کیا اسلام میں قبر پرستی کی گنجائش ہے؟

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

لَعَنَ اللّٰہُ تَعَالٰی الْیَھُوْدَ وَالنَّصَاریٰ اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَآئِ ھِمْ مَسَاجِدَ۔
(احمد، بخاری، مسلم، نسائی)
ترجمہ : اللہ نے لعنت فرمائی یہود اور نصاریٰ پر، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنالیا۔
(تفہیم القرآن، ج ۳،الکہف ،حاشیہ: ۲۱)
تشریح : (اس) سے مراد وہ انبیاء، اولیاء، شہداء، صالحین اور دوسرے غیر معمولی انسان ہی ہیں جن کو غالی معتقدین داتا، مشکل کشا، فریادرس، غریب نواز، گنج بخش اورنہ معلوم کیا کیا قرار دے کر اپنی حاجت روائی کے لیے پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ اس کے جواب میں اگر کوئی یہ کہے کہ عرب میں اس نوعیت کے معبود نہیں پائے جاتے تھے تو ہم عرض کریں گے کہ یہ جاہلیتِ عرب کی تاریخ سے اس کی ناواقفیت کا ثبوت ہے۔ کون پڑھا لکھا نہیں جانتاہے کہ عرب کے متعدد قبائل ربیعہ، کَلْب، تَغْلِب، قُضَاعَہ، کِنَانہ، حَرْث، کعب، کِنْدہ وغیرہ میں کثرت سے عیسائی اور یہودی پائے جاتے تھے۔اور یہ دونوں مذاہب بری طرح انبیاء، اولیاء اور شہداء کی پرستش سے آلودہ تھے، پھر مشرکینِ عرب کے اکثر نہیں تو بہت سے معبود وہ گزرے ہوئے انسان ہی تھے جنہیں بعد کی نسلوں نے خدا بنالیا تھا۔
تخریج :(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَعَمْرُو النَّاقِدُ، قَالاَ: نا ھَاشِمُ ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: نَا شَیْبَانٌ عَنْ ھِلاَلِ بْنِ اَبِیْ حُمَیْدٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ،عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَرَضِہِ الَّذِیْ لَمْ یَقُمْ مِنْہُ: لَعَنَ اللّٰہُ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَاریٰ اِتَّخَذُوْا قُبُورَ اَنْبِیَآئِ ھِمْ مَسَاجِدَ۔(۸)
قَالَتْ فَلَوْلاَ ذَاکَ اُبْرِزَ قَبْرُہٗ غَیْرَ اَنَّہٗ خُشِیَ اَنْ یُتَّخَذَ مَسْجِدًا وفی روایۃ ابنِ ابی شیبۃ وَلَولاَ ذَاکَ لَمْ یذکر قالت۔
ترجمہ :حضرت عائشہؓ سے مروی ہے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں ارشاد فرمایا جس سے آپؐ اٹھ نہ سکے۔ ’’اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی یہود ونصاریٰ پر، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنالیا۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قَاتَلَ اللَّہُ الْیَھُوْدَ اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَائِ ھِمْ مَسَاجِدَ۔ (۹)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’اللہ تعالیٰ یہود کا ستیا ناس کرے انہوں نے اپنے انبیاء کرام کی قبروں کو عبادت گاہ بنالیا۔‘‘ (یعنی ان پر سجدے کرنے لگے)۔
انہی سے مر وی دوسری روایت میں لَعَنَ اللّٰہُ الیہود والنَّصاریٰ اتَّخَذوا قبور انبیاء ہم مساجد کے الفاظ بھی ہیں۔
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، قَالَ : اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ : اَخْبَرَنِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ ابْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ۔اَنَّ عَائِشَۃَ وَعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالاَ: لَمَّا نُزِلَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَفِقَ یَطْرَحُ خَمِیْصَۃً لَہٗ عَلٰی وَجْھِہٖ فَاِذَا اغْتَمَّ بِھَا کَشَفَھَا عَنْ وَجْھِہٖ فَقَالَ وَھُوَ کَذٰلِکَ: لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْیَھُوْدِ وَالنَّصَاریٰ اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَآئِ ھِمْ مَسَاجِدَ یُحَذِّرُ مَاصَنَعُوْا۔ (۱۰)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ اور حضرت ابنِ عباسؓ دونوں سے مروی ہے۔ بیان کرتے ہیں کہ جب آپ شدید علیل ہوئے تو کبھی آپؐ اپنے چہرہ مبارک پر چادر ڈال لیتے اور جب مرض شدت اختیار کرتا تو آپؐاپنے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹادیتے۔
اسی حالت میں ارشاد فرمایا۔ یہود ونصاریٰ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا، اس فرمان سے آپ کا مقصد مسلمانوں کو یہود ونصاریٰ کے طور طریقوں سے ڈرانا اور تنبیہ کرناتھا۔
۶۱۔ بخاری میں ابنِ عباس کی روایت ہے کہ وَدّ، سُواع، یغوث، یَعُوق، نسر، یہ سب صالحین کے نام ہیں جنہیں بعد کے لوگ بت بنا بیٹھے۔
حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ اِساف اور نائلہ دونوں انسان تھے۔ اسی طرح کی روایات لات اور مناۃ اور عُزّٰی کے بارے میں بھی موجود ہیں۔ اور مشرکین کا یہ عقیدہ بھی روایات میں آیاہے کہ لات اور عُزّٰی اللہ کے ایسے پیارے تھے کہ اللہ میاں جاڑ الات کے ہاں اور گرمی عُزّٰی کے ہاں بسر کرتے تھے۔سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی عَمَّا یَصِفُوْنَ۔
(تفہیم القرآن،ج۲، النحل، حاشیہ: ۱۹)
تخریج : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مُوْسٰی، قَالَ: اَخْبَرَنا ھِشَامٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ وَقَالَ عَطَائٌ عَنِ بْنِ عَبَّاسٍ، صَارَتِ الْاَوْثَانُ الَّتِیْ کَانَتْ فِیْ قَوْمِ نُوْحٍ فِی الْعَرَبِ بَعْدُ۔ اَمَّا وُدٌّکَانَتْ لِکَلْبٍ بِدُوْمَۃِ الْجَنْدَلِ، وَاَمَّا سُوَاعٌ فَکَانَتْ لِھُذَیْلٍ، وَاَمَّا یَغُوْثُ، فَکَانَتْ لِمُرَادٍ ثُمَّ لِبَنِیْ غُطَیْفٍ بِالْجَوْفِ عِنْدَ سَبَا وَاَمَّا یَعُوْقُ فَکَانَتْ لِھَمْدَانَ، وَاَمَّا نَسْرٌ فَکَانَتْ لِحِمْیَرَ لِاٰلِ ذِی الْکُلاَعِ وَنَسْرًا اَسْمَائُ رِجَالٍ صَالِحِیْنَ مِنْ قَوْمِ نوحٍ۔ فَلَمَّا ھَلَکُوْا اَوْحَی الشَّیْطَانُ اِلٰی قَوْمِھِمْ اَنْ اَنْصِبُوْا اِلٰی مَجَالِسِھِمْ الَّتِیْ کَانُوْا یَجْلِسُوْنَ اَنْصَابًا وَسَمُّوْھَا بِاَسْمَائِھِمْ فَفَعَلُوْا فَلَمْ تُعْبَدْ حَتّٰی اِذَا ھَلَکَ اُولٓئِکَ وَتَنَسَّخَ الْعِلْمُ عُبِدَتْ۔(۱۱)

تفہیم الاحادیث، جلد اول