے۔سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنے تھے۔
نسل‘ وطن‘ زبان اور رنگ کی تفریق کو آپؐ نے یہ کہہ کر مٹایا کہ:
۱۔ لَافَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ وَلاَ لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ کُلُّکُمْ اَبْنَائِ آٰدَمَ۔(بخاری و مسلم)
نہ کسی عربی کو عجمی پر فضیلت ہے اور نہ عجمی کو عربی پر۔ تم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہو۔
۲۔ لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِاَبْیَضَ عَلٰی اَسْوَدَ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی اَبْیَضَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی۔ (زاد المعاد)
کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر‘ اور کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر فضیلت نہیں ہے‘ اگر فضیلت ہے تو وہ صرف پرہیزگاری کی بنا پر ہے۔
۳۔ اِسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا وَاِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌّ کَاَنَّ رَاْسَہ‘ زَبِیْبَۃٌ۔
(بخاری کتاب الاحکام ۔ مشکوۃ ۳۴۹۳)
سنو اور اطاعت کرو چاہے تم پر کوئی حبشی غلام ہی امیر بنا دیا جائے جس کا سرکشمش جیسا ہو۔۶۴؎
فتح مکہ کے بعد جب تلوار کے زور نے قریش کی اکڑی ہوئی گردنوں کو جھکا دیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور اس میں پورے زور کے ساتھ یہ اعلان فرمایا:
اَلاَ کُلُّ مَاْثِرَۃٍ اَوْدَمٍ اَوْمَالٍ یُدْعٰی فَھُوَتَحْتَ قَدَمَیَّ ھَاتَیْنِ۔ (ابودائود، ترمذی)
خوب سن رکھو کہ فخر و ناز کا ہر سرمایہ،خون اور مال کا ہر دعویٰ آج میرے ان قدموں کے نیچے ہے۔
یَا مَعْشَرَقُرَیْشٍ اِنَّ اللّٰہَ اَذْھَبَ عَنْکُمْ نَخْوَۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ وَتَعَظُّمَھَا الْآٰبَائِ۔ (احمد، کنز العمال، حدیث ۱۲۹۴)
اے اہل قریش! اللہ نے تمھاری جاہلیت کی نخوت اور باپ دادا کی بزرگی کے ناز کو دور کر دیا۔
اَیُّھَا النَّاسُ کُلُّکُمْ مِنْ آٰدَمَ وَآٰدَمُ مِنْ تُرَابٍ لَافَخْرَ لِلْاَنْسَابِ وَلَا فَخْرَ لِلْعَرَبِیِّ عَلَی الْعَجَمِیِّ وَلَا لِلْعَجَمِیِّ عَلَی الْعَرَبِیِّ اِنَّ اکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ۔ (تفسیر ابن کثیر، ج۴، ص۲۱۷۔ مجمع الزوائد، ج۸، ص۸۶)
اے لوگو! تم سب آدم علیہ السلام سے ہو اور آدم علیہ السلام مٹی سے تھے۔ نسب کے لیے کوئی فخر نہیں ہے۔ عربی کو عجمی پر‘ عجمی کو عربی پر کوئی فخر نہیں ہے۔ تم میں سب سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔
عبادت الٰہی کے بعد آپؐ اپنے خدا کے سامنے تین باتوں کی گواہی دیتے تھے۔
۱۔ پہلے اس بات کی کہ’خدا کا کوئی شریک نہیں ہے۔‘
۲۔ پھر اس بات کی کہ ’محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا بندہ اور رسول ہے۔‘
۳۔ پھر اس بات کی کہ ’اللہ کے بندے سب بھائی بھائی ہیں۔ ‘ (اِنَّ الْعِبَادَ کُلُّھُمْ اِخْوَۃٌ)
اسلامی قومیت کی بنیاد
اس طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلیت کی ان تمام محدود مادی‘ حسی اور وہمی بنیادوں کو جن پر دنیا کی مختلف قومیتوں کی عمارتیں قائم کی گئی تھیں‘ ڈھا دیا۔ رنگ‘ نسل‘ وطن‘ زبان‘ معیشت اور سیاست کی غیر عقلی تفریقوں کو جن کی بنا پر انسان نے اپنی جہالت و نادانی کی وجہ سے انسانیت کو تقسیم کر رکھا تھا‘ مٹا دیا اور انسانیت کے مادے میں تمام انسانوں کو ایک دوسرے کا ہم مرتبہ قرار دے دیا۔
اس تخریب کے ساتھ اسلام نے خالص عقلی بنیادوں پر ایک نئی قومیت کی تعمیر کی۔ اس قومیت کی بنا بھی امتیاز پر تھی‘ مگر مادی اور ارضی امتیاز پر نہیں‘ بلکہ روحانی اور جوہری امتیاز پر۔ اس نے انسان کے سامنے ایک فطری صداقت پیش کی‘ جس کا نام ’اسلام‘ ہے۔ اس نے خدا کی بندگی و اطاعت‘ نفس کی پاکیزگی و طہارت‘ عمل کی نیکی اور پرہیزگاری کی طرف ساری نوعِ بشری کو دعوت دی۔ پھر کہہ دیا کہ جو اس دعوت کو قبول کرے وہ ایک قوم سے ہے اور جو اس کو رد کر دے وہ دوسری قوم سے ہے۔ ایک قوم ایمان اور اسلام کی ہے اور اس کے سب افراد ایک امت ہیں: وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا۶۵؎ اور ایک قوم کفر اور گمراہی کی ہے اور اس کے متبعین اپنے اختلاف کے باوجود ایک گروہ ہیں۔ وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ۔۶۶؎
ان دونوں قوموں کے درمیان بنائے امتیاز نسل اور نسب نہیں‘ اعتقاد اور عمل ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک باپ کے دو بیٹے اسلام اور کفر کی تفریق میں جدا جدا ہو جائیں‘ اور دو بالکل اجنبی آدمی اسلام میں متحد ہونے کی وجہ سے ایک قومیت میں مشترک ہوں۔
وطن کا اختلاف بھی ان دونوں قوموں کے درمیان وجۂ امتیاز نہیں ہے۔ یہاں امتیاز حق اور باطل کی بنیاد پر ہے جس کا کوئی وطن نہیں۔ ممکن ہے کہ ایک شہر‘ ایک محلے‘ ایک گھر کے دو آدمیوں کی قومیتیں اسلام اور کفر کے اختلاف کی وجہ سے مختلف ہوجائیں اور ایک حبشی رشتۂ اسلام میں مشترک ہونے کی وجہ سے ایک مراکشی کا قومی بھائی بن جائے۔
رنگ کا اختلاف بھی یہاں قومی تفریق کا سبب نہیں ہے۔ یہاں اعتبار چہرے کے رنگ کا نہیں‘ اللہ کے رنگ کا ہے اور وہی بہترین رنگ ہے۔ صِبْغَۃَ اللّٰہِ ط وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً۔ ۶۷؎ ہوسکتا ہے کہ اسلام کے اعتبار سے ایک گورے اور ایک کالے کی ایک قوم ہو، اور کفر کے اعتبار سے دو گوروں کی دو الگ قومیتیں ہوں۔
زبان کا امتیاز بھی اسلام اور کفر میں وجہِ اختلاف نہیں ہے۔ یہاں منہ کی زبان نہیں، محض دل کی زبان کا اعتبار ہے جو ساری دنیا میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اس کے اعتبار سے عربی اور افریقی کی ایک زبان ہوسکتی ہے اور دو عربوں کی زبانیں مختلف ہوسکتی ہیں۔
معاشی اور سیاسی نظاموں کا اختلاف بھی اسلام اور کفر کے اختلاف میں بے اصل ہے۔ یہاں جھگڑا دولتِ زر کا نہیں، دولت ایمان کا ہے، انسانی سلطنت کا نہیں خدا کی بادشاہت کا ہے۔ جو لوگ حکومتِ الٰہی کے وفادار ہیں اور جو خدا کے ہاتھ اپنی جانیں فروخت کر چکے ہیں وہ سب ایک قوم ہیں خواہ ہندستان میں ہوں یا ترکستان میں، اور جو خدا کی حکومت سے باغی ہیں اور شیطان سے جان و مال کا سودا کرچکے ہیں وہ ایک دوسری قوم ہیں۔ ہم کو اس سے کوئی بحث نہیں کہ وہ کس سلطنت کی رعایا ہیں اور کس معاشی نظام سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس طرح اسلام نے قومیت کا جو دائرہ کھینچا ہے وہ کوئی حسی اور مادی دائرہ نہیں، بلکہ ایک خالص عقلی دائرہ ہے۔ ایک گھر کے دو آدمی اس دائرے سے جدا ہو سکتے ہیں اور مشرق و مغرب کا بُعد رکھنے والے دو آدمی اس میں داخل ہوسکتے ہیں ؎
سر عشق از عالم ارحام نیست
اوزسام و روم و شام نیست
کوکب بے شرق و غرب و بے غروب
در مدارش نے شمال و نے جنوب ۶۸؎
اس دائرے کا محیط ایک کلمہ ہے: لَآاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔ اسی کلمے پر دوستی بھی ہے اور اسی پر دشمنی بھی۔ اسی کا اقرار جمع کرتا ہے اور اسی کا انکار جدا کر دیتا ہے۔ جن کو اس نے جدا کر دیا ہے ان کو نہ خون کا رشتہ جمع کرسکتا ہے‘ نہ خاک کا‘ نہ زبان کا‘ نہ رنگ کا‘ نہ روٹی کا‘ نہ حکومت کا، اور جن کو اس نے جمع کر دیا ہے انھیں کوئی چیز جدا نہیں کرسکتی۔ کسی دریا‘ کسی پہاڑ‘ کسی سمندر‘ کسی زبان‘ کسی نسل‘ کسی رنگ اور کسی زر و زمین کے قضیے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اسلام کے دائرے میں امتیازی خطوط کھینچ کر مسلمان اور مسلمان کے درمیان فرق کرے۔ ہر مسلمان خواہ وہ چین کا باشندہ ہو یا مراکش کا‘ گورا ہو یا کالا‘ ہندی بولتا ہو یا عربی‘ سامی ہو یا آرین‘ ایک حکومت کی رعیت ہو یا دوسری حکومت کی‘ مسلمان قوم کا فرد ہے‘ اسلامی سوسائٹی کا رکن ہے‘ اسلامی اسٹیٹ کا شہری ہے‘ اسلامی فوج کا سپاہی ہے‘ اسلامی قانون کی حفاظت کا مستحق ہے۔ شریعت اسلامیہ میں کوئی ایک دفعہ بھی ایسی نہیں ہے جو عبادات‘ معاملات‘ معاشرت‘ معیشت‘ سیاست‘ غرض زندگی کے کسی شعبے میں جنسیت یا زبان یا وطنیت کے لحاظ سے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے مقابلے میں کم تریا بیش تر حقوق دیتی ہو۔
اسلام کا طریقِ جمع و تفریق
یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اسلام نے تمام انسانی اور مادی رشتوں کو قطع کر دیا ہے۔ ہرگز نہیں! اس نے مسلمانوں کو صلہ رحمی کا حکم دیا ہے‘ قطع رحم سے منع کیا ہے‘ ماں باپ کی اطاعت و فرماںبرداری کی تاکید کی ہے‘ خون کے رشتوں میں وراثت جاری کی ہے‘ خیر و صدقات اور بذل و انفاق میں ذوی القربیٰ کو غیر ذوی القربیٰ پر ترجیح دی ہے‘ اپنے اہل و عیال‘ اپنے گھر بار‘ اور اپنے مال کو دشمنوں سے بچانے کا حکم دیا ہے‘ ظالم کے مقابلے میں لڑنے کا حکم دیا ہے اور ایسی لڑائی میں جان دینے والے کو شہید قرار دیا ہے۔ زندگی کے تمام معاملات میں بلا امتیازِ مذہب ہر انسان کے ساتھ ہم دردی‘ حسنِ سلوک اور محبت سے پیش آنے کی تعلیم دی ہے۔ اس کے کسی حکم کو یہ معنی نہیں پہنائے جاسکتے کہ وہ ملک و وطن کی خدمت و حفاظت سے روکتا ہے‘ یا غیر مسلم ہمسائے کے ساتھ صلح و مسالمت کرنے سے باز رکھتا ہے۔۶۹؎
یہ سب کچھ ان مادی رشتوں کی جائز اور فطری مراعات ہیں، مگر جس چیز نے قومیت کے معاملے میں اسلام اور غیر اسلام کے اصول میں فرق کر دیا ہے وہ یہ ہے کہ دوسروں نے انھی رشتوں پر جداگانہ قومیتیں بنالی ہیں اور اسلام نے ان کو بنائے قومیت قرار نہیں دیا۔ وہ ایمان کے تعلق کو ان سب تعلقات پر ترجیح دیتا ہے اور وقت پڑے تو ان میں سے ہر ایک کو اس پر قربان کر دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے:
۱۔ قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَۃٌ حَسَـنَۃٌ فِيْٓ اِبْرٰہِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَہٗ۝۰ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۡكَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَاۗءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَحْدَہٗٓ الممتحنہ60: 4
تمھارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں یہ قابلِ تقلید نمونہ تھا کہ انھوں نے اپنی وطنی و نسلی قوم سے صاف کہہ دیا کہ ہمارا تم سے اور تمھارے معبودوں سے جنھیں تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو‘ کوئی تعلق نہیں ہے‘ ہم نے تم کو چھوڑ دیا۔ ہمارے اور تمھارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت اور دشمنی ہوگئی تاوقتیکہ تم ایک خدا پر ایمان نہ لائو۔
۲۔ لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَاۗءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَي الْاِيْمَانِ۝۰ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَo التوبہ23:9
اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی دوست اور محبوب نہ رکھو اگر وہ ایمان کے مقابلے میں کفر کو محبوب رکھیں۔ تم میں سے جو کوئی ان کو محبوب رکھے گا وہ ظالموں میں شمار ہوگا۔
۳۔ اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَاَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْہُمْ۝۰ۚ التغابن14:64
تمھاری بیویوں اور تمھاری اولاد میں ایسے لوگ بھی ہیں جو تمھارے دشمن ہیں‘ ان سے ہوشیار رہو۔
وہ کہتا ہے کہ اگر تمھارے دین اور تمھارے وطن میں دشمنی ہو جائے تو دین کی خاطر وطن چھوڑ کر نکل جائو۔ جو شخص دین کی محبت پر وطن کی محبت کو قربان کر کے ہجرت نہ کرے وہ منافق ہے‘ اس سے تمھارا کوئی تعلق نہیں۔فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ اَوْلِيَاۗءَ حَتّٰي يُھَاجِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ النساء89:4
اس طرح اسلام اور کفر کے اختلاف سے خون کے قریب ترین رشتے کٹ جاتے ہیں۔ ماں‘ باپ‘ بھائی‘ بیٹے صرف اسی لیے جدا ہو جاتے ہیں کہ وہ اسلام کے مخالف ہیں۔ ہم نسل قوم کو اس لیے چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ خدا سے دشمنی رکھتی ہے۔ وطن کو اس لیے خیر باد کہا جاتا ہے کہ وہاں اسلام اور کفر میں عداوت ہے۔ گویا اسلام دنیا کی ہر چیز پر مقدم ہے‘ ہر چیز اسلام پر قربان کی جاسکتی ہے اور اسلام کسی چیز پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔ اب دوسری طرف دیکھیے۔ یہی اسلام کا تعلق ہے جو ایسے لوگوں کو ملا کر بھائی بھائی بنا دیتا ہے جن کے درمیان نہ خون کا رشتہ ہے‘ نہ وطن کا‘ نہ زبان کا‘ نہ رنگ کا۔ تمام مسلمانوں کو خطاب کرکے کہا جاتا ہے:
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا۝۰۠ وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا۝۰ۚ وَكُنْتُمْ عَلٰي شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْھَا۝۰ۭ
آل عمران 103:3
تم سب مل کر اللہ کی رسی کو تھامے رہو اور آپس میں متفرق نہ ہو جائو۔ اپنے اوپر اللہ کے احسان کو یاد رکھو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے‘ اس نے تمھارے دلوں میں باہمی الفت پیدا کر دی اور تم اس کی نعمت (اسلام) کی بدولت بھائی بھائی بن گئے۔ تم (آپس کی عصبیت کی بدولت) آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے۔ اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔
تمام غیر مسلموں کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ:
فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۝۰ۭ التوبہ11:9
اگر وہ کفر سے توبہ کرلیں‘ نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں۔
اور مسلمانوں کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ:
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ۝۰ۭ وَالَّذِيْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَہُمْ الفتح29:48
محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ لوگ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا بندہ اور رسول ہے۔ نیز وہ ہمارے قبلے کی طرف منہ پھیریں‘ ہمارا ذبیحہ کھائیں اور ہماری طرح نماز پڑھیں۔ جونہی کہ انھوں نے ایسا کیا ہم پر ان کے خون اور ان کے مال حرام ہوگئے۔ اِلاّیہ کہ حق اور انصاف کی خاطر ان کو حلال کیا جائے۔ اس کے بعد ان کے وہی حقوق ہیں جو سب مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہی واجبات ہیں جو سب مسلمانوں پر ہیں۔ (ابودائود، کتاب الجہاد)
پھر یہی نہیں کہ حقوق اور فرائض میں مسلمان برابر ہیں اور ان میں کسی فرق و امتیاز کی گنجایش نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ارشاد نبویؐ ہے کہ:
o اَلْمُسْلِمُ لِلْمُسْلِمِ کَالْبُنْیَانِ یَشُدُّ بَعْضُہ‘ بَعْضًا۔ (متفق علیہ)
مسلمان کے ساتھ مسلمان کا تعلق ایسا ہے جیسے ایک دیوار کے اجزا، جن میں سے ہر ایک دوسرے سے قوت پاتا ہے۔
اور:
o مَثَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِیْ تَوَادِّھِمْ وَتَرَاحُمِھِمْ وَتَعَاطُفِھِمْ کَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ اِذَا اشْتَکٰی مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعٰی لَہ‘ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّھَرِ وَالْحُمّٰی۔(متفق علیہ۔ مشکوٰۃ)
آپس کی محبت اور رحمت و مہربانی میں مسلمانوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک عضو کو تکلیف پہنچے تو سارا جسم اس کے لیے بے خواب و بے آرام ہو جاتا ہے۔
ملت ِ اسلامیہ کے اس جسمِ نامی کو رسولؐ اللہ نے ’جماعت‘ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے اور اس کے متعلق آپؐ کا فرمان ہے:
۱۔ یَدُ اللّٰہِ عَلَی الْجَمَاعَۃِ وَمَنْ شَذَّ شُذَّ فِی النَّارِ۔ (ترمذی ۲۱۶۷)
جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے جو اس سے بچھڑا وہ آگ میں گیا۔
۲۔ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ شِبْرًا خَلَعَ رِبْقَۃَ الْاِسْلَامِ مِنْ عُنُقِہٖ۔ ( احمد و ابودائود۔ مشکوٰۃ)
جو ایک بالشت بھر بھی جماعت سے جدا ہوا اس نے اسلام کا حلقہ اپنی گردن سے اتار پھینکا۔
اسی پر بس نہیں بلکہ یہاں تک فرمایا کہ:
مَنْ اَرَادَ اَنْ یُّفَرِّقْ جَمَاعَتَکُمْ فَاقْتُلُوْہُ۔ (مسلم۔ مشکوۃ ۳۵۰۷)
جو تمہاری جماعت میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کرے اس کو قتل کردو۔
مَنْ اَرَادَاَنْ یُّفَرِّق اَمْرَ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ وَھِیَ جَمِیْعٌ فَاضْرِبُوْہُ بِالسَّیْفِ کَائِنًا مَنْ کَانَ۔
(مسلم۔مشکوۃ۳۵۰۷)
جو کوئی اس امت کے بندھے ہوئے رشتے کو پارہ پارہ کرنے کا ارادہ کرے‘ اس کی تلوار سے خبرلو‘ خواہ وہ کوئی ہو۔
اسلامی قومیت کی تعمیر کس طرح ہوئی؟
اس جماعت میں جس کی شیرازہ بندی اسلام کے تعلق کی بنا پر کی گئی تھی خون اور خاک‘ رنگ اور زبان کی کوئی تمیز نہ تھی۔ اس میں سلمان ؓ ایرانی تھے جن سے ان کا نسب پوچھا جاتا‘ تو فرماتے کہ سلمان بن اسلام۔ حضرت علیؓ ان کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ سَلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْتِ ’سلمان ہم اہل بیت میں سے ہیں‘۔اس میں باذان بن ساسان اور ان کے بیٹے شہر بن باذان تھے جن کا نسب بہرام گور سے ملتا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت باذانؓ کو یمن کا اور ان کے صاحبزادے کو صنعا کا والی مقرر فرمایا تھا۔ اس جماعت میں بلال حبشیؓ تھے جن کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ بِلَالُ سَیِّدُنَا وَمَوْلَاسَیِّدِنَا بلالؓ ہمارے آقا کا غلام اور ہمارا آقا ہے۔اس جماعت میں صہیبؓ رومی تھے جنھیں حضرت عمرؓ نے اپنی جگہ نماز میں امامت کے لیے کھڑا کیا۔ اس میں حضرت ابوحذیفہؓ کے غلام سالم ؓ تھے جن کے متعلق حضرت عمرؓ نے اپنے انتقال کے وقت فرمایا کہ اگر آج وہ زندہ ہوتے تو میں خلافت کے لیے انھی کو نامزد کرتا۔ اس میں زید بن حارثہ ؓ ایک غلام تھے جن کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی پھوپھی کی بیٹی ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو بیاہ دیا تھا۔ اس میں حضرت زیدؓ کے بیٹے اسامہؓ تھے جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے لشکر کا سردار بنایا تھا‘ جس میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ‘ حضرت عمر فاروق ؓ‘ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ جیسے جلیل القدر صحابہ شریک تھے۔ انھی اسامہؓ کے متعلق حضرت عمرؓ اپنے بیٹے عبداللہؓ سے فرماتے ہیں کہ:اسامہؓکا باپ تیرے باپ سے افضل تھا اور اسامہؓخود تجھ سے افضل ہے۔
مہاجرین کا اُسوہ
اس جماعت نے اسلام کے تبر سے عصبیت کے ان تمام بتوں کو توڑ ڈالا جو نسل اوروطن‘ رنگ اور زبان وغیرہ کے نام سے موسوم ہیں اور جن کی پرستش قدیم جاہلیت سے جدید جاہلیت کے زمانے تک دنیا میں ہو رہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے وطن مکہ کو چھوڑا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے یہ معنی نہ تھے کہ آپؐ کو اور مہاجرین کو اپنے وطن سے وہ فطری محبت نہ تھی جو انسان کو ہوا کرتی ہے۔ مکہ کو چھوڑتے وقت آپؐ نے فرمایا تھا کہ: اے مکہ! تو مجھ کو دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ہے، مگر کیا کروں کہ تیرے باشندے مجھ کو یہاں رہنے نہیں دیتے۔
حضرت بلالؓ جب مدینہ جا کر بیمار ہوئے تو مکہ کی ایک ایک چیز کو یاد کرتے تھے۔ ان کی زبان سے نکلے ہوئے یہ حسرت بھرے اشعار آج تک مشہور ہیں:
اَلاَ لَیْتَ شِعْرِیْ ھَلْ اَبِیْتَنَّ لَیْلَۃً
بِفَخْ وَحَوْلِیْ اِذْخَرٌ وَ جَلِیْل‘
وَھَلْ اَرِدَنَّ یَوْمًا مِیَاہَ مَجَنَّہْ
وَھَلْ تَبْدُوَنْ لِیْ شَامَۃُ وَطَفِیْل‘
(البدایہ و النہایۃ، ج۳، ص۲۲)
کاش! مجھے معلوم ہو جاتا کہ میں (کبھی کوئی) رات مقام فخ میں گزاروں گا اور میرے گرد اِذخر (خوشبودار گھاس) اور جلیل (بابونہ کے پودے) ہوں گے؟
اور کیا میں کسی دن مَجِنَّہ (نامی جگہ) کے گھاٹ پر بھی وارد ہوں گا اور مجھے شامہ اور طفیل (مقام اور پہاڑ) نظر آئیں گے؟
مگر اس کے باوجود حبّ وطن نے ان بزرگوں کو اسلام کی خاطر ہجرت کرنے سے باز نہ رکھا۔ ۷۰ ؎
انصار کا طرز عمل
دوسری طرف اہل مدینہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین کو سر آنکھوں پر بٹھایا اور اپنے جان و مال خدمت اقدس میں پیش کر دیے۔ اسی بنا پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مدینہ قرآن سے فتح ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا تو یہ ایسے بھائی بھائی بنے کہ مدتوں ان کو ایک دوسرے کی میراث ملتی رہی۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اس توارث کو بند کیا۔ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ۷۱؎ انصار نے اپنے کھیت اور باغ آدھے آدھے تقسیم کرکے اپنے مہاجر بھائیوں کو دے دیے اور جب بنو نضیر کی زمینیں فتح ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یہ زمین بھی ہمارے مہاجر بھائیوں کو دے دیجیے۔ یہی ایثار تھا جس کی تعریف اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے:وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْکَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ۷۲؎ حضرت عبداللہ بن عوفؓ اور حضرت سعد بن ربیع انصاریؓ کے درمیان مواخاۃ کرائی گئی تو حضرت سعدؓ اپنے دینی بھائی کو آدھا مال دینے اور اپنی بیویوں میں سے ایک کو طلاق دے کر ان سے بیاہ دینے پر آمادہ ہوگئے۔ عہدِ رسالت کے بعد جب مہاجرین پیہم منصب خلافت پر سرفراز ہوئے تو کسی مدنی نے یہ نہ کہا کہ تم غیر ملکیوں کو ہمارے ملک پر حکومت کرنے کا کیا حق ہے؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمرؓ نے مدینہ کے نواح میں مہاجرین کو جاگیریں دیں اور کسی انصاری نے اس پر زبان تک نہ ہلائی۔
رشتۂ دین پر مادی علائق کی قربانی
پھر جنگ بدر اور جنگ احد میں مہاجرین مکہ دین کی خاطر خود اپنے رشتہ داروں سے لڑے۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے بیٹے عبدالرحمان پر تلوار اٹھائی۔ حضرت حذیفہؓ نے اپنے باپ ابوحذیفہ پر حملہ کیا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے ماموں کے خون میں ہاتھ رنگے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباسؓ ‘ چچا زاد بھائی عقیلؓ ‘ داماد ابو العاص ؓ بدر میں گرفتار ہوئے اور عام قیدیوں کی طرح رکھے گئے۔ حضرت عمرؓتو یہاں تک آمادہ ہوگئے تھے کہ سب قیدیوں کو قتل کر دیا جائے اور ہر شخص خود اپنے عزیز کو قتل کرے۔
فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیر قبیلہ اور غیر علاقہ والوں کو لے کر خود اپنے قبیلے اور اپنے وطن پر حملہ آور ہوئے اور غیروں کے ہاتھوں اپنوں کی گردنوں پر تلوار چلوائی۔ عرب کے لیے یہ بالکل نئی بات تھی کہ کوئی شخص خود اپنے قبیلے اور اپنے وطن پر غیر قبیلہ والوں کو چڑھا لائے اور وہ بھی کسی انتقام یا زر و زمین کے قضیے کی بنا پر نہیں‘ بلکہ محض ایک کلمۂ حق کی خاطر۔ جب قریش کے اوباش مارے جانے لگے تو ابو سفیان نے آکر عرض کیا کہ: یارسولؐ اللہ! قریش کے نونہال کٹ رہے ہیں۔ آج کے بعد قریش کا نام و نشان نہ رہے گا۔ رحمۃللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اہل مکہ کو امان دے دی۔ انصار سمجھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل اپنی قوم کی طرف مائل ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخر آدمی ہی تو ہیں، اپنے خاندان والوں کا پاس کر ہی گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان باتوں کی خبر پہنچی تو انصار کو جمع کیا اور فرمایا:مجھے خاندان والوں کی محبت نے ہرگز نہیں کھینچا۔ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسولؐ ہوں۔ اللہ کے لیے تمھارے پاس ہجرت کرکے جا چکا ہوں۔ اب میرا جینا تمھارے ساتھ ہے اور مرنا تمھارے ساتھ۔ جو کچھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا‘ اسے لفظ بلفظ سچا کرکے دکھا دیا، باوجودیکہ مکہ معظمہ کے فتح ہو جانے کے بعد وہ علت باقی نہ رہی تھی جس کی بنا پر حضور اکرمؐ ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لے گئے تھے، مگر آپؐ نے مکہ میں قیام نہ فرمایا۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر کسی وطنی یا انتظامی جذبے کے تحت حملہ نہ کیا تھا‘ بلکہ محض اعلائے کلمۃ الحق مقصود تھا۔
اس کے بعد جب ہوازن اور ثقیف کے اموال فتح ہوئے تو پھر وہی غلط فہمی پیدا ہوئی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت میں سے قریش کے نو مسلموں کو زیادہ حصہ دیا۔ انصار کے بعض نوجوان سمجھے یہ قومی پاس داری کی وجہ سے ہے۔ انھوں نے بگڑ کر کہا کہ:خدا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف کرے، وہ قریش کو دیتے ہیں اور ہم کو چھوڑتے ہیں۔ حالانکہ اب تک ہماری تلواروں سے ان کے خون ٹپک رہے ہیں۔‘‘ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پھر جمع کیا اور فرمایا کہ میں ان لوگوں کو اس لیے زیادہ دیتا ہوں کہ یہ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ محض ان کی تالیفِ قلب مقصود ہے۔ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ یہ دنیا کا مال لے جائیں اور تم خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جائو؟
غزوۂ بنی المصطلق میں ایک غفاری اور ایک عوفی میں جھگڑا ہوگیا۔ غفاری نے عوفی کو تھپڑ مارا۔ بنی عوف انصار کے حلیف تھے۔ اس لیے عوفی نے انصار کو مدد کے لیے پکارا۔ بنی غِفار مہاجرین کے حلیف تھے‘ اس لیے غفاری نے مہاجرین کو آواز دی۔ قریب تھا کہ فریقین کی تلواریں کھنچ جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپؐ نے فریقین کو بلا کر فرمایا کہ یہ کیا جاہلیت کی پکار تھی جو تمھاری زبانوں سے نکل رہی تھی؟ (مَالَکُمْ وَلِدَعْوَۃِ الْجَاھِلِیَّۃِ) ۔انھوں نے کہا کہ ایک مہاجر نے انصاری کو مارا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:تم اس جاہلیت کی پکار کو چھوڑ دو۔ یہ بڑی گھنائونی چیز ہے۔
اس غزوے میں مدینہ کا مشہور قوم پرست لیڈر عبداللہ بن اُبیّ بھی شریک تھا۔ اس نے جو سنا کہ مہاجرین کے حلیف نے انصار کے حلیف کو مارا ہے تو کہا کہ:
یہ ہمارے ملک میں آکر پھَل پُھول گئے ہیں اور اب ہمارے ہی سامنے سر اٹھاتے ہیں۔ اس کی مثال تو ایسی ہے کہ کتے کو کھلا پلا کر موٹا کرو تاکہ وہ تجھی کو پھاڑ کھائے۔ بخدا مدینہ واپس پہنچ کر جو ہم میں سے عزت والا ہوگا وہ ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔
پھر اس نے انصار سے کہا کہ:’یہ تمھارا ہی کیا دھرا ہے۔ تم نے ان لوگوں کو اپنے ملک میں جگہ دی اور اپنے اموال ان پر بانٹ دیے۔ خدا کی قسم! آج تم ان سے ہاتھ کھینچ لو تو یہ ہوا کھاتے نظر آئیں گے۔‘
یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچیں تو آپؐ نے عبداللہ بن ابی کے بیٹے حضرت عبداللہ ؓ کو بلا کر فرمایا کہ تمھارا باپ یہ کہتا ہے۔ وہ اپنے باپ سے غایت درجہ محبت رکھتے تھے، اور ان کو فخر تھا کہ خزرج میں کوئی بیٹا اپنے باپ سے اتنی محبت نہیں کرتا، مگر یہ قصہ سن کر انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر حکم ہو تو میں اس کا سر کاٹ لائوں۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ پھر جب جنگ سے واپس ہوئے تو مدینہ پہنچ کر حضرت عبداللہؓ اپنے باپ کے آگے تلوار سونت کر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ :’تو مدینہ میں گھس نہیں سکتا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دیں۔ تو کہتا ہے کہ ہم میں سے جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو مدینہ سے نکال دے گا۔ تو اب تجھے معلوم ہو کہ عزت صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔‘ اس پر ابن اُبَیّ چیخ اٹھا کہ لو سنو اے اہل خزرج! اب میرا بیٹا مجھ کو گھر میں گھسنے نہیں دیتا۔ لوگوں نے آکر حضرت عبداللہؓ کو سمجھایا، مگر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر یہ مدینہ کے سائے میں بھی پناہ نہیں لے سکتا۔آخر کار لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ عرض کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ جاکر عبداللہ سے کہو کہ اپنے باپ کو گھر میں جانے دے۔ جب عبداللہ نے یہ فرمان مبارک سنا تو تلوار رکھ دی اور کہا کہ ان کا حکم ہے تو اب یہ جاسکتا ہے۔۷۳؎
بنو قینقاع پر جب حملہ کیا گیا تو حضرت عبادہ بن الصامت ؓ کو ان کے معاملے میں حَکم بنایا گیا۔ انھوں نے فیصلہ دیا کہ اس پورے قبیلے کو مدینہ سے جلا وطن کر دیا جائے۔ یہ لوگ حضرت عبادہ کے قبیلے خزرج کے حلیف تھے‘ مگر انھوں نے اس تعلق کا ذرہ برابر خیال نہ کیا۔ اس طرح بنوقریظہ کے معاملے میں اوس کے سردار سعد بن معاذ ؓ کو حَکم بنایا گیا اور ان کا فیصلہ یہ تھا کہ بنو قریظہ کے تمام مردوں کو قتل کر دیا جائے‘ عورتوں اور بچوں کو سبایا ] قیدی[ اور ان کے اموال کو غنیمت قرار دیا جائے۔ اس معاملے میں حضرت سعدؓ نے ان حلیفانہ تعلقات کا ذرا خیال نہ کیا جو اوس اور بنوقریظہ کے درمیان مدت سے قائم تھے، حالانکہ عرب میں حلف کی جو اہمیت تھی وہ سب کو معلوم ہے اور مزید برآں یہ لوگ صدیوں سے انصار کے ہم وطن تھے۔
جمعیت ِ اسلامیہ کی اصلی رُوح
ان شواہد سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامی قومیت کی تعمیر میں نسل و وطن اور زبان و رنگ کا قطعاً کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس عمارت کو جس معمار نے بنایا ہے اس کا تخیل ساری دنیا سے نرالا تھا۔ اس نے تمام عالم انسانی کے مواد خام پر نظر ڈالی۔ جہاں جہاں سے اس کو اچھا اور مضبوط مسالہ ملا اس کو چھانٹ لیا۔ ایمان اور عمل صالح کے پختہ ہونے سے ان متفرق اجزا کو پیوستہ کر دیا اور ایک عالمگیر قومیت کا قصر تعمیر کیا جو سارے کرۂ ارضی پر چھایا ہوا ہے۔ اس عظیم الشان عمارت کا قیام و دوام منحصر ہے اس پر کہ اس کے تمام مختلف الاصل‘ مختلف الشکل‘ مختلف المقام اجزا اپنی جدا جدا اصلیتوں کو بھول کر صرف ایک اصل کو یاد رکھیں‘ اپنے جدا جدا رنگ چھوڑ کر ایک رنگ میں رنگ جائیں‘ اپنے الگ الگ مقاموں سے قطع نظر کرکے ایک مخرج صدق سے نکلیں اور ایک مدخل صدق میں داخل ہو جائیں۔ یہی وحدت ملی اس بنیان مرصوص کی جان ہے۔ اگر یہ وحدت ٹوٹ جائے‘ اگر اجزائے ملت میں اپنی اصلوں اور نسلوں کے جدا جدا ہونے‘ اپنے وطن اور مقام کے مختلف ہونے‘ اپنے رنگ و شکل کے متنوع ہونے اور اپنی اغراضِ دنیوی کے متضاد ہونے کا احساس پیدا ہو جائے تو اس عمارت کی دیواریں پھٹ جائیں گی اور اس کی بنیادیں ہل جائیں گی اور اس کے تمام اجزا پارہ پارہ ہو جائیں گے۔ جس طرح ایک سلطنت میں کئی سلطنتیں نہیں بن سکتیں اسی طرح ایک قومیت میں کئی قومیتیں نہیں بن سکتیں۔ اسلامی قومیت کے اندر نسلی‘ وطنی، لسانی اورلونی قومیتوں کا جمع ہونا قطعاً محال ہے۔ ان دونوں قسم کی قومیتوںمیں سے ایک ہی قائم رہ سکتی ہے۔ اس لیے کہ:
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
پس جو مسلمان ہے اور مسلمان رہنا چاہتا ہے اسے تمام قومیتوں کے احساس کو باطل اور سارے خاک و خون کے رشتوں کو قطع کرنا پڑے گا اور جو ان رشتوں کو قائم رکھنا چاہتا ہے اس کے متعلق ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ اسلام اس کے قلب و روح میں نہیں اترا۔ جاہلیت اس کے دل و دماغ پر چھائی ہوئی ہے۔ آج نہیں تو کل وہ اسلام سے چھوٹے گا اور اسلام اس سے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے آخری زمانے میں سب سے زیادہ خطرہ جس چیز کا تھا وہ یہی تھا کہ کہیں مسلمانوں میں جاہلی عصبیتیں پیدا نہ ہو جائیں اور ان کی بدولت اسلام کا قصرِ ملت پارہ پارہ نہ ہو جائے۔ اسی لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بار بار فرمایا کرتے تھے کہ:
لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ(بخاری‘ کتاب الفتن۔ ترمذی ۲۱۹۳)
کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے بعد تم پھر کفر کی طرف پلٹ کر آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
اپنی زندگی کے آخری حج، حجۃ الوداع کے لیے تشریف لے گئے تو عرفات کے خطبے میں عام مسلمانوں کو خطاب کرکے فرمایا:
سن رکھو کہ! امور جاہلیت میں سے ہر چیز آج میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے۔ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ تم سب آدم ؑ کی اولاد سے ہو، اور آدم ؑ مٹی سے تھے۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اور سب مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ جاہلیت کے سب دعوے باطل کر دیے گئے۔ اب تمھارے خون اور تمھاری عزتیں اور تمھارے اموال ایک دوسرے کے لیے ویسے ہی حرام ہیں جیسے آج حج کا دن تمھارے اس مہینے، تمھارے اس شہر میں حرام ہے۔
پھر منیٰ میں تشریف لے گئے تو اس سے بھی زیادہ زور کے ساتھ اس تقریر کو دہرایا اور اس پر اضافہ کیا:
دیکھو! میرے بعد پھر گمراہی کی طرف پلٹ کر ایک دوسرے کی گردنیں نہ مارنے لگنا۔
عنقریب تم اپنے رب سے ملنے والے ہو۔ وہاں تمھارے اعمال کی تم سے باز پرس ہوگی۔
سنو! اگر کوئی نکٹا حبشی بھی تمھارا امیر بنا دیا جائے اور وہ تم کو کتاب اللہ کے مطابق چلائے تو اس کی بات ماننا اور اطاعت کرنا۔
یہ ارشاد فرما کر پوچھا کہ:’کیا میں نے تم کو یہ پیغام پہنچا دیا ہے؟‘ لوگوں نے کہا: ہاں! یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرمایا: اے خدا ‘ گواہ رہیو، اور لوگوں سے کہا کہ: جو موجود ہے وہ اس پیغام کو ان لوگوں تک پہنچا دے جو موجود نہیں ہیں۔۷۴؎
حج سے واپس ہو کر شہدائے احد کے مقام پر تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو خطاب کرکے فرمایا:
مجھے اس کا خوف نہیں ہے کہ میرے بعد تم شرک کرو گے، مگر ڈرتا اس سے ہوں کہ کہیں تم دنیا میں مبتلا نہ ہو جائو اور آپس میں لڑنے نہ لگو۔ اگر ایسا کرو گے تو ہلاک ہو جائو گے جس طرح پہلی امتیں ہلاک ہو چکی ہیں۔
اسلام کے لیے سب سے بڑا خطرہ
یہ فتنہ جس کے ظاہر ہونے کا سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ تھا حقیقت میں ویسا ہی مہلک ثابت ہوا، جیسا آپؐ نے فرمایا تھا۔ قرنِ اول سے آج تک اسلام اور مسلمانوں پر جو تباہی بھی نازل ہوئی ہے اسی کی بدولت ہوئی ہے۔ وصالِ نبویؐ کے چند ہی برس بعد ہاشمی اور اموی عصبیت کا فتنہ اٹھا، اور اس نے اسلام کے اصلی نظام سیاست کو ہمیشہ کے لیے درہم برہم کر دیا۔ پھر اس نے عربی‘ عجمی اور ترکی عصبیت کی شکل میں ظہور کیا اور اسلام کی سیاسی وحدت کا بھی خاتمہ کر دیا۔ پھر مختلف ممالک میں جو مسلمان سلطنتیں قائم ہوئیں ان سب کی تباہی میں سب سے زیادہ اسی فتنے کا ہاتھ تھا۔ قریب ترین زمانے میں دو سب سے بڑی مسلمان سلطنتیں ہندستان اور ترکی کی تھیں۔ ان دونوں کو اسی فتنے نے تباہ کیا۔ ہندستان میں مغل اور ہندستانی کی تفریق نے سلطنتِ مغلیہ کو ختم کیا اور ترکی میں ترک‘ عرب اور کُرد کی تفریق تباہی کی موجب ہوئی۔
اسلام کی پوری تاریخ اٹھا کردیکھ جائیے۔ جہاں کوئی طاقت ور سلطنت آپ کو نظر آئے گی اس کی بنیاد میں آپ کو بلا امتیاز جنسیت مختلف نسلوں اور مختلف قوموں کا خون ملے گا۔ ان کے مدبر‘ ان کے سپہ سالار‘ ان کے اہل قلم‘ ان کے اہل سیف‘ سب کے سب مختلف الاجناس پائے جائیں گے۔ آپ عراقی کو افریقہ میں‘ شامی کو ایران میں‘ افغانی کو ہندستان میں مسلمان حکومتوں کی اسی جاں بازی‘ دیانت‘ صداقت اور امانت کے ساتھ خدمت کرتے ہوئے دیکھیں گے جس سے وہ خود اپنے وطن کی خدمت کرتا۔ مسلمان سلطنتیں کبھی اپنے مردانِ کار کی فراہمی میں کسی ایک ملک، یا ایک نسل کے وسائل پر منحصر نہیں رہیں۔ ہر جگہ سے قابل دماغ اور کار پرداز ہاتھ ان کے لیے جمع ہوئے اور انھوں نے ہر دارالاسلام کو اپنا وطن اور گھر سمجھا، مگر جب نفسانیت‘ خود غرضی اور عصبیت کا فتنہ اٹھا‘ اور مسلمانوں میں مرزبوم اور رنگ و نسل کے امتیازات نے راہ پائی‘ تو وہ ایک دوسرے سے بغض و حسد کرنے لگے‘ دھڑے بندیوں اور سازشوں کا دور دورہ ہوا۔ جو قوتیں دشمنوں کے خلاف صرف ہوتی تھیں وہ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف صرف ہونے لگیں‘ مسلمانوں میں خانہ جنگی برپا ہوئی اور بڑی بڑی مسلمان سلطنتیں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں۔
مغرب کی اندھی تقلید
آج مغربی قوموں سے سبق سیکھ کر ہر جگہ کے مسلمان نسلیت اور وطنیت کے راگ الاپ رہے ہیں۔ عرب عربیت پر ناز کر رہا ہے۔ مصری کو اپنے فراعنہ یاد آرہے ہیں۔ ترک اپنی ترکیت کے جوش میں چنگیز خاں اور ہلاکو سے رشتہ جوڑ رہا ہے۔ ایرانی اپنی ایرانیت کے جوش میں کہتا ہے کہ یہ محض عرب امپیریلزم کا زور تھا کہ حسین ؓ اور علیؓ ہمارے ہیرو بن گئے‘ حالانکہ حقیقت میں ہمارے قومی ابطال تو رستم و اسفند یار تھے۔ ہندستان میں بھی ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو اپنے آپ کو ہندستانی قومیت سے منسوب کرتے ہیں۔ وہ لوگ بھی یہاں موجود ہیں جو آب زمزم سے قطع تعلق کرکے آب گنگا سے وابستگی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو بھیم اور ارجن کو اپنا قومی ہیرو قرار دینے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ایسے بھی جنھیں ارض مکہ تو بھولے سے بھی یاد نہیں آتی لیکن ٹیکسلا‘ موہن جوداڑو‘ اور ہڑپا سے اپنا رشتہ استوار کرنے کے لیے وہ شب و روز بے چین رہتے ہیں، مگر یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ان نادانوں نے نہ اپنی تہذیب کو سمجھا ہے اور نہ مغربی تہذیب کو۔ اصول اور حقائق ان کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں۔ وہ محض سطح بیں ہیں اور سطح پر جو نقوش ان کو زیادہ نمایاں اور زیادہ خوش رنگ نظر آتے ہیں انھی پر لوٹ پوٹ ہونے لگتے ہیں۔ ان کو خبر نہیں کہ جو چیز مغربی قومیت کے لیے آبِ حیات ہے‘ وہی چیز اسلامی قومیت کے لیے زہر ہے۔ مغربی قومیتوں کی بنیاد نسل و وطن اور زبان و رنگ کی وحدت پر قائم ہوئی ہے‘ اس لیے ہر قوم مجبور ہے کہ ہر اس شخص سے اجتناب کرے جو اس کا ہم قوم‘ ہم نسل‘ ہم زبان نہ ہو‘ خواہ وہ اس کی سرحد سے ایک ہی میل کے فاصلے پر کیوں نہ رہتا ہو۔ وہاں ایک قوم کا آدمی دوسری قوم کا سچا وفادار نہیں ہوسکتا۔ ایک ملک کا باشندہ دوسرے ملک کا سچا خادم نہیں بن سکتا۔ کوئی قوم کسی دوسری قوم کے فرد پر یہ اعتماد نہیں کرسکتی کہ وہ اس کے مفاد کو اپنی قوم کے مفاد پر ترجیح دے گا، مگر اسلامی قومیت کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے، یہاں قومیت کی بنیاد نسل و وطن کے بجائے اعتقاد و عمل پر رکھی گئی ہے۔ تمام دنیا کے مسلمان ہر جنسی امتیاز کے بغیر ایک دوسرے کے شریکِ حال اور معاون ہیں۔ ایک ہندی مسلمان مصر کا ویسا ہی وفادار شہری بن سکتا ہے جیسا کہ وہ خود ہندستان کا ہے۔ ایک افغانی مسلمان شام کی حفاظت کے لیے اسی جاں بازی کے ساتھ لڑ سکتا ہے جس کے ساتھ وہ خود افغانستان کے لیے لڑتا ہے۔ اس لیے ایک ملک کے مسلمان اور دوسرے ملک کے مسلمان میں جغرافی یا نسلی تفریق کی کوئی وجہ نہیں۔ اس معاملے میں اسلام کے اصول اور مغرب کے اصول ایک دوسرے کی ضد واقع ہوئے ہیں۔ جو وہاں سبب قوت ہے وہ یہاں عین سبب ضعف ہے اور جو یہاں مایۂ حیات ہے وہ وہاں بعینہٖ سِمِ ّ قاتل ہے۔ اقبال نے اس حقیقت کو کس خوبی کے ساتھ بیا ن کیا ہے؎
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری
بعض لوگ اس خیالِ خام میں مبتلا ہیں کہ وطنی یا نسلی قومیت کے احساسات پیدا ہونے کے بعد بھی اسلامی قومیت کا رشتہ مسلمانوں کے درمیان باقی رہ سکتا ہے، اس لیے وہ اپنے نفس کو یہ کہہ کر دھوکا دیتے ہیں کہ یہ دونوں قسم کی قومیتیں ساتھ ساتھ چلیں گی‘ ایک سے دوسری پر آنچ نہ آئے گی‘ اور ہم ان دونوں کے فوائد جمع کرلیں گے۔ لیکن یہ محض جہل اور قلتِ فکر کا کرشمہ ہے۔ جس طرح خدا نے ایک سینے میں دو قلب نہیں رکھے اسی طرح ایک قلب میں دو قومیتوں کے متضاد اور متصادم جذبات کو جمع کرنے کی گنجائش بھی نہیں رکھی ہے۔ احساس قومیت کا لازمی نتیجہ اپنے اور غیر کا امتیاز ہے۔ اسلامی قومیت کے احساس کا فطری مقتضا یہ ہے کہ آپ مسلم کو اپنا اور غیر مسلم کو غیر سمجھیں، اور وطنی یا نسلی قومیت کے احساس کا طبعی اقتضا یہ ہے کہ آپ ہر اس شخص کو اپنا سمجھیںجو آپ کا ہم وطن یا ہم نسل ہو، اور اُس کو غیر سمجھیں جو دوسرے ملک یا نسل سے تعلق رکھتا ہو۔ اب کوئی صاحب عقل ہمیں سمجھا دے کہ دونوں احساس ایک جگہ کیسے جمع ہوسکتے ہیں؟ کیونکر ممکن ہے کہ آپ اپنے غیر مسلم ہم وطن کو اپنا بھی سمجھیں اور غیر بھی؟ اور غیر وطنی مسلمان سے بعید بھی ہوں اور قریب بھی؟ ھَلْ یَجْتَمِعَانِ مَعًا؟ اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ ۷۵؎
پس یہ خوب سمجھ لینا چاہیے کہ مسلمانوں میں ہندیت‘ ترکیت‘ افغانیت‘ عربیت اور ایرانیت کے احساسات کا پیدا ہونا اسلامی قومیت کا احساس مٹنے اور اسلامی وحدت کے پارہ پارہ ہونے کو مستلزم ہے اور یہ نتیجہ محض عقلی نہیں ہے بلکہ بارہا مشاہدے میں آچکا ہے۔ مسلمانوں میں جب کبھی وطنی یا نسلی تعصبات پیدا ہوئے تو مسلمان نے مسلمان کا گلا ضرور کاٹا اور لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ (ترمذی ‘ ۲۱۹۳) ۷۶؎ کے اندیشۂ نبویؐ کی تصدیق کرکے ہی چھوڑی۔ لہٰذا وطنیت کے داعیوں کو اگر یہ کام کرنا ہی ہے تو بہتر ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور دنیا کو دھوکا نہ دیں، بلکہ جو کچھ کریں یہ جان کر کریں کہ وطنی قومیت کی دعوت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی عین ضد ہے۔

۲۔ اسلامی قومیت کا حقیقی مفہوم

زمانۂ حال میں مسلمانوں کی جماعت کے لیے لفظ ’قوم‘ کا استعمال کثرت کے ساتھ کیا گیا ہے اور عموماً یہی اصطلاح ہماری اجتماعی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے رائج ہو چکی ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے اور بعض حلقوں کی طرف سے اس کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن اور حدیث میں مسلمانوں کے لیے لفظ ’قوم‘ (یانیشن کے معنی میں کسی دوسرے لفظ کو) اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔ میں مختصراً یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان الفاظ میں اصلی قباحت کیا ہے جس کی وجہ سے اسلام میں ان سے پرہیز کیا گیا اور وہ دوسرے الفاظ کون سے ہیں جن کو قرآن و حدیث میں استعمال کیا گیا ہے۔ یہ محض ایک علمی بحث نہیں ہے‘ بلکہ اس سے ہمارے ان بہت سے تصورات کی غلطی واضح ہو جاتی ہے جن کی بدولت زندگی میں ہمارا رویہ بنیادی طور پر غلط ہو کر رہ گیا ہے۔
لفظ ’قوم‘ اور اس کے ہم معنی انگریزی لفظ nation‘ دونوں دراصل جاہلیت کی اصطلاحیں ہیں۔ اہل جاہلیت نے ’’قومیت‘‘ (nationality)کو کبھی خالص تہذیبی بنیاد (cultural basis)پر قائم نہیں کیا‘ نہ قدیم جاہلیت کے دور میں اور نہ جدید جاہلیت کے دور میں۔ ان کے دل و دماغ کے ریشوں میں نسلی اور روایتی علائق کی محبت کچھ اس طرح پلا دی گئی ہے کہ وہ نسلی روابط اور تاریخی روایات کی وابستگی سے قومیت کے تصور کو کبھی پاک نہ کرسکے۔ جس طرح قدیم عرب میں قوم کا لفظ عموماً ایک نسل یا ایک قبیلے کے لوگوں پر بولا جاتا تھا اسی طرح آج بھی لفظ ’نیشن‘ کے مفہوم میں مشترک جنسیت (common descent) کا تصور لازمی طور پر شامل ہے اور یہ چیز چونکہ بنیادی طور پر اسلامی تصورِ اجتماع کے خلاف ہے، اس وجہ سے قرآن میں لفظ قوم اور اس کے ہم معنی دوسرے عربی الفاظ مثلاً شُعَب وغیرہ کو مسلمانوں کی جماعت کے لیے اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی اصطلاح اس جماعت کے لیے کیوں کر استعمال کی جاسکتی تھی جس کے اجتماع کی اساس میں خون اور خاک اور رنگ اور اس نوع کی دوسری چیزوں کا قطعاً کوئی دخل نہ تھا‘ جس کی تالیف و ترکیب محض اصول اور مسلک کی بنیاد پر کی گئی تھی اور جس کا آغاز ہی ہجرت اور قطعِ نسب اور ترکِ علائق مادی سے ہوا تھا۔
قرآن نے جو لفظ مسلمانوں کی جماعت کے لیے استعمال کیا ہے وہ’حزب‘ ہے، جس کے معنی پارٹی کے ہیں۔ قومیں نسل و نسب کی بنیاد پر اٹھتی ہیں اور پارٹیاں اصول و مسلک کی بنیاد پر۔ اس لحاظ سے مسلمان حقیقت میں قوم نہیں بلکہ ایک پارٹی ہیں، کیونکہ ان کو تمام دنیا سے الگ اور ایک دوسرے سے وابستہ صرف اس بنا پر کیا گیا ہے کہ یہ ایک اصول اور مسلک کے معتقد اور پیرو ہیں اور جن سے ان کا اصول و مسلک میں اشتراک نہیں، وہ خواہ ان سے قریب ترین مادی رشتے ہی کیوں نہ رکھتے ہوں‘ ان کے ساتھ ان کا کوئی میل نہیں ہے۔ قرآن رُوئے زمین کی اس پوری آبادی میں صرف دو ہی پارٹیاں دیکھتا ہے۔ ایک اللہ کی پارٹی (حِزبُ اللہ)، دوسرے شیطان کی پارٹی (حِزبُ الشیطان) شیطان کی پارٹی میں خواہ باہم اصول و مسلک کے اعتبار سے کتنے ہی اختلافات ہوں‘ قرآن ان سب کو ایک سمجھتا ہے، کیونکہ ان کا طریقِ فکر اور طریقِ عمل بہرحال اسلام نہیں ہے اور جزئی اختلافات کے باوجود بہرحال وہ سب شیطان کے اتباع پر متفق ہیں۔ قرآن کہتا ہے:
اِسْتَحْوَذَ عَلَيْہِمُ الشَّيْطٰنُ فَاَنْسٰـىہُمْ ذِكْرَ اللہِ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ الشَّيْطٰنِ۝۰ۭ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ الشَّيْطٰنِ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ المجادلۃ 19:58
شیطان ان پر غالب آگیا اور اس نے خدا سے انھیں غافل کر دیا۔ وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں اور جان رکھو کہ شیطان کی پارٹی آخر کار نامراد ہی رہنے والی ہے۔
برعکس اس کے اللہ کی پارٹی والے خواہ نسل اور وطن اور زبان اور تاریخی روایات کے اعتبار سے باہم کتنے ہی مختلف ہوں‘ بلکہ چاہے ان کے آبائواجداد میںباہم خونی عداوتیں ہی کیوں نہ رہ چکی ہوں، جب وہ خدا کے بتائے ہوئے طریقِ فکر اور مسلکِ حیات میں متفق ہوگئے تو گویا الٰہی رشتے (حَبلُ اللہ) سے باہم جڑ گئے اور اس نئی پارٹی میں داخل ہوتے ہی ان کے تمام تعلقات حِزبُ الشیطان والوں سے کٹ گئے۔
پارٹی کا یہ اختلاف باپ اور بیٹے تک کا تعلق توڑ دیتا ہے۔ حتیٰ کہ بیٹا باپ کی وراثت تک نہیں پاسکتا۔ حدیث کے الفاظ میں: لَایَتَوَارَثُ اَھْلُ مِلَّتَیْنِ۔ (ترمذی ۲۱۰۸۔ مشکوۃ ۲۹۱۵ ابودائود، ابن ماجہ) دو مختلف ملتوں کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے‘۔
پارٹی کا یہ اختلاف بیوی کو شوہر سے جدا کر دیتا ہے حتیٰ کہ اختلاف رونما ہوتے ہی دونوں پر ایک دوسرے کی مواصلت حرام ہو جاتی ہے‘ محض اس لیے کہ دونوں کی زندگی کے راستے جدا ہوچکے۔ قرآن میں ہے: لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ يَحِلُّوْنَ لَہُنَّ۝۰ۭ الممتحنۃ 10:60
نہ وہ ان کے لیے حلال‘ نہ یہ ان کے لیے حلال۔
پارٹی کا یہ اختلاف ایک برادری‘ ایک خاندان کے آدمیوں میں پورا معاشرتی مقاطعہ کرا دیتا ہے‘ حتیٰ کہ حزب اللہ والے کے لیے خود اپنی نسلی برادری کے ان لوگوں میں شادی بیاہ کرنا حرام ہو جاتا ہے جو حزب الشیطان سے تعلق رکھتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے :
مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔ مومن لونڈی‘ مشرک بیگم سے بہتر ہے‘ خواہ وہ تمھیں کتنی ہی پسند ہو اور اپنی عورتوں کے نکاح بھی مشرک مردوں سے نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔ مومن غلام مشرک آزاد شخص سے بہتر ہے‘ چاہے وہ تمھیں کتنا ہی پسند ہو۔ (البقرہ۲:۲۲۱)
پارٹی کا یہ اختلاف نسلی و وطنی قومیت کا تعلق صرف کاٹ ہی نہیں دیتا، بلکہ دونوں میں ایک مستقل نزاع قائم کر دیتا ہے جو دائمًا قائم رہتی ہے تاوقتیکہ وہ اللہ کی پارٹی کے اصول تسلیم نہ کرلیں۔ قرآن کہتا ہے:
۱۔ قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَۃٌ حَسَـنَۃٌ فِيْٓ اِبْرٰہِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَہٗ۝۰ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۡكَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَاۗءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَحْدَہٗٓ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰہِيْمَ لِاَبِيْہِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ الممتحنہ 4:60
تمھارے لیے بہترین نمونہ ابراہیم ؑ اور اس کے ساتھیوں میں ہے۔ ان لوگوں نے اپنی (نسلی) قوم والوں سے صاف کہہ دیا تھا کہ ہمارا تم سے اور تمھارے ان مبعودوں سے جن کی تم خدا کو چھوڑ کر بندگی کرتے ہو‘ کوئی واسطہ نہیں۔ ہم تم سے بے تعلق ہو چکے اور ہمارے تمھارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت پڑ گئی تاوقتیکہ تم خدائے واحد پر ایمان نہ لائو، مگر تمھارے لیے ابراہیمؑ کے اس قول میں نمونہ نہیں ہے کہ اس نے اپنے (کافر) باپ سے کہا کہ میں تیرے لیے بخشش کی دعا کروںگا:
۲۔ وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰہِيْمَ لِاَبِيْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاہُ۝۰ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَہٗٓ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ۝۰ۭ التوبہ114:9
ابراہیم ؑ کا اپنے باپ کے لیے بخشش کی دعا کرنا محض اس وعدے کی بنا پر تھا جووہ اس سے کرچکا تھا، مگر جب اس پر کھل گیا کہ اس کا باپ خدا کا دشمن ہے تو وہ اس سے دستبردار ہوگیا۔
پارٹی کا یہ اختلاف ایک خاندان والوں اور قریب ترین رشتہ داروں کے درمیان بھی محبت کا تعلق حرام کر دیتا ہے‘ حتیٰ کہ اگر باپ اور بھائی اور بیٹے بھی حزب الشیطان میں شامل ہوں تو حزب اللہ والا اپنی پارٹی سے غداری کرے گا اگر ان سے محبت رکھے۔ قرآن میں ارشاد ہے:
لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَاۗءَہُمْ اَوْ اَبْنَاۗءَہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِيْرَتَہُمْ۝۰ۭ …… اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ اللہِ۝۰ۭ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَo
المجادلۃ 22:58
تم ایسا ہرگز نہ پائو گے کہ کوئی جماعت اللہ اور یوم آخر پر ایمان بھی رکھتی ہو، اور پھر اللہ اور رسولؐ کے دشمنوں سے دوستی بھی رکھے‘ خواہ وہ ان کے باپ‘ بیٹے‘ بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں…… یہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں اور جان رکھو کہ آخر کار اللہ کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔
دوسرا لفظ پارٹی ہی کے معنی میں قرآن نے مسلمانوں کے لیے استعمال کیا ہے۔ وہ لفظ ’امت‘ ہے۔ حدیث میں بھی یہ لفظ کثرت سے مستعمل ہوا ہے۔ امت اس جماعت کو کہتے ہیں جس کو کسی امر جامع نے مجتمع کیا ہو۔ جن افراد کے درمیان کوئی اصل مشترک ہو، ان کو اسی اصل کے لحاظ سے’امت‘ کہا جاتا ہے۔ مثلاً: ایک زمانے کے لوگ بھی ’امت‘ کہے جاتے ہیں۔ ایک نسل یا ایک ملک کے لوگ بھی ’امت‘ کہے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو جس اصل مشترک کی بنا پر امت کہا گیا ہے وہ نسل یا وطن یا معاشی اغراض نہیں ہیں، بلکہ وہ ان کی زندگی کا مشن اور ان کی پارٹی کا اصول اور مسلک ہے۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے:
۱۔ كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝۰ۭ
آل عمران 110:3
تم وہ بہترین امت ہو جسے نوعِ انسانی کے لیے نکالا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو۔
۲۔ وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَہِيْدًا۝۰ۭ البقرہ143:2
اور اس طرح ہم نے تم کو ایک بیچ کی امت بنایا ہے تاکہ تم نوع انسانی پر نگران ہو اور رسولؐ تم پر نگران ہو۔
ان آیات پر غور کیجیے۔ ’بیچ کی امت‘ سے مراد یہ ہے کہ’مسلمان‘ ایک بین الاقوامی جماعت (international party) کا نام ہے۔ دنیا کی ساری قوموں میں سے ان اشخاص کو چھانٹ کر نکالا گیا ہے جو ایک خاص اصول کو ماننے‘ ایک خاص پروگرام کو عمل میں لانے اور ایک خاص مشن کو انجام دینے کے لیے تیار ہوں۔ یہ لوگ چونکہ ہر قوم میں سے نکلے ہیں اور ایک پارٹی بن جانے کے بعد کسی قوم سے ان کا تعلق نہیں رہا ہے، اس لیے یہ بیچ کی امت ہیں۔ لیکن ہر ہر قوم سے تعلق توڑنے کے بعد سب قوموں سے ان کا ایک دوسرا تعلق قائم کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ دنیا میں خدائی قانون کو قائم کرنے کے فرائض انجام دیں۔ ’تم نوع انسانی پر نگران ہو‘ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ مسلمان خدا کی طرف سے دنیا میں فوج دار مقرر کیا گیا ہے اور ’نوع انسانی کے لیے نکالا گیا ہے‘ کا فقرہ صاف کہہ رہا ہے کہ مسلمان کا مشن ایک عالم گیر مشن ہے۔ اس مشن کا خلاصہ یہ ہے کہ ’حزب اللہ‘ کے لیڈر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو فکر و عمل کا جو ضابطہ خدا نے دیا تھا اس کو تمام ذہنی‘ اخلاقی اور مادی طاقتوں سے کام لے کر دنیا میں نافذ کیا جائے اور اس کے مقابلے میں ہر دوسرے طریقے کو مغلوب کر دیا جائے۔ یہ ہے وہ چیز جس کی بنیاد پر مسلمان ایک امت بنائے گئے ہیں۔
تیسرا اصطلاحی لفظ جو مسلمانوں کی اجتماعی حیثیت ظاہر کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت استعمال کیا ہے وہ لفظ ’جماعت‘ ہے اور یہ لفظ بھی ’حزب‘ کی طرح بالکل پارٹی کا ہم معنی ہے۔ عَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ اور یَدُ اللّٰہِ عَلَی الْجَمَاعَۃِ (ترمذی‘ ۲۱۶۷) اور ایسی ہی بکثرت احادیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ ’قوم‘ یا ’شعب‘ یا اس کے ہم معنی دوسرے الفاظ استعمال کرنے سے قصداً احتراز فرمایا اور ان کے بجائے ’جماعت‘ ہی کی اصطلاح استعمال کی۔ آپؐ نے کبھی یہ نہ فرمایا کہ’ہمیشہ قوم کے ساتھ رہو‘ یا ’قوم پر خدا کا ہاتھ ہے‘ بلکہ ایسے تمام مواقع پر آپؐ جماعت ہی کا لفظ استعمال فرماتے تھے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے اور یہی ہوسکتی ہے کہ مسلمانوں کے اجتماع کی نوعیت ظاہر کرنے کے لیے’قوم‘ کے بجائے جماعت‘ حزب اور پارٹی کے الفاظ ہی زیادہ مناسب ہیں۔ ’قوم‘ کا لفظ جن معنوں میں عموماً مستعمل ہوتا ہے، ان کے لحاظ سے ایک شخص خواہ وہ کسی مسلک اور کسی اصول کا پیرو ہو‘ ایک قوم میں شامل رہ سکتا ہے جب کہ وہ اس قوم میں پیدا ہوا ہو اور اپنے نام‘ طرز زندگی اور معاشرتی تعلقات کے اعتبار سے اس قوم کے ساتھ منسلک ہو، لیکن پارٹی‘ جماعت اور حزب کے الفاظ جن معنوں میں مستعمل ہوتے ہیں ان کے لحاظ سے اصول اور مسلک ہی پر پارٹی میں شامل ہونے‘ یا اس سے خارج ہونے کا مدار ہوتا ہے۔ آپ ایک پارٹی کے اصول و مسلک سے ہٹ جانے کے بعد ہرگز اس میں شامل نہیں رہ سکتے‘ نہ اس کا نام استعمال کرسکتے ہیں، نہ اُس کے نمایندے بن سکتے ہیں، نہ اُس کے مفاد کے محافظ بن کر نمودار ہوسکتے ہیںاور نہ پارٹی والوں سے آپ کا کسی طور پر تعاون ہوسکتا ہے۔ اگر آپ یہ کہیں کہ میں پارٹی کے اصول و مسلک سے تو متفق نہیں ہوں‘ لیکن میرے والدین اس پارٹی کے ممبر رہ چکے ہیں‘ اور میرا نام اس کے ممبروں سے ملتا جلتا ہے اس لیے مجھ کو بھی ممبروں کے سے حقوق ملنے چاہییں تو آپ کا یہ استدلال اتنا مضحکہ انگیز ہوگا کہ شاید سننے والوں کو آپ کی دماغی حالت پر شبہہ ہونے لگے گا، لیکن پارٹی کے تصور کو قوم کے تصور سے بدل ڈالیے، اس کے بعد یہ سب حرکات کرنے کی گنجایش نکل آتی ہے۔
اسلام نے اپنی بین الاقوامی پارٹی کے ارکان میں یک جہتی اور ان کی معاشرت میں یکسانی پیدا کرنے کے لیے اور ان کو ایک سوسائٹی بنا دینے کے لیے حکم دیا تھا کہ آپس ہی میں بیاہ شادی کرو۔ اس کے ساتھ ہی ان کی اولاد کے لیے تعلیم و تربیت کا ایسا انتظام تجویز کیا گیا تھا کہ وہ خودبخود پارٹی کے اصول و مسلک کے پیرو بن کر اٹھیں اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ افزائش نسل سے بھی پارٹی کی قوت بڑھتی رہے۔ یہیں سے اس پارٹی کے قوم بننے کی ابتدا ہوتی ہے۔ بعد میں مشترک معاشرت‘ نسلی تعلقات اور تاریخی روایات نے اس قومیت کو زیادہ مستحکم کر دیا۔
اس حد تک جو کچھ ہوا‘ درست ہوا، لیکن رفتہ رفتہ مسلمان اس حقیقت کو بھولتے چلے گئے کہ وہ دراصل ایک پارٹی ہیں‘ اور پارٹی ہونے کی حیثیت ہی پر ان کی قومیت کی اساس رکھی گئی ہے۔ یہ بھُلاوا بڑھتے بڑھتے اب یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ پارٹی کا تصور قومیت کے تصور میں بالکل ہی گم ہوگیا۔ مسلمان اب صرف ایک قوم بن کر رہ گئے ہیں۔ اسی طرح کی ایک قوم جیسی کہ جرمن ایک قوم ہے یا جاپانی ایک قوم ہے یا انگریز ایک قوم ہے۔ وہ بھول گئے ہیں کہ اصل چیز وہ اصول اور مسلک ہیں جس پر اسلام نے ان کو ایک امت بنایا تھا‘ وہ مشن ہے جس کو پورا کرنے کے لیے اس نے اپنے پیروئوں کو ایک پارٹی کی صورت میں منظم کیا تھا۔ اس حقیقت کو فراموش کرکے انھوں نے غیر مسلم قوموں سے ’قومیت‘ کا جاہلی تصور لے لیا ہے۔ یہ ایسی بنیادی غلطی ہے اور اس کے قبیح اثرات اتنے پھیل گئے ہیں کہ احیائے اسلام کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھ سکتا جب تک کہ اس غلطی کو دور نہ کر دیا جائے۔
ایک پارٹی کے ارکان میں باہمی محبت‘ رفاقت اور معاونت جو کچھ بھی ہوتی ہے شخصی یا خاندانی حیثیت سے نہیں ہوتی‘ بلکہ صرف اس بنا پر ہوتی ہے کہ وہ سب ایک اصول کے معتقد اور ایک مسلک کے پیرو ہوتے ہیں۔ پارٹی کا ایک رکن اگر جماعتی اصول اور مسلک سے ہٹ کر کوئی کام کرے تو صرف یہی نہیں کہ اس کی مدد کرنا پارٹی والوں کا فرض نہیں ہوتا‘ بلکہ اس کے برعکس پارٹی والوں کا فرض یہ ہوتا ہے کہ اس کو ایسے غدارانہ اور باغیانہ طرز عمل سے روکیں‘ نہ مانے تو اس کے خلاف جماعتی ضوابط کے تحت سخت کارروائی کریں‘ پھر بھی نہ مانے تو جماعت سے نکال باہر کریں۔ ایسی مثالیں بھی دنیا میں ناپید نہیں ہیں کہ جو شخص پارٹی کے مسلک سے شدید انحراف کرتا ہے اسے کچھ خاص حالتوں میں قتل تک کر دیا جاتا ہے۔۷۷؎ لیکن ذرا مسلمانوں کا حال دیکھیے کہ اپنے آپ کو پارٹی کے بجائے قوم سمجھنے کی وجہ سے یہ کیسی شدید غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ان میں سے جب کوئی شخص اپنے فائدے کے لیے غیر اسلامی اصولوں پر کوئی کام کرتا ہے تو دوسرے مسلمانوں سے توقع رکھتا ہے کہ اس کی مدد کریں گے۔ اگر مدد نہیں کی جاتی تو شکایت کرتا ہے کہ دیکھو‘ مسلمان مسلمان کے کام نہیں آتے۔ سفارش کرنے والے ان کی سفارش ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ ایک مسلمان بھائی کا بھلا ہوتا ہے‘ اس کی مدد کرو۔ مدد کرنے والے بھی اگر اس کی مدد کرتے ہیں تو اپنے اس فعل کو اسلامی ہمدردی سے موسوم کرتے ہیں۔ اس سارے معاملے میں ہر ایک کی زبان پر اسلامی ہمدردی‘ اسلامی برادری‘ اسلام کے رشتۂ دینی کا نام بار بار آتا ہے۔ حالانکہ درحقیقت اسلام کے خلاف عمل کرنے میں خود اسلام ہی کا حوالہ دینا اور اس کے نام سے ہمدردی چاہنا یا ہمدردی کرنا صریح لغو بات ہے۔ جس اسلام کا یہ لوگ نام لیتے ہیں اگر حقیقت میں وہ ان کے اندر زندہ ہو تو جونہی ان کے علم میں یہ بات آئے کہ اسلامی جماعت کا کوئی شخص کوئی کام اسلامی نظریے کے خلاف کر رہا ہے‘ یہ اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جائیں اور اس سے توبہ کرا کے چھوڑیں۔ کسی کا مدد چاہنا تو درکنار‘ ایک زندہ اسلامی سوسائٹی میں تو کوئی شخص اصول اسلام کی خلاف ورزی کا نام تک نہیں لے سکتا لیکن آپ کی سوسائٹی میں رات دن یہی معاملہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ آپ کے اندر جاہلی قومیت آگئی ہے۔ جس چیز کو آپ اسلامی اخوت کہہ رہے ہیں یہ دراصل جاہلی قومیت کا رشتہ ہے جو آپ نے غیر مسلموں سے لے لیا ہے۔
اسی جاہلیت کا ایک کرشمہ یہ ہے کہ آپ کے اندر’قومی مفاد‘ کا ایک عجیب تصور پیدا ہوگیا ہے اور آپ اس کو بے تکلف ’اسلامی مفاد‘ بھی کہہ دیا کرتے ہیں۔ یہ نام نہاد اسلامی مفاد یا قومی مفاد کیا چیز ہے؟ یہ کہ جو لوگ ’مسلمان‘ کہلاتے ہیں ان کا بھلا ہو‘ ان کے پاس دولت آئے‘ ان کی عزت بڑھے‘ ان کو اقتدار نصیب ہو‘ اور کسی نہ کسی طرح ان کی دنیا بن جائے۔ بلا لحاظ اس کے کہ یہ سب فائدے اسلامی نظریے اور اسلامی اصول کی پیروی کرتے ہوئے حاصل ہوں، یا خلاف ورزی کرتے ہوئے۔ پیدائشی مسلمان یا خاندانی مسلمان کو آپ ’مسلمان‘ کہتے ہیں‘ چاہے اس کے خیالات اور اس کے طرز عمل میں اسلام کی صفت کہیں ڈھونڈے نہ ملتی ہو۔ گویا آپ کے نزدیک مسلمان روح کا نہیں، بلکہ جسم کا نام ہے اور صفت اسلام سے قطع نظر کرکے بھی ایک شخص کو مسلمان کہا جاسکتا ہے۔ اس غلط تصور کے ساتھ جن جسموں کا اسم ذات آپ نے مسلمان رکھ چھوڑا ہے ان کی حکومت کو آپ اسلامی حکومت‘ ان کی ترقی کو آپ اسلامی ترقی‘ ان کے فائدے کو آپ اسلامی مفاد قرار دیتے ہیں‘ خواہ یہ حکومت اور یہ ترقی اور یہ مفاد سراسر اصول اسلام کے منافی ہی کیوں نہ ہو۔ جس طرح جرمنیت کسی اصول کا نام نہیں‘ محض ایک قومیت کا نام ہے‘ اور جس طرح ایک جرمن قوم پرست صرف جرمنوں کی سربلندی چاہتا ہے‘ خواہ کسی طریقے سے ہو‘ اسی طرح آپ نے بھی ’مسلمانیت‘ کو محض ایک قومیت بنا لیا ہے اور آپ کے مسلمان قوم پرست محض اپنی قوم کی سربلندی چاہتے ہیں، خواہ یہ سربلندی اصولاً اور عملاً اسلام کے بالکل برعکس طریقوں کی پیروی کا نتیجہ ہو۔ کیا یہ جاہلیت نہیں ہے؟ کیا درحقیقت آپ اس بات کو بھول نہیں گئے ہیں کہ مسلمان صرف اس بین الاقوامی پارٹی کا نام تھا جو دنیا میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ایک خاص نظریے اور ایک عملی پروگرام لے کر اٹھی تھی؟ اس نظریے اور پروگرام کو الگ کرنے کے بعد محض اپنی شخصی یا اجتماعی حیثیت سے جو لوگ کسی دوسرے نظریے اور پروگرام پر کام کرتے ہیں ان کے کاموں کو آپ ’اسلامی‘ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ جو شخص سرمایہ داری کے اصول پر کام کرتا ہو‘ اسے اشتراکی کے نام سے یاد کیا جائے؟ کیا سرمایہ دارانہ حکومت کو بھی آپ اشتراکی حکومت کہتے ہیں؟ کیا فاشستی طرز ادارہ کو آپ جمہوری طرز ادارہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں؟ اگر کوئی شخص اس طرح اصطلاحوں کو بے جا استعمال کرے تو آپ شاید اسے جاہل اور بے وقوف کہنے میں ذرا تأمل نہیں کریں گے، مگر یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام اور مسلمان کی اصطلاح کو بالکل بے جا استعمال کیا جارہا ہے اور اس میں کسی کو جاہلیت کی بو تک محسوس نہیں ہوتی۔
مسلمان کا لفظ خود ظاہر کر رہا ہے کہ یہ ’اسم ذات‘ نہیں بلکہ ’اسم صفت‘ ہی ہوسکتا ہے اور ’پیرو اسلام‘ کے سوا اس کا کوئی دوسرا مفہوم سرے سے ہے ہی نہیں۔ یہ انسان کی اس خاص ذہنی‘ اخلاقی اور عملی صفت کو ظاہر کرتا ہے جس کا نام ’اسلام‘ ہے۔ لہٰذا آپ اس لفظ کو شخص مسلمان کے لیے اس طرح استعمال نہیں کرسکتے جس طرح آپ ہندویا جاپانی یا چینی کے الفاظ شخصِ ہندو‘ شخصِ جاپانی یا شخصِ چینی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مسلمانوں کا سانام رکھنے والا جونہی اصول اسلام سے ہٹا‘ اس سے مسلمان ہونے کی حیثیت خود بخود سلب ہو جاتی ہے۔اب وہ جو کچھ کرتا ہے اپنی شخصی حیثیت میں کرتا ہے۔ اسلام کا نام استعمال کرنے کا اسے کوئی حق نہیں ہے۔ اسی طرح ’مسلمان کا مفاد‘ ’مسلمان کی ترقی‘، ’مسلمان کی حکومت و ریاست‘،’مسلمان کی وزارت‘، ’مسلمان کی تنظیم‘ اور ایسے ہی دوسرے الفاظ آپ صرف ان مواقع پر بول سکتے ہیں جب کہ یہ چیزیں اسلامی نظریے اور اصول کے مطابق ہوں اور اس مشن کو پورا کرنے سے متعلق ہوں جو اسلام لے کر آیا ہے۔ اگر یہ بات نہ ہو تو ان میں سے کسی چیز کے ساتھ بھی لفظ مسلمان کا استعمال درست نہیں۔۷۸؎ آپ ان کو جس دوسرے نام سے چاہیں‘ موسوم کریں‘ بہرحال مسلمان کے نام سے موسوم نہیں کرسکتے کیونکہ صفت اسلام سے قطع نظر کرکے مسلمان سرے سے کوئی شے ہے ہی نہیں۔ آپ کبھی اس بات کا تصور نہیں کرسکتے کہ اشتراکیت سے قطع نظر کرکے کسی شخص یا قوم کا نام اشتراکی ہے اور اس معنی میں کسی مفاد کو اشتراکی مفاد یا کسی حکومت یا کسی تنظیم کو اشتراکیوں کی حکومت یا تنظیم یا کسی ترقی کو اشتراکیوں کی ترقی کہا جاسکتا ہے۔ پھر آخر مسلمان کے معاملے میں آپ نے یہ کیوں سمجھ رکھا ہے کہ اسلام سے قطع نظر کرکے مسلمان کسی شخص یا قوم کا ذاتی نام ہے اور اس کی ہر چیز کو اسلامی کہہ دیا جاسکتا ہے۔
اس غلط فہمی نے بنیادی طور پر اپنی تہذیب‘ اپنے تمدن اور اپنی تاریخ کے متعلق آپ کے رویے کو غلط کر دیا ہے۔ جو بادشاہتیں اور حکومتیں غیر اسلامی اصولوں پر قائم ہوئی تھیں آپ ان کو ’اسلامی حکومتیں‘ کہتے ہیں۔ محض اس لیے کہ ان کے تخت نشین مسلمان تھے۔ جو تمدن قرطبہ و بغداد اور دہلی و قاہرہ کے عیش پرست درباروں میں پرورش پایا تھا‘ آپ اسے ’اسلامی تمدن‘ کہتے ہیں حالانکہ اسلام سے اس کا کوئی واسطہ نہیں۔
آپ سے جب اسلامی تہذیب کے متعلق سوال کیا جاتا ہے تو آپ جھٹ سے آگرہ] بھارت[ کے تاج محل کی طرف اشارہ کردیتے ہیں۔ گویا یہ ہے اس تہذیب کا سب سے زیادہ نمایاں نمونہ۔ حالانکہ اسلامی تہذیب سرے سے یہ ہے ہی نہیں کہ ایک میت کو سپرد خاک کرنے کے لیے ایکڑوں زمین مستقل طور پر گھیر لی جائے اور اس پر لاکھوں روپے کی عمارت تعمیر کی جائے۔ آپ جب اسلامی تاریخ کے مفاخر بیان کرنے پر آتے ہیں تو عباسیوں‘ سلجوقیوں اور مغلوں کے کارنامے بیان کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقی اسلامی تاریخ کے نقطۂ نظر سے ان کارناموں کا بڑا حصہ آب زر سے نہیں، بلکہ سیاہ روشنائی سے جرائم کی فہرست میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ آپ نے مسلمان بادشاہوں کی تاریخ کا نام ’اسلامی تاریخ‘ رکھ چھوڑا ہے‘ بلکہ آپ اسے ’تاریخ اسلام‘ بھی کہہ دیتے ہیں‘ گویا ان بادشاہوں کا نام اسلام ہے۔ آپ بجائے اس کے کہ اسلام کے مشن اور اس کے اصول و نظریات کو سامنے رکھ کر اپنی گزشتہ تاریخ کا احتساب کریں‘ اور پورے انصاف کے ساتھ اسلامی حرکات کو غیر اسلامی حرکات سے ممتاز کرکے دیکھیں اور دکھائیں۔ اسلامی تاریخ کی خدمت آپ اس کو سمجھتے ہیں کہ مسلمان حکمرانوں کی حمایت و مدافعت کریں۔ آپ کے زاویۂ نظر میں یہ کجی صرف اس لیے پیدا ہوئی کہ آپ مسلمان کی ہر چیز کو ’اسلامی‘ سمجھتے ہیں اور آپ کا گمان یہ ہے کہ جو شخص مسلمان کہلاتا ہے وہ اگر غیر مسلمانہ طریق پر بھی کام کرے تو اس کے کام کو مسلمان کاکام کہا جاسکتا ہے۔
یہی ٹیڑھا زاویۂ نظر آپ نے اپنی ملّی سیاست میں بھی اختیار کر رکھا ہے۔ اسلام کے اصول و نظریات اور اس کے مشن سے قطع نظر کرکے آپ ایک قوم کو ’مسلم قوم‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور اس قوم کی طرف سے‘ یا اس کے نام سے‘ یا اس کے لیے ہر شخص اور ہر گروہ من مانی کارروائیاں کرسکتا ہے۔ آپ کے نزدیک ہر وہ شخص مسلمانوں کا نمایندہ، بلکہ ان کا لیڈر بھی بن سکتا ہے جو ’مسلمانوں کی قوم‘ سے تعلق رکھتا ہو‘ خواہ اس غریب کو اسلام کے متعلق کچھ بھی معلوم نہ ہو۔ آپ ہر اس پارٹی کے ساتھ لگ چکنے کو تیار ہو جاتے ہیں جس کی پیروی میں آپ کو کسی نوعیت کا فائدہ نظر آئے‘ خواہ اس کا مشن اسلام کے مشن سے کتنا ہی مختلف ہو۔ آپ خوش ہو جاتے ہیں جب مسلمانوں کو چار روٹیاں ملنے کا کوئی انتظام ہو جائے‘ خواہ اسلام کی نگاہ میں وہ حرام کی روٹیاں ہی کیوں نہ ہوں۔ آپ پھولے نہیں سماتے جب کسی جگہ مسلمان آپ کو اقتدار کی کرسی پر بیٹھا نظر آتا ہے‘ خواہ وہ اس اقتدار کو بالکل اسی طرح غیر اسلامی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہو‘ جس طرح ایک غیر مسلم کرسکتا ہے۔ آپ اکثر ان چیزوں کا نام اسلامی مفاد رکھتے ہیں جو حقیقتاً غیر اسلامی ہیں‘ ان اداروں کی حمایت و حفاظت پر اپنا زور صرف کرتے ہیں جو اصول اسلام کے بالکل خلاف قائم ہوئے ہیں‘ اور ان مقاصد کے پیچھے اپنا روپیہ اور اپنی قومی طاقت ضائع کرتے ہیں جو ہرگز اسلامی نہیں ہیں۔ یہ سب نتائج اسی ایک بنیادی غلطی کے ہیں کہ آپ نے اپنے آپ کو محض ایک ’قوم‘ سمجھ لیا ہے اور اس حقیقت کو آپ بھول گئے ہیں کہ دراصل آپ ایک ’بین الاقوامی پارٹی‘ ہیں جس کا کوئی مفاد اور کوئی مقصد اپنی پارٹی کے اصولوں کو دنیا میں حکمران بنانے کے سوا نہیں ہے۔ جب تک آپ اپنے اندر قوم کے بجائے پارٹی کا تصور پیدا نہ کریں گے اور اس کو ایک زندہ تصور نہ بنائیں گے‘ زندگی کے کسی معاملے میں بھی آپ کا رویہ درست نہ ہوگا۔
اِستدراک
اس مضمون کی اشاعت کے بعد متعدد اصحاب نے اس شبہے کا اظہار کیا کہ ’اسلامی جماعت‘ کو ’قوم‘ کے بجائے پارٹی کہنے سے اس امر کی گنجائش نکلتی ہے کہ وہ کسی وطنی قومیت کی جز بن کر رہے۔ جس طرح ایک قوم میں مختلف سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں اور اپنا الگ الگ مسلک رکھنے کے باوجود سب کی سب اس بڑے مجموعے میں شامل رہتی ہیں جس کو’قوم‘ کہا جاتا ہے‘ اسی طرح اگر مسلمان ایک پارٹی ہیں تو وہ بھی اپنے وطن کی قوم کا ایک جز بن کر رہ سکتے ہیں۔
چونکہ جماعت یا پارٹی کے لفظ کو عام طور پر لوگ سیاسی یا پولیٹیکل پارٹی کے معنی میں لیتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ غلط فہمی پیدا ہوئی جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن یہ اس لفظ کا اصلی مفہوم نہیں ہے بلکہ ایک خاص معنی میں بکثرت استعمال ہونے سے پیدا ہوگیا ہے۔ اصلی مفہوم اس لفظ کا یہ ہے کہ جو لوگ ایک مخصوص عقیدے‘ نظریے‘ مسلک اور مقصد پر مجتمع ہوں وہ ایک جماعت ہیں۔ اس معنی میں قرآن نے ’حزب‘ اور ’امت‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں‘ اور اسی معنی میں ’جماعت‘ کا لفظ احادیث اور آثار میں مستعمل ہوا ہے اور یہی مفہوم ’پارٹی‘ کا بھی ہے۔
اب ایک جماعت تو وہ ہوتی ہے جس کے پیشِ نظر ایک قوم یا ملک کے مخصوص حالات کے لحاظ سے، سیاسی تدبیر کا ایک خاص نظریہ اور پروگرام ہوتا ہے۔ اس قسم کی جماعت محض ایک سیاسی جماعت ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اس قوم کا جز بن کر کام کرسکتی ہے اور کرتی ہے جس میں وہ پیدا ہو۔
دوسری جماعت وہ ہوتی ہے جو ایک کلی نظریے اور جہانی تصور (world idea)لے کر اٹھتی ہے۔ جس کے سامنے تمام بنی نوع انسانی کے لیے بلا لحاظ قوم و وطن ایک عالم گیر مسلک ہوتا ہے، جو پوری زندگی کی تشکیل و تعمیر ایک نئے ڈھنگ پر کرنا چاہتی ہے۔ جس کا نظریہ و مسلک‘ عقائد و افکار اور اصول اخلاق سے لے کر انفرادی برتائو اور اجتماعی نظام کی تفصیلات تک ہر چیز کو اپنے سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے۔ جو ایک مستقل تہذیب اور ایک مخصوص تمدن (civilisation) کو وجود میں لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ جماعت بھی اگرچہ حقیقت میں ایک جماعت ہی ہوتی ہے‘ لیکن یہ اس قسم کی جماعت نہیں ہوتی جو کسی قوم کا جز بن کر کام کر سکتی ہو۔ یہ محدود قومیتوں سے بالا تر ہوتی ہے۔ اس کا تو مشن ہی یہ ہوتا ہے کہ ان نسلی و روایتی تعصبات کو توڑ دے جن پر دنیا میں مختلف قومیتیں بنتی ہیں۔ پھر یہ خود اپنے آپ کو کس طرح ان قومیتوں کے ساتھ وابستہ کرسکتی ہے؟ یہ نسلی و تاریخی قومیتوں کے بجائے ایک عقلی قومیت (rational nationality)بناتی ہے۔ جامد قومیتوں کی جگہ ایک نامی قومیت (expanding nationality)بناتی ہے۔ یہ خود ایک ایسی قومیت بنتی ہے جو عقلی و تہذیبی وحدت کی بنیاد پر روئے زمین کی پوری آبادی کو اپنے دائرے میں لینے کے لیے تیار ہوتی ہے، لیکن ایک قومیت بننے کے باوجود حقیقت میں یہ ایک جماعت ہی رہتی ہے کیونکہ اس میں شامل ہونے کا مدار پیدائش پر نہیں ہوتا، بلکہ اس نظریے و مسلک کی پیروی پر ہوتا ہے جس کی بنیاد پر یہ جماعت بنی ہے۔
مسلمان دراصل اسی دوسری قسم کی جماعت کا نام ہے۔ یہ اس قسم کی پارٹی نہیں ہے جیسی پارٹیاں ایک قوم میں بنا کرتی ہیں، بلکہ یہ اس قسم کی پارٹی ہے جو ایک مستقل نظام تہذیب و تمدن (civilisation)بنانے کے لیے اٹھتی ہے، اور چھوٹی چھوٹی قومیتوں کی تنگ سرحدوں کو توڑ کر عقلی بنیادوں پر ایک بڑی جہانی قومیت (world nationality)بنانا چاہتی ہے۔ اس کو ’قوم‘ کہنا اس لحاظ سے یقیناً درست ہوگا کہ یہ اپنے آپ کو دنیا کی نسلی یا تاریخی قومیتوں میں سے کسی قومیت کے ساتھ بھی باعتبار جذبات وابستہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی، بلکہ اپنے نظریۂ حیات اور فلسفۂ اجتماعی (social philosophy)کے مطابق خود اپنی تہذیب و مدنیت کی عمارت الگ بناتی ہے، لیکن اس معنی کے لحاظ سے ’قوم‘ ہونے کے باوجود یہ حقیقت میں ’جماعت‘ ہی رہتی ہے کیونکہ محض اتفاقی پیدائش (mere accident of birth)کسی شخص کو اس قوم کا ممبر نہیں بناسکتی، جب تک کہ وہ اس کے مسلک کا معتقد اور پیرو نہ ہو، اور اسی طرح کسی شخص کا کسی دوسری قوم میں پیدا ہونا اس کے لیے اس امر میں مانع بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنی قوم سے نکل کر اس قوم میں داخل ہوجائے جب کہ وہ اس کے مسلک پر ایمان لانے کے لیے تیار ہو۔ پس جو کچھ میں نے کہا ہے اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ مسلم قوم کی قومیت اس کے ایک جماعت یا پارٹی ہونے ہی کی بنا پر قائم ہے۔ جماعتی حیثیت جڑ کا حکم رکھتی ہے اور قومی حیثیت اس کی فرع ہے۔ اگر جماعتی حیثیت کو اس سے الگ کرلیا جائے اور یہ مجرد ایک قوم بن کر رہ جائے تو یہ اس کا تنزل (degeneration)ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسانی اجتماعات کی تاریخ میں اسلامی جماعت کی حیثیت بالکل نرالی اور انوکھی واقع ہوئی ہے۔ اسلام سے پہلے بدھ مت اور مسیحیت نے قومیتوں کے حدود کو توڑ کر تمام عالم انسانی کو خطاب کیا اور ایک نظریے و مسلک کی بنیاد پر عالم گیر برادری بنانے کی کوشش کی، مگر ان دونوں مسلکوں کے پاس چند اخلاقی اصولوں کے سوا کوئی ایسا اجتماعی فلسفہ نہ تھا جس کی بنیاد پر یہ تہذیب و تمدن کا کوئی کلی نظام بنا سکتے۔ اس لیے یہ دونوں مسلک کوئی عالم گیر قومیت نہ بنا سکے، بلکہ ایک طرح کی برادری (brotherhood)بنا کر رہ گئے۔ اسلام کے بعد مغرب کی سائنٹیفک تہذیب اٹھی‘ جس نے اپنے خطاب کو بین الاقوامی بنانا چاہا‘ مگر اول یوم پیدائش سے اس پر نیشنلزم کا بھوت سوار ہوگیا، لہٰذا یہ بھی عالم گیر قومیت بنانے میں ناکام ہوئی۔ اب مار کسی اشتراکیت آگے بڑھی ہے اور قومیتوں کی حدوں کو توڑ کر جہانی تصور کی بنیاد پر ایک ایسی تہذیب وجود میں لانا چاہتی ہے جو عالم گیر ہو، لیکن چونکہ ابھی تک وہ نئی تہذیب پوری طرح وجود میں نہیں آئی ہے‘ جو اس کے پیش نظر ہے‘ اس لیے ابھی تک مارکسیت بھی ایک عالم گیر قومیت میں تبدیل نہیں ہو سکی ہے۔۷۹؎ اس وقت تک میدان میں تنہا اسلام ہی ایک ایسا نظریہ و مسلک ہے جو نسلی اور تاریخی قومیتوں کو توڑ کر تہذیبی بنیادوں پر ایک عالم گیر قومیت بناتا ہے‘ لہٰذا جو لوگ اسلام کی اسپرٹ سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ایک ہی اجتماعی ہیئت کس طرح بیک وقت قوم بھی اور پارٹی بھی ہوسکتی ہے۔ وہ دنیا کی جتنی قوموں کو جانتے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں ہے جس کے ارکان پیدا نہ ہوتے ہوں، بلکہ بنتے ہوں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ جو شخص اٹالین پیدا ہوا ہے وہ اٹالین قومیت کا رکن ہے، اور جو اٹالین پیدا نہیں ہوا وہ کسی طرح اٹالین نہیں بن سکتا۔ ایسی کسی قومیت سے وہ واقف نہیں ہیں جس کے اندر آدمی اعتقاد اور مسلک کی بنا پر داخل ہوتا ہو‘ اور اعتقاد و مسلک کے بدل جانے پر اس سے خارج ہو جاتا ہو۔ ان کے نزدیک یہ صفت ایک قوم کی نہیں بلکہ ایک پارٹی کی ہوسکتی ہے، مگر جب وہ دیکھتے ہیں کہ یہ نرالی پارٹی اپنی الگ تہذیب بناتی ہے‘ اپنی مستقل قومیت کا اِدّعا کرتی ہے اور کسی جگہ بھی مقامی قومیت کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرنے پر راضی نہیں ہوتی تو ان کے لیے یہ معاملہ ایک چیستان بن کر رہ جاتا ہے۔
یہی نافہمی غیر مسلموں کی طرح مسلمانوں کو بھی پیش آرہی ہے۔ مدتوں سے غیر اسلامی تعلیم و تربیت پاتے رہنے اور غیر اسلامی ماحول میں زندگی گزارنے کی وجہ سے ان کے اندر ’تاریخی قومیت‘ کا جاہلی تصور پیدا ہوگیا ہے۔ یہ اس بات کو بھول گئے ہیں کہ ہماری اصلی حیثیت ایک ایسی جماعت کی تھی جو دنیا میں ایک عالم گیر انقلاب برپا کرنے کے لیے وجود میں آئی تھی‘ جس کی زندگی کا مقصد اپنے نظریے کو دنیا میں پھیلانا تھا‘ جس کاکام دنیا کے غلط اجتماعی نظامات کو توڑ پھوڑ کر اپنے فلسفۂ اجتماعی کی بنیاد پر ایک اجتماعی نظام مرتب کرنا تھا۔ یہ سب کچھ بھول بھال کر انھوں نے اپنے آپ کو بس اسی قسم کی ایک قوم سمجھ لیا ہے جیسی اور بہت سی قومیں موجود ہیں۔ اب ان کی مجلسوں اور انجمنوں میں‘ ان کی کانفرنسوں اور جمعیتوں میں‘ ان کے اخباروں اور رسالوں میں‘ کہیں بھی ان کی اجتماعی زندگی کے اس مشن کا ذکر نہیں آتا، جس کے لیے ان کو دنیا بھر کی قوموں میں سے نکال کر ایک امت بنایا گیا تھا۔ اس مشن کے بجائے اب جو چیز ان کی تمام توجہات کا مرکز بنی ہوئی ہے‘ وہ ’مسلمانوں‘ کا مفاد ہے۔ مسلمانوں سے مراد وہ سب لوگ ہیں جو مسلمان ماں باپ کی نسل سے پیدا ہوئے ہیں‘ اور مفاد سے مراد اُن نسلی مسلمانوں کا مادی و سیاسی مفاد ہے یا بدرجۂ آخر اس کلچر کا تحفظ ہے جو اُن کو آبائی ورثے میں ملا ہے ____ اس مفاد کی حفاظت اور ترقی کے لیے جو تدبیر بھی کارگر ہو‘ اس کی طرف یہ دوڑ جاتے ہیں‘ بالکل اسی طرح جس طرح مسولینی ہر اس طریقے کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے جو اطالویوں کے مفاد کے لیے مناسب ہو۔ کسی اصول اور نظریے کا نہ وہ پابند ہے نہ یہ۔ وہ کہتا ہے کہ جو کچھ اطالویوں کے لیے مفید ہو‘ وہ حق ہے۔ یہی چیز ہے جس کو میں مسلمانوں کا تنزل کہتا ہوں‘ اور اسی تنزل کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے مجھے یہ یاد دلانے کی ضرورت پیش آئی ہے کہ تم نسلی اور تاریخی قوموں کی طرح ایک قوم نہیں ہو، بلکہ حقیقت میں ایک جماعت ہو‘ اور تمھاری نجات صرف اس چیز میں ہے کہ اپنے اندر جماعتی احساس (partysense)پیدا کرو۔
اس جماعتی احساس کے فقدان یا خود فراموشی کے برے نتائج اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار کرنا مشکل ہے۔ یہ اسی بے حسی و خود فراموشی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان ہر رہ روکے پیچھے چلنے اور ہر نظریے اور مسلک کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے‘ خواہ وہ اسلام کے نظریے اور اس کے مقاصد اور اس کے اصولوں سے کتنا ہی ہٹا ہوا ہو۔ وہ نیشنلسٹ بھی بنتا ہے، کمیونسٹ بھی بن جاتا ہے۔ فاشستی اصول تسلیم کرنے میں بھی اسے کوئی تامل نہیں ہوتا، مغرب کے مختلف اجتماعی فلسفوں اور مابعد الطبیعی افکار اور علمی نظریات میں سے قریب قریب ہر ایک کے پیرو آپ کو مسلمانوں میں مل جائیں گے۔ دنیا کی کوئی سیاسی‘ اجتماعی یا تمدنی تحریک ایسی نہیں جس کے ساتھ کچھ نہ کچھ مسلمان شریک نہ ہوں اور لطف یہ ہے کہ یہ سب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں‘ سمجھتے ہیں اور سمجھے جاتے ہیں۔ ان مختلف راہوں پر بھٹکنے اور دوڑنے والوں میں سے کسی ایک کو بھی یہ یاد نہیں آتا کہ’مسلمان‘ کوئی پیدائشی لقب نہیں ہے، بلکہ اسلام کی راہ پر چلنے والے کا اسم صفت ہے۔ جو شخص اسلام کی راہ سے ہٹ کر کسی دوسری راہ پر چلے‘ اس کو مسلمان کہنا اس لفظ کا بالکل غلط استعمال ہے۔مسلم نیشنلسٹ اور مسلم کمیونسٹ اور اسی قسم کی دوسری اصطلاحیں بالکل اسی طرح کی متناقض اصطلاحیں ہیں جس طرح ’کمیونسٹ مہاجن‘ اور’بدھسٹ قصائی‘ کی اصطلاحیں متناقض ہیں۔


باب۶

کتاب کے اس دوسرے حصے میں ہم اسلامی ریاست کے بنیادی اصول اور اس کے نظام کار کا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔ اس سے اسلامی دستور کا ایک واضح خاکہ بھی ہمارے سامنے آجائے گا۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس حصے میں سب سے پہلے ہم اسلام کے دستوری قانون کے مآخذ سے بحث کرلیں، تاکہ بعد کے تمام مباحث کی اساس ہمارے سامنے آجائے۔ اسلامی ریاست کے بارے میں اگر پہلے ہی قدم پر یہ بات واضح ہو جائے کہ اس کے اصل مآخذ قرآن و سنت ہیں‘ دوسرے ممالک کے تجربات نہیں تو بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہی نہ ہوں۔ مسلمان ممالک کے موجودہ حکمرانوں اور متجددین کی اصل فکری غلطی ہی یہ ہے کہ وہ بات تو کرتے ہیں اسلامی ریاست کی لیکن بطور مآخذ رجوع کرتے ہیں مغربی اقوام کی طرف۔ بلاشبہہ ہم دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن خود اپنے نظام کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اور اس کی روح کو محفوظ رکھتے ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سب سے پہلے دستوری مآخذ اور ان سے استفادے کی راہ کی مشکلات کو پیش کر رہے ہیں۔
اس بحث کی ضرورت ایک اور وجہ سے بھی پیش آئی ____ اور وہ ہے فتنۂ انکارِ حدیث۔ ایک گروہ حدیث کے بارے میں ذہنوں کو مشکوک کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے حجت اور مآخذ قانون ہونے پر اعتراض کرتا ہے۔ اس نقطۂ نظر پر تنقید اور صحیح صورت حال کی تشریح بے حد ضروری تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث کے بغیر اسلامی نظم مملکت کا کوئی واضح خاکہ بن ہی نہیں سکتا۔
اس باب کو مصنف محترم کی مختلف تحریرات سے مرتب کیا گیا ہے اور حاشیوں میں ان مقامات کی نشان دہی کر دی گئی ہے جہاں سے متعلقہ مواد لیا گیا ہے۔(مرتب )

 

اسلام کے دستوری قانون کے مآخذ

اسلامی ریاست وہ ریاست ہے جو حاکمیتِ الٰہی اور خلافتِ علیٰ منہاج النبوۃ کے نظام کو اس کے تمام تضمنات کے ساتھ قائم کرنے کی داعی ہو۔ آج دنیا میں جہاں بھی ایسی ریاست قائم کرنے اور اس کی نوعیت اور نظامِ کار متعین کرنے کی کوشش کی جائے گی تو چند خاص مآخذ کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور وہ ہیں:
۱۔ قرآن
۲۔ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
۳۔ تعاملِ خلافت ِ راشدہ
۴۔ مجتہدین امت کے فیصلے
اسلام کے غیر تحریری دستور مملکت کے یہی چار مآخذ ہیں، اور انھی کے مطالعے سے اسلامی ریاست کی نوعیت اور اس کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے اور انھی سے ہم وہ اصول و کلیات اور احکام و دفعات اخذ کرسکتے ہیں جو اسلامی دستور کا جز ہوں گی۔

ا۔قرآن مجید

اس کا سب سے پہلا ماخذ قرآن مجید ہے۔ اسلام۸۰؎ کی اصطلاح میں ’کتاب‘ سے مراد وہ کتاب ہے جو بندوں کی رہنمائی کے لیے اللہ کی طرف سے رسول پر نازل کی جاتی ہے۔ اس مفہوم کے لحاظ سے کتاب گویا اسی پیغام کا سرکاری بیان (official version)یا اسلامی اصطلاح کے مطابق ’الٰہی کلام‘ ہے جسے لوگوں تک پہنچانے‘ جس کی توضیح و تشریح کرنے‘ اور جس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پیغمبر دنیا میں بھیجے گئے۔ سُنّتُ اللہ یہ ہے کہ خدا کو پیغمبر کے ذریعے سے جو تعلیم بندوں کو دینی مقصود ہے، وہ اس کے اصول و مہمات مسائل پیغمبر کے دل پر اِلقا کرتا ہے۔ اس ہدایت کے الفاظ اور معانی دونوں میں پیغمبر کی اپنی عقل و فکر‘ ارادے اور خواہش کا ذرہ برابر دخل نہیں ہوتا۔ پیغمبر اس کلام کو ایک امانت دار قاصد کی حیثیت سے خدا کے بندوں تک پہنچا دیتا ہے۔ پھر خدا کے عطا کیے ہوئے علم اور بصیرت سے اس کے معانی و مطالب کی تشریح کرتا ہے‘ انھی الٰہی اصولوں پر اخلاق و معاشرت اور تہذیب و تمدن کا نظام قائم کرتا ہے۔ اپنی تعلیم و تلقین اور اپنی پاکیزہ سیرت سے لوگوں کے خیالات و رجحانات اور افکار میں ایک انقلاب برپا کرتا ہے۔ تقویٰ اور طہارت اور پاکیزگیِ نفس اور حسنِ عمل کی رُوح ان میں پھونکتا ہے۔ اپنی تربیت اور عملی رہنمائی سے ان کو اس طور پر منظم کرتا ہے کہ ان سے ایک نئی سوسائٹی، نئی ذہنیت‘ نئے افکار و خیالات‘ نئے آداب و اطوار اور نئے آئین و قوانین کے ساتھ وجود میں آجاتی ہے‘ پھر وہ ان میں اللہ کی کتاب اور اس کے ساتھ اپنی سنت‘ اپنی تعلیم اور اپنی پاکیزہ سیرت کے آثار چھوڑ جاتا ہے جو ہمیشہ اس جماعت اور اس کے بعد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ ہدایت کاکام دیتے ہیں۔
قرآن مجید خدا کی نازل کردہ کتب سماوی میں سب سے آخری اور مکمل ترین کتاب ہے۔ مسلمان ایمان تو تمام آسمانی کتب پر رکھتے ہیں لیکن ان کے لیے قانونِ ہدایت اور آئینِ زندگی کی حیثیت صرف قرآن مجید کو حاصل ہے۔ ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے، جہاں سے بالفعل اتباع کی سرحد شروع ہوتی ہے‘ وہاں دوسری کتابوں سے تعلق منقطع کرکے صرف قرآن کے ساتھ تعلق استوار کیا گیا ہے اور ہمارے لیے یہی کتاب اصل ماخذِ ہدایت اور حجت (authority) ہے۔ اس کے متعدد وجوہ ہیں:
۱۔ قرآن مجید انھی الفاظ میں محفوظ ہے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیش کیا تھا۔ اول روز سے سیکڑوں‘ ہزاروں‘ لاکھوں آدمیوں نے ہر زمانے میں اس کو لفظ بہ لفظ یاد کیا ہے۔لاکھوں، کروڑوں آدمیوں نے روزانہ اس کی تلاوت کی ہے‘ ہمیشہ اس کے نسخے ضبطِ کتابت میں لائے جاتے رہے ہیں اور کبھی اس کی عبارت میں ذرہ برابر اختلاف نہیں پایا گیا ہے۔ لہٰذا اس امر میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں ہے کہ جو قرآن نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سنا گیا تھا وہی آج دنیا میں موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا۔ اس میں کبھی ایک لفظ کا تغیر و تبدل نہ ہوا ہے‘ نہ ہوسکتا ہے۔
۲۔ وہ عربی زبان میں اترا ہے جو ایک زندہ زبان ہے اور آج تک اس زبان کا فصیح اور معیاری لٹریچر وہی ہے جو نزول قرآن کے وقت تھا۔ اس کے معانی و مطالب معلوم کرنے میں انسان کے لیے وہ دقتیں نہیں ہیں جو مُردہ زبانوں کی کتابوں کو سمجھنے میں پیش آتی ہیں۔
۳۔ وہ سراسر حق‘ اور از اول تا آخر الٰہی تعلیمات سے لبریز ہے۔ اس میں کہیں انسانی جذبات‘ نفسانی خواہشات‘ قومی یا طائفی خود غرضیوں اور جاہلانہ گمراہیوں کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔ اس کے اندر کلامِ الٰہی کے ساتھ انسانی کلام کی ذرہ برابر آمیزش نہیں ہوسکی ہے۔
۴۔ وہ ایک جامع کتاب ہے جس کے اندر ان تمام حقائق و معارف اور خیرات و صالحات کو جمع کر دیا گیا ہے جو اس سے پہلے کی آسمانی کتابوں میں بیان کیے گئے تھے۔ ایسی جامع کتاب کی موجودگی میں انسان آپ سے آپ دوسری تمام کتابوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔
۵۔ وہ آسمانی ہدایات اور الٰہی تعلیمات کا جدید ترین مجموعہ (latest edition)ہے۔ بعض ہدایات جو پچھلی کتابوں میں مخصوص حالات کے تحت دی گئی تھیں‘ وہ اس میں سے نکال دی گئیں اور بہت سی نئی تعلیمات جو پچھلی کتابوں میں نہ تھیں‘ اس میں اضافہ کر دی گئیں:
مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَۃٍ اَوْ نُنْسِہَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْہَآ اَوْ مِثْلِہَا۝۰ۭ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ
البقرہ 106:2
ہم اپنی جس آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں‘ یا بھلا دیتے ہیں اُس کی جگہ اُس سے بہتر لاتے ہیں‘ یا کم از کم ویسی ہی۔ کیا تم جانتے نہیں ہو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
لہٰذا جو شخص آبائو اجداد کا نہیں بلکہ فی الواقع خدائی ہدایت کا پیرو ہے اس کے لیے لازم ہے کہ اسی آخری اور جدید ایڈیشن کا اتباع کرے نہ کہ پرانے ایڈیشنوں کا۔ حجت اب قرآن ہے‘ اس سے پہلے کی کتب نہیں۔ یہی وجوہ ہیں جن کی بنا پر اسلام نے تمام کتابوں سے اتباع کا تعلق منقطع کرکے صرف قرآن کو متبوع قرار دیا ہے اور تمام دنیا کو دعوت دی ہے کہ وہ اسی ایک کتاب کو اپنا دستور العمل بنائے اور مسلمانوں کے لیے اسی کتاب کو اولین ماخذِ ہدایت قرار دیا:
۱۔ اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰىكَ اللہُ۝۰ۭ النساء105:4
ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری ہے تاکہ تو لوگوں کے درمیان اس علمِ حق کے ساتھ فیصلہ کرے جو خدا نے تجھے دیا ہے۔
۲۔ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ۝۰ۙ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَo
الاعراف 157:7
پس جو لوگ اس نبی پر ایمان لائے اور جنھوں نے اس کی مدد اور حمایت کی اور اس نور کا اتباع کیا جو اس کے ساتھ اترا ہے‘ وہی فلاح پانے والے ہیں۔
۳۔ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ …… فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ…… فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ۔ المائدہ 45-47-44:5
جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں…… وہی ظالم ہیں…… وہی فاسق ہیں۔
یہاں۸۱؎ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے حق میں جو خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تین حکم ثابت کیے ہیں:
ایک یہ کہ وہ کافر ہیں‘ دوسرے یہ کہ وہ ظالم ہیں‘ تیسرے یہ کہ وہ فاسق ہیں۔
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو انسان خدا کے حکم اور اس کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کر اپنے یا دوسرے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر فیصلہ کرتا ہے وہ دراصل تین بڑے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے:
٭ اولاً: اس کا یہ فعل حکمِ خداوندی کے انکار کا ہم معنی ہے اور یہ کفر ہے۔
٭ ثانیاً: اس کا یہ فعل عدل و انصاف کے خلاف ہے‘ کیونکہ ٹھیک ٹھیک عدل کے مطابق جو حکم ہوسکتا تھا وہ تو خدا نے دے دیا تھا‘ اس لیے جب خدا کے حکم سے ہٹ کر اس نے فیصلہ کیا تو ظلم کیا۔
٭ تیسرے یہ کہ بندہ ہونے کے باوجود جب اس نے اپنے مالک کے قانون سے منحرف ہو کر، اپنا یا کسی دوسرے کا قانون نافذ کیا تو درحقیقت بندگی و اطاعت کے دائرے سے باہر قدم نکالا اوریہی فسق ہے۔
یہ کفر اور ظلم اور فسق اپنی نوعیت کے اعتبار سے لازماً انحراف از حکم خداوندی کی عین حقیقت میں داخل ہیں۔ ممکن نہیں ہے کہ جہاں وہ انحراف موجود ہو‘ وہاں یہ تینوں چیزیں موجود نہ ہوں، البتہ جس طرح انحراف کے درجات و مراتب میں فرق ہے اسی طرح ان تینوں چیزوں کے مراتب میں بھی فرق ہے۔
مسلمانوں۸۲؎ کے لیے اصل سند اور حجت قرآن پاک ہے۔ جو چیز قرآن کے خلاف ہے وہ ہرگز قابلِ اتباع نہیں ہے۔
اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ۝۰ۭ الاعراف7:3
جو کچھ تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کو چھوڑ کر دوسرے کارسازوں کی پیروی نہ کرو۔
اور قرآن کے احکام اور اس کی تعلیمات میں رد و بدل کا حق کسی کو‘ حتیٰ کہ پیغمبر کو بھی نہیں ہے:
قُلْ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اُبَدِّلَہٗ مِنْ تِلْقَاۗئِ نَفْسِيْ۝۰ۚ اِنْ اَتَّبِـــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ۝۰ۚ اِنِّىْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍo یونس15:10
اے محمدؐ! کہہ دو کہ میں اس کتاب کو اپنی طرف سے بدلنے کا حق نہیں رکھتا۔ میں تو صرف اسی وحی کا اتباع کرتا ہوں جو میری طرف اتاری جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔
قرآن مجید۸۳؎ اسلامی تصور ریاست کا سب سے پہلا ماخذ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے احکام اور فرامین ہیں۔ یہ احکام و فرامین انسان کی پوری زندگی کے معاملات پر حاوی ہیں۔ ان میں صرف انفرادی کردار اور سیرت ہی کے بارے میں ہدایات نہیں دی گئی ہیں، بلکہ اجتماعی زندگی (social life)کے بھی ہر پہلو کی اصلاح و تنظیم کے لیے کچھ اصول اور کچھ قطعی احکام دیے گئے ہیں اور اس سلسلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسلمان اپنی ریاست کن اصولوں اور کن مقاصد کے لیے قائم کریں۔

۲۔ سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۸۴؎

دوسرا۸۵؎ ماخذ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی ہدایات کو اور اس کے دیے ہوئے اصولوں کو عرب کی سرزمین میں کس طرح نافذ کیا‘ کس طرح اسلام کے تخیل کو عمل کا جامہ پہنایا‘ کس طرح اس تخیل پر ایک سوسائٹی کی تشکیل کی‘ پھر کس طرح اس سوسائٹی کو منظم کر کے ایک اسٹیٹ کی شکل دی اور اس اسٹیٹ کے مختلف شعبوں کو کس طرح چلا کر بتایا۔ یہ چیزیں سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے ہمیں معلوم ہوسکتی ہیں اور انھی کی مدد سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ قرآن کا ٹھیک ٹھیک منشا کیا ہے۔ یہ قرآن کے دیے ہوئے اصولوں کا عملی حالات پر انطباق ہے جس سے ہم کو اسلامی دستور کے لیے نہایت قیمتی نظائر (precedents) حاصل ہوتی ہیں اور دستوری روایات (conventions of the constitution)کا بڑا اہم مواد بہم پہنچتا ہے۔
سنت ہمارے دستوری قانون کا دوسرا ماخذ ہے اور بڑا ہی اہم ماخذ ہے۔ افسوس ہے کہ ایک عرصے سے ایک گروہ اس کی اہمیت کو کم کرنے اور اس کے قانونی حجت (legal sanction) ہونے کے پہلو کا انکار کرکے لوگوں کے ذہنوں میں انتشار برپا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس لیے ہم مختصراً اس کے حجت ہونے پر روشنی ڈالیں گے۔
یہ۸۶؎ ایک ناقابل انکار تاریخی حقیقت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت پر سرفراز ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف قرآن پہنچا دینے پر اکتفا نہیں کیا تھا، بلکہ ایک ہمہ گیر تحریک کی رہنمائی بھی کی تھی جس کے نتیجے میں ایک مسلم سوسائٹی پیدا ہوئی، ایک نیا نظام تہذیب و تمدن وجود میں آیا اور ایک ریاست قائم ہوئی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن پہنچانے کے سوا یہ دوسرے کام جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کیے‘ یہ آخر کس حیثیت سے تھے؟ آیا یہ نبی کی حیثیت سے تھے جس میں آپؐ اسی طرح خدا کی مرضی کی نمائندگی کرتے تھے جس طرح کہ قرآن ؟ یا آپؐ کی پیغمبرانہ حیثیت قرآن سنانے کے بعد ختم ہو جاتی تھی اور اس کے بعد آپؐ عام مسلمانوں کی طرح محض ایک مسلمان رہ جاتے تھے، جس کا قول و فعل اپنے اندر بجائے خود کوئی قانونی سند و حجت نہیں رکھتا۔ پہلی بات تسلیم کی جائے تو سنت کو قرآن کے ساتھ قانونی سند و حجت ماننے کے سوا چارہ نہیں رہتا، البتہ دوسری صورت میں اسے قانون قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔
جہاں تک قرآن کا تعلق ہے وہ اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف نامہ بر نہیں تھے‘ بلکہ خدا کی طرف سے مقرر کیے ہوئے رہبر‘ حاکم اور معلم بھی تھے جن کی پیروی و اطاعت مسلمانوں پر لازم تھی اور جن کی زندگی کو تمام اہلِ ایمان کے لیے نمونہ قرار دیا گیا تھا اور آپ ان تمام حیثیتوں میں مامور من اللہ تھے۔ مکہ میں اسلام قبول کرنے والوں نے باختیارِ خود آپؐ کو اپنا لیڈر منتخب نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس قیادت کے منصب سے وہ نعوذ باللہ آپ کو ہٹانے کے مجاز تھے اور نہ ہی ایسا ہوا کہ مدینہ پہنچ کر جب اسلامی ریاست کی بنا ڈالی گئی اس وقت انصار و مہاجرین نے کوئی مشاورت منعقد کرکے یہ طے کیا ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اس ریاست کے صدر اور قاضی اور افواج کے قائد اعلیٰ ہوں گے۔ قرآن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تمام حیثیتیں خود متعین کرتا ہے اور یہ سب منصب نبوت ہی کے مختلف پہلو ہیں۔ جہاں تک عقل کا تعلق ہے وہ یہ ماننے سے انکار کرتی ہے کہ ایک نبی صرف خدا کا کلام پڑھ کر سنا دینے کی حد تک تو نبی ہو اور اس کے بعد وہ محض ایک عام آدمی رہ جائے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے وہ آغازِ اسلام سے آج تک بالاتفاق ہر زمانے میں اور تمام دنیا میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نمونۂ واجب الاتباع اور ان کے امر و نہی کو واجب الاطاعت مانتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ کوئی غیر مسلم عالم بھی اس امرِ واقعی سے انکار نہیں کرسکتا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حیثیت مانی ہے اور اسی بنا پر اسلام کے قانونی نظام میں سنت کو قرآن کے ساتھ دوسرا ماخذ قانون تسلیم کیا گیا ہے۔ اب میں نہیں جانتا کہ کوئی شخص سنت کی اس قانونی حیثیت کو کیسے چیلنج کرسکتا ہے جب تک وہ صاف صاف یہ نہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف تلاوتِ قرآن کی حد تک نبی تھے اور یہ کام کر دینے کے ساتھ ہی ان کی حیثیت نبوت ختم ہو جاتی تھی۔ پھر اگر وہ ایسا دعویٰ کرے بھی تو اسے بتانا ہوگا کہ یہ مرتبہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور خود دے رہا ہے یا قرآن نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی مرتبہ دیا ہے؟ پہلی صورت میں اس کے قول کااسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ دوسری صورت میں اسے قرآن سے اپنے دعوے کا ثبوت پیش کرنا ہوگا۔
اس بارے میں کوئی اشتباہ نہیں چھوڑا گیا کہ قرآن نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا حیثیت متعین کی ہے اور منصب رسالت کے کون کون سے کام آپؐ نے انجام دیے۔
(الف)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم و مربی
قرآن پاک۸۷؎ میں چار مقامات پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب رسالت کی یہ تفصیل بیان کی گئی ہے:
۱۔ وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْلُ۝۰ۭ ……… رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ۝۰ۭ البقرہ127-129:2
اور یاد کرو جب کہ ابراہیم اور اسماعیل اس گھر (کعبہ) کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (انھوں نے دعا کی)… اے ہمارے پروردگار، ان لوگوں میں خود انھی کے اندر سے ایک رسول مبعوث فرما جو انھیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔
۲۔ كَـمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَo البقرہ151:2
جس طرح ہم نے تمھارے اندر خود تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا‘ جو تم کو ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور تمھارا تزکیہ کرتا ہے اور تم کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمھیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔
۳۔ لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۚ آل عمران164:3
اللہ نے ایمان لانے والوں پر احسان فرمایا جب کہ ان کے اندر خود انھی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو انھیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔
۴۔ ہُوَالَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْہِمْ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۤ الجمعہ62:2
وہی ہے جس نے امیوں کے درمیان خود انھی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو ان کو اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔
ان آیات میں بار بار جس بات کو بتاکید دہرایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف آیاتِ قرآن سنا دینے کے لیے نہیں بھیجا تھا‘ بلکہ اس کے ساتھ بعثت کے تین مقصد اور بھی تھے:
٭ ایک یہ کہ آپؐ لوگوں کو کتاب کی تعلیم دیں۔
٭ دوسرے یہ کہ اس کتاب کے منشا کے مطابق کام کرنے کی حکمت سکھائیں۔
٭ اور تیسرے یہ کہ آپؐ افراد کا بھی اور ان کی اجتماعی ہیئت کا بھی تزکیہ کریں یعنی اپنی تربیت سے ان کی انفرادی اور اجتماعی خرابیوں کو دور کریں اور ان کے اندر اچھے اوصاف اور بہتر نظام اجتماعی کو نشوونما دیں۔
ظاہر ہے کہ کتاب اور حکمت کی تعلیم صرف قرآن کے الفاظ سنا دینے سے زائد ہی کوئی چیز تھی، ورنہ اس کا الگ ذکر بے معنی تھا۔ اسی طرح افراد اور معاشرے کی تربیت کے لیے آپؐ جو تدابیر بھی اختیار فرماتے تھے وہ بھی قرآن کے الفاظ کو پڑھ کر سنا دینے سے زائد ہی کچھ تھیں‘ ورنہ تربیت کی اس الگ خدمت کا ذکر کرنے کے کوئی معنی نہ تھے اور قرآن پہنچانے کے علاوہ یہ معلّم اور مربی کے مناصب جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھے ان پر اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو مامور فرمایا تھا۔ کیا قرآن کی ان صاف اور مکرر تصریحات کے بعد اس کتاب پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص یہ کہنے کی جرأت کرسکتا ہے کہ یہ دونوں مناصب رسالت کے اجزا نہ تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان مناصب کے فرائض اور خدمات بحیثیت رسول نہیں، بلکہ اپنی پرائیویٹ حیثیت میں انجام دیتے تھے؟ اگر نہیں کہہ سکتا تو بتائیے کہ قرآن کے الفاظ سنانے سے زائد جو باتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کتاب و حکمت کے سلسلے میں فرمائیں اور اپنے قول و عمل سے افراد اور معاشرے کی جو تربیت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی اسے من جانب اللہ ماننے اور سند تسلیم کرنے سے انکار خود رسالت کا انکار نہیں تو اور کیا ہے؟
(ب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت شارح کتاب اللہ
سورہ نحل میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْہِمْ النحل44:16
اور (اے نبیؐ) یہ ذکر ہم نے تمھاری طرف اس لیے نازل کیا ہے تم لوگوں کے لیے واضح کر دو اس تعلیم کو جو اُن کی طرف اتاری گئی ہے۔
اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد یہ خدمت کی گئی تھی کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ جو احکام و ہدایات دے اُن کی آپؐ توضیح و تشریح فرمائیں۔ ایک موٹی سی عقل کا آدمی بھی کم از کم اتنی بات تو سمجھ ہی سکتا ہے کہ کسی بات کی تشریح و توضیح محض اس کتاب کے الفاظ پڑھ کر سنا دینے سے نہیں ہوتی، بلکہ تشریح کرنے والا اس کے الفاظ سے زائد کچھ کہتا ہے، تاکہ سننے والا کتاب کا مطلب پوری طرح سمجھ جائے اور اگر کتاب کی کوئی بات کسی عملی مسئلے سے متعلق ہو تو شارح عملی مظاہرہ (practical demonstration)کرکے بتاتا ہے کہ مصنف کا منشا اس طرح عمل کرنا ہے۔ یہ نہ ہو تو کتاب کے الفاظ کا مطلب و مدّعا پوچھنے والے کو پھر کتاب کے الفاظ ہی سنا دینا کسی طفلِ مکتب کے نزدیک بھی تشریح و توضیح قرار نہیں پاسکتا۔ اب فرمائیے کہ اس آیت کی رُو سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے شارح اپنی ذاتی حیثیت میں تھے، یا خدا نے آپؐ کو شارح مقرر کیا تھا؟ یہاں تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل کرنے کا مقصد ہی یہ بیان کر رہا ہے کہ رسول اپنے قول اور عمل سے اس کا مطلب واضح کرے، پھر کس طرح یہ ممکن ہے کہ شارح قرآن کی حیثیت سے آپؐ کے منصب کو رسالت کے منصب سے الگ قرار دیا جائے اور آپؐ کے پہنچائے ہوئے الفاظ قرآن کو لے کر آپؐ کی شرح و تفسیر قبول کرنے سے انکار کر دیا جائے؟ کیا یہ انکار خود رسالت کا انکار نہ ہوگا۔
(ج)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت پیشوا و نمونۂ تقلید
سورۂ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ…… قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَo آل عمران31-32:3
(اے نبیؐ) کہو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو‘ اللہ تم سے محبت کرے گا… کہو کہ اطاعت کرو اللہ اور رسول کی‘ پھر اگر وہ منہ موڑتے ہیں تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔
اور سورۂ احزاب میں فرماتا ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ ۔ الاحزاب21:33
تمھارے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک نمونۂ تقلید ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخر کا امیدوار ہو۔
ان دونوں آیتوں میں خود اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشوا مقرر کر رہا ہے‘ ان کی پیروی کا حکم دے رہا ہے‘ ان کی زندگی کو نمونۂ تقلید قرار دے رہا ہے‘ اور صاف فرما رہا ہے کہ یہ روش اختیار نہ کرو گے تو مجھ سے کوئی امید نہ رکھو‘ میری محبت اس کے بغیر تمھیں حاصل نہیں ہوسکتی‘ بلکہ اس سے منہ موڑنا کفر ہے۔ اب فرمائیے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رہنما اور لیڈر خود بن بیٹھے تھے، یا مسلمانوں نے آپؐ کو منتخب کیا تھا، یا اللہ نے اس منصب پر آپؐ کو مامور کیا تھا؟ اگر قرآن کے یہ الفاظ بالکل غیر مشتبہ طریقے سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مامور من اللہ رہنما و پیشوا قرار دے رہے ہیں‘ تو پھر آپؐ کی پیروی اور آپؐ کے نمونۂ زندگی کی تقلید سے انکار کیسے کیا جاسکتا ہے؟ اس کے جواب میں یہ کہنا سراسر لغو ہے کہ اس سے مراد قرآن کی پیروی ہے۔ اگر یہ مراد ہوتی تو فَا تَّبِعُوا الْقُرْآنَ فرمایا جاتا نہ کہ فَا تَّبِعُوْنِیْ اور اس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اسوہ حسنہ کہنے کے تو کوئی معنی ہی نہ تھے۔
(د) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت شارع
سورۂ اعراف میں اللہ تعالیٰ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:
يَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہٰىہُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْہِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ الاعراف 157:7
وہ ان کو معروف کا حکم دیتا ہے اور منکر سے ان کو روکتا ہے اور ان کے لیے پاک چیزوں کو حلال کرتا ہے اور ان پر ناپاک چیزوں کو حرام کرتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ اور بندھن اتار دیتا ہے جو اُن پر چڑھے ہوئے تھے۔
اس آیت کے الفاظ اس امر میں بالکل صریح ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تشریعی اختیارات (legislative powers)عطا کیے ہیں۔ اللہ کی طرف سے امر و نہی اور تحلیل و تحریم صرف وہی نہیں ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہے‘ بلکہ جو کچھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام یا حلال قرار دیا ہے اور جس چیز کا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے یا جس سے منع کیا ہے‘ وہ بھی اللہ کے دیے ہوئے اختیارات سے ہے‘اس لیے وہ بھی قانونِ خداوندی کا ایک حصہ ہے۔ یہی بات سورہ حشر میں اسی صراحت کے ساتھ ارشاد ہوئی ہے:
وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ۝۰ۤ وَمَا نَہٰىكُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا۝۰ۚ وَاتَّقُوا اللہَ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ
الحشر59: 7
جو کچھ رسولؐ تمھیں دے اسے لے لو اور جس سے منع کردے اس سے رک جائو اور اللہ سے ڈرو‘ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
ان دونوں آیتوں میں سے کسی کی یہ تاویل نہیں کی جاسکتی کہ ان میں قرآن کے امر اور قرآن کی تحلیل و تحریم کا ذکر ہے۔ یہ تاویل نہیں، بلکہ اللہ کے کلام میں ترمیم ہوگی۔ اللہ نے یہاں امر و نہی اور تحلیل و تحریم کو رسولؐ کا فعل قرار دیا ہے نہ کہ قرآن کا۔ پھر کیا کوئی شخص اللہ میاں سے یہ کہنا چاہتا ہے کہ آپ سے بیان میں غلطی ہوگئی‘ آپ بھولے سے قرآن کے بجائے رسولؐ کا نام لے گئے۔
(ھ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت قاضی
قرآن میں ایک جگہ نہیں‘ بکثرت مقامات پر اللہ تعالیٰ اس امر کی تصریح فرماتا ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قاضی مقرر کیا ہے۔ مثال کے طور پر چند آیات ملاحظہ ہوں:
۱۔ اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰىكَ اللہُ۝۰ۭ النساء:105:4
(اے نبی ؐ) ہم نے تمھاری طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اللہ کی دکھائی ہوئی روشنی میں فیصلہ کرو۔
۲۔ وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ مِنْ كِتٰبٍ۝۰ۚ وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ۝۰ۭ الشوریٰ 15:42
اور (اے نبیؐ) کہو کہ میں ایمان لایا ہوں اس کتاب پر جو اللہ نے نازل کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمھارے درمیان عدل کروں۔
۳۔ اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَى اللہِ وَرَسُوْلِہٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَہُمْ اَنْ يَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۝۰ۭ النور51:24
ایمان لانے والوں کاکام تو یہ ہے کہ جب وہ بلائے جائیں اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف تاکہ رسولؐ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا۔
۴۔ وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللہُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ رَاَيْتَ الْمُنٰفِقِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاo النسائ 61:4
اورجب ان کو کہا جاتا ہے کہ آئو اللہ کی نازل کردہ کتاب کی طرف اور رسول کی طرف تو تم دیکھتے ہو منافقوں کو کہ وہ تم سے کنی کتراتے ہیں۔
۵۔ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًاo النسائ65:4
پس (اے نبیؐ) تیرے رب کی قسم وہ ہرگز مومن نہ ہوں گے جب تک کہ وہ اپنے جھگڑوں میں تجھے فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں‘ پھر جو فیصلہ تو کرے اس کی طرف سے اپنے دل میں کوئی تنگی تک محسوس نہ کریں بلکہ اسے بسر و چشم قبول کرلیں۔
یہ تمام آیتیں اس امر میں بالکل صریح ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود ساختہ یا مسلمانوں کے مقرر کیے ہوئے جج نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے جج تھے۔ تیسری آیت بتا رہی ہے کہ آپؐ کے جج ہونے کی حیثیت رسالت کی حیثیت سے الگ نہیں تھی، بلکہ رسول ہی کی حیثیت میں آپؐ جج بھی تھے اور ایک مومن کا ایمان بالرسالت اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ آپؐ کی اس حیثیت کے آگے بھی سمع و طاعت کا رویہ نہ اختیار کرلے۔ چوتھی آیت میں مَااَنْزَلَ اللّٰہ(قرآن) اور رسول دونوں کا الگ الگ ذکر کیا گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فیصلہ حاصل کرنے کے لیے دو مستقل مرجع ہیں، ایک: قرآن قانون کی حیثیت سے‘ دوسرے: رسول صلی اللہ علیہ وسلم جج کی حیثیت سے‘ اور ان دونوں سے منہ موڑنا منافق کا کام ہے نہ کہ مومن کا۔ آخری آیت میں بالکل بے لاگ طریقے سے کہہ دیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو شخص جج کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتا وہ مومن ہی نہیں ہے‘ حتیٰ کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیے ہوئے فیصلے پر کوئی شخص اپنے دل میں بھی تنگی محسوس کرے تو اس کا ایمان ختم ہو جاتا ہے۔
(و) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت حاکم و فرماںروا
قرآن مجید اسی صراحت اور تکرار کے ساتھ بکثرت مقامات پر یہ بات بھی کہتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے مقرر کیے ہوئے حاکم و فرماںروا تھے اور آپؐ کو یہ منصب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت سے عطا ہوا تھا:
۱۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۭ النساء64:4
ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے اذن (sanction)سے۔
۲۔ مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۝۰ۚ النساء80:4
جو رسول کی اطاعت کرے اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
۳۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللہَ۝۰ۭ الفتح10:48
(اے نبیؐ ) یقیناً جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کرتے ہیں۔
۴۔ يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَكُمْ o محمد33:47
اے لوگو جو ایمان لائے ہو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرلو۔
۵۔ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَى اللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَہُمُ الْخِـيَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ۝۰ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًاo الاحزاب36:33
اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب کسی معاملے کا فیصلہ اللہ اور اس کا رسول کر دے تو پھر ان کے لیے اپنے اس معاملے میں خود کوئی فیصلہ کرلینے کا اختیار باقی رہ جائے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے وہ کھلی گمراہی میں پڑ گیا۔
۶۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ النساء59:4
اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے اولی الامر ہوں‘ پھر اگر تمھارے درمیان نزاع ہو جائے تو اس کو پھیر دو اللہ اور رسولؐ کی طرف اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ اور روز آخر پر۔
یہ آیات صاف بتا رہی ہیں کہ رسولؐ کوئی ایسا حاکم نہیں ہے جو خود اپنی قائم کردہ ریاست کا سربراہ بن بیٹھا ہو‘ یا جسے لوگوں نے منتخب کرکے سربراہ بنایا ہو‘ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور کیا ہوا فرماںروا ہے۔ اس کی فرماںروائی اس کے منصبِ رسالت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کا رسول ہونا ہی اللہ کی طرف سے اس کا حاکمِ مطاع ہونا ہے۔ اس کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے۔ اس سے بیعت دراصل اللہ سے بیعت ہے۔ اس کی اطاعت نہ کرنے کے معنی اللہ کی نافرمانی کے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی کا کوئی عمل بھی اللہ کے ہاں مقبول نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں اہل ایمان کو (جن میں ظاہر ہے کہ پوری امت اور اس کے حکمران سب شامل ہیں) قطعاً یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جس معاملے کا فیصلہ وہ کرچکا ہو اس میں وہ خود کوئی فیصلہ کریں۔
ان تمام تصریحات سے بڑھ کر صاف اور قطعی تصریح آخری آیت کرتی ہے جس میں یکے بعد دیگرے تین اطاعتوں کا حکم دیا گیا ہے:
٭ سب سے پہلے اللہ کی اطاعت
٭ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت
٭ پھر تیسرے درجے میں اولی الامر کی اطاعت
اس سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوئی کہ رسول، اولی الامر میں شامل نہیں ہے‘ بلکہ ان سے الگ اور بالاتر ہے اور اس کا درجہ خدا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ دوسری بات جو اس آیت سے معلوم ہوئی وہ یہ کہ اولی الامر سے نزاع ہوسکتی ہے، مگر رسول سے نزاع نہیں ہوسکتی۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ نزاعات میں فیصلے کے لیے مرجع دو ہیں‘ ایک اللہ‘ دوسرا اُس کے بعد اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم، ظاہر ہے کہ اگر مرجع صرف اللہ ہوتا تو صراحت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر محض بے معنی ہوتا۔ پھر جب کہ اللہ کی طرف رجوع کرنے سے مراد کتاب اللہ کی طرف رجوع کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنے کا مطلب بھی اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ عہد رسالت میں خود ذاتِ رسولؐ کی طرف اور اس عہد کے بعد سنت رسولؐ کی طرف رجوع کیا جائے۔۸۸؎
سنت کے مآخذ قانون ہونے پر امت کا اجماع
اب اگر آپ واقعی قرآن کو مانتے ہیں اور اس کتاب مقدس کا نام لے کر خود اپنے من گھڑت نظریات کے معتقد بنے ہوئے نہیں ہیں‘ تو دیکھ لیجیے کہ قرآن مجید صاف و صریح اور قطعاً غیر مشتبہ الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی طرف سے مقرر کیا ہوا معلم‘ مربی‘ پیشوا‘ رہنما‘ شارح کلام اللہ‘ شارع (law giver)‘ قاضی اور حاکم و فرماںروا قرار دے رہا ہے‘ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ تمام مناصب اس کتاب پاک کی رُو سے منصب رسالت کے اجزائے لاینفک ہیں۔ کلامِ الٰہی کی یہی تصریحات ہیں جن کی بنا پر صحابہ کرامؓ کے دور سے لے کر آج تک تمام مسلمانوں نے بالاتفاق یہ مانا ہے کہ مذکورہ بالا تمام حیثیات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کام کیا ہے وہ قرآن کے بعد دوسرا ماخذ قانون (source of law)ہے۔
سنت کو بجائے خود ماخذِ قانون تسلیم کرنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے معلوم کرنے کا ذریعہ کیا ہے۔ میں اس کے جواب میں عرض کروں گا کہ آج پونے چودہ سو۸۹؎ سال گزر جانے کے بعد پہلی مرتبہ ہم کو اس سوال سے سابقہ پیش نہیں آگیا ہے کہ ڈیڑھ ہزار سال قبل جو نبوت مبعوث ہوئی تھی اس نے کیا سنت چھوڑی تھی۔ دو تاریخی حقیقتیں ناقابلِ انکار ہیں:
۱۔ ایک یہ کہ قرآن کی تعلیم اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر جو معاشرہ اسلام کے آغاز میں پہلے دن قائم ہوا تھا وہ اس وقت سے آج تک مسلسل زندہ ہے۔ اس کی زندگی میں ایک دن کا انقطاع بھی واقع نہیں ہوا ہے اور اس کے تمام ادارے اس ساری مدت میں پیہم کام کرتے رہے ہیں۔ آج تمام دنیا کے مسلمانوں میں عقائد اور طرز فکر‘ اخلاق اور اقدار‘ عبادات اور معاملات‘ نظریۂ حیات اور طریقِ حیات کے اعتبار سے جو گہری مماثلت پائی جاتی ہے‘ جس میں اختلاف کی بہ نسبت ہم آہنگی کا عنصر بہت زیادہ موجود ہے‘ جو اُن کو تمام رُوئے زمین پر منتشر ہونے کے باوجود ایک امت بنائے رکھنے کی سب سے بڑی بنیادی وجہ ہے‘ یہی اس امر کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ اس معاشرے کو ایک سنت پر قائم کیا گیا تھا اور وہ سنت ان طویل صدیوں کے دوران میں مسلسل جاری رہی ہے۔ یہ کوئی گم شدہ چیز نہیں ہے جسے تلاش کرنے کے لیے ہمیں اندھیرے میں ٹٹولنا پڑ رہا ہو۔
جیسا کہ ہم تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عہد نبوت میں مسلمانوں کے لیے محض ایک پیرو مرشد اور واعظ نہیں تھے بلکہ عملاً ان کی جماعت کے قائد‘ رہنما‘ حاکم‘ قاضی‘ شارع‘ مربی‘ معلم سب کچھ تھے اور عقائد و تصورات سے لے کر عملی زندگی کے تمام گوشوں تک مسلم سوسائٹی کی پوری تشکیل آپؐ ہی کے بتائے‘ سکھائے اور مقرر کیے ہوئے طریقوں پر ہوئی تھی۔ اس لیے کبھی یہ نہیں ہوا کہ آپؐ نے نماز،روزے اور مناسکِ حج کی جو تعلیم دی ہو، بس وہی مسلمانوں میں رواج پا گئی ہو اور باقی باتیں محض وعظ و ارشاد میں مسلمان سن کر رہ جاتے ہوں، بلکہ فی الواقع جو کچھ ہوا، وہ یہ تھا کہ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی نماز فورًا مسجدوں میں رائج ہوئی اور اسی وقت جماعتیں اُس پر قائم ہونے لگیں‘ اسی طرح شادی بیاہ اور طلاق و وراثت کے متعلق جو قوانین ٓپؐ نے مقرر کیے انھی پر مسلم خاندانوں میں عمل شروع ہوگیا۔ لین دین کے جو ضابطے آپؐ نے مقرر کیے انھی کا بازاروں میں چلن ہونے لگا۔ مقدمات کے جو فیصلے آپؐ نے کیے وہی ملک کا قانون قرار پائے۔ لڑائیوں میں جو معاملات آپؐ نے دشمنوں کے ساتھ اور فتح پاکر مفتوح علاقوں کی آبادی کے ساتھ کیے وہی مسلم مملکت کے ضابطے بن گئے اور فی الجملہ اسلامی معاشرہ اور اس کا نظام حیات اپنے تمام پہلوئوں کے ساتھ انھی سنتوں پر قائم ہوا‘ جو آپؐ نے خود رائج کیں، یا جنھیں پہلے کے مروّج طریقوں میں سے بعض کو برقرار رکھ کر آپؐ نے سنتِ اسلام کا جز بنا لیا۔
یہ وہ معلوم و متعارف سنتیں تھیں جن پر مسجد سے لے کر خاندان‘ منڈی‘ عدالت‘ ایوانِ حکومت اور بین الاقوامی سیاست تک مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے تمام ادارات نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں عمل درآمد شروع کر دیا تھا اور بعد میں خلفائے راشدین کے عہد سے لے کر دورِ حاضر تک ہمارے اجتماعی ادارات کا ڈھانچہ انھی پر قائم ہے۔ پچھلی صدی تک تو ان ادارات کے تسلسل میں ایک دن کا انقطاع بھی واقع نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد اگر کوئی انقطاع رونما ہوا ہے تو صرف حکومت و عدالت اور پبلک لاء کے ادارات عملاً درہم برہم ہو جانے سے ہوا ہے …ان (سنتوں) کے معاملے میں ایک طرف حدیث کی مستند روایات اور دوسری طرف امت کا متواتر عمل‘ دونوں ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں۔
۲۔ دوسری تاریخی حقیقت یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے ہر زمانے میں مسلمان یہ معلوم کرنے کی پیہم کوشش کرتے رہے ہیں کہ سنتِ ثابتہ کیا ہے۔ ایک تو وہ معلوم اور متعارف سنتیں تھیں جن کا ذکر ہم اوپر کرچکے ہیں اور دوسرے ان معلوم و متعارف سنتوں کے علاوہ ایک قسم سنتوں کی وہ تھی جنھیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں شہرت اور رواجِ عام حاصل نہ ہوا تھا‘ جو مختلف اوقات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فیصلے‘ ارشاد‘ امر و نہی‘ تقریر۹۰؎ و اجازت‘ یا عمل کو دیکھ کر یا سُن کر خاص خاص اشخاص کے علم میں آئی تھیں اور عام لوگ ان سے واقف نہ ہوسکے تھے ……ان سنتوں کا علم جو متفرق افراد کے پاس بکھرا ہوا تھا‘ امت نے اس کو جمع کرنے کا سلسلہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد فوراً ہی شروع کر دیا، کیونکہ خلفا‘ حکام‘ قاضی‘ مفتی اور عوام سب اپنے اپنے دائرۂ کار میں پیش آنے والے مسائل کے متعلق کوئی فیصلہ یا عمل اپنی رائے اور استنباط کی بنا پر کرنے سے پہلے ہی معلوم کرلینا ضروری سمجھتے تھے کہ اس معاملے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ہدایت تو موجود نہیں ہے۔ اسی ضرورت کی خاطر ہر اس شخص کی تلاش شروع ہوئی جس کے پاس سنت کا کوئی علم تھا‘ اور ہر اس شخص نے جس کے پاس ایسا کوئی علم تھا خود بھی اس کو دوسروں تک پہنچانا اپنا فرض سمجھا۔ یہی روایت حدیث کا نقطۂ آغاز ہے اور ۱۱ھ سے تیسری چوتھی صدی تک ان متفرق سنتوں کو فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ موضوعات گھڑنے والوں نے ان کے اندر آمیزش کرنے کی جتنی کوششیں بھی کیں وہ قریب قریب سب ناکام بنا دی گئیں، کیونکہ جن سنتوں سے کوئی حق ثابت یا ساقط ہوتا تھا‘ جن کی بنا پر کوئی چیز حرام یا حلال ہوتی تھی‘ جن سے کوئی شخص سزا پا سکتا تھا یا کوئی ملزم بری ہو سکتا تھا، غرض یہ کہ جن سنتوں پر احکام اور قوانین کا مدار تھا‘ ان کے بارے میں حکومتیں اور عدالتیں اور افتا کی مسندیں اتنی بے پروا نہیں ہوسکتی تھیں کہ یونہی اٹھ کر کوئی شخص قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیتا اور ایک حاکم یا جج‘ یا مفتی اسے مان کر کوئی حکم صادر کر ڈالتا۔ اسی لیے جو سنتیں احکام سے متعلق تھیں ان کے بارے میں پوری چھان بین کی گئی‘ سخت تنقید کی چھلنیوں سے ان کو چھانا گیا‘ روایت کے اصولوں پر بھی انھیں پرکھا گیا اور درایت کے اصولوں پر بھی‘ اور وہ سارا مواد جمع کر دیا گیا جس کی بنا پر کوئی روایت مانی گئی ہے یا ردّ کر دی گئی ہے‘ تاکہ بعد میں بھی ہر شخص اس کے رد و قبول کے متعلق تحقیقی رائے قائم کرسکے۔ چونکہ ان کے لیے سنت قانون کی حیثیت رکھتی تھی‘ اسی پر ان کی عدالتوں میں فیصلے ہونے تھے اور ان کے گھروں سے لے کر حکومتوں تک کے معاملات چلنے تھے‘ اس لیے وہ اس کی تحقیق میں بے پروا اور لا اُبالی نہیں ہوسکتے تھے۔ اس تحقیق کے ذرائع بھی اور اس کے نتائج بھی ہم کو اسلام کی پہلی خلافت کے زمانے سے لے کر آج تک نسلاً بعد نسلٍ میراث میں ملے ہیں اور بلا اِنقطاع ہر نسل کا کیا ہوا کام محفوظ ہے۔
ان دو حقیقتوں کو اگر کوئی شخص اچھی طرح سمجھ لے اور سنت کو معلوم کرنے کے ذرائع کا باقاعدہ علمی مطالعہ کرے تو اسے کبھی یہ شبہہ لاحق نہیں ہوسکتا کہ یہ کوئی لاَیَنْحَلمعمّاہے جس سے وہ دوچار ہوگیا ہے۔

۳۔خلافتِ راشدہ کا تعامل

تیسرا۹۱؎ مآخذ خلافتِ راشدہ کا تعامل ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلامی اسٹیٹ کو خلفائے راشدین نے جس طرح چلایا، اس کے نظائر اور اس کی روایات سے حدیث‘ تاریخ اور سیرت کی کتابیں بھری پڑی ہیں اور یہ سب چیزیں ہمارے لیے ایک نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسلام میں یہ اصول شروع سے آج تک مُسلّم رہا ہے کہ دینی احکام و ہدایات کی جو تعبیریں صحابہ کرامؓ نے بالاتفاق کی ہیں (جسے اصطلاح میں اجماع کہا جاتا ہے) اور دستوری و قانونی مسائل کے جو فیصلے خلفائے راشدین نے صحابہؓ کے مشورے سے کر دیے ہیں وہ ہمارے لیے حجت ہیں‘ یعنی ان کو جوں کا توں تسلیم کرنا پڑے گا، کیونکہ صحابہؓ کے کسی معاملے میں متفق ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک مستند تعبیرِ قانون اور معتبر طریقِ عمل ہے۔ جہاں ان کے درمیان اختلافات ہوئے ہیں‘ وہاں تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اس مسئلے میں دو یا دو سے زیادہ تعبیروں کی گنجایش ہے اور ایسے معاملات میں دلیل سے ایک قول کو دوسرے قول پر ترجیح دی جاسکتی ہے، مگر جہاں ان کے درمیان کامل اتفاق ہوگیا ہے، وہاں ان کا فیصلہ لازماً ایک ہی تعبیر اور ایک ہی طرز عمل کو صحیح و مستند ثابت کردیتا ہے‘ کیونکہ یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے براہِ راست شاگرد اور تربیت یافتہ تھے اور ان سب کا متفق ہو کر دین کے معاملے میں غلطی کر جانا، یا دین کے سمجھنے میں راہِ صواب سے ہٹ جانا قابلِ تسلیم نہیں ہے۔

۴۔ مجتہدینِ امت کے فیصلے

چوتھا مآخذ مجتہدین امت کے وہ فیصلے ہیں جو انھوں نے مختلف دستوری مسائل پیش آنے پر اپنے علم و بصیرت کی روشنی میں کیے ہیں۔ یہ چاہے حجت نہ ہوں‘ مگر بہرحال اسلامی دستور کی روح اور اس کے اصولوں کو سمجھنے میں ہماری بہترین رہنمائی کرتے ہیں۔
یہ ہیں ہمارے دستور کے چار مآخذ۔ ہم جب کبھی اسلامی حکومت کا دستور تحریری شکل میں لانا چاہیں‘ ہم کو انھی مآخذ سے اس کے قواعد جمع کرکے مرتب کرنے ہوں گے‘ بالکل اسی طرح جیسے انگلستان کے لوگ اگر آج اپنا دستور مدون کرنا چاہیں تو انھیں اپنے وضعی قانون (statute law) اور عرفی قانون (common law)اور اپنے دستوری رواج (conventions of the constitution) سے ایک ایک جز اخذ کرکے صفحۂ کاغذ پر ثبت کرنا ہوگا اور بہت سے دستوری احکام و قواعد ان کو اپنی عدالتوں کے فیصلوں سے چن چن کر نکالنے ہوں گے۔۹۲؎
مشکلات اور موانع
جہاں تک اسلامی دستور مملکت کے ان مآخذ کا تعلق ہے‘ یہ سب تحریری شکل میں موجود ہیں۔ قرآن لکھا ہوا ہے۔سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تعامل خلفائے راشدین کے متعلق سارا مواد کتابوں میں مل سکتا ہے۔ مجتہدینِ امت کی آرا بھی معتبر کتابوں میں مل جاتی ہیں۔ ان میں سے کوئی چیز بھی نہ مفقود ہے نہ نایاب، لیکن اس کے باوجود ان مآخذ سے اس غیر تحریری دستور کے قواعد اخذ کرکے، ان کو تحریری دستور کی شکل دینے میں چند مشکلات اور چند دقتیں حائل ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آگے بڑھنے سے پہلے آپ ان کو بھی اچھی طرح سمجھ لیں:
(الف) اصطلاحات کی اجنبیت
سب سے پہلی دقت زبان کی ہے۔ قرآن‘ حدیث اور فقہ میں دستوری احکام کو بیان کرنے کے لیے جو اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں وہ اب بالعموم لوگوں کے لیے ناقابل فہم ہوگئی ہیں‘ کیونکہ ایک مدت دراز سے ہمارے ہاں اسلام کا سیاسی نظام معطل ہو چکا ہے اور ان اصطلاحوں کا چلن نہیں رہا ہے۔ قرآن مجید میں بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کی ہم روزانہ تلاوت کرتے ہیں، مگر یہ نہیں جانتے کہ یہ دستوری اصطلاحات ہیں۔ مثلاً: سلطان‘ ملک‘ حکم‘ امر‘ ولایت وغیرہ۔ ان الفاظ کے صحیح دستوری مفہوم کو عربی میں بھی کم لوگ سمجھتے ہیں اور ترجموں میں منتقل ہو کر ان کا سارا مطلب خبط ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی قرآن کے دستوری احکام کا ذکر سن کر حیرت کے ساتھ پوچھنے لگتے ہیں کہ قرآن میں کون سی آیت دستور سے تعلق رکھتی ہے؟ فی الواقع ان بے چاروں کی حیرت بجا ہے۔ قرآن میں کوئی سورت ’الدستور‘ کے نام سے نہیں ہے اور نہ بیسویں صدی کی اصطلاحات میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے۔
(ب) قدیم فقہی لٹریچر کی نامانوس ترتیب
دوسری دقت یہ ہے کہ ہمارے فقہی لٹریچر میں دستوری مسائل کہیں الگ ابواب کے تحت یکجا بیان نہیں کیے گئے ہیں، بلکہ دستور اور قوانین ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ قانون سے الگ دستور کا جداگانہ تصور بہت بعد کے زمانے کی پیداوار ہے‘ بلکہ خود لفظ دستور کااستعمال بھی اپنے جدید معنوں میں ابھی حال ہی میں شروع ہوا ہے، البتہ ان مسائل پر جنھیں اب ہم دستوری مسائل کہتے ہیں‘ تمام فقہائے اسلام نے بحث کی ہے‘ مگر ان کی بحثیں ہم کو فقہی کتابوں کے اندر مختلف قانونی ابواب میں بکھری ہوئی ملتی ہیں۔ ایک مسئلے پر کتاب القضاء میں بحث ہے تو دوسرے پر کتاب الامارت میں۔ ایک مسئلہ کتاب السِیَر (مسائل صلح و جنگ کی کتاب) میں بیان ہوا ہے تو دوسرا کتابُ النکاح و الطلاق میں۔ ایک مسئلہ کتاب الحدود (فوج داری قانون کی کتاب) میں آیا ہے تو دوسرا کتابُ الفئے (پبلک فینانس کی کتاب) میں۔ پھر ان کی زبان اور اصطلاحات آج کل کی رائج اصطلاحوں سے اس قدر مختلف ہیں کہ جب تک کوئی شخص قانون کے مختلف شعبوں اور ان کے مسائل پر کافی بصیرت نہ رکھتا ہو، اور پھر عربی زبان سے بھی بخوبی واقف نہ ہو‘ اس کو یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ کہاں قانون ملکی کے درمیان قانون بین الاقوام کا کوئی مسئلہ آگیا ہے اور کہاں پرسنل لا کے درمیان دستوری قانون کے کسی مسئلے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ پچھلی صدیوں کے دوران میں ہمارے بہترین قانونی دماغوں نے غایت درجہ بیش قیمت ذخیرہ چھوڑا ہے‘ مگر آج ان کی چھوڑی ہوئی میراث کو چھان پھٹک کر ایک ایک قانونی شعبے کے مواد کو الگ الگ کرنا اور اسے مُنَقّح صورت میں سامنے لانا ایک بڑی دیدہ ریزی کاکام ہے جس کے لیے موجودہ نسلیں‘ جنھوں نے مدتوں سے دوسروں کے پس خوردہ پر قناعت کرلی ہے‘ مشکل ہی سے آمادہ ہوسکتی ہیں، بلکہ ستم یہ ہے کہ آج وہ اپنی اس آبائی میراث کو بے جانے بوجھے حقارت کی نگاہ سے دیکھ رہی ہیں۔
(ج) نظامِ تعلیم کا نقص
تیسری مشکل یہ ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم ایک کافی مدت سے بڑی ناقص ہو رہی ہے۔ جو لوگ ہمارے ہاں علوم دینی پڑھتے ہیں وہ موجود زمانے کے علم السیاست اور اس کے مسائل اور دستوری قانون اور اس سے تعلق رکھنے والے معاملات سے بیگانہ ہیں۔ اس لیے وہ قرآن و حدیث اور فقہ کے پڑھنے پڑھانے اور سمجھنے سمجھانے میں تو عمریں گزار دیتے ہیں‘ مگر ان کے لیے اس وقت کے سیاسی و دستوری مسائل کو آج کل کی زبان اور اصطلاحوں میں سمجھنا اور پھر ان کے بارے میں اسلام کے اصول و احکام کو وضاحت کے ساتھ بیان کرنا سخت مشکل ہوتا ہے۔ وہ اس بات کے محتاج ہیں کہ اُن کے سامنے یہ مسائل اُس زبان اور اُن اصطلاحوں میں پیش کیے جائیں جنھیں وہ سمجھتے ہیں۔ پھر وہ آسانی کے ساتھ بتا سکتے ہیں کہ ان کے بارے میں اسلام کے کیا احکام اور اصول ہیں اور وہ کہاں کہاں بیان ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے جدید تعلیم یافتہ لوگ ہیں جو عملاً ہمارے تمدن و سیاست اور قانون و عدالت کا نظام سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ زندگی کے جدید مسائل سے تو واقف ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کا دین ان مسائل کے بارے میں کیا رہنمائی دیتا ہے۔ وہ دستور اور سیاست اور قانون کے متعلق جو کچھ جانتے ہیں مغربی تعلیمات اور مغرب کے عملی نمونوں ہی کے ذریعے سے جانتے ہیں، قرآن اور سنت اور اسلامی روایات کے بارے میں ان کی معلومات بہت محدود ہیں۔ اس لیے ان میں سے جو لوگ واقعی نیک نیتی کے ساتھ اسلامی زندگی کا از سر نو احیا چاہتے ہیں وہ بھی اس کے محتاج ہیں کہ کوئی ان مسائل کے بارے میں اسلام کی ہدایات، ان کے سامنے اس زبان میں پیش کرے جسے وہ سمجھتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی پیچیدگی ہے جو ایک صحیح اسلامی دستور کی تدوین میں حارج ہو رہی ہے۔
(د) اجتہاد بلا علم کا دعوٰی
چوتھی مشکل ایک اور ہے جو اب بڑھتے بڑھتے ایک لطیفے اور مذاق کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ حال میں یہ ایک نرالا اندازِ فکر پیدا ہوا ہے کہ اسلام میں ’پریسٹ ہڈ‘ نہیں ہے‘ قرآن اور سنت اور شریعت پر ’ملا‘ کا اجارہ نہیں ہے کہ بس وہی ان کی تعبیر کرنے کا مجاز ہو‘ جس طرح وہ تعبیر احکام اور اجتہاد و استنباط کرنے کا حق رکھتا ہے اسی طرح ہم بھی یہی حق رکھتے ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ دین کے معاملے میں ملا کی بات ہماری بات سے زیادہ وزنی ہو۔ یہ باتیں وہ لوگ کہتے ہیں جو نہ قرآن وسنت کی زبان سے واقف ہیں‘ نہ اسلامی روایات پر جن کی نگاہ ہے‘ نہ اپنی زندگی کے چند روز بھی جنھوں نے اسلام کے تحقیقی مطالعے میں صَرف کیے ہیں۔ وہ ایمان داری کے ساتھ اپنے علم کا نقص محسوس کرنے اور اسے دور کرنے کے بجائے، سرے سے علم کی ضرورت ہی کا انکار کرنے پر تُل گئے ہیں اور اس بات پر مصر ہیں کہ انھیں علم کے بغیر اپنی تعبیروں سے اسلام کی صورت بگاڑ دینے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔
اگر جہالت کی اس طغیانی کو یونہی بڑھنے دیا گیا تو بعید نہیں کل کوئی اٹھ کر کہے کہ اسلام میں ’وکیل ہڈ‘ نہیں ہے اس لیے ہر شخص قانون پر بولے گا، چاہے اس نے قانون کا ایک لفظ نہ پڑھا ہو، اور پرسوں کوئی دوسرے صاحب اٹھیں اور فرمائیں کہ اسلام میں ’انجینئر ہڈ‘ نہیں ہے اس لیے ہم بھی انجینئرنگ پر کلام کریں گے، چاہے ہم اس فن کی الف ب سے بھی واقف نہ ہوں، اور پھر کوئی تیسرے صاحب اسلام میں ’ڈاکٹر ہڈ‘ کا انکار کرکے مریضوں کا علاج کرنے کھڑے ہو جائیں، بغیر اس کے کہ ان کو علمِ طب کی ہوا بھی لگی ہو۔
میں سخت حیران ہوں کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور ذی عزت لوگ یہ کیسی اوچھی اور طفلانہ باتیں کرنے پر اتر آئے ہیں اور کیوں انھوں نے اپنی ساری قوم کو ایسا نادان فرض کرلیا ہے کہ وہ ان کی یہ باتیں سن کر آمَنَّا وَ صَدَّقْنَا کہہ دے گی۔ بے شک اسلام میں پریسٹ ہڈ نہیں ہے‘ مگر انھیں معلوم بھی ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اسلام میں نہ تو بنی اسرائیل کی طرح دین کا علم اور دینی خدمات کسی نسل اور قبیلے کی میراث ہیں اور نہ عیسائیوں کی طرح دین و دنیا کے درمیان تفریق کی گئی ہے کہ دنیا قیصروں کے حوالے اور دین پادریوں کے حوالے کر دیا گیا ہو۔ بلاشبہ یہاں قرآن اورسنت اور شریعت پر کسی کا اجارہ نہیں ہے اور ملا کسی نسل یا خاندان کا نام نہیں ہے جس کو دین کی تعبیر کرنے کا آبائی حق ملا ہوا ہو۔ جس طرح ہر شخص قانون پڑھ کر وکیل اور جج بن سکتا ہے اور ہر شخص انجینئرنگ پڑھ کر انجینئر اور طب پڑھ کر ڈاکٹر بن سکتا ہے، اسی طرح ہر شخص قرآن اور سنت کے علم پر وقت اور محنت صَرف کرکے، مسائل شریعت میں کلام کرنے کا مجاز ہوسکتا ہے۔ اسلام میں پریسٹ ہڈ نہ ہونے کا اگر کوئی معقول مطلب ہے تو وہ یہی ہے۔ نہ یہ کہ اسلام کو بازیچۂ اطفال بنا کر چھوڑ دیا گیا ہے کہ جس کا جی چاہے اٹھ کر اس کے احکام اور تعلیمات کے بارے میں ماہرانہ فیصلے صادر کرنے شروع کردے‘ خواہ اس نے کتاب اور سنت میں بصیرت پیدا کرنے کی کوئی کوشش نہ کی ہو۔ علم کے بغیر اتھارٹی بننے کا دعویٰ اگر دنیا کے کسی دوسرے معاملے میں قابلِ قبول نہیں ہے تو آخردین ہی کے معاملے میں کیوں قابل قبول ہو؟
یہ چوتھی پیچیدگی ہے جو اسلامی ریاست کے تصور کو پراگندہ کرنے اور اسلامی دستور کی تدوین کے معاملے میں اب ڈال دی گئی ہے اور اس وقت درحقیقت یہی سب سے بڑی پیچیدگی ہے۔ پہلی تین مشکلات کو تو محنت اور کوشش سے رفع کیا جا سکتا ہے اور خدا کے فضل سے ایک حد تک رفع کر بھی دیا گیا ہے، لیکن اس نئی الجھن کا علاج سخت مشکل ہے‘ خصوصاً جب کہ وہ ان لوگوں کی طرف سے ہو جو بالفعل اقتدار کی کنجیوں پر قابض ہیں۔

ضمیمہ باب ۶: سنت ِرسولؐ اللہ بحیثیت ِ مآ خذ ِقانون

ذیل میں جسٹس ایس اے رحمان صاحب کے ایک خط پر مصنف کا تبصرہ درج کیا جارہا ہے۔ وہ خط دراصل اس مراسلت کا ایک حصہ تھا جو ماہنامہ ترجمان القرآن کے صفحات میں صاحب موصوف اور پروفیسر عبدالحمید صدیقی صاحب کے درمیان ہوئی تھی۔ ان صفحات میں اس بحث کو نقل کرنے کی غرض صرف یہ ہے کہ اس سلسلے میں سنت کے متعلق جو اہم مسائل زیر بحث آگئے ہیں ان سے عام ناظرین استفادہ کرسکیں۔ فاضل مکتوب نگار کے اصل خط کو یہاں درج کرنے کی حاجت نہیں ہے، کیونکہ اس کا متعلقہ حصہ خود ہمارے تبصرے میں آگیا ہے۔
فاضل مکتوب نگار نے اپنے موقف کی وضاحت فرماتے ہوئے نمبروار جو اشارات فرمائے ہیں ان میں سے نمبر۳ کچھ بحث طلب ہے‘ کیونکہ اپنی موجودہ مختصر صورت میں وہ بہت سی غلط فہمیاں پیدا کرسکتا ہے۔ اس لیے میں اس کے متعلق کچھ باتیں اس توقع کے ساتھ ان کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ وہ ان پر پوری سنجیدگی کے ساتھ غور فرمائیں گے۔
صدیقی صاحب نے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ ائمۂ سلف کی مرتب کردہ فقہ پر نظرثانی اگر کی جاسکتی ہے تو صرف اس بنیاد پر کہ ان کا کوئی اجتہاد و استنباط قرآن و سنت کے مطابق ہے، یا نہیں۔ فاضل مکتوب نگار اس کے متعلق فرماتے ہیں:
’’جہاں تک قرآن حکیم کا تعلق ہے تفسیر و تعبیر کا حق برقرار رکھتے ہوئے ہر شخص اس سے اتفاق کرے گا، لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں سنت کا مسئلہ مختلف فیہ ہے۔‘‘
ان الفاظ سے یہ گمان ہوتا ہے کہ موصوف کے نزدیک قرآن تو اسلامی احکام معلوم کرنے کے لیے ضرور مرجع و سند ہے مگر وہ سنت کو یہ حیثیت دینے میں اس بنا پر متأمل ہیں کہ اس کا مسئلہ مختلف فیہ ہے۔ اب یہ بات ان کے بیان سے واضح نہیں ہوتی کہ اس مسئلے میں کیا چیز مختلف فیہ ہے؟

کیا سنت کا مآخذِ قانون ہونا مسلمانوں میں اختلافی مسئلہ ہے؟
اگر ان کا مطلب یہ ہے کہ بجائے خود سنت (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل اور امر و نہی) کا مآخذ قانون اور مرجع احکام ہونا ہی مختلف فیہ ہے تو میں عرض کروں گا کہ یہ ایک خلافِ واقعہ بات ہے۔ جس روز سے امتِ مسلمہ وجود میں آئی ہے اس وقت سے آج تک یہ بات اہلِ اسلام میں کبھی مختلف فیہ نہیں رہی ہے۔ تمام امت نے ہمیشہ اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مطاع اور متبوع ہیں‘ ان کے حکم کی اطاعت اور ان کے امر و نہی کا اتباع ہر مسلمان پر واجب ہے۔ جس طریقے پر چلنے کی انھوں نے اپنے قول و عمل اور تقریر۹۳؎ سے تعلیم دی ہے اس کی پیروی پر ہم مامور ہیں اور زندگی کے جس معاملے کا بھی انھوں نے فیصلہ کر دیا ہے اس میں کوئی دوسرا فیصلہ کر لینے کے ہم مجاز نہیں ہیں۔
ہمیں نہیں معلوم کہ تاریخ اسلام کے گذشتہ ۱۳۸۱ سال۹۴؎ میں کس نے اور کب اس سے اختلاف کیا ہے۔ نرالی اپج نکالنے والے کچھ منفرد اور شاذ قسم کے خبطی تو دنیا میں ہمیشہ ہرگروہ میں پائے جاتے رہے ہیں۔ اس طرح کے افراد نے کبھی مُسلّماتِ قوم کے خلاف کوئی بات کر دی ہو تو اس کی بنا پر یہ کہہ دینا صحیح نہیں ہے کہ ایک عالم گیر مُسَلَّمہ مختلف فیہ ہوگیا ہے، اس لیے وہ مُسَلَّمہ نہیں رہا۔ اس طرح تو خبطیوں کی تاخت سے قرآن بھی نہیں بچا ہے۔ کہنے والے تحریفِ قرآن تک کا دعویٰ کر بیٹھے ہیں۔ اب کیا ان کی وجہ سے ہم کلامِ الٰہی کے مرجع و سند ہونے کو بھی مختلف فیہ مان لیں گے؟
کیا اختلافات کی گنجائش ہونا سنت کے ماخذِ قانون ہونے میں مانع ہے؟
لیکن اگر مختلف فیہ سنت کا بجائے خود مرجع و سند ہونا نہیں ہے بلکہ اختلاف جو کچھ بھی واقع ہوتا ہے اور ہوا ہے وہ اس امر میں ہے کہ کسی خاص مسئلے میں جس چیز کے سنت ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہو وہ فی الواقع سنتِ ثابتہ ہے یا نہیں‘ تو ایسا ہی اختلاف قرآن کی آیات کے مفہوم و منشا میں بھی واقع ہوتا ہے۔ ہر صاحب علم یہ بحث اٹھا سکتا ہے کہ جو حکم کسی مسئلے میں قرآن سے نکالا جارہا ہے وہ درحقیقت اس سے نکلتا ہے یا نہیں۔ فاضل مکتوب نگار نے خود قرآن مجید میں اختلاف تفسیر و تعبیر کا ذکر کیا ہے اور اس اختلاف کی گنجائش ہونے کے باوجود وہ بجائے خود قرآن کو مرجع و سند مانتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اسی طرح الگ الگ مسائل کے متعلق سنتوں کے ثبوت و تحقیق میں اختلاف کی گنجائش ہونے کے باوجود فی نفسہ’سنت‘ کو مرجع و سند تسلیم کرنے میں انھیں کیوں تامل ہے۔
یہ بات ایک ایسے فاضل قانون دان سے جیسے کہ محترم مکتوب نگار ہیں‘ مخفی نہیں رہ سکتی کہ قرآن کے کسی حکم کی مختلف ممکن تعبیرات میں سے جس شخص‘ ادارے یا عدالت نے تفسیر و تعبیر کے معروف علمی طریقے استعمال کرنے کے بعد بالٓاخر جس تعبیر کو حکم کا اصل منشا قرار دیا ہو اس کے علم اور دائرۂ کار کی حد تک وہی اللہ کا حکم ہے، اگرچہ یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ حقیقت میں بھی وہی حکم خدا ہے، بالکل اسی طرح سنت کی تحقیق کے علمی ذرائع استعمال کرکے کسی مسئلے میں جو سنت بھی ایک فقیہ‘ یا لیجسلیچر یا عدالت کے نزدیک ثابت ہو جائے وہی اس کے لیے حکمِ رسولؐ ہے، اگرچہ قطعی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حقیقت میں رسولؐ کا حکم وہی ہے۔ ان دونوں صورتوں میں یہ امر تو ضرور مختلف فیہ رہتا ہے کہ میرے نزدیک خدا یارسول کا حکم کیاہے اور آپ کے نزدیک کیا، لیکن جب تک میں اور آپ خدا اور اس کے رسولؐ کو آخری سند (final authority)مان رہے ہیں‘ ہمارے درمیان یہ امر مختلف فیہ نہیں ہوسکتا کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم بجائے خود ہمارے لیے قانون واجب الاتباع ہے۔ لہٰذا میں جناب ایس اے رحمان صاحب کی یہ بات سمجھنے سے معذور ہوں کہ احکامِ فقہ کی تحقیق میں وہ قرآن کو تو ان اختلافات کے باوجود مرجع و سند مانتے ہیں جو اس کے منشا کی تعیین میں واقع ہو سکتے ہیں اور ہوئے ہیں‘ مگر سنت کو یہ حیثیت دینے میں اس بنا پر تامل کرتے ہیں کہ جزئیات مسائل کے متعلق سنتوں کے مُشَخّص کرنے میں اختلافات واقع ہوئے ہیں اور ہوسکتے ہیں۔
کیا احادیثِ موضوعہ کی موجودگی واقعی بے اطمینانی کی موجب ہے؟
آگے چل کر صاحب موصوف سنت کو سند قرار نہ دینے کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ:متعدد احادیث موضوعہ متداولہ مجموعوں میں شامل ہوگئی ہیں،‘ اور اس کے ساتھ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ’اس موضوع پر ضخیم کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔‘ بظاہر اس ارشاد سے ان کا مدعا یہ متصور ہوتا ہے کہ سنت ایک مشکوک چیز ہے۔ ممکن ہے کہ یہ شبہ اختصار بیان کی وجہ سے پیدا ہوتا ہو، اور فی الواقع ان کا مدعا یہ نہ ہو۔ لیکن اگر ان کا مدعا یہی ہے تو میں عرض کروں گا کہ وہ اس مسئلے پر مزید غور فرمائیں۔ اِنْ شَائَ اللہ انھیں خود محسوس ہوگا کہ جس چیز کو وہ سنت کے مشکوک ہونے کی دلیل سمجھ رہے ہیں وہی دراصل اس کے محفوظ ہونے کا اطمینان دلاتی ہے۔ میں تھوڑی دیر کے لیے اس سوال کو چھوڑ دیتا ہوں کہ وہ کون سے متداول مجموعے ہیں جن میں احادیثِ موضوعہ شامل ہوگئی ہیں۔ اگرچہ مختلف محدثین نے جو مجموعے بھی مرتب کیے ہیں ان میں اپنی حد تک پوری چھان بین کرکے انھوں نے یہی کوشش کی ہے کہ قابلِ اعتماد روایات جمع کریں، مگر اس معاملے میں صحاح ستہ اور موطا کا پایہ جس قدر بلند ہے وہ اہلِ علم سے پوشیدہ نہیں ہے۔ تاہم تھوڑی دیر کے لیے ہم یہ مان بھی لیں کہ سب مجموعوں میں موضوعات نے کچھ نہ کچھ راہ پالی ہے تو غور طلب بات یہ ہے کہ وہ ’ضخیم کتابیں‘ جن کا ذکر فاضل مکتوب نگار کر رہے ہیں آخر ہیں کس موضوع پر۔ ان کا موضوع یہی تو ہے کہ کون کون سی حدیثیں وضعی ہیں‘ کون کون سے راوی کذاب اور وضاع حدیث ہیں‘ کہاں کہاں موضوع احادیث نے راہ پائی ہے‘ کس کتاب کی کون کون سی روایات ساقط الاعتبار ہیں‘ کن راویوں پر ہم اعتماد کرسکتے ہیں اور کن پر نہیں کرسکتے‘ ’موضوع‘ کو’صحیح‘ سے جدا کرنے کے طریقے کیا ہیں اور روایات کی صحت‘ ضعف‘ علت وغیرہ کی تحقیق کن کن طریقوں سے کی جاسکتی ہے۔ ان ضخیم کتابوں کی اطلاع پاکر تو ہمیں امن کا ویسا ہی اطمینان حاصل ہوتا ہے جیسا کسی کو یہ سن کر ہو کہ بکثرت چور پکڑ لیے گئے ہیں‘ بڑے بڑے جیل خانے ان سے بھر گئے ہیں‘ بہت سے اموال مسروقہ برآمد کرلیے گئے ہیں اور سراغ رسانی کا ایک باقاعدہ انتظام موجود ہے جس سے آئندہ بھی چور پکڑے جاسکتے ہیں، لیکن تعجب کی بات ہوگی اگر کسی کے لیے یہی اطلاع الٹی بے اطمینانی کی موجب ثابت ہو، اور وہ اسے بدامنی کے ثبوت میں پیش کرنے لگے۔ بے شک بڑی مثالی حالت ِ امن ہوتی، اگر چوری کا سرے سے کبھی وقوع ہی نہ ہوتا۔ بلاشبہ اس طرح کی واردات ہو جانے سے کچھ نہ کچھ بے اطمینانی تو پیدا ہو ہی جاتی ہے‘ لیکن مکمل حالت ِ امن زندگی کے اور کس معاملے میں ہم کو نصیب ہے جو یہاں ہم اسے طلب کریں۔ جس حالت پر ہم دنیا میں بالعموم مطمئن رہتے ہیں اس کے لیے اتنا امن کافی ہے کہ چوروں کی اکثریت پکڑ کر بند کر دی جائے اور جو قلیل تعداد بھی آزاد پھر رہی ہو اس کے پکڑے جانے کا معقول انتظام موجود ہو۔ کیا ہمارے سپریم کورٹ کے فاضل جج سنت کے معاملے میں اتنے امن پر قانع نہیں ہوسکتے؟ کیا وہ اس مکمل امن سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہیں جس میں سرے سے چوری کے وقوع ہی کا نام و نشان نہ پایا جائے؟
روایات کی صحت جانچنے کے اصول
آخر میں فاضل محترم تحریر فرماتے ہیں:
’’میں اس معاملے میں بھی افراط و تفریط کا قائل نہیں۔ سنن متوارث جن کا تعلق طریق عبادات مثلاً: نماز یا مناسک حج وغیرہ سے ہے ان کی حیثیت مصون و مامون ہے، لیکن باقی ماندہ مواد احادیث روایت کے ساتھ درایت کے اصولوں پر پرکھا جانا چاہیے، پیش تر اس کے کہ اس کی حجیت قبول کی جائے میں تاریخی تنقید کا قائل ہوں۔‘‘
یہ ایک حد تک صحیح نقطۂ نظر ہے لیکن اس میں چند امور ایسے ہیں جن پر میں آں محترم کو مزید غور و فکر کی دعوت دوں گا۔ جس تاریخی تنقید کے وہ قائل ہیں‘ فنِ حدیث اسی تنقید ہی کا تو دوسرا نام ہے۔ پہلی صدی سے آج تک اس فن میں یہی تنقید ہوتی رہی ہے اورکوئی فقیہ یا محدث اس بات کا قائل نہیں رہا ہے کہ عبادات ہوں یا معاملات‘ کسی مسئلے کے متعلق بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت دی جانے والی کسی روایت کو تاریخی تنقید کے بغیر حجت کے طور پر تسلیم کرلیا جائے۔ یہ فن حقیقت میں اس تنقید کا بہترین نمونہ ہے اور جدید زمانے کی بہتر سے بہتر تاریخی تنقید کو بھی مشکل ہی سے اس پر کوئی اضافہ و ترقی (improvement)کہا جا سکتا ہے، بلکہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ محدثین کی تنقید کے اصول اپنے اندر ایسی نزاکتیں اور باریکیاں رکھتے ہیں جن تک موجودہ دور کے ناقدینِ تاریخ کا ذہن بھی ابھی تک نہیں پہنچا ہے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر میں بلا خوفِ تردید یہ کہوں گا کہ دنیا میں صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و سیرت اور ان کے دور کی تاریخ کا ریکارڈ ہی ایسا ہے جو اس کڑی تنقید کے معیاروں پر کسا جانا برداشت کرسکتا تھا جو محدثین نے اختیارکی ہے‘ ورنہ آج تک دنیا کے کسی انسان اور کسی دور کی تاریخ بھی ایسے ذرائع سے محفوظ نہیں رہی ہے کہ ان سخت معیاروں کے آگے ٹھیر سکے اور اس کو قابلِ تسلیم تاریخی ریکارڈ مانا جاسکے۔
مجھے افسوس ہے کہ ہمارے جدید زمانے کے اہلِ علم اس فن کا تحقیقی مطالعہ نہیں کرتے اور قدیم طرز کے اہلِ علم جو اس میں بصیرت رکھتے ہیں وہ اس کو عصرِ حاضر کی زبان اور اسالیب بیان میں پیش کرنے سے قاصر ہیں۔اسی وجہ سے باہر والے تو درکنار خود ہمارے اپنے گھر کے لوگ آج اس کی قدر نہیں پہچان رہے ہیں، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ علوم حدیث میں سے اگر صرف ایک عِلَلِ حدیث ہی کے فن کی تفصیلات سامنے رکھ دی جائیں تو دنیا کو معلوم ہو کہ تاریخی تنقید کس چیز کا نام ہے۔ تاہم میں یہ کہوں گا کہ مزید اصلاح و ترقی کا دروازہ بند نہیں ہے۔ کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ روایات کو جانچنے اور پرکھنے کے جو اصول محدثین نے اختیار کیے ہیں وہ حرفِ آخر ہیں۔ آج اگر کوئی ان کے اصولوں سے اچھی طرح واقفیت پیدا کرنے کے بعد ان میں کسی کمی یا خامی کی نشان دہی کرے اورزیادہ اطمینان بخش تنقید کے لیے کچھ اصول معقول دلائل کے ساتھ سامنے لائے تو یقیناً اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ ہم میں سے آخر کون یہ نہ چاہے گا کہ کسی چیز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت قراردینے سے پہلے اس کے سنتِ ثابتہ ہونے کا تیقن حاصل کرلیا جائے اورکوئی کچی پکی بات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہ ہونے پائے۔
درایت کی حقیقت
احادیث کے پرکھنے میں روایت کے ساتھ درایت کا استعمال بھی‘ جس کا ذکر محترم مکتوب نگار نے کیا ہے‘ ایک متفق علیہ چیز ہے۔ اگرچہ درایت کے مفہوم‘ اصول اور حدود میں فقہا و محدثین کے مختلف گروہوں کے درمیان اختلاف رہے ہیں‘ لیکن بجائے خود اس کے استعمال پر تقریبًا اتفاق ہے اور دور صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک اسے استعمال کیا جارہا ہے، البتہ اس سلسلے میں جو بات پیشِ نظر رہنی چاہیے اور مجھے امید ہے کہ فاضل مکتوب نگار کو بھی اس سے اختلاف نہ ہوگا‘ وہ یہ ہے کہ درایت صرف انھی لوگوں کی معتبر ہوسکتی ہے جو قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی کے مطالعے و تحقیق میں اپنی عمر کاکافی حصہ صرف کرچکے ہوں‘ جن میں ایک مدت کی ممارست نے ایک تجربہ کار جوہری کی سی بصیرت پیدا کر دی ہو اور خاص طور پر یہ کہ جن کی عقل اسلامی نظام فکر و عمل کے حدود اربعہ سے باہر کے نظریات‘ اصول اور اقدار لے کر اسلامی روایات کو ان کے معیار سے پرکھنے کا رجحان نہ رکھتی ہو۔ بلاشبہ عقل کے استعمال پر ہم کوئی پابندی نہیں لگا سکتے‘ نہ کسی کہنے والے کی زبان پکڑ سکتے ہیں، لیکن بہرحال یہ امر یقینی ہے کہ اسلامی علوم سے کورے لوگ اگر اناڑی پن کے ساتھ کسی حدیث کو خوش آئند پا کر قبول اور کسی کو اپنی مرضی کے خلاف پاکر رد کرنے لگیں، یااسلام سے مختلف کسی دوسرے نظامِ فکر و عمل میں پرورش پائے ہوئے حضرات یکایک اٹھ کر اجنبی معیاروں کے لحاظ سے احادیث کے رد و قبول کا کاروبار پھیلا دیں تو مسلم ملت میں نہ ان کی درایت مقبول ہوسکتی ہے اور نہ اس ملت کا اجتماعی ضمیر ایسے بے تکے عقلی فیصلوں پر کبھی مطمئن ہوسکتا ہے۔ اسلامی حدود میں تو اسلام ہی کی تربیت پائی ہوئی عقل اور اسلام کے مزاج سے ہم آہنگی رکھنے والی عقل ہی ٹھیک کام کرسکتی ہے۔ اجنبی رنگ و مزاج کی عقل یا غیر تربیت یافتہ عقل بجز اس کے کہ انتشار پھیلائے، کوئی تعمیری خدمات اس دائرے میں انجام نہیں دے سکتی۔
سنت کے معتبر ہونے کے دلائل
سنت کی جو تقسیم محترم مکتوب نگار نے: ’سننِ متوارث جن کا تعلق طریق عبادات سے ہے‘ اور’باقی ماندہ مواد احادیث‘ میں کی ہے‘ اور ان میں سے مقدم الذکر کو مصون و مامون اور موخر الذکر کو محتاجِ تنقید قرار دیا ہے‘ اس سے اتفاق کرنا ہمارے لیے مشکل ہے۔ بظاہر اس تقسیم میںجو تصور کام کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ جو طریقے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادات کے متعلق سکھائے تھے وہ تو امت میں عملاً جاری ہوگئے اور نسل کے بعد نسل ان کی پیروی کرتی رہی‘ اس لیے یہ ’’متوارث‘‘ سنتیں محفوظ رہ گئیں‘ باقی رہے دوسرے معاملاتِ زندگی تو ان میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات نہ عملاً جاری ہوئیں‘ نہ ان پر کوئی نظام تمدن و معاشرت کام کرتا رہا‘ نہ وہ بازاروں اور منڈیوں میں رائج ہوئیں‘ نہ عدالتوں میں ان پر فیصلے ہوئے‘ اس لیے وہ بس متفرق لوگوں کی سینہ بَہ سینہ روایات تک محدود رہ گئیں اور یہی مواد ایسا ہے کہ اب اس میں سے بڑی دیدہ ریزی کے بعد قابل اعتبار چیزیں تلاش کرنی ہوں گی۔ فاضل مکتوب نگار کا تصور اگر اس کے سوا کچھ اور ہے تو میں بہت شکر گزار ہوں گا کہ وہ میری غلط فہمی رفع کردیں، لیکن اگر یہی ان کا تصور ہے تو میں عرض کروں گا کہ یہ تاریخ سنت کی واقعی صورت حال سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عہد نبوت میں مسلمانوں کے لیے محض ایک پیرو مرشد اور واعظ نہیں تھے، بلکہ عملاً ان کی جماعت کے قائد‘ رہنما‘ حاکم‘ قاضی‘ شارع‘ مربی‘ معلم سب کچھ تھے اور عقائد و تصورات سے لے کر عملی زندگی کے تمام گوشوں تک مسلم سوسائٹی کی پوری تشکیل آپؐ ہی کے بتائے، سکھائے اور مقرر کیے ہوئے طریقوں پر ہوئی تھی۔ اس لیے یہ کبھی نہیں ہوا کہ آپؐ نے نماز، روزے اور مناسکِ حج کی جو تعلیم دی ہو، بس وہی مسلمانوں میں رواج پاگئی ہو‘ اور باقی باتیں محض وعظ و ارشاد میں مسلمان سن کر رہ جاتے ہوں، بلکہ فی الواقع جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ جس طرح آپؐ کی سکھائی ہوئی نماز فوراً مسجدوں میں رائج ہوئی اور اسی وقت جماعتیں اس پر قائم ہونے لگیں۔ ٹھیک اسی طرح شادی بیاہ اور طلاق و وراثت کے متعلق جو قوانین آپؐ نے مقرر کیے انھی پر مسلم خاندانوں میں عمل شروع ہوگیا‘ لین دین کے جو ضابطے آپؐ نے مقرر کیے انھی کا بازاروں میں چلن ہونے لگا‘ مقدمات کے جو فیصلے آپؐ نے کیے وہی ملک کا قانون قرارپائے‘ لڑائیوں میں جو معاملات آپؐ نے دشمنوں کے ساتھ اور فتح پا کر مفتوح علاقوں کی آبادی کے ساتھ کیے وہی مسلم مملکت کے ضابطے بن گئے اور فی الجملہ اسلامی معاشرہ اور اس کا نظامِ حیات اپنے تمام پہلوئوں کے ساتھ انھی سنتوں پر قائم ہوا جو آپؐ نے یا تو خود رائج کیں یا جنھیں پہلے کے مُروّج طریقوں میں سے بعض کو برقرار رکھ کر آپؐ نے سنتِ اسلام کا جز بنا لیا۔ یہ وہ معلوم و متعارف سنتیں تھیں جن پر مسجد سے لے کر خاندان‘ منڈی‘ عدالت‘ ایوانِ حکومت اور بین الاقوامی سیاست تک مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے تمام ادارات نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں عمل درآمد شروع کر دیا تھا اور بعد میں خلفائے راشدین کے عہد سے لے کر دور حاضر تک ہمارے اجتماعی ادارات کا ڈھانچہ انھی پر قائم ہے۔ پچھلی صدی تک تواِن ادارات کے تسلسل میں ایک دن کا انقطاع بھی واقع نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد اگر کوئی انقطاع رونما ہوا ہے تو صرف حکومت و عدالت اور پبلک لاکے ادارات عملاً درہم برہم ہو جانے کی وجہ سے ہوا ہے۔ اگر آپ ’متوارث‘ سنتوں کی محفوظیت کے قائل ہیں تو عبادات اور معاملات دونوں سے تعلق رکھنے والی یہ سب معلوم و متعارف سنتیں متوارث ہی ہیں۔ ان کے معاملے میں ایک طرف حدیث کی مستند روایات اور دوسری طرف امت کا متواتر عمل‘ دونوں ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ان میں مسلمانوں کی بے راہ روی سے جوالحاقی چیز بھی کبھی داخل ہوئی ہے، علمائے امت نے اپنے اپنے دور میں بروقت ’بدعت‘ کی حیثیت سے اس کی الگ نشان دہی کر دی ہے اور قریب قریب ہر ایسی بدعت کی تاریخ موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کس زمانے سے اس کا رواج شروع ہوا، مسلمانوں کے لیے ان بدعات کو سنن متعارفہ سے ممیز کرنا کبھی مشکل نہیں رہا ہے۔

اخبارِ آحاد کی حیثیت
ان معلوم و متعارف سنتوں کے علاوہ ایک قسم سنتوں کی وہ تھی جنھیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں شہرت اور رواجِ عام حاصل نہ ہوا تھا‘ جو مختلف اوقات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فیصلے‘ ارشاد‘ امر و نہی‘ تقریر و اجازت یا عمل کو دیکھ کر یا سُن کر خاص خاص اشخاص کے علم میں آئی تھیں اور عام لوگ ان سے واقف نہ ہوسکے تھے۔ یہ سنتیں عبادات اور معاملات دونوں ہی طرح کے امور سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ ان کا تعلق صرف معاملات سے تھا۔ ان سنتوں کا علم جو متفرق افراد کے پاس بکھرا ہوا تھا، امت نے اس کو جمع کرنے کا سلسلہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد فوراً ہی شروع کر دیا، کیونکہ خلفا‘ حکام‘ قاضی‘ مفتی اور عوام سب اپنے اپنے دائرۂ کار میں پیش آمدہ مسائل کے متعلق کوئی فیصلہ یا عمل اپنی رائے اور استنباط کی بنا پر کرنے سے پہلے یہ معلوم کرنا ضروری سمجھتے تھے کہ اس معاملے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ہدایت تو موجود نہیں ہے۔ اسی ضرورت کی خاطر ہر اس شخص کی تلاش شروع ہوئی جس کے پاس سنت کا کوئی علم تھا‘ اور ہر اس شخص نے جس کے پاس ایسا کوئی علم تھا خود بھی اس کو دوسروں تک پہنچانا اپنا فرض سمجھا۔ یہی روایت حدیث کا نقطۂ آغاز ہے اور ۱۱ھ سے تیسری چوتھی صدی تک ان متفرق سنتوں کو فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ موضوعات گھڑنے والوں نے ان کے اندر آمیزش کرنے کی جتنی بھی کوششیں کیں وہ قریب قریب سب ناکام ہوگئیں‘ کیونکہ جن سنتوں سے کوئی حق ثابت یا ساقط ہوتا تھا‘ جن کی بنا پر کوئی چیز حرام یا حلال ہوتی تھی‘ جن سے کوئی شخص سزا پا سکتا تھا، یا کوئی ملزم بری ہوسکتا تھا، غرض یہ کہ جن سنتوں پر احکام اور قوانین کا مدار تھا ان کے بارے میں حکومتیں اور عدالتیں اور افتا کی مسندیں اتنی بے پروا نہیں ہوسکتی تھیں کہ یوں ہی اٹھ کر کوئی شخص قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیتا اور ایک حاکم یا جج یا مفتی اسے مان کر کوئی حکم صادر کر ڈالتا۔ اسی لیے جو سنتیں احکام سے متعلق تھیں ان کے بارے میں پوری چھان بین کی گئی‘ سخت تنقید کی چھلنیوں سے ان کو چھانا گیا‘ روایت کے اصولو ں پر بھی انھیں پرکھا گیا اور درایت کے اصولوں پر بھی‘ اور وہ سارا مواد جمع کر دیا گیا جس کی بنا پر کوئی روایت مانی گئی ہے، یا رد کر دی گئی ہے تاکہ بعد میں بھی ہر شخص اس کے رد و قبول کے متعلق تحقیقی رائے قائم کرسکے۔ ان سنتوں کا ایک معتدبہ حصہ فقہا اور محدثین کے درمیان متفق علیہ ہے اور ایک حصے میں اختلافات ہیں۔ بعض لوگوں نے ایک چیز کو سنت مانا ہے اور بعض نے نہیں مانا، مگر اس طرح کے تمام اختلافات میں صدیوں اہلِ علم کے درمیان بحثیں جاری رہی ہیں اور نہایت تفصیل کے ساتھ ہر نقطۂ نظر کا استدلال‘ اور وہ بنیادی مواد جس پر یہ استدلال مبنی ہے‘ فقہ اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ آج کسی صاحب علم کے لیے بھی مشکل نہیں ہے کہ کسی چیز کے سنت ہونے یا نہ ہونے کے متعلق تحقیق سے خود کوئی رائے قائم کرسکے۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ سنت کے نام سے متوحش ہونے کی کسی کے لیے بھی کوئی معقول وجہ ہوسکتی ہے، البتہ ان لوگوں کا معاملہ مختلف ہے جو اس شعبۂ علم سے واقف نہیں ہیں اور جنھیں بس دور ہی سے حدیثوں میں اختلافات کا ذکر سن کر گھبراہٹ لاحق ہوگئی ہے۔
احکامی احادیث کی امتیازی حیثیت
اس سلسلے میں یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ احادیث میں جو مواد احکام سے متعلق نہیں ہے، بلکہ جس کی نوعیت محض تاریخی ہے‘ یا جو فتن‘ ملاحم‘ رقاق‘ مناقب‘ فضائل اور اسی طرح کے دوسرے امور سے تعلق رکھتا ہے‘ اس کی چھان بین میں وہ عرق ریزی نہیں کی گئی ہے جو احکامی سنتوں کے باب میں ہوئی ہے۔ اس لیے موضوعات نے اگر راہ پائی بھی ہے تو زیادہ تر انھی ابواب کی روایات میں پائی ہے۔ احکامی سنتیں بے اصل اور جھوٹی روایتوں سے تقریباً بالکل ہی پاک کر دی گئی ہیں۔ ان سے تعلق رکھنے والی روایتوں میں ضعیف خبریں تو ضرور موجود ہیں، مگر موضوعات کی نشان دہی مشکل ہی سے کی جاسکتی ہے اور اخبارِ ضعیفہ میں سے بھی جس کسی کو فقہ کے کسی سکول نے قبول کیا ہے اس بنا پر کیا ہے کہ اس کے نزدیک وہ قرآن سے‘ سنن متعارفہ کے جانے پہچانے نظام سے‘ اور شریعت کے جامع اصولوں سے مناسبت رکھتی ہے‘ یعنی روایتہ ضعیف ہونے کے باوجود درایۃًاس میں معنی کی قوت موجود ہے۔
محترم مکتوب نگار کی چند سطروں پر یہ تفصیلی تبصرہ میں نے صرف اس لیے کیا ہے کہ یہ سطریں کسی عام آدمی کے قلم سے نہیں نکلی ہیں، بلکہ ایک ایسے بزرگ کے قلم سے نکلی ہیں جنھیں ہمارے سپریم کورٹ کے جج کی بلند پوزیشن حاصل ہے۔ سنت کی شرعی و قانونی حیثیت کے متعلق اس پوزیشن کے بزرگوں کی رائے میں ذرہ برابر بھی کوئی کمزور پہلو ہو تو وہ بڑے دور رس نتائج پیدا کرسکتا ہے۔ قریب کے زمانے میں سنت کے متعلق عدلیہ کی بعض دوسری بلند پایہ شخصیتوں کے ایسے ریمارکس بھی سامنے آئے ہیں جو صحیح نقطۂ نظر سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ جو باتیں میں نے اس تبصرے میں عرض کی ہیں انھیں فاضل مکتوب نگار ہی نہیں‘ ہمارے دوسرے حکام عدالت بھی اسی بے لاگ نگاہ سے ملاحظہ فرمائیں جس کی ہم اپنی عدلیہ سے توقع رکھتے ہیں۔ (ترجمان القرآن، دسمبر ۱۹۵۸ء)



باب۷

۲۴ /نومبر ۱۹۵۲ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو اسلامی دستور کے موضوع پر ایک محفل مذاکرہ میں شرکت کے لیے مدعو کیا تھا۔ اس مجلس کا مقصد یہ تھا کہ ملک کے پڑھے لکھے طبقے‘ خصوصیت سے وکلا کے ذہن میں اسلامی دستور کے متعلق جو الجھنیں ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ زمانہ ملک کی تاریخ میں بڑا اہم تھا اور سارے ملک میں اسلامی دستور کا مطالبہ بڑے زور شور سے برپا تھا۔
نومبر۱۹۵۲ء میں ناظم الدین رپورٹ پیش کی جانے والی تھی، لیکن عوامی مطالبے کے پیشِ نظر رپورٹ کے اجرا کو ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ فطری طور پر مغربی تعلیم یافتہ طبقے کے ذہن میں بہت سے سوالات ابھر رہے تھے جن کا جواب ضروری تھا۔ مولانا مودودیؒ نے اس محفلِ مذاکرہ میں شرکت کرکے کئی گھنٹے کے بحث و مباحثے کے ذریعے اس ضرورت کو پورا کیا۔ مذاکرے کا آغاز مولانا مودودی کی ایک تقریر سے ہوا جس میں موصوف نے اسلامی ریاست اور اسلامی دستور کے بنیادی خدوخال واضح کیے اور اس کے بعد کئی گھنٹے تک سوال و جواب کا سلسلہ چلتا رہا۔ مندرجہ ذیل صفحات میں مولانا موصوف کی تقریر پیش کی جارہی ہے جو اسلامی ریاست کی بنیادوں کو واضح کرتی ہے۔(مرتب)

اسلامی ریاست کی بنیادیں

میں سب سے پہلے دستور و ریاست کے چند بڑے بڑے اور بنیادی مسائل کو لے کر مختصراً یہ بتائوں گا کہ اسلام کے اصلی مآخذ میں ان کے متعلق کیا قواعد ہمیں ملتے ہیں۔ اس سے آپ خود یہ اندازہ کرسکیں گے کہ اسلام دستوری مسائل میں کوئی راہنمائی کرتا ہے یا نہیں‘ اور کرتا ہے تو آیا اس کی نوعیت محض سفارشات کی ہے، یا ایسے قطعی احکام کی جنھیں ہم مسلمان ہوتے ہوئے رد نہیں کرسکتے۔ اس سلسلے میں طوالت سے بچنے کے لیے میں دستور کے صرف ۹ بنیادی مسائل پر گفتگو کروں گا:
۱۔ پہلا سوال یہ ہے کہ حاکمیت کس کی ہے؟ کسی بادشاہ کی؟ یا کسی طبقے کی؟ یا پوری قوم کی؟ یا خدا کی؟
۲۔ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاست کے حدود عمل کیا ہیں؟ کس حد تک وہ اطاعت کی مستحق ہے اور کہاں اس کی اطاعت کا حق ساقط ہو جاتا ہے؟
۳۔ تیسرا بنیادی سوال دستور کے بارے میں یہ ہے کہ ریاست کے مختلف اعضا (organs of the state) یعنی انتظامیہ (executive)،عدلیہ (judiciary) اور مقننہ (legislature) کے الگ الگ حدود عمل کیا ہیں؟ ان میں سے ہر ایک کیا فریضہ ادا کرے گا اور کن حدود کے اندر کرے گا؟ اور پھر ان کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہوگی؟
۴۔ چوتھا اہم سوال یہ ہے کہ ریاست کا مقصدِ وجود کیا ہے؟ کس غرض کے لیے ریاست کام کرے گی اور اس کی پالیسی کے بنیادی اصول کیا ہیں؟
۵۔ پانچواں سوال یہ ہے کہ ریاست کے نظام کو چلانے کے لیے حکومت کی تشکیل کیسے کی جائے گی؟
۶۔ چھٹا سوال یہ ہے کہ حکومت کے نظام کو چلانے والوں کی صفات (qualifications) کیا ہوں گی؟ کون لوگ اس کو چلانے کے اہل قراردیے جائیں گے؟
۷۔ ساتواں سوال یہ ہے کہ دستور میں شہریت کی بنیادیں کیا ہوں گی؟ کیسے کوئی شخص اس ریاست کا شہری قرار پائے گا اور کیسے نہیں؟
۸۔ آٹھواں سوال یہ ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کیا ہیں؟
۹۔ نواں سوال یہ ہے کہ شہریوں پر ریاست کے حقوق کیا ہیں؟
ہر دستور کے معاملے میں یہ سوالات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اور ہمیں دیکھنا ہے کہ اسلام ان سوالات کا کیا جواب دیتا ہے؟

۱۔حاکمیت کس کی ہے؟

سب سے پہلے اس سوال کو لیجیے کہ اسلامی ریاست کا دستور ’’حاکمیت‘‘ کا مقام کس کو دیتا ہے؟
اس کا قطعی اور ناطق جواب قرآن سے ہمیں یہ ملتا ہے کہ حاکمیت ہر معنی میں اللہ تعالیٰ کی ہے، اس لیے کہ وہی فی الواقع حاکمِ حقیقی ہے اور اسی کا یہ حق ہے کہ اس کو حاکمِ اعلیٰ مانا جائے۔ اس مسئلے کو اگر کوئی شخص اچھی طرح سمجھنا چاہے تو میں اسے مشورہ دوں گا کہ پہلے وہ’حاکمیت‘ کے معنی اور تصور کو اچھی طرح ذہن نشین کرلے۔
حاکمیت کا مفہوم
علمِ سیاست کی اصطلاح میں یہ لفظ اقتدار اعلیٰ اور اقتدار مطلق کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ کسی شخص یا مجموعۂ اشخاص یا ادارے کے صاحب حاکمیت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا حکم قانون ہے۔ اسے افرادِ ریاست پر حکم چلانے کے غیر محدود اختیارات حاصل ہیں۔ افراد اس کی غیر مشروط اطاعت پر مجبور ہیں‘ خواہ بطوع و رغبت یا بکراہت۔ اس کے اختیارات حکمرانی کو اس کے اپنے ارادے کے سوا کوئی خارجی چیز محدود کرنے والی نہیں ہے۔ افراد کو اس کے مقابلے میں کوئی حق حاصل نہیں۔ جس کے جو کچھ بھی حقوق ہیں‘ اسی کے دیے ہوئے ہیں اوروہ جس حق کو بھی سلب کرے وہ آپ سے آپ معدوم ہو جاتا ہے۔ ایک قانونی حق پیدا ہی اس بنا پر ہوتا ہے کہ شارع (lawgiver)نے اس حق کو پیدا کیا ہے‘ اس لیے جب شارع نے اس کو سلب کر لیا تو سرے سے کوئی حق باقی ہی نہیں رہا کہ اس کا مطالبہ کیا جاسکے۔ قانون صاحب حاکمیت کے ارادے سے وجود میں آتا ہے اور افراد کو اطاعت کا پابند کرتا ہے‘ مگر خود صاحب حاکمیت کو پابند کرنے والا کوئی قانون نہیں ہے۔ وہ اپنی ذات میں قادر مطلق ہے۔ اس کے احکام کے بارے میں خیر اور شر‘ صحیح اور غلط کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ جو کچھ وہ کرے وہی خیر ہے‘ اس کے کسی تابع کو اسے شر قرار دے کر رد کر دینے کا حق نہیں ہے۔ جو کچھ وہ کرے وہ صحیح ہے‘ کوئی تابع اس کو غلط قرار نہیں دے سکتا۔ اس لیے ناگزیر ہے کہ اسے سُبُّوْحَ و قُدُّوْس اور مُنَزَّہْ عَنِ الْخَطَامانا جائے‘ قطع نظر اس سے کہ وہ ایسا ہو یا نہ ہو۔
یہ ہے قانونی حاکمیت (legal sovereignty)کا تصور جسے ایک قانون دان‘ فقیہ یا juristپیش کرتا ہے اور جس سے کم کسی چیز کا نام ’حاکمیت‘ نہیں ہے، مگر یہ حاکمیت اس وقت تک بالکل ایک مفروضہ رہتی ہے جب تک اس کی پشت پر کوئی واقعی حاکمیت یا علم سیاست کی اصطلاح میں سیاسی حاکمیت (political sovereignty)نہ ہو‘ یعنی عملاً اس اقتدار کی مالک جو اس قانونی حاکمیت کو مسلط کرے۔
حاکمیت فی الواقع کس کی ہے؟
اب پہلا سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی کوئی حاکمیت فی الواقع انسانی دائرے میں موجود بھی ہے؟ اور ہے تو وہ کہاں ہے؟ کس کو اس حاکمیت کا حامل کہا جاسکتا ہے؟
کیا کسی شاہی نظام میں واقعی کوئی بادشاہ ایسی حاکمیت کا حامل ہے یا کبھی پایا گیا ہے، یا پایا جاسکتا ہے؟ آپ کسی بڑے سے بڑے مختار مطلق فرماں روا کو لے لیجیے،اس کے اقتدار کا آپ تجزیہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ اس کے اختیارات کو بہت سی خارجی چیزیں محدود کر رہی ہیں جو اس کے ارادے کی تابع نہیں ہیں۔
پھر کیا کسی جمہوری نظام میں کسی خاص جگہ انگلی رکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ یہاں واقعی حاکمیت موجود ہے؟ جس کو بھی آپ اس کا حامل قرار دیں گے‘ تجزیہ کرنے سے معلوم ہوگا کہ اس کے ظاہری اختیارِ مطلق کے پیچھے کچھ اور طاقتیں ہیں جن کے ہاتھ میں اس کی باگیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ علم سیاست کے ماہرین جب حاکمیت کا واضح تصور لے کر انسانی سوسائٹی کے دائرے میں اس کا واقعی مصداق تلاش کرتے ہیں تو انھیں سخت پریشانی پیش آتی ہے۔ کوئی قامت ایسا نہیں ملتا جس پر یہ جامہ راست آتا ہو۔ اس لیے کہ انسانیت کے دائرے میں‘ بلکہ درحقیقت مخلوقات کے دائرے میں اس قامت کی کوئی ہستی سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن بار بار کہتا ہے کہ فی الواقع حاکمیت کا حامل صرف ایک خدا ہے۔ وہی مختار مطلق ہے (فَعَّالٌ لِّمَایُرِیْدُ)،۹۵؎ وہی غیر مسئول اور غیر جواب دہ ہے (لَایُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ)۹۶؎وہی تمام اقتدار کا مالک ہے (بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ)،۹۷؎ وہی ایک ہستی ہے جس کے اختیارات کو محدود کرنے والی کوئی طاقت نہیں ہے (وَھُوَیُجِیْرُ وَلَا یُجَارَ عَلَیْہِ)۹۸؎ اور اسی کی ذات مُنَزّہ عَنِ الخطا ہے (اَلْمَلِکُ القُّدُوْسُ السَّلَامُ)۹۹؎
حاکمیت کس کا حق ہے؟
پھر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حقیقت نفس الامری سے قطع نظر کرتے ہوئے، اگر کسی غیر اللہ کو یہ حاکمانہ حیثیت دے دی جائے تو کیا فی الواقع اس کا یہ حق ہے کہ اس کا حکم قانون ہو‘ اور اس کے مقابلے میں کسی کا کوئی حق نہ ہو، اور اس کی غیر مشروط اطاعت کی جائے اور اس کے حکم کے بارے میں خیر و شر یا صحیح و غلط کا سوال نہ اٹھایا جاسکے؟ یہ حق خواہ کسی شخص کو دیا جائے‘ یا کسی ادارے کو‘ یا باشندوں کی اکثریت کو‘ بہرحال یہ پوچھا جائے گا کہ اس کو آخر یہ حق کس بنیاد پر حاصل ہوا ہے؟ اور اس بات کی دلیل کیا ہے کہ اسے افراد پر اس طرح حاکم ہونے کا حق حاصل ہے؟
اس سوال کا زیادہ سے زیادہ اگر کوئی جواب دیا جاسکتا ہے تو وہ صرف یہ کہ لوگوں کی رضامندی اس حاکمیت کے برحق ہونے کی دلیل ہے؟ مگر کیا آپ یہ ماننے کے لیے تیار ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی رضامندی سے اپنے آپ کو کسی دوسرے شخص کے ہاتھ فروخت کردے تو اس خریدار کو اس شخص پر جائز حقِ مالکانہ حاصل ہو جاتا ہے؟ اگر یہ رضامندی اس ملکیت کو برحق نہیں بناتی تو آخر کسی غلط فہمی کی بنا پر محض جمہور کارضامند ہو جانا کسی حاکمیت کو برحق کیسے بنا سکتا ہے؟ قرآن اس گتھی کو بھی یہ کہہ کر سلجھا دیتا ہے کہ اللہ کی مخلوق پر کسی مخلوق کو بھی حکم چلانے کا حق نہیں ہے۔ یہ حق صرف اللہ کو حاصل ہے اور اس بنا پر حاصل ہے کہ وہی اپنی مخلوق کا خالق ہے: اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ۔الاعراف54:7 خبردار خلق اسی کی ہے اور امر بھی اسی کے لیے ہے۔ یہ ایک ایسی معقول بات ہے جسے کم از کم وہ لوگ تو رد نہیں کرسکتے جو خدا کو خالق تسلیم کرتے ہیں۔
حاکمیت کس کی ہونی چاہیے؟
پھر تیسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگربالفرض حق اور باطل کی بحث کو نظر انداز کرکے حاکمیت کا یہ منصب کسی انسانی اقتدار کو دے بھی دیا جائے تو کیا اس میں انسانیت کی بھلائی ہے؟ انسان‘ خواہ وہ کوئی ایک شخص ہو‘ یا کوئی طبقہ‘ یا کسی قوم کا مجموعہ‘ بہرحال حاکمیت کی اتنی بڑی خوراک ہضم نہیں کرسکتا کہ اس کو افراد پر حکم چلانے کے غیر محدود اختیارات حاصل ہوں اور اس کے مقابلے میں کسی کا کوئی حق نہ ہو، اور اس کے فیصلے کو بے خطا مان لیا جائے۔ اس طرح کے اختیارات جب بھی کسی انسانی اقتدار کو حاصل ہوں گے‘ ظلم ضرور ہوگا۔ معاشرے کے اندر بھی ظلم ہوگا اور معاشرے کے باہر دوسرے ہمسایہ معاشروں پر بھی ظلم ہوگا۔ فساد اس بندوبست کی فطرت میں مضمر ہے اور جب کبھی انسانوں نے زندگی کا یہ ہنجار اختیار کیا ہے، فساد رونما ہوئے بغیر نہیں رہا ہے، اس لیے کہ جس کی فی الواقع حاکمیت نہیں ہے اور جس کو حاکمیت کا حق بھی حاصل نہیں ہے‘ اسے اگر مصنوعی طور پر حاکمیت کا مقام حاصل ہو جائے تو وہ اس منصب کے اختیارات کبھی صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرسکتا۔ یہی بات ہے جسے قرآن ان الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ:
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ المائدہ 45:5
جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں وہی ظالم ہیں۔
اللہ کی قانونی حاکمیت
ان وجوہ سے اسلام میں یہ قطعی طور پر طے کر دیا گیا ہے کہ قانونی حاکمیت اسی کی مانی جائے جس کی واقعی حاکمیت ساری کائنات پر قائم ہے اور جسے انسانوں پر بھی حاکمیت کا، لاشریک حق حاصل ہے۔ اس بات کو قرآن میں اتنی بار بیان کیا گیا ہے کہ اس کا شمار مشکل ہے اور اتنے زور کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ اس سے زیادہ پر زور الفاظ کسی بات کو بیان کرنے کے لیے ہو نہیں سکتے۔ مثال کے طور پر ایک جگہ فرمایا:
اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ۝۰ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاہُ۝۰ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ یوسف40:12
حکم اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں‘ اس کا فرمان ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی و اطاعت نہ کرو‘ یہی صحیح طریقہ ہے۔
دوسری جگہ فرمایا:
اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ۝۰ۭ الاعراف7:3
پیروی کرو اس قانون کی جو تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اسے چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔
تیسری جگہ خدا کی اس قانونی حاکمیت سے انحراف کرنے کو صریح کفر سے تعبیر کیا گیا ہے:
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ المائدہ44:5
اور جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں وہی کافر ہیں۔
اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی قانونی حاکمیت تسلیم کرنے ہی کا نام ایمان و اسلام ہے اور اس سے انکار قطعی کفر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت
دنیا میں اللہ کی اس قانونی حاکمیت کے نمائندے انبیاء علیہم السلام ہیں۔ یعنی جس ذریعے سے ہم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے شارع (law giver)کا ہمارے لیے کیا حکم اور کیا قانون ہے، وہ ذریعہ انبیاء ہیں اور اسی بنا پر اسلام میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ان کی بے چون و چرا اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن میں آپ دیکھیں گے کہ خدا کی طرف سے جو نبی بھی آیا ہے اس نے یہی اعلان کیا ہے کہ فَا تَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ۔۱۰۰؎ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ اور قرآن اس بات کو بطور ایک قطعی اصول کے بیان کرتا ہے کہ:
۱۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۭ النساء64:4
ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے اس کی اطاعت کی جائے۔
۲۔ مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۝۰ۚ النساء80:4
جو رسولؐ کی اطاعت کرے اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی۔
حتیٰ کہ قرآن کسی ایسے شخص کو مسلمان ماننے سے انکار کرتا ہے جو اختلافی امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری فیصلہ دینے والی اتھارٹی تسلیم نہ کرے:
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًاo النساء65:4
پس نہیں‘ تیرے رب کی قسم! وہ ہرگز مومن نہ ہوں گے جب تک کہ اپنے اختلاف میں تجھے فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں‘ پھر جو فیصلہ تو کرے اس پر اپنے دل میں کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں بلکہ سربسر تسلیم کر لیں۔
پھر وہ کہتا ہے:
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَى اللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَہُمُ الْخِـيَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ۝۰ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا oالاحزاب36:33
اور کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ اللہ اور رسولؐ جب کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو ان کے لیے پھر خود اپنے معاملے میں فیصلہ کرنے کا اختیار باقی رہ جائے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ کھلی گمراہی میں پڑ گیا۔
اس کے بعد یہ شبہہ کرنے کی کوئی گنجایش ہی باقی نہیں رہتی کہ اسلام میں قانونی حاکمیت خالصتًا اور کلیتاً اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔
اللہ ہی کی سیاسی حاکمیت
اس اہم ترین دستوری مسئلے کا فیصلہ ہو جانے کے بعد یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ پھر سیاسی حاکمیت (political sovereignty)کس کی ہے؟ اس کا جواب لامحالہ یہی ہے اور یہی ہوسکتا ہے کہ وہ بھی اللہ کی ہے‘ کیونکہ انسانوں میں جو ایجنسی بھی سیاسی طاقت سے اللہ تعالیٰ کی قانونی حاکمیت کو نافذ (enforce)کرنے کے لیے قائم ہوگی اس کو کسی بھی طرح قانون اور سیاست کی اصطلاح میں صاحب حاکمیت (sovereign)نہیں کہا جاسکتا۔ ظاہر ہے کہ جو طاقت قانونی حاکمیت نہ رکھتی ہو، اور جس کے اختیارات کو پہلے ہی ایک بالاتر قانون نے محدود اور پابند کر دیا ہو جسے بدلنے کا اسے اختیار نہ ہو‘ وہ حاکمیت کی حامل تو نہیں ہوسکتی۔ اب اس کی صحیح پوزیشن کس لفظ سے ادا کی جائے؟ اس سوال کو قرآن ہی نے حل کر دیا ہے۔ وہ اسے لفظ خلافت سے تعبیر کرتا ہے۔ یعنی وہ بجائے خود حاکمِ اعلیٰ نہیں ہے، بلکہ حاکمِ اعلیٰ کی نائب ہے۔
جمہوری خلافت
اس نیابت کے لفظ سے آپ کا ذہن ظل اللہ اور پاپائیت اور بادشاہوں کے خدائی حقوق (divine rights of the king)کی طرف منتقل نہ ہو جائے۔ قرآن کا فیصلہ یہ ہے کہ اللہ کی نیابت کا یہ مقام کسی فرد واحد‘ یا کسی خاندان‘ یا کسی مخصوص طبقے کا حق نہیں ہے، بلکہ ان تمام لوگوں کا حق ہے جو اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کریں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے پہنچے ہوئے قانونِ الٰہی کو بالاتر قانون مان لیں:
وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ النور55:24
اللہ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جنھوں نے تم میں سے ایمان قبول کیا اور عملِ صالح کیا کہ وہ ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا۔
یہ چیز اسلامی خلافت کو قیصریت اور پاپائیت اور مغربی تصور والی مذہبی ریاست (theocracy)کے برعکس ایک جمہوریت بنا دیتی ہے‘ اس فرق کے ساتھ کہ اہلِ مغرب جس چیز کو لفظ جمہوریت سے تعبیر کرتے ہیں اس میں جمہور کو حاکمیت کا حامل قرار دیا جاتا ہے‘ اور ہم مسلمان جسے جمہوریت کہتے ہیں اس میں جمہور صرف خلافت کے حامل ٹھیرائے جاتے ہیں۔ ریاست کے نظام کو چلانے کے لیے ان کی جمہوریت میں بھی عام رائے دہندوں کی رائے سے حکومت بنتی ہے اور بدلتی ہے اور ہماری جمہوریت بھی اسی کی متقاضی ہے، مگر فرق یہ ہے کہ ان کے تصور کے مطابق جمہوری ریاست مطلق العنان اور مختار مطلق ہے اور ہمارے تصور کے مطابق جمہوری خلافت، اللہ کے قانون کی پابند۔

۲۔ ریاست کے حدودِ عمل

خلافت کی اس تشریح سے یہ مسئلہ خود بخود حل ہو جاتا ہے کہ اسلامی دستور میں ریاست کے حدودِ عمل کیا ہیں۔ جب یہ ریاست اللہ کی خلافت ہے اور اللہ کی قانونی حاکمیت تسلیم کرتی ہے تو لامحالہ اس کا دائرۂ اختیار اُن حدود کے اندر ہی محدود رہے گا جو اللہ نے مقرر کی ہیں۔ ریاست جو کچھ کرسکتی ہے ان حدود کے اندر ہی کر سکتی ہے‘ ان سے تجاوز کرنے کی وہ ازروئے دستور مجاز نہیں ہے۔ یہ بات صرف منطقی طور پر ہی خدا کی قانونی حاکمیت کے اصول سے نہیں نکلتی بلکہ قرآن خود اس کو صاف صاف بیان کرتا ہے۔ وہ جگہ جگہ احکام دے کر متنبہ کرتا ہے:
٭ تِلْكَ حُدُوْدُ اللہِ فَلَا تَقْرَبُوْھَا۝۰ۭ البقرہ 187:2
یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں، ان کے پاس نہ پھٹکو۔
٭ تِلْكَ حُدُوْدُ اللہِ فَلَا تَعْتَدُوْھَا۔ البقرہ229:2
یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں‘ ان سے تجاوز نہ کرو۔
٭ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللہِ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ البقرہ229:2
اور جو لوگ اللہ کی حدود سے تجاوز کریں وہی ظالم ہیں۔
پھر وہ بطور ایک قاعدے کلیے کے یہ حکم دیتا ہے کہ:
٭ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ النساء59:4
اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں‘ پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور رسولؐ کی طرف پھیر دو، اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ اور آخرت کے دن پر۔
اس آیت کی رو سے ریاست کی اطاعت لازمًا خدا اور رسولؐ کی اطاعت کے تحت ہے، نہ کہ اس سے آزاد‘ اور اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ احکامِ خدا اور رسولؐ کی پابندی سے آزاد ہو کر ریاست کو سرے سے اطاعت کے مطالبے کا حق ہی باقی نہیں رہتا۔ اسی نکتے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں واضح فرمایا کہ:
۱۔لَاطَاعَۃَ لِمَنْ عَصَی اللہ ۔ (طبرانی)
کوئی اطاعت اس شخص کے لیے نہیں ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے۔
۲۔لَاطَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ (مشکوۃ ۳۵۲۵)
خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کے لیے اطاعت نہیں ہے۔
اس اصول کے ساتھ دوسرا اصول جو یہ آیت مقرر کرتی ہے‘ یہ ہے کہ مسلم سوسائٹی میں جو اختلاف بھی رونما ہو‘ خواہ وہ افراد اور افراد کے درمیان ہو، یا گروہوں اور گروہوں کے درمیان، یا رعیت اور ریاست کے درمیان یا ریاست کے مختلف شعبوں اور اجزاء کے درمیان‘ بہرحال اس کا فیصلہ کرنے کے لیے رجوع اس بنیادی قانون ہی کی طرف کیا جائے گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو دیا ہے۔ یہ اصول اپنی عین نوعیت ہی کے اعتبار سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ریاست میں لازمًاکوئی ادارہ ایسا ہونا چاہیے جو اختلافی معاملات کا فیصلہ کتاب اللّٰہ و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کرے۔

۳۔ اعضائے ریاست کے حدودِ عمل اور ان کا باہمی تعلق

یہیں سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ ریاست کے مختلف اعضا (organs of the state)کے اختیارات اور حدود عمل کیا ہیں۔
مجالسِ قانون ساز کے حدود
مقننہ (lagislature)ہی وہ چیز ہے جسے ہمارے ہاں کی قدیم اصطلاح میں اہل الحل و العقد کہا جاتا ہے۔ اس کے معاملے میں یہ بات بالکل صاف ہے کہ جو ریاست اللہ اور رسول کی قانونی حاکمیت مان کر بنائی گئی ہو‘ اس کی مقننہ کتاب اللہ و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے خلاف اپنے اجماع سے بھی کوئی قانون سازی کرنے کی مجاز نہیں ہوسکتی۔ ابھی میں آپ کو قرآن کا یہ فیصلہ سنا چکا ہوں کہ:
۱۔کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اللہ اور رسولؐ جس معاملے کا فیصلہ کرچکے ہوں اس میں ان کو پھر کوئی فیصلہ نہ کرنے کا اختیار باقی رہے۔ (الاحزاب۳۳:۳۶)
۲۔جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔(المائدہ۵:۴۴)
ان احکام کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اللہ اور رسولؐ کے احکام کے خلاف کوئی قانون سازی کرنا مجلسِ قانون ساز کے حدود اختیار سے باہر ہو‘ اور ہر ایسا قانون‘ اگر وہ لیجسلیچر ] [lagislature پاس بھی کر دے‘ لازماً حدود دستور سے متجاوز (ultravires of the constitution) قرارپائے۔
اس سلسلے میں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ پھر اسلامی ریاست میں مقننہ کا کام ہی کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں مقننہ کے کئی کام ہیں:
۱۔ جن معاملات میں اللہ اور رسولؐ کے واضح اور قطعی احکام موجود ہیں‘ ان میں اگرچہ مقننہ کوئی ردّوبدل نہیں کرسکتی‘ مگر یہ کام مقننہ ہی کا ہے کہ ان کے نفاذ کے لیے ضروری قواعد و ضوابط (rules and regulations)مقرر کر دے۔
۲۔ جن معاملات میں کتاب و سنت کے احکام ایک سے زیادہ تعبیرات کے محتمل ہوں‘ ان میں مقننہ ہی یہ طے کرے گی کہ کون سی تعبیر کو قانونی شکل دی جائے۔ اس غرض کے لیے ناگزیر ہے کہ مقننہ ایسے اہل علم پر مشتمل ہو جو تعبیرِ احکام کی اہلیت رکھتے ہوں‘ ورنہ ان کے غلط فیصلے شریعت کو مسخ کر ڈالیں گے، لیکن یہ سوال رائے دہندوں کی صلاحیت انتخاب سے تعلق رکھتا ہے۔ اصولاً یہ ماننا پڑے گا کہ قانون سازی کی اغراض کے لیے مقننہ ہی مختلف تعبیرات میں سے ایک کو ترجیح دینے کی مجاز ہے اور اسی کی تعبیر قانون بنے گی‘ بشرطیکہ وہ تعبیر کی حد سے گزر کر تحریف کی حد تک نہ پہنچ جائے۔
۳۔ جن معاملات میں احکام موجود نہ ہوں، ان میں مقننہ کاکام یہ ہے کہ اسلام کے اصول عامہ کو پیشِ نظر رکھ کر نئے قوانین وضع کرے، یا اگر ان کے بارے میں پہلے سے مدوّن کیے ہوئے قوانین کتبِ فقہ میں موجود ہوں تو ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرے۔
۴۔ جن معاملات میں کوئی اصولی رہنمائی بھی نہ ملتی ہو ان میں یہ سمجھا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قانون سازی میں آزاد چھوڑ دیا ہے‘ اس لیے ایسے معاملات میں مقننہ ہر طرح کے مناسب قوانین بنا سکتی ہے‘ بشرطیکہ وہ کسی شرعی حکم یا اصول سے متصادم نہ ہوتے ہوں۔ اس معاملے میں اصول یہ ہے کہ جو کچھ ممنوع نہیں ہے، وہ مباح ہے۔
یہ چاروں قاعدے ہم کو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تعامل خلفائے راشدین اور مجتہدین امت کی آرا سے معلوم ہوتے ہیں اور اگر ضرورت ہو تو ہم ان میں سے ہر ایک کا ماخذ بتا سکتے ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ جو شخص اسلامی ریاست کے بنیادی اصول سمجھ لے اسے خود عقل عام (common sense)بھی یہ بتا سکتی ہے کہ اس طرز کی ریاست میں مقننہ کے یہی حدودِ عمل ہونے چاہییں۔
انتظامیہ کے حدود عمل
اب انتظامیہ کو لیجیے۔ ایک اسلامی ریاست میں انتظامیہ (executive)کا اصل کام احکام الٰہی کو نافذ کرنا اور ان کے نفاذ کے لیے ملک اور معاشرے میں مناسب حالات پیدا کرنا ہے۔ یہی امتیازی خصوصیت اس کو ایک غیر مسلم ریاست کی انتظامیہ سے ممیز کرتی ہے‘ ورنہ ایک کافر حکومت اور مسلم حکومت میں کوئی فرق باقی ہی نہیں رہتا۔ انتظامیہ وہی چیز ہے جس کے لیے قرآن میں ’اولی الامر‘ اور حدیث میں ’امراء‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن و حدیث‘ دونوں میں ان کے سمع و طاعت (obedience)کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ اللہ کے احکام اور رسول کے تابع رہیں‘ ان سے آزاد ہو کر معصیت اور بدعت اور احداث فی الدین کی راہ پر نہ چل پڑیں۔ قرآن اس باب میں صاف کہتا ہے کہ:
۱۔ وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَكَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًاo الکہف 28:18
اور کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہو، جس نے اپنی خواہشِ نفس کی پیروی اختیار کرلی ہو اور جس کا امر حدود آشنا نہ ہو۔
۲۔ وَلَا تُطِيْعُوْٓا اَمْرَ الْمُسْرِفِيْنَo الَّذِيْنَ يُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَo الشعراء151-152:26
اور ان حد سے گزر جانے والوں کے امر کی اطاعت نہ کرو جو زمین میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ اس معاملے کو یوں بیان فرماتے ہیں:
۱۔ اِنْ اُمِّرَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ یَقُوْدُکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ فَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا۔ (مسلم، مشکوۃ۳۴۹۲)
اگر تم پر کوئی نکٹا غلام بھی امیر بنا دیا جائے جو کتاب اللہ کے مطابق تمھاری قیادت کرے تو اس کی سنو اور اطاعت کرو۔
۲۔ اَلسَّمْعُ وَ الطَّاعَۃُ عَلَی الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ فِیْ مَا اَحَبَّ وَکَرِہَ مَالَمْ یُؤْمَرْ بِمَعْصِیَۃٍ فَاِذَا اُمِرَبِمَعْصِیَۃٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَۃَ۔ (متفق علیہ)
ایک مرد مسلمان پر سمع و طاعت لازم ہے خواہ برضا و رغبت‘ خواہ بکراہت‘ تاوقتیکہ اس کو معصیت کا حکم نہ دیا جائے۔ پھر اگر معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ سمع ہے نہ طاعت۔
۳۔ لَا طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃٍ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔ (متفق علیہ)
معصیت میں کوئی طاعت نہیں ہے۔ طاعت صرف معروف میں ہے۔
۴۔ مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَالَیْسَ مِنْہُ فَھُوَرَدٌّ۔ (متفق علیہ)
جس نے ہمارے اس کام (یعنی اسلامی نظام زندگی) میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو اس کے مزاج سے بیگانہ ہو تو وہ مردود ہے۔
۵۔ مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَۃٍ اَعَانَ عَلٰی ھَدْمِ الْاِسْلَامِ۔ (البیہقی فی شعب الایمان)
جس نے کسی صاحب بدعت (یعنی اسلامی زندگی میں غیر اسلامی طریقے رائج کرنے والے) کی توقیر کی اس نے اسلام کو منہدم کرنے میں مدد دی۔
ان توضیحات کے بعد اس معاملے میں کوئی اشتبا ہ باقی نہیں رہ جاتا کہ اسلام میں انتظامی حکومت اور اس کے نظم و نسق کے لیے کیا حدودعمل مقرر کیے گئے ہیں۔
عدلیہ کے حدودِ عمل
رہی عدلیہ (judiciary)جو ہماری قدیم اصطلاح ’’قضاء‘‘ کی ہم معنی ہے‘ تو اس کا دائرۂ عمل بھی خدا کی قانونی حاکمیت کا اصول آپ سے آپ معین کر دیتا ہے۔ اسلام جب کبھی اپنے اصولوں پر ریاست قائم کرتا ہے‘ اس کے اولین جج خود انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں‘ اور ان کاکام یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ قانونِ الٰہی کے مطابق کریں۔ پھر جو لوگ انبیاء ؑ کے بعد اس کرسی پر بیٹھیں ان کے لیے بھی اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے کہ اپنے فیصلوں کی بنیاد اس قانون پر رکھیں جو اللہ اور اس کے رسولؐ سے ان کو ملا ہے۔ قرآن مجید میں سورہ مائدہ کے دو رکوع خاص اسی موضوع پر ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی‘ اور بنی اسرائیل کے سارے نبی ؑ اور پھر ربانی اور احبار اسی کے مطابق یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے۔ پھر ہم نے ان کے بعد عیسیٰ ابن مریم ؑ کو بھیجا اور ان کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ اہلِ انجیل کو چاہیے کہ وہ بھی اس ہدایت پر فیصلے کریں جو اللہ نے انجیل میں نازل کی ہے۔ اس تاریخ کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے فرماتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب (قرآن) تمھاری طرف ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ نازل کی ہے:
فَاحْكُمْ بَيْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاۗءَہُمْ عَمَّا جَاۗءَكَ مِنَ الْحَقِّ۝۰ۭ المائدۃ 48:5
پس تم لوگوں کے درمیان اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے کرو اور اس حق کو چھوڑ کر جو تمہارے پاس آیا ہے‘ لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔
آگے چل کر اللہ تعالیٰ اس تقریر کو اس فقرے پر ختم فرماتا ہے:
اَفَحُكْمَ الْجَاہِلِيَّۃِ يَبْغُوْنَ۝۰ۭ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَo المائدہ50:5
پھر کیا لوگ جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں؟ یقین رکھنے والوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے؟
اس تقریر کے دوران میں اللہ تعالیٰ تین مرتبہ فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون پر فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں‘ وہی ظالم ہیں‘ وہی فاسق ہیں۔ (المائدہ:۵:۴۴،۴۵،۴۷)۔ اس کے بعد شاید یہ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ ایک اسلامی ریاست کی عدالتیں قانون الٰہی کو نافذ کرنے کے لیے بنتی ہیں نہ کہ اس کے خلاف فیصلے کرنے کے لیے۔
مختلف اعضائے ریاست کا باہمی تعلق
اس سلسلے میں یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اسلام میں ریاست کے ان تینوں اعضا کا باہمی تعلق کیا ہے؟ اس باب میں احکام تو موجود نہیں ہیں‘ مگر عہدِ نبویؐ اور عہد خلافت راشدہ کے تعامل (convention)سے ہم کو پوری روشنی ملتی ہے۔ اس تعامل سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک صدر ریاست کا تعلق ہے‘ وہ صدر ہونے کی حیثیت سے ریاست کے ان تینوں شعبوں کا صدر ہے۔ یہی حیثیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھی اور یہی خلفائے راشدین کو حاصل رہی، مگر صدر سے نیچے اتر کر ہم تینوں شعبوں کو اس دور میں ایک دوسرے سے الگ پاتے ہیں۔ اس زمانے میں اہل الحل و العقد الگ تھے‘ جن کے مشورے سے خلافتِ راشدہ کے دور میں انتظامی معاملات بھی چلائے جاتے تھے اور قانونی مسائل کے فیصلے بھی کیے جاتے تھے۔ نظم و نسق کے ذمے دارامراء الگ تھے جن کا قضاء(عدالت) میں کوئی دخل نہ تھا اور قاضی (جج اور مجسٹریٹ) الگ تھے جن پر انتظامی ذمے داریوں کا کوئی بار نہ تھا۔
ملک کے اہم معاملات میں پالیسی بنانے، یا انتظامی اور قانونی مسائل کو حل کرنے کی جب کبھی ضرورت پیش آتی‘ خلفائے راشدین ہمیشہ اہل الحل و العقد کو بلا کر مشورہ کرتے تھے اور مشورے سے جب کوئی فیصلہ ہو جاتا تو اہل الحل و العقد کا کام ختم ہو جاتا۔
انتظامی عہدے دار خلیفہ کے ماتحت تھے‘ وہی ان کو مقرر کرتا تھا اور اسی کے احکام کے مطابق وہ نظم و نسق چلاتے تھے۔
قاضیوں کا تقرر بھی اگرچہ خلیفہ کرتا تھا‘ مگر ایک مرتبہ قاضی مقرر ہو جانے کے بعد پھر خلیفہ کو بھی یہ حق نہ تھا کہ ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہو، بلکہ اپنی ذاتی حیثیت میں‘ یا منتظمہ کے صدر ہونے کی حیثیت میں‘ اگر کسی شخص کا ان کے خلاف کوئی دعویٰ ہوتا تھا‘ تو ان کو بھی قاضیوں کے سامنے ٹھیک اسی طرح جواب دہی کرنی ہوتی تھی جس طرح رعیت کے کسی معمولی فرد کو کرنی ہوتی تھی۔
اس زمانے میں ہم کو ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کوئی ایک شخص بیک وقت کسی علاقے کا عامل بھی ہو اور قاضی بھی، یا کوئی عامل یا گورنر‘ یا خود صدر ریاست کسی قاضی کے عدالتی فیصلوں میں دخل دینے کا مجاز ہو، یا کوئی بڑے سے بڑا آدمی بھی دیوانی و فوج داری دعووں کی جواب دہی سے یا عدالتوں کی حاضری سے مستثنیٰ ہو۔
اس نقشے کی تفصیلات میں ہم اپنی موجودہ ضرورتوں کے مطابق ردوبدل کرسکتے ہیں‘ مگر اس کے اصول جوں کے توں قائم رہنے چاہییں۔ جس قسم کے جزوی ردّ و بدل اس میں کیے جاسکتے ہیں وہ اس طرح کے ہیں کہ مثلاً ہم صدر ریاست کے انتظامی و عدالتی اختیارات خلفائے راشدین کی بہ نسبت محدود کرسکتے ہیں‘ کیونکہ اب اس درجے کے قابلِ اعتماد صدر ریاست ہمیں نہیں مل سکتے جیسے خلفائے راشدین تھے۔ اس لیے ہم اپنے صدر کے انتظامی اختیارات پر بھی پابندیاں عائد کرسکتے ہیں تاکہ وہ ڈکٹیٹر نہ بن جائے اور اس کو مقدمات کی براہ راست خود سماعت کرنے اور ان کے فیصلے کرنے سے بھی روک سکتے ہیں، تاکہ وہ بے انصافی نہ کرنے لگے۔
(اس موقع پر ایک صاحب نے اٹھ کر سوال کیا کہ آپ کی اس رائے کا مآخذ کیا ہے؟)
مقرر نے اس کے جواب میں کہا کہ اس قول کے لیے میری دلیل یہ ہے کہ خلافت ِ راشدہ میںانتظامیہ اور عدلیہ کے شعبے بالکل الگ الگ تھے۔ رہا صدر ریاست تو اس کی ذات میں ان دونوں اختیارات کو کسی حکم شرعی کی بنا پر جمع نہیں رکھا گیا تھا، بلکہ اس اعتماد پر جمع کیا گیا تھا کہ وہ جج کی حیثیت سے انصاف کی مسند پر بیٹھ کر اپنی انتظامی مصلحتوں کو دخیل نہ ہونے دیں گے، بلکہ خلفائے راشدین کی ذات پر تو لوگوں کو اس درجے اعتماد تھا کہ وہ خود یہ چاہتے تھے کہ آخری عدالتِ انصاف وہی ہوں، تاکہ اگر کہیں انصاف نہ ملے تو ان کے پاس ضرور مل جائے۔ اس اعتماد کی مستحق اگر کوئی شخصیت ہم نہ پاسکیں تو اسلامی دستور کے کسی قاعدے نے ہمیں اس بات پر مجبور نہیں کر دیا ہے کہ ہم صدر کی ذات میں چیف جسٹس اور انتظامیہ کے رئیس اعلیٰ کی حیثیتیں لازماً جمع رکھیں۔)
اسی طرح اس نقشے میں جوتبدیلیاں ہم کرسکتے ہیں‘ وہ یہ ہیں کہ مثلاً: ہم اہل الحل و العقد کے انتخاب کے طریقے اور ان کی مجلس کے ضابطے حسب ضرورت بنا سکتے ہیں۔ ہم عدالتوں کے مختلف درجے، مخصوص اختیارات‘ حدود سماعت اور حدود عمل کے ساتھ مقرر کرسکتے ہیں وغیر ذالک۔
یہاں دو سوالات اور پیدا ہوتے ہیں جن کا جواب دینے کی ضرورت ہے:
٭ اول یہ کہ آیا اسلام میں اس امر کی گنجایش ہے کہ قضاء (عدلیہ) اہل الحل والعقد کے طے کیے ہوئے کسی قانونی مسئلے کو خلافِ کتاب و سنت ہونے کی بنا پر رد کر دے؟
اس باب میں کوئی حکم میرے علم میں نہیں ہے۔ خلافت راشدہ کا تعامل بے شک یہی تھا کہ قضاء کو یہ اختیارات حاصل نہیں تھے۔ کم از کم اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی قاضی نے ایسا کیا ہو، مگر اس کی وجہ میرے نزدیک یہ تھی کہ اس وقت اہل الحل و العقد خود کتاب و سنت میں گہری بصیرت رکھنے والے لوگ تھے اور سب سے بڑھ کر خود خلفائے راشدین اس معاملے میں پوری طرح قابلِ اعتماد تھے کہ ان کی صدارت میں کوئی مسئلہ خلاف کتاب و سنت طے نہ ہوسکتا تھا۔ آج اگر ہم اپنے دستور میں اس امر کا کوئی قابلِ اطمینان انتظام نہ کرسکیں کہ کسی مجلس قانون ساز سے کوئی قانون خلاف کتاب و سنت پاس نہ ہوسکے تو عدلیہ کو مقننہ کے فیصلوں کا پابند کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر اس کا کوئی قابلِ اطمینان انتظام نہ کیا جاسکے تو پھرآخری چارۂ کار یہی ہے کہ عدلیہ کو خلافِ کتاب و سنت قوانین کے رد کرنے کا اختیار دیا جائے۔
٭ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام میں مقننہ (اہل الحل و العقد) کی صحیح حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ محض صدر ریاست کی مشیر ہے جس کے مشوروں کو ردّ یا قبول کرنے کا صدر ریاست کو اختیار ہے؟ یا صدر ریاست اس کی اکثریت، یا اس کے اجماع کے فیصلوں کا پابند ہے؟
اس باب میں قرآن جو کچھ کہتا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات باہمی مشورے سے انجام پانے چاہئیں: (وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰى بَيْنَہُمْ الشوریٰ38:42 ) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بحیثیت صدر ریاست کے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے:
وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ۝۰ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ۝۰ۭ آل عمران159:3
اور ان سے معاملات میں مشورہ کرو‘ پھر (مشورے کے بعد) جب تم عزم کرلو تو اللہ کے بھروسے پر عمل کرو۔
یہ دونوں آیتیں مشورے کو لازم کرتی ہیں اور صدر ریاست کو ہدایت کرتی ہیں کہ جب وہ مشورے کے بعد کسی فیصلے پر پہنچ جائے تو اللہ کے بھروسے پر اسے نافذ کردے، لیکن یہ اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں دیتیں جو ہمارے سامنے پیش ہے۔ حدیث میں بھی اس کے متعلق کوئی قطعی حکم مجھے نہیں ملا ہے، البتہ خلافت راشدہ کے تعامل سے علمائے اسلام نے بالعموم یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ نظم ریاست کا اصل ذمے دار صدر ریاست ہے اور وہ اہل الحل و العقد سے مشورہ کرنے کا پابند ہے، مگر اس بات کا پابند نہیں کہ ان کی اکثریت یا ان کی متفقہ رائے پر ہی عمل کرے۔ دوسرے الفاظ میں اس کو’ویٹو‘ کے اختیارات حاصل ہیں،لیکن یہ رائے اس مجمل صورت میں بڑی غلط فہمیوں کی موجب ہے‘ کیونکہ اسے لوگ موجودہ ماحول میں رکھ کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ ماحول ان کے سامنے نہیں ہوتا جس کے تعامل سے یہ رائے اخذ کی گئی ہے۔
خلافتِ راشدہ کے ماحول میں جن لوگوں کو اہل الحل و العقد قرار دیا گیا تھا وہ جدا جدا پارٹیوں کی شکل میں منظم نہ تھے۔ وہ ان پارلیمنٹری ضابطوں سے بھی کسے ہوئے نہ تھے جن سے موجودہ زمانے کی مجالسِ قانون ساز کسی ہوئی ہوتی ہیں۔ وہ مجلس شوریٰ میں پہلے سے الگ الگ اپنی کچھ پالیسیاں وضع کرکے‘ پروگرام بنا کر اور پارٹی میٹنگز میں فیصلے کرکے بھی نہیں آتے تھے۔ انھیں جب مشورے کے لیے بلایا جاتا تو وہ کھلے دل کے ساتھ آکر بیٹھتے‘ خلیفہ خود ان کی مجلس میں موجود ہوتا‘ مسئلہ پیش کیا جاتا‘ مخالف اور موافق ہر پہلو پر آزادانہ بحث ہوتی۔ پھر دونوں کے دلائل کا موازنہ کرکے خلیفہ اپنے دلائل کے ساتھ اپنی رائے بیان کرتا۔ یہ رائے بالعموم ایسی ہوتی تھی کہ پوری مجلس اسے تسلیم کرلیتی تھی۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ چند لوگ اس سے متفق نہ ہوتے تھے، مگر اسے بالکل غلط اور ناقابل تسلیم نہیں، بلکہ صرف مرجوح سمجھتے تھے اور فیصلہ ہو جانے کے بعد کم از کم عمل کے لیے اسی کو مان لیتے تھے۔ پوری خلافت راشدہ کی تاریخ میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ اہل الحل و العقد کی مجلس میں ایسی تفریق رونما ہوئی ہو کہ رائے شماری کی نوبت آئے، اور پوری خلافتِ راشدہ کی تاریخ میں صرف دو مثالیں اس امر کی ملتی ہیں کہ خلیفۂ وقت نے اہل الحل و العقد کی قریب قریب متفقہ رائے کے خلاف کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک: جیشِ اسامہؓ کا معاملہ، دوسرے: مرتدین کے خلاف جہاد کا معاملہ، لیکن ان دونوں معاملات میں صحابہؓ نے جس بنا پر خلیفہ کے فیصلے کو مانا، وہ یہ نہیں تھی کہ دستور اسلامی نے خلیفہ کو ویٹو کے اختیارات دے رکھے ہیں اوردستوری طور پر وہ بادلِ نخواستہ اس کا فیصلہ ماننے کے لیے مجبور ہیں‘ بلکہ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ صحابہ کرام کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فہم و فراست اور دینی بصیرت پر پورا اعتماد تھا۔ انھوں نے جب دیکھا کہ ابوبکرؓ اس رائے کی صحت پر اتنا یقین رکھتے ہیں اور دینی مصالح کے لیے اس کو اتنی زیادہ اہمیت دے رہے ہیں‘ تو انھوں نے کھلے دل سے ان کی رائے کے مقابلے میں اپنی رائے واپس لے لی، بلکہ بعد میں ان کی اصابت رائے کو کھلم کھلا سراہا اور اعتراف کیا کہ اگر ان مواقع پر ابوبکرؓ استقامت نہ دکھاتے تو اسلام ہی کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ چنانچہ مرتدین کے معاملے میں حضرت عمرؓ نے‘ جو سب سے بڑھ کر حضرت ابوبکرؓ کی رائے سے اختلاف کرچکے تھے‘ علی الاعلان کہا کہ اللہ نے ابوبکرؓ کا سینہ اس کام کے لیے کھول دیا اور مجھے معلوم ہوگیا کہ حق وہی ہے جس کا فیصلہ انھوں نے کیا ہے۔
اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اسلام میں ویٹو کا یہ تصور دراصل کس ماحول کی نظیروں سے پیدا ہوا ہے۔ اگر شوریٰ کا طرز اوراس کی روح اور اہلِ شوریٰ کی ذہنیت اور سیرت وہی ہو جو خلافت راشدہ کے اس نمونے میں ہم دیکھتے ہیں تو پھر اس سے بہتر کوئی طریقِ کار نہیں ہے جو وہاں اختیار کیا گیا۔ اس طریقِ کار کو اگر ہم اس کے آخری منطقی نتائج تک لے جائیں تو زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس طرز کی مجلس شوریٰ میں، اگر صدر ریاست اور ارکان مجلس اپنی اپنی رائے پر اڑ جائیں اور ان میں سے کوئی دوسرے کے مقابلے میں اپنی رائے واپس نہ لے تو استصواب عام (referendum)کرا لیا جائے‘ پھر جس کی رائے کو بھی رائے عام رد کر دے وہ مستعفی ہوجائے۔ لیکن جب تک ہمارے لیے اپنے ملک میں اس روح اور اس ذہنیت اور اس طرز کی مجلسِ شوریٰ بنانا ممکن نہیں ہے‘ اس کے سوا چارہ نہیں کہ ہم انتظامیہ کو مقننہ کی اکثریت کے فیصلوں کا پابند کریں۔

۴۔ ریاست کا مقصدِ وجود

اب اس مسئلے کو لے لیجیے کہ اسلام وہ کون سے بنیادی مقاصد (objectives)پیش کرتا ہے جن کے لیے ایک اسلامی ریاست کو کام کرنا چاہیے۔ قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ان مقاصد کی جو توضیح کی گئی ہے وہ یہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۝۰ۚ
الحدید 25:57
ہم نے اپنے رسول روشن دلائل کے ساتھ بھیجے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان اتاری تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔
دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:
اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ۝۰ۭ الحج41:22
یہ مسلمان جن کو جنگ کی اجازت دی جارہی ہے وہ لوگ ہیں) جنھیں اگر ہم زمین میں اقتدار عطا کریں تو یہ نمازقائم کریں گے‘ زکوٰۃ دیں گے‘ نیکی کا حکم دیں گے اور بدی سے روکیں گے۔
اور حدیث میں ہے:
اِنَّ اللّٰہَ لَیَزَعُ بِالسُّلْطَانِ مَالَا یَزَعُ بِالْقُرْاٰنِ۔۱۰۱؎
اللہ حکومت کے ذریعے سے ان چیزوں کا سدباب کرتا ہے جن کا سدباب قرآن کے ذریعے سے نہیں کرتا۔
یعنی جو برائیاں قرآن کی نصیحت اور فہمائش سے نہ دور ہوں‘ ان کو مٹانے اور دبانے کے لیے حکومت کی طاقت درکار ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ ایک اسلامی ریاست کے قیام کا اصل مقصد اس اصلاحی پروگرام کو مملکت کے تمام ذرائع سے عمل میں لانا ہے جو اسلام نے انسانیت کی بہتری کے لیے پیش کیا ہے۔ محض امن کا قیام‘ محض قومی سرحدوں کی حفاظت‘ محض عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنا، اس کا آخری اور انتہائی مقصد نہیں ہے۔ اس کی امتیازی خصوصیت جو اسے غیر مسلم ریاستوں سے ممتاز کرتی ہے‘ یہ ہے کہ وہ ان بھلائیوں کو فروغ دینے کی کوشش کرے جن سے اسلام انسانیت کو آراستہ کرنا چاہتا ہے اور وہ ان برائیوں کو مٹانے اور دبانے میں اپنی ساری طاقت خرچ کردے جن سے اسلام انسانیت کو پاک کرنا چاہتا ہے۔

۵۔حکومت کی تشکیل کیسے ہو؟

ان بنیادی امور کی توضیح کے بعد ہمارے سامنے پانچواں سوال آتا ہے، یہ کہ جو ریاست ان بنیادوں پر تعمیر ہو اس کا نظام چلانے کے لیے حکومت کی تشکیل کیسے کی جائے؟
اس معاملے میں سب سے اہم مسئلہ رئیس مملکت (head of the state)کے تقرر کا ہے جس کو اسلام میں امام‘ امیر اور خلیفہ کی مختلف اصطلاحوں سے یاد کیا جاتا ہے اور اس باب میں اسلام کے مسلک کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسلام کی ابتدائی تاریخ کی طرف رجوع کریں۔
صدرِ ریاست کا انتخاب
جیسا کہ آپ سب حضرات جانتے ہیں‘ ہمارے موجودہ اسلامی معاشرے کا آغاز مکے میں کفر کے ماحول میں ہوا تھا اور اس ماحول سے لڑ کر اسلامی معاشرے کی ابتدا کرنے والے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ یہ اسلامی معاشرہ جب اپنے نظم اور سیاسی خود مختاری میں ترقی کرکے ایک اسٹیٹ بننے کی منزل پر پہنچا تو اس کے اولین رئیس بھی آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے اور آپ کسی کے منتخب کردہ نہ تھے، بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور کیے ہوئے تھے۔
دس سال تک آپؐ اس ریاست کی امارت کا فریضہ انجام دینے کے بعد رفیق اعلیٰ سے جاملے بغیر اس کے کہ اپنی جانشینی کے متعلق کوئی صریح اورقطعی ہدایت دے کر تشریف لے جاتے۔ آپؐ کے اس سکوت سے اور قرآن مجید کے اس ارشاد سے کہ وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ (الشوری۴۲:۳۸) (مسلمانوں کے معاملات آپس کے مشورے سے انجام پاتے ہیں)، صحابہ کرامؓ نے یہ سمجھا کہ نبی کے بعد رئیس مملکت کا تقرر مسلمانوں کے اپنے انتخاب پر چھوڑا گیا ہے‘ اور یہ انتخاب مسلمانوں کے باہمی مشورے سے ہونا چاہیے۔۱۰۲؎ چنانچہ خلیفۂ اول حضرت ابوبکرؓکا انتخاب مجمع عام میں ہوا۔
پھر جب ان کا آخری وقت آیا تو اگرچہ ان کی رائے میں خلافت کے لیے موزوں ترین شخص حضرت عمرؓ تھے‘ لیکن انھوں نے اپنے جانشین کو نامزد نہ کیا، بلکہ اکابر صحابہ کو الگ الگ بلا کر ان کی رائے معلوم کی‘ پھر حضرت عمرؓ کے حق میں اپنی وصیت املا کرائی‘ پھر حالت مرض ہی میں اپنے حجرے کے دروازے سے مسلمانوں کے مجمع عام کو خطاب کرکے فرمایا:
اَتَرْضَوْنَ بِمَنْ اَسْتَخْلِفُ عَلَیْکُمْ فَاِنِّیْ وَاللّٰہِ مَااَلَوْتُ مِنْ جُھْدِی الرَّاْیِ وَلَا وَلَّیْتُ ذَا قَرَابَۃٍ وَاِنِّیْ اَسْتَخْلِفُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَاسْمَعُوْا لَہ‘ وَاَطِیْعُوْا۔
کیا تم راضی ہو اس شخص سے جس کو میں تم پر اپنا جانشین بنائوں؟ خدا کی قسم میں نے غور و فکر کرکے رائے قائم کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی‘ اور اپنے کسی رشتے دار کو مقرر نہیں کیا ہے۔ میں نے عمرؓ بن الخطاب کو جانشین بنایا ہے۔ پس تم ان کی سنو اور اطاعت کرو۔
مجمعے سے آوازیں آئیں: سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا۔ ہم نے سنا اور مانا۔
(طبری۔ ج۲،ص۶۱۸۔مطبع الاستقامہ، مصر)
اس طرح مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ کا تقرر بھی نامزدگی سے نہیں ہوا بلکہ خلیفۂ وقت نے مشورے سے ایک شخص کو تجویز کیا اور پھر مجمعِ عام میں اس کو پیش کرکے منظور کرایا۔
اس کے بعد حضرت عمرؓ کے دنیا سے رخصت ہونے کی باری آئی۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معتمد ترین رفیقوں میں سے چھ اصحاب ایسے موجود تھے جن پر خلافت کے لیے مسلمانوں کی نگاہ پڑ سکتی تھی۔ حضرت عمرؓ نے انھی چھ اصحاب کی ایک مجلس شوریٰ بنا دی اور ان کے سپرد یہ کام کیا کہ باہمی مشورے سے ایک شخص کو خلیفہ تجویز کریں اور اعلان کر دیا کہ:
مَنْ تَاَمَّرَ مِنْکُمْ عَلٰی غَیْرِ مَشْوَرَۃٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَاضْرِبُوْا عُنُقَہ‘
(الفاروق عمر‘ از محمد حسین ہیکل۔ ج ۲، ص ۳۱۳)
تم میں سے جو کوئی مسلمانوں کے مشورے کے بغیر زبردستی امیر بنے اس کی گردن مار دو۔
اس مجلس نے بالآخر انتخاب کاکام حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کے سپرد کیا اور انھوں نے مدینے میں چل پھر کر عام لوگوں کی رائے معلوم کی۔ گھر گھر جاکر عورتوں تک سے پوچھا۔ مدرسوں میں جاکر طلبہ تک سے دریافت کیا۔ مملکت کے مختلف حصوں کے جو لوگ حج سے اپنے اپنے علاقوں کی طرف واپس جاتے ہوئے مدینے ٹھیرے تھے ان سے استصواب کیا، اور اس تحقیقات سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ امت میں سب سے زیادہ معتمد دو شخص ہیں: عثمانؓ اور علیؓ اور ان دونوں میں سے عثمانؓ کی طرف زیادہ لوگوں کا میلان تھا۔ اسی رائے پر آخر کار حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ ہوا اور مجمع عام میں ان کے ہاتھ پر بیعت کی گئی۔
پھر حضرت عثمانؓ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا اور امت میں سخت افراتفری برپا ہوگئی۔ اس موقع پر صحابہ حضرت علیؓ کے مکان پر جمع ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ آج آپ سے زیادہ امارت کا حق دار کوئی نہیں‘ آپ اس بار کو سنبھالیں۔ حضرت علیؓ نے انکار کیا‘ مگر وہ اصرار کرتے رہے۔ آخر کار حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اگر آپ لوگ یہی چاہتے ہیں تو مسجد میں چلیے۔
فَاِنَّ بَیْعَتِیْ لَا تَکُوْنُ خُفْیًا وَلَا تَکُوْنَ اِلاَّ عَنْ رِّضًا مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (طبری، ج۳،ص ۲۵)
کیونکہ میری بیعت خفیہ طور پر نہیں ہوسکتی اور مسلمانوں کی عام رضامندی کے بغیر اس کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔
چنانچہ آپ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تشریف لے گئے اور مہاجرین و انصار جمع ہوئے اور سب کی نہیں تو کم از کم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اکثریت کی مرضی سے آپ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی۔
پھر جب حضرت علیؓ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے بعد کیا ہم آپ کے صاحبزادے حضرت حسنؓ سے بیعت کرلیں؟ اس پر انھوں نے جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ:
مَا اٰمُرُ کُمْ وَلاَ اَنْھَاکُمْ اَنْتُمْ اَبْصَرُ۔ (طبری، ج۲،ص۱۱۲)
میں نہ تم کو اس کا حکم دیتا ہوں نہ اس سے منع کرتا ہوں۔ تم لوگ خود اچھی طرح دیکھ سکتے ہو۔
یہ ہے رئیس مملکت کے تقرر کے معاملے میں خلافتِ راشدہ کا تعامل اور صحابہ کرامؓ کا اجماعی طرز عمل، جس کی بنیاد خلافت کے باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سکوت اور تمام اجتماعی معاملات کے باب میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد وَاَمْرُھُمْ شٔوْرٰی بَیْنَھُمْ پر رکھی گئی تھی۔ اس مستند دستوری رواج سے جو بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی مملکت میں صدر کا انتخاب عام لوگوں کی رضامندی پر منحصر ہے۔ کوئی شخص خود زبردستی امیر بن جانے کا حق نہیں رکھتا۔۱۰۳؎ کسی خاندان یا طبقے کا اس منصب پر اجارہ نہیں ہے۔۱۰۴؎ اور انتخاب کسی جبر کے بغیر مسلمانوں کی آزادانہ رضامندی سے ہونا چاہیے۔ رہی یہ بات کہ مسلمانوں کی پسند کیسے معلوم کی جائے‘ تو اس کے لیے اسلام میں کوئی خاص طریق کار مقرر نہیں کر دیا گیا ہے۔ حالات اور ضروریات کے لحاظ سے مختلف طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں‘ بشرطیکہ ان سے معقول طور پر یہ معلوم کیا جاسکتا ہو کہ جمہور قوم کا اعتماد کس شخص کو حاصل ہے۔
مجلسِ شوریٰ کی تشکیل
انتخاب امیر کے بعد دوسرا اہم مسئلہ اہل الحل و العقد (یعنی مجلس شوریٰ کے ارکان) کا ہے کہ وہ کیسے چنے جائیں گے اور کون ان کو چنے گا۔ سرسری مطالعے کی بنا پر لوگوں نے یہ گمان کیا ہے کہ خلافتِ راشدہ میں چونکہ عام انتخابات (general elections)کے ذریعے سے ارکانِ شوریٰ منتخب نہیں ہوتے تھے اس لیے اسلام میں سرے سے مشورے کا کوئی قاعدہ ہی نہیں ہے‘ بلکہ یہ بات بالکل خلیفۂ وقت کی صواب دید پر چھوڑ دی گئی ہے کہ وہ جس سے چاہے مشورہ لے، لیکن یہ گمان دراصل اس زمانے کی باتوں کو اس زمانے کے ماحول میں رکھ کر دیکھنے سے پیدا ہوا ہے‘ حالانکہ ان کو اسی وقت کے ماحول میں رکھ کر دیکھنا چاہیے اور عملی تفصیلات کے اندر وہ اصول سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے جو ان میں ملحوظ رکھے گئے تھے۔
اسلام مکہ معظمہ میں ایک تحریک کی حیثیت سے اٹھا تھا۔ تحریکوں کے مزاج کا یہ خاصہ ہوتا ہے کہ جو لوگ سب سے پہلے آگے بڑھ کر ان کو لبیک کہتے ہیں وہ لیڈر کے رفیق‘ دست و بازو اور مشیر ہوا کرتے ہیں۔ چنانچہ اسلام میں بھی جو سابقین اولین تھے وہ بالکل ایک فطری طریقے پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق اور مشیر قرار پائے، جن سے آپؐ ہر ایسے معاملے میں مشورہ کرتے تھے جس میں خدا کی طرف سے کوئی صریح حکم آیا ہوا نہ ہوتا تھا۔ پھر جب اس تحریک میں نئے نئے آدمیوں کا اضافہ ہونے لگا اور مخالف طاقتوں سے اس کی کشمکش بڑھتی گئی تو ایسے لوگ خود بخود نمایاں ہوتے چلے گئے جو اپنی خدمات‘ قربانیوں اور بصیرت و فراست کی بنا پر جماعت میں ممتاز تھے۔ ان کا انتخاب ووٹوں سے نہیں، بلکہ تجربات اور آزمائشوں سے ہوا تھا جو الیکشن کی بہ نسبت زیادہ صحیح اور فطری طریق انتخاب ہے۔ اس طرح مکہ چھوڑنے سے پہلے دو قسم کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس شوریٰ کے رکن بن چکے تھے۔ ایک: سابقین اولین، دوسرے: وہ آزمودہ کار اصحاب، جو بعد میں جماعت کے اندر نمایاں ہوئے۔ یہ دونوں گروہ ایسے تھے جن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تمام مسلمانوں کا اعتماد بھی حاصل تھا۔
اس کے بعد ہجرت کا اہم واقعہ پیش آیا اور اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ ڈیڑھ دو سال پہلے مدینے کے چند بااثر لوگ اسلام قبول کرچکے تھے اور ان کے اثر سے اوس اور خزرج کے قبیلوں میں گھر گھر اسلام پہنچ گیا تھا۔ انھی لوگوں کی دعوت پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے مہاجرین اپنے اپنے گھر بار چھوڑ کر مدینے منتقل ہوئے اور وہاں اسلام کی ایک تحریک نے ایک سیاسی نظام اور ایک ریاست کی شکل اختیار کی۔ اب یہ بالکل ایک قدرتی بات تھی کہ مدینے میں جن لوگوں کے اثر سے اسلام پھیلا اور پھیلتا گیا وہی جدید معاشرے اور سیاسی نظام میں مقامی لیڈروں کی پوزیشن پر فائز ہوئے اور انھی کا یہ مرتبہ و مقام تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس شوریٰ میں سابقین اولین اور آزمودہ کار مہاجرین کے ساتھ ایک تیسرے عنصر (انصار) کی حیثیت سے شامل ہوں۔ یہ لوگ بھی فطری طریق انتخاب سے منتخب ہوئے تھے اور مسلمان قبیلوں کے ایسے معتمد علیہ تھے کہ اگر موجودہ زمانے کے طریقے پر انتخابات منعقد ہوتے تب بھی یہی لوگ منتخب ہو کر آتے۔
پھر مدنی معاشرے میں دو قسم کے لوگ اورابھرنے شروع ہوئے۔ ایک وہ جنھوں نے آٹھ دس برس کی سیاسی‘ فوجی اور تبلیغی مہمات میں کارہائے نمایاں انجام دیے حتیٰ کہ ہر اہم معاملے میں انھی کی طرف لوگوں کی نگاہیں اٹھنے لگیں۔ دوسرے وہ لوگ جنھوں نے قرآن کے علم و فہم اور دین میں فقاہت کے اعتبار سے نام وَری حاصل کی، حتیٰ کہ عوام الناس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد علمِ دین میں انھی کو سب سے زیادہ معتبر سمجھنے لگے اور خود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ فرما کر ان کو سند اعتبار عطا کی کہ قرآن فلاں شخص سے سیکھو‘ اور فلاں نوعیت کے مسائل میں فلاں شخص کی طرف رجوع کرو۔ یہ دونوں عناصر بھی مجلسِ شوریٰ میں بالکل ایک فطری انتخاب سے شامل ہوتے چلے گئے اور ان میں بھی کسی کے لیے ووٹ لینے کی حاجت پیش نہ آئی۔ ووٹ اگر لیے بھی جاتے تو اس معاشرے میں ان کے سوا کوئی ایسا نہ تھا جس پر مسلمانوں کی نگاہِ انتخاب پڑتی۔
اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے زمانے میں وہ مجلس شوریٰ بن چکی تھی جو بعد کو خلفائے راشدین کی مشیر قرار پائی اور وہ دستوری روایات بھی مستحکم ہو چکی تھیں جن کے مطابق آگے چل کر ایسے نئے لوگ اس مجلس میں شامل ہوتے گئے جنھوں نے اپنی خدمات اور اعلیٰ درجے کی ذہنی صلاحیتوں کے ذریعے سے قبول عام حاصل کرکے اس مجلس میں اپنی جگہ پیدا کی۔ یہی وہ لوگ تھے جن کو اہل الحل و العقد (باندھنے اور کھولنے والے) کہا جاتا تھا اور جن کے مشورے کے بغیر خلفائے راشدین کسی اہم معاملے کا فیصلہ نہ کرتے تھے۔ ان کی آئینی حیثیت کا صحیح اندازہ اس واقعے سے ہوسکتا ہے کہ جب حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد چند اصحاب نے حضرت علیؓ کے پاس حاضر ہو کر خلافت قبول کرنے کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا:
لَیْسَ ذٰلِکَ اِلَیْکُمْ اِنَّمَا ھُوَ لِاَھْلِ الشُّوْرٰی وَاَھْلِ بَدْرٍ فَمَنْ رَضِیَ بِہٖ اَھْلُ الشُّوْرٰی وَاَھْلُ بَدْرٍ فَھُوَ الْخَلِیْفَۃُ فَنَجْتَمِعُ وَنَنْظُرُ فِیْ ھٰذَا الْاَمْرِ۔ (الامامہ و السیاسہ لابن قتیبہ،مطبعتہ الفتوح‘ مصر، ص ۴۱)
یہ معاملہ تمھارے فیصلہ کرنے کا نہیں ہے یہ تو اہلِ شوریٰ اور اہلِ بدر کا کام ہے۔ جس کو اہلِ شوریٰ اور اہلِ بدر پسند کریں گے وہی خلیفہ ہو گا، پس ہم جمع ہوں گے اور اس معاملے پر غور کریں گے۔
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اہل الحل و العقد اس وقت کچھ متعین لوگ تھے‘ جوپہلے سے اس پوزیشن پر فائز چلے آرہے تھے اور وہی ملت کے اہم معاملات کا فیصلہ کرنے کے مجاز تھے۔ لہٰذا یہ گمان کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ خلیفۂ وقت من مانے طریقے پر جس وقت جس کو چاہتا تھا مشورے کے لیے بلا لیتا تھا اور کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ مستقل اہل شوریٰ یا اہل الحل و العقد کون ہیں جو قوم کے مسائل مہمہ کا فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں۔۱۰۵؎
خلافت راشدہ کے اس تعامل‘ بلکہ خود اسوۂ نبویؐ سے جو قاعدہ کلیہ مستنبط ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ امیر کو مشورہ ہر کس و ناکس سے‘ یا اپنی مرضی کے چنے ہوئے لوگوں سے نہیں، بلکہ ان لوگوں سے کرنا چاہیے جو عامہ مسلمین کے معتمد ہوں‘ جن کے اخلاص و خیر خواہی اور اہلیت پر لوگ مطمئن ہوں اور حکومت کے فیصلوں میں جن کی شرکت اس امر کی ضامن ہو کہ ان فیصلوں کے نفاذ میں جمہور قوم کا دلی تعاون شریک ہوگا۔ رہا یہ سوال کہ عوام کے معتمد لوگ کیسے معلوم کیے جائیں‘ تو ظاہر ہے کہ اس چیز کے معلوم ہونے کی جو صورت آغاز اسلام کے مخصوص حالات میں تھی آج وہ صورت نہیں ہے اور اس زمانے کے تمدنی حالات میں جو موانع موجود تھے وہ بھی آج موجود نہیں ہیں۔ اس لیے ہم آج کے حالات اور ضروریات کے لحاظ سے وہ تمام ممکن اور مباح طریقے اختیار کرسکتے ہیں جن سے یہ معلوم کیا جاسکے کہ جمہور قوم کا اعتماد کن لوگوں کو حاصل ہے۔ آج کل کے انتخابات بھی اس کے جائز طریقوں میں سے ایک ہیں‘ بشرطیکہ ان میں وہ ذلیل ہتھکنڈے استعمال نہ ہوں جنھوں نے جمہوریت کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔
حکومت کی شکل اور نوعیت
اس کے بعد تیسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ اسلام میں حکومت کی شکل اور نوعیت کیا ہے؟
اس باب میں جب ہم خلافت راشدہ کے دور پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں امیرالمومنین اصل وہ شخص تھا جس سے سمع و طاعت کی بیعت کی جاتی تھی، اور جسے بھروسے کا آدمی سمجھ کر لوگ اپنی اجتماعی زندگی کے اہم ترین معاملے‘ یعنی حکومت کی باگ ڈور سپرد کرتے تھے۔ اس کی حیثیت انگلستان کے بادشاہ‘ فرانس کے صدر‘ برطانیہ کے وزیراعظم‘ امریکہ کے صدر‘ اور روس کے اسٹالن‘ سب سے مختلف تھی۔ وہ محض صدر ریاست ہی نہ تھا، بلکہ اپنا رئیس الوزرا بھی آپ ہی تھا۔ وہ پارلیمنٹ میں براہِ راست خود شریک ہوتا تھا اور آپ ہی پارلیمنٹ کی صدارت بھی کرتا تھا۔ پھر وہ مباحثوں میں بھی پورا حصہ لیتا تھا اور اپنی حکومت کے سارے کاموں کی جواب دہی کرتا اور اپنا حساب آپ دیتا تھا۔ اس کی پارلیمنٹ میں نہ کوئی گورنمنٹ پارٹی تھی، نہ اپوزیشن پارٹی۔ ساری پارلیمنٹ اس کی پارٹی تھی اگر وہ حق کے مطابق چلے، اور ساری پارلیمنٹ اپوزیشن تھی اگر وہ باطل کی طرف جاتا نظرآئے۔ ہر ممبر آزاد تھا کہ جس معاملے میں اس سے اتفاق رکھتا ہو، اتفاق کرے اور جس میں اس سے اختلاف رکھتا ہو اختلاف کرے۔ خلیفہ کے اپنے وزرا تک پارلیمنٹ میں اس کے خلاف اظہار رائے کر جاتے تھے اور پھر بھی وزارت اورصدارت میں خوب نبھتی تھی۔ کسی کے مستعفی ہونے کا سوال نہ پیدا ہوتا تھا۔ خلیفہ صرف پارلیمنٹ ہی کے سامنے جواب دہ نہ تھا، بلکہ پوری قوم کے سامنے اپنے ہر کام‘ حتیٰ کہ اپنی شخصی زندگی کے معاملات تک میں جواب دہ تھا۔ وہ پانچوں وقت مسجد میں پبلک کا سامنا کرتا‘ ہر جمعے کو پبلک سے خطاب کرتا اور پبلک اپنے شہر کے گلی کوچوں میں ہر روز چلتے پھرتے اس کو پاسکتی تھی اور ٹوک سکتی تھی۔ ہر شخص ہر وقت اس کا دامن پکڑ کر اپنا حق مانگ سکتا تھا اور ہر شخص مجمع عام میں اس سے باز پُرس بھی کرسکتا تھا۔ اس کے ہاں یہ قاعدہ نہ تھا کہ حکومت سے کوئی سوال کرنا ہو تو پارلیمنٹ کا کوئی ممبر ہی نوٹس دے کر لگے بندھے قواعد کے مطابق پوچھ سکتا ہے۔ اس کا اعلان عام تھا کہ:
اِنْ اَحْسَنْتُ فَاَعِیْنُوْنِیْ وَاِنْ اَسَاْتُ فَقُوْمُوْنِیْ… اَطِیْعُوْنِیْ مَا اَطَعْتُ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہ‘ فَاِنْ عَصَیْتُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ‘ فَلاَ طَاعَۃَ لِیْ عَلَیْکُمْ۔ (الصدیق از محمد حسین ہیکل‘ ص ۶۷)
اگر میں ٹھیک کام کروں تو میری مدد کرو اور اگر برا رویہ اختیار کروں تو مجھے سیدھا کردو…… جب تک میں اللہ اور رسولؐ کا مطیع رہوں میری اطاعت کرو اور اگر میں اللہ اور رسولؐ کی نافرمانی کروں تو میری کوئی اطاعت تمھارے ذمے نہیں ہے۔
یہ طرز حکومت‘ جس پر موجودہ زمانے کی اصطلاحوں میں سے کسی اصطلاح کا بھی اطلاق نہیں ہوسکتا‘ اسلام کے مزاج سے پوری مناسبت رکھتا ہے اور ہمارا آئیڈیل یہی ہے، لیکن یہ صرف اسی صورت میں نبھ سکتا ہے جبکہ سوسائٹی اسلام کے انقلابی نظریات کے مطابق پوری طرح تیار ہو چکی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جونہی سوسائٹی میں انحطاط رونما ہوا‘ اس کا نبھنا مشکل ہوگیا۔ اب اگر ہم اس آئیڈیل کی طرف پھر پلٹنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم ابتدائے کار کے لیے اس سے چار بنیادی اصول لے لیں اور پھر انھیں اپنے حالات و ضروریات کے مطابق عملی جامہ پہنائیں۔
۱۔ ایک یہ کہ حکومت کی اصل ذمے داری جس کے بھی سپرد کی جائے، وہ نہ صرف پبلک کے نمائندوں کا، بلکہ خود پبلک کا بھی سامنا کرے اور اپنا کام نہ صرف مشورے سے انجام دے، بلکہ اپنے اعمال کے لیے جواب دہ بھی ہو۔
۲۔ دوسرے یہ کہ پارٹی سسٹم سے نجات حاصل کی جائے، جو نظام حکومت کو بیجا عصبیتوں سے آلودہ کرتا ہے اور جس میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک جاہ پسند ٹولا برسر اقتدار آکر پبلک کے خرچ پر اپنے مستقل حمایتی پیدا کرلے اور پھر لوگ خواہ کتنا ہی شور مچائیں وہ ان حمایتیوں کے بل پر اپنی من مانی کرتا رہے۔
۳۔ تیسرے یہ کہ نظام حکومت ایسے پیچ دار ضابطوں پر قائم نہ کیا جائے جس سے کام کرنے والے کے لیے کام کرنا اور حساب لینے والوں کے لیے حساب لینا اور خرابی کے اصل ذمے دار کو مُشخّص کرنا مشکل ہو جائے۔
۴۔ اور سب سے آخری، مگر سب سے اہم اصول یہ ہے کہ صاحبِ امر اور اہلِ شوریٰ ایسے لوگوں کو بنایا جائے جن کے اندر اسلام کی بتائی ہوئی صفات زیادہ سے زیادہ پائی جاتی ہوں۔

۶۔اولی الامر کے اوصاف

یہ اوصاف (qualifications)کا سوال اسلامی نقطۂ نظر سے بڑی اہمیت رکھتا ہے‘ حتیٰ کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسلامی دستور کے چلنے یا نہ چلنے کا سارا نحصار ہی اس پر ہے۔
امارت اورمجلسِ شوریٰ کی رکنیت کے لیے ایک اہلیت تو قانونی نوعیت کی ہوتی ہے جس پر ایک ناظم انتخاب اور ایک جج جانچ اور پرکھ کر انتخاب کے لیے ایک شخص کے اہل (eligible) ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے، اور دوسری ایک اور قسم کی اہلیت بھی ہوتی ہے جس کا لحاظ کرکے اشخاص کو چھانٹنے اور تجویز کرنے اور ووٹ دینے والے اپنا فیصلہ صادر کرتے ہیں۔ پہلی قسم کی اہلیت ایک ملک کے کروڑوں باشندوں میں سے ہر ایک میں ہوتی ہے‘ مگر یہ دوسری قسم کی اہلیت ہی ہے جو عملاً ان میں سے چند ہی آدمیوں کو ابھار کر اوپر لاتی ہے۔ پہلی قسم کی اہلیت کے معیارات صرف دستور کی چند عملی دفعات (operative clauses)میں درج کرنے کے لیے ہوتے ہیں‘ لیکن یہ دوسری قسم کی اہلیت وہ ہے جس کے معیارات پورے دستور کی رُوح میں موجود ہونے چاہییں اور ایک دستور کی کامیابی کا انحصار اس پر ہے کہ جمہور کے ذہن کو تربیت دے کر صحیح انتخاب کے لیے تیار کیا جائے، تاکہ وہ ایسے ہی لوگوں کو منتخب کریں جو دستور کی روح کے مطابق اہلیت رکھتے ہوں۔
قرآن اور حدیث ان دونوں قسم کی اہلیتوں سے بحث کرتے ہیں۔ پہلی قسم کی اہلیت کے لیے انھوں نے چار معیار بتائے ہیں:
۱۔ مسلم ہونا۔ چنانچہ قرآن کا ارشاد ہے:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ النساء59:4
اے ایمان لانے والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور ان لوگوں کی جو تم میںسے اولی الامر ہوں۔
۲۔ مرد ہونا۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے:
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ النساء34:4
مرد عورتوں پر قوام ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لَنْ یُّفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا اَمْرَھُمْ اِمْرَاَۃً۔ (بخاری)
وہ قوم ہرگز فلاح نہ پائے گی جس نے اپنی زمام کارایک عورت کے سپرد کی ہو۔
۳۔ عاقل و بالغ ہونا۔ چنانچہ قرآن میں فرمایا گیا ہے:
وَلَا تُؤْتُوا السُّفَھَاۗءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِىْ جَعَلَ اللہُ لَكُمْ قِيٰـمًا النساء4:5
اور اپنے مال جنھیں اللہ نے تمھارے لیے ہستی کا سہارا بنایا ہے‘ نادان لوگوں کے حوالے نہ کرو۔
۴۔ دارالاسلام کا باشندہ ہونا۔ چنانچہ قرآن تصریح کرتا ہے:
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُہَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُہَاجِرُوْا۝۰ۚ الانفال72:8
اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کرکے (دارالاسلام میں) نہ آگئے‘ تمہارا ان کی ولایت میں کوئی حصہ نہیں جب تک کہ ہجرت نہ کریں۔
یہ ہیں وہ چار قانونی صفات جن کے لحاظ سے ہر شخص امارت اور رکنیت شوریٰ کا اہل ہوسکتا ہے، مگر اس طرح کے بے شمار قانونی اہل اشخاص میں سے کن لوگوں کو ہمیں ان مناصب کے لیے چننا چاہیے اور کن کو نہ چننا چاہیے۔ اس سوال کا واضح جواب ہمیں قرآن اور حدیث میں یہ ملتا ہے:
۱۔ اِنَّ اللہَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا۝۰ۙ النساء58:4
اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں (یعنی ذمے داری کے مناصب) اہل امانت (یعنی امین) لوگوں کے سپرد کرو۔
۲۔ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰىكُمْ۝۰ۭ الحجرات13:49
تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔
۳۔ قَالَ اِنَّ اللہَ اصْطَفٰىہُ عَلَيْكُمْ وَزَادَہٗ بَسْطَۃً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ۝۰ۭ البقرہ247:2
نبیؐ نے کہا کہ اللہ نے حکمرانی کے لیے اس کو (یعنی طالوت کو) تم پر ترجیح دی ہے اور اس کو علم اور جسم میں فراوانی عطا کی ہے۔
۴۔ وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَكَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًاo الکہف28:18
کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہشِ نفس کی پیروی اختیار کرلی ہے اور جس کا کام حدود آشنا نہیں ہے۔
۵۔ مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَۃٍ فَقَدْ اَعَانَ عَلٰی ھَدْمِ الْاِسْلَامِ۔ (البیہقی)
جس نے کسی صاحب بدعت کی توقیر کی اس نے اسلام کو منہدم کرنے میں مدد دی۔
۶۔ اِنَّا وَ اللّٰہِ لَانُوَ لِّیْ عَلٰی عَمَلِنَا ھٰذَا اَحَدًا سَأَلَہ‘ اَوْحَرَصَ عَلَیْہِ۔ (بخاری و مسلم)
بخدا! ہم کسی ایسے شخص کو اپنی حکومت کے کسی منصب پر مقرر نہیں کرتے جس نے اس کی درخواست کی ہو یا جو اس کا حریص ہو۔
۷۔ اِنَّ اَخْوَنَکُمْ عِنْدَنَا مَنْ طَلَبَہ‘۔ (ابوداؤد)
ہمارے نزدیک تم میں سب سے بڑا خائن وہ ہے جو خود اس کا (کسی منصب کا)طالب ہو۔
ان اوصاف میں سے بعض کو تو ہم بَہ آسانی اپنے دستور کے عملی دفعات میں رکھ سکتے ہیں۔ مثلاً:یہ کہ طالب منصب کو انتخاب کے لیے نااہل قرار دیا جائے۔ رہے دوسرے اوصاف جن کے لیے کوئی قانونی حد متعین نہیں کی جاسکتی‘ تو ان کو ہمارے دستور کی اصولی ہدایات میں شامل ہونا چاہیے اور ناظمِ انتخابات کے فرائض میں یہ بات داخل ہونی چاہیے کہ وہ ہر انتخاب کے موقع پر عوام کو ان صفات سے باخبر کرنے کی کوشش کرے جو اسلام میں اولی الامر کے لیے مطلوب ہیں۔

۷۔ شہریت اور اس کی بنیادیں

اب شہریت کے مسئلے کو لیجیے۔ اسلام چونکہ ایک نظام فکر و عمل ہے اور اسی نظام کی بنیاد پر وہ ایک ریاست قائم کرتا ہے‘ اس لیے وہ اپنی ریاست میں شہریت کی دو قسمیں قرار دیتا ہے۔ پھر چونکہ راست بازی و حق گوئی اسلام کی اصل روح ہے‘ اس لیے وہ بغیر کسی مکرو فریب کے صاف صاف شہریت کی اس تقسیم کو بیان بھی کر دیتا ہے‘ دنیا کو دھوکا دینے کے لیے یہ طریقہ اختیار نہیں کرتا، کہ زبان سے اپنے سب شہریوں کو یکساں قرار دے اور عمل میں ان کے درمیان نہ صرف تمیز کرے، بلکہ ان کے ایک عنصر کو انسانی حقوق تک دینے میں بے انصافی سے کام لے‘ جیسا کہ امریکہ میں حبشیوں کا اور روس میں غیر اشتراکیوں کا اور تمام دنیا کی لادینی جمہوریتوں میں قومی اقلیتوں کا حال ہے۔
شہریت کی دو قسمیں جو اسلام نے کی ہیں‘ یہ ہیں:
ایک:مسلم،دوسرے: ذِمّی
۱۔ مسلم شہریوں کے باب میں قرآن کہتا ہے کہ:
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُہَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُہَاجِرُوْا۝۰ۚ الانفال72:8
جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے ہجرت کی اور اپنی جان و مال سے راہ خدا میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے ان کو جگہ دی اور ان کی مدد کی‘ وہ ایک دوسرے کے ولی ہیں اور جو لوگ ایمان لائے مگر ہجرت کرکے (دارالاسلام میں) نہ آئے‘ تمھارے لیے ان کی ولایت میں سے کچھ نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں۔
اس آیت میں شہریت کی دو بنیادیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک: ایمان‘ دوسرے: دارالاسلام کی رعایا ہونا یا بن جانا۔ اگر کوئی شخص ایمان رکھتا ہو‘ مگر دارالکفر کی تابعیت ترک کرکے (جسے لفظ ہجرت سے تعبیر کیا گیا ہے) دارالاسلام میں نہ آبسے‘ تو وہ دارالاسلام کا شہری نہیں ہے۔ اس کے برعکس تمام ایسے اہل ایمان جو دارالاسلام کے باشندے ہوں‘ قطع نظر اس سے کہ وہ دارالاسلام ہی میں پیدا ہوئے ہوں، یا کسی دارالکفر سے ہجرت کرکے آئے ہوں۔۱۰۶؎ دارالاسلام کے یکساں شہری اور ایک دوسرے کے ولی (حامی و مددگار) ہیں۔
ان مسلم شہریوں پر اسلام نے اپنے پورے نظام کے اٹھانے کی ذمے داری ڈالی ہے‘ کیونکہ وہی اصولاً اس نظام کو حق مانتے ہیں۔ ان پر وہ اپنا پورا قانون نافذ کرتا ہے۔ ان کو اپنے تمام مذہبی‘ اخلاقی‘ تمدنی اور سیاسی احکام کا پابند کرتا ہے۔ ان کے ذمے اپنے سارے واجبات و فرائض عائد کرتا ہے۔ ان سے اپنی ریاست کی مدافعت کے لیے ہر قربانی کا مطالبہ کرتا ہے، اور پھر انھی کو یہ حق بھی دیتا ہے کہ اس ریاست کے اولی الامر کا انتخاب کریں‘ اس کو چلانے والی پارلیمنٹ (مجلس شوریٰ) میں شریک ہوں‘ اور اس کے کلیدی مناصب پر مقرر کیے جائیں، تاکہ اس اصولی ریاست کی پالیسی ٹھیک اس کے بنیادی اصولوں کے مطابق چل سکے۔ اس قاعدے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ عہدِ نبویؐ اور عہدِ خلافتِ راشدہ میں ایک مثال بھی اس امر کی نہیں مل سکتی کہ کسی ذمی کو مجلس شوریٰ کا رکن‘ یا کسی علاقے کا گورنر یا کہیں کا قاضی یا کسی شعبۂ حکومت کا وزیر، یا ناظم یا فوج کا کمانڈر بنایا گیا ہو یا خلیفہ کے انتخاب میں حصہ لینے کا موقع دیا گیا ہو۔ حالانکہ ذمی خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں موجود تھے اور خلافتِ راشدہ کے دور میں تو ان کی آبادی کروڑوں تک پہنچی ہوئی تھی۔ اگر فی الواقع ان امور میں حصہ لینا ان کا حق ہوتا تو ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اللہ کا نبی ان کی حق تلفی کیسے کرسکتا تھا اور نبی کے براہ راست تربیت یافتہ لوگ مسلسل ۳۰ برس، اس حق کو ادا کرنے سے کس طرح باز رہ سکتے تھے۔
۲۔ذمی شہریوں سے مراد وہ تمام غیر مسلم ہیں جو اسلامی ریاست کے حدود میں رہ کر اس کی اطاعت و وفاداری کا اقرار کریں‘ قطع نظر اس سے کہ وہ دار الاسلام میں پیدا ہوئے ہوں، یا باہر سے آکر ذمی بننے کی درخواست کریں۔ اس طرح کے شہریوں کو اسلام ان کے مذہب اور کلچر اور پرسنل لا کے تحفظ اور جان و مال و آبرو کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے‘ ان پر صرف اپنے ملکی قوانین نافذ کرتا ہے‘ ان کو ملکی قوانین میں مسلمانوں کے ساتھ برابر کے حقوق دیتا ہے‘ ان کے لیے کلیدی مناصب کے سوا ہر قسم کی ملازمتوں کے دروازے کھلے رکھتا ہے‘ ان کو شہری آزادیوں میں مسلمانوں کے ساتھ برابر کا شریک کرتا ہے‘ ان کے ساتھ معاشی معاملات میں مسلمانوں سے الگ کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھتا اور مملکت کے دفاع کی ذمے داری سے انھیں مستثنیٰ کرکے اس کا پورا بار صرف مسلمانوں پر ڈالتا ہے۔
ان دو قسم کی شہریتوں پر اور ان کی الگ الگ حیثیتوں پر اگر کسی کو اعتراض ہو تو وہ پہلے اس سلوک پر ایک نگاہ ڈال لے جو دنیا کی دوسری اصولی ریاستیں اپنے اصول کے نہ ماننے والوں سے اور قومی ریاستیں اپنے حدود میں رہنے والی قومی اقلیتوں سے کر رہی ہیں۔ درحقیقت یہ بات پورے چیلنج کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ایک ریاست کے اندر اس کی بنیادوں سے مختلف بنیادِ وجود رکھنے والوں کی موجودگی جو پیچیدگی پیدا کرتی ہے اس کو اسلام سے زیادہ انصاف‘ رواداری اورفیاضی کے ساتھ کسی دوسرے نظام نے حل نہیں کیا ہے۔ دوسروں نے اس پیچیدگی کو زیادہ تر دو ہی طریقوں سے حل کیا ہے، یا تو انھیں مٹا دینے کی کوشش کی ہے یا شودر بنا کر رکھا ہے۔ اسلام اس کے بجائے یہ طریقہ اختیار کرتا ہے کہ انصاف کے ساتھ اپنے اصول کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے درمیان ایک حد قائم کر دیتا ہے۔ جو ماننے والے ہیں ان کو پوری طرح اپنے اصولوں کا پابند کرتا ہے اور ان اصولوں کے مطابق ریاست کانظام چلانے کی ذمے داری ان پر ڈال دیتا ہے اور جو ان اصولوں کو قبول نہیں کرتے ان کو صرف اسی حد تک پابند کرتا ہے جو ملک کے نظم کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے اور انھیں ریاست کا نظام چلانے کی ذمے داری سے سبکدوش کرنے کے بعد، ان کے تمام تمدنی اور انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔

۸۔ حقوقِ شہریت

اس کے بعد مجھے بتانا ہے کہ اسلام میں شہریوں کے بنیادی حقوق (fundamental rights) کیا قراردیے گئے ہیں:
۱۔ شہریوں کا اولین حق اسلام میں یہ ہے کہ ان کی جان‘ مال اور آبرو کی حفاظت کی جائے اور جائز قانونی وجوہ کے سوا اورکسی وجہ سے ان پر ہاتھ نہ ڈالا جائے۔ اس چیز کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت احادیث میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپؐ نے اپنا وہ مشہور خطبہ دیا تھا جس میں اسلامی نظامِ زندگی کے قواعد بیان فرمائے تھے۔ اس میں آپؐنے فرمایا:
اِنَّ دِمَا ئَکُمْ وَاَمْوَا لَکُمْ وَ اَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا۔ (بخاری)
تمھاری جانیں اور تمھارے مال اور تمھاری آبروئیں ویسی ہی حرمت رکھتی ہیں جیسی حج کے اس دن کی حرمت ہے۔
اس حرمت میں استثنا صرف ایک ہے اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اور حدیث میں اِلاَّ بِحَقِّ الِاْسْلَامِ کے الفاظ سے ادا فرماتے ہیں‘ یعنی اسلام کے قانون کی رو سے اگر کسی شخص پر جان یا مال یا آبرو کا حق واجب ہوتا ہو، تو وہ اس سے قانون کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق وصول کیا جائے گا۔
۲۔ دوسرا اہم حق شخصی آزادی کی حفاظت ہے۔ اسلام میں کسی شخص کی آزادی معروف قانونی طریقے پر اس کا جرم ثابت کیے بغیر اور اسے صفائی کا موقع دیے بغیر سلب نہیں کی جاسکتی۔ ابودائود میں یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ مدینے میں کچھ لوگ شبہے کی بنا پر گرفتار کیے گئے تھے۔ ایک صحابی نے عین خطبے کے دوران میں اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میرے ہمسایوں کو کس قصور میں پکڑا گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ ان کے اس سوال کو سن کر سکوت فرمایا، تاکہ کوتوال شہر اگر گرفتاری کے لیے کوئی معقول وجوہ رکھتا ہے تو اٹھ کر بیان کرے، لیکن جب تیسری مرتبہ ان صحابی نے اپنے سوال کا اعادہ کیا اور کوتوال نے کوئی وجہ بیان نہ کی تو آپؐ نے حکم صادر فرمایا کہخَلُّوْا لَہٗ جِیْرَانَہٗ (ابودائود۔ کتاب القضاء) اس کے ہمسایوں کو رہا کردو‘۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب تک کسی شخص پر ایک متعین الزام لگا کر اس کو ثابت نہ کردیا جائے اسے قید نہیں کیا جاسکتا۔امام خطابی اپنی ’’معالم السنن‘‘ میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اسلام میں حبس دو ہی قسم کا ہے۔
ایک: حبس عقوبت‘ یعنی یہ کہ عدالت سے سزا پا کر کوئی شخص قید کیا جائے۔
دوسرے حبس استظہار‘ یعنی ملزم کو بغرضِ تفتیش روک رکھنا۔ اس کے سوا حبس کی کوئی صورت اسلام میں نہیں ہے۔ (معالم السنن‘ کتاب القضاء)
یہی بات امام ابو یوسفؒ نے بھی اپنی ’’کتاب الخراج‘‘ میں لکھی ہے کہ:
کسی شخص کو محض تہمت کی بنا پر قید نہیں کیا جاسکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو مجرد الزام پر قید نہیں کر دیا کرتے تھے۔ ضروری ہے کہ مدعی اور مدعا علیہ عدالت میں حاضر ہوں۔ مدعی اپنا ثبوت پیش کرے اور اگر وہ اپنا الزام ثابت نہ کر سکے تو مدعا علیہ کو چھوڑ دیا جائے۔ (کتاب الخراج، ص ۱۰۷)
حضرت عمرؓ نے بھی ایک مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ الفاظ ارشاد فرمائے تھے کہ لَا یُوْسَرُرَجُلٌ فِی الْاِسْلَامِ بِغَیْرِ عَدْلٍ۔ (موطا‘ باب شرط الشاہد) ] اسلام میں کوئی شخص عدل کے بغیر قید نہیں کیا جاسکتا[ ۔
۳۔ تیسرا اہم حق رائے اور مسلک کی آزادی کا ہے۔ اس بات میں اسلامی قانون کی سب سے بہتر وضاحت حضرت علیؓ نے کی ہے۔ ان کے زمانے میں خوارج کا گروہ پیدا ہوا تھا جو آج کل کے انارکسٹ اور نہلسٹ (nehilist)گروہوں سے ملتا جلتا تھا۔ حضرت علیؓ کے زمانے میں وہ علانیہ اسٹیٹ کے وجود کی نفی کرتے تھے اور بزور شمشیر اس کو مٹانے پر تلے ہوئے تھے۔ حضرت علیؓ نے ان کو پیغام بھیجا:
کُوْنُوْا حَیْثُ شِئْتُمْ وَبَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَنْ لاَّ تَسْفِکُوْا دَمًا وَلَا تَقْطَعُوْا سَبِیْلاً وَلاَ تَظْلِمُوْا اَحَدًا۔ (نیل الاوطار، ج۷، ص ۱۳۹)
تم جہاں چاہو رہو، اور ہمارے اورتمھارے درمیان شرط یہ ہے کہ تم خون ریزی اور رہزنی نہ اختیار کرو،اور ظلم سے باز رہو۔
ایک دوسرے موقع پر حضرت علیؓ نے ان کو پیغام دیا کہ:
لَانَبْدَؤُکُمْ بِقِتَالٍ مَا لَمْ تَحَدِّ ثُوْا فَسَادًا۔ (نیل الاوطار، ج۷،ص۱۳۳)
جب تک تم فساد نہ کرو گے ہم تمھارے خلاف لڑائی کی ابتدا نہ کریں گے۔
اس سے صاف ظاہر ہے کہ کوئی گروہ خیالات جو چاہے رکھے اور پُرامن طریقے سے جس طرح چاہے اپنے خیالات کا اظہار کرے‘ اسلامی مملکت اس کو نہ روکے گی‘ البتہ اگر وہ اپنے خیالات زبردستی (by violent means) مسلط کرنے اور نظام ملکی کو درہم برہم کرنے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
۴۔ ایک اور حق جس پر اسلام میں بہت زور دیا گیا ہے یہ ہے کہ اسٹیٹ اپنے حدود میں کسی شہری کو زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہنے دے۔ اسی غرض کے لیے اسلام میں زکوٰۃ فرض کی گئی ہے جس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:
٭ تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِھِمْ فَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِھِمْ۔ (بخاری و مسلم)
ان کے مال داروں سے لی جائے گی اور ان کے محتاجوں میں تقسیم کر دی جائے گی۔
پھر ایک حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ اصول بیان فرماتے ہیں کہ:
٭ اَلسُّلْطَانُ وَلِیٌّ مَنْ لاَّ وَلِیَّ لَہ‘ (ابودائود‘ ترمذی‘ احمد‘ ابن ماجہ‘ دارمی)
حکومت ہر اس شخص کی ولی (دست گیر و مددگار) ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو۔
اور ایک دوسری حدیث میں آپؐ فرماتے ہیں کہ:
o مَنْ تَرَکَ کَلاًّ فَاِلَیْنَا۔ (بخاری و مسلم)
جس مرنے والے نے ذمے داریوں کا کوئی بار (مثلاً قرض یا بے سہارا کنبہ) چھوڑا ہو، وہ ہمارے ذمے ہے۔
اس معاملے میں اسلام نے ذمی شہریوں اور مسلم شہریوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ وہ مسلمان کی طرح ذمی کو بھی اس امر کی ضمانت دیتا ہے کہ اسٹیٹ اس کو بھوکا‘ ننگا اور بے ٹھکانہ نہ رہنے دے گا۔ حضرت عمرؓ نے ایک مرتبہ ایک ذمی کو بھیک مانگتے دیکھا تو آپؐ نے فوراً اس کا جزیہ معاف کرکے اس کا وظیفہ مقرر کیا اور اپنے افسر خزانہ کو لکھا:
وَاللّٰہِ مَا اَنْصَفْنَاہُ اَکَلْنَا شَبِیْتَہ‘ ثُمَّ نَخُذْ لَہٗ عِنْدَالْھَرَمِ۔۱۰۷؎
خدا کی قسم ہم نے اس سے انصاف نہ کیا، اگر جوانی میں اس سے فائدہ اٹھایا اور بڑھاپے میں اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔
حضرت خالدؓ نے حیرہ کے غیر مسلموں کو جووثیقہ لکھ کر دیا تھا اس میں یہ صراحت تھی کہ جو شخص بوڑھا ہو جائے گا، یا جو کسی آفت کا شکار ہوگا، یا جو مفلس ہو جائے گا اس سے جزیہ وصول کرنے کے بجائے، مسلمانوں کے بیت المال سے اس کی اور اس کے کنبے کی کفالت کی جائے گی۔۱۰۸؎

۹۔شہریوں پر حکومت کے حقوق

ان حقوق کے مقابلے میں شہریوں پر ریاست کے جو حقوق عائد ہوتے ہیں ان میں سے پہلا حق اطاعت کا ہے جس کے لیے اسلام میں سمع و طاعت کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ صراحت فرمائی ہے کہ اَلسَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ (مشکوۃ۳۴۹۶)۔ سننا اور ماننا پڑے گا‘ تنگی اور فراخی اور خوش گواری اور ناخوش گواری میں)۔ یعنی خواہ کوئی حکم آدمی کو گوارا ہویا ناگوار اورخواہ کوئی شخص اس کو بہ آسانی بجا لاسکے یا دشواری سے‘ بہرحال اسے اطاعت کرنی پڑے گی۔
اسلامی حکومت کا دوسرا اہم حق اس کے شہریوں پر یہ ہے کہ وہ اس کے وفادار اور خیر خواہ رہیں۔ قرآن اور حدیث میں اس کے لیے نصح کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، جس کا مفہوم عربی زبان میں loyalty‘ اورallegiance سے زیادہ وسیع ہے۔٭ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ایک آدمی سچے دل سے اپنی حکومت کی بھلائی چاہے۔ اس کو نقصان پہنچانے والی کسی چیز کو گوارا نہ کرے اور اس کی فلاح و بہبود سے قلبی وابستگی رکھے۔یہی نہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اسلام میں شہریوں پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے کہ وہ اسلامی حکومت کے ساتھ پورا تعاون کریں اور اس کے لیے کسی جانی و مالی قربانی میں دریغ نہ کریں۔ حتیٰ کہ اگر دارالاسلام کو کوئی خطرہ پیش آجائے تو قرآن مجید صاف الفاظ میں اس شخص کو منافق قراردیتا ہے جو قدرت رکھنے کے باوجود دارالاسلام کی مدافعت میں جان و مال کی قربانی سے دریغ کرے۔
حضرات! یہ ہیں اس حکومت کے خدوخال جس کو ہم اسلامی حکومت کہتے ہیں۔ اس طرز کی حکومت کو آپ موجودہ زمانے کی اصطلاحوں میں سے جس نام سے چاہیں یاد کریں۔ آپ کا جی چاہے اسے سیکولر کہیے‘ ڈیموکریٹک کہیے، یا تھیوکریٹک‘ ہمیں کسی اصطلاح پر اصرار نہیں ہے۔ ہمیں جس چیز پر اصرار ہے وہ صرف یہ ہے کہ جس اسلام کے ماننے کا ہم دعویٰ کرتے ہیں، ہمارا نظام زندگی اور نظام حکومت اسی کے بتائے ہوئے اورمقرر کیے ہوئے اصولوں پر قائم ہو۔



باب ۸

یہ مقالہ ۱۹۵۲ء کے اواخر میں سپرد قلم کیا گیا تھا۔ اس وقت ایک مشہور وکیل اورصاحبِ قلم نے یہ اعتراض کیا تھا کہ قرآن سے کسی دستور کا خاکہ نہیں ملتا۔ اس پر خاصی بحث رہی۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس زمانے میں یہ مضمون لکھا تھا جس میں دستور کے ایک ایک مسئلے کو لے کر قرآن و حدیث میں اس کی بنیادوں کی نشان دہی فرمائی ہے۔(مرتب)

اسلامی دستور کی بنیادیں

اس وقت جب کہ ملک کے دستور کی ترتیب آخری مراحل میں ہے‘ اہلِ علم کا فرض ہے کہ دستور ساز اسمبلی کو ایک صحیح اسلامی دستور مرتب کرنے میں زیادہ سے زیادہ مدد دیں۔ اس سلسلے میں اپنی حد استطاعت تک جو کچھ خدمت ہم انجام دے سکتے تھے دیتے رہے ہیں۔ ۱۹۵۱ء کے آغاز میں تمام مسلم فرقوں کے نمائندہ علما نے بھی اسلامی ریاست کے ۲۲ بنیادی اصول بالاتفاق مرتب کرکے ایک اہم خدمت انجام دی ہے۔۱۰۹؎ مگر کچھ لوگ برابر اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ ایک طرف مسلم عوام اور تعلیم یافتہ لوگوں کو اور دوسری طرف دستور ساز اسمبلی کے ارکان کو زیادہ سے زیادہ غلط فہمیوں میں مبتلا کریں۔ چنانچہ ان کی طرف سے بار بار یہ خیال مختلف الفاظ میں دہرایا جارہا ہے کہ قرآن میں دستور کے لیے کوئی رہنمائی نہیں کی گئی ہے اور اسلام کسی خاص طرز کی حکومت کا تقاضا نہیں کرتا اور ’اسلامی دستور‘ سرے سے کسی چیز کا نام ہی نہیں ہے۔ ان گمراہ کن باتوں کے پیچھے دلائل کچھ بھی نہیں ہیں‘ مگر زوال علم کے اس دور میں ذہنی پراگندگی پیدا کرنے کے لیے یہ شور و شغب اچھا خاصا موثر ہوسکتا ہے، اس لیے ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ایک مختصر مضمون میں کتاب و سنت کی ان تمام تصریحات کو جمع کر دیا جائے جو دستوری احکام پر مشتمل ہیں‘ تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ آج تک علما جن اصولوں کو اسلام کے دستوری اصولوں کی حیثیت سے پیش کرتے رہے ہیں ان کے اصل مآخذ کیا ہیں اور اس کے ساتھ دستور ساز اسمبلی کے ارکان پر بھی خدا کی حجت تمام ہو جائے اور وہ یہ عذر کبھی پیش نہ کرسکیں کہ ہمیں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام بتائے نہیں گئے تھے۔
یہ مضمون اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے لکھا جارہا ہے۔اس میں ہم نمبروار ایک ایک دستوری مسئلے کے متعلق آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ درج کریں گے اور پھر ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتے جائیں گے کہ ان سے کیا احکام نکلتے ہیں۔

۱۔حاکمیت الٰہی

اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ۝۰ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاہُ۝۰ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ یوسف40:12
حکم نہیں ہے مگر صرف اللہ کے لیے، اس کا فرمان ہے کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اس کی، یہی صحیح دین ہے۔
یہ آیت صراحت کرتی ہے کہ فیصلہ کرنے کا اختیار اورفرماںروائی کا حق (بالفاظ دیگر ’حاکمیت‘) اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔یہاں کوئی لفظ یا قرینہ ایسا موجود نہیں ہے جس کی بنا پر اس حاکمیت کو محض ’کائناتی حاکمیت‘ (universal sovereignty)کے مفہوم میں مقید کردیا جائے۔ اللہ کی یہ حاکمیت جس طرح کائناتی ہے اسی طرح سیاسی و قانونی بھی ہے اور اخلاقی و اعتقادی بھی، اورخود قرآن مجید میں ان تمام اقسام کی حاکمیتوں کے اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہونے کی واضح دلیلیں موجود ہیں۔ چنانچہ قرآن تصریح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف رَبُّ الناس اور اِلٰہ الناس ہی نہیں ہے، بلکہ مَلِکُ النَّاس بھی ہے:
٭ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِo مَلِكِ النَّاسِo اِلٰہِ النَّاسِo الناس114:3-1
کہو: اے محمدؐ: کہ میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب‘ انسانوں کے بادشاہ اور انسانوں کے معبود کی۔
وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ملک کا مالک ہے اوربادشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے:
٭ قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ۝۰ۡ آل عمران26:3
کہو‘: خدایا! ملک کے مالک‘ تو جسے چاہے ملک دے اور جس سے چاہے چھین لے۔
٭ لَمْ يَكُنْ لَّہٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ بنی اسرائیل111:17
بادشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔
پھر وہ صاف صاف کہتا ہے کہ امر کا حق صرف اللہ کو ہے اس لیے کہ پیدا کرنے والا وہی ہے۔
اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ۝۰ۭ الاعراف54:7
خبردار! خلق اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے۔
ظاہر ہے کہ یہ محض کائناتی حاکمیت نہیں، بلکہ صریحًاسیاسی حاکمیت ہے اور اسی بنا پر قرآن قانونی حاکمیت کو بھی اللہ کے لیے مخصوص کرتا ہے:
۱۔ اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ۝۰ۭ الاعراف7:3
پیروی کرو اس چیز کی جو تمھارے رب کی طرف سے تمھاری طرف نازل کی گئی ہے اورنہ پیروی کرو اسے چھوڑ کر دوسرے کار سازوں کی۔
۲۔ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَo المائدہ5:44
اور جو لوگ فیصلہ نہ کریں اس قانون کے مطابق جو اللہ نے نازل کیا ہے وہی کافر ہیں۔
اللہ کی سیاسی اور قانونی حاکمیت کا یہ تصور اسلام کے اولین بنیادی اصولوں میں سے ہے اور شروع سے آج تک تمام فقہائے اسلام اس پر متفق ہیں کہ حکم دینے کا حق اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ چنانچہ علامہ آمدیؒ اصول فقہ کی مشہور کتاب ’’الاحکام فی اصول الاحکام‘‘ میں لکھتے ہیں:
اِعْلَمْ اَنَّہ‘ لَا حَاکِمَ سِوَی اللّٰہِ وَلاَ حُکْمَ اِلاَّ مَا حَکَمَ بِہٖ۔
جان لو کہ حاکم اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے اور حکم بس وہ ہے جو اللہ نے دیا ہے۔
اور شیخ محمد خضری اپنی تصنیف ’’اصول الفقہ‘‘ میں اس کو جمیع اہل اسلام کا متفقہ عقیدہ قرار دیتے ہیں:
اِنَّ الْحُکْمَ ھُوَ خِطَابُ اللّٰہِ فَلاَ حُکْمَ اِلَّا لِلّٰہِ وَھٰذِہٖ قَضْیَۃٌ اِتَّفَقَ عَلَیْھَا الْمُسْلِمُوْنَ قَاطِبَۃً۔
درحقیقت’حکم‘ اللہ کے فرمان کو کہتے ہیں۔ پس حکم دینے کا حق اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جس پر تمام مسلمان متفق ہیں۔
پس کوئی اسلامی دستور اس کے بغیر نہیں بن سکتا کہ اس میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی سیاسی اور قانونی حاکمیت کا اقرار کیا جائے اور بالفاظ صریح یہ لکھا جائے کہ یہ ریاست اللہ کی مطیع ہے‘ اس کو حاکمِ اعلیٰ تسلیم کرتی ہے اور اس کے احکام کو واجب العمل مانتی ہے۔

۲۔ مقامِ رسالت

انبیاء علیہم السلام بالعموم اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالخصوص اللہ تعالیٰ کی اس سیاسی اور قانونی حاکمیت کے مظہر ہیں۔ یعنی اللہ کی اس حاکمیت کا نفاذ انسانوں میں جس واسطے سے ہوتا ہے وہ واسطہ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ اس لیے ان کے حکم کی اطاعت اور ان کے طریقے کی پیروی اور ان کے فیصلوں کو بے چون و چرا ماننا ہر اس فرد اور گروہ اور قوم کے لیے لازم ہے جو اللہ کی اس حاکمیت کو تسلیم کرے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں بار بار پوری صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل آیات ملاحظہ ہوں:
۱۔ مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۝۰ۚ النساء80:4
جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
۲۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۭ النساء64:4
ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے۔
۳۔ اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰىكَ اللہُ۝۰ۭ النساء:105:4
اے محمدؐ! ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اس روشنی میں حکم کرو جو اللہ نے تمھیں دکھائی ہے۔
۴۔ وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ۝۰ۤ وَمَا نَہٰىكُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا۝۰ۚ الحشر 7:59
اور جو کچھ رسولؐ تم کو دیں اسے لے لو اور جس سے تم کو روک دیں اس سے رک جائو۔
۵۔ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًاo النساء65:4
پس نہیں‘ تیرے رب کی قسم وہ ہرگز مومن نہ ہوں گے جب تک کہ وہ اپنے اختلاف میں تجھ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں‘ پھر جو کچھ تو فیصلہ دے اس پر اپنے نفس میں کوئی تنگی تک نہ محسوس کریں اور سربسر تسلیم کرلیں۔
یہ ایک اسلامی ریاست کے دستور کی دوسری بنیاد ہے۔ اس میں اللہ کی حاکمیت کے اقرار کے بعد دوسرا اقرار یہ ہونا چاہیے کہ اس ریاست میں کتاب اللہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ ثابتہ کو بھی ماخذِ قانون کی حیثیت حاصل ہوگی اور اس کی انتظامیہ‘ مقننہ اور عدلیہ میں کسی کو بھی سنت کے خلاف احکام دینے‘ قانون بنانے اور فیصلے کرنے کا اختیار نہ ہوگا۔

۳۔ تصورِ خلافت

وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ كَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۝۰۠ النور55:24
اللہ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ وہ ضرور ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اس نے ان سے پہلے لوگوں (مومنین صالحین) کو خلیفہ بنایا تھا۔
یہ آیت دوا ہم دستوری نکات کی تصریح کرتی ہے:
٭ اول: یہ کہ ایک اسلامی ریاست کا صحیح مقام ’خلافت‘ ہے نہ کہ’حاکمیت‘۔
٭ دوم: یہ کہ ایک اسلامی ریاست میں خلافت کا حامل کوئی ایک شخص یا خاندان یا طبقہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ پوری امت مسلمہ اس کی حامل ہوتی ہے جسے اللہ نے آزاد ریاست عطا کی ہو۔
پہلے نکتے کی تشریح یہ ہے کہ حاکمیت اپنی عین حقیقت ہی کے اعتبار سے اس امر کی متق